Baaghi TV

Category: بلاگ

  • کیسی بیماری کہ اجر بھی نہیں۔۔۔؟؟؟— از جویریہ چوہدری

    کیسی بیماری کہ اجر بھی نہیں۔۔۔؟؟؟— از جویریہ چوہدری

    قارئین!
    ایک بندہ مومن کے لیئے اللّٰہ تعالی نے ہر تکلیف،پریشانی اور بیماری پر اجر رکھا ہے یہاں تک کہ اسے کانٹا بھی چبھے تو اس پر بھی اجر ہے۔
    مگر یہ کیسی بیماری ہے کہ انسان اپنے آپ کو کھپا دے،گھلا دے مگر اجر بھی نہیں۔۔۔؟؟؟
    کون سی ہے وہ بیماری؟
    جی وہ بیماری ہے حسد کی۔۔۔!!!!
    حسد کی بیماری ایک ایسی قدیم بیماری ہے جو جسم کو تیزاب کی طرح راکھ کر دیتی ہے،ڈیپریشن کا مریض بنا دیتی ہے،روگ لگا دیتی اور حسنات چھین لیتی ہے،

    پرائم منسٹر مرغی پال اسکیم کا باقاعدہ آغاز، قرعہ اندازی کی گئی

    سکون معدوم،
    خوشیاں مفقود کردیتی ہے۔۔۔
    حاسد ہمیشہ محسود سے زوالِ نعمت کا متمنی رہتا ہے اور پھر بے سکونی،عدم برداشت،رنج وکدورت،بے مقصد زندگی معمول بن جاتے ہیں۔
    کوئی فلاں کے پاس بیٹھا کیوں؟
    فلاں سے بولا کیوں؟
    فلاں کے ہاں کیوں گیا وغیرہ۔۔۔
    اور یوں حسد کرنے والا سب سے پہلے خود کو ہی مار دیتا ہے۔۔۔ !
    ڈاکٹر کارل مانینگز ایک نفسیاتی معالج کا کہنا ہے کہ:
    "ڈاکٹر مانینگز تمہیں اضطراب سے بچنے کے قواعد نہیں بتائے گا بلکہ ایک وحشت ناک رپورٹ دے گا کہ کیسے ہم اپنے جسموں اور عقلوں کو قلق و اضطراب،حسد،خوف اور تحقیر جیسی آفتوں سے توڑ کر رکھ دیتے ہیں۔
    حاسد کی مصیبت یہ ہوتی ہے کہ وہ رب کے انصاف پر شک کرتا ہے،وہ خود کو عبث تھکاتا ہے،خون جلا کر،نیند اُڑا کر خود کو تباہ کرتا ہے،
    گھر ہو یا دفتر،
    سکول ہوں یا ہسپتال،
    جامعات ہوں یا مدارس،

    4 نئی ٹیکنیکل یونیورسٹیز کے قیام کا اعلان، تبدیلی آگئی

    حسد سے بندہ تب ہی محفوظ رہ سکتا ہے جب وہ "جیسا اور جسطرح "ہر حال میں الحمدللہ کی کیفیت کو اپنا لیتا ہے۔۔۔
    اپنی صورت،لباس،گھر،روزگار،آسائشات کو من و عن تسلیم کر لینے پر آمادہ ہو،
    اللّٰہ کی تقسیم پر راضی اور مطمئن ہو۔
    کسی کے گھر،گاڑی،یا سہولیات پر نظر ہی نہ ہو۔۔۔۔
    کہ یہ دنیا بہت عارضی اور ناپائدار ہے۔۔۔تو غم کیسا؟
    یہاں بہت کچھ ادھورا رہ جاتا،اگر یہ سمٹ کر ایک انسان کے پاس بھی آ جائے تو بالآخر فنا ہی اس کا مقدر ہے۔
    یوں سوچئے کہ بس میرے پاس جو کچھ بھی ہے،اللّٰہ نے مجھے جس قابل سمجھا اور دیا بس پرفیکٹ ہے۔۔۔ !!!
    مجھے دنیا والوں سے کچھ نہیں لینا اور کچھ نہیں سوچنا۔۔۔۔
    ذرا دیکھیئے!
    صحابہ کرام کا دور بلاشبہ دنیا کا بہترین دور تھا اور قیامت تک کے لیئے ویسا دور دوبارہ نہیں لوٹنا،مگر ان کی زندگی کیسی تھی؟
    آسانی،
    سادگی،،
    عدم تکلف،،،
    بابرکت علم تھا اور عمل کی دولت تھی۔۔۔
    متاع دنیا کم سے کم اور نتیجتاً راحت و سعادت اور اطمینان کی دولت تھی۔

    صدرمملکت ڈاکٹرعارف علوی کی اہلیہ محترمہ بھی ڈاکٹربن گئیں

    انقلاب محمدی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ابتدائی دور میں علم وحی اور ہدایت ربانی کا عَلم جن لوگوں نے اٹھایا وہ فقیر ومحتاج تھے اور دعوت حق کی مخالفت میں پیش پیش رہنے والے رئیس اور ثروت مند مگر رضوان کن کو ملی؟
    یہ حسد حق پرست فقیروں سے بھی ہوتا رہا ہے
    یہ دنیوی اسباب اللّٰہ کے ہاں مچھر کے پر جتنی حیثیت بھی نہیں رکھتے،
    چنانچہ ان چیزوں کی چاہ میں خود کو حسد میں دھکیلنے کی بجائے اپنی زندگی میں نظم و ضبط کی عادت ڈالیئے۔
    ولیم جیمس کہتا ہے:
    "ہم انسان ان چیزوں کے بارے میں سوچتے رہتے ہیں جو ہماری ملکیت نہیں ہوتیں،اور جو پاس ہوں ان کی قدر نہیں کرتے۔۔۔؟
    نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
    آدمی کے دل میں ایمان اور حسد جمع نہیں ہو سکتے۔(رواہ النسائی)
    کبھی فرمایا:”لوگوں میں افضل وہ ہے جس کے دل میں بغض و حسد نہ ہو۔(ابن ماجہ)
    تو سوچئے کہ اگر ہمیں حسد کا مرض لاحق ہو گیا تو پھر ایمان کی خیر منانی چاہیئے اور اگر ایمان کامل ہے تو پھر حسد کا جذبہ کبھی نہیں ابھرے گا،
    کسی کا دکھ ہمارا دکھ،
    کسی کی خوشی ہماری خوشی ہو گی۔۔۔
    آئیے عہد کریں کہ اس تکلیف میں خود کو کیوں تڑپائیں جو ممنوع ہے،
    اپنی زندگی میں جینے کا ہنر سیکھیں،
    محبت،خوشبو اور پھولوں کی سوداگری کریں،
    کانٹوں اور اذیتوں سے دامن چھڑا لیں اپنے حصے کا سفر طے کرتے جائیں کہ یہی سکونِ زندگی ہے۔۔۔ !اللّٰہ ہمیں اس بیماری سے بچائے جس کا کوئی اجر ہی نہیں۔۔۔۔ !!!

    کیسی بیماری کہ اجر بھی نہیں۔۔۔؟؟؟
    بقلم:(جویریہ چوہدری)۔

  • موسم کافی سرد تھا                                 تحریر :  جواد سعید

    موسم کافی سرد تھا تحریر : جواد سعید

    موسم کافی سرد تھا۔ : بقلم جواد سعید
    سردی سے تمام جاندار اپنے بلوں میں دبک چکے تھے۔ہر طرف ہو کا عالم تھا۔سناٹا ہلکی ہلکی آواز کو اونچا سنا رہا تھا۔سڑک پر ٹریفک ندارد۔
    لیکن پھر بھی وہ ان سب سے بے پرواہ آستین چڑھائے سڑک پر خورد بین جیسی نطریں مرکوز کیے آوارہ گردی کررہا تھا۔
    مشغلے کے طور پر بکھرے پتھر خالی بوتلوں کو وہ اپنی ٹھوکروں سے ہٹا رہا تھا۔
    اسکی حرکات اسکے مضطربانہ چال کو واضح کر رہی تھیں۔دیکھنے پر محسوس ہوتا جیسے سوچ وبچار کے سمندر میں غرق ہے۔
    حیرانگی تب ہوتی جب وہ خیالاتی سمندر سے منہ نکال کر اپنی دائیں بائیں طرف سلسلہ مکانات پر نظریں گھماتا۔
    پھانسی پر لٹکے بلبوں کی بجھتی بجھتی لائیٹیں انکے مکینوں پر دلالت کررہی تھیں۔
    اور میں تھا کہ مجھے یہ معمہ سمجھنے کا اشتیاق بڑھ رہا تھا۔
    اب وہ نظروں سے اوجھل ہونے لگا۔میں نے بھی پیچھا کرنے کی ٹھان لی۔
    انگلش فلموں کی طرح خود کو پروفیشنل جاسوس سمجھتے ہوئے مبالغہ آمیز احتیاط سے اسے فالو کرنے لگا۔
    جتنا میں خود کو چھپا رہا تھا اتنا ہی انجانا سا ڈر ذہن میں سما رہا تھا۔چلتے چلتے اگر کسی روشنی کی زد میں آ جاتا تو اپنا ہیولہ ہی جان نکال دیتا ۔
    اب وہ آخری مکانوں سے گزر رہا تھا۔اسکی چال قدرے سست ہو چکی تھی اور وہ مسلسل بے چین نظر آ رہا تھا۔اسکی بے چینی اسکی حرکتوں سے عیاں تھی کبھی سڑک پر نظریں گاڑ لیتا کبھی مکانوں کی روشنیوں کی سمت دیکھتا اور کبھی آگے پیچھ دیکھتا کوئی دیکھ تو نہیں رہا۔
    یہ کیا۔۔۔
    وہ سڑک پر جھک چکا تھا اور اپنے ہاتھوں سے کوئی چیز ٹٹول رہا تھا۔
    میں مسلسل حیرانگی کو موجوں میں غرق تھا۔
    اب وہ ٹانگوں کے وزن پر بیٹھا نظر آیا۔اور اپنے ہاتھوں ٹانگوں کے بل چوپائے مانند آگے سرکتا دکھائ دیا۔اور اچانک اسنے کسی چیز کو چھوا ہی تھا کہ وہ اچھل کر کھڑا ہو گیا جیسے کسی معصوم کے بیٹھنے سے پہلے اسکی سیٹ پر نوک دار چیز رکھ دی جائے۔جیسے وہ اچھلتا بالکل اسی طرح۔لیکن وہ تو تکلیف کی شدت سے اٹھتا ہے اور یہ صاحب خوشی سے جھوم رہے تھے۔
    اسی دوران پون گھنٹہ گزر چکا تھا۔
    تھک ہار کر فلمی دنیا سے باہر آیا اور نارمل ہو کر تیزی سے اس کے قریب جانے لگا۔
    مجھے اپنے قریب پا کر وہ بوکھلا سا ہو گیا۔
    وہ قدرے سانولا ہٹا کٹا نوجوان تھا۔
    علیک سلیک کے بعد میں نے اسے کہا بھائ گھنٹے بھر سے آپ کو دیکھ رہا کیا ماجرا ہے۔کس پریشانی میں مبتلاء ہیں اور اس خوشی کی وجہ کیا ہے۔؟؟؟
    وہ یوں گویا ہوا
    میری آتے ہوئے موٹر سائیکل کی چابی گر گئ تھی۔
    اس سے تھوڑا آگے میں نے چابی موٹر سائیکل کو لگی دیکھی تھی۔
    اسلیے میں اسے ڈھونڈ رہا تھا۔😲۔

    گھنٹہ خوار ہونے کے بعد اب میں واپسی نکل پڑا۔
    مجھے اپنے حساس اور ویلے ہونے کا بخوبی اندازہ ہو رہا تھا۔
    اور سوچ رہا تھا بیوی کا ڈنڈا کتنی عظیم نعمت ہے بندے کو ٹائم سے گھر تو پہنچا دیتا۔ چاہے راستے میں لاکھوں لڑائیاں حادثات نظر انداز کر کے ہی کیوں نہ پہنچنا پڑے۔
    لیکن کیونکہ انگور کھٹے ہیں۔اسلیے کنوارہ پن عظیم نعمت ہے۔

  • تصویر ایک زاویے مختلف —-از— فردوس جمال

    تصویر ایک زاویے مختلف —-از— فردوس جمال

    گلاس آدھا خالی ہے،گلاس میں آدھا پانی ہے،بات ایک ہی ہے
    لیکن تعبیریں دو مختلف،چیزوں کو مثبت منفی کس ذاویے
    سے ہم دیکھتے ہیں یہ اس کا فارمولا ہے.

    مسئلہ تب بن جاتا ہے جب آپ کسی چیز کو ایک ہی زاویے سے دیکھ کر رائے قائم کرتے ہیں،زیر نظر تصویر سوشل میڈیا پر زیر بحث ہے آئیں اسے ہم مختلف زاویوں سے دیکھنے اور دکھانے کی کوشش کرتے ہیں.

    پرائم منسٹر مرغی پال اسکیم کا باقاعدہ آغاز، قرعہ اندازی کی گئی

    میاں نواز شریف اور مریم بی بی جیل میں قید ہیں،جلسوں
    دھرنوں اور پبلک پروگرامات کا انعقاد نہیں ہو رہا ہے نتیجتا
    کارکنان بریانی سے محروم ہیں،مایوس لیگی کارکنوں کا "احساس ” کرتے ہوئے عمران خان نے جگہ جگہ لنگر کھولنا
    شروع کر دیا چونکہ رشتے میں وہ سب کے وزیر اعظم لگتے ہیں اس لئے سب کا احساس کرنا ان پر لازم ہے.

    ہمارا ملک جتنی بھی ترقی کرے اگلے دس پندرہ سال تک مفت خوری کی عادت سے چھٹکارہ پانا مشکل ہے لہذا ایسے لوگ تب تک خوش نہیں ہوں گے جب تک انہیں مفت کا کھانا
    میسر نہیں لہذا اس طبقے کا "احساس” کرنا بھی وزیر اعظم کی ذمہ داری ہے چونکہ رشتے میں وہ سب کے…الخ

    ڈاکٹرزکی ہڑتال،فیروز پور بند،نئے مطالبات سامنےآگئے

    ستر سالہ پاکستانی تاریخ میں نا اہل حکمرانوں نے ملک کو
    دو طبقوں میں تقسیم کئے رکھا،ایک طبقہ وہ جسے دو وقت
    کی روٹی تک میسر نہیں دوسرا طبقہ ایلیٹ کلاس جن کے کتے اور گھوڑے بھی مکھن اور مربعے کھاتے ہیں،عمران خان
    ان سرمایہ داروں کی انسانیت کو جھنجھوڑ رہے ہیں کہ کم از کم فٹ پاتھوں پر بھوکے مرنے والے انسانوں کو اپنے کتوں برابر اہمیت تو دو،چنانچہ ان سرمایہ داروں کی جیبوں سے
    پیسہ نکال کر یہ مفت کے لنگر چلائے جا رہے ہیں،تمہارے امیروں پر تمہارے غریبوں کا حق ہے.

    ہمارے ملک کو ہزاروں مسائل کا سامنا ہے وزیر اعظم اگر کسی ایک مسئلے کو حل کرنے کے لئے کوشاں ہیں تو اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ دیگر سیکٹرز پر کام نہیں ہو رہا لہذا مفت لنگر کھولنے کی تصویر اٹھا کر یہ سوال کرنا کہ مفت لنگر کھولنے سے ملکی معیشت ٹھیک ہوگی؟انتہائی بچگانہ اپروچ اور سطحی ذہنیت ہے.

    4 نئی ٹیکنیکل یونیورسٹیز کے قیام کا اعلان، تبدیلی آگئی

    رسول خدا سے پوچھا گیا کہ بہترین اسلام کون سے آپ نے فرمایا بھوکے کو کھانا کھلانا،پوچھا گیا اللہ پاک کے نزدیک
    پسندیدہ عمل کون سا ہے آپ نے فرمایا بھوکے کو کھانا کھلانا،ایک بدوی آکر پوچھا ایسا کوئی عمل بتائیں جو مجھے جنت میں داخل کرے فرمایا بھوکے کو کھانا کھلانا اور پیاسے کو پانی پلانا.اللہ کے رسول ہم میں سے بہتر کون ہے؟”خياركم من أطعم الطعام ” جو دوسروں کو کھانا کھلائے،قیامت کی ہولناکیوں سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟
    جو مسکینوں،یتیموں اور اسیروں کو کھانا کھلائے.!!!

    وہ یہودی ایجنٹ فٹ پاتھوں میں گھوم پھیر کر بھوکوں کو کھانا کھلا رہا ہے اور آپ فیس بک پر بیٹھ کر جس زرداری کے گھوڑے مربعے کھاتے ہیں اس کا دفاع کر رہے ہیں.

    تصویر ایک زاویے مختلف

    بقلم فردوس جمال!!!

  • مولانا فضل الرحمن سے بطور پاکستانی کچھ سوالات؟        تحریر:  جوادسعید

    مولانا فضل الرحمن سے بطور پاکستانی کچھ سوالات؟ تحریر: جوادسعید

    مولانا فضل الرحمن سے بطور پاکستانی کچھ سوالات؟

    (1)آپ کہتے ہیں کہ ہم پاکستان کے مفاد بقاء کیلئے دھرنا دیں گے۔
    آپکو یاد ہو گا۔دوسال قبل جمیعت علمائے اسلام ہند کے قائم ہوئے سو سال گزرنے پر آپ نے ایک جشن منایا تھا۔؟؟؟؟
    یاد رہے یہ وہی جمیعت ہے جس نے پاکستان بننے کی پرزور مخالفت کی تھی۔
    اور انھوں نے ہی گیارہ ستمبر کو قراردادیں منظور کروائیں تھیں۔ایک کشمیر کی صورتحال بہتر کی جائے۔دوسری کشمیر معاملے میں مداخلت کسی کی بھی قبول نہیں۔چاہے پاکستان ہو۔کیونکہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے۔
    اور یہی 1951 1963. 2009 میں بھی کہا گیا اور اب بھی انکا اقرار یہی ہے کہ بھارت جیسا چاہے کرے پاکستان کو مداخلت کا حق نہیں ۔
    تو ایسی جماعت کا جشن آپ کیوں مناتے جو بغض پاکستان مسلمان میں اندھی ہو چکی۔؟؟
    آپ تو کشمیر کمیٹی کے چئیرمین بھی رہے پھر بھی ان سے اتنی محبت۔؟؟
    دوغلا پالیسی یا ہم سے منافقت. ایک مطلب تو ہے
    ان سب کے بعد بھی آپکو کب سے پاکستان کا مفاد دکھنے لگا؟؟؟؟

    (2) جب نواز شریف نے قادیانیوں کا بھائ بہن کہا اور خدا تعالی اور بت بھگوان کو ایک کہا ۔تب آپ کدھر تھے آپکا علم کدھر تھا۔؟؟؟؟

    (3)نواز حکومت نے جب ختم نبوت ترمیم کو چھیڑا تب آپکے بیان کدھر تھے۔؟؟؟

    (4)کارگل جیسے فیصلے پر کیوں چپ رہے؟؟

    (5)ن لیگی پرویز رشید نے جب مدارس کو جہالت کی فیکٹریاں کہا تب آپ کیوں نہ نکلے؟؟

    (6)باجوڑ مدرسے شہادتیں ہوئیں تب آپکے بیانات اقدامات کیا تھے؟؟؟

    (7)ٹی ٹی پی۔خوارج۔طالبان۔سب معصوم ۔فوج ظالم۔ ضرب عضب کے شہداء کو کبھی شہید کہہ سکتے ہیں؟؟ من پسند حکومت کے ہوتے ہوئے بھی دھماکوں سے شہید افراد پر آپکی کیا رائے تھی۔؟؟؟؟؟صرف ایک بیان خوارج ٹی ٹی پی کیخلاف دے دیجئے ہم آپکو مولانا مان لیں گے؟؟؟؟؟

    ایسا نہیں ہے کہ عمران خان بڑا چنگا ہے اسکا دھرنا ٹھیک تھا برحق تھا وغیرہ وغیرہ ہمیں کسی سیاسی سے اندھی محبت نہیں۔
    جو بھی اچھے عمل کرے گا ہم اسے سراہیں گے۔
    اور جو بھی غلط عمل۔غلط قدم اٹھائے گا اسے ہم ٹوکے گیں روکے گیں۔

    بابا جی جواد کہا کرتے ہیں۔
    جب ماضی سب کا ایک جیسا ہو تو ماضی کا طعنہ دینا اور دوسرے کے غلط قدم کو دلیل بنا کر دوبارہ دہرانا بھی منافقت پاگل پن سے کم نہیں۔
    (8)اگر عمران نے دھرنا دیا تھا تو وہ بقول آپکے چول غداری تھی تو آپ کے دھرنے کو کیا حج عمرے کا ثواب ملناہے۔؟؟؟؟؟؟

    جوادسعید

  • کیسی بیماری کہ اجر بھی نہیں۔۔۔؟؟؟      تحریر:جویریہ چوہدری

    کیسی بیماری کہ اجر بھی نہیں۔۔۔؟؟؟ تحریر:جویریہ چوہدری

    کیسی بیماری کہ اجر بھی نہیں۔۔۔؟؟؟ تحریر:جویریہ چوہدری
    قارئین!
    ایک بندہ مومن کے لیئے اللّٰہ تعالی نے ہر تکلیف،پریشانی اور بیماری پر اجر رکھا ہے یہاں تک کہ اسے کانٹا بھی چبھے تو اس پر بھی اجر ہے۔
    مگر یہ کیسی بیماری ہے کہ انسان اپنے آپ کو کھپا دے،گھلا دے مگر اجر بھی نہیں۔۔۔؟؟؟
    کون سی ہے وہ بیماری؟
    جی وہ بیماری ہے حسد کی۔۔۔!!!!
    حسد کی بیماری ایک ایسی قدیم بیماری ہے جو جسم کو تیزاب کی طرح راکھ کر دیتی ہے،ڈیپریشن کا مریض بنا دیتی ہے،روگ لگا دیتی اور حسنات چھین لیتی ہے،
    سکون معدوم،
    خوشیاں مفقود کردیتی ہے۔۔۔
    حاسد ہمیشہ محسود سے زوالِ نعمت کا متمنی رہتا ہے اور پھر بے سکونی،عدم برداشت،رنج وکدورت،بے مقصد زندگی معمول بن جاتے ہیں۔
    کوئی فلاں کے پاس بیٹھا کیوں؟
    فلاں سے بولا کیوں؟
    فلاں کے ہاں کیوں گیا وغیرہ۔۔۔
    اور یوں حسد کرنے والا سب سے پہلے خود کو ہی مار دیتا ہے۔۔۔ !
    ڈاکٹر کارل مانینگز ایک نفسیاتی معالج کا کہنا ہے کہ:
    "ڈاکٹر مانینگز تمہیں اضطراب سے بچنے کے قواعد نہیں بتائے گا بلکہ ایک وحشت ناک رپورٹ دے گا کہ کیسے ہم اپنے جسموں اور عقلوں کو قلق و اضطراب،حسد،خوف اور تحقیر جیسی آفتوں سے توڑ کر رکھ دیتے ہیں۔
    حاسد کی مصیبت یہ ہوتی ہے کہ وہ رب کے انصاف پر شک کرتا ہے،وہ خود کو عبث تھکاتا ہے،خون جلا کر،نیند اُڑا کر خود کو تباہ کرتا ہے،
    گھر ہو یا دفتر،
    سکول ہوں یا ہسپتال،
    جامعات ہوں یا مدارس،
    حسد سے بندہ تب ہی محفوظ رہ سکتا ہے جب وہ "جیسا اور جسطرح "ہر حال میں الحمدللہ کی کیفیت کو اپنا لیتا ہے۔۔۔
    اپنی صورت،لباس،گھر،روزگار،آسائشات کو من و عن تسلیم کر لینے پر آمادہ ہو،
    اللّٰہ کی تقسیم پر راضی اور مطمئن ہو۔
    کسی کے گھر،گاڑی،یا سہولیات پر نظر ہی نہ ہو۔۔۔۔
    کہ یہ دنیا بہت عارضی اور ناپائدار ہے۔۔۔تو غم کیسا؟
    یہاں بہت کچھ ادھورا رہ جاتا،اگر یہ سمٹ کر ایک انسان کے پاس بھی آ جائے تو بالآخر فنا ہی اس کا مقدر ہے۔
    یوں سوچئے کہ بس میرے پاس جو کچھ بھی ہے،اللّٰہ نے مجھے جس قابل سمجھا اور دیا بس پرفیکٹ ہے۔۔۔ !!!
    مجھے دنیا والوں سے کچھ نہیں لینا اور کچھ نہیں سوچنا۔۔۔۔
    ذرا دیکھیئے!
    صحابہ کرام کا دور بلاشبہ دنیا کا بہترین دور تھا اور قیامت تک کے لیئے ویسا دور دوبارہ نہیں لوٹنا،مگر ان کی زندگی کیسی تھی؟
    آسانی،
    سادگی،،
    عدم تکلف،،،
    بابرکت علم تھا اور عمل کی دولت تھی۔۔۔
    متاع دنیا کم سے کم اور نتیجتاً راحت و سعادت اور اطمینان کی دولت تھی۔
    انقلاب محمدی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ابتدائی دور میں علم وحی اور ہدایت ربانی کا عَلم جن لوگوں نے اٹھایا وہ فقیر ومحتاج تھے اور دعوت حق کی مخالفت میں پیش پیش رہنے والے رئیس اور ثروت مند مگر رضوان کن کو ملی؟
    یہ حسد حق پرست فقیروں سے بھی ہوتا رہا ہے
    یہ دنیوی اسباب اللّٰہ کے ہاں مچھر کے پر جتنی حیثیت بھی نہیں رکھتے،
    چنانچہ ان چیزوں کی چاہ میں خود کو حسد میں دھکیلنے کی بجائے اپنی زندگی میں نظم و ضبط کی عادت ڈالیئے۔
    ولیم جیمس کہتا ہے:
    "ہم انسان ان چیزوں کے بارے میں سوچتے رہتے ہیں جو ہماری ملکیت نہیں ہوتیں،اور جو پاس ہوں ان کی قدر نہیں کرتے۔۔۔؟
    نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
    آدمی کے دل میں ایمان اور حسد جمع نہیں ہو سکتے۔(رواہ النسائی)
    کبھی فرمایا:”لوگوں میں افضل وہ ہے جس کے دل میں بغض و حسد نہ ہو۔(ابن ماجہ)
    تو سوچئے کہ اگر ہمیں حسد کا مرض لاحق ہو گیا تو پھر ایمان کی خیر منانی چاہیئے اور اگر ایمان کامل ہے تو پھر حسد کا جذبہ کبھی نہیں ابھرے گا،
    کسی کا دکھ ہمارا دکھ،
    کسی کی خوشی ہماری خوشی ہو گی۔۔۔
    آئیے عہد کریں کہ اس تکلیف میں خود کو کیوں تڑپائیں جو ممنوع ہے،
    اپنی زندگی میں جینے کا ہنر سیکھیں،
    محبت،خوشبو اور پھولوں کی سوداگری کریں،
    کانٹوں اور اذیتوں سے دامن چھڑا لیں اپنے حصے کا سفر طے کرتے جائیں کہ یہی سکونِ زندگی ہے۔۔۔ !اللّٰہ ہمیں اس بیماری سے بچائے جس کا کوئی اجر ہی نہیں۔۔۔۔ !!!
    بقلم:جویریہ چوہدری۔

  • "آٹھ اکتوبر کا زلزلہ اور مقبوضہ کشمیر میں 65 دن کا کرفیو، ہونے کیا جا رہا ہے” تحریر: محمد عبداللہ

    "آٹھ اکتوبر کا زلزلہ اور مقبوضہ کشمیر میں 65 دن کا کرفیو، ہونے کیا جا رہا ہے” تحریر: محمد عبداللہ

    اس وقت ہم سیالکوٹ کے ایک تعلیمی ادارے میں نائنتھ کلاس میں زیر تعلیم تھے. وہ 08 اکتوبر 2005 کی صبح کا وقت تھا اور کلاس روم میں انگلش کا پریڈ جاری تھا.میں کلاس روم میں پچھلے بنچوں پر موجود طلباء سے سبق سن رہا تھا (مانیٹر ہوتے تھے ہم) کہ اچانک کمرہ لرزنے لگا، سر قدرت اللہ ہمارے انگریزی کے استاد تھے وہ باہر نکلے تو دیکھا زلزلہ آیا ہوا ہے انہوں نے سب طلباء کو باہر نکلنے کو کہا ہم سب بھاگ کر باپر نکلے اور عمارتوں کے درمیان گراؤنڈ میں آکر بیٹھ گئے اور استغفار کے کلمات زبان سے جاری ہونے لگے. تعلیمی ادارے کی مسجد کے مینار کافی لمبے تھے ان کو زلزلے میں باقاعدہ درختوں کی ٹہنیوں کی طرح لہراتے دیکھا تو دل اچھل کر حلق میں آگیا. یہ دو تین منٹ کے لمحات قیامت کے لمحات تھے مگر ہمیں کیا پتا تھا کہ پاکستان کے کچھ علاقوں اور بالخصوص آزاد کشمیر کے دارلحکومت مظفرآباد اور گرد و نواح میں واقعی یہ لمحات قیامت بن کر ٹوٹے تھے اور ہزاروں لوگ لقمہ اجل بن گئے تھے. بعد کے اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 86 ہزار لوگ اس زلزلے میں جاں بحق ہوگئے تھے. تقریباً ستر ہزار کے قریب لوگ زخمی تھے اور معمولی زخمی نہیں تھے بلکہ کسی کا بازو کٹ چکا تھا تو کسی کی ٹانگ، کوئی ٹنوں ملبے تلے پھنسا تھا تو کوئی دریا کی لہروں کے سپرد ہوا تھا وہ قیامت صغریٰ کے مناظر تھے جو ان آنکھوں نے دیکھے.ریسکیو اور ریلیف کا ایک لمبا سلسلہ تھا جو شروع ہوا تو دنیا بھر سے امداد آنی شروع ہوئی، پاکستانیوں نے بھی اپنے بھائیوں کے لیے اپنے مال اور راشن کے منہ کھول دیئے اور ہر بندے نے اپنی حیثیت سے بڑھ کر تعاون کیا اور زخمیوں اور پیچھے بچ جانے اور بے گھر ہونے والے تقریباً 2.8 ملین لوگوں کو سہارا دیا. خوراک، میڈیسن، بستر، کپڑے، راشن الغرض ہر چیز کے ٹرکوں کی لمبی لائنیں تھیں جو ان لوگوں تک پہنچی اور وہ پھر سے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے قابل ہوئے.
    کیا بھارت کشمیر کو آزاد کرکے پاکستان کی بقاء ممکن بنائے گا؟؟؟ محمد عبداللہ
    ابھی کچھ دن قبل آزاد کشمیر کے ہی علاقے میرپور میں پھر سے زلزلہ آیا جس نے آٹھ اکتوبر والے زلزلے کی غمناک یادیں تازہ کردیں. گوکہ اس زلزلے میں زیادہ نقصان تو نہ ہوا لیکن آرمی اور دیگر ریسکیو کے ادارے پہنچے اور ریسکیو اور ریلیف کا کام شروع کرکے لوگوں کو بحالی میں مدد دی. لیکن ایک زلزلہ پچھلے دو ماہ سے بھی زائد عرصہ میں شہ رگ پاکستان کے مقبوضہ علاقے میں بھی جاری ہے. ستر سالوں سے بھارتی افواج کے ظلم و ستم کی چکی میں پستے کشمیریوں کی حالت زار پچھلے 65 دن کے کرفیو سے اور بھی محدوش ہوچکی ہے. آزاد کشمیر اور پاکستان کے دیگر علاقوں میں زلزلہ آیا تو پاکستان سمیے دنیا بھر سے امداد کی ایک لمبی لائن تھی جس کا ہم اوپر والی سطور میں ذکر کرچکے اس کے علاوہ افواج پاکستان ، ریسکیو کے اداروں سمیت مذہبی جماعتوں کے ہزاروں رضاکاروں پر مشتمل ریسکیو اور امدادی کاروائیاں جاری رکھنے، ملبہ ہٹانے، زخمیوں کو فیلڈ اسپتالوں میں پہنچانے، ان کو خوراک ، پانی اور بستر دینے، ان کے گھر تعمیر کرنے اور دیگر ریلیف کے مختلف کام والوں کی بہت بڑی تعداد تھی لیکن موجودہ کرفیو کی کیفیت میں مقبوضہ وادی کے لوگوں کی مدد کرنے والا کوئی بھی نہیں ہے، 65 دن کے کرفیو میں کاروبار اور دیگر ذرائع آمدن کی بندش نے کشمیریوں کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے.بھوک و پیاس سے جاں بلب کشمیری اطراف و کنار میں دیکھتے ہیں لیکن ان کی مدد و حمایت والی ساری آوازیں خاموش کرائی جاچکی ہیں. کشمیریوں کے گھروں سے راشن، بچوں کے لیے دودھ اور اسپتالوں کے بند ہونے سے بیماروں کے پاس سے دوائیاں بالکل ختم ہوچکی ہیں اور کہیں سے مدد کا کوئی سلسلہ نہیں ہے. بھارتی افواج کا ظلم و تشدد، جیلوں کو بھرنا، ساری کی ساری قیادت کا قید ہونا، آئے روز شہادتیں، مسلسل اجتماعی قبروں میں بیسیوں کشمیریوں کو دفنانے کا سلسلہ جاری ہے. اگر یہ کرفیو جلد از جلد ختم نہیں ہوتا تو اس خطہ ارض پر بہت بڑا انسانی بحران اور حادثہ پیدا ہونے جارہا ہے جس سے صرف آٹھ ملین کشمیری ہی متاثر نہیں ہونگے بلکہ پاکستان و بھارت بھی جنگ کی لپیٹ میں آئیں گے اور یہ دو ایٹمی اور نظریاتی ملکوں کی جنگ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لی گی. بھارت نے اس کرفیو اور آرٹیکل 370 کو ختم کرنے سے قبل کمال ہوشیاری سے اپنی پراپیگنڈا مشینری کو استعمال کرتے ہوئے کشمیریوں کے حق میں پاکستان سے ان کے لیے اٹھنے والی سبھی مضبوط اور موثر آوازوں کو خاموش کروا دیا ہوا ہے، ایف اے ٹی ایف کے شکنجے کیں پاکستان کو جکڑ کر اپنی مرضی کے فیصلے کروائے جا رہے ہیں اور اس سلسلے میں پاکستان کے حکمران بے بس نظر آتے ہیں.
    "عمران خان کی اقوام متحدہ میں تقریر کا اک انتہائی اہم پہلو” !!! تحریر محمد عبداللہ
    گوکہ عالمی سطح پر پاکستان کی انتظامیہ اور بالخصوص وزیراعظم پاکستان عمران خان مسئلہ کشمیر کو بہت احسن انداز میں ڈسکس کر رہے ہیں اور یہ ایشو دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کر رہا ہے لیکن یہ عام حالات نہیں ہیں کہ جس میں صرف تقریریوں یا سفارتی اقدامات تک محدود رہا جائے یہ ہنگامی حالات ہیں کشمیری 65 دن کے کرفیو سے قریب المرگ ہیں. ساری حریت قیادت قید ہے اور پاکستان میں بھی ان کے ہمنوا پابندیوں میں ہیں. ایسے میں اقوام عالم اور بالخصوص حکومت پاکستان کو جاں بلب کشمیریوں کے لیے کچھ عملی اقدامات کرنے چاہیں جو آٹھ ملین کے شدید ترین انسانی بحران کو بچانے میں اہم کردار ادا کر سکیں.
    مصنف کے بارے میں جانیے اور ان کے مزید مضامین پڑھیے

    Muhammad Abdullah
    Muhammad Abdullah
  • ریاست پاکستان اور سیاسی بازی گری    ، تحریر  محمد نعیم شہزاد

    ریاست پاکستان اور سیاسی بازی گری ، تحریر محمد نعیم شہزاد

    ریاست پاکستان اور سیاسی بازی گری
    محمد نعیم شہزاد

    ریاست پاکستان انعام خداوندی ہے اور صحیح معنوں میں اسلام کا قلعہ مانی جاتی ہے۔ اس میں کمال یقیناً اس ایقان و یقین کا ہے جو ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ اسی جذبہ ایمانی کی بدولت پاکستانی قوم دنیا میں اپنا ایک خاص تعارف رکھتی ہے۔ اور یہی قوت ہماری صلاحیتوں کو چار چاند لگاتی ہے اور کامیابیوں سے ہمکنار کرتی ہے۔ دوسری طرف پاکستان کے سیاسی نظام کی بات کی جائے تو پاکستان ایک ایسا جمہوری ملک ہے جہاں جمہوری نظریات پنپتے دکھائی نہیں دیتے ہیں اور ہر کوئی اپنی دوکان چمکاتا نظر آتا ہے۔ ہر صاحب اقتدار جمہوریت کا منتخب ہونے کا دعویدار ہے اور ہر مخالف منتخب حکومت میں سقم ثابت کرنے پر تلا نظر آتا ہے۔ اپنے مختصر عرصہ حیات میں میں نے ایک بھی ایسی حکومت نہیں دیکھی جس کو اپوزیشن نے جائز حکومت تسلیم کیا ہو۔ دھاندلی، سلیکٹڈ حکومت، پری پلان حکومت وغیرہ کے نعرے ہی بار بار سننے کو ملتے ہیں۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بجائے اس کے کہ سیاسی جماعتیں بالغ نظری کا مظاہرہ کرتیں، ان نعروں اور اعتراضات میں بھی جدت آئی ہے۔ انہی جدتوں میں ایک مخالف پارٹی پر مذہب کے نام پر الزام تراشی اور بہتان بازی بھی ہے۔

    میری گزارشات کا مطمع نظر بعض ناپسندیدہ پہلوؤں کی نشاندہی اور اصلاح احوال کی کوشش ہے۔ اس امید پر کہ

    شاید کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات

    سابقہ تاریخ کو دہرانے میں وقت ضائع کرنے کی بجائے ہم موجودہ حکومت اور اس کے مخالفین کے طرز عمل سے چند مثالیں بیان کرنے پر اکتفا کریں گے۔

    پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اور وزیر اعظم عمران خان پر جہاں اور بہت سے اعتراضات کیے گئے وہیں ایک اعتراض "یہودی ایجنٹ” اور "قادیانی نواز” بھی ہے۔ عمران خان اپنے سیاسی کیریئر کے 22 سال بعد وزارت عظمی کے منصب پر فائز ہوئے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب تک انھیں یہ وزارت نہ ملی تھی یا ان کی پارٹی ایک مضبوط عوامی طاقت کے طور پر سامنے نہ آئی تھی، یہ الزامی سیاست کہاں تھی؟ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ ان ہتھکنڈوں کا مقصد محض کسی کی عوامی مقبولیت کو کم کرنا اور شخصیت کو متنازع و داغدار بنانا ہے۔ اور اس کی ضرورت تب ہی ہو گی جب کوئی کسی اہم منصب پر پہنچ جائے۔ ورنہ سابقہ 22 برس کی سیاست میں یہ الزامات لگے ہوتے تو یہ شخص اس مقام پر پہنچنے سے پہلے ہی عوامی حلقوں میں تنقید کا شکار ہوتا۔ پھر وزیراعظم کی کارکردگی اور پالیسیوں کو دیکھا جائے تو بھی یہ تاثر زائل ہو جاتا ہے۔ ایک ایسا وزیر اعظم جو ایک شخص کو محض قادیانی ہونے کی بنا پر علی الاعلان مالی مشیر مقرر نہ کرے اور بین الاقوامی فورم پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں اسلام اور پیغمبر اسلام کا دفاع کرے اس کے ایمان اور اسلام سے وفاداری پر حرف اٹھانا بعید از قیاس ہے۔ دین اسلام بھی یہی تعلیم دیتا ہے کہ دوسروں سے حسن ظن رکھا جائے تو یہ کیسا کمال ہے کہ ہم زبردستی خود ساختہ گستاخی کے فتوے اور اسلام دشمنی کے منصوبے کسی سے منسوب کر دیں۔ اسی دورہ امریکہ کے بعد اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب کی تبدیلی سامنے آئی تو ایک بار پھر پورے زور سے منیر احمد شیخ کو قادیانی اور حکومت کو قادیانی نواز قرار دینے کی بھرپور کیمپین چلی مگر موثر ثابت نہ ہو سکی۔

    آنے والے دنوں میں جمعیت علمائے اسلام کے رہنما مولانا فضل الرحمن صاحب اسلام آباد میں دھرنے کا پلان رکھتے ہیں۔ دھرنے کے مقاصد کو اسلام سے جوڑا جا رہا ہے اور یہ اعتراض سامنے آ رہا ہے کہ مولانا مذہب کارڈ استعمال کر رہے ہیں۔ مگر ساتھ ہی ان کو دھرنے سے روکنے کی کوششوں میں جن طریقوں توہین مذہب کو روا رکھا جا رہا ہے شاید وہ خان صاحب کے جنرل اسمبلی میں کیے گئے خطاب کا منہ چڑا رہے ہیں۔ سیاسی مقاصد یا کسی بھی طرح کے مفاد کے لیے مذہب کا استعمال قابل مذمت ہے تو سیاسی مخاصمت کی آڑ میں مذہب دشمنی اور توہین مذہب بھی قابل مذمت ہے۔ جس طرح سے مولانا کے دھرنے کے حوالے سے مبینہ ہدایت نامہ، شرائط نامہ اور پھر اسلام آباد انتظامیہ کی طرف سے نوٹیفکیشن سوشل میڈیا پر دکھا کر پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے اور دھرنے کے ممکنہ غیر اخلاقی مضمرات بیان کیے جا رہے ہیں کیا حکومتی جماعت کو ان مضمرات سے آگاہی اب حاصل ہوئی ہے؟

    بہرحال کوشش کی جائے کہ معاملات کو باہم افہام و تفہیم سے حل کیا جائے اور اگر فریق مخالف پر تنقید و تنقیح کے بغیر چارہ کار نہ ہو تو بہر صورت اخلاقی حدود قیود کا خیال رکھا جائے اور معاشرے میں مثبت رویوں کو رجحان دیا جائے۔ الزامی سیاست، مذہب کارڈ اور مذہب مخالف سوچ سے گریز کیا جائے اور اپنی جماعت کو کارکردگی کی بنیاد پر عوام کے سامنے پیش کیا جائے نہ کہ دوسروں پر کیچڑ اچھال کر خود کو صاف ستھرا دکھانے کی کوشش کی جائے۔

  • ریاست پاکستان اور سیاسی بازی گری—از–محمد نعیم شہزاد

    ریاست پاکستان اور سیاسی بازی گری—از–محمد نعیم شہزاد

    ریاست پاکستان انعام خداوندی ہے اور صحیح معنوں میں اسلام کا قلعہ مانی جاتی ہے۔ اس میں کمال یقیناً اس ایقان و یقین کا ہے جو ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ اسی جذبہ ایمانی کی بدولت پاکستانی قوم دنیا میں اپنا ایک خاص تعارف رکھتی ہے۔ اور یہی قوت ہماری صلاحیتوں کو چار چاند لگاتی ہے اور کامیابیوں سے ہمکنار کرتی ہے۔

     

     

    دوسری طرف پاکستان کے سیاسی نظام کی بات کی جائے تو پاکستان ایک ایسا جمہوری ملک ہے جہاں جمہوری نظریات پنپتے دکھائی نہیں دیتے ہیں اور ہر کوئی اپنی دوکان چمکاتا نظر آتا ہے۔ ہر صاحب اقتدار جمہوریت کا منتخب ہونے کا دعویدار ہے اور ہر مخالف منتخب حکومت میں سقم ثابت کرنے پر تلا نظر آتا ہے۔

     

     

    اپنے مختصر عرصہ حیات میں میں نے ایک بھی ایسی حکومت نہیں دیکھی جس کو اپوزیشن نے جائز حکومت تسلیم کیا ہو۔ دھاندلی، سلیکٹڈ حکومت، پری پلان حکومت وغیرہ کے نعرے ہی بار بار سننے کو ملتے ہیں۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بجائے اس کے کہ سیاسی جماعتیں بالغ نظری کا مظاہرہ کرتیں، ان نعروں اور اعتراضات میں بھی جدت آئی ہے۔ انہی جدتوں میں ایک مخالف پارٹی پر مذہب کے نام پر الزام تراشی اور بہتان بازی بھی ہے۔

    میری گزارشات کا مطمع نظر بعض ناپسندیدہ پہلوؤں کی نشاندہی اور اصلاح احوال کی کوشش ہے۔ اس امید پر کہ

    شاید کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات

    سابقہ تاریخ کو دہرانے میں وقت ضائع کرنے کی بجائے ہم موجودہ حکومت اور اس کے مخالفین کے طرز عمل سے چند مثالیں بیان کرنے پر اکتفا کریں گے۔

    پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اور وزیر اعظم عمران خان پر جہاں اور بہت سے اعتراضات کیے گئے وہیں ایک اعتراض "یہودی ایجنٹ” اور "قادیانی نواز” بھی ہے۔ عمران خان اپنے سیاسی کیریئر کے 22 سال بعد وزارت عظمی کے منصب پر فائز ہوئے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب تک انھیں یہ وزارت نہ ملی تھی یا ان کی پارٹی ایک مضبوط عوامی طاقت کے طور پر سامنے نہ آئی تھی، یہ الزامی سیاست کہاں تھی؟

    بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ ان ہتھکنڈوں کا مقصد محض کسی کی عوامی مقبولیت کو کم کرنا اور شخصیت کو متنازع و داغدار بنانا ہے۔ اور اس کی ضرورت تب ہی ہو گی جب کوئی کسی اہم منصب پر پہنچ جائے۔ ورنہ سابقہ 22 برس کی سیاست میں یہ الزامات لگے ہوتے تو یہ شخص اس مقام پر پہنچنے سے پہلے ہی عوامی حلقوں میں تنقید کا شکار ہوتا۔ پھر وزیراعظم کی کارکردگی اور پالیسیوں کو دیکھا جائے تو بھی یہ تاثر زائل ہو جاتا ہے۔ ایک ایسا وزیر اعظم جو ایک شخص کو محض قادیانی ہونے کی بنا پر علی الاعلان مالی مشیر مقرر نہ کرے اور بین الاقوامی فورم پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں اسلام اور پیغمبر اسلام کا دفاع کرے اس کے ایمان اور اسلام سے وفاداری پر حرف اٹھانا بعید از قیاس ہے۔

    دین اسلام بھی یہی تعلیم دیتا ہے کہ دوسروں سے حسن ظن رکھا جائے تو یہ کیسا کمال ہے کہ ہم زبردستی خود ساختہ گستاخی کے فتوے اور اسلام دشمنی کے منصوبے کسی سے منسوب کر دیں۔ اسی دورہ امریکہ کے بعد اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب کی تبدیلی سامنے آئی تو ایک بار پھر پورے زور سے منیر احمد شیخ کو قادیانی اور حکومت کو قادیانی نواز قرار دینے کی بھرپور کیمپین چلی مگر موثر ثابت نہ ہو سکی۔

    آنے والے دنوں میں جمعیت علمائے اسلام کے رہنما مولانا فضل الرحمن صاحب اسلام آباد میں دھرنے کا پلان رکھتے ہیں۔ دھرنے کے مقاصد کو اسلام سے جوڑا جا رہا ہے اور یہ اعتراض سامنے آ رہا ہے کہ مولانا مذہب کارڈ استعمال کر رہے ہیں۔ مگر ساتھ ہی ان کو دھرنے سے روکنے کی کوششوں میں جن طریقوں توہین مذہب کو روا رکھا جا رہا ہے شاید وہ خان صاحب کے جنرل اسمبلی میں کیے گئے خطاب کا منہ چڑا رہے ہیں۔

     

     

    سیاسی مقاصد یا کسی بھی طرح کے مفاد کے لیے مذہب کا استعمال قابل مذمت ہے تو سیاسی مخاصمت کی آڑ میں مذہب دشمنی اور توہین مذہب بھی قابل مذمت ہے۔ جس طرح سے مولانا کے دھرنے کے حوالے سے مبینہ ہدایت نامہ، شرائط نامہ اور پھر اسلام آباد انتظامیہ کی طرف سے نوٹیفکیشن سوشل میڈیا پر دکھا کر پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے اور دھرنے کے ممکنہ غیر اخلاقی مضمرات بیان کیے جا رہے ہیں کیا حکومتی جماعت کو ان مضمرات سے آگاہی اب حاصل ہوئی ہے؟

    بہرحال کوشش کی جائے کہ معاملات کو باہم افہام و تفہیم سے حل کیا جائے اور اگر فریق مخالف پر تنقید و تنقیح کے بغیر چارہ کار نہ ہو تو بہر صورت اخلاقی حدود قیود کا خیال رکھا جائے اور معاشرے میں مثبت رویوں کو رجحان دیا جائے۔ الزامی سیاست، مذہب کارڈ اور مذہب مخالف سوچ سے گریز کیا جائے اور اپنی جماعت کو کارکردگی کی بنیاد پر عوام کے سامنے پیش کیا جائے نہ کہ دوسروں پر کیچڑ اچھال کر خود کو صاف ستھرا دکھانے کی کوشش کی جائے۔

    ریاست پاکستان اور سیاسی بازی گری

    از–محمد نعیم شہزاد

  • اپوزیشن نومبر میں کیا کرنے جارہی ہے؟ –از — عبداللہ باغی

    اپوزیشن نومبر میں کیا کرنے جارہی ہے؟ –از — عبداللہ باغی

    حکومت اور اپوزیشن دونوں نے مسائل کاحل نہ ہونے کی وجہ سے ایک دوسرے کے خلاف بیان بازیوں کا محاذ کھولا ہواہے کبھی کہا جارہاہے کہ نومبر اہم ہے۔ جب نواز شریف کی حکومت تھی اس وقت بھی یہی باتیں ہوتی تھیں کہ یہ مہینہ اہم ہے اور وہ مہینہ اہم ہے۔یہ بات درست ہے کہ ملکی حالات درست نہیں ہیں۔

    اس وقت سیاسی محاذ پرمولانافضل الرحمان کا دھرنا اور جلسہ چھایا ہواہے اگر حکومت ڈلیور کررہی ہوتی تو لوگ اس پر قطعاً توجہ نہ دیتے۔ ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں رابطہ موجود ہے وہ دھرنے میں شامل ہوں یا نہ ہوں لیکن جلسہ میں شامل ہوتے ضرور دیکھائی دے رہے ہیں۔ اکتوبر کے بعد اپوزیشن اپنی نئی حکمت عملی بھی بناسکتی ہے اس لئے نومبر کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ اہم ہے۔

    تحریک انصاف کی حکومت سے لوگوں کوبڑی امیدیں تھیں لیکن ابھی تک کچھ ایسا نہیں ہوا۔جس سے یہ کہا جا ئے کہ حکومت۔۔ سیف۔۔پوزیشن میں ہے۔ ن لیگ اور پیپلز پارٹی فضل الرحمان کے ساتھ جاناچاہتی ہیں لیکن وہ نظام کو بھی غیر مستحکم نہیں کرنا چاہتیں۔اس وقت ایسا دیکھائی دے رہا ہے کہ پاکستان کے مسائل حل کرنے کا لائحہ عمل نہ حکومت کے پاس ہے اور نہ اپوزیشن کے پاس ہے دونوں اپنے اپنے اندا ز میں بیوقوفیاں کررہے ہیں۔

    ۔ مولانا فضل الرحمان کو احتجاج کاحق ہے لیکن اس سے کسی کی زندگی متاثر نہیں ہونی چاہیے۔ یہ کہنا کہ طاہر القادری اور عمران خان نے بھی تو دھرنا دیا تھا۔ تواس کا مطلب یہ نہیں کہ اگر انھوں نے غلط کیا تھا تو

    آپ بھی غلط کریں۔ تحریک انصاف کی حکومت بھی الگ قسم کی ہے اور اپوزیشن بھی الگ قسم کی ہے حکومت کو چاہئے کہ مولانا فضل الرحمان کومنائے۔یہ عجیب سا منظر نظر آرہاہے کہ اپوزیشن کی دو بڑی جماعتیں مولانا فضل الرحمان کو روک رہی ہے دھرنے کو اکتوبر سے آگے لے جائیں جبکہ حکومت بھی مدارس کے علماسے کہہ رہی ہے کہ مولانا فضل الرحمان کے دھرنے میں شامل نہ ہوں۔یہ بات درست ہے کہ اپوزیشن کو ایک کے بعد ایک دھچکا لگاہے اور ایک سال بعد حکومت اگر گرتی ہے تو اس سے معیشت درست نہیں ہوگی۔ حکومت کومختلف اداروں کی حمایت حاصل ہے اس لئے اس وقت احتجاج کرنا اپوزیشن کے فائدے میں نظر نہیں آتا ہے۔

    ۔ چند دن پہلے تک تو حکومت کا خیال تھا کہ مولانا فضل الرحمن کسی نہ کسی بہانے اپنا آزادی مارچ ملتوی کر دیں گے۔حالانکہ آزاد ذرائع کی اطلاعات یہی تھیں کہ وہ اپنے پروگرام پر ڈٹے ہوئے ہیں اور کسی حلیف یا حریف کی بات اس سلسلے میں ماننے کے لئے آمادہ نہیں ہیں۔اب حکومت کے سنجیدہ حلقوں کو یہ پریشانی لاحق ہے کہ دھرنا کے اثرات آخر کیا ہوں گے۔ اب حکومت ہاتھ پاؤں مار رہی ہے۔ جبکہ پہلے سب ہر چیز کا مذاق اُڑا رہے تھے۔ اب جب سر پر پڑی ہے تو حکومت سر ڈھر کی بازی لگاتی دیکھائی دے رہی ہے۔اب حکومتی وزیر مولانا کو لیگل نوٹس بھجوارہے ہیں۔ تو کسی عدالت میں مارچ کو روکنے کی استداعا کی جا رہی ہے۔

    ۔ حکومت کا یہ بھی الزام ہے کہ مولانافضل الرحمان مدرسہ ریفارم نہیں چاہتے۔فضل الرحمان مذہب کوسیاست میں استعمال کررہے ہیں۔مولانافضل الرحمان نے مذہب کے نام پرچندہ اکٹھاکیا۔ جبکہ ہم

    نے دھرنے میں مذہب کواستعمال نہیں کیا تھا۔مولانا فضل الرحمان الزاما ت لگا کر لوگوں کو اشتعال دلا رہے ہیں۔ وہ پہلے دن سے ہی بلیک میلنگ کی سیاست کر رہے ہیں۔مولانا فضل الرحمان الیکشن میں شکست کا بدلہ لینا چاہتے ہیں۔ انہوں نے بطور چیئرمین کشمیر کمیٹی کے کروڑوں روپے کا بجٹ استعمال کیا ہے۔ مولانا فضل الرحمان بچوں کو ڈوبتی سیاست بچانے کیلئے استعمال کر رہے ہیں مولانا جس ایجنڈے پر ہیں اس سے صر ف مودی کو فائدہ ہور ہاہے۔

    ۔ دوسری جانب یہ خبریں بھی زیر گردش ہیں۔کہ اپوزیشن جماعتوں کے درمیان چارٹر آف ڈیمانڈ پر مکمل اتفاق رائے ہوگیا ہے۔چارٹر آف ڈیمانڈ کے تین اہم نکات ہیں جس میں حکومت کے استعفے۔صاف شفاف منصفانہ عبوری انتخابات کے انعقاد اور الیکشن کمیشن کے علاوہ کسی اور ادارے کی انتخابی عمل میں مداخلت نہ ہونے۔اسلامی آئینی ترامیم و قوانین کا تحفظ شامل ہیں۔ رہبر کمیٹی نے تمام جماعتوں کی متفقہ چارٹر آف ڈیمانڈ کیلئے تجاویز تحریری طورپر متحدہ حزب اختلاف کے قائدین محمد شہباز شریف۔ بلاول بھٹو زرداری۔مولانا فضل الرحمن۔اسفندیارولی خان۔محمود خان اچکزئی۔آفتاب احمد شیرپاو۔علامہ اویس نورانی۔ سینیٹرپروفیسر ساجد میر کو آگاہ کردیا تھا۔کسی بھی مذاکراتی ٹیم سے چارٹرآف ڈیمانڈ سے ہٹ کربات نہیں کی جائے گی۔

    ۔ اس ملک کے لوگوں کے پاس پیسہ ہے اور ریاست کے پاس پیسہ نہیں ہے۔ دھرنوں کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ دنیا بھر کے سفارتخانے اپنے اپنے ملکوں کو لکھ کر بھیجتے ہیں کہ پاکستان کا دارالحکومت محفوظ نہیں ہے۔اور جب ایسا ہوتا ہے تو سرمایہ کاری رک جاتی ہے۔اسٹاک ایکسینج بیٹھ جاتی ہے۔ کاروبار اور زندگی

    متاثر ہو جاتی ہے۔جس کا اس وقت پاکستان اس کمزور معیشت کے ساتھ کسی صورت متحمل نہیں ہوسکتا۔ ڈی چوک میں ہونیوالی یہ سرگرمی دارالحکومت سمیت پورے ملک کومتاثر کرتی ہے۔ اگر حکومت چاہے تو تمام سیاسی جماعتوں کو انگیج کرسکتی ہے۔مگر اس کے لیے سیاسی بصیریت کی ضرورت ہے۔جو اس وقت حکومت میں بیٹھے لوگوں میں دیکھائی نہیں دے رہی۔

    ۔ مولانا فضل الرحمن کا دعویٰ تو یہ ہے کہ حکومت خود ہی مستعفی ہو جائے گی۔لیکن اگر اس دعوے میں مبالغہ ہے تو بھی اتنا ضرور ہے کہ اگر ایسا نہ بھی ہوا تو بھی حکومت کے وجود میں ایک بڑا ڈینٹ پڑ جائے گا۔ عین ممکن ہے جو وزیر اس وقت بیان بازی کے مزے لے رہے ہیں کل کو اپنی سیاسی بصیرت پر افسوس کررہے ہوں۔

    اپوزیشن نومبر میں کیا کرنے جارہی ہے

    تحریر ِ عبداللہ باغی

    Muhammad Abdullah
  • "سوچ ہمیں کیسے بڑا بناتی ہے” تحریر: عبداللہ قمر

    "سوچ ہمیں کیسے بڑا بناتی ہے” تحریر: عبداللہ قمر

    ہر انسان کی زندگی کے اندر کچھ ایسے موڑ آتے ہیں جب اس لگنے لگتا ہے کہ وہ ہار گیا ہے، وہ اپنا مقصد پورا نہیں کر سکا. وہ ٹھکرا دیا گیا ہے، کائنات نے اسے ٹھکرا دیا ہے، اللہ نے اسے ٹھکرا دیا ہے (معاذاللہ). لوگوں میں اس کی مقبولیت نہیں رہی اور اس کی اونچی آواز سے سماعت چھین لی گئی ہے، اس کی بات سنتا کوئی نہیں. لوگ اس کو پسند نہیں کرتے، اس کی شان میں قصیدے پڑھنے والے اب اس کے پاس نہیں بیٹھتے. ہر طرف مایوس ہی مایوسی ہے، اندھیر ہی اندھیرا ہے. بات تو کسی حد تک درست ہے، اکثریت لوگ یہاں آ کر ہار قبول کر لیتے اور زندگی کی اس مشکل دوڑ سے باہر نکل جاتے ہیں.

    لیکن!!!

    یہ اندھیرے یہ مایوسیاں، ان کا وجود صرف اور صرف ہمارے دل و دماغ میں ہوتا ہے. چیزوں کی حقیقت ضرور ہوتی ہے مگر جس حد تک ہم سوچ رہے ہوتے ہیں ویسا بالکل نہیں ہوتا. ہم اس قدر مایوس ہو جاتے ہیں یہ بھی ہماری سوچ ہی کی طاقت ہوتی ہے. ان مایوس سوچوں کی واحد وجہ ہماری سوچ، ہمارے مقصد، ہماری شخصیت اور ہمارے زاویہ نظر کا چھوٹا ہونا ہے. زندگی ایک طویل اور اعصاب شکن جنگ کا نام ہے اور چھوٹی بڑی ناکامیاں اس سفر کی خوبصورتی اور اس جنگ کی معراج ہیں، تاج ہیں.

    لیکن

    اگر آپ کا مقصد یہ شان و شوکت، یہ تعریفوں کے پل، یہ ڈگریوں کی دوڑ اور شہرت کی بھوک تھا تو اچھے سے سمجھ لیجیے آپ اپنے انجام کو پہنچ چکے ہیں، جو کچھ آپ کے ساتھ ہو گیا ہے وہی ہونا تھا. کیونکہ یہ چیزیں عارضی ہیں، یہ چیزیں کھوکھلی ہیں اور چِھن جانے والی ہیں. لہٰذا، زندگی کی یہ طویل المدت اور اعصاب شکن جنگ لڑنے کے لیے، اپنے اعصاب کو مضبوط کرنے کے لیے اپنی سوچ میں وسعت پیدا کریں، اپنے زاویہ نگاہ کو بڑا کریں. اپنے اندر کے اک خوبصورت فرد کو ایک قد آور شخصیت بنانے کے لیے اپنی کھوکھلی بنیادوں کو توکل، محاسبہ، عزم، دوام، استقلال، مستقل مزاجی، مردم شناسی، علم، تدبر، تفکر اور تعلق باللہ کے ساتھ بھریں. وگرنہ، زندگی کی یہ جنگ بہت مشکل ہے، گھپ اندھیرا اور بے گھڑے ہیں. ہمارا کام اس سفر میں، اس رستے ہر چلتے رہنا ہے، راستے کھولنا، خوبصورت وادیاں دکھانا اور بالآخر منزل تک پہنچانا اللہ کا کام ہے. کامیابیوں کی اس وادی میں ڈر جانے والوں، بغیر حکمت عملی ترتیب دیے بس چل پڑنے والوں اور رب کی مدد اترنے کا یقین نہ رکھنے والوں کی کوئی جگہ نہیں.

    لہذا..!

    اپنے آپ کو مایوسیوں کے اس جکڑ لینے والے چنگل سے چھڑوانے کے لیے اور اس اندھیرے میں روشنی کے حصول کے لیے اپنے آپ کو چھوٹی سوچ سے آزاد کریں، لوگوں کی باتوں اور ان عبادتوں سے نکلیں، اگر ہمارے دل میں رشتہ داروں، دوستوں، ہمسایوں سے مقابلہ، حسد، بغض اور غرور کے جراثیم بھرے ہوئے ہیں تو پھر میرے بھائی اس اندھیرے میں آپ کو روشنی نہیں مل سکتی.