Baaghi TV

Category: بلاگ

  • آرمی پبلک سکول میں فرعون کی سنت کا دن

    آرمی پبلک سکول میں فرعون کی سنت کا دن

    اسکول کی گھنٹی جیسے ہی بجی، تمام بچے اسمبلی ہال میں آکر کھڑے ہوگئے۔ دعا کے بعد تمام بچوں نے بہ آوازِ بلند قومی ترانہ پڑھا اور پھر اپنی اپنی کلاسوں میں چلے گئے۔ ابھی کلاسز میں پڑھائی کا آغاز ہوا ہی تھا کہ اچانک پورا اسکول فائرنگ سے گونج اٹھا،

    16 دسمبر 2014 کا دن پوری قوم کےلیے تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے جسے قوم کبھی نہیں بھلا سکے گی۔ سفاک دہشت گرد صبح 11 بجے اسکول میں داخل ہوئے اور معصوم بچوں پر اندھا دھند فائرنگ شروع کردی اور بچوں کو چن چن کر قتل کیا۔ سیکیورٹی فورسز کے اسکول پہنچنے تک دہشت گرد خون کی ہولی کھیلتے رہے اور کچھ ہی دیر میں ان ظالموں نے 132 معصوم جانوں سمیت 141 افراد کو شہید کردیا۔

    واقعے کے بعد ہر طرف خون اور معصوم بچوں کی لاشیں بکھری ہوئی تھیں اور اگر پیچھے کچھ بچا تھا تو صرف شہید بچوں کے والدین کی آہیں اور سسکیاں تھیں۔ اسکول کے در و دیوار دہشت اور ہولناکی کی دردناک کہانی بیان کررہے تھے، دہشت گردوں نے اسکول میں درندگی کی ایسی مثال قائم کی کہ انسانیت بھی شرما جائے۔

    سلام ان معصوم شہدا کو جنہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، ان شہدا کے لواحقین کو جن کے بچے صبح اسکول تو گئے لیکن واپس گھروں کو نہ آئے۔ سلام ان بہادر اساتذہ کو جنہوں نے بچوں کو بچانے کی خاطر اپنی جان قربان کردی، بالخصوص پرنسپل آرمی پبلک اسکول طاہرہ قاضی کو جنہوں نے فرض شناسی اور بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے جان قربان کردی لیکن دہشت گردوں اور بچوں کے بیچ میں دیوار بن کر کھڑی رہیں۔

    سانحہ آرمی پبلک اسکول کے بعد ہر آنکھ اشک بار تھی۔ پاکستان سمیت پوری دنیا اس ساںحے کی بربریت کو دیکھ کر خون کے آنسو رو رہی تھی۔ واقعے میں شہید بچوں اور افراد کے لواحقین کے صبر اور عظمت کو سلام۔ لیکن جو اس حملے زخمی ہوئے تھے، ان کے ذہنوں پر اس دردناک سانحے کے انمٹ نقوش آج تک موجود ہیں۔

    اے پی ایس سکول کے ننھے طالبعلموں کوجس طرح چن چن کرشہید کیا گیا یہی توانداز فرعون کا تھا وہ بھی بچوں کادشمن تھا ، انسانیت کے ان ننھے ،پیارے اور والدین کی آنکھوں کے تاروں کو اس طرح مسل دیتاتھا جس طرح آرمی پبلک سکول میں ننھے منھے بچوں‌ کو چن چن کرماراگیا،فرعون بچوں کوتیل کے کڑاہے میں پھینک بھون دیتا تھا وہ اے پی ایس میں گھسنے والے فرعون کے وارث بھی تو ویسے ہی بھون رہے تھے

    اے پی ایس میں بچ جانے والے بچوں میں‌ سے کچھ کا یہ کہنا ہے کہ وہ دہشت گرد ساتھی طلباکوکھینچ کے سامنے لاتے اورفرعون کی طرح بھون دیتے وہ تیل کے کڑاہے میں بھونتا تھا یہ گولیوں سے بھون رہے تھے

    ویسے بھی افغانیوں کے بارےمیں مورخین کاکہنا ہےکہ اسی اسرائیلی نسل سے چلے آرہے ہیں‌،مورخین کے مطابق فرعون نسلاُ اسرائیلی تھا مگرمگربعد میں مختلف قبائل میں‌ بٹ جانے کی وجہ سے قبیلے کے نام سے مشہورہوگیا

    مورخین لکھتے ہیں‌ کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کو روکنے کے لیے ہزار ہا بچوں کا قتل عام بھی ان کی بدنامی کا اہم محرک تھا۔ قدرت نے موسیٰ کو فرعون کے گھر میں پروان چڑھا کراس کی تمام آہنی تدبیریں الٹ دیں۔بالکل ویسے ہی اللہ کے فضل سے پاک فوج نے دشمن کی تمام سازشوں کو بری طرح نہ صرف ناکام بنایا بلکہ دشمنان پاکستان کی تمام تدبیریں الٹ گئیں‌ ،

    جس طرح فرعون کوبچوں‌کے قتل کے بعد شکست ہوئی اوروہ آج تک دنیا اس کی شکل دیکھ کراس کے مظالم کا احاطہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں‌ آج بھی ویسے ہی بنی اسرائیل کی نسل سے تعلق رکھنے والے ان افغانی دہشت گردوں کے انجام کو دیکھ کراس قوم کے حوصلے بلند ہورہے ہیں ، اب میں بتاتا ہوں کہ جوفرعون کی سنت اے پی ایس میں دہرائی گئی اس سے پہلے یہ سنت کس کس دور میں دہرائی گئی

    ہزاروں سال کے بعد آج کا انسان فرعون کے غیرانسانی طرزعمل اور بچہ کشی کی پالیسی پر دہنگ رہ جاتا ہے۔ مگرمعصوم بچوں کے قتل عام میں فرعون تنہا نہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ہم عصر فرعون، ان سے قبل اور آج تک دنیا ایسے فرعونوں سے بھری پڑی ہے جو طاقت کے نشے میں اقتدارکے دوام کے لیے موسیٰ کی پیدائش کو روکنے کی خاطرغلطاں و پیچاں رہے ہیں۔

    فرعون مصر کی راہ پر چلتے ہوئے بچوں کو قتل کرنے والے بادشاہوں میں یوگنڈا کے فوجی ڈکٹیٹر ‘اِدی امین دادا’ نے سنہ 1971ء تا 1979ء میں اپنے ہی عوام کو اس بے رحمی سے قتل کرایا کہ محض نو سال کے عرصے میں 80 ہزار بچوں سمیت پانچ لاکھ افراد کو تہہ تیغ کردیا گیا۔ یوگنڈا کا کوئی محلہ، قصبہ اور شہرایسا نہیں بچا جہاں پر امین دادا کے اجرتی قاتلوں نے کم سن بچوں کو سنگینوں میں نہ پرویا ہو۔ خواتین کی کھلے عام عصمت ریزی کے واقعات سن کر انسانی تہذیب کا سرشرم سے جھک جاتا ہے۔

    بچوں کے قتل عام میں بدنام زمانہ بادشاہوں میں "Attila the Hun” کا نام بھی سر فہرست ہے۔ آٹیلا ‘ہیونک ایمپائر'[موجودہ یورپی ممالک پر مشتمل تھی] کا 19 سال تک بادشاہ مطلق بنا رہا۔ اس نے یہ طے کر رکھا تھا کہ اس کی سلطنت میں اولاد نرینہ کم سے کم ہو تاکہ اس کی حکومت کو اندر سے کوئی خطرہ درپیش نہ ہو۔ پڑوسیوں کو زیر کرنے کے عادی اس بادشاہ نے اپنے فوجیوں کو آس پاس کی ریاستوں میں بھی بچوں کو قتل کرنے کا حکم دے رکھا تھا۔ دریائے دینوب کے آر پار اس کے فوجی اچانک حملے کرتے اور پوری پوری بستیوں کو نیست ونابود کر دیتے۔ زیادہ سے زیادہ بچوں کو قتل کرنے والے قاتلوں کو انعام اکرام سے نوازا جاتا۔

    منگول سلطنت کے بانی چنگیز خان کی انسانیت دشمنی ایک ضرب المثل تھی۔ فتوحات کے شوق میں اس کی فوج جہاں جہاں سے گذرتی انسان، حیوان حتیٰ کہ درختوں اور فصلوں کو بھی تہس نہس کرتی چلی جاتی۔ تاتاریوں کی وحشت کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ یہ لوگ اپنے ہم مذہبوں کو بھی معاف نہیں کرتے تھے۔ چنگیز خان کے دور حکومت میں لاکھوں بچوں کو قتل کیا گیا۔

    بیسویں صدی کے سفاک بادشاہوں اور انسانوں کا خون پینے والوں میں ایک نام کمبوڈیا کے وزیراعظم پول پاٹ کا ہے۔ پول پاٹ شکل و صورت کے اعتبار سے گلہری نما انسان تھا مگر معصوم لوگوں کے خون کا اس قدر پیاسا کہ اس کے حکم پر لاکھوں لوگ نہایت بے رحمی سے قتل کیے گیے چھوٹے چھوٹے بچوں کو ان کی مائوں سے چھین کر آگ کے الائو میں پھینک دیا جاتا۔ کئی کئی بچوں کو اوپر تلے رکھ کر رسیوں سے باندھنے کے بعد پہاڑوں سے گہری کھائیوں میں پھینک دیا جاتا۔ بچوں کو بھوکا رکھ کرانہیں سسک سسک مرنے پرمجبور کیا جاتا۔ ان سے جبری مشقت کی لی جاتی ۔ بھوکے پیاسے بچے جب نڈھال ہو کر گر پڑتے تو اُنہیں اٹھا کر بادشاہ کے کتوں کے آگے ڈالا جاتا۔ یہ کتےان معصوموں کو بھنببوڑ کر انسانیت کا ماتم کرتے۔

    بچوں پر انسانیت سوز مظالم ڈھانے والوں میں روس کے ‘آئیون چہارم’، جرمنی کے اڈولف ایکمن، ایڈوولف ہٹلر، بیلجیم کے لیوپول دوم اور سوویت یونین کے جوزف اسٹالن کے نام بھی کسی سے کم نہیں ہیں۔ آج بھی دنیا کے مختلف خطوں میں فراعنہ کی کوئی کمی نہیں۔ ایک فرعون وقت منظم ریاست کی شکل میں دنیا کے نقشے پرموجود ہے۔ اس فرعون کے ہاتھوں سنہ 1948ء سے آج تک فلسطینی قوم کی کئی نسلیں تہہ تیغ کی جا چکی ہیں۔ فلسطین میں قیام اسرائیل کے بعد سے آج تک کوئی دن ایسا نہیں گذرا جس میں کسی فلسطینی بچے کوشہید، زخمی یا گرفتار نہ کیا گیا ہو۔ فلسطین میں باربار مسلط کی گئی جنگوں میں بچوں کو آسان شکار کے طورپر نشانہ بنایا جاتا۔

    2014ء کے وسط میں غزہ کی پٹی پر مسلط کی گئی جنگ میں شہید ہونے والے 22 سو شہریوں میں سے 560 بچے تھے۔ سنہ 1967ء کے بعد 80 ہزار فلسطینی بچوں کو جیلوں میں ڈالا گیا۔ سنہ 2000ء کے بعد سے اب تک 12 ہزار فلسطینی نونہال گرفتار کیے گئے اور 4000 ہزار سے زائد شہید کیے جا چکے ہیں۔ فلسطین میں اکتوبر کے اوائل سے جاری تحریک کے دوران صہیونی فوجیوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے بیشتر فلسطینیوں کی عمریں 18 سال یا اس سے بھی کم ہیں۔

    بچوں کے قتل عام میں فرعون بدنام ہوا مگر وہ قصہ پارینہ ہوگیا۔ انسانی شعور کی پختگی کے اس دور میں بھی فلسطین میں صہیونیوں کےہاتھوں ‘اندھیر نگری چوپٹ راج’ ہے۔ جیلوں میں ڈالے گئے بچوں پرڈھائے جانے والے انسانیت سوز مظالم فرعونی مظالم سے کسی بھی شکل میں کم نہیں ہیں۔ بچوں کو گولیاں مارنے اور انہیں زخمی کرنے کے بعد سڑکوں پر پھینک دیا جاتا ہے۔ کسی امدادی کارکن کو مرغ بسمل بنے زخمی کی مدد کی اجازت نہیں دی جاتی۔ صہیونی درندے تڑپتے فلسطینیوں کو جام شہادت نوش کرنے کے عمل سے محظوظ ہوتے ہیں۔

    دنیا پھر بھی فلسطینیوں کو ہی دہشت گرد قرار دیتی اور صہیونی گماشتوں کو دنیا کے امن پسند، جمہوریت کے علمبردار اور مظلوم قرار دینے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے۔ فرعون کے ایجنٹ بنی اسرائیل کے ہاں کسی بھی بچے کو پیدا ہوتے ہی قتل کر ڈالتے تھے مگر فرعون وقت کا طریقہ واردات کہیں زیادہ خوفناک ہے۔ آٹھ سے دس سال کے بچوں کو پکڑنے کے بعد کال کوٹھڑیوں میں ڈالا جاتا ہے۔ اعتراف جرم کرانے کے لیے ان کے ہاتھوں کے ناخن کھینچے جاتے ہیں۔ بجلی کے جھٹکے لگائے جاتے ہیں۔ الٹا لٹکا کر کوڑوں سے مارا جاتا ہے۔ تشدد کے آحری حربے استعمال کرکے بچوں کو شہید یا تاحیات اپاہج اور معذور کر دیا جاتا ہے۔ مظالم کی ایسی ایسی داستانیں ہیں کہ فرعونیت بھی ان کے سامنے بے معنی ہو جاتی ہے۔

  • ایک دن دو سانحے اور مجرم ایک!!!!تحریر: غنی محمود قصوری

    ایک دن دو سانحے اور مجرم ایک!!!!تحریر: غنی محمود قصوری

    16 دسمبر 1971 کو دشمن کی مدد سے اپنے ہی غداروں نے مکتی باہنی بنا کر پاکستان کو دولخت کر دیا تھا حالانکہ دنیا گواہ ہے کہ چند دن کے گولہ بارود ہونے کے باوجود ہماری بہادر افواج تقریبا سات ماہ تک لڑی اور آخر کار عالم اسلام کی وہ مایہ ناز فوج کے جس نے 1948 اور 1965 میں انڈیا کو چھٹی کا دودھ یاد کروایا تھا اور عرب اسرائیل جنگ میں کہ جب عالم اسلام کے کئی خلیجی ملک اسرائیل کے قبضے میں جا چکے تھے اس وقت تل ابیب کا خاک غرور میں ملایا تھا اس اسلامی جہادی فوج نے ورنہ یقینا اسرائیل ایک اٹامک پاور ہوتا اور دنیا کا نقشہ آج یہ نا ہوتا مگر افسوس کہ وہ فوج اپنوں کی غداری کی بدولت ہتھیار پھینکنے پر مجبور ہو گئی اور پھر ڈھاکہ ڈوب گیا
    ہم نہیں بھولے سقوط دھاکہ اور ہم نہیں بھولے سانحہ اے پی ایس 16 دسمبر 2014 کو ایک بار پھر ہمارے ازلی دشمن بھارت نے ہمارے ملک کے اندر سے ہی غداروں اور دین کے نام نہاد دعویداروں کو خریدا اور پشاور میں بچوں کے آرمی پبلک سکول پر حملہ کرتے ہوئے ڈیڑھ سو سے زائد بچوں کو شہید کر دیا اور اس بار مکتی باہنی کا کردار دین کے نام نہاد دعویداروں ٹی ٹی پی یعنی تحریک طالبان پاکستان نے ادا کیا مگر میں قربان افواج پاکستان اور عوام پاکستان پر کہ جنہوں نے مل کر مقابلہ کیا اور ٹی ٹی پی کے تمام سورمے جہنم واصل کر دیئے اور دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا کہ اب ارض پاک کے بچے سکول نہیں جائینگے
    میرے ملک کے دشمنوں دکھ تو ضرور ہوتا ہے ان گزرے واقعات کو یاد کر کے مگر ہمارا حوصلہ پھر بلند ہو جاتا ہے کہ ہمارے لئے رب نے ناکامی رکھی ہی نہیں کیونکہ ہم اللہ کی راہ میں لڑتے ہوئے مارے جائیں یا لڑتے ہوئے دشمن کو مار دیں ہر صورت ہم ہی کامیاب و کامران ہوتے ہیں وہ ہمارے پولیس و فوج کے جوان ہو یا آرمی پبلک سکول کے اساتذہ و نہتے معصوم بچے ان شاءاللہ کامیاب و کامران ہیں
    ہاں مگر دشمنوں خارجیوں دین و ملت کے باغیوں ناکامی صرف تمہارے لئے ہی ہے کہ تم نے مکتی باہنی بنا کر میرے اپنوں کو میرے خلاف کرکے ڈھاکہ کا سقوط تو کروا لیا مگر آج بھی دیکھ لو بنگلہ دیش کے اندر سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں لوگ پاکستان سے محبت کرنے والے موجود ہیں اور ان میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے اور دیکھ لو بنگلہ دیش بنانے والوں کا انجام بھی ذرا کہ کیسے اپنی ہی بنگلہ دیشی فوج کے ہاتھوں اپنے بیوی بچوں سمیت قتل ہو گئے اور نشان عبرت بن گئے اور تم نے اپنی اس حزیمت کا بدلہ لینے کیلئے پشاور میں ڈیڑھ سو کے قریب معصوم بچوں کو شہید کروا دیا اور تمہارا خیال تھا کہ اب پاکستان کے بچے ڈر جائیں گے اور سکول کی راہ نہیں لینگے مگر دیکھو ظالموں تم پھر ناکام ہو گئے
    اللہ کی قسم ایسی درندگی کی مثال نہیں ملتی تم نے سوچا تھا اے پی ایس کو ویران کرکے ملک کے باقی سکولوں میں دہشت کی فضا قائم کرکے بچوں کو سکول سے دور کر دو گے مگر آؤ دیکھو اسی اے پی ایس کے سکول کے بچوں کے حوصلے پہلے سے بھی زیادہ بلند ہیں اور اے پی ایس اسی شان و شوکت سے قائم و دائم ہے مگر اب تو ہمارے معصوم بچے بھی بے خوف ہو کر تمہیں للکار رہیں ہیں کہ جس عمر میں بچے ویڈیو گیم اور چاکلیٹ کھانے کی باتیں کرتے ہیں اب اے پی ایس کے بچے بلکہ پورے ملک کے بچے کہہ رہے ہیں مجھے ماں اس سے بدلہ لینے جانا ہے
    کیا جب کبھی کوئی دہشت گرد مرتا ہے تب اس کے بچوں نے بدلہ لینے کی بات کی ؟ نہیں بلکل نہیں کیونکہ بچے بھی جانتے ہیں حق کیا ہے باطل کیا ہے دہشتگردوں خارجیوں اللہ کے دین کے دشمنوں تم نے بہت نہلایا اس ارض پاک کو خون سے مگر اللہ کی قسم ہمیشہ تم ناکام ہوئے اور ان شاءاللہ ہوتے ہی رہوگے کیونکہ آج بنگالی بھی مانتے ہیں کہ ہم پاکستان کیساتھ زیادہ مضبوط تھے اب تو پاکستان مردہ باد کا نعرہ لگانے والے بھی کہہ رہے جیوے جیوے پاکستان مگر کہاں گئے وہ دہشت گرد اور ان کے یار آج وہ بیرون ممالک اور پہاڑوں غاروں میں منہ چھپائے بیٹھے ہیں
    دنیا نے دیکھا پاکستان کو توڑنے والے خود مٹ گئے کیونکہ اس ارض پاک کی بنیادوں میں سولہ لاکھ شہداء کا خون شامل ہے اور خون کی بنیاد بڑی مضبوط ہوتی ہے ان شاءاللہ تم جتنا مرضی زور لگا لو جتنا لگا چکے اس سے بھی زیادہ لگا کر دیکھ لو پاکستان تھا ہے اور قیامت تک رہے گا ان شاءاللہ کیونکہ اس ملک کے بچے بوڑھے اور جوان سب کا ایک اللہ پر ایمان
    اوہ مودی نجس میرے فوجیوں میرے اے پی ایس کے بچوں کے قاتل تو اب اپنے ہی ملک میں بنگال اور بھارت کے دیگر علاقوں میں اٹھتی ہوئی سونامی کو دیکھ اور ڈر اس وقت سے جب تیرے اس ہندوستان کے اندر کئی پاکستان بنے گے ان شاءاللہ

  • مقبوضہ کشمیرکے گجر بکروال قبیلے کی تاریخ اور ان کے پیچیدہ مسائل

    مقبوضہ کشمیرکے گجر بکروال قبیلے کی تاریخ اور ان کے پیچیدہ مسائل

    مرکز کے زیر انتظام جموں و کشمیر اور لداخ میں مختلف نسلوں اور قبائل کے لوگ رہتے ہیں، جن میں سب سے بڑی آبادی گجر اور بکروال قبیلہ کی ہے۔ عام طور پر اونچے پہاڑوں، جنگلاتی علاقوں اور چراگاہوں میں رہنے والی یہ آبادی، سخت جاں ہے اور ان کی زندگی جدوجہد سے عبارت ہے۔ حکومتیں انکی فلاح و بہبود کا تذکرہ تو کرتی ہیں لیکن عملی طور اس پسماندہ آبادی کی زبوں حالی کی تصویر بدلتی نظر نہیں آتی۔


    جموں و کشمیر اور لداخ میں 2011 کی مردم شماری کے مطابق کل آبادی ایک کروڑ 25 لاکھ 41 ہزار 302 ہے، اس میں سے قبائلی لوگوں کی آبادی 11 اعشاریہ 9 فیصد یعنی 14 لاکھ 93 ہزار 299 ہے۔پورے بھارت میں 702 قبیلے موجود ہیں۔ تقریبا سبھی قبائل کا ماننا ہے کہ ان کی تہذیب و تمدن اور ثقافت کی حفاظت نیز ان کی مشکلات اور پریشانیوں کا حل نکالنے میں حکومتیں ناکام ثابت ہوئی ہیں۔ساؤتھ ایشین وائرکے مطابق جموں و کشمیر میں کل 12 قبائل آباد ہیں، جن میں گجر، بکروال، بلتی، بیڈا، بوٹو، بروکپا، چنگپا، گررہ، مون، پورگپا، گدی اور سیپی شامل ہیں۔ ان سب قبیلوں میں گجر بکروال قبیلہ جموں وکشمیر میں سب سے بڑا قبیلہ ہے۔


    کشمیر میں 12 قبائل آباد ہیںاورپورے بھارت میں 702 قبیلے موجود ہیں۔ تقریبا سبھی قبائل کا ماننا ہے کہ ان کی تہذیب و تمدن اور ثقافت کی حفاظت نیز ان کی مشکلات اور پریشانیوں کا حل نکالنے میں حکومتیں ناکام ثابت ہوئی ہیں۔ گجر و بکروال قبیلہ تعلیم کے میدان میں بہت پیچھے ہے۔موجودہ وقت میں جموں و کشمیر میں کل شرح خواندگی 71 فیصد ہے، گجروں کا لیٹریسی ریٹ محض 32 فیصد اور بکروال کا لیٹریسی ریٹ 23 فیصد ہے۔اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ تعلیم کے میدان میں یہ قبیلہ بہت پیچھے ہے۔

    قبیلے کو تعلیمی میدان میں آگے لے جانے کے لیے 1970 میں اس وقت کے جموں و کشمیر کے وزیر اعلی شیخ محمد عبداللہ کی طرف سے 263 موبائل اسکولوں کا اعلان کیا گیا تھا۔ان موبائل اسکولز کا مقصد تھا کے گجر و بکرال کا وہ طبقہ جو اپنے مال مویشی کے ساتھ موسمی ہجرت کرتا ہے ان کو تعلیم فراہم کروائی جائے، اس میں یہ طے کیا گیا تھا کہ موبائل اسکولز اس قبیلہ کے ساتھ رہیں گے، اور قبیلہ کے بچوں کو تعلیم دیں گے۔

    اس دوران 263 موبائل اسکولز میں سے 175 موبائل اسکولز شروع کئے گئے۔ پھر بعد میں کچھ اسکولز کو بند کر کے ریگولر اسکولز میں تبدیل کر دیا گیا، اور باقی 88 موبائل اسکولز رہ گئے۔آج یہ 88 موبائل اسکولز کاغذی ریکارڈ پر تو ہیں لیکن زمینی سطح پر کہیں نظر نہیں آرہے ہیں، قبیلہ میں تعلیم کو اور بڑھاوا دینے کے لیے 2011 میں جموں و کشمیر حکومت نے 100 دیگر موبائل اسکولز کا اعلان کیا، جو ابھی تک شروع نہیں کیے گئے ہیں۔ ساؤتھ ایشین وائرکے مطابق جموں یونیورسٹی کی شعبہ لائف لرنینگ کی ایسوسی ایٹ پروفیسر کویتہ سوری کے مطابق فی الوقت جموں و کشمیر کے سبھی اضلاع میں سے صرف راجوری ضلع میں بعض موبائل اسکولز کام کررہے ہیں۔

    گجر بکروال قبیلہ کی تاریخ پر ایک نظر

    گجر بکروال قبیلے کی ابتدا تاریخ داں وی اے سمتھ کی کتاب ‘ہندوستان کی ابتدائی تاریخ’ کے مطابق 465 قبل مسیح میں ہوئی۔ ان کی اس کتاب میں راجستھان میں گجر مملکت کا بھی ذکر ملتا ہے۔ ‘جیوگرافی آف جموں و کشمیر’ کے مصنف اے این رینہ لکھتے ہیں کہ ‘گوجر جارجیہ کے باشندے تھے۔ جس کے بعد وہ وسطی ایشیا، عراق، ایران، اور افغانستان کے راستے برصغیر ہند و پاک پہنچے۔ گجروں کے نام سے ہی آج کا گجرات جانا جاتا ہے۔ گجر اسکالر ڈاکٹر جاوید راہی نے اس قبیلے کی جینیاتی اساس وسطی ایشیا میں تلاش کی ہے۔ انکا کہنا ہے کہ گوجر اصل میں ترکی النسل ہیں۔ متعدد گجر مورخین کا ماننا ہے کہ گجر سن ڈائنسٹی سے منسلک تھے اور ہندو بھگوان رام کے پیروکار تھے جن کی اکثریت بعد میں مشرف بہ اسلام ہوئی۔

    بھارت میں گجروں کی آباد ی جموں و کشمیر کے دونوں منقسم خطوں کے علاوہ دہلی، اترپردیش، پنجاب، راجستھان، گجرات، ہماچل پردیش، بہار اور ہریانہ میں پائی جاتی ہے۔ پاکستان اور افغانستان میں بھی گجر بستے ہیں۔ گجر قبائل سے وابستہ لوگ مسلمان، ہندو، اور سِکھ مذاہب کے پیروکار ہیں۔

    2011 کی مردم شماری کے مطابق گجر قبیلہ کی کل آبادی 980654 ہے جبکہ بکروالوں کی آبادی 113198 ہے۔ گجر اور بکروال طبقہ کو 1991 میں انڈین شیڈول ٹرائب کے اندر لایا گیا۔ گجر بکروال طبقے کی معیشت مال مویشی، بھیڑ بکریاں، کھیتی باڑی اور دودھ بیچنے پر منحصر ہے۔ یہ طبقہ 12 مہینے خانہ بدوشی کی وجہ سے 6 ماہ کشمیر میں اور چھ مہینے جموں میں گزارتا ہے۔ بکروال اور گوجر طبقوں میں بعض بنیادی تبدیلیاں انہیں ایک دوسرے سے ممتاز کرتی ہیں۔ ایک نیوز ویب سائٹ القمرآن لائن کے مطابق بکروال مجموعی طور پر خانہ بدوش ہوتے ہیں اور بھیڑ بکریوں کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں، "بکروال” میں ‘بکر’ کا معنی بکرا ہے اور ‘وال’ کا مطلب رکھوالا، بکروال بھیڑ بکریوں کے رکھوالے ہوتے ہیں۔

    بکروال برادری مذہب اسلام سے تعلق رکھتی ہے، اور بکروالوں کی آبادی جموں و کشمیر کے علاوہ بھارت، پاکستان اور افغانستان کے متعدد علاقوں میں رہائش پذیر ہے۔قبیلہ کی تہزیب و تمدن اور ثقافت پر ایک نظر تہذیب و تمدن اور ثقافت کے اعتبار سے یہ قبیلہ اپنی ایک الگ پہچان رکھتا ہے، اس قبیلہ میں خواتین شلوار قمیض اور سر پر گوجری ٹوپی کے ساتھ منفرد طرح کے زیورات پہنتی ہیں۔ اور مرد شلوار قمیض کے ساتھ گوجری پگڑی پہنتے ہیں۔ گجر مرد اپنی خوبصورت لمبی داڑھی کے لیے بھی مشہور ہیں۔ گوجری زبان اردو رسم الخط میں لکھی جاتی ہے۔ خوبصورت گیت اور بیت اس زبان کی منفرد پہچان ہیں۔

    ریاست جموں وکشمیر میں تخلیق ہونے والا گوجری ادب مقامی لہجوں کا مرکزی روپ ہے گوجری زبان کا اپنا ایک حلقہ ہے ،اپنا ایک ادب ہے، اپنے خالص الفاظ کا ذخیرہ ہے اور اپنی ایک الگ پہچان ہے یہ کہہ دینا کہ گوجری پنجاب یا کسی دوسری زبان کی ذیلی بولی ہے قطعا درست نہیں بلکہ گوجری زبان کی اپنی ذیلی شاخیں ہیں۔ایک نیوز ویب سائٹ القمرآن لائن کے مطابق گوجری زبان میں محاورے، ضرب المثل، پہلیاں، لوک گیت، لوک کہانیاں اور لوک بار غیر ہ وہ سب مواد موجود ہے جس کے بل بوتے پر اس کو زبان کا درجہ دیا جا سکتا ہے گوجری اپنی قدامت اور وسعت کے لحاظ سے برصغیر کی اہم زبان ہے شروع شروع میں گجرات(بھارت)اور دکن میں اس کو اردو کا نام دیا گیا کیونکہ دراصل اس زبان کے خدوخال سے ہی بعد میں اردو نے نشو و نما پائی چوہدری اشرف گوجر ایڈووکیٹ نے اپنی کتاب اردو کی خالق، گوجری زبان میں بڑے خوبصورت طریقے سے یہ بات ثابت کی ہے۔

    گوجری فوک میں نغمے، بلاڈ اور فولک کہانیاں جنہیں داستان کہا جاتا ہے بہت دستیاب ہیں۔ گوجری زبان کے سیکڑوں گانوں میں نوروو، تاجو، نئرا، بیگوما، شوپیا، کونجھڑی اور ماریاں مشہورہیں۔ گوجری زبان میں اب لکھنے کا رواج بھی عام ہوچلا ہے۔ مشہور لکھاریوں میں سین قادر بخش، نون پونچی اور دیگر شامل ہیں۔ دوسرے لکھاریوں میں میاں نظام الدین، خدا بخش، زابائی راجوری، شمس الدین مہجور پونچی، میاں بشیر احمد، جاوید راہی، رفیق انجم، ملکی رام کوشن، سروری کاسانا، نسیم پونچی اورموجودہ دور میں منیر احمد زاہدجیسے لوگوں نے نام کمایا ہے اور اپنی شاعری، نثر اور تنقیدوں کے ذریعے گوجری زبان کی خدمت کی ہے۔

    قبیلہ کی تہذیب و تمدن اور ثقافت آج پورے بھارت میں جہاں لوگ ترقی کی بلندیوں کو چھو رہے ہیں، وہیں گجر بکروال قبیلہ اپنے بنیادی مسائل کے لیے پریشان ہے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  • راولپنڈی ٹیسٹ کا تیسرا دن بھی کم روشنی  سے متاثر

    راولپنڈی ٹیسٹ کا تیسرا دن بھی کم روشنی سے متاثر

    راولپنڈی ٹیسٹ کا تیسرا دن بھی کم روشنی سے متاثر

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق پاکستان اور سری لنکا کے مابین پہلے ٹیسٹ میچ کے تیسرے روز کا کھیل ایک مرتبہ پھر کم روشنی کے باعث روک دیا گیا ہے۔

    راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے جارہے تاریخی میچ میں سری لنکا نے پاکستان کے خلاف 282 رنز بنا لیے ہیں جبکہ اس کے 6 کھلاڑی آؤٹ ہو چکے ہیں۔سری لنکن کپتان دیمتھ کرونارتنے نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کیا تھا۔ٹیسٹ میچ کے دوسرے روز کم روشنی کے باعث کھیل وقت سے پہلے ہی ختم کر دیا گیا تھا۔

    ایمپائرز نے روشنی کم ہونے کی وجہ سے میچ روکا اور پھر روشنی بہتر نہ ہونے پر کھیل ختم کر دیا گیا۔ پاکستان اورسری لنکا کے درميان پہلے ٹيسٹ کا دوسرا روز بارش کی نظرہوگيا صرف20 اوورز کا کھیل ممکن ہوسکا۔اطلاعات کے مطابق راولپنڈی سٹيڈيم ميں جاری ٹيسٹ ميچ کے دوسرے روز سری لنکا نے اپنی پہلی اننگز 202 رنز 5 کھلاڑی آؤٹ پر دوبارہ آغاز کیا لیکن ابھی سری لنکا کا اسکور 222 رنز پر پہنچا ہي تھا کہ بارش کے باعث کھیل روک دیا گیا۔

    امپائرز کی جانب سے دوسرے روز کے کھیل کے خاتمے کا اعلان کیا گیا تو دھنن جیا ڈی سلوا 72 اور دلروان پریرا 2 رنز کے ساتھ وکٹ پر موجود تھے۔ خراب موسم اور بارش کے باعث پہلے روز بھی صرف 68 اوورز کا کھیل ہو سکا تھا۔تاہم دوسرے سیشن میں پاکستانی بالرز نے کم بیک کرتے ہوئے یکے بعد دیگرے 4وکٹیں حاصل کرکے سری لنکا کو مشکل میں ڈال دیا۔

  • بھارتی جنون کے آگے کون بند باندھے گا؟ …از…سلمان جاوید

    بھارتی جنون کے آگے کون بند باندھے گا؟ …از…سلمان جاوید

    بھارتی جنون کے آگے کون بند باندھے گا؟

    ایک معاملہ ختم نہیں ہوتا اور دوسرا شروع ہوجاتا ہے۔

    نہ پالیسی سازوں کو سمجھ آرہی ہے کہ کس سمت میں چلیں۔ نہ ان لوگوں کو جو ان پالیسی سازوں کے ساتھ ایک پیج پر ہیں۔ میڈیا ویسے ہی بریکنگ نیوز syndrome سے باہر نہیں نکلتا اور عوام کو تو ہر وقت کوئی نہ کوئی واقعہ اور خبر چاہئیے اپنی آنکھوں اور کانوں کا "چسکا” پورا کرنے کے لئیے۔

    بھارت نے Citizen amendment Bill کو پاس کرنے کے لئیے آخری سٹیج کی تیاری بھی کر لی ہے۔ امیت شاہ نے اپنے پارلیمانی خطاب میں کھل کر اس بات کا اعادہ اور اظہار کیا کہ ان کا مسلمانوں اور بالخصوص "برصغیر” کے مسلمانوں کے بارے میں کیا خیالات ہیں۔ اور جی جناب، برصغیر میں پاک و ہند دونوں ہی آتے ہیں۔ کشمیر کے کرفیو کے بعد اب آسام کی باری آئی ہے۔ وہاں پر پیراملٹری فورسز کو بھیج دیا گیا ہے۔

    آخری خبریں آنے تک وہاں عوام الناس اور بالخصوص مسلمانوں پر کچھ حربے انھوں نے آزمایا شروع کر دئیے ہیں۔ انھوں نے اس بات کو نہیں دیکھا کہ دنیا ان کے بارے میں کیا رائے بنا رہی ہے۔ انھوں نے اس بات کو بھی خاطر میں نہیں لایا کہ ہندو راشڑیہ کا خواب پورا کرنے کے چکر میں شاید ان کی معیشت مسلسل نیچے جارہی ہے۔ انھوں نے چین و عرب کی پرواہ نہیں کی۔

    یا شاید ان کو پتہ ہے، کہ دنیا میں انسانوں کی منڈی کی اہمیت تو ہے، انسانوں کی نہیں۔

    بھارت کو مسلسل اگر کوئی ملک اس مسئلے پر ایکسپوز کر سکتا تھا تو وہ پاکستان تھا۔ میں "تھا” اس لئیے استعمال کر رہا ہوں کیوں کہ جو کچھ پاکستان میں اس وقت ہورہا ہے وہ کسی طور پر بھی بحثیت ملک اس قابل نہیں رہا کہ بھارت کو کسی بھی بات پر کھل کر چیلنج کر سکے۔ جب آپ قلم اور تلوار دونوں ہی نیچے رکھ دیں اور ملکوں کے معاملے صرف زبانی جمع خرچ سے چلانے کی کوشش کریں تو وہی ہوتا ہے جو اس وقت ہمارے ساتھ ہورہا ہے۔ شاید کسی عالی دماغ کو یہ بات پڑھائی گئی ہے کہ defence is the best strategy۔ اور نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔

    پاکستان کو پہلے معاشی طور پر دیوالیہ پن کے قریب پہنچایا گیا۔ اب آپ اس میں پچھلی حکومتوں کو مورد الزام ٹھرائیں یا اس حکومت کی ناقص حکمت عملی کو، ہر دو صورت میں پاکستان کی طاقت کو زک پہنچائی گئی۔ پھر معاشی حالات کو درست کرنے کے لئیے پاکستان پر شرائط لاگو کی گئیں۔ چاہے وہ IMF ہو یا FATF۔ دونوں ہی پاکستان کے بازو کو مڑوڑنے کے بہانے ہیں۔ پاکستان اس بات پر ہی اکتفا کر کے بھیٹا ہوا ہے کہ کشمیر پر صرف تقریر ہی کرسکے اور کشمیر کے حل کے لئیے کچھ بھی عملی میدان میں کرنے والوں کو دہشت گرد قرار دلوا کر کشمیر کے معاملے کو ہمیشہ کے لئیے پیچھے چھوڑ دے۔

    اس وقت عملی طور پر peace doctrine کا نتیجہ یہ ہے کہ پاکستان اپنے ان لوگوں کو ضائع کر رہا ہے جو اس کے لئیے دفاع کی پہلی لکیر بنتے رہے ہیں۔جو کسمیر کی تحریک کو کسی نہ کسی صورت میں گرم رکھتے تھے۔ ہم ایک کرتار پور کھولا جس کا شاید ٹورزم سے زیادہ اور کوئی فائدہ ہمیں نہ ملے۔ اور اس پر سب سے بڑھ کر یہ بات کہ ہم اس بات پر خوشیوں کے شادیاں بجا رہے تھے کہ بین الااقوامی میڈیا نے کشمیر کو بہت اٹھایا ہے۔ سو سوال یہ ہے کہ اس کے بعد کیا ہوا؟ ہم کہاں کھڑے ہیں؟ خود پاکستان میں کشمیر اور مسلمانان ہند کے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے اس پر وزیر اعظم صاحب کے ٹویٹس کے علاوہ کیا حکمت عملی نظر آرہی ہے؟

    مگر اس سب کے دوران پاکستان کے اندر جو کچھ پچھلے دو ماہ میں ہوا اس ہر ایک طائرانہ نظر ڈالیں۔ مولانا فضل الرحمان کا اسلام آباد آنا، فوج کے سربراہ کے بارے میں سیاست کا ہونا، لاہور کے دنگل اور اس سے پہلے سٹوڈنٹ مارچ کے نام پر انارکسٹس کا اکھٹا ہونا، اسلامی یونیورسٹی میں انھی انارکسٹس کا دوبارہ سے تعلیمی اداروں میں اسلحے کا استعمال کرنا، پی ٹی ایم کا مسلسل پاکستان کو عالمی اداروں کے سامنے گندا کرنے کی کوشش کرنا، محسن داوڑ کا پاکستان کو الجزیرہ میں لکھے کالم میں مقبوضہ کہنا اور الجزیرہ کے ہی سب سے بڑے ڈرامہ باز اینکر مہدی حسن کا شیری مزاری کو بے عزت کر کے بلوچستان اور کشمیر کو ایک ہی پلڑے میں رکھ کر کشمیر کاز کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرنا۔

    یہ سب کیا محض چند واقعات ہیں؟ یا یہ انارکی کا ایک بھیانک چہرہ ہے؟

    یاد رکھئے انارکی کے اندر شاید واقعات کا ایک دوسرے سے ربط نظر نہ آئے مگر انارکی بات خود کسی بھی معاشرے میں آپ کے دشمنوں کی ایک حکمت عملی کے نتیجے میں وقوع پذیر ہوتی ہے۔

    پاکستان کو ضرورت ہے ان آوازوں کی جو اس کے معاشرے میں دوبارہ سے اصلاح اور امن کا کام کر سکیں۔ ضرورت ہے ان لوگوں کی جو اپنی پیٹھ ننگی کر کے ہر وار سہہ سکیں اور پاکستان کو بیرونی قوتوں سے جیتنے نہ دیں۔ ضرورت ہے ان لوگوں کی جو اس کا کیس عالمی عدالتوں اور فورمز پر ایک آزاد ملک کی حیثیت سے لڑ سکیں۔

    یہ جنگ جس کی آگ بھارت مسلسل لگا رہا ہے، اس سے صرف سوشل میڈیا اور میڈیا کے ذریعے نہیں لڑا جاسکتا۔ محاذ بہت ہیں۔ دماغ بھی سب کے چاہئیں اور جسم بھی۔ اس پر جتنا جلدی ہم سوچ کر آگے بڑھیں گے اتنا ہی ہم اپنے آپ کو افغانستان،عراق اور لیبیا بننے سے روک پائیں گے۔

    بھارتی جنون کے آگے کون بند باندھے گا؟

    از قلم سلمان جاوید

  • سقوط ڈھاکہ..عیاری وغداری کی شرمناک داستان..از..سید زید زمان حامد….قسط -2

    سقوط ڈھاکہ..عیاری وغداری کی شرمناک داستان..از..سید زید زمان حامد….قسط -2

    پچھلے کالم میں بات ہورہی تھی کہ 71 ءکی جنگ کے بعد کس نے اورکیوں افواج پاکستان کے قیدیوں کی تعداد کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا۔ اس پر مزید بات کرتے ہیں۔

    جیسے کہ بتایا جاچکا ہے کہ مشرقی پاکستان میں پاک فوج کی صرف ایک کور تھی۔ عام حالات میں ایک کور میں 50 ہزار کے قریب فوج ہوتی ہے، مگر مشرقی پاکستان میں ٹینکوں اور توپخانے کے دستوں کی غیر موجودگی کی وجہ سے یہ ایک کور بھی پوری نہ تھی۔ اس کے علاوہ پاک فوج میں موجود کئی بنگالی رجمنٹوں نے بغاوت بھی کردی تھی اور بھارتی فوج اور مکتی باہنی کے ساتھ ملکر پاک فوج کے خلاف ہی لڑنا شروع ہوگئے تھے۔

    اس صورتحال میں پاک فوج کی زیادہ سے زیادہ تعداد صرف 32 ہزار سے 35 ہزار تک تھی۔ 8 ماہ کی جنگ میں اس میں سے بھی کوئی 5 ہزار کے قریب شہید یا زخمی ہوچکے تھے۔ لہذا کسی صورت میں بھی پاک فوج کی تعداد 30-35 سے زیادہ نہ تھی۔ اگر ان کے خاندانوں، عورتوں اوربچوں اور حکومت پاکستان کے دیگر سویلین ملازمین کو بھی شامل کرلیا جائے تو کل ملا کر قیدیوں کی تعداد 40-45 ہزار کے درمیان ہی بنتی تھی۔ دشمن، عالمی طاقتیں اور خود ذوالفقار علی بھٹو بھی اس حقیقت سے بہت اچھی طرح واقف تھے۔

    ”اگر پاکستان میں جمہوریت جاری رہتی تو اسلام آباد کو اس سانحے سے گزرنا ہی نہ پڑتا کہ جس کے نتیجے میں مشرقی پاکستان میں 40 ہزار فوجیوں کو ہتھیار ڈالنے پڑے۔“
    کرشن چندر پنت ، سابق بھارتی وزیر دفاع

    ”1971 ءمیں ڈھاکہ میں 35 ہزار پاکستانی فوجیوں کا 2 لاکھ بھارتی فوجیوں اورا ن کے تربیت یافتہ ایک لاکھ سے زائد بنگالیوں کے خلاف لڑنا، یقینی طور پر ناممکن تھا“
    چارلس ولسن ، رکن امریکی کانگریس

    اب سوال یہ ہے کہ بھارت کی جانب سے ”90 ہزار“ قیدیوں کا پراپیگنڈہ تو سمجھ میں آتا ہے، مگر اس وقت کی حکومت کیوں اس جھوٹ کولیکر آگے پھیلاتی رہی۔

    پاکستان میں اس وقت بھٹوکی حکومت تھی کہ جو خود سقوط ڈھاکہ کا ایک مرکزی مجرم تھا۔اس کی زندگی کا مقصد ہی پاکستان کو توڑ کر اور پاک فوج کو رسوا کرکے اقتدار پر قبضہ کرنا تھا۔ لہذا بھارت کے شرمناک بیانیے کے جواب میں حقیقت اور سچائی پر مبنی بیانیے کو پیش کرنا ہی بھٹو کے ذاتی و سیاسی مفادات کے خلاف تھا،

    چنانچہ پاکستان میں سانحہ مشرقی پاکستان پر ایک طرح سے سرکاری خاموشی اختیار کرلی گئی، نہ تو حقیقت بیان کی گئی، نہ ہی دشمن کے بیانیے کو رد کیا گیا اور نہ ہی سرکاری طور پر سانحہ مشرقی پاکستان کے مجرموں کو کوئی سزا دی گئی۔ حمود الرحمن کمیشن رپورٹ بھٹو نے صرف اس لیے بنوائی تھی کہ اپنے پسندیدہ جج کے ذریعے شکست اور ذلت کا سارا ملبہ پاک فوج پر گرا کر اپنے اوردیگر سیاسی جماعتوں کے ناپاک کردار پر پردہ ڈال سکے۔

    بھٹو اور مجیب کا پاکستان توڑنے میں ناپاک کردار 1965 ءکی جنگ کے بعد ہی شروع ہوچکا تھا۔ یہ وہ دور تھا کہ جب پاکستان پوری دنیا میں عزت ووقار کے ساتھ ایک عظیم ترعالمی صنعتی طاقت کے طور پر ابھر رہا تھا۔ ایوب خان کا سنہری دور حکومت پاکستان میں زرعی اور صنعتی انقلاب برپا کرچکا تھا۔ دس سے زائد ڈیم بنائے جاچکے تھے،

    دنیا کا سب سے بڑا نہری نظام تعمیر کیا جارہا تھا اور پاکستان کی صنعتیں اس قدر ترقی کرچکی تھیں کہ ہم ملک میں ہی ڈیزل انجن اور ٹینک بنانے جارہے تھے۔ 65 ءکی جنگ میں پاکستان نے پوری دنیا کو حیران بھی کیا تھا اور دشمنوں کوپریشان بھی۔ اسی لیے اس جنگ کے خاتمے کے فوراً بعد ہی عالمی طاقتوں نے پاکستان کے خلاف بھرپور سازشوں کا آغاز کردیا تھا کہ جن کا مقصد یہ تھا:

    -1 ایوب خان کو فوری طورپر اقتدار سے ہٹا کر ایسے افراد کو طاقت میں لایا جائے کہ جو پاکستان کی صنعتی ترقی کو تباہ وبرباد کرسکیں۔

    -2 مشرقی پاکستان کو پاکستان سے علیحدہ کردیا جائے۔

    -3 65 ءکی جنگ میں افواج پاکستان نے جو دنیا میں عزت کمائی تھی اسے مٹی میں ملا کر قوم کے سامنے اسے رسوا کیا جائے۔

    اس مشن کو پورا کرنے کیلئے بھارت، روس، امریکہ اور اسرائیل نے ذوالفقار علی بھٹو اور شیخ مجیب الرحمن کا انتخاب کیا۔ 65 ءکی جنگ کے فوراً بعد ہی ذواالفقار علی بھٹو کہ جو ایوب خان کو اپنا ”ڈیڈی“ کہتا تھا، اور ایوب حکومت میں وزیر خارجہ تھا، حکومت سے الگ ہوکر سوشلسٹ نظریات پر پاکستان پیپلز پارٹی قائم کرتا ہے اور پورے ملک میں ایوب خان کو ہٹانے کیلئے تحریک کا آغاز کردیتا ہے۔

    دوسری جانب مشرقی پاکستان میں اگرتلہ سازش پکڑی جاتی ہے کہ جس میں واضح ہوجاتا ہے کہ شیخ مجیب الرحمن بھارت کے ساتھ ملکر مشرقی پاکستان میں مسلح بغاوت برپا کرنا چاہتا ہے اور ا س کیلئے مکتی باہنی جیسے دہشت گرد گروہ کو تیار کیا جارہا تھا۔
    اب کھیل بالکل واضح ہوچکا تھا، مشرقی پاکستان میں مسلح بغاوت برپا ہونی تھی، اور مغربی پاکستان میں ایوب خان کی حکومت کا تختہ الٹنے کا کام بھٹو کو دیا جاچکا تھا، تاکہ اسے اقتدار میں لا کر پاکستان کی تمام صنعتوں کو حکومتی ملکیت میں لے کر تباہ کردیا جائے۔واضح رہے کہ بھٹو نے اقتدار میں آنے کے فوراً بعد ہی پاکستان کی تمام صنعتوں کو قومیا کر مکمل تباہ و برباد کردیا کہ جس بربادی سے آج تک پاکستان نکل نہیں سکا ہے۔

    سقوط ڈھاکہ
    عیاری وغداری کی شرمناک داستان
    تحریر: سید زید زمان حامد
    قسط-2
    جاری ہے۔۔۔

  • "وکیلوں اور ینگ ڈاکٹرز کی بدمعاشی میں پستی عوام اور اسلام آباد کی ٹویٹس” تحریر: محمد عبداللہ

    "وکیلوں اور ینگ ڈاکٹرز کی بدمعاشی میں پستی عوام اور اسلام آباد کی ٹویٹس” تحریر: محمد عبداللہ

    ینگ ڈاکٹرز اپنی جگہ بدمعاش ہیں جب چاہتے ہیں اسپتالوں کا نہ صرف بائیکاٹ کرتے ہیں بلکہ معمول OPDs اور وارڈز کو تالے تک لگوا دیتے ہیں حتیٰ کے ایمرجنسی میں بھی ڈاکٹرز دستیاب نہیں ہوتے جس کی وجہ سے مریض خوار ہوتے رہتے ہیں کچھ دن قبل ہی ہمارے دوست کے والد محترم جناح اسپتال لاہور میں ان ڈاکٹرز کی بدمعاشی کی وجہ سے فوت ہوئے.
    اسی طرح یہ کالے کوٹ والے بھی "ریاست کے اندر ریاست” ہیں. قانون کے سارے داؤ پیچ جانتے ہیں مخالف کو قانون کے عین مطابق کیسے چاروں شانے چت گرانا ہے اس میں خوب ماہر ہوتے ہیں پھر ججز کی کرسیوں پر بیٹھے عزت مآب منصف تو ہوتے ہی ان کی قبیل کے ہیں لہذا "سانوں کسے دا ڈر نہیں” کے مصداق جب چاہیں جہاں چاہیں قانون کو ہاتھ میں لیتے ہیں کیونکہ آئین تو ہے ہی ان کی جیب میں…
    اسی طرح پولیس کی بدمعاشی بےچارے معصوم شہریوں کے لیے ہی ہے صلاح الدین جیسے فاطر العقل لوگ ہی ان کی بربریت کا شکار ہوسکتے ہیں کیونکہ ان قانون کے لباس میں ملبوس غنڈوں اور مسیحائی کے نام پر قاتلوں کے سامنے پولیس بے بس اور خاموش تماشائی ہے. کل کے سانحہ میں بھی پولیس کی اپنی گاڑیاں تک جلا دی گئیں مگر پولیس نے ان کالے کوٹوں کو کھل کھیلنے کا بھرپور موقع دیا جس کی وجہ سے کئی جانیں ان کے تماشے کی بھینٹ چڑھ گئیں.
    لیکن کیا کریں جی اسلام آباد میں خوبصورت وزیراعظم صاحب بیٹھے ہیں جو تقریر بڑی خوبصورت کرتے ہیں جو رلانا تو کرپٹ سیاستدانوں کو چاہتے تھے مگر اب تک تو ہم نے عوام ہی روتی دیکھی ہے، عوام ہی پٹتی دیکھی ہے اور عوام ہی مرتی دیکھی ہے اور ملک کو لوٹنے والے کرپٹ سیاستدان جیلوں سے باہر قانون اور آئین کو "مڈل فنگر” دکھا کر جاچکے ہیں، اس قانون کے رکھوالے اور شارح اسپتالوں پر حملے کر رہے ہیں، ان کو روکنے والے اور امن و امان کو بحال رکھنے والے خاموش تماشائی ہیں اور ان سب کو چلانے والی اسلام آباد کی گورنمنٹ تقاریر اور ٹویٹس میں مصروف ہے.
    کل ان کالے کوٹوں کے ڈاکٹرز پر حملے میں مرنے والی بھی عوام اور آج ڈاکٹرز اور وکلاء کے احتجاج کے باعث کورٹ کچہریوں، اسپتالوں اور سڑکوں پر خوار ہونے والی بھی عوام الناس ہے. نہ ڈاکٹرز کا کچھ بگڑا نہ وکلا کو کوئی خراش آئی نہ پولیس والوں میں درد عوام پیدا ہوا نہ اسلام آباد کے کانوں پر کوئی جوں رینگی…..
    گڈ گورنس اور عوامی مسائل کا حل گئے تیل لینے… کاش اسلام آباد کے باسیوں کو یہ اندازہ بھی ہوجائے کہ چوبرجی اور بہالپور والے نان اسٹیٹ ایکٹرز نہیں بلکہ اصل نان اسٹیٹ ایکٹرز تو یہ کالے کوٹوں والے بدمعاش اور مسیحائی کے نام پر دھندا کرنے والے ڈاکٹرز ہیں جن پر ریاست کی بھی نہیں چلتی بلکہ یہ خود ریاست کے اندر ریاست ہیں….

  • وکلاگردی، نااہلی اور بدنیتی…از..انشال راؤ

    وکلاگردی، نااہلی اور بدنیتی…از..انشال راؤ

    دنیا کے نامور دانشوروں نے کہا کہ پاکستان ایک ناکام ریاست Failed State ہے مگر ریاست اس موقف پہ ڈٹی رہی کہ یہ متعصبانہ رائے ہے اور میں آپ ہاں میں ہاں ملاتے رہے، دنیا کے بڑے بڑے اخبارات میں آرٹیکلز شایع ہوے کہ ریاست پاکستان ایک ناکام ریاست ہے لیکن جواباً کہا گیا کہ اس بات میں کوئی حقیقت نہیں،

    الطاف حسین سے BLA اور منظور پشتین گروہ نے بیانیہ چلایا کہ پاکستان اب ناکام ملک بن کر رہ گیا ہے تو جذبہ حب الوطنی سے سرشار عوام نے انہیں غدار گردانا، لیکن آج لاہور کی صورتحال پر ریاست و ریاست چلانے والوں کے کردار، قانون و قانون نافذ کرنے والوں کے کردار سے یہ بات کھٹک نہیں رہی بلکہ ثابت ہورہی ہے کہ واقعی پاکستان ایک ناکام ریاست ہے،

    آج لاہور میں نام نہاد وکلاء نے دہشتگردی و غنڈہ گردی کی ساری حدیں پار کرلیں، دنیا کی تاریخ میں کبھی جنگوں کے ماحول میں بھی اسپتالوں پر یلغار نہیں کی، شام سے لیبیا اور یمن سے عراق و افغانستان تک خواہ کتنی ہی خانہ جنگی رہی مگر کسی جنگجو گروپ نے کبھی ہسپتال پہ چڑھائی نہ کی لیکن LLB کی ڈگری لے کر وکیل بن جانے والوں نے آج دنیا کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کردیا اور یہ باب بھی پاکستان ہی کے کھاتے میں آیا کہ پہلی بار ہسپتال پر اتنی شدید قسم کا بیرونی حملہ ہوا جوکہ وکلاء کی جانب سے کیا گیا، توڑ پھوڑ اور عملے و مریضوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا جس کے نتیجے میں متعدد مریض جاں بحق ہوگئے،

    وکلاء دہشتگردوں نے حساس وارڈوں کو بھی نہ بخشا، جسکے نتیجے میں درجن سے زائد مریض موقع پر جاں بحق ہوگئے مصدقہ اطلاعات کے مطابق آئی سی یو وارڈ میں موجود تمام مریض جاں بحق ہوگئے اس کے علاوہ آپریشن تھیٹر میں موجود مریض و دیگر بہت سے اللہ کو پیارے ہوے لیکن وکلاء دہشتگردوں کی صحت و سوچ پہ کوئی فرق نہ پڑا، وکلاء گردی کی ہی نہیں بلکہ دہشتگردی کی یہ دنیائے تاریخ کی سب سے بڑی دہشتگردی ہے لیکن نااہلیت، نااہلیت، نااہلیت کا بھی یہ دنیا کا سب سے بڑا واقعہ ہے تاریخ عالم میں اس سے پہلے نااہلیت کی اس سے بڑی مثال نہیں ملتی کہ پوری قوم وکلاء گردی پر غم و غصے کے عالم میں تھی،

    وکلا دہشتگردی کرتے رہے لیکن حکومت اپنی نااہلی کی روایت پہ قائم رہی، یقین جانئے جب یہ سب ہورہا تھا تو میرے زہن میں صرف ایک ہی بات آرہی تھی کہ بہت سے لوگ بےموت مارے گئے ہونگے، سینکڑوں بےقصور زخمی ہوے ہونگے، بہت سارے لوگوں کا نقصان بھی ہوگا، لاکھوں لوگ تکلیف کا سامنا کرینگے، میڈیا پر یہ سب دیکھ کر کروڑوں افراد ذہنی اذیت و مایوسی کا شکار بھی ہونگے،

    اس پر میرے زہن میں جو تھا بالکل وہی ہوا کہ اتنا سب کچھ ہوگا مگر وہی روایتی طور پر بیان آئیگا کہ وزیراعظم نے نوٹس لے لیا، وزیراعلیٰ کے حکم پر فلاں فلاں پہ مشتمل کمیٹی قائم کردی گئی، وزیراعظم و وزیراعلیٰ نے رپورٹ طلب کرلی، بہت سے لوگ مذمت کرینگے، مختلف قسم کے القابات سے نوازا جائیگا، بیانات آئینگے کہ سخت ایکشن لیا جائیگا وغیرہ وغیرہ، بالکل ایسا ہی ہوا وزیراعظم نے نوٹس لیکر رپورٹ طلب کرلی، وزیراعلیٰ نے کمیٹی بنادی،

    بہت سے مذمتی و ایکشن لینے کے بیانات بھی آتے رہے لیکن ایکشن نظر نہ آیا لاقانونیت، نااہلی، غنڈہ گردی اپنی جگہ قائم رہی، وکلا دہشتگرد وہاں سے منتشر ہوے تو سول سیکریٹریٹ کے سامنے جاکر سڑک بلاک کردی اور یوں پورا شہر جام ہوگیا، پولیس افسران نے اجلاس بلالیا اور معاملے کے حل کے لیے غور ہونے لگا، ڈھٹائی اور بےغیرتی خود حیران ہوکر رہ گئ جب دوسرے شہروں میں وکلاء سڑکوں پہ آکر دہشتگردی کی حمایت میں احتجاج کرنے لگے،

    حکومتی افراد روایت کے مطابق رپورٹ کمیٹی اور بیانات و پریس کانفرنس کے دائرے تک محدود رہے اور نااہلی کی انتہا تو یہ ہے کہ وزیر قانون راجہ بشارت صاحب نے فرمایا کہ دونوں گروپوں میں صلح کروائی جائیگی جوکہ شرم کی بات ہے کہ یہ ریاست چلانے والوں کا حال ہے کہ داداگیری دندناتے پھر رہی ہے مگر حکومت چپ سادھے دیکھ رہی ہے، اگر پنجاب پولیس و حکومت سے وکلا کی غنڈہ گردی کنٹرول نہیں ہوتی تو میرا مشورہ ہے کہ سندھ رینجرز سے خدمات لے لیں اور قانون نافذ کرنے کی ذمہ داری ڈی جی رینجرز سندھ کو سونپ دیں تو گھنٹوں کے اندر اندر سب کچھ سامنے آجائیگا،

    وکلاء تو ایسے سیدھے ہونگے کہ رینجرز کو دیکھتے ہی مارے خوف کے اپنا کالا کوٹ اتار دیا کرینگے اور اگر اسکے پیچھے کسی کا ہاتھ یا سازش ہوگی تو وہ بھی سامنے آجائیگی، بات درحقیقت نیتوں کی ہوتی ہے اگر حکومت رٹ قائم کرنا چاہے تو کیا نہیں ہوسکتا، بائیس اگست 2016 کا دن سب کے سامنے ہے MQM کے ورکرز نے مشتعل ہوکر ایک نجی چینل کی بلڈنگ میں توڑ پھوڑ کی تو ریاست حرکت میں آگئی کہ ایک ہی دن میں کئی سو چھاپے مارے گئے کئی سو متحدہ کارکنان گرفتار کرلیے گئے خواتین تک کو نہ بخشا گیا پھر کیا تھا کہ خوف کی فضا قائم ہوگئی وہی کراچی جو بدامنی و غنڈہ گردی کے طور پر صرف قومی ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی شہرت رکھتا تھا دیکھتے ہی دیکھتے سارا شہر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کنٹرول میں آگیا،

    بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ ریاست کے لیے MQM کو گھنٹوں میں زیر کرلینا کوئی بڑی بات ثابت نہیں ہوا جس کے پاس ہزاروں نہیں لاکھوں کارکنان بھی تھے لیکن یہ جو چند وکلا دہشتگرد ہیں کنٹرول نہیں ہوسکتے، بات وہی ہے کہ جب نیت کرنے کی نہ ہو تو کچھ بھی نہیں ہوسکتا، آج وکلاء نے قانون کو ہاتھ میں لیا دہشتگردی کی وہ دراصل اس ملک میں رائج نظام کا حصہ بن چکا ہے معاشرتی جُز ہے کہ طاقتور کمزور کے لیے فرعون بنا ہوا ہے جس کے ہاتھ میں طاقت ہو وہ طاقت کے نشے میں غرق ہوکر کچھ بھی کرڈالتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ہونا تو کچھ ہے ہی نہیں کیونکہ قانون یہاں مکڑی کے جالے سے بھی کمزور ہے اور قانون کی عملداری نہ ہونے کی وجہ سے ہی سارے مسائل پاکستان میں موجود ہیں،

    کسی بھی ریاست کی ناکامی صرف قانون کی کمزوری سے ہی مراد لی جاتی ہے، ریاست چلانے والے اگر چاہتے ہیں کہ پاکستان ترقی و خوشحالی کے ٹریک پہ رہے تو قانون کی بلاتفریق عملداری یقینی بنانا ہوگی، حکومت و اس کے ہمدرد اگر چاہتے ہیں کہ لوگ ان پہ نااہلی کا ٹھپہ نہ لگائیں تو یہ ایک سنہرا موقع ہے دہشتگرد وکلا کے خلاف صرف ایکشن نہ لیا جائے بلکہ فوری ایکشن لیکر اس معاملے کو دو چار دن میں ہی منطقی انجام تک پہچائے دہشتگرد وکلا کو ایسی سزا دی جائے کہ وہ عبرت بن جائے تب ہی قانون کی بحالی بھی ممکن ہے اور حکومت سے نااہلی کا ٹھپہ بھی ہٹ جائیگا ورنہ ابتک کی صورتحال سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ تبدیلی تو نہیں آئی کپتان صاحب خود تبدیل ہوکر روایت میں ضم ہوگئے ہیں۔

    آرزوئے سحر
    تحریر: انشال راؤ
    عنوان: وکلاگردی، نااہلی اور بدنیتی

  • وکلا نے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کو میدان جنگ بنا دیا، ڈاکٹرز اور مریضوں کی جان خطرے میں

    وکلا نے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کو میدان جنگ بنا دیا، ڈاکٹرز اور مریضوں کی جان خطرے میں

    وکلا نے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کو میدان جنگ بنا دیا، ڈاکٹرز اور مریضوں کی جان خطرے میں

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کو وکلا نے میدان جنگ بنا دیا.، ہسپتال میں شدید توڑ پھوڑ کرتےہوئے ہسپتال کے اندر اور باہر املاک کونقصان پہنچایا.وکلا نے پی آئی سی لاہور میں کھڑی گاڑیوں کے10 سے زائد شیشے توڑ دیئے.پی آئی سی ایمرجنسی وارڈکے شیشےتوڑدیئے .جنرل سیکریٹری وائی ڈی اے پنجاب ڈاکٹر سلمان حبیب کے مطابق وکلا وارڈ کے اندر داخل ہوگئے اور شدید توڑ پھوڑ کی.اور آئی سی یو میں داخل ہوگئے.وکلا ابھی بھی پی آئی سی لاہور میں موجود ہیں.اس صورتحال میں اسپتال کا عملہ کیسے کام کرسکتا ہے، جبکہ بہت سیریس مریض آئی سی یو میں موجود ہیں.انہوں نے کہا کہ پی آئی سی لاہورکےڈاکٹروں کی جان کوخطرہ ہے.4سے زائد ڈاکٹروں کے سر پھاڑ دیئے گئے ہیں.
    وائس چیئرمین پاکستان بارکونسل نے کہا کہ پی آئی سی لاہور میں ہنگامہ آرائی افسوس ناک واقعہ ہے..وائس چیئرمین پاکستان بارکونسل امجد شاہ کی انوکھی منطق پیش کرتے ہوئے کہا کہ وکلا کو اشتعال دلایا گیا.واقعےمیں ملوث افراد کےخلاف کارروائی ہوگی.مقامی قیادت کے ساتھ رابطے میں ہوں.مقامی قیادت صورتحال کنٹرول کرنےکیلئےکارروائی .کرےگی.صورتحال جلد قابو میں آجائےگی،امیدہےواقعےمیں ملوث ڈاکٹروں کےخلاف بھی کارروائی ہوگی.نگامہ آرائی میں نقصان پر افسوس ہی کیا جاسکتا ہے،پی آئی سی لاہور میں ہنگامہ آرائی افسوس ناک ہے

  • ابو الکلام آزاد و حسین احمد مدنی کا بہکاوہ اور ہندوستانی مسلمان، تحریر عبدالکبیر ندوی

    ابو الکلام آزاد و حسین احمد مدنی کا بہکاوہ اور ہندوستانی مسلمان، تحریر عبدالکبیر ندوی

    ابو الکلام آزاد و حسین احمد مدنی کا بہکاو ہ اور ہندوستانی مسلمان
    تحریر :عبدالکبیر ندوی

    ابو الکلام آزاد اور حسین احمد مدنی کے بہکاوے میں آکر ہند کے مسلمانوں نے بہت گھاٹے کا سودا کیا تھا،
    جناح دور اندیش تھا لیکن مذہبی ٹھیکیداروں نے مسلمانوں کو آسانی سے بیوقوف بنایا اور اپنے چند عہدوں کی خوش فہمی میں کروڑوں مسلمانوں کا مستقبل داؤ پر لگا دیا۔۔۔

    ہم حالات سے گھبراتے نہیں ہیں، اور مایوسی کو کفر سمجھتے ہیں، لیکن حالات کا تجزیہ اور اسباب کا ادراک اور اُسکے ذمےداروں کو آئنہ دیکھانا یہ سب ضروری ہے، تقسیم کے 70 نہیں اگر 700 سال بھی ہونگے تو الزام اُنہی پر جائےگا، کیونکہ مسلمانوں کے مستقبل کا فیصلہ وہیں سے ہوا تھا، یہ حقیقت ہے کہ مسلمان کبھی بھی مشرک کے ساتھ گزارا نہیں کر سکتا، پھر مشرکوں کے ماتحت آخر کیونکر سکون کی زندگی بسر کر سکتا تھا، اور تقسیم کے وقت ہندوستان میں رہنے کا فیصلہ کرنے والوں نے مشرکوں کے ساتھ ہی نہیں بلکہ مشرکوں کی ماتحتی میں گزارا کرنے کی ٹھانی تھی،
    پھر وہاں کوئی اسلامی مصلحت انکے پیشِ نظر نہیں تھی بلکہ ملک کی بنیاد پر قومی نظریہ، ہندو مسلم بھائیچارا، گنگا جمنا تہذیب جیسے بےبنیاد اور باطل تصورات تھے، کیونکہ انکو چند عہدے اور تھوڑی سی پاور کا گمان تھا جو اس وقت انکو حاصل تھی، جسے شاید وہ لازوال گمان کر رہے تھے،

    پہلے مسلمان ہندوستان میں سرکاری عہدوں میں 37 فیصد کے قریب تھا آج 5 فیصد بھی نہیں ہے، کاروبار کا کوئی ایک شعبہ بھی مسلمانوں کے پاس مخصوص نہیں ہے، گوشت کا کچھ کام تھا جو اب وہ بھی چھین لیا گیا ہے، اور بڑی بڑی فیکٹریاں ہندوؤں کے ہاتھوں میں ہی ہیں، لکڑی کے کاروبار میں نچلا کام مسلمانوں کے پاس تھا جو اب نہیں رہا، گجرات کے علاقوں میں کپڑے کا کام تھا جو ختم سا ہو چکا ہے، اور انکی اجارادری ہندو سیٹھوں کے پاس ہے، مسلمان مزدور رہ گیا ہے، اور ایسا بہت سارا ڈیٹا آپکو نیٹ پر مل جائےگا اپنی کئی تقریر میں اسد الدین اویسی نے اسکو بیان بھی کیا ہے، باقی آپ سچر کمیٹی کی آفیشیل رپورٹ دیکھ سکتے ہیں، اس سب کے علاوہ مسلمانوں کو گائے کے نام پر جان سے مار دینا، آتانکواد کے جھوٹے الزام میں جیلوں میں بھر دینا، مذہب کے نام پر منظم دنگے کرکے ہزاروں مسلمانوں کو مارنا اور لاکھوں کو لوٹ مار کر بےگھر کر دینا سورج کی طرح عیاں ہے، داڑھی کی وجہ سے کالج سے نکال دینا، پردہ کی وجہ سے ماں بہنوں کی توہین کرنا آئے دن کی خبر ہے، اسکے علاوہ مختلف طرح سے مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بنانا کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے،
    ہندوستان میں مسلمانوں نے کوئی اپنی سیاسی طاقت کھڑی نہیں کی کیونکہ مسلمانوں کی سیاسی نکیل یہاں جمیعت کے ہاتھوں میں تھی اور جمیعت نے کانگریس پر اُسکی اوقات سے زیادہ بھروسہ کیا اور مسلمانوں کو اُسکا خریدا ہوا غلام بنا دیا کہ اُسکے سوا کوئی راستہ نہیں، اور اگر کوئی چھوٹی موٹی تنظیم اٹھی تو وہ جمیعت کی سیاست کا شکار ہو گئی، جس میں ڈاکٹر ایوبی، مولانا عامر رشادی سے لیکر اسد اویسی جیسے کتنے ہی نام ہیں جن میں کچھ کو ناپید کر دیا گیا کچھ کی مخالفت جاری ہے، اور مذہبی نکیل دار العلوم دیوبند کے ہاتھوں میں رہی جس نے ہند میں مذہبی اعتبار سے نمایاں کردار تو ادا کیا لیکن یہاں بھی بریلویوں کو مشرک، اہل حدیث کو گمراہ، جماعت اسلامی کو گستاخ ثابت کرنے میں سارا زور دیا گیا، مغربی تہذیب اور دنیاوی علوم پر کوئی فتویٰ نہیں لگایا گیا بلکہ اسکو دجال سمجھ کر اُسکے فتنے سے پناہ مانگی گئی، اور لوگوں کو اس سے بعض رہنے کی تلقین کی گئی،
    اب اگر ڈٹین سینٹرز میں رکھا جاتا ہے تو اسکا ذمےدار کون ہوگا ؟
    اقتدار پر بیٹھی ہندو طاقت جو کچھ کر رہی ہے قانون کی روشنی میں کر رہی ہے، ہندوستان جمہوری ملک ہے یہاں کا نظام وہی جمہوری نظام ہے جس پر ہمارے اجداد نے بھروسہ جتلایا تھا، بی جے پی جو بھی قانون پاس کر رہی ہے جمہوری طریقے پر کر رہی ہے، پارلیمنٹ میں انکی جمہوریت ہے جسکی بنیاد پر تین طلاق کا بل پاس ہوا اور اب یہ بھی ہو جائےگا، کیونکہ وہ اپنے حق میں جمہوریت کو ثابت کر دیتی ہے، آپ کتنا بھی چیخیۓ چلائیے قانون کا حوالہ دیجیئے، ملک کا نظام جمہوری ہے، جمہوریت ثابت ہوتی ہے تو قانون کی کوئی بھی شق بدلی جا سکتی ہے یہ خود قانون کا حصہ ہے، اسلئے حالات کے اسباب کا تدارک کرنا ضروری ہے کہ ہمارے آباء و اجداد نے جس جمہوریت کو سمجھنے میں غلطی کی تھی اب اُسکا اصلی روپ سامنے آ گیا ہے، لہٰذا اب قانون، ملک، سیکولرزم اور ڈیموکریسی کا حوالہ دینا چھوڑیئے، اپنے اسلاف کی غلطی سے مجموعی توبہ کیجیئے، خدا کے دربار میں حاضر ہوکر باطل نظام سے برات کا اظہار کیجیئے، اور اسلامی اخوت کی بنیاد پر، ظلم کی عدم برداشت کی بنیاد پر، انسانیت کی بنیاد پر انقلاب کی آواز بلند کیجیئے، آپ اس سیکولرزم کو بچانے، ملک کو بچانے کا نعرہ دیکر چند ہندوؤں اور ملحدوں اور اسکالرز کو اپنے ساتھ ضرور لے سکتے ہو لیکن یقین جانیے آپ وہی غلطی دہرائینگے جو اسلاف نے کی تھی، یہ پھسپھسے سہارے ہیں جنہیں ایک دن ٹوٹ جانا ہے، اور خدا کا سہارا ہی باقی رہنے والا ہے اور وہی مضبوط اور طاقتور سہارا ہے، لہٰذا اپنی کوششوں کا رخ صحیح کیجیئے، اور اپنے حصے کی لڑائی خود لڑیئے اور نتیجہ اللہ کے سپرد کیجیئے،