Baaghi TV

Category: بلاگ

  • محبت کا جنون اور اس کا علاج—از—عبیدالرحمن عابد

    محبت کا جنون اور اس کا علاج—از—عبیدالرحمن عابد

    اسلام عفت و پاکبازی، طہارت اور صفائی کا دین ہے۔ وہ ایسا معاشرہ تشکیل دینے کا خواہش مند ہے جس میں عفت و پاکبازی کی حکمرانی اور طہارت و نظافت کی فضا ہو۔ اسلام پاکیزہ معاشرہ تشکیل دے کر اخلاق کو جذبات وشہوات سے محفوظ رکھتا ہے۔ عام مشاہدہ ہے کہ جذبات کو کھلا چھوڑ دینے اور جنسی آزادی کا لازمی نتیجہ اخلاق کی تباہی اور امتوں کی ہلاکت و بربادی ہے۔

    اس لیے اسلام معاشرے میں صالح قوت اور بقا کے عناصر قائم رکھنا چاہتا ہے اور اس مقصد کے لیے ایسے قوانین وضع کرتا ہے جو انسانی فطرت کے عین مطابق ہیں تاکہ مسلمان بے راہ روی کی زندگی کا شکار نہ بن جائیں اور جسم و روح کے تقاضوں میں تناقض پیدا کر دے۔

    یقیناً اسلام نے انسانی طبیعت کے لیے ایسے ضابطے مقرر کئے ہیں جو اس کی فطرت کے عین مطابق ہیں۔ جن میں جسمانی اور روحانی ضروریات کا پورا پورا لحاظ رکھا گیا ہے۔ اس لیے اسلام کا طریقہ کار دیگر مذاہب و ادیان سے منفرد ہے۔

    اسلام سے زندگی بہترین انداز میں منظم ہوتی ہے۔اور انسانیت گمراہیوں کی تباہ کاریوں سے بھی محفوظ رہتی ہے۔ محبت انسان کی فطری عادات میں سے انتہائی قوی اور اثرانگریز عادت ہے جس کے اثرات انسانی زندگی میں بہت دور رس ہیں۔

    یہاں جس محبت کی بحث مقصود ہے اس کو جذباتی عشق یا چہرے کی محبت کہا جاتا ہے۔اسلام اس قسم کی محبت کا یکسر انکار نہیں کرتا کیونکہ بہرحال یہ ایک واقعاتی حقیقت ہے لیکن وہ اس کے لیےحدود وقیود مقرر کرتا ہے جسے عرف عام میں نکاح کہتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جذباتی محبت کو حقیقی واقعہ کے طور پر لیا۔

    ایک لونڈی کا غلام شوہر اپنی بیوی سے بہت محبت کرتا تھا لیکن لونڈی اسے پسند نہیں کرتی تھی،غلام اس لونڈی کو اپنے نکاح میں رکھنا چاہتا تھا اور اس کے پیچھے روتا پھر رہا تھا۔رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے اسے غمگین اور پریشان دیکھ کر اس بےچارے کی سفارش کی اس واقعہ کی تفصیل حضرت ابن عباس یوں بیان کرتے ہیں کہ حضرت بریرہ رضی اللہ تعالی عنہا کا خاوند غلام تھا اس کا نام مغیث رضی اللہ عنہ تھا وہ حضرت بریرہ کی آزادی کے بعد اس کے پیچھے مدینہ کی گلیوں میں گھومتا پھرتا تھا اسکے آنسو داڑھی پر بہہ رہے تھے حتیٰ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے فرمایا
     ‏يَا ‏‏عَبَّاسُ ‏، أَلَا تَعْجَبُ مِنْ حُبِّ ‏ ‏مُغِيثٍ ‏ ‏بَرِيرَةَ ‏، ‏وَمِنْ بُغْضِ ‏ ‏بَرِيرَةَ ‏ ‏مُغِيثًا ‏. ‏فَقَالَ النَّبِيُّ ‏ ‏صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ‏لبريرة:( ‏لَوْ رَاجَعْتِهِ ! قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ، تَأْمُرُنِي ؟ قَالَ: إِنَّمَا أَنَا أَشْفَعُ ، قَالَتْ: لَا حَاجَةَ لِي فِيهِ ‏) .
    اے عباس کیا تم مغیث کی بریرہ سے محبت اور بریرہ کے مغیث سے بغض پر تعجب نہیں کرتا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کاش کے تو اس سے رجوع کر لیتی اس نے کہا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آپ مجھے حکم دے رہے ہیں آپ نے فرمایا میں تو سفارش کر رہا ہوں تو اس نے کہا مجھے اس میں کوئی حاجت نہیں ہے۔ (بخآری: ٥٢٨٣)

    اہل علم نے نے اس سے استدلال کیا ہے کہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جذبات محبت کو برا نہیں سمجھا بلکہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو مغیث کے عقد میں رہنے کا مشورہ دیا ۔
    انسان بےروح اور بے بدن نہیں ہے، اس کے ساتھ ساتھ عقل مصروفیت کی وجہ سے تمام مخلوقات سے ممتاز ہے، اس لئے انسان دیگر تمام مخلوقات سے زیادہ احترام کا مستحق ہے۔

    انسان کے بدن میں بہت سے فطری سے جذبات و احساسات ہوتے ہیں ،انکی بنیاد پر انسانی شخصیت بنتی ہے۔ان جذبات میں سب سے اہم فطری چیز محبت ہے جس کے بہت سے عوامل و اسباب ہیں۔زندگی میں جائز وحلال محبت کی زبردست اہمیت ہے اور اس کا اثر نہایت عظیم ہے جبکہ ناجائز وحرام محبت آدمی کی دنیا خراب کر کے آخرت کو بھی تباہ کر دیتی ہے کیونکہ وہ اس کو پروردگار عالم کی عبادت سے غافل اور اس کے دینی فرائض سے بہت دور لے جاتی ہے۔آدمی اللہ تعالی کی حقیقی محبت کے ذریعے چہرے کے عشق کی لعنت سے اپنے آپ کو بچاسکتا ہے۔

    امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    انسان کسی محبوب چیز کو نہیں چھوڑ سکتا مگر اس سے زیادہ محبوب چیز کے ذریعے سے سے یا کسی شدید اذیت کے ڈر سے پس دل کو ناجائز محبت سے محفوظ رکھنے کے لئے صحیح محبت یا اللہ تعالی کی طرف سے شدید پکڑ کا ڈر اور خوف مدنظر رکھنا چاہیے۔( العبودية ابن تيمية:42,43)

    ناجائز محبت کے خاتمے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ انسان اپنے آپ کو اطاعت الہی کا عادی بنائے، اپنا دل فاسد محبوب کی تمنائے وصال سے خالی کر دے۔ اس طرح غلطی اور گناہ سے بچ جائے گا اور تکلیف و نقصان سے بھی محفوظ رہے گا ۔ یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ محبوب چیزیں تکالیف برداشت کیے بغیر نہیں حاصل ہوسکتیں۔ چاہے محبت صحیح ہو یا غلط، مال ، سرداری اور خوبصورتی سے محبت کرنے والے اپنا نقصان کئے بغیر اپنا مطلوب حاصل نہیں کر سکتے۔

    ناجائز جذباتی حمیت(عشق) کے دینی و معاشرتی نتائج
    جذباتی محبت کا سب سے برا نتیجہ یہ ہے کہ کہ اس سے انسان کی توجہ اللہ تعالی کی ذات عالی سے ہٹ جاتی ہے اور مخلوقات ہی اس کا محور اور مرکز بن کر رہ جاتے ہیں۔

    امام ابن تیمیہ فرماتے ہیں: شکل و صورت کا عشق انہیں چہروں میں جاگزیں ہوتا ہے جو اللہ تعالی کی محبت سے خالی ہوتے ہیں اور وہ اللہ تعالی سے سے اعراض کرتے ہوئے اِدھر اُدھر منہ مارتے پھرتے ہیں۔ جب کوئی دل اللہ تعالی کی محبت اور اس کی ملاقات کے شوق سے بھر جاتا ہے تو اسے کسی صورت کے عشق کی بیماری نہیں لگتی جیساکہ اللہ تعالی نے حضرت یوسف علیہ السلام کے بارے میں فرمایا:
    كَذَٰلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوءَ وَالْفَحْشَاءَ ۚ إِنَّهُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِينَ .(يوسف :٢٣)

    اسی طرح ہوا تاکہ ہم اس سے برائی اور بے حیائی کو ہٹا دیں۔بےشک وہ ہمارے خالص کیے ہوئے بندوں سے تھا۔
    اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ عشق اور اس کے نتائج گناہ اور بے حیائی کو دور کرنے کا ذریعہ اخلاص ہے۔

    بعض اہل علم کا کہنا ہے کہ عشق اس دل کی بیماری ہے جو اپنے اصلی محبّ کی یعنی اللہ تعالی کے جمال بے مثال سے خالی ہے۔(زادالمعاد 151/3)
    ناجائز محبت در حقیقت دل کی بیماری ہے جسے اللہ تعالی کی خالص محبت سے دور کیا جاسکتا ہے، اسی طرح اللہ تعالی کی عبادت اس کے احکام کی پابندی اور اس کی ہمہ وقت یاد اس بیماری کے خاتمے کا موثر ذریعہ ہے۔
    امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس بیماری کا سب سے بڑا سبب دل کا اللہ تعالی سے غافل ہونا ہے کیونکہ دل جب اللہ تعالی کی عبادت کا مزہ چکھ لے تو اسے کوئی چیز اس سے بڑھ کر لذت بخش محسوس نہیں ہوتی۔(العبودیہ لابن تیمیہ صفحہ:42)

    پھر یہ عشق صرف ایک شخص ہی کے لیے بدبختی اور مصیبت کا باعث نہیں بنتا تھا بلکہ اس کا اثر پورے معاشرے میں پھیل جاتا ہے کیونکہ اس قسم کی محبت معاشرے میں بداخلاقی، بدکرداری اور حیوانیت کو جنم دیتی ہے۔ پس صحیح محبت کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس مقصد سے ہم آہنگ ہو جو انسانی تخلیق کی بنیاد ہے۔ اگر جذبہ محبت صرف طبیعت اور شہوت کے زور پر پروان چڑھے گا تو انسان انسانیت کے درجہ سے گر کر حیوانات کی طبیعت کے قریب تر ہو جائے گا، جبکہ اللہ تعالی نے انسان کو انسان بنا کر عزت بخشی ہے۔

    عشق ( جذباتی محبت ) کا صحیح رخ :
    اگر محبت انسانی زندگی میں اس قدر وسیع اثرات رکھتی ہے تو ضروری ہے کہ اس کا علاج کرکے اسے صحیح رخ پر ڈال دیا جائے اور اس روحانی علاج کی بنیاد درحقیقت ان امور کی اصلاح ہے جن سے محبت کے جذبے پیدا ہوتے ہیں ان امور کی تفصیل درج ذیل ہے۔

    1) محبوب کی شخصیت سے مرعوب ہونا جس کی وجہ سے محبوب کو کمال انسانی کا مجسمہ سمجھتا ہے۔
    2) دوستی برقرار رکھنے کی امید۔
    3) محبّ اور محبوب کے باہمی راز کا انکشاف۔
    4) محبّ یہ سمجھتا ہے کہ میری ساری خوش نصیبی محبوب سے تعلق قائم ہونے پر موقوف ہے۔
    پہلے امر کا مقابلہ اس طرح کیا جائے کہ محبت کرنے والے کے سامنے اس کے محبوب کے عیوب و نقائص اس طرح بیان کیا جائے کہ اس کے ذہن نشین ہو جائیں۔

    دوسرے امر کا مقابلہ اس طرح کیا جائے کہ اس کو جس چیز کی امید ہے اس سے مایوس کر دیا جائے کیونکہ شرعی لحاظ سے ایسے تعلقات قائم نہیں رکھے جا سکتے۔
    تیسرے عنصر سے مقابلے کا طریقہ یہ ہے کہ ان کے باہمی راز دور کرکے لوگوں کے سامنے فاش کر دیے جائیں۔ آخری چیز کے تدارک کی تدبیر یہ ہے کہ ان نقصانات کو اجاگر نہ کیا جائے جو اس دوستی کے نتیجہ میں لامحالہ پیدا ہوں گے آگے والا بےچینی ،عقل کی ویرانی، ذہنی خلجان، دلی تکلیف، اور آرام و راحت سے محرومی وغیرہ۔باقی رہا عاشق کا یہ سمجھنا کہ میری ساری خوش نصیبی محبوب سے تعلقات استوار ہونے میں ہے تو اس کا موثر حل یہ ہے کہ اس کا فوری طور پر کسی نیک مسلمان عورت سے نکاح کر دیا جائے تو مناسب ہوگا کہ یہ عورت ایسی پرکشش خوبصورتی کی حامل ہو کہ پہلی عورت اس کی نظر میں ماند پڑ جائے۔

    امام ابن قیم رحمہ اللہ نے عشق کو قابل علاج مرض قرار دیا ہے، ان کے نزدیک اس کی کئی صورتیں ہو سکتی ہیں۔
    1) اگر شرعی طور پر عشق وصالِ محبوب مہیا کیا جا سکتاتو اس کا مہیا ہو جانا ہی اس کا علاج ہے جیسا کہ بخاری میں حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے فرمایا۔
    يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ، مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ، وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ؛ فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ. ( بخاری :کتاب النکاح : 5065)
    اے نوجوانوں کی جماعت ! تم میں سے جو بھی نکاح کی استطاعت کی طاقت رکھیں تو لازمی ہے کہ وہ شادی کریں اور جو استطاعت نہیں رکھتا تو اس پر لازمی ہے کہ وہ روزے رکھے کیونکہ یہ اس کی شہوت کو توڑنے والا ہے۔
    گویا رسول اللہ نے محبت والے کے لئے دو علاج تجویز فرمائے ہیں ایک اصل اور دوسرا متبادل۔

    آپ نے اصل علاج کا حکم دیا ہے جو اصل بیماری کی شفا ہے پس جب تک ممکن ہے اس وقت تک اس میں سستی نہ کی جائے۔
    2) محبوب کا وصال شرعاً ناممکن ہو لیکن محبت کرنے والا اسے حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو تو اسے بتایا جائے جس چیز کی اللہ تعالی کی طرف سے اجازت نہ ہو اسے ناممکن ہی سمجھنا چاہیے۔ انسان کی کامیابی اور اس کی بیماری کا علاج اس چیز سے دور رہنے میں ہے جس سے حق تعالیٰ نے روک دیا ،مریض محبت اپنے دل کو سمجھائے اور یقین دلائے کے اللہ رب العزت کے منع کردہ امور کی حیثیت بھی ناممکنات میں سے ہے۔

    اگر اس کا نفس امارہ نہ مانے تو اسے اس زبردست اور ناقابل تلافی نقصانات کا احساس کرنا چاہیے کہ کہ ایک ہیچ اور فانی محبوب کے لمحاتی وصال کے مقابلے میں اور انتہائی رفیع الشان حیی و القیوم محبوب حقیقی کے جمال بے مثال کی دید سے محروم ہو جائے گا، دانا آدمی جب یہ دیکھیے گا کہ وہ ایک ادنیٰ محبوب کے وصال کی وجہ سے سے ایک لا متناہی حسن و جمال اور بے پایاں عظمت والے محبوب حقیقی کو کھو دے گا تو وہ یقینا سنبھلے گا اور تھوڑی دیر کی فنا پذیر لذت کی حقیقت خواب و خیال سے زیادہ نہیں۔

    بھلا اس فعل کی لذت ہی کیا جو ختم ہوجائے مگر اس کی تھکن باقی رہے پس ایسے مریض کا فرض ہے کہ وہ پاکبازی اور صبر کا دامن نہ چھوڑے یہاں تک کہ اللہ تعالی اس کی پریشانی کا خاتمہ فرما دے یا وہ خود اپنا گوہر مقصود حاصل کر لے۔
    ارشاد باری تعالی ہے۔
    وَلْيَسْتَعْفِفِ الَّذِينَ لَا يَجِدُونَ نِكَاحًا حَتَّىٰ يُغْنِيَهُمُ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ ( النور:33)
    اور حرام سے بہت بچیں وہ لوگ جو نکاح کا کوئی سامان نہیں پاتے، یہاں تک کہ اللہ انہیں اپنے فضل سے غنی کر دے۔

    بیماری عشق سے نجات پانے کا طریقہ:
    سب سے پہلے یہ حقیقت اچھی طرح سمجھ لیں کے اس دنیا کی زندگی آخرت کی تیاری کے لیے دی گئی ہے، اس لئے اس زندگی کا ہر لمحہ اللہ رب العزت کی اطاعت میں بسر کرنا چاہیے، اس فنا ہوجانے والی زندگی میں نیکی کے کام سرانجام دے کر آخرت میں جنت جیسی بے مثال نعمت حاصل کی جاسکتی ہے ہے۔اسے فانی چیزوں پر فدا ہونے میں برباد کرنا دیوانگی ہے، یہ دیکھ کر دل دکھتا ہے کہ اکثر نوجوان اسی دیوانگی کا شکار ہو کر جگہ جگہ خوار ہو رہے ہیں اور اپنے مستقبل کو آگ لگا رہے ہیں اس مصیبت سے چھٹکارا پانے کا طریقہ صرف یہ ہے۔

    1) معصیت کی زندگی سے سے عزم مصمم کے ساتھ توبہ کریں اور کسی نیک گھرانے میں فوراً شادی کرلیں۔ یاد رکھیں! ہماری محبت کا مرکز و منتہی صرف رب جمیل کی ذات ہے، بھلا اللہ تعالی کے جمال بے مثال سے بڑھ کر اور کسی کی خوبصورتی ہوسکتی ہے جس پر انسان فریفتہ ہو۔ بے وفا چہروں کی چمک کو دمک پر شیدا ہوجانا شرف خودداری کی توہین ہے۔

    2) جس کی محبت میں آپ مبتلا ہیں اس سے ہر قسم کا تعلق آج اور ابھی ختم کر دیں، اسے مت دیکھیں، اس کے گھر کے قریب تک نہ پھٹکیں، اسکا کسی سے تذکرہ نہ کریں اور نہ اس کا خیال دل میں لائیں، اپنے باطن میں انقلاب پیدا کریں۔ یوں بدل جائیں جیسے موسم بدل جاتا ہے

    خاک ڈال، آگ لگا، نام نہ لے، یاد نہ کر
    کہا جاسکتا ہے کہ اور تو ساری تدابیر اختیار کی جاسکتی ہیں لیکن یہ کیوں کر ممکن ہے کہ دل میں اس کا خیال بھی نہ آئے یقین خیال ضرور آئے گا لیکن گھبرانے کی ضرورت نہیں خیال آتا ہے تو آنے دیں البتہ خود قصداً اس کا خیال دل میں نہ لائیں۔ہاں جب خیال آجائے تو اسے فورا ذہن سے جھٹک کر کسی اچھے اور مفید کام میں مصروف ہو جائے خوب جم کر اس تدبیر پر عمل کرتے رہیں اور اللہ رب العزت سے نیکی کی زندگی کی توفیق مانگتے رہیں۔آنکھ اوجھل، پہاڑ اوجھل چند ہفتے بھی نہ گزر پائیں گے کہ اس متاع فاسد کا خیال آنا بند ہوجائے گا۔

    درحقیقت اس بیماری کا اصل علاج استقامت کے ساتھ فاسد محبوب سے کلی طور پر دور رہنا ہے جتنی دور ہوگی اتنی ہی جلدی شفا نصیب ہو گی۔ ان شاءاللہ
    کسی شاعر نے کیا خوب کہا:
    طبیعت تیری زور پہ ہے تو روک
    وگرنہ یہ حد سے گزر جائے گی

    محبت کا جنون اور اس کا علاج
    عبید الرحمن عابد

  • وبا کے دوران اذانیں دینے پر  بحوث —از—سعدیہ خورشید

    وبا کے دوران اذانیں دینے پر بحوث —از—سعدیہ خورشید

    ہر طرف وبا کے دوران اذانیں دینے پر بحث چل رہی ھے۔۔۔۔ہر فریق ایک دوسرے کے خلاف بے شمار دلائل پیش کررہا ھے۔۔۔۔

    ایک فریق تو مکمل طور پر کہہ رہا ہے کہ اس دوران اذانیں دینا لازم و جائز ھے اور انکے دئیے گئے دلائل ہر طرف گردش کررہے ھیں۔۔۔
    اور دوسرا اس کے رد میں دلائل پیش کررہا ہے جن میں تحاریر کی صورت میں پہلے فریق کے دلائل کی صورت میں پیش کی گئیں روایات کی اسناد پر بے شمار بحوث ہوئی ھیں اور علماء کے آڈیو ویڈیو بیان جاری ھوئے۔۔۔

    اب آتی ھوں اصل مدعے کی طرف۔۔۔۔
    بات انتہائی سادہ اور عام فہم ہے کہ جب حضرت رسول اللہﷺ اور آثارِ صحابہ سے یہ بات بسندٍ صحیح ٍ ثابت ہی نہیں ھے۔۔۔۔۔

    سیدنا عمر فاروق رضی الله عنہ کے دور میں طاعون کی وبا پھیلی جس کی وجہ سے کثیر تعداد میں صحابہ کرام شہید ھوئے جن میں معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی شہادت ھوئی
    لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی وباء کے دوران اذانیں دینے والے یا ایسے کسی بھی فعل کا حکم نہیں دیا

    اسکا مطلب یہی ہے کہ جو قرونِ اولیٰ کے دور میں کام نہیں ھوا وہ ظاہر سی بات ھے کہ بدعت ہے۔۔۔ اور بدعت نئی چیزوں کی ایجاد کا نام ہی تو ھے۔۔۔
    اب بعض لوگ یہ بھی کہہ رہے کہ اگر ہہ بدعت ہے تو یہ اذانیں دینے والا فعل بدعتِ حسنہ میں شمار ھورہا ھے۔۔۔

    تو عرض یہ ہے کہ کوئی بدعت، بدعت ِ حسنہ نہیں ھے ۔۔۔
    جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ میں ارشاد فرمایا کرتے تھے۔۔۔۔

    کل بدعة ضلالة وہ کل ضلالة فی النار۔۔جب یہ بات طے ہوگئی کہ یہ کام بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی کا نتیجہ آگ ہے ،اس کے بعد ھمارے پاس کوئی جواز نہیں بچتا کہ ہم یہ کہہ سکیں کہ ” دیکھیں یہ کام اچھا ھے، اللہ کا ذکر بلند ھو رہا ہے ہر طرف اللہ اکبر کی صدا گونج رہی ھے، اس سے کیا مسئلہ ہو سکتا ھے۔۔۔

    بعض لوگوں کو یہ کہتے ہوئے بھی دیکھا ہے کہ اللہ کا ذکر بلند کرو تو بھی مسئلہ،،،، نہ کرو تو بھی مسئلہ ۔۔۔ ہمارا واسطہ پاکستان کے ان جہلاء سے پڑا ہوا ھے
    جب بھی کوئی کام ہوتا ہے یہ اپنی باتیں لے کر منظر عام پر آ جاتے ھیں آگے پیچھے ان کو یاد نہیں ھوتا۔”

    تو گزارش یہ ہے کہ ہر کام کی ایک حد شریعت نے مقرر کی ہوئی ھے جب ھم ان حدود سے تجاوز کرنے کی کوشش کریں گے تو ھمارا وہ فعل جتنا بھی اچھا ھوگا جب جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس کام پر مہر نہیں لگی ہوئی وہ کام کسی صورت بھی قابل قبول نہیں ہے۔

    مَنْ اَحْدَثَ فِیْ اَمْرِنَا ھٰذَا مَا لَیْسَ مِنْہُ فَھُوَ رَدٌّ
    ’’جس شخص نے ہمارے دین کے معاملے میں کوئی نئی بات ایجاد کی ‘ جو اس دین میں پہلے نہیں ہے تو وہ بات ( یاعمل) مردود ہے.‘‘

    (متفق علیه)

    مَنْ عَمِلَ عَمَلاً لَـیْسَ عَلَیْہِ اَمْرُنَا فَھُوَ رَدٌّ ’’
    جس شخص نے کوئی ایسا عمل کیا جس کا ہمارے دین میں حکم نہیں تو وہ (عمل) مردود ہے.‘‘

    وبا کے دوران اذانیں دینے پر بحوث

    تحریر از سعدیہ خورشید
    _________

  • آئیں اپنی زندگی کا محاسبہ کریں—از قلم۔۔۔ مشی حیات

    آئیں اپنی زندگی کا محاسبہ کریں—از قلم۔۔۔ مشی حیات

    ہم دنیا میں آئے پانی کی طرح شفاف اور روئی کی طرح نرم مزاج دل تھے ہم نے اپنی زندگی کا سلسلہ طے کرنا شروع کیا جو زندگی میرے رب نے ہمیں عطا کی تھی وہ بلکل گناہوں سے پاک صاف تھی لیکن ہم نے دنیا کی راہوں پر چلتے ہوئے اپنی زندگی کو ایک نیا رنگ دیا رب کی بنائی گئی زندگی سے ناواقف ہو گئے ہم دنیا کی رنگینیوں میں کھو گئے رب تعالی کے فیصلوں کو چھوڑ کر ہم نے اپنی خواہشات کو ترجیح دی میرا رب ہمیں اپنی طرف بلاتا رہا
    حی علی الفلاح

    مگر ہم اپنے کاموں اپنے مال اور تجارت میں کھو بیٹھے اس بات کو بھول بیٹھے کہ ہمارا رب ہماری کامیابی کی بات کر رہا ہے میرے رب نے ہمیں مال۔پیسہ اور تجارت میں کامیابی کی ہی طرف بلایا ہے مگر ہمارا رب ہم سے محبت کرتا ہے ہماری زندگی کی ایک ایک سانس اس کی امانت ہے

    ہم جب اپنے رب کو بھول جائیں اپنے رب کے فرمان اور اسکے رسول کریم کے بتائے گئے اسوہ حسنہ کو بس عموما لینا شروع کر دیں تو رب پھر اپنی مخلوق کو جنجھوڑتا بھی ہے میرا رب کہتا ہے کہ میرے بندے قیامت کے عذاب کو عام سمجھنے لگتے ہیں تو ہم انہیں دنیا میں عذاب کا مزہ چکھاتے ہیں

    کرونا وائرس جیسی بیماری(عذاب ) نے ہمیں اپنی زندگی کی اہمیت یاد دلائی ہے ہمیں احساس دلایا ہے کہ ہم کیوں دنیا میں آئے؟ہمیں رب نے اپنی فرمانبرداری کے لیے پیدا کیا تھا ہم کفار کے دین کے پیروکار ہو گئے شراب۔جوا۔نشہ۔چوری اور زنا کو اپنی زندگی کا مشغلہ بنا لیا حقوق العباد کو بھول بیٹھے اپنی زندگی میں مگن ہو گئے خود اچھا کھا لیا ہمسائے کی فکر نہیں یتیم بھوکا سوتا رہااور ہم حلال کو حرام میں اڑاتے رہے

    پھر میرے رب نے پوری دنیا کو بند کر دیا اور ثابت کر دیا کہ حکمرانی کا ذات کی ہے مرضی کس ذات کی چل سکتی ہے
    15 تا 30 دن تک دکانیں بند کرنے والوں سے جب رمضان المبارک میں 10 دن کے اعتکاف کا بول دیا جائے تو انکے بچے بھوکے اور کاروبار بند ہونے لگتے ہیں مگر میرے رب نے آج دنیا کا نقشہ بدل کر رکھ دیا ہے
    ابھی وقت ہے اپنی زندگی کا محاسبہ کرتے چلیں کہ ہم نے اپنی زندگی میں کیا بویا اور کیا کاٹا ہے

    اپنے گناہوں کی معافی مانگیں جس مقصد کے لیے دنیا میں آئیں ہیں اس مقصد کو نبھاتے چلیں دنیا کو ترک کر کے دین پر عمل پیرا ہو جائے حرام کو حرام سمجھیں تو اپنے رب کے عذاب سے محفوظ ہو جائیں
    بلاشبہ آپ کے رب کا عذاب بہت درد ناک ہے

    آئیں اپنی زندگی کا محاسبہ کریں
    🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
    ✍🏻از قلم۔۔۔
    مشی حیات

  • مظلوموں کی پکار،عذاب الہی کی یلغار،کرونا وائرس کی برمار—از–ڈاکٹرماریہ نقاش

    مظلوموں کی پکار،عذاب الہی کی یلغار،کرونا وائرس کی برمار—از–ڈاکٹرماریہ نقاش

    اگر ماضی کے دریچوں میں جھانک کر دیکھا جائے یا تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھے جائیں تو ماضی کے بھیانک چہرے سے کچھ خوفناک مناظر جھانکتے ہوئے آپکو نظر آئیں گے…جو آپکو خوفزدہ کر دینے کیلئیے کچھ کم نہیں ہیں..

    جی ہاں قارئین!
    میں بات کر رہی ہوں پچھلی قوموں پر آئے ہوئے مختلف عذاب اور انکے اسباب کی …تاریخ اپنا آپ دہرا رہی ہے…
    چشم فلک یہ مناظر پہلے بھی دیکھ چکی ہے…

    فضاء پہلے بھی موذی امراض سے آلودہ ہو چکی ہے…
    یہ کائنات پہلے بھی موت کی ہچکیوں سے گونج چکی ہے….

    یہ دھرتی پہلے بھی کئ ذی روح کو مہلک امراض کے ساتھ اپنے سینے میں دفن کر چکی ہے…
    اس زمین پر پہلے بھی موت کی تکلیف سے ایڑیاں رگڑی جا چکی ہیں…
    ہاں مگر اسباب اور وجوہات الگ الگ تھیں…

    کہیں نافرمان قوموں پر اللہ کا عذاب آگ کے گولوں کی صورت میں برس چکا ہے…
    اور کہیں آسمان سے برستے پتھروں کی صورت میں دیکھا گیا ہے….
    کہیں پانی میں ڈوب کر پوری قوم غرق ہوتی پائ گئ ہے…

    اور کہیں پہاڑوں میں دھنستے اور بندروں کی شکلیں اختیار کرتے لوگ سنے گئے ہیں…
    کہیں ابابیل کے لشکر سے ہاتھیوں سمیت انسانوں کو خاک ہوتے قرآن میں پڑھا گیا ہے…
    کبھی طاعون مرض سے ہلاک ہوتے لوگ دیکھے گئے ہیں….

    تو قارئین کرام..! کبھی بھی عذاب بے سبب یا بے وجہ نہیں آئے…اجکل پوری دنیا جس عذاب میں گھر چکی ہے وہ کرونا وائرس ہے….جس سے تقریبن تمام ممالک ہی متاثر ہو چکے ہیں… ہر طرف ہنگامی صورتحال برپا ہے….احتیاطی تدابیر کی جا رہی ہیں….مگر سب سے اہم تدبیر تو شاید ہم بھول رہے ہیں…

    قارئین یہ وقت ہے اپنے گناہوں کو پہچاننے کا …انکی روک تھام کا…اور توبہ کا..انفرادی و اجتماعی گناہوں کا ازالہ کرنے کا…یہ وقت ہے اپنے نفس پر غورو فکر کا….اور اپنے رب سے گڑگڑا کر معافی کا….جانے انجانے میں جو حق تلفیاں ہوئ ہیں ہم سے انہیں تسلیم کر کے….آئندہ نہ کرنے کا عہد باندھنے کا….

    قومیں تب تک عذاب کا شکار نہیں ہوتیں….جب تک رب کی حدود تجاوز نہیں کرتیں….رب تعالی کے قہر کو آواز نہیں دیتیں…گناہوں اور نا فرمانیوں کا عروج نہیں کر دیتیں…
    یہ بات صرف مذہب اسلام میں ہی نہیں ہر مذہب میں جانی اور مانی جاتی ہے…ہر مذہب کے لوگ اپنے God کو اپنے طریقے سے منا رہے ہیں…لکین معافی کس بات پر مانگی جا رہی ہے….آیا کہ یہ غلطی وہی ہے…جسکے باعث اللہ تعالی کا عذاب نازل ہوا..?

    آیا کہ ہم نے وہ غلطیاں ترک کیں جس کی وجہ سے رب ناراض ہوا…? یہ کیسے پتا چلے گا…یا ہم کیسے جان پائیں گے…?
    تو اسکا ایک آسان کلیہ میں قارئین کو بتاتی چلوں…انفرادی لحاظ سے ہمارے گناہ کونسے ہیں…وہ ہم سب خود کو بہتر جانتے اور پہچانتے ہیں…ان سے توبہ کرنے کے بعد اجتماعی گناہوں کو پہچاننا اور اس سے توبہ کرنا اور ان گناہون کو دوبارہ نہ دہرانا …ان سے باز رہنا…بہت ضروری ہے… اس کیلئے ہمیں غور کرنا ہے کہ کہیں یہ انسانیت پر برپا ہونے والا ظلم تو نہیں….? جو نہ صوف مسلمانون پر ہے بلکہ کہیں نا کہیں کسی نہ کسی طبقے میں کسی نہ کسی صورت میں کسی صاحب حیثیت اونچی ذات والے شخص کے ہاتھوں مظلوموں اور غریبوں پر ہوتا ہی چلا آ رہا ہے…?

    یہ تحریر صرف مسلمانوں کیلئے ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر ہے…لہذا پہلے میں مخاطب ہوں ان لوگوں سے جو اینیملز رائٹس کی بات کرتے ہیں…جو خلا میں بلی کے بھیجے جانے پر چیخ اٹھتے ہیں….اگر انسانیت سے زیادہ قدریں جانوروں کو حاصل ہیں…تو چین میں ہونے والے جانوروں پر مظالم کے ویڈیو کلپس تو آپ نے بھی دیکھیں ہونگے…زندہ جانوروں کو پکنے کیلیئے آگ پر رکھ دینا گھی میں فرائی کر دینا…

    جانوروں کے سروں پر ڈنڈوں سے وار کر کے انہیں ہلاک کر کے کھانا کیا یہ ظلمیت کا منہ بولتا ثبوت نہیں…شاید یہی وجہ ہے زندہ چوہوں کو کھولتے پانی میں ابال کر جلد اتار کے ڈشوں میں پکا کر کھانے والے لوگوں پر چوہوں سے ہی پیدا ہونے والا اک وائرس حملہ آور ہو چکا ہے…جسکی شرح اموات بنسبت چوہوں کے 23% زیادہ ہے…چلیں جانوروں سے ہٹ کر اب ہم عالمی سطح پر ہونے والے انسانی ظلم کی بات کرتے ہیں…
    کہیں جنگلوں میں آدم خور قبیلے کا انسانوں کو ذبح کر کے کھانے جیسا ظلم دیکھنے اور سننے میں آیا ہے…

    اور کہیں زندہ انسانوں کے اعضاء نکال کر ہسپتالوں میں بیچنے کے کیسز سامنے آئے ہیں…
    اور اس سے بھی بڑی درندگی کی مثال کہاں ملے گی کہ انسانوں کا پیٹ چاک کر کے اس میں نشہ آور اشیاء اسمگل کی جا رہی ہیں…
    یہ تو چند مثالیں تھیں عالمی سطح پر قوم و مذہب کا امتیاز کئیے بغیر انسانیت پر برپا ہونے والے مظالم کا عکس…

    اب بحیثیت مسلم میں بات کروں گی انسانیت کے سب سے گھنائونے ناسوز اور دلگیر دہشت کے نشان… ظلم وستم کے اس پہلو کی کہ جس کے چند مناظر بڑے بڑے دل گردوں والوں کو بھی ایک بار مفلوج کر کے رکھ دیتے ہیں …
    لیکن وہ کیسے درندے ہیں کیسے حیوان صفت انسان ہیں جنہیں یہ ظلم ڈھاتے ہوئے سسکتے بلکتے انسانیت کے اس کمزور لاچار وجود پر رحم نہیں آتا جو نہ تو اپنے دفاع کی حالت میں ہیں اور نہ تو اس قابل کہ آگے سے صدائے رحم بلند کر سکیں….

    جب پتھر پر گردن رکھ کے اوپر سے پتھر مار مار کر مسلمان ہلاک کئیے جائیں گے تو کیا کرونا نہیں آئے گا?
    جب سوئے مار مار کر اعضاء جسم سے الگ اور چھلنی کئیے جائیں گے اور یہ عمل موت کے بعد بھی جاری رہے گا تو کیا عذاب الہی نہیں آئے گا…
    جب حاملہ خواتین کو پیٹ میں برچھے مار کر بچہ باہر گرا دیا جائے گا تو..کیا قہر الہی نہیں برسے گا?

    جب ماں کا (ہائے میرا بچہ) پکارنے پر بچے کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے ماں کو کھلایا جائے تو خداوند تعالی ناراض نہیں ہونگے?
    خب بھارتی درندے کتوں کی طرح سونگھتے پھر رہے ہوں تو کشمیری مائیں بچوں کی آواز سے گھبرا کر خود اپنے ہی بچوں کا گلہ گھونٹ کر قتل کر کے انہیں آسان موت دے دیں تو کیا وائرس جیسی وباء نہیں آئے گی?

    جب کشمیری لڑکیون کے چہرہ انور اور پاکیزہ بدن کہ (جنکو چشم فلک نے بھی جی بھر کر نہ دیکھا ہو) سر بازار برہنہ کئیے جائیں تو کیا یہ مہلک امراض جنم نہیں لیں گے….?
    جب باپ کاکندھا کاٹ کر بیٹے کے ہاتھ میں پکڑایا جائے…اور بیٹے کی ٹانگ کاٹ کر باپ کے ہاتھ میں تھمائی جائے تو یہ کائنات کیا زلزلے سے لرزے گی نہیں?

    جب جلتی آگ میں انسان جلائے جائیں…اور زندہ انسانوں کی کھالیں اتاری جائیں…تو کیا دنیا بھر میں عذاب کے باعث ہلاکتیں نہیں ہونگی?
    آج جب ماں کرونا سے متاثر بچے کو اپنی ممتا سے دور آئسو لیشن میں دیکھتی ہو گی تو اسے کشمیری ماں یاد تو آتی ہو گی…

    آج جب اس وباء سے ایک باپ اپنے بیٹے کو مرتا ہوا موت کی ہچکیاں لیتے ہوئے دیکھتا ہے تو…اسے کشمیری باپ یاد تو آتے ہونگے…
    آج جب جوان بیٹا بوڑھے باپ کی لاش دیکھتا ہے اور وائرس سے متاثر ہونے پر اس لاش سے کئیے جانے والا برتائو اسکا دل چھلنی کرتا ہے تو اسے کشمیری جوانوں کی صدائیں تو سنائی دیتی ہونگی…

    آج اپنے پیاروں کو اس حال میں دیکھ کر انسانی جان کی قدر اگر تمہیں معلوم ہو گئ ہے تو…لازم ہے کہ ان جانوں کا تصور بھی روز آتا ہو گا جو کشمیر میں ایک ہی دن میں ایک ہی وقت میں ایک ہی گھر میں ضائع کی جاتی ہیں….
    اگر عالمی سطح پر انسانیت میں رحم اور کشمیریوں کا شعور اب بھی بیدار نہ ہوا تو پھر کرونا جیسے مرض سے بڑھ کر عذاب الہی برسے گا…

    جب انسانی بصارت دیکھنے اور انسانی سماعت سننے سے قاصر ہو جائے تو یاد رکھو اوپر عرشوں کا مالک آسمانوں کے اوپر سے سب دیکھ رہا ہے…وہ کائنات کے کسی بھی گوشے میں ہونے والی سرسراہٹ کو سن بھی رہا ہے….
    اور چیونٹی جیسی چھوٹی مخلوق کی ہر حرکت کو دیکھ بھی رہا ہے…اور پھر رب تعالی تو بہتر حکمت والا اوف بہتر سبب بنانے والا ہے…
    لمحہ فکریہ تو یہ ہے کہ 70 مائوں سے زیادہ پیار کرنے والا رب اس قدر ناراض ہے تو ہمارے گناہوں اور بے حسی کا کیا عالم ہو گا….

    80 لاکھ کشمیریوں پر دن رات ہونے والے مظالم اور اموات کو نظر انداز کر کے 165 ممالک میں 7987 ہلاکتوں پر اظہار فکر کریں گے تو…پھر جان لو کہ مظلوم کی آہ تو عرش سے ٹکراتی ہی ہے…
    80 لاکھ کشمیریوں کے بالمقابل 1 لاکھ 98 ہزار 4 سو بائیس کرونا سے متاثر افراد دریافت کر کے انہیں طبی نگہداشت دینا اور حکومت کی طرف سے ضرورت مندوں میں راشن پیکج تقسیم کییے جانا …اور اسکے برعکس کشمیریوں کی بھوک پیاس اور بیماری کو مسلسل نظر انداز کیا جائے گا تو عذاب الہی تو آئے گا نا…

    جب قرآن کہ رہا ہو کہ تم مسلمانوں کو ظلم کی چکی میں پستے دیکھو تو تم پر جہاد واجب اور فرض ہے…ایسے وقت میں جہادی تنظیمیں بند کر دی جائیں… مجاہدین کو قید کر دیا جائے…. اور جہاد روک دیا جائے…تو رب تعالی پھر اپنی مخلوق سے جنگ تو کریں گے نا…

    جب سپر پاور ممالک آسمانوں کے مالک کے کاموں میں….. اس کے طے کردہ امور میں دخل اندازی کریں گے تو پھر جہانوں کا مالک ناراض ہو کر اس سپر پاور کو ایک نہ نظر آنے والی چھوٹی مخلوق کے ہاتھوں بے بس کر کے تباہی کے دوہانے پر لا کھڑا کرے گا نہ….انکا غرور خاک تو کرے گا نہ…

    جب مظلوم کشمیریوں کی التجائیں عرش بریں سے جا ٹکرائیں گی تو رحمن اور رحیم کو رحم تو آئے گا نہ وہ بے رحم کائنات کو کرونا جیسے عذاب سے جھنجھوڑے گا تو سہی نہ?
    تو قارئین اس وقت میں آپ اور ہم سب اس نازک مراحل میں داخل ہو چکے ہیں کہ جسکا اگلا مرحلہ موت بھی ہو سکتی ہے… لہذا توبہ کا دروازہ اب بھی کھلا ہے…وقت اب بھی باقی ہے…دیکھنا یہ ہے کہ ہم میں وہ کامیاب لوگ کون ہیں جو انفرادی اور اجتماعی استغفار کر کےآئندہ ان گناہوں کو نہ دہرانے کا عہد کر کے اپنے رب کی عطا کردہ مغفرت کے مستحق بن کر موت کو اپنے دروازے سے ناکام لوٹا سکتے ہیں…

    مظلوموں کی پکار
    عذاب الہی کی یلغار
    کرونا وائرس کی برمار

    ✍بقلم
    ڈاکٹر ماریہ نقاش

  • لاک ڈاؤن بمقابلہ لاک ڈاؤن !!! تحریر: محمد طارق

    لاک ڈاؤن بمقابلہ لاک ڈاؤن !!! تحریر: محمد طارق

    ابھی سندھ، پنجاب ، آزاد کشمیر، کے پی اور گلگت بلتستان میں لاک ڈائون کو صرف 3 دن ہوئے ہیں پاکستان کے کسی بھی حصے میں لاک ڈائون کے دوران نہ تو کسی کو غدار قرار دے کر گولی مارنے کا حکم ہے اور نہ ہی ضروریات زندگی کی اشیاء کی تمام دوکانیں بند ہیں، نہ گلی گلی بندوق بردارکھڑے ہیں لیکن پھر بھی لوگوں کو فکر ہے کہ لاک ڈائون کے دوران کیا ہو گا عوام تو عوام اربوں کھربوں ڈالر اور بے پناہ طاقت کے وسائل رکھنے والی پاکستانی حکومت بھی پریشان ہے کہ 14 دن کے لاک ڈائون کے نتائج کیا ہوں گے؟ دوسری طرف 7 ماہ سے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے لاک ڈائون کر رکھا ہے جس کو دل چاہا اور جس شہر یا چوک میں چاہا غدار قرار دے کر گولیوں سے چھلنی کر دیا، 7 ماہ سے 8 لاکھ ظالم فوج 80 لاکھ کشمیری مسلمانوں پر بندوق تانے کھڑی ہے گھر سے باہر جیسے ہی قدم رکھا جاتا ہے درجنوں گولیاں جسم کے آر پار کر دی جاتی ہے بچے بھوک سے تڑپ تڑپ کر جان دے رہے ہیں اور جوان مسلمان لڑکیوں کو گھروں سے اٹھا کر بے آبرو کر دیا جاتا ہے، درجنوں والدین کی روزانہ شہادت سے سینکڑوں بچے یتیم ہو رہے ہیں لیکن اس لاک ڈائون پر نہ کسی کی زبان ہلی، نہ کوئی آنکھ نم ہوئی۔ نہ کوئی محمد بن قاسم آیا اور نہ ہی دنیا میں امن کی ٹھیکیدار اقوام متحدہ کی نیٹو نے بھارتی فوج کا ہاتھ روکا۔ غرض یہ کہ دنیا میں کشمیری قوم تن تنہا بھارتی فوج کا ظلم برداشت کر رہی ہے۔ ہر مذہب (مسلمان، ہندو، عیسائی، بدھ مت اور غیر مذہب) نے ان کو تنہا چھوڑ دیا لیکن نہیں چھوڑا تو میرے پروردگار آللہ تعالیٰ کی ذاتِ نے ان کو تنہا نہیں چھوڑا،
    میرے دوستو مجھے اجازت دو تو میں آج کہہ دینا چاہتا ہوں کہ شائد کشمیری اللہ تعالیٰ کو اتنے پیارے لگے ہیں کہ ان پر ہونے والے مظالم کو دیکھ کر چپ رہنے والوں کو اللہ تعالیٰ نے سزا دینے کا فیصلہ کر لیا ہے اس لیے کرونا وائرس کا لاک ڈائون سب سے پہلے دنیا کی سب سے بڑی معاشی طاقت چین سے ہوا۔ خودساختہ سپر پاور امریکہ بھی شکنجے میں جکڑا گیا۔ بھارت کا یار ایران بھی سخت عذاب کا مستحق ٹھرا ہے جانوروں کے حقوق پر جلوس نکالنے والا یورپ اور کشمیر میں لاکھوں شہادتوں پر چپ رہنے والے یورپ کا حال دیکھ کر بھی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور اب مظلوم قوم کا ہمسائے ملک پاکستان کی بھی حالت تشویشناک اور قابل رحم ہوتی جا رہی ہے دنیا میں کرونا وائرس کے نام پر ہونے والے لاک ڈائون اور اس کے بعد والے حالات سے لاکھوں بلکہ کروڑوں ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے
    میں یہاں پر یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اگر دنیا چاہتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذاتِ کرونا وائرس کا لاک ڈائون ختم کرے اور دنیا وائرس سے محفوظ ہو جائے تو ہمیں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کا لاک ڈائون ختم کرنا ہو گا اور ساتھ ساتھ ظلم پر خاموشی اختیار کرنے والے گناہ پر توبہ کرنی ہو گی ہو سکتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے لاک ڈائون کے بعد اللہ تعالیٰ ہمیں معاف کرتے ہوئے دنیا میں کرونا وائرس کا لاک ڈائون ختم کر دے۔

  • کورونا وائرس کے باعث جونیئر ایشیا کپ ہاکی ٹور نامنٹ ملتوی

    کورونا وائرس کے باعث جونیئر ایشیا کپ ہاکی ٹور نامنٹ ملتوی

    کورونا وائرس کے باعث جونیئر ایشیا کپ ہاکی ٹور نامنٹ ملتوی

    باغی ٹی وی :کرونا کی وجہ سے ایک اور کھل کا ایونٹ متاثر ہوگیا .بنگلہ دیش نے کورونا وائرس کے باعث رواں سال4 سے14جون تک ڈھاکا میں ہونے والا جونیئر ایشیا کپ ہاکی ٹور نامنٹ ملتوی کر دیا ہے۔

    بنگلہ دیش ہاکی حکام کا کہنا ہے کہ ا س وقت جو صورت حال ہے اس میں اس ایونٹ کا انعقاد ممکن نہیں۔ غیر ملکی کھلاڑیوں کی صحت کو مدنظر رکھتے ہیں اس ٹورنامنٹ کو ملتوی کر رہے ہیں۔

    بنگلہ دیش ہاکی فیڈریشن کے سکریٹری مومن الحق کے مطابق ہماری تیاری مکمل ہےمگر موجودہ حالات میں فیڈریشن کی تمام سر گرمیاں معطل ہیں۔انہوں نے بتایا کہ دنیا بھر میں کورونا وائرس کی صورتحال بہتر ہونے کے بعد مہمان کھلاڑیوں کے ایکری ڈیشن اور ویزے کا عمل ہوگا۔ ایشین ہاکی فیڈریشن کا کہنا ہے کہ صورت حال کو دیکھتے ہوئے ایونٹ کا نیا شیڈول جاری کیا جائے گا۔
    ادھر کورونا وائرس کے باعث دنیا بھر کے میگا ایونٹ بھی متاثر ہو رہے ہیںِ. آئی سی سی حکام کا کہنا ہے کہ ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کے انعقاد کا حتمی فیصلہ 29 مارچ کو کیا جائیگا تاہم کرکٹ آسٹریلیا کے چیف کیون رابرٹس کو بھرپور یقین ہے کہ تمام کھیل چند ہفتوں یا مہینوں میں معمول کیمطابق دوبارہ شروع ہو جائیں گے۔
    واضح‌رہےکہ کورونا وائرس کے باعث جاپان میں ہونے والے ٹوکیو اولمپکس 2020 ایک سال کے لیے ملتوی کردیے گئے۔

    بین الاقوامی اولمپک کمیٹی ( آئی او سی) اور ٹوکیو اولمپک آرگنائزنگ کمیٹی کی جانب سے مشترکہ بیان میں اولمپکس 2020 ملتوی کرنے کا اعلان کیا گیا۔بیان کے مطابق آئی او سی کے سربراہ تھامس باخ اور جاپانی وزیراعظم شنزو ایبے نے کانفرنس کال پر گفتگو کی جس میں دیگر جاپانی حکام اور اولمپک کمیٹی کے عہدیدار بھی شریک ہوئے۔

  • ٹی 20 ورلڈ کپ ہو گا یا نہیں‌ حتمی فیصلے کی تاریخ آگئی

    ٹی 20 ورلڈ کپ ہو گا یا نہیں‌ حتمی فیصلے کی تاریخ آگئی

    ٹی 20 ورلڈ کپ ہو گا یا نہیں‌ حتمی فیصلے کی تاریخ آگئی

    باغی ٹی وی :کورونا وائرس کے باعث دنیا بھر کے میگا ایونٹ بھی متاثر ہو رہے ہیںِ. آئی سی سی حکام کا کہنا ہے کہ ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کے انعقاد کا حتمی فیصلہ 29 مارچ کو کیا جائیگا تاہم کرکٹ آسٹریلیا کے چیف کیون رابرٹس کو بھرپور یقین ہے کہ تمام کھیل چند ہفتوں یا مہینوں میں معمول کیمطابق دوبارہ شروع ہو جائیں گے۔

    میڈیا رپورٹ کے مطابق آئی سی سی نے رکن ممالک کے کرکٹ بورڈز کیساتھ ہونے والی ٹیلی کانفرنس کے بعد واضح کردیا ہے کہ آسٹریلیا میں 18 اکتوبر سے 15 نومبر تک شیڈول ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کا انعقاد کرونا وائرس کے باعث غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے کیونکہ آسٹریلین حکومت نے اپنی سرحدیں بند کر کے صرف اپنے شہریوں کو وطن واپسی کی اجازت دے رکھی ہے تاہم چونکہ میگا ایونٹ کے آغاز میں سات ماہ کا عرصہ باقی ہے لہٰذا خیال ہے کہ ٹورنامنٹ اپنے وقت پر کھیلا جا سکے گا۔

    کرکٹ آسٹریلیا کے چیف کیون رابرٹس بھی پرامید ہیں کہ ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کا شیڈول کے مطابق انعقاد کیا جا سکے گا کیونکہ انہیں پورا یقین ہے کہ آئندہ کچھ ہفتوں یا چند ماہ میں کھیلوں کی تمام سرگرمیاں ایک بار پھر شروع ہو جائیں گی۔ان کا کہنا تھا کہ وہ موجودہ حالات میں خود کو ماہر نہیں سمجھتے لیکن انہیں توقع ہے کہ رواں برس اکتوبر اور نومبر تک حالات نارمل ہو جائیں گے
    واضح‌رہےکہ کورونا وائرس کے باعث جاپان میں ہونے والے ٹوکیو اولمپکس 2020 ایک سال کے لیے ملتوی کردیے گئے۔

    بین الاقوامی اولمپک کمیٹی ( آئی او سی) اور ٹوکیو اولمپک آرگنائزنگ کمیٹی کی جانب سے مشترکہ بیان میں اولمپکس 2020 ملتوی کرنے کا اعلان کیا گیا۔بیان کے مطابق آئی او سی کے سربراہ تھامس باخ اور جاپانی وزیراعظم شنزو ایبے نے کانفرنس کال پر گفتگو کی جس میں دیگر جاپانی حکام اور اولمپک کمیٹی کے عہدیدار بھی شریک ہوئے۔

  • کرونا وائرس، احتیاط اور تزکیہ نفس—از— محمد نعیم شہزاد

    کرونا وائرس، احتیاط اور تزکیہ نفس—از— محمد نعیم شہزاد

    لانگ ویک اینڈ کے بعد آج پہلے دن گھر سے باہر نکلنا ہوا۔ گلیاں، بازار سنسان، شاہرائیں ٹریفک سے خالی، شہر میں ہو کا عالم، ایک اور نیا مظاہرہ جو دیکھنے کو ملا وہ چوکوں چوراہوں پر پولیس افسران اور سپاہی اور کہیں فوجی جوان، کسی سمت ٹریفک وارڈنز اور کہیں رینجرز کے جوان۔ ائیر پورٹ روڈ پر "Chippa” کی ایمبولینس اور مستعد ڈرائیور، شہر میں ایمرجنسی اور کرفیو کا سماں پیش کر رہا تھا ۔

    وہ سڑکیں جہاں رش کی وجہ سے میں جانا پسند نہیں کرتا تھا سنسان پڑی تھیں۔ دل مغموم تو ہوا مگر ساتھ ہی مطمئن بھی کہ قوم نے حالات کو سنجیدگی سے لیا ہے اور حفاظتی اقدامات پر طوحاً و قرحاً عمل شروع کر دیا ہے۔ وبا ہی ایسی پھیلی ہے کہ بچے بڑے سب اس سے محتاط ہو گئے ہیں ۔ ایک ریڑھی بان کو دیکھا جو بچوں سمیت سڑک پر جا رہا تھا اور اس نے ماسک لگا رکھا تھا۔

    اس کی بیوی اور معصوم بیٹی بھی دوپٹے سے اپنا منہ ڈھانپے ہوئے نظر آئیں۔ سٹوڈنٹس سے بات ہوئی تو ان کے والدین پہلے سے آمادہ تھے کہ بچوں کو آن لائن ٹیوشن دے دیں۔ الغرض ہر سمت ایسے مناظر دیکھنے کو ملے کہ یقین ہو گیا ہم ایک منظم قوم ہیں اور کرونا کو شکست دینے کے لیے پر عزم ہیں۔ اسی قومی جذبے کی ضرورت تھی جو بیدار ہو چکا ہے اور یقیناً یہ کرونا فری پاکستان کا آغاز ہے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ان الانسان کان ظلوما جہولا
    خالق کائنات نے اپنے کلام قرآن مجید میں انسان کو ظالم اور بے علم قرار دیا۔ انسان کی کیفیت ایسی ہی ہے کہ وہ قریب کی چیز کا اثر فوراً قبول کرتا ہے اور دور کی چیز کو ایسے بھلا دیتا ہے گویا اس کو مانتا ہی نہیں ۔ آج دنیا بھر میں کرونا وائرس پھیل رہا ہے، اس کی وجہ سے کربناک اموات نظر آ رہی ہیں، تشویشناک صورتحال ہے اور ہر کوئی خبردار نظر آتا ہے ۔ بہت اچھی بات ہے اس سے کوئی انکار نہیں مگر انسان عقبیٰ کو بھول چکا، اپنے دنیا میں آنے کے مقصد کو بھلا چکا ہے۔

    یہ بھول چکا ہے کہ اسے اشرف المخلوقات کا درجہ دیا گیا۔ اس کا حق تو یہ تھا کہ دنیا میں خدا کی نیابت اختیار کرتا اور اللہ کے احکامات کو نافذ کرتا مگر وہ سب بھول کر اپنی ہی دنیا میں مگن ہو گیا۔ جب تک ڈھیل ملی رہی انسان نے پلٹ کر نہیں دیکھا۔ صدیوں سے انسانی رویے میں تبدیلی نہ آ سکی۔ جدید سائنسی تحقیق اور علوم و فنون میں مہارت بھی انسان میں قبل از وقت توبہ کا شعور بیدار کرنے سے قاصر رہی اور آج بھی جب مصیبت گلے پڑ جاتی ہے تو رجوع الی اللہ کی فکر جاگتی ہے۔

    جب انسان اپنی فطرت پر قائم ہے تو قربان جاؤں اس مالک کائنات پر جو ہر بار خطا کاروں سے درگزر کا معاملہ فرماتا ہے۔ قریب ایک ماہ بعد رمضان کی آمد آمد ہے۔ سابقہ تاریخ گواہ ہے کہ رمضان تزکیہ قلوب اور اصلاح نفس کا موقع فراہم کرتا ہے مگر اس بار تو رمضان سے پہلے ہی لوگوں کے دلوں سے زنگ اتر جائے گا۔

    کرونا وائرس، احتیاط اور تزکیہ نفس
    محمد نعیم شہزاد

  • قومی کرکٹ ٹیم کا دورہ انگلینڈ، آئرلینڈ اور نیدر لینڈ خدشات کا شکار ہوگیا

    قومی کرکٹ ٹیم کا دورہ انگلینڈ، آئرلینڈ اور نیدر لینڈ خدشات کا شکار ہوگیا

    قومی کرکٹ ٹیم کا دورہ انگلینڈ، آئرلینڈ اور نیدر لینڈ خدشات کا شکار ہوگیا

    باغی ٹی وی :دنیا بھر پر کرونا وائرس کے سائے گہرے ہونے لگے. دنیا بھر میں کرونا وائرس سے کھیلوں کی سرگرمیاں متاثر ہونے لگیں.

    قومی کرکٹ ٹیم کا دورہ انگلینڈ، آئرلینڈ اور ندر لینڈ خدشات کا شکار ہوگیا .انگلش کرکٹ بورڈ پاکستان کے ساتھ سیریز اور اپنے کرکٹ سیزن کے حوالے سے مختلف آپشنز پر غور کررہا ہے ۔پاک انگلینڈ سیریز کسی دوسرے ملک میں کروانے کی کوئی آپشن زیر غور نہیں ہے ۔ انگلش کرکٹ بورڈ نے اپنا ڈومیسٹک کرکٹ سیزن 28 مئی تک ملتوی کررکھا ہے

    پی سی بی نے سیریز کا فیصلہ انگلش کرکٹ بورڈ پر چھوڑ دیا ہے ۔آئرلینڈاور ندر لینڈ کرکٹ بورڈ بھی پاکستان کے سیریز کے معاملات کا جائزہ لے رہے ہیں۔آئرش اور نیدر لینڈ کرکٹ بورڈ بھی سیریز کے حوالے سے خاموش ہیں ۔

    جون کے آخر میں قومی کرکٹ ٹیم کا دورہ انگلینڈ ، ندر لینڈ اور آئر لینڈ شیڈول ہے .موجودہ صورت حال میں کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے ۔انگلینڈ، آئرلینڈ اور ندر لینڈ سے سیریز کے معاملات پرنظر رکھے ہوئے ہیں وقت آنے پر فیصلہ کریں گے ۔

  • عالمی صہیونزم کی شکست اور اعتراف—–از—-صابرابو مریم

    عالمی صہیونزم کی شکست اور اعتراف—–از—-صابرابو مریم

    خطے کی موجودہ صورتحال اور بالخصوص شام و یمن اور عراق میں صہیونی محاذ کی شکست کے بعد ایک ایسی ویڈیو منظر عام پر آئی ہے کہ جس میں غاصب صیہونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کی قابض افواج سے تعلق رکھنے والے میجر جنرل تامیر ھایمن ایک فوجی بریفنگ میں ایسے انکشافات کر رہے ہیں جس سے مغربی ایشیائی ممالک میں جاری جنگ و جدل اور صہیونیوں کی ناپاک سازشوں کا پردہ چاک ہو گیا ہے ۔

    صہیونی قابض افواج کے میجر جنرل تامیر ھایمن اسرائیل کے ایک اعلی سطح کے فوجی اہلکاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اس وقت اسرائیل کی انٹیلی جنس کے چئیر مین کے عہدے پر کام کر رہے ہیں ۔

    اسرائیلی فوج کے ایک اعلی سطحی اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے تامیر ھایمن نے کہا ہے کہ اسرائیل کی تمام تر کوششوں کے باوجود اسرائیل کی شام اور عراق میں شکست کی سب سے بڑی وجہ ایران کی حکمت عملی اور اسرائیلی پالیسیوں کے سامنے ڈٹ کر مقابلہ کر نا ہے ۔ اپنی اسی بریفنگ میں فوجیوں کو یہ بتاتے ہیں کہ ایران میں آنے والے اسلامی انقلاب کی فکراسرائیل کے شام اور عراق سمیت خطے میں منصوبوں کی ناکامی کا باعث بن رہی ہے اور فکر سے منسلک لوگ خاص طور پر اسرائیل کو صفحہ ہستی سے نابود کرنا چاہتے ہیں ۔

    تامیر ھایمن اس ویڈیو فوٹیج میں اپنے ماتحت فوجی افسران کوشا م اور عرا ق کی صورتحال کے بارے میں بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ عراق ہمارے اور امریکہ کے ہاتھوں سے نکل چکا ہے ۔ عراق اب اسرائیل کے لئے آج سے بیس سالے پہلے والا عرا ق نہیں رہا ۔ عرا ق اور شام یہ دونوں ایران کے ساتھ مربوط ہو چکے ہیں اور ایران ان کی پشت پناہی کر رہا ہے جس کی وجہ سے اسرائیل کے منصوبوں پر عمل درآمد میں اکثر وبیشتر ناکامی کا سامنا ہے ۔

    یمن میں سعودی عرب کی جانب سے مسلط کردہ جنگ کے بارے میں بات کرتے ہوئے ھایمن نے کہا ہے کہ ایران سمندری حدود میں یمن کے راستے باب مندب تک آ چکا ہے اور باب مندب بھی ہمارے منصوبوں کے تحت اسرائیل کے ہاتھ سے نکل چکی ہے حالانکہ اسرائیل یمن میں سعودی قیادت میں جاری جنگ میں مسلسل یمن کے خلاف سرگرم عمل ہے لیکن یہاں بھی ایران کی یمن کے ساتھ ہم آہنگی نے نہ صرف یمن کے حوثیوں کو کامیاب قرار دلوا یا ہے بلکہ ہمارے تمام منصوبے یہاں پر ناکام ہو رہے ہیں ۔

    اسی طرح ایک اور عنصر جو کہ اسرائیل کے پڑوس میں موجود ہے وہ لبنان میں حزب اللہ کا وجود ہے ۔ حزب اللہ کے بارے میں ھایمن نے اعتراف کیا ہے کہ حزب اللہ ہمارے پڑوس میں ایک ایس اگروہ موجو دہے کہ جو اسرائیل کے لئے انتہائی خطر ناک ثابت ہو اہے ۔ حزب اللہ اپنے قیام سے اب تک مسلسل طاقت میں اضافہ کر رہی ہے اور حزب اللہ میں موجود شیعہ عناصر جو براہ راست ایران کو اپنا مرکز و محور مانتے ہیں اسرائیل کے لئے خطر ناک ہیں کیونکہ اسرائیل کی دفاعی طاقت کو حزب اللہ کئی مرتبہ سوالیہ نشان پر لا چکی ہے ۔ ھایمن کے اعتراف کے مطابق حزب اللہ کے پاس جد ید اسلحہ اور ایسے اسلحہ موجود ہیں جو اسرائیل کے ٹینکوں اور توپوں کا آسانی سے مقابلہ کر سکتے ہیں ۔

    اسی بریفنگ میں ھایمن نے اعتراف کیا ہے کہ عراق، یمن اور شام سے ایسے میزائل داغے جا سکتے ہیں جو براہ راست تل ابیب پر گر سکتے ہیں اور بڑے نقصانات کا خدشہ موجو دہے ۔

    اسرائیلی انٹیلی جنس کے اعلی عہدیدار ھایمن نے اپنی اسی فوجی بریفنگ میں فلسطینیوں کو دہشت گرد قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اسرائیل کے اند ر فلسطینیوں کا وجود دہشت گردی کے وجود کے مترداف ہے اور یہ فلسطینی بھی ایران کے ساتھ منسلک ہیں اور ایران سے اسلحہ اور ٹریننگ لیتے رہے ہیں اور اب اسرائیل کے خلاف برسر پیکار ہیں ۔ ھایمن نے اعتراف کیا کہ فلسطینی مزاحمت کاروں کے پاس اب ایسی ٹیءکنالوجی موجود ہے جو اسرائیل کے ڈرون طیاروں کو بھی نشانہ بنا سکتی ہے اور فلسطینی مزاحمت کار اس عنوان سے کئی مرتبہ ا سکا عملی نمونہ دکھا چکے ہیں ، ھایمن نے یہاں تک ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ اپنے جونیئر فوجی افسران کو بتایا کہ فلسطینی مزاحمت کار ڈرون مار گرانے میں تو مہارت رکھتے ہی ہیں بلکہ ساتھ ساتھ دیسی ساختہ ڈرون طیار کر رہے ہیں اور اسرائیل کے حساس مقامات کی جاسوسی بھی کرتے ہیں ۔

    ھایمن نے گفتگو کے اختتام پر اپنے فوجی افسران کو بتاتے ہیں کہ فلسطین، یمن، عراق، شام اور لبنان میں حزب اللہ یہ پانچ عناصر ایسے عناصر ہیں جو اسرائیل کے سلامتی کے لئے خطرہ ہیں اور اسرائیل کو اپنا سب سے بڑا دشمن تصور کرتے ہوئے اسرائیل کی نابودی کے لئے سرگرم عمل ہیں ۔ ان تمام پانچ عناصر کی پشت پناہی میں ایران کی انقلابی سوچ اور تفکر کے ساتھ ساتھ انقلاب کے وہ قائدین ہیں یعنی ھایمن کا اشارہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی طرف ہے کہ جنہوں نے فلسطین کی آزادی کو حتمی قرار دیا ہے اور اسرائیل کی نابودی کو یقینی اور وعدہ الہی قرار دیا ہے ۔

    خلاصہ اب یہ ہے کہ اگر ان تمام پانچ کے پانچ عناصر کی جد وجہد کا مختصر جائزہ لیا جائے تو واضح طور پر ایک بات یہ ثابت ہوجاتی ہے کہ یمن کے عوام اپنی آزادی اور اپنے استقال و عزت کی جنگ لڑ رہے ہیں اور انہوں نے امریکہ و اسرائیل کے سامنے سرتسلم خم ہونے سے انکار کر دیا ہے یہاں پر یقینا ایران کا کوئی ایسا فائدہ موجود نہیں ہے کہ جس کے لئے ایران کو مورد الزام ٹہرایا جاتا رہے ۔ یمن کے حوثی اپنی آزاد حیثیت میں موجود ہیں اور اپنے مستقل اور حال کے فیصلے وہ خود کر رہے ہیں ۔ یہاں پر جنگ استقلال کی جنگ ہے ۔

    شام کی بات کریں تو یہاں بھی شامی حکومت اپنے وطن اور سرزمین کو ان دہشت گردوں سے نجات دلوانے کی جنگ لڑ رہی ہے جن دہشت گردوں کو امریکہ، اسرائیل اور عرب حواریوں نے شام کی حکومت کو گرانے کے لئے بھیجا تھا جس کا ذکر کود اسرائیلی انٹیلی جنس کے اعلیٰ عہدیدار تامیر ھایمن نے بھی اپنی گفتگو میں کیا ہے ۔ لہذا شام اپنی بقاء اور خود مختاری کی جنگ لڑ ررہا ہے ۔

    لبنان کی حزب اللہ بھی لبنان کے دفاع میں مصروف ہے ۔ اسرائیل کو نکال باہر کر چکی ہے اور حزب اللہ کی طاقت کا ذکر بھی ھایمن اپنی گفتگو میں کر چکے ہیں ۔ عرا ق کی صورتحال بھی اسی طرح کی ہے کہ جہاں داعش جیسی امریکی وا سرائیلی حمایت یافتہ دہشت گرد حکومت اور تنظیم کو ختم کرنے کے لئے عرا ق نے مزاحمت اور استقامت کے ساتھ کامیابی حاصل کر لی ہے ۔

    فلسطین کی جہاں تک بات ہے تو فلسطینیوں کی جنگ نہ تو ایران کی آزادی کی جنگ ہے اور نہ ہی ایران کے لئے ہے بلکہ فلسطین فلسطینیوں کا وطن ہے اور فلسطین کی آزادی فلسطینیوں کا حق ہے ۔

    خلاصہ یہ ہے کہ جہاں تک ایران کی جانب سے ان پانچ عناصر کی مدد و تعاون کی بات ہے تو یقینا ایران نے عرا ق و شام کی درخواست پر ان دونوں ممالک کا ساتھ دیا تا کہ دونوں خود مختاری قائم رہے ۔ ایران نے لبنان میں حزب اللہ کا ساتھ اس لئے دیا کہ حزب اللہ لبنان کو اسرائیل کے قبضہ سے آزاد کروائے اور ایسا ہوا ۔ اسی طرح ایران یمن کے عوام کے حقوق کے دفاع کی حمایت کرتا ہے اوراسی طرح فلسطین کے لئے ایران نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد سے مسلسل مالی ومسلح مدد بھی کی ہے اور جد ید ٹیکنالوجی سے بھی فلسطینیوں کو آراستہ کیا ہے جس کا ذکر خود صہیونی دشمن کے انٹیلی جنس ٓفیسر تامیر ھایمن نے نشر ہونے والی ویڈیو میں کیا ہے ۔

    خلاصہ کلام یہ ہے کہ اسرائیل کمزور ہو چکا ہے اور نابودی کی طرف گامزن ہے ۔ عنقریب وہ وقت آنے ہی والا ہے کہ مظلوم ملت فلسطین کو صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کے چنگل سے نجات حاصل ہوگی اور دنیا بھر سے فلسطینی اپنے وطن واپس آ کر سرزمین مقدس فلسطین پر آباد ہوں گے اور یہ حتمی ہونا ہے اگرچہ ہم اس واقعہ کو دیکھ پائیں یہ نہ دیکھیں ۔

    عالمی صہیونزم کی شکست اور اعتراف

    تحریر: صابرابو مریم

    سیکرٹری جنرل فلسطین فاءونڈیشن پاکستان

    پی ایچ ڈی ریسرچ اسکالر، شعبہ سیاسیات جامعہ کراچی