Baaghi TV

Category: بلاگ

  • رہے نام اللّٰہ کا جو قادر بھی ہے خالق بھی__!!! (تحریر✍🏻:جویریہ چوہدری)۔

    آجکل گھر کی کچن سے لے کر ڈرائنگ روم تک…
    میڈیا سے ایوانوں تک…
    ملکوں سے عالمی فورموں تک__

    صحت کے مراکز سے تحقیقی لیبارٹریوں تک ایک ہی بحث گردش کرتی دکھائی دیتی ہے اور وہ ہے کرونا وائرس کے پھیلاؤ سے نمٹنا…!!!
    COVID_19
    نے اس دنیا کو جھنجوڑ کر رکھ دیا ہے۔

    زندگی کا پہیہ ایک دم سے ایسا جام ہو گیا ہے کہ
    پہلے جو کبھی ہر وقت سوٹ بوٹ کی تیاری
    صبح صبح جاب کی جگہ پر پہنچنے کی فکر،فنکشن میں فیشن کا لحاظ و خیال۔۔۔شادی بیاہ کی دھوم دھام پر تبادلۂ خیال…
    مرنے پر لمبی چوڑی رسومات کی ادائیگی کا غم
    کسی کے نہ آنے کی کلفت…

    دیکھ کر آنکھ چرا جانے کے شکوے…
    وقت نہ دینے کی ناراضگی…
    بازاروں کے ضرورت اور بلا ضرورت کے چکر…
    بہنوں،بھائیوں پر گلوں کے طومار…

    اب ایک طرف رکھ دیئے گئے ہیں اب عالم ہے اگر تو نفسا نفسی کا…
    کوئی پاس ہو کر بھی قریب نہ آئے،
    اتنے فٹ کا فاصلہ ضروری ہے…

    ہاتھ ملانے سے گریز…
    برتن کو اٹھاتے،ہاتھ لگاتے،دروازہ کھولتے،بند کرتے غرض ہر لمحہ اعصاب پر ایک ہی واہم سوار ہے کہ کہیں وائرس حملہ آور نہ ہو جائے…
    ابہام و غلط فہمیوں کا سلسلہ جاری ہے کہ کل دو آنٹیاں گلی میں نظر آئیں،ایک منہ لپیٹے اپنے گھر داخل ہو گئیں تو دوسری اندازِ شکوہ میں بولیں ہائے مجھے کونسا بیماری ہے کہ مجھ سے بولی بھی نہیں؟

    ایک طرف گھروں میں رہنے کی ہدایات ہیں تو دوسری طرف دیہاڑی دار طبقہ پریشانیوں کے سائے میں صبح کا آغاز کر رہا ہے،روز کا روز کمانے والا اسی اُمید پر زندگی کا پہیہ رواں دواں رکھتا ہے کہ جب تک سانس اور بدن میں قوت ہے، کما کر لے آئیں گے تو اب فاقوں کے ڈر سے مجبور و بے بس بیٹھے ہیں
    راشن کی دکانوں پر سوشل ڈسٹینسنگ (social distancing) سے لا پرواہ غریب چند کلو آٹے یا دال چینی کے لیئے ہلکان ہے…!!!

    میڈیا خبریں سجاتا ہے وائرس کی پرواہ نہیں راشن دے دو…
    غرض ایسے طبقہ کی پر زور اعانت اور انہیں گھر کی دہلیز پر کچھ وقت کے لیئے یہ چیزیں فراہم کرنا حکومت کے لیئے ایک امتحان ہے اور اس کے ساتھ ساتھ مخیر حضرات بھی اس نازک وقت میں دل کھول کر غرباء کی مدد کر سکتے ہیں…
    اگر چہ صورتحال یہ ہے کہ تمام کاروباری مراکز بند ہونے کی وجہ سے ہر بندہ ہی اپنا اپنا رونا رونے اور معاشی سٹرکچر کو دھچکا لگنے پر نالاں دکھائی دیتا ہے…!!!

    دنیا جب دیتی ہے تو ذلت کے دروازے یونہی کھلا کرتے ہیں لیکن یہ صرف خیر الرازقین کی شان ہے کہ ہر روز نئی شان سے مانگنے والوں کو عطا کرتا ہے اور بے حساب کرتا ہے،پر سکون کرنے والا دیتا ہے…
    ایک دم سے ڈگریاں،اسٹیٹس،اور کاروبارِ زندگی غیر یقینی کی صورتحال سے دو چار ہیں اور مستقبل کے معاشی مناظر ذہنوں میں جھلملا رہے ہیں۔
    دنیا بھر کی طاقتیں اور انہیں چلانے والے سبھی کونوں کھدروں میں چھپے بیٹھے ہیں…
    دنیا تا حال علاج و دوا تیار کرنے سے قاصر اور بے بسی کی اتھاہ گہرائیوں میں نظر آ رہی ہیں…

    گلوبل ویلیج کی اہمیت کے ثمرات گنواتے لوگوں پر ذمہ داریوں کا بار بھی اتنا ہی زیادہ ہے اور سب کو مل کر اس وبا کے عفریت سے سامنا کرنا ہے…
    وبائیں اور بیماریاں تاریخ میں بھی بنی نوع انسان کو شدید متاثر کرتی رہی ہیں مگر اتنی آسانی سے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونے اور پھیلاؤ کے امکانات کم تھے۔

    لیکن کئی سوالات کو اپنے پیچھے چھوڑتی یہ وبا حضرت انسان کے لیئے ایک بڑا امتحان بھی ہے…!!!
    ایک اور مفروضہ جو زیرِ بحث نظر آتا ہے کہ یہ حیاتیاتی ہتھیار ہے اور اسے خود لیبارٹریوں میں تیار کیا گیا ہے تو کیا یہ سوال بھی اہلِ عقل کی سوچ میں نہیں آتا ہے کہ اگر یہ کسی کی کسی کو نیچا دکھانے کی سازش ہی تھی تو وہ خود اس کا شکار کیوں ہو چکے ہیں؟
    خود اس کے علاج سے معذور کیوں اور متاثرین میں سب سے آگے کیوں ہیں؟؟؟

    تو تب بھی اللّٰہ کا قرآن ہی دل کو تسلی دیتا ہے کہ:
    "دنیا میں اپنے کو بڑا سمجھنے کی وجہ سے اور ان کی بری تدبیروں کی وجہ سے، اور بری تدبیروں کا وبال ان تدبیر کرنے والوں پر ہی پڑتا ہے سو کیا یہ اسی دستور کے منتظر ہیں جو اگلوں کے ساتھ ہوتا رہا ہے سو آپ اللّٰہ کے دستور کو کبھی بدلتا ہوا نہیں پائیں گے…!!!”(فاطر:43)۔
    انسان جتنے مرضی ترقی کے مدارج طے کر لے مگر رب کے قبضۂ قدرت سے باہر نہیں جا سکتا…

    سو ان باتوں میں سمجھنے اور عبرت پکڑنے والوں کے لیئے بڑی نشانی ہے کہ بہر حال ہمیں اپنے تمام مسائل کے حل کے لیئے اسباب اختیار کرنے کے بعد رجوع اللّٰہ کی ذات کی طرف ہی کرنا ہوگا کہ وہ ہم سے اس وبا کو ٹال دے،نجات دے اور اس کے نقصانات سے محفوظ فرمائے…!!!
    تاکہ مشکلات میں گھری دنیا اور لوگوں میں سکوں کی سانس لوٹے…جو اوہام،ابہام اور اور غیر یقینی باتوں اور ماؤف اذھان کی جکڑ بندیوں میں جکڑی جا چکی ہے…!!!

    کہ اب ماہرینِ نفسیات اور مائنڈ چینجر لوگوں کو میڈیا کی افواہوں سے بھی دور رہنے کی تجاویز دے رہے ہیں یہ بات بھی سچ ہے کہ بے پر کی باتیں بھی بسا اوقات بنے کاموں کو بگاڑ دیتی ہیں…ایک واقعہ کسی نے سنایا تھا کہ ایک ہوٹل سے لوگ کھانا کھایا کرتے ہیں، ایک آدمی جو دودھ پینے کا شوقین تھا وہاں سے روانہ دودھ لے کر پیتا…

    ایک دن اتفاق سے دودھ ختم ہونے کے بعد ہوٹل والے نے ڈول میں دیکھا تو سانپ بیٹھا تھا،تو وہ ہل کر رہ گیا کہ پتہ نہیں وہ سب لوگ جو دودھ لے کر گئے ہیں بچیں گے کہ نہیں لیکن خیریت رہی لیکن وہ شخص جو دودھ پی کر گیا تھا پھر کبھی ہوٹل پر آیا تو اس شخص نے اسے یہ بات بتائی کہ اس دودھ میں جو تم نے پیا تھا،سانپ موجود تھا،یہ سنتے ہی وہ شخص پیچھے گِرا اور…

    بھلے یہ واقعہ سچ ہو یا نہیں لیکن اپنے اندر ایک سبق ضرور رکھتا ہے کہ واقعتاً وہم اور انجانا خوف انسان کی قوتِ مدافعت کمزور کر دیتے اور یوں بھی بزدل کر دیتے ہیں کہ وہ سالوں اور مہینوں بعد بھی اس سے نکل نہیں پاتا…
    اسلیئے احتیاط کیجیئے،تدابیر پر عمل رکھیئے لیکن یاد رکھیئے کہ تقدیر سے کوئی نہیں بھاگ سکتا اور وہ رب چاہے تو زہر کو بھی تریاق کر دیا کرتا ہے…

    پہلے لوگ اتنے آگاہ نہیں ہوتے تھے جتنا کہ آج ہیں…
    میڈیا سے کوئی خود کو کیسے دور رکھ پائے گا کہ پہلے تو کسی کو ٹی وی کا بٹن اُٹھ کر آن کرنا پڑتا تھا اخبار خرید کر لانا پڑتا تھا مگر اب میڈیا ہمارے ہاتھ اور بستروں میں ہے…
    نہ چاہتے ہوئے بھی آنکھیں پھسل کر اس کی خبروں سے جا لڑتی ہیں؟؟؟

    بہر حال مثبت سوچتے رہیں،کچھ وقت کے لیئے احتیاط لازم ہے تو پوری احتیاط کو لازمی اختیار کریں…
    اپنا اور اپنے ارد گرد کے لوگوں کا خیال رکھیں…آسانیاں بانٹنے والے بنیں…مستحقین سے تعاون کر دیں…اور رب سے دعا و مناجات کا سلسلہ کبھی ہاں کبھی نہ ٹوٹنے دیں…یہی فلاح ہے__!!!

    اس عمرِ رواں پہ سو امتحاں
    کٹتے ہیں کئی لمحے گراں…
    مگر اس زندگی کی رو میں
    سانسوں کی آتی ضو میں__
    اُمیدِ کے چراغ سرِ رہ رکھنا
    ہواؤں کا رب رُخ بدل دے گا__!!!
    ==============================

    رہے نام اللّٰہ کا جو قادر بھی ہے خالق بھی__!!!
    (تحریر✍🏻:جویریہ چوہدری)۔

  • قیامت کی علاماتِ صغریٰ،کبریٰ،امام مہدی اور فتنۂ دجال__!!![قسط:2]—–از—جویریہ چوہدری

    قیامت کی علاماتِ صغریٰ،کبریٰ،امام مہدی اور فتنۂ دجال__!!![قسط:2]—–از—جویریہ چوہدری

    رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "کئی فتنے ایسے ہوں گے،جن میں بیٹھے رہنے والا،کھڑے رہنے والے سے اور کھڑا رہنے والا چلنے والے سے اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہو گا،جو شخص دور سے بھی ان کو جھانکے گا،وہ اس کو بھی سمیٹ لیں گے،اس وقت جس کسی کو کوئی پناہ کی جگہ یا بچاؤ کا مقام مل سکے وہ اس میں چلا جائے…!!!”
    (صحیح بخاری)۔

    قیامت سے پہلے جھوٹے نبیوں اور دجالوں کا ظہور ہو گا ہر ایک چھوٹا ہونے کے باوجود یہ دعویٰ کرے گا کہ وہی اللّٰہ کا نبی ہے۔(صحیح بخاری)۔

    رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "وہ وقت قریب ہے جب مسلمان کے لیئے بہتر مال یہ ہو گا کہ وہ چند بکریاں لے کر پہاڑوں کی چوٹیوں اور بارش کے مقامات پر چلا جائے،اپنا دین فتنوں سے بچانے کو بھاگتا پھرے…”(صحیح بخاری)۔

    زمانہ قریب ہو جائے گا(یعنی وقت بہت تیزی سے گزر جائے گا،سال مہینوں کی مانند اور مہینے ہفتہ کی طرح محسوس ہوں گے)۔(صحیح بخاری)۔

    علم گھٹ جائے گا ہر طرف جہالت پھیل جائے گی،حتیٰ کہ کوئی عالم باقی نہیں رہے گا اور لوگ جاہلوں کو سردار بنا لیں گے…
    ہرج بڑھ جائے گا صحابہ کرام رضوان اللہ نے عرض کی یا رسول اللّٰہ!
    ہرج کیا ہے ؟
    آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:

    "خونریزی”…
    ہرج حبشی کا لفظ کا لفظ ہے جس کا مطلب خونریزی ہے۔

    (صحیح بخاری_کتاب العلم وکتاب الفتن)۔
    بدکاری و فحاشی کھلم کھلا ہو گی۔(صحیح بخاری)
    شراب اعلانیہ پی جائے گی(صحیح بخاری)۔

    لوگ اسے نام بدل کر پیئیں گے اور حلال سمجھیں گے(صحیح بخاری)۔
    آج مسلمان کتنے دھڑلے سے شراب پیتے ہیں گویا وہ حلال ہے،شادی و خوشی کے مواقع پر،ناچ گانے کے مواقع پر…
    ہوٹلوں،کلبوں میں…ڈیروں، پنچائتوں میں…

    وہ شراب جس کے بارے میں ہمارا رب ہمیں مخاطب کر کے کہہ رہا ہے:
    اے ایمان والو__!!!
    شراب اور جوا اور تھان اور فال نکالنے کے تیر یہ سب گندی باتیں شیطانی کام ہیں،ان سے بالکل الگ رہو تاکہ فلاح یاب ہو”۔(المآئدۃ:90)۔
    ہمارا رب ہمیں فلاح کی راہ دکھا رہا ہے مگر ہم اس سے منہ موڑ کر کس چیز کا سودا کر رہے ہیں؟
    گمراہی و گھاٹے کا ناں ؟
    لاریب کہ رب کی بتائی ہوئی راہوں کے برعکس راہیں ہمیشہ سے گمراہی و ناکامی والی ہیں…!!!
    اعاذنا اللّٰہ منھا__!

    رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "میری امت میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو زنا،ریشم اور گانے بجانے کو درست کر لیں گے۔(صحیح بخاری)۔

    ایسے لوگوں کو اللّٰہ زمین م دھنسا دے گا اور کچھ کی صورتیں مسخ کر دے گا وہ قیامت تک اسی صورت میں رہیں گے…!!!
    (ابن ماجہ__کتاب الفتن)۔

    مسلم ممالک میں بھی آج میوزک کنسرٹ کے نام پر گانے بجانے کی جو مشقیں ہوتی ہیں وہ بھی اہلِ عقل سے ہر گز پوشیدہ نہیں ہیں…چاہے نفسانی خواہشات سے مغلوب انسان اسے ذہنی تفریح طبع کہے یا موسیقی کو روح کی غذا،
    لیکن اللّٰہ تعالٰی نے اور ہمارے پیارے پیغمبر صلی اللّٰہ علیہ وسلم جنہیں اللّٰہ تعالٰی نے رحمتِ عالم بنا کر بھیجا وہ اس چیز سے منع فرما رہے ہیں یہ لہو و لعب ہے،یہ دل میں نفاق پیدا کرنے کا باعث ہے۔۔۔
    یہ دل کو اللّٰہ تعالٰی کی یاد سے غافل کرنے کی وجہ ہے جبکہ اللّٰہ تعالٰی دلوں کے سکون کا راز یہ بتا رہا ہے:
    اَلَا بذکراللہ تطمئن القلوب¤

    سن لو __
    دلوں کا اطمینان صرف اللّٰہ کی یاد و ذکر میں ہے(الرعد)۔
    مسلمان معاشرے میں امر المعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ بااحسن نبھایا جانا چاہیئے اور اس چیز کے روحانی و اخلاقی نقصانات سے آگاہ کیا جانا چاہیئے جو آج انٹر ٹینمنٹ کی آڑ میں کھلی فحاشی صورت میں ہماری زندگیوں میں سرایت کر گئے…اور ہم اسے محسوس کرنے سے بھی قاصر ہیں یا کرنا ہی نہیں چاہتے۔

    اسی چیز سے آگے بڑھ کر فحاشی و عریانی جنم لیتی ہے…بے پردگی کو رواج ملتا ہے اور جسم و لباس کی زیبائش و آرائش کا بھوت سوار ہو جاتا ہے
    عورتیں لباس پہننے کے باوجود ننگی نظر آتی ہیں…
    رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    جو عورتیں لباس پہننے کے باوجود ننگی ہوں گی وہ جنت کو دیکھ سکیں گی اور نہ ہی اس کی خوشبو پا سکیں گی،حالانکہ جنت کی خوشبو اتنے اور اتنے فاصلے سے محسوس کی جا سکے گی۔
    (صحیح مسلم)۔

    رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    دیکھو بہت سی عورتیں جو دنیا میں پہنے ہوئے مگر آخرت میں ننگی ہوں گی۔(صحیح بخاری__کتاب الفتن)۔
    (ایسی عورتیں جو لباس پہننے کے باوجود بھی ننگی نظر آتی ہیں)۔
    فحاشی و عریانی ہی پھر آگے بڑھ کر بدکاری کی راہیں ہموار کرتی ہیں…
    اور کوئی بھی معاشرہ ان کے مضر اثرات سے اخلاقی طور پر دیوالیہ ہو جاتا ہے…!!!

    قیامت کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ ہر آنے والا وقت پہلے وقت سے بدتر ہو گا(صحیح بخاری)۔

    رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی،جب تک ایک آدمی دوسرے آدمی کی قبر پر گزر کر یوں نہ کہے گا کاش میں اس کی جگہ میں(قبر میں) ہوتا__”
    (صحیح بخاری)۔

    (جاری ہے…)
    ==============================

    قیامت کی علاماتِ صغریٰ،کبریٰ،امام مہدی اور فتنۂ دجال__!!![قسط:2]
    تحریر:(جویریہ چوہدری)۔

  • لَا تَقنَطُو مِن رَّحمَۃِ اللّٰہ…!!!—از—-جویریہ چوہدری

    لَا تَقنَطُو مِن رَّحمَۃِ اللّٰہ…!!!—از—-جویریہ چوہدری

    لا تقنطومن رحمتہ اللہ
    رحیم نام ہے اُس کا__
    بخشنا کام ہے جِس کا__
    وہ اپنی نشانیاں دکھاتا ہے…
    بندوں کو قریب بُلاتا ہے__!!!
    پلٹ آؤ تم میرے در پر…
    تمہاری آس کے جگنو…
    جو چمکتے ہوئے چشمِ تر پر…
    ندامت کے آنسوؤں سے دُھلی
    ہوتی ہیں جو یہ ہتھیلیاں کُھلی__!!!
    دل کے دریدہ دامن سے__
    ہچکیوں کی لُو جو چلی__!!!
    کٹوروں سے برستے نینوں کی…
    گرمی جو سجدوں میں بہی__!!!
    سارے غبارسے چھٹ جاتے ہیں__
    ہوں درد جتنے کٹ جاتے ہیں__!!!
    دل کی دھڑکن میں ہے سکوں اُبھرتا…
    اور رگ رگ میں ٹھنڈ ہے بھرتا…!!!
    بلائیں سب دور جاتی ہیں__
    کہیں آزمائشیں جو آتی ہیں__
    تو شکر و رضا کے آئینے میں…
    کردار کا رُخ سنوارتی ہیں…!!!
    ساحل کی تلاش میں چلتے__
    سفینوں کو منزل پہ اُتار جاتی ہیں__!!!
    جو دل اُس در پہ قائم ہو__
    مایوسی سے رشتہ نہ دائم ہو…!!!
    تو زندگی میں ابد تک__!!!
    روشنیاں ساتھ نبھاتی ہیں__!!!
    کہیں خزاں کوئی آ بھی جائے__
    مگر اسی کی اوٹ سے پھر…
    بہاریں بھی مسکراتی ہیں…!!!!!
    ==============================

    لَا تَقنَطُو مِن رَّحمَۃِ اللّٰہ…!!!
    (بقلم✍🏻:(جویریہ چوہدری)۔

  • یکم اپریل یوم سیاہ ———از———–عشاء نعیم

    یکم اپریل یوم سیاہ ———از———–عشاء نعیم

    عادت ہی پڑ گئی ہے ہر نقل کرنی ہے
    اچھے سے واسطہ ہے نہ برے سے کوئی نفرت

    یکم اپریل
    غداروں کی غداروں ،لالچیوں کے لالچ اور ناعاقبت اندیش حکمرانوں کی وجہ سے غرناطہ کی گلیاں مسلمانوں کے خون سے بھری پڑی تھیں۔صلیبی فوج کے گھوڑے جب گلیوں سے گزرتے تھے تو خون گھوڑوں کے گھٹنوں تک آتا تھا لیکن ان بھیڑیوں کی ہوس نہیں ختم ہورہی تھی اور وہ چن چن کر مسلمانوں کو شہید کر رہے تھے ۔

    کتنوں کو پکڑ کر لے گئے اور ایسی ایسی روح فرسا سزا دی کہ یقین نہیں آتا کہ یہ صلیبی بھی مسلمان ہیں ۔
    کسی کو تختے پہ یوں لٹایا جاتا کہ سر نیچے جھکا ہوتا ٹانگیں اوپر کی طرف باندھ کر پانی کی بالٹی منہ پہ گرائی جاتی ۔پھر گردن اور تھوڑی کے درمیان لمبا سریا لگا دیا جاتا ،کسی کے گلے میں کس کر کڑا ڈال دیا جاتا ،جسم سے گوشت، ناخن نوچے جاتے ،آنکھیں نکال لی جاتیں ۔

    مسلمانوں کی اکثریت شہید کچھ وطن چھوڑ کر بھاگ گئے کچھ قید ہو کر درد ناک سزائیں جھیل رہے تھے کچھ مارے ڈر کے اپنے گلے میں صلیبیں ڈال کر نام بھی عیسائیوں والے رکھ کر اپنی شناخت کو چھپا بیٹھے تھے کہ مبادہ کہیں کسی کو پتہ چلے ہم مسلمان ہیں تو ہمیں بھی شکنجے میں جکڑ لیا جائے ۔
    مسلمان چھپ کر نماز پڑھتے تھے ۔قرآن مجید بھی چھپا لئے گئے تھے ۔

    گرجوں میں جانا شروع کردیا تھا ۔
    اسلام کا نام بھی گھروں کی کنڈیاں لگا کر آہستہ اور خوف زدہ آواز میں لیا جاتا تھا کہ کوئی سن لے۔

    کافر بڑا شاطر تھا اسے امید تھی کہ مسلمان اب بھی ہوں گے کہیں نہ کہیں ۔
    سو انھیں اندھیروں میں مسلمانوں کے کانوں میں ایک ایسی آواز پڑی کہ جس نے ان کے ڈوبتے دلوں کو سہارا دیا ،ان کے مرجھائے چہرے کھل اٹھے، انھیں بہت دنوں بعد سکون شا ملا ،خوف کم ہوا اور اس اذیت ناک زندگی سے چھٹکارا ملتا محسوس ہوا ۔

    اعلان تھا کہ غرناطہ سپین میں جتنے بھی مسلمان ہیں جہاں کہیں بھی وہ سب بندرگاہ پہ اکٹھے ہو جائیں وہاں جہاز آ ئے گا جو انھیں لے کر مسلمان ملک میں چھوڑ آئے گا ۔
    مسلمانوں نے اسے نوید سحر سمجھا ،دلوں کی بے قراری کو کچھ اطمینان ہوا ،گھر بار وطن کے بدلے میں جان کی امان ،خوف زدہ زندگی سے چھٹکارا اور مذہب کی آزادی کا سودا کچھ کم نہ لگا ۔
    سو گلے میں ڈالی صلیبیں اتار پھینکیں جو پہلے ہی سانپ کی مانند ڈستی تھیں ، خوشی خوشی سب بندرگاہ پہ اکٹھے ہونا شروع ہو گئے ۔

    جب سب اکٹھے ہو کر چلے ہوں گے تو دل کچھ اداس بھی ہوں گے مگر آنکھوں میں آزادی مذہب کے سہانے خواب سجائے وہ بحری جہاز میں بیٹھے سوچ رہے ہوں گے اب تو چھپ کر نماز نہیں پڑھنی ہوگی سرعام اونچی آواز میں تلاوت کیا کریں گے ۔
    لا الہ الا اللہ کی تسبیح کریں گے ۔لیکن یہ جہاز جب عین اندر کے بیچ میں گہرے پانی میں پہنچ گیا تو ظالم دہشت گرد صلیبیوں نے جہاز کو ڈبو دیا ۔
    بچے بوڑھے، جون عورتیں سب کی چیخیں دلوں کو چیرتی تھیں لیکن ظالموں کے دل میں رحم نہ آیا اور وہ پچاس ہزار مسلمان یکم اپریل کو ڈوب گئے ۔

    یعنی یکم اپریل کو اسپین سے مسلمانوں کا خاتمہ کردیا گیا ۔
    ان ظالموں کے دل تو کیا لرزتے اپنی دھوکہ دہی اور جھوٹ پہ اس قدر خوش ہوئے کہ باقاعدہ محل میں فول اپریل کے نام سے جشن منایا گیا ۔
    پھر یہ جشن ہر سال منایا جانے لگا جو بڑھتے بڑھتے پورے یورپ میں منایا جانے لگا ۔

    لیکن وہ تو کفار ہیں ان کے دل بھی شیطان کا گھر ہیں بات تو ہماری ہے ہم مسلمان ہیں ہمیں ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دیوار کی مانند قرار دیا ۔ہمیں ایک جسم سے تشبیہ دی پھر ہم کیسے اپنے ہی بہن بھائیوں کے قاتلوں کے ساتھ مل کر ان کے قتل کا جشن منا سکتے ہیں؟
    ہم کیسے اپنے ہی شہید بہن بھائیوں کو فول (بےوقوف) کہہ سکتے ہیں؟

    ہم کیسے اس دیوار کی اینٹوں کے گرانے پہ خوش ہو سکتے ہیں جس دیوار کا حصہ ہم خود ہیں؟
    نہیں نہیں یہ نہیں ہو سکتا ۔ہمارے لئے تو یکم اپریل یوم سیاہ ہے ۔

    ہمارے دل کٹتے ہیں کہ اس دن ہمارے بہن بھائیوں کو دھوکہ دیا گیا جھوٹ بولا گیا اور انھیں سہانا خواب دکھا کر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ۔
    یکم اپریل کو جھوٹ بول کر منایا جاتا ہے ۔
    جبکہ میرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومن جھوٹا نہیں ہو سکتا ۔

    جھوٹے کے منہ میں قیامت کے روز آگ کی زبان ہوگی ۔پھر ہم کیوں جہنم کے دروازے کھولیں اپنے لئے ۔
    اور میرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان کے ہاتھ اور زبان سے دوسرا مسلمان محفوظ ہوتا ہے لیکن ہم جھوٹ بول کر کسی کو کہہ کر تیرا فلاں مر گیا ،فلاں کا ایکسیڈنت ہوگیا ،کتنی اذیت ہوتی ہے ،ہم کیوں کسی کو اپنی زبان سے غیر کر کے اپنے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی خلاف ورزی کریں ؟

    بس بات تھوڑی سی عقل استعمال کرنے کی ہے تھوڑا غور کرنے کی ہے ۔ہر چیز میں ہم دنیا کے جاہلوں سے نہیں مل سکتے ۔
    تھوڑی دیر سوچیں کیا کفار بھی ہمارے ساتھ ہر دن مناتا ہے ؟

    ہم ڈیڑھ ارب مسلمان دنیا کی آبادی کا تیسرا حصہ ہیں لیکن دنیا کی گھٹیا ترین قوم ہندو بھی ہمارے ساتھ کوئی دن نہیں مناتی تو ہم تو پھر اس کائنات پہ سب سے اعلی قوم ہیں الحمداللہ ۔ہم کیوں نقل کریں ؟ بس ہمیں کفار کو کہنا چاہیئے
    ہمارے لئے ہمارا دین اور تمہارے لئے تمہارا دین

    یکم اپریل یوم سیاہ ———از———–عشاء نعیم

  • پانی سے ہاتھ ہرگز نہ دھوئیں—–از—- حفیظ اللہ سعید

    پانی سے ہاتھ ہرگز نہ دھوئیں—–از—- حفیظ اللہ سعید

    آپ سوچ میں پڑ گئے ہوں گے کہ پوری دنیا کے ڈاکٹرز حکومتی کرتا دھرتا اور میڈیا والے شور مچا رہے ہیں ہاتھ دھوئیں بار بار دھوئیں بلکہ 20 سے 30 سکینڈ تک لگاتار دھوئیں.جبکہ میں آپ کو بول رہا ہوں پانی سے ہاتھ ہرگز مت دھوئیں

    تو صاحبو! معاملہ کچھ یوں ہے کہ ہم کرونا سے بچاؤ کے لیے دن میں کافی بار ہاتھ دھو رہے ہیں اچھی بات ہے لیکن وہ کیا کہتے ہیں کہ اس سے بھی اچھی بات یہ ہے کہ آپ پانی کا استعمال محفوظ طریقے سے کریں کیونکہ صاف پانی اللہ تعالی کی عطا کردہ ایک بیش قیمت نعمت ہے اس کا بے جا استعمال اس کی مقدار کم کرنے کی ایک بڑی وجہ ہے.جیسا کہ ہم جانتے ہیں ہمارے شہری علاقوں میں پانی کی سطح دن بہ دن کم ہوتی چلی جا رہی ہے تو اس کا حل ہمارے اپنے ہاتھوں میں ہے جن کو دھونے کے لیے ہم فضول خرچی کی حد سے بھی بڑھ کر پانی استعمال کر رہے ہیں

    کرنا آپ کو بس یہ ہوگا کہ جب بھی آپ ہاتھ دھوئیں تو ہاتھوں کو گیلا کرنے کے بعد صابن لگائیں اور صابن لگے ہاتھ کے ساتھ نل ( ٹوٹی ) کے ہیڈ یا ہینڈل کو اپنے ہاتھ سے بند کر دیں اس سے ہوگا یہ کہ 20 سے 30 سیکنڈ کا جو وقت ہاتھ دھونے میں ہم صرف کریں گے

    اس دورانیہ میں پانی کا ضیاع نہیں ہوگا. اور جب آپ نل کو دوبارہ کھولیں گے تو نل کے ہیڈ پہ دوبارہ صابن لگے ہاتھ لگیں گے تو ہیڈ کے جراثیم اپنی موت آپ مر چکے ہوں گے ان شاء اللہ. اب آپ پانی کے ساتھ ہاتھوں پہ لگا صابن صاف کریں اور نل کے ہیڈ پہ بھی چلو بھر کے پانی ڈال دیں اور لگے ہاتھوں نل کو بند کر دیں. اس ساری مشق کے دوران ہمیں دو فائدے حاصل ہوں گے ایک تو پانی ضائع نہیں ہوگا

    دوسرا نل بند کرتے ہوئے اس کے ہیڈ پہ لگے جراثیم آپ کے ہاتھوں پہ منتقل نہیں ہوں گےاب سمجھ آئی کہ میں کیوں بول رہا ہوں پانی سے ہرگز ہاتھ مت دھوئیں

    #سچیاں_گلاں
    پانی سے ہاتھ ہرگز نہ دھوئیں
    حفیظ اللہ سعید

  • کرونا وائرس ہنسی مذاق نہیں—– از—– اویس خان سواتی

    کرونا وائرس ہنسی مذاق نہیں—– از—– اویس خان سواتی

    ایک دوست نے کہا کہ جتنے لوگ کورونا وائرس سے آج تک دنیا میں مرے ہیں اس سے کہیں زیادہ لوگ ہر روز مختلف بیماریوں میں مرتے ہیں۔۔۔ مقصد دوست کا یہ تھا کہ دراصل کورونا کوئی خاص بیماری نہیں، میڈیا نے بلا وجہ ہائپ دے دی ہے اور لوگوں نے اسے خود پہ سوار کر لیا ہے۔

    عرض ہے کہ یہ بات درست ہے کہ دنیا میں ہر روز مختلف بیماریوں سے مرنے والوں کی تعداد اب تک کورونا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد سے کہیں زیادہ ہے اور یہ بھی درست ہے کہ میڈیا نے اسے ہائپ دی اور یہ بھی درست ہے کہ عوام نے اسے خود پہ سوار کر لیا ہے۔۔۔ لیکن ایک اور ایسی حقیقت بھی ہے کہ جس کا انکار ممکن نہیں۔

    جیسا کہ میں نے کہا کہ ہر روز مختلف بیماریوں سے لوگ دنیا میں لاکھوں کی تعداد میں مرتے ہیں جو کہ کورونا وائرس سے ہوئی اب تک کی ہلاکتوں سے کہیں زیادہ ہے۔۔۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ دنیا میں ہر روز ہونے والی غیر طبی اموات کی تعداد طبی اموات سے کہیں زیادہ ہے۔ ہر روز مختلف حوادث، خودکشیوں اور اچانک پڑنے والے دوروں (خواہ ان کی کوئی طبی منطق ہو یا نہ ہو) میں ہوئی اموات اور پراسرار اموات کے اعدادوشمار کو اکٹھا کیا جائے تو یہ مختلف بیماریوں سے ہوئی اموات سے کہیں زیادہ تعداد بنتی ہے۔

    لیکن۔۔۔۔ اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ بیماریاں اپنا وجود نہیں رکھتیں یا ان کی کوئی خاص اہمیت نہیں۔ ٹھیک اسی طرح یہ سچ ہے کہ کورونا وائرس سے آج تک جتنے لوگ مرے ہیں اس سے کہیں زیادہ لوگ ہر روز مختلف بیماریوں سے مرتے ہیں۔۔۔ لیکن اس سے یہ بھی ثابت نہیں ہوتا کہ کورونا وائرس کی کوئی اصل یا اہمیت ہی نہیں۔۔۔ اصل بات یہ ہے کہ کورونا وائرس کی شکل میں انسانی زندگی کو درپیش خطرات میں ایک اور خطرے کا اضافہ ہو چکا ہے۔

    اب کہنے والا کہہ سکتا ہے کہ خطرہ تو سڑک کراس کرنے میں بھی ہے، سو کورونا وائرس کے خطرے میں کیا چیز مختلف ہے؟ تو عرض کہ فرق خطرے کی نوعیت کا ہی ہے۔ سڑک کراس کرتے ہوئے آپ چلتی ہوئی گاڑیوں پہ دیہان رکھتے ہیں۔ کیونکہ سڑک کراس کرتے ہوئے سب سے بڑا خطرہ چلتی ہوئی گاڑی ہوا کرتی ہے۔۔۔ لیکن کورونا وائرس کی ایسی کوئی ظاہری علامت نہیں کہ جس سے آپ جان پائیں کہ آپ کو دراصل خطرہ ہے کس سے۔۔۔!

    یہی وہ اندھا خطرہ ہے کہ جس نے پوری دنیا کو مفلوج کر رکھا ہے۔۔۔ لہذا اسے ہنسی مذاق نہ سمجھیں، لوگ مر رہے ہیں اور یہ بیماری تیزی سے پھیل رہی ہے۔ اور اس کے پھیلاؤ کی وجوہات بھی کینسر، ایڈز، ہیبی ٹائٹس اور دوسری جان لیوا بیماریوں سے مختلف ہیں۔

    کرونا وائرس ہنسی مذاق نہیں—– از—– اویس خان سواتی

  • قیامت کی علاماتِ صغریٰ،کبریٰ ،امام مہدی،اور فتنۂ دجال_!!![قسط:1]—–از—جویریہ چوہدری

    قیامت کی علاماتِ صغریٰ،کبریٰ ،امام مہدی،اور فتنۂ دجال_!!![قسط:1]—–از—جویریہ چوہدری

    قیامت کا آنا ایک یقینی امر ہے اور ہم مسلمان اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ یہ کائنات اللّٰہ تعالٰی نے خاص مقصد کے لیئے بنائی ہے اور انسان کو اشرف المخلوقات بنا کر بھیجا تاکہ وہ اچھے اعمال بجا لائے…
    یہ بعض سائنسی نظریات کے مطابق یونہی اور اتفاق سے وجود میں نہیں آ گئی۔

    پھر ان اچھے اعمال کی جزا کے لیئے یا برے اعمال کی سزا کے لیئے ایک یومِ حساب ہونا بھی لازم تھا۔
    کیا انسانوں کو اس دنیا میں بھیج دیا جاتا اور وہ نیک اعمال کرتے،اور جو دل کھول کر نافرمانی کرتے انہیں ان کی جزا و سزا سے محروم کر دیا جائے؟
    یقیناً نہیں اور اللّٰہ تعالٰی کی صفت عادل و مقسط کے خلاف بات ہے۔
    اور چونکہ یہ دنیا امتحان گاہ بنائی گئی اس میں یہ بھی ممکن نہیں کہ رزلٹ کا اعلان کمرۂ امتحان میں ہی کر دیا جائے…!!!

    چنانچہ اسی یومِ حساب کے وقوع کے لیئے قیامت قائم ہونا بھی ایک یقینی بات اور اللّٰہ تعالٰی کا امر و فیصلہ ہے جو اپنے وقت پر وقوع پزیر ہو گا۔۔۔
    قرآن حکیم میں جا بجا اللّٰہ تعالٰی نے قیامت کے مناظر کا ذکر فرمایا ہے اور قیامت کے دن کی ہولناکی اور زمین پر موجود ہر اک شئے کے ختم اور صاف چٹیل میدان ہو جانے کا ذکر کیا ہے…:
    "روئے زمین پر جو کچھ ہے،ہم نے اسے زمین کی رونق کا باعث بنایا ہے کہ ہم انہیں آزما لیں کہ ان میں سے کون نیک اعمال والا ہے؟

    اس پر جو کچھ ہے ہم اسے ایک ہموار صاف میدان کر ڈالنے والے ہیں۔”
    (الکہف 7,8)۔
    "جب آسمان پھٹ جائے گا اور اپنے رب کے حکم پر کان لگائے گا۔”(الانشقاق)۔
    "جب سورج لپیٹ لیا جائے گا اور جب تارے بے نور ہو جائیں گے۔”(التکویر)۔
    "میں قسم کھاتا ہوں قیامت کے دن کی__”(القیٰمہ)۔
    یہ تمام اور انہی جیسی بے شمار آیات بینات قیامت کے وقوع کے یقینی ہونے پر دلالت کرتی ہیں۔

    ایسا نہیں ہے کہ انسان اس دنیا میں آیا ہے،بس من مانیاں کرے اور ختم…کوئی باز پرس نہ ہو …نہیں… بلکہ ایسی احمقانہ بات مشرکینِ مکہ بھی کہا کرتے تھے کہ کیا جب ہم مٹی اور ہڈیاں ہو کر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے تو کیا ازسرنو پیدا کیئے جائیں گے؟
    اللّٰہ تعالٰی نے فرمایا ہاں خواہ پتھر یا لکڑی یا تمہارے خیال میں اس سے بھی کوئی سخت چیز ہو جاؤ…(سورۂ بنی اسرائیل)۔

    قرآن کریم اور نبی محترم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ہمیں قیامت،اس کی علاماتِ صغریٰ و کبریٰ،اور دیگر فتنوں سے آگاہ کیا ہے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "میں اور قیامت ایسے بھیجے گئے،جتنا شہادت والی انگلی اور درمیانی انگلی ایک دوسرے کے قریب ہیں۔”(صحیح بخاری)
    یعنی آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں،مسلمان آخری امت ہیں اور اس کے بعد قیامت کا وقت قریب ہی قریب ہے:
    "لوگوں کے حساب کا وقت قریب آگیا ہے اور وہ غفلت میں منہ موڑے ہوئے ہیں_”(الانبیآء)۔

    "وہ آپ سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں…آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کہہ دیجیئے کہ اس کا علم اللّٰہ ہی کو ہے اور آپ کو کیا خبر ممکن ہے کہ وہ بہت ہی قریب ہو__!!!”(الاحزاب)
    لیکن قیامت سے پہلے ان نشانیوں اور علامات کے ظہور ہونے میں کچھ شک نہیں ہے جو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اپنی مبارک زبان سے ہمیں بتائی ہیں۔
    اور یہی وجہ ہے کہ ان علامات میں سے کئی علاماتِ صغریٰ ظاہر بھی ہو چکی ہیں۔

    فتنوں کا ظہور:
    قیامت کے قریب فتنوں کا ظہور ہو گا اور اس شدت سے فتنے نمودار ہوں گے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم مدینہ کے محلوں میں سے ایک محل پر چڑھے اور صحابہ کرام رضوان اللہ سے پوچھا جو میں دیکھتا ہوں وہ تم دیکھتے ہو؟
    انہوں نے کہا نہیں یا رسول اللّٰہ !
    آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا میں فتنوں کو دیکھ رہا ہوں وہ بارش کے قطروں کی طرح ٹپک رہے ہیں۔”

    (صحیح بخاری_کتاب الفتن)۔
    ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "ان فتنوں سے پہلے جلدی جلدی نیک کام کر لو جو اندھیری رات کے ٹکڑوں کی طرح ہوں گے،آدمی صبح مومن ہو گا اور شام میں کافر یا شام مومن ہو گا اور صبح میں کافر اور انسان دنیاوی ساز و سامان کے بدلے میں اپنا دین فروخت کر دے گا۔”

    (صحیح مسلم_کتاب الایمان)۔
    یہ بات آج ظاہر ہے کہ لوگ دنیاوی مال و متاع کے پیچھے ہر بات لٹا دینے کو تیار ہیں۔
    اور ان کے ہر کام کا محور و مرکز دنیوی ساز و سامان ہی ہوتا ہے۔۔۔جس معاملے میں بھی دیکھ لیا جائے،اکثریت کا یہی حال ہے…

    رشتے و تعلق داریاں ہوں،مال و زر کے حصول کے لیئے اوپر سے اوپر اور آگے سے آگے ہی نظر جاتی ہے،رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "ہر امت کے لیئے ایک فتنہ ہے اور میری امت کا فتنہ مال ہے”

    (رواہ الترمذی)۔
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "اگر ابنِ آدم کے پاس مال کی دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری کا خواہش مند ہو گا……(صحیح بخاری)۔
    اسی طرح عالمی سطح پر بھی دیکھا جائے تو وہاں بھی مختلف قوموں اور ملکوں کے درمیان معاشی کشمکش ہی جاری رہتی ہے اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور نقصان پہنچانے کی سازشیں کی جاتی ہیں…!!!

    (جاری ہے)
    =============================

    قیامت کی علاماتِ صغریٰ،کبریٰ ،امام مہدی،اور فتنۂ دجال_!!![قسط:1]
    (تحریر✍🏻:جویریہ چوہدری)۔

  • اسلام،جدید سائنس،کرونا وائرس اور ہم—-ازقلم:حافظ عبدالستار

    اسلام،جدید سائنس،کرونا وائرس اور ہم—-ازقلم:حافظ عبدالستار

    آج نہ صرف پاکستان میں بلکہ پوری دنیا میں ہر شخص کی زبان پر ایک ہی ترانہ ہے ”کرونا وائرس“ جو کہ ایک خطرناک مرض بن چکا ہے۔ پوری دنیا میں لاکھوں افراد اس وائرس کا شکار ہو چکے ہیں۔

    ہر طرف خوف و ہراس کی فضاء پھیل چکی ہے۔ کیونکہ یہ وائرس ملنے جلنے سے پھیلتا ہے اس لیے تما م سکولز،کالجز،یونیورسٹیز،کمیونٹی سنٹرز،مدارس،دفاتر،ملز،فیکٹریز کو بند کر دیا گیا ہے،تاکہ اس وائرس کے پھیلنے کے امکانات کم ہو جائیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت پوری دنیا میں کرونا وائرس کے تقریباً786957کیسز سامنے آچکے ہیں جس میں مزید کیسز ابھی بھی سامنے آرہے ہیں،جن میں سے مرنے والوں کی تعداد 37843تک پہنچ چکی ہے۔

    مزید برآں روزانہ کے حساب سے پوری دنیا میں 3500سے زیادہ لوگ مر رہے ہیں،اور پاکستان میں ان کی تعداد تقریباً 1865ہو چکی ہے۔اگر ہم حالات کا جائزہ لیں تو کرونا وائرس دیکھنے میں ایک بیماری ہے لیکن اگر میں اس کو خدا کا عذاب کہوں تو غلط نہ ہوگا۔جو حالات اس وقت پوری دنیا کے ہیں،ہر طرف بے حیائی،فحاشی عروج پہ ہے۔ امت مسلمہ پر ظلم کیا جا رہا ہے (شام،فلسطین،کشمیر) اس میں شامل ہیں۔حلال اور حرام کے درمیان تمیز ختم ہو چکی ہے،ظلم اپنی انتہاء کو پہنچ چکا ہے۔ لیکن کوئی طاقت اس کو روک نہ سکی،وہ کہتے ہیں نہ کہ خدا کی لاٹھی بے آواز ہے جب آتی ہے تو پوری دنیا کو ہلا ک کر کے ر کھ دیتی ہے۔

    دیکھئے!خدا کا عذاب ایک چھوٹے سے وائرس نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیااور یہ پکار پکار کے کہہ رہاہے ”Where are your Fighter Jets, Missiles and your Nuclear Weapons” اور سب کو بتا دیا تم تو اپنے آپ کو سپر پاور سمجھتے ہو،لیکن یہ تمہاری غلط فہمی ہے جس میں تم مبتلا ہو، سب سے طاقتور ذات اللہ تعالیٰ کی ہے۔ دنیا پر ظلم اس قدر اپنی انتہاء کو پہنچ گیا کہ خدا کا عذاب آگیا۔ میرا وجدان کہتا ہے یہ صدا تھی کشمیر کی ان ماؤں اور بہنوں کی جنہوں نے اپنے بھائیوں اور بیٹوں کواپنی آنکھوں کے سامنے قتل ہوتے دیکھا،یہ صدا تھی ان بہنوں اور بیٹیوں کی جن کی عزت کو سب کے سامنے تار تار کیا گیا۔اور خدا کے عذاب نے ”کرونا وائرس“ کی صورت میں پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا،

    انہوں نے تو کشمیر کو بند کیا تھا اللہ تعالیٰ نے پوری دنیا کو بند کر دیا۔مجھے شام کے اس بچے کی صدابھی یاد ہے جس نے دم توڑتے ہوئے کہا تھا”سَاُخْبِرُ اللّٰہَ بِکُلِّ شَیْ“ میں سب کچھ اپنے رب کو بتاؤں گا۔مجھے عراق کی اس بیٹی کی صدا بھی یاد ہے جس نے بھاگتے ہوئے نیوز چینل کے صحافی سے کہا ”انکل! خدا کے واسطے میری عکاسی مت کرنا میں بے حجاب ہوں“۔ مجھے افغانستان کے اس بچے کی بات بھی یاد ہے جس کا بازو زخمی ہو گیا تھا اور ڈاکٹر نے کہا بیٹا!تمہارا بازو کاٹنا پڑے گا تو اس بچے نے کہا ”خدا کے واسطے میرا بازو کاٹ لیں مگر میری آستین مت کاٹنا کیونکہ زیب تن کرنے کیلئے میرے پاس یہی ایک جوڑا ہے“۔اس مرض سے بچنے کیلئے آج کی سائنس یہ کہتی ہے،کہ صفائی کا خاص خیال رکھو،

    جس علاقے میں یہ بیماری ہے اس سے دور رہو، ایک دوسرے کے درمیان فاصلہ رکھو، منہ پر Maskپہنو، ہاتھوں کو صاف کرو، یہ وہ تمام چیزیں ہیں جن کوچودہ سوسال پہلے ہمارے آقا و مولا جناب حضرت محمد مصطفی ﷺ بیان کر چکے تھے۔صحیح بخاری کی حدیث مبارکہ ہے جس کا مفہوم کچھ ہوں ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ شام کی طرف سفر کر رہے تھے کہ آپ کو ایک مقام پر اطلاع ملی کہ شام کی طاعون کی وباء پھیل چکی ہے تو اس وقت قافلے میں حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ بھی شامل تھے آپ کی عرض کی یا امیر المؤمنین!میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔”کہ جب تم کسی علاقہ کے متعلق سنو کہ وہاں وباء پھیل چکی ہے تو اس علاقہ کی طرف مت جاؤ اور اگر تم اس علاقہ میں ہو جہاں وباء پھیلی ہوئی ہے تو وہاں سے اپنی جان بچانے کیلئے مت بھاگو“۔

    اسلام نے بھی تو یہی تعلیمات دی تھیں۔ حرام سے دور رہو،پردہ کرو،صفائی کا خاص خیال رکھوبیشک صفائی نصف ایمان ہے۔ کیونکہ اسلام وہ نظریہ حیات ہے جس میں زندگی کے ہر پہلو پر راہنمائی اور سبق ملتا ہے۔انسانی زندگی کے ہر طبقے کیلئے براہ راست راہنمائی موجود ہے۔ مگر افسوس!ہم نے اسلام کی تعلیمات کو پس پشت ڈال دیا،اور بات پھر بھی وہاں ہی آگئی ہے ساری دنیا میں لوگ ماسک کی صورت میں پردہ کر رہے ہیں، حرام چیزوں سے دور رہے ہیں۔ایک رپورٹ کے مطابق بہت سے لوگ اسلام قبول کررہے ہیں کیونکہ آج پوری دنیا کو علم ہو چکا ہے کہ اسلام ہی امن و سلامتی کا راستہ ہے۔ مشہور رومن حکم راں (Justinan)کہتا ہے جو معمولات،دستور،باضابطہ طور پر اسلا م کے پاس موجود ہیں۔

    وہ دنیا کی کسی قوم کے پاس نہیں ہے۔یہی وجہ ہے کہ امتداد زمانہ کے ساتھ ساتھ مستقبل میں پیش آنے والے مسائل وہ چاہے کسی بھی نوعیت کے ہوں،اسلام نے باضابطہ ان کا احاطہ کیا ہے۔اسلام کے علاوہ دوسرے مذاہب وادیان جدید دور کے مسائل حل کرنے سے عاجز ہیں۔جس چیز کا حل ہمیں سائنس اور کتابوں سے نہیں ملتا ان تمام مسائل کا حل حضور ﷺ کی سنت نبوی کے اندر موجود ہے کیونکہ ارشاہ نبویﷺ ہے۔”ترکتم علی حجۃ بیضاء لیلھا کنھار رھا لایزیغ عنھا الا ھالک“ ترجمہ:میں نے تم کو روشن راستے پر چھوڑا ہے،اس کی راتیں بھی اس کے دنوں کی مانند روشن ہیں۔

    اب اسلام کی تعلیمات سے وہی شخص انحراف کرے گا جو خود کو ہلاکت کے گڑھے میں گرانا چاہتا ہے۔اگر ہم اس بیماری کو اسلامی نقطہ نظر سے دیکھیں تو اس کا علاج بہت ہی آسان ہے اور وہ ہے ”وضو“آج کی جدیدسائنس بھی کہتی ہے اگر کوئی دن میں بانچ بار وضو کرتا ہے تو وہ کئی بیماریوں سے محفوظ رہتا ہے۔وضو کے طریقے کو دیکھا جائے اور سائنسی بنیادوں پر اس کو پرکھا جائے تو حیرت انگیز انکشافات ہوتے ہیں۔مثلاً سب سے پہلے منہ کو لے لیں۔وضو میں تین دفعہ کلی کرنے سے منہ کی غلاظت سے پاک ہو جاتا ہے۔

    جدید سائنس ثابت کر چکی ہے کہ کلی کرنے سے گلا خراب ہونے سے محفوظ رہتا ہے اور دانت اور مسوڑھے بھی خراب ہونے سے محفوظ رہتے ہیں کیونکہ کلی کرنے ان پر خوراک کے ذرات جو انفیکشن کا باعث بنتے ہیں دور ہو جاتے ہیں۔اس کے بعد ناک میں پانی ڈالنا اس میں موجود مٹی اور دھول کے ذرات جو ناک میں موجود چھوٹے چھوٹے بال پکڑ لیتے ہیں اور انہیں سانس کی نالی میں جانے سے روکتے ہیں وضو کرنے سے یہ گندگی دور ہو جاتی ہے اور ناک صاف رکھنے سے تازہ ہوا کی آمد و رفت بہتر ہو جاتی ہے۔

    اسکے بعد چہرہ اور دونوں ہاتھ دھونے سے ان پر پسینے او رتیل کے غدود اور ہوا میں موجود مٹی اور جراثیم سے جو کیمیائی عمل ہوتا ہے اس سے یہ اعضاء محفوظ رہتے ہیں اور انفیکشن سے بچ جاتے ہیں۔اور ”کرونا وائرس“سے محفوظ رہنے کیلئے بھی تو ڈاکٹر یہی کہہ رہے ہیں بار بار ہاتھوں کو دھوئیں،منہ کو دھوئیں یہ تمام چیزیں بھی تو اسلام کی بیان کردہ ہیں ہم ان پر عمل کر کے اس سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ مختار سالم اپنی کتاب
    (Prayer esport for body and soul)میں ہر پہلو سے وضو کے فوائد کے بارے میں لکھتا ہے۔

    ”جدید سائیٹیفک ریسرچ ثابت کرتی ہے کہ وضو ایک انتہائی اہم عمل ہے اور دن میں پانچ وقت وضو کرنے سے جسم انتہائی اہم اور مضر رساں بیماریوں سے محفوظ رہتا ہے“۔آج وقت اسلام کی تعلیمات پر عمل کرنے کا ہے۔اللہ تعالیٰ کے حضور اپنی جبیں کو جھ کا کر استغفار کرنے کا ہے۔آج وقت اپنے اعمال کے محاسبہ کرنے کاہے۔اپنے گھروں اور مساجد کو رب کی عبادت سے آباد کرنے کا ہے۔اور ”کروناوائرس“کے خلاف جو ہماری حکومت اقدامات کر رہی ہے ان پر عمل کرنے کا ہے کیونکہ اس بیماری کا خاتمہ صرف حکومت نہیں کر سکتی ان کو ہماری تعاون کی بھی اشد ضرورت ہے۔

    اپنے گھروں سے ضرورت کے بغیر بالکل باہر نہ نکلیں،اپنے پیاروں کی حفاظت کریں۔ اگر کی ضرورت کے پیش نظرباہر نکلنا پڑتا ہے تو ماسک کا استعمال ضرور کریں اور حکومت نے جو پورے ملک میں باہر نکلنے پر پابندی لگائی ہے اس کو اپنے لئے عذاب نہ سمجھیں بلکہ میں تو یوں کہوں گا۔”It’s not a CURFEW, It’s a CARE FOR YOU”آخر میں اتنا کہوں گا۔”سب کچھ ہر جگہ بند ہو رہا ہے،لیکن!توبہ کا دروازہ اب بھی کھلا ہے“

    اسلام،جدید سائنس،کرونا وائرس اور ہم

    ازقلم:حافظ عبدالستار

  • اسلام،جدید سائنس،کرونا وائرس اور ہم  ازقلم:حافظ عبدالستار

    اسلام،جدید سائنس،کرونا وائرس اور ہم ازقلم:حافظ عبدالستار

    آج نہ صرف پاکستان میں بلکہ پوری دنیا میں ہر شخص کی زبان پر ایک ہی ترانہ ہے ”کرونا وائرس“ جو کہ ایک خطرناک مرض بن چکا ہے۔ پوری دنیا میں لاکھوں افراد اس وائرس کا شکار ہو چکے ہیں

    ہر طرف خوف و ہراس کی فضاء پھیل چکی ہے۔ کیونکہ یہ وائرس ملنے جلنے سے پھیلتا ہے اس لیے تمام سکولز،کالجز،یونیورسٹیز،کمیونٹی سنٹرز،مدارس،دفاتر،ملز،فیکٹریز کو بند کر دیا گیا ہے،تاکہ اس وائرس کے پھیلنے کے امکانات کم ہو جائیں۔

    ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت پوری دنیا میں کرونا وائرس کے تقریباً786957کیسز سامنے آچکے ہیں جس میں مزید کیسز ابھی بھی سامنے آرہے ہیں،جن میں سے مرنے والوں کی تعداد 37843تک پہنچ چکی ہے۔ مزید برآں روزانہ کے حساب سے پوری دنیا میں 3500سے زیادہ لوگ مر رہے ہیں،اور پاکستان میں ان کی تعداد تقریباً 1865ہو چکی ہے۔

    اگر ہم حالات کا جائزہ لیں تو کرونا وائرس دیکھنے میں ایک بیماری ہے لیکن اگر میں اس کو خدا کا عذاب کہوں تو غلط نہ ہوگا۔جو حالات اس وقت پوری دنیا کے ہیں،ہر طرف بے حیائی،فحاشی عروج پہ ہے۔ امت مسلمہ پر ظلم کیا جا رہا ہے (شام،فلسطین،کشمیر) اس میں شامل ہیں۔حلال اور حرام کے درمیان تمیز ختم ہو چکی ہے،ظلم اپنی انتہاء کو پہنچ چکا ہے۔ لیکن کوئی طاقت اس کو روک نہ سکی،وہ کہتے ہیں نہ کہ خدا کی لاٹھی بے آواز ہے جب آتی ہے تو پوری دنیا کو ہلا ک کر کے ر کھ دیتی ہے۔دیکھئے!خدا کا عذاب ایک چھوٹے سے وائرس نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیااور یہ پکار پکار کے کہہ رہاہے ”Where are your Fighter Jets, Missiles and your Nuclear Weapons” اور سب کو بتا دیا تم تو اپنے آپ کو سپر پاور سمجھتے ہو،لیکن یہ تمہاری غلط فہمی ہے جس میں تم مبتلا ہو، سب سے طاقتور ذات اللہ تعالیٰ کی ہے۔

    دنیا پر ظلم اس قدر اپنی انتہاء کو پہنچ گیا کہ خدا کا عذاب آگیا۔ میرا وجدان کہتا ہے یہ صدا تھی کشمیر کی ان ماؤں اور بہنوں کی جنہوں نے اپنے بھائیوں اور بیٹوں کواپنی آنکھوں کے سامنے قتل ہوتے دیکھا،یہ صدا تھی ان بہنوں اور بیٹیوں کی جن کی عزت کو سب کے سامنے تار تار کیا گیا۔اور خدا کے عذاب نے ”کرونا وائرس“ کی صورت میں پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا،انہوں نے تو کشمیر کو بند کیا تھا اللہ تعالیٰ نے پوری دنیا کو بند کر دیا۔مجھے شام کے اس بچے کی صدابھی یاد ہے جس نے دم توڑتے ہوئے کہا تھا”سَاُخْبِرُ اللّٰہَ بِکُلِّ شَیْ“ میں سب کچھ اپنے رب کو بتاؤں گا۔مجھے عراق کی اس بیٹی کی صدا بھی یاد ہے جس نے بھاگتے ہوئے نیوز چینل کے صحافی سے کہا ”انکل! خدا کے واسطے میری عکاسی مت کرنا میں بے حجاب ہوں“۔ مجھے افغانستان کے اس بچے کی بات بھی یاد ہے جس کا بازو زخمی ہو گیا تھا اور ڈاکٹر نے کہا بیٹا!تمہارا بازو کاٹنا پڑے گا تو اس بچے نے کہا ”خدا کے واسطے میرا بازو کاٹ لیں مگر میری آستین مت کاٹنا کیونکہ زیب تن کرنے کیلئے میرے پاس یہی ایک جوڑا ہے“۔

    اس مرض سے بچنے کیلئے آج کی سائنس یہ کہتی ہے،کہ صفائی کا خاص خیال رکھو،جس علاقے میں یہ بیماری ہے اس سے دور رہو، ایک دوسرے کے درمیان فاصلہ رکھو، منہ پر Maskپہنو، ہاتھوں کو صاف کرو، یہ وہ تمام چیزیں ہیں جن کوچودہ سوسال پہلے ہمارے آقا و مولا جناب حضرت محمد مصطفی ﷺ بیان کر چکے تھے۔صحیح بخاری کی حدیث مبارکہ ہے جس کا مفہوم کچھ ہوں ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ شام کی طرف سفر کر رہے تھے کہ آپ کو ایک مقام پر اطلاع ملی کہ شام کی طاعون کی وباء پھیل چکی ہے تو اس وقت قافلے میں حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ بھی شامل تھے آپ نے عرض کی یا امیر المؤمنین!میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔”کہ جب تم کسی علاقہ کے متعلق سنو کہ وہاں وباء پھیل چکی ہے تو اس علاقہ کی طرف مت جاؤ اور اگر تم اس علاقہ میں ہو جہاں وباء پھیلی ہوئی ہے تو وہاں سے اپنی جان بچانے کیلئے مت بھاگو“۔

    اسلام نے بھی تو یہی تعلیمات دی تھیں۔ حرام سے دور رہو،پردہ کرو،صفائی کا خاص خیال رکھوبیشک صفائی نصف ایمان ہے۔ کیونکہ اسلام وہ نظریہ حیات ہے جس میں زندگی کے ہر پہلو پر راہنمائی اور سبق ملتا ہے۔انسانی زندگی کے ہر طبقے کیلئے براہ راست راہنمائی موجود ہے۔ مگر افسوس!ہم نے اسلام کی تعلیمات کو پس پشت ڈال دیا،اور بات پھر بھی وہاں ہی آگئی ہے ساری دنیا میں لوگ ماسک کی صورت میں پردہ کر رہے ہیں، حرام چیزوں سے دور رہے ہیں۔

    ایک رپورٹ کے مطابق بہت سے لوگ اسلام قبول کررہے ہیں کیونکہ آج پوری دنیا کو علم ہو چکا ہے کہ اسلام ہی امن و سلامتی کا راستہ ہے۔ مشہور رومن حکمراں (Justinan)کہتا ہے جو معمولات،دستور،باضابطہ طور پر اسلا م کے پاس موجود ہیں۔وہ دنیا کی کسی قوم کے پاس نہیں ہے۔یہی وجہ ہے کہ امتداد زمانہ کے ساتھ ساتھ مستقبل میں پیش آنے والے مسائل وہ چاہے کسی بھی نوعیت کے ہوں،اسلام نے باضابطہ ان کا احاطہ کیا ہے۔اسلام کے علاوہ دوسرے مذاہب وادیان جدید دور کے مسائل حل کرنے سے عاجز ہیں۔جس چیز کا حل ہمیں سائنس اور کتابوں سے نہیں ملتا ان تمام مسائل کا حل حضور ﷺ کی سنت نبوی کے اندر موجود ہے کیونکہ ارشاہ نبویﷺ ہے۔”ترکتم علی حجۃ بیضاء لیلھا کنھار رھا لایزیغ عنھا الا ھالک“ ترجمہ:میں نے تم کو روشن راستے پر چھوڑا ہے،اس کی راتیں بھی اس کے دنوں کی مانند روشن ہیں۔اب اسلام کی تعلیمات سے وہی شخص انحراف کرے گا جو خود کو ہلاکت کے گڑھے میں گرانا چاہتا ہے۔

    اگر ہم اس بیماری کو اسلامی نقطہ نظر سے دیکھیں تو اس کا علاج بہت ہی آسان ہے اور وہ ہے ”وضو“آج کی جدیدسائنس بھی کہتی ہے اگر کوئی دن میں بانچ بار وضو کرتا ہے تو وہ کئی بیماریوں سے محفوظ رہتا ہے۔وضو کے طریقے کو دیکھا جائے اور سائنسی بنیادوں پر اس کو پرکھا جائے تو حیرت انگیز انکشافات ہوتے ہیں۔مثلاً سب سے پہلے منہ کو لے لیں۔وضو میں تین دفعہ کلی کرنے سے منہ کی غلاظت سے پاک ہو جاتا ہے۔جدید سائنس ثابت کر چکی ہے کہ کلی کرنے سے گلا خراب ہونے سے محفوظ رہتا ہے اور دانت اور مسوڑھے بھی خراب ہونے سے محفوظ رہتے ہیں کیونکہ کلی کرنے ان پر خوراک کے ذرات جو انفیکشن کا باعث بنتے ہیں دور ہو جاتے ہیں۔اس کے بعد ناک میں پانی ڈالنا اس میں موجود مٹی اور دھول کے ذرات جو ناک میں موجود چھوٹے چھوٹے بال پکڑ لیتے ہیں اور انہیں سانس کی نالی میں جانے سے روکتے ہیں وضو کرنے سے یہ گندگی دور ہو جاتی ہے اور ناک صاف رکھنے سے تازہ ہوا کی آمد و رفت بہتر ہو جاتی ہے۔اسکے بعد چہرہ اور دونوں ہاتھ دھونے سے ان پر پسینے او رتیل کے غدود اور ہوا میں موجود مٹی اور جراثیم سے جو کیمیائی عمل ہوتا ہے اس سے یہ اعضاء محفوظ رہتے ہیں اور انفیکشن سے بچ جاتے ہیں۔اور ”کرونا وائرس“سے محفوظ رہنے کیلئے بھی تو ڈاکٹر یہی کہہ رہے ہیں بار بار ہاتھوں کو دھوئیں،منہ کو دھوئیں یہ تمام چیزیں بھی تو اسلام کی بیان کردہ ہیں ہم ان پر عمل کر کے اس سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔

    مختار سالم اپنی کتاب (Prayer esport for body and soul)میں ہر پہلو سے وضو کے فوائد کے بارے میں لکھتا ہے۔”جدید سائیٹیفک ریسرچ ثابت کرتی ہے کہ وضو ایک انتہائی اہم عمل ہے اور دن میں پانچ وقت وضو کرنے سے جسم انتہائی اہم اور مضر رساں بیماریوں سے محفوظ رہتا ہے“۔آج وقت اسلام کی تعلیمات پر عمل کرنے کا ہے۔اللہ تعالیٰ کے حضور اپنی جبیں کو جھکا کر استغفار کرنے کا ہے۔آج وقت اپنے اعمال کے محاسبہ کرنے کاہے۔اپنے گھروں اور مساجد کو رب کی عبادت سے آباد کرنے کا ہے۔اور ”کروناوائرس“کے خلاف جو ہماری حکومت اقدامات کر رہی ہے ان پر عمل کرنے کا ہے کیونکہ اس بیماری کا خاتمہ صرف حکومت نہیں کر سکتی ان کو ہماری تعاون کی بھی اشد ضرورت ہے۔

    اپنے گھروں سے ضرورت کے بغیر بالکل باہر نہ نکلیں،اپنے پیاروں کی حفاظت کریں۔ اگر کی ضرورت کے پیش نظرباہر نکلنا پڑتا ہے تو ماسک کا استعمال ضرور کریں اور حکومت نے جو پورے ملک میں باہر نکلنے پر پابندی لگائی ہے اس کو اپنے لئے عذاب نہ سمجھیں بلکہ میں تو یوں کہوں گا۔”It’s not a CURFEW, It’s a CARE FOR YOU”آخر میں اتنا کہوں گا۔”سب کچھ ہر جگہ بند ہو رہا ہے،لیکن!توبہ کا دروازہ اب بھی کھلا ہے“۔

  • ڈاکٹرماریہ نقاش کا خط بنام عزت مآب ، واجب الاحترام جناب صدرمملکت اوروزیراعظم

    ڈاکٹرماریہ نقاش کا خط بنام عزت مآب ، واجب الاحترام جناب صدرمملکت اوروزیراعظم

    صاحب صدر , گرامی قدر , قابل عزت, قابل احترام , صدر مملکت, ہمارے قومی ہیرو, جناب وزیر اعظم پاکستان …
    اسلام علیکم….!!!
    امہد کرتی ہوں آپ خیریت, ایمان اور صحت کی بہترین حالت میں ہونگے….
    میں مملکت پاکستان اور ریاست اسلام کی ایک ادنی سی بندی ایک چھوٹی سی عرض لے کر آپکی خدمت میں حاضر ہوئی ہوں…..
    اس امید کے ساتھ کہ آپ نظر ثانی کے بعد توجہ طلب نتائج سامنے لائیں گے…اور عوام کیلئیے اپنے اصلاحی فلاحی اور مثبت اقدامات ایک اور اضافہ کریں گے…

    جناب عالی…!!!
    عرض یہ کرنا چاہتی ہوں کہ جس طرح احسن طریقے سے آپ نے کورونا وائرس کو لیتے ہوئے احتیاطی اقدامات نافذ کروائے ہیں…اور عمل درآمد کروایا ہے…اسی سے منسلک ایک چھوٹی سی سوچ میں آپکے گوش گزارنا چاہتی ہوں… جسے پروان چڑھا کر آپ تناور درخت کی ماند کھڑا کریں گے…جس کے سائے میں یہ مملکت پاکستان اس عذاب خداوندی کی کڑی دھوپ سے آرام پائے گی…

    جناب صدر ہر انسان کی فطرت میں یہ چیز پوشیدہ ہے کہ….اسکی ذہنی اور قلبی کیفیت کو جو شخصیت متاثر کرتہ ہو اسی کی بات اسکے ذہن و سوچ میں گھر کرتی ہے….اسی انسانی فطرت کو پیش نظر رکھتے ہوئے مختلف سیلبریٹیز کو ہائر کر کے ان سے کورونا سے متعلق حفاظتی اقدامات کہلوائے گئے….تا کہ عوام دلچسپی سے سنے اور عمل کرے…. سیلیبریٹیز کی طرح آپ سے بھی قوم بہت متاثر ہے…آپکو اپنا ہیرو مانتی اور جانتی ہے…آپکو سنتی ہے…
    تو کیوں مہ اپنے سننے اور چاہنے والوں کی زندگیوں کی ضنمامت کے طور پر آپ کوتونا سے متعلق اقدامات میں ایک ایسی نئ اور متاثر کن حکمت عملی کا اضافہ کریں خو نہ صرف ان کی جان.کیلییے امان ثابت ہو بلکہ اس آفت کے مٹنے کے بعد بھی آئندہ اور بعد کی زندگی میں ان کیلئیے راحت کی موئجب بنی رہے…

    جیسے کہ ان اقدامات کے تحت عوام.میں فاصلے تو پیدا ہو گئے ہیں لیکن اس کے بر عکس ایک گھر ایک چھت ایک یونٹ کے اند رہنے والے لوگ ایک دوسرے کے قریب آ گئے ہیں…
    ایک کفالت کرنے والا باپ جو منہ اندھیرے خوابیدہ بچوں کو چھوڑ کر کمانے کی فکر میں دنیا کی ےیز رفتاری میں دھکے کھا کر … سارا دن معاشرے اور حالات کی سختی کے بعد …کمائی کے چند پیسوں کے ساتھ ….دہلیز کے اس پار آرام.اور سکون کی دنیا گھر میں داخل ہوتا تو اپنے پیارون کو خواب غفلت میں ڈوبا پا کر مایوس چہرے کے ساتھ ….کھا پی کر….بستر پر آرام کیلئے…اگلے دن کی تکیلف دہ سوچوں اور فکروں کے ساتھ سو جاتا تھا…

    آج وہ باپ اپنی اولاد کو اپنے سامنے پاتا ہے انکو دیکھتا… ہے سنتا ہے…باتیں کرتا ہے…اور وعض و نصیحت کرتا ہے…ےو یہ اپکی اس حکمت عملی کے تحت ممکن ہوا ہے…
    اسی حکمت عملی کو مزید بہتر طریقے سے استعمال کیا جا سکتا ہے…اگر باپ اس وقت کو اولاد کی تربیت اور اصلاح کیلئیے استعمال کرے…
    ایک وہ تربیت ہے جو وہ بچپن سے اب تک اپنہ اولاد کی کرتا آرہا ہے…ایک یہ تربیت ہے…جو وہ اب کرے گا…قرآن اور اسکے ترجمے کی روشنی میں…

    لوگوں سے دوری اگر انسانوں کو اللہ کے قریب کر دے تو کیا یہ زیادہ فائدہ مند نہیں ? اپنے رب کو راضی کر کے اس عذاب سے بچنے میں….?
    کیا ہو اگر ہر والد نماز کے بعد اپنی اولاد کو ہمراہ لئیے چند قرآنی آیات کا ترجمہ سمجھائے…؟؟؟ جو اس نوجوان نسل میں سے برائی کی جڑ کو آہستہ آہستہ ختم کر سکتی ہیں…
    کیا ہوا اگر ہینڈ سینیٹائز کے ساتھ ہر باپ اپنی اولاد کو 5 وقت وضو کے علاوہ باقی وقت بھی باوضو رہنے کی تاکید کرے….؟؟؟

    قرآن جسھ کتاب الشفاء کہا گیا ہے ہر گھر میں موجود ہونے کے باوجود …باہر سے شفاء بخش ادویات خرید کر خود کا بچائو ممکن بنایا جا رہا ہے تو کیوں نہ تو کیوں نہ اس کتاب الشفاء کے استعمال کو معمولات زندگی اس طرح روز شامل کیا جائے کہ….صرف کورونا سے ہی نہیں…ہر طرح کی بیماری سے شفا یاب ہو جائیں…

    حفاظتی تدابیر کے ساتھ والدین بچوں کو اس کتاب الشفاء کیاوہ آیات ورد کروائیں جو جو ان کو عمر بھر کیلئے ہر بیماری سے شفا یاب کر دیں..
    وہ کتاب جو کردار کو تعمیر کر کے گوہر نایاب بنا سکتی ہے اس کتاب کا مطالعہ ترجمہ کے ساتھ ضروری قرار دے دیا جائے…تو ممکن نہیں بلکہ طے ہے کہ…
    قوم کو…

    ملک پاکستان کو…
    فرامنبردار اور جانثار بیٹے ملیں گے جو …جو علم و ہنر میں اتنے وسیع و فصیح ہونگے….کہ قومی صنعت و معیشت نیز ملکی ترقی میں سرمایہ ثابت ہونگے….
    گھر میں بیٹھے بچوں کو کمیوٹر اور انٹرنیٹ کے منفی استعمال سے ہٹ کر …انہیں مثبت اور تعمیری استعمال سکھایا جائے تا کہ وہ ملک و قوم کیلییے کچھ کر سکیں….
    یہ وقت ہے ایک باپ کے عملی کردار میں اترنے کا…

    تو….محترم عمران خان صاحب…آپ پوری قوم کے باپ ہیں…. یہ لائحہ عمل سروع ہوتا ہے,,,,,
    آپ سے…..
    آپ کے خطاب سے…
    آپکی حکمت عملی سے….
    آپ کے عملی کردار سے……
    ہم پاکستانی آپکی نافذ کردہ اس مہم

    Stay at Home
    میں اپکے ساتھ ہیں…جس میں آپ اس نئے نقطے کا اضافہ کر کے ….. اسے قوم.کیلئے
    مزید پر اثر…
    فائدہ مند….
    اور نفع بخش بنا سکتے ہیں…
    براہ کرم میرے اس نقطہ نظر پر….

    اپنے وجدان, اور زمانہ شناسی کی بے پناہ صلاحیت کو استعمال کرتے ہوئے…
    اپنے بیش قیمتی امور میں سے وقت نکال کر….
    تھوڑی توجہ فرما کر…
    ایک خطاب کا وقت مقرر فرما کر…

    وقت مقررہ پر پیغام بالعوام الناس کو لیکچر کے ذرئعیے ڈلیور کر کے…..
    اس پیغام کو اپنے چاہنے اور سننے والوں کے ذرئعیے عام کیجئے …. اور اس پر عمل ممکن بنائیے…..
    مجھ سمیت تمام عوام کی نگاہیں اپکے اس فیصلے پر ٹکی ہوئی ہیں… اس نقطہ پر عمل کروا کے ہم پاکستانیوں کو قلع اسلام کے اس سلطان عظیم,, جناب عمران خان پر فخر کا موقع فراہم کیجئیے….
    شکریہ
    عمران خان…..!!!
    فخر پاکستان…!!!
    پاکستان زندہ باد!!!!

    ✍🏻قلم نگار
    ڈاکٹر ماریہ نقاش