Baaghi TV

Category: بلاگ

  •  بزدار حکومت کی صوبے میں کفایت شعاری اوربچت کی پالیسی سے کتنی ہوئی بچت ، رپورٹ آگئی

     بزدار حکومت کی صوبے میں کفایت شعاری اوربچت کی پالیسی سے کتنی ہوئی بچت ، رپورٹ آگئی

     بزدار حکومت کی صوبے میں کفایت شعاری اوربچت کی پالیسی سے کتنی ہوئی بچت ، رپورٹ آگئی

    باغی ٹی وی ؛ بزدار حکومت کے صوبے میں کفایت شعاری اوربچت کی پالیسی کیلئے عملی اقدامات، وزیراعلیٰ آفس کے اخراجات میں کئی گناکمی سابقہ دور حکو مت میں مالی سال 2016-17 میں وزیراعلیٰ آفس کی گاڑیوں کی مرمت پر 6 کروڑ 29 لاکھ روپے خرچ کئے گئے
    سابقہ دور حکومت میں مالی سال 2017-18 میں گاڑیوں کی مرمت پر 4 کروڑ 24 لاکھ روپے کے اخراجات ہوئے
    بزدار حکومت میں 2018-19 میں گاڑیوں کی مرمت پر2 کروڑ 93 لاکھ روپے اور 2019-20 (دسمبر تک) صرف 71 لاکھ روپے خرچ
    سابقہ دور حکومت میں 2016-17 میں وزیراعلیٰ آفس کی مینٹی ننس اورمرمت کی مد میں 2 کروڑ 36 لاکھ روپے خرچ کئے گئے
    سابقہ دور حکومت میں مالی سال 2017-18 میں وزیراعلیٰ آفس کی مینٹی ننس تعمیر و مرمت کی مد میں 2 کروڑ 85 لاکھ روپے خرچ کئے گئے
    موجودہ حکومت کے دور میں 2018-19 میں وزیراعلیٰ آفس کی مینٹی ننس اورمرمت کی مد میں 2 کروڑ 30 لاکھ روپے خرچ
    مالی سال 2019-20 میں (جنوری2020تک)وزیراعلیٰ آفس کی مینٹی ننس اورمرمت کی مد میں صرف 54 لاکھ روپے خرچ کیے گئے
    سابق حکومت نے 2017-18 میں وزیراعلیٰ آفس کے کنٹریکٹ سٹاف کو تنخواہوں کی ادائیگی پر 6 کروڑ 65 لاکھ روپے خرچ کئے
    2018-19 میں کنٹریکٹ سٹاف کو تنخواہوں کی ادائیگی پرصرف 19 لاکھ روپے اور رواں مالی سال کے پہلے 6ماہ میں 8 لاکھ روپے خرچ
     شوبازوں کی شاہ خرچی کا کلچرختم کردیا ہے،ماضی کی حکومت نے سرکاری خزانے کو مال مفت کی طرح خرچ کیا:عثمان بزدار
    سرکاری خزانے کو امانت سمجھتے ہیں،غیر ضروری اخراجات کو کنٹرول کیا ہے،قومی وسائل بچا کر فلاح عامہ پر صرف کررہے ہیں
    لاہور 17 جنوری:  وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی حکومت کے دور میں صوبے میں کفایت شعاری اوربچت کی پالیسی کیلئے عملی اقدامات کیے گئے ہیں اوروزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی ہدایت پر وزیراعلیٰ آفس کے اخراجات میں کئی گناکمی کی گئی ہے۔سابقہ دور حکو مت میں مالی سال 2016-17 میں وزیراعلیٰ آفس کی گاڑیوں کی مرمت کی مد میں 6 کروڑ 29 لاکھ روپے خرچ کئے گئے۔سابقہ دور حکومت میں مالی سال 2017-18 میں گاڑیوں کی مرمت پر 4 کروڑ 24 لاکھ روپے کے اخراجات ہوئے۔وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کے دور میں مالی سال 2018-19 میں گاڑیوں کی مرمت کی مد میں 2 کروڑ 93 لاکھ روپے خرچ کئے گئے جبکہ مالی سال 2019-20 (دسمبر تک) گاڑیوں کی مرمت کی مد میں صرف71 لاکھ روپے خرچ کئے گئے۔ سابقہ دور حکومت میں مالی سال 2016-17 میں محکمہ تعمیرات و مواصلات کی جانب سے وزیراعلیٰ آفس کی مینٹی ننس اورمرمت کی مد میں 2 کروڑ 36 لاکھ روپے خرچ کئے گئے۔سابقہ دور حکومت میں مالی سال 2017-18 میں محکمہ تعمیرات و مواصلات کی جانب سے وزیراعلیٰ آفس کی مینٹی ننس تعمیر و مرمت کی مد میں 2 کروڑ 85 لاکھ روپے خرچ کئے گئے۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار حکومت کے دور میں محکمہ تعمیرات و مواصلات کی جانب سے وزیراعلیٰ آفس کی مینٹی ننس اورمرمت کے اخراجات میں نمایاں کمی کی گئی۔مالی سال 2018-19 میں محکمہ تعمیرات و مواصلات کی جانب سے وزیراعلیٰ آفس کی مینٹی ننس اورمرمت کی مد میں 2 کروڑ 30 لاکھ روپے خرچ کیے گئے جبکہمالی سال 2019-20 میں (جنوری2020تک) محکمہ تعمیرات و مواصلات کی جانب سے وزیراعلیٰ آفس کی مینٹی ننس اورمرمت کی مد میں صرف 54 لاکھ روپے خرچ کیے گئے۔سابق حکومت نے مالی سال 2017-18 میں وزیراعلیٰ آفس کے کنٹریکٹ سٹاف کو تنخواہوں کی ادائیگی کی مد میں 6 کروڑ 65 لاکھ روپے خرچ کرڈالے۔وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کے دور میں مالی سال2018-19 میں وزیراعلیٰ آفس کے کنٹریکٹ سٹاف کو تنخواہوں کی ادائیگی کی مد میں کروڑ وں روپے کی بچت کی گئی۔

    مالی سال2018-19 میں وزیراعلیٰ آفس کے کنٹریکٹ سٹاف کو تنخواہوں کی ادائیگی کی مد میں صرف 19 لاکھ روپے اداکیے گئے جبکہرواں مالی سال کے پہلے 6ماہ میں وزیراعلیٰ آفس کے کنٹریکٹ سٹاف کو تنخواہوں کی ادائیگی کی مد میں 8 لاکھ روپے ادا کیے گئے۔وزیراعلیٰ کی رہائش گاہ7کلب روڈ پر پردوں کی تبدیلی میں بھی کفایت شعاری سے کام لیاگیا۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار کا کہنا ہے کہ ہم نے شوبازوں کی شاہ خرچی کا کلچرختم کردیا ہے۔ماضی کی حکومت نے سرکاری خزانے کو مال مفت کی طرح خرچ کیا۔سرکاری خزانے کو امانت سمجھتے ہیں۔غیر ضروری اخراجات کوبہت حد تک کنٹرول کرلیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پروٹوکول اورسکیورٹی کی مد میں بھی کروڑوں روپے بچائے گئے ہیں۔ قومی وسائل بچا کر عوام کی فلاح وبہبود پر صرف کررہے ہیں۔

    ب

  • اور تھرڈ ایمپائر نے نو بال کہ کر ناٹ آؤٹ قرار دے دیا۔۔۔از—اسدعباس خان

    اور تھرڈ ایمپائر نے نو بال کہ کر ناٹ آؤٹ قرار دے دیا۔۔۔از—اسدعباس خان

    ٹھیک 21 برس پہلے کی بات ہے، فروری 1999ء میں پاک بھارت کرکٹ سیریز کا ٹیسٹ میچ فیروز شاہ کوٹلہ گراؤنڈ دہلی میں کھیلا جا رہا تھا۔ جہاں کرکٹ کی تاریخ کا منفرد واقعہ پیش آیا جب ہندوستانی لیگ اسپنر باؤلر انیل کمبلے تن تنہا ایک ہی اننگز میں دس وکٹ لے اڑے اور اکیلے ہی ساری پاکستانی اننگز کی بساط لپیٹ دی۔ دراصل اس میچ میں ‘جے پرکاش’ نامی ہندوستانی ایمپائر نہ جانے کیا ٹھان کر آیا تھا کہ بس کب ‘گیند’ کسی بیٹسمین کے ‘پیڈ’ پر لگے اور ‘انیل کمبلے’ آؤٹ کی درخواست کرے۔ آوٹ دینے کو وہ ایمپائر پہلے سے ہی تیار کھڑا ہوتا۔ محض پاکستان دشمنی اور ایمپائر کے بغض بھرے فیصلوں سے یہ ٹیسٹ میچ کرکٹ کی تاریخ میں ہمیشہ کے لیے ایک مثال کے طور پر محفوظ ہو گیا۔

    لیکن اس وقت کے کھیل میں تھرڈ ایمپائر اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال نہیں تھا لہذا گراؤنڈ کے بیچ کھڑا فرد واحد ہی تمام اختیارات کا مالک ہوتا تھا خواہ وہ کسی بھی کھلاڑی یا ٹیم کو اپنی پسند یا نا پسند کی بھینٹ چڑھا دے۔ اب دو دہائیوں بعد سب کچھ بدل چکا ہے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال عام اور کھلاڑی کو اپیل کا حق حاصل ہے۔

    اب تصویر کا دوسرا رخ دیکھتے ہیں، 1999ء میں ہی نواز حکومت نے حاضر سروس چیف آف آرمی اسٹاف جنرل پرویز مشرف کا طیارہ سری لنکا کے آفیش ٹور سے واپسی پر پاکستان میں نہ اتارنے کے احکامات جاری کیے طیارہ تو پاکستان لینڈ کر گیا البتہ اس سازش میں ملوث موصوف وزیراعظم کو نہ صرف حکومت سے ہاتھ دھونے پڑے بلکہ طیارہ اغواء کیس میں سزائے موت کی تلوار سر پر لٹک رہی تھی جو بعد از کچھ دوست ممالک کی مداخلت کے ایک معاہدے کے تحت جدہ پدھار گئے اور جنرل مشرف اقتدار کے ایوانوں میں براجمان ہوئے۔

    2007ء میں اس وقت کے صدر پرویز مشرف نے عدلیہ کے ساتھ محاذ آرائی کے نتیجہ میں ملک میں ایمرجنسی کا نفاذ کیا تو اسی فیصلہ سے وکلاء تحریک کی چنگاری سلگی جس نے بالآخر مشرف عہد کا خاتمہ کر دیا۔ اور انتخابات سے قبل بینظیر کے قتل سے پیپلزپارٹی کو ہمدردی کا ووٹ پڑا۔ نواز زرداری کی نورا کشتی میں ہی زرداری حکومت کے پانچ سال مکمل ہونے پر باری کے انتظار میں نواز شریف تیار بیٹھے تھے۔ ملکی تاریخ میں تیسری بار اقتدار حاصل کرنے کے بعد انتقام کی آگ میں لپٹے نواز شریف نے جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف پر آئین معطل کرنے کی پاداش میں سنگین غداری کا مقدمہ قائم کر دیا۔ محبان وطن اس وقت سکتے میں آۓ جب عدلیہ میں پہلے سے تیار بیٹھے ایمپائر نما جج صرف درخواست کے منتظر پاۓ گئے،

    وہی بغض و عناد بھرا رویہ۔ بیرون ملک بستر مرگ پر پڑے مشرف کو پاکستان میں آ کر عدالت کے روبرو بیان ریکارڈ کروانے پر اصرار رہا۔ بیماری میں مبتلا مشرف بار بار جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے ویڈیو بیان ریکارڈ کروانے کی اپیل کرتے رہے لیکن عدلیہ میں بیٹھے ‘جے پرکاش’ اس حق کو استعمال کرنے کی اجازت دینے سے گریزاں رہے۔ چند ہفتے پہلے عدالتی دنیا کی تاریخ کا سیاہ کارنامہ اس وقت انجام دیا جب ملکی دفاع کے لیے تین جنگیں لڑنے والے کمانڈو کو غدار قرار دیتے ہوئے پھانسی کا حکم صادر فرمایا۔ عداوت کی انتہا کہ حکم نامے میں لکھا گیا اگر سزا سے قبل مجرم کی موت واقع ہو جائے تو لاش کو تین روز تک ڈی چوک میں پھانسی پر لٹکا کر رکھا جائے۔ اس جنرل نے اپنی زندگی کے چالیس سال اس ملک کی خدمت میں گزارے دوران جنگ بطور چیف آف آرمی اسٹاف دشمن کی سرزمین پر اپنے جوانوں کے ساتھ رات گزارنے پر دشمن بھی ان کی بہادری پر داد دئیے بغیر نہ رہ سکا۔

    جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کیس میں جس خصوصی عدالت نے 1999ء پاک بھارت کرکٹ ٹیسٹ میچ کی تاریخ دہرائی آج لاہور ہائی کورٹ نے اس عدالت کو ہی غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دے دیا۔ دیر آید درست آید کے مترادف انصاف کی امید تو پیدا ہوئی البتہ بدقسمتی سے وطن عزیز میں ‘جے پرکاش’ ہر جگہ موجود ہیں لیکن انہیں یاد رکھنا چاہیے اب وقت بدل چکا ہے۔ سوشل میڈیا سے ملکی اسکرین پر عوام کی گہری نگاہ ہے، اپیل کا حق اور جدید ٹیکنالوجی کے سہارے، اب کے ‘جے پرکاش’ کا فیصلہ حتمی تصور نہیں کیا جا سکتا۔ تھرڈ ایمپائر ضرور دیکھے گا اگر باؤلر کا پاؤں کریز سے باہر ہوا تو قانونی طور پر نو بال قرار دی جائے گی جس کے ساتھ ناٹ آؤٹ کی اسکرین روشن ہو گی اور ہاں جدید کرکٹ میں فری ہٹ کا آپشن بھی موجود ہے۔۔۔!!!!!!

    اور تھرڈ ایمپائر نے نو بال کہ کر ناٹ آؤٹ قرار دے دیا
    #صدائے_اسد
    #اسدعباس خان

  • امن کی بہار پر خزاں کی پرچھائی—از—جویریہ چوہدری

    امن کی بہار پر خزاں کی پرچھائی—از—جویریہ چوہدری

    لڑکپن میں ایک دور دیکھا تھا کہ جب ہر روز،ہفتے یا مہینہ میں کوئی نہ کوئی سانحہ رونما ہوتا۔
    بے کلی اور بے سکونی کی ایک کیفیت ہمہ وقت اعصاب پر طاری رہتی تھی۔۔۔

    بہت دل دوز مناظر اخبارات و ٹی وی سکرین دکھاتے اور دل غم میں ڈوب کر اس چمن کی سلامتی اور مضبوطی کے لیئے دعا گو ہو جاتا تھا۔
    وہی سانحات جو میرے چمن کے ستر ہزار سے زائد نفوس کو نگل گئے__جوان،بچے،بوڑھے،عورتیں اس آگ و خون کی کھیل کی نذر ہو گئے۔۔۔

    وہ جاں گزا لمحات ان کے لیئے یقیناً نہ ختم ہونے والا درد بن گئے،جن کے پیارے ایسی وارداتوں کا نشانہ بنے گئے اور اس حالت میں وطنِ عزیز کے ہر طبقہ نے قربانیاں دی ہیں۔
    لیکن وقت نے ثابت کیا کہملک کے سیکیورٹی اداروں نے تندہی و جانفشانی سے اس عفریت پر قابو پا کر چمن کے شرق و غرب اور شمال و جنوب میں امن کا پھریرا لہرا کر قوم کو امن کی بہار کا تحفہ دیا۔

    وہ خوف و دہشت کا ماحول جو در آیا تھا۔۔۔اس کے بعد قوم نے سکون اور اطمینان کی سانس لی۔
    تجارتی سرگرمیاں بڑھنے لگیں اور پاکستان کو سیاحت کے لیئے بہت موزوں ملک گردانا جا رہا ہے۔۔۔

    گوادر پورٹ اس خطے میں معاشی ترقی اور خوشحالی کا پیام بننے جا رہی ہے تو ایسے میں بہت سے ملک دشمن عناصر یہ بات ہضم نہیں کر پا رہے اور بلوچستان جو شروع سے اس تخریبی ذہنیت کا نشانہ رہا ہے۔۔۔
    وہاں دو روز قبل ایک مسجد میں معصوم شہریوں کا قتل ایک انتہائی گھناؤنا کھیل ہے۔
    مسجد ہو یا مندر__گرجہ ہو یا معبد۔۔۔تمام پر امن انسانوں کی جان بہت قیمتی ہے۔
    اور پھر ایسے عناصر ایسی جگہوں کو نشانہ بنا کر متنازعہ بحث کو بھی جنم دیتے ہیں۔

    اس واقعہ میں بھی انتہائی قیمتی جانوں کا زیاں قومی المیہ ہے۔
    ایک بار پھر اس طرح کے واقعات کا سر اٹھانا یقیناً ایسے عناصر کی طرف سے تخریبی انتباہ ہے۔
    وادئ مہران سے بلوچستان۔۔۔اور پنجاب سے کے پی کے تک امن و بہار کا عَلم سدا بلند رہے آمین۔

    ان عزائم کو ملک کے باوقار اداروں نے مل کر پیوندِ خاک کرنا ہے اور شہریوں کو بھی چاہیئے کہ اپنے ارد گرد ایسے مشکوک افراد پر نظر رکھیں۔
    تاکہ اس چمن میں ہزاروں لوگوں کے خون کی بدولت جو بہار آئی ہے وہ ماند نہ پڑنے پائے اور ملک دشمن عناصر کو کھیلنے کا موقع نہ مل سکے۔
    اور یہ چمن تا قیامت روشنیوں سے منور رہے۔۔۔

    یہاں کسی بے گناہ شخص کا ناحق لہو نہ بہے اور تعمیر و ترقی کا سفر باہم ملکر جاری و ساری رہے۔
    اس چمن میں آئی ہے بہار_
    جانے کتنی قربانیوں کے بعد—
    اس گلشن کو سینچا ہے__
    پیاروں نے اپنے لہو کے ساتھ__
    اس گلشن کی روشنیوں پر__
    آئے گی جو نظرِ سیاہ__
    اُس چشمِ پر فتن کو__
    پھوڑ دیں گے ہم سب
    یکجہتی کےتیر کے ساتھ__!!!
    ان شآ ء اللہ

    امن کی بہار پر خزاں کی پرچھائی—از—جویریہ چوہدری

  • برداشت —از— نساء بھٹی

    برداشت —از— نساء بھٹی

    یہ نئے زمانے کا دور ہے یہاں جذبات کا کیا کام؟
    روبوٹ کبھی نفرت و الفت نہیں کرتے۔
    سائنس کے اس ترقی یافتہ دور نے انسانوں کو جتنی جسمانی سہولتیں دیں اس سے کئی زیادہ خراج نت نئی ذہنی, جسمانی, روحانی اور اخلاقی بیماریوں کی صورت میّں ان سے لے رہہی ہے.

    عدم برداشت بھی ان میں سےایک اخلاقی بیماری ہے. افرا تفری اور مشینی انداز نے انسان کو سب آسائشیّں دے کر اس سے سکون اور اطمینان چھین لیا ہے. بچہ ہو یا بڑا. جوان ہو یا بوڑھا جسے دیکھو عجیب بے چینی میں مبتلا ہے. کسی کے پاس تحمل سے کسی کی بات سننے کا وقت نہیں. سن بھی لیں تو بیزاری اور اکتاہٹ سے جواب دینا کہ آئندہ اگلے بندے کی مخاطب کرنے کی جرأت ہی نہ ہو. سڑکوں پہ نکلو تو ہر ایک جلدی میں,کوئی ٹریفک سگنل توڑ رہا ہے کوئی اوور ٹیک کر کے آگے نکلنے کی کوشش کر رہا ہے,اور کوئی تو اتنا بے صبرا ہوتا ہے کہ بند پھاٹک کو دیکھ کر بھی اپنی سائیکل یا موٹر سائیکل لے کر منہ اٹھائے ریلو لائن لراس کرنے کے چکر میں جان تک سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے.

    یہ سب لوگ اگر برداشت کا مادہ رکھتے ہوئے ٹریفک قوانین کا پاس رکھ کر سفر کریں تو حادثات سے بھی بچیں اور ذہنی اذیت سے بھی. سائنس کی ترقی نے ہر نسل اور ہر طبقے کے اندر عجیب بے چینی سی بھر دی ہے نفسا نفسی نے قوت برداشت اور تحمل کو ایسے غائب کیا جیسے گدھے کر سر سے سینگ. وقت کی کمی, کام کی زیادتی, اور ذہنی الجھنوں نے سب لوگوں کو ذہنی الجھنوں میں ڈال رکھا ہے. اور اسی وجہ سے مورثی بیماریوں کی طرح ہم اپنی آئندہ آنے والی نسل کو بے صبرا پن اور عدم برداشت جیسے اوصاف منتقل کر رہے ہیں..

    ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بلا شبہ روحانی اور اخلاقی اوصاف کا مرقع تھے. اور ان کی زندگی ہمارے لئے عملی نمونہ ہے. انہوں نے کفار کے مظالم. طعنے, اور ہر ہر برائی کے بدلے جس صبر, برداشت اور تحمل کا مظاہرہ کیا,تب بھی جب کفار ان پر غالب تھے اور تب بھی جب فتح مکہ کے بعد اللہ نے ان کو کافروں پر غالب فرمایا, چاہتے تو ہر ظلم کا جواب دے سکتے تھے مگر ب کو معاف فرما کر رہتی دنیا تک یہ مثال قائم کی کہ برداشت تو یہ ہی ہے کہ طاقت کے باوجود بدلہ نہ لینا.

    اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اس برداشت کو اپنے مزاج کا حصہ بنائیں.آپ نے لوگوں سے اکثر سنا ہوگا. "ویسے تو ہم بہت متحمل مزاج ہیں,ہم میں بہت برداشت ہے مگر ہم سے فلاں بات برداشت نہیں ہوتی. کسی سے اونچی آواز. کسی سے جھوٹ اور کسی کا پیمانہ برداشت اونچی آواز سے چھلک پڑتا ہے…

    لیکن یہاں ہمیں یہ ہی تو سیکھنا ہے کہ جس چیز سے آپ کی برداشت کا خول چٹخ جائے وہ ہی جگہ ہے جہاں آپ کو برداشت کرنا ہے. غصہ نہیں کرنا.اور اگر آپ اس مقام پر برداشت کر رہے ہیں تو ہی آپ اہل برداشت ہیں ورنہ نہیں…
    قرآن پاک میں سورہ والعصر میں اللہ پاک نے واضح فرما دیا ہے "عصر کے وقت کی قسم انسان خسارےمیں ہیں سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور صالح عمل کرتے رہے اور آپس میں حق بات کی تلقین اور صبر کی تاکید کرتے رہے {العصر}
    یقینا صبر کی تاکید وہی کرتے ہیں جو خود صبر کرنے والے ہوتے ہیں صبر ,جو برداشت سے بھی بہت آگے کا درجہ ہے. یقینا آج کل کے دور میں یہ وصف ناپید نہیں تو کم یاب ضرور ہے.

    صبر اور برداشت میں تھوڑا فرق ہے.برداشت کرنے میں ہم چپ کر جاتے ہیں کسی کو جواب نہیں دیتے سہ جاتے ہیں مگر دل کے اندر کہیں چبھن ضرور رکھتے ہیں. زیادتی کرنے والے کے بارے میں تلخی ضرور ہوتی ہے جو ہم کو بے چین رکھتی ہے,زیادتی کرنے والے سے نہ سہی اپنے حمایتیوں سے سہی ہم شکوہ کر جاتے ہیں……… مگر صبر میں ہمارا من شانت ہوجاتا ہے,جب صبر آجاتا ہے تو دل میں پھانس رہتی ہی نہیں,ایک بےنیازی سی وجود کا احاطہ کر لیتی ہے. ہم اللہ کے لئے معاملہ یکسر بھول جاتے ہیں یوں, گویا وہ ہوا ہی نہیں….پھر۔۔۔ پھر ہم شکوہ بھی نہیں کرتے.اور تقدیر کے آگے سر خم کر دیتے ہیں…فیصلہ کرنے والے کے فیصلے کو تسلیم کر لیتے ہیں….

    اور…. ہمارے رب کو ہم سے صبر ہی درکار ہے.. اور اس نے واضح کر دیا ہے کہ ہر وہ شخص خسارے میں ہے جو صابر نہیں.
    اور ہم ایسے لوگ ہیں کہ وقت کے ساتھ ساتھ ہم برداشت اور بردباری سے دور ہوتے جا رہے ہیں تو صبر؟؟ اُس کا مقام تو بہت بلند ہے بہت آگے ہے. اور رب کائنات کو مقصود و مطلوب ہے اور شافع کونین کی پوری زندگی عفو درگزر, بردباری, تحمل,برداشت اور صبر کا عملی نمونہ بھی ہے…مگر افسوس ہم نے کچھ سبق نہیں لیا ان کی زندگی سے.

    بقول شاعر!
    تیرے حسن خلق کی اک رمق میری زندگی میں نہ مل سکی
    *میں اسی میں خوش ہوں کہ شہر کے دروبام کو تو سجا دیا۔

  • صوبائی سینٹرل کنٹریکٹ پر کھلاڑیوں کے دستخطوں کا معاملہ ، کیسے التوا کا شکار

    صوبائی سینٹرل کنٹریکٹ پر کھلاڑیوں کے دستخطوں کا معاملہ ، کیسے التوا کا شکار

    صوبائی سینٹرل کنٹریکٹ پر کھلاڑیوں کے دستخطوں کا معاملہ ، کیسے التوا کا شکار

    باغی وی :ترجمان پی سی بی کے مطابق کنٹریکٹ میں شامل میڈیا پالیسی اور دیگرشرائط اہم کرکٹرز کی معاہدے پر دستخطوں کے معاملے پر ٹال مٹول کا سلسلہ جاری ہے . عمر اکمل، کامران اکمل ‘سلمان بٹ سمیت پانچ کرکٹرز نے ابھی تک معاہدوں پر دستخط نہیں کئے

    پی سی بی شعبہ ڈومیسٹک کرکٹ نے ستمبر کےآخری ہفتے دومیسٹک کھلاڑیوں کو سینٹرل کنٹریکٹ دئیے تھے.چارماہ سے زائد کا وقت گذرنے کے باوجود معاہدے پر دستخط نہیں کئے .بورڈنے کھلاڑیوں کی ماہانہ تنخواہ کی ادائیگی معاہدے پر دستخطوں سے مشروط کردی

    دستخط نہ کرنے والے کھلاڑیوں قائد اعظم ٹرافی کی میچ فیس اور ڈیلی الاونس ادا کئے گئے ہیں .معاہدے پر دستخط نہ کرنے والے کھلاڑیوں کے مختلف نجی چینلز کے ساتھ معاہدے ہیں ۔معاہدوں سے دستخط نہ کرنے والے کھلاڑیوں سے معاملے پر بات ہوئے ہے
    کھلاڑیوں نے اپنے مسائل سے آگاہ کیا ہے ۔ کھلاڑیوں نے جلد معاہدوں پر دستخط کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے ۔

  • حکومت کو لگا بڑا دھچکا

    حکومت کو لگا بڑا دھچکا

    حکومت کو لگا بڑا دھچکا

    باغی ٹی وی :فردوس عاشق سمیت وزیراعظم کے 15 معاونین خصوصی کی تعیناتی چیلنج کر دی گئی . اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس لبنی سلیم پرویز نے درخواست کی سماعت کی.اسلام آباد ہائیکورٹ نے فریقین کو نوٹس جاری کردیا عدالت نے حکومت سے دو ہفتوں میں جواب طلب کرلیا

    یہ تعیناتیاں فرخ نواز بھٹی نے چیلنج کیں،زلفی بخاری ، نعیم الحق ، ثانیہ نشتر سمیت تمام معاونین خصوصی کی تعیناتی چیلنج کی گئی.درخواست میں کہا گیا کہ معاونین خصوصی وفاقی اور وزیر مملکت کے برابر اختیار استعمال کر رہے ہیں، کس قانون کے تحت ویز اعظم نے ان معاونین کو اختیارات دئیے؟ وزیر اعظم آفس سے جواب طلب کیا جائے،

    اس کے علاوہ درخواست میں موقف اختیارکیا گیا کہ معاونین خصوصی کو کام سے روکنے کے احکامات جاری کیے جائیں، نیب کو وزیراعظم اور تمام معاونین کیخلاف انکوائری کا حکم دیا جائے، وزیراعظم عمران خان کے تمام معاونین خصوصی کی تعیناتیاں جن میں نعیم الحق، فردوس عاشق اعوان، ندیم افضل، علی نواز اعوان کی تعیناتیاں چیلنچ کی گئیں. وزیراعظم کے 15 اسپیشل اسسٹنٹس کے تعیناتیاں چیلنچ کی گئ ہیں.

    درخواست میں وزیراعظم عمران خان سمیت تمام معان خصوصی فریق ، شہزاد اکبر معید یوسف، عثمان ڈار کی تعیناتی چیلنچ کی گئی ہے.درخواست میں‌کہا گیا ہے کہ معید یوسف امریکہ کے مختلف تھینک ٹینکس کے ساتھ کام کرچکے ہیں، معید یوسف کی تعیناتی ملک کے مفاد کے برعکس ثابت ہوسکتی ہے، درخواست ینگ جرنلسٹ ایسوسی ایشن کے چیئرمین فرخ نواز بھٹی کی جانب سے دائر کی گئی.رولز آف بزنس 1973 کے رول 4(6) کے مطابق وزیراعظم کے پاس معان خصوصی تعینات کرنے کا اختیار ہے،

    درخواست میں مزید کہا گیا کہ معاونین خصوصی کو فیڈرل منسٹر یا اسٹیٹ منسٹر کا درجہ خلاف قانون دیا گیا،
    کسی بھی معان خصوصی کی تعیناناتی آئین پاکستان کے آرٹیکل 92 کے تحت نہیں کی گئی ہے اور استدعا کی گئی کہ وزیراعظم کے معاونین خصوصی کو وفاقی وزیر اور وزیرمملکت کا درجہ غیر قانونی قرار دیا جائے، وزیراعظم عمران خان اور کیبنٹ ڈویژن کے اقدام کو غیر قانونی قرار دیا جائے،نیب کو تمام فریقین کیخلاف کاروائی کا حکم دیا جائے، جسٹس عامر فاروق تین فروری کو کیس کی سماعت کریں گے، معاونین کو وفاقی وزیر اور وزیر مملکت کے اختیارات دیے گئے،

  • پاک بنگلہ دیش ٹی ٹونٹی سیریزقومی سلیکشن کمیٹی نے مشاورت کا آغاز کردیا

    پاک بنگلہ دیش ٹی ٹونٹی سیریزقومی سلیکشن کمیٹی نے مشاورت کا آغاز کردیا

    پاک بنگلہ دیش ٹی ٹونٹی سیریزقومی سلیکشن کمیٹی نے مشاورت کا آغاز کردیا

    باغی ٹی وی : پاک بنگلہ دیش ٹی ٹونٹی سیریزقومی سلیکشن کمیٹی نے مشاورت کا آغاز کردیا۔بنگہ دیش کے خلاف ٹی ٹونٹی سیریز کے لئے عماد بٹ، فہیم اشرف بطور آل راونڈر آزمانے پر غور کیا جارہا ہے.اس کے علاوہ ذیشان اشرف، حارث روف کے ناموں پر بھی غور کیا جارہا ہے۔ وکٹ کیپر کے لئے سابق کپتان سرفراز احمد اور کامران اکمل کے ناموں پر بھی غور کیا جائے گا ۔بابر اعظم ، آصف علی ،محمد عامر،شاداب خان ، فخر زمان کی ٹیم میں شمولیت یقینی ہے۔ محمد موسی ، محمد حسنین ، خوشدل شاہ، عماد وسیم کی شمولیت امکان ہے فخر زمان اور حسن علی کے نام فٹنس رپورٹ کلیئر ہونے کی صورت میں زیر غور آئیں گے.اسپنر ظفر گوہر، نعمان علی اور بلال آصف کے ناموں پر غور کیا جارہا ہے

  • اے بی ڈویلیئرز نے ایسا فیصلہ لیا کہ  فینز خوش ہو جائیں.

    اے بی ڈویلیئرز نے ایسا فیصلہ لیا کہ فینز خوش ہو جائیں.

    اے بی ڈویلیئرز نے ایسا فیصلہ لیا کہ ان کے فینز خوش ہو جائیں.

    باغی ٹی وی جنوبی افریقہ کے سابق کپتان و مایہ ناز بلے باز اے بی ڈویلیئرز نے رواں سال ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں واپسی کا عندیہ دے دیا۔

    انہوں نے آج آسٹریلیا میں جاری ٹی ٹوئنٹی بگ بیش لیگ میں برسبین ہیٹ کی نمائندگی کرتے ہوئے اپنی ٹیم کو 40 رنز کی عمدہ اننگز سے فتح دلائی۔
    بعد ازاں ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ٹیم میں واپسی کے خواب کو حقیقت میں تبدیل کرنے کے لئے بہت کچھ چل رہا ہے۔
    انہوں نے کہا کہ پروٹیز ٹیم کی نئی انتظامیہ جن میں ڈائریکٹر گریم اسمتھ، کوچ مارک باؤچر اور کپتان فاف ڈو پلسی سے رابطے میں ہوں اور ہم سب مل کر اس پر کام کر رہے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ میں خود کو اور اپنے مداحوں کو مایوس نہیں کرنا چاہتا، ابھی میری ساری توجہ اچھی کرکٹ کھیلنے کی جانب گامزن ہے۔

  • سوشل میڈیا پر عورتوں کو بلیک میل کیے جانے کا حل : تحریر غنی محمود قصوری

    سوشل میڈیا پر عورتوں کو بلیک میل کیے جانے کا حل : تحریر غنی محمود قصوری

    معاشرے کا حصہ ہونے کی حیثیت سے ہر بندے کا حق ہے کہ وہ دوسروں کی طرح ہر سہولت کا استعمال کرسکے انٹرنیٹ اور خاص کر سوشل میڈیا کی بدولت یہ دنیا اس وقت ایک گلوبل ویلج بن چکی
    ہے لوگ اپنے سے دور بیٹھے عزیز و اقارب کیساتھ جلد رابطے کیلئے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کا استعمال کرتے ہیں جو کہ زیادہ تر محفوظ نہیں ہیں
    اس وقت پاکستان کی کل آبادی کا 22.2 فیصد افراد انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں جن میں بیشتر خواتین بھی شامل ہیں خواتین کی جانب سے بہت مرتبہ سائبر کرائم کی شکایات بھی ملی ہیں کچھ کم ظرف لوگ عورتوں کو اپنے جال میں پھانس کر ان کی تصاویر حاصل کر لیتے ہیں پھر ان تصویروں کی بدولت ان خواتین کو بلیک میل کرکے پیسے بٹورنے کے علاوہ جنسی تعلقات بھی قائم کر لیتے ہیں زیادہ تر خواتین ان بلیک میلروں کی باتوں میں آکر اپنی تصاویر ان کو دے بیٹھتی ہیں جنہیں یہ لوگ فوٹو شاپ و دیگر سوفٹ وئیر کے ذریعے اپنی مرضی کے مطابق ایڈٹ کر لیتے ہیں جو کہ انتہائی تشویشناک بات بن جاتی ہے اور ایسا سب سے زیادہ فیس بک استعمال کرنے والی خواتین کے ساتھ ہوتا ہے زیادہ تر خواتین یہ غلطی کرنے کے بعد اپنی بدنامی کے ڈر سے خاموش ہی رہتی ہیں کیونکہ انہیں اپنی غلطی کی بدولت اپنے گھر والے افراد سے برے برتاءو کی توقع بھی رہتی ہے جس سے ان بلیک میلروں کے ناپاک عزائم کو مذید تقویت ملتی ہے عورتوں کی خاموشی ہی ان کی سب سے بڑی غلطی بن جاتی ہے جس سے یہ افراد دید ور ہو کر دوسری عورتوں کو بلیک میل کرکے پیسے اور جنسی تعلقات بڑھاتے ہیں کئی ایسی خواتین ان بلیک میلروں کی بدولت خاموش رہتے ہوئے ان کی ڈیمانڈیں پوری کرتی رہیں اور آخر تھک ہار کر خود کشی کرنے پر مجبور ہو گئیں
    عورتوں سے گزارش ہے کہ اپنی تصویر اپلوڈ نا کرنے کی عادت ڈالیں اور کسی بھی بغیر پہچان والے بندے کو اپنی تصویر ہرگز نا دیں تاکہ آپ کی زندگی جہنم بننے سے بچ سکے اور آپ کے بہن بھائی ،ماں باپ اور خاندان کے دیگر افراد سر فخر سے بلند کرکے اس معاشرے میں جی سکیں
    حالانکہ کسی پر اعتبار کرکے اسے اپنی تصویر یا ویڈیو دینا اتنا جرم نہیں جتنا بڑا جرم کسی کے اعتماد ٹھیس پہنچا کر اسے بلیک میل کرنا ہے
    مگرخدانخواستہ اگر کسی بھی عورت کے ساتھ ایسا معاملہ پیش آ جائے اور وہ اس غلطی کا شکار ہو چکی ہے تو مذید چکروں میں پڑ کر بلیک میل ہونے کی بجائے دوسری عورتوں کو اس بلیک میلر کا شکار نا ہونے دیں بلکہ معاشرے کے اس ناسور کو اس کے کردہ جرم کی سزا دلوائیں تاکہ کوئی اور حوا کی بیٹی اس کی بلیک میلنگ کی بھینٹ نا چڑھ سکے کیونکہ بلیک میل ہوتے رہنا یا پھر خودکشی کرلینا مسئلے کا حل نہیں اگر آپ خاموش رہی یا خودکشی کر گئی تو وہ بلیک میلر آپ کے بعد آپ کے گھر کے دیگر افراد کو بلیک میل کرے گا کیونکہ جب تک اس کے پاس آپ کی ویڈیو یا تصویریں ہونگی وہ بندہ بلیک میلنگ سے رکے گا نہیں عورت کا خاموش رہنا اپنے خاندان کی بدنامی کا ڈر ہے تو کیا فائدہ اس ڈر کا جو آپ کے بعد آپ کے خاندان کیلئے بھی ڈر بن جائے لہذہ خاموش رہنے اور خود کو ختم کرنے کی بجائے اپنی غلطی سے دی جانے والی ویڈیو یا تصویروں کو اس مجرم کو قانون کی گرفت میں لا کر ختم کروائیں کیونکہ سائبر کرائم کے انسداد الیکٹرونک کرائم ایکٹ 2015 کے تحت کسی بھی شخص کو فحش تصویر یا ویڈیو کے ذریعے بلیک میلنگ کرنے کی سزا 5 سے 7 سال قید یا 50 لاکھ روپیہ جرمانہ یا پھر دونوں سزائیں ایک ساتھ ہو سکتی ہیں مذید یہ کہ اگر بلیک میلر بیرون ملک مقیم ہے تب بھی وہ اسی ایکٹ کے تحت مجرم ہے اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ اسے انٹرپول کے ذریعے گرفتار کرنے کا حق رکھتا ہے اب تک کتنے ہی ایسے مجرموں کو پکڑ کر سزا ڈلوائی جا چکی ہے
    اگر آپ اس تکلیف میں مبتلا ہیں تو فوری فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی FIA کے سائبر کرائم ونگ کی چوبیس گھنٹے کام کرنے والی ہیلپ لائن 9911 پر کال کریں یا پھر ڈائریکٹر کرائم ایف آئی اے کے ای میل Dir.crime@fia.gov.pk
    ڈائریکٹر این آر 3 سی کے ای میل Pd@nr3c.gov.pk پر ای میل کرکے اپنی شکایت درج کروائیں اور ان کی ہدایات پر عمل کریں یہ ادارہ آپ کے راز کو راز ہی رکھتا ہے اور آن لائن آپ سے رابطے میں رہ کر مطلوبہ مجرم کو پکڑے گا وفاقی تحقیقاتی ادارہ مکمل تصدیق کرکے اس مجرم کو قابو کرکے آپ کا فحش مواد ختم کروائے گا اور یوں آپ کی اس جرآت سے دیگر حوا کی بیٹیاں اس کی بلیک میلنگ سے بچ جائیں گی اور پھر کوئی دوسری حوا کی بیٹی بلیک میلنگ سے مجبور ہوکر خود کشی نا کرسکے گی تو چپ رہ کر بلیک میل ہونے و خودکشی کرنے کی بجائے مجرم کیساتھ اپنا فحش ڈیٹا بھی ختم کروائیں تاکہ آپ اور آپ کے خاندان کے افراد سر فخر سے بلند کرکے جی سکیں

  • عنوان: شہر قائد سیاست کی نذر، تحریر: انشال راؤ

    عنوان: شہر قائد سیاست کی نذر، تحریر: انشال راؤ

    آرزوئے سحر
    تحریر: انشال راؤ
    عنوان: شہر قائد سیاست کی نذر

    حادثاتی طور پر وجود میں آنے والی ایم کیو ایم MQM اپنے پینتیس سالہ دور میں کئی نشیب و فراز سے گزری، بہت سی جماعتوں سے اتحاد بھی کیا اور تقریباً ہر بار ہی حکومت کا حصہ رہی، موجودہ وقت میں شہری سندھ کی نمائندہ جماعت کو تاریخ کے مشکل ترین حالات کا سامنا ہے، اپنے عروج سے زوال تک MQM بہت سے تلخ و شیریں تجربات و مشاہدات سے گزری لیکن طرز سیاست اور روش میں تبدیلی نہ آئی، یہ جماعت جتنی بار بھی حکومتوں کا حصہ بنی ہمیشہ ناراضگی اور اتحاد اس کا خاصا رہا یعنی کہ چھوڑنا چھوڑنی کا کھیل انکی طرز سیاست کا اہم ہتھیار رہا ہے عام طور پر مہاجر حلقوں میں اسے بلیک میلنگ کی سیاست کے نام سے پکارا جاتا ہے جس کا متوسط طبقے کی نمائندہ جماعت کو ہر سطح پر نقصان ہی نقصان ہوا، اس قسم کے طرز سے فرد یا مخصوص لوگوں کو تو فائدہ ہوجاتا ہے لیکن جماعتی سطح پر اس کے اثرات کبھی مثبت نہ آئے، روایت کے مطابق متحدہ نے ایک بار پھر کابینہ سے علیحدگی کا اعلان کردیا ہے جو آگے چل کر اتحاد سے علیحدگی کی صورت بھی اختیار کرسکتا ہے لیکن حکومت کے لیے یہ اچانک تغیر شاید زیادہ پریشان کن نہ ہو کیونکہ متحدہ کی روس منائیوں سے کون ہے جو واقف نہیں لیکن اس چھوڑنا چھوڑنی اور آن جان کے کھیل میں نقصان شہر قائد اور اس کے باسیوں کا ہے جن کی مشکلات میں کمی کی بجائے مزید اضافہ ہوجانا ہے اگر موجودہ صورتحال پر غور کیا جائے تو شہر قائد ایک بار پھر ستر کی دہائی میں پہنچ گیا جب مذہبی جماعتیں مہاجر کارڈ کو استعمال کرتی تھیں اور اب PTI سے PPP تک اس کارڈ کو ہتھیانے کے لیے زور آزمائی کررہی ہیں، جس طرح ستر کی دہائی میں بھٹو اور مہاجر دانشوروں کے مابین طے پانے والا فارمولا 60 فیصد دیہی اور 40 فیصد شہری کوٹہ سیاست کی نذر ہوگیا اسی طرح خستہ حال کراچی کی ڈویلپمنٹ کے منصوبے ایک بار پھر سیاست کی نذر ہوگئے، تحریک انصاف کے لارے لپے اور ٹال مٹول نے متحدہ کے لیے شکوک و شبہات کو جنم دیا کہ شاید PTI متحدہ کو کراچی کے منظرنامے سے ہٹاکر اس کی جگہ لینی چاہتی ہے ویسے اگر حقیقت کی نگاہ سے دیکھا جائے تو کچھ کچھ ایسا بھی ہے جبکہ پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت اس بداعتمادی کی وجہ سے (جو 1989 میں پیدا ہوئی) آج تک شہری سندھ کو اس کے حقوق سے جبراً محروم کیے آرہی ہے،

    1989 میں بینظیر کے خلاف تحریک عدم اعتماد میں MQM نے اتحادی ہوتے ہوے مخالف ووٹ دیا اور ساتھ ہی مختلف نعروں کے ساتھ شہری سندھ میں فسادات پھوٹ پڑے تو دیہی سندھ میں وڈیروں کے ہاتھوں بیسیوں لاکھ مہاجروں کو شدید نقصان برداشت کرنا پڑا اور یہ سلسلہ بینظیر حکومت کے خاتمے پہ جا کر تھما، اس کے بعد سے پیپلزپارٹی نے شہری سندھ سے ہمیشہ غیرجمہوری و غیرآئینی سلوک برتا حتیٰ کہ یونیورسٹی جیسے عظیم مطالبے تک کی راہ میں رکاوٹ بنی رہی جس کا درحقیقت نقصان PPP ہی کو پہنچا نہ صرف شہری سندھ میں PPP کو نفرت کی نگاہ سے دیکھا جانے لگا بلکہ ملک کے سب سے بڑے شہر کی خستہ حالی کا اثر پنجاب و KPK میں PPP کی ساکھ پہ ہوا، اگر پیپلزپارٹی جمہوری تقاضوں کو پورا کرتی تو یقیناً آج صورتحال اس کے برعکس ہوتی جیسا کہ PPP کے لیے شہری علاقوں میں سوچ پائی جاتی ہے، ماضی میں یہی PPP تھی جب جنرل ضیا کے دور میں 1979 میں بلدیاتی الیکشن ہوے تو کراچی سے عوام نے PPP پر بھرپور اعتماد کیا لیکن دو کونسلروں کے اغوا نے PPP کو میئر شپ سے محروم کردیا اور ڈپٹی میئر پر ہی اکتفا کرنا پڑا، اب کراچی میں خلا کو دیکھتے ہوے اور ہر خاص و عام کی تنقید کے بعد سندھ حکومت کراچی سمیت سندھ کے شہری علاقوں پہ توجہ دیتی ہوئی نظر آرہی ہے لیکن ابھی مزید کرنے کی ضرورت ہے بلاول بھٹو جو پنجاب پہ خصوصی توجہ دئیے ہوے ہیں وہ اگر اس کا دس فیصد بھی کراچی پر دے دیں اور ایک دو ماہ کراچی میں ڈیرے ڈال لیں تو PPP نہ صرف دیہی سندھ بلکہ شہری علاقوں کی بھی نمائندہ جماعت بن جائے گی کیونکہ PTI کی عدم توجہی اور غیرسنجیدہ روئیے کی وجہ سے اردو اسپیکنگ PTI کو محض نعروں والی جماعت سمجھنے لگے ہیں، MQM جو اپنے قائد سے محروم ہوکر یتیم جماعت بن چکی تھی اب تقسیم در تقسیم در تقسیم کا شکار ہوکر بالکل مفلوج ہوکر رہ گئی ہے، وڈیرہ شاہی کے خلاف علم بغاوت بلند کرنے والی جماعت کے کرتا دھرتا 30 سے 35 سالوں میں وڈیرانہ نظام کا تو کچھ نہ بگاڑ سکے لیکن خود شہری وڈیرے بن کر بیٹھ گئے اب اپنی چودھراہٹ کو جاتے دیکھ کر اندرون خانہ ایک نیا مہاجر اتحاد قائم کرکے ایک نئی سیاسی جماعت کو کھڑا کرنے کے لیے ہاتھ پیر مار رہے ہیں لیکن افسوس کہ جو سفر 35 سال پہلے مہاجر حقوق کے نام سے شروع کیا آج 35 سال بعد اردو اسپیکنگ کو وہیں لا کر کھڑا کردیا،

    80 کی دہائی میں بھی مہاجر حقوق کا نعرہ تھا آج 2020 میں بھی مہاجر حقوق کا نعرہ ہے اگر کچھ حاصل ہوا تو وہ دو چار درجن افراد کی ہوائی چپل سے شہری وڈیرے کے طور پر ترقی حاصل ہوئی، اگر یہ اتحاد نیا جنم لیکر منظر پر آ بھی جائے تو نقشہ کیا ہوگا وہی شہری دیہی تفریق، وہی لسانیت وہی نفرتیں جس کے اب مزید متحمل نہیں ہوسکتے، اردو اسپیکنگ جو ملک کا سب سے پڑھا لکھا طبقہ تھا اور اپنے حقوق کے لیے اٹھ کھڑا ہونا ان کے شعور کی گواہی ہے لیکن ستم بالا ستم نعرہ تھا حقوق کا، نعرہ تھا جاگیردارانہ وڈیرانہ نظام کے خاتمے کا، نعرہ تھا مساوات کا، متوسط طبقے کا لیکن ان کا رخ لسانیت کی طرف موڑ دیا گیا، جدوجہد تو ظالم وڈیروں اور ظالم جاگیرداروں کی اقرباپروری کے خلاف کرنی تھی لیکن نامعلوم راز ہے کہ لڑوایا گیا عام سندھی عام پنجابی و عام پٹھان سے، کبھی ایک بار بھی عملی طور پر اسٹیٹس کو کے خلاف کوئی قدم نہ اٹھایا گیا، اور اب ایک بار پھر مہاجر اتحاد کی کوشش نتیجہ کیا نکلنا ہے وہی لسانیت بیشک مہاجر نہ سہی کوئی اور سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لیے لسانی تعصب کو ابھار سکتا ہے لہٰذا اب لسانی سیاست اور ایک مخصوص سوچ سے باہر نکل کر قومی سیاست میں قدم رکھا جائے اور موجودہ خستہ حال نظام کے خلاف عملی جدوجہد کی جائے تو یقیناً جلد ہی یہ نیا اتحاد پورے ملک کی سیاست پہ چھا جانے کے ساتھ ساتھ ایک انقلاب ثابت ہوگا، مسائل سب کے یکساں ہیں مشکلات سب کی ایک سی ہی ہیں خواہ دیہی ہوں یا شہری سب ہی اس نظام کے ستائے ہوے ہیں ہر خاص و عام اس نظام سے بیزار ہے عوام بےچین ہے کہ کوئی چنگاری نظر آئے تو وہ آگ بن کر اس ظالم نظام کو راکھ کردے لیکن افسوس کوئی بھی ایسا نہیں جو عوام کے لیے نکلے، کراچی وہ شہر ہے جہاں سے ماضی میں بہت سی تحریکوں نے جنم لیا، کیا ہی اچھا ہو جو ایک بار پھر انقلابی تحریک منبع ثابت ہو۔