Baaghi TV

Category: بلاگ

  • امریکی صدر ٹرمپ نے جنرل سلیمانی کے متعلق بڑا انکشاف کر دیا

    امریکی صدر ٹرمپ نے جنرل سلیمانی کے متعلق بڑا انکشاف کر دیا

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنرل قاسم سلیمانی ہزاروں امریکیوں کو مارنے اور شدید زخمی کرنے کا زمہ دار تھا، اور مستقبل میں بھی یہی کرنے جا رہا تھا، لیکن پکڑا گیا، وہ بالواسطہ یا بلا واسطہ لاکھوں لوگوں کو مارنے کا زمہ دار تھا جن میں بڑی تعداد حالیہ ایرانی مظاہرین کی ہے لیکن ایران کبھی یہ تسلیم نہیں کرے گا۔ایران کے لوگ بھی اس سے نفر ت کرتے تھے اور خوف بھی کھاتے تھے، جنرل قاسمی کو بہت پہلے ہی مار دینا چاہئے تھا۔

    امریکی حملے میں ایران کے قاسم سلیمانی،عراقی ملیشیا کے کمانڈر جاں بحق، ایران نے دیا امریکہ کو سخت ردعمل

    قاسم سلیمانی کو ٹرمپ کی ہدایت پر مارا گیا، پینٹا گون، ٹرمپ نے کیا کہا؟

    ایرانی جنرل کو مارنے کے بعد امریکہ نے دی شہریوں کو اہم ہدایات

    جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت، امریکہ نے خطے کا امن داؤ پر لگا دیا، ایسا کس نے کہا؟

    ایرانی جنرل پر امریکی حملہ، چین بھی میدان میں آ گیا، بڑا مطالبہ کر دیا

    واضح رہے کہ 30 دسمبر کو بھی امریکی فوج نے عراق اور شام میں ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا پر فضائی حملے کیے تھے، امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر کے مطابق کتیب حزب اللہ کے اسلحہ ڈپو سمیت 5 ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے گئے۔ ایران کے خلاف مزید اقدامات کا عندیہ دیتے ہوئے مارک ایسپر نے کہا تھا کہ امریکا ایران کے خلاف مزید کارروائیوں کے لیے بھی تیار ہے۔

    بغداد میں امریکی حملے پر ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنرل سلیمانی پر حملہ عالمی دہشت گردی ہے، امریکا کو اس حرکت کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔ ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے اس حملے کو عالمی دہشت گردی قرار دیا ہے۔ معابلے پر ایران میں ٹاپ سیکورٹی باڈی کا فوری اجلاس بھی طلب کر لیا گیا ہے

  • جلد بازی اور منزل کا حصول ….از…ہمایوں شاہد

    جلد بازی اور منزل کا حصول ….از…ہمایوں شاہد

    لفظ جلدی جس کے لغت میں معنی ہیں کہ کام کو بغیر تاخیر  کے سر انجام دینا. آج ہم اس لفظ(جلدی) کا بغور جائزہ لیں گے وہ بھی بغیر تاخیر کے. ہم دیکھتے ہیں کے جو لوگ ناکام ہوتے ہیں ان کی ناکامی کا راز بھی یہی لفظ یعنی(جلدی) ہے. کیونکہ وہ جب کوئی کام شروع کرتے ہیں تو وہ یہ سوچ لیتے ہیں کے اب ان کا طوطی بولنے لگے گا اور شرق و غرب ان کے نام کے چرچے ہوں گے جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے.

    انسان جب بھی کوئی کام یا کسی کام کا ارادہ کرتا ہے تو کامیابی میں منتقل ہونے کے راستے وہ خود اختیار کرتا ہے.اب یہ اس پر منحصر ہے اگر وہ طویل مدتی راستہ اختیار کرتا ہے جس میں سالوں کی محنت اور کوشش تو ہو تو مگر ہو جہد مسلسل۔۔۔۔۔تو عین ممکن ہے کہ واقعی اس کا طوطی بولنے لگے اور اگر وہ دوسرا راستہ اختیار کرتا ہے جس میں راتوں رات طوطی بولنے کی سکیم ہو اور وہ محنت کو قطع نظر کرکے غلط اور مختصر مدت کے راستے کو اختیار کرے گا تو عین ممکن ہے کہ منزل کے قریب اس کے قدم لڑکھڑا جائیں اور وہ منزل سے دور ہو جائے. اب ہم اسی بحث کو تھوڑا سیاسی نظر سے دیکھتے ہیں.

    ہم سب نے یہ دیکھا اور سنا ہو گا کہ یہی وہ لفظ (جلدی) ہے جس نے پاکستان کے دو ٹکڑے کروائے اور پاکستان کو بنگلا دیش کی صورت میں قربانی دینا پڑی. مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان دونوں کے سیاسی لیڈروں کو یہی جلدی تھی کہ فوراً سے پہلے ہی اقتدار ہماری مٹھی میں آجائے یہ سوچے بغیر کے مشرقی پاکستان کو واضح اکثریت حاصل تھی.

    اس لفظ کی اہمیت آپ کو اس بات سے معلوم ہوگی کے اکثر بھٹو یحییٰ خان سے کہتے رہتے تھے کہ جلدی سے اقتدار ہمارے حوالے کیا جائے اس کی دلیل بہت دلچسپ ہے وہ کہتے ہیں کہ ہمارے خاندان کے لوگ کم عمر میں ہی فوت ہوجاتے ہیں . اس لیے ان کو اقتدار کی جلدی تھی.ویسے تو ہمیشہ آمریت جمہوریت پر غالب آتی رہی ہے ،

    حالیہ دنوں میں تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ اب تو جمہوریت کے روح رواں دونوں جمہوری جماعتیں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن ایک تیسری قوت جو کے جمہوریت میں ایک نئی تاریخ رقم کرکے اقتدار میں آئی ہے اس کے پہ در پے ہےاور یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ پرانی جماعتیں تیسری قوت کی شراکت قبول نہیں کر رہیں اس وجہ سے دونوں ہی حکومت کا خاتمہ چاہتے ہیں وہ بھی جلدی.

    اگر ہم حالیہ دنوں میں دیکھے تو تمام اپوزیشن حکومت کا تختہ الٹنے میں سرگرم عمل نظر آتی ہے. اسی کی ایک جھلک ہم نے مولانا کے دھرنے میں دیکھی. پر یہ کوشش یہاں ہی ختم نہیں ہوتی بلاول بھٹو زرداری کے حالیہ بیان سے تو اس کی جلدی نظر آئی کے اب تو بس اس حکومت کا خاتمہ ضروری ہے. موصوف کہتے ہیں کے متحدہ قومی موومنٹ سندھ حکومت کے ساتھ اتحاد کر کے اس موجودہ وفاقی حکومت کا تختہ الٹ دے .

    یہاں یہ بات زیر غور ہے کہ یہ بات کہہ بھی تو کون رہا ہے( بھٹو کا نواسا) ، جنھیں ہمیشہ اقتدار کی جلدی ہوتی ہے. جبکہ ہونا تو یہ چاہیے کہ موجودہ حکومت کو کچھ وقت دینا چاہیے کہ وہ اپنی کوشش کر دیکھیں اور ممکن ہے کہ پاکستان کی ترقی میں وہ بھی کچھ اچھا کردار ادا کر سکیں کیونکہ جب بھی بھی کسی کام کی جلدی کی جاتی ہے تو اکثر اوقات انسان کو ندامت کا سامنا ہی کرنا پڑتا ہے۔

    تو نتیجتاً لفظ جلدی کو اگر ہم محاورہ میں ڈھالیں تو وہ محاورہ ہو گا کہ "جلدی کا کام شیطان کا”. ہم دیکھتے ہیں کے واقعی لفظ جلدی شیطان کا راستہ ہے کیونکہ یہ بات حدیث میں بھی موجود ہے کہ "شیطان” انسان کو جلدی میں ڈال کر نقصان کرواتا ہے۔ لہذٰا ہمیں بحیثیت مسلم و قوم مجموعی طور پر اس قسم کے شارٹ کٹ راستے اور لفظ(جلدی) سے پرہیز کرنا چاہیے

    جلد بازی اور منزل کا حصول ….از…ہمایوں شاہد

  • جنرل قاسم سلیلمانی کی موت کے اسباب ، ذمہ دار کون ؟–از.. ملک جہانگیر اقبال

    جنرل قاسم سلیلمانی کی موت کے اسباب ، ذمہ دار کون ؟–از.. ملک جہانگیر اقبال

    آج صبح اٹھتے ہی پہلی خبر ایرانی میجر جنرل سلیمان قاسمی کی عراق کے بغداد ایئرپورٹ میں امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت کی ملی ، واضح رہے کہ میجر جنرل سلیمان قاسمی پاسدارانِ انقلاب کے یونٹ قدس فورس کے کمانڈر تھے

    سلیمان قاسمی کی قابلیت اور ایران میں انکی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ مشرقِ وسطٰی میں جاری ایران پالیسی انکے دماغ کا شاخسانہ ہے اور کچھ حلقے انہیں ایرانی صدر سے زیادہ طاقتور مانتے ہیں کہ یہ ڈائریکٹ رپورٹ ایرانی سپریم لیڈر کو کرتے تھے ، ایرانی صدر نہ ہی انکی بنائی پالیسی بدل سکتا تھا اور نہ ہی ان کے کسی کام میں مداخلت کرسکتا تھا ۔ اسکے علاوہ بیرونِ ممالک ایران دشمنوں کا صفایا کرنا انکی اولین ترجیح رہی تھی ۔

    اگر سادہ مثالوں سے سمجھاؤں تو یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی ملک ہماری پاکستانی خُفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سربراہ کو ریاستی حملے میں قتل کردے اور باقاعدہ اُس ملک کا صدر فخر سے اس کا اعلان کرے ۔
    ایسے میں پاکستان کا کیا ردِعمل ہوگا ؟

    تو بس ٹھیک ایسا ہی ردِعمل اب ایران کا آنے والا ہے ، وہ تمام لوگ جو نئے سال کو امن کا گہوارہ بنانے کی دعائیں کر رہے تھے اُنہیں مطلع کرتا چلوں کہ سال کے آغاز کے تین دِن میں ہی اُنکی اربوں دعائیں لگ بھگ ریجیکٹ ہو چکی ہیں ، مشرقِ وسطیٰ میں آگ و خون کا بازار مزید گرم ہونے کا امکان ہے اور اسکی لپٹیں پاکستان سے سعودیہ عرب تک محسوس کیے جانے کے قوی امکانات ہیں .

    آج شام تک جنرل سلیمان قاسمی کی ہلاکت پہ ایرانی ، پاکستانی ، سعودی ، اسرائیلی و روسی ردِ عمل سامنے آجائے گا ۔ شنید ہے روس اپنی حمایت کا پلڑا ایرانی کھاتے میں ڈالے گا کہ شام میں روس اور جنرل قاسمی ایک دوسرے کا مضبوط دست و بازو بنے رہے ہیں ۔

    سعودیہ یقیناً اس پہ خوشی کا اظہار کرے گا اور کوشش کرے گا کہ پاکستان کو بھی "جانی سمائل” کا پیغام پہنچانے کا عندیہ دے جسے پاکستان ” سوری انکل آپکی آواز صاف نہیں آرہی ” کہہ کر نظر انداز کرے گا اور ایران کا نمبر بلاک لسٹ میں ڈال کر سوچے گا کہ کاش ہمارا اگر اگلا جنم ہوتا تو کوشش کروں گا کہ اس خطے سے بہتر ہے اگلی بار انٹارکٹیکا کے کسی برفیلی میدان میں پڑاؤ ڈالوں جہاں ہمسائے و برادر محض پینگوئن ہُوں نا کہہ کوئی "برادر” ممالک ۔

    اسرائیل یقیناً جنگِی پوزیشن میں آ چکا ہوگا ، یورپ اس وقت ڈونالڈ ٹرمپ کو گالیاں دیتا ہوا کچھ نہیں سوچ رہ ہوگا جبکہ امریکی ..

    خیر امریکی عوام نے ڈونالڈ ٹرمپ کو صدر چنا تھا لہذا ان سے کچھ سوچنے سمجھنے کی توقع کرنا بیکار ہے…
    بہرحال امریکہ و دنیا کو چلانے والی ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس نامی عالمی اسٹیبلیشمنٹ بہت خوش ہوگی کہ دنیا جنگ و جدل کے ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے جو جنگ عظیم سوئم میں بھی بدل سکتی ہے لہٰذا اسلحہ ہی اسلحہ بیچا خریدا جائے گا ، دودھ و روٹی کے پیسوں سے انسانوں کو مارنے والی گولیاں خریدی جائیں گی ، ہاتھ پیر کی انگلیاں گھی اور سر کڑاہی میں ہوگا وغیرہ وغیرہ وغیرہ ….

    جنرل قاسم سلیلمانی کی موت کے اسباب ، ذمہ دار کون

    تحریر:از —- ملک جہانگیر اقبال

  • ہائے !وہ میرا سپین —از…ثناء صدیق

    ہائے !وہ میرا سپین —از…ثناء صدیق

    سپین کو ایک لڑکی کی عزت کی خاطر فتح کرنے والے طارق بن زیاد جنہوں نے ساحل پر پہنچتے کشتیاں جلا دی ےتھیں ان کو کیا علم تھا کہ آٹھ سو سال کے بعد مسلمان ذلت سے سپین سے واپس لوٹیں گے ۔

    اگر ہم سپین کے عروج کا منظر دیکھیں تو اس کا آغاز آٹھ سو سال قبل جبل طارق پر جب طارق بن زیاد نے عیسائی بادشاہ راڈرک کو عبرتناک شکست دی موسی بن نصیر اور طارق بن زیاد نے جلد ہی سپین کو فتح کر لیا اور عیسائی حکومت کا خاتمہ کر دیا

    اس وقت امویوں کی حکومت تھی دمشق ان کا پایہ تخت تھا تو سپین دمشق کی خلافت کے زیر نگین آ گیا امویوں کے زوال کے بعد خلافت بنو عباس مین منتقل ہو گئی تو اسلامی ریاست کا پایہ تخت بغداد بن گیا ، اندلس کا حکمران اموی شہزادہ عبدالرحمن الداخل بن گیا وقت گزرتا گیا حکومتیں بدلتی رہیں اندلس کے مسلمان آہستہ آہستہ مضبوط سے مضبوط ہوتے گئے ۔

    اندلس عالم اسلام کے لیے علم و ہنر کا مرکز بن گیا اس نے اپنے تعلیمی دور عروج میں الفارابی ، ابن رشد ، ابو القاسم الزہراوی اور ابن حزم جیسے علماء اور فضلاء پیدا کئے ۔

    پھر وقت پلٹا مسلمانوں کے عروج کو زوال آنے پھر قدرت نے یوسف بن تاشفین کی صورت میں اہل اندلس کو سنبھلنے کا بہترین موقع دیا مگر مسلمانوں کے اپنے کردار کی وجہ سے زوال ان کا مقدر بن گیا تھا اموی شہزادے کی بہترین ریاست ٹکڑے ٹکڑے ہونا شروع ہو گئی اور کئی ریاستیں وجود میں آنے لگیں۔

    سر قسطہ قشطالیہ الشبیلہ اور غرناطہ جیسے عظیم علاقے مسلمانوں کے ہاتھوں سے نکلنا شروع ہو گئے اراغون اور قسطلہ کی مضبوط عیسائی ریاستیں وجود میں آ گئیں اراغون کی مشہور حکمران ملکہ ازابیلہ تھی جو تاریخ میں ملکہ ازابیلہ کے نام سے مشہور ہوئی دوسری طرف قسطلہ کا شاہ فرماں فرنڈیڈ تھا جو ایک متعصب عیسائی تھا یہ دونوں حکمران انتہا پسند اور مسلمانوں کے دشمن تھے یہ دونوں سپین میں مسلمانوں کا مکمل خاتمہ چاہتے تھے۔

    ان دونوں نے 1469 میں اپنی ریاستوں کو باہم ملا کر آپس میں شادی کر لی 1469 میں اندلس کے مسلمان غرناطہ تک محدود ہو کر رہ گئے تھے اور مسلمان یہیں سے اپنی بقاء کی لڑائی میں مصروف تھے غرناطہ کا حکمران ابو الحسن تھا جو ایک نڈر اور لائق حکمران تھا اندلس کے مسلمانوں کو ایک لمبے عرصے بعد ایسا قابل شخص نصیب ہوا تھا اس کا بھائی محمد بن سعد الزاغل مالقہ کے علاقے کا حکمران تھا

    جب اس نے محسوس کیا کہ عیسائی ان دونوں بھائیوں میں پھوٹ ڈلوانا چاہتے ہیں تو اس نے غرناطہ آکر اپنے بھائی کے ہاتھ پر بیعت کر لی یوں ابو الحسن طاقتور ہو گیا جب فرنڈیڈ نے ابو الحسن سے خراج مانگا تو اس نے تاریخی الفاظ کہے

    "غرناطہ کے تکسال میں عیسائیوں کو دینے کے لیے سکوں کی بجائے اب فولاد کی وہ تلوریں تیار ہونی ہیں جو ان کی گردنیں اتار سکیں”

    یہ جواب سن کر فرنڈیڈ مبہوت سا رہ گیا اس وقت اس کے زیر قبضہ علاقہ سو لاکھ مربع میل کے قریب تھا جبکہ غرناطہ کی ریاست سمٹ کر چار ہزار مربع میل رہ گئی تھی یہ مختصر سا رقبہ بھی عسائیوں کے لیے تکلیف کا باعث تھا

    وہ مسلمانوں کا مکمل خاتمہ چاہتے تھے اور انہوں نے ابو الحسن سے فیصلہ کن جنگ کا اردہ کیا آخرکار غرناطہ کے سرحدی مقام پر ابو الحسن اور فرنڈیڈ کا ٹکراو ہوا اہل غرناطہ قوت اور تعداد کے اعتبار سے عیسائیوں سے کمزور تھے مسلمانوں نے اندلس کے دفاع کے لیے سر تک کی بازی لگا دی، طارق بن زیاد کی یاد تازہ کرتے ہوئے فرنڈیڈ کو شکست فاش کر دیا ابھی ابو الحسن وہیں موجود تھا کہ اس کے ولی عہد ابو عبداللہ نے بغاوت کر دی اور غرناطہ کے تخت کا مالک بن بیٹھا

    یہ جہاد میں مشغول مسلمانوں کے لیے بری خبر تھی اہل اندلس ابو الحسن کی قیادت میں سپین کے لیے نشاط ثانیہ کا خواب دیکھ رہے تھے ادھر ابو الحسن کو مجبور مالقہ میں پناہ لینا پڑی مسلمان اس نازک وقت میں غرناطہ کا دفاع کر رہے تھے اور ابو عبداللہ کی اقتدار کی ہوس نے غرناطہ کو دو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا

    دوسری طرف عیسائیوں کو مسلمانوں کی اس حالت میں مزید حوصلہ مل گیا ابو عبداللہ نے بےغیرتی کی انتہا کرتے ہو ابو الحسن پر پشت سے حملہ کر دیا ابو الحسن ایک تجربہ کار حکمران تھا اس نے ایک طرف عیسائیوں سے مقابلہ کیا دوسری طرف ابو عبداللہ کو غرناطہ جانے پر مجبور کر دیا بیٹے کی بغاوت نے ابوالحسن کو بیمار کر دیا اس پر زبردست فالج کا حملہ ہو گیا اس نے غرناطہ کی پشت پناہی چھوڑی اور اپنے بھائی الزاغل کو حکمران بنا کر اسے جنگ جاری رکھنے کا حکم دیا

    الزاغل مسلمانوں کا نجات دہندہ بن جاتا مگر ابو عبداللہ پھر ایک مکروہ کردار لے کر سامنے آتا ہے فرنڈیڈ نے ابو عبداللہ کی خصلت پہچان لی وہ سمجھ گیا ابو عبداللہ مسلمانوں سے زیادہ اپنے اقتدار کا خواہش مند ہے اب فرنڈیڈ نے ابو عبداللہ کو الزاغل اور ابو الحسن کے خلاف استعمال کرنے کا منصوبہ بنایا اور اسے یقین دلایا کہ وہ اسے غرناطہ کا وارث تسلیم کرتا ہے اور غرناطہ کا تخت حاصل کرنے کے لیے اس کی مدد کرے گا

    ادھر جب مالقہ کے مسلمانوں نے یہ صورت حال دیکھی تو ابو عبداللہ کے خلاف بغاوت شروع کر دی اس پر فرنڈیڈ نے مالقہ کا محاصرہ کر لیا اہل مالقہ کی حفاظت کے لیے الزاغل مالقہ کی طرف روانہ ہو گیا غرناطہ خالی دیکھ ابو عبداللہ کو موقع مل گیا اور اس نے غرناطہ پر قبضہ کر لیا یہاں سے اہل غرناطہ درد ناک باب شروع ہوتا ہے

    جس کا انجام اہل اندلس کی مکمل بربادی پر ختم ہواآٹھ سو سال پہلے وہ روشنی جو مسلمان لے کر پورے سپین میں پھیل گئے تھے وہ مسلمان راستہ بھول گئے افراد جب راستے بھول جائیں تو گھرانے برباد ہو جاتے ہیں مگر جب قومیں راستہ بھول جائیں تو سلطنتیں تباہ ہو جاتی ہیں غرناطہ پر ابو عبداللہ کا قبضہ مسلمانوں کی تباہی ثابت ہوایہ دیکھتے ہوئے مالقہ والوں نے فرنڈیڈ سے صلح کر لی اور لوشہ اور مالقہ پر عیسائیوں کا قبضہ ہو گیا

    ابو عبداللہ کو بیٹا کہنے والا مسلمانوں کی خیر خواہی کا دم بھرنے والا اپنے اصلی روپ میں آ گیا اور اس نے ابو عبداللہ سے کہا کہ وہ غرناطہ فرنڈیڈ کے حوالے کر دے ابو عبداللہ کو اپنی غداری کا انجام نظر آنے لگا اور اس نے اہل غرناطہ سے مشورہ کیا اہل غرناطہ موسی اور طارق کے فرزند تھے وہ ڈٹ کر لڑے اور فرنڈیڈ کو شکست فاش کر دیا اب فرنڈیڈ اور ازابیلا نے فیصلہ کن معرکہ کی تیاریاں شروع کر دیں1492کا سال آگیا اور اسی سال موسم گرما میں عیسائیوں کی افواج نے غرناطہ کا محاصرہ کر لیا

    غرناطہ کے شمال میں پہاڑی سلسلہ تھے اور محاصرے کے دوران اہل غرناطہ کو مدد ملتی رہی مگر سردیاں شروع ہوتے ہی پہاڑوں پر برف باری شروع ہو گئی اور غرناطہ کو کمک ملنا بند ہو گئی شہر میں اشیاء خورد نوش کی قلت ہو گئی اہل غرناطہ اب بھی عیسائیوں پر فیصلہ کن حملہ کرنے پر آمادہ تھے غرناطہ کا سپہ سالار ’موسیٰ بن ابی غسان‘ افسانوی شہرت کا حامل کردار تھا

    وہ آخری سپاہی تک لڑنا چاہتا تھامگر ابو عبداللہ ذہنی طور پر شکست قبول کرچکا تھا وہ اور اس کے اکثر امرا فرنڈیڈ سے صلح کا معاہدہ کرنا چاہتے تھے وہ سمجھتے تھے کہ اسی طرح وہ اپنے لیے زیادہ سے زیادہ مراعات حاصل کرسکیں گےامراء سلطنت سازش میں مصروف ہو گئے پس پردہ عیسائیوں سے رابطے قائم کرنے لگے ان سازشی عناصر کا سرغنہ وزیر اعظم غرناطہ ’ابوالقاسم‘ تھا فرنڈیڈنے غرناطہ پر قبضے کی صورت میں اس کوغرناطہ کا اہم عہدہ دینے کا وعدہ کر لیا

    ابو عبداللہ کی ذہنی شکست میں ابو القاسم کا مرکزی کردار تھا بلاآخر ابو عبداللہ نے ابو القاسم کو خفیہ سفارتکاری کی اجازت دے دی صلح کی شرائط طے کرلی گئیں بظاہر ان شرائط میں مسلمانوں کے لیے ہر قسم کا تحفظ یقینی بتایا گیا تھا مگر بعد میں عیسائیوں نے اس پر کتنا عمل کیا وہ ایک حقیقت ہے معاہدے کے تحت ابو عبداللہ کو البشرات کے علاقے میں ایک جاگیر دے دی گئی

    آخر کار وہ تاریخی دن آگیا جسے آج تک تاریخ اسلام کا طالب علم سیاہ دن سے تعبیر کرتے ہیں 2جنوری 1492 کو غرناطہ کی چابیاں ابو عبداللہ نے اپنے ہاتھوں سے فرنڈیڈ اور ازابیلا کو پیش کر دیں پادری اعظم نے قصر الحمراء پر لہراتا صدیوں پرانا پرچم اسلامی اتار کر صلیب کو نصب کروا دیا اس طرح سقوط غرناطہ کے ساتھ ساتھ اندلس میں مسلمانوں کا آٹھ سو سالہ حکمرانی کا سورج بھی غروب ہو گیا

    سو سال کے اندراندرعیسائیوں کے ظلم و ستم کے باعث لاکھوں مسلمان ہجرت کرکے مراکش اور شمالی افریقہ میں آباد ہو گئے ان کے قبائل آج بھی وہاں مہاجر کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں لاکھوں مسلمانوں کا قتل عام ہوا اور بیشمار اہل ایمان عیسائی ظلم و ستم کی وجہ سے عیسائی بن گئے یوں ایک غدار اور بزدل حکمران ابوعبداللہ کی وجہ سے اہل اندلس کو یہ دن دیکھنا پڑا

    ثناء صدیق

  • پاکستان "سود خوری” کا نیا عالمی مرکز،مہنگائی کی اصل وجہ اورسرمایہ کاری کی حقیقت ..محمد عاصم حفیظ

    پاکستان "سود خوری” کا نیا عالمی مرکز،مہنگائی کی اصل وجہ اورسرمایہ کاری کی حقیقت ..محمد عاصم حفیظ

    کیا آپ کو پتہ ہے کہ پاکستان دنیا میں سب سے زیادہ شرح سود والے ممالک میں شامل ہو چکا ۔ روزبروز مہنگائی کیوں بڑھ رہی ہے اور عالمی سرمایہ کاری کی حقیقت کیا ہے آئیے اس صورتحال کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

    پاکستان میں اس وقت مہنگائی کی شرح تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق اس وقت ملک میں مہنگائی کی شرح 19.7 فیصد سے 12.63 فیصد کے درمیان ہے ۔

    مجموعی مہنگائی کی شرح 12.63 فیصد ہے لیکن غذائی اجناس کی مد میں شہری علاقوں میں 16.7 فیصد جبکہ دیہی علاقوں میں 19.7 فیصد مہنگائی کی شرح نوٹ کی کی گئی ہے ۔ مہنگائی کی شرح عالمی سطح پر ٹاپ دس ممالک میں شامل ہے جبکہ پاکستان کا نمبر آٹھواں ہے ۔ اس لسٹ میں زمبابوے جنگ زدہ ہیٹی سوڈان اور ایتھوپیا جیسے ممالک شامل ہیں ۔

    مہنگائی کی شرح میں اس تیزی سے اضافے کے باوجود حکومت ہر ماہ بجلی گیس اور دیگر ایشیائی ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ کر رہی ہے ۔ یہ انتہائی حیران کن ہے کہ کیوں کر حکومت مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے حوالے سے سے کوئی بھی ٹھوس اقدامات نہیں اٹھا رہی۔
    آئیے اس کی سب سے بڑی وجہ سمجھتے ہیں ۔

    حکومت نے گزشتہ بجٹ میں انٹرسٹ ریٹ 13.25 فیصد تک بڑھا دیا تھا جو کہ عالمی سطح پر بلند ترین شرح سود والے ممالک میں شامل ہے۔ پاکستان سے بلند شرح سود والے صرف پانچ سے چھ ممالک ہیں جن میں زمبابوے گھانا ملاوی جیسےممالک شامل ہیں۔

    دوسری جانب مغربی ممالک اور بہت سے ترقی پذیر ممالک بھی شرح سود کم کر رہے ہیں حتی کہ جاپان سمیت کئی ممالک میں شرح سود صفر کردیا گیا ہے۔اب ہو یہ رہا ہے کہ مقامی اور عالمی ساہو کار ۔ امیر افراد اور کمپنیاں جنہیں تیزی سے منافع چاہئے وہ اپنا پیسہ پاکستانی بینکوں میں رکھ رہی ہیں۔

    آپ نے بیرونی و اندرونی سرمایہ کاری میں اضافے کی خبریں پڑھی ہوں گی لیکن دراصل یہ سب کسی صنعتی ۔کاروباری یا معاشی سرگرمی کے لیے نہیں ہو رہا بلکہ صرف بینکوں میں پیسہ رکھا جارہا ہے اور اس کے لیے حکومت نے اب تک کی سب سے بڑی ایمنسٹی سکیم اور سرمایہ کاری میں آسانی کی پالیسی متعارف کرائی ہے ۔

    ملک میں پیسہ تو آ رہا ہے یا مقامی سرمایہ کار جمع کرا رہے ہیں لیکن بدقسمتی سے کوئی بڑا منصوبہ نہیں شروع کیا گیا یا کارخانے نہیں لگ رہے فیکٹری نہیں لگائی جارہیں روزگار کے مواقع نہیں پیدا ہو رہے بلکہ صرف بینکوں میں پیسہ منتقل کرکے بلند شرح سود کے ذریعے منافع کمایا جارہا ہے۔ اب اسی بلند ترین شرح سود کے مطابق منافع دینے کے لیے حکومت ہر ماہ تیل اور گیس اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ کرتی ہے کیونکہ جن بیرونی سرمایہ کاروں نے بینک میں پیسہ رکھا ہے انھیں ہر ماہ اپنا منافع چاہیے۔

    بدقسمتی سے اس سرمایہ کاری سے کوئی بھی مثبت معاشی سرگرمی جنم نہیں لے رہی ۔کیونکہ اگر تو بیرونی سرمایہ کاری سے بڑے منصوبے لگیں فیکٹریاں اور دیگر معاشی سرگرمیاں جنم لیں لوگوں کو روزگار ملے مارکیٹ کے حجم میں اضافہ ہو تو اس سے ملک میں معیشت پر انتہائی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں لیکن ایسا نہیں ہو رہا

    ۔ملکی اور غیر ملکی دونوں قسم کے سرمایہ کار کاروباری و صنعتی سرگرمیوں کی بجائے بینکوں میں رقم رکھ کر اتنا منافع کما رہے ہیں جو کہ انہیں اصل مارکیٹ میں تجارت و صنعتت سے بھی حاصل نہیں ہوگا۔ دوسری جانب یہ حقیقی سرمایہ کاری نہیں ہے یہ سرمایہ کار جب چاہیں گے اپنی رقم نکال کر بیرون ملک لے جائیں گے جس سے مزید معاشی نقصان ہوگا۔ کیونکہ یہ کاروبار کے لیے نہیں آئے ان کی کوئی فیکٹری کارخانہ پراجیکٹ زمین پر موجود ہی نہیں ہے کہ جس کو سنبھالنا ان کے لیے مسئلہ بنے ۔ بس ایک بنک کی ٹرانزیکشن سے وہ اپنا سرمایہ واپس لے لیں گے ۔

    دنیابھر کے ممالک شرح سود کو کنٹرول کرتے ہیں بینک کا منافع کبھی بھی اتنا نہیں بڑھنے دیتے جس سے صنعت و تجارت متاثر ہو اور سرمایہ کار یہ سوچنے پر مجبور ہوں کہ وہ مارکیٹ میں پیسہ لگانے کی بجائے صرف بینک میں رکھ کر بڑا منافع کما سکتا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں یہی ہو رہا ہے ۔ بیرونی سرمایہ کاری کے لیے شرائط میں کہیں بھی صنعت و تجارت کے شعبے میں پیسہ لگانے کی ترویج نہیں کی گئی کوئی شرط نہیں لگائی گئی جس کی وجہ سے سرمایہ کار اپنا پیسہ بینکوں میں رکھ رہے ہیں اور دنیا کے بلند ترین شرح سود کے منافع سے مستفید ہو رہے ہیں۔ دنیا بھر میں یہ اصول ہے کہ سرمایہ کاری کے لیے شعبہ جات مختص کیے جاتے ہیں اور سرمایہ کاروں کو مخصوص شعبہ جات میں ہی سرمایہ کاری کی اجازت دی جاتی ہے۔

    معاشی حوالے سے یہ انتہائی خطرناک صورتحال ہے کیونکہ بلند ترین شرح سود کے منافع کی ادائیگی کے لیے یے مہنگائی کی شرح میں میں روزانہ کی بنیاد پر پر اضافہ کرنا پڑتا ہے ہے غریب عوام سے سے بجلی و گیس کے بلوں پیٹرول و ادویات اشیائے خوردونوش کی مدت میں پیسہ اکٹھا کرکے سرمایہ کاروں کو منافع دیا جا رہا ہے۔

    حکومت کو اپنی پالیسی بدلنی ہوگی شرح سود کو کم کرنا ہوگا اور سرمایہ کاروں کو اس بات کا پابند کیا جائے کہ وہ صنعت و تجارت کے میدان میں سرمایہ کاری کریں صرف یہی صورت ہے جس سے ہم بڑھتی ہوئی مہنگائی کو کنٹرول کر سکتے ہیں اور عوام کو تھوڑا بہت روزگار و ریلیف مل سکتا ہے۔معیشت کو سود کی ترویج کےلئے استعمال کرنے کی بجائے سود سے بچنا بہترین ہیں کیونکہ کہ اللہ تعالی کے ساتھ جنگ ہے اور یہ کبھی بھی مفید نہیں ہو سکتا ۔

    پاکستان "سود خوری” کا نیا عالمی مرکز ۔ مہنگائی کی اصل وجہ اور سرمایہ کاری کی حقیقت ….محمد عاصم حفیظ

    (ذرا سی بات ۔۔ محمد عاصم حفیظ )

  • ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ 2020 کا شیڈول جاری

    ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ 2020 کا شیڈول جاری

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ نے ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ 2020 کے شیڈول کا اعلان کردیا ہے۔تفصیلات کے مطابق 20 فروری سے 22 مارچ تک جاری رہنے والےٹورنامنٹ کے تمام میچز پاکستان میں کھیلے جائیں گے۔ ایونٹ میں شامل 34 میچز ملک بھر کے 4 مختلف مقامات پر کھیلے جائیں گے۔

    ایچ بی ایل پی ایس ایل 2020 کے آغاز میں 50 روز باقی رہ جانے پر پی سی بی کی جانب سے ایونٹ کے مکمل شیڈول کا اعلان کردیا گیا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس دن کی مناسبت سے قومی کرکٹ کے گڑھ، قذافی اسٹیڈیم لاہور کے داخلی دروازے کے باہر ایک کاؤنٹ ڈاؤن کلاک بھی لگایا ہے۔

    ایچ بی ایل پی ایس ایل 2020 کا افتتاحی میچ دفاعی چیمپئن کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور دو مرتبہ کی چیمپئن اسلام آباد یونائیٹڈ کی ٹیموں کے درمیان نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں کھیلا جائے گا۔ لیگ کے پانچویں ایڈیشن کا فائنل 22 مارچ کو قذافی اسٹیڈیم لاہور میں ہوگا۔

    ایونٹ کا واحد کوالیفائر نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں کھیلا جائے گا جبکہ دونوں ایلیمنٹرز اورفائنل کی میزبانی قذافی اسٹیڈیم لاہور کے سپرد کی گئی ہے۔

    چونتیس میچوں پر مشتمل ایونٹ کے 14 میچز قذافی اسٹیڈیم لاہور ، 9 نیشنل اسٹیڈیم کراچی، 8 پنڈی کرکٹ اسٹیڈیم راولپنڈی اور 3 ملتان کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے جائیں گے۔

    شیڈول کے مطابق دفاعی چیمپئن کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اپنے 4 میچز کراچی، 3 لاہور 2 راولپنڈی اور 1 ملتان میں کھیلے گی۔پشاور زلمی آئندہ ایڈیشن میں اپنے 5 میچز راولپنڈی،3 کراچی جبکہ 1،1 لاہور اور ملتان میں کھیلے گی۔

    ایچ بی ایل پی ایس ایل 2020میں اسلام آباد یونائیٹڈ اپنے 5 میچز راولپنڈی، 3 لاہور اور 2 کراچی میں کھیلے گی۔ کراچی کنگز اپنے 5 میچز کراچی، 2،2 لاہور اور راولپنڈی جبکہ ایک ملتان میں کھیلے گی۔

    تفصیلات کے مطابق لیگ کے پانچویں ایڈیشن میں ملتان سلطانز اپنے 5 میچز لاہور، 3 ملتان جبکہ 1،1 راولپنڈی اور کراچی میں کھیلے گی۔ لاہور قلندرز اپنے 8 میچز لاہور جبکہ 1،1 کراچی اور راولپنڈی میں کھیلے گی۔

    احسان مانی، چیئرمین پی سی بی:

    چیئرمین پی سی بی احسان مانی کا کہنا ہے کہ ملک میں ٹیسٹ کرکٹ کی میزبانی کے بعد ایچ بی ایل پی ایس ایل کے تمام میچز کا پاکستان میں انعقاد پاکستان کرکٹ بورڈ کی بڑی کامیابی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ لیگ کی پاکستان ہے اور اس کے تمام میچز ہوم گراؤنڈز پر ہی کھیلے جانے چاہیے۔ احسان مانی نے کہا کہ گذشتہ ایڈیشن کے اختتام پر انہوں نے پاکستانی عوام سے وعدہ کیا تھا کہ ایچ بی ایل پی ایس ایل 2020 کے تمام میچز پاکستان میں ہوں گے اور آج وہ وعدہ وفا ہورہا ہے۔

    چیئرمین پی سی بی احسان مانی نے کہا کہ ایچ بی ایل پی ایس ایل 2020 میں 36 غیرملکی کھلاڑی شرکت کررہے ہیں، لیگ کے پانچویں ایڈیشن کے لیے 425 غیرملکی کھلاڑیوں نے رجسٹریشن کروائی تھی جس میں بنگلہ دیش کے 23، افغانستان کے 39، انگلینڈ کے 109، آسٹریلیا کے 12، جنوبی افریقہ کے 27، سری لنکا کے 39، نیوزی لینڈ کے 11، ویسٹ انڈیز کے 82، زمباوے کے9، امریکہ کے 6، متحدہ عرب امارات کے 9، سنگاپور کے 4، سکاٹ لینڈ کے 5، اومان کے 9، نیدرلینڈز کے 7نیپال کے 8، آئرلینڈ کے 6، کینیڈا کے 10، ہانگ کانگ کے 7 جبکہ برمودا، کینیا اور نمبیا کا ایک ایک کھلاڑی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غیرملکی کھلاڑیوں کی اس تعداد میں رجسٹریشن کروانے سے دنیا بھر میں یہ مثبت پیغام گیا ہے کہ پاکستان ایک پرامن اور محفوظ ملک ہے۔چیئرمین پی سی بی نے مزید کہا کہ اس ایونٹ کے انعقاد سے معیشت اور سیاحت کو فروغ ملے گا جو ملک کی مجموعی ترقی میں معاون ثابت ہوگا۔

    احسان مانی نے کہا کہ لیگ کے پانچویں ایڈیشن کا انعقاد ملک میں موجود کرکٹ کے مداحوں کو ایک طویل انتظار کے بعد اپنے پسندیدہ کرکٹرز کو ایکشن میں دیکھنے کا موقع فراہم کرے گا۔وہ پرامید ہیں کہ گذشتہ سال کی طرح رواں سال بھی ہر پاکستانی اس ایونٹ کے انعقاد کو کامیاب بنانے میں اپنا کردار ادا کریں گا اوراس دوران شائقینِ کرکٹ کی ایک بڑی تعداد اسٹیڈیمز کا رخ کرے گی۔

    چیئرمین پی سی بی احسان مانی نے کہا کہ شیڈول کے اعلان کے ساتھ ہی پاکستان کرکٹ بورڈ بھی کھلاڑیوں، کمرشل پارٹنرز، میڈیا اورمداحوں سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کو بہترین سہولیات فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ مقامی انتظامیہ اور سیکورٹی ایجنسیز کے تعاون کے مشکور ہیں جنہوں نے ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ کو مکمل طور پر پاکستان لانے میں پاکستان کرکٹ بورڈ کی بھرپور مدد کی ۔

    شیڈول:

    20 فروری:

    کوئٹہ گلیڈی ایٹرز بمقابلہ اسلام آباد یونائیٹڈ بمقام نیشنل اسٹیڈیم کراچی (میچ کےآغاز کا وقت جلد جاری کردیا جائے گا)

    21 فروری :

    دوپہر 2 تا شام 5:15بجے: کراچی کنگز بمقابلہ پشاور زلمی بمقام نیشنل اسٹیڈیم کراچی
    شام 7 تا رات 10:15 بجے: لاہور قلندرز بمقابلہ ملتان سلطانزبمقام قذافی اسٹیڈیم لاہور

    22 فروری:

    دوپہر 2 تا شام 5:15بجے: کوئٹہ گلیڈی ایٹرز بمقابلہ پشاور زلمی بمقام نیشنل اسٹیڈیم کراچی
    شام 7 تا رات 10:15 بجے: اسلام آباد یونائیٹڈ بمقابلہ ملتان سلطانزبمقام قذافی اسٹیڈیم لاہور

    23 فروری:

    دوپہر 2 تا شام 5:15بجے: کراچی کنگز بمقابلہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز بمقام نیشنل اسٹیڈیم کراچی
    شام 7 تا رات 10:15 بجے: لاہور قلندرز بمقابلہ اسلام آباد یونائیٹڈبمقام قذافی اسٹیڈیم لاہور

    26 فروری:

    شام 7 تا رات 10:15 بجے: ملتان سلطانز بمقابلہ پشاور زلمی بمقام ملتان کرکٹ اسٹیڈیم

    27 فروری:

    شام 7 تا رات 10:15 بجے: اسلام آباد یونائیٹڈ بمقابلہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز بمقام پنڈی اسٹیڈیم راولپنڈی

    28 فروری:

    دوپہر 2 تا شام 5:15بجے: ملتان سلطانز بمقابلہ کراچی کنگز بمقام ملتان کرکٹ اسٹیڈیم
    شام 7 تا رات 10:15 بجے: پشاور زلمی بمقابلہ لاہور قلندرز بمقام پنڈی اسٹیڈیم راولپنڈی

    29 فروری:

    دوپہر 2 تا شام 5:15بجے: ملتان سلطانز بمقابلہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز بمقام ملتان کرکٹ اسٹیڈیم
    شام 7 تا رات 10:15 بجے: اسلام آباد یونائیٹڈ بمقابلہ پشاور زلمی بمقام پنڈی اسٹیڈیم راولپنڈی

    یکم مارچ:

    شام 7 تا رات 10:15 بجے: اسلام آباد یونائیٹڈ بمقابلہ کراچی کنگز بمقام پنڈی اسٹیڈیم راولپنڈی

    2 مارچ:

    شام 7 تا رات 10:15 بجے: پشاور زلمی بمقابلہ کراچی کنگز بمقام پنڈی اسٹیڈیم راولپنڈی

    3 مارچ:

    شام 7 تا رات 10:15 بجے: کوئٹہ گلیڈی ایٹرز بمقابلہ لاہور قلندرز بمقام قذافی اسٹیڈیم لاہور

    4 مارچ:

    شام 7 تا رات 10:15 بجے: اسلام آباد یونائیٹڈ بمقابلہ لاہور قلندرز بمقام قذافی اسٹیڈیم لاہور

    5 مارچ:

    شام 7 تا رات 10:15 بجے: پشاور زلمی بمقابلہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز بمقام پنڈی اسٹیڈیم راولپنڈی

    6 مارچ:

    شام 7 تا رات 10:15 بجے: کراچی کنگز بمقابلہ ملتان سلطانز بمقام قذافی اسٹیڈیم لاہور

    7 مارچ:

    دوپہر 2 تا شام 5:15: پشاور زلمی بمقابلہ اسلام آباد یونائیٹڈ بمقام پنڈی اسٹیڈیم راولپنڈی
    شام 7 تا رات 10:15 بجے: لاہور قلندرز بمقابلہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز بمقام قذافی اسٹیڈیم لاہور

    8 مارچ:

    دوپہر 2 تا شام 5:15بجے: ملتان سلطانز بمقابلہ اسلام آباد یونائیٹڈ بمقام پنڈی اسٹیڈیم راولپنڈی
    شام 7 تا رات 10:15 بجے: لاہور قلندرز بمقابلہ کراچی کنگز بمقام قذافی اسٹیڈیم لاہور

    10 مارچ:

    شام 7 تا رات 10:15 بجے: لاہور قلندرز بمقابلہ پشاور زلمی بمقام قذافی اسٹیڈیم لاہور

    11 مارچ:

    شام 7 تا رات 10:15 بجے: کوئٹہ گلیڈی ایٹرز بمقابلہ ملتان سلطانز بمقام قذافی اسٹیڈیم لاہور

    12 مارچ:

    شام 7 تا رات 10:15 بجے: کراچی کنگز بمقابلہ لاہور قلندرز بمقام نیشنل اسٹیڈیم کراچی

    13 مارچ:

    شام 7 تا رات 10:15 بجے: پشاور زلمی بمقابلہ ملتان سلطانز بمقام نیشنل اسٹیڈیم کراچی

    14 مارچ:

    شام 7 تا رات 10:15 بجے: کراچی کنگز بمقابلہ اسلام آباد یونائیٹڈ بمقام نیشنل اسٹیڈیم کراچی

    15 مارچ:

    دوپہر 2 تا شام 5:15بجے: ملتان سلطانز بمقابلہ لاہور قلندرز بمقام قذافی اسٹیڈیم لاہور
    شام 7 تا رات 10:15 بجے: کوئٹہ گلیڈی ایٹرز بمقابلہ کراچی کنگز بمقام نیشنل اسٹیڈیم کراچی

    17 مارچ:

    شام 7 تا رات 10:15 بجے: کوالیفائر (ون بمقابلہ ٹو) بمقام نیشنل اسٹیڈیم کراچی

    18 مارچ:

    شام 7 تا رات 10:15 بجے: ایلیمنٹر ون (تھری بمقابلہ فور) بمقام قذافی اسٹیڈیم لاہور

    20 مارچ:

    شام 7 تا رات 10:15 بجے: ایلیمنٹر ٹو (کوالیفائر کی لوزر بمقابلہ ایلیمنٹر کی ونر) بمقام قذافی اسٹیڈیم لاہور

    22 مارچ:

    فائنل بمقام قذافی اسٹیڈیم لاہور (میچ کےآغاز کا وقت جلد جاری کردیا جائے گا)

    ایچ بی ایل پی ایس ایل 2020 کے بارے میں:

    • ہر اسکواڈ میں کم از کم 16 اور زیادہ سے زیادہ 18 کھلاڑی شامل ہوں گے۔ اسکواڈ میں شامل کھلاڑیوں کی ترتیب کچھ یوں ہیں: تین پلاٹینم، تین ڈائمنڈ، تین گولڈ، پانچ سلور، دو ایمرجنگ اور دو سپلمنٹری(اختیاری)۔
    • 16 رکنی اسکواڈ میں 11 مقامی اور 5 غیرملکی کھلاڑیوں کی شمولیت لازمی ہوگی تاہم 18 رکنی اسکواڈ میں کھلاڑیوں کی ترتیب 2 آرڈر میں کی جاسکتی ہے۔اسکواڈ میں یا تو 12 مقامی اور 6 غیرملکی کھلاڑی ہوں گے یا پھر 13 مقامی اور 5 غیرملکی کھلاڑی شامل ہوں گے۔
    • پلیئنگ الیون میں کم از کم 3 اور زیادہ سے زیادہ 4غیرملکی کھلاڑیوں کی شرکت لازمی ہوگی۔
    • ہر فرنچائز ایک کھلاڑی کوایمبسڈر ز اور ایک کو مینٹورز مقرر کرسکتی ہے۔
    • نظرثانی شدہ سیلری کیپس:
    • پلاٹینم: 23 ملین – 34 ملین پاکستانی روپے( 147 ہزار تا218 ہزارامریکی ر ڈالر)
    • ڈائمنڈ: 11.5ملین – 16 ملین پاکستانی روپے( 73 ہزار تا103 ہزارامریکی ر ڈالر)
    • گولڈ: 6.9ملین – 8.9ملین پاکستانی روپے( 44ہزار تا58 ہزارامریکی ر ڈالر)
    • سلور: 2.4 ملین – 5.4ملین پاکستانی روپے( 15 ہزار تا35 ہزارامریکی ر ڈالر)
    • ایمرجنگ: 1ملین – 1.5ملین پاکستان روپے( 6.5ہزار تا9.5 ہزارامریکی ر ڈالر)

  • بی پی ایل کے میچ کا سنسنی خیز مقابلہ، آخری گیند پر ہوا فیصلہ

    بی پی ایل کے میچ کا سنسنی خیز مقابلہ، آخری گیند پر ہوا فیصلہ

    بی پی ایل کے میچ کا سنسنی خیز مقابلہ، آخری گیند پر ہوا فیصلہ

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق بنگلادیش پریمیئر لیگ (بی پی ایل) میں کومیلا واریئرز نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد چٹوگرام چیلنجرز کو دو وکٹ سے شکست دے دی، میچ کا فیصلہ آخری گیند پر ہوا۔ میچ جیو سوپر سے براہ راست نشر کیا گیا۔

    ڈھاکا میں کھیلے گئے میچ میں چٹوگرام چیلنجرز نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں 6 وکٹ پر 159 رنز بنائے۔لینڈل سمنز 54 رنز بناکر نمایاں رہے، جنید صدیق نے 45 اور ضیاء الرحمٰن نے 34 رنز بنائے۔کومیلا واریئرز کے سومیا سرکار نے دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

    مین آف دی میچ ڈیوڈ ملان نے 74 رنز کی شاندار اننگز کی بدولت کومیلا واریئرز نے ہدف آخری گیند پر حاصل کیا۔چٹوگرام چیلنجرز کی جانب سے روبیل حسین نے دو وکٹیں حاصل کیں۔بنگلادیش پریمیئر لیگ (بی پی ایل) کے تمام میچز جیو سوپر سے براہِ راست نشر کیے جارہے ہیں۔واضح رہے کہ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) نے پاکستان میں ٹیسٹ سیریز کھیلنے سے انکار کر دیا تھا. جبکہ پاکستان کے چند کھلاڑی بی پی ایل میں کھیل رہے ہیں.

  • احتساب اور نیا سال ، تحریر اعظم  فاروق

    احتساب اور نیا سال ، تحریر اعظم فاروق

    احتساب اور نیا سال
    ازقلم:اعظم فاروق
    آج 2019 کئی یادوں کے ساتھ جدا ہونے کو ہے اس سال کے اندر کئی ہمارے عزیز و اقارب ہم سے جدا ہو چکے ہیں. کئی لوگوں کے لیے یہ سال بہت اچھا گزرا ہو گا اور کچھ لوگوں کے لیے باعثِ زحمت بھی ہو سکتا ہے.
    دنیا کے اندر کئی نظام موجود ہیں اور ہر نظام کو چلانے کے لیے احتساب کا نظام بھی بنایا گیا ہے تاکہ سسٹم کی روانی کو یقینی بنایا جائے اسی طرح ہمارے ملک پاکستان کے اندر بھی ایک احتساب کا سسٹم موجود ہے اور آجکل احتساب کا بازار بہت گرم ہے ہر آتے دن کے ساتھ سیاستدانوں کو کرپشن کے الزامات میں قید وبند کیا جا رہا ہے کو ئی اس کو سیاسی انتقام کہہ رہا ہے اور کوئی کچھ. مگر ملزمان ایک بات ہی کہہ رہے ہیں ہم بے قصور ہیں. اور اس احتسابی عمل کے دوران ہم عوام نے کم وبیش 40 سال ردی کی ٹوکری کی نذر کئے. کیونکہ اس سے کوئی خاطر خواہ نتائج حاصل نہیں ہوئے. یہ کام ریاست کا ہے ہمارا نہیں
    ہمیں حکومت پہ ٹکٹکی باندھے رکھنے کی بجائے دوسروں کے احتساب کا انتظار کیے بغیر ہمیں اپنا احتساب کرنا چاہیئے
    ہر فرد کی خواہش ہے دوسرا ٹھیک ہو مجھے کوئی کچھ نہ کہے. کاروباری افراد اپنا گھراؤ کریں کیا میں ٹیکس ادا کر رہا ہوں؟ طلباء اپنی تعلیمی کارکردگی کا محاسبہ کریں. حتیٰ کہ ایک عام شہری اپنے فرائض کا جائزہ لے تو کافی حد تک اس معاشرے سے خرافات کا خاتمہ ہو سکتا ہے
    آج 2019 بھی ہماری زندگی سے نکل گیا اور ہم جشن منا رہے ہیں اوہ بھئی کس بات کا جشن؟
    جشن دو صورت میں ہی ہو سکتا ہے
    ہماری زندگی میں ایک سال کا اضافہ ہوا حالانکہ ایسا نہیں ہوا بلکہ ایک سال کم ہوا ہے
    دوسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ جو قدرت نے ہماری ذمہ داری لگائی تھی وہ ہم نے اس سال کے اندر مکمل کی ہیں تو یہ بات بھی ناممکن ہے
    تو پھر جشن کیوں….؟
    ذرا سوچیں ہماری زندگی سے ایک اور سال کم ہو گیا تو جشن کی بجائے ہم اپنا محاسبہ خود کریں کیونکہ یوم فرقان کے دن ہر روح اپنی جواب دہ ہو گی.
    جشن کی بجائے ہم یہ دیکھیں کہ گزشتہ سال میں ہم
    نے
    کیا رب کی بندگی کی ہے؟
    انسان ہو نے کہ ناطہ انسانیت کے لئے کیا کیا؟
    اپنے آپ کو کتنا جنت کے قریب کیا؟
    اپنے آپ کو کتنا بئس المصیر سے دور کیا؟
    معاشرے کے لئے کیا کردار ادا کیا؟
    بلکہ یہ محاسبہ تو روزانہ کی بنیاد پر ہونا چاہیے تاکہ انسان اَدھر اُدھر بھٹکنے کی بجائے اپنا کام احسن طریقے سے کرے.
    اگر یہ والی سوچ ہر فرد کے اندر پیدا ہو جائے کہ میں جو کروں گا اس کا خود جوابدہ ہوں تو یہ نیب جیسے ادارے کی بھی ضرورت نہ پڑے اور ایک اچھا معاشرہ تشکیل پا سکتا ہے.
    تو آئیے اس نئے سال کے موقع پر اپنا محاسبہ کریں
    گزشتہ سال میں کیا کمایا
    روٹھے لوگوں کو منائیں
    اپنے آپ کو اپنے رب کے قریب کریں
    گزشتہ سال کی ناکامیوں کا اعتراف کرتے ہوئے ان کی اصلاح کی کوشش کریں تاکہ اگلا سال بھی ناکامیوں کی نذر نہ ہو جائے کیونکہ وقت کبھی رکتا نہیں یہ چلتا رہتا ہے اس وقت کو سب سے قیمتی جانتے ہوئے
    آئندہ سال کے اہداف کا تعین کریں تا کہ ملک وقوم کے لیے تعمیری کردار ادا کر سکیں اور اپنے رب کے حضور پیش ہوتے وقت شرمندگی کا سامنا نہ ہو

  • پکار مظلوم کشمیری بہن اور کردار محمد بن قاسم!!!  تحریر: غنی محمود قصوری

    پکار مظلوم کشمیری بہن اور کردار محمد بن قاسم!!! تحریر: غنی محمود قصوری

    ہم بفضل تعالی مسلمان ہیں اور ہمارا ایمان ایک نبی آخرالزمان جناب محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ہے اور جو ہمارے پیارے نبی نے فرما دیا وہ کبھی جھوٹ نہیں ہو سکتا میرے نبی نے بڑی محنت اور قربانیوں سے اپنے اصحاب کی جماعت بنائی اور اس کی خالص نبوی منہج پر تربیت کی اور پھر اسی جماعت اصحاب نے مسلمان تو مسلمان کفار کی بھی مدد کی جس کی بہت واضع اور مشہور مثال حجاج بن یوسف کا اپنے 17 سالہ کمانڈر بتیجھے محمد بن قاسم کو ایک ہندو عورت کی پکار پر عرب سے ہند پر یلغار کیلئے بھیجنا ہے
    میرے نبی نے اپنی فتوحات میں کفار کو عام معافیاں دیں اور پھر ان معافیوں کے عیوض بہت سے کفار مسلمان ہو گئے اور کچھ احسان فراموش معافی مانگ کر بوقت جنگ میرے نبی کے مقابلے میں پھر میدان کار زار میں مدمقابل بھی آتے رہے مگر تاریخ گواہ ہے انہوں نے ہمیشہ منہ کی کھائی میرے نبی سے زیادہ ان کفار کو کوئی نہیں جانتا اسی لئے فرمان نبوی ہے
    الکفر ملت واحدہ یعنی کفر ایک جماعت ہے ایک ملت و واحدت ہے کافر دنیا کے کسی کونے کا ہو یا پھر کسی بھی رنگ و نسل یا مذہب سے ہو وہ سب یکجان ہو کر مسلمانوں پر ظلم کرتے آئے ہیں اور کر بھی رہے ہیں جس کی تازہ ترین مثال کشمیر میں ہندوستان کا فلسطین میں اسرائیل اور افغانستان ، عراق ،شام غرضیکہ دنیا کا کوئی بھی خطہ ہو اور ظلم بھی مسلمانوں پر ہو اس میں امریکہ کا کردار سرفہرست ہے
    ایک بہت مشہور نعرہ ہے رو زمین کے تین شیطان امریکہ ،اسرائیل ہندوستان
    اگر دیکھا جائے تو اس نعرے میں رتی بھر بھی شک نہیں کہ درج بالا تینوں ممالک شیطان کے خالص پیروکار اور بے شرمی و بے حیائی میں سب سے اوپر ہیں آج امریکہ بین المذاہبی ہم آہنگی کا نعرہ لگانے والا بھی ہے اور اسی بین المذاہبی ہم آہنگی کو پاش پاش کرنے والا بھی یہی امریکہ ہی ہے آپ دیکھ لیجئے 148 روز سے مظلوم کشمیریوں پر ہندو ظالم کا ظالم جاری ہے کشمیری مسلمان سخت سردی میں بغیر ادویات و خوراک کے اپنے گھروں میں محصور ہیں تمام حریت قیادت جیلوں میں ہے
    کاروبار زندگی معطل ہے سکول و کالجز بند ہیں مذید ستم کہ لینڈ لائن و موبائل فون سروس کیساتھ انٹرنیٹ سروس بھی بند ہے مگر کیا مجال امریکہ منافق کی کہ جو منہ سے پھوٹا ہو کہ یہ ظلم ہے یہ شدت پسندی و دہشت گردی ہے مگر اس کے برعکس ظالم ہندو فوج سے برسربیکار مجاھدین کی راہ میں جب بھی رکاوٹ ڈالی اسی امریکہ نے ڈالی امریکہ کے علاوہ اسرائیل بھی انڈیا کیساتھ مل کر مظلوم کشمیریوں پر ظلم کر رہا ہے کئی بار اسرائیلی بلیک کیٹ کمانڈوز کی مقبوضہ وادی کشمیر میں موجودگی کا انکشاف ہوا اور 27 فروی کو پاکستانی ائیر فورس کے ہاتھوں تباہ ہونے والے ایک طیارے کا پائلٹ بھی اسرائیلی تھا
    یہ ظالم کافر جب بھی کسی مسلمان ملک پر ظلم کرتے ہیں سب مل کر کرتے ہیں مگر افسوس تو عالم اسلام پر ہے کہ جو حیرت انگیز طور پر مظلوم کشمیریوں کے حق میں چند بول ہی بول سکے ورنہ عملا تو کچھ بھی نہیں حالانکہ میرے پیارے نبی کریم کا ارشاد ہے کہ مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں یعنی جب جسم کے کسی حصے کو دکھ درد ہوگا تو دوسرا حصہ بھی وہ دکھ درد محسوس کرے گا مگر افسوس صد افسوس کہ ہم نے درد کو محسوس کرنا صرف بیان بازی سمجھ لیا حالانکہ میرے نبی کی سنت پر عمل کرتے ہوئے پاکستان نے عرب اسرائیل جنگ میں اپنی فضائیہ کی مدد سے اسرائیل کے اندر گھس کر اس کا خواب چکنا چور کیا پھر 80 کی دہائی میں روس کے خلاف لڑ کر روس کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے عالم اسلام کو بتایا کہ مسلمان کس طرح ایک جسم کی مانند ہیں ابھی حال ہی میں ایک بار پھر امریکہ کی افغانستان میں قبر بنا کر عالم اسلام کو بتایا کہ ایک جسم کی مانند ایسے ہوتے ہیں خالی نعروں للکاروں سے نہیں بلکہ عملا کچھ کرنا پڑتا ہے یاد رکھوں عالم اسلام کے حکمرانوں کل روز قیامت کشمیریوں کی بے بسی پر تمہاری مجرمانہ خاموشی تمہیں لے ڈوبے گی مگر بفضل تعالی پاکستان نے کل 48 میں بھی کشمیریوں کی مدد کیلئے اپنی افواج چڑھائی تھی پھر 65،71 کی جنگیں بھی انڈیا نے پاکستان سے اس لئے لڑیں کیونکہ پوری دنیا میں اللہ کے بعد کشمیریوں کا مددگار پاکستان ہی ہے پھر 1999 میں پاکستان نے کشمیری کی آزادی کیلئے ہی کارگل جنگ کی اب رواں سال 27 فروری 2019 میں بھارت کی طرف سے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کے بعد بھارت کے گھر میں گھس کر اسے مارنا بھی آزادی کشمیر کی آزادی کی طرف ایک کاوش ہی ہے
    سنو عالم اسلام کے حکمرانوں پاکستان نے نبی ذیشان کے فرمان ،مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں، پر عمل کرتے ہوئے امریکہ،اسرائیل ہندوستان کے علاوہ روس تک کو بتلا دیا کہ ہم اپنے نبی کے فرمان پر جان بھی قربان کرنے والے ہیں مگر فلسطین ،شام و افغانستان اور خصوصی طور پر اہلیان مقبوضہ کشمیر تم سے پوچھ رہے ہیں کہ ہم ایک جسم ہیں پھر تم درد محسوس کیوں نہیں کرتے ؟ اور روز قیامت تمہیں جواب دینا ہوگا اپنی چپ کا حساب دینا ہوگا ان شاءاللہ پاکستان تو عملا جان و مال پیش کر چکا اور کر بھی رہا ہے تم اپنی عیاشیوں سے نکل کر دیکھو تم نے کیا کرنا ہے اور کیا کر چکے اسلام کے نام لیوا کھوکھلے مسلمان حکمرانوں دیکھ لو آج اسرائیل و امریکہ کو پاکستان سے صرف یہی عداوت ہے اس ارض مقدس نے اپنے مسلمان بھائیوں کی مدد کی خاطر اسرائیل و امریکہ سے ٹکر لی بلکہ حال ہی میں محمد بن قاسم کی طرح خطے کے لئے بہت بڑے خطرے تامل ٹائیگرز کو ختم کرکے غیر مذہب کی بھی مدد کی
    افسوس عرب کے عیاش حکمرانوں تم محمد بن قاسم کی نسل سے ہوکر بھی ہند کے کشمیر کی مظلوم بیٹیوں کی پکار نا سن سکے ہاں مگر ابن قاسم کی سنت زندہ کرنے کیلئے پاکستان ہے ان شاءاللہ

  • سقوط غرناطہ اور قوانین شہریت ۔  (تحریر سجاد ظہیر )

    سقوط غرناطہ اور قوانین شہریت ۔ (تحریر سجاد ظہیر )

    سقوط غرناطہ اور قوانین شہریت ۔ (تحریر سجاد ظہیر )

    اسلامی تاریخ کے الم ناک برسوں میں سے ایک زوال غرناطہ کا سال 1492 ہے ۔ساڑھے سات سو سال حکومت کرنے کے بعد، پورے اندلس میں صرف غرناطہ وہ شہر تھا جہاں مسلمانوں کی حکومت باقی بچی رہی تھی ۔شمال کی عیسائی ریاستیں رفتہ رفتہ جنوب میں، مسلمانوں کے ایک ایک علاقے پر قبضہ کرتی رہیں، سب سے پہلا شہر جو مسلمانوں کے ہاتھ سے نکلا وہ طلیطلہ Toledo تھا اور دو سو سال بعد جو آخری شہر مسلمانوں کے ہاتھ سے گیا وہ غرناطہ تھا ۔
    اس کے بعد غرناطہ کے مسلمانوں پر جس طرح عرصہ حیات تنگ کیا گیا، وہ مسیحی تاریخ کا تاریک ترین باب ہے۔جب مسلمانوں نے اندلس فتح کیا تھا تو یہاں کی عیسائی اور یہودی ابادیوں کے ساتھ جو انتہائی روادارانہ برتاو کیا وہ مسلم تاریخ کا درخشاں باب ہے ۔جس پر سیک مسلمان آج بھی فخر کر سکتا ہے ۔
    سقوط غرناطہ کے بعد عیسائ بادشاہ فرڈینینڈ اور اس کی بیوی ازابیلا نے ابتدا یہ کوشش کی کہ مسلمان خود ہی عیسائیت اختیار کر لیں ،لیکن جب مسلمانوں نے ترک مذہب کو رد کر دیا تو مختلف مواقع پر مختلف قوانین شہریت بنا کر مسلمانوں کو اسپین سے مٹا دیا گیا ۔
    1499 میں پہلا شاہی فرمان یہ آیا کہ جو مسلمان، عیسائیت قبول نہیں کرتا اسے اسپین سے نکل جانا ہو گا ۔لہذا مسلمانوں کی جمعیت کی جمعیتیں شمالی افریقہ کی طرف ہجرت پر مجبور ہوئیں ۔۔۔یہ پر امن ہجرت نہیں تھی ۔۔۔طول طویل راستوں میں مہاجرین کے یہ قافلے لوٹ لئے جاتے ۔۔۔۔۔مزاحمت کی صورت میں قتل عام ہو جاتا ۔ جو لوگ لوٹ مار اور قتل و غارتگری سے بچ جاتے، وہ موسم کے شدائد،بھوک پیاس اور بیماریوں سے مر جاتے ۔
    اسپین سے صرف مسلمانوں کو ہی بے دخل نہیں کیا گیا بلکہ یہ حکم یہودیوں کے لئے بھی تھا ۔یہودی چونکہ اندلس کے معاشرے کا سب سے متمول طبقہ تھے لہذا انہوں نے تجارتی کشتیوں پر اجتماعی نقل مکانی کی اور یورپی ممالک کی طرف چلے گئے ۔اس زمانے میں مشرقی یورپ کے بیشتر ممالک سلطنت عثمانیہ کے زیر تسلط تھے لہذا یہ مسلمان عثمانی خلیفہ کی اجازت سے ترکی اور مشرقی یورپ میں آباد ہو گئے ۔
    1524 کے لگ بھگ غرناطہ میں "مذہبی تفتیشی عدالتیں "قائم کی گئیں ۔ ہجرت نہ کرنے والے مسلمانوں کو ان عدالتوں میں پیش کیا جاتا، اگر وہ جج کے سامنے عیسائیت قبول کر لیتے تو ان کے پورے خاندان کو بپتسمہ دے دیا جاتا دوسری صورت میں انہیں آگ کے الاو میں پھینک دیا جاتا ۔ان عدالتوں کے فیصلوں کے مطابق ایک دو نہیں ہزاروں مسلمانوں کو باب الرہلہ کے چوک پر اسی غرض سے بھڑکائے جانے والے الاو میں پھینک دیا جاتا اور وہ بھسم ہو جاتے ۔یہ واقعات مسلمان مورخین ہی نے نہیں بلکہ اسکاٹ اور گستاولیبان سمیت متعدد عیسائ مغربی مورخین نے بھی اپنی کتابوں میں درج کئے ہیں ۔
    جب ہزاروں مسلمان جلا دئے اور قتل کر دیئے گئے تو حکومت خود پریشان ہو گئ کہ آخر کتنوں کو قتل کیا جائے تو انہوں نے مسلمانوں کو اجازت دے دی کہ وہ اپنے مذھب پر قائم رہ سکتے ہیں مگر انہیں مذہبی ٹیکس ادا کرناپڑے گا ۔سالانہ بنیادوں پر لگایا جانے والا یہ بہت بھاری ٹیکس تھا جسے طبقہ امرا ہی برداشت کر سکتا تھا ۔
    وہ اسپینی مسلمان جنہوں نے ہجرت نہیں کی، مذہبی عدالتوں کے قتل عام سے بچنے کیلئے عیسائیت تو قبول کر لی لیکن در پردہ مسلمان ہی رہے ۔۔۔وہ گھر میں احمد،عبداللہ، محمد، عائشہ اور فاطمہ ہوتے تو گھر سے باہر ڈیوڈ، جون، مائیکل، میری اور مارگریٹ ہوتے ۔ گھر میں عربی بولتے باہر اسپینی، گھر میں نماز پڑھتے، اتوار کو چرچ کے ماس میں شرکت کرتے ۔اپنے بچوں کو گھر میں قرآن پڑھاتے جب یہ بچے اسکول جاتے تو ان کے گلے میں صلیب لٹکا دیتے ۔
    پھر 1566 میں ایک اور قانون آ گیا کہ کوئی باشندہ عربی نہیں بول سکتا، نہ ہی عربی لباس پہن سکتا ہے، جو اس کا ارتکاب کرتا اس پر "فرضہ ” یعنی ایک بھاری ٹیکس لگ جاتا ۔عورتوں کا پردہ تو پہلے ہی ممنوع تھا اب یہ حکم بھی ملا کہ جمعہ کے دن سارے مسلمان اپنے گھروں کے دروازے کھلے رکھیں گے ۔اصل میں مسلمان چوری چھپے جمعہ کی جماعت گھروں میں قائم کرنے لگے تھے، اس لئے یہ قانوں بن گیا ۔
    عربی پر پابندی لگی تو ہر گھر کی تلاشی کے بعد ہزاروں عربی کتابیں جمع کر کے باب الرہلہ کے چوک میں سپرد آتش کر دی گئیں،یورپی مورخین کا اندازہ ہے کہ شاہ شیمنس کے حکم سے صرف غرناطہ میں سپرد آتش کی جانے والی عربی کتابوں کی تعداد اسی ہزار 80000 تھی۔ اس میں قرآن کے وہ نسخے بھی تھے جو مسلمان چھپا کر رکھتے اور اپنے بچوں کو پڑھاتے تھے ۔اس کے علاوہ تاریخ، ادب،فقہ،حدیث، تفسیر فلسفہ،کلام،طب،طبعیعات، فلکیات وغیرہ وغیرہ کی کتب، جو آٹھ سو سال میں مشرق و مغرب سے لا کر خمع کی گئ تھیں گھروں اور لائبریریوں سے نکال کر جلا دی گئیں ۔
    1604 میں مسلمانوں کے حوالےسے آخری قانون شہریت یہ آیا کہ مسلمان سرزمین اندلس کو بالکل خالی کر دیں ۔ چنانچہ دو سال کے عرصے میں تقریبا پانچ لاکھ مسلمانوں نے اندلس کو خیر باد کہہ دیا، زیادہ تر افریقہ میں یا جہاں انہیں پناہ ملی ،چلے گئے ۔ان میں سے ایک تہائی لوگ راستے ہی میں یا قتل کر دیئے گے یا خود مر گئے ۔اور 1606 کے بعد اسپین میں ایک مسلمان بھی باقی نہ رہا ۔😪