Baaghi TV

Category: بلاگ

  • حالات، حکومت اور حجرہ کمیٹی میں حاضری ، تحریر محمد نعیم شہزاد

    ٹک ٹاک سٹار حریم شاہ کی انتہائی اہم حجرہ کمیٹی (کمیٹی روم) تک رسائی، باعث جگ ہنسائی اور اہلیان پاکستان کو ورطہ حیرت میں ڈال گئی۔ عین اس وقت کہ جب کشمیر میں جاری کرفیو کو قریب تین ماہ کی مدت ہونے کو ہے اور وزیراعظم پاکستان کشمیر کے مقدمہ کو شد و مد کے ساتھ لڑ رہے ہیں اور دوسری طرف اپوزیشن جماعتیں متحد ہو کر حکومت گرانے کے در پے ہیں اور مولانا فضل الرحمن کی آزادی مارچ کی آمد آمد ہے، اسلام آباد سے بیک وقت پر مزاح اور باعث خفت و ندامت خبریں سننے کو مل رہی ہیں۔

    تفصیل اس اجمال کی کچھ یوں ہے کہ پاکستانی ٹک ٹاک سٹار حریم شاہ نے بڑے پر تکلف انداز میں ایک نیا ویڈیو کلپ اپلوڈ کیا ہے جس میں موصوفہ وزارت خارجہ کے کمیٹی روم میں پریزائیڈنگ سیٹ پر براجمان ہوئیں اور ایک کلپ شوٹ کیا۔ بابائے قوم کا پورٹریٹ بھی سوچتا ہو گا کہ یہ دن بھی دیکھنا تھا کہ جب قوم کا مستقبل یوں فن اور فین فالوانگ کا رسیا ہو جائے گا اور انتہائی اہم مقام پر بھی ظریفانہ طرزِ عمل سے باز نہ رہ پائے گا۔

    قطع نظر اس بات کے کہ اس واقعہ نے قابل غور معاملات سے ہمیں کس قدر دور کر دیا، فوری قابل غور یہ امر ہے کہ یہ وقوعہ کیونکر وقوع پذیر ہوا، کیا ملک پاکستان میں ذمہ داران اس قدر غیر ذمہ دار ہو گئے ہیں کہ اس قسم کے واقعات رونما ہونے لگے اور اب لگے تحقیقات کرنے۔ دال میں ضرور کچھ کالا ہے اور یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ حکومتی جماعت کے بعض اراکین بذات خود حکومت کو نیچا دکھانے اور اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب ہونے کے لیے اس قسم کے حالات پیدا کرتے ہیں اور یہ بعید از قیاس ہرگز نہیں۔

    حریم شاہ کے بقول کمیٹی روم میں ان کو کسی نے منع نہ کیا بلکہ معاونت بھی فراہم کی تو کیسےممکن ہے کہ یہ سب انجانے یا لاعلمی میں ہو گیا۔ خان صاحب کو انتہائی محتاط رہنا ہو گا بطور خاص صنف نازک کی طرف سے تو ان پر وار ہوتے ہی رہتے ہیں، ریحام خان، عائشہ گلا لئی اور اب حریم شاہ، اپنے قریبی احباب پر نظر رکھیں اور چوکنے رہیں، یہ اسی قبیل سے ہیں جو بصورت زلیخا یوسف علیہ السلام کو کنعان کی جیل میں بھجوا دیتی ہیں۔

    آخر میں ایک واقعہ موقع کی مناسبت سے حضرت بہلول کا بیان کرتا چلوں۔ بیان کیا جاتا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت بہلول خلیفہ ہارون رشید کے دربار میں گئے اور خلیفہ کی غیر موجودگی میں موقع پا کر مسند خلافت پر براجمان ہو گئے۔ اس جرم کی پاداش میں ان کو کوڑوں کی سزا سنائی گئی۔ سزا کے بعد جب ان کو خلیفہ کے سامنے پیش کیا گیا تو وہ کبھی روتے اور کبھی ہنستے۔

    خلیفہ نے بصد حیرت اس طرزِ عمل کی وجہ دریافت کی تو جواب ملا کہ کوڑے کھانے سے بہت تکلیف ہوئی اس لیے روتا ہوں اور ہنستا اس بات پر ہوں کہ اس مسند پر چند گھڑیاں بیٹھا ہوں تو یہ حال ہوا ہے، خلیفہ کا کیا حال ہو گا جو مستقل اس نشست پر بیٹھتا ہے۔
    بے شک اس میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔

  • ریاست مدینہ اور پروٹوکول ، تحریر: فردوس جمال

    ریاست مدینہ اور پروٹوکول ، تحریر: فردوس جمال
    یہ محترمہ تحریک انصاف کی زرتاج گل صاحبہ ہیں جو کچھ عرصہ پہلے تک قوم کو موسم کے حال احوال سنایا کرتی تھی،شہزادی صاحبہ ڈی جی خان کے پوسٹ گریجویٹ کالج فار وومن کے دورے پر ہیں.

    کالج کے گیٹ سے لیکر کانفرنس حال تک شہزادی صاحبہ کے استقبال میں قوم کی نوخیز بیٹیاں گلاب کی پتیاں ہاتھ میں لئے کھڑی ہیں،گلاب نچھاور کئے جا رہے ہیں.

    شہزادی صاحبہ کے قافلے میں مرد بھی شامل ہیں وہ بھی گلابوں کو پاؤں میں مسلتے ہوئے شہزادی صاحبہ کے قدم پر قدم رکھتے آگے بڑھ رہے ہیں.

    خدا جانے کب ان شاہی پروٹوکولز سے اس قوم کی جان بخشی ہوگی،کب ان غلامانہ ریت رواج سے ہم باہر آئیں گے؟

    زرتاج گل کی جگہ برطانوی شہزادی کیٹ مڈلٹن کے لئے بھی یوں بچیوں کو کھڑا کیا جاتا تو غلط ہوتا.

    ریاست مدینہ میں اس طرح کے متکبرانہ،شاہانہ اور بے شرمانہ پروٹوکولز کی اجازت نہیں ہونی چاہئے.

  • 26 سال سے جیل میں قید کشمیری باپ نے اپنے بیٹے کو خط میں کیا لکھا ؟

    پچھلی سات دہائیوں سے پاکستان کے پڑوسی بھارت نے وادی کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کر کے جس طرح کشمیریوں پر ظلم و تشدد کے پہاڑ توڑے، تاریخ انسانی میں اس کی مثال نہیں ملتی، اور اس طلم و جبر کی تاریک رات میں بھی کئی ایسے حریت کے ستارے چمکے جن کی روشنی آج تک مانند نہ ہوئی ،

    ایسے ہی ایک ستارے ڈاکٹر محمد قاسم ہیں جو کہ نڈر و بےباک کشمیری خاتون آسیہ اندرابی کے شوہر ہیں ، ڈاکٹر محمد قاسم پچھلے 26 سال سے جیل میں قید ہیں، عرصہ دراز سے ان کے اہلحانہ کو ان کی کوئی خبر نہیں کہ وہ کس حال میں ہیں ، کچھ دن پہلے ڈاکٹر محمد قاسم نے اپنے بیٹے احمد بن قاسم کو ایک خط لکھا اور اس خط میں ایک نظم لکھ کر بھیجی ہے جس میں وہ اپنے بیٹے احمد اور اس جیسے کئی دلیر بیٹوں کی ڈھارس بندھاتے ہیں، ڈاکٹر محمد قاسم لکھتے ہیں

    میں روح ہوں
    یہ قید اور موت میرے لیے نہیں ہیں ، کیا مجھے ان سے ڈرنا چاہیے
    کون کسے قید کر رہا ہے ؟ نہ میں مارا گیا اور نہ مارا جاؤں گا
    یہ قید مجھے اپنے خطے اور لوگوں کے بارے سوچنے کا کہہ رہی ہے
    مییری روح تب تک میرا ساتھ نہیں چھوڑ سکتی جب تک اپنا مشن پوارا نہ کر لوں

    ڈاکٹر محمد قاسم کے یہ الفاظ اپنے اندر اس قدر وزن رکھتے ہیں کہ پڑھنے والا کوئی بھی شخص جو کشمیری ہے یا کشمیریوں سے ہمدردی رکھتا ہے وہ پر عزم ہو جائے گا، اوراہل کشمیر کیلئے سر دھڑ کی بازی لگانے کیلئے تیار ہو جائے گا

  • بیمار قیدی ، فردوس جمال کا بلاگ

    نواز شریف اور آصف علی زرداری جیل میں بیمار ہوئے تو قوم کو معلوم ہوا کہ قیدی بھی بیمار ہوسکتے ہیں، کل سے تمام ٹی وی چینل میاں محمد نواز شریف کے لئے مجلس عیادت منعقد کرکے بیٹھ گئے ہیں، نواز شریف اب تک ٹھیک بھی ہوئے ہوں گے لیکن دانشور ہمدردی کے بخار میں تپ رہے ہیں ، ان قومی دو بیماروں سے آپ کو فرصت ہے تو آئیں ذرا جیلوں کی سیر کرائیں تیرے میرے قبیلے کے کیڑے مکوڑے قیدیوں کی ان جیلوں میں کیا صورتحال ہے.

    صرف پنجاب کی جیلوں میں 480 قیدی ایڈز وائرس کے شکار ہیں،2717 قیدی ہیپاٹائٹس سی سے متاثر ہیں،299 قیدی ہیپاٹائٹس بی کے مریض ہیں،796 قیدی سفلس وائرس کے شکار ہیں،8 ہزار سے زائد قیدی دیگر چھوٹی موٹی بیماروں میں مبتلا ہیں ان سب کے علاج کے لئے نہ تو کوئی بندوبست کیا گیا اور نہ ہی میڈیا کے لئے یہ لوگ خبر ہیں،نہ دانشوروں کی ان سے ہمدردی ہے.

    سال 2018ء میں صرف پنجاب کی جیلوں میں 141 قیدی مختلف بیماریوں کا شکار ہو کر دم توڑ چکے ہیں.

    کتنے قیدی ایسے ہیں جیل میں بیمار ہوتے ہیں سسک سسک کر وہی کیڑے مکوڑوں کی طرح مر جاتے ہیں جیل کے کسی کونے میں انہیں دبا دیا جاتا ہے وہ کبھی خبر نہیں بنتے ہیں
    ان کا کوئی وکیل نہیں ہوتا ہے ان کا کوئی جج نہیں ہوتا ہے.

    ان کا جرم بس یہ ہوتا ہے کہ یہ ایلیٹ کلاس سے تعلق نہیں رکھتے ہیں،ان کی لندن و پیرس میں جائیدادیں نہیں ہوتی ہیں،یہ کچے مکانوں میں پیدا ہوئے ہوتے ہیں.
    از قلم فردوس جمال

  • "پاکستانیوں اور کشمیریوں کی محبت کی انوکھی مثال” تحریر: غنی غنی محمود

    "پاکستانیوں اور کشمیریوں کی محبت کی انوکھی مثال” تحریر: غنی غنی محمود

    ماں باپ سے محبت ایک فطری عمل ہے مگر بیٹیوں کو ماں باپ سے لڑکوں کی نسبت زیادہ محبت ہوتی ہے مظلوم کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے ملین مارچ کیلئے 20 اکتوبر کی تاریخ مقرر تھی مگر سابق سربراہ آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل حمید گل مرحوم کی زوجہ محترمہ کی نماز جنازہ بھی 20 اکتوبر بوقت 2:30 پر تھی
    جب ماں باپ فوت ہو جائیں تو بہت دکھ ہوتا ہے مگر جب باپ کا سایہ پہلے ہی سر سے اٹھ چکا ہو تو پھر ماں کے مرنے کا دکھ اور بھی گہرا ہو جاتا ہے عظمی گل جنرل حمید گل کی اکلوتی بیٹی ہیں مگر امت کی اس عظیم بیٹی نے ثابت کر دیا کہ مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں 2:30 پر اپنی شفیق و پیاری ماں کا جنازہ کروا کے ہماری یہ بہن انتہائی دکھ اور پریشانی میں بھی کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کرنا نا بھولی اور کشمیر ملین مارچ میں اپنے مقررہ وقت پر خطاب کیا اور ملین مارچ کی نگرانی بھی کی واقع ہی ماں باپ کی تربیت بہت اثر رکھتی ہے جنرل گل مرحوم کی بیٹی نے کل ماں کے غم میں مبتلا ہوتے ہوئے بھی کشمیریوں کے غم کی آواز بلند کرکے ثابت کر دیا کشمیری اور پاکستانی بھائی بھائی ہیں
    کشمیریوں اور پاکستانیوں کی محبت بہت ہی پرانی ہے کیونکہ کشمیریوں اور پاکستانیوں کا ناصرف مذہب ایک ہے بلکہ رسم و رواج اور بولی جانے والی زبان کی بھی آپس میں بہت مماثلت ہے کشمیریوں کی پاکستان سے محبت کا اندازہ قیام پاکستان میں کشمیری لوگوں کی قربانیوں سے اور پاکستانیوں کی کشمیریوں سے محبت کا انداز آزاد کشمیر کی آزادی اور تحریک آزادی جموں و کشمیر کی تحریک سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے
    یوں تو یہ محبت بہت پرانی ہے مگر جب سے انڈین حکومت نے کشمیر کی خود مختاری ختم کی ہے تب سے اس محبت میں بہت حد تک اضافہ ہوا ہے
    پچھلے تقریبا 3 ماہ سے کشمیری محصور ہیں اور نظام زندگی مفلوج ہو چکا ہے تلاشی کے بہانے نوجوانوں کو اٹھانا اور بعد میں جعلی مقابلوں میں شہید کر دینا انڈین فوج کا گھناؤنا فعل ہے جبکہ کشمیریوں کے پاس کھانے پینے کو بھی کچھ نہیں مگر افسوس کہ کشمیریوں پر انڈیا کے اس بیہمانہ ظلم و تشدد پر پوری عالمی برادری خاموش ہے ماسوائے پاکستان ترکی اور چند اکا دکا ممالک کے
    مظلوم کشمیریوں کے اس دکھ درد میں ہر پاکستانی برابر کا شریک ہے اور کشمیریوں پر انڈین ظلم کے خلاف ہر سطح پر اپنی آواز بلند کیئے ہوئے ہے اور تاریخ نے پہلی بار دیکھا کہ پاکستان کے شہروں کے علاوہ دیہاتوں اور گلی محلوں میں پاکستانی پرچم کیساتھ کشمیری پرچم بھی لہرا رہے ہیں جو کہ اس دو طرفہ محبت کا منہ بولتا ثبوت ہیں ایسی ہے محبت کا اظہار کرنے کیلئے کل پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد میں کشمیر یوتھ الائنس ملین مارچ میں لاکھوں لوگوں کی موجودگی میں دنیا کا سب سے طویل ترین کشمیری پرچم لہرایا گیا جو کہ تقریبا 5 کلومیٹر پر محیط تھا جس کا مقصد کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیساتھ اسلام آباد میں قائم دنیا بھر کے سفارت خانوں تک پیغام پہنچانا تھا کہ کشمیریوں کے غم میں ہم پاکستانی ہر طرح سے شامل ہیں اور کشمیریوں کا غم ہمارا غم ہے ہم اپنی جان و مال کے ساتھ کشمیریوں کے کندھوں سے کندھے ملا کر کھڑے ہیں ان شاءاللہ

  • اپوزیشن مطلب صرف اپوزیشن کرنا—از— انشال راؤ

    اپوزیشن مطلب صرف اپوزیشن کرنا—از— انشال راؤ

    انسانی تاریخ کا یہ المیہ رہا ہے کہ انسان خود ہی الجھنیں پیدا کرتا ہے پھر خود ہی بےچین ہوجاتا ہے یہ بےچینی بڑھتی ہے تو انسان کو انقلابی بنادیتی ہے جو آخرکار ایک نئی کشاکش کو جنم دے دیتی ہے پاکستانی تاریخ ایسے تناو سے بھری پڑی ہے اس سلسلے کی کڑیاں آج بھی دیکھنے میں آرہی ہیں جو ایک دوسرے کے ساتھ لپٹی ہوئی ہیں

    گو آج کا پاکستان ماضی کے پاکستان سے بہت آگے آچکا ہے مگر تسلسل کے لحاظ جو کچھ آج ہورہا ہے جو ماضی بعید اور ماضی قریب میں ہوچکا اسی راہ کا حصہ ہے نہ کسی پر کیچڑ اچھالنا مقصد ہے نہ ہی کسی کے قصیدے پڑھنا مگر اس سلسلے کی ایک جھلک پیش کرنے کی کوشش ضرور کررہا ہوں، ہمارا یہ المیہ رہا ہے کہ جب جب کسی ایک گروہ کے ذاتی مفادات کو ٹھیس پہنچنے کا اندیشہ ہوا تو اس گروہ نے قومی مفادات کی بھی پرواہ نہ کی اور تمام حدیں پار کرکے انقلاب لانے میدان میں آگیا،

    پاکستانی تاریخ کے تمام انقلابات کا جائزہ لیا جائے تو دو بات مشترک ملیں گی ایک مذہب کارڈ دوسری طفیلیت یعنی کسی نادیدہ قوت کے آلہ کار ہونا خواہ وہ اندرونی ہو یا بیرونی طاقت، ہماری روایت یہی رہی کہ جو بھی حکومت آئی اس نے ملکی و قومی استحکام پر اپنی پارٹی و شخصیات کے مفادات کو ترجیح دی اور سب سے المناک پہلو یہ کہ ملک و قوم کو جتنا نقصان حکومت کی غلط پالیسیوں یا ذاتی مفادات سے پہنچا اس سے کئی گنا زیادہ نقصان اپوزیشن کی ریشہ دوانیوں و سازشوں سے پہنچا خواہ وہ ماضی بعید کی اپوزیشن ہوں یا پھر پچھلے دو ادوار کی میڈ ان لندن فرینڈلی اپوزیشن، ماضی میں جب کبھی کسی حکومت نے بہترین پالیسی یا منصوبہ تیار کیا تو اپوزیشن نے حکومتی پارٹی کو عوام میں غیرمقبول و ناقص کارکردگی دکھانے کے لیے قومی مفاد کے ان منصوبوں کو ناکام بنانے کے لیے ایڑی چوٹی کے زور لگائے اس کے علاوہ فرینڈلی اپوزیشن کا حال تو کسی سے ڈھکا چھپا ہی نہیں الغرض کہ پاکستان کسی نظام کے بغیر ہی چلتا رہا اور چند سیاسی پارٹیوں کی مطلق العنانیت کے ہاتھوں یرغمال رہا،

    ان کی اس صفت کا عالمی قوتوں کے ساتھ ساتھ سرمایہ داروں نے ناجائز فائدہ اٹھایا اور ایک وقت پر آکر ہمارے تقریباً سیاستدان خود بھی سرمایہ دار بن بیٹھے اور مشرکہ نشانہ عوام بنی رہی، کیا یہ سرمایہ داروں کا ہی کھیل نہیں تھا کہ پورے پاکستان کا منرل واٹر سے بہتر گراونڈ واٹر دیکھتے ہی دیکھتے خراب ہوگیا پھر ساتھ ہی ساتھ RO پلانٹ کمپنیوں، ادویہ ساز کمپنیوں، پانی کی کمپنیوں کے وارے نیارے ہوگئے، جو جو ہالی ووڈ کی فلموں میں ہوتا ہے وہ سب ہم نے اپنی آنکھوں سے پاکستان میں ہوتے دیکھ لیا کہ کسی بھی فصل میں پراسرار بیماری آتی ہے تو ساتھ ساتھ مارکیٹ میں اس کی دوا بھی اتار دی جاتی ہے،

    ساری زندگی جن لوگوں نے جوائنڈس یعنی پیلیا کا مرض دیکھا وہ لوگ اس کی جدید ترین شکل ہیپاٹائٹس بی سی کا شکار ہوکر فوت ہوے اور لاکھوں خاندان اس کا شکار ہوکر اپنی ساری جمع پونجی اس کی دوا ساز کمپنی کو دینے پہ مجبور ہوے، کس طرح سے کوئی بھی چیز رات ہی رات میں مہنگی ہوجاتی ہے اور کس طرح ڈرامائی انداز میں غریب کسانوں کی ساری محنت رائیگاں چلی جاتی ہے، یہ سارا کھیل کیا ہے صرف چند سرمایہ داروں کی حرص اور خون چوسنے کی عادت سے زیادہ کچھ نہیں،

    مجھے یہاں کسی ریفرینس کی بھی ضرورت نہیں کیونکہ ہر ذیشعور اس پُراسرایت کو محسوس کررہا ہے مگر مجبور ہے دنیا کی بہت سی قوموں نے اس لعنت سے خود کو آزاد کرنے کا تہیہ کیا اور ترکی، روس، چین وغیرہ ان کی پہنچ سے بہت آگے نکل آئے، چین تو اعلانیہ طور پر اس کا اظہار کررہا ہے چینی صدر نے تو بارہا کہا ہے کہ ہاں ہم نے چند گاڈفادرز کے مفادات کا تحفظ کرنے والوں کو نہیں چھوڑنا، بہتوں کو گرفت میں لیا، ترکی کل تک سک مین آف یورپ تھا مگر طیب اردگان کا ترکی آج امریکہ جیسی طاقت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتا ہے،

    اسی راہ پر پاکستان بھی ہو لیا تو اس وقت سب کے نشانے پہ عمران خان ہے کیونکہ عالمی طاغوتی نظام سے بغاوت کا علم اسی کے ہاتھ میں ہے، حکومت سنبھالنے سے لیکر ابتک تمام اپوزیشن جماعتیں اس کے خلاف متحد ہیں اس کی راہ میں رکاوٹیں در رکاوٹیں کھڑی کرتی آرہی ہیں ان کے بقول دنیا کا سب سے برا اور ان کی زبانی عوام کا سب سے بڑا دشمن بھی کپتان ہے مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ ابتک اپوزیشن کوئی ایک کام یا پالیسی بھی ایسی پیش نہیں کرسکی جس سے عمران خان نے ملک و قوم کو نقصان دیا ہو یا دے سکتا ہے،

    مولانا فضل الرحمان آجکل صف اول کا کردار ادا کررہے ہیں مولانا صاحب نے بغیر ثبوت کے بہت سے الزام عمران خان کی ذات پہ لگائے ہیں جن میں سر فہرست اسلام دشمنی کا الزام ہے مگر بطور دلیل کے ان کے پاس کچھ بھی نہیں جبکہ عمران خان کا سلوگین تو صرف ملک و قوم کی بہتری کا ہے، مولانا صاحب بات دین کی کرتے ہیں تو کیا یہ بہتر نہیں کہ وہ عوامی فلاح کے لیے بجائے حکومت کی راہ میں روڑے اٹکانے کے حکومت کا ساتھ دیں، انکے پاس بہتر منصوبے ہیں تو پیش کریں، بہترین پالیسی ہیں تو پیش کریں، قانون کو اس کی رو کے مطابق نافذ کروانے میں حکومت کا ساتھ دیں اور کرپٹ اشرافیہ کے احتساب کو یقینی بنانے میں کردار ادا کریں نہ کہ احتساب کو انتقام کا نام دیکر اس عمل میں رکاوٹ بنیں

    مگر ماضی کی طرح مولانا صاحب صرف اپوزیشن ہی نظر آتے ہیں جس کا ہمیشہ سے ایک ہی کام رہا کہ اپنے مفاد کو ترجیح دی، حکومت کی جائز بات و ملکی مفاد کی پالیسی یا منصوبے کو بھی صرف اس لیے ہدف تنقید بنایا جاتا ہے کہ کہیں وہ پارٹی عوام میں مقبول نہ ہوجائے لہٰذا عوام مرتی ہے تو مرے لیکن اپوزیشن کا مفاد پورا ہو بس یہی ہماری روایت ہے پاکستان میں اپوزیشن کا مطلب صرف اپوزیشن کرنا ہوتا ہے سو وہ جائز و مفید اقدام کی بھی اپوزیشن کرتے ہیں اور بات بے بات اپوزیشن ہونے کا ثبوت دیتے رہتے ہیں۔

    آرزوئے سحر
    اپوزیشن مطلب صرف اپوزیشن کرنا—از— انشال راؤ

  • مسلم ہولوکاسٹ جموں 1947—از….انشال راؤ

    مسلم ہولوکاسٹ جموں 1947—از….انشال راؤ

    تقسیم ہند کے فوراً بعد جموں میں لاکھوں کشمیری مسلمانوں کا منظم قتل عام تاریخ کے ان واقعات میں سے ہے جس کے تحریری و زندہ ثبوت ہونے کے باوجود اس ہواقعے کے زکر کو دباکر ہندوتوائی ظلم کی اس بھیانک تصویر سے دنیا کو لاعلم رکھنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے،

    نامور امریکی انسانی حقوق و سول رائٹس ایکٹیوسٹ میلکم ایکس کا کہنا ہے کہ "The Media is the most powerful entity of earth, have power to make the innocent guilty & the guilty look innocent” کے تحت ایسا ہی مظلوم کشمیریوں کے ساتھ کیا گیا، بھارتی ظلم و جبر کو جائز قرار دینے کے لیے ہمیشہ سے مظلوم کشمیریوں کو دہشتگرد بنا کر دکھانے کی کوشش کی گئی،

    تقسیم ہند کے بعد 1947 میں ماہ اکتوبر کے وسط سے نومبر تک منظم طریقے سے جموں کے علاقے میں لاکھوں نہتے مسلمانوں کو بیدردی سے قتل کیا گیا جسے بھارت کیساتھ ساتھ اہلیان مغرب نے بھی دبانے کی کوشش کی جبکہ چند پنڈت خاندانوں کا زکر اتنا بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا کہ دنیا سمجھتی ہے ظلم ان کے ساتھ ہوا جبکہ حقیقت تو یہ ہے کہ ظالم مظلوم بنادئیے گئے اور مظلوم کو ظالم بنادیا گیا، بلا جواز انسانیت کا قتل کیا گیا جس کا مقصد مسلمانوں کو ختم کرنا تھا،

    ادریس کانتھ کی تحقیق کے مطابق اکتوبر 1947 کے وسط میں ڈوگرا مہاراجہ نے RSS کی مدد سے جموں میں مسلمانوں کا قتل عام شروع کردیا جس کے نتیجے میں تقریباً دو لاکھ چالیس ہزار کشمیری مسلمانوں کو قتل کردیا گیا اور سات سے آٹھ لاکھ افراد کو جان بچا کر بھاگنا پڑا نتیجتاً تین ہفتے بعد مسلم اکثریتی جموں میں مسلمان اقلیت میں رہ گئے، اس وقت کے وائسرائے لارڈ ماونٹ بیٹن نے اس واقعے کو دبانے کے لیے میڈیا کو پابند کیا کہ وہ اس کی کوریج نہ کرے،

    ادریس کانٹھ کے مطابق یہ قتل عام قبائلیوں کے حملے سے پانچ روز پہلے شروع کیا گیا جس کا مطلب یہ ہے کہ قبائلی پشتونوں نے ردعمل کے طور پر کشمیر کا رخ کیا، جواہر لعل نہرو نے اس واقعے کا ذمہ دار ڈوگرا مہاراجہ اور RSS کو قرار دیا انہوں نے 17 اپریل 1949 کو ولبھ بھائی پٹیل کو لکھے گئے خط میں اس کا زکر کیا جسے فرنٹ لائن میگزین نے شایع کیا اس کے علاوہ Horace Alexander نے اپنے آرٹیکل میں انسانی تاریخ کے اس المناک سانحے کو تفصیلی ڈسکس کیا جوکہ 16 جنوری 1948 کو The Spectator میں شایع ہوا،

    اس سانحہ سے قبل جموں کی 61% آبادی مسلمانوں پر مشتمل تھی معروف بھارتی دانشور و قانون دان AG Noorani نے اپنی کتاب Kashmir Dispute Vol-1 میں لکھا ہے کہ جموں کی مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کے لیے ایک منظم پلاننگ مرتب کی گئی جسکے لیے RSS کی مدد لی گئی جس نے باہر سے ہزاروں کی تعداد میں ہندوتوا دہشتگردوں کو جموں بھیجا اس کے علاوہ سنگھ پریوار کی ایک شاخ جموں پرجا پریشد بھی اس میں پیش پیش رہی جو بعد میں RSS کی سیاسی ونگ بھارتیہ جن سنگھ سے منسلک ہوگئی اور BJP بننے کے بعد اس کی اہم ونگ ہے،

    آرٹیکل 370 ختم کرکے جموں کشمیر کو بھارت میں ضم کرنے کا مطالبہ اسی جماعت کا تھا جوکہ گولولکر کی آئیڈیولوجی "ایک ودھان، ایک نشان، ایک پردھان” پہ مشتمل تھا جسے گذشتہ بھارتی یوم آزادی کے موقع پر نریندر مودی نے اپنی اعلانیہ پالیسی و منزل ہونے کا اظہار کردیا ہے”، دس اگست 1948 میں The Times لندن نے تاریخی کمینہ پن اور سفاکیت کے اس المناک واقعہ پر رپورٹ شایع کی جس میں واضح کیا گیا کہ اس سے بڑھ کر دہشتگردی، حیوانیت، ظلم کی نظیر نہیں ملتی،

    RSS اور ڈوگرا مہاراجہ جیسے انسان نما حیوانوں نے وہ سفاکیت دکھائی کہ اگر کتّوں اور بھیڑیوں پر اس کا الزام تھونپا جائے تو وہ بھی اسے اپنی توہین سمجھیں گے یہ محض چند بدمعاشوں کا کام نہیں تھا بلکہ RSS کے ہزاروں بیرونی درندوں، جموں پرجا پریشد کے حیوانوں اور ڈوگرا کی فوج کے زریعے اسے منظم طریقے سے کیا گیا، اس رپورٹ میں The Times نے شایع کیا کہ "Over 237000 Muslims were systematically exterminated unless they escaped to Pakistan along the border by Dogra forces & Hindu extremists, this happened in the mid October, five days before the pathan invasion & nine days before Maharaja’s accession to India” یہ تاریخ کی وہ سفاکیت تھی کہ گاندھی بھی اسے دہشتگردی کہنے پہ مجبور ہوگئے گاندھی نے 25 دسمبر 1947 کو ریمارکس دئیے کہ "جموں کے ہندو، مہاراجہ ڈوگرا اور وہ ہندو جو باہر سے گئے

    جموں میں مسلمانوں کے قتل عام اور مسلمان عورتوں کی عصمت دری کے کے ذمہ دار ہیں” (Vol-90 of Gandhi’s work) یہ محض اتفاقی حادثہ نہیں تھا بلکہ منظم اور سرکاری سرپرستی میں ظلم و جبر کا عظیم واقعہ ہے، امریکہ میں ہولوکاسٹ میموریل میوزیم میں ایک نقشہ عیاں کیا گیا ہے جس میں دکھایا گیا ہے کہ مختلف علاقوں سے

    یہودیوں کو مشرق میں نئی آبادکاری کے نام پر اپنے مقبوضہ جات سے یہودیوں کو پولینڈ میں لا لا کر قتل کیا، بالکل اسی طرح نومبر میں ہزاروں مسلمانوں کو پاکستان شفٹ کرنے کے بہانے RSS کے دہشتگردوں نے اجتماعی طور پر ایک جگہ جمع کر کر کے شہید کیا، افسوس کہ ہولوکاسٹ کی طرح تاریخ کے اس بڑے قتل عام پر بات نہیں کی گئی نہ ہی اس پر زیادہ لکھا گیا، جموں کی 61 فیصد مسلمان آباد محض تین ہفتوں میں اقلیت بلکہ ختم ہوکر رہ گئی حتمی تعداد تو شاید کہیں زیادہ ہو البتہ اس وقت کے مغربی اخبارات، محققین اور تاریخ دانوں نے شہید ہونے والوں کی تعداد 237000 دو لاکھ سینتیس ہزار جبکہ ہجرت کرنے پہ مجبور ہونے ہوالوں کی تعداد ایک ملین کے قریب لکھی ہے،

    اگرچہ AG Noorani, Khalid Bashir, Arundhati Roy سمیت دیگر بہت سے رائٹرز نے اس پہ بہت کچھ لکھا مگر میڈیا و دیگر ڈبیٹس میں اس واقعہ کو وہ توجہ نہ ملی جو ملنی چاہئے تھی چنانچہ دنیا کی اکثریت اس سے لا علم ہے لہٰذا انسانی حقوق کی تنظیمیں ان سے وابستہ افراد، تمام کشمیری اور پاکستانیوں کو چاہئے کہ اکتوبر و نومبر میں اس سانحے پر زیادہ سے زیادہ سیمینارز، ڈبیٹس کروائیں، آرٹیکلز لکھیں تاکہ دنیا ہندوتوا دہشتگردوں کے ظلم اور کشمیریوں کی مظلومیت سے آگاہ ہوسکے۔

    آرزوئے سحر
    مسلم ہولوکاسٹ جموں 1947—از….انشال راؤ

  • کام ، نام پھر مقام ، قطرے سے جہان —از —انعام الرحمن طاہر

    کام ، نام پھر مقام ، قطرے سے جہان —از —انعام الرحمن طاہر

    آپ لوگوں نے جہاز کو ائیرپورٹ کی حدود میں ٹیکسی کرتے عموماً دیکھا ہوگا۔ اس وقت جہاز کی رفتار بہت مدھم اور سست ہوتی ہے۔ کیونکہ اس وقت جہاز اپنے انجنوں کی پوری قوت استعمال نہیں کررہا ہوتا

    جہاز سست رفتاری سے رینگتا ہوا مین رن وے کے شروعاتی پوائنٹ تک پہنچتا ہے، اپنی سمت کو درست کرتا ہے اور اسکے بعد بھرپور طاقت سے اپنے انجن کو اسٹارٹ کرکے ٹیک آف اسپیڈ پکڑتا ہے۔ یہ رفتار اور طاقت کچھ ہی سیکنڈز بعد اسے آسمان کی بلندیوں تک لے جاتی ہے۔

    کاروبار کی بھی بلکل یہی مثال ہے۔۔۔

    کاروبار کی شروعات سست ہوتی ہے۔ کیش فلو بہت کم ہوتا ہے، منافع کی دھار ہلکے ہلکے بن رہی ہوتی ہے۔ آپ دھیرے دھیرے قدم جما رہے ہوتے ہیں۔ لمبی اڑان (بڑے منافع) کے لیے رن وے (صحیح سمت اور موقع) پر آرہے ہوتے ہیں۔

    کاروبار کے رن وے پر کامیابی سے پہنچنے کے بعد آپ کو "انجن” پوری طاقت کے ساتھ اسٹارٹ کرنا ہوتا ہے۔۔۔

    بہت سے کاروباری، کامیابی سے رن وے تک پہنچنے کے باوجود "انجن” کو اسٹارٹ نہیں کرپاتے۔ یہ رن وے پر بھی سست رفتار سے دوڑتے رہتے ہیں۔ جب کہ اسمارٹ اور زہین کاروباری، رن وے پکڑتے ہی، انجن اسٹارٹ کرکے آسمانوں کی بلندیوں پر نکل جاتے ہیں

    کیا آپ جانتے ہیں کہ کاروبار کی اصطلاح میں، انجن اسٹارٹ کرنے سے کیا مراد ہے؟

    نہیں جانتے؟

    میں آپ کو بتاتا ہوں۔۔۔

    کاروباری اصطلاح میں، انجن اسٹارٹ کرنے سے مراد ہے،

    کاروبار کے مختلف پراسسز کو delegate کرنا۔۔۔

    آسان الفاظ میں، اپنے کام خود کرنے کی بجائے، دوسروں سے کروانا

    مثال کے طور پر، مائیکروسافٹ کے شروعاتی دور میں، بل گیٹس اپنے سافٹ ویئر خود کوڈ کرتا تھا لیکن مائیکروسافٹ کے جہاز کے رن وے پر چڑھتے ہی اس نے developers ہائیر کرنا شروع کئیے جو مائیکروسافٹ کی پروڈکٹس کو کوڈ کرتے اور بل گیٹس کی ساری توجہ بزنس گروتھ پر لگنے لگی۔

    کے ایف سی کے فاؤنڈر، کرنل سینڈرز خود فرائیڈ چکن بنایا کرتے تھے، لیکن پھر انھوں نے کاروبار کے پھیلتے ہی ورکرز رکھنے شروع کئیے اور خود کو بزنس کی گروتھ کے لیے وقف کرلیا۔

    پاکستانی چیف جسٹس کوویزا جاری نہیں کریں گے، امریکہ

    آپ Elon Musk کو دیکھ لیجیے۔ وہ صرف گروتھ اور نت نئے بزنس آئیڈیاز پر کام کرتا ہے، باقی ہر کام کے لیے اس نے ٹیمیں تشکیل دی ہوئی ہیں۔

    یہ تو بلین ڈالر کمپنیوں کی مثالیں تھیں۔ چھوٹے بزنس اس کو کیسے اپلائی کرسکتے ہیں؟

    مثال کے طور پر، آپ نے چھوٹے پیمانے اور کم بجٹ سے ای کامرس میں قسمت آزمانے کا فیصلہ کیا ہے۔ بجٹ محدود ہونے کی بناء پر، سارے کام آپ کو خود کرنے پڑتے ہیں۔

    آپ ہول سیل پر پراڈکٹ خرید کر لاتے ہیں، پھر انھیں پیک کرتے ہیں، کسٹمر کی کالز اور میسجز کو خود مینج کرتے ہیں، پیک کرکے ڈیلیوری کمپنی تک پہنچاتے ہیں۔ باقی فیس بک پیج یا ویب سائٹ بھی آپ مینج کررہے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔

    شروع میں یہ سب کچھ آپ ہی کو مینج کرنا پڑے گا۔ لیکن، کچھ عرصے پرافٹ میں چلنے کے بعد آپ کو ان تمام پراسس ورک کے لیے کسی کو ہائیر کرنا ضروری ہے تاکہ آپ اپنا "تمام” فوکس بزنس گروتھ اور ڈیویلپمنٹ پر لگاسکیں۔

    اپنےآپ کو خودکش دھماکے میں اڑانے والے کون تھے ؟

    جتنا بھی ممکن ہوسکے، ہر شعبے کے لیے ہیلپر یا ماہر افراد رکھتے جائیے۔ اگر کسی کام کے لیے فل ٹائم بندہ ہائیر نہیں کرسکتے تو پارٹ پوزیشن آفر کیجیے۔ یہ بھی مشکل لگتا ہے تو آؤٹ سورسنگ کی طرف جائیے۔ اسکے علاوہ کسی کو پارٹنر بنا کر یا اسٹیک آفر کیجیے اور اپنے کام میں ساتھ ملا لیجیے۔

    دھیرے دھیرے ٹیم ڈیویلپ کرنا، پراسسز کو delegate کرنا انتہائی ضروری ہے۔ اسکے بناء آپ بڑا کاروبار نہیں کھڑا کرسکتے۔

    یاد رکھئیے، چھوٹا بزنس delegation، مطلب کے دوسروں کو کام سونپنے سے ہی بڑا بنتا ہے یعنی کے ٹیک آف کرپاتا ہے۔ اگر آپ صرف پیسے بچانے کے لیے سارے کام خود سے کرنے پر لگے رہیں گے تو کئی سالوں بعد بھی رن وے پر ہی رینگ رہے ہوں گے۔۔۔!!!

    کام ، نام پھر مقام ، قطرے سے جہان —از —انعام الرحمن طاہر 

  • کشمیر ملین مارچ آخر کیوں؟ ، از قلم:- محمد عبداللہ گل

    کشمیر ملین مارچ آخر کیوں؟ ، از قلم:- محمد عبداللہ گل

    کشمیر ملین مارچ آخر کیوں؟
    از قلم:- محمد عبداللہ گل
    آج جمعہ کا دن ہے 18 اکتوبر اور آج کا دن وہ دن ہے جب سب مسلمان نماز جمعہ ادا کریں گئے اور اپنے پروردگار کو راضی کرے گئے لیکن ہماری شہ رگ کشمیر میں کرفیو کا سماں ہو گا وہاں 80 لاکھ مسلمانوں پر پابندی عائد ہو گئی کہ تم نے جمعہ کا عظیم فریضہ نہیں سرانجام دینا ۔اچھا صاحب !آخر کیوں ہمارا قصور کیا ہے۔قصور یہ کہ تمہارا نعرہ ہے
    لے کے رہے گے آزادی ہے
    ہے مقصد ہمارا آزادی
    اس نعرہ کی پاداش میں تم پر یہ پابندی عائد کر دی گئی ہے۔وہ 80 لاکھ کشمیری جن کے 1947 سے کے کر اب تک دل پاکستان کے لیے ڈھرکتے ہیں۔وہ کشمیر جس کے بارے میرے قائد اعظم محمد علی جناح نے کہا تھا
    :کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے:
    اے پاکستانیوں!اگر شہ رگ ظلم و ستم کا شکار ہو گئی تو تم کیسے بچ سکتے ہوں۔
    مولانا ظفر علی خان یوں فرماتے ہیں ؛-
    *کوئی دن جاتا ہے پیدا ہوگی اک دنیا نئی
    خون مسلم صرف تعمیر جہاں ہو جائے گا*
    کشمیر پر ظلم ہو رہا ہے۔کشمیری عوام کو خطرناک کیمائی اسلحوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔کشمیریوں کا خون بہ رہا ہے۔اب تک لاکھوں کشمیری لقمہ اجل بن گئے ہیں۔لیکن صورت حال یہ ہے کہ ہر کشمیری گولی کا نشانہ بن کر بھی کہتا ہے
    پاکستان سے رشتہ کیا؟
    لا الہ الا اللہ محمد رسول
    مسلمان بہنوں کی عزتیں پامال ہو رہی ہے۔ماوں کی عصمتوں کو پامال کیا جارہا ہے۔بوڑھے مردوں کی ڈاڑھیاں نوچی جا رہی ہے۔جیلوں میں قید مسلمانوں پر ظلم کیا جا رہا ہے۔ان کو زبردستی پکڑ کر ان کے اجسام اطہر پر اوم کا نشان بنایا جا رہا ہے۔لیکن پھر بھی کشمیریوں کے جذبات پاکستان سے الحاق کے لیےدھڑک رہے ہیں۔لیکن معذرت کے ساتھ ہم نے کشمیر کے لیے کیا کیا ؟اگر ہم اپنے گریبان میں دیکھے تو ہم نے کیا سرانجام دیا؟مسلسل ادھر کشمیر میں ظلم ہوتا ہے ہمارے عوام فلموں، گانوں میں مصروف ہوتے ہیں۔جیسا کہ اتوار کے دن 20 اکتوبر کو اسلام آباد میں کشمیر ملین مارچ کا انعقاد کیا جارہا ہے۔یہ یقینا کشمیریوں سے یکجہتی کا موقع ہے۔کشمیری بھی پاکستان سے الحاق کا جذبہ لیے احتجاج اور جلسے کرتے ہیں۔ادھر کشمیر میں تو 10 لاکھ سے زائد انڈین آرمی بھی مسلط ہے وہ تب بھی نعرہ لگاتے ہیں لے کے رہے گے آزادی۔لیکن کیا ہم۔لوگ ملک پاکستان میں ایک دن بھی کشمیر کے نام نہیں کر سکتے۔اس سے کشمیریوں کو حوصلہ پہنچے گا ہم اکیلے نہیں ہیں ملک پاکستان ہمارے ساتھ ہیں
    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :-
    "تمام مسلمان ایک جسم کی مانند ہے”
    کشمیری بھی تو مسلمان ہیں۔آج ان پر ظلم ہو رہا ہے ہمارا فرض اول ہے کہ ہم ان کی مدد کرے کچھ نہیں کر سکتے تو کم از کم اس مارچ میں ہی شریک ہو جائے۔ایک یہ بھی سوال ہوتا ہے اس مظاہرے سے کیا ہو گا ادھر تو ظلم ہوتا رہے گا۔ہر گز ایسا نہیں ہے ملین مارچ میں جب لاکھوں افراد شریک ہو گئے تو ایک اقوام متحدہ اور دوسرے دشمن ممالک کو پیغام جائے گا کہ پاکستان کشمیر کے لیے سنجیدہ ہے۔جب حضرت ابراھیم علیہ السلام کو آگ میں پھینکا گیا تو ایک پرندہ اپنی چونچ سے پانی پھینک رہا تھا اس کے پانی پھینکنے سے کیا ابراھیم علیہ السلام کو راحت پہنچ رہی تھی۔لیکن اللہ تعالی کو اس پرندہ کا یہ عمل بہت پسند آیا۔اسی طرح جب ہم اس ملین مارچ میں شریک ہوگئے تو اللہ ہم سے خوش ہو گا۔کشمیر میں خون بہ رہا ہے۔بابائے صحافت مولانا ظفر علی خان فرمائے ہیں:-
    ہم کو سودا ہے غلامی کا ،کہ آزادی کی دھن
    چند ہی دن میں، ہمارا امتحان ہو جائے گا
    اگر کشمیر غلامی میں ہے تو یہ ہمارا امتحان ہے کہ ہم ان کی مدد کرتے ہیں یا نہیں۔اس لیے میری درخواست ہیں کہ سب اہل پاکستان کو چاہیے کہ کشمیریوں سےمحبت کا ثبوت دے اور اس کشمیر ملین مارچ میں شریک ہو ۔
    میرے جیسے ہوں گے پیدا،سینکڑوں اہل سخن
    نکتہ نکتہ جن کا آزادی کی جان ہو جائے گا

  • کشمیر, تحریک آزادی اور ایپل (سیب)۔ ۔ ۔از بلال شوکت آزاد

    کشمیر, تحریک آزادی اور ایپل (سیب)۔ ۔ ۔از بلال شوکت آزاد

    خبر اور تصاویر گردش میں ہیں کہ مقبوضہ کشمیر کے شہر کٹھوعہ میں بھارتی ریاستی جبر کیخلاف کشمیریوں نے سیبوں پر نعرے لکھ کر بھارت بھیج دیئے۔

    تفصیلات کچھ یہ ہیں کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم و جبر، مہینوں پر محیط جاری لاک ڈاؤن اور مکمل تاریکی کے ماحول میں مظلوم کشمیریوں نے مزاحمت کے اظہار کا نیا راستہ اختیار کرتے ہوئے سیبوں پر بھارت مخالف اور پاکستان کے حق میں نعرے لکھ کر بھارت بھیج دیئے۔

    وقوعہ کے مطابق تاجروں کو حالیہ موصول ہونیوالے سیبوں پر جو نعرے لکھے گئے تھے ان میں

    "ہم کیا چاہتے آزادی”،

    "میری جان عمران خان”،

    "پاکستان زندہ باد”،

    "میں برہان وانی سے محبت کرتا ہوں”،

    "موسیٰ واپس آجاؤ شامل ہیں”،

    "جس نے ہلچل مچا دی ہے”۔

    ایک مقامی تاجر کے مطابق جب وہ صبح فروٹ منڈی گئے اور وہاں سے سیب لے کر آئے اور لڑکوں کو دکان پر سیب لگانے کو کہا تو جب انہوں نے سیبوں کے کریٹ کھولے تو ان پر نعرے لکھے ہوئے تھے، جس کی وجہ سے فروٹ منڈی اور پورے بازار میں دہشت اور خوف کا ماحول بنا ہوا ہے، جس سے خریداروں کا رش کم ہو گیا ہے۔

    یہ تو تھی خبر اور اس کی تفصیل جس کو ہم نے من حیث القوم بلکل لائٹ موڈ پر لیا جیسے ستر سالوں سے ہم کشمیر کو لائٹ موڈ پر لے رہے ہیں پر صاحبان ذرا تصور کیجیئے کہ آپ کا مکمل سماجی, سیاسی اور سفارتی ناطقہ بند ہو اور آپ کو اپنی آواز دنیا کی سماعتوں تک پہنچانی ہو تو کیسے کیسے جتن کرنے پڑتے ہیں اور کتنی بے بسی اور معذوری دیکھنی پڑتی ہے۔

    کشمیری ہمارے بغیر ایک شاندار زندگی کے مزے لینا چاہیں تو ان کے لیئے یہ بات چنداں مشکل نہیں کہ وہ بھارت کو بخوشی تسلیم کرکے اس کا حصہ بن جائیں اور خصوصی مراعات سے کم از کم ان کی ایک سے دو نسلیں دنیا میں فیضیاب ہوجائیں پر ایسا نہ تو ہوا ہے اور نہ ہورہا ہے باوجود بھارت اور اسکے تمام دیدہ و نادیدہ ہمنواؤں کی محنت سے۔ ۔ ۔

    کیوں؟

    پاکستان آکر پتہ چلاکہ خاندان کیا ہوتا ہے ،شہزادی کیٹ

    کیونکہ اسلام اور پاکستان کے رشتے سے وہ خود کو کشمیری بعد میں جبکہ مسلمان اور پاکستانی پہلے تسلیم کرتے, کرواتے اور کہلواتے ہیں۔

    —کشمیری پاکستان کے نام پر جیتے اور پاکستان کے نام پر مرتے ہیں,

    —ان کے کفن سبز ہلالی پرچم میں ڈھکے جاتے ہیں اور ان کی قبروں پر وہی پرچم لہرائے جاتے ہیں,

    —ان کی عید شبرات رمضان نیا سال سب ہمارے فیصلوں اور اعلانات سے مشروط ہے,

    —ان کی ہر نظر پاکستان کی معاشی, اقتصادی, دفاعی اور سفارتی اڑان پر ہے,

    —ان کے لبوں پر آزادی کے نعرے اور دعائیں بعد میں لیکن پاکستان کے استحکام اور اس کی مضبوطی کے نعرے اور دعائیں اول ہیں,

    —کشمیری ہماری خوشیوں میں خوش اور ہمارے غموں میں غمگین ہوتے ہیں,

    —جتنا پاکستان ہمارا ہے اتنا ہی پاکستان کشمیریوں کا ہے جو اس کا اظہار جموں و کشمیر کی گلی گلی میں اپنے لہو کی قربانی دے کر کرتے ہیں۔

    کتنا دل دکھا اور آپ پزمردہ ہوئے اس خبر کو پڑھ سن کر کہ کشمیری اپنی بے بسی کے باوجود ہم سے محبت, بھائی چارے, امید, یقین اور یکجہتی کا اظہار کے لیئے سیبوں کا استعمال کررہے اور دنیا کو واضح پیغام دے رہے کہ کشمیر کل بھی پاکستان تھا, آج بھی پاکستان ہے اور کل بھی پاکستان ہی رہے گا ان شاء ﷲ بیشک ہندو غاصب فوج جتنا مرضی دبالے اور منہ بند کردے۔

    مولانا فضل الرحمن کی نگری”ملازئی ” میں 14 افراد دشمنی کی بھینٹ چڑھ گئے

    سیبوں پر لکھے نعرے اور محبت نامے تو بھارت اور دنیا کو بتانے اور سنانے کے لیئے تھے کہ بھارت اور دنیا جان لے کہ

    "کسی غلط فہمی میں مت پڑنا ہم مرتے دم تک پاکستان اور آزادی کی کوہار بلند کرتے رہیں گے”۔

    جبکہ سیب۔ ۔ ۔

    مجسم سیب کشمیریوں کا پاکستان اور امت مسلمہ کے پڑھے لکھے, انٹلیکچوئیل اور ٹیلینٹڈ نوجوانوں بلخصوص ہم سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس کو واضح اور صاف صاف پیغام ہے کہ

    "بھائیو ہم تو اپنے حصے کی محنت اور مشقت کر رہے ہیں, ہم تو ایسی سخت صورتحال میں بھی اپنی آواز بلند کررہے ہیں خواہ ایپل (سیب) کا آئی فون نہیں ہاتھ میں پر اللہ کی نعمت سیب (ایپل) کو اپنا ذریعہ مواصلات بنا کر آزادی آزادی, پاکستان پاکستان اور عمران عمران کررہے ہیں تاکہ دنیا جان لے کہ ہمارے مقصد میں ایک انچ بھی کمی واقع نہیں ہوئی بلکہ ہم پہلے سے زیادہ پر عزم اور پرجوش ہیں۔

    دوستو تمہارے لیئے تو ہماری آواز بننا اور دنیا کو جگانا مشکل نہیں کہ تمہارے پاس آزادی اور ایپل آئی فونز وغیرہ ہیں کہ ہم تو سیبوں تک محدود ہوکر بھی بھارت اور دنیا کو حریت کی آواز سنا رہے اور بھارتیوں کا سینہ جلا رہے اور ان کو خوف ذدہ کررہے ہیں تو تم بھی مایوس مت ہونا اور ہمیں بھولنا مت کہ ہم تو ہاتھ, منہ, کان اور زبان بندی کے باوجود تمہیں نہیں بھولے اور ہمارا یہ نعرہ سر بلند ہے کہ ہم کیا چاہتے آزادی اور پاکستان زندہ آباد لہذا اپنے اپنے ہاتھوں میں موجود ایپلز کا وہی استعمال کرو جو ہم یہاں اپنے باغات کے ایپلز کا کررہے۔”

    واللہ مجھے تو سیبوں پر لکھے نعرے پڑھ کر کشمیریوں کی اس ادا پر پیار اور ترس آیا لیکن سیب دیکھ کو شرمندگی ہوئی کہ دیکھو وہ بیچارے کس طرح ہماری خاطر کیسے کیسے حربے اختیار کررہے اور ہم یہاں اپنی سیاسی و مسلکی اور عصبی بحثوں میں الجھ کر انہیں فراموش کیئے جارہے ہیں۔

    ظلم کی بھی کوئی حدہوتی ہے،تیزاب نہ پھینکتے گولی ماردیتے ، سریم کورٹ

    کشمیر کے سیب پاکستانی نوجوانوں کو سیکھ اور سبق دے رہے وہ بلکل واضح ہے کہ حق اور حریت کی آواز بلند کرنی ہو تو وسائل کوئی مسئلہ نہیں جن کا رونا رویا جائے بلکہ حق اور حریت تو سیبوں کے ذریعے بھی بیان کیئے جاسکتے ہیں۔

    صاحبان کشمیری حریت پسند پاکستانیوں نے تو اپنے باغات کے سیبوں (ایپلز) کا استعمال کرلیا اور دنیا کو پیغام دے دیا, اب ہمارے باری ہے کہ ہم اپنے ہاتھوں میں موجود ایپلز (سیب) کا جارحانہ استعمال کریں کشمیریوں کی آواز بننے کے لیئے۔

    یاد رہے کہ ستر سالوں کی کسک ہے یہ کوئی دو چار مہینےکی بات نہیں, کشمیری پاکستان کے نام پر جیتے ہیں اور پاکستان کے نام پر مرتے ہیں, وہ سبز ہلالی پرچم کی حرمت ہم سے زیادہ جانتے ہیں تو اے پاکستانیوں اب تم بھی ان کے خون کی حرمت سمجھو اور خدارا تیرے میرے کی سیاست سے نکل کر کشمیریوں کی آواز بنو۔

    آزادیات

    کشمیر, تحریک آزادی اور ایپل (سیب)۔ ۔ ۔از بلال شوکت آزاد