Baaghi TV

Category: بلاگ

  • حارث رؤف نے بگ بیش میں جھنڈے گاڑ دیے ، باؤلنگ میں کارنامہ انجام دے دیا

    حارث رؤف نے بگ بیش میں جھنڈے گاڑ دیے ، باؤلنگ میں کارنامہ انجام دے دیا

    حارث رؤف نے آسٹریلیا میں جھنڈے گاڑ دیے ، باؤلنگ میں کارنامہ انجام دے دیا

    سڈنی: اسپیڈ اسٹارحارث رؤف نے آسٹریلیا میں جاری بگ بیش ٹی ٹوئنٹی لیگ میں شاندار ہیٹ ٹرک حاصل کی ہے۔

    میلبرن اسٹارز کی نمائندگی کرتے ہوئے حارث کا پہلا نشانہ گلیکس بنے جو کیچ آؤٹ ہوئے ، اگلی ہی گیند پر انہوں نے فرگوسن کو کلین بولڈ کر دیا گیا جبکہ ان کا تیسرا نشانہ سیمز بنے جو کے ایل بی ڈبلیو ہوئے۔

    26 سالہ باؤلر نے اب تک 4 میچوں میں 7 کی اوسط اور اسٹرائک ریٹ سے 13 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا ہے جب کہ ان کے رنز دینے کی اوسط 5.87 رہی ہے۔واضح‌رہے کہ حارث رؤف آسٹریلیا میں پہلے بھی شاندار پرفارمنس دکھا رہے ہیں.

  • ایران امریکہ تنازعہ و امریکی مڈل ایسٹ پالیسی، تحریر: انشال راؤ

    ایران امریکہ تنازعہ و امریکی مڈل ایسٹ پالیسی، تحریر: انشال راؤ

    آرزوئے سحر : ایران امریکہ تنازعہ و امریکی مڈل ایسٹ پالیسی، تحریر: انشال راؤ

    موجودہ حالات پر غور کرنے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ امریکہ نے اپنے مفادات کے حصول کے لیے ایک شکل یہ اپنائی ہے کہ جہاں جہاں امریکی آشیرباد سے حکومتیں قائم ہیں ان کی سرپرستی جاری رہیگی اور جن خطوں سے امریکی مفادات کے حصول میں رکاوٹ محسوس ہوگی تو انہیں آگ و خون کی ہولی میں تبدیل کردیا جائیگا، مڈل ایسٹ ممالک میں لگی آگ اسی بات کی غمازی ہے اور جو جب امریکی مفادات کی راہ میں حائل ہونے کی کوشش کریگا اسے راستے سے ہٹادیا جائیگا جس طرح ایرانی جنرل قاسم سلیمانی و ابو مہدی المندس کو ڈرون حملے میں اڑا دیا گیا جس کے بعد سے بظاہر ایران امریکہ کے مابین شدت آگئی ہے اور ماہرین اسے پورے خطے میں جنگ کا پیش خیمہ سے تعبیر کررہے ہیں مزید اگر روس یا چین میں سے کسی بھی طاقت نے امریکی مفادات کے آڑے آنے کی کوشش کی تو یہ جنگ عالمی جنگ میں تبدیل ہوجائیگی، مشرق وسطیٰ میں سب سے پہلے عراق پر امریکہ نے براہ راست چڑھائی کی تو اس وقت صدر صدام حسین نے کہا تھا کہ "چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں” اور چشم فلک نے دیکھا کہ عراق میں لگی آگ شام، لبنان، یمن و دیگر عرب ممالک سے ہوتے ہوے شمالی افریقہ تک پہنچ کر لیبیا کو بھی لپیٹ میں لے گئی اور ایران نے مڈل ایسٹ کو جنگ کی آگ میں جھونکنے میں اہم کردار ادا کیا، خواہ یمن ہو، عراق و لبنان یا پھر شام یا بحرین ہر جگہ ایرانی پراکسیز نے ہی مشرق وسطیٰ میں خونچکاں صورتحال پیدا کی، ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت پر ایران کی آہ و بکا کو کیا سمجھا جائے جبکہ یہی وہ قاسم سلیمانی تھے جو گذشتہ ایک دہائی سے امریکہ کیساتھ مل کر مختلف کاروائی کرتے آرہے تھے، 2011 میں معروف امریکی اسٹیٹس مین ہینری کسنجر نے انٹرویو میں کہا تھا کہ "مڈل ایسٹ میں جنگ کے نقارے بج رہے ہیں جنہیں یہ سنائی نہیں دے رہے وہ بہرے ہیں” انہوں نے مزید کہا کہ "امریکہ نے بہت سے مسلمانوں کو خرید رکھا ہے جو ان کی توقعات سے اچھا کام کررہے ہیں” اس انٹرویو کے تحت دیکھا جائے تو اچانک سے اٹھنے والی یہ اسپرنگ، پراکسیز و میڈیا کی پروپیگنڈہ کیمپین سب زرخرید ہی معلوم ہوتی ہیں، ہینری کسنجر نے اس عالمی جنگ کا نقطہ آغاز "ایران” کو ہی قرار دیا تھا اور اب شاید وہ وقت آپہنچا ہے جس کی پیشین گوئی چودہ سو سال پہلے حضور قدسؐ نے کی تھی، حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ "تمہاری پشت پہ ایک طاقت کھڑی ہوجائیگی جسے تم رومیوں کے ساتھ مل کر شکست دوگے جس کے بعد ایک شخص کھڑا ہوکر کہیگا کہ یہ صلیب کی فتح ہے جسے ایک مسلمان قتل کردیگا تو اہل صلیب وہاں موجود تمام مسلمانوں کو شہید کردینگے اور یوں یہ مسلمانوں و رومیوں میں جنگ میں تبدیل ہوجائیگی جس کے بعد رومی 80 جھنڈے لیکر حملہ آور ہونگے اور ہر جھنڈے تلے 12000 رومی ہونگے” لازمی نہیں کہ وہ پشت پہ تیار ہونے والی طاقت ایران ہی ہو، ہوسکتا ہے وہ روس ہو اور عین ممکن ہے کہ روس اس جنگ میں کود جائے جس کے مفادات اس خطے سے جڑے ہوے ہیں، مفادات کے ٹکراو سے ہی جنگوں کی آگ بھڑکتی ہے، انیسویں صدی میں برطانوی PM لارڈ پامرسٹن نے کہا تھا جو مشہور زمانہ قول ہی نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے انہوں نے کہا تھا کہ "England has no permanent friend, She has permanent interests” کے مصداق امریکہ کی بھی یہی پالیسی ہے اور ڈونلڈ ٹرمپ و دیگر امریکی عہدیدار بارہا یہ بات دہراتے آرہے ہیں کہ امریکی مفادات کے حصول میں انہیں جو کرنا پڑیگا وہ کرینگے، جب تک امریکی مفادات تھے وہ ایران کیساتھ مل کر داعش و دیگر گروہوں کے خلاف کاروائی کرتے رہے لیکن جب ایران امریکی مفادات کی راہ میں رکاوٹ بننے لگا تو امریکہ نے متعدد بار خبردار کیا، آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل بردار جہازوں پر ایرانی پراکسیز کے حملے اور مشرق وسطیٰ میں ایرانی اثر و رسوخ امریکہ کو ایک آنکھ برداشت نہ ہوا، دسمبر 2019 کے اوائل میں مائیک پامپیو نے ریگن نیشنل ڈیفینس فورم سے خطاب کرتے ہوے بتایا کہ امریکہ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ ایرانی جنرل قاسم سلیمانی عراق میں امریکہ مخالف کاروائیوں کی سرپرستی کرنے سے باز رہے لیکن جب ایران باز نہ آیا تو امریکہ نے 12000 کلومیٹر دور سے کاروائی کرکے نہ صرف ایران کے خلاف اعلان جنگ کردیا بلکہ دنیا میں ٹیکنالوجی کی دھاک بھی بٹھادی، صرف اتنا ہی نہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے حالیہ ٹویٹ میں عندیہ دیدیا ہے کہ ایران امریکہ جنگ کی صورت میں امریکہ نئے ہتھیار استعمال کرتے ہوے دنیا میں متعارف کروائے گا، یاد رہے 1945 میں جب امریکہ نے جاپانی شہروں پہ ایٹم بم گرائے تو دنیا کو معلوم ہی نہیں تھا کہ امریکہ نے کیا کیا ہے، بالکل اسی طرح ڈیزی کٹر بم ہوں یا ڈرون یا گائیڈڈ میزائل یا پھر B-52 جیسے جدید جنگی طیارے امریکہ نے متعارف کروائے تو دنیا کے سامنے ایک نئے جنگی ہتھیار سامنے آئے اور اب ٹرمپ کا ایران کے نام دھمکی آمیز ٹویٹ یہی اشارہ ہے کہ یقیناً امریکہ نے کوئی مہلک ترین ہتھیار بنا رکھے ہیں جو شاید ایٹم بم سے بھی زیادہ مہلک ثابت ہوں، امریکی تنازعات کا سطحی جائزہ لیا جائے تو ایک بات واضح ہے کہ جہاں امریکہ کو محسوس ہوا کہ اس کے مفادات کو نقصان ہونے کا خدشہ ہے تو وہیں امریکی رویے میں سختی نظر آئی جو شدت ہی اختیار کرتے نظر آئے ہیں، سوویت یونین کو صرف تسلیم کرنے میں امریکہ نے 15 سال لگائے، ویتنام جنگ کے اختتام 1973 کے باوجود امریکہ سرد رویے میں نرمی 1995 میں آکر ہوئی، کیوبا کا معاملہ بھی دنیا کے سامنے ہے، اسی طرح ایران سے امریکی تنازعہ کوئی نیا نہیں ہے لیکن ماضی کے ایران کا ذکر یہاں ضروری نہیں، خمینی کے ایرانی انقلاب کے بعد پہلی بار امریکہ ایران اس وقت ٹھنی جب ایران نے امریکی سفارتی عملے کو 444 دنوں تک یرغمال بنائے رکھا جواباً امریکہ نے ایران پر پابندیاں عائد کرتے ہوے 12 ارب ڈالر کو روک لیا جسے الجزائر کی ثالثی کے بعد حل کیا گیا، اس کے بعد سے امریکہ ایران تنازعہ چلتا ہی آرہا ہے جس کے جواب میں امریکہ نے ایران کے خلاف معاشی، سفارتی و سیاسی کارروائیاں ضرور ڈالیں لیکن کبھی فوجی کارروائی نہیں کی لیکن امریکی تاریخ رہی ہے کہ وقت آنے پر وہ اپنے حریف کو تباہ کیے بغیر نہیں رہتا، 1996 میں امریکہ نے Iran Libya Act 96 کے تحت ایران و لیبیا پر سخت پابندیاں عائد کیں اور کچھ عرصے بعد مشروط طور پر لیبیا پر نرمی کردی گئی لیکن اس کے باوجود امریکہ نے لیبیا کو تباہ ضرور کیا، بالکل اسی طرح اب امریکی رویے سے ظاہر ہے کہ ایران پر امریکہ جنگ مسلط کرکے ہی رہے گا آج یا بدیر لیکن کرے گا ضرور اور R.N Haass نے بالکل سہی کہا ہے یہ جنگ پورے خطے میں لڑی جائیگی جس میں نقصان صرف امت مسلمہ کا ہی ہونا ہے۔

  • قاسم سلیمانی فلسطینی مزاحمت کے قائد اور عوام کے ہیرو ،  تحریر: صابر ابو مریم

    قاسم سلیمانی فلسطینی مزاحمت کے قائد اور عوام کے ہیرو ، تحریر: صابر ابو مریم

    قاسم سلیمانی فلسطینی مزاحمت کے قائد اور عوام کے ہیرو
    تحریر: صابر ابو مریم
    سیکرٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستانپی ایچ ڈءریسرچ اسکالر، شعبہ سیاسیات جامعہ کراچی

    عراق کے دارلحکومت بغداد میں مورخہ تین جنوری کو امریکی افواج کی ایک دہشت گردانہ کاروائی میں شہادت پر فائز ہونے والے مجاہدین اسلام قاسم سلیمانی او ر ابو مہدی مہندس سمیت آٹھ افراد شامل تھے۔ بغداد میں امریکہ کی یہ غیر قانونی اور جارحانہ کاروائی پوری دنیا کے لئے توجہ کا مرکز اس لئے بھی بنی کہ اس حادثہ میں شہید ہونے والے مجاہد اسلام قاسم سلیمانی ایک ایسی غیر معمولی شخصیت ہیں کہ جن کے بارے میں دنیا بھر اور پاکستان کے تجزیہ نگاروں نے بھی رائے دیتے ہوئے یہی کہاہے کہ قاسم سلیمانی کی شخصیت ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے بعد دوسرے بڑی قدرت رکھنے والی شخصیت ہیں۔اس طرح کے متعدد تجزیات ذرائع ابلاغ پر جاری ہیں جبکہ کالم نویسوں نے بھی اپنے قلم کی مدد سے امریکی دہشت گردانہ کاروائی میں شہید ہونے والے قاسم سلیمانی اور ابو مہدی مہندس کی شہادت کے حوالے سے مختلف سیاسی اور عسکری پہلوؤں پر روشنی ڈالی ہے۔
    گذشتہ تین چار روز سے دنیا بھرک ے ذرائع ابلاغ بالخصوص مغربی دنیا اور عرب دنیا سمیت ایشیائی ممالک کے ذرائع ابلاغ بغداد میں امریکی دہشت گرادنہ کاروائی کے نتیجہ میں شہید ہونیو الے ان رہنماؤں کے بارے میں مسلسل خبریں اور تجزیات پیش کر رہے ہیں کہ جس کے بعد ان شہداء کی زندگانی کے بارے میں مختلف پہلو سامنے آنا شروع ہوئے ہیں۔ہم ا س مقالہ میں کوشش کریں گے کہ شہید قاسم سلیمانی کے حوالے سے سامنے آنے والے چند ایک پہلوؤں پر روشنی ڈالیں۔
    اس سے پہلے کہ ہم شہید قاسم سلیمانی سے متعلق بیان کردہ دیگر پہلوؤں کی طرف بات کریں، ایک منفرد اور بنیادی پہلو جو ابھی تک نہ تو مغری ذرائع ابلاغ نے پیش کیا ہے اور نہ ہی عرب دنیا سمیت ایشیائی ممالک کے کسی ذرائع نے بیان کیا ہے۔لیکن یہ پہلو دنیا کے سامنے اس وقت سامنے آیا ہے کہ جب عالم اسلام کے اس عظیم ہیرو شہید قاسم سلیمانی اور ابو مہدی المہندس سمیت دیگر شہداء کے جنازے بغداد سے کاظمین، کربلا، نجف، اہواز، مشھدسے ہوتا ہوا تہران پہنچا ہے جہاں فلسطینی تحریک مزاحمت کے سربراہ اسماعیل ہانیہ نے خصوصی طور پر اس نماز جنازہ میں شرکت کی اور نماز جنازہ کے لاکھوں شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شہید قاسم سلیمانی نہ صرف ایرانی قوم کے ہیرو ہیں بلکہ قاسم سلیمانی فلسطینی مظلوم ملت کے عظیم ہیروہیں اور چونکہ قاسم سلیمانی القدس فورس کے سربراہ ہیں لہذا ہم فلسطینی عوام اور فلسطینی کی مزاحمت کی تحریکیں قاسم سلیمانی کو شہید القدس سمجھتے ہیں اور یقینا شہید قاسم سلیمانی شہید القدس ہیں۔فلسطین کی اسلامی مزاحمت کی تحریک حماس کے سربراہ نے کہا کہ قاسم سلیمانی کو فلسطین سمیت عالم اسلام میں ہمیشہ مزاحمت اسلامی کا ہیرو ہی سمجھا جائے گا۔حماس کے سربراہ نے کہا کہ قاسم سلیمانی کی پوری زندگی فلسطینیوں کے دفاع اور فلسطین کی غاصب صہیونی ریاست اسرائیل کے شکنجہ سے آزادی کے لئے صرف ہوئی ہے۔لہذا فلسطین کی آزادی کی یہ جد وجہد قاسم سلیمانی کے قائم کردہ مزاحمت کے اصولوں کی روشنی میں جاری رہے گی۔
    شہید قاسم سلیمانی کی جد وجہد کو سمجھنے کے لئے ایک نقطہ یا پہلو جو اہم ہے وہ یہ بھی ہے سنہ2011ء میں جب امریکہ کی جانب سے شام میں داعش جیسی سفاک اور دہشت گرد تنظیم کی بنیاد رکھی گئی تو قاسم سلیمانی نے شام حکومت کی درخواست پر داعش سے نمٹنے کی حکمت عملی بنائی اور بنفس نفیس داعش کے خاتمہ کے لئے محاذ جنگ پر موجود رہے۔اسی طرح جب امریکہ اور اسرائیل سمیت ان کے عرب حواریوں نے سنہ2014ء میں داعش کو عرا ق پر مسلط کرنے اور عراق پر قابض ہونے کے لئے خون ریزی شروع کی تو یہی قاسم سلیمانی ہی تھے جو سب سے پہلے عراق کے دفاع کے لئے عراقی حکومت کی درخواست پر عراق پہنچے اور یہاں بھی داعش کے خاتمہ کے لئے اور عرا ق کے مقدس مقامات کے تحفظ سمیت عرا ق کو داعش کے چنگل سے نجات دلوانے کے لئے سرگرم ہوئے۔ نتیجہ میں شام اور عراق دونوں مقامات پر ہی داعش کو شکست ہوئی اور اس جنگ کا فاتح اگر کوئی تھا تو وہ یہی عالم اسلام اور شعائراللہ کا دفاع کرنے والا مجاہد قاسم سلیمانی تھا۔
    شہید قاسم سلیمانی لبنان میں اسرائیل کے حملوں کی ناکامی اور اسرائیلی منصوبوں کی ناکامی کا ایک اہم ستون سمجھے جاتے ہیں۔ جب سنہ2006ء میں اسرائیل نے لبنان پر حملہ کیا تو قاسم سلیمانی لبنان میں حزب اللہ اور لبنانی فوج کے ساتھ مل کر اسرائیل کے حملہ کو پسپا کرنے کے لئے دن رات سرگرم عمل رہے اور اس طرح یہ جنگ بھی 33روز بعد اسرائیل کے شکست پر اختتام پذیر ہوئی۔عالمی ذرائع ابلاغ نے کئی سال بعد اسرائیل کی اس شکست کا ذمہ دار اسی مجاہد اسلام قاسم سلیمانی کو قرار دیا۔
    اگر بوسنیا کے ان مسلمانوں کی بات کی جائے جن پر ظلم و ستم روا رکھا گیا تھا تو تاریخ یہ بتاتی ہے کہ یہی شہید قاسم سلیمانی مسلمانوں کے دفاع کے لئے اور ان کی عزت وناموس کی رکھوالی کی خاطر سب سے پہلے بوسنیا میں پہنچے اور دشمن قوتوں کے مقابلہ میں مسلمان ملتوں کا دفاع کیا۔
    شہید قاسم سلیمانی کے بارے میں ایک اہم پہلو یہ بھی سامنے آیا ہے کہ قاسم سلیمانی کشمیر میں مظلوم کشمیریوں کی مزاحمت کے حامی رہے اور یہی وجہ ہے کہ ان کے شہادت پر مقبوضہ کشمیر میں کئی ایک مقامات پر ان کی تصاویر اٹھا کر عوام نے مظاہرے کئے ہیں۔
    امریکہ جو کہ اپنی دہشت گردانہ عزائم کی ایک سوسالہ تاریخ سے طویل تاریخ رکھتا ہے ہمیشہ مظلوموں کو دہشت گرد قرار دینا ہی امریکہ کا شیوا رہا ہے۔امریکہ یہ بات اچھی طرح جانتا ہے کہ دنیا میں امریکی منصوبوں کی ناکامی کے پیچھے اگر کسی کا ہاتھ تھا تو وہ یہی مجاہد اسلام قاسم سلیمانی تھے۔آ ج پوری دنیا میں شہید قاسم سلیمانی کے لئے عوام مظاہرے کر رہے ہیں حتیٰ امریکہ میں سیاسی حلقے بھی امریکی صدر کے اس اقدام کو امریکہ کے لئے شدید خطرہ کی گھنٹی قرار دے رہے ہیں۔
    خلاصہ یہ ہے کہ شہید قاسم سلیمانی کو اسماعیل ہانیہ نے فلسطینی قوم اور ملت مظلوم کا ہیرو قرار دیا ہے اور اسلامی مزاحمت کی تحریکوں کا قائد قرار دیتے ہوئے شہید قدس قرار دے کر دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ قاسم سلیمانی کی شہادت کے بعد ان کی شخصیت ہمارے درمیان سے چلی گئی ہے لیکن قاسم سلیمانی کی فکر اور سوچ امریکہ اور اسرائیل جیسی شیطانی طاقتیں ختم نہیں کر سکتی ہیں۔اسلامی مزاحمت کی تحریکوں نے شہید قاسم سلیمانی کے خون کا بدلہ لینے کا اعلان کر رکھا ہے اور تجزیہ نگاروں کی رائے کے مطابق کہا جا رہا ہے کہ جیسا کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ انتقام سخت ہو گا تو اس حوالے سے القدس کی آزادی اور اسرائیل کی نابودی کے امکانات مزید قوی تر ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔خدا وند کریم کا وعدہ ہے کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل ہوتے ہیں وہ شہید ہیں اور زندہ ہیں اور اپنے پروردگار کے ہاں سے رزق پاتے ہیں۔

  • والدین بچوں کی تربیت کرنے میں ناکام  کیوں۔۔۔؟ –از– سدیس آفریدی

    والدین بچوں کی تربیت کرنے میں ناکام کیوں۔۔۔؟ –از– سدیس آفریدی

    ماں کی گود بچے کی پہلی درسگاہ کا درجہ رکهتی ہے –

    بچے ، جن سے ملک و قوم کی ترقی اور خوشحالی کا مستقبل جڑا ہوتا ہے ان کی تربیت اس انداز سے کرنا پڑتی ہے کہ وہ اچهے شہری کہلایئں -ایسی بہت سی مثالیں ہیں کہ ماں کی تربیت نے ان کو ایسا انسان بنایا جنہوں نے ملک اور اپنے خاندان کا نام روشن کیا ٹاٹوں پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے والے بڑے بڑے سرجن ، سائنسدان ، قانون دان اور انجنیئر ہیں -ان کی کامیابی کے پیچھے ان کی ماں کی تربیت ہے مگر میں سمجهتا ہوں کہ وہ بچے، جن کو سائنسدان، انجنیئر یا ڈاکٹر بننا تها وہ ڈاکو بن گئے -عورتوں کے پرس چهیننے لگے، اغوا برائے تاوان میں ملوث ہیں، بے دریغ قتل و غارت میں ملوث ہیں. پڑے لکهے اور اعلیٰ تعلیم یافتہ کے علاوہ اچهی فیملی کے بچے یہ سب کام کر رہے ہیں –

    ایسا کیوں ہو رہا ہے، کیا ان کی تربیت میں کمی رہ گئی ہے ؟
    کیا اب والدین کے پاس اپنے بچوں کی تربیت کے لئے وقت نہیں رہا؟ کیا یہ میڈیا کے برے اثرات ہیں؟
    یہ حقیقت ہے کہ وقت کی تیز رفتاری نے انسانی زندگی کو متاثر کیا ہے مہنگائی دن بدن بڑھ رہی ہے جس کی وجہ سے روزمرہ کی ضرورت زندگی کی چیزیں فیملی کو مہیا کرنا اب فرد واحد کے بس کی بات نہیں –

    آج کے والدین بچوں کی تربیت کرنے میں اس لیئے بهی ناکام ہیں کہ آج گهر گهر کیبل اور انٹرنیٹ ہے اور آج کے بچے ان سب چیزوں کے ہوتے ہوئے کمپیوٹر اور ریموٹ کنٹرول بچے ہیں کیونکہ پلک جهپکتے ہی ہر چیز ان کے سامنے ہوتی ہے ان بچوں کی تربیت کے لئے آج کی ماں کو ان سے کہیں زیادہ علم و شعور ہونا چاہئے ان پڑھ ماں کبهی بهی آج کے بچے کے مسائل نہیں سمجھ سکتی -آج کا بچہ گهریلو ، سیدھا سادہ اور معصوم بچہ نہیں ہے بلکہ وہ شعور اور آگہی سے مکمل ہے -پرانی چیزوں کی طرف دیکهنا بهی پسند نہیں کرتا بلکہ نت نئی اچهی سے اچهی ایجادات اور حیران کر دینے والی چیزوں کو پسند کرتا ہے آج کے بچے کے معیارات بدل چکے ہیں اس کے مطالبات پہلے زمانے کے بچوں سے کہیں مختلف ہیں -ایسے میں اس کی تربیت کے لئے سکول اور گهر کا ماحول ایک جیسا ہونا ضروری ہے –

    ہمارے آج کے والدین اس لیئے بهی شاید ناکام ہیں کہ وہ اپنے گهروں میں بچوں کو کچھ سکهاتے ہیں جبکہ سکولوں میں جا کر بچے کو سیکهنے کو کچھ اور ملتا ہے یہ شاید ہمارے دوہرے معیار کا ہی قصور ہے –

    آج کی ماں کو خود بهی سمجھ نہیں آرہی کہ اسے بچے کو کیسے ایک سمت پر لانا ہے آج کے والدین اگر بچوں کی اچهی تربیت چاہ رہے ہیں تو انہیں چاہیئے کہ وہ سب سے پہلے بچے کے لئے تعین کیئے گئے دوہرے معیار کو ختم کر دیں –

    بلا وجہ ڈانٹ ڈپٹ اور روک ٹوک سے پرہیز کریں کیونکہ بلا وجہ کی ڈانٹ ڈپٹ بهی رویوں پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے جس سے بچہ متاثر ہوتا ہے اور پهر وہ اپنے والدین کو اچ کرنے کے لئے بهی وہ کام جان بوجھ کر کرتا ہے جس سے اسے منع کیا جاتا ہے –

    ہمارے ہاں ویسے بھی دو قسم کے والدین موجود ہیں ایک والدین وہ جو بچوں سے حد سے زیادہ پیار کرتے ہیں اور دوسرے وہ جو بہت ذیادہ ڈانٹ ڈپٹ کرتے ہیں ایسے والدین کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے جن کے بچوں کے رویوں میں توازن موجود ہے -آج کے والدین کو چاہیئے کہ وہ اچهی طرح سوچیں کہ بچے کیسے اور کس طرح تربیت کرنی چاہیے پهر ہو سکتا ہے کہ وہ بچوں کی نفسیات کو سمجهتے ہوئے بہترین تربیت کر سکیں –

    کہا جاتا ہے کہ آپ کی زبان سے نکلا ہوا ہر لفظ اور ادا کیا ہوا ہر عمل آپ کی تربیت کی عکاسی کرتا ہے -صرف تعلیم حاصل کر کے ہی کوئی ذی روح باشعور نہیں بن سکتا بلکہ تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت بهی اتنی ہی اہم ہے یعنی تعلیم و تربیت لازم و ملزوم ہے. جب تک علم و آگاہی کے ساتھ آپ کے پاس زندگی گزارنے کے اصول ، ضابطے اور آداب نہیں ہونگے ، صرف آگاہی کچھ نہیں کر سکتی بلکہ اس آگاہی اور علم کا زندگی پر اطلاق ہی اصل تربیت ہے اور یہ ماں کا کام ہے کہ بچپن سے ہی بچوں میں ایسے اطوار پیدا کرے کہ عملی زندگی میں ان کے کردار کی پختگی معاشرے میں ان کا وقار قائم کر سکے –

    بغیر تربیت کے علم کی مثال ایسی ہے جیسے کسی جسم سے روح نکال لی جائے تو پیچھے ڈهانچہ رہ جاتا ہے -ہم کسی بهی دور کی عظیم شخصیات مثلاً محمد بن قاسم ، صلاح الدین ایوبی اور مولانا محمد علی جوہر وغیرہ وغیرہ پر نظر ڈالیں تو ان کے پیچھے ان کی والدہ کی تربیت کا ہاتھ نظر آئے گا –

    تاریخ واضح کرتی ہے کہ جب محمد بن قاسم ہندوستان کے علاقے فتح کرنے کے لیے نکلا تو اس کی ماں کے الفاظ تهے ” میں نے تجهے پیدا ہی اس لئے کیا تها کہ تو اسلام کی راہ میں جہاد کرے اور ان علاقوں کو فتح کرے "- بلا شبہ اتنی کم عمری میں اس کی بلند پایہ فتوحات میں ماں کی تربیت کا بہت بڑا ہاتھ تها -لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا آج کی ماں بچوں کی ویسی ہی تربیت کر رہی ہے اگر نہیں تو اس ناکامی کی کیا وجوہات ہیں ؟

    یہ درست ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ زمانے کی اقدار بدل گئی ہیں لیکن انسان تو وہی ہے زمانہ بہت تیز ہو گیا ہے وقت کی کمی کے باعث زندگی مصروف ترین ہو گئی ہے ماووں کی تربیت میں بنیادی وجہ جاب کرنے والی والی ماوں کے پاس وقت کی کمی ہے. نٹ کلچر نے بچوں کو ماوں سے دور کر دیا ہے اب بچہ جو سیکهتا ہے ٹی وی اور میڈیا سے ہی سیکهتا ہے بچوں کے پروگرام کارٹون نیٹ ورک پر چلنے والی کہانیوں نے بچوں کو بہت ایڈوانس کر دیا ہے اب بچوں کو داستان الف لیلیٰ کے زمانے گزر گئے ہیں اور اگر کہا جائے کہ سمجهداری کے معاملے میں بچے پری میچور ہو گئے ہیں تو غلط نہ ہوگا کیونکہ بچے کیبل پروف کارٹون نیٹ ورک ہی نہیں دیکهتے بلکہ انگلش اور انڈین موویز دیکهنے کی بهی کمی نہیں -بہت کم ہیں جو اسلامک چینل ، قرآن پاک اور معلوماتی چینلز دیکهتے ہیں ان الیکٹرانک چینلز سے ہر قسم کی معلومات اور تفریح پیش کی جاتی ہے وہ یہ محسوس نہیں کرتے کہ یہ بچوں نے دیکهنا ہے اور یہ بڑوں نے، بلکہ یہ ماووں کا کام ہے کہ وہ بچوں کے لیئے اچهے برے کی تمیز پیدا کریں لیکن ماووں کے پاس تو وقت ہی نہیں !

    جب ماں کی گود کی جگہ ٹی وی چینلز لے لیں تو ماں کا تربیت میں کیا کردار

    والدین بچوں کی تربیت کرنے میں ناکام کیوں۔۔۔؟
    تحریر: سدیس آفریدی

  • "عالمی ہدایت کار(عالمی اسٹیبلیشمنٹ) اور مڈل ایسٹ کا اسٹیج” تحریر: محمد عبداللہ

    "عالمی ہدایت کار(عالمی اسٹیبلیشمنٹ) اور مڈل ایسٹ کا اسٹیج” تحریر: محمد عبداللہ

    گرین شیٹ اور لائٹس سے مزین یہ روم اسٹوڈیو کہلاتا ہے. بالی ووڈ سے لے کر نیوز چینلز اور حتیٰ کہ یوٹیوب چینلز تک سبھی اس کو حسب اسطاعت استعمال کرتے ہیں. یہاں تک کہ بالی ووڈ کی کئی اقساط پر مشتمل سیریز اور موویز اس ایک کمرے میں بنتی ہیں. ان گرین ، بلیو یا دیگر شیٹس کو بنیادی طور پر کروما شیٹس کہا جاتا ہے اور ویڈیو ریکارڈ کرنے کے بعد ایڈیٹنگ میں اس کروما کو کٹ کرکے رنگ بھرنگے ساکن اور متحرک بیک گراؤنڈز وغیرہ سیٹ کیے جاتے ہیں. جن کرداروں کو حقیقت سے ہٹ کر دکھانا ہو تو ان کو بھی ان کروما شیٹس میں کچھ اسطرح سے کیمرے کے سامنے لایا جاتا جس میں بعد از ایڈیٹنگ ان کی ہیئت ہمیں عجیب و غریب دکھتی ہے.

    آپ بھی کہتے ہوں گے کہ عبداللہ نے یہ کیا بتانا شروع کردیا اور کوئی ان چیزوں کا ماہر مجھ سے ہزار درجہ بہتر یہ ساری چیزیں بیان کرے گا لیکن آج آفس میں اسٹوڈیو کی تصویر بنائی تو میرے ذہن میں بھی کوئی بات نہیں تھی بس فوٹو گرافی کی عادت کے تحت تصویر بنا لی لیکن ابھی سوشل میڈیا پر اور اس سے قبل بھی اکثر اوقات اپنے سوشل میڈیا ایکٹوسٹس کو مختلف حادثات و واقعات میں کنفیوز اور پھر اسی کنفیوزن میں مختلف تبصرے اور تجزیئے کرتے دیکھتے ہیں تو ہنسی بھی آتی اور دکھ بھی ہوتا کہ ہم لوگ کب سطحیت سے نکل کر بین السطور دیکھنا شروع کریں گے. ہم کب اس بات پر غور کریں گے دنیا کے اس اسٹوڈیو میں ہدایت کار کیسے مختلف واقعات کو کروما شیٹس پر سیٹ کرتے ہیں اور پھر ہمارے سامنے چیزیں آتی ہیں تو بالکل بدلی ہوئی اور ہم اسی کو حقیقت سمجھ رہے ہوتے ہیں( جیسے ارطغرل ڈرامے اور اردگان کی تقاریر کو ہمارا جذباتی نوجوان عمران خان کی تقاریر کی طرح سریئس لے کر جذباتی ہوجاتا ہے).
    حالیہ ایران و امریکہ تنازعے میں اور اس سے قبل کی شام و عراق کی بربادیوں کیفیت بھی ایسی ہی ہے. اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ جس طرح اردگان بہت اچھا لیڈر ہے مگر صرف ترکی کے لیے ترکی سے باہر دیگر مسلم ممالک اور اقوام کے لیے وہ دوسروں سے کم نہیں ہے جو فقط اپنے مفادات دیکھتے ہیں ایسے ہی اس بات میں بھی ذرہ برابر شک نہیں کہ ایران کے آنجہانی جنرل قاسم سلیمانی کی خدمات بے پناہ ہیں اس کی قابلیت اور لیاقت ایسی کہ ملڑی اکیڈمیز میں پڑھائی جائے لیکن اس کا سارا کچھ ایران کے لیے تھا امت مسلمہ کے لیے نہیں البتہ شام و عراق کے کھنڈرات میں بہت بڑا کردار اس جنرل قاسم سلیمانی اور اس کی تیار کردہ فورسز کا بھی ہے.
    میں نے دن میں بھی یہ بات کی تھی کہ مڈل ایسٹ میں پکی ہوئی کچھڑی کے معاملات کو آپ فقط فیسبک کی دو چار پوسٹس سے نہیں سمجھ سکتے اور جب سمجھ ہی نہیں سکتے تو ان پر تبصرہ کیسے کر سکتے ہیں کہ وہاں کے ٹوٹل کردار تو کروما شیٹس کے پیچھے چھپے ہوئے اور آپ کے سامنے اصل حیثیت میں موجود ہی نہیں ہے. فقط شام کو لیں تو شام میں ایران، روس، ترکی، امریکہ، داعش، فری سیرین آرمی و دیگر گروپس براہ راست موجود تھے اسکے علاوہ دیگر ممالک کے سپانسرڈ گروپس کی تعداد بیسیوں سے متجاوز تھی اور یہ سب کردار باہم دست و گریباں تھے اور ہیں. آپ جب تک ان سب کے مفادات، آپس کے تعلقات، آپس کی دشمنیوں کو نہیں سمجھتے تب تک آپ کیا سمجھیں گے.
    لہذا اپنے دوستوں کو کہوں گا کہ ہر موضوع اور ہر موقعہ پر تبصرے اور تجزیئے دینا ضروری نہیں ہے بلکہ حالات اور کرداروں کو پڑھنا اور سمجھنا چاہیے اور ان کے پیچھے چھپی حقیقت کو بھی تلاشنا چاہیے یہ نہ ہوکہ موویز اور ڈراموں کی طرح عالمی ہدایت کاروں کے اسٹیج کردہ یہ فکشن اور خون سے بھری یہ رئیل اسٹوریز میں مختلف لوگوں کا کردار آپ کو دھوکہ دے دے اور کوئی ولن آپ کی نظر میں ہیرو ٹھہر جائے.
    انتہائی ضروری نوٹ: یہ چند الفاظ میں نے انتہائی حد تک غیر جانبدار ہوکر لکھے ہیں میرے لیے بہت آسان تھا کہ جذباتی ہوکر الفاظ کا نوحہ لکھوں، شام و عراق میں شہید ہونے والے امت مسلمہ کے جواہرات کا ماتم لکھوں اور لوگوں کو بتاؤں آپ جن کو ہیروز سمجھتے ہیں ان کے کردار کی وجہ سے کتنے لاکھوں مسلمان بچے، عورتیں، بوڑھے شہید ہوئے اور کروڑوں آج جانوروں سے بدتر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں.

    Muhammad Abdullah
    Muhammad Abdullah

  • امریکی صدر ٹرمپ نے جنرل سلیمانی کے متعلق بڑا انکشاف کر دیا

    امریکی صدر ٹرمپ نے جنرل سلیمانی کے متعلق بڑا انکشاف کر دیا

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنرل قاسم سلیمانی ہزاروں امریکیوں کو مارنے اور شدید زخمی کرنے کا زمہ دار تھا، اور مستقبل میں بھی یہی کرنے جا رہا تھا، لیکن پکڑا گیا، وہ بالواسطہ یا بلا واسطہ لاکھوں لوگوں کو مارنے کا زمہ دار تھا جن میں بڑی تعداد حالیہ ایرانی مظاہرین کی ہے لیکن ایران کبھی یہ تسلیم نہیں کرے گا۔ایران کے لوگ بھی اس سے نفر ت کرتے تھے اور خوف بھی کھاتے تھے، جنرل قاسمی کو بہت پہلے ہی مار دینا چاہئے تھا۔

    امریکی حملے میں ایران کے قاسم سلیمانی،عراقی ملیشیا کے کمانڈر جاں بحق، ایران نے دیا امریکہ کو سخت ردعمل

    قاسم سلیمانی کو ٹرمپ کی ہدایت پر مارا گیا، پینٹا گون، ٹرمپ نے کیا کہا؟

    ایرانی جنرل کو مارنے کے بعد امریکہ نے دی شہریوں کو اہم ہدایات

    جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت، امریکہ نے خطے کا امن داؤ پر لگا دیا، ایسا کس نے کہا؟

    ایرانی جنرل پر امریکی حملہ، چین بھی میدان میں آ گیا، بڑا مطالبہ کر دیا

    واضح رہے کہ 30 دسمبر کو بھی امریکی فوج نے عراق اور شام میں ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا پر فضائی حملے کیے تھے، امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر کے مطابق کتیب حزب اللہ کے اسلحہ ڈپو سمیت 5 ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے گئے۔ ایران کے خلاف مزید اقدامات کا عندیہ دیتے ہوئے مارک ایسپر نے کہا تھا کہ امریکا ایران کے خلاف مزید کارروائیوں کے لیے بھی تیار ہے۔

    بغداد میں امریکی حملے پر ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنرل سلیمانی پر حملہ عالمی دہشت گردی ہے، امریکا کو اس حرکت کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔ ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے اس حملے کو عالمی دہشت گردی قرار دیا ہے۔ معابلے پر ایران میں ٹاپ سیکورٹی باڈی کا فوری اجلاس بھی طلب کر لیا گیا ہے

  • جلد بازی اور منزل کا حصول ….از…ہمایوں شاہد

    جلد بازی اور منزل کا حصول ….از…ہمایوں شاہد

    لفظ جلدی جس کے لغت میں معنی ہیں کہ کام کو بغیر تاخیر  کے سر انجام دینا. آج ہم اس لفظ(جلدی) کا بغور جائزہ لیں گے وہ بھی بغیر تاخیر کے. ہم دیکھتے ہیں کے جو لوگ ناکام ہوتے ہیں ان کی ناکامی کا راز بھی یہی لفظ یعنی(جلدی) ہے. کیونکہ وہ جب کوئی کام شروع کرتے ہیں تو وہ یہ سوچ لیتے ہیں کے اب ان کا طوطی بولنے لگے گا اور شرق و غرب ان کے نام کے چرچے ہوں گے جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے.

    انسان جب بھی کوئی کام یا کسی کام کا ارادہ کرتا ہے تو کامیابی میں منتقل ہونے کے راستے وہ خود اختیار کرتا ہے.اب یہ اس پر منحصر ہے اگر وہ طویل مدتی راستہ اختیار کرتا ہے جس میں سالوں کی محنت اور کوشش تو ہو تو مگر ہو جہد مسلسل۔۔۔۔۔تو عین ممکن ہے کہ واقعی اس کا طوطی بولنے لگے اور اگر وہ دوسرا راستہ اختیار کرتا ہے جس میں راتوں رات طوطی بولنے کی سکیم ہو اور وہ محنت کو قطع نظر کرکے غلط اور مختصر مدت کے راستے کو اختیار کرے گا تو عین ممکن ہے کہ منزل کے قریب اس کے قدم لڑکھڑا جائیں اور وہ منزل سے دور ہو جائے. اب ہم اسی بحث کو تھوڑا سیاسی نظر سے دیکھتے ہیں.

    ہم سب نے یہ دیکھا اور سنا ہو گا کہ یہی وہ لفظ (جلدی) ہے جس نے پاکستان کے دو ٹکڑے کروائے اور پاکستان کو بنگلا دیش کی صورت میں قربانی دینا پڑی. مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان دونوں کے سیاسی لیڈروں کو یہی جلدی تھی کہ فوراً سے پہلے ہی اقتدار ہماری مٹھی میں آجائے یہ سوچے بغیر کے مشرقی پاکستان کو واضح اکثریت حاصل تھی.

    اس لفظ کی اہمیت آپ کو اس بات سے معلوم ہوگی کے اکثر بھٹو یحییٰ خان سے کہتے رہتے تھے کہ جلدی سے اقتدار ہمارے حوالے کیا جائے اس کی دلیل بہت دلچسپ ہے وہ کہتے ہیں کہ ہمارے خاندان کے لوگ کم عمر میں ہی فوت ہوجاتے ہیں . اس لیے ان کو اقتدار کی جلدی تھی.ویسے تو ہمیشہ آمریت جمہوریت پر غالب آتی رہی ہے ،

    حالیہ دنوں میں تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ اب تو جمہوریت کے روح رواں دونوں جمہوری جماعتیں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن ایک تیسری قوت جو کے جمہوریت میں ایک نئی تاریخ رقم کرکے اقتدار میں آئی ہے اس کے پہ در پے ہےاور یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ پرانی جماعتیں تیسری قوت کی شراکت قبول نہیں کر رہیں اس وجہ سے دونوں ہی حکومت کا خاتمہ چاہتے ہیں وہ بھی جلدی.

    اگر ہم حالیہ دنوں میں دیکھے تو تمام اپوزیشن حکومت کا تختہ الٹنے میں سرگرم عمل نظر آتی ہے. اسی کی ایک جھلک ہم نے مولانا کے دھرنے میں دیکھی. پر یہ کوشش یہاں ہی ختم نہیں ہوتی بلاول بھٹو زرداری کے حالیہ بیان سے تو اس کی جلدی نظر آئی کے اب تو بس اس حکومت کا خاتمہ ضروری ہے. موصوف کہتے ہیں کے متحدہ قومی موومنٹ سندھ حکومت کے ساتھ اتحاد کر کے اس موجودہ وفاقی حکومت کا تختہ الٹ دے .

    یہاں یہ بات زیر غور ہے کہ یہ بات کہہ بھی تو کون رہا ہے( بھٹو کا نواسا) ، جنھیں ہمیشہ اقتدار کی جلدی ہوتی ہے. جبکہ ہونا تو یہ چاہیے کہ موجودہ حکومت کو کچھ وقت دینا چاہیے کہ وہ اپنی کوشش کر دیکھیں اور ممکن ہے کہ پاکستان کی ترقی میں وہ بھی کچھ اچھا کردار ادا کر سکیں کیونکہ جب بھی بھی کسی کام کی جلدی کی جاتی ہے تو اکثر اوقات انسان کو ندامت کا سامنا ہی کرنا پڑتا ہے۔

    تو نتیجتاً لفظ جلدی کو اگر ہم محاورہ میں ڈھالیں تو وہ محاورہ ہو گا کہ "جلدی کا کام شیطان کا”. ہم دیکھتے ہیں کے واقعی لفظ جلدی شیطان کا راستہ ہے کیونکہ یہ بات حدیث میں بھی موجود ہے کہ "شیطان” انسان کو جلدی میں ڈال کر نقصان کرواتا ہے۔ لہذٰا ہمیں بحیثیت مسلم و قوم مجموعی طور پر اس قسم کے شارٹ کٹ راستے اور لفظ(جلدی) سے پرہیز کرنا چاہیے

    جلد بازی اور منزل کا حصول ….از…ہمایوں شاہد

  • جنرل قاسم سلیلمانی کی موت کے اسباب ، ذمہ دار کون ؟–از.. ملک جہانگیر اقبال

    جنرل قاسم سلیلمانی کی موت کے اسباب ، ذمہ دار کون ؟–از.. ملک جہانگیر اقبال

    آج صبح اٹھتے ہی پہلی خبر ایرانی میجر جنرل سلیمان قاسمی کی عراق کے بغداد ایئرپورٹ میں امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت کی ملی ، واضح رہے کہ میجر جنرل سلیمان قاسمی پاسدارانِ انقلاب کے یونٹ قدس فورس کے کمانڈر تھے

    سلیمان قاسمی کی قابلیت اور ایران میں انکی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ مشرقِ وسطٰی میں جاری ایران پالیسی انکے دماغ کا شاخسانہ ہے اور کچھ حلقے انہیں ایرانی صدر سے زیادہ طاقتور مانتے ہیں کہ یہ ڈائریکٹ رپورٹ ایرانی سپریم لیڈر کو کرتے تھے ، ایرانی صدر نہ ہی انکی بنائی پالیسی بدل سکتا تھا اور نہ ہی ان کے کسی کام میں مداخلت کرسکتا تھا ۔ اسکے علاوہ بیرونِ ممالک ایران دشمنوں کا صفایا کرنا انکی اولین ترجیح رہی تھی ۔

    اگر سادہ مثالوں سے سمجھاؤں تو یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی ملک ہماری پاکستانی خُفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سربراہ کو ریاستی حملے میں قتل کردے اور باقاعدہ اُس ملک کا صدر فخر سے اس کا اعلان کرے ۔
    ایسے میں پاکستان کا کیا ردِعمل ہوگا ؟

    تو بس ٹھیک ایسا ہی ردِعمل اب ایران کا آنے والا ہے ، وہ تمام لوگ جو نئے سال کو امن کا گہوارہ بنانے کی دعائیں کر رہے تھے اُنہیں مطلع کرتا چلوں کہ سال کے آغاز کے تین دِن میں ہی اُنکی اربوں دعائیں لگ بھگ ریجیکٹ ہو چکی ہیں ، مشرقِ وسطیٰ میں آگ و خون کا بازار مزید گرم ہونے کا امکان ہے اور اسکی لپٹیں پاکستان سے سعودیہ عرب تک محسوس کیے جانے کے قوی امکانات ہیں .

    آج شام تک جنرل سلیمان قاسمی کی ہلاکت پہ ایرانی ، پاکستانی ، سعودی ، اسرائیلی و روسی ردِ عمل سامنے آجائے گا ۔ شنید ہے روس اپنی حمایت کا پلڑا ایرانی کھاتے میں ڈالے گا کہ شام میں روس اور جنرل قاسمی ایک دوسرے کا مضبوط دست و بازو بنے رہے ہیں ۔

    سعودیہ یقیناً اس پہ خوشی کا اظہار کرے گا اور کوشش کرے گا کہ پاکستان کو بھی "جانی سمائل” کا پیغام پہنچانے کا عندیہ دے جسے پاکستان ” سوری انکل آپکی آواز صاف نہیں آرہی ” کہہ کر نظر انداز کرے گا اور ایران کا نمبر بلاک لسٹ میں ڈال کر سوچے گا کہ کاش ہمارا اگر اگلا جنم ہوتا تو کوشش کروں گا کہ اس خطے سے بہتر ہے اگلی بار انٹارکٹیکا کے کسی برفیلی میدان میں پڑاؤ ڈالوں جہاں ہمسائے و برادر محض پینگوئن ہُوں نا کہہ کوئی "برادر” ممالک ۔

    اسرائیل یقیناً جنگِی پوزیشن میں آ چکا ہوگا ، یورپ اس وقت ڈونالڈ ٹرمپ کو گالیاں دیتا ہوا کچھ نہیں سوچ رہ ہوگا جبکہ امریکی ..

    خیر امریکی عوام نے ڈونالڈ ٹرمپ کو صدر چنا تھا لہذا ان سے کچھ سوچنے سمجھنے کی توقع کرنا بیکار ہے…
    بہرحال امریکہ و دنیا کو چلانے والی ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس نامی عالمی اسٹیبلیشمنٹ بہت خوش ہوگی کہ دنیا جنگ و جدل کے ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے جو جنگ عظیم سوئم میں بھی بدل سکتی ہے لہٰذا اسلحہ ہی اسلحہ بیچا خریدا جائے گا ، دودھ و روٹی کے پیسوں سے انسانوں کو مارنے والی گولیاں خریدی جائیں گی ، ہاتھ پیر کی انگلیاں گھی اور سر کڑاہی میں ہوگا وغیرہ وغیرہ وغیرہ ….

    جنرل قاسم سلیلمانی کی موت کے اسباب ، ذمہ دار کون

    تحریر:از —- ملک جہانگیر اقبال

  • ہائے !وہ میرا سپین —از…ثناء صدیق

    ہائے !وہ میرا سپین —از…ثناء صدیق

    سپین کو ایک لڑکی کی عزت کی خاطر فتح کرنے والے طارق بن زیاد جنہوں نے ساحل پر پہنچتے کشتیاں جلا دی ےتھیں ان کو کیا علم تھا کہ آٹھ سو سال کے بعد مسلمان ذلت سے سپین سے واپس لوٹیں گے ۔

    اگر ہم سپین کے عروج کا منظر دیکھیں تو اس کا آغاز آٹھ سو سال قبل جبل طارق پر جب طارق بن زیاد نے عیسائی بادشاہ راڈرک کو عبرتناک شکست دی موسی بن نصیر اور طارق بن زیاد نے جلد ہی سپین کو فتح کر لیا اور عیسائی حکومت کا خاتمہ کر دیا

    اس وقت امویوں کی حکومت تھی دمشق ان کا پایہ تخت تھا تو سپین دمشق کی خلافت کے زیر نگین آ گیا امویوں کے زوال کے بعد خلافت بنو عباس مین منتقل ہو گئی تو اسلامی ریاست کا پایہ تخت بغداد بن گیا ، اندلس کا حکمران اموی شہزادہ عبدالرحمن الداخل بن گیا وقت گزرتا گیا حکومتیں بدلتی رہیں اندلس کے مسلمان آہستہ آہستہ مضبوط سے مضبوط ہوتے گئے ۔

    اندلس عالم اسلام کے لیے علم و ہنر کا مرکز بن گیا اس نے اپنے تعلیمی دور عروج میں الفارابی ، ابن رشد ، ابو القاسم الزہراوی اور ابن حزم جیسے علماء اور فضلاء پیدا کئے ۔

    پھر وقت پلٹا مسلمانوں کے عروج کو زوال آنے پھر قدرت نے یوسف بن تاشفین کی صورت میں اہل اندلس کو سنبھلنے کا بہترین موقع دیا مگر مسلمانوں کے اپنے کردار کی وجہ سے زوال ان کا مقدر بن گیا تھا اموی شہزادے کی بہترین ریاست ٹکڑے ٹکڑے ہونا شروع ہو گئی اور کئی ریاستیں وجود میں آنے لگیں۔

    سر قسطہ قشطالیہ الشبیلہ اور غرناطہ جیسے عظیم علاقے مسلمانوں کے ہاتھوں سے نکلنا شروع ہو گئے اراغون اور قسطلہ کی مضبوط عیسائی ریاستیں وجود میں آ گئیں اراغون کی مشہور حکمران ملکہ ازابیلہ تھی جو تاریخ میں ملکہ ازابیلہ کے نام سے مشہور ہوئی دوسری طرف قسطلہ کا شاہ فرماں فرنڈیڈ تھا جو ایک متعصب عیسائی تھا یہ دونوں حکمران انتہا پسند اور مسلمانوں کے دشمن تھے یہ دونوں سپین میں مسلمانوں کا مکمل خاتمہ چاہتے تھے۔

    ان دونوں نے 1469 میں اپنی ریاستوں کو باہم ملا کر آپس میں شادی کر لی 1469 میں اندلس کے مسلمان غرناطہ تک محدود ہو کر رہ گئے تھے اور مسلمان یہیں سے اپنی بقاء کی لڑائی میں مصروف تھے غرناطہ کا حکمران ابو الحسن تھا جو ایک نڈر اور لائق حکمران تھا اندلس کے مسلمانوں کو ایک لمبے عرصے بعد ایسا قابل شخص نصیب ہوا تھا اس کا بھائی محمد بن سعد الزاغل مالقہ کے علاقے کا حکمران تھا

    جب اس نے محسوس کیا کہ عیسائی ان دونوں بھائیوں میں پھوٹ ڈلوانا چاہتے ہیں تو اس نے غرناطہ آکر اپنے بھائی کے ہاتھ پر بیعت کر لی یوں ابو الحسن طاقتور ہو گیا جب فرنڈیڈ نے ابو الحسن سے خراج مانگا تو اس نے تاریخی الفاظ کہے

    "غرناطہ کے تکسال میں عیسائیوں کو دینے کے لیے سکوں کی بجائے اب فولاد کی وہ تلوریں تیار ہونی ہیں جو ان کی گردنیں اتار سکیں”

    یہ جواب سن کر فرنڈیڈ مبہوت سا رہ گیا اس وقت اس کے زیر قبضہ علاقہ سو لاکھ مربع میل کے قریب تھا جبکہ غرناطہ کی ریاست سمٹ کر چار ہزار مربع میل رہ گئی تھی یہ مختصر سا رقبہ بھی عسائیوں کے لیے تکلیف کا باعث تھا

    وہ مسلمانوں کا مکمل خاتمہ چاہتے تھے اور انہوں نے ابو الحسن سے فیصلہ کن جنگ کا اردہ کیا آخرکار غرناطہ کے سرحدی مقام پر ابو الحسن اور فرنڈیڈ کا ٹکراو ہوا اہل غرناطہ قوت اور تعداد کے اعتبار سے عیسائیوں سے کمزور تھے مسلمانوں نے اندلس کے دفاع کے لیے سر تک کی بازی لگا دی، طارق بن زیاد کی یاد تازہ کرتے ہوئے فرنڈیڈ کو شکست فاش کر دیا ابھی ابو الحسن وہیں موجود تھا کہ اس کے ولی عہد ابو عبداللہ نے بغاوت کر دی اور غرناطہ کے تخت کا مالک بن بیٹھا

    یہ جہاد میں مشغول مسلمانوں کے لیے بری خبر تھی اہل اندلس ابو الحسن کی قیادت میں سپین کے لیے نشاط ثانیہ کا خواب دیکھ رہے تھے ادھر ابو الحسن کو مجبور مالقہ میں پناہ لینا پڑی مسلمان اس نازک وقت میں غرناطہ کا دفاع کر رہے تھے اور ابو عبداللہ کی اقتدار کی ہوس نے غرناطہ کو دو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا

    دوسری طرف عیسائیوں کو مسلمانوں کی اس حالت میں مزید حوصلہ مل گیا ابو عبداللہ نے بےغیرتی کی انتہا کرتے ہو ابو الحسن پر پشت سے حملہ کر دیا ابو الحسن ایک تجربہ کار حکمران تھا اس نے ایک طرف عیسائیوں سے مقابلہ کیا دوسری طرف ابو عبداللہ کو غرناطہ جانے پر مجبور کر دیا بیٹے کی بغاوت نے ابوالحسن کو بیمار کر دیا اس پر زبردست فالج کا حملہ ہو گیا اس نے غرناطہ کی پشت پناہی چھوڑی اور اپنے بھائی الزاغل کو حکمران بنا کر اسے جنگ جاری رکھنے کا حکم دیا

    الزاغل مسلمانوں کا نجات دہندہ بن جاتا مگر ابو عبداللہ پھر ایک مکروہ کردار لے کر سامنے آتا ہے فرنڈیڈ نے ابو عبداللہ کی خصلت پہچان لی وہ سمجھ گیا ابو عبداللہ مسلمانوں سے زیادہ اپنے اقتدار کا خواہش مند ہے اب فرنڈیڈ نے ابو عبداللہ کو الزاغل اور ابو الحسن کے خلاف استعمال کرنے کا منصوبہ بنایا اور اسے یقین دلایا کہ وہ اسے غرناطہ کا وارث تسلیم کرتا ہے اور غرناطہ کا تخت حاصل کرنے کے لیے اس کی مدد کرے گا

    ادھر جب مالقہ کے مسلمانوں نے یہ صورت حال دیکھی تو ابو عبداللہ کے خلاف بغاوت شروع کر دی اس پر فرنڈیڈ نے مالقہ کا محاصرہ کر لیا اہل مالقہ کی حفاظت کے لیے الزاغل مالقہ کی طرف روانہ ہو گیا غرناطہ خالی دیکھ ابو عبداللہ کو موقع مل گیا اور اس نے غرناطہ پر قبضہ کر لیا یہاں سے اہل غرناطہ درد ناک باب شروع ہوتا ہے

    جس کا انجام اہل اندلس کی مکمل بربادی پر ختم ہواآٹھ سو سال پہلے وہ روشنی جو مسلمان لے کر پورے سپین میں پھیل گئے تھے وہ مسلمان راستہ بھول گئے افراد جب راستے بھول جائیں تو گھرانے برباد ہو جاتے ہیں مگر جب قومیں راستہ بھول جائیں تو سلطنتیں تباہ ہو جاتی ہیں غرناطہ پر ابو عبداللہ کا قبضہ مسلمانوں کی تباہی ثابت ہوایہ دیکھتے ہوئے مالقہ والوں نے فرنڈیڈ سے صلح کر لی اور لوشہ اور مالقہ پر عیسائیوں کا قبضہ ہو گیا

    ابو عبداللہ کو بیٹا کہنے والا مسلمانوں کی خیر خواہی کا دم بھرنے والا اپنے اصلی روپ میں آ گیا اور اس نے ابو عبداللہ سے کہا کہ وہ غرناطہ فرنڈیڈ کے حوالے کر دے ابو عبداللہ کو اپنی غداری کا انجام نظر آنے لگا اور اس نے اہل غرناطہ سے مشورہ کیا اہل غرناطہ موسی اور طارق کے فرزند تھے وہ ڈٹ کر لڑے اور فرنڈیڈ کو شکست فاش کر دیا اب فرنڈیڈ اور ازابیلا نے فیصلہ کن معرکہ کی تیاریاں شروع کر دیں1492کا سال آگیا اور اسی سال موسم گرما میں عیسائیوں کی افواج نے غرناطہ کا محاصرہ کر لیا

    غرناطہ کے شمال میں پہاڑی سلسلہ تھے اور محاصرے کے دوران اہل غرناطہ کو مدد ملتی رہی مگر سردیاں شروع ہوتے ہی پہاڑوں پر برف باری شروع ہو گئی اور غرناطہ کو کمک ملنا بند ہو گئی شہر میں اشیاء خورد نوش کی قلت ہو گئی اہل غرناطہ اب بھی عیسائیوں پر فیصلہ کن حملہ کرنے پر آمادہ تھے غرناطہ کا سپہ سالار ’موسیٰ بن ابی غسان‘ افسانوی شہرت کا حامل کردار تھا

    وہ آخری سپاہی تک لڑنا چاہتا تھامگر ابو عبداللہ ذہنی طور پر شکست قبول کرچکا تھا وہ اور اس کے اکثر امرا فرنڈیڈ سے صلح کا معاہدہ کرنا چاہتے تھے وہ سمجھتے تھے کہ اسی طرح وہ اپنے لیے زیادہ سے زیادہ مراعات حاصل کرسکیں گےامراء سلطنت سازش میں مصروف ہو گئے پس پردہ عیسائیوں سے رابطے قائم کرنے لگے ان سازشی عناصر کا سرغنہ وزیر اعظم غرناطہ ’ابوالقاسم‘ تھا فرنڈیڈنے غرناطہ پر قبضے کی صورت میں اس کوغرناطہ کا اہم عہدہ دینے کا وعدہ کر لیا

    ابو عبداللہ کی ذہنی شکست میں ابو القاسم کا مرکزی کردار تھا بلاآخر ابو عبداللہ نے ابو القاسم کو خفیہ سفارتکاری کی اجازت دے دی صلح کی شرائط طے کرلی گئیں بظاہر ان شرائط میں مسلمانوں کے لیے ہر قسم کا تحفظ یقینی بتایا گیا تھا مگر بعد میں عیسائیوں نے اس پر کتنا عمل کیا وہ ایک حقیقت ہے معاہدے کے تحت ابو عبداللہ کو البشرات کے علاقے میں ایک جاگیر دے دی گئی

    آخر کار وہ تاریخی دن آگیا جسے آج تک تاریخ اسلام کا طالب علم سیاہ دن سے تعبیر کرتے ہیں 2جنوری 1492 کو غرناطہ کی چابیاں ابو عبداللہ نے اپنے ہاتھوں سے فرنڈیڈ اور ازابیلا کو پیش کر دیں پادری اعظم نے قصر الحمراء پر لہراتا صدیوں پرانا پرچم اسلامی اتار کر صلیب کو نصب کروا دیا اس طرح سقوط غرناطہ کے ساتھ ساتھ اندلس میں مسلمانوں کا آٹھ سو سالہ حکمرانی کا سورج بھی غروب ہو گیا

    سو سال کے اندراندرعیسائیوں کے ظلم و ستم کے باعث لاکھوں مسلمان ہجرت کرکے مراکش اور شمالی افریقہ میں آباد ہو گئے ان کے قبائل آج بھی وہاں مہاجر کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں لاکھوں مسلمانوں کا قتل عام ہوا اور بیشمار اہل ایمان عیسائی ظلم و ستم کی وجہ سے عیسائی بن گئے یوں ایک غدار اور بزدل حکمران ابوعبداللہ کی وجہ سے اہل اندلس کو یہ دن دیکھنا پڑا

    ثناء صدیق

  • پاکستان "سود خوری” کا نیا عالمی مرکز،مہنگائی کی اصل وجہ اورسرمایہ کاری کی حقیقت ..محمد عاصم حفیظ

    پاکستان "سود خوری” کا نیا عالمی مرکز،مہنگائی کی اصل وجہ اورسرمایہ کاری کی حقیقت ..محمد عاصم حفیظ

    کیا آپ کو پتہ ہے کہ پاکستان دنیا میں سب سے زیادہ شرح سود والے ممالک میں شامل ہو چکا ۔ روزبروز مہنگائی کیوں بڑھ رہی ہے اور عالمی سرمایہ کاری کی حقیقت کیا ہے آئیے اس صورتحال کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

    پاکستان میں اس وقت مہنگائی کی شرح تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق اس وقت ملک میں مہنگائی کی شرح 19.7 فیصد سے 12.63 فیصد کے درمیان ہے ۔

    مجموعی مہنگائی کی شرح 12.63 فیصد ہے لیکن غذائی اجناس کی مد میں شہری علاقوں میں 16.7 فیصد جبکہ دیہی علاقوں میں 19.7 فیصد مہنگائی کی شرح نوٹ کی کی گئی ہے ۔ مہنگائی کی شرح عالمی سطح پر ٹاپ دس ممالک میں شامل ہے جبکہ پاکستان کا نمبر آٹھواں ہے ۔ اس لسٹ میں زمبابوے جنگ زدہ ہیٹی سوڈان اور ایتھوپیا جیسے ممالک شامل ہیں ۔

    مہنگائی کی شرح میں اس تیزی سے اضافے کے باوجود حکومت ہر ماہ بجلی گیس اور دیگر ایشیائی ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ کر رہی ہے ۔ یہ انتہائی حیران کن ہے کہ کیوں کر حکومت مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے حوالے سے سے کوئی بھی ٹھوس اقدامات نہیں اٹھا رہی۔
    آئیے اس کی سب سے بڑی وجہ سمجھتے ہیں ۔

    حکومت نے گزشتہ بجٹ میں انٹرسٹ ریٹ 13.25 فیصد تک بڑھا دیا تھا جو کہ عالمی سطح پر بلند ترین شرح سود والے ممالک میں شامل ہے۔ پاکستان سے بلند شرح سود والے صرف پانچ سے چھ ممالک ہیں جن میں زمبابوے گھانا ملاوی جیسےممالک شامل ہیں۔

    دوسری جانب مغربی ممالک اور بہت سے ترقی پذیر ممالک بھی شرح سود کم کر رہے ہیں حتی کہ جاپان سمیت کئی ممالک میں شرح سود صفر کردیا گیا ہے۔اب ہو یہ رہا ہے کہ مقامی اور عالمی ساہو کار ۔ امیر افراد اور کمپنیاں جنہیں تیزی سے منافع چاہئے وہ اپنا پیسہ پاکستانی بینکوں میں رکھ رہی ہیں۔

    آپ نے بیرونی و اندرونی سرمایہ کاری میں اضافے کی خبریں پڑھی ہوں گی لیکن دراصل یہ سب کسی صنعتی ۔کاروباری یا معاشی سرگرمی کے لیے نہیں ہو رہا بلکہ صرف بینکوں میں پیسہ رکھا جارہا ہے اور اس کے لیے حکومت نے اب تک کی سب سے بڑی ایمنسٹی سکیم اور سرمایہ کاری میں آسانی کی پالیسی متعارف کرائی ہے ۔

    ملک میں پیسہ تو آ رہا ہے یا مقامی سرمایہ کار جمع کرا رہے ہیں لیکن بدقسمتی سے کوئی بڑا منصوبہ نہیں شروع کیا گیا یا کارخانے نہیں لگ رہے فیکٹری نہیں لگائی جارہیں روزگار کے مواقع نہیں پیدا ہو رہے بلکہ صرف بینکوں میں پیسہ منتقل کرکے بلند شرح سود کے ذریعے منافع کمایا جارہا ہے۔ اب اسی بلند ترین شرح سود کے مطابق منافع دینے کے لیے حکومت ہر ماہ تیل اور گیس اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ کرتی ہے کیونکہ جن بیرونی سرمایہ کاروں نے بینک میں پیسہ رکھا ہے انھیں ہر ماہ اپنا منافع چاہیے۔

    بدقسمتی سے اس سرمایہ کاری سے کوئی بھی مثبت معاشی سرگرمی جنم نہیں لے رہی ۔کیونکہ اگر تو بیرونی سرمایہ کاری سے بڑے منصوبے لگیں فیکٹریاں اور دیگر معاشی سرگرمیاں جنم لیں لوگوں کو روزگار ملے مارکیٹ کے حجم میں اضافہ ہو تو اس سے ملک میں معیشت پر انتہائی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں لیکن ایسا نہیں ہو رہا

    ۔ملکی اور غیر ملکی دونوں قسم کے سرمایہ کار کاروباری و صنعتی سرگرمیوں کی بجائے بینکوں میں رقم رکھ کر اتنا منافع کما رہے ہیں جو کہ انہیں اصل مارکیٹ میں تجارت و صنعتت سے بھی حاصل نہیں ہوگا۔ دوسری جانب یہ حقیقی سرمایہ کاری نہیں ہے یہ سرمایہ کار جب چاہیں گے اپنی رقم نکال کر بیرون ملک لے جائیں گے جس سے مزید معاشی نقصان ہوگا۔ کیونکہ یہ کاروبار کے لیے نہیں آئے ان کی کوئی فیکٹری کارخانہ پراجیکٹ زمین پر موجود ہی نہیں ہے کہ جس کو سنبھالنا ان کے لیے مسئلہ بنے ۔ بس ایک بنک کی ٹرانزیکشن سے وہ اپنا سرمایہ واپس لے لیں گے ۔

    دنیابھر کے ممالک شرح سود کو کنٹرول کرتے ہیں بینک کا منافع کبھی بھی اتنا نہیں بڑھنے دیتے جس سے صنعت و تجارت متاثر ہو اور سرمایہ کار یہ سوچنے پر مجبور ہوں کہ وہ مارکیٹ میں پیسہ لگانے کی بجائے صرف بینک میں رکھ کر بڑا منافع کما سکتا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں یہی ہو رہا ہے ۔ بیرونی سرمایہ کاری کے لیے شرائط میں کہیں بھی صنعت و تجارت کے شعبے میں پیسہ لگانے کی ترویج نہیں کی گئی کوئی شرط نہیں لگائی گئی جس کی وجہ سے سرمایہ کار اپنا پیسہ بینکوں میں رکھ رہے ہیں اور دنیا کے بلند ترین شرح سود کے منافع سے مستفید ہو رہے ہیں۔ دنیا بھر میں یہ اصول ہے کہ سرمایہ کاری کے لیے شعبہ جات مختص کیے جاتے ہیں اور سرمایہ کاروں کو مخصوص شعبہ جات میں ہی سرمایہ کاری کی اجازت دی جاتی ہے۔

    معاشی حوالے سے یہ انتہائی خطرناک صورتحال ہے کیونکہ بلند ترین شرح سود کے منافع کی ادائیگی کے لیے یے مہنگائی کی شرح میں میں روزانہ کی بنیاد پر پر اضافہ کرنا پڑتا ہے ہے غریب عوام سے سے بجلی و گیس کے بلوں پیٹرول و ادویات اشیائے خوردونوش کی مدت میں پیسہ اکٹھا کرکے سرمایہ کاروں کو منافع دیا جا رہا ہے۔

    حکومت کو اپنی پالیسی بدلنی ہوگی شرح سود کو کم کرنا ہوگا اور سرمایہ کاروں کو اس بات کا پابند کیا جائے کہ وہ صنعت و تجارت کے میدان میں سرمایہ کاری کریں صرف یہی صورت ہے جس سے ہم بڑھتی ہوئی مہنگائی کو کنٹرول کر سکتے ہیں اور عوام کو تھوڑا بہت روزگار و ریلیف مل سکتا ہے۔معیشت کو سود کی ترویج کےلئے استعمال کرنے کی بجائے سود سے بچنا بہترین ہیں کیونکہ کہ اللہ تعالی کے ساتھ جنگ ہے اور یہ کبھی بھی مفید نہیں ہو سکتا ۔

    پاکستان "سود خوری” کا نیا عالمی مرکز ۔ مہنگائی کی اصل وجہ اور سرمایہ کاری کی حقیقت ….محمد عاصم حفیظ

    (ذرا سی بات ۔۔ محمد عاصم حفیظ )