Baaghi TV

Category: بلاگ

  • *مزا تو تب ہے کسی خاک کے ذرے کو منور کر دو—از–ساجدہ بٹ

    *مزا تو تب ہے کسی خاک کے ذرے کو منور کر دو—از–ساجدہ بٹ

    اساتذہ کرام ہمارے عظیم الشان لیڈر ہوتے ہیں اساتذہ کرام کی عزت و آبرو کا خیال رکھنا ہم سب پر فرض ہے۔
    یہ وہ ہستی ہوتے ہیں جو ہماری ذات کو روشن کر دیتے ہیں اپنے شاگردوں کو اپنا رنگ دے کے قوم کے لیے قیمتی سرمایہ بنا دیتے ہیں۔
    ہماری اسلامی تعلیمات میں بھی ہمیں اساتذہ کرام کی عظمت کے متعلق تعلیم دی گئی ہے۔

    سرور کائنات حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے معلم کا لفظ خود اپنی ذات اقدس کے لیے بھی استعمال کرتے ہوئے ارشاد فرمایا۔۔۔۔۔۔

    ٫٫بیشک مُجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے؛؛

    اللہ تبارک و تعالیٰ کے پیارے محبوب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اگر اپنے لیے یہ لفظ اور اس پیشے سے خود کو متعارف کروا رہے ہیں تو سوچیں کہ کس قدر قابل احترام یہ پیشہ ہو گا اور کس قدر یہ عظیم شخصیات ہوں گی جو آج بھی بہت سے خاک کے پتلے کو چمکا رہے ہیں۔

    مزا تو تب ہے کسی خاک ذرے کو منور کر دو

    صرف اپنی ذات کو روشن کرنا کمال تھوڑی ہے

    اساتذہ کرام کا احترام بہت ضروری ہے یہ جملہ آپ کی سماعتوں سے اکثر اوقات گزرا تو ہو گا۔
    وہ کہتے ہیں نا کہ

    ؛؛با ادب با نصیب اور بے ادب بے نصیب؛؛

    ہمارے بزرگوں نے اساتذہ کرام کے ادب و احترام کرنے کے مختلف طریقے بھی سکھائے۔
    مثلاً اُستاد بات کر رہا ہو تو دوران گُفتگو ہمیں خاموشی سے اُن کی بات سُننی چاہیے۔اُن کی بات نا کاٹیں اُن کی دی گئی ہدایات کو حقیر نہ جانیں با ادب ہو کر بات سنیں اُن کے سامنے ٹانگ پر ٹانگ رکھ کے اور اکڑ کر نا بیٹھیں۔
    آخر جیسے بھی ہیں ۔ہیں تو ہمارے اُستاد اُن کی کوئی بات بری بھی لگے ہم پے غصہ بھی ہوں تو ہمیں برداشت کر لینا چاہیے یہ سب اُن کے آداب میں شامل ہے

    مٹانا پڑتا ہے خود کو قوم کی ترقی کے لیے

    یہ کام اتنا آسان تھوڑی ہے۔

    آج کل کچھ طالب علم بے ادب ہو گئے ہیں اور کُچھ اساتذہ کرام نے اس پیشے کو صرف پیسہ کمانے کی مشین بنا لیا ہے جہاں خود غرضی جنم لے رہی ہے۔
    یقینا سب ایک جیسے نہیں بہت سی عظیم الشان شخصیات آج بھی ہیں جو ہمارا معاشرہ سنوار رہے ہیں ہمارا روشن مستقبل سنوار رہے ہیں
    لیکن جو اس پیشے کو بد نام کر رہے ہیں ایسے واقعات آپ کو یونیورسٹی جیسے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں اکثر و بیشتر ملنے میں آتے ہیں جو میل ٹیچرز طالبہ کا غلط استعمال کرتے ہیں کچھ نمبروں کا لالچ دے کر اور کُچھ ڈرا دھمکا کے۔اکثر بچیاں بد نامی کے خوف سے ٹیچرز کی بات مان بھی لیتی ہیں
    لیکن پھر اس جنگل سے ان کے لیے نکلنا مشکل ہو جاتا ہے کچھ جان سے ہاتھ دھو بیٹھی ہیں۔
    میرا اپنی بہنوں کو پیغام بھی ہے کہ صرف دنیاوی کامیابی کے لیے چند نمبروں کی خاطر اپنی عزتوں کا جنازہ مت نکالیں۔اساتذہ کرام کے عظیم الشان پیشے اور قابل احترام شخصیت کو بد نام مت کریں۔آخرت میں یہاں دنیا میں کتنے نمبر حاصل کیے اس کے بارے میں سوال نہیں ہو گا۔
    وہاں صرف و صرف آپ کے عمال کا حساب ہو گا۔
    لہذا قدر کرنے والوں کی قدر کریں اُستاد کی عزت کریں گے تو اُستاد بن جائیں گے۔

    اُستاد ہوں مجھے اس پر ملال تھوڑی ہے

    ملک کا مستقبل سنوارنا آسان تھوڑی ہے۔

    تحریر: ساجدہ بٹ

  • 27 اکتوبر اور پندرہ لاکھ کا لشکر۔حقیقت — از — جواد سعید ۔

    27 اکتوبر اور پندرہ لاکھ کا لشکر۔حقیقت — از — جواد سعید ۔

    سوتروں کے انوسار مولانا فضل الرحمن صاحب نے ستائیس اکتوبر کو اسلام آباد دھرنا دینے کی گوشنا کر دی ہے۔لیکن یہ اعلان اتنا ہی کھوکھلا لگ رہا جتنا کہ قوم یوتھ سوچ رہی ہے۔

    مدارس کے دو ہی شعبے پاکستان میں کام کر رہے ۔تنظیم المدارس۔جنھوں نے حمایت کا انکار کر دیا ہے۔اور دوسرا وفاق المدارس۔جن کے مطابق ملک بھر میں مولانا کے حمایت یافتہ مدارس ڈھائی سے تین ہزار ہیں۔اگر ایک مدرسے سے 200 بندے بھی آئیں تو تعداد بنتی ہے پانچ سے چھ لاکھ۔مطلب واضح ہے انکا اعلان صرف پھڑ تک محدود تھا۔

    اسلام آباد آنے کے دو ہی راستے ہیں ،ایک خیبر پختونخواہ دوسرا براستہ پنجاب۔خیبرپختونخوا والا راستہ تو وزیر اعلی خیبر پختونخواہ نے بند کرنے کا اعلان کر دیا ہےاور دوسرا پنجاب والا راستہ جلد ہی بند کرنے کی اطلاعات موصول ہو سکتی ہیں۔

    اب آتے ہیں بجٹ کی جانب کہ مہنگائ میں پسی عوام کیا اس دھرنے میں پہنچ سکتی ہے۔؟؟

    پندرہ لاکھ افراد کے حساب سے اگر ایک گاڑی میں پانچ بندے سوار ہوتے ہیں تو تقریباً تین لاکھ گاڑیاں اسلام آباد پہنچیں گی۔اور ہر گاڑی پر پانچ سے چھ ہزار کا پٹرول خرچ ہو تو کم ازکم ڈیڑھ ارب روپے خرچہ آئے گااور پھر پندرہ لاکھ شرکاء پر کھانے پینے کا خرچہ کم ازکم 70 کروڑ یومیہ ہے اب کم ازکم پورا ہفتہ بھی یہ دھرنا اسلام آباد رکتا ہے تو سات ارب روپے صرف کھانے پر خرچ، ہو سکتے۔جو کہ عوام کے بس سے باہر ہے۔اور اگر یہ اتنے پیسوں کا انتظام کر ہی لیتے ہیں تو کرپشن مافیا کیطرح نیب کے چنگل میں بآسانی پھنس سکتے۔

    اب آتے ہیں اس سوال پر کیا اپوزیشن اس دھرنے میں مدد کرے گی؟؟

    یاد رکھیں یہ دھرنا سارے کا سارا جمیعت کے مدارس مولویوں پر مشتمل ہو گایقینی سوچ ہے کہ بلاول بھٹو اس دھرنے میں کیونکر شریک ہو گا۔؟؟ سندھ سے عوام کیسے آ پائے گی۔؟؟شہباز شریف معذرت کر چکے بلاول کو یہ سمجھاتے ہوئے کہ دھرنے سے حکومت تبدیل نہیں ہوتی۔اور مولانا کی سب سے بڑی کمزوری مذہب کارڈ ہے۔جس کو اپوزیشن سیاست میں مانتی نہیں ۔اگرچہ نواز شریف نے حمایت کا اعلان کیا ہے۔

    مگر پھر بھی یقین سے کہا جا سکتا کہ نواز شریف جیسا مکار سیاست دان اس جیسے بکرے کو صرف حلال ہوتا دیکھ سکتا مگر ساتھ حلال نہیں ہو سکتا۔اور نہ ہی اپنی عوام بھیج کر خود سے متنفر کروائے گا۔اور تازہ خبر کے مطابق ایجنسی جمیعتی مدارس کا ریکارڈ سرکار کو دے رہی۔اور یہی کام تابوت پر آخری کیل ٹھوکنا ہے۔اور اگر ان سب کے بعد بھی یہ دھرنا دے بھی دیتے ہیں تو انکا وہی حال ہو گا۔جو الشیخ خادم رضوی صاحب کے دھرنے کیساتھ ہوا تھا شاید۔واللہ اعلم

    بقلم جواد سعید

  • سی ایس ایس امتحانات اور انگریزی کا”جن”—- از — پروفیسر محمد سلیم ہاشمی

    سی ایس ایس امتحانات اور انگریزی کا”جن”—- از — پروفیسر محمد سلیم ہاشمی

    سی ایس ایس امتحانات اور انگریزی کا”جن”

    انگریزی کے جن نے ایک بار پھر ہزاروں پاکستانیوں کو شکست دے دی۔ وہ ڈاکٹر ہیں، انجینئر ہیں، اپنے مضمون میں ماسٹر ہیں یا آنرز ڈگری کے حامل ہیں، قابل ہیں، ذہین ہیں، اعزاز و کمالات کے حامل ییں۔ انہیں اس معیار کی انگریزی نہیں آتی جو سی ایس ایس پر مسلط بوڑھے آسیبوں کے معیار پر پورا اترتی ہے تو وہ ناکام ییں۔

    کوئی تماشے سا تماشا ہے، وہ زبان جو اس ملک کے کسی باسی کی زبان نہیں ہے وہ اس ملک کی انتظامیہ کو چلانے والوں کے لئے قابلیت کی شرط ٹھہری ہے۔ میرا سوال یہ کہ 72 سالوں سے یہ تماشا لگا ہوا ہے۔ ہر سال پاکستانی ذہن کے حامل نوجوانوں کو اس ملک کی انتظامیہ میں داخل ہونے سے روک دیا جاتا ہے۔ ان لوگوں کو انتظامیہ کا حصہ بنایا جاتا ہے جن کی واحد قابلیت ان بوڑھے آسیبوں کی مطلوبہ انگریزی جاننے کی صلاحیت ہے۔

    سوال یہ ہے کہ ان بوڑھے آسیبوں نے اپنی ساری مدت ملازمت میں اپنی مدت ملازمت پوری کرنے کے سوا کیا کارنامہ سرانجام دیا ہے؟ ان میں کسی قسم کی کوئی قابلیت یا صلاحیت ہوتی تو ملک کا اور اس کے اداروں کا وہ حال ہوتا جو یے۔ اور اب ان بوڑھے آسیبوں نے اپنے ہی جیسے آسیب زدہ لوگوں کو اس ملک کی مزید بربادی کے لئے چن لیا یے۔

    یہ ملک اور اس ہر مسلط یہ بوڑھے اسیب، ان کے فرسودہ اور بے ہودہ خیالات اور ان کی احمقانہ و ظالمانہ سوچ کب تک اس ملک کا بیڑہ غرق کرتے رہیں گے۔ میرا ان نوجوانوں سے جو اس امتحان میں ناکام ہو گئے ہیں اور وہ نوجوان جو اگلے سال اس امتحان میں شامل ہونا چاہتے ہیں کہنا ہے کہ وہ شہر شہر اس ظلم کے خلاف احتجاج کریں، عدالتوں کا رخ کریں اور وہاں پر سی ایس ایس کا امتحان اردو میں لینے کے لئے درخواستیں دائر کریں اور اپنے حق کو حاصل کرنے کے لئے ڈٹ جائیں۔یہ خیال کہ میں اگلے سال یہ امتحان انگریزی میں دے کر کامیاب ہو جاؤں گا خام خیالی کے سوا کچھ نہیں۔

    ارباب حکومت

    حضور انگریزی کی بربادی کا مظاہرہ ہم پرسوں سے دیکھ رہے ہیں۔ ایک بل (قادیانی ترمیم 2017) کو پیش کرنے پر اس زبان نے ساری قوم کو جس طرح تگنی کا ناچ نچایا وہ سب کے سامنے ہے۔ یہ ناچ ساری قوم ہر شعبے میں ناچ رہی ہے، برباد ہوتی جا رہی ہے۔ اس کا واحد علاج اس زبان کی اس ملک سے مکمل بے دخلی ہے، جی ہاں مکمل بے دخلی ہر شعبے سے مکمل بے دخلی۔ اس کے علاوہ آپ یا کوئی اور جو مرضی کہتا رہے، کرتا رہے وہ ہماری بربادی کے عمل کو آگے تو بڑھا سکتا ہے کم یا ختم نہیں کر سکتا۔ اگلے سال سے سی ایس ایس کا امتحان مکمل طور پر اردو میں لینے کا فیصلہ الفور اعلان کیا جائے, ہمارا مطالبہ ہے واضح اور دو ٹوک مطالبہ
    پاکستان میں ہر شعبہ زندگی میں ہر سطح پر اردو کے مکمل نفاذ اور انگریزی کی کلی طور پر بے دخلی تک ہم اپنی جدوجہد کو جاری رکھیں گے۔
    پاکستان کی حیات انگریزی سے نجات
    اس ملک کی خوشحالی اردو کی بحالی

    از تحریر:

    پروفیسر محمد سلیم ہاشمی

  • منزل ہے آسمان تو بے بال و پر نہ جا۔۔۔از –جویریہ چوہدری

    منزل ہے آسمان تو بے بال و پر نہ جا۔۔۔از –جویریہ چوہدری

    صدائے ضمیر:

    "نشانِ راہ”۔
    مسافر جب سفر کرتا ہے تو راہ میں۔۔۔۔
    نشیب بھی آتے ہیں۔۔۔
    فراز بھی۔۔۔۔
    سمندر بھی صحرا بھی۔۔۔۔
    سایہ دار درخت بھی تو۔۔۔۔
    کڑکتی دھوپ بھی۔۔۔۔
    مگر منزل کا متلاشی مسافر ان سبھی کا سامنا خندہ پیشانی اور ایک ایسی تیز دھار مسکراہٹ سے کرتا ہے کہ۔۔۔۔۔
    جس سے اس سفر کی ہر مشکل کٹتی چلی جاتی ہے۔۔۔۔
    اکثر یہ ہوتا ہے کہ ہم ذرا سی بلندی کی طرف بڑھنے سے پہلے ہی مغرور ہو جاتے ہیں۔۔۔۔
    خود کو بہت بلندیوں پر سمجھتے ہوئے دوسروں کے استحصال شروع کر دیتے ہیں۔۔۔۔
    وہ استحصال لوٹ مار کے ذریعے ہی نہیں ہوتا بلکہ۔۔۔۔
    عاجزی
    اظہارِ دانش
    اخلاق و مروت
    اخلاص و ہمدردی کو بیچ کر۔۔۔۔۔
    غرور وتکبر کی ردا اوڑھ کر۔۔۔
    مگر یاد رکھیئے کہ
    زندگی میں ترقی کرتے کرتے آپ کسی بھی عہدہ یا منصب پر فائز ہو جائیں۔۔۔
    ان چیزوں کی عدم موجودگی آپ کی منزل کی دوری کا باعث بن جائے گی۔۔۔۔۔
    آپ منزل تک پہنچ کر بھی بے منزل ہی رہیں گے۔۔۔۔
    وجہ یہی ہو گی کہ اس سفر کی صعوبتوں کو برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں ہو گی۔۔۔۔
    کسی کا دل دکھا کر۔۔۔۔
    کسی کو حقیر سمجھ کر۔۔۔۔
    کسی کو جھٹک کر۔۔۔۔۔
    کسی کے ساتھ مزاج کی درشتی سے پیش آ کر۔۔۔۔
    لوگوں کی تحقیر۔۔۔۔
    اور ناحق خوش فہمی میں مبتلا ہو کر۔۔۔۔۔ہم اپنی منزل کو کھوٹا کر دیتے ہیں۔۔۔۔!!!!!!!!
    چونکہ سعادت و فلاح کی کچھ نمایاں علامتیں ہیں۔۔۔۔۔
    اور یہ نشانِ راہ ہی آپ کی بلند خلقی،عاجزی، انکساری اور سوچ کا پتہ دیتے ہیں۔۔۔۔!!!!!!
    فلاح کی نشانی یہ ہے کہ علم بڑھا تو تواضع و رحمدلی میں بھی اضافہ ہو گیا۔۔۔۔
    ایسا آدمی محسوس کرے گا کہ یہ علم کی دولت اللّٰہ تعالی کی عطا کردہ ہے۔۔۔۔
    میں نے اس دوشنی سے ارد گرد کی جہالتوں کا سدباب کرنا ہے۔۔۔۔
    جتنا علم بڑھے گا،اُتنا ہی خوف بھی بڑھے گا۔۔۔۔۔
    کیونکہ لغزش قدم،زبان ودل منزل کے کھو جانے کا سبب بن سکتے ہیں۔۔۔۔
    تو یہی سوچ کر وہ ہر اٹھتا قدم احتیاط سے رکھے گا۔۔۔۔
    ایسے شخص کاجاہ و منصب جتنا ترقی کرے گا وہ لوگوں کے قریب ہو کر انہیں مستفید کرنے کی کوشش کرے گا۔۔۔۔
    ان کی ضروریات پوری کرے گا،
    تواضع سے پیش آئے گا۔۔۔۔
    کہ وہ جانتا ہے کہ علم،مال،منصب دینے والا امتحان لے رہا ہے،،،،
    مہلت ختم ہو رہی ہے۔۔۔۔۔۔
    موت قریب آ گئی ہے۔۔۔۔
    جبکہ اس کے برعکس انسان کی حالت یہ ہوتی ہے کہ۔۔۔۔
    ان چیزوں کے اضافے کے ساتھ ہی۔۔۔۔
    دل خالی ہونے لگا۔۔۔۔
    مزاج میں گرمی آنے لگتی۔۔۔۔
    انداز میں درشتی در آتی ہے۔۔۔۔۔
    دل پھولنے لگتا۔۔۔۔
    خوش فہمیوں کے سلسلے دراز ہو جاتے ہیں۔۔۔۔
    یہ سب چیزیں ہمیشہ کے لیئے اپنی ملکیت سمجھ بیٹھتا ہے۔۔۔۔
    علم،مال،منصب پا کر۔۔۔
    بس خود کو نجات یافتہ سمجھ کر۔۔۔۔۔
    اپنا بیڑا پار۔۔۔۔۔
    باقی سب منجدھار میں۔۔۔۔سوچنے لگتا ہے۔۔۔!!!!!!!
    قدر و منزلت کے بڑھنے سے تکبر و غرور کی چادر بھی وسیع ہوتی چلی جاتی ہے۔۔۔!!!!!!!
    اور بالآخر تکبر کا انجام خاک نشین ہو جانا ہی ہوتا ہے ناں۔۔۔؟؟؟؟
    غیب سے کوڑا برستا۔۔۔۔۔اور
    کسی کی حق تلفی۔۔۔۔
    کسی کی تحقیر۔۔۔۔کی آہ عرش سے جا ٹکراتی ہے اور تکبر کے برج زمین بوس ہو جاتے ہیں۔۔۔۔
    یہی تو ناکامی ہے۔۔۔۔ !!!
    وجہ منزل کے نشانات کو سمجھنے سے عاری ہونا ہے۔۔۔۔
    کیونکہ اس راہ میں اس کا واسطہ ہر نوع کے انسانوں سے پڑتا ہے۔۔۔۔
    جو مثلِ دھوپ وسایہ ہوں گے۔۔۔۔
    جو سمندر و صحرا ہوں گے۔۔۔۔
    جو نشیب و فراز ہوں گے۔۔۔۔
    مگر انسان کو ملے کسی بھی منصب کا تقاضا ہے کہ وہ ان کی اصلاح کرتا چلا جائے۔۔۔۔
    تکبر سے کبھی نہ جھڑکے۔۔۔۔
    تحقیر نہ کرے۔۔۔۔
    بلند ہمتی سے چلے۔۔۔۔
    کیونکہ کسی بھی سفر میں مسافر کی ہمت ہی اس کی شخصیت میں اثبات ونفی کا مرکز ہے۔۔۔۔
    یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ عاجزی،علو ہمتی اور محبت انسانیت ہمیشہ اوپر اٹھاتی،،،،،،
    اور کبر ہمیشہ نیچے گرا دیتا ہے۔۔۔۔!!!!!!
    سفر کوئی بھی منتخب کریں مگر نشانِ راہ سے دامن خالی نہ ہو کیونکہ ہمارے اضطراب و بے چینی کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ ہم یکبارگی سب کو روند کر بہت بلند ہونا چاہتے ہوتے ہیں۔۔۔
    اپنی منزل کے مراحل طے ہی نہیں کرتے۔۔۔۔
    تدریج کے اصول کو یکسر جھٹک دیتے اور گہری غلطیوں کی دلدل میں جا پھنستے ہیں۔۔۔۔اور پھر منزل کے قریب پہنچ کر بھی منزل سے دور ہو جاتے ہیں۔۔۔۔
    یہی ہے ناں قدرت کا قانون۔۔۔۔؟؟؟؟؟
    اور یہ نشانِ راہ ہی کسی مسافر کو درجہ کمال سے سرفراز کرتے ہیں۔۔۔۔
    اور ان سے قدم ہٹا لینا ہی اس کے زوال کی وجہ بھی۔۔۔۔!!!!!!!!!!!!!!
    اپنے دامن میں ایمان،محبت،عاجزی،اصلاح کے پھول کسی بھی میدان میں کبھی ختم نہ ہونے دیجیئے۔۔۔۔
    کہ
    >منزل ہے آسمان تو بے بال و پر نہ جا۔۔۔!!!!!!!!!!!!
    ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
    بقلم:(جویریہ چوہدری)۔

  • "کانگریسی مولوی آج پھر پاکستان کے خلاف صف آرا ہیں” تحریر: فیصل ندیم

    "کانگریسی مولوی آج پھر پاکستان کے خلاف صف آرا ہیں” تحریر: فیصل ندیم

    تحریک پاکستان چل رہی تھی مسلم لیگ کا مطالبہ تھا مسلمانوں کیلئے علیحدہ وطن قائم کیا جائے اور ہندوستان کے گلی کوچے بٹ کے رہے گا ہندوستان لے رہیں گے پاکستان کے نعروں سے گونج رہے تھے ایسے میں کچھ مولوی حضرات کانگریس کی زبان بولتے ہوئے متحدہ ہندوستان پر مصر تھے قائداعظم کو کافر اعظم کہا جارہا تھا ان کے ساتھ چلنے والے لوگ بھی کم از کم منافق قرار دئیے جارہے تھے ہندوستان کے مسلمانوں کی غالب اکثریت نے ان مولوی حضرات کو یکسر مسترد کرکے قائداعظم کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کیا نتیجہ ہندوستان کے بطن سے دنیا کی سب سے بڑی مسلم ریاست کے قیام کی صورت نکلا قیام پاکستان کے بعد ان کانگریسی مولویوں نے پاکستان پر لعن طعن کا سلسلہ جاری رکھا پاکستان میں رہنے والے پاکستان کا کھانے والے یہ مولوی مسلسل پاک سرزمین پر فساد برپا کرنے میں مصروف رہے پاکستان کو گالیاں دینے والے یہ مولوی آج پاکستان میں بڑی شان و شوکت کے ساتھ رہائش پزیر ہیں ان میں سے کتنے وزیر مشیر بنے اور کتنے ارب پتی لیکن پاکستان کے ساتھ ان کا بغض آج بھی جاری ہے آج بھی یہ پاکستان کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے ان کے نزدیک پاکستان کے سارے مسائل کا حل ان کی ذات میں پنہاں ہے آج پاکستان کی باگ ڈور ان کے ہاتھ میں دیں آج سب کچھ ٹھیک راوی ہر طرف چین ہی چین لکھ رہا ہوگا ( ثبوت کے طور پر سابقہ ادوار ملاحظہ فرمائے جاسکتے ہیں جب یہ حضرات کسی نہ کسی طرح حکومتوں کا حصہ تھے اور انہیں حکمرانوں کا پیشاب بھی شہد دکھائی دیتا تھا )
    یہ کانگریسی مولوی آج پھر پاکستان کے خلاف صف آرا ہیں ان کا سب سے بڑا ہتھیار ان کے کفر و نفاق کے فتوے ہیں جو انہوں نے اپنے ہر مخالف کیلئے تیار رکھے ہوتے ہیں قرآن کیا ہے حدیث کسے کہتے ہیں اس سے انہیں کوئی غرض نہیں ان کے کردار محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق و کردار سے خالی ہیں مفاد پرستی اور ابن الوقتی ان کا شیوہ ہے یہی لوگ پاکستان میں آج اہل دین کے زوال کا اصل سبب ہیں یہ کتنا اچھلیں کتنا شور مچائیں یہ اسی طرح مسترد ہیں جس طرح کل متحدہ ہندوستان کے مسلمانوں نے ان کے بڑوں کو مسترد کیا تھا ۔۔۔

  • "سندھ کے شہروں میں بسنے والے مہاجروں سے ایک دردمندانہ درخواست” تحریر : فیصل ندیم

    "سندھ کے شہروں میں بسنے والے مہاجروں سے ایک دردمندانہ درخواست” تحریر : فیصل ندیم

    کیا فیصلے کا وقت نہیں آیا ہم کب تک دونوں ہاتھوں میں لڈو رکھیں گے ہمارے لئے ہی کہا گیا ہے رند کے رند ہی رہے ہاتھ سے جنت بھی نہ گئی لیکن جان لیں دو طرفہ کھیلنے والوں کی اکثر مثال دھوبی کے کتے کی ہوتی ہے جو نہ گھر کا ہوتا ہے نہ گھاٹ کا پھر معاملہ اللہ رسول کی بغاوت و اطاعت کے مابین ہو تو معاملے کی سنگینی بڑھ جاتی ہے وہ مفرور قیادت جسے ہم نے ہمیشہ ہم نے اپنی پلکوں پر بٹھایا اور اس نے ہمیں قتل ، خون ہماری تعلیم ہماری اقدار کی تباہی کے سوا کچھ نہ دیا اسے پوجنے کی کوئی وجہ تو ہونی ہی چاہئے حقوق کے نعرے لگاتے بتیس سال گزر گئے مفرور قیادت اور اس کے گماشتوں کے گھر ضرور بھرے لیکن ہمیں سوائے بربادی کے کچھ نہ ملا ۔۔۔۔
    ہم خود کہتے ہیں کہ ہمارے اجداد نے بیس لاکھ جانوں کی قربانی دی تو پاکستان بنا تو بھائی اتنی بڑی قیمت دے کر حاصل ہونے والے پاکستان کو ذاتی مفادات اور چند ٹکوں کے عوض دشمن کو بیچ دیا جائے ؟؟؟؟
    کیا ہم انکار کرسکتے ہیں کہ جن لوگوں نے تحریک پاکستان میں پاکستان کیلئے جانیں دی تھی تو ان کی زبان پر کلمہ تھا توحید کی صدا تھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے وفا تھی اور آج ہم جس ڈگر پر ہیں اس پر نہ دین بچتا ہے نہ ایمان , نہ قرآن بچتا ہے نہ محمد ذیشان علیہ الصلوة والسلام سے کوئی تعلق تو کہاں جارہے ہیں ہم بھائی ۔۔۔۔
    ہم پاکستان میں سب سے زیادہ دین دار سب سے زیادہ پڑھے لکھے اور سب سے زیادہ محب وطن تھے لیکن ان ملک و ملت کے سوداگروں کے پیچھے لگ کر کیا کمایا ؟؟؟؟؟
    دین گیا ایمان گیا تعلیم گئی اقدار گئیں آج ہماری پہچان قاتل بھتہ خور اور وطن فروش کی ہوگئی ہے برائے مہربانی سنبھالیں اپنے آپ کو سب سے بڑھ کر ہم پاکستانی ہیں اور سب سے بڑھ کر پاکستان ہمارا ہے۔۔۔۔
    آج ہمارے دین ایمان اور حب الوطنی پر ڈاکہ ڈالنے والے کھل کر سامنے آچُکے ہیں ایسے وقت میں جب ساری دنیا کے سامنے بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب ہورہا ہے ایک کالا سور اور اس کے حواری بھارت کے نمک کا حق ادا کرنے میں مصروف ہیں ایسے میں کہ جب کشمیریوں پر عرصۂ حیات تنگ کرنے والے بھارت کو دنیا بھر میں سبکی کا سامنا ہے یہ حرامخور کراچی اور بلوچستان کی دہائی دے کر دنیا کو گمراہ کرتے ہوئے بھارتیوں کو پروپیگنڈہ کرنے کا موقع فراہم کررہے ہیں یہ بات حقیقت ہے کہ کراچی حیدرآباد اور سندھ کے دیگر شہری علاقوں میں ہزاروں لوگ قتل ہوئے ہیں یہ علاقے ایک عرصہ بھتہ خوری غنڈہ گردی اور لسانی دہشتگردی کے شکنجے میں پھنسے رہے ہیں لیکن یہ سب کچھ اس وقت ہوا تھا جب یہ بدبخت کراچی حیدرآباد اور سندھ کے دیگر شہروں پر مسلط تھے ان کی آنکھ کے اشاروں پر یہ شہر کھلتے اور بند ہوتے تھے جب سے ان شہروں نے ان بدمعاشوں سے نجات پائی ہے ان میں امن ہی امن ہے ۔۔۔۔
    یہ بات یقینی ہے کہ ان شاءاللہ پاکستان الطاف حسین نامی ناسور سے نجات حاصل کرچکا ہے ان شاءاللہ اب کبھی بھی یہ وطن فروش غدار ٹولہ پاک سر زمین پر قدم نہیں رکھ پائے گا یہ دشمن کی گود میں بیٹھ کر بھونکتے رہیں گے لیکن وطن کی سرزمین انہیں کبھی نصیب نہیں ہوگی ان شاءاللہ
    اس لئے برائے مہربانی اپنی عاقبت و آخرت برباد نہ کریں پاکستان آپ کے آباؤاجداد نے بنایا اس سے محبت کریں اس کی حفاظت کریں ہمارا جینا مرنا سب کچھ اسی وطن میں ہے ان شاءاللہ ہاں کبھی اگر ذہن میں بد خیالات پیدا ہوں تو وہ ہندوستان جس کے گن الطاف حسین بدبخت گانے میں مصروف ہے اس کے طول و عرض میں مسلمانوں کی بے توقیری اور مسلسل بہنے والا ان کا خون ناحق ضرور دیکھ لیں اللہ ہم سب کو حق کو پہچان کر اس پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے

  • سی ایس ایس امتحان اور اردو              ،    پروفیسر محمد سلیم ہاشمی کا بلاگ

    سی ایس ایس امتحان اور اردو ، پروفیسر محمد سلیم ہاشمی کا بلاگ

    سی ایس ایس امتحان اور اردو پروفیسر محمد سلیم ہاشمی

    سی ایس ایس امتحان 2015
    سی ایس ایس امتحان 2016
    سی ایس ایس امتحان 2017
    سی ایس ایس امتحان 2018
    سی ایس ایس امتحان 2019

    انگریزی کے جن نے ایک بار پھر ہزاروں پاکستانیوں کو شکست دے دی۔ وہ ڈاکٹر ہیں، انجینئر ہیں، اپنے مضمون میں ماسٹر ہیں یا آنرز ڈگری کے حامل ہیں، قابل ہیں، ذہین ہیں، اعزاز و کمالات کے حامل ییں۔ انہیں اس معیار کی انگریزی نہیں آتی جو سی ایس ایس پر مسلط بوڑھے آسیبوں کے معیار پر پورا اترتی ہے تو وہ ناکام ییں۔
    کوئی تماشے سا تماشا ہے، وہ زبان جو اس ملک کے کسی باسی کی زبان نہیں ہے وہ اس ملک کی انتظامیہ کو چلانے والوں کے لئے قابلیت کی شرط ٹھہری ہے۔ میرا سوال یہ کہ 72 سالوں سے یہ تماشا لگا ہوا ہے۔ ہر سال پاکستانی ذہن کے حامل نوجوانوں کو اس ملک کی انتظامیہ میں داخل ہونے سے روک دیا جاتا ہے۔ ان لوگوں کو انتظامیہ کا حصہ بنایا جاتا ہے جن کی واحد قابلیت ان بوڑھے آسیبوں کی مطلوبہ انگریزی جاننے کی صلاحیت ہے۔ سوال یہ ہے کہ ان بوڑھے آسیبوں نے اپنی ساری مدت ملازمت میں اپنی مدت ملازمت پوری کرنے کے سوا کیا کارنامہ سرانجام دیا ہے؟ ان میں کسی قسم کی کوئی قابلیت یا صلاحیت ہوتی تو ملک کا اور اس کے اداروں کا وہ حال ہوتا جو یے۔ اور اب ان بوڑھے آسیبوں نے اپنے ہی جیسے آسیب زدہ لوگوں کو اس ملک کی مزید بربادی کے لئے چن لیا یے۔
    یہ ملک اور اس ہر مسلط یہ بوڑھے اسیب، ان کے فرسودہ اور بے ہودہ خیالات اور ان کی احمقانہ و ظالمانہ سوچ کب تک اس ملک کا بیڑہ غرق کرتے رہیں گے۔ میرا ان نوجوانوں سے جو اس امتحان میں ناکام ہو گئے ہیں اور وہ نوجوان جو اگلے سال اس امتحان میں شامل ہونا چاہتے ہیں کہنا ہے کہ وہ شہر شہر اس ظلم کے خلاف احتجاج کریں، عدالتوں کا رخ کریں اور وہاں پر سی ایس ایس کا امتحان اردو میں لینے کے لئے درخواستیں دائر کریں اور اپنے حق کو حاصل کرنے کے لئے ڈٹ جائیں۔
    یہ خیال کہ میں اگلے سال یہ امتحان انگریزی میں دے کر کامیاب ہو جاؤں گا خام خیالی کے سوا کچھ نہیں۔

    ارباب حکومت

    حضور انگریزی کی بربادی کا مظاہرہ ہم پرسوں سے دیکھ رہے ہیں۔ ایک بل (قادیانی ترمیم 2017) کو پیش کرنے پر اس زبان نے ساری قوم کو جس طرح تگنی کا ناچ نچایا وہ سب کے سامنے ہے۔ یہ ناچ ساری قوم ہر شعبے میں ناچ رہی ہے، برباد ہوتی جا رہی ہے۔ اس کا واحد علاج اس زبان کی اس ملک سے مکمل بے دخلی ہے، جی ہاں مکمل بے دخلی ہر شعبے سے مکمل بے دخلی۔ اس کے علاوہ آپ یا کوئی اور جو مرضی کہتا رہے، کرتا رہے وہ ہماری بربادی کے عمل کو آگے تو بڑھا سکتا ہے کم یا ختم نہیں کر سکتا۔ اگلے سال سے سی ایس ایس کا امتحان مکمل طور پر اردو میں لینے کا فیصلہ الفور اعلان کیا جائے, ہمارا مطالبہ ہے واضح اور دو ٹوک مطالبہ
    پاکستان میں ہر شعبہ زندگی میں ہر سطح پر اردو کے مکمل نفاذ اور انگریزی کی کلی طور پر بے دخلی تک ہم اپنی جدوجہد کو جاری رکھیں گے۔
    پاکستان کی حیات انگریزی سے نجات
    اس ملک کی خوشحالی اردو کی بحالی

    پروفیسر محمد سلیم ہاشمی
    اشتراک:
    فآ طمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک

  • اقوام متحدہ میں فلسطین کا مقدمہ —از –صابر ابو مریم

    اقوام متحدہ میں فلسطین کا مقدمہ —از –صابر ابو مریم

    مسئلہ فلسطین کی ابتداء کو آئندہ ماہ ایک سو دو برس مکم ہو جائیں گے۔ تاریخ میں عام طور پر مسئلہ فلسطین کی ابتداء 1948ء سے کی جاتی ہے جب غاصب صہیونی ریاست اسرائیل کا ناپاک وجود قیام عمل میں آیا تھا تاہم اگر دقیق نگاہ سے ا س مسئلہ کا مشاہدہ کیا جائے تو اس کی ابتداء تو اسی دن ہو گئی تھی جب بوڑھے استعمار برطانیہ کے اعلیٰ عہدیدارجیمز بالفور نے ایک اعلان نامہ کے ذریعہ فلسطین کی تقسیم صہیونیوں کے حق میں کرنے کے لئے حکومت برطانیہ کو خط لکھا تھا۔ اس اعلان کو اعلان بالفور کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور یہ 2نومبر سنہ1917ء کی بات ہے کہ جب پہلی جنگ عظیم کے خاتمہ کے فوری بعد صہیونیوں نے فلسطین پر قبضہ کی ٹھان لی تھی۔

    چیف جسٹس آف پاکستان نے ملک بھر کے لیے بہت بڑا حکم جاری کردیا، کیا ہے یہ حکم ؟…

    اقوام متحدہ جو اس وقت لیگ آف نیشن کے نام سے کام کر رہی تھی،فلسطین کا مقدمہ پیش کیا گیا تو عالمی طاقتوں کی ایماء پر اس مقدمہ کو صہیونیوں کے مقابلہ میں زیادہ پذیرائی حاصل نہ ہو پائی۔سنہ1922ء کے بعد 1947ء میں نئی اقوام متحدہ نے قرار داد نمبر 181کے ذریعہ فلسطین کی ناجائز تقسیم کا اعلان کر ڈالا۔نتیجہ میں دنیا بھر سے لا کر بسائے جانے والے صہیونیوں کے لئے جعلی ریاست اسرائیل سنہ1948ء میں قیام عمل میں آ گئی۔

     

    وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ میں مسئلہ فلسطین ہمیشہ بنیادی مسائل کی فہرست میں ٹاپ پر رہا ہے اور اس عنوان سے اقوام متحدہ نے کئی ایک قرار دادیں منظور کی ہیں جن کو بعد ازاں صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کی جانب سے ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا جاتا رہاہے۔

    بہرحال ہم بات کرتے ہیں اقوام متحدہ کے 74ویں سالانہ اجلاس کی کہ جو فلسطین پر صہیونیو ں کے غاصبانہ تسلط کے 72سال مکمل ہو نے پر ہو رہا ہے۔اس اجلاس کی تمام تر روئیداد کو دیکھنے اور طائرانہ نظر دوڑانے پر اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ اگر دنیا کے سب سے اہم ترین اور پہلے مسئلہ کی طرف کسی نے توجہ مبذول کروائی ہے تو ایران اور ترکی تھے کہ جن کے سربراہان مملکت نے اپنی تقاریر میں فلسطین پر صہیونیوں کے غاصبانہ تسلط کے خلاف بات کی اور فلسطینیوں کے لئے انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔

    مخالفین نہیں‌ اپنے ہی وزیراعظم کی کشتی ڈبو رہے ہیں ، ایماندار وزیراعظم کو6 چیزیں

    ایران کی اگر بات کریں تو ایران، سنہ 1979ء کے اسلامی انقلاب کے بعد دنیا کے دیگر ممالک کی نسبت فلسطینیوں کی تحریک آزادی اور فلسطین کی آزادی کا سب سے بڑا خواہاں ہونے کے ساتھ ساتھ عملی طور ر فلسطین کاز کا مدد گار بھی ہے، حتیٰ کہ ایران کے دستور میں فلسطین سمیت دنیا کے تمام مظلوموں کی حمایت بنیادی اصولوں کی دستاویز کے طور پر درج بھی ہے۔لہذا ایران کے صدر روحانی نے اپنا فریضہ سمجھتے ہوئے بھی فلسطین کاز کی حمایت کو اقوام متحدہ کے فورم پر بیان کیا اور فلسطین کا مقدمہ پیش کیا ہے۔

    دوسری طرف ترکی کے سربراہ مملکت رجب اردگان ہیں کہ جو ایران کے ہمسایہ بھی ہیں۔ماضی میں بھی فلسطین کا زکی حمایت میں پیش پیش رہے ہیں حالانکہ حکومتی سطح پر ترکی کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات موجودہیں لیکن اردگان حکومت نے گاہے بہ گاہے فلسطین کاز کی حمایت جاری رکھی ہوئی ہے۔ترکی کے صدر کے طرز حکومت اور دنیا کے بدلتے سیاسی حالات میں تیزی سے تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔حالانکہ شروع شروع میں ترکی شام کے خلاف سرگرم تھا اور یہی اردگان کہتے تھے کہ بشار الاسد کی حکومت کو جانا ہو گا لیکن اب ان کا موقف تبدیل ہو چکا ہے اور یہ سمجھ چکے ہیں کہ شام سمیت عراق کو غیر مستحکم کرنے کا امریکی منصوبہ جہاں شام و عراق کو تباہ کر دیتا وہاں ساتھ ساتھ ترکی بھی اس کا شکار بنے بغیر نہ رہتا۔

    بات کرتے ہیں اقوام متحدہ کے حالیہ سالانہ اجلاس کی اور اس میں فلسطین کا مقدمہ پیش کرنے کی تو ایران کے بعد ترک صدر تھے کہ جنہوں نے فلسطین کا زکی کھل کر حمایت کی اور صہیونی جرائم کو آشکار کرتے ہوئے صہیونیوں کی مکاریوں اور ظلم و ستم کی داستانوں کو بیان کیا۔اردگان کی تقریر کے تاریخی جملوں میں قابل ذکر جملے یہ تھے کہ آج دنیا میں سب سے زیادہ نا انصافی فلسطینیوں کے ساتھ ہو رہی ہے۔

    ڈان کے سابق سٹی ایڈیٹر ابوالحسنات انتقال کر گئے

    آج مقبوضہ فلسطین صہیونی مظالم کی زدمیں ہے اور سب سے زیادہ ناانصافی فلسطینی عوام کے ساتھ ہو رہی ہے جبکہ غاصب اسرائیل کہ جو سنہ1947ء سے پہلے کوئی وجود نہ رکھتا تھا آج تک ظلم و ستم کے ساتھ مقبوضہ فلسطین پر قابض ہے اور فلسطینیوں پر ظلم و ستم کی داستانیں رقم کر رہاہے۔یہاں اردگان کے جملوں کو تاریخی جملے کہنے کا ایک ہدف یہ بھی ہے کہ انہوں نے صہیونی جعلی ریاست اسرائیل کی اصل حقیقت کی قلعی کھول دی ہے اور بتایا ہے کہ سنہ1947ء سے پہلے اسرائیل نام کی کوئی ریاست نہ تھی، اس کا واضح مطلب یہی بنتا ہے کہ اردگان نے مسئلہ فلسطین کے حوالے سے فلسطین کی آزاد ریاست کہ جس کی بنیاد سنہ1948ء سے قبل کی ہے اس کی حمایت کی ہے جس میں اسرائیل نام کی کوئی ریاست وجود نہیں رکھتی۔

    اردگان نے اسرائیل کے منہ پر ایک زور دار طمانچہ رسید کرتے ہوئے اقوام عالم سے سوال کیا کہ یہ بات کیسے ممکن ہے کہ جولان کی پہاڑی علاقوں کو جعلی ریاست اسرائیل دنیا کی آنکھوں کے سامنے اپنے اندر ضم کر لے جیسا کہ پہلے بھی اسرائیل نے فلسطینی علاقوں کو مقبوضہ بنا رکھا ہے۔یعنی اس عنوان سے اردگان کا موقف شام کی حمایت میں بھی سامنے آیا ہے جو بہت بڑی تبدیلی کا اشارہ ہے۔

    اردگان کی تقریر میں اہم ترین بات جو غاصب صہیونیوں کے جھوٹے پراپیگنڈے کو زائل کرنے کے لئے کافی تھی وہ اردگان کا تقریر کے دوران ہاتھوں میں مقبوضہ فلسطین کا نقشہ اٹھا کر اقوام عالم کو دکھانا تھا۔اردگان کے ہاتھوں میں موجود فلسطین کا نقشہ در اصل صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو کے ان جھوٹے اور منفی پراپیگنڈوں کا جواب بھی تھا کہ جس میں وہ گذشتہ برس ہاتھوں میں ایسی من گھڑت تصاویر لے کرآئے تھے کہ ایران کی ایٹمی تنصیبات اور دیگر بتا رہے تھے تاہم اس مرتبہ اردگان کے ہاتھوں میں فلسطین کا نقشہ صہیونی ریاست کے وجود کی نفی کے ساتھ بہترین حربہ تھا جس پر اب تک صہیونی ذرائع ابلاغ میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔

    اسرائیل کی تکلیف کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ نیتن یاہو کی ایک ویڈیو منظر عام پر آئی ہے جس میں انہوں نے ترک صدر کو فلسطین کے حقائق بیان کرنے اور صہیونی ریاست کی نفی کرنے کو جھوٹ کا پلندا قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اردگان نے فلسطین کی حمایت اور اسرائیل کی نفی کے معاملے میں جھوٹ بیان کیا ہے۔واضح رہے کہ اردگان نے کہا تھا کہ سنہ1947ء سے قبل دنیا میں کسی بھی جگہ اسرائیل نام کی کوئی ریاست وجود نہ رکھتی تھی۔یقینا یہ ایک تاریخی حقیقت ہے تاہم صہیونی وزیر اعظم نیتن یاہو اس بات پر شدید برہم ہیں۔نیتن یاہو نے ساتھ ساتھ ترک صدر کو کرد عوام کا قاتل بھی قرار دیا ہے۔

    نیتن یاہو کے جواب میں ترک صدر کے ترجمان ابراھیم کالن نے نیتن یاہو کی باتوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترک صدر کی جانب سے تاریخی حقائق بیان کرنے پر لگتا ہے کہ نیتن یاہو کا دماغی توازن خراب ہو چکا ہے۔

    خلاصہ یہ ہے کہ اقوام متحدہ کے حالیہ سالانہ اجلاس میں مسلم دنیا کے 57ممالک میں سے صرف ایران اور ترکی ہی واضح طور پر فلسطین کی حمایت میں کھڑے نظر آئے ہیں جبکہ امید یہ کی جا رہی تھی کہ پاکستانی وزیر اعظم عمران خان اپنی تقریر میں کشمیر کے ساتھ ساتھ مسلم امہ کے اولین مسئلہ فلسطین کو بھی اجاگر کریں گے۔

    اقوام متحدہ میں فلسطین کا مقدمہ —
    تحریر:صابر ابو مریم صابر ابو مریم


    سیکرٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان
    پی ایچ ڈی ریسرچ اسکالر، شعبہ سیاسیات جامعہ کراچی

  • 27 اکتوبر اور پندرہ لاکھ کا لشکر۔حقیقت ،  جواد سعید کا بلاگ

    27 اکتوبر اور پندرہ لاکھ کا لشکر۔حقیقت ، جواد سعید کا بلاگ

    27 اکتوبر اور پندرہ لاکھ کا لشکر۔حقیقت ۔ بقلم جواد سعید

    سوتروں کے انوسار مولانا فضل الرحمن صاحب نے ستائیس اکتوبر کو اسلام آباد دھرنا دینے کی گوشنا کر دی ہے۔
    لیکن یہ اعلان اتنا ہی کھوکھلا لگ رہا جتنا کہ قوم یوتھ سوچ رہی ہے۔
    مدارس کے دو ہی شعبے پاکستان میں کام کر رہے ۔تنظیم المدارس۔جنھوں نے حمایت کا انکار کر دیا ہے۔
    اور دوسرا وفاق المدارس۔جن کے مطابق ملک بھر میں مولانا کے حمایت یافتہ مدارس ڈھائی سے تین ہزار ہیں۔
    اگر ایک مدرسے سے 200 بندے بھی آئیں تو تعداد بنتی ہے پانچ سے چھ لاکھ۔
    مطلب واضح ہے انکا اعلان صرف پھڑ تک محدود تھا۔
    اسلام آباد آنے کے دو ہی راستے ہیں
    ایک خیبر پختونخواہ دوسرا براستہ پنجاب۔
    خیبرپختونخوا والا راستہ تو وزیر اعلی خیبر پختونخواہ نے بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے
    اور دوسرا پنجاب والا راستہ جلد ہی بند کرنے کی اطلاعات موصول ہو سکتی ہیں۔

    اب آتے ہیں بجٹ کی جانب کہ مہنگائ میں پسی عوام کیا اس دھرنے میں پہنچ سکتی ہے۔؟؟

    پندرہ لاکھ افراد کے حساب سے اگر ایک گاڑی میں پانچ بندے سوار ہوتے ہیں تو تقریباً تین لاکھ گاڑیاں اسلام آباد پہنچیں گی۔
    اور ہر گاڑی پر پانچ سے چھ ہزار کا پٹرول خرچ ہو تو کم ازکم ڈیڑھ ارب روپے خرچہ آئے گا
    اور پھر پندرہ لاکھ شرکاء پر کھانے پینے کا خرچہ کم ازکم 70 کروڑ یومیہ ہے
    اب کم ازکم پورا ہفتہ بھی یہ دھرنا اسلام آباد رکتا ہے تو سات ارب روپے صرف کھانے پر خرچ، ہو سکتے۔
    جو کہ عوام کے بس سے باہر ہے۔
    اور اگر یہ اتنے پیسوں کا انتظام کر ہی لیتے ہیں تو کرپشن مافیا کیطرح نیب کے چنگل میں بآسانی پھنس سکتے۔

    اب آتے ہیں اس سوال پر کیا اپوزیشن اس دھرنے میں مدد کرے گی؟؟

    یاد رکھیں یہ دھرنا سارے کا سارا جمیعت کے مدارس مولویوں پر مشتمل ہو گا
    یقینی سوچ ہے کہ بلاول بھٹو اس دھرنے میں کیونکر شریک ہو گا۔؟؟ سندھ سے عوام کیسے آ پائے گی۔؟؟
    شہباز شریف معذرت کر چکے بلاول کو یہ سمجھاتے ہوئے کہ دھرنے سے حکومت تبدیل نہیں ہوتی۔
    اور مولانا کی سب سے بڑی کمزوری مذہب کارڈ ہے۔جس کو اپوزیشن سیاست میں مانتی نہیں ۔اگرچہ نواز شریف نے حمایت کا اعلان کیا ہے۔مگر پھر بھی یقین سے کہا جا سکتا کہ نواز شریف جیسا مکار سیاست دان اس جیسے بکرے کو صرف حلال ہوتا دیکھ سکتا مگر ساتھ حلال نہیں ہو سکتا۔اور نہ ہی اپنی عوام بھیج کر خود سے متنفر کروائے گا۔
    اور تازہ خبر کے مطابق ایجنسی جمیعتی مدارس کا ریکارڈ سرکار کو دے رہی۔اور یہی کام تابوت پر آخری کیل ٹھوکنا ہے۔
    اور اگر ان سب کے بعد بھی یہ دھرنا دے بھی دیتے ہیں تو انکا وہی حال ہو گا۔
    جو الشیخ خادم رضوی صاحب کے دھرنے کیساتھ ہوا تھا شاید۔واللہ اعلم

  • میرپور زلزلہ کے آٍفٹر شاکس نے پھر تباہی مچا دی

    میرپور زلزلہ کے آٍفٹر شاکس نے پھر تباہی مچا دی

    میرپور زلزلہ کے آٍفٹر شاکس نے پھر تباہی مچا دی
    میر پورآزادکشمیر میں آفٹرشاکس کاسلسلہ جاری.میرپور کے علاقےجڑی کس میں گزشتہ رات آفٹرشاکس کے بعد2منزلہ عمارت گرگئی.ریسکیو اہلکاروں نےعمارت کےملبے تلے دبے3افراد کو زندہ نکال لیا گیا .میرپور کے علاقےجڑی کس میں گزشتہ رات آفٹرشاکس کے بعد2منزلہ عمارت گرگئی.گزشتہ ماہ آزاد کشمیر اور گردو نواح میں آنے والے زلزلے کے آفٹر شاکس کا سلسلہ تاحال جاری ہے اور آج ایک بار پھر میرپور اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے ہیں۔ زلزلے کے جھٹکے صبح 10 بج کر 28 منٹ پر آئے جن کا دورانیہ دو سے تین سیکنڈ تھا۔زلزلے کے جھٹکوں کے بعد لوگوں خوف و ہراس پھیل گیا اور وہ اپنے گھروں سے باہر نکل آئے

    وزیراعظم عمران خان میر پور پہنچ گئے، زلزلہ متاثرین کی عیادت، کہا پیکج تشکیل دے رہے ہیں

    وزیراعلیٰ پنجاب میر پور پہنچ گئے، کہا پنجاب حکومت مشکل وقت میں زلزلہ متاثرین کے ساتھ ہے

    میر پور آزاد کشمیر میں زلزلے سے سڑک ٹوٹ گئی