Baaghi TV

Category: بلاگ

  • مسئلہ فلسطین کا حل اور مسلم امہ کا اتحاد –از..صابر ابو مریم

    مسئلہ فلسطین کا حل اور مسلم امہ کا اتحاد –از..صابر ابو مریم

    دور حاضر میں مسئلہ فلسطین نت نئے پیچیدہ سیاسی نشیب و فراز کا شکار ہے۔ایک طرف عالمی سامراجی حکومت شیطان بزرگ امریکہ ہے کہ جس نے صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کے قیام سے تاحال اس جعلی ریاست کی بے پناہ پشت پناہی کی ہے اور فلسطین پر ناجائز تسلط کا دفاع کیا ہے۔صرف یہی نہیں بلکہ امریکہ نے صہیونیوں نے فلسطین میں عرب فلسطینیوں کا قتل عام کرنے اور ان کو کچلنے کے لئے کھربوں ڈالر کا اسلحہ صرف امداد کے نام پر فراہم کیا ہے جس کے نتیجہ میں صہیونیوں نے گذشتہ ستر برس سے فلسطین کے مظلوم عوام کا خون پانی کی طرح بہایا ہے۔صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل نے صرف فلسطین کے عوام کا قتل عام ہی نہیں کیا بلکہ لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے اپنی گھروں سے بھی نکال باہر کیا ہے۔آج فلسطینیوں کی زمینوں پر صہیونی بستیاں آباد ہیں جبکہ اس زمین کے اصل باسی مہاجر اور پناہ گزین بن کر دنیا کے مختلف ممالک میں در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔

    واضح رہے کہ امریکی حکومتوں نے جہاں اسرائیل جیسی جعلی ریاست کے تحفظ کے لئے براہ راست سالانہ بنیادوں پر اسرائیل کو کھربوں ڈالر کی امداد اور اسلحہ فراہم کیا ہے وہاں دوسری طرف اسی غاصب و جعلی صہیونی ریاست اسرائیل کے تحفظ کے لئے خطے میں عدم استحکام پھیلانے اور خطے کی ریاستوں کو اسرائیل کے سامنے تسلیم کرنے کے لئے سات ٹریلین ڈالرز گذشتہ چند ایک سالوں میں شام، عراق اور لبنان جیسے ممالک میں دہشت گرد تنظیم داعش اور اس کے ہمنواؤں کے لئے خرچ کئے ہیں اور اس بات کا اعتراف امریکی حکومت کے موجودہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ خود اپنی ایک تقریر میں کر چکے ہیں۔

    آج مسلمان دنیا کو جن مسائل کا سامنا ہے ان میں سب سے اہم ترین مسئلہ فلسطین کا ہے۔ مسلم دنیا کے تمام مسائل کی فہرست میں فلسطین کا مسئلہ پہلے نمبر پر موجود ہے اور اس کے حل کے لئے اگر کوئی آسان اور موثر طریقہ اپنایا جا سکتا ہے وہ صرف اور صرف مسلما ن ممالک کی حکومتوں اور عوام کا باہمی اتحاد اور وحدت ہے کہ جو نہ صرف دنیائے اسلام کے سب سے بڑے اور اہم ترین مسئلہ فلسطین کو حل کرنے کے لئے کارگر ثابت ہو گا بلکہ دنیائے اسلام کے دیگر تمام مسائل جو دشمن کی جانب سے صرف اسلئے پیدا کئے گئے ہیں کہ مسلمان حکومتوں کو ان میں الجھا کر رکھا جائے تا کہ صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل محفوظ ہو جائے۔

    یہا ں پر مجھے ایک واقعہ یا د آ رہا ہے کہ جب گذشتہ سالوں میں ایران اور یورپی ممالک کے پانچ ممالک کے مذاکرات یعنی پی فائیو پلس ون جاری تھے اور پھر ایک اہم ترین معاہدے پر پہنچے تھے تو اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو نے ایک تقریر کے دوران کہا کہ اسرائیل آئندہ پچیس برس کے لئے مسلمان دنیا کے خطرے اور بالخصوص اسرائیل کے دشمن ایران سے محفوظ ہو گیاہے لیکن دوسری جانب ایران کے سپریم کمانڈر آیت اللہ خامنہ ای کا ایک بیان سامنے آیا تھا کہ جس میں انہوں نے ہمیشہ کی طرح فلسطین کے عوام کے حقوق کا دفاع کرنے اور فلسطین کی آزادی کو یقینی اور حتمی ہونے کے ساتھ ساتھ وعدہ الہی قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ اسرائیل ان شاء اللہ آئندہ پچیس سال نہیں دیکھ پائے گا۔اس بیان کے بعد عرب دنیا میں بالخصوص اور یور پ میں مسلمان نوجوانوں میں جوش اور جذبہ کی نئی لہر دوڑ گئی تھی اور فلسطین کی آزادی کی تحریکیوں حماس، جہاد اسلامی اور حزب اللہ نے اس بات کا خیر مقدم کرتے ہوئے عزم کیا تھا کہ خطے میں صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کے ناپاک عزائم کو ہر سطح پر ناکام بنایا جائے گا۔

    بہر حال یہ بات اب روز روشن کی طرح عیاں ہو چکی ہے کہ دنیائے اسلام کے سب سے اہم مسئلہ فلسطین کو حل کرنے کے لئے اسلامی دنیا کا اتحاد او آئی سی کی رسمی کاروائیوں سے بڑھ کر ہونا چاہئیے۔اس عنوان سے مسلمان و اسلامی حکومتوں پر یہ ذمہ داری عائد ہو تی ہے کہ وہ فلسطین سمیت دنیائے اسلام کے تماممسائل کے حل کے لئے مشترکہ حکمت عملی وضع کریں۔

    حالیہ دنوں ہی ذرائع ابلاغ پر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے دنیا بھر سے ایران میں جمع ہونے والے اسلامی دنیا کے مایہ ناز مفکروں، مفتیان کرام، خطباء عظام اور اسکالروں کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مسئلہ فلسطین کی اہمیت کو اجاگر کیا اور فلسطین کی آزادی اور اسرائیل کے نابودی کو یقینی قرار دیتے ہوئے عالم اسلام کی سربلندی کو حتمی و خدا کا وعدہ قرار دیا۔انہوں نے مسلم دنیا کے اسکالروں اور مفتیان کرام سمیت سیاسی ومذہبی شخصیات سے گفتگو کرتے ہوئے مسئلہ فلسطین کے حل اور امت اسلامی کے اتحاد پر زور دیا اور کہا کہ مسلمان حکومتوں کو چاہئیے کہ مسئلہ فلسطین کے حل کے لئے اپنی متحدہ اور مشترکہ کوششوں کو سرانجام دیں اور باہم اتحاد اور وحدت کو عملی بنانے کے لئے کم سے کم درجہ کا اتحاد یہ ہے کہ مسلمان و اسلامی ممالک کی حکومتیں ایک دوسرے کے خلاف محاذ آرائی سے گریز کریں۔

    آج وقت کی اہم ترین ضرورت یہی ہے کہ مسلم دنیا کے مشترکہ دشمن کو پہچانا جائے۔آج امریکہ جن مسلم ممالک کی پشت پناہی کرتے ہوئے مسلمان ممالک کو باہم دست و گریباں کرنے میں مصروف ہے کل یہی امریکہ ان مسلمان حکومتوں اور ملکوں کے خلاف بھی کسی قسم کے اقدامات سے گریز نہیں کرے گا۔لہذا مسلمانوں کی نجات باہمی اتحاد میں ہے اور مسئلہ فلسطین کے درست راہ حل کے لئے مسلمانوں کا کم سے کم اتحاد یہ ہے کہ آپس میں ایک دوسرے کے خلاف محاذ آرائی سے گریز کریں اور اتحاد کا بلند ترین مرتبہ یہ ہے کہ تمام مسلمان حکومتیں اپنے علم و تمد ن سے ایک دوسرے کی مدد کریں اور ترقی کی راہیں ہموار کریں۔

    خلاصہ یہ ہے کہ اگر آج مسلمان حکومتیں اتحاد و یکجہتی کے کم سے کم درجہ کو اپناتے ہوئے ایک دوسرے کے خلاف محاذ کھولنے کی بجائے اپنی تمام تر توانائیوں کو عالم اسلام و انسانیت کے سب سے اہم ترین مسئلہ فلسطین کے حل کے لئے اور فلسطین سمیت دنیا کے مظلوموں کی مدد کے لئے خرچ کریں تو یقینا یہ بات درست ہو گی کہ اسرائیل کی جعلی ریاست آئندہ پچیس برسوں میں دنیا کے نقشہ پر نہیں ہوگی۔آج مسلم دنیا میں فلسطین، کشمیر، یمن، عراق، افغانستان، برما اور دیگر کئی ایک مقامات پر مسلمان اقوام صرف اور صرف عالم اسلام کے کم سے کم درجہ کے اتحاد یعنی ایک دوسرے کے خلاف محاذ آرائی سے پرہیز کرنے کے متمنی ہیں۔

    مسئلہ فلسطین کا حل اور مسلم امہ کا اتحاد
    تحریر: صابر ابو مریم
    سیکرٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان
    پی ایچ ڈی ریسرچ اسکالر، شعبہ سیاسیات جامعہ کراچی

  • چائے کے وقفے تک پاکستان نے 213 رنز بنا لیے

    چائے کے وقفے تک پاکستان نے 213 رنز بنا لیے

    چائے کے وقفے تک پاکستان نے 213 رنز بنا لیے

    تفصیلات کے مطابق ایڈیلیڈ ٹیسٹ میں پاکستان نے چائے کےوقفے تک 8 وکٹ پر 213 رنز بنالیے،یاسر شاہ 66اورمحمد عباس ایک رن کے ساتھ وکٹ پر موجود ہیں.پاکستان کی ساتویں وکٹ 194رنز پر گرگئی.بابراعظم 97رنز بنا کر مچل اسٹارک کی گیند پر آوَٹ ہوگئے.ایڈیلیڈ ٹیسٹ، پاکستان کی آٹھویں وکٹ 194رنز پر گرگئی،شاہین شاہ آفریدی بغیر کوئی رن بنائے مچل اسٹارک کی گیند پر آوَٹ ہوئے.ایڈ لیڈ کے میدان میں کھیلے جانے والے میچ کے تیسرے دن قومی ٹیم نے 8 وکٹوں کے نقصان پر 96 رنز کے ساتھ اننگز کا آغاز کیا جو اچھا ثابت ہوا لیکن جلد ہی اپنی وکٹ بابر اعظم کی صورت گنوا دی اور اس کے بعد فورا شاہین آفرید بھی چل دیے.
    قومی ٹیم کی جانب سے اننگز کا آغاز شان مسعود اور امام الحق نے کیا لیکن محض 3 کے مجموعی اسکور پر امام الحق 2 رنز بنا کر وکٹ گنوا بیٹھے جبکہ کپتان اظہر علی کی ناقص فارم کا سلسلہ جاری رہا اور وہبھی صرف 9 رنز کے مہمان ثابت ہوئے۔آسٹریلیا نے اپنی پہلی اننگز 589 رنز بنا کر ڈکلیئر کر دی تھی۔

    ڈیوڈ وانر نے ناقابل شکست 335 رنز بنائے تھے جب کہ مارنس لبوشین نے بھی 162 رنز کی شاندار اننگز کھیلی تھی۔

  • مستقبل کے معماروں کو بیماربنانےکا ایجنڈہ–از–انشال راؤ

    تعلیم و تعلم، معلم و طالب کی اہمیت، فضیلت و عظمت جس انداز میں اسلامی تہذیب میں پائی جاتی ہے اس نظیر نہیں ملتی، تعلیم و تربیت اور درس و تدریس اس کا جزولاینفک ہے، پہلا لفظ جو آقا محمدؐ کے قلب مبارک پر نازل فرمایا گیا وہ اقرا ہے یعنی پڑھ، جس سے علم و قلم کی اہمیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے مگر افسوس کہ ہمارے ہاں حصول علم کے اصولوں سے ماورا اقدامات اپنائے جانے کا رواج ہے نہ درس و تدریس کی اہمیت کو سمجھا جاتا ہے نہ ہی اپنی ذمہ داری کا احساس ہے

    اگر ہمارے معاشرے کا سطحی جائزہ لیا جائے تو وائٹ کالر طبقے نے اپنے مفادات کی خاطر علم جیسے عظیم شعبے کو بھی نہ بخشا اور اپنے مفادات کی بھینٹ چڑھادیا، کسی بھی قوم تربیت و ترقی اسی شعبے سے وابستہ ہے لیکن جو کھیلواڑ پاکستان میں تعلیم و تعلم کیساتھ کیا گیا وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں، قائداعظم محمد علی جناح نے فرمایا تھا کہ "طلبہ قوم کے مستقبل کے معمار ہیں” لیکن ہمارے وائٹ کالر طبقے کے مفادات کی نذر ہوکر ہم نے طلبہ کو قوم کے مستقبل کے بیمار بنتے دیکھا اور دیکھ رہے ہیں

    اگر کسی چیز نے سب سے زیادہ قوم کے مستقبل کے معماروں کو نقصان پہنچایا تو وہ سیاست و یونینزم Unionism نے پہنچایا، ہائی اسکول، کالج اور یونیورسٹیاں سیاست کا اکھاڑہ بن کر رہ گئی تھیں جہاں سے قوم کے مستقبل کے معمار کم اور سیاسی پارٹیوں کے کارٹون زیادہ نکلنے لگے، طلبہ یونینز کی منفی سرگرمیوں کو دیکھتے ہوے ریاست کی طرف سے مجبوراً ان پر پابندی کے اقدامات اٹھانے پڑے جس کے بعد سے تعلیمی اداروں میں تعلیمی زندگی بحال ہوتی جارہی ہیں جو زبردستی کے لیڈروں و دانشوروں سے ہضم نہیں ہورہی اور آجکل آسمان سر پہ اٹھایا ہوا ہے کہ طلبہ یونینز کو بحال کرو،

    اس ضمن میں اچانک سے ملک کے کچھ شہروں میں ڈسکو ٹائپ ریلیاں برآمد ہوئیں جو حلیے سے طلبہ تو بالکل نہیں لگ رہے تھے ان کی حرکتوں سے یہ لوگ طلبہ کم ڈسکو زیادہ لگ رہے تھے اور دلچسپ ترین بات یہ کہ کچھ زبردستی کے دانشور، سیاسی و سماجی رہنما بھی انکے ہم آواز نظر آئے، گردان کی جارہی ہے کہ طلبہ یونین بحال کرو بطور دلیل پیش کی جارہی ہے کہ طلبہ یونین نے ملک کو نظریاتی سیاست اور حقیقی قیادت فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے

    یہاں تک مبالغہ آرائی کی جارہی ہے کہ ملک کو درخشندہ ستارے فراہم کیے جوکہ انتہائی سفید جھوٹ اور تاریخ کی سب سے بڑی ڈھٹائی ہے اگر اس دعوے کا جائزہ لیا جائے تو موجودہ ملکی صورتحال ہی کافی ہے کہ کوئی ایک بھی لیڈر ایسا نہیں جس پر قوم فخر کرسکتی ہے، طلبہ یونین کی بحالی کے حامی کم از کم ایک فرد کو پیش کردیں کہ اس سے قوم کو فائدہ پہنچا ہو، قوم کا تو یہ عالم ہے کہ لیڈر کا نام سنتے ہی کانپ اٹھتی ہے،

    طلبہ یونین کے کردار پر نظر ڈالی جائے تو اس کے بطن سے سوائے نفرتوں، تعصب، شدت پسندی، لسانیت کے کچھ اور حاصل نہ ہوا، سندھ یونیورسٹی ماضی میں طلبہ یونین و طلبہ سیاست کا گڑھ رہی ہے جہاں کا یہ عالم تھا کہ آئے دن بائیکاٹ، بلیک میلنگ، بھاری تصادم، بھتہ خوری، کاپی کلچر، رعایتی پاس کروانا عام تھا، تصادم کے نتیجے میں متعدد افراد قتل ہوچکے حتیٰ کہ اساتذہ بھی ان یونیوں کے عتاب سے بچے نہ رہے، اس کے علاوہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کی مثال لے لیں انجمن طلبہ اسلام کے نام پہ کارٹونوں نے کیا نہیں کیا جب ان کی بلیک میلنگ و داداگیری کو وائس چانسلر قیصر مشتاق نے چیلنج کیا تو ان کی داداگیری کا یہ عالم تھا کہ قیصر مشتاق صاحب پر حملہ کردیا گیا جسے سیکیورٹی گارڈوں نے بمشکل بچایا،

    قائداعظم یونیورسٹی میں بلوچ پشتون، پنجابی سندھی، پنجابی بلوچ لسانیت کے نام پر تصادم کسی سے ڈھکے چھپے نہیں، خیبرپختونخواہ میں وہ کونسا دن تھا جو تعلیمی اداروں میں امن سے گزرتا ہو، کراچی کا ذکر توکسی تعرف کا محتاج نہیں، میں خود طلبہ ونگز ویونینوں کی انتہائی منفی سرگرمیوں کا عینی شاہد ہوں جن میں بھتہ خوری، ریپ کلچر، نپوٹزم، لسانیت، جھگڑے فساد، نفرتیں و تعلیمی تباہی سرفہرست ہیں،

    مختلف یونیورسٹیز میں ہاسٹلوں پہ ان یونینوں کے قبضے اور اس کا منفی استعمال بھی کسی سے پوشیدہ نہیں، ان یونینوں پہ پابندی کے بعد سے یونیورسٹیاں و دیگر تعلیمی ادارے آہستہ آہستہ تعلیمی ترقی کی طرف بڑھ رہی ہیں تو اچانک سے طلبہ یونین کی بحالی کا مطالبہ نوجوان نسل کو تباہ کرنے کا منصوبہ ہی ہوسکتا ہے، تعجب کی بات ہے کہ طلبہ کو یونین کی بحالی سے کوئی دلچسپی نہیں اور پابندی سے کوئی پریشانی نہیں جبکہ پیٹ میں مروڑ صرف چند سیاسی و لسانی جماعتوں کو ہے جن کی وہ واقعی نرسری تھیں وہاں سے ان جماعتوں کو کارکن مل جاتے تھے

    جو ملک و قوم کے لیے سیاسی کارکن کم سیاسی کارٹون زیادہ ثابت ہوتے تھے طلبہ یونین پر پابندی کے باعث ان سیاسی جماعتوں کو کارکن ملنا کم ہوگئے ہیں جو ان کے لیے انتہائی پریشان کن ہے، قائد اعظم نے ڈھاکہ میں نوجوان طلبا سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ’’میرے نوجوان دوستو! میں آپ کو خبردار کرنا چاہتا ہوں کہ اگر آپ کسی سیاسی جماعت کے آلہ کار بنیں گے تو یہ آپ کی سب سے بڑی غلطی ہوگی، یاد رکھیے کہ اب ایک انقلابی تبدیلی رونما ہوچکی ہے یہ ہماری اپنی حکومت ہے ہم ایک آزاد اور خودمختار مملکت کے مالک ہیں لہٰذا ہمیں آزاد اقوام کے افراد کی طرح اپنے معاملات کا انتظام کرنا چاہیے اب ہم کسی بیرونی طاقت کے غلام نہیں ہیں ہم نے غلامی کی بیڑیاں کاٹ ڈالی ہیں‘‘

    بابائے قوم طلبہ کی سیاسی وابستگی کے سخت مخالف تھے اور ہم طلبہ سیاست کے نقصانات کے تجربے سے گزر بھی چکے ہیں بنگلہ دیش اسی طلبہ سیاست کا نتیجہ تھا اس کے علاوہ سندھ میں سندھو دیش علیحدگی تحریک کے لیے تعلیمی ادارے ہی نرسری بنتے آئے ہیں، الذوالفقار بھی طلبہ یونین کے بطن سے ہی اٹھی، اب جیسا کہ ملک کے تعلیمی ادارے منفی سوچ و سرگرمیوں سے پاک ہوتے جارہے ہیں تو سازشی و سماج دشمن عناصر سے یہ بات کیسے برداشت ہوسکتی ہے، اور اب طلبہ کے نام پر ایک نئی سازش کو متعارف کیا جارہا ہے

    لہذا اب ماضی کے تجربات اور حقیقت کے مطابق بجائے طلبہ یونین بحالی کے حکومت و دانشوروں کو طلبہ کے لیے بہتر سہولیات، مواقع اور آسانیاں مہیا کرنی چاہئیں، طلبہ کو سیاست کی نذر کرنے کی بجائے اساتذہ و تعلیمی اداروں میں ایسا نظام متعارف کیا جائے جس سے طلبہ کی تعلیم کے ساتھ ساتھ اخلاقی تربیت بھی ہو جیسا کہ امام غزالیؒ طلبہ کے اخلاق و کردار کے تعلق سے فرماتے ہیں کہ "طلبہ کو چاہئے کہ وہ بُرے اخلاق و عادات سے احتراز کریں، تعلقات مختصر رکھیں، گھر سے دور رہیں تاکہ حصول علم کے مواقع زیادہ ملیں، غرور و تکبر سے بچیں، اساتذہ کے ساتھ حاکمانہ برتاؤ نہ کریں، بلکہ اساتذہ کے سامنے اپنے آپ کو اس طرح ڈال دیں، جس طرح کے مریض اپنے آپ کو ڈاکٹر کے حوالہ کر دیتا ہے” تب ہی ہم دیگر اقوام کی طرح ترقی و خوشحالی کو یقینی بناسکتے ہیں

    آرزوئے سحر
    تحریر: انشال راؤ
    عنوان: مستقبل کے معماروں کو بیمار بنانے کا ایجنڈہ

  • نکاح اور عہد وفا ! تحریر: غنی محمود قصوری

    اللہ رب العزت نے اس کائنات کو بنایا اور اس کو اپنے بندوں سے سجایا بندوں کی اصلاح اور تربیت کے لئے پیغمبر اور رسول بیجھے تاکہ ان کے بتلائے ہوئے طریقے پر چل کر عام انسان زندگی بسر کر سکیں روزی روٹی حاصل کرسکیں اور دیگر امور زندگی گزار سکیں
    یوں تو سارا سال ہی نکاح اور شادیوں کا سلسلہ چلتا رہتا ہے مگر نومبر سے جنوری تک ملک پاکستان میں شادیوں کا خاص سیزن ہوتا ہے
    نکاح ایک مقدس فریضہ ہے اور تمام انبیاء کرام کی بھی سنت ہے
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔۔ نکاح میری سنت ہے
    یعنی یہ ایک فرض عین ہے نکاح کیلئے ہم نے طرح طرح کی شرطیں اور رسمیں خود سے بنا ڈالیں ہیں کہ جن کا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں اس خوشی کے موقع پر دوستوں رشتے داروں کو اکھٹا کیا جاتا ہے لڑکے والے بارات کیساتھ لڑکی کے گھر جاتے ہیں جنہیں کھانا لڑکی والے اپنی خوشی سے کھلاتے ہیں جبکہ لڑکے والے بعد میں ولیمہ پر دوست احباب اور رشتہ داروں کو کھانا کھلاتے ہیں مگر اس عظیم خوشی اور پاکیزہ عمل پر بھی ہم عہد شکنی کرنے سے باز نہیں آتے اکثر اوقات اس موقع پر ہم کھانے میں اور بارات کے مقرر کردہ وقت میں عہد شکنی کرتے ہیں حالانکہ شادی کارڈ پر لکھواتے ہیں کہ ،پابندی وقت کو ملحوظ خاطر رکھیں مگر اوروں کو نصیحت خود میاں فضیحت کے مترادف ہم بارات کے مقرر کردہ ٹائم پر بارات نہیں لیجاتے جس کی بدولت ساتھ جانے والے رشتہ داروں اور دوستوں کو کھانے میں دیر کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ایسا تقریبا ایک رواج بن چکا ہے خاص کر ہمارے گاؤں دیہات میں جہاں میرج ہال نہیں ہوتے وہاں ایسا زیادہ ہوتا ہے چونکہ شادیوں کا سیزن ہوتا ہے اور ایک دن میں ایک میرج ہال کو دو سے تین تک شادیوں کا آرڈر ملا ہوتا ہے تو اسی لئے میرج ہال والے وقت کی پابندی لازمی کرواتے ہیں جو کہ بہت اچھی بات ہے مگر ہمیں یہ بھی سوچنا چائیے کہ ایک ایسا عمل کہ جس کا خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اگر اس کی شروعات میں ہی ہم فضول رسم و رواج کرنے کیساتھ لوگوں کو گھنٹوں بھوکا رکھ کر عہد شکنی کرینگے تو اس نکاح میں برکت کیسے ہوگی کیونکہ صحیح بخاری میں نبی رحمت کی حدیث ہے کہ جس میں تین باتیں پائی جائیں وہ منافق ہے
    1 جب بات کرے تو جھوٹ بولے
    2 وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے
    3 اگر اس کے پاس امانت رکھی جائے تو اس میں سے خیانت کرے
    تو آپ خود سوچیں جب شادی کارڈ والے سے بات کرکے خود ہم نے نکاح و ولیمہ کا ٹائم مقرر کرکے لکھوایا پھر جب ہم نے ہی ٹائم کی پابندی نا کی تو گویا ہم جھوٹ بولا اور اسی طرح عہد شکنی بھی کی
    جہاں پابندی وقت کی عہد شکنی شادی والے گھر سے شروع ہوتی ہے وہاں شادی میں شرکت کرنے والے بھی لیٹ پہنچ کر اس عہد شکنی کے مرتکب ہوتے ہیں لہذہ اس مقدس فرض میں فضول رسم و رواج کی عہد شکنی کیجئے اور پابندی وقت کے عہد کو بھی پورا کریں تاکہ ہم ایک زندہ قوم ہونے کا ثبوت دے سکیں اور زندہ قومیں اپنے اسلاف کی بتائی گئی باتوں سے عہد شکنی نہیں کرتیں

  • ماحولیاتی آلودگی بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار۔ پاکستانی تاریخ کا پہلا مقدمہ

    مقدمہ کے حقائق
    نام مقدمہ-شہلا ضیاء بنام واپڈا ( پی ایل ڈی 1994سپریم کورٹ 693)
    سال 1992 میں اسلام آباد کے چار رہائشیوں نےٖ، ایف 6/1 اسلام آباد کے رہائشی علاقے میں گرڈ اسٹیشن کی تعمیر کے خلاف احتجاج کیا-اس ضمن میں ایک شکایتی خط 15 اگست 1992 کو چیئرمین واپڈا کے نام ارسال کیا گیا جس میں رہائشیوں نے اس امر کی نشاندہی کی کہ گرڈ اسٹیشن کی تعمیر کے لیے ہائی وولٹیج ٹرانسمیشن لائنیں نصب کی جائیں گی اور برقی مقناطیسی فیلڈ کی موجودگی علاقے کے رہائشیوں خاص طور پر بچوں ، کمزوروں اور دھوبی گھاٹ خاندانوں کے لئے ایک سنگین خطرہ ثابت ھوگی- مزید یہ کہ بجلی کی تنصیبات اور ٹرانسمیشن لائنیوں کا وجود گرین بیلٹ کے لیئے نقصان دہ ھونے کے ساتھ ساتھ انتہائی مظر صحت ھے-
    شہریوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ کسی بھی رہائشی علاقے میں گرڈ اسٹیشن کی تعمیر اسلام آباد میں نافذالعمل منصوبہ بندی کے اصولوں کی صریح خلاف ورزی ھے جہاں گرین بیلٹس کو ماحولیاتی اور جمالیاتی وجوہات کی بناء پر شہر کا لازمی جزو سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے جولائی 1991 سے گرڈ اسٹیشن کی تعمیر کی بابت مختلف احتجاجی کوششوں کا بھی حوالہ دیا اور واضع کیا کہ اس ضمن میں کوئی قابل اطمینان اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔ یہ خط ایل یو سی این کے ڈاکٹر طارق بنوری نے انسانی حقوق کے معاملے کے طور پر سپریم کورٹ آف پاکستان کو قانونی جائزہ لینے کے لئے بھیجا جس میں دو سوالات اٹھائے گئے –
    اول یہ کہ کیا کسی سرکاری ایجنسی کو یہ حق حاصل ھے کہ وہ اپنے اقدامات سے شہریوں کی زندگی کو خطرے میں ڈالے ؟ اور
    دوم یہ کہ کیا حلقہ بندی کے قوانین میں شہریوں کودیئے گئے حقوق شہریوں کی رضامندی کے بغیر واپس لیے جا سکتے یا ان قوانین میں ردوبدل کیا جاسکتا ھے ؟
    اس معاملے کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے جس میں شہریوں کی زندگی اور صحت کو بڑے پیمانے پر متاثر کیا جاسکتا تھا جواب دہندگان کو نوٹس جاری کیا گیا- جواب دہندگان نے موقف اختیار کیا کہ ریکارڈ کے مطابق گرڈ اسٹیشن کی مجوزہ جگہ کو گرین ایریا کے طور پر نامزد نہیں کیا گیا ہے- جواب دہندگان نے مزید استفسار کیا کہ مجوزہ جگہ قریب واقع مکانات سے تقریبا چھ سے دس فٹ کی ڈپریشن میں ہےاور علاقے میں رہائش گاہوں سے کم از کم 40 فٹ دور شروع ہوتی ہے لہذا گرڈ اسٹیشن کی تعمیر سے رہائشیوں کے لیئے قدرتی منا ظر متاثر نہ ھوں گے۔ مزید کہا گیا کہ یہ اخذ کرنا بلکل بےبنیاد ھے کہ ٹرانسمیشن لائینوں اور گرڈ اسٹیشن سے 132 K.V. کی ہائی ولٹیج پیداوار کسی طرح بھی صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔ جواب دھندگان نے استفسار کیا کہ اسی طرح کے 132 کے وی گرڈ اسٹیشن گنجان آباد علاقے راولپنڈی ، لاہور ، ملتان اور فیصل آباد میں قائم کیے گئے ہیں ، لیکن صحت کی خرابی کی بابت کوئی اطلاع موصول نہیں ھوئی۔ یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ ان گرڈ اسٹیشنوں میں کام کرنے والے اور گرڈ اسٹیشنوں کے احاطے میں رہائش پذیر لوگوں سے ایک بھی شکایت موصول نہیں ہوئی ہے۔ یہ کہ تنصیبات کو اس طرح بنایا گیا ہے کہ اہلکاروں اور املاک کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے۔ مزید کہا گیا کہ انسانوں، جانوروں اور پودوں کی زندگیوں پر 5000 کے وی سے زیادہ وولٹیج کی اضافی ہائی وولٹیج لائنوں کے برقی مقناطیسی اثرات ترقی یافتہ ممالک میں زیرِ مطالعہ ہیں ، لیکن اس طرح کے مطالعے کے نتائج کی اطلاعات متنازعہ ہیں۔
    مقدمہ کا فیصلہ
    سپریم کورٹ آف پاکستان نے وکلاءفریقین مقدمہ کے دلائل سننے کے بعد قرار دیا کہ آئین پاکستان کے آرٹیکل (9) کے تحت شہریوں کو یہ حق حاصل ہے کہ اُنھیں الیکٹرومیگنیٹک فیلڈ یا کسی بھی گرڈ اسٹیشن ، فیکٹری ، بجلی گھر یا دیگر ایسی تنصیبات و تعمیرات سے پیدا ہونے والے خطروں سے بچایا جائے۔
    آئین کے آرٹیکل 184 کے تحت سپریم کورٹ آف پاکستان کو یہ استحقاق حاصل ہے کہ وہ کسی بھی ایسے معاملے کو ذیر غور لائے جہاں شہریوں کی ایک کثیر تعداد کی زندگی و صحت کے متاثر ہونے کا احتمال ہو ۔ مذید یہ کہ کیس میں اُٹھائے جانے والے مسئلے میں شہریوں کی فلاح و بہبود شامل ہے کیونکہ ملک بھر میں "ہائی ٹینشن لائینوں” کا جال بچھا ہوا ہے۔ یہ کہ اس بات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ موجودہ طرزِ زندگی ، صنعت و تجارت اور روزمرہ معاملات زندگی میں توانائی کا کردار لازم وملزوم ہے ۔ ملک کی معاشی ترقی کا انحصار ذیادہ توانائی کی پیدوار و تقسیم پر منحصر ہے۔ لہذا ضروری ہے کہ معاشی ترقی اور خوشحالی کے مابین توازن برقرار رکھنے اور ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیئے ایک پائیدار ترقی کی پالیسی اپنائی جائے۔ کوئی بھی ایسی پالیسی بنانے کے لیئے واپڈا کو اپنے گرڈاسٹیشن سے متعلقہ منصوبہ بندی و طریقہ کار کا گہرا مطالعہ کرنا چاہیے۔ اور امریکہ کی طرز پر ایسے طریقوں کو اپنانا چاہیے جن کے ذریعے تناﺅ کی اعلیٰ تعداد کو کم کیا جاسکتا ہے۔ واپڈا کو حکم دیا گیا کہ گرڈ اسٹیشن کی تعمیر و تنصیب کے لیئے سائنسی نقطہ نظر اپنانا چاہیے اور سائنسی و تکنیکی معاونین کی مدد لینی چاہے۔
    سپریم کورٹ آف پاکستان نے فریقین کی باہمی رضا مندی سے NESPAK کو بطور کمشنر مقرر کیا تا کہ وہ سائینسی وتکنیکی بنیادوں پر گرڈ اسٹیشن کی تعمیر و تنصیب سے متعلق واپڈا کے منصوبے کی جانچ پڑتال کرے اور رپورٹ پیش کرے۔ اس مرحلے پر سپریم کورٹ نے اس بات کی نشاندہی بھی کی تمام ترقی یافتہ ممالک میں توانائی کی پیداور کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ پاکستان میں توانائی کی پیدا وار کی ضرورت باقی ممالک کی نسبت زیادہ ہے ۔ لیکن معاشی ترقی کی جستجو میں ایسے اقدامات نہیں اُٹھائے جاسکتے جو انسانی زندگی کے لیئے مہلک ہوں اورماحول کو آلودہ اور تباہ کردیں۔
    سپریم کورٹ آف پاکستان نے واضع کیا کہ واپڈا نے وزارت پانی و بجلی کی مشاورت سے بجلی کی تقسیم کے لیئے گرڈاسٹیشن کی تعمیر کا منصوبہ تیار کیا ہےلیکن اس منصوبے کو تشکیل دینے کے دوران نہ ہی شہریوں کو سماعت کا کوئی موقع دیا گیا اور نہ ہی علاقے کے رہائشیوں کا موقف سنا گیا ہے۔ واپڈا نے یہ منصوبہ یکطرفہ طور پر تیار کیا ہےجبکہ گرڈ اسٹیشن کی تعمیر سے شہریوں اور علاقے کے رہائیشیوں کی زندگی و صحت متاثر ہونے کا شدید احتمال ہے۔ سپریم کورٹ نے بتایا کہ امریکہ میں ایسے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیئے پبلک سروس کمیشن کا تقرر کیا جاتا ہے اور عوامی رائے واعتراضات کو سننے کے بعد ایسے منصوبوں کی منظوری دی جاتی ہے جبکہ پاکستان میں کوئی بھی ایسا طریقہ کار نہیں اختیار کیاگیا ہے۔ ترقی پذیر ملک ہونے کے ناطے پاکستان میں بہت سے گرڈ اسٹیشنوں و بجلی کی ترسیل کے لیئے لائینوں کی تنصیب کی ضرورت ہے لہذا حکومت پاکستان کے لیے یہ مناسب ہوگا کہ بین الاقوامی سطح پر پہنچانے جانے والے سائینسدانوں و دیگر ممبران پر مشتمل ایک اتھارٹی یا کمیشن تشکیل دے جو کسی بھی گرڈ اسٹیشن کی تعمیر سے متعلق منصوبے کی منظوری دے اور پہلے سے قائم شدہ گرڈ اسٹیشنوں اور بجلی کی ترسیل کی لائینوں کا انسانی زندگی و ماحول پر اثرات کا مطالعہ کرے۔ اگر حکومتِ پاکستان وقت پر ایسے اقدامات اُٹھائے تو مستقبل میں بہت سے مسائل سے بچا جا سکتا ہے۔
    واپڈا نے بحث کے دوران یہ اعتراض اُٹھایا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کو آرٹیکل 184 کے تحت یہ اختیار حاصل نہیں ہے کہ کسی بھی علاقے میں گرڈ اسٹیشن کی تعمیر سے متعلق کوئی بھی فیصلہ دے کیونکہ گرڈ اسٹیشن سے متعلق منصوبہ باقائدہ مطالعہ کے بعد تیار کیا گیا ہے۔ اور گرڈ اسٹیشن و ہائی ٹرانسمیشن لائنوں کے انسانی صحت و زندگی پر اثرات کو پرکھا گیا ہے اور یہ کہ گرڈ اسٹیشن کی تعمیر بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہے ۔ سپریم کورٹ نے واپڈا کے اعتراض کو رد کرتے ہوئے یہ تجزیہ کیا کہ آئین پاکستان کے آرٹیکل (9) کے تحت کسی بھی فرد کو زندگی یا آزادی سے محروم نہیں کیا جا سکتا ماسوائے اس کے کہ قانون اس کی اجازت دے۔ لفظ زندگی انسانی وجود کے تمام حقائق کا احاطہ کرتا ہے۔ لفظ زندگی کی تعریف آئین پاکستان میں نہیں دی گئی لیکن اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ اس کی تعریف کو پودوں یا جانوروں کی زندگی یا انسانی زندگی کا پیدائش سے موت تک کےعمل تک محدود کر دیا جائے۔ زندگی میں ایسی تمام تر آسائشیں و سہولیات شامل ہیں جن سے ایک آزاد ملک میں بسنےوالا شہری باعزت طریقے سے قانونی و اآئینی طور پر لطف اندوز ہو سکے۔
    مضمون نگار سیدہ صائمہ شبیر سینئر ریسرچ آفیسر سپریم کورٹ آف پاکستان ہیں
    syeda_saima@yahoo.com

  • کشمیر، بابری مسجد اور ہندو راشٹر، بھارتی پالیسی ،تحریر: انشال راؤ

    کشمیر، بابری مسجد اور ہندو راشٹر، بھارتی پالیسی

    تحریر: انشال راؤ
    اسرائیل کے ناجائز قیام کے بعد اسرائیلی عدالتوں نے انصاف کے اصولوں کی دھجیاں بکھیر کر رکھدیں، یہودیوں نے مظلوم فلسطینیوں کی املاک پر قبضے کرلیے عدالتوں میں بطور ثبوت دلیل پیش کی جاتی کہ دو ہزار سال پہلے یہ جائیداد میرے دادا کے نانا کے فلاں فلاں کی تھی اور سہیونی کورٹیں اسے حق بجانب قرار دے دیتیں بالکل اسی طرح بھارتی سپریم کورٹ نے ہندوتوائی دہشتگردوں کے بےبنیاد دعوے پر تاریخی بابری مسجد کی جگہ رام مندر تعمیر کرنے کا فیصلہ دے دیا، مسلمانان برصغیر کو 1947 کے فسادات کے بعد پے در پے سانحات سے گزرنا پڑا لیکن ان میں کشمیر پر بھارتی ناجائز قبضہ اور شہید بابری مسجد کا سانحہ عظیم ترین ہے جس بنا پر بالخصوص مسلمانان ہند ایک دوراہے پر کھڑے نظر آتے ہیں کیونکہ مسلم قیادت بھی بےبسی و اضطراب میں مبتلا ہے، نئی نسل کو جہاں اسلام کی تاریخ میں دلچسپی نہیں وہیں بابری مسجد کی تاریخ و شہادت سے نابلد ہے، ہندوتوا دہشتگردوں کے پروپیگنڈے کے مطابق بابری مسجد کو رام مندر کی جگہ تعمیر کیا گیا جوکہ سراسر بےبنیاد اور من گھڑت داستان سے زیادہ کچھ نہیں، بابری مسجد کی تاریخی حیثیت اس کے کتبے پر کندہ اشعار سے ثابت ہے جن کا مطلب یہ ہے کہ "شاہ بابر کے حکم سے اس کے ایک امیر باقی نے اس مسجد کو بنوانے کی سعادت حاصل کی، جو اب فرشتوں کے اترنے کی جگہ ہے خدا کرے یہ کار خیر باقی رہے” اس سے ظاہر ہے کہ بابری مسجد کو شاہ بابر کے ایک امیر باقی نے بنوایا ہے اور بابر کے کہنے یا اس کی خواہش پر یا اس کے زمانے میں بنی، اس کے علاوہ بھی کچھ کتبات پر شعر و تحریریں کندہ ہیں جن میں حمد و ثناء یا دعائیہ کلمات رقم ہیں، ان کتبات کی سند کو کسی اعتبار سے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، الزام لگایا جاتا ہے کہ بابری مسجد رام جنم بھومی کو مسمار کرکے بنائی گئی، اگر ایسا ہوتا تو بابر اور اس کے امیر اپنے فاتحانہ غرور میں یہ ضرور لکھتے کہ شرک و کفر کی جگہ کو منہدم کرکے یہ مسجد بنائی گئی، بابر کی مذہبی رواداری کا اندازہ اس کی اپنے بیٹے کے نام وصیت سے لگایا جاسکتا ہے کہ "اے فرزند! ہندوستان کی سرزمین مختلف مذاہب سے بھری پڑی ہے، خدا کا شکر ہے کہ اس کی بادشاہت عطا کی، تم پر لازم ہے کہ اپنے لوح دل سے مذہبی تعصبات کو مٹادو اور ہر مذہب کے طریقے سے انصاف کرو، کسی کی عبادت گاہوں و مندروں کو منہدم نہ کرنا، عدل و انصاف اس طرح سے کرو کہ بادشاہ رعایا اور رعایا بادشاہ سے خوش رہے” یہ تحریر اسی سال کی ہے جس سال بابری مسجد کو تعمیر کیا گیا تھا اس وصیت نامہ کو ڈاکٹر راجندر پرشاد نے اپنی کتاب India Divided میں درج کیا ہے، تزک بابری میں بابر نے مندروں کی عمارتوں کا ذکر لطف لے لے کر کیا ہے جیسا کہ گوالیار کے بت خانے کا ذکر ہے اگر بابر مندروں کے خلاف ہوتا تو گوالیار کے عالیشان مندر و بت خانے کو کبھی نہ چھوڑتا، اس کے علاوہ پروفیسر سری رام شرما اپنی کتاب Mughal Empire of India میں لکھتے ہیں کہ "ہمیں ایسی کوئی شہادت نہیں ملتی کہ بابر نے کسی مندر کو منہدم کیا یا کسی ہندو کی ایذا رسانی کی محض اس بنیاد پر کہ وہ ہندو ہے” ہندو دھرم کی تاریخ کو دیکھا جائے تو اس قدیم مذہب میں ہزاروں پنڈت، وشنو، سوامی آئے لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ کسی کو بھی رام جنم بھومی کا پتہ نہ چلا اور انیسویں صدی میں آکر جنگ آزادی 1857 کے بعد انگریزوں نے یہ سوانگ رچا کہ بابری مسجد کو رام مندر منہدم کرکے تعمیر کیا گیا، انگریز نے جان لیڈن کی "میمورائز آف ظہیرالدین بابر” کے حوالے سے یہ ڈرامہ رچا جبکہ جان لیڈن کی کتاب میں ایسا کہیں بھی زکر نہیں کہ بابر نے ایودھیا میں کوئی مندر مسمار کیا سوائے اس کے کہ 1528 میں بابر ایودھیا سے گزرا، مگر پھر بھی انگریز نے لیڈن کو اپنے مقاصد کی بیساکھی بنایا، حیرانگی کی بات یہ ہے کہ ہندووں کی کتب یا لٹریچر میں اس دعوے کا سرے سے وجود نہیں، اگر ایسی کوئی جنم بھومی یا جنم استھان ہوتا تو لازم ہے کہ کوئی نہ کوئی روایت ضرور ہوتی اور بہت سے تاکیدی نصوص بھی ہوتے، ہندوتوا دہشتگرد کسی بھی طور پر یہ ثابت نہیں کرپائے کہ بابری مسجد کی جگہ رام مندر تھا لیکن اس کے باوجود بھارتی سپریم کورٹ نے انصاف کے تقاضوں کی دھجیاں بکھیر کر رکھدی ہیں اور یہ اشارہ دیدیا ہے کہ اب یہ ہندوتوا کورٹ ہے نہ کہ بھارتی سپریم کورٹ، اس کی وجہ یہ ہے کہ 1989 کے جنرل الیکشن میں BJP کی الیکشن مہم تین نکات پر چلائی گئی تھی ایک یہ کہ کشمیر کو بھارت میں شامل کیا جائیگا، دوسرا یہ کہ بابری مسجد کو شہید کرکے اس کی جگہ رام مندر تعمیر کیا جائیگا، تیسرا یہ کہ بھارت کو سیکیولر ریاست کی بجائے ہندو راشٹریہ بنایا جائیگا جوکہ BJP نے اپنی پالیسی کے طور پر پیش کیے تھے اور یہی سٙنگھ پریوار کی آئیڈیولوجی بھی ہے، اسی کے بعد سے بھارت میں سناتن ہندوتوا پالیسیوں کا زور دکھائی دیتا آرہا ہے جتنے بھی کالے قوانین کشمیر میں نافذ کیے گئے وہ 1990 یا اس کے بعد کیے گئے جیسا کہ اسپیشل پاور ایکٹ جن کے تحت کشمیر میں بھارتی سیکیورٹی فورسز کو لائسینس ٹو کِل دے دیا گیا اور ہر جرم کی اجازت دی گئی، اس کے علاوہ بھارتی پارلیمنٹ 15 نومبر 1991 کے بل برائے قانونی حیثیت و تحفظ مذہبی عمارات کے پاس ہونے کے باوجود ہندوتوا دہشتگردوں نے سرکاری سرپرستی میں 6 دسمبر 1992 کو بابری مسجد کو شہید کردیا جسے اب بھارتی سپریم کورٹ نے بھی جرم قرار دیا ہے لیکن آج تک کسی کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہوئی، مودی کی قیادت میں BJP سرکار نے آکر 1989 کے ہی تینوں نکات پر عمل کیا ہے سب سے پہلے کشمیر کو عالمی قوانین کی دھجیاں بکھیرتے ہوے غاصبانہ قبضہ جمالیا ہے اور اب بابری مسجد کیس کو بھی عدالت کے زریعے ہندوتوا دہشتگردوں کی منشاء و مرضی کے مطابق نمٹادیا ہے، تیسرے نکتہ کا بھی نریندر مودی بھارتی یوم آزادی کے موقع پر اعلان کرچکے ہیں کہ اس کا مقصد بھارت کو ایک قوم یعنی ہندو راشٹر بنانا ہے جس کا عکس BJP کے مختلف دہشتگرد رہنماوں کے بیانات سے بھی صاف نظر آتا ہے جوکہ اعلانیہ کہتے آرہے ہیں کہ بھارت سے مسلمانوں و دیگر غیر ہندو مذہب کے ماننے والوں کو نکال باہر کرنا ان کا پرائم ٹارگٹ ہے، ہندوتوا دہشتگرد اب گیان واپی مسجد و متھرا کی عید گاہ سمیت دیگر 150 سے زائد تاریخی مساجد پر نظر جمائے ہوے ہیں جو بھارتی حکومت کی ایماء پر عرصے سے بند ہیں بظاہر تو یہ سرکاری تحویل میں ہیں مگر حقیقتاً یہ بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ ناانصافی و حق تلفی و مذہبی آزادی نہ دیے جانے کی پالیسی کا اظہار اور ہندو راشٹر کی طرف بڑھتا ہوا قدم ہے جو خطے میں ایک نئے خطرناک محاذ کی طرف اشارہ ہے اور مسلمانوں سے ناروا سلوک ریاستی پالیسی ہے، ہندوتوا کا خواب ہے کہ وہ تاریخ کا پہیہ پیچھے کی جانب گھمانا چاہتے ہیں تو یہ بھی ایک کھلا راز ہے کہ مسلمان بھی اپنی تاریخ دہرانا جانتے ہیں اگرچہ میدان سیاست کے کھلاڑی ہندوتوائی سازشوں سے دانستہ یا غیردانستہ غافل ہیں لیکن مسلمانوں میں آج بھی ٹیپو، ابن قاسم، غزنوی، غوری کی سی صلاحیت زندہ ہے اور اپنے حق و خطے کے امن کے لیے ہندوتوا دہشتگردوں کو سبق سکھانے کے لیے اٹھ کھڑے ہونگے۔

  • سپن باؤلنگ کوچ کے میدان میں سعید اجمل بھی کود پڑے

    سپن باؤلنگ کوچ کے میدان میں سعید اجمل بھی کود پڑے

    ایک اور مایہ ناز سابق سپنر کی باؤلنگ کوچ کے لیے درخواست ، پاکستان کرکٹ بورڈ نے اسپن بولنگ کوچ کےلیے اشتہار دے کر درخواستیں طلب کی تھیں جس کے بعد سعید اجمل نے قومی ٹیم کا اسپن بولنگ کوچ بننے کی خواہش ظاہر کرتے ہوئے اس عہدے کےلیے درخواست جمع کرادی ہے۔

    سابق اسپنر سعید اجمل نے پی سی بی ہیڈ کوارٹر میں درخواست جمع کروائی جس میں کہا گیا ہےکہ اسپن بولنگ کوچ کے عہدے کیلئے تمام شقوں پر پورا اترتا ہوں اور پاکستان ٹیم کے ساتھ کام کرکے نوجوان بولرز کی مدد کرنا خواہش ہے۔
    واضح رہے کہ سپن باؤلنگ کوچ کے لیے مشتاق احمد نے بھی درخواست دے رکھی ہے، اب دوسرے مایہ ناز سپنر سعید اجمل بھی اس صف میں شامل ہو چکے ہیں.مشتاق احمد کو مضبوط امیدوار قرار دیا جارہا ہے.

  • گفتگو کے ذرائع اور قومی زبان ،تحریر غزالہ صدیقی و فاطمہ قمر

    گفتگو کے ذرائع اور قومی زبان
    غزالہ صدیقی .اشتراک: فاطمہ قمر، صدر شعبہ خواتین، پاکستان قومی زبان تحریک

    حقیقت یہ ہے کہ اپنی مادری زبان میں بات کرنا اور نہ جاننے والوں کو مرعوب کرنا یا خود اپنی زبان میں فخر سے بات کرنا جدید دنیا کے لوگوں کا مہذب رویہ سمجها جانے لگا ہے – مہذب اس طرح کہ دوسرے کی بولی مختلف بهی ہو تو اسے احترام سے سنا جاتا ہے، یہ ایک عالمی مہذب رویہ ہے –
    بولی زبان سے بولے الفاظ بهی ہوتے ہیں اور زبان کے ماہرین نے گفتگو کے دوسرے ذرائع بهی بولی میں شامل رکهیں پیں جیسے جسمانی اشاروں کی زبان ، مسکراہٹ / آنسوؤں یا جذبات کی زبان ، چهونے سے محسوس کی جانے والی ، صوتی تاثر کے اتار چڑهائو ، مدہم اور بلند آہنگ صوتی تاثرات ، حروف یا الفاظ پر زور دینا ، آنکهوں کے زاوئیے اور ان کے بصری تاثرات وغیرہ —-
    یہ سب گفتگو میں استعمال کی جانے والی بولیاں ہیں
    عالمی سطح پر بین الاقوامی لوگوں کا آپس میں ربط عام بات ہے – پاکستان میں تو غیر ملکوں کی اکثریت نہیں مگر دنیا کے بیشتر ممالک میں یہ عام بات ہے –
    تو جب ایسے ملکوں میں ایک دوسرے کی زبان نہ آتی ہو تو ہوتا یہ ہے کہ سب اپنی مادری زبان بهی بول رہے ہوتے ہیں اور رابطے کی وہ سب بولیاں بهی جن کا میں نے ذکر کیا ہے – یوں بات چیت کی اور سمجهی جاتی ہے ، دوستیاں اور کاروبار زندگی سب اسی طرح چل رہے ہوتے ہیں – کسی کو بهی یہ خیال نہیں آتا کہ انگریزی بولنے والا بڑا قابل ہے ، چینی جاپانی لہجوں پر ہنسی آسکتی ہے ، اردو ، گجراتی پنجابی بولنے والے یا افریقی ممالک کی زبان بولنے والے کوئ عجیب شے ہیں – سب اپنی زبان بولتے ہئں ، انہیں سنا اور سمجها جاتا ہے اور اپنی زبان میں جواب دیا جارہا ہوتا ہے – عام رویہ ہے کہ اس فرق کو قبول کیا جاتا اور شخصی آزادی مانا جاتا یے ، اس کا احترام کیا جاتا ہے – یہاں سائوتهه افریقہ میں انگریزی عام بول چال کی زبان ہے مگر باقی زبانیں بهی اسی طرح فعال ہیں –
    اب بین القومیت بود و باش کے ماحول میں ، انگریزی یا کسی اور ایک زبان کی اجارہ داری فرسودہ خیالی ہو چکی ہے – ہمارے ہاں اسی فرسودہ خیالی کو گلے لگا کے رکها ہوا ہے – دنیا متحرک اور ہم پاکستان میں ا نگریزی کی برف تلے منجمد محسوس ہوتے ہیں – دنیا بهر میں کوئ بهی بیرونی زبان بولنا مہذب اور قابل فخر رویہ نہیں سمجها جاتا ہم ان پڑهه نہیں مگر زبان کے معاملے میں رویہ ایسا ہی ہے۔

  • مجھے کیوں نکالا؟ تحریر غلام زادہ نعمان صابری

    مجھے کیوں نکالا؟ تحریر غلام زادہ نعمان صابری
    "ایئر ایمبولینس میں بیٹھتے ہی طبیعت سنبھلنی شروع ہو گئی ہے، پلیٹلیٹس کی کمی کا کہیں دور دور تک تصور بھی نہیں کیا جا سکتا، شوگرکا تو یوں محسوس ہو رہا ہے جیسے کبھی تھی ہی نہیں، معلوم نہیں آپ نے کیا جادو کیا ہے”، نواز شریف نے ایئر ایمبولینس میں بیٹھتے ہوئے شہباز شریف سے کہا۔
    شہباز شریف نے کہا بھائی جان یہ جادو میں نے نہیں کیا بلکہ میں تو آپ کے پروں کے نیچے چھپ کر جا رہا ہوں ،یہ مہربانی سیف الرحمن کی ہے جو قطر میں آپ کے کاروبار کو سنبھالے ہوئے ہے اور جس نے آپ کو حیات جاودانی کے قطرے پلانے کے لئے قطری شہزادے کی ایئر ایمبولینس بھیجی ہے اور جو آپ کو لے کر پاکستان سے بہت دور جا رہی ہے، اب لگتا ہے ہمیں پاکستان کی آب و ہوا راس نہیں آ رہی، اب دیکھیں ناں آپ کی حالت کتنی پتلی تھی عوام میں یہ تاثر پایا جا رہا تھا کہ بڑے میاں صاحب اب گئے کہ اب گئے۔۔۔۔۔۔۔وہ تو” گئے”کو کسی اور خیال سے کہہ رہے تھے لیکن میری ذہانت کی مجھے داد دیجیے بھائی جان کیونکہ میں نے اس” گئے”کے اندر سے جو” گئے” نکالا ہے وہ یہی "گئے”ہے جس پر ہم دونوں بھائی بیٹھ کر زندہ سلامت جا رہے ہیں۔
    اورہاں بھائی جان نکالا سے میری مراد وہ نہیں ہے جو آپ کہتے ہیں "مجھے کیوں نکالا”. اب کبھی بھول کر بھی یہ فقرہ منہ سے نہ نکالنا کیونکہ اس فقرے نے ہمیں فقیر کر دیا ہے۔دوسرا یہ کہ اگر آپ اس فقرے کو دہرائیں گے تو سارا الزام مجھ پر آئے گا کیونکہ اماں جی کے پر زور اصرار پر میں آپ کو پاکستان سے نکال کر لے جا رہا ہوں اور میں نے خود کی بھی آپ کے لیے قربانی دے دی ہے کیونکہ آپ کے بغیر میرا بھی دل پاکستان سے اٹھ گیا ہے۔
    دونوں طرف سے بھرپور مسکراہٹ کا تبادلہ ہوا اور نواز شریف نے اظہار ہمدردی کے طور خود کو پر سکون محسوس کرتے ہوئے آصف علی زرداری کی حمایت میں لب کشائی فرمائی کہ اب اس بیچارے کا کیا بنے گا؟
    شہباز شریف نے مسکراتے ہوئے بھائی جان سے فرمایا کہ بھائی جان فکر نہ کریں آپ جیسے نواز شریف کے سو دماغ مل کر آصف علی زرداری کا ایک دماغ بنتا ہے یہ اسی کا خاصہ ہے کہ اس نے اب تک بھٹو کو زندہ رکھا ہوا ہے وہ خود زرداری ہوکر بھی بھٹو ہے۔
    بھائی جان بس کچھ ہی دنوں بعد وہ بھی کسی ایئر ایمبولینس میں ہمارے پیچھے پیچھے آنے والا ہے بس اب احتیاط کیجیے گا کسی اور میثاق جمہوریت کے بارے میں!
    بالکل آپ ہی کی طرح آصف علی زرداری کی بیماریاں بھی نئی کونپلوں کی طرح پھوٹنی شروع ہو گئی ہیں اور آہستہ آہستہ پتے نکلیں گے اور تشخیص سامنے آتی جائے گی اور پھر ایک روز ائیر ایمبولینس پاکستان کے کسی ایئر پورٹ پر کھڑی ہو گی اور یوں آصف علی زرداری بھی علاج کے بہانے پاکستان کو خیر باد کہہ دیں گے۔
    بھائی جان جب آپ کی آصف علی زرداری سے ملاقات ہو تو ایک شعر آپ کو سناتا ہوں یہ آپ ان کے سامنے ضرور پڑھ دینا ہوسکتا ہے آپ کی زبان سے یہ شعر سن کر ان کی طبیعت کچھ افاقہ محسوس کرے، اگر دو لفظوں سے کسی کا بھلا ہو جائے تو کیا مضائقہ ہے:

    آ عندلیب مل کر کریں آہ و زاریاں
    تو پکار ہائے گل میں چلاؤں ہائے دل

    نواز شریف نے شہباز شریف سے کہا شعر تو تم نے بہت اچھا سنایا ہے، اگر یہ شعر تم خود آصف علی زرداری کو سنا دو تو ٹھیک نہیں ہے؟
    بالکل ٹھیک ہے میں یہ شعر آصف علی زرداری کو سنا سکتا ہوں لیکن میں اس سے کچھ شرمندہ ہوں، شہباز شریف نے کہا۔
    نواز شریف نے پوچھاکہ کیا شرمندگی ہے، شہباز شریف نے یاد دلایا کہ آپ تو جانتے ہی ہیں کہ میں نے انتخابات کے دوران آصف علی زرداری کا پیٹ پھاڑ کر لوٹی ہوئی قومی دولت نکالنی تھی مگر میں ایسا نہ کر سکا، الٹا عمران خان نے ہمارا پیٹ پھاڑ کر لوٹی ہوئی قومی دولت نکال لی سیانے ٹھیک ہی کہہ گئے ہیں کہ کسی کا برا نہیں سوچنا چاہیے اور نہ کسی کے لیے کنواں کھودنا چاہیے دیکھا آپ نے ہم نے آصف علی زرداری کے لیے برا سوچا اور اس کے راستے میں کنواں بھی کھودا اور ہم خود ہی اس کنویں میں گر گئے۔
    مجھے لگتا ہے کہ ہم گھاٹے کا سودا کر آئے ہیں لگتا ہے آصف علی زرداری اس معاملے میں ہمیں مات دے جائے گا کیونکہ وہ بہت شاطر آدمی ضرور کوئی ایسی چال چلے گا جس سے سانپ بھی مر جاۓ گا اور لاٹھی بھی بچ جائے گی۔
    بھائی جان آپ کو یاد ہوگا کہ آپ نے بھی اسے بارہ سال جیل میں رکھا تھا مگر وہ پھر بھی دم کی طرح سیدھا نہیں ہوا تھا آخر آپ کو ہی ہار ماننا پڑی تھی۔
    نواز شریف نے کہا کہ لگتا ہے وہ سیدھا سرے محل جائے گا۔
    شہباز شریف نے کہا سرے محل جائے یا دبئی پیلس بس آپ نے اس شخص سے بچنا ہے کہیں پھر وہ آپ کو ورغلا کر کوئی نیا میثاق جمہوریت نہ کروا لے اب تو بچ گئے ہیں آئندہ بچنے کی امید نہیں ہے لہٰذا خود بھی سکون کی زندگی گزاریں اور مجھے بھی گزارنے دیں، آپ کی بیوی تو اللہ کو پیاری ہو گئی ہے میری تو چار زندہ ہیں۔
    اب دیکھیں ناں ائیر ایمبولینس میں بیٹھتے ہی آپ کی طبیعت سنبھل گئی ہے اندازہ کریں جب ولایت کی ولایتی آب و ہوا آپ کے بدن کو چھوئے گی تو کیا عالم ہوگا۔
    یہ بات سن کر نواز شریف کے دل ودماغ میں جو مناظر گھومے ان کے بارے میں وہ ہی بتا سکتے ہیں کوئی اور انہیں بیان کرنے سے قاصر ہے۔

  • ولائتی انڈے۔۔۔۔۔غلام زادہ نعمان صابری

    اندرون شہر لاہور کی کچھ گلیاں اور محلے دن کو سوتے اور رات کو جاگتے ہیں۔ایسے ہی ایک محلے کی گلی کا موڑ مڑتے ہوئے اس نے دیکھا کہ چند بابے تھڑے پر بیٹھے تاش کھیل رہے تھے۔

    اس نے موڑ مڑتے ہی با آواز بلند گرم انڈوں کا نعرہ لگایا جو سیدھا ان کے کانوں سے جا ٹکرایا۔سردیوں کی رات کی ٹھنڈ،تاش کا چسکا اور گرم انڈوں کی پراسرارلذت نے ان کے دل ودماغ کو یکجان ہو کر سوچنے پر مجبور کر دیا کہ گرم انڈوں کی آواز لگانے والے کو فی الفور شرف ملاقات عطا فرمائی جائے اور گرم گرم انڈوں سے لطف اندوز ہوا جائے۔

    باباشیدا ٹانگے والا اور بابا بوٹا تمباکو والا مسلسل تیسری بازی ہار چکے تھے،جیتنے والوں نے گرم چائے کے ساتھ گرم انڈوں کی بھی فرمائش کا اضافہ کر دیاتھا ۔ہارنے والے بھی "تھوہڑ دلئے "نہیں تھے بلکہ جی دار قسم کے بابوں کی فہرست میں اپنا ایک منفرد مقام رکھتے تھے۔

    بابے بوٹے نے نورے انڈوں والے کو آواز دی اور اپنے پاس بلایا۔نورا انڈوں والا بھی اسی علاقے کا رہائشی اور ان کے قریبی محلے کا باسی تھا اور انڈوں کا تھوک کا کاروبار کرتا تھا،اندرون شہر ولائتی انڈوں کا سب سے پہلے اسی نے کاروبار شروع کیا تھا اور پورے شہر میں اسی کی سپلائی جاتی تھی۔نور محمد سے بالآخربابا نورا انڈوں والا کے نام سے مشہور ہو گیا۔دورونزدیک سے آنے والا کوئی بھی بندہ اگر کسی بچے سے بھی بابا نورے کے بارے میں پوچھتا تو وہ اس کی انگلی پکڑ اسے بابا نورا کی دکان پر پہنچا دیتاتھا۔

    وقت کے ساتھ ساتھ مخلوق خدا کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا اور انڈوں کی ڈیمانڈ بھی بڑھنے لگی،مٹھائی سے لے کر بیکری تک اور ہوٹلوں سے لےکر گھروں تک تو انڈوں کی مانگ تھی،انڈہ اچھا ہو تو چلتا ہے گندہ انڈہ کس کام کا۔

    گندے انڈے بھی ہر جگہ پائے جاتے ہیں لیکن سیاست میں گندے انڈوں کی ورائٹی گننا بہت مشکل کام ہے۔
    کیا کوئی یہ بتا سکتا ہے کہ انڈہ صرف مرغی کا ہی ہوتا ہے?

    سیاست کے گندے انڈوں نے وہ غلیظ بچے نکالے ہیں جنہوں نے پورا ملک تعفن زدہ کر دیا ہے۔ان پر شمامۃ العنبر کی لاکھ بوتلیں چھڑک ڈالیں لیکن خوشبو کا کوئی اثر ہوتا نظر نہیں آتا۔

    ہمارا ملک گندے انڈوں کے سبب ترقی کی وہ منازل طے نہیں کر سکا جو اس کا حق تھا۔آج پاکستان جس چوراہے پر کھڑا ہے اس کے ذمہ دار صرف یہی گندے انڈے ہیں جنہوں نے گندہ ہونے کے باوجود کرشماتی طور پر کچھ نہ کچھ ضرور جنم دیا ہے۔

    بابا بوٹا انڈوں والا جانتا تھا کہ یہ” پتہ کھلاڑی”اپنے پتے کو گرم کرنے کے لئے ٹھنڈی رات کے اس پچھلے پہر گرم انڈے ضرور کھائیں گے۔

    وہ ان کے پاس گیا اور گرم انڈوں والی ٹوکری رکھ کر بیٹھ گیا۔بابابوٹا تمباکو والا نورے کو بہت اچھی طرح جانتا تھا کیونکہ بابا بوٹا تمباکو والا انڈوں کا حلوہ بہت اچھا بناتا تھا اور وہ انڈے اسی سے خریدتا تھا۔

    بابا بوٹا نے نورے سے پوچھا کہ یار سچ سچ بتانا تو اس مقام تک کیسے پہنچا جبکہ اس علاقے میں تجھ سے بڑا انڈوں کا کوئی سوداگر نہیں تھا اور لوگ قطار میں کھڑے ہو کر انڈے خریدتے تھے۔

    بابا نورا نے دونوں ہاتھ اپنے سر پر رکھے اور ایک لمبی ٹھنڈی آہ بھر کر بولا۔
    بوٹے”رج پچانا بڑا اوکھا کم اے”

    میرا انڈوں کا کاروبار اس قدر عروج پر تھا اگر مجھ میں انسانیت ہوتی تو آج میں اس علاقے کا سب سے زیادہ امیر شخص ہوتا۔

    بوٹے تمہیں تو معلوم ہے کہ دیسی انڈے ولائتی انڈوں سے زیادہ مہنگے بکتے ہیں،مجھے ایک دن شیطان نے بہکایا اور میرے کان میں آ کر کہنے لگا کہ نورے ساری زندگی ولائتی انڈے ہی بیچتا رہے گا،کچھ ترقی کرنے کا بھی سوچ میرے کان کھڑے ہوئے میں نے مشورہ مانگا تو کہنے لگا کہ آسان طریقہ ہے ولائتی کو دیسی بنانے کا۔

    بس پھر کیا،پوچھو مت۔۔۔۔۔میں نے شیطان کے بتائے ہوئے فارمولے پر دل و جان سے عمل کیا اور ولائتی انڈوں کو دیسی انڈے بنا کر بیچنا شروع کر دیا،منافع تو بے حد ہوا مگر حرام کی حد ختم ہو گئی۔

    شروع شروع میں تو شیطان نے میرا بہت ساتھ دیا اور میری راہنمائی میں پیش پیش رہا لیکن ایک وقت ایسا آیا کہ وہ مجھے بیچ منجدھار میں ہچکولے کھاتا چھوڑ کر مفرور ہوگیا اس کے جانے کی دیر تھی لوگوں نے شکایات کے انبار لگا دیئے اور کہنے لگے ۔۔۔۔۔بوٹیا! انڈوں میں دیسی والا سواد نہیں آ رہا۔

    بس پھر کیا !لوگ آہستہ آہستہ دکان کا راستہ بھولنے لگے دیسی اور ولائتی انڈے خراب ہونا شروع ہو گئے،دیسی انڈے بیچتے بیچتے ولائتی انڈے بیچنے سے بھی ہاتھ دھو بیٹھا۔

    لالچ نے اندھا کردیا تھا اور ہاں بابا بوٹے تجھے یہ بھی بتاتا چلوں کہ وہ شیطان یہ شیدا ٹانگے والا تھا جو تیرے سامنے بیٹھا ہوا شیطانی ہنسی ہنس رہا ہے،یہ خود بھی ڈوبا ہے اور ساتھ مجھے بھی ڈبو دیا۔

    بابا بوٹے نے شیدے کی طرف غراتی نظروں سے دیکھا تو شیدے نے تاش کے پتے جنہیں وہ ہاتھ میں پھینٹ رہا تھا زور سے زمین پر پھینکے اور کہنے لگا،بوٹے ایک بات تو بتا!

    بوٹے نے کہا پوچھ!
    شیدا کہنے لگا اگر میں تمہیں کہوں کہ کنویں میں چھلانگ لگاؤ تو کیا تم کنویں میں چھلانگ لگا دو گے!
    بوٹے نے کہا کہ کیا میں پاگل ہوں

    بس اپنی سوچ اور نورے کی سوچ کا تو خود ہی موازنہ کر لے،شیدے نے بوٹے سے کہا۔
    گرما گرم ولائتی انڈوں کی ٹوکری اتنی دیر میں خالی اور چائے کی پیالیوں پر ملائی کی پرت جم چکی تھی اور مرغوں نے اذانیں دینا شروع کر دی تھیں۔

    ولائتی انڈے۔۔۔۔۔غلام زادہ نعمان صابری