Baaghi TV

Category: بلاگ

  • وبائی امرض میں احتیاط سنت نبوی کیساتھ!!!  تحریر :غنی محمود قصوری

    وبائی امرض میں احتیاط سنت نبوی کیساتھ!!! تحریر :غنی محمود قصوری

    آجکل ایک وبائی مرض کرونا وائرس کا بہت زور اور شور ہے یہ مرض چین کے شہر ووہان سے شروع ہوئی اور پھیلتے پھیلتے ابتک دنیا کے 188 ممالک تک جا پہنچی ہے جس میں ابتک 308463 افراد متاثر ہوئے ہیں اور ابتک 13069 افراد اس بیماری کی بدولت مر چکے ہیں اور بہت سے متاثرہ مریض صحت یاب بھی ہو چکے ہیں
    پاکستان میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 645 ہے جن میں سے 3 افراد جانبحق اور 13 صحت یاب ہو چکے ہیں
    سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں چین ,ایران اور اٹلی ہیں اور سںب سے زیادہ اموات بھی اٹلی میں ہوئی ہیں جس کی وجہ اٹلی کی عوام کا اپنی گورنمنٹ کی طرف سے جاری کردہ ہدایات پر عمل نا کرنا اور اس وباء کا بہت تیزی کیساتھ پھیلنا ہے جس کی بدولت اٹلی میں اب تک 4825 اموات اس وبائی مرض کی بدولت ہو چکی ہیں
    اس وقت پوری دنیا میں اس وبائی مرض کرونا کی بدولت خوف و ہراس کا سما ہے
    دنیا بھر کی طرح پاکستان گورنمنٹ نے بھی احتیاطا دفعہ 144 کا نفاذ کر رکھا ہے مزارات و پبلک مقامات کو لوگوں کیلئے بند کر رکھا ہے اور لوگوں کو ہدایت کی ہے کہ بغیر انتہائی ضرورت کے گھر سے نا نکلیں زیادہ ہجوم والی جگہوں پر جانے سے پرہیز کریں ہاتھ صابن سے بار بار دھوئیں ہینڈ سینیٹائزر کا استعمال کریں ہاتھ ملانے سے گریز کریں اور مسجد میں زیادہ تعداد میں اکھٹے نا ہو وغیرہ
    یہ سب احتیاطی تدابیر کروانے کا مقصد اس بیماری کو پھیلنے سے روکنا ہے جو کہ ہمارے اپنے حق میں ہی بہتر ہے مگر کچھ کم عقل لوگ نا تو خود احتیاط کر رہے بلکہ دوسروں کو بھی احتیاط نا کرنے کا کہہ رہے ہیں اور بطور مثال یہ بات کہہ رہے ہیں کہ موت کا وقت مقرر ہے جو کہ آ کر ہی رہنی ہے مگر ایسے لوگ یہ نہیں سوچتے کہ اگر بجلی کی ننگی تاروں کو بغیر احتیاطی تدابیر کے چھوا جائے تو یقینا کرنٹ لگتا ہے اور کرنٹ لگنے سے بعض مرتبہ موت بھی واقع ہو جاتی ہے مگر اسی ننگی تاروں کو جب احتیاط کرتے ہوئے بچاؤ کے دستانے پہن کر اور احتیاطی اوزاروں سے چھوا جائے تو کرنٹ نہیں لگتا مطلوبہ کام بھی ہو جاتا ہے اور جان بھی بچ جاتی ہے
    ہم مسلمان ہیں اور ہماری زندگی اسلام کی محتاج ہے اگر ہم نے دنیا و آخرت میں کامیاب ہونا ہے تو ہمیں اسلام و اپنے نبی جناب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے گئے طریقوں پر عمل پیرا ہونا پڑے گا کیونکہ نبی کریم نے فرمایا کہ کامیاب وہ ہے جو میرے اور میرے صحابہ کے بتائے ہوئے رستے پر چلے گا لہذہ اب چونکہ کرونا کی شکل میں ایک وبائی مرض پوری دنیا کو اپنی لپٹ میں لے چکی ہے تو ہمیں اس کیلئے نبی کریم کے فرامین کو دیکھنا پڑے گا تاکہ ہماری دنیاوی و اخروی کامیابی ہو اس لئے اس حدیث کو دیکھتے ہیں کہ کس طرح ایک جزام کے مریض سے میرے نبی نے احتیاط کرتے ہوئے ہاتھ نہیں ملایا تھا اور بیعت بھی لے لی تھی
    وبائی (وائرس) بیماری کے شکار انسان سے پرہیز کرنا سنت ہے
    سنن ابن ماجه
    كتاب الطب
    ٤٣. بَابُ : الْجُذَامِ
    شرید بن سوید ثقفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وفد ثقیف میں ایک جذامی شخص تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کہلا بھیجا: ”تم لوٹ جاؤ ہم نے تمہاری بیعت لے لی“۔
    حالانکہ دوسرے صحابہ کرام جن کو جزام کا مرض لاحق نا تھا ان کے ہاتھ پر نبی کریم نے بیعت لی
    حکم: تخریج الحدیث: «صحیح مسلم/السلام 36 (2231)، سنن النسائی/البیعة 19 (4187)، (تحفة الأشراف: 4837)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/389، 390) (صحیح)» ‏‏‏‏
    درج بالا حدیث سے ثابت ہوا کہ وقت کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے ہم بھی صرف زبانی السلام و علیکم و رحمتہ اللہ کہیں کیونکہ یہ معلوم نہیں کہ کون شحض اس وقت اس وبائی مرض کرونا میں مبتلا ہے اور رہی بات ایک ہی جگہ یعنی اپنے گھروں میں رہنا جیسا کہ دفعہ 144 نافذ کی گئی ہے اور مزارات و پبلک مقامات کو بند رکھا گیا ہے تو اس کے لئے اس حدیث کو دیکھتے ہیں
    امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ بسند صحیح روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے طاعون کے بارے میں فرمایا:
    (( جو آدمی طاعون کے حالات میں صبر کے ساتھ اور اجر و ثواب کی نیت سے اپنے گھر میں ٹھہرا رہے یہ جانتے ہوئے کہ اسے جو کچھ بھی ہو گا صرف وہی ہوگا جو اللہ نے اس کے مقدر میں لکھا ہے تو ایسے شخص کیلئے شہید کے اجر کے برابر ثواب ہے )
    حكم الحديث: إسناده صحيح على شرط البخاري.
    شیخ سلیمان الرحیلی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث اللہ تعالی پر توکل کے ساتھ ساتھ حسبی اسباب کو بروئے کار لانے کے بارے میں بنیادی قاعدے کا درجہ رکھتی ہے ۔
    اس حدیث سے ثابت ہوا کہ وباء سے بچنے کے لیے گھر میں ٹھہرے رہنے کے بارے میں یہ حدیث بنیادی اصول ہے اور رہی بات بار بار ہاتھ کی تو نبی کریم کی مشہور حدیث الطہارت نصف الایمان یعنی صفائی نصف ایمان ہے پر عمل کیجئے تاکہ ہم اس وبائی مرض سے محفوظ رہ سکیں اور ہمارا ملک پاکستان اس سے بچ سکے تو حکومت پاکستان کی جاری کردہ ہدایات پر عمل کرکے اس وبائی مرض کو پھیلنے سے روکئیے

  • کورونا وائرس اور ہمارے رویے—از–نعمان علی ہاشم

    کورونا وائرس اور ہمارے رویے—از–نعمان علی ہاشم

    .اگر آپ بھوک سے مرنے والے ہیں اور حلال اشیاء میں سے کچھ بھی دستیاب نہیں. تو آپ اتنی مقدار اور اتنے ٹائم تک کوئی بھی دستیاب حرام کھا سکتے ہیں جس سے آپ کی جان بچ سکے.
    یہ شریعت کا حکم ہے. اور اس پر عمل نہ کرنا خود پر ظلم کے مترادف ہے. ایسی صورتحال میں آپ پر حرام کی پکڑ بالکل نہیں ہے. سو اتنا حرام کھا لیں جتنا آپکی ضرورت ہے.
    .

    آپ کسی ایسی بستی کے باسی ہیں جہاں جابر حکمران ہے. اور وہ آپ سے کفر کے ارتکاب کا مطالبہ کرتا ہے. اور آپ یہ سمجھیں کہ اگر میں حق پر ڈٹا رہا تو مارا جاؤں گا. اور میرے مارے جانے کے بعد شاید یہاں دین کا نام لینے والا کوئی نہ رہے. تو جان کو بچانے کے لیے کفر بکا جا سکتا ہے. اس پر اللہ نے پکڑ نہیں رکھی.
    .

    اگر آپ کسی مرض میں مبتلا ہو گئے ہیں. اور کسی حرام چیز سے ہی اس کا علاج ممکن ہے. اس کے علاوہ کوئی حلال وسیلہ نظر میں نہیں. یا ایفورڈ ایبل نہیں تو آپ علاج کی غرض سے کوئی بھی حرام چیز لے سکتے ہیں. تب تک جب تک آپ مرض سے شفاء نہیں پاتے. یا کوئی حلال دوائی میسر نہیں آ جاتی. اس پر اللہ نے کوئی پکڑ نہیں رکھی.
    .

    مذکورہ بالا تمام باتوں پر امت کے تمام گروہ مسالک اور آئمہ میں اتفاق ہے. یعنی کہ یہ ہر لحاظ سے انڈرسٹوڈ مسئلہ ہے.
    .

    اللہ انسان کی مجبوریوں سے سب سے زیادہ واقف ہے…. اسے اپنے بندے کو سختی میں ڈالنے کا شوق نہیں ہے.. اللہ اپنے بندوں پر بے حد مہربان ہے.
    .

    قرآن کا فرمان ہے. ایک انسان کی جان بچانا انسانیت کو بچانا ہے.

    حدیث میں آتا ہے کہ ایک مسلمان کی حرمت بیت اللہ سے زیادہ ہے.
    .
    اوپر والی تمام باتوں کو زہن و دل میں نقش کریں اور یہ عہد کریں کہ اپنے حکام کے ساتھ ہر ممکن تعاون کریں گے
    بیماری کا پھیلنا اللہ کی تقدیر سے ہے. اور اس سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر کرنا بھی اللہ کی تقدیر ہے.

    اگر کسی ایک انسان کی جان بچانے کے لیے آپکے حکام اجتماع پر پابندی لگا رہے ہیں تو اس سے ہر ممکن پرہیز کریں. اول تو یہی بات احسن ہے. اگر آپ پھر بھی مطمئن نہیں تو اطمینان رکھیں اس سب کا آپکو گناہ نہیں ہوگا. اگر یہ سب غلط بھی ہوا تو اس کا گناہ حکام کے سر ہوگا یا ان کی کھلے عام حمایت کرنے والوں کے سر.

    اگر کچھ دن تک لاک ڈاؤن ہوتا ہے تو براہ کرم گھروں میں ٹھہرے رہیں.
    نماز گھر کے اندر ادا کریں. گھر کے کسی ایک فرد کو امام مقرر کرکے جماعت کر لیں.

    یاد رکھیں شدید بارش اور سردی میں رسول اللہ صل اللہ علیہ والہ وسلم نے گھروں میں نماز ادا کرنے کی رخصت دی ہے. اور موزن کو اضافی الفاظ بھی سکھائے ہیں. "” صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ””
    دیکھ رہا ہوں کل سے کچھ لوگ بیت اللہ میں طواف کی بندش اور گھروں میں نماز ادا کرنے اعلان کو صریحاً کفر کہہ رہے ہیں.

    اگر مجبوراً گھروں میں نماز پڑھنا جائز نہیں تو یہ لوگ رسول اللہ صل اللہ علیہ والہ وسلم پر بھی معاذاللہ فتوٰی لگائیں گے؟ . کیونکہ مجبوری میں گھر پر نماز پڑھنے کی دلیل رسول اللہ خود دے کر گئے ہیں.؟
    مزید یہ ہے کہ:

    زخیرہ اندوزی نہ کریں.
    میل ملاقات اور دیگر سرگرمیاں بھی معطل کر دیں.

    اگر بیت اللہ کا طواف رک سکتا ہے. گھر میں نماز ادا ہو سکتی ہے تو باقی تمام معاملات کی حیثیت ثانوی ہو جاتی ہے.
    جسم و لباس کی صفائی کا خیال رکھیں.

    گھر میں جراثیم کش سپرے کریں.
    ضروری نقل و حمل بھی اپنے آپ کو ڈھانپ کر کریں.
    اللہ سے استغفار کریں.

    صبح و شام کے اذکار کو لازم پکڑیں.
    اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو.

    والسلام
    نعمان علی ہاشم
    #نعمانیات

  • کرونا وائرس،علماء اور حکمرانوں کے پھڈے. تحریر: انجینئر ذیشان وارث

    کرونا وائرس،علماء اور حکمرانوں کے پھڈے. تحریر: انجینئر ذیشان وارث

    علماء اور حکمرانوں کے پھڈے

    دنیا بھر میں کرونا نے خوف و ہراس پھیلایا ہوا ہے۔ طبی ماہرین نے اس کے پھیلاؤ کو روکنے کے جو طریقے بتائے ہیں، ان میں سب سے موثر آئسولیشن یعنی افراد کا ایک دوسرے سے الگ تھلگ رہنا بتایا گیا ہے۔ اس کا فائدہ یہ ہو گا کہ اگر کسی ایک بندے کو بیماری ہے وہ یا تو اپنا علاج کروالے گا یا شہادت سے سرفراز ہو جائے گا۔ کسی دوسرے میں بیماری منتقل نہیں کرے گا۔

    اب اس بات پر حکمرانوں نے کہا کہ عوام میل ملاپ کم کر دیں۔ میل ملاپ کی جگہوں میں مساجد بھی آتی ہیں۔ اب علما کو لگا کہ اگر دو چار ہفتے کیلئے مساجد بند ہو گئیں تو شاید اسلام کا وجود مٹ جائے گا۔ لہٰزا کچھ علما نے اس فیصلے کا بائیکاٹ فرمادیا۔ ایک ویڈیو سوشل میڈیا پہ وائرل ہوئی ہے جس میں مولوی صاحب فرمارہے آیسولیشن اور سوشل ڈسٹینسنگ دی پین سی سری۔ اور یہ کہ "دوری نا رہے کوئی آج اتنے قریب آؤ”۔ کندھے سے کندھا اور گٹے سے گٹا ملاؤ۔

    علماء اور حکمرانوں کے یہ پھڈے آج کے نہیں ہیں شروع سے چلے آرہے ہیں۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ علماء کا کام صرف فتوٰی لگانا ہوتا ہے۔ زمینی حقائق یا فتوے کے بعد پیدا ہونیوالی صورتحال سے حکمرانوں کو ہی نمٹنا پڑتا ہے۔ تاریخ اسلام میں بہت مرتبہ ایسا ہوا کہ علماء اور حکمرانوں میں ٹھن گئی۔ حجاج بن یوسف کی سختی مشہور ہوئی۔ اس کے پیچھے وجہ یہ تھی ہ وہ ہر بات کا جواب تلوار سے دیتا تھا۔ اس کے زیرِنظر واحد مقصد سلطنت کا استحکام تھا۔

    یہی وجہ ہے کہ اس وقت محمد بن قاسم نے جب ہندوستان کے کچھ علاقے فتح کیے تو اس نے کچھ ایسے انتظامی فیصلے کیے جو کہ اگر علماء کی نظر سے دیکھے جائیں تو کالعدم ہوجائیں۔ مثلا کچھ جگہوں پہ جزیہ معاف کرنا یا غیرمسلموں کو عہدے دینا۔ دلی سلطنت کی بنیاد رکھی گئی تو علماء کو خصوصی مقام دیا گیا۔ لیکن کچھ ہی عرصے میں وہاں علماء نے حکمرانوں کے فیصلوں پر انگلی اٹھانا شروع کردی۔ شمس الدین التتمش کے دور میں حالات اتنے کشیدہ ہوئے کہ اس کے وزیراعظم نے علماء کو اکٹھا کرکے سمجھایا کہ حکومت کو بھی اسلام کا درد ہے لہٰزا آپ ہر کام میں مداخلت نا فرمائیں۔

    تاریخی طور پر یہ بات تسلیم کی جاتی ہے کہ جہاں بھی مسلمانوں کی کامیاب سلطنتیں قائم ہوئیں وہاں حکمرانوں نے علماء کو انتظامی معاملات سے علیحدہ رکھا۔ جہاں جہاں علماء کو انتظامی معاملات میں مداخلت کا موقع ملا، اکثروبیشتر خرابی ہی ہوئی۔ مشہور مؤرخ ایس ایم اکرام نے ہندوستانی تاریخ پہ لکھی گئی اپنی کتاب میں بیان کیا ہے اورنگ زیب جب بادشاہ بنا تو اس نے علماء کے کہنے پہ اسی (80) کے قریب ٹیکس معاف کردیے اور جزیہ و زکات باقی رکھے۔ انتظامی لحاظ سے یہ فیصلہ دو دھاری تلوار ثابت ہوا کیونکہ اس سے ریاستی فنڈز بھی کم ہوئے اور ہندو رعایا میں بہت زیادہ بے چینی اور بغاوت پھیلی۔ یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں کہ یہ تنقید کرنے والے ایس ایم اکرام اورنگ زیب کے ممدوحین میں سے ہیں اور کچھ مؤرخین نے تو ان پر اورنگ زیب کا اپالوجسٹ ہونے کے الزامات بھی لگائے ہیں۔

    اس کے علاوہ پاکستان میں بھٹو نے علماء کے بہت سارے مطالبات کوتسلیم کیا۔ ختم نبوت ترمیم، شراب اور جوئے پر پابندی، جمعے کی چھٹی اور اسلامی کانفرنس کا انعقاد۔ مگر علما کے مطالبات ھل من مزید کے تحت بڑھتے گئے یہاں تک کے بھٹو پھانسی پہ جھول گیا۔ اس کے بعد ضاء نے اسلامائزیشن کا عمل شروع کیا تو قسما قسم کے جہادی برانڈز متعارف کروائے گئے۔ جنہوں آگے بڑھ کر حقیقت میں پاکستان کی اینٹ سے اینٹ بجائی، قتل و غارت گری کی وہ مثالیں قائم کیں کہ چنگیز خان کی روح خوش ہو گئی ہوگی۔ اس کے علاوہ خارجہ محاذ پہ پاکستان کو جو نقصان ہوا اسکا ازالہ آج تک پاکستان کررہا ہے۔

    سب سے بڑا ہاتھ سعودی عرب کے ساتھ ہوا۔ پوری دنیا میں جن لوگوں کو اس نے پیٹرول سے کمائے گئے پیسے کھلائے وہی اس کی گردن کو آگئے۔ جہیمین سے لیکر القاعدہ اور اخوان المسلموں سب سعودیہ کہ یہود سے بڑے کافر سمجھتے ہیں جبکہ ان سب کی پرورش سعودی ریالوں سے ہوتی رہی۔

    یہ کہانی بہت لمبی ہے شاید پوری کتاب کا موضوع ہے۔ مختصرا تجزیہ کیا جائے تو دو وجوہات سمجھ میں آتی ہیں کہ علماء ایس کیوں کرتے ہیں۔ ایک خبطِ عظمت، دوسری زعمِ تقوٰی۔ لب لباب یہ ہے مولوی صاحب جتنی مرضی جزباتی تقریریں فرمالیں، اگر گٹے سے گٹا ملاتے وقت آپ کو کرونا لگ گیا تو یہ آیسولیشن وارڈ میں آپ کے پاس بھی شاید نہ آئیں۔ اس وقت حکومت کو گالیاں نکالنے سے اچھا ہے کہ ابھی ان کی بات مان لیں۔

    آخر میں سوچنےوالی بات یہ ہے کہ آخر عوام علماء حضرات کے پیچھے چل کے حکومتوں کو کیوں یہودی ایجنٹ سمجھتے ہیں۔ اس کی وجہ وہ بدگمانی ہے جو حکمرانوں کے متعلق پید کی جاتی ہے کہ یہ لوگ شاید اسلام سے ویسی محبت نہیں رکھتے جیسی علماء رکھتے ہیں۔ مشرف اور حجاج بن یوسف جیسے حکمراں اس سوچ کو جواز بخشتے ہیں۔ یہ جھگڑے تو چلتے ہی رہیں گے۔ اس وقت لازمی چیز یہ ہے کہ اپنی حفاظت کی جائے۔ جس دن اسلام اتنا کمزور ہوگیا کہ اسے ہماری حفاظت کی ضرورت پڑجائے، اس سے پہلے قیامت آچکی ہوگی۔

    ذیشان وارث

  • کورونا وائرس، اصل خطرہ کیا ہے؟

    کورونا وائرس، اصل خطرہ کیا ہے؟

    کورونا وائرس، اصل خطرہ کیا ہے؟
    باغی ٹی وی فوجی گاڑیوں کی یہ قطار کسی ملک میں فوجی انقلاب کی نوید نہیں ہے بلکہ یہ ترقی یافتہ یورپ کا مڈل کلاس ملک اٹلی ہے، جہاں کورونا اپنے پنجے گاڑ چکا ہے۔ آج دفتر سے نکلتے وقت اٹلی میں اموات کی تعداد چین سے زیادہ ہوچکی تھی ۔۔ اب وہاں یہ حال ہے کہ میتیں اٹھانے کے لیے گاڑیاں نہیں ہیں سو فوجی ٹرکوں میں میتیں بھر کر بغیر کسی غسل وکفن اور آخری رسومات کے دفن کی جارہی ہیں، ایران میں ہر دس منٹ میں کورونا سے ایک موت ہورہی ہے۔ وہ دوائیں خریدنے کے لیے ساری دنیا سے بھیک مانگ رہا ہے کہ بس پابندیاں ہٹالو۔۔

    اب آتے ہیں پاکستان میں جہاں پوری قوم کو یہ سب کھیل تماشا لگ رہا ہے، کچھ چیخ رہے ہیں کہ یہ سب بند کیوں کیا گیا ہے تو کچھ شہر بند ہونے کی خوشی میں دعوتیں کررہے ہیں۔۔

    میں آپ کو بتاؤں اصل خطرہ کیا ہے؟ اصل خطرہ یہ ہے مرض جب بگڑتا ہے تو سوائے وینٹی لیٹر کے کوئی چارہ باقی نہیں رہتا اور وینٹی لیٹر نہ ملنے کا مطلب موت ہے۔۔

    دستیاب اعداد وشمار کے مطابق پورے ملک میں کل ملا کر جو وینٹی لیٹر ہیں وہ ڈھائی ہزار سے زیادہ نہیں ہیں۔۔
    آپ نے یقیناً یہ تعداد پہلی بار سنی ہوگی سو اب تھوڑا گبھرا لیں۔۔

    پنجاب میں سرکاری اور غیرسرکاری ملا کر کل 1700 سو وینٹی لیٹر ہیں، بلوچستان میں کل 49 ، کے پی میں 150.. سندھ کے صحیح اعداد مجھے نہیں مل سکے لیکن اندازہ ہے کہ یہاں یہ تعداد کل چھ سو سے آٹھ سو کے لگ بھگ ہے۔ کراچی جیسے بڑے شہر میں جہاں ہزاروں پرائیویٹ اسپتال ہیں، ان اسپتالوں کے پاس وینٹی لیٹرز کی کل تعداد 175 ہے باقی تمام اسپتال محض نزلے کھانسی اور بخار کے علاج کے لیے ہیں۔۔

    اب اگر یہ وبا پھیلتی ہے، جو کہ پھیل رہی ہے، رات گئے تک مریضوں کی تعداد پانچ سو کے قریب ہوچکی تھی ۔۔ تو ان میں سے ایک خاطر خواہ تعداد کو وینٹی لیٹر درکار ہوں گے۔ یہ ڈھائی تین ہزار وینٹی لیٹر تو اس ملک کی اشرافیہ کی ضرورت کے لیے بھی ناکافی ہیں کجا یہ کہ عام آدمی کو مل جائیں۔۔

    اس لیے اسکول بند کیے، کالج یونیورسٹی بند اور مارکیٹیں بھی بند کردیں۔۔ اب بھی اگر عوام نے سنجیدگی اختیار نہیں کی تو حکومت کرفیو لگانے کا سوچ رہی ہے۔۔

    جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ حکومت کو دباؤ دے کر کاروبارِ زندگی بحال کر لیں گے وہ ذرا ہوش کریں۔۔

    ایک لاکھ پچھتر ہزار وینٹی لیٹر ہیں امریکا کے پاس اور وہ خوف سے لرز رہا ہے۔۔ بھارت جو ہم سے بہت آگے ہے، وہ اتوار سے کرفیو نافذ کررہا ہے۔۔ آسٹریلیا نے اپنے ملک میں داخلہ آج سے بند کردیا ہے۔ چین جیسے ٹیکنالوجی کے سپر پاور نے اس جنگ میں فتح محض لاک ڈاؤن پر عمل کرکے ہی حاصل کی ہے۔ جنوبی کوریا وغیرہ نے لاک ڈاؤن کرکے ہی خود کو بچایا ہے۔

    مجھے معلوم ہے کہ معاشی نقصان بے حد شدید ہوگا یہاں آجر سفاک ہے، دوکاندار اپنے ملازم کو بغیر کام کے تنخواہ نہیں دے گا، روز دہاڑی والے مزدور کا چولہا دو دن سے بند پڑا ہے۔۔

    لیکن اگر یہ نہیں کریں گے، تو تصویر کا دوسرا رخ بھیانک ہے، یاد کریں ذرا ہیٹ اسٹروک کو، وہ صرف ایک شہر کراچی کی روداد تھی، چار دن میں حشر یہ تھا کہ نہ کفن تھا نہ دفن کرنے والے تھے، مردہ خانے بھر چکے تھے، نمائش چورنگی پر جے ڈی سی ٹینٹ لگا کر میتیں رکھے بیٹھا تھا۔۔

    مزدور اور دہاڑی دار طبقے کے لیے مڈل کلاس اٹھے، اور اپنے ساتھ کم از کم ایک خاندان کو ایک وقت کا راشن دلوادے۔۔ لیکن یہ جو ہدایات ہیں کہ ہاتھ نہ ملائیں، اجتماعات نہ کریں، گھروں میں رہیں۔ بلا سبب گھر سے باہر نہ آئیں، ان پر خدارا عمل کریں۔۔

    یہ سب مذاق نہیں ہے، یہ ساری دنیا پاگل نہیں ہے جو اپنے کاروبار سمیٹ کر بیٹھ گئی ہے، آپ اللہ توکل کریں لیکن اپنے انتظامات کرنے کے بعد۔۔ یہ وقت فیس بک پر میمز بنانے اور ٹویٹر پر عثمان بزدار کو رگڑنے کا نہیں ایک قوم بن کر اس بحران سے نبٹنے کا ہے ۔۔ یہ وبا ہے، یہ تیسری عالمی جنگ کے درجے کی ایمرجنسی ہے، اسے سمجھیں اور اپنا کھلنڈرا پن ایک طرف رکھ کر پوری قوم سنجیدگی کا مظاہرہ کرے۔۔

    اگر آپ خود گھر میں نہیں بیٹھیں گے تو فوج آپ کو ڈنڈے مار کر گھروں میں رکھے گی ۔۔ اگر آپ وبا کے معاملے میں اللہ پرہی بھروسا کرنا چاہتے ہیں تو پھر رزق کے معاملے میں بھی کریں۔۔

    تنگی تو یقیناً ہوگی، غذائی قلت اس وقت سب سے بڑا خطرہ بن کر سامنے کھڑی ہے۔۔ ایسے حالات میں ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہمیں خوراک کے معاملے میں محتاط ہونا ہے، فضول ضیاع کو روکیں۔۔ فالتو کی دعوتیں بند کردیں، باہر نہیں جاسکتے تو یہ مطلب نہیں کہ ڈیلیوری بوائے سے کھانا منگوا کر کھایا جائے۔۔ فوڈ کا بحران اس وقت دوسرا بڑا چیلنج ہے وینٹی لیٹر کے بعد ۔۔ یاد رکھیں حکومت تنہا اس معاملے سے نہیں نبٹ پائے گی ۔۔ آپ کو، مجھے ہم سب کو مل کر ساتھ کھڑا ہونا ہوگا۔۔۔

    باقی آپ سب کی مرضی ۔۔ وما علینا الاالبلاغ

  • کرونا وائرس اور ہماری ذمہ داریاں!!! تحریر: طارق محمود

    کرونا وائرس اور ہماری ذمہ داریاں!!! تحریر: طارق محمود

    گزشتہ سال چائنہ سے شروع ہونے والا کرونا وائرس دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی اپنے پنجے گاڑ چکا ہے اور آخری اطلاعات کے مطابق پاکستان میں 370 کے قریب شہری اس کا شکار ہو چکے ہیں جن میں سے چار کامیاب علاج کے بعد اپنے گھر جا چکے ہیں جبکہ دو افراد کے لیے یہ وائرس جان لیوا ثابت ہوا ہے پاکستان میں کاروباری سرگرمیاں محدود ہو چکی ہیں اور سڑکوں پر ٹریفک بھی معمول سے کم ہے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس صورتحال میں عام شہری کی ذمہ داریاں کیا ہو سکتی ہیں؟ میں پاکستانی شہریوں سے اپیل کرنا چاہتا ہوں کہ انتہائی عقلمندی اور ہوش سے کام لینا ہو گا ہمیں ایسا رویہ اختیار کرنا ہو گا کہ جس سے ہماری ذات کے ساتھ ساتھ کسی بھی شہری کو نقصان نہ ہو۔ اس کے لئے چند باتوں پر عمل درآمد بہت ضروری ہے سب سے پہلے یہ کہ کرونا وائرس سے متعلق کوئی بھی خبر شئیر کرنے سے پہلے اس بات کا اطمینان کر لیں کہ یہ خبر کس حد تک مصدقہ ہے اور اس کو جاری وہی ادارہ کر رہا ہے جس کا یہ کام ہے؟ مصدقہ خبریں ضرور شئیر کریں لیکن خدارا کوئی بھی ایسی خبر شئیر نہ کریں جو غیر مصدقہ ہو اور اس سے معاشرے میں خوف و ہراس پھیل جائے۔کیونکہ کرونا وائرس کی پاکستان میں صورتحال ایسی نہیں ہے جیسی دنیا کے دیگر ممالک میں ہے۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ دشمن کرونا وائرس پر بھی گھناؤنا کھیل کھیلنا چاہتے ہیں اور پاکستانی عوام کو مختلف طریقوں سے گمراہ کرنے کا پلان بنائے بیٹھے ہیں وہ ہم سے لاشعوری طور پر ایسے کام کروانا چاہتے ہیں جن سے پاکستان میں کرونا وائرس ذیادہ تباہی پھیلا سکے۔ اس چال کو ناکام بنانے کا واحد راستہ یہ ہے کہ حکومت کرونا وائرس سے بچنے کے لیے ہمیں جو ہدایات دے ہم ان پر پوری طرح سے عمل کریں۔ دوسرا کام یہ ہے کہ ہم اپنے آپ اور خاندان کو محفوظ رکھنے کے لیے چند باتوں پر فوری طور پر عمل درآمد شروع کریں سب سے پہلے اپنی اور اپنے خاندان کی نقل و حمل کو انتہائی محدود کر دیں اور گھروں سے انتہائی مجبوری کی صورت میں باہر نکلیں۔ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ خاص طور پر بچوں اور 50 سال سے زائد عمر کے لوگ کسی صورت گھر سے باہر نہ نکلیں۔ گھر کے تمام افراد روزانہ 20 بار ہاتھ دھوئیں اور ہر بار 20 سیکنڈ کا دورانیہ ہو۔ ہینڈ سینی ٹائزر کا استعمال بھی دن میں کئی بار کیا جائے۔ جب بھی انتہائی ضروری کام سے گھر سے باہر جائیں تو فیس ماسک پہن لیں۔ کسی بھی شخص سے مصافحہ نہ کریں۔ تمام قسم کی چھوٹی بڑی تقریبات میں شرکت نہ کریں ۔ گھر پہنچتے ہی ہاتھوں کو صابن سے دھوئیں۔ یہ ایسی ہدایات ہیں جن پر عمل درآمد کر کے ہم اپنے آپ اور خاندان کو کرونا وائرس سے بچا سکتے ہیں اور اس وائرس کو پھیلنے سے روکا جا سکتا ہے آپ کا یہ عمل آپ کے ذمہ دار ہونے اور پاکستان کو کرونا سے ختم کرنے کا سبب بنے گا۔ اس دوران اگر کوئی شخص جس میں اس وائرس کی علامات ظاہر ہوں تو فوری طور پر حکومت کی جانب سے جاری کردہ ہیلپ لائن نمبر پر اطلاع دی جائے۔ آخر میں امید کرتا ہوں کہ آپ میری باتوں سے اتفاق کرتے ہوئے ان پر عمل درآمد کریں گے اور کرونا وائرس کی روک تھام کے ساتھ ساتھ دشمنوں کی گھنائونی چال کو بھی ناکام بنا دیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ پاکستان ذندہ باد

  • بحث و تکرار—–از——حافظہ قندیل تبسم

    بحث و تکرار—–از——حافظہ قندیل تبسم

    ایک صاحب فنِ مکالمہ پر لیکچر دے رہے تھے اس سلسلے میں انہوں نے یوسف علیہ السلام کا قصہ بیان کیا جب وہ قرآن کی اس آیت پر پہنچے
    وَدَخَلَ مَعَہُ السْجْنَ فَتَیٰنِ
    "اس کے ساتھ قید خانے میں دو نوجوان بھی داخل ہوئے۔”
    تو انہوں نے حاضرین کو بغور دیکھا ،پھر ان سے دریافت کیا :
    ,,اس کے ساتھ قید خانے میں دو نوجوان بھی داخل ہوئے ؟ ان تینوں میں سے کون پہلے داخل ہوا ؟
    یوسف یا دونوں نوجوان ؟
    ایک پکارا:
    "یوسف علیہ السلام”
    دوسرے نے کہا :
    "نہیں دونوں جوان”
    تیسرا بولا :
    "نہیں ،نہیں، یوسف، یوسف”
    چوتھے نے ذرا ہوشیار بننے کی کوشش کی :
    "وہ اکٹھے داخل ہوئے تھے”
    پھر پانچواں بولا اور ایک شور بپا ہو گیا اصل بات کہیں غائب ہو گئی لیکچرار صاحب یہی چاہتے تھے انھوں نے حاضرین کے چہروں کو غور سے دیکھااور مسکرائے، پھر انہیں خاموش ہو جانے کا اشارہ کیا اور کہنے لگے :
    "آخر مشکل کیا ہے؟ یوسف علیہ السلام پہلے داخل ہوئے ہوں یا دونوں نوجوان ، بات ایک ہی ہے کیا یہ مسئلہ اتنے اختلاف اور بحث و تکرار کا مستحق ہے ؟”
    واقعی بسا اوقات ہم لوگ خواہ مخواہ دوسروں کی باتیں کاٹ کر اعتراض کرتے اور ساری بات کا مزہ کرکرا دیتے ہیں ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہم کسی چیز کی حقیقت سمجھے بغیر اس پر اعتراض جڑ دیتے ہیں اور صبر یا انتظار کرنے کا تکلف نہیں کرتے
    اللہ تعالی نے سچ فرمایا :
    (وَکَانَ الْاِنْسِانُ عَجُوْلاً )
    "اور انسان جلد باز واقع ہوا ہے”

    بحث و تکرار
    حافظہ قندیل تبسم

  • کرونا وائرس اور اسلامی تعلیمات —از–عثمان علی

    کرونا وائرس اور اسلامی تعلیمات —از–عثمان علی

    کرونا وائرس پھیلنے کی وجہ سے آج عالمی میڈیا بھی اسلام کے دیئے ہوئے زیریں اصولوں کی تعریف کررہا ہے، اسلامی اصولوں کو ہی دنیا بھر میں جہاں جہاں کرونا وائرس پھیلا ہے، اپنایا گیا ہے، اسلام نے آج سے 14 سو سال پہلے ایسی وباء پھیلنے کے بارے میں بتایا کہ یہ کسی ایک آدمی سے دوسری آدمی میں منتقل ہوسکتی ہے پھیل سکتی ہے۔

    صحیح بخاری کی حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ شام کی طرف سفر کر رہے تھے کہ ایک مقام پر آپ کو اطلاع ملی کہ شام میں طاعون کی وبا پھیل چکی ہے ۔تو اس وقت قافلے میں حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ بھی شامل تھے آپ نے عرض کی یا امیرالمومنین میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا "کے جب تم کسی علاقہ کے متعلق سنو کے وقت وہاں وباءپھیل چکی ہے تو اس علاقہ کی طرف مت جاؤ اور اگر تم اس علاقہ میں ہوں جہاں وباء پھیلی ہوئی ہے تو وہاں سے اپنی جان بچانے کے لئے مت بھاگو”۔

    ایک اور صحیح بخاری کی حدیث مبارکہ ہے کہ کوڑسے متاثرہ شخص سے اس طرح بھاگو کہ جس طرح تم شیر سے بھاگتے ہو۔ اب آئیے دوسری جانب جو لوگ کہتے ہیں کہ وہ وباء نہیں پھیلتی کوئی مرض متعدی نہیں ہوتا وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث مبارکہ کو سامنے رکھ کر کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا” لا عدویٰ ولا طیرة” اس لاعدوی کی حقیقت یہ ہے کہ جس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمان فرمایا اس وقت زمانہ جاہلیت میں لوگ بیماری کو بیماری کی ذات کی وجہ سے متعدد تصور کرتے تھے نہ کہ اللہ تعالی کی قدرت و منشا کی وجہ سے ۔

    مثال کے طور پر ایک حدیث مبارکہ ہے کہ ایک اعرابی حاضر ہوا اور عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اونٹوں کو خارش پڑ گئی ہے ۔اور یہ ایک اونٹ ا سے دوسرے اونٹ میں پھیلی ہے ۔اور زمانہ جاہلیت میں ان کا تصور یہ تھا کہ یہ بیماری ایک اونٹ سے دوسرے اونٹ میں بذات خود منتقل ہوئی ہے یعنی اس نے اللہ تعالی کی مشیت و منشا نہیں ہے ۔تو پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ یہ بتاؤ کہ پہلے کو کس طرح بیماری لگی ہے ۔ یہ جولا عدوی والی حدیث مبارکہ ہے اس ساری حدیث مبارکہ کا خلاصہ یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ وہ مشیت باری تعالی اور اللہ کی قدرت کو تسلیم نہیں کرتے تھے وہ سمجھتے تھے کہ بیماری ایک انسان سے دوسرے انسن کو لگتی ہے ۔

    یہ بیماری بذات خود بدلتی ہے ۔اس میں اللہ تعالی کی کوئی قدرت نہیں ہے ۔ اور یہ اوپر والی تمام احادیث مبارکہ سے یہ ثابت ہوا ہے کہ اسلام بابا کے پھیلنے کو تسلیم کرتا ہے ۔ آج جو پوری دنیا میں یہ مسئلہ بنا ہوا ہے کرونا وائرس کے متعلق اس کے لئے بھی اختیاطی تدابیر وہی ہے جو میں نے حضرت عبدالرحمن بن عوف والی روایت ذکر کی ہے ۔آج پوری دنیا میں احتیاطی تدابیر وہی استعمال کی جارہی ہیں۔ اہل پاکستان کو بھی چاہیے کہ اس بڑھتی ہوئی وبا کے بچاو کیلئے اسلام کے اصولوں پر عمل پیرا ہوں۔ جذباتی باتوں کے بجائے حکومت کے دئیے گئے لائحہ عمل پر عمل کریں۔

    کرونا وائرس اور اسلامی تعلیمات
    تحریر : عثمان علی

  • آزاد جموں و کشمیر حکومت نےسیاحوں  پر پابندی لگادی

    آزاد جموں و کشمیر حکومت نےسیاحوں پر پابندی لگادی

    آزاد جموں و کشمیر حکومت نےسیاحوں پر پابندی لگادی

    باغی ٹی وی :آزاد جموں و کشمیر حکومت نے کورونا وائرس کے پیش نظر ابتدائی طور پر سیاحوں کی آمدورفت پر تین ہفتے کی پابندی عائد کر دی ہے۔ذرائع کے مطابق آج آزاد جموں و کشمیر کابینہ کے ارکان کا اجلاس ہوا جس میں کورونا سے نمٹنے کیلیے حکمت عملی پر غور کیا گیا۔

    اس ضمن میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر اطلاعات مشتاق منہاس نے بتایا ہے کہ اسٹیٹ کوآرڈینیشن کمیٹی کی ہدایات پر مکمل عمل درآمد کی جائے گی۔انہوں نے بتایا کہ آزاد کشمیر میں کورونا کا کوئی کیس نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر کے تمام اسپتالوں میں کورونا سے نمٹنے کیلیے وارڈز مختص ہیں اور ابتدائی طور پر پچاس لاکھ روپے جاری کر دئیے گئے ہیں۔ مشتاق منہاس کا کہنا تھا کہ محکمہ اطلاعات سمیت دیگر محکمے سوشل میڈیا کمپینز چلا رہے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ گیارہ انٹری پوانٹس پر سکریننگ کیلیے ٹیمیں موجود ہیں، وبائی امراض سے نمٹنے کے ایکٹ 1958 کے تحت اقدامات کئے گئے ہیں۔

    خیال رہے کہ صوبہ سندھ میں ایک دن میں کرونا وائرس کے مزید 52 کیسز سامنے آ گئے ہیں، جس کے بعد صوبے میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 87 جب کہ ملک بھر میں کرونا کے مریضوں کی تعداد 105 ہو گئی ہے۔ کرونا نے 157 ممالک کو لپیٹ میں لے لیا ہے، وائرس کے خوف سے ہر سو سناٹا پھیل گیا، بازار ویران ہو گئے، دنیا بھر میں وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 6,521 ہو چکی ہے جب کہ متاثرہ افراد کی تعداد 169,925 تک پہنچ گئی ہے
    ادھر کرونا وائرس کے پیش نظر محکمہ اوقاف نے مساجد بند کرانا شروع کر دیں. خان پور میں‌ محکمہ اوقاف کی جانب سے کہا گیا ہے کہ مسجد میں اذان کے بعد نمازی حضرات گھر میں نماز ادا کریں ، حکم جاری کیا گیا ہے کہ تا حکم ثانی مساجد بند رہیں گی ، مساجد کے دروازوں پر نوٹس آویزاں کر دیئے گئے.ادھر وزیر اعلی پنجاب سے علماء کئ وفد نے ملاقات کی اس میں کہا گیا کہ مساجد بند نہیں کریں گے.

  • قرآن پاک حفظ کرنے اور دورہ حدیث مکمل کرنے پر جامعہ تعلیم القران اکیڈمی کے 30طلباء طالبات کی دستار بندی

    قرآن پاک حفظ کرنے اور دورہ حدیث مکمل کرنے پر جامعہ تعلیم القران اکیڈمی کے 30طلباء طالبات کی دستار بندی

    راولپنڈی:قرآن پاک حفظ کرنے اور دورہ حدیث مکمل کرنے پر جامعہ تعلیم القران اکیڈمی کے 30طلباء طالبات کی دستار بندی وچادر پوشی کی گئی ۔جن میں 18 طالبات اور 12 طلباء شامل ہیں

    ۔ جامعہ تعلیم القران اکیڈمی کےبانی و مہتمم مفتی ناصر محمود عباسی کی زیر صدارت منعقدہ تقریب میں مہمان خصوصی مولانا عبدالکریم ندیم نے مرکز اہلسنت جامع مسجد سید المرسلین خانقاہ عباسیہ ڈھوک کشمیریاں راولپنڈی میں قر آن حفظ کرنے والے 12 طلباء کی دستار بندی کی ۔ تقریب ختم بخاری اوردستار بندی وچادر پوشی سے خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی پاکستان علماء کونسل العالمی کے سینئر نائب چیئرمین مولانا عبدالکریم ندیم کا کہنا تھا کہ علم نبوت حاصل کرنے والے ہی اصلی امت مسلمہ کا اساس اور بنیاد ہیں اور اسی پر ہی اہل اسلام اور دنیا کی بقاء ہے

    یہی وہ چیز ہے جس کی ہر ایک انسان کو ضرورت ہے ۔الحمد اللہ اس ضرورت کو پورا کرنے کےلیے دنیا بھر میں دینی مدارس قائم ہیں ۔

    مدرسہ جامعہ تعلیم القران اکیڈمی و جامع مسجد سید المرسلین علوم نبوت کو پھیلانے میں اپنا کردار ادا کررہا ہے ۔ اس وقت بھی جامعہ میں 200 سے زائد طلبہ زیر تعلیم ہیں ۔ جبکہ18 سالوں میں ہزاروں علماء یہاں سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد ملک بھر میں دینی کی خدمات سرانجام دے رہے ہیں

    جس پر جامعہ تعلیم القران کےبانی و مہتمم مفتی ناصر محمود عباسی کو ان کی دینی خدمات پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ مہمان خصوصی کا کہنا تھا کہ دینی مدارس پاکستان کی بقاء اور سلامتی کے ضامن ہیں اور ان مدارس کے سبب کوئی بھی دشمن پاکستان کی جانب میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا ہے ۔

    تقریب میں پاکستان علماء کونسل کے نائب چیئرمین مولانا نعمان حاشر،قاری اسد جان، صاحبزادہ سعد ندیم ، مفتی عبداللہ بن عباس ،مفتی مجیب الرحمان ،مولانامحمد نعیم عباسی ،قاری عبدالرشید ،قاری امجد اقبال ،چیئرمین پختون ایکشن کمیٹی پاکستان جاوید خان بنگش اور نواب آف پسوال نوازش علی خان نے بھی شرکت کی ۔

  • اقبال کا مرد مومن۔۔۔ سید عتیق الرحمن  تحریر:  رضی طاہر

    اقبال کا مرد مومن۔۔۔ سید عتیق الرحمن تحریر: رضی طاہر

    دور حاضر میں ایک مقولہ مشہور ہے کہ ملا کی دوڑ مسجد تک، اس کی مشہوری میں جہاں ہماری سوسائٹی کا منفی رویہ ہے وہیں ہمارے ملاؤں کا منفی کردار بھی شامل ہے، تاریخ دیکھیں تو مساجد کمیونٹی سنٹرز ہوا کرتیں تھیں جہاں صرف صوم وصلوۃ نہیں بلکہ قوموں کی تقدیر کے فیصلے ہوا کرتے تھے

    مگر اب علماء نے دین متین کو اپنے اپنے دائرے میں بند کرکے اپنی دوڑ محدود کرلی ہے، ایسے وقت میں بھی کچھ علمائے کرام ایسے ہیں جن کا کردار مثالی ہے، میں عمومی طور پر بائیوگرافی لکھنے کا ماہر نہیں مگر گزشتہ دنوں ایک نوجوان سے ہونی والی ملاقات نے اس سے متعلق لکھنے پر مجبور کیا، میری مراد گجرات کے نواحی گاؤں بوکن موڑ کے ایک حافظ قرآن اور نوجوان سکالر سید عتیق الرحمن ہیں۔

    انہوں نے گجرات کے نواحی گاؤں بوکن شریف میں 14مارچ 1988میں ایک روحانی گھرانے میں آنکھ کھولی، آپ کے والد محترم سید زاہد صدیق شاہ بخاری کا شمار دور حاضر کے عظیم مذہبی مدرسین میں ہوتا ہے، 40سال سے وہ اسی علاقے میں فیضان علم کے چشمے بہارہے ہیں۔ جبکہ آپ کے دادا جی حکیم سید محمد سعید بخاری رحمۃ اللہ علیہ بھی اپنے وقت کے ایک کامل ولی ہو گزرے ہیں،

    روحانی گھرانے میں آنکھ کھولنے کے ساتھ ساتھ ان کا سلسلہ ایک اور عظیم روحانی در سے جڑتا ہے، ان کے والد محترم جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری کے ارادت مند ہیں، جبکہ سید عتیق الرحمن پیر کرم شاہ کے سجادہ نشین پیر امین الحسنات شاہ کے ہاتھ پر بیعت کرچکے ہیں،

    یہی وجہ ہے کہ آپ کی دینی تعلیم کا آغاز گھر سے ہی ہوگیا، جبکہ اپنے ہی گاوں کے ایک سکول میں ابتدائی تعلیم حاصل کی، بعدازاں میٹرک اور ایف اے گوجرانوالہ بورڈ سے فرسٹ ڈویژن میں پاس کیا، اور گجرات یونیورسٹی سے گریجویشن مکمل کی۔

    یونیورسٹی آف سرگودھا سے آپ نے پہلے اردو میں ماسٹرز کیا، پھر انٹرنیشنل ریلیشنز میں ایم ایس سی کی ڈگری حاصل کی، آپ کی تعلیمی پیاس ختم نہ ہوئی تو قانون کے میدان میں آکودے اور پنجاب یونیورسٹی سے ایل ایل بی کیا، جبکہ ایل ایل ایم جاری ہے۔

    دنیوی تعلیم کے ساتھ ساتھ سید عتیق الرحمن کی دینی پیاس میں بھی روز بروز اضافہ ہوتا رہا، اپنے بچپن میں ہی حفظ قرآن مجید کی دولت سے مالامال ہوئے، حفظ میں ان کے استاد قاری محمد لطیف رہے جن کا تذکرہ آج بھی وہ محبت سے کرتے ہیں جبکہ اپنے ہی والد محترم کے جامعہ محمدیہ غوثیہ بوکن شریف سے یہ سعادت حاصل کی، جامعہ محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف سے درس نظامی اور دورہ حدیث مکمل کیا۔

    سید عتیق الرحمن کا یہ22سالہ تعلیمی کیرئیر اپنی مثال آپ ہے، پہلی جماعت سے لے کر ایل ایل ایم تک اور یسرنا قرآن کے پارے سے لے کر دورہ حدیث اور درس نظامی تک آپ دینی و دنیوی تعلیم کے حسین امتزاج میں پلے بڑھے، مستقبل میں پی ایچ ڈی کا بھی ارادہ رکھتے ہیں۔اپنے تعلیمی سفر کے دوران اللہ کریم نے انہیں فن خطابت میں بھی ملکہ عطا کررکھی ہے،

    زمانہ طالب علمی میں دو دفعہ پنجاب بھر کے تقریری مقابلے میں پہلی پوزیشن حاصل کی، کھیلوں میں فٹ بال سے خصوصی لگاؤ رکھتے ہیں۔ گو کہ تعلیمی سفر ابھی جاری ہے مگر عملی میدان میں بھی سید عتیق الرحمن نے کامیابیوں کے جھنڈے گاڑنا شروع کردیئے ہیں، بحثیت ایجوکیشنسٹ انہیں اپنے والد محترم نے اپنے ادارے کے وائس پرنسپل کی ذمہ داری دے رکھی ہے، جبکہ پاکستان کے ابھرتے ہوئے سکول سسٹم ڈائریکشن سکولز کے ڈائریکٹر سیلز اینڈ مارکیٹنگ ہیں،

    اس ذمہ داری پر ابھی انہیں مختصر عرصہ ہی ہوا ہے مگر انہوں نے اس نیٹ ورک کی جڑیں پاکستان کے کونے کونے میں پھیلائی ہیں اور اسلام آباد اور گجرات کے گردو نواح میں اپنے ذاتی پرائیویٹ سکول بھی چلاتے ہیں،ساتھ ساتھ HATگروپس آف کمپنیز کے ایم ڈی ہیں اور کاروان حسنات و برکات پرائیویٹ لمیٹیڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیں، جس نے انتہائی کم عرصے میں اس میدان میں نہ صرف اپنی جگہ بنائی بلکہ اب اس کا شمار ٹاپ500میں ہوتا ہے۔

    گجرات چیمبر آف کامرس نے سید عتیق الرحمن کو Emergingبزنس مین برائے سال2019کے ایوارڈ سے بھی نوازا۔ خطابت کے ساتھ اب کتابت کی طرف بھی رخت سفر باندھ چکے ہیں، ان کی پہلی کتاب منزل اور مقصد چھپنے کیلئے تیار ہے، سید عتیق الرحمن مستقبل قریب میں اسلام کی عالمگیر کی خدمت کا ارادہ رکھتے ہیں،اس کے لئے انہوں نے اپنے آپ کو وقف کررکھا ہے،

    بلاشبہ اللہ کریم نے ان پر خصوصی کرم کررکھا ہے جس کی بدولت محض31سال کی عمر میں انہیں تاریخ ساز کامیابیاں ملیں۔ یہاں یہ بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ یہ تحریر محض ملاقات کی وجہ سے نہیں بلکہ ان تمام کامیابیوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے بعد تحریر کیا ہے، یہ کہنے میں کوئی حرج نہیں کہ سید عتیق الرحمن حقیقی طور پر اقبال کے مرد مومن کی تعریف پر پورا اترتے ہیں،

    مجھے محسوس ہوتا ہے کہ ان کا کام کیونکہ عام نہیں ہے، اسلئے ان کا نام بھی عام نہیں رہے گا، کیونکہ جو نوجوان ستاروں میں کمند ڈالنے کا فیصلہ کرلیں اور شکوہ ظلمت شب کے بجائے اندھیروں میں دیپ جلانے کی کوششیں شروع کردیں، وہ عام نہیں رہتے بلکہ خاص ہوجاتے ہیں۔