ہر سال کی طرح اس سال بھی 5 فروری یوم یکجہتی کشمیر سرکاری سطح پر منایا جا رہا ہے مگر ہمیں پتہ ہونا چاہیے کہ جو دن ہم منا رہے ہیں اس کا مقصد کیا ہے اور تاریخ میں اس کی کیا اہمیت ہے
ریاست جموں و کشمیر کا کل رقبہ تقریبا 84000 مربع میل ہے جس میں سے 70 فیصد پر انڈیا 1947 سے قابض ہے جبکہ باقی 30 فیصد کا علاقہ ریاست آزاد جموں و کشمیر ہے اس وقت ریاست جموں و کشمیر کی کل آبادی 1 کروڑ سے زیادہ ہے
80 لاکھ سے زاہد باشندے مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہندو کی غلامی و ظلم و جبر کے سائے تلے زندگی گزار رہے ہیں جبکہ 25 لاکھ کے قریب ریاست آزاد جموں و کشمیر کے آزاد و خودمختار شہری ہیں
1846 میں مسلمانوں کے دشمن انگریز پلید نے ریاست جموں و کشمیر کو غدار ڈوگرہ راجہ غلام سندھ کو اس وقت کے 75 ہزار کے عیوض بیچ دیا تھا پھر تقسیم ہند کے بعد جبکہ فیصلہ ہو چکا تھا کہ مسلم اکثریتی علاقے پاکستان اور ہندو اکثریتی علاقے بھارت کو دیئے جائینگے مگر 26 اکتوبر 1947 کو اس وقت کے مہاراجہ ہری سنگھ نے مسلمان جموں و کشمیر اور معائدہ تقسیم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کشمیریوں کی مرضی کے خلاف الحاق بھارت کا اعلان کیا جسے غیور کشمیریوں نے ناقبول کیا مسلمانان جموں و کشمیر مہاراجہ ہری سنگھ کے اس فیصلے کے خلاف سیخ پا ہو گئے کیونکہ وہ شروع سے ہی نعرہ لگاتے آئے تھے کشمیر بنے گا پاکستان اور قیام پاکستان کیلئے غیور کشمیریوں نے بے شمار قربانیاں بھی دیں جو کہ تاریخ میں سنہری حروف کیساتھ رقم ہیں
مسلمانان مقبوضہ جموں و کشمیر کا مہاراجہ کے فیصلے کے خلاف غصہ بڑھتا گیا اور انہوں نے فیصلے کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے مظاہرے کئے اور اپنی آزادی کیلئے پاکستان کے مسلمانوں کو پکارا اور یوں پاکستان و ہندوستان کے مابین پہلی جنگ قیام کے تھوڑے عرصے بعد ہی لڑی گئی اکتوبر 1947 سے 1 جنوری 1949 تک کی اس جنگ میں بھارت کو پاکستانی قبائلیوں اور فوج کے علاوہ غیور کشمیریوں سے منہ کی کھانی پڑنی اور اس مشترکہ جدوجہد کے نتیجے میں ریاست آزاد جموں و کشمیر کا قیام عمل میں آیا آج جس کا دارالحکومت مظفر آباد ہے جہاں اس کی اپنی آزاد سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ ہے ان کا اپنا علیحدہ صدر و وزیراعظم ہے
عنقریب تھا کہ مقبوضہ کشمیر سے شروع ہونے والی یہ جنگ پورے بھارت کو اپنی لپٹ میں لے لیتی اس وقت کے بھارتی وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے سلامتی کونسل میں جاکر منت سماجت کی کہ جنگ بندی کروائی جائے کیونکہ نہرو جان چکا تھا کہ ریاست آزاد جموں و کشمیر کے قیام کے بعد اب یہ جنگ نہیں رکنے والی اور یہ جنگ پوری مقبوضہ وادی کشمیر کو آزاد کروا کے بھارت تک پہنچ جائے گی اسی لئے نہرو سلامتی کونسل پہنچا جس کے باعث سلامتی کونسل میں بیٹھے انسان نما جانوروں سے ساز باز کرکے جنگ بندی کا باقاعدہ اعلان کیا گیا اور اس کیساتھ نہرو و سلامتی کونسل نے مقبوضہ کشمیر کے باسیوں سے رائے شماری کا وعدہ کیا کہ ریفرنڈم کروایا جائیگا جس میں مقبوضہ کشمیر کے باسیوں کو حق دیا جائے گا کہ وہ انتخاب کر سکیں کہ انہوں نے الحاق ہندوستان کرنا ہے یا پاکستان یا کہ آزاد خود مختار کشمیر
اب تک مقبوضہ کشمیر کو عالمی متنازع علاقہ تسلیم کرتے ہوئے کل 18 قرار دادیں منظور کی جا چکی ہیں جن میں بھارت کو مقبوضہ کشمیر سے اپنی فوجیں نکالنے اور سلامتی کونسل و بھارت کے وعدے کیمطابق ریفرنڈم کروانے کا کہا جا چکا ہے تاکہ کشمیری رائے شماری کے ذریعے اپنی آزادی کا انتخاب کر سکیں مگر ہر بار بھارت انکاری رہا مگر افسوس کہ سلامتی کونسل و عالمی برادری اب تک کچھ بھی نہیں کر پائیں
سلامتی کونسل و بھارت کو اس کا کیا گیا وعدہ یاد کرواتے ہوئے 5 فروری کو پوری دنیا میں یوم یکجہتی کشمیر منایا جاتا ہے تاکہ دنیا بھارت پر دباؤ ڈال کر کشمیریوں کو ان کا حق رائے شماری دے مگر بھارت و تمام عالم کفر جانتا ہے کہ 1947 سے اب تک سخت بھارتی پہرے و ظلم و جبر میں رہتے ہوئے کشمیری ایک ہی نعرہ لگا رہے ہیں کشمیر بنے گا پاکستان ،تیرا میرا رشتہ کیا لا الہ الا اللہ اور اسی نعرے پر عمل پیرا ہو کر کشمیری اب تک 1 لاکھ سے زائد شہادتیں ہزاروں ماءوں، بہنوں اور بیٹیوں کی عصمت دری ہونے کے باوجود اسی نعرے پر قائم ہیں
ویسے تو ہر وقت پاکستانی پرچم مقبوضہ وادی کشمیر کے گلی محلوں و گھروں میں لہراتا ہے مگر 5 فروری کو بطور خاص ہر گھر میں پاکستانی پرچم لہرایا جاتا ہے اور انڈین فوج کی ایک سپیشل ونگ ان پرچموں کو اتارتی ہے مگر کشمیری پھر اس سبز ہلالی پرچم کو لہراتے ہیں
جہاں 5 فروری کو کشمیری غیور مسلمان بھارت و سلامتی کونسل کی وعدہ خلافی کے خلاف پوری دنیا میں احتجاج کرتے ہیں وہاں پاکستانی قوم بھی اپنے کشمیری بھائیوں کیساتھ سلامتی کونسل و بھارت کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ان کو اپنے کشمیری بھائیوں کی آزادی کی صدا سنواتے ہیں اور دنیا کو باور کرواتے ہیں کہ کشمیریوں کا نعرہ تیرا میرا رشتہ کیا ؟ لا الہ الا اللہ کے تحت ہم یک دل یک جان ہیں اور جہاں کشمیریوں کا پسینہ گرنے گا وہاں پاکستانیوں کا خون گرے گا
Category: بلاگ
-
5 فروری یوم یکجہتی کشمیر منانے کا مقصد!!! تحریر: غنی محمود قصوری
-

ٹی ٹوئنٹی رینکنگ میں بابراعظم کی حکمرانی برقرار
ٹی ٹوئنٹی رینکنگ میں بابراعظم کی حکمرانی برقرار ہے
باغی ٹی وی : آئی سی سی کی جانب سے جاری کی جانے والی عالمی ٹی ٹوئنٹی رینکنگ میں قومی ٹیم کے کپتان بابراعظم بدستور نمبر ون ہیں، نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز میں عمدہ کارکردگی کی بدولت لوکیش راہول 4 درجے ترقی پاتے ہوئے دوسرے نمبر پر آگئے ہیں، ایرون فنچ ،ایک قدم پیچھے ہٹتے ہوئے تیسری پوزیشن پر ہیں۔
بال پکر کے طور پر ٹیم میں آیا تھا … بابر اعظم نے بتایا کامیابی کا سفراس کے بعد ٹاپ 10 میں کولن منرو، ڈیوڈ میلان، گلین میکسویل، ایون لیوس، حضرت اللہ زازئی، ویرات کوہلی اور روہت شرما شامل ہیں، شرما 3 درجے ترقی پاتے ہوئے ٹاپ 10 میں شامل ہوئے ہیں۔
بولرز کی فہرست میں پاکستان کے عماد وسیم پانچویں شاداب خان آٹھویں نمبر پر ہیں، ٹاپ ٹین میں بالترتیب راشدخان، مجیب الرحمن، مچل سینٹنر، ایڈم زمپا، عماد وسیم، اینڈل فیلکوائیو، عادل راشد، شاداب خان، ایشٹن اگار اور کرس جورڈن شامل ہیں۔ ٹاپ ٹین آل راؤنڈرز میں کوئی پاکستانی شامل نہیں، افغانستان کے محمد نبی سرفہرست ہیں۔ -

ابھی ریٹائر نہیں ہوا ہوں ، وہاب ریاض نے ایسا کیوں کہا
ابھی ریٹائر نہیں ہوا ہوں ، وہاب ریاض نے ایسا کیوں کہا
باغی ٹی وی : قومی کرکٹر وہاب ریاض نے کہا ہے کہ میں ابھی ریٹائر نہیں ہوا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ قومی کرکٹ ٹیم کے لیے سلیکٹ نہ ہونے پہ افسوس ہوتا ہے کیونکہ ملک کے لیے کھیلنا میرا خواب ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو ہوگیا اس کے لیے پریشان نہیں ہوں کیونکہ میری نظریں اس پر مرکوز ہیں جو ہونے والا ہے۔
گلبرگ میں واقع ایک نجی اسٹور پہ آمد کے بعد وہ ذرائع ابلاغ سے بات چیت کررہے تھے۔ انہوں ںے اس عزم کا اظہارکیا کہ جیسی پرفارمنس دیتا ہوں ویسی ہی آئندہ بھی دینے کی کوشش کروں گا۔ایک سوال پر ممتاز باؤلر نے کہا کہ اس مرتبہ بہترین باؤلر بننے کی کوشش کروں گا لیکن باؤلنگ کے ساتھ ساتھ بیٹنگ پر بھی پوری توجہ دے رہا ہوں۔ انہوں ںے کہا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کی ذات پہ کامل یقین ہے۔پاکستان کرکٹ ٹیم کا حصہ رہنے والے فاسٹ باؤلر وہاب ریاض نے کہا کہ عامر اور حارث کے ساتھ اچھا مقابلہ ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ جیتنے کی بھرپور کوشش کروں گا۔
وہاب ریاض نے کہا کہ پی ایس ایل میں کھیلنے والا سب کی نگاہوں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پشاور زلمی نہ کسی ٹیم سے ڈری ہے اورنہ ہی ڈرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم ہر میچ جیتنے کے لیے آتے ہیں۔اس وقت پی ایس یل 5 کی آمد آمد ہے اور اس سلسلے میں تیاریاں جاری ہیں.
-

صبحِ آزادی کے تعاقب میں تحریر : جویریہ چوہدری
صبحِ آزادی کے تعاقب میں تحریر : جویریہ چوہدری
ہر روز نیا سورج طلوع ہوتا ہے
دن راتوں میں بدلتے اور راتیں سپیدۂ سحر میں بدل جاتی ہیں
خزاں کے اداس موسموں سے گُل رنگ شگوفے پھوٹ نکلتے ہیں
گرم لو کے جھکڑوں سے سرد ہواؤں کی لہریں ہم آغوش ہوتی ہیں
ساون رتیں برس کر طویل خشکی کا دور بھی گزر جاتا ہے
تغیرات کا یہ سلسلہ اور چکر رواں دواں رہتا ہے
اپنے وقت اور روٹین کے مطابق سب چلتا رہتا ہے
کوہسار برف کی چادر لپیٹ بھی لیتے ہیں اور آہستہ آہستہ وہ ڈھلنا بھی شروع ہو جاتی ہے
سورج غضب کی گرمی بھی برساتا ہے
اور رگوں میں لہو جما دینے والی سردی میں نرم و گرم گرمائش کا سامان بھی مہیا کرتا ہے
مگر روئے زمین پر بستے انسان ان تمام موسموں میں اپنے اپنے اہداف کا تعین کرتے ہیں اور انہیں حاصل کرنے کے لیئے سرگرداں ہو جاتے ہیں
اس کائنات کا حُسن ان انسانوں کے سکوں اور کامرانی سے براہِ راست جڑا ہوا ہے
وہ خطے جو صدیوں سے جنگ و جدل اور ظلم و نا انصافی کی بھینٹ چڑھے ہوئے ہیں وہاں کے باسیوں کے چہروں پر بھی نا انصافی کی یہ تاریخ پختہ لکیروں کی صورت تحریر ہے
ایسے ہی دل سوز و دلدوز جغرافیہ کے حامل خطہ کا نام کشمیر بھی ہے
جس کے مکین،بڑے،بچے بوڑھے،عورتیں ایک طویل عرصے سے ظلم و زیادتی کی منہ زور آندھی سے نبرد آزما ہیں
فولاد عزم کشمیری جھکے ہوئے ہیں نہ بکے ھوئے ھیں اور بچے بچے کی زباں اور خوں میں ایک ہی نعرہ رواں ہے:
ہم کیا چاہتے ہیں”آزادی”__
ہم لے کے رہیں گے آزادی__
وہ پھولوں والی آزادی__
وہ جاں سے پیاری آزادی__
کرۂ ارض کا یہ خطہ اپنی منفرد نوعیت و تاریخ کا حامل ہے جہاں محض اَسی ڈیڑھ لاکھ باسیوں کے جذبۂ آزادی کو بزورِ ظلم و ستم روکنے کے لیئے آٹھ لاکھ فوج تعینات ہے۔۔۔؟
کیا ہی مقامِ حیرت ہے_!!!
یہ تحریکِ آزادی مختلف مراحل سے گزرتی گزرتی آج اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ پانچ فروری تک جہاں گزشتہ چھ ماہ سے کرفیو کی صورتحال ہے__
کشمیریوں کو سوشل میڈیا اور انٹر نیٹ سے کاٹ کر رابطوں کے تمام ذرائع مسدود کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
بچوں اور عورتوں کے بے پناہ صحت و خوراک کے مسائل عالمی میڈیا کی زینت بن چکے ہیں__
اقوام متحدہ کا استصواب رائے کا تسلیم شدہ حق اور نہرو کا کیا گیا وعدہ ہنوز اپنے ایفاء کا منتظر ہے۔۔۔
بے گناہ نوجوانوں پر تشدد اور شہادتیں جہاں معمول ہیں__
بچوں کی تعلیمی سرگرمیوں پر خوف کے پہرے ہیں__
اور مطب علاج و سہولیات کے فقدان کا شکار__
دنیا زباں و بیاں کی حد تک تو کشمیریوں کی حقوق تلفی کا احساس کرتی اور رکھتی ہے مگر یہ طویل جدوجہد آزادی اب اپنے انتہائی نازک موڑ میں داخل ہو چکی ہے۔۔۔
اور اس سخت ترین صورتحال میں بھی کشمیری اپنے مطالبے پر ڈٹے دکھائی دیتے ہیں اور اپنے عزمِ ہمالیہ سے غاصب کے ہر ہتھکنڈے کے لیئے رکاوٹ بن رہے ہیں۔۔۔
پانچ فروری پاکستان کی تاریخ میں وہ دن ہے جب پوری قوم اپنے مظلوم بہن بھائیوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتی اور اپنے جذبات کو ان کی خوں سے لکھی تاریخ سے ہم آواز کرتی ہے کہ چاہے کچھ بھی ہو ہم اپنے کشمیری بہن بھائیوں کو نہیں بھولے،اگر وہ پاکستان اور سبز ہلالی پرچم کی حرمت کو بلند اور عزیز رکھتے ہیں تو ہم پاکستانی بھی دنیا کے ہر فورم اور ہر انداز میں ان کے ساتھ ہیں_
نہتے و آبلہ پا آزادی کے مسافروں کی منزل تک پہنچنے تک ہم ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے۔۔۔
جو صبحِ آزادی کے تعاقب میں اپنی تین نسلیں قربان کر چکے ہیں، جن کے کندھے لڑکھڑائے نہیں اور قدم ڈگمگائے نہیں__!!!
کشمیر کے سبزہ زاروں کو اپنے لہو کی قبا پہنا کر قبرستانِ شہداء آباد کرتے یہ لوگ یقیناً لہو سے سینچی تحریک کو کامیابی تک پہنچا کر دم لینے کے حوصلوں سے مالامال دکھائی دیتے ہیں__
ظلم ڈھانے والے اس عزم،جذبہ اور منزل سے یقیناً نا آشنا ہیں
تمہید سے تم گزرے ہی نہیں،
اب قصہ سارا کیا جانو__
اس خطے کا امن بالخصوص اور دنیا کا بالعموم نا انصافی اور ظلم کی زنجیروں کو کاٹ دینے سے جڑا ہوا ہے،
کیونکہ انسانیت سوز اقدامات کی یہ سلگتی چنگاریاں الاؤ بن کر اس کے امن کو لپیٹ میں لے سکتی ہیں۔
اسی بات کی جانب پاکستان جیسے امن پسند اور ذمہ دار ملک کی طرف سے بارہا نشاندہی کی جا چکی ہے،عالمی قوتوں کو اس طرف توجہ دلائی جا چکی ہے__
کہ اپنی صبح آزادی کے تعاقب میں خون صد ہزار انجموں کی قربانی سے اندھیری شب کے ظلم سہتے کشمیریوں کو اب ان کا حق بہر حال ملنا چاہیئے__!!!
آزادی کا سورج کشمیری سبزہ زاروں پر اپنی روشن کرنیں بکھیرے اور انسانیت کی تذلیل کی بجائے انسانی حقوق کے دعوؤں کی کوئی عملی صورت بھی دکھائی دینی چاہیئے__!!!
یہی کشمیریوں کا خواب ہے اور وہ اسی کی تعبیر کی تلاش میں سب کچھ کھو رہے ہیں__!!!
ہے کوئی انسانیت کے درد کو سمجھنے والا__؟
رِستے زخموں پر کوئی پھاہا رکھنے والا__؟؟
یومِ یکجہتی کا یہی تقاضا و سوال ہے_!!!!!
سفرِ پیہم میں__
بھاری عزم میں__
گہرے نشیب سے__
بلند کوہسار سے__
اداس چمن سے__
گرتی آبشار سے__
آتی اک ہی صدا ہے__
خوں سے لکھی
ادائے وفا ہے__
کہ ہم کیا چاہتے ہیں؟
"آزادی”۔ -

قوم پرستی کا بت ایک بار پھر PTM کی شکل میں—از– انشال راؤ
تاریخ کے اوراق کو پلٹا جائے تو نظر آتا ہے کہ زمانہ قدیم سے ہی روئے زمین پہ بسنے والی قومیں کسی نہ کسی صورت تفاخر کے مرض میں مبتلا رہی ہیں، کوئی نسل یا قومیت کے فخر تو کوئی رنگ یا زبان کی وجہ سے خود کو دوسروں سے الگ سمجھتے، دین اسلام قومیت کو تسلیم کرتا ہے لیکن شناخت کے لیے جس کا ذکر رب کریم نے سورہ حجرات میں کیا کہ ” ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا پھر تمہاری قومیں اور برادریاں بنادیں تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو”
لیکن افسوس کہ ہم نے قومیت کا غلط استعمال کیا اور اس نظریہ فاسد نے قوموں کو تقسیم کرکے نفرتوں میں مبتلا کردیا، پیر اکرم شاہ الازہری لکھتے ہیں کہ "اس شر انگیز نظریہ نے جنگ و جدل کا لامتناہی سلسلہ جاری رکھا، یہ صرف زمانہ قدیم تک محدود نہیں بلکہ آج بھی اس کے ہاتھوں انسانیت کی قبا تار تار ہے قوم پرستی، رنگ، نسل اور زبان کے بتوں کی پوجا آج بھی اسی زور سے جاری ہے”
اگرچہ آج دنیا ایک گلوبل ولیج کی حیثیت رکھتی ہے لیکن اس بت نے سماج کو دو حصوں میں بانٹ رکھا ہے، سب سے پہلے اس بت کو رسول خدا حضرت محمدؐ نے توڑا اور انسانیت کا درس دیا، حضور اقدسؐ نے تمام مسلمانوں کو بھائی بھائی قرار دیا اور مسلمانوں کو ایک ملت بنایا اور اسی نظریہ کی بنیاد پہ ریاست پاکستان کا وجود روئے ارضی پہ قائم ہوا لیکن افسوس کہ جلد ہی ہم نے اپنی اصلیت اپنی اساس کو بھلا کر رنگ، نسل، زبان کے بتوں کی پوجا شروع کردی جس کی وجہ سے ملک و ملّت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا،
پاکستان کی تاریخ لسانی قوم پرستی سے بھری پڑی ہے کبھی پشتون کے نام سے تو کبھی بلوچ، کبھی سندھی تو کبھی مہاجر اور بنگالی کے نام پہ تحریکوں نے جنم لیا اور تاریخ شاہد ہے کہ جتنا نقصان ملک و ملّت کو نسلی و لسانی نعروں کی وجہ سے پہنچا شاید ہی کسی اور چیز نے پہنچایا ہو، یہ نسلی و لسانی تفریق ہی تھی جس کی وجہ سے سانحہ مشرقی پاکستان جیسا عظیم حادثہ پیش آیا لیکن اس کے باوجود ہم نے سبق نہیں سیکھا، ہم لسانیت کی لعنت میں اس قدر غرق ہوچکے ہیں تمام تر اخلاقی اقدار بھی کھوچکے ہیں
یہ حقیقت ہمارے روز مرہ مشاہدے میں ہے کہ ہم قاتلوں اور بدعنوانوں کی حمایت میں بھی اس بنیاد پہ کھڑے ہوجاتے ہیں کہ وہ ہماری زبان یا علاقے یا قبیلے کے ہیں، اس سے بڑھ کر پستی کیا ہوگی کہ لسانی بنیاد پہ ہم مظلوم کے مقابلے میں ظالم اور حق کے مقابلے میں باطل کا ساتھ دینے سے بھی گریز نہیں کرتے، مشرقی پاکستان میں لسانی نعروں کے بعد ایسی نفرت نے جنم لیا کہ بھائی نے بھائی کا گلا کاٹا اور مشرقی پاکستان بنگلہ دیش کی صورت ہم سے الگ ہوگیا جس پر اندرا گاندھی نے خوشی کا اظہار کرتے ہوے کہا جس کا مفہوم یہ ہے کہ "مسلمان ایک قوم ہیں اس نظریہ کو آج ہم نے سمندر میں غرق کردیا ہے”
اس کے باوجود ہم نے سبق نہ لیا اور اس کے بعد سندھ میں ایک طرف تو سندھو دیش تحریک اٹھ کھڑی ہوئی تو ساتھ ہی اس کے مقابل مہاجر قومی موومنٹ کے نام پر مہاجر تحریک نے شہری سندھ میں پنجے گاڑ لیے جس کے بعد سندھ ایک عرصے تک جلتا رہا، بات حقوق کی کی جاتی رہی لیکن پس پردہ مقاصد کچھ اور ہی نکلے، MQM تیس سال اقتدار میں رہی لیکن آج بھی ان کا رونا وہی ہے کہ مہاجروں کے حقوق جبکہ جئے سندھ کی آڑ میں سندھیوں کے حقوق کی بات کرنے والوں کے خود کے تو محلات بن گئے
بچے یورپ و امریکہ کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کررہے ہیں بہت سے وہیں سیٹل ہیں لیکن عام سندھی و عام مہاجر کی حالت "ہنوز روز اول است” کے مصداق ویسی ہی ہے جیسی ان تحریکوں کے قیام کے پہلے روز تھی اور اگر کچھ حاصل رہا تو وہ بےمعنی و بےمقصد کی نفرت کے سوا کچھ نہیں، اس کے علاوہ بلوچستان میں پانچ بار بلوچ نیشنلزم کے نام پر شورش نے جنم لیا بہت سے گھر اجڑ گئے، اول تو بلوچستان تقریباً ہی نظرانداز رہا لیکن اگر حکومت یا افواج پاکستان نے ڈویلپمنٹ کرنی شروع کی تو بلوچ حقوق و ڈویلپمنٹ کے علمبرداروں کو برداشت نہ ہوا اور ہر ممکن کوشش کی گئی کہ کوئی منصوبہ بلوچستان میں کامیاب نہ ہو لیکن افواج پاکستان نے قربانیاں دیکر بہت سی مشکلات جھیل کر بلوچستان میں نہ صرف امن قائم کیا بلکہ بہت سے منصوبے بھی کامیابی سے جاری ہیں،
پاکستان جب قائم ہوا تو ہندوتوا دہشتگردوں اور صہیونیت کے پیروکاروں کو دلی صدمہ ہو لیکن افسوس کہ ان کے علاوہ افغانستان وہ واحد ملک تھا جس نے نہ صرف پاکستان کو تسلیم کرنے سے انکار کیا بلکہ اقوام متحدہ میں پاکستان کی ممبرشپ کے خلاف درخواست بھی جمع کروائی، اس کے علاوہ اوائل میں ہی پشتونستان کے نام پر علیحدگی کی تحریک کو ابھارا اور پاکستان میں خوب دراندازی کی، داود خان کی قیادت میں افغانستان نے نہ صرف کراس بارڈر ٹیررزم کو پروموٹ کیا بلکہ بلوچ و پشتون علیحدگی پسندوں کی کھل کر سرپرستی بھی کی جس کے جواب میں ذوالفقار بھٹو نے افغانستان کے خلاف سخت رویہ رکھتے ہوے جلد ہی اسے گھٹنے ٹیکنے پہ مجبور کردیا
جسکے بعد سے ایک لمبے عرصے تک اس جانب سے پاکستان میں سکون رہا لیکن طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد ایک بار پھر افغانستان پاکستان مخالف سازشوں کا گڑھ بن کر سامنے آیا اور جب تمام تر سازشوں کو افواج پاکستان نے ناکام بنادیا تو PTM کے نام سے پشتونستان تحریک کے گڑھے مردے میں جان ڈال دی، جس طرح نقیب اللہ محسود کی شہادت کی آڑ میں ڈرامائی انداز میں PTM کو وجود حاصل ہوا اور جس پیمانے پر منظور پشتین کی عالمی و ملک کے مخصوص میڈیا نے تشہیر کی وہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ پولیس مقابلے تو پاکستان میں ہزاروں ہوے لیکن کبھی ان میڈیا پرسنز کو کسی پشتون یا غیرپشتون سے اتنی ہمدردی نہیں ہوئی جبکہ شہید نقیب اللہ ہوا لیکن مخصوص میڈیا تشہیر منظور پشتین اور PTM کی کرتا رہا، PTM کا نعرہ ہے
پشتون حقوق کا لیکن یہ بھی حران کن ہے کہ آخر پشتونوں کے ساتھ ملک میں کونسی ناانصافی ہے شروع سے ہی ملکی اقتدار کے بڑے حصے پر پشتون قابض رہے آج بھی ہیں، بنگلہ دیش سے آنے والے بنگالیوں کو چالیس سے پچاس سال بعد بھی تارکین وطن کہا گیا لیکن بہت سے افغان پاکستان کے شہری بھی بن گئے اور یہاں بڑی بڑی جائیدادوں کے مالک بھی ہوگئے، خیبرپختونخواہ میں پنجابی بلوچ یا سندھی سیٹل نہیں ہوسکتے لیکن اس کے باوجود تینوں صوبوں کی مارکیٹوں پر پشتون تاجران غالب ہیں اور کسی نے ان سے نفرت کا اظہار نہیں کیا،
سرکاری ملازمتیں ہوں یا کوئی بھی اسکیم اس میں بڑا حصہ پشتونوں پر مشتمل ہے لیکن اس کے باوجود جھوٹا نعرہ لگایا جارہا ہے کہ پشتونوں کو حقوق حاصل نہیں جوکہ پشتونوں کے ساتھ ہی دھوکہ فریب کیا جارہا ہے کیونکہ ایک بار اگر اس سازش کو زرا بھی کامیابی مل گئی تو اس میں نقصان جتنا محب وطن پشتونوں کا ہوگا اتنا کسی اور کا نہیں ہوگا، افغانستان نہ کل پشتونوں کا ہمدرد تھا نہ آج ہے، کل بھی لر او بر افغان کا نعرہ لگانے والوں نے افغانستان کی سرزمین پر غریب پشتونوں کے ساتھ ظلم کیا آج بھی جاری ہے،
زرا سوچئے اگر افغانستان میں پشتونوں کو حقوق حاصل ہوتے تو وہ ترک وطن کرکے پاکستان آنے پہ مجبور کیوں ہوتے اور پاکستان و پاکستانیوں کا جگر بھی دیکھیں کہ سالوں سے افغان تارکین وطن کو بھائی سمجھ کر بوجھ برداشت کرتے آرہے ہیں لیکن اس کے باوجود افغان نیشنلز پاکستان میں مختلف جرائم پر مبنی سرگرمیوں میں ملوث ہیں اور ہزاروں افغان پشتون بن کر پاکستانی شہریت حاصل کرکے پاکستانی پشتونوں کے حق پہ ڈاکہ ڈالے ہوے ہیں بہت سے افغان چند سیاسی مافیاوں کی سرپرستی حاصل کرکے سرکاری ملازمتوں پر براجمان ہیں،
بہت سی مراعات لے رہے ہیں، بہت سی اسکیموں سے مستفید ہورہے ہیں جس سے متاثر ہونے والے ہمارے پاکستانی پشتون ہیں لیکن اس کے باوجود کبھی کسی طرف سے افغان بھائیوں سے نفرت کا اظہار نہیں کیا گیا مگر افسوس ہے کہ اس کے باوجود نعرہ لگایا جارہا ہے "لر او بر افغان” جس کی آڑ میں ایک بار پھر پشتونوں کو ایک نئی جنگ میں جھونکنا ہے،
برطانیہ امریکہ و دیگر یورپی ممالک میں بیٹھے افغان حضرات آج پشتونوں کے زبردستی کے ہمدرد بنے ہوے ہیں کیا کبھی انہوں نے کسی پشتون کی خیر خبر بھی لی ہے اور آج خوامخواہ کے ہمدرد بنے بیٹھے ہیں، اس صورتحال میں ہمیں من حیث القوم ایسی نفرت انگیز سیاست و سازش کا گلا گھونٹ دینا چاہئے تاکہ ملک و ملّت یک جائی، اخوّت و محبت سے ترقی کی شاہراہ پہ قدم مستحکم کرنے میں کامیاب ہوسکے۔
آرزوئے سحر
تحریر: انشال راؤ
عنوان: قوم پرستی کا بت ایک بار پھر PTM کی شکل میں
-

حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی شخصیت—-از–خنیس الرحمان
بیٹھا سوچ رہا تھا کتنی دلیری سے خاتون کہہ رہی ہے کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ منصف نہیں تھے. ابو بکر صدیق رضی اللہ منصف کیسے نہیں ہوسکتے. یارو ان سے بڑا کوئی منصف اور نبی رحمت صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے محبت کرنے والا ہے کوئی .نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم حجۃ الوداع سے واپس آئے اور مدینہ میں ذوالحجہ کے بقیہ ایام اور محرم و صفرگزارے.
لشکرِ اسامہ کو تیار کیا اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو اس کا امیر مقرر فرمایا اور انہیں بلقا اور فلسطین کی طرف کوچ کرنے کا حکم فرمایا. لوگوں نے تیاری کی اور ان میں مہاجرین اور انصار بھی تھے اس وقت حضرت اسامہ بن زید کی عمر صرف اٹھارہ سال تھی مہاجرین اور انصار میں سے کچھ لوگوں کو ان کی امارت پر اعتراض بھی تھا لیکن رسول اللہ نے اس اعتراض کو رد کردیا.
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر فرمایا اگر آج یہ لوگ اسامہ کی امارت پر اعتراض کرتے ہیں تو اس سے قبل اس کے باپ کی امارت پر بھی اعتراض کر چکے ہیں اللہ کی قسم وہ امارت کا مستحق تھا اور وہ میرے نزدیک محبوب ترین لوگوں میں سے تھا اور زید کا فرزند اسامہ اس کے بعد میرے نزدیک محبوب ترین لوگوں میں سے ہے. لوگ جہاد کی تیاری میں تھے اسی دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کا آغاز ہو گیا .آپ بیماری کی حالت میں ہیں ساتھ ساتھ اس لشکر میں شریک لوگوں کو نصیحتیں بھی کررہے ہیں.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری دن بدن بڑھتی جا رہی تھی. نماز کا وقت ہو جاتا ہے حضرت بلال اذان دیتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میں ہمت نہیں کہ وہ صحابہ کو نماز پڑھائیں .آپ پیغام بھجواتے ہیں کہ ابوبکر سے کہو نماز پڑھائیں. آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصرار پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی نے نماز پڑھائی. اس دوران آپ صحابہ کو نصیحتیں بھی فرماتے ہیں. چند دنوں بعد آپ اس دنیا سے رخصت فرما گئے. آپ کی وفات کے بعد صحابہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کو اپنا امیر مقرر فرما لیتے ہیں .
منصب امارت سنبھالنے کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی ترجیحات میں سب سے پہلے لشکر اسامہ کی روانگی شامل تھی. دوسری طرف وہی لوگ جنہوں نے سیدنا سامہ رضی اللہ عنہ کی امارت پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اعتراض کیا ایک بار پھر اٹھ کھڑے ہوئے اس کے ساتھ دیگر صحابہ کرام نے بھی مشورہ دیا. حالات سنگین ہیں ارتداد کا فتنہ بھی سر اٹھارہا ہے. مدینہ چاروں طرف سے غیر محفوظ ہے لشکر اسامہ کو فی الحال روک دیا جائے.
لیکن ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں کہ سیدنا اسامہ رضی اللہ تعالی عنہ کی قیادت میں لشکر ہر حال میں روانہ ہوگا. صحابہ کسی نہ کسی طریقے سے خلیفہ کو منانے میں لگےہوئے ہیں. لیکن ابوبکر رضی اللہ عنہ صحابہ سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ اس مہم میں عدم نفاذ کو بھول جائیں جس سے رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے خود تیار کیا اور انہیں آپ نے خبر دی کہ وہ عنقریب اس منصوبے کو نافذ کرکے رہیں گے اگرچہ اس تنفیذ کے نتیجے میں مرتدین مدینہ پر قابض ہو جائیں..؟..
حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ صحابہ کرام سے خطاب کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں ابوبکر کی جان ہے اگر مجھے یقین ہو کہ درندے مجھے نوچ کر کھائیں گے تب بھی لشکر اسامہ کو بھیج کر رہوں گا جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے اگر بستی میں میرے سوا کوئی بھی باقی نہ رہے تب بھی میں اس کو ضرور بھیج کر رہوں گا.
دوسری طرف انصار نے یہ اعتراض اٹھایا کہ کے سیدنا اسامہ بن زید کم عمر ہیں. اس لیے اس لشکر کا امیر کسی بڑی عمر کے شخص کو مقرر کیا جائے. انہوں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ کو خلیفۃ المسلمین کے پاس بھیجا کہ وہ اس سلسلے میں ان سے بات کریں. لیکن حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ اس معاملے میں بات کرتے ہیں تو حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ بیٹھے ہوتے ہیں اٹھ کر کھڑے ہو جاتے ہیں اور حضرت عمر کی داڑھی پکڑ کر فرماتے ہیں خطاب کے بیٹے ! اسامہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امیر مقرر فرمایا ہے اور تم مجھے حکم دےرہے ہوکہ اسے معزول کر دوں.
آپ لشکر اسامہ کو روانہ کرتے ہیں انہیں یہ کہتے ہیں کہ تم نے وہی کرنا ہے جس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے حکم دیا اور وہ وقت بھی آیا لشکر اسامہ فتحیاب ہوکر مدینے واپس لوٹ رہا ہے. اس کے بعد مرتدین زکوۃ اور مدعیان ختم نبوت کا قلع قمع ہوتا ہے. میں سوچ رہا تھا ابو بکر رضی اللہ عنہ کس طرح منصف نہیں ہوسکتے رسول اللہ جاچکے ہیں. صحابہ آپ کی منت سماجت کررہے ہیں کہ لشکر اسامہ کو نا روانہ کریں لیکن محب رسول اللہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کو نہیں نظر انداز کرنا چاہتے تھے اور لشکر اسامہ بھیج کررہے.
یہ بلاشبہ تاریخ کا ایک غیر معمولی واقعہ ہے بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ یہ واقعہ تاریخ کے ان غیر معمولی واقعات میں سے ہے جنہوں نے دنیا کی تاریخ بدل کر رکھ دی.تاریخ کے اس غیر معمولی واقعہ کی طرح خود سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ بھی تاریخ انسانی کی ایک غیر معمولی اور عظیم و جلیل شخصیت بن کر ابھرتے ہیں اور ثابت قدمی اور بے خوفی کے ساتھ ان کا اٹھایا جانے والا یہ قدم بھی ایسے ان گنت نتائج، عبرتوں اور حکمتوں کا حامل ہے جن پر ابھی تک کسی مورخ نے نظر ہی نہیں ڈالی،
ان پر قلم اٹھانا اور انہیں آج کی اسلامی دنیا کے تناظر میں دیکھنا تو بہت دور کی بات ہے.میں برملا یہ کہہ سکتا ہوں وہ شخص جو ہر معاملہ میں سبقت لے جانے والا تھا یہاں تک آپ کی وفات کے بعد بھی آپ کے پراجیکٹس کو آگے بڑھانے والا تھا اس شخص سے بڑا کو منصف اور عادل نہیں ہوسکتا…
حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی شخصیت
…..خنیس الرحمان….. -

(بیداری ) کشمیر اور ہم…از…محمد قاسم انصاری
آج کی صدی میں ایک بات کا پرچار عام ہے کہ ہم ایک آذاد ریاست کے رہنے والے ہیں
لیکن کیا ایسا ہے؟آپ کا جواب ہاں میں ہوگا لیکن یہی الفاظ کسی کشمیری بھاٸی یا بہن سے پوچھیں تو اسکا جواب ہاں میں نہیں بلکہ ناں میں ہوگا پاکستان کو آذاد ہوۓ 70 سال سے ذیادہ عرصہ بیت چکا ہے ہر پاکستانی خود کو پاکستانی کہتے ہوۓ فخر محسوس کرتا ہے لیکن کشمیری آج بھی کسی محمد بن قاسمؒ کے انتظار میں ہیں کہ محمد بن قاسم آۓ اور بھارتی درندوں سے ہماری عورتوں ہمارے بچوں بزرگوں کو اذاد کرواۓ۔
لیکن افسوس کہ 70 سالوں سے کشمیر پر قبضہ کرنے والوں کے خلاف اگر کوٸی محمد بن قاسم کا روحانی فرذند اٹھتا ہے تو اس پر تخریب کار، شدت پسند اور دہشتگرد کا لیبل لگا کر گرفتار کرکے پابند سلاسل کردیا جاتا ہے
اور یہ ستم بھارت نہیں کرتا بلکہ کشمیر کو اپنا کہنے کا دعویٰ کرنے والا کشمیر کو چھوٹا بھاٸی اور خود کو بڑا بھاٸی ظاہر کرنے والا پاکستان کرتا ہے ہم نے غیروں کے کہنے پر برہان وانی شہید کو قومی سطح پر شہید کہنے سے گریز کیا
ہم نے جیش محمد، لشکر طیبہ، جماعت الدعوہ جیسی کشمیری تنظیموں پر پابندی لگا کر غیروں کو خوش کرنے میں کوٸی کسر نہیں چھوڑی۔۔
قاٸد اعظمؒ نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا لیکن ستم بالاۓ ستم ہے کہ ہم قاٸد کے فرمان سے روگردانی کرچکے ہیں 170 دن ہونے والے ہیں شہ رگ کو شکاری کے پنجے میں جکڑے ہوۓ مگر ہم کتنے خوش قسمت ہیں کہ شہ رگ کے بغیر ذندہ رہ رہے ہیں
کشمیر کی آذادی کے لیے آدھا گھنٹہ کھڑے ہونا تقاریر کرنا امریکہ سے مدد مانگنا کیا یہ مسلمانوں کا وطیرہ ہوسکتا ہے نہیں ہرگز نہیں۔
اسلام تو کہتا ہے کہ مظلوم مسلمان عورتوں بزرگوں بچوں کی مدد کے لیے نکلو جبکہ وہ مدد کے لیے پکار رہے ہوں لیکن افسوس ہم صرف کھڑے رہ سکے نکل نہیں سکے.1947۶ کے وقت جب قاٸد اعظمؒ نے پاکستان حاصل کیا تو معاہدے کے مطابق کشمیر پاکستان کی سرحد میں طے پایا۔ لیکن یہ بات بھارت اور اس کی عوام کو ہضم نہ ہوٸی اور کشمیر پر 1948 کو قبضہ کرلیا مجاھدین نے اپنی طاقت کے بل پر لڑ کر آدھا کشمیر اذاد کرا لیا لیکن آدھا حصہ آذاد نہ کرواسکے
اس طرح آذاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر دو حصوں میں منقسم ہوگیا اور بھارتی درندوں کے ہاتھوں مقبوضہ علاقوں میں نا رکنے والا ظلم کا ایک سلسلہ چل پڑا۔۔
کشمیر پر ظلم صرف ہندو ہی نہیں بلکہ مسلمان بھی کررہے ہیں جب سے مودی سرکار نے کشمیر میں کرفیو لگایا ہے کسی بھی مذہبی جماعت کی طرف سے اس کرفیو کے ہٹانے اور 370A قانون ختم کرنے کی طرف زور نہیں دیا گیابھارت کے مسلمانوں کی حالات زار پر افسوس ہی کیا جاسکتا ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھاٸیوں کی مدد کے لیے اواز کیوں نہیں اٹھاتے۔
اقبالؒ نے انکے متعلق کیا خوب دعا کی ہے
خدا نصیب کرے ہِند کے اماموں کو
وہ سجدہ جس میں ہے مِلّت کی زندگی کا پیام!ترقی اور امن کے دور میں صرف کشمیر، فلسطین، برما کے مسلمانوں سمیت ساری دنیا میں صرف مسلمان ہی ذلت کی ذندگی گزارنے پر مجبور کیوں ہیں۔۔؟
کشمیر پر ظلم و جبر کی داستانیں 170 دن سے رقم کی جارہی ہیں لیکن عالمی ضمیر اجلاس کی حد تک بیدار ہے
ہر سال 5 فروری کو کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا جاتا ہےاللّٰہ قاضی حسین احمدؒ (سابق امیر جماعت اسلامی پاکستان) پر کروڑوں رحمتیں نازل فرماۓ جنہوں نے
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نِیل کے ساحل سے لے کر تا بخاکِ کاشغرکے مصداق 5 فروری 1997۶ کو اپنی جماعت کے لوگوں سمیت ہم خیال لوگوں کو اکٹھا کیا اور بھارتی ظلم و جبر اور اسکے تسلط کے خاتمے کے لیے گلی گلی نگر نگر نکلے۔۔
اس میں کوٸی دو راۓ نہیں ہیں کہ کشمیر کی آذادی کے لیے جنگیں ہوٸی ہیں۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر پر کٸ معاہدے بھی طے پا چکے ہیں مگر بھارت ہٹ دھرمی اور چالاکی سے ان معاہدوں کو روندتا چلا جاتا ہے
پاکستانی حکمران ہر دور میں امریکی غلامی کا پاس رکھتے رہے ہیں اور بھارت کے خلاف کسی بھی سخت اقدام کے لیے اپنی آواز اٹھانے سے محروم ہیںاُمید کیا ہے سیاست کے پیشواؤں سے
یہ خاک باز ہیں، رکھتے ہیں خاک سے پیوندحکمرانوں کی بے حسی، لاچارگی، ستم ظریفی کے باوجود ہر سال مذہبی جماعتیں جن میں جماعت اسلامی، سنی تحریک، جمعیت علما۶ اسلام، مرکزی جمعیت اھلحدیث شامل ہیں
اس امید سےنہ ہو نومید، نومیدی زوالِ علم و عرفاں ہے
اُمیدِ مردِ مومن ہے خدا کے راز دانوں میںکشمیر کی اذادی کے لیے اپنی استطاعت کے مطابق ریلیاں جلوس منعقد کرتی ہیں اور عالمی ضمیر کو جھنجھوڑتی ہیں۔۔
کشمیر ان شاء اللہ ایک دن آذاد ہوگا اور حقیقی معنوں میں جنت کا نظارہ ضرور پیش کرے گا۔۔
بیداری
محمد قاسم انصاری

-

بنگلہ دیش کے خلاف ٹیسٹ سیریز کی تیاری عروج پر
بنگلہ دیش کے خلاف ٹیسٹ سیریز کی تیاری عروج پر
باغی ٹی وی :بنگلہ دیش کے خلاف ٹیسٹ سیریز کی تیاری ۔ تین روزہ پریکٹس میچ ميں ٹيم ٹو نے ايک سو اٹھتر رنز بنا ليے۔ سيريز کے ليے پندرہ رکني ٹيم کا اعلان کل ہوگا۔
قذافي سٹيڈيم ميں تربيتي کيمپ کے دوسرے روز جاري پريکٹس ميچ ميں ٹيم ون کے شان مسعود اور بابر اعظم کي سينچريوں کي بدولت اپني اننگز تين سو انسٹھ رنز پانچ وکٹوں کے نقصان پر ڈکلير کردي۔ جواب ميں ٹيم ٹو نے اپني پہلي اننگز ميں کھيل کے اختتام پر ايک سو اٹھتر رنز بناے اشفاق احمد چونسٹھ ، فواد عالم چھتيس فیضان ریاض انيس اور حارث سہیل سترہ رنز بنا کر نمایاں رہے، ٹیم ون کےشاہین شاہ، محمد عباس، نسیم شاہ، فہیم اشرف اور یاسر شاہ نے ایک ایک وکٹ حاصل کي۔


اس موقع پر فاسٹ باولر محمد موسیٰ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈیبیو کو یادگار نہ بنا سکا لیکن اب زیادہ سے زیادہ ٹیسٹ کرکٹ کھیل کر خود کو منوانا چاہتا ہوں۔باولنگ کوچ وقار یونس کے آنے سے میری کارکردگی میں بہت بہتری آئی ہے ۔ اب میری توجہ ٹیسٹ کرکٹ پر ہے اور اسی فارمیٹ میں پرفارمنس دکھانے کی کوشش ہے ۔ ،تربيتي کيمپ کے تيسرے روز بنگلہ دیش کے خلاف پہلے ٹیسٹ کے لیے قومی کرکٹ ٹیم کا اعلان چیف سلیکٹر مصباح الحق کریں گے۔ جس کے بعد تربيتي کيمپ راولپنڈي شفٹ کرديا جاے گا ۔ پاکستان اور بنگلہ ديش کے خلاف پہلا ٹيسٹ 7 سے 11 فروري تک راولپنڈي ميں کھيلا جاے گا ۔ -

ٹیکنالوجی کے میدان میں آنکھ مچولی ، اب آئی پیڈ کوٹچ نہیں آنکھیں چلائیں گی
واشنگٹن:ٹیکنالوجی کے میدان میں آنکھ مچولی ، اب آئی پیڈ کوٹچ نہیں آنکھیں چلائیں گی ،اطلاعات کےمطابق دنیا اس وقت ٹیکنالوجی کی انتہائیوں کوچھورہی ہے، دنیا بھر میں اسمارٹ فون اور ٹیبلٹ کا عام استعمال ہورہا ہے لیکن ہر شخص ان اہم ایجادات سے فائدہ نہیں اٹھاسکتا۔ اب دنیا کے پہلے آئی پیڈ پرو کے لیے اضافی کیسنگ بنائی گئ ہے جو آنکھوں کے اشاروں سے آئی پیڈ کا مکمل کنٹرول فراہم کرتی ہے۔
شادی کے لیے سعودی مردوخواتین کے لیے عمرکی حدیں مقررکردی گئیں
اس نظام کو اسکائل کا نام دیا گیا ہے اور سب سے پہلے یہ سہولت ایپل آئی پیڈ پرو میں شامل کی گئی ہے۔ اس طرح ٹیبلٹ کو ہاتھ لگائے بغیر مکمل طور پر آنکھوں کے اشارے سے کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔ فی الحال یہ آئی پیڈ پرو کے 12.9 انچ ورژن ٹیبلٹ کے ساتھ ہی کارآمد ہے۔
جب تقدیرغالب آجائے:ایبٹ آباد میں کمرے میں گیس بھر جانے سے پانچ افراد جاں بحق
آئی پیڈ پرو میں یہ خواص شامل کرنے کے لیےاسے ایک خاص طرح کی کیسنگ میں رکھا گیا ہے ۔ اس میں حساس اسکینر نصب ہے جو دونوں آنکھوں کی پتلیوں کی حرکت کو نوٹ کرتا رہتا ہے۔ اس میں دو طرح کے آپشن ہیں، ایک تو یہ دوربینی انداز میں ٹریکنگ کرتا ہے تو دوسری جانب یہ آنکھ میں سیاہ حلقے یعنی پتلی کی دائیں بائیں اور اوپر نیچے کی حرکت کو بھی نوٹ کرتا رہتا ہے۔
جنوبی افریقہ کے اسٹاربیٹسمین ہاشم آملہ پشاور زلمی کا حصہ بن گئے
اس طرح کے رابطے کو آگمینٹو اینڈ آلٹرنیٹو کمیونی کیشن ( اے اے سی ) کا نام دیا گیا ہے جو کئی طرح کے سسٹم اور پروٹوکول کے ساتھ کام کرسکتا ہے۔ یوں آئی پیڈ کے سارے فیچر آنکھ سے انجام دیئے جاسکتے ہیں۔ اسکائل کے ذریعے فالج کے شکار، سیربرل پیلسی اور دیگر امراض کے شکار افراد بھی ٹیب کو چلاسکتے ہیں۔
جب ٹیبلٹ کی بات ہو تو آئی پیڈ بہت سے امور انجام دے سکتے ہیں۔ ایک جانب تو آپ دوستوں اور اہلِ خانہ سے رابطے میں رہ سکتے ہیں۔ دوسری جانب اسمارٹ گھروں کا پورا نظام ان سے قابو کیا جاسکتا ہے۔ اسی لیے اسکائل کے ذریعے معذور افراد بہت حد تک اپنے مختلف کام انجام دے سکیں گے۔
حرامانی نے والدین کی شادی کی سالگرہ پرشاندارخراج تحسین پیش کیا
اسکائل کیسنگ کے لیے الگ سے پاور سپلائی کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ آئی پیڈ سے ہی بجلی لے کر کام کرتا ہے۔ اس کےساتھ پوائنٹنگ ڈیواس یعنی ماؤس اور ڈجیٹل پین بھی لگائے جاسکتے ہیں تاہم اسکائل کسینگ کی قیمت تین ہزار ڈالر یعنی ساڑھے چار لاکھ روپے کے برابر ہے۔
-

ذہنی و جسمانی معذور افراد کیساتھ ہمارا رویہ!!! تحریر غنی محمود قصوری
اللہ رب العزت نے مختلف رنگ و نسل اور قد کاٹھ کے افراد پیدا فرمائے اور اللہ رب العزت نے قرآن میں ارشاد فرمایا
لقد خلقتنا الانسان فی احسن تقویم ( سورہ التین) ترجمہ _ بلاشبہ ہم نے انسان کو سب سے اچھی بناوٹ میں پیدا کیا ہے
ایک اندازے کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں 30 کروڑ جبکہ پاکستان میں 1 کروڑ 80 لاکھ افراد ذہنی و جسمانی معذور ہیں جن کی فلاح و بہبود کیلئے اور ان افراد کے مسائل کو اجاگر کرنے کیلئے 1992 سے عالمی برادی کیساتھ پاکستان میں بھی 3 دسمبر کو عالمی یوم معذور افراد منایا جاتا ہے
یہ افراد ہماری خصوصی محبت کے حقدار ہیں مگر افسوس کے ہم ان کو ان کے حقوق دینے کی بجائے ان پر طنزیہ وار کرتے ہیں اور بعض خود سر جاہل لوگ تو ان افراد سے مار پیٹ بھی کرتے ہیں جوکہ انتہائی دکھ اور شرم کی بات ہے حالانکہ یہ افراد ہمارے لئے نصیحت کا باعث ہیں مثلا اگر کسی کا ہاتھ نہیں تو ان لوگوں کی بدولت ہمیں اپنے ہاتھ کی قدر ہوتی ہے اگر کوئی فرد ٹانگ سے محروم ہے تو ہمیں اللہ رب العزت کی عطاء کردہ اس عظیم نعمت کا احساس ہوتا ہے کہ یہ ہمارے لئے اللہ نے کتنی بڑی نعمت بنائی ہے دیکھنے میں آتا ہے کہ ہمارا رویہ جسمانی معذوروں سے زیادہ ذہنی معذور افراد کیساتھ زیادہ ہی غلط ہے یہ وہ افراد ہیں کہ جن سے اللہ رب العزت ان کی نمازوں بارے بھی سوال نہیں کرینگے جب تک کہ یہ ذہنی معذور ہوش میں نا آ جائیں مگر ہم لوگ ان کو پتھر مارتے ہیں ان کے کپڑے پھاڑتے ہیں اور ان کی تذلیل کرکے فخر محسوس مرتے ہیں حالانکہ صرف بے ضرر ذہنی معذور افراد کو ہی گھر پر رکھا جاتا ہے جبکہ خطرناک قسم کے ذہنی معذور پاگل افراد کو مینٹل ہسپتالوں میں داخل رکھا جاتا ہے بلکل اسی طرح زمانہ جاہلیت میں بھی ان ذہنی و جسمانی معذور افراد کیساتھ جانوروں سے بھی بدتر سلوک کیا جاتا تھا اور بعض معاشروں میں رواج تھا کہ جب کوئی بچہ ذہنی و جسمانی معذور پیدا ہوتا تو والدین اسے قتل کر ڈالتے تھے کیونکہ اس وقت یہ سمجھا جاتا تھا کہ ان افراد میں بھوت پریت قابض ہیں اور ہم آج ان افراد کی تذلیل کرکے اسی زمانہ جاہلیت کی تصویر بنتے ہیں پھر میرے نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور جانوروں، انسانوں کے حقوق وضع فرمائے ایسے افراد بارے حدیث ہے
تین افراد سے قلم اٹھا لیا گیا ہے ایک تو سونے والے سے یہاں تک کہ وہ جاگے، دوسرے نابالغ سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے، تیسرے پاگل اور دیوانے سے یہاں تک کہ وہ عقل و ہوش میں آ جائے ۔ ابوبکر کی روایت میں «وعن المجنون لحتى يعقل» کے بجائے «وعن المبتلى حتى يبرأ» دیوانگی میں مبتلا شخص سے یہاں تک کہ وہ اچھا ہو جائے ہے
(سنن نسائی 5495)
پاکستان میں ذہنی و جسمانی معذور افراد کیلئے کوئی خاص قانون موجود نہیں بحالی معذور افراد ایکٹ 1981 کے تحت معذور افراد کیلئے نوکریوں میں 2 فیصد کوٹہ مختص ہے اور ان افراد کیلئے صحت کی سہولتوں کیساتھ ان کی بحالی اعضاء کا کام بھی حکومت پر فرض ہے آئین پاکستان کے آرٹیکل 9 اور 14 کے تحت تمام بنیادی سہولیات ان معذور افراد کا حق ہیں مگر افسوس کے ایسا دیکھنے میں بہت کم آیا ہے کہ ان افراد کو ان کی بنیادی سہولیات ملی ہو ورنہ ہسپتالوں ،تھانوں کچہریوں اور عدالتوں میں ان افراد کو اپنے حقوق کی جنگ لڑتے ہی دیکھا گیا ہے
ان افراد کی بحالی کیلئے پاکستان میں کئی این جی اوز کام کر رہی ہیں ہمیں چاہیے کہ ہم ان افراد سے پیار کرنے کیساتھ ان این جی اوز سے بھی تعاون کریں تاکہ ایسے افراد اپنے بنیادی حقوق حاصل کرکے عزت سے جی سکیں اور گورنمنٹ کو چاہیے کہ ان افراد کے وظائف مقرر کئے جائیں اور ان افراد کو تنگ کرنے والوں کیلئے سخت سزائیں دینے کا قانون نافذ کیا جائے تاکہ یہ افراد عزت و توقیر سے جی سکیں