Baaghi TV

Category: بلاگ

  • بھارت کو شکست، ٹی 20 ویمن کرکٹ ورلڈ کپ فائنل آسٹریلیا کے نام

    بھارت کو شکست، ٹی 20 ویمن کرکٹ ورلڈ کپ فائنل آسٹریلیا کے نام

    آسٹریلوی ٹیم نے ٹی 20 ویمن کرکٹ ورلڈ کپ فائنل میں بھارت کو شکست دے دی

    خواتین کی ٹی 20 کرکٹ ورلڈ کپ کی چیمپئنز کا سہرا آسٹریلوی ٹیم کے سر سج گیا .دفاعی چیمپئن آسٹریلیا نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) ورلڈ ویمنز ٹی ٹوینٹی میں بھارت کو 85 رنز کے بھاری مارجن سے شکست دے دی ہے۔

    ویمنز ڈے کے موقع پر میلبرن کرکٹ گراؤنڈ میں کھیلے گئے میچ میں آسٹریلیا نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے بھارت کے خلاف چار وکٹوں کے نقصان پر 184 رنز بنائے۔آسٹریلوی اوپنرز نے اپنی ٹیم کو شاندار آغاز فراہم کرتے ہوئے 115 رنز کی برق رفتار شراکت قائم کی۔

    میزبان ٹیم کی جانب سے الیسا ہیلی نے 75 رنز بنائے جبکہ بیتھ مونی 78 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہیں۔ان کے علاوہ کپتان میگ لیننگ 16 رنز کے ساتھ نمایاں رہیں۔ بھارت کی جانب سے دپتی شرما نے دو کھلاڑیوں کو پویلین لوٹایا۔جواب میں بھارت کی پوری ٹیم 99 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔ بھارتی ویمن ٹیم کی 8 کھلاڑیاں ڈبل فگر میں بھی داخل نہ ہوسکیں۔ہدف کے تعاقب میں بھارت کا ٹاپ آرڈر مکمل طور پر ناکام ہوگیا اور یک کے بعد دیگرے وکٹیں گرنے کا سلسلہ جاری رہا۔بھارت کی پوری ٹیم 99رنز پر ڈھیر ہو گئی اور آسٹریلیا نے 85رنز سے فتح حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے اعزاز کا کامیابی سے دفاع کرتے ہوئے پانچویں مرتبہ ویمن ٹی20 ورلڈ کپ کا چیمپیئن حاصل کر لیا۔

    آسٹریلیا کی جانب سے میگن شٹ نے 4 اور جیس جوناسین نے تین وکٹیں حاصل کیں۔شاندار جارحانہ اننگز کھیلنے پر ایلیسا ہیلی کو میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔
    بھارت کی جانب سے دپتی شرما 33، ویدا کرشنامرتی 19 اور رچا گھوش 18 رنز کے ساتھ نمایاں رہیں۔آسٹریلیا کی جانب سے میگن شٹ اور جیس جوناسن نے تباہ کب بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے بالترتیب چار اور تین وکٹیں حاصل کیں۔اس کے علاوہ نیکولہ کیری، دسلیلا کمنس اور صوفیہ میلی نوکس نے ایک، ایک کھلاڑی کو پویلین لوٹایا۔آسٹریلیا نے ریکارڈ پانچویں مرتبہ یہ اعزاز اپنے نام کیا ہے۔ اس سے قبل 2010، 2012، 2014 اور 2018 میں بھی کنگروز نے ہی ورلڈ کپ جیتا تھا.واضح رہے کہ پاکستان ک قومی کرکٹ ٹیم کوئی خاطر خواہ کارکردگی دکھانے میں ناکا رہی اور ایونٹ کے پہلے مرحلے ہی میں‌آوٹ ہوگئی،

  • یوم ارض فلسطین اور فلسطینیوں کی واپسی—از—صابرابومریم

    یوم ارض فلسطین اور فلسطینیوں کی واپسی—از—صابرابومریم

    انبیاء علیہم السلام کی سرزمین مقدس فلسطین کی تاریخ میں پندرہ مئی یوم نکبہ یعنی فلسطینی سرزمین کے صہیونیوں کے ناپاک ہاتھوں میں غصب ہونے کا دن ہے اسی طرح تیس مارچ کو فلسطینی عرب سرزمین مقدس فلسطین کا دن مناتے ہیں یعنی ’’یوم ارض فلسطین‘‘ منایا جاتا ہے ۔ جہان پندرہ مئی کو یون نکبہ یعنی تباہی و بربادی کا بد ترین دن کے عنوان سے دنیا بھر میں فلسطینی و غیر فلسطینی قو میں مناتی ہیں وہاں فلسطینی مظلوم ملت سے یکجہتی کے لئے تیس مارچ کو یوم ارض فلسطین نہ صرف مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں منایا جاتا ہے بلکہ فلسطین سے باہر پوری دنیا میں اس دن کو فلسطینی ارض مقدس کے دن کے عنوان سے یاد رکھا جاتا ہے ۔

    یوں تو فلسطینی عوام پر برطانوی سامراج کی سرپرستی میں ڈھائے جانے والے صہیونیوں کے مظالم کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو ان مظالم کی تاریخ ایک سو سال سے زیادہ پر محیط ہے البتہ فلسطین کی سرزمین مقدس پر صہیونیوں کی ناجائز ریاست اسرائیل کے قیام کو اب سنہ2020ء میں 72وال سال مکمل ہو جائے گا اور ان بہتر سالوں میں گزرنے والا ایک ایک دن فلسطین کی مظلوم ملت پر قیامت سے کم نہیں گزرا ہے ۔ چاہے صہیونیوں کی جانب سے فلسطین پر قبضہ کے ایام ہوں یا پھر قبضہ کے بعد کے ایام ہوں ۔ تاریخ کے اوراق صہیونی ظالموں کے ظلم سے بھرے پڑے ہیں ۔

    جہاں ایک طرف صہیونیوں نے فلسطین پر اپنے ناجائز قبضہ کو مکمل کرنے کے لئے کسی قسم کے ظلم اور زیادتی سے گریز نہیں کیا ہے وہاں فلسطینی ملت مظلوم کی شجاعت اور استقامت میں بھی ان مظالم کے سامنے کسی قسم کی کمی واقع نہیں ہوئی ہے ۔ فلسطینی عربوں کی جد وجہد کی تاریخ بھی صہیونیوں کے مقابلے میں اسی وقت سے جاری ہے کہ جب سے عالمی استعماری قوتوں کی ایماء پر فلسطین پر قبضہ کی ناپاک منصوبہ بندی کی گئی تھی اور فلسطینیوں کی یہ جد وجہد آ ج بھی اسی طرح جاری و ساری ہے ۔

    پندرہ مئی سنہ 1948ء میں فلسطین پر صہیونیوں کی جعلی ریاست کے قیام کے وقت سے صہیونیوں نے فلسطینی عربوں کو ان کے وطن یعنی فلسطین سے نکال باہر کرنا شروع کر دیا تھا اور یہ سلسلہ کئی سالوں تک جاری رہا اور نتیجہ میں دسیوں ہزار فلسطینی اور ایک اندازے کے مطابق دس لاکھ سے زائد فلسطینیوں کو فلسطین سے نکال باہر کیا گیا جو پڑوسی ممالک میں زمینی سرحدوں کو عبور کرتے ہوئے مہاجرین کی زندگی گذارنے پر مجبور ہوئی اور آج فلسطینیوں کی تیسری نسل شام، لبنان، اردن اور مصر میں مہاجرین یعنی فلسطینی پناہ گزین کے نام سے پہچانی جاتی ہے ۔

    فلسطین کے اندر باقی رہ جانے والے فلسطینیوں نے امید کا دامن ہاتھ سے کبھی جانے نہیں دیا ہے ۔ فلسطین کے عرب باشندوں نے ہمیشہ سے فلسطین پر صہیونی ریاست کے تصور کو جعلی قرار دیا ہے اور اس کے خلاف سینہ سپر رہے ہیں ۔ یعنی خلاصہ کیا جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ فلسطینیوں نے جد وجہد آزاد ی جاری رکھی ہے اور اس آزادی کا بنیادی ہدف جہاں فلسطین کی صہیونیوں کے شکنجہ سے آزادی ہے وہاں غاصب صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کی نابودی ہے ۔ جد وجہد آزادی فلسطین کے لئے فلسطین کے عرب باشندوں نے باقاعدہ صہیونیوں کا مقابلہ کیا ہے اور اس کی مثال فلسطین میں موجود اسلامی مزاحمت کی تحریکیں حماس، جہاد اسلامی، پاپولر فرنٹ اور دیگر شامل ہیں جو مسلسل اسرائیل کے ناپاک وجود کے خلاف سینہ سپر ہیں ۔

    دوسری طرف فلسطین سے جبری طور پر جلا وطن کئے جانے والے فلسطینی عربوں نے بھی اپنا جہاد فلسطین واپسی کے نعرے کے ساتھ شروع کر رکھا ہے اور یہ سب کے سب فلسطینی چاہتے ہیں کہ فلسطین اپنے وطن فلسطین واپس جائیں تا کہ فلسطین میں آباد ہو ں نہ کہ ان کو دیگر ممالک میں در در کی ٹھوکریں کھانی پڑیں ۔ فلسطینیوں کے حق واپسی کا نعرہ یا اعلان ایک ایسا مضبوط نعرہ ہے کہ جسے عالمی استعماری نظام بالخصوص امریکہ اور اس کے حواری کسی طرح بھی دبانے میں کامیاب نہیں ہو پا رہے ہیں ۔ فلسطینی عوام کا حق واپسی ایک ایسا بنیادی انسانی حق ہے کہ جسے نہ تو دنیا کے عالمی ادارے مسترد کر سکتے ہیں اور نہ ہی دنیا کی کوئی حکومت ا سکے خلاف جا سکتی ہے ۔

    امریکہ نے فلسطینیوں کے بنیادی حقوق کو دبانے کی خاطر نام نہاد امن فارمولہ جسے صدی کی ڈیل کہا جا رہا ہے کو متعارف کرایا ہے لیکن یہ صدی کی ڈیل سامنے آنے سے پہلے ہی فلسطینیوں کے واپسی کے حق کے نعرے کے سامنے ماند پڑ چکی ہے اور عنقریب نابود ہونے والی ہے ۔ یہ بات انتہائی قابل ذکر ہے کہ فلسطینیوں کے حق واپسی کا نعرہ سنہ 2011ء کے بعد سے شد ومد کے ساتھ بلند ہو اہے جس کی ماہرین کی نگاہ میں ایک بنیادی وجہ سنہ2011ء میں ایران کے دارلحکومت تہران میں ہونے والی بین الاقوامی حمایت فلسطین و انتفاضہ کانفرنس بعنوان ’’فلسطین ، فلسطینیوں کا وطن‘‘ ہے ۔

    فلسطین کے سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ سنہ2011ء میں اس کانفرنس میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے مسئلہ فلسطین کا ایک ایسا منصفانہ حل پیش کیاہے کہ جس کے بعد نہ صرف فلسطینی تحریکوں میں بلکہ فلسطینیوں کے حق واپسی کی ایک نئی تحریک نے جنم لیا ہے جو امریکہ سمیت صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کے لئے مصیبت سے کم نہیں ہے ۔ اس منصفانہ حل کے مطابق فلسطین فلسطینی عربوں کا وطن ہے کہ جو سنہ1948ء سے قبل اور اس وقت تک فلسطین کے باسی تھے اور ان فلسطینیوں میں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ عیسائی فلسطینی اور ایسے یہودی فلسطینی شامل ہیں کہ جو فلسطین کی شناخت کے ساتھ اس سرزمین مقدس پر زندگی بسر کر رہے تھے

    صہیونیوں نے نہ صرفر فلسطین کے مسلمانوں کو جبری ہجرت پر بھیجا بلکہ مسیحی اور فلسطینی یہودیوں کو بھی فلسطین سے بے دخل کیا ۔ تاہم فلسطینی عربوں کا حق ہے کہ وہ فلسطین واپس آئیں اور فلسطینی عوام ایک ریفرنڈم کے ذریعہ اپنے نظام حکومت کا فیصلہ کرے ۔ یعنی فلسطینی فلسطین واپس آئیں اور جو یہودی اور صہیونی دنیا کے دیگر ممالک سے لا لا کر فلسطین میں آباد کئے گئے تھے وہ اپنے اپنے وطن میں واپس جائیں یا یہ کہ اگر فلسطین کی حکومت یعنی فلسطینی کی شناخت کے ساتھ فلسطین میں زندگی بسر کرنا چاہیں تو یہ فیصلہ بھی فلسطینی عوام کو کرنا ہے اور ان کی اجازت سے ہونا ہے ۔

    خلاصہ یہ ہے کہ فلسطینیوں کے حق واپسی کی تحریک نے سنہ2011ء سے تیزی کے ساتھ سفر طے کرنا شروع کیا جس کے نتیجہ میں سنہ2012ء میں دنیا بھر کے تمام بر اعظموں سے تعلق رکھنے والی قوموں نے تیس مارچ یوم ارض فلسطین کے موقع پر فلسطین کی چاروں زمینی سرحدوں پر مارچ کیا اور سب کا نعرہ ایک ہی تھا کہ ’’واپسی فلسطین ‘‘یعنی ;82;eturn to ;80;alestien ۔ گذشتہ دو برس سے فلسطینیوں نے حق واپسی مارچ کا نئے انداز سے آغاز کیا ہے اور فلسطینیوں کا ایک ہی نعرہ اور مقصد ہے کہ فلسطینیوں کی فلسطین واپسی ۔

    اب یوم ارض فلسطین کے موقع پر اس تحریک کو مکمل دو سال ہو نے کو ہیں لیکن امریکہ اور اسرائیل سمیت استعماری قوتیں فلسطینیوں کے عزم اور ارادوں کو کمزور کرنے میں ناکام ہو چکی ہیں اور اس کی سب سے بڑی دلیل امریکی صدر کے فلسطین سے متعلق یکطرفہ فیصلوں اور اعلانات کی ناکامی ہے ۔ بہر حال اقوام عالم اس بات کو اچھی طرح سمجھ چکی ہیں کہ فلسطینیوں کی تقدیر کا منصفانہ حل یہی ہے کہ فلسطین فلسطینیوں کا وطن قرار پائی اور صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کے قائم کرنے والے صہیونی اپنے اپنے وطن اور زمینوں پر لوٹ جائیں ۔ فلسطینیوں کی واپسی حق ہے اور اس امر سے دنیا کی کوئی طاقت بھی نظر چرانے کی طاقت نہیں رکھتی ۔

    یوم ارض فلسطین اور فلسطینیوں کی واپسی

    تحریر: صابر ابو مریم

    سیکرٹری جنرل فلسطین فاءونڈیشن پاکستان

    پی ایچ ڈی ریسرچ اسکالر، شعبہ سیاسیات جامعہ کراچی

  • عجب محبت کی غضب کہانی–از—نسیم شاہد

    عجب محبت کی غضب کہانی–از—نسیم شاہد

    اس کی آنکھوں میں ہلکی ہلکی نمی تھی ،اچانک وہ غیر متوقع طور پر میری طرف بڑھی ،اس نے سب کے سامنے مجھے جپھی ڈالی اور میرے ہونٹوں پر ہونٹ رکھ دئے

    آج پرانی تصویروں میں سے ایک تصویر کیا ملی ،غضب ڈھا گئی دل کے تار ہلا گئی ۔ایمنڈا سیلی کی یاد تازہ ہو گئی اور میری بزدلی کی بھی کہ میں عشق کی خاطر اپنی زمین چھوڑنے سے ڈر گیا ۔1987 کی بات ہے میری ابھی شادی نہیں ہوئی تھی ۔

    بہاءالدین زکریا یونیورسٹی میں ایشیا فاونڈیشن نے انگلش لینگوئج سنٹر قائم کیا ۔جس کا انچارج ایک امیریکن ڈگلس بروکس کو بنایا گیا ۔ایک دن وہ مجھے صدر بازار کینٹ میں ملا اور پھر ہم دوست بن گئے ۔اس نے گلگشت میں گھر لے لیا ،اچھے زمانے تھے وہ موٹر سائیکل پر گھومتا ،میرے پاس بھی آجاتا ۔اسے ملنے کیلئے اس کے دوست اور سہیلیاں امریکہ اور یورپ سے آتیں ۔وہ خوب پیتے پلاتے اور میں سائیڈ پر بیٹھا پھوکے مزے لیتا ۔

    انہی دنوں امینڈا سیلی لندن سے آئی ،وہ ایک بھارتی نثراد عیسائی خاندان سے تعلق رکھتی تھی جو لندن میں مقیم تھا ۔ڈگلس نے اسے کہا یہ نسیم ہے ملتان کا انسائیکلو پیڈیا ،تمہیں پورا شہر دکھا دے گا ۔وہ روزانہ یونیورسٹی چلا جاتا اور ہم موٹر سائیکل پر ملتان کی سیر کرتے ۔ایک ہفتہ گزرا کہ مجھے لگا ایمنڈا کو عشق کا دورہ پڑنے لگا ہے ۔

    ایک دن اس نے مجھ سے پوچھا تم نے شادی کیوں نہیں کی ؟ میں نے جھٹ کہا کوئی ملے گی تو کر لوں گا ،اس پر اس نے بے ساختہ پوچھا ،،کیا اب بھی ؟ ،، .میں جماندرو بھولا اس کی بات نہ سمجھا،بات آئی گئی ہو گئی ۔سچی بات ہے اتنے عرصے میں میں بھی اس کی باتوں ،اداوں اور مسکراہٹوں کا عادی ہوتا جا رہا تھا ،

    پھر وہ دن آیا جب اس نے میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے پوچھا ،، نسیم کیا تم مجھ سے شادی کرو گے ؟،، ہائے ہائے کیا بم تھاجو اس نے مجھ پر گرایا ۔میں نے کہا مگر کیسے ،تم عیسائی ہو میں مسلمان تم لندن رہتی ہو میں ملتان ،، اس نے کہا ،، نو پرابلم میں کنورٹ ہو جاونگی ،، ۔میں نے کہا مگر تم ملتان میں نہیں رہو گی اور میں لندن نہیں جاسکتا ۔

    اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور کہا ،، کیا میری خاطر بھی نہیں ؟،،.بڑا جانکاہ لمحہ تھا ۔میں نے کہا سوچ کربتاوں گا ۔اس نے کہا میرے پاس وقت نہیں میں نے دو دن بعد چلے جانا ہے ،میں نے کہا اچھا ایک دن تو سوچنے دو ۔گھر گیا تو ساری رات کروٹیں لیتے گزری ،سوچیں ہی سوچیں ،کیا ایک اجنبی لڑکی کیلئے اپنی ماں چھوڑ دوں جو میرے تن کے روئیں روئیں سے واقف ہے ۔کیا بہن بھائیوں کو خیر باد کہہ دوں ،کیا اپنی مٹی اور شہر کی بوباس سے کنارہ کشی اختیار کر لوں ،ناں بھئی ناں مجھ سے یہ نہیں ہو سکے گا ۔

    صبح ہوئی تو میں ایمنڈا سیلی سے ملنے گیا ،باتوں باتوں میں اسے کہا میں تم سے شادی نہیں کر سکتا ،اس کی آنکھوں میں مایوسی عود کر آئی ،، مگر کیوں ؟،، میں نے کہا میری ماں نہیں مانے گی ۔اس نے جھنجھلا کے کہا ،کیا مطلب زندگی تمہاری ہے تم نے گزارنی ہے ۔میں نے کہا ایمنڈا تم نہیں سمجھو گی ،

    جب میری ماں جوان تھی تو اس نے میرے لئے زندگی واقف کی اب میں جوان ہوں تو مجھے اس کیلئے زندگی وقف کرنی ہے ،میری اس بات پر اس کی آنکھوں میں نمی سی تیرنے لگی ،اس نے بے ساختہ مجھے گلے لگایا اور کہا ،،نسیم آئی لو یو ،You Really Posses a wonderful Soul ،، .اگلے دن اس نے جانے کا پروگرم بنا لیا ۔

    میں ،ڈگلس اور مشترکہ دوست عارف قریشی اسے چھوڑنے ملتان ائرپورٹ گئے ۔اس کی آنکھوں میں ہلکی ہلکی نمی تھی ،اچانک وہ غیر متوقع طور پر میری طرف بڑھی ،اس نے سب کے سامنے مجھے جپھی ڈالی اور میرے ہونٹوں پر ہونٹ رکھ دئے ،بس اس کے بعد اس وقت میرے پاس کہنے کو کچھ تھا نہ آج ہے ۔

    عجب محبت کی غضب کہانی–از—نسیم شاہد

  • ماروی سرمد، عورت مارچ اور عالمی اداروں کا وار–از–شعیب بھٹی

    ماروی سرمد، عورت مارچ اور عالمی اداروں کا وار–از–شعیب بھٹی

    شازیہ انور المعروف ماروی سرمد سیکولر ازم اور لبرلز کا پرچار کرنے والی این جی اوز کی سربراہ ہے۔ ہندوانہ لباس اور ماتھے پہ ہندوانہ نشان بندیا سجاۓ ماروی اسلام اور پاکستان کی اساس دو قومی نظریہ کی مخالف ہے۔
    ماروی سرمد بلوچستان اور فاٹا میں غیر ملکی ایجنسيوں کی فنڈنگ پہ این جی اوز چلاتی ہیں اور علیحدگی پسند عناصر کی حوصلہ افزاٸی کرتی ہے۔

    ماروی پاکستان کو سیکولر ریاست بنانے کا نعرہ لگاتی ہے۔ماروی اسلام، پاکستان، افواج پاکستان کی سخت ترین مخالف ہے۔مذہبی اقتدار سے عاری ماروی سرمد ہم جنس پرستی اور اسقاط حمل کی حامی اور اس کو قانونی حثیت دلوانے کے لیے کام کررہی ہے۔

    ماروی سرمد افغان ایجنسی NDS اور انڈین ایجنسی RAW کی فنڈنگ پہ فاٹا میں این جی اوز چلاتی تھی اور فاٹا آپریشن کے دوران ایف سی اور افواج پاکستان کی کردار کشی میں پیش پیش تھی۔
    اس بات کا اظہار فاٹا کے سابق سیکرٹری برگیڈٸیر (ر) محمود شاہ بھی کٸی بار کرچکے ہیں۔

    ماروی سرمد خواتین کی حقوق کے نام پہ کام کرنے والی عالمی تنظیم ساٶتھ فورم(South Asian Against Terrorism& for Human Rights ) کی رکن ہے جس کی تشکیل انڈین ایجنسی کے افراد نے کی ہے اور وہی اس کے ارکان ہیں۔

    اس تنظیم کا بنیادی مقصد اسلامی ممالک میں سیکولرازم اور لبرل ازم کو پروان چڑھانا ہے اس کے لیے یہ عالمی سطح پہ فنڈنگ کرتے ہیں۔ماروی سرمد کے ساتھ اس تنظیم کے رکن ارکان میں اسماعیل گلالٸی،صبا اسماعیل، گل بخاری انڈین ایجنسی کے لیے کام کرنے والی روبینہ شیخ،ڈاکٹر اپرانا پانڈے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ مرد ارکان میں غدار حسین حقانی، ایمل خٹنک،عاصم یوسفزٸی،مبشر زیدی شامل ہیں۔

    یہ سب افراد لبرل ازم،سیکولر ازم کو بیرونی فنڈنگ پہ پاکستان میں لانچ کرتے ہیں اور یہ جانے پہچانے نام بیرونی آقاٶں کے اشاروں میں اسلام اور پاکستان کے خلاف سازشیں تشکیل دیتے ہیں۔پشتون تحفظ موومنٹ PTM کے نام سے پشتونوں کے خلاف سازش رچانے اور پاکستان میں نفرت کی آگ کو ہوا دینے والے یہ سارے لوگ غیر ملکی فنڈنگ پہ پلتے ہیں اور انکی ہی سازشوں کا حصہ بن کر اپنے ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
    ممیو گیٹ سکینڈل میں ملوث غدار وطن حسین حقانی ہو یا خدا کے وجود کا انکاری مبشر زیدی ان سب کا کام غیر ملکی ایجنڈوں کو پرموٹ کرنا ہے۔

    چاہے وہ ایجنڈا پشتون اور پنجابی کے نام پہ لسانیت کا ہو یا فرقہ واریت اور لبرل ازم کا یہ ایک ساتھ نظر آٸیں گے۔ انکا مقصد قطعی طور پہ عورت یا مرد کے حقوق نہیں ہیں بلکہ مغربی تہذیب کو پاکستان میں پرموٹ کرنا انکی ثقافت کو انکی ہی فنڈنگ سے پھیلانا ہے۔ان کے تازہ اور ٹاپ ایجنڈوں میں اسقاط حمل اور ہم جنس پرستی کو فروغ دینا اور انکو قانونی حثیت دلوانا شامل ہے۔اس کے ساتھ اسلامی ممالک سے سزاۓ موت کے قانون کو ختم کروانا شامل ہے۔
    اس کام کے لیے ان کو مغربی ممالک ہر طریقہ سے مدد فراہم کررہے ہیں۔

    ایمنسٹی انٹرنیشنل جیسے عالمی ادارے کے وژن 2020 میں اسقاط حمل،ہم جنس پرستی شامل ہے۔یہ عالمی اداروں پہ مغربی چھاپ اور راج کو ظاہر کرتا ہے۔ ان وژن کو پورا کرنے کے لیے این جی اوز اور اداروں کو ٹارگٹ دیے جاتے ہیں اور ان ٹارگٹس کو پورا کرنے کے لیے مغربی ممالک فنانسرز کا کردار ادا کرتے ہیں یہ فنانسرز مختلف این جی اوز کے ذریعے اپنے مقاصد پورے کرتے ہیں۔

    ماروری سرمد پاکستان میں ان این جی اوز کی سربراہ ہے۔عالمی سطح پہ اس مہم کو LGBT کے پلیٹ فارم سے شروع کیا گیا ہے۔ LGBT کا مخفف یہ ہے۔L=Lasbian G=Gay B=Bisexual T=Transgender

    ان ٹارگٹس کو پورا کرنے کے لیے انکی پروموشن و تحفظ اور مالی و قانونی مدد کے لیے عالمی مہم شروع کی گٸی ہے۔ جس کے لیے ہر ملک میں سیمیناز منعقد کیے جارہے ہیں۔ پاکستان میں مغربی سفارتخانوں کے تعاون اور سرپرستی میں کٸی سال سے ہم جنس پرستی کے سیمینارز منعقد ہورہے ہیں۔

    پاکستان میں موجود ہم جنس پرست افراد مغربی ممالک میں رہاٸش اختیار کرچکے ہیں اور برطانیہ نے باقاعدہ انکو اپنے ملک کی شہرت دی ہے۔ آپ حیران ہوں گے کہ میرا جسم میری مرضی کوٸی خواتین کے حقوق کی آواز اٹھانے والا فورم نہیں بلکہ عالمی اداروں کے وژن کو پورا کرنے کا کام کررہا ہے۔ انکا مقصد اسقاط حمل، ہم جنس پرستی،سزاۓ موت قانون کو ختم کرنا،توہین مذہب اور توہین رسالت قانون کو ختم کروانا ہے۔

    اسلام بیزار اور اقتدار سے عاری ماروی سرمد عالمی اداروں کی ایجنٹ کے طور پہ پاکستان میں کام کررہی ہے اور پاکستان کے مقصد قیام سے بغض رکھنے والی ماروی سرمد اپنے پیچھے مغربی ممالک اور دشمن ملک کی فنڈنگ کی ایما پر پاکستان کو سیکولر ملک بنانے کا نعرہ لگاتی ہے انکی طاقت کو اپنی پشت پہ سوار کرنے والی اس بد مست ہتھنی ماروی سرمد کو اپنی آقاٶں کی خوشی کے لیے کچھ بھی کرنا پڑا تو کرے گی۔

    پاکستان قوم کو ایک ہوکر اپنی اسلامی اقتدار ، دو قومی نظریہ ، اپنی تہذیب و تمدن اور ثقافت کو عالمی سازشوں سے بچانا ہوگا۔اور غیر ملکی فنڈنگ پہ کام کرنے والے ان سانپوں کو کچلنا ہوگا۔

    ماروی سرمد، عورت مارچ اور عالمی اداروں کا وار

    تحریر:شعیب بھٹی

  • پی ایس ایل کے انعقاد میں کیا کیا مشکلات درپیش تھیں، چیئرمین کرکٹ بورڈ نے بتایا

    پی ایس ایل کے انعقاد میں کیا کیا مشکلات درپیش تھیں، چیئرمین کرکٹ بورڈ نے بتایا

    پی ایس ایل کے انعقاد میں کیا کیا مشکلات درپیش تھیں، چیئرمین کرکٹ بورڈ نے بتایا
    باغی ٹی وی :پاکستان میں کھیل کی واپسی اور پی ایس ایل کے بارے احسان مانی چیئرمین کرکٹ بورڈ نے بتایا کہ اس کا انعقاد کس طرح سے ہوا. پاکستان کرکٹ کے چیئرمین احسان مانی نے کہا ہے کہ پی ایس ایل کا انعقاد پاکستان میں کرانا ایک بہت بڑا چیلنج تھا۔

    انہوں نے کہا کہ پی سی بی نے چھوٹے چھوٹے قدموں سے پی ایس ایل کا پوری طرح انعقاد پاکستان میں کرایا ہے۔اس ضمن میں ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ ہمارے لیے چیلنج تھا کیونکہ پاکستان میں دس سال سے انٹرنیشنل کرکٹ نہیں ہو رہی تھی۔

    احسان مانی نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر پاکستان سپر لیگ کو پوری طرح پاکستان میں لایا گیا، ہماری کوشش ہے کہ اگلے سال پشاور میں بھی پی ایس ایل کے میچز کھیلے جائیں۔احسان مانی کا کہنا تھا کہ صرف کرکٹ ہی نہیں بلکہ پاکستان میں دیگراسپورٹس کے لیے بھی کام کرنا ہوگا۔

    ایشیاء کپ ٹورنامنٹ کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ ایشیا کپ بھارت یا پاکستان کا نہیں بلکہ تمام ایشین کرکٹ کونسل کے ممبران کا معاملہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ایشیاکپ کی میٹنگ کورونا وائرس کی وجہ سے ایک مہینے کے لیے تاخیر کا شکار ہوگئی ہے، اگر بھارت کے ساتھ دو طرفہ سیریز ہوتی تو میں ضرور زور دیتا کہ بھارت پاکستان میں آ کر کھیلے.
    چیئرمین پی سی بی نے کہا کہ سری لنکا ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کی آمد سے دنیا کو ایک واضح پیغام پہنچا ہے کہ پاکستان بین الاقوامی کرکٹ مقابلوں کے انعقاد کے لیے ایک پرامن اور محفوظ ملک ہے۔

    چیئرمین پی سی بی احسان مانی نے کہا کہ وہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو مزید مؤثر ادارہ بنانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ پی سی بی میں شفافیت اور احتساب کے عمل کو فروغ دینے کے لیے ہرممکن اقدامات اٹھایں گے۔ احسان مانی نے کہا کہ ہمیں بہترین نتائج دینے کے لیے کارکردگی میں تسلسل لانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سب سے خوش آئند بات یہ ہے کہ نوجوان قومی کرکٹرز بہت باصلاحیت ہیں اور یہی ہمارے مستقبل کا روشن اثاثہ ہیں۔

  • کیا واقعی پاکستان میں ہر عورت پر ظلم ہوتا ہے اور وہ خواتین کہ جن کے حق کے لیے آواز اٹھانا لازم ہے!!! تحریر:  محمد عبداللہ

    کیا واقعی پاکستان میں ہر عورت پر ظلم ہوتا ہے اور وہ خواتین کہ جن کے حق کے لیے آواز اٹھانا لازم ہے!!! تحریر: محمد عبداللہ

    گزشتہ روز ہم نے میرا جسم میری مرضی کے حوالے سے اور عورت مارچ کے حوالے نکتے پر بات کی تھی کہ یہ تحریکیں کیسے پروان چڑھتی ہیں اور کیسے ہم ان کی تشہیر اور مخالفت کرکے ان کو بین الاقوامی لیول کا ہیرو بنا دیتے ہیں اور پھر عالمی سطح پر ان کو شہ ملنا شروع ہوجاتی ہے جس کی واضح مثال راتوں رات عورچ مارچ کے نام سے تین ٹویٹر اکاؤنٹس کا ویریفائڈ ہوجانا اور بڑے تحرک میں آجانا اس کا کھلم کھلا ثبوت ہے.

    ہماری بات کا ہرگز بھی مقصد یہ نہیں ہے کہ ان بے ہودہ نعروں اور پوسٹرز کی ہمارے معاشرے میں اجازت ہونی چاہیے. خواتین سمیت جتنے بھی طبقات کا استحصال ہورہا ہے ان کے جائز حقوق سے ان کو محروم رکھا جارہا ہے وہ استحصال ختم ہونا چاہیے اور ان کے جائز حقوق ان کو ملنے چاہیں اور یہ صرف حکومت اور اداروں کے کرنے کے کام نہیں ہیں یہ میرا اور آپ کا کام بھی ہے کہ ہمارے گھروں میں بہنیں، بیٹیاں اور بیویاں موجود ہیں ہم ان کو ان کے جائز حق دیں، وراثت میں موجود ان کا حصہ ان کو ملنا چاہیے، ان کی پسند اور ناپسند کا خیال رکھا جانا چاہیے، ان کی تعلیم و تربیت کا مکمل انتظام و انصرام ہونا چاہیے. خواتین کو ونی کیے جانے اور تیزاب پھینکنے، ہراساں کیے جانے جیسے معاملات مردوں کی طرف سے ہی ہوتے ہیں ان پر توجہ دینی چاہیے اور ایسے واقعات کی سختی سے حوصلہ شکنی اور سخت سزاؤں کا سلسلہ ہونا چاہیے. زیادتی اور قتل کے واقعات پر سرے عام پھانسی کی سزاؤں کا اطلاق ہونا چاہیے.
    خواتین اگر آگے بڑھنا چاہتی ہیں اور معاشرے کی تعمیر و ترقی میں کوئی کردار ادا کرنا چاہتی ہیں تو سو بسم اللہ ان کو آگے بڑھنے دیں صحابیات اور حتیٰ ام المومنات رضی اللہ عنھم جنگوں تک میں مردوں کے ساتھ موجود ہوتی تھیں. ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا باقاعدہ درس حدیث دیتی تھیں حتیٰ کہ بہت سارے صحابہ کرام بھی ان سے احادیث اور مسائل معاملات دریافت کرنے آتے تھے.
    آپ بھی تعلیم حاصل کیجیئے درس و تدریس کام کیجیئے نسل نو کی تربیت کیجیے، ڈاکٹرز اور نرسز بن کر قوم کی خدمت کیجیے کہ ہماری قوم کو لاکھوں کی تعداد میں فی میل ڈاکٹرز کی اشد ضرورت ہے۔ اور اس طرح بیشمار کام ہیں آپ کیوں مرد کی برابری ہی پر زور دیتی ہیں حالانکہ عورت کے ہاتھ میں نسل نو کی تربیت کا ذمہ دے کر اس کی قابلیت کی ستائش کی گئی ہے۔
    ہمارا مذہب قطعاً بھی عورت کا استحصال نہیں کرتا اور نہ اس کی اجازت دیتا ہے، بیٹیوں کے ساتھ شفقت اور پرورش کرنے والا بندہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنت میں ہوگا. بیوی کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے والے کو معاشرے کا بہترین فرد قرار دیا. ماں کے قدموں تلے جنت رکھ دی. بیٹیوں کو اللہ کی رحمت قرار دے دیا ، وراثت میں ان کا حصہ مقرر کردیا.

    لہذا اگر عورت پر ظلم ہورہا ہے تو اس کا قصوروار ہمارا سسٹم ہے ہم خود ہیں اور کسی حد تک خود عورت بھی ہے مذہب اسلام ہرگز بھی بھی نہیں ہے اور بڑی مزے کی بات ہے کہ اگر ہمارے اس معاشرے اور سسٹم میں اگر کچھ خواتین پر ظلم روا رکھا جاتا ہے اور ان کے حقوق سے ان کو محروم رکھا جاتا ہے تو اسی سسٹم میں آپ کو لیڈیز فرسٹ کا قانون بھی ملے گا.
    بلکہ آپ شہر کے کسی بھی سب سے مصروف پیٹرول پمپ پر چلے جائیں لمبی قطار ہوگی بائیکس کی پیٹرول ڈلوانے کے لیے اور اگر ایک بندہ پیچھے سے آکر قطار میں گھسنا چاہے گا تو سبھی اس سے لڑیں گے مگر اسی دوران ایک بندہ بائیک پر اپنے ساتھ کسی خاتون کو بٹھائے نمودار ہوتا ہے اور سب کو کراس کرکے بالکل مشین کے سامنے آن کھڑا ہوتا ہے تو کوئی اس پر اعتراض نہیں کرے گا اور پیٹرول ڈالنے والا ملازم بھی سب کو چھوڑ کر عورت کے ساتھ آنے والے مرد کو ترجیحاً پیٹرول ڈال کردے گا.
    اگر آپ خواتین کو ہمارے معاشرے میں ملنے والے پروٹوکول کو ملاحظہ فرمانا چاہتے ہیں تو کسی بھی پاپا کی پری کے نام سے سوشل میڈیا پر فی میل اکاؤنٹ بنائیے اور وہاں تھوڑی سی کھانسی کردیجیئے کتنے ہی ماہر ڈاکٹرز اور حکیم آپ کو آئن لائن مفت طبی مشوروں سے نوازیں گے اور کتنے ہی آپ کے انباکس میں تشریف لاکر آپ کی صحت کی بابت پریشان ہونگے.
    میں نے بہن بیٹی بیوی اور ماں جیسے مقدس رشتوں کے حوالے سے ملنے والی عزت، وقار، مان اور پروٹوکول کی بات نہیں کی بلکہ روز مرہ زندگی کے امور میں آپ کو سینکڑوں مثالیں ملیں گی کہ کس حد عورت کو توجہ اور احترام ملتا ہے.
    آپ نے خواتین کے حق میں آواز اٹھانی ہے تو شوق سے اٹھائیے سبھی احباب آپ کے ہمقدم بنیں گے عورت کو اس کے حقوق دلوائیے، کشمیر کی عورت کی آزادی کی بات کیجیئے کہ جو پچھلے چھ ماہ سے لاک ڈاؤن میں ہے، کسی شوہر غائب ہے تو کسی کا بیٹا شہید ہے، کسی کا بھائی انڈین آرمی کی قید میں ہے تو کسی کا باپ گمشدہ ہے، آسیہ اندرابی کی بات کیجیئے کہ جس کا شوہر پچیس سال سے قید میں ہے اور وہ خود پچھلے دس سالوں سے کبھی نظر بند کبھی قید کبھی کسی ظلم و ستم میں ہوتی ہیں.
    لیکن آپ ان سب سے صرف نظر کرکے فقط اپنے بےہودہ نعروں اور غلیظ پوسٹرز کی تشہیر کرکے عورت کا مزید استحصال کرنا ہے اور اس کو ان رشتوں سے باغی کرنا ہے تو یاد رکھیے کہ عورت ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کے روپ میں ہی عورت ہے ان رشتوں کے بغیر وہ فقط گوشت ہے اور گوشت کے خریدار اور اس کو نوچنے والے گدھ ہرجگہ بکثرت پائے جاتے ہیں.
    اب یہاں پر کردار قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پاکستان کی عدلیہ کا بنتا ہے ان بیہودہ نعروں اور پوسٹرز پر مبنی مارچ کو روکیں کیونکہ یہ بیہودہ نعرے اور پوسٹرز نہ صرف اسلام اقدار کے خلاف ہیں بلکہ آئین پاکستان کی رو سے بھی ان فحش نعروں اور پوسٹرز کی گنجائش نہیں ملتی، لیکن اگر عدلیہ اور دیگر ادارے ان مارچ اور نعروں کو ٹھیک سمجھتے ہیں تو وہ اپنی بیٹیوں،بہنوں سمیت ان پروگراموں میں شامل ہوں تاکہ قوم کو بھی کوئی جواز مل سکے.

  • پی ایس ایل کی کون سی ٹیم سوشل میڈیا پر کتنی مقبول ؟

    پی ایس ایل کی کون سی ٹیم سوشل میڈیا پر کتنی مقبول ؟

    پی ایس ایل کی کون سی ٹیم سوشل میڈیا پر کتنی مقبول ؟
    باغی ٹی وی :میدانوں کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا کے میدان میں کون سی ٹیم آگے ہے اور کسی پوزیشن پر ہے یہ بھی ایک اہم خبر ہے . پاکستان سپر لیگ ہر گزرتے سال کامیابی کی نئی منزلیں طے کر رہی ہے جس کا سہرا شائقین کرکٹ کو جاتا ہے جو کہ اسٹیڈیم کی رونقیں بڑھاتے ہیں۔

    2016 میں دبئی کے اسٹیڈیم سے شروع ہونے والے پی ایس ایل کا سفر اس سال پاکستان پہنچ گیا ہے اور اب شائقین اپنے پسندیدہ کھلاڑیوں کو کرکٹ کے میدانوں میں دیکھ سکتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ہمیں راولپنڈی اور ملتان میں اس سال گراؤنڈ تماشائیوں سے بھرے ہوئے نظر آئے جو کہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پی ایس ایل اور اس میں شریک چھ ٹیمیں شائقین کے دلوں میں بستی ہیں۔

    جہاں پی ایس ایل کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے وہیں تمام ٹیموں کی کوشش بھی ہے کہ وہ میدانوں کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر بھی مداحوں سے جڑی رہیں اور انہیں وقتاً فوقتاً انہیں اطلاعات پہنچاتی رہیں۔
    پشاور زلمی نے گزشتہ روز ایک ٹوئٹ کے ذریعے ایک ملین فالوورز پورے ہونے کا اعلان کیا۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر سب سے کس فرنچائز کے کتنے فالوورز ہیں؟ چلیں اس کا جائزہ لیتے ہیں۔
    ادھر پاکستان سپر لیگ 2017 کی فاتح پشاور زلمی نے پی ایس ایل کے پانچویں ایڈیشن کے درمیان ہی ڈیرن سیمی کو قیادت سے ہٹا کر فاسٹ باؤلر وہاب ریاض کو قیادت سونپ دی ہے۔ پشاور زلمی نے ڈیرن سیمی کو قیادت سے ہٹا کر آئندہ دو سال کے لیے ہیڈ کوچ کا منصب سونپ دیا ہے جبکہ محمد اکرم کو ٹیم ڈائریکٹر اور باؤلنگ کوچ مقرر کردیا گیا ہے۔
    1۔ پشاور زلمی
    ٹوئٹر: 10 لاکھ فالوورز

    فیس بک: 26 لاکھ

    انسٹاگرام: 3 لاکھ 98 ہزار

    2۔ کوئٹہ گلیدی ایٹرز
    ٹوئٹر: 9 لاکھ 92 ہزار

    فیس بک: 12 لاکھ

    انسٹاگرام: 3 لاکھ 21 ہزار

    3۔ اسلام آباد یونائٹڈز
    ٹوئٹر: 7 لاکھ 86 ہزار

    فیس بک: 32 لاکھ

    انسٹاگرام: 3 لاکھ 58 ہزار

    4۔ کراچی کنگز
    ٹوئٹر: 7 لاکھ 49 ہزار

    فیس بک: 15 لاکھ

    انسٹاگرام: 3 لاکھ 62 ہزار

    5۔ ملتان سلطانز
    ٹوئٹر: 2 لاکھ 84 ہزار

    فیس بک: 10 لاکھ

    انسٹاگرام: 1 لاکھ 87 ہزار

    6۔ لاہور قلندرز
    ٹوئٹر: 7 لاکھ 42 ہزار

    فیس بک: 13 لاکھ

    انسٹاگرام: 3 لاکھ 48 ہزار

  • پی ایس ایل میں آج  کراچی کنگز اور  ملتان سلطانز کا پڑے گا جوڑ

    پی ایس ایل میں آج کراچی کنگز اور ملتان سلطانز کا پڑے گا جوڑ

    پی ایس ایل میں‌ آج کراچی کنگز اور ملتان سلطانز کا پڑے گا جوڑ

    باغی ٹی وی :آج پی ایس ایل کاایک اہم میچ کھیلا جا رہا ہے. پاکستان سپر لیگ 5 کے سنسنی خیز میچز کا سلسلہ جاری ہے، آج لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں پی ایس ایل کی سب سے مقبول ٹیم کراچی کنگز کا مقابلہ ملتان سلطانز سے ہوگا۔
    آج لاہور میں رات 8 بجے کراچی کنگز اور ملتان سلطانز دوسری بار ٹکرائیں گے، یہ پی ایس ایل فائیو کا 19 واں میچ ہے۔ دونوں ٹیموں کے درمیان 28 فروری کو ملتان میں کھیلا جانے والا پہلا میچ ملتان ٹیم نے 52 رنز سے جیتا تھا۔ یہ پی ایس ایل کا دسواں میچ بھی تھا۔

    میچ کے امپائرز ہیں مائیکل گف، شوزیب رضا اور ناصر حسین۔ جب کہ میچ ریفری ہوں گے عزیز الرحمان اور ٹی وی امپائر ہوں گے آصف یعقوب۔

    پی ایس ایل سیزن فائیو میں ملکی اور غیر ملکی اسٹارز کی سوپرڈوپر پرفارمنس جاری ہے، عماد وسیم کی قیادت میں کنگز آج قذافی اسٹیڈیم فتح کرنے کو پر عزم دکھائی دے رہے ہیں، کراچی کنگز کی اوپننگ جوڑی سب پر بھاری نظر آ رہی ہے، بابر اعظم اور شرجیل خان بولرز کی خوب دھلائی کرتے ہیں۔ایلکس ہیلز اور کیمرون ڈیلپورٹ بھی میچ پلٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جب کہ بولنگ میں محمد عامر، کرس جورڈن اور عمر خان سے امید ہے کہ اپنی ٹیم کو جتوانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ دوسری طرف سلطانز کے معین علی اور رائلی روسو کراچی کنگز کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں، کے کے کو میچ جیتنے کے لیے ملتان ٹیم کے آل راؤنڈر سہیل تنویر اور بولر محمد الیاس کو سنبھل کے کھیلنا ہوگا۔

  • عورت آزادی مارچ کیا ہے؟ تحریر محمد عبداللہ گل

    عورت آزادی مارچ کیا ہے؟ تحریر محمد عبداللہ گل

    عورت آزادی مارچ کیا ہے؟
    محمد عبداللہ گل
    عورت کو اسلام نے ایک وہ مقام و مرتبہ دیا ہے جو کسی اور مذہب نے نہیں دیا۔اسلام نے اسے اپنی عزت اور مرتبے کی حفاظت کے لیے اک راستہ بتا دیا۔آج کل خواتین مارچ کر رہی ہیں کہ ان کے حقوق تلف کیے جا رہے ہیں۔عورت آزادی مارچ علماء اور باشعور لوگوں کے نزدیک ایک فریب ہے اس کے پیچھے مقاصد یہود اور ہندووں کے کارفرما ہیں۔
    فرمان باری تعالی ہے :-
    "یہ (یہود و نصاری)تمھارے دوست ہرگز نہیں ہو سکتے”
    اسلام نے عورت کو حقوق عطا کیے۔
    فرمان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہے ؛-
    اے لوگوں ! عورتوں کے معاملے میں خدا سے ڈرو”
    میرے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو اپنے خطبہ حجتہ الوداع کے موقع پر بھی خواتین کے حقوق پر زور دیا۔
    لیکن قارئین گرامی! اگر ہم آج کے لبرل طبقہ کا موقف دیکھے تو ان کا مقصد یہ ہے کہ عورتوں کو برہنہ رہنے کی اجازت دی جائے۔ان کے مقاصد میں ہے کہ ان خواتین کو فحاشی کے اڈے چلانے کی اجازت دی جائے۔ان آزادی مارچ والوں کا نعرہ ہے
    میرا جسم میری مرضی
    اس نعرہ کو جب ایک غیرت مند مسلمان بولتا ہے تو اس کے دل خون کے آنسو روتا ہے۔آج کیا ہوگیا ہم لوگوں نے اپنی بیٹیوں، بہنوں، کی تربیت بلکل بھی نہیں کی جس کا۔نتیجہ ہم دیکھ رہے ہیں۔امت مسلمہ کے غیرت مند والدین نے جب اپنی بیٹیوں کو
    بیکن ہاؤس(Beacon House) جیسے تعلیمی اداروں میں تعلیم کے لیے داخل کروایا جس کا نتیجہ یہ حاصل ہوا کہ ہماری بیٹیاں کہنے لگ گئی
    میرا جسم میری مرضی ان اداروں میں اسے تعلیم دی گئی کہ:-
    "تیرے ساتھ تیرا باپ نا انصافی کر رہا ہے تجھے باہر جانے کی۔آزادی نہی دے رہا تو تیرے ساتھ نا انصافی ہے”
    یہ تعلیمات دے کر عورت کو آزادی مارچ کرنے کے لیے بیرون عناصر نے فنڈنگ کرنا شروع کر دی اور اگر دیکھا جائے تو ان کا نعرہ ہے
    تیزاب گردی بند کرو
    اسلام نے تو عورت کو اتنا تحفظ دیا ہے کہ تو چار دیواری میں رہ اور اپنی عزت کی حفاظت کر لے۔لیکن جب عورت باہر نکلی اسلام کی تعلیمات کے ساتھ قتال کیا تو غیر محرم کی اس پر نظر پڑی اور پھر اس نے اس عورت پر تیزاب پھینکا شروع کیا۔قارئین! اگر یہ گھر میں رہتی تو اس کے ساتھ یہ معاملہ نہ ہوتا۔
    فرمان باری تعالی ہے:-
    "اے نبی! اپنی بیویوں کو ،اپنی بیٹیوں کو اور مومنوں کی بیویوں اور بیٹیوں کو کہ دو کہ گھروں میں رکی رہو”
    ان لبرل معافیاں کا ایک اور نعرہ ہے:-
    میں تمھارا کھانا کیوں گرم کروں
    افسوس صد افسوس! اے امت مسلمہ کی بیٹی تجھے کیا ہو گیا تونے اسلاف کی تعلیمات کوبھلا دیا اور مغربی کلچر کو اپنا لیا
    سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ کا واقعہ
    جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ غلام بطور مال غنیمت آئے۔تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کو کہا کہ آپ سارا دن چکی میں گیہوں پیستی ہو،پانی کا مشکیزہ بھی اٹھا کر لاتی ہو۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک غلام لے آو تاکہ آپ کی کچھ مدد ہو جائے گی۔جب حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ سلطان عرب کے پاس جا کر اپنا مدعا بیان کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا
    "اے میری بیٹی فاطمہ! اپنا کام خود کیا کرو اور رات کو کام سے فراغت کے بعد تسبیح بتائی یہ کیا کرو”
    آج کی عورت کا کیا مقام سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ سے اونچا ہے(نعوذ باللہ) اگر خاتون جنت اپنا کام اور حضرت علی کا کام کر سکتی ہے تو آج کی مسلمان عورت کیوں نہیں۔
    اسکے بعد ایک اور مقصد ہے کہ
    ہم پردہ کیوں کرے
    اگر یہ خواتین مسلمان ہیں تو یہ نعرہ لگانا ان کے لیے بلکل درست نہیں۔عورت کا مطلب ہی چھپی چیز کا ہے۔
    جس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم سب امتی ہیں ان کی بیٹی خاتون جنت حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ اپنےخاوند حضرت علی رضی اللہ عنہ کو کیا وصیت کرتی ہے۔
    "اے علی! میرا جنازہ رات کو اٹھانا اور میری چارپائی پر کھجور کے پتے بھی ڈالنا تاکہ کسی کو علم بھی نہ ہو کہ یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی کا جنازہ جا رہا ہے”
    لیکن قارئین! ان جاہل قسم کی عورتوں نے تو بے غیرتی کی انتہا کر دی کہ کہنے لگی میں پردہ کیوں کرو۔یا تو اے بہن! مسلمان کہلوانا چھوڑ دے یا یہ نعرہ چھوڑ دے۔
    *ہمیں اس مارچ سےاختلاف کیوں؟
    جیسا کہ اوپر میں نے ان کے چند ایک نعروں کی تفصیل بتائی اور ان کا جواب بھی دیا۔اب کچھ قارئین کے ذہن میں آئے گا مجھے اختلاف کیوں ہے۔یہ سارے نعرے امت مسلمہ کی بیٹی کے نہی یہ مغرب کی ڈینا، ٹینو کے ہے۔
    ان کو امریکہ اور برطانیہ نے اس ملک پاکستان کی شریف اور متقی بیٹیوں کو تباہ کرنے کے لیے بھیجا ہے تاکہ شریف النفس امت کی بیٹیوں کو بھی تباہ کیا جائے۔اور امت مسلمہ کی مائیں محمد بن قاسم،سلطان محمود غزنوی جیسے شیر جننا چھوڑ دے۔
    ہمیں اس بے غیرتی مارچ کا ہر پلیٹ فارم پر رد کرنا چاہیے اور ہمارے وزیراعظم جناب عمران خان صاحب جو کہ پاکستان کو ریاست مدینہ جیسا بنانا چاہتے ہیں ان کو ان موم بٹی مافیا کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہیے۔
    اسلام نے عورت کو کیا حقوق دئیے؟
    عورت کا جو حال عرب میں تھا وہی پوری دنیا میں تھا؛ عرب کے بعض قبائل لڑکیوں کودفن کردیتے تھے۔ قرآن مجید نے اس پر سخت تہدید کی او راسے زندہ رہنے کا حق دیا اور کہا کہ جو شخص اس کے حق سے روگردانی کرے گا، قیامت کے دن خدا کو اس کاجواب دینا ہوگا۔ فرمایا:
                    وإذا الموٴدةُ سُئِلَتْ․ بأیِ ذنبٍ قُتِلَتْ (التکویر: ۸۔۹)
                    اس وقت کو یاد کرو جب کہ اس لڑکی سے پوچھا جائے گا جسے زندہ دفن کیاگیا تھا کہ کس جرم میں اسے مارا گیا۔
                    ایک طرف ان معصوم کے ساتھ کی گئی ظلم وزیادتی پر جہنم کی وعید سنائی گئی تو دوسری طرف ان لوگوں کوجنت کی بشارت دی گئی۔ جن کادامن اس ظلم سے پاک ہو او رلڑکیوں کے ساتھ وہی برتاوٴ کریں جو لڑکوں کے ساتھ کرتے ہیں اور دونوں میں کوئی فرق نہ کریں۔ چنانچہ حضرت عبداللہ ابن عباس فرماتے ہیں کہ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص کی لڑکی ہو وہ نہ تو اسے زندہ درگور کرے اور نہ اس کے ساتھ حقارت آمیز سلوک کرے اور نہ اس پر اپنے لڑکے کو ترجیح دے تو اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرے گا(۴)۔
    عورت بحیثیتِ انسان
                    اسلام نے عورت پر سب سے پہلا احسان یہ کیا کہ عورت کی شخصیت کے بارے میں مرد وعورت دونوں کی سوچ اور ذہنیت کو بدلا۔ انسان کے دل ودماغ میں عورت کا جو مقام ومرتبہ اور وقار ہے اس کو متعین کیا۔ اس کی سماجی، تمدنی، اور معاشی حقوق کا فرض ادا کیا۔ قرآن میں ارشاد ربانی ہے :
                    خلقکم من نفسٍ واحدةٍ وخَلَقَ منہا زوجَہا (النساء: ۱)
                    اللہ نے تمہیں ایک انسان (حضرت آدم) سے پیدا کیا اور اسی سے اس کی بیوی کو بنایا۔
                    اس بنا پر انسان ہونے میں مرد وعورت سب برابر ہیں۔ یہاں پر مرد کے لیے اس کی مردانگی قابلِ فخر نہیں ہے اور نہ عورت کے لیے اس کی نسوانیت باعثِ عار۔ یہاں مرد اور عورت دونوں انسان پر منحصر ہیں اور انسان کی حیثیت سے اپنی خلقت اور صفات کے لحاظ سے فطرت کا عظیم شاہکار ہے۔ جو اپنی خوبیوں اور خصوصیات کے اعتبار سے ساری کائنات کی محترم بزرگ ترین ہستی ہے۔ قرآن میں ا شاد ہے کہ:
                    وَلَقَدْ کَرَّمْنَا بَنِیْ آدَمَ وَحَمَلْنٰہُمْ فِیْ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْنٰہُم مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَفَضَّلْنٰہُمْ عَلٰی کَثِیْرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِیْلاً(سورہ بنی اسرائیل: ۷۰)
                    ہم نے بنی آدم کو بزرگی وفضیلت بخشی اور انھیں خشکی اور تری کے لیے سواری دی۔ انھیں پاک چیزوں کا رزق بخشا اور اپنی مخلوقات میں سے بہت سی چیزوں پر انھیں فضیلت دی۔
                    اورسورہ التین میں فرمایا:
                    لَقَدْ خَلَقْنَا الاِنْسَانَ فِی اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ (التین: ۴)
                    ہم نے انسان کو بہترین شکل وصورت میں پیدا کیا۔
                    چنانچہ آدم کو جملہ مخلوقات پر فضیلت بخشی گئی اور انسان ہونے کی حیثیت سے جو سرفرازی عطا کی گئی اس میں عورت برابر کی حصے دارہے۔(۵)
    عورتوں کی تعلیم کا حق
                    انسان کی ترقی کا دارومدار علم پر ہے کوئی بھی شخص یاقوم بغیر علم کے زندگی کی تگ ودو میں پیچھے رہ جاتاہے۔ اور اپنی کُند ذہنی کی وجہ سے زندگی کے مراحل میں زیادہ آگے نہیں سوچ سکتا اور نہ ہی مادی ترقی کا کوئی امکان نظر آتاہے؛ لیکن اس کے باوجود تاریخ کا ایک طویل عرصہ ایسا گزرا ہے جس میں عورت کے لیے علم کی ضرورت واہمیت کو نظر انداز کیاگیا اور اس کی ضرورت صرف مردوں کے لیے سمجھی گئی اور ان میں بھی جو خاص طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں صرف وہی علم حاصل کرتے تھے اور عورت علم سے بہت دور جہالت کی زندگی بسر کرتی تھی۔
                    لیکن اسلام نے علم کو فرض قرار دیا اور مرد وعورت دونوں کے لیے اس کے دروازے کھولے اور جو بھی اس راہ میں رکاوٹ وپابندیاں تھیں، سب کو ختم کردیا۔اسلام نے لڑکیوں کی تعلیم وتربیت کی طرف خاص توجہ دلائی اور اس کی ترغیب دی، جیسا کہ رسول  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: طلب علم فریضة اور دوسری جگہ ابوسعید خدی کی روایت ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
                    مَنْ عَالَ ثلاثَ بناتٍ فأدَّبَہُنَّ وَزَوَّجَہُنَّ وأحسنَ الیہِنَّ فلہ الجنة(۶)
                    جس نے تین لڑکیوں کی پرورش کی ان کو تعلیم تربیت دی، ان کی شادی کی اور ان کے ساتھ (بعد میں بھی) حسنِ سلوک کیا تو اس کے لیے جنت ہے۔
                    اسلام مرد وعورت دونوں کو مخاطب کرتا ہے اور اس نے ہر ایک کو عبادت اخلاق وشریعت کا پابند بنایا ہے جو کہ علم کے بغیر ممکن نہیں۔ علم کے بغیر عورت نہ تو اپنے حقوق کی حفاظت کرسکتی ہے اور نہ ہی اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرسکتی ہے جو کہ اسلام نے اس پر عائد کی ہے؛ اس لیے مرد کے ساتھ ساتھ عورتوں کی تعلیم بھی نہایت ضروری ہے۔
                    جیسا کہ گزشتہ دور میں جس طرح علم مردوں میں پھیلا، اسی طرح عورتوں میں بھی عام ہوا۔ صحابہ کے درمیان قرآن وحدیث میں علم رکھنے والی خواتین کافی مقدار میں ملتی ہیں، قرآن وحدیث کی روشنی میں مسائل کا استنباط اور فتویٰ دینا بڑا ہی مشکل اور نازک کام ہے؛ لیکن پھر بھی اس میدان میں عورتیں پیچھے نہیں تھیں؛ بلکہ صحابہٴ کرام کے مدِمقابل تھیں، جن میں کچھ کا ذکر کیا جاتاہے۔ مثلاً:
                    حضرت عائشہ، حضرت ام سلمہ، حضرت ام عطیہ، حضرت صفیہ، حضرت ام حبیبہ، اسماء بنت ابوبکر، ام شریک، فاطمہ بنت قیس، وغیرہ نمایاں تھیں۔(۷)
    معاشرتی میدان
                    جس طرح دیگر معاشروں نے عورت کو کانٹے کی طرح زندگی کی رہ گزر سے مٹانے کی کوشش کی تو اس کے برعکس اسلامی معاشرہ نے بعض حالتوں میں اسے مردوں سے زیادہ فوقیت اور عزت واحترام عطا کیا ہے۔ وہ ہستی جو عالمِ دنیا کے لیے رحمت بن کر تشریف لائی( محمد صلی اللہ علیہ وسلم) اس نے اس مظلوم طبقہ کو یہ مژدہ جانفزا سنایا:
                    حُبِّبَ الَیَّ مِنَ الدُّنْیَا النِّسَاءُ والطِّیُبُ وَجُعِلَتْ قُرَّةُ عَیْنِيْ فِی الصَّلوٰةِ(۸)
                    مجھے دنیا کی چیزوں میں سے عورت اور خوشبو پسند ہے اور میری آنکھ کی ٹھنڈک نماز میں رکھ دی گئی ہے۔
                    اس سے ثابت ہوتا ہے کہ عورت سے بیزاری اور نفرت کوئی زہد وتقویٰ کی دلیل نہیں ہے، انسان خدا کا محبوب اس وقت ہوسکتاہے جب وہ اللہ کی تمام نعمتوں کی قدر کرے جن سے اس نے اپنے بندوں کو نوازا ہے، اس کی نظامت اور جمال کا متمنی ہو اور عورتوں سے صحیح ومناسب طریقے سے پیش آنے والا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ مرد اور عورت دونوں کے لیے نکاح کو لازم قرار دیا گیا ہے، اس سلسلے میں آپ کا ارشاد ہے:
                    النکاحُ من سنتی فمن رغب عن سنتی فلیس منی(۹)
                    نکاح میری سنت ہے جس نے میری سنت سے روگردانی کی اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔(۱۰)
                    چنانچہ ایک عورت بیوی کی حیثیت سے اپنے شوہر کے گھر کی ملکہ ہے اور اس کے بچوں کی معلم ومربی ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے :
                    ہن لباس لکم وانتم لباس لہن (البقرہ: ۱۸۷)
                    عورتیں تمہارا لباس ہیں اور تم ان کا ۔
                    یعنی کہ تم دونوں کی شخصیت ایک دوسرے سے ہی مکمل ہوتی ہے۔ تم ان کے لیے باعثِ حسن وآرائش ہو تو وہ تمہارے لیے زینت وزیبائش غرض دونوں کی زندگی میں بہت سے تشنہ پہلو ہوتے ہیں جو کہ ایک دوسرے کے بغیر پایہٴ تکمیل تک نہیں پہنچتے۔(۱۱)
    معاشی حقوق
                    معاشرہ میں عزت معاشی حیثیت کے لحاظ سے ہوتی ہے۔ جو جاہ وثروت کامالک ہے، لوگ اس کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور جس کے پاس نہیں ہے لوگ اس کے قریب سے گزرنا بھی گوارا نہیں کرتے، عزت کرنا تو دور کی بات ہے۔ اسے دنیا کے تمام سماجوں اور نظاموں نے عورت کو معاشی حیثیت سے بہت ہی کمزور رکھا، سوائے اسلام کے، پھر اس کی یہی معاشی کمزوری اس کی مظلومیت اور بیچارگی کا سبب بن گئی۔ مغربی تہذیب نے عورت کی اسی مظلومیت کا مداوا کرنا چاہا۔ اور عورت کو گھر سے باہر نکال کر انھیں فیکٹریوں اور دوسری جگہوں پر کام پر لگادیا۔ اس طرح سے عورت کا گھر سے باہر نکل کر کمانا بہت سی دیگر خرابیوں کا سبب بن گیا، ان حالات میں اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جس نے راہِ اعتدال اختیار کیا۔
                    (۱) عورت کا نان ونفقہ ہر حالت میں مرد کے ذمہ ہے۔ اگر بیٹی ہے تو باپ کے ذمہ۔ بہن ہے تو بھائی کے ذمہ ، بیوی ہے تو شوہر پر اس کانان و نفقہ واجب کردیا گیا اور اگر ماں ہے تو اس کے اخراجات اس کے بیٹے کے ذمہ ہے، ارشاد باری تعالی ہے کہ:
                    عَلَی الْمُوْسِعِ قَدَرُہ وَعَلَی الْمُقْتِرِ قَدَرُہ(البقرہ: ۲۳۶)
                    خوشحال آدمی اپنی استطاعت کے مطابق اور غریب آدمی اپنی توفیق کے مطابق معروف طریقے سے نفقہ دے۔
                    (۲) مہر: عورت کا حقِ مہر ادا کرنا مرد پر لازم قرار دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ:
                    وَآتُواْ النَّسَاءَ صَدُقَاتِہِنَّ نِحْلَةً فَإِن طِبْنَ لَکُمْ عَن شَیْْءٍ مِّنْہُ نَفْساً فَکُلُوہُ ہَنِیْئاً مَّرِیْئاً(النساء: ۴)
                    عورتوں کا ان کا حقِ مہر خوشی سے ادا کرو اگر وہ اپنی خوشی سے اس میں سے کچھ حصہ تمھیں معاف کردیں تو اس کو خوشی اور مزے سے کھاوٴ۔
                    (۳) وراثت: بعض مذہبوں کے پیشِ نظر وراثت میں عورت کا کوئی حق نہیں ہوتا؛ لیکن ان مذہبوں اور معاشروں کے برعکس اسلام نے وراثت میں عورتوں کا باقاعدہ حصہ دلوایا۔ اس کے لیے قرآن میں لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأنْثَیَیْنِ ارشاد ہوا ہے یعنی مرد کو عورتوں کے دو برابر حصے ملیں گے۔ (النساء: ۱۱) یعنی عورت کاحصہ مرد سے آدھا ہے، اسی طرح وہ باپ سے ، شوہر سے، اولاد سے، اور دوسرے قریبی رشتہ داروں سے باقاعدہ وراثت کی حق دار ہے۔
                    (۴) مال وجائیداد کا حق: اس طرح عورت کو مہر سے اور وراثت سے جو کچھ مال ملے، وہ پوری طرح سے اس کی مالک ہے؛ کیوں کہ اس پر کسی بھی طرح کی معاشی ذمہ داری نہیں ہے؛ بلکہ وہ سب سے حاصل کرتی ہے؛ اس لیے یہ سب اس کے پاس محفوظ ہے۔ اگر مرد چاہے تو اس کا وراثت میں دوگنا حصہ ہے؛ مگر اسے ہر حال میں عورت پر خرچ کرنا ہوتا ہے، لہٰذا اس طرح سے عورت کی مالی حالت (اسلامی معاشرہ میں) اتنی مستحکم ہوجاتی ہے کہ کبھی کبھی مرد سے زیادہ بہتر حالت میں ہوتی ہے۔
                    (۵) پھر وہ اپنے مال کو جہاں چاہے خرچ کرے، اس پر کسی کا اختیار نہیں، چاہے تو اپنے شوہر کو دے یا اپنی اولاد کو یا پھر کسی کو ہبہ کرے یا خدا کی راہ میں دے یہ اس کی اپنی مرضی ہے اور اگر وہ از خود کماتی ہے تو اس کی مالک بھی وہی ہے؛ لیکن اس کا نفقہ اس کے شوہر پر واجب ہے، چاہے وہ کمائے یا نہ کمائے۔ اس طرح سے اسلام کا عطا کردہ معاشی حق عورت کو اتنا مضبوط بنادیتا ہے کہ عورت جتنا بھی شکر ادا کرے کم ہے؛ جب کہ عورت ان معاشی حقوق سے کلیتاً محروم ہے۔
    تمدنی حقوق
                     شوہر کاانتخاب : شوہر کے انتخاب کے سلسلے میں اسلام نے عورت پر بڑی حد تک آزادی دی ہے۔ نکاح کے سلسلے میں لڑکیوں کی مرضی اور ان کی اجازت ہر حالت میں ضروری قرار دی گئی ہے۔ ارشاد نبوی ہے:
                    لَایُنْکَحُ الْاَیْمُ حَتّٰی تُسْتَأمَرُ وَلاَ تُنْکَحُ الْبِکْرُ حتی تُسْتأذن(۱۲)
                    شوہر دیدہ عورت کا نکاح اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک کہ اس سے مشورہ نہ لیاجائے اور کنواری عورت کا نکاح بھی اس کی اجازت حاصل کیے بغیر نہ کیا جائے۔(۱۳)
                    اگر بچپن میں کسی کا نکاح ہوگیا ہو، بالغ ہونے پر لڑکی کی مرضی اس میں شامل نہ ہو تو اسے اختیار ہے کہ اس نکاح کو وہ رد کرسکتی ہے، ایسے میں اس پر کوئی جبر نہیں کرسکتا۔
                    ہاں اگر عورت ایسے شخص سے شادی کرنا چاہے جو فاسق ہو یا اس کے خاندان کے مقابل نہ ہو تو ایسی صورت میں اولیاء ضرور دخل انداز ی کریں گے۔
    خلع کا حق
                     اسلام نے عورت کو خلع کاحق دیا ہے کہ اگر ناپسندیدہ ظالم اور ناکارہ شوہر ہے تو بیوی نکاح کو فسخ کرسکتی ہے اور یہ حقوق عدالت کے ذریعے دلائے جاتے ہیں۔
    حسن معاشرت کا حق
                    قرآن میں حکم دیا گیا: وعاشروہن بالمعروف عورتوں سے حسن سلوک سے پیش آوٴ (النساء: ۱۹) چنانچہ شوہر کو بیوی سے حسن سلوک اور فیاضی سے برتاوٴ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے نبی  صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ خیرُکم خیرُکم لاہلہ۔ تم میں سے بہترین لوگ وہ ہیں جو اپنی بیویوں کے حق میں اچھے ہیں اور اپنے اہل وعیال سے لطف ومہربانی کاسلوک کرنے والے ہیں۔(۱۴)
    بیویوں کے حقوق
                    اسلام کے آنے کے بعد لوگوں نے عورتوں کو بے قدری کی نگاہوں سے دیکھا، اس بے قدری کی ایک شکل یہ تھی کہ لوگ عبادت میں اتنے محو رہتے تھے کہ بیوی کی کوئی خبر نہیں۔ حضرت عمرو بن العاس اور حضرت ابودرداء کا واقعہ کابڑی تفصیل سے حدیث میں مذکور ہے کہ کثرتِ عبادت کی وجہ سے ان کی بیوی کو ان سے شکایت ہوئی، نبی  صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بلا کر سمجھایا اور فرمایا کہ تم پر تمہاری بیویوں کا بھی حق ہے، لہٰذا تم عبادت کے ساتھ ساتھ اپنی بیویوں کا بھی خیال رکھو۔
                    بیویوں کے حقوق کے بارے میں آپ  صلی اللہ علیہ وسلم حجة الوداع کے موقع پر فرمایا:
                    ”لوگو! عورتوں کے بارے میں میری وصیت قبول کرو وہ تمہاری زیر نگین ہیں تم نے ان کو اللہ کے عہد پر اپنی رفاقت میں لیا ہے اور ان کے جسموں کو اللہ ہی کے قانون کے تحت اپنے تصرف میں لیا ہے تمہارا ان پر یہ حق ہے کہ گھر میں کسی ایسے شخص کو نہ آنے دیں جس کا آنا تمھیں ناگوار ہے اگر ایسا کریں تو تم ان کو ہلکی مار مار سکتے ہو اور تم پر ان کو کھانا کھلانا اور پلانا فرض ہے۔(۱۵)
                    آپ نے ایک جگہ اور فرمایا:
                    خیرُکم خیرُکم لاہلہ وأنا خیرُکم لاہلي(۱۶)
                    تم میں سے بہترین وہ ہے جو اپنی بیویوں کے لیے بہترین ثابت ہو اور خود میں اپنے اہل وعیال کے لیے تم سب سے بہتر ہوں۔
                    انَّ أکْمَلَ الموٴمنینَ ایماناً أحسنُہم خُلقاً وألطفُہم لأہلہ(۱۷)
                    کامل ترین مومن وہ ہے جو اخلاق میں اچھا ہو اور اپنے اہل وعیال کے لیے نرم خو ہو۔
                    نبی  صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مردوں کو بیویوں کے حق میں سراپا محبت وشفقت ہونا چاہیے اور ہر جائز امور میں ان کی حوصلہ افزائی اور دلجوئی کرنی چاہیے۔ کچھ لمحوں کے لیے دوسروں کے سامنے اچھا بن جانا کوئی مشکل کام نہیں حقیقتاً نیک اور اچھا وہ ہے جو اپنی بیوی سے رفاقت کے دوران صبروتحمل سے کام لینے والا ہو اور محبت وشفقت رکھنے والا ہو۔(۱۸)
    عورتوں کا معاشرتی مقام اسلام کی نظر میں
                    اسلام میں معاشرتی حیثیت سے عورتوں کو اتنا بلند مقام حاصل ہے کہ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ معاشرت کے باب میں اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر مرد کو مخاطب کرکے یہ حکم دیتا ہے کہ ان کے ساتھ معاشرت کے باب میں ”معروف“ کاخیال کیا جائے؛ تاکہ وہ معاشرت کے ہر پہلو اور ہر چیز میں حسن معاشرت برتیں۔ ارشاد ربانی ہے کہ:
                    وَعَاشِرُوہُنَّ بِالْمَعْرُوفِ فَإِن کَرِہْتُمُوہُنَّ فَعَسَی أَن تَکْرَہُواْ شَیْْئاً وَیَجْعَلَ اللّہُ فِیْہِ خَیْْراً کَثِیْراً(النساء: ۱۹)
                    اور ان عورتوں کے ساتھ حسنِ معاشرت کے ساتھ زندگی گزارو اگر وہ تم کو ناپسند ہوں تو ممکن ہے کہ تم کوئی چیز ناپسند کرو اور اللہ اس میں خیر کثیر رکھ دے۔
                     معاشرت کے معنی ہیں، مل جل کر زندگی گزارنا، اس لحاظ سے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ایک تو مردوں کو عورتوں سے مل جل کر زندگی گزارنے کا حکم دیاہے۔ دوسرے یہ کہ ”معروف“ کے ساتھ اسے مقید کردیا ہے، لہٰذا امام ابوبکر جصاص رازی(المتوفی ۷۰ھ) معروف کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اس میں عورتوں کا نفقہ، مہر، عدل کا شمار کرسکتے ہیں۔
                    اور معروف زندگی گزارنے سے مطلب یہ ہے کہ گفتگو میں نہایت شائستگی اور شیفتگی سے کام لیا جائے باتوں میں حلاوت ومحبت ہو حاکمانہ انداز نہ ہو اور ایک بات کو توجہ کے ساتھ سنیں اور بے رخی بے اعتنائی نہ برتیں اور نہ ہی کوئی بدمزاحی کی جھلک ظاہر ہو۔(۱۹ )
    ابھی خواتین جو کہ آزادی مارچ میں ہیں کہتی ہے کہ اسلام نے ہمیں حقوق نہیں دئیے۔
    افسوس صد افسوس!

  • پنجابی طنز و مزاح اور جگت کا ایک باب تمام ہوا ، تحریر نعمان علی ہاشم

    پنجابی طنز و مزاح اور جگت کا ایک باب تمام ہوا ، تحریر نعمان علی ہاشم

    پنجابی طنز و مزاح اور جگت کا ایک باب تمام.
    امان اللہ خان چل بسے. تحریر نعمان علی ہاشم
    ویسے تو میں شروع دن سے سنجیدہ مزاج تھا مگر کالج تک پہنچتے ہی زندگی مکمل تبدیل ہو گئی. مزاج سے لے کرگفتگو کے عنوان تک بدل گئے. اس سے پہلے تک جو موضوعات نہایت پسندیدہ تھے ان سے اچانک سے بے دلی ہونے لگی. گوجرانوالہ کے مزاج میں شاید وہ سنجیدگی اور خشکی بالکل ناپسندیدہ تھی. اور شاید میں خود اپنے آپ سے بھی اکتا چکا تھا. سو اپنا منہ طنز و مزاح کی طرف کر لیا. اردو میں تھوڑا سا یوسفی اور ابن انشاء پڑھا لیکن اپنے مزاج سے مطابقت نہ ہونے کے باعث چھوڑ دیا. پھر دھیان دنیا نیوز پر چلنے والے پروگرام حسب حال کی طرف گیا اور وہاں سہیل احمد عزیزی کو دیکھنے لگا. آفتاب اقبال نے جب دنیا نیوز چھوڑ کیا جیو جوائن کیا تو وہاں مجھے امان اللہ خان ملے. پہلے تو سہیل احمد کی حس مزاح کا گرویدہ تھا مگر بعد میں امان اللہ خان کا دیوانہ ہو گیا. امان اللہ خان اس لیے بھی شدید پسند تھے کہ وہ پڑھے لکھے اور ڈگری یافتہ نہ تھے. ان کا کل علم ان کا مشاہدہ تھا. سٹیج کی دنیا میں آنے والے بے حیائی کے طوفان سے اکتا کر سہیل احمد اور امان اللہ جیسے لوگ سٹیج سے دور ہو چکے تھے. آفتاب اقبال نے انہیں ایک نیا پلیٹ فارم دے کر پنجابی طنز و مزاح کے تباہ ہوتے ورثے کو بچا لیا. امان اللہ خان 1950 میں پاکستان کے شہر لاہور میں پیدا ہوئے. انتہائی غریب گھرانے میں آنکھ کھولی. ابتدائی زمانے میں لاہور کے مشہور زمانہ داتا دربار کے باہر تسبیحاں اور ٹوپیاں بیچا کرتے تھے. اور اکثر کہا کرتے تھے کہ میں وہاں زیادہ خوش تھا. کئیریر کا آغاز گانے سے کیا. مگر پھر سٹیج سے وابستہ ہو گئے. انہوں نے اپنی زندگی میں 860 لائیو تھیٹر پرفارمنس دی. جو کہ ایک ریکارڈ ہے. پنجاب کے مختلف لہجوں میں گفتگو کا قرینہ رکھنے والے امان اللہ نے اپنی زندگی میں دو فلمیں کی. ان کے مشہور سٹیج ڈراموں میں بیگم ڈش اینٹینا، ڈسکو دیوانے، کھڑکی کے پیچھے، محبت سی این جی، یو پی ایس، بڑا مزہ آئے گا، شرطیہ مٹھے، سوہنی چن ورگی اور کیچ اپ وغیرہ شامل ہیں. 2010. کے بعد آپ جیو نیوز، دنیا نیوز، نیو نیوز اور آپ نیوز سے وابستہ رہے. جہاں امان اللہ خان نے خبرناک، خبردار، خبرزار جیسے پروگرامز میں پرفام کیا. آپ کا آخری ٹی پروگرام خبرزار ود آفتاب اقبال تھا. اس کے بعد آپ علیل ہو گئے اور کسی ٹی شو میں نہیں آئے. امان اللہ خان نے پاکستان سے باہر بھی پنجابی اور اردو طنز و مزاح میں خوب نام کمایا. آپ نے یورپ اور امریکہ سمیت دنیا کے بڑے براعظموں میں لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیریں. بھارت کے مشہور کامیڈی شوز میں بھی اپنی صلاحیت اور قابلیت کے جوہر دکھائے. پنجاب اور لاہور سے وابستگی کی وجہ سے آپ پر فوک رنگ ہمیشہ غالب رہا. دنیا میں پنجابی طنز و مزاح اور جگت سے واقف شاید ہی کوئی ایسا شخض ہو جو امان اللہ کے نام سے واقف نہ ہو. آپ جگت اور کامیڈی کے میدان میں ایک یونیورسٹی کا درجہ رکھتے تھے. نئے آنے والے آرٹسٹوں کی ہمیشہ قدر کرتے تھے.
    آپکو پاکستان کے صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی سے بھی نوازا گیا.
    امان اللہ خان نے پنجابی زبان اور ثقافت کے لیے بے پناہ خدمات سرانجام دیں. وہ اکثر کہا کرتے تھے بہت زیادہ کام اور اونچا بولنے کی وجہ سے میرے پھیپھڑے خراب ہو گئے. میں اکثر سوچتا تھا کہ کام کم کروں مگر لوگوں کی محبت نے مجھے رکنے نہ دیا. آج چھے مارچ 2020 کی صبح رنجیدہ دلوں کو خوش کرتے کرتے امان اللہ خان اس دنیا سے رخصت ہو گئے. شاید ہی مستقبل میں پنجابی زبان کا اتنا بڑا کامیڈین پیدا ہو جس کی بات پر ہنستے ہنستے آنکھوں سے آنسو نکلنے لگیں.
    اللہ آپکی تمام بشری خطاؤں سے درگزر فرمائے. اور آپکو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے. آمین
    #نعمانیات
    نعمان علی ہاشم