Baaghi TV

Category: بلاگ

  • سیٹھوں کی ہڑتال —-از…حفیظ اللہ سعید

    سیٹھوں کی ہڑتال —-از…حفیظ اللہ سعید

    آج فیصل آباد کے آٹھوں بازاروں میں ہڑتال تھی۔تقریبا 90 % کاروبار بند تھا۔ہڑتال کلچر عالمی طور پہ تسلیم شدہ و پر اثر کلچر ہے۔ہڑتال کے زریعے افراد تنظمیں و گروہ اپنے مطالبات منواتے ہیں ارباب اختیار سے۔ہمارے ہاں بھی یہ کلچر اپنی پوری ہشر سامانی کے ساتھ رائج ہے۔ڈاکٹرز تک اپنے جائز و نا جائز مطالبات منوانے کے لیے مریضوں کو موت کے رستے پہ کامزن کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہی کرتے جبکہ یہی ڈاکٹرز پرائیوٹ کلینکس و ہاسپٹلز میں ہڑتال کے دنوں میں ہی دونوں ہاتھوں سے دولت بھی سمیٹ رہے ہوتے ہیں

    آج کی ہڑتال کو ایک ٹائیٹل یا نام دیا جاۓ تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ یہ سیٹھوں کی ہڑتال تھی۔بڑا سیٹھ ، تاجر ، مینوفکچرر جو بھی چیز بناتا یا بیچتا ہے اس پہ حکومتی شرح کے مطابق بذریعہ چھوٹے تاجر و دوکاندار عوام سے ٹیکس وصول کرتا ہے اور اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف گورنمنٹ کو دیکر باقی سارا ٹیکس چوری کرکے اپنے پیٹ کی دوزخ کو بھرتا چلا جاتا ہے اور ہل من مزید کا نعرہ مار کے اپنے ڈھیٹ پنے کا ثبوت بھی دیتا ہے

    موجودہ دور حکومت سے پہلے بھی ہر چیز پہ 18 % سیلز ٹیکس عوام سے لے رہا تھا نام نہاد اشرافیہ کا ٹولہ۔تمام کاروباری اداروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے و کاروباری ڈاکومیٹشن کے موجودہ حکومتی عزم کو دیکھتے ہوۓ سیٹھوں نے قیمتوں کو 17% مزید ٹیکس ایڈ کرتے ہوۓ بڑھا دیا جبکہ حکومت کو دیا کچھ بھی نہی پچھلے چند ماہ سے۔عام آدمی و حکومت کے لیے لمحہ فکریہ تو یہ ہے کہ ٹیکس 18 + 17 = 35 % کی شرح سے وصول تو کیا جا رہا ہے

    عوام الناس سے لیکن گورنمنٹ کو مل بہت تھوڑا رہا ہے۔اور سارا ٹیکس بلیک منی و بے نامی جائیدادوں میں ڈھلتا چلا جا رہا ہے۔اب وقت آ چکا ہے کہ عام آدمی ان معاشی مگرمچھوں کی ملک و عوام دشمنی کو جان جائے اور اپنے حقوق کے لیے حکومتی اقدامات کا ساتھ دے۔عوام کا دیا ٹیکس سیٹھوں کے اندھے کنوؤں کی مانند پیٹوں میں دفن ہونے کے بجاۓ ریاست کو ملنے لگ گیا تو ریاستی معاشی حالت سنبھلنا شروع ہو جاۓ گی ان شاءاللہ

    سیٹھوں کی ہڑتال —-از…حفیظ اللہ سعید

  • ہیومن رائٹس سنٹر فار ویمن ملتان میں 3 ماہ کے دوران 64کیس رپورٹ ہوئے

    ہیومن رائٹس سنٹر فار ویمن ملتان میں 3 ماہ کے دوران 64کیس رپورٹ ہوئے

    ملتان۔ (اے پی پی) شہید بے نظیر یھٹو ہیومن رائٹس سنٹر فار ویمن ملتان میں گزشتہ 3 ماہ کے دوران مختلف نوعیت کے تشدد کے 64کیس رپورٹ ہوئے جن میں زیادہ تر نان نفقے اور جہیز ریکوری کے معاملات ہیں۔ منیجر ہیومن رائٹس فار ویمن سمارا شیریں نے اے پی پی کوبتایا کہ گھریلو تشدد ہمارے معاشرے کا شیوہ بن چکا ہے اور محدود اور جارحیت پسند ذہنیت رکھنے کے لوگ سرعام تشدد کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے، عورتوں پر ظلم وستم نہ صرف سماجی و قانونی لحاظ سے بلکہ مذہبی لحاظ سے بھی ایک غیرمہذب روش ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہیومن رائٹس سنٹر خواتین پر تشدد کے خاتمے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

  • صحت کے شعبے میں قصور وار کون ؟؟  تحریر: غنی محمود قصوری

    صحت کے شعبے میں قصور وار کون ؟؟ تحریر: غنی محمود قصوری

    ملک پاکستان میں صحت کے شعبے میں بڑی لوٹ مار کا بازار گرم ہے جس سے اس شعبہ کی حالت ابتر ہے جس کی دو وجوہات ہیں
    1 ایم بی بی ایس ڈاکٹرز کی کمی
    2 پیرامیڈیکس کی ذاتی محدود پریکٹس کی ممانعت
    کسی بھی شعبے میں گھر پڑھنے کیساتھ چھوٹا موٹا کاروبار کر کے آپ اپنا روزگار شروع کر سکتے ہیں اور اپنی تعلیم کے اخراجات نکال سکتے ہیں جبکہ ایک ایم بی بی ایس ڈاکٹر بننے کیلئے ایف ایس سی کرنے کے بعد کسی میڈیکل کالج میں داخلہ لینا لازم ہے اور پانچ سال تک کالج اٹینڈ کرنا بھی لازم ہے
    جس کیلئے بڑا سخت میرٹ ہوتا ہے جو طالب علم میرٹ کی بنا پر سرکاری میڈیکل کالجز میں داخلہ نہیں لے پاتے وہ پھر پرائیویٹ کالجز کا رخ کرتے ہیں کیونکہ وہاں کم نمبروں والے کو بھی آسانی سے داخلہ مل جاتا ہے
    پرائیویٹ کالجز کی پانچ سالہ فیس 50 سے 90 لاکھ ہے جو کہ کوئی غریب پوری زندگی بھر بھی نہیں کما سکتا.
    یوں غریب طالبعلم بچے اپنے حق سے محروم رہ جاتے ہیں
    ہمارے ملک میں ڈسپنسر ایک سالہ کورس کر کے ڈاکٹر کی معاونت کرتا ہے امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک میں بھی دور دراز علاقوں میں جہاں ڈاکٹرز میسر نہیں وہاں پیرامیڈیکس ڈاکٹرز کی جگہ کام کرتے جبکہ ہمارے ہاں ایک سالہ کورس ڈسپنسر کرنے والا اتائی ڈاکٹر کہلواتا ہے حالانکہ یہی اتائی ہمارے ڈی ایچ کیو،ٹی ایچ کیو،آر ایچ سی اور بی ایچ یو میں ایک ماہر ڈاکٹر کی طرح انجیکشن بھی لگاتے ہیں نسخہ بھی تجویز کرتے ہیں دوائی بھی دیتے ہیں مگر سرکاری ہسپتالوں کے بعد یہی کوالیفائڈ ڈسپنسر اپنے نجی کلینک کھولنے پر اتائی کہلواتے ہیں افسوس کی بات تو یہ ہے کہ ملک میں پرائس کنٹرول کا کوئی نظام نہیں سرکاری ہسپتال کا ایم بی بی ایس ڈاکٹر اپنے نجی کلینک میں کم از کم فیس 500 روپیہ لے رہا ہے جبکہ سپیشلسٹ ڈاکٹرز کی فیس ہزاروں روپیہ ہے اور دوائی جو میڈیکل سٹور سے خریدنی ہے وہ الگ جبکہ مزدور کی دیہاڑی 700 روپیہ ہے یہی کوالیفائڈ ڈاکٹرز اپنے سرکاری ہسپتالوں میں کسی غریب کی بات سننے کے روادار نہیں ہوتے ایک غریب انسان بخار کی دوائی لینے سرکاری ہسپتال جائے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ پرچی بنوانے سے اپنی بھاری آنے پر معائنہ کروا کر دوائی حاصل کرنے تک کم از کم ٹائم 3 گھنٹے جبکہ مزدور کی مزدوری کا ٹائم صبح 7 بجے شروع ہو جاتا ہے اور ہمارے ان سرکاری ہسپتالوں کا ٹائم 8 بجے یعنی کہ اگر کوئی 60 سے 70 روپیہ کی دوائی سرکاری ہسپتال سے لینے جائے تو اسے اپنے 700 روپیہ سے ہاتھ دھونے پڑینگے ویسے تو گورنمنٹ کی طرف سے ہر یونین کونسل کی سطح پر ایک بی ایچ یو ہسپتال ہوتا ہے جس میں دفتری اوقات کے بعد بھی ایل ایچ ڈبلیو یعنی لیڈی ہیلتھ ورکر اپنے گھروں میں فرسٹ ایڈ میڈیسن کیساتھ موجود ہوتی ہیں مگر افسوس کہ ان کو بھی صرف پیراسیٹامول ،فولک ایسڈ اور کنڈومز کے علاوہ کچھ بھی نہیں ملتا جبکہ یہی پیراسیٹامول ہر گھر میں موجود ہوتی ہے
    کچھ عرصہ قبل سٹیرائیڈ اور اینٹی بائیوٹک کو نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا مگر آج جلد آرام اور اپنے نجی کلینک کی رینکنگ بڑھانے کے علاوہ میڈیکل سٹورز سے کمیشن حاصل کرنے کے چکر میں ہمارے یہ پانچ سالہ تربیت یافتہ ڈاکٹرز ڈبل ٹرپل اینٹی بائیوٹکس میڈیسن تک دینے سے گریز نہیں کرتے اگر کوئی ٹرپل نا بھی دے تو ڈبل تو لازم ہے جیسے کہ انجیکشن میں سیفٹرائیکزون سوڈیم تو لازمی جز ہے جبکہ گولیوں میں ،کو اماکسی سلین،سیفراڈون اور سیفیکزائم وغیرہ بلا ضروت دی جاتی ہے
    ایک جانب تو گورنمنت نے چوروں ڈاکوءوں کے خلاف کریک ڈاون کا اعلان کر رکھا ہے جبکہ دوسری جانب ان ایم بی بی ایس ڈاکٹرز کی بے جا لوٹ مار بداخلاقی اور ناجائز آمدن پر خاموش بھی ہے بلکہ پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کی آڑ میں ان کو مذید تحفظ حاصل ہو گیا ہے کیونکہ ڈسپنسر اور دیگر شارٹ ہیلتھ کورسز والے کوئی بھی ذاتی پریکٹس نہیں کر سکتے جس سے بہت سے کوائیک یعنی اتائی کاروبار چھوڑ چکے ہیں جس کے نتیجے میں لوگوں نے ذاتی طور پر ادویات کا استعمال شروع کر دیا ہے جو کہ سخت حیران کن بات ہے کم ازکم ڈسپنسر ایک سال ہسپتال میں دوران کورس ،ڈرپ ،انجیکشن اور پیشاب کی نالی لگانا سیکھ جانے کے علاوہ بہت سی ادویات بارے پڑھ کر ہسپتال میں عملی طور پر ڈاکٹرز کیساتھ تجربہ بھی حاصل کر چکا ہوتا ہے لہذہ گورنمنٹ کو ان پیرامیڈیکس کے بارے سوچنا ہوگا ورنہ غریب اپنی صحت کا دشمن تو پھر بنا ہی ہے.

  • 14-اکتوبر1092یوم وفات نظام الملک طوسی—-از— تاریخ کے سنہری اوراق سے

    14-اکتوبر1092یوم وفات نظام الملک طوسی—-از— تاریخ کے سنہری اوراق سے

    تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے،آج 2019 ہے اور اکتوبر کی 14 تاریخ ، یہ پہلی مرتبہ نہیں‌بلکہ جب سے شمسی مہینوں کا نظام شروع ہوا ہے ہر سال آتی ہے ، اسی 14 اکتوبر کوعالم اسلام کے ایک بہت بڑے مدبر حکمران نظام الملک طوسی اس دنیا فانی سے کوچ کرتے ہیں اور ایک تاریخ چھوڑ جاتے ہیں جو ہمیشہ ہمیشہ کےلیے رقم ہوگئی

    قبل اس کے کہ نظام الملک طوسی کی سنہری زندگی کے اوراق کھولے جائیں ہارون الرشید کا دور برامکہ کے تذکرے کے بغیر نامکمل ہے اسی طرح سلجوقیوں کا عہد نظام الملک طوسی کے ذکر کے بغیر ادھورا ہے۔ نظام الملک کا اصل نام حسن بن علی اور لقب نظام الملک تھا۔ وہ طوس کے ایک زمیندار علی کا بیٹا تھا۔ 408ھ میں پیدا ہوا اور بچپن سے ہی بہت ذہین اور کئی خوبیوں کا مالک تھا۔ اپنی ذہانت سے انتہائی کم عمری میں کئی علوم پر عبور حاصل کیا۔ سلجوقی عہد میں وزارت عظمیٰ کے عہدے پر فائز ہوا۔

    مقبوضہ کشمیر: کرفیوکا 71 واں دن،بھارتی فوج کے مظالم ، کشمیریوں کی مزاحمت جاری

    اس عہد کے تمام کارنامے نظام الملک کے تیس سالہ دور وزارت کے مرہون منت ہیں۔ یہ عہد سلجوقیوں کا درخشاں عہد کہلاتا ہے۔ الپ ارسلان جو ایک مجاہدانہ صفت رکھنے والا بادشاہ تھا نے اپنے کمسن بیٹےملک شاہ کو نظام الملک کے سپرد کردیا تا کہ وہ اسکی تربیت کرے اور عصری علوم کی تعلیم کے ساتھ ساتھ حکومت کرنے کے ڈھنگ بھی سکھائے۔ انہی دنوں گرجستان کی مہم پیش آئی جس کیلئے فوج کو نظام الملک کی سربراہی میں بھیجا گیا ۔ گرجستان والوں نے ہتھیار پھینک دئے اور مسلم فوج کی شرائط پر صلح کرلی۔ جارجیا کے بادشاہ بقراط کی بھتیجی ہیلینا جو ایک حسین و دلکش دوشیزہ تھی مگر راہبانہ زندگی گزاررہی تھی۔

    خواجہ حسن نظام الملک اس سے شادی کرنے کا خواہش مند تھا مگر حالات کے برعکس اس شہزادی ہیلینا کو الپ ارسلان سے نکاح کیلئے مخصوص کرلیا گیا اور شرائط میں اس شرط کو بھی شامل کیا گیا جس پر عیسائی آبادی میں غم و غصہ پایا جانے لگا جبکہ دوسری طرف گرجستان کے اعلیٰ و شاہی خاندان کے نوجوان بھی شہزادی کے طالب تھے مگر اسکی راہبانہ زندگی کے پیش نظر اس سے مدعا بیان نہ کرسکتے تھے۔

    پردیسیوں کی قسمت جاگ اٹھی ، یونان میں موقع مل گیا

    شہزادی کوالپ ارسلان کے نکاح میں دے دیا گیا۔ کچھ عرصے بعد ایک گرجستانی شاعر جو الپ ارسلان کے دربار میں آیا ہوا تھا نے ایک قصیدہ موزوں کرکے گوش گزارنے کی اجازت طلب کی۔ الپ ارسلان نے اجازت دے دی تو اس گرجستانی شاعر نے انتہائی واہیات انداز میں شہزادی ہیلینا اور نظام الملک طوسی کی کردار کشی کی جس کے بعد الپ ارسلان نے اس شرط پر شہزادی ہیلینا کو طلاق دے دی کہ نظام الملک اس سے شادی کرے یا شہزادی گرجستان واپس چلی جائے مگر شہازدی نے واپس جانے سے اس بنا پر انکار کیا کہ اب میری وہاں پہلے والی عزت نہیں رہے گی اور یہ کہ وہ خود کو مسلمانوں میں محفوظ و مامون محسوس کرتی ہے لہذا اس نے نظام الملک سے شادی کرلی سلجوقی سلطان الپ ارسلان نے نظام الملک کی صلاحیتوں کا اندازا لگاتے ہوئے وزارت کا منصب اس کے سپرد کردیا۔

    اس نے الپ ارسلان کے عہد میں ایسے جوہر دکھائے کہ تہذیب و تمدن اور علوم و فنون کی ہزاروں شمعیں روشن ہوگئیں۔ اس نے ملک کو گوشے گوشے میں مدارس کا جال بچھا دیا اور سب سے بڑا اور اہم مدرسہ بغداد کا مدرسہ نظامیہ تھا جس کی تعمیر پر بے پناہ روپیہ صرف کیا گیا۔ اس کے علمی و ادبی کارناموں کی طویل فہرست کے ساتھ مذہبی اور دینی خدمات بھی بے شمار ہیں اور رفاہ عامہ کے کارنامے تاریخ پر انمٹ نقوش ثبت کرتے ہیں۔ اس کی تحریر کردہ کتاب “سیاست نامہ” کو انتہائی شہرت حاصل ہوئی اور اس سے آج بھی استفادہ کیا جاتا ہے۔ اس کتاب کا ترجمہ یورپ کی مختلف زبانوں میں ہوچکا ہے۔

    فیصل واڈا کو ترس آگیا

    عروج کی انتہائی بلندیوں تک پہنچنے کے بعد برامکہ کی طرح اس کی قسمت کا ستارہ بھی زوال میں آگیا اور ملک شاہ اول نے اسے وزارت سے علاحدہ کردیا۔ زوال کے اسباب بھی برامکہ کے اسباب کی طرح تھے۔ بہرحال اس کے کارنامے سلجوقی حکومت کے لئے لاتعداد ہیں بلکہ اس درخشاں دور کی کامیابیاں سلجوقی سلاطین کے علاوہ اس کی مرہون منت بھی ہیں۔وہ 1063ء تا 1072ء الپ ارسلان کے دور حکومت اور 1072ء تا 1092ء ملک شاہ اول کے دور حکومت میں وزارت کے عہدے پر فائز رہا۔

    نظام الملک نے اپنی مشہور تصنیف “سیاست نامہ” میں سلطنت کو قانونی شکل دینے کے لئے ایک جدید نظریے کی بنیاد رکھی اور سلطان کو نئے معنی سے مدلل کرنے کی کوشش کی۔ مصنف نے سلطنت کی ابتدا اور سلطان کے معنی پر بحث کی ہے۔
    علاوہ ازیں اس نے اپنے بیٹے ابو الفتح فخر الملک کے لئے ایک کتاب “دستور الوزراء” بھی تحریر کی۔ نظام الملک 10 رمضان 485ھ بمطابق 14 اکتوبر 1092ء کو اصفہان سے بغداد جاتے ہوئے حسن بن صباح کے فدائین “حشاشین” کے ہاتھوں شہید ہوا۔ مؤرخوں کیمطابق ملک شاہ اول جو خواجہ حسن نظام الملک کو خواجہ بزرگ اور پدر معنوی جیسے القاب سے نوازتا تھا اور خواجہ حسن کو خاص مقام حاصل تھا کہ وہ بادشاہ کےکمرہء خاص یا آرام کرنے کے کمرےمیں بھی آمد و رفت رکھتے تھے۔

    چونکہ وہ ایک نابغہ روزگار شخصیت تھے اور انکو علوم خاص و عام میں رسوخ حاصل تھا۔ ملک شاہ اول کی شادی سلجوقی خاندان کی ایک خاتون جن کا نام زبیدہ خاتون تھا سےہوئی اور انکے بطن سے ملک شاہ اول کا سب سے بڑا بیٹا تولد ہوا۔ ملک شاہ اول نے ایک شادی خانان قاراخانی یا قاراخانی شہزادی سے بھی کی تھی جس کا نام ترکان خاتون تھا۔ کہتے ہیں کہ ملک شاہ اول کے دو بڑے بیٹوں داوود اور احمد جن کا بالترتیب 1082 اور 1088میں انتقال ہوا۔

    انکے انتقال کے بعد ترکان خاتون اپنے بیٹےمحمود جو سب سے کم سن تھا کو ولی عہد نامزد کروانا چاہتی تھی جبکہ خواجہ حسن نظام الملک طوسی نے ترکان خاتون کی مخالفت کی اور زبیدہ خاتون کے بڑے بیٹے برکیارق کو ملک شاہ اول کا جانشین و ولی عہد نامزد کرنے پر اصرار کیا جس پر ترکان خاتون کی نظام الملک کے ساتھ سرد جنگ شروع ہوگئی اور اس نے اپنے معتمد خاص تاج الملک االمعروف بہ المزرزبان کے ساتھ جوڑ توڑ کرکے نظام المک کو ان کے عہدہء وزارت سے ہٹانے کی سازشیں شروع کیں مگر وہ اس میں کامیاب نہ ہوسکی۔

    خواجہ حسن نظام الملک کی وفات کے بارے میں متضاد آراء پائی جاتی ہیں۔ بہت سوں کا کہنا ہے کہ ایک دن ملک شاہ اول جو پہلے ہی وزیر مملکت کے خلاف ہونے والی محلاتی سازشوں سے دلبرداشتہ ہورہا تھا کو وزارت سے معزول کردیا اور معزولی کا حکم سننے کے بعد نظام الملک واپس اپنی جاگیر یا بغداد جارہے تھے ۔ بعض کہتے ہیں کہ وہ ملک شاہ اول کے حکم پر ضروری کام سے بغداد جارہے تھے کہ اچانک ایک درویش نے ان سے دادرسی چاہی ، شفیق و مہربان نظام الملک نے دادرسی کرنے کی خاطر اس درویش کو قریب بلایا مگر وہ درویش کے روپ میں قلعہ الموت کی طرف سے بھیجا گیا ایک فدائی تھا اسکا وار خواجہ حسن نظام الملک کیلئے جان لیوا ثابت ہوا۔

    پولیس آفیسر وحشی گجر، بیٹے بھی باپ کے نقش قدم پر ، پھر کیا ہوا، ضرور جانیئے

    خواجہ حسن جانبر نہ ہوسکے اور خالق حقیقی سے جا ملے انکی وفات پر پورا عالم اسلام اور بالخصوص رے غمزدہ و اداس ہوگیا۔ نوحہ گروں نے نوحہ کیا اور مرثیہ لکھنے والوں نے مرثئے لکھے۔ بعض یہ بھی کہتے ہیں کہ ان دنوں شیعہ سنی مناظرے منعقد ہوا کرتے تھے جن میں ملک شاہ اول اور نظام الملک طوسی بھی بہ نفس نفیس شریک ہوتے تھے خواجہ حسن بزرگ نظام الملک طوسی کا قتل بھی اسی سلسلے کی کڑی تھا اور جس دن ان پر حملہ ہوا اسی دن ملک شاہ اول کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا مگر ملک شاہ اول پر حملہ کامیاب نہ ہوسکا۔

  • ہیش ٹیگ می ٹو ، پھیلتا ہوا ناسور—-از— ترانابرکی

    ہیش ٹیگ می ٹو ، پھیلتا ہوا ناسور—-از— ترانابرکی

    ہیش ٹیگ می ٹو کیمپنگ کا ۔آج یو ٹیوب میں می ٹو کے بانی ترانا برکی کا انٹرویو دیکھ رہا تھا ۔انہوں نے بڑے صاف الفاظ میں بتادی کہ یہ ایک مہم ہے جو دنیا بھر میں چل رہا ہے ۔جسکو میں نے 2006میں می ٹو کے نام سے شروع کیا تھا دراصل می ٹو عورتوں پر بے جا زیادتی اور خصوصا جنسی زیادتی کے بارے میں ہے ۔جسکا ریزلٹ اب میں دیکھ پا رہا ہوں۔لیکن ہاں اب اس میں تھوڑی سی تبدیلی آئ ہے پہلے ہیش ٹیگ نہیں تھا اب ہیش ٹیگ لگا کر اس کو اور سنسنی خیز بنا دیا گیا ہے ۔

    ترانا کہ رہی ہیں میں نے اس کیمپنگ کی شروعات اس لئے کی تاکے عورتیں اپنے اوپر ہوئے جنسی زیادتی کو بیان کرے اس زیادتی کے شکار چاہے وہ کبھی بھی ہوئ ہوں یا ابھی ابھی حالیہ کچھ مہنہ سال پہلے اپنے اپنے واقعات کو ہیش ٹیگ می ٹو کرکے شیر کریں ۔اس سے نہ صرف بیداری آئے گی بلکہ آنے والی نسل کو بھی فائدہ ہوگا ۔

    ترانا دراصل ایک امریکی شوشل ورکر ہی نہیں بلکہ ایک تانیثت کے علمبردار بھی ہیں ۔ظاہر ہے ایسے معروف عورت کی باتوں میں لبیک کہنا کوئ بڑی بات نہیں لیکن مزے کی بات یہ ہیکہ دوہزار چھ سے یہ کیمپنگ چل رہی تھی تب می ٹو کے نام سے تھا اور اب ہیش ٹیگ می ٹو کے نام سے ہے۔اس وقت تو کسی نے خاطر خواہ اپنے اوپر ہوئے جنسی زیادتی کے واقعات کو شیر نہیں کیا ۔اور اب جبکہ بارہ سال سے بھی زیادہ کا عرصہ گز گیا ہے تو سبکو اپنی اپنی پرانی باتیں یاد آرہی ہیں ۔بلکہ کچھ لوگوں نے تو اپنے بچپن کی باتوں کو کچھ نے اپنے شروعاتی جوانی کے دنوں کی باتوں کو بھی بغیر ہچکچائے کہ ڈالا ہے ۔

    دیکھئے دراصل ہیش ٹیگ کیمپنگ میں ٹویسٹ اسوقت آیا جب پچھلے سال نومبر دوہزار سترہ میں ہالی ووڈ کے مشہور و معروف فلم شاز شخصیت ہاروی وائنسٹن پر جنسی زیادتی کے الزام لگے ۔ان پر الزام لگانے والی بھی کوئ اور نہں ہالی ووڈ کے ہی مشہور و معروف اداکارہ الیسا میلانے ہی ہیں۔انہوں نے وائنسٹن پر جنسی زیادتی کا الزام لگایا ۔اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ آگ پوری طرح ہالی ووڈ کو اپنے چپٹ میں لے لیا ۔ الیسا کے ٹوئٹ کے بعد کچھ ہی گھنٹہ میں دو لاکھ لوگوں نے ہیش ٹیگ می ٹو کو ری ٹوئٹ کیا اور شام تک پانچ لاکھ مرتبہ لوگونے اس بات کو اپنی ٹوئٹ میں دہرا دیا۔ چوبیس گھنٹہ تک لگ بھگ 4.7ملین لوگوں نے اس مہم کا ساتھ دیا ۔بلکہ حقیقی بات یہ ہیکہ یو ایس کے پینتالیس فیصد لوگوں نے اس ہیش ٹیگ می ٹو کا استعمال کیا وہ بھی صرف شروعات کے چوبیس گھنٹوں میں ۔الیسا کے بعد ہالی ووڈ سے وائنسٹن پر الزامات کے بوچھار لگنے لگے اس لسٹ میں لویتھ مالیٹرو ،کارا ڈیو لین ،این جیلینا جولی ،لیا سیڈ لاس روزانہ ارکوئن اور میرا جیسی نامور اداکاروں نے جنسی زیادتی کی شکایت کر دی ۔

    اس بھنڈا پھوڑ کے بعد بہت سارے لوگوں نے اپنی اپنی پوسٹ گوائیں بہتوں کو اپنی پوزیشن سے معطل ہونا پڑا کتنے لوگ اپنی اپنی عزت کا مٹی پلید کئے اور کتنوں کا بنے بنائے ستارہ دوبارہ گردش کرنے لگا ۔اسی زمانے میں یہ الزام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر بھی لگا یہی وجہ ہیکہ انکو ایک پریس انٹر ویو میں یہ بات کہنی پڑی کہ بہت سارے لوگ اس ہیش ٹیگ می ٹو مہم کو اپنی شہرت کا ذریعہ بنا رہے ہیں بہت سارے لوگ اس مہم سے ناجائز پیسہ کمانا چاہ رہی ہیں۔الغرض موٹے طور پر انہونے کہا ہیش ٹیگ می ٹو مہم ہمارے ملک کے لئے مہلک ہے۔

    ابھی تک یہ سب باتیں یوروپین ممالک پر ہی چل رہی تھی ۔اور مذکورہ واقعات بھی پچھمی ممالک میں ہی ہوئے تھے ۔مگر بات وہیں ختم نہیں ہوئ ۔ترانا اپنے مہم میں لگاتار محنت کرتی رہی اور اب انہوں نے شوشل میڈیا پر اپنی مہم کو بہت تیز کردیا ۔ایک رکاڈ جسکو راینن نے شائع کیا ہے۔عورتیں جو جنسی زیادتی کے خلاف 1998 تک اپنا رپورٹ لکھوائ تھیں ان سب کی تعداد ۔17,7000,000 ہے ۔یاد رہے کہ یہ اس زمانے کی بات ہے جب عورتیں اپنی جنسی زیادتی کی بات کو کسی کو بولنا ہی نہیں چاہتی تھیں ۔اسی رپورٹ میں یہ بھی دیکھایا گیا ہیکہ پچاس فیصد عورتوں کے ساتھ جنسی زیادتی انکے گھر میں یا گھر کے اس پاس ہی ہوتے ہیں ۔اور 82فیصد سیکسول گالیاں برداشت کرنے والی عورتیں ہی ہوتی ہیں وغیرہ وغیرہ ۔

    خیر اسی زمانے میں اپنے ہندوستان کے کچھ بالی ووڈ اداکارئیں بھی ادھر مغربی ممالک میں اپنی زندگی گم نامی کے ساتھ گزار رہی تھیں ان میں ایک نام جمشید پور جھارکھنڈ کے معروف کوئن اور 2004 کے مس انڈیا اوراسی سال کے مس ورلڈ تنوشری دتا کا بھی ہے ۔انکو ہیش ٹیگ می ٹو بہت اچھا لگا ۔اور کود پڑی اس میدان کار زار میں ۔چا ہے اسکا جو بھی مقصد رہا ہو آنا فانا ہندوستان آئ اور بالی ووڈ کے لوگوں کو جگانا شروع کی ۔سب سے پہلے اپنی واقعہ ہیش ٹیگ می ٹو کے ساتھ شروع کی اور بر سر عام کہ ڈالا کہ میرے ساتھ دس سال پہلے نانا پاٹیکر نے جنسی زیادتی کی تھی جسکو اسوقت بھی میں نے اٹھایا تھا لیکن لوگوں نے اس پر دھیان نہیں دیا تھا۔اب اچھا موقع ہے مجھے انصاف ملنا چاہئے ۔

    اب کیا تھا لگ گئ آگ اور ایک دم سے سونامی کی طرح آگ کی لہر چلنے لگی۔کچھ ہی دنوں بعد ایشوریہ ،کاجول ،عامر خان امیتابھ بچن سرکار کے طرف سے اسمرتی ایرانی وغیرہ نے سہمے سہمے اداکارہ تنوشری دتا کا سپورٹ کیا ۔اب اس آگ میں ویکاس بہل،آلوک ناتھ اور کیلاش کھیر سبھاش گھئ ساجد خان وغیرہ کو بھی جلا ڈالا ۔پھر کیا تھا جیسے ہی ان لوگوں کے دامن میں آگ کا چھیٹا پڑا یہ لوگ بڑ بڑھانے لگے ۔اور الٹی سیدھی دلائل دینے لگے ۔

    رکئے ابھی کہانی ختم نہیں ہوئ ہے ابھی کہانی اور ٹوئسٹ باقی بلکہ اب تو آگ کا گولا اور افان مارنے لگا ہے۔اب باری آئ ہندوستانی جرنلسٹوں کی جرنلسٹوں نے سب سے زیادہ جس شخص پر آگ لگائ وہ ہے ایم جے اکبر اکبر صاحب پہلے پرومیننٹ جرنلسٹ تھے اب بہت بڑے سیاست داں ہیں اس کے علاوہ بھی کچھ چند لوگوں پر آگ لگی ہے مگر وہ لوگ بڑے چالو ہیں پانی ساتھ میں رکھتے ہیں آگ لگنے سے پہلے ہی بجھانے کا مادہ خوب جانتے ہیں ۔

    اور ہاں یہ بات الگ ہے کہ ابھی تک کسی پر کوئ خاطر خواہ کاروائ بھی نہیں ہوئ ہے سوائے ہلکا پھلکا نانا پاٹیکر کے۔اور کاروائ شاید نہ بھی ہو کیونکہ پچھلے کئ سال پہلے امیت شاہ بھی ایک لڑکی کے جاسوسی میں بری طرح پھسے تھے اسوقت بہت ہنگامہ بھی ہوا تھا اسلئے بعید نہیں کے ہیش ٹیگ می ٹو کرکے وہ لڑکی بھی اپنی اسٹوری لکھ دے ۔اور پھر سے دوہزار انیس کا بنے بنایا ماحول مکدر ہوجائے ۔اور پرانا قضیہ ایک بار پھر سامنے آجائے اسلئے سرکار اس بات کو زیادہ طول دینا نہیں چائے گی ۔

    ہم لوگ جانتے ہیں فلم انڈسٹری اور جرنلزم دو ایسی انڈسٹری ہے جہاں سیکس کو زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی ہے یہاں تو ہر چیز کی آزادی ہے کھلی چھوٹ ہے زنا نام کی کوئ چیز یہاں ہے ہی نہیں ۔سیکس کرنا بوس وکنار کرنا حتی کہ ایک دوسرے کے بیویوں کا تبادلہ کرنا بھی یہاں آزاد خیالی اور مہذب مانا جاتا ہے ان چھوٹی چھوٹی چیزوں کو تو یہ لوگ معیوب ہی نہیں سمجھتے پھر یہ ہیش ٹیگ می ٹو کا جلوہ آخر سب کے سر چڑھ کر کیوں بول رہا ہے ۔میرے سمجھ سے پرے ہے ۔کہیں ایسا تو نہیں کے رافیل کے سیاہ دھبا کو چھپانے کے لئے سرکار ہیش ٹیگ کو زیادہ طول دے رہاہے ۔

    پھر یہی سمجھ لیا جائے کہ صدر صاحب ڈولنڈ ٹرمپ جی کی بات صحیح ہےکہ یہ سب نیم فیم اور پیسہ کے لئے کیا جارہا ہے بات قابل غور ضرور ہے۔ دوسری اور آخری بات ہم ہندوستانی کب تک نقل کرینگے کب تک مغرب کو ہی اپنا مائ باپ سمجھیں گے ۔ارے یار ان لوگوں نے ہیش ٹیگ می ٹو شروع کیا ہے دوہزار چھ سے ان کے یہاں چل رہا ہے ۔ان لوگون نے اپنے سوسائٹی اور سماج کے حساب سے می ٹو کو ایجاد کیا ہے ہم کیوں اسکو ڈھوتے پھریں ۔ لیکن حقیقی بات یہ ہے کہ ہم اسی مغربی آزادی کو ہی تو نسوانی آزادی کا ٹیگ دے رکھے ہیں اب ہمیں انکی چیز کو تو فالو کرنا ہی پڑیگا ۔ ایک بات یاد رکھیں ہم آج بھی غلام ہیں غلام لیکن ہم جسمانی غلام نہیں بلکہ ہم ذہنی غلام ہیں ۔اور صاحب آدمی جسمانی غلامی سے تو آزاد ہوجاتا ہے مگر ذہنی غلامی سے کبھی آزاد نہیں ہو سکتا

    ہیش ٹیگ می ٹو ، پھیلتا ہوا ناسور—-از— ترانابرکی

  • مودی ، وزیراعظم ہے یا خاکروب

    مودی ، وزیراعظم ہے یا خاکروب

    ان دنوں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بہت وائرل ہے جس میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو تامل ناڈو کے شہر مامل پور کے بیچ سے کچرہ اٹھاتے دیکھا جا سکتا ہے، اس ویڈیو پر پاکستانی و بھارتی خوب رائے کا اظہار کر رہے ہیں، کچھ کے نزدیک بھارتی وزیر اعظم اپنی عوام میں شعور پیدا کرنے کیلئے ایسا کر رہے ہیں اور کچھ کا کہنا ہے کہ یہ صرف دکھاوے کیلئے کیا جا رہا ہے،

    ٹوئٹر صارفین کہہ رہے ہیں کہ پڑوسیوں نے کیا وزیراعظم پایا ہے 130 کروڑ بھارتی شہریوں کا وزیراعظم یا چائے بناتا ہے یا کچرہ اٹھاتا ہے، سمجھ سے بالا تر ہے کہ اتنی بڑی آبادی والے ملک کا وزیراعظم اپنی رعایا کیلئے کچھ کرنے کے بجائے ہمیشہ اپنے امیج کیلئے کام کرتا رہتا ہے ، مودی بیچ سے کچرہ اٹھا رہا ہے اور پھر شعور پھیلانے کے نام پر پہلے سے بیوقوف عوام کی بیوقوفی میں مزید اضافہ کر رہا ہے، کہ دیکھو بھارتیو تمھارے وزیراعظم کو جو کام آتا ہے وہ کس قدر دل لگی سے کر رہا ہے ،

  • "علماء کی گرفتاریاں، مسئلہ جماعة الدعوة نہیں اسلام اور کشمیر ہیں” تحریر: محمد عبداللہ

    "علماء کی گرفتاریاں، مسئلہ جماعة الدعوة نہیں اسلام اور کشمیر ہیں” تحریر: محمد عبداللہ

    حالیہ دنوں میں جماعةالدعوة سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد کو زیر حراست لیا گیا ہے جن پر الزام ہے کہ یہ افراد دہشت گردوں کی مالی معاونت کرتے رہے. اسی الزام میں جماعة الدعوة کے امیر اور یونیورسٹی آف انجییئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے سابق پروفیسر حافظ محمدسعید اور انکے برادر نسبتی اور جماعة الدعوة کے نائب امیر عبدالرحمن مکی کو بھی پچھلے کچھ عرصہ سے زیر حراست رکھا ہوا ہے. ان گرفتاریوں پر پاکستان کے محب وطن اور کشمیر سے جذباتی تعلق رکھنے والے حلقوں میں شدید اضطراب پایا جاتا ہے اور بالخصوص حالیہ گرفتاریوں میں ایک بزرگ عالم دین حافظ عبدالسلام بن محمد بھٹوی کی گرفتاری پر پاکستان کے مذہبی اور علمی حلقے بھی شدید مضطرب اور سراپا احتجاج ہیں کہ 74سالہ ایک ایسے عالم دین جو مفسر قران ہیں، جو بے پایاں علمی خدمات سرانجام دے چکے، جو پچھلے تقریباً 55 سال سے تدریس کا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں اور پاکستان میں ہزاروں علماء ان کے شاگرد ہیں ان کو اس پیرانہ سالی میں دہشت گردی کی مالی معاونت میں گرفتار کرنا کیا معنی رکھتا ہے.

    کیا اس لیے تقدیر نے چنوائے تھے تنکے ….. محمد عبداللہ
    پاکستان کی عوام اس وقت شش و پنج کا شکار ہے کہ سابقہ حکمرانوں اور موجودہ حکمرانوں میں کیا فرق ہے کہ یہ بھی اسی روش پر چل نکلے ہیں جس پر ماضی میں پاکستان کے حکمران چلتے رہے کہ غیروں کے کہنے پر سر تسلیم خم کرتے ہوئے اپنے ہی لوگوں کو اور بالخصوص ان لوگوں کو پس دیوار زندان دھکیل دینا جو خالصتاً پاکستان کے نام پر جی اٹھتے ہیں اور پاکستان ہی پر مر مٹتے ہیں جن کی صبح و شام پاکستان کی مالا جپتے ہوئے ہوتی ہے جو ہر مشکل و آفت میں پاکستان کا سہارا بنے، جو ہر مصیبت اور تنگی میں دست و بازو بنے اور جو پاکستان کے خلاف ہونے والی ہر سازش کے سامنے آہنی دیوار بنے انہی لوگوں پر عرصہ حیات تنگ کرکے حکومت پاکستان کن کو خوش کرنا چاہتی ہے اور کونسے مقاصد پورا کرنا چاہتی ہے. ایسی مذہبی اور جہادی جماعتیں جن پر پاکستان کے اندر کوئی ایف آئی آر تک درج نہیں ہے اور جو کبھی پاکستان کے لیے اندرونی طور پر مسائل پیدا کرنے کا باعث نہیں بنیں بلکہ ہمیشہ مسائل کو حل کرنے میں ممدو معاون ثابت ہوئی ہیں ان پر پابندیاں اور گرفتاریاں نہایت پریشان کن ہیں.

    ریاست پاکستان کا بیانیہ …. محمد عبداللہ
    ماضی میں بھی پاکستان کے حکمرانوں کا یہی طرز عمل رہا اور ان کی طرف سے دیئے گئے غیر ذمہ دارانہ بیانات اور خارجہ سطح پر برتی گئی مجرمانہ پہلو تہی نے پاکستان کو مسائل کے کنوؤں میں گرایا اور آج پاکستان بین الاقوامی سطح پر جن شدید مسائل سے دوچار ہے وہ انہی کے اعمال کا شاخسانہ ہے جس کی سزاء اس محب وطن اور علماء کے طبقے کو سب سے زیادہ بھگتنی پڑ رہی ہے لیکن تحریک انصاف کی حکومت بنی تو امید کی اک کرن نظر آئی کہ اب پاکستان کشکول نہیں پکڑے گا جس کی وجہ سے ہم بین الاقوامی سطح پر عزت اور جرات کے ساتھ کوئی قدم اٹھاسکیں گے اور کشمیر کی مسئلہ جو پچھلے ستر سال سے الجھا ہوا ہے اس پر عمران خان کی توجہ اور سنجیدگی دیکھ کر بھی امید بندھی تھی کہ یہ نیا بھی اب پار لگے گی لیکن ماضی کے حکمرانوں کی غلطیوں اور بھارت کے مضبوط پراپیگنڈے نے پاکستان کے ہاتھ کچھ اس طرح سے جکڑے ہیں کہ یہ چاہ کر بھی اپنی مرضی کے مطابق فیصلے کرنے سے قاصر ہیں اور انکی مجبوری ہے کہ یہ عالمی سامراج کے سامنے سر تسلیم خم کرکے ان کے کیے گئے فیصلوں آمین کہیتے رہیں.

    امریکہ کی جنگ میں شامل ہونا پاکستان کی غلطی، کیا نئے پاکستان کا بیانیہ بھی نیا ہوگا؟؟؟ تحریر: محمد عبداللہ
    یہ سارے معاملات اور مسائل اس وجہ سے ہیں کہ بھارت یہ سمجھتا ہے کہ اگر ان لوگوں کی آوازیں بند نہ کی گئیں اور ان کے قدم نہ روکے گئے تو بات کشمیر کی آزادی تک نہیں رکے گی مسئلہ بہت آگے تک جائے گا اور بھارت کے کئی ٹکڑوں پر منتج ہوگا یہی وجہ ہے کہ اس کے مسلسل کیے گئے پراپیگنڈے آج رنگ لا رہے ہیں ایک طرف تو اس نے ساری کشمیری قیادت کو پابند سلاسل کیا ہوا ہے اور دوسری طرف پاکستان میں بھی کشمیر کے نام لیواؤں پر پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں، اور عالمی سامراج بھارت کی ہاں میں ہاں ملاکر پاکستان کے ہاتھ مزید باندھتا چلا جا رہا ہے. عالمی سامراج اور بڑی طاقتیں بھی اسلام سے خوفزدہ ہیں اور وہ بھی بخوبی سمجھتے ہیں کہ اگر اس خطے میں ان کا ضدی بچہ بھارت کمزور پڑگیا اور پاکستان کے قدم مضبوط ہوگئے تو پورا خطہ اسلامائز ہوکر ان کے لیے شدید خطرات کا باعث بنے گا یہی وجہ ہے کہ وہ بھی بھارت کے ہمرکاب ہوکر ایف اے ٹی ایف اور دیگر پابندیوں کی صورت پاکستان پر مسلط ہیں اور ہمارے لیے مسلسل مسائل پیدا کررہے ہیں اور پاکستان اپنے شدید ابتر معاشی، سیاسی، بین الاقوامی حالات کے پیش نظر مضبوط فیصلے لینے سے قاصر ہے.

    مصنف کے بارے میں جانیے اور ان کے مزید مضامین پڑھیے

    Muhammad Abdullah
    Muhammad Abdullah
  • ترکی کی کردوں پر چڑھائی اور کشمیر ایشو پر عالمی طاقتوں کا ردعمل !!! تحریر: نعمان علی ہاشم

    ترکی کی کردوں پر چڑھائی اور کشمیر ایشو پر عالمی طاقتوں کا ردعمل !!! تحریر: نعمان علی ہاشم

    ٹرمپ انتظامیہ نے کرد ترکی کشیدگی کا نوٹس لیا،
    یو این کی سلامتی کونسل کا بند کمرہ اجلاس بھی بلا لیا گیا.
    مزید یہ کہ ٹرمپ نے اپنے ٹویٹ کے ذریعے دونوں ممالک میں پیدا ہونے والے بحران کے تین حل پیش کیے ہیں.
    1- شام میں امریکی فوج کے ذریعے بغاوتوں کا خاتمہ
    2- ترکی پر معاشی پابندیاں حتیٰ کہ وہ جنگ لڑنے کے قابل نہ رہے.
    3- کردوں اور ترکی کے درمیان ثالثی.
    .
    تو قارئین یہ ہے منظر نامہ.
    نہ ہی ترکی سے کوئی سفیر و مندوب یو این کی خدمت میں حاضر ہوا.. نہ شام کو مضبوط سفارت کاری کا سہارا لینا پڑا. اور پرائی شادی میں عبداللہ دیوانہ آپکے سامنے ہے.
    .
    جناب غور کیجیے گا کہ ترکی کا نقصان ہو یا کردوں یا پھر شام کا امریکہ کسی جگہ بھی براہ راست متاثرین میں شمار نہیں.
    .
    ناظرین یہ بھی دیکھیے کہ ثالثی تیسرا آپشن ہے. پہلے دو آپشنز انتہائی بیہودہ اور جابرانہ ہیں.
    .
    خیر یہ تو تھا پس منظر جس پر آپکو ماضی قریب کی جھلک دکھانی ہے.
    .
    تنازعہ کشمیر یو این میں 1948 سے پیش ہے.
    بھارتی فورسز کشمیریوں پر جلاد کی طرح مسلط ہیں.
    لاکھوں شہید، لاکھوں یتیم، بے شمار بیوہ و نیم بیوہ.
    سکول کالج مدارس تباہ
    کم عمر بچوں کا قتل عام
    پیلٹ گن کے چھروں سے معذور ہزاروں
    غیر قانونی و غیر انسانی حراست میں ہزاروں قید اور قید بھی جانے کب سے.
    .
    مقبوضہ کشمیر کی امتیازی حیثیت ختم ہو چکی.
    70 دن کا کرفیو ہو چکا
    ادویات، خوراک کی قلت
    ہسپتال، سکول، مدارس بند
    اور ہماری سفارت کاری تاریخ کی بلند ترین سطح پر.
    .
    ترلوں سے سلامی کونسل کا کشمیر پر اجلاس بلایا،
    پوری دنیا کو آن بورڈ لیا.
    یو این کی جنرل اسمبلی میں ثریا کو چھوتی تقریر کی.
    اور ٹرمپ اور یو این نے فقط مذمت کی.
    اور دونوں راضی ہوں تو ثالثی کی پیشکش ہے.
    اور فیر کیس انہی پرانی فائلوں کی طرح تہہ خاک میں چھپ جائے گا جو 1948 سے شنوائی اور عملدرآمد کی منتظر ہیں.
    .
    وزیراعظم عمران خان صاحب.. گلوب کو بھی دیکھیں اور اپنے حالات کو بھی.. دنیا کے دہرے معیار کو جاننے کی کوشش بھی کریں. جو بھاشن آپ دنیا کو دے رہے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ یہ دنیا کے خدا آپکو تاج پہنا دیں گے. یہ بھاشن شاید یہ فرعون زمانہ اپنے ٹوائلٹ کے پیپرز پر چھپوا کر اس سے اپنی غلاظت صاف کرتے ہیں.
    .
    فرعونوں کو بس طاقت کا نشہ آور ظلم کا چسکا ہوتا ہے.
    آپ کاہے امید لگائے بیٹھے ہیں. اور اپنے کشمیری بھائیوں کو موت کے منہ میں چھوڑ رہے ہیں…
    اللہ کے لیے اللہ سے ڈرتے ہوئے دل سے "ایاک نعبد و ایاک نستعین” کہہ کر فیصلہ کریں.

  • "علی گڑھ یونیورسٹی کا مایہ ناز اسکالر بطور مجاہد کمانڈر” تحریر: محمد عبداللہ

    "علی گڑھ یونیورسٹی کا مایہ ناز اسکالر بطور مجاہد کمانڈر” تحریر: محمد عبداللہ

    کشمیر کی حسین وادی لولاب کے ایک گاؤں کا رہائشی منان وانی جو ایک کالج لیکچرار بشیر وانی کے گھر میں پیدا ہونے ہوا اور پروان چڑھا. تعلیمی مدارج کو طے کرتا ہوا علی گڑھ یونیورسٹی میں ڈاکٹریٹ کے لیے ریسرچ کر رہا تھا. وہ تھا تو سائنس کا طالب علم لیکن کشمیر کی صورتحال اور بھارتی افواج کے مظالم نے اس کو شعلہ جوالا بنا دیا تھا اور اس نے تقریر و تحریر کے ذریعے بھارتی افواج کے کشمیر پر ظالمانہ قبضے کے خلاف جہاد شروع کردیا. شاندار تعلیمی ریکارڈ اور مختلف ادبی ایوارڈ رکھنے والے اس منان وانی نے جب دیکھا کہ اس کی تقریر و تحریر خاطر خواہ نتائج نہیں دے رہی اور بھارتی افواج کے مظالم روز بروز بڑھتے ہی جا رہے ہیں تو علی گڑھ یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کے اس اسکالر نے اپنی تعلیم کو ادھورا چھوڑا اور باقاعدہ طور گن اٹھاکر کشمیری مجاہدین کی صفوں میں شامل ہوگیا. اپنی ممتاز حیثیت اور شخصیت کی بنا پر کشمیری حریت پسندوں کی تنظیم حزب المجاہدین کا مقامی کمانڈر بنا اور بھارتی افواج کو بزور قوت سبق سکھانے لگا. کشمیر کی آزادی کی اس جنگ میں وہ مسلسل بھارتی مسلح افواج کے مقابل برسر پیکار رہا اور بالآخر گیارہ اکتوبر دو ہزار اٹھارہ کو ہندواڑہ میں ایک جنگل میں بھارتی افواج کے ساتھ لڑتے ہوئے جام شہادت نوش. تین جنوری دو ہزار اٹھارہ سے گیارہ اکتوبر دو ہزار اٹھارہ تک کے اس نو ماہ اور نو دن کے مسلح جدو جہد آزادی کے اس سفر میں منان وانی شہید نے بھارتی افواج کو تگنی کا ناچ نچائے رکھا.
    منان وانی کی شہادت پر اس وقت کی کٹھ پتلی حکومت بھی چپ نہ رہ سکی اور اس شہادت کو قومی نقصان قرار دیا. کپواڑہ کے رکن اسمبلی انجنئیر رشید نے منان وانی کی شہادت پر اپنے ردعمل میں کہا :’منان کی قلم بندوق سے خاموش کردی گئی، اور اس طرح نئی دلی نے منان کے قیمتی افکار کے آگے سرینڈر کردیا۔’
    منان وانی شہید نے دو خط لکھے جو کشمیر کے مقدمے کی سی حیثیت رکھتے ہیں. اس میں سے ایک خط کے مندرجات ملاحضہ کریں.

    "عمران خان کی اقوام متحدہ میں تقریر کا اک انتہائی اہم پہلو” !!! تحریر محمد عبداللہ

    غیر قانونی تسلط کو سمجھنا اتنا آسان نہیں،یہ ایک پیچیدہ اور کثیرالجہتی رجحان ہے۔ دہائیوں پہ محیط،طویل خون ریزتنازعہ نے کشمیری قوم کو اقوام عالم میں سیاسی لحاظ سے، سب سے زیادہ مدبر اقوام کی صف میں لاکھڑا کردیا ہے۔
    وقت کے ساتھ ہم سب نے کسی حد تک اس غیرقانونی تسلط کے پیچیدہ طر یق کار،ساخت اور مشینری کو سمجھ لیا ہے۔بھارت بحیثیت نو آبادیاتی ریاست،آہستہ آہستہ مگر مسلسل کشمیر میں اپنی نوآبادیاتی حکمرانی کو جواز فراہم کرنے میں بری طرح ناکام ہورہی ہے۔مگر،غیر قانونی تسلط سرطان کی طرح ہوتا ہے، اس لئے بحیثیت قوم اور سماج ہمارے اوپر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم بھارتی نوآبادیاتی ریاست کی عسکری، ذہنی اور سیاسی شاطرانہ چالوں سے باخبر رہیں۔ ممکن ہے آپ حیرت زدہ ہوں گے کہ اس شخص نے قلم کے بجائے بندوق کوچن لیا، کیوں؟ لکھنے کا فیصلہ کیا۔ہاں چند ایسی چیزیں ہیں جنہوں نے میرے لئے خاموش رہنا سخت مشکل بنا دیا۔
    سادہ لوح، بھولے بھالے لوگوں کے جذبات کے ساتھ کھیل کر غداروں نے آج کل حقائق کو توڑ مروڑ کرپیش کرکے اندھیرا کیاہے تاکہ وہ بھارت کے غیر قانونی تسلط، جبری قبضے اور ظلم و جبر کو سند جواز فراہم کریں۔
    حقوق البشر کے محافظین تجارتی دیو بن چکے ہیں۔ انہوں نے اس تنازعہ کو ظلم وجبر سے دبائے گئے لوگوں کے دکھ اور درد کو نمایاں کرکے تجارت کا ذریعہ بنادیا ہے۔ اس تمام فعالیت اور سرگرمیوں کو براہ راست دہلی کے مصور خانوں سے ہدایات جاری ہوتی ہیں۔
    مقبوضہ کشمیر میں مسلسل کرفیو سے بیرون ممالک کشمیریوں کی زندگی کیسے اجیرن ہوگئی ہے!!! تحریر: محمد عبداللہ
    پرنٹ میڈیا سے لیکر الیکٹرانک میڈیا تک، ہر ایک، چاہے وہ ظالم ہے یا مظلوم، اس نے ہمیں آڑھے ہاتھوں لینے، لتاڑنے یا سرزنش کرنے کے لیے چنا ہے۔ چاہئے ہمارا راستہ اور طریقہ کار ہو، نظریات اور خیالات ہوں، وہ ہمیں بدروح، شیطانی صفت انسان ثابت کرنا چاہتے ہیں۔
    تیسرا نکتہ جس نے مجھے خاموشی توڑنے پر مجبور کیا وہ یہ ہے، وہ لوگ جن کے ہاتھوں میں جبراًبندوق کے بجائے امن کی شاخ زیتون تھما دی گئی، تاکہ مزاحمت کے پرامن طریقوں کا ڈھنڈورا پیٹا جائے۔ جب انہوں نے اپنی سوچ اور منطق کے مطابق ہمارے مزاحمتی طریقہ کار کو جواز فراہم کیا،حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے ہمیں اور ہمارے نظریات کو رد کیا۔
    اور بالآخر جب ایک پولیس اہلکار جو کہ بعد میں انسانی حقوق کا محافظ بنا، جس نے اپنے دور میں بیکارانہ طریقے سے لوگوں کی جائز خواہشات کو کچلنے کی کوشش کی اب بددلانہ اور غیر منطقی دلائل کے ذریعے سے انسانیت اور اعتدال پسندی کا مبلغ بننے کی کوشش کررہا ہے۔ ایسی صورتحال میں جواب دینا لازم بنتا ہے۔ یوں مجھ جیسے شخص(جس کے پاس وسائل ہیں نہ متذکرہ بالا لوگوں کی طرح آرام و آسائش ہے) جس نے پہلے ہی قلم کے بجائے بندوق کو چنا ہے، کے لیے اُسی زبان میں جواب دینا لازم بنتا ہے، تاکہ ہم اپنے نکتہ نظر کو پیش کرسکیں۔
    میرا ماننا ہے کہ یہ بے حد ضروری ہے کوئی اندر کا واقف کار بھی اپنا نکتہ نظر سامنے رکھے تاکہ حقائق مسخ نہ ہوں۔ میں جبری قبضے کی طویل تاریخ میں نہیں جاؤ ں گا، کیونکہ مجھے یقین ہے کہ ہم میں سے ہر ایک جبری قبضے سے متعلق بخوبی آگاہ ہے، کیسے شروع ہوا،وجوہات کیا تھیں اور اس کے اثرات کیا ہیں۔ مزاحمت کا نیا دور 2008 کے تلاطم کے بعد شروع ہوا، تب سے مزاحمت کے طریقے سختی سے اور مثبت انداز میں تبدیل ہوئے۔ مزاحمت کے طریقوں میں تبدیلی کے ساتھ ظلم و زیادتی کے ہتھکنڈوں نے بھی نشود نما پائی۔
    امریکہ کی جنگ میں شامل ہونا پاکستان کی غلطی، کیا نئے پاکستان کا بیانیہ بھی نیا ہوگا؟؟؟ تحریر: محمد عبداللہ
    بھارت کو اس بات کا شدید احساس ہوا کہ وہ اب کشمیریوں کو زیادہ دیر بڑے بوٹوں کی غلامی تلے خاموش رکھ سکیں گے اور نہ ہی اپنے غیر قانونی قبضے کو جواز فراہم کرسکتے ہیں۔ اس لیے بھارت جان بوجھ کر کشمیر کے تاریخی اور سیاسی حقائق کو تبدیل کرنا چاہتا ہے۔
    ہر دن، ہروقت، نئے مکالے، تذکرے، مباحثے اور خیالات کو میڈیا میں مختلف افراد اور ایجنسیوں کے ذیعے پھیلایا جارہا ہے۔ بھارت بہت ہوشیاری اور چالاکی سے ایک ایسے بیانیہ کی صنعتکاری سے لوگوں کو الجھائے،پریشان کرنا چاہتے ہیں، جو فوج کی موجودگی اور ظلم و جور کے ہتھکنڈوں کے موافق ہو اورریاست جموں کشمیر کی آبادی کو قابو میں رکھنے کے لیے استعمال ہو۔ بعض افراد کو طاقت ور اور وسائل سے بھرپور مقام اس لئے تفویض کئے گئے، کہ وہ ایسے بے محل اور غیرمتعلق بیانیہ، مقالہ جات سامنے لائیں، جسے لوگوں کو بیوقوف بنایا جائے اور پرانے، حقیقی اور اصل بیانیہ فرسودہ اور بے جوڑ لگے۔
    ایک دن ایک بیوروکریٹ (سرکاری ملازم) لکھتا ہے کہ "صرف بھارت ہی کشمیریوں کے پاس ایک معقول دانشمندانہ انتخاب وچناو ہے” اور دوسرے دن ایک سیاستدان نے سوال کیا "کیوں عسکریت پسند موت کو گلے لگانے میں عظمت و وقار محسوس کرتے ہیں؟” میں یہاں کوشش کروں گا کہ ان مبہم دلائل کو مسمار کرکے ان کے پیچھے چھپی منافقت کو بے نقاب کروں۔ "ہم سپاہی ہیں، ہم مرنے کے لیے نہیں، بلکہ جیتنے، سرخ رو ہونے کے لیے لڑتے ہیں۔ موت کے بجائے ہم بھارتی غاصبانہ قبضے کے خلاف سینہ سپر ہونے میں عظمت و وقار محسوس کرتے ہیں۔ بھارتی عسکری طاقت، ظلم و جبر، استبداد، بھارت کے ہم کاریوں اور سب سے بڑھ کر اُس کے غرور اور گھمنڈ، جب ہم اس تمام کے خلاف لڑتے ہوئے جاں کی بازی ہار جاتے ہیں، تو ایسی جانثاری پر ہم عظمت و وقار محسوس کرتے ہیں۔” ہم سے میرا مطلب تمام کشمیری اور کشمیری سے میرا مطلب ریاست جموں کشمیر کے وہ تمام شہری جوبھارتی غاصبانہ قبضے کے خلاف کسی نہ کسی طریقے سے برسر جدوجہد ہیں، نہ کہ صرف وہ جو بندوق بردار ہیں۔
    کیا سوشل میڈیا پوسٹس اور ٹویٹر ٹرینڈز سے کشمیر آزاد ہوجائے گا؟؟؟ تحریر: محمد عبداللہ
    ایک اُستاد، چاہئے وہ سکول، کالج یا جامعہ کا ہو، جو ایمان داری اوردیانت داری کے ساتھ بچوں کو تعلیم دیتا ہے یا ایک ڈاکٹر جو ہر وقت اپنے مریضوں کے ساتھ نیک دلی اور ہمدردی کا برتاؤکرتا ہے۔ ایک طالب علم جو آبرومندانہ طریقے سے غیرقانونی قبضے کے نتیجے میں ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف احتجاج کرتا ہے یا ایک سنگباز جو قابض افواج کی جانب پتھر پھینکتا ہے جبکہ بدلے میں اُسے گولیاں سہنی پڑتی ہیں۔ ایک کالم نویس، تبصرہ نگارجو بے خوف ہوکے لکھتا ہے یا ایک صحافی جو موقع پہ حقائق کی رپورٹنگ کرتے ہوئے اپنی زندگی کو خطرے میں ڈال دیتا ہے۔ وہ شخص جو غیر قانونی قبضے، تسلط کے خلاف فقط بولتا ہی ہے یا ایک وکیل جو عدالت میں قانونی جنگ لڑتا ہے۔ ایک سرکاری ملازم جو اپنے فرائض منصبی اخلاص کے ساتھ انجام دیتا ہے یا وہ پولیس والا جو لوگوں کو (قتل کرنے، دہشت زدہ کرنے، معذور کرنے اور مقامی لوگوں پر تشدد کرنے) کے بغیر فقط امن و امان قائم رکھنے کی اپنی اصل ذمہ داری انجام دیتا ہے۔ہم سب مزاحمتی سپاہی ہیں۔
    مزاحمت میں خلیج اور سوسائٹی کے حصے بخرے کرنے کی غرض سے نئی شناختیں اور تقسیم پیدا کی جارہی ہے۔2016سے پہلے بھارت کے خلاف تلا طم کو دانستہ طور صرف شہراور قصبوں کے ساتھ منسلک کیا گیا تھااور عسکریت کے متعلق کہا گیا تھا کہ یہ چند ان پڑھ،بھٹکے ہوئے دیہی لڑکوں کی کاروائی ہے۔اب احتجاجوں کوجنوبی کشمیرکے دیہاتیوں،(جنہیں معیشت کی کوئی سوج بوجھ نہیں) کے ساتھ منسلک کیا جاتاہے۔ اگرچہ لوگوں نے ایسے بیانیہ کو،مزاحمتی تحریک کے تئیں بھرپور حمایت دکھا کر بارہا مسترد کیا ہے۔
    ہمیں اس امر سے خبردار اور چوکس رہنے کی ضرورت ہے کہ کیسے بھارتی تسلط لوگوں کو احمقانہ گفتگو کے ذریعے ایک دوسرے سے جداکرتے ہیں۔ کبھی ذیلی علاقائی (نارتھ اور ساؤتھ) اورکبھی فرقہ وارانہ اور نسلی بنیادوں پر کشمیر کی تحریک آزادی کے خلاف دونوں، سماجی اور الیکٹرانک میڈیا پر ایک سخت مضبوط مہم جاری ہے۔ وہ لوگ جو غیرقانونی قبضے، تسلط کے خلاف برسر پیکار ہیں اُنہیں متعصب،جنونی، بنیادپرست اور اُن کا پسندیدہ لفظ دہشت گرد کہہ کر پکارا جاتا ہے۔ اس مہم کے پیچھے جو لوگ ہیں وہ بخوبی حقائق سے آ گاہ ہیں مگر لوگوں کو بیوقوف بنانے کا یہ وہ کام ہے جو اُنہیں سپرد کیا گیا ہے۔
    بارہویں کلاس کے لیے بھارتی NCERT کی پولیٹکل سائنس کی نصابی کتاب "دہشت گرد” کی یوں تعریف کرتی ہے "جو کوئی بھی،کسی شہری کو اپنے مطالبات منوانے کے لیے اندھادھند نشانہ بناتا ہے ” دہشت گرد کی اس تعریف سے ایک انسان واضح طور پر یہ سمجھ سکتا ہے کون دہشت گرد ہونے کے قابل اور اہل ہے۔ جب سے ہماری کاروائیوں سے ہر ایک باخبر ہے۔ بھارت کے برعکس ہم عام شہریوں،چاہئے وہ کشمیری ہو یا بھارتی،اور غیر محارب قتل نہیں کرتے۔وہ لوگ جو ہمیں دہشت گر د کہہ کر پکارتے ہیں ٹیکسٹ بک کو تبدیل کریں یااپنے علم بدیع و معانی کو۔
    مسئلہ کشمیر فقط زمین کے ٹکڑے کی لڑائی یا کچھ اور؟ ؟؟ محمد عبداللہ
    بھارتی حکومت اپنے لوگوں کو یہ سکھاتی ہے کہ کشمیری عسکریت و آزادی پسند ایسے نوجوان لڑکے ہیں جن کے نظریات تبدیل کئے گئے ہیں۔ جو 72حوروں کی لالچ میں عسکریت میں شامل ہوچکے ہیں اور وہ پختہ یقین رکھتے ہیں کہ اس طرح مر جانے سے وہ سیدھے جنت میں جائیں گے۔ اس میں کوئی انکار نہیں کہ اسلام ہمارے کسی کام کے کرنے کا محرک اور زندگی گزارنے کا طریقہ ہے اور اسلام فی الحقیقت کسی بھی طریقے اور ذرائع سے ظلم و زیادتی کے خلاف لڑنے پر جنت کا وعدہ فرماتا ہے۔ مگر جس طرح میں نے پہلے بھی ذکر کیا ہے کہ ہم سپاہی ہیں، ہم جنگ میں صرف اس لئے نہیں کودے کہ جان دیکر جنت میں چلے جائیں بلکہ دشمن کے خلاف لڑ کر اُسے شکست دینے کے لیے میدان میں آئے ہیں.
    ایک مجاہد اپنا سب کچھ قربان کرنے کے باوجود جنت کا دعویٰ،استحقاق یا مطالبہ،نہیں کرسکتا۔جنت اللہ تعالیٰ کے دائرہ اختیار میں ہے اور کسی کے جنتی ہونے کا فیصلہ صرف ان حقائق کی بنیاد پر نہیں ہوگا کہ وہ میدان قتال میں لڑکر جان دے چکا ہے بلکہ جنت میں داخلے کے لیے کثیر معیار ہیں۔اس کے علاوہ،ہم یہ دعویٰ نہیں کرتے ہیں کہ اسلام خاص طور پر ہم سے تعلق رکھتا ہے،لیکن یہ سچ ہے کہ ان ظالموں کی، مذہب کے نام پرلوگوں کو استعمال کرنے کی طویل ترین تاریخ ہے۔وہ ہمیشہ اسلام کا ایک مخصوص حصہ منتخب کرکے،اُسے اپنی مرضی کا مطلب و معنیٰ اخذ کرکے اپنے جبری قبضے کو جواز بخشنے کی کوشش کرتے ہیں۔
    اکثر یہ دلیل دی جاتی ہے کہ ہم ہاری ہوئی جنگ لڑ رہے ہیں. غیرقانونی قبضے اور تسلط پر عذر خواہی کرنے والے بھارتی فوجی طاقت، کثیر فوج اور میزائل ٹیکنالوجی کی شان و شوکت دکھاتے ہیں۔ ہاتھوں میں زنگ آلود کلاشنکوف لئے چند سو نوجوان لڑکوں اور جدید ہتھیاروں سے لیس دس لاکھ فوج کا آپس میں موزانہ کیا جاتا ہے۔ دنیا کی تازہ ترین فوجی تاریخ، چاہے وہ امریکہ ویت نام میں، یو ایس ایس آر افغانستان میں یا نیٹو افغانستان میں ہو، ہمیں یہ بات سکھاتی ہے کہ جنگیں کثیر فوج اور جدید ہتھیاروں کے بل بوتے پر نہیں جیتی جاتیں۔ کیوں بھارت کو ایک بھاری بجٹ کے ساتھ بارہ لاکھ فوج کی ضرورت پڑتی ہے ان چند مٹھی بھر نوجوانوں سے لڑنے کے لیے؟ ایسے ہر ایک سوال کا جواب یہی ہے کہ بھارت پہلے ہی کشمیرمیں جنگ ہار چکا ہے۔
    کیا بھارت کشمیر کو آزاد کرکے پاکستان کی بقاء ممکن بنائے گا؟؟؟ محمد عبداللہ
    ایک وقت تھا جب لڑائی ایک بندوق برداراور ہزاروں بھارتی فوجیوں کے درمیان ہوتی تھی لیکن اب ایک مجاہد تک رسائی سے پہلے قابض فورسز کو ہزاروں غیرمسلح آزادی کی جنگ لڑنے والوں سے مقابلہ کرنا پڑتا ہے. وہ لوگ جو فریڈم فائٹر نوجوانوں کی مدد کے لیے اپنی جانوں کی پروا کئے بغیر انکاونٹرزکی جگہ کا رخ کرتے ہیں، تو اس سے ہمیں لوگوں کے خواہشات اور جذبات کا اندازہ ہوجاتا ہے۔
    کشمیری مجاہدین اور آزادی پسندوں کو دہشت گرد گردان کر اور یہ کہہ کر کہ یہ ایسے نوجوان لڑکے ہیں جن کے نظریات تبدیل کئے گئے ہیں ممکن ہے بھارت اپنے شہریوں اور دنیا کو بیوقوف بنالے مگر بھارت کہاں سے یہ جواز فراہم یا تلاش کرسکتا ہے کہ اُ س کے خلاف لڑنے والی پوری قوم کے نظریات تبدیل کئے گئے ہیں۔ بھارت سراسر مایوسی کی کیفیت میں ہے! ہر رات اُن کی ٹیلی ویژن چینلز پہ یہ عیاں ہوتا ہے۔ بھارتی سرکار کشمیر کے خلاف میڈیا پر نفرت سے بھری، زہریلا، کینہ پرور پرپیگنڈا مہم چلا کر اپنی ناکامیوں کو چھپاتی ہے۔ ایک شخص آسانی سے اندازہ لگاسکتا ہے کہ کس درجہ اور سطح کی مایوسی ہے.
    مقبوضہ کشمیرمیں حکومتی خفیہ اداروں کی جانب سے کالجز اور جامعات کے معلموں کی جاسوسی کی جاتی ہے۔ طالب علم مسلسل نگرانی میں رکھے گئے ہیں۔ مقامی میڈیا کو حکماً خاموش کیا گیا ہے۔ قوانین بنائے گئے ہیں جن کی روح سے سرکاری ملازمین سے یہ کہا گیا کہ وہ سرکاری پالیسی (حکمت عملی) کے خلاف تنقید سے احتراز کریں گے۔ کیسے ایک عذر خواہی کرنے والا، جو اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ ریاست جموں کشمیر بھارت کا ایک حصہ ہے، اس بیان کو واضح کرے گا.
    اکثر اوقات اس پر بحث و تمحیص کی جاتی ہے کہ ہمیں پرامن ذرائع سے بھارت کے جمہوری ڈھانچے کے اندر رہتے ہوئے مسئلہ کشمیر کا حل ڈھونڈنے کی کوشش کرنی چاہئے۔بلاشبہ،طریقہ کار اور کاغذات کی حد تک بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے،مگر عملی بنیادوں پر جمہوریت کے لیے اہل نہیں۔ کیسے آپ ایک ایسی قوم سے یہ توقع رکھ سکتے ہیں کہ وہ آپ کی آواز پر کان دھرے، جس کا نام نہاد جمہوری طریقے سے منتخب وزیر اعظم فرقہ وارانہ فسادات کا بنیادی معمار ہو۔ جہاں الیکشن ہی فرقہ وارانہ بنیادوں پر لڑے جاتے ہوں. جہاں آبروریزی کرنے والا، بلاتکاری اور پیشہ ور مجرم ہی قانون بنانے والے ہوں، جہاں ذرائع ابلاغ کو برسراقتدار حکومت ہی چلاتی ہو۔ جہاں ایک نسل کی ہر ایک آواز اور ہر ایک نکتہ چیں، تنقید کرنے والے کو موت کی نیند سلاکر یا کسی اور طریقے سے خاموش کیا جاتا ہے۔جہاں حکومت پر اعتراض کرنے والے ہر شخص کو قوم دشمن قراردیا جاتاہے اور الیکشن کو(Populism) یعنی اشخاص کے انفرادی مفادات کو مدنظر رکھ کر، اور چالاکیوں کی بنیاد پر جیتا جاتا ہے۔ جہاں حکومتی ایجنسیوں کو مخالفوں کو دبانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ جہاں اقلیت کو اپنے وجود کے خطرے کا سامنا ہے، جہاں ہر ایک اختلافی آواز کو پاکستان بھیجنے کی دھمکی دی جاتی ہے۔جہاں ایک مسلمان کو فقط فریج میں گوشت رکھنے کی پاداش میں دن کی روشنی میں زیر چوب لاکر ہلاک کیا جاتا ہے۔جہاں سر پر ٹوپی رکھنے والا اور برقعے میں ملبوس ہر ایک عورت مشکوک دہشت گرد ہے، جہاں طالب علموں کو سرکاری حکمت عملی کے خلاف احتجاج پر جیل کی ہوا کھانی پڑتی ہے۔جہاں ماہرین تعلیم اور صحافیوں کومحض اس بنیاد پر قتل کیا جاتا ہے کہ وہ حکومت وقت کے خلاف بولتے اور لکھتے ہیں۔لہٰذا،کشمیر میں کتنے لوگ مرتے ہیں،بھارتی سیاستدانوں کے لیے بھارت میں ووٹ حاصل کرنے والی پالیسی کے سوا کچھ نہیں۔
    مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے کیلئے میڈیا اور سوشل میڈیا کو استعمال کیا جائے، فخر امام، ڈاکٹر محمد فیصل
    ہندوستانی قوم کے اجتماعی ضمیر کے اطمینان کے لیے ایک کشمیری کی لاش کو الیکشن مارکیٹ میں فروخت کیا جاتا ہے۔فوجی، معصوموں کو گولیوں کا نشانہ بنانے اورخواتین کی آبرو ریزی میں فخر محسوس کرتے ہیں،اور بھارت کے عام عوام کو جنگ جو میڈیاکے بیانیہ کے ذریعے سے اس طرح اور اس حد تک ذہن سازی کی جاتی ہے، جیسے اُنہیں کوئی عقیدہ سکھایا جاتا ہے، جس کی وجہ سے وہ حقیقت میں اس تمام کی حمایت کرتے ہیں۔یہ صرف کشمیر تک محدود نہیں، جو حالات بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں،نکسلی علاقوں اور سرزمین بھارت کے قبائلی حصوں کے ہیں، ان حالات کے مقابلے میں اچھے نہیں۔ بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں آبروریزی، قتل و غارت گری، ظلم و تشدداور انسانی حقوق کی پامالیاں وہاں بھی بہت عام ہیں۔ مقامی حلیفوں کو استعمال کرکے، افسپا،ڈی اے اور پبلک سیفٹی ایکٹ جیسے کالے قوانین کی پناہ میں جاکر کشمیر میں ہمیشہ جمہوریت کو غیرقانونی قبضے،تسلط کو مضبوط اور مستحکم کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔
    ستم ظریفی یہ ہے کہ شیخ عبداللہ کے وقت سے لیکر ان بھارت نواز سیاستدان کو ہمیشہ بھارتی جبری قبضے اور بھارتی مفادات کے لیے توپ کے ایندھن کے طور استعمال کئے گئے۔ اگر کبھی بھی انہوں نے کوئی مطالبہ کیا یا لوگوں کے حقوق کے لیے لب کشائی کئی تو ان حاشیہ برداروں کو بعد میں ایسے پھینکا گیا جس طرح ٹیشو پیپرکو استعمال کرکے پھینکا جاتا ہے۔
    حال ہی میں بھارت نواز جموں کشمیر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی حکومت کو اس کے اتحادی نے، نام نہاد وزیر اعلیٰ کو بتائے بغیر جس طرح گرادیا،ایک متعلقہ مثال ہے۔ یہ ایک کم تر، مگر کشمیر میں جمہوریت کا ایک اہم،بامعنیٰ مظاہرہ ہے۔ سیاسی محاذ پر، موجودہ گورنمنٹ اپنے سابقین کی مانند متکبرانہ اندازمیں کام کرتی ہے اور مکمل طورپر مخالف انصاف پسند علاقائی آوازوں کو نظر انداز کرکے بھارت کے چپے چپے کو زعفرانی رنگ(ہندتوا) میں رنگنا چاہتے ہیں۔ سرزمین بھارت اور مقبوضہ ریاست جموں کشمیر میں، پہلے سے موجود علٰحیدگی پسند اور آزادی پسند جذبات بالترتیب ان حالات سے شدت اختیار کرتے ہیں۔ یہ چند خیالی اور لفاظانہ دعوے نہیں؛حال ہی میں ہم نے دیکھا کہ خالصتان تحریک کے احیاء کے ساتھ "دراویدستان ” کے لیے بھی آوازیں اُٹھی ہیں۔ذات پات،جو تاریخی اعتبار سے بھارت کی سب زیادہ گہری فالٹ لائن ہے اب مزید وسیع ہوتی جارہی ہے۔ جب یہ سب چیزیں ہورہی ہیں؛اس کا مطلب یہ ہوا کہ بھارت نے تباہ ہونا ہی ہے اور کشمیر کی مزاحمتی تحریک اس سارے عمل کا پیش خیمہ ہے۔
    "آٹھ اکتوبر کا زلزلہ اور مقبوضہ کشمیر میں 65 دن کا کرفیو، ہونے کیا جا رہا ہے” تحریر: محمد عبداللہ
    موجودہ بھارتی حکومت اپنے ملک کی پوری تاریخی بنیاد کو بگاڑنے اور تبدیل کرنے کے مشن پر ہے اور ایسا کرنے کی کوشش میں وہ جب مسئلہ کشمیر کو اُٹھاتے ہیں تو اپنے متعصبانہ فسطائی سیاسی خیالات کی نظر سے اُٹھاتے ہیں۔ مگر مسئلہ کشمیر کی، سراسر مختلف بنیادیں اور تاریخی سیاق و سباق ہے۔ اکثر ملاحظہ کیا گیا ہے کہ ایک طرف کشمیر کے لوگوں کو چیزیں پیش کی جاتی ہیں کہ وہ کشمیر کی تاریخی اور سیاسی حقیقت کو بھول جائیں اور دوسری طرف اُنہیں ہندوستانی فوجی قوت کی نمود و نمائش کے ذریعے دھمکایا جاتا ہے۔مقامی آبادی کو روزانہ سیز اینڈ سرچ آپریشنز "CASOs” ، جوانوں کی شبانہ گرفتاری، ہر ایک آزادی پسند آواز کو پس دیوار زنداں کرنا، احتجاجیوں پرچھروں اور اشک آور گیس کی بارش کرکے ہر غیر مسلح اور پرامن احتجاج کو محدود کرنا، حقیقی ” ہندوستان کے تصور” اور اُس کی جمہوریت کی ایک چھوٹی سے جھلک ہے۔
    کرفیو کے نفاذ کے ذریعے تمام آبادی کو اپنے گھروں میں مقید کرکے،مزاحمت کے پرامن طریقوں کا استقبال ہمیشہ گولیوں،چھروں اور اشک آور گیس سے کرکے کشمیر میں امن کا قیام عمل میں لایا جاتا ہے۔ ہر ایک قوم ترقی، تعلیم اور دیگر دوسری چیزیں چاہتی ہے مگر اپنی عزت ووقار اور آزادی کی قیمت پر نہیں۔ وہ لوگ احمقوں کی دنیا میں رہتے ہیں جو کھیل کود اور تعلیم کو کشمیر کی تاریخ کے عوض بیچنے کی کوشش کررہے ہیں۔ دنیا کی تاریخ ان حقائق پر شاہد ہے کہ جنگوں میں قوموں کو شکست تو دی گئی لیکن اُنہیں اپنی تاریخ بھولنے پر مجبور نہیں کیا جاسکا۔
    یہاں تک کہ اگر کشمیر میں مسلح مزاحمت ختم ہوجاتی ہے،اور بالکل کوئی آزادی کی تحریک نہیں رہتی،لوگ آج نہیں تو کل اپنی حق آزادی کے لیے ایک نئی تحریک شروع کریں گے۔ تاریخی حقائق اور انصاف پر مبنی تحاریک اور خیالات و نظریات،مخصوص افراد کی ملکیت ہوتی ہے نہ اس نمائندگی کرتے ہیں۔چاہئے وہ شخصیات کسی بھی قدوقامت کے کیوں نہ ہوں۔ ایک شخض،چاہئے کتنا ہی بڑا قائد کیوں نہ ہو، (مرد/خاتون)صرف تحریک کا حصہ ہے بذات خود تحریک نہیں۔اگر ایک راہنماکسی بھی بنیادپر اپنے مؤقف کو تبدیل کرکے راہ مفاہمت پہ چل نکلتا ہے، تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ تحریک ہی خراب اور بدعنوان ہے؟شیخ عبداللہ کشمیر کا سب سے مشہور اور بلند پایہ لیڈر تھا۔ مگر کس چیز نے اُس کی قبر کوبرصغیر کی سب سے زیادہ غیر محفوظ اور پُر حفاظت قبر بنادیا؟ وہ لوگ جو انفرادی شخصیات کو نمایاں،اُجاگر کرکے ہمیں تحریک کی بدعنوانی اور غیر قانونیت دکھانا چاہتے ہیں اُنہیں اس بات پر غور و فکر کرنا چاہئے۔ لوگوں کے لیے صرف وہی لیڈر(مرد/خاتون) مستنداورقابل قبول،جو مسئلہ کشمیر کے حقیقی تاریخی سیاسی بیانیہ کے ساتھ کھڑا، قائم رہے۔حکومت صرف ظلم و زیادتی کی تدابیرکی نشود ونما کرسکتی ہے مگر وہ وقت پر ان پالیسیوں سے اجتناب کرکے تاریخ کو تبدیل نہیں کرسکتی۔ اس لیے بھارتی قبضے کے لیے عذر خواہی کرنے والوں کے لیے یہ بہتر ہوگا کہ وہ،ہمیں بحیثیت انسان دیکھیں جو عظمت و وقار کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔مگر، اُنہیں ہمیشہ یہ ذہن میں رکھنا چاہئے کہ غیر قانونی قبضے،تسلط کے سایے تلے زندگی گزارنے میں کوئی عظمت و وقار نہیں۔مظلومین کی حیثیت سے ہم پابند ہیں کہ ہم ہر قسم کی ناانصافی،ظلم اور جبر کے خلاف اپنی استطاعت کے مطابق جدوجہد کریں۔ اور غیر قانونی قبضہ، تسلط کے زیر سایہ زندگی گزارنے سے بڑھ کر کون سی ناانصافی، ظلم اور جبر ہوسکتا ہے؟ ہمارے لوگوں کی مزاحمت نے قابضین کو اس حدتک مایوس کردیا،یہاں تک کہ وہ اُن لوگوں کو بھی برداشت نہیں کرسکتے،جو مقامی آ بادی کے غالب بیانیہ کی تائید تک نہیں کرتے۔مثال قائم کرنے کے لیے وہ انسانی حقوق کا دفاع کرنے والوں،امن کے سفیروں کو بھی پابند سلاسل یا قتل کرتے ہیں، بصورت دیگر جنہوں نے کبھی بھی ناجائز قبضے کے خلاف زبان نہیں کھولی۔ ہمیں اور ہمارے مقاصد کی سرزنش کے لیے مذہبی گفتگو کو سامنے لانے سے مسائل کے حل میں کبھی بھی آسانی پیدا نہیں ہوسکتی۔ ہمیں اس حقیقت کے بارے میں یہ واضح ہونا چاہئے کہ ہم یقین رکھتے ہیں کہ مذہب جس کی ہم پیروی کرتے ہیں رسومات اور عبادات کاسیٹ کے بجائے ایک نظام زندگی ہے۔ اس لئے ایک انسان کا اپنی سوچ، اصول اور نظریات اسی سسٹم سے اخذ کرنا قدرتی امر ہے۔ دوسرا یہ کہ ہر ایک کے لیے یہ ضروری نہیں کہ وہ ظلم وجبر اور جارحیت کے خلاف بندوق اُٹھائے۔ مگر یہ ہر ایک کے لیے فرض ہے کہ وہ ظلم و جبر کے خلاف کھڑا ہوجائے۔ اور آخری بات، بحیثیت مسلم جو ایمان رکھتا ہے کہ اسلام انسانیت کے مکمل نظام حیات ہے، سماجی، اقتصادی اور سیاسی سسٹم کا احاط کرتا ہے، ہماری بھی تمنا ہے کہ اسی سسٹم کی حکمرانی ہو، مگر یہ سسٹم، نظام دھونس اور زور زبردستی کے ساتھ نافذالعمل نہیں لایا گیا، چاہئے حالات کیسے بھی تھے۔ ہمارا مقصد خاص یہ ہے کہ ہم اپنی سرزمین کو بیرونی غیرقانونی تسلط، جارحیت سے آزاد کرنا چاہتے ہیں،اور یوں ہم ایک امن اور انصاف کا ایسا ماحول پیدا کرنا چاہتے ہیں جہاں ہر ایک سوچ اور نظریہ پہ مباحثہ ہوگااور لوگوں کو یہ حق دیا جائے گا کہ وہ منتخب کریں جو کچھ بھی وہ پسند کریں۔ تاریخ اس حقیقت پر گواہ رہی ہے کہ جہاں بھی لوگوں نے حقیقی آزادی میں زندگی گزاری، اور اسلام کو حق حکمرانی دیا گیا،لوگوں نے نہ صرف اس کو خوش آمدید کہا بلکہ انصاف اور امن کا دوردورہ دیکھا۔ جیسا کہ ایک عظیم انقلابی میکولم ایکس کہتے ہیں؛ ہماری کتاب میں ایسا کچھ بھی نہیں، قرآن ہمیں خاموش ہوکے ظلم و جور برداشت کرنا سکھاتا۔ ہمارا مذہب ہمیں عاقل اور ہوشیار بن کررہنے کی تلقین کرتا ہے۔
    (منان وانی، سابق پی ایچ ڈی،سکالر،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی۔ مجاہد حزب المجاہدین).
    ان خطوط نے منان وانی شہید کی شخصیت کا قد مزید بڑا کردیا اور ان کو کشمیر کے ایک وکیل کی سی حیثیت سے متعارف کروادیا ہے. کشمیر کے پوسٹر بوائے کے طور پر مشہور ہونے والے برہان مظفر وانی شہید کے بعد منان وانی شہید کشمیر کے نوجوانوں کے لیے ہیرو بن چکے ہیں اور نوجوان ان کی طرح تعلیمی سلسلے کو ادھورا چھوڑ کر منان وانی شہید کا رستہ اختیار کر رہے.
    مصنف کے بارے میں جانیے اور ان کے مزید مضامین پڑھیے

    Muhammad Abdullah
    Muhammad Abdullah
  • خود کشی ایک خوفناک المیہ—-از– جویریہ چوہدری

    خود کشی ایک خوفناک المیہ—-از– جویریہ چوہدری

    زندگی ایک ایسی گراں قدر اور انمول نعمت ہے کہ ہماری کامیابی کا دارومدار اس نعمت سے وابستہ ہے کہ ہم اس زندگی میں کیا کیا خوش رنگ اعمال کی کشیدہ کاری کر گئے۔۔۔؟؟
    زندگی ہر انسان کو پیاری ہوتی ہے ایک کانٹا چبھنا انسان پسند نہیں کرتا تو آخر کیا وجہ ہے کہ اس انتہائی قیمتی زندگی کو انسان اپنے ہاتھوں سے ختم کر ڈالے۔۔۔۔؟؟؟
    یہ ایک خوفناک المیہ ہے جو بتدریج ہمارے معاشرے میں سرایت کرتا جا رہا ہے اور ہر روز ہمارے اخبارات کی خبریں صبح صبح ہی دل افسردہ کرنا شروع کر دیتی ہیں۔۔۔۔
    اس بات کا پتہ چلانا بہت ضروری ہے کہ انسان اپنی جان کا دشمن کیوں بن جاتا ہے؟
    یہ عمل تشدد،عدم برداشت اور ضمیر مردہ ہو جانے کا انتہائی تکلیف دہ عمل ہے۔۔۔
    اور اسے ہی خود کشی کہا جاتا ہے۔۔۔۔
    یعنی اپنے ہاتھوں اپنی زندگی کا خاتمہ۔۔۔
    چاہے وہ گلے میں پھندا ڈال کر ہو۔۔۔۔۔یا۔۔۔۔زہر کا پیالہ پی کر۔۔۔
    آگ سے خود کو جلا لینا ہو یا پانی میں کود جانا۔۔۔۔
    اپنے ہی پسٹل یا ہتھیار کو خود پر تان لینا ہو یا کسی بلند عمارت سے زندگی کے خاتمہ کے لیئے چھلانگ لگا دینا ہو۔۔۔۔
    یہ تمام پہلو انتہائی تکلیف دہ ہیں اور کسی بھی معاشرے میں افسردگی کی بڑھتی شرح کا واضح بڑھتا گراف بھی۔۔۔۔
    غیر مسلم ممالک میں خود کشی کا رجحان بہت زیادہ ہے اور وہ اس زندگی کے خاتمہ کو دکھ سے نجات کا ذریعہ سمجھتے ہیں ۔۔۔۔لیکن اسلام ایک انسانیت پرور دین ہے۔۔۔۔سلامتی وسکون کا دین ہے۔۔۔۔محبت و اخوت کا دین ہے۔۔۔
    جو ایک انسان کی جان بچانے کو پوری انسانیت کی جان بچانے کے مترادف سمجھتا ہے۔۔۔
    اور ایک بے گناہ انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل قرار دے وہ اپنے ماننے والوں کو اپنی ہی جان سے کھیلنے کی تعلیم کیسے دے سکتا ہے یہی وجہ ہے کہ اللّٰہ تعالی قرآن کریم میں ارشاد فرماتے ہیں:
    "ولا تقتلو انفسکم۔۔۔۔(النسآ :29)
    مفسرین کے نزدیک اس آیت میں تین مطالبے ہیں۔۔۔
    خود کشی کا ارتکاب نہ کرنا۔۔۔
    معصیت کا ارتکاب کر کے خود کو ہلاکت میں نہ ڈالنا۔۔۔
    کسی مسلمان کی جان نہ لینا۔۔۔
    کہ یہ سب کبیرہ گناہ ہیں۔۔۔۔
    مگر افسوس کہ آج ہم نے اپنی روح افزا تعلیمات کو پسِ پشت ڈال کر فلمی سین آزمانے کو اپنی زندگی کا حاصل بنا لیا ہے۔۔۔
    پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "جو شخص اپنا گلا گھونٹ کر مارے وہ دوزخ میں بھی ایسا ہی کرتا رہے گا اور جو خود کو کسی ہتھیار سے مار ڈالے،وہ دوزخ میں بھی خود کو ایسے ہی مارتا رہے گا۔”
    (صحیح بخاری)۔
    یعنی ہمارا دین خود کشی کو ایک حرام فعل کہہ کر اپنے دامن کو اس کی آلودگی سے پاک صاف رکھنے کا حکم دیتا ہے۔۔۔ !!!!
    یعنی کتنے گھاٹے کا سودا ہے کہ محض چند منفی جذبات کا شکار ہو کر انسان خود کو ابدی خسارے میں مبتلا کر دے؟؟؟
    کسی ایک خواہش کے پورا نہ ہونے پر زندگی کے انمول ہیرے کو ریزہ ریزہ کر ڈالے۔۔۔؟

    آج ہمارے اندر خود کشی بڑھنے کی وجوہات کون سی ہیں ؟
    ہم ان پر ایک طائرانہ نظر ڈالتے چلیں کہ
    جب انسان اللّٰہ کی رحمت سے مایوس ہو جاتا ہے۔۔۔
    تو وہ ایسی حرکت کا ارتکاب کرتا ہے۔۔۔جبکہ وہ اپنی رحمت سے نا امید ہو جانے والوں کو خسارہ پانے والے کہتا ہے اور فرماتا ہے
    لا تقنطو من رحمۃ اللہ۔۔۔۔(الزمر)۔
    انسان جب قضا و قدر کے بارے میں بے یقینی کی صورتحال سے دوچار ہوتا ہے تو وہ اس فعل کا ارتکاب کرتا ہے۔۔۔۔
    حالانکہ اس کا نظام مبنی بر انصاف ہے اور جو شخص جس قابل ہے اسے اس کی نعمتیں مل رہی ہیں۔۔۔۔
    مال و دولت کی کمی پر بھی کئی انسان دل برداشتہ ہو کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیتے ہیں۔۔۔
    جبکہ ہمارا دین مشکلات کو صبر سے برداشت کرنے اور عسر کے بعد یسر کی دلنشین اور امید بھری تعلیم دیتا ہے۔۔۔۔
    یہ دنیا کا سرکل ہے جو چلتا رہتا ہے۔۔۔۔کبھی خوشحالی،کبھی تنگدستی لیکن اس سلسلے میں اپنی زندگی کا خاتمہ کر لینا انتہائی منفی سوچ اور خود کو شدید نا امیدی کی کیفیت میں چھوڑ دینا ہے۔۔۔۔
    کیونکہ انسان کسی نفسیاتی دباؤ اور خواہش نفسانی کے تحت ہی خود کشی کرتا ہے۔
    غیر اللہ سے تعلق جوڑنا بھی انسان کو مایوسی میں مبتلا اور خود کشی پر آمادہ کرتا ہے۔۔۔۔
    اسی طرح جعلی عاملوں کی من گھڑت باتوں پر یقین کر لینا اور خود کو بس بد قسمت ہی تصور کرتے رہنا۔۔۔ !!!!
    حقوق العباد کی پامالی بھی انسان کو منفی دباؤ میں دھکیل دیتی ہے اور وہ تنگ دل ہو جاتا ہے۔
    معاشرتی و سماجی رویوں کی نا ہمواری بھی انسانوں کو مایوس کرتی ہے۔۔۔اور وہ اپنے سے روا رکھے جانے والے سلوک سے ہار کر خود کشی کر لیتے ہیں۔
    چھوٹے چھوٹے مسائل کو ذہن پر سوار کر لینا۔۔۔
    کبھی عشق میں ناکامی اور کبھی امتحان میں ناکامی پر زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھنا۔۔۔
    کبھی شوہر کی ڈانٹ پر بیوی اور کبھی بیوی کی ناراضگی پر شوہر کا اپنی زندگی کا خاتمہ۔
    والدین کی تنبیہہ پر اولاد کی خود کشیاں اور سسکتی اولاد کے والدین کی خود کشیاں۔۔۔۔
    یہ سب معاشرتی المیے ہیں۔۔۔
    دنیا کے سبھی مذاہب کی تعلیم میں خود کشی کی ممانعت ہے مگر سب مذاہب کے پیروکار اس سے نجات بھی نہیں پا رہے تو کوئی وجہ تو ہے جسے ہم اپنی زندگیوں سے خارج کر دیتے ہیں۔۔۔؟
    سب سے پہلے والدین کو چاہیئے کہ گھر کے ماحول میں ایسی تربیت اور انداز شامل کریں کہ جس سے بچوں کی نفسیات پر منفی اثرات مرتب نہ ہونے پائیں۔۔۔
    ان کی جائز اور شرعی حقوق کا دفاع کیا جائے اور مقدور بھر مسائل کو اپنی ذمہ داری میں حل کرنے کی کوشش کی جائے۔۔۔
    ان کی پریشانیوں کو سمجھا اور سنا جائے۔۔۔۔ان کی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھی جائے۔
    کیونکہ آجکل ٹین ایجرز میں یہ رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔۔۔۔
    منفی خیالات اور رویوں کا خاتمہ۔۔۔وہ چاہے گھر ہوں یا ادارے،
    میڈیا ہو یا ایوان۔۔۔۔
    مثبت سوچ اور اندازِ فکر کو فروغ دینے والی سرگرمیوں کا اجراء۔

    منفی خیالات اور اسباق پر مشتمل چیزوں کی تشہیر کی ممانعت ہو۔

    خود کشی کے رجحان کو کم کرنے کے لیئے معاشی نا ہمواریوں کے خاتمے کے اقدامات کیئے جائیں۔

    صاحب حیثیت افراد اپنے ارد گرد کے مستحقین پر نظر اور خیال رکھیں۔۔۔۔اپنی ذات کے خول سے باہر نکل کر بھی سوچیں اور دیکھیں۔۔۔تاکہ معاشرہ میں مثبت رویوں کو فروغ ملے۔۔۔۔ہمدردی و غمگساری کے جذبات پیدا کیئے جائیں۔

    اسلامی تعلیمات کو عام کیا جائے۔
    تعلیمی اداروں میں میں نوجوانوں کے زہن صاف کیئے جائیں اور انہیں بتایا جائے کہ خود کشی مسائل کا حل نہیں بلکہ دائمی عذاب ہے۔۔۔۔ایسی سوچ اور سرگرمیوں پر قابو پایا جائے جو تعلیمی اداروں میں بھی خود کشی کی وجہ بنتی ہیں۔۔۔اور اسے سب جانتے ہیں۔۔۔۔
    خواتین کے لیئے ہر جگہ عزت و احترام والے جذبات کی تعلیم و تربیت کو عام کیا جائے۔۔۔ !!!

    مضبوط عزائم اور ثابت قدمی کے ساتھ آگے بڑھنے کا جذبہ بیدار کیا جائے۔۔۔
    راستے کی مشکلات کو کاٹنے اور ان پر قابو پانے کے گُر اور متبادل راستوں کی طرف راہ نمائی کی جائے۔۔۔۔تاکہ سوسائٹی سے مایوسی،ناشکری اور پست ہمتی کا تدارک کیا جا سکے اور جسمانی و روحانی طور پر ایک مضبوط قوم تیار ہو،
    اور خوب صورت زندگیوں کا زیاں نہ ہو۔۔۔۔ !!!آمین۔

    خود کشی ایک خوفناک المیہ
    بقلم:(جویریہ چوہدری)۔