Baaghi TV

Category: بلاگ

  • "ربیع الاول ماہ مبارک ولادت مصطفیٰ کا آغاز اور امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم” تحریر: محمد عبداللہ

    بلاشبہ اس کائنات کی سب سے بڑی خوشی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بطور ایک پیغمبر اور نبی کے آمد کی ہے اور اللہ کے کرم کی انتہا کے اللہ نے ہم ایسے گناہگاروں کو شرف امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بحشا ہے. تو آئیے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کی تاریخوں پر جھگڑنے اور فتوؤں کی پٹاریاں کھولنے کی بجائے "لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْ أَنفُسِهِمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِن كَانُوا مِن قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ” مالک ارض و سماء کے اس احسان عظیم کا حق ادا کرنے کی کوشش کریں اور بعثت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے عظیم مقصد "ھُوَالَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ” کی تکمیل میں جت جائیے.خود ساختہ عقائد و نظریات اور اعمال اور ان کی بنیاد پر اس بابرکت ماہ میں دنگا و فساد کی بجائے حقیقی سیرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل پیرا بھی ہوا جائے اور اسی کا پرچار بھی کیا جائے کیونکہ وہی اسوہ تو کامیابی کی کنجی ہے کہ "لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الآخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيرًا”.
    بعثت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے عالی شان مقصد کو سمجھا اور سمجھایا جائے اور قیامت کے دن اور مابعد قیامت کی زندگی میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کو پانے کی تگ و دو کی جائے کہ دنیا وما فیھا کا سب سے بڑا غم بھی رحلت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم تھا کہ صحابہ و اہل بیت کے دل پھٹے جاتے تھے یہ خبر نہیں تھی بلکہ اک قیامت تھی جو نہ صرف مدینہ بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں پر ٹوٹی تھی کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا سے رخصت ہوگئے ہیں، فاروق اعظم صدمے کی تاب نہ لاتے ہوئے تلوار نکالے کھڑے تھے جو کہے گا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم رحلت فرما گئے ہیں میں اس کا سر قلم کردوں گا. اس سانحہ جانکاہ کے بعد نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دیوانوں کے آنسو خشک نہ ہوتے تھے اور کوئی بھی اس خبر کو ماننے کو تیار نہیں تھا یہاں تک کہ صدیق اعظم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے یار غار ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور لوگوں سے اس انداز میں مخاطب ہوئے میں "جو بھی محمد ﷺ کی عبادت کرتا تھا تو اسے معلوم ہونا چاہیے کہ آپ ﷺ اس دنیا فانی سے رخصت ہوچکے ہیں اور جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا تھا تو (اس کا معبود) اللہ ہمیشہ زندہ رہنے والا ہے اور اس کو کبھی موت نہیں آئے گی اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے "وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ ۚ أَفَإِن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انقَلَبْتُمْ عَلَىٰ أَعْقَابِكُمْ ۚ وَمَن يَنقَلِبْ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ فَلَن يَضُرَّ اللَّهَ شَيْئًا ۗ وَسَيَجْزِي اللَّهُ الشَّاكِرِينَ”
    "اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم صرف رسول ہیں ‘ ان سے پہلے اور رسول گزر چکے ہیں اگر وہ فوت ہوجائیں یا شہید ہوجائیں تو کیا تم اپنی ایڑیوں پر پھر جاؤ گے تو جو اپنی ایڑیوں پر پھرجائے گا سو وہ اللہ کا کچھ نقصان نہی کرے گا اور عنقریب اللہ کا شکر کرنے والوں کو جزا دے گا”
    .ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا "اللہ کی قسم ! ایسا محسوس ہوا کہ جیسے پہلے سے لوگوں کو معلوم ہی نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی ہے اور جب ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کی تلاوت کی تو سب نے ان سے یہ آیت سیکھی اب یہ حال تھا کہ جو بھی سنتا تھا وہی اس کی تلاوت کرنے لگ جاتا تھا”
    ہائے کاش اس امت محمد میں آج کوئی فقیہ،کوئی مفتی، کوئی عالم، کوئی حاکم، کوئی استاد کردار صدیقی ادا کرنے والا ہو اس پور پور بکھری امت کو مجتمع کردے اور راہ مستقیم سے بھٹکی امت کو راہ جنت پر گامزن کردے کہ ربیع الاول کے مہینے میں یہ امت نبی ذیشان صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت پاسعادت کی تاریخوں پر باہم دست و گریباں ہونے اور پیدائش و بعثت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشی منانے اور غم آقائے دو جہاں پر کفر و اسلام کے فتوے بانٹنے والی اس امت کو یکجان کرکے مقصد بعثت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکمیل میں مصروف عمل کرا دے.
    محمد عبداللہ کے مزید بلاگز پڑھیں

    Muhammad Abdullah
    Muhammad Abdullah
  • ابو بکر البغدادی کی ہلاکت –از –صابر ابو مریم

    ابو بکر البغدادی ذرائع ابلاغ اور دنیا کے لئے ایک معروف نام ہے کیونکہ یہی وہ شخص تھا کہ جس کو داعش نامی دہشت گرد تنظیم کے سربراہ اور قائد کی حیثیت سے پیش کیا گیا تھا۔ابھی گذشتہ دنوں امریکی صدر نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر لکھا کہ کچھ بہت بڑا ہوا ہے۔اس جملے کے لکھنے کے بعد مغربی ذرائع ابلاغ اور ان سے متاثر خلیجی ذرائع ابلاغ نے ایک ہی خبر کی رٹ لگا دی کہ شام اور عراق میں دہشت گرد گروہ داعش کا سربراہ ابو بکر البغدادی امریکی حملوں میں مارا گیا ہے۔دراصل دنیا بھر میں ذرائع ابلاغ پر امریکی وصہیونی لابی کا مضبوط کنٹرول دنیا کے ایک بہت بڑے حصہ کو جس سمت چاہتا ہے موڑ دیتا ہے اور اہمیشہ مغربی سامراج نے ذرائع ابلاغ کو کنٹرول کے ذریعہ دنیا میں بسنے والے لاکھوں کروڑوں انسانوں کی رائے کو بدلنے اور ان پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی ہے۔

    سوال یہ ہے کہ امریکی صدر نے جو ابو بکر البغدادی کو قتل کرنے کا دعویٰ کیا ہے آخر کس حد تک سچائی رکھتا ہے یا یہ کہ اس کے پس پردہ مقاصد کیا ہو سکتے ہیں؟دنیا اس حقیقت کو اب بخوبی جان چکی ہے کہ امریکہ نے پہلے طالبان قیادت بنائی اور بعد میں اسی طالبان قیادت اسامہ بن لادن کو پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں ایک فوجی آپریشن کے ذریعہ ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا۔اب شام اور عراق میں خود امریکہ کی بنائی ہوئی داعش نامی دہشت گردتنظیم کے سرغنہ ابو بکر البغدادی کو امریکہ نے ایک فوجی آپریشن میں ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔آج امریکی صدر نے خود اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ان کے پیش رو امریکی صدور نے عراق اور شام پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کے لئے داعش نامی دہشت گرد تنظیم بنائی تھی۔

    یہ بات بھی واضح رہے کہ ابو بکر البغدادی کے پہلے بھی کئی مرتبہ مارے جانے کی اطلاعات مل چکی ہیں جن کی کبھی تصدیق نہیں ہو سکی اور اسی طرح حالیہ امریکی آپریشن میں بھی دہشتگرد تنظیم داعش کے سرغنہ ابو بکر البغدادی کے قتل ہونے کی تصدیق ہونا ابھی باقی ہے۔
    امریکہ جو غرب ایشیا کے خطے میں سنہ2001ء کے بعد سے مسلسل فلسطین، لبنان، شام، افغانستان، عراق و ایران میں شکست کھا رہاہے اور خطے پر اپنا تسلط قائم رکھنے میں ناکام ہے داعش جیسے دہشت گرد گروہوں کی مدد سے بھی اپنے ناپا ک عزائم کی تکمیل تک نہیں پہنچ پایا ہے۔امریکی سرکار نے داعش کو اس لئے بنایا تھا تا کہ شام و عراق کو کنٹرول کر سکیں اور اسی طرح اس خطے کو کئی حصو ں میں تقسیم کریں جبکہ اس سارے عمل کا فائدہ صہیونیوں کی غاصب اور جعلی ریاست اسرائیل کے حق میں تھا کہ اسے تحفظ فراہم ہو سکے لیکن اب حقیقت یہ ہے کہ کئی سال تک داعش نے شام و عراق اور لبنان کے علاقوں میں اپنا قبضہ جمانے کی کوشش کرنے کے باوجود شکست کھا گئی ہے اور اب حال ہی میں امریکی صدر کا ابو بکر البغدادی کو قتل کردینے کے دعویٰ نے امریکی سرکار پر مزید سوالات اٹھا دئیے ہیں۔

    غرب ایشیائی ممالک کی سیاست پر نظر رکھنے والے ماہرین امور سیاسیات کا کہنا ہے کہ امریکہ نے ایسے وقت میں شام کے علاقہ ادلب میں کاروائی کی ہے کہ جب پہلے ہی ترکی کی فوجیں اس علاقہ میں فوجی چڑھائی کر چکی ہیں۔یہ امریکی آپریش بھی ترکی میں موجود امریکی بیس سے کیا گیا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ شاید امریکہ کو یہ خطرہ بھی تھا کہ اگر ابو بکر البغداد ی ترک افواج کے ہاتھ زندہ سلامت آ جاتا ہے تو پھر امریکیوں کے بہت سارے ایسے راز جو دنیا کے سامنے نہیں آئے ہیں وہ سب کے سب آشکار ہو جائیں گے اور امریکہ کا سیاہ چہرہ مزید دنیا کے سامنے عیاں ہو جائے گا تاہم امریکی سرکار نے اس علاقہ میں جلد بازی میں کاروائی کرتے ہوئے ابو بکر البغدادی کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کر لیا ہے۔

    کچھ ماہرین سیاسیات کاکہنا ہے کہ امریکہ کیونکہ شام و عراق میں داعش کا بانی ہے اور دنیا کو باور کروانے کی کوشش کر رہاہے کہ وہ داعش کے خلاف جنگ میں سرگرم عمل ہے تاہم اب ایسے حالات میں کہ جب شام، ایران، روس اور حزب اللہ نے مشترکہ طور پر لبنان، شام اور عراق میں داعش کا صفایا کیا ہے تو امریکہ خطے میں داعش کے خلا ف اس کامیابی کو اسلامی مزاحمتی بلاک کے حصہ میں نہیں جانے دینا چاہتا اور یہی وجہ ہے کہ امریکی سرکار نے بغدادی جیست دہشت گرد کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کر کے خطے میں داعش پر فتح حاصل کرنے کا تمغہ اپنے سینہ پر سجانے کی ایک ناکام کوشش کی ہے لیکن دنیا پہلے ہی اس بات کو جانتی ہے کہ امریکہ اور اسرائیل ہی ہیں کہ جنہوں نے خطے کے عرب خلیجی ممالک کے اشتراک سے نہ صرف داعش بلکہ متعدد کئی دہشت گرد گروہ تشکیل دئیے تھے کہ جن کا کام شام کی تقسیم، عراق کی تقسم اور فلسطین کاز کو نقصان پہنچا کر صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کی بقاء کویقینی بنانا تھا۔

    چند ایک ماہرین نے امریکی سرکار کے داعش کے سرغنہ کو ہلاک کرنے کے دعویٰ پر سوالیہ نشان لگاتے ہوئے کہا ہے کہ آخر ایسی کون سی قیامت آئی ہے کہ امریکہ نے گذشتہ سات برس میں تمام تر ٹیکنالوجی اور وسائل کے باوجود داعش جیسی دہشت گرد تنظیم کے سربراہ کو نشانہ نہیں بنایا اور سات سال تک شام و عراق میں داعش کی جانب سے جاری خونریزی پر کوئی ایسا حملہ سامنے نہیں آیا کہ جس میں داعش کے عمومی دہشت گردوں کو بھی قتل کیا گیا ہو۔آخر اب کس طرح امریکہ کو معلوم تھا کہ داعش کا دہشت گرد ابو بکر البغدادی ادلب کے علاقہ میں عین اسی مقام پر موجود تھاکہ جہاں امریکی فوج نے حملہ کیا او ر اسے ہلاک بھی کر دیا۔آخر یہ حملہ داعش کے شام و عراق میں قابض ہوتے وقت کیوں نہیں کیا گیا تھا کہ جس زمانے میں ابو بکر البغدادی جیسے دہست گرد کھلم کھلا علاقوں میں خون کا بازار گرم کر رہے تھے۔یہ رائے رکھنے والے ماہرین کاکہنا ہے کہ امریکہ دراصل روز اول سے ہی ابو بکر البغدادی کے ساتھ رابطے میں تھا اور خطے میں انارکی اور دہشت گردی کروانے کے لئے سرگرم عمل تھا تاہم اب بغدادی کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کر کے امریکہ کھیل کو اپنی طرف پلٹ کر دنیا کے سامنے ہیروبننے کی ناکام کوشش کر رہا ہے اور شاید ایک بہانہ بھی تلاش کر لیا گیا ہے تا کہ شام سے امریکی فوج کے انخلاء کو باعزت طور پر انجام دے پائے۔

    ایک اور سیاسی رائے کے مطابق ماضی میں امریکی صدر نے طالبان دہشت گردوں کے سرغنہ اسامہ بن لادن کو پاکستان میں ایک فوجی آپریشن میں ہلاک کرنے کے اعلان کے بعد دوسرا امریکی الیکشن جیت لیا تھا تاہم موجودہ امریکی صدر نے بھی اپنے پیش روصدر کی روایت کے مطابق خود اپنے ہی پیدا کردہ دہشت گرد سرغنہ ابو بکر البغدادی کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے تاکہ امریکی عوام آنے والے انتخابات میں ایک مرتبہ پھر ڈونالڈ ٹرمپ کا انتخاب کر سکیں۔

    خلاصہ یہ ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان نے بھی اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس خبر کو صرف ذرائع ابلاغ سے لیا گیا ہے جبکہ اقوام متحدہ کے پاس ایسا کوئی طریقہ کار موجود نہیں کہ اس ہلاکت کی تصدیق کی جائے۔بہر حال امریکہ خطے میں اپنی ناکامیوں کو چھپانے اور اپنے دہشت گردانہ عزائم پرپردہ ڈالنے کے لئے چاہے اپنے بنائے ہوئے ہزاروں ابو بکر البغدادی بھی ہلاک کرنے کا دعویٰ کر لے تو امریکہ کے انسانیت مخالف جرائم میں کسی طرح کمی نہیں آئے گی۔دنیا کی نظر میں امریکہ کل بھی لاکھوں مظلوم انسانوں کا قاتل تھا اور آج بھی امریکہ کی پوزیشن دنیا کے عوام کی نگاہوں میں ایک قاتل اور ظالم سے بڑھ کر نہیں ہے۔

    تحریر:صابر ابو مریم
    سیکرٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان
    پی ایچ ڈی ریسرچ اسکالر، شعبہ سیاسیات جامعہ کراچی

  • موسم سرما” رشتوں کا موسم،            تحریر : احمر مرتضٰی

    موسم سرما” رشتوں کا موسم، تحریر : احمر مرتضٰی

    موسم سرما” رشتوں کا موسم

    تحریر : احمر مرتضٰی

    یوں تو اللہ رب العزت کے تخلیق کردہ بارہ کے بارہ مہینے ہی اپنی الگ الگ خصوصیات رکھتے ہے لیکن ستمبر سے لے کر مارچ تک کا موسم جو پاکستان بھر میں بالخصوص اور دنیا بھر میں بالعموم سردی کا موسم کہلاتا ہے اور یہ موسم جہاں عام لوگوں کی اکثریت اور سیاحت کے شوقین افراد کا پسندیدہ موسم ہے وہی شعرا حضرات بھی صدیوں سے اب تک ان موسموں کی خوبصورتیوں ،رعنائیوں اور دیگر ڈھیروں خوبیوں پر طبع آزمائی کرتے آرہے ہے تو دوسری طرف دیو قامت پہاڑ ان میں گھری ہوئی وادیاں اور ان کے اردگرد خم کھاتی کچی پکی سڑکیں ،غرض ہر جگہ ہر مقام جہاں برف کی سفید چادر اوڑھے نظر آتے ہے وہی ہموار اور پست سطح زمین اور اس کے باسی ان موسموں سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ ان کے شدید اثرات سے بھی بچاو کرتے نظر آتے ہے، مختصر کے ان موسموں میں ہر چیز مختلف انداز میں ڈھلتی ،بکھرتی ،سنورتی اور نکھرتی ہے،اور ہر شخص اپنی طبعیت،مزاج اور دلچسپی کے تحت اس موسم کے اثرات کو محسوس کرتا نظر آتا ہے اور سب سے بڑھ کر انسانی رویوں میں بھی ایک بڑی تغیر و تبدیلی واقع ہوتی ہے جو موسموں کے مہیب اثرات میں سے ایک ہے،لیکن اس تمام تر تمہید کے بعد راقم الحروف کا جس چیز کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے وہ یہ کہ انسانی طبعیت میں موجزن جذبات کے سیلِ رواں میں جیسی طغیانی ،تغیر، پھڑپھڑاہٹ سرما کی دبک کر بیٹھا دینی والی سرد صبح و راتوں،تاحدِ نگاہ چھائی دھند،روئی کے گالوں کی مانند گرتی برف،یخ بستہ ہوائیں پیدا کرتی ہے یہ امتیاز کسی موسم کو حاصل نہیں ہے اور اگر ان مچلتے ہوئے جذبات کا رخ بچھڑ جانے والوں،مقدس رشتوں کو توڑ جانے والوں ، بیچ منجدھار کے چھوڑ جانے والوں اپنوں کی جدائی کی طرف ہوجاے تو پھر ہر ذی روح کو منجمد کر بدینی والی بارعب ٹھنڈ کے باوجود آنکھوں سے ایک ایسا سمندر جاری ہوجاتا ہے جس سے مضبوط عزائم کے ساتھ ضبط کئے گئے زخموں پر تہہ در تہہ جمی ہوئی برف لمحوں میں پگھل جاتی ہے اور انسانی آنکھیں پگھلی ہوئی برف سے جاری آبشاروں اور ندی نالوں کی مانند ہوجاتی ہے، لیکن رک جائے، ٹہرجائے اس سے پہلے کہ پگھلی ہوئی برف کا پانی سیلاب کی شکل میں آپ
    کے حوش و حواس کو بہا لیں جاے آپ کو حواس باختہ کردیں، آپ کو ہر حال میں مضبوطی سے نئی امنگ، نئے جذبے سے جمی ہوئی تہہ در تہہ برف بنے رہنا ہے بچھڑ جانے والوں کے لیے اچھے انجام کی دعا کی برف،رشتوں کی ڈور کو توڑ جانے والوں کے لیے ملانے والی اورحق پر ہونے کے باوجود جھک جانے والی برف،زندگی بھر کا وعدہ کرکے لہروں کے سپرد کردینے والوں کے لیے وہ برف جس کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا بھی کسی نا کسی چیز کو کنارے لگا ہی دیتا ہے اور خود کو بنائے تہہ در تہہ جمی ہوئی وہ برف جوسختی کے باوجود اپنے اوپر چلنے والوں کے لیے کسی نقصان کا باعث کم ہی بنتی ہے اور اپنی سخت سطح کے باوجود ہر آنے جانے والوں کے لیے رستہ بھی ہموار کرتی ہے اوراس کے ساتھ ساتھ پاؤں کے نشانات اپنی دہلیز پر سجاکر راہنما کا کردار بھی ادا کرتی ہے

    یاد رکھیے ! رشتوں کے موسم میں تغیر و تبدیلی تا قیامت جاری و ساری ہے
    مگر یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ نے سرما کی برف کا کردار ادا کرنا ہے یا گرما کی جھلسا دینے والی دھوپ کا جس کی زد میں آکر ہر جاندار بلکتا اور ہمت ہارتا نظر آتا ہے !

    نوٹ: اپنوں کے غم بے شک بھلائے نہیں جاتے اور ہر بار زیادتی پر ضبط کیا نہیں جاتا مگر ہمارے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس معاملے میں کیا طرز عمل اختیار کیا اس کے لیے ضروری ہے کہ سیرت طیبہ کا مطالعہ کیا جائے
    اور خوب غور سے کیا جائے !

  • مولانا فضل الرحمن بھی خارجیانہ روش پر!!! تحریر غنی محمود قصوری

    مولانا فضل الرحمن بھی خارجیانہ روش پر!!! تحریر غنی محمود قصوری

    ارض پاک کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ حکومتی اداروں سے ٹکراءو ہے جس سے پاکستانی گورنمنٹ کے علاوہ عام پاکستانی عوام کا جانی اور مالی نقصان بھی ہوتا ہے یوں تو قیام پاکستان کے بعد سے ہی ایسے شر پسند عناصر اپنے ذاتی مفاد کی خاطر ابھرنے لگے تھے مگر پچھلی تین دہائیوں سے ایسے شر پسند عناصر اور تنظمیوں میں بہت حد تک اضافہ ہوا ہے جس کے پیچھے خالصتا پاکستان مخالف بیرونی ہاتھ ہیں جیسا کہ ٹی ٹی پی اور پی ٹی ایم کی تانیں اسرائیلی موساد اور ہندوستانی خفیہ ایجنسی را سے ملتی ہیں
    حالانکہ آئین پاکستان 1973 کے آرٹیکل 256 کے تحت کوئی بھی سیاسی و مذہبی جماعت، تنظیم یاں فرد ایسی کوئی بھی ٹیم تیار نہیں کر سکتا جو فوج جیسی صلاحیت رکھتی ہو یعنی کہ ایسا دستہ جو مسلح ہو یاں غیر مسلح ہو کر فوج جیسی کاروائیاں کر سکے، مار کٹائی وگوریلا جنگ اور روایتی جنگ جیسی صلاحیتیں رکھتا ہو آئین میں اس آرٹیکل کا ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ کوئی شخص یاں گروہ اپنی فوج بنا کر ارض پاک کو نقصان نا پہنچا سکے کیونکہ ماضی میں اسی بدولت مکتی باہنی بنا کر چند بے ضمیروں نے 1971 میں ارض پاک کو دو ٹکڑوں میں تقسیم کیا تھا
    آئین پاکستان کے علاوہ احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی اپنے مسلمان ملک کے اداروں سے مسلح ٹکراؤ کی بڑی سختی سے ممانعت کی گئی ہے اور ایسا کرنے والوں کو خارجی یعنی دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا گیا ہے اور خارجیوں کے متعلق ارشاد ہے کہ یہ جہنم کے کتے ہیں
    آئین پاکستان کے مطابق کوئی بھی فرد ،گروہ یاں جماعت کسی بھی حکومتی ادارے کے خلاف عدالت میں اپیل دائر کر سکتا ہے
    پاکستان میں ایسی کئی سیاسی و مذہبی جماعتیں ہیں جو آئین پاکستان اور احادیث نبوی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستانی اداروں پر یلغار کر چکی ہیں جن میں حالیہ دہائی میں سر فہرست تحریک طالبان پاکستان، ایم کیو ایم بی ایل اے ،بی ایل ایف اور پی ٹی ایم یعنی پشتون تحفظ موومنٹ ہیں جو کھلم کھلا آئین پاکستان کی خلاف ورزی کرتی رہی ہیں بلکہ کئی بار مسلح ریاستی اداروں پر یلغار بھی کر چکی ہیں جیسا کہ رواں سال 26 مئی کو شمالی وزیرستان کے علاقے بویا میں آرمی چیک پوسٹ پر پی ٹی ایم کے کارکنان نے حملہ کیا اور 5 فوجی شہید اور درجن کے قریب زخمی ہوئے مگر افسوس تو مولانا فضل الرحمن کی سیاسی جماعت کی ذیلی عسکری ونگ انصار الاسلام پر ہے کہ جس نے کل بروز پیر بلوچستان کے علاقے برکھان میں لیویز فورس کی چیک پوسٹ پر قبضہ کرنے کی کوشش کی جس پر لیویز فورس نے اپنے دفاع میں ہوائی فائرنگ کی جس سے انصار الاسلام کے بدمعاش بھاگ گئے مولانا صاحب آپ تو ایک عالم دین اور بزرگ سیاستدان ہیں کیا آپ نے احادیث نبوی اور آئین پاکستان کا مطالعہ نہیں کیا؟ اگر آپ واقعی اسلام آباد کی بجائے اسلام کے ،مجاہد ہیں تو اپنی اس جماعت انصارالاسلام سے برات کا اعلان کیجئے تاکہ واضع ہو سکے کہ آپ پاکستان کی بقاء اور سلامتی کے ضامن ہیں اور آپ کا مقصد اسلام ہے ناکہ کرسی وزارت اسلام آباد یقینا مولانا صاحب آپ کو اپنی جماعت کی کرتوت کی خبر تو مل ہی گئی ہوگی تو پھر دیر نا کیجئے وضع کیجئے کہ کرسی وزارت اسلام آباد یاں صرف اسلام
    #قصوریات

  • اسمٰعیل شاہ وفات پا گئے

    کوئٹہ :تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے تو پھر ایسے ہی ہوا ہے ،مورخین کے مطابق پاکستان کے مشہوربلوچی اداکاراسمٰعیل شاہ 29 اکتوبر 1992ء کو کوئٹہ میں وفات پاگئے۔اسماعیل شاہ 22 مئی 1962ء کو پشین کے قریب ایک قصبے کلی کربلا میں پیدا ہوئے تھے۔

    مصنوعی کیلشئیم ۔ خون کی شریانوں کے امراض کا خطرہ

    1975ء میں انہوں نے پاکستان ٹیلی وژن کوئٹہ مرکز کے بلوچی ڈراموں سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔ ان کا پہلا اردو ڈرامہ ’’ریگ بان‘‘ اور پہلا ڈرامہ سیریل ’’شاہین‘‘ تھا جن میں ان کی اداکاری کو بہت پسند کیا گیا۔ اسماعیل شاہ کی پہلی فلم ’’سونے کی تلاش‘‘ تھی تاہم باعتبار نمائش ان کی پہلی فلم ’’باغی قیدی‘‘ تھی جو 17 اگست 1986ء کو ریلیز ہوئی۔

    طوفانی بارشوں سے تباہی،7 افراد ہلاک

    اسماعیل شاہ نے مجموعی طور پر 70 فلموں میں کام کیا جن میں 19 فلمیں اردو میں، 25 فلمیں پنجابی میں ، 6 فلمیں پشتو میں اور 20 فلمیں ڈبل ورژن تھیں۔ ان کی مشہور فلموں میں لو اِن نیپال، لیڈی اسمگلر، باغی قیدی، جوشیلا دشمن، منیلا کے جانباز، کرائے کے قاتل اور وطن کے رکھوالے کے نام شامل ہیں۔

    فرانس: مسجد کے باہر فائرنگ سے 2 افراد زخمی

  • اردو اک لمحہ فکریہ ، تحریرغلام فاطمہ

    بلاشبہ ہماری قومی زبان اردو کی بے وقعتی ہمارے لئے ایک لمحہ فکریہ سے کم نہیں۔۔آج سے پہلے میں نے کبھی بھی اس نہج پر اس طرح نہیں سوچا جس طرح آج سوچ رہی ہوں۔۔۔
    آج تک سارے تجزیاتی پروگرام اور جتنے بھی تفریحی پروگرام میں نے دیکھے اور سنے ان سب کا نقشہ میرے ذہن میں ابھر آیا کہ وہاں پر بھی ہمیں خالص اردو سننے کو نہیں ملتی اور نہ ہی ہم خود بولتے ہیں۔
    آج پہلی بار مجھے ایک پاکستانی ہونے کے ناطے شدید شرمندگی ہوئی ہے کہ میں خود ہمیشہ انگریزی زبان کو اردو پر فوقیت دیتی رہی ہوں۔
    انگریزی زبان کو ترقی دینے والے ہم خود ہیں۔انگریزوں نے جسمانی طور پر آج سے کئی سال پہلے ہمیں آزاد تو کر دیا لیکن ذہنی طور پر آج بھی ہم ان کے غلام ہی ہیں کیونکہ ہمیں ہماری قومی زبان بولتے ہوئے شرمندگی ہوتی ہے اور غیروں کی زبان پر ہم فخر محسوس کرتے ہیں۔مختلف زبانیں سیکھنا اور بولنا بہت اچھی بات ہے لیکن اس دوڑ میں ہم نے اپنی قومی زبان کے ساتھ شدید ناانصافی کر دی ہے اور اس کے ذمہ دار حکومتی اعوانوں میں بیٹھے اعلیٰ سطح کے عہدہ داروں سے لیکر ایک سبزی فروش تک سب ہیں۔ہم نے ہر جگہ یہ تحریر چسپاں کردی ہے کہ اچھی تعلیم اور اچھی نوکری کی گواہی صرف ایک چیز ہی دے گی اور وہ ہے اچھی انگریزی اور باقی ماندہ زبانیں۔
    گھروں میں بچوں کو انگریزی پروگرام دکھائے جاتے ہیں تاکہ بچپن سے ہی ان کی ذہنی نشوونما میں وہی زبان رچ بس جائے۔اعلی ایوانوں غیر ملکی سرکاری دوروں میں بھی اپنی قومی زبان کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی جو کہ ہماری سستی نااہلی اور کاہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
    انتہائی معزرت کے ساتھ جب تک آپ خود یعنی ہم یہ قوم
    اور اس ملک کا ایک ایک شہری ایک ایک فرد اپنی قومی زبان کو عزت نہیں دے گا بالکل اسی طرح جس طرح گورے دیتے ہیں جس طرح چینی اور باقی ترقی یافتہ قومیں دیتی ہیں تب تک ہم کبھی بھی ترقی پزیر قوموں کی فہرست سے نہیں نکل سکیں گے۔
    اس کے لئے قوم میں شعور اجاگر کرنے کی اشد ضرورت ہے اور اس کا بہترین ذریعہ جدید مواصلاتی نظام ہے۔

    تحریر غلام فاطمہ

  • صدر آزاد کشمیر کا امریکی کانگریس اراکین کے بھارتی حکومت کے نام خط کا خیر مقدم

    صدر آزاد کشمیر کا امریکی کانگریس اراکین کے بھارتی حکومت کے نام خط کا خیر مقدم

    آزاد جموں وکشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے امریکی کانگریس کی خارجہ امور کی کمیٹی کے چھ ارکان کی طرف سے بھارتی حکومت کے نام خط کا خیر مقدم کیا ہے،

    این آر او ملے گا یا نہیں وزیر اعظم نے اعلان کردیا

    اسلام آباد ۔ 28 اکتوبر (اے پی پی) آزاد جموں وکشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے امریکی کانگریس کی خارجہ امور کی کمیٹی کے چھ ارکان کی طرف سے بھارتی حکومت کے نام خط کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی جانب سے بھارتی حکومت کو مقبوضہ جموں وکشمیر میں بدنام زمانہ پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کئے گئے شہریوں کی مکمل معلومات فراہم کرنے اور امریکی کانگریس کے ارکان اور صحافیوں کو مقبوضہ جموں کشمیر کا دورہ کر کے وہاں انسانی حقوق کی صورتحال کا جائزہ لینے کی اجازت دینے کے مطالبہ کو نہایت اہمیت کا حامل قرار دیا ہے۔ صدر آزادکشمیر نے امریکی کانگریس کے ارکان ڈیوڈ فسسلین، ڈینا ٹیٹس، کرسی ہولا ہان، اینڈی لیون، جیک میگ گورن اور سوسان وائلڈ کا خاص طور پر شکریہ ادا کیا جنہوں نے بھارتی حکومت سے مقبوضہ کشمیر میں انٹرنیٹ اور مواصلات کی ناکہ بندی، سیاسی رہنماﺅں اور سیاسی کارکنوں کی گرفتاری اور طویل عرصہ سے جاری کرفیو کے حوالے سے کئی سوالات پوچھے ہیں، صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ امریکی کانگریس کے ارکان نے مقبوضہ کشمیر میں مظاہرین کو کنٹرول کرنے کے لئے ربڑ کی گولیوں کے استعمال اور اس کے نتیجہ میں آنکھوں کی بصارت سے محروم بچوں سمیت دیگر شہریوں کی صحیح تعداد اور شہریوں کے حق احتجاج کے حوالے سے بھی کئی سوالات پوچھے ہیں،

    مولانا فضل الرحمن کی زیرقیادت مارچ کو اسلام آباد آنے دینا ہے یا نہیں؟ فیصلہ ہو گیا

    صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ پانچ اگست کے بعد مقبوضہ علاقے میں ذرائع ابلاغ پر پابندیوں کے باوجود اندھا دھند گرفتاریوں کا علم ہر خاص و عام کو ہے۔ بھارت کی نیشنل فیڈریشن آف وویمن کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے صدر نے کہا کہ اس رپورٹ میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ پانچ اگست کے بعد تیرہ ہزار جوانوں کو گرفتار کیا گیا ہے جن میں بارہ سے چودہ کی عمر کے بچے بھی شامل ہیں۔ صدر آزاد کشمیر نے امریکی کانگریس کے رکن الہان عمر، ٹیڈ یوہو، ابھی گہیل ، سپن برگر اور مائیکل فیز پیٹرک کی طرف سے امریکی ایوان نمائندگان کی انسانی حقوق کی ذیلی کمیٹی برائے جنوبی ایشیاءکے 22 اکتوبر کے اجلاس میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال اور بھارتی فوج کے شہریوں کے ساتھ طرز عمل کے حوالے سے ان سوالات کو اٹھانے اور تشویش کا اظہار کرنے پر شکریہ ادا کیا۔ ان اراکین کانگریس نے بھارتی حکومت سے مقبوضہ کشمیر سے فوری طور پر کرفیو ختم کرنے مواصلاتی ناکہ بندی ختم کرنے، شہریوں کی آزادانہ نقل و حرکت کو یقینی بنانے اور سیاسی قیدیوں کو رہا کرنے کا مطالبہ کیاتھا۔ صدر ریاست نے امریکی کانگریس کے ارکان کی طرف سے ایوان نمائندگان کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں بھارتی حکومت کڑی تنقید کو عالمی برادری کے لئے ویک اپ کال قرار دیتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی برادری مقبوضہ کشمیر میں نسل کشی اور منظم قتل عام رکوانے کے لئے بلا تاخیر اقدامات کرے،

    صدر مسعود خان نے کہا کہ بھارت بڑھتی ہوئی عالمی تنقید اور کشمیریوں کے حق میں اٹھنے والی آوازوں کو خاموش کرنے کے لئے واشنگٹن ڈی سی میں تھنک ٹینک پلانٹ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا لیکن بھارت کی تمام تر کوششوں کے باوجود واشنگٹن، برسلز اور لندن سے اٹھنے والی آوازوں کو خاموش نہیں کیا جا سکا اور دنیا اب مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی ریاستی دہشت گردی اور کشمیریوں کے ساتھ اس کے وحشیانہ سلوک کی حقیقت سے پوری طرح آگاہ ہو چکی ہے۔ بھارت کا مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے جھوٹ پر مبنی بیانیہ اب اپنا اعتبار کھو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال کے بارے میں سوالات پوچھنے کا عمل قابل قدر ہے لیکن عالمی برادری اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو فوری مداخلت کر کے کشمیریوں کو بھارتی مظالم اور کشمیر کو بھارت کی نو آبادی بننے سے بچانا ہو گا،

  • جماعت اسلامی کا پاکستان اورکشمیر کے لیے کردار ، تحریر : عرفان قیوم

    :جماعت اسلامی کا پاکستان اورکشمیر کے لیے کردار تحریر : عرفان قیوم
    یہ بات ایک حقیقت ہے جس سے کوئی انکا ر نہیں کر سکتا کہ اسوقت پاکستان کی سب سے قدیم سیاسی پارٹی جماعت اسلامی ہے۔ جس کا سنگ بنیاد ابوالاعلی مودودی رحمتہ اللہ علیہ نے قیام پاکستان سے قبل ۱۹۴۱ کو رکھا تھا۔ اس جماعت کا سیاسی نظام دیگر سیاسی جماعتوں سے قدرے مختلف نظر آتا ہے۔کیونکہ باقی سیاسی جماعتوں میں اپنے کارکنوں میں سےاقتدار اعلی ٰ کی کرسی کے لیے ایسے شخص کا چناؤ کیا جاتا ہے جو کہ دولت سے مالا مال اور اپنے علاقے میں چودھراہٹ اور نمبرداری کے اعتبار سے خوب اثر رسوخ رکھتا ہو۔مختصر یہ کہ غریب کوسوں دورتک ان کے نزدیک ریاست کی زمہ داریاں سنبھالنے کا اھل نہیں ہے اگرچہ وہ اعلی ٰ سے اعلی ٰ تعلیم یافتہ ہی کیوں نہ ہو۔پیسہ نہیں تو جناب سوری (Sorry)۔بد قسمتی کا عالم یہ ہے کہ یہی اصول ہمارےمعاشرے میں اپنی جڑیں گہری اور پھیلاتا چلا جارہا ہے۔ اگر کسی علاقے کا کارکن اس اصول پر پورا نہیں اترتا تو پھر اپنوں کو نوازنے کی بھر پور کوشش کی جاتی ہے۔ اسی اصول پر پیرابند جماعتیں ہی اکثر کرپشن جیسی لعنت سے داغ دار ہیں۔
    جماعت اسلامی وہ سیاسی جماعت ہے جو کہ اس قسم کی جھنجلاہٹ اور عیب سے پاک صاف دکھائی دیتی ہے۔اس جماعت میں غریب سے غریب تر کارکن بھی پارٹی میں ایک اعلیٰ مقام حاصل کرنے میں کامیاب رہتا ہے اور اس کارکن کو اس کی قابلیت کی بنیاد پر میدان سیاست میں بھی اپنے جوہر دکھانے کا سنہری موقع دیا جاتا ہے تا کہ یہ ایوان تک رسائی حاصل کر کے ملک و قوم کی خدمت کےلیےاپنا تن من نچھاور کردے۔یہی وجہ ہے کہ شاید میں نے کبھی نہیں سنا کہ اس جماعت کے کارکن کرپشن کی دلدل میں دھنسے ہوئے ہیں۔اس کے ساتھ یہ بات بھی مشاہدے میں ضرور آئی ہے کہ تعلیمی قابلیت کے اعتبار سے اس جماعت میں میدان سیاست کے کارکن تقریباًدوسروں پر سبقت رکھتے ہیں۔ جو کہ میرٹ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
    دین کے میدان میں بھی یہ جماعت صف اوّل میں شامل ہے ۔ جس میں لوگوں کو قرآن و سنت کی دعوت سے روشناس کروانے کے لیےمختلف پروگرامز کا انعقاد کیا جا تا ہےاور ان پروگرامز میں شمولیت کے لیےلوگ پورے پاکستان کے طول وعرض سے سفر کرتے نظر آتے ہیں۔جس کا صرف ایک ہی مقصد ہوتا ہےکہ لوگوں کوحقوق اللہ اور حقوق العباد جیسے دیگر مسائل سے آگاہی دی جائےتاکہ یہ معاشرے کا ایک ابھرتا ہوا روشن ستارہ ثابت ہوسکیں۔
    اس جماعت کے ذیلی اداروں پر نظر دوڑائی جائے تومعلوم ہوتا ہے کہ یہ جگہ جگہ پاکستان کی خدمت میں مصروف عمل ہیں۔گورنمنٹ کالجوں اور گورنمنٹ یونیورسٹیوں میں اسلامی جمعیت طلبہ کے نا م سےکردار کسی سے پوشیدہ نہیں ہے ۔جس میں یونیورسٹی اور کالج کی سطح پرتنظیم کے ناظم اور نائب ناظم کا انتخاب اسی ادارےکے طلباءسے ہی ہوتاہے۔ اس تنظیم کا کام استاتذہ اور طلباء کو درپیش مسائل کو قومی و صوبائی سطح پر اجاگر کرنا اور ان کو حل کروانا مقصو د ہو تاہے۔اس کے ساتھ ساتھ یہ تنظیم اسلامی اعتبار سےطلباء اور اساتذہ کی رہنمائی میں بھی سرگرم عمل ہےجس میں اسلام کے بنیادی اراکین کی عملی طور پر حفاظت ، مخلوط نظام تعلیم سے بڑھتی ہوئی برائیاں ، طلباء میں اخلاقی اقدار کو پروان چڑھانا ، کرپشن سے متعلق آگاہی اور طلباء میں خود اعتمادی کےلیے تقریری مقابلہ جات اور کوئزز وغیر ہ کا انعقاد کیا جاتاہے۔
    علاوہ ازیں جماعت اسلامی کے اپنے تعلیمی ادارے بھی انسانیت کو جہالت سے روشنی کی طرف لانے کےلیے دن رات کوشا ں ہیں جن میں بچوں کواعلیٰ سے اعلیٰ دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ اسلام سے وابستہ رکھنے کےلیے قرآن و سنت کی تعلیم بھی دی جاتی ہے۔
    خدمت انسانیت سے سرشار جماعت اسلامی یوں تو کسی سے پیچھے نہیں ہےبلکہ غرباء ، فقراء، مساکین ، یتامیٰ کی مد د کے لیےاس کی ایک مشہور انجیو الخدمت فاؤنڈیشن متحرک ہے ۔ جس کے زیر اہتمام پورے پاکستان میں سینکڑوں ایمبولنیسیں کسی بھی قسم کے حادثے سے نمٹنے کےلیے ہمہ وقت تیار رہتی ہیں۔ مریضوں کے مفت،سستے اور معیاری علاج کےلیے ڈسپنسریاں اور ہسپتال بنائے گئے ہیں۔ اسی طرح پینے کے صاف پانی کےلیےاعلیٰ قسم کے فلٹریشن پلانٹس بھی لگائے گئے ہیں۔مذید یہ کہ کسی بھی قدرتی آفت زلزلہ ، سیلاب اور طوفان سے ہونے والے نقصانات کے ازالے کےلیے لوگوں کی مدد میں پیش پیش نظر آتے ہیں۔
    آغوش کے نام سےادارہ بھی عوامی خدمت کا ایک منہ بولتا ثبوت ہے جو کہ الخدمت فاؤنڈیشن کی ہی ایک ذیلی تنظیم ہے جس میں بے سہار،نادار، یتیم ، مساکین اور غریب بچوں کی کفالت احسن طریقے سے کی جاتی ہے ۔ اس میں بچوں کےرہنے کے لیے رہائش کا انتظام ، کھانے کےلیے اچھے اچھے کھانوں کا بندوبست اور ان کی تعلیم وتربیت پر بھی خصوصی توجہ دی جاتی ہےتاکہ یہ بچے بڑے ہوکر احساس کمتری کا شکار نہ ہوں ۔
    حالات حاضرہ میں جہاں پاکستان کو دیگر مسائل کا سامہنا ہے وہا ں ایک انسانیت سوز مسئلہ کشمیر بھی ہے ۔ جو کہ تقریباً ستر برس سے ہندو کی جارحیت کا شکار بنا ہوا ہے۔جس میں بھارت نےکشمیری مسلمانوں پر ہرطرح کے ظلم وستم کی رقم قائم کردی ہے۔ کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ متعدد بار کشمیریوں کے حق خود ارادیت پر قراردادیں پیش کر چکی ہے مگر یہ قراردادیں عملی اعتبارسے مکمل طور پرپس پشت ڈال دی گئی ہیں۔
    مگر اب کشمیر کے حالات کچھ مزید گھمبیر ہو چکےہیں ۔سبب یہ ہے کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے اقتدار میں آتے ساتھ ہی کشمیر کی سالمیت کو نقصان پہنچانے کےلیے آرٹیکل 370 اور 35ٓA کا خاتمہ ہی نہیں بلکہ کشمیر کے مسلمانوں کو کرفیولگا کر گھروں میں محصور کردیا ہے۔جس سے لوگ جانوروں کی طرح گھروں میں مکمل طور پر بند ہو کر رہ گئے ہیں ۔جبکہ جانور کو تو کھانے کے لیے پھر بھی کچھ نہ کچھ مل جاتا ہے۔مگر کشمیریوں کو کھانے کے لیے کچھ بھی نہیں، دیگر سہولیات پر تبصرہ کیا کرناہے؟۔ہاں ہاں اگر جانور کسی مصیبت میں پھنس جائیں تو پوری دنیا اُن کے تحفظ کے لیے حرکت میں آجاتی ہے۔ مگر کشمیر ی مسلمانوں سے جانوروں سے بھی بدتر سلوک کیا جارہا ہے جو کہ ظلم کی ایک انتہا ہے ۔بھارتی وزیر اعظلم نریندر مودی اپنے اس عمل سے مطمئن ہے۔بہرحال اس گھناؤنے مسئلے کے پیش نظر جماعت اسلامی کی قیادت کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کےلیے اپنے موجودہ امیر سراج الحق کی سربراہی میں پورے پاکستان کے تما م شہروں میں ریلیوں اور بڑے بڑے جلسوں سے خطاب کررہی ہے تاکہ بھارت کے انسانیت دشمن چہرے کو بے نقاب اور مظلوم کشمیری مسلمانوں کی فریاد رسی ہوسکے۔خواجہ میر درد نے اسی لیے کہاتھا۔
    درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
    ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کر و بیاں

  • اونچی دکان پھیکا پکوان،     تحریر: ملک علی حسن

    اونچی دکان پھیکا پکوان، تحریر: ملک علی حسن

    اونچی دکان پھیکا پکوان تحریرملک علی حسن
    باہر تھا اور اکیلا نہیں تھا۔ بدقسمتی سے اپنے مطابق جس اونچے اور حقیقت میں گٹھیا جس ریستوران کا انتخاب ہم نے کیا وہ شہر کا معروف ریستوران تھا۔ داخل ہوتے ہی بڑے تھڑوں کی روایات کے عین مطابق معمول کی کاروائیوں کا آغاز ہوا اور ایک صاحب نے دل موہ لینے والی مسکرہٹ سے ہمارا استقبال کیا۔ ان کے نیم گلابی ہونٹوں اور نیم پیلے دانتوں کی سکنات کے امتزاج سے پیدا ہونے والے سحر سے ابھی نکلے نہ تھے کہ انہی کے خاص اور خاصے تربیت یافتہ ایک شاگرد ہمارے ساتھ ہو لیے اور ہمیں تمام تر سامان ِ تکلفات کیساتھ سجائے جانے والے ایک میز تک چھوڑا۔ لمحات کی سوئی کچھ ہی گھومی ہو گی کہ بہت ہی با ادب اور انتہائی سلجھے ہوئے اچھے سے ایک بچے دونوں ہاتھوں میں فہرست ِ طعام لیے سلام کہنے آئے اور ہمارے جواب کا انتظار فرمانے لگے۔ ہم ان تمام کے ان عاجزانہ تکلفات کو معمول کی سرگرمی سمجھتے ہوئے معمول ہی کیطرح نظر انداز کرتے چلے گئے اور اپنے من پسند کھانوں کی ایک مختصر فہرست (وعلیکم السلام) کی درخواست کی جسے 20 منٹ انتظار کے حکم سے قبول فرمایا گیا۔ اس دوران ہم اپنے اسلام آباد سے آئے اقارب کے سامنے گوجرانوالہ کے کھانوں کے متعلق اور ان کھانوں میں پوشیدہ ذائقوں کے بارے میں اور ان ذائقوں میں مخفی افادیت کے حوالے سے اتنے ذوق سے الفاظ کے ٹرالر انڈیلنے لگے کہ وہ کھانے کے آنے اور اس پر ہاتھ صاف کرنے سے پہلے ہی اس کے پرستار ہو گئے، کھانا آنے تک مداحوں کا اس کے ساتھ سیلفی کا شوق پورے جوبن پر پہنچ چکا تھا۔ جب وہ اس ذمہ داری کو نبھانے میں مصروف ہوئے تو میں ناچیز اسی اثناء میں کھانوں کی رنگ و شکل سے محسوس کر چکا تھا کہ مہمانوں کے دماغ میں گوجرانوالہ کے کھانوں کے تصورات سے چمکتا مینار جلد اندھیر ہونے والا ہے۔ بہرحال تناول کرنے کا مظاہرہ چلا۔ نان میرے ہاتھ میں آیا تو اتنا سوکھا جتنا میرا سب سے کھڑوس دوست، چاولوں کی رنگت اتنی خراب جتنا میں خود، اور مرغ کڑاہی کی حالت اتنی ترس کے قابل جتنا ٹیکوں سے پھلایا جانے والے بریلر مرغ۔ آلوں کے قتلوں کا ذائقہ بیان کے قابل نہیں، ظاہری تصویر نے ہی گٹھیا تیل کا استعمال آئینہ کر دیا تھا۔ مہمان میرے حیا کا من و عن خیال رکھتے ہوئے خاموش ضرور تھے لیکن ان کے تاثرات مجھے چنگارتے انداز میں مکمل کہانی بیان کر رہے تھے، میں شرمندہ ضرور تھا لیکن شاید معاملے کا رخ پلٹنے کے لیے کسی اشارے کا منتظر تھا۔ اچانک سے میری بھانجی جو ہماری کل کائنات ہے اور کائنات کے مالک نے سالوں گڑگڑانے کیبعد دی ہے کو قے آنا شروع ہو گئی۔ میرا پارہ تھا کہ مہنگائی کا پیمانہ، اتنا اٹھا کہ دماغ ہی چکرا گیا۔ خود کو سنبھالا اور تحمل مزاجی سے خود پر مہمانوں سمیت بیتی کا احوال سنانے منتظم کے کمرے کا رخ کیا۔ سلامیاں پیش کرنیوالے مجاہد جناب جناب اور معذرت معذرت کے نعروں کیساتھ روکتے رہے لیکن میرے ذہن کی دیواروں پر ریستوران کے باورچی خانے کا ایک نقشہ ابھر چکا تھا جس پر تصدیقی مہر ثبت کرنے میں اندر جانے کی اجازت کا طلبگار تھا۔ منتظم کے کمرے میں بات گھی تک آئی تو خود کو صوفی ظاہر کرنے کی نیت سے فرمانے لگے ہم پاکستان کے مشہور تجارتی نام "صوفی” کا استعمال کرتے ہیں۔ کھانے سے اٹھنے والی بدبو اور تیل کے نام میں مجھے ایک رنگ محسوس نہ ہوا تو میں نے موجود تیل ظاہر کرنے کا کہا، اس پر ایسی آئیں بائیں شروع ہوئی کہ ایک موقع پر میں انہیں درست اور خود کو غلط تصور کرنے لگا۔باقی عملے کیجانب سے معذرتوں کا متواتر سلسلہ تھا لیکن منتظم کی گردن میں کوئی مصنوعی سریا۔ مفاہمتی رویہ کے نتیجے میں اجازت لیکر کچن میں موجود تیل تک پہنچا تو انتہائی گٹھیا اور غیر معروف نام کا تھا، جو نہ تو کبھی میں نے سنا نہ میرے قارئین نے چکھا ہو گا۔ بچی اور تمام عزیزان کی طبعیت بگڑ چکی تھی اور منتظم کا نامناسب رویہ اور ثابت شدہ جھوٹ بھی شامل ِ منظر نامہ ہو چکا تھا۔ میں نے صورتحال سے قانونی طریقے سے نمٹنے کا فیصلہ کیا، پہلا رابطہ کرنے کے لیے رابطے کا آلہ اٹھایا ہی تھا کہ ان سب کا گرو جسے منتظم پکارا جا رہا ہے ڈھٹائی پر اتر آیا اور "جو کرنا ہے کر لو” کہ کر کھلے میدان میں کھیلنے کا چیلنج دے دیا۔ چوری اور مسلسل سینہ ذوری سے میرا پارہ مزید چڑھ گیا اور آواز بھی باوجود سمیٹنے کی کوشش کے اپنی چادر سے باہر تکنے لگی۔اس کی جانب سے مسلسل بدتمیزی کی وجہ سے میرا دماغ اس کے ساتھ تھانے میں جانے پر رضامند ہو چکا تھا۔ پولیس کے ایک دوست اور پنجاب فوڈ اتھارٹی کے ایک آفیسر سے رابطہ کیا۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی والوں نے ریستوران کے نمبر پر رابطہ کر کے تفشیش کے آغاز کی خبر دی، میرے ساتھ موجود میرے ساتھیوں نے مجھ کمزور، عاجز اور انتہائی کم علم و عقل کا کچھ سچا اور کچھ جھوٹا تعارف کروایا تو منتظم کا غصہ ایسا غائب ہوا جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔ یہ وہ موقع تھا جب روایتی معافیوں اور منتوں کا سلسلہ شروع ہوا اور صفائیاں پیش کیجانے لگی، میں نے بھی ان کے چہروں پر عیاں نوکریاں جانے کا خوف پڑھ لیا اور افہام و تفہیم سے معاملہ سلجھانے کا فیصلہ کیا۔ دفتر میں بیٹھے اور لمبے مذاکرات کے بعد فیصلہ یہ ہوا کہ عوام کی جان سے کھلواڑ کرنے والے ناقص گھی، بے ذائقہ کھانا بنانے والے شیف اور باسی اشیاء محفوظ کرنے والے یخ بند کو فوری فارغ کیا جائے گا اور تمام تر اصلاحات پر فوری عمل درآمد کیبعد آگاہ کیا جائے گا اور سلامیاں پیش کرنے اور مسکراہٹوں کے قالین بچھانے والے تربیت یافتہ مجاہدوں کی آڑ میں صحت سے گھناؤنا کھیل کھیلنے کا یہ سلسلہ بند کیا جائے گا۔ باہر نکلتے مجھے اس بات کا بخوبی اندازہ ہوچکا تھا کہ ریستوران کے گاہک کے ساتھ اپنے عاجزانہ تکلفات کی بڑی وجہ اس کی آڑ میں کھانے کے معیار پر سمجھوتا بھی ہے جو ہم آسانی سے کر لیتے ہیں۔ دوستوں سے گزارش ہے بڑے ناموں کا لطف ضرور لیں لیکن کہیں بھی صحت پر سمجھوتہ ہوتا نظر آئے تو بجائے ڈرنے کے اس کو روکنے میں کردار ادا کرنے کی کوشش کریں۔ کہیں دقت پیش آئے تو آپکا بھائی آپکا خادم ہے۔

  • "مسیحاؤں کی غنڈہ گردی اور حکومت کی بے بسی” تحریر: محمد عبداللہ

    جی یہ قوم کے مسیحا ہیں جو گزشتہ ایک مہینے سے قوم کو عذاب میں ڈالے ہوئے ہیں. ہر دوسرے روز سرکاری اسپتالوں کا عملہ بشمول نرسز، خاکروب سڑکیں بلاک کرکے جبکہ ڈاکٹرز آرام سے پرائیویٹ کلینکس میں بیٹھے پیسے چھاپ رہے ہوتے ہیں.ایم ٹی آئی ایکٹ کی نامنظوری اور دیگر چند مطالبات کی منظوری کے لیے ہڑتال کے نام پر سرکاری اسپتالوں کی او پی ڈیز اور یہاں تک کہ ایمرجنسی تک کو بند کرکے خود پرائیویٹ کلینکس میں جا بیٹھتے ہیں اور سرکاری اسپتالوں کا عملہ سڑکوں پر آبیٹھتا ہے. ایک طرف تو ان اسپتالوں میں دور دراز سے آئے ہوئے ہزاروں غریب افراد جو پرائیویٹ علاج افورڈ نہیں کرسکتے وہ بے چارے رل رہے ہوتے ہیں، ڈاکٹرز اور عملے کی منتیں کر رہے ہوتے ہیں جبکہ قوم کے یہ مسیحا فرعون کے لہجے میں رعونت بھری نگاہ ڈال کر گاڑی میں جا بیٹھتے ہیں.
    پولیس کے نظام میں اصلاحات کیوں ضروری ہیں؟ ؟؟ محمد عبداللہ
    ابھی کچھ دن قبل ہی ساہیوال سے ہمارے دوست کہ جن کے والد صاحب لاہور جناح اسپتال میں ایمرجنسی میں وارڈ میں تھے مگر کوئی ڈاکٹر ان کو پوچھنے تک نہ آیا اور وہ ایمرجنسی وارڈ ہی میں اپنی جان ہار گئے. یہ ایک کہانی نہیں ایسی سینکڑوں کہانیاں ہیں کبھی اقتدار کی غلام گردشوں میں بیٹھے لوگ کبھی اپنی اونچی مسندوں سے نیچے اتریں اور آکر دیکھیں کہ کیسے ان کی رعایا صحت و انصاف کے لیے اسپتالوں اور کچہریوں میں رل رہی ہے اور باقی ماندہ سڑکیں بند ہونے اور قوم کے ان مسیحاؤں کی بدمعاشی سے سڑکوں پر لمبی لائنوں میں کھڑی ہے. دور دراز سے محنت مزدوری اور دیگر ضروریات کے لیے لاہور آنے والے اور شہر کے اندر ہی سے کام کاج کے سلسلے میں سفر کرنے والے لوگ جب روزانہ کی بنیاد پر یوں سڑکوں پر ہی خوار ہوتے رہیں گے تو خاک کاروبار ہوگا اور ملکی معیشت چلے گی.

    عورت اور اسلامی معاشرہ ….. محمد عبداللہ
    جس غریب کی ان احتجاجوں کی وجہ سے دیہاڑی نہ لگ سکے اس کا چولہا کیسے جلے گا؟ کیا قوم کے ان مسیحاؤں کو یہ احساس ہے کہ ان کی آئے دن ہڑتالیں کتنے گھروں کے چولہے بجھا دیتی ہیں اور کتنے مجبور اور بے کس باپوں کو بھوک سے بلکتے بچوں کو دیکھنے کی تاب نہ لاتے ہوئے خودکشیوں پر مجبور کردیتی ہیں. کیا ہمارے حکمرانوں کو احساس ہے کہ ان کی گورنس میں کیسے یہ مٹھی بھر طبقہ پورے معاشرے اور قوم کو عذاب میں ڈالے ہوئے ہے؟
    کیوں یہ ہر دوسرے دن سڑکوں پر آن موجود ہوتے ہیں اور ملک و قوم کو عذاب میں مبتلا کردیتے ہیں، سرکاری اسپتالوں میں علاج معالجے کی سہولیات کی بندش سے غربت کی چکی میں پستے مریضوں کے لیے سامان مرگ کررہے ہیں. قوم ان مسیحاؤں کی غنڈہ گردی پر حکمرانوں سے سراپا سوال ہیں کہ ان ریاست ان کو کنٹرول کرنے میں ناکام کیوں ہے؟

    کیا اس لیے تقدیر نے چنوائے تھے تنکے ….. محمد عبداللہ

    محمد عبداللہ کے دیگر مضامین پڑھیے اور انکے بارے میں جانیے

    Muhammad Abdullah
    Muhammad Abdullah