Baaghi TV

Category: بلاگ

  • اگر کوئی یہ سوچتا ہے …کہ فوجی موت سے  ڈرجائے گا…..از…صابرحسین

    اگر کوئی یہ سوچتا ہے …کہ فوجی موت سے ڈرجائے گا…..از…صابرحسین

    اگر کوئی یہ سوچتا ہے
    کہ آئین شکنی کی سزا سنگین غداری قرار
    دیکر اس پر سزائے موت سے کوئی فوجی ڈر جائے گا ،تو وہ عقل کا انا ہے
    کیونکہ فوجی موت سے نہیں ڈرتا ،حقیقت میں فوج میں بھرتی ہونے والا

    ہر مرد و زن یہ سوچ کر داخل ہوتا ہے کہ پہلی ترجیح موت ہے
    بارڈر پر کھڑآ سپاہی کسی انجان گولی کا نشانہ بن سکتا ہے

    جہاز میں اڑنے والا پائلٹ ہزاروں پرزوں میں سے کسی ایک پرزے کی وجہ
    سے جان سے جا سکتا ہے ،سمندر کی تہہ میں لیٹی سب میرین پانی کے دباؤ
    سے پھٹ سکتی ہے اور درجنوں کی جان لے سکتی ہے ،کوئی فریگيٹ
    کسی چٹان سے ٹکر کر پاش پاش ہو سکتا ہے اور محافظ وہیل کا نوالہ بن
    سکتے ہیں

    کمیشن لیا ،اعزازی تلوار لی ،پہلی ہی پوسٹنگ آرمڈ ڈویژن میں ہوتی ہے
    چند مہینوں بعد جنگ میں جاتا ہے جلتے ٹینک سے لوگوں کو اور بمبوں
    کو نکالتا ہے ،

    پھر تیسرے دن شیل لگنے سے زحمی ہوتا ہے کماد کے کھیت
    میں دو دن اکیلا پڑآ رہتا ہے ،ایک سپاہی اٹھا کر لاتا ہے ،پھر 71 کی جنگ
    لڑتا ہے ،کمانڈو کورس کرتا ہے ،

    انتہائي حساس اور خطرناک مشن مکمل
    کرتا ہے ،خانہ کعبہ کو خارجیوں سے پاک کرتا ہےگولیوں کی بوچھاڑ میں زںدہ بچ جاتا ہے ،عمدہ کارکردگي پر میجر جنرل بنتا ہے،مری میں ہوتا ہے جی ایچ کیو طلب کیا جاتا ہے ہیلی کاپٹر بھیجا جاتا ہے ،گآڑی لیکر نکل پڑتا ہے ،لانے والا ہیلی کاپٹر واپسی پر کریش ہو جاتا ہے دو پائلٹ شہید ہو جاتے ہیں لفٹننٹ جنرل بنتا ہے ،

    منگلہ کا کور کمانڈر بنتا ہے جی ایچ کیو طلب کیا جاتا ہے ،جیب لیکر پنڈی کی طرف چلتا ہے ،لانے والا ہیلی کاپٹر دوسرا کریش ہو جاتا ہے دو پائلٹ شہید ہو جاتے ہیں ،کور کمانڈر کانفرنس ہوتی ہے ملک میں صدر اور وزیراعظم کا جھگڑا چل رہا ہوتا ہے ،میٹنگ میں کہتا ہے ہمیں وزیراعظم کا ساتھ دینا چاہیئۓ ،یہ بات نواز شریف کو پتہ چلتی ہے وہ آرمی چيف بنا دیتا ہے ،جب نواز شریف کو پتہ چلتا

    ہے یہ تو پکا محب وطن ہے درباری نہیں تو اسے خطرہ محسوس ہوتا ہے کارگل ہوتا ہے انڈیا کی چیخيں نکال دیتا ہے ،انڈیا اور کلنگٹن کہتے ہیں اسکو ہٹاؤ ،سری لنکا جاتا ہے واپسی وزیراعظم براہ راست حکم دیتا ہے جہاز کو مت لینڈ کرنے دو
    اور ایک انجینئر کو جو درباری ہوتا ہے ضیا الدین بٹ کو آرمی چيف بنا دیتا ہے

    فوج مارشل لاء لگآ دیتی ہے ،پنڈي میں خود کش حملہ ہوتا ہے ایک پولیس انسپکٹر
    کی لاش اڑ کر مشرف کی فرنٹ شیشے پر آ لگتی ہے لیکن بچ جاتا ہے ،دوسرا حملہ جھنڈا چیچي کے مقام پر ہوتا ہے جیمر کی وجہ سے بم لیٹ پھٹتا ہے اور اتنا طاقتور بم کے پل کے کنکریٹ کے ٹکڑے مشرف کی گآڑی کو آ لگتے ہیں پھر بچ جاتا ہے ،

    پھر کراچي میں دو کنٹینرز میں ہزار ہزار کلوگرام بارودی مواد بھر کر
    سڑک کے دونوں طرف کھڑے کے دیئے جاتے ہیں ،ان کے درمیان سے گزر جاتا
    ہے انکی ریموٹ کنٹرول ریسیور کی تاریں خود بخود کھل ہوئی پائی جاتی ہیں

    پھر بچ جاتا ہے ،طلال بگثی نے ایک کروڑ سر کی قیمت رکھی طلال نہیں رہا
    عبد الرشید نہیں رہا ،بیت اللہ ،حکیم اللہ نہیں رہے ،ہر دشمن بم سے پھٹا کئي تو ایسے مرے کہ بیوی اور بیٹوں کو دو سال بعد پتہ چلا کہ اماں بیوہ ہے دو سال سے

    اللہ نے ہر قدم پر حفاظت کی ،ذاتی کردار کیا ہے اللہ کو معلوم ہے ،لیکن ایک بات
    یہ صابر حسین قسم کھا کر کہتا ہے ،اس نے ہمیشہ ملک کا بھلا کیا ،بھلا سوچا
    ایک دس روپئے کی کرپشن کا الزام نہیں
    اور حب الوطن کا سب سے بڑا ثبوت انڈیا اور امریکا آج خوش ہیں

    فوجی موت سے نہیں ڈرتے ،اور نہ کوئي جنرل اس وجہ سے رک جائۓ گآ کہ سزا موت ہے اور نہ مشرف کو سزائے موت ہوگي ،یہ خام خيالی اور اصل غداروں
    کی خوش فہمی تو ہو سکتی ہے حقیقت نہیں

    انگریز نے جو پودا 1925 میں لگآیا تھا ،جب کوئی مسلمان ملک یا راہنما قابو نہیں آتا تو 1925 والے پالتو ان پر چھوڑ دیتا ہے وہ پھر مسلمانوں کو قتل کرکے اسکو
    جہاد کہتے ہیں ،بارش کے بعد پتنگوں کی طرح آج پھر نکلے ہیں
    تانے بانے دیکھو ،پوسٹیں دیکھو ،وڈے انسانیت کے ہمدرد دیکھو

    اگر کوئی یہ سوچتا ہے …کہ فوجی موت سے ڈرجائے گا…..از…صابرحسین

  • ناداں گر گئے سجدے میں،متنازعہ شہریت بل پرمذہبی وسیاسی قیادت کی غفلت کوعیاں کرتی ..تحریراز..ثاقب سبحانی

    ناداں گر گئے سجدے میں،متنازعہ شہریت بل پرمذہبی وسیاسی قیادت کی غفلت کوعیاں کرتی ..تحریراز..ثاقب سبحانی

    ایم اے جواہر لال نہرو یونیورسٹی

    جے این یو ،جامعہ اے ایم یو اور مختلف یونیورسٹیز کے جیالوں تمہاری عظمتوں کو سلام ۔
    تمہاری بہادری و بے خوفی و بے باکی کو سلام ۔
    تمہاری اسلام سے محبت کو ہزاروں سلام۔
    تمہارے جذبۂ ایمانی حرارت ایمانی کو ہزاروں سلام ۔

    تم نے وہ کارنامہ انجام دیا ہے جس کو مورخ سنہرے قلم سے سنہری روشنائی سے قرطاس زریں پر تحریر کرے گا ۔
    زمانہ تمہارے کارنامے کو سالہا سال عقیدت کی نظر سے دیکھے گا۔

    جامعہ اور علی گڑھ کی بہنوں نے اپنی حمیت اسلامی کا ایسا شاندار مظاہرہ کیا کہ انہوں نے مردوں کو مُردوں میں بدل دیا۔ بزدلی کی خزاں کو امید کی بہادری کا لبادہ پہنادیا ۔ مایوسی کی تیرگی کو اجالوں کا پیرہن پہنادیا ۔ مردوں کے ہاتھ سے زندگی کی شمشیریں چھین کر انہیں چوڑیاں پہنادیں۔

    میری بہنوں تم نے مصر کی زینب الغزالی کی شجاعت کی یاد تازہ کردی ۔ الجیسیا کی جمیلہ بو پاشاہ کی دلیری کی یاد تازہ کردی ۔ تم نے لیلیٰ خالد کی جانبازی کی یادوں کی شمع کو پھر فروزاں کردیا ۔ تم نے حضرت صفیہؓ کی جرأت رندانہ کو پھر یاد دلادیا۔
    آفریں صد آفریں!

    آج اسلام کو ایسی ہی دختران کی ضرورت ہے جو ا پنے آنچل کو پرچم انقلاب بنالیں۔ جو اپنے ڈوپٹے کو ا پنا کفن بنالیں۔
    کم ہمتی بزدلی، ایمان فروش ضمیر فروش، مفاد پرست ، مفادات ملی کے سوداگروں کی زندگی گیدڑوں کی زندگی ہوتی ہے ۔ شیرنیوں کی طرح جینا تو تم نے سکھادیا۔
    زندہ باد ۔ زندہ باد

    اللہ کے شیروں نے حق گوئی و بیباکی بھول کر روباہی کی زندگی سیکھ لی ہے، اور اپنے چہروں پر مصلحت پسندی کا گھونگھٹ ڈال لیا ہے، انہوں نے اپنے ضمیر کا سودا کرلیا ہے۔
    جو قال اللہ اور قال الرسول کا درس دیتے تھے۔

    جو وَمَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ کی تفسیر کرتے تھکتے نہیں تھے۔
    جو شاملی کے میدان کے رن کو اس طرح بیان کرتے تھے، جیسے بنفس نفیس وہ خود اس میں شریک رہے ہوں۔
    جو معرکہ بالاکوٹ کے خود کو پشتینی وارث سمجھتے تھے۔
    جو خود کو سید احمد شہید کے خاندان سے ہونے کا بلند دعوی کرتے تھے۔
    جو اپنے آپ کو انبیا کا وارث شمار کراتے تھے۔
    جو الجهاد كلمة حق عند سلطان جائر کی عملی تفسیر پیش کرنے کا ببانگ دہل دعویٰ کرتے تھے۔
    جو پینٹ شرٹ والوں کو نجس سمجھتے تھے آج یہی ان کے اور ان کی آنے والی نسلوں کے لیے سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے ہوگئے ہیں۔

    جن یونیورسٹیز اور کالجز کی طالبات کو یہ ترچھی نگاہوں سے دیکھتے تھے، آج وہی اسلام کی حفاظت کے لیے نکل کھڑی ہوئی ہیں۔

    یہ ناداں گر گئے سجدوں میں جب وقتِ قیام آیا
    ان نام نہاد مصلحت پسند قائدین کو اتنی موٹی بات سمجھ نہیں آتی……
    جب اسلام ہی نہیں رہے گا اس دیش میں تو تم مدارس اور خانقاہیں لے کر کیا کروگے؟
    جب تمہارا وجود ہی خطرے میں پڑجائے گا تو تم ایسے دسیوں مسلم پرسنل لا کیا کروگے؟
    جب تم ہی نہیں رہوگے تو امارات کا لے کر کیا کروگے؟
    جب تمہارے بچے ہی نہیں رہیں گے تو تم دارالعلوم، ندوہ اور سلفیہ میں کسے پڑھاؤگے؟
    حرم فروش فقیہوں کے حوض کوثر سے
    مغنیہ کے لبوں کی شراب بہتر ہے
    (آغا شورش کاشمیری)

    شیخ الہند رح کی یہ عبارت بار بار پڑھیے اور نام نہاد قائدین کا جائزہ لیجیے۔
    اے نونہالانِ وطن! جب میں نے دیکھا کہ میرے اس درد کے غم خوار (جس سے میری ہڈیاں پگھلی جا رہی ہیں) مدرسوں خانقاہوں میں کم اور سکولوں اور کالجوں میں زیادہ ہیں تو میں نے اور میرے چند مخلص احباب نے ایک قدم علی گڑھ کی طرف بڑھایا اور اس طرح ہم نے ہندوستان کے دو تاریخی مقاموں (دیوبند اور علی گڑھ) کا رشتہ جوڑا۔

    چراغِ مصطفویؐ سے شرارِ بولہبی پھر ایک بار ٹکرانے والا ہے۔ عصائے موسیٰ اور فرعون کے اژدہوں کی پھر ٹکر ہونے والی ہے ۔حق وباطل کے معرکے بگل بج چکا ہے۔

    کیب دونوں ایوانوں میں پاس ہوکر، صدر جمہوریہ کی دستخط سے بالآخر ہندوستانی ایکٹ(CAA) بن چکا،جس کی میں سارا ہندوستان آج سڑک پہ جا اترا ہے، یہ کوشش مختلف یونیورسٹیز کے طالب علموں سے شروع ہوئی اور ہوتے ہوتے پورے ملک کے پھیل گئی اور اس کی مخالفت میں لوگ سڑکوں پہ آگئے،

    اس کی مخالفت میں دار العلوم کے طلبہ نے بھی احتجاج میں حصہ لیا اور جی ٹی روڈ جام کیا، پولیس افسران نے جب دار العلوم کی انتظامیہ سے سوال کیا، تو وہ بھیگی بلی بن گئے اور سیدھا مکر گئے کہ وہ ہمارے بچے نہیں تھے، ناظم دار الاقامہ منیر صاحب نے اجازت دے دی کہ آپ ان پر لاٹھی چارج کر سکتے ہیں اور مہتمم صاحب نے بتلایا کہ سڑکوں کو جام کرنا غیر اسلامی ہے۔

    بھائی آپ تو اسی احتجاج، مظاہرہ اور پروٹیسٹ کی پیداوار ہیں، اگر یہ غیر اسلامی ہے تو آپ بھی اپنے عہدے سے استعفیٰ دیدیجیے، کیوں کہ یہ عہدہ بھی آپ کو اسی احتجاج اور مظاہرے کے سبب ملی ہے۔

    مجھے یاد پڑتا ہے کہ اہتمام ملنے کے چند دن کے بعد بھورا سویٹس والے سے طلبہ دار العلوم کی کچھ جھڑپ ہوئی، بات انتظامیہ تک پہنچی، مغرب بعد مسجد رشید میں جلسہ بلایا گیا، اس میں مہتمم صاحب نے کہا کہ اب تک جو ہو چکا وہ ہو چکا؛ آج سے کسی اسٹودینٹس یونین کا وجود نہیں رہے گا اور جو اس میں ملوث پایا گیا، اس کا بلا چوں چرا اخراج کردیا جائے گا، اسی اسٹودینٹس یونین نے آپ کو تخت اور گدی تک پہنچایا، آپ نے ایک دون کے اندر بہانہ ڈھونڈ کر اسے ہی ختم کردیا کہ کل کہیں یہی طلبہ ہمارے خلاف متحد نا ہوجائے۔

    سب تاج اچھالے جائیں گے
    سب تخت گرائے جائیں گے۔
    دوسری طرف ارشد مدنی صاحب ہیں، جو دوران درس، جلسوں اور تقریروں میں اپنے ابا شیخ الاسلام حسین احمد مدنی رح کی بہادری اور انگریزوں کے سامنے ان کی جرات و بے باکی کے قصے سناتے نہیں تھکتے، جب ایک بار پھر یہ انگریز اور ساوکر کی اولاد ان سے وہی قربانی اور بہادری دہرانے کو کہا، تو حضرت گوشہ نشیں ہوگئے۔
    ‏باپ کا علم نہ بیٹے کو اگر ازبر ہو
    پھر پسر صاحبِ میراثِ پدر کیونکر ہو ؟؟

    ایک ہیں محمود مدنی صاحب جو ہمیشہ اپنے متنازع بیان کی وجہ سے سرخی میں رہتے ہیں، جب گورنمنٹ نے کشمیر پہ لاک ڈاؤن کیا تو حضرت کو اتنی پریشانی ہوئی کہ حضرت نے جنیوا میں جاکر گورنمنٹ کے اشتراک سے اردو میں کانفرنس کیا اور حکومت کے موقف کو سراہا، جب گورمنٹ نے کیب کو لانا چاہا، تو انہوں نے اسے سراہا اور مستحسن قرار دیا، جس کے نتیجے میں حضرت کو ایل سی ٹی گھوٹالے میں ضمانت ملی ہے اور آج جب سارے لوگ سڑکوں پہ اتر گئےاور دباؤ بنایا تو تو احتجاجی ریلی کی کال دی اور اسے غیر دستوری قرار دیا۔

    شرم تم کو مگر آتی نہیں۔
    مجھے یاد پڑتا ہے کہ 2010-2011 کی بات ہوگی میں دار العلوم میں داخلہ کے لیے گیا ہوا تھا، رمضان کا مہینہ تھا، مسجد رشید میں ہم طلبہ اپنی تیاری کررہے تھے ہم چند طلبہ نے مسجد رشید میں ہی اپنی سورہ تراویح پڑھ لی تھی، حضرت 27 پارہ تراویح میں سنارہے تھے، جب سورہ رحمن کی آیت يُعْرَفُ الْمُجْرِمُونَ بِسِيمَاهُمْ فَيُؤْخَذُ بِالنَّوَاصِي وَالْأَقْدَامِ پہ پہنچے،

    حضرت آیت کو بار بار دہراتے رہے اور روتے رہے اتنا روئے کہ آواز میں گھگی بندھ گئی اور ایک سما طاری ہوگیا سارے متوسلین معتکفین اور مصلیین رونے لگے، ہم طلبہ بھی رونے لگے.. اور عقیدت کی مالا اپنے گلے میں ڈال لی. وہ تو اچھا ہوا کہ داخلہ ہونے کے بعد جب پرانے طلبہ سے اس واقعہ کا ذکر کیا،

    انہوں نے کہا کہ پگلے یہ سب مولویوں کے ڈھکوسلے ہیں چونکہ ان سے پہلے ان کے ابا فدائے ملت رح یہاں مسجد رشید میں رمضان میں خانقاہ لگاتے تھے، تو اب ان کی جگہ انہوں نے لے لی ہے تو کچھ تو کرنا پڑے گا نا انہیں اپنے قابو میں کرنے کے لیے، یہ ابو زید سروجی (ابو زید سروجی کے نام کا استعمال اعلی درجہ کی منافقت کے لیے کیا جاتا ہے) کے بھی دادا ہیں میں نے ناک بھوں چڑھائی، تو اس نے کہا کہ سارا مطلع دھیرے دھیرے صاف ہوجائے گا، کچھ وقت لگا الحمد للہ دارالعلوم کے زمانے میں ہی سارا مطلع صاف ہوگیا۔

    اور ایک عالم دین ہیں امیر شریعت جی جنہوں نے لاکھوں لوگوں لوگوں سےطلاق کے نام پہ چندہ لیا، اپنی طاقت دکھانے کے لیے انہیں سڑکوں پہ اتارا اور ایک ایم ایل سی کی ٹکٹ کے عوض ساری قوم کا سودا کردیا حضرت جی اتنے بڑے شیر ہیں کہ ایک دو اردو نیوز چینل کے بونے رپورٹرز کو بلاتے ہیں، چیخ چلاتے ہیں ان پر اور شیر بن کر بل میں گھس جاتے ہیں۔
    وہ زہر دیتا تو سب کی نگاہ میں آجاتا،

    سو یہ کیا کہ مجھے وقت پہ دوائیں نہ دیں۔
    اور ایک ہیں اصغر علی امام مہدی سلفی جو ابن الوقت، بے غیرت، بزدلی اور ضمیر فروشی کے لیے جانے جاتے ہیں، جنہوں نے حال ہی میں 370 کی تائید کے دوران ہندوستان کو سارے دنیا کا باپ کہا ہے، کسی بل میں جا گھسے ہیں۔
    اے مجھ کو فریب دینے والے،میں تجھ پہ یقین کر چکا ہوں۔

    ایک ہیں مقر آتش فشاں سلمان صاحب جو یمن پر سعودی ظلم وستم، فلسطین پر صہیونی زیادتی اور شام پر بشار الاسد کی درندگی مصر پر السیسی کی ڈکٹیٹر شپ اور لیبیا تیونس پر ظلم و زیادتی اور عالم اسلام کی خاموشی پر ہر جلسہ میں ایمانی حمیت کا چورن بیچتے نہیں تھکتے تھے اور لگتا تھا کہ حضرت جی کے بس میں نہیں ہے اگر حضرت کے پاس وہاں کی شہریت ہوتی تو ابھی جاتے اور نوجوانوں کو لے کر رن میں کود پڑتے؛ یہ ایسے بزدل ڈھکوسلے باز ثابت ہوئے کہ جب خود اپنی سر زمین پر طاغوتی طاقتوں سے مقابلہ کرنے کا وقت آیا تو بھیگی بلی بن گئے ؛فیسبک کے ذریعے ویڈیو اپلوڈ کرتے ہیں اور امت کے نوجوانوں کو راستہ دکھاتے ہیں، تففف ہے۔
    تو بھی سادہ ہے کبھی چال بدلتا ہی نہیں ،
    ہم بھی سادہ ہیں اسی چال میں آ جاتے ہیں۔

    تفف ہے ایسے قائدین پر جو اسٹیج پر آتے ہی ببر شیر بن جاتے ہیں اور ایمانیات، اور مجاہدات کا جعلی چورن بیچتے ہیں اور جب وہی جعلی چورن انہیں کھانے کے لیے کہا جاتا ہے، تو چیں بہ جبیں ہوتے ہیں۔
    اے طائر لاہوتی اس رزق سے ہے موت اچھی
    جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی۔

    میں عموماً قائدین پر لکھنے سے بچتا ہوں لیکن اب کیا کیا جائے سو……
    رکھیو غالبؔ مجھے اس تلخ نوائی میں معاف
    آج کچھ درد مرے دل میں سوا ہوتا ہے۔

    یہ ناداں گر گئے سجدوں میں
    تحریر!ثاقب سبحانی

  • پاکستانی طلباء اور بھارت ،تحریر :محمد عبداللہ گل

    پاکستانی طلباء اور بھارت ،تحریر :محمد عبداللہ گل

    پاکستانی طلباء اور بھارت
    تحریر ازقلم:محمد عبداللہ گل
    پاکستان 14 اگست 1947 کو اس دنیا کے نقشے پر ایک عظیم خودمختار ریاست بن کر ابھرا۔اس ملک کی خاص بات یہ تھی کہ یہ ایک عظیم نظریہ اسلام کے تحت وجود میں آیا تھا۔یہ ہی تو وجہ ہے کہ 1947 سے لےکر اب تلک یہ ہر اسلام دشمن کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح چبھ رہا ہے۔اس کو ختم کرنے کے لیےدشمنوں نے بہت سے پروپیگنڈہ کیے۔جیسے پہلے پہل سرحدی چھیڑ چھاڑ اس کے بعد 1965 کی جنگ جو کہ پاکستان کا بدترین دشمن بھارت بری طرح شکست خوردہ ہو گیا۔کیونکہ اس کا مقابلہ اس ملک کی فوج سے ہوا ہے جس کا غزوہ ہند پر اعتماد ہے۔ان سب حربوں اور پروپیگنڈوں کے بعد اس نے 1971 میں ایک ایسا حربہ آزمایا۔پاکستان کے پانچویں بازو بنگال میں طلباء کی ذہن سازی کرنا شروع کر دی۔بھارت نے بڑی ہی چالاکی اور مکاری سے اپنی ایجنسی کے تربیت یافتہ اساتذہ کےبھیس میں بنگال میں داخل کر دئیے جو کی ڈھاکہ یونیورسٹی سے لے کر نچلے تعلیمی ادارے تک بچوں کو پاکستان کے مستقبل کے معماروں کی ذہن سازی کرتے کہ یہ جو مغربی پاکستان والے ہیں یہ تمھارے خلاف ہیں ان کے جذبات کو لسانی بنیادوں پر ابھارا ان کو پاکستان کے ہی خلاف کیا۔اس کے بعد جب بھٹو مجیب اختلافات بڑھ گئے تو انھوں نے یہ احتجاج کا سلسلہ شروع کر دیا بھارتی پروفیسرز کے ذریعے جو کہ اپنے شاگردوں کو احتجاجی مظاہروں میں شرکت پر مجبور کرتے۔اس طرح طلبا یونین کا استعمال کر کے میرے پانچویں بڑے بازو کو 16 دسمبر 1971 کو الگ کر دیا جسے سقوط ڈھاکہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔صد افسوس پھر اسی بھارت کا وزیراعظم نریندر مودی ڈھاکہ یونیورسٹی میں جاتا ہے وہاں جا کر کہتا ہے کہ "مشرقی پاکستان ہم نے الگ کیا بنگلہ دیش ہم نے بنایا ،رت ہم نے دیا” اور تیرے حکمران خاموش رہے۔قارئین کرام! اس کے بعد 16 دسمبر 2019 آتا ہے بھارت اپنی تمام تر ناکامیوں کا بدلہ اس قوم کے بہادر بچوں سے لیتا ہے سانحہ آرمی پبلک سکول پشاور ہوتا ہے تقریبا 200 کے قریب بچے شہید ہوتے ہیں
    تیری بنیادوں میں ہے لاکھوں شہیدوں کا لہو
    ہم تجھے گنج دو عالم سے گراں پاتے ہیں
    اور ہر کوئی جانتا ہے کہ یہ گھناؤنی سازش بھارت کی تھی۔اللہ ان شہدا کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے۔اس کے علاوہ اب دوبارہ حال ہی میں دسمبر میں ہی دشمن نے ایک اور حربہ آزمانے کی کوشش کی اور لال لال تحریک کا آغاز کیا اور اس میں بھی اپنے کارندوں کے ذریعے طلباء کو شامل۔کیا اب اس کی نظریں بلوچستان پر ہے۔قارئین ! اگر ہم نے توجہ نہ دی۔اور پاک فوج کا مکمل طور پر ساتھ نہ دیا تو بلوچستان بھی دشمن کے شکنجے میں چلا جائے گا اس لیے اپنے آپ کو سنبھال لو اور بار بار ناکام ہونے والے دشمن کو دوبارہ ناکام کر دو

  • طلبا یونین کی بحالی کی بحث اور طفیل کی شہادت ! تحریر احمر مرتضی

    طلبا یونین کی بحالی کی بحث اور طفیل کی شہادت ! تحریر احمر مرتضی

    طلبا یونین کی بحالی کی بحث اور طفیل کی شہادت !

    تحریر :احمر مرتضی

    چند دن پہلے اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد میں ہونیوالے افسوس ناک واقعے کو دو گروپوں کے درمیان تصادم قرار دیا جائے یا پھر پر امن طلبا پرغنڈہ عناصر کی طرف سے یک طرفہ حملہ، وجہ جو بھی ہو مگر اس بات کا بطور طالب علم بہت ہی افسوس ہے کہ اس تصادم یا غنڈہ گردی کی یک طرفہ کاروائی میں گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے خوبرو نوجوان سید طفیل الرحمن شہید ہوگئے، اللہ مرحوم کی مغفرت فرمائے۔ لیکن اب آئیے واقعے کے دوسرے پہلو کی طرف ان دنوں طلبا یونین کی بحالی کی بازگشت طلبا کے مطالبات سےلے کر حکومتی ایوانوں تک سنائی دے رہی ہے قطع نظر اس بات کے کہ اس بحث کا نتیجہ کیا نکلتا ہے ہم بات کرتے ہے اس چیز پر جسے حکومت کو طلبا یونین کی بحالی کے فیصلہ کے وقت مدنظر رکھنا ضروری ہوگا کہ ماضی میں یونین پر پابندی کی بڑی وجہ غنڈہ گرد طلبا عناصر کی بڑھتی ہوئی انارکی و بدمعاشی اور اس جیسے دیگر مذوم مقاصد تھے جسے طلبا یونین کی اڑ میں سرانجام دیا جارہا تھا سو اب کی بار اگر حکومت وقت ایسا کچھ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تو اسلامک یونیورسٹی کے حالیہ واقعے اور ماضی کے تلخ تجربات کو دوبارہ وقوع پذیر ہونے سے روکنے کےلیے واضح اور دو ٹوک اور سیدھا ٹھوک کی بنیاد پر قوانین ضرور بنائے جس کے تحت ہر نتھو گیرے کو لگام ڈالی جاسکے اور ہر طبقے کو کھل کر اپنی نمائندگی کرنے کا حق فراہم کیا جائے۔
    اب واقعے کے تیسرے پہلو کی طرف وہ یہ کہ جناب سراج الحق سے لے کر ادنی سے جماعتی کارکن تک نے طفیل کی شہادت کا دکھ اپنے دکھ کی طرح محسوس کیا مگر معذرت کے ساتھ جماعت اسلامی کی مرکزی قیادت یا جمیعت کے کسی مرکزی ذمہ دار نے اس واقعے کو اپنے خوفناک ماضی سے جوڑ کر ہی دیکھا ہو یا اسے اپنی “ہولڈ بڑھاؤ، راج کرو” پالیسی کا شاخسانہ قرار دیا ہو کیونکہ جمیت جس کی بنیاد (خالص اسلامی اقدار اور پاکستانیت کی ترویج) پر رکھی گئی تھی اور بڑے بڑے نام اور صد عالی مقام لوگ اس کی تربیت سے پیدا ہوئے اور آج بھی بڑے محترم لوگ اس کی تربیت کا منہ بولتا ثبوت ہے مگر گزشتہ کئی سالوں سے جمیت کا بدلتا ہوا رویہ اور اس کے خمیر میں چھپی ہوئی شر انگیزی (جو ماضی میں بھی رنگ دکھاتی رہی ہے) بڑی خطرناک سطح پر پہنچ چکی ہے جس سے ناصرف کسی دور کی تن تنہا واحد طاقتور طلبا تنظیم کا “تنظیمی ڈھانچہ” بری طرح متاثر ہوا ہے بلکہ عوام الناس میں اس کی ساکھ بھی بری طرح متاثر ہوئی اور ماضی میں جمیعت کے ساتھ جڑ کر اسلام کے رنگ میں رنگنے کا عزم رکھنے والے طلبا آج صرف بدمعاشی، سٹیٹس اور جاہ جلال کے حصول کے لیے اس کی سرپرستی حاصل کرتے نظر آتے ہے اور شنید یہ کہ ذمہ دارانِ جمیت باقاعدہ اس عمل پر طلبا کی حوصلہ افزائی اور شہ فراہم کرتے ہیں اگر اس بات کو سمجھنا ہو تو میں لمبا چوڑا ماضی کنگھالنا نہیں چاہوں گا بلکہ حال ہی کے صرف دو واقعات عرض کرتا ہو جس کا شاہد “راقم الحروف” خود ہے سن دوہزار سترہ پنجاب یونیورسٹی لاہور میں جمیت اور پختون طلبا یونین میں ٹاکرا ہوا وجہ جو بھی تھی مختصر یہ کہ راقم کے کالج (سائنس کالج وحدت روڈ ) سے جمیعت نے تھوک کے حساب سے طلبا کو احتجاج کے نام پر اکھٹا کیا اور “موڑ بھیکیوال” پر جمع ہوکر یہ احتجاج خوف ناک تصادم میں تبدیل ہوگیا اور مخالفین کے ساتھ ساتھ پنجاب پولیس کے جوانوں کو بھی “میدان کارزار “
    میں خوب رگڑا لگایا گیا اور عالی قدر دوسرا واقعہ چند دن پہلے کا ہے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں “کشمیر پروگرام” کے حوالے سے باقاعدہ اجازت کا مشورہ عنایت کرنے پر جمیعت کے جانبازوں نے سٹوڈنٹ افیئرز کے پرنسپل کو ٹھڈوں، مکوں اور دھکوں سے اپنی بادشاہت میں مفت مشورہ دینے کی سزا فراہم کی۔ واقعات تو اور بھی بہت ہیں، مگر میں یہ جاننا چاہتا ہوکہ ان واقعات کی وجہ کیا ہے؟ جو مجھے سمجھ آتی ہے کہ ایسے واقعات جو ملک بھر کی تمام چھوٹی بڑی یونیورسٹیوں میں آئے دن رونما ہوتے رہتے ہے (جن میں ہمیشہ کی طرح دونوں فریق ہی قصور وار ثابت ہوتے ہے ) تن تنہا اور عظیم جمیعت کا ہرتنظیم کو اپنے مقابل جاننا اور اس کے پلیٹ فارم سے منعقدہ کسی بھی پروگرام کو بدہضمی کی شکایت کی نظر سے دیکھنا ہے اور پھر جب یہ شکایت شدید پیٹ درد کی وجہ بنے تو پھر تمام تر میڈیسن سے لیس ہوکرمخالفین پر چڑھ دوڑنا ہے اور نتیجۃ مخالف گروہوں کی جانب سے بھی موقع ملتے طفیل شہید جیسے واقعات رونما کردینا ہے!

    لہذا میری جماعت اسلامی کی محنت کش قیادت سے درمندانہ اپیل ہے کہ مقابل سے مقابلہ کی سوچ کو ترک کرکے برداشت اور طلبا یونین میں ہر طالب علم کو اپنی پسند کی جماعت کو چننے کا پرامن حق فراہم کیا جائے اور اپنے ناظمین کو ہرکسی کی نمائندگی کو قدر کی نگاہ سے دیکھنے کا مخلصانہ مشورہ عنایت کیا جائے بلکہ آپ کو چاہیے کہ اپنے کارکنان کو ان کی شاندار بنیاد (جس پر کام کھڑا کرنے کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکا) پر یہ ہدف دیجیے کہ بھائی آپ طلبا کو احسن انداز سے ہر اس گروہ میں شمولیت سے روکیں جہاں ان کا تعلیمی کئیریر برباد ہو، ملک و قوم کی خدمت کے عزم کو زک پہنچے اور گھر والوں کی امیدوں پر بھی پانی پھرنے کا سبب ہو ،لیکن اگر آپ کا یہی رویہ رہا جو بدستور جاری ہے تو پھر طلبا یونین کی بحالی فقط آپ کی عالی شان ،خود مختار سلطنت کو حمایتِ سلطان کا سرٹیفکیٹ جاری کرنے سے زیادہ کچھ نہیں اور گو کہ اس امر سے آپ کی بدمعاشی کو سند فراہم ہوجائے گی اور طلبا اسلام کی نام نہاد رکھوالی جماعت سے سندِ غنڈہ گردی حاصل کرتے رہیں گے اور نتیجہ کے طور پر دیگر جماعتیں نامناسب نمائندگی کا رونا روتی رہیں گی اور ردعمل کے طور پر کتنے ہی جماعتی و دیگر تنظیمی “طفیل” اس معمولی اقتدار کی چاہ کی بھینٹ چڑھتے رہیں گے۔
    لہذا وقت ہے کہ ان واقعات سے جماعتی کارکنان بالخصوص اور دیگر تنظیمی جیالے سبق حاصل کرکے اپنا قبلہ درست کرلیں اور حکومت وقت بھی ایسے واقعات کی روک تھام کےلیے سخت سے سخت قوانین متعارف کروائے تاکہ نہ تو طلبا کی پڑھائی کا حرج ہو اور اگر وہ تنظیمی لائف کو انجوائے کرنے کےلیے کسی کے ساتھ منسلک ہونا چاہے تو ان کو واضح سوجھ بوجھ ہوکہ وہ جس کا انتخاب کرنے جارہے ہے وہ طلبا کی راہنمائی اور انہیں خالص اسلامی فکر دینے یا خالص پاکستانی بنانے کا ایک پلیٹ فارم ہے یا پھر طلبا تنظیم کی شکل میں لسانی ،صوبائی اور دیگر بنیادوں پر کھڑا ہوا تخریب کار گروہ ہے جس سے وہ کئی مذموم مقاصد میں آلہ کار بن کے رہ جائیں گے۔

  • آنسوؤں کو دفاع میں بدلو!!!! تحریر: محسن نصیر

    آنسوؤں کو دفاع میں بدلو!!!! تحریر: محسن نصیر

    حمزہ نے کہا، میں فرسٹ ائیر میں تھا جب یہ دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا تھاایک دن پہلے سب کچھ نارمل تھاحملے کے دن فرسٹ ائیر کوچھٹی تھی_ میں نے سب کو بکھرے ہوئے اور آنسوؤں کی حالت میں بیدار پایامیں اپنے دوستوں کے بارے میں سوچ کر صدمے میں پہنچ گیاجو حملے کے دوران سکول میں موجود تھے_ جیسے جیسے وقت گزر رہا تھا اموات کی تعداد بڑھتی جا رہی تھیاور میں اپنے قریبی ساتھیوں کو بچانے کے لیے کچھ نہیں کر سکا

    مجھے سکول میں رہ کر علم اور حکمت حاصل کرنا تھا اور مسائل پر قابو پانا تھا جسکا مجھے مستقبل میں سامنا کرنا تھا اور اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کونسی طاقت مجھے علم حاصل کرنے سے روکنے کی کوشش کرتی ہے ہمارے کاج کی عمارتوں کے ساتھ چلتے ہوئے یہ دہشت اب بھی ہمارے دل میں ہے لیکن یہ ہمیں مزید مطالعہ کرنے اور ہمارے حوصلے بلند کرنے کی ہمت دیتی ہے_

    احمد نے کہا، تعلیم کا مطلب ہر وہ چیز ہے وہ تمام یادیں اور احساس ہے اور دہشت گردوں کو میرا پیغام یہ ہے تم نے ہمیں قتل کرنے جی کوشش کی، اسکے بجائے آپ نے ہمیں لافانی بنایا_ ہماری یاد ہمیشہ زندہ رہے گی، اور سب کو حوصلہ، طاقت اور امید فراہم کرے گی_

    دونوں طلباء اے پی ایس کے حملے کا شکار ہیں وہ اپنے دوستوں کو 16 دسمبر 2014 کو صبح ساڑھے دس بجے کھو بیٹھے تھے، تحریک طالبان کے سات بندوق بردار اسکول میں داخل ہوئے اور طلباء اور عملے کو مارنا شروع کر دیا اس دن آٹھ سے اٹھارہ سال تک کے 140 سے زیادہ بچے اس دن شہید ہوئے اور متعدد زخمی ہوئے_

    بھائیو! دہشت گردی اب ہمارے لئے ایک بہت بڑا خطرہ بن گیا ہے اس نے ہم میں بڑھے پیمانے پر خوف کو جنم دیا ہے ہمیں پاکستان کے ایک وفادار شہری کی حیثیت سے اس طاقت اور بہادری کے ساتھ اس خطرہ اور خطرے کا سامنا کرنا چاہیے ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے اس طرح دہشت گردی کے اس خطرے کے کچھ موثر حل بھی ہیں اگر ان کا صحیح طریقے سے عمل کیا جائے گا_

    اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا :
    ” جن لوگوں نے کفر کیا وہ چاہتے ہیں کہ تم ذرا اپنے ہتھیاروں اور سامان سے غافل ہو جاؤ تو تم پر یکبارگی حملہ کر دیں اگر تم بارش کے سبب تکلیف میں یا بیمار ہو جاؤ تو تم پر کچھ گناہ نہیں کہ ہتھیار اتار رکھو مگر ہوشیار ضرور رہنا اللہ نے کافروں کے لئے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے_(102:4)

    آج ہم 1990 کی دہائی کے آخر سے بدتر حالات کا سامنا کر رہے ہیں_ روزانہ نیوز چینلز اور اخبارات، جرائم کی کہانیاں، خودکش دھماکوں اور بہت سے چھوٹے چھوٹے حالات سے بھرا ہوا ہےجسکا مستقبل میں خطرہ ہو سکتا ہے اور متعصب میڈیا کے ذریعہ بھی انکی اطلاع نہیں ہے جسکی وجہ سے ہماری پوری قوم ناامیدی اور بالآخر بے عمدگی کی گہرائیوں میں جارہی ہے عمدگی کی ریڑھ کی ہڈی ہے آج ان وجوہات کی بنا پر نوجوان کچھ مایوس، ناامید اور بے بس ہیں لیکن ان سب کے علاوہ نوجوان ابھی بھی سرنگ کے اختتام پر روشنی کے منتظر ہیں یہاں تک کہ انہوں نے عملی میدانوں میں خود کو آگے بڑھایا ہے لیکن مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ان کے پاس وہی کرنے کی طاقت نہیں ہوتی وہ جو کرنا چاہتے ہیں موجودہ منظر نامے سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ این سی سی (نیشنل کیڈٹ کور) کے لئے شہریوں کو تحفظ کے لیے متحرک کرنے کے لیے نوجوانوں کی تربیت کا اب سے موزوں وقت ہے جب خودکش حملے ہماری روزمرہ کی زندگی کا ایک حصہ بن چکے ہیں تو بھارت، بلوچستان، فاٹا اور کشمیر میں ہمارے خلاف غیر سرکاری جنگ لڑ رہا ہے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ساتھ انڈیا ہمارے پڑوسی افغانستان میں بیٹھ کر ہمارے خلاف کھیل کھیل رہا ہے
    جب بھارت نے ہمارے پانی کو دریائے چناب اور راوی میں روک دیا ہے، دفاعی اور تجویزاتی تجزیہ نگاروں کا نظریہ ہے کہ اگلی جنگ بہت جلد متوقع ہے اور اس جنگ کی وجہ پانی کا مسئلہ اور دیگر مسائل سرفہرت ہونگے_

    المیہ یہ ہے جب ہم اس قسم کی تربیت کی بات کرتے ہیں تو لوگ سوچتے ہیں ہم انتہاپسند ہیں ہم جنگ کو دعوت دے رہے ہیں خوابوں کی ناممکنات اور خیالات اور افعال کی منفی سمت کے بارے میں بات کر رہے ہیں جو تباہ کن نتائج کا باعث بن سکتا ہے لیکن اس نقطہ نظر کے لوگوں کو اسرائیل میں یوتھ بٹالین کی تربیت کا علم نہیں ہو سکتا اسرائیل میں ایک طالبعلم کو دسویں جماعت کی ڈگری نہیں دی جاتی جب تک وی ایک ہفتہ کی ٹریننگ پاس نہ کرے ایک ماہ کی تربیت کے بغیر انٹرمیڈیٹ ڈگری اور گریجویٹ ڈگری کے لئے تین ماہ کی تربیت نہیں دی جاتی ہے اس تربیت کے تحت ہر بھرتی ایک بنیادی تربیتی پروگرام میں جاتا ہے جہاں انہیں فوج کے نظم و ضبط شوٹنگ، ابتدائی طبی امداد، کیمیائی اور حیاتیاتی جنگ سے متعلق معلومات اور جسمانی فٹنس کی تعلیم دی جاتی ہےیہ تربیت قومی دفاعی خدمت قانون 1986 کے تحت کچھ مستثنیات کے ساتھ مطلوب مرد اور خواتین دونوں کے لئے لازمی ہے یہ دنیا کا واحد ملک ہے جو خواتین کے لیے لازمی قومی خدمات کع برقرار رکھتا ہے اسرائیل جیسے چھوٹے سے ملک کی چستی کا راز اپنے نوجوانوں کے لیے لازمی فوجی تربیت کی پالیسی ہے اسرائیل نے بہت سی جنگیں لڑی ہیں 1948،1967 اور 1973 میں اور وہ ہمیشہ ان جنگوں کو جیتے اور اسکی وجہ یہی ہے کہ اسکی آخری آبادی اسکے آخری مرد اور عورت تک ایک سپاہی کی حیثیت سے لڑاکا ہے

    ہندوستان نے بھی اس طرح کی تربیت کا آغاز کیا ہے نیشنل کیڈٹ کارپس (دہلی) نے 1948 کے نیشنل کیڈٹ کور ایکٹ کے ساتھ تشکیل دی یہ ایک رضاکارانہ تنظیم ہے جو پورے ہندوستان میں ہائی اسکولوں اور کالجوں سے کیڈٹس کی بھرتی کرتی ہے _

    نیشنل کیڈٹ کور، جانباز، مجاہد فورس پاکستان میں وہ قسم کی فوجی تربیت ہے جو 2002 تک کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلباء کع دی جاتی تھی جب پرویز مشرف نے اس تربیت کا روکا تھا ان کے تحت، پاکستان کے محب وطن اور پڑھے لکھے نوجوانوں کو ابتدائی طبی امداد کی سرگرمیوں بنیادی ہتھیاروں کے استعمال اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے تربیت دی گئ تھی جس میں جنگ یا لڑائی سے متعلق حالات بھی شامل ہیں اس وقت ان خطرات، سازشوں اور غیر یقینی کی صورتحال بہتر جانتے تھے جنکا سامنا ہمارا ملک (داخلی دشمن) اور بین الاقوامی دشمنوں کی شکل میں بھی کر رہا ہے_

    اس قسم کی تربیت آرمڈ فورس اور سویلین کے مابین پائے جانے والے اختلافات کو کم کرتی ہے جنکو دشمن بدتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں_کیڈٹ کور /سویلین آرمی ایک مخصوص فوج کی حیثیت سے خدمات انجام دے سکتی ہے فوج کے ذخائر فوج کی افرادی قوت کی ضروریات کو پورا کریں گے _

    ریزرویونٹس فلسطینیوں کی حالیہ لہر میں اسرائیلیوں کی طرح دفاعی شیلڈ جیسے بہت سے آپریشن کرتی ہیں مزید برآں، تربیت یافتہ کیڈٹ عوامی سول ٹرانسپورٹ، تعلیمی اداروں، کھلی منڈیوں اور پارکنگ لاٹوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ چوکیوں پر مدد کرنے جیسے دیگر سول خدمات انجام دے سکتے ہیں_

    مزید یہ کہ این سی سی دفاع کی دوسری لائن کے طور پر کام کرتی ہے وہ آرڈیننس فیکٹریوں کی مدد کے لیے کیمپوں کا اہتمام کر سکتے ہیں محاذ کو اسلحہ اور گولا بارود کی فراہمی کرتے ہیں اور دشمن کے پیرا ٹروپرز کو پکڑنے اور مشتبہ خودکش بمباروں کی شناخت اور گرفتاری کے لئے پٹرولنگ ٹیم کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا تھااین سی سی بچاؤ کے کاموں اور ٹریفک کنٹرول میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کے لیے سول ڈیفینس حکام کے ساتھ بھی کام کرسکتے ہیں تاہم این سی سی کے پچھلے نصاب کو مزید جدید بنانے کے لیے نظر ثانی کی جانی چاہیےجیسے ہندوستان نے 1965 اور 1971 کی ہند پاک جنگ کے بعد این سی سی نصاب میں نظر ثانی کی تھی محض دفاع کی دوسری لکیر ہونے کی بجائے این سی سی کو اپ گریڈ کیا گیا تاکہ وہ قیادت والی خصوصیات کی نشوونما کو بڑھا سکیں_

    بھارت اور اسرائیل ہمارے خطرناک دشمنوں میں شامل ہیں دونوں ہی نوجوانوں کو این سی سی کی تربیت دے رہے ہیں پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان میں کیوں نہیں؟بحیثیت مسلمان ملک ہمیں ہر طرح کی صورتحال کے لیے تیار ہونا چاہیئے ہمارے مذہب کی بھی ضرورت ہے طاقت کو متوازن کرنا چاہیے اگر آج نہیں، اس ہنگامہ خیز دور میں تو پھر صحیح وقت کب آنے والا ہے؟

    اب وقت آگیا ہے کہ سول طرف سے بھی قومی محب فوج تیار کی جائے ان مشکل وقتوں میں ہمیں تعلیم اور دفاع کی وزارتوں کے اشتراک سے اپنے نوجوانوں کے لئے لازمی فوجی تربیت حاصل کرنے کی ضرورت ہے

    ہمیں نوجوانوں کو جدید ہتھیاروں اور آلات کے استعمال کے لیے تیار کرنا ہوگا تاکہ نوجوان شہری جنگ کو سنبھالنے کی ذمہ داری بھی نبھا سکیں جو ہم پر عائد کی گئی ہے اور شہروں، قصبوں اور گلیوں کی حفاظت کی جاسکے ہماری فوج پہلے ہی بہت زیادہ دباؤ سے نمٹ رہی ہے وہ نہ صرف ہماری سرحدوں کی حفاظت کر رہے ہیں بلکہ مساجد اور اداروں کی حفاظت بھی کر رہے ہیں نہ صرف سرحد پر جانیں دے رہے ہیں بلکہ ملک کے اندر بھی شہادتیں پیش کر رہے ہیں ہمیں اس پاک سر زمین کو بچانے کے لیے اپنی پاک فوج کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہونا پڑے گا جب محب وطن، بصیرت، اچھی طرح سے لیس اور حوصلہ افزائی کرنے والے نوجوان فوج کے ساتھ کھڑے ہو جائیں گے، تو کبھی بھی کوئی بری طاقت ہمارے ملک اور عوام کے ساتھ بری نیت رکھنے کی جرت نہیں کرسکتی_

    ہمیں اپنی درخواست کو باضابطہ حکام کے سامنے پیش کرنے کے لیے کھڑا ہونا پڑے گا ہمیں آنے والے وقتوں کے لیے باضابطہ طور پر تیار ہعنے کی ضرورت ہے ہم بہترین کے لیے امید کرتے ہیں لیکن کسی بھی صورت میں ہمیں بد ترین کی تیاری کرنی ہو گی یہ ایکشن پلان ہے جو زندگی کے تمام فاتح تخیل کو حقیقت میں، تصور کو حقیقت میں بدلنے اور خوابوں کو اصل مقاصد میں اور بالآخر عمل میں بدلنے کے لئے استعمال کرتے ہیں نوجوانوں کے پاس آج خواب، محرکات اور امیدیں ہیں اور وہ پاکستان کے لیے اپنی جانیں قربان کرنے کے لیے تیار ہیں ہمیں صرف اس مثبت توانائی کو کچھ نتیجہ خیز کاموں میں تبدیل کرنا ہے_

    آئیے سب پاکستان کے امن و خوشحالی کے لیے دعا کریں اور ہر سطح پر پاکستان کے دفاع کیلئے کچھ نہ کچھ اپنا کردار ضرور ادا کریں _

    پاکستان زندہ باد

  • آرمی پبلک سکول میں فرعون کی سنت کا دن

    آرمی پبلک سکول میں فرعون کی سنت کا دن

    اسکول کی گھنٹی جیسے ہی بجی، تمام بچے اسمبلی ہال میں آکر کھڑے ہوگئے۔ دعا کے بعد تمام بچوں نے بہ آوازِ بلند قومی ترانہ پڑھا اور پھر اپنی اپنی کلاسوں میں چلے گئے۔ ابھی کلاسز میں پڑھائی کا آغاز ہوا ہی تھا کہ اچانک پورا اسکول فائرنگ سے گونج اٹھا،

    16 دسمبر 2014 کا دن پوری قوم کےلیے تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے جسے قوم کبھی نہیں بھلا سکے گی۔ سفاک دہشت گرد صبح 11 بجے اسکول میں داخل ہوئے اور معصوم بچوں پر اندھا دھند فائرنگ شروع کردی اور بچوں کو چن چن کر قتل کیا۔ سیکیورٹی فورسز کے اسکول پہنچنے تک دہشت گرد خون کی ہولی کھیلتے رہے اور کچھ ہی دیر میں ان ظالموں نے 132 معصوم جانوں سمیت 141 افراد کو شہید کردیا۔

    واقعے کے بعد ہر طرف خون اور معصوم بچوں کی لاشیں بکھری ہوئی تھیں اور اگر پیچھے کچھ بچا تھا تو صرف شہید بچوں کے والدین کی آہیں اور سسکیاں تھیں۔ اسکول کے در و دیوار دہشت اور ہولناکی کی دردناک کہانی بیان کررہے تھے، دہشت گردوں نے اسکول میں درندگی کی ایسی مثال قائم کی کہ انسانیت بھی شرما جائے۔

    سلام ان معصوم شہدا کو جنہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، ان شہدا کے لواحقین کو جن کے بچے صبح اسکول تو گئے لیکن واپس گھروں کو نہ آئے۔ سلام ان بہادر اساتذہ کو جنہوں نے بچوں کو بچانے کی خاطر اپنی جان قربان کردی، بالخصوص پرنسپل آرمی پبلک اسکول طاہرہ قاضی کو جنہوں نے فرض شناسی اور بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے جان قربان کردی لیکن دہشت گردوں اور بچوں کے بیچ میں دیوار بن کر کھڑی رہیں۔

    سانحہ آرمی پبلک اسکول کے بعد ہر آنکھ اشک بار تھی۔ پاکستان سمیت پوری دنیا اس ساںحے کی بربریت کو دیکھ کر خون کے آنسو رو رہی تھی۔ واقعے میں شہید بچوں اور افراد کے لواحقین کے صبر اور عظمت کو سلام۔ لیکن جو اس حملے زخمی ہوئے تھے، ان کے ذہنوں پر اس دردناک سانحے کے انمٹ نقوش آج تک موجود ہیں۔

    اے پی ایس سکول کے ننھے طالبعلموں کوجس طرح چن چن کرشہید کیا گیا یہی توانداز فرعون کا تھا وہ بھی بچوں کادشمن تھا ، انسانیت کے ان ننھے ،پیارے اور والدین کی آنکھوں کے تاروں کو اس طرح مسل دیتاتھا جس طرح آرمی پبلک سکول میں ننھے منھے بچوں‌ کو چن چن کرماراگیا،فرعون بچوں کوتیل کے کڑاہے میں پھینک بھون دیتا تھا وہ اے پی ایس میں گھسنے والے فرعون کے وارث بھی تو ویسے ہی بھون رہے تھے

    اے پی ایس میں بچ جانے والے بچوں میں‌ سے کچھ کا یہ کہنا ہے کہ وہ دہشت گرد ساتھی طلباکوکھینچ کے سامنے لاتے اورفرعون کی طرح بھون دیتے وہ تیل کے کڑاہے میں بھونتا تھا یہ گولیوں سے بھون رہے تھے

    ویسے بھی افغانیوں کے بارےمیں مورخین کاکہنا ہےکہ اسی اسرائیلی نسل سے چلے آرہے ہیں‌،مورخین کے مطابق فرعون نسلاُ اسرائیلی تھا مگرمگربعد میں مختلف قبائل میں‌ بٹ جانے کی وجہ سے قبیلے کے نام سے مشہورہوگیا

    مورخین لکھتے ہیں‌ کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کو روکنے کے لیے ہزار ہا بچوں کا قتل عام بھی ان کی بدنامی کا اہم محرک تھا۔ قدرت نے موسیٰ کو فرعون کے گھر میں پروان چڑھا کراس کی تمام آہنی تدبیریں الٹ دیں۔بالکل ویسے ہی اللہ کے فضل سے پاک فوج نے دشمن کی تمام سازشوں کو بری طرح نہ صرف ناکام بنایا بلکہ دشمنان پاکستان کی تمام تدبیریں الٹ گئیں‌ ،

    جس طرح فرعون کوبچوں‌کے قتل کے بعد شکست ہوئی اوروہ آج تک دنیا اس کی شکل دیکھ کراس کے مظالم کا احاطہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں‌ آج بھی ویسے ہی بنی اسرائیل کی نسل سے تعلق رکھنے والے ان افغانی دہشت گردوں کے انجام کو دیکھ کراس قوم کے حوصلے بلند ہورہے ہیں ، اب میں بتاتا ہوں کہ جوفرعون کی سنت اے پی ایس میں دہرائی گئی اس سے پہلے یہ سنت کس کس دور میں دہرائی گئی

    ہزاروں سال کے بعد آج کا انسان فرعون کے غیرانسانی طرزعمل اور بچہ کشی کی پالیسی پر دہنگ رہ جاتا ہے۔ مگرمعصوم بچوں کے قتل عام میں فرعون تنہا نہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ہم عصر فرعون، ان سے قبل اور آج تک دنیا ایسے فرعونوں سے بھری پڑی ہے جو طاقت کے نشے میں اقتدارکے دوام کے لیے موسیٰ کی پیدائش کو روکنے کی خاطرغلطاں و پیچاں رہے ہیں۔

    فرعون مصر کی راہ پر چلتے ہوئے بچوں کو قتل کرنے والے بادشاہوں میں یوگنڈا کے فوجی ڈکٹیٹر ‘اِدی امین دادا’ نے سنہ 1971ء تا 1979ء میں اپنے ہی عوام کو اس بے رحمی سے قتل کرایا کہ محض نو سال کے عرصے میں 80 ہزار بچوں سمیت پانچ لاکھ افراد کو تہہ تیغ کردیا گیا۔ یوگنڈا کا کوئی محلہ، قصبہ اور شہرایسا نہیں بچا جہاں پر امین دادا کے اجرتی قاتلوں نے کم سن بچوں کو سنگینوں میں نہ پرویا ہو۔ خواتین کی کھلے عام عصمت ریزی کے واقعات سن کر انسانی تہذیب کا سرشرم سے جھک جاتا ہے۔

    بچوں کے قتل عام میں بدنام زمانہ بادشاہوں میں "Attila the Hun” کا نام بھی سر فہرست ہے۔ آٹیلا ‘ہیونک ایمپائر'[موجودہ یورپی ممالک پر مشتمل تھی] کا 19 سال تک بادشاہ مطلق بنا رہا۔ اس نے یہ طے کر رکھا تھا کہ اس کی سلطنت میں اولاد نرینہ کم سے کم ہو تاکہ اس کی حکومت کو اندر سے کوئی خطرہ درپیش نہ ہو۔ پڑوسیوں کو زیر کرنے کے عادی اس بادشاہ نے اپنے فوجیوں کو آس پاس کی ریاستوں میں بھی بچوں کو قتل کرنے کا حکم دے رکھا تھا۔ دریائے دینوب کے آر پار اس کے فوجی اچانک حملے کرتے اور پوری پوری بستیوں کو نیست ونابود کر دیتے۔ زیادہ سے زیادہ بچوں کو قتل کرنے والے قاتلوں کو انعام اکرام سے نوازا جاتا۔

    منگول سلطنت کے بانی چنگیز خان کی انسانیت دشمنی ایک ضرب المثل تھی۔ فتوحات کے شوق میں اس کی فوج جہاں جہاں سے گذرتی انسان، حیوان حتیٰ کہ درختوں اور فصلوں کو بھی تہس نہس کرتی چلی جاتی۔ تاتاریوں کی وحشت کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ یہ لوگ اپنے ہم مذہبوں کو بھی معاف نہیں کرتے تھے۔ چنگیز خان کے دور حکومت میں لاکھوں بچوں کو قتل کیا گیا۔

    بیسویں صدی کے سفاک بادشاہوں اور انسانوں کا خون پینے والوں میں ایک نام کمبوڈیا کے وزیراعظم پول پاٹ کا ہے۔ پول پاٹ شکل و صورت کے اعتبار سے گلہری نما انسان تھا مگر معصوم لوگوں کے خون کا اس قدر پیاسا کہ اس کے حکم پر لاکھوں لوگ نہایت بے رحمی سے قتل کیے گیے چھوٹے چھوٹے بچوں کو ان کی مائوں سے چھین کر آگ کے الائو میں پھینک دیا جاتا۔ کئی کئی بچوں کو اوپر تلے رکھ کر رسیوں سے باندھنے کے بعد پہاڑوں سے گہری کھائیوں میں پھینک دیا جاتا۔ بچوں کو بھوکا رکھ کرانہیں سسک سسک مرنے پرمجبور کیا جاتا۔ ان سے جبری مشقت کی لی جاتی ۔ بھوکے پیاسے بچے جب نڈھال ہو کر گر پڑتے تو اُنہیں اٹھا کر بادشاہ کے کتوں کے آگے ڈالا جاتا۔ یہ کتےان معصوموں کو بھنببوڑ کر انسانیت کا ماتم کرتے۔

    بچوں پر انسانیت سوز مظالم ڈھانے والوں میں روس کے ‘آئیون چہارم’، جرمنی کے اڈولف ایکمن، ایڈوولف ہٹلر، بیلجیم کے لیوپول دوم اور سوویت یونین کے جوزف اسٹالن کے نام بھی کسی سے کم نہیں ہیں۔ آج بھی دنیا کے مختلف خطوں میں فراعنہ کی کوئی کمی نہیں۔ ایک فرعون وقت منظم ریاست کی شکل میں دنیا کے نقشے پرموجود ہے۔ اس فرعون کے ہاتھوں سنہ 1948ء سے آج تک فلسطینی قوم کی کئی نسلیں تہہ تیغ کی جا چکی ہیں۔ فلسطین میں قیام اسرائیل کے بعد سے آج تک کوئی دن ایسا نہیں گذرا جس میں کسی فلسطینی بچے کوشہید، زخمی یا گرفتار نہ کیا گیا ہو۔ فلسطین میں باربار مسلط کی گئی جنگوں میں بچوں کو آسان شکار کے طورپر نشانہ بنایا جاتا۔

    2014ء کے وسط میں غزہ کی پٹی پر مسلط کی گئی جنگ میں شہید ہونے والے 22 سو شہریوں میں سے 560 بچے تھے۔ سنہ 1967ء کے بعد 80 ہزار فلسطینی بچوں کو جیلوں میں ڈالا گیا۔ سنہ 2000ء کے بعد سے اب تک 12 ہزار فلسطینی نونہال گرفتار کیے گئے اور 4000 ہزار سے زائد شہید کیے جا چکے ہیں۔ فلسطین میں اکتوبر کے اوائل سے جاری تحریک کے دوران صہیونی فوجیوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے بیشتر فلسطینیوں کی عمریں 18 سال یا اس سے بھی کم ہیں۔

    بچوں کے قتل عام میں فرعون بدنام ہوا مگر وہ قصہ پارینہ ہوگیا۔ انسانی شعور کی پختگی کے اس دور میں بھی فلسطین میں صہیونیوں کےہاتھوں ‘اندھیر نگری چوپٹ راج’ ہے۔ جیلوں میں ڈالے گئے بچوں پرڈھائے جانے والے انسانیت سوز مظالم فرعونی مظالم سے کسی بھی شکل میں کم نہیں ہیں۔ بچوں کو گولیاں مارنے اور انہیں زخمی کرنے کے بعد سڑکوں پر پھینک دیا جاتا ہے۔ کسی امدادی کارکن کو مرغ بسمل بنے زخمی کی مدد کی اجازت نہیں دی جاتی۔ صہیونی درندے تڑپتے فلسطینیوں کو جام شہادت نوش کرنے کے عمل سے محظوظ ہوتے ہیں۔

    دنیا پھر بھی فلسطینیوں کو ہی دہشت گرد قرار دیتی اور صہیونی گماشتوں کو دنیا کے امن پسند، جمہوریت کے علمبردار اور مظلوم قرار دینے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے۔ فرعون کے ایجنٹ بنی اسرائیل کے ہاں کسی بھی بچے کو پیدا ہوتے ہی قتل کر ڈالتے تھے مگر فرعون وقت کا طریقہ واردات کہیں زیادہ خوفناک ہے۔ آٹھ سے دس سال کے بچوں کو پکڑنے کے بعد کال کوٹھڑیوں میں ڈالا جاتا ہے۔ اعتراف جرم کرانے کے لیے ان کے ہاتھوں کے ناخن کھینچے جاتے ہیں۔ بجلی کے جھٹکے لگائے جاتے ہیں۔ الٹا لٹکا کر کوڑوں سے مارا جاتا ہے۔ تشدد کے آحری حربے استعمال کرکے بچوں کو شہید یا تاحیات اپاہج اور معذور کر دیا جاتا ہے۔ مظالم کی ایسی ایسی داستانیں ہیں کہ فرعونیت بھی ان کے سامنے بے معنی ہو جاتی ہے۔

  • ایک دن دو سانحے اور مجرم ایک!!!!تحریر: غنی محمود قصوری

    ایک دن دو سانحے اور مجرم ایک!!!!تحریر: غنی محمود قصوری

    16 دسمبر 1971 کو دشمن کی مدد سے اپنے ہی غداروں نے مکتی باہنی بنا کر پاکستان کو دولخت کر دیا تھا حالانکہ دنیا گواہ ہے کہ چند دن کے گولہ بارود ہونے کے باوجود ہماری بہادر افواج تقریبا سات ماہ تک لڑی اور آخر کار عالم اسلام کی وہ مایہ ناز فوج کے جس نے 1948 اور 1965 میں انڈیا کو چھٹی کا دودھ یاد کروایا تھا اور عرب اسرائیل جنگ میں کہ جب عالم اسلام کے کئی خلیجی ملک اسرائیل کے قبضے میں جا چکے تھے اس وقت تل ابیب کا خاک غرور میں ملایا تھا اس اسلامی جہادی فوج نے ورنہ یقینا اسرائیل ایک اٹامک پاور ہوتا اور دنیا کا نقشہ آج یہ نا ہوتا مگر افسوس کہ وہ فوج اپنوں کی غداری کی بدولت ہتھیار پھینکنے پر مجبور ہو گئی اور پھر ڈھاکہ ڈوب گیا
    ہم نہیں بھولے سقوط دھاکہ اور ہم نہیں بھولے سانحہ اے پی ایس 16 دسمبر 2014 کو ایک بار پھر ہمارے ازلی دشمن بھارت نے ہمارے ملک کے اندر سے ہی غداروں اور دین کے نام نہاد دعویداروں کو خریدا اور پشاور میں بچوں کے آرمی پبلک سکول پر حملہ کرتے ہوئے ڈیڑھ سو سے زائد بچوں کو شہید کر دیا اور اس بار مکتی باہنی کا کردار دین کے نام نہاد دعویداروں ٹی ٹی پی یعنی تحریک طالبان پاکستان نے ادا کیا مگر میں قربان افواج پاکستان اور عوام پاکستان پر کہ جنہوں نے مل کر مقابلہ کیا اور ٹی ٹی پی کے تمام سورمے جہنم واصل کر دیئے اور دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا کہ اب ارض پاک کے بچے سکول نہیں جائینگے
    میرے ملک کے دشمنوں دکھ تو ضرور ہوتا ہے ان گزرے واقعات کو یاد کر کے مگر ہمارا حوصلہ پھر بلند ہو جاتا ہے کہ ہمارے لئے رب نے ناکامی رکھی ہی نہیں کیونکہ ہم اللہ کی راہ میں لڑتے ہوئے مارے جائیں یا لڑتے ہوئے دشمن کو مار دیں ہر صورت ہم ہی کامیاب و کامران ہوتے ہیں وہ ہمارے پولیس و فوج کے جوان ہو یا آرمی پبلک سکول کے اساتذہ و نہتے معصوم بچے ان شاءاللہ کامیاب و کامران ہیں
    ہاں مگر دشمنوں خارجیوں دین و ملت کے باغیوں ناکامی صرف تمہارے لئے ہی ہے کہ تم نے مکتی باہنی بنا کر میرے اپنوں کو میرے خلاف کرکے ڈھاکہ کا سقوط تو کروا لیا مگر آج بھی دیکھ لو بنگلہ دیش کے اندر سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں لوگ پاکستان سے محبت کرنے والے موجود ہیں اور ان میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے اور دیکھ لو بنگلہ دیش بنانے والوں کا انجام بھی ذرا کہ کیسے اپنی ہی بنگلہ دیشی فوج کے ہاتھوں اپنے بیوی بچوں سمیت قتل ہو گئے اور نشان عبرت بن گئے اور تم نے اپنی اس حزیمت کا بدلہ لینے کیلئے پشاور میں ڈیڑھ سو کے قریب معصوم بچوں کو شہید کروا دیا اور تمہارا خیال تھا کہ اب پاکستان کے بچے ڈر جائیں گے اور سکول کی راہ نہیں لینگے مگر دیکھو ظالموں تم پھر ناکام ہو گئے
    اللہ کی قسم ایسی درندگی کی مثال نہیں ملتی تم نے سوچا تھا اے پی ایس کو ویران کرکے ملک کے باقی سکولوں میں دہشت کی فضا قائم کرکے بچوں کو سکول سے دور کر دو گے مگر آؤ دیکھو اسی اے پی ایس کے سکول کے بچوں کے حوصلے پہلے سے بھی زیادہ بلند ہیں اور اے پی ایس اسی شان و شوکت سے قائم و دائم ہے مگر اب تو ہمارے معصوم بچے بھی بے خوف ہو کر تمہیں للکار رہیں ہیں کہ جس عمر میں بچے ویڈیو گیم اور چاکلیٹ کھانے کی باتیں کرتے ہیں اب اے پی ایس کے بچے بلکہ پورے ملک کے بچے کہہ رہے ہیں مجھے ماں اس سے بدلہ لینے جانا ہے
    کیا جب کبھی کوئی دہشت گرد مرتا ہے تب اس کے بچوں نے بدلہ لینے کی بات کی ؟ نہیں بلکل نہیں کیونکہ بچے بھی جانتے ہیں حق کیا ہے باطل کیا ہے دہشتگردوں خارجیوں اللہ کے دین کے دشمنوں تم نے بہت نہلایا اس ارض پاک کو خون سے مگر اللہ کی قسم ہمیشہ تم ناکام ہوئے اور ان شاءاللہ ہوتے ہی رہوگے کیونکہ آج بنگالی بھی مانتے ہیں کہ ہم پاکستان کیساتھ زیادہ مضبوط تھے اب تو پاکستان مردہ باد کا نعرہ لگانے والے بھی کہہ رہے جیوے جیوے پاکستان مگر کہاں گئے وہ دہشت گرد اور ان کے یار آج وہ بیرون ممالک اور پہاڑوں غاروں میں منہ چھپائے بیٹھے ہیں
    دنیا نے دیکھا پاکستان کو توڑنے والے خود مٹ گئے کیونکہ اس ارض پاک کی بنیادوں میں سولہ لاکھ شہداء کا خون شامل ہے اور خون کی بنیاد بڑی مضبوط ہوتی ہے ان شاءاللہ تم جتنا مرضی زور لگا لو جتنا لگا چکے اس سے بھی زیادہ لگا کر دیکھ لو پاکستان تھا ہے اور قیامت تک رہے گا ان شاءاللہ کیونکہ اس ملک کے بچے بوڑھے اور جوان سب کا ایک اللہ پر ایمان
    اوہ مودی نجس میرے فوجیوں میرے اے پی ایس کے بچوں کے قاتل تو اب اپنے ہی ملک میں بنگال اور بھارت کے دیگر علاقوں میں اٹھتی ہوئی سونامی کو دیکھ اور ڈر اس وقت سے جب تیرے اس ہندوستان کے اندر کئی پاکستان بنے گے ان شاءاللہ

  • مقبوضہ کشمیرکے گجر بکروال قبیلے کی تاریخ اور ان کے پیچیدہ مسائل

    مقبوضہ کشمیرکے گجر بکروال قبیلے کی تاریخ اور ان کے پیچیدہ مسائل

    مرکز کے زیر انتظام جموں و کشمیر اور لداخ میں مختلف نسلوں اور قبائل کے لوگ رہتے ہیں، جن میں سب سے بڑی آبادی گجر اور بکروال قبیلہ کی ہے۔ عام طور پر اونچے پہاڑوں، جنگلاتی علاقوں اور چراگاہوں میں رہنے والی یہ آبادی، سخت جاں ہے اور ان کی زندگی جدوجہد سے عبارت ہے۔ حکومتیں انکی فلاح و بہبود کا تذکرہ تو کرتی ہیں لیکن عملی طور اس پسماندہ آبادی کی زبوں حالی کی تصویر بدلتی نظر نہیں آتی۔


    جموں و کشمیر اور لداخ میں 2011 کی مردم شماری کے مطابق کل آبادی ایک کروڑ 25 لاکھ 41 ہزار 302 ہے، اس میں سے قبائلی لوگوں کی آبادی 11 اعشاریہ 9 فیصد یعنی 14 لاکھ 93 ہزار 299 ہے۔پورے بھارت میں 702 قبیلے موجود ہیں۔ تقریبا سبھی قبائل کا ماننا ہے کہ ان کی تہذیب و تمدن اور ثقافت کی حفاظت نیز ان کی مشکلات اور پریشانیوں کا حل نکالنے میں حکومتیں ناکام ثابت ہوئی ہیں۔ساؤتھ ایشین وائرکے مطابق جموں و کشمیر میں کل 12 قبائل آباد ہیں، جن میں گجر، بکروال، بلتی، بیڈا، بوٹو، بروکپا، چنگپا، گررہ، مون، پورگپا، گدی اور سیپی شامل ہیں۔ ان سب قبیلوں میں گجر بکروال قبیلہ جموں وکشمیر میں سب سے بڑا قبیلہ ہے۔


    کشمیر میں 12 قبائل آباد ہیںاورپورے بھارت میں 702 قبیلے موجود ہیں۔ تقریبا سبھی قبائل کا ماننا ہے کہ ان کی تہذیب و تمدن اور ثقافت کی حفاظت نیز ان کی مشکلات اور پریشانیوں کا حل نکالنے میں حکومتیں ناکام ثابت ہوئی ہیں۔ گجر و بکروال قبیلہ تعلیم کے میدان میں بہت پیچھے ہے۔موجودہ وقت میں جموں و کشمیر میں کل شرح خواندگی 71 فیصد ہے، گجروں کا لیٹریسی ریٹ محض 32 فیصد اور بکروال کا لیٹریسی ریٹ 23 فیصد ہے۔اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ تعلیم کے میدان میں یہ قبیلہ بہت پیچھے ہے۔

    قبیلے کو تعلیمی میدان میں آگے لے جانے کے لیے 1970 میں اس وقت کے جموں و کشمیر کے وزیر اعلی شیخ محمد عبداللہ کی طرف سے 263 موبائل اسکولوں کا اعلان کیا گیا تھا۔ان موبائل اسکولز کا مقصد تھا کے گجر و بکرال کا وہ طبقہ جو اپنے مال مویشی کے ساتھ موسمی ہجرت کرتا ہے ان کو تعلیم فراہم کروائی جائے، اس میں یہ طے کیا گیا تھا کہ موبائل اسکولز اس قبیلہ کے ساتھ رہیں گے، اور قبیلہ کے بچوں کو تعلیم دیں گے۔

    اس دوران 263 موبائل اسکولز میں سے 175 موبائل اسکولز شروع کئے گئے۔ پھر بعد میں کچھ اسکولز کو بند کر کے ریگولر اسکولز میں تبدیل کر دیا گیا، اور باقی 88 موبائل اسکولز رہ گئے۔آج یہ 88 موبائل اسکولز کاغذی ریکارڈ پر تو ہیں لیکن زمینی سطح پر کہیں نظر نہیں آرہے ہیں، قبیلہ میں تعلیم کو اور بڑھاوا دینے کے لیے 2011 میں جموں و کشمیر حکومت نے 100 دیگر موبائل اسکولز کا اعلان کیا، جو ابھی تک شروع نہیں کیے گئے ہیں۔ ساؤتھ ایشین وائرکے مطابق جموں یونیورسٹی کی شعبہ لائف لرنینگ کی ایسوسی ایٹ پروفیسر کویتہ سوری کے مطابق فی الوقت جموں و کشمیر کے سبھی اضلاع میں سے صرف راجوری ضلع میں بعض موبائل اسکولز کام کررہے ہیں۔

    گجر بکروال قبیلہ کی تاریخ پر ایک نظر

    گجر بکروال قبیلے کی ابتدا تاریخ داں وی اے سمتھ کی کتاب ‘ہندوستان کی ابتدائی تاریخ’ کے مطابق 465 قبل مسیح میں ہوئی۔ ان کی اس کتاب میں راجستھان میں گجر مملکت کا بھی ذکر ملتا ہے۔ ‘جیوگرافی آف جموں و کشمیر’ کے مصنف اے این رینہ لکھتے ہیں کہ ‘گوجر جارجیہ کے باشندے تھے۔ جس کے بعد وہ وسطی ایشیا، عراق، ایران، اور افغانستان کے راستے برصغیر ہند و پاک پہنچے۔ گجروں کے نام سے ہی آج کا گجرات جانا جاتا ہے۔ گجر اسکالر ڈاکٹر جاوید راہی نے اس قبیلے کی جینیاتی اساس وسطی ایشیا میں تلاش کی ہے۔ انکا کہنا ہے کہ گوجر اصل میں ترکی النسل ہیں۔ متعدد گجر مورخین کا ماننا ہے کہ گجر سن ڈائنسٹی سے منسلک تھے اور ہندو بھگوان رام کے پیروکار تھے جن کی اکثریت بعد میں مشرف بہ اسلام ہوئی۔

    بھارت میں گجروں کی آباد ی جموں و کشمیر کے دونوں منقسم خطوں کے علاوہ دہلی، اترپردیش، پنجاب، راجستھان، گجرات، ہماچل پردیش، بہار اور ہریانہ میں پائی جاتی ہے۔ پاکستان اور افغانستان میں بھی گجر بستے ہیں۔ گجر قبائل سے وابستہ لوگ مسلمان، ہندو، اور سِکھ مذاہب کے پیروکار ہیں۔

    2011 کی مردم شماری کے مطابق گجر قبیلہ کی کل آبادی 980654 ہے جبکہ بکروالوں کی آبادی 113198 ہے۔ گجر اور بکروال طبقہ کو 1991 میں انڈین شیڈول ٹرائب کے اندر لایا گیا۔ گجر بکروال طبقے کی معیشت مال مویشی، بھیڑ بکریاں، کھیتی باڑی اور دودھ بیچنے پر منحصر ہے۔ یہ طبقہ 12 مہینے خانہ بدوشی کی وجہ سے 6 ماہ کشمیر میں اور چھ مہینے جموں میں گزارتا ہے۔ بکروال اور گوجر طبقوں میں بعض بنیادی تبدیلیاں انہیں ایک دوسرے سے ممتاز کرتی ہیں۔ ایک نیوز ویب سائٹ القمرآن لائن کے مطابق بکروال مجموعی طور پر خانہ بدوش ہوتے ہیں اور بھیڑ بکریوں کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں، "بکروال” میں ‘بکر’ کا معنی بکرا ہے اور ‘وال’ کا مطلب رکھوالا، بکروال بھیڑ بکریوں کے رکھوالے ہوتے ہیں۔

    بکروال برادری مذہب اسلام سے تعلق رکھتی ہے، اور بکروالوں کی آبادی جموں و کشمیر کے علاوہ بھارت، پاکستان اور افغانستان کے متعدد علاقوں میں رہائش پذیر ہے۔قبیلہ کی تہزیب و تمدن اور ثقافت پر ایک نظر تہذیب و تمدن اور ثقافت کے اعتبار سے یہ قبیلہ اپنی ایک الگ پہچان رکھتا ہے، اس قبیلہ میں خواتین شلوار قمیض اور سر پر گوجری ٹوپی کے ساتھ منفرد طرح کے زیورات پہنتی ہیں۔ اور مرد شلوار قمیض کے ساتھ گوجری پگڑی پہنتے ہیں۔ گجر مرد اپنی خوبصورت لمبی داڑھی کے لیے بھی مشہور ہیں۔ گوجری زبان اردو رسم الخط میں لکھی جاتی ہے۔ خوبصورت گیت اور بیت اس زبان کی منفرد پہچان ہیں۔

    ریاست جموں وکشمیر میں تخلیق ہونے والا گوجری ادب مقامی لہجوں کا مرکزی روپ ہے گوجری زبان کا اپنا ایک حلقہ ہے ،اپنا ایک ادب ہے، اپنے خالص الفاظ کا ذخیرہ ہے اور اپنی ایک الگ پہچان ہے یہ کہہ دینا کہ گوجری پنجاب یا کسی دوسری زبان کی ذیلی بولی ہے قطعا درست نہیں بلکہ گوجری زبان کی اپنی ذیلی شاخیں ہیں۔ایک نیوز ویب سائٹ القمرآن لائن کے مطابق گوجری زبان میں محاورے، ضرب المثل، پہلیاں، لوک گیت، لوک کہانیاں اور لوک بار غیر ہ وہ سب مواد موجود ہے جس کے بل بوتے پر اس کو زبان کا درجہ دیا جا سکتا ہے گوجری اپنی قدامت اور وسعت کے لحاظ سے برصغیر کی اہم زبان ہے شروع شروع میں گجرات(بھارت)اور دکن میں اس کو اردو کا نام دیا گیا کیونکہ دراصل اس زبان کے خدوخال سے ہی بعد میں اردو نے نشو و نما پائی چوہدری اشرف گوجر ایڈووکیٹ نے اپنی کتاب اردو کی خالق، گوجری زبان میں بڑے خوبصورت طریقے سے یہ بات ثابت کی ہے۔

    گوجری فوک میں نغمے، بلاڈ اور فولک کہانیاں جنہیں داستان کہا جاتا ہے بہت دستیاب ہیں۔ گوجری زبان کے سیکڑوں گانوں میں نوروو، تاجو، نئرا، بیگوما، شوپیا، کونجھڑی اور ماریاں مشہورہیں۔ گوجری زبان میں اب لکھنے کا رواج بھی عام ہوچلا ہے۔ مشہور لکھاریوں میں سین قادر بخش، نون پونچی اور دیگر شامل ہیں۔ دوسرے لکھاریوں میں میاں نظام الدین، خدا بخش، زابائی راجوری، شمس الدین مہجور پونچی، میاں بشیر احمد، جاوید راہی، رفیق انجم، ملکی رام کوشن، سروری کاسانا، نسیم پونچی اورموجودہ دور میں منیر احمد زاہدجیسے لوگوں نے نام کمایا ہے اور اپنی شاعری، نثر اور تنقیدوں کے ذریعے گوجری زبان کی خدمت کی ہے۔

    قبیلہ کی تہذیب و تمدن اور ثقافت آج پورے بھارت میں جہاں لوگ ترقی کی بلندیوں کو چھو رہے ہیں، وہیں گجر بکروال قبیلہ اپنے بنیادی مسائل کے لیے پریشان ہے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  • راولپنڈی ٹیسٹ کا تیسرا دن بھی کم روشنی  سے متاثر

    راولپنڈی ٹیسٹ کا تیسرا دن بھی کم روشنی سے متاثر

    راولپنڈی ٹیسٹ کا تیسرا دن بھی کم روشنی سے متاثر

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق پاکستان اور سری لنکا کے مابین پہلے ٹیسٹ میچ کے تیسرے روز کا کھیل ایک مرتبہ پھر کم روشنی کے باعث روک دیا گیا ہے۔

    راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے جارہے تاریخی میچ میں سری لنکا نے پاکستان کے خلاف 282 رنز بنا لیے ہیں جبکہ اس کے 6 کھلاڑی آؤٹ ہو چکے ہیں۔سری لنکن کپتان دیمتھ کرونارتنے نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کیا تھا۔ٹیسٹ میچ کے دوسرے روز کم روشنی کے باعث کھیل وقت سے پہلے ہی ختم کر دیا گیا تھا۔

    ایمپائرز نے روشنی کم ہونے کی وجہ سے میچ روکا اور پھر روشنی بہتر نہ ہونے پر کھیل ختم کر دیا گیا۔ پاکستان اورسری لنکا کے درميان پہلے ٹيسٹ کا دوسرا روز بارش کی نظرہوگيا صرف20 اوورز کا کھیل ممکن ہوسکا۔اطلاعات کے مطابق راولپنڈی سٹيڈيم ميں جاری ٹيسٹ ميچ کے دوسرے روز سری لنکا نے اپنی پہلی اننگز 202 رنز 5 کھلاڑی آؤٹ پر دوبارہ آغاز کیا لیکن ابھی سری لنکا کا اسکور 222 رنز پر پہنچا ہي تھا کہ بارش کے باعث کھیل روک دیا گیا۔

    امپائرز کی جانب سے دوسرے روز کے کھیل کے خاتمے کا اعلان کیا گیا تو دھنن جیا ڈی سلوا 72 اور دلروان پریرا 2 رنز کے ساتھ وکٹ پر موجود تھے۔ خراب موسم اور بارش کے باعث پہلے روز بھی صرف 68 اوورز کا کھیل ہو سکا تھا۔تاہم دوسرے سیشن میں پاکستانی بالرز نے کم بیک کرتے ہوئے یکے بعد دیگرے 4وکٹیں حاصل کرکے سری لنکا کو مشکل میں ڈال دیا۔

  • بھارتی جنون کے آگے کون بند باندھے گا؟ …از…سلمان جاوید

    بھارتی جنون کے آگے کون بند باندھے گا؟ …از…سلمان جاوید

    بھارتی جنون کے آگے کون بند باندھے گا؟

    ایک معاملہ ختم نہیں ہوتا اور دوسرا شروع ہوجاتا ہے۔

    نہ پالیسی سازوں کو سمجھ آرہی ہے کہ کس سمت میں چلیں۔ نہ ان لوگوں کو جو ان پالیسی سازوں کے ساتھ ایک پیج پر ہیں۔ میڈیا ویسے ہی بریکنگ نیوز syndrome سے باہر نہیں نکلتا اور عوام کو تو ہر وقت کوئی نہ کوئی واقعہ اور خبر چاہئیے اپنی آنکھوں اور کانوں کا "چسکا” پورا کرنے کے لئیے۔

    بھارت نے Citizen amendment Bill کو پاس کرنے کے لئیے آخری سٹیج کی تیاری بھی کر لی ہے۔ امیت شاہ نے اپنے پارلیمانی خطاب میں کھل کر اس بات کا اعادہ اور اظہار کیا کہ ان کا مسلمانوں اور بالخصوص "برصغیر” کے مسلمانوں کے بارے میں کیا خیالات ہیں۔ اور جی جناب، برصغیر میں پاک و ہند دونوں ہی آتے ہیں۔ کشمیر کے کرفیو کے بعد اب آسام کی باری آئی ہے۔ وہاں پر پیراملٹری فورسز کو بھیج دیا گیا ہے۔

    آخری خبریں آنے تک وہاں عوام الناس اور بالخصوص مسلمانوں پر کچھ حربے انھوں نے آزمایا شروع کر دئیے ہیں۔ انھوں نے اس بات کو نہیں دیکھا کہ دنیا ان کے بارے میں کیا رائے بنا رہی ہے۔ انھوں نے اس بات کو بھی خاطر میں نہیں لایا کہ ہندو راشڑیہ کا خواب پورا کرنے کے چکر میں شاید ان کی معیشت مسلسل نیچے جارہی ہے۔ انھوں نے چین و عرب کی پرواہ نہیں کی۔

    یا شاید ان کو پتہ ہے، کہ دنیا میں انسانوں کی منڈی کی اہمیت تو ہے، انسانوں کی نہیں۔

    بھارت کو مسلسل اگر کوئی ملک اس مسئلے پر ایکسپوز کر سکتا تھا تو وہ پاکستان تھا۔ میں "تھا” اس لئیے استعمال کر رہا ہوں کیوں کہ جو کچھ پاکستان میں اس وقت ہورہا ہے وہ کسی طور پر بھی بحثیت ملک اس قابل نہیں رہا کہ بھارت کو کسی بھی بات پر کھل کر چیلنج کر سکے۔ جب آپ قلم اور تلوار دونوں ہی نیچے رکھ دیں اور ملکوں کے معاملے صرف زبانی جمع خرچ سے چلانے کی کوشش کریں تو وہی ہوتا ہے جو اس وقت ہمارے ساتھ ہورہا ہے۔ شاید کسی عالی دماغ کو یہ بات پڑھائی گئی ہے کہ defence is the best strategy۔ اور نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔

    پاکستان کو پہلے معاشی طور پر دیوالیہ پن کے قریب پہنچایا گیا۔ اب آپ اس میں پچھلی حکومتوں کو مورد الزام ٹھرائیں یا اس حکومت کی ناقص حکمت عملی کو، ہر دو صورت میں پاکستان کی طاقت کو زک پہنچائی گئی۔ پھر معاشی حالات کو درست کرنے کے لئیے پاکستان پر شرائط لاگو کی گئیں۔ چاہے وہ IMF ہو یا FATF۔ دونوں ہی پاکستان کے بازو کو مڑوڑنے کے بہانے ہیں۔ پاکستان اس بات پر ہی اکتفا کر کے بھیٹا ہوا ہے کہ کشمیر پر صرف تقریر ہی کرسکے اور کشمیر کے حل کے لئیے کچھ بھی عملی میدان میں کرنے والوں کو دہشت گرد قرار دلوا کر کشمیر کے معاملے کو ہمیشہ کے لئیے پیچھے چھوڑ دے۔

    اس وقت عملی طور پر peace doctrine کا نتیجہ یہ ہے کہ پاکستان اپنے ان لوگوں کو ضائع کر رہا ہے جو اس کے لئیے دفاع کی پہلی لکیر بنتے رہے ہیں۔جو کسمیر کی تحریک کو کسی نہ کسی صورت میں گرم رکھتے تھے۔ ہم ایک کرتار پور کھولا جس کا شاید ٹورزم سے زیادہ اور کوئی فائدہ ہمیں نہ ملے۔ اور اس پر سب سے بڑھ کر یہ بات کہ ہم اس بات پر خوشیوں کے شادیاں بجا رہے تھے کہ بین الااقوامی میڈیا نے کشمیر کو بہت اٹھایا ہے۔ سو سوال یہ ہے کہ اس کے بعد کیا ہوا؟ ہم کہاں کھڑے ہیں؟ خود پاکستان میں کشمیر اور مسلمانان ہند کے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے اس پر وزیر اعظم صاحب کے ٹویٹس کے علاوہ کیا حکمت عملی نظر آرہی ہے؟

    مگر اس سب کے دوران پاکستان کے اندر جو کچھ پچھلے دو ماہ میں ہوا اس ہر ایک طائرانہ نظر ڈالیں۔ مولانا فضل الرحمان کا اسلام آباد آنا، فوج کے سربراہ کے بارے میں سیاست کا ہونا، لاہور کے دنگل اور اس سے پہلے سٹوڈنٹ مارچ کے نام پر انارکسٹس کا اکھٹا ہونا، اسلامی یونیورسٹی میں انھی انارکسٹس کا دوبارہ سے تعلیمی اداروں میں اسلحے کا استعمال کرنا، پی ٹی ایم کا مسلسل پاکستان کو عالمی اداروں کے سامنے گندا کرنے کی کوشش کرنا، محسن داوڑ کا پاکستان کو الجزیرہ میں لکھے کالم میں مقبوضہ کہنا اور الجزیرہ کے ہی سب سے بڑے ڈرامہ باز اینکر مہدی حسن کا شیری مزاری کو بے عزت کر کے بلوچستان اور کشمیر کو ایک ہی پلڑے میں رکھ کر کشمیر کاز کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرنا۔

    یہ سب کیا محض چند واقعات ہیں؟ یا یہ انارکی کا ایک بھیانک چہرہ ہے؟

    یاد رکھئے انارکی کے اندر شاید واقعات کا ایک دوسرے سے ربط نظر نہ آئے مگر انارکی بات خود کسی بھی معاشرے میں آپ کے دشمنوں کی ایک حکمت عملی کے نتیجے میں وقوع پذیر ہوتی ہے۔

    پاکستان کو ضرورت ہے ان آوازوں کی جو اس کے معاشرے میں دوبارہ سے اصلاح اور امن کا کام کر سکیں۔ ضرورت ہے ان لوگوں کی جو اپنی پیٹھ ننگی کر کے ہر وار سہہ سکیں اور پاکستان کو بیرونی قوتوں سے جیتنے نہ دیں۔ ضرورت ہے ان لوگوں کی جو اس کا کیس عالمی عدالتوں اور فورمز پر ایک آزاد ملک کی حیثیت سے لڑ سکیں۔

    یہ جنگ جس کی آگ بھارت مسلسل لگا رہا ہے، اس سے صرف سوشل میڈیا اور میڈیا کے ذریعے نہیں لڑا جاسکتا۔ محاذ بہت ہیں۔ دماغ بھی سب کے چاہئیں اور جسم بھی۔ اس پر جتنا جلدی ہم سوچ کر آگے بڑھیں گے اتنا ہی ہم اپنے آپ کو افغانستان،عراق اور لیبیا بننے سے روک پائیں گے۔

    بھارتی جنون کے آگے کون بند باندھے گا؟

    از قلم سلمان جاوید