Baaghi TV

Category: بلاگ

  • صرف 2 ماہ میں پورا ملک مسلمان–از–فردوس جمال

    صرف 2 ماہ میں پورا ملک مسلمان–از–فردوس جمال

    مالدیب بحر ھند میں واقع ایک سیاحتی ملک ہے،یہ ملک 1192 چھوٹے جزیروں پر مشتمل ہے جن میں سے صرف 200 جزیروں پر انسانی آبادی پائی جاتی ہے.

    مالدیب کی 100% آبادی مسلمان ہے جب کہ یہاں کی شہریت لینے کے لئے مسلمان ہونا ضروری ہے.

    عجیب بات یہ ہے کہ مالدیب بدھ مت کے پیروکاروں کا ملک تھا صرف 2 ماہ کے اندر اس ملک کا بادشاہ،عوام اور خواص سب دائرہ اسلام میں داخل ہوئے.

    مگر یہ معجزہ کب اور کیسے ہوا ؟

    یہ واقعہ مشہور سیاح ابن بطوطہ نے مالدیب کی سیاحت کے بعد اپنی کتاب میں لکھا ہے ابن بطوطہ ایک عرصے تک
    مالدیب میں بطور قاضی کام کرتے بھی رہے ہیں.

    وہ اپنی کتاب ‘ تحفة النظار في غرائب الأمصار وعجائب الأمصار ‘ میں لکھتے ہیں کہ
    مالدیب کے لوگ بدھ مت کے پیروکار تھے اور حد درجہ توہم پرست بھی اسی بدعقیدگی کے باعث ان پر ایک عفریت(جن) مسلط تھا،وہ عفریت ہر مہینہ کی آخری تاریخ
    کو روشنیوں اور شمعوں کے جلو میں سمندر کی طرف سے
    نمودار ہوتا تھا اور لوگ سمندر کے کنارے بنے بت خانہ میں ایک دوشیزہ کو بناؤ سنگھار کرکے رکھ دیتے وہ عفریت
    رات اس بت خانے میں گزارتا اور صبح وہ لڑکی مردہ
    پائی جاتی اور لوگ اس کی لاش کو جلاتے.

    عفریت کے لئے دوشیزہ کا انتخاب بذریعہ قرعہ اندازی ہوتا تھا اس بار قرعہ اندازی میں ایک بیوہ بڈھیا کی بیٹی کا نام
    نکلا تھا رو رو کر بڈھیا نڈھال ہوچکی تھی گاؤں کے لوگ بھی بڈھیا کے گھر جمع تھے ،دور سے آئے اس مسافر نے بھی
    بڈھیا کے گھر کا رخ کیا اس کے استفسار پر اسے سب کچھ بتایا گیا کہ عفریت کے مظالم کتنے بڑھ گئے ہیں.

    مسافر نے بڈھیا کو دلاسہ دیا اور عجیب خواہش کا اظہار کیا کہ آج رات آپ کی بیٹی کی جگہ بت خانے میں مجھے بٹھایا جائے،پہلے تو وہ لوگ خوف کے مارے نہ مانے کہ عفریت غصہ ہوئے تو ان کا انجام بد ہوسکتا ہے لیکن مرتا کیا نہ کرتا وہ راضی ہوگئے،مسافر نے وضو کیا اور بت خانے میں داخل ہو کر قرآن مجید کی تلاوت شروع کر دی

    عفریت آیا اور کبھی واپس نہ آنے کے لئے چلا گیا،لوگ صبح نہار بت خانہ کے باہر جمع ہوئے تاکہ لاش جلائی جا سکے لیکن مسافر کو زندہ دیکھ کر وہ سکتے میں آ گئے.

    یہ مسافر مشہور مسلم داعی،مبلغ اور سیاح ابو البرکات
    بربری تھے،ابو برکات کی آمد اور عفریت سے دو دو ہاتھ ہونے کی خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی بادشاہ نے
    شیخ کو شاہی اعزاز کے ساتھ اپنے دربار میں بلایا شیخ ابو برکات نے بادشاہ کو اسلام کی دعوت دی بادشاہ نے اسلام قبول کیا اور صرف 2 دن کے اندر مالدیب کے سب لوگ بدھ مت سے تائب ہو کر مسلمان ہوچکے تھے.

    یہ 1314ء کی بات ہے اس مبلغ اور داعی نے مالدیب کو اپنا مسکن بنایا لوگوں کو قرآن و حدیث کی تعلیم دی، ہزاروں مسجدیں تعمیر کیں،اور مالدیپ میں ہی فوت ہوئے اسی مٹی پر ہی دفن ہوئے.

    کہنے کو ابو البرکات بربری ایک شخص لیکن تنہا ایک امت کا کام کر گئے،آج بھی ان کو برابر اجر مل رہا ہوگا.

    صرف دوماہ میں پورا ملک مسلمان
    بقلم فردوس جمال!!!

  • ہندو کی فطرت اور حالات مسلم !!! تحریر: غنی محمود قصوری

    ہندو کی فطرت اور حالات مسلم !!! تحریر: غنی محمود قصوری

    اس وقت میں دنیا دوسرا بڑا مذہب اسلام اور تیسرا بڑا مذہب ہندو مت ہے یہ دنیا کا مشرک اور نجس ترین مذہب ہے اس کے تقریبا 3 کروڑ کے لگ بھگ خدا ہیں جن کی وہ پوجا پاٹ کرتے ہیں گائے ،بیل،بندر حتی کہ انسانی اعضاء مخصوصہ تک کی پوجا اسی مذہب میں کی جاتی ہے
    اس مذہب میں ایسی تقسیم ہے کہ خود ہندو بھی اپنے ہندو مذہب سے محفوظ نہیں
    ہمارے آباءو اجداد نے تقریبا 1 ہزار سال تک اس ہندوستان اور اس کے ہندوءوں پر حکومت کی لیکن تاریخ گواہ ہے آج دن تک کوئی ثابت نا کرسکا کہ کسی مسلمان بادشاہ یا سالار نے ہندوءوں سے ناروا سلوک کیا ہو بلکہ اسلامی شعائر کے مطابق بتائے گئے طریقے پر عمل کرتے ہوئے ان کو ان کی پوجا گاہیں اور رہائش گائیں فرائم کی گئیں ہندوستان بھر میں مغل دور حکومت میں قائم ہوئے مندر اس بات کی چیخ چیخ کر گواہی دے رہے ہیں کہ ہندوستان کے ہندو مسلمانوں کے غلام ہو کر بھی اپنی رسومات و رواج آزادانہ طریقے سے ادا کرتے تھے مگر اس کے برعکس ہندو کو جب بھی موقع ملا اس نے مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے اب چند دن قبل ہندوستان نے مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری قرار دے کر اپنی اندر چھپی خباثت ظاہر کر دی ہندوؤں کا ظلم مسلمانوں پر کشمیر میں ہو یا ہندوستان کے اندر اس میں نمایاں کردار انتہا پسند ہندو جماعتوں کا ہے جس میں سر فہرست RSS نامی متعصب ہندو جماعت ہے
    RSS راشٹریہ سیونک سنگھ ایک ہندو دہشت گرد تنظیم ہے
    جو کہ قیام پاکستان سے قبل ہی کیشوا بلی رام ہیڑ گوار کے زیر سایہ انڈین شہر ناگپور میں 1925 کو بنی یہ اتنی دہشت گرد تنظیم ہے کہ مسلمان سکھ عیسائی تو دور کی بات خود ہندو بھی اس سے محفوظ نہیں انگریز دور میں اس پر ایک بار جبکہ قیام آزادی کے بعد اب تک ہندوستان میں اس تنظیم پر دو مرتبہ پابندی لگ چکی ہے جبکہ امریکہ جیسا دہشت گرد اور دہشت گردوں کا سرپرست ملک بھی اس کو دہشت گرد تنظیم قرار دے چکا ہے مگر حیرت ہے کہ یہ تنظیم پھر بھی اپنی پوری قوت سے کام کر رہی ہے بلکہ اب تو اس نے باقاعدہ بھرتی سینٹر اور ٹریننگ سینٹر بھی کھولے ہوئے ہیں ماضی میں اس تنظیم کو انڈین گورنمنٹ کی طرف سے پابندیوں اور نظر بندیوں کا سامنہ کرنا پڑا مگر مودی سرکار کے آتے ہی اس تنظیم نے سرعام اپنا کام کرنا شروع کر دیا اور اب یہ تنظیم درحقیقت نریندر مودی کے زیر سایہ ہی چل رہی ہے اپنے قیام سے ہی یہ تنظیم 13 نکات پر کام کر رہی ہے
    1 بھارت کو خالص ہندو ریاست بنانا
    2 بھارت کا ترنگا درست نہیں اس کی جگہ بھگوا جھنڈا یعنی آر ایس ایس کا جھنڈہ لانا
    3 بھارت پر صرف ہندوؤں کا حق ہے لہذہ سیاسی و مذہبی جماعتیں صرف ہندوؤں کی ہی ہو اور ہندو ہی حکمران ہو
    4 بھارت میں صرف اور صرف ہندو قانون کا نفاذ جمہوری نظام کا رد
    5 مہاتما گاندھی کی جگہ ناتھو رام کا پرچار کیا جائے
    6 دلت ہندوؤں کو غلامی کی طرف دھکیلا جائے
    7 سپین کی طرف مسجدوں کی تعمیر پر پابندی لگائی جائے
    8 مسلمانوں اور سکھوں کے علاوہ اقلیتوں کو جبرا ہندو بنایا جائے
    9 بھارت کی بھاگ دور عدلیہ انتظامیہ اور دیگر تمام شعبوں پر صرف اور صرف ہندو برہمنوں کو آگے لایا جائے
    10 آر ایس ایس کے نزدیک برہمن خدا کا روپ ہیں سو برہمن کسی قسم کی سزا کا مستحق نہیں چاہے جو مرضی جرم کرے
    11 پولیس اور فوج میں اعلی عہدوں پر ہندوں برہمن جبکہ نچلی سطح پر دلتوں کو لایا جائے
    12 گائے کے تحفظ اور گائے کی پوچا کروائی جائے
    13 مسلمان عورت کے ریپ اور قتل کو جائز قرار دیا جائے
    دراصل مودی سرکار کا مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری قرار دینا آر ایس ایس کے ایجنڈے کے مطابق ہی ہے چونکہ مودی ایک متعصب اور انتہا پسند ہندو لیڈر ہے اس لئے وہ آج کشمیر اور ہندوستان میں مسلمانوں کے گرد گھیرا تنگ کئے ہوئے ہے مگر ان ظالموں کو پتہ نہیں کہ اللہ رب العزت قران مجید میں ارشاد فرماتے ہیں
    وَمَکَرُوْوَمَکَرَاللّٰہْ،وَاللّٰہُ خَیْرُالْمَاکِرِیْن
    ترجمہ_ایک چال یہ کافر چلتے ہیں اور ایک چال اللہ اور جان لو اللہ بہتر چال چلنے والا ہے
    ان شاءاللہ ہندوستان کی بربادی اور ہندوؤں کے مسلمان ہونے کا سبب بھی یہی دہشت گرد تنظیم آر ایس ایس اور ظالم متعصب مودی بنے گا ان شاءاللہ

  • اسرائیلی مظالم پر عالمی عدالت انصاف کا فیصلہ  تحریر: صابر ابو مریم

    اسرائیلی مظالم پر عالمی عدالت انصاف کا فیصلہ تحریر: صابر ابو مریم

    اسرائیلی مظالم پر عالمی عدالت انصاف کا فیصلہ
    تحریر: صابر ابو مریم سیکرٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان
    پی ایچ ڈی ریسرچ اسکالر، شعبہ سیاسیات جامعہ کراچی
    حال ہی میں عالمی فوجداری عدالت (International Criminal Court) نے اسرائیل کی جانب سے جنگی جرائم کے ارتکاب پر تحقیقات کرنے کا فیصلہ سنایا ہے جس کے بعد فلسطین کے مظلوم عوام نے امید اور خوشی کا اظہار کرتے ہوئے عالمی عدالت انصاف کے فیصلہ کو فلسطینیوں کی جاری جدوجہد آزادی کے لئے اہم قرار دیا ہے۔واضح رہے کہ سرزمین مقدس فلسطین پر غاصب صہیونیوں نے عالمی استعماری قوتوں برطانیہ اور امریکہ کی مدد سے سنہ1948ء میں ایک ناجائز اور جعلی ریاست اسرائیل کا قیام عمل میں لا کر فلسطینیوں پر بے پناہ مظالم کا سلسلہ شروع کر دیا تھا۔البتہ تاریخ فلسطین کا دقیق مطالعہ کرنے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ فلسطینیوں پر صہیونی مظالم کا سلسلہ پہلی جنگ عظیم کے بعد سے ہی شروع ہو گیا تھا اور صہیونیوں کے مظالم کی تاریخ کو آج ایک صدی سے زائد بیت چکا ہے لیکن فلسطین کے عرب باشندے اپنی ہی زمین کی تلاش میں ہیں اور اپنے ہی وطن جانے سے محروم ہیں۔غاصب صہیونیوں نے لاکھوں فلسطینیوں کو بے گھر کیا، جلا وطن کیا، ان کے گھروں کو مسمار کیا یا تو قبضہ کر لیا گیااور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے اور اس تمام مجرمانہ کاروائیوں میں صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کو دنیا کے سب سے بڑے شیطان امریکہ کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔
    عالمی عدالت انصاف کی جانب سے واضح طور پر اعلان سامنے آیا ہے کہ عالمی فوجداری عدالت اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں پر کئے جانے والے سنگین مظالم اور جرائم پر اسرائیل کے جنگی جرائم کے مرتکب ہونے پر تحقیقات کا آغاز کر رہی ہے۔اس بیان کے سامنے آتے ہیں جہاں فلسطینیوں نے خیر مقدم کیا ہے وہاں صہیونیوں کی غاصب جعلی ریاست اسرائیل نے عالمی عدالت انصاف کی توہین کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطینیو ں کے بارے میں عالمی عدالت انصاف کے پاس کوئی مینڈیٹ نہیں ہے۔دوسری جانب امریکی سیکرٹری پومپیو نے بھی ہمیشہ کی طرح سے امریکی شیطانی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے صہیونیوں کی غاصب اور جعلی ریاست اسرائیل کا ساتھ دینے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ فلسطینیوں کے بارے میں امریکہ یہ سمجھتا ہے کہ ان کی کوئی ریاستی حیثیت نہیں ہے۔
    دنیا یہ بات بخوبی جانتی ہے کہ یہی امریکہ اور برطانوی سامراج ہی تھا کہ جس کی پشت پناہی کے باعث صہیونیوں نے فلسطین کی سرزمین مقدس پر ایک ناجائز اور جعلی ریاست بنام اسرائیل قائم کی تھی اور آج امریکہ کھل کر فلسطینی عوام کے حقوق کی مخالفت کر رہا ہے۔یہی وہ نقطہ فکر ہے کہ جس کو آج دنیا کے باشعور اذہان کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ امریکہ کی دنیا بھر میں مخالفت اس لئے کی جاتی ہے اور امریکہ مردہ باد کے نعرے دنیا بھر میں اس لئے گونج رہے ہیں کہ امریکی حکومت نے دنیا کے لئے انسانی حقوق کی تعریف کچھ اور کر رکھی ہے جبکہ اپنے مفادات کے لئے او بالخصوص امریکہ کی ناجائز اولاد اسرائیل کے دفاع اور اس کے جرائم اور مظالم کی پردہ پوشی کرنے کے لئے انسانی حقوق کی تعریف کچھ اور ہے اور یہی وجہ ہے کہ فلسطینی عوام کو امریکی حکومت شاید انسانی حقوق کے زمرے میں لاتی ہی نہیں ہے۔
    امریکی سیکرٹری پومپیو کے فلسطین مخالف بیان نے دنیا پر ایک مرتبہ پھر یہ بات واضح کر دی ہے کہ دنیا بھر میں جہاں کہیں بھی دہشت گردوں اور دہشت گردی کی حمایت کی ضرورت ہو گی امریکی حکومت اور اس کے عہدیدار ہمیشہ ان کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔جیسا کہ پومپیو نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اسرائیل ایک ایسی ریاست ہے کہ جسے قانونی ریاست یا جائز ریاست تصور کر لیا جائے؟ سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ اسرائیل جس کے جرائم اور دہشت گردانہ کاروائیاں روزمرہ فلسطینیوں کے خلاف جاری ہیں ایسی دہشت گرد ریاست کی حمایت کرنے سے کیا امریکی حکومت نے امریکہ کی عوام کی تذلیل نہیں کی ہے؟امریکی عوام کو بھی چاہئیے کہ اگر وہ دنیا میں اپنے ملک کے خلاف نفرت کو کم کرنا چاہتے ہیں تو پھر امریکی حکومت کی ان تمام پالیسیوں کی مخالفت کریں جس کے باعث امریکہ مردہ باد کے نعرے دنیا بھر میں گونج رہے ہیں۔پوری دنیا پر یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو چکی ہے کہ اسرائیل کو تحفظ دینے کی خاطر امریکہ اور اسرائیل نے مسلم دنیا میں داعش جیسی دہشت گرد تنظیموں کی پرورش کی اور فلسطین کی مظلوم ملت کو گذشتہ ایک سو برس سے ظلم و بربریت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔کیا دنیا میں اسرائیل سے بڑی دہشت گرد کوئی قوت موجود ہے؟ اور کیا اسرائیل جیسی دہشت گرد قوت کی حمایت میں سب سے آگے امریکہ کے علاوہ کیا کوئی اور حکومت موجود ہے جو اسرائیل کا دفاع کرے؟
    خلاصہ یہ ہے کہ عالمی عدالت انصاف کی جانب سے فلسطینی عوام کے حق میں فیصلہ آ چکا ہے ا ب دیکھنا یہ ہے کہ ہمیشہ کی طرح امریکی حکومت عالمی اداروں کو بلیک میل کر کے انسانیت سوز مظالم کے مرتکب صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کی خاطر قوانین کی دھجیاں بکھیرے گی یا پھر اپنے دعووں کو سچا ثابت کرنے کیلئے انسانی حقوق کی اصل بنیاد کے ساتھ کھڑی ہو گی۔ظاہری طور پر امریکی سیکرٹری کے بیان سے یہی واضح ہو رہاہے کہ امریکہ اپنی ناجائز اولاد اسرائیل کے خلاف کسی قسم کی تحققات کئے جانے کے حق میں نہیں ہے۔اگر امریکی حکومت کا اسرائیل اور ظالموں کے تحفظ کے لئے یہی دستور ہے تو پھر دنیا کی تمام حریت پسند اقوام او ر فلسطین کی آزادی خواہی کے لئے سرگرم عمل قوتوں کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ امریکہ مردہ باد اور اسرائیل نامنظور کے نعروں سے اپنا احتجاج ریکارڈ کریں۔دنیا کی ظالم قوتوں کو یہ بات جان لینی چاہئیے کہ ظلم کی عمر زیادہ طویل نہیں ہوتی ہے اور بالآخر وہ دن قریب ہے کہ دنیا بھر میں مظلوم اقوام بشمول فلسطین، کشمیر، لبنان، عراق، شام، افغانستان، روہنگیا اور نیجیریا سمیت دیگر اقوام ان ظالم و جابر قوتوں کے ظلم و استبداد کو اپنے پیروں تلے روند ڈالیں گے اور وہ دن آئے گے او ہم دیکھیں گے لازم ہے کہ ہم دیکھیں گے۔

  • انصاف کا خون      ، تحریر : سید زید زمان حامد

    انصاف کا خون ، تحریر : سید زید زمان حامد

    انصاف کا خون ، تحریر : سید زید زمان حامد

    سیانے کہتے ہیں کہ اگراپنی صفوں میں غداروں کو تلاش کرنا ہو تو یہ دیکھیں کہ عین میدان جنگ میں اپنی ہی فوج کے خلاف کون کارروائیاں کررہا ہے، کون حملے کررہا ہے، کون اس کے حوصلے پست کررہا ہے، کون پیٹھ میں خنجر مار رہا ہے۔۔۔۔غدار کی صرف یہی نشانی ہے۔۔۔!

    یہ حقیقت ہے کہ کسی بھی دن بھارتی مشرک پاکستان پر حملہ آور ہوسکتے ہیں۔ کشمیر آتش فشاں بنا ہوا ہے، پورا ہند احتجاج کی آگ میں تہہ و بالا ہورہا ہے اور ہندو صیہونی آزاد کشمیر اور پاکستان پر حملے کیلئے تلواریں تیز کرچکے ہیں۔ ایسے میں مشرف فیصلے سے پوری فوج کو غدار قرار دینا کس قسم کی بے شرمی ہے۔۔۔؟

    یہ حقیقت ہے کہ پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ میں افتخار چوہدری جیسے ناپاک اور پلید، خوارج کے حمایتی جج موجود ہیں، کہ جن کی کیاری وہ خود لگا کر گیا تھا۔ مشرف فیصلے نے ثابت کردیا ہے کہ پاکستان پر ”عدالتی دہشت گردی“ بھی حملہ آور ہے۔ معاشی دہشت گرد، خوارج دہشت گرد اور ابلاغی دہشت گرد ہی کیا کم تھے کہ اب ایک نئی مصیبت ”قانونی دہشت گرد“ بھی پیدا ہوگئے، چاہے وکیلوں کی شکل میں ہوں یا ججوں کی۔

    یہ فیصلہ مشرف کے خلاف نہیں ۔۔۔ پوری پاک فوج اور ریاست پاکستان کے خلاف ہے!
    ذرا ان دو ججوں کی تحقیق تو کریں، کیا پس منظر ہے ان کا، کیا ماضی ہے، کیا کردار رہا ہے، کن کن دہشت گرد تنظیموں کے لیے یہ ”مسیحا“ بنے رہے ہیں، کتنے دہشت گردوں کو انہوں نے رہا کیا ہے، خوارج اور پی ٹی ایم سے ان کا کیا تعلق ہے۔۔۔سب کچھ سامنے آجائے گا۔۔۔!

    مشرف کیس کے شرمناک عدالتی فیصلے کے بعد اب عمران اور جنرل باجوہ کا امتحان شروع ہوتا ہے۔ پاکستان کے اندر موجود غداروں اور خائنوں کو بہت ز یادہ ڈھیل دینے کا نتیجہ اب یہ نکلا ہے کہ عین میدان جنگ میں پوری پاک فوج کو ہی بے عزت کرنے کی سازش کی گئی ہے، حوصلہ پست کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

    ایک ریاستی ادارے کی جانب سے پاک فوج کو غدار قرار دینا اور اپنے ان تمام ججوں کو بری کردینا کہ جنہوں نے جنرل مشرف کے تمام اعمال کو ”قانونی تحفظ“ فراہم کیا، نہ صرف بدنیتی ہے بلکہ بے شرمی اور بذات خود غداری ہے۔

    اب ججوں کا بھی احتساب ہونا لازم ہے، اور فوج کرے گی۔۔۔!

  • کیا قیامت ہے خود پھول ہیں غمازِ چمن…از … انشال راؤ

    کیا قیامت ہے خود پھول ہیں غمازِ چمن…از … انشال راؤ

    اگر دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت بھی دودھ کا رنگ کالا قرار دے دے اور اگر تمام لوگ دودھ کے رنگ کو کالا سمجھنا شروع کردیں تو دودھ کا رنگ کالا نہیں ہوجائیگا ہمیشہ سفید ہی رہنا ہے بالکل اسی طرح عدالت کے جانبدارانہ فیصلے میں ملک و ملت کے لیے تین تین جنگیں لڑنے والا، اللہ کے گھر (خانہ کعبہ) کا دفاع کرنے والا، ملک و ملت کو ترقی کی راہ پہ لے جانے والا محض اس بنا پہ غدار نہیں ہوسکتا کہ اس نے چند مفاد پرست سیاستدانوں کے مفادات پر قومی مفادات کو ترجیح دی تھی،

    خصوصی عدالت جتنا چاہے زور لگالے کاغذوں کے کاغذ کالے کردے، دلائل کے انبار لگالے مگر حقیقت کو تبدیل نہیں کرسکتی، سمجھ سے بالاتر ہے کہ عدالت کی طرف سے سپہ سالار پاکستان کے لیے غدار کا لفظ استعمال کیا گیا جس پر سب سے زیادہ شادیانے بھارت میں بجائے جارہے ہیں، ہندوتوا اینکرز چیخ رہے ہیں، ہندوتوا اخبارات چنگھاڑ رہے ہیں کہ دیکھو ہم نے کردکھایا وہ ایجنڈہ جو 1999 میں بھارتی ایجنسی را لیکر چلی اب پاکستانی ججز و وکلا کے ہاتھوں پورا ہورہا ہے جیسا کہ سابق بھارتی جنرل وی پی سنگھ نے اپنی کتاب "بھارت کے عسکری تنازعات اور سفارتکاری” میں بھارتی اہداف کا اظہار کیا کہ پاک آرمی کو بدنام کرنا، مورال ڈاون کرنا، دنیا میں تنہا کرنا اہم ترین ہدف رکھا،

    یہی وجہ ہے کہ افواج پاکستان کو ہر سطح پہ نشانہ بنایا جاتا آرہا ہے ایک طرف تو عالمی سطح پہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے کہ عسکریت پسندی کے پیچھے پاک فوج ہے جبکہ دوسری طرف عوام کے ذہنوں میں فوج مخالف سوچ پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جس میں اگرچہ دشمنان ملک و ملت کامیاب تو نہیں ہوپائے لیکن اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اس سازش کو کامیاب بنانے کے لیے ملک و ملت کو جو نقصان پہنچایا گیا اس کا ازالہ ممکن نہیں،

    بات ہورہی ہے کہ غدار کون؟ سب سے پہلے تو یہ تعین کیا جائے کہ غداری کسے کہا جانا چاہئے اور حب الوطنی کا پیمانہ کیا ہے؟ اس کا جواب انتہائی سادہ سا ہے کسی انسائیکلوپیڈیا یا کسی اور چیز کی مدد کی ضرورت نہیں، دنیائے تاریخ سے ثابت ہے کہ کوئی بھی دانستہ فیصلہ یا پالیسی یا راز لیک کرنا یا ملی حساس معلومات دشمنوں کو فراہم کرنا یا دانستہ دشمن کو فائدہ پہنچانا یا ایسا کام دانستہ طور پر کرنا جو ملک و ملت کے مفاد کے خلاف ہو یا ملک و قوم کے لیے نقصاندہ ہو غداری کے زمرے میں آتا ہے

    بچہ بچہ جانتا ہے کہ ملک و ملت کی فکر، مادر وطن کے لیے قربانی دینا، دشمن کی سازشوں کے آڑے آجانا، ملک و ملت کے لیے ہمہ وقت خود کو پیش کرنا حب الوطنی ہے اب اگر اس بنیاد پہ موازنہ کرتے ہیں کہ کون کیا ہے اس بات سے کون ہے جو واقف نہیں کہ بھارت و دیگر دشمن قوتیں پاکستان کے ایٹمی طاقت ہونے کی وجہ سے براہ راست جنگ نہیں کرسکتے لہٰذا پاکستان کو معاشی، معاشرتی اور سفارتی سطح پہ کمزور کرنے کے لیے داخلی و خارجی سطح پہ پاکستان کے خلاف محاذ گرم کردیا گیا

    جس میں سب سے زیادہ ٹارگٹ پاک آرمی رہی اور یہ راز کسی سے ڈھکا چھپا نہیں کہ پاکستان و پاک فوج کو عالمی سطح پہ بدنام کرنے میں بیرونی عناصر سے زیادہ اندرونی لوگ سرگرم ہیں جن میں کچھ سیاستدان، کچھ میڈیا پرسنز، کچھ کالے کوٹ والے اور کچھ نام نہاد سماجی کارکن سرفہرست ہیں، تاریخ گواہ ہے کہ اسلام کو جتنا نقصان میر جعفر و میر صادقوں نے پہنچایا اتنا نریندر مودی، بن گوریان یا نیتن یاہو نے بھی نہیں پہنچایا تھا اس ضمن میں اقبال نے کیا خوب کہا تھا کہ
    بوئے گل لے گئی بیرون چمن رازِ چمن
    کیا قیامت ہے کہ خود پھول ہیں غمازِ چمن

    کہ اپنے ہی غدار ہوتے ہیں جو مادر وطن کے راز بیرونی دشمن کی خوشنودی کے لیے دے دیتے ہیں اسی کے مصداق ڈان لیکس ہو یا خواجہ آصف کی امریکہ میں ایشیائی سوسائٹی کے سیمینار میں کی گئی تقریر، نوازشریف کے ممبئی حملوں کے حوالے سے دئیے گئے بیانات ہوں یا انٹرویو، بلاول کے وار ہوں یا کسی اور کے پروپیگنڈے جن کا سہارا لیکر دشمن قوتیں پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کا جواز بنانے کی کوششیں کرتی ہیں اور اس سوچے سمجھے منصوبے کا اصل ہدف نشانہ پاک آرمی ہی ہے

    اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ پاک آرمی انکل امریکہ کے ڈو مور کا جواب نومور سے دیتی ہے جس بنا پر عالمی قوتیں کسی بھی قیمت پر پاک فوج کی حیثیت پولیس کے مترادف کرنا چاہتی ہیں جسکے لیے ایک بار پھر آزمایا ہوا کارتوس چھوڑا گیا ہے جیسے 2007 میں عدلیہ بحالی کی آڑ میں کالے کوٹ کو استعمال کیا گیا بالکل اسی طرح ایک بار پھر وہی کالا کوٹ استعمال کیا جارہا ہے یاد رہے کہ 2007 کی عدلیہ بحالی تحریک امریکی پالیسی برائے Regime Change in Pakistan یعنی پاکستان میں اقتدار کی تبدیلی کے لیے بطور آلے کے استعمال ہوئی،

    امریکہ کی یہ پالیسی کامیاب رہی کہ مشرف کے بعد پاکستان میں جو دہشتگردی کا بازار گرم ہوا وہ رب العزت کسی اور قوم کو نہ دکھائے، اس کے علاوہ لاقانونیت، کرپشن و لوٹ مار کے ریکارڈ توڑ دئیے گئے اور قرضوں کے انبار لگادئیے گئے جس کا مقصد ایٹمی ہتھیاروں سے ہاتھ اٹھوانا اور جغرافیائی تقسیم تھا لیکن پاک فوج نے اسے دوسرے دور میں ناکام بنادیا تو اب ایک بار پھر اسی اقتدار کی تبدیلی والی پالیسی کے تحت پاکستان میں افواج پاکستان کو کمزور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور کچھ میڈیا پرسنز اس سازش کا حصہ ہیں،

    زرا سوچئے کہ مشرف ان کے نزدیک ایمرجنسی نافذ کرنے کی وجہ سے غدار جبکہ اربوں کھربوں لوٹنے والے، راز دینے والے، مختلف بیانات و انٹرویوز سے پاکستان کو بدنام کرنے والے محب وطن ہیں، زرا سوچئے مشرف تو ایمرجنسی لگا کر غدار ٹھہرا لیکن سیاستدان لاکھوں نااہل افراد کو میرٹ کی دھجیاں اڑا کر بھرتی کرکے آئین پاکستان کے مطابق اختیارات کا ناجائز استعمال کرکے، من پسند ٹھیکے دیکر اور کچھ صحافیوں کو مالا مال کرکے محب وطن، حال ہی میں جنرل باجوہ کی ایکسٹینشن کو متنازعہ بنایا گیا اور اب مشرف کو غدار لکھا گیا

    اس عدالتی فیصلے کی حیثیت بالکل ایسے ہی ہے جیسے موصوف جج صاحبان طاقت کے نشے میں شراب کو حلال قرار دیکر سوچنے لگیں کہ شراب جائز ہوگئی، جس طرح شراب کو ساری دنیا حلال سمجھنے لگے تو حلال نہیں ہوجاتی اسی طرح امریکی اخبار سے Bitches Of The Riches کا خطاب پانے والی عدلیہ کی طرف سے کرپٹ مافیا کو بری و ڈھیل دینے سے وہ پاک صاف نہیں ہوجائینگے خیر قصہ مختصر کہ ایک بار پھر کالے لباس والی سرکاریں کسی خفیہ طاقت کے اشاروں پر ایکٹیو ہوگئی ہیں جوکہ افواج پاکستان کو ٹارگٹ بناکر کبھی پورہ نہ ہونے والے خواب یعنی کہ فوج کو پولیس کی طرح بنانے کی سازش کا حصہ ہیں۔

    آرزوئے سحر
    تحریر: انشال راؤ
    عنوان: کیا قیامت ہے خود پھول ہیں غمازِ چمن

  • اگر کوئی یہ سوچتا ہے …کہ فوجی موت سے  ڈرجائے گا…..از…صابرحسین

    اگر کوئی یہ سوچتا ہے …کہ فوجی موت سے ڈرجائے گا…..از…صابرحسین

    اگر کوئی یہ سوچتا ہے
    کہ آئین شکنی کی سزا سنگین غداری قرار
    دیکر اس پر سزائے موت سے کوئی فوجی ڈر جائے گا ،تو وہ عقل کا انا ہے
    کیونکہ فوجی موت سے نہیں ڈرتا ،حقیقت میں فوج میں بھرتی ہونے والا

    ہر مرد و زن یہ سوچ کر داخل ہوتا ہے کہ پہلی ترجیح موت ہے
    بارڈر پر کھڑآ سپاہی کسی انجان گولی کا نشانہ بن سکتا ہے

    جہاز میں اڑنے والا پائلٹ ہزاروں پرزوں میں سے کسی ایک پرزے کی وجہ
    سے جان سے جا سکتا ہے ،سمندر کی تہہ میں لیٹی سب میرین پانی کے دباؤ
    سے پھٹ سکتی ہے اور درجنوں کی جان لے سکتی ہے ،کوئی فریگيٹ
    کسی چٹان سے ٹکر کر پاش پاش ہو سکتا ہے اور محافظ وہیل کا نوالہ بن
    سکتے ہیں

    کمیشن لیا ،اعزازی تلوار لی ،پہلی ہی پوسٹنگ آرمڈ ڈویژن میں ہوتی ہے
    چند مہینوں بعد جنگ میں جاتا ہے جلتے ٹینک سے لوگوں کو اور بمبوں
    کو نکالتا ہے ،

    پھر تیسرے دن شیل لگنے سے زحمی ہوتا ہے کماد کے کھیت
    میں دو دن اکیلا پڑآ رہتا ہے ،ایک سپاہی اٹھا کر لاتا ہے ،پھر 71 کی جنگ
    لڑتا ہے ،کمانڈو کورس کرتا ہے ،

    انتہائي حساس اور خطرناک مشن مکمل
    کرتا ہے ،خانہ کعبہ کو خارجیوں سے پاک کرتا ہےگولیوں کی بوچھاڑ میں زںدہ بچ جاتا ہے ،عمدہ کارکردگي پر میجر جنرل بنتا ہے،مری میں ہوتا ہے جی ایچ کیو طلب کیا جاتا ہے ہیلی کاپٹر بھیجا جاتا ہے ،گآڑی لیکر نکل پڑتا ہے ،لانے والا ہیلی کاپٹر واپسی پر کریش ہو جاتا ہے دو پائلٹ شہید ہو جاتے ہیں لفٹننٹ جنرل بنتا ہے ،

    منگلہ کا کور کمانڈر بنتا ہے جی ایچ کیو طلب کیا جاتا ہے ،جیب لیکر پنڈی کی طرف چلتا ہے ،لانے والا ہیلی کاپٹر دوسرا کریش ہو جاتا ہے دو پائلٹ شہید ہو جاتے ہیں ،کور کمانڈر کانفرنس ہوتی ہے ملک میں صدر اور وزیراعظم کا جھگڑا چل رہا ہوتا ہے ،میٹنگ میں کہتا ہے ہمیں وزیراعظم کا ساتھ دینا چاہیئۓ ،یہ بات نواز شریف کو پتہ چلتی ہے وہ آرمی چيف بنا دیتا ہے ،جب نواز شریف کو پتہ چلتا

    ہے یہ تو پکا محب وطن ہے درباری نہیں تو اسے خطرہ محسوس ہوتا ہے کارگل ہوتا ہے انڈیا کی چیخيں نکال دیتا ہے ،انڈیا اور کلنگٹن کہتے ہیں اسکو ہٹاؤ ،سری لنکا جاتا ہے واپسی وزیراعظم براہ راست حکم دیتا ہے جہاز کو مت لینڈ کرنے دو
    اور ایک انجینئر کو جو درباری ہوتا ہے ضیا الدین بٹ کو آرمی چيف بنا دیتا ہے

    فوج مارشل لاء لگآ دیتی ہے ،پنڈي میں خود کش حملہ ہوتا ہے ایک پولیس انسپکٹر
    کی لاش اڑ کر مشرف کی فرنٹ شیشے پر آ لگتی ہے لیکن بچ جاتا ہے ،دوسرا حملہ جھنڈا چیچي کے مقام پر ہوتا ہے جیمر کی وجہ سے بم لیٹ پھٹتا ہے اور اتنا طاقتور بم کے پل کے کنکریٹ کے ٹکڑے مشرف کی گآڑی کو آ لگتے ہیں پھر بچ جاتا ہے ،

    پھر کراچي میں دو کنٹینرز میں ہزار ہزار کلوگرام بارودی مواد بھر کر
    سڑک کے دونوں طرف کھڑے کے دیئے جاتے ہیں ،ان کے درمیان سے گزر جاتا
    ہے انکی ریموٹ کنٹرول ریسیور کی تاریں خود بخود کھل ہوئی پائی جاتی ہیں

    پھر بچ جاتا ہے ،طلال بگثی نے ایک کروڑ سر کی قیمت رکھی طلال نہیں رہا
    عبد الرشید نہیں رہا ،بیت اللہ ،حکیم اللہ نہیں رہے ،ہر دشمن بم سے پھٹا کئي تو ایسے مرے کہ بیوی اور بیٹوں کو دو سال بعد پتہ چلا کہ اماں بیوہ ہے دو سال سے

    اللہ نے ہر قدم پر حفاظت کی ،ذاتی کردار کیا ہے اللہ کو معلوم ہے ،لیکن ایک بات
    یہ صابر حسین قسم کھا کر کہتا ہے ،اس نے ہمیشہ ملک کا بھلا کیا ،بھلا سوچا
    ایک دس روپئے کی کرپشن کا الزام نہیں
    اور حب الوطن کا سب سے بڑا ثبوت انڈیا اور امریکا آج خوش ہیں

    فوجی موت سے نہیں ڈرتے ،اور نہ کوئي جنرل اس وجہ سے رک جائۓ گآ کہ سزا موت ہے اور نہ مشرف کو سزائے موت ہوگي ،یہ خام خيالی اور اصل غداروں
    کی خوش فہمی تو ہو سکتی ہے حقیقت نہیں

    انگریز نے جو پودا 1925 میں لگآیا تھا ،جب کوئی مسلمان ملک یا راہنما قابو نہیں آتا تو 1925 والے پالتو ان پر چھوڑ دیتا ہے وہ پھر مسلمانوں کو قتل کرکے اسکو
    جہاد کہتے ہیں ،بارش کے بعد پتنگوں کی طرح آج پھر نکلے ہیں
    تانے بانے دیکھو ،پوسٹیں دیکھو ،وڈے انسانیت کے ہمدرد دیکھو

    اگر کوئی یہ سوچتا ہے …کہ فوجی موت سے ڈرجائے گا…..از…صابرحسین

  • ناداں گر گئے سجدے میں،متنازعہ شہریت بل پرمذہبی وسیاسی قیادت کی غفلت کوعیاں کرتی ..تحریراز..ثاقب سبحانی

    ناداں گر گئے سجدے میں،متنازعہ شہریت بل پرمذہبی وسیاسی قیادت کی غفلت کوعیاں کرتی ..تحریراز..ثاقب سبحانی

    ایم اے جواہر لال نہرو یونیورسٹی

    جے این یو ،جامعہ اے ایم یو اور مختلف یونیورسٹیز کے جیالوں تمہاری عظمتوں کو سلام ۔
    تمہاری بہادری و بے خوفی و بے باکی کو سلام ۔
    تمہاری اسلام سے محبت کو ہزاروں سلام۔
    تمہارے جذبۂ ایمانی حرارت ایمانی کو ہزاروں سلام ۔

    تم نے وہ کارنامہ انجام دیا ہے جس کو مورخ سنہرے قلم سے سنہری روشنائی سے قرطاس زریں پر تحریر کرے گا ۔
    زمانہ تمہارے کارنامے کو سالہا سال عقیدت کی نظر سے دیکھے گا۔

    جامعہ اور علی گڑھ کی بہنوں نے اپنی حمیت اسلامی کا ایسا شاندار مظاہرہ کیا کہ انہوں نے مردوں کو مُردوں میں بدل دیا۔ بزدلی کی خزاں کو امید کی بہادری کا لبادہ پہنادیا ۔ مایوسی کی تیرگی کو اجالوں کا پیرہن پہنادیا ۔ مردوں کے ہاتھ سے زندگی کی شمشیریں چھین کر انہیں چوڑیاں پہنادیں۔

    میری بہنوں تم نے مصر کی زینب الغزالی کی شجاعت کی یاد تازہ کردی ۔ الجیسیا کی جمیلہ بو پاشاہ کی دلیری کی یاد تازہ کردی ۔ تم نے لیلیٰ خالد کی جانبازی کی یادوں کی شمع کو پھر فروزاں کردیا ۔ تم نے حضرت صفیہؓ کی جرأت رندانہ کو پھر یاد دلادیا۔
    آفریں صد آفریں!

    آج اسلام کو ایسی ہی دختران کی ضرورت ہے جو ا پنے آنچل کو پرچم انقلاب بنالیں۔ جو اپنے ڈوپٹے کو ا پنا کفن بنالیں۔
    کم ہمتی بزدلی، ایمان فروش ضمیر فروش، مفاد پرست ، مفادات ملی کے سوداگروں کی زندگی گیدڑوں کی زندگی ہوتی ہے ۔ شیرنیوں کی طرح جینا تو تم نے سکھادیا۔
    زندہ باد ۔ زندہ باد

    اللہ کے شیروں نے حق گوئی و بیباکی بھول کر روباہی کی زندگی سیکھ لی ہے، اور اپنے چہروں پر مصلحت پسندی کا گھونگھٹ ڈال لیا ہے، انہوں نے اپنے ضمیر کا سودا کرلیا ہے۔
    جو قال اللہ اور قال الرسول کا درس دیتے تھے۔

    جو وَمَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ کی تفسیر کرتے تھکتے نہیں تھے۔
    جو شاملی کے میدان کے رن کو اس طرح بیان کرتے تھے، جیسے بنفس نفیس وہ خود اس میں شریک رہے ہوں۔
    جو معرکہ بالاکوٹ کے خود کو پشتینی وارث سمجھتے تھے۔
    جو خود کو سید احمد شہید کے خاندان سے ہونے کا بلند دعوی کرتے تھے۔
    جو اپنے آپ کو انبیا کا وارث شمار کراتے تھے۔
    جو الجهاد كلمة حق عند سلطان جائر کی عملی تفسیر پیش کرنے کا ببانگ دہل دعویٰ کرتے تھے۔
    جو پینٹ شرٹ والوں کو نجس سمجھتے تھے آج یہی ان کے اور ان کی آنے والی نسلوں کے لیے سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے ہوگئے ہیں۔

    جن یونیورسٹیز اور کالجز کی طالبات کو یہ ترچھی نگاہوں سے دیکھتے تھے، آج وہی اسلام کی حفاظت کے لیے نکل کھڑی ہوئی ہیں۔

    یہ ناداں گر گئے سجدوں میں جب وقتِ قیام آیا
    ان نام نہاد مصلحت پسند قائدین کو اتنی موٹی بات سمجھ نہیں آتی……
    جب اسلام ہی نہیں رہے گا اس دیش میں تو تم مدارس اور خانقاہیں لے کر کیا کروگے؟
    جب تمہارا وجود ہی خطرے میں پڑجائے گا تو تم ایسے دسیوں مسلم پرسنل لا کیا کروگے؟
    جب تم ہی نہیں رہوگے تو امارات کا لے کر کیا کروگے؟
    جب تمہارے بچے ہی نہیں رہیں گے تو تم دارالعلوم، ندوہ اور سلفیہ میں کسے پڑھاؤگے؟
    حرم فروش فقیہوں کے حوض کوثر سے
    مغنیہ کے لبوں کی شراب بہتر ہے
    (آغا شورش کاشمیری)

    شیخ الہند رح کی یہ عبارت بار بار پڑھیے اور نام نہاد قائدین کا جائزہ لیجیے۔
    اے نونہالانِ وطن! جب میں نے دیکھا کہ میرے اس درد کے غم خوار (جس سے میری ہڈیاں پگھلی جا رہی ہیں) مدرسوں خانقاہوں میں کم اور سکولوں اور کالجوں میں زیادہ ہیں تو میں نے اور میرے چند مخلص احباب نے ایک قدم علی گڑھ کی طرف بڑھایا اور اس طرح ہم نے ہندوستان کے دو تاریخی مقاموں (دیوبند اور علی گڑھ) کا رشتہ جوڑا۔

    چراغِ مصطفویؐ سے شرارِ بولہبی پھر ایک بار ٹکرانے والا ہے۔ عصائے موسیٰ اور فرعون کے اژدہوں کی پھر ٹکر ہونے والی ہے ۔حق وباطل کے معرکے بگل بج چکا ہے۔

    کیب دونوں ایوانوں میں پاس ہوکر، صدر جمہوریہ کی دستخط سے بالآخر ہندوستانی ایکٹ(CAA) بن چکا،جس کی میں سارا ہندوستان آج سڑک پہ جا اترا ہے، یہ کوشش مختلف یونیورسٹیز کے طالب علموں سے شروع ہوئی اور ہوتے ہوتے پورے ملک کے پھیل گئی اور اس کی مخالفت میں لوگ سڑکوں پہ آگئے،

    اس کی مخالفت میں دار العلوم کے طلبہ نے بھی احتجاج میں حصہ لیا اور جی ٹی روڈ جام کیا، پولیس افسران نے جب دار العلوم کی انتظامیہ سے سوال کیا، تو وہ بھیگی بلی بن گئے اور سیدھا مکر گئے کہ وہ ہمارے بچے نہیں تھے، ناظم دار الاقامہ منیر صاحب نے اجازت دے دی کہ آپ ان پر لاٹھی چارج کر سکتے ہیں اور مہتمم صاحب نے بتلایا کہ سڑکوں کو جام کرنا غیر اسلامی ہے۔

    بھائی آپ تو اسی احتجاج، مظاہرہ اور پروٹیسٹ کی پیداوار ہیں، اگر یہ غیر اسلامی ہے تو آپ بھی اپنے عہدے سے استعفیٰ دیدیجیے، کیوں کہ یہ عہدہ بھی آپ کو اسی احتجاج اور مظاہرے کے سبب ملی ہے۔

    مجھے یاد پڑتا ہے کہ اہتمام ملنے کے چند دن کے بعد بھورا سویٹس والے سے طلبہ دار العلوم کی کچھ جھڑپ ہوئی، بات انتظامیہ تک پہنچی، مغرب بعد مسجد رشید میں جلسہ بلایا گیا، اس میں مہتمم صاحب نے کہا کہ اب تک جو ہو چکا وہ ہو چکا؛ آج سے کسی اسٹودینٹس یونین کا وجود نہیں رہے گا اور جو اس میں ملوث پایا گیا، اس کا بلا چوں چرا اخراج کردیا جائے گا، اسی اسٹودینٹس یونین نے آپ کو تخت اور گدی تک پہنچایا، آپ نے ایک دون کے اندر بہانہ ڈھونڈ کر اسے ہی ختم کردیا کہ کل کہیں یہی طلبہ ہمارے خلاف متحد نا ہوجائے۔

    سب تاج اچھالے جائیں گے
    سب تخت گرائے جائیں گے۔
    دوسری طرف ارشد مدنی صاحب ہیں، جو دوران درس، جلسوں اور تقریروں میں اپنے ابا شیخ الاسلام حسین احمد مدنی رح کی بہادری اور انگریزوں کے سامنے ان کی جرات و بے باکی کے قصے سناتے نہیں تھکتے، جب ایک بار پھر یہ انگریز اور ساوکر کی اولاد ان سے وہی قربانی اور بہادری دہرانے کو کہا، تو حضرت گوشہ نشیں ہوگئے۔
    ‏باپ کا علم نہ بیٹے کو اگر ازبر ہو
    پھر پسر صاحبِ میراثِ پدر کیونکر ہو ؟؟

    ایک ہیں محمود مدنی صاحب جو ہمیشہ اپنے متنازع بیان کی وجہ سے سرخی میں رہتے ہیں، جب گورنمنٹ نے کشمیر پہ لاک ڈاؤن کیا تو حضرت کو اتنی پریشانی ہوئی کہ حضرت نے جنیوا میں جاکر گورنمنٹ کے اشتراک سے اردو میں کانفرنس کیا اور حکومت کے موقف کو سراہا، جب گورمنٹ نے کیب کو لانا چاہا، تو انہوں نے اسے سراہا اور مستحسن قرار دیا، جس کے نتیجے میں حضرت کو ایل سی ٹی گھوٹالے میں ضمانت ملی ہے اور آج جب سارے لوگ سڑکوں پہ اتر گئےاور دباؤ بنایا تو تو احتجاجی ریلی کی کال دی اور اسے غیر دستوری قرار دیا۔

    شرم تم کو مگر آتی نہیں۔
    مجھے یاد پڑتا ہے کہ 2010-2011 کی بات ہوگی میں دار العلوم میں داخلہ کے لیے گیا ہوا تھا، رمضان کا مہینہ تھا، مسجد رشید میں ہم طلبہ اپنی تیاری کررہے تھے ہم چند طلبہ نے مسجد رشید میں ہی اپنی سورہ تراویح پڑھ لی تھی، حضرت 27 پارہ تراویح میں سنارہے تھے، جب سورہ رحمن کی آیت يُعْرَفُ الْمُجْرِمُونَ بِسِيمَاهُمْ فَيُؤْخَذُ بِالنَّوَاصِي وَالْأَقْدَامِ پہ پہنچے،

    حضرت آیت کو بار بار دہراتے رہے اور روتے رہے اتنا روئے کہ آواز میں گھگی بندھ گئی اور ایک سما طاری ہوگیا سارے متوسلین معتکفین اور مصلیین رونے لگے، ہم طلبہ بھی رونے لگے.. اور عقیدت کی مالا اپنے گلے میں ڈال لی. وہ تو اچھا ہوا کہ داخلہ ہونے کے بعد جب پرانے طلبہ سے اس واقعہ کا ذکر کیا،

    انہوں نے کہا کہ پگلے یہ سب مولویوں کے ڈھکوسلے ہیں چونکہ ان سے پہلے ان کے ابا فدائے ملت رح یہاں مسجد رشید میں رمضان میں خانقاہ لگاتے تھے، تو اب ان کی جگہ انہوں نے لے لی ہے تو کچھ تو کرنا پڑے گا نا انہیں اپنے قابو میں کرنے کے لیے، یہ ابو زید سروجی (ابو زید سروجی کے نام کا استعمال اعلی درجہ کی منافقت کے لیے کیا جاتا ہے) کے بھی دادا ہیں میں نے ناک بھوں چڑھائی، تو اس نے کہا کہ سارا مطلع دھیرے دھیرے صاف ہوجائے گا، کچھ وقت لگا الحمد للہ دارالعلوم کے زمانے میں ہی سارا مطلع صاف ہوگیا۔

    اور ایک عالم دین ہیں امیر شریعت جی جنہوں نے لاکھوں لوگوں لوگوں سےطلاق کے نام پہ چندہ لیا، اپنی طاقت دکھانے کے لیے انہیں سڑکوں پہ اتارا اور ایک ایم ایل سی کی ٹکٹ کے عوض ساری قوم کا سودا کردیا حضرت جی اتنے بڑے شیر ہیں کہ ایک دو اردو نیوز چینل کے بونے رپورٹرز کو بلاتے ہیں، چیخ چلاتے ہیں ان پر اور شیر بن کر بل میں گھس جاتے ہیں۔
    وہ زہر دیتا تو سب کی نگاہ میں آجاتا،

    سو یہ کیا کہ مجھے وقت پہ دوائیں نہ دیں۔
    اور ایک ہیں اصغر علی امام مہدی سلفی جو ابن الوقت، بے غیرت، بزدلی اور ضمیر فروشی کے لیے جانے جاتے ہیں، جنہوں نے حال ہی میں 370 کی تائید کے دوران ہندوستان کو سارے دنیا کا باپ کہا ہے، کسی بل میں جا گھسے ہیں۔
    اے مجھ کو فریب دینے والے،میں تجھ پہ یقین کر چکا ہوں۔

    ایک ہیں مقر آتش فشاں سلمان صاحب جو یمن پر سعودی ظلم وستم، فلسطین پر صہیونی زیادتی اور شام پر بشار الاسد کی درندگی مصر پر السیسی کی ڈکٹیٹر شپ اور لیبیا تیونس پر ظلم و زیادتی اور عالم اسلام کی خاموشی پر ہر جلسہ میں ایمانی حمیت کا چورن بیچتے نہیں تھکتے تھے اور لگتا تھا کہ حضرت جی کے بس میں نہیں ہے اگر حضرت کے پاس وہاں کی شہریت ہوتی تو ابھی جاتے اور نوجوانوں کو لے کر رن میں کود پڑتے؛ یہ ایسے بزدل ڈھکوسلے باز ثابت ہوئے کہ جب خود اپنی سر زمین پر طاغوتی طاقتوں سے مقابلہ کرنے کا وقت آیا تو بھیگی بلی بن گئے ؛فیسبک کے ذریعے ویڈیو اپلوڈ کرتے ہیں اور امت کے نوجوانوں کو راستہ دکھاتے ہیں، تففف ہے۔
    تو بھی سادہ ہے کبھی چال بدلتا ہی نہیں ،
    ہم بھی سادہ ہیں اسی چال میں آ جاتے ہیں۔

    تفف ہے ایسے قائدین پر جو اسٹیج پر آتے ہی ببر شیر بن جاتے ہیں اور ایمانیات، اور مجاہدات کا جعلی چورن بیچتے ہیں اور جب وہی جعلی چورن انہیں کھانے کے لیے کہا جاتا ہے، تو چیں بہ جبیں ہوتے ہیں۔
    اے طائر لاہوتی اس رزق سے ہے موت اچھی
    جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی۔

    میں عموماً قائدین پر لکھنے سے بچتا ہوں لیکن اب کیا کیا جائے سو……
    رکھیو غالبؔ مجھے اس تلخ نوائی میں معاف
    آج کچھ درد مرے دل میں سوا ہوتا ہے۔

    یہ ناداں گر گئے سجدوں میں
    تحریر!ثاقب سبحانی

  • پاکستانی طلباء اور بھارت ،تحریر :محمد عبداللہ گل

    پاکستانی طلباء اور بھارت ،تحریر :محمد عبداللہ گل

    پاکستانی طلباء اور بھارت
    تحریر ازقلم:محمد عبداللہ گل
    پاکستان 14 اگست 1947 کو اس دنیا کے نقشے پر ایک عظیم خودمختار ریاست بن کر ابھرا۔اس ملک کی خاص بات یہ تھی کہ یہ ایک عظیم نظریہ اسلام کے تحت وجود میں آیا تھا۔یہ ہی تو وجہ ہے کہ 1947 سے لےکر اب تلک یہ ہر اسلام دشمن کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح چبھ رہا ہے۔اس کو ختم کرنے کے لیےدشمنوں نے بہت سے پروپیگنڈہ کیے۔جیسے پہلے پہل سرحدی چھیڑ چھاڑ اس کے بعد 1965 کی جنگ جو کہ پاکستان کا بدترین دشمن بھارت بری طرح شکست خوردہ ہو گیا۔کیونکہ اس کا مقابلہ اس ملک کی فوج سے ہوا ہے جس کا غزوہ ہند پر اعتماد ہے۔ان سب حربوں اور پروپیگنڈوں کے بعد اس نے 1971 میں ایک ایسا حربہ آزمایا۔پاکستان کے پانچویں بازو بنگال میں طلباء کی ذہن سازی کرنا شروع کر دی۔بھارت نے بڑی ہی چالاکی اور مکاری سے اپنی ایجنسی کے تربیت یافتہ اساتذہ کےبھیس میں بنگال میں داخل کر دئیے جو کی ڈھاکہ یونیورسٹی سے لے کر نچلے تعلیمی ادارے تک بچوں کو پاکستان کے مستقبل کے معماروں کی ذہن سازی کرتے کہ یہ جو مغربی پاکستان والے ہیں یہ تمھارے خلاف ہیں ان کے جذبات کو لسانی بنیادوں پر ابھارا ان کو پاکستان کے ہی خلاف کیا۔اس کے بعد جب بھٹو مجیب اختلافات بڑھ گئے تو انھوں نے یہ احتجاج کا سلسلہ شروع کر دیا بھارتی پروفیسرز کے ذریعے جو کہ اپنے شاگردوں کو احتجاجی مظاہروں میں شرکت پر مجبور کرتے۔اس طرح طلبا یونین کا استعمال کر کے میرے پانچویں بڑے بازو کو 16 دسمبر 1971 کو الگ کر دیا جسے سقوط ڈھاکہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔صد افسوس پھر اسی بھارت کا وزیراعظم نریندر مودی ڈھاکہ یونیورسٹی میں جاتا ہے وہاں جا کر کہتا ہے کہ "مشرقی پاکستان ہم نے الگ کیا بنگلہ دیش ہم نے بنایا ،رت ہم نے دیا” اور تیرے حکمران خاموش رہے۔قارئین کرام! اس کے بعد 16 دسمبر 2019 آتا ہے بھارت اپنی تمام تر ناکامیوں کا بدلہ اس قوم کے بہادر بچوں سے لیتا ہے سانحہ آرمی پبلک سکول پشاور ہوتا ہے تقریبا 200 کے قریب بچے شہید ہوتے ہیں
    تیری بنیادوں میں ہے لاکھوں شہیدوں کا لہو
    ہم تجھے گنج دو عالم سے گراں پاتے ہیں
    اور ہر کوئی جانتا ہے کہ یہ گھناؤنی سازش بھارت کی تھی۔اللہ ان شہدا کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے۔اس کے علاوہ اب دوبارہ حال ہی میں دسمبر میں ہی دشمن نے ایک اور حربہ آزمانے کی کوشش کی اور لال لال تحریک کا آغاز کیا اور اس میں بھی اپنے کارندوں کے ذریعے طلباء کو شامل۔کیا اب اس کی نظریں بلوچستان پر ہے۔قارئین ! اگر ہم نے توجہ نہ دی۔اور پاک فوج کا مکمل طور پر ساتھ نہ دیا تو بلوچستان بھی دشمن کے شکنجے میں چلا جائے گا اس لیے اپنے آپ کو سنبھال لو اور بار بار ناکام ہونے والے دشمن کو دوبارہ ناکام کر دو

  • طلبا یونین کی بحالی کی بحث اور طفیل کی شہادت ! تحریر احمر مرتضی

    طلبا یونین کی بحالی کی بحث اور طفیل کی شہادت ! تحریر احمر مرتضی

    طلبا یونین کی بحالی کی بحث اور طفیل کی شہادت !

    تحریر :احمر مرتضی

    چند دن پہلے اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد میں ہونیوالے افسوس ناک واقعے کو دو گروپوں کے درمیان تصادم قرار دیا جائے یا پھر پر امن طلبا پرغنڈہ عناصر کی طرف سے یک طرفہ حملہ، وجہ جو بھی ہو مگر اس بات کا بطور طالب علم بہت ہی افسوس ہے کہ اس تصادم یا غنڈہ گردی کی یک طرفہ کاروائی میں گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے خوبرو نوجوان سید طفیل الرحمن شہید ہوگئے، اللہ مرحوم کی مغفرت فرمائے۔ لیکن اب آئیے واقعے کے دوسرے پہلو کی طرف ان دنوں طلبا یونین کی بحالی کی بازگشت طلبا کے مطالبات سےلے کر حکومتی ایوانوں تک سنائی دے رہی ہے قطع نظر اس بات کے کہ اس بحث کا نتیجہ کیا نکلتا ہے ہم بات کرتے ہے اس چیز پر جسے حکومت کو طلبا یونین کی بحالی کے فیصلہ کے وقت مدنظر رکھنا ضروری ہوگا کہ ماضی میں یونین پر پابندی کی بڑی وجہ غنڈہ گرد طلبا عناصر کی بڑھتی ہوئی انارکی و بدمعاشی اور اس جیسے دیگر مذوم مقاصد تھے جسے طلبا یونین کی اڑ میں سرانجام دیا جارہا تھا سو اب کی بار اگر حکومت وقت ایسا کچھ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تو اسلامک یونیورسٹی کے حالیہ واقعے اور ماضی کے تلخ تجربات کو دوبارہ وقوع پذیر ہونے سے روکنے کےلیے واضح اور دو ٹوک اور سیدھا ٹھوک کی بنیاد پر قوانین ضرور بنائے جس کے تحت ہر نتھو گیرے کو لگام ڈالی جاسکے اور ہر طبقے کو کھل کر اپنی نمائندگی کرنے کا حق فراہم کیا جائے۔
    اب واقعے کے تیسرے پہلو کی طرف وہ یہ کہ جناب سراج الحق سے لے کر ادنی سے جماعتی کارکن تک نے طفیل کی شہادت کا دکھ اپنے دکھ کی طرح محسوس کیا مگر معذرت کے ساتھ جماعت اسلامی کی مرکزی قیادت یا جمیعت کے کسی مرکزی ذمہ دار نے اس واقعے کو اپنے خوفناک ماضی سے جوڑ کر ہی دیکھا ہو یا اسے اپنی “ہولڈ بڑھاؤ، راج کرو” پالیسی کا شاخسانہ قرار دیا ہو کیونکہ جمیت جس کی بنیاد (خالص اسلامی اقدار اور پاکستانیت کی ترویج) پر رکھی گئی تھی اور بڑے بڑے نام اور صد عالی مقام لوگ اس کی تربیت سے پیدا ہوئے اور آج بھی بڑے محترم لوگ اس کی تربیت کا منہ بولتا ثبوت ہے مگر گزشتہ کئی سالوں سے جمیت کا بدلتا ہوا رویہ اور اس کے خمیر میں چھپی ہوئی شر انگیزی (جو ماضی میں بھی رنگ دکھاتی رہی ہے) بڑی خطرناک سطح پر پہنچ چکی ہے جس سے ناصرف کسی دور کی تن تنہا واحد طاقتور طلبا تنظیم کا “تنظیمی ڈھانچہ” بری طرح متاثر ہوا ہے بلکہ عوام الناس میں اس کی ساکھ بھی بری طرح متاثر ہوئی اور ماضی میں جمیعت کے ساتھ جڑ کر اسلام کے رنگ میں رنگنے کا عزم رکھنے والے طلبا آج صرف بدمعاشی، سٹیٹس اور جاہ جلال کے حصول کے لیے اس کی سرپرستی حاصل کرتے نظر آتے ہے اور شنید یہ کہ ذمہ دارانِ جمیت باقاعدہ اس عمل پر طلبا کی حوصلہ افزائی اور شہ فراہم کرتے ہیں اگر اس بات کو سمجھنا ہو تو میں لمبا چوڑا ماضی کنگھالنا نہیں چاہوں گا بلکہ حال ہی کے صرف دو واقعات عرض کرتا ہو جس کا شاہد “راقم الحروف” خود ہے سن دوہزار سترہ پنجاب یونیورسٹی لاہور میں جمیت اور پختون طلبا یونین میں ٹاکرا ہوا وجہ جو بھی تھی مختصر یہ کہ راقم کے کالج (سائنس کالج وحدت روڈ ) سے جمیعت نے تھوک کے حساب سے طلبا کو احتجاج کے نام پر اکھٹا کیا اور “موڑ بھیکیوال” پر جمع ہوکر یہ احتجاج خوف ناک تصادم میں تبدیل ہوگیا اور مخالفین کے ساتھ ساتھ پنجاب پولیس کے جوانوں کو بھی “میدان کارزار “
    میں خوب رگڑا لگایا گیا اور عالی قدر دوسرا واقعہ چند دن پہلے کا ہے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں “کشمیر پروگرام” کے حوالے سے باقاعدہ اجازت کا مشورہ عنایت کرنے پر جمیعت کے جانبازوں نے سٹوڈنٹ افیئرز کے پرنسپل کو ٹھڈوں، مکوں اور دھکوں سے اپنی بادشاہت میں مفت مشورہ دینے کی سزا فراہم کی۔ واقعات تو اور بھی بہت ہیں، مگر میں یہ جاننا چاہتا ہوکہ ان واقعات کی وجہ کیا ہے؟ جو مجھے سمجھ آتی ہے کہ ایسے واقعات جو ملک بھر کی تمام چھوٹی بڑی یونیورسٹیوں میں آئے دن رونما ہوتے رہتے ہے (جن میں ہمیشہ کی طرح دونوں فریق ہی قصور وار ثابت ہوتے ہے ) تن تنہا اور عظیم جمیعت کا ہرتنظیم کو اپنے مقابل جاننا اور اس کے پلیٹ فارم سے منعقدہ کسی بھی پروگرام کو بدہضمی کی شکایت کی نظر سے دیکھنا ہے اور پھر جب یہ شکایت شدید پیٹ درد کی وجہ بنے تو پھر تمام تر میڈیسن سے لیس ہوکرمخالفین پر چڑھ دوڑنا ہے اور نتیجۃ مخالف گروہوں کی جانب سے بھی موقع ملتے طفیل شہید جیسے واقعات رونما کردینا ہے!

    لہذا میری جماعت اسلامی کی محنت کش قیادت سے درمندانہ اپیل ہے کہ مقابل سے مقابلہ کی سوچ کو ترک کرکے برداشت اور طلبا یونین میں ہر طالب علم کو اپنی پسند کی جماعت کو چننے کا پرامن حق فراہم کیا جائے اور اپنے ناظمین کو ہرکسی کی نمائندگی کو قدر کی نگاہ سے دیکھنے کا مخلصانہ مشورہ عنایت کیا جائے بلکہ آپ کو چاہیے کہ اپنے کارکنان کو ان کی شاندار بنیاد (جس پر کام کھڑا کرنے کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکا) پر یہ ہدف دیجیے کہ بھائی آپ طلبا کو احسن انداز سے ہر اس گروہ میں شمولیت سے روکیں جہاں ان کا تعلیمی کئیریر برباد ہو، ملک و قوم کی خدمت کے عزم کو زک پہنچے اور گھر والوں کی امیدوں پر بھی پانی پھرنے کا سبب ہو ،لیکن اگر آپ کا یہی رویہ رہا جو بدستور جاری ہے تو پھر طلبا یونین کی بحالی فقط آپ کی عالی شان ،خود مختار سلطنت کو حمایتِ سلطان کا سرٹیفکیٹ جاری کرنے سے زیادہ کچھ نہیں اور گو کہ اس امر سے آپ کی بدمعاشی کو سند فراہم ہوجائے گی اور طلبا اسلام کی نام نہاد رکھوالی جماعت سے سندِ غنڈہ گردی حاصل کرتے رہیں گے اور نتیجہ کے طور پر دیگر جماعتیں نامناسب نمائندگی کا رونا روتی رہیں گی اور ردعمل کے طور پر کتنے ہی جماعتی و دیگر تنظیمی “طفیل” اس معمولی اقتدار کی چاہ کی بھینٹ چڑھتے رہیں گے۔
    لہذا وقت ہے کہ ان واقعات سے جماعتی کارکنان بالخصوص اور دیگر تنظیمی جیالے سبق حاصل کرکے اپنا قبلہ درست کرلیں اور حکومت وقت بھی ایسے واقعات کی روک تھام کےلیے سخت سے سخت قوانین متعارف کروائے تاکہ نہ تو طلبا کی پڑھائی کا حرج ہو اور اگر وہ تنظیمی لائف کو انجوائے کرنے کےلیے کسی کے ساتھ منسلک ہونا چاہے تو ان کو واضح سوجھ بوجھ ہوکہ وہ جس کا انتخاب کرنے جارہے ہے وہ طلبا کی راہنمائی اور انہیں خالص اسلامی فکر دینے یا خالص پاکستانی بنانے کا ایک پلیٹ فارم ہے یا پھر طلبا تنظیم کی شکل میں لسانی ،صوبائی اور دیگر بنیادوں پر کھڑا ہوا تخریب کار گروہ ہے جس سے وہ کئی مذموم مقاصد میں آلہ کار بن کے رہ جائیں گے۔

  • آنسوؤں کو دفاع میں بدلو!!!! تحریر: محسن نصیر

    آنسوؤں کو دفاع میں بدلو!!!! تحریر: محسن نصیر

    حمزہ نے کہا، میں فرسٹ ائیر میں تھا جب یہ دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا تھاایک دن پہلے سب کچھ نارمل تھاحملے کے دن فرسٹ ائیر کوچھٹی تھی_ میں نے سب کو بکھرے ہوئے اور آنسوؤں کی حالت میں بیدار پایامیں اپنے دوستوں کے بارے میں سوچ کر صدمے میں پہنچ گیاجو حملے کے دوران سکول میں موجود تھے_ جیسے جیسے وقت گزر رہا تھا اموات کی تعداد بڑھتی جا رہی تھیاور میں اپنے قریبی ساتھیوں کو بچانے کے لیے کچھ نہیں کر سکا

    مجھے سکول میں رہ کر علم اور حکمت حاصل کرنا تھا اور مسائل پر قابو پانا تھا جسکا مجھے مستقبل میں سامنا کرنا تھا اور اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کونسی طاقت مجھے علم حاصل کرنے سے روکنے کی کوشش کرتی ہے ہمارے کاج کی عمارتوں کے ساتھ چلتے ہوئے یہ دہشت اب بھی ہمارے دل میں ہے لیکن یہ ہمیں مزید مطالعہ کرنے اور ہمارے حوصلے بلند کرنے کی ہمت دیتی ہے_

    احمد نے کہا، تعلیم کا مطلب ہر وہ چیز ہے وہ تمام یادیں اور احساس ہے اور دہشت گردوں کو میرا پیغام یہ ہے تم نے ہمیں قتل کرنے جی کوشش کی، اسکے بجائے آپ نے ہمیں لافانی بنایا_ ہماری یاد ہمیشہ زندہ رہے گی، اور سب کو حوصلہ، طاقت اور امید فراہم کرے گی_

    دونوں طلباء اے پی ایس کے حملے کا شکار ہیں وہ اپنے دوستوں کو 16 دسمبر 2014 کو صبح ساڑھے دس بجے کھو بیٹھے تھے، تحریک طالبان کے سات بندوق بردار اسکول میں داخل ہوئے اور طلباء اور عملے کو مارنا شروع کر دیا اس دن آٹھ سے اٹھارہ سال تک کے 140 سے زیادہ بچے اس دن شہید ہوئے اور متعدد زخمی ہوئے_

    بھائیو! دہشت گردی اب ہمارے لئے ایک بہت بڑا خطرہ بن گیا ہے اس نے ہم میں بڑھے پیمانے پر خوف کو جنم دیا ہے ہمیں پاکستان کے ایک وفادار شہری کی حیثیت سے اس طاقت اور بہادری کے ساتھ اس خطرہ اور خطرے کا سامنا کرنا چاہیے ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے اس طرح دہشت گردی کے اس خطرے کے کچھ موثر حل بھی ہیں اگر ان کا صحیح طریقے سے عمل کیا جائے گا_

    اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا :
    ” جن لوگوں نے کفر کیا وہ چاہتے ہیں کہ تم ذرا اپنے ہتھیاروں اور سامان سے غافل ہو جاؤ تو تم پر یکبارگی حملہ کر دیں اگر تم بارش کے سبب تکلیف میں یا بیمار ہو جاؤ تو تم پر کچھ گناہ نہیں کہ ہتھیار اتار رکھو مگر ہوشیار ضرور رہنا اللہ نے کافروں کے لئے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے_(102:4)

    آج ہم 1990 کی دہائی کے آخر سے بدتر حالات کا سامنا کر رہے ہیں_ روزانہ نیوز چینلز اور اخبارات، جرائم کی کہانیاں، خودکش دھماکوں اور بہت سے چھوٹے چھوٹے حالات سے بھرا ہوا ہےجسکا مستقبل میں خطرہ ہو سکتا ہے اور متعصب میڈیا کے ذریعہ بھی انکی اطلاع نہیں ہے جسکی وجہ سے ہماری پوری قوم ناامیدی اور بالآخر بے عمدگی کی گہرائیوں میں جارہی ہے عمدگی کی ریڑھ کی ہڈی ہے آج ان وجوہات کی بنا پر نوجوان کچھ مایوس، ناامید اور بے بس ہیں لیکن ان سب کے علاوہ نوجوان ابھی بھی سرنگ کے اختتام پر روشنی کے منتظر ہیں یہاں تک کہ انہوں نے عملی میدانوں میں خود کو آگے بڑھایا ہے لیکن مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ان کے پاس وہی کرنے کی طاقت نہیں ہوتی وہ جو کرنا چاہتے ہیں موجودہ منظر نامے سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ این سی سی (نیشنل کیڈٹ کور) کے لئے شہریوں کو تحفظ کے لیے متحرک کرنے کے لیے نوجوانوں کی تربیت کا اب سے موزوں وقت ہے جب خودکش حملے ہماری روزمرہ کی زندگی کا ایک حصہ بن چکے ہیں تو بھارت، بلوچستان، فاٹا اور کشمیر میں ہمارے خلاف غیر سرکاری جنگ لڑ رہا ہے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ساتھ انڈیا ہمارے پڑوسی افغانستان میں بیٹھ کر ہمارے خلاف کھیل کھیل رہا ہے
    جب بھارت نے ہمارے پانی کو دریائے چناب اور راوی میں روک دیا ہے، دفاعی اور تجویزاتی تجزیہ نگاروں کا نظریہ ہے کہ اگلی جنگ بہت جلد متوقع ہے اور اس جنگ کی وجہ پانی کا مسئلہ اور دیگر مسائل سرفہرت ہونگے_

    المیہ یہ ہے جب ہم اس قسم کی تربیت کی بات کرتے ہیں تو لوگ سوچتے ہیں ہم انتہاپسند ہیں ہم جنگ کو دعوت دے رہے ہیں خوابوں کی ناممکنات اور خیالات اور افعال کی منفی سمت کے بارے میں بات کر رہے ہیں جو تباہ کن نتائج کا باعث بن سکتا ہے لیکن اس نقطہ نظر کے لوگوں کو اسرائیل میں یوتھ بٹالین کی تربیت کا علم نہیں ہو سکتا اسرائیل میں ایک طالبعلم کو دسویں جماعت کی ڈگری نہیں دی جاتی جب تک وی ایک ہفتہ کی ٹریننگ پاس نہ کرے ایک ماہ کی تربیت کے بغیر انٹرمیڈیٹ ڈگری اور گریجویٹ ڈگری کے لئے تین ماہ کی تربیت نہیں دی جاتی ہے اس تربیت کے تحت ہر بھرتی ایک بنیادی تربیتی پروگرام میں جاتا ہے جہاں انہیں فوج کے نظم و ضبط شوٹنگ، ابتدائی طبی امداد، کیمیائی اور حیاتیاتی جنگ سے متعلق معلومات اور جسمانی فٹنس کی تعلیم دی جاتی ہےیہ تربیت قومی دفاعی خدمت قانون 1986 کے تحت کچھ مستثنیات کے ساتھ مطلوب مرد اور خواتین دونوں کے لئے لازمی ہے یہ دنیا کا واحد ملک ہے جو خواتین کے لیے لازمی قومی خدمات کع برقرار رکھتا ہے اسرائیل جیسے چھوٹے سے ملک کی چستی کا راز اپنے نوجوانوں کے لیے لازمی فوجی تربیت کی پالیسی ہے اسرائیل نے بہت سی جنگیں لڑی ہیں 1948،1967 اور 1973 میں اور وہ ہمیشہ ان جنگوں کو جیتے اور اسکی وجہ یہی ہے کہ اسکی آخری آبادی اسکے آخری مرد اور عورت تک ایک سپاہی کی حیثیت سے لڑاکا ہے

    ہندوستان نے بھی اس طرح کی تربیت کا آغاز کیا ہے نیشنل کیڈٹ کارپس (دہلی) نے 1948 کے نیشنل کیڈٹ کور ایکٹ کے ساتھ تشکیل دی یہ ایک رضاکارانہ تنظیم ہے جو پورے ہندوستان میں ہائی اسکولوں اور کالجوں سے کیڈٹس کی بھرتی کرتی ہے _

    نیشنل کیڈٹ کور، جانباز، مجاہد فورس پاکستان میں وہ قسم کی فوجی تربیت ہے جو 2002 تک کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلباء کع دی جاتی تھی جب پرویز مشرف نے اس تربیت کا روکا تھا ان کے تحت، پاکستان کے محب وطن اور پڑھے لکھے نوجوانوں کو ابتدائی طبی امداد کی سرگرمیوں بنیادی ہتھیاروں کے استعمال اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے تربیت دی گئ تھی جس میں جنگ یا لڑائی سے متعلق حالات بھی شامل ہیں اس وقت ان خطرات، سازشوں اور غیر یقینی کی صورتحال بہتر جانتے تھے جنکا سامنا ہمارا ملک (داخلی دشمن) اور بین الاقوامی دشمنوں کی شکل میں بھی کر رہا ہے_

    اس قسم کی تربیت آرمڈ فورس اور سویلین کے مابین پائے جانے والے اختلافات کو کم کرتی ہے جنکو دشمن بدتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں_کیڈٹ کور /سویلین آرمی ایک مخصوص فوج کی حیثیت سے خدمات انجام دے سکتی ہے فوج کے ذخائر فوج کی افرادی قوت کی ضروریات کو پورا کریں گے _

    ریزرویونٹس فلسطینیوں کی حالیہ لہر میں اسرائیلیوں کی طرح دفاعی شیلڈ جیسے بہت سے آپریشن کرتی ہیں مزید برآں، تربیت یافتہ کیڈٹ عوامی سول ٹرانسپورٹ، تعلیمی اداروں، کھلی منڈیوں اور پارکنگ لاٹوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ چوکیوں پر مدد کرنے جیسے دیگر سول خدمات انجام دے سکتے ہیں_

    مزید یہ کہ این سی سی دفاع کی دوسری لائن کے طور پر کام کرتی ہے وہ آرڈیننس فیکٹریوں کی مدد کے لیے کیمپوں کا اہتمام کر سکتے ہیں محاذ کو اسلحہ اور گولا بارود کی فراہمی کرتے ہیں اور دشمن کے پیرا ٹروپرز کو پکڑنے اور مشتبہ خودکش بمباروں کی شناخت اور گرفتاری کے لئے پٹرولنگ ٹیم کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا تھااین سی سی بچاؤ کے کاموں اور ٹریفک کنٹرول میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کے لیے سول ڈیفینس حکام کے ساتھ بھی کام کرسکتے ہیں تاہم این سی سی کے پچھلے نصاب کو مزید جدید بنانے کے لیے نظر ثانی کی جانی چاہیےجیسے ہندوستان نے 1965 اور 1971 کی ہند پاک جنگ کے بعد این سی سی نصاب میں نظر ثانی کی تھی محض دفاع کی دوسری لکیر ہونے کی بجائے این سی سی کو اپ گریڈ کیا گیا تاکہ وہ قیادت والی خصوصیات کی نشوونما کو بڑھا سکیں_

    بھارت اور اسرائیل ہمارے خطرناک دشمنوں میں شامل ہیں دونوں ہی نوجوانوں کو این سی سی کی تربیت دے رہے ہیں پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان میں کیوں نہیں؟بحیثیت مسلمان ملک ہمیں ہر طرح کی صورتحال کے لیے تیار ہونا چاہیئے ہمارے مذہب کی بھی ضرورت ہے طاقت کو متوازن کرنا چاہیے اگر آج نہیں، اس ہنگامہ خیز دور میں تو پھر صحیح وقت کب آنے والا ہے؟

    اب وقت آگیا ہے کہ سول طرف سے بھی قومی محب فوج تیار کی جائے ان مشکل وقتوں میں ہمیں تعلیم اور دفاع کی وزارتوں کے اشتراک سے اپنے نوجوانوں کے لئے لازمی فوجی تربیت حاصل کرنے کی ضرورت ہے

    ہمیں نوجوانوں کو جدید ہتھیاروں اور آلات کے استعمال کے لیے تیار کرنا ہوگا تاکہ نوجوان شہری جنگ کو سنبھالنے کی ذمہ داری بھی نبھا سکیں جو ہم پر عائد کی گئی ہے اور شہروں، قصبوں اور گلیوں کی حفاظت کی جاسکے ہماری فوج پہلے ہی بہت زیادہ دباؤ سے نمٹ رہی ہے وہ نہ صرف ہماری سرحدوں کی حفاظت کر رہے ہیں بلکہ مساجد اور اداروں کی حفاظت بھی کر رہے ہیں نہ صرف سرحد پر جانیں دے رہے ہیں بلکہ ملک کے اندر بھی شہادتیں پیش کر رہے ہیں ہمیں اس پاک سر زمین کو بچانے کے لیے اپنی پاک فوج کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہونا پڑے گا جب محب وطن، بصیرت، اچھی طرح سے لیس اور حوصلہ افزائی کرنے والے نوجوان فوج کے ساتھ کھڑے ہو جائیں گے، تو کبھی بھی کوئی بری طاقت ہمارے ملک اور عوام کے ساتھ بری نیت رکھنے کی جرت نہیں کرسکتی_

    ہمیں اپنی درخواست کو باضابطہ حکام کے سامنے پیش کرنے کے لیے کھڑا ہونا پڑے گا ہمیں آنے والے وقتوں کے لیے باضابطہ طور پر تیار ہعنے کی ضرورت ہے ہم بہترین کے لیے امید کرتے ہیں لیکن کسی بھی صورت میں ہمیں بد ترین کی تیاری کرنی ہو گی یہ ایکشن پلان ہے جو زندگی کے تمام فاتح تخیل کو حقیقت میں، تصور کو حقیقت میں بدلنے اور خوابوں کو اصل مقاصد میں اور بالآخر عمل میں بدلنے کے لئے استعمال کرتے ہیں نوجوانوں کے پاس آج خواب، محرکات اور امیدیں ہیں اور وہ پاکستان کے لیے اپنی جانیں قربان کرنے کے لیے تیار ہیں ہمیں صرف اس مثبت توانائی کو کچھ نتیجہ خیز کاموں میں تبدیل کرنا ہے_

    آئیے سب پاکستان کے امن و خوشحالی کے لیے دعا کریں اور ہر سطح پر پاکستان کے دفاع کیلئے کچھ نہ کچھ اپنا کردار ضرور ادا کریں _

    پاکستان زندہ باد