Baaghi TV

Category: بلاگ

  • جو دلی کا حال ہے وہی دل کا حال ہے!—عزیراحمد

    جو دلی کا حال ہے وہی دل کا حال ہے!—عزیراحمد

    میں نے زندگی میں کبھی خود کو اتنا بے بس نہیں محسوس کیا تھا، جتنا اب کر رہا ہوں، تصویریں، ویڈیوز جو سامنے آ رہی ہیں دیکھ کر ایسا لگ رہا ہے کہ میں ہندوستان ہار رہا ہوں، وہ ہندوستان جس کا خواب ہمارے پرکھوں نے دیکھے تھے، اس کی تعبیر بہت بھیانک مل رہی ہے،

    1947 میں بھی ہندو-مسلمان تھا، 2020 میں بھی ہندو-مسلمان ہے، کچھ بھی نہیں بدلا، بس ہندسے بدل گئے ہیں، وہی نفرت، وہی دشمنی جس نے کبھی دلی کو سڑکوں سے خون نہلدیا ، وہی پھر دیکھ رہا ہوں میں، چاروں طرف خون بہتے ہوئے، سڑکوں پر لاشوں کی طرح پڑے لوگ، اور ان کے ساتھ وردی میں ملبوس غنڈوں کی غنڈہ گردی، مزار کو پھونکتے ہوئے، مسجدوں کے گنبدوں کو توڑتے ہوئے، بیک گراؤنڈ میں عورتوں کی چیختی ہوئی آوازیں،

    یہ تصویریں اور ویڈیوز مجھے زندگی بھر ڈراتی رہیں گی، میں کبھی انہیں بھول نہیں پاؤں گا، کیونکہ میں اس میں ہارتے ہوئے "آئیڈیا آف انڈیا” دیکھ رہا ہوں، میں اس میں "دلت مسلم یونیٹی” کا خواب چکنا چور ہوتے ہوئے دیکھ رہا ہوں، مجھے سنگھی غنڈوں کی صف میں وہی لوگ آگے نظر آ رہے ہیں، جو پچھڑی ذات کے ہیں، ان کے کپڑے، ان کے پہناوے اور ان کا لائیو ویڈیو بتا رہا ہے کہ یہ پڑھے لکھے لوگ نہیں، یہ اونچی ذات کے لوگ نہیں ہیں، یہ مہرہ ہیں، وہ مہرہ جنہیں ہمیشہ مسلمانوں کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

    میں نے گجرات فساد کے بارے میں صرف پڑھا تھا، اسے کبھی محسوس نہیں کیا تھا، مگر میں نے دہلی میں ہو رہے فساد کے ذریعہ اسے جی لیا ہے، جو کچھ گجرات میں ہوا تھا، ہو بہو وہی دہلی میں ہوا ہے، احسان جعفری پولیس اور گورنمنٹ کو فون کرتے رہ گئے تھے، اور انہیں جلا دیا گیا تھا، کل رات بھی لوگ اپیلیں کرتے رہ گئے، دہلی پولیس سے، لیفٹننٹ گورنر سے، ہوم منسٹر سے، پرائم منسٹر سے، کوئی سننے کے لئے تیار نہیں تھا، سب نے آنکھیں موند لی تھیں، نہ کسی کو کچھ دکھائی دے رہا تھا، نہ مظلوموں کا چیخ و پکار سنائی دے رہا تھا، ایسے لگ رہا تھا کہ اجازت دے دی گئی ہو کہ تم بربریت کا جتنا ننگا ناچ ناچ سکتے ہو، ناچ لو، پولیس تمہارے ساتھ ہے ہی، اور ہماری مہان پولیس نہ صرف دنگائیوں کا ساتھ دے رہی تھی بلکہ انہیں ٹریننگ بھی دے رہی تھی کہ کیسے پتھر پھینکا جائے۔

    رات میں جس طرح سے ٹائر مارکیٹ جلایا گیا، اس کی اٹھتی ہوئی لپٹیں سیریا کی یاد دلا رہی تھیں کہ جیسے بم مار دیا گیا ہو، لوگ رحم کی بھیانک مانگ رہے تھے، عورتیں بچے چلا رہے تھے، مگر رام راجیہ کے سپاہیوں کے چہرے پر خوشی دیدنی تھی، جانوروں سے بھی بدتر لوگ، نفرت ہونے لگی ہے ان کی شکلوں سے، بے اتھاہ غصہ اندر بھر رہا ہے، کوئی ایک فساد ذہنوں سے محو نہیں ہوتا ہے کہ دوسرا شروع ہوجاتا ہے، کیا ہندوستان میں ہندو مسلم فساد کا لا متناہی سلسلہ ہمیشہ چلتا رہے گا، ہندوؤں کا پڑھا لکھا اور سلجھا ہوا طبقہ تو معاملات سمجھ رہا ہے، لیکن عام ذہن نفرت سے کرپٹ ہو چکا ہے، اس کو ان سب چیزوں سے خوشی مل رہی ہے، اس کے دل کی تسلی کے لئے یہی کافی ہے کہ مسلمان مودی ایرا میں ستائے جارہے ہیں، مارے جا رہے ہیں، ذلیل کئے جا رہے ہیں، ورنہ کیا وجہ کہ یہ سب تصویریں اور ویڈیوز دیکھنے کے بعد بھی ان کے دل و دماغ میں ہلچل نہیں ہوتی ہے، وہ کھل کر مسلمانوں کے سپورٹ میں نہیں آتے ہیں کہ ہم دنگائیوں کے ساتھ نہیں ہیں، چند مخصوص افراد کی بات الگ ہے، لیکن اکثریت ہے کہاں؟

    دلی پولیس کا کردار ہمیشہ مسلمانوں اور اسٹوڈنٹس کے تئیں گھناؤنا رہا ہے، یہی دہلی پولیس ہے جس نے مسلم نوجوانوں کی زندگیاں تباہ کیں ہے، کئی بے گناہ نوجوانوں کو انکاؤنٹر میں مار دیا ہے، اور کئیوں کو گمنامی کے کنوئیں میں پھینک دیا ہے، 1984 میں اس نے کانگریسی حکومت کے چھترچھایہ میں سکھوں کا نرسنہار کرنے میں پورا سپورٹ کیا تھا، 2020 میں کمل کا پھول تھامے لوٹ مار مچا رہی ہے، اس سے زیادہ ذلیل پولیس میں نے کبھی نہیں دیکھی، پتہ نہیں اس کے افراد رات میں جب گھر جاتے ہوں گے تو اتنا ظلم کرنے کے بعد چین کی نیند کیسے لے پاتے ہوں گے، دنگائیوں کو روکنے کے بجائے انہیں کے ساتھ مل کر پتھر بازی کرنا، لوٹ مار کرنا اور اقلیتی طبقے کو کسی اور ملک چلے جانے کے لئے کہنا دنیا کی کون سی پولیس کرتی ہے؟

    تڑی پار ایک فسادی تھا، فسادی ہے، اور فسادی رہے گا، خون اس کے منہ کو لگ چکا ہے، جب تک اسے خون پینے کو نہ ملے اسے سکون نہیں ملتا، 2002 میں گجرات جلایا تھا، ابھی پورا ملک جلا رہا ہے، اپنے زعم اور اپنے انا میں پورے ملک کو تباہ کرنے کے درپے ہے، اور افسوس کی بات یہ ہے کہ ملک کا اکثریتی طبقہ مایوس کر رہا ہے, وہ آئیڈیا آف انڈیا کو فیل ہوتے ہوئے دیکھ رہا ہے مگر وہ کچھ بول نہیں رہا ہے، شاید وہ سوچ رہا ہے کہ ہمیں اس سے کیا لینا دینا، مگر وہ بھول رہا ہے کہ جب آگ لگتی ہے تو اس کے لپٹ کی زد میں ارد گرد کے سارے گھر بھی آ جاتے ہیں۔

    اپوزیشن کی حالت یہ ہے کہ اس کے ممبران ٹیوٹر پر بس سانتونائیں دے رہے ہیں، اگر اپوزیشن غلط کے خلاف کھڑی نہیں ہوسکتی تو ایسے اپوزیشن کا مر جانا بہتر ہے، اتنا وقت گزر جانے کے باوجود بھی دہلی کے مختلف علاقوں میں مسلمانوں پر حملہ، پتھراؤ اور فائرنگ جاری ہے، کچھ جگہوں پر حالات دوبارہ خراب ہونے کی سنبھاؤنا ہے، چاروں طرف سے شرپسند عناصر نے گھیر رکھا ہے، گھروں میں موجود لوگ کس سیچویشن سے گزر رہے ہوں گے اس کو بس وہی اندازہ لگا سکتا ہے جو کبھی ان حالات سے گزر چکا ہو، بھگوا دہشت گرد کتوں کی طرح گلیوں میں چلا رہے ہوں گے، دکانوں مکانوں پر حملہ کر رہے ہوں گے، اپوزیشن چاہتی تو فورا ایک آل آرگنائزیشن میٹنگ بلا کر گورنمنٹ پر پریشر ڈال سکتی تھی، مگر وہ کچھ بھی نہیں کر رہی ہے

    ہماری عدلیہ کو بھی فسادات سے مطلب نہیں، لوگ مر رہے ہیں، اس سے مطلب نہیں، پولیس ظلم کی حدوں کو پار کر رہی ہے، اس سے مطلب نہیں، بیجا NSA/PSA اور Sedition کے چارجز کا استعمال کیا جا رہا ہے، اس سے مطلب نہیں، اسے مطلب ہے تو بس ٹریفک سے، پروٹسٹ ختم کروانے سے، اور مودی جی کو ایک جینس آدمی قرار دینے سے، بے شرمی اور ڈھٹائی کی انتہا پار ہو چکی ہے۔

    ابھی فی الحال حالت یہ ہے کہ دماغ کے دروازے بند ہوچکے ہیں، بس چاروں طرف مارو پکڑو کی آوازیں ہیں جو سنائی دے رہی ہیں، مجھے وہ چیختی ہوئی آوازیں سنائی دے رہی ہیں، مگر بے بسی اتنی ہے کہ کچھ کر نہیں سکتے، لیکن بے حسی بھی طاری نہیں ہورہی ہے کہ کندھے اچکا کر آگے بڑھ جائیں، میں بہت حساس طبیعت کا مالک ہوں اور یہ حساسیت ہی ہے جو مجھے ایک پل کے لئے بھی جو کچھ ہو رہا ہے اس سے غافل نہیں ہونے دیتی، اسلام نے ایک امت اور جسد واحد کا جو کانسپٹ دل و دماغ میں اتارا ہے اس کی وجہ سے ایسا لگ رہا ہے کہ جیسے میرا گھر جل رہا ہے, جیسے میرے گھر میں گھس کر میرے اہل خانہ کو مارا جارہا ہے,

    یہی وجہ ہے کہ یہ سب لکھتے ہوئے میری آنکھوں میں آنسو بھی ہیں اور میری سوچ میں الجھن بھی، میں یہ نہیں سمجھ پا رہا ہوں کہ میں ان سب کا ذمہ دار بھگوا ٹیرر کے ساتھ ساتھ اور کسے ٹھہراؤں، حکومت کو، یا مظاہرین کہ جن کو Provoke نہیں ہونا تھا وہ ہوگئے، جن کو ان کے خلاف لگائے گئے نعروں پر ری ایکٹ نہیں کرنا تھا، وہ کر بیٹھے، جب لڑائی لمبی تھی، تو اس میں Patience بھی بڑا چاہئے تھا، یا پھر اکثریتی طبقہ کو جن کی خاموشی رضامندی معلوم ہورہی ہے، کہ جن کو جب سڑکوں پر نکل کے لئے آنا تھا، وہ اپنے کمروں میں گھر مورے پردیسیا کے گیت گا رہے ہیں، ذمہ دار کوئی بھی ہو ہندوستان ہار رہا ہے، اور اسے ہارتے ہوئے ہم بس دیکھ رہے ہیں، اور کچھ بھی کر پانے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔

    جو دلی کا حال ہے وہی دل کا حال ہے!

    تحریر از…….عزیراحمد

  • کتاب "ملزم جناح حاضر ہو!” پر تبصرہ ،  تحریر ذیشان وارث

    کتاب "ملزم جناح حاضر ہو!” پر تبصرہ ، تحریر ذیشان وارث

    عماد بزدار کا "اوفینسو ڈیفنس” "ملزم جناح حاضر ہو!” پر تبصرہ
    تحریر :ذیشان وارث

    کتاب ابھی ختم کی ہے. سوچا کتاب بارے کچھ خیالات شئیر کر لیے جائیں. یہ بھی ایک آئرنی ہے کہ جب یہ کتاب پڑھی ہے تو دلی سے دل دھلا دینے والی خبریں بھی ساتھ ہی آرہی ہیں. کشمیر کے انسانیت سوز کرفیو کو بھی دو سو روز گزر گئے ہیں.

    کشمیری تو خیر جیالے لوگ ہیں. یہ ہندوستان کے مسلمان ہی تھے جو سادہ لوحی اور آزاد کے شخصی سحر میں آکر ہمیشہ سے جناح کو برا بھلا کہتے رہے. خیر اب انکی غلط فہمیاں بھی رفع ہو گئی ہو نگی. اللہ انکے لیے آسانیاں پیدا کرے.

    جناح کی شخصیت اور سیاست پر بہت سارے اعتراضات کیے جاتے رہے ہیں. کچھ اعتراضات مگر ایسے ہیں کہ اگر انہیں مان لیا جائے تو پاکستان کا وجود ہی بے معنی ہو کر رہ جاتا ہے. مثلاً یہ کہ ہندوستان ایک سیکولر ملک ہونا چاہئے تھا جہاں سب ملکر رہتے. جناح نے تقسیم کرواکے پتہ نہیں کتنا بڑا ظلم کیا. اس پہلو پہ عماد بزدار نے پورا باب باندھا ہے کہ کس طرح جناح کی تربیت اور سیاست ہی اتحاد اور سیکولرازم کی سیاست تھی. ہندوستان کا آخری شخص جو مزہبی سیاست کے خلاف تھا وہ جناح ہی تھا. مگر پتہ نہیں کیوں ہمارے ہاں لوگ تحریک خلافت میں سادہ لوح لوگوں کے مزہبی جذبات کو بھڑکانے والے اور 37 کی جیت کے نشے میں ہندو فاشزم لانچ کرنے والے گاندھی اور آزاد کو کلین چٹ دے دیتے ہیں.

    ایک اور الزام جناح پہ لگایا جاتا ہے کہ وہ انگریز کے ایجنٹ تھے. جناح کی زندگی کا سرسری مطالعہ کرنے والا بھی اس بے سروپا الزام پر یقین نہیں کر سکتا. مگر ہندوستان اور پاکستان کے مزہبی لوگوں میں تعصب، عقیدت اور تقلید یوں کوٹ کوٹ کے بھری ہے کہ جو کچھ منبر سے بیان ہو جائے اسے وحی سمجھ لیتے ہیں. انکا دوسرا مسئلہ سازشی تھیوریوں سے عشق ہے. ایسے لوگ ایجنٹ والے جھانسے میں فوراً آجاتے ہیں. قوم پرست بھی اس مرض میں انکے ساتھ ہی مبتلا ہیں.

    سب سے دلچسپ کیس تو ان ارسطو ؤں کا ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ گاندھی مسلمانوں کے ساتھ بہت مخلص تھا. حقیقت تو یہ ہے کہ گاندھی صاحب کے ساتھ اگر بھرپور حسن ظن کا مظاہرہ بھی کیا جائے تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ ہندوؤں کے لیڈر تھے اور انہوں نے اپنی قوم کیلئے محنت کی. یہ زیادتی ہے کہ انہیں مسلمانوں کا خیر خواہ قراردیا جائے. چلیں لبرلز کی تو گاندھی سے عقیدت سمجھ آتی ہے. مگر یہ جو خلافتی مولوی ہیں ان کا کچھ پتہ نہیں چل رہا کہ ان کے گاندھی سے رومانس کی وجہ کیا ہے. کیا انہوں نے گاندھی سے مل کے دجال کے خلاف جہاد کرنا ہے؟

    بہرحال گاندھی اینڈ کمپنی کے نظریے کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت آج ہندوستان کے مسلمانوں کی حالت زار ہے. ان کے پاس بہترین موقع تھا جناح کو شکست دینے کا کہ مسلمانوں کو ایسا ماحول انڈیا میں دیتے کہ پاکستان کا جواز ختم ہو جاتا. مگر یہ انکی بد دیانتی اور ہزار سالہ غلامی کا بدلہ لینے کی جلدی تھی جس نے آج جناح کو سرخرو کیا ہے. جناح کی ذات آج جس قدر سرخرو ہے آج سے پہلے کبھی نا تھی.

    اگرچہ کتاب میں مولانا آزاد اور ولی خان بارے بھی لکھا گیا ہے. مگر میں تبصرے میں ان پر الفاظ ضائع نہیں کرنا چاہتا. اس وضاحت کے ساتھ کہ میں مولانا آزاد کی نثر کا دل وجان سے قائل ہوں. ہندوستان کی سیاست میں وہ محض گاندھی کے آلہ کار تھے اور اب اپنی پیش گوئیوں سمیت غیر متعلق ہق چکے ہیں. تاریخ نے انکے ساتھ وہی کیا جس کے وہ مستحق تھے.

    آخر میں یہ کہ کتاب میں پروف ریڈنگ کی بہت غلطیاں ہیں. اس کے علاوہ انگلش سے اردو میں جو تراجم کیے گئے ان میں سے کچھ بے ربط معلوم ہوتے ہیں. پھر یہ کہ کتاب کا نداز تحقیقی ہونے کے باوجود لگتا ہے کہ بعض جگہوں پر مصنف جزباتی ہو گئے. گاندھی اور آزاد بارے تحقیر آمیز زبان بھی استعمال ہوئی. یہ کم از کم تحریر میں نہیں ہونا چاہئے. اس کے علاوہ ابواب کے اندر مواد کی ترتیب میں بھی بہتری کی واضح گنجائش موجود ہے جو کہ غالباً ایڈیٹر کی کمی کا پتہ دیتی ہے. امید ہے آئندہ ایڈیشن میں ممکنہ حد تک ان چیزوں میں بہتری کر لی جائے گی.

    اس کے علاوہ یہ کہ اگرچہ عماد نے قائد اعظم کو کوئی مزہبی مسیحا ثابت نہیں کیا جو کہ اچھی بات ہے مگر قائدِاعظم کی شراب نوشی وغیرہ کو ڈیفنڈ کرنے کو کوشش کی گئی ہے. میرے خیال سے جو حقائق ہیں انہیں تسلیم کر لینا چاہئے. اللہ انکی لغزشوں کو معاف کرے کہ شراب نوشی وغیرہ بہرحال دھوکہ دھی، نفرت پرستی اور خدا فروشی جیسے گناہوں کے مقابلے میں چھوٹے گناہ ہیں.

    سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم سے مؤثر انداز میں جناح اور پاکستان کا مقدمہ لڑنے اور پہلا ایڈیشن اتنی سرعت سے نکلنے پر عماد بھائی کو مبارکباد.

  • 27 فروری سرپرائز ڈے  تحریر: غنی محمود قصوری

    27 فروری سرپرائز ڈے تحریر: غنی محمود قصوری

    یوں تو شروع دن سے ہی مار کھانا ہندوستان کا مقدر ہے جیسا کہ محمد بن قاسم ،شہاب الدین غوری،محمود غزنوی،ٹیپو سلطان و دیگر مسلمان جرنیلوں سے ہندوستان کی خوب درگت بنتی رہی مگر پچھلی صدی میں شاہ اسماعیل شہید،علامہ محمد اقبال و محمد علی جناح اور ان کے ساتھیوں نے جذبہ جہاد بلند کیا اور دو قومی نظریہ پیش کرکے اور پاکستان بنا کر ہندو کیساتھ انگریز کو بھی سرپرائز دیا
    مگر اپنی درگت بنوانے کا عادی ہندو سکون سے نا بیٹھ سکا اور مقبوضہ وادی کشمیر کو آزاد کرنے سے انکاری ہو گیا جس پر پاکستان کے غیور قبائلیوں،افواج پاکستان اور وادی کشمیر کے شیروں نے مل کر ہندو کی خوب درگت بنائی اور وادی کشمیر کے کل 84474 مربع میل میں سے 32093 مربع میل آزاد کروا کر اسے ایک زبردست ترین سرپرائز دیا جس پر ہندو وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو بھاگم بھاگ اپنے آقا انگریز کے پاس سلامتی کونسل پہنچا اور جنگ بندی کیلئے منت سماجت کی ورنہ یہ سرپرائز بھارت کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے ہی مکمل ہونا تھا
    6 ستمبر 1965 کو ایک مرتبہ پھر ہندو کو اپنی درگت بنوا کر سرپرائز لینے کی سوجھی اور اس نے رات کی تاریکی میں پاکستان پر حملہ کر دیا جس پر امت محمدیہ کی پاک فوج نے ایسا سرپرائز دیا کہ 17 روزہ جنگ میں ہندو تو پریشان ہونا ہی تھا پورا عالم کفر اس سرپرائز پر سر پکڑ کر بیٹھ گیا اور یوں ایک مرتبہ پھر ہندو اپنے آقا انگریز کے پاس سلامتی کونسل میں پہنچا اور جنگ بندی کروائی
    دو مرتبہ سرپرائز لینے کے بعد ہندو نے اپنا طریقہ بدلا وہ جان چکا تھا مغربی پاکستان میں اسے دو مرتبہ سرپرائز بہت مہنگا پڑا ہے لہذہ اس مرتبہ اس نے مشرقی پاکستان میں اپنی جڑیں مضبوط کرکے کچھ غداران ملک و ملت کو اپنے ساتھ ملایا اور مکتی باہنی کے نام پر ایک مسلح لڑاکا تنظیم بنائی جس نے پاک فوج پر حملے شروع کر دیئے اور بنگلہ دیش کو الگ ملک بنانے کی تحریک شروع کر دی اس مرتبہ ہندو کا وار کچھ کارگر ہوا مکتی باہنی و انڈین فوج نے بنگلہ دیش کی عوام میں پاکستان کے خلاف خوب زہر بھرا اور یوں مکتی باہنی کی پاک فوج سے باقاعدہ جھڑپیں شروع ہو گئیں جس کی کمان اینڈ کنٹرول انڈین فوج کے ہاتھ تھی آخر مکمل جنگ چھڑ گئی مغربی پاکستان سے مشرقی پاکستان تک گولہ بارود کی رسد ختم ہو کر رہ گئی مگر پھر بھی پاک فوج کے شیروں نے وسائل کی کمی اور اپنوں کی غداری کا غم سہہ کر بھی مردانہ وار مقابلہ کیا مگر فوجی افسران و جوان ہتھیار پھینکنے کو تیار نا تھے جس پر مکتی باہنی اور انڈین فوج نے بنگلہ دیش کے پاکستانی حامی لوگوں و مغربی پاکستان سے آئے سول اداروں کے اہلکاروں کے خاندان کے لوگوں کو شہید کرنا شروع کر دیا جو کہ انتہائی تشویشناک بات تھی اس کے بعد بھارت نے ایک اور چال چلی اور جنگ بندی کا اعلان کردیا اور اپنی فوجیں ڈھاکہ میں لا کر ایسٹرن کمان کے امیر عبداللہ خان نیازی سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کر دیا جس پر جوانوں و افسروں میں تشویش کی لہر ڈور گئی اور انہوں نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کردیا جس پر مکتی باہنی اور انڈین فوج نے دوبارہ عام شہریوں کو شہید کرنا شروع کردیا اس پر مجبور ہوتے ہوئے اور نا چاہتے ہوئے بھی ہماری فوج کو اپنوں کی غداری کی بدولت 6 دسمبر 1971 کو ہتھیار ڈالنے پڑے اور یوں 45000 فوجی اور 40000 سے کم سول محکموں کے اہلکار انڈین فوج کے ہاتھوں جنگی قیدی بن گئے مگر پاکستان کو فتح کرنے کا انڈین خواب پھر بھی شرمندہ تعبیر نا ہوسکا کیونکہ 1971 میں راجھستان کے محاذ لونگے والا میں انڈین فوج کو سخت جانی مالی نقصان اٹھانا پڑا اور انڈین فوج اپنی پوزیشنیں چھوڑ کر پیچھے بھاگی جس کا اعتراف خود انڈین جرنیل بھی کرتے ہیں اسی طرح سلیمانکی کے محاذ پر میجر شبیر شریف شہید نے دشمن کو بہت پیچھے تک دھکیل دیا اور ان کی کئی پوسٹوں پر قبضہ کرلیا جبکہ قصور کے محاذ پر ایسی کاری ضرب لگائی گئی کہ کھیم کرن کا محاذ چھوڑ کر انڈین فوج پیچھے کو بھاگ نکلی اور اس طرح تاریخی شکست انڈیا کو 1971 میں قصور کے محاذ پر ہوئی زندہ دلان قصور نے اپنی پاک فوج کیساتھ مل کر کھیم کرن شہر پر قبضہ کرکے پاکستانی پرچم لہرایا جس کی تصویریں آج بھی انڈین فوج اور عوام کے ذہنوں پر سوار ہیں غیور قصوریوں نے کھیم کرن سے خوب مال غنیمت حاصل کیا جس کے ثبوت کے طور پر آج بھی اہلیان قصور کے گھروں میں لگے انڈین شہر کھیم کرن سے لائے گئے دروازے ،کھڑکیاں،برتن و دیگر سامان ضرورت لوگوں کے پاس موجود ہے حتی کہ رائیونڈ قصور روڈ جو کہ کچہ راستہ تھا اسی کھیم کرن سے لائی گئی مال غنیمت کی اینٹوں سے بنا
    28 مئی 1998 کو ایٹمی دھماکے کرکے پاکستان نے ایک بار پھر انڈیا کو بہت بڑا سرپرائز دیا مگر شاید مار کھائے بغیر سرپرائز کو قبول کرنا انڈیا کی عادت نہیں سو اس نے 1999 میں کارگل کے مقام پر پاکستانی فوج اور مجاھدین کشمیر سے چھیڑ چھاڑ شروع کر دی جس کے نتیجے میں 3 مئی 1999 کو باقاعدہ ایک جنگ کا آغاز ہوا جس میں انڈیا کے 30000 اور پاکستان کے 5000 فوجی آمنے سامنے ہوئے پہلے ہی ہلے میں انڈیا کے 1000 سے زائد سپاہی مارے گئے جبکہ 2000 کے قریب فوجی زخمی ہونے کیساتھ انڈین ائیر فورس کے 3 طیارے تباہ ہوگئے جس سے بھارتی فوج سخت گھبراہٹ کا شکار ہو گئی اور دونوں ملکوں پر ایٹمی قوت ہونے کی بدولت عالمی دباؤ بڑھ گیا اور یوں دونوں ملکوں کو بغیر کسی نتیجے کے جنگ بندی کرنی پڑی مگر نقصان کے لحاظ سے ایک بار پھر شکست انڈیا کی ہوئی
    14 فروری 2019 کو مقبوضہ کشمیر کے علاقے پلوامہ میں انڈین فوج پر کشمیری مجاھدین کی مسلح آزادی پسند تحریک جیش محمد کی طرف سے حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں 200 سے زائد انڈین فوجی مارے گئے جبکہ سرکاری طور پر انڈیا نے صرف 44 فوجیوں کی موت تسلیم کی پلوامہ حملے کے بعد اپنی ناکامی کا بدلہ لینے کیلئے انڈیا نے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی شروع کردی جس پر پاک فوج کی طرف سے بھرپور جواب دیا گیا جھڑپیں بڑھتی گئیں اور 26 فروری 2019 کو انڈیا نے ایک بار پھر رات کی تاریکی میں لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے طیارے پاکستانی حدود میں داخل کئے مگر ہمارے شاہینوں کی بروقت اڑان سے انڈین پائلٹ گھبرا گئے اور گھبراہٹ میں اپنے جنگی جہاز کا پے لوڈ لائن آف کنٹرول کے نزدیک بالا کوٹ کے مقام پر گرا کر بھاگ گئے اور دعوی کردیا کہ ہم نے پاکستانی علاقے میں جاکر جیش محمد کے ٹریننگ کیمپوں پر فضائی کاروائی کرتے ہوئے 350 سے زائد جیش محمد کے کارکنان شہید کر دیئے ہیں جس کے چند گھنٹوں بعد پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے انڈیا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اس کے اس جھوٹ کو جلد بے نقاب کرینگے اور ایک سرپرائز بھی دینگے جنرل صاحب کے بیان کے چند گھنٹوں بعد ہی پاکستانی ائیر فورس کے دو شاہینوں اسکورڈن لیڈر حسن صدیقی اور ونگ کمانڈر نعمان علی خان نے انڈین علاقے میں گھس کر اس کے دو طیارے مار گرائے جن میں سے ایک طیارہ مقبوضہ وادی کشمیر جبکہ دوسرا آزاد کشمیر کے علاقے میں گرا جس کے پائلٹ ونگ کمانڈر ابھی نندن کو کشمیری عوام نے گھیر لیا اور اس کی تاریخی دھلائی کرکے ایک بہت بڑا سرپرائز دیا اس کے بعد پاکستان نے انٹرنیشنل میڈیا کو بالاکوٹ کا دورہ بھی کروایا جس پر انٹرنیشنل میڈیا نے انڈین ائیرفورس کی ناکامی کا پول کھول کر اسے ایک اور ناکامی کا سرپرائز دیا
    ابھی نندن کی رہائی کیلئے انڈیا نے اقوام عالم کیساتھ پاکستان کی بھی منت سماجت شروع کر دی جس پر ونگ کمانڈر ابھی نندن کو اچھی چائے اور کھانا کھلانے کے سرپرائز کے بعد واہگہ کے راستے انڈیا بھجوا دیا گیا
    معرکہ 27 فروری پر میجر جنرل آصف غفور نے ٹویٹ کیا تھا کہ انڈین اس سرپرائز کو کبھی بھی نہیں بھلا سکیں گے اور ان شاءاللہ ایسا ہی ہے پچھلے سرپرائزوں کی طرح انڈیا اس سرپرائز ڈے 27 فروری کو کبھی بھول نہیں سکے گا

  • بپی ایس ایل فائیوکے دلچسپ مقابلوں میں  کون سا کھلاڑی اور ٹیم کتنا آگے

    بپی ایس ایل فائیوکے دلچسپ مقابلوں میں کون سا کھلاڑی اور ٹیم کتنا آگے

    بپی ایس ایل فائیوکے دلچسپ مقابلوں میں کون سا کھلاڑی اور ٹیم کتنا آگے

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق : پاکستان سپر لیگ کے پہلے مرحلے کا اختتام ہو گیا جس میں پوائنٹس ٹیبل پر اسلام آباد یونائیٹڈ سرفہرست ہیں، وفاقی دارالحکومت کی ٹیم نے اب تک تین میچ کھیلے جن میں سے دو جیتے جبکہ ایک میچ میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

    شاندار مقابلوں میں اس وقت کوئٹہ اور اسلام آباد یونایئٹڈ کے برابر ہیں تاہم شاداب الیون بہترین رن ریٹ (0.295) کی وجہ سے سرفہرست ہے۔دوسرے نمبر پر کوئٹہ گلیڈی ایٹرز ہے جس نے اپنے تین میچز کے دوران دو میں فتح حاصل کی جبکہ ایک میچ ہارا۔ سرفراز الیون کا رن ریٹ (0.124) ہے.

    پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے پانچویں ایونٹ کے دوران بلے بازوں میں لیگ کی پہلی سنچری داغنے والے کامران اکمل انفرادی ٹوٹل کے ساتھ ٹاپ پر ہیں، ان کے دو میچز میں 144 رنز ہیں۔ہائی سکور کیٹیگری میں بھی پشاور زلمی کے وکٹ کیپر بیٹسمین 101 رنز کی انفرادی بڑی اننگز کے ساتھ نمبر ون ہیں۔
    دوسرے نمبر پر لاہور قلندرز کے سینئر بیٹسمین محمد حفیظ ہیں جنہوں نے گزشتہ رات اسلام آباد یونائیٹڈ کے خلاف 98 رنز کی ناٹ آؤٹ اننگز کھیلی تھی۔
    بولنگ کی بات کریں تو کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے نوجوان بولر محمد حسنین نے 7 شکار کیے اور وہ سب پر چھائے ہوئے ہیں، ان کی بہترین باؤلنگ 25 رنز کے عوض چار وکٹیں ہیں۔

    ٹیموں کے بڑے ٹوٹل میں کراچی کنگز سب سے آگے ہے، کنگز نے لیگ کے دوسرے میچ میں پشاور زلمی کے خلاف 4 وکٹ کے نقصان پر 201 رنز کا پہاڑ کھڑا کیا تھا

  • ابتدائی تعلیم مادری زبان میں دینے کی اہمیت اور پاکستان کا تعلیمی نظام–از–فاطمہ قمر

    ابتدائی تعلیم مادری زبان میں دینے کی اہمیت اور پاکستان کا تعلیمی نظام–از–فاطمہ قمر

    معزز وزیراعظم!
    آپ کی تعلیمی پالیسی وہی ہے جو سابق حکومت کی تھی. سابق حکومت نے سرکاری تعلیمی اداروں میں پرائمری کی سطح پر اردو ذریعہ تعلیم رکھ کر انگریزی کو لازمی حیثیت دی. پرائمری سطح پر انگریزی کو لازمی مضمون کی حیثیت دینا سابق حکومت کا وہ تعلیمی جرم ہے جسے تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی. انگریزی کے لازمی جبر کی وجہ سے لاکھوں نو نہال ابتدائی سطح پر ہی تعلیم کو خیرباد کہہ گئے. اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق بارہ سال سے پہلے بچے کوغیر ملکی زبان میں تعلیم دینا بچے کے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ افسوس پاکستان میں بنیادی حقوق کی یہ توہین سرکاری سرپرستی میں وقوع پذیر ہوئی/ہو رہی ہے.

    آپ نے بھی اپنی نئی تعلیمی پالیسی میں اسی اصول کو قائم رکھا پھر اپ نے نئی پالیسی میں کیا تبدیلی دی؟ اپ نے تو یکساں نصاب تعلیم اور قومی زبان میں تعلیم کا نعرہ لگایا. آپ کے حزب اختلاف کے دن اپ کے اس موقف کے گواہ ہیں.آپ کو چاہئے کہ آپ فوری طور پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق تعلیم کے ہر شعبے میں ہر سطح پر اردو ذریعہ تعلیم میں دینے کا اعلان کریں. مقابلے کے امتحانات ائین پاکستان کی روشنی میں اردو میں لینے کا حکم صادر فرمائیں. تعلیم کی جو بھی پالیسی قومی زبان کو ذریعہ تعلیم میں دینے کی اپنائی جائے اس کا اطلاق فی الفور اور بعینہ نجی تعلیمی اداروں پر بھی کیا جائے. تاکہ پوری قوم یکساں نصاب ‘ یکساں زریعہ تعلیم قومی زبان کی وجہ سے قومی دھارے میں آ سکے.

    انگریزی میڈیم نجی تعلیمی اداروں نے جس طرح اساس پاکستان پر حملہ کیا ہے
    پاکستان کی تہذیبی ثقافت کو ملیامیٹ کیا ہے
    اس کے جو ہولناک نتائج سامنے آ رہے ہیں اس کے لئے اب ضروری ہوبگیا ہے کہ نئے اور تبدیل شدہ پاکستان میں ان کو ایک اعلی تعلیمی ضابطہ اخلاق کا پابند کیا جائے
    جس کی اساس قران اور نظریہ پاکستان پر استوار ہو.

    معزز وزیراعظم!
    یاد رہے آپ کو لوگوں نے ووٹ تبدیلی کے نام پر دئیے ہیں یہاں تبدیلی اس وقت ہی آئے گی جب دنیا کی دیگر ترقی یافتہ اقوام کی طرح پاکستانیوں کو ہر طرح کی تعلیم ان کی قومی زبان میں دی جائے آپ بحیثیت ایک عام پاکستانی کے انگریزی غلامی سے بیزاری کا اظہار اپنی خود نوشت میں کر چکے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ پاکستان میں انگریزی ترقی یا تعلیم کے لئے نہیں بلکہ ایک خاص طبقے کی ایک عام طبقے کو غلام بنانے کے لئے مسلط کی گئی ہے. اب اللہ نے اپ کو اختیار دیا ہے کہ اپ اپنے خیالات کو عملی جامہ پہنا دیجئے.

    آپ اور آپ کی کابینہ کے اراکین کی اکثریت بیرون ملک تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل ہے۔ ذرا دنیا بھر کے نظام ہائے تعلیم کا جائزہ لے کر بتائیے کہ کتنے ممالک کا کاروبار مملکت اور نظام تعلیم غلامی کی زبان میں چل رہا ھے؟ تخلیق پاکستان کی بہت سی وجوہات میں سے سب سے بنیادی وجہ اردو کا بحثیت قومی زبان نفاذ تھا. قومی زبان کے نفاذ کےبغیر تحریک پاکستان نامکمل ھے.آپ نئے پاکستان کی تعمیر میں تحریک پاکستان کے اس بنیادی لازمی عنصر کی تکمیل کردیجئے..یہ بانئ پاکستان کا فرمان بھی ھے:
    ” اردو کا دشمن پاکستان کا دشمن ھے”

    سب سے بڑی بات جس کا آپ کی جماعت نعرہ لگا کر برسراقتدار آٰئی ہے کہ تعلیم سب کے لئے یکساں۔ نفاذ قومی زبان کے لئے جو جو بھی آپ حکمت عملی اپنائیں اس کا اظلاق نجی تعلیمی اداروں پر بھی کریں تو تبھی اپ کی تعلیمی حکمت عملی کامیاب ھوگی اور ملک سے تعلیمی نظام میں یہ رنگا رنگی ختم ھو کر ہم آہنگی آئے گی.

    سب سے بڑی بات یہ ہے کہ 2019 سے عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے مطابق مقابلے کے امتحانات اردو میں لینے کے احکمات صادر فرمائیں..یہ آپ کا وہ تاریخی کارنامہ ہوگا جو آپ کو محسن پاکستان چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کی طرح تاریخ میں دوام بخشے گا.
    کرسی رہے نا رہے مگر آپ عوام کے دلوں میں زندہ رہیں گے!

    آپ کی یاد دہانی کے لئے کہ دوسری عالمی جنگ سے تباہ اور خستہ حال جاپان کے بادشاہ نے جب کہ اس کے دوشہر ایٹمی حملے میں جل کر خاکستر ہو چکے تھے اس بے بسی اور بے چارگی کے عالم میں بھی امریکہ سے دست بستہ عرض کی کہ ” آپ ہم پر جتنی چاہے پابندیاں لگا دیں مگر ہماری زبان اور تعلیمی نظام کونہ چھیڑنا”

    یہی وجہ ھے کہ وہ بم زدہ قوم اپنی قومی زبان کے ذریعہ تعلیم ہونے کی وجہ سے چندسالوں میں ہی دنیا کی مضبوط معاشی طاقت بن گئی. ہم اپنی قومی زبان میں تعلیم سے دوری کے باعث ایک جوہری قوت ہونے کےباوجود ایک ہجوم زدہ گونگی’ بہری رٹےباز’ بدعنوان’ بوٹی مافیا’ تخلیقیت سے عاری’ نقال ‘ جعلساز دھوکے باز قوم کے طور پر اقوام عالم میں شہرت پا چکے ہیں. ہماری آپ سے وہی توقعات ہیں جو برصغیر میں انگریز کا راج ختم کرنے والے سے اس اس کی قوم نے وابستہ کی تھیں.

    انگریزی کے تسلط کی وجہ سے اس ملک و قوم پر چھائی جہالت، بد عنوانی اور ذلت کی تاریکی کو دور کرنے کاواحد ذریعہ صرف اور صرف قومی زبان کے احیاء اور اس کے اس ملک پر نفاذ سے وابستہ ھے. ہم اس بارے میں آپ سے بہت زیادہ توقعات ہیں

    ابتدائی تعلیم مادری زبان میں دینے کی اہمیت اور پاکستان کا تعلیمی نظام

    فاطمہ قمر
    پاکستان قومی زبان تحریک

  • ای روزگار سنٹرز کو پنجاب کے سرکاری کالجوں تک پھیلانے کیلئے وزارت ہائر ایجوکیشن و انفارمیشن ٹیکنالوجی اورپنجاب آئی ٹی بورڈ کے مابین معاہدہ

    ای روزگار سنٹرز کو پنجاب کے سرکاری کالجوں تک پھیلانے کیلئے وزارت ہائر ایجوکیشن و انفارمیشن ٹیکنالوجی اورپنجاب آئی ٹی بورڈ کے مابین معاہدہ

    لاہور: ای روزگار سنٹرز کو پنجاب کے سرکاری کالجوں تک پھیلانے کیلئے وزارت ہائر ایجوکیشن و انفارمیشن ٹیکنالوجی اورپنجاب آئی ٹی بورڈ کے مابین معاہدہ، اطلاعات کےمطابق ای روزگار سنٹرز کو پنجاب کے مختلف اضلاع میں سرکاری کالجوں تک پھیلانے کیلئے وزارت ہائر ایجوکیشن و انفارمیشن ٹیکنالوجی‘وزارت امور نوجوانان و کھیل اورپنجاب آئی ٹی بورڈ کے مابین معاہدہ طے پا گیا۔

    تقریب میں صوبائی وزیر ہائر ایجوکیشن و انفارمیشن ٹیکنالوجی راجہ یاسر ہمایوں سرفراز‘وزیر امور نوجوانان و کھیل محمد تیمور خان‘چیئرمین پنجاب آئی ٹی بورڈ اظفر منظور‘سیکرٹری ہائر ایجوکیشن ساجد ظفر‘سیکرٹری یوتھ افیئرزاحسان اللہ بھٹہ‘ایڈیشنل سیکرٹری ہائر ایجوکیشن شاہدہ فرخ‘ڈی جی ای گورننس ساجد لطیف و دیگر سینئر افسران شریک ہوئے۔صوبائی وزیر راجہ یاسر ہمایوں سرفراز نے کہا کہ پنجاب میں 33ای روزگار سنٹرز فعال ہیں جبکہ 40مزید ای روزگار سنٹرز کالجوں میں کھلنے سے ای روزگار سنٹرز کی تعداد 73ہو جائے گی۔

    انہوں نے کہا اس اقدام سے چھوٹے اضلاع میں نوجوانوں کو مواقع ملیں گے اور وہ ہنر سیکھ کر گھر بیٹھے آمدن کما سکیں گے۔ صوبائی وزیر محمدتیمور خان نے کہا کہ ایسے اضلاع جہاں یونیورسٹیاں موجود نہیں‘ کالج کی سطح پر ای روزگار سنٹر کھلنے سے وہاں کے مقامی نوجوان بھی مستفید ہو سکیں گے۔

    چیئرمین پی آئی ٹی بی اظفر منظور نے کہا ای روزگار مراکز کالج کی سطح پر کھلنے سے سالانہ پچیس سے تیس ہزار نوجوان تربیت لے سکیں گے۔ معاہدے پر چیئرمین پی آئی ٹی بی اظفر منظور، سیکرٹری ہائر ایجوکیشن ساجد ظفر‘ایڈیشنل سیکرٹری ہائر ایجوکیشن شاہدہ فرخ اورسیکرٹری یوتھ افیئرز احسان اللہ بھٹہ نے دستخط کئے۔

  • وزیراعظم صاحب ! یہاں کی زبان اردو ہے ، تحریر فا طمہ قمر

    وزیراعظم صاحب ! یہاں کی زبان اردو ہے ، تحریر فا طمہ قمر

    وزیراعظم صاحب ! یہاں کی زبان اردو ہے آپ برطانیہ کے وزیراعظم نہیں ہیں۔
    تحریر فا طمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک

    معزز وزیراعظم! آپ اور پاکستان کی غلام اشرافیہ نے اپنی زمین پر اپنے ہی لوگوں سے ترکی کے صدر سے انگریزی میں مخاطب ہوکر کس قوم کے حکمران کی ترجمانی کی؟جب آپ کے سامنے آپ کے مخاطب نے اپ کی سرزمین پر بھی اپنی قومی زبان کونہ چھوڑا۔اور پاکستانی قوم سےاپنے بھرپور جذبات کے ساتھ ترکی میں خطاب کرکے پوری دنیا میں اپنا اور اپنی قوم کا وقار بلند کیا۔؟ترکوں کے لئے تو انگریزی بھی ایسی ہی ہے جیسے اردو’ تو پھر کیوں نہ ان کے سامنے اپنی قومی زبان میں خطاب کرکے اپنی زبان کا وقار بلند کیا جاتا! ترکی یورپ کا حصہ ہوتے ہوئے بھی عالمی اور قومی سطح پر انگریزی کی بالادستی کو تسلیم نہیں کرتا۔ کم اذکم اپنے مہمان کی عزت و تکریم کا خیال کرتے ہوئے ہی اسکے سامنے انگریزی میں خطاب سے گریز فرماتے! اگر آپ کو اردو ‘ ترکی ترجمے کا مترجم چاہئے تھا تو اس کے لئے ترک نژاد ‘ استنبول یونیورسٹی کے صدر’شعبہ اردو محترم حلیل طوقار کی خدمت حاصل کی جاسکتی تھی۔۔جو ترک ہوتے ہوئے بھی سوشل میڈیا پر اپنا تمام پیغام اردو میں رقم کرتے ہیں!
    پاکستانی غلاموں کی اپنی زبان سے تحقیر اور تذلیل کی مذید توہین دیکھئے کہ ترکی صدر جو کچھ بول رہاتھا۔پاکستانی حاضرین کے لئے اسکاترجمہ اردو میں کیا جارہا تھا۔ کیا ان غلاموں کو علم نہیں کہ پاکستان کی دستوری اور قومی زبان اردو ہے؟
    کیا انہیں علم نہیں کہ عدالت عظمیٰ نفاز اُردو کے احکامات جاری فرماچکی ہے؟ کیا انہوں نے ترک صدر کے سامنے انگریزی بول کر توہین عدالت نہیں کی؟
    ۔کیا انہیں علم نہیں کہ امریکی صدارت کا انتخابی امیدوار پاکستانیوں سے مخاطب ہونے کے لئے انگریزی کے گھر میں’ اپنی انتخابی مہم اردو میں چلاتا ہے؟
    کیا ان کو علم نہیں کہ آسٹریلیا’ برطانیہ’ امریکہ پاکستانیوں کے لئے پاکستان سے متعلقہ اشتہار اردو میں نشر کرتے ہیں؟
    تو جب انگریزی کے اہل زبان نے تمہاری قومی زبان کی اہمیت کو تسلیم کرلیا ہے تو تم انگریزی بول کر پاکستان کی آزادی و خودی سے سرشار عوام کے جذبات کو کیوں مجروح کرتے ہو؟
    کیا ان غلاموں کو علم نہیں کہ پاکستانی نژاد’ برطانوی پارلیمنٹ کے رکن نے انگریزی کے گھر میں برطانیہ میں ‘ پارلیمنٹ کا حلف اردو’ میں لے کر دنیا بھر میں النی قومی زبان کا وقار بلند کیا ہے؟
    کیا ان غلاموں کو علم نہیں کہ پاکستانی نژاد سکاٹ لینڈ کے رکن اسمبلی حمزہ یوسف نے انگریزی کے گھر میں اردو میں حلف لے کر پاکستانی غلاموں کو سبق سکھایا ہے کہ دنیا کے ہر فورم پر اپنی قومی زبان کا وقار بلند رکھیں!
    یاد رکھیں! وزیراعظم صاحب! آپ کو ووٹ تبدیلی کے نام پرملے ہیں۔لیکن اگر آپ نے انگریزی غلامی کی وہی فرسودہ’ گلی سڑی ‘ متعفن ذدہ برقرار رکھی تو بھول جائیں کہ آئندہ آپ اقتدار کو چھو بھی سکیں گے۔ اپ پاکستان کے وزیراعظم ہیں’ یہاں کی زبان اردو ہے۔’ اپ برطانیہ کے وزیراعظم نہیں ہیں۔
    فا طمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک

  • عالمی یوم مادری زبان ، تحریرفا طمہ قمر

    عالمی یوم مادری زبان ، تحریرفا طمہ قمر

    عالمی یوم مادری زبان ، تحریرفا طمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک

    اردو ایک گلدستہ ھے پاکستان کی مادری و علاقائی زبانیں اس کے خوبصورت مہکتے ہوئے پھول ہیں.جس نے بہت عمدگی سے پھولوں کو باندھا ھوا ھے! پاکستان کے ہر صوبے کا شخص جس نے سکول کی شکل بھی نہ دیکھی ہو۔وہ بھی اردو’ سمجھ سکتا ہے اردو بول سکتا ہے۔ کیونکہ اردو ایک ہمہ گیر ‘ جامع زبان ہے جس میں پاکستان کی تمام علاقائی زبانوں کے الفاظ شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے اردو کے تمام میڈیا چینل پاکستان کے تمام صوبوں کے عوام میں مقبول ہیں۔ مگر انگریزی پاکستان میں وہ بھی نہیں بول سکتے جنہوں نے اس کو سیکھنے کے لئے لاکھوں روپے خرچ کئے ہیں۔انگریزی پاکستانیوں کے لئے اج بھی اتنی اجنبی ہے جتنی آج سے سو سال پہلے تھی۔ اردو اور پاکستان کی مادری زبانوں میں ماں اور اولاد کا رشتہ ہے۔ انگریزی ان کے درمیان میں ” پھپھے کٹنی” کا کردار ادا کر رہی ہے۔ جو خود تو راج کر رہی ہے۔ لیکن مختلف مادری زبانوں کے کچھ شرپسندوں کو آپس میں لڑاتی رہتی ہے ۔۔پاکستان کے مختلف مادری زبانیں بولنے آپس میں جس زبان میں رابطہ کرتے ہیں وہ اردو ہے ۔۔اس لئے اردو پاکستان کی تمام مادری زبان کی "ماں” ہوئی ۔ ماؤں کی ماں بنی تو اردو کا رتبہ "نانی”کا ہوا !
    ایک بات اور قابل توجہ ہے کہ کسی بھی خاندان’ نسل کی دوسری یا تیسری "پیڑی” میں جاکر مادری زبان تبدیل ہوسکتی ہے۔مگر قومی زبان ہرگز نہیں!
    اردو پاکستان کی مادری زبان ہے’ کیونکہ اردو کی ساخت میں پاکستان کے تمام مادری زبانوں کی آمیزش ہے۔اس لئے اردو ہماری قوم کے ڈی این اے میں شامل ہے

  • دنیا خطرات کے نرغے میں اور پاکستان و بھارت کا کردار،  تحریر: انشال راؤ

    دنیا خطرات کے نرغے میں اور پاکستان و بھارت کا کردار، تحریر: انشال راؤ

    آرزوئے سحر
    دنیا خطرات کے نرغے میں اور پاکستان و بھارت کا کردار، تحریر: انشال راؤ

    جنگ عظیم دوم میں ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرائے گئے جس کی ہولناکی، تباہی و غیرمعمولی اثرات نے انسانیت کے وجود کے لیے ایک سنگین چیلنج کھڑا کردیا تھا، دنیا و انسانیت کو خطرات سے آگاہی کے پیش نظر 1947 میں اسٹیفن ہاکنگ سمیت پندرہ نوبل انعام یافتہ سائنسدانوں نے ایک علامتی گھڑی تشکیل دی جسے Doomsday Clock کا نام دیا گیا اور اس کی سوئیاں مڈنائٹ سے 17 منٹ کے فاصلے پر سیٹ کیں، ان سائنسدانوں کے مطابق جب اس کا ٹائم مڈنائٹ یعنی رات کے 12 بجے پر آجائیگا تو دنیا کسی بھی لمحے تباہ ہوسکتی ہے، دنیا و انسانیت کے لیے جن خطرات کو شمار کیا گیا جن میں نیوکلیئر ہتھیار، بائیو ٹیررزم، سائبر کرائم، عالمی لیڈروں کی اشتعال انگیزی و جارحیت پسندی اور ماحولیاتی تبدیلیوں کو سرفہرست ہیں، اب تک متعدد بار ڈومس ڈے کلاک کے وقت میں تبدیلیاں کی جاچکی ہیں لیکن جوں ہی سائنس بلیٹن کے سائنسدان سمجھتے ہیں کہ اب دنیا محفوظ ہے تو فوراً گھڑی کی سوئیاں اپنے اصل وقت 17 منٹ کی دوری پر سیٹ کردی جاتی ہیں، دنیا میں تیزی سے رونما ہونیوالی ماحولیاتی تبدیلیوں اور ایٹمی جنگوں کے خطرات کو محسوس کرتے ہوے ایک بار پھر سائنس بلیٹن آف ایٹمک سائنس کے سائنسدانوں نے 23 جنوری کو گھڑی کے وقت میں تبدیلی کرتے ہوے جنوری 2018 میں دو منٹ کی دوری سے ہٹاکر اب اسے مڈنائٹ سے 100 سیکنڈ کی دوری پر سیٹ کردیا جو ابتک کی تاریخ میں مڈنائٹ سے کم ترین وقت ہے، ایٹمی سائنسدانوں نے بیان جاری کیا کہ "بین الاقوامی سلامتی کی صورتحال انتہائی سنگین ہے، جس کی وجہ جوہری جنگ کے بڑھتے ہوے خطرات، آب و ہوا کی تبدیلی، سائبر جنگ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ عالمی طاقتوں نے بین الاقوامی سیاسی انفراسٹرکچر کو ان کے نظم و نسق میں خاتمے کی اجازت دیدی ہے” بلیٹن آف ایٹمک سائنسٹسٹ کی تشویش محض سراب نہیں بلکہ حقیقت پر مبنی ہے جس طرح ڈرامائی انداز میں دنیا میں آب و ہوا کی تبدیلی رونما ہورہی ہے وہ انتہائی سنگین ہے 2019 میں ایمیزون کے جنگلات کی تباہی دنیا نے دیکھی اور اس کے بعد آسٹریلیا کے جنگلات میں لگنے والی آگ نے ماحولیاتی اداروں کو سر جوڑ کر بیٹھنے پہ مجبور کردیا، آئے روز کے زلزلے، پینے کے پانی کے ذخائر میں تیزی سے پیدا ہونے والی کمی، بے موسمی بارشیں، درجہ حرارت کی حیران کن تبدیلی نے دنیا میں زندگی کے وجود کے لیے شدید خطرات کو پیدا کردیا ہے، بہت سی عالمی تنظیمیں ان تبدیلیوں کا ذمہ دار انسانوں کی غیرفطری سرگرمیوں و معاشی ریس میں آگے بڑھنے کی حرص کو قرار دیا ہے، ایمیزون جنگلات میں لگنے والی آگ کا ایک بڑا سبب یہ بھی تھا کہ برازیلین حکومت ان جنگلات کو ختم کرکے اس زمین کو زرعی و لائیو اسٹاک وغیرہ کے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کو قرار دے رہی ہیں بالکل اسی طرح آسٹریلیا میں لگنے والی غیر یقینی آگ نے بھی بہت سے سوالات کو جنم دیا ہے، اس کے علاوہ امریکہ چین کی طاقت کے حصول کی رسہ کشی اور اسی دوران چین میں پھیلنے والی کرونا وائرس کی وبا اور جس طرح اس کی گونج عالمی میڈیا میں سنائی دی گئی جس کے بعد چین کی معیشت دھڑام سے نیچے گری ہے جو صرف چین تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات عالمی سطح پر پڑینگے، چین دنیا کی معیشت کا 17 فیصد اور SARS Epidemic 2003 کے مطابق عالمی GDP کا 4.5 فیصد حصے دار ہونے کے ساتھ ساتھ پوری دنیا کی سپلائی چین کا مرکز ہوا کرتا تھا لیکن چند دنوں میں ہی چین کی معیشت ٹھپ ہوکر رہ گئی ہے تقریباً دنیا نے چین سے لین دین میل جول کے حساب سے قطع تعلق کر رکھا ہے چین کی 80 فیصد سے زائد صنعتی پیداوار بند ہے، لوگ گھروں تک محصور ہیں ایک کروڑ کی آبادی کا شہر ووہان ہالی ووڈ مووی Resident Evil Apocalypse جیسا منظر پیش کر رہا ہے ہر طرف ویرانی اور سناٹا طاری ہے اور 90 فیصد سے زائد ایکسپورٹ ختم ہوکر رہ گئی ہے، اشیاء خورد و نوش کی شدید قلّت پیدا ہوگئی ہے جس سے ایک اور بڑے خطرے نے جنم لے لیا ہے کہ شاید کرونا وائرس تو اتنا مہلک ثابت نہ ہو جتنا لوگ بھوک سے مورجائیں گے، ماوزے تنگ کی چڑیوں کی نسل کشی کی پالیسی کے بعد پیدا ہونے والے قحط نے تقریباً ساڑھے چار کروڑ چینیوں کی زندگی چھینی تھی اور اب شاید ایک بار پھر چین کو ایک بڑے بلکہ بقا کا سوال ہے، چین کرونا وائرس کو بائیو ٹیررزم خیال کررہے ہیں جس کے باعث چینی انتظامیہ و ایک ایک فرد تڑپ کر رہ گیا ہے اور اب زخمی شیر کی طرح جوابی حملوں کے لیے بیتاب ہے، کچھ ایسی خبریں آرہی ہیں کہ چین نے کرونا وائرس کیرئیر بناکر اسے لانچ کردیا ہے اور بالخصوص ان ممالک جنہوں نے چین سے ایواکویٹ کیا ہے انہیں نشانہ بنارہا ہے، بائیوٹیررزم کی اس غیرمرعی جنگ کا نہ کوئی آغاز ہے نہ اختتام لیکن اتنا ضرور ہے کہ اس کے نتیجے میں آدھے سے زیادہ دنیا ختم ہوجائیگی جس پر 2017 سے بل گیٹس عالمی لیڈروں کے ضمیروں کو جھنجھوڑتے آرہے ہیں، اس کے علاوہ بھارت پاکستان چین تنازعہ بھی شدت پر ہے اور ساتھ ہی دوسری طرف امریکہ چین اور مڈل ایسٹ پلان اپنی جگہ عالمی تباہی کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے، بھارتی رہنماوں کی آئے روز کی اشتعال انگیز اور جارحانہ پالیسی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، ہندوتوا مائنڈسیٹ کی بھارتی سرکار کی شدت پسندی نے دنیا کو ایٹمی جنگ کے خطرے پر کھڑا کر رکھا ہے جو کسی بھی وقت غیریقینی انداز میں شروع ہوسکتی ہے، چین کی معاشی و سفارتی تباہی سے اتنا فائدہ امریکہ کو نہیں جتنا کہ بھارت کو ہوا ہے اور یہ بہت دلچسپ ہے کہ بھارت نے چین کی جگہ لینے کے لیے بہت عرصہ پہلے سے اپنے پیر پھیلانا شروع کردئیے تھے، BIMSTEC کے زریعے جنوب مشرقی ایشیا اور لاطینی امریکہ سے مشرق وسطیٰ اور یورپ و افریقہ تک اپنی مصنوعات کو پہنچانے کے لیے پر تول رہا تھا جو اب یقینی ہوتا نظر آرہا ہے کہ چین کی ایکسپورٹ بند ہونے کی وجہ سے اس کی جگہ لے لے تو ساتھ ہی اپنی افرادی قوت سے فائدہ اٹھاتے ہوے چین کی پوزیشن پر آکر براجمان ہوجائے لیکن یہ آسان نہ ہوگا کیونکہ غیرمناسب و ناجائز طریقے سے ہتھیائی گئی پوزیشن بھارت ہضم نہیں کرپائیگا کیونکہ چین جس میں بھارت دلائی لامہ کو استعمال کرکے اور مختلف ہتھکنڈوں سے عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کرتا آرہا ہے اب براہ راست چین کے نشانے پہ ہوگا اور مرتا ہوا چین یہ سب کیونکر برداشت کرسکتا ہے نتیجتاً بھارت چین بھیانک جنگ ہوسکتی ہے، جس طرح چین کی معیشت کے ٹھپ ہونے سے عالمی سطح پر منفی و مثبت اثرات ہورہے ہیں اور مستقبل میں اس کے منفی اثرات سے بچنے کے لیے ساتھ ساتھ مثبت اثرات سے فائدہ اٹھانے کے لیے پاکستان کی پالیسی انتہائی متاثر کن ہے جس طرح پاکستان نے چین نہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا اور اس کے ساتھ اس مشکل وقت میں کھڑے ہیں یقیناً جیسے ہی چین بحران سے نکلے گا تو وہ اس احسان کو کبھی نہیں بھولے گا لیکن اندرونی خلفشار و سیاسی شعبدے بازیوں سے ملک و قوم غیرمعمولی نقصان کا سامنا کرسکتی ہے لہٰذا یہ وقت ہے کہ اب شاید تمام تر ذاتی مفادات پر ہمارے سارے سیاستدانوں کو چاہئے کہ ایک پیج پر آکر عالمی صورتحال کے پیش نظر استحکام کی طرف بڑھیں۔

  • عمر اکمل کو معطل کیے جانے کی  وجوہات سامنے آ گئیں

    عمر اکمل کو معطل کیے جانے کی وجوہات سامنے آ گئیں

    عمر اکمل کو معطل کیے جانے کی وجوہات سامنے آ گئیں

    باغی ٹی وی::کرکٹر عمراکمل کو پی ایس ایل سے معطل کیے جانے کی وجوہات سامنے آ گئیں، انہوں نے بکی سے ملنے کا اعتراف کر لیا۔ انٹی کرپشن یونٹ نے عمر اکمل کو موبائل ریکارڈنگ کے ذریعے پکڑا، پی سی بی کو اطلاع نہ دینے پر معطل کر دیا گیا۔

    کرکٹر عمر اکمل نے بکی سے ملاقات اور آفر کا اقرار کر لیا، انٹی کرپشن ٹیم کے سامنے سب کچھ اگل دیا۔ عمر اکمل نے ٹیم کو بتایا کہ میچ فکسنگ کی آفر ایک نجی محفل میں دی گئی۔ ٹیم نے عمر اکمل سے سوال کیا کہ آفر سے متعلق پی سی بی یا انٹی کرپشن یونٹ کو کیوں نہیں بتایا، عمر اکمل اس سوال پر ٹیم کو مطمئن نہ کر سکے۔

    خیال رہے کہ عمراکمل کو پاکستان کرکٹ بورڈ نے اینٹی کرپشن کوڈ کے تحت فوری طور پر معطل کردیا ہے اور تحقیقات مکمل ہونے تک عمر اکمل کسی کرکٹ سرگرمی میں حصہ نہیں لے سکتے۔

    ذرائع کے مطابق عمر اکمل کو مبینہ طور پر اسپاٹ فکسنگ کی پیشکش کی گئی تھی جس سے متعلق انہوں نے بروقت پی سی بی اینٹی کرپشن یونٹ کو آگاہ نہیں کیا تھا۔واضح رہے کہ چند روز قبل عمراکمل کوڈ آف کنڈکٹ کے ایک کیس میں بری ہوئے جب بورڈ نے معاملے کو ایک غلط فہمی قرار دے کر ختم کر دیا تھا۔