دنیا کی سب سے بڑی جیل، کشمیر، جس میں تقریبا 12.55 ملین معصوم روحیں، ایک کھلی جیل میں قید ھیں۔ ایک رہورٹ کے مطابق 1990 سے اب تک 95،000 کشمیری معصوم شہید ھو چکے، 1،46،000 کو گرفتار کیا گیا، 22،000 عورتوں کے سہاگ اجاڑ کر انکو بیوہ کر دیا گیا، 1،07،000 معصوم بچوں کے والدین کو شہید کر کے انکو یتیم کیا گیا، اور اب تقریبا 15 جولائی 2019 سے اب تک کشمیر ایک مکمل کرفیو کے حصار میں ھے، جہاں پر رھنے والوں پر حیات تنگ کر دی گئی، اتنی تنگ کہ جس میں ھم جیسا آزاد و عیاش مسلمان 7 دن بھی زندہ نہ رہ پائے جس میں ھمارے کشمیری بہن بھائی 7 مہینے سے سانس لے رھے ھیں۔ کرفیو کے آغاز سے اب تک 1000 سے زائد لوگوں کو شدید زخمی و شہید کر دیا گیا، 3000 سے زائد مسلمانوں کو گرفتار کر کے نا معلوم عقوبت خانوں میں ڈال دیا گیا، موبائل سروس، انٹرنیٹ، لینڈ لائن فون، یہاں تک کہ بیرونی دنیا سے رابطے کا ھر ھر ذریعہ ختم کر دیا گیا۔ اشیائے خورد و نوش کی شدید قلت، جنہیں یہ علم نہیں کہ کل کے دن انکو کھانے کے لیے کچھ میسر ھو گا یا نہیں، دواؤں کی شدید قلت، کہ بیمار ھو جائیں تو تقدیر ھی صحت یاب کر دے، یہانتک کہ عبادات تک پر پابندی، ایک مومن اپنے گھر کے دروازے سے مسجد تک جانے کے لئیے بھی روک دیا گیا، اللہ کا گھر صدائیں دے رھا اپنے ان مومن بندوں کو جو دن رات کی پانچوں نمازیں مسجد میں ادا کرتے تھے اور آج وہ تڑپ رھے ھیں، مسجد کے منبروں ہر کھڑے ھو کر اذان کی پاکیزہ صدائیں بلند کرنا چاھتے مگر طاغوت انکی کنپٹیوں پر بندوقوں کی نالیں جمائے بیٹھا ھے، یا اللہ، کیسا منظر ھو گا وہ، کیسی بے بسی ھو گی ان دلوں میں، کتنے ھی آنسوؤں کے سمندر ھونگے ان آنکھوں میں، جو اپنے رب کی بارگاہ میں چاھنے کے باوجود جانے سے قاصر ھیں۔۔۔ !!! اور اس سب سے قطع نظر کشمیری بہادر ماؤں کے بہادر سنگباز مجاھد بیٹے، کے جو گولیوں کا جواب پتھروں سے دے رھے ھیں، جن ھاتھوں میں کتاب و قلم ھونا تھا وہ ھاتھ یخ بستہ سردیوں میں اپنے دامن میں پتھر اٹھائے ظالم کو اپنی بساط سے بڑھ کر جواب دے رھے ھیں، انکے جذبے، انکے دل، اور انکی شیر جیسی دھاڑتی آواز میں وہ گرج ھے کہ جو بندوق تھامے کھڑے ناپاک ھندو فوجی کو بجی ایک لمحے کو لرزا کر رکھ دیتی ھے۔ یہ کیسا نوجوان ھے جو سینے پر گولی کھاتا ھے اور پھر اٹھ کر کافر کی طرف لپکتا ھے۔ یہ جذبہ یہ ھمت یہ ولولہ، اللہ اللہ۔۔۔۔۔قربان جاؤں ان ماؤں پر اور ان شیردل جوانوں پر۔
اس سب قیامت میں ایک چیز فطری ھے جو ان میں بھی پائی جاتی ھے اور وہ ھے اپنے مسلمان بھائیوں کا انتظار، انکی راھیں تکنا، دنیا بھر میں پھیلے مسلمانوں کی صفوں میں صلاح الدین ایوبی، ٹیپو سلطان و محمود غزنوی کو ڈھونڈنا۔۔۔ تقسیم کے وقت سے آج تک مائیں اپنے بچوں کو یہی دلاسہ دے رھے ھیں کہ گبھراو مت، تم اکیلے نہیں ھو، بارڈر پار تمہارے بھائی ھیں جو تمہارے پاس آنے تمہارے لئیے کٹنے مرنے کو بے تاب ھیں (شائد یہی آس ان کی نا ختم ھونے والی جدوجہد کی وجوھات میں سے ایک وجہ بھی ھے)۔۔۔!!!
اور دوسری جانب ھم آزاد کشمیری و پاکستانی، کرفیو کے بعد ھم سے مختلف مکتبہ فکر کے لوگوں نے اپنے اپنے انداز میں کشمیر سے یکجہتی کا اظہار کیا، میں نے ھر ایک کے دل میں اپنے ان مظلوم کشمیری مسلمانوں کے لئیے درد دیکھا۔ ایک طرف کشمیری حکمرانوں نے کشمیر سے غیر انسانی کرفیو اور پابندیوں کے خاتمے پر لب کشائی کی، تو دوسری طرف پاکستانی حکمرانوں نے بھی مسئلہ کشمیر کو عالمی برادری کے سامنے اپنے انداز میں بلکہ ماضی سے بہتر طور پر پیش کیا۔ جہاں کشمیری عوام اپنے مظلوم بھائی، بہنوں، ماؤں، بیٹیوں کا درد لے کر لائن آف کنٹرول تک پنہچے وھیں پاکستانی عوام بھی ھر گھر ھر شہر سے کشمیری مظلوموں کا درد لے کر نکلے۔ مگر پھر یوں ھوا کہ سب کچھ جیسے تھم سا گیا، اس جذبہ ایثار نے داخلی انتشار اور کدورتوں کی صورت اختیار کر لی۔ کشمیری و پاکستانی کے نام پر، بلوچی و پٹھان کے نام پر، خود مختاری و الحاق کے نام پر زبان درازیاں، فتوے بازیاں، زھر میں بجھے نفرتوں کے تیر، اور کافر کافر، غدار غدار کے طعنے ھر فورم ھر گلی ھر پلیٹ فارم سے سنائی دینے لگے، اور اب تو یہ نفرت ایک مستقل دشمنی کا روپ اختیار کر چکی ھے، جس نے مجھے پہلی بار قلم اٹھانے پر مجبور کر دیا۔ میں پچلھے کئی دنوں سے زبانی تکرار کو فحش اور لغو گفتگو، نازیبا اور اخلاق سے گری ھوئی بہن اور ماں کی گالیوں میں بدلتا دیکھ رھا، جس نے جاھل اور پڑھے لکھے، خود مختاری والے اور الحاقی نطریے والے ھر ایک فرد کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔۔۔!
ایک طرف ھمارے حکمران بھی کشمیریوں پر ٹوٹنے والی قیامت کو معمول کی چیز سمجھ کر عادی سے ھو گئے اور دوسری طرف ھماری عوام بھی جیسے اسکی عادی ھو گئی۔
محترم قاری، خدارا آج یہ پڑھتے ھوئے وقفہ کیجئیے اور اپنے دل میں جھانک کر دیکھئیے، کیا آپ بھی عادی سے نہیں ھو گئے اس قیامت کو لے کر ؟ کیا آپ نے بھی اسے کشمیریوں کی تقدیر نہیں سمجھ لیا ؟ کیا آپ کو بھی کشمیری معصوموں کی عزتوں اور انکی جانوں سے زیادہ اپنی کسی پارٹی یا شخصیت کا نکتہ نظر زیادہ عزیز نہیں ھے؟
ھر ایک فرد دوسرے فرد کو، ھر ایک جماعت دوسری جماعت کو، ھر ایک مکتبہ فکر دوسرے مکتبہ فکر کو نیچا دکھانے اور غدار ثابت کرنے میں سر دھڑ کی بازی لگائے ھے۔ بخدا، سب کو ایسے وقت دل و دماغ سے یہ خیال یکسر محو ھو جاتا ھے کہ کشمیر بھی کوئی چیز ھے، کرفیو میں بلکتے بھوکے بچے، اہنی عصمتوں کے لٹ جانے کا ڈر لئیے ھوئے پاکیزہ پردہ دار بچیاں، ناتواں ماں باپ جن کے بیٹے کرفیو کے دوران لا پتہ کر دئیے گئے، بخدا ھم لوگوں کو یہ سب بھول چکا ھے۔ بخدا ھم لوگ شخصیت پرستی میں ھر آخری حد کو بھی عبور کر چکے ھیں، ھماری غیرتیں، ھمارے جذبے، ھمارے احساس، ھماری جدوجہد، ھمارے جلسے جلوس، ھمارے نعرے، سب کے سب کنٹرولڈ ھو چکے ھیں، ھم روبوٹ بن چکے ھیں، جذبات سے عاری جسم، ایک خالی ڈبہ، جسکو جب ریموٹ سے جہاں چاھے کوئی استعمال کرے اور ھم نے استعمال ھونا ھے۔۔!!!
میں اس تحریر میں نہ تو کسی کی حمایت کرونگا نہ کسی کے مخالفت، میرے الفاظ ھر ایک کے لئیے سوال ھیں، ھر پڑھنے والا بس اپنے دل کے کسی کونے تک جھانکے اور اپنے آپ سے ھی انکشاف کر دے کہ کیا واقعی ایسا نہیں ھے؟؟؟
میرے بھائیو، وہ تاریخی اور ظالمانہ قید آج بھی برقرار ھے اس لہو سے بھری جنت میں، اور تم لوگ یہاں، خود مختاری و الحاق کو لے کر لڑ لڑ کر تقسیم در تقسیم ھوتے جا رھے، کیوں؟
کل حشر میں رب کی عدالت میں کیا جواب دو گے رب کو اور ان جنت کے شہسواروں کو جو دنیا میں آج جہنم کا درد سہہ رھے ھیں، کیا ھمارے جذبے اور کوششیں ویسی ھیں کہ کل ھم انکی آنکھ سے آنکھ ملا پائیں؟ اگر آپکا جواب "ھاں” ھے تو مبارک ھو آپکو، اور اگر "نہیں” ھے تو اللہ نے سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت ھر ذی روح کو دی ھے، لا علمی یا کم علمی کا رونا کل کوئی نہیں رو سکتا کہ اے اللہ مجھے تو پتہ نہیں تھا، میں تو فلاں بن فلاں کا پیروکار تھا، اسی کے پیچھے چلتے ھوئے اپنی زندگی گزار دی۔۔۔!
خدارا، اپنے جذبات اور اپنے غصے کو صحیح سمت دیجئیے، اپنے اپنے گروہ اور اپنی اپنی سوچ کو ھی دوسروں سے بالاتر کرنے کی بجائے ایک جسم ایک جان بن کر سوچیں، اور کشمیر کو لے کر یہاں بیٹھ کر ان کے فیصلے کرنا چھوڑ دیں، انکی آزادی کا سوچیں۔ 73 سال سے ظلم سہنے والے اپنی تقدیر کا فیصلہ بھی کر ھی لیں گے کہ انہوں نے کیا کرنا ھے۔ یہاں آزاد فضاؤں میں بیٹھ کر آپ لوگ انکے فیصلے نہ کریں، بلکہ انکے لئیے عملی جدوجہد کریں، جس پر آپکا ضمیر کل کو آپکو ملامت نہ کر سکے، ورنہ ایک صدی تو ہوری ھو رھی ان کو مستقل عذاب دنیا سہتے ایک اور صدی گزر جائیگی مگر میں یا آپ نہیں ھونگے انجام دیکھنے کے لئیے اور نہ ھی ھم بروز محشر انکے سامنے کھڑے ھونیکی جرات ھی کر پائیں گے۔۔۔!!!
اللہ پاک ھمیں علاقائی، نسلی و لسانی تعصب سے پاک کر کے وحدت امت کے لئیے جدوجہد کرنے والا اور اللہ کے دین کی سربلندی کے لئیے جان لٹانے والا مجاھد بنائے۔۔۔!!!
والسلام۔
محتاج دعا۔
rizwan.at009@gmail.com
Category: بلاگ
-

مقبوضہ کشمیر اور ھم تحریر: خواجہ رضوان احمد
-

بھارتی فورسز نے جعلی مقابلے میں بنایا کشمیریوں کو نشانہ
بھارتی فورسز نے جعلی مقابلے میں بنایا کشمیریوں کو نشانہ
باغی ٹی وی رپورٹ : جنوبی کشمیر کے ضلع ترال اونتی پورہ کے بجہ کول کے مقام پر بدھ کے روز نصف شب کو ایک جعلی پولیس مقابلے میں تین مجاہدین کو شہید کر دیا گیا۔
ساوتھ ایشین وائر کو جموں و کشمیر پولیس کے ایک اعلیٰ اہلکار یشانت شرما نے بتایا کہ سیکورٹی فورسز نے ترال کے علاقے دیور میں سرچ آپریشن کے تین مجاہدین، امیرآباد ترال کے رہنے والے جہانگیر رفیق وانی، لورگام کے راجہ عمر مقبول اور بارہمولہ کے عزیراحمد بٹ کوشہید کر دیا ۔
ساوتھ ایشین وائر کو معلوم ہوا ہے کہ دونوجوان جہانگیر رفیق اور عزیراحمد 12جنوری کو گرفتار کئے گئے تھے ۔ اور انہیں بدھ کی رات کو پولیس کی حراست میں گولیاں مار کر شہید کر دیا گیا۔12جنوری کو حزب المجاہدین کے ایک کمانڈر حماد کو ایک آپریشن میں شہید کیا گیا تھا اور اسی دوران انہیں گرفتار کر لیا گیا۔
دیگر ذرائع نے بتایا کہ عمر مقبول تنظیم انصار غزوة الہند جبکہ جہانگیر رفیق اور عزیراحمد حزب المجاہدین سے وابستہ تھے ۔جہانگیر وانی حزب کے اعلیٰ کمانڈر تھے ۔ -

کہیں ایسا نہ ہو”کواچلا ہنس کی چال "اپنی چال بھی بھول گیا” –از–فردوس جمال
میں اپنی سہیلی سے ملنے ان کے گھر گئی تھی میں ہمیشہ انکی ازدواجی زندگی پر رشک کرتی انہیں اپنے شوہر سے کوئی شکایت نہ تھی،ان کی تمام فرمائشیں شوہر پوری کرتا،حالانکہ گھر کے کاموں کے لئے ڈرائیور رکھا ہوا تھا لیکن پھر بھی گھر کی چھوٹی چھوٹی چیزیں بھی شوہر خود خرید لاتا،اس دن انکے گھر پکا کھانا مجھے بہت لذیذ لگا میں اس ڈش بنانے کی ترکیب لکھنا چاہتی تھی،
میں نے کچن میں چائے بناتی سہیلی کو آواز دی کہ کاغذ قلم چاہئے انہوں نے کہا کہ ٹیبل کے ساتھ والی دراز کھولیں کاغذ و قلم وہیں پڑے ہیں،دراز میں رکھی ہوئی ایک کاپی میں نے نکال لی تاکہ کوئی خالی ورقہ نکال سکوں میں صفحات پلٹاتے میری نظر ایک فہرست پر پڑی جس میں گھریلو ضرورت کی اشیاء کے نام درج تھے،یہ فہرست بہت دلچسپ تھی وہ ہر ہفتے ضروری ترمیم کے بعد شوہر کے ہاتھ تھماتی تھی،فہرست کچھ یوں تھی.
جان…. !
تیرے دل کی طرح سفید پنیر
تیرے جذبات کی طرح گرم مرچیں
تیرے بوسے کی طرح میٹھی شہد
تیرے لمس کی طرح ملائم صابن
تیرے قربت جیسی خوشبو
تیرے رخساروں کی طرح لال ٹماٹر
تیرے مونچھوں کی طرح زعفران
تیرے لہجے کی طرح چاکلیٹمیں فہرست پڑھ کر لوٹ پھوٹ کر ہنسی جا رہی تھی کہ میرے سہیلی چائے کے دو کیپ لیکر پہنچ گئی،میں نے انہیں فہرست دکھا دی وہ بھی ہنس پڑی اور کہنے لگی کہ
"تم شوہر کے لئے عورت بن جاؤ وہ تمہارے لیے مرد بنے گا ”میں گھر لوٹ گئی بڑی عید کے دن قریب تھے،شاپنگ کا موقع تھا اور یہ نسخہ اپنے شوہر پر آزمانے کے لئے میں نے ایک لسٹ تیار کرکے شوہر کو تھما دی.
جو کچھ اس طرح تھی.لہسن تیری خوشبو جیسی
پیاز تیری ڈھکار جیسی
بینگن تیری رنگت جیسے
ٹماٹر تیری آنکھوں جیسے
گوبھی تیرے بالوں کی طرح
آلو تیرے ناک کی طرح
کالی مرچیں تیرے غصے کی طرح
کوکنگ آئل تیری بہتی ناک کی طرح
عید قربانی کے لیے بکرا تیری طرحشوہر عید کے تیسرے دن گھر لوٹے تو ان کے ساتھ دی گئی فہرست میں سے کوئی سامان نہیں تھا ہاں البتہ ان کے ساتھ
ایک نئی نویلی دلہن ضرور ہمراہ تھی.😓سہیلیوں کی دیکھا دیکھی شوہروں سے نت نئی فرمائشیں کرنے والی بیگمات کے لئے.😎
عربی سے ترجمہ
کہیں ایسا نہ ہو”کواچلا ہنس کی چال "اپنی چال بھی بھول گیا” –از–فردوس جمال
بقلم فردوس جمال!!!

-

آخر یہ لوگ ہیں کون؟—-از–برہم مروت
آج کل پوری تندہی سے کوشش ہوتی ہے کہ ایسے موضوع پر کچھ نہ لکھوں کہ جس سے کسی پر طنز کرنے، کسی سے نفرت کے اظہار کا شائبہ ہو یا اس موضوع سے ہٹ کر بات کو کوئی اور رُخ دے کر فضول کا بحث و مباحثہ شروع ہو جائے لیکن طبیعت کچھ ایسی ہے کہ چند ایسے موضوعات یا باتوں پر اگر اپنے احساسات کو بیان نہ کروں تو بڑی تکلیف میں ہوتا ہے اسلئے آج پھر لکھنے بیٹھا ہوں۔
کچھ عرصے سے دیکھ اور پڑھ رہا ہوں کہ جیسے ہی کوئی ایسی تحریر یا ویڈیو کوئی لگاتا ہے جس میں ہمارے ملک پاکستان کی بھلائی یا خیر کا پہلو اُجاگر ہوا ہوتا ہے تو ایک "مخصوص سوچ” کے نمائندے فوراً سے پیش تر آن ٹپکتے ہیں۔
سب سے پہلے تو اُس بات کو ماننے کو تیار نہیں ہوتے جو حاملِ پوسٹ نے نشاندہی کی ہوتی ہے لیکن جب سمجھ جاتے ہیں کہ واقعی یہ بات تو سچ ہے تو پھر نئے ہتھیار استعمال کر کے کہتے ہیں کہ چلیں مان لیتے ہیں کہ یہ سچ ہے (جیسے بہت بڑا احسان کر رہے ہوں) لیکن ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مطلب مکھی کی طرح ہاتھ ملتے ہوئے پورے جسم کو چھوڑ کر واپس پھوڑے پر ہی آ بیٹھتے ہیں اور اگر اس کے بعد بھی کوئی ایسوں کو مطمئن بھی کر لیتا ہے تو ایسے اطمینان سے اُن کی اناؤں کو ضرب لگ جاتی ہے جس سے فرسٹریشن کا شکار ہو کر یہی لوگ پھر ہفوات بکنے پر آ جاتے ہیں۔
یہی لوگ ایک اور کام بڑھے شد و مد کے ساتھ کرتے ہیں کہ ہر اس بات، موضوع یا واقعے کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا اپنا فریضہ سمجھتے ہیں جس میں ان کے اپنے ہی ملک کی بدنامی ہو لیکن ہر ایسا دن یا موقع جس سے ہمارے ملک کی عزت بڑھتی ہے یا بین الاقوامی سطح پر ایک اچھا پیغام جاتا ہے اس میں سے یہ کیڑے نکالتے ہیں، اپنی پسندیدہ جو ان کی سوچ سے مطابقت رکھتی ہو تاریخ سے دلائل لے کر آتے ہیں کیونکہ اس کے علاؤہ تاریخ ان کے نزدیک جھوٹی ہوتی ہے اور قارئین کو تذبذب میں ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں اور اپنی انا کی اس تسکین کو سچ کا نام دیتے ہیں لیکن اگر کسی نے ان کے اس "سچ” کی تردید میں واقعی سچ لکھ دیا تو وہ مطالعہ پاکستان کا مارا، پالشی، بنیاد پرست اور پتہ نہیں کیا کیا ہو جاتا ہے۔
ایسی سوچ رکھنے والوں کی ایک نشانی اور بھی ہے آپ اگر بھارت کا پاکستان کے خلاف کسی اقدام بارے کچھ لکھ دیں بیشک اس لکھنے کا سورس بھارت کا اپنا ہی میڈیا یا بین الاقوامی اشاعتی اداریں ہوں تو یہ آناً فاناً اُس کے دفاع میں ٹپک پڑتے ہیں اور ساتھ میں اپنے ہی ملک کو بھی رگید ڈالتے ہیں اور اگر جواب آں غزل میں کسی نے اتنا تک لکھ دیا کہ بھارت کی بات ہو رہی ہے آپ کیوں تکلیف کی زحمت اُٹھا رہے ہیں؟ تو اپنا پُرانا رنڈی رونا شروع کر دیتے ہیں کہ "بس؟ آ گئے ناں غداری کا سرٹیفیکیٹ دینے یا سچ ہضم نہیں ہوا نا؟”
آخر ایسی سوچ کے مالک لوگ ہیں کون؟ ان کے ارادے کیا ہیں؟ یہ چاہتے کیا ہیں؟ یہ احساسِ کمتری کے مارے ہیں یا محرومی کے؟ نفسیاتی مریض ہیں یا کسی غلط فہمی کے شکار؟ کچھ تو ہے یہ لوگ صرف اپنے ہی کہے کو "سچ” اور سب سے ذیادہ علم والے مانتے ہیں باقی ان کے نزدیک "جھوٹے” ہیں، لاعلم ہیں تاریخ وہی ہے جو ان کے نزدیک تاریخ ہے نہیں تو مطالعہ پاکستان ہے۔
اسی سوچ والے لوگ اتنا کچھ کہنے لکھنے اور سُنانے کے باجود رونا روتے ہیں کہ یہاں آزادیِ اظہار رائے پر پابندی ہے، مذہبی شدت پسندی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہیں لیکن اپنی شدت پسند رویوں کے قائل نہیں ہوتے اور پھر ساتھ میں کہتے اور لکھتے بھی ہیں کہ "ہمارا سچ کسی سے ہضم نہیں ہوتا” اللّٰہ تعالٰی تمہارا یہ سچ تمہیں پر پلٹ دے تاکہ معلوم تو ہو کہ واقعی میں آپ کتنے سچ کے قائل ہیں۔
اللّٰہ تعالٰی پاکستان کو اندرونی اور بیرونی دشمنوں سے محفوظ رکھے بیشک وہ قصداً کرتے ہوں یا لاعلمی میں پروپیگنڈہ کا شکار ہو کر آمین۔
آخر یہ لوگ ہیں کون
تحریر:
برہم مروت
-

ہمت و جرآت کا پیکر سید علی گیلانی تحریر: غنی محمود قصوری
ہمت و جرآت کا پیکر سید علی شاہ گیلانی مقبوضہ کشمیر کے ضلع بارہمولہ کے علاقے سوپور میں 29 ستمبر 1929 کو پیدا ہوا اس 90 سالہ بزرگ کا بچپن ،جوانی اور اب بڑھاپا بھی ہندو کے ظلم و جبر میں گزرا اور اب بھی اتنی بزرگی میں ہونے کے باوجود اپنی ہی وادی کشمیر جنت نظیر میں اپنے ہے گھر میں ہندو کی نظر بندی میں زندگی بسر کر رہے ہیں
5 اگست 2019 کو انڈیا کی طرف سے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو ختم کرنے کے بعد پوری حریت قیادت کی طرح سید علی گیلانی صاحب بھی اپنے گھر سوپور میں نظر بند ہیں مسلسل 7 ماہ سے زائد کی نظر بندی کی بدولت ان کی صحت انتہائی متاثر ہوئی ہے جس سے ان کے پھیپھڑوں میں انفیکشن بن جانے سے انہیں تکلیف کا سامنا ہے سید صاحب کی صحت انتہائی تشویشناک ہے جس پر پوری کشمیری قوم کیساتھ پوری پاکستانی قوم بھی ان کی صحت و تندرستی کیلئے دعا گو ہے
سید علی گیلانی صاحب الحاق پاکستان کے حامی ہیں ان کا موقف ہے کہ انڈیا کی فوجوں کے خلاف پاکستان اپنی فوجیں مقبوضہ وادی کشمیر میں داخل کرے اور انڈیا کی طرف سے اقوام متحدہ کی نا مانی جانے والی قرار دادوں پر طاقت کے بل بوتے پر عمل درآمد کروا کر تنازعہ کشمیر کو حل کروایا جائے
سید علی گیلانی صاحب کی 90 سالہ عمر کا زیادہ حصہ انڈین جیلوں اور نظر بندیوں میں گزرا ہے
جب انڈیا نے آرٹیکل 370 اور 35 اے ختم کرکے مقبوضہ وادی کا لاک ڈاءون کرنے کیساتھ انٹرنیٹ و موبائل سروس بند کرکے کرفیو لگایا تھا اور گرفتاریوں کا سلسلہ شروع کیا تھا تب گیلانی صاحب نے پاکستانی وزیراعظم عمران خان کے نام خط لکھا تھا کہ کشمیر کیلئے تب کچھ کرو گے جب ہم مٹ جائینگے
سید صاحب نے شروع سے ہی اس نظریے کے حامی ہیں کہ بھارت سلامتی کونسل کی قراد دادوں کے مطابق ریاست جموں و کشمیر کو متنازعہ علاقہ تسلیم کرے اور اپنی فوجیں کشمیر سے نکال کر کشمیریوں کو ان کا حق استصواب رائے دے جس کی بدولت سید صاحب کو ہمیشہ سے پابندیوں اور جیلوں کا سامنا کرنا پڑا ہے حالانکہ سید صاحب 90 سال سے زائد العمر ایک معمر اور ضعیف شحض ہیں مگر پھر بھی ان کی ایک آواز پر ان کی تحریک حریت و آل پارٹیز حریت کانفرنس کے علاوہ پوری وادی جموں و کشمیر کے لوگ سر پر کفن باندھ کر لبیک کہتے ہیں جس کے خوف سے انڈیا نے اس عظیم حریت لیڈر کو نظر بند کیا ہوا ہے جو کہ انٹرنیشنل لاء کے سخت خلاف ہے مگر افسوس کے انڈیا کو کوئی پوچھنے والا نہیں مگر اب پوری دنیا کو سید علی گیلانی صاحب کے موقف کا احساس ہو چکا ہے کہ مسئلہ کشمیر طاقت کے استعمال کے بغیر حل نہیں ہو گا جس کی تازہ مثال 5 اگست 2019 سے اب تک پوری وادی کشمیر کا لاک ڈاءون، انٹرنیٹ و موبائل سروس کی بندش کے علاوہ سخت ترین کرفیو میں مظلوم کشمیریوں کی انڈین قابض فوج کے ہاتھوں شہادتیں و کشمیری ماءوں،بہنوں اور بیٹیوں کی عصمت دریوں پر پوری دنیا کے دباؤ پر بھی انڈیا کا کان نا دھرنا اور کشمیریوں کے مصائب میں مذید اضافہ کرنا ثابت کرتا ہے کہ بموقف عظیم کشمیری حریت لیڈر سید علی شاہ گیلانی کشمیر بزور شمشیر ہی آزاد ہوگا
دعا ہے کہ اللہ تعالی اس عظیم حریت قائد سید علی گیلانی صاحب کو صحت و ایمان والی لمبی زندگی عطا فرما کر انہیں طلوع آزادی کشمیر دیکھنا نصیب فرمائے آمین -

"اک پاکستان بناواں گے وچ ہندوستان دے پھراسیں "بھارت میں پاکستان کی حمایت میں نعرے لگانے پر 3 کشمیری طلبہ گرفتار
نئی دہلی :”اک پاکستان بناواں گے وچ ہندوستان دے پھراسیں "بھارت میں پاکستان کی حمایت میں نعرے لگانے پر 3 کشمیری طلبہ گرفتارکرلیئے گئے ہیں،اطلاعات کےمطابق بھارتی پولیس ان کشمیری طلبا کو گرفتارکرنے کے علاوہ دیگرکشمیری طالب علموں کی گرفتاری کے لیے چھاپے ماررہی ہے،
ادھربھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق تینوں طلبہ بھارتی ریاست کرناٹکا کےضلع ہبالی کے ایک انجینئرنگ کالج میں زیر تعلیم ہیں جن کا تعلق مقبوضہ کشمیر کے ضلع شوپیاں سے ہے۔
بھارتی پولیس کا کہنا ہے کہ ہمیں اطلاع موصول ہوئی تھی کہ کالج میں زیر تعلیم کشمیر سے تعلق رکھنے والے تین طلبہ نے پاکستان کی حمایت میں نعرے لگائے اور ویڈیو بھی بنائی جو وائرل ہو گئی، جس پر کارروائی کی گئی اور انہیں گرفتار کیا گیا۔
بھارتی حکام کے مطابق مذکورہ ویڈیو میں ایک طالب علم کو ابتدائی طور پر بیک گراؤنڈ میوزک کے ساتھ کچھ بولتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جس کے بعد وہ سب دوسرے ”آزادی ” کا نعرہ لگاتے ہیں۔ پھر جو میوزک چل رہا ہے اس میں انہوں نے "پاکستان زندہ باد” بھی شامل کیا۔
اسی سبب تینوں کشمیری نوجوانوں کو بھارتی پولیس نے بغاوت کا الزام لگا کر گرفتار کیا ہے جن پر ضلع بجرنگ دل کے ہندو انتہاپسندوں نے حملے کی بھی کوشش کی تھی۔
-

کھلاڑیوں کے ورک لوڈ کا پڑا اثر ، جنوبی افریقہ کے دورہ پاکستان پر
کھلاڑیوں کے ورک لوڈ کا پڑا اثر ، جنوبی افریقہ کے دورہ پاکستان پر
باغی ٹی وی : دونوں بورڈز سیریز کی نئی تاریخوں کو حتمی شکل دینے کے لیے ایف ٹی پی میں خالی ونڈو تلاش کررہے ہیں، وسیم خان
کرکٹ ساؤتھ افریقہ نے پاکستان کرکٹ بورڈ کو آگاہ کیا ہے کہ وہ آئندہ ماہ پاکستان کا دورہ نہیں کرسکیں گے تاہم انہوں نے یقین دہانی کرائی ہےکہ وہ ٹیم جلد از جلد پاکستان بھیجنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
دونوں ٹیموں کے درمیان مجوزہ تین ٹی ٹونٹی میچز، آئندہ سال جنوری میں شیڈول 2 ٹیسٹ اور 3 ٹی ٹونٹی میچوں پر مشتمل سیریز کا حصہ نہیں تھے۔کرکٹ ساؤتھ افریقہ نے کھلاڑیوں کے ورک لوڈ کا جائزہ لینے کے بعد جمعہ کی دوپہر کو پاکستان کرکٹ بورڈ کو اپنے فیصلہ سے آگاہ کیا۔
وسیم خان، چیف ایگزیکٹو پی سی بی:
چیف ایگزیکٹو پی سی بی وسیم خان کا کہنا ہےکہ ہم آئندہ ماہ جنوبی افریقہ کرکٹ ٹیم کی میزبانی کے خواہاں تھے مگر ہم اس ضمن میں کرکٹ ساؤتھ افریقہ کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کھلاڑیوں کے ورک لوڈ کو پیش نظر رکھنا کسی بھی کرکٹ بورڈ کی اولین ترجیح ہوتی ہے اور اس حوالے سے یہ فیصلہ قابل فہم ہے۔
وسیم خان نے کہاکہ خوشی ہے کہ کرکٹ ساؤتھ افریقہ محدود فارمیٹ کی اس سیریز کا اہتمام جلد از جلد کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب دونوں بورڈز سیریز کی نئی تاریخوں کو حتمی شکل دینے کے لئیےایف ٹی پی میں خالی ونڈو تلاش کررہے ہیں۔
-

شعیب ملک کا انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ پر بڑا یوٹرن
باغی ٹی وی قومی ٹیم کے سینئر آل راؤنڈر شعیب ملک نے انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ پر بڑا یوٹرن لے لیا۔
تفصیلات کے مطابق گزشتہ چند ماہ کے دوران قومی ٹیم کے سینئر آل راؤنڈر شعیب ملک نے اعلان کیا تھا کہ ٹی ٹونٹی ورلڈکپ کھیلنے کے بعد ریٹائر ہو جاؤں گا۔ تاہم اس حوالے سے شعیب ملک نے بڑا یوٹرن لیتے ہوئے کہا ہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میرا آخری ایونٹ نہیں ہوگا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ پہلے بیان دیا تھا کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ آخری ایونٹ ہوگا لیکن اب فیصلہ بدل لیا ہے ورلڈکپ پر اپنی پرفارمنس دیکھ کر مستقبل کا فیصلہ کروں گا۔آل راؤنڈر کا مزید کہنا تھا کہ کوشش یہ ہی کہ بطور سینئر کھلاڑی ہوں اچھا کھیلوں اور تسلسل کے ساتھ کارکردگی دکھاؤں۔ میری توجہ کپتانی پر نہیں ہے جو رول ملے گا اچھا کھیلنے کی کوشش کرونگا۔پاکستان سپر لیگ کے حوالے سے شعیب ملک کا کہنا تھا کہ ایونٹ کے دوران دو سال کراچی میں کھیلا جبکہ دو سال ملتان میں کھیلا اب میں پشاور سے کھیلوں گا.
ادھر جنوبی افریقہ کی ٹیم نے پاکستان میں تی 20 میچ کھیلنے سے ابھی معذرت کر لی ہے . ان حالات میں جب کہ انٹرنیشنل کھلاری پاکستان میں آرہے ہیں. افریقن بورڈ نے عجیب و غریب فیصلہ کیا ہے. -

جنوبی افریقہ کی کرکٹ ٹیم دورہ پاکستان کرے گی یا نہیں ، سی ایس اے بورڈ نے بتا دیا
جنوبی افریقہ کی کرکٹ ٹیم دورہ پاکستان کرے گی یا نہیں ، سی ایس اے بورڈ نے بتا دیا
باغی ٹی وی :کرکٹ شائقین کے لیے مایوسی کی خبر کہ جنوبی افریقی کرکٹ بورڈ (سی ایس اے) نے وقتی طور پر پاکستان کا دورہ کرنے سے معذرت کر لی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے ترجمان کا کہنا ہے کہ سی ایس اے نے کھلاڑیوں کے ورک لوڈ کے پیش نظر دورہ ملتوی کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پی سی بی اور سی ایس اے دورہ کے لیے نئی ایف ٹی پی میں جگہ تلاش کریں گے، کوشش ہوگی کہ سیریز رواں سال میں شیڈول کی جائے۔واضح رہے پاکستان نے جنوبی افریقہ کو مارچ میں تین ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلنے کی دعوت دی تھی۔
خیال رہے کہ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کے دروازے کھل رہے ہیں ایسے میں جنوبی افریقہ نہ آنا قابل تشویش امر ہے . بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم نے حال ہی دورہ پاکستان کے دوران تین ٹی ٹوئنٹی اور ٹیسٹ میچ کھیلا ہے جبکہ دونوں ٹیموں کے مابین ایک روزہ میچ اور دوسرا ٹیسٹ مارچ اور اپریل کے مہینوں میں کھیلا جائے گا۔
اس سے قبل سری لنکا کی ٹیم نے پاکستان میں دو ٹیسٹ، تین ون ڈے اور تین ٹی ٹوئنٹی میچوں پر مشتمل سیریز کھیلی تھی۔
-

ویلینٹائن ڈے اور اسلام تحریر : انس عبدالباسط
ویلینٹائن ڈے دو وجہ سے غلط ہے. ایک تو یہ ہے کہ یہ یوم رومانیت ہے یہ Romance Day ہے. اور رومانیت کا تصور اگر اسلام میں کہیں موجود ہے تو وہ صرف شوہر اور بیوی کے درمیان موجود ہے اس کے علاوہ اور کسی رشتہ میں رومانیت کا اسلام میں کوئی تصور موجود نہیں ہے. آزاد رومانیت لڑکے لڑکی کا آپس میں ملنا تحفہ تحائف دینا، ان کے درمیان نہ جائز تعلقات کا ہونا اس کا اسلامی تہذیب و تمدن میں دور دور تک کا بھی کوئی تصور نہیں ہے. ایک تو اس میں یہ کباہت والی بات ہے.
اور دوسری اس میں کباہت والی بات یہ ہے کہ ویلینٹائن ڈے صرف سماجی رسم نہیں بلکہ یہ ایک مزہبی رسم بھی ہے. اور Catholic Church کے مطابق اور Arthur’s Dog Church کے مطابق پوری دنیا میں *14 فروری کو ویلنٹائن ڈے منایا جاتا ہے* . گویا کہ ایک تیر سے دو شکار کیے جاتے ہیں. ایک تو مسلمانوں کو تہذیبی اعتبار سے گمراہ کیا جاتا ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ جیسے کہ کرسمس (Christmas) کا تہوار ہوتا ہے اسی طرح ہے مسلمان نوجوانوں کو اپنے تہذیبی تہوار میں جزب(Absorb) کرنے کی کوشش کی جاتی ہے.
کوئی بھی غیرت مند مسلمان حضرت محمدٌ کی اس حدیث کے اوپر عمل کرتے ہوئے کبھی بھی غیر مسلموں کے کسی بھی تہوار کو قبول نہیں کرسکتا.
*آپٌ نے فرمایا : جو کسی قوم کی مشاہبت کو اختیار کرتا ہے وہ ان ہی میں سے ہے.* ہمارے مزہب میں جبر نہیں ہے، ظلم نہیں ہے، دباؤ نہیں ہے. ہم عیسائیوں کو ان کے عبادت گھروں میں جانے سے، ان کو اپنے مزہبی تہواروں کو منانے سے نہیں روکتے، ہم ان کو انجیل پڑھنے سے نہیں روکتے، ہم ان کو جبرًا اپنے مزہب میں داخل کرنے کی جستجو نہیں کرتے لیکن ہمارے مزہب کا یہ رویہ بلکل واضع ہے کہ کرسمس (Christmas) تمہارا تہوار ہے ہمارا نہیں، ہولی(Holli) تمہارا تہوار ہے ہمارا نہیں، تمہارے تہوار اپنے ہیں ہمارے تہوار اپنے ہیں. کیا تم نے کسی عیسائی کو عیدالاضحیٰ کے دن قربانی کرتے ہوئے دیکھا ہے..؟ کیا آپ نے رمضان المبارک میں کسی یہودی یا ہندو کو روزہ رکھتے ہوئے دیکھا ہے..؟؟ کیا آپ نے کسی غیر مسلم کو یوم عرفات کے دن روزہ رکھتے ہقئے دیکھا ہے..؟؟ اگر کوئی غیر مسلم آپ کا تہوار نہیں مناتا اسے پتہ ہے کہ یہ مسلمانوں کا تہوار ہے اور میں غیر مسلم ہوں. تو مسلمانوں تمہاری عقل کو کیا ہو گیا ہے تم عیسائیوں، یہودیوں اور ہندوں کے تہوار کو کیوں مناتے ہو.. کرسمس ان کا تہوار ہے. ہولی ان کا تہوار ہے یہ سارے کہ سارے تہوار ان کے ہیں. ویلینٹائن ڈے ان کا تہوار ہے. ہمارے ان تہواروں سے کوئی تعلق نہیں.تم اتنے لبرل کیوں بنتے ہو کبھی بھی غیر مسلم نے تمہارے تہواروں پر اپنی مہر لگانے کی جستجو نہیں کی تو تم کیوں ان کے تہواروں کو اپنے تہوار بنانے کی کوشش کرتے ہو.آپٌ کا امتی اٹھتا ہے جو اپنے آپ کو آزادی خیالی اور لبرلازم کا علم بردار بن کر میدان عمل میں آتا ہے اور کہتا ہے کہ میں بھی کرسمس کا کیک کاٹوں کا میں بھی ہولی کا تہوار منائوں کا اور مین بھی ویلنٹائن ڈے جیسے تہواروں کو منائوں گا..مسلمان تجھے کیا ہو گیا ہے ان کے تہوار اپنے ہیں تیرے تہوار اپنے ہیں. ان کی زندگی اپنی ہے تیری اپنے ہے ان کے زندگی گزارنے کے طریقے اپنے ہیں تیرے اپنے ہیں.اسلامی جمہوریہ پاکستان یا کسی بھی اسلامی ریاست میں عیسائیوں، یہودیوں اور ہندوں کو زندہ رہنے کا حق ہے. اسی طرح ان کے تہواروں کو منانے کا حق ان کا ہے، انجیل پڑھنے کا حق ان کو ہے تجھ کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ تو قرآن کے ہوتے ہوئے انجیل پڑھنا شروع کر دے..