اللہ رب العزت نے مختلف رنگ و نسل اور قد کاٹھ کے افراد پیدا فرمائے اور اللہ رب العزت نے قرآن میں ارشاد فرمایا
لقد خلقتنا الانسان فی احسن تقویم ( سورہ التین) ترجمہ _ بلاشبہ ہم نے انسان کو سب سے اچھی بناوٹ میں پیدا کیا ہے
ایک اندازے کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں 30 کروڑ جبکہ پاکستان میں 1 کروڑ 80 لاکھ افراد ذہنی و جسمانی معذور ہیں جن کی فلاح و بہبود کیلئے اور ان افراد کے مسائل کو اجاگر کرنے کیلئے 1992 سے عالمی برادی کیساتھ پاکستان میں بھی 3 دسمبر کو عالمی یوم معذور افراد منایا جاتا ہے
یہ افراد ہماری خصوصی محبت کے حقدار ہیں مگر افسوس کے ہم ان کو ان کے حقوق دینے کی بجائے ان پر طنزیہ وار کرتے ہیں اور بعض خود سر جاہل لوگ تو ان افراد سے مار پیٹ بھی کرتے ہیں جوکہ انتہائی دکھ اور شرم کی بات ہے حالانکہ یہ افراد ہمارے لئے نصیحت کا باعث ہیں مثلا اگر کسی کا ہاتھ نہیں تو ان لوگوں کی بدولت ہمیں اپنے ہاتھ کی قدر ہوتی ہے اگر کوئی فرد ٹانگ سے محروم ہے تو ہمیں اللہ رب العزت کی عطاء کردہ اس عظیم نعمت کا احساس ہوتا ہے کہ یہ ہمارے لئے اللہ نے کتنی بڑی نعمت بنائی ہے دیکھنے میں آتا ہے کہ ہمارا رویہ جسمانی معذوروں سے زیادہ ذہنی معذور افراد کیساتھ زیادہ ہی غلط ہے یہ وہ افراد ہیں کہ جن سے اللہ رب العزت ان کی نمازوں بارے بھی سوال نہیں کرینگے جب تک کہ یہ ذہنی معذور ہوش میں نا آ جائیں مگر ہم لوگ ان کو پتھر مارتے ہیں ان کے کپڑے پھاڑتے ہیں اور ان کی تذلیل کرکے فخر محسوس مرتے ہیں حالانکہ صرف بے ضرر ذہنی معذور افراد کو ہی گھر پر رکھا جاتا ہے جبکہ خطرناک قسم کے ذہنی معذور پاگل افراد کو مینٹل ہسپتالوں میں داخل رکھا جاتا ہے بلکل اسی طرح زمانہ جاہلیت میں بھی ان ذہنی و جسمانی معذور افراد کیساتھ جانوروں سے بھی بدتر سلوک کیا جاتا تھا اور بعض معاشروں میں رواج تھا کہ جب کوئی بچہ ذہنی و جسمانی معذور پیدا ہوتا تو والدین اسے قتل کر ڈالتے تھے کیونکہ اس وقت یہ سمجھا جاتا تھا کہ ان افراد میں بھوت پریت قابض ہیں اور ہم آج ان افراد کی تذلیل کرکے اسی زمانہ جاہلیت کی تصویر بنتے ہیں پھر میرے نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور جانوروں، انسانوں کے حقوق وضع فرمائے ایسے افراد بارے حدیث ہے
تین افراد سے قلم اٹھا لیا گیا ہے ایک تو سونے والے سے یہاں تک کہ وہ جاگے، دوسرے نابالغ سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے، تیسرے پاگل اور دیوانے سے یہاں تک کہ وہ عقل و ہوش میں آ جائے ۔ ابوبکر کی روایت میں «وعن المجنون لحتى يعقل» کے بجائے «وعن المبتلى حتى يبرأ» دیوانگی میں مبتلا شخص سے یہاں تک کہ وہ اچھا ہو جائے ہے
(سنن نسائی 5495)
پاکستان میں ذہنی و جسمانی معذور افراد کیلئے کوئی خاص قانون موجود نہیں بحالی معذور افراد ایکٹ 1981 کے تحت معذور افراد کیلئے نوکریوں میں 2 فیصد کوٹہ مختص ہے اور ان افراد کیلئے صحت کی سہولتوں کیساتھ ان کی بحالی اعضاء کا کام بھی حکومت پر فرض ہے آئین پاکستان کے آرٹیکل 9 اور 14 کے تحت تمام بنیادی سہولیات ان معذور افراد کا حق ہیں مگر افسوس کے ایسا دیکھنے میں بہت کم آیا ہے کہ ان افراد کو ان کی بنیادی سہولیات ملی ہو ورنہ ہسپتالوں ،تھانوں کچہریوں اور عدالتوں میں ان افراد کو اپنے حقوق کی جنگ لڑتے ہی دیکھا گیا ہے
ان افراد کی بحالی کیلئے پاکستان میں کئی این جی اوز کام کر رہی ہیں ہمیں چاہیے کہ ہم ان افراد سے پیار کرنے کیساتھ ان این جی اوز سے بھی تعاون کریں تاکہ ایسے افراد اپنے بنیادی حقوق حاصل کرکے عزت سے جی سکیں اور گورنمنٹ کو چاہیے کہ ان افراد کے وظائف مقرر کئے جائیں اور ان افراد کو تنگ کرنے والوں کیلئے سخت سزائیں دینے کا قانون نافذ کیا جائے تاکہ یہ افراد عزت و توقیر سے جی سکیں
Category: بلاگ
-

ذہنی و جسمانی معذور افراد کیساتھ ہمارا رویہ!!! تحریر غنی محمود قصوری
-

شدت پسند بی جے پی بھارت کو لے ڈوبے گی،تحریر: انشال راؤ
آرزوئے سحر
: شدت پسند بی جے پی بھارت کو لے ڈوبے گی،تحریر: انشال راؤراشٹریہ سویم سیوک سنگھ کی سوچ و فکر، مقاصد و عزائم، اس کے لٹریچر اور کارگزاریوں سے واضح ہے، اس گروہ کی سرگرمیاں بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، آر ایس ایس اپنی پرتشدد کاروائیوں کی بنا پر بھارتی سرکار کی جانب سے متعدد بار زیر پابندی رہ چکی ہے، گاندھی جی کے قاتل ناتھو رام گاڈسے جسے بھارتیہ جنتا پارٹی کی سرکردہ رہنما پرگیہ سنگھ ٹھاکر نے نہ صرف دیش بھکت بلکہ ہیرو بھی قرار دیا اور اس کے باوجود پرگیہ سنگھ ٹھاکر کو دفاعی کمیٹی کا ممبر بنادینے کا مطلب صاف ہے کہ وہ دن گئے جب بھارت پر گاندھی جی، اس کا فکر و فلسفہ اور اس کی پارٹی کا اثر تھا لیکن آج کے بھارت میں گاندھی جی کے فلسفہ عدم تشدد کے برعکس نفرتوں، تقسیم در تقسیم، تشدد برائے تشدد پر مبنی سوچ و فکر پھیلانے والوں کا طوطی بولتا ہے، بھارتیہ جنتا پارٹی نے بالخصوص آر ایس ایس و دیگر سنگھ پریوار گروہوں کے بطن سے 1980 میں جنم لیا تو آر ایس ایس کے نظریہ ہندوتوا کے مطابق ہندو یونٹی کا نعرہ لگایا لیکن اس جماعت کا یہ نعرہ و نظریہ اس قدر پست خیالی پہ مبنی تھا کہ ان کے نزدیک ہندو اتحاد کے لیے مسلمان، سکھ و عیسائیوں سے نفرت کرنا ضروری تھا اس کے علاوہ آج سائنس و ٹیکنالوجی کے دور میں دو ہزار سال پرانے قدیم اصولوں کی بنیاد پہ ریاست کے نظام کو چلانے کے لیے پہلے سے پسے ہوے دلتوں کو مزید ظلم و جبر کی چکی میں پیسنا اور مسلمانوں و عیسائیوں کو بھارت سے باہر نکالنے جیسے خیالات کا فروغ کیا، اپنے وجود کے ساتھ ہی بی جے پی نے نفرتوں کو فروغ دینا شروع کردیا اور اس ضمن میں تین اسکیموں کا عملی پرچار کیا جو بھارتیوں کو تقسیم در تقسیم کرنے کے لیے کافی ثابت ہوئیں، سب سے پہلے بی جے پی نے "اک ماتا یجنا” کی اسکیم کا آغاز کیا جسکے تحت بھارت کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک یاترا کی گئی جس میں ہزاروں کی تعداد میں وشوا ہندو پریشد و آر ایس ایس کے شدت پسندوں نے شرکت یقینی بنائی اور بھارت ماتا کی پوجا کی اس اسکیم کے مطابق اس نظریہ کا پرچار کیا گیا کہ جو بھارت ماتا کی پوجا کا منکر ہے وہ ہندووں اور ہندو مذہب کا دشمن ہے، مسلمان و عیسائی ایک خدا پہ یقین رکھتے ہیں وہ بھارت ماتا کو بطور خدائی روپ کسی طور بھی قبول نہیں کرسکتے تھے یوں بی جے پی کا پہلا تیر نشانے پہ لگا اور مذہبی تفاوت ابھارنے میں کامیاب ہوگئی، اسی کے ساتھ دوسری طرف بی جے پی نے ایک اور اسکیم "رتھ یاترا” کا پروگرام بنایا جس میں ارجن و دیگر ہندو بادشاہوں کا چیریاٹ بناکر اس بات کو فروغ دیا کہ یہ بادشاہ خدا کا روپ تھے اور ہندووں کی مقدس و مذہبی جنگ کے قافلے کے نمونے کی صورت سومناتھ سے یاترا کا آغاز کرکے ایودھیا پہ اختتام کیا، یاترا کے آغاز سے ہی ایل کے ایڈوانی جو کہ ارجن کا کردار ادا کررہے تھے و دیگر بی جے پی رہنماوں نے مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیزی کی اور شدت پسندی کو فروغ دیا تو ساتھ ہی یاترا میں شامل آر ایس ایس و ویشوا ہندو پریشد کے کارکنوں نے مسلمانوں پر حملے شروع کردئیے جس کے نتیجے میں متعدد ہندو مسلم تصادم ہوے، نامور بھارتی مورخ کے این پنیکر KN Panikkar کے مطابق اس یاترا کے اختتام تک کل 116 فسادات ہوے جن میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 564 افراد مارے گئے جبکہ غیرسرکاری اعداد و شمار کے مطابق یہ تعداد اس سے کئی گنا زیادہ ہے، رہی سہی کسر بی جے پی کی تیسری اسکیم رام جنم بھومی کی آڑ میں تاریخی بابری مسجد کی جگہ رام مندر بنانے اور بابری مسجد کو تباہ کرنے کی اسکیم نے پوری کردی جس کے نتیجے میں پورا ہندوستان فسادات کی لپیٹ میں آگیا اور ہزاروں افراد جان سے گئے، غیرمعمولی معاشی نقصان ہوا اور بھارت میں نفرتوں کی پختہ دیوار قائم ہوگئی لیکن صورتحال کے پیش نظر بی جے پی کے متشدد عزائم کو بھانپ کر نرسمہا راو نے دانشمندانہ طور پر 1991 میں پارلیمنٹ سے تحفظ مذہبی مقامات کا قانون منظور کروالیا جس سے بی جے پی کو اپنے عزائم میں مزید کامیابی سمیٹنے میں رکاوٹ درپیش آگئی، راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کی سوچ و فکر، مقاصد و عزائم، اس کے لٹریچر اور کارگزاریوں سے واضح ہے، اس گروہ کی سرگرمیاں بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، آر ایس ایس اپنی پرتشدد کاروائیوں کی بنا پر بھارتی سرکار کی جانب سے متعدد بار زیر پابندی رہ چکی ہے، گاندھی جی کے قاتل ناتھو رام گاڈسے جسے بھارتیہ جنتا پارٹی کی سرکردہ رہنما پرگیہ سنگھ ٹھاکر نے نہ صرف دیش بھکت بلکہ ہیرو بھی قرار دیا اور اس کے باوجود پرگیہ سنگھ ٹھاکر کو دفاعی کمیٹی کا ممبر بنادینے کا مطلب صاف ہے کہ وہ دن گئے جب بھارت پر گاندھی جی، اس کا فکر و فلسفہ اور اس کی پارٹی کا اثر تھا لیکن آج کے بھارت میں گاندھی جی کے فلسفہ عدم تشدد کے برعکس نفرتوں، تقسیم در تقسیم، تشدد برائے تشدد پر مبنی سوچ و فکر پھیلانے والوں کا طوطی بولتا ہے، بھارتیہ جنتا پارٹی نے بالخصوص آر ایس ایس و دیگر سنگھ پریوار گروہوں کے بطن سے 1980 میں جنم لیا تو آر ایس ایس کے نظریہ ہندوتوا کے مطابق ہندو یونٹی کا نعرہ لگایا لیکن اس جماعت کا یہ نعرہ و نظریہ اس قدر پست خیالی پہ مبنی تھا کہ ان کے نزدیک ہندو اتحاد کے لیے مسلمان، سکھ و عیسائیوں سے نفرت کرنا ضروری تھا اس کے علاوہ آج سائنس و ٹیکنالوجی کے دور میں دو ہزار سال پرانے قدیم اصولوں کی بنیاد پہ ریاست کے نظام کو چلانے کے لیے پہلے سے پسے ہوے دلتوں کو مزید ظلم و جبر کی چکی میں پیسنا اور مسلمانوں و عیسائیوں کو بھارت سے باہر نکالنے جیسے خیالات کا فروغ کیا، اپنے وجود کے ساتھ ہی بی جے پی نے نفرتوں کو فروغ دینا شروع کردیا اور اس ضمن میں تین اسکیموں کا عملی پرچار کیا جو بھارتیوں کو تقسیم در تقسیم کرنے کے لیے کافی ثابت ہوئیں، سب سے پہلے بی جے پی نے "اک ماتا یجنا” کی اسکیم کا آغاز کیا جسکے تحت بھارت کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک یاترا کی گئی جس میں ہزاروں کی تعداد میں وشوا ہندو پریشد و آر ایس ایس کے شدت پسندوں نے شرکت یقینی بنائی اور بھارت ماتا کی پوجا کی اس اسکیم کے مطابق اس نظریہ کا پرچار کیا گیا کہ جو بھارت ماتا کی پوجا کا منکر ہے وہ ہندووں اور ہندو مذہب کا دشمن ہے، مسلمان و عیسائی ایک خدا پہ یقین رکھتے ہیں وہ بھارت ماتا کو بطور خدائی روپ کسی طور بھی قبول نہیں کرسکتے تھے یوں بی جے پی کا پہلا تیر نشانے پہ لگا اور مذہبی تفاوت ابھارنے میں کامیاب ہوگئی، اسی کے ساتھ دوسری طرف بی جے پی نے ایک اور اسکیم "رتھ یاترا” کا پروگرام بنایا جس میں ارجن و دیگر ہندو بادشاہوں کا چیریاٹ بناکر اس بات کو فروغ دیا کہ یہ بادشاہ خدا کا روپ تھے اور ہندووں کی مقدس و مذہبی جنگ کے قافلے کے نمونے کی صورت سومناتھ سے یاترا کا آغاز کرکے ایودھیا پہ اختتام کیا، یاترا کے آغاز سے ہی ایل کے ایڈوانی جو کہ ارجن کا کردار ادا کررہے تھے و دیگر بی جے پی رہنماوں نے مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیزی کی اور شدت پسندی کو فروغ دیا تو ساتھ ہی یاترا میں شامل آر ایس ایس و ویشوا ہندو پریشد کے کارکنوں نے مسلمانوں پر حملے شروع کردئیے جس کے نتیجے میں متعدد ہندو مسلم تصادم ہوے، نامور بھارتی مورخ کے این پنیکر KN Panikkar کے مطابق اس یاترا کے اختتام تک کل 116 فسادات ہوے جن میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 564 افراد مارے گئے جبکہ غیرسرکاری اعداد و شمار کے مطابق یہ تعداد اس سے کئی گنا زیادہ ہے، رہی سہی کسر بی جے پی کی تیسری اسکیم رام جنم بھومی کی آڑ میں تاریخی بابری مسجد کی جگہ رام مندر بنانے اور بابری مسجد کو تباہ کرنے کی اسکیم نے پوری کردی جس کے نتیجے میں پورا ہندوستان فسادات کی لپیٹ میں آگیا اور ہزاروں افراد جان سے گئے، غیرمعمولی معاشی نقصان ہوا اور بھارت میں نفرتوں کی پختہ دیوار قائم ہوگئی لیکن صورتحال کے پیش نظر بی جے پی کے متشدد عزائم کو بھانپ کر نرسمہا راو نے دانشمندانہ طور پر 1991 میں پارلیمنٹ سے تحفظ مذہبی مقامات کا قانون منظور کروالیا جس سے بی جے پی کو اپنے عزائم میں مزید کامیابی سمیٹنے میں رکاوٹ درپیش آگئی، لیکن 1999 میں اقتدار میں آکر ایک بار پھر بی جے پی نے بھارت کو ہندو راشٹر بنانے کے عمل کو تیز کردیا، مرلی منوہر نے تعلیم کی وزارت کا قلمدان سنبھالتے ہی ٹیکسٹ بک بورڈ، تحقیقی و دیگر اہم پوزیشنوں پر شدت پسند ہندو بٹھا دئیے جس نے بھارت کے تعلیمی ڈھانچہ کو ہندوتوا نظریہ کے مطابق قائم کردیا جس سے اس نسل کو تو کوئی فرق نہ پڑا جنہوں نے یا تو براہ راست آزادی کے لیے قربانیاں دیں یا دیکھیں یا وہ جنہوں نے اپنے بزرگوں سے یہ باتیں سنیں لیکن نسل نو اس زہر کا شکار ہوگئی اور آج بھارت جل رہا ہے، 2002 میں مودی کی حکومت میں گجرات میں ہزارہا مسلمان شہید کردئیے گئے اور لاکھوں کو گھر بار چھوڑنے پہ مجبور کردیا گیا، ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ بی جے پی مودی سے سنگین بدانتظامی، نااہلی و کوتاہی پہ سوال کرتی لیکن الٹا نریندر مودی کو ہیرو کے طور پر جانا جانے لگا جسے انعام کے طور پر 2014 میں بھارت کا وزیراعظم بنادیا گیا، جس نے اقتدار میں آنے کے بعد بھارت کو ہندو راشٹر بنانے پہ تیزی سے عمل شروع کردیا۔ مودی، امیت شاہ اور اجیت دوول کی تکون نے بھارت کے جلنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی، پہلے گائے ماتا اور جے شری رام نعرے کی آڑ میں مسلمانوں و عیسائیوں پہ خوب ظلم کے پہاڑ توڑے اور اب CAA اور NRC جیسے کالے قوانین کے زریعے سیکیولر بھارت کو دنیا میں شدت پسند ہندو دیش کے طور پر مشہور کردیا ہے، کانگریس دور میں دنیا کا سب سے تیز معاشی ترقی کرتے بھارت کی معیشت کے پہیے کو مودی سرکار کے طلوع ہوتے ہی بریک لگنا شروع ہوئی کیونکہ کوئی بھی ملک نفرت کے اصولوں پہ رہ کر ترقی تو دور زیادہ عرصے تک اپنا وجود بھی قائم نہیں رکھ سکتا یہی وجہ ہے کہ آج کے بھارت میں بیروزگاری تاریخ کی بلند ترین سطح پہ پہنچ چکی ہے، کاروبار ٹھپ ہیں، لوگ غریب سے غریب تر ہونے کا سفر تیزی سے طے کررہے ہیں اور غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی تعداد میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے کل آبادی کا تقریباً 40 فیصد دو وقت کی روٹی کو ترستے ہیں، NCRB کے مطابق جرائم کی شرح سات دہائیوں میں بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے اور کیوں نہ ہو جب BJP کی پارٹی پالیسی مجرمان کو تحفظ دینے کی ہو تو جرائم تو بڑھیں گے، حکمران جماعت کرمنلز کو جینے کا موقع دینے کے نام پر کرمنلز کو جماعت کا حصہ بناکر اپنے منفی مقاصد کے لیے استعمال کررہی ہے، CAA اور NRC کے بعد پورا بھارت جل رہا ہے جسے جمہوری تقاضوں کے برخلاف بزور طاقت دبانے کی ہرممکن کوشش کی جارہی ہے لیکن اب یہ قافلہ رکنے والا نہیں اور جیسا کہ بھارتی رہنما سوماشکرا ریڈی، دلیپ گھوش، رگھو راج، سی ٹی راوی اور امیت شاہ وغیرہ اشتعال انگیزی پھیلا رہے ہیں اور اگر یہ چنگاری بھڑک اٹھی تو یہ نقصان بھارت سمیت تمام بھارتیوں کا ہی ہوگا، مودی اپنے جارحانہ عزائم پر بدستور قائم ہیں جہاں لوگ غربت سے مر رہے ہوں وہاں ملکی خزانے کا بڑا حصہ ہتھیاروں میں جھونکا جارہا ہے 2013 تک بھارت کی امریکہ سے ہتھیاروں کی خریداری پر 2 ارب ڈالر خرچ کرچکی تھی جو مودی سرکار میں چھ ماہ کے اندر اندر 19 ارب ڈالر تک پہنچ گیا اور اپنے پہلے دور میں مودی نے 41 ہتھیاروں کی خریداری کی اسکیمیں منظور کیں، رافیل طیاروں کی اربوں ڈالر کی ڈیل کے علاوہ غیرمعمولی رقم کی روس کے ساتھ ڈیل نے بھارت کے عوام پر بوجھ کو کئی سو گنا بڑھادیا ہے آج بھارت ہتھیار خریدنے والا دنیا کا ٹاپ ملک ہے جبکہ روایتی حریف پاکستان نے اپنے دفاعی بجٹ میں کمی کر کے عوامی فلاح و بہبود پہ توجہ دے رکھی ہے، مودی سرکار کی شدت پسندانہ اور جارحانہ پالیسیوں کی بدولت ایک طرف تو بھارت اندرون خانہ آتش فشاں کے دہانے پہ پہنچ گیا تو دوسری طرف خطے کے کسی بھی ملک سے اس کے تعلقات اچھے نہیں خواہ چین ہو یا پاکستان، بنگلہ دیش، بھوٹان، سری لنکا و نیپال تک بھارتی سلوک سے خوش نہیں، اس کے علاوہ مودی سرکار کی منافقانہ پالیسیوں کی بدولت بھارت عالمی سطح پر نہ صرف بدنام ہوا بلکہ اسے ایک شدت پسند ریاست کے طور پر دیکھا جارہا ہے اور یورپ امریکہ و عرب ممالک بھارت سے دور ہوتے جارہے ہیں یہی صورتحال رہی تو وہ وقت دور نہیں بھارت اپنے اندر کے آتش فشاں کے لاوے کا شکار ہوجائیگا اور بی جے پی کی شدت پسندی بھارت کو لے ڈوبے گی۔

-

بی جے پی BJP ایک دہشتگرد جماعت، تحریر: انشال راؤ
آرزوئے سحر: بی جے پی BJP ایک دہشتگرد جماعت
تحریر: انشال راؤ
دنیا کا سب سے بڑا اور گھمبیر مسئلہ دہشتگردی ہے جس نے سماج کو دو حصوں میں تقسیم کر رکھا ہے، نائن الیون کے بعد عالمی سطح پر دہشتگردی کے خلاف جنگ کا آغاز کیا گیا جس کا بغور جائزہ لیا جائے تو یہ دہشتگردی کے خلاف جنگ تو کسی صورت نظر نہیں آتی بلکہ عالم اسلام کے خلاف جنگ معلوم ہوتی ہے جیسا کہ صدر بش نے اعلان کیا تھا کہ "ہم نے صلیبی جنگ کا آغاز کردیا ہے” جس پر عالمی شطح پر تشویش کی لہر دوڑ گئی تو فوراً فرانس، کینیڈا، برطانیہ و دیگر امریکی رہنما منظرعام پر آئے اور بش کے جملے کو دہشتگردی کے خلاف جنگ بتایا، اگر ایسا ہی ہے تو ہندوتوا کے تمام تر ظلم و جبر کے باوجود RSS اور BJP کو دہشتگرد جماعت کیوں ڈیکلیئر نہیں کیا جارہا، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 9 دسمبر 1996 کے اعلامیہ میں دہشتگردی کی تعریف بیان کی گئی کہ
"Criminal acts intended or calculated to provoke a state of terror in the general public, a group of persons or particular persons for political purposes are in any circumstance unjustifiable, whatever the considerations of a political, philosophical, ideological, racial, ethnic, religious or any other nature that may be invoked to justify them”
اور نائن الیون کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے دہشتگردی کی تعریف کو وسعت کے ساتھ ذکر کیا کہ
"criminal acts, including against civilians, committed with the intend to cause death or serious bodily injury, or taking of hostages, with the purpose to provoke a state of terror in the general public or in a group of persons or particular persons, intimidate a population or compel a government or an international organization to do or to abstain from doing any act”
اقوام متحدہ کی اپنی تعریفوں کے مطابق BJP کی تمام تر کاروائیاں مکمل طور پر دہشتگردی کے زمرہ میں آتی ہیں، بھارتی پارلیمنٹ سے CAA اور NRC کی منظوری کے بعد جب مسلمان و دیگر سیکیولر بھارتیوں نے اس متعصبانہ بل کے خلاف احتجاج کیا تو بھارتی پولیس نے پرامن شہریوں پر فائرنگ و انسانیت سوز تشدد کیا جس کے نتیجے میں متعدد افراد شہید ہوے جسے پولیس کی جانب سے تسلیم نہ کیا گیا لیکن مختلف فوٹیجز نے بھارتی پولیس کا پول کھول دیا اور BJP رہنما دلیپ گھوش نے سرعام اعتراف کیا کہ BJP حکومت نے پرامن مظاہرین کو قتل کروانے کے لیے پولیس کو حکم دیا، مغربی بنگال کے BJP کے صدر دلیپ گھوش نے کہا کہ "انکی حکومت نے کتے کی طرح ان کو مار کے پھینک دیا کوئی ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا” اس کے علاوہ متعدد BJP رہنما اشتعال انگیزی پھیلاتے نظر آئے اور کھلم کھلا قتل و غارت کی دھمکیاں دے رہے ہیں، اس سے پہلے نریندر مودی مشرقی پاکستان میں مکتی باہنی کی آڑ میں بھارتی مداخلت و سرپرستی کا اعتراف بھی کرچکے ہیں جوکہ بھارت کے دہشتگرد ریاست ہونے کے لیے کافی تھا، اس کے علاوہ نریندر مودی کا بلوچ علیحدگی پسندوں کی حمایت اور بھارتی ایجنسی را کے حاضر سروس افسر کلبھوشن یادیو کی رنگے ہاتھوں گرفتاری بھارت کی دہشتگردی کا زندہ ثبوت ہے جس کے نتیجے میں ہزاروں بیگناہوں کی جان گئی لیکن افسوس کی بات ہے کہ اقوام عالم بھارت کی کھلم کھلا دہشتگردی و انسانیت سوز مظالم کو یکسر نظر انداز کیے ہوے ہے، اب BJP ایک بڑے قتل عام کے منصوبے پہ عمل پیرا ہے جس کا اندازہ تلنگانہ میں سرکاری سرپرستی میں نکلنے والی RSS کی لاٹھی بردار ریلی سے لگایا جاسکتا ہے اور اس کے فوراً بعد BJP رہنما C.T Ravi اور سوماشکرا ریڈی Somashekara Reddy کے بیانات سے لگایا جاسکتا ہے دونوں رہنماوں نے مسلمانوں کے حقوق مانگنے کے ردعمل میں کہا کہ "ہم اکثریت میں ہیں اور اگر ہمیں غصہ آگیا تو ہم مسلمانوں کو ختم کردیں گے” اس کے علاوہ ایک اور BJP رہنما رگھو راج سنگھ نے تو "زندہ دفن کرنے کی ترغیب دی” اس سے بڑھ کر BJP کی دہشتگرد جماعت ہونے کی کیا دلیل ہوسکتی ہے کہ BJP کی ایک خاتون رہنما نے تو اپنے ورکرز کو مسلمانوں کے گھروں میں گھس کر مسلمان خواتین کا ریپ کرنے کا کہا جبکہ نریندر مودی نے تو مسلمانوں کو نشانے پر ہی رکھ لیا، موصوف نے کہا کہ "اپنے کپڑوں سے پہچانے جائیں گے” اگر BJP کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو لاکھوں انسانوں کے خون میں دھنسی پڑی ہے، ایک امریکی اسکالر سائمن نے دہشتگردی پر کتاب لکھی جس میں مختلف افراد و اداروں کی جانب سے دہشتگردی کی 212 تعریفیں بیان کیں اور BJP وہ واحد جماعت ہے جس پر کل کی کل تعریفیں پورا اترتی ہیں، انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا نے دہشتگردی کو یوں بیان کیا
"Terrorism, the systematic use of terror or unpredictable violence against government, public or individuals to attain political objectives
اس لحاظ سے دیکھا جائے تو ہندوتواپرست یہ جماعت ایک عرصے سے سیاسی و دیگر مذموم مقاصد حاصل کرنے کے لیے انسانی جانوں سے کھیلتی آرہی ہے اور نفرت، قتل و غارت، خوف و جبر اس جماعت کے نمایاں پہلو ہیں، اگر امریکی معروف ایجنسی FBI کی دہشتگردی کی تعریف کے مطابق BJP کو جانچا جائے تو بھی یہ جماعت 100 میں سے 100 نمبر حاصل کریگی امریکی FBI نے دہشتگردی کی تعریف یوں ذکر کی ہے کہ
The unlawful use of force or violence against persons or property to
intimidate or coerce a Government, the civilian population, or any segment thereof, in furtherance of political or social objectives
کون ہے جو نہیں جانتا کہ RSS ایک دہشتگرد تنظیم ہے جو بھارت میں پچاسیوں فسادات کروانے میں پیش پیش رہی ہے اور BJP اس کی سیاسی ونگ ہے جسے اب عام بھارتی شہری بھارت جلاو پارٹی کے نام سے موسوم کررہے ہیں، C.T Ravi کے انکشاف و اعتراف کہ "گجرات فسادات میں ان کی جماعت شامل تھی” کے بعد BJP کو سیاسی جماعت کہنا نہ صرف سیاسی جماعتوں کی توہین ہے بلکہ سیاست پر عظیم دھبہ ہے C.T Ravi نے کہا کہ مسلمان گجرات قتل عام کو نہ بھولیں اور مزید کہا کہ وہ گجرات کے مسلم نسل کشی جیسے بدترین سانحے کو دوبارہ دوہرانے سے دریغ نہیں کرینگے، یاد رہے گجرات میں ہزاروں مسلمانوں کے قتل عام کے بعد نریندر مودی نے مسلمانوں کی طرف اشارہ کرتے ہوے کہا تھا کہ یہ سبق ہے ان کے لیے جو آبادی کو ڈبل کرتے ہیں، اس اعتراف کے بعد اقوام عالم کا BJP کو دہشتگرد جماعت قرار دینے میں دیر کرنے کا مطلب نہ صرف کروڑوں انسانوں کی زندگیوں کو داو پہ لگانا ہے بلکہ یہ عالمی امن کے لیے بھی خطرناک ثابت ہوگا، نریندر مودی کے حلقے ورانسی میں گھر واپسی کے نام سے بڑے بڑے سائن بورڈز و پوسٹرز آویزاں کیے گئے ہیں جس میں لکھا گیا ہے کہ جو مسلمان NRC اور CAA کے عتاب سے چھٹکارہ چاہتے ہیں وہ ہندو دھرم قبول کرلیں اس کے علاوہ اس سے پہلے متعدد ہندوتوا رہنما بھارت کو 2021 تک ہندو راشٹر اور مسلم فری ریاست بنانے کا اعلان کر چکے ہیں جس میں طاقت کے استعمال اور ظلم و جبر کرنے کا اعلان کیا جوکہ ہندوتوا کی دہشتگردی کا کھلم کھلا ثبوت ہے، لیڈن یونیورسٹی کے پروفیسرز Jogman اور Schmid کی تحقیق کے مطابق BJP کو پرکھا جائے تو کوئی ایک بھی پہلو ایسا نہیں جس سے یہ ثابت ہوسکے کہ یہ ایک سیاسی جماعت ہے اس کی تمام تر سرگرمیوں سے مذہبی انتہا پسندی، خوف و جبر، اختیارات کا ناجائز استعمال، طاقت کا غلط استعمال، اشتعال انگیزی و تفرقہ پرستی کا پھیلاو اور معصوم لوگوں کا قتل عام کے سوا کوئی چیز نہیں ملتی، مذکورہ پروفیسرز نے اپنے مقالے میں دہشتگردی کی تمام تر تعریفوں پر تحقیق کی اور انکے مطابق کل دہشتگردی کی تعریفوں میں 83.5 فیصد نے مذہبی انتہا پسندی کو دہشتگردی یا اس کی وجہ قرار دیا، 65 فیصد نے سیاسی مقاصد کے ناجائز حصول کو بھی ایک بڑا عنصر کہا، 51 فیصد نے ڈر و خوف پھیلانے کو جبکہ 17.5 فیصد نے سویلین کے قتل کو دہشتگردی کا سبب قرار دیا، اس حساب سے BJP نہ صرف دہشتگردی کی مرتکب ہے بلکہ دہشتگردی کو فروغ دینے اور پیدا کرنے میں بھی سب سے بڑی حصہ دار بن کر سامنے آرہی ہے، ان معروضات کی روشنی میں BJP اور RSS دنیا کی سب سے بڑی دہشتگردی تنظیمیں ہیں جن کا منشور اور اغراض و مقاصد ہی فساد فی الارض ہیں، عالمی قوتیں و اقوام عالم کو سنجیدگی کے ساتھ اس کے خلاف ایکشن لینا چاہئے اور بااثر عالمی طاقتوں کو مسلم دشمنی کی عینک اتار کر حقیقتاً و واقعتاً دہشتگردی کی روک تھام کے لیے BJP و RSS جیسی انسانیت دشمن تنظیموں کے خلاف ایکشن لینا چاہئے تاکہ دنیا امن کا گہوارہ بن سکے اور عالمی سماج کی تقسیم ختم ہوسکے۔
-

سازشی سیاست دان پھر متحرک ، تحریر اجمل ملک
سازشی سیاست دان پھر متحرک . . . . . . . . . . . . . . . تحریر: اجمل ملک
آج ملک اور خصوصا پنجاب میں سازشی سیاست دانوں کا ٹولہ بھرپور طریقے سے متحرک ھو چکا ھے اور سازشی سیاست کا مرکزی کردار گجرات کا چودھری خاندان ھے ۔ چودھری مونس الہی کا دادا چودھری ظہور الہی ایک معمولی پولیس کانسٹیبل تھا جس نے لوٹ مار کر کے دولت کمائی اور پھر پنجاب سے برادری ازم کی گندی سیاست شروع کی اور اس سازشی شخص نے اس ملک کے عظیم لیڈر ذولفقار علی بھٹو کو پھانسی پر چڑھوانے میں بھی اپنا گھنائونا کردار ادا کیا اس کے بعد سیاست میں آنے والے اس خاندان کے دونوں افراد چودھری شجاعت اور پرویز الہی کبھی بھی عوام میں مقبول نہیں رھے لیکن دونوں بھائی سازشی اور جوڑ توڑ کی سیاست کر کے اقتدار حاصل کرتے رھے ان دونوں بھائیوں نے پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اتنی سازشیں کی ھیں کہ اب انکی شکل دیکھ کر ھی سازش کی بو آنے لگتی ھے یہ انتہائی دکھ کی بات ھے کہ آج پھر انہیں عوام پر مسلط کرنے کی سازش ھو رھی ھے اور مذید دکھ کی بات یہ ھے کہ ملکی دولت لوٹ کر بیرونِ ملک فرار ھو جانے والا شریف خاندان بھی اپنے تمام تر اصول اور نام نہاد نظریات کو بھول کر ان سازشیوں کیطرف اپنی دوستی کا ھاتھ بڑھا رھا ھے اور عمران خان کی جماعت میں شامل کئی مفاد پرست بھی ھوا کا رخ بدلتے دیکھ کر وفاداریاں بدلنے کیلیئے پر تول رھے ھیں اور حالات و واقعات بتا رھے ھیں کہ شائد سازشی عناصر کامیاب ھو جائیں ۔ راقم کبھی بھی PTI یا عمران خان کا حامی نہیں رھا لیکن بہرحال عمران خان کروڑوں لوگوں کے ووٹ لیکر آیا ھے اور خصوصا بیرونِ ملک بسنے والے محبِ وطن پاکستانیوں نے ان سے بہت امیدیں وابستہ کر رکھی ھیں لہذا عمران خان کی حکومت کا تختہ ایسے مسترد شدہ اور سازشی عناصر کے ذریعے الٹنا واقعی اس ملک کی بدقسمتی ھوگی راقم کا عمران خان کو یہ مشورہ ھے کہ ان اچھلتے کودتے سازشی مینڈکوں کی منت سماجت کرنے کے بجائے آپ جرائت سے کام لیں اور اسلام کا ایک” قانونِ بٹائی ” اس ملک میں نافذ کر دیں یعنی کوئی بڑے سے بڑا زمیندار ھو یا وڈیرہ وہ صرف اتنی ھی زمین اپنے پاس رکھ سکتا ھے جتنی وہ خود اور اسکا خاندان کاشت کر سکتا ھے بقیہ زمین پر ھاری یا کسان کا حق ھے یہ قانون حدیث سے بھی ثابت ھے امام ابو حنیفہ کا بھی یہی موقف ھے امام مالک اور امام شافعی بھی یہی کہتے ھیں لیکن بعد کے دور میں مولانا فضل الرحمن جیسے درباری علما نے بادشاھوں کی خواھش پر اس قانون کو تبدیل کر دیا آپ صرف اسلام کے اس ایک قانون کو زندہ کریں یہ سارے وڈیرے چودھری قسم کے مینڈک پھدکنا بھول کر آپ کے قدموں میں گر جائینگے اور ملک کی %98 عوام آپکی پشت پر کھڑی ھو جائے گی ملک میں خوشحالی کیساتھ ساتھ امن و آمان بھی ھو جائے گا کیونکہ ساری غنڈہ گردی کے پیچھے یہی وڈیرے اور چودھری ھوتے ھیں آپ اس ملک میں بھٹو کی مثال دیتے رھے ھیں وہ یہ اصلاحات چاھتا تھا لیکن شائد خود ایک بڑا جاگیردار ھونے کی وجہ سے یہ جرائت نہ کر سکا آپ آگے بڑھیں اور اس ملک کیلیئے یہ کام کر جائیں۔ ھماری اپنے ملک کی اسٹبلشمنٹ سے بھی درخواست ھے کہ وہ ” توپ سے مچھر ” مارنے والا کام نہ کرے ایک دفعہ بڑا اقدام اٹھانے میں حکومت کا ساتھ دے تاکہ ملکی معیشت ایک صحیح ڈگر پر چل پڑے اور معدنی وسائل سے مالا مال یہ ملک حقیقی ترقی کی راہ پر گامزن ھو جائے . . . . . . . . . . اجمل ملک. . . . . . . . . . . . . ایڈیٹر نوشتئہ دیوار. -

اردوکانفاذ:جناب اظہار الحق کی توجہ کے لئے!–از–فاطمہ قمر
پاکستان کے سینئر کالم نویس ادیب ریٹائرڈ بیوروکریٹ جناب اظہار الحق صاحب نفاذ اردو سے متعلق اپنے کالم ” تلخ نوائی” میں تحریر کرتے ہیں کہ پاکستان میں نفاذ اردو کا عمل بتدریج کیا جائے.مقابلے کے امتحان میں انگریزی کی طرح اردو کو بھی لازمی کیا جائے. اور تین سال کے بعد طلباء کو اختیار دیا جائے کہ وہ انگریزی یا اردو میِں پرچہ حل کرے لیکن انگریزی کی بطور لازمی مضمون کی حیثیت برقرار رہے.
سوال یہ ہے کہ جب انگریزوں نے ایک غلام ملک میں اپنی حاکمیت کو برقرار رکھنے اور غلاموں کی کھیپ تیار کرنے کے لئے ایک سمندر پار ملک کی اجنبی زبان کو یہاں اعلی مقابلے کی زبان بنایا تو کیا انہوں نے اس زبان کو مسلط کرتے وقت بھی اس تدریج کا خیال رکھا. بس انہوں نے تو راتوں رات فیصلہ کیا کہ ان کو اپنی حکومت چلانے کےلئے غلام چاہئے تو انہوں نے برصغیر میں مقابلے کا امتحان ایک اجنبی زبان میں متعارف کرایا.. اس امتحان کا بنیادی مقصد آپنے آقاؤں کے لئے غلاموں کی ایسی کھیپ تیار کرنا تھا. جو اپنے دماغ اور عقل کا استعمال کئے بغیر بلاچون چراء ان کے حکم کی بجا آوری کرے.
اب ہوناتو یہ چاہئے تھا.قیام پاکستان کے ساتھ ہی ایک آزاد مملکت کے تقاضوں اور امنگوں کے مطابق مقابلے کا امتحان فوری طور پر ” لارڈمیکالین "تعلیمی فلسفے کے مطابق راتوں رات اردو میں.لینے کے احکامات اور اقدامات کئے جاتے. مگر افسوس ایسا نہ ھوسکا.پاکستان کے تینوں دستور میں اردو کو قومی زبان قراردیا گیا. مگر افسوس ہمیشہ پاکستان کی اس آئینی شق کی سرکاری طور پر آئین شکنی ھوتی رہی.
یہ آئین شکنی یہاں تک بڑھی کہ پنجاب اور خیبر پختونخواہ کی حکومت نے آئین کی خلاف ورزی گرتے ہوئے 2009 میں تمام سرکاری تعلیمی اداروں کو راتوں رات ایک سرکاری فرمان کے تحت انگریزی میڈیم کردیا. اس انگریزی میڈیم کرنے کے نتیجے میں جب پہلا نتیجہ پانچویں اور آٹھویں کاآیا تو اا میں بیس لاکھ میں سے اٹھارہ لاکھ بچے تعلیم کو خیرباد کہہ گئے.یہ نونہالوں کا وہ قتل عام تھا.جس کا کسی مہزب دنیا میں تصور بھی نہیں کیا کاسکتا. دستور کی اس خلاف ورزی کے ردعمل میں پاکستان قومی زبان تحریک نے جنم لیا. جس نے عدالتوں میں میڈیا پر سڑکوں’ عوام الناس میں ہر جگہ نفاذ اردو کا مقدمہ لڑا.اسے جیتا اب اس کے نفاذ کے لئے بھر پور کوشش کررہے ہیں!
ہم محترم اظہار الحق صاحب سے سوال کرتے ہیں کہ دنیا میں ایسے اور کتنے ترقی یافتہ خوشحال ممالک جہاں ایک غیر ملکی زبان اعلی ملازمت میں پہنچنے کا زریعہ ھے؟
دوسرا سوال ان سے یہ ہے کہ پاکستان کی افسر شاہی کی واحد قابلیت غلط سلط انگریزی کے علاوہ کچھ اور ہو تو بتادیں. آپ ہی کے ساتھی بیوروکریٹ کہتے ہیں کہ ” دنیا پاکستان کی افسر شاہی کی انگریزی پر ہنستی ہے” ایسا ہی کچھ ملتا جلتا بیان قدرت اللہ شہاب کا بھی ہے..جس نے خود یہ تسلیم کیا کہ انگریزی سے میرا تعلق غلامی کا ہے.پاکستان کی انگریزی کی غلام بیورو کریسی دنیا کی نمبر ایک کام چور’ حیلہ ساز’ بد عنوان ‘ بد انتظام’ راشی’ اپنی اقدار کو روندلنے والی’ جعلساز بیورو کریسی ھے. اگر ہماری بیورو کریسی بھی دنیا کی ترقی یافتہ ‘ تعلیم یافتہ خوشحال اقوام کی طرح اپنی قومی زبان میں مقابلے کا اعلی امتحان دیتی تو یقینی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ یہ انتہائ قابل ‘ پاکستانی سوچ کی حامل اور مخلص بھی ھوتی. مگر افسوس اس نے انگریزی غلامی کو اپنے اوپر طاری کر کے لارڈ میکالے کے اس قول کی تصدیق کی ھے ” برصغیر جیسی تہذیب یافتہ زرخیز قوم کو پسماندہ کرنے کا صرف ایک ہی زریعہ ھے کہ ان پر اہک ایسی زبان لاد دی جائے جو رنگ ونسل میں تو ہندوستانی ھو مگر فکر میں برطانوی ھوگی”
ایک بات ہم اور کالم نویس کے گوش گزار کرنا چاہتے ہیں ھم لوگ محض جذباتی ہی نہیں ہیں ہم لوگ عملی ہیں اور کام کرنے والے لوگ ہیں.. پاکستان قومی زبان تحریک کے بانی سائنسدان اور ماہر تعلیم ہیں ڈاکٹر شریف نظامی ‘ پروفیسر سلیم ھاشمی ‘ پروفیسر اشتیاق احمد ‘ ڈاکٹر مبین اختر ہیں. پروفیسر اشتیاق اپنے شوق اور جذبے سے بغیر سرکاری اعانت کے گریجویشن کی سطح تک اردو سا-نس لغت آسان فہم الفاظ میں تیار کر چکے ہیں. اگر سرکار ہماری اعانت کرے تو ہم چند ماہ میں انگریزی زریعہ تعلیم کی پیداکردہ ستر سال کی تباہیاں اور خامیاں دور کرسکتےہیں. کیونکہ قوموں کی تعمیر کے لئے وسائل سے زیادہ نیک جذبات اور خلوص کی ضرورت ہے اور اللہ کا شکر ہے پاکستان قومی زبان تحریک ان جذبوں سے سرشار اور مالا مال ھے.
آخر میں محسن اردو :’ نفاذ اردو کیس کا تاریخ ساز فیصلہ سنانے والے درویش
صفت ایچی سونین
چیف جسٹس جواد ایس اعلی عدلیہ کے منصفین کی انگریز دانی کا پول کچھ ان الفاظ میں کھول رہے ہیں:
” میں دعوی سے کہتا ہوں کہ پاکستان کے وکلاء اور جج دونوں ہی کو انگریزی نہیں آتی. پاکستان میں انگریزی کا ڈھونگ صرف اپنی نالائقی کو چھپانے کےلئے رچاہا جاتا ھے”
فاطمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک

-

بچوں کے تعلیمی مسائل، والدین کی پریشانیاں اور ان کا حل—از—محمد نعیم شہزاد
تعلیم انسان کی بنیادی ضروریات میں سے ہے۔ یہی وہ امتیازی خصوصیت ہے جس کے سبب حضرت انسان کو اشرف المخلوقات کہا گیا ۔ اور انسان نے اس کائنات کو مسخر کیا۔ زمانہ قدیم سے انسان تعلیم کی جستجو میں رہا، دور دراز کے سفر اختیار کیے اور اپنا وقت اور مال علم کی دولت حاصل کرنے کے لیے صرف کیا۔
زمانہ جديد میں تعلیم ایک نیرنگ کی شکل اختیار کر گئی ہے جس کے فسوں کو عجائبات زمانہ کہا جائے تو مبالغہ نہ ہو گا۔ تعلیم کو دور جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے ان گنت پیچیدگیوں اور انسانی نفسیات کو مدنظر رکھنا انتہائی اہم ہے۔ جس پر ماہرین تعلیم اپنے علم اور تجربہ کی روشنی میں طریقہ کار وضع کرتے ہیں اور اپنی سفارشات پیش کرتے رہتے ہیں۔ موجودہ نصاب تعلیم انہی ماہرانہ آراء کی روشنی میں دور جدید کی ضروریات سے مکمل ہم آہنگ ہے اور تعلیمی اداروں سے اعلیٰ تعلیم کی تکمیل پانے والے طلباء عملی زندگی میں قدم رکھنے کی مکمل اہلیت رکھتے ہیں۔
ایک اہم پہلو جو توجہ طلب ہے وہ نظام ہائے تعلیم میں تنوع ہے جو معاشرے میں طبقاتی تقسیم کا بھی سبب بنتا ہے اور تعلیمی اداروں اور نصاب کو درست انداز میں سمجھنے میں بھی رکاوٹ بنتا ہے۔ تاہم اس امر کو نظرانداز بھی کیا جا سکتا ہے۔ قومی سطح پر ہر درجے اور تعلیمی سال کے لیے ایک خاص کریکولم مہیا کیا جاتا ہے جس کے مطابق مختلف طباعتی (Publishing) ادارے کتب تیار کرتے ہیں جن میں کافی ورائٹی دیکھنے کو ملتی ہے جبکہ مجموعی طور پر ایک خاص تعلیمی سال کی تکمیل کے بعد طلباء کی تعلیمی اہلیت اور استعداد متساوی (equivalent) ہوتی ہے جو فرق ہم محسوس کرتے ہیں وہ محض ایک احساس کے سبب ہے یا طریقہ تدريس کے مختلف ہونے کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے۔
اس مضمون میں ہم طلباء اور والدین کے ذہن میں پائے جانے والے عمومی اشکالات اور پریشانیوں کا جائزہ لیں گے۔ ان گزارشات کو پڑھ لینے کے بعد یقیناً یہ اشکالات دور ہو جائیں گے اور تعلیمی نظام و نصاب پر اعتماد بڑھے گا۔
سب سے پہلے تو یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ تعلیم انسانی رویوں کی تبدیلی اور ذہنی تربیت کا نام ہے۔ یہ عمل وقت طلب ہے مگر والدین بچے میں فوری تبدیلی چاہتے ہیں اور بے صبری کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔ وہ یہ نہیں سمجھ پاتے کہ جو علم و تجربہ انھوں نے اتنی عمر گزر جانے کے بعد حاصل کیا ہے کیونکر کمسن بچوں کو حاصل ہو سکتا ہے۔
دوسری غلطی بچوں میں موازنہ کرنا ہے۔ اکثر اوقات والدین اپنے بچوں کا ان کے دوستوں یا ان کے ہم عمر دیگر بچوں سے موازنہ کرتے ہیں۔ بعض صورتوں میں تو ایسا بھی دیکھا گیا ہے کہ والدین بچوں سے کہتے ہیں کہ تمہاری عمر میں میں یوں کر لیا کرتا تھا اور فلاں کام میں ماہر تھا ایک تم ہو کہ ایسا کوئی کمال تم میں نہیں۔ اس پر ایک لطیفہ پڑھیں یقیناً آپ محظوظ بھی ہوں گے اور بات سمجھنے میں آسانی بھی ہو گی۔
ایک والد جو بچے کی تعلیمی صورتحال سے خاصے فکرمند تھے بچے سے گویا ہوئے :
” قائد اعظم محمد علی جناح جب تمہاری عمر میں تھے تو میٹرک کر چکے تھے۔”
بچے نے برجستہ جواب دیا :
"جب قائد اعظم آپ کی عمر میں تھے تو انھوں نے ایک قوم کو آزادی دلا دی تھی۔ آپ نے کیا کیا ہے؟ ”تیسری اہم بات والدین کی طرف سے بچوں کی حد سے زیادہ معاونت ہے۔ جب والدین بچے کو کوئی بھی کام کرنے کو دیتے ہیں تو پہلے خوب تسلی سے لیکچر دیتے ہیں اور پھر بچے کو اپنی مرضی سے کام نہیں کرنے دیتے بلکہ بار بار مداخلت کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ بچے کو ان کی معاونت سے زیادہ بہتر سمجھ رہا ہے۔ جان لیں کہ اس طرح سے آپ بچے کی صلاحیتوں کو کچل رہے ہیں،
آپ کی معاونت سے تو بچہ فوراً بہترین کام کر سکے گا مگر خود سے کچھ بھی کرنا اس کے بس میں نہیں ہو گا۔ لہذا بچے سے معلوم کریں کہ وہ کیا جانتا ہے اور چیزوں کو کس انداز سے سمجھتا ہے۔ اور اسے آزادانہ کام کرنے دیں اور مداخلت سے اجتناب کریں۔ جب بچہ بے بس نظر آئے تو اس کا حوصلہ بڑھائیں کہ تم کر سکتے ہو، کوشش کرو، مجھے تم پر اعتماد ہے۔ بچے کو آزادی کا احساس دیں اور جو وہ کر سکتا ہے اسے کرنے دیں اس سے اس میں اعتماد (confidence) آئے گا اور ذہنی استعداد میں اضافہ ہو گا۔
ایک اور سبب بچوں پر حد سے زیادہ کام کا بوجھ اور طویل تدریسی اوقات بھی ہیں۔ دور حاضر کے تقاضوں کے پیش نظر بہت سے والدین خیال کرتے ہیں کہ بچے کو دن بھر پڑھتے رہنا چاہیے تب ہی وہ زمانے کے ساتھ چلنے کے قابل ہو سکے گا۔ یاد رکھیں کہ تعلیم کا مقصد محض کتابی کیڑے پیدا کرنا نہیں ہے بلکہ انسانیت کی تعمیر ہے۔ بچے کے لیے تعلیم کے ساتھ ساتھ مناسب جسمانی ورزش اور کھیل کود بھی اہم ہیں۔ کھیل کود نہ صرف بچے کو چاک و چوبند بناتے ہیں اور جسمانی قوت کا باعث ہیں بلکہ ذہن کو بھی صحت دیتے ہیں اور صلاحیتوں کو دوچند کرتے ہیں۔
بچوں کی تعلیم اور ان کے مستقبل کے لیے فکرمند ضرور ہوں مگر افراط و تفریط سے بچنا بھی ضروری اور اہم ہے۔ حد سے زیادہ فکر بچے کی ذہنی صلاحیتوں اور شخصیت کے لیے زہر قاتل ہے جس سے یہ یکسر ختم ہو کر رہ جائیں گی۔ بچوں کو اپنے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش نہ کریں بلکہ مناسب ہدایات دینے کے بعد آزادانہ اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرنے کا موقع دیں اور فطری طور پر ایک نئی شخصیت کی تعمیر میں معاونت کریں ۔
بچوں کے تعلیمی مسائل، والدین کی پریشانیاں اور ان کا حل
محمد نعیم شہزاد -

پی ایس ایل سیزن فائیو کی ٹکٹوں کی آن لائن فروخت کب سے شروع ہو رہی، شائقین ہو جائیں تیار
پی ایس ایل سیزن فائیو کی ٹکٹوں کی آن لائن فروخت کب سے شروع ہو رہی، شائقین ہو جائیں تیار
باغی ٹی وی : پاکستان میں پھر سے پی ایس ایل کا میلا سجنے جا رہا ہےذرائع کے مطابق پی ایس ایل کی کم سے کم ٹکٹ 500 روپے جبکہ زیادہ سے زیادہ ٹکٹ 6000 روپے مقرر کیے جانے کا امکان ہے۔خیال رہے گزشتہ سال زیادہ سے زیادہ ٹکٹ کی قیمت 3000 روپے رکھے گئی تھی۔ذرائع کے مطابق ایلیمنٹری راؤنڈ، کوالیفائر اور فائنل کی ٹکٹوں کی قیمتیں دگنی رکھی جائے گی جبکہ پی سی بی ٹکٹوں کی قیمتوں کے حوالے سے اعلامیہ آج جاری کرے گا۔
واضح رہے شائقین تمام آن لائن ٹکٹیں www.yayvo.com سے خرید سکیں گے جس کا آغاز آج رات سے ہوگا۔پی ایس ایل کا پانچواں ایڈیشن اگلے ماہ فروری میں شروع ہوگا تاہم ابھی تک اس کا حتمی شیڈول تیار نہیں کیا جا سکا۔اس میگا ایونٹ کی افتتاحی تقریب 20 فروری کو نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں ہو گی۔اسی لیے جلدی کر لی جائے کہیں پیچھے نہ رہ جائیں.
-

کرکٹر شان مسعود کے ساتھ احسان علی اور عماد بٹ نے کیں خاص باتیں ، دلچسپ انڑویو
کرکٹر شان مسعود کے ساتھ احسان علی اور عماد بٹ نے کیں خاص باتیں ، دلچسپ انڑویو
باغی ٹی وی :بنگلہ دیش کے خلاف ٹی ٹونٹی سیریز کے آغاز میں صرف 3 روز باقی رہ گئے ہیں۔ اس موقع پر قومی ٹی ٹونٹی اسکواڈ کا حصہ بننے والے دو نوجوان کرکٹرز احسان علی اور عماد بٹ بین الاقوامی کرکٹ میں شاندار کارکردگی دکھانے کے لیے پرعزم ہیں۔ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تین ٹی ٹونٹی میچز 24، 25 اور 27 جنوری کو قذافی اسٹیڈیم لاہور میں ہوں گے۔
سیریز کے آغاز سے قبل دونوں کھلاڑیوں نے ٹیسٹ کرکٹر شان مسعود کو خصوصی انٹرویو دیا۔ کراچی سے تعلق رکھنے والے 26 سالہ نوجوان بلے باز احسان علی نے اس خصوصی بیٹھک میں انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے اپنی پسندیدہ خوراک "بریانی”کھانا ترک کردی ہے۔ قومی ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کے اوپنر شان مسعود کو انٹرویو دیتے ہوئے نوجوان کرکٹر کا کہنا تھا کہ وہ گذشتہ 31 روز سے نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور میں سخت فزیکل ٹریننگ کرنے میں مصروف ہیں اور اس دوران ان کی فٹنس میں خاطر خواہ بہتری آئی ہے۔ احسان علی نے کہا کہ این سی اے میں ٹریننگ کے دوران ان کے ڈائیٹ پلان اور روٹین میں واضح نظم و ضبط دیکھا جاسکتا ہے۔
کلب کرکٹ کے اپنے پرانے اوپننگ پارٹنر شان مسعود کو نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور میں خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے نوجوان کرکٹر کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان کی نمائندگی کرنے کے لیے بہت پرجوش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بابراعظم، شعیب ملک اور محمد حفیظ جیسے نامور کرکٹرز کے ساتھ ڈریسنگ روم شیئر کرنا ایک خواب کی مانند ہے۔ احسان علی نے کہا کہ وہ فارغ اوقات میں فلم دیکھنا پسند کرتے ہیں۔
قومی ٹی ٹونٹی کپ میں سندھ کی نمائندگی کرنے والے 26 سالہ کرکٹر احسان علی نے 5 میچوں میں 148.86 کے اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ 131 رنز بنائے تھے۔ نوجوان کرکٹر احسان علی نے بنگلہ دیش کے خلاف”21” نمبر کی شرٹ پہن کر میدان میں اترنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ و ہ اپنی والدہ کی خواہش پر شروع سے "21” نمبر کی شرٹ پہننے کو ترجیح دیتے ہیں۔
2008 میں پاکستان انڈر 15 کرکٹ ٹیم کی نمائندگی کرنے والے احسان علی آئی سی سی انڈر 19 کرکٹ ورلڈکپ 2010 میں پاکستان کی نمائندگی بھی کرچکے ہیں۔41 ٹی ٹونٹی میچوں میں 129 کے اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ 949 رنز بنانے والے احسان علی اپنے لسٹ اے کیرئیر میں 38 میچ کھیل کر 1045 رنز بناچکے ہیں۔ ان کے لسٹ اے کیرئیر میں 4 نصف سنچریاں اور 1 سنچری شامل ہے۔سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے 24 سالہ آلراؤنڈر عماد بٹ کا کہنا ہے کہ سبز ستارے والی شرٹ زیب تن کرنا ان کے لیے ایک یادگار لمحہ ہوگا۔ شان مسعود سے تبادلہ خیال کرتے ہوئے آلراؤنڈر نے واضح کیا کہ وہ کسی مخصوص نمبر کی شرٹ لینے کے خواہشمند تو نہیں ہیں مگر وہ بنگلہ دیش کے خلاف سیریز میں ڈیبیو کرنے کے لیے بیتاب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ آف سیزن میں بھی اپنی فٹنس کا خاص خیال رکھتے ہیں۔
عماد بٹ نے کہا کہ شعیب ملک ان کے پسندیدہ کرکٹر ہیں اور وہ بنگلہ دیش کے خلاف سیریز میں ان کی موجودگی کا بھرپور فائدہ اٹھائیں گے۔ آلراؤنڈر کا کہنا ہے کہ وہ قذافی اسٹیڈیم لاہور میں ڈیبیو کرنے کے لیے بہت پرجوش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہوم کراؤڈ کے سامنے ڈیبیو کرنے پر خود کو خوش قسمت سمجھتے ہیں۔
نوجوان آلراؤنڈر نے بتایا کہ گذشتہ سال اے سی سی ایمرجنگ ٹیمز ایشیا کپ کے فائنل میں بھارت کے خلاف میچ جتوانا اب تک ان کے کیرئیر کا یادگار لمحہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ روایتی حریف کے خلاف آخری اوور میں 8 رنز کا دفاع کرنے سے ان میں خوداعتمادی بڑھی ہے۔
24 سالہ آلراؤنڈر عماد بٹ نے چند ماہ قبل نیشنل ٹی ٹونٹی کپ 2019 میں دس وکٹیں حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ 170 کے اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ 80 رنز بھی اسکور کیے تھے۔
2013-14 میں پاکستان انڈر 19 کرکٹ ٹیم کی نمائندگی کرنے والے آلراؤنڈر عماد بٹ اب تک 36 ٹی ٹونٹی میچوں میں 167 رنز بنانے کے ساتھ ساتھ 49 وکٹیں بھی حاصل کرچکے ہیں۔ 52 لسٹ اے میچز میں 611 رنزبنانے والے عماد بٹ 71 وکٹیں بھی اپنے نام کرچکے ہیں۔
شیڈول:
24جنوری بروز جمعہ: پہلا ٹی ٹونٹی میچ بمقام لاہور
25 جنوری بروز ہفتہ: دوسرا ٹی ٹونٹی میچ بمقام لاہور
27 جنوری بروزپیر: تیسرا ٹی ٹونٹی میچ بمقام لاہور
7تا 11 فروری: پہلا ٹیسٹ میچ بمقام راولپنڈی
3اپریل بروز جمعہ: واحد ایک روزہ میچ بمقام کراچی
5تا 9اپریل: دوسرا ٹیسٹ میچ بمقام کراچی -

ذخیرہ اندوزی اور آٹے کا بحران!!!! تحریر: غنی محمود قصوری
اللہ تعالی نے انسان کے کھانے پینے کیلئے بے شمار چیزیں پیدا کی ہیں ہر ملک و علاقے کا کھانے پینے کا طریقہ کار دوسرے سے کچھ مختلف ہے دنیا میں اس وقت انسانوں کی خوراک سب سے زیادہ گندم سے حاصل کی جاتی ہے دنیا میں چاول و مکئی کے بعد سب سے زیادہ گندم کاشت کی جاتی ہے اس لحاظ سے گندم دنیا میں سب سے زیادہ کاشت ہونے والی فصلوں میں تیسرے نمبر پر ہے
پاکستان کی کل آبادی میں سے 7 کروڑ 70 لاکھ لوگ شہروں جبکہ 13 کروڑ 22 لاکھ دیہات میں رہتے ہیں
پاکستان کے دیہی علاقوں میں گندم بہت زیادہ کاشت کی جاتی ہے اور خاص طور پر پنجاب میں گندم وافر مقدار میں کاشت کی جاتی ہے دیہات کے زمیندار و مزدور لوگ اپنی ضرورت کے مطابق گندم اپنے گھروں میں ذخیرہ کر لیتے ہیں جسے وہ سارا سال لوکل سطح پر لگی آٹا چکیوں سے پسوا کر استعمال کرتے ہیں کم آمدن اور وسائل کے باعث یہ لوگ اپنی ضرورت یا اس سے کم ہی گندم ذخیرہ جمع کر پاتے ہیں مگر چند بے ضمیر و بااثر لوگ اس نیت سے گندم ذخیرہ کر لیتے ہیں کہ جب مارکیٹ میں گندم کی کمی واقع ہو تو ذخیرہ کی گئی گندم کو مہنگے داموں فروخت کیا جا سکے جیسا کہ 2019 میں گندم کی فی من قیمت 1230 اور حکومت کی طرف سے 1300 روپیہ فی من مقرر تھی اس وقت ضرورت مند چھوٹے کاشتکاروں نے انہی نرخوں پر فروخت کی اور اپنی ضروریات پوری کیں کیونکہ اگر وہ گندم بیچ کر پیسہ نا حاصل کرتے تو دیگر ضروریات زندگی پوری کرنے سے قاصر رہتے جبکہ مالی طور پر مستحکم اور بااثر کسانوں و بیوپاریوں نے اس گندم کو ذخیرہ کیا اور اب وہی ذخیرہ شدہ گندم 1900 سے 2100 روپیہ فی من تک فروخت کر رہے ہیں
مارچ سے اگست تک گندم وافر ہوتی ہے جسے بیوپاری حضرات تھوڑی سے زائد قیمت دے کر لوگوں سے خرید کر جمع کر لیتے ہیں اور پھر دسمبر کے بعد زیادہ تر لوگوں کی ذخیرہ شدہ گندم استعمال ہو چکی ہوتی ہے جس کے لئے یہ افراد آٹا چکیوں کے علاوہ فلور ملوں سے آٹا لے کر استعمال کرتے ہیں جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ بااثر اور امیر لوگ مصنوعی بحران رچاتے ہیں جس پر غریب اور مزدور طبقہ ان سے مہنگے داموں آٹا خریدنے پر مجبور ہو جاتا ہے
مالی طور پر مستحکم لوگوں نے اپنی ضرورت سے بڑھ کر گندم جمع کی ہوتی ہے لہذہ سارا بوجھ غریب اور مزدور طبقہ پر ہی پڑتا ہے
آٹے کا بحران ہر سال ہی ہوتا ہے مگر اس سال کچھ زیادہ ہی ہو گیا جس کا سبب ذخیرہ اندوزی بنا ہے اس وقت گاؤں دیہات کے بااثر کسانوں و بیوپاریوں کے پاس وافر مقدار میں گندم موجود ہے مگر وہ آہستہ آہستہ سے گندم اس لئے فروخت کر رہے ہیں کہ مجبور لوگوں اور حکومت سے دام زیادہ وصول کئے جائیں اگر گورنمنٹ ذخیرہ اندوزی کو روکنے میں سنجیدہ ہے تو اسے چائیے کہ ان لوگوں سے گندم قطعا نا خریدے بلکہ گندم بیرون ممالک سے خرید کر لوگوں کی ضرورت پوری کی جائے تاکہ ان بے ضمیر لوگوں کی ذخیرہ شدہ گندم ان کے گوداموں میں پڑی رہے اور مارچ سے اپریل تک نئی فصل آنے پر یہ لوگ بھی اپنی گندم انہی مقرر کردہ داموں پر فروخت کرکے عبرت حاصل کریں ذخیرہ اندوزی ایک لعنت ہے جس کے بارے میرے نبی کریم کی حدیث ہے
حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو شحض غلہ روک کر گراں نرخ پر مسلمانوں کے ہاتھوں فروخت کرتا ہے اللہ تعالی ایسے لوگوں کو اجذام و افلاس میں مبتلا کر دیتا ہے
مسکوت ،باب ذخیرہ اندوزی کا بیان حدیث 121
ذخیرہ اندوز معاشرے کا ناسئور ہیں ان کی بیخ کنی کیلئے گورنمنٹ کو سخت سے سخت قانون بنانا ہو گا تاکہ یہ ہوس کے پجاری چند روپوں کی خاطر اس ارض پاک کے باسیوں کو بھوکا نا رک سکیں -

*سمجھنا تصوف کو *—از— فلک شیر
*سمجھنا تصوف کو *
وزیراعظم پاکستان عمران خان صاحب کے تصوف کے حوالے سے بیان کے بعد سوشل میڈیا پہ ایک بحث شروع ہو گئی ہے…. کتابیں پوچھی جا رہی ہیں…. تقاریر ڈھونڈی جا رہی ہیں…. موافق مخالف…. متقدمین متاخرین اور "متاثرین”؛ ہر کسی کو دوسرے کی جگہ رکھ کر پورے وثوق سے رائے قائم کی جا رہی ہے.
یونانی، ہندی اور فار ایسٹ تک کے طریقت کے پیٹرنز سے "قربت” اور سنت و قرون اولی سے بعد کی بحث بھی جاری ہے…. سنجیدہ بحث بھی کہیں کہیں ہے…. البتہ زیادہ تر کسی ایک پہلو کو پکڑ کر” جامع اور حتمی” فیصلہ سنایا جاتا ہے….. مجھے اس پوسٹ کے ذریعے صرف یہ عرض کرنا ہے…. کہ جو لوگ خود کچھ پڑھ یا سن کر فیصلہ کرنا چاہتے ہوں…. یا کم از کم معاملے کی اکثر سطحوں کا تجزیہ کرنے کے لیے درکار بنیادی معلومات تک رسائی چاہتے ہیں…. وہ مندرجہ ذیل کتب پڑھ لیں…..
١) تاریخ تصوف….. یوسف سلیم چشتی
٢) شریعت و طریقت…. عبدالرحمان کیلانی
٣) شریعت و طریقت….. اشرف علی تھانوی
٤) تزکیہ نفس….. امین احسن اصلاحیمندرجہ بالا کتب مختلف مکتبہ ہائے فکر کی نمائندگی کرتے ہیں…. اگر کوئی تصوف کے اصل ابتدائی انتہائی متون پڑھ کر اور اس کے تدریجی سفر پہ رائے قائم کرنا چاہتے ہیں… تو وہ رستہ الگ ہے….. البتہ اس سلسلے میں ایک صاحب علم ۔جس کی قدیم و جدید پہ نظر ہے…. فلسفہ اور شعر کو بھی سمجھتا ہے…. خود پریکٹسنگ صوفی ہے.
وعظ و اصلاح کی مجالس منعقد کرتا ہے…. اور بالعموم اسے اہل السنہ کے تمام مکتبہ ہائے فکر میں احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے… یعنی احمد جاوید صاحب…. کے لکچرز کی سیریز ہے… جو کسی حد تک تصوف کی اصل، جائز جگہ اور فی زمانہ اس کی revival کی سپرٹ سے متفق ہیں…. یعنی ہمدرد ہیں.
دوسری جانب وہ اس کے "prevailing model” کے شدید ترین ناقد بھی ہیں…. اور انہیں اس بات کی فکر سب سے زیادہ ہے کہ کلام و فقہ کے میدان میں جب جب امت نے زوال اور خطا پائی ہے، تو ان دونوں شعبوں نے اندر ہی سے اپنی اصلاح کا حوصلہ کیا….. لیکن تصوف ایسا نہیں کر پا رہا آج…..ان کے لکچرز میں سے ایک کا ربط نیچے پہلے کمنٹ میں دیا جا رہا ہے…باقی اسی یوٹیوب چینل پر میسر ہوں گے….
بہر حال زہد، تصوف یا ان کے نام پہ پیش کردہ "مال” پہ ہر ایک کی رائے ہونا یا نہ ہونا بھی ایک مسئلہ ہے .میں تو ظفر اقبال کا ایک شعر کو بصورت نثر پیش کر کے اجازت چاہوں گا… وہ کچھ یوں ہے کہ میں اپنے گھر میں گائے نہیں رکھتا ہوں…. پھر بھی اس کے بارے میں ایک رائے ضرور رکھتا ہوں…. 🙂
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب….
فلک شیر
پس نوشت : پوسٹ پڑھ کر جو احباب اس سلسلے میں مزید بنیادی متون / دروس تجویز فرمائیں…. اس سے یہ فہرست مزید جامع اور معتبر ہو سکتی ہے.