Baaghi TV

Category: بلاگ

  • غدارکون  ؟—–از…منہال زاہد سخی

    غدارکون ؟—–از…منہال زاہد سخی

    ابھی کچھ دیر پہلے میں نے محب الوطن جرنل حمید گل کی صاحبزادی عظمیٰ گل کے زور قلم سے ایک تحریر آنکھوں سے ملائی تو یہ تحریر لکھنے کے قابل ہوا ہوں مجھے عظمیٰ گل سے کوئی دشمنی نہیں ہے نہ ہی ان سے نفرت ہے اور نہ مجھے ان سے کوئی بدلہ اور انتقام لینا ہے بلکہ مجھے ان سے محبت ہے با وجہ انہیں اسلام اور پاکستان سے محبت ہے ۔

    انہوں نے اپنے زور قلم سے موجودہ صورتحال اور جرنل پرویز مشرف کا کردار رکھا ہے۔

    کچھ لکھنے سے پہلے کہ ایک بات عرض کی جاتی ہے ہر شخص کا الگ نظریہ ہوتا اور ہر کوئی ایک طرح اور ایک رخ سے نہیں سوچتا ۔ تو کسی کو بات بے مزاج اور بے مزہ لگے تو معذرت۔

    اتنی زیادہ باتیں مشرف صاحب کے بارے میں سن رہے ہیں تو آج انہی باتوں کا جواب دینے کیلئے حاضر ہوں۔

    جرنل پرویز مشرف نے 40 سال پاکستان کی خدمت کی 3 جنگیں لڑی اور یہ وہ واحد جرنل ہیں جو جوائنٹ چیف آف آرمی اسٹاف اور ایس ایس جی گروپ کے بھی جرنل رہے ہیں اور چیف آف آرمی اسٹاف بھی رہیں ہے انہوں نے مکہ کو خوارج سے آزاد کروایا ۔ کارگل کی جنگ دشمن کی سرحد میں تین راتیں گزاری ۔ فوج کیخلاف اٹھنے والے نواب اکبر بگٹی کو موت کے گھاٹ اتارا۔امریکہ کے ساتھ ڈبل گیم کھیل کر امریکہ کو مارا اور یہ پینٹا گون نے بھی اعتراف کیا ہے ۔

    ایک تو پرویز مشرف صاحب شدید علیل ہیں اور سونے پہ سہاگا یہ کہ انہیں پھانسی کی سزا سنا دی گئی ۔

    ان کی وجوہات بعد میں رکھیں گے پہلے مجھے کوئی اس بات کا ثبوت دے کہ بڑے بڑے غداروں کو کیوں چھوڑا گیا ۔ جن میں نواز شریف اور آصف علی زرداری جیسے غدار شامل ہے ۔ جنہوں نے میثاق جمہوریت مری میں کرکے پاکستان کو 30000 ارب ڈالر سے لوٹا ۔ انہیں ضمانتوں پہ رہا کردیا گیا ۔

    یہ وہ ہی نواز شریف ہے جس نے اپنی نواسی مہر النساء کی شادی پر مودی جیسے انتہا پسند اور شدت پسند اور سب زیادہ مسلمانوں سے نفرت کرنا والا موذی ہے ۔اسے دعوت دی اور فوج کو اطلاع بھی نہ دی ۔
    فوج تو ملک کے ساتھ مخلص تھی اس لئے کوئی فیصلہ نہیں لیا کہ ملک افراتفری کا شکار ہو سکتا تھا ۔
    یہ وہ ہی نواز شریف ہے جس کے چینی کے کارخانے انڈیا میں بڑے پیمانے پر موجود ہیں ۔یہ وہ ہی نواز شریف ہے جس نے پرویز مشرف صاحب کا جہاز اترنے نہ دیا اور مارنے کی ناکام کوشش کی ۔
    یہ وہ ہی جو ملک بدر ہوا اور جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے ہوا یہ وہ ہی ہے جسے جسٹس ثاقب نثار نے ناہل کیا تھا ۔
    ہاں یہ وہ ہی جو غدار شہباز شریف کا بھائی ہے ۔شہباز شریف بھی وہ جو لیپ ٹاپ کیس اور کئی کیسز میں ملوث اور شہباز شریف بھی وہ جس کی ایک بیوی جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سگی بہن ہے ۔

    آصف سعید کھوسہ بھی وہ جس سے کچھ دن پہلے عہدہ واپس لیا گیا ۔اور یہ وہ آصف سعید کھوسہ ہے جس نے جرنل قمر جاوید باجوہ کی توسیع کی عہدے کا بھر پور فائدہ اٹھاتے ہوئے بھر پور مذمت کی۔ہاں یہ وہ ہی آصف سعید کھوسہ ہے جسے اوکس فورڈ اور ہارورڈ جیسی بڑی یونیورسٹیوں سے بلاوا آیا اور وہ جانے کے لئے راضی ہو گئے۔

    اور آج ساری کڑیاں مل جانی چاہیئے تاکہ لوگوں کے سامنے تصویر کا اصل رخ بھی آجائے۔

    ہاں یہ وہ ہی نواز شریف ہے جس نے اپنی بیٹی کی شادی جعلی کیپٹن سے کروائی ۔ہاں یہ وہ ہی غدار ہے جس نے انڈیا کے سب سے زیادہ دورے کئیے ۔ہاں یہ وہ ہی نواز شریف ہے جس نے کارگل کی جنگ بند کروائی اور جس کشمیر کو ہم رو رہے ہیں وہ آج سے 20 سال پہلے آزاد ہو جاتا ۔

    ہاں یہ وہ نواز شریف ہے جس نے مولانا فضل الرحمان کشمیر کمیٹی کا چیئرمین بنایا اور اس نے کچھ بھی نہیں کیا۔

    ہاں یہ وہ فضل الرحمان ہے جس نے یوم آزادی منانے سے انکار کیا تھا ۔ہاں یہ وہ فضل الرحمان ہے جس کے باپ نے کہا تھا شکر ہے میں پاکستان منانے کے گناہ میں شامل نہیں تھا ۔

    ہاں یہ وہ ہی فضل الرحمان جس کی کئی تصاویر منظور پشتین محمود اچکزئی اور اسفند یار ولی کے ساتھ ہیں۔

    ہاں یہ وہ فضل الرحمان ہے جو نسلی غدار ہے ۔ ہاں یہ وہ ہی ہے جس نے 13 دن کے دھرنے میں سب غداروں کو جمع کیا اور پروپیگنڈا کیا عمران خان جیسے محب وطن سے استعفیٰ لینے کا دعویٰ کیا کیونکہ اسے اس دور حکومت میں کسی نے نہیں پوچھا ۔

    ہاں یہ وہ فضل الرحمان ہے جس نے محمود اچکزئی کے ساتھ مل کر دھرنا دے کر مسئلہ کشمیر کو میڈیا کی نظروں سے غائب کرکے پس پشت ڈال دیا۔

    اور ہاں یہ وہ محمود اچکزئی ہے جس نے پاکستان میں اپنے والد کی میت دفنانے سے انکار کیا اور اسے افغانستان جیسی نمک حرام سر زمین پر دفنایا ۔

    ہاں یہ وہ نواز شریف ہے جس کی پارٹی اور زرداری کی پارٹی کا میثاق جمہوریت ہوا ۔

    ہاں یہ وہ ہی زرداری جو نافرمان تھا جو اپنے باپ کے بلانے پر باپ کے پاس نہ آیا ۔

    ہاں یہ وہ ہی ہے زرداری ہے جس نے بے نظیر کو بلیک میل کرکے اس سے شادی کی ۔ اور اقتدار کی خاطر اسے مروادیا ۔ یہ وہ ہی جس کا سسر ذوالفقار علی بھٹو غداری کے جرم میں پھانسی چڑھا ۔

    یہ وہ ذوالفقار علی بھٹو ہے جس نے بنگلہ دیش پاکستان سے علیدہ کیا صرف اقتدار کی خاطر۔

    اگر یہ شیخ مجیب الرحمٰن کو وزیراعظم بننے دیتا تو پروپیگنڈا نہ ہوتا اور بنگلہ دیش علیحدہ نہ ہوتا ۔

    ہاں یہ وہ ہی ہے جس کا نواسا بلاول زرداری آئے دن کسی نہ کسی پروپیگنڈے کا سامان کر رہا ہوتا ہے۔ہاں یہ وہ ہی ذوالفقار علی بھٹو ہے جسے نواب اکبر بگٹی اپنا گہرا دوست مانتا تھا ۔

    ہاں یہ وہ ہی نواب اکبر بگٹی ہے جس نے تکبر میں آکر اور طاقت کے زور پر فوج جیسے عظیم ادارے سے ٹکر لی اور مارا گیا ۔

    ہاں یہ وہ نواب اکبر بگٹی ہے جس کا پوتا برام داغ بگٹی دہشت گردی میں ملوث ہے۔

    ہاں یہ وہ ہی برام داغ بگٹی ہے جو بم دھماکوں میں ملوث۔ہا یہ وہ ہی برام داغ بگٹی ہے جو پاکستان سے مفرور تھا ہاں یہ وہ ہی برام داغ بگٹی ہے جسے انڈیا نے ممبئی جیسے بڑے شہر میں ایک عالیشان بنگلہ دیا ۔

    اب اس جج سیٹھ وقار احمد پر آتے ہیں جس نے جرنل پرویز مشرف کو پھانسی کی سزا سنائی اور غیر آئینی فیصلہ دیا ۔ وہ اس کڑی میں کیسے مل گئے ۔اسفند یار ولی جس کا تعلق مولانا فضل الرحمان سے جوڑا گیا تھا اس کی پارٹی ANP میں اور خوارج کی پارٹی TTPمیں مسیحا کے نام سے جانا جاتا ہے ۔
    اس کی عدالت سے 200 سے زائد PTM منظور پشتین کی پارٹی کے مجرم رہا ہوئے۔ ہاں یہ وہ ہی جج ہے جس کی عدالت کو کوئی دہشت گرد چھو لیتا ہے تو اسے معاف کردیا جاتا ہے ۔ ہاں یہ وہ ہی جس نے PTM اور داعش کے 102 سزا یافتہ مجرم رہا ہوئے۔

    تو ایسا جج پھر جس طرح کا خود ہے غدار ہے تو پھر قوم میں فساد افراتفری اور انتشار والے فیصلے سنائے گا اور اسی طرح کا فیصلہ سنایا اس طرح کے لوگ دشمن ملکوں کے لئے کام کرتے ہیں۔

    تو جج پر اتنے زیادہ جرم ہیں تو یہ بھی غداری کے جرم پھانسی کا مستحق ہے ۔ اور پھانسی کے لائق جج پھانسی کا حکم کیسے دے سکتا ہے۔

    دوسری بات یہ یے کہ پرویز مشرف صاحب کے علاؤہ جو اوپر اتنی بڑی پٹی ہے جس میں

    1نواز شریف

    2 شہباز شریف

    3 جسٹس آصف سعید کھوسہ

    4 آصف علی زرداری

    5 بلاول زرداری

    6 مولانا فضل الرحمان

    7 برام داغ بگٹی

    8 منظور پشتین

    9 محمود اچکزئی

    10 اسفندیار ولی

    11 کیپٹن صفدر

    ان ساروں کو بھی پھانسی کی سزا دینی چاہئیے ۔

    اور بھی لمبی پٹی ہے لیکن وہ ان کی معاون ہے انہیں عمر قید کی سزا دینی چاہئے ۔ تاکہ لوگ عبرت پکڑ سکیں ۔

    پرویز مشرف صاحب اور نواب اکبر بگٹی کی بات کرتے ہیں۔ جب ان دونوں کے آپس میں اختلافات ہوئے تو بات چیلنج تک پہنچ گئی اور نواب اکبر بگٹی نے اپنی ساری فوج لڑائی میں جھونک دی اور باقائدہ مقابلہ کیا اور ملک کا نظم و ضبط خراب کیا ۔ملک کا دفاع کرنے والے ادارے سے ٹکر لی تو مقابلہ میں نواب اکبر بگٹی مارا گیا۔ یہ کوئی جرم نہیں ہے۔ کہ پرویز مشرف نے نواب اکبر بگٹی کو مارا اس بھی آگے سے مقابلہ کیا ۔اور جو یہ کہتا ہے کہ پرویز مشرف نے اپنے ذاتی مفاد کیلئے فوج کا استعمال کیا تو یہ غلط بات ہے۔ اس وقت جو جرنل ہوتا مقابلہ فوج سمیت کرتا نہ کہ نہتا لڑتا۔ جو بھی پاکستان یاں کسی بھی ادارے کے خلاف لڑے گا اٹھے اسے اسی طرح کرنا پڑے گا ۔اور انشاء اللہ ایسا ہوگا بھی۔

    اس کے بعد آتے ہیں لال مسجد کیس پر کہ ۔ لال مسجد حملہ ہوا تو لوگوں نے میڈیا نے پروپیگنڈا کرنا شروع کردیا کہ اسلام کی بیٹیاں مار دی ہماری ماؤں بہنوں کو مشرف نے مروادیا یہ ہو گیا وہ ہوگیا اور مشرف پر پھر الزام لگایا گیا۔

    پہلی بات تو یہ ہے کہ جس نے خوارج سے مکہ کو پاک کیا اسے کسی بھی مسجد کا خیال ضرور ہوگا اور فوج کے حملے کے جواب میں اسلحہ سے جواب کس نے دیا ان ہی معصوم بچیوں نے ۔ ہر گز نہیں خوارج نے جواب دیا ۔ مشرف نے مکہ جو پاک کرکے مکہ کا حق ادا کیا اور لال مسجد کو پاک کرکے لال مسجد کا حق ادا کر دیا۔

    لال مسجد حملے میں حکمت عملی کے تحت لال مسجد کو پہلے ہی خالی کرا لیا گیا تھا ۔

    لال مسجد حملے میں صرف مولوی عبد العزیز کی ماں کی موت ہوئی اور ایک بچی کے گم شدہ خبر ہے ۔ تو لال مسجد حملہ کار آمد ثابت ہوا۔

    ابھی ہم آخری اور بڑے ہی اہم مسئلہ پر آتے ہیں کہ مشرف نے امریکہ کو پاکستان میں اپنے اڈے دئے ۔

    پہلی بات امریکہ افغانستان پر حملہ کرکے قبضہ کرکے اور پھر پاکستان پر حملہ کر کے پاکستان پر قبضہ کر لیتا ۔

    جس طرح امریکہ آیا اسی طرح روس آیا تھا اور جرنل حمید گل کی حکمت عملی کے تحت ٹکروں میں بٹ گیا ۔

    لیکن یہ دونوں ملک آئے کیوں؟ دراصل دونوں کا ہدف اور ضرورت گرم سمندر تھے جو پاکستان پر قبضہ کرکے حاصل کئے جاسکتے تھے لیکن روس کو جرنل حمید گل نے اور امریکہ کو جرنل پرویز مشرف نے شکست دی۔

    امریکہ کو اڈے دے کر پاکستان نے بچنے کا سامان کر لیا تھا کیونکہ انڈیا بھی امریکہ کو اڈے دینے پر تیار تھا۔ اور اڈے دے کر اس کی افغانستان حملے میں بھرپور مدد کرتا جس کا نتیجہ سب کو پتا ہے کیا ہوتا ۔

    پاکستان نے امریکہ کو اڈے دےکر اسکا سامان اسلحہ نہ چلنے کے قابل کرتے اور افغانستان کو اطلاع دیتے اس راستے سے ابھی سامان روانہ ہوا وہ بچنے کا انتظام کرتے اور سامان والے راستے پر گھاٹ لگا کر بیٹھ جاتے اور اسے بیکار جر دیتے اور پاکستان نے ان کے اسلحہ سے کافی زیادہ چیزیں تیار کی جو وطن کیلئے کارآمد ثابت ہوئی ۔

    امریکہ کے ساتھ دراصل ایک ڈبل گیم ہوئی انہی کے ہتھیاروں سے ان کو مارا اور پینٹاگون نے یہ اعتراف بھی کیا کہ مشرف نے ہمارے ساتھ ڈبل گیم کی ۔

    آج امریکہ کا سامان اور مہنگی ٹیکنالوجی کوئٹہ اور پشاور کی منڈیوں میں 90 %سے 95 % بچت پر بیچی جاتی ہیں۔ اور الحمدللہ آج افغانستان پر مجاہدین کا قبضہ ہے ۔ اور امریکہ صرف کابل میں محصور ہے ۔

    نواز شریف کی بہت بات کی گئی اب نواز اور مشرف پر آتے ہیں ۔

    جرنل پرویز مشرف باہر کسی ملک سے پرواز کے ذریعے پاکستان واپس آرہے تھے تو نواز شریف نے ان کا جہاز ہوائی اڈے پر اترنے نہ دیا ۔ پر اللّٰہ کی مدد آگئی اور ۔شرف صاحب بچ گئے۔

    کسی نہ کسی طرح پرویز مشرف صاحب اتر گئے ۔ اور نواز شریف کو جیل کے سپرد کیا ۔ اور پھر انہی کو ملک بدر بھی کیا جس کے یہ لائق تھے ۔ بلکہ یہ لوگ پھانسی کے لائق تھے اور ہیں ۔ اور مشرف نے کہا تھا میں نے زندگی کی سب سے بڑی غلطی یہ کی کہ ان جو پھانسی نہ دی۔ اور ان کے بارے میں عوام کا فیصلہ بھی سوشل میڈیا پر مشرف کی غلطی کا اعتراف کر رہا ہے۔ کیونکہ وہ بھی ان کی پھانسی کا مطالبہ حق بڑی زور و شور سے اور بھر پور کر رہے ہیں۔

    بڑے بڑے الزامات کا رد سامنے ہے ماننے اور نہ ماننے کی مرضی ۔

    مشرف محب وطن اور نڈر ہیں بڑے ہی با حکمت اور عمدہ سوچ کے مالک ہیں پاکستان کی خاطر جنگیں لڑنے والے ہیں اور اسلام سے محبت کرنے والوں میں سے ایک ہیں ۔

    اللّٰہ ہمیں قیامت کے روز حق کے ساتھ اور حق پر رہنے والوں کے ساتھ اٹھائے ۔ تاکہ کسی بھی شرمندگی کا اس روز سامنا نہ کرنا پڑے (آمین) ۔

    غدارکون؟..

    تحریر:منہال زاہد سخی

  • رانا ثناءاللہ کی رہائی بارے کی شہریارآفریدی نے اہم بات

    رانا ثناءاللہ کی رہائی بارے کی شہریارآفریدی نے اہم بات

    باغی ٹی وی وزیر مملکت برائے انسداد منشیات شہریار افریدی نے کہا ہے کہ رانا ثناء اللہ ابھی بھی ملزم ہیں، انہیں ضمانت ملی ہے رہائی نہیں، اس حوالے سے ہم عدالتی فیصلے کا احترام کرتے ہیں۔

    پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما رانا ثناء اللہ کی ’’عدم ثبوت‘‘ کی بنا پر چھ مہینے بعد جیل ضمانت پر رہائی کے بعد میڈیا پر شدید تنقید کا نشانہ بننے کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں نے ویڈیو شہادت کا ایک بار ذکر کیا تھا لیکن سارا میڈیا اسی کا راگ الاپتا رہا۔

    شہریار افریدی کا کہنا تھا کہ تاثر دیا گیا کہ رانا ثناء اللہ کو رہائی ملی۔ ملزم کو ضمانت پر رہا گیا گیا ہے، رہائی نہیں ملی، اس پر کسی کو ابہام نہیں ہونا چاہیے۔ کیس کو منطقی اننجام تک پہنچانا عدالتوں کا کام ہے۔

    شہریار افریدی نے دعویٰ کیا کہ رانا ثناء اللہ کے خلاف شوہد موجود ہیں جنہیں عدالت میں پیش کیا جائیگا اور کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا جائیگا۔ انہوں نے سوال کیا کہ رانا ثناء اللہ کے اثاثے کیسے بڑھے؟ انہوں نے کہا کہ رئیل اسٹیت کا کاروبار کرتا ہوں۔

    رانا ثناء اللہ ایک بار پھرمشکل میں پھنس گئے، حکومت نے اب کیا کیا؟ جان کر ہوں حیران

    رانا ثناء اللہ کیس کی سماعت کرنیوالے جج کا تبادلہ، ضمانت کیس کی سماعت ملتوی

    رانا ثناء اللہ نے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کوجیل سے لکھا خط، کیا کہا؟

    ان کا کہنا تھا کہ گرفتاری کے 17 روز کے اندر عدالت میں ثبوت پیش کردیے تھے، لیکن رہائی دینا عدالت کا فیصلہ ہے۔ جب ٹرائل شروع ہوگا تمام شواہد اور گواہ پیش کیے جائیں گے۔
    واضح‌رہے کہ منشیات اسمگلنگ کیس میں رانا ثنااللہ کی درخواست ضمانت منظورکر لی گئی، لاہور ہائیکورٹ نے رانا ثناء اللہ کی درخواست ضمانت منظور کی،عدالت نے راناثنااللہ کو10لاکھ روپےکے2مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا.

  • میرٹ کا قبرستان سندھ پبلک سروس کمیشن–از–انشال راؤ

    میرٹ کا قبرستان سندھ پبلک سروس کمیشن–از–انشال راؤ

    جس طرح مودی کے بھارت میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو حقوق و آزادی کے حصول کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا بالکل اسی طرح پاکستان نیا ہو یا پرانا بالخصوص سندھ میں میرٹ کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا، گذشتہ کئی دہائیوں سے میرٹ کی بحالی اور میرٹ کی پامالی کے دعووں کو لیکر حکومتوں و اپوزیشن کے مابین الفاظی جنگ چلی آرہی ہے لیکن ہمیشہ سے پاکستان بالخصوص سندھ میں میرٹ کا جنازہ ہی نکلتا آرہا ہے،

    موجودہ وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ حکومت میرٹ اور شفافیت پر یقین رکھتی ہے لیکن حکومت شاید بھول رہی ہے کہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد صوبوں کے معاملات میں مداخلت نہیں کرسکتی، اسی بات کا فائدہ اٹھا کر سندھ سرکار نے تو جدید بادشاہت کا نفاذ کر رکھا ہے، اٹھارہویں ترمیم کے فوراً بعد بادشاہ سلامت سندھ نے کراچی کے شہری اختیارات کے علاوہ یونیورسٹیز اور سندھ پبلک سروس کمیشن SPSC کو گورنر کی بجائے وزیراعلیٰ کے ماتحت کرلیا جسکے بعد سندھ کی سرزمین پر دھوم دھام سے میرٹ کا جنازہ نکالا گیا

    اب اسے میرٹ کا قبرستان قرار دیا جاسکتا ہے، اگر اس ابتری کا جائزہ لیا جائے تو اس کا لائسینس ایک طرف تو ریاست کے نظام نے دے رکھا ہے جبکہ دوسرا اسے عدلیہ نے جائز قرار دے رکھا ہے کیونکہ یہ جسٹس صاحبان ہی ہیں جو خائن بیوروکریٹس کے ساتھ نرم رویہ رکھتے ہیں جسکے نتیجے میں وہ کھل کر اندھیر نگری چوپٹ راج کو شد و مد کے ساتھ جاری رکھتے ہیں،

    کاش اگر سپریم کورٹ کے جسٹس صاحب SPSC کے ان افسران و ممبران کو عبرتناک سزا دے دیتی تو آج ایک بار پھر سے اہل افراد عدالت کے دروازے کھٹکھٹانے پہ مجبور نہ ہوتے، ہوتے، 2017 میں سپریم کورٹ نے SPSC میں میرٹ کے برخلاف بھرتی ممبرز کو باعزت واپسی کا راستہ دیا اور کمبائن کمپیٹیٹو ایگزام 2013 کو مختلف غیرقانونی و میرٹ کی دھجیاں اڑانے کی وجوہات کی بنا پر دوبارہ کروانے کا حکم دیا لیکن دلچسپ بات دیکھیں اس پورے کیس میں کسی ممبر یا افسر کو بدعنوانی و خیانت پر سزا نہیں دی گئی

    حتیٰ کہ کنٹرولر SPSC جمعہ خان چانڈیو کو بھی واپس سبجیکٹ اسپیشلسٹ بنادیا جبکہ وہ شخص لاکھوں خاندانوں کے مستقبل سے کھیل چکا تھا، ہزاروں نااہل افراد کو بھرتی کرنے والے SPSC کے ممبران و افسران کو بخش دیا گیا یہ جانتے ہوے بھی کہ ان ہزاروں نااہل بھرتی افراد نے اگلے تیس سال پاکستان کی ایسی تیسی کرنی ہے لیکن اس کے باوجود کسی کو سزا نہیں دی گئی الٹا ان غریب و اہل افراد کو بھینٹ چڑھادیا گیا جو محنت کرکے پاس ہوگئے تھے، ایسے میں جہاں سزا کا تصور ہی نہ ہو تو بھلا کوئی سوچ سکتا ہے کہ بدعنوانی اور خیانت رک پائیگی،

    ایک بار پھر سندھ پبلک سروس کمیشن میں میرٹ کا قتل عام ہونے پہ اہلیت سراپا احتجاج ہے اور اہل افراد انصاف کے حصول و میرٹ کے لیے عدالت کا سہارا لینے پہ مجبور ہیں لیکن ہوگا وہی جو روایت ہے متعدد پیشیاں ہونگی، پاریش راول اور امریش پوری کی طرح جسٹس صاحبان ڈائیلاگ ماریں گے کہ اگر ہم نے فلاں کچھ لکھ دیا تو تہماری نسلیں یاد رکھیں گی، ہم نے لال قلم چلادیا تو یاد رکھوگے، اپنے لیے خود ہی سزا منتخب کرلو اگر ہم نے کی تو تمہیں لگ پتہ جائیگا وغیرہ وغیرہ اور نظام بدستور کھڈے لائن ہی لگا رہے گا،

    زرا سوچئے کہ اگر عدلیہ دو تین بڑے افسران کو جرم ثابت ہونے پہ کڑی سزا دے دے تو پھر کوئی افسر بدعنوانی و خیانت کرے گا؟ کبھی نہیں، زرا سوچئے جب سابق کنٹرولر جمعہ چانڈیو پہ جرم ثابت ہوا اور اس کی بھرتی بھی میرٹ کے خلاف ثابت ہوگئی اس کے اثاثوں میں بھی بغیر کسی زریعے کے لاکھوں گنا اضافہ ثابت ہوگیا تو پھر عدالت کا اسے بخش دینا کیا دوسروں کو خیانت و بدعنوانی کا لائسینس دینا نہیں؟

    اگر اس وقت عدالت کی طرف سے ملوث افراد کو نشان عبرت بنادیا گیا ہوتا تو دوبارہ کسی کو جرات نہ ہوتی کہ وہ میرٹ سے کھیلواڑ کرے، نہ دنیا نیوز کو پروگرام کرنا پڑتا نہ ہی کسی کو عدالت جانا پڑتا، کبھی کبھی تو مجھے ایسا بھی لگنے لگتا ہے کہ ایسا جج صاحبان اس لیے بھی کرتے ہیں کہ اگر یہ حضرات کیسز کو جلدی جلدی نمٹادینگے اور سخت سزائیں دینے لگیں گے تو پھر لوگ غلط کام کرنا چھوڑ دینگے جب لوگ غلط کام نہیں کرینگے تو پھر ججز کو کون پوچھے گا،

    ان کا گزر پانی کیسے چلے گا، خیر کہا جاتا ہے کہ کسی بھی قوم کی ترقی میرٹ کے بغیر ممکن نہیں، ہاں بالکل مگر پاکستان کو ترقی نہیں چاہئے کیونکہ گزارا تو IMF یا ADB یا کسی ملک سے قرض لیکر ہی چلانا ہوتا ہے وہ بھی نہیں تو بیچاری عوام تو ہے ہی ٹیکسز بڑھادینگے بجلی مہنگی کردینگے گیس کا ریٹ بڑھادینگے سو یوں گاڑی چل جائیگی اس لیے میرٹ کی کیا ضرورت ہے، میرٹ آگیا تو عوام نے اوطاقوں اور ڈیروں پہ آنا جانا چھوڑ دینا ہے کیونکہ پالیسی ساز اہل افراد آجائینگے تو عوام آزاد ہوتی جائیگی،

    اس کے علاوہ آئے دن ہم سنتے ہیں کہ DG/ISPR صاحب پریس کانفرنس کررہے ہوتے ہیں کہ ملکی سلامتی کو خطرہ ہے دشمن ففتھ جنریشن وار مسلط کر رکھی ہے وغیرہ وغیرہ لیکن مجھے حیرت ہے کہ سالوں سے نیشنل سیکیورٹی کے نام پہ قوم کے پیسے کا بیڑہ غرق کیا جارہا ہے لیکن جنگلیوں کی طرح لڑنے کے سوا آج تک ایک کام بھی ایسا نہیں کیا گیا جس سے نوجوان نسل میں مایوسیاں ختم ہوں، نوجوان نسل وڈیروں و سیاستدانوں کی گرفت سے آزاد ہوں، ان کے ذہنوں میں غلط نظام و ناانصافیوں کی وجہ سے ریاست سے نفرت کا عنصر پیدا نہ ہو،

    مجھے سمجھ نہیں آتی کہ اس ملک کے تھنک ٹینک و پالیسی ساز چاہتے کیا ہیں، ایک بات تو طے ہے یا تو وہ بدنیت ہیں یا نااہل ہیں جو انہیں یہ تک نہیں پتہ کہ نیشنل سیکیورٹی کے لیے سب سے اہم ترین چیز میرٹ اور قانون کا عملی نفاذ ہے یاد رہے کہ میرٹ کے بغیر نہ تو قانون کا عملی نفاذ ممکن ہے نہ ہی کرپشن و بدعنوانی کا خاتمہ ہوسکتا ہے، اور یہ بات بچے بچے کو پتہ ہے کہ میرٹ کی کتنی اہمیت ہے اگر نہیں پتہ تو بس اسٹیبلشمنٹ کو نہیں پتہ یا پھر وہ بدنیت ہے وہ نہیں چاہتے کہ عوام آزاد ہو،

    حالانکہ میرٹ کا نفاذ کوئی راکٹ سائنس نہیں دو دن میں مکمن ہے ایک دن میں ہوسکتا ہے بس تھوڑا ڈنڈا اٹھانا پڑتا ہے یہ بدعنوان بیوروکریٹ مافیا تو ایسی سیدھی ہو کہ دنیا میں مثال دی جانے لگے گی مگر بات وہی ہے کہ نیت ٹھیک نہ ہو تو ایک صدی تک سسٹم ٹھیک نہیں ہوسکتا اس لیے پاریش راول و امریش پوری والے ڈائیلاگ چلتے رہتے ہیں،

    کپتان صاحب کہتے ہیں کہ میرٹ کا نفاذ انکی اولین ترجیح ہے تو بھائی کب کروگے 16 مہینے گزرنے کے بعد بھی نسٹ یونیورسٹی میں یہ کہنا پڑے تو پھر کیا الفاظ کہوں بس اللہ ہی حافظ، NTS یا دیگر نجی ٹیسٹنگ سروسز ہزاروں افراد کا تحریری ٹیسٹ لیتی ہیں اور چند گھنٹوں بعد حاصل کردہ نمبرز کیساتھ نتیجہ جاری کردیتی ہیں

    لیکن واحد انوکھا ادارہ سندھ پبلک سروس کمیشن ہے جو ایک تو نتیجہ دینے میں مہینے یا سال لگا دیتا ہے اور حاصل کردہ نمبر تو ان کو بھی معلوم نہیں ہوتے جو اپائنٹ ہوتے ہیں یا اپائنٹ کرنے والے ہیں، کپتان صاحب اگر آپکی ترجیح واقعی میرٹ کی بحالی ہے اور آرمی چیف صاحب واقعی آپ سنجیدہ ہیں ملکی سلامتی کے لیے تو خدارا اس طرف دھیان دیجئے سندھ میں لسانیت کارڈ کو ریاست مخالف استعمال کیا جاتا ہے

    خدا کے لیے میرٹ کے نفاذ کو یقینی بنائیے تاکہ یہ لسانیت کارڈ ہمیشہ کے لیے ختم ہو اور لوگوں کا ریاست پہ اعتماد بحال ہو، سندھ پبلک سروس کمیشن جوکہ میرٹ کا قبرستان ہے اسے آڑے ہاتھوں صحیح کرنے کی ضرورت ہے ورنہ یہ میرٹ کا قبرستان نااہل افراد کو بھرتی کر کر کے ملکی اداروں اور معاشرے کو قبرستان بنادیگا جو آگے چل ملک و قوم کا قبرستان بھی ثابت ہوسکتا ہے۔

    آرزوئے سحر
    تحریر: انشال راؤ

  • قائد اعظم ایک اصول پسند شخصیت–از–عبدالحمیدصادق

    قائد اعظم ایک اصول پسند شخصیت–از–عبدالحمیدصادق

    امریکی مورخ ’’سٹینلے والرٹ‘‘ اپنی شہرہ آفاق کتاب ’’جناح آف پاکستان‘‘ کی ابتداء ان الفاظ سے کرتا ہے ’’بہت کم شخصیات تاریخ کے دھارے کو قابل ذکر انداز سے موڑتی ہیں اس سے کم وہ افراد ہیں جو دنیا کا نقشہ بدلتے ہیں اور ایسا تو شاید ہی کوئی ہو جسے ایک قومی ریاست تخلیق کرنے کا اعزاز حاصل ہو۔

    جناح نے یہ تینوں کام کر دکھائے۔‘‘ایسے تمام افراد جنہوں نے دنیا میں کچھ بڑے کام کیے ہوتے ہیں، ان میں کچھ ایسی خوبیاں پائی جاتی ہیں جو انہیں باقی لوگوں سے ممتاز رکھتی ہیں ۔ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کا شمار بھی ایسے لوگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے تاریخ کو ایک نیا رخ دیا۔ ظاہری طور پر دبلے پتلے اورکمزور، لیکن اصول پسندی، پختہ عزم و یقین، صاف گوئی، انصاف پسندی، خوش مزاجی اور پابندی وقت جیسی عظیم خوبیاں ان کی زندگی کا حصہ تھیں۔ یہی وہ خوبیاں تھیں کہ جن کا اعتراف دشمن بھیکیا کرتے تھے۔

    یہی وجہ تھی کہ انگریزوں اور ہندوئوں کے بڑے بڑے کردار بھی آپ کے سامنے نظریں جھکا لیا کرتے تھے کہ ایک اصول پسند آدمی کے سامنے خود کو کس طرح بڑا بنا کر پیش کریں کیونکہ بڑا آدمی وہ نہیں جس کے پاس سلطنت یا پیسہ زیادہ ہو بلکہ بڑا آدمی وہ ہے جو اصول پسند اور وقت کا پابند ہو۔ قائداعظم محمد علی جناح کے اصول ان کی زندگی کی سب سے قابل قدر چیز ہیں۔ ان کی زندگی کے راہنما اصول ہمارے لیے واضح پیغام ہیں۔

    ان کی اصول پسندی کا ہی نتیجہ تھا کہ برٹش انتظامیہ اورکانگرس پارٹی کی راہ میں ایک یہی شخص سب سے بڑی رکاوٹ تھا، جس کا آ ہنی حوصلہ اور صبر و استقلال سب کے لیے باعث حیرت اور باعث تشویش تھا۔قائداعظم محمد علی جناح کی اصول پسند زندگی کے چند ایک واقعات آپ کی خدمت میں گوش گزار ہیں۔23 مارچ 1941ء کی بات ہے کہ قائداعظم کو لاہور ریلوے اسٹیشن کے سامنے والی مسجد میں نماز عصر ادا کرنا تھی ۔ جب وہ تشریف لائے تو مرزا عبدالمجید تقریر کر رہے تھے۔

    قائداعظم کو داخل ہوتے دیکھ کر لوگوں نے اگلی صف تک راستہ بنانا شروع کر دیا۔ اتنے میں ایک لیگی کارکن نے کہا :’’سر ادھر سے آگے بڑھیے‘‘ تو قائداعظم نے جواب دیا: ’’میں آخر میں آیا ہوں اس لیے یہاں آخر میں ہی بیٹھوں گا۔‘‘ قائداعظم چاہتے تو آگے بڑھ سکتے تھے لیکن انہوں نے آخر میں بیٹھنے کو ترجیح دی۔

    اسی طرح ایک بار قائداعظم گورنر جنرل ہاؤس کے جنوبی صحن میں چہل قدمی کر رہے تھے اور نیوی کے اے ڈی سی لیفٹیننٹ ایس ایم حسن تھوڑے فاصلے پر ان کے پیچھے پیچھے چل رہے تھے۔ سیر کے دوران وہ خلاف معمول ذرا آگے بڑھ گئے اور گورنر جنرل ہاؤس کے جنوبی گیٹ کے بالکل قریب جا نکلے جہاں ایک ایسا نیا سنتری کھڑا تھا جس نے قائداعظم کو روبرو نہیں دیکھا تھا۔ سنتری نے کہا یہیں رک جائیے جناب! آپ آگے نہیں جا سکتے، اجازت نہیں ہے۔ قائداعظم نے کہا
    ٹھیک ہے، ٹھیک ہے۔

    سنتری نے کہا نہیں جناب! یہ ٹھیک نہیں ہے۔۔۔ کسی شخص کو اس نشان سے آگے جانے کی اجازت نہیں، یہی آرڈر مجھے ملا ہے اور اس کی پابندی کروانا میرا فرض ہے، اس پر قائداعظم نے ہاں میں سرہلا دیا۔پاکستان بننے کے بعد قائداعظم کو سالگرہ کے موقع پر بے شمار خطوط موصول ہوئے، ان میں سے ایک خط پنجاب کے ایک پرانے مسلم لیگی خان بہادر کا بھی تھا۔

    سیکرٹری نے یہ خط آپ کو پیش کیا اور کہا کہ جناب یہ خط پنجاب سے خان بہادر نے بھیجا ہے، لکھا ہے آپ میرے مرشد ہیں اور مسلم لیگ میرا مذہب ہے، میں مسلم لیگ کے لیے ہر قربانی دینے لیے تیار ہوں، انہوں نے سالگرہ کا تحفہ بھی بھیجا ہے۔ اتفاق سے اس خط پر ٹکٹ نہیں لگے تھے۔۔ قائداعظم نے خط کے مندرجات کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا کہ جواب میں لکھو کہ آپ کے خط پر ٹکٹ نہیں تھا،

    بغیر ٹکٹ کے خط وصول نہیں کیے جاتے، سیکرٹری نے غلطی سے آپ کا خط لے لیا، ہر روز بے شمار بے رنگ خط وصول کیے جائیں تو مسلم لیگ کے پیسے کا ضیاع ہو گا۔1947ء کے اواخر کی بات ہے کہ قائداعظم کے بھائی احمد علی گورنر جنرل ہاؤس میں ان سے ملنے کے لیے آئے اور بڑے فخر سے اپنے ملاقاتی کارڈ پر اپنے نام کے ساتھ قائداعظم گورنر جنرل کا بھائی کے الفاظ لکھ کر کارڈ قائداعظم کے اے ڈی سی گل حسن کو دیا اور کہا کہ قائداعظم کا بھائی ہوں۔

    بھائی اور قائداعظم کا۔۔۔ اے ڈی سی کو کچھ لحاظ تو کرنا ہی تھا، انہوں نے کارڈ فوراً قائداعظم کو پیش کیا۔۔۔ اس کو توقع تھی کہ قائداعظم دیکھ کر بہت خوش ہوں گے لیکن قائداعظم نے اے ڈی سی سے پوچھا یہ ملاقاتی کون ہیں؟ انہوں نے جواب دیا سر آپ کے بھائی ہیں۔ قائداعظم نے پوچھا کیا انہوں نے وقت لیا تھا؟ جس پر گل حسن نے جواب دیا کہ سر انہوں نے وقت تو نہیں لیا تھا۔

    قائداعظم نے سرخ پنسل سے ’’قائداعظم گورنر جنرل کا بھائی‘‘ کے الفاظ کاٹنے کے بعد کہا
    ان سے کہوکہ کارڈ پر صرف اپنا نام لکھے۔ انہوں نے یہ کارڈ لے جا کر قائداعظم کے بھائی کو دیا اور کہا کہ یہ الفاظ قائداعظم نے خود کاٹے ہیں، وہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ یہاں صرف اپنا نام لکھیں پھر ممکن ہے قائداعظم سے ملاقات کر لیں۔دوسری جنگ عظیم کے دوران ایک پرجوش مسلم لیگی کارکن عبدالستار خیری کو حکومت نے گرفتار کر لیا۔ دوران قید قائداعظم کو بارہاخط بھی لکھتے رہے۔ جب رہا ہوئے تو قائداعظم کا شکریہ ادا کیا کہ آپ نے میری رہائی کے لیے بہت کوششیں کیں، جس پر قائداعظم فرمانے لگے کہ میں اصولاً یہ بات گوارا نہیں کر سکتا کہ بغیر مقدمہ چلائے اور بغیر عدالتی کاروائی کے کسی شخص کی آزادی صلب کرلی جائے۔

    جب کوئی فرد یا قوم اپنے وقت کی صحیح معنوں میں قدر کرنا جان جاتی ہے تو دنیا کی تمام کامیابیاں ان کے قدموں کی خاک بن جاتی ہیں۔ پہلے وہ وقت کو اپنے لیے اہم بناتے ہیں، پھر وقت ان کو لوگوں کے لیے اہم بنا دیتا ہے۔ وقت بڑی تیزی کے ساتھ گزر جاتا ہے اور جو شخص وقت کی اس تیزی سے فائدہ نہیں اٹھاتا وقت اس کو اٹھا کر کامیابیوں سے دور پھینک دیتا ہے۔

    قائداعظم محمد علی جناح کی سب سے بڑی خوبی جس نے انہیں کامیاب کیا وہ وقت کی پابندی تھی۔ اس بارے میں قائداعظم کے کئی واقعات بہت مشہور ہیں۔ سب سے دلچسپ اور انوکھا واقعہ اس وقت پیش آیا جب پاکستان بننے کے بعد سٹیٹ بنک آف پاکستان کا افتتاح کیا گیا۔قائداعظم اس تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔ وہ ٹھیک وقت پر تشریف لائے لیکن کئی وزراء اور سرکاری افسران اس تقریب میں نہیں پہنچے تھے، جن میں وزیر اعظم لیاقت علی خان بھی شامل تھے۔

    اگلی قطار کی کرسیاں جو افسران اور وزراء کرام کے لیے مخصوص تھیں، خالی پڑی تھیں۔ یہ منظر دیکھ کر قائداعظم غصے میں آگئے اور حکم کیا کہ پنڈال سے تمام خالی کرسیاں اٹھا دی جائیں تا کہ جو حضرات بعد میں آئیں، انہیں کھڑا رہنا پڑے۔ اس طرح انہیں احساس ہو گا کہ پابندی وقت کتنا ضروری ہے۔ حکم کی تعمیل ہوئی۔ پروگرام شروع ہونے کے تھوڑی دیر بعد ہی جناب وزیر اعظم لیاقت علی خان تشریف لائے تو ان کے ساتھ چند وزرا ء بھی تھے۔

    پنڈال میں موجود کسی شخص کو جرأت نہ ہوئی کہ ان کے لیے کرسی لائے یا پنی نشست پر انہیں بٹھائے۔ تقریب کے دوران لیاقت علی خان اور ان کے ساتھ آنے والے وزرا کھڑے رہے۔ ان کا مارے شرمندگی برا حال تھا۔ اس واقعہ کے بعد کسی اعلیٰ افسر کو جرأت نہ ہوئی کی تقریب میں دیر سے آئے۔دسمبر1941 ء میں آل انڈیا مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کا اجلاس منعقد ہوا۔ سیشن کے آخری روز مقامی طلبا نے قائداعظم سے ملنے کا وقت لیا اور کسی وجہ سے پندرہ منٹ لیٹ ہو گئے۔

    قائداعظم نے اپنے سیکرٹری سے کہا
    ’’مطلوب الحسن!
    ان سے کہہ دو کہ تم لیٹ ہو گئے ہو۔ اب میں تم سے نہیں مل سکتا، کل وقت لے کر آئو۔‘‘ اگلے روز جب وہ طلبا حاضر خدمت ہوئے تو آپ نے فرمایا کہ میں نے آپ کی بہتری کے لیے ایسا کیا، آپ نوجوان ہیں، آپ کو وقت کی قیمت کا احساس ہونا چاہیے۔عزیز طلبا! آج ہم بھی نوجوان ہیں، کیا ہمیں بھی وقت کی قیمت کا احساس ہے؟’’

    آج ہمارے پاس وقت جیسی عظیم نعمت موجود ہے ہم اس کی قدر کر لیں گے تو یہ وقت آنے والے دنوں میں ہمیں عظیم بنا دے گا اور اگر آج وقت کی اہمیت کو نہ جانا تو کل بھی دنیا میں ہمیں کوئی پہچاننے والا نہ ہو گا۔‘‘لیڈر کبھی بھی آسمانوں سے نہیں اترتے بلکہ روئے زمین پر بسنے والے انسانوں میں سے ہی پیدا ہوتے ہیں۔ ایسے افراد جو اپنے اندر خدمت انسانیت کا جذبہ رکھتے ہوں تو اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کو غنی کر دیتے ہیں اور امت کی آسانی کے لیے ان کی راہیں ہموار کر دیتے ہیں۔

    قائداعظم محمد علی جناح کی زندگی کو اگر ہم دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے وہ کس قدر، نڈر، بے باک، بے لوث، سچائی کے پیکر، نظم و ضبط کی اعلیٰ مثال، مخلص، اصول پسند، محنتی اور عوام دوست تھے۔ جب کسی انسان میں اتنی ساری خوبیاں اکھٹی ہو جائیں تو بلاشبہ وہ انسان کو انسانیت کے اعلیٰ درجے پر پہنچا دیتی ہیں۔ اسی لیے شاعر مشرق علامہ محمد اقبال نے فرمایا تھا کہ

    خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
    خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے؟
    قائد اعظم ایک اصول پسند شخصیت
    تحریر: عبدالحمید صادق

  • قائد اعظم ،نظریاتی مسلم یا سیکولر شخصیت۔۔۔؟–از–عبدالحمیدصادق

    قائد اعظم ،نظریاتی مسلم یا سیکولر شخصیت۔۔۔؟–از–عبدالحمیدصادق

    اگر پاکستان میں اسلامی نظام کی بات کی جائے تو یورپ سے پڑھے ہوئے اور نظام یورپ سے متاثرہ افراد کا یہ رونا پیٹنا ہوتا ہے کہ پاکستان اسلامی نہیں بلکہ ایک سیکولر ریاست ہے اور قائد اعظم محمد علی جناح نے اسے اسلامی قانون کے نفاذ کے لیے نہیں بنایا تھا۔

    ان لوگوں کی اس سوچ کو میں کم علمی ، کم عقلی یا کم فہمی کہوں۔۔۔۔۔ یا اہل یورپ کی سوچی سمجھی سازش۔۔۔۔؟
    سب سے پہلی بات تو یہ کہ جب قائداعظم محمد علی جناح سے پوچھا گیا کہ پاکستان بنانے کا کیا مقصد ہے تو انہوں نے واضح الفاظ میں یہ بیان کیا تھا کہ ہم ایک ایسی اسلامی اور فلاحی ریاست کا قیام چاہتے ہیں جس میں مسلمانوں کو اپنے طریقے کے مطابق عبادت کرنے کی کھلی آزادی ہوں اور تحریک پاکستان میں ایک ہی نعرہ تھا جو ہر چوک چراہے، گلی بازار اور آج جلسے میں جابجا گونجتا تھا کہ "پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ” یہی وہ نظریہ تھا کہ اس نظریہ کی بنیاد پر پاکستان معرض وجود میں آیا۔

    12 جون 1945 کو مسلم فیڈریشن پشاور کے نام اپنے پیغام میں قائد اعظم محمد علی جناح نے کہا تھا کہ "پاکستان کا مطلب صرف آزادی ہی نہیں بلکہ اس کا مطلب اسلامی نظریہ بھی ہے”۔

    قائداعظم محمد علی جناح کی اسلام، قرآن اور آقائے نامدارصلی اللہ علیہ والہ وسلم سے والہانہ محبت کے اس بحر بے کنار کو سمیٹنا ناچیز کے بس میں تو نہیں مگر ان کے چند ایک بیانات آپ کے گوش گزار کرنا چاہوں گا تاکہ جن لوگوں کے دلوں میں اسلامی مملکت پاکستان اور قائداعظم محمدعلی جناح کے بارے میں جو اشکالات موجود ہیں وہ دور ہو سکیں۔

    آل انڈیا مسلم لیگ کی کونسل کے ایک اجلاس میں قائداعظم نے مخالفین کی بہتان طرازیوں کے سلسلے میں فرمایا!
    "مسلمانو! میں نے دنیا کو بہت دیکھا. دولت ،شہرت اور عیش و عشرت کے بہت لطف اٹھائے ، اب میری زندگی کی واحد تمنا یہ ہے کہ مسلمانوں کو آزاد اور سربلند دیکھوں ، میں چاہتا ہوں کہ جب مروں تو یہ یقین اور اطمینان لے کر مروں کہ میرا ضمیر اور میرا اللہ گواہی دے رہا ہو کہ جناح نے اسلام سے خیانت اور غداری نہیں کی اور مسلمانوں کی آزادی، تنظیم اور مدافعت میں اپنا فرض ادا کر دیا میں آپ سے زوردار شہادت کا طلبگار نہیں ہوں۔

    میں چاہتا ہوں کہ مرتے دم میرا اپنا ایمان، میرا ضمیر گواہی دے کہ جناح! تم نے نے واقعی مدافعت اسلام کا حق ادا کر دیا جناح! تم مسلمانوں کی تنظیم، اتحاد اور حمایت کا فرض بجا لائے۔ میرا اللہ کہے کہ بے شک تم مسلمان پیدا ہوئے اور کفر کی طاقتوں کے غلبے میں عَلمِ اسلام کو بلند رکھتے ہوئے مسلمان مرے (روزنامہ "انقلاب” لاہور ٫ 22 اکتوبر 1939)

    اسٹریچی ہال علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں قائداعظم نے ایک معرکۃالارا تقریر کے دوران فرمایا "مجھے بحیثیت مسلمان دوسری اقوام کے تمدن ، معاشرت اور تہذیب کا پورا احترام ہے لیکن مجھے اپنے اسلامی کلچر اور تہذیب سے بہت زیادہ محبت ہے ، میں ہرگز نہیں چاہتا کہ ہماری آنے والی نسلیں اسلامی تمدن اور فلسفہ سے بالکل بے بہرہ ہوں”.

    لاہور میں مسام طلباء کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے قائد اعظم محمد علی جناح نے فرمایا: "کمیونسٹ ہمیں بیوقوف خیال کرتے ہیں، ان کے پاس اس سوچ کا کچھ جواز ہو سکتا ہے لیکن اب وہ غلطی پر ہیں کیونکہ پانچ یا دس سال قبل کے مسلمان اب خود کو بدل چکے ہیں۔ کمیونسٹ ہمیں بے وقوف نہیں بنا سکتے، مت چھیڑو ، مت چھیڑو کمیونسٹو! ہمیں مت چھیڑو، اگر تم نے ہمیں چھیڑنے کی کوشش کی تو تم خود اپنے داؤ کی زد میں آ جاؤ گے۔

    ہمیں مسلم لیگ کے چاند ستارے والے جھنڈے کے سوا کسی دوسرے جھنڈے کی ضرورت نہیں، اسلام ہمارا رہبر و رہنما ہے، وہی ہمارا ضابطہ حیات ہے، ہمیں کسی سرخ یا زرد جھنڈے کی ضرورت نہیں، ہمیں کسی ازم۔۔۔۔سوشلزم، کمیونزم یا نیشنل سوشلزم کی ضرورت نہیں”

    اسی طرح 12جون 1938کو میمن چیمبر آف کامرس کی جانب سے اپنے اعزاز میں دیئے گئے ظہرانہ سے خطاب کرتے ہوئے قائد اعظم محمد علی جناح نے فرمایا: مسلمانوں کو کسی پروگرام تلاش کرنے کی ضرورت نہیں ہے، ان کے پاس ایک پروگرام گزشتہ 13 سو سال سے موجود ہے اور وہ "قرآن کریم” ہے۔ قرآن کریم میں ہمارے معاشی، ثقافتی اور تہذیبی مسائل کا حل موجود ہے۔

    اس کے علاوہ اس میں ہماری سیاسی رہنمائی کے لئے بھی ایک پروگرام ہے اور میرا اس "خدائی فقہ” میں مکمل یقین ہے اور وہ آزادی جس کے لئے میں جنگ لڑ رہا ہوں دراصل اس "خدائی قانون” کی تعمیل ہے۔ ازادی،مساوات اور اخوت اور بحثیت ایک مسلمان میرا بنیادی فرض ہے کہ انہیں حاصل کروں۔ ہماری نجات قرآنی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے میں ہے اور انہی پر کاربند ہو کر ہم آزادی سے ہمکنار ہوسکتے ہیں”۔

    ایک بار قائد اعظم ممدوٹ ولا لاہور میں تشریف فرما تھے کہ رانا نصراللہ صاحب سے باتوں باتوں میں فرمایا!
    "میں نے قرآن حکیم کا ایک انگریزی ترجمہ کئی بار پڑھا ہے مجھے اس کی بعض صورتوں سے بڑی تقویت ملی ہے۔
    رانا نصراللہ نے پوچھا: مثلاً؟ محمد علی جناح نے جواب دیا: وہ چھوٹی سی سورت ہے جس میں ابابیلوں کا ذکر ہے۔

    نصراللہ خان نے کہا: آپ کی مراد اس آیت سے ہے جو یوں شروع ہوتی ہے "الم ترکیف فعل ربک باصحاب الفیل” اس پر آپ نے فرمایا: "جی ہاں، جی ہاں، اللہ نے جس طرح کفار کے بڑے لشکر کو ابابیلوں کے ذریعے شکست دی اسی طرح ہم لوگوں کے ذریعے اللہ تعالی ان شاءاللہ کفار کی قوتوں کو شکست دے گا”(محمد علی جناح، منصور احمد بٹ ،صفحہ نمبر 173-174)

    جولائی 1947 کا واقعہ ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح دہلی میں دس اورنگ زیب روڈ پر قیام پذیر تھے اور قیام پاکستان سے متعلق معاملات کو سلجھا رہے تھے کہ علامہ شبیراحمدعثمانی اپنے کچھ دوستوں کے ہمراہ ملاقات کے لیے تشریف لائے، علامہ صاحب سلام دعا کے بعد گویا ہوئے کہ "آپ کو قیام پاکستان مبارک ہو” تو قائداعظم محمد علی جناح نے فرمایا "مبارکباد کے مستحق تو آپ لوگ ہیں جنہوں نے تحریک پاکستان کو کامیاب کرنے کی بھرپور جدوجہد کی” ، علامہ عثمانی صاحب نے سوالیہ انداز میں کہا کہ اب جبکہ اللہ کے فضل و کرم سے پاکستان بن گیا ہے آپ یہ فرمائیں کہ پاکستان میں آئین کونسا ہوگا؟

    اس پر قائداعظم محمد علی جناح نے فرمایا "پاکستان میں قرآنی آئین ہوگا، میں نے قرآن پاک مع ترجمہ پڑھا ہے اور میں پختہ یقین رکھتا ہوں کہ قرآنی آئین سے بڑھ کر کوئی آئین نہیں ہوسکتا، میں نے مسلمانوں کا سپاہی بن کر پاکستان کی جنگ جیتی ہے، قرآنی آیات کا ماہر میں نہیں آپ اور آپ جیسے علماء ہیں، میرا مشورہ یہ ہے کہ آپ دوسرے علماء کے ساتھ سر جوڑ کر بیٹھیں اور اپنے نئے ملک پاکستان کے لیے قرآنی آئین کا مسودہ تیار کریں”۔
    14 اگست 1947 کو شاہی دربار سبی سے خطاب کرتے ہوئے قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنی اسلام پسندی کا ثبوت ان الفاظ میں دیا کہ: "میرا ایمان ہے کہ ہماری نجات اسوہ حسنہ پر چلنے میں ہے جو ہمیں قانون عطا کرنے والے پیغمبر اسلامﷺ نے دیا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی جمہوریت کی بنیادی صحیح معنوں میں اسلامی تصورات و اصولوں پر رکھیں”۔

    یہیں بس نہیں بلکہ 14 فروری 1948 کو سبی میں فرمایا:
    "It is my belief that our salvation lies in following the golden rules of conduct set for us by our great lawgiver, the prophet of Islam. Let us lay the foundation of our democracy on the basis of truly Islamic riddles and principles. Our Almighty has taught us that "our decisions in the affairs of the State Shall be guided by discussions and consultations”.
    (Quaid-e-Azam,page 78,79)

    "یہ میرا یقین ہے کہ ہماری نجات کردار کے ان سنہری اصولوں کی اتباع میں ہے جنہیں ہمارے لئے ہمارے مقنن اعظم پیغمبراسلامﷺ نے مقرر فرمایا ہے۔ ہمیں اپنی جمہوریہ کی بنیاد اسلامی تصورات اور اصولوں کی سچی اور حقیقی بنیادوں پر رکھنی چاہیے۔ اللہ نے ہمیں یہ سکھا دیا ہے کہ ہمیں اپنے ریاستی معاملات میں کئے جانے والے فیصلوں میں مکالمہ اور مشاورت سے رہنمائی لینی چاہیے”۔

    محمد علی جناح کی دلی خواہش تھی کہ پاکستان میں اسلامی نظام وجود میں لایا جائے اور پاکستان میں موجود تمام طبقات کے لوگوں کو ان کے تمام بنیادی حقوق فراہم کیے جائیں، آپ تمام معاملات میں پاکستان کے دستور کو تیرہ سو سال قبل سے موجود شریعت محمدیﷺ کے مطابق ڈھالنا چاہتے تھے، تبھی تو 25 جنوری 1948 کو اپنے اعزاز میں کراچی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے دیئے گئے استقبالیہ سے بطور گورنر جنرل پاکستان محمد علی جناح نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: "میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ لوگوں کا ایک طبقہ جو دانستہ طور پر شرارت کرنا چاہتا ہے ،یہ پروپیگنڈا کر رہا ہے کہ پاکستان کے دستور کی اساس شریعت پر استوار نہیں کی جائے گی۔

    محمد علی جناح نے فرمایا: "آج بھی اسلامی اصولوں کا زندگی پر اسی طرح اطلاق ہوتا ہے جس طرح تیرہ سو برس پیشتر ہوتا ہے”
    1971ء میں قائداعظم کے بھانجے نے محترمہ فاطمہ جناح کی جائیداد کا نظم ونسق چلانے کے لئے عدالت عالیہ ہائیکورٹ کراچی میں درخواست دائر کی۔

    اس درخواست کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل سید شریف الدین پیرزادہ نے اپنی شہادت میں کہا کہ قائداعظم نہ شیعہ نہ سنی تھے بلکہ وہ ایک مسلمان تھے۔ پیرزادہ نے عدالت کو بتایا کہ میرٹھ میں مسلم لیگ کے کارکنوں نے جب قائداعظم سے سوال کیا کہ وہ شیعہ ہیں یا سنی؟ تو قائداعظم نے فوراً دریافت کیا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کیا تھے؟ اس موقع پر قائداعظم نے تفصیل سے کہا کہ وہ حضرت محمدﷺ کے پیروکار ہیں شیعہ یا سنی نہیں ہیں.

    مطلب کہ قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنے آپ کو کسی مسلک کی کڑی میں نہیں پرویا کیونکہ آپ کی ایک ہی خواہش تھی اور ساری زندگی اسی جدوجہد میں گزار دی کہ تمام مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں،صوبائیت کی تقسیم کو رد کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ "یہ ایک بیماری ہے اور لعنت ہے ، میں چاہتا ہوں کہ مسلمان صوبائی عصبیت کی بیماری سے چھٹکارا پالیں۔

    ایک قوم جب تک کہ وہ ایک صف میں نہ چلے کبھی ترقی نہیں کرسکتی، ہم سب پاکستانی اور اس مملکت کے شہری ہیں اور ہمیں مملکت کے لیے خدمات ایثار اور زندگی کا نذرانہ پیش کرنا چاہیے کہ ہم اسے دنیا کی عالیشان اور خود مختار مملکت بنا سکیں”

    اس موقع پر آپ نے مزید فرمایا کہ "رسول اکرمﷺ ایک عظیم رہبر تھے، آپ ایک عظیم قانون عطا کرنے والے تھے، آپ ایک عظیم مدبر تھے، آپ ایک عظیم فرمانروا تھے جنہوں نے حکمرانی کی ، جب ہم اسلام کی بات کرتے ہیں تو بلاشبہ بہت سے لوگ ایسے ہیں جو اس بات کو بالکل نہیں سراہتے”

    پاکستان میں موجود ایسی لابی جو سندھی، بلوچی ،پنجابی،پشتون اور کشمیری تقسیم کیے بیٹھے ہیں ان کو چاہیے کہ قائد اعظم کے اس فرمان کو سامنے رکھیں جس میں آپ نے فرمایا تھا کہ "ہم پہلے پاکستانی ہیں اور اس کے بعد پنجابی ،سندھی ،بلوچی یا پٹھان۔

    آج ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستانی عدالتیں اور حکومت مل کر اس نظام پر عمل درآمد کی کوشش کریں کہ جس کی خاطر مسلمانان ہند نے لاکھوں قربانیاں دیں اور آج یہ ملک دنیا کے نقشے پر موجود ہے۔

    موجودہ حکومت ، افواج اور عدلیہ سمیت تمام عہدیداران پر یہ واجب ہے کہ سب مل کر ایک اسلامی فلاحی ریاست کو فروغ دیں۔
    اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ رب العزت بانی پاکستان جناب قائد اعظم محمد علی جناح کی قبر پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے اور ان کی غلطیوں سے درگزر کرتے ہوئے ان کے درجات بلند فرمائے۔آمین

    قائد اعظم ،نظریاتی مسلم یا سیکولر شخصیت۔۔۔؟

    عبدالحمیدصادق

  • صرف 2 ماہ میں پورا ملک مسلمان–از–فردوس جمال

    صرف 2 ماہ میں پورا ملک مسلمان–از–فردوس جمال

    مالدیب بحر ھند میں واقع ایک سیاحتی ملک ہے،یہ ملک 1192 چھوٹے جزیروں پر مشتمل ہے جن میں سے صرف 200 جزیروں پر انسانی آبادی پائی جاتی ہے.

    مالدیب کی 100% آبادی مسلمان ہے جب کہ یہاں کی شہریت لینے کے لئے مسلمان ہونا ضروری ہے.

    عجیب بات یہ ہے کہ مالدیب بدھ مت کے پیروکاروں کا ملک تھا صرف 2 ماہ کے اندر اس ملک کا بادشاہ،عوام اور خواص سب دائرہ اسلام میں داخل ہوئے.

    مگر یہ معجزہ کب اور کیسے ہوا ؟

    یہ واقعہ مشہور سیاح ابن بطوطہ نے مالدیب کی سیاحت کے بعد اپنی کتاب میں لکھا ہے ابن بطوطہ ایک عرصے تک
    مالدیب میں بطور قاضی کام کرتے بھی رہے ہیں.

    وہ اپنی کتاب ‘ تحفة النظار في غرائب الأمصار وعجائب الأمصار ‘ میں لکھتے ہیں کہ
    مالدیب کے لوگ بدھ مت کے پیروکار تھے اور حد درجہ توہم پرست بھی اسی بدعقیدگی کے باعث ان پر ایک عفریت(جن) مسلط تھا،وہ عفریت ہر مہینہ کی آخری تاریخ
    کو روشنیوں اور شمعوں کے جلو میں سمندر کی طرف سے
    نمودار ہوتا تھا اور لوگ سمندر کے کنارے بنے بت خانہ میں ایک دوشیزہ کو بناؤ سنگھار کرکے رکھ دیتے وہ عفریت
    رات اس بت خانے میں گزارتا اور صبح وہ لڑکی مردہ
    پائی جاتی اور لوگ اس کی لاش کو جلاتے.

    عفریت کے لئے دوشیزہ کا انتخاب بذریعہ قرعہ اندازی ہوتا تھا اس بار قرعہ اندازی میں ایک بیوہ بڈھیا کی بیٹی کا نام
    نکلا تھا رو رو کر بڈھیا نڈھال ہوچکی تھی گاؤں کے لوگ بھی بڈھیا کے گھر جمع تھے ،دور سے آئے اس مسافر نے بھی
    بڈھیا کے گھر کا رخ کیا اس کے استفسار پر اسے سب کچھ بتایا گیا کہ عفریت کے مظالم کتنے بڑھ گئے ہیں.

    مسافر نے بڈھیا کو دلاسہ دیا اور عجیب خواہش کا اظہار کیا کہ آج رات آپ کی بیٹی کی جگہ بت خانے میں مجھے بٹھایا جائے،پہلے تو وہ لوگ خوف کے مارے نہ مانے کہ عفریت غصہ ہوئے تو ان کا انجام بد ہوسکتا ہے لیکن مرتا کیا نہ کرتا وہ راضی ہوگئے،مسافر نے وضو کیا اور بت خانے میں داخل ہو کر قرآن مجید کی تلاوت شروع کر دی

    عفریت آیا اور کبھی واپس نہ آنے کے لئے چلا گیا،لوگ صبح نہار بت خانہ کے باہر جمع ہوئے تاکہ لاش جلائی جا سکے لیکن مسافر کو زندہ دیکھ کر وہ سکتے میں آ گئے.

    یہ مسافر مشہور مسلم داعی،مبلغ اور سیاح ابو البرکات
    بربری تھے،ابو برکات کی آمد اور عفریت سے دو دو ہاتھ ہونے کی خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی بادشاہ نے
    شیخ کو شاہی اعزاز کے ساتھ اپنے دربار میں بلایا شیخ ابو برکات نے بادشاہ کو اسلام کی دعوت دی بادشاہ نے اسلام قبول کیا اور صرف 2 دن کے اندر مالدیب کے سب لوگ بدھ مت سے تائب ہو کر مسلمان ہوچکے تھے.

    یہ 1314ء کی بات ہے اس مبلغ اور داعی نے مالدیب کو اپنا مسکن بنایا لوگوں کو قرآن و حدیث کی تعلیم دی، ہزاروں مسجدیں تعمیر کیں،اور مالدیپ میں ہی فوت ہوئے اسی مٹی پر ہی دفن ہوئے.

    کہنے کو ابو البرکات بربری ایک شخص لیکن تنہا ایک امت کا کام کر گئے،آج بھی ان کو برابر اجر مل رہا ہوگا.

    صرف دوماہ میں پورا ملک مسلمان
    بقلم فردوس جمال!!!

  • ہندو کی فطرت اور حالات مسلم !!! تحریر: غنی محمود قصوری

    ہندو کی فطرت اور حالات مسلم !!! تحریر: غنی محمود قصوری

    اس وقت میں دنیا دوسرا بڑا مذہب اسلام اور تیسرا بڑا مذہب ہندو مت ہے یہ دنیا کا مشرک اور نجس ترین مذہب ہے اس کے تقریبا 3 کروڑ کے لگ بھگ خدا ہیں جن کی وہ پوجا پاٹ کرتے ہیں گائے ،بیل،بندر حتی کہ انسانی اعضاء مخصوصہ تک کی پوجا اسی مذہب میں کی جاتی ہے
    اس مذہب میں ایسی تقسیم ہے کہ خود ہندو بھی اپنے ہندو مذہب سے محفوظ نہیں
    ہمارے آباءو اجداد نے تقریبا 1 ہزار سال تک اس ہندوستان اور اس کے ہندوءوں پر حکومت کی لیکن تاریخ گواہ ہے آج دن تک کوئی ثابت نا کرسکا کہ کسی مسلمان بادشاہ یا سالار نے ہندوءوں سے ناروا سلوک کیا ہو بلکہ اسلامی شعائر کے مطابق بتائے گئے طریقے پر عمل کرتے ہوئے ان کو ان کی پوجا گاہیں اور رہائش گائیں فرائم کی گئیں ہندوستان بھر میں مغل دور حکومت میں قائم ہوئے مندر اس بات کی چیخ چیخ کر گواہی دے رہے ہیں کہ ہندوستان کے ہندو مسلمانوں کے غلام ہو کر بھی اپنی رسومات و رواج آزادانہ طریقے سے ادا کرتے تھے مگر اس کے برعکس ہندو کو جب بھی موقع ملا اس نے مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے اب چند دن قبل ہندوستان نے مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری قرار دے کر اپنی اندر چھپی خباثت ظاہر کر دی ہندوؤں کا ظلم مسلمانوں پر کشمیر میں ہو یا ہندوستان کے اندر اس میں نمایاں کردار انتہا پسند ہندو جماعتوں کا ہے جس میں سر فہرست RSS نامی متعصب ہندو جماعت ہے
    RSS راشٹریہ سیونک سنگھ ایک ہندو دہشت گرد تنظیم ہے
    جو کہ قیام پاکستان سے قبل ہی کیشوا بلی رام ہیڑ گوار کے زیر سایہ انڈین شہر ناگپور میں 1925 کو بنی یہ اتنی دہشت گرد تنظیم ہے کہ مسلمان سکھ عیسائی تو دور کی بات خود ہندو بھی اس سے محفوظ نہیں انگریز دور میں اس پر ایک بار جبکہ قیام آزادی کے بعد اب تک ہندوستان میں اس تنظیم پر دو مرتبہ پابندی لگ چکی ہے جبکہ امریکہ جیسا دہشت گرد اور دہشت گردوں کا سرپرست ملک بھی اس کو دہشت گرد تنظیم قرار دے چکا ہے مگر حیرت ہے کہ یہ تنظیم پھر بھی اپنی پوری قوت سے کام کر رہی ہے بلکہ اب تو اس نے باقاعدہ بھرتی سینٹر اور ٹریننگ سینٹر بھی کھولے ہوئے ہیں ماضی میں اس تنظیم کو انڈین گورنمنٹ کی طرف سے پابندیوں اور نظر بندیوں کا سامنہ کرنا پڑا مگر مودی سرکار کے آتے ہی اس تنظیم نے سرعام اپنا کام کرنا شروع کر دیا اور اب یہ تنظیم درحقیقت نریندر مودی کے زیر سایہ ہی چل رہی ہے اپنے قیام سے ہی یہ تنظیم 13 نکات پر کام کر رہی ہے
    1 بھارت کو خالص ہندو ریاست بنانا
    2 بھارت کا ترنگا درست نہیں اس کی جگہ بھگوا جھنڈا یعنی آر ایس ایس کا جھنڈہ لانا
    3 بھارت پر صرف ہندوؤں کا حق ہے لہذہ سیاسی و مذہبی جماعتیں صرف ہندوؤں کی ہی ہو اور ہندو ہی حکمران ہو
    4 بھارت میں صرف اور صرف ہندو قانون کا نفاذ جمہوری نظام کا رد
    5 مہاتما گاندھی کی جگہ ناتھو رام کا پرچار کیا جائے
    6 دلت ہندوؤں کو غلامی کی طرف دھکیلا جائے
    7 سپین کی طرف مسجدوں کی تعمیر پر پابندی لگائی جائے
    8 مسلمانوں اور سکھوں کے علاوہ اقلیتوں کو جبرا ہندو بنایا جائے
    9 بھارت کی بھاگ دور عدلیہ انتظامیہ اور دیگر تمام شعبوں پر صرف اور صرف ہندو برہمنوں کو آگے لایا جائے
    10 آر ایس ایس کے نزدیک برہمن خدا کا روپ ہیں سو برہمن کسی قسم کی سزا کا مستحق نہیں چاہے جو مرضی جرم کرے
    11 پولیس اور فوج میں اعلی عہدوں پر ہندوں برہمن جبکہ نچلی سطح پر دلتوں کو لایا جائے
    12 گائے کے تحفظ اور گائے کی پوچا کروائی جائے
    13 مسلمان عورت کے ریپ اور قتل کو جائز قرار دیا جائے
    دراصل مودی سرکار کا مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری قرار دینا آر ایس ایس کے ایجنڈے کے مطابق ہی ہے چونکہ مودی ایک متعصب اور انتہا پسند ہندو لیڈر ہے اس لئے وہ آج کشمیر اور ہندوستان میں مسلمانوں کے گرد گھیرا تنگ کئے ہوئے ہے مگر ان ظالموں کو پتہ نہیں کہ اللہ رب العزت قران مجید میں ارشاد فرماتے ہیں
    وَمَکَرُوْوَمَکَرَاللّٰہْ،وَاللّٰہُ خَیْرُالْمَاکِرِیْن
    ترجمہ_ایک چال یہ کافر چلتے ہیں اور ایک چال اللہ اور جان لو اللہ بہتر چال چلنے والا ہے
    ان شاءاللہ ہندوستان کی بربادی اور ہندوؤں کے مسلمان ہونے کا سبب بھی یہی دہشت گرد تنظیم آر ایس ایس اور ظالم متعصب مودی بنے گا ان شاءاللہ

  • اسرائیلی مظالم پر عالمی عدالت انصاف کا فیصلہ  تحریر: صابر ابو مریم

    اسرائیلی مظالم پر عالمی عدالت انصاف کا فیصلہ تحریر: صابر ابو مریم

    اسرائیلی مظالم پر عالمی عدالت انصاف کا فیصلہ
    تحریر: صابر ابو مریم سیکرٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان
    پی ایچ ڈی ریسرچ اسکالر، شعبہ سیاسیات جامعہ کراچی
    حال ہی میں عالمی فوجداری عدالت (International Criminal Court) نے اسرائیل کی جانب سے جنگی جرائم کے ارتکاب پر تحقیقات کرنے کا فیصلہ سنایا ہے جس کے بعد فلسطین کے مظلوم عوام نے امید اور خوشی کا اظہار کرتے ہوئے عالمی عدالت انصاف کے فیصلہ کو فلسطینیوں کی جاری جدوجہد آزادی کے لئے اہم قرار دیا ہے۔واضح رہے کہ سرزمین مقدس فلسطین پر غاصب صہیونیوں نے عالمی استعماری قوتوں برطانیہ اور امریکہ کی مدد سے سنہ1948ء میں ایک ناجائز اور جعلی ریاست اسرائیل کا قیام عمل میں لا کر فلسطینیوں پر بے پناہ مظالم کا سلسلہ شروع کر دیا تھا۔البتہ تاریخ فلسطین کا دقیق مطالعہ کرنے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ فلسطینیوں پر صہیونی مظالم کا سلسلہ پہلی جنگ عظیم کے بعد سے ہی شروع ہو گیا تھا اور صہیونیوں کے مظالم کی تاریخ کو آج ایک صدی سے زائد بیت چکا ہے لیکن فلسطین کے عرب باشندے اپنی ہی زمین کی تلاش میں ہیں اور اپنے ہی وطن جانے سے محروم ہیں۔غاصب صہیونیوں نے لاکھوں فلسطینیوں کو بے گھر کیا، جلا وطن کیا، ان کے گھروں کو مسمار کیا یا تو قبضہ کر لیا گیااور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے اور اس تمام مجرمانہ کاروائیوں میں صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کو دنیا کے سب سے بڑے شیطان امریکہ کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔
    عالمی عدالت انصاف کی جانب سے واضح طور پر اعلان سامنے آیا ہے کہ عالمی فوجداری عدالت اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں پر کئے جانے والے سنگین مظالم اور جرائم پر اسرائیل کے جنگی جرائم کے مرتکب ہونے پر تحقیقات کا آغاز کر رہی ہے۔اس بیان کے سامنے آتے ہیں جہاں فلسطینیوں نے خیر مقدم کیا ہے وہاں صہیونیوں کی غاصب جعلی ریاست اسرائیل نے عالمی عدالت انصاف کی توہین کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطینیو ں کے بارے میں عالمی عدالت انصاف کے پاس کوئی مینڈیٹ نہیں ہے۔دوسری جانب امریکی سیکرٹری پومپیو نے بھی ہمیشہ کی طرح سے امریکی شیطانی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے صہیونیوں کی غاصب اور جعلی ریاست اسرائیل کا ساتھ دینے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ فلسطینیوں کے بارے میں امریکہ یہ سمجھتا ہے کہ ان کی کوئی ریاستی حیثیت نہیں ہے۔
    دنیا یہ بات بخوبی جانتی ہے کہ یہی امریکہ اور برطانوی سامراج ہی تھا کہ جس کی پشت پناہی کے باعث صہیونیوں نے فلسطین کی سرزمین مقدس پر ایک ناجائز اور جعلی ریاست بنام اسرائیل قائم کی تھی اور آج امریکہ کھل کر فلسطینی عوام کے حقوق کی مخالفت کر رہا ہے۔یہی وہ نقطہ فکر ہے کہ جس کو آج دنیا کے باشعور اذہان کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ امریکہ کی دنیا بھر میں مخالفت اس لئے کی جاتی ہے اور امریکہ مردہ باد کے نعرے دنیا بھر میں اس لئے گونج رہے ہیں کہ امریکی حکومت نے دنیا کے لئے انسانی حقوق کی تعریف کچھ اور کر رکھی ہے جبکہ اپنے مفادات کے لئے او بالخصوص امریکہ کی ناجائز اولاد اسرائیل کے دفاع اور اس کے جرائم اور مظالم کی پردہ پوشی کرنے کے لئے انسانی حقوق کی تعریف کچھ اور ہے اور یہی وجہ ہے کہ فلسطینی عوام کو امریکی حکومت شاید انسانی حقوق کے زمرے میں لاتی ہی نہیں ہے۔
    امریکی سیکرٹری پومپیو کے فلسطین مخالف بیان نے دنیا پر ایک مرتبہ پھر یہ بات واضح کر دی ہے کہ دنیا بھر میں جہاں کہیں بھی دہشت گردوں اور دہشت گردی کی حمایت کی ضرورت ہو گی امریکی حکومت اور اس کے عہدیدار ہمیشہ ان کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔جیسا کہ پومپیو نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اسرائیل ایک ایسی ریاست ہے کہ جسے قانونی ریاست یا جائز ریاست تصور کر لیا جائے؟ سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ اسرائیل جس کے جرائم اور دہشت گردانہ کاروائیاں روزمرہ فلسطینیوں کے خلاف جاری ہیں ایسی دہشت گرد ریاست کی حمایت کرنے سے کیا امریکی حکومت نے امریکہ کی عوام کی تذلیل نہیں کی ہے؟امریکی عوام کو بھی چاہئیے کہ اگر وہ دنیا میں اپنے ملک کے خلاف نفرت کو کم کرنا چاہتے ہیں تو پھر امریکی حکومت کی ان تمام پالیسیوں کی مخالفت کریں جس کے باعث امریکہ مردہ باد کے نعرے دنیا بھر میں گونج رہے ہیں۔پوری دنیا پر یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو چکی ہے کہ اسرائیل کو تحفظ دینے کی خاطر امریکہ اور اسرائیل نے مسلم دنیا میں داعش جیسی دہشت گرد تنظیموں کی پرورش کی اور فلسطین کی مظلوم ملت کو گذشتہ ایک سو برس سے ظلم و بربریت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔کیا دنیا میں اسرائیل سے بڑی دہشت گرد کوئی قوت موجود ہے؟ اور کیا اسرائیل جیسی دہشت گرد قوت کی حمایت میں سب سے آگے امریکہ کے علاوہ کیا کوئی اور حکومت موجود ہے جو اسرائیل کا دفاع کرے؟
    خلاصہ یہ ہے کہ عالمی عدالت انصاف کی جانب سے فلسطینی عوام کے حق میں فیصلہ آ چکا ہے ا ب دیکھنا یہ ہے کہ ہمیشہ کی طرح امریکی حکومت عالمی اداروں کو بلیک میل کر کے انسانیت سوز مظالم کے مرتکب صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کی خاطر قوانین کی دھجیاں بکھیرے گی یا پھر اپنے دعووں کو سچا ثابت کرنے کیلئے انسانی حقوق کی اصل بنیاد کے ساتھ کھڑی ہو گی۔ظاہری طور پر امریکی سیکرٹری کے بیان سے یہی واضح ہو رہاہے کہ امریکہ اپنی ناجائز اولاد اسرائیل کے خلاف کسی قسم کی تحققات کئے جانے کے حق میں نہیں ہے۔اگر امریکی حکومت کا اسرائیل اور ظالموں کے تحفظ کے لئے یہی دستور ہے تو پھر دنیا کی تمام حریت پسند اقوام او ر فلسطین کی آزادی خواہی کے لئے سرگرم عمل قوتوں کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ امریکہ مردہ باد اور اسرائیل نامنظور کے نعروں سے اپنا احتجاج ریکارڈ کریں۔دنیا کی ظالم قوتوں کو یہ بات جان لینی چاہئیے کہ ظلم کی عمر زیادہ طویل نہیں ہوتی ہے اور بالآخر وہ دن قریب ہے کہ دنیا بھر میں مظلوم اقوام بشمول فلسطین، کشمیر، لبنان، عراق، شام، افغانستان، روہنگیا اور نیجیریا سمیت دیگر اقوام ان ظالم و جابر قوتوں کے ظلم و استبداد کو اپنے پیروں تلے روند ڈالیں گے اور وہ دن آئے گے او ہم دیکھیں گے لازم ہے کہ ہم دیکھیں گے۔

  • انصاف کا خون      ، تحریر : سید زید زمان حامد

    انصاف کا خون ، تحریر : سید زید زمان حامد

    انصاف کا خون ، تحریر : سید زید زمان حامد

    سیانے کہتے ہیں کہ اگراپنی صفوں میں غداروں کو تلاش کرنا ہو تو یہ دیکھیں کہ عین میدان جنگ میں اپنی ہی فوج کے خلاف کون کارروائیاں کررہا ہے، کون حملے کررہا ہے، کون اس کے حوصلے پست کررہا ہے، کون پیٹھ میں خنجر مار رہا ہے۔۔۔۔غدار کی صرف یہی نشانی ہے۔۔۔!

    یہ حقیقت ہے کہ کسی بھی دن بھارتی مشرک پاکستان پر حملہ آور ہوسکتے ہیں۔ کشمیر آتش فشاں بنا ہوا ہے، پورا ہند احتجاج کی آگ میں تہہ و بالا ہورہا ہے اور ہندو صیہونی آزاد کشمیر اور پاکستان پر حملے کیلئے تلواریں تیز کرچکے ہیں۔ ایسے میں مشرف فیصلے سے پوری فوج کو غدار قرار دینا کس قسم کی بے شرمی ہے۔۔۔؟

    یہ حقیقت ہے کہ پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ میں افتخار چوہدری جیسے ناپاک اور پلید، خوارج کے حمایتی جج موجود ہیں، کہ جن کی کیاری وہ خود لگا کر گیا تھا۔ مشرف فیصلے نے ثابت کردیا ہے کہ پاکستان پر ”عدالتی دہشت گردی“ بھی حملہ آور ہے۔ معاشی دہشت گرد، خوارج دہشت گرد اور ابلاغی دہشت گرد ہی کیا کم تھے کہ اب ایک نئی مصیبت ”قانونی دہشت گرد“ بھی پیدا ہوگئے، چاہے وکیلوں کی شکل میں ہوں یا ججوں کی۔

    یہ فیصلہ مشرف کے خلاف نہیں ۔۔۔ پوری پاک فوج اور ریاست پاکستان کے خلاف ہے!
    ذرا ان دو ججوں کی تحقیق تو کریں، کیا پس منظر ہے ان کا، کیا ماضی ہے، کیا کردار رہا ہے، کن کن دہشت گرد تنظیموں کے لیے یہ ”مسیحا“ بنے رہے ہیں، کتنے دہشت گردوں کو انہوں نے رہا کیا ہے، خوارج اور پی ٹی ایم سے ان کا کیا تعلق ہے۔۔۔سب کچھ سامنے آجائے گا۔۔۔!

    مشرف کیس کے شرمناک عدالتی فیصلے کے بعد اب عمران اور جنرل باجوہ کا امتحان شروع ہوتا ہے۔ پاکستان کے اندر موجود غداروں اور خائنوں کو بہت ز یادہ ڈھیل دینے کا نتیجہ اب یہ نکلا ہے کہ عین میدان جنگ میں پوری پاک فوج کو ہی بے عزت کرنے کی سازش کی گئی ہے، حوصلہ پست کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

    ایک ریاستی ادارے کی جانب سے پاک فوج کو غدار قرار دینا اور اپنے ان تمام ججوں کو بری کردینا کہ جنہوں نے جنرل مشرف کے تمام اعمال کو ”قانونی تحفظ“ فراہم کیا، نہ صرف بدنیتی ہے بلکہ بے شرمی اور بذات خود غداری ہے۔

    اب ججوں کا بھی احتساب ہونا لازم ہے، اور فوج کرے گی۔۔۔!

  • کیا قیامت ہے خود پھول ہیں غمازِ چمن…از … انشال راؤ

    کیا قیامت ہے خود پھول ہیں غمازِ چمن…از … انشال راؤ

    اگر دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت بھی دودھ کا رنگ کالا قرار دے دے اور اگر تمام لوگ دودھ کے رنگ کو کالا سمجھنا شروع کردیں تو دودھ کا رنگ کالا نہیں ہوجائیگا ہمیشہ سفید ہی رہنا ہے بالکل اسی طرح عدالت کے جانبدارانہ فیصلے میں ملک و ملت کے لیے تین تین جنگیں لڑنے والا، اللہ کے گھر (خانہ کعبہ) کا دفاع کرنے والا، ملک و ملت کو ترقی کی راہ پہ لے جانے والا محض اس بنا پہ غدار نہیں ہوسکتا کہ اس نے چند مفاد پرست سیاستدانوں کے مفادات پر قومی مفادات کو ترجیح دی تھی،

    خصوصی عدالت جتنا چاہے زور لگالے کاغذوں کے کاغذ کالے کردے، دلائل کے انبار لگالے مگر حقیقت کو تبدیل نہیں کرسکتی، سمجھ سے بالاتر ہے کہ عدالت کی طرف سے سپہ سالار پاکستان کے لیے غدار کا لفظ استعمال کیا گیا جس پر سب سے زیادہ شادیانے بھارت میں بجائے جارہے ہیں، ہندوتوا اینکرز چیخ رہے ہیں، ہندوتوا اخبارات چنگھاڑ رہے ہیں کہ دیکھو ہم نے کردکھایا وہ ایجنڈہ جو 1999 میں بھارتی ایجنسی را لیکر چلی اب پاکستانی ججز و وکلا کے ہاتھوں پورا ہورہا ہے جیسا کہ سابق بھارتی جنرل وی پی سنگھ نے اپنی کتاب "بھارت کے عسکری تنازعات اور سفارتکاری” میں بھارتی اہداف کا اظہار کیا کہ پاک آرمی کو بدنام کرنا، مورال ڈاون کرنا، دنیا میں تنہا کرنا اہم ترین ہدف رکھا،

    یہی وجہ ہے کہ افواج پاکستان کو ہر سطح پہ نشانہ بنایا جاتا آرہا ہے ایک طرف تو عالمی سطح پہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے کہ عسکریت پسندی کے پیچھے پاک فوج ہے جبکہ دوسری طرف عوام کے ذہنوں میں فوج مخالف سوچ پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جس میں اگرچہ دشمنان ملک و ملت کامیاب تو نہیں ہوپائے لیکن اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اس سازش کو کامیاب بنانے کے لیے ملک و ملت کو جو نقصان پہنچایا گیا اس کا ازالہ ممکن نہیں،

    بات ہورہی ہے کہ غدار کون؟ سب سے پہلے تو یہ تعین کیا جائے کہ غداری کسے کہا جانا چاہئے اور حب الوطنی کا پیمانہ کیا ہے؟ اس کا جواب انتہائی سادہ سا ہے کسی انسائیکلوپیڈیا یا کسی اور چیز کی مدد کی ضرورت نہیں، دنیائے تاریخ سے ثابت ہے کہ کوئی بھی دانستہ فیصلہ یا پالیسی یا راز لیک کرنا یا ملی حساس معلومات دشمنوں کو فراہم کرنا یا دانستہ دشمن کو فائدہ پہنچانا یا ایسا کام دانستہ طور پر کرنا جو ملک و ملت کے مفاد کے خلاف ہو یا ملک و قوم کے لیے نقصاندہ ہو غداری کے زمرے میں آتا ہے

    بچہ بچہ جانتا ہے کہ ملک و ملت کی فکر، مادر وطن کے لیے قربانی دینا، دشمن کی سازشوں کے آڑے آجانا، ملک و ملت کے لیے ہمہ وقت خود کو پیش کرنا حب الوطنی ہے اب اگر اس بنیاد پہ موازنہ کرتے ہیں کہ کون کیا ہے اس بات سے کون ہے جو واقف نہیں کہ بھارت و دیگر دشمن قوتیں پاکستان کے ایٹمی طاقت ہونے کی وجہ سے براہ راست جنگ نہیں کرسکتے لہٰذا پاکستان کو معاشی، معاشرتی اور سفارتی سطح پہ کمزور کرنے کے لیے داخلی و خارجی سطح پہ پاکستان کے خلاف محاذ گرم کردیا گیا

    جس میں سب سے زیادہ ٹارگٹ پاک آرمی رہی اور یہ راز کسی سے ڈھکا چھپا نہیں کہ پاکستان و پاک فوج کو عالمی سطح پہ بدنام کرنے میں بیرونی عناصر سے زیادہ اندرونی لوگ سرگرم ہیں جن میں کچھ سیاستدان، کچھ میڈیا پرسنز، کچھ کالے کوٹ والے اور کچھ نام نہاد سماجی کارکن سرفہرست ہیں، تاریخ گواہ ہے کہ اسلام کو جتنا نقصان میر جعفر و میر صادقوں نے پہنچایا اتنا نریندر مودی، بن گوریان یا نیتن یاہو نے بھی نہیں پہنچایا تھا اس ضمن میں اقبال نے کیا خوب کہا تھا کہ
    بوئے گل لے گئی بیرون چمن رازِ چمن
    کیا قیامت ہے کہ خود پھول ہیں غمازِ چمن

    کہ اپنے ہی غدار ہوتے ہیں جو مادر وطن کے راز بیرونی دشمن کی خوشنودی کے لیے دے دیتے ہیں اسی کے مصداق ڈان لیکس ہو یا خواجہ آصف کی امریکہ میں ایشیائی سوسائٹی کے سیمینار میں کی گئی تقریر، نوازشریف کے ممبئی حملوں کے حوالے سے دئیے گئے بیانات ہوں یا انٹرویو، بلاول کے وار ہوں یا کسی اور کے پروپیگنڈے جن کا سہارا لیکر دشمن قوتیں پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کا جواز بنانے کی کوششیں کرتی ہیں اور اس سوچے سمجھے منصوبے کا اصل ہدف نشانہ پاک آرمی ہی ہے

    اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ پاک آرمی انکل امریکہ کے ڈو مور کا جواب نومور سے دیتی ہے جس بنا پر عالمی قوتیں کسی بھی قیمت پر پاک فوج کی حیثیت پولیس کے مترادف کرنا چاہتی ہیں جسکے لیے ایک بار پھر آزمایا ہوا کارتوس چھوڑا گیا ہے جیسے 2007 میں عدلیہ بحالی کی آڑ میں کالے کوٹ کو استعمال کیا گیا بالکل اسی طرح ایک بار پھر وہی کالا کوٹ استعمال کیا جارہا ہے یاد رہے کہ 2007 کی عدلیہ بحالی تحریک امریکی پالیسی برائے Regime Change in Pakistan یعنی پاکستان میں اقتدار کی تبدیلی کے لیے بطور آلے کے استعمال ہوئی،

    امریکہ کی یہ پالیسی کامیاب رہی کہ مشرف کے بعد پاکستان میں جو دہشتگردی کا بازار گرم ہوا وہ رب العزت کسی اور قوم کو نہ دکھائے، اس کے علاوہ لاقانونیت، کرپشن و لوٹ مار کے ریکارڈ توڑ دئیے گئے اور قرضوں کے انبار لگادئیے گئے جس کا مقصد ایٹمی ہتھیاروں سے ہاتھ اٹھوانا اور جغرافیائی تقسیم تھا لیکن پاک فوج نے اسے دوسرے دور میں ناکام بنادیا تو اب ایک بار پھر اسی اقتدار کی تبدیلی والی پالیسی کے تحت پاکستان میں افواج پاکستان کو کمزور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور کچھ میڈیا پرسنز اس سازش کا حصہ ہیں،

    زرا سوچئے کہ مشرف ان کے نزدیک ایمرجنسی نافذ کرنے کی وجہ سے غدار جبکہ اربوں کھربوں لوٹنے والے، راز دینے والے، مختلف بیانات و انٹرویوز سے پاکستان کو بدنام کرنے والے محب وطن ہیں، زرا سوچئے مشرف تو ایمرجنسی لگا کر غدار ٹھہرا لیکن سیاستدان لاکھوں نااہل افراد کو میرٹ کی دھجیاں اڑا کر بھرتی کرکے آئین پاکستان کے مطابق اختیارات کا ناجائز استعمال کرکے، من پسند ٹھیکے دیکر اور کچھ صحافیوں کو مالا مال کرکے محب وطن، حال ہی میں جنرل باجوہ کی ایکسٹینشن کو متنازعہ بنایا گیا اور اب مشرف کو غدار لکھا گیا

    اس عدالتی فیصلے کی حیثیت بالکل ایسے ہی ہے جیسے موصوف جج صاحبان طاقت کے نشے میں شراب کو حلال قرار دیکر سوچنے لگیں کہ شراب جائز ہوگئی، جس طرح شراب کو ساری دنیا حلال سمجھنے لگے تو حلال نہیں ہوجاتی اسی طرح امریکی اخبار سے Bitches Of The Riches کا خطاب پانے والی عدلیہ کی طرف سے کرپٹ مافیا کو بری و ڈھیل دینے سے وہ پاک صاف نہیں ہوجائینگے خیر قصہ مختصر کہ ایک بار پھر کالے لباس والی سرکاریں کسی خفیہ طاقت کے اشاروں پر ایکٹیو ہوگئی ہیں جوکہ افواج پاکستان کو ٹارگٹ بناکر کبھی پورہ نہ ہونے والے خواب یعنی کہ فوج کو پولیس کی طرح بنانے کی سازش کا حصہ ہیں۔

    آرزوئے سحر
    تحریر: انشال راؤ
    عنوان: کیا قیامت ہے خود پھول ہیں غمازِ چمن