Baaghi TV

Category: بلاگ

  • فیصلہ بابری مسجد کا یا مسلم کشی کا ! تحریر: غنی محمود قصوری

    مغل دور میں تعمیر ہونے والی مشہور مسجد بابری کا تنازعہ ہندوءوں اور مسلمانوں کے درمیان آج سے 70 سال قبل یعنی 1949 سے چلا آ رہا ہے حالانکہ یہ مسجد مسلمان دور حکومت میں تعمیر ہوئی ہے
    بابری مسجد کو مغل دور حکومت میں بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہر فیض آباد کے علاقے ایودھیا میں 1527 کو اس وقت کے مغل سالار میر باقی نے تعمیر کروایا تھا اور اس کو ہندوستان کے مشہور بادشاہ ظہیر الدین بابر کی نسبت سے بابری مسجد کا نام دیا گیا
    ویسے تو ہندو مغل دور کی اس عظیم مسجد بابری کے خلاف 1949 سے ہی سازشیں کر رہے ہیں مگر حیرت تو اس بات کی ہے کہ کم و بیش ایک ہزار سال تک مسلمانوں کی حکومت میں کسی ہندو پنڈت اور تنظیم نے یہ نا بتایا کہ اس مسجد کو رام للا یعنی ہندو بھگوان ،رام کی جائے پیدائش کو گرا کر تعمیر کیا گیا ہے جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ہندو بے ایمان مغل دور کی غلامی کی یادیں مٹانا چاہتا ہے اور اپنے آقا انگریز کی رسم پوری کرنا چاہتا ہے کہ جس نے اپنے ہندوستان پر جبری قبضے کے دوران ہزاروں مساجد کو شہید کیا اور گرجا گھروں میں بدلا تھا
    1980 میں ہندو انتہا پسند تنظیموں نے اس مسجد کے خلاف سازشیں مذید تیز کر دیں اور ہندوءوں کو بھڑکایا جانے لگا کہ یہ مسجد ہندو بھگوان ،رام کی جائے پیدائش کو گرا کر تعمیر کی گئی ہے اور 1949 تک اس مسجد میں دو مورتیاں بھی موجود تھیں جنہیں مسلمانوں نے باہر پھینک دیا تھا
    رفتہ رفتہ اس مسجد کے خلاف مہم تیز ہوتی گئی اور ہندو پنڈت و لیڈران ہندوءوں کو اس مسجد کے خلاف اکساتے رہے اور مسجد کو گرا کر رام مندر بنانے کی باتیں سرعام جلسوں میں کرتے رہے مگر ہندوستان سرکار اور اعلی عدالتیں خاموش رہیں اور پھر آخر کار 6 دسمبر 1992 کو ہندو انتہا پسند تنظیم وشو ہند پریشد نے ہندو سیاسی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ مل کر ایل کے ایڈوانی کی زیر قیادت تقریبا 150000 سے زائد ہندوءوں کو جمع کرکے اس عظیم مسجد پر حملہ کر دیا ہندو تنظیموں نے جنونی ہندوءوں کو باقاعدہ ٹریننگ دی اور انہیں پورے ہندوستان سے اکھٹا کرکے ایودھیا لایا گیا حملے کے نتیجے میں مسجد کا کافی حصہ مسمار ہو گیا اور مسلمانوں نے اپنی پیاری مسجد کی خاطر پورے ہندوستان میں مزاحمت کی تو ہندو بلوائیوں نے تقریبا بیس ہزار مسلمانوں کو شہید کر دیا اس پر ہندو سرکار نے ایکشن لیتے ہوئے صرف 68 بندوں کے خلاف فرد جرم عائد کی اور بعد میں انہیں بھی رفتہ رفتہ بے گناہ قرار دیا جاتا رہا
    مسلمانوں نے بابری مسجد کی مسماری پر ہندوءوں کے خلاف مقدمہ درج کروایا جس پر فیصلے آتے رہے مگر 30 ستمبر 2010 کو الہ آباد ہائی کورٹ نے شرمناک فیصلہ سنا کر مسلمانوں کو مذید دکھی کر دیا الہ آباد ہائی کورٹ کے 3 ججوں نے فیصلہ سنایا کہ بابری مسجد رام للا کو گرا کر بنائی گئی ہے لحاظہ اسے تین حصوں میں تقسیم کیا جائے بابری مسجد کے کل رقبہ 2.77 ایکڑ کا ایک تہائی حصہ رام للا کو دیا جائے اور وہاں رام مندر تعمیر کیا جائے ایک تہائی مسلمانوں کے سنی وقف بورڈ کو دیا جائے اور باقی جگہ ہندو انتہا پسند تنظیم ،نرموہی اکھاڑے کو دی جائے ہندوستانی ہائیکورٹ کے اس شرمناک فیصلے پر مسلمانوں میں شدید اضطراب پایا گیا اور مسلمانوں نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو ہندوستانی سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جس پر ہندوستانی سپریم کورٹ کے 5 رکنی بنچ نے آج 9 نومبر 2019 کو فیصلہ سنایا کہ آثار قدیمہ کی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ بابری مسجد رام للا کو گرا کر بنائی گئی ہے اور اس پر مسلمانوں کا کوئی حق نہیں ہندو بابری مسجد کی جگہ بگھوان رام کا مندر بنائیں اور مسلمانوں کے سنی بورڈ کو 5 ایکڑ زمین کسی اور علاقے میں دی جائے جہاں وہ اپنی مسجد تعمیر کریں
    ویسے ہندوستان کا جمہوری اور مذہبی نظام تو شدید متعصب تھا ہی مگر عدالتی نظام شدید متعصب اور گھٹیا نکلا اس عدالت نے یہ تحقیق نا کی کے 1000 سال تک ہندو رام للا کا واویلا کیوں نا کر سکے حالانکہ ان مغل اداواروں میں بہت زیادہ ہندو مندر تعمیر ہوئے جنہیں خود مغل بادشاہوں نے ہندو کیلئے تعمیر کروایا تاکہ ہندو اپنے مذہب کے مطابق اپنی پوجا کر سکیں نیز ہندوءوں کی مسلمانوں کی خدمت کی بدولت انہیں بہت زیادہ زمینوں اور جاگیروں سے نوازا جاتا رہا اگر اس وقت ایسی کوئی بات ہوتی تو ضرور مسلم بادشاہوں کی طرف سے دیگر مندروں کی طرح اس مندر کی تعمیر کا مسئلہ بھی حل کیا جاتا تاریخ گواہ ہے اگر مسلمان خاض طور پر مغل بادشاہ ہندو کی طرح متعصب اور جنونی ہوتے تو آج کرہ ارض پر ایک بھی ہندو زندہ نا ہوتا مگر تاریخ نے مسلمانوں کا ہندوءوں کیساتھ اعلی پائے کا اخلاص اور انصاف دیکھا ہے
    اور پھر بیس ہزار مسلمانوں کے قاتل اور مسلمانوں کی تاریخی مسجد کو مسمار کرنے والے ڈیڑھ لاکھ جنونی ہندوءوں میں سے کسی کو بھی قابل قدر سزا کیوں نا ہو سکی درحقیقت ہندو ناپاک پلید کی طرح اس کا سارا عدالتی نظام بھی گھٹیا اور پلید ہے انہیں معلوم ہے کہ مسلمان اس فیصلے کو کبھی بھی تسلیم نا کرینگے اور اسی بدولت ماضی کی طرح پھر ہندو مسلم فسادات ہونگے جن میں سراسر نقصان مسلمان کا ہی ہوتا رہا ہے کیونکہ ہندوستان میں مسلمان ایک اقلیت ہیں اور ہندوءوں کے ستائے ہوئے محکوم بھی جبکہ ہندو باقاعدہ تربیت یافتہ اور مسلح ہیں مگر پھر بھی اس غلیظ عدالت نے جھوٹ اور افسانوں کو مانتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف فیصلہ دیا اور ہندو مسلم فسادات کی راہ ہموار کی ہے

  • بے بس مزدوربچوں کی بے بسیاں … از…. ملک جہانگیراقبال

    کل سارا دن شہر کی خاک چھانتا رہا ، رات میں دوستوں سے ملاقات تھی لہٰذا گھر واپس آنے سے قبل ساتھ والے محلے میں موجود نائی کی دکان پہ داڑھی سیٹ کروانے چلا گیا ، ویسے تو سر کے بال اور داڑھی کیلئے ایک ہی دکان مخصوص کر رکھی پر ہنگامی حالت میں کہیں سے بھی داڑھی سیٹ کروا لیتا ہوں بس ہدایات کُچھ زیادہ دینا پڑ جاتی ہیں .

    اس وقت دکان میں تینوں سیٹوں پہ کام جاری تھا لہٰذا وقت گزاری کیلئے میگزین کا مطالعہ شروع کردیا . کچھ دیر بعد جب میگزین میں پڑھنے لائق کچھ خاص نا بچا تو نائیوں (کاریگروں) کے کام پہ نظریں جما لیں .

    میرے سامنے والی کرسی پہ بارہ تیرہ سالہ لڑکا بال کٹوا رہا تھا نجانے کیوں میری نظر وہیں اس بچے پہ اٹک کر رہ گئی ، مجھے شیشے میں اُس کا چہرہ صاف دکھائی دے رہا تھا جس پہ ہر کچھ دیر بعد پریشانی ، جھنجھلاہٹ کے آثار نمودار ہوتے ۔ پہلے مجھے لگا کہ شاید پیٹ درد یا پھر دماغی سوچ میں مگن ہوکر ایسا کر رہا ہے پر کُچھ دیر میں ہی اصل وجہ سمجھ آگئی لہٰذا اُٹھ کر اُسکی کرسی کیساتھ جا کھڑا ہوا اور کرخت لہجے میں نائی سے سائڈ سے بال ٹھیک طرح سے کاٹنے کا کہا اور کرسی کے پاس ہی کھڑا نائی کو گھور کر دیکھتا رہا .

    اس دوران یہی تاثر دیا کہ بچہ میرا جاننے والا ہے اور نائی کے ساتھ لہجہ ایسا رکھا کہہ بس اُسے گولی نہیں ماری باقی اُسکے ہاتھ کی کپکپاہٹ سے مجھے یہ معلوم ہو چکا تھا کہ نائی اچھے سے میرے لہجے کی سختی کیوجہ سمجھ چکا ہے .

    اگر آپ حضرات کو بچے کی نے چینی کیوجہ سمجھ نہیں آئی تو بتاتا چلوں کہ نائی بار بار بچے کے بازو اور ٹانگیں کیساتھ اپنا جسم "جا بوجھ کر یا ” انجانے ” میں چھو رہا تھا پر ڈر یا شرمندگی کیوجہ سے بچہ یہ ذہنی اذیت جھیل تو رہا تھا پر کُچھ بول نہیں پا رہا تھا ۔

    گھر واپسی پہ یہی اب دماغ میں چل رہا تھا کہ ہر کوئی اس بات پہ لکھتا بھی ہے اور یہ موضوع زیرِ بحث بھی آتا ہے کہ خواتین کو گھر سے باہر بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے پر یقین جانیں جتنی مشکلات اور ذہنی اذیت ایک لڑکا بچوں سے ابتدائے جوانی تک اسکول ، مدارس ، بازار ، نائی کی دکان ، پبلک ٹرانسپورٹ (بس ، وین) میں سفر کرتے ہوئے جھیلتا ہے اُس کا کوئی اندازہ بھی نہیں لگا سکتا اور ظلم تو یہ کہ ہے دوسرے مرد نے یہ سب ذہنی اذیت اپنے بچپن میں یا تو خود سہی ہے یا اپنے کسی دوست کو سہتے دیکھا ہے پر اس پہ بات پھر بھی نہیں کرتا کہ وہ خوف یا احساسِ شرمندگی ہمارے اذہان سے اب تک نہیں محو ہوا کہہ "لوگ مذاق اڑائیں گے” .

    دور حاضر کے والدین یہ بات کان کھول کر سن لیں کہ جب آپکا بچہ اکیلے نائی کے پاس جاتا ہے تو نائی اُس کے جسم کیساتھ خود کو غیر ضروری طور پر ٹچ کرتا ہے ، اگر وہ بازار یا کسی پرچون والے کے پاس سے سودا سلف لانے سے کتراتا ہے تو اُسے اُس دکان والے سے یا راہ میں موجود کسی محلے دار شخص سے جنسی درندگی کا خوف لاحق ہوتا ہے ۔ اگر وہ اسکول سے بس یا وین میں اکیلے گھر آتا ہے تو بھری بس میں مختلف لوگ اُسے ذہنی اذیت پہنچانے کا سامان خوب خوب فراہم کرتے ہیں . اگر وہ مدرسے میں رہنے سے ڈرتا ہے تو اُسے قاری صاحب یا مدرسے میں موجود کسی بڑے لڑکے سے خطرہ محسوس ہوتا ہے ، اُسے بھری دوپہر تندور پہ روٹیاں لینے بھیجتے ہیں تو یا تو نان بائی یا پھر روٹیوں کے حصول میں کھڑے کسی بڑے لڑکے یا آدمی سے اُسے ڈر لگتا ہے ۔

    آپ میں اتنی عقل نہیں کہ اپنے بچے کے خوف کو سمجھ سکیں؟ اُسے ڈانٹ ڈپٹ ، مار پیٹ یا طعنے دیکر کیوں وہیں بھیجتے ہیں جہاں اُسکی معصومیت کا قتل عام ہوتا ہے . کیا آپ کسی اور سیارے میں پیدا ہو کر جوان ہوئے ہو جو آپکو نہیں معلوم کہ ایک بچہ کیا کُچھ جھیل کر جوان ہوتا ہے . یا آپ اپنی اولاد سے اپنے بچپن کا بدلہ لے رہے کہ اگر آپ یہ سب سہتے ہوئے جوان ہوئے ہو تو آپکا بچہ بھی یہ سب سہے؟

    اگر آپکی مصروفیات زیادہ ہیں اور ہر بچے پہ توجہ نہیں دے سکتے تو خدارا یکے بعد دیگرے بچوں کی لائن نہ لگایا کریں ، اتنے ہی پیدا کریں جنہیں توجہ سے پال سکیں . اور معاشرے میں پھیلتی جنسی درندگی سے اُنہیں جسمانی کیساتھ ذہنی اذیت سے بچا سکیں کہ جسمانی زیادتی تو ڈاکٹرز رپورٹ میں بتایا دیتے ہیں پر یہ جو ذہنی زیادتی ہر دوسرا بچہ روز ہر دوسری جگہ برداشت کر رہا ہے یہ کسی ڈاکٹری رپورٹ میں نظر نہیں آتی …

    بے بس بچوں کی بے بسیاں
    ملک جہانگیر اقبال

  • ایں چہ بوالعجبی است ….از سید زید زمان حامد

    ایں چہ بوالعجبی است

    تحریر: سید زید زمان حامد

    کیا اس شخص سے زیادہ کوئی بدنصیب اور ظالم ہوسکتا ہے کہ سیدی رسول اللہﷺ ہجرت فرمانا چاہیں اور وہ سیدیﷺ کی راہ میں رکاوٹیں ڈالے، اور لوگوں کو سیدیﷺ کے ساتھ ہجرت سے روکے اور یہ کہے کہ مشرکوں اور مسلمانوں کو مکے میں ہی اکٹھے رہنا چاہیے؟

    کیا اس شخص سے زیادہ کوئی بدنصیب، گستاخ اور کافر ہوسکتا ہے کہ جو غزوئہ بدر کے موقع پر ابوجہل کے ساتھ کھڑا ہو اور سیدی رسول اللہﷺ کے لشکر اور مدینہ منورہ کی ریاست کے خلاف جنگ کرے؟

    اب ذرا دل تھام کر سنیں۔۔۔

    اوپر بیان کردہ دونوں ظلم عظیم اور گنائہ کبیرہ ہندوستان میں حسین احمد مدنی اور دارالعلوم دیوبند نے کیے اور کررہے ہیں۔ جب سیدی رسول اللہﷺ نے یہ فیصلہ فرمالیا کہ مدینہءثانی پاکستان نے قائم ہونا ہے اور مسلمانوں کو اس کی جانب ہجرت کرنی ہے تو سیدی رسول اللہﷺ کے حکم کو جاننے کے باوجو د حسین احمد مدنی اور دیوبند نے مشرکوں کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا، مسلمانوں کو ہجرت سے روکا، اس بات پر اصرار کرتے رہے کہ مشرکوں کے ساتھ متحدہ ہندوستان میں رہیں،اور پھر اس دن لیکر آج تک مدینہءثانی پاکستان کے خلاف تلواریں نکال کر جنگ آزما ہیں۔

    ذرا ایک لمحے کیلئے رک کر سوچیں کوئی تو وجہ تھی کہ درویش وقت اور موذن امت حضرت علامہ محمد اقبالؒ نے حسین احمد مدنی اور دیوبند کو ”ابو لہب“ کہا تھا۔

    عجم ہنوز نداد رموزِِ دیں ورنہ
    ز دیوبند حسین احمد! ایں چہ بو العجبی است
    سرود برسر منبر کہ ملت از وطن است
    چہ بے خبر ز مقام محمد عربی است
    بمصطفیٰ برساں خویش راہ کہ دیں ہمہ اوست
    اگر بہ او نرسیدی، تمام بو لہبی است

    ایک اور مقام پر علامہ اقبالؒ نے بہت واضح طور پر فرمایا کہ اپنی اسلام دشمنی میں دیوبند وہی کردار ادا کررہے ہیں کہ جو قادیانی امت رسولﷺ کے خلاف ادا کررہے ہیں۔

    ”قادیان اور دیوبند اگرچہ ایک دوسرے کی ضد ہیں، لیکن دونوں کا سرچشمہ ایک ہے، اور دونوں اس تحریک کی پیدوار ہیں جسے عرف عام میں وہابیت کہا جاتا ہے“۔ علامہ اقبال۔ ( کتاب: اقبال کے حضور از سید نذیر نیازی)

    جب بھی ہم دیوبند کی پاکستان دشمنی اور مشرک دوستی کی بات کرتے ہیں تو فوراً ہی اندھے گونگے اور بہرے ہم پر فرقہ واریت پھیلانے کا الزام لگانے لگتے ہیں۔ کچھ باتیں ذرا اچھی طرح سمجھ لیں۔

    -1 دیوبند اور بریلی ہندوستان میں قائم دو مدرسوں کے نام ہیں۔

    -2 دیوبند کسی مسلک یا فرقے کا نام نہیں بلکہ سنی حنفی مسلک کے ایک مدرسے کا نام ہے۔

    -3 بریلوی بھی مسلک کے اعتبار سے سنی حنفی ہیں۔ بلکہ پاکستان کی زیادہ تر اکثریت سنی اور حنفی ہے۔

    -4 ہم صرف دیوبند کی سیاسی اور عسکری پالیسیوں کے خلاف بیان دے رہے ہیں۔ ہم نے کبھی ان کے مسلک سنی حنفی یا عقیدے کے خلاف کبھی بات نہیں کی۔

    -5 دیوبندیوں کے سیاسی جرائم کو بیان کرنے کو فرقہ واریت کہنا ایسی ہی جہالت اور بے شرمی ہے کہ جیسے ایم کیو ایم کے جرائم کو بیان کرنے کو لسانیت کہا جائے۔

    -6 جب ہم مدرسہءدیوبند کی اسلام دشمنی بیان کرتے ہیں تو جاہلوں کی طرف سے فوراً ہی یہ اعتراض بھی ہوتا ہے کہ مولانا اشرف علی تھانوی ، علامہ شبیر احمد عثمانی بھی تو دیوبندی تھے اور انہوں نے قائداعظم کا ساتھ دیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ دونوں مولانا اشرف علی تھانوی اور علامہ شبیر احمد عثمانی نے مدرسہءدیوبند سے مکمل طور پر استعفیٰ دے کر اپنے آپ کو الگ کرلیا تھا۔ اس کے نتیجے میں ان دونوں حضرات کو حسین احمد مدنی اور دیوبند کی جانب سے شدید مزاحمت اور ذلت و رسوائی کا بھی سامنا کرنا پڑا۔

    علامہ شبیر احمد عثمانی نے دیوبند کی سیاسی تنظیم ”جمعیت علمائے ہند“ کے مقابلے میں اپنی ایک نئی مذہبی سیاسی جماعت ”جمعیت علمائے اسلام“ بنائی، اور پھر اس نئی جماعت کے ساتھ قائداعظم کی حمایت میں کھڑے ہوگئے۔ علامہ شبیر احمد عثمانی کو دیوبندی کہنا اتنا ہی شرمناک بات ہے کہ جیسے کوئی قائداعظم کو کانگریسی کہے، کہ قائداعظم تقریباً سولہ برس تک کانگریس کے رکن بھی رہے تھے۔ لہذا یہ بالکل واضح کرلیں کہ جب پاکستان کے معاملے پر دیوبند میں اختلاف ہوا تو مولانا اشرف علی تھانوی اور علامہ شبیر احمد عثمانی دونوں ہی دیوبند سے الگ ہو کر تحریک پاکستان میں شامل ہوگئے تھے۔ دیوبند اس وقت بھی پاکستان کا مخالف تھا اور آج بھی مخالف ہے۔ پاکستان بننے کے بعد علامہ شبیر احمد عثمانی کی جماعت جمعیت علمائے اسلام کو مفتی محمود جیسے کانگریسی مولویوں نے اغواءکرلیا تھا۔ اور آج تک یہی صورتحال ہے۔

    مفتی محمود پہلے جمعیت علمائے ہند کے کارکن تھے اور پھر انہوں نے جمعیت علمائے اسلام پر قبضہ کرلیا۔ سرحدی گاندھی عبدالغفار خان کے ساتھ ملکر تحریک پاکستان کے خلاف زور لگایا۔ سرحد ریفرنڈم میں بھی اس شخص نے پاکستان کے خلاف جدوجہد کی۔ لیکن جب خان عبدالقیوم خان سرحد کے وزیراعلی بنےٰ تو مفتی محمود سرحد سے بھاگ کر ملتان آگئے۔ ان کے اس معروف فتوے سے آپ ان کی نیت کا اندازہ بخوبی لگا سکتے ہیں جو انہوں نے 1944 ءمیں دیا تھا: ”دنیا کی تمام قوموں سے رشتے ناطے جائز ہیں، لیکن کسی مسلم لیگی کو لڑکی دینا ناجائز ہے“۔ (اخبار آزاد، 5 اگست 1944)۔

    اسی مفتی محمود نے پاکستان کی پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر کہا تھا کہ ”شکر ہے کہ ہم پاکستان کے بنانے کے گناہ میں شامل نہیں تھے“۔ آج علامہ شبیر احمد عثمانی کی جمعیت علمائے اسلام کانگریسی ملاﺅں کے قبضے میں ہے کہ جس کی سربراہی آج مفتی محمود کا بیٹا فضل الرحمن کررہا ہے۔ پاکستان کے دیوبندیوں کی سیاسی قیادت، کہ جو آج پاکستان دشمن ہے، انہی ناپاک وجودوں کے ہاتھ میں ہے۔ علامہ شبیر احمد عثمانی اور ان کے طالب علم آنے والے وقتوں میں سیاست سے کنارہ کش ہو کر صرف دینی کاموں میں ہی مشغول ہوگئے۔ لہذا اب یہ بات بالکل واضح ہوجانی چاہیے کہ دیوبند کا پاکستان بنانے میں کردار تو دور کی بات، یہ تو بابا اقبالؒ کی زبان کے وقت کے ”ابولہب“ ہیں۔

    ”انگریز دشمنی سے یہ کہاں لازم ہے آتا ہے کہ ہم اسلام دشمنی اختیار کرلیں۔ یہ کیا انگریز دشمنی ہے جس سے اسلام کو ضعف پہنچے۔ ارباب دیوبند کو سمجھنا چاہیے کہ اس دشمنی میں وہ نادانستہ اس راستے پر چل رہے ہیں جو انگریزوں کا تجویز کردہ ہے۔“ علامہ اقبال ۔(کتاب: اقبال کے حضور از سید نذیر نیازی)

    -7 دیوبندی حضرات یہ بات بھی کرتے ہیں کہ یہ درست ہے کہ ہم نے پاکستان بننے کی مخالفت کی کہ اس بات پر اختلاف ہوسکتا ہے کہ مسجد بنائی جائے یا نہیں، لیکن اگر ایک دفعہ مسجد بن جائے تو پھر اختلاف ختم ہوجاتا ہے اور پھر سب ملکر اس میں نماز پڑھتے ہیں۔ دیوبندی علماءکا یہ اعتراض بھی صرف جھوٹ اور خرافات پر مبنی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہندو مشرکوں کی طرح دیوبند نے بھی آج تک پاکستان کو قبول نہیں کیا، ہندو مشرکوں کے ساتھ ملکر پاکستان کو تباہ کرنے کیلئے باقاعدہ جنگ کررہے ہیں، اور ان کی بدنصیبی کہ آج کے دور کے خوارج بھی انہی کی صفوں سے برآمدہوئے ہیں۔

    دیوبند کی پاکستان میں نمائندگی جمعیت علمائے اسلام اور فضل الرحمن کرتا ہے۔ یہی دیوبند کے اصل نمائندہ ہیں اور انہی کا عمل دیوبند کی نیتوں اور اعمال پر حجت سمجھا جائے گا۔ فضل الرحمن کا پاکستان کو تباہ کرنے میں جو کردار ہے اور جہاد کشمیر کو فروخت کرنے میں جو اس کا ہاتھ ہے، اس کا بڑا تعلق اس کی اپنی ذلالت سے بھی ہے مگر اس کی اصل وجہ وہ حسین احمد مدنی کی ”ابولہبی“ سوچ ہے کہ جس سے متاثر ہو کر فضل الرحمن کے باپ نے یہ کہا تھا کہ شکر ہے کہ ہم پاکستان بنانے کے گناہ میں شامل نہیں تھے۔

    -8 آج پاکستان کی ریاست کے خلاف جو سب سے خوفناک مذہبی جنگ لڑی جارہی ہے وہ دیوبندی سوچ اور اس کے خوارج کی جانب سے ہے۔ نہ اس بات سے انکار ممکن ہے نہ مزید کسی ثبوت کی ضرورت، صرف جہالت، بے شرمی اور ڈھٹائی چاہیے اس حقیقت سے انکار کرنے کیلئے۔

    -9 برصغیر پاک و ہند کی تاریخ میں، تحریک پاکستان میں، اور اب پاکستان کو نقصان پہنچانے میں دارالعلوم دیوبند اور حسین احمد مدنی کی سوچ کا وہی کردار ہے کہ جو کسی ایسے بدنصیب بے غیرت کا ہو کہ جو سیدی رسول اللہﷺ کو ہجرت سے روکے اور غزوئہ بدر میں ابوجہل کے ساتھ کھڑا ہو۔ اگر دارالعلوم دیوبند پاکستان کی مخالفت نہ کرتا تو مزید لاکھوں مسلمانوں ہجرت کرکے پاکستان کی محفوظ پناہ میں پہنچ جاتے۔

    آج ہندوستان میں پندرہ کروڑ مسلمانوں کا یہ حال ہے کہ ان کی روزانہ کی آمدنی 20 روپے روز سے بھی کم ہے۔ مسلمانوں حال کا دلتوں اور شودروں سے زیادہ ذلیل ہوچکا ہے۔ بالکل کیڑے مکوڑوں کی طرح غلاظتوں کے ڈھیروں میں مسلمان اپنی زندگیاں گزارنے پر مجبور ہیں اور یہ سب کچھ ان کے ساتھ اس لیے ہورہا ہے کہ حسین احمد مدنی نے عین ہجرت کے موقع پر، عین میدان جنگ میں، امت رسولﷺ کے ساتھ ایسی خیانت کی کہ تاریخ اب اس کا نام میر جعفر اور میر صادق کے ساتھ نفرت کے ساتھ لیتی رہے گی۔

    یہ بات کتابوں سے ثابت شدہ ہے کہ علامہ شبیر احمد عثمانی کو سیدی رسول اللہﷺ کی زیارت نصیب ہوئی تھی اور اس کے بعد ہی علامہ عثمانی دیوبند سے مستعفی ہو کر قائد کے خادم بن گئے تھے۔ یہ بات بھی تاریخ سے ثابت شدہ ہے کہ حسین احمد مدنی کو روحانی طور پر یہ بات بتا دی گئی تھی کہ پاکستان کے قیام کا فیصلہ سیدی رسول اللہﷺ فرماچکے ہیں، مگر اس کے باوجود بھی اس بدنصیب و بدبخت نے سیدی رسول اللہﷺ کے فیصلے کے خلاف کھڑے ہو کر جنگ کرنے کا فیصلہ کیا۔

    ”حسین احمد مدنی نے قیام پاکستان سے قبل ایک رات دو بجے مولانا رشید احمد صدیقی اور انسپکٹر مدارس چوہدری محمد مصطفی کو طلب فرمایا۔ دونوں فوراً حاضر ہوئے تو ارشاد فرمایا کہ بھائی اصحاب باطنی نے ہندوستان کی تقسیم کا فیصلہ کردیا ہے اور پنجاب اور بنگال کو بھی تقسیم کردیا گیا ہے۔ ان دونوں نے سن کر کہا کہ ہم جو تقسیم کے مخالف ہیں اب کیا کریں۔ اس پر حضرت مدنی نے فرمایا کہ یہ فیصلہ تقدیر کا ہے جب کہ ہم جس بات کو حق سمجھتے ہیں اس کی تدبیر میں لگے رہیں گے۔“( کتاب: سیرت النبی بعد از وصال النبی،از عبدالمجید صدیقی، حصہ چہارم، صفحہ 298-299 )

    یہ ایسا گناہ ہے کہ جس کا کوئی کفارہ نہیں ہے، کوئی توبہ نہیں ہے، کوئی امید نہیں ہے کہ سیدی رسول اللہﷺ کی سفارش نصیب ہوسکے۔ عین میدان جنگ میں کہ جب امت رسول ﷺ اپنی تاریخ کی سب سے بڑی جنگ لڑ کر، سب سے زیادہ قربانیاں دے کر، مدینہءثانی کو قائم کررہی تھی، عین اس وقت دیوبند اور اس کے بڑوں نے امت رسولﷺ کی پشت میں خنجر گھونپ کر مشرکین کا ساتھ دیا۔ اب یہ جتنی مرضی توبہ کرنے کا دعویٰ کرتے رہیں، توبہ کے دروازے ان پر بند ہیں۔

    ان کی بدنصیبی تو یہ ہے کہ آج مدینہءثانی پاکستان بننے کے ستر سال بعد بھی یہ اپنی غلطی تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ کسی بھی جماعت یا مسلک کی نمائندگی ان کے علماءکرتے ہیں اور دیوبند کی جمعیت علمائے اسلام کا پاکستان دشمنی میں، بھارت کی حمایت میں، اور خوارج کی پشت پناہی میں کیا کردار ہے اور اس کو اب مزید بیان کرنے کی حاجت نہیں ہے، انا للہ و انا الیہ راجعون۔

    آخر میں پاکستان میں ان مسلمان نوجونوں کو ایک اہم نصیحت کرتے چلیں۔ جیسا کہ ہم نے کہا کہ دیوبند اور بریلوی دونوں ہی سنی حنفی مدارس ہیں، دونوں ہی ایک جیسی کتابیں پڑھاتے ہیں۔ دیوبندی یا بریلوی مدرسے میں سنی حنفی مکتبہءفکر کی تعلیم حاصل کرنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ دیوبند کی سیاسی اور عسکری پالیسی کو بھی اختیار کرلیں۔ پاکستان میں آج کسی بھی دینی طالب علم میں نہ دیوبند دیکھا ہے نہ بریلی۔ اپنے آپ کو دیوبندی اور بریلوی کہنا اتنا ہی احمقانہ ہے کہ جیسے ایم کیو ایم کے پاکستان میں پیدا ہوئے لڑکے اپنے آپ کو مہاجر کہلائیں۔ مہاجر وہ ہوتا ہے کہ جس نے ہجرت کی ہو۔ اصل میں دیوبندی وہ ہوگا کہ جو دیوبند میں پڑھا ہوگا اور اسکے سیاسی و عسکری نظریات سے متفق ہوگا۔

    پاکستان میں پڑھنے والے تمام طالب علم سنی اور حنفی ہیں اور ان کو ہر حال میں دیوبند کی سیاسی اور عسکری دہشت گردی سے اپنے آپ کو دور رکھنا ہوگا، ورنہ وہ اسی صف میں کھڑے ہونگے کہ جہاں حسین احمد مدنی جیسے علمائے سُو کھڑے ہیں، دنیا میں بھی جن کا نام کانگریسی مولوی اور آخرت میں بھی یہ نہرو اور گاندھی کے ساتھ ہی اٹھائے جائیں گے۔

    اللہ ہمیں ایسے دردناک انجام سے محفوظ رکھے۔ اللہ پاک سرزمین کی حفاظت فرمائے، اللہ پاکستان کو فتنہءخوارج سے بچائے، اللہ ہمیں غزوئہ ہند کا مجاہد بنائے، اللہ پاک فوج کی حفاظت فرمائے اور سبز ہلالی پرچم کی آبرو محفوظ رکھے۔

    لبیک یا سیدی یا رسول اللہ
    لبیک غزﺅہ ہند

    ایں چہ بوالعجبی است ….از سید زید زمان حامد

  • ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام….از… محمد نعیم شہزاد

    نومبر کا پہلا ہفتہ تحریک آزادی جموں کشمیر کا ایک خونچکاں باب اور ہندو دہشت گردانہ ذہنیت کی سیاہ ترین مثال ہے۔ تاریخ ایک بار پھر اپنے آپ کو دہرا رہی ہے، آج سے بہتر برس پہلے جس تحریک آزادی کو کچلنے کی مذموم سعی لاحاصل کی گئی ایک بار پھر وہ تحریک آزادی ویسے ہی حالات سے دوچار کر دی گئی ہے۔ جور و ستم کی تاریکیوں اور ظلمتوں میں اضافہ تو ہوا ہے مگر طرز واردات اور مکروہ سوچ وہی ہے۔

    اپنے ناجائز غاصبانہ قبضے کو جائز ثابت کرنے کا خواب سچ کرنے کی خاطر دہشت گرد بھارتی قوم راجہ ہری سنگھ اور ڈوگرہ راج کی صورت میں ہو یا نریندر مودی اور آر ایس ایس کی غنڈہ گردی کی صورت، ایک ہی خاص انداز نظر آتا ہے اور ایک ہی مقصد کہ مسلم اکثریت کو کسی طور اقلیت میں بدل ڈالا جائے۔ اور اس مقصد کے لیے ظلم و جبر کا بازار گرم کیا جاتا ہے، نہ کسی کی جان سلامت اور نہ آبرو محفوظ، محرک صرف ایک ہے کہ کشمیریوں کی نسل کشی کی جائے یا انھیں ہجرت پر مجبور کر دیا جائے تاکہ مسلمان کشمیر میں اقلیت کا درجہ پا لیں اور پھر اقوام متحدہ کی قراردادیں اور دنیا کے مسلمہ جمہوری تقاضوں کو نبھاتے ہوئے کشمیر کو ہندو اکثریتی ریاست ظاہر کیا جا سکے۔

    بھارت کی سفاکانہ، غیر منصفانہ اور غیرانسانی سوچ تو سب پر واضح ہے اور ہندتوا کا جنون بھی کسی سے مخفی نہیں مگر عالمی طاقتیں کیوں محو تماشہ اور لب بام ہیں، کیا دنیا میں مسلم کے لیے یہی انصاف کا معیار ٹھہرا دیا گیا ہے؟
    وہ کون سا ظلم ہو گا جو نہتے کشمیریوں پر روا نہیں رکھا جاتا؟
    کیا کشمیر کو دنیا کی سب سے بڑی جیل میں نہیں بدل دیا گیا؟
    مگر یہ سب کس جرم کی پاداش میں؟؟؟
    ایک نہیں کئی ایک سوال ہیں مگر جواب کون دے گا؟

    ناانصافی معاشرے میں عدم برداشت اور انتقام کی آگ کو ہوا دیتی ہے۔ کشمیری قوم ایک عرصہ سے اس آگ میں جھونکی ہوئی ہے اور اب اس کی حدت میں عام شہریوں سے لے کر یونیورسٹیوں کے اعلیٰ تعلیم یافتہ سکالرز بھی جل رہے ہیں۔ ایک بات تو واضح ہے کہ رد عمل کے طور پر بھارت کو بھی اس آگ میں جلنا ہو گا۔ مگر دہرا معیار انصاف یہاں بھی آڑے آتا ہے اور کشمیریوں کے اس رد عمل کو دہشت گردی اور militancy کا نام دیا جاتا ہے۔

    ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بد نام

    وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا

    بھارت اور اس کے ہمنوا ممالک کو ہوش کے ناخن لینے چاہیئیں۔ ظلم کی ایک طویل داستان ہے جو اہل کشمیر اپنے خون سے رقم کر رہے ہیں۔ قربانیوں اور شہادتوں کے یہ انمٹ نقوش کسی بڑے آتش فشاں کا پیش خیمہ ثابت ہوں گے۔ ظلم و نا انصافی کی تلافی اور تدارک کا وقت گزر چکا اور ہم بحیثیت مجموعی انسانیت کے مجرم ہیں، جس سنگین بے حسی کا مظاہرہ ہم کر رہے ہیں اس کا تصور بھی محال ہے۔

    ایک زندہ انسان کے ہاتھ پاؤں باندھ کر وحشیانہ تشدد، محرم رشتوں کے سامنے معصوم کلیوں کو نوچنا، پیلٹ گن سے بینائی چھیننا اور جسم کا پور پور اذیت میں مبتلا کر دینا اور کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کر کے جسد خاکی تک کو ہوا کر دینا معمولی جرم نہیں ہیں۔ اس سب پر مستزاد کمیونیکیشن لاک ڈاؤن اور سوشل میڈیا بلاکنگ اور سسپنشن ہے۔ تمام ایسے اکاؤنٹ جو کشمیر کے لیے آواز اٹھاتے ہیں بلاک کر دیے جاتے ہیں مگر ظلم کے یہ ضابطے ہم نہیں مانتے۔

    ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام
    تحریر: محمد نعیم شہزاد

  • ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام ،تحریر: محمد نعیم شہزاد

    ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام

    تحریر: محمد نعیم شہزاد

    نومبر کا پہلا ہفتہ تحریک آزادی جموں کشمیر کا ایک خونچکاں باب اور ہندو دہشت گردانہ ذہنیت کی سیاہ ترین مثال ہے۔ تاریخ ایک بار پھر اپنے آپ کو دہرا رہی ہے، آج سے بہتر برس پہلے جس تحریک آزادی کو کچلنے کی مذموم سعی لاحاصل کی گئی ایک بار پھر وہ تحریک آزادی ویسے ہی حالات سے دوچار کر دی گئی ہے۔ جور و ستم کی تاریکیوں اور ظلمتوں میں اضافہ تو ہوا ہے مگر طرز واردات اور مکروہ سوچ وہی ہے۔ اپنے ناجائز غاصبانہ قبضے کو جائز ثابت کرنے کا خواب سچ کرنے کی خاطر دہشت گرد بھارتی قوم راجہ ہری سنگھ اور ڈوگرہ راج کی صورت میں ہو یا نریندر مودی اور آر ایس ایس کی غنڈہ گردی کی صورت، ایک ہی خاص انداز نظر آتا ہے اور ایک ہی مقصد کہ مسلم اکثریت کو کسی طور اقلیت میں بدل ڈالا جائے۔ اور اس مقصد کے لیے ظلم و جبر کا بازار گرم کیا جاتا ہے، نہ کسی کی جان سلامت اور نہ آبرو محفوظ، محرک صرف ایک ہے کہ کشمیریوں کی نسل کشی کی جائے یا انھیں ہجرت پر مجبور کر دیا جائے تاکہ مسلمان کشمیر میں اقلیت کا درجہ پا لیں اور پھر اقوام متحدہ کی قراردادیں اور دنیا کے مسلمہ جمہوری تقاضوں کو نبھاتے ہوئے کشمیر کو ہندو اکثریتی ریاست ظاہر کیا جا سکے۔

    بھارت کی سفاکانہ، غیر منصفانہ اور غیرانسانی سوچ تو سب پر واضح ہے اور ہندتوا کا جنون بھی کسی سے مخفی نہیں مگر عالمی طاقتیں کیوں محو تماشہ اور لب بام ہیں، کیا دنیا میں مسلم کے لیے یہی انصاف کا معیار ٹھہرا دیا گیا ہے؟
    وہ کون سا ظلم ہو گا جو نہتے کشمیریوں پر روا نہیں رکھا جاتا؟
    کیا کشمیر کو دنیا کی سب سے بڑی جیل میں نہیں بدل دیا گیا؟
    مگر یہ سب کس جرم کی پاداش میں؟؟؟
    ایک نہیں کئی ایک سوال ہیں مگر جواب کون دے گا؟
    ناانصافی معاشرے میں عدم برداشت اور انتقام کی آگ کو ہوا دیتی ہے۔ کشمیری قوم ایک عرصہ سے اس آگ میں جھونکی ہوئی ہے اور اب اس کی حدت میں عام شہریوں سے لے کر یونیورسٹیوں کے اعلیٰ تعلیم یافتہ سکالرز بھی جل رہے ہیں۔ ایک بات تو واضح ہے کہ رد عمل کے طور پر بھارت کو بھی اس آگ میں جلنا ہو گا۔ مگر دہرا معیار انصاف یہاں بھی آڑے آتا ہے اور کشمیریوں کے اس رد عمل کو دہشت گردی اور militancy کا نام دیا جاتا ہے۔

    ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بد نام

    وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا

    بھارت اور اس کے ہمنوا ممالک کو ہوش کے ناخن لینے چاہیئیں۔ ظلم کی ایک طویل داستان ہے جو اہل کشمیر اپنے خون سے رقم کر رہے ہیں۔ قربانیوں اور شہادتوں کے یہ انمٹ نقوش کسی بڑے آتش فشاں کا پیش خیمہ ثابت ہوں گے۔ ظلم و نا انصافی کی تلافی اور تدارک کا وقت گزر چکا اور ہم بحیثیت مجموعی انسانیت کے مجرم ہیں، جس سنگین بے حسی کا مظاہرہ ہم کر رہے ہیں اس کا تصور بھی محال ہے۔ ایک زندہ انسان کے ہاتھ پاؤں باندھ کر وحشیانہ تشدد، محرم رشتوں کے سامنے معصوم کلیوں کو نوچنا، پیلٹ گن سے بینائی چھیننا اور جسم کا پور پور اذیت میں مبتلا کر دینا اور کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کر کے جسد خاکی تک کو ہوا کر دینا معمولی جرم نہیں ہیں۔ اس سب پر مستزاد کمیونیکیشن لاک ڈاؤن اور سوشل میڈیا بلاکنگ اور سسپنشن ہے۔ تمام ایسے اکاؤنٹ جو کشمیر کے لیے آواز اٹھاتے ہیں بلاک کر دیے جاتے ہیں مگر ظلم کے یہ ضابطے ہم نہیں مانتے۔

  • سانحہ تیز گام ایکسپریس ۔ کیاعمران خان اپنی بات پر عمل پیراہوں گے؟..از…عرفان قیوم

    سانحہ تیز گام ایکسپریس پاکستان کی تاریخ کا ایک رقت انگیز واقعہ ہے۔ اس واقعے کا تعلق کراچی سے چلنے والی تیز گام ایکسپریس سے ہے۔ سچی بات ہے اس تحریر کا مقصد کراچی کے نشیب و فراز کو بیان کرنا نہیں بلکہ سو چا ذکر آیا ہے توکچھ نہ کچھ لکھتا جاؤں۔ شہر کراچی جوکہ کبھی پاکستان کے دارالخلافہ کے طور پرہی نہیں بلکہ کاروباری عروج کے اعتبار سے بھی اپنی مثال آپ تھا ۔مزید یہ کہ اسے روشنیوں کے شہر کے طورپر بھی جانا جاتا تھا۔ روزگار کے حصول کے لیے پاکستان کے طول و عرض سے لوگوں کی اکثریت اس شہر کی طرف سفر کرتی تھی ۔ مگر اب اس شہر کے حالات پہلے کی نسبت قدرے مختلف ہیں ۔ جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر، بدبودار گندا پانی اگلتے گٹر، ٹوٹ پھوٹ کی شکار سڑکیں ،سفر کے لیے ہچکولے لیتی جان لیوا پرانی بسیں جن سےشہریوں کی زندگیاں اجیرن ہی نہیں بلکہ اس شہر کا حسن بھی ماند پڑگیا ہے۔ شاعر کے الفاظ میں

    بس میں لٹک رہا تھا کوئی ہار کی طرح
    کوئی پڑا تھا سایۂ دیوار کی طرح
    سہما ہوا تھا کوئی گناہ گار کی طرح
    کوئی پھنسا تھا مرغ گرفتار کی طرح

    اس شہر کے مکین پینے کے لیے صاف پانی جیسی بنیادی ضرورت کے حصول کے لیے بھی مارے مارے پھرتے نظر آتے ہیں جو کہ حکومت سندھ کی حسن کارکردگی پر ایک سیا ہ دھبہ ہے۔کہنے کے لیے بہت کچھ ہے خیر اس پر پھر کبھی تفصیلی بات کریں گے اور اپنے اصل موضوع کی طرف آتے ہیں۔ افسوسناک سانحہ تیز گام ایکسپریس اس وقت رو پذیر ہوا جب پاکستان کے سیاسی میدان میں ایک عجیب سی ہلچل مچی ہوئی ہے ۔اقتدار کی کرسیوں پر جلوہ افروز حکمران اورحکومت مخالف تمام سیاسی ومذہبی پارٹیاں ایک دوسرے پر بھرپور تنقید کررہی ہیں۔ مگر اس واقعے نے تمام سیاسی و مذہبی پارٹیوں کے باہمی اختلافات کو بھلا کر ہر ذی شعور کو انسانی ہمدردی میں یکجا ہی نہیں بلکہ ہر آنکھ کو اشکبار بھی کر دیا ہے۔ ہاں ہاں ہر طرف سے سانحہ تیز گام ایکسپریس کی لپیٹ میں آنے والوں کے لیے غم کا اظہار کیا جارہا ہے۔

    معاملہ کچھ یُوں ہے کہ فلسفہ زندگی ایک ہی جگہ سکونت پذیر اختیار کرنے کا نام نہیں ہےبلکہ معاملات زندگی کو نمٹانے کے لیے ایک جگہ سے دوسری جگہ حرکت کا نام ہے۔ یہ معاملات زندگی نوعیت کے اعتبار سے مختلف اشکال میں ملتے ہیں جن میں عبادات، کاروباری لین دین ، رشتہ داروں سے میل جول یا گھریلو مصروفیات وغیر ہ سر فہرست ہیں۔ اسی فلسفہ زندگی کے تحت کچھ لوگ کراچی سے تیز گام ایکسپریس پر سوار ہوئے جن میں تبلغی جماعت سے تعلق رکھنے والوں کی بھی اکثریت تھی

    یہ اسلام پسند لوگ جو کہ محمد عربیﷺ کے مشن پر چلتے ہوئے پروردرگار کے ہاں سجدہ ریز ہونے نکلے تھے بس ذہن میں ایک ہی خیال سمیٹے ہوئے تھے کہ رب کبریا سے گناہوں کی بخشش کروا لیں گے، رسول خدا کی حدیث سے سینے منوّر کرلیں گے۔ اسی خوبصور ت آرزو کے پیش نظر کعبہ کے رب کی خوشنودی کےلیے نہ مہنگائی سے بڑھتے ہوئے کرایوں کو دیکھا نہ گزرتے ہوئے وقت کو بتانے والی گھڑی کی ٹک ٹک پر کان دھرےاور نہ ہی اس بات کو سوچا کہ خود کی غیر موجودگی سے کاروبار اور دیگر معاملات زندگی متاثر ہوسکتےہیں۔ بس الرزّاق اور المھیمن کو ہی بڑا مانتے ہوئے اپنے بوری بسترے کو گول کیا اور کچھ استعمال کی چیزوں کو ہمراہ لیا۔ جن میں بدلتے ہوئے موسم کے پیش نظر رضائیاں ، گدے، رومال ،خشک راشن، کھانا پکانے کےلیے دیگچیاں اور سیلنڈر شامل تھے۔

    تیزگام ریل گاڑی منزل مقصود کی طرف روانہ ہوئی تویہ بھلے مانس مسافر نہیں جانتے تھے کہ یہ سفر ان کی زندگی کا آج آخری سفر ثابت ہوگا۔ بہرحال ریل گاڑی چلتے چلتے جب ساہیوال کے قریب پہنچی تو اس میں خطرناک قسم کی آگ بھڑک اُٹھی جس نے مختصر وقت میں ریل گاڑی کی کم وبیش تین بوگیوں کواپنی لپیٹ میں لے لیا۔ آگ بجھانے والے آلات کی عدم دستیابی کے باعث اس کی شدّت و حدّت میں آضافہ ہوتا چلا گیا۔ہنستی مسکراتی زندگیاں تڑپنے لگیں، دم گھٹنے لگے ،اور دیکھتے ہی دیکھتے لقمہ اجل بن گئے۔ یقین جانیے یہ سماں کس قدر ہیبت ناک ہو گا ؟ اناللہ وانا الیہ راجعون۔

    ہائے زندگی تو ہر کسی کو محبوب ہوتی ہے جس کے پیش نظر کچھ لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت زندگی بچانے کے لیے چلتی ریل گاڑی سے چھلانگیں لگانا شروع کردیں کچھ کے بازوؤں کی ہڈیاں چُور چُور ہو گئیں، کچھ کی ٹانگیں ٹوٹ گئیں اور طرح طرح کے زخم آئے ۔ جو لوگ خود کو آگ کے نکلتے ہوئے دہکتے شعلوں سے بچانے میں ناکام رہے ان کے جسم مکمل طور پر جھلس گئے جو کہ پہچان کے قابل بھی نہیں ہیں ۔ جاں بحق ہونے والوں کی تعداد پر نظردوڑائی جائے تو تقریباً پچھتر لوگ جان سے گئےاور ساٹھ کے لگ بھگ شدید زخمی حالت میں ہسپتالوں میں زندگی اور موت کی کشمکش میں زیر علاج ہیں۔

    پاک فوج کے ساتھ ساتھ دیگر فلاحی تنظیموں نے اس کام میں بھرپور حصہ لیا۔ اور حکومت وقت نے جاں بحق ہونے والے کے لواحقین کے لیے 15،15 لاکھ اور زخمیوں کے لیے 5 لاکھ فی کس دینے کا اعلان کیاہے۔ جو کہ مالی معاونت تو ثابت ہوسکتی ہے مگر لوگوں کے اصل زخم نہیں بھرے جا سکتےہیں۔

    بہرحال اس درد بھرے سانحے سے کئی گھروں میں صف ماتم بچھ گئی ہے ۔ ابو ابو پکارنے والےبچے یتیم ہو گئے، عورتیں بیوہ ہوگئیں، ماں باپ کی آنکھوں کے تارے ٹوٹ گئےاور لوگ اپنے پیاروں کی راہیں تکتے رہ گئے۔ مگر ریل گاڑی کے یہ سوار ہمیشہ کے لیے دنیا فانی سے رخصت ہوگئےاور اس کے ساتھ ہی رب کبریا کے پیغام کی ترجمانی بھی کرتے چلے گئے۔قرآن حکیم میں ارشاد ہے۔

    جو کوئی زمین پر ہے فنا ہوجانے والا ہے۔ اور آپ کے پروردگار کی ذات باقی رہے گی جو بڑی شان اور عظمت والا ہے (سورہ الرحمان آیت 26-27)

    اس سانحےنے دنیا فانی کے مال و دولت سےخود کو آراستہ کرنے کی لالچ میں لوٹ مار کا بازار گرم رکھنے والوں کے لیے ، لوگوں کی زندگیوں سے کھیلنے والوں کے لیے،نفرت کو ہوا دینے والوں کے لیے، ایک دوسرے کو بے جا اذیت کا نشانہ بنانے والوں کے لیے بھی ایک سبق چھوڑا ہے ۔شاعر کے الفاظ میں

    زندگی سے اتنا پیار نہ کر
    چلے تجھ کو بھی جانا ہے زمین کے اندر

    ساتھ ہی ساتھ اس درد ناک واقعے نے سیاستدانوں کے لیےبھی کئی سوالات ہی پیدا نہیں کیے بلکہ ایک امتحان میں بھی ڈال دیا ہے۔ وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ یہ سانحہ سلینڈر پھٹنے سے ہوا ہے ۔ جبکہ سوشل میڈیا پر چلنے والی دیگر ویڈیوز کے مطابق عینی شاہدین کا یہ کہنا ہے کہ یہ واقعہ شارٹ سرکٹ کی وجہ سے ہواہے۔ اگر سلینڈر پھٹنے سے دھماکہ ہوتا تو زور دار آواز سنائی دیتی مگر ایسا کچھ نہیں ہوا

    بہرحال عینی شاہدین اور وزیر ریلوے کے بیانات میں خوب تضاد پایا جاتا ہے۔ دونوں اعتبار سے ریلوے انتظامیہ کی کارکردگی تسلی بخش نہیں ہے جس پر عام عوام ایک دوسرے سے سوال کرتے نظر آتے ہیں۔ گیس سے بھرے سلینڈر ریل گاڑی میں کیوں لے جانے دیے گئے؟۔اگرشارٹ سرکٹ سے ہوا تو عوام کے خون پسینے کا پیسہ کس جگہ خرچ ہورہاہے؟ حکمران عوام سے سنجیدہ کیوں نہیں ہیں؟

    رہی بات اس سانحے کی شفاف تحقیقا ت کی تو اس حوالے سےوزیر اعظم عمران خان کے ماضی کے بیانات ملتے ہیں جو کہ ریلوے حادثے پر ڈنکے کی چوٹ کہا کرتے تھے کہ یہ تحقیقات اتنی دیر تک شفاف نہیں ہوسکتیں جب تک ریلوے کا وزیر اپنے عہدے سے مستعفی نہ ہو۔ شیخ رشید صاحب کی وزارت میں متعدد بار ریلوے حادثات ہو چکےہیں مگر کوئی استعفی عمران خان صاحب نے نہیں مانگا اور نہ ہی وزیر ریلوے نے اس بارے میں کچھ سوچا۔معاف کرنا انسان ہوں سوچ سوچی جا سکتی ہے فی الحال اب بھی ایسا ہی لگتا ہے۔ اقبال نے اسی لیے کہا تھا۔

    اقبال بڑا اپدیشک ہے من باتوں میں موہ لیتا ہے
    گفتار کا یہ غازی توبنا ،کردار کا غازی بن نہ سکا

    سانحہ تیز گام ایکسپریس ۔ کیاعمران خان اپنی بات پر عمل پیراہوں گے؟..از…عرفان قیوم

  • ففتھ جینریشن وار فئیر کے شہید سپاہی سید غوث اللہ آغا…از…عثمان عبدالقیوم

    سکول میں پڑھایا جاتا ہے، یوم پاکستان ہو یا آزادی یہ شعر گائے جاتے ہیں اور خصوصا یوم دفاع و شہداء پر ملک کے کونے کونے پر بڑے بڑے بینرز آویزاں کیے جاتے ہیں۔
    ” شہید کی جو موت ہے، وہ قوم کی حیات ہے”

    ایک جگہ لفظ شہید پر بات ہو رہی تھی ایک صاحب سوال کرنے لگے کہ جیسے ہم لوگ اس کو شہید کہتے ہیں جو رب کی رضا میں جان دینے والے کو کہتے ہیں پوچھنے لگا کہ دنیا کے ہر ملک میں شہیدوں کے نام پر یادگاریں ہیں، سڑکیں ہیں، پارک ہیں، ان کی قربانی کو یاد کیا جاتا ہے، ان کا بھی احترام کیا جاتا ہوگا راقم نے یوں جواب دیا انکا احترام دنیا کے ہر مذہب و ثقافت ایسے ہی کیا جاتا ہے جیسے مقدس صحیفوں کا۔ مجھے یقین ہے کہ شہید کے متبادل دنیا کی ہر زبان، ہر مذہب اور ہر تہذیب میں موجود ہوں گے کیونکہ ہر قوم کو اپنی بقا کے لیے اور ہر تحریک کو اپنی نمود کے لیے ایسے افراد کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو اپنی جان کا نذرانہ پیش کریں، یقینی موت کے طرف لپکیں اور اپنی زندگی دے کر قوموں کو اور تحریکوں کی نظریات کو دوام بخشیں۔

    اسی اثناء میں پاکستان کے شہیدوں کا تذکرہ شروع ہوا اے پی ایس ہو یا پولیس کے جوانوں کا یا پھر فوج اور ہزاروں گمنام شہیدوں کے تذکرے ہو رہے تطے اچانک بلوچستان کے والے عظیم بیٹے کی سراج رئیسانی شہید رحمتہ اللہ علیہ کا تذکرہ ہو گیا انکی شجاعت اور بہادری کی باتیں چل رہیں تھیں کہ اتنے میں خبر ملی کہ کوئٹہ سے تعلق رکھنے والا پاکستان کا ایک اور بیٹا سید غوث اللہ آغا جس کو پی ٹی ایم اور این ڈی ایس کی غنڈہ گردی، دہشت آلود درندوں نے آزادی کے دن 14 اگست کو اغوا کیا اور نا جانے کتنے ظلم و جبر کے پہاڑ تھوڑے ہوں گے انکی درندگی کا شکار ہو کر موت کی وادی میں چلا گیا اور اج افغان سرحد کے قریب قلعہ عبداللہ سے اس غیور بیٹے کا جسد خاکی ملا اور معلوم ہوا پاک دھرتی کی حفاظت کرنے والوں میں اسے ایک نام شہر خاموشاں میں داخل ہوگیا اور بیٹا اس ملک پر جان قربان کر گیا۔

    سوچ رہا تھا اس کا جرم کیا ہوگا معلوم ہوا سوشل میڈیا نامی ایک بلا ہے جہاں وہ اپنے قلم سے اپنے موبائل سے پی ٹی ایم، بلوچ لبریشن آرمی سمیت ان تمام ملک دشمنوں کے خلاف برسرپیکار تھا پاکستان کا سرفروش مجاہد بن کر اور سچا بیٹا بن کر اپنی دھرتی ماں سے بے پناہ محبت کا سبق سکھاتا تھا آزاد بلوچستان کی بجائے پاکستان کا نعرہ بلند کرتا تھا بھارت کے ٹکڑوں پے پلنے والے ملک دشمنوں کی تراغیب کو رد کر نوجوانوں میں پاکستان زندہ باد پاکستان آرمی زندہ باد کے جذبے جگاتا تھا شہید غوث اللہ وہ مرد مجاہد تھا جو سراج رئیسانی شہید رحمتہ اللہ علیہ کے رستے پر چلتے ہوئے بلوچستان میں بدترین حالات میں بھی پاکستان کا جھنڈا سربلند رکھا۔

    غوث اللہ شہید ففتھ جینریشن وار کا سچا اور محب وطن سرفروش سپاہی تھا۔ یہی اس کا جرم تھا وہ ہماری طرح بلوچستان میں جاری بھارتی سازشوں سے بخوبی آگاہ تھا نوجوانوں اور بچوں کو آگاہ کرتا تھا اس لئے بھارت سے شدید نفرت رکھتا تھا۔ جس کا برملا اظہار کرتا تھا ہاں نفرت کی اظہار کی وجہ سراج رئیسانی شہید رحمتہ اللہ علیہ کہ بھارتی ترنگے کا جوتا بنا کر پہنتا تھا۔

    اپنی زندگی کی قیمت لگا کر ان تمام لوگوں کو پیغام دے گیا جو یہ کہتے ہے سوشل میڈیا بیکار ہے جو بوٹ پالشیت کا طعنہ دیتے ہیں جو وطن کی محبت کو ایمان کا حصہ نہیں مانتے ہیں سبز ہلالی پرچم کو لہراتے لہراتے آنے والی نسلوں کی خاطر قربانیوں کا ذکر چھوڑ گیا دشمنوں کے خلاف اتحاد کا سبق دے کر، حب الوطنی کا درس دے کر، سبز ہلالی پرچم کو لہرانے کا انداز سکھا کر،نظریہ پاکستان اور لا الہ الا اللہ کا مطلب سمجھا کر اسکی بنیاد کو سمجھاتے ہوئے ریاست سے غداری کرنے ،لوٹنے اور عیاشی کرنے والوں کو بتا گیا کہ وطنیت کیا ہے؟ شہادت پر غم نہ کرنے کا درس دے گیا اور پیسے کی لالچ کو پست کرتے ہوئے جان قربان کرتے ہوئے پاکستان سے عشق تا دم آخر پہچان بنا کر بالآخر اسی سبز ہلالی پرچم کو اوڑھ کر ابدی نیند تو سو گیا اور یہ پیغام دے گیا

    چادر میں نہیں ھم کوجھنڈے میں اُتارو
    مٹی کے عشق میں ہم، جوانی میں مَرے ہیں
    حرف آخر یہ
    مسافران راہ وفا کو شہید منزل دکھا گئے
    کٹا کے غیور اپنے سر کو غرور کا سر جھکا گئے ہیں
    اگر میرے بس میں ہوتا تو سید غوث اللہ آغا سمیت تمام شہداء کو نشانِ حیدر سے سرفراز کرتا جس سے اس عالی مرتبت تمغے کی شان دوبالا ہو جاتی کہ وہ شہیدِ وفائے پاکستان تھا”
    کیونکہ شہید سراج رئیسانی ہو یا غوث اللہ اپنے بلوچ جانبازوں کے ساتھ پاکستان کے لئے میدان جنگ میں لڑ رہا تھا۔وہ شہید وطن اپنی جان سے گذر گئے اور یہ پیغام دے گیا
    اے وطن تو نے پکارا تو لہو کھول اٹھا
    تیرے بیٹے تیرے جانباز چلے آتے ہیں

    سوچ رہا ہوں

    اج پھر شہید وطن سراج رئیسانی شہید رحمتہ اللہ علیہ کی شہادت کی طرح غوث اللہ کا جسد خاکی بھی گواہی دے رہا تھا اور دھرتی گواہ بن گئی ہے کہ

    ہو حلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
    رزم حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن
    شہادت نے ان کی شخصیت کو نظریئے میں بدل دیا ہے پاکستان سے محبت کا نظریہ’ سرفروشی کی لازوال داستان بنادیا ہے۔
    سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے

    ففتھ جینریشن وار فئیر کے شہید سپاہی سید غوث اللہ آغا…از…عثمان عبدالقیوم

  • شہنشاہ اکبر نےاقتدارسنبھال لیا ، تاریخ نے پھروہ دن دکھا بھی دہرا بھی دیا

    لاہور:ویسے تو مغل بادشاہ جلال الدین اکبر کی زندگی کےبارے میں تاریخ میں ہر کسی نے اپنے انداز سے تصویر کشی کی ہے ،مگریہاں صرف اس کی زندگی کے ایک پہلوپر روشنی ڈالی جارہی ہے،یہاں جو اصل بات بیان کرنے جارہے ہیں وہ ہےکہ آج کے ہی دن 5 نومبر 1556 کو عظیم مغل بادشاہ شہنشاہ جلال الدین اکبر نے باقاعدہ اقتدارسمبھال لیا ، تاریخ کے مطابق سلطنت مغلیہ کے تیسرے فرماں روا (بابر اعظم اور ہمایوں کے بعد)، ہمایوں کابیٹا تھا۔ ہمایوں نے اپنی جلاوطنی کے زمانے میں سندھ کے تاریخی شہر دادو کے قصبے “پاٹ” کی عورت حمیدہ بانو سے شادی کی تھی ۔ اکبر اُسی کے بطن سے 1542ء میں عمر کوٹ کے مقام پر پیدا ہوا۔

    مولانا اے پی سی کا حال دیکھ کر ہکے بکے رہ گئے،9 میں سے 5 ساتھی غائب

    مورخین لکھتے ہیں کہ ہمایوں کی وفات کے وقت اکبر کی عمر تقریباً چودہ برس تھی اور وہ اس وقت اپنے اتالیق بیرم خان کےساتھ کوہ شوالک میں سکندر سوری کے تعاقب میں مصروف تھا۔ باپ کی موت کی خبر اسے کلانور ضلع گروداسپور (مشرقی پنجاب) میں ملی۔ بیرم خان نے وہیں اینٹوں کا ایک چبوترا بنوا کر اکبر کی رسم تخت نشینی ادا کی اور خود اس کا سرپرست بنا۔ تخت نشین ہوتے ہی چاروں طرف سے دشمن کھڑے ہوگئے ۔ ہیموں بقال کو پانی پت کی دوسری لڑائی میں شکست دی۔ مشرق میں عادل شاہ سوری کو کھدیڑا۔ پھر اس نے اپنی سلطنت کو وسعت دینی شروع کی۔

    اخوت اس کو کہتے ہیں!طیب اردوان نے پاکستان سے دوستی کاحق اداکردیا

    1556ء میں دہلی ، آگرہ ، پنجاب پھر گوالیار ، اجمیر اور جون پور بیرم خان نے فتح کیے۔ 1562ء میں مالوہ، 1564ء میں گونڈدانہ ، 1568ء میں چتوڑ، 1569ء میں رنتھمپور اور النجر ، 1572ء میں گجرات ، 1576ء میں بنگال، 1585ء میں کابل، کشمیر اور سندھ، 1592ء میں اڑیسہ ، 1595ء میں قندہار کا علاقہ ، پھر احمد نگر ، اسیر گڑھ اور دکن کے دوسرے علاقے فتح ہوئے اور اکبر کی سلطنت بنگال سے افغانستان تک اور کشمیر سے دکن میں دریائے گوداوری تک پھیل گئی۔

    اکبر نے نہایت اعلٰی دماغ پایا تھا۔ ابوالفضل اور فیضی جیسے عالموں کی صحبت نے اس کی ذہنی صلاحیتوں کو مزید جلا بخشی ۔ اس نے اس حقیقت کا ادراک کر لیا تھا کہ ایک اقلیت کسی اکثریت پر اس کی مرضی کے بغیر زیادہ عرصے تک حکومت نہیں کر سکتی۔ اس نے ہندوؤں کی تالیف قلوب کی خاطر انہیں زیادہ سے زیادہ مراعات دیں اور ان کے ساتھ ازدواجی رشتے قائم کیے۔ اکبر نے ایک ہندو عورت جودھا بائی سے بھی شادی کی جو اس کے بیٹے جہانگیر کی ماں تھی۔

    ایچ بی ایل پی ایس ایل 2020 کے ڈرافٹ تیار ، تفصیلات آگئیں

    جودھا بائی نے مرتے دم تک اسلام قبول نہیں کیا تھا۔ نیز دین الہٰی کے نام سے ایک نیا مذہب بھی جاری کیا۔ جو ایک انتہا پسندانہ اقدام تھا اور اکبر کے ہندو رتنوں کی مسلسل کوششوں کا نتیجہ تھا۔ دین الہًی کی وجہ سے اکبر مسلمان امراء اور بزرگان دین کی نظروں میں ایک ناپسندیدہ شخصیت قرار پایا۔ وہ خود ان پڑھ تھا۔ لیکن اس نے دربار میں ایسے لوگ جمع کر لیے تھے جو علم و فن میں نابغہ روزگار تھے۔ انہی کی بدولت اس نے بچاس سال بڑی شان و شوکت سے حکومت کی اور مرنے کے بعد اپنے جانشینوں کے لیے ایک عظیم و مستحکم سلطنت چھوڑ گیا۔

    مغل حکمرانوں کے طرز زندگی کے آثارآج بھی برصغیر پاک وہند میں ملتے ہیں ، ان کے محلات، فوجی چھاونیاں اور خوبصورت اندازمیں تاریخی عمارتیں تو پاکستان کے حصے میں بھی آئی ہیں‌، لاہور کا شاہی قلعہ ، شاہی مسجد اور اس کے علاوہ ملک کے اور کئی مقامات پر ان کی حکومت کے اثار ابھی تک باقی ہیں‌ ، آج بھی اور آج کے دن کے حوالے سے بھی مغل بادشاہ اکبراسلامی تاریخ میں بہت زیادہ اہمیت رکھتی ہے، مورخین کے مطابق آج کے دن 5 نومبر 1556 کو اسی شہنشاہ اکبر نے مغل سلطنت کا باقاعدہ کنٹرول سنبھال لیا

  • "زندگی تین دہائیاں قبل، جدت یا کچھ اور” تحریر: محمد حمزہ حیدر

    آج ارادہ کیا کہ تین دہائیوں پہلے کی زندگی پر ایک نظر ڈالیں تو بیٹھا لکھنے ورنہ پہلے سستی رہی ہے ایسے کاموں میں.
    تو جی بات کچھ یوں ہے کہ "جدت” لفظ بڑا ظالم و تکلیف دہ ہے. جدت ہمارے نظریات اور روایات کا قاتل ہے. اسی جدت کے پیچھے لگ کر ہم اپنا آپ کھو چکے.
    تین دہائیوں قبل جب انسان صحیح معنوں میں انسان تھا تو زندگی بڑی پر مسرت اور شیریں ہوا کرتی تھی. لوگ ملنسار، اعلیٰ اخلاق و روایات کے مالک تھے. ہمدردی اور نیک سیرتی کی مثال آج انکی نسبت ناپید ہے. ان جیسا اخلاص، ان جیسی شفقت اور ان جیسا احساس آج شاید ہی کسی کو دکھے وگرنہ یہ ناپید ہے. لوگ چاہے شہری تھے یا دیہاتی لیکن وہ ایک مکمل اور بہترین زندگی گزارتے تھے ایکدوسرے کے دکھ سکھ اور شادی یا وفات کے وقت ان کے سانجھی ہوتے گویا انہی کے گھر کے باسی ہوں. اسی طرح رہنے کو اپنے لیے ترقی اور خوشحالی گردانتے تھے. ان میں کوئی لالچ اور ہوس نہ تھی. الغرض ایک بہترین معاشرت کی تصویر تھے.
    وقت پر لگا کر اڑا اور تیزی سے اڑتا چلا گیا، چونکہ وقت نے تو سفر کرتے رہنے ہے اور رکنا صرف اس مالک کے حکم سے ہے، لوگوں میں بدلاؤ آنا شروع ہوگیا لوگوں نے اپنا اقدار بدل لیا اور رہن سہن میں بدلاؤ آیا، لوگ سٹیٹس کی دوڑ میں شامل ہوگئے. پرانے لوگوں کے طریقوں کو تنگ نظری اور گھٹن زدہ قرار دیا. ان سے ہر ممکن کوشش کر کے جان چھڑانے لگے. ایکدوسرے سے ملنا ملانا تو دور دیکھنے کا وقت ختم ہوگیا. زندگی کے طور اطوار یکسر بدل گئے. حالات بدلے تو لوگ بدلے لوگ بدلے تو تہذیب بدلی یوں پورا معاشرہ بدل گیا.
    گزشتہ تین دہائیوں کو دیکھیں تو آج کا یہ دور مادیت پرستی اور خود پسندی کا دور لگتا ہے جہاں ہر شخص گویا میراتھن ریس میں ہو اور اپنی تمام تر توانائیاں بروئے کار لا کر ایک پرسکون روح و جسم کی بجائے ایک مشین کی مانند ہو جائے اور ایک ایسی دوڑ جس کا کوئی دوسرا سرا نہیں اس میں شامل ہو. یہ جانتے ہوئے کہ کچھ باقی نہیں بعد میں یہ کچھ میرا نہیں رہنا.
    گزشتہ دور کو جتنا پڑھا اور سنا تو اس کو ایک انمول اور مکمل پرسکون معاشرہ پایا. اب جب بھی کبھی اس پر سوچتا ہوں تو بس یہی سوچتا ہوں کہ آج میں اور اُس وقت میں صرف تین دہائیوں کا ہی تو فرق اور وقفہ ہے.
    ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت
      احساس مروت کو کچل دیتے ہیں آلات

  • ملکہ چیونٹی کی عمر کتنی ہوتی ہے،ماہرین نے بتادیا

    لندن :ملکہ چیونٹی تمام حشرات الارض میں سب سے لمبی عمر پاتی ہے اور خاندان میں نر و مادہ کی موجودگی کے باوجود تولید کام بھی صرف ملکہ چیونٹی ہی کرتی ہے۔کیا آپ نے کبھی چیونٹیوں کی قطار کو بغور دیکھا ہے؟ ایک سیدھی قطار میں ایک کے پیچھے ایک چلتی ہوئی یہ چیونٹیاں بظاہر بہت منظم معلوم ہوتی ہیں، لیکن اس کے علاوہ بھی یہ اپنے اندر بہت سی خصوصیات رکھتی ہیں۔

    کراچی کے رہائشی گیارہ سالہ ایماز کا نام گینیز بک آف ورلڈ میں درج کیسے ہوا؟

    غیر ملکی ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق چیونٹیوں میں بھی خاندان ہوتے ہیں اور ہر خاندان کی ایک ملکہ چیونٹی ہوتی جو پورے 30 برس تک زندہ رہتی ہے۔کیا آپ جانتے ہیں دنیا بھر میں پائے جانے والے حشرات الارض میں ملکہ چیونٹی کی عمر سب سے زیادہ ہوتی ہے۔

    فاسٹ باؤلر جنید خان پر جرمانہ عائد ، کیوں ہوا؟ جانیئے اس خبر میں‌

    آئی سیک آن لائن کی تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کیڑے کا خاندان ہزاروں چیونٹیوں پر مشتمل ہوتا ہے جس میں نر و مادہ چیونٹیاں بھی موجود ہوتی ہیں لیکن تولید کا کام صرف ملکہ چیونٹی ہی کرتی ہے اس کے سوا کوئی تولید کا کام انجام نہیں دے سکتا۔

    پنجاب کے 6 اضلاع میں کیا ہونے جارہا ہے، ترجمان نے بتا دیا

    چیونٹی آپ کے باس سے بہتر مینیجر ثابت ہوسکتی ہے،تحقیقی رپورٹ کے مطابق خاندان میں مختلف شک و رنگ و روپ کی چیونٹیاں موجود ہوتی ہیں اور تمام ہی ملکہ کے حکم کی تابع ہوتی ہے۔رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اگر چیونٹیوں کے کسی خاندان کی ملکہ چیونٹی مر جائے تو شہد کی مکھیوں کی طرح یہ کسی دوسرے چیونٹی کو اپنی ملکہ نہیں بناتی بلکہ دوسری کالونیوں میں بس جاتی ہیں