Baaghi TV

Category: بلاگ

  • "تھیلیسمیا کے مریض بچے اور ہمارے فرائض”  تحریر: غنی محمود قصوری

    "تھیلیسمیا کے مریض بچے اور ہمارے فرائض” تحریر: غنی محمود قصوری

    اسلام و ماں باپ کے بعد سب سے بڑی نعمت تندرستی ہے انسان مختلف بیماریوں کا شکار ہوتا رہتا ہے جس سے اللہ رب العزت بندے کے صبر کو آزماتے ہیں اور اس کے بدلے میں آخرت کی پریشانیوں سے بھی نجات دیتے ہیں یوں تو ازل سے ہی کئی بیماریاں ہیں اور ہر انسان کسی نا کسی بیماری میں مبتلا ہوتا ہے مگر ایک تھیلیسمیا نامی بیماری ایسی بھی ہے جو کہ ماں باپ کے جینیاتی خرابی کے باعث اولاد میں منتقل ہوتی ہے اللہ رب العزت ہر کسی کے بچوں کو اس موذی بیماری سے بچائے یہ بیماری ایسی ہے کہ ہر ہفتے خون کی بوتل کے علاوہ بطور علاج معالجہ ہزاروں روپیہ بھی خرچ ہوتے ہیں
    عالمی یوم تھیلیسمیا 8 مئی کو پوری دنیا کے ساتھ پاکستان میں بھی منایا جاتا ہے
    ایک اندازے کے مطابق سنہ 2000 میں پاکستان میں تھیلیسمیا سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 60 ہزار تھی جو اب بڑھ کر 1 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے اور ہر سال تقریبا 6 ہزار نئے کیس سامنے آ رہے ہیں جو کہ بہت تشویشناک بات ہے اس سے بچاءو کیلئے حمل شروع ہوتے ہی ٹیسٹ کروائے جاتے ہیں جوکہ تقریبا ہر سرکاری ہسپتال سے با آسانی ہو جاتے ہیں لہذہ ہمیں لوگوں میں اس بیماری سے بچاءو کے متعلق شعور و آگاہی پیدا کرنی ہوگی وہ اجتماعی طور پر کریں یا انفرادی طور مگر کریں ضرور مگر بہتر ہے کہ اجتماعی طور پر ہو تا کہ ایک ٹیم بن کر زیادہ لوگوں تک آواز با آسانی پہنچائی جا سکے
    اس بیماری میں مبتلا بچے کا خون بہت تیزی سے کم ہونا شروع ہو جاتا ہے جسے کم سے کم ایک ہفتہ اور زیادہ سے زیادہ 20 دن بعد خون کی بوتل کی ضرورت ہوتی ہے اور بار بار خون کی تبدیلی کی بدولت ان بچوں کے دل و جگر بہت زیادہ کمزور ہو جاتے ہیں جس کی بدولت ان بچوں کی زندگی کی مہلت 20 سے 25 سال تک ہی ہے وہ بھی بہت کم بچوں کی ورنہ زیادہ تر 13 سے 17 سال تک ہی یہ بچے دنیا میں رہ پاتے ہیں اس کے بعد یہ مریض و مہمان بچے ہم سے جدا ہو کر خالق حقیقی کے پاس پہنچ جاتے ہیں
    تھیلیسمیا میں زیادہ تر مریضوں کی تلی بڑھ جاتی ہے جس پر آپریشن کرنا لازمی ہوتا ہے اس آپریشن پر لاکھوں روپیہ خرچا آتا ہے جبکہ بار بار خون منتقلی کی بدولت ان کی خاص دوائی Desferrioxamicin کی ضرورت پڑتی رہتی ہے جس کی موجودہ قیمت 5 ہزار روپیہ ہے جو کہ ہر غریب انسان کے بس کی بات نہیں والدین کیلئے دوائی کے علاوہ سب سے بڑی پریشانی خون کا بندوبست کرنا ہے جو کہ ایک کھٹن مرحلہ ہوتا ہے کیونکہ لوگ بار بار مالی مدد تو کر دیتے ہیں مگر خون ہر بار ہر بندہ نہیں دے سکتا ایسے میں کئی واقعات دیکھنے کو ملے کے مجبور و لاچار ماں باپ تنگ آ کر اپنے لخت جگروں کو ہسپتالوں و این جی اوز کے پاس چھوڑ کر بھاگ گئے اور کچھ کم عمر تھیلیسمیا کے مریض بچے محنت مشقت کرکے بیماری کیساتھ لڑتے ہوئے اپنا علاج معالجہ کرواتے ہیں
    ایسے میں ہم صحت مند افراد کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ان بچوں کیلئے خون کا بندوبست کریں تاکہ کوئی مجبور و لاچار ماں باپ اپنے لخت جگر کو یوں مرنے کیلئے چھوڑ کر نا جائے مذید ان بچوں کیلئے ہر شہر کی سطح پر این جی اوز قائم کی جائیں جو کہ ان مریضوں کیلئے خون کے عطیات جمع کرنے کیساتھ علاج معالجے اور ان کی ضروریات زندگی کیلیے رقم بھی جمع کریں تاکہ اللہ رب العزت کے پاس پہنچ کر یہ بچے ہمارا گریبان نا پکڑ سکیں کہ الہی میں ان صحت و توانا لوگوں میں چند سال کیلئے آیا تھا مگر یہ مجھے اپنا خون عطیہ نہیں کرتے تھے اور مجھے کھانے پینے کی اشیاء کے ساتھ علاج معالجے کیلئے پیسوں کی ضرورت تھی مگر یہ پیسوں والے لوگ مجھ چند سالوں کے مہمان کو پیسے دینے سے انکاری تھے اور مجھے اپنے علاج معالجے کیلئے بیماری کیساتھ محنت و مشقت بھی کرنی پڑتی تھی
    پاکستان میں اس وقت سینکڑوں این جی اوز اور سرکاری و نجی ہسپتال ان کم عمر مہمان بچوں کی سانسیں بحال رکھنے کی جدوجہد میں پیش پیش ہیں تو اپنے خون و مال سے ان این جی اوز و معالج خانوں کی مدد کرکے ان مہمان بچوں کی سانسیں بحال رکھنے میں مدد کیجئے تاکہ کوئی غریب ماں باپ خون و پیسے کے نا ہونے کی بدولت اپنے لخت جگر کو مرنے کیلئے اکیلا نا چھوڑ دے اور اس مہمان مریض کو اپنے علاج معالجے کیلئے غربت کے باعث بیماری کیساتھ محنت و مشقت نا کرنا پڑے کیونکہ فرمان باری تعالی ہے ،جس نے کسی ایک انسان کی جان بچائی گویا اس نے پوری انسانیت کو بچایا
    تو آگے بڑھیں جب تک ان مہمان بچوں کی سانسیں بحال ہیں تب تک ان کو عام بچوں کی طرح زندہ رہنے کا موقع دیجئے

  • مقبوضہ کشمیر : کشمیریوں نے سپریم کورٹ  کےکس  فیصلے پر منایا جشن

    مقبوضہ کشمیر : کشمیریوں نے سپریم کورٹ کےکس فیصلے پر منایا جشن

    مقبوضہ کشمیر : کشمیریوں نے سپریم کورٹ کےکس فیصلے پر منایا جشن

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق جمعہ کے روز سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد مقبوضہ کشمیر کے لوگوں نے جشن منایا اوربہت سے لوگوں نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ سروسز جلد ہی دوبارہ شروع کردی جائیں گی۔
    ایک کاروباری شخص اشتیاق احمد نے کہا کہ یہ ہمارے لئے بہت خوش کن خبر ہے کیونکہ انٹرنیٹ کو معطل ہوئے اب پانچ ماہ سے زائد کاعرصہ ہو گیاہے۔ ساوتھ ایشین وائر کے مطابق انہوںنے کہاکہ ہر شعبہ بری طرح متاثر ہوا ہے۔ یہ وادی میں کاروبار کے لئے بدترین مرحلہ رہا ہے۔ انٹرنیٹ ایک ایسا بنیادی ذریعہ ہے جس پر ہر ایک ، خاص طور پر کاروبار سے وابستہ افراد ، انحصار کرتے ہیں۔ ساوتھ ایشین وائر کے مطابق وادی میں سیاحت کے شعبے سے وابستہ ایک اور تاجر امید کر رہے ہیں کہ انٹرنیٹ پر منحصر کاروبار کو بھر پور فائدہ ملے گا۔
    شہر کے مضافات میں مقیم ایک طالبہ ، آفرین مشتاق نے کہا کہ طلبا برادری سب سے زیادہ متاثر ہوئی تھی اور عدالت عظمی کی جانب سے یہ فیصلہ اگرچہ دیر سے ہوا ہے لیکن یہ تازہ ہوا جھونکا ہے۔

    مبشر صاحب ،گند میں نہ پڑیں، ایس ایچ او نے حریم شاہ کے خلاف مقدمہ کی درخواست پر ایسا کیوں کہا؟

    حریم شاہ مبشر لقمان کے جہاز تک کیسے پہنچی؟ حقائق مبشر لقمان سامنے لے آئے

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    واضح رہے کہ بھارتی سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح انداز میں کہا کہ انٹرنیٹ پر پابندی لگانا مناسب نہیں ہے۔ یہ جمہوری ملک ہے، یہاں ہم کسی کو اس طرح نہیں رکھ سکتے۔ انٹرنیٹ پر پابندی اظہار رائے پر پابندی لگانے کے مترادف ہے۔ لوگوں کے حقوق نہیں چھینے جانے چاہیے۔ سات دنوں کے اندر دفعہ 144 پر جائزہ لیا جانا چاہیے۔ حکومتی دلائل کو سپریم کورٹ نے رد کر دیا۔ کہیں بھی دفعہ144 لگائی جائے تو اسے غیرمعینہ نہیں کیا جاسکتا۔ غیر معمولی حالات میں ہی اس کا نفاذ کیا جاسکتا ہے۔اس دفعہ کا استعمال بار بار نہیں کیا جانا چاہیے۔ حکومت کو اس پر واضح موقف پیش کرنا چاہیے۔

  • بنگلہ دیش پاکستان سے سیریز کھیلےگا یا نہیں‌، بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے مزید وقت مانگ لیا

    بنگلہ دیش پاکستان سے سیریز کھیلےگا یا نہیں‌، بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے مزید وقت مانگ لیا

    بنگلہ دیش پاکستان سے سیریز کھیلےگا یا نہیں‌، بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے مزید وقت مانگ لیا

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) نے پاکستان سے سیریز کھیلنے کے حوالے سے فیصلے کے لیے مزید چار روز کا وقت طلب کرلیا۔
    اس سلسلے میں دونوں بورڈ کے حکام کے درمیان رابطہ ہوا۔

    ذرائع کے مطابق بی سی بی سیریز سے متعلق کھلاڑیوں اور ٹیم مینجمنٹ سے بات کر رہا ہے جبکہ اس کے لیے حکومتی اجازت بھی درکار ہے. ذرائع نے مزید بتایا کہ سیریز کے حوالے سے بی سی بی اتوار یا پیر تک آگاہ کردے گا۔

    اس سے قبل ذرائع نے بتایا تھا کہ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ مرحلہ وار سیریز کھیلنے پر بضد ہے، جبکہ پی سی بی پہلے ٹی ٹوئنٹی اور بعد میں ٹیسٹ سیریز کھیلنے کا خواہاں ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی کھلاڑی اور ٹیم مینجمنٹ ٹی ٹوئنٹی سیریز کھیل کر سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لینا چاہتی ہے۔

  • مبشر لقمان اور حریم زادے ، بینش علی خان کی نظر میں

    مبشر لقمان اور حریم زادے ، بینش علی خان کی نظر میں

    مبشر لقمان کو مفت میں رگڑا جا رہا ہے مبشر لقمان کا یوٹیوب والا پروگرام میں نے خود دیکھا ہے جس میں راۓ ثاقب اینکر پرسن مہمان بن کر آئے ہیں اب ایک پروگرام میں ایک مہمان جو کچھ کہتا ہے اس کاحق ہے اس کو آزادی رائے کا پورا اختیار ہے۔
    مبشر لقمان کے پروگرام سے ایک دن پہلے سماء چینل کا 31 دسمبر کا پروگرام لائیو وِد ندیم ملک دیکھ رہی تھی جس میں اسد عمر اور زرتاج صاحبہ موجود تھے حریم شاہ کو کال پر لیا جاتا ہے اور وزارتِ داخلہ کے دفتر میں جانے کے بارے میں پوچھا جاتا ہے پاکستان کی حکومت ان دنوں صرف سرکس خانہ بن چکا ہے اس واقعے کے بعد تو اس لڑکی کو اصولاً حوالات میں ہونا چاہیے لیکن پیچھے ایک منسٹر دلال موجود ہو تو پھر قانون جوتی کی نوک پر ہوتا ہے حریم کی بات سننے کے بعد اسد عمر اور زرتاج گل سے اس بات پر جب رائے لی جاتی ہے تو صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ ان کا رنگ اڑ جاتا ہے اور وہ خاندانی عورت ہونے کا کہہ کر اور پولیٹکس میں اپنے کوششوں کا حوالہ دے کر کوئی بھی رائے دینے سے انکار کرتی ہے یہاں صاف پتا لگتا ہے کہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے اور اس بات کی کڑی مبشر لقمان کے پروگرام سے ملتی ہے اور زرتاج گل کی بوکھلاہٹ سمجھ میں آتی ہے اور پھر زرتاج صاحبہ کا جان بوجھ کر معصوم احتجاج کامران شاہد کے پروگرام میں کہ مبشر لقمان نے اس پر الزام لگایا ہے کہ زرتاج صاحبہ کے پاس کسی عورت کی وڈیوز ہے اور وہ اس نے لیک کی ہے بی بی جذباتی ہو کر رونے لگتی کہ وہ کسی کے ساتھ ایسا کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی بھئی پروگرام تو دیکھو کہ الزام مبشر لقمان نے نہیں لگایا رائے ثاقب نے بات کی تھی اب مبشر لقمان کے پروگرامز میں اس سے پہلے بہت سے سیاسی جماعتوں کے لوگ اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے آکر کچھ بھی بولتے تھے اس سے اس کا کوئی لینا دینا نہیں تو یہاں وہ قصور وار کیسے ؟

    فواد چودھری کی مبشر لقمان سے بدتمیزی، اصل حقیقت کیا؟ مبشر لقمان نے جواب دے دیا

    حریم شاہ کی "لیکس” کا سلسلہ جاری، فیاض الحسن چوہان کی کال ریکارڈنگ شیئر کر دی

    شیخ رشید کی کردار کشی، حریم شاہ کو کس نے دیا ٹاسک؟ باغی ٹی وی سب سامنے لے آیا

    حریم شاہ نے کس ملک کی شہریت کے لئے اپلائی کر دیا؟ سن کر فیاض الحسن چوہان پریشان

    ننگے ہونے کے لئے تیار ہو جاؤ، حریم شاہ نے کس کو شرمناک دھمکی دی؟

    سراج الحق بھی……حریم شاہ نے کیا تہلکہ خیر انکشاف

    حریم شاہ کی کسی شخص کے گھٹنے پر بیٹھنے کی تصویر وائرل، وہ شخص کون؟ حریم نے خود بتا دیا

    حریم شاہ کی "لیکس” زرتاج گل بھی میدان میں آ گئیں، کیا کہا؟ جان کر ہوں حیران

    زرتاج صاحبہ الزام یہ نہیں تھا کہ آپ نے کسی عورت کی ویڈیوز لیک کی ہے بات یہ ہے ک اس عورت کا دعویٰ ہے کہ اس کے پاس آپ کی ویڈیوز ہے پی ٹی آئی کے نائٹ ڈانس پارٹی میں بنا لی ہونگی اس نے اب رو دھو کر فیس سیونگ کرو۔
    اب آتے ہیں فواد صاحب کی طرف پہلے تو یہ بندہ انتہائی بدتمیز ہیں وہ اس قابل ہی نہیں کہ سکول میں ٹیچر بن سکے پیشے کے اعتبار سے وکیل اور وزیر سائنس و ٹیکنالوجی عمران خان کے بلنڈرز میں سب سے بڑا بلنڈر آئے روز کسی نہ کسی کو تھپڑ مار رہے ہیں خاندانی لوگوں کا یہ شیوا نہیں اس بات پر وہ رپورٹ کرتے عدالت جاتے مبشر لقمان کے خلاف خیر مبشر لقمان کو میں زرا بھی قصور وار نہیں مانتی لیکن فواد صاحب نے قانون کو ہاتھ میں لینے کو بہتر جانا کیوں کہ ان کو پتا ہے کہ پاکستان کی عدالتوں کا خدا ہی حافظ ہے دوسرے ملک کے اخبار تو اِن کو امراء کی رنڈی لقب کا دے چکے ہے جو کے غلط نہیں ہے پاکستان میں قانون صرف طاقت وروں کی حفاظت اور غریب کو سزا دینے کے لئے ہے جس کو فواد جیسے بڑے لوگ پھاڑ کر نکل جاتے ہے۔

    حریم شاہ کی دبئی میں کر رہے ہیں بھارتی پشت پناہی، مبشر لقمان نے کئے اہم انکشاف

    حریم شاہ کو کریں گے بے نقاب، کھرا سچ کی ٹیم کا بندہ لڑکی کے گھر پہنچا تو اسکے والد نے کیا کہا؟

    مبشر صاحب ،گند میں نہ پڑیں، ایس ایچ او نے حریم شاہ کے خلاف مقدمہ کی درخواست پر ایسا کیوں کہا؟

    حریم شاہ مبشر لقمان کے جہاز تک کیسے پہنچی؟ حقائق مبشر لقمان سامنے لے آئے

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    تیسری بات اس عورت کی سب کو کھیل سمجھ میں آگیا ہے ان کی ہر جگہ گھسنے ہر کسی تک رسائی کے پیچھے سوائے فیاض چوہان کے علاوہ کوئی اور نہیں ان کو صرف اس نے پلانٹ کیا سب سے پہلے ایسی جگہوں تک رسائی دے کر ویڈیو اپلوڈ کی جو عوام کی توجہ حاصل کرے اور عوام میں تشویش کی لہر دوڑائی گئی اور اپنے کام نکلوانے کے لئے ان کو بڑے بڑے مگرمچھوں کے بستر تک تب پہنچایا جب مشہور نہیں کروایا تھا اور ساتھ میں اُن کی وڈیوز بنوائی تاکہ وقت آنے پر کام آئے, اور اپنے سیاسی مخالفین یا جن کے ساتھ اختلافات تھے ان کو خراب کرنے کیلئے ان لڑکیوں کا استعمال کیا جیس کا ثبوت مبشر لقمان اور شیخ رشید ہے اور ساتھ میں جن کو خوش کرنا تھا اُن کو اِن لڑکیوں کے زریعے خوش کیا دنیا کا کوئی مرد تیار عورت کو نہیں چھوڑتا پھر اگر وہ ہمارے ٹھرکی رال ٹپکاتے سیاست دان اور بیوروکریٹس ہوں تو چھوڑنا ناممکن اس حریم بہتے گنگا میں سب نے دل کھول کر ہاتھ دھوئے بلکہ نہا لیے, تاریخ کی اوراق میں پی ٹی آئی کی پہلی حکومت کے وزراء اور ایک رنڈی والا باب نہایت سیاہ الفاظ میں لکھا جائے گا دعا ہے کہ اس لسٹ میں وزیراعظم کا نام نا ہو.
    بینش علی خان

  • ایرانی انقلاب کے بعد مشرق وسطیٰ اور امت مسلمہ–از– انشال راؤ

    ایرانی انقلاب کے بعد مشرق وسطیٰ اور امت مسلمہ–از– انشال راؤ

    شہنشاہ نقوی نے پریس کانفرنس کرکے پاکستان کو دھمکی اور امریکہ کا ساتھ دینے کا الزام عائد کیا ہے جبکہ تاریخ گواہ ہے کہ عالم اسلام کے خلاف جو کردار فرانس نے ادا کیا وہ کبھی یہود نے بھی نہ کیا لیکن امام خمینی فرانس کی سرزمین پر بیٹھ کر ایران میں اسلامی انقلاب لے آتے ہیں اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ایران میں خمینی انقلاب کے بعد سے مشرق وسطیٰ متعدد بار شورش، عدم استحکام اور جنگوں کا سامنا کرچکا ہے جبکہ اسرائیل کو عربوں کی مزاحمت و جنگوں سے مکمل چھٹکارا مل گیا ہے،

    ایرانی انقلاب کے فوراً بعد ایک طرف تو ایران امریکہ تنازعہ پیدا ہوگیا اور Hostage Crisis کے نام دنیائے تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ ہوا تو دوسری طرف ایران عراق جنگ کی صورت خطے میں بدامنی کی لہر نے جنم لے لیا، اس کے بعد گلف وار اور پھر عرب اسپرنگ کے نام پر پورا خطہ شورش، بدامنی و عدم استحکام کا شکار ہوگیا، ایرانی انقلاب کے بعد اس کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ تک محدود رہے بلکہ پاکستان بھی اس کی لپیٹ میں آکر فرقہ ورانہ فسادات کا شکار رہا،

    سعودی عرب میں اوائل اگست 1987 کے حج کے موقع پر ایرانی انقلابیوں نے جو خون خرابہ کیا وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں، محمد میاں سومرو و توفیق احمد چنیوٹی جیسے بزنس مین سمیت دنیا بھر کے حاجی اس سانحے کے عینی شاہد ہیں، اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ایرانی انقلاب کے بعد بظاہر امریکہ ایران تعلقات ناخوشگوار ہی رہے ہیں لیکن خفیہ طور پر متعدد بار امریکہ ایران تعاون بھی دیکھنے میں آیا ہے نومبر 1986 میں دنیا بھر میں اس انکشاف کی دھوم رہی اور واشنگٹن پوسٹ نے خبر شایع کی کہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی کے تعاون سے ریگن انتظامیہ نے ایران کو اسلحہ فراہم کیا،

    اس کے علاوہ عراق و شام میں ایران امریکی تعاون سے مخالف گروہوں کے خلاف کاروائی کرتا رہا اور مختلف اسلامی ممالک میں خفیہ تنظیمیں متحرک و منظم کرتا رہا ہے اور ان تنظیموں نے بہت سے عرب ممالک کے امن کو مفلوج کرکے رکھدیا، بلاشبہ ایران ان مسلح تنظیموں کی پشت پناہی و سرپرستی کررہا ہے جن کے زریعے سے خطے میں اجارہ داری قائم کرکے عظیم فارسی سلطنت و تہذیب کو قائم کرنا چاہتا ہے جس کا سابق ایرانی صدور محمد خاتمی، محمد احمد نژاد و دیگر مذہبی عسکری و سیاسی رہنما اپنے خطابات و بیانات میں اظہار کرتے آرہے ہیں کہ ہماری قدیم ایرانی تہذیب ہے، ہماری عظیم فارس سلطنت تھی ہم قدیم تہذیب رکھتے ہیں، ہم اپنی قدیم تہذیب و سلطنت کو بحال کرینگے وغیرہ وغیرہ،

    امریکہ کے مشرق وسطیٰ میں مختلف مفادات جڑے ہیں اور امریکہ کسی اور کی چودھراہٹ کو ہرگز ہرگز برداشت نہیں کرسکتا، اہم بات یہ بھی ہے کہ امریکی پالیسی میں نیشنلزم، تہذیب، یا کسی مذہبی نظریہ پہ قائم ملک و ملت کے استحکام کی کوئی گنجائش نہیں، یہی وجہ ہے کہ اب آکر امریکہ نے واضح طور پر ایران کو پیغام دیدیا ہے کہ اب وہ مڈل ایسٹ میں اپنے پھیلائے ہوے پنجوں کو واپس کھینچ لے ورنہ دو میں سے ایک ہی قوت رہیگی یا امریکہ یا ایران، ایرانی بضد ہیں کہ وہ کسی طور بھی اپنی پالیسی سے دستبردار نہیں ہونگے

    جیسا کہ R.N Haass نے کہا کہ "ایران امریکہ جنگ ہوئی تو یہ ایران عراق تک ہی نہیں بلکہ پورے خطے میں لڑی جائیگی” بعینہ ایران کے روحانی پیشوا خامنہ ای نے کہا ہے کہ "ہمارے رضا کار امریکہ میں بھی لڑینگے جو بڑی تعداد میں وہاں موجود ہیں” مزید ایرانی انتظامیہ نے حملے کی صورت میں UAE و دیگر عرب ممالک کو نشانہ بنانے کی بھی دھمکی دی ہے،

    ایران کی جانب سے امریکی ملٹری بیسز پر حملے کے بعد جنگ کے بڑھنے میں کوئی کسر باقی تو نہیں رہی ہے البتہ پوری دنیا کوشش میں ہے کہ کسی طرح اس بلا کو ٹال دیا جائے تاکہ دنیا پر منڈلاتے عالمی جنگ کے سائے چھٹ جائیں لیکن بظاہر ایسا ہوتا ممکن نظر نہیں آرہا امریکی سیکریٹری دفاع مارک ایسپر نے CNN پر انٹرویو دیتے ہوے کہا ہے کہ قاسم سلیمانی کی صورت میں ہم ایران کو پیغام دے چکے ہیں کہ اب خطے میں ایرانی مداخلت اور اپنا انقلابی نظریہ ایکسپورٹ کرنے کے لیے کوئی گنجائش نہیں لہٰذا اب ایران سمجھ جائے کہ Game is Change ورنہ دونوں میں سے ایک رہیگا”

    اس سے پہلے کبھی امریکہ کو اتنے جارحانہ انداز میں نہیں دیکھا گیا اور اب ایران کے حملوں کے بعد صورتحال ہاتھوں سے نکل چکی ہے جو شاید ایک ہولناک جنگ کی صورت میں ہی سامنے آئیگی، نتیجتاً عرب ممالک بالخصوص اور پاک افغان بالعموم اس سے شدید متاثر ہونگے، امریکی حملے کی صورت میں شیعہ گروہ اسلامی ممالک میں قائم امریکی تنصیبات کو نشانہ بنائینگے جس سے حالات بگڑتے ہی چلے جائینگے جبکہ ایرانی انتظامیہ تو پہلے ہی براہ راست عرب ممالک پر حملے کی دھمکی دے چکی ہے،

    اس نازک صورتحال میں پاکستان کا کردار کیا ہوگا؟ پاکستان ایران کے بعد سب سے زیادہ شیعہ آبادی کا ملک ہے اور یہ بھی یاد رہے کہ مشرق وسطیٰ طرز کی پراکسی پاکستان میں بھی موجود ہے جس کا علی شیر حیدری و دیگر بہت سے لوگ بارہا انکشاف کرچکے ہیں اور پاکستان سے غیرمعمولی تعداد میں شیعہ افراد کی عراق و شام میں بطور سپاہی لڑنے کے ثبوت بھی سامنے آچکے ہیں اور شہنشاہ نقوی کی دھمکی آمیز پریس کانفرنس سے بڑھ کر اس کا کوئی ثبوت نہیں، شہنشاہ نقوی کا اشارہ پاکستان میں ایرانی ٹرینڈ شیعہ عسکری ونگز کے زریعے پاکستان کے حالات خراب کرنے کی طرف ہے جس سے گلگت بلتستان، کشمیر یا جزوی حد تک کراچی متاثر ہوسکتے ہیں،

    اس کے علاوہ مشرقی بارڈر اور بھارت کے ناپاک عزائم بھی کسی سے ڈھکے چھپے نہیں، اس نازک صورتحال کا دنیا کو پہلے سے ہی علم تھا لیکن اگر نہیں تھا تو کچھ پاکستانی میڈیا پرسنز و کچھ سیاستدانوں کو نہیں تھا جو جنرل باجوہ کی ایکسٹینشن کو متنازعہ بنانے کی کوشش اور اسے جمہوریت پہ شب خون مارنے کے مترادف تک قرار دیتے رہے جبکہ عدلیہ نے اسے آئین کے منافی قرار دیتے ہوے آرمی قوانین میں ترمیم کرنے پہ مجبور کردیا

    پھر دنیا نے دیکھا کہ تمام سیاستدان حیران کن طور پر ایک پیج پر بھی آگئے بقول حسن نثار "ایک پیج پر نہیں ایک سیخ میں پرودئیے گئے ہیں” حالانکہ آرمی چیف کی ایکسٹینشن کوئی انوکھی بات نہیں، 1943 میں وقتی صورتحال کو دیکھتے ہوے امریکی صدر روزویلٹ نے امریکی چیف اسٹاف Marshal کی ایکسٹینشن بغیر کسی ترمیم کے کرچکے ہیں جس پر امریکی پریس یا اپوزیشن نے کوئی سوال تک نہ کیا، جنرل ڈوگلس کی صلاحیت و ریاست کے استحکام کے پیش نظر امریکی انتظامیہ نے انہیں بھی ایکسٹینشن دی،

    بھارتی حکومت نے جنرل بپن راوت کو ریٹائرمنٹ کیساتھ ہی چیف آف ڈیفینس اسٹاف بناکر مزید ایکسٹینشن دے دی لیکن کسی نے حرف تک نہ کہا جبکہ پاکستان جو باجوہ ڈاکٹرائن کے تحت مختلف اندرونی و بیرونی بحرانوں سے باہر نکلتا آرہا ہے اور اس ماہر جنرل کی موجودہ نازک صورتحال کے پیش نظر اشد ضرورت تھی جسے بالآخر آرمی ایکٹ ترمیم کے زریعے پورا کردیا گیا جو انشاءاللہ پاکستان و پاکستانیوں کے لیے کارگر ثابت ہوگی، مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر حکومت و عسکری قیادت پہلے ہی نیوٹرل رہنے کا اعلان کرچکی ہیں جوکہ سعودی عرب و UAE کو قابل قبول نہیں ہوگا اور امریکہ بھی اسے قبول نہیں کریگا، لہٰذا پاکستان کو نیوٹرل رہتے ہوے ایک بار پھر وہی کردار ادا کرنا ہوگا جو گلف وار کے دوران کیا تھا۔

    آرزوئے سحر
    تحریر: انشال راؤ
    عنوان: ایرانی انقلاب کے بعد مشرق وسطیٰ اور امت مسلمہ

  • حارث رؤف نے بگ بیش میں جھنڈے گاڑ دیے ، باؤلنگ میں کارنامہ انجام دے دیا

    حارث رؤف نے بگ بیش میں جھنڈے گاڑ دیے ، باؤلنگ میں کارنامہ انجام دے دیا

    حارث رؤف نے آسٹریلیا میں جھنڈے گاڑ دیے ، باؤلنگ میں کارنامہ انجام دے دیا

    سڈنی: اسپیڈ اسٹارحارث رؤف نے آسٹریلیا میں جاری بگ بیش ٹی ٹوئنٹی لیگ میں شاندار ہیٹ ٹرک حاصل کی ہے۔

    میلبرن اسٹارز کی نمائندگی کرتے ہوئے حارث کا پہلا نشانہ گلیکس بنے جو کیچ آؤٹ ہوئے ، اگلی ہی گیند پر انہوں نے فرگوسن کو کلین بولڈ کر دیا گیا جبکہ ان کا تیسرا نشانہ سیمز بنے جو کے ایل بی ڈبلیو ہوئے۔

    26 سالہ باؤلر نے اب تک 4 میچوں میں 7 کی اوسط اور اسٹرائک ریٹ سے 13 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا ہے جب کہ ان کے رنز دینے کی اوسط 5.87 رہی ہے۔واضح‌رہے کہ حارث رؤف آسٹریلیا میں پہلے بھی شاندار پرفارمنس دکھا رہے ہیں.

  • ایران امریکہ تنازعہ و امریکی مڈل ایسٹ پالیسی، تحریر: انشال راؤ

    ایران امریکہ تنازعہ و امریکی مڈل ایسٹ پالیسی، تحریر: انشال راؤ

    آرزوئے سحر : ایران امریکہ تنازعہ و امریکی مڈل ایسٹ پالیسی، تحریر: انشال راؤ

    موجودہ حالات پر غور کرنے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ امریکہ نے اپنے مفادات کے حصول کے لیے ایک شکل یہ اپنائی ہے کہ جہاں جہاں امریکی آشیرباد سے حکومتیں قائم ہیں ان کی سرپرستی جاری رہیگی اور جن خطوں سے امریکی مفادات کے حصول میں رکاوٹ محسوس ہوگی تو انہیں آگ و خون کی ہولی میں تبدیل کردیا جائیگا، مڈل ایسٹ ممالک میں لگی آگ اسی بات کی غمازی ہے اور جو جب امریکی مفادات کی راہ میں حائل ہونے کی کوشش کریگا اسے راستے سے ہٹادیا جائیگا جس طرح ایرانی جنرل قاسم سلیمانی و ابو مہدی المندس کو ڈرون حملے میں اڑا دیا گیا جس کے بعد سے بظاہر ایران امریکہ کے مابین شدت آگئی ہے اور ماہرین اسے پورے خطے میں جنگ کا پیش خیمہ سے تعبیر کررہے ہیں مزید اگر روس یا چین میں سے کسی بھی طاقت نے امریکی مفادات کے آڑے آنے کی کوشش کی تو یہ جنگ عالمی جنگ میں تبدیل ہوجائیگی، مشرق وسطیٰ میں سب سے پہلے عراق پر امریکہ نے براہ راست چڑھائی کی تو اس وقت صدر صدام حسین نے کہا تھا کہ "چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں” اور چشم فلک نے دیکھا کہ عراق میں لگی آگ شام، لبنان، یمن و دیگر عرب ممالک سے ہوتے ہوے شمالی افریقہ تک پہنچ کر لیبیا کو بھی لپیٹ میں لے گئی اور ایران نے مڈل ایسٹ کو جنگ کی آگ میں جھونکنے میں اہم کردار ادا کیا، خواہ یمن ہو، عراق و لبنان یا پھر شام یا بحرین ہر جگہ ایرانی پراکسیز نے ہی مشرق وسطیٰ میں خونچکاں صورتحال پیدا کی، ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت پر ایران کی آہ و بکا کو کیا سمجھا جائے جبکہ یہی وہ قاسم سلیمانی تھے جو گذشتہ ایک دہائی سے امریکہ کیساتھ مل کر مختلف کاروائی کرتے آرہے تھے، 2011 میں معروف امریکی اسٹیٹس مین ہینری کسنجر نے انٹرویو میں کہا تھا کہ "مڈل ایسٹ میں جنگ کے نقارے بج رہے ہیں جنہیں یہ سنائی نہیں دے رہے وہ بہرے ہیں” انہوں نے مزید کہا کہ "امریکہ نے بہت سے مسلمانوں کو خرید رکھا ہے جو ان کی توقعات سے اچھا کام کررہے ہیں” اس انٹرویو کے تحت دیکھا جائے تو اچانک سے اٹھنے والی یہ اسپرنگ، پراکسیز و میڈیا کی پروپیگنڈہ کیمپین سب زرخرید ہی معلوم ہوتی ہیں، ہینری کسنجر نے اس عالمی جنگ کا نقطہ آغاز "ایران” کو ہی قرار دیا تھا اور اب شاید وہ وقت آپہنچا ہے جس کی پیشین گوئی چودہ سو سال پہلے حضور قدسؐ نے کی تھی، حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ "تمہاری پشت پہ ایک طاقت کھڑی ہوجائیگی جسے تم رومیوں کے ساتھ مل کر شکست دوگے جس کے بعد ایک شخص کھڑا ہوکر کہیگا کہ یہ صلیب کی فتح ہے جسے ایک مسلمان قتل کردیگا تو اہل صلیب وہاں موجود تمام مسلمانوں کو شہید کردینگے اور یوں یہ مسلمانوں و رومیوں میں جنگ میں تبدیل ہوجائیگی جس کے بعد رومی 80 جھنڈے لیکر حملہ آور ہونگے اور ہر جھنڈے تلے 12000 رومی ہونگے” لازمی نہیں کہ وہ پشت پہ تیار ہونے والی طاقت ایران ہی ہو، ہوسکتا ہے وہ روس ہو اور عین ممکن ہے کہ روس اس جنگ میں کود جائے جس کے مفادات اس خطے سے جڑے ہوے ہیں، مفادات کے ٹکراو سے ہی جنگوں کی آگ بھڑکتی ہے، انیسویں صدی میں برطانوی PM لارڈ پامرسٹن نے کہا تھا جو مشہور زمانہ قول ہی نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے انہوں نے کہا تھا کہ "England has no permanent friend, She has permanent interests” کے مصداق امریکہ کی بھی یہی پالیسی ہے اور ڈونلڈ ٹرمپ و دیگر امریکی عہدیدار بارہا یہ بات دہراتے آرہے ہیں کہ امریکی مفادات کے حصول میں انہیں جو کرنا پڑیگا وہ کرینگے، جب تک امریکی مفادات تھے وہ ایران کیساتھ مل کر داعش و دیگر گروہوں کے خلاف کاروائی کرتے رہے لیکن جب ایران امریکی مفادات کی راہ میں رکاوٹ بننے لگا تو امریکہ نے متعدد بار خبردار کیا، آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل بردار جہازوں پر ایرانی پراکسیز کے حملے اور مشرق وسطیٰ میں ایرانی اثر و رسوخ امریکہ کو ایک آنکھ برداشت نہ ہوا، دسمبر 2019 کے اوائل میں مائیک پامپیو نے ریگن نیشنل ڈیفینس فورم سے خطاب کرتے ہوے بتایا کہ امریکہ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ ایرانی جنرل قاسم سلیمانی عراق میں امریکہ مخالف کاروائیوں کی سرپرستی کرنے سے باز رہے لیکن جب ایران باز نہ آیا تو امریکہ نے 12000 کلومیٹر دور سے کاروائی کرکے نہ صرف ایران کے خلاف اعلان جنگ کردیا بلکہ دنیا میں ٹیکنالوجی کی دھاک بھی بٹھادی، صرف اتنا ہی نہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے حالیہ ٹویٹ میں عندیہ دیدیا ہے کہ ایران امریکہ جنگ کی صورت میں امریکہ نئے ہتھیار استعمال کرتے ہوے دنیا میں متعارف کروائے گا، یاد رہے 1945 میں جب امریکہ نے جاپانی شہروں پہ ایٹم بم گرائے تو دنیا کو معلوم ہی نہیں تھا کہ امریکہ نے کیا کیا ہے، بالکل اسی طرح ڈیزی کٹر بم ہوں یا ڈرون یا گائیڈڈ میزائل یا پھر B-52 جیسے جدید جنگی طیارے امریکہ نے متعارف کروائے تو دنیا کے سامنے ایک نئے جنگی ہتھیار سامنے آئے اور اب ٹرمپ کا ایران کے نام دھمکی آمیز ٹویٹ یہی اشارہ ہے کہ یقیناً امریکہ نے کوئی مہلک ترین ہتھیار بنا رکھے ہیں جو شاید ایٹم بم سے بھی زیادہ مہلک ثابت ہوں، امریکی تنازعات کا سطحی جائزہ لیا جائے تو ایک بات واضح ہے کہ جہاں امریکہ کو محسوس ہوا کہ اس کے مفادات کو نقصان ہونے کا خدشہ ہے تو وہیں امریکی رویے میں سختی نظر آئی جو شدت ہی اختیار کرتے نظر آئے ہیں، سوویت یونین کو صرف تسلیم کرنے میں امریکہ نے 15 سال لگائے، ویتنام جنگ کے اختتام 1973 کے باوجود امریکہ سرد رویے میں نرمی 1995 میں آکر ہوئی، کیوبا کا معاملہ بھی دنیا کے سامنے ہے، اسی طرح ایران سے امریکی تنازعہ کوئی نیا نہیں ہے لیکن ماضی کے ایران کا ذکر یہاں ضروری نہیں، خمینی کے ایرانی انقلاب کے بعد پہلی بار امریکہ ایران اس وقت ٹھنی جب ایران نے امریکی سفارتی عملے کو 444 دنوں تک یرغمال بنائے رکھا جواباً امریکہ نے ایران پر پابندیاں عائد کرتے ہوے 12 ارب ڈالر کو روک لیا جسے الجزائر کی ثالثی کے بعد حل کیا گیا، اس کے بعد سے امریکہ ایران تنازعہ چلتا ہی آرہا ہے جس کے جواب میں امریکہ نے ایران کے خلاف معاشی، سفارتی و سیاسی کارروائیاں ضرور ڈالیں لیکن کبھی فوجی کارروائی نہیں کی لیکن امریکی تاریخ رہی ہے کہ وقت آنے پر وہ اپنے حریف کو تباہ کیے بغیر نہیں رہتا، 1996 میں امریکہ نے Iran Libya Act 96 کے تحت ایران و لیبیا پر سخت پابندیاں عائد کیں اور کچھ عرصے بعد مشروط طور پر لیبیا پر نرمی کردی گئی لیکن اس کے باوجود امریکہ نے لیبیا کو تباہ ضرور کیا، بالکل اسی طرح اب امریکی رویے سے ظاہر ہے کہ ایران پر امریکہ جنگ مسلط کرکے ہی رہے گا آج یا بدیر لیکن کرے گا ضرور اور R.N Haass نے بالکل سہی کہا ہے یہ جنگ پورے خطے میں لڑی جائیگی جس میں نقصان صرف امت مسلمہ کا ہی ہونا ہے۔

  • قاسم سلیمانی فلسطینی مزاحمت کے قائد اور عوام کے ہیرو ،  تحریر: صابر ابو مریم

    قاسم سلیمانی فلسطینی مزاحمت کے قائد اور عوام کے ہیرو ، تحریر: صابر ابو مریم

    قاسم سلیمانی فلسطینی مزاحمت کے قائد اور عوام کے ہیرو
    تحریر: صابر ابو مریم
    سیکرٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستانپی ایچ ڈءریسرچ اسکالر، شعبہ سیاسیات جامعہ کراچی

    عراق کے دارلحکومت بغداد میں مورخہ تین جنوری کو امریکی افواج کی ایک دہشت گردانہ کاروائی میں شہادت پر فائز ہونے والے مجاہدین اسلام قاسم سلیمانی او ر ابو مہدی مہندس سمیت آٹھ افراد شامل تھے۔ بغداد میں امریکہ کی یہ غیر قانونی اور جارحانہ کاروائی پوری دنیا کے لئے توجہ کا مرکز اس لئے بھی بنی کہ اس حادثہ میں شہید ہونے والے مجاہد اسلام قاسم سلیمانی ایک ایسی غیر معمولی شخصیت ہیں کہ جن کے بارے میں دنیا بھر اور پاکستان کے تجزیہ نگاروں نے بھی رائے دیتے ہوئے یہی کہاہے کہ قاسم سلیمانی کی شخصیت ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے بعد دوسرے بڑی قدرت رکھنے والی شخصیت ہیں۔اس طرح کے متعدد تجزیات ذرائع ابلاغ پر جاری ہیں جبکہ کالم نویسوں نے بھی اپنے قلم کی مدد سے امریکی دہشت گردانہ کاروائی میں شہید ہونے والے قاسم سلیمانی اور ابو مہدی مہندس کی شہادت کے حوالے سے مختلف سیاسی اور عسکری پہلوؤں پر روشنی ڈالی ہے۔
    گذشتہ تین چار روز سے دنیا بھرک ے ذرائع ابلاغ بالخصوص مغربی دنیا اور عرب دنیا سمیت ایشیائی ممالک کے ذرائع ابلاغ بغداد میں امریکی دہشت گرادنہ کاروائی کے نتیجہ میں شہید ہونیو الے ان رہنماؤں کے بارے میں مسلسل خبریں اور تجزیات پیش کر رہے ہیں کہ جس کے بعد ان شہداء کی زندگانی کے بارے میں مختلف پہلو سامنے آنا شروع ہوئے ہیں۔ہم ا س مقالہ میں کوشش کریں گے کہ شہید قاسم سلیمانی کے حوالے سے سامنے آنے والے چند ایک پہلوؤں پر روشنی ڈالیں۔
    اس سے پہلے کہ ہم شہید قاسم سلیمانی سے متعلق بیان کردہ دیگر پہلوؤں کی طرف بات کریں، ایک منفرد اور بنیادی پہلو جو ابھی تک نہ تو مغری ذرائع ابلاغ نے پیش کیا ہے اور نہ ہی عرب دنیا سمیت ایشیائی ممالک کے کسی ذرائع نے بیان کیا ہے۔لیکن یہ پہلو دنیا کے سامنے اس وقت سامنے آیا ہے کہ جب عالم اسلام کے اس عظیم ہیرو شہید قاسم سلیمانی اور ابو مہدی المہندس سمیت دیگر شہداء کے جنازے بغداد سے کاظمین، کربلا، نجف، اہواز، مشھدسے ہوتا ہوا تہران پہنچا ہے جہاں فلسطینی تحریک مزاحمت کے سربراہ اسماعیل ہانیہ نے خصوصی طور پر اس نماز جنازہ میں شرکت کی اور نماز جنازہ کے لاکھوں شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شہید قاسم سلیمانی نہ صرف ایرانی قوم کے ہیرو ہیں بلکہ قاسم سلیمانی فلسطینی مظلوم ملت کے عظیم ہیروہیں اور چونکہ قاسم سلیمانی القدس فورس کے سربراہ ہیں لہذا ہم فلسطینی عوام اور فلسطینی کی مزاحمت کی تحریکیں قاسم سلیمانی کو شہید القدس سمجھتے ہیں اور یقینا شہید قاسم سلیمانی شہید القدس ہیں۔فلسطین کی اسلامی مزاحمت کی تحریک حماس کے سربراہ نے کہا کہ قاسم سلیمانی کو فلسطین سمیت عالم اسلام میں ہمیشہ مزاحمت اسلامی کا ہیرو ہی سمجھا جائے گا۔حماس کے سربراہ نے کہا کہ قاسم سلیمانی کی پوری زندگی فلسطینیوں کے دفاع اور فلسطین کی غاصب صہیونی ریاست اسرائیل کے شکنجہ سے آزادی کے لئے صرف ہوئی ہے۔لہذا فلسطین کی آزادی کی یہ جد وجہد قاسم سلیمانی کے قائم کردہ مزاحمت کے اصولوں کی روشنی میں جاری رہے گی۔
    شہید قاسم سلیمانی کی جد وجہد کو سمجھنے کے لئے ایک نقطہ یا پہلو جو اہم ہے وہ یہ بھی ہے سنہ2011ء میں جب امریکہ کی جانب سے شام میں داعش جیسی سفاک اور دہشت گرد تنظیم کی بنیاد رکھی گئی تو قاسم سلیمانی نے شام حکومت کی درخواست پر داعش سے نمٹنے کی حکمت عملی بنائی اور بنفس نفیس داعش کے خاتمہ کے لئے محاذ جنگ پر موجود رہے۔اسی طرح جب امریکہ اور اسرائیل سمیت ان کے عرب حواریوں نے سنہ2014ء میں داعش کو عرا ق پر مسلط کرنے اور عراق پر قابض ہونے کے لئے خون ریزی شروع کی تو یہی قاسم سلیمانی ہی تھے جو سب سے پہلے عراق کے دفاع کے لئے عراقی حکومت کی درخواست پر عراق پہنچے اور یہاں بھی داعش کے خاتمہ کے لئے اور عرا ق کے مقدس مقامات کے تحفظ سمیت عرا ق کو داعش کے چنگل سے نجات دلوانے کے لئے سرگرم ہوئے۔ نتیجہ میں شام اور عراق دونوں مقامات پر ہی داعش کو شکست ہوئی اور اس جنگ کا فاتح اگر کوئی تھا تو وہ یہی عالم اسلام اور شعائراللہ کا دفاع کرنے والا مجاہد قاسم سلیمانی تھا۔
    شہید قاسم سلیمانی لبنان میں اسرائیل کے حملوں کی ناکامی اور اسرائیلی منصوبوں کی ناکامی کا ایک اہم ستون سمجھے جاتے ہیں۔ جب سنہ2006ء میں اسرائیل نے لبنان پر حملہ کیا تو قاسم سلیمانی لبنان میں حزب اللہ اور لبنانی فوج کے ساتھ مل کر اسرائیل کے حملہ کو پسپا کرنے کے لئے دن رات سرگرم عمل رہے اور اس طرح یہ جنگ بھی 33روز بعد اسرائیل کے شکست پر اختتام پذیر ہوئی۔عالمی ذرائع ابلاغ نے کئی سال بعد اسرائیل کی اس شکست کا ذمہ دار اسی مجاہد اسلام قاسم سلیمانی کو قرار دیا۔
    اگر بوسنیا کے ان مسلمانوں کی بات کی جائے جن پر ظلم و ستم روا رکھا گیا تھا تو تاریخ یہ بتاتی ہے کہ یہی شہید قاسم سلیمانی مسلمانوں کے دفاع کے لئے اور ان کی عزت وناموس کی رکھوالی کی خاطر سب سے پہلے بوسنیا میں پہنچے اور دشمن قوتوں کے مقابلہ میں مسلمان ملتوں کا دفاع کیا۔
    شہید قاسم سلیمانی کے بارے میں ایک اہم پہلو یہ بھی سامنے آیا ہے کہ قاسم سلیمانی کشمیر میں مظلوم کشمیریوں کی مزاحمت کے حامی رہے اور یہی وجہ ہے کہ ان کے شہادت پر مقبوضہ کشمیر میں کئی ایک مقامات پر ان کی تصاویر اٹھا کر عوام نے مظاہرے کئے ہیں۔
    امریکہ جو کہ اپنی دہشت گردانہ عزائم کی ایک سوسالہ تاریخ سے طویل تاریخ رکھتا ہے ہمیشہ مظلوموں کو دہشت گرد قرار دینا ہی امریکہ کا شیوا رہا ہے۔امریکہ یہ بات اچھی طرح جانتا ہے کہ دنیا میں امریکی منصوبوں کی ناکامی کے پیچھے اگر کسی کا ہاتھ تھا تو وہ یہی مجاہد اسلام قاسم سلیمانی تھے۔آ ج پوری دنیا میں شہید قاسم سلیمانی کے لئے عوام مظاہرے کر رہے ہیں حتیٰ امریکہ میں سیاسی حلقے بھی امریکی صدر کے اس اقدام کو امریکہ کے لئے شدید خطرہ کی گھنٹی قرار دے رہے ہیں۔
    خلاصہ یہ ہے کہ شہید قاسم سلیمانی کو اسماعیل ہانیہ نے فلسطینی قوم اور ملت مظلوم کا ہیرو قرار دیا ہے اور اسلامی مزاحمت کی تحریکوں کا قائد قرار دیتے ہوئے شہید قدس قرار دے کر دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ قاسم سلیمانی کی شہادت کے بعد ان کی شخصیت ہمارے درمیان سے چلی گئی ہے لیکن قاسم سلیمانی کی فکر اور سوچ امریکہ اور اسرائیل جیسی شیطانی طاقتیں ختم نہیں کر سکتی ہیں۔اسلامی مزاحمت کی تحریکوں نے شہید قاسم سلیمانی کے خون کا بدلہ لینے کا اعلان کر رکھا ہے اور تجزیہ نگاروں کی رائے کے مطابق کہا جا رہا ہے کہ جیسا کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ انتقام سخت ہو گا تو اس حوالے سے القدس کی آزادی اور اسرائیل کی نابودی کے امکانات مزید قوی تر ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔خدا وند کریم کا وعدہ ہے کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل ہوتے ہیں وہ شہید ہیں اور زندہ ہیں اور اپنے پروردگار کے ہاں سے رزق پاتے ہیں۔

  • والدین بچوں کی تربیت کرنے میں ناکام  کیوں۔۔۔؟ –از– سدیس آفریدی

    والدین بچوں کی تربیت کرنے میں ناکام کیوں۔۔۔؟ –از– سدیس آفریدی

    ماں کی گود بچے کی پہلی درسگاہ کا درجہ رکهتی ہے –

    بچے ، جن سے ملک و قوم کی ترقی اور خوشحالی کا مستقبل جڑا ہوتا ہے ان کی تربیت اس انداز سے کرنا پڑتی ہے کہ وہ اچهے شہری کہلایئں -ایسی بہت سی مثالیں ہیں کہ ماں کی تربیت نے ان کو ایسا انسان بنایا جنہوں نے ملک اور اپنے خاندان کا نام روشن کیا ٹاٹوں پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے والے بڑے بڑے سرجن ، سائنسدان ، قانون دان اور انجنیئر ہیں -ان کی کامیابی کے پیچھے ان کی ماں کی تربیت ہے مگر میں سمجهتا ہوں کہ وہ بچے، جن کو سائنسدان، انجنیئر یا ڈاکٹر بننا تها وہ ڈاکو بن گئے -عورتوں کے پرس چهیننے لگے، اغوا برائے تاوان میں ملوث ہیں، بے دریغ قتل و غارت میں ملوث ہیں. پڑے لکهے اور اعلیٰ تعلیم یافتہ کے علاوہ اچهی فیملی کے بچے یہ سب کام کر رہے ہیں –

    ایسا کیوں ہو رہا ہے، کیا ان کی تربیت میں کمی رہ گئی ہے ؟
    کیا اب والدین کے پاس اپنے بچوں کی تربیت کے لئے وقت نہیں رہا؟ کیا یہ میڈیا کے برے اثرات ہیں؟
    یہ حقیقت ہے کہ وقت کی تیز رفتاری نے انسانی زندگی کو متاثر کیا ہے مہنگائی دن بدن بڑھ رہی ہے جس کی وجہ سے روزمرہ کی ضرورت زندگی کی چیزیں فیملی کو مہیا کرنا اب فرد واحد کے بس کی بات نہیں –

    آج کے والدین بچوں کی تربیت کرنے میں اس لیئے بهی ناکام ہیں کہ آج گهر گهر کیبل اور انٹرنیٹ ہے اور آج کے بچے ان سب چیزوں کے ہوتے ہوئے کمپیوٹر اور ریموٹ کنٹرول بچے ہیں کیونکہ پلک جهپکتے ہی ہر چیز ان کے سامنے ہوتی ہے ان بچوں کی تربیت کے لئے آج کی ماں کو ان سے کہیں زیادہ علم و شعور ہونا چاہئے ان پڑھ ماں کبهی بهی آج کے بچے کے مسائل نہیں سمجھ سکتی -آج کا بچہ گهریلو ، سیدھا سادہ اور معصوم بچہ نہیں ہے بلکہ وہ شعور اور آگہی سے مکمل ہے -پرانی چیزوں کی طرف دیکهنا بهی پسند نہیں کرتا بلکہ نت نئی اچهی سے اچهی ایجادات اور حیران کر دینے والی چیزوں کو پسند کرتا ہے آج کے بچے کے معیارات بدل چکے ہیں اس کے مطالبات پہلے زمانے کے بچوں سے کہیں مختلف ہیں -ایسے میں اس کی تربیت کے لئے سکول اور گهر کا ماحول ایک جیسا ہونا ضروری ہے –

    ہمارے آج کے والدین اس لیئے بهی شاید ناکام ہیں کہ وہ اپنے گهروں میں بچوں کو کچھ سکهاتے ہیں جبکہ سکولوں میں جا کر بچے کو سیکهنے کو کچھ اور ملتا ہے یہ شاید ہمارے دوہرے معیار کا ہی قصور ہے –

    آج کی ماں کو خود بهی سمجھ نہیں آرہی کہ اسے بچے کو کیسے ایک سمت پر لانا ہے آج کے والدین اگر بچوں کی اچهی تربیت چاہ رہے ہیں تو انہیں چاہیئے کہ وہ سب سے پہلے بچے کے لئے تعین کیئے گئے دوہرے معیار کو ختم کر دیں –

    بلا وجہ ڈانٹ ڈپٹ اور روک ٹوک سے پرہیز کریں کیونکہ بلا وجہ کی ڈانٹ ڈپٹ بهی رویوں پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے جس سے بچہ متاثر ہوتا ہے اور پهر وہ اپنے والدین کو اچ کرنے کے لئے بهی وہ کام جان بوجھ کر کرتا ہے جس سے اسے منع کیا جاتا ہے –

    ہمارے ہاں ویسے بھی دو قسم کے والدین موجود ہیں ایک والدین وہ جو بچوں سے حد سے زیادہ پیار کرتے ہیں اور دوسرے وہ جو بہت ذیادہ ڈانٹ ڈپٹ کرتے ہیں ایسے والدین کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے جن کے بچوں کے رویوں میں توازن موجود ہے -آج کے والدین کو چاہیئے کہ وہ اچهی طرح سوچیں کہ بچے کیسے اور کس طرح تربیت کرنی چاہیے پهر ہو سکتا ہے کہ وہ بچوں کی نفسیات کو سمجهتے ہوئے بہترین تربیت کر سکیں –

    کہا جاتا ہے کہ آپ کی زبان سے نکلا ہوا ہر لفظ اور ادا کیا ہوا ہر عمل آپ کی تربیت کی عکاسی کرتا ہے -صرف تعلیم حاصل کر کے ہی کوئی ذی روح باشعور نہیں بن سکتا بلکہ تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت بهی اتنی ہی اہم ہے یعنی تعلیم و تربیت لازم و ملزوم ہے. جب تک علم و آگاہی کے ساتھ آپ کے پاس زندگی گزارنے کے اصول ، ضابطے اور آداب نہیں ہونگے ، صرف آگاہی کچھ نہیں کر سکتی بلکہ اس آگاہی اور علم کا زندگی پر اطلاق ہی اصل تربیت ہے اور یہ ماں کا کام ہے کہ بچپن سے ہی بچوں میں ایسے اطوار پیدا کرے کہ عملی زندگی میں ان کے کردار کی پختگی معاشرے میں ان کا وقار قائم کر سکے –

    بغیر تربیت کے علم کی مثال ایسی ہے جیسے کسی جسم سے روح نکال لی جائے تو پیچھے ڈهانچہ رہ جاتا ہے -ہم کسی بهی دور کی عظیم شخصیات مثلاً محمد بن قاسم ، صلاح الدین ایوبی اور مولانا محمد علی جوہر وغیرہ وغیرہ پر نظر ڈالیں تو ان کے پیچھے ان کی والدہ کی تربیت کا ہاتھ نظر آئے گا –

    تاریخ واضح کرتی ہے کہ جب محمد بن قاسم ہندوستان کے علاقے فتح کرنے کے لیے نکلا تو اس کی ماں کے الفاظ تهے ” میں نے تجهے پیدا ہی اس لئے کیا تها کہ تو اسلام کی راہ میں جہاد کرے اور ان علاقوں کو فتح کرے "- بلا شبہ اتنی کم عمری میں اس کی بلند پایہ فتوحات میں ماں کی تربیت کا بہت بڑا ہاتھ تها -لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا آج کی ماں بچوں کی ویسی ہی تربیت کر رہی ہے اگر نہیں تو اس ناکامی کی کیا وجوہات ہیں ؟

    یہ درست ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ زمانے کی اقدار بدل گئی ہیں لیکن انسان تو وہی ہے زمانہ بہت تیز ہو گیا ہے وقت کی کمی کے باعث زندگی مصروف ترین ہو گئی ہے ماووں کی تربیت میں بنیادی وجہ جاب کرنے والی والی ماوں کے پاس وقت کی کمی ہے. نٹ کلچر نے بچوں کو ماوں سے دور کر دیا ہے اب بچہ جو سیکهتا ہے ٹی وی اور میڈیا سے ہی سیکهتا ہے بچوں کے پروگرام کارٹون نیٹ ورک پر چلنے والی کہانیوں نے بچوں کو بہت ایڈوانس کر دیا ہے اب بچوں کو داستان الف لیلیٰ کے زمانے گزر گئے ہیں اور اگر کہا جائے کہ سمجهداری کے معاملے میں بچے پری میچور ہو گئے ہیں تو غلط نہ ہوگا کیونکہ بچے کیبل پروف کارٹون نیٹ ورک ہی نہیں دیکهتے بلکہ انگلش اور انڈین موویز دیکهنے کی بهی کمی نہیں -بہت کم ہیں جو اسلامک چینل ، قرآن پاک اور معلوماتی چینلز دیکهتے ہیں ان الیکٹرانک چینلز سے ہر قسم کی معلومات اور تفریح پیش کی جاتی ہے وہ یہ محسوس نہیں کرتے کہ یہ بچوں نے دیکهنا ہے اور یہ بڑوں نے، بلکہ یہ ماووں کا کام ہے کہ وہ بچوں کے لیئے اچهے برے کی تمیز پیدا کریں لیکن ماووں کے پاس تو وقت ہی نہیں !

    جب ماں کی گود کی جگہ ٹی وی چینلز لے لیں تو ماں کا تربیت میں کیا کردار

    والدین بچوں کی تربیت کرنے میں ناکام کیوں۔۔۔؟
    تحریر: سدیس آفریدی

  • "عالمی ہدایت کار(عالمی اسٹیبلیشمنٹ) اور مڈل ایسٹ کا اسٹیج” تحریر: محمد عبداللہ

    "عالمی ہدایت کار(عالمی اسٹیبلیشمنٹ) اور مڈل ایسٹ کا اسٹیج” تحریر: محمد عبداللہ

    گرین شیٹ اور لائٹس سے مزین یہ روم اسٹوڈیو کہلاتا ہے. بالی ووڈ سے لے کر نیوز چینلز اور حتیٰ کہ یوٹیوب چینلز تک سبھی اس کو حسب اسطاعت استعمال کرتے ہیں. یہاں تک کہ بالی ووڈ کی کئی اقساط پر مشتمل سیریز اور موویز اس ایک کمرے میں بنتی ہیں. ان گرین ، بلیو یا دیگر شیٹس کو بنیادی طور پر کروما شیٹس کہا جاتا ہے اور ویڈیو ریکارڈ کرنے کے بعد ایڈیٹنگ میں اس کروما کو کٹ کرکے رنگ بھرنگے ساکن اور متحرک بیک گراؤنڈز وغیرہ سیٹ کیے جاتے ہیں. جن کرداروں کو حقیقت سے ہٹ کر دکھانا ہو تو ان کو بھی ان کروما شیٹس میں کچھ اسطرح سے کیمرے کے سامنے لایا جاتا جس میں بعد از ایڈیٹنگ ان کی ہیئت ہمیں عجیب و غریب دکھتی ہے.

    آپ بھی کہتے ہوں گے کہ عبداللہ نے یہ کیا بتانا شروع کردیا اور کوئی ان چیزوں کا ماہر مجھ سے ہزار درجہ بہتر یہ ساری چیزیں بیان کرے گا لیکن آج آفس میں اسٹوڈیو کی تصویر بنائی تو میرے ذہن میں بھی کوئی بات نہیں تھی بس فوٹو گرافی کی عادت کے تحت تصویر بنا لی لیکن ابھی سوشل میڈیا پر اور اس سے قبل بھی اکثر اوقات اپنے سوشل میڈیا ایکٹوسٹس کو مختلف حادثات و واقعات میں کنفیوز اور پھر اسی کنفیوزن میں مختلف تبصرے اور تجزیئے کرتے دیکھتے ہیں تو ہنسی بھی آتی اور دکھ بھی ہوتا کہ ہم لوگ کب سطحیت سے نکل کر بین السطور دیکھنا شروع کریں گے. ہم کب اس بات پر غور کریں گے دنیا کے اس اسٹوڈیو میں ہدایت کار کیسے مختلف واقعات کو کروما شیٹس پر سیٹ کرتے ہیں اور پھر ہمارے سامنے چیزیں آتی ہیں تو بالکل بدلی ہوئی اور ہم اسی کو حقیقت سمجھ رہے ہوتے ہیں( جیسے ارطغرل ڈرامے اور اردگان کی تقاریر کو ہمارا جذباتی نوجوان عمران خان کی تقاریر کی طرح سریئس لے کر جذباتی ہوجاتا ہے).
    حالیہ ایران و امریکہ تنازعے میں اور اس سے قبل کی شام و عراق کی بربادیوں کیفیت بھی ایسی ہی ہے. اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ جس طرح اردگان بہت اچھا لیڈر ہے مگر صرف ترکی کے لیے ترکی سے باہر دیگر مسلم ممالک اور اقوام کے لیے وہ دوسروں سے کم نہیں ہے جو فقط اپنے مفادات دیکھتے ہیں ایسے ہی اس بات میں بھی ذرہ برابر شک نہیں کہ ایران کے آنجہانی جنرل قاسم سلیمانی کی خدمات بے پناہ ہیں اس کی قابلیت اور لیاقت ایسی کہ ملڑی اکیڈمیز میں پڑھائی جائے لیکن اس کا سارا کچھ ایران کے لیے تھا امت مسلمہ کے لیے نہیں البتہ شام و عراق کے کھنڈرات میں بہت بڑا کردار اس جنرل قاسم سلیمانی اور اس کی تیار کردہ فورسز کا بھی ہے.
    میں نے دن میں بھی یہ بات کی تھی کہ مڈل ایسٹ میں پکی ہوئی کچھڑی کے معاملات کو آپ فقط فیسبک کی دو چار پوسٹس سے نہیں سمجھ سکتے اور جب سمجھ ہی نہیں سکتے تو ان پر تبصرہ کیسے کر سکتے ہیں کہ وہاں کے ٹوٹل کردار تو کروما شیٹس کے پیچھے چھپے ہوئے اور آپ کے سامنے اصل حیثیت میں موجود ہی نہیں ہے. فقط شام کو لیں تو شام میں ایران، روس، ترکی، امریکہ، داعش، فری سیرین آرمی و دیگر گروپس براہ راست موجود تھے اسکے علاوہ دیگر ممالک کے سپانسرڈ گروپس کی تعداد بیسیوں سے متجاوز تھی اور یہ سب کردار باہم دست و گریباں تھے اور ہیں. آپ جب تک ان سب کے مفادات، آپس کے تعلقات، آپس کی دشمنیوں کو نہیں سمجھتے تب تک آپ کیا سمجھیں گے.
    لہذا اپنے دوستوں کو کہوں گا کہ ہر موضوع اور ہر موقعہ پر تبصرے اور تجزیئے دینا ضروری نہیں ہے بلکہ حالات اور کرداروں کو پڑھنا اور سمجھنا چاہیے اور ان کے پیچھے چھپی حقیقت کو بھی تلاشنا چاہیے یہ نہ ہوکہ موویز اور ڈراموں کی طرح عالمی ہدایت کاروں کے اسٹیج کردہ یہ فکشن اور خون سے بھری یہ رئیل اسٹوریز میں مختلف لوگوں کا کردار آپ کو دھوکہ دے دے اور کوئی ولن آپ کی نظر میں ہیرو ٹھہر جائے.
    انتہائی ضروری نوٹ: یہ چند الفاظ میں نے انتہائی حد تک غیر جانبدار ہوکر لکھے ہیں میرے لیے بہت آسان تھا کہ جذباتی ہوکر الفاظ کا نوحہ لکھوں، شام و عراق میں شہید ہونے والے امت مسلمہ کے جواہرات کا ماتم لکھوں اور لوگوں کو بتاؤں آپ جن کو ہیروز سمجھتے ہیں ان کے کردار کی وجہ سے کتنے لاکھوں مسلمان بچے، عورتیں، بوڑھے شہید ہوئے اور کروڑوں آج جانوروں سے بدتر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں.

    Muhammad Abdullah
    Muhammad Abdullah