Baaghi TV

Category: بلاگ

  • جنوبی پنجاب میں گیس کی فراہمی ، جنوبی پنجاب محاذ کے چیئرمین کے ہاتھوں‌افتتاح ، علاقے کی خوش قسمتی –از–محمد علی انجم ڈوگر

    جنوبی پنجاب میں گیس کی فراہمی ، جنوبی پنجاب محاذ کے چیئرمین کے ہاتھوں‌افتتاح ، علاقے کی خوش قسمتی –از–محمد علی انجم ڈوگر

    جنوبی پنجاب محاذ کے چیرمین سابق وزیراعظم سردار میر بلغ شیر مزاری نے سوئی گیس فراہمی کی افتتاحی تختی کی نقاب کشی کی تو میرا زہین ماضی کے جھرونکھوں میں کھو گیا جب روجھان کی بڑی سیاسی جماعتوں کے درمیان مزاری اتحاد تھا اور اس اتحاد کے سربراہ سابق وزیراعظم سردار میر بلغ شیر مزاری تھے ان کے پوتے سردار میردوست محمد مزاری ایم این اے منتخب ہوئے تو انکا ایک ہی ماٹو تھا

    روجھان کو سوئی گیس کی فراہمی اس سلسلہ میں انھوں نے اس وقت کے صدر آصف زرداری اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سے ہر ملاقات میں اپنا مطالبہ پیش کرتے رہے جس کا اقرار سابق ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی مرحوم سردار شوکت حسین مزاری کی وفات پر اسوقت کے وزیراعظم یوسف رضا گہلانی نے سابق وزیراعظم سردار میر بلغ شیر مزاری اور دیگر لواحقین سے تعزیت کے موقع پر اظہار کیا جب راجن پور اور روجھان کے صحافیوں نے (جن میں مجھے اعزاز حاصل ہے کہ میں بھی موقع پر موجود تھا )

    اسوقت کے وزیراعظم یوسف رضا گہلانی سے کہا کہ اگر آپ آگئے ہیں تو آج سوئی گیس کی فراہمی کا اعلان کرکے جائے تو اسوقت کے وزیراعظم یوسف رضا گہلانی کے تاریخی الفاظ آج بھی مجھے یاد ہیں انھوں نے کہا کہ کہاں ہیں ایم این اے دوست محمد مزاری سوئی گیس کی فائل لائے کتنا کا پراجیکٹ ہے دوست محمد مزاری اس وقت اپنے دادا سابق وزیراعظم سردار میر بلغ شیر مزاری کے احترام میں ان کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے کیونکہ تعزیتی ماحول تھا اور تعزیت سابق وزیراعظم یوسف رضا گہلانی نے سابق وزیراعظم سردار میر بلغ شیر مزاری سے کرنی تھی

    اس لیے سردار دوست محمد مزاری اپنے بزرگ داد سردار میر بلغ شیر مزاری کے ہیچھے بیٹھے تھے تاہم یوسف رضا گہلانی کے کہنے پر سردار دوست محمد مزاری آگئے آئے اور روجھان راجن پور کو سوئی گیس کی فراہمی کے حوالے سے اسوقت کے وزیراعظم یوسف رضا گہلانی کو بریفنگ دی جس پر یوسف رضا گہلانی نے سوئی گیس کی فراہمی کے لیے اس وقت کے ایم این اے دوست محمد مزاری کی دلچسپی اور بار بار مطالبہ کا اظہار کرتے ہوئے روجھان راجن پور سوئی گیس کی فراہمی کے لیے ابتدائی گرانٹ چوبیس کروڑ روپے کا اعلان کیا

    فوری جاری کرنے کی ہدایت بھی موقع پر کی اس ساری سٹرگل میں میں اس شخصیت کا زکر ضرور کرونگا جس نے اس تعزیتی ماحول میں روجھان کی عوام کو نہیں بھولے تھے جو صحافیوں کے عمدہ دوست تھے اور آج بھی ہیں جن کے باعث اتنے بڑے پراجیکٹ کی ابتدائی گرانٹ کے لیے ماحول بنا وہ تھے اس تعزیتی پروگرام کے آرگنائزر سابق ناظم سردار اطہر علی خان مزاری جنھنوں نے وزیراعظم یوسف رضا گہلانی اور سیکورٹی اداروں سے زبردستی یہ کہہ کر صحافیوں کے لیے ٹائم لیا کہ یہ ہمارے اپنے صحافی ہیں انکو ٹائم ضرور دیں جس پر صحافیوں کو الگ سے ٹائم دیا گیا جسمیں اسوقت وزیراعظم یوسف رضا گہلانی ،

    سابق وزیراعظم سردار میر بلغ شیر مزاری ،سردار صفدر حسین مزاری ،سردار دوست میر محمد مزاری اور سابق ناظم سردار اطہر علی خان مزاری موقع پر موجود تھے اسوقت کے وزیراعظم یوسف رضا گہلانی کے اعلان کے بعد روجھان کو سوئی گیس کی فراہمی کے لیے پائپ روجھان کے علاقہ ڈیرہ موڑ پہنچے تو اسوقت کے ایم این اے دوست محمد مزاری اسلام آباد میں تھے انکو اطلاع دی گئ تو سوئی گیس فراہمی کو منصوبے کو بلاتاخیر شروع کرانے کے لیے باہمی طور پر فیصلہ کیا گیا کہ سوئی گیس پائپ لائن بچھانے کا سنگ بنیاد وزیراعلی انسپیکشن ٹیم کے سابق سربراہ سردار طارق محمود مزاری کرینگے لہذا ڈیرہ موڑ کے مقام پر سابق وزیراعلی انسپیکشن ٹیم کے سربراہ سردار طارق محمود مزاری نے سابق ناظم سردار اطہر علی مزاری کے ہمراہ سوئی گیس کی فراہمی کے میگا پراجیکٹ منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا

    اس موقع پر میں اور میرا دوست صحافی محمد علی عامر گورچانی اور ندیم حشمت خان مزاری موقع پر موجود تھے سابق سربراہ وزیراعلی انسپیکشن ٹیم سردار طارق محمود مزاری کے پائپ لائن بچھانے کے سنگ بنیاد کے بعد پائپ لائن بچھانے کا کام تیزی سے شروع ہوا جو کہ چوک روجھان تک پائپ لائن بچھائی گئ جبکہ دوسرا مرحلہ چوک روجھان سے روجھان شھر تک پائپ لائن بچھانے کا کام شروع ہوا اور سینکڑوں کی تعداد میں پائپ چوک روجھان پہنچے تو اسوقت کے ایم این اے دوست محمد مزاری سردار سہیل ارسلان کے ساتھ موقع پر موجود تھے اور اپنی نگرانی میں روجھان چوک سے روجھان شھر تک پائپ لائن بچھانے کاکام شروع کرایا روجھان شھر کی طرف پائپ لائن بچھائی جارہی تھی کہ پیلپز پارٹی کی حکومت کا میعاد ختم ہوگیا اس کے ساتھ ہی اس وقت کے ایم این اے دوست محمد مزاری کی ایم این اے شپ بھی ختم ہوگئ

    دوہزار تیرا کے الیکشن میں دوست محمد مزاری بدقسمتی سے دوبارہ اقتدار میں نہ آسکے اور سوئی گیس جیسا عظیم عوامی منصوبے کٹائی میں پڑ گیا بدقسمتی سے جو شخص روجھان سے ایم این اے کا ووٹ لے کر گئے روجھان کی عوام انکی شکل دیکھنے کو ترس گئے اس وقت کے ایم ہی اے نے بھاگ دوڑ میں بہت نام کمایا کئ صوبائی منصوبے بھی شروع کیے مگر وفاق میں روجھان کی نمائندگی نہ ہونے کے باعث سوئی گیس فراہمی پر کوئی پیش رفت نہ ہوسکی ایک افتاحی تقریب ہوئی شھر کی کھدائی بھی کی گئ

    مگر باقاعدہ طور پر سوئی گیس کی فراہمی پر عملی کام نہ ہوسکا جس سے منصوبہ تاخیر کا شکار ہوگیا دوہزار اٹھارہ میں الیکشن کیمپین چلی تو الیکشن کیمپین کے دوران ایم این اے کے امیدوار سردار ریاض محمود مزاری نے روجھان کی عوام سے سوئی گیس فراہمی کا وعدہ کیا دوہزار کا اٹھارہ کا الیکشن ہوا تو روجھان سے ایم این اے سردار ریاض محمود مزاری اور سردار دوست محمد مزاری ایم پی اے بعد ازں ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے اقتدار سنبھالتے ہی ایم این اے سردار ریاض محمود مزاری اور ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی سردار میردوست محمد مزاری آرام سے بیٹھنے کی بجائے دبنگ انداز میں انٹری ماری اور روجھان کے مسائل حل کرنے میں لگ گئے

    یہ آئندہ الیکشن کی تیاری ہے یا عوام دوست پالیسی مگر اجمتاعی مسائل پر ایم این اے سردار ریاض محمود مزاری ،ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی سردار میر دوست محمد مزاری ،سردار دوست علی مزاری ،سابق ناظم سردار اطہر علی مزاری اور انکی ٹیم شباب خان مزاری ،بابر خان ،عبدالجید مزاری اور دیگر افراد ایک ٹیم کی صورت میں کام کررہے ہیں الیکشن کے بعد عوامی مسائل حل کرنے کے لیے ایم این اے سردار ریاض محمود مزاری ،ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی سردار میردوست محمد مزاری ،سردار دوست علی مزاری ،سابق ناظم سردار اطہر علی مزاری ایک ٹیم کی صورت دبنگ اور عوامی لیڈر کے طور پر سامنے آئے ہیں

    انکی دن رات کی کاوش سے 70 سال بعد روجھان کو سوئی گیس کی فراہمی کا خواب پورا ہوا ہے آج اللہ کے فضل وکرم سے روجھان کے گھر گھر میں سوئی گیس کے زرایعے چولہے جلنے شروع ہوگئے ہیں ایم این اے سردار ریاض محمود مزاری ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی سردار میردوست محمد مزاری اور سابق ناظم سردار اطہر علی مزاری کی کاوش سے روجھان کی عوام کی لکڑیوں کی ناصرف اذیت ناک زندگی سے جان چھوٹ گئ بلکہ چولہے کی آگ کے دھواں سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے چھٹکارہ مل گیا ہے ایم این اے سردار ریاض محمود مزاری کی کاوش ہے کہ جن افراد کے سوئی گیس کے کنکشن رہے گئے انکو جلد از جلد کنکنش لگ جائے تاکہ روجھان کو ملنے والی سہولت سے ہر فرد مستعفید ہوسکے

    ایم این اے سردار ریاض محمود مزاری اور انکی ٹیم نے سوئی گیس کی فراہمی کا یہ سفر ابھی روکا نہیں نوجوان عوام دوست لیڈر سردار دوست علی مزاری نے سابق سردار اطہر علی خان مزاری اور اتحادی حمزہ کمال اور اظہر خان گوپانگ کے ہمراہ مٹھن کوٹ میں سوئی گیس کی فراہمی کا سروے کا افتتاح کردیا ہے جبکہ روجھان کی قریبی بستیوں کو سوئی گیس کی فراہمی کے لیے ایم این اے سردار ریاض محمود مزاری کی زاتی گرانٹ سے تین کروڑ روپے سوئی نادرن گیس کو مل چکے ہیں تاکہ روجھان کی قریبی بستیوں میں پائپ لائن بچھا کر سوئی گیس فراہم کردی جائے اتنی عظیم سہولت دینے پر روجھان کی عوام عوامی دبنگ لیڈر ایم این اے سردار ریاض محمود مزاری ،عوام دوست لیڈر ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی سردار میردوست محمد مزاری ،سردار دوست علی مزاری سابق ناظم سردار اطہر علی مزاری اور انکی ٹیم کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور خراج تحسین پیش کرتے ہیں خدا ایسے لیڈروں کو ہر مشکل سے دور رکھے اور خوشحال زندگی انکے مقدر رہے اللہ تعالی کا فرمان ہے جو لوگ دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرتے ہیں میں انکی مشکلیں دور کردیتا ہوں

    جنوبی پنجاب میں گیس کی فراہمی ، جنوبی پنجاب محاذ کے چیئرمین کے ہاتھوں‌افتتاح ، علاقے کی خوش قسمتی –از–محمد علی انجم ڈوگر

  • کرونا وائرس، پاکستان سمیت دنیا بھر کی موجودہ صورتحال، اس سے بچنے کی احتیاطیں اور مسنون دعائیں

    کرونا وائرس، پاکستان سمیت دنیا بھر کی موجودہ صورتحال، اس سے بچنے کی احتیاطیں اور مسنون دعائیں

    کرونا وائرس کا حملہ اس وقت بہت شدید ہوچکا ہے اور دنیا کے بیشتر ممالک میں اس کے اب تک 1,34,113 کنفرم کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں. جن میں سے 4968 لوگوں کی اموات ہوچکی ہیں جبکہ 67,003 لوگ اس مرض سے صحتیاب بھی ہوچکے ہیں.
    چین سے شروع ہونے والے اس وائرس کو شروع میں اتنا سنجیدہ نہیں لیا گیا جس کی وجہ سے یہ وائرس انسانوں سے دوسرے انسانوں میں منتقل ہوتا ہوتا اب مکمل گلوب پر پھیل چکا ہے. کینیڈا کے جسٹن ٹرڈو کی بیوی میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوچکی ہے. اسی طرح امریکی صدر ٹرمپ سے ملنے والے برازیلین شہری میں بھی کرونا وائرس کے ٹیسٹ کی رپورٹ مثبت آچکی ہے جبکہ امریکی صدر ٹرمپ ٹیسٹ سے تاحال انکاری ہیں.
    کئی ایک ممالک میں اعلیٰ سطحی لوگ اس کرونا وائرس کا شکار ہوچکے ہیں جس کی وجہ سے موجودہ صورتحال یہ ہے کہ دنیا کے سبھی ممالک لاک ڈاؤن کا فیصلہ کر رہے ہیں. اٹلی میں بڑی تعداد میں کرونا وائرس کے ہاتھوں اموات کے بعد اٹلی کو مکمل طور پر بند کردیا گیا ہے. سعودیہ نے گزشتہ شام بہتر گھنٹوں کا الٹی میٹم دیا تھا جس میں سے کئی گھنٹے گزر چکے ہیں اس مدت کے دوران عارضی آمد و رفت کو مکمل کرکے سعودیہ کو لاک ڈاؤن کردیا جائے گا.
    بھارت میں ایک بندے کی کرونا وائرس کی وجہ سے موت اور کئی دیگر کنفرم کیسز کے بعد بھارت نے ایران سے اپنے شہریوں کی واپسی کا پروگرام شروع کردیا ہے دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کجریوال نے دہلی میں دفع 144نافذ کردی ہے. امریکہ میں بھی کئی کیسز کرونا وائرس کے رپورٹ ہوئے ہیں جس کی وجہ سے امریکہ نے یورپ کے ساتھ فضائی رابطے منقطع کردیے ہیں امریکہ اور میکسیکو کی سرحد پر بڑی تعداد میں اس وقت خیمہ زن لوگ موجود ہیں.


    دنیا بھر میں کھیلوں کے بڑے مقابلے منسوخ کردیئے گئے ہیں، دہلی میں ہونے والے انڈین پریمیئر لیگ کے کرکٹ میچز کو بھی منسوخ کردیا ہے. پاکستان سپر لیگ کے بقیہ میچز کے حوالے سے بھی مشاورت جاری ہے جبکہ سندھ گورنمنٹ نے یہ اعلان کیا ہے کہ کراچی میں ہونے والے میچز میں شائقین نہیں آسکیں گے صرف ٹیمیں اور ان کے آفیشلز ہی شرکت کرسکیں گے. اسی طرح سندھ کے تعلیمی اداروں کو بھی تیس مئی تک بند کردیا گیا ہے اور اس دوران ہونے والے امتحانات کو ملتوی کردیا گیا ہے.
    بدقسمتی سے شروع میں پاکستان نے کرونا وائرس کو سنجیدہ نہیں لیا حالانکہ پاکستان کے اطراف و کنار میں کرونا وائرس گھوم رہا ہے. چین سے شروع ہوا جبکہ ایران میں بڑی تعداد میں اس سے متاثرہ لوگ موجود ہیں اور انڈیا میں بھی کئی کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں. اگر شروع میں ہی اس پر سنجیدگی دکھائی جاتی تو پاکستان اس سے بچ سکتا تھا. پاکستان میں اب تک کرونا کے 21 کنفرم کیسز ہیں جبکہ 2 لوگ اس مرض سے پاکستان میں صحتیاب ہوچکے ہیں اور بحمدللہ پاکستان میں کرونا سے تاحال کوئی موت واقع نہیں ہوئی ہے.
    لیکن ابھی بھی کرونا وائرس کو پاکستان میں اس طرح سے سنجیدہ نہیں لیا جارہا جس طرح سے دنیا بھر میں اس کو لے کر ایمرجنسی نافذ کی جا رہی ہے.پاکستان کی سرحدیں ایران کے ساتھ کچھ عرصے کے لیے بند ہوئی تھیں مگر پھر سے کھول دی گئی ہیں اور لمبی سرحدی پٹی پر اسکیننگ کے انتظامات بھی موجود نہیں جبکہ زائرین اور دیگر افراد کی آمد و رفت وسیع پیمانے پر جاری و ساری ہے جس کی وجہ سے پاکستان کے لیے خطرات موجود ہیں.
    پاکستان میں تعلیمی ادارے بھی کھلے ہوئے ہیں اور چھوٹے بڑے اجتماعات بھی منعقد ہورہے ہیں اگرچہ رائیونڈ میں ہونے والا تبلیغی اجتماع موسم کی خرابی اور پنڈال میں پانی بھر جانے کے باعث دعا کروا کر ختم کردیا گیا ہے لیکن چھوٹے بڑے اجتماعات اور سیاسی جلسے جاری ہیں. جن پر فالفور پابندی عائد ہونی چاہیے. تعلیمی اداروں اور ملک میں جاری کھیلوں کے مقابلوں پر بھی فالفور کوئی ٹھوس منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اجتماعی صحت ے بڑھ کر کچھ بھی نہیں ہے.
    اسی طرح عوام الناس کو بھی چاہیے کہ انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں اور دی گئی ہدایات پر عمل درآمد کریں. پبلک مقامات پر میل جول اور چیزوں کے استعمال سے گریز کریں. ماسکس ، ٹشوپیپرز اور گلوز کا استعمال کریں. عوامی اجتماعات میں شرکت سے بھی گریز کریں اور کسی بھی ناگہانی صورتحال میں اسپتال اور ڈاکٹرز سے رجوع کریں.
    یہ آفتیں اور بیماریاں انسانی اعمال کا نتیجہ ہوتی ہیں جو اللہ کی طرف سے مسلط کی جاتی ہیں تو ان آفتوں اور بیماریوں پر بجائے ٹھٹھہ و مذاق کرنے اور لطائف بنانے کے اللہ سے توبہ کرنی چاہیے یقیناً وہی شفا دینے والا اور بیماریوں اور آفتوں کو کنٹرول کرنے والا ہے. صحیح بخاری کتاب الطب میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ایسی کوئی بیماری نازل نہیں فرمائی جس کا علاج یا دوا نہ نازل فرمائی ہو یقیناً اس کرونا وائرس کی شفا بھی کسی نہ کسی چیز میں موجود ہوگی. اس کا علاج دریافت ہونے تک ہمیں چاہیے کہ ہم حتیٰ الامکان احتیاطیں اختیار کریں اور یہ دعائیں کثرت سے پڑھتے رہیں.
    أَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اللہ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ
    "بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيْمُ
    اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي بَدَنِي، اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي سَمْعِي، اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي بَصَرِي، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكُفْرِ وَالْفَقْرِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ
    یہ آفات انسان کی آزمائش بھی ہوتی ہیں تو اپنا ایمان اور توکل اللہ پر مضبوط کرنا چاہیے اور اس کرونا وائرس سے بچنے کی جو احتیاطیں دنیا بھر میں بتائی جا رہی ہیں ان سے اسلامی شعار طہارت، وضو، غسل وغیرہ کی حقانیت واضح ہوتی ہے.

  • بنگلادیش کرکٹ ٹیم دورہ پاکستان کرے گی  یا نہیں، اعلان ہو گیا

    بنگلادیش کرکٹ ٹیم دورہ پاکستان کرے گی یا نہیں، اعلان ہو گیا

    بنگلادیش کرکٹ ٹیم کا دورہ پاکستان ہوگا یا نہیں، اعلان ہو گیا

    باغی ٹی وی : بنگلادیش میڈیا کے مطابق بنگلا دیش کرکٹ بورڈ نے کورونا وائرس کے پیش نظر ٹیم کو پاکستان نہ بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے باعث تیسرے مرحلے کے تمام میچز منسوخ ہوگئے ہیں۔

    اس کے بعد 2 تا 4 اپریل کو پھر ٹیم پریکٹس سیشن تھا اور 5 تا 9 اپریل آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں شامل دوسرا میچ نیشنل اسٹیڈیم میں کھیلا جانا تھا

    کرونا وائرس کے پیش نظر سپر لیگ کیلئے آنے والے غیرملکی کھلاڑیوں کو فری ہینڈ ملنے کے بعد انہوں نے واپسی کیلئے سیٹیں کنفرم کروا لیں، پشاور زلمی مینجمنٹ نے پی ایس ایل چھوڑنے کا فیصلہ غیر ملکی کھلاڑیوں پرچھوڑ دیا،پشاور زلمی منیجمنٹ کا کہنا ہے کہ غیر ملکی کھلاڑی اپنے وطن واپس جانا چاہیں تو جا سکتے ہیں،انگلش کھلاڑی ٹام بینٹن،لیام ڈاسن اور لیوس گریگری اور لیام لیونگسٹن پشاور زلمی کا حصہ ہیں.
    کرونا وائرس، پی ایس ایل،غیر ملکی کھلاڑیوں نے واپس جانے کیلئے ٹکٹ بک کروا لیں
    واضح‌ رہے کہ حکومت نے کورونا وائرس کے باعث پاکستان سپر لیگ کے کراچی میں ہونے والے بقیہ تین میچز اور ایک پلے آف بھی بغیر شائقین کرانے کا اعلان کیا ہے۔

    کراچی سے دو فلائٹس میں غیرملکی کھلاڑیوں کی سیٹ بک کی گئی ہیں،ای کے 603اور ای کے609سے غیرملکی کھلاڑی پاکستان سے اپنے ملک واپس جائیں گے،واپس جانے والوں میں لیونگ اسٹن ، لیام ڈاؤسن ، بریتھ وائٹ ، الیکس ہیلز شامل ہیں.

    کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے کسی کھلاڑی نے گھر واپسی کی خواہش ظاہر نہیں کی،فی الحال گلیڈی ایٹرز کے کیمپ میں ساری صورتحال نارمل ہے، جبکہ ملتان سلطان کے وینس ریلی روسو بھی وطن واپس چلے جائیں گے

  • عسکری تحریک میں کشمیری خواتین کا لازوال کردار……. تحریر: یاسمین میر

    عسکری تحریک میں کشمیری خواتین کا لازوال کردار……. تحریر: یاسمین میر

    بھارت کو کشمیر میں خونی پنجے گاڑے ستر برس بیت گئے مگر سلام ہو ان بہادر ونڈر کشمیری مردوزن پر کہ نہتے ہو کر بھی دشمن کے دانت کٹھے کر رہے ہیں۔

    1989 سے آج تک لاکھوں جانوں کا نذرانہ دینے کے باوجود وطن کی آزادی کے لیے کشمیر ی اب بھی کٹ مرنے کو تیار ہیں۔ کشمیر کی مائیں اپنے بیٹوں میںبے جگری سے جینے اور شوق شہادت کا یہ جذبہ نسل درنسل منتقل کرتی چلی آرہی ہیں۔

    تحریک کے روز اول سے ہی کشمیری خواتین اپنے بیٹوں ‘ بھائیوں اور شوہروں کو وطن پر قربان کرنے کیلئے ہر لمحہ تیارر ہتی ہیں ۔ عملی طورپر دیکھیں تو عسکری تحریک میں کشمیری خواتین کا کردار نہیں ملتا لیکن کشمیر مومنٹ کے تیز ہونے کے بعد 1989 میں کشمیری خواتین نے تنظیم سازی کرنے لگیں تو ساتھ ہی حریت تحریکوں کے خواتین ونگ بھی بننا شروع ہو گئے۔

    اس وقت سے آسیہ اندرابی ’ دختران ملت،زمردہ حبیب تحریک خواتین، یاسمین راجہ مسلم خواتین مرکز، فریدہ بہن جی ماس مومنٹ جموں وکشمیر اور پروینہ آہنگر اے پی ڈی چلا رہی ہیں۔

    ان خواتین کے تنظیموں میں سینکڑوں خواتین ممبرز بھی موجود ہیں جو نہ صرف عام کشمیری کو آزادی کی اہمیت سے آگاہ کرتی ہیں۔ بلکہ 90 کے دہائی میں جب درندہ صفت بھارتی فوجیوں نے خواتین کی عزتیں پامال کرنا شروع کیں تو آسیہ اندرابی نے آگاہی مہم کے دوران خواتین کو اپنے پاس چاقو رکھنے اور دفاع کے طورپر اس کو استعمال کرنے کے طریقے بھی سیکھائے ۔

    یہی نہیں تحریک کے آغاز سے اب تک کشمیری خواتین مجاہدین کو پناہ دینے ان تک کھانا پہنچانے اور انہیں سیکورٹی فورسز سے بچانے میں بھی پیش پیش رہی ہیں۔ برہان وانی کی شہادت کے بعد تو ہم مقبوضہ کشمیر میں خواتین کے بڑے احتجاجی مظاہرے دیکھ رہے ہیں ۔

    لیکن پہلا آرگنائز احتجاجی مظاہرہ 1990 میں دختران ملت کی کال پر ہوا اور اس وقت خواتین نے مسجد میں جاکر نعرہ لگائے۔ اب وادی میں وہ دور لوٹ آیا ہے جب کشمیری خواتین کا اپنے رشتہ داروں کی تلاش اور کیسیز کی پیروی کے لیے دہلی کی عدالتوں اور تہاڑ جیل کے چکر لگانا معمول بن چکا ہے ۔

    پاکستانی قوم بھی کشمیری بھائیوں اور بہنوں سے بے خبر نہیں، تحریک آزادی کے ستر سالوں کے اعصاب شکن مراحل سے گزر کرگزشتہ دو سو دنوں میں آزادی کی جد جہد میں عورتوں کی بھرپور شمولیت آنے والی صبح نو کے لیے امید کا پیغام دے رہی ہے۔ جہدوجد آزادی میں خواتین کے سرگرم کردار اور زمینی حقائق کے متعلق دختران ملت کی چیئرپرسن آسیہ اندرابی کہتی ہیں کہ میں کئی بار جیل گئی انڈر گر اؤنڈ رہی حتی کہ حال ہی میں برہان وانی کی شہادت کے بعد تین مہینے کے لیے جیل میں رکھا گیا اور اس وقت بھی ہاؤس اریسٹ ہوں ۔

    مگر آخری دم تک کشمیر کی آزادی کے لیے جدوجہد میں خواتین کے سرگرم کردار اور زمینی حقائق کے متعلق دختران ملت کی چیئرپرسن آسیہ اندرابی کہتی ہیں کہ میں کئی بار جیل گئی انڈر گر اؤنڈ رہی حتی کہ حال ہی میں برہان وانی کی شہادت کے بعد تین مہینے کے لیے جیل میں رکھا گیا اور اس وقت بھی ہاؤس اریسٹ ہوں ۔ مگر آخری دم تک کشمیر کی آزادی کے لیے جدوجہد جاری رکھوں گی۔

    چوبیس سال سے میرے شوہر جیل میں ہیں۔ لاکھوں کشمیری خواتین ایسی ہیں جن کے شوہر کئی سالوں سے لاپتہ ہیں اور تاریخ میں پہلی بار کشمیری خواتین کے لیے (آدھی بیوہ )کی اصطلاح استعمال ہوئی ہے۔ مگر یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ بھارت کچھ بھی کر لے ہمارے اٹل ایمان کو شکست نہیں دے سکتا۔

    چیئرپرسن جموں کشمیر ماس موومنٹ فریدبہن جی کہتی ہیں کہ میرے بھائی بلال پر پاکستان سے وابستگی کا الزام لگا کر گرفتار کیا گیا بعدازاں دہلی دھماکوں کے بعد بھارتی فوجیوں نے نہ صرف مجھے گرفتار کیا بلکہ پانچ سال کے لیے تہاڑ جیل بھیج دیا اور 2001ء میں جیل سے رہا ہوئی تو بھارت کی جیلوں میں قید کشمیری قیدیوں کی قانونی مددکا بیڑہ اٹھایا۔ زمردہ حبیب تحریک خواتین کشمیر کی چیئرپرسن ہیں ۔

    وہ 1992ء سے آزادی کی تحریک میں متحرک ہیں اور اسی پاداش میں 5 سال کے لیے تہاڑ جیل بھی کاٹ چکی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ مقبوضہ کشمیر کی خواتین کے قربانیاں گواہ ہیں کہ کشمیری عورت کو ڈرایا یا دھمکایا نہیں جاسکتا۔ مسلم خواتین مرکز کی چیئرپرسن یاسمین راجہ جو غلام نبی بٹ کی بیٹی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ بچپن سے ہی پاکستان کی نغمے گاتی تھی۔

    ایک مرتبہ پاکستانی قومی ترانہ پڑھنے پر مجھے سکول سے نکال دیا گیا۔ مگر میری پاکستان کے ساتھ لگن کم نہیں ہوئی۔ اس دوران کئی بار جیل گئی ہوں اور رہا ہوئی ہوں۔ تحریک آزادی کشمیر کی ان چند نمایاں خواتین کے علاوہ دیگرکشمیری خواتین کا بھی آزادی کی جدوجہد میں کلیدی کردار رہا ہے۔

    اسلام اور آزادی کی اس شمع کو جلا رکھنے کے لیے برہان وانی کی شہادت کے بعد سے چلنے والی تیز ترین عوامی جدوجہدکو دبانے کے لیے بھارت کے ظلم وستم سے جہاں سو کشمیری شہید ہو ئے ان میںخواتین بھی شامل ہیں

    گزشتہ چھ ماہ میں یاسمین رحمان‘ سعیدہ بیگم ‘ نیلوفر‘ یاں اور فوزیہ صدیق سمیت کئی خواتین نے جام شہادت نوش کیا۔ وہیں خواتین کے پرامن ریلیوں ‘ جلسوں ‘ اور حتی کہ گھروں میں گرنے والے آنسووں گیس کے گولوں ‘ پیلٹ گن کے چھروں سے انشاء مقبول ‘ عرفی جان‘ شیروزہ میر‘ افراء جان‘ شیروزہ شکور کو آنکھوں کی روشنی سے ہاتھ دھونا پڑا۔

    یہی نہیں اس وقت ہزاروں کشمیری مائیں غربت کے باعث بچوں کی آنکھوں کا علاج نہیں کروا پا رہی ہیں ۔ جو پیلٹ گن کے چھرو ںسے متاثر ہوئے ہیں۔ ریاستی اخبار کی رپورٹ کے مطابق 9 جولائی 2016ء سے 31 دسمبر 2016ء تک 1008 نوجوان پیلٹ گنوں کا نشانہ بنے اور زخمی ہوئے ۔ ان میں سے سو سے زائد کے والدین نے غربت کے باعث ان کی آنکھوں کا علاج ادھورا چھوڑ دیا ۔

    اعدادو شمار کے آئینے میں دیکھیں تو کشمیر میڈیا سروسز کے مطابق 1989ء سے 31 دسمبر 2016 ء تک کشمیر میں بیوہ خواتین کی تعداد 22,835 ہے۔ جبکہ 10,825 خواتین کی اجتماعی عصمت دری کے واقعات پیش آچکے ہیں اور شہادتوں کے نتیجے میں 107,603بچے یتیم ہو چکے ہیں۔یہ شواہد اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ تحریک آزادی میں سرگرم کشمیری خواتین مالی پریشانی کے باوجودفلسطینی بہنوں کی طرح ہمت و حوصلہ کی مثال قائم کئے ہوئے ہیں۔

    کشمیر کی مظلوم عورتیں اسلام کے علمبردار خواب غفلت میں
    تحریر: یاسمین میر

  • اگر ہولی ہی کھیلنی تھی تو پھر CAA کی مخالفت کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ محمد وسیم ریسرچ سکالر جامعہ ملیہ اسلامیہ نیو دہلی

    اگر ہولی ہی کھیلنی تھی تو پھر CAA کی مخالفت کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ محمد وسیم ریسرچ سکالر جامعہ ملیہ اسلامیہ نیو دہلی

    اسلام نے ہمیں زندگی گزارنے کے لئے دنیا کا سب سے اچّھا نظام دیا ہے، اِس لئے ہمیں کافروں اور مشرکوں کے تہواروں، رسم و رواج اور مذہبی خوشیوں میں نہ تو شریک ہو کر اُس کا حصّہ بنیں اور نہ ہی کسی بھی طرح سے اُن کے رسم و رواج کا حصّہ بنیں، آپ صلّٰی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا کہ اگر کسی مسلمان نے کسی دوسرے قوم کی مشابہت اختیار کی تو وہ مسلمان اُسی قوم میں سے ہو جاتا ہے

    آج ہولی کا دن ہے، بہت سے مسلمان ہندوؤں کو خوش کرنے کے لئے آج ہولی کھیلیں گے، Secular بننے اور دِکھانے کے لئے ہولی کے تہوار میں مکمّل طور پر شریک ہوں گے، ایسے لوگوں کو سوچنا چاہئے کہ اِس وقت ہم ہندوستانی مسلمان کالا قانون سے انتہائی پریشان ہیں،

    کالے قانون کے خلاف احتجاج کے دوران درجنوں لوگ مارے جا چکے ہیں اور ہزاروں زخمی ہیں، میں ایسے لوگوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ اگر ہولی ہی کھیلنی تھی تو پھر CAA کی مخالفت کرنے کی کیا ضرورت تھی..؟؟

    یہ بات یاد رکھیں کہ مسلمان سے کُفار و مشرکین اُس وقت خوش ہوں گے جب مسلمان اسلام چھوڑ کر کافر بن جائیں، اِس لئے اللہ کے واسطے کافروں اور مشرکوں کو خوش کرنے کے لئے ہولی اور دوسرے تہواروں میں شریک ہو کر اُن کے تہواروں کا حصّہ نہ بنیں، بلکہ ہم اپنے مسائل کو حل کرنے کے لئے مُثبت کوششیں کریں، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کریں اور ہم کوئی بھی ایسا کام ہرگز نہ کریں کہ جس سے اللہ تعالیٰ ناراض ہو..

    محمد وسیم ابن محمد امین، ریسرچ اسکالر
    شعبہء اردو، جامعہ ملّیہ اسلامیہ، نئی دہلی

  • تیرے دشمنوں نے تیرے چمن میں خزاں کا جال بچھا دیا،   تحریر: ساجدہ بٹ

    تیرے دشمنوں نے تیرے چمن میں خزاں کا جال بچھا دیا، تحریر: ساجدہ بٹ

    میں تیرے مزار کی جالیوں ہی کی مدحتوں میں مگن رہا

    تیرے دشمنوں نے تیرے چمن میں خزاں کا جال بچھا دیا

    تحریر: ساجدہ بٹ

    اے زندگی گِلہ کس سے کریں؟ہر طرف اُٹھتا ہوا ظلم کا دھواں معصوم لوگوں کی آہیں ہمیں چین نہیں لینے دیتیں ۔ ہر طرف بڑھتے ہوئے دشمنوں کے ہاتھ ہمیں لمحہ بہ لمحہ توڑتے چلے جا رہے ہیں۔نت نئے دشمنوں کے مسلمانوں کو گرانے کے ارادے روز با روز سامنے آ رہے ہیں۔
    کبھی کشمیر کے مسلمانوں کو اُن کے وطن سے نکالنے کے نت نئے پلان ہوئے کبھی شام فلسطین کے مسلمانوں کا خون بہایا۔پھر عورت مارچ کا شور مچا اور افسوس کے عورت خود اپنی ذات کی دشمن بننے لگی۔۔۔۔
    اور دشمنوں کی ایک اور سازش مسلم قوم میں۔۔
    میرا جِسم میری مرضی
    کے نام سے اٹھنے لگی
    اور عورت ہر قسم کی آزادی کے باوجود ایک اور آزادی کا گناہ اپنے نام کرنے لگی۔۔
    اے میرے پروردگار ہم سے کہاں بھول ہو گئی اتنے گناہوں کے بوجھ تلے دبتے تلے جا رہے ہیں اٹھنے کی طاقت نہیں رہی۔۔
    میرے رحمن و رحیم مولا ہمیں مشکلوں سے نجات دے۔
    یقینا جو قومیں اپنی تاریخ کو بھلا دیا کرتی ہیں اُن کا انجام ایسا ہی ہوا کرتا ہے ۔
    افسوس صد افسوس کہ ہم نے تاریخ ہی کیا دین اسلام کو بھی بھی بھلا دیا۔۔۔۔
    ہم نے جیسے ہی اپنے دین سے دوری اختیار کی تو کافروں نے ہمیں اپنے گھیرے میں لے لیا اور آہستہ آہستہ یہ گھیرا ھم پے تنگ کرنے لگے اور ہم ایسے گُناہوں میں مست ہیں کہ کان میں جوں تک نہیں رینگتی۔۔
    اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی تعلیمات سے بے بہرہ ہوتے چلے جا رہے ہیں اور کُچھ جانتے ہوئے بھی انجانے بنتے جا رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہمیں زندگی گزارنے کے لیے مکمل ضابطہ حیات ہمارے ہاتھوں میں تھما دیا گیا کہ لیکن ہم پھر وہیں کے وہیں کھڑے ہیں۔
    سیرت کی بہترین کتاب قرآن مجید ہے اور قرآن مجید کی سب سے عمدہ تفسیر سیرت النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے۔
    جو قرآن نے کہا آپ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کر دکھایا۔جس نے قرآن کی صحیح ترین تفسیر پڑھنا ہو قرآن کو جیتا جاگتا دیکھنا ہو اس کو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پڑھے۔
    جو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چاہئے وہ قرآن پڑھے آپ کی سب سے سچی اور خوبصورت تصویر جو لفظوں میں کھینچی گئی وہ اللہ کی کتاب میں ملے گی۔

    خراج عقیدت ادا کرنے والو خراج عقیدت سے کیا کام ہو گا

    یہی ہے زبانی محبت کا عالم تو دین ھدی اور بدنام ہو گا

    ہم زبانی کلامی اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جھوٹے محبت کے دعوے کرتے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ انسان جس سے محبت کرتا ہے اُس کی طرف متوجہ ہوتا ہے اُس کا ہر حکم ماننے کی کوشش کرتا ہے اُس کی چاہت کرتا ہے اسی کو سننے کی اُسی بندے کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے اُسی کی جستجو اُسی کی تلاش کرتا ہے اُسی کے قریب رہنے کی تمنا کرتا ہے۔۔۔۔
    پھر ہمارا اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کا کیسا رشتہ ہے کیسی عقیدت ہے کہ اُس کے ہر حکم کو بھول بیٹھے ہیں سنت رسول کو یاد کرنے سے بھی قاصر ہیں اس سے دوری ہماری موت ہے اس نام کو دل میں زندہ رکھنے کی ضرورت ہے یہ نام زندہ رہے گا تو دل زندہ رہے گا۔اس نام کی کرشمہ سازیاں کسی صاحب دل کو دیوانہ بنا لینے کے لئے کافی ہیں۔۔۔۔۔۔
    شرط اول یہ ہے کہ یہ محبت و عقیدت سچی ہو اطاعت سچی ہو پھر ہماری یہ محبت ہمیں کافروں کے ہاتھوں ذلیل و خوار نہیں ہونے دے گی ہمیں کمزور نہیں ہونے دے گی ۔۔۔۔
    نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کا راستہ ہمیں اللہ تبارک وتعالیٰ تک پہنچنے کے راستہ بتائے گی۔۔
    یہ سب عمل سے ہو گا اور عمل صرف و صرف دین اسلام کا ہو گا تو یقیناً فتح ہماری ہو گی اور دشمن غروب ہو جائے گا۔۔۔
    پھر کشمیر بھی آزاد ہو گا
    فلسطین میں بھی بہار آئے گی شام کا سورج بھی چمکے گا اسلام کا پرچم لہرائے گا۔۔۔ان شاء اللہ

    فقط خوش بیانی کے جوہر دکھا کر کوئی قوم دنیا میں اُبھری نہیں ہے

    عمل چھوڑ کر صرف باتیں بنا کر کوئی قوم دنیا میں اُبھری نہیں ہے

    یہ سوچو کہ کیا چیز تھی جس کے بل پر خدا کے اکیلے پیمبر نے اٹھ کر

    اُلٹ دی تھی ایران و ورما کی مسند،پلٹ دی تھی صحرا نشینوں کی کایا
    (جہد مسلسل)

  • پی ایس ایل کا جادو سر چڑھ کر بولنے لگا، غیرملکی کرکٹرز بھی  پی ایس ایل کے  سحر میں مبتلاہوگئے

    پی ایس ایل کا جادو سر چڑھ کر بولنے لگا، غیرملکی کرکٹرز بھی پی ایس ایل کے سحر میں مبتلاہوگئے

    پی ایس ایل کا جادو سر چڑھ کر بولنے لگا، غیرملکی کرکٹرز بھی پی ایس ایل کے سحر میں مبتلاہوگئے

    باغی ٹی وی رپورٹ : بیس فروری سے شروع ہونے والاایچ بی ایل پی ایس ایل 2020کامیلہ بھرپور دھوم دھام سے پاکستان میں جاری ہے۔ مقامی اور قومی کھلاڑیوں کے بعد اب غیرملکی کرکٹرز بھی لیگ کے سحر میں مبتلا ہوچکے ہیں۔

    پاکستان کے چار مختلف شہروں میں کرکٹ کھیلنے کے بعد غیرملکی کھلاڑی لیگ کے دوران ماحول، تماشائیوں کی شرکت اور گراؤنڈ اسٹاف کی بھرپور تعریف کررہے ہیں۔پاکستان کی بھرپور مہمان نوازی کے معترف غیرملکی کھلاڑیوں نے ایونٹ میں کھیل کے معیار کو بھی سراہا ہے۔

    دفاعی چیمپئن کوئٹہ گلیڈی ایٹرز، دو مرتبہ کی چیمپئن اسلام آباد یونائیٹڈاور 2017 کی چیمپئن پشاور زلمی کے علاوہ کراچی کنگز اور لاہور قلندرز کی ٹیموں کے درمیان پلے آف مرحلے میں رسائی کی جنگ فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔

    اب تک صرف ملتان سلطانز کی ٹیم 11 پوائنٹس کےساتھ ایونٹ کے اگلے مرحلے میں رسائی حاصل کرسکی ہے۔

    معین علی، ملتان سلطانز:

    معین علی کا کہنا ہے کہ ملتان کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے گئے تینوں میچوں میں شائقینِ کرکٹ کا جوش دیدنی تھا۔ انہوں نے کہاکہ اسکواڈ میں شامل ہر رکن ملتان کے لوگوں کی میزبانی، پیار اور کھیل سے محبت کے جذبےکا معترف ہے۔

    معین علی نے کہاکہ سہولیات کے اعتبار سے ملتان اسٹیڈیم کا شمار محدود طرز کی کرکٹ کے چند بہترین اسٹیڈیمز میں ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں کی پچ بیٹسمین اور باؤلر دونوں کے لیے سازگار ہے۔وہ پرامید ہیں کہ ملتان سلطانز آئندہ ایڈیشنز میں اپنے تمام میچز ملتان اسٹیڈیم میں کھیلے گی۔

    پشاور زلمی کی ٹیم تاحال پوائنٹس ٹیبل پر دوسری پوزیشن پر براجمان ہے۔

    لیام لیونگ اسٹون، پشاور زلمی:

    پشاور زلمی کے بلے باز لیام لیونگ اسٹون کاکہنا ہے کہ گذشتہ 2 ہفتے پشاور زلمی کے لیے بہت اہم تھے تاہم اب ٹیم کی گاڑی جیت کی پٹری پر چڑھ چکی ہے۔ انہوں نے کہاکہ کسی بھی ٹیم کے لیے ٹورنامنٹ کے آغاز کی بجائے بہترین وقت پرمومنٹم پکڑنا اہم ہوتا ہے اور انہیں خوشی ہے کہ ایچ بی ایل پی ایس ایل 2020 کے دوران پشاور زلمی کی گاڑی درست سمت پر گامزن ہے۔

    لیام لیونگ اسٹون نے کہا کہ وہاب ریاض ایک پرسکون کپتان ہے جنہیں اپنی صلاحیتوں پر مکمل اعتماد ہے۔ انہوں نے کہا کہ پشاور زلمی نے لیگ کے پانچویں ایڈیشن کے دوران جہاں بھی میچز کھیلے ہیں، تماشائیوں کی ایک بڑی تعداد پیلے رنگ میں ڈھلی نظر آئی ہے۔ انہوں نے خصوصاََ راولپنڈی کے کراؤڈ کی تعریف کرتے ہوئے امید ظاہرکی ہے کہ لیگ کے آئندہ میچز میں بھی دیگر مقامات پر اتنا جوشیلہ اور بھرپور کراؤڈ کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کرے گا۔

    دوسری جانب فی الحال پوائنٹس ٹیبل پر تیسری پوزیشن پر موجود اسلام آباد یونائیٹڈ کے پوائنٹس کی تعداد 7 ہے۔ اسلام آباد یونائیٹڈ کو اگلے مرحلے میں رسائی کے لیے دیگر ٹیموں کے درمیان میچوں کے نتائج پر انحصار کرنا ہوگا۔

    ڈیل اسٹین، اسلام آباد یونائیٹڈ:

    اسلام آباد یونائیٹڈ کے فاسٹ باؤلر ڈیل اسٹین کاکہنا ہے کہ وہ پاکستان واپسی پر بہت خوش ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ یہاں کے لوگ غیرملکی کھلاڑیوں کی لیگ میں شرکت پر بہت پرجوش ہیں۔

    ڈیل اسٹین نے پنڈی کرکٹ اسٹیڈیم کے گراؤنڈ اسٹاف کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہاں کے عملے کی انتھک محنت کے سبب بارش کے باوجود مداحوں کو بہترین اور معیاری کرکٹ دیکھنے کو ملی۔ انہوں نے کہاکہ وہ کراچی میں اپنا آخری گروپ میچ جیتنے کے ساتھ ساتھ فائنل میں رسائی حاصل کرکےاسلام آباد یونائیٹڈ کے فینز کو تحفہ دینے کی کوشش کی۔

    کراچی کنگز کی ٹیم فی الحال پوائنٹس ٹیبل پر چوتھی پوزیشن پر موجود ہے۔

    ایلکس ہیلز، کراچی کنگز:

    برطانیہ سے تعلق رکھنے والے کراچی کنگز کے بلے باز ایلکس ہیلز کا کہنا ہے کہ بابراعظم اور شرجیل خان کی ٹاپ آرڈر میں موجودگی ہماری ٹیم کی طاقت ہے۔ انہوں نے کہاکہ رائٹ اینڈ لیفٹ ہینڈ کمبی نیشن پر مشتمل کراچی کنگز کی اوپننگ جوڑی میں شامل دونوں کھلاڑی ایک دوسرے سے مختلف انداز میں بیٹنگ کرتے ہیں تاہم دونوں کھلاڑیوں کی جارحانہ حکمت عملی کے سبب حریف باؤلرز کے لیے اچھی باؤلنگ کرنا ایک مشکل ہدف بن جاتا ہے۔

    ایلکس ہیلز نے کہاکہ نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں کھیلے گئےمیچز کے دوران شائقینِ کرکٹ کی جانب سے بھرپور حوصلہ افزائی کے بعد وہ ایک بار پھرکراچی جانے کے لیے بے تاب ہیں۔انہوں نے کہا کہ تماشائیوں کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ مجموعی طور پر بہتر کھیل کا مظاہرہ کرکے کراچی کنگز اگلے مرحلے میں رسائی حاصل کرسکتی ہے۔

    لاہور قلندرز کی ٹیم پوائنٹس ٹیبل پر پانچویں پوزیشن پر موجود ہے۔

    بین ڈنک، لاہور قلندرز:

    لاہور قلندرز کے جارحانہ مزاج بلےباز بین ڈنک کا کہنا ہے کہ قذافی اسٹیڈیم لاہور میں اب تک کھیلے گئے تمام میچوں میں کراؤڈ شاندار رہا۔ انہوں نے کہا کہ جوں جوں کھیل آگے بڑھتا جاتا ہے توں توں تماشائیوں کی جانب سے کھلاڑیوں کو حوصلہ افزائی کرنے کا جذبہ بھی بڑھتا چلا جاتا ہے۔

    بین ڈنک نے کہا کہ تماشائیوں کا شور دیکھ کر انہوں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ کم از کم قذافی اسٹیڈیم لاہور میں لاہور قلندرز کے علاوہ کسی اور ٹیم کی نمائندگی کرنے کے خواہشمند نہیں ہیں۔

    دفاعی چیمپئن کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی ٹیم پوائنٹس ٹیبل پر چھٹی پوزیشن پر موجود ہے۔

    شین واٹسن، کوئٹہ گلیڈی ایٹرز:

    کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے آلراؤنڈر شین واٹسن کاکہنا ہے کہ انہیں ایچ بی ایل پی ایس ایل 2020 کے دوران پاکستان کے چاروں شہروں، کراچی، لاہور، ملتان اور راولپنڈی، میں کرکٹ کھیل کر مزہ آرہا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ شائقینِ کرکٹ سے بھرے اسٹیڈیمز میں جاری ایچ بی ایل پی ایس ایل کا اصل مقصد آئند نسل کو کرکٹ کے کھیل سے متاثرکرنا ہے۔

    شین واٹسن نے کہاکہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز آخری دو گروپ میچ جیت کر پلے آف مرحلے میں رسائی حاصل کرنے کے لیے پرامید ہے۔ انہوں نے کہاکہ ٹیم اب بھی ٹائٹل کا دفاع کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

  • عالمی یوم خواتین اور مسلم خواتین کے حقوق        ، تحریر:شعیب بھٹی

    عالمی یوم خواتین اور مسلم خواتین کے حقوق ، تحریر:شعیب بھٹی

    عالمی یوم خواتین اور مسلم خواتین کے حقوق تحریر:شعیب بھٹی
    ہر سال 8مارچ کو خواتین کے حقوق کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس دن خواتین کی آزادی،تعیلم و تربیت، جنسی و جسمانی تشدد سے آگاہی اور ان کے خلاف قانون سازی پہ زور دیا جاتا ہے۔ خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی این جی اوز اس دن سیمینارز کا انعقاد کرتی ہیں۔خواتین کی آزادی اور ان کے حقوق کی بات کی جاتی ہے۔ لیکن اس حوالے سے کام کرنے والی این جی اوز در حقیقت عورت کی آزادی کے نام پر اس کا استحصال کررہی ہیں اور انہیں معاشرے میں چلتا پھرتا اشتہار بناکر مغربی ایجنڈے کی تکمیل کرتی ہیں۔ لیکن افسوس عالمی امن کے دعویدار، خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنےوالی عالمی تنظیمیں اور این جی اوز مسلم خواتین کے حقوق پر بات کرنے سے قاصر ہیں۔ ان این جی اوز نے کھبی بھی کشمیر،برما،فلسطین،شام،عراق،افغانستان میں مسلم خواتین پر ہونے والے مظالم کے خلاف آواز بلند نہیں کی۔ یورپ کے اکثر ممالک میں بھی مسلم خواتین کی مذہبی آزادی پر پابندیاں عاٸد ہیں۔ آج کے نام نہاد خواتین مارچ کرنے والے عورت کو فحاشی،عریانی،مادہ پرستی اور خدا بیزاری کا لباس پہنانا چاہتے ہیں۔
    عالمی امن کے ٹھیکدار UNO امریکی اور اسرائيلی لونڈی بن کر خاموش ہیں۔
    سیکولر کھلانے کی دعویدار ریاست بھارت میں مسلم خواتین پر مظالم کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق بھارتی مظالم سے کشمیر میں 1989 سے اب تک 905,22 خواتین بیوہ ہوٸیں۔ ایک ہزار سے زاٸد خواتین سمیت 1لاکھ افراد کو شہید کیا گیا۔ انڈین آرمی کشمیری خواتین کے خلاف ریپ کو بطور ہتھیار استعمال کرتی ہے۔ کشمیری خواتین دنیا بد ترین بے حرمتی کا شکار ہوٸیں۔ ایک اندازے کے مطابق %9فیصد خواتین کا جنسی استحصال کیا گیا۔ اب تک 140,11 خواتین کی عصمت دری کی گٸی۔ ان میں 1991 میں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بننے والی کنن پوش پورہ کی 100 خواتین بھی شامل ہیں۔ ہیومین راٸٹس واچ کے مطابق خواتین کی تعداد اس سے زیادہ بھی ہوسکتی ہے۔
    کشمیر میں گمنام قبریں بھی دریافت ہوٸی ہیں جن میں اغواہ کے بعد زیادتی اور تشدد کا شکار ہونے والی خواتین اور مرد شامل ہیں۔ پچھلے 6 ماہ سے تمام کشمیری محصور ہیں انکے گھر سے باہر نکلنے پر پابندی عاٸد ہے۔ نوجوانوں کو گرفتاری کرکے جیلوں میں ڈال دیا گیا ہے رات کے اندھیرے میں گھروں میں تلاشی کے نام پر عورتوں کی بے حرمتی کی جارہی ہے۔
    لیکن خواتین کے حقوق کی علمبردار این جی اوز کے منہ پہ تالے لگے ہوۓ ہیں۔
    برما میں برمی فوج کی طرف سے مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا اور 94,000 خواتین کی عصمت دری کے بعد ان کو زندہ جلایا گیا ۔
    مہاجرین کے اقوام متحدہ کی بین الاقوامی تنظیم کے ڈاٸریکٹر جنرل ولیم لیسی سوینگ نے دعوی کیا ہے کہ برمی مسلم خواتین اور لڑکیوں کی عصمت دری میں میانمار کی فوج قصوروار ہے۔
    فرانس،ہالینڈ،بیلجٸیم،سوٸٹزر لینڈ،آسڑیا،جرمنی،ڈنمارک،ناورے،اسپین اور روس میں مسلم خواتین کے برقعہ اوڑھنے پر پابندی عاٸد کرکے مسلم عورتوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا گیا ہے۔ ان ممالک میں اب تک جس تہذیب و تمدن کو مادہ پرستی اور دین بیزاری کے لباس میں پیش کیا جاتا رہا ہے آج وہ تہذیب دیمک زدہ لکڑی کی تصویر پیش کررہی ہے۔
    اسلام کی حقانیت اور مقبولت سے پریشان یہ ممالک اب مسلم خواتین کو بے پردہ کرکے اور ان کے حقوق چھین کر ان صابر و شاکر عورتوں کو خوف زدہ کرنا چاہتے ہیں۔
    ڈنمارک میں 28 سالہ خاتون کو برقعہ اوڑھنے پر 1ہزار کروز جرمانہ کیا گیا۔
    فرانس میں 2010 میں پردہ کرنے پہ پابندی عاٸد کی گٸی اور 1000 ڈالر جرمانہ رکھا گیا۔ فرانس میں صرف 1900 خواتین برقعہ اوڑھتی ہیں۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ ممالک کس حد تک اسلام فوبیا کا شکار ہیں۔
    2013 میں پیرس میں ٹراپس کے علاقے میں سندرا بیلن کو برقعہ اڑوھنے پہ 200 ڈالر جرمانہ اور پولیس سے ہاتھا پاٸی پر ایک ماہ قید کی سزا دی گٸی۔ سندرا بیلن نے پولیس سے ہاتھا پاٸی اس وقت کی جب پولیس نے زبردستی اس کو بے پردہ کیا۔
    ہالینڈ میں کل آبادی سترہ ملین ہے اور وہاں مقیم مسلمانوں کی تعداد 1 ملین ہے۔ ہالینڈ میں بھی اتنی بڑی مسلم تعداد کے حقوق کو چھینا گیا۔ برقعہ اوڑھنے پہ پابندی لگاٸی گٸی 150 یورو جرمانے کا قانون بنایا گیا اور اگر کوٸی عالم دین پردہ کی تبلیغ کرے گا تو اسے 30,000 یورو جرمانہ کیا جاۓ گا۔
    ان سب ممالک میں مسلم خواتین سختیاں،تکلیفیں،نظر بندیاں اور جرمانے ادا کرکے بھی پردہ کو اپنا شعار بناۓ ہوۓ ہیں۔
    اسلام دنیا کا واحد مذہب ہے جس نے خواتین کو حقیقی آزادی دی۔ خواتین کو تکریم اور عزت سے نوازا۔ پردہ جوکہ عورت کے لیے عزت وقار اور تکریم کی علامت ہے اس کو ان ممالک نے جبر قرار دیا۔ حالانکہ پردہ گندی نظروں،حرس و ہوس زدہ نگاہوں کے حصار سے محفوظ رکھتا ہے۔
    ایک عیساٸی بلاگ راٸٹر ناومی والف اپنے ایک آرٹیکل جس کا عنوان "خواتین،پردہ،جنس” تھا۔
    میں پردے کےحوالے سے لکھتی ہیں کہ یہ "پبلک بمقابلہ پراٸیوٹ” کا معاملہ ہے۔
    یہ سب تعصب پسند ممالک اسلاموفوبیا کا شکار ہیں اور اسلام کی مقبولیت سے پریشان ہیں ایک سروے کے مطابق امریکہ میں سالانہ 20,000 افراد داٸرہ اسلام میں داخل ہورہے ہیں۔
    عورت کے حقوق کی علمبردار تنظیموں،این جی اوز کی تعصب بازی ان سب باتوں سے عیاں ہے۔ یہ تنظیمیں اور این جی اوز غیرملکی فنڈنگ پر اُن کے مقاصد کی تکمیل کے لیے کام کررہی ہیں۔
    مساوی طریقے سے عورتوں کے حقوق کی نماٸندگی کی جاتی تو آج مسلم عورتوں پر مذہبی پابندیاں ہر گز عاٸد نا کی جاتیں۔غیر ملکی ایجنڈوں کو پھیلانا اور عورتوں کو معاشرے کی اقدار سے باغی کرنا،مادہ پرستی، خدا بیزاری کو پروموٹ کرنا ان تنظیموں اور این جی اوز کے بنیادی مقاصد ہیں۔
    جب تک باشعور لوگ موجود ہیں ان ایجنڈوں کی تکیمل میں روکاٹ بننتے رہیں گے۔
    اپنی نظریات،تہذیب و تمدن کو نشانہ بننے سے بچاتے رہیں گے اور عورتوں کے حقیقی مساٸل کو اجاگر کریں گے خواہ وہ کسی مذہب،معاشرے یا طبقے سے تعلق رکھتی ہو۔

  • بھارت کو شکست، ٹی 20 ویمن کرکٹ ورلڈ کپ فائنل آسٹریلیا کے نام

    بھارت کو شکست، ٹی 20 ویمن کرکٹ ورلڈ کپ فائنل آسٹریلیا کے نام

    آسٹریلوی ٹیم نے ٹی 20 ویمن کرکٹ ورلڈ کپ فائنل میں بھارت کو شکست دے دی

    خواتین کی ٹی 20 کرکٹ ورلڈ کپ کی چیمپئنز کا سہرا آسٹریلوی ٹیم کے سر سج گیا .دفاعی چیمپئن آسٹریلیا نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) ورلڈ ویمنز ٹی ٹوینٹی میں بھارت کو 85 رنز کے بھاری مارجن سے شکست دے دی ہے۔

    ویمنز ڈے کے موقع پر میلبرن کرکٹ گراؤنڈ میں کھیلے گئے میچ میں آسٹریلیا نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے بھارت کے خلاف چار وکٹوں کے نقصان پر 184 رنز بنائے۔آسٹریلوی اوپنرز نے اپنی ٹیم کو شاندار آغاز فراہم کرتے ہوئے 115 رنز کی برق رفتار شراکت قائم کی۔

    میزبان ٹیم کی جانب سے الیسا ہیلی نے 75 رنز بنائے جبکہ بیتھ مونی 78 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہیں۔ان کے علاوہ کپتان میگ لیننگ 16 رنز کے ساتھ نمایاں رہیں۔ بھارت کی جانب سے دپتی شرما نے دو کھلاڑیوں کو پویلین لوٹایا۔جواب میں بھارت کی پوری ٹیم 99 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔ بھارتی ویمن ٹیم کی 8 کھلاڑیاں ڈبل فگر میں بھی داخل نہ ہوسکیں۔ہدف کے تعاقب میں بھارت کا ٹاپ آرڈر مکمل طور پر ناکام ہوگیا اور یک کے بعد دیگرے وکٹیں گرنے کا سلسلہ جاری رہا۔بھارت کی پوری ٹیم 99رنز پر ڈھیر ہو گئی اور آسٹریلیا نے 85رنز سے فتح حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے اعزاز کا کامیابی سے دفاع کرتے ہوئے پانچویں مرتبہ ویمن ٹی20 ورلڈ کپ کا چیمپیئن حاصل کر لیا۔

    آسٹریلیا کی جانب سے میگن شٹ نے 4 اور جیس جوناسین نے تین وکٹیں حاصل کیں۔شاندار جارحانہ اننگز کھیلنے پر ایلیسا ہیلی کو میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔
    بھارت کی جانب سے دپتی شرما 33، ویدا کرشنامرتی 19 اور رچا گھوش 18 رنز کے ساتھ نمایاں رہیں۔آسٹریلیا کی جانب سے میگن شٹ اور جیس جوناسن نے تباہ کب بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے بالترتیب چار اور تین وکٹیں حاصل کیں۔اس کے علاوہ نیکولہ کیری، دسلیلا کمنس اور صوفیہ میلی نوکس نے ایک، ایک کھلاڑی کو پویلین لوٹایا۔آسٹریلیا نے ریکارڈ پانچویں مرتبہ یہ اعزاز اپنے نام کیا ہے۔ اس سے قبل 2010، 2012، 2014 اور 2018 میں بھی کنگروز نے ہی ورلڈ کپ جیتا تھا.واضح رہے کہ پاکستان ک قومی کرکٹ ٹیم کوئی خاطر خواہ کارکردگی دکھانے میں ناکا رہی اور ایونٹ کے پہلے مرحلے ہی میں‌آوٹ ہوگئی،

  • یوم ارض فلسطین اور فلسطینیوں کی واپسی—از—صابرابومریم

    یوم ارض فلسطین اور فلسطینیوں کی واپسی—از—صابرابومریم

    انبیاء علیہم السلام کی سرزمین مقدس فلسطین کی تاریخ میں پندرہ مئی یوم نکبہ یعنی فلسطینی سرزمین کے صہیونیوں کے ناپاک ہاتھوں میں غصب ہونے کا دن ہے اسی طرح تیس مارچ کو فلسطینی عرب سرزمین مقدس فلسطین کا دن مناتے ہیں یعنی ’’یوم ارض فلسطین‘‘ منایا جاتا ہے ۔ جہان پندرہ مئی کو یون نکبہ یعنی تباہی و بربادی کا بد ترین دن کے عنوان سے دنیا بھر میں فلسطینی و غیر فلسطینی قو میں مناتی ہیں وہاں فلسطینی مظلوم ملت سے یکجہتی کے لئے تیس مارچ کو یوم ارض فلسطین نہ صرف مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں منایا جاتا ہے بلکہ فلسطین سے باہر پوری دنیا میں اس دن کو فلسطینی ارض مقدس کے دن کے عنوان سے یاد رکھا جاتا ہے ۔

    یوں تو فلسطینی عوام پر برطانوی سامراج کی سرپرستی میں ڈھائے جانے والے صہیونیوں کے مظالم کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو ان مظالم کی تاریخ ایک سو سال سے زیادہ پر محیط ہے البتہ فلسطین کی سرزمین مقدس پر صہیونیوں کی ناجائز ریاست اسرائیل کے قیام کو اب سنہ2020ء میں 72وال سال مکمل ہو جائے گا اور ان بہتر سالوں میں گزرنے والا ایک ایک دن فلسطین کی مظلوم ملت پر قیامت سے کم نہیں گزرا ہے ۔ چاہے صہیونیوں کی جانب سے فلسطین پر قبضہ کے ایام ہوں یا پھر قبضہ کے بعد کے ایام ہوں ۔ تاریخ کے اوراق صہیونی ظالموں کے ظلم سے بھرے پڑے ہیں ۔

    جہاں ایک طرف صہیونیوں نے فلسطین پر اپنے ناجائز قبضہ کو مکمل کرنے کے لئے کسی قسم کے ظلم اور زیادتی سے گریز نہیں کیا ہے وہاں فلسطینی ملت مظلوم کی شجاعت اور استقامت میں بھی ان مظالم کے سامنے کسی قسم کی کمی واقع نہیں ہوئی ہے ۔ فلسطینی عربوں کی جد وجہد کی تاریخ بھی صہیونیوں کے مقابلے میں اسی وقت سے جاری ہے کہ جب سے عالمی استعماری قوتوں کی ایماء پر فلسطین پر قبضہ کی ناپاک منصوبہ بندی کی گئی تھی اور فلسطینیوں کی یہ جد وجہد آ ج بھی اسی طرح جاری و ساری ہے ۔

    پندرہ مئی سنہ 1948ء میں فلسطین پر صہیونیوں کی جعلی ریاست کے قیام کے وقت سے صہیونیوں نے فلسطینی عربوں کو ان کے وطن یعنی فلسطین سے نکال باہر کرنا شروع کر دیا تھا اور یہ سلسلہ کئی سالوں تک جاری رہا اور نتیجہ میں دسیوں ہزار فلسطینی اور ایک اندازے کے مطابق دس لاکھ سے زائد فلسطینیوں کو فلسطین سے نکال باہر کیا گیا جو پڑوسی ممالک میں زمینی سرحدوں کو عبور کرتے ہوئے مہاجرین کی زندگی گذارنے پر مجبور ہوئی اور آج فلسطینیوں کی تیسری نسل شام، لبنان، اردن اور مصر میں مہاجرین یعنی فلسطینی پناہ گزین کے نام سے پہچانی جاتی ہے ۔

    فلسطین کے اندر باقی رہ جانے والے فلسطینیوں نے امید کا دامن ہاتھ سے کبھی جانے نہیں دیا ہے ۔ فلسطین کے عرب باشندوں نے ہمیشہ سے فلسطین پر صہیونی ریاست کے تصور کو جعلی قرار دیا ہے اور اس کے خلاف سینہ سپر رہے ہیں ۔ یعنی خلاصہ کیا جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ فلسطینیوں نے جد وجہد آزاد ی جاری رکھی ہے اور اس آزادی کا بنیادی ہدف جہاں فلسطین کی صہیونیوں کے شکنجہ سے آزادی ہے وہاں غاصب صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کی نابودی ہے ۔ جد وجہد آزادی فلسطین کے لئے فلسطین کے عرب باشندوں نے باقاعدہ صہیونیوں کا مقابلہ کیا ہے اور اس کی مثال فلسطین میں موجود اسلامی مزاحمت کی تحریکیں حماس، جہاد اسلامی، پاپولر فرنٹ اور دیگر شامل ہیں جو مسلسل اسرائیل کے ناپاک وجود کے خلاف سینہ سپر ہیں ۔

    دوسری طرف فلسطین سے جبری طور پر جلا وطن کئے جانے والے فلسطینی عربوں نے بھی اپنا جہاد فلسطین واپسی کے نعرے کے ساتھ شروع کر رکھا ہے اور یہ سب کے سب فلسطینی چاہتے ہیں کہ فلسطین اپنے وطن فلسطین واپس جائیں تا کہ فلسطین میں آباد ہو ں نہ کہ ان کو دیگر ممالک میں در در کی ٹھوکریں کھانی پڑیں ۔ فلسطینیوں کے حق واپسی کا نعرہ یا اعلان ایک ایسا مضبوط نعرہ ہے کہ جسے عالمی استعماری نظام بالخصوص امریکہ اور اس کے حواری کسی طرح بھی دبانے میں کامیاب نہیں ہو پا رہے ہیں ۔ فلسطینی عوام کا حق واپسی ایک ایسا بنیادی انسانی حق ہے کہ جسے نہ تو دنیا کے عالمی ادارے مسترد کر سکتے ہیں اور نہ ہی دنیا کی کوئی حکومت ا سکے خلاف جا سکتی ہے ۔

    امریکہ نے فلسطینیوں کے بنیادی حقوق کو دبانے کی خاطر نام نہاد امن فارمولہ جسے صدی کی ڈیل کہا جا رہا ہے کو متعارف کرایا ہے لیکن یہ صدی کی ڈیل سامنے آنے سے پہلے ہی فلسطینیوں کے واپسی کے حق کے نعرے کے سامنے ماند پڑ چکی ہے اور عنقریب نابود ہونے والی ہے ۔ یہ بات انتہائی قابل ذکر ہے کہ فلسطینیوں کے حق واپسی کا نعرہ سنہ 2011ء کے بعد سے شد ومد کے ساتھ بلند ہو اہے جس کی ماہرین کی نگاہ میں ایک بنیادی وجہ سنہ2011ء میں ایران کے دارلحکومت تہران میں ہونے والی بین الاقوامی حمایت فلسطین و انتفاضہ کانفرنس بعنوان ’’فلسطین ، فلسطینیوں کا وطن‘‘ ہے ۔

    فلسطین کے سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ سنہ2011ء میں اس کانفرنس میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے مسئلہ فلسطین کا ایک ایسا منصفانہ حل پیش کیاہے کہ جس کے بعد نہ صرف فلسطینی تحریکوں میں بلکہ فلسطینیوں کے حق واپسی کی ایک نئی تحریک نے جنم لیا ہے جو امریکہ سمیت صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کے لئے مصیبت سے کم نہیں ہے ۔ اس منصفانہ حل کے مطابق فلسطین فلسطینی عربوں کا وطن ہے کہ جو سنہ1948ء سے قبل اور اس وقت تک فلسطین کے باسی تھے اور ان فلسطینیوں میں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ عیسائی فلسطینی اور ایسے یہودی فلسطینی شامل ہیں کہ جو فلسطین کی شناخت کے ساتھ اس سرزمین مقدس پر زندگی بسر کر رہے تھے

    صہیونیوں نے نہ صرفر فلسطین کے مسلمانوں کو جبری ہجرت پر بھیجا بلکہ مسیحی اور فلسطینی یہودیوں کو بھی فلسطین سے بے دخل کیا ۔ تاہم فلسطینی عربوں کا حق ہے کہ وہ فلسطین واپس آئیں اور فلسطینی عوام ایک ریفرنڈم کے ذریعہ اپنے نظام حکومت کا فیصلہ کرے ۔ یعنی فلسطینی فلسطین واپس آئیں اور جو یہودی اور صہیونی دنیا کے دیگر ممالک سے لا لا کر فلسطین میں آباد کئے گئے تھے وہ اپنے اپنے وطن میں واپس جائیں یا یہ کہ اگر فلسطین کی حکومت یعنی فلسطینی کی شناخت کے ساتھ فلسطین میں زندگی بسر کرنا چاہیں تو یہ فیصلہ بھی فلسطینی عوام کو کرنا ہے اور ان کی اجازت سے ہونا ہے ۔

    خلاصہ یہ ہے کہ فلسطینیوں کے حق واپسی کی تحریک نے سنہ2011ء سے تیزی کے ساتھ سفر طے کرنا شروع کیا جس کے نتیجہ میں سنہ2012ء میں دنیا بھر کے تمام بر اعظموں سے تعلق رکھنے والی قوموں نے تیس مارچ یوم ارض فلسطین کے موقع پر فلسطین کی چاروں زمینی سرحدوں پر مارچ کیا اور سب کا نعرہ ایک ہی تھا کہ ’’واپسی فلسطین ‘‘یعنی ;82;eturn to ;80;alestien ۔ گذشتہ دو برس سے فلسطینیوں نے حق واپسی مارچ کا نئے انداز سے آغاز کیا ہے اور فلسطینیوں کا ایک ہی نعرہ اور مقصد ہے کہ فلسطینیوں کی فلسطین واپسی ۔

    اب یوم ارض فلسطین کے موقع پر اس تحریک کو مکمل دو سال ہو نے کو ہیں لیکن امریکہ اور اسرائیل سمیت استعماری قوتیں فلسطینیوں کے عزم اور ارادوں کو کمزور کرنے میں ناکام ہو چکی ہیں اور اس کی سب سے بڑی دلیل امریکی صدر کے فلسطین سے متعلق یکطرفہ فیصلوں اور اعلانات کی ناکامی ہے ۔ بہر حال اقوام عالم اس بات کو اچھی طرح سمجھ چکی ہیں کہ فلسطینیوں کی تقدیر کا منصفانہ حل یہی ہے کہ فلسطین فلسطینیوں کا وطن قرار پائی اور صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کے قائم کرنے والے صہیونی اپنے اپنے وطن اور زمینوں پر لوٹ جائیں ۔ فلسطینیوں کی واپسی حق ہے اور اس امر سے دنیا کی کوئی طاقت بھی نظر چرانے کی طاقت نہیں رکھتی ۔

    یوم ارض فلسطین اور فلسطینیوں کی واپسی

    تحریر: صابر ابو مریم

    سیکرٹری جنرل فلسطین فاءونڈیشن پاکستان

    پی ایچ ڈی ریسرچ اسکالر، شعبہ سیاسیات جامعہ کراچی