Baaghi TV

Category: بلاگ

  • مصباح الحق کی سیلف آئسولیشن میں‌ کیا مصروفیات، بتایا ویڈیو لنک پر

    مصباح الحق کی سیلف آئسولیشن میں‌ کیا مصروفیات، بتایا ویڈیو لنک پر

    مصباح الحق کی سیلف آئسو لیشن میں‌ کیا مصروفیات، بتایا ویڈیو لنک پر

    باغی ٹی وی :قومی کرکٹ ٹیم کے چیف سلیکٹر و ہیڈ کوچ مصباح الحق کی ویڈیو لنک پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت پوری دنیا مشکل صورت حال کا شکارہے۔موجودہ صورت حال میں خود کو محفوظ رکھنا پوری انسانیت کو محفوظ رکھنے کے مترادف ہے ۔.اللہ کے حضور دعاگو ہیں کہ حالات جلد معمول پر آئیں.مشکل صورت حال ہے کھلاڑیوں کو پلان دے دیا ہے.موجودہ صورت حال میں ہماری ذمہ داریاں بہت زیادہ ہیں.اکستان کرکٹ اس وقت درست سمت میں گامزن ہے ۔

    انہوں نے کہا کہ نسیم شاہ ، شاہ آفریدی، عابد علی، بابر اعظم اور شان مسعود سب اچھی فارم میں ہیں۔ میں خوش ہوں کہ ہمارے پلان کام کررہے ہیں ۔روٹین شیڈول میں بھی ہماری سیریز جولائی میں شیڈول ہے۔موجودہ صورت حال میں کھلاڑیوں کو پلان دے رکھا ہے ۔تمام کھلاڑی اور کوچنگ سٹاف رابطے میں ہے ۔صورت حال کوئی بھی ہوہم نے آگے بڑھنا ہے ۔حالات دیکھ کر فیصلے کرنا ہیں.

    مصباح الحق نے کہا کہ پی ایس ایل میں اسلام آباد یونائیٹڈ کی کوچنگ کا تجربہ اچھا رہا ۔ پی ایس ایل میں سخت مقابلے ہو ئے ۔آخری میچ تک پانچ ٹیمیں لیگ کے اگلے مرحلے میں کوالیفائی کرنے کی پوزیشن میں تھیں ۔ آئسولیشن میں خود کو فٹ رکھنے کے لئے ٹریننگ کررہا ہوں ۔ مختلف میچز کی ریکارڈنگ دیکھ کر مستقبل کی حکمت عملی بنارہے ہیں ۔فیملی کے ساتھ ٹائم گزارنے کا موقع ملا ہے.

  • حقوق نسواں کے جعلی دعوے داروں اور اصل افراد کے کردار!!! تحریر: غنی محمود قصوری

    حقوق نسواں کے جعلی دعوے داروں اور اصل افراد کے کردار!!! تحریر: غنی محمود قصوری

    8 مارچ کو عالمی یوم خواتین سے پہلے ہی پوری دنیا کیساتھ پاکستان بھی کرونا کی لپٹ میں تھا چائیے تو یہ تھا کہ دنیا بھر کی طرح احتیاط کی جاتی اور لوگوں کو اس سے بچاؤ کے متعلق آگاہی دی جاتی مگر ہوس و شہرت کے پجاری اس وقت بھی باز نا آئے اور پورے ملک میں ان نام نہاد خود ساختہ حقوق نسواں کے دعوے داروں نے سینکڑوں مجبور و بے سہارا غریب عورتوں کو پیسے کا لالچ دے کر اکھٹا کیا جو کہ بعد میں میڈیا پر وائرل بھی ہو گیا گندے بے ہودہ نعروں پر مبنی پوسٹرز اور پلے کارڈز پر ان کی طرف سے ریاست پاکستان و اسلام کے خلاف نعرے درج تھے اور دنیا کو یہ باور کروانے کی کوشش کی جا رہی تھی کہ معاذاللہ اسلام عورتوں کے حقوق کا غاصب ہے ویسے تو ان دین بے زاروں کے کئی نعرے ہیں مگر سب سے مشہور ان کا نعرہ میرا جسم میری مرضی ہے جس کے تحت یہ اللہ کی جاری کردہ حدوں کو پامال کرتے ہیں اور کر بھی رہے ہیں 8 مارچ یوم خواتین کو جب ملک کے ہر شہر سے خصوصاً کراچی کے فریئر ہال اور لاہور وہ اسلام آباد کے پریس کلبوں سے انہوں نے عورت مارچ کا آغاز کیا عین اس وقت پوری دنیا کرونا وائرس کی لپیٹ میں تھی کشمیر و فلسطین،شام و افغانستان اور ہندوستان کے مسلمان کے خون سے ہولی کھیلی جا رہی تھی جن میں بڑی تعداد عورتوں اور بچوں کی بھی ہے مگر افسوس کے ان لوگوں نے صرف اسلام و پاکستان کو بدنام کرنے کیلئے کوئی موقع ہاتھ سے جانے نا دیا حالانکہ اگر یہ نام نہاد حقوق نسواں کے اصل پشتی بان ہوتے تو کرونا سے متاثرہ عورتوں کی تکلیف کا ازالہ کرنے کی کوشش کرتے کشمیر میں محصور عورتوں کیلئے چیختے چلاتے ان کیلئے صدائیں بلند کرتے مگر ان کو تو صرف عورت کی آزادانہ بوس و کنار کی فکر ہے ان کو تو عورتوں کے بوائے فرینڈز کے روٹھ جانے کی فکر ہے اور ان کو صرف آزاد بے لگام معاشرے کے قیام کا ٹاسک ملا ہوا ہے
    یہ لوگ نا صرف دین اسلام سے بیزار ہیں بلکہ یہ لوگ تو انسانیت سے بھی بیزار ہیں اس ساری نام نہاد حقوق نسواں کی ٹیم کے کارکنان جیسا کہ ماروی سرمد،اداکارہ ریشم،منصور علی خان، ڈاکٹر عامر لیاقت حسین اور گستاخ احمد وقاص گورائیہ اور دیگر لوگ سب کے سب چیخ رہے تھے میرا جسم میری مرضی اور عورت پر ظلم بند کرو ان کو ان کے حقوق دو مگر اب کرونا سے متاثرہ عورتیں ان کی خاموشی پر حیران ہیں کہ تمہارے دعوے تو صرف بے شرمی اور بے حیائی پھیلانے تک ہی تھے اب ہم پوری دنیا و پاکستان کی کرونا سے متاثرہ عورتیں کسی سہارے کی منتظر ہیں کوئی ہمارا دکھ سمجھے کوئی ہمارے ساتھ بیٹھے ہمارے علاج کے حقوق کی صدائیں بلند کرے ہمارے لئے اعلی خوراک کا انتظام کرے تا کہ ہم اپنا جسمانی مدافعتی نظام طاقتور کرکے اس موذی مرض سے نجات حاصل کر سکیں مگر افسوس جعلی اور نام نہاد دعوے دار اب چپ کرکے مشکل کی اس گھڑی میں بیٹھ گئے ہیں اور ڈر رہے ہیں کہ ہمارے جسم کو ہماری مرضی کے خلاف کرونا وائرس نا چمٹ جائے ہمارا جسم ہماری مرضی کا دعوے دار ٹولہ جان چکا ہے کہ جسم بھی اللہ کا اور مرضی بھی اللہ کی مگر اللہ فاسق لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا
    ایسے لوگوں کو میرے رب نے اپنے فرمان میں منافق اور بدکردار کہا ہے اور یہ لوگ فسادی ہیں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
    منافق مرد اور منافق عورتیں ایک دوسرے میں سے ہیں وہ برائی کا حکم دیتے ہیں اور بھلائی سے روکتے ہیں اور اپنے ہاتھ بند رکھتے ہیں ،وہ بھول گئے اللہ تعالیٰ کو ،تو اس نے بھی بھلا دیا یقیناً منافق ہی نافرمان ہیں سورہ التوبہ آیت 67
    حالانکہ اب عورتوں کو ان کے پہلے حق صحت کی اشد ضرورت ہے کیونکہ میرے رب کا فرمان ہے جس نے ایک جان بچائی گویا اس نے ساری انسانیت کو بچایا سورہ المائدہ آیت 32
    مگر ان کھوکھلے نعرے لگانے والوں کی کرتوت کھل کر سامنے آ گئی ہے یہ صرف عورتوں کو بوس کنار اور سیکس ایجوکیشن کی طرف لے جانا چاہتے ہیں مگر اس پاک دھرتی کے غم خوار بیٹے جو کہ اپنے نبی کریم اور اپنے رب کے فرامین کے مطابق عورتوں ،بچوں،بوڑھوں اور مریضوں کے حقوق سے واقف ہیں وہ غم خوار انسانیت کے مددگار بے سروسامانی کیساتھ بھی ان عورتوں بچوں اور مردوں کی صحت کے حقوق کیلئے ڈٹ گئے ہیں اور دن رات ایک کرکے اس موذی مرض سے متاثرہ مریض عورتوں کا علاج شروع کر دیا اور ثابت کر دیا کہ ہم اصل دعوے دار ہیں حقوق نسواں کے ہم مان ہیں ان ماؤں ،بہنوں اور بیٹیوں کا اور پھر پورا ملک ایک جان ہو گیا فوج و پولیس کے جوان ملک کی سلامتی و بقاء کی خاطر گلیوں چوراہوں میں آ گئے پیرا میڈیکل سٹاف ڈاکٹروں کے شانہ بشانہ جڑ گیا،صحافی لوگوں کو باخبر رکھنے کیلئے دن رات ایک کئے باہر آ گئے ریسکیو 1122 کے جوان بھی بغیر نیند کی پرواہ کئے جت گئے محکمہ ڈاک نے بزرگ پینشروں تنخواہ دار عورتوں کے حقوق کی خاطر اس لاک ڈاؤن میں ان کی رقوم ان تک پہنچانے ان کے گھروں کی دہلیز تک پہنچے محکمہ بجلی نے لوگوں کی پریشانی جانتے ہوئے دن رات ایک کرکے لاک ڈاؤن میں بیٹھی عورتوں اور بچوں کے لئے اپنی جان خطرے میں ڈال کا بجلی کی ترسیل کا کام بغیر رکاوٹ جاری رکھا سول گورنمنٹ کے اہلکاران و افسران نے ساری آسائشیں چھوڑیں اور قرنطینہ سنٹرز و ہسپتالوں میں زیر علاج عورتوں اور مریضوں کی ضروریات کیلئے دن رات ایک کرکے ان تک ہر چیز پہنچائی نیز پاکستان کا ہر محکمہ ہر پاکستانی تعصب اور گروہ بندی سے ہٹ کر ان عورتوں،بچوں بوڑھوں ،جوانوں اور مریضوں کے حقوق کی خاطر اپنی جان کی پرواہ کئے بنا کام کر رہا ہے مگر یہ نام نہاد حقوق نسواں کا جعلی ٹولہ کسی بل میں چوہے کی طرح چھپ کر بیٹھ گیا اور ڈر رہا ہے کہ ہمارے جسم کو ہماری مرضی کی سزا نا مل جائے مگر یہ لوگ جان جائیں اللہ کے ہاں دیر تو ہے مگر اندھیر نہیں تو اے ظالموں اپنے رب سے ڈر جاؤ اور لوٹ آؤ اپنے رب کی طرف

  • لاک ڈاؤن میں ایک دوسرے کی مدد کیسے کریں، تحریر نعمان علی ہاشم

    لاک ڈاؤن میں ایک دوسرے کی مدد کیسے کریں، تحریر نعمان علی ہاشم

    ایک دوسرے کی مدد کیسے کریں، تحریر نعمان علی ہاشم
    بلدیاتی انتخابات میں ہماری وارڈ میں بیس سے پچیس چہرے ایسے تھے جو عمران خان کے نام پر دن رات ایک کیے ووٹ مانگتے رہے ہیں. آج بھی وارڈ میں خان کے نظریاتی کارکنان کی ایک معقول تعداد موجود ہے.. اگر ہر وارڈ میں ایسے دس افراد انسانیت کے لیے اپنی وارڈ کی زمہ داری لیں تو میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ پاکستان میں سو دن کا کرفیو بھی سکون سے گزر جائے اور کوئی فرد بھوکا نہ سوئے گا.
    .
    ہر شہر کی تمام بڑی ملز اور سٹورز پر موجود سٹاک اگر سرکاری ریٹس پر خرید کر مستحق عوام کے لیے مختص کر دیا جائے تو یقیناً یہ سٹاک اگلے دو ماہ کے لیے کافی ہوگا.
    .
    ان حالات میں ہر فرد کی زمہ داری ہے کہ ہر مستحق کی مدد کرے. اگر پیسے سے نہیں تو مستحق افراد کی نشاندہی کریں.
    .
    سٹیزن پورٹل پر اپنی خدمات کو پیش کرنے کے لیے حکومت فارم فل کریں. (نوٹ: رجسٹریشن کل سے شروع ہوگی)
    .
    اگر حکومت نے لاک ڈاؤن کا کہا ہے تو گھروں میں ٹھہرے رہیں.
    .
    ڈیم فنڈ، صحت کارڈ فنڈ اور اس جیسے دیگر ریزرو فنڈز میں سے ایک مخصوص مقدار کو مجبور عوام کی خوراک اور صحت کے لیے استعمال کریں.
    .
    آپ بیماری سے نہیں لڑ سکتے. مگر اپنا دفاع ضرور کر سکتے ہیں. خدارا پاکستان کے لیے سوچیں. پاکستانی بن کر سوچیں.
    .
    #نعمانیات
    نعمان علی ہاشم

  • کہاں گئے ہیں مسافر محبتوں والے—از—سفیر اقبال

    کہاں گئے ہیں مسافر محبتوں والے—از—سفیر اقبال

    کہاں گئے ہیں مسافر محبتوں والے
    اندھیری رات میں پرنور راستوں والے

    جو کھو گئے پس زندان اب وہ شہزادے
    دوبارہ کب انہیں پائیں گے بستیوں والے

    چھپا کے دل میں جو امت کا غم… نکلتے تھے
    پہن کے تن پہ لبادے گداگروں والے

    کہ دن کو رہتے تھے انسانیت کی خدمت میں
    تھے ان کے شام و سحر بھی عبادتوں والے

    ہر اک کا درد سمجھتے تھے اس لیے ان کو
    دل و نگاہ میں رکھتے تھے قافلوں والے

    تھا قافلے کو بھی معلوم کہ وہ رہبر ہیں
    مزاج جن کے مگر تھے مسافروں والے

    "ہوا کے ہاتھ میں کاسے ہیں زرد پتوں کے
    کہاں گئے وہ سخی سبز چادروں والے ”

    لوٹا دے مولا انہیں پھر سے قافلے میں میرے
    وہ منزلوں کے نشاں… نیک صورتوں والے…!

    شاعری :سفیر اقبال

    #رنگِ_سفیر

  • اپنے کردار کا جائزہ لیں—از—مشی حیات

    اپنے کردار کا جائزہ لیں—از—مشی حیات

    ہماری روز مرہ کی زندگی میں ہر انسان خود کو اعلی و برتر سمجھتا ہے اور دوسرے کو اپنے سے کمتر۔۔۔۔۔!
    مگر آج جو نفسا نفسی کا وقت اس عالم پر آ ٹھہرا ہے ہمیں اب یہ جاننا ہے کہ ہم اعلی ہیں یا جسے ہم کمتر سمجھ رہے ہیں وہ۔۔۔۔۔!
    قرآن وہ سچی کتاب ہے جس میں ہر انسان کے کردار اور عملی زندگی کے بارے پیشگوئی ہوئی ہے مگر بات یہ ہے کہ ہم نے سمجھا نہیں۔۔۔!

    ہم قرآن پڑھنا شروع کرتے ہیں شیطان مردود سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں.
    صرف اس لیے کہ وہ مجھے دنیاوی چیزوں میں نہ بٹھکائے تاکہ ہم اس کتاب کو سمجھ سکیں۔۔۔!
    پھر تسمیہ پڑھتے ہیں کہ الرحمن الرحیم مہربان ذات اور بار بار رحم کرنے والی کے نام سے۔۔!

    قرآن کی ابتدائی آیات میں ہم اللہ کے شکر گزار ہوتے ہیں تمام تعریفیں اسکی کرتے ہیں اسی کو رب ماننے کا اقرار کرتے ہیں۔اسی کے بندے ہونے کا اقرار اور اسی سے مدد چاہتے ہیں
    مگر اہم بات یہ ہے
    اھدنا الصراط المسقیم

    بہت سی چیزیں مانگنے کی ہیں لیکن سب سے پہلے مانگنے کی ضرورت بہترین راستہ ہے
    وہ راستہ صرف اسلامہے۔۔!
    ہماری ہر کسی کی کوشش ہوتی ہے ہمیں بہتری ہمسفر ملے جو ہمارا کبھی ساتھ نہ چھوڑے زندگی کے کسی مشکل سفر میں بھی مگر ہم یہ بات بھول جاتے ہیں کہ بہترین ہمسفر بہترین رستہ ہم چھوڑ چکے ہیں وہ رستہ وہ ہمسفر اسلام ہے

    اور اسلام کا پتہ ہمیں صرف اللہ کی مقدس کتاب قرآن پاکسے مل سکتا ہے۔۔۔!
    دوسری بات ہم خود کو اعلی و برتر سمجھتے ہیں اللہ نے ہر انسان میں کوئی نہ کوئی ہنر رکھا ہوتا ہے مگر اس کو وہی جانچ سکتا ہے جو متقی ہو گا اسلام کو سمجھنے والا ہو گا۔۔۔!
    اب غور کرنا ہے ہم متقی ہیں یا ہم میں بھی نفاق کی قسمیں پائی جاتی ہیں؟

    اوپر اعتقادی اور عملی منافقین کا اوپشن ہے۔۔۔۔۔
    منافقین کی دو اقسام یہی ہیں
    (1)۔ اعتقادی منافق
    پکے اعتقادی منافق وہ تھے جن کے میں دل کفر تھا
    جیسے۔۔۔۔

    مثلھم کمثل الذی استو قد نارا
    اس کی تفسیر عبداللہ بن مسعود اور بعض دوسرے صحابہ کرام (رضی اللہ عنھما)نے کچھ یوں بیان فرمایا کہتے ہیں جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم )مدینہ تشریف لائے کچھ لوگ مسلمان ہو گئے لیکن جلد منافق ہو گئے ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو اندھیرے میں تھا اسلام سے پہلے مدینہ میں کفر کا اندھیرا تھا اس میں روشنی جلائی (کونسی روشنی؟اسلام کی )جس سے سارا ماحول روشن ہو گیا مفید اور نقصان دہ چیزیں ان پر ثابت ہو گئی اسلام کی روشنی میں نیک و بد اور حق و باطل کا پتہ چلنے لگا پھر روشنی بجھ گئی (کن کی جو مسلمان ہوئے تھے) وہ روشنی باہر کی نہیں ان کے اندر کی تھی اسلام اپنی جگہ موجود تھا مگر انکا اپنا دل بدل گیا۔۔۔!

    *اب ہم دیکھیں گے دل کے بدلنے کی وجوہات کیا ہیں؟

    انکا اپنا دل فکر میں پڑ گیا کیونکہ اللہ تعالی فرماتے ہیں
    ذھب اللہ بنورھم

    اللہ ان کا نور لے گیا
    یہ حدیث عبداللہ بن مسعود اور بعض دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنھما کی ہے۔۔۔۔!
    پہلی مثال کس کی ہے؟

    پکے اعتقادی منافق ان کا حال یہ تھا وہ اسلام سے پہلے کفر کے اندھیرے میں تھے
    فلما اضاءت ماحول
    پھر جب ماحول روشن ہوا (اسلام سے) تو۔۔۔۔
    ذھب اللہ بنورھم

    اللہ نور لے گیا انکا اور انہیں
    وترکھم فی ظلمت
    اندھیروں میں چھوڑ دیا

    اور لا یبصرون نہی وہ دیکھتے
    کس کو؟نبی کریم کو
    اس لیے اللہ تعالی نے فرمایا
    صم بکم عمی

    انکا حال یہ ہے بہرے بھی ہیں گونگے بھی اور اندھے بھی ہیں۔۔۔۔۔!
    ایک بات ذہن میں رکھیں اعتقادی منافق یہود میں سے تھے

    رسول اللہ جب مدینہ تشریف لائے تو وہاں یہود تھے انصار تھے اور مہاجر مسلمان۔۔!
    یہ تھے اعتقادی منافق پکے منافق جو اسلام کو سمجھنے کے لیے تیار ہی نہ تھے

    (2 )۔ عملی منافق ۔۔
    جن کے دل میں ایسا کفر تو نہیں تھا مگر ڈھواں ڈھول تھے جیسے
    اس کصیب من السماء

    آسمان سے زوردار بارش ہوئی
    یہ بارش اسلام کی بارش جس میں
    ظلمت و رعدو برق

    اندھیرے تھے گرج تھی بجلی تھی مشکلات تھی اب یہ کیا کرتے جب اسلام کی دعوت دی جاتی تو
    یجعلون اصابعھم فی اذانہم
    اپنے کاموں میں انگلیاں ڈال لیتے

    عملی منافق تھے جب اسلام کو فائدہ ہوتا ساتھ چل دیتے جیسے فتح مکہ ،بدر اور جب مشکل وقت آتا کھڑے ہو جاتے یعنی خندک اور تبوک کےمیدان
    جہاد کے لیے نہیں آتے تھے
    اس لیے اللہ تعالی فرماتے ہیں

    ولو شآءاللہ
    اور اگر اللہ چاہتا ان کی سماعت اور بصارت کے جاتا مگر نہیں لے کر گیا کیونکہ ان کے اسلام کی طرف آنے سے چانسزتھے یہ واپس آ سکتے تھے اس لیے اللہ نے انہیں مہلت دی تھی۔۔!

    اب دیکھنا یہ ہے کہ ہم میں اس جیسی کوئی برائی تو نہیں کیا ہم اعتقادی یا عملی منافق تو نہیں کہیں ہم بھی تو نہیں ایسے کرتے کہ جہاں قرآن کی دعوت مل رہی ہو جہاں اسلام دیا جارہا ہو اور ہم خاموش ہو جائے سنی ان سنی کر دیں۔!
    یاد رکھیں دین کے رستے میں مشکلات ہیں پریشانیاں ہیں مگر اس کا اجر عظیم بھی ہے اللہ فرماتے ہیں جو متقی بن گیا وہ گھبراتانہیں اور جو متقی بن گیا اسلام کے رستے چلتے رہے
    ھم المفلحون وہ کامیاب ہوگئے

    اگر مشکلات آئی ہیں تو کامیابی بھی ملے گی لیکن ثابت قدم رہنا ہوگا
    جائزہ لینا ہو گا ہمیں کہ کوئی ایسی بات ہم میں تو نہیں کہ اللہ ہمیں بھی کہہ دیں کہ
    و مایشعرون

    لا یشعرون
    اور
    وما کانو مھتدین
    اور نہیں یہ ہدایت پاسکتے
    ابھی وقت ہے مگر وقت بہت تھوڑا لوٹ آئیے واپس اللہ کے در پر کہیں دیر نہ ہو جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!

    اپنے کردار کا جائزہ لیں
    اعتقادی و عملی منافق
    ✍🏻از قلم۔
    مشی حیات

  • عورت—–از — حافظہ قندیل تبسم

    عورت—–از — حافظہ قندیل تبسم

    عورت کا وجود انسانیت کے ارتقاء کے وقت سے ہی خاص اہمیت کا حامل ہے۔ عورت ہی مرد کی پہلی ہمنشیں ٹھہری اور زمین پر آتے ہی انسان کو اس عورت کے فراق کا مزہ چکھنا پڑا۔ اسی عورت کے ذریعے نسل انسانی پروان چڑھی اور اسی عورت کی وجہ سے ہی پہلی معرکہ آرائی سامنے آئی جب ہابیل اور قابیل باہم متصادم ہوئے ۔ اس تصادم کا نتیجہ پہلا انسانی قتل، اس کے پیچھے کار فرما محرک بھی عورت ہی تھی۔

    کبھی گردش زمانہ میں ایسے ایام بھی آئے کہ بنی اسرائیل میں حکم سا دیا گیا کہ لڑکوں کو پیدا ہوتے ہی قتل کیا جائے اور لڑکیوں کو زندہ رکھا جائے تو کبھی ایسا بھی ہوا کہ انھی لڑکیوں کو بچپن میں ہی زندہ درگور کر دیا گیا۔ الغرض زمانے کے پیچ و تاب کے ساتھ عورت بھی مختلف حالات سے گزرتی رہی ہے۔

    فی زمانہ بھی عورت کئی روپ میں نظر آتی ہے۔ کہیں ننھی زینب کی شکل میں بے رحم معاشرہ اس کا جسم تار تار کرتا ہےتو کہیں قریبی رشتہ دار اسے اپنی ہوس کا نشانہ بناتا ہے۔ کہیں تو یہ عورت عزت پاتی ہے اور کہیں بے آبرو کر دی جاتی ہے۔ انہی متضاد کیفیات و حالات میں سے ایک حالت نیکی و پارسائی کی ہے جب یہ عورت اللہ تعالیٰ کے احکامات بجا لاتے ہوئے دین کے احکام کی پاسداری کرتی ہے اور ایک حالت وہ ہے جس میں یہ عورت پابندیوں سے آزادی مانگتی سر بازار نازیبا لباس میں نظر آتی ہے۔

    معاشرے میں عورت کے کئی رنگ ہیں۔ ہر رنگ کی اپنی ہی الگ داستان ہے۔ کوئی شادی کے لیے رشتے کی تلاش میں بوڑھی ہو رہی ہے تو کوئی شادی کے بغیر آزاد زندگی سے خوش نظر آتی ہے۔ کہیں عورت طلاق سے خوفزدہ ہے اور طلاق کے ڈر سے بہت کچھ برداشت کر جاتی ہے اور کہیں طلاق یافتہ ہونے پر اطمینان کا اظہار کرتی ہے۔ ایک عورت حقوقِ نسواں کی آواز اٹھاتی ہے تو دوسری اسی کے مقابل چادر اور چار دیواری کی بات کرتی ہے۔ ایک نے بیواؤں کا سہارا بننے کی بات کی تو ایک نے اس لیے شادی سے انکار کیا کہ وہ کسی کی سوتن بننے پر آمادہ نہیں۔ اپنی بیٹی کے حقوق کا مطالبہ کرنے والی جب ساس کے روپ میں آتی ہے تو عورت کا معنی ہی بھول جاتی ہے۔

    شاعر نے کیا خوب کہا تھا
    وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ

    اسی ایک مصرعہ پر غور کر لیا جائے تو صنف نازک کے تمام مسائل حل ہو جائیں۔ ذرا غور کیجئے ایک مصور کمال مہارت سے کینوس پر ایک تصویر بناتا ہے اور پھر اس میں کئی طرح کے رنگ بھر دیتا ہے۔ رنگوں کا یہ امتزاج اس تصویر کی خوبصورتی کئی گنا بڑھا دیتا ہے مگر ذرا تصور کیجیے اگر ان رنگوں کے استعمال میں توازن و تناسب کا لحاظ نہ رکھا گیا ہو تو یہ تصویر دیکھنے والے کو کیسی لگے گی؟ کیا دیکھنے والا اس تصویر کے محاسن پر نظر کرے گا یا رنگوں کے عدم تناسب پر؟؟؟

    خوب جان لیجیے یہی راز زندگانی ہے۔ اضداد کسی مسئلہ کا حل ہے اور نہ ہر جگہ جچتا ہے۔ اس کے بر عکس امتزاج ہر ایک کو بھاتا ہے اور دیکھنے میں دلکش معلوم ہوتا ہے۔ تو زندگی میں رنگ بھریے مگر حسین امتزاج میں نہ کے غیر متناسب اضداد میں۔

    عورت
    حافظہ قندیل تبسم

  • وزیراعظم کی ٹائیگرفورس —از–طلحہ فیصل

    وزیراعظم کی ٹائیگرفورس —از–طلحہ فیصل

    #خان_صاحب
    ریلیف ٹائیگر فورس بنانے کی ضرورت نہیں
    بلکہ وہ پہلے سے موجود ہے

    زرا ٹہریے
    توڑا نہیں پورا سوچیے
    کیا کرونا سے پہلے قوم پر کبھی مشکل وقت نہیں آیا

    کیا اس بیماری سے پہلے کبھی ملک کسی آفت کی زد میں نہیں مبتلا ہوا
    یقیناً آپکو معلوم ہوگا

    لیکن میں پھر بھی آپ کو یاد دہانی کرواتا ہوں
    2005 میں خوفناک زلزلہ آیا وطن عزیز میں

    اسکے بعد خودکش حملوں کی آفت آئی میرے ملک میں
    پھر 2010 سے لیکر تقریباً 2017 تک ملک میں سیلاب آتے رہے

    بلوچستان کے علاقے میں قحط اور پانی کی قلت آئی
    اور ملک کے دیگر حصوں میں حادثات ہوتے رہے ہیں

    کیا اس عرصے کے دوران اتنی بڑی بڑی مشکلات اور آفات کے وقت
    زلزلوں میں ریلیف کھانہ اور خیمہ بستیاں

    سیلابوں میں بہتے لوگوں کو نکالنا
    قحط اور پانی کی قلت میں زندگی سے مایوس ہوتے لوگوں کا سہارا بننا

    اور دھماکوں میں گرتے ہوئے لوگوں کو ہسپتالوں تک پہچاننا
    اور ان مشکلات میں راشن بستر میڈیکل کیمپنگ کرنا
    یہ کون لوگ کرتے رہے

    اور وہ لوگ آج کہاں ہیں
    جن کی خدمات کا اعتراف عالمی میڈیا نے کیا

    اور جن کے بارے ملکی اور غیر ملکی این جی اوز نے یہ بات کہی کہ یہ لوگ وہاں تک خدمت خلق کا کام کرنے پہنچ گئے
    جہاں تک حکومتی مشینری بھی ناں پہنچ سکی
    تو وزیر اعظم صاحب میں آپکو آپ کا ہمدرد ہونے کے زریعے مشورہ دیتا ہوں

    کہ ٹائیگر فورس بنانے کے حوالے سے آپکا فیصلہ بہت قابل تعریف ہے
    مگر نئے سرے سے ایک فورس بنانے اور ان کی ٹرینگ کے سلسلے پر اخراجات کرنے کی بجائے
    ان لوگوں کو منظر عام پر لائیں ان پر پابندیاں ختم کر دیں

    کیونکہ کہ یہ لوگ اپنے ہم وطنوں کی خدمت کا صرف جذبہ ہی نہیں بلکے تجربہ بھی رکھتے ہیں
    اور تجربہ بھی ایسا کہ یہ ملک کو ایک لمبا عرصہ بغیر کسی حکومتی تعاون کے ریلیف دیتے رہیں ہیں

    انکے پاس ڈاکٹرز ہیں ایمبولنسیں ہیں رضا کار لوگ ہیں اور جذبہ حب الوطنی اور خدمت انسانیت کا ولولہ ہے
    ان کو فرنٹ لائن پر لانے سے ملکی معیشت کو بھی سہارا ملے گا
    اور اس کے ساتھ عوام کو بھی انکے ہمدرد مل جائیں گے

    جن کے چہرے دیکھنے کے لئے لوگ ترس گئے ہیں
    اور لوگوں نے سوشل میڈیا پر آپکی ٹائیگر فورس کی جگہ ان پر پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ بھی شروع کر دیا ہے

    خان صاحب آپکو بھی چاہیے کہ اس مشکل گھڑی میں ملک وقوم کے ہمدرد لوگوں کو اپنی ٹائیگر فورس بنا کر ان کے تجربات سے فائدہ حاصل کرو
    رہی بات دنیا کیا کہے گی دنیا تو انکو نان اسٹیٹ ایکٹر کہتی ہے

    تو آپ اس بات کی فکر ناں کریں کیونکہ دنیا ہمیشہ اپنا مفاد دیکھتی ہے
    اگر امریکہ اپنے مفاد کے لئے طالبان سے ساز باز کر سکتا ہے

    تو آپ بھی اس ملک وقوم کے مفاد کیلئے ان لوگوں کو آزاد کریں اور اپنی عوام کا سہارا بننے کے ساتھ ساتھ لوگوں کی دعائیں بھی سمیٹیں
    اللہ آپکا حامی وناصر ہو آمین

    آپکا محب وطن شہری
    #طلحہ_فیصل

  • کرونا، لاک ڈاؤن اور تعلیمی ادارے۔۔!!! تحریر: خواجہ رضوان احمد کشمیری

    کرونا، لاک ڈاؤن اور تعلیمی ادارے۔۔!!! تحریر: خواجہ رضوان احمد کشمیری

    لاک ڈاؤن کی وجہ سے آزاد کشمیر کا وہ طبقہ جو دن بھر کی کمائی کے بعد رات کا راشن لے کر اپنے بیوی بچوں کے پاس جاتا تھا، جن میں دیہاڑی دار مزدور، مستری، ٹھیلے اور ریڑھی لگانے والے غریب، اور سب سے بڑی تعداد دکاندار حضرات کی ھے، اسکے علاوہ وہ لوگ جو دیار غیر سے یہاں چھٹی آئے اور یہاں پھنس کر رہ گئے جو کہ اپنی فیملیز کے اکیلے سورس آف انکم ھیں، جن میں راقم بھی شامل ھے۔

    جیسا کہ سب کو معلوم ھے کہ چند اقسام کی دکانوں کے علاوہ باقی تمام کاروبار اور کام مکمل طور پر بند کر دئیے گئے ھیں، جس سے کہ یہ تمام طبقوں کے سفید پوش لوگ شدید تر متاثر ھو رھے ھیں، اور وقت گزرنے کے ساتھ یہ معاملہ کافی سنگینی اختیار کرتا جائیگا۔

    اس تمام معاملہ سے قطع نظر یہ حقیقت ھیکہ آزاد کشمیر میں تعلیم کی شرح پاکستان سے بھی زیادہ ھے، سب جانتے ھیں کہ ایک معصوم غریب مزدور باپ بھی اپنی اولاد کو اچھی تعلیم دینا اپنا اولین فرض سمجھتا ھے چاھے وہ بیٹا ھو یا بیٹی، اور آجکل تعلیم، شائد روزگار یعنی کھانے پینے، پہننے اوڑھنے بچھانے، سب سے مہنگا بوجھ بن چکا ھے، (اسکی وجوھات و اسباب یہاں لکھنا تحریر کے اصل مقصد سے دوری کا سبب بن جائیگا، اسلئیے فی الوقت اسکو موقوف کرنا بہتر ھے۔

    تعلیمی اداروں کو پہلے 5 اپریل تک بند کر دینے کا اعلان کیا گیا جسے کہ اب غالبا مئی کے اختتام تک بند کرنیکا حکم صادر کر دیا گیا ھے، یہ حکومت وقت کا بہت اچھا اور احسن عمل ھے کیونکہ باقی لوگوں کی نسبت بوڑھے عورتیں اور چھوٹے بچے بیماریوں کے گھیرے میں جلد آ جاتے ھیں، کیونکہ انکا ایمیون سسٹم، انکا جسمانی ڈیفینس میکینزم، یعنی کسی بھی بیماری کے خلاف لڑنے کی طاقت ان میں بقدر کم ھوتی ھے، اور اس پر یہ کہ چھوٹے معصوم بچوں کو اسکولوں میں حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق سنبھال کر چلانا بھی ایک سعی لا حاصل ھے، جسکی بہت سی وجوھات ھیں، جن میں سہولیات اور وسائل کا فقدان قابل ذکر ھیں۔
    اسلئیے وقت کا تقاضا اور مصلحت اسی میں مضمر ھیکہ ھر ایک فرد انفرادی طور پر "کرونا وائرس” covid-19، نامی آفت سے بچاؤ بھی کرے، تمام احتیاطی تدابیر خود بھی اختیار کرے اور اہنے حلقہ احباب میں بھی اسکی آگاھی کو یقینی بنائے۔

    اپنی تحریر کے اصل مدعا کو پیش نظر رکھتا ھوں کہ، اسکولوں اور باقی تعلیمی اداروں کی بندش کے بعد جہاں جہاں ممکن تھا تعلیمی اداروں، یونیورسٹیز و کچھ دینی درسگاھوں میں بھی اپنے شاگردوں کو آن لائن یعنی انٹرنیٹ کے ذریعے مستفید کیا گیا اور کیا جا رھا ھے، جو کہ بہت ھی اچھی بات ھے، اور یہ سلسلہ جاری بھی رھنا چاھئیے۔۔۔
    مگر آج ایک بھائی سے انفارمیشن ملی کہ کچھ پرائیویٹ سکولز بھی چھوٹے بچوں، یعنی پلے گروپ، نرسری، پریپ یا اس سے بڑی کلاسز کے بچوں کو آن لائن سبق دینے کا سلسلہ شروع کرنا چاھتے ھیں، ساتھ ھی ساتھ والدین کو اسکول کی ماھانہ فیسز کی ادائیگی اور لیٹ ھونیکی صورت میں لیٹ فیس جمع کروانے کے حکم نامے بھی جاری کئیے جا رھے ھیں۔۔۔!

    پہلی بات تو یہ کہ کشمیر میں نہ ھی انٹرنیٹ اس معیار کا ھیکہ ھر کوئی اسکے ذریعے ایسا کام جاری رکھ پائے اور نہ ھی عام عوام کے پاس ایسی سہولت موجود ھوتی ھے کہ وہ آن لائین چھوٹے بچوں کے لئیے ایسی سہولت کا انتطام کرپائیں۔ ایک عام دیہاڑی دار مزدور کے لئیے ایسی باتیں کوہ قاف کی کہانیوں سے زیادہ کچھ معنی نہیں رکھتیں، اور دوسری بات کہ اس لیول کے بچوں کو اگر کوئی پرائیویٹ اسکولز آن لائن کلاسز کے لئیے کہیں تو یہ منطق بھی فہم سے بالاتر ھے، اور اگر ایسا اسلئیے کرنا مقصود ھیکہ اس تمام لاک ڈاؤن کے عرصے میں بند اسکولوں کے باوجود اور بند کاروباروں کے باوجود غریب والدین سے ماھانہ بڑی بڑی فیسز لینے کے سلسلے کو جاری رکھا جائے تو ہھر یہ علم کی اشاعت نہیں محض کاروبار ھی کہلائیگا۔

    عوام الناس میں اسوقت ایک طرف تو موجودہ حالات کو لے کر خوف کا عنصر پایا جاتا ھے، جو کہ ایک فطری ردعمل ھے اور دوسری بڑی تلوار اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کی سوچ کی صورت میں انکے سروں پر لٹک رھی ھے، کہ اگر یہ بندش کچھ عرصہ تک مسلسل رھی تو ایک عام آدمی اپنا اور اپنے خاندان کا پیٹ کیسے پالے گا، اس سوچ کو شائد آپ میں سے ھر ایک قاری ھی باآسانی سمجھ لے گا کیونکہ ھر ایک کے قرب و جوار میں ایسے سفید پوش لوگ لازم موجود ھوتے ھیں، بلکہ یہ پریشانی تو مڈل کلاس طبقے کو بھی لاحق ھے، جو کہ ھمارے بشمول معاشرے کا 95% طبقہ ھے۔ اور ان تمام بنیادی کھانے پینے اوڑھنے کے اخراجات میں شامل بند اسکولوں کی فیسز کی ادائیگی بھی ان تمام غریب عوام کے لئیے سولی پر لٹکنے سے کم نہیں، یہ تمام باتیں میں کافی لوگوں سے اس موضوع پر مکالموں کے بعد تحریر کر رھا، جن میں کچھ لوگوں کا خیال تو یہ ھے کہ بند کام و کاروبار کے دوران ھم اتنے اخراجات کسی طور نہیں اٹھا سکتے اسلئیے اہنے بچوں کو ھی اسکولوں سے ھٹا دیں۔

    میں بہت سوچنے کے بعد اور بہت درد میں یہ تحریر لکھ رھا ھوں اپنے ان تمام غیور ھم وطنوں کی طرف سے جو خود جسم پر پھٹا کپڑا پہنتے ھیں لیکن اپنے بچوں بچیوں کو نئے اسکول بیگز اور یونیفارمز دلانے میں ایک دن کی بھی تاخیر نہیں کرتے، اللہ سب کے حالات پر رحم کا معاملہ فرمائیں اور سب پر اپنا خاص کرم فرمائیں۔

    میری ان تمام والدین کی طرف سے یہ استدعا اور اپیل ھیکہ جب تک یہ لاک ڈاؤن کا سلسلہ جاری رھیگا اور جب تک لوگ اپنے معمول کے کام کاج اور روزگار پر دوبارہ سے رواں نہیں ھو جاتے، یہ بند اسکولوں کی فیسز کی ادائیگی کو روکا جائے، اور پرائیویٹ اداروں سے بھی گزارش ھیکہ جہاں سارا سال اور ھمیشہ یہی عوام اپنے بچوں کے درخشاں مستقبل کو لے کر آپکے ساتھ تعاون کرتے ھیں وھاں آپ بھی اس مشکل وقت میں اپنے لوگوں کے ساتھ تعاون کریں اور کم از کم جب تک یہ عارضی لاک ڈاؤن ختم ھو کر سب معمول پر نہیں آ جاتا، تب تک خدارا غریب والدین کی گردنوں ہر اسکول فیسز کے نام ہر چھریاں نہ ہھیری جائیں۔۔۔
    اسکول، کالجز، اساتذہ کسی بھی قوم کے بچوں اور حتی کے والدین کے لئیے بھی رول ماڈل ھوتے ھیں، لہذا تمام طرح کی مادیت پرست سوچوں سے نکل کر آگے بڑھ کر بھلائی اور اسلامی بھائی چارے کا مظاھرہ کریں اور غریب والدین کو کم از کم بند اداروں کے دوران کی فیسز کے جال سے آزاد کریں، ھماری حکومت وقت سے بھی گزارش ھیکہ وہ بھی اس پر عملدرامد کروائے، تاکہ لوگ ریاستی ھم آھنگی میں جڑ کر مل کر ناگہانی آفات کا مقابلہ کریں۔۔۔ !!!
    اللہ پاک آپ سب کا حامی و ناصر ھو، سب کو رزق حلال عطا فرمائے اور سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔

  • ماسک ضرور پہنیں مگرکب ، کون سا اورکیسے پہنیں —از—علامہ علی شیر حیدری

    ماسک ضرور پہنیں مگرکب ، کون سا اورکیسے پہنیں —از—علامہ علی شیر حیدری

    بسم اللہ الرحمن الرحیم ، بندگان الہٰی کے نام میرا پیغام

    ضروری ایام میں مستعمل ماسک سے اہم سبق !

    حالیہ بیماری سے بچاو کے لیے چند احتیاطی تدابیرمیں سے ماسک اوردستانوں کے کثرت استعمال پرمیرے ذہن میں‌ایک خیال ابھرا کہ اس مصنوعی ماسک سے بہت بڑا لمحہ فکریہ ہمارے ذہنوں پرپیغام الہٰی بن کردستک دے رہا ہے ، کہ موجودہ حالات میں ایک طبیب کے مشورے پرملک بھر میں ہردوسرے شخص نے کہا ہے جسمانی بیماری سے بچنے کے لیے ماسک پہن رکھا ہے

    اللہ کرے اس مصنوعی ماسک کی جگہ ہر ابن آدم وہ تقویٰ وخشیت الہٰی سے لبریز روحانی ماسک پہن لے تو رب تعالیٰ اپنی زمین پربسنے والے تمام بندوں کی بیماریاں شفا میں بدل دے ، مشکلات آسانیوں میں ، سختیاں نرمیوں میں ،زحمتیں رحمتوں میں تبدیل فرمادے گا ، اورہمیشہ ہمیش کے لیے بندوں سے راضی ہوجائے گا ، اوربند کیئے جانے والے اپنے تمام دربندوں کے لیے کھول دے گا

    قارئین کرام !،اختصار کے ساتھ زمین پرآباد انسانوں کے تمام طبقات کے ذمہ داران کواس حقیقی روحانی ماسک پہننے کی طرف توجہ دلانے لگا ہوں ،

    اللہ کرے !ایک گھر کا مسئول باپ ، مساوات کا ماسک پہن لے تاکہ اولاد میں کسی سے زیادتی نہ کرپائے

    اللہ کرے ! ایک گاوں کا نمبردار ہمدردی کا ماسک پہن لے تاکہ پورے گاوں میں کسی فرد کو دکھ نہ آنے پائے

    اللہ کرے ! ایک تھانیدارہوش کا ماسک پہن لے تاکہ پورے علاقے میں کہیں بھی اندھیرنگری نہ ہونے پائے

    اللہ کرے ! ایک وکیل سجائی کا ماسک پہن لے تاکہ کسی جھوٹے شخص کے مقدمے کوسچا اورسچے کو جھوٹا نہ ثابت کرپائے

    اللہ کرے ! ایک جج منصف عدل کا ماسک پہن لے تاکہ مظلوم کو اس کا حق دلوانے میں دیدہ دلیری دکھائے

    اللہ کرے !ایک وزیراپنے منصب کا صیح ماسک پہن لے تاکہ اپنے اہداف کوحقیقیت میں پورا کرپائے

    اللہ کرے ! ایک وزیراعظم اپنی قوم کے جزبات کی ترجمانی کا ماسک پہن لے تاکہ قوم کے خیالات کو پایہ تکمیل تک پہنچائے

    اللہ کرے ایک صدرمملکت اپنی صدارت کا حقیقی ماسک پہن لے تاکہ وطن عزیز کی نگہبانی کا حق اداکرپائے

     حضرات گرامی قارئین کرام

    اب آئیے ایک دوسرے طبقے کے ذمہ داران کیطرف

    اللہ کرے ! ایک تاجرسچائی اورایمانداری کا ماسک پہن لے تاکہ خریدارکوملاوٹ سے پاک اشیامل سکیں
    اللہ کرے ! ایک ڈاکٹراحساس ،خلوص،اخلاق اورشفقت کا ماسک پہن لے تاکہ مریضوں کودوا کے ساتھ دعا بھی مل سکے اورشفا بھی
    اللہ کرے ! ایک افسر اپنی کرسی کے تقاضوں کا ماسک پہن لے تاکہ سائلین کی داد رسی ہوسکے
    اللہ کرے !ایک صحافی دیانتداری کا ماسک پہن لے تاکہ کسی دنیا کوباخبررکھنے کےلیے حقائق بیان کرسکے ، غریبوں اورامیروں کے بلاامتیازمسائل ،مصائب دنیا تک پہنچا سکے
    اللہ کرے !ایک ادیب ادب کا حقیقی ماسک پہن لے تاکہ اس کے قلم میں کہیں جنبش نہ آنےپائے
    اللہ کرے ! ایک مفسّرفلسفہ وحی کا ماسک پہن لے تاکہ کہیں بھی آیات الہٰی کی تفسیرمیں تحریف وتاویل نہ کرپائے
    اللہ کرے !ایک سنار(زرگر) خوف خدا کا ماسک پہن لے تاکہ کھرے اورکھوٹے کو یکجا کرکے فروخت نہ کرپائے
    اللہ کرے !ایک دوکاندار خشیت الہٰی کا ماسک پہن لے تاکہ ناپ تول میں کمی بیشی نہ کرنے پائے
    اللہ کرے !ایک استاد فرائض منصبی کا ماسک پہن لے تاکہ نفع مند علم سے اپنے شاگردوں کو بہرہ مند فرما سکے ، اورپڑھنے والے طلباء کی حق تلفی نہ کرنے پائے
    اللہ کرے !ایک ظالم رحمدلی کاماسک پہن لے تاکہ کسی مظلوم کا گلہ نہ گھونٹنے پائے
    اللہ کرے !ایک قاتل احیائے انسانیت کا ماسک پہن لے تاکہ ناحق کسی کے جینے کا حق نہ چھین پائے
    اللہ کرے !ایک چوکیداراپنے مالک سے وفاداری کا ماسک پہن لے تاکہ کوئی چور،ڈاکونقب نہ لگا سکے
    اللہ کرے !ایک سربراہ ادارہ محبت وشفقت کا ماسک پہن لے تاکہ اپنے ماتحت کام کرنے والوں میں جانب داری اوارزیادتی کا مرتکب نہ ہونےپائے
    اللہ کرے !ایک بنت آدم حقیقی حجاب کا ماسک پہن لے تاکہ کوئی بدقماش میرا جسم میری مرضی کہنے کی جسارت نہ کرپائے

    قصہ مختصر

    اللہ کرے !ایک بدعتی سنت رسول کا ماسک پہن لے تاکہ مسنون اعمال میں بدعت کی ملاوٹ نہ کرپائے
    اللہ کرے !ایک مشرک توحید الٰہی کا ماسک پہن لے تاکہ رب کی زمین پرکسی دوسرے کو اللہ کا شریک نہ کرپائے
    اللہ کرے !ایک بے دین دین اسلام کا حقیقی ماسک پہن لے تاکہ وہ دنیا کی محبت کوترک کرکے جنت کا ر اہی بن جائے
    اللہ کرے !ایک پاکستانی کلمہ طیبہ کا حقیقی ماسک اوڑھ لے تاکہ قیام پاکستان کی آزادی جس کا نعرہ تھا پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ اب آزادی کےتقاضے پورے کرپائے
    اللہ کرے !ایک مسلم حرم کی پاسبانی کا حقیقی ماسک پہن لے تاکہ تحفظ حرمین شریفین کا حق اداکرپائے
    آخر میں درخواست گزار ہوں‌وطن عزیز کی ذمہ دار انتظامیہ سے

    کہ سود،عریانی ، فحاشی ،شراب نوشی ، رشوت خوری سمیت تمام گناہ کے اڈے بند کردیں‌ تاکہ کرونا وائرس سمیت تمام آفات سے اللہ پاک ہمیں‌نجات نصیب فرمائے
    اگر ہم نے اللہ سے کئے گئے وعدے پورے کردیئے تواللہ اپنے وعدے ضرور پورے کرے گا اوراللہ کبھی بھی اپنے وعدوں کے خلاف نہیں کرتا،اللہ ہمیں معاف بھی فرمائیں گے ، ہماری مدد بھی فرمائیں گے اورمشکلات سے نکال کرآسانیاں پیدا فرمائیں گے ،

    ماسک ضرور پہنیں مگرکب ، کون سا اورکیسے پہنیں ؟

    تحریر : علامہ علی شیر حیدری

  • برطانوی پارلیمنٹ میں کشمیر کے حوالے سے قائم ” کل جماعتی پارلیمانی گروپ” کی طرف سے کشمیر پر بحث کرونا کی نظر ہو گئی

    برطانوی پارلیمنٹ میں کشمیر کے حوالے سے قائم ” کل جماعتی پارلیمانی گروپ” کی طرف سے کشمیر پر بحث کرونا کی نظر ہو گئی

    لندن:برطانوی پارلیمنٹ میں کشمیر کے حوالے سے قائم ” کل جماعتی پارلیمانی گروپ” کی طرف سے کشمیر پر بحث کرونا کی نظر ہو گئی،اطلاعات کے مطابق برطانوی پارلیمنٹ میں کشمیر کے حوالے سے قائم ” کل جماعتی پارلیمانی گروپ” کی طرف سے کشمیر پر بحث ملتوی کر دی گئی ہے۔

    پارلیمنٹ نے گروپ کی چیئرپرسن ڈیبی ابراہیم کی طرف سے پیش کی گئی تحریک منظور کرتے ہوئے اس پر بحث کیلئے 26مارچ کی تاریخ مقرر کی تھی ۔

    پارلیمنٹری کشمیر گروپ کی چیئرپرسن ایم پی ڈیبی ابراھم اور جموں و کشمیر بین الاقوامی تحریک حق خود ارادیت کے سربراہ راجہ نجابت حسین نے ساوتھ ایشین وائر کو بتایا کہ برطانوی پارلیمنٹ کورونا وائرس کے باعث 21اپریل تک بند کر دی گئی ہے جس وجہ سے یہ بحث بھی ملتوی ہو گئی ہے۔

    برطانوی پارلیمنٹ میں اس سے قبل بھی تین مرتبہ کشمیر کے حوالے سے بحث ہو چکی ہے جن میں کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کرنے اور کشمیریوں کو حق خود ارادیت دینے پر زور دیا گیا ۔