برطانوی دارلحکومت لندن میں "فریز لندن” کے نام سے ایک نمائش جاری ہے جس میں پوری دنیا کی 160 ارٹ گیلریوں کے فن پارے مرکز نگاہ بنے ہوئے ہیں ، ان فن پاروں کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ ان میں سے ہر فن پارہ اپنے اندر ایک مختلف کہانی کو سموئے ہوئے ہے ،





برطانوی دارلحکومت لندن میں "فریز لندن” کے نام سے ایک نمائش جاری ہے جس میں پوری دنیا کی 160 ارٹ گیلریوں کے فن پارے مرکز نگاہ بنے ہوئے ہیں ، ان فن پاروں کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ ان میں سے ہر فن پارہ اپنے اندر ایک مختلف کہانی کو سموئے ہوئے ہے ،





لاہور: معاشرے میں خواجہ سراوں سے لوگ کیوں دور رہتے ہیںیا ڈرتے ہیں،سوشل میڈیا پر ایک ویڈیوسے اس بات کا پتہ چل جاتاہے ، ویسےتویہ ویڈیو قربانی کے دنوں کی ہے مگر اس وقت چونکہ سوشل میڈیا پر بڑی تیزی سے پھیل رہی ہے اس لیے اس پر بھی کچھ صارفین کے تاثرات سامنے آئے ہیں
باغی ٹی وی کے مطابق قربانی کے دنوںمیںاس وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ خواجہ سرا بعض مواقع پر قربانی کا جانور ذبح کرنے کی خواہش کا اظہار کرتا ہے ،یہ خواہش اس لیے کرتا ہے کہ عید قربان کے موقع پر پروفیشنل قصائی کم پڑجاتے ہیں اور وہ اس کا موقع کا فائدہ اٹھا کر لوگوںسے جانور ذبح کرنے کی پیش کش کرتا ہے
ویڈیو دیکھنے سے پتا چلتا ہے کہ پروین نامی خواجہ سرا ایک کیمرہ مین کو اپنی کہانی بتاتے ہوئے کہتا ہے کہ بہت سے لوگ اس سے قربانی کا جانور ذبح کرواتے ہیں ، بعض لوگ اس لیے اس سے ڈرتے ہیںکہ یہ تو خواجہ سرا ہے اور اس کا ذبح کیا ہوا جانور حلال ہو گا یا نہیں، بعض لوگ تو اس قدر خائف ہوتے ہیں کہ وہ اس کے قریب سے بھی نہیں گزرتے ،

دنیا مفاد پرستوں کی اماجگاہ ہے جس شخص کو جس چیز میں اپنا فائدہ نظر اتا ہے وہ اس کی طرف لپکتا ہے اگرچہ اس سے کسی دوسرے کا نقصان ہی کیوں نہ ہو رہا ہو، لیکن مفاد پرست شخص کے راستے میں بھی کبھی کبھار ایسی چیزیں آ جاتی ہیں کہ وہ پریشان ہو جاتا ہے کہ کس چیز کو فوقیت دے ،
اسی طرح کا ایک واقعہ روسی ٹیلی ویژن نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر شئیر کیا ، جس میں دو ڈاکو ایک موٹر بائیک پر آتے ہیں اور ایک راہگیر کو لوٹنے کیلئے پستول اس کے سر پر تان لیتے ہیں ، اسی اثنا میں ڈاکو اس راہگیر کو پہچان جاتا ہے کہ یہ تو میرا اپنا دوست ہے ، پھر ڈاکو اپنے دوست سے معذرت بھی کرتا ہے اور جاتے ہوئے کہتا ہے اپنی امی کو میری طرف سے ہائے بولنا ،
یہ ایک ایسا واقع ہے جو سننے اور دیکھنے والے کو بھی پریشان کر دے کہ آیا وہ اس پر ہنسے یا اس سوچ پر روئے جو ترقی یافتہ معاشروں کو بھی نگل رہی ہے ، بحرحال سوشل میڈیا پر عوام کی جانب سے روسی ٹیلی ویژن کی پوسٹ کو کافی پسند کیا جا رہا ہے ، اور ٹوئٹر صارفین اس ویڈیو پر دلچسپ تبصرے بھی کر رہے ہیں
That moment when you try to rob someone but it turns out to be your friend pic.twitter.com/A1ZPLKKsuO
— RT (@RT_com) October 1, 2019

سوشل میڈیا ایکٹوسٹ سید زید زمان حامد نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا ہے کہ زبانیں پودوں کی طرح ہوتی ہیں ان کی دیکھ بھال قومیں اپنی پہچان، تہذیب و تمدن کی حفاطت کیلئے کرتیں ہیں، اردو پاکستان اور پاکستان کے لوگوں کی پہچان کا زریعہ ہے اور ہماری 1300 سال پرانی تہذیب ، ادب اور اقبال اسی زبان میں ہے اور اگر اس کی خفاظت نہ کی گئی تو اردو ادب کے گم ہو جانے اور ہماری پرانی پہچان کے حتم ہو جانے ککا اندیشہ ہے،
زید حامد کا مزید کہنا تھا کہ قومیں صرف انگریزی و سائنس کی بنا پر ترقی نہیں کرتیں، نظریات ، روحانیت و ںشناحت بھی اہمیت کے حامل عناصر ہوتے ہیں، اور انگریزی سیکھنے کا کیا یہ مطلب ہے کہ اردو کو بھلا دیا جائے ، اردو دنیا کی گیارھویں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان ہے اور اس کے باوجود ایسے لوگ ہمارے معاشرے میں پائے جاتے ہیں جو اردو زبان بولنا اپنی تحقیرسمجھتے ہیں، اور یہ ہماری بد قسمتی ہے ،
یہ بھی پڑھیں
انڈیا پاکستان جنگ، کتنے ارب لوگ متاثر ہوںگے

سری نگر: مقبوضہ کشمیر پولیس نے مظاہرین و حریت رہنماؤں کی کاروائیوں کی نگرانی کرنے کیلئے 50 جدید ڈرون طیارے خرید نے کا اعلان کر دیا ، بھارت کی مرکزی حکومت ان ڈرون طیاروں کی خرید کی اجازت دے چکی ہے، ان ڈرون طیاروں سے فضائی نگرانی کو محفوظ سے محفوظ تر بنایا جائے گا،
ہندوستان ٹائمز کو مقبوضہ کشمیر پولیس کے ایک سینئر پولیس آفیسر نے انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ان طیاروں کی خرید کے ٹینڈر پہلے ہی جاری ہو چکے ہیں، اور جلد ااز جلد اس منصوبے کو پایا تکمیل تک پہنچایا جائے گا

ہالینڈ کے ایک نان پرافٹ گروپ نے سطح سمندر اور تہہ سے کچرا اٹھانے اور آبی حیات کو صاف مسکن فراہم کرنے کیلئے جہاز تیار کر لیا، یہ جہاز پچھلے ماہ کی نو تاریح کو سان فرانسسکو کی پورٹ سے سمندر میں اتر چکا ہے، اور اس جہاز کو سب پہلا ٹاسک دنیا کے سب سے بڑے سمندر بحرالکاہل کو صاف کرنے کا دیا گیا ہے،
اس جہاز کو بنانے والی کمپنی کے چیف ایگزیکٹو بوئین سلاٹ نے ہالینڈ کے شہر روٹر ڈیم میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے "آج ہم فخریہ طور پر اعلان کرتے ہیں کہ ہمارے کلینگ سسٹم نے بحرالکاہل سے صفائی کا آغاز کر دیا ہے،

یوں تو مغربی معاشرے نے انسانی حقوق کے تحفظ کے لئے بہت سی تنظیمیں بنائیں
بہت سے دن متعارف کروا دئیے
مگر ان تنظیموں کے ہوتے ہوئے مسلمان ہر جگہ ظلم و ستم کی چکی میں پستا ہے
یہ تنظیمیں ہیومن رائٹس کے سبھی ادارے ہمیشہ مسلمانوں کی زبوں حالی پہ منہ پہ تالے لگائے ہوئے ہیں
افسوس بین الاقوامی سطح پر یہ دن محض دکھاوے کے لئے منائے تو جاتے لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے
جس کا منہ بولتا ثبوت مسلمانوں پر ہوتے بدترین تشدد سے لگایا جا سکتا ہے
چاہے وہ کشمیر ہو برما ہو فلسطین ہو شام ہو الغرض پوری دنیا میں مسلمانوں پر ہوتا ظلم و ستم مغرب کے ایجاد کردہ انسانی حقوق کے یہ دن کو منہ چڑاتا ہے
ایسا کونسا بدترین تشدد ہے جو آج کشمیر کے نہتے مظلوم مسلمانوں پر نہیں کیا جا رہا
لیکن دوسری طرف مغرب میں کسی غیر مسلم کا اگر کوئی کتا بھی مر جاتا ہے تو دنیا تہس نہس کر دی جاتی ہے
جانوروں کے لئے انکی اتنی ہمدردیاں جبکہ مسلمان انہی کے نزدیک کیڑے مکوڑے
جب چاہا جس نے چاہا مسلمانوں کو کچل دیا..
فلسطین کی تاریخ اٹھا کے دیکھ لیں
برما ,شام ,عراق اور کشمیر کی تاریخ دیکھ لیں
جہاں معصوم کلیاں کھلنے سے پہلے ہی مسل دی جاتی ہیں
مسلمان عورتوں کی عصمت دری کی جاتی ہے
حتی کہ بوڑھے ضعیف مسلمانوں کو بے دردی سے شہید کیا جاتا ہے
پوری دنیا میں مسلمانوں کے خون کے ندیاں بہائی جا رہی ہیں لیکن ہیومن رائٹس کی سبھی تنظیمں ہنوز خاموش ہیں
حقوق حقوق کے کھوکھلے دعوے آج تک مسلمانوں پہ ڈھائے جانے والے ظلم و ستم کو نہیں روک پائے
بلکہ یوں کہنا غلط نہ ہوگا
مغرب کی بنائی ہوئی یہ تنظیمیں صرف غیرمسلموں کے لئے ہیں انہی کے حقوق کے لئے ہیں
مسلمانوں کی ان کی نظر میں نہ کوئی حیثیت کل تھی نہ آج ہے
کہیں مسلمانوں کی مساجد کی بے حُرمتی
کہیں انبیاء کی توہین..
اس کے باوجود بھی اسلام کو ہی دہشت گرد کہا جاتا ہے
آج تک ان کھوکھلی جھوٹی تنظیموں سے اسلام کے لئے نہ کوئی نرم گوشہ ملا نہ انصاف ملا..
تو پھر کیوں یہ تنظیمیں بنائی گئیں؟؟؟
کیوں انہیں عالمی امن کی
انسانی حقوق کی تنظیم کا نام دیا گیا ؟؟
اگر یہ پورے عالم کے لئے ہیں تو پھر مسلمانوں کے ساتھ انکا ناروا سلوک کیوں؟؟
پوری انسانیت کے حقوق کی تنظیمیں ہیں تو پھر مسلمان کو کچل کر انسانیت کی دھجیاں کیوں اُڑائی جا رہی ہیں آخر؟؟
مسلمانوں کا سانس تک روک دینا انہیں کیوں دکھائی نہیں دیتا؟؟
معصوم بچوں کی آہیں
مظلوم بہنوں بیٹیوں کی سسکیاں
بوڑھے ضعیفوں کی چیخیں انہیں کیوں سنائی نہیں دیتیں
آخر کیوں؟؟
عالمی بین الاقوامی حقوق کا راگ الاپنے والو کہہ کیوں نہیں دیتے یہ دن
یہ جھوٹے کھوکھلے نعرے اور تنظیمیں محض مغرب کے لئے ہیں
مسلمانوں کے لئے ہرگز نہیں ہیں”

لاہور : تاریخ اپنےآپ کو دہراتی ہے ، اور ہمیشہ تاریخ شخصیات اور کرداروں سے بنتی ہے جیسے بیت المقدس 583ھ بمطابق 1187ء میں ایوبی سلطان صلاح الدین ایوبی کے ہاتھوں صلیبیوں کی شکست کے ساتھ فتح ہوا۔ صلاح الدین ایوبی نے جنگ حطین میں کامیابی حاصل کرنے کے بیت المقدس کا محاصرہ کرلیا اور 20 ستمبر سے 2 اکتوبر تک جاری محاصرے کے بعد شہر فتح کرلیا۔ فتح بیت المقدس کے بعد سلطان نے کسی قسم کا خون خرابا نہیں کیا جس کا مظاہرہ پہلی صلیبی جنگ کے موقع پر صلیبیوں نے کیا تھا۔
![]() |
تاریخ حقائق کے مطابق 4 جولائی 1187ء کو جنگ حطین میں زبردست شکست کے بعد عیسائیوں کی مملکت یروشلم کمزور پڑگئی اور کئی اہم شخصیات صلاح الدین کی قید میں چلی گئی۔ ستمبر کے وسط میں صلاح الدین نے عکہ، نابلوس، یافہ، سیدون، بیروت اور دیگر شہر فتح کرلئے۔ جنگ کے شکست خوردہ عیسائی صور پہنچ گئے۔ جہاں حطین کے معرکے کے شکست خوردہ کئی عیسائی جنگجو بھی تھے جن میں بیلین ابیلنی بھی شامل تھا اس نے اپنے اہل خانہ کو واپس لانے کے لئے صلاح الدین سے مطالبہ کیا کہ وہ اسے بیت المقدس جانے کی اجازت دے۔ صلاح الدین نے اس شرط پر اجازت دی کہ وہ ایک دن سے زیادہ قیام نہیں کرے گا لیکن جب وہ وہاں پہنچا تو ملکہ سبلیا نے اس سے شہر کا دفاع کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے فوج کی کمان سنبھالنے کی ہدایت کی۔ بیلین نے ان کا مطالبہ تسلیم کرتے ہوئے جنگ کی تیاریاں شروع کردیں اور شہر میں اشیائے خورد و نوش اور اسلحے کا ذخیرہ جمع کرنا شروع کردیا۔
صلاح الدین کی زیر قیادت شام و مصر کی افواج صور کے ناکام محاصرے کے بعد 20 ستمبر 1187ء کو بیت المقدس پہنچ گئیں۔صلاح الدین اور بیلین کے درمیان مذاکرات ہوئے۔ صلاح الدین بغیر خون خرابے کے شہر حاصل کرنا چاہتے تھے لیکن شہر کے عیسائیوں نے بغیر لڑے مقدس شہر چھوڑنے سے انکار کردیا اور دھمکی دی کہ وہ پرامن طور پر شہر دشمن کے حوالے کرنے پر اسے تباہ کرنے اور خود مرجانے کو ترجیح دیں گے۔
مذاکرات میں ناکامی پر صلاح الدین نے شہر کا محاصرہ کرلیا۔ صلاح الدین کی افواج برج داؤد اور باب دمشق کے سامنے کھڑی ہوگئی اور تیر اندازوں نے حملے کا آغاز کیا۔ اس کے علاوہ منجنیقوں کے ذریعے شہر پر سنگ باری کی گئی۔ صلاح الدین کی افواج نے کئی مرتبہ دیواریں توڑنے کی کوشش کی لیکن عیسائیوں نے اسے ناکام بنادیا۔ 6 روزہ محاصرے کے بعد صلاح الدین نے افواج کو شہر کے دوسرے حصے کی جانب منتقل کردیا اور حملہ جبل زیتون کی جانب سے کیا جانے لگا۔ 29 ستمبر کو مسلم افواج شہر کی فصیل کا ایک حصہ گرانے میں کامیاب ہوگئیں تاہم وہ فوری طور پر شہر میں داخل نہ ہوئیں اور دشمن کی عسکری قوت کو ختم کرتی رہیں۔
“یااللہ میری توبہ ! خطرناک گٹکے کے 3 لاکھ 62 ہزار 106 پیکٹس پکڑلیے گئے ، فوڈ اتھارٹی کی کامیاب کاروائی” لاک ہے | ![]() |
|---|
ستمبر کے اختتام پر بیلین نے صلاح الدین سے مذاکرات کے دوران ہتھیار ڈال دیئے۔ صلاح الدین نے مردوں کے لئے 20، عورتوں کے لئے 10 اور بچوں کے لئے 5 اشرفیوں کا فدیہ طلب کیا اور جو لوگ فدیہ نہیں دے سکے ان کا فدیہ سلطان صلاح الدین نے خود ادا کیا یا انہیں غلام بنالیا گیا۔ بعد ازاں سلطان نے فدیہ کی رقم مزید کم کرکے مردوں کے لئے 10، عورتوں کے لئے 5 اور بچوں کے لئے صرف ایک اشرفی مقرر کردی۔ بیلین نے اس پر بھی اعتراض کیا کہ یہ بھی بہت زیادہ ہے جس پر سلطان نے صرف 30 ہزار اشرفیوں کے بدلے تمام عیسائیوں کو چھوڑنے کا اعلان کردیا۔
دو اکتوبر کو بیلین نے برج داؤد کی چابیاں سلطان کے حوالے کردیں۔ اس موقع پر اعلان کیاگیا کہ تمام عیسائیوں کو فدیہ کی ادائیگی کے لئے ایک ماہ کا وقت دیا جارہا ہے جس میں 50 دن تک کی توسیع کی گئی۔صلاح الدین ایک رعایا پرور اور رحم دل بادشاہ تھا اس نے غلام بنائے گئے عیسائیوں کا فدیہ خود ادا کرکے انہیں رہا کردیا۔
“بریکنگ : پنجاب بھر میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ، بزدار حکومت اقدامات کی بجائے اختیارات استعمال کرنے لگی” لاک ہے | ![]() |
|---|
فتح بیت المقدس کے بعد صلاح الدین کا سب سے بڑا کارنامہ یہی تھا کہ اس نے عیسائیوں سے مسلمانوں کے اس قتل عام کا بدلہ نہیں لیا جو انہوں نے 1099ء میں بیت المقدس کے فتح کے بعد کیا تھا بلکہ اس نے انہیں حد درجہ رعایت دی۔
فتح کے بعد سلطان نے مسجد اقصی کو عرق گلاب سے دھلوایا۔

بعض لوگ اس امکان پر پھولے نہیں سما رہے کہ خدانخواستہ سعودی عرب پر کوئی برا وقت آنے والا ہے۔ ہم تو ضیا نماؤں کے حامی سعودی عرب کے مشرف سے کیا ہمدردی رکھیں گے، لیکن یہ بات بتاتا چلوں کہ خدانخواستہ سعودی عرب کی حکومت مشکل میں آتی ہے تو 10 ارب ڈالر کی ترسیلات زر کو فاتحہ پڑھ لیجیے گا۔
ترسیلات زر میں کمی کا مطلب یہ ہوگا کہ انصافی حکومت اپنے سوا سال کی کارکردگی کا خلاصہ جس کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کمی کو بتا رہی ہے، یہ واحد حاصل بھی ختم ہو جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ رعایتی پٹرول اور دیگر جو مراعات سعودی عرب یا متحدہ عرب امارات سے ہم حاصل کرتے ہیں، ان سے یکسر محروم ہونا پڑے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ بیروزگاری کا ایک نیا طوفان آئے گا جس کے آگے بند باندھنا ناممکن ہوگا۔ یاد رہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں 40 لاکھ پاکستانی رہائش پذیر ہیں۔ اگر ان میں سے 5 فیصد پاکستانیوں کے لئے وہاں رہائش مشکل ہو جائے تو کیا ہمارے پاس ان کے لیے کوئی متبادل موجود ہے؟
یاد رہے کہ چند سال پہلے لیبیا میں 20000 کے قریب پاکستانی آباد تھے جو ہر سال لاکھوں ڈالر پاکستان بھیجا کرتے تھے۔ جب لیبیا کو کرپٹ قذافی سے نجات ملی تو نتیجتاً یہ 20 ہزار بے دخل ہو گئے۔ ہماری حکومت ان کیلیے سوائے جہاز بھیجنے کہ کچھ نہ کر سکی۔ کسی کو پتہ ہے آج ان پاکستانیوں کے ساتھ کیا گزر رہی ہے؟
ترتیب غلط رکھنے کے لئے معذرت، ہمیں تو سعودی عرب سے اس لیے محبت ہیکہ ہماری عقیدتوں کے تمام تر محور اسی زمین پر ہیں۔ اس لیے ہمیں یہ بھی گوارا نہیں کہ گرم ہوا کے جھونکے گزریں، لیکن جو لوگ اس خواہش میں ہلکان ہوئے جارہے ہیں کہ آل سعود اپنے مآل تک پہنچے ان کے لیے اطلاعا عرض ہے،
کیا آپ کو خطہ سعودی عرب میں کہیں بھی کوئی ایسا گروپ نظر آتا ہے جو پاکستان کے لیے آل سعود سے زیادہ دوستانہ رویہ رکھتا ہو؟ کوئی ایسا گروپ جس کے بارے میں آپ یہ توقع رکھ سکیں کہ وہ آپ کے کہنے پر انڈیا سے تجارت منقطع کر سکتا ہے، یا کوئی ایسا گروپ جو امت کا درد رکھتے ہوئے پاکستان سے بڑھ کر کشمیریوں کی وکالت کرسکتا ہے، تو بڑے شوق سے اس کی حمایت کیجیے۔
یاد رکھیں کہ اگر پورے عرب میں ڈھونڈے سے آپ کو کوئی غمخوار نہ ملے، تو جان لیجیے یہی والی آل سعود ہی آپ کی نجات کی ضمانت ہے، چاہے آپ کو جتنے برے لگتے ہوں۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ وہ خلیفتہ اللہ علی الارض ہیں بلکہ اس لیے کہ اس وقت پاکستانیوں کے مفادات کی ضمانت یہی ہیں
انشاء اللہ سعودی عرب کو کچھ نہیں ہوگا،،،،، از —عبدالرب

اٹل بہاری واجپائی 25 دسمبر 1924کو پیدا ہوائے ، وہ تین بار بھارت کے وزیر اعظم رہے۔ بھارت کے سابق وزیراعظم نے 16 اگست 2018 کو وفات پائی ، اٹل بہاری واجپائی نے 2016 میں ایک نظم لکھی تھی جس کا مرکزی خیال پاکستان سے جنگ نہ کرنا اور خطے کی عوام کو پرامن زندگی گزارنے کا درس تھا ، وہ نظم کچھ اس طرحہے ، اٹل بہاری واجپائی کہتے ہیںکہ!
جنگ نہ ہونے دیں گے
ہم جنگ نہ ہونے دیں گے
وشوشانتی کے ہم سادھک ہیں جنگ نہ ہونے دیں گے
کبھی نہ کھیتوں میں پھر خونی کھاد پھلے گی
کھلیانوں میں نہیں موت کی فصل کھلے گی
آسمان پھر کبھی نہ انگارے اگلے گا
ایٹم سے ناگاساکی پھر نہیں جلے گا
ہتھیاروں کے ڈھیروں پر جن کا ہے ڈیرا
منہ میں شانتی بغل میں بم، دھوکے کا پھیرا
کفن بیچنے والوں سے یہ کہہ دو چلا کر
دنیا جان گئی ہے ان کا اصلی چہرا
کامیاب ہوں ان کی چالیں ڈھنگ نہ ہونے دیں گے
جنگ نہ ہونے دیں گے
ہمیں چاہیے شانتی، زندگی ہم کو پیاری
ہمیں چاہیے شانتی سرجن کی ہے تیاری
ہم نے چھیڑی جنگ بھوک سے بیماری سے
آگے آکر ہاتھ بٹائے دنیا ساری
ہری بھری دھرتی کو خونی رنگ نہ لینے دیں گے
جنگ نہ ہونے دیں گے
بھارت پاکستان پڑوسی ساتھ ساتھ رہنا ہے
پیار کریں یا وار کریں دونوں کو ہی سہنا ہے
تین بار لڑ چکے لڑائی کتنا مہنگا سودا
روسی بم ہو یا امریکی، خون ایک بہنا ہے
جو ہم پر گزری بچوں کے سنگ نہ ہونے دیں گے
جنگ نہ ہونے دیں گے
از تحریر :اٹل بہاری واجپائی
