Baaghi TV

Category: بلاگ

  • صوبائی سینٹرل کنٹریکٹ پر کھلاڑیوں کے دستخطوں کا معاملہ ، کیسے التوا کا شکار

    صوبائی سینٹرل کنٹریکٹ پر کھلاڑیوں کے دستخطوں کا معاملہ ، کیسے التوا کا شکار

    صوبائی سینٹرل کنٹریکٹ پر کھلاڑیوں کے دستخطوں کا معاملہ ، کیسے التوا کا شکار

    باغی وی :ترجمان پی سی بی کے مطابق کنٹریکٹ میں شامل میڈیا پالیسی اور دیگرشرائط اہم کرکٹرز کی معاہدے پر دستخطوں کے معاملے پر ٹال مٹول کا سلسلہ جاری ہے . عمر اکمل، کامران اکمل ‘سلمان بٹ سمیت پانچ کرکٹرز نے ابھی تک معاہدوں پر دستخط نہیں کئے

    پی سی بی شعبہ ڈومیسٹک کرکٹ نے ستمبر کےآخری ہفتے دومیسٹک کھلاڑیوں کو سینٹرل کنٹریکٹ دئیے تھے.چارماہ سے زائد کا وقت گذرنے کے باوجود معاہدے پر دستخط نہیں کئے .بورڈنے کھلاڑیوں کی ماہانہ تنخواہ کی ادائیگی معاہدے پر دستخطوں سے مشروط کردی

    دستخط نہ کرنے والے کھلاڑیوں قائد اعظم ٹرافی کی میچ فیس اور ڈیلی الاونس ادا کئے گئے ہیں .معاہدے پر دستخط نہ کرنے والے کھلاڑیوں کے مختلف نجی چینلز کے ساتھ معاہدے ہیں ۔معاہدوں سے دستخط نہ کرنے والے کھلاڑیوں سے معاملے پر بات ہوئے ہے
    کھلاڑیوں نے اپنے مسائل سے آگاہ کیا ہے ۔ کھلاڑیوں نے جلد معاہدوں پر دستخط کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے ۔

  • حکومت کو لگا بڑا دھچکا

    حکومت کو لگا بڑا دھچکا

    حکومت کو لگا بڑا دھچکا

    باغی ٹی وی :فردوس عاشق سمیت وزیراعظم کے 15 معاونین خصوصی کی تعیناتی چیلنج کر دی گئی . اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس لبنی سلیم پرویز نے درخواست کی سماعت کی.اسلام آباد ہائیکورٹ نے فریقین کو نوٹس جاری کردیا عدالت نے حکومت سے دو ہفتوں میں جواب طلب کرلیا

    یہ تعیناتیاں فرخ نواز بھٹی نے چیلنج کیں،زلفی بخاری ، نعیم الحق ، ثانیہ نشتر سمیت تمام معاونین خصوصی کی تعیناتی چیلنج کی گئی.درخواست میں کہا گیا کہ معاونین خصوصی وفاقی اور وزیر مملکت کے برابر اختیار استعمال کر رہے ہیں، کس قانون کے تحت ویز اعظم نے ان معاونین کو اختیارات دئیے؟ وزیر اعظم آفس سے جواب طلب کیا جائے،

    اس کے علاوہ درخواست میں موقف اختیارکیا گیا کہ معاونین خصوصی کو کام سے روکنے کے احکامات جاری کیے جائیں، نیب کو وزیراعظم اور تمام معاونین کیخلاف انکوائری کا حکم دیا جائے، وزیراعظم عمران خان کے تمام معاونین خصوصی کی تعیناتیاں جن میں نعیم الحق، فردوس عاشق اعوان، ندیم افضل، علی نواز اعوان کی تعیناتیاں چیلنچ کی گئیں. وزیراعظم کے 15 اسپیشل اسسٹنٹس کے تعیناتیاں چیلنچ کی گئ ہیں.

    درخواست میں وزیراعظم عمران خان سمیت تمام معان خصوصی فریق ، شہزاد اکبر معید یوسف، عثمان ڈار کی تعیناتی چیلنچ کی گئی ہے.درخواست میں‌کہا گیا ہے کہ معید یوسف امریکہ کے مختلف تھینک ٹینکس کے ساتھ کام کرچکے ہیں، معید یوسف کی تعیناتی ملک کے مفاد کے برعکس ثابت ہوسکتی ہے، درخواست ینگ جرنلسٹ ایسوسی ایشن کے چیئرمین فرخ نواز بھٹی کی جانب سے دائر کی گئی.رولز آف بزنس 1973 کے رول 4(6) کے مطابق وزیراعظم کے پاس معان خصوصی تعینات کرنے کا اختیار ہے،

    درخواست میں مزید کہا گیا کہ معاونین خصوصی کو فیڈرل منسٹر یا اسٹیٹ منسٹر کا درجہ خلاف قانون دیا گیا،
    کسی بھی معان خصوصی کی تعیناناتی آئین پاکستان کے آرٹیکل 92 کے تحت نہیں کی گئی ہے اور استدعا کی گئی کہ وزیراعظم کے معاونین خصوصی کو وفاقی وزیر اور وزیرمملکت کا درجہ غیر قانونی قرار دیا جائے، وزیراعظم عمران خان اور کیبنٹ ڈویژن کے اقدام کو غیر قانونی قرار دیا جائے،نیب کو تمام فریقین کیخلاف کاروائی کا حکم دیا جائے، جسٹس عامر فاروق تین فروری کو کیس کی سماعت کریں گے، معاونین کو وفاقی وزیر اور وزیر مملکت کے اختیارات دیے گئے،

  • پاک بنگلہ دیش ٹی ٹونٹی سیریزقومی سلیکشن کمیٹی نے مشاورت کا آغاز کردیا

    پاک بنگلہ دیش ٹی ٹونٹی سیریزقومی سلیکشن کمیٹی نے مشاورت کا آغاز کردیا

    پاک بنگلہ دیش ٹی ٹونٹی سیریزقومی سلیکشن کمیٹی نے مشاورت کا آغاز کردیا

    باغی ٹی وی : پاک بنگلہ دیش ٹی ٹونٹی سیریزقومی سلیکشن کمیٹی نے مشاورت کا آغاز کردیا۔بنگہ دیش کے خلاف ٹی ٹونٹی سیریز کے لئے عماد بٹ، فہیم اشرف بطور آل راونڈر آزمانے پر غور کیا جارہا ہے.اس کے علاوہ ذیشان اشرف، حارث روف کے ناموں پر بھی غور کیا جارہا ہے۔ وکٹ کیپر کے لئے سابق کپتان سرفراز احمد اور کامران اکمل کے ناموں پر بھی غور کیا جائے گا ۔بابر اعظم ، آصف علی ،محمد عامر،شاداب خان ، فخر زمان کی ٹیم میں شمولیت یقینی ہے۔ محمد موسی ، محمد حسنین ، خوشدل شاہ، عماد وسیم کی شمولیت امکان ہے فخر زمان اور حسن علی کے نام فٹنس رپورٹ کلیئر ہونے کی صورت میں زیر غور آئیں گے.اسپنر ظفر گوہر، نعمان علی اور بلال آصف کے ناموں پر غور کیا جارہا ہے

  • اے بی ڈویلیئرز نے ایسا فیصلہ لیا کہ  فینز خوش ہو جائیں.

    اے بی ڈویلیئرز نے ایسا فیصلہ لیا کہ فینز خوش ہو جائیں.

    اے بی ڈویلیئرز نے ایسا فیصلہ لیا کہ ان کے فینز خوش ہو جائیں.

    باغی ٹی وی جنوبی افریقہ کے سابق کپتان و مایہ ناز بلے باز اے بی ڈویلیئرز نے رواں سال ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں واپسی کا عندیہ دے دیا۔

    انہوں نے آج آسٹریلیا میں جاری ٹی ٹوئنٹی بگ بیش لیگ میں برسبین ہیٹ کی نمائندگی کرتے ہوئے اپنی ٹیم کو 40 رنز کی عمدہ اننگز سے فتح دلائی۔
    بعد ازاں ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ٹیم میں واپسی کے خواب کو حقیقت میں تبدیل کرنے کے لئے بہت کچھ چل رہا ہے۔
    انہوں نے کہا کہ پروٹیز ٹیم کی نئی انتظامیہ جن میں ڈائریکٹر گریم اسمتھ، کوچ مارک باؤچر اور کپتان فاف ڈو پلسی سے رابطے میں ہوں اور ہم سب مل کر اس پر کام کر رہے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ میں خود کو اور اپنے مداحوں کو مایوس نہیں کرنا چاہتا، ابھی میری ساری توجہ اچھی کرکٹ کھیلنے کی جانب گامزن ہے۔

  • سوشل میڈیا پر عورتوں کو بلیک میل کیے جانے کا حل : تحریر غنی محمود قصوری

    سوشل میڈیا پر عورتوں کو بلیک میل کیے جانے کا حل : تحریر غنی محمود قصوری

    معاشرے کا حصہ ہونے کی حیثیت سے ہر بندے کا حق ہے کہ وہ دوسروں کی طرح ہر سہولت کا استعمال کرسکے انٹرنیٹ اور خاص کر سوشل میڈیا کی بدولت یہ دنیا اس وقت ایک گلوبل ویلج بن چکی
    ہے لوگ اپنے سے دور بیٹھے عزیز و اقارب کیساتھ جلد رابطے کیلئے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کا استعمال کرتے ہیں جو کہ زیادہ تر محفوظ نہیں ہیں
    اس وقت پاکستان کی کل آبادی کا 22.2 فیصد افراد انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں جن میں بیشتر خواتین بھی شامل ہیں خواتین کی جانب سے بہت مرتبہ سائبر کرائم کی شکایات بھی ملی ہیں کچھ کم ظرف لوگ عورتوں کو اپنے جال میں پھانس کر ان کی تصاویر حاصل کر لیتے ہیں پھر ان تصویروں کی بدولت ان خواتین کو بلیک میل کرکے پیسے بٹورنے کے علاوہ جنسی تعلقات بھی قائم کر لیتے ہیں زیادہ تر خواتین ان بلیک میلروں کی باتوں میں آکر اپنی تصاویر ان کو دے بیٹھتی ہیں جنہیں یہ لوگ فوٹو شاپ و دیگر سوفٹ وئیر کے ذریعے اپنی مرضی کے مطابق ایڈٹ کر لیتے ہیں جو کہ انتہائی تشویشناک بات بن جاتی ہے اور ایسا سب سے زیادہ فیس بک استعمال کرنے والی خواتین کے ساتھ ہوتا ہے زیادہ تر خواتین یہ غلطی کرنے کے بعد اپنی بدنامی کے ڈر سے خاموش ہی رہتی ہیں کیونکہ انہیں اپنی غلطی کی بدولت اپنے گھر والے افراد سے برے برتاءو کی توقع بھی رہتی ہے جس سے ان بلیک میلروں کے ناپاک عزائم کو مذید تقویت ملتی ہے عورتوں کی خاموشی ہی ان کی سب سے بڑی غلطی بن جاتی ہے جس سے یہ افراد دید ور ہو کر دوسری عورتوں کو بلیک میل کرکے پیسے اور جنسی تعلقات بڑھاتے ہیں کئی ایسی خواتین ان بلیک میلروں کی بدولت خاموش رہتے ہوئے ان کی ڈیمانڈیں پوری کرتی رہیں اور آخر تھک ہار کر خود کشی کرنے پر مجبور ہو گئیں
    عورتوں سے گزارش ہے کہ اپنی تصویر اپلوڈ نا کرنے کی عادت ڈالیں اور کسی بھی بغیر پہچان والے بندے کو اپنی تصویر ہرگز نا دیں تاکہ آپ کی زندگی جہنم بننے سے بچ سکے اور آپ کے بہن بھائی ،ماں باپ اور خاندان کے دیگر افراد سر فخر سے بلند کرکے اس معاشرے میں جی سکیں
    حالانکہ کسی پر اعتبار کرکے اسے اپنی تصویر یا ویڈیو دینا اتنا جرم نہیں جتنا بڑا جرم کسی کے اعتماد ٹھیس پہنچا کر اسے بلیک میل کرنا ہے
    مگرخدانخواستہ اگر کسی بھی عورت کے ساتھ ایسا معاملہ پیش آ جائے اور وہ اس غلطی کا شکار ہو چکی ہے تو مذید چکروں میں پڑ کر بلیک میل ہونے کی بجائے دوسری عورتوں کو اس بلیک میلر کا شکار نا ہونے دیں بلکہ معاشرے کے اس ناسور کو اس کے کردہ جرم کی سزا دلوائیں تاکہ کوئی اور حوا کی بیٹی اس کی بلیک میلنگ کی بھینٹ نا چڑھ سکے کیونکہ بلیک میل ہوتے رہنا یا پھر خودکشی کرلینا مسئلے کا حل نہیں اگر آپ خاموش رہی یا خودکشی کر گئی تو وہ بلیک میلر آپ کے بعد آپ کے گھر کے دیگر افراد کو بلیک میل کرے گا کیونکہ جب تک اس کے پاس آپ کی ویڈیو یا تصویریں ہونگی وہ بندہ بلیک میلنگ سے رکے گا نہیں عورت کا خاموش رہنا اپنے خاندان کی بدنامی کا ڈر ہے تو کیا فائدہ اس ڈر کا جو آپ کے بعد آپ کے خاندان کیلئے بھی ڈر بن جائے لہذہ خاموش رہنے اور خود کو ختم کرنے کی بجائے اپنی غلطی سے دی جانے والی ویڈیو یا تصویروں کو اس مجرم کو قانون کی گرفت میں لا کر ختم کروائیں کیونکہ سائبر کرائم کے انسداد الیکٹرونک کرائم ایکٹ 2015 کے تحت کسی بھی شخص کو فحش تصویر یا ویڈیو کے ذریعے بلیک میلنگ کرنے کی سزا 5 سے 7 سال قید یا 50 لاکھ روپیہ جرمانہ یا پھر دونوں سزائیں ایک ساتھ ہو سکتی ہیں مذید یہ کہ اگر بلیک میلر بیرون ملک مقیم ہے تب بھی وہ اسی ایکٹ کے تحت مجرم ہے اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ اسے انٹرپول کے ذریعے گرفتار کرنے کا حق رکھتا ہے اب تک کتنے ہی ایسے مجرموں کو پکڑ کر سزا ڈلوائی جا چکی ہے
    اگر آپ اس تکلیف میں مبتلا ہیں تو فوری فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی FIA کے سائبر کرائم ونگ کی چوبیس گھنٹے کام کرنے والی ہیلپ لائن 9911 پر کال کریں یا پھر ڈائریکٹر کرائم ایف آئی اے کے ای میل Dir.crime@fia.gov.pk
    ڈائریکٹر این آر 3 سی کے ای میل Pd@nr3c.gov.pk پر ای میل کرکے اپنی شکایت درج کروائیں اور ان کی ہدایات پر عمل کریں یہ ادارہ آپ کے راز کو راز ہی رکھتا ہے اور آن لائن آپ سے رابطے میں رہ کر مطلوبہ مجرم کو پکڑے گا وفاقی تحقیقاتی ادارہ مکمل تصدیق کرکے اس مجرم کو قابو کرکے آپ کا فحش مواد ختم کروائے گا اور یوں آپ کی اس جرآت سے دیگر حوا کی بیٹیاں اس کی بلیک میلنگ سے بچ جائیں گی اور پھر کوئی دوسری حوا کی بیٹی بلیک میلنگ سے مجبور ہوکر خود کشی نا کرسکے گی تو چپ رہ کر بلیک میل ہونے و خودکشی کرنے کی بجائے مجرم کیساتھ اپنا فحش ڈیٹا بھی ختم کروائیں تاکہ آپ اور آپ کے خاندان کے افراد سر فخر سے بلند کرکے جی سکیں

  • عنوان: شہر قائد سیاست کی نذر، تحریر: انشال راؤ

    عنوان: شہر قائد سیاست کی نذر، تحریر: انشال راؤ

    آرزوئے سحر
    تحریر: انشال راؤ
    عنوان: شہر قائد سیاست کی نذر

    حادثاتی طور پر وجود میں آنے والی ایم کیو ایم MQM اپنے پینتیس سالہ دور میں کئی نشیب و فراز سے گزری، بہت سی جماعتوں سے اتحاد بھی کیا اور تقریباً ہر بار ہی حکومت کا حصہ رہی، موجودہ وقت میں شہری سندھ کی نمائندہ جماعت کو تاریخ کے مشکل ترین حالات کا سامنا ہے، اپنے عروج سے زوال تک MQM بہت سے تلخ و شیریں تجربات و مشاہدات سے گزری لیکن طرز سیاست اور روش میں تبدیلی نہ آئی، یہ جماعت جتنی بار بھی حکومتوں کا حصہ بنی ہمیشہ ناراضگی اور اتحاد اس کا خاصا رہا یعنی کہ چھوڑنا چھوڑنی کا کھیل انکی طرز سیاست کا اہم ہتھیار رہا ہے عام طور پر مہاجر حلقوں میں اسے بلیک میلنگ کی سیاست کے نام سے پکارا جاتا ہے جس کا متوسط طبقے کی نمائندہ جماعت کو ہر سطح پر نقصان ہی نقصان ہوا، اس قسم کے طرز سے فرد یا مخصوص لوگوں کو تو فائدہ ہوجاتا ہے لیکن جماعتی سطح پر اس کے اثرات کبھی مثبت نہ آئے، روایت کے مطابق متحدہ نے ایک بار پھر کابینہ سے علیحدگی کا اعلان کردیا ہے جو آگے چل کر اتحاد سے علیحدگی کی صورت بھی اختیار کرسکتا ہے لیکن حکومت کے لیے یہ اچانک تغیر شاید زیادہ پریشان کن نہ ہو کیونکہ متحدہ کی روس منائیوں سے کون ہے جو واقف نہیں لیکن اس چھوڑنا چھوڑنی اور آن جان کے کھیل میں نقصان شہر قائد اور اس کے باسیوں کا ہے جن کی مشکلات میں کمی کی بجائے مزید اضافہ ہوجانا ہے اگر موجودہ صورتحال پر غور کیا جائے تو شہر قائد ایک بار پھر ستر کی دہائی میں پہنچ گیا جب مذہبی جماعتیں مہاجر کارڈ کو استعمال کرتی تھیں اور اب PTI سے PPP تک اس کارڈ کو ہتھیانے کے لیے زور آزمائی کررہی ہیں، جس طرح ستر کی دہائی میں بھٹو اور مہاجر دانشوروں کے مابین طے پانے والا فارمولا 60 فیصد دیہی اور 40 فیصد شہری کوٹہ سیاست کی نذر ہوگیا اسی طرح خستہ حال کراچی کی ڈویلپمنٹ کے منصوبے ایک بار پھر سیاست کی نذر ہوگئے، تحریک انصاف کے لارے لپے اور ٹال مٹول نے متحدہ کے لیے شکوک و شبہات کو جنم دیا کہ شاید PTI متحدہ کو کراچی کے منظرنامے سے ہٹاکر اس کی جگہ لینی چاہتی ہے ویسے اگر حقیقت کی نگاہ سے دیکھا جائے تو کچھ کچھ ایسا بھی ہے جبکہ پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت اس بداعتمادی کی وجہ سے (جو 1989 میں پیدا ہوئی) آج تک شہری سندھ کو اس کے حقوق سے جبراً محروم کیے آرہی ہے،

    1989 میں بینظیر کے خلاف تحریک عدم اعتماد میں MQM نے اتحادی ہوتے ہوے مخالف ووٹ دیا اور ساتھ ہی مختلف نعروں کے ساتھ شہری سندھ میں فسادات پھوٹ پڑے تو دیہی سندھ میں وڈیروں کے ہاتھوں بیسیوں لاکھ مہاجروں کو شدید نقصان برداشت کرنا پڑا اور یہ سلسلہ بینظیر حکومت کے خاتمے پہ جا کر تھما، اس کے بعد سے پیپلزپارٹی نے شہری سندھ سے ہمیشہ غیرجمہوری و غیرآئینی سلوک برتا حتیٰ کہ یونیورسٹی جیسے عظیم مطالبے تک کی راہ میں رکاوٹ بنی رہی جس کا درحقیقت نقصان PPP ہی کو پہنچا نہ صرف شہری سندھ میں PPP کو نفرت کی نگاہ سے دیکھا جانے لگا بلکہ ملک کے سب سے بڑے شہر کی خستہ حالی کا اثر پنجاب و KPK میں PPP کی ساکھ پہ ہوا، اگر پیپلزپارٹی جمہوری تقاضوں کو پورا کرتی تو یقیناً آج صورتحال اس کے برعکس ہوتی جیسا کہ PPP کے لیے شہری علاقوں میں سوچ پائی جاتی ہے، ماضی میں یہی PPP تھی جب جنرل ضیا کے دور میں 1979 میں بلدیاتی الیکشن ہوے تو کراچی سے عوام نے PPP پر بھرپور اعتماد کیا لیکن دو کونسلروں کے اغوا نے PPP کو میئر شپ سے محروم کردیا اور ڈپٹی میئر پر ہی اکتفا کرنا پڑا، اب کراچی میں خلا کو دیکھتے ہوے اور ہر خاص و عام کی تنقید کے بعد سندھ حکومت کراچی سمیت سندھ کے شہری علاقوں پہ توجہ دیتی ہوئی نظر آرہی ہے لیکن ابھی مزید کرنے کی ضرورت ہے بلاول بھٹو جو پنجاب پہ خصوصی توجہ دئیے ہوے ہیں وہ اگر اس کا دس فیصد بھی کراچی پر دے دیں اور ایک دو ماہ کراچی میں ڈیرے ڈال لیں تو PPP نہ صرف دیہی سندھ بلکہ شہری علاقوں کی بھی نمائندہ جماعت بن جائے گی کیونکہ PTI کی عدم توجہی اور غیرسنجیدہ روئیے کی وجہ سے اردو اسپیکنگ PTI کو محض نعروں والی جماعت سمجھنے لگے ہیں، MQM جو اپنے قائد سے محروم ہوکر یتیم جماعت بن چکی تھی اب تقسیم در تقسیم در تقسیم کا شکار ہوکر بالکل مفلوج ہوکر رہ گئی ہے، وڈیرہ شاہی کے خلاف علم بغاوت بلند کرنے والی جماعت کے کرتا دھرتا 30 سے 35 سالوں میں وڈیرانہ نظام کا تو کچھ نہ بگاڑ سکے لیکن خود شہری وڈیرے بن کر بیٹھ گئے اب اپنی چودھراہٹ کو جاتے دیکھ کر اندرون خانہ ایک نیا مہاجر اتحاد قائم کرکے ایک نئی سیاسی جماعت کو کھڑا کرنے کے لیے ہاتھ پیر مار رہے ہیں لیکن افسوس کہ جو سفر 35 سال پہلے مہاجر حقوق کے نام سے شروع کیا آج 35 سال بعد اردو اسپیکنگ کو وہیں لا کر کھڑا کردیا،

    80 کی دہائی میں بھی مہاجر حقوق کا نعرہ تھا آج 2020 میں بھی مہاجر حقوق کا نعرہ ہے اگر کچھ حاصل ہوا تو وہ دو چار درجن افراد کی ہوائی چپل سے شہری وڈیرے کے طور پر ترقی حاصل ہوئی، اگر یہ اتحاد نیا جنم لیکر منظر پر آ بھی جائے تو نقشہ کیا ہوگا وہی شہری دیہی تفریق، وہی لسانیت وہی نفرتیں جس کے اب مزید متحمل نہیں ہوسکتے، اردو اسپیکنگ جو ملک کا سب سے پڑھا لکھا طبقہ تھا اور اپنے حقوق کے لیے اٹھ کھڑا ہونا ان کے شعور کی گواہی ہے لیکن ستم بالا ستم نعرہ تھا حقوق کا، نعرہ تھا جاگیردارانہ وڈیرانہ نظام کے خاتمے کا، نعرہ تھا مساوات کا، متوسط طبقے کا لیکن ان کا رخ لسانیت کی طرف موڑ دیا گیا، جدوجہد تو ظالم وڈیروں اور ظالم جاگیرداروں کی اقرباپروری کے خلاف کرنی تھی لیکن نامعلوم راز ہے کہ لڑوایا گیا عام سندھی عام پنجابی و عام پٹھان سے، کبھی ایک بار بھی عملی طور پر اسٹیٹس کو کے خلاف کوئی قدم نہ اٹھایا گیا، اور اب ایک بار پھر مہاجر اتحاد کی کوشش نتیجہ کیا نکلنا ہے وہی لسانیت بیشک مہاجر نہ سہی کوئی اور سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لیے لسانی تعصب کو ابھار سکتا ہے لہٰذا اب لسانی سیاست اور ایک مخصوص سوچ سے باہر نکل کر قومی سیاست میں قدم رکھا جائے اور موجودہ خستہ حال نظام کے خلاف عملی جدوجہد کی جائے تو یقیناً جلد ہی یہ نیا اتحاد پورے ملک کی سیاست پہ چھا جانے کے ساتھ ساتھ ایک انقلاب ثابت ہوگا، مسائل سب کے یکساں ہیں مشکلات سب کی ایک سی ہی ہیں خواہ دیہی ہوں یا شہری سب ہی اس نظام کے ستائے ہوے ہیں ہر خاص و عام اس نظام سے بیزار ہے عوام بےچین ہے کہ کوئی چنگاری نظر آئے تو وہ آگ بن کر اس ظالم نظام کو راکھ کردے لیکن افسوس کوئی بھی ایسا نہیں جو عوام کے لیے نکلے، کراچی وہ شہر ہے جہاں سے ماضی میں بہت سی تحریکوں نے جنم لیا، کیا ہی اچھا ہو جو ایک بار پھر انقلابی تحریک منبع ثابت ہو۔

  • وسیم اکرم کو ملا ایک اور اعزاز

    وسیم اکرم کو ملا ایک اور اعزاز

    وسیم اکرم کو ملا ایک اور اعزاز
    باغی ٹی وی :سپن کے سلطان وسیم اکرم کو ملا ایک اور اعزاز جب ان کے معاصر لیجنڈ بلے باز نے انہیں بہترین گیند باز قرار دیا. آسٹریلیا کے سابق کپتان و معروف بلے باز رکی پونٹنگ نے قومی ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم اور ویسٹ انڈیز کے کرٹلی ایمبروس کو بہترین و خطرناک گیند باز قرار دے دیا۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹرپر ایک مداح نے سابق آسٹریلیوی کپتان سے سوال کیا کہ آپ اپنے کریئر کے دوران کن گیند بازوں کے خلاف بلے بازی کرنے میں مشکل کا سامنا کرتے تھے؟۔جس پر رکی پونٹنگ نے بتایا کہ اپنے کریئر کے دوران مجھے وسیم اکرم اور کرٹلی
    ایمبروس کو کھیلنے میں مشکل ہوتی تھی وہ اس وقت کے بہترین گیند باز تھے


    ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کےاسپیڈ اسٹارو سابق ٹیسٹ کرکٹر شعیب اختر کو سب سے تیز گیند باز پایا جبکہ مجھے سب سے زیادہ بھارت کے اسپینر ہربھجن سنگھ نے آؤٹ کیا۔

    واضح رہے رکی پونٹنگ کرکٹ کی تاریخ سب سے کامیاب ترین کپتان مانے جاتے ہیں۔ ان کی قیادت میں آسٹریلیا نے دو عالمی کپ جیتے تھے۔رکی پونٹنگ نہ صرف بہترین کپتان تھے بلکہ ان کا شمار دنیائے کرکٹ کے صف اول کے بلے بازوں میں بھی ہوتا ہے۔

  • 2019ء لوٹ مار کے احتساب کا سال، تحریر:محمد حسن رضا

    2019ء لوٹ مار کے احتساب کا سال، تحریر:محمد حسن رضا

    2019ء لوٹ مار کے احتساب کا سال، تحریر:محمد حسن رضا

    ایک وقت تھا قومی احتساب بیورو (نیب)جسے تمام سیاستدان ،افسران ،کاروباری شخصیات سمیت ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتے تھے اور نیب کسی بھی طاقتور شخص کے خلاف ایکشن لینے سے گھبراتا تھا، یہاں تک کہ یہ وہ ادارہ تھا کہ یہ جاگیرادار لوگوں کی گھر کی لونڈی بن چکی تھی ، اور ہر طاقتور شخص اس کو صرف اور صرف اپنے لئے استعمال کرتا تھا، لیکن پھر کیا تھا کہ اچانک تبدیلی آئی ،

    وہ بھی ایسی کہ ایک ریٹائرڈ جج کو چیئرمین نیب اور ایک ریٹائرڈ فوجی افسر میجر (ر)شہزاد سلیم کو لاہور میں اہم ذمہ داری سونپ دی گئی، ان کی تعیناتیوں کے وقت حکومت اور اپوزیشن تمام افراد متفق نظر آئے ۔ پھر آہستہ آہستہ ہر سیکٹر میں انکشافات ہونے لگے ،کہیں کسی کے پیچھے کارروباری شخصیت کا ہاتھ تو کسی کے پیچھے طاقتور بیوروکریٹ توکہیں سیاستدان یہاں تک کہ سابق وزراء اعظم اور وزراء اعلیٰ، اور پھر گورنر ، تو کہیں وزراء اور اسپیکر ، صدر تک بھی مبینہ کرپشن میں پیچھے نہ تھے۔ سرکاری خزانے کو لوٹنے اورقبضہ مافیا کی مدد کا بازار گرم تھا۔ پھر ایک دن یہ آیا کہ نیب کے نام سے سب خوف کھانے لگے ، کیونکہ جب ایکشن لیا جانے لگا ۔قانون اور رولز کی کتاب کو سامنے رکھا تو پھر ہر دوسرا طاقتور شخص قانون کی گرفت میں آنے لگا۔ نیب نے لوٹے گئے اربوں روپے ثبوتوں کی روشنی میںریکور کر کے سرکاری خزانے میں جمع کروائے ۔

    نیب اور حکومت کی کارکردگی کی بدولت پاکستان بدعنوانی کے تاثر کے حوالے سے اعشاریے سی پی آئی میں 175 سے 116 ویں نمبر پر آگیا ہے ۔پاکستان واحد ملک ہے جس کا سی پی آئی نیچے آنے کا رجحان ہے ۔ ہماری کارکردگی کو بھارت سمیت سارک ممالک کی جانب سے سراہا گیا ہے ، اسی لئے نیب سارک اینٹی کرپشن فورم کا متفقہ طور پر چیئرمین منتخب ہوا ہے ۔جو کہ پاکستان کے لئے ایک بڑی کامیابی ہے ۔ پاکستان کو 100 فیصد کرپشن فری بنانے کیلئے پرعزم ہے ۔ نیب نے نوجوانوں کو بدعنوانی کے برے اثرات سے آگاہ کرنے کیلئے ملک بھر میں کردار سازی کی 55 ہزار سے زائد انجمنیں قائم کی ہیں۔ نیب کی 2018ء سے 2019ء کے اس عرصہ کے مقابلہ میں شکایات انکوائریوں اور انوسٹی گیشن کی تعداد دوگنا ہے جو کہ نیب کی احتساب سب کیلئے بلاامتیاز پالیسی پر اعتماد کا اظہار ہے ۔

    نیب نے سابق صدر آصف علی زرداری، سابق وزرائے اعظم نوازشریف،شاہد خاقان عباسی،راجہ پرویز اشرف سابق وزرائے اعلی شہبازشریف ،چوہدری پرویز الٰہی، منظوروٹو، پرویز خٹک ، موجودہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ ، جبکہ چوہدری پرویز الٰہی کے ساتھ ساتھ ان کے رشتہ دار ، بیٹوں کے خلاف بھی تحقیقات کر رہا ہے ، اسی طرح متعدد صوبائی اور وفاقی وزراء ہیں یہاں تک کے وزیراعظم عمران خان کے اردگرد رہنے والے افراد بھی شامل ہیں جن میں وفاقی وزیر خسروبختیار ، پرویز خٹک اور دیگر اس وقت اہم عہدوں پر تعینات زلفی بخاری سمیت متعدد شخصیات ہیں جن کے کیسز نیب میں سال 2019میں چلتے رہے اور متعدد وزراء کے خلاف کیسز کا آغاز کیا۔ اور متعدد کو کرپشن اور آمدن سے زائد اثاثہ جات میں گرفتار بھی کیا گیا ۔

    پہلے نمبر پر نیب لاہور کی کارکردگی دیکھنے میں آئی۔ نیب لاہور میں کم و بیش 1 لاکھ افراد کوتحقیقاے کیلئے نیب لاہور طلب کیا گیا جس میں سے دوران تحقیقات 859ملزمان کی گرفتاری کے وارنٹ جاری ہوئے جن پر عملدرآمد کیا گیا۔ ہائوسنگ سیکٹر میں نیب لاہور کی ریکوری میں 700 فیصد اضافہ ہوا، مجموعی طور پر کرپشن کیسز میں ریکوری 500 گناہ بڑھ گئی،17 سالوں کے دوران نیب لاہور کی ہائوسنگ سیکٹر میں ریکوری 45 کروڑ رہی اور 2017 سے تاحال 3 سالوں کے دوران 3 ارب 61کروڑ کی ریکوری کی گئی، سب سے زیادہ ریکوری 2019میں دیکھنے میں آئی، نیب لاہور کے قیام سے 2016 تک بیورو کی جانب سے مجموعی ریکوری سالانہ اوسطا65 کروڑ رہی جبکہ 2017 سے تاحال سالانا اوسط ریکوری 3 ارب 89 کروڑ تک پہنچ گئی ۔ اسی طرح ہائوسنگ سیکٹر ریفرنسز میں ریفرنسز کی صورت میں 16 سالوں کے دوران مجموعی طور پر 76 ارب مالیت کے ریفرنس احتساب عدالتوں میں دائر کئے گئے تاہم ڈی جی نیب لاہور کی سربراہی میں 3 سالوں میں ہی 46 ارب مالیت پر مشتمل ریفرنس دائر کئے جا چکے ہیں، ہائوسنگ سیکٹر میں دائر ریفرنسز کی مالیت میں 265% اضافہ دیکھنے میں رہا، ہائوسنگ سیکٹر ان ڈائریکٹ ریکوری 1999 سے 2016 تک محض 251ملین کی ان ڈائریکٹ ریکوری شمار ہوئی اسکے برمقابل 2017 سے تاحال 53 ارب کی ان ڈائریکٹ ریکوری کی گئی ہے ، ان ڈائریکٹ۔ریکوری کی مد میں17 ہزار گنا اضافہ رہاہے ، ہائوسنگ سیکٹر پلی بارگین میں ملزمان سے پلی بارگین کی مد میں 17 سالوں کے دوران صرف 350 ملین کی وصولی رہی، 2017 سے ابتک نیب لاہور 6 ارب 42 کروڑ کی بلین بارگین کر چکا ہے جو کہ ریکارڈ اضافہ ہے ، ہائوسنگ کیسز میں ہونیوالی پلی بارگین میں گزشتہ 3 سالوں کا مجموعی اضافہ 10 ہزار گنا رہا ہے ، ہائوسنگ سیکٹر ریکوری میں نیب لاہور ماضی کے 17 سالوں کی ہائوسنگ سے متعلقہ ریکوری 76 ارب کے مقابلے میں صرف 3 سالوں کے دوران 108 ارب کی مزید ریکوری ممکن بنا رہا ہے ، اس دوران صرف ہائوسنگ سیکٹر میں 54 ہزار متاثرین کو مکانات و پلاٹوں کے مالکانہ حقوق واپس دلوانا بھی نیب لاہور کے افسران کی انتھک محنت کا ضامن ہے ، نیب نے ایک نہیں متعدد شخصیات کے خلاف ایکشن لیا، یہاں تک کے شریف خاندان کے خلاف جہاں ریفرنسز فائل کئے وہاں ٹھوس شواہد عوام کے سامنے بھی آئے ،کہاں ٹی ٹی کے ذریعے منی لانڈرنگ کی گئی تو کہاں منصوبوں میں من پسند افراد کو نوازنے کے الزامات بھی سامنے آئے ۔

    سابق وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار کیخلاف جاری تحقیقات میں نیب لاہور نے 50کروڑ روپے کی رقم ملزم کے بینک اکاؤنٹس سے برآمد کرتے ہوئے صوبائی حکومت کے حوالے کی۔ گلبرگ میں کروڑوں روپے مالیت کا چار(4) کنال پر محیط گھر بھی حکومت پنجاب کے حوالے کیا جارہا ہے جسے فروخت کرکے وصول ہونے والی مکمل رقم قومی خزانے میں جمع کروائی جائیگی۔ پنجاب پاور ڈویلپمنٹ کمپنی کے سابق چیف فائنینشل آفیسر اکرام نوید سے نیب لاہور نے 1ارب مالیت کی جائیدادیں برآمد کروا کر حکومت پنجاب اور ایرا حکام کے حوالے کیں۔ نیب لاہور کی جانب سے ڈبل شاہ کیس میں ملزمان سے اربوں روپے کی تاریخی وصولی اور ہزاروں متاثرین میں برآمد کی گئی۔نیب لاہور نے ڈبل شاہ کیس کے متاثرین میں 19کروڑ35لاکھ روپے اور دوساری مرتبہ 36کروڑ روپے تقسیم کئے ۔ مجموعی طور پر نیب لاہور نے ڈبل شاہ کیس میں ہزاروں متاثرین کوایک ارب روپے کی خطیر رقم ملزمان سے برآمد کروا کر تقسیم کی جا چکی ہے ۔

    ہاؤسنگ سیکٹر کے مقدمات میں پیش رفت ہوئی گذشتہ دو سالوں کے دوران نیب لاہور نے ہاؤسنگ سیکٹر کے 54,000 متاثرین کو انکے حقوق واپس دلوائے غیرقانونی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے کیسز میں گذشتہ دو سالوں کے دوران نیب لاہور نے 26ارب مالیت پر مشتمل 14بدعنوانی کے ریفرنسز معزز احتساب عدالتوں میں دائر کئے ہیں جبکہ نیب لاہور نے مجموعی طور پر دو سالوں کے دوران 31ارب روپے کی خطیر رقم ملزمان سے وصول کر کے قومی خزانے میں جمع کروائی۔

    نیب میں میگا کرپشن کے مقدمات جن میں شریف خاندان سے متعلق جہاں ایکشن لئے گئے جن میں سابق وزیر ِ اعلی پنجاب شہباز شریف،حمزہ شہباز، سلمان شہباز و دیگر کیخلاف مبینہ منی لانڈرنگ و آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس کی تحقیقات، چوہدری شوگر ملز کیس میں میاں نواز شریف، مریم نواز شریف، یوسف عباس اور عبدالعزیز کیخلاف مبینہ منی لانڈرنگ کی انکوائری، پنجاب پاور ڈویلپمنٹ کمپنی کیس میں ملزم اکرام نوید کیخلاف مبینہ طور پر آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس کی تحقیقات اور سابق وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف کے داماد عمران علی یوسف کیخلاف تحقیقات، سابق وزیرِ خزا نہ ملزم اسحاق ڈار کیخلاف مبینہ طور پر آمدن سے زائد اثاثہ جات بنانے کے کیس کی تحقیقات، سابق وزیرِ اعلی پنجاب میاں محمد نواز شریف اور میاں محمد شہباز شریف کیخلاف رائیونڈ روڈ کی توسیع میں مبینہ طور پر اختیارات کے غیر قانونی استعمال کیخلاف جاری تحقیقات، میاں محمد نواز شریف کیخلاف ایل ڈی اے پلاٹوں کی مبینہ غیر قانونی تقسیم کے کیس کی انکوائری کے علاوہ دیگر میگا کرپشن کیسز پر ایکشن لئے گئے ہیں۔ شریف خاندان کے خلاف جو نیب کی رپورٹ سامنے آئی اس میں بتایا گیا کہ نوازشریف نے یوسف عباس اور مریم نواز کی شراکت داری سے 410ملین روپے کی منی لانڈرنگ کی،ملزمان نے جعلی گیارہ ملین کے شیئرز غیر ملکی شخص نصیر عبداللہ کو منتقل کرنے کا دعویٰ کیا، غیر ملکی کو ٹرانسفر کئے جانیوالے شیئرز درحقیقت نوازشریف کو 2014میں واپس کر دئیے گئے تھے ، نیب رپورٹ کے مطابق چوہدری شوگر ملز اور شمیم شوگر ملز میں1992سے لیکر 2016تک 2ہزار ملین کی انوسٹمنٹ کی گئی،سابق وزیراعظم نوازشریف نے 1کروڑ 55 لاکھ 20ہزار ڈالر کا قرض شوگر ملز میں ظاہر کیا گیا، نوازشریف نے قرضہ 1992میں آف شور کمپنی سے لیا گیا تھا، رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ نوازشریف نے جس کمپنی سے قرض لیا اس آف شور کمپنی کا اصل مالک ظاہر نہیں کیاگیا،چوہدری شوگر مل کے آغاز کے لئے شریف فیملی نے اپنی ہی 9کمپنیوں سے قرض لیا،شریف فیملی نے 20کروڑ 95لاکھ کا قرض 9کمپنیوں سے لیا، چوہدری شوگر مل کے قیام کے لئے ایک کروڑ 53لاکھ ڈالر کا قرض بھی حاصل کیا گیا،نوازشریف 1992میں 43ملین شیئر کے مالک تھے ، نوازشریف کے پاس اتنے شیئر 1992میں کہاں سے آئے یہ نہیں بتایا گیا، نوازشریف کے جب آثاثے بڑھے اس وقت پنجاب کے وزیراعلیٰ ، وزیر خزانہ بھی رہے ۔ مریم نواز سے 3 غیر ملکی کمپنیوں کی جانب سے بھوائے گئے شئیرز کے متعلق پوچھا گیا اور ٹرانسفر ڈیڈ مانگی گئی ۔مریم نے کہا انکے پاس ٹرانسفر ڈیڈ نہیں ہے ، مریم نواز نے موقف بدلتے ہوئے کہا شاید یہ ٹرانسفر ڈیڈ پرانے ریکارڈ میں موجود ہوں۔چودھری شوگر مل کا بینک اکاونٹس منی لانڈرنگ کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے ۔عبدالعزیز عباس کے اکاونٹ میں 3 دنوں کے دوران 10 کروڑ کی خطیر رقم ٹرانسفر کی گئی،25 اکتوبر 2013 کو 2 ٹرانزیکشن کے زریعے 5 کروڑ کی رقم منتقل کی گئی، 23 اکتوبر 2013 کو ایک ہی دن میں 5 ٹرانزیکشن کے زریعے 5 کروڑ کی رقوم منتقل ہوئیں، مریم نواز اس رقم سے متعلق تسلی بخش جواب نہیں دے سکیں،مریم نواز نے کہا کہ انکی فیملی کے دوبئی میں موجود بزنس مینوں سے کاروباری مراسم ہیں، دوبئی کی کاروباری شخصیات سے بزنس کے سلسلہ میں لین دین چلتا رہتا تھا،جبکہ رپورٹ کے مطابق یوسف عباس کے اکاونٹ میں 1 سال کے دوران 33 کروڑ کی رقم منتقل ہوئی، یوسف عباس کو یہ خطیر رقم 2010،11 میں 10 ٹرانزیکشن کے زریعے منتقل ہوئیں، یوسف عباس نے دوران تفتیش لاعملی کا اظہار کرتے ہوئے کمپنی سیکرٹری سے مشاورت کے لیے ملاقات کا کہا،اوریوسف عباس نے کہا کہ کمپنی سیکرٹری سے مل کر اس رقم سے متعلق بتا سکتا ہو،مریم نواز اور یوسف عباس سے سیل ڈیڈ سمیت دیگر پوائنٹس پر تفتیش بھی کی گئی ہے ۔

    آصف علی زردار ی اور دیگر کے خلاف جعلی بینک اکاؤنٹس کیس سے متعلق مجموعی طور پر 26 انکوائریز اور انویسٹی گیشنز کی گئیں ہیں، نیب رپورٹ کے مطابق جعلی بینک اکاؤنٹس سے متعلق انکوائریز سپریم کورٹ کے حکم پر شروع کی گئیں اور 5 انکوائریز اور 3 انویسٹی گیشنز میں آصف زرداری کا کردار سامنے آیا ہے ۔نیب رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آصف زرداری کے اب تک صرف ایک کیس میں وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے ہیں۔ جعلی بینک اکاؤنٹس کیس کا پسِ منظرکی طرف جائیں تو بہت انکشافات سامنے آتے ہیں یعنی منی لانڈنگ کیس 2015 میں پہلی دفعہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے اُس وقت اٹھایا گیا، جب مرکزی بینک کی جانب سے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے ) کو مشکوک ترسیلات کی رپورٹ یعنی ایس ٹی آرز بھیجی گئیں۔ایف آئی اے نے ایک اکاؤنٹ سے مشکوک منتقلی کا مقدمہ درج کیا جس کے بعد کئی جعلی اکاؤنٹس سامنے آئے جن سے مشکوک منتقلیاں کی گئیں۔جے آئی ٹی نے سابق صدر آصف علی زرداری اور اومنی گروپ کو جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے فوائد حاصل کرنے کا ذمہ دار قرار دیا اور ان کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کی سفارش کی تھی پھر انہیں نیب نے ایکشن لیتے ہوئے گرفتار کر لیا گیا ، اس کیس میں سابق صدر آصف علی زرداری، ان کی ہمشیرہ فریال تالپور سے بھی تفتیش کی جارہی ہیں، پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی تحریری طور پر جے آئی ٹی کو اپنا جواب بھیجا جب کہ اومنی گروپ کے سربراہ انور مجید اور نجی بینک کے سربراہ حسین لوائی ایف آئی اے کی حراست میں ہیں۔نیب کو ملنے والی ایک رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ 29 مشکوک اکاؤنٹس کی تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ ایک اکاؤنٹ جو اے ون انٹرنیشل کے نام سے موجود تھا جس کا مالک طارق سلطان نامی شخص کو ظاہر کیا گیا تھا، یہ اکاؤنٹ منی لانڈرنگ کے لیے استعمال کیا گیا۔تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ 35 ارب کی مزید مشکوک منتقلی کی نشاندہی کی ہے ، جس سے مستفید ہونے والوں میں متحدہ عرب امارات کے نصیر عبداللہ لوطہ گروپ کے سربراہ، آصف علی زرداری اور ان کی بہن کا گروپ اور آصف زرداری کے قریبی دوست انور مجید شامل ہیں۔اور نصیر عبداللہ لوطہ چیئرمین سمٹ بینک کو دو ارب 49 کروڑ، انصاری شگر ملز جس کے مالک انور مجید اور علی کمال مجید ہیں کو سات کروڑ 37 لاکھ، اومنی پولیمرز پیکجز کے عبدالغنی مجید اور کمال مجید کو 50 لاکھ، پاک ایتھنول کے مصطفیٰ ذوالقرنین مجید اور عبدالغنی مجید کو ایک کروڑ 50 لاکھ، چمبڑ شگر ملز کے مالک انور مجید اور نمر مجید کو 20 کروڑ، ایگرو فارمز ٹھٹہ کے مالک انور مجید اور نازلی مجید کو 57 لاکھ، زرداری گروپ جس کے مالک آصف علی زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور اور دیگر ہیں کو ایک کروڑ، پارتھی نون کے قابل خان نوری کو پانچ لاکھ، ایون انٹرنیشنل کو پانچ لاکھ 76 ہزار، لکی انٹرنیشنل کو دو کروڑ 72 لاکھ، لاجسٹک ٹریڈنگ کو 14 کروڑ 50 لاکھ، رائل انٹرنیشنل کو 28 کروڑ اور عمیر ایسوسی ایٹس کو 80 کروڑ کی منتقلی ہوئی۔ حسین لوائی پر 29 جعلی بینک اکاؤنٹس کھولنے میں معاونت کرنے کا الزام ہے ، جن کے ذریعے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین آصف علی زرداری سمیت 13 کمپنیوں کو اربوں روپوں کی مشکوک منتقلی کی گئی ہے ۔ 29 مشکوک اکاؤنٹس کی تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ ایک اکاؤنٹ جو اے ون انٹرنیشنل کے نام سے موجود تھا جس کا مالک طارق سلطان نامی شخص کو ظاہر کیا گیا تھا، یہ اکاؤنٹ منی لانڈرنگ کے لیے استعمال کیا گیا، اکاونٹ مالک طارق سلطان نے اس اکاونٹ سے لاتعلقی کا اظہار کیا، ان کے انکار کے بعد ہینڈ رائٹنگ اور دستخط کے حوالے سے موقف لیا گیا جس میں جعلی دستخط ثابت ہوئے ۔ایف آئی اے کے مطابق اے ون انٹرینشل کے مالک طارق سلطان نے انکشاف کیا کہ اس وقت کی آپریشنل مینیجر کرن امان نے جعلی اکاونٹ کی تصدیق کی لیکن اس وقت کی کارپوریٹ رلشن شپ افسر نورین سلطان اور دیگر افسران نے کوئی کارروائی نہیں کی باوجود اس کے اکاؤنٹس کے ریکارڈ سے ظاہر ہوتا تھا کہ اکاونٹ کا تعلق اومنی گروپ سے ہے ۔کرن امان نے انکشاف کیا کہ دستاویزات کارپوریٹ ڈیپارٹمنٹ کو بھیجے گئے جہاں طلحہ رضا، کارپوریٹ ہیڈ نے واپس بھیج دیے اور حسین لوائی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ان کی ہدایت کے تحت اکاؤنٹ کھولا جائے ۔تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ 10 ماہ کے قلیل مدت میں ساڑھے چار ارب روپے اس اکاؤنٹ میں جمع ہوئے اور دیگر اکاؤنٹس میں ان کی منتقلی کی گئی۔یہ رقم جمع کرانے والوں میں سجاول ایگرو فارمز پرائیوٹ لمیٹیڈ (50 کروڑ 50 لاکھ)، ٹنڈو الہ یار شگرملز (23کروڑ 84 لاکھ )، اومنی پرائیوٹ لمیٹیڈ (5 کروڑ)، ایگرو فارمز ٹھٹہ (ایک کروڑ 70 لاکھ)، الفا ژولو کو پرائیوٹ لمیٹیڈ( 2 کروڑ 25 لاکھ)، حاجی مرید اکبر بینکر( 2 کروڑ)، شیر محمد مغیری اینڈ کو کانٹریکٹر (5 کروڑ)، سردار محمد اشرف ڈی بلوچ پرائیوٹ لمیٹیڈ کانٹریکٹر( 10 کروڑ)، ایون انٹرنیشنل (18 کروڑ 45 لاکھ)، لکی انٹرنیشنل (30 کروڑ 50 لاکھ)، لاجسٹک ٹریڈنگ (14 کروڑ 50 لاکھ)، اقبال میٹلز (15 کروڑ 63 لاکھ)، رائل انٹرنیشنل (18 کروڑ 50 لاکھ)، عمیر ایسو سی ایٹس (58 کروڑ 12 لاکھ) اور دیگر شامل تھے ۔ رپورٹ میں 4 ارب 14 کروڑ کی مزید مشکوک منتقلی کی نشاندھی کی ہے ، جس سے مستفید ہونے والوں میں متحدہ عرب امارات کے نصیر عبداللہ لوطہ گروپ کے سربراہ، آصف علی زرداری اور ان کی بہن کا گروپ اور آصف زرداری کے قریبی دوست انور مجید شامل ہیں۔یہ بھی الزام عائد ہوا کہ نصیر عبداللہ لوطہ چیئرمین سمٹ بینک کو دو ارب 49 کروڑ، انصاری شگر ملز جس کے مالک انور مجید اور علی کمال مجید ہیں کو 7 کروڑ 37 لاکھ، اومنی پولیمرز پیکجز کے عبدالغنی مجید اور کمال مجید کو 50 لاکھ، پاک اتھنول کے مصطفیٰ ذوالقرنین مجید اور عبدالغنی مجید کو ایک کروڑ 50 لاکھ، چمبڑ شگر ملز کے مالک انور مجید اور نمر مجید کو 20 کروڑ، ایگرو فارمز ٹھٹہ کے مالک انور مجید اور نازلی مجید کو 57 لاکھ، زرداری گروپ جس کے مالک آصف علی زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور اور دیگر ہیں کو ایک کروڑ، پارتھی نون کے قابل خان نوری کو پانچ لاکھ، ایون انٹرنیشنل کو پانچ لاکھ 76 ہزار، لکی انٹرنیشنل کو دو کروڑ 72 لاکھ، لاجسٹک ٹریڈنگ کو 14 کروڑ 50 لاکھ، رائل انٹرنیشنل کو 28 کروڑ اور عمیر ایسو سی ایٹس کو 80 کروڑ کی منتقلی ہوئی۔ایک سرکاری رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ جعلی اکاؤنٹس کھولنا اور غیر قانونی رقومات جمع کرانا اور مختلف اکاؤنٹس میں مشکوک انداز میں منتقلی، پاکستان اسٹیٹ بینک کی قوانین کے مطابق منی لانڈنگ کے زمرے میں آتی ہے ۔نصیر عبداللہ لوطہ چیئرمین سمٹ بینک جو پاکستان سے باہر ہیں، حسین لوائی جو اس وقت سمٹ بینک کے صدر اور موجودہ وقت وائس چیئرمین ہیں نے مرکزی کردار ادا کیا۔اورانور مجید، عبدالغنی مجید اور ان کے اومنی گروپس کی مختلف کمپنیوں نے جعلی اکاونٹس کھولے اور طحہ رضا اور حسین لوائی کے ذریعے اربوں رپوں کی ہیرا پھیری کی۔ تمام فریقین کو سمن جاری کر کے انفرادی اور کمپنیوں کو رقومات کی منتقلی اور وصولی کے حوالے سے موقف پیش کرنے کی ہدایت جاری کی لیکن کوئی بھی حاضر نہیں ہوا۔ملزم انور مجید ولد عبدالمجید، عبدلغنی مجید والد انور مجید، اسلم مسعود ولد مسعود اللہ ملک، محمد عارف خان، بینک افسران نورین سلطان، کرن امان، عدیل شاہ رشیدی، طلحہ ولد نقی رضا، حسین لوائی ولد حاجی موسیٰ اور نصیر عبداللہ چیئرمین سمٹ بینک پر منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا،اورانور مجید پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین آصف علی زرداری کے قریبی ساتھی ہیں، ڈاکٹر عاصم حسین کے بعد تحقیقاتی اداروں نے ان کا گھیراؤ تنگ کیا تھا، جبکہ گزشتہ سال سندھ میں گنے کے کاشتکاروں اور شگر ملزمالکان میں کشیدگی کے وقت بھی انور مجید کا نام سامنے آیا تھا، سندھ میں شگر ملز کی اکثریت کے مالک انور مجید ہیں جبکہ آصف علی زرداری کا گروپ بھی بعض ملز کا مالک ہے ، کاشتکاروں کا الزام تھا کہ حکومت ملز مان کو فائدہ پہنچا رہی ہے ۔ حکومت سندھ نے جب بیمار صنعتوں کو مالی مرعات فراہم کی تو پچاس فیصد صنعتیں انور مجید کی تھیں۔تحقیقات کا دائرہ کار مزید وسیع ہوتا گیا تو مزید 33 مشکوک اکاؤنٹس کا سراغ لگایا ہے جن سے اربوں روپے بیرون ممالک منتقل کیے گئے ۔اب تک کی تحقیقات میں 335سے زائد ملوث افراد سامنے آئے ہیں اور تمام افراد ان اکاؤنٹس میں ترسیلات کرتے رہے ۔ان کے جعلی اکاؤنٹس کے ساتھ 210 کمپنیوں کے روابط رکھے گئے ہیں۔ جبکہ 47 ایسی کمپنیوں کا سراغ لگایا گیا ہے جن کا براہ راست تعلق اومنی گروپ سے ہے ۔ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نیب جہانزیب بھروانہ نے بتایا کہ یہ ساڑھے 4 ارب روپے کی ٹرانزیکشن کا معاملہ ہے ، اس حوالے سے تمام فہرست مہیا کر دی گئی ہے کہ کتنی رقم اکاؤنٹ میں آئی اور کتنی استعمال ہوئی۔ اے ون انٹرنیشنل اور عمیر ایسوسی ایٹس سے اربوں روپے کی ٹرانزیکشن ہوئی، ان اکاؤنٹس کے ساتھ زرداری گروپ اور پارتھینون کمپنیوں کی ٹرانزیکشن ہوئی۔’نیب کے مطابق ایف آئی اے نے حسین لوائی اور ان کے ساتھی طلحہ رضا کو گذشتہ برس گرفتار کیا۔ ان پر 29 جعلی بینک اکاؤنٹس کھولنے میں معاونت کرنے کا الزام ہے ، جن کے ذریعے مبینہ طور پر آصف زرداری سمیت 13 کمپنیوں کو اربوں روپوں کی مشکوک منتقلی کی گئی۔ آئی پی پیزسے متعلقہ 300 ارب کی مبینہ کرپشن کیس میں 8 ارب مالیت کی مبینہ کرپشن کے الزام میں سابق ڈی جی نیپرا ملزم سید انصاف احمد گرفتار کیا گیا، ملزم سید انصاف احمد نے دانستہ بددیانتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے۔ نشاط چونیاں پاور لمیٹڈ (IPP) سے ٹھیکہ جات میں بجلی نرخ انتہائی مہنگے داموں مقرر کئے جو حکومتی خزانے کو 8 ارب کے نقصان کا موجب بنا تھا، نشاط چونیاں پاور لمیٹڈ کیجانب سے 2010میں 200 میگا واٹ پر مشتمل پاور پلانٹ کی تنصیب کی گئی تھی۔

    چیئر مین نیب جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ نیب نے کسی کا فیس نہیں بلکہ کیس دیکھ کر اپنی تحقیقات کا قانون اور شواہد کی بنیاد پر آغاز کرتا ہے ۔ جن کیسز میں شہادتیں موجود ہیں وہاں ٹھوس اورمضبوط کیس بنائیں گے ۔انہوں نے مزید کہا کہ نیب کے افسران ٹیم ورک کے تحت کام کریں یوں کہ نیب میں کیس کی تحقیقات کیلئے کمبائینڈ انوسیٹی گیشن ٹیم(CIT) کے نظام کو اسی لئے متعارف کروایا گیاہے۔ جسٹس (ر)جاوید اقبال نے نیب افسران سے کہا کہ وہ کسی بھی دباؤ کو خاطر میں لائے بغیر اپنے فرائض آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے سر انجام دیں۔ انہوں نے تحقیقاتی افسران کو ہدایت کی کہ تمام مقدمات کو ٹھوس شواہد اور آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے مکمل کیا جائے ہر شخص کی عزت ِ نفس کا خیال کیا جائے ۔ فرائض کی انجام دہی میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائیگی۔انہوں نے کہا کہ نیب نے 71ارب کی خطیر رقم قومی خزانے میں جمع کروائی ۔

    بشکریہ روزنامہ دنیا.

  • یہ میری قوم کے نوجواں بھی سنیں،             تحریر: انشال راؤ

    یہ میری قوم کے نوجواں بھی سنیں، تحریر: انشال راؤ

    آرزوئے سحر

    یہ میری قوم کے نوجواں بھی سنیں، تحریر: انشال راؤ

    یہ میری قوم کے نوجواں بھی سنیں
    یہ میری قوم کے رہنما بھی سنیں
    یہ میری قوم کے اینکرز بھی سنیں
    جنرل قاسم سلیمانی کی امریکی ڈرون حملے میں مارے جانے کے بعد ایران میں صف ماتم بچھ گئی، ہر آنکھ اشکبار، پوری قوم رنج و الم میں ڈوب گئی، حملے کے وقت جنرل سلیمانی ایک مسلح دہشتگرد تنظیم کے رہنما کے ساتھ تھے، ایران سمیت پوری دنیا اس بات سے واقف ہے کہ جنرل سلیمانی مسلح تنظیمیں بناتے رہے اور مسلح گروہوں کی سرپرستی کرتے رہے، پوری دنیا کا میڈیا جنرل سلیمانی کو دہشتگرد کہتا رہا، دہشتگردی کی معاونت ثابت کرتا رہا لیکن ایران میں کہیں سے یہ نعرہ بلند نہیں ہوا کہ "یہ جو دہشتگردی ہے اس کے پیچھے وردی ہے” میڈیا پرسنز ایران میں بھی موجود ہیں، سیاستدان و لبرل بھی ہیں تو حکومت و اپوزیشن بھی ہے لیکن کسی نے فوج کے کردار پر انگلی نہ اٹھائی، ایرانی فوج کی پالیسیوں کی بنا پر حالات اس نہج تک آ پہنچے کہ دنیا کی سپر پاور سے جنگ سر پر کھڑی ہے اور عین ممکن ہے کہ جنگ کے شعلے ایران کو ملیا میٹ کردیں کیونکہ بظاہر حربی طاقت کے حساب سے امریکہ ایران کا تقابل نہیں بنتا لیکن اس کے باوجود اہل ایران کو اپنی سپاہ اس قدر عزیز ہے کہ وہ دیوانہ وار سروں پہ کفن باندھ کر باہر نکل آئے، کسی میر صاحب جیسے منہ پھٹ صحافی نے یہ نہیں کہا کہ فوج نے ہمیں مروادیا، کسی زبردستی کے لبرل یا گروہ نے نہیں کہا کہ "یہ جو دہشتگردی ہے اس کے پیچھے وردی ہے” اور ایک ہم ہیں جو اپنی ہی افواج کے خلاف زہرافشانی کرتے پھرتے ہیں، یہ جانتے ہوے بھی کہ ہمارے فوجی جوانوں نے اپنے سینے چھلنی کرواکر، گردنیں کٹواکر، بےدریغ قربانیاں دیکر ہمیں محفوظ کیا، فوج کی بےشمار قربانیوں و کامیابیوں کے باوجود ایک گروہ مسلسل شکست خوردہ زہنیت کے پرچار میں مصروف ہے اور معاشرے میں رائج برائیوں کو فوج کے اوپر تھوپ کر کسی ایجنڈے کے تحت بگاڑ پیدا کرنے والوں کو برحق قرار دینے کا طرز عمل اختیار کیے ہوے ہیں، زرا سوچئے ہمارے میڈیا پر چند مخصوص افراد بھارت سے شایع رپورٹ کو آج کئی دہائیوں بعد بھی متواتر ڈسکس کرتے آرہے ہیں اور ایک ایسی رپورٹ جو شایع ہی بھارت نے کی اس کی بنیاد پہ فوج پر کبھی رمز و ایماء، اشارہ کنایہ میں تو کبھی براہ راست تنقید و تنقیص کرتے آرہے ہیں اور تعجب اس بات کا ہے کہ مشہور زمانہ امریکی اسٹیٹس مین ہینری کسنجر کے اس انٹرویو کو کبھی ڈسکس نہیں کیا گیا جس میں ہینری کسنجر نے نہ صرف مڈل ایسٹ بلکہ پوری امت مسلمہ کی تباہی کا زکر کیا اور تہلکہ خیز انکشاف کیا کہ امریکہ و اسرائیل نے مسلم ممالک میں بہت سے افراد کو خرید رکھا ہے جو ان کی توقعات سے زیادہ اچھا کام کررہے ہیں کوئی تفرقہ ڈالنے میں تو کوئی نسلی و لسانی تعصب ابھارنے میں تو کوئی سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ بنانے میں پیش پیش ہے، پاکستان بھی اس فہرست میں شامل ہے جس کی تباہی کا فیصلہ کیا جاچکا تھا لیکن سلام ہے پاک فوج کے جوانوں کو، فخر ہے ISI کے گمنام مشاہیروں پہ اور فخر ہے باجوہ ڈاکٹرائن پہ کہ جس کے تحت اندرونی و بیرونی خطرات و خدشات سے نمٹا گیا اور دشمن کی سازشوں کو ناکام بنایا لیکن تف ہے ان زہنوں پر جو دشمن کے ایجنڈے کو کامیاب بنانے کے لیے افواج پاکستان پر الزام در الزام، تنقید برائے تنقید، جھوٹ در جھوٹ کے تحت حوصلہ شکنی اور عوام سے دور کرنے کی کوشش کرتے رہے تف ہے ہزارہا تف ہے ایسی زہنیت پر، زرا سوچئے! کہ وہ امریکی فوج جو سر تا پیر انسانی خون میں دھنسی پڑی ہے لیکن اس کے باوجود کبھی کسی امریکی نے "قاتل فوج” نہیں کہا، ٹرمپ و مخالفین کے اختلاف کا اندازہ کرو کہ مواخزے تک بات آپہنچی ہے لیکن اس کے باوجود کسی بھی ڈیموکریٹ نے یہ نہیں کہا کہ "یہ جو دہشتگردی ہے اس کے پیچھے وردی ہے” کسی نے فوج کو اشاروں کنایوں میں بھی ہدف تنقید نہیں بنایا، ایران امریکہ ممکنہ جنگ کو لیکر ٹرمپ کو ضرور نشانہ تنقید پہ رکھا لیکن فوج کی حوصلہ شکنی کا سوچا تک نہیں، امریکیوں کے منہ سے صرف یہی الفاظ سنائی دیتے ہیں Our Courageous Army, Our Brave Military, Our Army Protect us & Our interests” وغیرہ وغیرہ۔ زمانہ قدیم سے لیکر جدید دور تک کسی بھی قوم میں بہادری کی علامت اور تحفظ و دفاع کی ضامن فوج ہوتی ہے لیکن ہمارے کچھ زبردستی کے دانشور و سیاہ سی ایکٹرز زمانے کو الٹے بہاو پہ پھیرنے کے لیے مصنوعی تاویلات اور جھوٹ و پروپیگنڈوں کا سہارا لیکر افواج پاکستان کے خلاف زہرافشانی کرتے رہتے ہیں، زرا سوچئے! بھارت میں BJP و RSS اور کانگریس و دیگر لبرل سیکیولر طبقوں کے مابین اختلافات و رسہ کشی کس نہج پر ہے کہ مودی سرکار و ہندوتوا دہشتگرد مخالفین کو دبانے کے لیے طاقت کا غلط استعمال تک کررہے ہیں ایسے میں بھارتی آرمی چیف بپن روات نے BJP کے بیانئے کو جائز قرار دیا اور دیگر جگہوں پر بھی فوج BJP کے ایجنڈے پہ عمل پیرا دکھائی دی لیکن اس کے باوجود کسی بھارتی نے فوج مخالف مہم چلائی نہ فوج کے خلاف عوام کو بھڑکانے کی کوشش کی جبکہ ایک ہم ہیں کہ بات بے بات پر اپنے کالے کرتوت چھپانے اور دشمن کے ایجنڈے کو تقویت دینے کے لیے افواج پاکستان کیخلاف پروپیگنڈہ کرتے کوئی شرم محسوس نہیں کرتے، زرا سوچئے! ایک قاسم سلیمانی کے لیے پورا ایران امریکہ سے جنگ کے لیے اٹھ کھڑا ہو، متحد ہوجائے، صرف چند امریکی فوجیوں کے لیے امریکہ قاسم سلیمانی کو نشانہ بناکر عالمی جنگ کا خطرہ مول لینے کے لیے آمادہ ہوگیا اور ایک انجینئرڈ پلوامہ حملے میں کچھ بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد پورا بھارت یک زبان ہوجائے لیکن ایک ہم ہیں جو خود ہی اپنی افواج کا مورال ڈاون کرتے پھریں، تف ہے ہمارے زہنوں پر، تف ہے ہماری زبان پر جو اپنی ہی فوج پر بھونکے، اس فوج پر جس نے ہمیں تحفظ دیا کہ جن کی بدولت ہمارا دفاع مضبوط ہے اور دشمن میلی آنکھ سے دیکھ نہیں سکتا، قربانیاں دیکر دہشتگردوں کا صفایا کیا، اگر فوج کی قدر و قیمت دیکھنی ہے تو دیکھیں شام، عراق، یمن، لیبیا کے حالات جہاں ہنستی بستی دنیا اجڑ گئی، کروڑوں لوگ در در خاک چاٹنے پہ مجبور ہوے، شہر کے شہر اجڑ گئے کیونکہ ان کی فوج مضبوط نہیں تھی اور دشمن کی سازش کام کرگئی، کوشش پاکستان میں بھی برابر کی گئی بلوچستان، کراچی اور فاٹا میں دہشتگردی کا بازار گرم ہوا جسے ہمارے جوانوں نے اپنے سینے پہ جھیل کر ناکام بنادیا اور جلد ہی دشمن کی سازش کو ناکام بنادیا تو ایسے میں دشمن و دشمن کے آلہ کاروں کا بس تو نہیں چل پارہا بس اب وہ افواج پاکستان کے پیچھے پڑے ہیں کیونکہ وہ جان گئے ہیں جب تک پاک فوج ہے تب تک پاکستان حلوے کی پلیٹ نہیں بن سکتا، مضبوط فوج مضبوط دفاع اللہ کی عظیم نعمت ہے اور نعمت پر شکر ادا کرنا ہر شریف اور سلیم الفطرت انسان کا فرض ہے جبکہ میروں (میر جعفر و میر صادق) کے لیے یہ عذاب الیم ہے۔

  • حقوق کے تحفظ کا بھاشن اور اونٹوں کا قتل عام–تحریر:احمر مرتضیٰ

    حقوق کے تحفظ کا بھاشن اور اونٹوں کا قتل عام–تحریر:احمر مرتضیٰ

    جانوروں کے حقوق اور بلکہ حیوانات سے بھی محبت کے بلند و بانگ دعوے کرنے والے اور ان کے تحفظ کی ڈھیروں “این جی اوز” رکھنے والے مغربی ممالک میں سے ایک آسٹریلیا (جسے حالیہ دنوں لگنے والی آگ کے نتیجے میں جھلس جانے والے کروڑوں جانوروں پر ٹسوئے بہاتے دیکھا گیا تھا)کے جنوب کے علاقوں میں قحط سالی اور پانی کی کمی کے باعث ایک ملین یعنی دنیا کی سب سے بڑی تعداد میں آزادانہ گھومنے والے جنگلی اونٹوں میں سے دس ہزار اونٹوں کو مارنے کا پانچ روزہ پروگرام شروع کردیا گیا جس کے تحت پہلے ہی دن 1500اونٹوں کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے فضائی نشانچیوں نے ٹھکانے لگادیاہے،

    ملاحظہ کجئیے کہ ایک انسانی یا حیوانی جان کے ضیاع پر کلیجہ منہ کو آنے کی ایکٹنگ کرنے والے اور مختلف جانوروں کے تحفظ کے پروگرام دینے والے ان نام نہاد مسیحاوں نے فقط پانی کی سپلائی لائن کو بچانے کے لیے اتنی بڑی تعداد میں حلال اور معصوم جانوروں کو مارنے کے علاوہ کوئی اور پروگرام کیوں ترتیب نہیں دیا؟

    اور ان کو پانی پینے کی اتنی بڑی سزا دینے کی اجازت کون سا قانون دیتا ہے!

    اور کیا اگر یہی خطرہ ان کے قومی جانور “کینگرو”یا ان کے مقدس جانور “ثور” سے ہوتا تو کیا تب بھی یہی فیصلہ کیا جاتا؟

    کیا قریبی ممالک یا اسلامی ممالک سے بات کرکے کوئی مثبت حل نہیں نکالا جاسکتا تھا،کیونکہ آج کی جدید دنیا میں بقول انہی کے کہ ہر مسئلے کا حل یا متبادل پروگرام دستیاب ہے!

    کیا اگر ثور یا دیگر جانوروں کی فارمنگ اور فارم موجود ہے تو کیا یہ جانور کسی فارم یا محفوظ زون میں نہیں سماسکتے ؟

    الغرض ہزاروں متبادل پروگرامات کی دستیابی کے باوجود قتل عام کی یہ واردات عجلت میں کیا گیا فیصلہ ہرگز قرار نہیں دیا جاسکتا ، بلکہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے حقوق انسانیت کے نام نہاد ادارے یا ان گنت لاتعداد این جی اوز ابھی تک کے تجربات کے مطابق فقط مغربی ممالک اور ان کے باشندوں کے تحفظ کی ضمانت کےلیے بنائے گئے ہیں۔

    ایسے ہی حلال جانوروں کی بھی ان درندہ صفت تہذیب کے حامل ممالک کے ہاں کوئی اہمیت نہیں ہے، اگر ایسا کچھ نہیں تو ضروری ہے کہ اس مہم کو روک کر کوئی متبادل حل پیش کیا جائے یا پھر جانوروں کے حقوق کے ادارے اس پر سخت نوٹس لیں یا کم از کم اسلامی ممالک کو اس مسئلے پر حکومت آسٹریلیا سے بات کرنی چاہیے،اور تمام سوشل میڈیا ایکٹویسٹ بھی اپنی سائٹ پر اس موضوع کو زیر بحث بنائے تاکہ مغربی درندوں کے ہاتھوں اس معصوم جانور کی قتل عام کی واردات کو روکا جاسکے۔

    حقوق کے تحفظ کا بھاشن اور اونٹوں کا قتل عام
    تحریر:احمر مرتضیٰ