اسلام و پاکستان کو لبرل بے دین لوگ بدنام کرنے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے مگر ہر بار ان کو منہ کی کھانی پڑتی ہے اس سال عالمی یوم خواتین 8 مارچ کو پاکستان میں چند حقوق نسواں کی نام نہاد جعلی علمبردار عورتوں نے عورت مارچ کا اعلان کیا ہے جو کہ اس سے قبل بھی ہو چکا ہے اس عورت مارچ کو پہلے پاکستان کی عدالت نے روکا تھا پھر اچانک غیر مشروط طور پر یہ کہتے ہوئے اجازت دے دی گئی کہ ہر کسی کو تنظیم سازی کا حق ہے لہذہ عورتیں مارچ کریں مگر اخلاقی اقدار کو ملحوظ خاطر رکھیں حالانکہ اس سے قبل ہوئے عورت مارچ میں اہلیان پاکستان کیساتھ پوری دنیا نے بھی دیکھا کہ کسطرح عورت مارچ کے نام پر بد تہذیبی بد اخلاقی اور بے شرمی کی گئی ان 3 درجن سے زائد مطلقہ آزاد خیال اور دین سے بے زار عورتوں نے جن میں سے سرفہرست ماروی سرمد نامی تجزیہ کار ہے ،کے زیر سایہ عورت مارچ میں عورتوں نے ایسے گندے بے حیائی پر مبنی پوسٹرز پکڑ رکھے تھے جن پر عورتوں کے مخصوص ایام کی تشریح،عورتوں پر تشدد و تیزاب گردی کی روک تھام،اگر مجھے مارو گے تو مار کھاءو گے،میری شادی نہیں آزادی کی فکر کرو،میں ماں ،بہن ہوں گالی نہیں، ساڈا حق ایتھے رکھ اور میری نسبت میری والدہ سے ہونی چایئے جیسے نعرے درج تھے
پاکستان کلمہ طیبہ کی بنیاد پر بننے والا ملک ہے اور آئین پاکستان میں جہاں مردوں کو حقوق دیئے گئے ہیں وہاں عورتوں کو بھی حقوق فراہم کئے گئے ہیں جن کی واضع مثال ہر شعبہ زندگی میں عورتوں کی نمائندگی بکثرت دیکھی جا سکتی ہے یہی نہیں بلکہ محترمہ بے نظیر بھٹو پاکستان کی 3 بار وزیراعظم رہ چکی ہیں اس کے علاوہ بیرون ملک سفارتکاری میں بھی عورتیں ہیں ایک عام گھریلوں خاتون سے لے کر وزیراعظم تک کے حقوق عورتوں کو دیئے گئے ہیں مگر پھر بھی سمجھ سے بالاتر ہے کہ ان نام نہاد روشن خیال عورتوں کو کیا مسئلہ ہے جو آئے دن اپنے حقوق کا رونا روتی ہیں حالانکہ سب سے زیادہ عورتوں کے حقوق کا خیال اسلام نے رکھا ہے
خطبہ حجتہ الوداع کے موقع پر نبی ذیشان نے فرمایا
اور اگر وہ فرمانبرداری کریں تو ان پر (کسی قسم کی) زیادتی کا تمہیں کوئی حق نہیں
مذید میرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں پر تشدد روکتے ہوئے فرمایا
تم میں سے کوئی آدمی اپنی بیوی کو اس طرح کیوں مارتا ہے جیسے غلام کو مارا جاتا ہے پھر ممکن ہے کہ دن کے آخر میں یا رات کے آخر میں اس کو ہم بستری بھی کرنی ہو۔ مسند احمد 7119
اس حدیث سے ثابت ہوا آقا کریم نے عورتوں پر بے جا تشدد کی ممانعت کی ہے اور ان کے حقوق کا پورا پورا خیال رکھا ہے یہی نہیں عورت کو حق خلع دیتے ہوئے مذید اس کی شان کو بلند کیا گیا ہے اور جنت ماں کے قدموں تلے ہونے کی بشارت دی گئی ہے مگر یہ نام نہاد حقوق نسواں کی جعلی علمبردار بھول گئیں کہ اسلام سے قبل لوگ اپنی بچیوں کو زندہ درگور کر دیتے تھے پھر میرے نبی رحمت تشریف لائے اور معصوم کلیوں کے محافظ بن گئے جس قدر اسلام نے عورت کے حقوق کا خیال رکھا دنیا میں اتنا خیال کسی مذہب نے نہیں رکھا اسلام نے عورت کو وراثت میں حق دلوایا اور میرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوران جنگ بچوں بوڑھوں کیساتھ عورتوں کو بھی قتل کرنے سے منع فرمایا ہے ایک طرف قبل از اسلام عورت کو پیدا ہوتے ہی قتل کر دیا جاتا تھا تو دوسری طرف نبی ذیشان نے دوران جنگ بھی عورت کو قتل کرنے سے منع فرما دیا ہم اگر اسلام کا مطالعہ کریں تو مردوں سے بڑھ کر عورتوں کو حقوق دیئے گئے عورت پر مرد کو حاکم مقرر کیا گیا اور اسی حاکم کے ذمے اسی عورت کی کفالت کا حکم دیا حالانکہ عام دستور یہ ہے جو حاکم ہوتا ہے وہ آرام کرتا ہے اور محکوم محنت مزدوری جبکہ اسلام نے مرد کو حاکم ہوتے ہوئے محنت مزدوری کا حکم دیا جبکہ عورت کو محکوم ہوتے ہوئے بھی شہزادی و ملکہ کا رتبہ دیا آئین پاکستان میں عورت کسی مرد کی طرف سے آنکھ مارنے کی سزا ایک سال قید رکھی گئی ہے 1988 ker.
دفعہ اے 498 کے تحت جو شحض کسی عورت کو اس کی وراثت سے محروم کرے گا اسے 5 سے 10 سال کی سزا اور 10 لاکھ روپیہ جرمانہ کی سزا مقرر ہے
دفعہ بی 371 کے تحت کسی بھی عورت کو عصمت فروشی کی غرض سے خریدنا اور کرایے پر لینے کی سزا 25 سال مقرر ہے دفعہ 509 کے تحت کسی بھی عورت پر بہتاب بازی کی سزا ایک سال مقرر کی گئی ہے مگر پھر بھی یہ گندی عورتیں پاکستان کو بدنام کرنے کیلئے خودساختہ حقوق کی بات کرتی ہیں دراصل ان کو تنگی آئین پاکستان و اسلام میں عورت کو دیئے گئے تحفظ سے ہیں یہ واہیات عورتیں چاہتی ہیں کہ ان قانین کو ختم کرکے ان کی مرضی کے مطابق ان کو بے لگام کر دیا جائے اور ایک بے لگام گھوڑی کی طرح جہاں دل کرے منہ مارتی پھریں
پاکستان میں سرکاری سکولوں میں عورتوں کی نا صرف تعلیم مفت ہے بلکہ ان کیلئے مخصوص رقم بھی گورنمنٹ دیتی ہے تاکہ ان کی پرورش میں کسی قسم کی کمی نا آئے اس کے علاوہ پاکستان میں ہزاروں کی تعداد میں این جی اوز ایسی ہیں جو غریب اور بے سہارا عورتوں کیلئے رہائش و کھانے کے علاوہ ان کے نکاح تک کا خرچ برداشت کرتے ہیں
ماروی سرمد جیسی لبرل بے دین عورت یہ بھول گئی کہ ہمارے پڑوس میں ایک ہندو قوم رہتی ہے کہ جس میں عورت کے خاوند کو مرنے کے بعد یا تو اس کے مرنے والے خاوند کیساتھ دفن کر دیا جاتا ہے یا پھر باقی زندگی ایک ہی مخصوص لباس میں رہتے ہوئے دوسرے لوگوں کی باندی بن کر زندگی گزارنی پڑتی ہے اور لوگ اس کے سائے سے بھی ڈرتے ہیں جبکہ اسلام میں بیوہ ہونے والی عورت کی کفالت اس کے بھائی،سسر،باپ،بیٹے کی ذمہ داری بن جاتی ہے مگر افسوس کہ اس گھٹیا عورت نے آج دن تک ہندوستان میں عورت پر ہوتے ظلم پر آواز بلند نہیں کی جس کی وجہ صرف یہ ہے کہ یہ مخصوص آزاد عورتیں درحقیقت عورت کے حقوق کی نہیں آزاد معاشرے کے گندے غلیظ حقوق کی پیروی کرتے ہوئے انہیں اجاگر کر رہی ہیں اور یہ عورتیں مملکت پاکستان میں بے حیائی بے شرمی کو دوام دینا چاہتی ہیں جنہیں روکنا حکومت وقت اور عدلیہ کی ذمہ داری ہے کیونکہ یہ معاملہ چند خواتین کا نہیں یہ معاملہ اسلام و پاکستان کی بقاء کا ہے اگر آج ان کو نا روکا گیا تو کل اس،گندے واہیات نعروں کے نتائج انتہائی غلط نکلیں گے
Category: بلاگ
-

عورتوں کا عالمی دن اور عورت مارچ کے حقائق تحریر: غنی محمود قصوری
-
عورت مارچ ہو یا پشتون تحفظ موومنٹ ان سے نمٹنے کا آپ کا طریقہ غلط ہے صاحب!!! تحریر: محمد عبداللہ
کسی بھی نعرے یا مطالبے کا واحد حل جو ہمارے ہاں رائج ہے وہ ہے اس کو بزور قوت یا بزور زبان ریجیکٹ کردو جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ نعرہ اور وہ مطالبہ شدت پکڑتا ہے، این جی اوز کی شہ ملتی ہے، بیرونی امداد ملتی ہے، انٹرنیشل میڈیا کوریج دے کر حوصلہ فراہم کرتا ہے اور پھر وہی نعرہ قومی سلامتی اور ملکی بقا سے ٹکراتا ہے یہ چیز بھی یاد رکھیں کہ ہر تحریک اور ہر نعرہ چند حقائق بھی رکھتا ہے جو ہمارے معاشرہ کے ظلم و جبر اور استحصالی نظام ان کو فراہم کرتا ہے یہ اور بات ہے کہ ان حقیقی اور جائز مطالبات کی آڑ میں لمبی چوڑی ناجائز مطالبات اور نعروں کی فہرست ہوتی ہے جو بالواسطہ یا بالاواسطہ ہمارے مذہب اور ہماری قومی سلامتی سے متصادم ہوتی ہے.
اگر کسی بھی تحریک کے آغاز ہی میں اس کے جائز مطالبات اور تحفظات کو پورا کردیا جائے تو ان کے سینکڑوں ناجائز مطالبات اپنی موت آپ مرجاتے ہیں. پی ٹی ایم کی مثال ابھی بالکل تازہ اور ہمارے سب کے سامنے کی ہے. نقیب اللہ محسود کے قتل پر انصاف کا مطالبہ بالکل مبنی بر حق مطالبہ تھا جو پورا نہ کیا گیا جس کا نتیجہ تاحال بھگت رہے ہیں. اب یہ عورت مارچ کا ایشو بھی ایسا ہی ہے جتنا ٹرول کریں گے، تنقید کریں گے، سوشل میڈیا پر اس کے اینٹی ٹرینڈز چلائیں گے ان کو اور شہرت ، قوت اور بین الاقوامی توجہ ملتی جائے گی، آسیہ مسیح، ملالہ یوسفزئی اور مختاراں مائی جیسے کتنے ہی ایسے ایشوز اور کیسز ہوتے ہیں جن کو ہم اتنی ہائپ دیتے ہیں کو بین الاقوامی مسئلہ بن جاتا ہے اور پھر معاملہ ہمارے اختیار میں نہیں رہتا.
عورت مارچ بالکل ویسا ہی مسئلہ ہے ہمارے معاشرے میں عورت کا استحصال جاری و ساری ہے اس میں کردار میڈیا، شوبز، معاشرہ سب ملوث ہیں جنہوں نے عورت کو انسان سے object اور پراڈکٹ بنادیا ہے کوئی بھی چیز بیچنی ہے تو اس کے لیے اس کے کمرشل میں عورت کا ہونا ضروری ہے حتیٰ کے ٹریکٹرز تک کی کمرشلز میں ہم عورت سے اپنے جسم کی نمائش کرواتے ہیں. کالج، یونیورسٹی، آفس، ٹرانسپورٹ ، بازار، پارک اور دیگر پبلک پلیسز پر نظر آنے والی عورت ہمارے نزدیک عورت نہیں ہماری نظروں کی تسکین کا ذریعہ ہوتی ہے.
ہم تو چھوٹی بچیوں تک کو معاف نہیں کرتے زینب کا کیس سب کے سامنے ہے، ریپ کے کتنے کیسز ہوتے ہیں، کالجز اور یونیورسٹیز میں کس طرح سے عورتوں کو ہراساں کیا جاتا ہے، تیزاب پھینکنے کے کتنے واقعات ہوتے ہیں.
یہ سب مکروہ حقائق ہیں جو بنیاد بنتے ہیں اور اس کی بنیاد پر شرپسند عناصر اور این جی اوز اپنا کام کرتی ہیں اور بڑی معذرت کے ساتھ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز ان نعروں کے خلاف نہیں اپنے نظام کے خلاف چلائیے آواز اٹھانی ہے تو اپنے سسٹم کے خلاف اٹھائیے جو مختلف طبقات کا استحصال کرکے ان کی آڑ میں مختلف گمراہ کن تحریکوں کو پنپنے کا موقع دیتا ہے اور ان استحصال زدہ طبقات کی بجائے ان نعروں اور تحریکوں کو تحفظ اور قوت دے کر کھل کھیلنے کا موقع دیتا ہے مثالیں قدم قدم پر بکھری پڑی ہیں.
-

کولن منرو نے پاکستان کو محفوظ اور فاسٹ باؤلنگ کے لیے زرخیز خطہ قرار دے دیا
کولن منرو نے پاکستان کو محفوظ اور فاسٹ باؤلنگ کے لیے زرخیز خطہ قرار دے دیا
باغی ٹی وی : پی ایس ایل نے پاکستان میں کرکٹ ٹیلنٹ کو عروج بخشا ہے .پاکستان سپر لیگ پی ایس ایل فائیو کے مقابلے اپنے عروج کی طرف بڑھ رہے ہیں، سنسنی خیز میچوں کا سلسلہ جاری ہے اور غیر ملکی کھلاڑی نہ صرف پاکستان کے چار وینیوز پر ہونے والے میچز میں عمدہ کارکردگی کے ساتھ اپنا حصہ ڈال رہے ہیں بلکہ پاکستان میں اپنے قیام سے خوش بھی ہیں۔
پی ایس ایل فائیو کے لیے اسلام آباد یونائیٹڈ میں شامل کیوی کرکٹر کولن منرو پاکستان سپر لیگ کے نوجوان فاسٹ بولرز سے ہی متاثر نہیں ہیں بلکہ یہاں پی ایس ایل کھیل کر خود کو محفوظ بھی سمجھتے ہیں۔
کولن منرو نے جیو نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں پاکستان میں بہت محفوظ ہوں، میری بھی زندگی ہے، اگر میری زندگی محفوظ نہ ہوتی تو میں یہاں نہ آتا، میرے علاوہ بھی دیگر کرکٹرز یہاں آکر کھیل رہے ہیں، وہ خوش ہیں تو ہی کھیل رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ انفرادی طور پر تو کھلاڑیوں نے فیصلہ کیا اور یہاں کھیل رہے ہیں، اب بورڈز نے فیصلہ کرنا ہے، اگر سب کچھ ایسا ہی رہتا ہے تو کچھ بورڈز بھی اس بارے میں فیصلہ کریں گے لیکن مستقبل میں کیا ہوتا ہے کچھ نہیں کہہ سکتے۔
کولن منرو کہتے ہیں کہ میچز کے مصروف شیڈول کی وجہ سے وہ زیادہ گھوم نہیں سکے لیکن ٹیم کے ہمراہ کچھ کھانوں پر جانے کا موقع ملا، ہلکا پھلکا مقامی کھانوں کا مزہ بھی چکھا ہے، کچھ کھلاڑی ڈائٹری پلان پر عمل کر رہےہیں. واضح رہے کہ پی ایس ایل میں غیر ملکی کھلاڑی بہت مطمئن ہیں. .اس طرح اختلافات کی باتیں بھی بے بنیادہ ہیں. اپنے ٹوئٹر پیغام میں ڈیرن سیمی نے کہا انہیں یقین نہیں آرہا کہ میڈیا میں ان کے جاوید آفریدی کے درمیان اختلافات کی خبریں سامنے لائی گئیں۔ انہوں نے زور دیکر کہا کہ جاوید آفریدی اور وہ بھائیوں کی طرح ہیں اور اسی طرح زلمی ان کے بچے کی طرح ہیں اور میرے اورزلمی کے درمیان کوئی نہیں آسکتا۔
راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو میں پشاور زلمی کے ہیڈکوچ. محمد اکرم نے ٹیم میں کسی بھی اختلاف کی تردید کی اور کہا پہلے دن کی طرح پشاور زلمی ایک فیملی کی طرح ہے۔ ڈیرن سیمی کو ریسٹ کرانا میرا فیصلہ تھا اور ڈیرن سیمی بھی اس کے حق میں یے۔ دو دن پریکٹس سیشنز میں ڈیرن سیمی اپنی فٹنس اور فارم پر محنت کریں گے۔ کھلاڑیوں کو ریسٹ کرانا کوئی نہیں بات نہیں . ہیڈ کوچ محمد اکرم نے کہا کہ ڈیرن سیمی کو ریسٹ کرانا میرا فیصلہ تھا، سیمی فارم اور فٹنس کے لیے نیٹس میں کام کررہے ہیں، -

عورت مارچ اور ہمارا کردار تحریر:عبدالحفیظ چنیوٹی
عورت مارچ کے حوالے سے اک پیج دیکھا فیس بک پر جس کو 21،152 لوگوں نے پسند کیا ہوا ہے، اور بھی پیج تھے اس حوالے سے، اب آتا ہوں اصل بات کی طرف، آخر کون لوگ ہیں اتنے بڑی تعداد میں ان پیجز کو پسند کرنے والے؟ ظاہر سی بات ہے ہم ہی وہ لوگ ہیں جو آگاہی رکھنے کیلئے ان پیجز کو پسند کرتے ہیں لیکن اصل میں ہم ان کے مددگار بن جاتے ہیں، جیسے کچھ عرصہ پہلے تک وقاص گورایہ کو کوئی نہیں جانتا تھا وہ اسلام و پاکستان اور اداروں کے خلاف ٹویٹ کرتا تو ہم سب جواب دینے کیلئے کود پڑتے اور اس کی حرکات پر نظر رکھنے کیلئے اس کو فالو کیا جن میں، میں بھی شامل رہا، آج دیکھ لیں کہ اس نے کتنے بندوں کو فالو کیا ہوا ہے اور اسے کتنے پاکستانیوں نے فالو کیا ہے، جس پر اس نے خود کو فاتح ففتھ جنریشن وار لکھا، اس کو فاتح بنانے میں ہمارا ہاتھ تھا۔
اسی طرح چند لوگ اٹھے پی ٹی ایم کے نام پر جن کو کوئی بھی نہیں جانتا تھا ان کو بھی ہم نے ہی مشہور کیا، اب عورت مارچ والی اٹھی تو ان کو بھی ہم نے مشہور کردیا، اور عورت دشمن اور پاکستان دشمن پیپلزپارٹی کی رکن شیری رحمان نے ان چند آوارہ عورتوں کی حمایت میں اسمبلی میں بدتمیزی سے بات کی اور آخر بدمعاشی سے بات کی کہ یہ مارچ ہوگا۔
پاکستان میں عورت ذات کی بہت عزت کی جاتی ہے، چند اکا دکا واقعات کو لے کر عورت پر تشدد اور انکے حقوق کا تماشہ کیا جاتا ہے، اور حقوق بھی وہ جو اک باعزت عورت کو قبول نا ہو اس پر شور مچایا جاتا ہے۔
خود کی صلاحتیں ان پر ضائع نا کریں ہاں بوقت ضرورت ہلکی پھلکی کلاس لگا دیا کریں،
ان کو مضبوط بنانے میں ہمارا ضرورت سے زیادہ بات کرنا تقویت دیتا ہے جو کہ ہمارے لئے، ہمارے معاشرے کیلئے نقصان بننے کا سبب بنتا ہے ہماری بے خبری اور حالات کی سنگینی کو سمجھے بناء۔ -

اب عورت ہو گی آزاد—از–ثنا صدیق
اس دنیا میں اللہ پاک نے انسان کی بقا اور تحفظ کے لیے مرد اور عورت کے نام سے دو جنسیں پیدا کیں اور ہر جنس کو دوسری جنس کی طلب کا تقاضا رکھا گیا حقیقت میں تو دونوں کی ذندگی ایک دوسرے کے بغیر نامکمل ہے اسی وجہ سے مرد کامل مرد ہوتے ہوئے بھی عورت سے بے نیاز نہیں ہے اور عورت بھی عورت کے لباس میں رہتے ہوئے مرد کے بغیر مطئمن ذندگی بسر نہیں کر سکتی مگر مغربی تہذیب نے جہاں اسلام کے ماننے والوں میں لا دینیت حرص اور مادہ پرستی پیدا کی ہیں وہی مغربی تہذیب نے مسلمان عورت کو اپنے جال میں ایسے پھسنایا کہ عورت کی آزادی کے نام پر اس کی عفت و عصمت بھی داو پر لگا دی
تاریخ کا مطالعہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ مغرب کی عورت کیوں آزادی مارچ کے لیے اٹھی اس کی کیا وجوہات تھیں پہلی دفعہ 1909 میں عورت کے آزادی مارچ کی ابتداء ہوئی 8 مارچ کو آزادی مارچ منانے کا فیصلہ 1913 کو ہوا1908 کو چند مخصوص عورتیں اپنے حق کے لیے آزادی مارچ کے لیے نکلی ان عورتوں پر کاوائی کرتے ہوئے ان کو گرفتار کیا گیا 1909 کو امریکن سوشلسٹ پارٹی نے آزادی مارچ کی قرار داد منظور کی 1910 کو پہلی بار عورت کی آزادی کا عالمی دن منایا گیا آزادی مارچ میں مغربی عورت اپنے معاشی معاشرتی اور سیاسی حقوق کے لیے اٹھی کیونکہ غیر مسلم عورت ہمشہ اپنے مرد کا شکار رہی ہے مرد نے اس صنف نازک کو جنگلی درندہ ہی سمجھا ہے گھر کے سامان اور جانوروں کے برابر عورتیں بیچی اور خریدی جانے لگی اسلام سے پہلے حالات میں عورت کو صرف نسل انسانی کی ترقی کا زریعہ سمجھا جاتا تھا اس کے علاوہ عورت ان کے لیے شرمندگی کا باعث تھی عرب کے علاوہ دوسرے مذاہب میں عورتوں کے ساتھ سلوک ڈاکٹر گستاولی بان کے زریعے پتہ چلتا ہے
"یونانی عورتوں کو ہمشہ کم درجے کی مخلوق سمجھتے تھے اگر کسی عورت کا بچہ خلاف فطرت پیدا ہوتا تھا تو اسے مار ڈالتے تھے”
"اسپارٹا میں اس بد نصیب عورت کو جس سے قومی سپاہی کے پیدا ہونے کی امید نہ ہوتی مارڈالتے تھے جس وقت کسی عورت کے بچہ پیدا ہوتا تو اسے فوائد کی غرض سے کسی دوسرے مرد کی نسل لینے کے لیے اس کے شوہر سے ادھار لے لیتے تھے”
عہد قدیم میں واضح لکھا گیا کہ
"جو کوئی خدا کا پیارا ہے وہ اپنے آپ کو عورت سے بچائے ہزار آدمیوں میں سے ایک پیارا پایا ہے لیکن تمام عالمی عورتوں میں ایک عورت بھی ایسی نہیں جو خدا کی پیاری ہو”روم میں
مرد کی اپنی عورت پر جابرانہ حکومت تھی جس کا معاشرے میں کوئی حصہ نہیں تھا اور شوہر کو اس کی جان پر پورا حق حاصل تھایہودیت میں عورت کامقام یہ ہے اگر دو بھائی ہوں ان میں سے ایک بے اولاد مر جائے تو اس کی بیوہ عورت کا نکاح کسی اور سے نہ کیا جائے اس کے شوہر کا بھائی اسے اپنی بیوی بنائے اسے بھاوج کا حق ادا کرے جب پہلوٹھا جو اس سے پیدا ہو تو اس کے بھائی کا نام شمار ہو گا تاکہ اس کا نام اسرائیل سے مٹ نہ جائے اگر وہ اس کا شوہر بننے سے انکار کر دے تو وہ عورت ججوں کے سامنے اپنے پاوں کی جوتی نکالے اور اس کے منہ پر تھوک دے اور کہے جو اپنے بھائی کا گھر نہیں بنائے گا یہی کیا جائے گا اور اسرائیل میں اس کا نام یہ رکھا جائے اس شخص کا گھر جس کا جوتا نکالا گیا
ہندو کے نزدیک تقدیر طوفان موت جہنم زہر زہریلے سانپ کوئی ان میں سے اتنے خراب نہیں جتنی عورت ہے
عیسائیوں کے نزدیک وہ شیطان کے آنے کا دروازہ ہے وہ شجر ممنوع کی طرف لے جانے والی خدا کے قانون کو توڑنے والی اور خدا کے تصور اور مرد کو غارت کرنے والی ہے
کرائی سوسٹم کے نزدیک
"ایک ناگزیر برائی ایک پیدائشی وسوسہ ایک مرغوب آفت ایک خانگی خطرہ ایک غارت گر دلربائی ایک آراستہ مصبیت ہےروسی مثل مشہور ہے
"دس عورتوں میں ایک روح ہوتی ہے ”اسپینی مثل ہے
"بری عورت سے بچنا چاہے اچھی عورت پر کبھی بھروسہ نہیں کرنا چاہےاطالیون کا قول ہے
گھوڑا اچھا ہو یا برا اسے مار کی ضرورت ہوتی ہے عورت اچھی ہو یا بری اسے بھی مار کی ضرورت ہوتی ہےیہ تھے ھقوق عورت مغربی اور دوسرے مذاہب کے معاشروں میں مگر اسلام اسلام میں تو عورت کی شان و شوکت ہی بہت ہے اس کا ہر دن ہی آزادی کا دن ہے مسلمان عورت کی اہمت تو اس کے مذہب نے بہت پہلے بتا دی تھی
ارشاد ربانی ہے
یایھا الناس اتقو ربکم الذی خلقکم من نفس وحدة و خلق منھا زوجھا وبث منھما رجالا کثیرا ونساء
اے لوگو اپنے رب سے ڑرو جس نے تم سب کو ایک جاندار سے پیدا کیا اور اس جاندار سے اس کا جوڑا پیدا کیا اور ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پیھلائیںاس کا مطلب مرد اور عورت ایک ہی سرچسمہ ہیں انسانیت کی حد تک دونوں میں کمی بیشی نہیں ہے عورت کوئی الگ کم تر یا کوئی اور مخلوق نہیں ہے بلکہ وہ بھی انسان ہی ہے جیسا کہ مرد انسان ہیں پھر مرد کو اللہ پاک نے کوئی حق نہیں دیا کہ وہ عورت کو زلیل اور کم تر سمجھے اسلام نے جب عورت کے حقوق اور اس کی قدو منزلت کا تعین کر دیا ہے کہ یہ صرف مرد کی خدمت گزار نہیں بلکہ دنیا میں عروج اور قدرو منزلت بھی رکھتی ہیں تو پھر مسلمان عورت کو چاہے کہ وہ اسلامی حدود کی پابندی کریں اپنی عفت کی حفاظت کریں آزادی مارچ میں اپنی عظمت کا جنازہ مت نکالے
اب عورت ہو گی آزاد
ثناء صدیق -

عورت مارچ یا بے حیائی کو فروغ—از–ندا خان
لبرلزم کی دلدادہ اور مغربی نظام سے مغلوب خواتین 8 مارچ کو پاکستان میں عورت مارچ کرنے جا رہی ہے جس کا مقصد اپنے حق کی آزادی ہے جس کے لیے وہ سڑکوںپر نکل کر اپنے حق کے لیے آواز بلند کریں گی اور مردوں کو زلیل کیا جائے گا کیونکہان خواتین کے مطابق مردوں نے ہی ان کے حق سلب کیے ہوئے ہیں یہ خواتین کبھی
لال لال کے نام پر اور کبھی سڑکوں پر پلے کارڈ اٹھائے نکلتی ہیں جن پر ” میرا جسم میری مرضی” کے نعرے درج ہوتے ہیں ان خواتین کو اس بات کا علم نہیں کہ جن حقوق کے لیے وہ سڑکوں پر نکلنے کی تیاری کر رہی ہیں وہ حقوق تو اللہ تعالیٰ نے چودہ سو سال پہلے نبی آخری الزمان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعے ہم تک پہنچا دیے ہیں اگر یہ عورتیں قرآن پاک کا مطالعہ کر لیتی تو ان کو اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر بنا چادر کے بھٹکنا نہ پڑتا قرآن پاک میں اللہ رب العزت نے پوری ایک سورت عورتوں کے حقوق کے لیے نازل فرمائی "سورت النساء ” قرآن پاک کو پڑھنے اور سمجھنے کے بعد میرا نہیں خیال کہ کوئی مسلمان عورت اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر نکلے
قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
اور اپنے گھروں میں قرار سے رہو اور زمانہ جاہلیت کی طرح اپنے بناؤ سنگھار کا اظہار نہ کرو اور نماز کی ادائیگی کرو اور زکوٰۃ دو اور اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کرو ” ( الاحزاب ٣٣)اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ عورت کی عزت اور وقار گھروں میں ہی ہے ناکہ سر بازاربےحجاب ہوکر اپنے حقوق کی بات کریں اسلام سے قبل تو عورت کو وارثت میںحصہ دینے کا تصور بھی نہ تھا اسلام کے آنے کے بعد عورت کو وارثت میں سے حصے دینے کا حق بھی حاصل ہواجب عورت کی عزت اور اس کی حفاظت چادر اور چاردیواری میں ہے تو عورت مارچ کرنے والی خواتین کونسی عزت اور تحفظ کے حق کے لیے گھروں سے باہر نکلنا چاہتی ہے ،آج یہود و ہندو مختلف ذرائع سے اسلامی شعائر کو مسلنے اور بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ایک طرف ڈش اور انٹرنیٹ جیسے آلات کے ذریعے فحاشی اور بےحیائی کے پروگرام نشر کرکے نوجوانوں کے علاوہ مسلمان ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کے قلوب واذہان میں بےحجابی اور ذہنی آورگی پیوست کرکے اسلامی معاشرے کو تباہ کر رہے ہیں
دوسری طرف روشن خیال، پڑھے لکھے مغربی تہذیب و تمدن سے مرعوب و متاثرہوکر یہود وہنود کی ذبان بول کر مسلمانوں کو گمراہ کر رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ آج ہمارے سکولز، کالجز اور یونیورسٹیوں میں اسلامی تعلیمات کی بجائے جدید فیشن اور بےحیائی کا ماحول نظر آتا ہےبالخصوص عورت کے حقوق کے نام پر قائم یہودی تنظیمیں، انجمنیں، وغیرہ مسلم بیٹی کی حیا کو اتارنے میں سرفہرست ہیں
اسلام سے قبل بھی عورت کو بری نگاہ سے دیکھا جاتا تھا اگر کسی کے گھر لڑکی پیدا ہوجانی تو وہ لوگوں سے منہ چھپاتا پھرتا تھا عورت کی ادنی درجے کی حیثیت تھی، اگر کسی کا خاوند فوت ہوجاتا تو اس عورت کو ایک سال تک گندے بدبو دار جھونپڑے،میں پڑا رہنے دیتے آج کے دور میں بھی ہندوستان میں عورت کی کوئی حیثیت نہیں،عورت کو پاؤں کی جوتی تصور کیا جاتا ہے اگر ہندو مذہب میں کوئی آدمی فوت ہوجاتا،تو اس کی بیوی کو بھی ستی کرکے جلا دیتے ہیں اسلام واحد مذہب ہے جس میں عورت کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے،ہم سب کو مل کر عورت مارچ کے نام پر بے حیائی کو روکنا ہوگا، علماء کرام اس کے خلاف آواز اٹھائے اور حکمران وقت اور قاضی وقت تک اپنی آواز پہنچائےکہ وہ عورت مارچ کو روکنے پر اپنا کردار ادا کریں
پاکستان جو اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا اسلامی مملکت خداداد پاکستان میں آئے روز لبرل خواتین اسلام کا مذاق اڑاتی نظر آتیں ہیں حکومتی عہدیدران پر جوں تک نہیں رینگتی جو حکومت مدینے کی ریاست جیسا نظام رائج کرنے کا نعرہ لگا کر آئی تھی وہ اب تک خاموش تماشائی کیوں بنی ہوئی ہے؟ حکومتی عہدیدران خدارا اس بے حیائی کو روکے اور ملک کو بے حیائی سے بچائے اللہ تعالیٰ مسلمان عورتوں کو باحیا اور باپردہ بنائے آمین یا ارحم الراحمين
عورت مارچ یا بے حیائی کو فروغ
بقلم :: ندا خان -

تعلیم کی اہمیت —-از—-وسیم احمد
تعلیم کی اہمیت ازل سے ابد تک رہے گی خواہ وہ مذہبی نوعیت کی یا دنیاوی نوعیت کی,ہمیشہ معاشرے کی فلاح و ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے.تعلیم کی بدولت ہی معاشرے سے جہالت کا خاتمہ ممکن ہے.تعلیم کو ہمیشہ سے اہم مقام حاصل ہے مگر اسلام نےتعلیم کی اہمیت پر خاص زور دیا ہے.حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم دنیاوی تعلیم سے تو آراستہ نہ تھے مگر وہ اِس کی اہمیت سے بخوبی واقف تھے.
غزوۂ بدر کے موقع پر قیدیوں کیلئے رکھی گئی شرائط میں سی ایک شرط یہ تھی کہ ایک قیدی جو پڑھنا لکھنا جانتا ہو, وہ دس مسلمانوں کو پڑھنالکھنا سکھائے گا یا فدیہ ادا کرے گا جس سے اسلام میں تعلیم کی اہمیت بخوبی واضح ہوتی ہے.آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث مبارکہ کے مطابق” تعلیم حاصل کرو خواہ تمھیں چین ہی کیوں نہ جاناپڑے”.مسلم معاشرے کی ابتدائی ادوار میں تعلیم کی بدولت ہی جابر بن حیان,الخوارزمی, ابن الہیثم جیسےنامور سائنسدان پیدا ہوئے.عباسی خلیفہ بھی تعلیم کاقدردان تھا,اس نے یونانی ادب کا عربی زبان میں ترجمہ کروایا جو بعدازاں بغداد پر تاتاری حملے میں ضائع ہو گیا.
اس درخشاں دور کے بعد جیسے جیسے مسلم معاشرہ علم و فنون سے دور ہوتا گیا, جہالت نے ڈیرے ڈالنا شروع کر دیے.دوسری طرف مغرب نے تعلیم کو اہمیت دینا شروع کی اور ترقی کی منازل طے کیں.اٹھارویں و انیسویں صدی میں اہم ایجادات مغربی سائنسدانوں نے کیں.
مسلم معاشرہ اس قدر ابتری کا شکار ہوا کہ ہمارا موجودہ تعلیمی نظام بھی مغرب کا ہی مرہون منت ہے.اس مغربی نظام تعلیم کے باعث ہم اپنی تہذیب کوبھلا چکے ہیں.نہ صرف دنیاوی تعلیم بلکہ دینی تعلیم میں بھی ہم پیچھے رہ چکے ہیں یہی وجہ ہے کہ آکسفورڈ کے تعلیم یافتہ ہم پر حکمرانی کیلئے مسلط کیے جاتے ہیں.رٹا سسٹم, نقل کا عام ہونا, ہمارے موجودہ نظام تعلیم کی ابتری کا باعث ہیں.بچوں کی بنیادی تعلیم و تربیت میں اہم کردار والدین ادا کرتے ہیں اور دوسرا
اہم کردار اسکول و اساتذہ کا ہے.آج کل تعلیم کے نام پر بچوں کو کتابوں سے بھرےوزنی بیگ تھما دیے جاتے ہیں جس سے ایک طرف وہ جسمانی تھکاوٹ کا شکار ہوتے ہیں تو دوسری طرف ذہنی تھکاوٹ کا بھی.سارا دن مسلسل پڑھائی سے وہ احساس کمتری کا
شکار ہو جاتے ہیں اور کھیل کود نہ ہونے کی وجہ سے اعتماد کی کمی کا شکار بھی ہوتے ہیں.بچوں کے اس استحصال میں اسکول و والدین برابر کے ذمہ دار ہیں.بچوں کی تربیت پر غور کرنے کی بجائے صرف رٹے رٹائے جملوں کی تعلیم پر زور دیا جاتا ہے جس سے بعد میں معاشرے میں ایسا طالبعلم آ موجود ہوتا ہے جو اخلاقیات سے عاری ہوتا ہے, گالم گلوچ اس کے نزدیک برائی نہیں ہوتی, کسی کی حق تلفی کرنا وہ اپنا حق سمجھتا ہے, کسی پر آواز کسنا بھی اسے برا نہیں لگتا, کسی کے بیگ سے چیزیں چرانا اسے معیوب نہیں لگتا.یہ سب افسانوی باتیں نہیں بلکہ حقیقت ہے جس کا مشاہدہ روزانہ کیا جا سکتا ہے.اس کی بنیادی وجہ تربیت کی کمی ہے ورنہ تعلیم کیلئےہزاروں اسکول موجود ہیں.
اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ہمیں رٹا سسٹم سے نجات حاصل کرنی ہے اور ایسا تعلیمی نظام رائج کرنے کی کوشش کرنی ہے جو نہ صرف طلباء کو حقیقی تعلیم و تربیت سے روشناس کرے بلکہ انہیں موجودہ دور
سے بھی ہم آہنگ کرنے میں مددگار ہو.موجودہ حکومت کا تمام نصاب کو یکساں کرنے کا قدم قابلِ تحسین ہے اور اگر بنیادی تعلیم کا ذریعہ بچوں کی مادری زبان کااپنایا جائے تو اس سے بھی تعلیم کے فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیںتعلیم کی اہمیت
تحریر : وسیم احمد -

آج کراچی کنگز اور پشاور زلمی آمنےسامنے ہوں گے
آج کراچی کنگز اور پشاور زلمی آمنےسامنے ہوں گے
باغی ٹی وی :پاکستان سپر لیگ کے سنسنی خیز مقابلے جاری ہیں اور ایونٹ کے 15ویں میچ میں آج کراچی کنگز اور پشاور زلمی آمنے سامنے ہوں گے۔
کراچی کنگز اور پشاور زلمی کے درمیان میچ راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں شام سات بجے کھیلا جائے گا۔ کراچی کنگز کے پاس بابراعظم، شرجیل خان، ڈیلپورٹ اور ایلیکس ہیلزجیسے بڑے نام ہیں۔ کراچی کنگز کے پاس محمد عامر اور کرسن جارڈن جیسے وکٹیں اڑانے والے باولرز ہیں۔پشاور زلمی کے پاس کامران اکمل، شعیب ملک، لیونگ اسٹون جیسے مایہ ناز بلے باز ہیں۔ باولنگ میں زلمی کے پاس وہاب ریاض اور حسن علی ہیں
کل راولپنڈی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے میچ میں کراچی کنگز کے کپتان عماد وسیم نے ٹاس جیت کر اسلام آباد یونائیٹڈ کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی۔اسلام آباد یونائیٹڈ نے پہلے کھیلتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں 3 وکٹوں کے نقصان پر 183 رنز بنائے۔کراچی کنگز نے 184 کا ہدف 19 ویں اوور کی تیسری گیند پر 5 وکٹوں کے نقصان پر پورا کرلیا۔ -

ایشیا کپ کا پاکستان میں انعقاد، اے سی سی کا اہم اجلاس ملتوی
ایشیا کپ کا پاکستان میں انعقاد، اے سی سی کا اہم اجلاس ملتوی
باغی ٹی وی :پاکستان میں ایشیا کپ ہونے کے حوالے سے ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) کا تین مارچ کو دبئی میں ہونے والا اجلاس ملتوی کردیا گیا ہے۔ اجلاس ارکان کی اضافی سفری وجوہات کے باعث ملتوی کیا گیا ہے۔اجلاس اب رواں ماہ کے آخر میں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) بورڈ میٹنگ کے بعد منعقد ہوگا۔
اے سی سی اجلاس میں ایشیا کپ ٹوئنٹی ٹوئنی کی میزبانی کا حتمی فیصلہ ہونا تھا۔چیئرمین پی سی بی احسان مانی آئی سی سی کے ایف این سی اے اجلاس کے باعث دبئی میں ہی موجود ہیں۔
دوسری جانب ایشین کرکٹ کونسل کے فیصلے سے پہلے ہی بی سی سی آئی کے صدر سارو گنگولی نے اپنا فیصلہ سنا دیا تھا۔سارو گنگولی کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی خدشات کے باعث پڑوسی ملک نہیں جاسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مارچ کو ایشین کرکٹ کونسل کے اجلاس میں وینو کے غیر جانبدار مقام پر میچ کھیلنے کی بات کی جائے گی۔
بھارت کی جانب سے ایشیا کپ یو اے ای میں ہونے کے اعلان کے بعد پی سی بی کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ترجمان پی سی بی کے مطابق ایشین کرکٹ کونسل کے صدر سارو گنگولی نہیں نظم الحسن ہیں، ایشیاکپ کے میزبان کا فیصلہ اے سی سی کے اجلاس میں ہوگا۔واضحرہے کہ ایشیا کپ کرکٹ ٹورنامنٹ کی میزبانی کا حتمی فیصلہ کرنے کے لئے ایشین کرکٹ کونسل کا اجلاس مارچ میں طے تھا
ایونٹ دبئی منتقل کرنے پر غور جاری۔ ایشیا کپ کرکٹ ٹورنامنٹ پاکستان میں ہوگا یا پھر کسی دوسرے مقام پر فیصلہ تین مارچ کو ایشین کرکٹ کونسل کے اجلاس میں ہوگا ۔۔ اے سی سی کا اہم اجلاس تین مارچ سے دبئی میں ہوگا ۔۔ اجلاس میں ایشیا کپ کے انعقاد کے حوالے سے اہم فیصلے کئے جائیں گے ۔
-

سپر پاور کاسرنڈر ۔ طالبان کے نعرے اور امارات اسلامیہ کے جھنڈے—از—محمد عاصم حفیظ
امریکہ کے سرنڈر معاہدے پر دستخط کرتے ہی اللہ اکبر کے نعرے گونج اٹھے ۔ وہاں موجود درجنوں داڑھی پگڑی والے میڈیا کی چکاچوند سے دور رب کائنات کی بارگاہ میں سربسجود ہو گئے ۔ امارات اسلامیہ کے جھنڈے لہراتے ہوئے مارچ کرنے لگے ۔ سامنے وہی دشمن تھے جو دو دہائیاں قبل پورے لاؤ لشکر سمیت آئے تھے ۔ پتھر کے زمانے میں پہنچا دینے کا نعرہ لگایا تھا ۔
اب بھی وہی سامنے تھے لیکن بےبس و مجبور ۔ یہ کوئی افغانستان کے سنگلاخ پہاڑوں کا محاذ نہیں تھا بلکہ قطر کا فائیو سٹار ہوٹل جہاں ایک سپر پاور کا غرور دفن ہو رہا تھا ۔ کون جیتا کون ہارا ۔ فیصلہ کرنا انتہائی آسان ہے ۔ خود پتہ کر لیں کہ پہاڑوں کی غاروں میں محاذوں پر ڈٹے طالبان تک مذاکرات کا پیغام کس نے پہنچایا ۔ کون ان کے ہوائی سفر اور دنیا بھر کے دوروں کا انتظام کرتا رہا ۔ معاہدہ ہونے کے بعد خوشی اور جذبات سے نعرے کس نے لگائے ۔
عالمی میڈیا کا مرکز کون تھے ؟ کوئی امریکی وزیر خارجہ کی پریس کانفرنس سننے نہ گیا ، البتہ ان درویشوں کے پیچھے پوری دنیا کا میڈیا تھا جو ان کا ایک ایک لفظ سننا چاہتا تھا ۔ ہر کوئی ان سے بات کرناچاہتا تھا ۔ ہر کیمرہ ان پر فوکس تھا اور انہیں ہی دیکھا رہا تھا ۔
جی یہ اس صدی کی سب سے بڑی خبر ہے کہ ایک سپر پاور جو اپنے پچاس سے زائد اتحادی ممالک کی افواج لیکر حملہ آور ہوا ۔اسے ان طالبان نے شکست دی جن کی مدد تو دور کی بات کوئی ان کے ساتھ تعلق کا بھی اعتراف نہیں کرتا ۔ جنہیں امریکہ کے کہنے پر سب نے چھوڑ دیا بلکہ بعض تو امریکی حمایتی بن گئے ۔ لیکن وہ طالبان تنہا لڑے ۔ رب کے آسرے پر لڑے ۔ خاموشی سے امریکہ کو زخم لگاتے رہے ۔
انیس سال کا صبر ۔ قربانیاں اور میدان جنگ کی سختیاں لیکن ان کے حوصلے نہ ٹوٹے اور وہ سپر پاور کے دعویدار کو روندتے رہے ۔ امریکہ ہزاروں ارب ڈالر ڈبو کر بھی انہیں نہ جھکا سکا ۔ حالت یہ ہو گئی کہ خود امریکی اپنی اشیائے خوردونوش پہنچانے کے لئے طالبان علاقوں سے گزرنے کا تاوان دیتے اور انہی ڈالرز سے اسلحہ و ساز وسامان خرید کر امریکہ پر حملے کئے جاتے ۔
طالبان نے امریکی سے اسلحہ ا ور ساز وسامان چھین کر امریکہ سے لڑائی کی اور امریکہ کو شکست فاش دی ۔ امریکہ و اتحادی تو چند سال کے لئے آئے تھے کہ طالبان کو ماریں گے ۔ نئی حکومت بنوائیں گے ۔ کلچر معاشرے اور نظریات کو بدل دیں گے ایک مغرب زدہ اور ماڈرن افغانستان بنا کر واپس آ جائیں گے ۔ لیکن طالبان کی استقامت ۔ عزم اور صبر و استقلال نے تاریخ کا دھارا بدل ڈالا ۔ امریکہ رسوا ہو کے امن کی بھیک مانگتا رہا اور کئی سالوں کے اس مذاکراتی عمل کے بعد انخلاء کے معاہدے پر مجبور ہوا ۔ خود کئی طالبان لیڈر رہا کرکے افغانستان پہنچائے ۔ کئی ممالک سے رہائی دلوائی ۔
آج جس ملا عبدالغنی برادر نے اس معاہدے پر دستخط کئے وہ بھی رہا کراکے وہاں پہنچائے گئے تھے ۔ ان کے ساتھ بیٹھے ملا عبدالاسلام ضعیف گوانتاناموبے جیل سے لائے گئے ۔ ہر ایک کی اپنی اپنی کہانی ہے ۔ اس محفل میں طالبان فاتح کی طرح بیٹھے ۔ تقریب سے پہلے کسی نے پوچھا معاہدے پر دستخط کون کرے گا تو جواب ملا ” امارات اسلامیہ ” ۔ یعنی یہ معاہدہ امریکہ اور انیس سال قبل کی طالبان حکومت کے درمیان ہوا ہے ۔ اسی لئے تو انہوں نے پرجوش نعرے لگائے اور امارات اسلامیہ کے پرچم لہرا کر مارچ کیا ۔
طالبان نے سب کا شکریہ ادا کیا ۔ پاکستان کا بھی کہ جس کے اعلی ترین عسکری حلقوں نے ان مذاکرات کے حوالے سے مثبت کردار ادا کیا ۔یہ لبرل و سیکولر نظریات کی بھی شکست ہے کہ جو امریکہ و مغرب کی ظاہری طاقت ، اسلحہ اور شان و شوکت سے متاثر ہیں ۔ ان کے لئے خبر ہے کہ افغانستان کے ان مجاہدین نے امریکہ کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا ہے جن کے پاوں میں اب بھی چپلیں ہیں اور دنیا میں کوئی انہیں اسلحہ نہیں دیتا ۔ کوئی واضح حمایتی نہیں ہے ۔ٹیکنالوجی اور جدت کیساتھ ان کا دور دور کا بھی واسطہ نہیں ہے ۔ ان کی ایمانی طاقت اور صبر و ہمت و استقلال نے آج ایک نام نہاد سپر پاور کو شکست دی ہے ۔
یہ صرف امریکہ کی شکست نہیں بلکہ جنوبی ایشیاء میں علاقائی تھانیداری کے خواب دیکھتے بھارت کی بھی ہار ہے کیونکہ بھارت نے افغانستان میں اپنا نیٹ ورک قائم کرنے ، اپنے حمایتی گروہ بنانے اور افغان کٹھ پتلی حکومتوں کے لئے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی جو کہ یکدم زمین بوس ہو چکی ہے ۔ خطے کی صورتحال یکدم بدل جائے گی ۔
افغانستان میں طالبان کے اثر و رسوخ کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے ۔ انہوں نے سپر پاور کو ہرایا ہے تو ان کے اعتماد کا لیول کیا ہو گا۔ پاکستان کو اس موقعے سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے ۔ طالبان کے بڑے پاکستان کے ہمیشہ احسان مند رہے ۔ نائن الیون کے بعد چند ناخوشگوار واقعات ہوئے لیکن انہیں بھلا دینے اور طالبان کیساتھ ایک نئے آغاز کی ضرورت ہے ۔
اس حوالے سے حکومت کو چاہیے کہ طالبان پاکستان میں جن دینی حلقوں کے قریب ہیں انہیں بھی اعتماد میں لیا جائے تاکہ طالبان کے ساتھ اعتماد سازی کا عمل تیز ہو سکے ۔ افغانستان میں امن پاکستان کے لئے سب سے زیادہ ضروری ہے ۔ افغان مہاجرین کی واپسی اور قبائلی علاقوں میں مکمل امن و سکون کے لئے افغانستان میں جنگ بندی اور پرامن ماحول ضروری ہے ۔ اس سے پاکستانی معیشت پر بے پناہ مثبت اثرات مرتب ہوں گے
سپر پاور کاسرنڈر ۔ طالبان کے نعرے اور امارات اسلامیہ کے جھنڈے
(ذرا سی بات ۔۔ محمد عاصم حفیظ)