Baaghi TV

Category: بلاگ

  • عنوان: شہر قائد سیاست کی نذر، تحریر: انشال راؤ

    عنوان: شہر قائد سیاست کی نذر، تحریر: انشال راؤ

    آرزوئے سحر
    تحریر: انشال راؤ
    عنوان: شہر قائد سیاست کی نذر

    حادثاتی طور پر وجود میں آنے والی ایم کیو ایم MQM اپنے پینتیس سالہ دور میں کئی نشیب و فراز سے گزری، بہت سی جماعتوں سے اتحاد بھی کیا اور تقریباً ہر بار ہی حکومت کا حصہ رہی، موجودہ وقت میں شہری سندھ کی نمائندہ جماعت کو تاریخ کے مشکل ترین حالات کا سامنا ہے، اپنے عروج سے زوال تک MQM بہت سے تلخ و شیریں تجربات و مشاہدات سے گزری لیکن طرز سیاست اور روش میں تبدیلی نہ آئی، یہ جماعت جتنی بار بھی حکومتوں کا حصہ بنی ہمیشہ ناراضگی اور اتحاد اس کا خاصا رہا یعنی کہ چھوڑنا چھوڑنی کا کھیل انکی طرز سیاست کا اہم ہتھیار رہا ہے عام طور پر مہاجر حلقوں میں اسے بلیک میلنگ کی سیاست کے نام سے پکارا جاتا ہے جس کا متوسط طبقے کی نمائندہ جماعت کو ہر سطح پر نقصان ہی نقصان ہوا، اس قسم کے طرز سے فرد یا مخصوص لوگوں کو تو فائدہ ہوجاتا ہے لیکن جماعتی سطح پر اس کے اثرات کبھی مثبت نہ آئے، روایت کے مطابق متحدہ نے ایک بار پھر کابینہ سے علیحدگی کا اعلان کردیا ہے جو آگے چل کر اتحاد سے علیحدگی کی صورت بھی اختیار کرسکتا ہے لیکن حکومت کے لیے یہ اچانک تغیر شاید زیادہ پریشان کن نہ ہو کیونکہ متحدہ کی روس منائیوں سے کون ہے جو واقف نہیں لیکن اس چھوڑنا چھوڑنی اور آن جان کے کھیل میں نقصان شہر قائد اور اس کے باسیوں کا ہے جن کی مشکلات میں کمی کی بجائے مزید اضافہ ہوجانا ہے اگر موجودہ صورتحال پر غور کیا جائے تو شہر قائد ایک بار پھر ستر کی دہائی میں پہنچ گیا جب مذہبی جماعتیں مہاجر کارڈ کو استعمال کرتی تھیں اور اب PTI سے PPP تک اس کارڈ کو ہتھیانے کے لیے زور آزمائی کررہی ہیں، جس طرح ستر کی دہائی میں بھٹو اور مہاجر دانشوروں کے مابین طے پانے والا فارمولا 60 فیصد دیہی اور 40 فیصد شہری کوٹہ سیاست کی نذر ہوگیا اسی طرح خستہ حال کراچی کی ڈویلپمنٹ کے منصوبے ایک بار پھر سیاست کی نذر ہوگئے، تحریک انصاف کے لارے لپے اور ٹال مٹول نے متحدہ کے لیے شکوک و شبہات کو جنم دیا کہ شاید PTI متحدہ کو کراچی کے منظرنامے سے ہٹاکر اس کی جگہ لینی چاہتی ہے ویسے اگر حقیقت کی نگاہ سے دیکھا جائے تو کچھ کچھ ایسا بھی ہے جبکہ پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت اس بداعتمادی کی وجہ سے (جو 1989 میں پیدا ہوئی) آج تک شہری سندھ کو اس کے حقوق سے جبراً محروم کیے آرہی ہے،

    1989 میں بینظیر کے خلاف تحریک عدم اعتماد میں MQM نے اتحادی ہوتے ہوے مخالف ووٹ دیا اور ساتھ ہی مختلف نعروں کے ساتھ شہری سندھ میں فسادات پھوٹ پڑے تو دیہی سندھ میں وڈیروں کے ہاتھوں بیسیوں لاکھ مہاجروں کو شدید نقصان برداشت کرنا پڑا اور یہ سلسلہ بینظیر حکومت کے خاتمے پہ جا کر تھما، اس کے بعد سے پیپلزپارٹی نے شہری سندھ سے ہمیشہ غیرجمہوری و غیرآئینی سلوک برتا حتیٰ کہ یونیورسٹی جیسے عظیم مطالبے تک کی راہ میں رکاوٹ بنی رہی جس کا درحقیقت نقصان PPP ہی کو پہنچا نہ صرف شہری سندھ میں PPP کو نفرت کی نگاہ سے دیکھا جانے لگا بلکہ ملک کے سب سے بڑے شہر کی خستہ حالی کا اثر پنجاب و KPK میں PPP کی ساکھ پہ ہوا، اگر پیپلزپارٹی جمہوری تقاضوں کو پورا کرتی تو یقیناً آج صورتحال اس کے برعکس ہوتی جیسا کہ PPP کے لیے شہری علاقوں میں سوچ پائی جاتی ہے، ماضی میں یہی PPP تھی جب جنرل ضیا کے دور میں 1979 میں بلدیاتی الیکشن ہوے تو کراچی سے عوام نے PPP پر بھرپور اعتماد کیا لیکن دو کونسلروں کے اغوا نے PPP کو میئر شپ سے محروم کردیا اور ڈپٹی میئر پر ہی اکتفا کرنا پڑا، اب کراچی میں خلا کو دیکھتے ہوے اور ہر خاص و عام کی تنقید کے بعد سندھ حکومت کراچی سمیت سندھ کے شہری علاقوں پہ توجہ دیتی ہوئی نظر آرہی ہے لیکن ابھی مزید کرنے کی ضرورت ہے بلاول بھٹو جو پنجاب پہ خصوصی توجہ دئیے ہوے ہیں وہ اگر اس کا دس فیصد بھی کراچی پر دے دیں اور ایک دو ماہ کراچی میں ڈیرے ڈال لیں تو PPP نہ صرف دیہی سندھ بلکہ شہری علاقوں کی بھی نمائندہ جماعت بن جائے گی کیونکہ PTI کی عدم توجہی اور غیرسنجیدہ روئیے کی وجہ سے اردو اسپیکنگ PTI کو محض نعروں والی جماعت سمجھنے لگے ہیں، MQM جو اپنے قائد سے محروم ہوکر یتیم جماعت بن چکی تھی اب تقسیم در تقسیم در تقسیم کا شکار ہوکر بالکل مفلوج ہوکر رہ گئی ہے، وڈیرہ شاہی کے خلاف علم بغاوت بلند کرنے والی جماعت کے کرتا دھرتا 30 سے 35 سالوں میں وڈیرانہ نظام کا تو کچھ نہ بگاڑ سکے لیکن خود شہری وڈیرے بن کر بیٹھ گئے اب اپنی چودھراہٹ کو جاتے دیکھ کر اندرون خانہ ایک نیا مہاجر اتحاد قائم کرکے ایک نئی سیاسی جماعت کو کھڑا کرنے کے لیے ہاتھ پیر مار رہے ہیں لیکن افسوس کہ جو سفر 35 سال پہلے مہاجر حقوق کے نام سے شروع کیا آج 35 سال بعد اردو اسپیکنگ کو وہیں لا کر کھڑا کردیا،

    80 کی دہائی میں بھی مہاجر حقوق کا نعرہ تھا آج 2020 میں بھی مہاجر حقوق کا نعرہ ہے اگر کچھ حاصل ہوا تو وہ دو چار درجن افراد کی ہوائی چپل سے شہری وڈیرے کے طور پر ترقی حاصل ہوئی، اگر یہ اتحاد نیا جنم لیکر منظر پر آ بھی جائے تو نقشہ کیا ہوگا وہی شہری دیہی تفریق، وہی لسانیت وہی نفرتیں جس کے اب مزید متحمل نہیں ہوسکتے، اردو اسپیکنگ جو ملک کا سب سے پڑھا لکھا طبقہ تھا اور اپنے حقوق کے لیے اٹھ کھڑا ہونا ان کے شعور کی گواہی ہے لیکن ستم بالا ستم نعرہ تھا حقوق کا، نعرہ تھا جاگیردارانہ وڈیرانہ نظام کے خاتمے کا، نعرہ تھا مساوات کا، متوسط طبقے کا لیکن ان کا رخ لسانیت کی طرف موڑ دیا گیا، جدوجہد تو ظالم وڈیروں اور ظالم جاگیرداروں کی اقرباپروری کے خلاف کرنی تھی لیکن نامعلوم راز ہے کہ لڑوایا گیا عام سندھی عام پنجابی و عام پٹھان سے، کبھی ایک بار بھی عملی طور پر اسٹیٹس کو کے خلاف کوئی قدم نہ اٹھایا گیا، اور اب ایک بار پھر مہاجر اتحاد کی کوشش نتیجہ کیا نکلنا ہے وہی لسانیت بیشک مہاجر نہ سہی کوئی اور سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لیے لسانی تعصب کو ابھار سکتا ہے لہٰذا اب لسانی سیاست اور ایک مخصوص سوچ سے باہر نکل کر قومی سیاست میں قدم رکھا جائے اور موجودہ خستہ حال نظام کے خلاف عملی جدوجہد کی جائے تو یقیناً جلد ہی یہ نیا اتحاد پورے ملک کی سیاست پہ چھا جانے کے ساتھ ساتھ ایک انقلاب ثابت ہوگا، مسائل سب کے یکساں ہیں مشکلات سب کی ایک سی ہی ہیں خواہ دیہی ہوں یا شہری سب ہی اس نظام کے ستائے ہوے ہیں ہر خاص و عام اس نظام سے بیزار ہے عوام بےچین ہے کہ کوئی چنگاری نظر آئے تو وہ آگ بن کر اس ظالم نظام کو راکھ کردے لیکن افسوس کوئی بھی ایسا نہیں جو عوام کے لیے نکلے، کراچی وہ شہر ہے جہاں سے ماضی میں بہت سی تحریکوں نے جنم لیا، کیا ہی اچھا ہو جو ایک بار پھر انقلابی تحریک منبع ثابت ہو۔

  • وسیم اکرم کو ملا ایک اور اعزاز

    وسیم اکرم کو ملا ایک اور اعزاز

    وسیم اکرم کو ملا ایک اور اعزاز
    باغی ٹی وی :سپن کے سلطان وسیم اکرم کو ملا ایک اور اعزاز جب ان کے معاصر لیجنڈ بلے باز نے انہیں بہترین گیند باز قرار دیا. آسٹریلیا کے سابق کپتان و معروف بلے باز رکی پونٹنگ نے قومی ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم اور ویسٹ انڈیز کے کرٹلی ایمبروس کو بہترین و خطرناک گیند باز قرار دے دیا۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹرپر ایک مداح نے سابق آسٹریلیوی کپتان سے سوال کیا کہ آپ اپنے کریئر کے دوران کن گیند بازوں کے خلاف بلے بازی کرنے میں مشکل کا سامنا کرتے تھے؟۔جس پر رکی پونٹنگ نے بتایا کہ اپنے کریئر کے دوران مجھے وسیم اکرم اور کرٹلی
    ایمبروس کو کھیلنے میں مشکل ہوتی تھی وہ اس وقت کے بہترین گیند باز تھے


    ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کےاسپیڈ اسٹارو سابق ٹیسٹ کرکٹر شعیب اختر کو سب سے تیز گیند باز پایا جبکہ مجھے سب سے زیادہ بھارت کے اسپینر ہربھجن سنگھ نے آؤٹ کیا۔

    واضح رہے رکی پونٹنگ کرکٹ کی تاریخ سب سے کامیاب ترین کپتان مانے جاتے ہیں۔ ان کی قیادت میں آسٹریلیا نے دو عالمی کپ جیتے تھے۔رکی پونٹنگ نہ صرف بہترین کپتان تھے بلکہ ان کا شمار دنیائے کرکٹ کے صف اول کے بلے بازوں میں بھی ہوتا ہے۔

  • 2019ء لوٹ مار کے احتساب کا سال، تحریر:محمد حسن رضا

    2019ء لوٹ مار کے احتساب کا سال، تحریر:محمد حسن رضا

    2019ء لوٹ مار کے احتساب کا سال، تحریر:محمد حسن رضا

    ایک وقت تھا قومی احتساب بیورو (نیب)جسے تمام سیاستدان ،افسران ،کاروباری شخصیات سمیت ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتے تھے اور نیب کسی بھی طاقتور شخص کے خلاف ایکشن لینے سے گھبراتا تھا، یہاں تک کہ یہ وہ ادارہ تھا کہ یہ جاگیرادار لوگوں کی گھر کی لونڈی بن چکی تھی ، اور ہر طاقتور شخص اس کو صرف اور صرف اپنے لئے استعمال کرتا تھا، لیکن پھر کیا تھا کہ اچانک تبدیلی آئی ،

    وہ بھی ایسی کہ ایک ریٹائرڈ جج کو چیئرمین نیب اور ایک ریٹائرڈ فوجی افسر میجر (ر)شہزاد سلیم کو لاہور میں اہم ذمہ داری سونپ دی گئی، ان کی تعیناتیوں کے وقت حکومت اور اپوزیشن تمام افراد متفق نظر آئے ۔ پھر آہستہ آہستہ ہر سیکٹر میں انکشافات ہونے لگے ،کہیں کسی کے پیچھے کارروباری شخصیت کا ہاتھ تو کسی کے پیچھے طاقتور بیوروکریٹ توکہیں سیاستدان یہاں تک کہ سابق وزراء اعظم اور وزراء اعلیٰ، اور پھر گورنر ، تو کہیں وزراء اور اسپیکر ، صدر تک بھی مبینہ کرپشن میں پیچھے نہ تھے۔ سرکاری خزانے کو لوٹنے اورقبضہ مافیا کی مدد کا بازار گرم تھا۔ پھر ایک دن یہ آیا کہ نیب کے نام سے سب خوف کھانے لگے ، کیونکہ جب ایکشن لیا جانے لگا ۔قانون اور رولز کی کتاب کو سامنے رکھا تو پھر ہر دوسرا طاقتور شخص قانون کی گرفت میں آنے لگا۔ نیب نے لوٹے گئے اربوں روپے ثبوتوں کی روشنی میںریکور کر کے سرکاری خزانے میں جمع کروائے ۔

    نیب اور حکومت کی کارکردگی کی بدولت پاکستان بدعنوانی کے تاثر کے حوالے سے اعشاریے سی پی آئی میں 175 سے 116 ویں نمبر پر آگیا ہے ۔پاکستان واحد ملک ہے جس کا سی پی آئی نیچے آنے کا رجحان ہے ۔ ہماری کارکردگی کو بھارت سمیت سارک ممالک کی جانب سے سراہا گیا ہے ، اسی لئے نیب سارک اینٹی کرپشن فورم کا متفقہ طور پر چیئرمین منتخب ہوا ہے ۔جو کہ پاکستان کے لئے ایک بڑی کامیابی ہے ۔ پاکستان کو 100 فیصد کرپشن فری بنانے کیلئے پرعزم ہے ۔ نیب نے نوجوانوں کو بدعنوانی کے برے اثرات سے آگاہ کرنے کیلئے ملک بھر میں کردار سازی کی 55 ہزار سے زائد انجمنیں قائم کی ہیں۔ نیب کی 2018ء سے 2019ء کے اس عرصہ کے مقابلہ میں شکایات انکوائریوں اور انوسٹی گیشن کی تعداد دوگنا ہے جو کہ نیب کی احتساب سب کیلئے بلاامتیاز پالیسی پر اعتماد کا اظہار ہے ۔

    نیب نے سابق صدر آصف علی زرداری، سابق وزرائے اعظم نوازشریف،شاہد خاقان عباسی،راجہ پرویز اشرف سابق وزرائے اعلی شہبازشریف ،چوہدری پرویز الٰہی، منظوروٹو، پرویز خٹک ، موجودہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ ، جبکہ چوہدری پرویز الٰہی کے ساتھ ساتھ ان کے رشتہ دار ، بیٹوں کے خلاف بھی تحقیقات کر رہا ہے ، اسی طرح متعدد صوبائی اور وفاقی وزراء ہیں یہاں تک کے وزیراعظم عمران خان کے اردگرد رہنے والے افراد بھی شامل ہیں جن میں وفاقی وزیر خسروبختیار ، پرویز خٹک اور دیگر اس وقت اہم عہدوں پر تعینات زلفی بخاری سمیت متعدد شخصیات ہیں جن کے کیسز نیب میں سال 2019میں چلتے رہے اور متعدد وزراء کے خلاف کیسز کا آغاز کیا۔ اور متعدد کو کرپشن اور آمدن سے زائد اثاثہ جات میں گرفتار بھی کیا گیا ۔

    پہلے نمبر پر نیب لاہور کی کارکردگی دیکھنے میں آئی۔ نیب لاہور میں کم و بیش 1 لاکھ افراد کوتحقیقاے کیلئے نیب لاہور طلب کیا گیا جس میں سے دوران تحقیقات 859ملزمان کی گرفتاری کے وارنٹ جاری ہوئے جن پر عملدرآمد کیا گیا۔ ہائوسنگ سیکٹر میں نیب لاہور کی ریکوری میں 700 فیصد اضافہ ہوا، مجموعی طور پر کرپشن کیسز میں ریکوری 500 گناہ بڑھ گئی،17 سالوں کے دوران نیب لاہور کی ہائوسنگ سیکٹر میں ریکوری 45 کروڑ رہی اور 2017 سے تاحال 3 سالوں کے دوران 3 ارب 61کروڑ کی ریکوری کی گئی، سب سے زیادہ ریکوری 2019میں دیکھنے میں آئی، نیب لاہور کے قیام سے 2016 تک بیورو کی جانب سے مجموعی ریکوری سالانہ اوسطا65 کروڑ رہی جبکہ 2017 سے تاحال سالانا اوسط ریکوری 3 ارب 89 کروڑ تک پہنچ گئی ۔ اسی طرح ہائوسنگ سیکٹر ریفرنسز میں ریفرنسز کی صورت میں 16 سالوں کے دوران مجموعی طور پر 76 ارب مالیت کے ریفرنس احتساب عدالتوں میں دائر کئے گئے تاہم ڈی جی نیب لاہور کی سربراہی میں 3 سالوں میں ہی 46 ارب مالیت پر مشتمل ریفرنس دائر کئے جا چکے ہیں، ہائوسنگ سیکٹر میں دائر ریفرنسز کی مالیت میں 265% اضافہ دیکھنے میں رہا، ہائوسنگ سیکٹر ان ڈائریکٹ ریکوری 1999 سے 2016 تک محض 251ملین کی ان ڈائریکٹ ریکوری شمار ہوئی اسکے برمقابل 2017 سے تاحال 53 ارب کی ان ڈائریکٹ ریکوری کی گئی ہے ، ان ڈائریکٹ۔ریکوری کی مد میں17 ہزار گنا اضافہ رہاہے ، ہائوسنگ سیکٹر پلی بارگین میں ملزمان سے پلی بارگین کی مد میں 17 سالوں کے دوران صرف 350 ملین کی وصولی رہی، 2017 سے ابتک نیب لاہور 6 ارب 42 کروڑ کی بلین بارگین کر چکا ہے جو کہ ریکارڈ اضافہ ہے ، ہائوسنگ کیسز میں ہونیوالی پلی بارگین میں گزشتہ 3 سالوں کا مجموعی اضافہ 10 ہزار گنا رہا ہے ، ہائوسنگ سیکٹر ریکوری میں نیب لاہور ماضی کے 17 سالوں کی ہائوسنگ سے متعلقہ ریکوری 76 ارب کے مقابلے میں صرف 3 سالوں کے دوران 108 ارب کی مزید ریکوری ممکن بنا رہا ہے ، اس دوران صرف ہائوسنگ سیکٹر میں 54 ہزار متاثرین کو مکانات و پلاٹوں کے مالکانہ حقوق واپس دلوانا بھی نیب لاہور کے افسران کی انتھک محنت کا ضامن ہے ، نیب نے ایک نہیں متعدد شخصیات کے خلاف ایکشن لیا، یہاں تک کے شریف خاندان کے خلاف جہاں ریفرنسز فائل کئے وہاں ٹھوس شواہد عوام کے سامنے بھی آئے ،کہاں ٹی ٹی کے ذریعے منی لانڈرنگ کی گئی تو کہاں منصوبوں میں من پسند افراد کو نوازنے کے الزامات بھی سامنے آئے ۔

    سابق وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار کیخلاف جاری تحقیقات میں نیب لاہور نے 50کروڑ روپے کی رقم ملزم کے بینک اکاؤنٹس سے برآمد کرتے ہوئے صوبائی حکومت کے حوالے کی۔ گلبرگ میں کروڑوں روپے مالیت کا چار(4) کنال پر محیط گھر بھی حکومت پنجاب کے حوالے کیا جارہا ہے جسے فروخت کرکے وصول ہونے والی مکمل رقم قومی خزانے میں جمع کروائی جائیگی۔ پنجاب پاور ڈویلپمنٹ کمپنی کے سابق چیف فائنینشل آفیسر اکرام نوید سے نیب لاہور نے 1ارب مالیت کی جائیدادیں برآمد کروا کر حکومت پنجاب اور ایرا حکام کے حوالے کیں۔ نیب لاہور کی جانب سے ڈبل شاہ کیس میں ملزمان سے اربوں روپے کی تاریخی وصولی اور ہزاروں متاثرین میں برآمد کی گئی۔نیب لاہور نے ڈبل شاہ کیس کے متاثرین میں 19کروڑ35لاکھ روپے اور دوساری مرتبہ 36کروڑ روپے تقسیم کئے ۔ مجموعی طور پر نیب لاہور نے ڈبل شاہ کیس میں ہزاروں متاثرین کوایک ارب روپے کی خطیر رقم ملزمان سے برآمد کروا کر تقسیم کی جا چکی ہے ۔

    ہاؤسنگ سیکٹر کے مقدمات میں پیش رفت ہوئی گذشتہ دو سالوں کے دوران نیب لاہور نے ہاؤسنگ سیکٹر کے 54,000 متاثرین کو انکے حقوق واپس دلوائے غیرقانونی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے کیسز میں گذشتہ دو سالوں کے دوران نیب لاہور نے 26ارب مالیت پر مشتمل 14بدعنوانی کے ریفرنسز معزز احتساب عدالتوں میں دائر کئے ہیں جبکہ نیب لاہور نے مجموعی طور پر دو سالوں کے دوران 31ارب روپے کی خطیر رقم ملزمان سے وصول کر کے قومی خزانے میں جمع کروائی۔

    نیب میں میگا کرپشن کے مقدمات جن میں شریف خاندان سے متعلق جہاں ایکشن لئے گئے جن میں سابق وزیر ِ اعلی پنجاب شہباز شریف،حمزہ شہباز، سلمان شہباز و دیگر کیخلاف مبینہ منی لانڈرنگ و آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس کی تحقیقات، چوہدری شوگر ملز کیس میں میاں نواز شریف، مریم نواز شریف، یوسف عباس اور عبدالعزیز کیخلاف مبینہ منی لانڈرنگ کی انکوائری، پنجاب پاور ڈویلپمنٹ کمپنی کیس میں ملزم اکرام نوید کیخلاف مبینہ طور پر آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس کی تحقیقات اور سابق وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف کے داماد عمران علی یوسف کیخلاف تحقیقات، سابق وزیرِ خزا نہ ملزم اسحاق ڈار کیخلاف مبینہ طور پر آمدن سے زائد اثاثہ جات بنانے کے کیس کی تحقیقات، سابق وزیرِ اعلی پنجاب میاں محمد نواز شریف اور میاں محمد شہباز شریف کیخلاف رائیونڈ روڈ کی توسیع میں مبینہ طور پر اختیارات کے غیر قانونی استعمال کیخلاف جاری تحقیقات، میاں محمد نواز شریف کیخلاف ایل ڈی اے پلاٹوں کی مبینہ غیر قانونی تقسیم کے کیس کی انکوائری کے علاوہ دیگر میگا کرپشن کیسز پر ایکشن لئے گئے ہیں۔ شریف خاندان کے خلاف جو نیب کی رپورٹ سامنے آئی اس میں بتایا گیا کہ نوازشریف نے یوسف عباس اور مریم نواز کی شراکت داری سے 410ملین روپے کی منی لانڈرنگ کی،ملزمان نے جعلی گیارہ ملین کے شیئرز غیر ملکی شخص نصیر عبداللہ کو منتقل کرنے کا دعویٰ کیا، غیر ملکی کو ٹرانسفر کئے جانیوالے شیئرز درحقیقت نوازشریف کو 2014میں واپس کر دئیے گئے تھے ، نیب رپورٹ کے مطابق چوہدری شوگر ملز اور شمیم شوگر ملز میں1992سے لیکر 2016تک 2ہزار ملین کی انوسٹمنٹ کی گئی،سابق وزیراعظم نوازشریف نے 1کروڑ 55 لاکھ 20ہزار ڈالر کا قرض شوگر ملز میں ظاہر کیا گیا، نوازشریف نے قرضہ 1992میں آف شور کمپنی سے لیا گیا تھا، رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ نوازشریف نے جس کمپنی سے قرض لیا اس آف شور کمپنی کا اصل مالک ظاہر نہیں کیاگیا،چوہدری شوگر مل کے آغاز کے لئے شریف فیملی نے اپنی ہی 9کمپنیوں سے قرض لیا،شریف فیملی نے 20کروڑ 95لاکھ کا قرض 9کمپنیوں سے لیا، چوہدری شوگر مل کے قیام کے لئے ایک کروڑ 53لاکھ ڈالر کا قرض بھی حاصل کیا گیا،نوازشریف 1992میں 43ملین شیئر کے مالک تھے ، نوازشریف کے پاس اتنے شیئر 1992میں کہاں سے آئے یہ نہیں بتایا گیا، نوازشریف کے جب آثاثے بڑھے اس وقت پنجاب کے وزیراعلیٰ ، وزیر خزانہ بھی رہے ۔ مریم نواز سے 3 غیر ملکی کمپنیوں کی جانب سے بھوائے گئے شئیرز کے متعلق پوچھا گیا اور ٹرانسفر ڈیڈ مانگی گئی ۔مریم نے کہا انکے پاس ٹرانسفر ڈیڈ نہیں ہے ، مریم نواز نے موقف بدلتے ہوئے کہا شاید یہ ٹرانسفر ڈیڈ پرانے ریکارڈ میں موجود ہوں۔چودھری شوگر مل کا بینک اکاونٹس منی لانڈرنگ کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے ۔عبدالعزیز عباس کے اکاونٹ میں 3 دنوں کے دوران 10 کروڑ کی خطیر رقم ٹرانسفر کی گئی،25 اکتوبر 2013 کو 2 ٹرانزیکشن کے زریعے 5 کروڑ کی رقم منتقل کی گئی، 23 اکتوبر 2013 کو ایک ہی دن میں 5 ٹرانزیکشن کے زریعے 5 کروڑ کی رقوم منتقل ہوئیں، مریم نواز اس رقم سے متعلق تسلی بخش جواب نہیں دے سکیں،مریم نواز نے کہا کہ انکی فیملی کے دوبئی میں موجود بزنس مینوں سے کاروباری مراسم ہیں، دوبئی کی کاروباری شخصیات سے بزنس کے سلسلہ میں لین دین چلتا رہتا تھا،جبکہ رپورٹ کے مطابق یوسف عباس کے اکاونٹ میں 1 سال کے دوران 33 کروڑ کی رقم منتقل ہوئی، یوسف عباس کو یہ خطیر رقم 2010،11 میں 10 ٹرانزیکشن کے زریعے منتقل ہوئیں، یوسف عباس نے دوران تفتیش لاعملی کا اظہار کرتے ہوئے کمپنی سیکرٹری سے مشاورت کے لیے ملاقات کا کہا،اوریوسف عباس نے کہا کہ کمپنی سیکرٹری سے مل کر اس رقم سے متعلق بتا سکتا ہو،مریم نواز اور یوسف عباس سے سیل ڈیڈ سمیت دیگر پوائنٹس پر تفتیش بھی کی گئی ہے ۔

    آصف علی زردار ی اور دیگر کے خلاف جعلی بینک اکاؤنٹس کیس سے متعلق مجموعی طور پر 26 انکوائریز اور انویسٹی گیشنز کی گئیں ہیں، نیب رپورٹ کے مطابق جعلی بینک اکاؤنٹس سے متعلق انکوائریز سپریم کورٹ کے حکم پر شروع کی گئیں اور 5 انکوائریز اور 3 انویسٹی گیشنز میں آصف زرداری کا کردار سامنے آیا ہے ۔نیب رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آصف زرداری کے اب تک صرف ایک کیس میں وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے ہیں۔ جعلی بینک اکاؤنٹس کیس کا پسِ منظرکی طرف جائیں تو بہت انکشافات سامنے آتے ہیں یعنی منی لانڈنگ کیس 2015 میں پہلی دفعہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے اُس وقت اٹھایا گیا، جب مرکزی بینک کی جانب سے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے ) کو مشکوک ترسیلات کی رپورٹ یعنی ایس ٹی آرز بھیجی گئیں۔ایف آئی اے نے ایک اکاؤنٹ سے مشکوک منتقلی کا مقدمہ درج کیا جس کے بعد کئی جعلی اکاؤنٹس سامنے آئے جن سے مشکوک منتقلیاں کی گئیں۔جے آئی ٹی نے سابق صدر آصف علی زرداری اور اومنی گروپ کو جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے فوائد حاصل کرنے کا ذمہ دار قرار دیا اور ان کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کی سفارش کی تھی پھر انہیں نیب نے ایکشن لیتے ہوئے گرفتار کر لیا گیا ، اس کیس میں سابق صدر آصف علی زرداری، ان کی ہمشیرہ فریال تالپور سے بھی تفتیش کی جارہی ہیں، پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی تحریری طور پر جے آئی ٹی کو اپنا جواب بھیجا جب کہ اومنی گروپ کے سربراہ انور مجید اور نجی بینک کے سربراہ حسین لوائی ایف آئی اے کی حراست میں ہیں۔نیب کو ملنے والی ایک رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ 29 مشکوک اکاؤنٹس کی تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ ایک اکاؤنٹ جو اے ون انٹرنیشل کے نام سے موجود تھا جس کا مالک طارق سلطان نامی شخص کو ظاہر کیا گیا تھا، یہ اکاؤنٹ منی لانڈرنگ کے لیے استعمال کیا گیا۔تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ 35 ارب کی مزید مشکوک منتقلی کی نشاندہی کی ہے ، جس سے مستفید ہونے والوں میں متحدہ عرب امارات کے نصیر عبداللہ لوطہ گروپ کے سربراہ، آصف علی زرداری اور ان کی بہن کا گروپ اور آصف زرداری کے قریبی دوست انور مجید شامل ہیں۔اور نصیر عبداللہ لوطہ چیئرمین سمٹ بینک کو دو ارب 49 کروڑ، انصاری شگر ملز جس کے مالک انور مجید اور علی کمال مجید ہیں کو سات کروڑ 37 لاکھ، اومنی پولیمرز پیکجز کے عبدالغنی مجید اور کمال مجید کو 50 لاکھ، پاک ایتھنول کے مصطفیٰ ذوالقرنین مجید اور عبدالغنی مجید کو ایک کروڑ 50 لاکھ، چمبڑ شگر ملز کے مالک انور مجید اور نمر مجید کو 20 کروڑ، ایگرو فارمز ٹھٹہ کے مالک انور مجید اور نازلی مجید کو 57 لاکھ، زرداری گروپ جس کے مالک آصف علی زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور اور دیگر ہیں کو ایک کروڑ، پارتھی نون کے قابل خان نوری کو پانچ لاکھ، ایون انٹرنیشنل کو پانچ لاکھ 76 ہزار، لکی انٹرنیشنل کو دو کروڑ 72 لاکھ، لاجسٹک ٹریڈنگ کو 14 کروڑ 50 لاکھ، رائل انٹرنیشنل کو 28 کروڑ اور عمیر ایسوسی ایٹس کو 80 کروڑ کی منتقلی ہوئی۔ حسین لوائی پر 29 جعلی بینک اکاؤنٹس کھولنے میں معاونت کرنے کا الزام ہے ، جن کے ذریعے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین آصف علی زرداری سمیت 13 کمپنیوں کو اربوں روپوں کی مشکوک منتقلی کی گئی ہے ۔ 29 مشکوک اکاؤنٹس کی تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ ایک اکاؤنٹ جو اے ون انٹرنیشنل کے نام سے موجود تھا جس کا مالک طارق سلطان نامی شخص کو ظاہر کیا گیا تھا، یہ اکاؤنٹ منی لانڈرنگ کے لیے استعمال کیا گیا، اکاونٹ مالک طارق سلطان نے اس اکاونٹ سے لاتعلقی کا اظہار کیا، ان کے انکار کے بعد ہینڈ رائٹنگ اور دستخط کے حوالے سے موقف لیا گیا جس میں جعلی دستخط ثابت ہوئے ۔ایف آئی اے کے مطابق اے ون انٹرینشل کے مالک طارق سلطان نے انکشاف کیا کہ اس وقت کی آپریشنل مینیجر کرن امان نے جعلی اکاونٹ کی تصدیق کی لیکن اس وقت کی کارپوریٹ رلشن شپ افسر نورین سلطان اور دیگر افسران نے کوئی کارروائی نہیں کی باوجود اس کے اکاؤنٹس کے ریکارڈ سے ظاہر ہوتا تھا کہ اکاونٹ کا تعلق اومنی گروپ سے ہے ۔کرن امان نے انکشاف کیا کہ دستاویزات کارپوریٹ ڈیپارٹمنٹ کو بھیجے گئے جہاں طلحہ رضا، کارپوریٹ ہیڈ نے واپس بھیج دیے اور حسین لوائی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ان کی ہدایت کے تحت اکاؤنٹ کھولا جائے ۔تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ 10 ماہ کے قلیل مدت میں ساڑھے چار ارب روپے اس اکاؤنٹ میں جمع ہوئے اور دیگر اکاؤنٹس میں ان کی منتقلی کی گئی۔یہ رقم جمع کرانے والوں میں سجاول ایگرو فارمز پرائیوٹ لمیٹیڈ (50 کروڑ 50 لاکھ)، ٹنڈو الہ یار شگرملز (23کروڑ 84 لاکھ )، اومنی پرائیوٹ لمیٹیڈ (5 کروڑ)، ایگرو فارمز ٹھٹہ (ایک کروڑ 70 لاکھ)، الفا ژولو کو پرائیوٹ لمیٹیڈ( 2 کروڑ 25 لاکھ)، حاجی مرید اکبر بینکر( 2 کروڑ)، شیر محمد مغیری اینڈ کو کانٹریکٹر (5 کروڑ)، سردار محمد اشرف ڈی بلوچ پرائیوٹ لمیٹیڈ کانٹریکٹر( 10 کروڑ)، ایون انٹرنیشنل (18 کروڑ 45 لاکھ)، لکی انٹرنیشنل (30 کروڑ 50 لاکھ)، لاجسٹک ٹریڈنگ (14 کروڑ 50 لاکھ)، اقبال میٹلز (15 کروڑ 63 لاکھ)، رائل انٹرنیشنل (18 کروڑ 50 لاکھ)، عمیر ایسو سی ایٹس (58 کروڑ 12 لاکھ) اور دیگر شامل تھے ۔ رپورٹ میں 4 ارب 14 کروڑ کی مزید مشکوک منتقلی کی نشاندھی کی ہے ، جس سے مستفید ہونے والوں میں متحدہ عرب امارات کے نصیر عبداللہ لوطہ گروپ کے سربراہ، آصف علی زرداری اور ان کی بہن کا گروپ اور آصف زرداری کے قریبی دوست انور مجید شامل ہیں۔یہ بھی الزام عائد ہوا کہ نصیر عبداللہ لوطہ چیئرمین سمٹ بینک کو دو ارب 49 کروڑ، انصاری شگر ملز جس کے مالک انور مجید اور علی کمال مجید ہیں کو 7 کروڑ 37 لاکھ، اومنی پولیمرز پیکجز کے عبدالغنی مجید اور کمال مجید کو 50 لاکھ، پاک اتھنول کے مصطفیٰ ذوالقرنین مجید اور عبدالغنی مجید کو ایک کروڑ 50 لاکھ، چمبڑ شگر ملز کے مالک انور مجید اور نمر مجید کو 20 کروڑ، ایگرو فارمز ٹھٹہ کے مالک انور مجید اور نازلی مجید کو 57 لاکھ، زرداری گروپ جس کے مالک آصف علی زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور اور دیگر ہیں کو ایک کروڑ، پارتھی نون کے قابل خان نوری کو پانچ لاکھ، ایون انٹرنیشنل کو پانچ لاکھ 76 ہزار، لکی انٹرنیشنل کو دو کروڑ 72 لاکھ، لاجسٹک ٹریڈنگ کو 14 کروڑ 50 لاکھ، رائل انٹرنیشنل کو 28 کروڑ اور عمیر ایسو سی ایٹس کو 80 کروڑ کی منتقلی ہوئی۔ایک سرکاری رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ جعلی اکاؤنٹس کھولنا اور غیر قانونی رقومات جمع کرانا اور مختلف اکاؤنٹس میں مشکوک انداز میں منتقلی، پاکستان اسٹیٹ بینک کی قوانین کے مطابق منی لانڈنگ کے زمرے میں آتی ہے ۔نصیر عبداللہ لوطہ چیئرمین سمٹ بینک جو پاکستان سے باہر ہیں، حسین لوائی جو اس وقت سمٹ بینک کے صدر اور موجودہ وقت وائس چیئرمین ہیں نے مرکزی کردار ادا کیا۔اورانور مجید، عبدالغنی مجید اور ان کے اومنی گروپس کی مختلف کمپنیوں نے جعلی اکاونٹس کھولے اور طحہ رضا اور حسین لوائی کے ذریعے اربوں رپوں کی ہیرا پھیری کی۔ تمام فریقین کو سمن جاری کر کے انفرادی اور کمپنیوں کو رقومات کی منتقلی اور وصولی کے حوالے سے موقف پیش کرنے کی ہدایت جاری کی لیکن کوئی بھی حاضر نہیں ہوا۔ملزم انور مجید ولد عبدالمجید، عبدلغنی مجید والد انور مجید، اسلم مسعود ولد مسعود اللہ ملک، محمد عارف خان، بینک افسران نورین سلطان، کرن امان، عدیل شاہ رشیدی، طلحہ ولد نقی رضا، حسین لوائی ولد حاجی موسیٰ اور نصیر عبداللہ چیئرمین سمٹ بینک پر منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا،اورانور مجید پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین آصف علی زرداری کے قریبی ساتھی ہیں، ڈاکٹر عاصم حسین کے بعد تحقیقاتی اداروں نے ان کا گھیراؤ تنگ کیا تھا، جبکہ گزشتہ سال سندھ میں گنے کے کاشتکاروں اور شگر ملزمالکان میں کشیدگی کے وقت بھی انور مجید کا نام سامنے آیا تھا، سندھ میں شگر ملز کی اکثریت کے مالک انور مجید ہیں جبکہ آصف علی زرداری کا گروپ بھی بعض ملز کا مالک ہے ، کاشتکاروں کا الزام تھا کہ حکومت ملز مان کو فائدہ پہنچا رہی ہے ۔ حکومت سندھ نے جب بیمار صنعتوں کو مالی مرعات فراہم کی تو پچاس فیصد صنعتیں انور مجید کی تھیں۔تحقیقات کا دائرہ کار مزید وسیع ہوتا گیا تو مزید 33 مشکوک اکاؤنٹس کا سراغ لگایا ہے جن سے اربوں روپے بیرون ممالک منتقل کیے گئے ۔اب تک کی تحقیقات میں 335سے زائد ملوث افراد سامنے آئے ہیں اور تمام افراد ان اکاؤنٹس میں ترسیلات کرتے رہے ۔ان کے جعلی اکاؤنٹس کے ساتھ 210 کمپنیوں کے روابط رکھے گئے ہیں۔ جبکہ 47 ایسی کمپنیوں کا سراغ لگایا گیا ہے جن کا براہ راست تعلق اومنی گروپ سے ہے ۔ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نیب جہانزیب بھروانہ نے بتایا کہ یہ ساڑھے 4 ارب روپے کی ٹرانزیکشن کا معاملہ ہے ، اس حوالے سے تمام فہرست مہیا کر دی گئی ہے کہ کتنی رقم اکاؤنٹ میں آئی اور کتنی استعمال ہوئی۔ اے ون انٹرنیشنل اور عمیر ایسوسی ایٹس سے اربوں روپے کی ٹرانزیکشن ہوئی، ان اکاؤنٹس کے ساتھ زرداری گروپ اور پارتھینون کمپنیوں کی ٹرانزیکشن ہوئی۔’نیب کے مطابق ایف آئی اے نے حسین لوائی اور ان کے ساتھی طلحہ رضا کو گذشتہ برس گرفتار کیا۔ ان پر 29 جعلی بینک اکاؤنٹس کھولنے میں معاونت کرنے کا الزام ہے ، جن کے ذریعے مبینہ طور پر آصف زرداری سمیت 13 کمپنیوں کو اربوں روپوں کی مشکوک منتقلی کی گئی۔ آئی پی پیزسے متعلقہ 300 ارب کی مبینہ کرپشن کیس میں 8 ارب مالیت کی مبینہ کرپشن کے الزام میں سابق ڈی جی نیپرا ملزم سید انصاف احمد گرفتار کیا گیا، ملزم سید انصاف احمد نے دانستہ بددیانتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے۔ نشاط چونیاں پاور لمیٹڈ (IPP) سے ٹھیکہ جات میں بجلی نرخ انتہائی مہنگے داموں مقرر کئے جو حکومتی خزانے کو 8 ارب کے نقصان کا موجب بنا تھا، نشاط چونیاں پاور لمیٹڈ کیجانب سے 2010میں 200 میگا واٹ پر مشتمل پاور پلانٹ کی تنصیب کی گئی تھی۔

    چیئر مین نیب جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ نیب نے کسی کا فیس نہیں بلکہ کیس دیکھ کر اپنی تحقیقات کا قانون اور شواہد کی بنیاد پر آغاز کرتا ہے ۔ جن کیسز میں شہادتیں موجود ہیں وہاں ٹھوس اورمضبوط کیس بنائیں گے ۔انہوں نے مزید کہا کہ نیب کے افسران ٹیم ورک کے تحت کام کریں یوں کہ نیب میں کیس کی تحقیقات کیلئے کمبائینڈ انوسیٹی گیشن ٹیم(CIT) کے نظام کو اسی لئے متعارف کروایا گیاہے۔ جسٹس (ر)جاوید اقبال نے نیب افسران سے کہا کہ وہ کسی بھی دباؤ کو خاطر میں لائے بغیر اپنے فرائض آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے سر انجام دیں۔ انہوں نے تحقیقاتی افسران کو ہدایت کی کہ تمام مقدمات کو ٹھوس شواہد اور آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے مکمل کیا جائے ہر شخص کی عزت ِ نفس کا خیال کیا جائے ۔ فرائض کی انجام دہی میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائیگی۔انہوں نے کہا کہ نیب نے 71ارب کی خطیر رقم قومی خزانے میں جمع کروائی ۔

    بشکریہ روزنامہ دنیا.

  • یہ میری قوم کے نوجواں بھی سنیں،             تحریر: انشال راؤ

    یہ میری قوم کے نوجواں بھی سنیں، تحریر: انشال راؤ

    آرزوئے سحر

    یہ میری قوم کے نوجواں بھی سنیں، تحریر: انشال راؤ

    یہ میری قوم کے نوجواں بھی سنیں
    یہ میری قوم کے رہنما بھی سنیں
    یہ میری قوم کے اینکرز بھی سنیں
    جنرل قاسم سلیمانی کی امریکی ڈرون حملے میں مارے جانے کے بعد ایران میں صف ماتم بچھ گئی، ہر آنکھ اشکبار، پوری قوم رنج و الم میں ڈوب گئی، حملے کے وقت جنرل سلیمانی ایک مسلح دہشتگرد تنظیم کے رہنما کے ساتھ تھے، ایران سمیت پوری دنیا اس بات سے واقف ہے کہ جنرل سلیمانی مسلح تنظیمیں بناتے رہے اور مسلح گروہوں کی سرپرستی کرتے رہے، پوری دنیا کا میڈیا جنرل سلیمانی کو دہشتگرد کہتا رہا، دہشتگردی کی معاونت ثابت کرتا رہا لیکن ایران میں کہیں سے یہ نعرہ بلند نہیں ہوا کہ "یہ جو دہشتگردی ہے اس کے پیچھے وردی ہے” میڈیا پرسنز ایران میں بھی موجود ہیں، سیاستدان و لبرل بھی ہیں تو حکومت و اپوزیشن بھی ہے لیکن کسی نے فوج کے کردار پر انگلی نہ اٹھائی، ایرانی فوج کی پالیسیوں کی بنا پر حالات اس نہج تک آ پہنچے کہ دنیا کی سپر پاور سے جنگ سر پر کھڑی ہے اور عین ممکن ہے کہ جنگ کے شعلے ایران کو ملیا میٹ کردیں کیونکہ بظاہر حربی طاقت کے حساب سے امریکہ ایران کا تقابل نہیں بنتا لیکن اس کے باوجود اہل ایران کو اپنی سپاہ اس قدر عزیز ہے کہ وہ دیوانہ وار سروں پہ کفن باندھ کر باہر نکل آئے، کسی میر صاحب جیسے منہ پھٹ صحافی نے یہ نہیں کہا کہ فوج نے ہمیں مروادیا، کسی زبردستی کے لبرل یا گروہ نے نہیں کہا کہ "یہ جو دہشتگردی ہے اس کے پیچھے وردی ہے” اور ایک ہم ہیں جو اپنی ہی افواج کے خلاف زہرافشانی کرتے پھرتے ہیں، یہ جانتے ہوے بھی کہ ہمارے فوجی جوانوں نے اپنے سینے چھلنی کرواکر، گردنیں کٹواکر، بےدریغ قربانیاں دیکر ہمیں محفوظ کیا، فوج کی بےشمار قربانیوں و کامیابیوں کے باوجود ایک گروہ مسلسل شکست خوردہ زہنیت کے پرچار میں مصروف ہے اور معاشرے میں رائج برائیوں کو فوج کے اوپر تھوپ کر کسی ایجنڈے کے تحت بگاڑ پیدا کرنے والوں کو برحق قرار دینے کا طرز عمل اختیار کیے ہوے ہیں، زرا سوچئے ہمارے میڈیا پر چند مخصوص افراد بھارت سے شایع رپورٹ کو آج کئی دہائیوں بعد بھی متواتر ڈسکس کرتے آرہے ہیں اور ایک ایسی رپورٹ جو شایع ہی بھارت نے کی اس کی بنیاد پہ فوج پر کبھی رمز و ایماء، اشارہ کنایہ میں تو کبھی براہ راست تنقید و تنقیص کرتے آرہے ہیں اور تعجب اس بات کا ہے کہ مشہور زمانہ امریکی اسٹیٹس مین ہینری کسنجر کے اس انٹرویو کو کبھی ڈسکس نہیں کیا گیا جس میں ہینری کسنجر نے نہ صرف مڈل ایسٹ بلکہ پوری امت مسلمہ کی تباہی کا زکر کیا اور تہلکہ خیز انکشاف کیا کہ امریکہ و اسرائیل نے مسلم ممالک میں بہت سے افراد کو خرید رکھا ہے جو ان کی توقعات سے زیادہ اچھا کام کررہے ہیں کوئی تفرقہ ڈالنے میں تو کوئی نسلی و لسانی تعصب ابھارنے میں تو کوئی سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ بنانے میں پیش پیش ہے، پاکستان بھی اس فہرست میں شامل ہے جس کی تباہی کا فیصلہ کیا جاچکا تھا لیکن سلام ہے پاک فوج کے جوانوں کو، فخر ہے ISI کے گمنام مشاہیروں پہ اور فخر ہے باجوہ ڈاکٹرائن پہ کہ جس کے تحت اندرونی و بیرونی خطرات و خدشات سے نمٹا گیا اور دشمن کی سازشوں کو ناکام بنایا لیکن تف ہے ان زہنوں پر جو دشمن کے ایجنڈے کو کامیاب بنانے کے لیے افواج پاکستان پر الزام در الزام، تنقید برائے تنقید، جھوٹ در جھوٹ کے تحت حوصلہ شکنی اور عوام سے دور کرنے کی کوشش کرتے رہے تف ہے ہزارہا تف ہے ایسی زہنیت پر، زرا سوچئے! کہ وہ امریکی فوج جو سر تا پیر انسانی خون میں دھنسی پڑی ہے لیکن اس کے باوجود کبھی کسی امریکی نے "قاتل فوج” نہیں کہا، ٹرمپ و مخالفین کے اختلاف کا اندازہ کرو کہ مواخزے تک بات آپہنچی ہے لیکن اس کے باوجود کسی بھی ڈیموکریٹ نے یہ نہیں کہا کہ "یہ جو دہشتگردی ہے اس کے پیچھے وردی ہے” کسی نے فوج کو اشاروں کنایوں میں بھی ہدف تنقید نہیں بنایا، ایران امریکہ ممکنہ جنگ کو لیکر ٹرمپ کو ضرور نشانہ تنقید پہ رکھا لیکن فوج کی حوصلہ شکنی کا سوچا تک نہیں، امریکیوں کے منہ سے صرف یہی الفاظ سنائی دیتے ہیں Our Courageous Army, Our Brave Military, Our Army Protect us & Our interests” وغیرہ وغیرہ۔ زمانہ قدیم سے لیکر جدید دور تک کسی بھی قوم میں بہادری کی علامت اور تحفظ و دفاع کی ضامن فوج ہوتی ہے لیکن ہمارے کچھ زبردستی کے دانشور و سیاہ سی ایکٹرز زمانے کو الٹے بہاو پہ پھیرنے کے لیے مصنوعی تاویلات اور جھوٹ و پروپیگنڈوں کا سہارا لیکر افواج پاکستان کے خلاف زہرافشانی کرتے رہتے ہیں، زرا سوچئے! بھارت میں BJP و RSS اور کانگریس و دیگر لبرل سیکیولر طبقوں کے مابین اختلافات و رسہ کشی کس نہج پر ہے کہ مودی سرکار و ہندوتوا دہشتگرد مخالفین کو دبانے کے لیے طاقت کا غلط استعمال تک کررہے ہیں ایسے میں بھارتی آرمی چیف بپن روات نے BJP کے بیانئے کو جائز قرار دیا اور دیگر جگہوں پر بھی فوج BJP کے ایجنڈے پہ عمل پیرا دکھائی دی لیکن اس کے باوجود کسی بھارتی نے فوج مخالف مہم چلائی نہ فوج کے خلاف عوام کو بھڑکانے کی کوشش کی جبکہ ایک ہم ہیں کہ بات بے بات پر اپنے کالے کرتوت چھپانے اور دشمن کے ایجنڈے کو تقویت دینے کے لیے افواج پاکستان کیخلاف پروپیگنڈہ کرتے کوئی شرم محسوس نہیں کرتے، زرا سوچئے! ایک قاسم سلیمانی کے لیے پورا ایران امریکہ سے جنگ کے لیے اٹھ کھڑا ہو، متحد ہوجائے، صرف چند امریکی فوجیوں کے لیے امریکہ قاسم سلیمانی کو نشانہ بناکر عالمی جنگ کا خطرہ مول لینے کے لیے آمادہ ہوگیا اور ایک انجینئرڈ پلوامہ حملے میں کچھ بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد پورا بھارت یک زبان ہوجائے لیکن ایک ہم ہیں جو خود ہی اپنی افواج کا مورال ڈاون کرتے پھریں، تف ہے ہمارے زہنوں پر، تف ہے ہماری زبان پر جو اپنی ہی فوج پر بھونکے، اس فوج پر جس نے ہمیں تحفظ دیا کہ جن کی بدولت ہمارا دفاع مضبوط ہے اور دشمن میلی آنکھ سے دیکھ نہیں سکتا، قربانیاں دیکر دہشتگردوں کا صفایا کیا، اگر فوج کی قدر و قیمت دیکھنی ہے تو دیکھیں شام، عراق، یمن، لیبیا کے حالات جہاں ہنستی بستی دنیا اجڑ گئی، کروڑوں لوگ در در خاک چاٹنے پہ مجبور ہوے، شہر کے شہر اجڑ گئے کیونکہ ان کی فوج مضبوط نہیں تھی اور دشمن کی سازش کام کرگئی، کوشش پاکستان میں بھی برابر کی گئی بلوچستان، کراچی اور فاٹا میں دہشتگردی کا بازار گرم ہوا جسے ہمارے جوانوں نے اپنے سینے پہ جھیل کر ناکام بنادیا اور جلد ہی دشمن کی سازش کو ناکام بنادیا تو ایسے میں دشمن و دشمن کے آلہ کاروں کا بس تو نہیں چل پارہا بس اب وہ افواج پاکستان کے پیچھے پڑے ہیں کیونکہ وہ جان گئے ہیں جب تک پاک فوج ہے تب تک پاکستان حلوے کی پلیٹ نہیں بن سکتا، مضبوط فوج مضبوط دفاع اللہ کی عظیم نعمت ہے اور نعمت پر شکر ادا کرنا ہر شریف اور سلیم الفطرت انسان کا فرض ہے جبکہ میروں (میر جعفر و میر صادق) کے لیے یہ عذاب الیم ہے۔

  • حقوق کے تحفظ کا بھاشن اور اونٹوں کا قتل عام–تحریر:احمر مرتضیٰ

    حقوق کے تحفظ کا بھاشن اور اونٹوں کا قتل عام–تحریر:احمر مرتضیٰ

    جانوروں کے حقوق اور بلکہ حیوانات سے بھی محبت کے بلند و بانگ دعوے کرنے والے اور ان کے تحفظ کی ڈھیروں “این جی اوز” رکھنے والے مغربی ممالک میں سے ایک آسٹریلیا (جسے حالیہ دنوں لگنے والی آگ کے نتیجے میں جھلس جانے والے کروڑوں جانوروں پر ٹسوئے بہاتے دیکھا گیا تھا)کے جنوب کے علاقوں میں قحط سالی اور پانی کی کمی کے باعث ایک ملین یعنی دنیا کی سب سے بڑی تعداد میں آزادانہ گھومنے والے جنگلی اونٹوں میں سے دس ہزار اونٹوں کو مارنے کا پانچ روزہ پروگرام شروع کردیا گیا جس کے تحت پہلے ہی دن 1500اونٹوں کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے فضائی نشانچیوں نے ٹھکانے لگادیاہے،

    ملاحظہ کجئیے کہ ایک انسانی یا حیوانی جان کے ضیاع پر کلیجہ منہ کو آنے کی ایکٹنگ کرنے والے اور مختلف جانوروں کے تحفظ کے پروگرام دینے والے ان نام نہاد مسیحاوں نے فقط پانی کی سپلائی لائن کو بچانے کے لیے اتنی بڑی تعداد میں حلال اور معصوم جانوروں کو مارنے کے علاوہ کوئی اور پروگرام کیوں ترتیب نہیں دیا؟

    اور ان کو پانی پینے کی اتنی بڑی سزا دینے کی اجازت کون سا قانون دیتا ہے!

    اور کیا اگر یہی خطرہ ان کے قومی جانور “کینگرو”یا ان کے مقدس جانور “ثور” سے ہوتا تو کیا تب بھی یہی فیصلہ کیا جاتا؟

    کیا قریبی ممالک یا اسلامی ممالک سے بات کرکے کوئی مثبت حل نہیں نکالا جاسکتا تھا،کیونکہ آج کی جدید دنیا میں بقول انہی کے کہ ہر مسئلے کا حل یا متبادل پروگرام دستیاب ہے!

    کیا اگر ثور یا دیگر جانوروں کی فارمنگ اور فارم موجود ہے تو کیا یہ جانور کسی فارم یا محفوظ زون میں نہیں سماسکتے ؟

    الغرض ہزاروں متبادل پروگرامات کی دستیابی کے باوجود قتل عام کی یہ واردات عجلت میں کیا گیا فیصلہ ہرگز قرار نہیں دیا جاسکتا ، بلکہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے حقوق انسانیت کے نام نہاد ادارے یا ان گنت لاتعداد این جی اوز ابھی تک کے تجربات کے مطابق فقط مغربی ممالک اور ان کے باشندوں کے تحفظ کی ضمانت کےلیے بنائے گئے ہیں۔

    ایسے ہی حلال جانوروں کی بھی ان درندہ صفت تہذیب کے حامل ممالک کے ہاں کوئی اہمیت نہیں ہے، اگر ایسا کچھ نہیں تو ضروری ہے کہ اس مہم کو روک کر کوئی متبادل حل پیش کیا جائے یا پھر جانوروں کے حقوق کے ادارے اس پر سخت نوٹس لیں یا کم از کم اسلامی ممالک کو اس مسئلے پر حکومت آسٹریلیا سے بات کرنی چاہیے،اور تمام سوشل میڈیا ایکٹویسٹ بھی اپنی سائٹ پر اس موضوع کو زیر بحث بنائے تاکہ مغربی درندوں کے ہاتھوں اس معصوم جانور کی قتل عام کی واردات کو روکا جاسکے۔

    حقوق کے تحفظ کا بھاشن اور اونٹوں کا قتل عام
    تحریر:احمر مرتضیٰ

  • "تھیلیسمیا کے مریض بچے اور ہمارے فرائض”  تحریر: غنی محمود قصوری

    "تھیلیسمیا کے مریض بچے اور ہمارے فرائض” تحریر: غنی محمود قصوری

    اسلام و ماں باپ کے بعد سب سے بڑی نعمت تندرستی ہے انسان مختلف بیماریوں کا شکار ہوتا رہتا ہے جس سے اللہ رب العزت بندے کے صبر کو آزماتے ہیں اور اس کے بدلے میں آخرت کی پریشانیوں سے بھی نجات دیتے ہیں یوں تو ازل سے ہی کئی بیماریاں ہیں اور ہر انسان کسی نا کسی بیماری میں مبتلا ہوتا ہے مگر ایک تھیلیسمیا نامی بیماری ایسی بھی ہے جو کہ ماں باپ کے جینیاتی خرابی کے باعث اولاد میں منتقل ہوتی ہے اللہ رب العزت ہر کسی کے بچوں کو اس موذی بیماری سے بچائے یہ بیماری ایسی ہے کہ ہر ہفتے خون کی بوتل کے علاوہ بطور علاج معالجہ ہزاروں روپیہ بھی خرچ ہوتے ہیں
    عالمی یوم تھیلیسمیا 8 مئی کو پوری دنیا کے ساتھ پاکستان میں بھی منایا جاتا ہے
    ایک اندازے کے مطابق سنہ 2000 میں پاکستان میں تھیلیسمیا سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 60 ہزار تھی جو اب بڑھ کر 1 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے اور ہر سال تقریبا 6 ہزار نئے کیس سامنے آ رہے ہیں جو کہ بہت تشویشناک بات ہے اس سے بچاءو کیلئے حمل شروع ہوتے ہی ٹیسٹ کروائے جاتے ہیں جوکہ تقریبا ہر سرکاری ہسپتال سے با آسانی ہو جاتے ہیں لہذہ ہمیں لوگوں میں اس بیماری سے بچاءو کے متعلق شعور و آگاہی پیدا کرنی ہوگی وہ اجتماعی طور پر کریں یا انفرادی طور مگر کریں ضرور مگر بہتر ہے کہ اجتماعی طور پر ہو تا کہ ایک ٹیم بن کر زیادہ لوگوں تک آواز با آسانی پہنچائی جا سکے
    اس بیماری میں مبتلا بچے کا خون بہت تیزی سے کم ہونا شروع ہو جاتا ہے جسے کم سے کم ایک ہفتہ اور زیادہ سے زیادہ 20 دن بعد خون کی بوتل کی ضرورت ہوتی ہے اور بار بار خون کی تبدیلی کی بدولت ان بچوں کے دل و جگر بہت زیادہ کمزور ہو جاتے ہیں جس کی بدولت ان بچوں کی زندگی کی مہلت 20 سے 25 سال تک ہی ہے وہ بھی بہت کم بچوں کی ورنہ زیادہ تر 13 سے 17 سال تک ہی یہ بچے دنیا میں رہ پاتے ہیں اس کے بعد یہ مریض و مہمان بچے ہم سے جدا ہو کر خالق حقیقی کے پاس پہنچ جاتے ہیں
    تھیلیسمیا میں زیادہ تر مریضوں کی تلی بڑھ جاتی ہے جس پر آپریشن کرنا لازمی ہوتا ہے اس آپریشن پر لاکھوں روپیہ خرچا آتا ہے جبکہ بار بار خون منتقلی کی بدولت ان کی خاص دوائی Desferrioxamicin کی ضرورت پڑتی رہتی ہے جس کی موجودہ قیمت 5 ہزار روپیہ ہے جو کہ ہر غریب انسان کے بس کی بات نہیں والدین کیلئے دوائی کے علاوہ سب سے بڑی پریشانی خون کا بندوبست کرنا ہے جو کہ ایک کھٹن مرحلہ ہوتا ہے کیونکہ لوگ بار بار مالی مدد تو کر دیتے ہیں مگر خون ہر بار ہر بندہ نہیں دے سکتا ایسے میں کئی واقعات دیکھنے کو ملے کے مجبور و لاچار ماں باپ تنگ آ کر اپنے لخت جگروں کو ہسپتالوں و این جی اوز کے پاس چھوڑ کر بھاگ گئے اور کچھ کم عمر تھیلیسمیا کے مریض بچے محنت مشقت کرکے بیماری کیساتھ لڑتے ہوئے اپنا علاج معالجہ کرواتے ہیں
    ایسے میں ہم صحت مند افراد کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ان بچوں کیلئے خون کا بندوبست کریں تاکہ کوئی مجبور و لاچار ماں باپ اپنے لخت جگر کو یوں مرنے کیلئے چھوڑ کر نا جائے مذید ان بچوں کیلئے ہر شہر کی سطح پر این جی اوز قائم کی جائیں جو کہ ان مریضوں کیلئے خون کے عطیات جمع کرنے کیساتھ علاج معالجے اور ان کی ضروریات زندگی کیلیے رقم بھی جمع کریں تاکہ اللہ رب العزت کے پاس پہنچ کر یہ بچے ہمارا گریبان نا پکڑ سکیں کہ الہی میں ان صحت و توانا لوگوں میں چند سال کیلئے آیا تھا مگر یہ مجھے اپنا خون عطیہ نہیں کرتے تھے اور مجھے کھانے پینے کی اشیاء کے ساتھ علاج معالجے کیلئے پیسوں کی ضرورت تھی مگر یہ پیسوں والے لوگ مجھ چند سالوں کے مہمان کو پیسے دینے سے انکاری تھے اور مجھے اپنے علاج معالجے کیلئے بیماری کیساتھ محنت و مشقت بھی کرنی پڑتی تھی
    پاکستان میں اس وقت سینکڑوں این جی اوز اور سرکاری و نجی ہسپتال ان کم عمر مہمان بچوں کی سانسیں بحال رکھنے کی جدوجہد میں پیش پیش ہیں تو اپنے خون و مال سے ان این جی اوز و معالج خانوں کی مدد کرکے ان مہمان بچوں کی سانسیں بحال رکھنے میں مدد کیجئے تاکہ کوئی غریب ماں باپ خون و پیسے کے نا ہونے کی بدولت اپنے لخت جگر کو مرنے کیلئے اکیلا نا چھوڑ دے اور اس مہمان مریض کو اپنے علاج معالجے کیلئے غربت کے باعث بیماری کیساتھ محنت و مشقت نا کرنا پڑے کیونکہ فرمان باری تعالی ہے ،جس نے کسی ایک انسان کی جان بچائی گویا اس نے پوری انسانیت کو بچایا
    تو آگے بڑھیں جب تک ان مہمان بچوں کی سانسیں بحال ہیں تب تک ان کو عام بچوں کی طرح زندہ رہنے کا موقع دیجئے

  • مقبوضہ کشمیر : کشمیریوں نے سپریم کورٹ  کےکس  فیصلے پر منایا جشن

    مقبوضہ کشمیر : کشمیریوں نے سپریم کورٹ کےکس فیصلے پر منایا جشن

    مقبوضہ کشمیر : کشمیریوں نے سپریم کورٹ کےکس فیصلے پر منایا جشن

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق جمعہ کے روز سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد مقبوضہ کشمیر کے لوگوں نے جشن منایا اوربہت سے لوگوں نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ سروسز جلد ہی دوبارہ شروع کردی جائیں گی۔
    ایک کاروباری شخص اشتیاق احمد نے کہا کہ یہ ہمارے لئے بہت خوش کن خبر ہے کیونکہ انٹرنیٹ کو معطل ہوئے اب پانچ ماہ سے زائد کاعرصہ ہو گیاہے۔ ساوتھ ایشین وائر کے مطابق انہوںنے کہاکہ ہر شعبہ بری طرح متاثر ہوا ہے۔ یہ وادی میں کاروبار کے لئے بدترین مرحلہ رہا ہے۔ انٹرنیٹ ایک ایسا بنیادی ذریعہ ہے جس پر ہر ایک ، خاص طور پر کاروبار سے وابستہ افراد ، انحصار کرتے ہیں۔ ساوتھ ایشین وائر کے مطابق وادی میں سیاحت کے شعبے سے وابستہ ایک اور تاجر امید کر رہے ہیں کہ انٹرنیٹ پر منحصر کاروبار کو بھر پور فائدہ ملے گا۔
    شہر کے مضافات میں مقیم ایک طالبہ ، آفرین مشتاق نے کہا کہ طلبا برادری سب سے زیادہ متاثر ہوئی تھی اور عدالت عظمی کی جانب سے یہ فیصلہ اگرچہ دیر سے ہوا ہے لیکن یہ تازہ ہوا جھونکا ہے۔

    مبشر صاحب ،گند میں نہ پڑیں، ایس ایچ او نے حریم شاہ کے خلاف مقدمہ کی درخواست پر ایسا کیوں کہا؟

    حریم شاہ مبشر لقمان کے جہاز تک کیسے پہنچی؟ حقائق مبشر لقمان سامنے لے آئے

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    واضح رہے کہ بھارتی سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح انداز میں کہا کہ انٹرنیٹ پر پابندی لگانا مناسب نہیں ہے۔ یہ جمہوری ملک ہے، یہاں ہم کسی کو اس طرح نہیں رکھ سکتے۔ انٹرنیٹ پر پابندی اظہار رائے پر پابندی لگانے کے مترادف ہے۔ لوگوں کے حقوق نہیں چھینے جانے چاہیے۔ سات دنوں کے اندر دفعہ 144 پر جائزہ لیا جانا چاہیے۔ حکومتی دلائل کو سپریم کورٹ نے رد کر دیا۔ کہیں بھی دفعہ144 لگائی جائے تو اسے غیرمعینہ نہیں کیا جاسکتا۔ غیر معمولی حالات میں ہی اس کا نفاذ کیا جاسکتا ہے۔اس دفعہ کا استعمال بار بار نہیں کیا جانا چاہیے۔ حکومت کو اس پر واضح موقف پیش کرنا چاہیے۔

  • بنگلہ دیش پاکستان سے سیریز کھیلےگا یا نہیں‌، بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے مزید وقت مانگ لیا

    بنگلہ دیش پاکستان سے سیریز کھیلےگا یا نہیں‌، بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے مزید وقت مانگ لیا

    بنگلہ دیش پاکستان سے سیریز کھیلےگا یا نہیں‌، بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے مزید وقت مانگ لیا

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) نے پاکستان سے سیریز کھیلنے کے حوالے سے فیصلے کے لیے مزید چار روز کا وقت طلب کرلیا۔
    اس سلسلے میں دونوں بورڈ کے حکام کے درمیان رابطہ ہوا۔

    ذرائع کے مطابق بی سی بی سیریز سے متعلق کھلاڑیوں اور ٹیم مینجمنٹ سے بات کر رہا ہے جبکہ اس کے لیے حکومتی اجازت بھی درکار ہے. ذرائع نے مزید بتایا کہ سیریز کے حوالے سے بی سی بی اتوار یا پیر تک آگاہ کردے گا۔

    اس سے قبل ذرائع نے بتایا تھا کہ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ مرحلہ وار سیریز کھیلنے پر بضد ہے، جبکہ پی سی بی پہلے ٹی ٹوئنٹی اور بعد میں ٹیسٹ سیریز کھیلنے کا خواہاں ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی کھلاڑی اور ٹیم مینجمنٹ ٹی ٹوئنٹی سیریز کھیل کر سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لینا چاہتی ہے۔

  • مبشر لقمان اور حریم زادے ، بینش علی خان کی نظر میں

    مبشر لقمان اور حریم زادے ، بینش علی خان کی نظر میں

    مبشر لقمان کو مفت میں رگڑا جا رہا ہے مبشر لقمان کا یوٹیوب والا پروگرام میں نے خود دیکھا ہے جس میں راۓ ثاقب اینکر پرسن مہمان بن کر آئے ہیں اب ایک پروگرام میں ایک مہمان جو کچھ کہتا ہے اس کاحق ہے اس کو آزادی رائے کا پورا اختیار ہے۔
    مبشر لقمان کے پروگرام سے ایک دن پہلے سماء چینل کا 31 دسمبر کا پروگرام لائیو وِد ندیم ملک دیکھ رہی تھی جس میں اسد عمر اور زرتاج صاحبہ موجود تھے حریم شاہ کو کال پر لیا جاتا ہے اور وزارتِ داخلہ کے دفتر میں جانے کے بارے میں پوچھا جاتا ہے پاکستان کی حکومت ان دنوں صرف سرکس خانہ بن چکا ہے اس واقعے کے بعد تو اس لڑکی کو اصولاً حوالات میں ہونا چاہیے لیکن پیچھے ایک منسٹر دلال موجود ہو تو پھر قانون جوتی کی نوک پر ہوتا ہے حریم کی بات سننے کے بعد اسد عمر اور زرتاج گل سے اس بات پر جب رائے لی جاتی ہے تو صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ ان کا رنگ اڑ جاتا ہے اور وہ خاندانی عورت ہونے کا کہہ کر اور پولیٹکس میں اپنے کوششوں کا حوالہ دے کر کوئی بھی رائے دینے سے انکار کرتی ہے یہاں صاف پتا لگتا ہے کہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے اور اس بات کی کڑی مبشر لقمان کے پروگرام سے ملتی ہے اور زرتاج گل کی بوکھلاہٹ سمجھ میں آتی ہے اور پھر زرتاج صاحبہ کا جان بوجھ کر معصوم احتجاج کامران شاہد کے پروگرام میں کہ مبشر لقمان نے اس پر الزام لگایا ہے کہ زرتاج صاحبہ کے پاس کسی عورت کی وڈیوز ہے اور وہ اس نے لیک کی ہے بی بی جذباتی ہو کر رونے لگتی کہ وہ کسی کے ساتھ ایسا کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی بھئی پروگرام تو دیکھو کہ الزام مبشر لقمان نے نہیں لگایا رائے ثاقب نے بات کی تھی اب مبشر لقمان کے پروگرامز میں اس سے پہلے بہت سے سیاسی جماعتوں کے لوگ اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے آکر کچھ بھی بولتے تھے اس سے اس کا کوئی لینا دینا نہیں تو یہاں وہ قصور وار کیسے ؟

    فواد چودھری کی مبشر لقمان سے بدتمیزی، اصل حقیقت کیا؟ مبشر لقمان نے جواب دے دیا

    حریم شاہ کی "لیکس” کا سلسلہ جاری، فیاض الحسن چوہان کی کال ریکارڈنگ شیئر کر دی

    شیخ رشید کی کردار کشی، حریم شاہ کو کس نے دیا ٹاسک؟ باغی ٹی وی سب سامنے لے آیا

    حریم شاہ نے کس ملک کی شہریت کے لئے اپلائی کر دیا؟ سن کر فیاض الحسن چوہان پریشان

    ننگے ہونے کے لئے تیار ہو جاؤ، حریم شاہ نے کس کو شرمناک دھمکی دی؟

    سراج الحق بھی……حریم شاہ نے کیا تہلکہ خیر انکشاف

    حریم شاہ کی کسی شخص کے گھٹنے پر بیٹھنے کی تصویر وائرل، وہ شخص کون؟ حریم نے خود بتا دیا

    حریم شاہ کی "لیکس” زرتاج گل بھی میدان میں آ گئیں، کیا کہا؟ جان کر ہوں حیران

    زرتاج صاحبہ الزام یہ نہیں تھا کہ آپ نے کسی عورت کی ویڈیوز لیک کی ہے بات یہ ہے ک اس عورت کا دعویٰ ہے کہ اس کے پاس آپ کی ویڈیوز ہے پی ٹی آئی کے نائٹ ڈانس پارٹی میں بنا لی ہونگی اس نے اب رو دھو کر فیس سیونگ کرو۔
    اب آتے ہیں فواد صاحب کی طرف پہلے تو یہ بندہ انتہائی بدتمیز ہیں وہ اس قابل ہی نہیں کہ سکول میں ٹیچر بن سکے پیشے کے اعتبار سے وکیل اور وزیر سائنس و ٹیکنالوجی عمران خان کے بلنڈرز میں سب سے بڑا بلنڈر آئے روز کسی نہ کسی کو تھپڑ مار رہے ہیں خاندانی لوگوں کا یہ شیوا نہیں اس بات پر وہ رپورٹ کرتے عدالت جاتے مبشر لقمان کے خلاف خیر مبشر لقمان کو میں زرا بھی قصور وار نہیں مانتی لیکن فواد صاحب نے قانون کو ہاتھ میں لینے کو بہتر جانا کیوں کہ ان کو پتا ہے کہ پاکستان کی عدالتوں کا خدا ہی حافظ ہے دوسرے ملک کے اخبار تو اِن کو امراء کی رنڈی لقب کا دے چکے ہے جو کے غلط نہیں ہے پاکستان میں قانون صرف طاقت وروں کی حفاظت اور غریب کو سزا دینے کے لئے ہے جس کو فواد جیسے بڑے لوگ پھاڑ کر نکل جاتے ہے۔

    حریم شاہ کی دبئی میں کر رہے ہیں بھارتی پشت پناہی، مبشر لقمان نے کئے اہم انکشاف

    حریم شاہ کو کریں گے بے نقاب، کھرا سچ کی ٹیم کا بندہ لڑکی کے گھر پہنچا تو اسکے والد نے کیا کہا؟

    مبشر صاحب ،گند میں نہ پڑیں، ایس ایچ او نے حریم شاہ کے خلاف مقدمہ کی درخواست پر ایسا کیوں کہا؟

    حریم شاہ مبشر لقمان کے جہاز تک کیسے پہنچی؟ حقائق مبشر لقمان سامنے لے آئے

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    تیسری بات اس عورت کی سب کو کھیل سمجھ میں آگیا ہے ان کی ہر جگہ گھسنے ہر کسی تک رسائی کے پیچھے سوائے فیاض چوہان کے علاوہ کوئی اور نہیں ان کو صرف اس نے پلانٹ کیا سب سے پہلے ایسی جگہوں تک رسائی دے کر ویڈیو اپلوڈ کی جو عوام کی توجہ حاصل کرے اور عوام میں تشویش کی لہر دوڑائی گئی اور اپنے کام نکلوانے کے لئے ان کو بڑے بڑے مگرمچھوں کے بستر تک تب پہنچایا جب مشہور نہیں کروایا تھا اور ساتھ میں اُن کی وڈیوز بنوائی تاکہ وقت آنے پر کام آئے, اور اپنے سیاسی مخالفین یا جن کے ساتھ اختلافات تھے ان کو خراب کرنے کیلئے ان لڑکیوں کا استعمال کیا جیس کا ثبوت مبشر لقمان اور شیخ رشید ہے اور ساتھ میں جن کو خوش کرنا تھا اُن کو اِن لڑکیوں کے زریعے خوش کیا دنیا کا کوئی مرد تیار عورت کو نہیں چھوڑتا پھر اگر وہ ہمارے ٹھرکی رال ٹپکاتے سیاست دان اور بیوروکریٹس ہوں تو چھوڑنا ناممکن اس حریم بہتے گنگا میں سب نے دل کھول کر ہاتھ دھوئے بلکہ نہا لیے, تاریخ کی اوراق میں پی ٹی آئی کی پہلی حکومت کے وزراء اور ایک رنڈی والا باب نہایت سیاہ الفاظ میں لکھا جائے گا دعا ہے کہ اس لسٹ میں وزیراعظم کا نام نا ہو.
    بینش علی خان

  • ایرانی انقلاب کے بعد مشرق وسطیٰ اور امت مسلمہ–از– انشال راؤ

    ایرانی انقلاب کے بعد مشرق وسطیٰ اور امت مسلمہ–از– انشال راؤ

    شہنشاہ نقوی نے پریس کانفرنس کرکے پاکستان کو دھمکی اور امریکہ کا ساتھ دینے کا الزام عائد کیا ہے جبکہ تاریخ گواہ ہے کہ عالم اسلام کے خلاف جو کردار فرانس نے ادا کیا وہ کبھی یہود نے بھی نہ کیا لیکن امام خمینی فرانس کی سرزمین پر بیٹھ کر ایران میں اسلامی انقلاب لے آتے ہیں اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ایران میں خمینی انقلاب کے بعد سے مشرق وسطیٰ متعدد بار شورش، عدم استحکام اور جنگوں کا سامنا کرچکا ہے جبکہ اسرائیل کو عربوں کی مزاحمت و جنگوں سے مکمل چھٹکارا مل گیا ہے،

    ایرانی انقلاب کے فوراً بعد ایک طرف تو ایران امریکہ تنازعہ پیدا ہوگیا اور Hostage Crisis کے نام دنیائے تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ ہوا تو دوسری طرف ایران عراق جنگ کی صورت خطے میں بدامنی کی لہر نے جنم لے لیا، اس کے بعد گلف وار اور پھر عرب اسپرنگ کے نام پر پورا خطہ شورش، بدامنی و عدم استحکام کا شکار ہوگیا، ایرانی انقلاب کے بعد اس کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ تک محدود رہے بلکہ پاکستان بھی اس کی لپیٹ میں آکر فرقہ ورانہ فسادات کا شکار رہا،

    سعودی عرب میں اوائل اگست 1987 کے حج کے موقع پر ایرانی انقلابیوں نے جو خون خرابہ کیا وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں، محمد میاں سومرو و توفیق احمد چنیوٹی جیسے بزنس مین سمیت دنیا بھر کے حاجی اس سانحے کے عینی شاہد ہیں، اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ایرانی انقلاب کے بعد بظاہر امریکہ ایران تعلقات ناخوشگوار ہی رہے ہیں لیکن خفیہ طور پر متعدد بار امریکہ ایران تعاون بھی دیکھنے میں آیا ہے نومبر 1986 میں دنیا بھر میں اس انکشاف کی دھوم رہی اور واشنگٹن پوسٹ نے خبر شایع کی کہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی کے تعاون سے ریگن انتظامیہ نے ایران کو اسلحہ فراہم کیا،

    اس کے علاوہ عراق و شام میں ایران امریکی تعاون سے مخالف گروہوں کے خلاف کاروائی کرتا رہا اور مختلف اسلامی ممالک میں خفیہ تنظیمیں متحرک و منظم کرتا رہا ہے اور ان تنظیموں نے بہت سے عرب ممالک کے امن کو مفلوج کرکے رکھدیا، بلاشبہ ایران ان مسلح تنظیموں کی پشت پناہی و سرپرستی کررہا ہے جن کے زریعے سے خطے میں اجارہ داری قائم کرکے عظیم فارسی سلطنت و تہذیب کو قائم کرنا چاہتا ہے جس کا سابق ایرانی صدور محمد خاتمی، محمد احمد نژاد و دیگر مذہبی عسکری و سیاسی رہنما اپنے خطابات و بیانات میں اظہار کرتے آرہے ہیں کہ ہماری قدیم ایرانی تہذیب ہے، ہماری عظیم فارس سلطنت تھی ہم قدیم تہذیب رکھتے ہیں، ہم اپنی قدیم تہذیب و سلطنت کو بحال کرینگے وغیرہ وغیرہ،

    امریکہ کے مشرق وسطیٰ میں مختلف مفادات جڑے ہیں اور امریکہ کسی اور کی چودھراہٹ کو ہرگز ہرگز برداشت نہیں کرسکتا، اہم بات یہ بھی ہے کہ امریکی پالیسی میں نیشنلزم، تہذیب، یا کسی مذہبی نظریہ پہ قائم ملک و ملت کے استحکام کی کوئی گنجائش نہیں، یہی وجہ ہے کہ اب آکر امریکہ نے واضح طور پر ایران کو پیغام دیدیا ہے کہ اب وہ مڈل ایسٹ میں اپنے پھیلائے ہوے پنجوں کو واپس کھینچ لے ورنہ دو میں سے ایک ہی قوت رہیگی یا امریکہ یا ایران، ایرانی بضد ہیں کہ وہ کسی طور بھی اپنی پالیسی سے دستبردار نہیں ہونگے

    جیسا کہ R.N Haass نے کہا کہ "ایران امریکہ جنگ ہوئی تو یہ ایران عراق تک ہی نہیں بلکہ پورے خطے میں لڑی جائیگی” بعینہ ایران کے روحانی پیشوا خامنہ ای نے کہا ہے کہ "ہمارے رضا کار امریکہ میں بھی لڑینگے جو بڑی تعداد میں وہاں موجود ہیں” مزید ایرانی انتظامیہ نے حملے کی صورت میں UAE و دیگر عرب ممالک کو نشانہ بنانے کی بھی دھمکی دی ہے،

    ایران کی جانب سے امریکی ملٹری بیسز پر حملے کے بعد جنگ کے بڑھنے میں کوئی کسر باقی تو نہیں رہی ہے البتہ پوری دنیا کوشش میں ہے کہ کسی طرح اس بلا کو ٹال دیا جائے تاکہ دنیا پر منڈلاتے عالمی جنگ کے سائے چھٹ جائیں لیکن بظاہر ایسا ہوتا ممکن نظر نہیں آرہا امریکی سیکریٹری دفاع مارک ایسپر نے CNN پر انٹرویو دیتے ہوے کہا ہے کہ قاسم سلیمانی کی صورت میں ہم ایران کو پیغام دے چکے ہیں کہ اب خطے میں ایرانی مداخلت اور اپنا انقلابی نظریہ ایکسپورٹ کرنے کے لیے کوئی گنجائش نہیں لہٰذا اب ایران سمجھ جائے کہ Game is Change ورنہ دونوں میں سے ایک رہیگا”

    اس سے پہلے کبھی امریکہ کو اتنے جارحانہ انداز میں نہیں دیکھا گیا اور اب ایران کے حملوں کے بعد صورتحال ہاتھوں سے نکل چکی ہے جو شاید ایک ہولناک جنگ کی صورت میں ہی سامنے آئیگی، نتیجتاً عرب ممالک بالخصوص اور پاک افغان بالعموم اس سے شدید متاثر ہونگے، امریکی حملے کی صورت میں شیعہ گروہ اسلامی ممالک میں قائم امریکی تنصیبات کو نشانہ بنائینگے جس سے حالات بگڑتے ہی چلے جائینگے جبکہ ایرانی انتظامیہ تو پہلے ہی براہ راست عرب ممالک پر حملے کی دھمکی دے چکی ہے،

    اس نازک صورتحال میں پاکستان کا کردار کیا ہوگا؟ پاکستان ایران کے بعد سب سے زیادہ شیعہ آبادی کا ملک ہے اور یہ بھی یاد رہے کہ مشرق وسطیٰ طرز کی پراکسی پاکستان میں بھی موجود ہے جس کا علی شیر حیدری و دیگر بہت سے لوگ بارہا انکشاف کرچکے ہیں اور پاکستان سے غیرمعمولی تعداد میں شیعہ افراد کی عراق و شام میں بطور سپاہی لڑنے کے ثبوت بھی سامنے آچکے ہیں اور شہنشاہ نقوی کی دھمکی آمیز پریس کانفرنس سے بڑھ کر اس کا کوئی ثبوت نہیں، شہنشاہ نقوی کا اشارہ پاکستان میں ایرانی ٹرینڈ شیعہ عسکری ونگز کے زریعے پاکستان کے حالات خراب کرنے کی طرف ہے جس سے گلگت بلتستان، کشمیر یا جزوی حد تک کراچی متاثر ہوسکتے ہیں،

    اس کے علاوہ مشرقی بارڈر اور بھارت کے ناپاک عزائم بھی کسی سے ڈھکے چھپے نہیں، اس نازک صورتحال کا دنیا کو پہلے سے ہی علم تھا لیکن اگر نہیں تھا تو کچھ پاکستانی میڈیا پرسنز و کچھ سیاستدانوں کو نہیں تھا جو جنرل باجوہ کی ایکسٹینشن کو متنازعہ بنانے کی کوشش اور اسے جمہوریت پہ شب خون مارنے کے مترادف تک قرار دیتے رہے جبکہ عدلیہ نے اسے آئین کے منافی قرار دیتے ہوے آرمی قوانین میں ترمیم کرنے پہ مجبور کردیا

    پھر دنیا نے دیکھا کہ تمام سیاستدان حیران کن طور پر ایک پیج پر بھی آگئے بقول حسن نثار "ایک پیج پر نہیں ایک سیخ میں پرودئیے گئے ہیں” حالانکہ آرمی چیف کی ایکسٹینشن کوئی انوکھی بات نہیں، 1943 میں وقتی صورتحال کو دیکھتے ہوے امریکی صدر روزویلٹ نے امریکی چیف اسٹاف Marshal کی ایکسٹینشن بغیر کسی ترمیم کے کرچکے ہیں جس پر امریکی پریس یا اپوزیشن نے کوئی سوال تک نہ کیا، جنرل ڈوگلس کی صلاحیت و ریاست کے استحکام کے پیش نظر امریکی انتظامیہ نے انہیں بھی ایکسٹینشن دی،

    بھارتی حکومت نے جنرل بپن راوت کو ریٹائرمنٹ کیساتھ ہی چیف آف ڈیفینس اسٹاف بناکر مزید ایکسٹینشن دے دی لیکن کسی نے حرف تک نہ کہا جبکہ پاکستان جو باجوہ ڈاکٹرائن کے تحت مختلف اندرونی و بیرونی بحرانوں سے باہر نکلتا آرہا ہے اور اس ماہر جنرل کی موجودہ نازک صورتحال کے پیش نظر اشد ضرورت تھی جسے بالآخر آرمی ایکٹ ترمیم کے زریعے پورا کردیا گیا جو انشاءاللہ پاکستان و پاکستانیوں کے لیے کارگر ثابت ہوگی، مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر حکومت و عسکری قیادت پہلے ہی نیوٹرل رہنے کا اعلان کرچکی ہیں جوکہ سعودی عرب و UAE کو قابل قبول نہیں ہوگا اور امریکہ بھی اسے قبول نہیں کریگا، لہٰذا پاکستان کو نیوٹرل رہتے ہوے ایک بار پھر وہی کردار ادا کرنا ہوگا جو گلف وار کے دوران کیا تھا۔

    آرزوئے سحر
    تحریر: انشال راؤ
    عنوان: ایرانی انقلاب کے بعد مشرق وسطیٰ اور امت مسلمہ