Baaghi TV

Category: بلاگ

  • 2-نومبر کو عالم اسلام کے سلطان کی پیدائش نے خطے کا نقشہ ہی بدل دیا ،

    غزنی :تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے ، آج دنیا کی تاریخ میں میں 2 نومبر2019 کا دن ہے، اور آج سے تقریبا ایک ہزارسال قبل عالم اسلام کی ایک ممتاز ایک تاریخ بدلنے والے اور رقم کرنے والی شخصیت پیداہوائی اس شخصیت کا نام ہے سلطان محمود غزنوی ، مورخین کے مطابق سلطان محمود غزنوی دو نومبر 971ء کو افغانستان کے شہرغزنی میں پیدا ہوئے

    ریڑھ کی ہڈی…از…حامد المجید

    سلطان محمود غزنوی جن کا مکمل نام یمین الدولہ ابو القاسم محمود ابن سبکتگین ہے اور جنہیں المعروف محمود غزنوی کے نام سے تاریخ میں یاد کیا جاتاہے 997ء سے اپنی وفات تک سلطنت غزنویہ کا حکمران تھے۔ وه دسویں صدی عیسوی میں غزنی کے مسلمان بہادر ، محب رسول اللہ صلی الله علیہ وآلہ وسلم بادشاه گزرے هیں

    آج کا انسان…… از….نعیم شہزاد

    سلطان محمود غزنوی نے غزنی شہر کو دنیا کے دولت مند ترین شہروں میں تبدیل کردیا اور اس کی وسیع سلطنت میں موجودہ مکمل افغانستان، ایران اور پاکستان کے کئی حصے اور شمال مغربی بھارت شامل تھا۔ وہ تاریخ اسلامیہ کے پہلے حکمران تھے جنہوں نے سلطان کا لقب اختیار کیا۔

    پنجاب کے سکولوں میں کون سی مہم شروع ہونی والی ہے،سیکرٹری ایجوکیشن نے بتاددیا

    وہ پہلے مسلمان حکمران تھے جنہوں نے ہندوستان پر 22 حملے کئے اور ہر حملے میں فتح حاصل کی ۔اس عظیم مجاہد کے گھوڑوں کی ٹاپوں سے ہندوستان کے بت کدے لرز اٹھتے تھے ۔ اسلامی تاریخ میں سلطان محمود غزنوی کو برصغیر پاک وہند میں اسلام کا داعی حکمران کے طور پر یاد کیا جاتا ہے

  • دور حاضر کے مسائل اور علماءکرام کے احسانات…از…, بنت طاہر قریشی

    دور حاضر کے مسائل اور علماءکرام کے احسانات

    علماءکرام امت مسلمہ کے لئے اللہ رب العزت کا نہایت ہی عظیم انعام ہیں۔
    ہر دور میں یہی رجال عظیم تھے جنہوں نے امت مسلمہ کی راہنمائی اور انکو راہ راست پر رکھنے کا مقدس فریضہ انجام دیا اور اب اس دور پر فتن اور پرآشوب میں بھی تمام مخالفتوں، تمام دشنام طرازیوں اور باطل فرقوں کی مسلسل سازشوں کے باوجود بھی اپنے اس مقدس فریضے کی انجام دہی میں صرف رضائے الہی کے خاطر ہمہ تن مشغول ہیں۔
    حضورﷺ کے بعد دین کی ترویج اور دین اسلام کے تمام احکامات کو اصل حالت میں برقرار رکھنے اور اس امانت کو ہم تک بالکل صحیح صحیح پہنچانے کا سبب بھی یہی علمائے کرام ہیں۔
    تصور تو کیجئے ۔۔۔!
    اگر ہمارے علمائے کرام بھی بنی اسرائیل کے اکثر علماءکی طرح دولت کے لالچ میں گرفتار ہوجاتے اور اللہ رب العزت کے صریح احکامات میں اپنی من پسند تحریفات کرتے تو کیا آج ہمارے پاس اتنا کامل اور مکمل دین ہوتا؟ یقینا آپکا جواب “نہیں”ہوگا اور ہونا بھی چاہئیے۔
    امت محمدیہ ﷺ پر اس امت کے علماء حق کا احسان عظیم ہے کہ انہوں نے اپنی گردنیں تو کٹادیں، قیدوبند کی صعوبتیں تو برداشت کرلیں مگر دین اسلام کے کسی صریح حکم میں کوئی تبدیلی یا تحریف نہ ہونے دی۔
    امام احمد بن حنبل ؒ کی مثال لیجئے “عقیدہ خلق قرآن” جیسے کتنے بڑے اور عظیم فتنے کے سامنے تن تنہا سینہ سپر ہوگئے، اذیت ناک قید کاٹی، سرعام کوڑے لگائے جاتے، کمر سے خون کے فوارے جاری ہوجاتے، مگر حق سے ایک انچ سرکنے پر آمادہ نہ ہوئے آپکی اسی لازوال قربانی کی وجہ سے امت مسلمہ ایک عظیم فتنے سے محفوظ ہوئی۔
    زیادہ دور نہ جائیں، وطن عزیز کے علمائے کرام کی ہی مثال لیجئے، تخم برطانیہ کے ناجائز خودکاشت پودے ” قادیانیوں”نے وطن عزیز میں اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کرنی چاہی، بڑی ہی مکاری اور چالاکی سے خود کو مسلمان ثابت کرنا چاہا مگر علمائے کرام نے انکے مذموم اور ناپاک عزائم کو کامیاب نا ہونے دیا، ملک گیر تحریکیں چلائی گئیں، قادیانیوں کے دونوں گروہوں کو پارلیمنٹ میں ہونے والے مناظرے میں عبرتناک شکست دی اور بالآخر کئی سالوں کی جدوجہد کے بعد قادیانیوں کو نا صرف غیر مسلم قرار دلوایا بلکہ پاکستان میں انکی تمام مذہبی سرگرمیوں پر پابندی لگاکر انکی اہم عہدوں اور اداروں میں تعیناتی ختم کردی گئی۔
    اگر اس وقت علماء کرام یہ عظیم کام سرانجام نہ دیتے تو میں حلفیہ کہتی ہوں کہ میرا پاکستان آج ان ناپاک قادیانیوں کے ہاتھوں کا کھلونا ہوتا۔
    تو میرے عزیزو! علماء کی قدر کیجیے، ان کو طنزو تشنیع کا نشانہ نہ بنائیے، اپنے دل سے علماء کرام کا بغض ختم کیجئے۔
    اللہ کے رسولﷺ کا فرمان ہے:
    “جب میری امت اپنے علماء سے بغض رکھنے لگے گی اور بازاروں کی عمارتوں کو بلند اور غالب کرنے لگے گی تو اللہ تبارک وتعالیٰ ان پر چار قسم کے عذاب مسلط فرمادیں گے۔
    ①قحط سالی ہوگی
    ②حاکم وقت کی طرف سے مظالم ہوں گے۔
    ③حکام خیانت کرنے لگیں گے۔
    ④دشمنوں کے پےدرپے حملے ہوں گے (حاکم) “
    غور کیجئے ان میں کونسا ایسا عذاب ہے جو آج امت مسلمہ پر مسلط نہیں ہے؟
    لیکن اسکے باوجود ہم اُن افعال پر تائب نہیں ہورہے، جو ان عذابات کا موجب ہیں۔
    ایک اور حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے:
    “جس نے کسی عالم کو ایذاء دی اس نے اللہ کے نبیﷺ کو ایذاء دی”
    اسلئے خدارا!
    علماء سے نفرت و عداوت ختم کیجئے، ان سے عقیدت و محبت کا تعلق استوار کیجئے، یہ محبت اور تعلق دنیا میں تو سود مند ہوگا ہی، ان شاءاللہ آخرت میں بھی “ألمرء مع أحب”کے مصداق علماء کرام کی ہم نشینی کے شرف عظیم کے حصول کا باعث بن جائے گا۔
    از قلم:
    عائشہ طاہر

  • ریڑھ کی ہڈی…از…حامد المجید

    ریڑھ کی ہڈی
    باد سحر کے ٹھنڈے جھونکے اس کے دل میں مرجھائے سکون کے گلوں کو تازہ دم کرنے کی سعی میں تھے۔۔۔
    مگر حیدر کے دل پہ چھائی بے چینی بڑھتی ہی جارہی تھی۔۔
    "کیا! میری بات اثر کرے گی یا وہ ویسا ہی رہے گا۔۔۔اگر وہ نہ سمجھا تو” پریشانی و اداسی نے اس کے وجود پہ مکمل طور پہ قبضہ جما لیا تھا۔۔
    چند دن پہلے سوچ کے جو پنچھی خیالات کی شاخوں پہ اٹکھیلیاں کررہے تھے اب سہمے بیٹھے تھے۔۔۔
    "خیال” اسے اپنے ساتھ پھر اسی جگہ لے گیا جہاں سے بے چینی کا آغاز ہوا تھا۔۔۔۔
    صفوان سے حیدر کی ملاقات کل یونیورسٹی سے واپس آتے ہوئے بس میں ہوئی تھی۔۔
    حیدر کے ساتھ بیٹھتے ہی اس نے ایسے سلام کیا جیسے وہ بہت عرصے سے ایک دوسرے کو جانتے ہوں۔۔۔
    حیدر نے اس کے سلام کا جواب دیتے ہوئے ایک سرسری سی نظر اس کے چہرے پہ ڈالی جہاں اطمینان کے بادل سایہ فگن تھے وہ اپنی توجہ ہٹانا چاہتا تھا پر نظریں اس کے چہرے پہ رک گئیں۔۔
    صفوان بیگ جھولی میں رکھ کہ اب موبائل پہ مشغول ہوگیا تھا۔۔۔
    اس کی انگلیاں بڑی تیزی سے موبائل کی پیڈ پہ رقص کناں تھیں اور چہرے پہ ہلکی ہلکی مسکراہٹ پھیل رہی تھی۔۔۔
    "کیا کرتے ہیں آپ!” صفوان نے ایک نظر حیدر پہ ڈالتے ہوئے پوچھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
    "میں ماسٹرز کررہا ہوں” واااہ پھر تو ہم دونوں کی ایک ہی منزل ہے صفوان نے کہا اور پھر موبائل کی طرف متوجہ ہوگیاا۔۔۔
    کافی دیر دیکھنے کے بعد حیدر نے حیرت سے اسے پوچھا "کیا لکھ رہے ہیں آپ؟”
    "میں تحریر لکھ رہا ہوں” صفوان نے جواب دیا۔۔
    اچھا تو آپ ماشاءاللہ لکھاری ہیں۔۔
    جی میں سوشل میڈیا کی دنیا کا ایک اچھا لکھاری ہوں۔۔
    "واااااہ کیا ہم آپ کی تحریر سے مستفید ہوسکتے ہیں”۔
    "جی کیوں نہیں! صفوان نے اپنا موبائل حیدر کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔۔
    "آپ واقعی ہی اچھے قلمکار ہیں اور خوب لکھتے ہیں پر مجھے آپکی یہ تحریر پسند نہیں آئی” حیدر نے کچھ دیر پڑھنے کے بعد کہا۔۔
    صفوان کے چہرے سے اطمینان اچانک سے غائب ہوگیا۔۔
    اچھا تو اپ کو اس میں کیا کمی لگی۔
    "چلیں بتائیں تو میری تحریر کی کون سی بات آپکو پسند نہیں آئی”۔۔
    صفوان نے بڑے تحمل سے پوچھا۔۔
    بھائی اصل میں بات یہ ہے کہ جو ہمارے محافظ ہیں ہمیں ان کا پشت بان بننا چاہیے نا کہ کسی کی باتوں میں آکہ ان کی پشت میں چھرا گھوپنا چاہیے۔۔
    حیدر نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا۔۔
    "میں آپ کی بات سمجھا نہیں آپ کیا کہنا چاہ رہے ہیں”۔۔
    آپ کی تحریر میں بجائے دشمن عناصر کو نشانہ بنانے کے محافظوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔۔
    صفوان نے ناگواری کا اظہار کرتے ہوئے کہا تو پھر اس میں کوئی جھوٹ تو نہیں ہے اور تخلیق کار سچ ہی لکھتا ہے اور اسے لکھنے میں بالکل نہیں گھبراتا۔۔
    تو آپ سچ لکھیں نا لوگوں کی باتوں میں آ کہ اپنے قلم و قرطاس کو بے مقصد نہ بنائیں۔۔
    حیدر کی باتوں سے اس کے ماتھے پہ سلوٹیں ابھر آئی تھیں” تو آپ کہنا کیا چاہتے ہیں”
    "گرمیوں کی تپتی دوپہر اور سردیوں کی یخ بستہ راتوں میں سرحد پہ کھڑا محافظ ہمہ تن ہماری حفاظت پہ مامور ہے اور ہم انہی کے ہی دشمن بنے ہوئے ہیں آپ ایک اچھے تخلیق کار ہیں اور تب تک ہی اچھے ہیں جب آپ اچھائی اور بُرائی کی تمیز کرتے ہوئے لکھیں گے”
    حیدر کی باتیں اس کے دل میں کچھ روشنی پھیلا رہی تھی۔۔
    "آپ اپنے قلم کا سہی استعمال کریں”
    حیدر نے چہرے پہ مسکان سجائے اسے بڑے پیار سے کہا۔۔
    صفوان ابھی کچھ کہنے ہی لگا تھا کہ موبائل کی رنگ ٹون بجنے لگی اس نے فون کان کے ساتھ لگایا اور حیدر کو کچھ اشارہ کرنے لگا حیدر نے اسے اپنا موبائل تھمایا جس پہ اس نے نمبر لکھا اور حیدر کو واپس پکڑا دیا۔۔۔
    صفوان اب اترنے کی تیاری کر رہا تھا شاید اس کا سٹاپ آگیا تھا حیدر کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے اس نے سلام کیا اور آگے بڑھ گیا۔۔
    حیدر کی نظریں اسی کے پیچھے تھی اور دیکھتے دیکھتے وہ منظر سے غائب ہوگیا۔۔
    حیدر نے موبائل پہ لکھا ہوا نمبر سیو کیا اور اسے میسج کردیا "آپ کے جواب کا انتظار رہے گا”۔۔
    گھر پہنچنے کے بعد بھی وہ اس کے رپلائی کا انتظار کرتا رہا پر کوئی پیغام موصول نہیں ہوا۔۔
    وہ اب بھی صبح سے صحن میں بیٹھے بے چینی کا شکار تھا کہ اچانک موبائل کی ٹیون بجی اس نے جیسے ہی دیکھا ساری کی ساری بے چینی کافور ہوگئی اس کے خیالات کے سہمے پنچھی پھر سے اٹکھیلیاں کرنے لگے۔۔۔۔
    اسے پڑھ کہ خوشی ہوئی کہ ایک قلمکار کی اصلاح ہوئی۔۔
    "میں ریڑھ کی ہڈی بنوں گا نہ کہ کسی کے ہاتھوں کا کھلونا”

    ریڑھ کی ہڈی…از…حامد المجید

  • آج کا انسان…… از….نعیم شہزاد

    آج کا انسان

    آج جب زندگی تیز ہو چکی ہے اور لوگوں کے پاس ایک دوسرے کے لئے وقت نہیں رہا تو مجھے اقبال کا یہ شعر یاد آتا ہے

    ہے دل کیلئے موت مشینوں کی حکومت
    احساس مروت کو کچل دیتے ہیں آلات

    بچپن میں صرف فیکٹری کی مشینوں اور آلات کا تصور تھا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مجھ پر یہ بات عیاں ہوئی کہ چھوٹی سے چھوٹی چیز جیساکہ موبائل فون کا تعلق بھی ایسے ہی آلات سے ہے جو انسان کو ایک دوسرے سے دور لے جا رہے ہیں آج اگر کسی کا انتقال ہو جائے تو ہم محض چند لمحات کے لیے ظاہری طور پر سوگوار نظر آتے ہیں اور بعد میں پھر وہی زندگی کے اشغال میں مصروف، ایسا کیوں ہے؟

    اگر ہم کسی کے جنازے میں جاتے ہیں تو وہ بھی صرف اظہار تعزیت کے لیے لئے نہ کہ خوشنودی رب کے لیے؟ آج ہم لوگ ایک دوسرے سے دور کیوں ہو رہے ہیں ؟ حالانکہ اسلامی معاشرہ تو وہ ہے کہ جس کے متعلق اقبال رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں

    اخوت اس کو کہتے ہیں چبھے کانٹا جو کابل میں تو ہندوستان کا ہر پیرو جواں بے تاب ہو جائے

    آج ہم اس شعر کا مصداق کیوں نہیں ہیں ؟ اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ ہم دین محمدی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) سے دور ہوتے جارہے ہیں ہم کیوں نہیں قرآن و حدیث پر عمل کرتے؟ تو اس کا جواب ہے ٹیکنالوجی پر وقت کا ضیاں!
    جی ہاں بہت سے لوگ میری اس بات کو پر توجہ نہیں دیں گے لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ ہم موبائل فون ٹیلی ویژن کمپیوٹر اور اس طرح کی دیگر چیزوں میں اتنا مصروف ہو چکے ہیں کہ ہمارے پاس ماں باپ بہن بھائی اور دوست جیسے عظیم رشتوں کے لیے کوئی وقت بچا ہی نہیں آج اگر دوستی کی بات کی جائے تو لوگ اپنے مفادات کی خاطر دوسروں کو دھوکا دینے میں مصروف ہیں

    میں خود لپٹ گیا تھا جسے دوست جان کر
    وہ سانپ کی طرح مجھے ڈستا چلا گیا

    اب یہ بات بھی نہیں کی ان چیزوں کا استعمال سرے سے ہی غلط ہے لیکن

    Excess of everything is bad.

    یعنی ایک حد تک ان کا استعمال درست ہے مگر جب ہم اس حد کو پار کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ہمیں ایسے نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کی تلافی بہت مشکل ہوتی ہے اور بعض اوقات ناممکن ہمیں اس بات کا ادراق یونا چاہئیے
    قارئین کرام ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم نوجوان نسل کو یہ بات سمجھائیں تاکہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو اس ناسور سے بچاسکیں۔

    انداز بیاں گر چہ بہت شوخ نہیں ہے
    شاید کہ اتر جائے ترے دل میں میری بات

    آج کا انسان…… از….نعیم شہزاد

  • "کشمیری خصوصی حیثیت کا باضابطہ خاتمہ اور پاکستانی قوم کا اضطراب” تحریر:  محمد عبداللہ

    "کشمیری خصوصی حیثیت کا باضابطہ خاتمہ اور پاکستانی قوم کا اضطراب” تحریر: محمد عبداللہ

    ہم نے پہلے بھی اس موضوع پر تفصیل سے لکھا تھا ابھی پھر بتائے دیتے ہیں کہ یہ بات حقیقت ہے کہ یہ بہت بڑا سانحہ ہے کہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کو آج باضابطہ طور پر ختم کردیا گیا ہے اور کشمیر کو دو یونٹس کشمیر اور لداخ میں تقسیم کردیا گیا ہے. اس پر ہمارے لوگ بہت ہی افسردہ ہیں اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ ان کا افسردہ ہونا بنتا ہے لیکن افسردگی، غم و غصے اور مایوسی میں فرق ہونا چاہیے ایسے نہیں ہے کہ کشمیر بھارت کا حصہ بن گیا ہے اور وہاں کی حریت قیادت نے یا عوام نے اس فیصلے کو تسلیم کرلیا ہے.

    "کشمیر میں بھارت کی نئی پیش رفت اور محبان کشمیر میں غم و فکر کی لہر” تحریر: محمد عبداللہ

    دیکھیں کشمیر پر بھارت کا قبضہ کوئی پچھلے 87 روز سے نہیں ہوا بلکہ ستر سال سے جاری ہے تو کیا کبھی آزادانہ ترنگا لہرا پایا بھارت کشمیر کے کسی بھی علاقے میں؟ کیا جموں و کشمیر کی عوام نے بھارت کے اس قبضے کو تسلیم کیا؟ کیا انہوں نے بھارتی مراعات اور پیکجزو آفرز کو قبول کیا ہو؟ جب ماضی میں ایسا کچھ نہیں ہوا اور کشمیری ڈٹے رہے اور سبز ہلالی پرچم کو لہراتے رہے تو یاد رکھیں کشمیر میں کل بھی سبز ہلالی لہراتا تھا اور آئندہ بھی سبز ہلالی ہی لہرائے گا ان شاءاللہ، بھارتی ترنگے کے لیے نہ کل کشمیر میں جگہ تھی نہ آج ہے اور نہ ہی آئندہ کبھی جگہ ہوگی. سر دست مسئلہ یہ ہے بھارت نے اس ساری بدمعاشی کے لیے وقت چنا ہے وہ کشمیریوں کے وکیل پاکستان کے لیے مشکل ترین وقت ہے. اندرونی خلفشار سب کے سامنے ہے کہ مسئلہ کشمیر پر جو بچی کچھی بات اور سفارتی اور عالمی سطح پر جو کوششیں ہو رہی تھیں وہ بھی گرفتاریوں، رہائیوں، دھرنوں اور نام نہاد آزادی کے مارچوں کی نظر ہوگئیں اور مسئلہ کشمیر بیک فٹ پر چلا گیا.

    "علی گڑھ یونی ورسٹی کا اسکالر اور مجاہدین کا کمانڈر” تحریر: محمد عبداللہ

    دوسرا بہت بڑا ایشو ان حالات میں پاکستان کی بدخال معیشت ہے اتنے تنگ معاشی اور سیاسی ابتری کے حالات میں آپ کوئی بڑا قدم نہیں اٹھا سکتے. تیسری بات کہ امریکہ کی اس خطے میں موجودگی سے بھارت نے فائدہ اٹھایا کہ جب تک امریکہ یہاں ہے اسی ٹائم کے اندر اندر یہ فیصلہ لے لو وگرنہ امریکہ کے جانے کے بعد تو بھارت کو دہلی کے لالے پڑے ہونگے، تیسری اور سب سے اہم چیز جو پاکستان کا سب سے اہم ہتھیار تھا وہ ایف اے ٹی ایف کی جکڑ بندیوں کی وجہ سے مکمل طور پر بند ہے کوئی سلسلہ ایسا نہیں جو پاکستان شروع کرسکتا ہو. پاکستان کے لیے یہ نہایت کٹھن دن ہیں اور بھارت نے انہی دنوں کا انتخاب کرکے کشمیر پر اپنے قبضے کو مستحکم کرکے اپنے اندر ضم کرنا چاہا ہے لیکن یہ اتنا آسان نہیں ہوگا یہ کشمیر نہ نگلا جائے گا اور نہ اگلا جائے بھارت اور بالآخر یہ ممبئی سے شملہ تک پھیلا بھارت ٹکڑوں اور حصوں میں بٹے گا. منی پورہ کی آزادی کی اعلان ہوچکا، خالصتان موومٹ تیزی سے جاری ہے اور کرتارپور کوریڈور اس میں نہایت اہم سنگ میل ہے.

    مقبوضہ کشمیر میں مسلسل کرفیو سے بیرون ممالک کشمیریوں کی زندگی کیسے اجیرن ہوگئی ہے!!! تحریر: محمد عبداللہ

    ہمارے اینڈ سے ہونا چاہیے کہ مایوس نہ ہوں اور ڈٹے رہیں مسلسل آواز بلند کرتے رہیں اور جو قوتیں اور گماشتے کشمیر ایشو سے دنیا کی توجہ ہٹانا چاہتے ہیں ان کو کامیاب نہ ہونے دیں. جب کشمیر کی حریت قیادت پاکستان کی مجبوریوں کو سمجھتی ہے اور پاکستان پر اعتماد کرتی ہے تو پاکستان کا جذباتی نوجوان کیوں نہیں سمجھتا. ہاں یہ بات حقیقت ہے کہ یہ ایمانی اور عقیدے کی کمزوریاں ہی ہیں جو ہم زمینی حقائق کی بات کرکے دلاسے دیتے اور دلاتے ہیں اگر دل ایمان سے بھرپور ہوں تو ابابیلیں بھی ہاتھیوں کو شکست دیتی ہیں اللہ کی مدد سے.
    ہمارے اداروں کو بھی یہ بات سمجھنی چاہیے کہ اتنے نازک اور سنجیدہ حالات میں جب غیر سنجیدگی اور لاپرواہی دکھائی جاتی ہے شمشیر و سناں پر طاؤس و رباب کو ترجیح دی جاتی ہے تو قوم کا غصہ فطری ہے.

    <img src=”https://login.baaghitv.com/wp-content/uploads/2019/10/IMG_20191031_133721-271×300.jpg” alt=”محمد عبداللہ” width=”271″ height=”300″ class=”size-medium wp-image-112485″ /> محمد عبداللہ

  • "افواج پاکستان عوام کی محافظ یا چوکیدار” تحریر: غنی محمود قصوری

    "افواج پاکستان عوام کی محافظ یا چوکیدار” تحریر: غنی محمود قصوری

    ہماری ہاں فوج مخالف لوگوں کی طرف سے فوج پر ایک جملہ ،چوکیدار بہت کسا جاتا ہے جب کسی کو کوئی دلیل نا ملے تو فوری جملہ داغتا ہے کہ جی فوج تو چوکیدار ہے فوج کا کیا کام ملکی معاملات اور سیاست میں سب سے پہلے تو میں ان لوگوں کو بتاءونگا گا کہ چوکیدار کو جو تنخواہ دی جاتی ہے وی اپنی آمدن سے بلکل کم دی جاتی ہے جیسا کہ آجکل ہمارے معاشرے میں عمومی طور پر 15000 سے 30000 ہزار روپیہ چوکیدار کو دیا جاتا ہے جبکہ آپ کی آمدن اور بچت لاکھوں روپیہ ہوتی ہے مگر حیرت ہے فوج کو چوکیدار کہنے والوں پر کہ ایک طرف تو اسے چوکیدار کہہ رہے ہوتے ہیں مگر دوسری جانب اسی چوکیدار کی شکایت بھی کرتے ہیں کہ 80 فیصد ہماری فوج یعنی چوکیدار کھا رہا ہے اب بھلا کوئی ذی ہوش شحض خیسے مان سکتا ہے کہ کوئی ہو بھی چوکیدار اور آپ کی آمدن کا 80 فیصد بطور تنخواہ بھی لے رہا ہو یقینا یہ بہت کم عقلی والی بات ہے جوکہ ہماری تمام سیاسی پارٹیوں کی طرف سے بطور افواہ پھلائی گئی ہے آپ اس سال بجٹ کا ریکارڈ چیک کر لیں تو آنکھیں کھل جائینگی کہ فوج کتنے فیصد لے رہی ہے
    حالانکہ بجٹ میں ہر ادارے اور صوبے کو ملنے والی رقم کا حساب ہوتا ہے مگر پھر بھی لوگ بجٹ کی جمع تفریق نہیں کرتے بلکہ رٹی رٹائی باتیں ازبر کرتے چلے جاتے ہیں یقینا اس قسم کی باتیں کرنے والے لوگ حد درجہ جھوٹے ہیں جن کی اپنی بات میں بھی وزن نہیں جو 80 فیصد کا بہتان لگا کر چوکیدار کا لقب دے رہے ہیں اور ان کی بجٹ کی جمع تفریق سے ثابت ہوا کہ وہ جھوٹے ہیں اور جھوٹے لوگ کسی کو چوکیدار کہیں یاں کچھ اور ان کی بات مانی نہیں جا سکتی
    یقینا فوج بھی دوسرے اداروں کی طرح ایک ادارہ ہے اور اس کے اندر بھی انسان ہی ہیں اور انسان خطا کا پتلا ہے میں کوئی مقدس گائے نہیں مانتا فوج کو مگر دنیا جانتی ہے فوج اور سول اداروں کی سزاءوں کو جب کوئی سول ادارے کا اہلکار غلطی کرتے پکڑا جاتا ہے اسے معطل کر دیا جاتا ہے مگر فوج میں ایسا نہیں غلطی ثابت ہونے پر کورٹ مارشل کر دیا جاتا ہے پینشن جی پی فنڈ ختم ہونے کیساتھ پوری زندگی کورٹ مارشل شد فوجی کوئی بھی سرکاری نوکری نہیں کر سکتا اور جب تک کورٹ مارشل مکمل نا ہو جیل سے چھٹی نہیں ملتی جبکہ سول اداروں کے لوگ ضمانت اور قبل از ضمانت کروا لیتے ہیں
    اس کے علاوہ مذید کہتے ہیں کہ جی فوج کرتی کیا ہے مفت کی تنخواہ لیتی ہے تو ان سے میرے چند سوال ہیں کہ 1948 میں آزاد کشمیر کو ہندو کے چنگل سے اپنے غیور قبائلیوں کیساتھ مل کر کس نے آزاد کروایا تھا فوج نے یاں کسی سیاستدان نے ؟
    1965 کی پاک بھارت جنگ میں دشمن کو ناکو چنے کس نے چبوائے اور ملک کا دفاع کس نے کیا تھا فوج نے یاں کسی غیرت مند سیاستدان نے ؟
    1967 اور پھر 1973 کی عرب اسرائیل جنگ میں جب سارے عرب ملک عملی طور پر اسرائیل کے قبضے میں چلے گئے تھے اور پوری دنیا اسرائیل کو سپر پاور تسلیم کرنے کے قریب تھی تب اس وقت پاکستانی ائیر فورس نے تل ابیب کا خاک غرور میں ملایا پاک ائیر فورس کے جوانوں نے اپنی جانیں تو دے دیں مگر اسرائیل کا ایٹمی پاور پلانٹ تباہ کرکے تمام عرب ملکوں کو اسرائیل کے قبضے سے آزاد کروایا تو اس وقت کونسا غیرت مند سیاستدان پاکستان سے جنگی جہاز اڑا کے تل ابیب کو تباہ کرنے گیا تھا؟
    1971 میں انڈیا کیساتھ مل کر اقتدار کی خاطر پاکستان کے دو ٹکڑے کرنے کیلئے مسلح فورس،مکتی باہنی کس نے بنائی تھی اور باوجود اسلحہ کی کمی کی بدولت لڑائی کس نے کی تھی ہندوستانی فوج سے اور پھر دشمن کی قید کس نے کاٹی تھی کیا کوئی سیاستدان انڈین جیلوں میں قید رہا ؟
    1980 کی دہائی میں جب سپر پاوری کی طاقت کے نشے میں چور روس افغانیوں پر چڑھ دوڑا تو اس وقت افغانیوں کو کونسے سیاستدان نے ٹریننگ دی کے تم ہمارے مسلمان بھائی ہو اپنا دفاع کرو ؟
    1999 میں کارگل پر قبضہ کرکے انڈیا کی طرف سے کشمیر جانے والا راستہ پاک فوج نے بند کر دیا جس کے پیش نظر مقبوضہ وادی کشمیر میں ہندوستانی فوج بھوکوں مرنے کے قریب تھی جس کا اقرار خود سابق آرمی چیف ٹی وی پر کر چکا بھلا اس وقت یونائیٹڈ نیشن کے تلوے چاٹنے کوئی فوجی گیا تھا کہ سیاستدان ؟ دنیا جانتی ہے اس وقت کا حکمران یونائیٹڈ نیشن کے حکم کی پیروی نا کرتا تو آج کشمیر بھی آزاد ہوتا بلکہ پاک فوج کے ہزاروں سپاہی اور افسران شہید نا ہوتے بھلا ان قربانیوں میں کونسا سیاستدان جس نے کارگل جا کر گولیاں چلائیں؟
    2001 میں جب امریکہ نے پتھر ئکے دور میں پہنچانے کی دھمکی دی اس وقت افغانستان کی سرحد پر فوج کے علاوہ کونسے سیاستدان نے پہرہ دیا ؟
    2008 میں بمبئی حملے ہوئے انڈیا نے الزام پاکستان پر لگایا مگر وہ اس الزام کو ثابت نا کر سکا مگر ہمارا ہی ایک سیاستدان اٹھا اور شور شروع کر دیا کہ بمبئی حملے آئی ایس آئی اور ایک مذہبی جماعت نے کروائے جس کی پاداش میں پاکستان کو ایف اے ٹی ایف نے گرے لسٹ میں شامل کر دیا اور آج تک ہم اس کا خمیازہ ہمیں آج بھی بھگتنا پڑ رہا ہے لہذہ سوچئے پھر بولئے ،چوکیدار نہیں محافظ

  • شاہینوں نے آسٹریلیا الیون کو بوچھاڑ دیا

    پاکستان نے دورہ آسٹریلیا کے پہلے ٹی ٹوئنٹی پریکٹس میچ میں کرکٹ آسٹریلیا الیون کو 6 وکٹوں سے شکست دے دی۔

    بینک اسٹاؤن میں کھیلے گئے ٹی ٹوئنٹی میچ کرکٹ آسٹریلیا کے کپتان کریس لین نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کا فیصلہ کیا اور مقررہ 20 اوورز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 134 رنز بنائے۔

    گیبسن اور فریسر نے کرکٹ آسٹریلیا کی جانب سے اننگز کا آغاز کیا جو اچھا ثابت نہ ہوسکا اور ٹیم میں کم بیک کرنیوالے محمد عرفان نے پہلے ہی گیند پر گیبسن کو بولڈ کر دیا۔آسٹریلیا کی دوسری وکٹ پانچویں اوور میں گری جب کپتان کریس لین 24 رنز بنا کر وہاب ریاض کے ہاتھوں کلین بولڈ ہو گئے۔پاکستان کی جانب سے محمد عرفان نے چار اوورز میں صرف انیس رنز دیکر ایک وکٹ حاصل ک، شاداب خان نے بھی تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کی

    ہمارے کھلاڑی آسٹریلیا کو سرپرائز دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں ، مصباح الحق

    کرکٹ آسٹریلیا نے اپنے مقررہ 20 اوور میں 134 رنز بنائے، پاکستان کی جانب سے محمد عرفان نے چار اوورز میں صرف انیس رنز دیکر ایک وکٹ حاصل ک، شاداب خان نے بھی تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔
    دورے سے قبل مصباح نے کہا کہ ٹیم میں ہر کھلاڑی پروفیشنل ہوتا ہے، ہر کھلاڑی کو معلوم ہوتا ہے کہ اسے کیا پرفارمنس دینی ہے، کپتان کا کام انہیں آپریٹ کرنا ہوتا ہے، وقت کے ساتھ انسان سیکھتا ہے، ابتداء میں کپتانی کا پریشر ہوتا ہے لیکن میری ذاتی رائے یہ ہے کہ جب آپ پر ذمہ داری آتی ہے تو کئی دفعہ اس سے آپ کی کارکردگی بہتر ہوتی ہے۔ مصباح نے کہا کہ بابراعظم ٹی ٹوئنٹی کا بہترین بیٹسمین ہے اور اگر وہ اپنی پرفارمنس برقرار رکھے گا تو اسے اپنی کپتانی میں بھی اس کا فائدہ ہوگا۔

  • "کشمیر میں بھارت کی نئی پیش رفت اور محبان کشمیر میں غم و فکر کی لہر” تحریر: محمد عبداللہ

    "کشمیر میں بھارت کی نئی پیش رفت اور محبان کشمیر میں غم و فکر کی لہر” تحریر: محمد عبداللہ

    گزشتہ روز سے کشمیر کے حوالے سے آنے والی اطلاعات کو لے کر کچھ لوگ بہت پریشان ہیں کہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو باضابطہ طور پر ختم کرکے کشمیر کو تقسیم کیا جا رہا ہے کشمیر اور لداخ کے مابین تو اس کی وجہ سے یہ ہوجائے گا وہ ہوجائے گا. دیکھیں پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ کام اسی دن ہوگیا تھا جس دن بھارت کی فاشسٹ اور متشدد حکومت نے اپنے آئین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے کشمیر کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کیا تھا اور کرفیو عائد کیا تھا. لیکن تقریباً تین ماہ کے اس کرفیو میں جب وادی میں مواصلات و رابطے کے سبھی ذریعے بند تھے اور یہاں تک کہ انٹرنیٹ سروس تک معطل تھی تو کیا بھارت وادی میں اپنے مقاصد کی تکمیل میں کامیاب ہوگیا تو اس کا جواب سو فیصد نفی میں آتا ہے. اگرچہ کشمیر کی بزرگ حریت قیادت مقید ہے لیکن تحریک آزادی کشمیر کی کمانڈ جن سرپھرے نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے ان کا اپنا مضبوط نظام ہے وہ سبھی مواصلاتی ذرائع کی بندش کے باوجود جہاں چاہتے ہیں جمع ہوتے ہیں کرفیو توڑتے ہیں بھارت سرکار کی ظالمانہ بندشوں کو چیلنج کرتے ہیں اور نکل جاتے ہیں اسی طرح تحریک آزادی کے وہ بیٹے جو بھارتی مسلح افواج سے برسر پیکار ہیں وہ بھی خاموش نہیں ہیں اگر ہم تک اطلاعات نہیں پہنچ رہیں تو یہ اور بات ہے. باقی رہی بات کشمیر کو تقسیم کرنے اور وہاں ہندو پنڈتوں کو جائدادیں دے کر آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی تو یہ بات خوش آئند نہیں ہے لیکن جب ہم افغانستان والے ایشو سے مماثلت کرتے ہیں تو دیکھتے ہیں سترہ اٹھارہ سالوں میں امریکہ ناٹو اور خود افغانی افواج کی مدد کے باوجود بھی آج اس کیفیت میں ہے کہ امارات اسلامی جب چاہتی ہے کابل کو لرزا کر رکھ دیتی ہے ماسوائے کابل کے تو بات ہی الگ ہے تو یہ صاف بات ہے وہ افغانستان ہو یا کشمیر جب بات میدانوں اور جوانوں کی آتی ہے تو پھر مدد بھی آسمانوں سے آتی ہے. اس سے سارے معاملے میں جس پر بہت زیادہ افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے اور وہ کچھ ٹھیک بھی ہے وہ ہے پاکستان کا کردار کہ وہ کیا ہے. جذباتیت سے ہٹ کر اگر ہم حقائق پر بات کریں تو عرض ہے کہ پاکستان جو اہل کشمیر کا سب سے بڑا وکیل تھا وہ فقط تقاریر اور سفارت کاری تک محدود ہے (یہی بات کشمیر کا درد رکھنے والوں کے لیے دکھ کا باعث ہے). کشمیر کے لیے اٹھنے والی آوازوں اور بڑھنے والے قدموں کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے. لیکن اس سارے معاملے میں اہل نظر لوگوں کے ہاں باعث تشویش ہے وہ یہ ہے کہ پاکستان اس وقت مکمل طور پر بے بس ہے، پاکستان کے پاس اہل کشمیر کی نصرت و مدد کا سوائے سفارتی اور اخلاقی مدد کے کوئی آپشن نہیں بچا ہے. عالمی حالات اور پاکستان پر ایف اے ٹی ایف کی صورت جکڑ بندیاں سب کے سامنے ہیں. رہی سہی کسر پاکستان کے ناعاقبت اندیش سیاست دانوں نے پوری کردی ہے. جب پاکستان اقوام عالم میں کشمیر کا مسئلہ اچھی طرح سے اٹھا رہا تھا اور دنیا کا بڑا حصہ کشمیر کی طرف متوجہ ہو رہا تھا اور دنیا کے کونے کونے سے کشمیر کے حق میں بھارت کے ظالمانہ اقدام کے خلاف آوازیں اٹھنا شروع ہوگئیں تھیں تو پاکستان میں مفاداتی سیاست کے گماشتوں نے حکومت اور میڈیا کی مکمل توجہ اپنی طرف مبذول کروا لی اور کشمیر ایشو ہمیشہ کی طرح پس پشت ڈال دینے میں کامیاب ہوگئے ہیں. تقریباً پچھلے ایک ماہ سے دھرنوں، عدالتی ریلیف، این آر او، بیماریوں کے ڈراموں نے مسئلہ کشمیر کو ذرائع ابلاغ اور سرکاری زبانوں سے مکمل طور بلیک آؤٹ کردیا ہے. جب بحثیت قوم ہی ہم مفادات کے پجاری ہیں تو پھر اہل کشمیر کے دکھ درد پر افسوس سے کیا حاصل…

  • پاسبانِ ناموس رسالت غازی علم دین شہید–از… صالح عبداللہ جتوئی

    میں اپنی بات کا آغاز شاعر رسول صل اللہ علیہ و سلم حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ کی نعت سے کروں گا جس میں انہوں نے کیا خوب انداز میں آمنہ کے لال کی شان بیان کی ہے اور گستاخان کو سختی سے تنبیہ کی ہے۔ اسکا اردو ترجمہ یہ ہے.

    "نبی کی شان اقدس پہ زبانیں جو نکالیں گے
    خدا کے حکم سے ایسی زبانیں کھینچ ڈالیں گے”
    اللہ کے نبی صل اللہ علیہ و آلہ و سلم کا فرمان ہے۔
    "کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ مجھے اپنے مال جان اور اولاد سے زیادہ محبوب نہ جان لے.”

    اس فرمان کے مطابق ہم پہ یہ لازم ہے کہ ہم محسن انسانیت صل اللہ علیہ وسلم کی حرمت کے پاسبان بنیں اور اسی میں ہماری اخروی کامیابی کا راز پنہاں ہے۔ ہر دور میں گستاخ رسول پیدا ہوۓ ہیں اور ہر دور میں وہ ذلیل وخوار ہو کے عبرت کا نشان بنے ہیں اور میرے آقا صل اللہ علیہ وسلم نے بھی گستاخان کا سر قلم کرنے کا حکم دیا ہے اللہ اور اس کے رسولﷺ کے گستاخان ملعون ہیں، جہاں بھی پائے جائیں، پکڑ لئے جائیں اور بُرے طریقے کے ساتھ ٹکڑے ٹکڑے کردیئے جائیں۔” اور آیت نمبر 62 میں پھر اسے اللہ کی سنت اور قانون قرار دیا گیا ہے یعنی توہین رسالت کے بارے قانونِ الہٰی یہی ہے کہ ایسے ناپاک ملعون لوگ بُری سزا کے حقدار اور واجب القتل ہیں۔ سورۃ الاحزاب کی آیت 56 سے لے کر آیات 62 تک کا مفہوم ومراد یہی ہے. ”کعب بن اشرف کو اس لئے قتل کیا کہ اس نے نبی کریمﷺ کے عہد کو توڑا۔ آپ ﷺ کی توہین کی اور آپ کو گالی دی اور اس کا یہ معاہدہ تھا کہ وہ آپﷺ کے خلاف کسی کی مدد نہیں کرے گا پھر وہ آپﷺ کے خلاف اہل حرب کا معاون بن گیا۔”

    محمد بن مسلمہ وغیرہ کو جب کعب کے قتل کے لئے روانہ فرمایا تو آپﷺ ان کے ہمراہ بقیع غرقد تک خود تشریف لے گئے اور اللہ کے نام پر اُنہیں روانہ کیا اور ان کے حق میں اللہ تعالیٰ سے مدد کی دعا فرمائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنا چاند پہ تھوکنے کے مترادف ہے اور یہ گٹر کے کیڑے جب گستاخی کرتے ہیں تو خوف کے مارے مسلمانوں سے چھپتے پھرتے ہیں اور زندگی و موت کی کشمکش میں مبتلا ہو جاتے ہیں.

    کیونکہ مسلمان اپنی توہین تو برداشت کر سکتے ہیں لیکن نبی کی حرمت پہ آنچ نہیں آنے دیتے صحابہ کے بعد قربان ہونیوالی شخصیت غازی علم دین ہیں جنہوں نے ہر کسی کے دل میں گھر کیا غازی علم دین 4 دسمبر 1908 میں پیدا ہوۓ ان کا تعلق ایک غریب ترکھان خاندان سے تھا اور وہ ایک دیہاڑی دار ترکھان تھے جو ہر روز اوزار لے کر کام کے لیے جاتے تھے اس دور میں ایک شخص مہاشے راجپال انڈین نے 1927 میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی اور اس نے ایک کتاب لکھی جس کا نام رنگیلا رسول تھا

    جس سے وہاں کے مسلمان بہت زیادہ مشتعل ہو گئے اور جلسے جلوس کی صورت میں باہر نکل آۓ اور ان کو کنٹرول کرنے کے لیے راج پال کو گرفتار کر لیا گیا لیکن لاہور ہائیکورٹ کے ایک جج نے راج پال کو قانونی سقم کو بنیاد بنا کر رہا کر دیا اور مسلمانوں میں محشر برپا ہو گیا اور بھاری تعداد میں مسلمان سڑکوں پہ آ گئے اور دفعہ 144 کے باوجود ایک جلسہ عام کیا جس میں اس دور کے بہت بڑے خطیب عطاء اللہ شاہ بخاری نے بہت زبردست خطاب کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوب شان بیان کی جس نے مسلمانوں کے دل میں جوش و ولولہ پیدا کر دیا ایک دن معمول کے مطابق غازی علم دین 6 ستمبر 1929 جو کام پہ جا رہا تھا تو راستے میں اس نے عطاء اللہ شاہ بخاری اور مولانا ظفر علی خان کی حرمت رسول پہ دل کو گرما دینے والی تقاریر سنی اور سَکتے میں آگئے اور اسی وقت انہوں نے دکان سے ایک چاقو خریدا۔

    وہ جلد سے جلد شاتم رسول کو جہنم کی طرف عازم سفر کرنا چاہتے تھے۔ اتنے میں راج پال دفتر پہنچ گیا اور اپنی سیٹ پر بیٹھنے ہی لگا کہ غازی علم الدین نے پتلون میں چھپا خنجر نکالا اور پلک جھپکنے سے پہلے علم الدین راج پال پر جھپٹ پڑے اور اسکے سینے پر بیٹھ کر پے درپے اس پر خنجروں کے وار کر دیے۔ اتنا عظیم معرکہ انجام دینے کے بعد علم الدین نے بھاگنے کی بالکل کوشش نہیں کی بلکہ خود کو ملازموں کے حوالے کر دیا اور ملازموں نے پولیس کو بلایا تو پولیس علم الدین کو گرفتار کر کے لے گئی اور اس وقت کئی لوگوں نے اس پہ طرح طرح کی باتیں کیں اور غازی علم دین کو غلط ثابت کرنے کی کوششیں کی گئی کبھی کہا جاتا کہ قانون ہاتھ میں لیا گیا ہے اور کبھی یہ کہا گیا کہ یہ کیسا نبی ہے جس کی حرمت کے تقدس میں اپنے ہاتھ خون آلود کیے جائیں لیکن غازی علم دین کا یہ اقدام اس لیے تھا کیونکہ وہاں پہ ناموس رسالت کا کوئی قانون نہیں تھا

    سو وہ اس جاہلانہ مہم میں ناکام ہو گئے اور اس میں قادیانیوں نے بھرپور حصہ لیا تھا جو اپنے آپ کو مسلمان ثابت کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں. محب رسول میں گرفتار غازی علم دین شہید کو 31 اکتوبر کو میانوالی جیل میں پھانسی دے دے گئی اور پھانسی کے وقت انہوں نے رسے کو بوسہ دیا اور مسکرا رہے تھے کیونکہ وہ مر کے امر ہونے والے تھے اور جنتوں کے مہمان بننے والے تھے اللہ نے انہیں سرخرو فرمایا اور ان کا جنازہ لاہور کی تاریخ میں سب سے بڑا جنازہ تھا جس میں 6 لاکھ افراد نے شرکت کی اور جنازہ کا جلوس پانچ میل لمبا تھا ان کا جنازہ پڑھانے کا شرف قاری شمس الدین کو ہوا جو مسجد وزیر خان کے خطیب تھے علامہ اقبال جیسی مفکر شخصیت بھی ان کی قسمت پہ رشک کر رہے تھے اور خود انہوں نے غازی علم دین کو لحد میں اتارا اور ساتھ یہ کہا
    "آج لوہاروں کا لڑکا ہم جیسے پڑھے لکھے لوگوں سے بازی لے گیا.”

    مناسب قانون کے نہ ہونے سے گٹر کے کیڑے نکلتے رہتے ہیں اور انکا بھرپور جواب دینے کے لئے اللہ نے غازی علم دین جیسے ہیرے بھی پیدا کیے ہیں جو ان شاتموں کا کام تمام کرنے کے لیے کافی ہیں.
    اسی طرح جب ناموس کے قانون سزا دینے سے قاصر ہو گئے تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے شاتم رسول کا کام تمام کرنے کے لیے علم دین کو چن لیا اور اس نے ثابت کر دیا کہ ہر دور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت کے پاسبان موجود ہیں جو کٹ تو سکتے ہیں لیکن یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ ان کے نبی کی شان میں کوئی گستاخی کرے.
    اللہ سے دعا ہے اللہ ہمیں حرمت رسول صل اللہ علیہ و سلم کا محافظ بناۓ اور انکی سنتوں پہ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں آمین ثمہ آمین..
    گستاخ رسول کی سزا
    سر تن سے جدا
    حرمت رسول پہ جان بھی قربان ہے

    پاسبانِ ناموس رسالت غازی علم دین شہید–از… صالح عبداللہ جتوئی

  • وزیر اعظم آزاد کشمیر نے بھارت کو جواب دینے  کے لیے منفرد تجویز دے دی

    وزیر اعظم آزاد کشمیر نے بھارت کو جواب دینے کے لیے منفرد تجویز دے دی

    وزیر اعظم آزاد کشمیر نے بھارت کو جواب دینے کے لیے منفرد تجویز دے دی.

    وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر نے کہا ہےکہ پیپلز پارٹی،جے یو آئی اور دیگر جماعتوں سے اتحاد کی درخواست کی ہے . مل کر الیکشن لڑ کر بھارت کو اتحاد کا پیغام دینا چاہتے ہیں،انہوں نےکہا ہےکہ پیپلز پارٹی نے ہماری درخواست قبول کی ہے،ہماری کسی کی ذات سے لڑائی نہیں صرف یکجہتی کا پیغام دینا ہے،ہمیں نوازشریف،خورشیدشاہ اورمریم نواز کی صحت پر تشویش ہے،ہم نے پاکستان کے ساتھ اپنا مستقبل جوڑ رکھا ہے،