Baaghi TV

Category: بلاگ

  • جنسی درندوں کی سرزمین اور نئی سازش…از…انشال راؤ

    عورت کے بغیر انسانی معاشرے کی تکمیل ممکن نہیں، یہ عورت ہی ہے جو بچوں کی پرورش کرتی ہے جو معاشرے کی فلاح و بہبود اور سعادت و کامرانی کی راہ ہموار کرنے کا زریعہ بنتے ہیں، مودی ہو یا موہن بھاگوت، پنڈت ہو یا سوامی سب ہی عورت کے بطن سے پیدا ہوکر آج اس زمین پر اکڑ کر چل رہے ہیں،

    عورتوں کے حقوق کے لیے پوری دنیا میں آوازیں اٹھتی رہی ہیں اور اس سلسلے میں بیحد ڈویلپمنٹ بھی سامنے آئی ہے لیکن افسوس ہے کہ بھارت دنیا کا واحد خطہ ہے جہاں عورت کو جنسی تسکین کا زریعہ سمجھا جاتا ہے اور ہندوتوا کے ہاتھوں میں جانے کے بعد بھارت میں ریپ کیسز میں کئی سو گناہ اضافہ ہوا ہے،

    بھارتی اعداد و شمار کے مطابق یومیہ 92 ریپ و گینگ ریپ کے کیسز پولیس میں رپورٹ ہوتے ہیں جبکہ اس سے کئی گنا بڑی تعداد میں کیسز یا تو بدنامی سے بچنے کے لیے رپورٹ نہیں ہوتے یا پولیس ان کو رپورٹ نہیں کرتی جیسا کہ کچھ دن پہلے ہی کی بات حیدرآباد کے قریب ایک گاوں میں ایک غبارے و ٹافیاں بیچنے والی دلت عورت کا گینگ ریپ کرنے کے بعد قتل کردیا گیا جس کی رپورٹ درج کروانے اس کا خاوند پولیس اسٹیشن کے چکر کاٹتا رہا لیکن اس کے دلت ہونے کی وجہ سے کسی نے ایک نہ سنی،

    بڑھتے ہوے ریپ کیسز کی وجہ سے بھارت کو اب ریپستان کا نام دیا جارہا ہے، ریپ کلچر میں اضافے کی وجہ ہندوتوائی سوچ و رہنما ہیں، جیسا کہ اعلانیہ طور پر BJP سے منسلک ہندوتوا خواتین ونگ رہنما سنیتا سنگھ گاد نے کہا کہ ہندو دس اور بیس کی ٹولیاں بناکر مسلم خواتین کا ریپ کریں، اس کے علاوہ ہندوتوا سوچ و فکر کے مطابق دلت طبقے کو اونچی ذات کی خدمت کے لیے بنایا گیا ہے، جب یہ سوچ فکر پروان چڑھیگی تو یقیناً ریپ کیسز میں اضافہ ہونا کوئی حیرت کی بات نہیں،

    رواں ماہ حیدرآباد سے ایک وٹنری ڈاکٹر خاتون کو اغوا کرکے ریپ کے بعد زندہ جلادیا گیا جس پر پورے بھارت میں خواتین کی طرف سے شدید احتجاج کیا گیا جسکے بعد حکومت و پولیس کو مجبوراً حرکت میں آنا پڑا اور چار ملزمان کو عدالتی کاروائی کیے بغیر ہی پولیس مقابلہ دکھا کر قتل کردیا گیا لیکن اس کیس میں ایک انتہائی بھیانک پہلو دیکھنے میں آیا،

    سماج وادی پارٹی سے تعلق رکھنے والی ممبر پارلیمنٹ نے تقریر کرتے ہوے کہا کہ ریپ کرنے والوں کو Lynch کیا جانا چاہئے اور عوام قانون کو ہاتھ میں لیکر ان کا قتل کرے جبکہ دوسری طرف پولیس کی پریس کانفرنس سے پہلے ہی چاروں ملزمان کے نام میڈیا تک پہنچ گئے لیکن ہندوتوا میڈیا نے ان چار میں سے ایک مسلمان ملزم کے نام کو لیکر نفرتیں بکھیرنا شروع کردیں جسکے بعد ہندوتوا آرمی کا طوفان سوشل میڈیا پہ اتر آیا اور مسلمانوں کے خلاف مذموم مہم شروع ہوگئی جسکے اثرات بہت منفی آئینگے،

    اس سے پہلے کسی بھی مسلمان پر گائے ذبیحہ یا گائے کے گوشت کا الزام لگا کر قتل کردیا جاتا تھا اور کوئی پوچھنے والا نہیں تھا، اور اب ایک بار پھر ہندوتوا آرمی کو ایک بہانہ دیدیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی مسلمان فرد پر الزام لگا کر اسے قتل کردیں، یہ کوئی انوکھا کیس نہیں ہوا اسی روز ایک 23 سالہ خاتون کو ریپ کیس کی پیشی پر جاتے ہوے ملزمان نے قتل کرکے جلادیا،

    اس کے علاوہ کچھ روز قبل حیدرآباد ہی کے قریب ایک دلت خاتون کو ریپ کے بعد جلادیا گیا اور کچھ عرصہ پہلے ہی BJP رہنما کلدیپ سنگھ سنگار ریپ کرنے کے مرتکب ہوے اور متاثرہ عورت کو عدالت جاتے ہوے کچل دیا گیا لیکن نہ ہندوتوا میڈیا کو تکلیف ہوئی نہ ہی ہندوتوا آرمی کو عورت کی عظمت کا خیال آیا جبکہ وٹنری ڈاکٹر کے کیس میں ایک مسلمان ملزم جس پر ابھی جرم ثابت بھی نہیں ہوا تھا کے نام کو لیکر ہندوتوا میڈیا نفرتوں و اشتعال انگیزی پھیلاتا رہا جبکہ اس میں نامزد دیگر تین ہندو ملزمان کا ذکر تک نہ کیا،

    اب اگر آنے والے دنوں میں کسی اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے شخص بالخصوص مسلمان یا پھر کسی دلت کو ریپ کا الزام لگا کر قتل کیا گیا تو اسکی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی، ہندوتوا لیڈرز پر یا ہندوتوائی میڈیا پر؟ جب سے BJP اقتدار میں آئی ہے تو بھارت میں مسلمانوں پر زمین تنگ ہوتی جارہی ہے اور بھارتی میڈیا انسانی و عالمی حقوق کے برخلاف انسانیت کے خلاف جرائم کا مرتکب ہورہا ہے اور ایک مخصوص ایجنڈے پہ عمل پیرا ہے جسکے نتیجے میں پورا خطہ آگ و خون کی لپیٹ میں آجانا ہے، بھارتی میڈیا کے غیرذمیدارانہ کردار کے نتیجے میں پہلے ہی بھارت میں لاکھوں خاندان اجڑ چکے ہیں

    لیکن ہندوتوا میڈیا اسی روش پہ قائم ہے عالمی انسانی حقوق کے ذمہ دار اداروں و طاقتور ممالک کو اب بھارتی رہنماوں و میڈیا کے اس غیرذمیدارانہ کردار پر ٹھوس ایکشن لینا ہوگا ورنہ انسانی روپ میں چھپے یہ بھیڑئیے دنیا کے امن کو تباہ و برباد کردینگے۔
    آرزوئے سحر
    تحریر: انشال راؤ
    عنوان: جنسی درندوں کی سرزمین اور نئی سازش

  • اچھی زبان تھوڑا سا وقت…از.ساجدہ بٹ

    اچھی زبان تھوڑا سا وقت…از.ساجدہ بٹ

    آج کل ہم اپنی زندگیوں میں کس قدر کھو گئے ہیں کہ کسی دوسرے انسان کا ہمیں خیال ہی نہیں بس خود کے لیے جیتے ہیں۔
    اسی لیے تو معاشرہ آج کل افرا تفری کا شکار ہے ہم بھول بیٹھے ہیں کہ مرنا بھی ہے اور جو مال و دولت اکٹھی کر رہے ہیں یہ سب دُنیا میں رہ جائے گی۔

    ہمیں تو فخر ہونا چاہیے کہ ہم مسلمان ہیں اور ہماری اسلامی تعلیمات کس قدر اعلیٰ ہیں
    آئیے ذرا آج بات کرتے ہیں حسن معاشرت پر۔۔۔۔۔۔۔

    معاشرت ،باہم مل جل کر رہنے کو کہتے ہیں اور حسن معاشرت کا معنی ہے زندگی گزارتے ہوئے ایک دوسرے ساتھ نہایت عمدہ سلوک روا رکھنا۔

    ایک دوسرے کے ساتھ مل کے زندگی گزارتے ہوئے اعلٰی اخلاق کا مظاہرہ کرنا۔

    ایثار،خدمت،خیر خواہی،نیکی کے کاموں میں تعاون،ایک دوسرے کے لیے حُسنِ ظن رکھنا اور اس طرح کی دیگر اعلیٰ اقدار پر عمل کرتے ہوئے زندگی گزارنا۔

    اسلام نے حُسنِ معاشرت کے قیام کے لیے احسان کی روش اختیار کرنے کو بنیاد بنایا ہے
    احسان یہ کہ دوسرے کی ضروریات کا خود احساس کریں اس کی ضرورت کو خود محسوس کریں اور یہ سوچے بغیر کہ اس کی مدد کرنا ہماری زمداری تھی یا نہیں ۔۔۔۔۔
    ہم ہم اس کی مدد کے لیے آگے بڑھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ہمارے پیارے محبوب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا

    ٫٫تم لوگوں کی دیکھا دیکھی کام کرنے والے نا بن جاؤ تم لوگوں نے اچھا سلوک کیا تو ہم بھی اچھا کریں گے اور اگر انہوں نے زیادتی کی تو ہم بھی زیادتی کریں گے بلکہ تم زیادتی نہ کرو
    حُسنِ معاشرت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ
    معاشرتی زندگی میں الزام تراشی سے بچا جائے۔
    الزام تراشي ایسی چیز ہے جو معاشرتی اور ذہنی سکون کا خاتمے کا سبب بنتی ہے
    ہمارا عام رویہ ہے کہ ہم الزام لگانے میں بڑے بے باک ہو جاتے ہیں اور ہمارے ذہن سے یہ بات بالکل نکل جاتی ہے کہ اس سے کسی کی عزت پر کتنا منفی اثر پڑے گا۔
    پھر یہ اِلزام تراشی اگر جنسی زندگی سے متعلق ہو تو معاملہ مزید سنگین ہو جاتا ہے۔اس سلسلے میں اسلام نے ہمیں بے اعتدالی سے بچانے کے لئے قذف کی سزا مقرر کی ہے۔
    اس کی حکمت یہ ہے کہ اسلام نہیں چاہتا کہ جنسی زندگی اور بے حیائی کی گُفتگو لوگوں کی محفلوں کا موضوع ہو۔

    اسی طرح حسن معاشرت کے حوالے سے اسلام نے بہت سی ہدایات دی ہیں
    جیسے ایک دوسرے کے ہاں کھانے پینے سے باہم محبت پیدا ہوتی ہے

    *اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآنِ مجید میں ارشاد فرمایا۔۔۔۔۔

    لیس علیکم جناح ان تاکلوا جمعیا او اشتا نا
    ترجمہ:
    تم مل کر کھاؤ یا اکیلے اکیلے کھاؤ اس میں تم تم پر کوئی گناہ نہیں،،

    آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا

    مل کر کھاؤ تنہا نہ کھاؤ برکت مل کر کھانے میں ہے
    لیکن آج کل ہم کُچھ زیادہ ماڈرن ہو گئے صبح ناشتے کے لئے گھر کے افراد ہی اپنی زندگی میں اس قدر مصروف ہو گئے ہیں کہ جدید دور میں باپ الگ ناشتہ کرتا ہے۔
    بچے الگ کرتے ہیں ایسا کیوں ہے؟؟؟؟؟؟؟
    پھر عزیز و اقارب کی دعوت میں بھی ہم تکلف کا شکار ہیں۔
    یا پھر ہم اپنے برابر کے لوگوں کی دعوت کرتے ہیں وہ بھی اپنے سٹیٹس اونچا کرنے کے لیے۔۔
    افسوس کہ ہم ہر کام ہی محض اپنے لیے کرتے ہیں ۔
    اللہ تعالی کی رضا کے لیے ہم کُچھ نہیں کرتے۔

    پھر اسی طرح ہم بزرگوں کے ساتھ کس طرح کا رویہ اختیار کرتے ہیں؟؟؟
    اپنے گھر کے بزرگوں کو کتنا وقت دیتے ہیں دیگر ہمارے سامنے کتنے عمر رسیدہ بزرگ ہمارے محلے گلی بازار،ہمسائیوں میں ملتے ہیں اُن سے ہمارا رویہ کیسا ہے؟؟؟؟؟
    یقینا۔۔۔۔۔۔۔
    بُرا رویہ
    وہ اس طرح کے ہم اُنھیں وقت نہیں دیتے اُن سے مل بیٹھ کے بات نہیں کرتے انکی سنتے نہیں۔
    بس اپنی سناتے ہیں ہم سمجھتے ہیں کہ چار جماعتیں پڑھ کر ہم بڑے سمجھدار اور پتہ نہیں سکولر بن گئے ہمیں کیا ضرورت ان کی نصیحتوں کی۔۔۔۔۔۔
    ایسا بلکل نہیں یقین مانیے جو سکون اطمینان بزرگوں کے سائے میں ہے وہ کہیں نہیں
    نا کسی سینما میں نا کسی فلم اور ڈراما میں اور نا ہی دوستوں کی فضول محافل میں بیٹھنے سے ہے۔

    یہ تحریر لکھتے ہوئے مجھے اپنے یونیورسٹی کے ایک بہت قابل ٹیچر سر مختار صاحب ہیں اُن کی بات یاد آگئی۔
    وہ ہمیں کچھ بھی پڑھاتے تو ساتھ کہا کرتے تھے۔

    بیٹا میں مثال دیتا ہوں مثال سے بات سمجھ آتی ہے،،،
    وہ مثال دیا کرتے تھے اور ہمیں واقعی ہی سمجھ آ جاتی تھی۔
    میں بھی یہاں مختصر سا ایک واقع بیان کرنے کی کوشش کرتی ہوں شاید قارئین کو میری بات بھی سمجھ آجائے
    میں اپنی آپ بیتی کہانی سناتی ہوں۔
    مجھے دراصل بزرگوں سے کہانیاں سننے کا شوق ہے تاریخی واقعات جو ان سے پیش آئے ہوں وہ دلچسپی سے سنتی ہوں۔
    اپنی امی ابو سے کہانیاں سننے کی عادت ابھی بھی ہے۔
    ایک دن ایسا ہوا کہ میں ہمسائیوں کے گھر گئی ویسے ہی فارغ تھی سوچا اُن سے مل آؤں۔
    اُن کے گھر کے افراد میں دو بچے اور اُن کی ماں رہتے ہیں اور شوہر کام کے سلسلے میں گاؤں سے دور رہتے ہیں۔
    اس لیے میں کبھی کبھی چلی جاتی ہوں چونکہ وہ میری ہم عمر ہے تو اچھی گپ شپ ہو جاتی ہے۔
    ایک دن ایسا ہوا کہ میں گئی اُن کے ہاں تو اس بہن کے والدین آئے ہوۓ تھے جو کہ کافی عمر رسیدہ بزرگ تھے۔
    بہن کے والد صاحب تقریباً 80 برس کے تھے اُن کی نظر بھی کمزور اور سماعت بھی کمزور تھی۔
    مجھے چونکہ کہ بزرگوں سے بات چیت کرنے میں کہانیاں سننے میں مزا آتا ہے۔
    تو حسب معمول اُن سے بھی حال احوال پوچھنے لگی۔۔۔۔
    بات چیت کرنے کے بعد محسوس ہوا وہ کافی پریشان ہیں بیٹوں کے تلخ رویے کے وجہ سے اور اُن کا اپنے والدین کو وقت نا دینا۔
    اُنھیں تکلیف دیتا ہے۔
    خیر چلو یہ بات ایک طرف رہی۔
    وہ جتنے دِن یہاں رکے میں روز جاتی اُن سے ملتی کوئی واقع کوئی کہانی کوئی اسلامی بات سُننے کی فرمائش کرتی۔
    یقین مانیے میں الفاظ میں بتا نہیں سکتی کہ مجھے کس قدر دلی سکون ملتا اُن کو خوش دیکھ کے۔
    وہ بڑے شوق سے باتیں سناتے کبھی قرآن کریم میں موجود واقعات سناتے کبھی قیامت کا ذکر ہوتا۔
    کبھی جنگوں کا ذکر کرتے۔
    وہ مجھے ڈھیر ساری دعائیں دیتے اور خوش ہوتے ۔
    ایک دن گھر کی مصروفیات کی وجہ سے میں اُن کے گھر نا جا سکی۔
    انہوں نے باقاعدہ اپنی بیٹی کو بھیجا کہ

    وہ بیٹی جو روز آتی ہے آج کیوں نہیں آئی اُسے بلا کے لاؤ اُس کی خیریت معلوم کرو وہ ٹھیک تو ہے۔
    پھر اب جب وہ واپس اپنے گھر چلے گئے وہاں جا کر بھی اپنی بیٹی سے میری خیریت معلوم کرتے ہیں ڈھیر ساری دعائیں دیتے ہیں جی خوش ہوتا ہے سن کے
    بات ذرا مختصر کرتے ہیں کہ۔
    اُن بزرگوں سے بات کر کے محسوس ہوا کہ انہیں کچھ نہیں چاہیئے صرف وقت چاہئے اپنے بچوں کا جو شائد وہ دینا بھول گئے ہیں اور سمجھتے ہیں شاید وہ کبھی بوڑھے نہیں ہوں گے
    اُن پہ اس طرح کی کیفیت طاری نہیں ہو گی۔
    ایسا نہیں ہے۔۔۔۔۔
    بلکہ ہم سب کو اس طرح کے حالات سے گزرنا پڑے گا اگر ہمیں بھی ہمارے بچوں نے کسی فالتو چیز کی طرح پھینک دیا تو کیا ہو گا ہمارے دل پے کیا گزرے گی۔۔۔۔؟؟؟
    اور اللہ تعالیٰ کا عذاب اُن لوگوں کے لیے کتنا ہے جو والدین کی نافرمانی کرتے ہیں اُنہیں بے سہارا چھوڑ دیتے ہیں۔
    یہ ساری کہانی میں نے اس مقصد کیلئے بالکل بھی نہیں سنائی کہ میں نا چیز کُچھ ہوں۔
    محض اس لیے آپ بیتی سنائی کہ بزرگوں کے سائے میں رہنا کس قدر سکون دیتا ہے ہماری پریشانیوں کا حل،ہماری بے چینیوں کا حل بزرگوں کے پاس ہے ۔
    اُن بزرگوں کے لیے نہ صحیح ہمیں اپنے لیے ہی سہی لیکن بزرگوں کی محفل میں ضرور بیٹھنا چائیے۔
    زندگی گزارنے کے بہترین اصول ہمیں سیکھنے کو ملتے ہیں جو شائد بڑی بڑی کتابوں میں بھی ہمیں نہ ملیں۔۔۔
    یہ تحریر لکھنے کا مقصد صرف اتنا سا ہے کہ ہم صرف خود کے لیے نہ جیئیں معاشرے کے لئے جئیں دوسروں کے لیے بھی کُچھ کریں۔
    یہ ہی معاشرے کی خوبصورتی ہے اور اسی طرح باہمی میل جول سے معاشرتی حسن پیدا ہوتا ہے اور یہ ہی ہماری اسلامی تعلیمات ہیں۔
    تو پھر کیوں نہ آج ہی سے عہد کریں کہ ہم بھی معاشرے کے عظیم انسان بنیں گے، ہم میں بھی انسانیت جاگ جائے اللہ تعالیٰ ہمیں بھی عمل کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین یا رب العالمین۔۔۔۔۔

    یہ ہی ذوقِ عبادت کی انتہا

    کہ غم کے ماروں کا احترام کرو
    ۔۔۔۔۔۔۔۔

    اچھی زبان تھوڑا سا وقت
    بقلم: ساجدہ بٹ
    (جہد مسلسل)

  • تربیت اولاد کے دو اصول..از..خواجہ مظہر صدیقی

    تربیت اولاد کے دو اصول..از..خواجہ مظہر صدیقی

    چند روز پہلے فیصل آباد کے ایک نجی سکول کی سالانہ پیرنٹس ٹیچرز میٹنگ میں میرا تربیت اولاد کے عنوان پر سیشن تھا. اس تقریب میں کچھ بچوں اور والدین کو ایوارڈز بھی دیے گئے تھے. ایک دراز قد، بہ ظاہر ان پڑھ خاتون کو "سال کی بہترین ماں” کا ایوارڈ دیا گیا.

    سیشن کے اختتام پر میں نے ایوارڈ حاصل کرنے والی ماں کو ڈھونڈنا شروع کیا. لیکن وہ سکول میں پڑھنے والے تینوں بچوں کو لے کر اپنے گھر واپس جلی گئی تھیں. میں نے پرنسپل صاحب سے اس خواہش کا اظہار کیا کہ اگر آپ کو اس خاتون کا گھر معلوم ہو تو میں آپ کے ساتھ جا کر کچھ دیر کے لیے اس ماں سے ملنا چاہتا ہوں.

    پرنسپل صاحب مجھے سکول سے بہت دور محلہ غلام آباد لے گئے. وہاں ایک معمولی سا گھر تھا. جو ایک کمرے پر ہی مشتمل تھا. چھوٹا سا برآمدہ اور اتنا ہی صحن تھا. بچے اور ان کی ماں گھر میں موجود تھے . وہاں جا کر معلوم ہوا کہ بچوں کا والد ایک فیکٹری میں مزدوری کرتا ہے. ان کے تین بیٹے ہیں اور بیٹی کوئی نہیں. ماں گھر میں رہ کر سلائی مشین پر لوگوں کے کپڑے سیتی ہے. اپنی محنت کی کمائی سے وہ بچوں کی سکول فیس ادا کرتی ہے. یہ صرف ماں کا ہی شوق تھا کہ بچے شہر کے اچھے سکول میں پڑھ رہے تھے. سکول انتظامیہ نے بچوں کے شوق اور تعلیمی رجحان کو دیکھ کر کچھ فیس کم بھی کر دی تھی.

    میری کھوجی طبیعت کو ایک دل چسپ سٹوری ملنے والی تھی. میں ہمیشہ اپنے ارد گرد بکھری کہانیوں کو ہی فوکس کرتا ہوں. ہمارے ارد گرد ایسے ہزاروں کردار موجود ہیں جنہیں رول ماڈل بنا کر آگے بڑھا جا سکتا ہے. زندگی ساز اور کردار ساز واقعات کی ہمارے ہاں کوئی کمی نہیں، بس دیکھنے والی آنکھ اور محسوس کرنے والے دل کی کمی ہے.

    میں نے پرنسپل صاحب کی اجازت سے اس خاتون سے پوچھا کہ آپ کو سال کی بہترین ماں کا ایوارڈ ملا ہے. اس ایوارڈ ملنے پر آپ کیا محسوس کر رہی ہیں ؟ وہ خاتون پر جوش اور پر اعتماد انداز میں بولیں، مجھے بہت خوشی ہو رہی ہے. پچھلے سال بھی مجھے ہی یہ ایوارڈ ملا تھا. کیوں کہ میرے بچے سکول سے ناغہ نہیں کرتے، صاف ستھرے یونیفارم میں سکول جاتے ہیں. ان کی لکھائی بہت خوب صورت ہے. ان کا ہوم ورک مکمل ہوتا ہے. یاد کرنے کا سبق بھی ٹھیک طرح سے یاد کر کے جاتے ہیں. تینوں بچے ہر سال امتحانات میں فرسٹ پوزیشن بھی لیتے ہیں. خاتون کے بچے بلترتیب چھٹی، پانچویں اور چوتھی جماعتوں میں زیر تعلیم تھے.

    میں نے پوچھا، کیا بچے سکول کے بعد اکیڈمی پڑھنے جاتے ہیں؟، وہ خاتون جھٹ سے بولی. نہیں، میں نے انہیں کبھی بھی کسی اکیڈمی میں نہیں بھیجا. میں ان پڑھ ہوں لیکن میں نے دو اصولوں کو اپنی زندگی کا لازمہ بنا لیا ہے.

    پہلا اصول یہ ہے کہ میں گھر کے تمام ضروری اور بنیادی کام کپڑے دھونا، صفائی وغیرہ، کھانا پکانا، سلائی مشین پر کپڑے سینا اس وقت کرتی ہوں جب بچے سو رہے ہوں یا سکول گئے ہوں یا عصر کے بعد گراؤنڈ میں کھیلنے کے لیے گئے ہوں. میں اس دوران میں ہی سارے کام نمٹا لیتی ہوں . جب میرے بچے گھر آتے ہیں تو میں اپنی پوری توجہ ان کو دیتی ہوں. اس وقت گھر کا کوئی کام نہیں کرتی. میرے بچے ہوتے ہیں یا میں ان کا سایہ بن کر ان کے ساتھ ساتھ ہوتی ہوں.

    میں بڑی توجہ سے سادہ پنجابی لہجے کی اردو میں اس خاتون کی باتیں سن رہا تھا، جب وہ لمحے بھر کو رکیں تو میں نے پوچھا دوسرا اصول بھی بتا دیں . وہ ہلکی سی مسکراہٹ چہرے پہ سجاتے ہوئے بولیں، میرا دوسرا اصول یہ جیسے ہی میرے بچے مغرب کی نماز سے فارغ ہوتے ہیں. میں فرش پر چٹائی بچھا کر بیٹھ جاتی ہوں اور انہیں کہتی ہوں کہ اپنے اپنے سکول کے بستے لے آؤ. پھر میں ان میں سے ہر ایک سے اس کا سکول میں پڑھا جانے والا سبق سنتی ہوں.

    بچوں کی ماں کہتی ہے کہ مجھے کچھ سمجھ نہیں آتی. لیکن میرے بچے سمجھتے ہیں کہ میں پڑھی لکھی ہوں اور سب کچھ سمجھ رہی ہوں. میں ہر مضمون کا سبق تین بار پڑھنے کا کہتی ہوں. بچے سناتے ہوئے یاد کر لیتے ہیں. روز کا سبق روز یاد کرنے سے بچے امتحانات کے دنوں میں پریشان بھی نہیں ہوتے. انہیں پوری کتاب یاد ہو چکی ہوتی ہے. مغرب سے عشاء تک بچے بلا ناغہ میرے پاس بیٹھ کر پڑھتے ہیں. میں بھی روز کچھ نیا سیکھتی ہوں. اور میرے دل کو تسلی بھی ہو جاتی ہے کہ میرے تینوں بیٹوں نے اپنا سبق دہرا کر اپنے ذہنوں میں محفوظ کر لیا ہے.

    بات ختم ہو چکی تھی. میں وہاں سے واپس آتے ہوئے رستے میں یہ سوچ رہا تھا کہ ایک ان پڑھ ماں اپنے بچوں کو ملک و قوم کی خدمت کے لیے کس انداز میں تیار کر رہی تھی. وہ قابل تعریف ماں ہے. یقیناً یہی بچے ہمارے مستقبل کے معمار بنیں گے.

    ایک قابل رشک کہانی… تربیت اولاد کے دو اصول
    (خواجہ مظہر صدیقی)

  • آئی سی سی انڈر 19 کرکٹ ورلڈکپ 2020 کے لیے قومی اسکواڈ کا اعلان

    آئی سی سی انڈر 19 کرکٹ ورلڈکپ 2020 کے لیے قومی اسکواڈ کا اعلان
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق روحیل نذیر کپتان برقرار، ملتان کے 16سالہ محمد شہزاد اور ٹیسٹ فاسٹ باؤلر نسیم شاہ اسکواڈ کا حصہ ، یکم ستمبر 2000 یا اس سے کے بعد پیدا ہونے والے کھلاڑی انتخاب کے اہل تھے.جونیئر سلیکشن کمیٹی نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے نوجوان کھلاڑیوں کو میگا ایونٹ کے لیے قومی انڈر 19 کرکٹ ٹیم میں شامل کیا

    لاہور،6دسمبر2019ء:

    قومی جونیئر سلیکشن کمیٹی نے آئی سی سی انڈر 19 کرکٹ ورلڈکپ 2020 کے لیے 15رکنی قومی انڈر 19 اسکواڈ کا اعلان کردیا ہے۔ ایونٹ آئندہ سال 17 جنوری سے9فروری تک جنوبی افریقہ میں جاری رہے گا۔

    اعلان کردہ اسکواڈ کے مطابق وکٹ کیپر بیٹسمین روحیل نذیر کو قومی انڈر 19 کرکٹ ٹیم کا کپتان برقرار رکھتے ہوئے اوپنر حیدر علی کو نائب کپتان مقرر کیا گیا ہے۔

    قومی انڈر 19 کرکٹ ٹیم اس سے قبل 2004 بنگلہ دیش اور 2006 سری لنکا میں منعقدہ آئی سی سی انڈر 19 ورلڈکپ کی فاتح رہ چکی ہے۔ پاکستان ایونٹ کے 3 ایڈیشنز میں رنرزاپ بھی رہ چکا ہے۔

    24 روز تک جاری رہنے والے ایونٹ میں 16 ممالک کی ٹیمیں شرکت کریں گی۔آئندہ سال17 جنوری سے شروع ہونے والے ایونٹ کا فائنل بینونی کے جے پی مارک اوول میں کھیلا جائے گا۔ ایونٹ کے فاتح کا فیصلہ 9 فروری کو ہوگا۔

    ایونٹ میں پاکستان کا پہلا میچ 19جنوری کوسکاٹ لینڈ کے خلاف پوچیف اسٹروم میں کھیلاجائے گا۔

    قومی انڈر 19 کرکٹ ٹیم ایونٹ میں ا پنا دوسرا میچ22 جنوری کو زمباوے کے خلاف بلوم فاؤنٹین میں کھیلے گی۔ گروپ مرحلے میں پاکستان کا آخری میچ بنگلہ دیش کے خلاف ہوگا۔ دونوں ٹیمیں 24 جنوری کو جے پی مارک اوول میں مدمقابل آئیں گی۔ ہر گروپ سے 2 بہترین ٹیمیں سپر لیگ مرحلے میں رسائی حاصل کریں گی جبکہ باقی تمام ٹیمیں پلیٹ چیمپئن شپ کے لیے نبردآزمائی کریں گی۔ ایونٹ میں سپر لیگ مرحلے کا آغاز 28 جنوری کو ہوگا۔ سپر لیگ مرحلے کے اختتام پر 4 ٹاپ ٹیمیں سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کریں گی۔

    اسکواڈ(یکم ستمبر 2000 یا اس کے بعد پیدا ہونے والے کھلاڑیوں کا انتخاب کیا جاسکتا تھا):اوپنرز: عبدالواحد بنگلزئی (کوئٹہ)، حیدر علی (راولپنڈی) اور محمد شہزاد (ملتان)۔مڈل آرڈرز: محمد حارث (پشاور)،محمد حریرہ (سیالکوٹ) اور محمد عرفان خان (لاہور)۔
    وکٹ کیپر: روحیل نذیر(کپتان)۔آلراؤنڈرز: عباس آفریدی( پشاور)، فہد منیر (لاہور)، قاسم اکرم (فیصل آباد)۔اسپنرز: عامر علی (لاڑکانہ) اور آرش علی خان (کراچی)۔فاسٹ باؤلرز: عامر خان (پشاور)، نسیم شاہ (لاہور) اور طاہر حسین (ملتان)۔

    ٹیم منیجمنٹ:
    اعجاز احمد ( ہیڈ کوچ کم منیجر)، راؤ افتخار انجم (باؤلنگ کوچ)، عبدالمجید(اسسٹنٹ کوچ)، حافظ نعیم الرسول (فزیو تھراپسٹ)، صبور احمد (ٹرینر) ، عثمان ہاشمی( اینالسٹ) ،عماد حمید (میڈیا منیجر) اورکرنل (ر)عثمان رفعت انصاری( سیکورٹی منیجر) ۔سلیم جعفر، سربراہ قومی جونیئر سلیکشن کمیٹی:

    سلیم جعفر نے کہا کہ وہ آئی سی سی انڈر 19کرکٹ ورلڈکپ 2020 کے لیے قومی انڈر 19 ٹیم کا حصہ بننے پر تمام کھلاڑیوں کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیم میں شمولیت کے لیے بہترین کھلاڑیوں کا انتخاب کیا گیا ہے تاہم جن کھلاڑیوں کا نام اسکواڈ میں شامل نہیں انہیں مایوس ہونے کی ضرورت نہیں۔

    سربراہ جونیئر سلیکشن کمیٹی نے کہا کہ کھلاڑیوں کی حالیہ کارکردگی کو پیش نظر رکھتے ہوئے میگا ایونٹ کے لیے قومی انڈر 19 کرکٹ ٹیم کا انتخاب میرٹ پر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ منتخب کردہ کھلاڑیوں نے حال ہی میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے ، امید ہے تمام کھلاڑی ایونٹ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے۔

    سلیم جعفر نے کہا کہ عامرخان، آرش علی خان اور محمد حریرہ کے علاوہ اسکواڈ میں شامل تمام کھلاڑی اس سے قبل رواں سال قومی جونیئر ٹیم کی نمائندگی کرچکےہیں۔

    تین کھلاڑی، عماد بٹ، اختر شاہ اور صائم ایوب، انجریز کے باعث سلیکشن کے لیے دستیاب نہیں تھے۔

    دس جنوری 2020 تک قومی انڈر 19 ٹیم میں تبدیلی کے لیے آئی سی سی کی اجازت درکار نہیں ہوگی تاہم 11 جنوری سے اسکواڈ میں تبدیلی فٹنس مسائل کے باعث کی جاسکتی ہے مگر اس کے لیے آئی سی سی کی ٹیکنیکل کمیٹی کی اجازت ضروری ہے۔

    روحیل نذیر(کپتان):

    روحیل نذیر دوسری بار آئی سی سی انڈر 19کرکٹ ورلڈکپ میں شرکت کریں گے۔ گذشتہ سال اپنے فرسٹ کلاس ڈیبیو میں سنچری اسکور کرنے والے روحیل نذیر کواے سی سی انڈر 19 ایشیا کپ 2019کے لیے بھی قومی انڈر 19 کرکٹ ٹیم کا کپتان مقرر کیا گیا تھا۔ دورہ سری لنکا اور جنوبی افریقہ میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے روحیل نذیر نے اے سی سی ایمرجنگ ایشیا کپ 2019 کےفائنل میں بھی شاندار سنچری اسکور کی تھی۔ وہ رواں سال 5فرسٹ کلاس میچز میں 170رنزبناچکے ہیں۔

    حیدر علی (نائب کپتان):

    جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز میں 317 اور دورہ سری لنکا پر 214 رنز بنانے والے حید ر علی نے گذشتہ ماہ اے سی سی ایمرجنگ ایشیا کپ 2019 کے 5میچوں میں 218 رنزبنائے تھے۔ حیدر علی رواں سال6فرسٹ کلاس میچز میں503 رنزبناچکےہیں۔

    عامر خان:

    18 سالہ کرکٹر عامر خان قومی انڈر 19 تین روزہ کرکٹ ٹورنامنٹ کے 5 میچوں میں 18وکٹیں حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ 2 ایک روزہ میچوں میں بھی 1 وکٹ حاصل کرچکے ہیں۔انہوں نے قائداعظم ٹرافی سیکنڈ الیون ٹورنامنٹ کے 3میچوں میں 5وکٹیں حاصل کیں۔

    عباس آفریدی:

    عباس آفریدی نے جنوبی افریقہ، سری لنکا اور ایشیا کپ کے کل 13 میچوں میں 17وکٹیں حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ 129 رنز اسکور کیے۔گذشتہ تین سال قومی انڈر 19 ٹورنامنٹس میں شرکت کرنے والے عباس آفریدی نے رواں سال ایونٹ میں شرکت نہیں کی۔

    عبدالواحد بنگلزئی:
    17سالہ کرکٹر کاقومی ایک روزہ کرکٹ ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑیوں کی فہرست میں پانچواں نمبر ہے۔ ایونٹ میں 246 رنز بنانے والے عبدالواحد بنگلزئی قومی تین روزہ انڈر 19 کرکٹ ٹورنامنٹ میں بھی 276 رنز بناکر چھٹے بہترین بیٹسمین قرار پائے تھے۔ وہ اے سی سی انڈر 19 ایشیا کپ بھی کھیل چکےہیں۔

    عامر علی:

    بائیں ہاتھ کے اسپنر 18 سالہ عامر علی نے رواں سال فرسٹ کلاس ڈیبیو میں ایک وکٹ حاصل کی تھی۔اس سے قبل وہ دورہ جنوبی افریقہ میں 13 وکٹیں حاصل کرکے ایونٹ کے بہترین باؤلر قرار پائے تھے۔ اے سی سی ایشیا کپ کے 3میچوں میں 4وکٹیں حاصل کرنے والے عامر علی قومی انڈر 19 ایک روزہ کرکٹ ٹورنامنٹ میں 7 اور قومی انڈر 19 تین روزہ کرکٹ ٹورنامنٹ میں 28 وکٹیں حاصل کرچکے ہیں۔

    آر ش علی خان:

    آرش علی خان 15 وکٹیں حاصل کرکے قومی ایک روزہ انڈر 19 کرکٹ ٹورنامنٹ کے بہترین باؤلر قرار پائے ۔ وہ تین روزہ کرکٹ ٹورنامنٹ میں30 وکٹیں حاصل کرکے ایونٹ کےدوسرے بہترین باؤلر رہے۔آرش علی خان پہلی بار قومی انڈر 19 کرکٹ ٹیم کا حصہ بنے ہیں۔

    فہد منیر:

    فہد منیر نے دورہ جنو بی افریقہ میں 5وکٹیں حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ 170 رنز بنائے تھے۔ وہ اس سال قومی انڈر 19 ٹورنامنٹس میں شرکت نہیں کرسکے۔

    محمد حارث:

    دورہ جنوبی افریقہ میں 275 جبکہ ایشیا کپ میں 96 رنز اسکور کرنے والے محمد حارث کا تعلق پشاور سے ہے۔

    محمد حریرہ:

    قومی انڈر 19 ایک روزہ کرکٹ ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ 342 رنزبنانے والے محمد حریرہ تین روزہ کرکٹ ٹورنامنٹ میں بھی 358 رنز اسکورکرکے تیسرے بہترین بلے باز قرار پائے تھے۔

    محمد عرفان خان:

    اے سی سی انڈر 19 ایشیا کپ میں پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ رنز بنانے والے بلے بازوں میں تیسرے نمبر پر رہنے والے محمد عرفان خان دورہ جنوبی افریقہ پر 208 اور قائداعظم ٹرافی کے 10 نان فرسٹ کلاس میچز میں 475رنز بناچکے ہیں۔

    محمد شہزاد:

    16 سالہ محمد شہزاد نے بنگلہ دیش کے خلاف سیریز میں قومی انڈر 16 کرکٹ ٹیم کی نمائندگی کی۔ انہوں نے بنگلہ دیش میں کھیلے جانے والے تین میچوں میں 26 جبکہ پاکستان میں کھیلے جانے والے تین میچوں میں 72 رنزبنائے تھے۔

    نسیم شاہ:

    آسٹریلیا کے خلاف برسبین میں ٹیسٹ ڈیبیو کرنے والے نسیم شاہ نے اے سی سی انڈر 19 ایشیا کپ میں 4 اور جنوبی افریقہ کےخلاف سیریز میں 12 جبکہ قائداعظم ٹرافی کے4 میچز میں 18 وکٹیں حاصل کرچکے ہیں۔

    طاہر حسین:

    طاہر حسین نے قومی ایک روزہ انڈر 19 کرکٹ ٹورنامنٹ میں 6وکٹیں حاصل کیں۔

    قاسم اکرم:

    قاسم اکرم قومی ایک روزہ انڈر 19 کرکٹ ٹورنامنٹ میں 296 رنز اسکور کرنے کے ساتھ ساتھ 3وکٹیں حاصل کرچکے ہیں۔ انہوں نے قومی تین روزہ انڈر 19کرکٹ ٹورنامنٹ میں 260 رنز اسکور کرنے کے ساتھ ساتھ 15وکٹیں حاصل کیں۔ایشیا کپ کے 4میچوں میں 30وکٹیں حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے جنوبی افریقہ اور سری لنکا کے خلاف سیریز میں بالترتیب 77 اور 124 رنزبنائیں۔

  • انگلینڈ کے سابق کپتان اور خطرناک تیز باؤلر باب ولیس چل بسے

    انگلینڈ کے سابق کپتان اور خطرناک تیز باؤلر باب ولیس چل بسے

    انگلینڈ کے سابق کپتان اور خطرناک تیز بولر باب ولیس چل بسے

    باغی ٹی وی : انگلینڈ کے سابق کپتان اور خطرناک تیز بولر باب ولیس 70 سال کی عمر میں فوت ہوگئے ہیں ، ان کے اہل خانہ نے بدھ کے روز اعلان کیا۔

    1982 سے 1984 کے درمیان اپنے ملک کی کپتانی کرنے والے ولس نے 90 ٹیسٹ میچ کھیلے تھے جن کی یادگار کارکردگی انہوں نے 1981 میں تیسرے ایشز ٹیسٹ کی آسٹریلیائی دوسری اننگز میں 43 کے اسکور پر آٹھ رنز بنائے تھے۔

    انگلینڈ کے آل راؤنڈر ایان بوتھم کی شاندار پرفارمنس کی وجہ سے اس سیریز کو ‘بوتھم ایشز’ کے نام سے جانا جاتا تھا۔

    ولی نے اپنے ٹیسٹ کیریئر کو 325 وکٹوں کے ساتھ ختم کیا ، جو انگلینڈ کے وکٹ لینے والوں کی جیمز اینڈرسن ، بوتھم اور اسٹورٹ براڈ کے پیچھے آل ٹائم فہرست میں چوتھے نمبر پر ہے۔

    "ہم اپنے پیارے باب ، جو ایک ناقابل یقین شوہر ، والد ، بھائی اور دادا تھے ، کو کھونے کی وجہ سے افسردہ اور غمگین ہیں. ،ان افراد خانہ کا کہنا تھا کہ

    "اس نے اپنے ہر فرد پر بہت بڑا اثر ڈالا اور ہم اسے بہت زیادہ یاد کریں گے۔”

    سابق بین الاقوامی کرکٹر کے بعد ان کی اہلیہ لارین ، بیٹی کیٹی ، بھائی ڈیوڈ اور بہن این زندہ رہ گئے ہیں۔

  • تحریک انصاف کا کرپشن کے بعد مافیا کے خلاف کریک ڈاؤن –از… فردوس جمال

    تحریک انصاف کا کرپشن کے بعد مافیا کے خلاف کریک ڈاؤن –از… فردوس جمال

    مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کہنے کو تو سیاسی جماعتیں ہیں لیکن ہر دو کا کرپشن کے علاوہ جرم کی دنیا سے بھی بہت گہرا تعلق رہا ہے.

    پچھلے چالیس سالوں میں ہر دو کی ناک کے نیچے ان کی آشیر باد سے مختلف مافیاز متحرک رہے ہیں پاکستان کے انڈر ورلڈ سے دونوں کے دیرینہ رشتے ہیں.

    تحریک انصاف حکومت نے جہاں ان دو پارٹیوں کی کرپشن کے خلاف احتساب شروع کر رکھا ہے وہی پہلی بار ان مافیاز پر بھی ہاتھ ڈالا جا رہا ہے جن کا ان دو پارٹیوں سے ناجائز تعلق ہے،ملک ریاض اور آصف زرداری کا دوست مشہور ڈان تاجی کھوکھر اس کی تازہ مثالیں ہیں.

    صرف پنجاب میں درجنوں ایسے بدمعاش گروہ ہیں جو قتل و غارت،گینگ وار اور ڈکیتیوں جیسی وارداتوں میں ملوث ہیں اور ان پر مسلم لیگ ن کا دست شفقت رہا ہے.

    ٹیپو ٹرکاں والا،طیفی بٹ،شاہیا ملاں مظفر گروپ شاہد میو گروپ،صفدر ٹینٹاں والا،نوری نت،بھیلا بٹ،زاہد گروپ،عارف بھنڈر گروپ،استو نمبردار گروپ،ملک نثار گروپ،کالو شاہ پوریا گروپ،عارف حویلیاں والا،وغیرہ

    یہ جرم کی دنیا کے وہ نام اور کردار ہیں جن کی گینگ وار میں پچھلے چالیس سال میں 1000 سے زائد افراد موت کے
    منہ میں چلے گئے ہیں.

    انڈر ورلڈ کے ان گروہوں کے پنجاب و سندھ کے مختلف علاقوں میں بقاعدہ اڈے ہیں جہاں مورچے بنے ہیں ان مورچوں پر ہیوی ہتھیاروں کے ساتھ ان کے لوگ بیٹھے ہوتے ہیں،آج تک پولیس وہاں نہیں گئی اس لئے کہ ان گروہوں کو مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کی حمایت حاصل تھی.
    تحریر!
    بقلم فردوس جمال!!!

  • 5-دسمبرشاعرانقلاب پیدا ہوئے ، 121 ویں‌ سالگرہ

    5-دسمبرشاعرانقلاب پیدا ہوئے ، 121 ویں‌ سالگرہ

    ملیح‌ آباد: الفاظ کو جاہ و جلال بخشنے اور شاعر انقلاب کا اعزاز پانے والے نامور شاعر جوش ملیح آبادی کی ایک سو اکیسویں سالگرہ آج عقیدت و احترام سے منائی جا رہی ہے۔اصل نام بشیر حسن تھا، وہ 5 دسمبر 1898 کو ملیح آباد میں پیدا ہوئے، انھوں نے 1914 میں سینئر کیمرج کا امتحان پاس کیا 1925 میں جوش نے عثمانیہ یونیورسٹی میں ترجمے کا کام شروع کیا۔

    بال بن گئے وبال جان ، بال رنگنے سے چھاتی کے سرطان کا خطرہ

    جوش ملیح آبادی نے نظام حیدر آباد کے خلاف ایک نظم لکھی جس پر انھیں ریاست حیدر آباد سے نکال دیا گیا۔نظم’’ حسین اور انقلاب‘‘ لکھنے پر انھیں شاعر انقلاب کا بھی اعزاز دیا گیایاد رہے کہ تقسیم ہند کے چند برسوں بعد ہجرت کرکے کراچی میں مستقل سکونت اختیار کی جوش کونہ صرف اپنی مادری زبان بلکہ ہندی ،عربی،فارسی،اور انگریزی زبان میں بھی عبور حاصل تھا۔

    پاکستانیوں کے لیے امریکی سفارتخانے کی طرف سے ویزا کی فراہمی،700 روپے میں‌…

    جوش ملیح آبادی ایک قادر الکلام شاعر تھے، انھوں نے عمر بھر صاف گوئی، صداقت اور جرأت کا علم بلند رکھا۔وہ22 فروری 1982 کو 84 سال کی عمر میں دنیا فانی سے کوچ کر گئے، انھوں نے اپنی شاعری کا جو خزانہ چھوڑا وہ کبھی ختم ہونے والا نہیں ہیں۔ اپنی اسی خداداد صلاحیتوں کے وصف سے آپ نے قومی اردو لغت کی ترتیب وتالیف میں بھر پور علمی معاونت کی۔

    پیرسے جمعرات،پروگرام”کھراسچ”میزبان مبشرلقمان،

  • "کرتارپور میں ہورہا ہے خلاف توقع اور فکر انگیز کام” تحریر : طارق محمود

    2 روز قبل چند دوستوں کے ساتھ کرتار پور جانے کا اتفاق ہوا تقریباً 140 کلومیٹر سفر کرنے کے بعد جب گیٹ پر پہنچے تو پاکستان رینجرز کے جوانوں نے ہیمں فوراً روک لیا اور کہا کہ آپ کیمرہ لے کر اندر نہیں جا سکتے۔ کیمرہ یا مائیک اندر وہی لے کر جا سکتے ہیں جن کے پاس آئی ایس پی آر کا اجازت نامہ نا ہو یہ سننے کے بعد ہم نے سیکورٹی اہلکاروں سے بحث کرنا مناسب نا سمجھا اور اپنے کیمرے باہر رکھ کر اندر چلے گئے جب دربار کرتار پور صاحب میں داخل ہوئے تو وہاں کا منظر ہی کچھ نرالہ تھا ہم نے تقریباً 50 کے قریب کیمرے لوگوں کے پاس دیکھے جو وہاں کے مناظر کو محفوظ کر رہے تھے دوستوں نے استفسار کیا کہ یار ہمیں کیمرے کی اجازت نہیں دی گئی پر یہاں تو لاتعداد کیمرے ہیں یہ کیسے اندر ا گئے ہیں دوستوں کا کہنا تھا کہ یار سب باتیں ہیں پورا سسٹم ہی خراب ہے جس کی اپروچ ہوتی ہے وہ کیمرہ اندر لے آتا ہے ورنہ ایسا کون سا خطرہ ہے جو ہمارے کیمرے سے درپیش ہے اور دوسروں کے کیمرے اس سے استثنیٰ ہیں دوسری بات جس نے دلخراش کیا وہ یہ تھی کہ ہم عام شہریوں کی طرح لائن میں لگ گئے اور سیکیورٹی اہلکار بھی لوگوں کو لائنوں میں رہنے کا بار بار کہہ رہے تھے اسی دوران گاہے بگاہے چند لوگ اہلکاروں سے ا کر کچھ کہتے اور نظم و ضبط کے سارے اصول بالائے طاق رکھتے ہوئے ان کو فوراً اندر بھیج دیا جاتا۔ یوں نظم و ضبط قائم کروانے والے ہی اس کی دھجیاں بکھیرتے رہے۔ واپسی پر جب گیٹ سے باہر نکلنے لگا تو سوچا ساری صورتحال پر اہلکاروں کا مؤقف ہی لے لوں جب سوال کیا کہ حضور ہمیں کیمرہ کی اجازت نہیں دی گئی لیکن اندر تو بے شمار کیمرے تھے وہ کس دستور کے تحت اندر گئے تو اہلکار کا جواب سن کر جو سکتا طاری ہوا وہ شائد ابھی بھی قائم ہے رینجرز اہلکار کا کہنا تھا کہ صاحب آپ کو پتا ہے جنگل کا قانون ہے جو پروٹوکول والی گاڑیاں ہوتی ہیں ان کو ہم چیک نہیں کرتے ۔ ان میں کیا کچھ اندر چلا جاتا ہے ہمیں کچھ پتا نہیں ہوتا۔ دوسری وجہ اوپر سے فون آنا ہوتا ہے جس کی کال ا جائے اس کو ہم منع نہیں کر سکتے۔ آپ کو ہماری مجبوریوں کو سمجھنا ہو گا اور گزارہ کرنا ہوگا آخر میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ میں جیسے شہری جو بڑی مشکل سے وقت نکال کر اور سفر کی صعوبتیں برداشت کرنے کے بعد جب محتلف سیاحتی یا مذہبی مقامات پر پہنچتے ہیں اور اپنے کیمرے سے پاکستان کا مثبت چہرہ دیکھانے کی کوشش کرتے ہیں تو ان کو کیمرہ اندر لےجانے سے منع کیوں کیا جاتا ہے حالانکہ غیر ملکی سیاحوں کو کیمرہ اور ڈرون سے کبھی منع نہیں کیا گیا۔ کیا سیکورٹی خدشات صرف اور صرف میرے جیسے دیگر پاکستانی سیاحوں سے لاحق ہیں؟ اور سیکورٹی اہلکاروں کا پروٹوکول یا اپروچ والا رویہ درست ہے اگر ایسا ہے تو پھر سیاحت سے اور پاکستان کے مثبت چہرہ کو دیکھانے سے میری توبہ۔

  • آصف زداری کی ضمانت بارے پیپلز پارٹی کا اہم فیصلہ

    آصف زداری کی ضمانت بارے پیپلز پارٹی کا اہم فیصلہ

    باغی پیپلزپارٹی نے آصف زرداری کی درخواست ضمانت دائرکرنےکا فیصلہ کیا ہے بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ سابق صدرآصف زرداری کی طبیعت بدستورناسازہے،آصف زرداری مان گئے،طبی بنیادوں پرضمانت کےلیےدرخواست دائرکریں گے،آصفہ بھٹونےآصف زرداری کوطبی بنیادپرضمانت کےلیےمنالیا.طبی بنیادوں پرضمانت کےلیےدرخواست دائرکریں گے،امیدہےکل تک طبی بنیادوں پردرخواست ضمانت دائرکریں گے،آصفہ بھٹوکی درخواست پرسابق صدرراضی ہوئے ہیں.

    بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ آرمی چیف کی تعیناتی سےمتعلق سپریم کورٹ کےتفصیلی فیصلےکےمنتظرہیں،فارن فنڈنگ کاتعلق صرف تحریک انصاف سےہے.فارن فنڈنگ سےمتعلق پیپلزپارٹی پرالزامات جھوٹےہیں،اپوزیشن نےاتفاق رائےسےحکومت کونام بھیجے،چیف الیکشن کی تعیناتی کےلیےہم نے3نام بھیجےہیں،وزیراعظم ہرمعاملےمیں غیرسنجیدگی کامظاہرہ کرتےہیں،بوزیراعظم نےپہلےبھی دوسرےمعاملات میں اتفاق رائےپیدانہیں کیا،وزیراعظم کےرویےسےلگتاہےوہ قانون سازی کےلیےاتفاق رائےنہیں چاہتے،بپیپلزپارٹی اپنےموقف سےپیچھےہٹنےکوتیارنہیں،
    وزیراعظم اپوزیشن رہنماوَں پردباوَڈالناچاہتےہیں،امیدہےعدالتی فیصلےسےہمیں رہنمائی ملےگی،بلاول بھٹوزردار

  • حجر اسود تاریخ اور اہمیت—از…غلام زادہ نعمان صابری

    حجر اسود تاریخ اور اہمیت—از…غلام زادہ نعمان صابری

    حجر اسود
    پیارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کی دنیا میں تشریف آوری سے پہلے خانہ کعبہ بتوں کا مسکن تھا جو پتھروں کے بنے ہوئے تھے جنہیں مشرکین مکہ پوجتے تھے اور جنہیں وہ اپنا خدا مانتے تھے۔لیکن حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم نے خانہ کعبہ کو بتوں سے پاک کیا اور سب کو اسلام کی دعوت دی اورپتھروں کی عبادت سے منع فرما کر ایک معبود حقیقی کی عبادت کرنے کا حکم صادر فرمایا۔
    لیکن خانہ کعبہ کی دیوار میں ایک ایسا پتھر بھی چن دیا جس کی عبادت لازم قرار دی،اس مبارک پتھر کا نام حجر اسود ہے۔

    حجر اسود عربی زبان کے دو الفاظ کا مجموعہ ہے۔ حجر عربی میں پتھر اور اسود، سیاہ اور کالے رنگ کو کہتے ہیں۔ حجر اسود وہ کالے رنگ کا پتھر ہے جو کعبہ کی جنوب مشرقی دیوار میں نصب ہے۔ اس وقت یہ تین بڑے اور مختلف شکلوں کے کئی چھوٹے ٹکڑوں پرمشتمل ہے۔ یہ ٹکڑے اندازاً ڈھائی فٹ قطر کے دائرے میں جڑے ہوئے ہیں جن کے گرد چاندی کا گول دائرہ بنا ہوا ہے۔ جو مسلمان حج یاعمرہ کرنےجاتے ہیں ان کے لیے لازم ہے کہ وہ طواف کرتے ہوئے ہر بار حجراسود کو بوسہ دیں۔ اگر ہجوم زیادہ ہو تو ہاتھ کے اشارے سے بھی بوسہ دیا جاسکتا ہے۔ جس کو استلام کہتے ہیں۔ اس کے بارے میں احادیث میں لکھا ہے کہ یہ پتھر جب جنت سے اتارا گیا تھا تو اس وقت بالکل سفید تھا۔ اور اسکا نام حجرِ ابید تھا یعنی سفید پتھر تھا۔ جو بعد میں حوادثِ زمانہ اور بنی آدم کے گناہوں کی وجہ سے سیاہ ہوگیا۔

    تاریخ اسلامی میں کچھ ایسے واقعات ملتے ہیں جن میں یہ تذکرہ ہے کہ حجر اسود کو چوری کیا گیا اور اس کو توڑنے کی کوشش کی گئی۔اسلامی روایات کے مطابق جب حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے صاحبزادے حضرت اسماعیل علیہ السلام خانہ کعبہ کی تعمیر کر رہے تھے۔ تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے یہ پتھر جنت سے لا کر دیا جسے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے دست مبارک سے دیوار کعبہ میں نصب کیا۔
    حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بعد سب سے پہلے قبیلہ بنی جرہم کے متعلق ملتا ہے کہ ان لوگوں نے حجر اسود کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی تھی۔تاریخ میں ہے کہ جب بنو بکر بن عبد مناہ نے قبیلہ ”بنی جرہم ” کو مکّہ سے نکلنے پر مجبور کیا تو انہوں نے مکّہ سے بے دخل ہوتے ہوئےکعبہ میں رکھے دو سونے کے بنے ہرنوں کے ساتھ ” حجر اسود ” کو کعبہ کی دیوار سے نکال کر زم زم کے کنویں میں دفن کر دیا اور مجبوراً یمن کی جانب کوچ کر گئے– اللہ تعالیٰ کی حکمت دیکھئے کہ یہ پتھر زیادہ عرصہ زم زم کے کنویں میں نہیں رہا – جس وقت بنو جرہم کے لوگ حجر اسود کو زم زم کے کنویں میں چھپا رہے تھے ایک عورت نے انھیں ایسا کرتے دیکھ لیا تھا – اس عورت کی نشان دہی پر حجر اسود کو زم زم کےکنویں سے نکال لیا گیا ۔

    اس کے بعد ابو طاہر نامی شخص کی قیادت میں ” قرا ما تین "نے 317 ہجری میں مکّہ مکرمہ کا محاصرہ کرلیا اور مسجد الحرام جیسے مقدس مقام پر تقریبا” سات سو انسانوں کو قتل کیا اور زم زم کے کنویں اور مسجد الحرام کے احاطے کو انسانی لاشوں اور خون سے بھر دیا اسکے بعد اس نے مکّہ کے لوگوں کی قیمتی اشیاء کو اور کعبہ مکرمہ میں رکھے جواہرات کو قبضے میں لے لیا – اس نے کعبہ مکرمہ کے غلاف کو چیر پھاڑ کر اپنے پیروکاروں میں تقسیم کر دیا – کعبہ مکرمہ کے دروازے اور اسکے سنہری پر نالے کو اکھاڑ ڈالا – اور پھر بات یہیں ختم نہیں ہوئی بلکہ 7 ذوالحجہ317 ہجری کو ابو طاہر نے حجر اسود کو کعبہ مکرمہ کی دیوار سے الگ کردیا اور اس کی جگہ کو خالی چھوڑ دیا اور اس کو موجودہ دور میں جو علاقہ ” بحرین ” کہلاتا ہے وہاں منتقل کر دیا – یہ حجر اسود کا ایک نہات تکلیف دہ دور تھا – تقریبا 22 سال حجر اسود کعبہ مکرمہ کی دیوار سے جدا رہا –

    اس دور میں کعبہ مکرمہ کا طواف کرنے والے صرف اس کی خالی جگہ کو چومتے یا اس کا استلام کر تے تھے – پھر اللہ تعالیٰ کی مشیت دیکھئے کہ 22 سال بعد 10 ذوالحجہ 339 ہجری کو” سنبر بن حسن ” جس کا تعلق بھی قراماتین قبیلے سے ہی تھا ، اس نے حجر اسود کو آزاد کرا یا اور واپس حجر اسود کے اصل مقام پر پیوست کروا دیا – اس وقت ایک مسئلہ پیش آیا کہ کیا واقعی یہ اصلی حجر اسود ہی ہے یا نہیں تو اس وقت مسلمانوں کے ایک دانشور نے کہا وہ اس کو ٹیسٹ کر کے بتا دیگا کہ یہی اصل حجر اسود ہے یا نہیں کیوں کہ اس نے اس کے بارے میں احادیث کا مطا لعہ کر رکھا ہے .- اس نے حجر اسود پر آگ لگائی تو حجر اسود کو آگ نہیں لگی اور نہ ہی وہ گرم ہوا – پھر اس نے اس کو پانی میں ڈبویا تو یہ پتھر ہونے کے باوجود اپنی خصلت کے بر خلاف پانی میں ڈوبا نہیں بلکہ سطح آب پر ہی تیرتا رہا اس سے ظاہر ہو گیا کہ یہ اصل جنت کا پتھر ہی ہے کیوں کہ جنت کا پتھر کا آگ سے اور غرق یابی سے بھلا کیا تعلق ہو سکتا ہے –

    پھرسن 363 ہجری میں ایک رومی شخص نے اپنے کلہاڑے سے حجر اسود پر کاری ضرب لگائی جس سے اس پرایک واضح نشان پڑ گیا – اس نے دوسری شدید ضرب لگانے کے لیے جیسے ہی اپنے کلہاڑے کو اٹھایا . اللہ تعالیٰ کی مدد آن پہنچی اور قریب ہی موجود ایک یمنی شخص نے جو اس کی یہ گھناونی کاروائی دیکھ رہا تھا ، چشم زدن میں اس نے اسے قتل کر ڈالا اور اس کی حجر اسود پر دوسری ضرب لگانے کی خواہش دل ہی میں رہ گئی –

    اس کے بعدسن 413 ہجری میں فاطمید نے اپنے 6 پیروکاروں کو مکّہ بھیجا جس میں سے ایک ” الحاکم العبیدی ” تھا جو ایک مضبوط جسم کا مالک سنہرے بالوں والا طویل قد و قامت والا انسان تھا – وہ اپنے ساتھ ایک تلوار اور ایک لوہے کی سلاخ لایا تھا – اپنے ساتھیوں کے اکسانے پر اس نے دیوانگی کے عالم میں تابڑ توڑ تین ضربیں ”حجر اسود ” پر لگا ڈالیں جس سے اس کی کرچیاں اڑ گئیں – وہ ہزیانی کیفیت میں اول فول بکتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ ( معاذ الله ) جب تک وہ اسے پورا نہ اکھاڑ پھینکے گا تب تک سکوں سے نہ بیٹھے گا – بس اس موقع پر ایک مرتبہ پھر اللہ تعالیٰ کی مدد آن پہنچی اور گھڑ سواروں کے ایک دستے نے ان سب افراد کو گھیر لیا اور ان سب کو پکڑ کر قتل کردیا اور بعد میں ان کی لاشوں کو بھی جلا ڈالا۔
    پھراسی طرح کا ایک واقعہ سن 990 ہجری میں بھی ہوا جب ایک غیر عرب باشندہ اپنے ہتھیا ر کے ساتھ مطاف میں آیا اور اس نے حجر اسود کو ایک ضرب لگا دی – اس وقت کا ایک شہزادہ ” شہزادہ نصیر ” مطاف میں موجود تھا جس نے اسے فوری طور سے موت کے گھاٹ اتار دیا –
    سن 1351 ہجری کے محرم کے مہینے میں ایک افغانی باشندہ مطاف میں آیا اور اس نے حجرہ اسود کا ایک ٹکڑا توڑ کر باہر نکال دیا اور کعبہ کے غلاف کا ایک ٹکڑا چوری کر ڈالا -ا س نے کعبہ کی سیڑھیوں کو بھی نقصان پہنچایا – کعبہ مکرمہ کے اردگرد کھڑے محافظوں نے اسے پکڑ لیا – اور پھر اسے مناسب کارروائی کے بعد موت کی سزا دے دی گئی – اس کے بعد 28 ربیع الاول سن 1351 ہجری کو شاہ عبد العزیز نے حجر اسود کو دوبارہ کعبہ مکرمہ کی دیوار میں نصب کیا جو اس فاطر العقل افغانی نے نکال باہر کیا تھا – حجر اسود اس وقت ایک مکمل پتھر کی صورت میں نہیں ہے جیسا کہ یہ جنت سے اتارا گیا تھا بلکہ حوا د ث زمانہ نے اس متبرک پتھر کو جس کو بوسہ دینے کے لیے اہل ایمان کے دل ہر وقت بےچین رہتے ہیں آٹھ ٹکڑوں میں تبدیل کردیا ہے ۔

    606ء میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کی عمر مبارک35 سال تھی ، سیلاب نے کعبے کی عمارت کو سخت نقصان پہنچایا اور قریش نے اس کی دوبارہ تعمیر کی لیکن جب حجر اسود رکھنے کا مسئلہ آیا تو قبائل میں جھگڑا ہوگیا۔ ہر قبیلے کی یہ خواہش تھی کہ یہ سعادت اسے ہی نصیب ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم نے اس جھگڑے کو طے کرنے کے لیے یہ طریقہ اختیار فرمایا کہ حجر اسود کو ایک چادر میں رکھا اور تمام سرداران قبائل سے فرمایا کہ وہ چادر کے کونے پکڑ کر اٹھائیں۔ چنانچہ سب نے مل کر چادر کو اٹھایا اور جب چادر اس مقام پر پہنچی جہاں اس کو رکھا جانا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم نے اپنے مبارک ہاتھوں سے اس کو دیوار کعبہ میں نصب فرما دیا۔ سب پہلے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی ﷲ عنہ نے حجر اسود پر چاندی چڑھوائی ۔ 1268ء میں سلطان عبدالحمید نے حجراسود کو سونے میں جڑوادیا ۔ 1281ء میں سلطان عبدالعزیز نے اسے چاندی جڑوادیا

    696ء میں جب حضرت عبداللہ بن زبیر رضی ﷲ عنہ خانہ کعبہ میں پناہ گزین ہوئے تو حجاج بن یوسف کی فوج نے کعبے پر منجنیقوں سے پتھر برسائے اور پھر آگ لگا دی۔ جس سے حجر اسود کے تین ٹکڑے ہو گئے۔ عباسی خلیفہ الراضی باللہ کے عہد میں ایک قرامطی سردار ابوطاہر حجر اسود اٹھا کر لے گیا اور کافی عرصے بعد اس واپس کیا۔

    اس پتھر کے بہت سے فضائل ہیں جیسا کہ
    حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کویہ فرماتے ہوئے سنا : "بلاشبہ حجر اسود اورمقام ابراھیم جنت کے یاقوتوں میں سے یاقوت ہيں اللہ تعالٰی نے ان کے نوراورروشنی کوختم کردیا ہے اگراللہ تعالٰی اس روشنی کوختم نہ کرتا تو مشرق ومغرب کا درمیانی حصہ روشن ہوجاتا ۔” سنن ترمذی حدیث نمبر ( 804 ) ۔

    حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم نے فرمایا :
    حجراسود جنت سے آیا تودودھ سے بھی زیادہ سفید تھا اوراسے بنی آدم کے گناہوں نے سیاہ کردیاہے ۔سنن ترمذی حدیث نمبر ( 877 )

    حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہیں :نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم نے حجراسود کے بارے میں فرمایا : اللہ کی قسم اللہ تعالٰی اسے قیامت کولاۓ گا تواس کی دوآنکھیں ہوں گی جن سے یہ دیکھے گا اورزبان ہوگی جس سے بولے گا اور ہراس شخص کی گواہی دے گا جس نے اس کا حقیقی استلام کیا ہو گا۔

    حضرت ابن عمررضی اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم نے فرمایا : اس کو چھونا گناہوں کا کفارہ ہے ۔ سنن ترمذی حدیث نمبر ( 959 )
    یوں توحجر اسود ایک پتھر ہے مگر جس کی تعظیم و تکریم کا حکم نازل ہو جائے وہ عبادت بن جاتی ہے