Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ 2020 کا شیڈول جاری

    ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ 2020 کا شیڈول جاری

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ نے ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ 2020 کے شیڈول کا اعلان کردیا ہے۔تفصیلات کے مطابق 20 فروری سے 22 مارچ تک جاری رہنے والےٹورنامنٹ کے تمام میچز پاکستان میں کھیلے جائیں گے۔ ایونٹ میں شامل 34 میچز ملک بھر کے 4 مختلف مقامات پر کھیلے جائیں گے۔

    ایچ بی ایل پی ایس ایل 2020 کے آغاز میں 50 روز باقی رہ جانے پر پی سی بی کی جانب سے ایونٹ کے مکمل شیڈول کا اعلان کردیا گیا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس دن کی مناسبت سے قومی کرکٹ کے گڑھ، قذافی اسٹیڈیم لاہور کے داخلی دروازے کے باہر ایک کاؤنٹ ڈاؤن کلاک بھی لگایا ہے۔

    ایچ بی ایل پی ایس ایل 2020 کا افتتاحی میچ دفاعی چیمپئن کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور دو مرتبہ کی چیمپئن اسلام آباد یونائیٹڈ کی ٹیموں کے درمیان نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں کھیلا جائے گا۔ لیگ کے پانچویں ایڈیشن کا فائنل 22 مارچ کو قذافی اسٹیڈیم لاہور میں ہوگا۔

    ایونٹ کا واحد کوالیفائر نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں کھیلا جائے گا جبکہ دونوں ایلیمنٹرز اورفائنل کی میزبانی قذافی اسٹیڈیم لاہور کے سپرد کی گئی ہے۔

    چونتیس میچوں پر مشتمل ایونٹ کے 14 میچز قذافی اسٹیڈیم لاہور ، 9 نیشنل اسٹیڈیم کراچی، 8 پنڈی کرکٹ اسٹیڈیم راولپنڈی اور 3 ملتان کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے جائیں گے۔

    شیڈول کے مطابق دفاعی چیمپئن کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اپنے 4 میچز کراچی، 3 لاہور 2 راولپنڈی اور 1 ملتان میں کھیلے گی۔پشاور زلمی آئندہ ایڈیشن میں اپنے 5 میچز راولپنڈی،3 کراچی جبکہ 1،1 لاہور اور ملتان میں کھیلے گی۔

    ایچ بی ایل پی ایس ایل 2020میں اسلام آباد یونائیٹڈ اپنے 5 میچز راولپنڈی، 3 لاہور اور 2 کراچی میں کھیلے گی۔ کراچی کنگز اپنے 5 میچز کراچی، 2،2 لاہور اور راولپنڈی جبکہ ایک ملتان میں کھیلے گی۔

    تفصیلات کے مطابق لیگ کے پانچویں ایڈیشن میں ملتان سلطانز اپنے 5 میچز لاہور، 3 ملتان جبکہ 1،1 راولپنڈی اور کراچی میں کھیلے گی۔ لاہور قلندرز اپنے 8 میچز لاہور جبکہ 1،1 کراچی اور راولپنڈی میں کھیلے گی۔

    احسان مانی، چیئرمین پی سی بی:

    چیئرمین پی سی بی احسان مانی کا کہنا ہے کہ ملک میں ٹیسٹ کرکٹ کی میزبانی کے بعد ایچ بی ایل پی ایس ایل کے تمام میچز کا پاکستان میں انعقاد پاکستان کرکٹ بورڈ کی بڑی کامیابی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ لیگ کی پاکستان ہے اور اس کے تمام میچز ہوم گراؤنڈز پر ہی کھیلے جانے چاہیے۔ احسان مانی نے کہا کہ گذشتہ ایڈیشن کے اختتام پر انہوں نے پاکستانی عوام سے وعدہ کیا تھا کہ ایچ بی ایل پی ایس ایل 2020 کے تمام میچز پاکستان میں ہوں گے اور آج وہ وعدہ وفا ہورہا ہے۔

    چیئرمین پی سی بی احسان مانی نے کہا کہ ایچ بی ایل پی ایس ایل 2020 میں 36 غیرملکی کھلاڑی شرکت کررہے ہیں، لیگ کے پانچویں ایڈیشن کے لیے 425 غیرملکی کھلاڑیوں نے رجسٹریشن کروائی تھی جس میں بنگلہ دیش کے 23، افغانستان کے 39، انگلینڈ کے 109، آسٹریلیا کے 12، جنوبی افریقہ کے 27، سری لنکا کے 39، نیوزی لینڈ کے 11، ویسٹ انڈیز کے 82، زمباوے کے9، امریکہ کے 6، متحدہ عرب امارات کے 9، سنگاپور کے 4، سکاٹ لینڈ کے 5، اومان کے 9، نیدرلینڈز کے 7نیپال کے 8، آئرلینڈ کے 6، کینیڈا کے 10، ہانگ کانگ کے 7 جبکہ برمودا، کینیا اور نمبیا کا ایک ایک کھلاڑی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غیرملکی کھلاڑیوں کی اس تعداد میں رجسٹریشن کروانے سے دنیا بھر میں یہ مثبت پیغام گیا ہے کہ پاکستان ایک پرامن اور محفوظ ملک ہے۔چیئرمین پی سی بی نے مزید کہا کہ اس ایونٹ کے انعقاد سے معیشت اور سیاحت کو فروغ ملے گا جو ملک کی مجموعی ترقی میں معاون ثابت ہوگا۔

    احسان مانی نے کہا کہ لیگ کے پانچویں ایڈیشن کا انعقاد ملک میں موجود کرکٹ کے مداحوں کو ایک طویل انتظار کے بعد اپنے پسندیدہ کرکٹرز کو ایکشن میں دیکھنے کا موقع فراہم کرے گا۔وہ پرامید ہیں کہ گذشتہ سال کی طرح رواں سال بھی ہر پاکستانی اس ایونٹ کے انعقاد کو کامیاب بنانے میں اپنا کردار ادا کریں گا اوراس دوران شائقینِ کرکٹ کی ایک بڑی تعداد اسٹیڈیمز کا رخ کرے گی۔

    چیئرمین پی سی بی احسان مانی نے کہا کہ شیڈول کے اعلان کے ساتھ ہی پاکستان کرکٹ بورڈ بھی کھلاڑیوں، کمرشل پارٹنرز، میڈیا اورمداحوں سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کو بہترین سہولیات فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ مقامی انتظامیہ اور سیکورٹی ایجنسیز کے تعاون کے مشکور ہیں جنہوں نے ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ کو مکمل طور پر پاکستان لانے میں پاکستان کرکٹ بورڈ کی بھرپور مدد کی ۔

    شیڈول:

    20 فروری:

    کوئٹہ گلیڈی ایٹرز بمقابلہ اسلام آباد یونائیٹڈ بمقام نیشنل اسٹیڈیم کراچی (میچ کےآغاز کا وقت جلد جاری کردیا جائے گا)

    21 فروری :

    دوپہر 2 تا شام 5:15بجے: کراچی کنگز بمقابلہ پشاور زلمی بمقام نیشنل اسٹیڈیم کراچی
    شام 7 تا رات 10:15 بجے: لاہور قلندرز بمقابلہ ملتان سلطانزبمقام قذافی اسٹیڈیم لاہور

    22 فروری:

    دوپہر 2 تا شام 5:15بجے: کوئٹہ گلیڈی ایٹرز بمقابلہ پشاور زلمی بمقام نیشنل اسٹیڈیم کراچی
    شام 7 تا رات 10:15 بجے: اسلام آباد یونائیٹڈ بمقابلہ ملتان سلطانزبمقام قذافی اسٹیڈیم لاہور

    23 فروری:

    دوپہر 2 تا شام 5:15بجے: کراچی کنگز بمقابلہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز بمقام نیشنل اسٹیڈیم کراچی
    شام 7 تا رات 10:15 بجے: لاہور قلندرز بمقابلہ اسلام آباد یونائیٹڈبمقام قذافی اسٹیڈیم لاہور

    26 فروری:

    شام 7 تا رات 10:15 بجے: ملتان سلطانز بمقابلہ پشاور زلمی بمقام ملتان کرکٹ اسٹیڈیم

    27 فروری:

    شام 7 تا رات 10:15 بجے: اسلام آباد یونائیٹڈ بمقابلہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز بمقام پنڈی اسٹیڈیم راولپنڈی

    28 فروری:

    دوپہر 2 تا شام 5:15بجے: ملتان سلطانز بمقابلہ کراچی کنگز بمقام ملتان کرکٹ اسٹیڈیم
    شام 7 تا رات 10:15 بجے: پشاور زلمی بمقابلہ لاہور قلندرز بمقام پنڈی اسٹیڈیم راولپنڈی

    29 فروری:

    دوپہر 2 تا شام 5:15بجے: ملتان سلطانز بمقابلہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز بمقام ملتان کرکٹ اسٹیڈیم
    شام 7 تا رات 10:15 بجے: اسلام آباد یونائیٹڈ بمقابلہ پشاور زلمی بمقام پنڈی اسٹیڈیم راولپنڈی

    یکم مارچ:

    شام 7 تا رات 10:15 بجے: اسلام آباد یونائیٹڈ بمقابلہ کراچی کنگز بمقام پنڈی اسٹیڈیم راولپنڈی

    2 مارچ:

    شام 7 تا رات 10:15 بجے: پشاور زلمی بمقابلہ کراچی کنگز بمقام پنڈی اسٹیڈیم راولپنڈی

    3 مارچ:

    شام 7 تا رات 10:15 بجے: کوئٹہ گلیڈی ایٹرز بمقابلہ لاہور قلندرز بمقام قذافی اسٹیڈیم لاہور

    4 مارچ:

    شام 7 تا رات 10:15 بجے: اسلام آباد یونائیٹڈ بمقابلہ لاہور قلندرز بمقام قذافی اسٹیڈیم لاہور

    5 مارچ:

    شام 7 تا رات 10:15 بجے: پشاور زلمی بمقابلہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز بمقام پنڈی اسٹیڈیم راولپنڈی

    6 مارچ:

    شام 7 تا رات 10:15 بجے: کراچی کنگز بمقابلہ ملتان سلطانز بمقام قذافی اسٹیڈیم لاہور

    7 مارچ:

    دوپہر 2 تا شام 5:15: پشاور زلمی بمقابلہ اسلام آباد یونائیٹڈ بمقام پنڈی اسٹیڈیم راولپنڈی
    شام 7 تا رات 10:15 بجے: لاہور قلندرز بمقابلہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز بمقام قذافی اسٹیڈیم لاہور

    8 مارچ:

    دوپہر 2 تا شام 5:15بجے: ملتان سلطانز بمقابلہ اسلام آباد یونائیٹڈ بمقام پنڈی اسٹیڈیم راولپنڈی
    شام 7 تا رات 10:15 بجے: لاہور قلندرز بمقابلہ کراچی کنگز بمقام قذافی اسٹیڈیم لاہور

    10 مارچ:

    شام 7 تا رات 10:15 بجے: لاہور قلندرز بمقابلہ پشاور زلمی بمقام قذافی اسٹیڈیم لاہور

    11 مارچ:

    شام 7 تا رات 10:15 بجے: کوئٹہ گلیڈی ایٹرز بمقابلہ ملتان سلطانز بمقام قذافی اسٹیڈیم لاہور

    12 مارچ:

    شام 7 تا رات 10:15 بجے: کراچی کنگز بمقابلہ لاہور قلندرز بمقام نیشنل اسٹیڈیم کراچی

    13 مارچ:

    شام 7 تا رات 10:15 بجے: پشاور زلمی بمقابلہ ملتان سلطانز بمقام نیشنل اسٹیڈیم کراچی

    14 مارچ:

    شام 7 تا رات 10:15 بجے: کراچی کنگز بمقابلہ اسلام آباد یونائیٹڈ بمقام نیشنل اسٹیڈیم کراچی

    15 مارچ:

    دوپہر 2 تا شام 5:15بجے: ملتان سلطانز بمقابلہ لاہور قلندرز بمقام قذافی اسٹیڈیم لاہور
    شام 7 تا رات 10:15 بجے: کوئٹہ گلیڈی ایٹرز بمقابلہ کراچی کنگز بمقام نیشنل اسٹیڈیم کراچی

    17 مارچ:

    شام 7 تا رات 10:15 بجے: کوالیفائر (ون بمقابلہ ٹو) بمقام نیشنل اسٹیڈیم کراچی

    18 مارچ:

    شام 7 تا رات 10:15 بجے: ایلیمنٹر ون (تھری بمقابلہ فور) بمقام قذافی اسٹیڈیم لاہور

    20 مارچ:

    شام 7 تا رات 10:15 بجے: ایلیمنٹر ٹو (کوالیفائر کی لوزر بمقابلہ ایلیمنٹر کی ونر) بمقام قذافی اسٹیڈیم لاہور

    22 مارچ:

    فائنل بمقام قذافی اسٹیڈیم لاہور (میچ کےآغاز کا وقت جلد جاری کردیا جائے گا)

    ایچ بی ایل پی ایس ایل 2020 کے بارے میں:

    • ہر اسکواڈ میں کم از کم 16 اور زیادہ سے زیادہ 18 کھلاڑی شامل ہوں گے۔ اسکواڈ میں شامل کھلاڑیوں کی ترتیب کچھ یوں ہیں: تین پلاٹینم، تین ڈائمنڈ، تین گولڈ، پانچ سلور، دو ایمرجنگ اور دو سپلمنٹری(اختیاری)۔
    • 16 رکنی اسکواڈ میں 11 مقامی اور 5 غیرملکی کھلاڑیوں کی شمولیت لازمی ہوگی تاہم 18 رکنی اسکواڈ میں کھلاڑیوں کی ترتیب 2 آرڈر میں کی جاسکتی ہے۔اسکواڈ میں یا تو 12 مقامی اور 6 غیرملکی کھلاڑی ہوں گے یا پھر 13 مقامی اور 5 غیرملکی کھلاڑی شامل ہوں گے۔
    • پلیئنگ الیون میں کم از کم 3 اور زیادہ سے زیادہ 4غیرملکی کھلاڑیوں کی شرکت لازمی ہوگی۔
    • ہر فرنچائز ایک کھلاڑی کوایمبسڈر ز اور ایک کو مینٹورز مقرر کرسکتی ہے۔
    • نظرثانی شدہ سیلری کیپس:
    • پلاٹینم: 23 ملین – 34 ملین پاکستانی روپے( 147 ہزار تا218 ہزارامریکی ر ڈالر)
    • ڈائمنڈ: 11.5ملین – 16 ملین پاکستانی روپے( 73 ہزار تا103 ہزارامریکی ر ڈالر)
    • گولڈ: 6.9ملین – 8.9ملین پاکستانی روپے( 44ہزار تا58 ہزارامریکی ر ڈالر)
    • سلور: 2.4 ملین – 5.4ملین پاکستانی روپے( 15 ہزار تا35 ہزارامریکی ر ڈالر)
    • ایمرجنگ: 1ملین – 1.5ملین پاکستان روپے( 6.5ہزار تا9.5 ہزارامریکی ر ڈالر)

  • بی پی ایل کے میچ کا سنسنی خیز مقابلہ، آخری گیند پر ہوا فیصلہ

    بی پی ایل کے میچ کا سنسنی خیز مقابلہ، آخری گیند پر ہوا فیصلہ

    بی پی ایل کے میچ کا سنسنی خیز مقابلہ، آخری گیند پر ہوا فیصلہ

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق بنگلادیش پریمیئر لیگ (بی پی ایل) میں کومیلا واریئرز نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد چٹوگرام چیلنجرز کو دو وکٹ سے شکست دے دی، میچ کا فیصلہ آخری گیند پر ہوا۔ میچ جیو سوپر سے براہ راست نشر کیا گیا۔

    ڈھاکا میں کھیلے گئے میچ میں چٹوگرام چیلنجرز نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں 6 وکٹ پر 159 رنز بنائے۔لینڈل سمنز 54 رنز بناکر نمایاں رہے، جنید صدیق نے 45 اور ضیاء الرحمٰن نے 34 رنز بنائے۔کومیلا واریئرز کے سومیا سرکار نے دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

    مین آف دی میچ ڈیوڈ ملان نے 74 رنز کی شاندار اننگز کی بدولت کومیلا واریئرز نے ہدف آخری گیند پر حاصل کیا۔چٹوگرام چیلنجرز کی جانب سے روبیل حسین نے دو وکٹیں حاصل کیں۔بنگلادیش پریمیئر لیگ (بی پی ایل) کے تمام میچز جیو سوپر سے براہِ راست نشر کیے جارہے ہیں۔واضح رہے کہ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) نے پاکستان میں ٹیسٹ سیریز کھیلنے سے انکار کر دیا تھا. جبکہ پاکستان کے چند کھلاڑی بی پی ایل میں کھیل رہے ہیں.

  • احتساب اور نیا سال ، تحریر اعظم  فاروق

    احتساب اور نیا سال ، تحریر اعظم فاروق

    احتساب اور نیا سال
    ازقلم:اعظم فاروق
    آج 2019 کئی یادوں کے ساتھ جدا ہونے کو ہے اس سال کے اندر کئی ہمارے عزیز و اقارب ہم سے جدا ہو چکے ہیں. کئی لوگوں کے لیے یہ سال بہت اچھا گزرا ہو گا اور کچھ لوگوں کے لیے باعثِ زحمت بھی ہو سکتا ہے.
    دنیا کے اندر کئی نظام موجود ہیں اور ہر نظام کو چلانے کے لیے احتساب کا نظام بھی بنایا گیا ہے تاکہ سسٹم کی روانی کو یقینی بنایا جائے اسی طرح ہمارے ملک پاکستان کے اندر بھی ایک احتساب کا سسٹم موجود ہے اور آجکل احتساب کا بازار بہت گرم ہے ہر آتے دن کے ساتھ سیاستدانوں کو کرپشن کے الزامات میں قید وبند کیا جا رہا ہے کو ئی اس کو سیاسی انتقام کہہ رہا ہے اور کوئی کچھ. مگر ملزمان ایک بات ہی کہہ رہے ہیں ہم بے قصور ہیں. اور اس احتسابی عمل کے دوران ہم عوام نے کم وبیش 40 سال ردی کی ٹوکری کی نذر کئے. کیونکہ اس سے کوئی خاطر خواہ نتائج حاصل نہیں ہوئے. یہ کام ریاست کا ہے ہمارا نہیں
    ہمیں حکومت پہ ٹکٹکی باندھے رکھنے کی بجائے دوسروں کے احتساب کا انتظار کیے بغیر ہمیں اپنا احتساب کرنا چاہیئے
    ہر فرد کی خواہش ہے دوسرا ٹھیک ہو مجھے کوئی کچھ نہ کہے. کاروباری افراد اپنا گھراؤ کریں کیا میں ٹیکس ادا کر رہا ہوں؟ طلباء اپنی تعلیمی کارکردگی کا محاسبہ کریں. حتیٰ کہ ایک عام شہری اپنے فرائض کا جائزہ لے تو کافی حد تک اس معاشرے سے خرافات کا خاتمہ ہو سکتا ہے
    آج 2019 بھی ہماری زندگی سے نکل گیا اور ہم جشن منا رہے ہیں اوہ بھئی کس بات کا جشن؟
    جشن دو صورت میں ہی ہو سکتا ہے
    ہماری زندگی میں ایک سال کا اضافہ ہوا حالانکہ ایسا نہیں ہوا بلکہ ایک سال کم ہوا ہے
    دوسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ جو قدرت نے ہماری ذمہ داری لگائی تھی وہ ہم نے اس سال کے اندر مکمل کی ہیں تو یہ بات بھی ناممکن ہے
    تو پھر جشن کیوں….؟
    ذرا سوچیں ہماری زندگی سے ایک اور سال کم ہو گیا تو جشن کی بجائے ہم اپنا محاسبہ خود کریں کیونکہ یوم فرقان کے دن ہر روح اپنی جواب دہ ہو گی.
    جشن کی بجائے ہم یہ دیکھیں کہ گزشتہ سال میں ہم
    نے
    کیا رب کی بندگی کی ہے؟
    انسان ہو نے کہ ناطہ انسانیت کے لئے کیا کیا؟
    اپنے آپ کو کتنا جنت کے قریب کیا؟
    اپنے آپ کو کتنا بئس المصیر سے دور کیا؟
    معاشرے کے لئے کیا کردار ادا کیا؟
    بلکہ یہ محاسبہ تو روزانہ کی بنیاد پر ہونا چاہیے تاکہ انسان اَدھر اُدھر بھٹکنے کی بجائے اپنا کام احسن طریقے سے کرے.
    اگر یہ والی سوچ ہر فرد کے اندر پیدا ہو جائے کہ میں جو کروں گا اس کا خود جوابدہ ہوں تو یہ نیب جیسے ادارے کی بھی ضرورت نہ پڑے اور ایک اچھا معاشرہ تشکیل پا سکتا ہے.
    تو آئیے اس نئے سال کے موقع پر اپنا محاسبہ کریں
    گزشتہ سال میں کیا کمایا
    روٹھے لوگوں کو منائیں
    اپنے آپ کو اپنے رب کے قریب کریں
    گزشتہ سال کی ناکامیوں کا اعتراف کرتے ہوئے ان کی اصلاح کی کوشش کریں تاکہ اگلا سال بھی ناکامیوں کی نذر نہ ہو جائے کیونکہ وقت کبھی رکتا نہیں یہ چلتا رہتا ہے اس وقت کو سب سے قیمتی جانتے ہوئے
    آئندہ سال کے اہداف کا تعین کریں تا کہ ملک وقوم کے لیے تعمیری کردار ادا کر سکیں اور اپنے رب کے حضور پیش ہوتے وقت شرمندگی کا سامنا نہ ہو

  • پکار مظلوم کشمیری بہن اور کردار محمد بن قاسم!!!  تحریر: غنی محمود قصوری

    پکار مظلوم کشمیری بہن اور کردار محمد بن قاسم!!! تحریر: غنی محمود قصوری

    ہم بفضل تعالی مسلمان ہیں اور ہمارا ایمان ایک نبی آخرالزمان جناب محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ہے اور جو ہمارے پیارے نبی نے فرما دیا وہ کبھی جھوٹ نہیں ہو سکتا میرے نبی نے بڑی محنت اور قربانیوں سے اپنے اصحاب کی جماعت بنائی اور اس کی خالص نبوی منہج پر تربیت کی اور پھر اسی جماعت اصحاب نے مسلمان تو مسلمان کفار کی بھی مدد کی جس کی بہت واضع اور مشہور مثال حجاج بن یوسف کا اپنے 17 سالہ کمانڈر بتیجھے محمد بن قاسم کو ایک ہندو عورت کی پکار پر عرب سے ہند پر یلغار کیلئے بھیجنا ہے
    میرے نبی نے اپنی فتوحات میں کفار کو عام معافیاں دیں اور پھر ان معافیوں کے عیوض بہت سے کفار مسلمان ہو گئے اور کچھ احسان فراموش معافی مانگ کر بوقت جنگ میرے نبی کے مقابلے میں پھر میدان کار زار میں مدمقابل بھی آتے رہے مگر تاریخ گواہ ہے انہوں نے ہمیشہ منہ کی کھائی میرے نبی سے زیادہ ان کفار کو کوئی نہیں جانتا اسی لئے فرمان نبوی ہے
    الکفر ملت واحدہ یعنی کفر ایک جماعت ہے ایک ملت و واحدت ہے کافر دنیا کے کسی کونے کا ہو یا پھر کسی بھی رنگ و نسل یا مذہب سے ہو وہ سب یکجان ہو کر مسلمانوں پر ظلم کرتے آئے ہیں اور کر بھی رہے ہیں جس کی تازہ ترین مثال کشمیر میں ہندوستان کا فلسطین میں اسرائیل اور افغانستان ، عراق ،شام غرضیکہ دنیا کا کوئی بھی خطہ ہو اور ظلم بھی مسلمانوں پر ہو اس میں امریکہ کا کردار سرفہرست ہے
    ایک بہت مشہور نعرہ ہے رو زمین کے تین شیطان امریکہ ،اسرائیل ہندوستان
    اگر دیکھا جائے تو اس نعرے میں رتی بھر بھی شک نہیں کہ درج بالا تینوں ممالک شیطان کے خالص پیروکار اور بے شرمی و بے حیائی میں سب سے اوپر ہیں آج امریکہ بین المذاہبی ہم آہنگی کا نعرہ لگانے والا بھی ہے اور اسی بین المذاہبی ہم آہنگی کو پاش پاش کرنے والا بھی یہی امریکہ ہی ہے آپ دیکھ لیجئے 148 روز سے مظلوم کشمیریوں پر ہندو ظالم کا ظالم جاری ہے کشمیری مسلمان سخت سردی میں بغیر ادویات و خوراک کے اپنے گھروں میں محصور ہیں تمام حریت قیادت جیلوں میں ہے
    کاروبار زندگی معطل ہے سکول و کالجز بند ہیں مذید ستم کہ لینڈ لائن و موبائل فون سروس کیساتھ انٹرنیٹ سروس بھی بند ہے مگر کیا مجال امریکہ منافق کی کہ جو منہ سے پھوٹا ہو کہ یہ ظلم ہے یہ شدت پسندی و دہشت گردی ہے مگر اس کے برعکس ظالم ہندو فوج سے برسربیکار مجاھدین کی راہ میں جب بھی رکاوٹ ڈالی اسی امریکہ نے ڈالی امریکہ کے علاوہ اسرائیل بھی انڈیا کیساتھ مل کر مظلوم کشمیریوں پر ظلم کر رہا ہے کئی بار اسرائیلی بلیک کیٹ کمانڈوز کی مقبوضہ وادی کشمیر میں موجودگی کا انکشاف ہوا اور 27 فروی کو پاکستانی ائیر فورس کے ہاتھوں تباہ ہونے والے ایک طیارے کا پائلٹ بھی اسرائیلی تھا
    یہ ظالم کافر جب بھی کسی مسلمان ملک پر ظلم کرتے ہیں سب مل کر کرتے ہیں مگر افسوس تو عالم اسلام پر ہے کہ جو حیرت انگیز طور پر مظلوم کشمیریوں کے حق میں چند بول ہی بول سکے ورنہ عملا تو کچھ بھی نہیں حالانکہ میرے پیارے نبی کریم کا ارشاد ہے کہ مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں یعنی جب جسم کے کسی حصے کو دکھ درد ہوگا تو دوسرا حصہ بھی وہ دکھ درد محسوس کرے گا مگر افسوس صد افسوس کہ ہم نے درد کو محسوس کرنا صرف بیان بازی سمجھ لیا حالانکہ میرے نبی کی سنت پر عمل کرتے ہوئے پاکستان نے عرب اسرائیل جنگ میں اپنی فضائیہ کی مدد سے اسرائیل کے اندر گھس کر اس کا خواب چکنا چور کیا پھر 80 کی دہائی میں روس کے خلاف لڑ کر روس کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے عالم اسلام کو بتایا کہ مسلمان کس طرح ایک جسم کی مانند ہیں ابھی حال ہی میں ایک بار پھر امریکہ کی افغانستان میں قبر بنا کر عالم اسلام کو بتایا کہ ایک جسم کی مانند ایسے ہوتے ہیں خالی نعروں للکاروں سے نہیں بلکہ عملا کچھ کرنا پڑتا ہے یاد رکھوں عالم اسلام کے حکمرانوں کل روز قیامت کشمیریوں کی بے بسی پر تمہاری مجرمانہ خاموشی تمہیں لے ڈوبے گی مگر بفضل تعالی پاکستان نے کل 48 میں بھی کشمیریوں کی مدد کیلئے اپنی افواج چڑھائی تھی پھر 65،71 کی جنگیں بھی انڈیا نے پاکستان سے اس لئے لڑیں کیونکہ پوری دنیا میں اللہ کے بعد کشمیریوں کا مددگار پاکستان ہی ہے پھر 1999 میں پاکستان نے کشمیری کی آزادی کیلئے ہی کارگل جنگ کی اب رواں سال 27 فروری 2019 میں بھارت کی طرف سے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کے بعد بھارت کے گھر میں گھس کر اسے مارنا بھی آزادی کشمیر کی آزادی کی طرف ایک کاوش ہی ہے
    سنو عالم اسلام کے حکمرانوں پاکستان نے نبی ذیشان کے فرمان ،مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں، پر عمل کرتے ہوئے امریکہ،اسرائیل ہندوستان کے علاوہ روس تک کو بتلا دیا کہ ہم اپنے نبی کے فرمان پر جان بھی قربان کرنے والے ہیں مگر فلسطین ،شام و افغانستان اور خصوصی طور پر اہلیان مقبوضہ کشمیر تم سے پوچھ رہے ہیں کہ ہم ایک جسم ہیں پھر تم درد محسوس کیوں نہیں کرتے ؟ اور روز قیامت تمہیں جواب دینا ہوگا اپنی چپ کا حساب دینا ہوگا ان شاءاللہ پاکستان تو عملا جان و مال پیش کر چکا اور کر بھی رہا ہے تم اپنی عیاشیوں سے نکل کر دیکھو تم نے کیا کرنا ہے اور کیا کر چکے اسلام کے نام لیوا کھوکھلے مسلمان حکمرانوں دیکھ لو آج اسرائیل و امریکہ کو پاکستان سے صرف یہی عداوت ہے اس ارض مقدس نے اپنے مسلمان بھائیوں کی مدد کی خاطر اسرائیل و امریکہ سے ٹکر لی بلکہ حال ہی میں محمد بن قاسم کی طرح خطے کے لئے بہت بڑے خطرے تامل ٹائیگرز کو ختم کرکے غیر مذہب کی بھی مدد کی
    افسوس عرب کے عیاش حکمرانوں تم محمد بن قاسم کی نسل سے ہوکر بھی ہند کے کشمیر کی مظلوم بیٹیوں کی پکار نا سن سکے ہاں مگر ابن قاسم کی سنت زندہ کرنے کیلئے پاکستان ہے ان شاءاللہ

  • سقوط غرناطہ اور قوانین شہریت ۔  (تحریر سجاد ظہیر )

    سقوط غرناطہ اور قوانین شہریت ۔ (تحریر سجاد ظہیر )

    سقوط غرناطہ اور قوانین شہریت ۔ (تحریر سجاد ظہیر )

    اسلامی تاریخ کے الم ناک برسوں میں سے ایک زوال غرناطہ کا سال 1492 ہے ۔ساڑھے سات سو سال حکومت کرنے کے بعد، پورے اندلس میں صرف غرناطہ وہ شہر تھا جہاں مسلمانوں کی حکومت باقی بچی رہی تھی ۔شمال کی عیسائی ریاستیں رفتہ رفتہ جنوب میں، مسلمانوں کے ایک ایک علاقے پر قبضہ کرتی رہیں، سب سے پہلا شہر جو مسلمانوں کے ہاتھ سے نکلا وہ طلیطلہ Toledo تھا اور دو سو سال بعد جو آخری شہر مسلمانوں کے ہاتھ سے گیا وہ غرناطہ تھا ۔
    اس کے بعد غرناطہ کے مسلمانوں پر جس طرح عرصہ حیات تنگ کیا گیا، وہ مسیحی تاریخ کا تاریک ترین باب ہے۔جب مسلمانوں نے اندلس فتح کیا تھا تو یہاں کی عیسائی اور یہودی ابادیوں کے ساتھ جو انتہائی روادارانہ برتاو کیا وہ مسلم تاریخ کا درخشاں باب ہے ۔جس پر سیک مسلمان آج بھی فخر کر سکتا ہے ۔
    سقوط غرناطہ کے بعد عیسائ بادشاہ فرڈینینڈ اور اس کی بیوی ازابیلا نے ابتدا یہ کوشش کی کہ مسلمان خود ہی عیسائیت اختیار کر لیں ،لیکن جب مسلمانوں نے ترک مذہب کو رد کر دیا تو مختلف مواقع پر مختلف قوانین شہریت بنا کر مسلمانوں کو اسپین سے مٹا دیا گیا ۔
    1499 میں پہلا شاہی فرمان یہ آیا کہ جو مسلمان، عیسائیت قبول نہیں کرتا اسے اسپین سے نکل جانا ہو گا ۔لہذا مسلمانوں کی جمعیت کی جمعیتیں شمالی افریقہ کی طرف ہجرت پر مجبور ہوئیں ۔۔۔یہ پر امن ہجرت نہیں تھی ۔۔۔طول طویل راستوں میں مہاجرین کے یہ قافلے لوٹ لئے جاتے ۔۔۔۔۔مزاحمت کی صورت میں قتل عام ہو جاتا ۔ جو لوگ لوٹ مار اور قتل و غارتگری سے بچ جاتے، وہ موسم کے شدائد،بھوک پیاس اور بیماریوں سے مر جاتے ۔
    اسپین سے صرف مسلمانوں کو ہی بے دخل نہیں کیا گیا بلکہ یہ حکم یہودیوں کے لئے بھی تھا ۔یہودی چونکہ اندلس کے معاشرے کا سب سے متمول طبقہ تھے لہذا انہوں نے تجارتی کشتیوں پر اجتماعی نقل مکانی کی اور یورپی ممالک کی طرف چلے گئے ۔اس زمانے میں مشرقی یورپ کے بیشتر ممالک سلطنت عثمانیہ کے زیر تسلط تھے لہذا یہ مسلمان عثمانی خلیفہ کی اجازت سے ترکی اور مشرقی یورپ میں آباد ہو گئے ۔
    1524 کے لگ بھگ غرناطہ میں "مذہبی تفتیشی عدالتیں "قائم کی گئیں ۔ ہجرت نہ کرنے والے مسلمانوں کو ان عدالتوں میں پیش کیا جاتا، اگر وہ جج کے سامنے عیسائیت قبول کر لیتے تو ان کے پورے خاندان کو بپتسمہ دے دیا جاتا دوسری صورت میں انہیں آگ کے الاو میں پھینک دیا جاتا ۔ان عدالتوں کے فیصلوں کے مطابق ایک دو نہیں ہزاروں مسلمانوں کو باب الرہلہ کے چوک پر اسی غرض سے بھڑکائے جانے والے الاو میں پھینک دیا جاتا اور وہ بھسم ہو جاتے ۔یہ واقعات مسلمان مورخین ہی نے نہیں بلکہ اسکاٹ اور گستاولیبان سمیت متعدد عیسائ مغربی مورخین نے بھی اپنی کتابوں میں درج کئے ہیں ۔
    جب ہزاروں مسلمان جلا دئے اور قتل کر دیئے گئے تو حکومت خود پریشان ہو گئ کہ آخر کتنوں کو قتل کیا جائے تو انہوں نے مسلمانوں کو اجازت دے دی کہ وہ اپنے مذھب پر قائم رہ سکتے ہیں مگر انہیں مذہبی ٹیکس ادا کرناپڑے گا ۔سالانہ بنیادوں پر لگایا جانے والا یہ بہت بھاری ٹیکس تھا جسے طبقہ امرا ہی برداشت کر سکتا تھا ۔
    وہ اسپینی مسلمان جنہوں نے ہجرت نہیں کی، مذہبی عدالتوں کے قتل عام سے بچنے کیلئے عیسائیت تو قبول کر لی لیکن در پردہ مسلمان ہی رہے ۔۔۔وہ گھر میں احمد،عبداللہ، محمد، عائشہ اور فاطمہ ہوتے تو گھر سے باہر ڈیوڈ، جون، مائیکل، میری اور مارگریٹ ہوتے ۔ گھر میں عربی بولتے باہر اسپینی، گھر میں نماز پڑھتے، اتوار کو چرچ کے ماس میں شرکت کرتے ۔اپنے بچوں کو گھر میں قرآن پڑھاتے جب یہ بچے اسکول جاتے تو ان کے گلے میں صلیب لٹکا دیتے ۔
    پھر 1566 میں ایک اور قانون آ گیا کہ کوئی باشندہ عربی نہیں بول سکتا، نہ ہی عربی لباس پہن سکتا ہے، جو اس کا ارتکاب کرتا اس پر "فرضہ ” یعنی ایک بھاری ٹیکس لگ جاتا ۔عورتوں کا پردہ تو پہلے ہی ممنوع تھا اب یہ حکم بھی ملا کہ جمعہ کے دن سارے مسلمان اپنے گھروں کے دروازے کھلے رکھیں گے ۔اصل میں مسلمان چوری چھپے جمعہ کی جماعت گھروں میں قائم کرنے لگے تھے، اس لئے یہ قانوں بن گیا ۔
    عربی پر پابندی لگی تو ہر گھر کی تلاشی کے بعد ہزاروں عربی کتابیں جمع کر کے باب الرہلہ کے چوک میں سپرد آتش کر دی گئیں،یورپی مورخین کا اندازہ ہے کہ شاہ شیمنس کے حکم سے صرف غرناطہ میں سپرد آتش کی جانے والی عربی کتابوں کی تعداد اسی ہزار 80000 تھی۔ اس میں قرآن کے وہ نسخے بھی تھے جو مسلمان چھپا کر رکھتے اور اپنے بچوں کو پڑھاتے تھے ۔اس کے علاوہ تاریخ، ادب،فقہ،حدیث، تفسیر فلسفہ،کلام،طب،طبعیعات، فلکیات وغیرہ وغیرہ کی کتب، جو آٹھ سو سال میں مشرق و مغرب سے لا کر خمع کی گئ تھیں گھروں اور لائبریریوں سے نکال کر جلا دی گئیں ۔
    1604 میں مسلمانوں کے حوالےسے آخری قانون شہریت یہ آیا کہ مسلمان سرزمین اندلس کو بالکل خالی کر دیں ۔ چنانچہ دو سال کے عرصے میں تقریبا پانچ لاکھ مسلمانوں نے اندلس کو خیر باد کہہ دیا، زیادہ تر افریقہ میں یا جہاں انہیں پناہ ملی ،چلے گئے ۔ان میں سے ایک تہائی لوگ راستے ہی میں یا قتل کر دیئے گے یا خود مر گئے ۔اور 1606 کے بعد اسپین میں ایک مسلمان بھی باقی نہ رہا ۔😪

  • غدارکون  ؟—–از…منہال زاہد سخی

    غدارکون ؟—–از…منہال زاہد سخی

    ابھی کچھ دیر پہلے میں نے محب الوطن جرنل حمید گل کی صاحبزادی عظمیٰ گل کے زور قلم سے ایک تحریر آنکھوں سے ملائی تو یہ تحریر لکھنے کے قابل ہوا ہوں مجھے عظمیٰ گل سے کوئی دشمنی نہیں ہے نہ ہی ان سے نفرت ہے اور نہ مجھے ان سے کوئی بدلہ اور انتقام لینا ہے بلکہ مجھے ان سے محبت ہے با وجہ انہیں اسلام اور پاکستان سے محبت ہے ۔

    انہوں نے اپنے زور قلم سے موجودہ صورتحال اور جرنل پرویز مشرف کا کردار رکھا ہے۔

    کچھ لکھنے سے پہلے کہ ایک بات عرض کی جاتی ہے ہر شخص کا الگ نظریہ ہوتا اور ہر کوئی ایک طرح اور ایک رخ سے نہیں سوچتا ۔ تو کسی کو بات بے مزاج اور بے مزہ لگے تو معذرت۔

    اتنی زیادہ باتیں مشرف صاحب کے بارے میں سن رہے ہیں تو آج انہی باتوں کا جواب دینے کیلئے حاضر ہوں۔

    جرنل پرویز مشرف نے 40 سال پاکستان کی خدمت کی 3 جنگیں لڑی اور یہ وہ واحد جرنل ہیں جو جوائنٹ چیف آف آرمی اسٹاف اور ایس ایس جی گروپ کے بھی جرنل رہے ہیں اور چیف آف آرمی اسٹاف بھی رہیں ہے انہوں نے مکہ کو خوارج سے آزاد کروایا ۔ کارگل کی جنگ دشمن کی سرحد میں تین راتیں گزاری ۔ فوج کیخلاف اٹھنے والے نواب اکبر بگٹی کو موت کے گھاٹ اتارا۔امریکہ کے ساتھ ڈبل گیم کھیل کر امریکہ کو مارا اور یہ پینٹا گون نے بھی اعتراف کیا ہے ۔

    ایک تو پرویز مشرف صاحب شدید علیل ہیں اور سونے پہ سہاگا یہ کہ انہیں پھانسی کی سزا سنا دی گئی ۔

    ان کی وجوہات بعد میں رکھیں گے پہلے مجھے کوئی اس بات کا ثبوت دے کہ بڑے بڑے غداروں کو کیوں چھوڑا گیا ۔ جن میں نواز شریف اور آصف علی زرداری جیسے غدار شامل ہے ۔ جنہوں نے میثاق جمہوریت مری میں کرکے پاکستان کو 30000 ارب ڈالر سے لوٹا ۔ انہیں ضمانتوں پہ رہا کردیا گیا ۔

    یہ وہ ہی نواز شریف ہے جس نے اپنی نواسی مہر النساء کی شادی پر مودی جیسے انتہا پسند اور شدت پسند اور سب زیادہ مسلمانوں سے نفرت کرنا والا موذی ہے ۔اسے دعوت دی اور فوج کو اطلاع بھی نہ دی ۔
    فوج تو ملک کے ساتھ مخلص تھی اس لئے کوئی فیصلہ نہیں لیا کہ ملک افراتفری کا شکار ہو سکتا تھا ۔
    یہ وہ ہی نواز شریف ہے جس کے چینی کے کارخانے انڈیا میں بڑے پیمانے پر موجود ہیں ۔یہ وہ ہی نواز شریف ہے جس نے پرویز مشرف صاحب کا جہاز اترنے نہ دیا اور مارنے کی ناکام کوشش کی ۔
    یہ وہ ہی جو ملک بدر ہوا اور جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے ہوا یہ وہ ہی ہے جسے جسٹس ثاقب نثار نے ناہل کیا تھا ۔
    ہاں یہ وہ ہی جو غدار شہباز شریف کا بھائی ہے ۔شہباز شریف بھی وہ جو لیپ ٹاپ کیس اور کئی کیسز میں ملوث اور شہباز شریف بھی وہ جس کی ایک بیوی جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سگی بہن ہے ۔

    آصف سعید کھوسہ بھی وہ جس سے کچھ دن پہلے عہدہ واپس لیا گیا ۔اور یہ وہ آصف سعید کھوسہ ہے جس نے جرنل قمر جاوید باجوہ کی توسیع کی عہدے کا بھر پور فائدہ اٹھاتے ہوئے بھر پور مذمت کی۔ہاں یہ وہ ہی آصف سعید کھوسہ ہے جسے اوکس فورڈ اور ہارورڈ جیسی بڑی یونیورسٹیوں سے بلاوا آیا اور وہ جانے کے لئے راضی ہو گئے۔

    اور آج ساری کڑیاں مل جانی چاہیئے تاکہ لوگوں کے سامنے تصویر کا اصل رخ بھی آجائے۔

    ہاں یہ وہ ہی نواز شریف ہے جس نے اپنی بیٹی کی شادی جعلی کیپٹن سے کروائی ۔ہاں یہ وہ ہی غدار ہے جس نے انڈیا کے سب سے زیادہ دورے کئیے ۔ہاں یہ وہ ہی نواز شریف ہے جس نے کارگل کی جنگ بند کروائی اور جس کشمیر کو ہم رو رہے ہیں وہ آج سے 20 سال پہلے آزاد ہو جاتا ۔

    ہاں یہ وہ نواز شریف ہے جس نے مولانا فضل الرحمان کشمیر کمیٹی کا چیئرمین بنایا اور اس نے کچھ بھی نہیں کیا۔

    ہاں یہ وہ فضل الرحمان ہے جس نے یوم آزادی منانے سے انکار کیا تھا ۔ہاں یہ وہ فضل الرحمان ہے جس کے باپ نے کہا تھا شکر ہے میں پاکستان منانے کے گناہ میں شامل نہیں تھا ۔

    ہاں یہ وہ ہی فضل الرحمان جس کی کئی تصاویر منظور پشتین محمود اچکزئی اور اسفند یار ولی کے ساتھ ہیں۔

    ہاں یہ وہ فضل الرحمان ہے جو نسلی غدار ہے ۔ ہاں یہ وہ ہی ہے جس نے 13 دن کے دھرنے میں سب غداروں کو جمع کیا اور پروپیگنڈا کیا عمران خان جیسے محب وطن سے استعفیٰ لینے کا دعویٰ کیا کیونکہ اسے اس دور حکومت میں کسی نے نہیں پوچھا ۔

    ہاں یہ وہ فضل الرحمان ہے جس نے محمود اچکزئی کے ساتھ مل کر دھرنا دے کر مسئلہ کشمیر کو میڈیا کی نظروں سے غائب کرکے پس پشت ڈال دیا۔

    اور ہاں یہ وہ محمود اچکزئی ہے جس نے پاکستان میں اپنے والد کی میت دفنانے سے انکار کیا اور اسے افغانستان جیسی نمک حرام سر زمین پر دفنایا ۔

    ہاں یہ وہ نواز شریف ہے جس کی پارٹی اور زرداری کی پارٹی کا میثاق جمہوریت ہوا ۔

    ہاں یہ وہ ہی زرداری جو نافرمان تھا جو اپنے باپ کے بلانے پر باپ کے پاس نہ آیا ۔

    ہاں یہ وہ ہی ہے زرداری ہے جس نے بے نظیر کو بلیک میل کرکے اس سے شادی کی ۔ اور اقتدار کی خاطر اسے مروادیا ۔ یہ وہ ہی جس کا سسر ذوالفقار علی بھٹو غداری کے جرم میں پھانسی چڑھا ۔

    یہ وہ ذوالفقار علی بھٹو ہے جس نے بنگلہ دیش پاکستان سے علیدہ کیا صرف اقتدار کی خاطر۔

    اگر یہ شیخ مجیب الرحمٰن کو وزیراعظم بننے دیتا تو پروپیگنڈا نہ ہوتا اور بنگلہ دیش علیحدہ نہ ہوتا ۔

    ہاں یہ وہ ہی ہے جس کا نواسا بلاول زرداری آئے دن کسی نہ کسی پروپیگنڈے کا سامان کر رہا ہوتا ہے۔ہاں یہ وہ ہی ذوالفقار علی بھٹو ہے جسے نواب اکبر بگٹی اپنا گہرا دوست مانتا تھا ۔

    ہاں یہ وہ ہی نواب اکبر بگٹی ہے جس نے تکبر میں آکر اور طاقت کے زور پر فوج جیسے عظیم ادارے سے ٹکر لی اور مارا گیا ۔

    ہاں یہ وہ نواب اکبر بگٹی ہے جس کا پوتا برام داغ بگٹی دہشت گردی میں ملوث ہے۔

    ہاں یہ وہ ہی برام داغ بگٹی ہے جو بم دھماکوں میں ملوث۔ہا یہ وہ ہی برام داغ بگٹی ہے جو پاکستان سے مفرور تھا ہاں یہ وہ ہی برام داغ بگٹی ہے جسے انڈیا نے ممبئی جیسے بڑے شہر میں ایک عالیشان بنگلہ دیا ۔

    اب اس جج سیٹھ وقار احمد پر آتے ہیں جس نے جرنل پرویز مشرف کو پھانسی کی سزا سنائی اور غیر آئینی فیصلہ دیا ۔ وہ اس کڑی میں کیسے مل گئے ۔اسفند یار ولی جس کا تعلق مولانا فضل الرحمان سے جوڑا گیا تھا اس کی پارٹی ANP میں اور خوارج کی پارٹی TTPمیں مسیحا کے نام سے جانا جاتا ہے ۔
    اس کی عدالت سے 200 سے زائد PTM منظور پشتین کی پارٹی کے مجرم رہا ہوئے۔ ہاں یہ وہ ہی جج ہے جس کی عدالت کو کوئی دہشت گرد چھو لیتا ہے تو اسے معاف کردیا جاتا ہے ۔ ہاں یہ وہ ہی جس نے PTM اور داعش کے 102 سزا یافتہ مجرم رہا ہوئے۔

    تو ایسا جج پھر جس طرح کا خود ہے غدار ہے تو پھر قوم میں فساد افراتفری اور انتشار والے فیصلے سنائے گا اور اسی طرح کا فیصلہ سنایا اس طرح کے لوگ دشمن ملکوں کے لئے کام کرتے ہیں۔

    تو جج پر اتنے زیادہ جرم ہیں تو یہ بھی غداری کے جرم پھانسی کا مستحق ہے ۔ اور پھانسی کے لائق جج پھانسی کا حکم کیسے دے سکتا ہے۔

    دوسری بات یہ یے کہ پرویز مشرف صاحب کے علاؤہ جو اوپر اتنی بڑی پٹی ہے جس میں

    1نواز شریف

    2 شہباز شریف

    3 جسٹس آصف سعید کھوسہ

    4 آصف علی زرداری

    5 بلاول زرداری

    6 مولانا فضل الرحمان

    7 برام داغ بگٹی

    8 منظور پشتین

    9 محمود اچکزئی

    10 اسفندیار ولی

    11 کیپٹن صفدر

    ان ساروں کو بھی پھانسی کی سزا دینی چاہئیے ۔

    اور بھی لمبی پٹی ہے لیکن وہ ان کی معاون ہے انہیں عمر قید کی سزا دینی چاہئے ۔ تاکہ لوگ عبرت پکڑ سکیں ۔

    پرویز مشرف صاحب اور نواب اکبر بگٹی کی بات کرتے ہیں۔ جب ان دونوں کے آپس میں اختلافات ہوئے تو بات چیلنج تک پہنچ گئی اور نواب اکبر بگٹی نے اپنی ساری فوج لڑائی میں جھونک دی اور باقائدہ مقابلہ کیا اور ملک کا نظم و ضبط خراب کیا ۔ملک کا دفاع کرنے والے ادارے سے ٹکر لی تو مقابلہ میں نواب اکبر بگٹی مارا گیا۔ یہ کوئی جرم نہیں ہے۔ کہ پرویز مشرف نے نواب اکبر بگٹی کو مارا اس بھی آگے سے مقابلہ کیا ۔اور جو یہ کہتا ہے کہ پرویز مشرف نے اپنے ذاتی مفاد کیلئے فوج کا استعمال کیا تو یہ غلط بات ہے۔ اس وقت جو جرنل ہوتا مقابلہ فوج سمیت کرتا نہ کہ نہتا لڑتا۔ جو بھی پاکستان یاں کسی بھی ادارے کے خلاف لڑے گا اٹھے اسے اسی طرح کرنا پڑے گا ۔اور انشاء اللہ ایسا ہوگا بھی۔

    اس کے بعد آتے ہیں لال مسجد کیس پر کہ ۔ لال مسجد حملہ ہوا تو لوگوں نے میڈیا نے پروپیگنڈا کرنا شروع کردیا کہ اسلام کی بیٹیاں مار دی ہماری ماؤں بہنوں کو مشرف نے مروادیا یہ ہو گیا وہ ہوگیا اور مشرف پر پھر الزام لگایا گیا۔

    پہلی بات تو یہ ہے کہ جس نے خوارج سے مکہ کو پاک کیا اسے کسی بھی مسجد کا خیال ضرور ہوگا اور فوج کے حملے کے جواب میں اسلحہ سے جواب کس نے دیا ان ہی معصوم بچیوں نے ۔ ہر گز نہیں خوارج نے جواب دیا ۔ مشرف نے مکہ جو پاک کرکے مکہ کا حق ادا کیا اور لال مسجد کو پاک کرکے لال مسجد کا حق ادا کر دیا۔

    لال مسجد حملے میں حکمت عملی کے تحت لال مسجد کو پہلے ہی خالی کرا لیا گیا تھا ۔

    لال مسجد حملے میں صرف مولوی عبد العزیز کی ماں کی موت ہوئی اور ایک بچی کے گم شدہ خبر ہے ۔ تو لال مسجد حملہ کار آمد ثابت ہوا۔

    ابھی ہم آخری اور بڑے ہی اہم مسئلہ پر آتے ہیں کہ مشرف نے امریکہ کو پاکستان میں اپنے اڈے دئے ۔

    پہلی بات امریکہ افغانستان پر حملہ کرکے قبضہ کرکے اور پھر پاکستان پر حملہ کر کے پاکستان پر قبضہ کر لیتا ۔

    جس طرح امریکہ آیا اسی طرح روس آیا تھا اور جرنل حمید گل کی حکمت عملی کے تحت ٹکروں میں بٹ گیا ۔

    لیکن یہ دونوں ملک آئے کیوں؟ دراصل دونوں کا ہدف اور ضرورت گرم سمندر تھے جو پاکستان پر قبضہ کرکے حاصل کئے جاسکتے تھے لیکن روس کو جرنل حمید گل نے اور امریکہ کو جرنل پرویز مشرف نے شکست دی۔

    امریکہ کو اڈے دے کر پاکستان نے بچنے کا سامان کر لیا تھا کیونکہ انڈیا بھی امریکہ کو اڈے دینے پر تیار تھا۔ اور اڈے دے کر اس کی افغانستان حملے میں بھرپور مدد کرتا جس کا نتیجہ سب کو پتا ہے کیا ہوتا ۔

    پاکستان نے امریکہ کو اڈے دےکر اسکا سامان اسلحہ نہ چلنے کے قابل کرتے اور افغانستان کو اطلاع دیتے اس راستے سے ابھی سامان روانہ ہوا وہ بچنے کا انتظام کرتے اور سامان والے راستے پر گھاٹ لگا کر بیٹھ جاتے اور اسے بیکار جر دیتے اور پاکستان نے ان کے اسلحہ سے کافی زیادہ چیزیں تیار کی جو وطن کیلئے کارآمد ثابت ہوئی ۔

    امریکہ کے ساتھ دراصل ایک ڈبل گیم ہوئی انہی کے ہتھیاروں سے ان کو مارا اور پینٹاگون نے یہ اعتراف بھی کیا کہ مشرف نے ہمارے ساتھ ڈبل گیم کی ۔

    آج امریکہ کا سامان اور مہنگی ٹیکنالوجی کوئٹہ اور پشاور کی منڈیوں میں 90 %سے 95 % بچت پر بیچی جاتی ہیں۔ اور الحمدللہ آج افغانستان پر مجاہدین کا قبضہ ہے ۔ اور امریکہ صرف کابل میں محصور ہے ۔

    نواز شریف کی بہت بات کی گئی اب نواز اور مشرف پر آتے ہیں ۔

    جرنل پرویز مشرف باہر کسی ملک سے پرواز کے ذریعے پاکستان واپس آرہے تھے تو نواز شریف نے ان کا جہاز ہوائی اڈے پر اترنے نہ دیا ۔ پر اللّٰہ کی مدد آگئی اور ۔شرف صاحب بچ گئے۔

    کسی نہ کسی طرح پرویز مشرف صاحب اتر گئے ۔ اور نواز شریف کو جیل کے سپرد کیا ۔ اور پھر انہی کو ملک بدر بھی کیا جس کے یہ لائق تھے ۔ بلکہ یہ لوگ پھانسی کے لائق تھے اور ہیں ۔ اور مشرف نے کہا تھا میں نے زندگی کی سب سے بڑی غلطی یہ کی کہ ان جو پھانسی نہ دی۔ اور ان کے بارے میں عوام کا فیصلہ بھی سوشل میڈیا پر مشرف کی غلطی کا اعتراف کر رہا ہے۔ کیونکہ وہ بھی ان کی پھانسی کا مطالبہ حق بڑی زور و شور سے اور بھر پور کر رہے ہیں۔

    بڑے بڑے الزامات کا رد سامنے ہے ماننے اور نہ ماننے کی مرضی ۔

    مشرف محب وطن اور نڈر ہیں بڑے ہی با حکمت اور عمدہ سوچ کے مالک ہیں پاکستان کی خاطر جنگیں لڑنے والے ہیں اور اسلام سے محبت کرنے والوں میں سے ایک ہیں ۔

    اللّٰہ ہمیں قیامت کے روز حق کے ساتھ اور حق پر رہنے والوں کے ساتھ اٹھائے ۔ تاکہ کسی بھی شرمندگی کا اس روز سامنا نہ کرنا پڑے (آمین) ۔

    غدارکون؟..

    تحریر:منہال زاہد سخی

  • رانا ثناءاللہ کی رہائی بارے کی شہریارآفریدی نے اہم بات

    رانا ثناءاللہ کی رہائی بارے کی شہریارآفریدی نے اہم بات

    باغی ٹی وی وزیر مملکت برائے انسداد منشیات شہریار افریدی نے کہا ہے کہ رانا ثناء اللہ ابھی بھی ملزم ہیں، انہیں ضمانت ملی ہے رہائی نہیں، اس حوالے سے ہم عدالتی فیصلے کا احترام کرتے ہیں۔

    پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما رانا ثناء اللہ کی ’’عدم ثبوت‘‘ کی بنا پر چھ مہینے بعد جیل ضمانت پر رہائی کے بعد میڈیا پر شدید تنقید کا نشانہ بننے کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں نے ویڈیو شہادت کا ایک بار ذکر کیا تھا لیکن سارا میڈیا اسی کا راگ الاپتا رہا۔

    شہریار افریدی کا کہنا تھا کہ تاثر دیا گیا کہ رانا ثناء اللہ کو رہائی ملی۔ ملزم کو ضمانت پر رہا گیا گیا ہے، رہائی نہیں ملی، اس پر کسی کو ابہام نہیں ہونا چاہیے۔ کیس کو منطقی اننجام تک پہنچانا عدالتوں کا کام ہے۔

    شہریار افریدی نے دعویٰ کیا کہ رانا ثناء اللہ کے خلاف شوہد موجود ہیں جنہیں عدالت میں پیش کیا جائیگا اور کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا جائیگا۔ انہوں نے سوال کیا کہ رانا ثناء اللہ کے اثاثے کیسے بڑھے؟ انہوں نے کہا کہ رئیل اسٹیت کا کاروبار کرتا ہوں۔

    رانا ثناء اللہ ایک بار پھرمشکل میں پھنس گئے، حکومت نے اب کیا کیا؟ جان کر ہوں حیران

    رانا ثناء اللہ کیس کی سماعت کرنیوالے جج کا تبادلہ، ضمانت کیس کی سماعت ملتوی

    رانا ثناء اللہ نے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کوجیل سے لکھا خط، کیا کہا؟

    ان کا کہنا تھا کہ گرفتاری کے 17 روز کے اندر عدالت میں ثبوت پیش کردیے تھے، لیکن رہائی دینا عدالت کا فیصلہ ہے۔ جب ٹرائل شروع ہوگا تمام شواہد اور گواہ پیش کیے جائیں گے۔
    واضح‌رہے کہ منشیات اسمگلنگ کیس میں رانا ثنااللہ کی درخواست ضمانت منظورکر لی گئی، لاہور ہائیکورٹ نے رانا ثناء اللہ کی درخواست ضمانت منظور کی،عدالت نے راناثنااللہ کو10لاکھ روپےکے2مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا.

  • میرٹ کا قبرستان سندھ پبلک سروس کمیشن–از–انشال راؤ

    میرٹ کا قبرستان سندھ پبلک سروس کمیشن–از–انشال راؤ

    جس طرح مودی کے بھارت میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو حقوق و آزادی کے حصول کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا بالکل اسی طرح پاکستان نیا ہو یا پرانا بالخصوص سندھ میں میرٹ کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا، گذشتہ کئی دہائیوں سے میرٹ کی بحالی اور میرٹ کی پامالی کے دعووں کو لیکر حکومتوں و اپوزیشن کے مابین الفاظی جنگ چلی آرہی ہے لیکن ہمیشہ سے پاکستان بالخصوص سندھ میں میرٹ کا جنازہ ہی نکلتا آرہا ہے،

    موجودہ وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ حکومت میرٹ اور شفافیت پر یقین رکھتی ہے لیکن حکومت شاید بھول رہی ہے کہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد صوبوں کے معاملات میں مداخلت نہیں کرسکتی، اسی بات کا فائدہ اٹھا کر سندھ سرکار نے تو جدید بادشاہت کا نفاذ کر رکھا ہے، اٹھارہویں ترمیم کے فوراً بعد بادشاہ سلامت سندھ نے کراچی کے شہری اختیارات کے علاوہ یونیورسٹیز اور سندھ پبلک سروس کمیشن SPSC کو گورنر کی بجائے وزیراعلیٰ کے ماتحت کرلیا جسکے بعد سندھ کی سرزمین پر دھوم دھام سے میرٹ کا جنازہ نکالا گیا

    اب اسے میرٹ کا قبرستان قرار دیا جاسکتا ہے، اگر اس ابتری کا جائزہ لیا جائے تو اس کا لائسینس ایک طرف تو ریاست کے نظام نے دے رکھا ہے جبکہ دوسرا اسے عدلیہ نے جائز قرار دے رکھا ہے کیونکہ یہ جسٹس صاحبان ہی ہیں جو خائن بیوروکریٹس کے ساتھ نرم رویہ رکھتے ہیں جسکے نتیجے میں وہ کھل کر اندھیر نگری چوپٹ راج کو شد و مد کے ساتھ جاری رکھتے ہیں،

    کاش اگر سپریم کورٹ کے جسٹس صاحب SPSC کے ان افسران و ممبران کو عبرتناک سزا دے دیتی تو آج ایک بار پھر سے اہل افراد عدالت کے دروازے کھٹکھٹانے پہ مجبور نہ ہوتے، ہوتے، 2017 میں سپریم کورٹ نے SPSC میں میرٹ کے برخلاف بھرتی ممبرز کو باعزت واپسی کا راستہ دیا اور کمبائن کمپیٹیٹو ایگزام 2013 کو مختلف غیرقانونی و میرٹ کی دھجیاں اڑانے کی وجوہات کی بنا پر دوبارہ کروانے کا حکم دیا لیکن دلچسپ بات دیکھیں اس پورے کیس میں کسی ممبر یا افسر کو بدعنوانی و خیانت پر سزا نہیں دی گئی

    حتیٰ کہ کنٹرولر SPSC جمعہ خان چانڈیو کو بھی واپس سبجیکٹ اسپیشلسٹ بنادیا جبکہ وہ شخص لاکھوں خاندانوں کے مستقبل سے کھیل چکا تھا، ہزاروں نااہل افراد کو بھرتی کرنے والے SPSC کے ممبران و افسران کو بخش دیا گیا یہ جانتے ہوے بھی کہ ان ہزاروں نااہل بھرتی افراد نے اگلے تیس سال پاکستان کی ایسی تیسی کرنی ہے لیکن اس کے باوجود کسی کو سزا نہیں دی گئی الٹا ان غریب و اہل افراد کو بھینٹ چڑھادیا گیا جو محنت کرکے پاس ہوگئے تھے، ایسے میں جہاں سزا کا تصور ہی نہ ہو تو بھلا کوئی سوچ سکتا ہے کہ بدعنوانی اور خیانت رک پائیگی،

    ایک بار پھر سندھ پبلک سروس کمیشن میں میرٹ کا قتل عام ہونے پہ اہلیت سراپا احتجاج ہے اور اہل افراد انصاف کے حصول و میرٹ کے لیے عدالت کا سہارا لینے پہ مجبور ہیں لیکن ہوگا وہی جو روایت ہے متعدد پیشیاں ہونگی، پاریش راول اور امریش پوری کی طرح جسٹس صاحبان ڈائیلاگ ماریں گے کہ اگر ہم نے فلاں کچھ لکھ دیا تو تہماری نسلیں یاد رکھیں گی، ہم نے لال قلم چلادیا تو یاد رکھوگے، اپنے لیے خود ہی سزا منتخب کرلو اگر ہم نے کی تو تمہیں لگ پتہ جائیگا وغیرہ وغیرہ اور نظام بدستور کھڈے لائن ہی لگا رہے گا،

    زرا سوچئے کہ اگر عدلیہ دو تین بڑے افسران کو جرم ثابت ہونے پہ کڑی سزا دے دے تو پھر کوئی افسر بدعنوانی و خیانت کرے گا؟ کبھی نہیں، زرا سوچئے جب سابق کنٹرولر جمعہ چانڈیو پہ جرم ثابت ہوا اور اس کی بھرتی بھی میرٹ کے خلاف ثابت ہوگئی اس کے اثاثوں میں بھی بغیر کسی زریعے کے لاکھوں گنا اضافہ ثابت ہوگیا تو پھر عدالت کا اسے بخش دینا کیا دوسروں کو خیانت و بدعنوانی کا لائسینس دینا نہیں؟

    اگر اس وقت عدالت کی طرف سے ملوث افراد کو نشان عبرت بنادیا گیا ہوتا تو دوبارہ کسی کو جرات نہ ہوتی کہ وہ میرٹ سے کھیلواڑ کرے، نہ دنیا نیوز کو پروگرام کرنا پڑتا نہ ہی کسی کو عدالت جانا پڑتا، کبھی کبھی تو مجھے ایسا بھی لگنے لگتا ہے کہ ایسا جج صاحبان اس لیے بھی کرتے ہیں کہ اگر یہ حضرات کیسز کو جلدی جلدی نمٹادینگے اور سخت سزائیں دینے لگیں گے تو پھر لوگ غلط کام کرنا چھوڑ دینگے جب لوگ غلط کام نہیں کرینگے تو پھر ججز کو کون پوچھے گا،

    ان کا گزر پانی کیسے چلے گا، خیر کہا جاتا ہے کہ کسی بھی قوم کی ترقی میرٹ کے بغیر ممکن نہیں، ہاں بالکل مگر پاکستان کو ترقی نہیں چاہئے کیونکہ گزارا تو IMF یا ADB یا کسی ملک سے قرض لیکر ہی چلانا ہوتا ہے وہ بھی نہیں تو بیچاری عوام تو ہے ہی ٹیکسز بڑھادینگے بجلی مہنگی کردینگے گیس کا ریٹ بڑھادینگے سو یوں گاڑی چل جائیگی اس لیے میرٹ کی کیا ضرورت ہے، میرٹ آگیا تو عوام نے اوطاقوں اور ڈیروں پہ آنا جانا چھوڑ دینا ہے کیونکہ پالیسی ساز اہل افراد آجائینگے تو عوام آزاد ہوتی جائیگی،

    اس کے علاوہ آئے دن ہم سنتے ہیں کہ DG/ISPR صاحب پریس کانفرنس کررہے ہوتے ہیں کہ ملکی سلامتی کو خطرہ ہے دشمن ففتھ جنریشن وار مسلط کر رکھی ہے وغیرہ وغیرہ لیکن مجھے حیرت ہے کہ سالوں سے نیشنل سیکیورٹی کے نام پہ قوم کے پیسے کا بیڑہ غرق کیا جارہا ہے لیکن جنگلیوں کی طرح لڑنے کے سوا آج تک ایک کام بھی ایسا نہیں کیا گیا جس سے نوجوان نسل میں مایوسیاں ختم ہوں، نوجوان نسل وڈیروں و سیاستدانوں کی گرفت سے آزاد ہوں، ان کے ذہنوں میں غلط نظام و ناانصافیوں کی وجہ سے ریاست سے نفرت کا عنصر پیدا نہ ہو،

    مجھے سمجھ نہیں آتی کہ اس ملک کے تھنک ٹینک و پالیسی ساز چاہتے کیا ہیں، ایک بات تو طے ہے یا تو وہ بدنیت ہیں یا نااہل ہیں جو انہیں یہ تک نہیں پتہ کہ نیشنل سیکیورٹی کے لیے سب سے اہم ترین چیز میرٹ اور قانون کا عملی نفاذ ہے یاد رہے کہ میرٹ کے بغیر نہ تو قانون کا عملی نفاذ ممکن ہے نہ ہی کرپشن و بدعنوانی کا خاتمہ ہوسکتا ہے، اور یہ بات بچے بچے کو پتہ ہے کہ میرٹ کی کتنی اہمیت ہے اگر نہیں پتہ تو بس اسٹیبلشمنٹ کو نہیں پتہ یا پھر وہ بدنیت ہے وہ نہیں چاہتے کہ عوام آزاد ہو،

    حالانکہ میرٹ کا نفاذ کوئی راکٹ سائنس نہیں دو دن میں مکمن ہے ایک دن میں ہوسکتا ہے بس تھوڑا ڈنڈا اٹھانا پڑتا ہے یہ بدعنوان بیوروکریٹ مافیا تو ایسی سیدھی ہو کہ دنیا میں مثال دی جانے لگے گی مگر بات وہی ہے کہ نیت ٹھیک نہ ہو تو ایک صدی تک سسٹم ٹھیک نہیں ہوسکتا اس لیے پاریش راول و امریش پوری والے ڈائیلاگ چلتے رہتے ہیں،

    کپتان صاحب کہتے ہیں کہ میرٹ کا نفاذ انکی اولین ترجیح ہے تو بھائی کب کروگے 16 مہینے گزرنے کے بعد بھی نسٹ یونیورسٹی میں یہ کہنا پڑے تو پھر کیا الفاظ کہوں بس اللہ ہی حافظ، NTS یا دیگر نجی ٹیسٹنگ سروسز ہزاروں افراد کا تحریری ٹیسٹ لیتی ہیں اور چند گھنٹوں بعد حاصل کردہ نمبرز کیساتھ نتیجہ جاری کردیتی ہیں

    لیکن واحد انوکھا ادارہ سندھ پبلک سروس کمیشن ہے جو ایک تو نتیجہ دینے میں مہینے یا سال لگا دیتا ہے اور حاصل کردہ نمبر تو ان کو بھی معلوم نہیں ہوتے جو اپائنٹ ہوتے ہیں یا اپائنٹ کرنے والے ہیں، کپتان صاحب اگر آپکی ترجیح واقعی میرٹ کی بحالی ہے اور آرمی چیف صاحب واقعی آپ سنجیدہ ہیں ملکی سلامتی کے لیے تو خدارا اس طرف دھیان دیجئے سندھ میں لسانیت کارڈ کو ریاست مخالف استعمال کیا جاتا ہے

    خدا کے لیے میرٹ کے نفاذ کو یقینی بنائیے تاکہ یہ لسانیت کارڈ ہمیشہ کے لیے ختم ہو اور لوگوں کا ریاست پہ اعتماد بحال ہو، سندھ پبلک سروس کمیشن جوکہ میرٹ کا قبرستان ہے اسے آڑے ہاتھوں صحیح کرنے کی ضرورت ہے ورنہ یہ میرٹ کا قبرستان نااہل افراد کو بھرتی کر کر کے ملکی اداروں اور معاشرے کو قبرستان بنادیگا جو آگے چل ملک و قوم کا قبرستان بھی ثابت ہوسکتا ہے۔

    آرزوئے سحر
    تحریر: انشال راؤ

  • قائد اعظم ایک اصول پسند شخصیت–از–عبدالحمیدصادق

    قائد اعظم ایک اصول پسند شخصیت–از–عبدالحمیدصادق

    امریکی مورخ ’’سٹینلے والرٹ‘‘ اپنی شہرہ آفاق کتاب ’’جناح آف پاکستان‘‘ کی ابتداء ان الفاظ سے کرتا ہے ’’بہت کم شخصیات تاریخ کے دھارے کو قابل ذکر انداز سے موڑتی ہیں اس سے کم وہ افراد ہیں جو دنیا کا نقشہ بدلتے ہیں اور ایسا تو شاید ہی کوئی ہو جسے ایک قومی ریاست تخلیق کرنے کا اعزاز حاصل ہو۔

    جناح نے یہ تینوں کام کر دکھائے۔‘‘ایسے تمام افراد جنہوں نے دنیا میں کچھ بڑے کام کیے ہوتے ہیں، ان میں کچھ ایسی خوبیاں پائی جاتی ہیں جو انہیں باقی لوگوں سے ممتاز رکھتی ہیں ۔ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کا شمار بھی ایسے لوگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے تاریخ کو ایک نیا رخ دیا۔ ظاہری طور پر دبلے پتلے اورکمزور، لیکن اصول پسندی، پختہ عزم و یقین، صاف گوئی، انصاف پسندی، خوش مزاجی اور پابندی وقت جیسی عظیم خوبیاں ان کی زندگی کا حصہ تھیں۔ یہی وہ خوبیاں تھیں کہ جن کا اعتراف دشمن بھیکیا کرتے تھے۔

    یہی وجہ تھی کہ انگریزوں اور ہندوئوں کے بڑے بڑے کردار بھی آپ کے سامنے نظریں جھکا لیا کرتے تھے کہ ایک اصول پسند آدمی کے سامنے خود کو کس طرح بڑا بنا کر پیش کریں کیونکہ بڑا آدمی وہ نہیں جس کے پاس سلطنت یا پیسہ زیادہ ہو بلکہ بڑا آدمی وہ ہے جو اصول پسند اور وقت کا پابند ہو۔ قائداعظم محمد علی جناح کے اصول ان کی زندگی کی سب سے قابل قدر چیز ہیں۔ ان کی زندگی کے راہنما اصول ہمارے لیے واضح پیغام ہیں۔

    ان کی اصول پسندی کا ہی نتیجہ تھا کہ برٹش انتظامیہ اورکانگرس پارٹی کی راہ میں ایک یہی شخص سب سے بڑی رکاوٹ تھا، جس کا آ ہنی حوصلہ اور صبر و استقلال سب کے لیے باعث حیرت اور باعث تشویش تھا۔قائداعظم محمد علی جناح کی اصول پسند زندگی کے چند ایک واقعات آپ کی خدمت میں گوش گزار ہیں۔23 مارچ 1941ء کی بات ہے کہ قائداعظم کو لاہور ریلوے اسٹیشن کے سامنے والی مسجد میں نماز عصر ادا کرنا تھی ۔ جب وہ تشریف لائے تو مرزا عبدالمجید تقریر کر رہے تھے۔

    قائداعظم کو داخل ہوتے دیکھ کر لوگوں نے اگلی صف تک راستہ بنانا شروع کر دیا۔ اتنے میں ایک لیگی کارکن نے کہا :’’سر ادھر سے آگے بڑھیے‘‘ تو قائداعظم نے جواب دیا: ’’میں آخر میں آیا ہوں اس لیے یہاں آخر میں ہی بیٹھوں گا۔‘‘ قائداعظم چاہتے تو آگے بڑھ سکتے تھے لیکن انہوں نے آخر میں بیٹھنے کو ترجیح دی۔

    اسی طرح ایک بار قائداعظم گورنر جنرل ہاؤس کے جنوبی صحن میں چہل قدمی کر رہے تھے اور نیوی کے اے ڈی سی لیفٹیننٹ ایس ایم حسن تھوڑے فاصلے پر ان کے پیچھے پیچھے چل رہے تھے۔ سیر کے دوران وہ خلاف معمول ذرا آگے بڑھ گئے اور گورنر جنرل ہاؤس کے جنوبی گیٹ کے بالکل قریب جا نکلے جہاں ایک ایسا نیا سنتری کھڑا تھا جس نے قائداعظم کو روبرو نہیں دیکھا تھا۔ سنتری نے کہا یہیں رک جائیے جناب! آپ آگے نہیں جا سکتے، اجازت نہیں ہے۔ قائداعظم نے کہا
    ٹھیک ہے، ٹھیک ہے۔

    سنتری نے کہا نہیں جناب! یہ ٹھیک نہیں ہے۔۔۔ کسی شخص کو اس نشان سے آگے جانے کی اجازت نہیں، یہی آرڈر مجھے ملا ہے اور اس کی پابندی کروانا میرا فرض ہے، اس پر قائداعظم نے ہاں میں سرہلا دیا۔پاکستان بننے کے بعد قائداعظم کو سالگرہ کے موقع پر بے شمار خطوط موصول ہوئے، ان میں سے ایک خط پنجاب کے ایک پرانے مسلم لیگی خان بہادر کا بھی تھا۔

    سیکرٹری نے یہ خط آپ کو پیش کیا اور کہا کہ جناب یہ خط پنجاب سے خان بہادر نے بھیجا ہے، لکھا ہے آپ میرے مرشد ہیں اور مسلم لیگ میرا مذہب ہے، میں مسلم لیگ کے لیے ہر قربانی دینے لیے تیار ہوں، انہوں نے سالگرہ کا تحفہ بھی بھیجا ہے۔ اتفاق سے اس خط پر ٹکٹ نہیں لگے تھے۔۔ قائداعظم نے خط کے مندرجات کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا کہ جواب میں لکھو کہ آپ کے خط پر ٹکٹ نہیں تھا،

    بغیر ٹکٹ کے خط وصول نہیں کیے جاتے، سیکرٹری نے غلطی سے آپ کا خط لے لیا، ہر روز بے شمار بے رنگ خط وصول کیے جائیں تو مسلم لیگ کے پیسے کا ضیاع ہو گا۔1947ء کے اواخر کی بات ہے کہ قائداعظم کے بھائی احمد علی گورنر جنرل ہاؤس میں ان سے ملنے کے لیے آئے اور بڑے فخر سے اپنے ملاقاتی کارڈ پر اپنے نام کے ساتھ قائداعظم گورنر جنرل کا بھائی کے الفاظ لکھ کر کارڈ قائداعظم کے اے ڈی سی گل حسن کو دیا اور کہا کہ قائداعظم کا بھائی ہوں۔

    بھائی اور قائداعظم کا۔۔۔ اے ڈی سی کو کچھ لحاظ تو کرنا ہی تھا، انہوں نے کارڈ فوراً قائداعظم کو پیش کیا۔۔۔ اس کو توقع تھی کہ قائداعظم دیکھ کر بہت خوش ہوں گے لیکن قائداعظم نے اے ڈی سی سے پوچھا یہ ملاقاتی کون ہیں؟ انہوں نے جواب دیا سر آپ کے بھائی ہیں۔ قائداعظم نے پوچھا کیا انہوں نے وقت لیا تھا؟ جس پر گل حسن نے جواب دیا کہ سر انہوں نے وقت تو نہیں لیا تھا۔

    قائداعظم نے سرخ پنسل سے ’’قائداعظم گورنر جنرل کا بھائی‘‘ کے الفاظ کاٹنے کے بعد کہا
    ان سے کہوکہ کارڈ پر صرف اپنا نام لکھے۔ انہوں نے یہ کارڈ لے جا کر قائداعظم کے بھائی کو دیا اور کہا کہ یہ الفاظ قائداعظم نے خود کاٹے ہیں، وہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ یہاں صرف اپنا نام لکھیں پھر ممکن ہے قائداعظم سے ملاقات کر لیں۔دوسری جنگ عظیم کے دوران ایک پرجوش مسلم لیگی کارکن عبدالستار خیری کو حکومت نے گرفتار کر لیا۔ دوران قید قائداعظم کو بارہاخط بھی لکھتے رہے۔ جب رہا ہوئے تو قائداعظم کا شکریہ ادا کیا کہ آپ نے میری رہائی کے لیے بہت کوششیں کیں، جس پر قائداعظم فرمانے لگے کہ میں اصولاً یہ بات گوارا نہیں کر سکتا کہ بغیر مقدمہ چلائے اور بغیر عدالتی کاروائی کے کسی شخص کی آزادی صلب کرلی جائے۔

    جب کوئی فرد یا قوم اپنے وقت کی صحیح معنوں میں قدر کرنا جان جاتی ہے تو دنیا کی تمام کامیابیاں ان کے قدموں کی خاک بن جاتی ہیں۔ پہلے وہ وقت کو اپنے لیے اہم بناتے ہیں، پھر وقت ان کو لوگوں کے لیے اہم بنا دیتا ہے۔ وقت بڑی تیزی کے ساتھ گزر جاتا ہے اور جو شخص وقت کی اس تیزی سے فائدہ نہیں اٹھاتا وقت اس کو اٹھا کر کامیابیوں سے دور پھینک دیتا ہے۔

    قائداعظم محمد علی جناح کی سب سے بڑی خوبی جس نے انہیں کامیاب کیا وہ وقت کی پابندی تھی۔ اس بارے میں قائداعظم کے کئی واقعات بہت مشہور ہیں۔ سب سے دلچسپ اور انوکھا واقعہ اس وقت پیش آیا جب پاکستان بننے کے بعد سٹیٹ بنک آف پاکستان کا افتتاح کیا گیا۔قائداعظم اس تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔ وہ ٹھیک وقت پر تشریف لائے لیکن کئی وزراء اور سرکاری افسران اس تقریب میں نہیں پہنچے تھے، جن میں وزیر اعظم لیاقت علی خان بھی شامل تھے۔

    اگلی قطار کی کرسیاں جو افسران اور وزراء کرام کے لیے مخصوص تھیں، خالی پڑی تھیں۔ یہ منظر دیکھ کر قائداعظم غصے میں آگئے اور حکم کیا کہ پنڈال سے تمام خالی کرسیاں اٹھا دی جائیں تا کہ جو حضرات بعد میں آئیں، انہیں کھڑا رہنا پڑے۔ اس طرح انہیں احساس ہو گا کہ پابندی وقت کتنا ضروری ہے۔ حکم کی تعمیل ہوئی۔ پروگرام شروع ہونے کے تھوڑی دیر بعد ہی جناب وزیر اعظم لیاقت علی خان تشریف لائے تو ان کے ساتھ چند وزرا ء بھی تھے۔

    پنڈال میں موجود کسی شخص کو جرأت نہ ہوئی کہ ان کے لیے کرسی لائے یا پنی نشست پر انہیں بٹھائے۔ تقریب کے دوران لیاقت علی خان اور ان کے ساتھ آنے والے وزرا کھڑے رہے۔ ان کا مارے شرمندگی برا حال تھا۔ اس واقعہ کے بعد کسی اعلیٰ افسر کو جرأت نہ ہوئی کی تقریب میں دیر سے آئے۔دسمبر1941 ء میں آل انڈیا مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کا اجلاس منعقد ہوا۔ سیشن کے آخری روز مقامی طلبا نے قائداعظم سے ملنے کا وقت لیا اور کسی وجہ سے پندرہ منٹ لیٹ ہو گئے۔

    قائداعظم نے اپنے سیکرٹری سے کہا
    ’’مطلوب الحسن!
    ان سے کہہ دو کہ تم لیٹ ہو گئے ہو۔ اب میں تم سے نہیں مل سکتا، کل وقت لے کر آئو۔‘‘ اگلے روز جب وہ طلبا حاضر خدمت ہوئے تو آپ نے فرمایا کہ میں نے آپ کی بہتری کے لیے ایسا کیا، آپ نوجوان ہیں، آپ کو وقت کی قیمت کا احساس ہونا چاہیے۔عزیز طلبا! آج ہم بھی نوجوان ہیں، کیا ہمیں بھی وقت کی قیمت کا احساس ہے؟’’

    آج ہمارے پاس وقت جیسی عظیم نعمت موجود ہے ہم اس کی قدر کر لیں گے تو یہ وقت آنے والے دنوں میں ہمیں عظیم بنا دے گا اور اگر آج وقت کی اہمیت کو نہ جانا تو کل بھی دنیا میں ہمیں کوئی پہچاننے والا نہ ہو گا۔‘‘لیڈر کبھی بھی آسمانوں سے نہیں اترتے بلکہ روئے زمین پر بسنے والے انسانوں میں سے ہی پیدا ہوتے ہیں۔ ایسے افراد جو اپنے اندر خدمت انسانیت کا جذبہ رکھتے ہوں تو اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کو غنی کر دیتے ہیں اور امت کی آسانی کے لیے ان کی راہیں ہموار کر دیتے ہیں۔

    قائداعظم محمد علی جناح کی زندگی کو اگر ہم دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے وہ کس قدر، نڈر، بے باک، بے لوث، سچائی کے پیکر، نظم و ضبط کی اعلیٰ مثال، مخلص، اصول پسند، محنتی اور عوام دوست تھے۔ جب کسی انسان میں اتنی ساری خوبیاں اکھٹی ہو جائیں تو بلاشبہ وہ انسان کو انسانیت کے اعلیٰ درجے پر پہنچا دیتی ہیں۔ اسی لیے شاعر مشرق علامہ محمد اقبال نے فرمایا تھا کہ

    خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
    خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے؟
    قائد اعظم ایک اصول پسند شخصیت
    تحریر: عبدالحمید صادق

  • قائد اعظم ،نظریاتی مسلم یا سیکولر شخصیت۔۔۔؟–از–عبدالحمیدصادق

    قائد اعظم ،نظریاتی مسلم یا سیکولر شخصیت۔۔۔؟–از–عبدالحمیدصادق

    اگر پاکستان میں اسلامی نظام کی بات کی جائے تو یورپ سے پڑھے ہوئے اور نظام یورپ سے متاثرہ افراد کا یہ رونا پیٹنا ہوتا ہے کہ پاکستان اسلامی نہیں بلکہ ایک سیکولر ریاست ہے اور قائد اعظم محمد علی جناح نے اسے اسلامی قانون کے نفاذ کے لیے نہیں بنایا تھا۔

    ان لوگوں کی اس سوچ کو میں کم علمی ، کم عقلی یا کم فہمی کہوں۔۔۔۔۔ یا اہل یورپ کی سوچی سمجھی سازش۔۔۔۔؟
    سب سے پہلی بات تو یہ کہ جب قائداعظم محمد علی جناح سے پوچھا گیا کہ پاکستان بنانے کا کیا مقصد ہے تو انہوں نے واضح الفاظ میں یہ بیان کیا تھا کہ ہم ایک ایسی اسلامی اور فلاحی ریاست کا قیام چاہتے ہیں جس میں مسلمانوں کو اپنے طریقے کے مطابق عبادت کرنے کی کھلی آزادی ہوں اور تحریک پاکستان میں ایک ہی نعرہ تھا جو ہر چوک چراہے، گلی بازار اور آج جلسے میں جابجا گونجتا تھا کہ "پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ” یہی وہ نظریہ تھا کہ اس نظریہ کی بنیاد پر پاکستان معرض وجود میں آیا۔

    12 جون 1945 کو مسلم فیڈریشن پشاور کے نام اپنے پیغام میں قائد اعظم محمد علی جناح نے کہا تھا کہ "پاکستان کا مطلب صرف آزادی ہی نہیں بلکہ اس کا مطلب اسلامی نظریہ بھی ہے”۔

    قائداعظم محمد علی جناح کی اسلام، قرآن اور آقائے نامدارصلی اللہ علیہ والہ وسلم سے والہانہ محبت کے اس بحر بے کنار کو سمیٹنا ناچیز کے بس میں تو نہیں مگر ان کے چند ایک بیانات آپ کے گوش گزار کرنا چاہوں گا تاکہ جن لوگوں کے دلوں میں اسلامی مملکت پاکستان اور قائداعظم محمدعلی جناح کے بارے میں جو اشکالات موجود ہیں وہ دور ہو سکیں۔

    آل انڈیا مسلم لیگ کی کونسل کے ایک اجلاس میں قائداعظم نے مخالفین کی بہتان طرازیوں کے سلسلے میں فرمایا!
    "مسلمانو! میں نے دنیا کو بہت دیکھا. دولت ،شہرت اور عیش و عشرت کے بہت لطف اٹھائے ، اب میری زندگی کی واحد تمنا یہ ہے کہ مسلمانوں کو آزاد اور سربلند دیکھوں ، میں چاہتا ہوں کہ جب مروں تو یہ یقین اور اطمینان لے کر مروں کہ میرا ضمیر اور میرا اللہ گواہی دے رہا ہو کہ جناح نے اسلام سے خیانت اور غداری نہیں کی اور مسلمانوں کی آزادی، تنظیم اور مدافعت میں اپنا فرض ادا کر دیا میں آپ سے زوردار شہادت کا طلبگار نہیں ہوں۔

    میں چاہتا ہوں کہ مرتے دم میرا اپنا ایمان، میرا ضمیر گواہی دے کہ جناح! تم نے نے واقعی مدافعت اسلام کا حق ادا کر دیا جناح! تم مسلمانوں کی تنظیم، اتحاد اور حمایت کا فرض بجا لائے۔ میرا اللہ کہے کہ بے شک تم مسلمان پیدا ہوئے اور کفر کی طاقتوں کے غلبے میں عَلمِ اسلام کو بلند رکھتے ہوئے مسلمان مرے (روزنامہ "انقلاب” لاہور ٫ 22 اکتوبر 1939)

    اسٹریچی ہال علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں قائداعظم نے ایک معرکۃالارا تقریر کے دوران فرمایا "مجھے بحیثیت مسلمان دوسری اقوام کے تمدن ، معاشرت اور تہذیب کا پورا احترام ہے لیکن مجھے اپنے اسلامی کلچر اور تہذیب سے بہت زیادہ محبت ہے ، میں ہرگز نہیں چاہتا کہ ہماری آنے والی نسلیں اسلامی تمدن اور فلسفہ سے بالکل بے بہرہ ہوں”.

    لاہور میں مسام طلباء کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے قائد اعظم محمد علی جناح نے فرمایا: "کمیونسٹ ہمیں بیوقوف خیال کرتے ہیں، ان کے پاس اس سوچ کا کچھ جواز ہو سکتا ہے لیکن اب وہ غلطی پر ہیں کیونکہ پانچ یا دس سال قبل کے مسلمان اب خود کو بدل چکے ہیں۔ کمیونسٹ ہمیں بے وقوف نہیں بنا سکتے، مت چھیڑو ، مت چھیڑو کمیونسٹو! ہمیں مت چھیڑو، اگر تم نے ہمیں چھیڑنے کی کوشش کی تو تم خود اپنے داؤ کی زد میں آ جاؤ گے۔

    ہمیں مسلم لیگ کے چاند ستارے والے جھنڈے کے سوا کسی دوسرے جھنڈے کی ضرورت نہیں، اسلام ہمارا رہبر و رہنما ہے، وہی ہمارا ضابطہ حیات ہے، ہمیں کسی سرخ یا زرد جھنڈے کی ضرورت نہیں، ہمیں کسی ازم۔۔۔۔سوشلزم، کمیونزم یا نیشنل سوشلزم کی ضرورت نہیں”

    اسی طرح 12جون 1938کو میمن چیمبر آف کامرس کی جانب سے اپنے اعزاز میں دیئے گئے ظہرانہ سے خطاب کرتے ہوئے قائد اعظم محمد علی جناح نے فرمایا: مسلمانوں کو کسی پروگرام تلاش کرنے کی ضرورت نہیں ہے، ان کے پاس ایک پروگرام گزشتہ 13 سو سال سے موجود ہے اور وہ "قرآن کریم” ہے۔ قرآن کریم میں ہمارے معاشی، ثقافتی اور تہذیبی مسائل کا حل موجود ہے۔

    اس کے علاوہ اس میں ہماری سیاسی رہنمائی کے لئے بھی ایک پروگرام ہے اور میرا اس "خدائی فقہ” میں مکمل یقین ہے اور وہ آزادی جس کے لئے میں جنگ لڑ رہا ہوں دراصل اس "خدائی قانون” کی تعمیل ہے۔ ازادی،مساوات اور اخوت اور بحثیت ایک مسلمان میرا بنیادی فرض ہے کہ انہیں حاصل کروں۔ ہماری نجات قرآنی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے میں ہے اور انہی پر کاربند ہو کر ہم آزادی سے ہمکنار ہوسکتے ہیں”۔

    ایک بار قائد اعظم ممدوٹ ولا لاہور میں تشریف فرما تھے کہ رانا نصراللہ صاحب سے باتوں باتوں میں فرمایا!
    "میں نے قرآن حکیم کا ایک انگریزی ترجمہ کئی بار پڑھا ہے مجھے اس کی بعض صورتوں سے بڑی تقویت ملی ہے۔
    رانا نصراللہ نے پوچھا: مثلاً؟ محمد علی جناح نے جواب دیا: وہ چھوٹی سی سورت ہے جس میں ابابیلوں کا ذکر ہے۔

    نصراللہ خان نے کہا: آپ کی مراد اس آیت سے ہے جو یوں شروع ہوتی ہے "الم ترکیف فعل ربک باصحاب الفیل” اس پر آپ نے فرمایا: "جی ہاں، جی ہاں، اللہ نے جس طرح کفار کے بڑے لشکر کو ابابیلوں کے ذریعے شکست دی اسی طرح ہم لوگوں کے ذریعے اللہ تعالی ان شاءاللہ کفار کی قوتوں کو شکست دے گا”(محمد علی جناح، منصور احمد بٹ ،صفحہ نمبر 173-174)

    جولائی 1947 کا واقعہ ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح دہلی میں دس اورنگ زیب روڈ پر قیام پذیر تھے اور قیام پاکستان سے متعلق معاملات کو سلجھا رہے تھے کہ علامہ شبیراحمدعثمانی اپنے کچھ دوستوں کے ہمراہ ملاقات کے لیے تشریف لائے، علامہ صاحب سلام دعا کے بعد گویا ہوئے کہ "آپ کو قیام پاکستان مبارک ہو” تو قائداعظم محمد علی جناح نے فرمایا "مبارکباد کے مستحق تو آپ لوگ ہیں جنہوں نے تحریک پاکستان کو کامیاب کرنے کی بھرپور جدوجہد کی” ، علامہ عثمانی صاحب نے سوالیہ انداز میں کہا کہ اب جبکہ اللہ کے فضل و کرم سے پاکستان بن گیا ہے آپ یہ فرمائیں کہ پاکستان میں آئین کونسا ہوگا؟

    اس پر قائداعظم محمد علی جناح نے فرمایا "پاکستان میں قرآنی آئین ہوگا، میں نے قرآن پاک مع ترجمہ پڑھا ہے اور میں پختہ یقین رکھتا ہوں کہ قرآنی آئین سے بڑھ کر کوئی آئین نہیں ہوسکتا، میں نے مسلمانوں کا سپاہی بن کر پاکستان کی جنگ جیتی ہے، قرآنی آیات کا ماہر میں نہیں آپ اور آپ جیسے علماء ہیں، میرا مشورہ یہ ہے کہ آپ دوسرے علماء کے ساتھ سر جوڑ کر بیٹھیں اور اپنے نئے ملک پاکستان کے لیے قرآنی آئین کا مسودہ تیار کریں”۔
    14 اگست 1947 کو شاہی دربار سبی سے خطاب کرتے ہوئے قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنی اسلام پسندی کا ثبوت ان الفاظ میں دیا کہ: "میرا ایمان ہے کہ ہماری نجات اسوہ حسنہ پر چلنے میں ہے جو ہمیں قانون عطا کرنے والے پیغمبر اسلامﷺ نے دیا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی جمہوریت کی بنیادی صحیح معنوں میں اسلامی تصورات و اصولوں پر رکھیں”۔

    یہیں بس نہیں بلکہ 14 فروری 1948 کو سبی میں فرمایا:
    "It is my belief that our salvation lies in following the golden rules of conduct set for us by our great lawgiver, the prophet of Islam. Let us lay the foundation of our democracy on the basis of truly Islamic riddles and principles. Our Almighty has taught us that "our decisions in the affairs of the State Shall be guided by discussions and consultations”.
    (Quaid-e-Azam,page 78,79)

    "یہ میرا یقین ہے کہ ہماری نجات کردار کے ان سنہری اصولوں کی اتباع میں ہے جنہیں ہمارے لئے ہمارے مقنن اعظم پیغمبراسلامﷺ نے مقرر فرمایا ہے۔ ہمیں اپنی جمہوریہ کی بنیاد اسلامی تصورات اور اصولوں کی سچی اور حقیقی بنیادوں پر رکھنی چاہیے۔ اللہ نے ہمیں یہ سکھا دیا ہے کہ ہمیں اپنے ریاستی معاملات میں کئے جانے والے فیصلوں میں مکالمہ اور مشاورت سے رہنمائی لینی چاہیے”۔

    محمد علی جناح کی دلی خواہش تھی کہ پاکستان میں اسلامی نظام وجود میں لایا جائے اور پاکستان میں موجود تمام طبقات کے لوگوں کو ان کے تمام بنیادی حقوق فراہم کیے جائیں، آپ تمام معاملات میں پاکستان کے دستور کو تیرہ سو سال قبل سے موجود شریعت محمدیﷺ کے مطابق ڈھالنا چاہتے تھے، تبھی تو 25 جنوری 1948 کو اپنے اعزاز میں کراچی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے دیئے گئے استقبالیہ سے بطور گورنر جنرل پاکستان محمد علی جناح نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: "میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ لوگوں کا ایک طبقہ جو دانستہ طور پر شرارت کرنا چاہتا ہے ،یہ پروپیگنڈا کر رہا ہے کہ پاکستان کے دستور کی اساس شریعت پر استوار نہیں کی جائے گی۔

    محمد علی جناح نے فرمایا: "آج بھی اسلامی اصولوں کا زندگی پر اسی طرح اطلاق ہوتا ہے جس طرح تیرہ سو برس پیشتر ہوتا ہے”
    1971ء میں قائداعظم کے بھانجے نے محترمہ فاطمہ جناح کی جائیداد کا نظم ونسق چلانے کے لئے عدالت عالیہ ہائیکورٹ کراچی میں درخواست دائر کی۔

    اس درخواست کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل سید شریف الدین پیرزادہ نے اپنی شہادت میں کہا کہ قائداعظم نہ شیعہ نہ سنی تھے بلکہ وہ ایک مسلمان تھے۔ پیرزادہ نے عدالت کو بتایا کہ میرٹھ میں مسلم لیگ کے کارکنوں نے جب قائداعظم سے سوال کیا کہ وہ شیعہ ہیں یا سنی؟ تو قائداعظم نے فوراً دریافت کیا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کیا تھے؟ اس موقع پر قائداعظم نے تفصیل سے کہا کہ وہ حضرت محمدﷺ کے پیروکار ہیں شیعہ یا سنی نہیں ہیں.

    مطلب کہ قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنے آپ کو کسی مسلک کی کڑی میں نہیں پرویا کیونکہ آپ کی ایک ہی خواہش تھی اور ساری زندگی اسی جدوجہد میں گزار دی کہ تمام مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں،صوبائیت کی تقسیم کو رد کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ "یہ ایک بیماری ہے اور لعنت ہے ، میں چاہتا ہوں کہ مسلمان صوبائی عصبیت کی بیماری سے چھٹکارا پالیں۔

    ایک قوم جب تک کہ وہ ایک صف میں نہ چلے کبھی ترقی نہیں کرسکتی، ہم سب پاکستانی اور اس مملکت کے شہری ہیں اور ہمیں مملکت کے لیے خدمات ایثار اور زندگی کا نذرانہ پیش کرنا چاہیے کہ ہم اسے دنیا کی عالیشان اور خود مختار مملکت بنا سکیں”

    اس موقع پر آپ نے مزید فرمایا کہ "رسول اکرمﷺ ایک عظیم رہبر تھے، آپ ایک عظیم قانون عطا کرنے والے تھے، آپ ایک عظیم مدبر تھے، آپ ایک عظیم فرمانروا تھے جنہوں نے حکمرانی کی ، جب ہم اسلام کی بات کرتے ہیں تو بلاشبہ بہت سے لوگ ایسے ہیں جو اس بات کو بالکل نہیں سراہتے”

    پاکستان میں موجود ایسی لابی جو سندھی، بلوچی ،پنجابی،پشتون اور کشمیری تقسیم کیے بیٹھے ہیں ان کو چاہیے کہ قائد اعظم کے اس فرمان کو سامنے رکھیں جس میں آپ نے فرمایا تھا کہ "ہم پہلے پاکستانی ہیں اور اس کے بعد پنجابی ،سندھی ،بلوچی یا پٹھان۔

    آج ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستانی عدالتیں اور حکومت مل کر اس نظام پر عمل درآمد کی کوشش کریں کہ جس کی خاطر مسلمانان ہند نے لاکھوں قربانیاں دیں اور آج یہ ملک دنیا کے نقشے پر موجود ہے۔

    موجودہ حکومت ، افواج اور عدلیہ سمیت تمام عہدیداران پر یہ واجب ہے کہ سب مل کر ایک اسلامی فلاحی ریاست کو فروغ دیں۔
    اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ رب العزت بانی پاکستان جناب قائد اعظم محمد علی جناح کی قبر پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے اور ان کی غلطیوں سے درگزر کرتے ہوئے ان کے درجات بلند فرمائے۔آمین

    قائد اعظم ،نظریاتی مسلم یا سیکولر شخصیت۔۔۔؟

    عبدالحمیدصادق