Baaghi TV

Category: بلاگ

  • عنوان:حزب اختلاف ہیجان کا شکار کیوں؟—- از — ملک شفقت اللہ

    عنوان:حزب اختلاف ہیجان کا شکار کیوں؟—- از — ملک شفقت اللہ

    ستائیس ستمبر اقوام متحدہ کے سالانہ اجلاس میں عمران خان نے انتہائی دھیمے مگر مضبوط لہجے میں جن چار نکات پر بات کی وہ عکاس ہے ان کے اچھے اور حساس حکمران ہونے کا۔زندگی کے ہر سانس کو جی کر، اسے اپنے دل و دماغ میں اتار کر اور زندہ دلی سے تمام معالات پر فیصلہ کن قدم اٹھانے والا ہی ایک مضبوط اور اچھا حکمران ہوتا ہے۔ہم جانتے ہیں کہ پاکستان کی موجودہ حکومت اقتدار کی قدروں سے نابلد ہے لیکن کم از کم اپنی ذات سے نکل کر ملکی مفادات کیلئے جذبات رکھتی ہے۔

    مخالفین کا پراپیگنڈا اور بیوروکریسی کی ہٹ دھرمی بھی ان کیلئے ایک بڑا چیلنج ثابت ہو رہی ہے جس کا حل آئندہ بلدیاتی انتخابات میں نکال دیا گیا ہے لیکن پراپیگنڈوں کا شاید کوئی حل نہیں کیونکہ یہ آزادی اظہار رائے پر ضرب ہوگی اور بلا واسطہ یا بالواسطہ عوام الناس بھی اس کے زد میں آ ئے گی۔عمران خان نے جہاں دنیائے عالم میں مسلمانوں کا مؤقف کھل کر بیان کیا ہے وہیں ہمیں داخلی سطح پر ملک دشمنوں کے سہولت کاروں کو بھی لگام دینے کی ضرورت ہے۔ بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ اتنی فسطائیت اور قنوطیت کیوں پھیلائی جا رہی ہے؟

    عمران خان کی تقریر کے بعد جس طرح سے اچانک کچھ حلقے تیز ہوئے ہیں وہ اسی بات کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ دال میں کچھ کالا نہیں بلکہ ساری کالی ہے۔سب کا مقصد اور کچھ نہیں بس پاکستان کو کمزور کرنا اور اس میں خانہ جنگی شروع کرواناہے۔ ن لیگیوں نے اس تقریر پر یہ سوال اٹھائے کہ تقریر کرنے سے اگر کچھ ہو جاتا تو اس سے پہلے بھی کئی تقریریں ہو چکی ہیں،کیا ہوا؟ بلاول بھٹو کا بیان آ یا کہ یہ تقریر بے معنی اور بے بنیاد تھی، عمران خان امت مسلمہ کا اور پاکستان کا واضح مؤقف نہیں پیش کر پائے۔ کیا عمران خان وہاں اے کے 47 یا کوئی جی تھری بندوقیں لے کر جاتا اور کسی پرانی فلم کے ناکام عاشق کی طرح سب کی کن پٹی پر تان کر کہتا مجھے کشمیر دے دو نہیں تو نعشیں بچھا دوں گا نعشیں! کشمیرتو نہ ہوا دیوداس کی پارو ہوئی!۔

    فضل الرحمٰن نے اپنا مؤقف نہیں بدلا، حالانکہ وہ شاید اس سے انجان ہیں کہ ان کے پروگراموں کی وجہ سے ان کی رہی سہی سیاسی ساکھ بھی جاتی جا رہی ہے۔ہم جانتے ہیں کہ عمران خان کے منتخب ہوتے ہی فضل الرحمٰن نے دو الزامات لگائے تھے، ان میں سے ایک یہودی ایجنٹ قرار دینا اور دوسرا دھاندلی کا تھا۔انتخابات میں بری طرح ناکامی کے ردعمل کے طور پر مولانا حکومت کو بلیک میل کر رہے تھے کہ وہ دھرنا دینے لگے ہیں،عمران خان کو ہٹا کر ہی دم لیں گے، پھر میڈیا پر ایک افواہ اڑا دی کہ حکومت نے فضل الرحمٰن کا دھرنا رکوانے کیلئے سعودی عرب سے مدد مانگ لی ہے۔ اسی پس منظر میں سلیم صافی نے جب سوال کیا کہ آپ دھرنا کیوں دے رہے ہیں؟تو فضل الرحمٰن نے جواباََ کہا کہ عمران خان کی حکومت گرانے کیلئے،

    سلیم صافی نے سوال کو بڑھاوا دیتے ہوئے پوچھا کہ اگر فرض کریں کہ عمران خان کی حکومت چلی جاتی ہے اور دوبارہ انتخابات منعقد ہوتے ہیں جس میں عمران خان دو تہائی اکثریت سے کامیاب ہو جاتے ہیں تو پھر؟ تو فضل الرحمٰن نے کہا کہ میں دوبارہ دھرنا دوں گا کیونکہ یہ پھر سے دھاندلی ہوئی ہو گی،یہاں یہ سوال ہے کہ اگر اتنی ہی دھاندلی ہوئی ہے تو پہلے اپنے بیٹے سے استعفیٰ کیوں نہیں دلواتے؟ اور عمران خان نے جو تقریر کی ہے اس کیلئے پہلے اسرائیل کو منایا ہے اس کے بعد کی ہے، فضل الرحمٰن کا منشور ہمیشہ سے رہا ہے کہ ہم پاکستان میں شریعت محمدی کا نفاذ چاہتے ہیں، حالانکہ فضل الرحمٰن مشرف دور میں سرحد کے وزیر اعلیٰ رہ چکے ہیں اور کوئی ایک بھی قانونی مثال نہیں ملتی جو شریعت محمدی سے ماخذ کی گئی ہو یا شرعی ہو۔

    اسی دور میں جب فضل الرحمٰن نے امریکہ کا دورہ کیا تھا تو وہاں امریکی وزیر خارجہ کے ساتھ ملاقات کے دوران کہا تھا کہ مجھے پاکستان کی حکومت کا موقع دیں میں آپ کو مایوس نہیں کروں گا،خود تو یہودی ایجنٹ بننے کیلئے تیار تھا مگر جب رد عمل نہیں ملا تو اسلام یاد آ گیا، یعنی اس کا اسلام اسلام آباد ہے؟۔ مولانا سے یہاں چند سوالات ہیں کہ آپ دس سال کشمیر کمیٹی کے چئیر مین رہے، آپ نے کشمیریوں کیلئے کیا کیا؟ آپ کہتے ہیں تقریروں سے کیا ہوتا ہے!سچ کہتے ہیں کیونکہ آپ عورت کی حکمرانی کو حرام کہتے ہیں لیکن اس کے اقتدار سے فائدہ اٹھایا،مشرف کو وردی کی دھمکی دے کر ڈیرہ غازی خاں میں زمین الاٹ کروا لی،نواز شریف بھی یہودی ایجنٹ اور کراچی سے خیبر تک کرپشن کی داستانیں رقم کرنے والے تھے لیکن وہ بالکل اسلامی ہوگئے جب آپ کشمیر کمیٹی کے چئیرمین بن گئے اور بہت سی مراعات بھی حاصل کیں،

    آپ نے اپنے عمل سے لفظ مدرسے کو گالی پڑوائی،آپ تو یوں کہہ رہے ہیں کہ تقریروں سے کچھ نہیں ہوتا جیسے اس سے پہلے کے حکمران اقوام متحدہ میں تھپڑوں، مکوں اور ٹینکوں، میزائلوں سے بات کرتے تھے۔پوری حکمت عملی سے سازشیں رچائی جا رہی ہیں، سیاہ سی تو اپنی جگہ اس میدان میں صافی صحافیوں نے بھی میدان خالی نہیں چھوڑا، بلکہ ذوالفقار علی بھٹو، معمر قذافی، یاسر عرفات وغیرہ کے حوالے دیئے کہ انہوں نے بھی اقوام متحدہ میں ایسی پرجوش تقریر کی تھی جس کے بعد انہیں مار دیا گیا، یعنی عمران خان کو بلا واسطہ دھمکیاں دی جا رہی ہیں کہ آپ نے دنیائے عالم کی بات کر کے اپنی جان جوکھم میں ڈال لی ہے۔کوئی کشمیر کے مسئلے کو چوتھے نمبر پر بیان کرنے کی وجہ سے بڑھکیں مار رہا تھا۔عاصمہ شیرازی نے تقریرپر جو تبصرے کئے وہ بھی سازشی بیانات سے کم نہیں۔

    حامد میر جو نواز شریف کو کرپٹ کہتا رہا ہے وہی آج نواز شریف کو اچھا بنا کر پیش کر رہا تھا۔ جس دن عمران خان کی تقریر تھی اسی دن کئی میڈیا گروپ دوسرے ایشوز پر بات کر رہے تھے۔یہاں کچھ باتیں تو عیاں ہوچکی ہیں کہ حزب اختلاف اپنی کرپشن کو چھپانے کیلئے، فضل الرحمٰن صر ف اقتدار کیلئے اور لفافہ صحافی صیہونی سازش کو بڑھاوا دینے کیلئے دن رات مگن ہیں۔ اس پراپیگنڈے میں ایم کیو ایم لندن، بلوچ لبریشن آرمی اور پی ٹی ایم بھی پیچھے نہیں رہی، ایم کیو ایم نے اپنے مقتولین کی تصویریں لگا کر نیویارک میں ٹرک چلوا دیئے حالانکہ یہ وہ  دہشتگرد، ڈکیت اور ٹارگٹ کلر تھے جنہوں نے کراچی میں اودھم مچا رکھا تھی،

    ایسے حیوانوں کے ساتھ او ر کیا سلوک کیا جاتا جن کی جارحیت رکنے کا نام تک نہیں لے رہی تھی، لندن میں بی بی سی نے بی ایل اے کے خیر بیار مری کا انٹرویو کیا جس میں اس نے خوب پراپیگنڈا رچایا، حالانکہ اسی امریکہ نے بی ایل اے اور اس کی ذیلی تنظیموں کو بین الاقوامی دہشتگرد قرار دیا ہوا ہے، پی ٹی ایم خانہ جنگی پھیلانے میں مصروف رہی۔ یہ جتنا مرضی کر لیں، اللہ تعالیٰ نے عمران خان کو جتنی عزت دے دی ہے وہ یہ چاہ کر بھی کم نہیں کر سکتے اور ان کی ذلت اب ان کیلئے رقم ہو چکی ہے۔ اگر آج ہنوز کے سارے دھوکے باز اور فراڈیے حیوان عمران خان کے اور پاک آرمی کے خلاف ہیں تو یہ ان کے حق پر ہونے کی گواہی ہے۔یہ تقریر ہر صورت پاکستان اور اسلام کے حق میں تھی، اس سے حزب اختلاف میں ہیجانی کیوں؟

    عنوان:حزب اختلاف ہیجان کا شکار کیوں؟—- از — ملک شفقت اللہ

  • حضرت ناقد سے تخیلاتی ملاقات کا احوال !!! تحریر : نعمان علی ہاشم

    حضرت ناقد سے تخیلاتی ملاقات کا احوال !!! تحریر : نعمان علی ہاشم

    ناقد
    اس نے میرے بالکل درست شعر کا وزن بگاڑ کر بولا کہ اگر یوں لکھتے تو ٹھیک تھا.
    میں نے ماتھے پر ہاتھ مارتے ہوئے سوچا شاید کے یہ عروض کا ماہر ہو، بمشکل سوال کیا کہ جناب آپ اس کی بحر کے بارے میں بتا سکتے ہیں.
    موصوف فوراً بولے. بحر کا مجھے کچھ پتا نہیں. میں تو ناقد ہوں. اور کیڑے نکالنا میرا کام ہے. قریب تھا کہ اگر وہ قریب ہوتے تو اپنے کمزور ہاتھوں کو جنبش دے کہ ان کے گال کو گلاب کر دیتا. مگر بھلا ہو اس واٹس ایپ کا…
    میرے لیے ناقد کی یہ تعریف بالکل نئی تھی. دوستوں ویسے تو ناقد کہتے ہی تنقید کرنے والے کو ہیں. مگر تنقید سے ہماری اکثر مراد یہی ہوتی ہے کہ نقائص کو واضح کرنا. مگر یہ کیا کہ ہر بات پر تنقید…. ایک دن یونہی دل چاہا کہ تخیل میں ایسے ہی ایک ناقد سے گپ شپ کروں.
    اور وہی مکالمہ آپکے سامنے پیش کیے دیتا ہوں
    .
    میں: السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ.
    ناقد: وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ و برکاتہ.
    میں: جناب آپ کیسے ہیں؟؟
    ناقد: بس جی گزر رہی ہے گزار رہے ہیں. حالات مندے ہیں. اخراجات زیادہ ہیں. ہلکا پھلکا گھٹنوں میں درد رہتا ہے. بیوی ناراض ہے، بچے وقت نہیں دیتے. حکومت کسی اقدام میں سنجیدہ نہیں، غریب کی تو کوئی زندگی نہیں.
    .
    اتنے میں ہی کھانے کا وقت ہوا.. موصوف نے طرح طرح کے بازاری کھانے آڈر دیے. جو مزکورہ بالا تمام اعتراضات کا بذات خود رد تھے.
    میں نے استفسار کیا کہ جناب: مالی حالات مندے، اخراجات زیادہ، یورک ایسڈ بڑھا ہوا، بیوی ناراض، غریب بے حال، اور یہ کھانا….. ارے جناب میں ناقد ہوں. اگر میں سب اچھا کی گردان رٹ لوں گا تو معاملات کیسے سیدھے ہونگے. آخر غریب کا بھی تو کسی نے سوچنا ہے.
    میں چکرا کر: مگر یہ کھانا آپکی صحت اور جیب کے لیے بہت مہنگا ثابت ہو سکتا ہے؟
    آو جی چپ کرو ناقد میں ہوں. سدھارنے کا کام حکومتوں کا ہے. آپ کھانا شروع کریں اور اگلا سوال کریں.
    .
    میں: آپ کب سے ناقد ہیں؟؟
    ناقد: میرا خیال ہے ہر انسان پیدائشی طور پر ناقد ہوتا ہے. شکم مادر میں میرے ہاتھ پیر آزاد تھے مگر میری ناف سے بندھی ایک زنجیر نے مجھے قید کر رکھا تھا. میں نے علم بغاوت بلند کیا. میرے بس میں ہوتا تو اس زنجیر کو اپنےہاتھ سے توڑتا اور اس غلامی سے نجات حاصل کرتا. مگر میرے پاس صرف ایک ہی آپشن تھا تنقید، سو میں نے مزاحمتی عمل جاری رکھا اور کچھ عرصہ بعد اس زنجیر سے رہائی پائی. مگر اب دوسرا مسئلہ یہ تھا کہ میں آزاد ہونے کے بعد کسی کے ہاتھوں میں کھیل رہا تھا. جو کہ میری فطری غیرت کو گوارہ نہ تھا. مگر میرے بس میں کیا تھا. میں نے پھر اپنا ازلی حق تنقید استعمال کیا. اور رونا شروع کر دیا، آپ سمجھ رہے ہیں نا کہ میں جو کہہ رہا ہوں،؟
    ناقد کی باتوں میں غرق تھا جب اس نے ہاتھ کا اشارہ دے کر مجھے ہلایا، اور کہا کہ آپ کھانا نہیں کھا رہے، میں نے نوالہ توڑا اور کہا کہ یعنی آپ نے اپنا مدعا سمجھا دیا. کہ آپ پیدائشی طور پر ناقد ہیں.
    جی جی بالکل ناقد نے جواب دیا…
    میں نے اگلا سوال اس لیے جلدی پوچھ لیا کہ مزید مثالیں سننے کی سکت نہیں تھی.
    میں: تنقید کیوں ضروری ہے؟
    ناقد: آپ نے میرا پچھلا جواب پورا نہیں ہونے دیا. دیکھیں اب اس کا جواب بھی اسی میں دیے دیتا ہوں. یہ ہر انسان کا بنیادی حق ہے کہ وہ یہ سوچے کہ اس کا مستقبل محفوظ ہاتھوں میں ہے. اب جب مجھے ختنے کروانے لے کر گئے تو پہلی دفعہ یہ سوال تب پیش آیا. آپ ہی بتائیں تب میں سوال پوچھنے کا مجاز نہیں تھا کہ کیا میرا مستقبل محفوظ ہاتھوں میں ہے؟ . محفوظ ہاتھوں کی تلاش میں ہر ہاتھ پر تنقید کی جائے گی تاکہ سب سے محفوظ ہاتھوں تک پہنچا جا سکے..
    میں نے انہیں رکنے کا اشارہ کیا. اور دل میں سوچا یہ موصوف نائی یا سرجن کے بجائے درزی یا موچی سے ختنے کروانے چلیں جائیں گے. کیونکہ ان کا اعتراض انہی لوگوں پر ہوتا ہے جو اس کام کے ماہر ہوتے ہیں. گوکہ خود اس کام سے مکمل نابلد ہی کیوں نا ہوں.
    خیر اسی سوچ میں اگلا سوال داغا
    میں: پاکستان کے موجودہ حالات کے بارے میں آپ کیا کہیں گے؟
    ناقد: دیکھو عزیز یہاں سب کچھ غلط ہو رہا ہے. تعلیم صحت، انصاف، تمام نظام خراب ہیں. داخلہ و خارجہ امور کا بیڑہ غرق ہے. معیشت زوال کا شکار ہے، ڈالر آسمان کو ہاتھ لگانے کی کوشش میں ہے. اللہ غارت کرے ہمارے حکمرانوں کو انہیں مثال کی سنگینی کا ہی علم نہیں. یہ بس تقریریں کرتے ہیں، یہ سب امریکہ کے غلام ہیں. کیسی آزادی کاہے کی آزادی، فوج یہاں جمہوریت چلنے نہیں دیتی، جمہوریت یہاں ڈلیور نہیں کرتی، پولیس کرپشن کی ماری ہے. فوج ڈالروں پر پلتی ہے. 80٪ بجٹ فوج کو چلا جاتا ہے. گندگی ہی گندگی ہے. کوڑا اٹھانے والا کوئی نہیں. خالص چیز نہیں ملتی، ملاوٹ ہی ملاوٹ ہے. عورتیں بے حجاب ہیں، مرد بے رقاب ہیں..
    وہ ایک تلاطم میں بولے جا رہے تھے کہ میں نے زبردستی روک کر سوال پوچھا
    میں : جناب ان سب کا حل کیا ہے؟
    ناقد: حل میں نے نہیں دینا حکومت نے دینا ہے. میں ناقد ہوں میرا کام تنقید کرنا ہے. اچھے سے اچھے کام میں بھی کیڑے نکالنا ہے. تاکہ حکومتیں اپنی اصلاح کر سکیں.
    میرے ذہن میں ملاقات کا ابتدائی منظر چل رہا تھا. اور جان چکا تھا موصوف کا مسئلہ کیا ہے. سو میں نے اگلا سوال کر لیا.
    میں: کیا یہ بات اچھی نہیں کہ ہم ناقد کے بجائے مصلح بن جائیں. تنقید کے بجائے اصلاح کرنا شروع کر دیں؟
    ناقد: وہ کیسے جناب یہ کیسے ممکن ہے. یہ کام حکومتوں کے ہیں، ہم کیسے کر سکتے ہیں؟ ہمیں کون کرنے دے گا؟ آپ ہی بتا دیں؟
    .
    میں: دیکھیں اللہ نے انسان کو ناقد نہیں بنایا تنقید صرف وہاں کی جاتی ہے جہاں اس کے علاوہ کچھ نہ ہو سکتا ہو. ہر مسئلے کا حل تنقید نہیں. کچھ ہماری زمہ داریاں بھی ہیں. آپ سے ہی شروع کرتے ہیں. آپ ڈاکٹر کے پاس جائیں اپنا ڈائٹ پلان لیں. آپکی صحت بھی ٹھیک ہوگی اور جیب بھی زیر عتاب نہیں آیا کرے گی. جب میں پیسے اور جوڑوں میں دم ہوگا تو آپ کیسی کے محتاج نہیں ہونگے. ورزش کو اپنا معمول بنائیں گے تو طبیعت کی خشکی ختم ہوگی. یہ سب کو عوامل ہیں جن کے لیے حکومت کی کسی پالیسی کی ضرورت نہیں. سرکار کوئی اقدامات بھی نہ کرے پھر بھی آپ یہ سب کر سکتے ہیں.
    موبائل سے سندھ کے ایک ماڈل ویلیج کی ویڈیو دکھائی اور بتایا کہ یہاں سندھ میں انسانیت پس رہی، علاج، تعلیم، انصاف ہر شے ناپید ہے. مگر اس گاؤں کو دیکھ کر آپ کو یقین آ جائے گا کہ آپ غلط سوچتے ہیں تنقید کسی مسئلے کا حل نہیں.، دیکھیں گلیاں صاف ہیں.، سکول، مدرسہ، مسجد بہترین ہے. پر امن لوگ ہیں. بیماریاں کم ہیں. یہاں بھی سندھ کے انہی وڈیروں کی حکومت ہے. مگر وہ خوشحال ہیں. وجہ جانتے ہیں؟ وجہ بس یہی ہے کہ انھوں نے تنقید کو اپنا بنیادی حق سمجھ پر اس پر اکتفا نہیں کیا. چند دوستوں نے مل کر انیشیٹو لیا. اور سکون سے زندگی بسر کر رہے ہیں. یہ ہے تنقید اور اصلاح کا فرق.
    مزید یہ عرض کر دوں کہ تنقید کوئی فرض چیز نہیں. اصلاح ہم پر لازم ہے. اپنے معاملات کی اپنے گرد و پیش کے معاملات کی. یونہی معاشروں میں امن و سکون، صحت و سلامتی آتی ہے. صرف تنقید سے کچھ نہیں ہوتا.
    اس سے پہلے کہ وہ کوئی اور بات کرتا کھانا ختم ہو چکا ہے. اور ہم نے سلام کیا اور اپنی راہ لے لی.
    والسلام

    نعمان علی ہاشم

  • ذہنی سکون کس چیز کا نام ہے؟؟؟ تحریر: فہیم شاکر

    ذہنی سکون کس چیز کا نام ہے؟؟؟ تحریر: فہیم شاکر

    ذہنی سکون کس چیز کا نام ہے؟
    کیا فکرِ فردا سے رہائی ذہنی سکون کا باعث ہے یا مالی آسودگی؟
    کیا دنیا میں ٹھاٹھ باٹھ سکون کی علامت ہے یا کوئی ایسی چیز جو اس کی زندگی کو مسکراہٹ سے ہمکنار کر دے
    اللہ تعالی کارساز ہے وہ انسان کے کاموں کے لیے خود انسان سے زیادہ متفکر رہتا ہے. انسان جب خود اپنے کاموں، مرادوں اور تمناوں کے لیے بے چینی و بے قراری کی روش اختیار کرتا ہے تو اس سے وہ ذہنی سکون چھن جاتا ہے جو زندگی کی مسکراہٹ کا باعث ہوتا ہے. اور فکرِ فردا سے رہائی اس کے لیے خواب بن جاتی ہے
    انسان کو چاہیے کہ اللہ کی طرف سے عطا کردہ نعمتوں کا شکر ادا کرتا رہے اور اس میں کوتاہی نہ کرے اگر وہ عطا کردہ نعمتوں پر صبر بھی کر لے تو سونے پر سہاگہ والی بات ہو گی
    انسان بنیادی طور پر ناشکرا ثابت ہوا ہے یہی وجہ ہے کہ جو چیز مل جائے اس کی قدر نہیں کرتا اور جو تمنا پوری نہ ہو اس پر شکوے شکایات ہر وقت نوکِ زباں پر رکھتا ہے
    اور اگر ایسے انسان سے عطا کردہ نعمتوں میں سے کچھ یا ساری واپس لے لی جائیں تو اس کا چیخنا دیدنی ہوتا ہے
    حالانکہ اس نے عطا ہوئی نعمتوں کا شکر تو ک ھی ادا کیا نہیں تھا
    نجانے کیوں انسان خوب سے خوب تر کی تلاش میں کفرانِ نعمت کا مرتکب ہوتا ہے
    قدرت انسان کو برابر اشارات دیتی رہتی ہے لیکن انسان نعمتوں کی تکفیر میں ایسا پڑتا ہے کہ قدرت کے اشارات کو سمجھتا ہی نہیں اور ذہنی سکون تباہ کر بیٹھتا ہے
    اللہ سے بہتر کون حکیم و علیم ہے یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ وہ عطا کردہ نعمتوں سے کسی کو واپس لے کر اس سے بہتر عطا کرنا چاہتا ہو لیکن اس پر یہ انسان ایسا دلگرفتہ ہوتا ہے کہ اللہ جیسے خالق و مالک کی شکایات اپنے ہی جیسے انسانوں سے کرنے لگتا ہے
    شاید یہی وجہ ہے کہ وہ فکرِ فردا سے رہائی کے لیے ترستا رہتا ہے
    غم ہمیشہ ماضی سے منسلک ہوتا ہے اور اور خدشے کے تعلق مستقبل سے ہوتا ہے
    کیونکہ جو وقت ابھی آیا نہیں اس پر غم کرنا بنتا نہیں لہذا غم کا تعلق ماضی سے ہے
    لیکن ماضی کے غم کو لے کر ہم مستقبل سنوار نہیں سکتے اس کے لیے ضروری ہے کہ بندہ ماضی سے صرف سبق حاصل کرتے ہوئے اسے یکسر فراموش کر دے اور مستقبل کی فکر کرے لیکن یہ فکر اسے ہلاک نہ کر ڈالے فکر کا مطلب جہاں ایک طرف بہتر پلاننگ کرنا ہے وہیں دوسری طرف اللہ سے بہتر امید لگانا اور اسی پر یقین رکھنا بھی ہے کہ اس کی مرضی ومنشاء کے بغیر مستقل بہتر نہیں ہو سکتا
    ماضی کے غم اور مستق ل کی بے جا فکر سے ہم حال سے بھرپور طریقے سے لطف اندوز نہیں ہو سکتے
    ننکانہ کے ایک مقامی سکول کے ذمہ دار سے ایک ملاقات میں طلبہ کی پڑھائی کا ذکر چلا تو انہوں نے بتایا کہ ہمارے سکول کے طلبہ دوپہر 2 بجے چھٹی کے بعد گھر چلے جاتے ہیں اور زندگی سے لطف اندوز ہوتے ہیں پھر جس نے اکیڈمی وغیرہ جانا ہوتا ہے وہ چلا جاتا ہے لیکن ہمارے اور ایک دوسرے سکول کے جماعت نہم کے طلبہ کے نمبر ایک آدھ نمبر کے فرق سے 505 میں سے 500 ہی آئے ہیں لیکن سوچنے کی بات ہے کہ ہمارے طلبہ نے پڑھائی بھی کی اور زندگی سے لطف اندوز بھی ہوئے اور نمبر 500 پائے لیکن مذکورہ سکول کے طلبہ نے سارا دن اور رات کو بھی پڑھائی کر کے اتنے ہی نمبرز حاصل کیے تو گویا اس ادارے کے طلبہ بھی طریقہ بدل کر پڑھائی کرنے سے زیادہ نمبر لے سکتے ہیں اور زندگی سے لطف بھی، لیکن ایسا ہو نہیں رہا
    یہاں سمجھ یہ آتا ہے کہ مستقبل کی فکر میں وہ طلبہ اپنے آج کو تباہ کر رہے ہیں، یہی حال انسان کا بحیثیت انسان بھی ہے
    زندگی مسکرائے گی یا تلملائے گی اس کا انحصار انسان کے رویے پر ہے
    ذہنی سکون مل جائے گا یا ذہنی کرب جان لے لے گا اس کا انحصار انسان کی سوچ و عمل پر ہے
    یقین جانیے کہ صبر و شکر سے ہی ذہنی سکون نصیب ہوتا ہے اور زندگی کِھلکھلا اُٹھتی ہے
    تو آئیے! اگر ہم فکرِ فردا سے رہائی کے طلب گار ہیں اور ذہنی سکون کے خواہشمند تو اللہ کے کام اللہ پر چھوڑ دیں کہ وہ ہمارے بھلے کے کام ہی کرے گا اور ہم ہر حال میں صبر و شکر سے کام لیتے رہیں
    وما توفیقی الا باللہ

  • اسرائیلی ایٹمی تنصیبات نشانہ پر   ،                              صابر ابو مریم کا بلاگ

    اسرائیلی ایٹمی تنصیبات نشانہ پر ، صابر ابو مریم کا بلاگ

    اسرائیلی ایٹمی تنصیبات نشانہ پر
    تحریر: صابر ابو مریم
    سیکرٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان
    پی ایچ ڈی ریسرچ اسکالر، شعبہ سیاسیات جامعہ کراچی
    گذشتہ دنوں یمن کی متحدہ افواج نے سعودی عرب کی سب سے بڑی تیل تنصیبات کو نشانہ بنایا اور اس کے بعد خطے کی صورتحال شدید متاثر ہوئی تھی۔ شروع شروع میں سعودی حکومتی ذرائع نے ان حملوں کا الزام ایران اور عراق پر عائد کیا تاہم بعد ازاں حقائق اور شواہد نے ثابت کیا کہ یہ حملہ یمن کے اندر سے ہی کیا گیا تھا اور اس کا مقصد سعودی حکومت کو یمن میں جارحیت کو روکنا تھا۔یمنی افواج کے ترجمان نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ان کی افواج نے یہ کاروائی سعودی عرب کے اندر موجود کچھ خیر خواہوں اور سعودی حکومت کے قریبی ذرائع جو یمن پرامریکی و سعودی جارحیت کے خلاف ہیں، ان کی مدد سے انجام دیا ہے، انہوں نے مزید تفصیلات میں بتایا تھا کہ یمنی افواج نے اس کاروائی میں دس ڈرون طیارے استعمال کئے جو خود کش حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے اور ٹھیک ہدف پر کامیابی کے ساتھ نشانہ بنائے گئے تھے۔ان حملو ں کے نتیجہ میں سعودی عرب کی سب سے بڑی تیل فیلڈ آرامکو کو شدید نقصان پہنچا او ر اس نقصان کا ازالہ کرنے کے لئے تاحال امدادی ٹیمیں کاموں میں مصروف ہیں۔
    یمنی افواج کے اس حملہ سے جہاں دنیا میں تیل کی آمد و رفت اور خرید و فروخت متاثر ہوئی وہا ں سب سے اہم بات امریکہ اور سعودی حکومتوں کی وہ مشترکہ سیکورٹی ہے جو اس حملہ کو روکنے میں ناکام رہی ہے۔
    ماہرین سیاسیات جہاں ایک طرف معاشی اعتبار سے اس حملہ کے نقصان کا جائزہ لے رہے ہیں وہاں دنیا کے دفاعی تجزیہ نگاروں کے نزدیک حقیقت میں آرامکو پر ہونے والا حملہ امریکی سیکورٹی سسٹم کو ناکام بنا کر کیا گیا ہے۔یمنی افواج نے یہ ثابت کر دیا کہ امریکہ کی جدید ترین سیکورٹی آلات اور اربوں ڈالر ک اسلحہ برائے نام ہے اور سعودی حکومت کی حفاظت نہیں کر سکتا ہے۔واضح رہے کہ سعودی حکومت نے امریکہ کے ساتھ مل کر چار سال قبل یمن کے خلاف زمینی،، فضائی اور سمندری جنگ کا آغاز کر رکھا ہے جس کے نتیجہ میں دسیوں ہزار معصوم انسانی جانوں کو موت کی نیند سلا دیا گیا ہے جبکہ یمن کے بعض علاقو ں میں وبائی امراض کے ساتھ ساتھ قحط کا مسئلہ بھی درپیش رہا ہے۔ اس اثنا میں امریکی حکومت نے نہ صرف سعودی اتحادیوں کی ہر طریقہ سے مدد کی ہے بلکہ سعودی عرب کو اربوں ڈالر کا اسلحہ بھی دیا ہے جس کا بے دریغ استعمال تاحال یمن کے علاقوں میں کیا جا رہا ہے۔
    آرامکو پر ہونے والے یمنی افواج کا حملہ جہاں سعودی حکومت کے لئے ایک بڑا اور واضح پیغام تھا وہاں ساتھ ساتھ دنیا کے ان تمام ممالک کیلئے بھی پیغام تھا کہ جو یمن کے خلاف جنگ میں امریکی و سعودی اتحاد کا حصہ ہیں۔اسی طرح ان حملوں نے امریکہ کے دفاعی نظام کی صلاحیت پر بھی سوالیہ نشان لگا دئیے ہیں۔
    اس تمام صورتحال کے بعد اب سیاسی ماہرین کاکہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ ان تمام پیغامات کے ساتھ ساتھ یمنی افواج کی جانب سے اسرائیل کے لئے بھی ایک سخت پیغام ہو۔کیونکہ اگر سعودی تیل تنصیبات کی دفاعی صلاحیت کو ناکام بنا کر اتنا بڑا حملہ کیا جا سکتا ہے تو پھر اسرائیل پر بھی اس سے بڑے حملے ہو سکتے ہیں جو مقبوضہ فلسطین کے قریبی کسی بھی ممالک سے انجام دئیے جا سکتے ہیں یا پھر شاید یمنی افواج ہی اس صلاحیت کی حامل ہو ں کہ مستقبل قریب میں امریکہ کے ایک اور بڑے شیطان اتحاد ی اسرائیل کی ایٹمی تنصیبات کو بھی نشانہ بنا ڈالیں۔
    کچھ عرصہ قبل حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصر اللہ نے اسرائیل کو متنبہ کیا تھا کہ اسرائیل لبنان کے ساتھ کسی بھی قسم کی جنگ آزمائی کرنے سے پرہیز کرے ورننہ جوابی کاروائی میں اسرائیل کی ایٹمی تنصیبات کو نشانہ بنا یا جائے گا جس کے نتیجہ میں غاصب صہیونی ریاست میں بسنے والے صہیونی سب سے پہلے اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔سید حسن نصر اللہ نے اس موقع پرصہیونی آباد کاروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا وزیراعظم نیتن یاہو ان کو جھوٹ بولتا ہے اور حقائق سے آگاہ نہیں کرتا ہے تاہم صہیونی آباد کاروں کو چاہئیے کہ اپنے اپنے وطن میں واپس لوٹ جائیں کیونکہ اگر اسرائیل نے لبنان یا حزب اللہ سمیت اسلامی مزاحمت کے خلاف کسی قسم کی کاروائی کی تو جواب بہت سخت ہو گا اور پھر اسرائیلی قابض ریاست کا وزیر اعظم سب سے پہلے انہی صہیونی آباد کاروں کو جنگ کا چارہ بنا دے گا۔
    حالیہ دنوں یمنی افواج کی جانب سے آرامکو پر ہونے والے کامیاب حملہ کے بعد غاصب صہیونی اور جعلی ریاست اسرائیل کے تجزیہ نگاروں نے اس بحث کا آغاز کر دیا ہے کہ اگر سعودی آرامکو کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے تو پھر اسرائیل کی اہم تنصیبات بشمول ایٹمی تنصیبات کی سیکورٹی کو بھی توڑا جا سکتا ہے۔صہیونی ذرائع ابلاغ پر اس طرح کے تجزیات گردش میں ہیں اور اندرون خانہ بھی یہ خطرہ محسوس کیا جا رہاہے کہ اسلامی مزاحمت کی تنظیموں کی جانب سے کسی بھی وقت اسرائیل کے حساس مقامات کو آرامکو طرز کے حملوں کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
    اسرائیل کے دفاعی ماہرین نے پہلے ہی گذشتہ دنوں حزب اللہ کی جانب سے مقبوضہ فلسطین میں سات کلو میٹر اندر داخل ہو کر کی جانے والی اسرائیل مخالف کاروائی پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیل کا دفاعی نظام کمزور ترین ہو چکا ہے تاہم انہی ماہرین کا کہنا ہے کہ آرامکو پر ہونے والے حملوں کے بعد اب بعید نہیں ہے کہ اسی طرز کی کاروائی اسرائیل کے حساس مقامات کے خلاف بھی کی جائے۔
    خلاصہ یہ ہے کہ دنیا کی تمام ظالم و جابر قوتیں وقت کے ساتھ ساتھ اللہ کے وعدوں کے مطابق سر نگوں ہو رہی ہیں، دنیامیں جہاں کہیں بھی مظلوم ہیں اوت صبر و استقامت کا مظاہر کر رہے ہیں یقینا الہی وعدوں کے مطابق سرخرو ہو رہے ہیں۔کشمیر، یمن، عراق، افغانستان، عراق، لبنان، شام، فلسطین ہرسمت مظلوموں کا ایک اتحاد ابھرتا ہو نظر آ رہاہے جو دنیا کے سامراجی وشیطانی نظام و اتحاد کے بالمقابل سیننہ سپر ہے اور اسی پائیدار استقامت کا ہی نتیجہ ہے کہ آج یمن کے پا برہنہ مجاہدین نے دشمن کے خلاف عظیم کامیابیاں حاصل کرنا شروع کر دی ہیں اور ان کامیابیوں کے دور رس نتائج یہ ہیں کہ صہیونیوں کی غاصب اور جعلی ریاست اسرائیل کو اپنی بقاء کے لئے سوال اٹھا یا جا رہا ہے اور صہیونیوں کے دلوں میں خوف بیٹھ چکا ہے کہ اب آرامکو کے بعد اسرائیل کے حساس مقامات کو نشانہ بنایا جائے گا، اور اس بات میں کسی کو کوئی شک بھی نہیں ہونا چاہیے۔ یہ الہی وعدہ ہے کہ ظالمو ں کو نابود ہونا ہے اور مستضعفین کی حکومت قائم ہونی ہے چاہے یہ بات خدا کے دشمنوں کو ناگوار ہی کیوں نہ گزرے۔

  • سیاسی لوگ سوشل میڈیا پر سرگرم۔۔۔شعبہ اخلاقیات خطرے میں پڑگیا،ذمہ دار کون؟ از–عرفان قیوم

    سیاسی لوگ سوشل میڈیا پر سرگرم۔۔۔شعبہ اخلاقیات خطرے میں پڑگیا،ذمہ دار کون؟ از–عرفان قیوم

    پاکستان میں دیگر شعبہ جات کی طرح میدان سیاست بھی کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ یہ وہ شعبہ ہے جس میں عوام کی طاقت بھرپور اثر و رسوخ رکھتی ہے۔ اس لیے اس محاذ کے سپاہی اپنا ووٹ بنک بنانے کے لیے عوامی رابطہ مہم شروع کرتے ہیں، جس میں جلسے اور ریلیاں منعقد اور پوسٹرز آویزاں کیے جاتے ہیں۔ اپنی پہچان کروانے کے لیے ہر دوکان اور گھر میں پمفلٹ تقسیم کیے جاتے ہیں۔

    مزید تسلی کے لیے لوگوں کے سینوں پر سٹیکر اور بیج سجا دیے جاتےہیں۔ گویا کہ ایک بڑی رقم ایوان تک پہنچنے کے لیے صرف ہو جاتی ہےتاکہ کسی طرح کامیابی مقدر بن جائے۔ چونکہ اس میدان کے اُمیدوار ہزاروں کی تعداد میں ہوتے ہیں اس لیے ہر کوئی اپنی اپنی ہمت کے مطابق عوام کا اعتماد حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ مگر عوام آزادی رائے کے فلسفہ کے تحت اپنےاپنے پسندیدہ اُمیدوارکی بھر پورحمایت کرتے ہیں اور جس کے ایجنڈے سےاتفاق نہ ہو اسے ووٹ نہ دے کر ریجیکٹ کرتے ہیں۔ اس طرح مسترد امیدوار کو ناکامی سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔لیکن یہ ہارنے والے امیدواربھی کچھ نہ کچھ عوامی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب رہتے ہیں اگرچہ وہ مختصر ہی کیوں نہ ہو۔ شاعر کےالفاظ میں

    میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر
    لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا

    اس کارواں میں امیر، غریب ، چھوٹے اور بڑے سب شامل ہیں کیونکہ قوموں کا مستقبل سیاستدانوں کے فیصلوں سے وابستہ ہوتا ہے ۔اس لیےزمانہ قدیم سے ہی سیاست عموماًزیادہ زیربحث رہنے والا موضوع رہا ہےمگر اب اس بحث میں کچھ تیزی سی آگئی ہے سبب کیاہے؟ وہ دن گئے جب لوگ اکھٹے ہونے پر ہی سیاست پر بات کرتے تھے۔ اب فاصلے ختم ہوچکے ہر کوئی ہر وقت رابطے میں رہتا ہے۔ موجودہ دور گلوبل ویلیج کے نام سے پہچانا جانے لگا ہے ۔

    انٹرنیٹ کی ایجاد کے بعد ڈویلپرز کی بھرپور جدوجہد سے فیس بک ، ٹوئیٹر، واٹس ایپ، انسٹاگرام، ایمو اور یوٹیوب جیسی دیگر رابطے کی ویب سائیٹس اور اپلیکشنز بن چکی ہیں ۔جو کہ پیغام رسانی کا ایک بہترین ذریعہ ہیں۔ جن کے استعمال نے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والوں کی زندگی کو سہل بنا دیا ہے۔ جس سے روپے اور وقت دونوں کی بچت ہوئی ہے۔ اسی وجہ سے میدان سیاست کے شہسوار بھی ان کے استعمال سے کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔ ڈاکٹر علامہ محمد اقبال رحمتہ اللہ علیہ نے کہا تھا

    ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت
    احساس مروت کو کچل دیتے ہیں آلات

    مگر بدقسمتی کا عالم یہ ہے کہ میدان سیاست میں سوشل میڈیا کا استعمال اخلاقیات کے لیے ایک ناسور ثابت ہوتا جا رہا ہے۔ سیاسی اُمیدواروں اور سیاسی پارٹیوں کے نام سے ایسے پیج اور لنکس ملتے ہیں جن پرسیاسی مخالفین پر بھرپور کیچڑ اُچھالا جاتا ہے۔ اُچھالے جانے والے کیچڑ میں شکلوں کا بگاڑنا، جھوٹ کا بولنا، لعن طعن ،گالیاں دینا، اور اُلٹے اُلٹے ناموں سے پکارا جانا جیسی ناپاک حرکات ملتی ہیں۔ حدیث میں آیا ہے۔
    حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مرفوعاً روایت ہے
    "مومن لعن طعن کرنے والا بدخلق اور فحش گو نہیں ہوتا”۔امام ترمذی نےاسے حسن قراردیاہے( بلوغ المرام:حدیث نمبر۱۲۹۹) ۔

    میں خود بھی سوشل میڈیا کا استعمال کرتا ہوں ۔فیس بُک کو چلایا تو ایک صاحب نے ایسی پوسٹ شیئر کی ہوئی تھی جس میں جماعت اسلامی کے صدر سراج الحق صاحب کو "سراجو” اور جمعیت علمائے سلام (ف) کے سربراہ فضل الرحمن صاحب کو "فضلو ” اور ڈیزل کے نام سے پکارا گیا تھا۔ ماضی قریب میں وزیر ریلوے شیخ رشید صاحب کو شیدا ٹلّی کے نام سے پکارا جاتا رہا اور یہ نام آج تک سوشل میڈیا پر بھی پوری دھوم دھام سے چلتا آرہا ہے۔

    مسلم لیگ ن کے ہم خیالوں کو "پٹواری” اور پاکستان تحریک انصاف سے محبت کرنے والوں کو "یوتھیے ” جیسے القاب دیےجاتےہیں۔ قائد حزب اختلاف قومی اسمبلی میاں شہباز شریف صاحب کو "شوباز شریف ” کے نام سے نوازا گیا ہے اور حال ہی میں ایک حکومتی نمائندے کے گلے میں "ڈبو” کاہار پہنایا گیا ہے۔ دیگر بد عنوانیوں جھوٹ ، لعن طعن ، گالیوں اور شکلوں کا بگاڑنا وغیرہ کی بھی ایک لمبی چوڑی فہرست ہے جن کو تحریر کا حصہ بنانا تو دور کی بات، زبان پر لانا بھی زیب نہیں دیتا ہے۔ اسی لیےصرف ان مثالوں پر ہی اکتفا کرتاہوں ۔ظاہر ہے یہ سب کچھ سیاسی مخالفین کو اذیت اور تکلیف پہنچانے اور پریشان کرنے کے لیے کیا جاتا ہے مگر اپنی عزت تو ہرکسی کو محبوب ہوتی ہے۔

    حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتےہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا

    "دو بُرابھلا کہنے والے جوکچھ کہتے ہیں اس کا گناہ پہل کرنے والے پر ہےتا وقتیکہ مظلوم زیادتی نہ کرے” [مسلم( بلوغ المرام :۱۲۹۶ حدیث)]

    اسی طرح ایک اور حدیث میں ہے۔ حضرت ابوصرمہ رضی اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتےہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا

    "جوشخص کسی مسلمان کو تکلیف پہنچائے تواللہ اسے تکلیف پہنچائے گااور جو کسی مسلمان کومشقت میں مبتلا کر دے تو اللہ اسے مشقت میں مبتلا کرے گا”۔ [(ابودائود ، ترمذی) اور اسے حسن قراردیا ہے( بلوغ المرام:۱۲۹۷حدیث)]

    ہاں ہاں نظریے سے اختلاف ہو سکتا ہے لیکن نظریے کو آڑ بنا کر کسی کی شخصیت پر حملہ آور ہونا کہاں کی دانائی ہے؟ اس تحریر سے قبل میں”پٹواری اور یوتھیے تک کا سفر” کے نام سے بھی تحریر لکھ چکاہوں جسے پڑھ لینا مناسب ہوگا ۔مگر اپنی اپنی سیاسی پارٹیوں یا آزاد اُمیدواروں سےاتفاق کرنے والے ان نازیبا پوسٹوں کوپورے جوش و خروش سے شئیر ، لائک اور محبت بھرے کمنٹ کرتے نظر آتے ہیں۔ بلکہ پھر اپنے کیے پر فخر بھی کیا جاتاہے۔ شاعر بشیر بدر نے اسی لیے کہا تھا۔

    دشمنی جم کر کرو لیکن یہ گنجائش رہے
    جب کبھی ہم دوست ہو جائیں تو شرمندہ نہ ہوں

    ڈاکٹر لیاقت علی خان نیازی نے اپنی کتاب” اسلام کا نظام حیات ” میں لکھا کہ علامہ سید سلیمان ندوی رحمتہ اللہ علیہ اور علامہ شبلی نعمانی رحمتہ اللہ علیہ سیرت النبیﷺجلد ششم کے صفحہ ۶ پر رقمطراز ہیں : ــ

    "اقوام کی ترقی و تہذیب میں اخلاق کی بڑی اہمیت ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ملت کی تعمیر کا اہم جزواخلاق کی صحیح تربیت ہے”۔

    اور اسی طرح ڈاکٹرلیاقت علی خان نیازی نے لکھا

    محمد عربی ﷺ نے اخلاق پر درس دیتے ہوئے فرما یا ہے” کہ تم میں سے بہتر وہ ہے جس کا اخلاق بہتر ہے (رواہ البخاری و مسلم) "۔

    مگر سچی بات ہے یہاں تو معاملہ ہی بالکل اُلٹ ہو چکاہے۔آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ ہر کوئی دوسرے سے بدلا لینے پر تُلاّ ہواہے۔ خالد ملک ساحل نے کہاتھا۔

    ہم لوگ تو اخلاق بھی رکھ آئے ہیں ساحلؔ
    ردی کے اسی ڈھیر میں آداب پڑے تھے

    بہر حال سوچنے پر مجبور ہوگیا ہوں کہ ہمارے ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان میں تعلیم ناپید ہوگئی یا جہالت پروان چڑھ گئی ہے؟ ریاست پاکستان میں تعلیم و تربیت پر ہر سال ایک بڑی رقم خرچ کی جاتی ہے۔ دکھ سے کہتا ہوں کہ یہ رقم ڈوبتی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔مزید کہوں تو لگتا ہے کہ شعبہ اخلاقیات خطرے میں پڑ گیاہے۔ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کےلیےاخلاقیات کی دھجیاں بکھیر دی گئی ہیں۔

    اگر کیچڑ اچھالنےوالے صاحبان کی تعلیم و تربیت پر نظر ڈالی جائے تو پتا چلتاہے کہ نفرت انگیز ،اشتعال سے لبریزاور شر کے لباس میں ملبوس پوسٹ کولائک ، محبت بھرے کمنٹ اور شیئر کرنے والےاعلٰی سے اعلٰی تعلیم یافتہ جن میں ڈاکٹرز، پروفیسرز،نامور یونیورسٹیوں کے طالبعلم،مدرسوں کے فاضل حفاظ کرام یا کسی اعلٰی عہدے پر فائزشخصیات ہیں۔بھلے مانس نہیں جانتے کہ سوشل میڈیا پرلگائی جانے والی ان اخلاقیات سے گری پوسٹوں سےگناہ کا ارتکاب تو ہو ہی رہاہے مگر اس سے عوام میں نفرت، بغض، عداوت، دشمنی جنم لے رہی ہے جو کہ نحوست کا باعث ہے۔جبکہ اس امت محمدکو اتحاد کی ضرورت ہے۔
    حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنھا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا

    نحوست ‘ بدخلقی (کی وجہ سے ) ہے۔ [( بلوغ المرام ،حدیث:۱۳۰۸)

    ایک طرف اعلٰی سے اعلٰی نصاب اور تعلیمی ادارے جبکہ دوسری طرف نئی نسل کو اخلاقیات سے گر ا ہوا درس دیا جارہاہے۔کون ہے ذمہ دار؟کوئی قانون حرکت میں نہیں آتا کہ اس ناسور کو جڑوں سے اکھاڑ پھینکا جائے ۔اگر آج ذمہ داری کا مظاہرہ نہ کیا گیا تو ہو سکتا ہے کہ ایسے نتائج بھگتنےپڑیں جو شرمندگی کا باعث ہوں۔ شاعر کے الفاظ میں

    دھواں جو کچھ گھروں سے اٹھ رہا ہے
    نہ پورے شہر پر چھائے تو کہنا

    یہ بات ایک اٹل حقیقت ہے کہ عوام ریاست کےلیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتےہیں۔ جن کے جان و مال اور عزت و آبرو کو تحفظ فراہم کرنا حکمران وقت کی ذمہ داری میں شامل ہوتا ہےاوریہ فلسفہ روز اوّل سے تا حال ببانگ دہل اور ڈنکے کی چوٹ کہا جاتاہے۔اگرریاست کے اہم عہدوں پر فائز لوگ اپنی ذمہ داریاں نبھانےسے ناکام رہتے ہیں تو عوام کا حق بنتا ہے کہ ان سےاخلاقیات کے دائرے میں رہتے ہوئے اختلاف کریں۔اگر مسئلہ حل نہیں ہوتاتو اُن سے جان چھڑائیں اور آئندہ کےلیے مستردکردیں۔ مشہور شاعر رانا نے کہاتھا

    ایک آنسو بھی حکومت کے لیے خطرہ ہے
    تم نے دیکھا نہیں آنکھوں کا سمندر ہونا

    مگر تما م تر ذمہ داریاں حکمرانوں پر تھونپ کرعوام کااپنے فرائض سے بری الذمہ ہوجانا بھی درست نہیں ہے۔

    بقلم: عرفان قیوم

  • عجیب اور جدید تحقیق : مچھلیوں کو بھی انسانوں کی طرح درد ہوتا ہے

    عجیب اور جدید تحقیق : مچھلیوں کو بھی انسانوں کی طرح درد ہوتا ہے

    کراچی : انسانوں‌کی طرح مچھلیوں‌بھی درد محسوس کرتی ہیں، اب ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ مچھلیوں کو درد محسوس نہ ہونے والی بات غلط ہے۔ فلاسفیکل ٹرانسیکشنز آف دی رائل سوسائٹی میں شائع ہونے والے نتائج بتاتے ہیں کہ چھوٹی بڑی تمام مچھلیوں کو بالکل ویسے ہی درد محسوس ہوتا ہے جیسے انسانوں کو ہوتا ہے۔

    وطن واپسی پرسفیر کشمیر وزیراعظم پاکستان عمران خان مطالعہ کرتے رہے،خوبصورت انداز، یادگار لمحے ،

    طبی ماہرین نے جال یا کانٹے میں پھنسنے والی مچھلیوں کو زندہ حالت میں دافع درد کی ادویات بھی دیں جس کے بعد اُن کی حالت بہتر ہوئی۔ تحقیقاتی ٹیم کی سربراہ سنیڈانس کہتی ہیں کہ ہم شکار کرنے کے عمل سے خبردار رہنا چاہیے، کیونکہ جب ہمیں درد محسوس ہوتا ہے تو ہم اُن کے ساتھ ایسا کیوں کریں۔

    “آو چلیں مقبوضہ کشمیر کے محاصرے کی تحقیقات کرنے ،دولت مشترکہ کے فیصلے سے بھارت سخت پریشان” لاک ہے

    آو چلیں مقبوضہ کشمیر کے محاصرے کی تحقیقات کرنے ،دولت مشترکہ کے فیصلے سے بھارت سخت پریشان

    مطالعے کے دوران سنہری مچھلی کے شکار اور اُسے کرنٹ لگا کر پکڑنے کے عمل کا بھی مشاہدہ کیا گیا جس میں یہ بات سامنے آئی کہ مچھلیاں پھنسنے یا مرنے سے قبل ایسے ہی درد اور کیفیت محسوس کرتی ہیں جیسے انسان حادثے کے وقت کرتے۔

    غیرت مند وزیراعظم کے غیرت مند سپوت : عمران خان کے بعد یو این میں پاکستانی مندوب ذوالقرنین چھینہ بھارت کا چہرہ بے نقاب کرنے میں مصروف

    اس تحقیق میں‌کہا گیا کہ مچھلیوں کی جلد انسانوں سے زیادہ نازک ہوتی ہے، انہیں قتل کرکے نقصان نہ پہنچائیں۔مطالعے میں مچھلیاں پکڑنے اور اُن کے کانٹے مین پھنسنے کے دورانیے کو نوٹ کیا گیا علاوہ ازیں جال میں پھنسنے والی مچھلیوں کے ردعمل کو بھی نوٹ کیا گیا۔

  • ورلڈ ریبیز ڈےاور پاکستان : علی چاند

    ورلڈ ریبیز ڈےاور پاکستان : علی چاند

    دنیا بھر میں 28 ستمبر کو ورلڈ ریبیز ڈے منایا جاتا ہے ۔ اس دن کے منانے کا مقصد دنیا بھر سے ریبیز کی بیماری کو روکنا اور کنٹرول کرنا ہے ۔ ریبیز ایک جان لیوا بیماری ہے جو کسی جانور خاص طور پر کتے کے کاٹنے سے ہوتی ہے ۔ ریبیز لاٸسا واٸرس کی وجہ سے پھیلتی ہے جو انسان میں تب اثر انداز ہوتی ہے جب یہ واٸرس انسان کی ریڑھ کی ہڈی یا دماغ کی طرف بڑھتا ہے ۔ یہ واٸرس عصاب کے ذریعے دماغ تک پہنچتا ہے اور جب یہ واٸرس دماغ تک پہنچتا ہے تو اس مرض کی علامات ظاہر ہوتی ہیں ۔ یہ واٸرس شکل میں پستول کی گولی سے مشابہ ہوتا ہے ۔ یہ واٸرس پاگل کتے کے کاٹنے سے اس کی رطوبت کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے انسان میں ریبیز کی بیماری ہوتی ہے ۔

    ریبیز کی بیماری کی دو اقسام ہوتی ہیں ۔ فیورس اور ڈمپ ۔ فیورس سے انسانی دماغ میں سوزش ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے مریض بے چینی اور ڈپریشن محسوس کرتا ہے ۔ ایسی حالت میں مریض انسان کو باقی لوگوں سے الگ کسی محفوظ مقام پر منتقل کر دینا چاہیے جبکہ ڈمپ میں انسان پٹھوں کی کمزوری اور فالج کی کیفیت میں مبتلا ہوجاتا ہے ۔ ایسی حالت میں انسان کی جلد موت واقع ہوجاتی ہے ۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس بیماری کا کورس تین ٹیکوں پر مشتمل ہوتا ہے ۔ اور یہ ٹیکے بیماری کے پہلے دن ، ساتویں اور اٹھاٸیسویں دن لگانے ہوتے ہیں ۔ اس کے بعد احتیاط کے طور پر ایک سال بعد ایک ٹیکہ اور پانچ سال بعد ایک اور ٹیکہ لگوا کر اس بیماری سے مستقل طور پر بچا جا سکتا ہے ۔ کتے کے کاٹنے کے فورا بعد مریض کے زخم کو اچھی طرح دھونا چاہیے اگر جراثیم کش لیکوڈ پاس ہو تو چاہیے کہ زخم کو اس سے دھویا جاٸے ۔ زخم پر ٹانکے ہرگز نہ لگواٸیں جاٸیں اور نہ ہی زخم کے اوپر پٹی کرنی چاہیے ۔

    دنیا بھر میں اکثر ممالک میں یا تو ریبیز کا مکمل خاتمہ ہوچکا ہے یا پھر یہ بیماری زوال پذیر اور ختم ہونے کے قریب ہے ۔ لیکن پاکستان میں بد قسمتی سے ابھی بھی صورتحال بدتر سے بدتر ہوتی جارہی ہے ۔ اس کی بڑی وجہ مرض سے لاعلمی اور پھر علاج کے لیے گھریلو ٹوٹکے اور دیسی علاج ہیں ۔ اس کے علاوہ اہم وجہ پاکستان کے ہسپتالوں کی ابتر صورتحال اور ادویات کی کمی بھی ہے ۔ پاکستان میں ریبیز کی ویکسین کی کمی کی وجہ سے پانچ ہزار لوگ موت کا شکار ہورہے ہیں ۔ ایک حالیہ رپوٹ کے مطابق 9 ماہ میں صرف کراچی میں ریبیز کے تقریبا آٹھ ہزار مریض سامنے آٸیں ہیں ۔ محکمہ سندھ کی طرف سے شاٸع کردہ رپوٹ کے مطابق اس سال کے پہلے پانچ ماہ میں کتے کے کاٹے کے 69 ہزار کیس سامنے آٸے ہیں ۔

    ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت لوگوں کو اس بیماری کے بچاو کے حوالے سے حفاظتی انتظامات کے طریقوں سے آگاہ کرے ۔ ریبیز کے مریضوں کو بھر وقت ویکسین کی سہولت دی جاٸے ۔ ہسپتالوں میں ادویات کی کمی کو پورا کیا جاٸے ۔ کتوں کی نسل کشی کی جاٸے اور ایسے کتے جس سے ریبیز کی بیماری کا خطرہ ہو انہیں فوری طور پر مار دیا جاٸے ۔ لوگوں کو ریبیز کے حوالے سے مکمل آگاہی دی جاٸے اور ابتداٸی طبی امداد کے حوالے سے آگاہ کیا جاٸے ۔

  • عنوان: دہشتگردی کا دوسرا نام RSS—————آرزوئے سحر——–از–انشال راؤ

    عنوان: دہشتگردی کا دوسرا نام RSS—————آرزوئے سحر——–از–انشال راؤ

    دہشتگردی کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی کہ انسانی تاریخ، دہشتگردی کی ابتک کوئی متفقہ تعریف یا تشریح سامنے نہیں آسکی، اس کے پیچھے کوئی سوچ یا نظریہ ہوسکتا ہے میرے نزدیک دہشتگردی کا دوسرا نام راشٹریہ سویم سیوک سٙنگھ RSS ہے، ابتک RSS کے دہشتگردانہ نظریات اس کی پرتشدد سرگرمیوں پہ کتابوں کی کتابیں لکھی جاچکی ہیں، راشٹریہ سویم سیوک سٙنگھ 1925 میں ناگپور میں قائم کی گئی جس کی بنیاد نظریہ ہندوتوا پر رکھی گئی,

    ہندوتوا کا لفظ اور نظریہ سب سے پہلے ساورکر نے استعمال کیا اور اسے ایک خاص معنی پہنائے، یہ اتنا مبہم نظریہ تھا کہ مصنف بھی اس سے مطمئن نہیں تھا اسی لیے اس کا پہلا ایڈیشن مصنف کے نام کے بغیر شایع ہوا اور پھر 1923 میں ساورکر کے نام سے شایع ہوا، سنگھ اسی سے بھرپور استفادہ کرتا ہے اسی نظریہ کی بنیاد پہ گلواکر جوکہ مہاراشٹرین برہمن تھے ایک تنظیم بنائی جسکے لیے تین نام پیش ہوے مگر زیادہ ووٹ راشٹریہ سویم سیوک سٙنگھ کو پڑے تو متفقہ طور پر یہ نام قرار پایا، دنیا آگے بڑھنے کے لیے جدیدیت کو اپناتی ہے اور ترقی و معاشرے کے استحکام کے لیے روایات و اداروں تک کی قربانی دیتی آئی ہے جیسا کہ یورپ، جاپان وغیرہ کیونکہ ترقی ہمیشہ آگے کی جانب دیکھتی ہے جبکہ نظریہ ہندوتوا وہ واحد نظریہ ہے جو آگے کی بجائے پیچھے کی جانب دھکیلتا ہے،

    نیشنل سلیکشن کمیٹی کوآرڈینیٹر کی تلاش ، مصباح الحق نیا آئیڈیا لے آئے

    ہندوتوا کا ٹارگٹ بھارت کو ہندو راشٹر دیس بنانا ہے جسکے لیے وہ ہندو ماضی کے مخصوص زمانے کی مثال پیش کرتے ہیں ساتھ ساتھ کچھ کتب اور شخصیات کو شامل کرتے ہیں، بھنڈارکر کے مطابق تقریباً 400 تا 200 ق۔م تک بھارت میں بدھ مت کا دور دورہ تھا چنانچہ سٙنگھ لٹریچر کے مطابق اس کے بعد برہمنوں اور سنسکرت کو پذیرائی ملنا شروع ہوئی اور یہ سلسلہ مسلمانوں کی آمد سے قبل تک چلتا رہا اسی کو سٙنگھ گروہ شاندار ہندو ماضی قرار دیتے ہیں, ہندوتوا آئیڈیولوجی کے اہم اجزاء ریاست، نسل پرستی اور ہندو راشٹر ہیں، سٙنگھ اس گروہ کو کہا جاتا ہے جو نظریہ ہندوتوا پر یقین رکھتے ہیں سنگھ پریوار کے جھنڈے تلے تقریباً 52 تنظیمیں سرگرم عمل ہیں جن کا نیوکلیئس RSS ہے،

    سنگھ پریوار کے جھنڈے تلے چند اہم تنظیموں میں بجرنگ دل، شیو سینا، راشٹریہ سیوکا سمیتی، ون بندھو پریشد، ویشوا ہندو پریشد، سیوا بھارتی، ونیاسی کلیان آشرم، بھارتیہ مزدور سٙنگھ، خواتین ونگ، تاجر ونگ وغیرہ شامل ہیں اس کے علاوہ ودیا بھارتی ان کی تعلیمی ونگ ہے اور حکمران جماعت BJP سٙنگھ پریوار کی سیاسی ونگ ہے, سنگھ پریوار کی ماں کا درجہ رکھنے والی RSS ایک شدت پسند مسلح تنظیم ہے جس کی بنا پر متعدد بار پابندیوں کا سامنا بھی رہا اور مقامی سطح سے لیکر عالمی سطح تک زیر تنقید رہتی آرہی ہے

    گاندھی جی کے قتل کے بعد RSS پر بھارت سرکار کی جانب سے پابندی لگائی گئی اور اعلان کیا کہ ” آر ایس ایس کے کارکنان ملک کے 19 حصوں میں آگ زنی، لوٹ مار، ڈاکے، قتل اور پوشیدہ طور پر گولا بارود و اسلحہ یکجا کرنے میں ملوث ہیں اور دہشتگردانہ سوچ و فکر پہ مبنی لٹریچر کے زریعے انتشار و منافرت پھیلانے میں پیش پیش ہے” اس کے علاوہ سردار پٹیل نے پارلیمینٹیرینز کو کانفیڈینشیل بریفنگ دی جوکہ "انڈین نیشنل آرکائیو میں مائیکروفلم کی صورت موجود ہے” اس میں بتایا گیا کہ "راشٹریہ سیم سیوک سنگھ ناگپور میں بوائے اسکاوٹ موومنٹ کے طور پر قائم ہوئی جو کچھ عرصے بعد پیراملٹری گروہ میں تبدیل ہوگئی، یہ خالصتاً مہاراشٹرین برہمن تنظیم ہے جس کا مقصد فقط و فقط پیشوا راج کا بھارت میں نفاذ کرنا ہے ان کا جھنڈا بھگوا پرچم ہے جوکہ آخری مہاراشٹرین برہمن بادشاہ کا جھنڈا تھا جسے برطانیہ نے شکست دیکر مہاراشٹر پر قبضہ کیا،

     

    عمران خان سچے،ایماندار اور حقیقی لیڈر ہیں ،اسلام،مسلمان اورکشمیر پرواضح موقف پیش کرنے پر سلام، شوبز کی دنیا کا وزیراعظم کو خراج تحسین

    آر ایس ایس کے نظریات فاشزم پہ مبنی ہیں، یہ گروہ خفیہ، مشکوک اور پرتشدد سرگرمیوں میں ملوث ہے جن کے زریعے فسطائیت کو پروموٹ کرتے ہیں”، RSS اپنے وجود کیساتھ ہی ہندو مسلم فسادات کا باعث بنی اور 1930 کے پرتشدد واقعات میں پیش پیش رہی جس سے ہندو مسلم میں فاصلے بڑھے، 1937 کے انتخابات کے بعد مسلم لیگ کو ووٹ دینے پر ہندوتوا مائنڈسیٹ نے مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جسکے نتیجے میں متعدد شہادتیں اور زخمی ہوے، بڑے پیمانے پر مالی نقصان ہوا، پیرپور رپورٹ اور شریف رپورٹ آج بھی ریکارڈ کا حصہ ہیں، دنیا بھر میں نازیوں کے ظلم کا شکار ہونے والے یہودیوں کو لیکر ہمدردیاں پائی جاتی ہیں یہودیوں نے اپنے قتل عام کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا اور ساٹھ لاکھ یہودی کے قتل ہونے کا دعوہ کیا جوکہ ہولوکاسٹ کے نام سے مشہور ہے جبکہ RSS جوکہ نازی طریقے کے ہی پیرو ہیں ان کے ہاتھوں مسلمان یہودی ہولوکاسٹ سے زیادہ متاثر ہوے ہیں اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے،

    تقسیم ہند کے وقت ہندوتوا مائنڈسیٹ نے مسلمانوں کا بڑے پیمانے پر قتل عام کیا جس میں بیس لاکھ سے زائد مسلمان شہید ہوے، لاکھوں مسلمان خواتین کی عصمت دری کی گئی، لاکھوں افراد لاپتہ ہوے، کروڑوں افراد نقل مکانی پر مجبور ہوے، یہ تاریخ کی سب سے بڑی نقل مکانی تھی، جانی نقصان کے علاوہ اربوں نہیں کھربوں ڈالر کا مالی نقصان ہوا، اسی کے ساتھ ساتھ RSS کے دہشتگردوں نے ڈوگرا فوج کے ساتھ مل کر جموں کے علاقے میں مسلمانوں کی نسل کشی شروع کردی جوکہ اکتوبر کے وسط سے نومبر کے اوائل تک جاری رہی جسکے نتیجے میں ڈھائی لاکھ سے زائد مسلمان قتل کیے گئے اور ہزاروں خواتین کی عصمت دری کی گئی، ہزارہا افراد لاپتہ ہوے، سات لاکھ سے زائد مسلمانوں کو مجبوراً ہجرت کرکے پاکستان آنا پڑا، جموں جو کبھی مسلم اکثریتی علاقہ تھا صرف تین ہفتوں بعد ہندو اکثریتی علاقے میں بدل گیا، بالکل ایسا ہی ایجنڈا BJP نے کشمیر کے لیے سیٹ کررکھا ہے جہاں کرفیو کو پچاس روز سے زیادہ ہوگئے ہیں اور مکمل مواصلات کو معطل کررکھا ہے ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں جن پر بھارتی میڈیا پردہ پوشی کرنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے،

    سنگھ پریوار اپنے آپ کو غیرسیاسی تنظیم کے طور پر پیش کرتے ہیں RSS کو ثقافتی و سماجی تنظیم قرار دیتے ہیں، کھلے عام RSS کے دہشتگردوں کی فوجی ٹریننگز اور خنجر پر حلف کو یوگا و معمول کی ورزش قرار دیتے ہیں جسکی نفی RSS سربراہ موہن راو بھاگوت کے بیان سے ہی ہوجاتی ہے جس نے حال ہی میں بیان دیا ہے کہ "بھارتی فوج کو بارڈر پر پہنچنے میں وقت درکار ہوگا مگر RSS کے تربیت یافتہ کئی ملین کمانڈوز تین دن کے مختصر ترین وقت میں بارڈرز پر پہنچ کر ڈیوٹیاں سنبھال سکتے ہیں” بھارتی میڈیا ڈھٹائی کیساتھ ہندوتوا کی دہشتگردانہ سوچ و سرگرمیوں پہ پردہ پوشی کرنے کیساتھ ساتھ ثقافتی و سماجی تنظیم کے طور پر پیش کرنے میں مصروف عمل ہے بھارتی میڈیا اپنے مذموم مقاصد کے لیے کسی اخلاقی ضابطے کو نہیں مانتے اور نہ ہی بروئے کار لانا چاہتے ہیں، بھارت میں ہندوتوا دہشتگردوں کے ہاتھوں اقلیتوں پر بالعموم مسلمانوں پر بالخصوص تشدد و ناروا سلوک پر مبنی امریکہ و اقوام متحدہ کے اداروں کی رپورٹ کوئی نئی بات نہیں، RSS کی تاریخ فسادات و مسلم نسل کشی سے بھری پڑی ہے،

     

    اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے کشمیریوں کے سفیر وزیراعظم عمران خان کی ملاقات، مسئلہ کشمیر پر گفتگو

    تقسیم ہند کی مسلم نسل کشی کے بعد 1948 میں حیدرآباد دکن پر بھارتی سرکار نے چڑھائی کردی آپریشن پولو میں فوج کیساتھ ساتھ ہندوتوا دہشتگرد بھی پیش پیش تھے سندر لعل رپورٹ کے مطابق صرف دو دن میں ہی چالیس ہزار سے زائد نہتے مسلمانوں کو بیدردی سے شہید کردیا گیا، سرکاری رپورٹ کے مطابق مسلمانوں کی شہادتوں کی تعداد پچاس ہزار کے لگ بھگ ہے جبکہ آزاد زرائع سرکاری سرپرستی میں مسلمانوں کی شہادتوں کی تعداد لاکھوں میں ہے، گاندھی کے قتل کے بعد RSS پر پابندی لگی تو کچھ عرصے کے لیے اقلیتوں کو سکھ کا سانس ملا لیکن اس پابندی کے کوئی خاطر خواہ اثرات اس جماعت پر نہیں پڑے، پابندی کے دوران ہی سنگھ پریوار نے اپنے سیاسی ونگ کا بھارتیہ جن سنگھ کے نام سے آغاز کیا جس کا نام 1980 میں بھارتیہ جنتا پارٹی رکھ دیا گیا اور اندرون خانہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں، 1964 میں وشنو ہندو پریشد کی بنیاد رکھی جسے ورلڈ ہندو کونسل بھی کہا جاتا ہے یہی وہ ونگ ہے جو RSS کی پروپیگنڈہ بریگیڈ ہے اور میڈیا و سنگھ لٹریچر کو یہی ونگ کنٹرول کرتی ہے، 1998 میں BJP نے اقتدار میں آکر ہزاروں کی تعداد میں VHP ورکرز کو ٹیکسٹ بک بورڈ اور اطلاعات و نشریات میں بھرتی کیا جس کے بعد سے بھارتی میڈیا BJP کی پروپیگنڈہ مشین بن کر رہ گیا ہے، سنگھ پریوار کے ہاتھ بلکہ سنگھ پریوار پورا کے پورا مسلمانوں و دیگر اقلیتوں کے خون میں دھنسا ہوا ہے، جنوری 1964 میں مغربی بنگال، بہار اور اڑیسہ میں شدید فسادات گرم ہوے جسکے نتیجے میں ہزاروں مسلمان قتل و زخمی ہوے، لاکھوں گھرانوں کی ساری جمع پونجی لوٹ لی گئی،

    1965 کی پاک بھارت جنگ کے بعد ہندوتوا دہشتگردوں نے مسلمانوں کے گاوں کے گاوں کو آگ لگادی، 1967 کے انتخابات کے موقع پر رانچی بہار میں اردو کیخلاف مظاہرے شروع ہوے جو جلد ہی مسلم مخالف فسادات میں تبدیل ہوکر پورے بہار میں پھیل گئے نتیجتاً ہزاروں مسلمان گھرانے اجڑ گئے، ستمبر 1969 میں RSS نے منصوبہ بندی کے ساتھ احمدآباد میں مسلم کش فسادات شروع کردئیے جس نے پورے گجرات کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اس بار بھی نتیجہ مسلمانوں کی بڑے پیمانے پر نسل کشی نکلا، 1971 میں ریاستی سرپرستی میں ہندوتوا دہشتگرد مشرقی پاکستان میں دہشتگردی میں براہ راست ملوث رہے جس کا اعتراف مودی خود کرچکے ہیں اس کے علاوہ بھارتی صحافی سدھیر چودھری جذبات میں متعدد بار اس کا اعتراف کرچکے ہیں کہ مکتی باہنی میں ہندوتوا دہشتگرد پیش پیش تھے، 1979 میں منظم طریقے سے ہندوتوا تخریبکاروں نے جھاڑکھنڈ میں مسلم کش فسادات کو ہوا دی جس میں ہزارہا مسلمان شہید و زخمی ہوے اور ہندوتوا کے روز روز کے دنگوں کی وجہ سے علاقہ پسماندگی کا شکار ہوتا گیا، لوٹ مار و فسادات سے تنگ آکر صنعتیں مسلم علاقوں سے دوسرے علاقوں کی طرف شفٹ ہوگئیں، اگست نومبر 1980 میں مرادآباد اترپردیش میں ایک دلت لڑکی کے قبول اسلام کے بعد مسلم نوجوان سے شادی کرلینے کو ہندوتوا دہشتگرد ہضم نہ کرپائے اور پروپیگنڈہ کرکے پولیس کے ساتھ مل کر مسلمانوں پر چڑھائی کردی جسکے نتیجے میں ہزاروں مسلمان مرد و خواتین کو سرکاری سرپرستی میں قتل کردیا گیا،

    فروری 1983 الیکشن کے دوران نیلی آسام کے علاقے میں منظم طریقے سے ہندوتوا دہشتگردوں نے مسلمانوں کی نسل کشی شروع کردی جسکے نتیجے میں کئی ہزار مسلمان لقمہ اجل بنے لاکھوں گھرانوں کو لوٹ لیا گیا، موجودی عدم شناخت کرنے کا بل ان ہی کیخلاف لایا گیا ہے آسام کے مسلمان ایک عرصے سے ہندوتوا دہشتگردوں کے ظلم کا نشانہ بنتے آرہے ہیں اور اب آکر نریندر مودی نے تقریباً ستر لاکھ مسلمانوں کو شہریت سے محروم کردیا ہے، ہندوتوا دہشتگردوں کی بربریت سے سکھ بھی محفوظ نہ رہ سکے اندرا گاندھی قتل کو جواز بناکر ہندوتوا دہشتگردوں نے سکھوں کا قتل عام شروع کردیا بہت سے گوردواروں کو تباہ کردیا مشہور گوردوارہ اکالی تخت بھی مسمار کردیا اس لہر میں بیسیوں ہزار سکھ قتل ہوے جبکہ سرکاری رپورٹ میں تعداد کو بالکل ہی چھپا لیا گیا اور محض چند سو ظاہر کی گئیں اس کے علاوہ آپریشن گولڈن ٹیمپل میں بھارتی فوج کے ساتھ ساتھ ہندوتوا دہشتگرد بھی پیش پیش تھے سکھ زرائع کے مطابق چھ لاکھ سے زائد سکھ اس آپریشن کی بھینٹ چڑھے،

    مئی 1984 میں سٙنگھ دہشتگردوں نے بھوانڈی اور بمبئی میں مسلمانوں کیخلاف منظم اشتعال انگیز مہم شروع کی جو پورے مہاراشٹر میں پھیل گئی مسلمان آبادیوں کو چن چن کر نشانہ بنایا، مسلح دہشتگردوں نے حملے کیے، گھروں اور املاک کو نذر آتش کردیا نتیجتاً ہزاروں مسلمان شہید ہوے، مارچ سے جون 1985 تک احمدآباد گجرات کے پسے ہوے مسلمانوں کو ایک بار پھر ہندوتوا کے ظلم کی چکی میں پسنا پڑا، پولیس نے بھی ہندوتوا دہشتگردوں کے ساتھ مل کر مسلمانوں پر حملے کیے اور فائرنگز کیں جسکے نتیجے میں کئی ہزار مسلمان شہید و زخمی ہوے، مئی 1987 میرٹھ UP میں ایک ہندو برہمن اور مسلمان کے زمین کے تنازعہ کو ہندوتوا پروپیگنڈہ بازوں نے ہندو مسلم فسادات میں بدل دیا، پولیس نے بھی ہندوتوا دہشتگردوں کا ساتھ دیا جس کی سرپرستی میں مسلمان آبادیوں کو جلایا جاتا رہا، املاک کو لوٹا جاتا رہا، مرادآباد پولیس نے فائرنگ کرکے سو سے زائد مسلمانوں کو ایک ہی دن میں شہید کردیا کئی سو افراد زخمی ہوے، ریاست نے ہمیشہ کی طرح اس بار بھی ہندوتوا کے ظلم پر پردہ پوشی کی اور پولیس کو بجائے سزا دینے کے مزید تھپکی دی،

    بھاگلپور فسادات اکتوبر 1989 میں اس وقت پھوٹ پڑے جب ہندوتوا دہشتگردوں نے تیاری کے ساتھ بہانہ بناکر نہتے مسلمانوں پر مسلح حملے شروع کردئیے یہ فسادات آگ کی طرح پھیلے اور بھاگلپور سے نکل کر دور دور تک پھیل گئے جسکے نتیجے میں آزاد زرائع کے مطابق کئی ہزار مسلمان شہید ہوے، ان واقعات میں پولیس براہ راست شامل رہی، پولیس کے ملوث ہونے کے جرم میں سپرنٹنڈنٹ پولیس کو ملازمت سے برطرف کردیا گیا مگر وزیراعظم راجیو گاندھی نے اسے بحال کردیا، اپریل 1990 میں VHP نے بابری مسجد کیخلاف اشتعال انگیز مہم لانچ کی جوکہ دسمبر تک جاری رہی اس مہم کے نتیجے میں پورا بھارت متاثر ہوا، کئی ہزار مسلمان شہید کیے گئے کئی ہزار زخمی ہوے، ویشوا ہندو پریشد نے 1992 میں وسیع پیمانے پر رام جنم بھومی کے نام پر ہندو موبیلائزیشن کی مہم چلائی اور ماہ دسمبر میں ایل کے ایڈوانی و دیگر سٙنگھ لیڈروں کی قیادت میں ہندوتوا دہشتگردوں نے تاریخی ورثہ و عظیم بابری مسجد کو شہید کردیا جسکے ردعمل میں پورے بھارت میں ہندو مسلم فسادات شروع ہوگئے نتیجتاً بیسیوں ہزار افراد لقمہ اجل بنے جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی، ہزاروں خواتین کی عزتیں پامال ہوئیں، اربوں کھربوں کا مالی نقصان ہوا،

    2002 میں گجرات میں مودی سرکار کی سرپرستی میں منظم مسلم کش فسادات شروع ہوے جسکے نتیجے میں ہزاروں مسلمان شہید ہوئے بیسیوں ہزار زخمی ہوے، ہزاروں مسلم خواتین کی عصمت دری کی گئی، ہزاروں لاپتہ ہوے، لاکھوں مسلمان نقل مکانی پہ مجبور ہوے جسکے بعد اس وقت کے وزیراعلیٰ نریندر مودی نے بیان دیا کہ "یہ آبادی بڑھانے والے طبقے کو سبق سکھانے کے لیے کافی ہے” اشارہ مسلمانوں کی طرف تھا، اگست 2008 اڑیسہ میں عیسائیوں کو منظم طریقے سے ٹارگٹ کیا گیا جس میں ہزارہا عیسائی گھرانے اجڑ گئے، ستمبر 2013 میں مظفر نگر و شاملی میں پروپیگنڈہ گھڑ کر ہندوتوا دہشتگردوں نے مسلمان آبادیوں پر حملے شروع کردئیے نتیجتاً سینکڑوں مسلمان شہید ہوے ہزاروں زخمی ہوے لاکھ سے زائد بے گھر ہوگئے، ہزاروں خواتین کے ساتھ زیادتی کی گئی، ہندوتوا دہشتگردوں کو سرکار نے مکمل تحفظ فراہم کیا،

    BJP کے اقتدار میں آنے کے بعد سینکڑوں افراد کو ہندوتوا دہشتگرد گائے ذبیحہ کا الزام لگاکر نشانہ بناچکے ہیں جبکہ ہندوتوا کے نزدیک مستند مفکر سوامی وویکانند کے مطابق "وہ اچھا ہندو نہیں بن سکتا جو گوشت نہیں کھاتا اور اہم موقع پر اسے بیل کی قربانی دینا چاہئے اور اسے کھانا چاہئے (لیکچر شیکسپئیر کلب پساڈینا، کیلیفورنیا)، ہندوتوا کے نزدیک ہندومت کا شاندار دور ویدک دور ہے جبکہ ویدک دور کے ماہر محقق سی کنہن راجا کی تحقیق کے مطابق "ویدک دور میں ہندو مچھلی، گوشت حتیٰ کہ بیف بھی کھاتے تھے، مہمان نوازی کے طور پر بیف پیش کیا جاتا تھا البتہ دودھ دینے والی گائے ذبیحہ معیوب تھا جبکہ بیل، بانجھ گائے، بچھڑے وغیرہ ذبح کیے جاتے تھے”، ہندوتوا دہشتگرد ایک نمبر کے جھوٹے ہیں اور اب ان کی دہشتگردی کی وجہ سے نہ صرف خطے کے امن کو خطرہ ہے بلکہ پوری دنیا اس کی زد میں آئیگی۔

    عنوان: دہشتگردی کا دوسرا نام RSS—————آرزوئے سحر——–از–انشال راؤ

  • عنوان: جنگ دستک دے رہی ہے——— از — تحریر: انشال راؤ

    عنوان: جنگ دستک دے رہی ہے——— از — تحریر: انشال راؤ

    شاید ہی کوئی ادیب یا قلم کار ہو جس کے پاس وہ الفاظ ہوں جو غزوہ ہند کی عظمت و فضیلت کا احاطہ کرسکیں کیونکہ غزوہ ہند کی فضیلت کا اعلان مدینہ سے ہوا تھا اور اس انداز سے ہوا کہ اہلیان مدینہ جان و مال نچھاور کرنے کی تمنا میں بے تاب رہتے تھے یہ سلسلہ اگلی سے اگلی نسلوں کو منتقل ہوتا ہوتا ہم تک پہنچا ہے آج کل خطہ ہند کی صورتحال بتارہی ہے کہ غزوہ ہند کی آمد آمد ہے، ٹرمپ کے تازہ ترین بیان "انڈیا یعنی ہندوتوا کے ساتھ مل کر اسلامی دہشتگردی کو دنیا سے ختم کرینگے” نے تو ممکنہ جنگ کی تصدیق کردی ہے،

     

    اقوام متحدہ میں‌ عظیم الشان خطاب ، وزیراعظم عمران خان پاکستان کی خوش قسمتی ہے ، صحافی اور علماء بھی واہ واہ کراٹھے ، خراج تحسین پیش کیا

    ٹرمپ کا تازہ ترین بیان صدر بش کے بیان ہی کا تسلسل ہے، صدر بش نے افغانستان پر چڑھائی سے قبل صلیبی جنگوں کے آغاز کا اعلان کیا تھا اور اسے دہشتگردی کے خلاف جنگ کا نام دیا تھا، اس کے بعد سے پوری امت مسلمہ مشکلات سے دو چار ہے، ٹرمپ کے حالیہ بیان سے ایک بات واضح ہوگئی ہے کہ دہشتگردی یا دہشتگرد صرف اسلام اور مسلمان کی حد تک ہی محدود ہے وگرنہ برما میں جو ظلم و ستم کے پہاڑ مسلمانوں پہ ڈھائے گئے کیا کبھی کسی طرف سے انہیں دہشتگرد کہا گیا، بھارت میں کھلے عام سرکاری سرپرستی میں مسلمانوں کے ساتھ جو ظلم و بربریت کا سلوک کیا جارہا ہے وہ ساری دنیا کے سامنے ہے، کیا کسی نے ہندوتوا دہشتگردی کا نام لیا؟ رپورٹیں تک جاری ہونے کے باوجود کہیں سے کوئی صدا بلند نہیں ہوئی،

     

    عمران خان سچے،ایماندار اور حقیقی لیڈر ہیں ،اسلام،مسلمان اورکشمیر پرواضح موقف پیش کرنے پر سلام، شوبز کی دنیا کا وزیراعظم کو خراج تحسین

    کشمیر میں پچاس دن سے زائد ہوگئے کرفیو جاری ہے مگر ٹرمپ صاحب کہتے ہیں کہ اسلامی دہشتگردی کو ختم کرنا ہے وہ بھی بھارت کے ساتھ مل کر جوکہ درحقیقت عالمی جنگ کی پیش خبر ہے، اس ضمن میں نامور امریکی تجزیہ نگار و مصنف جیرالڈ فلری اپنے کتابچہ میں کہہ چکے ہیں کہ "Nuclear Armageddon is at the door” جیسا کہ امریکہ فروری میں روس کے ساتھ INF ٹریٹی ختم کرنے کا اعلان بھی کرچکے اور روس و امریکہ مہلک ہتھیاروں کی پیداوار میں اضافہ کرچکے ہیں، صورتحال کے پیش نظر جرمنی کی سپرمیسی میں یورپ بھی ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کی دوڑ میں شامل ہوگیا ہے، سابق جرمن وائس چانسلر و وزیرخارجہ Sigmar Gabriel نے اپنے آرٹیکل بعنوان "Europe & New Nuclear Arms Race” میں لکھتے ہیں کہ "Europe is now entering in potential dangerous period & must play a much more active role in nuclear arms debate” بات یہیں تک محدود نہیں ایران، کوریا و دیگر بہت سے ممالک اس دوڑ میں شامل نظر آرہے ہیں،

     

     

    چین جس کی توجہ کا مرکز و محور زیادہ تر تجارت معیشت ہی رہی اب پہلی بار طاقت کا مظاہرہ کرنے جارہا ہے اور یکم اکتوبر کو اپنا بند تھیلا کھولنے کا ارادہ رکھتا ہے، ایٹمی جنگ سر پر کھڑی ہے جس کا آغاز ممکنہ طور پر جنوبی ایشیا سے ہوتا نظر آرہا ہے بھارت تو پہلے ہی ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے میں پہل کا اعلان کرچکا ہے جسکے جواب میں پاکستان کا موقف بھی آچکا ہے کہ پہل کے بعد دوج بھی ہوتی ہے، اگر تاریخ کا بغور جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ جتنی بھی بڑی طاقتیں گزری ہیں ان سب کے زوال کا سبب جنگی پھیلاو ثابت ہوا ہے، قدیمی عظیم سلطنت یورپ کا شیرازہ بکھرنے سے پہلے اس نے جنگوں کا دائرہ وسیع کردیا تھا، اس کے علاوہ سوویت یونین کی مثال سب کے سامنے ہے جس کے خاتمے کا سبب جنگی پھیلاو ہی بنا، امریکہ بھی اسی نقش قدم پہ چل رہا ہے اور جنگوں کو آگے سے آگے پھیلاتا جارہا ہے جو اس کے خاتمے کا عندیہ ہے،

     

     

    خطہ کشمیر اور اسکے نہتے عوام ہندوتوا دہشتگردوں کی بدترین جارحیت کی زد پہ ہیں وہ بظاہر تھکے ہوے، مٹتے ہوے، مغلوب ہوتے دکھائی دے رہے ہیں لیکن حقیقتاً وہ ایک درجہ اوپر آگئے ہیں اور یہی اصول ہے کہ پستی سے بلندی کا سفر کرکے تھوڑی تھکاوٹ تو ضرور ہوتی ہی ہے جب یہ سکوت ٹوٹے گا تو کشمیر کا نظارہ بدلا ہوا ملے گا ہر گھر سے مسلح تحریک کشمیر جلوہ گر ہوگی بچہ بچہ برہان وانی بن کر سامنے آئیگا اور اس بات سے مکار ہندوتوا دہشتگرد بخوبی واقف ہے اسی لیے کشمیر کو دنیا کا سب سے بڑا ملٹری بیس بنا رکھا ہے، جس طرح نازی جرمنوں نے شوق وسعت میں جارحانہ حکمت اپنی اپنائی اور آخر میں خود ہی اس آگ کا شکار ہوگئے بعینہ بھارتی جارحیت بھی "پونیا بھومی بھارت” بنانے کے لیے وسعت دینے کا پلان ہے اور "شکاری خود یہاں شکار ہوگیا” کے مصداق بھارت ٹکڑے ٹکڑے ہوجانا ہے اور شاہ ولی کی پیشین گوئی ہے کہ برہمن شکست کھا کر دائرہ اسلام میں داخل ہوجائینگے مگر یہ بات بھی اپنی جگہ اہمیت کی حامل ہے کہ عالمی جنگ کا نقطہ آغاز یہی خطہ ہے جو شروع پاک بھارت جنگ سے ہوگی اور اختتام ساری دنیا کی تباہی پہ ہوگا،

     

    نیشنل سلیکشن کمیٹی کوآرڈینیٹر کی تلاش ، مصباح الحق نیا آئیڈیا لے آئے

     

    حالات کی ستم ظریفی دیکھیں کہ جنگ کے بادل ہر طرف سے پاکستان کے سر پہ منڈلا رہے ہیں جبکہ اندرونی دشمن پاکستان کا دفاعی بجٹ کم کروا کر خوشیاں مناتے پھر رہے ہیں، SIPRI کی رپورٹ کے مطابق دنیا کا کل دفاعی اخراجات 2017 کے مقابلے میں 2.6 فیصد اضافے کیساتھ 2018 میں 1822 ارب ڈالر ہیں جسکے پانچ سب سے بڑے حصہ داروں میں امریکا، چین، سعودی عرب، بھارت اور فرانس ہیں، بھارت نے اپنے دفاعی بجٹ میں غیرمعمولی اضافہ کیا ہے جوکہ تقریباً ستر ارب ڈالر تک جا پہنچا ہے جبکہ پاکستانی افواج کو اندرونی دشمنوں نے ہدف تنقید بنا بنا کر دفاعی اخراجات کم کرنے پہ مجبور کردیا جس سے دشمن قوتوں کے کیمپ میں جشن منانے کا جواز پیدا ہوا، افواج پاکستان تو پوری طرح چوکنا ہے اب وقت ہے عوام کو حقیقی صورتحال اور دشمن کے ناپاک عزائم کو سمجھ کر ان کے آلہ کاروں کو پہچان کر رسوا کرنے کا جوکہ ہر پاکستانی کا فریضہ ہے

     

    عنوان: جنگ دستک دے رہی ہے——— از — تحریر: انشال راؤ

     

  • صداقت عباسی کے وعدوں پہ وعدے کارکن مایوس ———— از -آصف شاہ

    صداقت عباسی کے وعدوں پہ وعدے کارکن مایوس ———— از -آصف شاہ

    پاکستان خالصتاً جمہوری عمل کے نتیجے میں وجود میں آیا، مگر افسوس کہ قیام کے بعد سب سے زیادہ غیر جمہوری صدموں سے دوچار رہا، ستر برس گزرنے کے بعد بھی پاکستان میں جمہوریت اور جمہوری ادارے ایک سوالیہ نشان بنے ہوئے ہیں، گوکہ آدھے سے زیادہ عرصہ آمریت کی نذر ہو چکا ہے لیکن بقیہ رہ جانے والے عرصے میں جمہوریت کے نام پر جمہوری بادشاہ ملک پر مسلط رہے ہیںاور انہوں نے بھی عوام کو لولی پاپ کے سواکچھ نہ دیا

    اقوام متحدہ میں‌ عظیم الشان خطاب ، وزیراعظم عمران خان پاکستان کی خوش قسمتی ہے ، صحافی اور علماء بھی واہ واہ کراٹھے ، خراج تحسین پیش کیا

    موجودہ حکومت کی بات کی جائے تواقتدار میں آنے سے پہلے ان کا منشور جو عوام کے سامنے رکھا گیاوہ کچھ اور تھا جبکہ محاورةہاتھی کے دانت دکھانے کے اور اور کھانے کے اور مصداق حلقوں سے منتخب نمائندے وعدوں کی بارات کے ساتھ اپنی لیڈر شپ سے کوسوں فاصلہ طے کر چکے ہیںحلقہ این اے57اور59پر اگر نظر ڈالی جائے تو تاحال لولی پاپ کی مصنوعی بارش جاری ہے این اے59میں غلام سرور خان نے ایم پی اے حاجی امجدکے ساتھ مل کر عوام کو کچھ ریلیف دینے کی اپنے تہی کوشش کی ہے لیکن اس کے ساتھ واثق قیوم عباسی تاحال سیاسی اننگز میں ترقیاتی کاموںکا کھاتہ نہ کھول سکے ہیں،لیکن وہ سیلفیوں سے اپنی کمی پوری کرنے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ پی پی 10اور این اے57کی قیادت تاحال قانو گو ساگری کی عوام کے ساتھ چھپن چھپائی کا کھیل جاری رکھے ہوئے ہیں

    سابق وفاقی وزیر داخلہ تاحال حلف نہ اٹھانے کی اکڑ کے ساتھ موجود ہیں،اور ان کی ہٹ دھرمی کی وجہ تحریک انصاف کی قیادت عوام کو بخوبی چکر دینے میں کامیاب نظر آتی ہے اگر چوہدری نثار اپنی سیاست کو اس حلقہ میں ایکٹیو کریں تو دونوں حلقوں کی عوام کو کچھ نہ کچھ ریلیف مل سکتا ہے،دوسری جانب ان کے حلف نہ اٹھانے کے خلاف حلقہ کے شہری فرخ عارف بھٹی ہائیکورٹ پہنچ گے ہیں اللہ کرے عدالت ان کو اس کٹہرے میں لائے کہ حلف اٹھائیں یا گھر جائیں کہ پوزیشن سامنے آجائے سیاست میں جہاں اپوزیشن موجود نہ ہو وہاں پر عوام کی حالت فٹبال کی سی ہو تی ہے اور اس وقت اس حلقہ میں قانو گو ساگری کی عوام کے ساتھ صداقت عباسی اینڈ کمپنی کرنے میں مصروف ہے ،ایک سال اور تقریبا تین ماہ ہونے کو ہیں لیکن ایک روپے تک کی گرانٹ نہ دی جا سکی

     

    عمران خان سچے،ایماندار اور حقیقی لیڈر ہیں ،اسلام،مسلمان اورکشمیر پرواضح موقف پیش کرنے پر سلام، شوبز کی دنیا کا وزیراعظم کو خراج تحسین

    اعلانات کے حوالہ سے اگر دیکھا جائے تو ہر یوسی کے لیے اٹھائیس لاکھ کی ایک گرانٹ اس کے بعد چالیس لاکھ فی یوسی اور پھر ایک ایک کروڑ کی گرانٹوں کے اعلانات کیے گے لیکن وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہوجائے،،ترقیاتی کاموں کو تو ایک طرف رکھ دیں انہوں نے ایک سال قبل یہ اعلان کیا تھا کہ ہر مہینے عوام کو ریلیف دینے کے لیے ایک کھلی کچہری کا انعقاد کیا جائے گا لیکن تاحال کون سی عوام اور کون سی کھلی یا بندکچہری کچھ نہ کیا جا سکا موصوف نے دو ہفتے قبل قانو گو ساگری کا دورہ کیا اور جلسے میں بھر پور شرکت پر صرف شاباش پر ٹرخاتے ہوئے ہوئے کلر سیداں اور حلقہ کے متعدد علاقوں میں ترقیاتی کاموں کا بالمشافہ افتتاح کیا ،

    یاد رہے کہ ہاس سے پہلے انہوں نے کرکٹ ورلڈ کپ کے لیے جانا تھا تو اسی سے ملتے جلتے اعلانات کیے تھے لیکن اس قانو گو کی عوام کی کوش قسمتی دیکھے جہاں پر کھلی کچہری کا انعقاد نہ کیا جا سکا اپنی الیکشن کمپین کے دوران پچیس تاریخ تک عوام کا ساتھ مانگنے والے تاحال عوام کو کچھ نہ دے سکے دوسری طرف ان کی جانب سے بنائی جانے والی کمیٹیاں اور ان کے نمائندگان بھی اب اپنے ہی عوام کے سامنے شرمشار سے نظر آتے ہیں اس سے بڑی بدقسمتی کیا ہو گی کہ قانو گو ساگری کے دورے کلرسیداں کے وہ سیاسی کھڑپینچ کرنے لگے ہیں

    جن کو اپنی یوسی میں کوئی مکمل طور پر نہیں جانتا لیکن ان کے اشارے پر قانو گو ساگری کے سیاسی قیادت عضو معطل نظر آتی ہے اور موصوف کے کان میں شائید انہی کھڑپینچوں نے ہی یہ بات ڈال رکھی ہے کہ اس قانو گو کو چھوڑ دیں اگلے الیکشنوں میں قانو گو ساگری ہمارے حلقہ کا حصہ نہیں ہو گااسی سیاسی چھپن چھپائی میں تاحال اس قانو گو کی عوام کی قسمت کا اونٹ کسی کروٹ نہیں بیٹھا اگر ملکی خزانے کی جانب نظر ڈالی جائے تو اس وقت ہر زی شعور پاکستانی یہ بات جانتا ہے

     

    اقوام متحدہ میں‌ عظیم الشان خطاب ، وزیراعظم عمران خان پاکستان کی خوش قسمتی ہے ، صحافی اور علماء بھی واہ واہ کراٹھے ، خراج تحسین پیش کیا

    خزانے کی حالت مخدوش ہے تو پھر منتخب نمائندوں کو حلقہ کی عوام کو حقائق سے اگاہ کرنا چاہیے لیکن ہر ماہ کے بعد ایک نیاءشوشا چھوڑ کر عوام کو گمراہ کرنے کی کیا تک ہے ان کی اسی روش پر گزشتہ روز کہوٹہ میں ہونے والے گیس کی افتتاحی تقریب میں اپنی ہی پارٹی کے ایک رہنماءکے ہاتھوں جہاں پر گزشتہ دور حکومت کے منصوبوں پر اپنے افتتاح کی تختی لگانے پر ان کی جو درگت بنی اس سے ان کو سبق حاصل کرنا چاہیے دوسری طرف ان کے اپنی ہی پارٹی کے ٹکٹ ہولڈرمرتضی ستی بھی اب ان کے سیاسی بلنڈروں کو نجی اور عوامی محافل میں آڑھے ہاتھوں لینے لگے ہیں،اگر یہی حالت رہی تو جلد یا بدیرقانو گو ساگری میں ،،کوئی پتھر سے نہ مارے میرے دیوانے کو کے مصداق ،،کہوٹہ جیسی عزت افزائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    صداقت عباسی کے وعدوں پہ وعدے کارکن مایوس ———— از -آصف شاہ