Baaghi TV

Category: بلاگ

  • اردوکے شہر میں انگریزی کا راج—از…..فا طمہ قمر

    منہاج یو نیورسٹی میں science’ reason and religion کے عنوان پر ایک بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد ہوا۔ یہ دو روزہ کانفرنس تھی۔ہم نے کانفرنس کی آخری نشست میں شرکت کی۔اس کانفرنس میں پاکستان کے علاوہ برطانیہ ‘ کینیڈا اور امریکہ کے ماہر تعلیم نے اظہار خیال کیا۔ پاکستان سے اس میں سابق سیکرٹری خارجہ شمشاد احمد خان’ یونیورسٹی اف ساؤتھ ایشیا کے وائس چانسلر ڈآکٹر میاں عمران مسعود ‘ منہاج یونیورسٹی کے بورڈ اف گورنر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر حسین محی الدین نے خطاب کیا۔

    وزیراعلیٰ کی بیٹی اور بہن گرفتار

    کانفرنس اپنے موضوع کے لحاظ سے بہت فکر انگیز تھی فی الوقت ایسے موضوعات پر مذاکرے کرنے کی بہت ضرورت تھی۔ لیکن اس کانفرنس کی سب سے بڑی خامی اس کی کارروائی سے لے کر اس کے مقررین کا انگریزی میں خطاب تھا۔ اور کانفرنس کے دعوت نامے سےلے کر پس منظر نامہ سب کچھ انگریزی میں رقم تھا۔ اپنی ظاہری شناخت سے یہ امریکہ یا برطانیہ کی تقریب دکھائی دے رہی تھی۔ ہم نے وقفہ سوالات میں غیر ملکی مندوبین سے سوال کیا کہ "آپ تین ملکوں کے نمائندے ایک بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کر رہے ہیں۔کیا آپ اپنے ملک کی تقریب میں اپنے ہی ہم وطنوں سے غیر ملکی زبان میں بات کر سکتے ہیں؟کیا آپ کے ملک میں بین الاقوامی کانفرنس کا علم بذریعہ ترجمہ نہیں دیا جاتا ؟ اگر ایسا ہے تو اہل پاکستان کو بھی بتائیں کہ دنیا کی چھ ایٹمی طاقتیں پوری دنیا سے اپنی زبان میں مخاطب ہوتی ہیں۔ پاکستان گونگا نہیں ہے یہ بھی دنیا کی باوقار آزاد’ خود مختار اقوام کی طرح اپنی قومی زبان میں مخاطب ہو”

    کرپشن پر سزایافہ مگر اجازت بھی مل گئی؛کیا معاملہ ہے ؟

    ہمارا سوال انگریزی میں کارروائی کرنے والی میزبان کی غلامی پر کاری وار کر گیا۔ ان محترمہ نے سوال یہ کہہ کر نظر انداز کرنے کی کوشش کی کہ یہ سوال نہیں ” تبصرہ ہے” لیکن یہ بہت خوش آئند امر ہے کہ یونیورسٹی اف ساؤتھ ایشیاء کے وائس چانسلر جو کہ صدارت بھی کررہےتھے انہوں نے ہمیں کہا کہ "آپ کا سوال بالکل درست اور برحق ہے ہم نے اسے نوٹ کرلیا ہے” اور سامعین کی ایک خاموش بھاری اکثریت نے ہمارے سوال کی تالیاں بجا بجا کر بے حد داد دی۔ وہ سامعین جو انگریزی کی تقریر سن کر گونگے بہرے بنے’ تقریب کی کا رروائی سے لاتعلق بنے ہوئے تھے ہمارے اردو میں کئے گئے سوال پر ایک دم سے جاگ اٹھے۔

    کسی بھی ملک کی جامعات اس ملک کی روایات ‘ ثقافت اور زبان کی نمائندہ ہوتی ہے پاکستان کی ہر جامعہ کے پاس مترجم کی سہولت ہر وقت موجود ہوتی ہے کم اذکم جامعات کو اپنی ہر کانفرنس میں اپنی قومی زبان کو عالمی شناخت ہر صورت میں دینی چاہئے۔

    دھرنے کو کیسے کنٹرول کرنا ہے وفاقی حکومت نے اہم فیصلے کرلیئے

    معزز اہل وطن! ہم نے نفاذ اردو کی عملی صدا بلند کی ہے’ کرتے رہتے ہیں آپ بھی انگریزی کے غیر فطری اور ناجائز تسلط کے خاتمے کے لئے ہمارے عملی ہم آواز بن جائیں۔ ہر جگہ انگریزی کے غیر فطری تسلط کے خلاف آواز بلند کریں یقین کیجئے کامیابی آپ کے قدم چومے گی۔

    اردوکے شہر میں انگریزی کا راج

    تحریر:فا طمہ قمر

    فا طمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک

  • 27اکتوبر یوم سیاہ—از–ام ابیہا صالح جتوئی

    کشمیر ایک ایسی خوبصورت وادی جس کو جنت نظیر وادی کہا جاتا ہے۔
    برف سے ڈھکے پہاڑوں
    اور حسین کہساروں کی ایسی سرزمین جس کی وادیاں، جھرنے اور آبشاروں کی خوبصورتی کو دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے گویا دنیا میں ہی جنت کی سیر کرلی گئی ہو۔
    لیکن اس وادی کے لوگوں کا سب سے بڑا جرم مسلمان ہونا تھا تو اسی کی وجہ سے ان کی جنت کو جہنم بنانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی گئی۔
    پاکستان اور بھارت کی تقسیم کے وقت یہ طے پایا گیا تھا کہ ریاستوں کو اختیار ہوگا اپنی مرضی سے دونوں ممالک میں سے کسی ایک کا انتخاب کرسکتی ہیں کشمیریوں نے ڈوگرہ مہاراجہ کے شخصی راج سے نجات پانے کے لئے اپنی مخصوص جماعت آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس کے پلیٹ فارم سے پاکستان سے الحاق کی قرارداد منظور کی گئی جو کہ بھارتی شر پسندوں کو برداشت نہ ہوئی۔
    اسی دن سے بھارت نے کشمیر کے خلاف سازشوں کا تانا بانا بُننا شروع کردیا اور آخرکار اس کا عملی مظاہرہ 27اکتوبر 1947 کو رات کے اندھیرے میں بھارتی فوج کو کشمیر میں اتار کر کیا گیا اور کشمیر پر غاصبانہ قبضہ جما لیا گیا۔

    کشمیریوں نے خوب مزاحمت کی اور آدھا حصہ چھڑوا لیا جو کہ آج آزاد کشمیر کے نام سے جانا جاتا ہے۔
    اسی اثناء میں نہرو نے اقوام متحدہ کا رخ کیا اور وعدوں کے پل باندھ کر قراردادیں پیش کی کہ کشمیریوں کو اپنی قسمت کا فیصلہ کرنے کا حق ہوگا اور وہ ریفرینڈم کے ذریعے جس ملک کے ساتھ چاہیں الحاق کرسکتے ہیں۔
    2نومبر کو اقوام متحدہ کے سامنے کی گئی نہرو کی تقریر آج بھی آن ریکارڈ موجود ہے لیکن کبھی بھی اس کے کئے گئے وعدوں پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔

    اقوام متحدہ کے قوانین کی دھجیاں بکھیریں گئی اور کشمیریوں کی آواز دبانے کے لئے بہت سے مظالم کئے گئے۔
    کشمیر آج تک اپنی آزادی کی جنگ خود لڑ رہے ہیں اور ہندو بنیے کے مظالم کا شکار ہورہے ہیں لیکن پوری دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔
    غیر مسلم ممالک میں اگر کوئی جانور بھی ہلاک ہوجاۓ تو کئی کئی دن اس کے غم میں سوگ منایا جاتا ہے لیکن کشمیر شمشان گھاٹ کے مناظر پیش کرتا ہے جہاں ہر روز نوجوان،بچے ،بوڑھے اور عورتوں کا قتل عام ہورہا ہے اس سے کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ کشمیریوں کا سب سے بڑا جرم مسلمان ہونا ہے….!!!!
    اس لئے ان کی زندگیوں کا غم پوری دنیا میں کسی کو نہیں ہوتا۔
    دنیا میں یہ کہاں کا قانون ہے کہ کوئی بھی ملک طاقت کے بل بوتے پر معصوم جانوں کے خون کا پیاسا ہوجاۓ اور بنا کسی جرم کے ان پر ظلم و زیادتی کرے لیکن اقوام متحدہ کے ساتھ ساتھ پوری دنیا خواب خرگوش میں ہے۔

    کشمیریوں پر کیے گئے مظالم کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں انٹرنیشنل میڈیا ہزاروں دفعہ کوریج کرچکا ہے کہ بھارتی فوج کس طرح مظالم کے پہاڑ توڑ رہی ہے۔
    کس طرح کشمیری خواتین کی عصمت دری کی جاتی ہے اور ان پر پیلٹ گنز کا استعمال کیا جاتا ہے جبکہ اپنی معصوم جانوں اور ماؤں بہنوں کی عزتیں بچانے کے لئے اگر کشمیری بھارتی فوج کے مظالم کو روکنے کی کوشش کرتے ہیں تو ان کو دہشت گرد کہا جاتا ہے۔

    کیا بھارت اس قدر سفاکیت کے باوجود دہشت گرد نہیں ہے ؟؟؟؟؟

    گزشتہ کئی روز سے کشمیر میں کرفیو نافذ ہے کشمیریوں کے گھروں کو جیل بنا دیا گیا ہے جہاں کھانا پینا اور ادویات کی عدم دستیابی کی بدولت کئی کشمیری جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

    کیا یہ بھارتی دہشت گردی نہیں ہے؟؟؟؟

    بھارت نے خطے کا امن و امان تباہ کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی لیکن اسکا ہاتھ روکنے کے لئے اقوام متحدہ نے آنکھیں اور کان بند کر رکھے ہیں۔

    بھارت نے جدید ترین ٹیکنالوجی اور اسلحہ کا استعمال کرکے کشمیریوں کے حوصلے پست کرنے کی کوشش کی اور ان کی آزادی کی آواز دبانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا لیکن ہمیشہ سے منہ کی کھائی اور ناکام ہوا۔
    کشمیری سنگبازوں اور فریڈم فائٹرز کا مقابلہ کرنا بھارتی افواج کے بس کی بات نہیں رہی۔
    بھارت نے جس قدر مظالم کی انتہا کی اسی قدر کشمیری نوجوان قلم کتابیں چھوڑ کر مقابلے کے لئے نکل پڑے پی ایچ ڈی اسکالرز بھی بھارتی فوج کے مظالم کی روک تھام کے لیے عسکریت پسند تحریکوں کے شانہ بشانہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑے ہوۓ۔
    کشمیریوں کے حوصلے کبھی پست نہیں ہوں گے اور آزادی پانے کی خاطر وہ اپنے خون کے آخری قطرے تک اپنی مدد آپ کے تحت جدوجہد جاری و ساری رکھیں گے لیکن ہم بطور مسلمان اقوام متحدہ سے اپیل کرتے ہیں کہ کشمیریوں پر ہونے والے مظالم پر بھارتی فوج کے خلاف ایکشن لے ورنہ ان کے اپنے ہی ممالک کے تمام لوگوں کا عدل و انصاف سے بھروسہ اٹھ جاۓ گا اور وہ دن دور نہیں جب دنیا کے منصفوں کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاۓ گا……!!!!!!

    27اکتوبر یوم سیاہ—از–ام ابیہا صالح جتوئی

  • 27 اکتوبر یوم سیاہ اور اقوام متحدہ کا کردار،  تحریر : صالح عبداللہ جتوئی

    27 اکتوبر یوم سیاہ اور اقوام متحدہ کا کردار، تحریر : صالح عبداللہ جتوئی

    27 اکتوبر یوم سیاہ اور اقوام متحدہ کا کردار تحریر : صالح عبداللہ جتوئی

    27 اکتوبر کو تمام کشمیری کشمیر سمیت دنیا بھر میں یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہیں جس میں وہ شہداء اور آزادی کے متوالوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور بھارت کے سفاک چہرے کو پوری دنیا کے سامنے بے نقاب کرنے کی کوشش کرتے ہیں.

    گزشتہ سات دہائیوں سے شہ رگ پاکستان پنجہ استبداد میں ہے اور نت نئے طریقوں سے اس جنت نظیر وادی پہ ظلم و بربریت کا طوفان برپا ہے جس کے نتیجے میں لاکھوں کشمیری جان کی بازی ہار چکے ہیں اور کئی اس سعادت کو حاصل کرنے کے لیے بے تاب ہیں.

    27 اکتوبر وہ دن ہے جس دن بھارتی ناپاک بھارت نے رات کے اندھیرے میں کشمیر میں اپنی فوج اتار دی اور نہتے کشمیریوں پہ حملہ کر کے کشمیر پہ قبضہ جما لیا لیکن کشمیریوں کی جدوجہد اور مجاہدین کے حملوں نے کشمیر کا آدھا حصہ چھین لیا اور کامیابی کی راہ پہ گامزن ہی تھے کہ نہرو نے ان کے آگے گھٹنے ٹیک لئے اور اس مسئلہ کو 2 نومبر کو اقوام متحدہ لے گیا اور کشمیریوں سے وعدہ کیا کہ وہ اس مسئلہ کو استصواب راۓ سے حل کرے گا اور جس طرح کشمیری چاہیں گے ویسا ہی ہو گا اور وہ جس کے ساتھ الحاق کرنا چاہیں گے ان کو نہیں روکا جاۓ گا اس کی اقوام متحدہ میں کی گئی یہ تقریر آج بھی آن ریکارڈ موجود ہے لیکن بعد ازاں اس پہ عمل نہ کر کے اس کو ردی کی ٹوکری کی زینت بنا دیا گیا اور اس پہ بالکل بھی عمل درآمد نہیں ہو سکا.

    72 سال گزر چکے ہیں اور کشمیر میں خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے لیکن تمام عالمی تنظیمیں اور اقوام متحدہ خاموش تماشائی بنے ہوۓ ہیں کسی کے کان پہ جوں تک نہیں رینگی یہاں کتوں کے مرنے پہ ماتم ہوتا ہے لیکن کشمیریوں کے قتل عام ہونے کے باوجود سب نے آنکھیں پھیری ہوئی ہیں شاید ان کا یہ جرم ہے کہ وہ مسلمان ہیں اور مسلمان پہ ہونے والے ظلم سے کافروں کو کوئی فرق نہیں پڑتا.

    گذشتہ 3 ماہ سے سفاک مودی نے بھارت میں کرفیو نافذ کر رکھا ہے اور معصوم کشمیریوں کی زندگی دوبھر کر دی ہے ان کا کھانا پینا انٹرنیٹ سروس سب کچھ معطل ہے اور کشمیر سے باہر رہنے والے کشمیریوں کا اپنے رشتہ داروں سے رابطہ بھی نہیں ہو پایا اور حریت قیادت بھی مذموم سازشوں کا شکار ہے اور بلاوجہ پابند سلاسل ہے اور ان کو اپنے خاندان والوں تک سے بھی صحیح طرح بات نہیں کرنے دی جاتی اور انہیں ذہنی طور پر ٹارچر بھی کیا جاتا ہے جس کی واضح مثال آپا آسیہ اندرابی کے بیٹے ابن قاسم جنہوں نے حال ہی میں کشمیر ملین مارچ میں بتایا کہ 30 منٹ بات کرنے کا وقت دیا جاتا ہے لیکن ہر 5 منٹ بعد شور مچانا شروع کر دیتے ہیں کہ بس کریں بہت وقت ہو گیا ہے اب فون بند کر دیں لیکن اقوام متحدہ نے حریت قیادت کی بلاوجہ کی گرفتاریوں پہ کسی قسم کا کوئی ردعمل نہیں دیا اور نہ ہی بھارت کو تجارتی و معاشی لحاظ سے تنہا کرنے کی دھمکی دی ہے حالانکہ عمران خان صاحب نے 27 ستمبر کو جنرل اسمبلی میں بڑے زبردست انداز میں پاکستان اور کشمیریوں کی نمائندگی کی ہے اور اپنی تقریر میں انہوں نے بھرپور طریقے سے مسئلہ کشمیر کا مقدمہ پیش کیا اور بھارتی مظالم سے پوری دنیا کو آگاہ کیا کہ بھارت کس طرح تحریک آزادی کو دبانے کے لیے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے اور الٹا پاکستان کو دہشت گرد ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا ہے.

    بھارت نے 27 فروری کو اقوام متحدہ کے قوانین کی دھجیاں بکھیر کر پاکستان پہ حملہ کیا اور بدلے میں منہ کی کھا کے ذلیل و رسوا ہوا لیکن اقوام متحدہ نے اس پہ کوئی ایکشن نہیں لیا نہ ہی اسے دہشتگرد ملک قرار دیا اور بھارت نے لائن آف کنٹرول پہ ہزارہا دفعہ سیز فائر کی خلاف ورزی کی اور شہری آبادیوں کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں کئی شہری زخمی اور شہید ہو چکے ہیں اور دنیا کو بھارت کا گھناؤنا چہرہ دکھانے کے لیے پاکستان عالمی مبصرین اور سفیروں کو بھی متاثرہ علاقوں کا دورہ بھی کروا چکا ہے لیکن ابھی تک اقوام متحدہ نے نظریں پھیر رکھی ہیں اور سب کچھ معلوم ہونے کے باوجود اس پہ کوئی ایکشن نہیں لیا گیا اور نہ ہی بلیک لسٹ کرنے کی کوشش کی گئی اور نہ ہی بھارت کو تنہا کرنے کی دھمکی لگائی گئی۔

    کیا یہ قوانین اور چارٹر صرف پاکستان اور مسلمانوں پہ ہی لاگو ہوتے ہیں؟؟؟
    کیا مسلمان انسان نہیں ہیں؟؟؟
    کیا ان کے کوئی حقوق نہیں ہیں؟؟؟؟
    یا کفر ملت واحدہ کے ایجنڈے پہ کام کر رہا ہے اور ان کی سازشیں صرف پاکستان اور دوسرے مسلمانوں کے لیے ہی ہیں؟؟؟؟
    کیونکہ ایٹمی طاقت ہونے کی وجہ سے پاکستان سب کی آنکھوں میں کھٹکتا ہے.

    وزیر اعظم پاکستان عمران خان صاحب نے بھی برملا کہا تھا کہ مسئلہ کشمیر کو حل نہ کیا گیا تو اس کی ناکامی کا سہرا اقوام متحدہ کے سر پہ سجے گا اور یہ اس کی بہت بڑی ناکامی ہو گی اور اس کے بعد دنیا میں جو حالات کشیدہ ہوں گے اس کا ذمہ دار بھی اقوام متحدہ اور عالمی برادری ہو گی کیونکہ کشمیر دنیا کی سب سے بڑی جیل بن چکی ہے اور سب کچھ معلوم ہونے کے باوجود کوئی بھی اس پہ بولنے کو بھی تیار نہیں ہے

    میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں
    پورے شہر نے پہن رکھے ہیں دستانے

    یہی وجہ ہے کہ کشمیری گن اٹھانے پہ مجبور ہو چکے ہیں اور قلم سے عاری ہو گئے ہیں ایسے کئی نوجوانوں کی مثالیں موجود ہیں جنہوں نے اعلیٰ تعلیم چھوڑ کے بندوق اٹھائی اور اس تحریک میں ایک نئی روح پھونک دی.

    بھارت سن لے کشمیر پہ جتنا ظلم ڈھاؤ گے آزادی کی تحریک اتنی ہی تیز ہو گی اور ان شاء اللہ ایک دن ضرور آۓ گا جب کشمیری یوم سیاہ کی بجاۓ یوم نجات منائیں گے اور بھارت کے کئی ٹکڑے ہوں گے.
    اور بحیثیت مسلمان اور پاکستانی اب ہماری زمہ داری ہے کہ ہم کشمیر کے لیے کس حد تک آواز بلند کرتے ہیں اور اس ظلم و بربریت کے خاتمے کے لئے کس طرح کفر کے ایوانوں کو لرزا سکتے ہیں تاکہ دنیا میں اس دور کے فرعون سے مظلوم قوم کو چھٹکارہ مل جاۓ اور ہم بھی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سرخرو ہوجائیں۔

    اللّہ سبحانہ و تعالیٰ ہمارا حامی و ناصر ہو۔

    پاکستان زندہ باد
    کشمیر پائندہ باد

  • پاکستان تب رہے گا جب کشمیر رہے گا …  تحریر عبدالواسع برکات !!

    پاکستان تب رہے گا جب کشمیر رہے گا …  تحریر عبدالواسع برکات !!

    پاکستانیوں نے اسلام میں جب پانچ کلو میٹر کا کشمیری پرچم لہرا کر عالمی ریکارڈ قائم کیا تو اس کشمیر مارچ میں کشمیری بہادر خاتون آسیہ اندرابی کا بیٹا احمد بن قاسم اپنی درد بھری تقریر میں کہہ رہے تھے ’’ ہر کشمیری اپنے آپ کو پاکستانی سمجھتا ہے اور یہ رشتہ تاریخی رشتہ اس رشتے کا تعلق ہمارے دین سے اس رشتے بڑا اور کوئی رشتہ نہیں ہے ۔ کشمیر کے بچے سکول بیگ سے زیادہ اپنے عزیز و اقارب کے تابوت اٹھاتے ہیں ۔‘‘ بزرگ رہنما جو اس عمر میں اور انتہائی کمزور طبیعت کے باوجود کشمیری عوام کے ساتھ بھارت کے عزائم کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہیں یٰسین ملک جیل کی زندگی برداشت کر رہے ہیں کشمیری ہر روز بچوں کے بوڑھوں کے عورتوں کے جنازے اٹھاتے ہیں ۔ کشمیری 72سالوں سے یہ رشتہ نبھارہے ہیں خون پیش کرکے قربانیاں دے کر بچوں کی قربانیاں بزرگوں کی قربانیاں اپنی مائوں بہنوں کی قربانیاں دے کر یہ تعلق یہ رشتہ مضبوط کر رہے ہیں ہندوستان کے ہر ظلم کو اپنے بدن پہ سہہ کر ہندوستان کی دہشت گردانہ کروائیوں کو اپنے سامنے ہوتا دیکھتے ہیں بھارت مودی کی وحشیانہ پالیسیوں کو اپنے اوپر زبردستی لاگو ہوتا دیکھ کر بھی یہ رشتہ کمزور نہیں ہونے دیا اور آزادی کے ارمان اور پاکستان کی محبت میں کمی نہیں آنے دی ان کو امید ہے کہ ایک دن آزادی کا سورج دیکھیں گے اور پاکستان کی پیار بھری ہوائوں کو کشمیر میں بھی پائیں گے۔ لیکن ہم ان کو کیا دکھا رہے ہیں ؟؟ کیا ہم کو اندازہ بھی ہے کہ جب کشمیری پاکستان کی طرف دیکھتا ہو گا تو اس کو سکرین پر صرف نواز شریف کی بیماری ہی نظر آتی ہو گی اس کو کشمیری کی لہولہان بیٹی کی تصویر نظر نہیں آتی ہوگی ۔۔۔۔ کشمیری جب امید بھری نظر سے پاکستان کی طرف دیکھتا ہو گا تو اس کو اپنے کشمیر سے بے پرواہ اور اقتدار کی کرسی کی خاطر جنگ لڑتے سیاستدان نظر آتے ہوں گے ۔۔۔ وہ کشمیری جو پاکستان کے پرچم کو اٹھائے گولیاں برداشت کر رہا ہے وہ جب پاکستان کی طرف دیکھتا ہو گا تو درجنوں شوگر ملوں کے مالک زرداری کی بیماری کا ڈھنڈوڑا بج رہا ہو گا ۔ وہ کشمیری جو پاکستان پہ قربان ہو رہے ہیں وہ جب پاکستان کی سکرین پہ دیکھتے ہوں گے کہ معمولی سے ہارٹ اٹیک کی بھي بریکنگ نیوز چل رہی ہیں اور کشمیریوں کے جنازوں کی بھی خبریں غائب ہیں ۔۔۔۔ کشمیری اسلام آباد کی طرف دیکھتے ہوں گے تو مولانا حضرات ڈی چوک کو فتح کرنے کی بحث کر رہے ہوں گے ۔۔۔ کشمیری وزارت خارجہ کو دیکھیں گے تو وہاں حریم شاہ کے چرچے نظر آتے ہوں گے ۔۔۔ عدالتوں اور ججوں کی طرف دیکھیں گے تو وہ بھی نواز شریف ، مریم نواز، زرداری ، شہباز شریف کی سزائوں کے بارے میں زیر بحث نظر آئیں گے ۔۔۔۔ کشمیری سیاسی جماعتوں کے وابستگان کی طرف دیکھيں تو ہر کارکن کو اپنے اپنے لیڈر کی فکر ستائے جا رہی ہے ہر کوئی چاہتا ہے میرا لیڈر ترقی کر جائے میرا لیڈر وزیراعظم کی سیٹ پر بیٹھ جائے اس کی خاطر میں اپنی جان بھي قربان کر دوں ۔۔۔کشمیری اس وزیر اعظم کو بھی دیکھتے ہوں گے جو اقوام متحدہ میں تقریر کے بعد غائب ہیں اور دھرنے کو رکوانے میں مصروف ہیں۔۔ ۔ ۔ او میرے پاکستانیو!!!!!! کشمیریوں کو پاکستان کا پرچم اٹھائے آج 72سال ہو گئے ہیں کشمیریوں نے ایک دن بھی پاکستان کا پرچم گرنے نہیں دیا کرفیو کو 100 دن ہونے والے ہیں وہ تب بھی ثابت قدم ہیں ان کے ڈگمگائے نہیں ہیں مگر ہم شاید بھول رہے ہیں کشمیریوں کو پس پشت ڈال رہے ہیں ہمارے سیاستدان قصور وار ہیں ان کو اپنے اپنے اقتدار کی فکر ہے ۔۔ میڈیا کو ریکنگ کی فکر ہے جس خبر سے ریکنگ میں اضافہ ہو اسی خبر کو بریکنگ نیوز بنائیں گے۔۔۔ عوام تو میڈیا کے پیچھے اور اپنے قیادتوں کے پیچھے چلنے والے ہوتے ہیں جب کشمیر میڈیا سے اور قیادتوں کے دماغوں سے نکل جائے تو عوام کو کشمیر کہاں سے یاد آئے گا ۔۔۔ اس وقت نہ دھرنوں کا وقت ہے اور نہ ہی کسی اندرونی جنگ کا وقت ہے کشمیری پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں پاکستان کے ہر حلقہ کو چاہیے کشمیریوں کو جواب دے ان کا دست و بازو بنے ان کے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہو جائے ۔۔ کچھ دیر کے لیے بھول جائیں اپنے اقتدار کو ۔۔اپنے کالے کوٹ کو اتار دیں ۔۔ اپنی منسٹری کی سیٹ کی پرواہ نہ کریں کشمیر کی پراہ کریں کشمیر رہے گا تو پاکستان رہے گا اور پاکستان رہے گا تو تمہارا اقتدار بھي رہے گا تمہارے ملین مارچ بھی تبھی ہوں گے تمہاری عدالتوں میں فیصلے تبھي چلیں گے تمہارے دفتروں میں کاروبار تبھی چلے گا تمہارے سیاسی و مذہبی لیڈر کی ترقی تبھی ہو گی جب پاکستان رہے گا اور پاکستان تب رہے گا جب کشمیر رہے گا … !

  • عراق میں احتجاجی مظاہروں کی حقیقت!—از—صابرابومریم

    حالیہ دنوں عراق میں احتجاجی مظاہروں کا دوسرا دور شروع ہو اہے اس سے قبل شروع ہونے والا احتجاجی مظاہروں کا دور بیس اکتوبر سے ایک ہفتہ قبل اس لئے روک دیا گیا تھا کیوں کہ ختمی مرتبت حضرت محمدمصطفی (ص) کے نواسہ جناب امام حسین کے چہلم کے ایام کی وجہ سے دنیا بھر سے کروڑوں افراد کی کربلا و نجف جیسے مقدس شہروں میں آمد و رفت تھی۔البتہ یہ اعلان کیا گیا تھا کہ چہلم امام حسین کے بعد 25اکتوبر سے ان مظاہروں کا دوبارہ آغاز کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ مظاہروں کے پہلے دور میں بھی درجنوں افراد مارے گئے تھے جو کہ سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور ہینڈ گرنیڈ جیسے ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہوئے پائے گئے تھے۔

    بہر حال حالیہ دنوں میں عراق میں احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔سوشل میڈیا پر عراق سے موصول ہونے والی سیکڑوں ویڈیوز اور تصاویر تک سب کی رسائی ہے۔ہم اس مقالہ میں کوشش کریں گے عراق میں ہونے والے ان مظاہروں کے پس پردہ عوامل کو آشکار کریں۔

    یہ مظاہرے کیوں شروع ہوئے اور ان کی قیادت کون کر رہا ہے؟ اس سوال کا آسان سا جواب یہی ہے کہ مہنگائی، کرپشن جیسے دیرینہ مسائل ان مظاہروں کی بنیاد بنے ہیں جبکہ ان مظاہروں کی قیادت کے عنوان سے تاحال کوئی بھی سیاسی قیادت کھل کر سامنے نہیں آ رہی ہے کہ جو علی الاعلان یہ کہہ سکے کہ ان مظاہروں کی قیادت کر رہی ہے۔جو کچھ بتایا جا رہا ہے وہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا کے ذریعہ عوام جمع ہوئے ہیں اور حکمران طبقہ کی کرپشن اور بد عنوانیوں کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ بظاہر اگر ان باتو ں کو مان لیا جائے تو یقینا کوئی بھی سمجھدار انسان یا سیاسی سوج بوجھ رکھنے والا انسان ان باتوں کو رد نہیں کر سکتا لیکن حقیقت اس کے بر عکس ہے جو کہ پردے کے پیچھے ہے۔

    حقیقت میں مظاہرین جو بغیر کسی قیادت کے سڑکوں پر نکل آئے ہیں اور مسلسل ایسی ویڈیوز سامنے آ رہی ہیں کہ جس میں سرکاری عہدیداروں کو مارا پیٹا جا رہاہے۔حتیٰ یہاں تک کہ کربلا میں ایک رضا کار کو ایمبولینس سے نکال کر قتل کر دیا گیا، جبکہ ایمبولینس کے دیگر عملہ کو بھی اس کے ساتھ ساتھ قتل کیا گیا یہ مناظر آج سوشل میڈیا پر موجود ہیں۔اسی طرح ایک اور منظر میں بغداد کی گلیوں میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک پولیس وین کو روک کر پولیس والوں کو اتار کر انہیں چند شر پسند عناصر گرفتار کر کے لے جا رہے ہیں جبکہ ان پر بہیمانہ تشدد بھی کیا جا رہاہے۔ایسی کئی ایک ویڈیوز سوشل میڈیا پر موجود ہیں جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مظاہرین کے اندر چھپے ہوئے شرپسند عناصر ہینڈ گرنیڈ جیسے ہتھیار بھی استعمال کر رہے ہیں۔بصرہ میں کچھ ایسے مظاہرین کو بھی گرفتار کیا گیا ہے جو مظاہرین کے اندر رہتے ہوئے مظاہرین اور پولیس والوں پر گولیاں چلا رہے تھے اور انہیں خفیہ انداز میں قتل کر رہے تھے۔

    بہر حال ان مظاہروں کے احوا سے ہٹ کر جو اصل مدعا ہے وہ یہ ہے کہ رفتہ رفتہ ان مظاہرین کے مطالبات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں جن میں مہنگائی اور کرپشن سمیت حکمرانوں کی بد عنوانی جیسے الزامات کہیں دور دور بھی نظر نہیں آ رہے ہیں۔اب ان مطالبات میں ایران کے خلاف نعرے بازی، داعش کے خلاف جدوجہد اور جنگ کرنے والی رضا کار فورس کے خلاف نعرے، عراق کے بزرگ علمائے کرام کی تصاویر کو نذر آتش کرنے سمیت ان کے خلاف نعرے لگانا سمیت ایسے نعرے لگائے جا رہے ہیں کہ جو خود ان احتجاجی مظاہروں کی جڑ اور بنیاد کا پتہ دیتے ہیں۔

    عرا ق سے امریکی افواج کا انخلاء او پھر یہاں داعش کی حکومت قائم ہونے سے داعش کے خاتمہ کے بعد تک عراق اور اس کا نظامکافی حد تک تبدیل ہو چکا ہے۔ایک عرا ق جو امریکی سرکار کا محتاج تھا آج امریکی فوج کو عراق میں قبول کرنے کو تیار نہیں ہے۔دوسری طرف امریکہ چاہتا ہے کہ عراق کے ایران سمیت چین اور روس اور دیگر ممالک کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات کو بھی ضرب لگائی جائے،حالیہ مظاہرو ں میں لگائے جانے والے نعروں میں اس سازش کی کھلی تصویر نظر آ رہی ہے۔

    امریکی صدر پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ امریکہ نے عراق اور شام پر تسلط حاصل کرنے کے لئے سات ٹریلین ڈالر خرچ کئے ہیں اب ٹرمپ یہ کہتے ہیں کہ ان سات ٹریلین ڈالرز کی واپسی وہ عراق کے تیل کو دنیا بھر میں فروخت کر کے حاصل کریں گے۔یعنی مقاصد صاف نظر آرہے ہیں کہ عرا ق کے وسائل پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔جیسا کہ ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ یورپ میں کسی ایک دکاندار سے ایک سو ٖڈالر نکلوانے سے کہی زیادہ آسان سعودی عرب کے حکمرانوں سے ملین ڈالرز نکلوانا ہے۔یہی فارمولا وہ عراق میں لا گو کرنا چاہتے ہیں لیکن عراق کی حکومت اور اکثریت اس فارمولہ کو پہلے ہی مسترد کر چکے ہیں۔امریکی سرکار کا عراق میں حال یہ ہے کہ اب صرف ساڑھے چھ ہزار امریکی فوجی سفارتخانوں اور دیگر شخصیات کی سیکیورٹی کے نام پر عرا ق میں موجود ہیں جن کے بارے میں بھی عراق نئی منتخب حکومت کہہ چکی ہے کہ ان کی سیکیورٹی کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    دراصل امریکہ عراق و شام اور لبنان و فلسطین سمیت پورے غرب ایشیاء میں تنہا اور بد ترین شکست خوردہ ہو چکا ہے اور اس شکست کا اعتراف اکشر اوقات ٹرمپ کی تقاریر میں بھی سننے کو ملتا ہے۔عراق کو غیر مستحکم کرنے اور سیاسی بھونچال پیدا کرنے کے لئے امریکی و صہیونی اسکیم نے کرپشن اور بد عنوانی کو آلہ کار بناتے ہوئے چند شر پسند گروہوں کو سوشل میڈیا کے ذریعہ سڑکوں پر نکالنے میں کامیابی حاصل کی ہے تاہم عراق حکومت اور اس کے ادارے مسلسل اس فتنہ سے نمٹنے کی مکمل کوشش کر رہے ہیں۔

    راقم نے ان احتجاجی مظاہروں کو شرپسند عناصر اس لئے کہا ہے کہ اگر یہ مظاہرے عوامی ہوتے تو پھر ان کے نعرے بھی عوامی ہوتے نہ کہ ایسے نعرے جو امریکہ اور اسرائیل کی حمایت میں لگائے جا رہے ہوں۔اگر واقعی یہ مظاہرے عراق کے عوام کے ہیں تو پھر ان کو ملک کی سلامتی اور سرحدوں کی خلاف ورزی جیسے مسائل پر نعرے لگانے چاہئیں کہ جہاں متعدد مرتبہ صہیونی اسرائیل نے ڈرون حملوں میں عراقی افراد کو قتل کیا ہے۔سرحدوں کی خلاف ورزی کی گئی ہے لیکن حیرت کی بات ہے کہ مظاہروں کی خفیہ قیادت اور مظاہرین نے تا حال کسی قسم کا کوئی ایسا پلے کارڈ نہیں اٹھا یا ہے کہ جس میں داعش کے خلاف جنگ کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کی گئی ہویا عراق کی سیکیورٹی کے خلاف صہیونی سرگرمیوں کی مذمت کی گئی ہو۔

    خلاصہ یہ ہے کہ عرا ق کا احتجاجی مظاہروں کا پہلا دور ہو یا اب چلنے والا دوسرا دور، دونوں ادوار میں جو ایک بات سوشل میڈیا پر واضح طور پر نظر آ رہی ہے وہ امریکہ و اسرائیل سمیت یورپی ممالک اور بالخصوص خلیجی ممالک بشمول سعودی عرب سے حمایت کی جا رہی ہے جو واضح طور پر اس بات کی روشن دلیل ہے کہ عراق میں موجود چند ایسے عناصر جو امریکہ، اسرائیل اور خطے کی عرب ریاستوں کے اشاروں پر عراق کے مستقبل کو تباہ و برباد کرنا چاہتے ہیں اور امریکی ایجنڈا کی تکمیل کی خاطر عراق کی سڑکوں پر معصوم او ر بے گناہ لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنا کر قتل و غارت کر رہے ہیں۔

    ایسے کسی بھی احتجاج کو جمہوری احتجاج نہیں کہا جاتا لہذا ہر عقل مند جو عرا ق کی سیاسی صورتحال سے آشنا ہو گا وہ یہ بات بخوبی سمجھ سکتا ہے کہ عراق میں جاری مظاہرے در اصل امریکی خلفشار ہیں جس کا مقصد امریکی ناپاک عزائم کی تکمیل کے سوا کچھ بھی نہیں۔امریکہ اپنی شکست کا بدلہ لینے کے لئے عرا ق میں نئے انداز سے وارد ہو رہاہے تا کہ اپنی شکست کو چھپا سکے اور اس کام کے لئے امریکی حکومت پر اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کتنے بے گناہوں کا خون بہاناپڑے گا۔کیونکہ امریکہ پہلے ہی نائن الیون کے بعد افغانستان او ر عراق میں لاکھوں انسانوں کو موت کی نیند سلا چکا ہے

    عراق میں احتجاجی مظاہروں کی حقیقت!
    تحریر:صابرابومریم
    سیکرٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان
    پی ایچ ڈی ریسرچ اسکالر، شعبہ سیاسیات جامعہ کراچی

  • پالیسی کون بناتا ہے ؟؟؟

    کیا کوئی سجاول ریاض کو جانتا ہے ؟؟ سجاول ،پاکستان انڈر 19 کا نائب کپتان ہے اور پاکستان کی طرف تمام لیول کی کرکٹ کھیل چکا ہے اور اسے زرعی ترقیاتی بینک کی طرف سے نوکری دی گئ۔مگر پاکستان میں کلب کرکٹ ختم ہونے کے بعد ZTBLنے ایک لیٹر کے زریعے مطلع کیا ہے کہ آپ کرکٹ کو خیر آباد کہیں اور واپس آکر ”Peon”کی نوکری کریں۔
    پی سی بی کے لاکھوں میں تنخواہیں لینے والے دیسی بابوئوں نے آتے ہی ریجنز /ڈیپارٹمنٹل کرکٹ بند اس وجہ سے کی کہ اقربا پروری اور سفارش کلچر کو ختم کیا جا سکے۔وہ تو ختم نہ ہو ئے (حالیہ ٹیم سلیکشن سے اندازہ لگا یا جا سکتا ہے) لیکن اس پالیسی نے کھلاڑیوں کو بیروزگار ضرور کر دیا ہے۔اسی مد میں ایل سی سی اے میں 14 سال سے کام کرنے والے گراونڈ مین شوکت علی کو تین ماہ سے تنخواہ نہیں دی گئی اور نوکری سے فارغ کردیا گیا۔تو پوچھنا تھا ،پالیسی کون بناتا ہے؟؟
    بحیثیت ایک کرکٹ شائق اورکرکٹ کھیلتے اور دیکھتے اپنی عمر کی تیس بہاریں گزار چکا ہوں۔مجھے نہیں پتہ چلا آج تک کہ پاکستان کرکٹ کو بہتر بنانے کےلئے پالیسی کون بناتا ہے۔تحریر میں حقائق اس بات کے عکاس ہونگے کہ پالیسی بنانے اور اسے نافذ کرنے کےلئے کرکٹ کھیلنے اور کا با غور مشاہدہ صیحح پالیسی کو بنانے میںکتنا کار گر ثابت ہوتے ہیں۔
    وسیم خان ،حال ہی میں پاکستانی کرکٹ بورڈ میںتعینات ہونے والے ایم ڈی ہیں۔ وزیر اعظم کے لائے ہوئے احسان مانی نے اُنہیں اپنے اقتدار کے فورا” بعد تعینات کیا۔سوال یہاں یہ ہے کہ کیا وہ پاکستان میں ہونے والے کلب کرکٹ کو سمجھتے ہیں ؟؟ کیا محض ایک انگلش کاونٹی کے سی او کو پورے کرکٹ بورڈ کا ایم ڈی لگا دینا درست عمل ہے؟؟ تو یوںپرچیوں کا سلسلہ شروع ہوا چاہتا ہے۔
    مصباح الحق کو ایک ہی وقت میں چیف سلیکٹر اور ہیڈ کوچ بنانے کی لوجک ابھی عام عقل میں آنے والی نہیںتھی ک موصوف نے آسٹریلیا کےلئے ٹیم انائونس کرنے کی پریس کانفرنسز کر کے اپنی اہلیت اور پالیسی کے فیلئر کو ایک دفعہ پھر عیاں کر دیا۔
    مصباح،9 اکتوبر کو کی گئی پریس کانفرنس میںایک سوال کہ جواب میں کہتے ہیں ،عثمان قادر کیا ڈومیسٹک کھیلا ہے جو اُسے نیشنل ٹیم میں سلیکٹ کیا جائے ۔ (یہاں اس بات کو بالکل نہیں بھولنا چاہئیے کہ اس وقت کپتانی سرفراز کے پاس تھی)۔ٹھیک گیارہ دن بعد جب آسٹریلیا کے لئے تینوں فارمیٹس کےلئے ٹیمز کا اعلان ہوا تو ایک اور پریس کانفرنس داغ دی۔اور عثمان قادر کو نہ صرف ٹیم میں سلیکٹ کیوں کیا اس پر صحافیوں کو بھاشن دیا ، بلکہ قصیدہ گوئی بھی کہ جناب بگ بیش کھیل کر آئے ہیں اور بال گھوماتا اچھی ہے سکٹ اچھی کرتا بلا بلا۔۔اب عثمان قادر کو سلیکٹ کرنے کے پیچھے نئے ٹی ٹونٹی کے کپتان بابر اعظم کی دوستی کا عنصر بھی شامل ہے۔اگر ہندسوں پر جائیں، تو دائیں ہاتھ کے لیگ سپنرززاہد محمود نے حالیہ نیشنل ٹی 20 کپ میں سائو تھ پنجاب کی جانب سے 5 میچز میں 13 کی اوسط سے 9 کھلاڑیوں کو آئوٹ کیا۔جبکہ عثمان قادر نے 4 میچز میں 16کی اوسط سے 5 کھلاڑیوں کو آئوٹ کیا۔
    دوسری طرف ایک الگ ہی دوڑ پنجاب اور سندھ کی لابیز کی شروع ہوئی ہوئی ہے۔مصباح الحق نے آتے ہی ذاتی حیثیت میں پرفارم نہ کرنے پر نہ صرف سرفراز احمد کوکپتانی سے ہٹا دیا ساتھ ہی ساتھ ٹیم سے بھی فارغ کر دیا۔اور کہا کہ ڈومیسٹک میں پرفارم کرے ٹیم کے دروازے اُس کےلئے کھلے ہیں۔تجربات اور مشاہدات کی روشنی میں یہ بات واضح اور روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ کبھی بھی کپتانی سے نکالے شخص کو ٹیم میں نہیں رکھا۔پرفارمنس کی بنیاد پر اگر کم از کم ٹیسٹ میں کسی کو رکھا جاتا تو فواد عالم ضرورسلیکٹ کیا جاتا۔بیسیوں ایسے نام ہیں جن میں تابش خان (کراچی سے) ، سہیل تنویر ، ذیشان اشرف میرٹ ہوتا تو انہیں بھی آسٹریلیا ٹور میں شامل کیا جاتا۔اگلے سال 2020 میں ٹی 20 ورلڈکپ آرہا ہے اور ٹیم میں کوئی سینئر پلیئر نہیں ہے۔کیا ہی بہتر ہوتا اگر محمد حفیظ یا شعیب ملک کی بھی جگی بنتی تا کہ جونئیر پلئرز ،سینئرز کے ساتھ ملکر کھیلتے اورہم ایک مضبوط ٹیم ورلڈ کپ میں اُتارتے۔
    ہم نے سوچا تھا کہ عمران خان کے آنے کے جہاں اور بہت سے ڈیپارٹمنٹ صحیح ہونگے وہیں کرکٹ تو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں گے مگر جہاں لوگ انڈے بیچتے ہوں یا وین چلا کر گزارا کرنے پر مجبور ہوں
    تو پو چھنا پڑے گا کہ پالیسی کون بناتا ہے ؟؟

  • ابن قاسم کی فریاد۔۔از قلم خنیس الرحمن

    ٓٓکشمیری آج ایک قابض فوج کے خلاف آپ کی بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ہر کشمیر ی اپنے آپ کو پاکستانی سمجھتاہے اور یہ رشتہ تاریخی رشتہ ہے۔اس رشتے کا تعلق ہمارے دین سے ہے۔اس رشتے سے بڑا اور کوئی رشتہ نہیں۔جب میں ایک دفعہ اپنے والد سے ملنے جیل میں گیا تو میں نے اپنے والد سے پوچھا آپ جیل میں کیوں ہیں تو میرے بھائی نے کہا کہ ابو ہوم ورک نہیں کرتے تھے تو اس وجہ سے ان کو انڈیا نے جیل میں ڈال دیا ہے تو میں نے کہا ٹھیک ہے۔ایک دفعہ مجھے اپنے ابو کی بہت یاد آرہی تھی تو میں نے جان بوجھ کر ہوم ورک نہیں کیا۔میں نے سوچا کہ شائد اس طریقے سے میں اپنے والد کے ساتھ رہ سکوں۔لیکن ایسا نہیں ہوا تو میں اپنے والد کے پاس گیا تو میرے والد نے مجھے اپنے پاس بلایا اور اپنی کمر سے اپنی شرٹ ہٹائی تو اس پر ٹارچر کے نشان تھے۔میں نے اپنی آنکھیں بند کیں میں نہیں دیکھ سکا تو میں نے اپنے ابو سے کہا یہ کس نے آپ کے ساتھ کیا ہے۔یہ کس نے کیوں آپ کے ساتھ کیا ہے تو ابو نے کہا انڈیا۔۔چھوٹا سا تھا تب میں۔۔کشمیر میں بچے سکول بیگ سے زیادہ تابوت اپنے کندھوں پر اٹھاتے ہیں۔جو بھی پاکستان میں ارباب اقتدار ہیں آپ انہیں کہیں وہ کشمیر کے لیے کچھ کریں کیونکہ صرف باتوں سے نو لاکھ فوج کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔آپ کو ضرورت ہے تب تک جب تک کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہوتا۔بہت ظلم ہوچکاہے۔پچھلے سترسال سے کشمیری لاک ڈاؤن میں رہ رہے ہیں۔اب وقت آچکا ہے کہ پاکستانی قوم اس ایشوکو اٹھائے۔کشمیر میں لوگ کیا سڑکوں یا کسی ڈویلپمنٹ کے لیے لڑ رہے ہیں نہیں انڈیا سب کچھ دینے کو تیار ہے۔وہ سری نگر کو سمارٹ سٹی بنانے کو تیار ہے۔کشمیر ی کہتے ہیں ہمیں روٹی،کپڑااور مکان نہیں چاہیے ہم آدھی روٹی کھائیں گے لیکن سر نہیں جھکائیں گے۔یہ بات یاد رکھیں کہ کہ کشمیریوں کا آپ پر ایک قرض ہے اویہ مسئلہ کسی خاص فرد یا خاندان کا نہیں سب پاکستانیوں کا ہے۔۔
    یہ الفاظ ایک ایسے نوجوان کے ہیں جس کی والدہ اور والدہ اپنے آپ کو تحریک آزادی کے لیے وقف کیے ہوئے ہیں۔آج وہ بھارتی عقوبت خانوں میں بند ہیں۔جن کا جر م یہ ہے وہ آزادی کی صدا بلند کرتے ہیں۔یہ احمد بن قاسم کے الفاظ ہیں جو انہوں نے شاہراہ دستور پر ملین مارچ سے خطاب کے موقع پر کہے ایک وقت تھا ان کی والدہ پاکستان کے نام پاکستان کے صاحب اقتدار کے نام کشمیریوں کا پیغام بھیجا کرتی تھیں آج وہ بھارتی عقوبت خانوں میں پاکستان کا پرچم لہرانے کی وجہ سے زندان میں ہیں اس لیے آج خود بیٹا اپنی والدہ کا پیغام پاکستانیوں کو پہنچا رہا تھا۔احمد بن قاسم نے ان مختصرالفاظ میں کشمیریوں پر ہونے والے مظالم ان کی مشکلات اور ان کی فریاد کو ہمارے سامنے رکھ دیا،احمد کے والد ڈاکٹر قاسم فکتو جنہیں کشمیر کا نیلسن منڈیلا بھی کہاجاتا ہے،چھبیس سال سے اودھم پور کی جیل میں پابندسلاسل ہیں۔انہیں پہلی مرتبہ 1993ء میں کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت جیل بھیجا گیا اور پھر بعد میں بھارتی سپریم کورٹ نے جنوری 2003ء میں انہیں تاحیات عمر قید کی سزا سنادی تھی۔یوں ان کی ساری زندگی جیلوں میں قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کرتے گزری ہے۔بھارتی حکومت اور فوج نے اس طویل عرصہ میں انہیں اور ان کے اہل خانہ کو سخت اذیتیں پہنچائیں اور جدوجہد آزادی سے پیچھے ہٹانے کی کوششیں کیں لیکن غاصب بھارت کا ظلم وجبر انہیں جھکانے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔1993میں گرفتاری اور6سال کی نظربندی کے بعدعدالت نے انہیں تمام الزامات سے بری کردیاتھا لیکن بھارتی فورسز نے انہیں 2002ء میں نئی دہلی کے اندرا گاندھی ائرپورٹ پر اس وقت دوبارہ گرفتار کرلیا جب وہ لندن میں کشمیر کے حوالے سے ایک کانفرنس میں شرکت کے بعد واپس آرہے تھے۔اس کے بعد سے وہ جیل میں ہیں اور ان کے خلاف کسی قسم کا کوئی ثبوت نہ ہونے کے باوجود محض تحریک آزادی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کے جرم میں گرفتاررکھا گیا ہے۔ ڈاکٹر قاسم فکتو مقبوضہ جموں کشمیر اور جنوبی ایشیا میں سب سے لمبی قید کاٹنے والے سیاسی قیدی ہیں۔سیدہ آسیہ اندرابی سے شادی کے بعد ان کی اہلیہ اور چھ ماہ کے بیٹے کو بھی گرفتار کیا گیا تھا تاہم سیدہ آسیہ اندرابی اوران کے بیٹے کو1995ء میں رہا کر دیا گیا لیکن ڈاکٹر قاسم فکتوکی سزا برقرار رہی۔ مسلم دینی محاذ کے سربراہ بھی ہیں انہوں نے اسلامک اسٹڈیز میں پی ایچ ڈی کی اور 125قیدیوں کو گریجویشن کرائی۔عدالت نے انہیں عمر قید کی سزا دی تھی جو 14سال بنتی ہے لیکن دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے دعویدار ملک بھارت نے انہیں 26 سال سے جیل میں بند کر رکھا ہے لیکن کوئی ان کی آواز سننے والا نہیں ہے۔ جیسا کہ احمد نے کہا کہ کشمیری پاکستان کی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں آج ان کے والد بھی کشمیر کی آزادی اور پاکستان کی تکمیل کے لئے جیل میں ہیں۔ذرائع کیمطابق احمد کے والد ڈاکٹر قاسم فکتو کو بھارت کی طرف سے بہت بھاری پیشکش کی گئی۔ ان کو اسلامک یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے حیثیت سے تعینات کرنے کی پیش کش کی گئی،اس کے علاوہ 2002 کے دوران آئی بی کے چند افسران نے انہیں انتخابات میں حصہ لینے کی پیش کش بھی کی تھی۔ اسی طرح انہیں وزارت تعلیم کاقلمدان بھی سنبھالنے کی پیشکش کی گئی لیکن انہوں نے ان سب کو ٹھکرا دیا۔احمد کی والدہ بھی میں سمجھتا ہوں کہ تحریک آزادی کے لیے آوازبلند کرنے والی واحد خاتون ہیں جنہوں نے سب سے زیادہ جیلیں کاٹیں۔آج بھی سیدہ آسیہ اندرابی تہاڑ جیل میں بند ہیں۔انہیں بھی صرف پاکستان سے محبت کی سزا دی جارہی ہے وہ اپنے پروگراموں میں پاکستان کا پرچم لہراتی ہیں۔اپنے گھر پر پاکستانی پرچم لہراتی ہیں تو ان کے گھر کو بھارت کی طرف سے سیل کردیا جاتا ہے۔وہ یوم پاکستان کے موقع پر پاکستان کا قومی ترانہ پڑھتی ہیں ان پر غداری مقدمہ کرکے جیل میں بند کردیا جاتا ہے۔وہ برملا دوٹوک کہتی ہیں کہ ہم پاکستان کے ساتھ جینا مرنا پسند کرتے ہیں۔احمد جس طرح سے کہہ رہے تھے کہ ہر کشمیر ی اپنے آپ کو پاکستانی سمجھتاہے اور یہ رشتہ تاریخی رشتہ ہے۔اس رشتے کا تعلق ہمارے دین سے ہے۔اس رشتے سے بڑا اور کوئی رشتہ نہیں۔ان کی والدہ کا یہی جرم تھا وہ کہتی تھیں کہ اسلام کی بنیاد پر،ایمان کی بنیاد پر،قرآن کی بنیاد پر،محمدﷺ کی محبت کی بنیاد پر ہم پاکستانی ہیں پاکستان ہمارا ہے۔آج کشمیر میں مسلسل کرفیو کو ۱سی سے زائد دن گزر چکے ہیں ہمیں جاگنا ہوگا۔لوگ کہتے ہیں جلسوں،تقریروں اور پرچم لہرانے سے کیا ہوتا ہے آج وہ پاکستان کی خاطر قربانیاں دے رہے ہیں،جیلیں کاٹ رہے ہیں،گولیاں کھا رہے ہیں ہم اتنا بھی نہیں کرسکتے کہ ہم ان کے لیے آواز بلند کرسکیں۔آسیہ اندرابی کہا کرتی ہیں کہ پاکستان مدینہ ثانی ہے اور پاکستان کے وزیر اعظم بھی یہی کہتے ہیں آج ریاست مدینہ کی بیٹی کا لخت جگر ہم سے فریاد کررہا ہے کہ کشمیریوں کا آپ پر قرض ہے ہمیں اس قرض کا بدلہ چکانا ہوگا۔

  • بھارت کا تحریک آزادی کشمیر کو "موبائل سموں” سے کچلنے کا فیصلہ

    سری نگر: بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر میں کرفیو لگانے کے بعد بوکھلاہٹ کا شکار ہے اور کسی طرح تحریک آزادی کشمیر کو روکنا چاہتی ہے جس کے پیش نظر مودی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں پولیس کی تصدیق کے بغیر نیا موبائل کنکشن جاری نہیں ہوگا

    مقبوضہ جموں وکشمیر میں پولیس نے ٹیلی کام آپریٹرز سے کہا ہے کہ وہ پولیس کی تصدیق مکمل کیے بغیر صارفین کو کوئی نیا سم کارڈ جاری نہ کریں۔ ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق پولیس نے تمام ٹیلی کام آپریٹرز کو ہدایات جاری کیں کہ ان کی سروسز کا غلط استعمال ہونے کی صورت میں ، کمپنی کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔ ٹیلی کام آپریٹرز نے اب مناسب تصدیق کے بعد ہی پوسٹ پیڈ سم کارڈ جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس میں پولیس تصدیق کے ساتھ ساتھ کمپنی کا اپنا طریقہ کار(Know Your Customer) (کے وائی سی)بھی شامل ہے۔

    ایئر ٹیل کے ایک عہدیدار نے ساؤتھ ایشین وائر سے بات کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ ان کو پولیس اور انتظامیہ کی طرف سے سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی صارف کو بغیر تصدیق کے سم کارڈ جاری نہ کریں۔ ٹیلی کام آپریٹرز نے پری پیڈ سم کارڈز کو پوسٹ پیڈ کنکشن میں تبدیل نہ کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔
    حکام نے 70 دن کے وقفے کے بعد 14 اکتوبر کو 40 لاکھ سے زیادہ پوسٹ پیڈ فون بحال کئے تو اس کے بعد لوگو ں میں پری پیڈ سموں کو پوسٹ پیڈ میں کروانے کا رجحان بڑھ گیا ۔ مقبوضہ کشمیر میں 40 لاکھ پوسٹ پیڈ صارفین اور 26 لاکھ سے زیادہ پری پیڈ صارفین ہیں۔

    براڈ بینڈ ، موبائل فون سروسزاور انٹرنیٹ سمیت تمام مواصلات کو 5 اگست کو معطل کردیا گیا ، جب بھارت نے آرٹیکل 370 کے تحت جموں و کشمیر خصوصی حیثیت ختم کردی اور ریاست کو دو مرکز علاقوں میں تقسیم کردیا۔
    ایک سینئر پولیس آفیسر نے ساؤتھ ایشین وائر کوبتایا کہ انہوں نے ٹیلی کام کمپنیوں سے کہا ہے کہ کوئی نیا سم کارڈ جاری کرنے سے پہلے اس کی تصدیق کے مناسب طریقہ کار پر عمل کریں۔ انہوں نے کہا ، "اگر ٹیلی کام کمپنیوں نے پری پیڈ سموں کو پوسٹ پیڈ کنکشنز میں تبدیل نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے تو ، یہ ان کا اپنا فیصلہ ہے۔”

    کشمیر بھر میں پوسٹ پیڈ کنکشن کی بحالی کے ایک ہفتہ بعد ، سینکڑوں افراد نئے پوسٹ پیڈ سم کارڈ حاصل کرنے یا پری پیڈ کارڈ کو پوسٹ پیڈ کنکشن میں تبدیل کرنے کے لئے جیو ، ایرٹیل ، بی ایس این ایل ، ووڈافون ، آئیڈیا اور دیگر آپریٹرز کے شورومزپر امڈآئے تاہم ، بہت سے صارفین مایوس لوٹے کیونکہ تمام ٹیلی کام کمپنیوں نے سموں کی پوسٹ پیڈ میں تبدیلی سے انکار کردیا تھا۔

  • عالمی رینکنگ کا بہتر حصول کیسے ہو؟ چیئرمین ہائر ایجو کیشن کمیشن نے بتادیا.

    عالمی رینکنگ کا بہتر حصول کیسے ہو؟ چیئرمین ہائر ایجو کیشن کمیشن نے بتادیا.

    عالمی رینکنگ حاصل کرنے کے لیے کچھ پیرامیٹرز بنانے ہوں گے ،چیئرمین ہائر ایجو کیشن کمیشن پنجاب پروفیسر ڈاکٹر خالد احمد فضل نے بتا دیا.

    چیئرمین ہائر ایجو کیشن کمیشن پنجاب پروفیسر ڈاکٹر خالد احمد فضل نے کہا ہے کہ عالمی رینکنگ حاصل کرنے کے لیے کچھ پیرامیٹرز بنانے ہوں گے جن پر عملد آمد سے پنجاب بھر کی جامعات اپنا معیار تعلیم بہتر بنا سکیں ۔ یہ حقائق تعلیم معیار کو جانچنے کے لیے کافی ہیں کہ دنیا کی 1000بہترین یونیورسٹیز میں سے پاکستان کی 14یونیورسٹیز شامل ہیں ۔ ان میں سے 9پنجاب جبکہ 5یونیورسٹیز کا تعلق لاہور سے ہے ۔ فیڈرل ہائر ایجو کیشن کمیشن ہمیں بھرپور تعاون فراہم کر رہا ہے جسکی مدد سے پنجاب ہائرایجو کیشن کمیشن مختلف جامعات کو سہولیات فراہم کر رہا ہے ۔کوالٹی ایجو کیشن پر ہائر ایجو کیشن کمیشن پنجاب کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گااور یونیورسٹیز کو بہتری پیدا کرنے کے مزید مواقع فراہم کرے گا۔یونیورسٹیز نئے پروگرام ،ڈویلپمنٹ ،ریسرچ ،کوالٹی انشورنس پر خصوصی توجہ دیں ۔وزیر اعظم نے نالج ٹیکنالوجی کے نام پر ٹاسک فورس قائم کی ہے جو ٹیکنالوجی کی تعلیم کے حوالے سے بہتری کی گنجائش پیدا کرنے میں کردار ادا کرے گی ۔اس سلسلہ میں ہائر ایجو کیشن کمیشن پنجاب ٹاسک فورس کو ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا تاکہ ٹیکنیکل ایجو کیشن میں بھی بہتری آسکے ۔

    مریم نواز والد سے مل کر رو پڑیں،نواز شریف نے کیا کہا؟

  • آزاد کشمیر میں احتجاج کرنےوالے علیحدگی پسند کون لوگ ہیں ؟

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور گلگت بلتستان کے کچھ علاقوں میں نام نہاد قوم پرست جماعتوں کا احتجاج بدھ کے روز بھی جاری ہے اس احتجاج میں آزاد جموں و کشمیر کی چھوٹی بڑی 20 سے زائد جماعتوں کے اتحاد نے شرکت کر رکھی ہے، اس کا اتحاد کے احتجاج کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ کشمیر کو کلی طور پر تمام اکائیوں کے سمیت مکمل آزاد کیا جائے اور اسے ایک خود محتار ریاست بننا چاہیے ،

    آزاد کشمیر کی بیشترعلیحدگی پسند تنظیمیں جو کہ حالیہ احتجاج کا حصہ ہیں کشمیر متعلق پوری پاکستانی قوم سے محتلف نظریات رکھتی ہیں، ان علیحدگی پسند تنظیموں کےمطابق 21 اکتوبر 1947 کو قبائلی مجاہدین کشمیری عوام کی مدد کیلئے کشمیر آئے تھے اور ان کے آنے کے بعد بھارت نے کشمیر میں اپنی افواج اتاری تھیں، اور انہی قبائلیوں کی وجہ سے کشمیر تقسیم ہوا اور انہی کی وجہ سے آج کشمیری ظلم و جبر کی چکی میں پس رہے ہیں اور یہ بڑے مجرم ہیں، اور یہ تمام علیحدگی پسند لوگ 21 اکتوبر کو یوم سیاہ منانے کیلئے راولا کوٹ سے مظفرآباد کیلئے نکلے ہوئے تھے

    مظفر آبد میں اپر اڈا کے مقام پر ان لوگوں نے جلسے کا اعلان کر رکھا تھا جہاں انہوں نے اپنی تقریب کرنی تھی وہاں پر جب یہ لوگ اکٹھا ہوئے تو انہوں نے کہا کہ ہم نے مظفر آباد قانون ساز اسمبلی کی طرف مارچ کرنا ہے، ابھی انتظامیہ کیساتھ مذاکرات ہو رہے تھے تو انہوں نے پولیس پر پتھراؤ شروع کر دیا ، حالات کو قابو کرنے اور نارمل حالت میں لانے کیلئے پولیس نے ان مظاہرین پر لاٹھی چارج شروع کیا ، اس ہنگامی صورت حال کے نتیجے میں ایک بزرگ شہری جا بحق ہوئے جن کا ان مظاہرین کیساتھ کوئی تعلق نہیں تھا ، اس کے بعد مظفر آباد پریس کلب کے سامنے بھی احتجاج کیا گیا تھا جہاں پولیس کی بھاری نفری نے حالات کو قابو میں کیا گیا تھا

    اس سارے معاملے میں یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر نے ان لوگوں کے مطالبے پہ دفتر خارجہ کو خط لکھا تھا کہ یوا ین کی ہیومن رائٹس کونسل کا وفد مظفرآباد آئے اور ان لوگوں سے ملاقات کرے، اس بعد راجہ فاروق حیدر ان علیحدگی پسند جماعتوں کو لیکر مظفرآباد میں یو این کے دفتر گئے جہاں انہوں نے اپنی یادادشت جمع کروائی جسے یہ کہتے ہیں کہ ان کے یو این کیساتھ مذاکرات ہوئے ،

    اور ان علیحدگی پسند جماعتوں کے احتجاج کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ 21 اکتوبر جس دن یہ احتجاج شروع ہوا اس دن ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے پاکستان میں موجود تمام ممالک کے سفیروں کو کنٹرول لائن کا دورہ کروایا ہے اور بھارت کا جھوٹ کا پوری دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے اور کشمیر ایشو پر پاکستان فرنٹ فٹ پر کھیل رہا ہے ، ایسے میں بھارت سے یہ ٹویٹس آنا شروع ہو گئی ہیں کہ مظفر آباد میں پاکستانی فوج کیخلاف احتجاج کرنے پولیس نے کشمیریوں پر لاٹھی چارج کیا ہے،

    کچھ انڈین ٹی وی چینلز نے تو اس ہنگامی صورتحال کو براہ راست بھی بھارت میں دکھایا جو کہ پاکستان کے امیج اور سالمیت کیلئے بالکل اچھا نہیں ہے ، اور یہ احتجاج مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ سے بھی جا ملتا ہے جو کہ وقت اور جگہ کے لحاظ سے کشمیر کاز کو شدید نقصان پہنچانے کے مترادف ہے ،

    مولانا فضل الرحمن بیرونی ایجنڈے پرپاکستان کوبدنام کرنے پرتلے ہوئے ہیں،سنی اتحاد کونسل