Baaghi TV

Category: بلاگ

  • جہد مسلسل—–از—–ساجدہ بٹ

    جہد مسلسل—–از—–ساجدہ بٹ

    کُچھ جہد مسلسل سے تھکاوٹ نہیں لازم

    انسان کو تھکا دیتا ہے سوچوں کا سفر بھی

    پوری دنیا میں پھیلتی ہوئی موزی مرض کرونا وائرس نے ہر انسان کو خوف زدہ کر دیا ہے اور امیر و غریب میں فرق محسوس کیے بغیر ہر فرد آج بے بس نظر آرہا ہے۔۔۔
    کیوں کہ ابھی تک اس بیماری کا علاج دریافت نہیں ہوا جس کی وجہ سے پوری دنیا مایوس ہو رہی ہے کہ اگر بیماری لاحق ہو گئی تو ہمارا کیا ہو گا؟؟؟؟؟؟؟

    غیر مسلم تو چلو مانا کہ مایوس ہیں۔۔
    مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اے مسلمان تُو کیوں مایوس ہے؟؟؟

    ایک اللہ واحد لا شریک پے یقین رکھنے والا مایوس کیوں ہوا؟؟.
    کیا ہمیں معلوم نہیں کہ عزت دینے والا۔۔۔
    ذلت دینے والا۔۔۔
    صحت دینے والا۔۔۔
    بیماری دینے والا۔۔۔
    دولت دینے والا۔۔۔
    شہرت دینے والا۔۔۔
    شفاء دینے والا۔۔۔۔

    وہ پاک پروردگار ہے دونوں جہاں کا مالک و مختار ہے اللہ تعالیٰ کے لئے تو کچھ بھی نہ ممکن نہیں۔۔۔
    پھر یہ بیماری کیا میرے رب کریم سے زیادہ بڑی ہے ؟؟؟

    اگر نہیں تو اے مسلمان تُو مایوس نہ ہونا اپنے اللہ تعالیٰ پے کامل یقین رکھنا اپنا ایمان کمزور نا ہونے دینا۔۔۔

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔۔۔۔۔

    علاج کرو کیوں کہ جس ذات نے بیماری نازل کی ہے اُس کا علاج بھی اُتارا ہے

    ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو فرمایا وہ بلاشبہ حق اور سچ ہے اس لیے سب سے پہلے تو اس بات پر یقین رکھنا کہ اللہ تعالیٰ نے جو بیماری نازل کی اُس کا علاج بھی اُتارا یہ الگ بات ہے کہ اس خوف اور مایوسی میں مبتلا انسان ابھی تک دریافت نہیں کر سکے۔۔۔۔

    لیکن ہمیں مایوس نہیں ہونا کیونکہ مایوسی ہمارے کمزور ایمان کی نشانی ہے اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگیں بیشک یہ بیماری بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہم پر عذاب ہے کہ شاید یہ انسان اب بھی سمبھل جائے۔۔۔۔
    اللہ تعالیٰ سے توبہ کرتے رہیں دعائیں کریں وہی اس بیماری سے شفا عطا کر سکتے ہیں۔۔۔۔
    اور ساتھ ساتھ اپنی اسلامی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے صفائی ستھرائی کا خیال رکھیں۔۔۔

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔۔
    صفائی نصف ایمان ہے۔۔۔۔

    ہر لحاظ سے صفائی کا خیال رکھنے کا حکم ہم مسلمانوں کو آج سے چوداں سو سال پہلے آگاہ کر دیا گیا تھا اگر صحیح سے عمل کرتے تو شاید ہمارا یہ حال نا ہوتا جو آج ہوا ہے۔۔۔
    اس میں ہمیں جسمانی صفائی گھر کی صفائی ستھرائی غرض یہ کہ ہر قسم کی صفائی سے متعلق احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ہوں گی اور اللہ تعالیٰ پر مکمل بھروسہ کرتے ہوئے جہد مسلسل سے کام لینا ہو گا فضول سوچوں سے مایوسیوں سے نکلنا ہو گا اور اللہ تعالی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بتائے ہوئے اصولوں پر چلنا ہو گا بیشک اسی میں ہماری فلاح ہے۔۔۔۔

    پھر ان شاء اللہ ہم اس کرونا وائرس جیسی بیماری سے نجات حاصل کر لیں گے۔۔۔۔
    مگر اس کے لیے ایک ہی بات ۔۔۔۔۔
    اللہ تعالی پر بھروسہ۔۔۔
    مایوسی سے بچنا۔۔۔۔
    اور جہد مسلسل۔۔۔۔۔

    اٹھو مومنو! آج سے عہد کر لو حبیب خدا کی اطاعت کریں گے

    عقیدت پے پہلو بہ پہلو عمل سے حقیقت میں تعمیل سنت کریں گے

    ان شاء اللہ

    جہد مسلسل

    تحریر: ساجدہ بٹ

  • مصیبت کی گھڑی میں پکار کی اہمیت_!!!—از—-جویریہ چوہدری

    مصیبت کی گھڑی میں پکار کی اہمیت_!!!—از—-جویریہ چوہدری

    تصور کی لہروں پر سفر کرتے کرتے میری سوچوں کا دھارا مجھے دور کہیں بہت دُور کے دور میں لے گیا…
    کورونا وبا کے خدشات،صورت حال اور بدلتی دنیا کے پس منظر میں تدابیر،حفاظتی اقدامات اور بے بسی سبھی سوچوں کے سمندر میں مختلف زاویے بنا رہے تھے…
    قوم میں افواہیں،ہیجانی کیفیت،اور خوف کے سائے…وسائل کی کمی،مشکل صورت حال میں کیا ہو گا وغیرہ…

    یہ سچ ہے کہ جب مصیبت یا بلا و وبا سے سامنا ہوتا ہے تو بسا اوقات وسائل و اسباب بھی کارگر ثابت نہیں ہوتے…
    یہی وجہ ہے کہ ان اسباب اور وسائل کو اختیار کر کے ان کے مؤثر یا غیر مؤثر ہونے کا انجام اس ذات پر ہی چھوڑ دینا چاہیئے جو تمام وباؤں اور بلاؤں کو ٹالنے کی قدرت و اختیار رکھتی ہے…
    ان وائرس کے پھیلنے اور مرض کا محرک بننے کا اذن بھی اسی کی طرف سے ہوتا ہے

    بحثیت مسلمان قوم کے ہمارا یہی ایمان ہے اور ہونا چاہیئے…!!!
    مصیبت کی گھڑیوں میں اسے پکارنے کی بھی ایک اپنی ہی شان اور مزہ ہے…
    اور مذہب پر یقین رکھنے والے اس سے انکار نہیں کر سکتے…!

    قرآن مشرکین کی حالت زار کا نقشہ بھی یوں ہی کھینچتا ہے کہ جب تُند و تیز ہواؤں اور طوفانی لہروں کی زد میں ان کی کشتیاں پھنس جاتی ہیں…
    ملاح بے بس ہو جایا کرتا تھا
    ٹیکنالوجی ساتھ دینے سے انکار کر دیتی تھی…

    معبودانِ باطل کہیں نظر نہیں آتے تھے
    مدد کو نہیں پہنچتے تھے تو وہ اسی اکیلے اللّٰہ کو اخلاص کے ساتھ پکارتے…
    جب کشتی طوفانی لہروں کے بھنور سے نکل کر ساحل کی خشکی پر پہنچتی تو ان کے وہی رنگ ڈھنگ ہو جاتے…

    مشکل حالات گزر جانے کے بعد پرانی روش اختیار کر کے اللّٰہ کے شریک بنانے لگتے…
    تو اللّٰہ تعالٰی نے انسانیت کی رہنمائی کرتے ہوئے قرآن مجید میں اُن کی اس ادا و انداز کو سخت نا پسند فرمایا ہے…!!!

    پرت در پرت واقعات ذہن کے دریچوں پر جھلملانے لگ گئے__
    وہ نوح علیہ السلام کا بیٹا تھا ناں۔۔۔

    باپ کی شفقت پدری نے جوش مارا اور پکارا کہ اے بیٹے !!!!
    آ جاؤ ہمارے ساتھ اس کشتی پر سوار جاؤ…

    تب بیٹے نے بڑی لا پرواہی سے جواب دیا، نہیں میں موجوں کے مقابل پہاڑ پر پناہ لے لوں گا…
    نوح علیہ السلام نے کتنا دردِ دل سے کہا ہو گا_:

    لا عاصم الیوم الا من رحم ربی_
    اور اس کے اور پہاڑ کے درمیان منہ زور موج حائل ہو گئی تھی…!!!!!

    یادوں کی لہروں کا سفر جاری تھا…میرے ذہن میں یونس علیہ السلام کا واقعہ آیا…
    جب قوم کو اللّٰہ کے عذاب سے ڈرا کر کشتی میں سوار ہو گئے تھے

    کشتی ہچکولے کھانے لگ گئی تو کسی مسافر کی کمی کی تجویز پیش گئی…
    معاملہ قرعہ اندازی تک پہنچا تو حضرت یونس علیہ السلام ہی دریا کی لہروں کے سپرد کیئے جانے والے ٹھہرے__

    لہروں میں جاتے ہی مچھلی نے صحیح سالم نگل لیا…
    اُس مچھلی کے پیٹ کے اندر وقت کے پیغمبر نے کیا کہا تھا_؟

    لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین¤
    تب خالق کائنات نے اپنے پیغمبر کی اس ادا کی کتنی بھاری جزا رکھی تھی کہ:

    "پس اگر وہ تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتے تو لوگوں کے دوبارہ اٹھائے جانے تک اس(مچھلی) کے پیٹ میں رہتے__!!!”
    اس دعا نے صدیوں تک متوقع سفر کو کس قدر جلدی سے طے کر دیا…؟
    ہاں یہ پکار کتنی اہمیت رکھتی ہے__!!!

    کہ ایمان والوں کو نصیحت کی گئی کہ جب تم حالتِ جنگ میں ہو تو ثابت قدم رہو اور اللّٰہ تعالٰی کا ذکر کثرت سے کرو تاکہ فلاح و کامرانی تمہارا مقدر ٹھہرے…
    اس پکار کے عمل سے ہی مدد آیا کرتی ہے…

    کائنات کا خالق و مالک ہماری پکار پر ہماری طرف متوجہ ہو کر ہماری فریاد سنتا ہے اور اس سے نکلنے کی راہیں ہموار کرتا ہے…!!!
    تبھی اپنا پیغام پہنچا دیا کہ

    کہہ دو اے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم_!!!
    اگر تمہاری دعائیں نہ ہوں تو میرا رب بھی متوجہ نہیں ہوتا__!!!(الفرقان)۔

    ابراہیم علیہ السلام نے کیا کہا تھا؟
    اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے…!!!

    رحمتِ عالم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے دعا کو ہی عبادت کہا…
    پیارے پیغمبر صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ہر موقع اور وقت کے لیئے کی گئی وسیع المعانی دعائیں ہمارا زادِ سفر ہیں…

    اے قوم__!!!
    انتظامیہ و قوانین نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے دی گئی ہدایات اوراحتیاطی تدابیر، اختیار کرنے کے بعد اپنے رب سے رابطہ بھی مضبوط کر لیجیئے…

    اپنے گھروں کے اندر رہتے ہوئے بھی انہیں مسجدوں کی صورت بنا لو__!!!
    توبہ کے سجدوں میں گڑگڑا کر اسے راضی کریں اور اپنے گناہوں کی مغفرت مانگتے ہوئے آئندہ ان کا اعادہ نہ کرنے کا عہد کریں…

    ہماری حفاظت کی خاطر تدبیر کے لیئے لاک ڈاؤن کی صورت میں اُس سے تعلق کو لاک نہ ہونے دیں اور کسی گھمبیر صورت حال سے بچنے کی دعائیں مانگیں…
    کہ یہ وبا ہم پر سے جلد از جلد چھٹ جائے کہ
    یمحو اللّٰہ ما یشآء و یثبت،و عندہ علم الکتٰب¤[الرعد]۔

    "اللّٰہ جسے چاہے مٹا دیتا ہے اور جسے چاہے ثابت رکھتا ہے،اور اسی کے پاس لوح محفوظ ہے…!!!”

    پس اس کی رحمت کا اتنا سوال کیجیئے کہ وہ ہمارے اوپر سے اس وبا کو مٹا دے…
    لغزشوں کو مغفرت اور بدبختیوں کو سعادتوں میں بدل دے…!!!

    معاشی اور اقتصادی بحران اس قوم کو نہ ڈسنے پائے اور افراتفری کی بجائے احتیاط کی جائے…!!!
    کہ ہم بے بس اور محدود وسائل والے اور لاریب اس کی رحمت و خزانے لا محدود ہیں…!!!

    یہ پکار مصیبت میں بہت بڑی دوا ہے، یہ تمام رکاوٹوں،موسمی تغیرات،فضاؤں اور خلاؤں کا سینہ چیرتی سیدھی عرش والے کے پاس پہنچتی ہے اور وہی تو اس کائنات کا پیدا کرنے والا اور اس میں بستی تمام مخلوقات کا رب ہے…!!!
    ہم حالتِ جنگ میں ہیں،کئی محاذوں پر جنگ اور جنگی حالات میں کثرت سے اللّٰہ کا ذکر کایا پلٹ دیا کرتا ہے…
    واذکرو اللّٰہ کثیر لَّعلَّکُم تفلحون¤

    اسباب اختیار کر کے ان کے انجام کو مسب الاسباب پر چھوڑ دینا توکل اور یقین کا ہی حصہ ہے،جس سے ہمارے دین نے ہمیں منع نہیں فرمایا ہے بلکہ اس کی تاکید کی ہے…!!!
    احتیاطی تدابیر اپنانے کے بعدبیماریوں سے بچاؤ اللّٰہ تعالٰی کے سپرد کر دینا، اور اپنے ایمان،توحید اور توکل کی مضبوطی کے ساتھ اعمال کی درستگی اور اخلاق و آداب کی اصلاح پر توجہ آج کی اہم ترین ضرورت ہے_!!!

    مومن اسباب اختیار کر کے ان پر تکیہ نہیں کر بیٹھتا بلکہ ان کے مؤثر ہونے کے لیئے ان اسباب کے مالک کی طرف رجوع کرتا ہے کہ اس کے رحم کا ساتھ جسم میں روح کی طرح ضروری ہوتا ہے…
    اے ہمارے رب !!!
    ہم پکارتے ہیں:
    ربنا ولا تحملنا ما لا طاقۃ لنا بہ واعف عنا واغفرلنا وارحمنا انت مَوْلٰنَا،اَنتَ مَوْلٰنَا،اَنتَ مَوْلٰنَا_واحفظنا مِمِّا نخافُ و نَحذر_!!!
    آمین ثم آمین…!!!

    ==========================🌻🌻🌻

    مصیبت کی گھڑی میں پکار کی اہمیت_!!!
    تحریر✍🏻:(جویریہ چوہدری)۔

  • دلوں کو مسخر کیسے کریں—-از—-حافظہ قندیل تبسم

    دلوں کو مسخر کیسے کریں—-از—-حافظہ قندیل تبسم

    "ہم نرمی ،افہام و تفہیم اور مناسب طرز عمل سے اپنا پسندیدہ ماحول پیدا کر سکتے اور اپنی بات منوا سکتے ہیں۔”

    لوگوں سے اچھے برتاؤ کی ترکیبیں استعمال کرنے کے حوالے سے آپ کی صلاحیت اس وقت دو چند ہو جائیں گی جب آپ کسی سے ایسا عمدہ معاملہ کریں گے کہ اسے احساس ہو وہ آپ کو سب سے زیادہ پیارا ہے۔ آپ کا دوسروں سے سلوک اس درجہ خوبصورت اور ہم آہنگ، انس و محبت اور تکریم سے بھر پور ہو کہ وہ یہ سوچنے پر مجبور ہو جائیں آپ کا ایسا شاندار تعلق ان کے سوا کسی اور سے نہیں۔

    ایسا ہی رویہ اپنے والدین، بیوی بچوں اور اپنے ہم چشموں کے ساتھ رہن سہن میں بھی اختیار کریں۔ جن افراد سے کبھی کبھی واسطہ پڑتا ہے ان کے ساتھ بھی آپ کا طرز عمل مثالی ہونا چاہیے۔

    ان سب لوگوں کا اس بات پر اتفاق ہونا ممکن ہے کہ آپ انہیں سب سے زیادہ محبوب ہیں لیکن ایسا صرف اسی وقت ہو سکتا ہے جب آپ انہیں یہ باور کرانے میں کامیاب ہو جائیں کہ آپ کو ان سے زیادہ پیار کسی اور سے نہیں۔

    ایسے طرز زندگی کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوۃ ہمارے سامنے ہے جو آدمی آپ کی سیرت کی ورق گردانی کرے گا اسے یہ تسلیم کر لینے میں تامل نہیں ہو گا کہ آپ اعلی اخلاقی روایات کے حامل تھے۔ آپ ہر ملنے والے کی عزت کرتے، اسے اہمیت دیتے، اسے ہم آہنگ ہوتے یا اسے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کرتے اور ہر ایک سے نہایت خندہ روئی اور بشاشت سے پیش آتے۔جس کسی سے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات ہوتی تو وہ یہی سمجھتا کہ آپ اسے سب سے بڑھ کر چاہتے ہیں۔ نتیجتاً وہ بھی آپ کو سب سے زیادہ چاہتا کیونکہ آپ اسے اپنی بے پناہ محبت کا احساس دلا دیتے تھے ۔

    "ہم بھی لوگوں کے ساتھ، وہ چاہے جیسے بھی ہوں اسی محبت سے پیش آئیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم ان کے دلوں کو مسخر نہ کر سکیں ۔”

    دلوں کو مسخر کیسے کریں
    حافظہ قندیل تبسم

  • 23 مارچ ، تجدید عہد وفا کا دن از محمد نعیم شہزاد

    قومی زندگی میں بعض لمحات بڑے قیمتی ہوتے ہیں اور زندہ قومیں ان لمحات کو ضائع نہیں ہونے دیتیں اور تاریخ رقم کر جاتی ہیں۔ پاکستان کی قومی تاریخ میں ایسا ہی ایک اہم دن 23 مارچ 1940 کا دن ہے جب
    لاہور کے منٹو پارک میں آل انڈیا مسلم لیگ کے تین روزہ سالانہ اجلاس کے اختتام پر وہ تاریخی قرارداد منظور کی گئی تھی جس کی بنیاد پر مسلم لیگ نے برصغیر میں مسلمانوں کے لیے عليحدہ وطن کے حصول کے لیے تحریک شروع کی اور سات برس کے بعد اپنا مطالبہ منظور کرانے میں کامیاب رہی۔

    اس کے پس منظر میں مسلم لیگ کو عام انتخابات میں ہونے والی شکست اور ہزیمت تھی جس نے مسلم قوم کی نمائندہ جماعت ہونے کے دعوے کو غلط ثابت کر دیا۔ برصغیر میں برطانوی راج کی طرف سے اقتدار عوام کو سونپنے کے عمل کے پہلے مرحلے میں 1936ء/1937ء میں پہلے عام انتخابات ہوئے اور ہندوستان کے 11 صوبوں میں سے ایک میں بھی مسلم لیگ اپنی حکومت قائم نہ کر سکی۔ اور مسلم لیگ برصغیر کی سیاست میں یکسر ناکام ہو کر رہ گئی تھی۔ اور مسلم لیگ پر واضح ہو گیا کہ اس کو مسلم نمائندہ جماعت ہونے کی بنا پر ہزیمت اٹھانا پڑی۔ اس بنا پر مسلم لیگ کی قیادت میں دو قومی نظریے کی اہمیت اجاگر ہوئی اور انھیں ایک روٹ میپ مل گیا کہ ہندو مسلم دو الگ قومیں ہیں جن میں اتحاد ممکن نہیں۔

    اسی اثنا میں دوسری جنگ عظیم کی حمایت کے عوض اقتدار کی بھر پور منتقلی کے مسئلہ پر تاج برطانیہ اور کانگریس کے درمیان ٹکراؤ ہوا اور کانگریس اقتدار سے الگ ہو گئی۔ اس طرح مسلم لیگ کے لیے کچھ دروازے کھلتے دکھائی دئے۔ اور اسی پس منظر میں لاہور میں آل انڈیا مسلم لیگ کا یہ 3 روزہ اجلاس 22 مارچ کو شروع ہوا۔ 23 مارچ کو ایک قرارداد پاس کی گئی جس میں مسلم اکثریتی علاقوں پر الگ آزادانہ مسلم حکومت قائم کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ یہ ایک اہم گھڑی تھی اور اس وقت درست لیے گئے فیصلے کی بدولت قریب ساڑھے سات برس کے عرصے میں مسلمانوں کے لیے ایک الگ وطن قائم کر لیا گیا۔

    قیام پاکستان کے 9 برس بعد اسی دن پاکستان کے پہلے آئین کو اپنایا گیا اور پاکستان پہلے اسلامی جمہوریہ کے طور پر سامنے آیا ۔ یوں پاکستان کی تاریخ میں 23 مارچ کے دن کی اہمیت دوچند ہو گئی۔

    آج الحمدللہ پاکستان اسی نظریے پر قائم ہے اور اُس وقت اِس نظریے کی مخالفت کرنے والے لوگ بھی آج اپنے فیصلے پر خود پچھتا رہے ہیں ۔ ہمسایہ ملک بھارت کے قانون میں ہونے والی حالیہ ترامیم کو ہی دیکھ لیجیے کہ کس طرح دین اسلام سے عداوت نبھاتے ہوئے متنازعہ شہریت بل پیش کیا گیا۔ اخبارات کی شہ سرخیاں اب نظریہ پاکستان کے مخالفین کو منہ چڑھا رہی ہیں اور وہ قائد اعظم محمد علی جناح کی سیاسی بصیرت کے قائل ہو گئے ہیں۔

    اس عظیم قومی دن کو بڑے تزک و احتشام کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ مگر اس سال کرونا وائرس جیسے وبائی مرض کے پھیلاؤ نے پوری قوم کو اپنے سحر میں مبتلا کر رکھا ہے۔ اور ایک عجیب خوف کی کیفیت طاری ہو رہی ہے۔ چین کے ایک شہر سے شروع ہونے والی اس بیماری نے اس وقت قریباً پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ روز بروز حالات دگرگوں ہوتے چلے جا رہے ہیں ۔ کرونا وائرس کے مبینہ مریضوں کی بغیر مناسب سکیننگ ملک میں آمد ہی پاکستان میں کرونا کے پھیلنے کا سبب بنی۔ مگر اب جب سانپ گزر گیا تو لکیر کو پیٹنے سے کیا حاصل؟ لہذا ہمیں مستقبل پر نظر کرنی چاہیے اور حکومت کی طرف سے عائد کردہ حفاظتی اقدامات پر سختی سے کاربند ہونا جانا چاہیے۔

    آج پھر ایک قومی سوچ و فکر کی ضرورت ہے۔ آئیے تجدید عہد کے اس دن یہ عہد کریں کہ ہم اس وبائی بیماری کو شکست دیں گے اور اپنے قومی جذبات کی حرارت سے اس وبا کا خاتمہ کر دیں گے۔ اور ملک و قوم کو اس بیماری کے خلاف فتح سے ہمکنار کرنے کے لیے بھرپور کردار ادا کریں گے۔ تاریخ کے تناظر میں یہ بات ضرور یاد رکھیں کہ ہمیشہ بروقت لیے گئے درست فیصلے ہی کامیابی کی ضمانت قرار پاتے ہیں۔ لہذا بلا تاخیر سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہوں، بلا ضرورت گھروں سے نہ نکلا جائے اور رش کے مقامات سے دور رہا جائے۔
    اس موقع پر دوسرا اہم پیغام حکمرانوں اور سیاسی جماعتوں کے لیے بھی ہے کہ عوامی شعور کو بیدار کرنا ان کی اولین ذمہ داری ہے۔ حکومت کی طرف سے کیے جانے والے اقدامات تسلی بخش ہیں اور امید کی جا سکتی کہ پاکستانی قوم اس وبا کو ضرور شکست دے گی۔

  • 23 مارچ اور اتحاد از عاشق علی بخاری

    اگر بغور جائزہ لیں تو اس کے پیچھے ایک طویل اور تھکادینے والی جدوجہد اور بے شمار قربانیاں آپ کو نظر آئیں گی. وطن عزیز حاصل کرنا بچوں کا کھیل نہیں تھا بلکہ دو ایسی طاقتوں سے مقابلہ تھا، جن میں سے ایک برسرِ اقتدار انگریز اور دوسرے انہی کے مہرے تھے.

    سیدھے لفظوں میں یوں کہہ لیں کہ آپ بے سر و سامان تھے اور اور مقابل پورے توپ تفنگ سے آراستہ تھا، سمجھیں یہ وہی منظر تھا کہ ایک طرف 313 تو دوسری طرف 1000 کا لشکر تلواروں، نیزوں اور بہترین گھوڑوں پر سوار.
    یہاں بھی جب فضائے بدر پیدا ہوئی تو آسمانی مدد پورے جلال کے ساتھ مسلمانوں کے شانہ بشانہ موجود تھی. جب ہم نے آزادی حاصل کی تو ہمارے اثاثے تک روک لیے گئے، ہم پر جنگیں مسلط کی گئیں، یہاں تک کہ دشمنوں کی سازشوں کا شکار ہو ہم دو ٹکڑے ہوگئے، لیکن ہم اس وقت سے اب تک سروائو کرتے چلے آئے ہیں.

    پوری انسانی تاریخ اٹھا کر دیکھ جب بھی، اور کہیں بھی پختہ عزم اور کامل یقین کے ساتھ جس نے بھی جدوجہد کی وہ یقیناً کامیاب ہوا ہے.
    منگول سلطنت ہو یا سلطنت عثمانیہ یا پھر امیر تیمور ہو یا مغلیہ سلطنت اس کے علاوہ بھی بے شمار حکمران اور افراد گزرے ہیں، جنہوں نے عزم کیا تو بالآخر اپنی منزل پر پہنچ ہی گئے.
    یہ دن بھی ہمارے لیے تاریخ کا بہترین سبق رکھتاہے.
    ہم لاالہ الااللہ کی بنیاد پر جمع ہوئے تھے، اسی پر ہم نے جمع رہنا ہے،
    اپنی منزل سے ہٹ کر چھوٹے چھوٹے رستوں پر چل نکلے تو پھر منزل سے ضرور بھٹک جائیں گے، ہمیشہ اپنے مرکز لاالہ الا اللہ کے قریب رہنا ہے اسی میں ہماری بقا کا راز چھپا ہوا ہے.

    چاہے کیسے بھی جھکڑ، طوفان چلیں، کیسی ہی ہوائیں مخالف کیوں نہ ہوجائیں، ہم نے اتحاد کے سبق کو نہیں بھولنا یہ گویا موت و حیات کے بیچ لٹکی ہوئی رسی ہے، اگر ذرا بھی ہاتھ ڈھیلا ہوا تو لکڑبگھوں اور اژدھوں کا نوالہ بن جائیں گے.
    ملک پاکستان ابتداء سے لیکر اب تک مختلف بحرانوں اور مسلسل مشکلات کا شکار ہے، اور حالیہ وبائی سلسلے میں بھی مشکلات میں گھرا ہوا ہے، ان تمام حالات میں ہم نے ایک قوم ہونے کا ثبوت دینا ہے، حکومتی اقدامات چاہے کچھ بھی نہ ہوں لیکن ہم نے وہ تمام ضروری کام کرنے ہیں جو ہمارے لیے ضروری ہیں، آپ اپنا بالکل نہ سوچیں بلکہ اگر آپ بیٹے ہو تو والدین بہن بھائیوں کا سوچو، اگر شوہر ہو تو بیوی، بچوں کا سوچیں، آپ آپ نہیں ہیں بلکہ بہت سارے لوگوں کی امید ہیں آپ. بہت سارے لوگوں کے چہروں پر آپ مسکراہٹ کا سبب ہیں، اس نے کہا تھا نہ
    احتیاط ضروری اے.

    ہمارا ملک کسی بھی لسانی، صوبائی، فرقہ وارانہ کاموں کا متحمل نہیں ہوسکتا، لہذا وہ تمام کام جو مسلمانوں کے اتحاد کے لیے نقصان دہ ہوں ان سے خود بچنا یے اور دوسروں کو بچانا ہے.
    یہ ملک کلمے کی بنیاد پر حاصل کیا گیا ہے، تو اس کے منافی کام کرکے اپنے آباء و اجداد کی قربانیوں پر پانی نہیں پھیرنا، اس ملک میں نہ لبرل ازم کی کوئی جگہ ہے اور نہ ہی سیکولرازم کی.
    سندھی، پنجابی، بلوچ سب نے مل کر اس کی بنیاد رکھی تو اب بھی ہر ایک اس کا نگران او نگہبان ہے، کوئی کسی سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا.
    پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ
    پاکستان زندہ باد

  • بنیاد پاکستان میں قرارداد پاکستان کا کردار  تحریر: غنی محمود قصوری

    بنیاد پاکستان میں قرارداد پاکستان کا کردار تحریر: غنی محمود قصوری

    ہر سال 23 مارچ کو سرکاری چھٹی ہوتی ہے سرکاری طور پر فوج کی جانب سے پریڈ کی جاتی ہے اور اس دن ہم یوم پاکستان مناتے ہیں مگر اس سال عالمی وبائی مرض کرونا کے باعث پریڈ منسوخ کر دی گئی ہے یہ سارا کچھ کیوں ہے اس کیلئے ہمیں ماضی میں جانا ہو گا
    یوں تو دو قومی نظرئیے اور قیام پاکستان کی بنیاد اسی دن ہی پڑ گئی تھی جب محمد بن قاسم نے سندھ پر راجہ داہر کے ظلم کے خلاف حملہ کیا تھا اور پھر اس کے بعد ہر آنے والے مسلمان جرنیل نے ہندو کی ٹھکائی کرکے دو قومی نظرئیے کو تقویت دی
    قیام پاکستان کا منصوبہ 14 اگست 1947 کو پایہ تکمیل کو پہنچا مگر اس پہلے ہمیں دیکھنا ہو گا کہ ہمارے بزرگوں نے اسے کامیاب بنانے کیلئے کیا حکمت عملی اپنائی اور کون کونسی قربانیاں دیں
    انگریز و ہندو سے تنگ مسلمان نے مسلم لیگ اور اپنے مسلمان قائدین کے زیر سایہ ایک الگ اسلامی ملک کیلئے کوششیں شروع کیں جس کا خواب ڈاکٹر علامہ محمد اقبال نے دیکھا تھا
    علامہ علیہ رحمہ نے 1937 کو قائد اعظم محمد علی جناح کے نام لکھے گئے اپنے خط میں انہیں مخاطب کرکے لکھا کہ اگر ہندوستان کے مسلمانوں کا مقصد سیاسی جد وجہد سے محض آزادی اور اقتصادی بہبود ہے اور حفاظت اسلام اس جدوجہد کا مقصد نہیں تو مسلمان اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکتے
    اس پیغام کو جناب محمد علی جناح نے نہایت سنجیدگی سے سمجھا اور قیام پاکستان کے لئے کوششیں انتہائی تیز کر دیں اور ان کوششوں اور قربانیوں کے نتیجے میں 22 دسمبر 1939 کو یوم نجات منایا اور اپنے ساتھیوں کا حوصلہ بڑھایا کہ منزل بہت قریب ہے کیونکہ قائد اعظم جان چکے تھے کہ ہندو کے ساتھ گزرا ممکن نہیں اور ہندو کیساتھ رہتے ہوئے مسلمان اپنا اسلامی تشخص برقرار نہیں رکھ سکیں گے اس لئے قیام پاکستان کیلئے تمام تر کوششیں تیز کر دی گئیں
    مسلم لیگ کا سالانہ اجلاس 21،22،اور 23 مارچ 1940 کو طے تھا جسے رکوانے کیلئے انگریز انتظامیہ نے دفعہ 144 کا نفاذ کر رکھا تھا تاکہ مسلمان اس جلسے کو نا کر سکیں اور جذبہ آزادی سے دستبردار ہو جائیں جو کہ مسلمانوں کے لئے ناممکن تھا سو 19 مارچ کو جزبہ آزادی سے سرشار مسلمانوں نے کرفیو کو توڑا جس پر پولیس نے گولی چلائی جس کے نتیجے میں 82 مسلمان شہید اور درجنوں زخمی ہوئے جلسے کی تاریخ بھی نزدیک تھی اور لاہور کی فضاء بھی انتہائی سوگوار تھی مگر مسلمانوں کے حوصلے انتہائی بلند تھے اور وہ ہر حال میں اس جلسے کو کامیاب بنانے کیلئے پر عزم تھے 21 مارچ کو قائد اعظم محمد علی جناح فرنٹئیر میل کے ذریعے لاہور ریلوے اسٹیشن پہنچے جہاں لاکھوں لوگوں نے ان کا پرتپاک استقبال کیا قائد اعطم ریلوے اسٹیشن سے سیدھا زخمیوں کی عیادت کرنے ہسپتال پہنچے اور ان کی عیادت کرنے کیساتھ ان کے جذبے کی بھی داد دی جس پر کارکنان مسلم لیگ و مسلمانان ہند کے حوصلے مزید بلند ہو گئے اور آخر کار 23 مارچ 1940 کو منٹو پارک لاہور میں طے شدہ وقت پر کارکنان مسلم لیگ و مسلمانان ہند جلسہ گاہ میں پہنچے اور قائد اعظم کے پہنچنے پر کانفرنس کا باقاعدہ آغاز کیا گیا جلسہ گاہ میں تل دھرنے کو جگہ نا تھی قائد اعظم نے تقریباً 100 منٹ تقریر کی چونکہ اس جلسے کا مقصد دو قومی نظرئیے کو اجاگر کرنا تھا اس لئے مسلمانوں سے خطاب کرتے ہوئے اور قرار داد پاکستان پیش کرتے ہوئے انہوں نے فرمایا کہ مسلمان اور ہندو دو الگ الگ قومیں ہیں جن کے مذہب الگ ہیں جن کی غمی خوشی،رسم و رواج اور رہن سہن الگ ہے لہذہ یہ دو قومیں ہیں اور ہم اپنے رہنے کے لئے الگ ملک پاکستان بنائینگے جہاں تمام مذاہبِ کے لوگ مکمل آزادی کیساتھ زندگی بسر کر سکیں گے قائد اعظم کے علاوہ اس جلسے میں مولوی فضل الحق بنگالی،چویدری خلیق الزماں،مولانا ظفر علی خان،سردار اورنگزیب،اور عبداللہ ہارون نے بھی تقریر کرتے ہوئے دو قومی نظرئیے اور قیام پاکستان کی اہمیت کو اجاگر کیا
    اس جلسے میں تقریباً سوا لاکھ مسلمانوں، جن میں سے بیشتر خواتین تھیں ،نے شرکت کی اس سے قبل ہندوستان میں مسلمانوں کا اتنا بڑا اجتماع کبھی نا ہوا تھا مسلمانوں نے قائد اعظم زندہ باد،سینے پہ گولی کھائیں گے پاکستان بنائینگے اور بن کے رہے گا پاکستان کے نعرے لگائے اور اپنے قائد حضرت محمد علی جناح کی قیادت میں انگریز و ہندو کے سامنے سینہ سپر ہو گے اور اپنی جان و مال کی قربانیاں دے کر 14 اگست 1947 کو پاکستان بنانے میں کامیاب ہو گئے
    آج ہمیں بھی پاکستان کی بقاء و سلامتی کیلئے علامہ محمد اقبال،قائد اعظم محمد علی جناح اور ان کے کارکنان جیسا عزم چاہئیے تاکہ دو قومی نظرئیے اور پاکستان کے قیام کا مقصد دنیا پر واضح ہو سکے اور اقبال کا خواب شرمندہ تعبیر ہو

  • یوم پاکستان اور کرونا وائرس،  قیام پاکستان کے وقت کے جذبوں کی ضرورت ہے!!! تحریر: محمد عبداللہ

    یوم پاکستان اور کرونا وائرس، قیام پاکستان کے وقت کے جذبوں کی ضرورت ہے!!! تحریر: محمد عبداللہ

    آج تئیس مارچ ہے وہ دن جو تحریک پاکستان کا سب سے خاص دن ہے. یوں تو برصغیر کے مسلمانوں کو انگریزوں کی غلامی اور ہندو کی چالبازی سے نکالنے لیے کوششیں اور کاوشیں بڑی دیر سے جاری تھیں، جنگ آزادی آٹھارہ سو ستاون سے علی گڑھ تحریک تک ،اور تحریک خلافت سے مسلم لیگ کے قیام تک برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کی اس بیچ منجھدار میں ڈولتی ناؤ کو سنبھالا دینے اور پرسکون ساحل کی سمت لانے کے لیے سینکڑوں قائدین نے اپنی خدمات سرانجام دیں.

    مسلم لیگ کے قیام کے بعد کچھ سمتیں متعین ہونا شروع ہوئیں پھر قائد و اقبال کی زیرک قیادت نے مسلمانوں کے تحفظ کا بیڑہ اٹھایا اور بالآخر تئیس مارچ انیس سو چالیس کو اسلام کے لاکھوں پروانے لاہور میں منٹو پارک میں جمع ہوئے جس کو آج گریٹر اقبال پارک کے نام سے جانا جاتا ہے ان لاکھوں فرزندان توحید نے محمد علی جناح کی قیادت میں پختہ عہد کیا کہ ہمیں کوئی وزارتیں اور پیکجز نہیں چاہیں بس لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی بنیاد پر ایک آزاد وطن چاہیے جہاں اسلام آزاد ہو اسلام پر کاربند ہونا آزاد ہو.

    اس دن شیر بنگال کی طرف سے پیش کی جانے والی قرارداد نے برصغیر کے مسلمانوں کو ان کی منزل دکھا دی اور پھر سات سال کے مختصر عرصے میں قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں برصغیر کے مسلمانوں نے اپنی اس منزل کو پاکستان کی صورت پالیا. یہ منزل کوئی پھولوں کی سیج نہیں تھی بلکہ آگ و خون کے دریا تھے جن کو عبور کرنا پڑا تھا ، قربانیوں کی داستان اسماعیل و ابراہیم تھی.
    پچاس لاکھ مسلمانوں نے فقط لاالہ الا اللہ کی آزاد سرزمین پر ایک سجدے کی خاطر اپنا سب کچھ چھوڑ دیا تھا اور چل نکلے تھے مگر ہجرتوں کے یہ سفر بھی آسان نہ تھے. سولہ لاکھ مسلمانوں کو اس وطن عزیز کے لیے قربان ہونا پڑا تھا ، پاکباز ماؤں اور بیٹیوں کی عصمتیں تار تار ہوئیں تھیں اور پھر لٹے پٹے قافلے پاکستان کی سرحد پر پہنچتے تو سبز ہلالی کے سائے تلے سجدہ ریز ہوجاتے.
    آج کا دن کوئی معمولی دن نہیں ہے بلکہ اس دن کو یوم پاکستان کہا جاتا ہے یہ دن ہے ان یادوں کا، ان عہد و پیمان کا، ان قربانیوں اور ان کاوشوں کا دن ہے کہ جو اسلام کی ایک آزاد اور مضبوط ریاست کے قیام کا باعث بنیں. لیکن آج صورتحال بہت ہی نازک ہے، دنیا بھر میں پھیلنے والی وباء کرونا وائرس سے وطن عزیز پاکستان بھی محفوظ نہیں رہ پایا فقط چند دنوں کے اندر نقشہ بدل چکا ہے اس دن کے تحت ہونے والی سبھی تقریبات حتیٰ کہ افواج پاکستان کی پریڈ تک منسوخ ہوچکی ہے اور ریاست کے سربراہان مجبور ہوکر ملک بھر میں کرفیو اور لاک ڈاؤن لگانے کی سوچ بچار کر رہے ہیں.

    وزیراعظم پاکستان عمران خان کا کہنا ہے کہ پاکستان جیسا ملک جہاں پچیس فیصد لوگ یومیہ اجرت پر مزدوری کرتے ہوں وہ مکمل لاک ڈاؤن کا متحمل نہیں ہوسکتا مگر ہم اٹلی اور ایران بھی نہیں بننا چاہتے کہ کرونا کی وجہ سے لاشیں ہر طرف بکھری پڑی ہوں اور کوئی اٹھانے والا بھی نہ اس لیے پاکستان کہ ہر شہری کو قوم کا کردار ادا کرنا پڑے گا ان جذبوں کا زندہ کرنا پڑے گا کہ جو قیام پاکستان کے وقت تھے. اس وقت گھر سے نکلنے کا حکم تھا تو آج گھروں میں رہنے کا حکم ہے. اس وقت اس حکم پر عمل کیا تھا اور سر دھڑ کی بازی لگائی تھی تو پاکستان ملا تھا آج اگر گھر میں رہنے کے حکم پر عمل کرتے ہیں تو پاکستان کو بچا پائیں گے.
    اپنے گھر میں رہیے، ریاست کو مجبور مت کیجیئے کہ ان کو ملک مکمل طور پر بند کرنا پڑ جائے کہ صورتحال انتہائی حد تک خطرناک ہوتی جا رہی ہے اور یہ مکمل طور پر عوام الناس اور انتظامیہ کی لاپرواہی کے نتائج ہیں آج یوم پاکستان کا پیغام یہی ہے کہ ایک قوم بنیے نہ کہ ایک ہجوم.

    محمد عبداللہ کے مزید بلاگز پڑھیں۔

    محمد عبداللہ

  • کرونا وائرس،خدشہ اور ہماری ذمہ داری—از—جویرہ چوہدری

    کرونا وائرس،خدشہ اور ہماری ذمہ داری—از—جویرہ چوہدری

    تاریخِ انسانی کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ انسانوں کا مختلف ادوار میں مختلف وباؤں،اور ارضی و سماوی آفات سے واسطہ پڑتا رہا ہے…
    قدرت کے ان مظاہر کے سامنے انسان بے بس بھی نظر آیا اور ہزاروں،لاکھوں بلکہ کروڑوں افراد ان بیماریوں اور وباؤں کا شکار ہو گئے…

    آج کی جدید اور سائنس کی صدی میں بھی ان وباؤں اور آفات کے سامنے انسان اتنا ہی بے بس نظر آتا ہے جتنا پہلے تھا…
    ،حالیہ کرونا وائرس کی مثال ہی لیجیئے کہ دیکھتے ہی دیکھتے دنیا بھر کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے اور ہر طرف ایک ہی بازگشت سنائی دے رہی ہے اور وہ ہے کرونا وائرس سے بچاؤ کے اقدامات…
    انسان چونکہ اشرف المخلوقات ہے اور اس کا کردار بھی سب سے ممتاز ہے۔

    سابقہ اقوام کے حالات کا ہی جائزہ لیا جائے تو وہ بھی انسان تھے مگر جب انسانیت سے تہی دست ہو گئے اور اللّٰہ تعالٰی اور اس کے بھیجے گئے انبیاء و رسل علیھم السلام کی تعلیمات سے یکسر انکار کر دیا تو ان کے حالات سے آگہی ہمیں قرآن اس انداز میں دیتا ہے کہ ہم نے انہیں کس انداز میں بے بس کر دیا کہ کسی پر تو چنگھاڑ بھیجی،کسی کو غرق کر دیا،کسی پر پتھر برسائے تو کسی کو گھن جیسے کیڑے کے آگے بے بس کر دیا
    ان کے کھانے پینے،اوڑھنے،بچھونے پر مینڈک ڈال دیئے،ٹڈیوں اور لہو کے عذاب سے دوچار اور بے چین و بے قرار ہو گئے…
    کسی پر آسمانی بجلی کی کڑک گری تو کئی زلزلوں سے ہلا دیئے گئے…

    غرض تاریخِ انسانی کی یہ ہلکی سی جھلک قرآن کریم کے آئینے میں ہمیں دکھائی دیتی ہے…
    پھر مختلف وبائی امراض میں انسانوں کی تنبیہہ اور آزمائش جاری رہی جو آج تک جاری ہے…

    تو جب ایسی صورتحال میں ہم اسلامی تعلیمات پر نظر ڈالتے ہیں تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طاعون جیسی بیماری کو اللّٰہ کا عذاب کہا ہے اور پھر ایسے حالات میں جو نیکو کار اس سے متاثر ہو جاتے ہیں اور صبر کرتے ہیں تو ان کے لیئے شہید کا لفظ استعمال فرمایا…(صحیح بخاری ،کتاب الطب)۔

    وبائیں جب پھوٹ پڑتی ہیں تو ان کا شکار کوئی بھی ہو سکتا ہے چنانچہ حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کی تعلیم دیتے ہوئے رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    جہاں طاعون پھیل جائے وہاں سے نکلو نہیں اور جہاں پھیلا ہوا ہو وہاں جاؤ نہیں…(صحیح بخاری)۔

    تو ایسے حالات میں متاثرہ لوگوں کا علاج اور آئسولیشن کے اقدامات باقی افراد کی حفاظت کی خاطر کیئے جائیں تو اس پہ تنقید برائے تنقید کی ضرورت نہیں رہتی اور پھر اگر حکومت وقت اس سے بچاؤ کے اقدامات اٹھاتی ہے تو ہمیں بھی چاہیئے کہ ان قوانین پر عمل درآمد کریں…

    اگر ہماری دعوتیں،پارٹیاں اور خوشی کے مواقع پر لمبی چوڑی رسومات کچھ وقت کے لیئے معطل ہو جاتی ہیں تو قومی مفاد و سلامتی کے لیئے یہ کوئی مہنگا سودا نہیں ہے…
    اسی طرح تعلیمی اداروں کی بندش اگر پندرہ دن، ایک ماہ کے لیئے کر دی گئی ہے تو یہ بھی کوئی سنگین صورتحال نہیں ہے…!!!

    اور وہ لوگ جو کام کے بغیر بھی تنخواہ لے لیں گے ان کے لیئے تو سونے پر سہاگہ والی بات ہے…
    آرام بھی اور دام بھی…

    ہاں ایسی صورتحال میں وہ طبقہ ضرور پستا ہے جو دیہاڑی دار ہے تو بحیثیت مسلمان قوم کے اہل خیر ایسے لوگوں کے ساتھ بھر پور تعاون کرتے ہوئے ان کے نفسیاتی دباؤ میں کمی لا سکتے ہیں۔
    حفاظتی اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ایسے ہی ہے جیسے ہم شوگر،کولیسٹرول اور بلڈ پریشر کنٹرول کرنے کے لیئے احتیاط کرتے ہیں۔

    اگر ہم اس چیز پر عمل نہیں کرتے تو اس کی مشکلات کو بھی خود ہی فیس کرتے ہیں…
    ڈاکٹرز کے مشوروں پر عمل ہی دوا کا اثر دکھاتا ہے۔

    آپ سب جانتے ہیں کہ دوا تب ہی اثر انداز ہوتی ہے جب ڈاکٹر کے مشورے سے لی جائے اور پھر ان چیزوں سے پرہیز اور اجتناب بھی کیا جائے جو دوا کے اثرات میں رکاوٹ بنتی ہیں…
    اسی طرح مختلف میڈیا پلیٹ فارم بھی آگہی کے نام پر قوم میں نفسیاتی دباؤ،خوف اور ہیجانی کیفیت پیدا کرنے کی بجائے اُمید افزا انداز میں رائے عامہ ہموار کرتے رہیں۔

    ان تمام ظاہری تدابیر کے ساتھ ساتھ ہمیں توکل اور یقین کو بھی مستحکم کرنے کے ساتھ باطنی اصلاح پر بھی خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے…
    بدیانتی،ظلم و زیادتی،نا انصافی،دھوکہ دہی،فحاشی و بے حیائی،ملاوٹ،جھوٹ،ناپ تول میں کمی،گراں فروشی،ذخیرہ اندوزی اور دیگر اخلاقی برائیوں کا سدباب کرنے اور اپنے معاملات درست کرنے کی بھی اشد ضرورت ہے…
    رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:

    "جب کسی قوم میں بے حیائی پھیل جاتی ہے اور اعلانیہ اس کا ارتکاب کیا جانے لگتا ہے تو وہ طاعون اور ایسی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتی ہے جو ان کے آباؤ اجداد میں نہ تھیں…”
    (ابن ماجہ)۔

    آج دنیا نت نئی بیماریوں کا شکار کیوں ہو رہی ہے؟
    کہ اس نے خالق کائنات کے احکامات اور حدود سے تجاوز شروع کر دیا ہے…!!!
    حلال اور حرام کے رستوں کی پہچان مٹا دی ہے

    تو ایسے اعمال کی وجہ سے یہ انسان پھر بے بس کر دینے والی بلاؤں اور وباؤں کے حصار میں جکڑ لیا جاتا ہے…
    انفرادی اور اجتماعی طور پر کثرت استغفار اور نیکی کی طرف پلٹنے کا جذبہ ایمان پیدا کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ ہم پر سے یہ مشکل گھڑیاں ٹل اور کٹ جائیں۔۔۔
    صبح و شام نبوی دعاؤں کا التزام کریں…!!!

    ہمارا رب ہمارے گناہوں سے درگزر فرما کر اپنی رحمت واسعہ سے ان وباؤں سے نجات دے دے کیونکہ قدرت افراد کی کوتاہیوں سے درگزر کر دیتی ہے مگر جب قومیں غلط راہوں کا انتخاب کرتی ہیں تو صفحۂ ہستی سے بھی مٹ جایا کرتی ہیں…!!!

    وباؤں کی لپیٹ میں آ جاتی ہیں…
    بلاؤں کی زد میں گھِر جاتی اور آفات کے سامنے بے بس ہو جایا کرتی ہیں…

    اللّٰہ ہمیں اپنے عذاب سے وہ جس صورت میں بھی ہو اپنی مہربان پناہوں میں لے لے، اور ہم سے راضی ہو جائے ایسی رضا جس کے بعد ناراضگی نہ ہو اور ہم سے ایسے اعمال حسنہ سرزد ہوں جن کے بعد برائیوں کے سمندر نہ اُبلنے پائیں…آمین__!!!
    کہ قدرت کبھی کرتی نہیں ملت کے گناہوں کو معاف…

    ہمیں اجتماعی اصلاح کی طرف قدم بڑھانے کی ضرورت ہے…
    کہ جس نے یہ جسم و جاں عطا کیئے ہیں اسی کی مرضی کے تابع ہو کر ہم جسمانی و روحانی طور پر برکت،عافیت اور رحمت کے مستحق بن سکتے ہیں

    یہی اس کا وعدہ ہے جس میں کچھ شک نہیں__!!!
    اَللّٰھُمَّ احفظنا مِمَّا نخاف وَ نحذر__!!!آمین یا ارحم الراحمین…!!!

    کرونا وائرس،خدشہ اور ہماری ذمہ داری_!!!
    تحریر✍🏻:(جویریہ چوہدری)۔

  • نظریہ پاکستان —از— سفیراقبال

    نظریہ پاکستان —از— سفیراقبال

    نظریہ پاکستان… حقیقت میں صرف نظریہ ہی نہیں ایک نصب العین ہے… ایک وعدہ ہے اور ایک یقین ہے. یہی نظریہ تھا جس کی بنیاد پر لاکھوں مسلمانوں نے قیام پاکستان کے وقت ہجرت کی… اپنا گھر اپنی مٹی اپنا مال اپنی جائداد آور اپنے پیاروں کو چھوڑا…اپنے دین کی سلامتی کے لئے…. اپنے ایمان کی حفاظت کے لیے… اپنی اولاد کے پر یقین مستقبل کے لئے… تپتے صحراؤں میں ایک پرسکون سجدے کے لیے… اور جنت الفردوس کے میٹھے چشموں کے لیے.

    انہیں یقین تھا کہ اگر مسلمان رہنا ہے… مسلمان جینا ہے اور مسلمان مرنا ہے تو یہ نظریہ اپنانا پڑے گا ورنہ اس نظریے کو چھوڑ کر نہ سعادت کی زندگی ملے گی اور نہ شہادت کی موت…! نہ دنیا ملے گی اور نہ ہی آخرت. نہ دین اسلام ملے گا نہ ایمان…! وہ لوگ اپنا سب کچھ چھوڑ کر پاکستان آ گئے اور اس نظریہ کے محافظ بن گئے. آور اس نظریہ کی ہی بدولت آج وہ اسلامی دنیا کی قیادت کر رہے ہیں…!

    اس نظریہ پر بار بار حملے ہوئے…. بار بار اسے دفن کرنے…. اسے ڈبونے کی کوشش کی گئی لیکن جتنی کوشش کی گئی اتنا ہی یہ ابھر کر سامنے آتا رہا. اس نظریہ کا ہر دشمن فنا ہوتا رہا اور یہ نظریہ کبھی نہ فنا ہوا. دہلی کی یونیورسٹیوں میں تکبیر کے نعروں سے لیکر افغانستان میں روسی اور امریکی شکست تک… کشمیر کے لالہ زاروں سے لیکر بنگلہ دیش کے مرغزاروں تک…. یہ نظریہ پوری امت مسلمہ کے لیے راہ نجات بھی ہے، فتح کی امید بھی اور سلامتی کا ضامن بھی.

    اسی نظریہ کی بدولت کل بھی امت مسلمہ کو ایک ملک انعام ملا اور آج بھی یہی نظریہ اتحاد اور سلامتی کی امید ہے. اس نظریہ نے پہلے افغانستان میں روس کو… اور پھر امریکہ کو توڑا اور اب بھارت بھی اسی نظریہ کی بیداری سے خائف اور پریشان ہے.

    تاریخ شاہد ہے کہ جس جس نے بھی یہ نظریہ جانا اور مانا… دنیا میں فتح وہ کامیابی نے اس کے قدم چومے آور جس نے بھی اس سے انکار کیا صرف وہی نہیں بلکہ اس کی نسلیں بھی ذلت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوئیں.

    اگر آج ہم دنیا اور آخرت میں عظمتیں اور بلندیاں چاہتے ہیں تو اس نظریہ کو اپنائے بغیر کچھر ممکن نہیں. اس لیے ضرورت ہے کہ آج بھی اسی طرح متحد ہو کر اسی نظریہ پاکستان پر عمل کر کے قیام پاکستان کی طرح ہم سب تکمیل پاکستان کے لیے کوشش کریں. اور حقیقی معنوں میں پاکستان کو اسلام کا قلعہ ثابت کریں.

    نظریہ پاکستان
    سفیر اقبال

  • تعلیمی ادارے، پارک اور گراؤنڈز بند، بچے سارا دن گھر پر، والدین کی اک بڑی مشکل کا حل کہ بچوں کو کیسے مصروف کیا جائے

    تعلیمی ادارے، پارک اور گراؤنڈز بند، بچے سارا دن گھر پر، والدین کی اک بڑی مشکل کا حل کہ بچوں کو کیسے مصروف کیا جائے

    کرونا وائرس اس وقت اپنی شدت کے ساتھ حملہ آور ہوچکا ہے. اس وقت دنیا کے 188 ممالک میں کرونا وائرس کے تین لاکھ آٹھ ہزار چار سو تریسٹھ کیسز ہیں اور یہ تعداد لمحہ با لمحہ بڑھتی چلی جارہی ہے. اس خطرناک وائرس سے اب تک تیرہ ہزار انہتر لوگ وفات پاچکے ہیں صرف اٹلی میں ایک دن میں مرنے والوں کی تعداد آٹھ سو سے زیادہ ہے اٹلی میں کرونا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد سب سے زیادہ ہوچکی ہے اب تک چار ہزار آٹھ سو پچیس لوگ کرونا وائرس کی وجہ سے موت کے منہ میں جاچکے ہیں. جبکہ چین میں مرنے والوں کی تعداد تین ہزار دو سو اکسٹھ تھی.
    وطن عزیز پاکستان میں بھی صورتحال لمحہ با لمحہ بگڑتی چلی جا رہی ہے لوگوں کی لاپرواہی کی وجہ سے یہ موذی وائرس بڑی تعداد میں پھیلتا چلا جا رہا ہے کہاں پانچ چھ دن قبل پاکستان میں پچیس تیس کیسز تھے اور اب تعداد ساڑھے سات سو سے اوپر ہوچکی ہے. سماجی تنہائی کے لیے بنائے سینٹرز کی حالت نہایت تباہ کن ہے اور وہ بجائے کرونا وائرس کو روکنے کے کرونا وائرس کے پھیلاؤ میں نرسریز کا کردار ادا کررہے ہیں دوسری طرف پاکستان میں بعض علماء کا کردار بھی نہایت ہی منفی ہے علماء کا یہ طبقہ بجائے لوگوں کو احتیاط اور سماجی تنہائی پر قائل کرنے کے ان کو گھل مل کر رہنے اوف اجتماعات وغیرہ منعقد کرنے پر اکسا رہا ہے ان علماء کے نزدیک یہ وائرس فقط میڈیا کی پیدا کردہ ہائپ ہے.
    اسی طرح کرونا وائرس کے مریض بھی خاص احتیاط نہیں برت رہے کوئی اسلام آباد پمز سے چھپ چھپا کر بھاگ رہا ہے تو کوئی ائرپورٹ پر رشوت دے کر چھپ کر نکل کر بیسیوں اپنے ہی رشتہ داروں میں کرونا وائرس کو پھیلا رہا ہے. سکھر سے بڑی تعداد میں لوگ جن میں کرونا وائرس کے کنفرم مریض بھی تھے وہ نکل کر بھاگ گئے ہیں. انتظامیہ بھی ان معاملات کو سنجیدہ نہیں لے رہی ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں کرونا کے مریضوں کی تعداد بڑھتی چلی جا رہی ہے اور صورتحال خطرناک حد تک سنجیدہ ہورہی ہے. لوگوں کے ان رویوں کو لے کر پاکستان بھر میں جزوی طور پر لاک ڈاؤن ہوچکا ہے تعلیمی ادارے ، مارکیٹس، پبلک ٹرانسپورٹ، ریلوے وغیرہ بند کو بند کرنے کا اعلان ہوچکا ہے.
    تعلیمی اداروں میں چھٹیوں اور ٹیویشن سینٹرز کے بند ہونے کی وجہ سے بچے سارا دن فارغ ہیں. پہلے گرمیوں کی چھٹیاں ہوتی تھیں تو بچے پارکس، گراؤنڈز ،رشتہ داروں کے ہاں اور مختلف علاقوں کی سیر و تفریح کو جاتے تھے مگر موجودہ صورتحال میں سبھی آپشنز ختم ہوچکے ہیں بچے سارا دن گھر ہیں اور مائیں اپنے بچوں سے سخت عاجز آچکی ہیں اور بچے بھی سارا دن والدین اور بالخصوص ماؤں کی ڈانٹ ڈپٹ سے چڑچڑے اور ضدی ہورہے ہیں جو کہ ان کی جسمانی اور ذہنی صحت کے لیے نہایت نقصان دہ ہے یہ کوئی اتنا بڑا ایشو نہیں ہے جس کو حل نہ کیا جاسکے ہم آپ کو کچھ ٹپس دیتے ہیں جن کے مطابق آپ بچوں کی جسمانی اور ذہنی تربیت کرسکتے ہیں اور ان کی تعلیمی ضروریات کو بھی ان چھٹیوں میں باآسانی پورا کرسکتے ہیں.

    آپ کو کرنا یہ ہے کہ بچوں کا چوبیس گھنٹے کا ٹائم ٹیبل بنائیں. کس ٹائم اٹھیں گے کس ٹائم سوئیں گے کیا کھائیں گے کیا پیئیں گے مطلب ہر چیز آپ کے چارٹ میں لکھی ہونی چاہیے. یہ زندگی کا سب سے مشکل کام ہوتا ہے کہ آپ اپنی ہر چیز کو کیلکولیٹ کریں لیکن موجودہ دنوں میں اس پر عمل درآمد کرنا بہت آسان ہے اور یہ آپ کی اور آپکے بچوں کی ساری زندگی کے لیے بہت کارآمد اور منافع بخش ثابت ہوسکتا ہے. جن والدین اپنے بچوں کی بری صحبت اور بری عادات کی شکایت رہتی ہے وہ ان دنوں میں وہ سب عادات اور بری صحبتیں چھڑوا کر اپنے بچوں کی بہترین روحانی اور جسمانی تربیت کرسکتے ہیں اور سب سے بڑھ کر ہمارے معاشرے میں بچوں اور والدین کے درمیان بہت بڑا ذہنی فرق ہوتا ہے اس کو ان دنوں میں دور کرکے آپ اپنے بچوں کو اپنا دوست بنا سکتے ہیں.
    آپ نے ان کا چوبیس گھنٹے کا شیڈول اور ٹائم ٹیبل بنا لیا ہے، ان کی ڈائٹ کا چارٹ بھی تشکیل دے دیا ہے تو اب آپ ایکٹیویٹز ، گیمز، لرننگ اور ایکسرسائز وغیرہ پر آجائیں.
    ایکسرسائز
    سب سے پہلے تو آپ اپنے بچوں کو ایکسرسائز کی عادت ڈالیں اس کے لیے کسی پارک جم یا کلب کو جوائن کرنا ضروری نہیں ہے ان دنوں میں ویسے بھی کہیں بھی جانے یا بچوں کو بھیجنے سے احتیاط برتیں کہ گھر رہنے میں ہی آپ کی بقاء ہے. اس کے لیے یوٹیوب پر بےشمار چینلز ہیں جو آپ کو بچوں اور بڑوں کی انڈور ایکسرسائز کروا سکتے ہیں آپ ان ویڈیوز کو دیکھ کر خود بھی اور بچوں کو بھی ایکسرسائز کروائیے. اسی طرح آپ اپنے بچوں کو حفاظت کی غرض سے سیلف ڈیفینس تیکنیکس لازمی سکھائیے.
    ایکٹیویٹیز
    آپ گھر میں چھوٹے بچے ہیں تو آپ گھر کے کسی کمرے یا کونے کو پارٹیشن کرکے بچوں کا ایکٹیویٹی روم بناسکتے ہیں اس میں بچوں کی دلچسپی کے لیے وال پیپرز، غبارے، لائٹس وغیرہ کا اہتمام کیا جاسکتا ہے اور اس ایکٹیویٹی روم میں آپ بچوں کو ڈرائنگ، ایلفابیٹک گیمز، پینٹنگ وغیرہ کی صورت بہترین ایکٹیویٹز میں مصروف کرسکتے ہیں بچوں کو رنگوں سے کھیلنا سکھائیے.
    گیمز
    آپ گھر کی چھت یا صحن میں بچوں کے ساتھ فٹ بال، کرکٹ، بیڈمنٹن کھیل سکتے ہیں. لیکن ایک بات یاد رکھیے کہ اس کے لیے محلے بھر کے بچوں کو ہرگز جمع نہ کیا جائے بلکہ ہر گھر والے اپنے اپنے بچوں کے ساتھ یہ گیمز کریں.
    تیراکی یا نہانا
    مارکیٹ سے بچوں کے لیے انڈور پولز باآسانی میسر ہوتے ہیں ویسے بھی موسم کی حدت میں اضافہ ہورہا ہے اور گرم موسم میں بچہ پانی کے ساتھ کھیلنے کو ترجیح دیتا ہے تو آپ گھر کے صحن میں یا کسی کونے میں اس پول میں پانی ڈال کر اپنے بچے کو گھنٹوں تک مصروف کرسکتے ہیں پانی میں جراثیم کش ڈیٹول کو بھی ملایا جاسکتا ہے لیکن اس بات کا خیال آپ نے رکھنا ہے کہ بچہ نہانے کے دوران پول سے پانی نہ پیئے.
    دینی تربیت
    گھر میں آپ بچوں کو خود سے قران سکھا سکتے ہیں اور سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے واقعات سنا کر ان کی دینی تربیت بہترین انداز سے کرسکتے ہیں. الرحیق المختوم سے روزانہ ایک دو پیجز بچوں کو پڑھ کر سنائے جاسکتے ہیں اگر آپ نہیں بھی پڑھ سکتے تو انٹرنیٹ پر آڈیو بکس میسر ہیں یہ اسٹوریز کی صورت بچوں کو اسلامی واقعات سناتے ہیں جن میں بچے خاصی دلچسپی لیتے ہیں.
    ڈاکیومینٹریز
    بچوں کی ذہنی بلوغت اور جنرل نالج میں اضافے کے لیے مختلف موضوعات پر ڈاکیومینٹریز انٹرنیٹ سے دکھا سکتے ہیں جن میں اسلامی ڈاکیومینٹریز، قیام پاکستان، نظریہ پاکستان، انسانی تاریخ وغیرہ
    کارٹونز
    شاید ہی کوئی گھر ایسا ہو جہاں بچے کارٹونز نہ دیکھتے ہوں اور بچے پھر ہر طرح کے کارٹونز دیکھتے ہیں جن کی وجہ سے ان کے عقائد اور اخلاقیات متاثر ہوتے ہیں آپ اپنے بچوں کے لیے کارٹونز کی سلیکشن خود کریں بے شمار صحیح العقیدہ اور اسلامی اور اخلاقی تربیت کرنے والے کارٹونز بھی ہیں مثال کے طور پر عمر اینڈ ہنہ کی سیریز ہے عبدالباری کی سیریز ہے اسی طرح کچھ ایسی کارٹونز کی سیریز ہیں جو بچوں کو قران سکھاتے ہیں تو آپ بچوں کو خود سے کارٹونز سلیکٹ کرکے دیں.
    لرننگ اور تعلیمی ضروریات
    اسکولز اور ٹیویشن سینٹرز بند ہوجانے کی وجہ سے بچوں کا تعلیمی سلسلہ مکمل رک گیا ہے لیکن اس معاملے میں بھی پریشان ہونے کی قطعاً ضرورت نہیں ہے بے شمار تعلیمی ویب سائٹس ہیں جن پر بچوں کا سارا تعلیمی نصاب میسر ہے اور آپ اپنے بچوں کے تعلیمی سلسلے کو ان ویب سائٹس کی مدد سے جاری رکھ سکتے ہیں مثال کے طور پر
    سبق ڈاٹ پی کے
    ای لرن پنجاب
    خان اکیڈمی
    بی بی سی لرننگ
    فیوچر لرن
    وغیرہ وغیرہ
    ہم امید کرتے ہیں ان ٹپس پر عمل کرکے آپ بچوں کو بہترین انداز میں مصروف بھی کرسکتے ہیں اور ان کی بہتر تعلیمی، روحانی اور جسمانی تربیت بھی کرسکتے ہیں.

    محمد عبداللہ کے مزید بلاگز پرھیے