Baaghi TV

Category: بلاگ

  • خبردار! ناشتے نہ کرنے والے بچے تعلیمی میدان میں‌ پیچھے رہ جاتے ہیں،ماہرین طب

    لندن:خبردار! ناشتے نہ کرنے والے بچے تعلیمی میدان میں‌ پیچھے رہ جاتے ہیں،برطانوی ماہرین کا کہنا ہے کہ جو بچے صبح نشاتہ نہیں کرتے وہ تعلیمی میدان میں بہت پیچھے رہ جاتے ہیں۔تفصیلات کے مطابق برطانیہ کی یونیورسٹی لیڈز کے ماہرین نے صبح ناشتہ کرنے اور نہ کرنے والے بچوں کے حوالے سے تحقیقاتی مطالعہ کیا، اس دوران 294 والدین سے بات چیت کر کے اُن کے بچوں کا ڈیٹا جمع کیا گیا۔

    مقبوضہ کشمیر کے دکھی بچوں کو نہ بھولیں، عمران خان کا خصوصی پیغام

    ذرائع کے مطابق جرنل فرنٹیرز پبلک ہیلتھ میں شائع ہونے والی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ماہرین اس نتیجے پر پہنچے کہ جو بچے صبح ناشتہ نہیں کرتے وہ تعلیمی میدان میں نہ صرف پیچھے رہ جاتے بلکہ بہت کم نمبروں سے کامیابی حاصل کرتے ہیں۔

    دنیا میں سالانہ ایک لاکھ بچے جنگ کی وجہ سے ہلاک ہوتے ہیں:عالمی تنظیم سیو دی چلڈرن

    ماہرین نے مطالعے کے دوران بچوں کے امتحانات کا ڈیٹا بھی اکھٹا کیا۔ جس میں یہ بات سامنے آئی کہ اچھی پوزیشنز حاصل کرنے والے طالب علم صبح باقاعدگی کے ساتھ ناشتہ کرکے آتے ہیں۔تحقیقاتی مطالعے میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ جو بچے ناشتے میں انڈا کھاتے ہیں اُن کے ذہن دیگر کے مقابلے میں زیادہ تیز ہوتے، یہی وجہ ہے کہ وہ اچھے نمبروں یا پوزیشنر لیتے ہیں۔

    مسلمان مہاجرین کےعلاوہ تمام مہاجرین کوبھارتی شہریت دے دیں گے ، وزیرداخلہ امت شاہ

    ماہرین کا کہنا ہے کہ صبح کا ناشتہ بچے کے لیے دماغ کے ایندھن کی طرح ہوتا ہے اس لیے جو بچے کچھ کھائے پیے بغیر اسکول جاتے ہیں اُن کے ذہن کمزور رہ جاتے ہیں اور وہ سست رہتے ہیں۔تحقیقی ٹیم کے سربراہ پروفیسر اڈلوپھس کا کہنا تھا کہ ناقص غذائیت کی وجہ سے طالب علموں کے اسکول کا رزلٹ بہت زیادہ حد تک متاثر ہوتا ہے۔

  • یہ بچے پھول ہیں گُلشن کے۔۔۔(20 نومبر،بچوں کا عالمی دن)،تحریر:جویریہ چوہدری

    یہ بچے پھول ہیں گُلشن کے۔۔۔(20 نومبر،بچوں کا عالمی دن)۔
    تحریر:جویریہ چوہدری

    بچے کسی بھی باغ کی رونق،خوشبو اور زینت کی طرح اور کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں۔۔۔
    ان کے حقوق کا دفاع،تربیت،فلاح و بہبود اور تعلیمی و فنی صلاحیتوں کو اجاگر کر کے ہی ہم ایک صحتمند اور ترقی یافتہ معاشرے کا خواب دیکھ سکتے ہیں۔۔۔
    کسی بھی دن کو منانے کا مقصد محض اس مسئلہ کے حوالے سے شعور بیدار کرنا ہو سکتا ہے۔۔۔ورنہ کسی بھی مسئلے کے حل کے لیئے ہر دن نئے عزم اور ولولے سے کام کرنے اور اپنے فرائض کا ادراک کرنے میں ہے۔۔۔
    کیونکہ صرف دن منانے سے دنیا بھر کے حقوق کو ترستے لاکھوں بچے کوئی حقوق حاصل نہیں کر سکتے۔۔۔ !!!
    بچوں کی صحت،تعلیم،موسمی ملبوسات،ذہنی بالیدگی،تفریح طبع کے اسباب مہیا کرنا ان کے بنیادی حقوق ہیں۔۔۔
    مگر افسوس ہے کہ معاشرے سے عالمی سطح تک یہ پھول،جھلستے،مرجھاتے اور کملاتے دکھائی دیتے ہیں۔۔۔
    کسی بھی معاشرے میں اس کی وجہ غربت،شعور کا فقدان اور وسائل کی عدم دستیابی ہوتی ہے۔۔۔بچوں کی خوراک کی کمی،اور بچپن کی بڑھتی اموات اس کی مثال کے طور پر سمجھی جا سکتی ہیں۔۔۔پھر آگے بڑھ کر سوسائٹی کا یہ طبقہ جو معاشی جھمیلوں کا شکار دکھائی دیتا ہے تو
    اسی وجہ سے یہ ننھی جانیں اپنے سہانے بچپن کے خواب جلد ہی بکھیرنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔۔۔اور زندگی کی سانسوں کو بحال رکھنے کے لیئے بھٹوں اور فیکٹریوں،ورکشاپوں اور کارخانوں میں ننھے مزدوروں کی صورت میں دکھائی دیتی ہیں۔۔۔ !!!
    ننھے ہاتھوں میں پکڑے بھاری آوازار اور میلے اور چکنے کپڑوں میں ملبوس یہ پھول کسی بھی معاشرے کی زندہ دلی پر سوال اٹھاتے نظر آتے ہیں۔۔۔؟؟؟
    بچوں کے حوالے سے صرف ایک دن منا کر پھر خاموشی کی چادر تان لینے سے اس استحصال کو روکا نہیں جا سکتا۔۔۔
    ان ننھے پھولوں کو کام کی جگہوں پر مار پیٹ،تشدد سے بری طرح مسلا جاتا ہے۔۔۔
    یہی صورت حال اکثر کم عمر گھریلو ملازمین کے حوالے سے بھی سامنے آتی ہے۔۔۔جو ایک معاشرتی المیہ ہے۔۔۔ !!!!
    حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے دس سال رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت کی،تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اف تک نہیں کہا اور نہ یہ کہا کہ فلاں کام کیوں کیا اور کیوں نہیں کیا؟
    (صحیح بخاری)۔
    رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اپنے ملازمین اور خدام کو اپنے جیسا کھِلانے،پلانے اور پہنانے کا حکم دیا ہے۔۔۔ !!!!
    پھر اسی طرح جنسی زیادتی کی دہشت گردی کے واقعات کا سامنے آنا اور زیادہ ذلت کا عکاس ہوتا ہے۔۔۔ !!!
    ان تمام صورتوں میں متاثر ہونے والا فریق یہ معصوم اور پھولوں کی مانند بچے ہی ہیں۔۔۔ !!!!
    والدین کی طرف سے عدم توجہ،بے جا مار پیٹ اور حد سے زیادہ لاڈ پیار بھی معاشرے کے اس اہم ستون کو کھوکھلا کرنے کا باعث ہے۔۔۔۔شروع سے ہی بہترین تربیت،غربت ہو یا امارت مستقبل کی بہترین صلاحیتوں کے سامنے آنے کی نوید ہو سکتی ہے۔۔۔ !!!
    پیار نرمی،اور محبّت سے ان پھولوں پر خوب صورت رنگ چڑھائے جا سکتے ہیں۔۔۔۔ !!!
    عالمی سطح کی بات کی جائے تو دنیا کے کئی خطوں میں یہ پھول سخت گرم و سرد تھپیڑوں سے نبرد آزما ہیں۔۔۔جن کے گھر،درسگاہیں اُن سے چھین لی گئی ہیں۔۔۔
    لاکھوں مہاجر بچے بنیادی سہولیات سے محروم ہو چکے ہیں۔۔۔
    فلسطینی اور کشمیری بچوں کے گھروں،سکولوں پر غاصبوں نے نا جائز قبضے کر رکھے ہیں۔۔۔
    اور ان کی تعلیمی سرگرمیوں اور ادویات و خوراک کے سنگین مسائل پیدا کیئے جاتے ہیں۔۔۔
    ان کی تعلیمی قابلیت میں معاون سہولیات انٹر نیٹ وغیرہ پر بھی پابندیاں عائد ہیں۔۔۔۔
    جن پر انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی بارہا تشویش کا اظہار کرتی ہیں،مگر دنیا میں امن کے حصول کے دعویدار صرف دعوؤں میں ہی کھوئے رہ جاتے ہیں۔۔۔اور انسانی حقوق کی پامالی مسلسل جاری ہے۔۔۔ !!!!
    لیبیا،شام،عراق،یمن،افغانستان میں بھی جنگی کاروائیوں(زمینی و فضائی) کے دوران ہزاروں معصوم بچے لقمۂ اجل بن جاتے ہیں مگر سوائے افسوس کے کوئی اقدام نہیں کیا جاتا،تاکہ ایسی گھناؤنی مثالوں کو روکا جا سکے۔۔۔
    اسلام تو وہ دینِ فطرت ہے جو جنگ کے دوران بھی معصوم بچوں،عورتوں اور بوڑھے لوگوں کے حقوق کی پاسداری کی تعلیم دیتا اور ان کے قتل سے سختی سے منع فرماتا ہے۔۔۔
    پیارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم بچوں کو پیار کرتے،سر پر ہاتھ پھیرتے،اوربوسہ دیتے تھے۔۔۔
    نماز میں بچوں کے رونے کی آواز سن کر اس ڈر سے کہ بچے کی ماں کو تکلیف نہ ہو،نماز مختصر کر دیتے۔۔۔(صحیح بخاری)۔
    ایک بدوی نے آکر پوچھا کہ کیا آپ لوگ اپنے بچوں کو بوسہ دیتے ہیں؟
    ہم تو بوسہ نہیں دیتے۔۔۔۔
    رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    اگر اللّٰہ نے تمہارے دل سے رحم نکال دیا ہے تو میں کیا کر سکتا ہوں؟؟؟
    (رواہ البخاری۔۔۔کتاب الادب۔
    مگر آج اسلامی ممالک کے بچوں کے حقوق ہی ریزہ ریزہ ہو کر بکھر رہے ہیں۔۔۔؟؟؟
    آج بھی بچوں کے حقوق کے حقیقی محافظ اسلام کی روشن تعلیمات پر عمل کی اشد ضرورت ہے۔۔۔
    تاکہ ہر جگہ،ہر خطے میں مذہب،قوم اور نسل سے قطع نظر یہ پھول مسکراتے رہیں،
    خوشبو سے گلشنوں کومہکاتے رہیں۔۔۔ !!!!
    ایک محاورہ ہم اکثر استعمال کرتے ہیں کہ بچے تو سب کے سانجھے ہوتے ہیں۔۔۔ !!!!
    ان پر غلط نگاہیں پڑنے ہی نہ دیں۔۔۔ان کے محافظ بن جائیں تاکہ ان کے گُل رنگ چہروں پر یاسیت کی پرچھائیاں نہ پڑنے پائیں۔۔۔
    ان کی روشن آنکھوں میں کمتری کے آنسو نہ جھلملانے پائیں۔۔۔ !!!
    کہ ان بچوں کے حقوق کی حفاظت اپنے روشن مستقبل کی حفاظت کی ضمانت ہے۔۔۔ !!!!
    ان بچوں کے تمام بنیادی حقوق کی زمہ داری والدین،معاشرے،درسگاہوں کے معلموں،عہدیداروں،اور حکومتوں سبھی پر عائد ہوتی ہے۔۔۔تاکہ کوئی سی بھی تپش ان پھولوں اور کلیوں کے جھلسنے کا باعث نہ بنے۔۔۔۔ !!!
    یہ بچے پھول ہیں گلشن کے، ان
    پھولوں کو ہنساؤ سب__
    ان پھولوں اور کلیوں کی اداؤں کو مہکاؤ سب۔۔۔ !!!
    ان پھولوں پر جوبن سے ہی یہ گلشن مسکرائے گا۔۔۔
    کوئی سماج تب ہی پھر کامیاب بھی کہلائے گا۔۔۔ !!!!

  • غلام مصطفی خان جتوئی وفات پاگئے،تاریخ لوٹ آئی

    کراچی :تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے،آج بھی تاریخ نےوہ دن دوبارہ دہرادیا اورباورکرادیا جس دن پاکستان کے سابق وزیراعظم اپنے خالق حقیقی سے جاملے،اسی سابق وزیراعظم کی تاریخ‌پیدائش بھی بہت مشہوردن کی ہے،اسی دن چودہ اگست 1931ء کوپاکستان کے بزرگ سیاستدان اور سابق نگراں وزیراعظم غلام مصطفی خان جتوئی سندھ کی سرزمین میں‌پیدا ہوئے۔

    غلام مصطفی خان جتوئی کے والد غلام رسول جتوئی کئی مرتبہ سندھ اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔انہوں نے 1956ء میں مغربی پاکستان اسمبلی کی رکنیت سے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز کیا۔ 1962ء اور 1965ء میں وہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 1967ء میں جب پاکستان پیپلزپارٹی کا قیام عمل میں آیا تو وہ اس کے اساسی ارکان میں شامل ہوئے۔ 1970ء میں وہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور 1971ء میں جب ملک میں پیپلزپارٹی کی حکومت قائم ہوئی تو وہ مرکزی کابینہ کے رکن بن گئے۔

    1973ء میں ذوالفقار علی بھٹو نے انہیں صوبہ سندھ کا وزیراعلیٰ مقرر کیا ۔ 1977ء میں وہ بلامقابلہ سندھ اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور بعدازاں متفقہ طور پر وزیراعلیٰ بھی بن گئے۔ 1977ء میں ملک میں مارشل لاء کے نفاذ کے بعد انہوں نے پاکستان پیپلزپارٹی کو سیاسی طور پر زندہ رکھنے کے لئے بڑا فعال کردار ادا کیا اور 1983ء میں ایم آر ڈی کی تحریک کی قیادت بھی کی۔

    مارچ 1986ء میں جب بے نظیر بھٹو نے ان سے مشورہ کئے بغیر سندھ پیپلزپارٹی کی قیادت میں بنیادی تبدیلیاں کی تو انہوں نے اسے بڑا محسوس کیا اور وہ پاکستان پیپلزپارٹی سے علیحدہ ہوگئے۔ 1986ء میں ہی انہوں نے اپنی سیاسی جماعت نیشنل پیپلزپارٹی قائم کی۔ 1988ء کے عام انتخابات میں وہ کامیاب نہ ہوسکے مگر اگلے ہی برس وہ کوٹ ادو کی ایک نشست پر ضمنی انتخابات میں منتخب ہوکر نہ صرف قومی اسمبلی کے رکن بنے بلکہ متحدہ اپوزیشن کے سربراہ بھی بن گئے۔

    6 اگست 1990ء کو بے نظیر بھٹو کی حکومت کے خاتمے کے بعد وہ نگراں وزیراعظم کے عہدے پر فائز ہوئے۔ وہ 1990ء، 1993ء اور 1997ء کے عام انتخابات میں قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تاہم 2002ء اور 2008ء کے عام انتخابات میں انہوں نے حصہ نہیں لیا۔20 نومبر 2009ء کوغلام مصطفی خان جتوئی لندن کے سینٹ میری اسپتال میں وفات پاگئے۔وہ نیو جتوئی کے مقام پر آسودۂ خاک ہیں

  • پاکستان نے آسٹریلین ٹیم کو دورہ پاکستان کے لیے راضی کرنے کی کوششیں تیز کر دیں

    پاکستان نے آسٹریلین ٹیم کو دورہ پاکستان کے لیے راضی کرنے کی کوششیں تیز کر دیں

    تفصیلات کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ نے دو ہزار بائیس میں آسٹریلین ٹیم کو دورہ پاکستان کیلئے راضی کرنے کی کوششیں تیز کردیں ہیں اور اس عمل میں سابق آسٹریلین آلراونڈڑ شین واٹسن کا کردار اہم ہوچکا ہے۔شین واٹسن گزشتہ دنوں آسٹریلین کرکٹرز ایسوسی ایشن کے صدر مقرر ہوئے تھے اور وہ اس ماہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو وسیم خان سے ملاقات کریں گے۔

    وسیم خان ان دنوں آسٹریلیا میں موجود ہیں جہاں وہ کرکٹ آسٹریلیا کے آفیشلز اور دیگر حکام سے ملاقاتیں کریں گے۔پی سی بی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سال کے آغاز میں پاکستان سپر لیگ کے لیے کراچی آنے والے شین واٹسن کا فیڈ بیک پی سی بی کی کوششوں کو کامیابی دلوانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔
    پی سی بی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سال کے آغاز میں پاکستان سپر لیگ کے لیے کراچی آنے والے شین واٹسن کا فیڈ بیک پی سی بی کی کوششوں کو کامیابی دلوانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

    شین واٹسن کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی ٹیم کے ساتھ پی ایس ایل میچز کھیلنے کیلئے پاکستان آئے تھے، حال ہی میں ایک انٹرویو میں واٹسن نے پاکستان میں سیکیورٹی انتظامات کو سراہا اور دوبارہ پاکستان کے دورے کی خواہش ظاہر کی تھی۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ وسیم خان اور آسٹریلین کرکٹرز ایسوسی ایشن کے درمیان ملاقات ملبرون میں پہلے ٹیسٹ کے بعد شیڈول ہے جس میں پاکستان کرکٹ بورڈ آسٹریلین کرکٹرز کے تحفظات دور کرنے کی کوشش کرے گا۔

  • بچوں کا عالمی دن اور کشمیری بچے!!!   تحریر غنی محمود قصوری

    بچوں کا عالمی دن اور کشمیری بچے!!! تحریر غنی محمود قصوری

    آج 20 نومبر ہے اور پوری دنیا میں بچوں کا عالمی دن منایا جا رہا ہے اس دن کو منانے کا مقصد بچوں پر ظلم و تشدد روکنا ان کی تعلیم و تربیت و صحت کا خیال کرنا ،ان سے جنسی زیادتی رکوانا اور بچوں سے محنت و مشقت رکوانا ہے
    یہ دن عالمی طور پر 20 نومبر 1989 سے ہر سال منایا جا رہا ہے تاہم 14 دسمبر 1954 کو اقوام متحدہ میں اس دن کو منانے کیلئے شفارشات پیش کی گئی تھیں
    آج ساری دنیا میں بچوں کے نام پر بڑے بڑے لوگ اور تنظیمیں اس دن کی اہمیت پر روشنی ڈالیں گی انسانوں تو انسانوں جانوروں کے بچوں کے حقوق کا بھی رونا روئیں گیں مگر افسوس کہ آج عالم اسلام اور بالخصوص مقبوضہ وادی کشمیر کے بچوں کو یکسر نظر انداد کیا جائے گا حالانکہ اس دن کا مقصد ہی بچوں پر ظلم و تشدد رکوانا اور ان کے حقوق کا خیال کرتے ہوئے انہیں آزاد زندگی گزارنے کے مواقع مہیا کرنا تھا اور شاید اب بھی ایسا ہی ہے مگر صرف مسلمانوں کے بچوں کے لئے ایسا ہر گز ہر گز نہیں
    اقوام متحدہ کہ جس نے اس دن کو منانے کا اعلان کیا آج وہی تقریبا 4 ماہ سے کشمیری محصور بچوں پر ہونے والے تشدد پر کبوتر کی طرح آنکھیں بند کئے ہوئے ہیں پوری دنیا کا میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں چیخ چیخ کر اقوام متحدہ کو بتا رہی ہیں کہ کشمیری بچے سینکڑوں دنوں سے اپنے گھروں میں محصور ہیں ان کی تعلیم کا سلسلہ ختم ہے ان کے پاس کھانے کو خوراک نہیں سردی سے بچنے کیلئے گرم کپڑے نہیں بیمار ہونے پر دوا نہیں میسر نہیں اور نومولودوں کیلئے دودھ بھی نہیں مگر افسوس صد افسوس کہ نام نہاد انسانی حقوق کی علمبردار اقوام متحدہ بھارت کو کچھ کہنا تو دور کی بات اپنے طور پر بھی ان مظلوم و مجبور محصور کشمیری بچوں کیلئے کچھ بھی کرنے سے قاصر ہے حالانکہ یہی لوگ کتوں اور بلیوں کے بچوں کے تحفظ کی خاطر اربوں روپیہ خرچ کر دیتے ہیں اور کسی بھی جنگلی جانور کی ذرا سی تکلیف پر تڑپ جاتے ہیں اور ان بقاء و سلامتی کیلئے ان طیارے ان کے ہیلی کاپٹر تک کئی کئی دن ریسکیو کرتے رہتے ہیں
    مگر افسوس ان کو ہندو فوجیوں کی پیلٹ گنوں سے زخمی و نابینا ہوتے بچے اور ہندو ناپاک کے جنسی تشدد کا نشانہ بنتی آصفہ بانو جیسی معصوم بچیاں نا پچھلے 73 سالوں سے نظر آ رہے تھے اور نا اب نظر آ رہے ہیں وجہ صرف ان بچوں کا مسلمان ہونا ہے تاریخ گواہ ہے اقوام متحدہ کا کردار بھارت کی لونڈی کا سا ہے پچھلے 73 سالوں سے ان کشمیری بچوں کے والدین جبکہ وہ خود بچے تھے اب ان کے بچوں کے بھی بچے ہو چکے وہ تب سے اس اقوام متحدہ کو یاد کروا رہے ہیں کہ ہم کشمیریوں پر ظلم و تشدد ہو رہا ہے ہندو ہمارے بچوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ رہا ہے ، ہمارے معصوم بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانا بنایا جا رہا ہے اور جانوروں پر استعمال کرنے والی پیلٹ گن ہمارے بچوں پر استعمال کر رہا ہے مگر یہ نام نہاد عالمی حقوق کی علمبردار درحقیقت عالم کفر کی راکھیل اقوام متحدہ سب کچھ سن دیکھ کر خاموش ہے اور اس کی خاموشی اس کے انسانی حقوق کے نعروں کی نفی کر رہی ہے

  • بچوں کی شادیاں والدین کی پسند سے ہوں یا بچوں کی پسند سے؟؟؟ تحریر محمد عبداللہ

    بچوں کی شادیاں والدین کی پسند سے ہوں یا بچوں کی پسند سے؟؟؟ تحریر محمد عبداللہ

    شادی فقط معاہدہ یا وقتی تعلق نہیں ہوتا کہ بنا سوچے سمجھے اور اس کے جملہ مضمرات پر غور وفکر کیے بغیر فیصلہ کردیا جائے لیکن یہ ہمارے معاشرے کا المیہ ہے کہ اتنے بڑے فیصلے کرتے ہوئے بچوں کی پسند و ناپسند کو مدنظر نہیں رکھا جاتا، ذات برادریوں، رشتہ داری کو قائم رکھنے، زمین و جائداد اور مال و دولت کے لالچ کے لیے بچوں کے رشتے کر دیے جاتے ہیں. اس میں زیادہ ایشو بیٹیوں کے ساتھ بنتا ہے کہ وہ بےچاری والدین کو فیصلے کو چیلنج کرنا تو درکنار اس پر بات بھی کریں تو بےحیا اور نافرمان کے لقب مل جاتے. لاڈ پیار سے پالی بیٹیوں کو جب بچپن اور لڑکپن میں کھلی آزادی دی جاتی ہے لیکن جب بات آتی ہے اس کی ساری زندگی گزارنے کی تو وہی جاہلیت والی سوچ اپنائی جاتی اور فیصلہ ٹھونسا جاتا جس کو بیٹیاں اپنی باپ کی چادر اور پگڑی کو داغ سے بچانے کے لیے چاروناچار قبول تو کرلیتی ہیں مگر اندر ہی اندر ختم ہوتی رہتی ہیں اور جو تھوڑی خود سر ہوں اور والدین کے لاڈ و پیار اور دی گئی آزادی کو برتنا جانتی ہوں وہ پھر چور دروازوں کو ڈھونڈتی ہیں اور وہ دروازے پھر گناہوں کی وادیوں میں کھلتے ہیں. بعینہ لڑکوں کے ساتھ بھی یہ ایشو ہوتا کہ والدین ذات برادری، جائداد اور رشتہ داری کے چکر میں ان کا رشتہ کردیتے ہیں جس پر لڑکے راضی نہیں ہوتے اگر وہ اس رشتے سے انکار کریں تو ان کو جائداد سے عاق کیے جانے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں جس پر وہ بھی چاروناچار والدین کا فیصلہ مان تو لیتے مگر گھر سے زیادہ توجہ باہر رہتی ہے جوکہ گھروں اور معاشروں میں بگاڑ کا باعث بنتی ہے اور پھر جس پھوپھی اور ماسی کے ساتھ تعلق کو برقرار رکھنے کے رشتہ کیا گیا تھا اسی کے ساتھ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے تعلق ٹوٹ جاتا ہے اور پھر ہمارے ہاں ایک نہیں دو دو تین تین گھر اجڑتے ہیں کہ وٹہ سٹہ کا سسٹم جو رائج ہوتا ہے.

    یہ صرف ہماری ذاتی ضدیں اور رسم و رواج ہیں جن کا اسلام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے اسلام مرد و عورت دونوں کو اپنی پسند اور ناپسند کا حق دیتا ہے مرد کو تو اس حد تک آزادی دی کہ اس کے نکاح کے لیے ولی کی اجازت کی بھی شرط نہیں ہے جبکہ عورت پر نکاح کے لیے ولی کی اجازت کی شرط تو ہے لیکن ولی کو بیٹی یا بہن پر زبردستی کی اجازت ہرگز نہیں ہے اس پر عورت کو حق دیا جاتا ہے اپنی پسند اور ناپسند کے مطابق جیون ساتھی کو چننے کا اس پر ہمیں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلوں کی مثالیں بھی ملتی ہیں. یہی وجہ ہے کہ اس اسٹیج پر آکر نوجوان باغی ہوکر یا تو خفیہ گناہ کے راستے ڈھونڈتے ہیں یا پھر کورٹ میرج کی صورت نکاح کو ترجیح دیتے جس کو ہمارے علماء حضرات متنازع قرار دیتے ہیں.
    بہرحال یہ ہمارے معاشرے کا المیہ ہے اور بڑا حساس موضوع اور ایشو ہے جو گھروں، خاندانوں اور معاشروں میں بگاڑ کا باعث بنتا ہے اس میں زیادہ کردار ہمارے علماء اور والدین کا بنتا ہے کہ وہ اس کی اصلاح کریں سب سے پہلے بچوں کی تربیت اس نہج کی ہونی چاہیے کہ حلال اور حرام کی تمیز اور ان کو اختیار یا رجیکٹ کرنا آتا ہو پھر بچوں کی مستقبل کی زندگی کے فیصلے کرتے ہوئے ان کی رائے ضرور لیں کیوں زندگی انہوں نے گزارنی ہے …

    Muhammad Abdullah
    Muhammad Abdullah
  • مولانا شبلی نعمانی وفات پاگئے ، تاریخ‌ اپنے آپ کو دہراتی ہے !

    اعظم گڑھ:تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے، اور آج کے دن 105سال قبل اٹھارہ نومبر 1914ء کو اردو زبان کو علمی سرمائے سے مالا مال کرنے والے نامور ادیب علامہ شبلی نعمانی قضائے الٰہی سے وفات پاگئے ۔علامہ شبلی نعمانی کا مزار اعظم گڑھ میں واقع ہے۔

    علامہ شبلی نعمانی کا اصل نام محمد شبلی تھا تاہم حضرت امام ابو حنیفہ کے اصل نام نعمان بن ثابت کی نسبت سے انہوں نے اپنا نام شبلی نعمانی رکھ لیا تھا۔ وہ 1857ء میں اعظم گڑھ کے ایک نواحی قصبے میں پیدا ہوئے۔ آپ کی تعلیم بڑے اچھے ماحول اور اپنے عہد کے اعلیٰ ترین درس گاہوں میں ہوئی۔

    1882ء میں وہ علی گڑھ کالج کے شعبۂ عربی سے منسلک ہوگئے، یہاں انہیں سرسید احمد خان اور دوسرے علمی اکابر کی صحبت میسر آئی، جس نے ان کے ذوق کو نکھارنے میں اہم کردار ادا کیا۔ علامہ شبلی نعمانی کا ایک بڑا کارنامہ ندوۃ العلما کا قیام ہے۔

    ان کی زندگی کا حاصل ان کی تصنیف سیرت النبی سمجھی جاتی ہے تاہم بدقسمتی سے ان کی زندگی میں اس معرکہ آرا کتاب کی فقط ایک جلد شائع ہوسکی تھی۔ ان کے انتقال کے بعد یہ کام ان کے لائق شاگرد سید سلیمان ندوی نے پایہ تکمیل کو پہنچایا۔ شبلی نعمانی کی دیگر تصانیف میں شعر العجم، الفاروق، سیرت النعمان، موازنۂ انیس و ادبیر اور الغزالی کے نام سرفہرست ہیں۔

    بزرگوں کی سیرت کا مطالعہ شخصیت کی تعمیر میں معاون و مددگار ثابت ہوتا ہے اور کسی بھی زبان کے لٹریچر میں اس سرمایہ کی موجودگی اس کی عظمت کی دلیل ہے۔ مولانا شبلی نعمانی اس اعتابر سے بڑے نامور ہیں۔ کہ انھوں نے اردو میں بزرگوں کی سیرت کا سرمایہ فراہم کیا۔ ان کا شمار اردو نثر کے عناصر خمسہ میں ہوتا ہے۔

    سیرت النبی، الفاروق، المامون، الغزالی، شعرالعجم، سوانح مولانا روم، سیرت النعمان، موازنہ انیس و دبیر، علم الکام ، اورنگ زیب عالم گیر پر ایک نظر اور بے شمار مقالات ان میں سے یادگار ہیں۔ شاعری میں مثنوی صبح امید، قطعات اور دیوان شبلی موجود ہیں۔

  • نواز شریف سے سوشل تعلق ،چوہدری نثار بیان سے منحرف۔ ۔۔از۔ ۔آصف شاہ

    جھوٹ اور ہماری سیاست کاشائید آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے بڑے سے بڑے پارسائی کے دعویدارسیاست دان بھی بسا اوقات ایساکام کر گزرتے ہیں جن کی ان سے امید نہیں کی جا سکتی قدرت کا اصول شائید اس سے مختلف ہوتاہے بہت کہا سنا اور پڑھا ہے کہ زندگی موت رزق اور عزت زلت رب نے اپنے ہاتھ شائید اس لیے اس دنیاءکا نظام بخوبی چل رہا ہے اور تاقیامت چلتا رہے گاایک سیاسی کارکن اور لیڈر میں کیا فرق ہوتا ہے اس کا اندازہ چند دن قبل ہوا اور ایسا ہوا کہ حیرت سے آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئی کہ ایسا بھی ہوسکتا ہے ایک تعزیت کے دوران سابق وفاقی وزیرداخلہ بھی آپہنچے جہاں پر دعا کے بعد ملک میں سیاسی سسٹم کی بات چیت چھیڑ دی گئی،جس پر چوہدری نثار علی خان نے حسب روایات مذہبی حوالوں سمیت اپنے آپ کو پوتر ثابت کرتے ہوئے اس تمام نظام کی تباہ کاری کا زمہ تمام سیاسی پارٹیوں اور لیڈران کو زمہ دار قرار دیا،سیاسی طور پر ماحول گرم ہواور صحافی بھی موجود ہوں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ سوال سامنے نہ آئے چوہدری نثار پورے جوش کے ساتھ بات کر رہے تھے کہ اسی دوران سینئر صحافی کالم نگار محترم طارق بٹ نے سوال داغ دیاکہ ماہ ریبع الاول کا بابرکت مہنہ ہے اور آپ کی میاں نواز شریف سے 40 سالہ رفاقت ہے کیا ا ن کی عیادت کے لیے جائیں گے تو عظیم سیاسی لیڈر نے لال سرخ ہو کر جو جواب دیا وہ انتہائی حیران کن تھا کہ میں کیوں جاوں عیادت کو نوازشریف سے میرا کوئی کوئی سوشل تعلق نہیں جس پر دوبارہ سوال ہوا کہ کوئی سوشل تعلق نہ سہی لیکن سیاسی تعلق توہے لیکن چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ کوئی تعلق نہیں ہے ایسا سوال تو بنتا ہی نہیں ہے ہمیشہ اصولوں کی سیاست کی بات کرنے کے دعوے کرنے والے اور حلقہ میں کروڑوں کے کام کروانے کے دعوے کرنے والے چوہدری نثار علی خان کیا بتانا پسند کرینگے کہ ان کی کروفر کس کی وجہ سے تھی اور ہے وہ تھی ن لیگ جس کی قیادت نے ہمیشہ چوہدری نثار علی خان کو اپنے سے آگے رکھا اور ان کے منہ سے نکلا ہو ایک ایک لفظ کو وہ اہمیت دیتے رہے لیکن جب ن لیگ کی کشتی میں سوراخ کی ابتداءکی گئی تو اس میں پہلا قطرہ بھی چوہدری نثار علی خان بنے اور انہوں نے بڑے زعم سے کہا کہ مجھے کسی کی کوئی ضرورت نہیں بات اگر سوشل تعلق ہونے یا نہ ہونے کی ہے تو کیا میاں نواز شریف اور ن لیگ کی اتنی بھی حثیت نہ رہی ہے کہ کارکنان کے پاس جانے والے چوہدری نثار نے میاں نواز شریف کی تیماردار ی تک کرنا گوارا نہیں کیا،اس سے بڑا دھچکا اس وقت لگا جب اس خبر کی تردید سامنے آئی کہ چوہدری نثار علی خان نے ایسی کوئی بات کی ہی نہیں ہے راقم عین چوہدری نثار علی خان کے سامنے موجود تھا وہاں پر موجود بیشتر مقامی سیاسی رہنماوںجن کا نام لکھنا مناسب نہیں ہے سے ایک مودبانہ سا سوال ہے کہ کیا وہ اس بات کا حلف دے کر کہ سکتے ہیں کہ چوہدری نثار علی خان نے طارق بٹ کے سوال پر یہ جواب نہیں دیا تھا ،یہ ایک اس لیڈر کی کوالٹی تھی کہ جس نے چار دہائیوں سے جس پارٹی کی اینیٹں لگانے کے دعوے کے اس کی اور اگر میاں نواز شریف کی کوئی کوالٹی اور سوشل تعلق نہیں تھا تو عام ورکروووٹرز اور جیپ کے سامنے ناچنے والوں کو اپنی حثیت کا بخوبی اندازہ ہوناچاہیے،اب ایک رخ یوسی کے ایک کارکن اورمقامی لیڈر کاجس نے پارٹی سے وابستگی کو ثابت کیا یوسی غزن آباد سے تعلق رکھنے والے وائس چیئرمین ظفر مغل کاجس نے گزشتہ الیکشنوں میں جب ن لیگ کی سیاسی کشتی وقتی طور پر ڈوب رہی تھی تو اس کے ساتھ موجود چیئرمین نے جیپ کی سواری کو ترجیح دی اور پارٹیاں بدلنے والوں نے اپنی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے صداقت عباسی کو پھولوں کے گلدستے پیش کر کے اپنی وقتی سیاسی رقابت داری کا یقین دلایاکیونکہ اس کی سیاسی شہرت اسی چیز کی حامل ہے کہ وہ وقت بدلنے پر پارٹیاں بھی بدلی کرتے ہیں لیکن اس کڑے وقت میں مرد آہن نے نہ صرف یوسی کی سطح پر ڈٹ کر کھڑا ہوا بلکہ اس نے تمام سیاسی جماعتوں کی سیاست کا نہ صرف ڈٹ کر مقابلہ کیا بلکہ اپنی یوسی میں شاہد خاقان عباسی کی لیڈ کو پونے چار سو میں بدلا یوسی سے جتوایا بلکہ انہوں نے صوبائی سطح پر انہوں اس وقت نیب کے سکنجے میں کسے ہوئے قمراسلام کی بھر پور حمائیت کی اور اوپر اور نیچے کی سیاست کو دفن کر دیا اب بھی اگر ان کی سیاسی بصیرت پر نظر ڈالیں تو وہ تحریک انصاف سمیت تمام سیاسی دھڑوں کو سیاسی طور پر مکمل زیر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور وقت پڑنے پر کسی بھی سیاسی جماعت پر سیاسی بصیرت سے پچھاڑ سکتے ہیں اب میرا اپنے جیسی مسائل کی چکی میں پسی ہوئی عوام سے ایک سوال ہے کہ کون سیاسی حوالہ سے بہتر ہے ایک یوسی کا وہ سیاسی لیڈر جو ہر مشکل میں اپنے لیڈران اور کارکنان کے ساتھ کھڑا نظر آتا ہے یا چوہدری نثار علی خان جن کے سامنے چالیس سالہ سیاسی رفاقت کی کوئی حثیت نہ ہے اس کا جواب عام عوام ہی بہتر دے سکتی ہے ہمارا سیاسی نظام اور ہم اتنے ڈوب چکے ہیں اس کا اندازہ تھا لیکن اتنا زیادہ ڈوب چکے اس کا ادراک ااب ہوا ہے

  • قومی کرکٹ فٹنس کیمپ کب شروع ہو گا، خبر آگئی

    قومی کرکٹ فٹنس کیمپ کب شروع ہو گا، خبر آگئی

    قومی کرکٹ فٹنس کیمپ کب شروع ہو گا. خبر آگئی.

    باغی ٹی وی : قومی کرکٹ فٹنس کیمپ 18 نومبر سے نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور میں شروع ہوگا.8 روزہ کیمپ 25 نومبر تک جاری رہے گا.کیمپ میں شریک کھلاڑی 17 نومبر کو این سی اے میں رپورٹ کریں گے.کیمپ کی نگرانی ڈائریکٹر میڈیسن اینڈ اسپورٹس سائنسز پی سی بی ڈاکٹر سہیل سلیم کریں گے

    کھلاڑی محمد عامر، محمد عرفان اور عماد وسیم کیمپ میں شرکت کریں گے.اے سی سی ایمرجنگ ٹیمز ایشیا کپ میں شرکت کی غرض سے بنگلہ دیش میں موجود محمد حسنین اور خوشدل شاہ کیمپ میں شرکت نہیں کررہے.شعیب ملک، وہاب ریاض اور آصف علی کو کیمپ میں شرکت سے چھوٹ دی گئی ہے
    تینوں کھلاڑیوں کو جنوبی افریقہ میں جاری مزانسی ٹی ٹونٹی لیگ کے لیے این او سی جاری کئے گئے ہیں.شاداب خان، فخر زمان اور عثمان قادر کو ڈومیسٹک کرکٹ میں شرکت کے باعث کیمپ کے لیے طلب نہیں کیا گیا.

  • سید علی گیلانی نے پاکستان سے کیا مطالبہ کر دیا

    سید علی گیلانی نے پاکستان سے کیا مطالبہ کر دیا

    سید علی گیلانی نے پاکستان سے کیا مطالبہ کر دیا

    باغی ٹی وی : چیئرمین کل جماعتی حریت کانفرنس اور بزرگ کشمیری رہنما سید علی گیلانی نے کہا ہے کہ پاکستان تاشقند ،شملہ اورلاہورمعاہدوں کے تمام پہلوؤں سے دستبرداری کا اعلان کرے..بھارت نے یکطرفہ طور پر ان معاہدوں کوختم کردیا ہے،بعض کشمیریوں کو گھر خالی کرنے کے لیے نوٹس جاری کیا گیا ہے،نوٹس میں کہا گیا ہے کہ کشمیریوں کے گھروں پرجلد قبضہ کرلیا جائے گا،لداخ کے مسلمانوں کو بھارتی فوج کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے،

    واضح‌رہے کہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد بھارت نے کشمیر پر اپنا غاصبانہ قبضہ روا رکھنے کے لیے تین ماہ سے زیادہ عرضے سے کرفیو لگا رکھا ہے.خیال رہے کہ بھارت نے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آئین کا آرٹیکل 370 ختم کر کے وادی میں غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کر دیا تھا۔ بھارت کی ہندو انتہا پسند حکمران جماعت بی جے پی کے اس اقدام کے بعد سے ہی مقبوضہ وادی میں حالات انتہائی کشیدہ ہیں اور وادی میں مکمل لاک ڈاؤن ہے۔

    مقبوضہ جموں کشمیر، سیکورٹی فورسز پر فائرنگ ، کتنا نقصان ہوا؟