Baaghi TV

Category: بلاگ

  • "عمران خان کی اقوام متحدہ میں تقریر کا اک انتہائی اہم پہلو” !!! تحریر محمد عبداللہ

    گزشتہ روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران عمران خان کی تقریر کو لے کر دنیا بھر میں بحث جاری ہے. کوئی اس کو امت مسلمہ کے ویژنری رہنما کی حیثیت سے دیکھ رہا ہے تو کوئی بھارت کی دہشت گردیوں اور کشمیر چیرہ دستیوں کو بہترین انداز میں اقوام عالم کے سامنے واضح کردینے پر عمران خان کو خراج تحسین پیش کر رہا ہے.بلاشبہ پاکستان جیسے ملک کے وزیراعظم کی حیثیت سے یہ ایک بہت بڑی اور تاریخی گفتگو تھی جو عمران خان نے اقوام متحدہ کے فورم سے دنیا سے مخاطب ہوکر کی گئی.

    کیا بھارت کشمیر کو آزاد کرکے پاکستان کی بقاء ممکن بنائے گا؟؟؟ محمد عبداللہ
    عمران خان کی تقریر میں سے کچھ بہت اہم نکات اسلام کا بیانیہ، اسلامو فوبیا، توہین رسالت، اسلام پر لگنے والا دہشت گردی کا الزام بھی تھے. ان پر بات کرنے سے قبل میں قارئین کو یاد دلاتا چلوں کہ نائن الیون کے ایشو پر جب فوری اسلام کو مورد الزام ٹھہرایا گیا اور امریکی صدر بش نے اسلام کے خلاف باقاعدہ صلیبی جنگوں کے آغاز کا اعلان کیا اور اس کے نتیجے میں افغانستان اور بعد ازاں عراق میں لاکھوں مسلمانوں کو شہید کرکے ان ملکوں کو کھنڈرات میں بدل دیا گیا. جیسے ہی نائن الیون کا حادثہ پیش آیا اور اسلام و مسلمانوں کو مورد الزام ٹھہرایا گیا تو مغرب میں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں لوگوں نے اسلام اور قران کا مطالعہ شروع کیا کہ یہ کونسا مذہب ہے اور اس کی تعلیمات کیا ہیں، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مغرب میں بڑی تعداد میں لوگوں نے اسلام قبول کرنا شروع کردیا، ان دنوں میں سب سے زیادہ رکھا جانے والا نام "محمد” تھا، سب سے زیادہ فروخت ہونے والی اور تخائف کی صورت میں دی جانے والی کتاب قران مجید تھی. مغرب میں اتنی بڑی تعداد میں لوگوں نے اسلام قبول کرنا شروع کردیا کہ وہاں کے تھنک ٹینکس اور پالیسی ساز اداروں نے اپنی حکومتوں کو خبردار کرنا شروع کردیا کہ اگر صورتحال کو کنٹرول نہ کیا گیا تو اگلے کچھ سالوں میں اسلام مغرب کا سب سے بڑا مذہب ہوگا. اس ساری صورتحال میں باقاعدہ پراپیگنڈے کی فیکٹریز قائم ہوئیں اور اسلامو فوبیا کا اک منظم سلسلہ شروع ہوا جس کے تحت مسلمانوں پر حملے اور باقاعدہ منصوبہ بندی سے توہین رسالت کا مکروہ فعل مغربی حکومتوں کی سرپرستی میں بار بار سرانجام دیا گیا جو تاحال جاری ہے.

    امریکہ کی جنگ میں شامل ہونا پاکستان کی غلطی، کیا نئے پاکستان کا بیانیہ بھی نیا ہوگا؟؟؟ تحریر: محمد عبداللہ
    اقوام متحدہ جیسے بڑے فورم پر گزشتہ شب کی جانے والی تقریر میں جہاں پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے جہاں مسئلہ کشمیر، بھارتی دہشت گردی، موسمی تغیرات وغیرہ پر بات کی وہیں عمران خان کی تقریر کا بہت بڑا حصہ اسلام کے پر امن بیانیے کے فروغ، توہین رسالت اور اسلامو فوبیا کو کاؤنٹر کرنے پر مشتمل تھا. عمران خان نے بلاشبہ اسلام کے پرامن بیانیے کو بہترین انداز میں اقوام متحدہ جیسے فورم پر پیش کیا اور دنیا کو دعوت دی کہ وہ اسلام کو اسٹڈی کریں. اسی توہین رسالت اور اس پر مسلمانوں کے غم و غصے اور جذبات کو بھی بالدلیل مغرب سے سامنے رکھا. اس کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کو اسلام سے جوڑنے والوں کو بھی آڑے ہاتھوں لیا اور واضح کیا کہ اسلام پر امن دین ہے جو دہشت گردی کے مخالف تعلیمات دیتا ہے. آزادی اظہار رائے کو بنیاد بنا کر شعائر اسلامی کو ہدف بنانے پر بھی زبردست انداز میں دفاع کیا. اقوام متحدہ کے اسٹیج پر کھڑے ہوکر لاالہ الا اللہ کا نعرہ مستانہ بلند کیا.

    عمران کی سفارتی کامیابیاں — محمد عبداللہ
    عمران خان کے اس تاریخی خطاب کے بعد پوری دنیا میں اس پر تبصرے شروع ہوگئے. سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک ملین سے زائد ٹویٹس کے ساتھ عمران خان ورلڈ وائڈ پینل پر سرفہرست رہے. امریکہ و یورپ سمیت دنیا بھر سے لوگوں نے اسلام، پاکستان اور عمران خان کو گوگل پر سرچ کرنا اور سماجی ویب سائٹس پر ان کے متعلق تبصرے کرنا شروع کیے.یہ بڑی خوش آئند صورتحال ہے اور یہ قوی امید کی جا رہی ہے کہ جس طرح نائن الیون میں اسلام کو مورد الزام ٹھہرانے کے بعد مغرب میں لوگ اسلام کی طرف راغب ہوئے تھے اور بہت بڑی تعداد میں اسلام قبول کیا تھا ان شاءاللہ بعینہ عمران خان کے خطاب میں اسلام اور اسلامو فوبیا پر مفصل بیان کے بعد مغرب میں لوگ پہلے سے زیادہ اسلام کو اسٹڈی کریں گے اور اسلام کی طرف راغب ہوں گے ان شاءاللہ.

    مصنف کا تعارف اور دیگر مضامین پڑھیں

     

    Muhammad Abdullah
    Muhammad Abdullah
  • پولیس اصلاحات کے مسودے پر  ڈی ایم جی افسران اور پولیس افسران میں اختیارات کی جنگ شدت اختیار کر گئ !!! حجاب رندھاوا

    پولیس اصلاحات کے مسودے پر ڈی ایم جی افسران اور پولیس افسران میں اختیارات کی جنگ شدت اختیار کر گئ !!! حجاب رندھاوا

    پولیس اصلاحات کے مسودے پر ڈی ایم جی افسران اور پولیس افسران میں اختیارات کی جنگ شدت اختیار کر گئ

    ‏پنجاب میں سنئیر پولیس افسران نے دھمکی دی ہے کہ اگر نئی اصلاحات کے نام پر ضلعی پولیس کو ڈپٹی کمشنر کے مزید ماتحت کیا گیا تو وہ استعفی دے دیں گے پولیس کے مطابق بیوروکریسی پولیس کو کام ہی نہیں کرنے دیتی پولیس کے کاموں میں مداخلت کی جاتی ہے ،

    پولیس اصلاحات میں بیورو کریسی کے پولیس میں عمل دخل پہ پولیس سروس آف پاکستان کے بھرپور احتجاج کے بعد، وزیراعلیٰ نے وزیر قانون راجہ بشارت کے ماتحت ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس کے اجلاس میں پولیس افسران اور بیوروکریسی آمنے سامنے آ گئ تلخ کلامی کے بعد افسران نے نوکریا ں چھوڑنے کی دھمکیاں بھی دیدیں۔ اجلاس میں صوبائی وزرا دونوں گروپوں کے افسروں میں صلح کروانے کی کوشش کرتے رہے ، تین گھنٹے سے زائد ہونیوالا اجلاس بے نتیجہ رہا
    جبکہ راجہ بشارت کے مطابق کمیٹی کے اجلاس میں 90؍ فیصد پولیس ریفارم پیکیج کا اتفاق رائے سے جائزہ لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس ڈپارٹمنٹ کو بیوروکریسی (پاکستان ایڈمنسٹریٹیو سروسز) کے ماتحت کیے جانے کے حوالے سے پولیس کے تحفظات دور کرنے کیلئے کچھ تبدیلیاں تجویز کی گئی ہیں

    سول سیکرٹریٹ کے ہنگامی اعلیٰ سطحی اجلاس میں دونوں طرف سے تلخ کلامی کے بعد ایک دوسرے کو مبینہ طور پر دھمکیاں دی گئیں،بیوروکریسی نے واضح کر دیا کہ اب مسودہ تیار ہو چکا اب ہر صورت عملدآمدہوگا، پولیس کا موقف تھا کوشش کر کے دیکھ لیں اس پہ کسی صورت عمل نہیں ہوگا
    پی ایس پی افسران کی رائے ہے کہ ان اصلاحات کے ذریعے سابقہ ڈی ایم جی گروپ (اور اب پاکستان ایڈمنسٹریٹیو سروس) اصل میں پولیس پر اپنا کنٹرول واپس حاصل کرنا چاہتا ہے جیسا کہ ماضی میں نوآبادیاتی دور میں ہوا کرتا تھا۔
    پولیس حکام ذرائع کا کہنا ہے پولیس ریفارمز سفارشات پرعمل درآمد پنجاب پولیس کو ڈسٹرکٹ مینجمنٹ گروپ کے رحم وکرم پر لے آئے گا۔ پنجاب پولیس کی آپریشنل خود مختاری اور غیرسیاسی کرنے کے مسئلے کا حل بھی سفارشات نہیں۔

    پولیس حکام ذرائع نے کہا سفارشات کے تحت ڈپٹی کمشنرز کو پولیس اور امن و امان سے متعلق بے پناہ اختیارات مل جائیں گے۔ سفارشات کے تحت بے بس عام آدمی ڈپٹی کمشنر کے رحم وکرم پر ہو گا۔ سفارشات میں تھانے کی اصلاح سے متعلق کوئی تجویز نہیں دی گئی۔

    وفاق حکومت نے پولیس اصلاحات کیلئے سفارشات تیار کی ہیں۔ اصلاحات پنجاب اور خیبر پختونخوا میں لائی جائیں گی۔
    وفاقی سطح پر پولیس اصلاحات، قانون سازی، کابینہ کے فیصلوں کے لیے پنجاب کو 30؍ ستمبر کی ڈیڈلائن دی گئی ہے

    سفارشات کے مطابق پولیس کو بیوروکریسی کے ماتحت کیا جائے گا۔ کارکردگی مانیٹرنگ کے لئے سیاستدانوں کو بھی ذمہ داریاں دی جائیں گی۔ سفارشات کے مطابق تھانوں کی انسپکشن کے لئے پولیس کو ڈپٹی کمشنر سے اجازت لینا ہو گی۔

    ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں ون ونڈو ٹربلز شوٹر قائم کیا جائے گا۔ صوبے میں ون ونڈوٹربلزشوٹر کے نام سے چھتیس دفاتر قائم ہوں گے۔ عوامی وسائل کے انتخاب میں ڈپٹی کمشنر مکمل بااختیار ہو گا۔ انکوائریاں، انسپکشن بھی کراسکے گا
    بیوروکریسی کے مطابق یہ سب تجاویز میجر ریٹائرڈ اعظم سلیمان کی سربراہی میں بنائی گئی کمیٹی نے تیار کی ہیں اور یہ بہت بہتر ہیں،
    بیوروکریسی کی جانب سے کہا گیا کہ ہم چاہتے ہیں کہ پولیس مکمل آزاد ہو، جو قانون بنائے گئے یہ اوپر سے احکامات ملے
    ان کی ابتدائی منظوری وزیراعظم عمران خان دے چکے ہیں ، وزیر قانون راجہ بشارت کی زیر صدارت ہنگامی طورپر اجلاس میں صوبائی وزراانصر مجید، تیمور بھٹی، ہاشم ڈوگر، چیف سیکرٹری پنجاب یوسف نسیم کھوکھر، ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ پنجاب سید علی مرتضیٰ، سیکرٹری آبپاشی سیف انجم، سیکرٹری بلدیات جاوید قاضی، آئی جی پنجاب کیپٹن ریٹائرڈ عارف نواز، ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ ضعیم شیخ، ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی رائے طاہر،ڈی آئی جی آئی ٹی ذوالفقار حمید، ڈی آئی جی احسن یونس، ڈی آئی جی جواد ڈوگر سمیت ریٹائرڈ پولیس افسران بھی موجودتھے ۔

    پولیس کی جانب سے کچھ تجاویز پیش کی گئیں ان میں کہا گیا کہ
    سپیشل برانچ کو وزیراعلیٰ پنجاب کے ماتحت دینے کے بجائے آئی جی پنجاب کے ماتحت ہی کیا جائے
    لیکن پولیس اصلاحات پیکج میں کہا گیا ہے کہ جیسے انٹیلی جنس بیوروکا سربراہ وزیراعظم ہے اسی طرح سپیشل برانچ کا سربراہ وزیراعلیٰ ہو گا، لیکن اس پر بیوروکریسی کو شدید اختلافات ہیں، دوسرا پوائنٹ یہ سامنے آیا ہے کہ پولیس کمپلینٹ کمیشن محکمہ داخلہ پنجاب یا سی ایم سیکرٹریٹ کے بجائے پنجاب کی امن و امان کی کیبنٹ کمیٹی کے ماتحت کیا جائے ، جبکہ نیشنل پبلک سیفٹی کمیشن کو ایکٹو کیا جائے اور اس پر عملدرآمد کیا جائے ، جبکہ پنجاب پولیس کا الگ سے کنٹرول انسپکٹوریٹ بنانے پر بھی اختلاف کیا گیا ہے ،
    بیوروکریسی کی جانب سے مسلسل ان معاملات کی مخالفت کی گئی ،
    اجلاس میں سید علی مرتضیٰ اور ایک صوبائی وزیر کی جانب سے کہا گیا کہ پولیس کی جانب سے یہ انتہائی خفیہ ڈرافٹ میڈیا کے ساتھ شیئر کیا گیا
    جس پر پولیس افسران سخت ناراض ہوئے اور کہاکہ آپ ہم پر الزام تراشی کر رہے ہیں
    پولیس اصلاحات پیکج میں افسران کی تقرریوں کے لائحہ عمل بھی طے کیا گیا ہے کہ سینئر پولیس افسران پر مشتمل ایک انٹرنل بورڈ کارکردگی کے مظاہرے کی بنیاد پر تقرریوں کی تجاویز پیش کرے گا۔
    سفارشات آئی جی کو پیش کی جائیں گی اور پھر آئی جی پولیس ڈی پی او، آر پی او اور ایڈیشنل آئی جی کے عہدوں کیلئے تین تین افسران کے نام ترتیب وار ترجیح کے ساتھ پینل کو پیش کرے گا اور ساتھ ہی کارکردگی کا چارٹ بھی منسلک کرے گا، جس کے بعد یہ تجاویز منظوری کیلئے وزیراعلیٰ کو بھجوائی جائیں گی۔ جواز پیش کرکے حکومت قبل از وقت ٹرانسفر بھی کر سکے گی۔ پنجاب حکومت سے کہا گیا ہے کہ وہ اس مقصد کیلئے اپنے پولیس آرڈر میں فوری تبدیلیاں لائے۔
    دستاویز میں مزید لکھا ہے کہ صرف تربیت یافتہ اور مصدقہ افسران کو تحقیقات (انوسٹی گیشن) اور سینئر انتظامی عہدوں پر تعینات کیا جائے۔ متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر پی پی او سرٹیفکیشن فریم ورک کا تعین کرے گا۔ پنجاب حکومت سے کہا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر سرٹیفکیشن کے متعلق شقیں پولیس آرڈر میں ترامیم کرکے شامل کرے۔ سرٹیفکیشن فریم ورک تیار کرنے کیلئے پنجاب حکومت کے پاس 60؍ دن ہیں۔ پنجاب حکومت سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ اسٹیشن ہائوس افسران (ایس ایچ اوز) کو ڈرائنگ اینڈ ڈسبرسنگ افسران کے طور پر بھی نامزد کرے اور اس مقصد کیلئے متعلقہ قوائد اور قانون میں ترامیم کی جائیں۔ فنانس ڈپارٹمنٹ سے کہا گیا ہے کہ وہ ہر پولیس اسٹیشن کیلئے بنیادی اخراجات کا تعین کرے اور اس مقصد کیلئے پولیس کے ساتھ مشاورت کی جائے۔ یہ کام 30؍ دن میں مکمل کرنے کیلئے کہا گیا ہے.

  • شکریہ عمران آپ نے 72 سال کا قرض اتار دیا——-تحریر:احمد طارق

    شکریہ عمران آپ نے 72 سال کا قرض اتار دیا——-تحریر:احمد طارق

    وزیراعظم عمران خان کے جنرل اسمبلی میں تاریخی خطاب نے جہاں کروڑوں لوگوں کا دل جیتا وہیں یہ بات بھی ثابت ہوگئی کہ بیشک اللہ نے عمران کو پاکستانیوں اور خاص طور پر کشمیریوں کیلئے ایک نعمت بنا کر بھیجا ہے۔

    اگر میں آپ کو سچ بتاوں تو حقیقت یہ ہے کہ عمران کا خطاب جب شروع ہوا تو میں ڈر گیا، میں نے دیکھا کہ خان صاحب تو یہاں بھی پرچی نہیں لائے، ٹھیک ہے وہ اکثر پرچی کے بغیر ہی بولتے ہیں، لیکن یہ تو موقع ہی بہت بڑا تھا، یہ ان کی زندگی کا سب سے بڑا اور اہم خطاب ہونے جارہا تھا، یہاں بیشک وہ پرچی سے دیکھ کہ نہ پڑتے لیکن چند ضروری پوانٹس تو پرچی پر لکھ کر لاسکتے تھے نا؟ ظاہر سی بات ہے انسان ہیں وہ بھی، غلطی ہوسکتی ہے، زبان پھسل سکتی ہے، جس کی وجہ سے گیم الٹ بھی ہوسکتی ہے اور ایسا نہ ہو کہ ہمارے ہمسائے ہم پر تنقید کرنے لگ جائیں۔ میں تھوڑا ڈر گیا اور ساتھ دعا بھی کرنے لگا کہ اللہ عمران اور پاکستان کی عزت رکھ لینا۔

    خیر خطاب شروع ہوا!!! چہرے پر غصہ، لہجے میں سختی، پراعتمادی، اور بھارت کو آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے جواب دینا، اسے کہتے ہیں حقیقی لیڈر۔ میں بھی ہر پاکستانی کی طرح تاریخی خطاب بہت غور سے سن رہا تھا، جس طرح خطاب چلتا گیا، میرا ڈر ختم ہوتا گیا مجھے پتا چلا کہ واقعی جو حقیقی لیڈر ہو اسے کسی پرچی کی ضرورت نہیں، یقینی طور پر تعلیم آپ کی شخصیت کو نکھار دیتی ہے۔ خطاب پر بات کرنے سے قبل ایک اہم ترین بات یہ کرنا چاہوں گا کہ کچھ لوگ سمجھتے ہیں پرچی اس لیے بھی ضروری ہے کہ خطاب کے دوران اہم پوائنٹس نہ بھول جائیں، لیکن ایسے لوگوں کو آج کے خطاب کے بعد جواب مل گیا ہوگا، جو بات آپ کے دل سے نکلے وہ کسی بھی پرچی سے بہت بہتر ہوتی ہے۔

    اب بات کرتے ہیں اہم ترین خطاب پر، عمران کی یہ تقریر کسی بھی پاکستانی وزیراعظم کی جنرل اسمبلی میں تقریر سے بڑی اور شاندار تھی۔ جی ہاں! یہ تقریر بھٹو صاحب کے جنرل اسمبلی میں خطاب سے بھی اچھی تقریر تھی۔ میں نہیں سمجھتا کہ کوئی بھی وزیراعظم کشمیر کا مسئلہ اتنے مضبوط انداز میں لڑ پاتا۔ خطاب کے دوران عمران نے جنرل اسمبلی میں موجود ہر مذہب کے لوگوں کو انسانیت یاد دلائی، احساس دلایا۔ اس خطاب کو پسند کرنے کیلئے آپ کا پاکستانی ہونا ضروری نہیں.

    ایک بات یہاں یہ بھی قابل غور ہے کہ اگر یہی تقریر انہی الفاظ کے ساتھ، بغیر پرچی کے نوازشریف صاحب یا زرداری صاحب بھی کرتے تو پھر بھی اس تقریر کا اتنا اچھا تاثر دنیا پر نہ جاتا، کیونکہ انداز کرنے کا بیان بھی اپنا اپنا ہوتا ہے اور جس انداز اور غصے سے عمران نے کشمیر کا مقدمہ لڑا ہے، یہ فن بھی صرف و صرف عمران کے پاس ہی ہے۔ میرا اپنا ماننا ہے کہ نریندر مودی نے بھی شاید اسی لیے کشمیر پر اپنا موقف پیش نہیں کیا کہ وہ بھی عمران کی فطرت سے خوب واقف ہیں اور وہ یقینی طور پر جانتے ہوں گے کہ عمران کا ردعمل مزید سخت ہوسکتا ہے، اسی لیے کشمیر کے مسئلہ پر خاموش ہی رہا جائے۔

    ہالی وڈ فلم "ڈیتھ وش” کا ذکر اور بتایا کہ جب فلم کے ہیرو کو انصاف نہیں ملتا تو وہ بندوق لیکر باہر نکل جاتا ہے اور سب کرمنلز کو مارنا شروع کردیتا ہے اور سینما میں موجود کس طرح تمام لوگ اس کو کھڑے ہوکر داد دیتے ہیں. دنیا والوں سن لو! اگر کشمیری بھی ایسا کریں تو انہیں بھی ہیرو کہنا، دہشتگرد نہ کہنا…… جی ہاں! یہ ہی الفاظ تھے وزیراعظم صاحب کے جنہوں نےاقوام متحدہ میں ایسا کہا. کیا کوئی اور وزیراعظم ایسا کہہ سکتا تھا، میں سمجھتا ہوں اتنا مضبوط مقدمہ تو کوئی حریت رہنما بھی نہ لڑپاتا اور مجھے ایسا لگتا ہے کہ آنے والے دنوں میں اقوام متحدہ کشمیر سے کرفیو ہٹانے میں کامیاب ہوجائے گا اور اس کے بعد جو ہوگا اس کا ذکر خان صاحب کرچکے ہیں.

    ‘لا الہ اللہ ہم جنگ کیلئے تیار ہیں’ کیا ہی خوبصورت بات کہہ دی۔ میں نے سوچا عمران آپ صرف یہ بھی تو کہہ سکتے تھے کہ ‘ہم جنگ کیلئے تیار ہیں’ لیکن عمران نے یہاں بھی دل جیت لیا۔ اگر میری یاداشت کمزور نہیں تو میرا نہیں خیال کہ آج سے پہلے کسی بھی مسلمان لیڈر نے جنرل اسمبلی میں کھڑے ہوکر کبھی بھی ‘لا الہ اللہ’ کہا ہو۔ اتنا مضبوط ایمان ہونے پر بھی اللہ کیوں نہ مدد کرتے؟ میں سمجھتا ہوں یہاں عمران پلس پوائنٹ لے گے ہیں، انہوں نے وعدہ تو کشمیر کا مقدمہ لڑنے کا کیا تھا، لیکن وہ اسلام کا مقدمہ بھی لڑ رہے ہیں، بار بار دنیا کو بتا رہے ہیں کہ اسلام صرف 1 ہی ہے، اور وہ ہے ہمارے نبی پاک ﷺ کا اسلام۔ ہمارا اسلام دہشتگردی کا درس نہیں دیتا۔ حضرت محمد ﷺ ہمارے دلوں میں رہتے ہیں، لہذا ان کی توہین نہ کی جائے، ان کی توہین سے ہمارے دلوں میں تکلیف ہوتی ہے. یقینی طور پر مغرب میں اسلام کی اتنی اچھی تعریف کسی مسلمان لیڈر نے نہیں کی ہوگی.

    خان صاحب کے خطاب کے دوران جنرل اسمبلی میں بھارتی وفد کے جس طرح ہوش اڑ گئے اور پسینے چھوٹ گئے تھے، اس سے یہ بھی صاف ظاہر ہوتا ہے کہ کشمیر پر آنے والے دنوں میں پاکستان کی پوزیشن کتنی مضبوط ہونے جارہی ہے۔ بھارتی میڈیا بھی زیادہ سے زیادہ اسی بات پر تنقید کر رہا ہے کہ یہ تقریر بہت لمبی تھی، شاید ان کے پاس تنقید کیلئے کچھ اور تھا بھی نہیں۔ لیکن عمران کی فطرت سے وہ ناواقف نظر آتے ہیں، جو کہتا ہے کہ آزادی کیلئے پہلی گولی مجھے کھانا پڑی تو وہ بھی کھانے کیلئے تیار ہوں.

    مجھے اکثر عمران کی پالیسیوں سے اختلاف رہتا ہے جو کہ رہنا بھی چاہیئے کیونکہ اختلاف جمہوریت کا حسن ہے اور ہر ایک کو اختلاف رکھنے کا حق بھی حاصل ہے، لیکن اس شاندار خطاب پر بھی جو لوگ تنقید کر رہے ہیں، ان سے میرا سوال ہے کہ کیا آپ میں سے کوئی بھی ایسا ہے جو جنرل اسمبلی میں 50 منٹ بغیر پرچی کے تقریر کرسکے؟ جب کہ اسے پوری دنیا کا میڈیا بھی دکھا رہا ہو اور کشمیر کا مقدمہ بھی لڑنا ہو؟

    عمران خان کا یہ خطاب ان کی زندگی کا بہترین خطاب ثابت ہوا جو کہ بہت لمبے عرصے تک یاد رکھا جائے گا۔ ساتھ ہی ہر مسئلہ کو وہ جس طرح باریکی انداز سے بغیر پرچی کے لیکر چلے اور کشمیر کا مقدمہ جس بخوبی انداز میں دنیا کے سامنے لڑا ہے، میرا اپنا خیال ہے کہ اگر سیکیورٹی کا مسئلہ نہ ہوتا تو قوم نے اس بار کپتان کا استقبال 1992 ورلڈ کپ کی جیت کے بعد سے بھی بڑا کرنا تھا۔ کیونکہ کشمیر کا مقدمہ آدھے سے زیادہ تو وہ جیت ہی گئے ہیں۔
    میری طرف سے جناب عمران خان صاحب کی اس تقریر کو 100 میں سے 200 نمبر۔

  • مسئلہ کشمیر پر عمران خان کا کردار!!!  تحریر غنی محمود قصوری

    مسئلہ کشمیر پر عمران خان کا کردار!!! تحریر غنی محمود قصوری

    مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں جب جسم کے کسی حصے میں تکلیف ہو تو پورا جسم بے چین ہو جاتا ہے یہی صورت حال امت مسلمہ کی ہے 73 سالوں سے امت محمدیہ کے بیٹے بیٹیاں مقبوضہ کشمیر میں ظلم و جبر کے سائے تلے ہندو پلید کی غلامی میں جی رہے ہیں اور آج ہندو کی جانب سے کشمیری مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کیئے دو ماہ ہونے کو ہیں مقبوضہ وادی کشمیر مودی ظالم نے ظلم کی تمام حدیں پار کر دی ہیں جس پر پورا عالم کفر تو خاموش تھا ہی مگر حیرت اور دکھ عالم اسلام پر ہے کہ وہ جسم کے ایک حصے کی درد کو محسوس کرکے بھی گونگے بنے بیٹھے ہیں حالانکہ آج ہمارے اسلامی ممالک کے پاس ہر طرح کے مالی و عسکری وسائل موجود ہیں مگر سوائے پاکستان کے کسی کو توفیق نہیں کہ اس درد کو محسوس کرسکے
    اتنے سالوں میں کئی لیڈر آئے اور کشمیری قوم کے ساتھ تسلی و تشفیع پر اکتفا کرتے رہے مگر بدقسمتی سے کشمیر کا دفاع صحیح معنوں میں نا کر سکے بلکہ الٹا عالم کفر کے مذید غلام بنتے گئے
    ایسے میں 27 ستمبر کو اللہ رب العزت نے وزیراعظم عمران خان کو یونائیٹڈ نیشن کے اجلاس میں مسئلہ کشمیر پر بات کرنے کا موقع دیا مگر خان نے بھی اللہ کی مدد سے مسئلہ کشمیر کیساتھ ہندو پلید کی مکاری اور فریبی کو بھی دنیا کے سامنے خوب اچھی طرح باور کرایا جس پر پوری پاکستانی قوم کا سر فخر سے بلند ہو گیا ہے
    یقینا اس طریقے سے بات کرنا عالم کفر کے ایوانوں میں بہت ہمت و حوصلے کی بات ہے کیونکہ پہلے بھی ہزار سال جنگ تو کوئی گھاس کھانے کے نعرے لگا چکے ہیں جس سے پاکستانی و کشمیری قوم کا سیاستدانوں سے اعتبار اٹھ چکا تھا مگر آپ نے اس اٹھے ہوئے اعتماد کو دوبارہ بحال کرنے کا عمل شروع کیا ہے اور دعا ہے کہ اللہ تعالی آپ کو کامیابی سے ہمکنار کرے
    مگر خان صاحب اللہ کا واسطہ ہے اب اگر سر اٹھا ہی لیا ہے تو یہ سر نیچا نا ہونے پائے کیونکہ آپ نے دیکھا بھی ہے پڑھا بھی ہے کہ سابقہ حکمرانوں نے کس قدر کمزوری کا مظاہرہ کیا اور آخر جوتے کھا کھا کر روانہ ہوتے رہے اور قصہ پارینہ بنتے گئے اور ان کیساتھ یہ ان کے رب کریم نے کروایا تاکہ وہ دنیا کے سامنے باعث عبرت بنیں کہ جو اپنے جسم و شہہ رگ سے وفاداری نہیں کرتا پھر جوتے ہی اس کے مقدر بنتے ہیں
    اگر اب آپ نے بھی اپنے الیکشن کی طرح مسئلہ کشمیر کو ایک کارڈ کے طور پر استعمال کیا تو پھر یقین جانیئے اللہ کے عذاب سے آپ بچ نا سکیں گے کیونکہ پاکستانی عوام سے کیئے گئے وعدوں کی خلاف ورزی کی بدولت بڑی حد تک قوم آپ سے مایوس ہو چکی ہے مگر مسئلہ کشمیر کے معاملے پر آپ کی دلیری نے آپ کو ایک موقع دیا ہے اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ اس مسئلے کو حل کرنے کی سنجیدہ کوشش کرکے عالم اسلام کے ہیرو بنتے ہیں یاں پھر پہلوں حکمرانوں کی طرح روگردانی کرتے ہوئے اندھیروں کے مسافر بنتے ہیں
    باقی قوم پاکستان و عالم اسلام کی دعائیں آپ کے ساتھ ہیں اللہ تعالی آپ کا حامی و ناصر ہو آمین

  • خیال          ،  حامدالمجید کا بلاگ

    خیال ، حامدالمجید کا بلاگ

    خیال تحریر حامدالمجید

    اکثر ایسا ہوتا ہے ہم بہت کچھ لکھنا چاہ رہے ہوتے ہیں پر کچھ لکھا نہیں جاتا جیسے ہی پیڈ کھول کے ٹائپنگ کرنے لگتے ہیں انگلیاں رک جاتی ہیں اور سوچیں جم جاتی ہیں یا تو کوئی بے چینی ہوتی ہے یا ہمارے سر پہ یہ سوار ہوتا ہے ہم نے لکھنا ہے لکھنا ہے۔۔۔
    جب کہ لکھنے کا صحیح وقت وہی ہے جب الفاظ خود بخود ذہن پہ اتریں ایسا تبھی ممکن ہے جب ہم ذہن سے دباؤ ہٹائیں اور بالکل ریلکس ہو جائیں۔۔
    اک اور بھی طریقہ ہے جب کچھ لکھا نہ جا رہا ہو تو کچھ پڑھ لینا چاہیے اس کا فائدہ یہ ہے کہ ہم جب پڑھتے ہیں تو سوچ کو کئی نئی راہیں ملتی ہیں پڑھتے پڑھتے نئے خیالات ابھرنے لگتے ہیں جس کے بعد انہیں قرطاس پہ بکھیرنا آسان ہوجاتا ہے۔۔۔
    الفاظ زبردستی نہ لکھیں بلکہ ان کی مرضی سے لکھیں۔۔۔
    جب الفاظ قلم کی نوک سے مچلتے ہوئے قرطاس پہ اترنا شروع ہوتے ہیں تو ہماری انگلیوں کے نرم و نازک پورے بھی اتنی ہی تیزی سے حرکت کرنے لگتے ہیں ایسے میں لفظوں میں کچھ الفاظ زائد یا کم رہ جاتے ہیں۔۔ جنہیں بعد میں باآسانی دور کیا جاسکتا ہے اگر ہم تحریر لکھنے کے بعد فوراً سے اپلوڈ کردیں تو تسلسل و روانی سے لکھے گئے لفظوں کی قطار میں کچھ ادھر اُدھر ہونے کی وجہ سے قاری کا تسلسل ٹوٹ جاتا ہے۔۔
    تحریر میں نکھار پیدا کرنے کے لیے اسے دوسروں تک پہنچانے سے پہلے خود ایک یا دو دفعہ ایک قاری کی نظر سے پڑھیں۔۔۔۔
    ہمارا ہر وہ لفظ امر ہوجاتا ہے جو زہن سے اتر کہ قرطاس پہ آتا ہے اور دوسروں کی بصارتوں سے ہوتے ہوئے زبان پہ جاری ہوتا ہے ہمیشہ ایسا لکھیں جو فرحت قلب بنے نہ کہ اذیت قلب۔۔
    خوش رہیں خوشیاں بانٹیں۔۔

    حامدالمجید

  • مقامِ نسواں”۔۔۔           جویریہ چوہدری کا بلاگ

    مقامِ نسواں”۔۔۔ جویریہ چوہدری کا بلاگ

    "مقامِ نسواں”۔۔۔ !!! بقلم:(جویریہ چوہدری)۔

    عورت کا ہر روپ ہی خوب سے خوب تر ہے۔۔۔۔۔
    ”ماں”۔۔۔۔
    جس کے قدموں تلے جنت رکھ دی گئی،
    جس کے بطن سے دنیا کی عظیم ہستیوں نے جنم لیا۔۔۔۔
    دنیا کے بہترین انسان انبیاء کرام اس عورت کی گود میں کھیلے۔۔۔

    بیٹی بنی تو اسے جہنم سے آڑ کہا گیا ہے۔۔۔۔
    اس کی بہترین تعلیم و تربیت اور حقوق کی ادائیگی کو جنت میں داخلہ کاسبب کہا گیا ہے۔۔۔

    بہن کے روپ میں یہ دعا اور حوصلہ افزائی کا سامان ہے۔۔۔

    بیوی کے روپ میں محبت و وفا کی انمول داستان ہے۔۔۔۔۔
    کہ اپنی زندگی میں ایک نیا موڑ لے کر اسے ہمیشہ کے لیئے نباہنے کا عہد ہے اور پہلے رشتوں سے دوری ہے۔۔۔۔
    پھر ہمہ وقت شوہر ہے یا بچے۔۔۔
    اس کی زندگی کا یہی حاصل رہ جاتا ہے ناں۔۔۔؟؟؟

    اسلام نے عورتوں کے حقوق کی اس وضاحت کے ساتھ تاکید کی ہے کہ جس کی مثال تاریخ انسانی میں اور کہیں نہیں ملتی۔۔۔!!!

    اس عورت کی نزاکت کا احساس رکھتے ہوئے اسے باہر کے گرم و سرد تھپیڑوں سے محفوظ رکھا۔۔۔
    اس پر معاشی ذمہ داری کا بوجھ نہیں ڈالا۔۔۔
    ہاں اگر عورت از خود ایسے اسباب رکھتی ہو کہ وہ اپنا مال اپنے رشتوں پر خرچ کرتی ہے تو یہ الگ بات ہے۔۔۔
    پیارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر اترنے والے قرآن کا پیغام کتنا دل افزا ہے کہ:
    "ان عورتوں کے ساتھ بھلے طریقے سے زندگی بسر کرو۔۔۔”
    (النسآ:19)

    اس کے ساتھ امتیازی سلوک کا خاتمہ کیا۔۔۔
    اس کی عزت کا سب سے بہترین دفاع کیا۔۔۔
    اس کے مقام و دائرہ کار کا احسن انداز میں تعین کیا۔۔۔
    غلط کاموں سے بچاؤ کا بہترین راستہ دکھایا۔۔۔
    اس کی مرضی و منشاء کا خیال رکھا۔۔۔!!!
    اس کے سفر وحضر کی تعلیمات دیں۔۔۔
    وہ وقت کہ جب اس کا وجود ہی اس دھرتی پر بوجھ تصور کیا جاتا تھا۔۔۔
    تو اسے حیات نو کی نوید دی۔۔۔!!!
    یہ اسلام کی ہی تعلیم ہے کہ عورت کو شیشے سے تشبیہہ دی گئی۔۔۔
    انس بن مالک رضی اللّٰہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اپنی بعض عورتوں کے پاس آئے جو اونٹوں پر جا رہی تھیں،ام سلیم بھی ان کے ہمراہ تھیں
    آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "افسوس اے انجشہ!
    ان شیشوں کو آہستہ لے کر چلو۔۔۔”
    (صحیح بخاری)
    میدان جنگ میں ان کے قتل سے منع فرما دیا گیا۔۔۔
    پیارے نبی حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم جب کسی لشکر کو روانہ فرماتے تو
    عورتوں اور بچوں کے قتل سے ممانعت کی خصوصی تاکید کرتے۔۔۔
    آج کی جنگوں میں استحصالِ نسواں کا بخوبی مشاہدہ ہر انسان کر سکتا ہے۔۔۔
    کہ یہ بنتِ حوا ان وجوہات سے کتنی متاثر اور بے چینی سے گزرتی نظر آتی ہے۔۔۔؟

    اسلام نے عورت کو محرم رشتوں کی صورت میں بہترین شیلٹر فراہم کیا اور انہیں عورت سے حسن سلوک کا پابند کیا۔۔۔
    یہاں تک کہ گھر کے کاموں میں بھی ہاتھ بٹانے کی تعلیم ملی۔۔۔۔
    خود رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اپنے گھر کے کام کاج کر لیتے تھے۔۔۔(صحیح بخاری)۔
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زوجہ حضرت خدیجہ رضی اللّٰہ تعالی عنھا کا ذکر کرتے تو فرماتے:
    ”وہ مجھ پر اس وقت ایمان لائیں،جب لوگوں نے میرا انکار کیا۔۔۔
    انہوں نے میری تصدیق کی جب لوگوں نے مجھے جھٹلایا،
    اور اپنے مال و دولت سے میری مدد کی جبکہ دوسروں نے مجھے محروم کیا،،،
    اور اللّٰہ تعالی نے مجھے خدیجہ سے اولاد کی نعمت عطا کی،جب کہ دوسری بیویوں سے اولاد نہیں ہوئی۔”
    (رواہ احمد)
    پیارے نبی کی تعلیم یہ ہے کہ
    حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللّٰہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ:
    "رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔۔۔تم میں سے بہتر وہ ہیں جو اپنی عورتوں کے لیئے بہتر ہیں”۔
    (رواہ ابن ماجہ)
    ان آبگینوں کو کرچی کرچی ہونے سے بچانے کے لیئے اللہ تعالی نے ان کی ہدایت و راہ نمائی کے اسباق قرآن مجید میں اتار کر رہتی دنیا تک کے لیئے راہیں واضح کر دیں۔۔۔۔
    ایمان والی عورتوں کے لیئے مریم علیھا السلام اور آسیہ علیھا السلام کی مثالیں دے کر کردار کی رفعت و پاکیزگی کا درس دیا۔۔۔
    امہات المومینین کو خطاب کرتے ہوئے تاکید عام کی۔۔۔۔
    نبی کی بیویوں اور مومنوں کی عورتوں سے خطاب کرتے ہوئے انہیں پردہ وحجاب کے فوائد بتائے۔۔۔۔
    رضا و رحمت کی راہیں سُجھائیں۔۔۔
    اماں خدیجہ رضی اللّٰہ عنھا کی ثابت قدمی اور اسلام کی راہ میں پیارے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی معاونت کی قدر دانی اس طرح کی کہ جبریل امین ان کے لیئے اللّٰہ کی طرف سے سلام اور جنت میں موتیوں کے محل کی بشارت دینے آئے۔۔۔۔
    اسلام ہمیں ان ثابت قدم اور باعمل عورتوں کی صفات سے آگاہی دیتا ہے کہ
    کامیابی کی راہیں کون سی ہیں؟
    حضرت شعیب علیہ السلام کی صاحبزادیوں کی صفت پردہ و حیا کا تذکرہ کر کے راہ دکھانے کی کوشش کی۔۔۔
    بے آب و گیاہ وادی میں شوہر کے حکم کی تعمیل کرتی اماں حاجرہ علیھا السلام کی داستان عزیمت سنائی۔۔۔۔
    کہ نیک بیویاں اللّٰہ تعالی کے احکامات کے سامنے شوہروں کی معاونات کیسے ہوتی ہیں۔۔۔۔؟
    بے آب و گیاہ وادی میں نومولود کے ہمراہ اپنے رب کے حکم پر سرِ تسلیم خم کر کے شوہر کی اطاعت کیسے بجا لائی جاتی ہے۔۔۔۔؟
    زبان پر حرفِ شکایت بھی وارد نہیں ہوتا۔۔۔۔
    اور پھر عرش بریں پر ان کے اس کردار و قربانی کی لاج مالکِ جہاں کس طرح رکھتا ہے۔۔۔؟
    کہ رہتی دنیا تک کے لیئے ان صحرا کی وسعت میں ڈیرہ ڈالے اس ماں کے انداز و عمل کو مناسکِ حج بنا دیا۔۔۔۔اللّٰہ اکبر۔۔۔ !!!
    غرض یہ کہ اسلام سے بڑھ کر محافظ نسواں کوئی نہیں۔۔۔
    اور عورت کے مقامات کا جو احسن تعین اسلام نے کیا ہے۔۔۔۔
    کوئی ذی شعور اسے جھٹلا نہیں سکتا۔۔۔۔معاشرتی طور پر بھی ان تعلیمات سے مرد و زن کی آگہی بہت ضروری ہو چکی ہے۔۔۔

    اللّٰہ تعالی نے ارشاد فرمایا:
    "نیک عمل مرد کرے یا عورت اور وہ مومن بھی ہو تو اس کی ناقدری نہیں کی جائے گی۔۔۔!!!!”
    اللّٰہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ہمارے مقام و وقار اور دائرہ کار کی آگہی بخشے،گھر ہو یا باہر کی کوئی ذمہ داری، ہم اسلام کے عطا کردہ زیور سے سدا آراستہ رہیں۔۔۔ اور دنیا و آخرت کی سعادتیں نصیب فرمائے۔
    مومنات کی راہوں کا انتخاب کرنے کی توفیق دے کہ پروردگار عظیم کے نزدیک وہی راہیں فلاح والی ہیں جو اس نے خود ہمیں بتائی ہیں۔۔۔ اور ہمیں ان کاموں سے دور رکھے جو اس کی ناراضگی و غضب کو دعوت دینے والے ہوں۔۔۔اپنی رضاؤں کا حقدار بنائے،اپنی پسندیدہ بندیوں میں شامل کر لے۔۔۔آمین یا ارحم الراحمین۔۔ !!!!!

  • اصلاح معاشرہ اور ہم :علی چاند

    اصلاح معاشرہ اور ہم :علی چاند

    ہمارا معاشرہ اسلامی معاشرہ اور ہم سب مسلمان ہیں ۔ حج کرنے ، عمرہ کرنے ، خیرات دینے میں پاکستانیوں کا دنیا میں اور کوٸی ثانی نہیں اور الحَمْدُ ِلله ہمیں اس بات پر فخر ہے ۔ لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں ہر انسان پریشانیوں ، دکھوں ، اور تکیلفوں میں کیوں گھرا ہوا ہے ؟ آخر کیا وجہ ہے کہ ہم ایک اللہ کو ماننے والے ، سارے اختیارات کا مالک صرف اللہ پاک کو ماننے والے ، حاجت روا صرف ایک اللہ کو ماننے والے ، ہم لوگ آخر بے چینیوں اور تکلیفوں کا شکار ہیں کیوں ؟

    اگر ہم اپنے اردگرد نظر دوڑاٸیں اور اپنی معاشرتی زندگی پر غور کریں تو ہمیں اپنے اردگرد جھوٹ ، بددیانتی ، بد لحاظی ، منافقت ، نفرت ، فساد ، رشتوں سے الجھاٶ ہر جگہ کثرت سے نظر آٸے گا ۔ آخر کیا وجہ ہے کہ ہم اسلام کو ماننے والے ، ایک اللہ کو قادر مطلق سمجھنے والے ، خود کو مسلمان کہنے والے اس قدر اخلاقی پستی کا شکار ہوتے جارہے ہیں کہ ہم جھوٹ بولنا حق سمجھتے ہیں ،ڈاکہ زنی لوٹ مار ، کسی مسلمان کا حق کھانا ، ناپ تول میں کمی کرنا ، والدین کی گستاخی کرنا ، کسی مسلمان کی چغلی اور غیبت کرنا ، کسی بھولے بھالے مسلمان پر بہتان لگانا ، الزام تراشی کرنا معیوب نہیں سمجھتے ؟ حالانکہ ہمیں ہمارا اسلام ان سب باتوں سے سختی سے منع کرتا ہے ۔ اسلام میں چغل خور کو شیطان کا بھاٸی کہا گیا ہے تو کہیں غیبت کو اپنے مردہ بھاٸی کا گوشت کھانے سے تشبیہ دی ہے ۔ کہیں دکھاوے کی مذمت کی گٸی ہے تو کہیں مسلمان کا راز فاش کرنے والے کو یہ کہا جارہا ہے کہ اگر وہ مسلمان کے کسی راز کو فاش کرے گا تو اللہ بھی اسے ذلیل و رسوا کر دے گا ، کہیں فضول خرچی سے منع کیا گیا ہے تو کہیں ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے واقعات بتا کر عبرت حاصل کرنے کی تنبیہ کی گٸی ہے ۔ کہیں چوری کی سزا ہاتھ کاٹنا رکھی گٸی ہے تو کہیں زنا اور شراب پر حد مقرر کی گٸی ہے ۔ اور بات مختصرا یہ کہہ دی گٸی ہے کہ وہ ہم میں سے نہیں جو چھوٹوں پر شفقت نہیں کرتا اور بڑوں کا ادب نہیں کرتا ۔ قصور وار کون ؟ کیا ہمارے معاشرے کے بگاڑ کی اصل وجہ ہم خود تو نہیں ؟ کیا ہم صرف نام کے مسلمان تو نہیں ؟ کیا ہم نے اسلام کا صرف نام سنا ہے یا اسلام کو پڑھا بھی ہے کہ اسلام کہتا کیا ہے ؟ اگر ہم ان چند سوالوں پر غور کریں توبات سامنے یہ آتی ہے کہ ہم صرف پیداٸشی مسلمان ہیں جنہوں نے اسلام کا صرف نام ہی سن رکھا ہے ۔ اگر ہم نے اسلام پڑھا ہوتا تو ہمیں پتہ ہوتا کہ اللہ دیکھ رہا ہے ۔ اور اللہ نے ہمیں چغلی ، غیبت ، بے حیاٸی ، شراب جوٸے ،چوری ، جھوٹ ، بہتان سے نا صرف منع کیا ہے بلکہ اس پر سخت وعیدیں بھی آٸی ہیں ۔ ہم لوگ یہ تو جانتے ہیں کہ ہمارے کیا حقوق ہیں لیکن یہ کبھی نہیں سوچا کہ ہمارے فراٸض کیا ہیں ۔ والدین اولاد کا حق دینے کو تیار نہیں تو اولاد والدین کو بوجھ سمجھ رہی ہے ، سسرالی رشتوں کے ساتھ جو ہمارا رویہ ہوتا ہے وہ تو اللہ کی پناہ ۔ ساس یہ تو چاہتی ہے کہ بہو بیٹی بنے لیکن خود بہو کو بیٹی سمجنے کو تیار نہیں ۔ اسی طرح بہو یہ تو چاہتی ہے کہ ساس سسر اپنی بیٹی سے زیادہ بہو کا خیال رکھیں لیکن بہو خود اپنے ساس سسر کو والدین کا درجہ دینے کو تیار نہیں ، عورتیں صرف اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کی بنا پر اپنے چھوٹے چھوٹے معصوم بچوں کے دلوں میں ان کی دادی ، پھوپھو ، چچا جیسے مقدس رشتوں کے لیے نفرت ڈال رہی ہیں جبکہ مرد اپنے بچوں کے سامنے اپنے بچوں کی امی ، اس کے والدین اور بہن بھاٸیوں کو برا بھلا کہتے ہیں جس کی وجہ سے اولاد کے دل میں ماں کے مقدس رشتوں کے لیے بغض اور نفرت پیدا ہوتی ہے ۔ اس طرح جب مرد اور عورت اپنے بچوں کے سامنے ایک دوسرے سے لڑاٸی جھگڑا کرتے ہیں تو بچے بھی والدین کی عزت و احترام کرنا چھوڑ دیتے ہیں ۔ جب والدین بچوں کے سامنے جھوٹ بولتے ہیں تو بچے بھی ایسی ہی تربیت پاتے ہیں ۔ ہم اپنی خود غرضی اور لالچ کی بنا پر اپنے خون پسینے کی کماٸی کو جھوٹی قسم اٹھا کر ، ناپ تول میں کمی کر کے ، اپنے ڈیوٹی کے گھنٹوں میں کمی بیشی کر کے حلال سے حرام میں بدل دیتے ہیں ۔ اور جب ہمارا کھاناپینا حرام ہوجاتے ہیں تو پھر ہمارے گھروں میں نااتفاقی ، ناچاکی اور نفرتیں جنم لیتی ہیں ۔ بیوی کو یہ پرواہ نہیں ہوتی کہ جس ساس کے خلاف وہ اپنے شوہر کے کان بھر رہی ہے وہ اس کے شوہر کی جنت ہے ایسی عورتیں اپنے ہم سفر اپنے مزاجی خدا کی جنت خود اپنے ہاتھوں برباد کر رہی ہوتی ہیں ۔ استاد اپنے فراٸض بھول کر بس اپنی تنخواہ کے چکروں میں پڑ چکے ہیں جس کی وجہ سے آج کے طالب علم کے پاس علم کا تو ذخیرہ ہوگا لیکن وہ تربیت سے بالکل خالی ہوگا ۔

    اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہم دنیا و آخرت میں اعلی مقام حاصل کر سکیں ۔ اپنے غموں اور پریشانیوں کا خاتمہ کر سکیںتو ہمیں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اسلام کا مطالعہ کر کے سچے پکے مسلمان بنیں اور پھر اسلام کو اپنی عملی زندگیوں میں نافذ کریں ۔ ہماری مشکلات کا حل صرف اور صرف اسلامی تعلیمات پر عمل سے ہی ممکن ہے اور اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے سے پہلے اسلامی تعلیمات کو جاننا ضروری ہے ۔ اللہ پاک ہمیں اسلام کو سمجھنے اور اسلام کو اپنی عملی زندگیوں میں نافذ کرنے کی توفیق عطا فرماٸے ۔
    آمین

  • مقبوضہ کشمیر میں مسلسل کرفیو سے بیرون ممالک کشمیریوں کی زندگی کیسے اجیرن ہوگئی ہے!!! تحریر: محمد عبداللہ

    مقبوضہ کشمیر میں مسلسل کرفیو سے بیرون ممالک کشمیریوں کی زندگی کیسے اجیرن ہوگئی ہے!!! تحریر: محمد عبداللہ

    مقبوضہ کشمیر میں جہاں کرفیو کے باون دنوں سے وادی کے لوگوں کی زندگی اجیرن ہوئی ہے، غذائی اشیاء کی شدید قلت ہے، شیر خوار بچوں کے لیے دودھ بھی میسر نہیں ہے، مواصلات کے سبھی ذرائع پر سخت قسم کی پابندیاں عائد ہیں جس کی وجہ سے بھارتی مسلح افواج کی بربریت اور کرفیو میں جاں بلب کشمیریوں کے نقصانات کا تخمینہ لگانا ناممکن سا ہوا پڑا ہے وہیں ایک بڑا مسئلہ اور نقصان ان کشمیری طلباء کا ہے جو وادی سے باہر مختلف ممالک میں زیر تعلیم ہیں.

    مزید پڑھیں کیا سوشل میڈیا پوسٹس اور ٹویٹر ٹرینڈز سے کشمیر آزاد ہوجائے گا؟؟؟ تحریر: محمد عبداللہ

    پچھلے تقریباً دو ماہ سے ان میں سے کسی کا بھی اپنے گھر والوں سے کسی قسم کا رابطہ نہیں ہے. ان کے پاس بجٹ پہلے ہی محدود ہوتا ہے وہ ختم ہوچکا ہے اور وہ فاقوں پر مجبور ہیں لیکن اس سے بڑا مسئلہ شدید قسم کی ذہنی اذیت ہے کہ کوئی اندازہ اور علم نہیں ہے کہ ان کے گھر والے کس کیفیت میں ہیں، زندہ بھی ہیں یا نہیں اور حالیہ آنے والے زلزلہ کے بعد تو دکھ کی یہ کیفیت مزید بڑھ گئی کہ اپنے والدین و بہن بھائیوں کی خیریت دریافت کرنا چاہتے ہیں مگر مواصلات، میڈیا، سوشل میڈیا غرض کے سبھی ذرائع کے بلیک آؤٹ کی وجہ سے وہ اس عمل سے قاصر ہیں.

    مزید پڑھیں مسئلہ کشمیر فقط زمین کے ٹکڑے کی لڑائی یا کچھ اور؟ ؟؟ محمد عبداللہ

    کشمیری خواتین کی سب سے بڑی جماعت دختران ملت کی سربراہ آسیہ اندرانی کے بیٹے احمد بن قاسم کا کہنا تھا "زلزلے کے بعد آپ اپنے گھر والوں کی خیریت دریافت کرنے کے لیے بے ساختہ فون اٹھاتے ہیں اور نمبر ڈائل کرتے ہیں مگر آپ بھول جاتے ہیں کہ کشمیر میں کرفیو ہے اور ہر قسم کی مواصلات پر پابندی ہے” اسی طرح آسیہ اندرابی ہی کے بھانجے اور کشمیر یوتھ الائنس کے صدر ڈاکٹر مجاہد گیلانی کا کہنا تھا "کہ پہلے تو ہماری خالہ کی خیریت دریافت ہوجاتی تھی مگر اب کرفیو اور مواصلات پر پابندی کی بدولت ہم کچھ بھی جاننے سے قاصر ہیں”. پاکستان کی مختلف یونیورسٹیز میں پڑھنے والے بے شمار کشمیری طلباء نے اپنی یہی کیفیت بتائی کہ وہ اپنے گھر والوں کی خیریت دریافت کرنے کو بے تاب ہیں مگر کوئی ذریعہ نہیں ہے. ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے گھر والوں نے اخراجات کے لیے کرفیو سے قبل جو رقم بھجوائی تھی وہ ختم ہوچکی ہے اور اب ہم فاقوں پر مجبور ہیں. ہزاروں کشمیری طلباء دنیا کے مختلف ممالک میں زیر تعلیم ہیں اور ہزاروں ایسے ہیں جو بسلسلہ روزگار بیرون ملک مقیم ہیں ان سب کی کیفیت یہی ہے کہ وہ اپنے گھر والوں سے رابطہ نہ ہونے کے باعث شدید قسم کی ذہنی اور قلبی اذیت کا شکار ہیں. کچھ دن قبل پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے سعودیہ میں مقیم ایک کشمیری نوجوان نے فریاد کی تھی کہ میرا اپنے گھر والوں سے کوئی رابطہ نہیں ہے اور میں ان کے بارے میں شدید پریشانی کا شکار ہوں. یہ ایک مثال تھی مگر کتنے ہی ہزاروں کشمیری طلباء اور مزدور جو بیرون ملک مقیم ہیں ایسے بھی ہیں جو اس ڈر سے میڈیا یا سوشل میڈیا پر آکر اپنی پریشانی اور کیفیت بیان نہیں کررہے کہ کہیں ان کے اس عمل کی وجہ سے ان کے گھر والوں پر کوئی آفت نہ آن پڑے. بھارت کی جانب سے باون دنوں کا مسلسل کرفیو اور ذرائع مواصلات پر پابندی وہ شدید قسم کی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے جس کا شکار بےچارے کشمیری ہو رہے ہیں ایسے میں انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوام متحدہ کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے اور بھارت پر زور دینا چاہیے کہ وہ کشمیر میں کرفیو کو ختم کرے اور ذرائع مواصلات پر عائد پابندیاں ہٹائے تاکہ بیرون ملک مقیم کشمیری اپنے پیاروں سے رابطہ کرکے ان کی خیریت دریافت کرسکیں.

    مصنف کے بارے مزید جانیے

    Muhammad Abdullah
    Muhammad Abdullah
  • زلزلے کیوں آتے ہیں : علی چاند

    زلزلے کیوں آتے ہیں : علی چاند

    قشر الارض سے تواناٸی کے اچانک اخراج کی وجہ سے زلزلہ پیدا ہوتا ہے ۔ تواناٸی کے اس اخراج کی وجہ سے قشر الارض کی ساختمانی تختیوں میں حرکت پذیری پیدا ہوتی ہے ۔ دوران حرکت یہ تختیاں آپس میں ٹکراتی ہیں جس کی وجہ سے زمین کے اوپر جھٹکے محسوس ہوتے ہیں جسے زلزلہ کہتے ہیں ۔ زلزلے کی جس پیمانے پر پیماٸش کی جاتی ہے اسے ریکٹر سکیل کہتے ہیں ۔جب زمين کی پليٹیں جو تہ در تہ مٹی، پتھر اور چٹانوں پر مشتمل ہوتی ہے کسی ارضياتی دباؤ کا شکار ہوکر ٹوٹتی يا اپنی جگہ چھوڑتی ہے تو سطح زمين پر زلزلے کی لہريں پيدا ہوتی ہيں۔ يہ لہريں دائروں کی صورت ميں ہر سمت پھيل جاتی ہيں۔ یہ لہرے نظر تو نہیں آتیں لیکن اب کی وجہ سے زمین کے اوپر ہر چیز حرکت کرنے لگتی ہے ۔

    یہ ایک حقیقت ہے کہ انسانی تاریخ میں جتنی تباہی زلزوں کی وجہ سے آٸی ہے اور کسی قدرتی آفت سے نہیں آٸی ۔ زلزلوں کی وجہ سے بہت سی اقوام صفحہ ہستی سے ہمیشہ کے لیے مٹ گٸیں ۔ زلزلے کے اثرات سیلاب ، وباٸی بیماریوں ، طوفان اور جنگوں سے کہیں زیادہ ہوتے ہیں ۔ صدیوں سے لوگوں کی زلزلے کے بارے میں مختلف راٸے رہی ہیں ۔ عیساٸی پادری کہتے تھے کہ یہ خدا کے گناہ گار بندوں کے لیے اللہ کی طرف سے سزا ہے ۔ قدیم جاپانی لوگوں کا نظریہ تھا کہ زمین کو ایک بہت بڑی چھپکلی نے اپنے اوپر اٹھایا ہوا ہے جب چھپکلی حرکت کرتی ہے تو زلزلے آتے ہیں ۔ ساٸبیریا کے قدیم باشندوں کا نظریہ تھا کہ زمین کو ایک برفانی کتے نے اپنے اوپر اٹھا رکھا ہے کتا جب اپنے جسم کو برف جھاڑنے کے لیے جھٹکتا ہے تو پھر زلزلے آتے ہیں ۔ قدیم امریکیوں کا کہنا تھا کہ زمین کو ایک کچھوے نے اٹھا رکھا ہے ۔ کچھوا جب حرکت کرتا ہے تو زمین حرکت کرتی ہے جسے زلزلہ کہتے ہیں ۔ ہندوٶں کے عقیدے کے مطابق زمین کو ایک گاٸے نے اپنے ایک سینگ پر اٹھا رکھا ہے جب وہ گاٸے زمین کو ایک سینگ سے دوسرے سینگ پر رکھتی ہے تو زلزے آتے ہیں ۔ قدیم یونانی فلاسفر کے مطابق زمین کے نیچے مردے آپس میں لڑتے ہیں تو تب زلزلے آتے ہیں ۔ افلاطون کے مطابق زمین کے اندر تند و تیز گرم ہواٸیں زلزلوں کا سبب بنتی ہیں

    اب ہم اسلامی نظرے سے اس بات کا جاٸزہ لیتے ہیں کہ زلزلے کیوں آتے ہیں ۔ قرآن پاک میں حضرت شعیب علیہ السلام کو زلزلے سے تباہ کرنے کی وجہ یہ بیان کی گٸی ہے کہ وہ قوم ناپ تول میں کمی کرتی تھی ؟ اسی طرح قارون کو اس کے خزانوں سمیت زمین میں دفن کرنے کی وجہ اس کی ناشکری بیان کیا گیا ہے ۔ احادیث کی روشنی میں زلزلے آنے کی چند وجوہات درج ذیل ہیں

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ”جب مال غنیمت کو دولت، امانت کو مال غنیمت اور زکاۃ کو تاوان سمجھا جائے، دین کی تعلیم کسی دوسرے مقصد سے حاصل کی جائے، آدمی اپنی بیوی کی فرمانبرداری کرے، اور اپنی ماں کی نافرمانی کرے، اپنے دوست کو قریب کرے اور اپنے باپ کو دور کرے گا، مساجد میں آوازیں بلند ہونے لگیں، فاسق و فاجر آدمی قبیلہ کا سردار بن جائے، گھٹیا اور رذیل آدمی قوم کا لیڈر بن جائے گا، شر کے خوف سے آدمی کی عزت کی جائے گی، گانے والی عورتیں اور باجے عام ہو جائیں، شراب پی جائے اور اس امت کے آخر میں آنے والے اپنے سے پہلے والوں پر لعنت بھیجیں گے تو اس وقت تم سرخ آندھی، زلزلہ، زمین دھنسنے، صورت تبدیل ہونے، پتھر برسنے اور مسلسل ظاہر ہونے والی علامتوں کا انتظار کرو، جو اس پرانی لڑی کی طرح مسلسل نازل ہوں گی جس کا دھاگہ ٹوٹ گیا ہو“۔
    ترمذی : کتاب الفتن

    ایک اور حدیث میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنھما فرماتی ہیں : جب شادی شدہ عورتیں بہک جائیں ، جب لوگ زنا کو حلال سمجھنے لگیں ، شراب پیے اور گانوں کی محفلیں سجنے لگیں تو اللہ تعالیٰ کو آسمان میں غیرت آتی ہے وہ زمین کو حکم دیتا ہے زمین میں زلزلے آنے لگتے ہیں ۔”

    ایک اور حدیث میں آتا ہے کہ ” جب لوگ پانچ قسم کی برائیاں کرنے لگتے ہیں تو ان کو پانچ طرح کے مصائب میں مبتلا کیاجاتاہے ۔ جب سود عام ہوگا تو زلزلے اور زمین میں دھنسنا عام ہوجائے گا ۔ جب اہل اقتدار ظلم کرنے لگیں گے تو بارشیں بند ہوجائیں گی ، جب زنا عام ہوجائے گا تو لوگ جلدی مریں گے ۔ جب لوگ زکوٰۃ دینے سے رک جائیں تو مویشی مرنے لگیں گے اور جب غیر مسلموں کے حقوق کی حفاظت نہ ہوگی تو وہ مسلمانوں پر غالب آجائیں گے ۔”

    ‏حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں مدینہ منورہ میں زلزلہ آیا۔آپ نے زمین پر اپنا درّہ مار کر فرمایا۔۔
    اقدی الم اعدل علیک قلتقرت من وقتھا “اے زمین ساکن ہو جا کیا میں نے تجھ پر انصاف نہی کیا”،زلزلہ فورا ختم ہو گیا اور زمین ٹھر گئ۔۔
    (ازالتہ الخلفا جلد دوئم صفحہ ۱۷۲))

    اس سب سے یہ ثابت ہوا کہ ہمیں اپنے نامہ اعمال کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ جہاں کشمیری بہنوں کی عزت لٹ رہی ہو۔اور قوم خاموش کھڑی ہو ۔ جہاں ناپ تول۔میں کمی عروج پر ہو ، قوم کو لوٹ کر کھاجانے والے حکمران ہوں اور صلاح الدین جیسے زہنی معذور پولیس تشدد سے شہید ہوجاتے ہوں ۔ جہاں رشوت خوری کا بازار گرم ہو ۔ شراب ، جوٸے اور بے حیاٸی کے کاروبار کرنے والے قوم پر مسلط ہوں ، جہاں ایمان والے دہشت گرد ٹھہراٸے جاٸیں اور ملک کے غدار با حفاظت ملک سے باہر بجھوادیے جاٸیں ، جہاں کتے تو عیش میں ہوں لیکن کتے کے کاٹے کی ویکسین نہ ملنے پر عوام جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ، جہاں ایک روٹی چوری کرنے والے کو تشدد کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا جاٸے اور بڑے بڑے چوروں کو لیڈر سمجھ کر ان پر جانیں قربان کی جاٸیں ، جہاں بے حیاٸی پھیلانے والوں کو سزا کی بجاٸے ایوارڈ دٸیے جاٸیں ، جہاں مسجدوں کے سپیکر تو بند کروا دٸیے جاٸیں لیکن شراب کے کاروبار کو تحفظ دیا جارہا ہو ، جہاں غریب ایک وقت کی روٹی کو ترستا ہو اور حکمران کہیں کہ لاکوں کی تنخواہ میں بھی گزارا نہیں ہوتا وہاں زلزے نہیں آٸیں گے تو اور کیا ہوگا ؟

    اللہ پاک مجھے ، آپ کو ، ہمارے حکمرانوں کو عقل سلیم عطا فرماٸے ۔ توبہ کرنے کی توفیق دے اور ہمیں ہمارے اعمال درست کرنے کی توفیق عطا فرماٸے ۔ آمین

  • ایسے ازم جو دنیا میں کافی مشہور ہیں خاص طور پر مسلمانوں میں۔ جواد سعید کا بلاگ

    ایسے ازم جو دنیا میں کافی مشہور ہیں خاص طور پر مسلمانوں میں۔ بقلم جواد سعید

    لبرلزم
    ۔آزاد پسندی کا نام ہے
    اسکا مقصد ایسا معاشرہ جس میں روداری ہو
    لبرل آدمی مذہبی تشدد اور معتدل راہ سے بھی ہلکا سوچتا ہے
    اسکا ماننا ہوتا ہے کہ معاشرے میں مسلمان ہے چاہے یہودی ہے عیسائی ہندو مجوسی ہے سب کو برابری کے حقوق حاصل ہیں اور وہ اپنی ذات معاملات عبادات میں آزاد ہیں ۔لبرل ہمیشہ مذہبی عقیدے سے جڑا ہوتا۔

    صوفی ازم
    بھی اسی طرح کی ہی سوچ رکھتا ہے۔اگر تو آپ کسی کو پیار سے اپنے انداز کلام مذہب سے مطمئن کر سکتے ہیں تو بہت اچھا ہے۔اگر کوئ نہیں مانتا تو اسے جہاں لگا ہو اسے ادھر چھوڑ دینا چاہئے ۔اسکے گناہ رب جانے وہ جانے۔یہ بھی معاشرے میں رواداری کے قائل ہیں ۔

    سیکولرزم
    کسی بھی ریاست سے مذہب کی چھاپ ختم کرنا
    یہ نظریے کیخلاف جنگ ہے جس میں تمام مذاہب سے علیجدگی اختیار کر کے عوام کیلئے قوانین بُنتے ہیں اس میں کسی بھی مذہب سے تعلق رکھنے والوں کو برابر جزا سزا سہولیات دی جاتی ہیں۔
    یہ جنگ صرف اسی صورت جائز سمجھتے کہ کوئ ظالم ظلم کرے یا کسی استحصال کے جواب میں۔اسکا حکمران چاہے جتنا مرضی کٹر ہو وہ مذہب پر کوئ آئین نہیں بنا سکتا
    لبرلز کا ماننا ہے کہ اگر کوئ اسلامی ریاست ہے تو وہ اسلامی رہے مگر حقوق سبھی کیلیے برابر رکھے
    جبکہ سیکولرزم ریاست کو کسی مذہب سے خاص کرنا ہی غلط سمجھتا

    فاشسٹ ازم۔صیہونی۔
    عام طور پر اسے یہودیوں سے خاص کیا جاتا ہے جبکہ اسکا تعلق سفاکیت سے ہے
    کوئ بھی مذہبی تشدد بندہ جو کہ اپنے جیسوں کے علاوہ کسی اور کا وجود برداشت نہ کرے اور نہ کسی کا نظریہ سنے سمجھے بس اسکا وجود ختم کرنے کے قائل ہوں
    پھر چاہے وہ صیہونی ہندو انتہا پسند ہو یا خارجی مسلمان یا عیسائی ۔سبھی صیہونیت کی اقسام ہیں

    الحاد۔ایتھیسزم
    یہ دین بیزاری کا نام ہے کہ یہ لوگ دنیا میں دین کو دیکھنا نہیں چاہتے۔نہ تو رب نہ رسول نہ کوئ مذہب۔نہ کوئ دستور نہ منشور
    انکی سوچ یہی ہے کہ یہ سارا نظام۔انسانی پیدائش سے لیکر مرنے تک دن رات کا چلنا سمندر دریا کا وجود موسم سورج چاند سیارےخودبخود اپنے طور پر چل رہا ہے۔اور آخر میں زمین خود انبیلنس ہونے کیوجہ سے پلٹ جائے گی ختم ہو جائے گی۔اسے قدرتی نظام کہتے ہیں اور انکے بقول ضروری نہیں کہ اس نظام کو خدا چلا رہا ہو۔
    ان میں رشتوں کا لحاظ تقدس نہیں ۔اگر کوئی دس بارہ افراد فیملی بن کر رہنا چاہیں تو الحاد اسے اخلاقیات کا نام دیتا ہے۔
    اور یہی ازم ہے جس کی آڑ میں سبھی ازم کو رگڑا دیا جاتا ہے۔
    پاکستانی لبرلز قابل تنقید ہیں کیونکہ پاکستانی لبرلز کو اپنے #ازم کے طور طریقے تک نہیں پتہ اور وہ اسی نام سے ہر ازم میں گھستے چلے جا رہے ہیں۔

    بقلم جواد سعید