Baaghi TV

Category: بلاگ

  • سقوط ڈھاکہ..عیاری وغداری کی شرمناک داستان..از..سید زید زمان حامد….قسط -2

    سقوط ڈھاکہ..عیاری وغداری کی شرمناک داستان..از..سید زید زمان حامد….قسط -2

    پچھلے کالم میں بات ہورہی تھی کہ 71 ءکی جنگ کے بعد کس نے اورکیوں افواج پاکستان کے قیدیوں کی تعداد کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا۔ اس پر مزید بات کرتے ہیں۔

    جیسے کہ بتایا جاچکا ہے کہ مشرقی پاکستان میں پاک فوج کی صرف ایک کور تھی۔ عام حالات میں ایک کور میں 50 ہزار کے قریب فوج ہوتی ہے، مگر مشرقی پاکستان میں ٹینکوں اور توپخانے کے دستوں کی غیر موجودگی کی وجہ سے یہ ایک کور بھی پوری نہ تھی۔ اس کے علاوہ پاک فوج میں موجود کئی بنگالی رجمنٹوں نے بغاوت بھی کردی تھی اور بھارتی فوج اور مکتی باہنی کے ساتھ ملکر پاک فوج کے خلاف ہی لڑنا شروع ہوگئے تھے۔

    اس صورتحال میں پاک فوج کی زیادہ سے زیادہ تعداد صرف 32 ہزار سے 35 ہزار تک تھی۔ 8 ماہ کی جنگ میں اس میں سے بھی کوئی 5 ہزار کے قریب شہید یا زخمی ہوچکے تھے۔ لہذا کسی صورت میں بھی پاک فوج کی تعداد 30-35 سے زیادہ نہ تھی۔ اگر ان کے خاندانوں، عورتوں اوربچوں اور حکومت پاکستان کے دیگر سویلین ملازمین کو بھی شامل کرلیا جائے تو کل ملا کر قیدیوں کی تعداد 40-45 ہزار کے درمیان ہی بنتی تھی۔ دشمن، عالمی طاقتیں اور خود ذوالفقار علی بھٹو بھی اس حقیقت سے بہت اچھی طرح واقف تھے۔

    ”اگر پاکستان میں جمہوریت جاری رہتی تو اسلام آباد کو اس سانحے سے گزرنا ہی نہ پڑتا کہ جس کے نتیجے میں مشرقی پاکستان میں 40 ہزار فوجیوں کو ہتھیار ڈالنے پڑے۔“
    کرشن چندر پنت ، سابق بھارتی وزیر دفاع

    ”1971 ءمیں ڈھاکہ میں 35 ہزار پاکستانی فوجیوں کا 2 لاکھ بھارتی فوجیوں اورا ن کے تربیت یافتہ ایک لاکھ سے زائد بنگالیوں کے خلاف لڑنا، یقینی طور پر ناممکن تھا“
    چارلس ولسن ، رکن امریکی کانگریس

    اب سوال یہ ہے کہ بھارت کی جانب سے ”90 ہزار“ قیدیوں کا پراپیگنڈہ تو سمجھ میں آتا ہے، مگر اس وقت کی حکومت کیوں اس جھوٹ کولیکر آگے پھیلاتی رہی۔

    پاکستان میں اس وقت بھٹوکی حکومت تھی کہ جو خود سقوط ڈھاکہ کا ایک مرکزی مجرم تھا۔اس کی زندگی کا مقصد ہی پاکستان کو توڑ کر اور پاک فوج کو رسوا کرکے اقتدار پر قبضہ کرنا تھا۔ لہذا بھارت کے شرمناک بیانیے کے جواب میں حقیقت اور سچائی پر مبنی بیانیے کو پیش کرنا ہی بھٹو کے ذاتی و سیاسی مفادات کے خلاف تھا،

    چنانچہ پاکستان میں سانحہ مشرقی پاکستان پر ایک طرح سے سرکاری خاموشی اختیار کرلی گئی، نہ تو حقیقت بیان کی گئی، نہ ہی دشمن کے بیانیے کو رد کیا گیا اور نہ ہی سرکاری طور پر سانحہ مشرقی پاکستان کے مجرموں کو کوئی سزا دی گئی۔ حمود الرحمن کمیشن رپورٹ بھٹو نے صرف اس لیے بنوائی تھی کہ اپنے پسندیدہ جج کے ذریعے شکست اور ذلت کا سارا ملبہ پاک فوج پر گرا کر اپنے اوردیگر سیاسی جماعتوں کے ناپاک کردار پر پردہ ڈال سکے۔

    بھٹو اور مجیب کا پاکستان توڑنے میں ناپاک کردار 1965 ءکی جنگ کے بعد ہی شروع ہوچکا تھا۔ یہ وہ دور تھا کہ جب پاکستان پوری دنیا میں عزت ووقار کے ساتھ ایک عظیم ترعالمی صنعتی طاقت کے طور پر ابھر رہا تھا۔ ایوب خان کا سنہری دور حکومت پاکستان میں زرعی اور صنعتی انقلاب برپا کرچکا تھا۔ دس سے زائد ڈیم بنائے جاچکے تھے،

    دنیا کا سب سے بڑا نہری نظام تعمیر کیا جارہا تھا اور پاکستان کی صنعتیں اس قدر ترقی کرچکی تھیں کہ ہم ملک میں ہی ڈیزل انجن اور ٹینک بنانے جارہے تھے۔ 65 ءکی جنگ میں پاکستان نے پوری دنیا کو حیران بھی کیا تھا اور دشمنوں کوپریشان بھی۔ اسی لیے اس جنگ کے خاتمے کے فوراً بعد ہی عالمی طاقتوں نے پاکستان کے خلاف بھرپور سازشوں کا آغاز کردیا تھا کہ جن کا مقصد یہ تھا:

    -1 ایوب خان کو فوری طورپر اقتدار سے ہٹا کر ایسے افراد کو طاقت میں لایا جائے کہ جو پاکستان کی صنعتی ترقی کو تباہ وبرباد کرسکیں۔

    -2 مشرقی پاکستان کو پاکستان سے علیحدہ کردیا جائے۔

    -3 65 ءکی جنگ میں افواج پاکستان نے جو دنیا میں عزت کمائی تھی اسے مٹی میں ملا کر قوم کے سامنے اسے رسوا کیا جائے۔

    اس مشن کو پورا کرنے کیلئے بھارت، روس، امریکہ اور اسرائیل نے ذوالفقار علی بھٹو اور شیخ مجیب الرحمن کا انتخاب کیا۔ 65 ءکی جنگ کے فوراً بعد ہی ذواالفقار علی بھٹو کہ جو ایوب خان کو اپنا ”ڈیڈی“ کہتا تھا، اور ایوب حکومت میں وزیر خارجہ تھا، حکومت سے الگ ہوکر سوشلسٹ نظریات پر پاکستان پیپلز پارٹی قائم کرتا ہے اور پورے ملک میں ایوب خان کو ہٹانے کیلئے تحریک کا آغاز کردیتا ہے۔

    دوسری جانب مشرقی پاکستان میں اگرتلہ سازش پکڑی جاتی ہے کہ جس میں واضح ہوجاتا ہے کہ شیخ مجیب الرحمن بھارت کے ساتھ ملکر مشرقی پاکستان میں مسلح بغاوت برپا کرنا چاہتا ہے اور ا س کیلئے مکتی باہنی جیسے دہشت گرد گروہ کو تیار کیا جارہا تھا۔
    اب کھیل بالکل واضح ہوچکا تھا، مشرقی پاکستان میں مسلح بغاوت برپا ہونی تھی، اور مغربی پاکستان میں ایوب خان کی حکومت کا تختہ الٹنے کا کام بھٹو کو دیا جاچکا تھا، تاکہ اسے اقتدار میں لا کر پاکستان کی تمام صنعتوں کو حکومتی ملکیت میں لے کر تباہ کردیا جائے۔واضح رہے کہ بھٹو نے اقتدار میں آنے کے فوراً بعد ہی پاکستان کی تمام صنعتوں کو قومیا کر مکمل تباہ و برباد کردیا کہ جس بربادی سے آج تک پاکستان نکل نہیں سکا ہے۔

    سقوط ڈھاکہ
    عیاری وغداری کی شرمناک داستان
    تحریر: سید زید زمان حامد
    قسط-2
    جاری ہے۔۔۔

  • "وکیلوں اور ینگ ڈاکٹرز کی بدمعاشی میں پستی عوام اور اسلام آباد کی ٹویٹس” تحریر: محمد عبداللہ

    "وکیلوں اور ینگ ڈاکٹرز کی بدمعاشی میں پستی عوام اور اسلام آباد کی ٹویٹس” تحریر: محمد عبداللہ

    ینگ ڈاکٹرز اپنی جگہ بدمعاش ہیں جب چاہتے ہیں اسپتالوں کا نہ صرف بائیکاٹ کرتے ہیں بلکہ معمول OPDs اور وارڈز کو تالے تک لگوا دیتے ہیں حتیٰ کے ایمرجنسی میں بھی ڈاکٹرز دستیاب نہیں ہوتے جس کی وجہ سے مریض خوار ہوتے رہتے ہیں کچھ دن قبل ہی ہمارے دوست کے والد محترم جناح اسپتال لاہور میں ان ڈاکٹرز کی بدمعاشی کی وجہ سے فوت ہوئے.
    اسی طرح یہ کالے کوٹ والے بھی "ریاست کے اندر ریاست” ہیں. قانون کے سارے داؤ پیچ جانتے ہیں مخالف کو قانون کے عین مطابق کیسے چاروں شانے چت گرانا ہے اس میں خوب ماہر ہوتے ہیں پھر ججز کی کرسیوں پر بیٹھے عزت مآب منصف تو ہوتے ہی ان کی قبیل کے ہیں لہذا "سانوں کسے دا ڈر نہیں” کے مصداق جب چاہیں جہاں چاہیں قانون کو ہاتھ میں لیتے ہیں کیونکہ آئین تو ہے ہی ان کی جیب میں…
    اسی طرح پولیس کی بدمعاشی بےچارے معصوم شہریوں کے لیے ہی ہے صلاح الدین جیسے فاطر العقل لوگ ہی ان کی بربریت کا شکار ہوسکتے ہیں کیونکہ ان قانون کے لباس میں ملبوس غنڈوں اور مسیحائی کے نام پر قاتلوں کے سامنے پولیس بے بس اور خاموش تماشائی ہے. کل کے سانحہ میں بھی پولیس کی اپنی گاڑیاں تک جلا دی گئیں مگر پولیس نے ان کالے کوٹوں کو کھل کھیلنے کا بھرپور موقع دیا جس کی وجہ سے کئی جانیں ان کے تماشے کی بھینٹ چڑھ گئیں.
    لیکن کیا کریں جی اسلام آباد میں خوبصورت وزیراعظم صاحب بیٹھے ہیں جو تقریر بڑی خوبصورت کرتے ہیں جو رلانا تو کرپٹ سیاستدانوں کو چاہتے تھے مگر اب تک تو ہم نے عوام ہی روتی دیکھی ہے، عوام ہی پٹتی دیکھی ہے اور عوام ہی مرتی دیکھی ہے اور ملک کو لوٹنے والے کرپٹ سیاستدان جیلوں سے باہر قانون اور آئین کو "مڈل فنگر” دکھا کر جاچکے ہیں، اس قانون کے رکھوالے اور شارح اسپتالوں پر حملے کر رہے ہیں، ان کو روکنے والے اور امن و امان کو بحال رکھنے والے خاموش تماشائی ہیں اور ان سب کو چلانے والی اسلام آباد کی گورنمنٹ تقاریر اور ٹویٹس میں مصروف ہے.
    کل ان کالے کوٹوں کے ڈاکٹرز پر حملے میں مرنے والی بھی عوام اور آج ڈاکٹرز اور وکلاء کے احتجاج کے باعث کورٹ کچہریوں، اسپتالوں اور سڑکوں پر خوار ہونے والی بھی عوام الناس ہے. نہ ڈاکٹرز کا کچھ بگڑا نہ وکلا کو کوئی خراش آئی نہ پولیس والوں میں درد عوام پیدا ہوا نہ اسلام آباد کے کانوں پر کوئی جوں رینگی…..
    گڈ گورنس اور عوامی مسائل کا حل گئے تیل لینے… کاش اسلام آباد کے باسیوں کو یہ اندازہ بھی ہوجائے کہ چوبرجی اور بہالپور والے نان اسٹیٹ ایکٹرز نہیں بلکہ اصل نان اسٹیٹ ایکٹرز تو یہ کالے کوٹوں والے بدمعاش اور مسیحائی کے نام پر دھندا کرنے والے ڈاکٹرز ہیں جن پر ریاست کی بھی نہیں چلتی بلکہ یہ خود ریاست کے اندر ریاست ہیں….

  • وکلاگردی، نااہلی اور بدنیتی…از..انشال راؤ

    وکلاگردی، نااہلی اور بدنیتی…از..انشال راؤ

    دنیا کے نامور دانشوروں نے کہا کہ پاکستان ایک ناکام ریاست Failed State ہے مگر ریاست اس موقف پہ ڈٹی رہی کہ یہ متعصبانہ رائے ہے اور میں آپ ہاں میں ہاں ملاتے رہے، دنیا کے بڑے بڑے اخبارات میں آرٹیکلز شایع ہوے کہ ریاست پاکستان ایک ناکام ریاست ہے لیکن جواباً کہا گیا کہ اس بات میں کوئی حقیقت نہیں،

    الطاف حسین سے BLA اور منظور پشتین گروہ نے بیانیہ چلایا کہ پاکستان اب ناکام ملک بن کر رہ گیا ہے تو جذبہ حب الوطنی سے سرشار عوام نے انہیں غدار گردانا، لیکن آج لاہور کی صورتحال پر ریاست و ریاست چلانے والوں کے کردار، قانون و قانون نافذ کرنے والوں کے کردار سے یہ بات کھٹک نہیں رہی بلکہ ثابت ہورہی ہے کہ واقعی پاکستان ایک ناکام ریاست ہے،

    آج لاہور میں نام نہاد وکلاء نے دہشتگردی و غنڈہ گردی کی ساری حدیں پار کرلیں، دنیا کی تاریخ میں کبھی جنگوں کے ماحول میں بھی اسپتالوں پر یلغار نہیں کی، شام سے لیبیا اور یمن سے عراق و افغانستان تک خواہ کتنی ہی خانہ جنگی رہی مگر کسی جنگجو گروپ نے کبھی ہسپتال پہ چڑھائی نہ کی لیکن LLB کی ڈگری لے کر وکیل بن جانے والوں نے آج دنیا کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کردیا اور یہ باب بھی پاکستان ہی کے کھاتے میں آیا کہ پہلی بار ہسپتال پر اتنی شدید قسم کا بیرونی حملہ ہوا جوکہ وکلاء کی جانب سے کیا گیا، توڑ پھوڑ اور عملے و مریضوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا جس کے نتیجے میں متعدد مریض جاں بحق ہوگئے،

    وکلاء دہشتگردوں نے حساس وارڈوں کو بھی نہ بخشا، جسکے نتیجے میں درجن سے زائد مریض موقع پر جاں بحق ہوگئے مصدقہ اطلاعات کے مطابق آئی سی یو وارڈ میں موجود تمام مریض جاں بحق ہوگئے اس کے علاوہ آپریشن تھیٹر میں موجود مریض و دیگر بہت سے اللہ کو پیارے ہوے لیکن وکلاء دہشتگردوں کی صحت و سوچ پہ کوئی فرق نہ پڑا، وکلاء گردی کی ہی نہیں بلکہ دہشتگردی کی یہ دنیائے تاریخ کی سب سے بڑی دہشتگردی ہے لیکن نااہلیت، نااہلیت، نااہلیت کا بھی یہ دنیا کا سب سے بڑا واقعہ ہے تاریخ عالم میں اس سے پہلے نااہلیت کی اس سے بڑی مثال نہیں ملتی کہ پوری قوم وکلاء گردی پر غم و غصے کے عالم میں تھی،

    وکلا دہشتگردی کرتے رہے لیکن حکومت اپنی نااہلی کی روایت پہ قائم رہی، یقین جانئے جب یہ سب ہورہا تھا تو میرے زہن میں صرف ایک ہی بات آرہی تھی کہ بہت سے لوگ بےموت مارے گئے ہونگے، سینکڑوں بےقصور زخمی ہوے ہونگے، بہت سارے لوگوں کا نقصان بھی ہوگا، لاکھوں لوگ تکلیف کا سامنا کرینگے، میڈیا پر یہ سب دیکھ کر کروڑوں افراد ذہنی اذیت و مایوسی کا شکار بھی ہونگے،

    اس پر میرے زہن میں جو تھا بالکل وہی ہوا کہ اتنا سب کچھ ہوگا مگر وہی روایتی طور پر بیان آئیگا کہ وزیراعظم نے نوٹس لے لیا، وزیراعلیٰ کے حکم پر فلاں فلاں پہ مشتمل کمیٹی قائم کردی گئی، وزیراعظم و وزیراعلیٰ نے رپورٹ طلب کرلی، بہت سے لوگ مذمت کرینگے، مختلف قسم کے القابات سے نوازا جائیگا، بیانات آئینگے کہ سخت ایکشن لیا جائیگا وغیرہ وغیرہ، بالکل ایسا ہی ہوا وزیراعظم نے نوٹس لیکر رپورٹ طلب کرلی، وزیراعلیٰ نے کمیٹی بنادی،

    بہت سے مذمتی و ایکشن لینے کے بیانات بھی آتے رہے لیکن ایکشن نظر نہ آیا لاقانونیت، نااہلی، غنڈہ گردی اپنی جگہ قائم رہی، وکلا دہشتگرد وہاں سے منتشر ہوے تو سول سیکریٹریٹ کے سامنے جاکر سڑک بلاک کردی اور یوں پورا شہر جام ہوگیا، پولیس افسران نے اجلاس بلالیا اور معاملے کے حل کے لیے غور ہونے لگا، ڈھٹائی اور بےغیرتی خود حیران ہوکر رہ گئ جب دوسرے شہروں میں وکلاء سڑکوں پہ آکر دہشتگردی کی حمایت میں احتجاج کرنے لگے،

    حکومتی افراد روایت کے مطابق رپورٹ کمیٹی اور بیانات و پریس کانفرنس کے دائرے تک محدود رہے اور نااہلی کی انتہا تو یہ ہے کہ وزیر قانون راجہ بشارت صاحب نے فرمایا کہ دونوں گروپوں میں صلح کروائی جائیگی جوکہ شرم کی بات ہے کہ یہ ریاست چلانے والوں کا حال ہے کہ داداگیری دندناتے پھر رہی ہے مگر حکومت چپ سادھے دیکھ رہی ہے، اگر پنجاب پولیس و حکومت سے وکلا کی غنڈہ گردی کنٹرول نہیں ہوتی تو میرا مشورہ ہے کہ سندھ رینجرز سے خدمات لے لیں اور قانون نافذ کرنے کی ذمہ داری ڈی جی رینجرز سندھ کو سونپ دیں تو گھنٹوں کے اندر اندر سب کچھ سامنے آجائیگا،

    وکلاء تو ایسے سیدھے ہونگے کہ رینجرز کو دیکھتے ہی مارے خوف کے اپنا کالا کوٹ اتار دیا کرینگے اور اگر اسکے پیچھے کسی کا ہاتھ یا سازش ہوگی تو وہ بھی سامنے آجائیگی، بات درحقیقت نیتوں کی ہوتی ہے اگر حکومت رٹ قائم کرنا چاہے تو کیا نہیں ہوسکتا، بائیس اگست 2016 کا دن سب کے سامنے ہے MQM کے ورکرز نے مشتعل ہوکر ایک نجی چینل کی بلڈنگ میں توڑ پھوڑ کی تو ریاست حرکت میں آگئی کہ ایک ہی دن میں کئی سو چھاپے مارے گئے کئی سو متحدہ کارکنان گرفتار کرلیے گئے خواتین تک کو نہ بخشا گیا پھر کیا تھا کہ خوف کی فضا قائم ہوگئی وہی کراچی جو بدامنی و غنڈہ گردی کے طور پر صرف قومی ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی شہرت رکھتا تھا دیکھتے ہی دیکھتے سارا شہر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کنٹرول میں آگیا،

    بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ ریاست کے لیے MQM کو گھنٹوں میں زیر کرلینا کوئی بڑی بات ثابت نہیں ہوا جس کے پاس ہزاروں نہیں لاکھوں کارکنان بھی تھے لیکن یہ جو چند وکلا دہشتگرد ہیں کنٹرول نہیں ہوسکتے، بات وہی ہے کہ جب نیت کرنے کی نہ ہو تو کچھ بھی نہیں ہوسکتا، آج وکلاء نے قانون کو ہاتھ میں لیا دہشتگردی کی وہ دراصل اس ملک میں رائج نظام کا حصہ بن چکا ہے معاشرتی جُز ہے کہ طاقتور کمزور کے لیے فرعون بنا ہوا ہے جس کے ہاتھ میں طاقت ہو وہ طاقت کے نشے میں غرق ہوکر کچھ بھی کرڈالتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ہونا تو کچھ ہے ہی نہیں کیونکہ قانون یہاں مکڑی کے جالے سے بھی کمزور ہے اور قانون کی عملداری نہ ہونے کی وجہ سے ہی سارے مسائل پاکستان میں موجود ہیں،

    کسی بھی ریاست کی ناکامی صرف قانون کی کمزوری سے ہی مراد لی جاتی ہے، ریاست چلانے والے اگر چاہتے ہیں کہ پاکستان ترقی و خوشحالی کے ٹریک پہ رہے تو قانون کی بلاتفریق عملداری یقینی بنانا ہوگی، حکومت و اس کے ہمدرد اگر چاہتے ہیں کہ لوگ ان پہ نااہلی کا ٹھپہ نہ لگائیں تو یہ ایک سنہرا موقع ہے دہشتگرد وکلا کے خلاف صرف ایکشن نہ لیا جائے بلکہ فوری ایکشن لیکر اس معاملے کو دو چار دن میں ہی منطقی انجام تک پہچائے دہشتگرد وکلا کو ایسی سزا دی جائے کہ وہ عبرت بن جائے تب ہی قانون کی بحالی بھی ممکن ہے اور حکومت سے نااہلی کا ٹھپہ بھی ہٹ جائیگا ورنہ ابتک کی صورتحال سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ تبدیلی تو نہیں آئی کپتان صاحب خود تبدیل ہوکر روایت میں ضم ہوگئے ہیں۔

    آرزوئے سحر
    تحریر: انشال راؤ
    عنوان: وکلاگردی، نااہلی اور بدنیتی

  • وکلا نے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کو میدان جنگ بنا دیا، ڈاکٹرز اور مریضوں کی جان خطرے میں

    وکلا نے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کو میدان جنگ بنا دیا، ڈاکٹرز اور مریضوں کی جان خطرے میں

    وکلا نے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کو میدان جنگ بنا دیا، ڈاکٹرز اور مریضوں کی جان خطرے میں

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کو وکلا نے میدان جنگ بنا دیا.، ہسپتال میں شدید توڑ پھوڑ کرتےہوئے ہسپتال کے اندر اور باہر املاک کونقصان پہنچایا.وکلا نے پی آئی سی لاہور میں کھڑی گاڑیوں کے10 سے زائد شیشے توڑ دیئے.پی آئی سی ایمرجنسی وارڈکے شیشےتوڑدیئے .جنرل سیکریٹری وائی ڈی اے پنجاب ڈاکٹر سلمان حبیب کے مطابق وکلا وارڈ کے اندر داخل ہوگئے اور شدید توڑ پھوڑ کی.اور آئی سی یو میں داخل ہوگئے.وکلا ابھی بھی پی آئی سی لاہور میں موجود ہیں.اس صورتحال میں اسپتال کا عملہ کیسے کام کرسکتا ہے، جبکہ بہت سیریس مریض آئی سی یو میں موجود ہیں.انہوں نے کہا کہ پی آئی سی لاہورکےڈاکٹروں کی جان کوخطرہ ہے.4سے زائد ڈاکٹروں کے سر پھاڑ دیئے گئے ہیں.
    وائس چیئرمین پاکستان بارکونسل نے کہا کہ پی آئی سی لاہور میں ہنگامہ آرائی افسوس ناک واقعہ ہے..وائس چیئرمین پاکستان بارکونسل امجد شاہ کی انوکھی منطق پیش کرتے ہوئے کہا کہ وکلا کو اشتعال دلایا گیا.واقعےمیں ملوث افراد کےخلاف کارروائی ہوگی.مقامی قیادت کے ساتھ رابطے میں ہوں.مقامی قیادت صورتحال کنٹرول کرنےکیلئےکارروائی .کرےگی.صورتحال جلد قابو میں آجائےگی،امیدہےواقعےمیں ملوث ڈاکٹروں کےخلاف بھی کارروائی ہوگی.نگامہ آرائی میں نقصان پر افسوس ہی کیا جاسکتا ہے،پی آئی سی لاہور میں ہنگامہ آرائی افسوس ناک ہے

  • ابو الکلام آزاد و حسین احمد مدنی کا بہکاوہ اور ہندوستانی مسلمان، تحریر عبدالکبیر ندوی

    ابو الکلام آزاد و حسین احمد مدنی کا بہکاوہ اور ہندوستانی مسلمان، تحریر عبدالکبیر ندوی

    ابو الکلام آزاد و حسین احمد مدنی کا بہکاو ہ اور ہندوستانی مسلمان
    تحریر :عبدالکبیر ندوی

    ابو الکلام آزاد اور حسین احمد مدنی کے بہکاوے میں آکر ہند کے مسلمانوں نے بہت گھاٹے کا سودا کیا تھا،
    جناح دور اندیش تھا لیکن مذہبی ٹھیکیداروں نے مسلمانوں کو آسانی سے بیوقوف بنایا اور اپنے چند عہدوں کی خوش فہمی میں کروڑوں مسلمانوں کا مستقبل داؤ پر لگا دیا۔۔۔

    ہم حالات سے گھبراتے نہیں ہیں، اور مایوسی کو کفر سمجھتے ہیں، لیکن حالات کا تجزیہ اور اسباب کا ادراک اور اُسکے ذمےداروں کو آئنہ دیکھانا یہ سب ضروری ہے، تقسیم کے 70 نہیں اگر 700 سال بھی ہونگے تو الزام اُنہی پر جائےگا، کیونکہ مسلمانوں کے مستقبل کا فیصلہ وہیں سے ہوا تھا، یہ حقیقت ہے کہ مسلمان کبھی بھی مشرک کے ساتھ گزارا نہیں کر سکتا، پھر مشرکوں کے ماتحت آخر کیونکر سکون کی زندگی بسر کر سکتا تھا، اور تقسیم کے وقت ہندوستان میں رہنے کا فیصلہ کرنے والوں نے مشرکوں کے ساتھ ہی نہیں بلکہ مشرکوں کی ماتحتی میں گزارا کرنے کی ٹھانی تھی،
    پھر وہاں کوئی اسلامی مصلحت انکے پیشِ نظر نہیں تھی بلکہ ملک کی بنیاد پر قومی نظریہ، ہندو مسلم بھائیچارا، گنگا جمنا تہذیب جیسے بےبنیاد اور باطل تصورات تھے، کیونکہ انکو چند عہدے اور تھوڑی سی پاور کا گمان تھا جو اس وقت انکو حاصل تھی، جسے شاید وہ لازوال گمان کر رہے تھے،

    پہلے مسلمان ہندوستان میں سرکاری عہدوں میں 37 فیصد کے قریب تھا آج 5 فیصد بھی نہیں ہے، کاروبار کا کوئی ایک شعبہ بھی مسلمانوں کے پاس مخصوص نہیں ہے، گوشت کا کچھ کام تھا جو اب وہ بھی چھین لیا گیا ہے، اور بڑی بڑی فیکٹریاں ہندوؤں کے ہاتھوں میں ہی ہیں، لکڑی کے کاروبار میں نچلا کام مسلمانوں کے پاس تھا جو اب نہیں رہا، گجرات کے علاقوں میں کپڑے کا کام تھا جو ختم سا ہو چکا ہے، اور انکی اجارادری ہندو سیٹھوں کے پاس ہے، مسلمان مزدور رہ گیا ہے، اور ایسا بہت سارا ڈیٹا آپکو نیٹ پر مل جائےگا اپنی کئی تقریر میں اسد الدین اویسی نے اسکو بیان بھی کیا ہے، باقی آپ سچر کمیٹی کی آفیشیل رپورٹ دیکھ سکتے ہیں، اس سب کے علاوہ مسلمانوں کو گائے کے نام پر جان سے مار دینا، آتانکواد کے جھوٹے الزام میں جیلوں میں بھر دینا، مذہب کے نام پر منظم دنگے کرکے ہزاروں مسلمانوں کو مارنا اور لاکھوں کو لوٹ مار کر بےگھر کر دینا سورج کی طرح عیاں ہے، داڑھی کی وجہ سے کالج سے نکال دینا، پردہ کی وجہ سے ماں بہنوں کی توہین کرنا آئے دن کی خبر ہے، اسکے علاوہ مختلف طرح سے مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بنانا کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے،
    ہندوستان میں مسلمانوں نے کوئی اپنی سیاسی طاقت کھڑی نہیں کی کیونکہ مسلمانوں کی سیاسی نکیل یہاں جمیعت کے ہاتھوں میں تھی اور جمیعت نے کانگریس پر اُسکی اوقات سے زیادہ بھروسہ کیا اور مسلمانوں کو اُسکا خریدا ہوا غلام بنا دیا کہ اُسکے سوا کوئی راستہ نہیں، اور اگر کوئی چھوٹی موٹی تنظیم اٹھی تو وہ جمیعت کی سیاست کا شکار ہو گئی، جس میں ڈاکٹر ایوبی، مولانا عامر رشادی سے لیکر اسد اویسی جیسے کتنے ہی نام ہیں جن میں کچھ کو ناپید کر دیا گیا کچھ کی مخالفت جاری ہے، اور مذہبی نکیل دار العلوم دیوبند کے ہاتھوں میں رہی جس نے ہند میں مذہبی اعتبار سے نمایاں کردار تو ادا کیا لیکن یہاں بھی بریلویوں کو مشرک، اہل حدیث کو گمراہ، جماعت اسلامی کو گستاخ ثابت کرنے میں سارا زور دیا گیا، مغربی تہذیب اور دنیاوی علوم پر کوئی فتویٰ نہیں لگایا گیا بلکہ اسکو دجال سمجھ کر اُسکے فتنے سے پناہ مانگی گئی، اور لوگوں کو اس سے بعض رہنے کی تلقین کی گئی،
    اب اگر ڈٹین سینٹرز میں رکھا جاتا ہے تو اسکا ذمےدار کون ہوگا ؟
    اقتدار پر بیٹھی ہندو طاقت جو کچھ کر رہی ہے قانون کی روشنی میں کر رہی ہے، ہندوستان جمہوری ملک ہے یہاں کا نظام وہی جمہوری نظام ہے جس پر ہمارے اجداد نے بھروسہ جتلایا تھا، بی جے پی جو بھی قانون پاس کر رہی ہے جمہوری طریقے پر کر رہی ہے، پارلیمنٹ میں انکی جمہوریت ہے جسکی بنیاد پر تین طلاق کا بل پاس ہوا اور اب یہ بھی ہو جائےگا، کیونکہ وہ اپنے حق میں جمہوریت کو ثابت کر دیتی ہے، آپ کتنا بھی چیخیۓ چلائیے قانون کا حوالہ دیجیئے، ملک کا نظام جمہوری ہے، جمہوریت ثابت ہوتی ہے تو قانون کی کوئی بھی شق بدلی جا سکتی ہے یہ خود قانون کا حصہ ہے، اسلئے حالات کے اسباب کا تدارک کرنا ضروری ہے کہ ہمارے آباء و اجداد نے جس جمہوریت کو سمجھنے میں غلطی کی تھی اب اُسکا اصلی روپ سامنے آ گیا ہے، لہٰذا اب قانون، ملک، سیکولرزم اور ڈیموکریسی کا حوالہ دینا چھوڑیئے، اپنے اسلاف کی غلطی سے مجموعی توبہ کیجیئے، خدا کے دربار میں حاضر ہوکر باطل نظام سے برات کا اظہار کیجیئے، اور اسلامی اخوت کی بنیاد پر، ظلم کی عدم برداشت کی بنیاد پر، انسانیت کی بنیاد پر انقلاب کی آواز بلند کیجیئے، آپ اس سیکولرزم کو بچانے، ملک کو بچانے کا نعرہ دیکر چند ہندوؤں اور ملحدوں اور اسکالرز کو اپنے ساتھ ضرور لے سکتے ہو لیکن یقین جانیے آپ وہی غلطی دہرائینگے جو اسلاف نے کی تھی، یہ پھسپھسے سہارے ہیں جنہیں ایک دن ٹوٹ جانا ہے، اور خدا کا سہارا ہی باقی رہنے والا ہے اور وہی مضبوط اور طاقتور سہارا ہے، لہٰذا اپنی کوششوں کا رخ صحیح کیجیئے، اور اپنے حصے کی لڑائی خود لڑیئے اور نتیجہ اللہ کے سپرد کیجیئے،

  • سقوط ڈھاکہ!عیاری وغداری کی شرمناک داستان…از..سید زید زمان حامد

    سقوط ڈھاکہ!عیاری وغداری کی شرمناک داستان…از..سید زید زمان حامد

    سقوط ڈھاکہ ہماری تاریخ کا ایک المناک اورعبرتناک باب ہے۔ غیروں اور دشمنوں کی مکاری اور سازشوں سے تو ہمیں کوئی شکایت نہیں کہ ان کا تو قیام پاکستان سے ہی یہی کردار رہا ہے، مگر دکھ تو اپنوں کی غداری اور حماقتوں کا ہے کہ جس کے سبب پاک سرزمین کو اس قدر گہرا زخم برداشت کرنا پڑا کہ مشرک دشمن بھی اپنے تکبر میں بول پڑا کہ ”آج ہم نے مسلمانوں کے ہزار سالہ دور حکمرانی کا بدلہ لے لیا ہے“۔

    سقوط ڈھاکہ کا دکھ تو اپنی جگہ، مزید تکلیف دہ امر یہ ہے کہ سانحہ کے تقریباً نصف صدی کے بعد بھی ہم بحیثیت ریاست اور قوم نہ تو اس سانحے سے کوئی سبق سیکھ سکے اور نہ ہی ریکارڈ ہی درست کرسکے کہ وہاں ہوا کیا تھا۔

    پچھلے پچاس برس سے ایک شرمناک پراپیگنڈہ دشمن کی جانب سے کیا جاتا رہا ہے کہ جسے ہماری صفوں میں موجود غدار اور جاہل دونوں ہی بغیر سوچے سمجھے آنے والی نسلوں کے ذہنوں میں زہر کی طرح گھولتے رہے ہیں۔ نہ توریاست پاکستان نے، نہ حکومتوں نے، نہ میڈیا نے اور نہ ہی دانشوروں نے تاریخ و دلیل کی بنیاد پر دشمنوں کے ناپاک پراپیگنڈے کا جواب دیا۔ حیرانی اور ا فسوس کی بات تو یہ ہے کہ خود پاک فوج نے بھی سرکاری طور پر مشرقی پاکستان کی تاریخ اور حقائق پر کوئی مستند بیانیہ قائم نہیں کیا۔دو نسلیں گزر گئیں اور ابھی تک جھوٹ، افواہ، پراپیگنڈہ اور خرافات پر مبنی بیانیہ نسل در نسل آگے لے جایا جارہا ہے۔

    سقوط ڈھاکہ کے بعد حکومت پاکستان اور پاک فوج کے تمام ریکارڈ اورکاغذات دشمن کے قبضے میں چلے گئے تھے۔ دنیا نے پھر وہی بیانیہ قبول کیا کہ جو جنگ میں کامیابی حاصل کرنے والے مکار دشمن نے پیش کیا۔
    مشرقی پاکستان کے حوالے سے بھارت کا سب سے ناپاک پراپیگنڈہ کہ جو آج تک جاری ہے وہ یہ ہے:

    ٭ 92 ہزار پاکستانی فوجیوں نے ہتھیار ڈال دیئے۔

    ٭ پاک فوج نے 30 لاکھ بنگالیوں کا قتل عام کیا۔

    ٭ پاک فوج نے دس لاکھ بنگالی عورتوں کی عصمت دری کی۔

    حقیقت یہ ہے کہ مشرقی پاکستان میں پاک فوج کی صرف ایک ”کور“ تھی کہ جس کی کمانڈ ایک لیفٹیننٹ جنرل کررہا تھا۔ مشرقی کمانڈ میں موجود اس کور میں بھی مکمل نفری نہیں تھی۔ توپخانے اور ٹینکوں کی رجمنٹوں کے بغیر صرف انفنٹری (پیادہ فوج) کے تین ڈویژن تھے، کہ جن میں سپاہ کی کل تعداد 36 ہزار سے بھی کم تھی۔ جب فوج کی مکمل تعداد ہی 36 ہزار سے کم تھی تو 92 ہزار سپاہیوں نے کس طرح ہتھیار ڈال دیئے؟

    یہ ایک ایسی تاریخی گمراہی ہے کہ جسے نسل در نسل خود پاکستانی قوم میں ایک منظم سازش کے تحت پھیلایا جاتا رہا کہ جس کا مقصد قوم میں احساس ذلت و رسوائی بڑھانا اور پاک فوج کو ذلیل کرنا تھا۔ حیرانی کی بات تو یہ ہے کہ آج تک سرکاری طور پر پاکستان کی جانب سے اس جھوٹے بھارتی بیانیے کو رد کرکے تاریخ کو از سر نو بیان ہی نہیں کیا گیا۔ کیوں حکومتیں اور فوج اس جھوٹے بیانیے پر خاموش رہے، اس کا جواب تو انہی کو دینا ہے، مگر حقیقت وہی ہے کہ جو ہم بیان کررہے ہیں۔

    32 سے 35 ہزار عسکری جنگی قیدیوں کے ساتھ چند ہزار سویلین بھی تھے کہ جو حکومت پاکستان کے ملازم تھے کہ جو مشرقی پاکستان میں اپنے فرائض سرانجام دے رہے تھے اور اپنے خاندان، عورتوں اور بچوں کے ساتھ وہیں رہائش پذیر تھے۔ کل ملا کر یہ تعداد 45 ہزارکے قریب تھی۔ 45 ہزار کو بڑھا چڑھا کر 92 ہزار کیوں بنایا گیا، اس کی وجوہات کیا ہیں؟ اس شرمناک پراپیگنڈے کو پاکستان میں پروان کس نے چڑھایا؟ اگلے کالم میں بیان کریں گے۔

    جاری ہے۔۔۔

    سقوط ڈھاکہ……….عیاری وغداری کی شرمناک داستان……………قسط-1

    تحریر: سید زید زمان حامد

  • بھارت میں مسلمانوں کے لیے کوئی جگہ نہیں‌ !….از… مشرّف عالم ذوقی

    بھارت میں مسلمانوں کے لیے کوئی جگہ نہیں‌ !….از… مشرّف عالم ذوقی

    یہی مرگ انبوہ ہے . جب زیادہ تر لوگ اس بات پر متفق نہیں تھے کہ اس ملک کے مسلمانوں کو مالک مکان کے درجہ سے خارج کر کے کرایہ دار بنا دیا جائے گا ، میں چھ برس قبل اس منظر کو دیکھ رہا تھا ، اور اسی لئے جب شہری ترمیم بل پاس ہوا ، تو مجھے کویی حیرت نہیں ہوئی .

    2002 میں گجرات حادثہ ہوا .ایک بڑی پلاننگ پر کام شروع ہوا . ایک وزیر اعظم نے مسلمانوں کو کتے کا پلا کہا ، ہم اس وقت بھی نہیں سمجھے کہ حکومت نے مسلمانوں کو ان کی اوقات سمجھانے کے لئے مہرے چلنے شروع کر دیے ہیں . تین طلاق ، ہجومی تشدد ، اشتعال انگیز بیانات ، میڈیا کو مسلمانوں کے خلاف کھڑا کرنا .. ہم یہ سب دیکھ رہے تھے اور بابری مسجد میں الجھے ہوئے تھے . کرایہ داروں کی نہ زمین نہ ہوتی ہے نہ مسجد.اس طاقت کا اندازہ لگائیے کہ کسی مذھب کے خلاف کھل کر بولنا کیسا ہوتا ہے ؟

    اس میں ہمت تھی .پارلیمنٹ میں سب کے سامنے جھوٹ بولنے کی . جبکہ ابھی کویی وقت نہیں تھا اس بل کو لانے کے لئے . جب معیشت دم توڑ رہی ہو ، بھوک ہر دروازے پر دستک دے رہی ہو ، نوجوان روزگار کو لے کر بے حال ہوں ، کسان خود کشی کر رہے ہوں ، ایسے ماحول میں ملک کے معیار کو بلند کرنے کی جگہ نفرت کے ایسے بل کو سامنے لایا گیا ، جس نے ساری حدیں توڑ دیں . یہ ہونا تھا یہ ہو گیا . یہ پہلے بھی ہو رہا تھا .چھ برسوں سے . وہ شخص ہر جگہ ، ہر اجلاس میں بھگوڑوں کو نکال باہر کرنے کی باتیں کرتا تھا اور ہماری ملی تنظیمیں ایسے اشتعال انگیز بیانات کے خلاف متحد نہیں ہو سکیں .

    جناح جیتے ، ہٹلر جیتا ، یا بی جے پی جیتی سوال اس کا نہیں . اب ماضی اور تاریخ کے حوالے بدل جاییں گے .سوچئے آگے کیا ہوگا ؟ مستقبل کا کیا ہوگا ..؟اگر اب بھی نہیں سوچ رہے تو وہ گیس چیمبر زیادہ دور نہیں جس کی پیشن گویئی میں نے مرگ انبوہ میں کی ہے . انکے لئے یہ سوال ہے ہی نہیں کہ تیس کروڑ مسلمان کہاں جاہیں گے ؟ وہ جہنم میں جاییں ، اس بات سے انھیں کویی سروکار نہیں . لیکن اس بات سے سروکار اب ضرور ہے کہ فلم ، میڈیا ، سپورٹس ، سرکاری نوکری ، ملک کے اہم منصب اور عھدوں پر مسلمان نہ ہوں .

    مسلمانوں کی سماجی ، سیاسی حیثیت کو زیرو بنا دیا جائے . ابھی وقت تاریخ کے مجرے دیکھنے کا نہیں ہے .ابھی وقت مولانا ابو الکلام آزاد جیسوں کو یاد کرنے کا نہیں ہے . یہ حالات مختلف ہیں . ہندوستان کو میانمار یا روہنگیا میں تبدیل کیا جا سکتا ہے . آگے کچھ بھی ہو سکتا ہے . اس لئے کہ لوک سبھا سے راجیہ سبھا تک انھیں روکنے والا کویی نہیں .

    چار دسمبر کو کچھ ہندی اخباروں کی سرخی تھی –مسلماں نا منظور . دینک بھاسکر نے سرخی لگاکتے کا پلا یی – غیر مسلم منظور .. آزاد ہندوتان میں آج پہلا دن ہے ، جب مسلمان نا منظور کی سرخیاں اخباروں کی زینت بنی ہیں . ہم ابھی بھی اس وہم میں مبتلا ہیں کہ این آر سی اور شہری ترمیم بل دو علیحدہ بل ہیں . جبکہ اس ملک کی حقیقت یہ ہے کہ سی این جی اور نوٹ بندی کی شروعات بھی مسلمانوں کو ذہن میں رکھ کر کی گیی .

    اپ مغالطے میں ہیں اگر اب بھی آپ کو احساس ہے کہ دوسرے درجے کے شہری ہو کر آپ کامیابی کی سیدھیاں طئے کر سکتے ہیں ، کویی انقلاب لا سکتے ہیں، کویی کرشمہ دکھا سکتے ہیں . شہری ترمیم بل کو کسی راجیہ سبھا میں بھیجے جانے کی ضرورت نہیں. وہ اپنی طاقت ، اپنے منصوبوں ، اپنے ارادوں سے واقف ہیں اور اب کھلے طور پر انہوں نے اعلان کر دیا کہ ہندو راشٹر میں مسلمان دوئم درجے کے شہری ہیں .

    اس کا احساس 2014 میں ہو چکا تھا .لیکن یہ یقین نہیں تھا کہ کویی بھی حکومت اس طرح کھلے عام مسلمانوں کو ملک سے باہر کا راستہ دیکھا سکتی ہے . کیا غیر مسلم جنہیں تلاش کر کر کے اس ملک میں جگہ دی جائے گی م کیا وہ صرف ہندو ہوں گے ؟ کیا سکھ طبقہ اپنے مذھب کو قربان کر دیگا ؟ کیا بودھ اپنا مذھب بھول جاہیں گے ؟ کیا جین مذھب کے پیروکار اپنے مذھب کی قربانی دینے کے لئے تیار ہیں ؟

    بھاجپایی ایکٹر اور لیڈر روی کشن نے بیان دیا کہ 100 کروڑ ہندو آبادی والے ملک کو ہندو راشٹر ہی کہا جائے گا . میڈیا تو پہلے دیںسے مسلمانوں کے خلاف ہے . مودی خاموش ہیں وزیر داخلہ نے اب شطرنج کی نیی بساط پر وزیر کو اتار دیا ہے ،مہرے پٹ رھے ہیں . اور مسلمان سیاسی تماشا دیکھنے کو مجبور — امبیڈکر کے آیین سے آھستہ آھستہ مساوات ، ملت ، برابری کے حقوق کا صفحہ غایب ہو جائے گا .

    پھر ہماری مسجدیں ، ہمارے مدرسے سب ان کی تحویل میں ہوں گے . فرض کیجئے ، ہم سڑکوں پر اترتے ہیں . سو کروڑ آبادی کے سامنے ہماری کویی بساط نہیں .وہ چاہتے ہیں کہ مسلمان سڑکوں پر آییں اور اکثریت کو اپنی مضبوطی کا شدید احساس ہو . اس وقت معاشی اعتبار سے ملک کی موت ہو چکی ہے . لیکن اکثریت میں جشن کا ماحول ہوگا کہ آخر مسلمانوں کو حقیر درجے تک پہچا دیا گیا . پھر عدالتیں رہ جاتی ہیں .

    اب ملی تنظیموں کو اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے چاہئے کہ عدالت کا رخ کریں . ہماری طاقت بچے گی تو ہماری شناخت بھی محفوظ ہوگی . ہماری مسجدیں بھی — میں نے مرگ انبوہ میں لکھا کہ مسلمان گھر اور بیشمار مسلمان اچانک راتوں رات غائب ہو جاتے ہیں . میرے ایک قاری نے سوال کیا ، ایسا کیسے ممکن ہے ؟ میرا جواب تھا ، شہری ترمیم بل اور این آر سی پر عمل ہونے دیجئے .

    جرمن آج بھی مرگ انبوہ کو فراموش نہیں کر سکے .لاکھوں کی تعداد میں سیاح تاریخ کے المناک مناظر کی یاد تازہ کرنے آتے ہیں جبکہ جرمنوں کو مرگ انبوہ کا لفظ سننا بھی گوارا نہیں . کل یہی ہوگا . تاریخ یاد رکھے گی کہ پچیس کروڑ آبادی والی اقلیت کے ساتھ مرگ انبوہ کی ریہرسل کی گیی . میں نے ناول مرگ انبوہ لکھتے ہوئے ان تمام حقیقتوں کو سامنے رکھا تھا .مجھے یقین تھا ، کہ اس کے بعد ہندو راشٹر اور این آر سی کا ہر سفر آسان ہو جائے گا . ابھی صرف ریہرسل ہے .
    ملک کا نوے فیصد میڈیا ہندو راشٹر کی بحالی کے لئے مسلمانوںکے خلاف ہے—

    اس وقت ملک کے صفحہ پر مسلمانوں کے خون سے جو کہانی لکھی جا رہی ہے .اسے روکنا ہوگا .۔اشتعال انگیز بیانات اور روز روز ہونے والی ہلاکت کے قصّوں کو ختم کرنا ہوگا .لیکن کیا یہ آسان ہے ؟ –آپ ڈرینگے تو حکومت ڈرائیگی-آپ جس دن ڈرنا چھوڑ دینگے ،اس دن سے حکومت ڈرنے لگے گی —نفسیات کا یہ معمولی نکتہ ہے کہ ہر ہٹلر اندر سے کمزور ہوتا ہے .وہ مجمع میں دہاڑتا ہے ۔سچ بولنے والے ایک معمولی سے آدمی سے بھی وہ ڈر جاتا ہے۔

    میڈیا ،ٹی وی چنیلس اور حکومت نے مسلمانوں کو دوسرے بلکہ تیسرے درجے کی مخلوق گرداننا شروع کر دیا ہے .ایک ایسی مخلوق جسے بس اس سر زمین سے باہر نکالنا باقی رہ گیا ہے .آنکھیں بدل گیی ہیں .کچھ دن اسی طرح گزرے تو مسلمان اس ملک میں نمائش کی چیز بن کر رہ جاینگے ..دیکھووہ جا رہا ہے مسلمان ..یہ ہونے جا رہا ہے .سوالات کے رخ خطرناک طور پر مسلمانوں کے لئے مایوسی کی فضا تیار کر رہے ہیں …ہندوستان کی مقدّس سر زمین نفرت کی متحمل نہیں ہو سکتی ..اور .مشن اپنے نظریہ میں تبدیلی لاے ،یہ ممکن نہیں .

    سوال بہت سے ہیں .ہندوستان کے چوراہوں اوردیواروں پر صرف یہ عبارت لکھی جانی باقی ہے کہ ہندو راشٹر میں آپ کا سواگت ہے۔مسلمانوں اور دلتوں کا قتل ، ہر روز نئے مظالم ، صرف میڈیا کی آنکھ بند ہے .اسلئے کہ مکمل میڈیا خریدا جا چکا ہے .حکومت ہر شعبہ کو خرید چکی ہے .انصاف کی عمارت پر بھی زعفرانی پرچم چند دہشت گرد لہرا چکے ہیں .

    2002 تک ہندستانی سماج اس مقام تک نہیں پہنچا تھا، جہاں وہ اب پہنچتا نظر آرہا ہے۔ اور اب شہری ترمیم بل نے ہندو راشٹر کے سفر کو آسان بنا دیا . پھر دیکھتے ہی دیکھتے امبیڈکر کا آیین غائب ہو جائے گا .. یہی تو مرگ انبوہ ہے ..میں نے مرگ انبوہ میں ہندوستان کے مستقبل کو دیکھا ہے .

    بھارت میں مسلمانوں کے لیے کوئی جگہ نہیں‌

    مشرّف عالم ذوقی

  • ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم اور عمران خان کے الفاظ!!! تحریر: نعمان علی ہاشم

    ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم اور عمران خان کے الفاظ!!! تحریر: نعمان علی ہاشم

    بارگاہِ رسالت مآب صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کتنی مقدس و مکرم ہے اس کا اندازہ شاید ہی ایک دنیادار کو کبھی ہو سکے،
    اس دنیا کا سب سے زیادہ مہذب، باشعور، باادب اور بااخلاق شخص بھی شاید سید عالم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ادب کا حق ادا نہ کر سکے.
    میر تقی میر کا ایک مصرعہ ہے کہ
    "لے سانس بھی آہستہ کے نازک ہے بہت کام”
    سیاسی وابستگی اور نظریے سے قطع نظر اس بات کا حد درجہ خیال رکھیں کہ آپ کس کا ذکر کر رہے ہیں، اور جب آپ عالم کے سب سے زیادہ حسین، اکمل و کامل انسان کا تذکرہ کر رہے ہوں، جو نہ صرف سب سے عظیم انسان ہوں بلکہ صاحب شریعت ہوں. اللہ کے آخری نبی ہی نہیں بلکہ سیدالانبیاء ہوں. جن کے متعلق اللہ نے ادب کا حکم دیا ہو تو پھر اس وقت تک کچھ نہ کہیں جب دل، دماغ، زبان، جسم اور روح ایک پیج پر نہ ہوں.
    جب آپ ہر طرح کی احتیاط کو ملحوظ رکھیں گے تو غلطی کا امکان بہت کم ہے. میں سمجھتا ہوں اس معاملے میں بداحتیاطی بھی جرم ہے. اور ایسے عادی مجرم کو اس کی سزا ملنی چاہیے. اب اس کی سزا امت کے مجتہدین ہی طے کر سکتے ہیں. ہم تو عام سے لوگ ہیں.
    مگر جب آپکو علم ہو کہ یہ بد احتیاطی کرنے والے کی نیت توہین و گستاخی کی نہیں تو پھر کافر و گستاخ کے فتوے لگانا بھی مناسب نہیں. بلکہ علماء کو چاہیے کہ ایسے بندے کو پیار سے سمجھائیں کہ یہ معاملہ کتنا حساس ہے. اگر بارہا سمجھانے پر بھی وہ شخص نہیں سمجھ پاتا تو اس کے لیے سزا ضرور ہونی چاہیے.
    کل سے سوشل میڈیا پر وزیر اعظم عمران خان کے منہ سے رسول اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق انتہائی نازیبا جملہ نکلا. وزیر اعظم صاحب سیدالانبیاء سید البشر صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جدوجہد کا تذکرہ کر رہے تھے. اور اس راہ میں آنے والی پریشانیوں کو معاذ اللہ ذلالت کہہ دیا. جو کہ سراسر بے ادبی ہے. اس پر خان صاحب کو اللہ سے معافی بھی مانگنی چاہیے. اور آئندہ کے لیے احتیاط بھی کرنی چاہیے. اور وسائل ہوں تو اس اچھا سا عالم دین بھی رکھ لیں جو انہیں سرکار دو عالم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ادب سکھائے.
    البتہ اس ایک کلپ کی بنیاد پر گستاخ و کافر کہنا قطعاً درست نہیں. لہٰذا تنقید کے گھوڑے دوڑانے کے بجائے اور شدت کی فضاء قائم کرنے کے بجائے اصلاح کے راستے کو اپنائیں. اور ایسے کلپ کو ایسے شئیر کر کے اپنا مذاق نہ بنوائیں. آپ کی شئیرنگ پر ملحدین قہقہے لگاتے ہیں. اور سوچیں کے مذمت کے نام پر ہم جو کر رہے ہیں وہ بھی کہیں اسی زمرے میں تو نہیں آتا.

  • ” انسانی حقوق (Human rights) آزادی اورحقوق کا نظریہ…از..عبد الرحمن عارف

    ” انسانی حقوق (Human rights) آزادی اورحقوق کا نظریہ…از..عبد الرحمن عارف

    ” انسانی حقوق (Human rights) آزادی اور حقوق کا ایک ایسا نظریہ جس کے تحت تمام انسان یکساں طور پر بنیادی انسانی حقوق کے حقدار ہیں۔ اس نظریہ میں وہ تمام اجزاء شامل ہیں جس کے تحت کرہ ارض پر بسنے والے تمام انسان یکساں طور پر بنیادی ضروریات اور سہولیات سے استفادہ کر سکیں.

    درج بالا تعریف حقوق انسانی کی تعریف ہے. حقوق انسانی کے ادارے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ کرہ ارض پر بسنے والے تمام انسانوں کو ان کے حقوق دیے جائیں. رب کائنات کی بنائی ہوئی اس دھرتی پر رہنے والے ہر انسان کو کھانے، پینے، اوڑھنے بچھونے، رہن سہن اور معاشرت کی ضرورت ہوتی ہے. اور بنیادی طور پر اس سب کے لیے قدرت نے اسے آزاد و خودمختار پیدا کیا ہے.

    اگر کسی پر ظلم کیا جاتا ہے تو وہ اپنے حق کے لیے اس ظلم کے خلاف آواز اٹھا سکتا ہے. اگر کسی کو کھانا نہیں مل پا رہا تو وہ دنیا کے سامنے پلے بورڈ لے کر کھڑا ہو سکتا ہے کہ میرے ان مسائل کی وجہ سے مجھے روٹی نہیں مل رہی. الغرض مرد و خواتین ہر بنیادی اور ضروری انسانی حق کے حقدار ہیں.

    حقوق انسانی کے ادارے حقوق دیتے ہیں…. مگر کن کو؟؟؟ جو یہودی ہیں، جو عیسائی ہیں، جو مجوسی ہیں…. دنیا کے کسی مذہب سے تعلق رکھنے والے کو اس کا حق لے کر دیا جاتا ہے…. اور 10 دسمبر کو ہر سال اس ادارے کی کامیابی کے دعوے کرتے ہوئے دن بھی منایا جاتا ہے…. مگر حق نہیں مل پاتا تو صرف مسلمانوں کو!!!

    کتنے ہی مسلم ممالک کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا گیا مگر حقوق انسانی کے عالمی ادارے خاموش تھے خاموش ہیں اور خاموش رہیں گے!!!

    آج بھی حقوق انسانی کا دن منایا جا رہا مگر کشمیر میں آج کرفیو کا بھی 128واں دن ہے!!!

    دنیا حقوق انسانی کا دن منا رہی ہے اور کشمیری ماں آج بھی اپنے بیٹے کے لاشے پر آہ و بکا کرتی نظر آتی ہے!

    دنیا انسانی حقوق کے نعروں سے گلے پاڑ رہی ہے. مگر کشمیری بہن کہیں باپ کی جدائی میں غمگین ہے….. تو کہیں پیلٹ گن سے زخمی اپنے چھوٹے بھائی کی آنکھ دیکھ کر سسکیاں لے رہی ہے!

    دنیا حقوق انسانی کا عالمی دن منا تو رہی ہے مگر بوڑھا باپ آج بھی اپنے زندہ رہنے کو کوس رہا ہے…. کیونکہ یک بعد دیگرے اس کے لغت جگر اس کی آنکھوں کے سامنے شہید کر دیے گئے!

    میڈیا آج یونائڈ نیشنز کے انسانی حقوق کمیشن کو خراج تحسین پیش کر رہا ہے مگر…. کشمیر میں بھارتی فوجیوں کے ظلم و ستم سے زخمی بچے ۔بوڑھے، جوان ہسپتالوں میں کراہ رہے ہیں!!!

    کیسی دنیا ہے یہ ؟ کیسی ہے یہ دھرتی ؟ کیسا یہ عالمی دن ہے؟ کیسے ہیں یہ حقوق ؟ کیسی یہ تنظیمیں ہیں؟ کیسے ہیں وہ ملک جو ان اداروں کو سپورٹ کرتے ہیں؟
    نام انسانیت کا ہے ٹارگٹ مسلمان ہے؟

    ” انسانی حقوق (Human rights) آزادی اورحقوق کا نظریہ
    عبدالرحمن عارف

  • کیا پاکستان فحش مواد دیکھنے میں پہلے نمبر پر ہے ؟ تحریر: غنی محمود قصوری

    ہر معاشرے کے اندر اچھے اور برے افراد پائے جاتے ہیں چند برے افراد کی بدولت اچھے لوگوں کی اچھائی بھی دب کر رہ جاتی ہے بات کرتے ہیں پاکستان میں فحش مواد دیکھے جانے کی تو سب سے پہلے یہ دیکھیں جب بھی رپورٹ جاری ہوتی ہے تب یہ تو کہا جاتا ہے کہ پاکستان فحش مواد دیکھنے میں پہلے نمبر پر ہے مگر یہ نہیں بتایا جاتا کہ اس فحش مواد کو دیکھا کتنے اکاءونٹس سے جا رہا ہے اور وہ کل انٹرنیٹ صارفین کا کتنے فیصد ہے
    اس وقت پاکستان کی کل آبادی اقلیتوں سمیت تقریبا 22 کروڑ ہے جس میں سے 1.85فیصد ہندو اور 1.65 فیصد عیسائی جبکہ قادیانی و سکھ اور لبرلز اس کے علاوہ ہیں پاکستان کی کل آبادی کے 22.2 فیصد لوگ انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں
    ایک دکاندار کو اپنی آمدن سے غرض ہوتی ہے وہ یہ نہیں دیکھے گا کہ اس ایک بندے نے دن میں پانچ بار مجھ سے ایک ہی چیز خریدی ہے بلکہ وہ یہ دیکھے گا کہ یہ چیز دن میں کتنی بار میری دکان سے خریدی گئی ہے وہ جب آگے سے وہی چیز خریدے گا تو یہی بتائے گا کہ فلاں چیز ایک دن میں اتنی بار فروخت ہوتی ہے یہ ہرگز نہیں بتائے گا کہ ایک بندہ دن میں یہ چیز اتنی بار مجھ سے خریدتا ہے
    اگر آپ یوٹیوبر ہیں تو آپ کو اپنے فالوورز سے تو سروکار ہوگا مگر یہ جاننے کی آپ کوشش ہرگز نہیں کرینگے کہ آپ کے ایک فالوور نے کتنی بار آپ کی ایک ہی ویڈیو دیکھی ہے ایک فالوور اگر آپ کی ایک ویڈیو دن میں ہزار بار بھی دیکھے گا تو آپ کے اس ویڈیو کے ہزار ویوورز یعنی دیکھنے والوں میں شمار ہوگا نا کہ یہ ہوگا کہ اس فالوور نے یہ ویڈیو ایک بار ہی دیکھی ہے ایسے ہی ڈارک ویب ہیں آپ ایک دن میں کسی ویب کو سرچ کریں تو اس کے ویوورز بڑھتے جاتے ہیں حتی کہ آپ دن میں ہزاروں مرتبہ اس ایک ویب پر ایک لنک کو اوپن کریں تو جب بھی آپ لنک اوپن کرینگے تو آپ کے ہر بار لنک اوپن کرنے سے ویوورز بڑھتے جائینگے
    مگر یہاں قصور وار ہم بھی ہیں ہم بنا سوچے سمجھے اور بغیر دیکھے ایسے کتنے ہی گندے لنکس اپنے واٹس ایپ گروپوں،فیسبک وال اور ٹویٹر و انسٹاگرام اکاونٹس پر لگا دیتے ہیں جن پر کلک کرتے ہی اس لنک کی ریٹنگ بڑھنے لگتی ہے بھلے آپ اس لنک کو کلک کرتے ہی بنا دیکھے چھوڑ دیں
    پاکستان کے 22.2 فیصد انٹرنیٹ صارفین میں سے بیشتر ان پڑھ ہیں یا پھر کم پڑھے لکھے اس لئے وہ ان چالوں کو سمجھنے سے قاصر ہیں اور فوری جاری کردہ فہرست کو آگے شیئر کرتے جاتے ہیں جس سے ہمارے دشمن ممالک کے لوگ اپنا ایجنڈا پایہ تکمیل تک پہنچاتے ہیں اور پاکستان قلعہ اسلام کو بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہیں
    یہی تو ان اسلام و پاکستان دشمن لوگوں کی ففٹھ جنریشن وار کی کامیابی ہے کہ بات آپ کے دشمن کی ذہن آپ کا انٹرنیٹ پیکج اور موبائل فون آپ کا اور باتیں عروج پر آپ کے دشمنوں کی تو معزز قارئین کرام آپ خود سوچیں آپ دن میں کتنی مرتبہ فحش مواد یا ڈارک ویبز دیکھتے ہیں ؟ یاں پھر آپ کے حلقہ احباب کے لوگ ایسی سائٹس کتنی بار دیکھتے ہیں ؟ یقینا نہیں
    تو پھر دشمن کی اس پھیلائی ہوئی شازش کو سمجھیں اور بنا تحقیق کے باتیں اور لنکس آگے فارورڈ کرنے سے پرہیز کیجئے