Baaghi TV

Category: بلاگ

  • دنیا کا بلند ترین ریلوے ٹریک کس ملک میں واقع ہے ؟

    دنیا کا بلند ترین ریلوے ٹریک کس ملک میں واقع ہے ؟

    دنیا عجائبات کا مظہر ہے ، یہاں ہر روز ایسے ایسے عجائبات رونما ہو رہے ہیں کہ عقل انسانی دنگ رہ جاتی ہے، اور اگر بات پاکستان کے پڑوس ملک چائنہ کی ہو جائے تو وہاں عجائبات اس قدر زیادہ پائے جاتے ہیں کہ چینی لوگ عجائبات کے عادی ہو گئے ہیں، اج ہم جس چینی عجوبے کی بات کریں گے وہ چائنہ کے صوبے تبت میں ببنے والا ریلوے ٹریک ہے ، اس ریلوے ٹریک کانام کنگ زینگ ریلوے ٹریک ہے ، یہ دنیا کا سب سے بلند ترین مقا م پر پایا جانے والا ریلوے ٹریک ہے،
    اس ریلوے ٹریک کی کل لمبائی 1956 کلومیٹر ہے ، 1985 میں چینی حکومت نے اسے مکمل کیا ، اس کی تعمیر پر کل لاگت 4.2 ارب ڈالر آئی ، یہ ریلوے ٹریک دنیا کے بلند ترین مقام پر پائی جانے والی تازہ پانی ندی کے اوپر سے بھی گزرتا ہے ،
    اس ریلوے ٹریک کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے یہ تبت کے ایسےعلاقے میں بنا ہے جو کہ موسم کی شدت ، زلزلوں اور لینڈ سلائدنگ کیلئے مشہور جانا جاتا ہے ،
    ایک چینی سیاح نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اس ریلوے ٹریک پر چلتی ٹرین کی ویڈیو کو شئیر بھی کیا ہے
    https://twitter.com/evazhengll/status/1175397964623360002?s=08

  • جعفر زٹلی اور   شہنشاہِ مغل فرخ !!! تحریر: رضوان الحق

    جعفر زٹلی اور شہنشاہِ مغل فرخ !!! تحریر: رضوان الحق

    جعفر زٹلی کا شمار اردو کے ” ابتدائی طنز ومزاح نگار” میں ہوتا ہے. زٹل کے معنی بکواس، لغو، مزاح ہے زٹل سے زٹلی جو کہ آپ کا تخلص تھا

    زٹلی نے لکھنے کا آغاز اورنگزیب کے دور سے کیا. جعفر زٹلی ایک بے باک شاعر تھا. اورنگزیب پر بہت زیادہ تنقید کے ساتھ ساتھ اس کی اچھی انتظامی صلاحیتوں پر کھل کر لکھا. اورنگزیب کے بعد کا دور مغلیہ سلطنت کے زوال کی داستان سے بھرا پڑا ہے. اور اسی دور میں جعفر زٹلی نے معاشی وسیاسی حالات، کمزور حکمت عملی اور ظلم وجبر کے خلاف اپنی آواز بلند کی شاعری کے ذریعے.
    شہنشاہِ مغل فرخ سیر بہت ظلم کرتا تھا. حق کے لیے آواز بلند کرنے والوں کی گردنیں کاٹ دی جاتیں، زبانیں کھینچ لی جاتیں اس دوران فرخ سیر نے ایک سکہ جاری کیا جس پر یہ درج تھا:

    سکہ زدازفضل حق برسیم وزر
    بادشاہِ بحروبر فرخ سیر
    جعفر زٹلی نے جب یہ جملہ پڑھا تو اس کا دل مسوس کا رہ گیا کہ ایک طرف ظلم و ستم اور شہنشاہیت، جاہ وجلال وثروت کی آڑ لے کر
    زٹلی نے اس شعر کی تحریف یوں کی

    سکہ زد بر گندم وموٹھ ومٹر
    بادشاہِ تسمہ کش وفرخ سیر
    ( یہ بادشاہ فرخ سیر تسمہ بنانے والا جس نے گندم، جو کی ایک قسم اور مٹر پر لگان/ ٹیکس لگائی ہے)
    فرخ سیر کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ تسمے سے لوگوں کو پھانسی دیتا تھا. زٹلی نے اس کو حقیر تسمہ بنانے والا کہا. فرخ سیر کے لیے یہ شعر گالی بن گیا. مغل بادشاہ نے جعفر زٹلی کی پھانسی کا فرمان جاری کر دیا. اور پھر ایک شاعر ظلم وستم کا ساتھ دینے کے بجائے، حق کے لیے تختۂ دار پر چڑھ گیا.
    بلاگ /کالم کی دم : یہ ایک غیر سیاسی اور ادبی بلاگ ہے اس کو آج کی سیاست سے نہ ملایا جائے.

  • یونیورسٹی تعلیم—– از ایس ایم چوہدری

    یونیورسٹی تعلیم—– از ایس ایم چوہدری

    جیساکہ نام سےہی ظاہرہےکہ ہمارےملک پاکستان میں یونیورسٹی کی تعلیم عموماًمخلوط تعلیم کی شکل میں موجودہے۔مخلوط تعلیم جسےانگریزی میںco.education کہتےہیں اس کامطلب ہےلڑکےاورلڑکیوں کی تعلیم کاایک ہی ادارےمیں پڑھنا۔

    یہ نظامِ تعلیم کیوں وجود میں آیا۔۔۔؟؟

    اس کےبارے میں تھوڑی سی میں وضاحت کرتی چلی جاؤں ۔ سب سےپہلےدیکھاجائےتوپاکستان ایک غریب ملک ہےجسکےپاس وسائل نہ ہونےکےبرابرہیں ۔تعلیم کےلیئےکوئی خاص بجٹ بھی نہیں رکھاجاتااگررکھابھی جائےتواس کومکمل طورپرعملی میدان میں لانےسےہمیشہ گریزاں ہی رکھاگیاہے۔

    اس عنصرکیوجہ سےہماراملک لڑکےاورلڑکیوں کی تعلیم کےلیئےالگ الگ تعلیمی ادارے یعنی یونیورسٹیز کھولنے سےقاصرہے۔دورحاضرکی ضرورتوں کےپیش نظرعورت کی تعلیم سےانکار بھی نہیں کیاجاسکتاکہاجاتاہےکہ
    Man and woman are the two wheels of the carriage of life. Education plays an important role in running this carriage smoothly.

    مزیدبرآں تعلیم نسواں کی اہمیت کوواضح کرتےہوئےمختلف مفکرین اپنی اپنی آراں پیش کرتےرہے۔

    نیپولین کاقول

    "تم مجھےپڑھی لکھی ماں دو میں تمھیں پڑھی لکھی قوم دوں گا”
    یہ تھی تعلیم نسواں کی ضرورت واہمیت۔اب اس تعلیم سےآگےجورجحان وجود میں آیاوہ یہ کہ جسطرح مرد کام کرتاہےاسی طرح عورت بھی مختلف شعبہ ہائےزندگی میں کام کرسکتی ہےیعنی وہ مردکےشانہ بشانہ کام کرنےکی اہلیت رکھتی ہے ۔یہ ایک مغربی رجحان ہےجس کی اسلام میں اجازت نہیں دیتا۔ اسلام نے مرداورعورت کےلیئےالگ الگ دائرہ کارمتعین کردیئے

    31 – اکتوبر کو انتخابات کا اعلان کردیا گیا ، کتنے امیدوار اس دفعہ حصہ لے رہے ہیں رپورٹ آگئی

    مسلم مفکرین کاکہناہےکہ اگرعورت علم وہنرکےمیدان میں کوئی کارنامہ نہ بھی سرانجام دےتواس کی عزت ووقارمیں کمی نہیں آتی ۔اس کےلیئےیہ بھی بڑااعزاز ہےکہ عظیم ہستیاں اس کی گودمیں پرورش پاتی ہیں۔
    یہ تھی عورتوں کےلیئےتعلیم کی ضرورت واہمیت اوراس کادائرہ کار۔۔۔۔۔
    اب سوال یہ ہےکہ یونیورسٹی ایک اعلٰی تعلیمی ادارہ ہے،تونام کی مناسبت سےکیاعمل بھی اعلٰی۔۔۔۔۔۔؟

    سب سےپہلےتومیں اس ادارےکےقیام کامقصد بتاناچاہوں گی۔تعلیمی ادارہ خواہ کوئی بھی ہواس کامقصد صرف تعلم ہی نہیں بلکہ اس کےساتھ ساتھ اس کی اعلٰی اخلاقی تربیت بھی ہے۔علم کےمعنی جاننا،واقف ہونا،آگاہی حاصل کرناکےہیں پھرکسی بھی چیزسےواقف ہونےکےبعد اس علم کواپنی زندگی میں عملی طورپراستعمال میں لاناوہ اس علم کی تربیت کانتیجہ ہے۔

    المیہ یہ ہےکہ آج ڈگریوں کےانبارلگےہوئےہیں لیکن عمل نہیں ۔عمل کےبغیرعلم کوئی بھی ہووہ بےکارہے۔پھراس سےکےعلاوہ جو ہمارےتعلیمی نظام کی بگاڑ کی وجہ بناوہ یہ کہ ہم نےمغرب کی طرزتعلیم کواپنی کلچرکاحصہ بنالیاجس میں اخلاقیات کاجنازہ نکل رہاہے۔ہم نےیونیورسٹیوں میں مخلوط تعلیم کوترویج دی اوراسےاپنےلیئےباعث فخرقراردیا۔

    مولانامودودی

    مخلوط تعلیم کی نفی کرتےہوئےکہتےہیں کی کسی بھی تعلیمی سطح پرمخلوط تعلیم کی اسلام اجازت ہی نہیں دیتا۔اس مخلوط تعلیم نےعورت کواس کےاصل مقام سےبےبہرہ کردیا۔آزادی کانعرہ لگاکرسروں سےدوپٹےاتاردیئےگئےاورسرعام زیب وزینت کرکےآناعورت نےاپناحق سمجھ لیا۔پردےکاتصورختم کردیاگیااوراس طرز کوہم نےترقی کاراز قرار دیااسلامی روایات جوہمارےتعلیمی نظام کی روح ہواکرتی تھی وہ مٹادی گئیں۔
    *
    بقول علامہ اقبال:*

    ہم سمجھتےتھےکہ لائےگی فراغت تعلیم
    کیاخبرتھی کہ چلاآئےگاالحادبھی ساتھ

    پھرجونقصان دیکھنےمیں آیاوہ یہ کہ
    تعلیم کا معیارگرانےمیں سمیسٹرسسٹم کاکردار:
    چونکہ یونیورسٹی ایک اعلٰی تعلیمی ادارہ ہےاس لیئے اس کاطریقہ تدریس دوسرےثانوی تعلیمی اداروں سےقدرےمختلف ہے۔یونیورسٹیوں میں سمیسٹر سسٹم رائج کردیاگیا۔جسکانقصان یہ ہواکہ ہمارےتعلیمی نظام کامعیارگرگیا۔طالبعلموں کی ساری توجہ اس مقصدسےہٹ گئی جوتعلیمی نظام کی روح ہوتی ہےوہ علم سیکھنےکی بجائےرٹے کوترجیح دینےلگےاور انھوں نےتعلیم کامقصدصرف اورصرف اچھےنمبر لینا اچھاگریڈ حاصل کرنابنالیااور اصل مقصد کو فراموش کردیاگیا۔جو کہ ہمارےتعلیمی نظام کےلئیے بہت بڑانقصان دہ ثابت ہورہاہے۔

     

    تحریر از ایس ایم چوہدری

     

  • یونیورسٹی اعلیٰ تعلیمی ادارہ کیا عمل بھی اعلیٰ—— از ساجدہ بٹ

    یونیورسٹی اعلیٰ تعلیمی ادارہ کیا عمل بھی اعلیٰ—— از ساجدہ بٹ

    یونیورسٹی وہ ادارہ ہے جہاں ہمارے نوجوان اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے جاتے ہیں ۔
    یعنی وہ تعلیم بھی اسے کہہ سکتے ہیں کہ جس سے افراد اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکیں ۔جہاں ہماری نوجوان نسل اپنے اعلیٰ کردار کی تعمیر کر رہی ہے۔

    اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یونیورسٹی اعلیٰ تعلیم کا ادارہ ہے کیا عمل بھی اعلیٰ ؟ میں سب سے پہلے اپنے پاکستان کے تعلیمی اداروں کی بات کرنا چاہوں گی ۔۔جو کہ ایک مسلم ملک ہے یہاں کس قدر اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہیں۔

    ہم لوگوں نے مغربی تعلیم کے ساتھ ساتھ مغربی کلچر کو اپنایا اور پھر ترقی کے نام پر مخلوط نظام تعلیم کو فروغ دیا۔جس کا مطلب کے لڑکے اور لڑکیاں اکھٹے تعلیم حاصل کریں ۔یعنی اب اس طرح ہی ہم ترقی کر سکتے ہیں۔

    اس ترقی نے ہمارے معاشرے کی نوجوان نسل کے کردار کو بگاڑ کر رکھ دیا۔وہاں تعلیمی ترقی کے ساتھ ساتھ دوستیاں ترقی کرنے لگیں۔۔ان دوستیوں نے ہماری بیٹیوں کے سر سے چادر چھین لی۔پھر رہی سہی کسر نت نئے فیشن نے نکال دی۔شرم تو آنکھوں میں ہونی چاہیئے۔اس تعلیم نے پھر ہمیں بے پردہ کر دیا۔یہ بات تو چلو ترقی کی ہوئی طالب علموں کی ہوئی ۔

    مخلوط تعلیم سے ہوتے ہوئے پھر فیشن کی طرف سفر ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔اب امتحانات کی کیا صورت حال ہے ؟؟؟یونیورسٹی میں سمسٹر سسٹم نے تعلیم کے معیار کو بلکل پسے پشت ڈال دیا ہے۔آج کل ڈگری حاصل کرنا مشکل کام کہاں۔۔؟؟؟؟آج کل تو پیسے سے تعلیم حاصل ہوتی ہے ۔اور اُس سے بھی مزے کی بات محنت بھی نہیں کرنی پڑتی پیسہ دو اور ڈگری آپ کے ہاتھ میں ہے۔

    ارے واہ سچ میں ترقی کا دور ہے۔یونیورسٹی میں داخلہ لو کلاس بیشک اٹینڈ نا کرو چونکہ بڑے اونچے خاندان پیسے والے بڑے عہدے دار کے بیٹے ہو / بیٹی ہو ۔کوئی مسلہ نہیں نمبر لگ جائیں گے استاد سے سلام دعا اچھی ہے فکر نا کرو نمبر لگ جائیں گے ۔نمبر تو استاد کے ہاتھ میں ہے تھوڑی بہت چاہ پلوسی کرو نمبر لگ جائیں گے۔

    ارے ٹھہریئے ….
    روکیے ۔۔۔
    ذرا سوچیے ۔۔۔
    وہ غریب کا بچہ جس نے دِن رات محنت کی ہاں لیکن نا تو پیسہ اُس کے پاس نا سفارش نا بڑا عہدہ رکھنے والا اُس کے خاندان میں سے کوئی ۔۔۔

    شاید وہ حالات بھی بیان نا کر سکتا ہو۔اُسے کوئی پوچھنے والا نہیں ہو گا اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ اس کی جگہ کسی مالدار بیٹے کو دے دی جاتی ہے وہ داخلہ بھی نہیں لے سکتا۔
    میرا سوال ہے
    یونیورسٹی میں یہ صورت حال ہے تو اعلیٰ تعلیم کہاں ؟؟؟
    ملک ترقی کیسے کرے گا؟؟؟
    جس کی بنیاد ہی غلط رکھی گئی ہے وہ کیسے عمارت کو قائم رکھ سکتا ہے ؟؟؟؟

    سفارشی نظام ملکی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ۔۔

    میرے خیال میں سفارشی نظام نے ہمارے معاشرے کو کمزور کر دیا ہم آگے جانے کی بجائے پیچھے سفر کر رہے ہیں۔
    جب حکومت نا اہل لوگوں کے سپرد کر دی جائے تو پھر ترقی کی خواہش ہمیں دل سے نکال دینی چاہیے ۔

    اور ہمارے معاشرے میں تو یہ سب بہت عروج پر ہے یعنی ہم اعلیٰ تعلیم کے نام پر خود کو دھوکہ دے رہے ہیں۔
    یاد رکھیے ۔۔۔
    یہ سسٹم ہمیں خود بدلنا ہو گا ورنہ آنے والا دور جیسا بھی ہوا اس کے ذمےدار ہم خود ہوں گے۔

    اب اگر یونیورسٹی کے سٹاف کی بات کی جائے تو سونے پے سہاگا۔۔۔
    کسی عام بندے کی طرف تو توجہ دینا محال ہے ہر چھوٹے سے چھوٹے کام کے لیے سفارش کی ضرورت ہے۔
    حتٰی کہ کسی فورم پر مہر لگانی ہے تب بھی سفارش کی ضرورت ہے۔
    آخر کیوں ؟؟؟

    کسی غریب کا کب احترام کرتی ہے ، یہ دنیا لباس دیکھ کر سلام کرتی ہے

    کیا جس کام کے لیے آپ کو ملازمت دی ہے کیا اُس میں کوئی شق ایسی بھی تھی جس میں لکھا ہو کہ ہر کام کے لیے آپ کو سفارش لانا لازمی قرار دیا گیا ہے

    اگر ایسا نہیں ہے تو ایسا کرتے کیوں ہیں ۔۔
    یاد رکھیے کسی غریب کا حق کھانے سے ڈرو ۔۔
    رشوت سے ڈرو ۔
    خدا کا خوف کرو۔
    قبر کے عذاب سے ڈرو۔

    یاد رکھنا ۔۔۔
    یہ بڑے بڑے عہدے قیامت کے دن کام نہیں آئیں گے۔وہاں تو صرف اور صرف ہمارے عمل کا حساب ہو گا۔

    پھر جو اب کر رہیں ہیں کیا اللہ کے حضور حاضر ہونے کے قابل ہے ؟؟
    خدارا صرف وہ کریں جس کے آپ اہل ہیں دوسروں کا حق چھین لینے والوں سے جلد حساب لیا جائیں گا
    اگر ملک کو ترقی دینا چاہتے ہیں تو پہلے اپنے کردار کو ترقی دیں۔۔

    تحریر از ساجدہ بٹ

  • کیا سندھ کا کوئی والی وارث ہے؟؟؟  تحریر:  حجاب رندھاوا

    کیا سندھ کا کوئی والی وارث ہے؟؟؟ تحریر: حجاب رندھاوا

    لیاقت قائمخانی کی پوری دولت ابھی سامنے آنے میں کچھ دن لگے گے لیکن 20 گریڈ کے افسر کا محل نما گھر اور گھر سے 10 ارب روپے مالیت کی جائدادوں کی فائلیں، گاڑیاں، زیور، بانڈ، کرنسی ملنا لمحہ فکریہ ہے

    لیاقت قائمخانی جس نے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے عہدے سے ملازمت کا آغاز کیا اور اس نے آخری تنخواہ سوا لاکھ روپے وصول کی تھی اس کا محل نما گھر؟؟ ؟
    سوا لاکھ تنخواہ میں؟
    اور گھر سے دس ارب مالیت کی اشیاء کی برآمدگی؟؟؟ ؟

    کیا سندھ میں اس طرح جنگل کا قانون تھا کہ جو چاہتا لوٹتا رہا
    لیاقت قائم خانی نے کراچی کے باغات کی بحالی۔اور تزئین و آرائش کے نام پر لوٹ مار کی جس کی تفصیلات منظر عام پر آ رہی ہیں ۔
    لیاقت قائمخانی نے 20 سالوں میں کراچی کے 71 پارکس کو صرف کاغذات میں بنایا اور سابق ڈی جی پارکس نے ایک ارب سے زائد روپے ہڑپ کر لیے

    مئیرکراچی کے مشیر لیاقت قائم خانی 2012 میں شہید بے نظیر بھٹو پارک کے نام پر قومی خزانے کو 24کروڑ کا چونا لگا چکے ہیں۔

    شہید بے نظیر بھٹو پارک میں لوٹ مار پر لیاقت قائم خانی پر اینٹی کرپشن نے مقدمہ بھی درج کیا تھا۔

    سابق گورنر اور پیپلزپارٹی کی اعلی قیادت کے دباؤ پر لیاقت قائم خانی پردرج مقدمات کو سرد خانے کی نظرکر دیا گیا۔

    لیاقت قائم خانی نے باغ ابن قاسم کی طرح شہید بے نظیر بھٹو پارک میں بھی جعلی کام کرائے۔
    لیاقت قائم خانی کراچی کے باغات پر بھالو مٹی کے بجائے سمندری مٹی ڈالتا تھا۔ لیاقت قائم خانی نے صرف شہید بے نظیر بھٹو پارک پر ایک کروڑ کے جعلی درخت اور پودے لگائے

    کے ایم سی محکمہ باغات کے 14ملازمین لیاقت کے گھر پر اور 7 ملازم اہم شخصیات کے گھروں پر کام کرتے تھے۔

    باتھ آئی لینڈ کلفٹن میں لیاقت علی نے گلشن فیصل پارک کے نام پر 40 لاکھ ہڑپ کئے۔۔

    لیاقت قائم خانی کے گھر سے برآمد ہونے والی گاڑیوں جائیداد کی دستاویزات پرائز بانڈز سونے ہیرے اور قیمتی ساز و سامان کی مالیت کا اندازہ 3 ارب روپے سے اوپر ہے جبکہ ملزم سے ایک لاکر مزید کھلوایا جانا باقی ہے۔ ملزم کی دیگر جائیدادوں کی تفصیلات بھی حاصل کی جارہی ہیں۔

    لیاقت قایم خانی کے قریبی افسران میں سابق ڈی جی پارک طاہر درانی ایڈیشنل ڈائریکٹر اخلاق بیگ شامل تھے۔ آزاد نامی افسر اور ایڈیشنل ڈائریکٹر خورشید بھی لیاقت خانی کے قریبی افسرتھے۔جو اس کے کرپشن پارٹنر تھے

    لیاقت قائمخانی نے پارکس میں جعلی کام کرانے کے لیے جعلی کمپنیاں بنائی ہوئی تھیں، جعلی کمپنیوں کے نام پر فنڈز ریلیز کئے جاتے تھے جس سے کسی کو کوئی حصہ نہیں دیا جاتا تھا

    نیب ذرائع کے مطابق لیاقت قائم کی کرپشن کے سیاسی حصے داروں میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم دونوں کی اہم شخصیات شامل ہیں۔

    لیاقت قائم خانی کے گھر سے برامد ہونے والی گاڑیاں اس نے ٹھیکدار کمپنی فیضان اینڈکو کے مالک چوہدری فیاض، ٹھیکیدار سلیم بھیا، مصطفی ٹھیکیدار سے لیں۔ لیاقت قائم خانی اہم شخصیات کی گاڑیوں کی مرمت بھی کےایم سی کے فنڈز سے کرا کر دیتے تھے

    ذرائع کا کہنا ہے کہ لیاقت قائمخانی 2007 سے غیر قانونی طور پر کے ایم سی کے مشیر باغات تھے، گریڈ 21 میں ریٹائرمنٹ کے بعد کے ایم سی سے ایک لاکھ روپے پینشن بھی وصول کرتے تھے
    کراچی میونسپل کارپوریشن میں انیس سو اناسی میں بھرتی ہونے والے لیاقت علی قائم خانی کے ایم سی کے بااثر ترین افسر کیسے بنے یہ اب کوئی معمہ نہیں رہا
    اس کو بنانے میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کی سیاسی شخصیات کا ہاتھ ہے

    لیاری کے علاقے گٹر باغیچہ کے رہائشی لیاقت علی قائم خانی نے انیس سو اناسی کے ایم سی میں گریڈ سولہ میں بطور اسسٹنٹ ڈائریکٹر شمولیت اختیار کی اور اس وقت کے میئر کراچی عبدل ستار افغانی ماتحت محکمہ باغات میں بطور ہارٹیکلچرسٹ اپنے کیریئر کا آغاز کیا ، تینتیس سالہ سروس کابیشتر حصہ محکمہ باغات میں گزارا اور پی ای سی ایچ ایس میں قیمتی بنگلے کے مالک بن گئے۔

    سن دو ہزار پانچ میں نئے بلدیاتی نظام کے وجود میں آنے کے بعد لیاقت علی قائم خانی نے حیرت انگیز طور تیزی کے ساتھ ترقی کی ۔
    سابق ناظم کراچی مصطفی کمال کے دور میں گریڈ اٹھارہ کے ڈائریکٹر لیاقت علی قائم خانی کے لئے ڈی جی پارکس کی پوسٹ بنائی گئی اور انہیں کراچی میں باغات اور کھیلوں کے میدانوں کی بحالی کے حوالے سے سیاہ سفید کا مالک بنا دیا گیا

    باغ ابن قاسم کی بحالی کے بعد لیاقت علی قائم خانی سابق گورنر سندھ عشرت العباد اور مصطفیٰ کمال کے سب سے قریبی افسر سمجھے جانے لگے۔

    سن دو ہزار دس میں بلدیاتی نظام تو لپیٹ دیا گیا لیکن لیاقت علی قائم خانی اپنے عہدے پر براجمان رہے اور پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت کے قرب حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہو گئے۔

    بتایا جاتا ہے کہ بوٹ بیسن پارک کی تعمیر نو کے لئے وفاق سے آنے والا تمام فنڈ حکومت سندھ کے بجائے براہ راست لیاقت علی خان کو دیا گیا ، اعتماد اور قربت کا یہ عالم تھا کہ دو ہزار آٹھ میں سابق صدر آصف علی زرداری نے لیاقت علی قائم خانی کو تمغہ امتیازعطا کیا گیا اور پھر دو ہزار گیارہ میں ستارہ امتیاز سے نوازا گیا ۔

    اپریل دو ہزار گیارہ میں لیاقت علی قائم خانی گریڈ بیس سے ریٹائرڈ تو ہو گئے لیکن اس وقت کے ایڈمینسٹریٹر کراچی لالہ فضل الرحمن نے انہیں تین سال کی توسیع دے دی جو اگلے ہی سال یعنی دو ہزار بارہ میں سپریم کورٹ کے حکم پر کالعدم قرار دے دی گئی ۔

    دو ہزار سولہ میں جیسے ہی بلدیاتی حکومت وجود میں آئی تو موجودہ میئر کراچی وسیم اختر نے لیاقت علی قائمخانی کو بطور مشیر باغات ایک بار پھر محکمہ باغات کے سیاہ و سفید کا مالک بنادیا
    اج لیاقت قائم خانی نیب حراست میں ہے جبکہ مئیر کراچی وسیم اختر دوبئ جا چکا ہے
    نیب ذرائع کے مطابق میئر کراچی کے مشیر لیاقت قائمخانی کے خلاف تین مزید ریفرنسز بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، لیاقت قائمخانی پر آمدن سے زائد اثاثے بنانے اور کرپشن اور جعلی دستاویزات کے ریفرنس بھی دائر ہوں گے
    حجاب رندھاوا

  • مسجد نبوی میں شاہ محمود قریشی کی کشمیری نوجوان سے گفتگو ، تسلی دیتے ہوئے کہا کہ  کشمیر جلد آزاد ہوگا

    مسجد نبوی میں شاہ محمود قریشی کی کشمیری نوجوان سے گفتگو ، تسلی دیتے ہوئے کہا کہ کشمیر جلد آزاد ہوگا

    مدینہ منورہ: پاکستان کی موجودہ حکومت مقبوضہ کشمیرکے باسیوں کے دل آواز بن گئی ، اطلاعات کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو دیکھ کر کشمیر مسلمان اُن کے پاس آیا اور اپنی پریشانی بیان کی کہ پلوامہ میں والدین سے کوئی رابطہ نہیں ہورہا۔شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کا بچہ بچہ کشمیریوں کے ساتھ ہے، کشمیر جلد آزاد ہوگا‘۔

    مقبوضہ کشمیر میں‌ہونے والے مظالم سے پردہ اٹھاتے ہوئے مسجد نبوی ﷺ کے صحن میں کشمیری مسلمان نے بتایا کہ کشمیر میں ہمارے بہن بھائیوں پر ظلم ڈھائے جا رہے ہیں۔

    شاہ محمود قریشی نے نوجوان کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ ’’وزیر اعظم عمران خان اقوام متحدہ جارہے ہیں جہاں کشمیریوں اور کشمیر کا مقدمہ نہ صرف عالمی دنیا کے سامنے پیش کیا جائے گا بلکہ ہم اس مقدمے کو اچھے سے لڑیں گے، دعا ہے کہ کشمیریوں کو جلد آزادی ملے، پاکستان ہمیشہ کشمیریوں کے ساتھ کھڑا ہے‘‘۔

    وزیراعظم پاکستان دو روزہ دورے پر اپنی اہلیہ اور پاکستانی وفد کے ہمراہ سعودی عرب پہنچے جہاں انہوں نے عمرہ ادائیگی، روضہ رسول پر حاضری دی اور سعودی حکمرانوں سے بھی خصوصی ملاقاتیں کیں، سعودی عرب سے عمران خان امریکا روانہ ہوگئے ہیں‌۔

  • خداداد صلاحیت………….. ازجواد سعید

    خداداد صلاحیت………….. ازجواد سعید

    ایک بالغ مرد/عورت ایک بچے سے چار کامیاب عادتیں سیکهہ سکتے هے.
    پہلی. بغیر وجہ کہ خوش رہنا.
    دوسری. کسی نہ کسی چیز میں ہر وقت مصروف رہنا.
    تیسری. سیکهنے (کاپی کرنے) کی ہردم کوشش کرنا.
    چوتھی. جس چیز کی خواہش ہو اسے پوری قوت سے طلب کرنا.

    شارٹ کٹ راستہ جو کہ آپکو رفعتوں تک پہنچا سکتا هے ان طفلی عادات سے ہی ممکن هے.
    کیونکہ ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا هے .اور انکی عادات ایک خدائیہ تحفہ ہوتی ہیں.
    خداداد_صلاحیات) نامی لفظ تو اکثر سنتے ہی ہونگے .
    اصل میں یہ وہ عادات ہیں جو ہمارے پیدا ہونے سے اب تک ہمارے ساتهہ جڑی ہیں.اور جو رہ گئیں وہ ہماری کمزوریاں کہلاتی هیں.
    آپ نے اکثر بچوں کو دیکها تو ہو گا!
    ننهے بچے جب چلنا سیکهتے ہیں تو سینکڑوں بار رینگتے ہیں .کهڑا ہونے کی کوشش کرتے ہیں .بار بار گرتے ہیں.اور پهر اٹهہ کر چلنے لگتے ہیں.
    بعض اوقات دهڑام سے سر کے بل بهی گر جاتے ہیں روتے ہیں.لیکن پهر بهی باز نہی آتے.
    اور پهر ایک وقت آتا هے وہ کهڑا ہو کر چلنا اور چلنے سے دوڑنا یہ سب مراحل بخوبی سیکهہ جاتے ہیں.
    ان سب کے باوجود کبهی آپ نے انسے سنا ہو.
    ہزار بار کوشش کی لیکن کامیابی بے سود.
    بس جی بس.اب اور نہی ہوتا مجهہ سے؟..(کبهی نہی)

    اب دوسرا_رخ دیکهئیے.!
    اب یہی بچہ بڑا ہو کر اپنی صلاحیت قوت اعتمادی اور جهد مسلسل. کو بهول جاتا هے.
    اور پهر اسی وجوہات سے ناشکری. شکوے. احساس کمتری. جیسی کئ وباوں کا شکار ہو جاتا هے.
    اگر وہی بچہ اپنی تعمیری کردار میں یہ عادت نہیں بهولتا تو معآشرہ اسے ایک کامیاب پرسن کے نام سے بلاتا…

    مشہور حکایت هے.ایک آدمی نے سقراط سے پوچها.
    کامیابی کا اصل راز کیا هے.
    سقراط نے قریبی ندی میں اسے دهکا دے دیا.
    وہ بیچارہ ہاتهہ پاوں مارنے لگا آخر کار باہر نکل ہی گیا.
    اسنے سقراط سے پوچها .مجهے دهکا کیوں دیا.؟؟
    سقراط بولا جب تم پانی کے اندر تهے تمہیں سب سے زیادہ کس کی فکر تهی .کہنے لگا اپنی جان کی.
    سقراط کہنے لگا یہی کامیابی کا راز هے.جتنی ضرورت تمہیں کامیابی کی ہو گی اتنی ہی تم کوشش کرو گے .اور یہی کوشش کسی دن تمہیں کنارے پے لا کهڑا کر دے گی.

    اصل المیہ ہمارا یہ هے.ہم میں سے بہت لوگ اسلئیے اپنے آپ کو محنت میں نہی ڈالتے کیونکہ وہ اندیشوں میں جیتے ہیں.
    ایک بات ذہن نشین کر لیجئیے زندگی میں ہمیشہ آپکی محنت/رویہ.ہی آپکی رفعتوں کا فیصلہ کرتا هے.
    اور ہر لمحہ گویا لمحہ آغاز هے.you can do it.
    ابهی سے شروع کیجئیے اور بن جائیے خداداد صلاحیات کے مالک..

    تحریر از : جواد سعید

  • صحرا کا شیر…… از محمد ہارون

    صحرا کا شیر…… از محمد ہارون

    تخلیق ارض و سماء اور پھر تخلیق آدم علیہ السلام سے اب تک اس دنیا میں انسانوں کی آمد و رفت کا سلسلہ جاری ہے. بہت سے لوگ آئے اور گئے جن کا تاریخ میں کوئی ذکر نہیں اور بہت سے لوگ ایسے آئے جن کے کارناموں کو درج کر کے مؤرخین نے اپنی تحریر کو چار چاند لگائے، وہ کسی قوم کے لیے بہترین رہنما تو کسی قوم کے لیے بدترین دشمن تھے.

    آج میں جس شخصیت کا ذکر کرنے جا رہا ہوں ان کو دنیائے تاریخ میں اہم مقام حاصل ہے وہ ایک قوم کے بہترین رہنما، سپہ سالار اور ایک تاریخ ساز جنگجو تھے اور دوسری طرف وہ ایک دوسری قوم کے لیے بد ترین دشمن تھے جس نے ان کے ناک میں دم کر رکھا تھا.

    کسی کو کیا معلوم تھا کہ 20 اگست 1858ء کو پیدا ہونے والا یہ شخص ایک تاریخ رقم کر جائے گا. میری مراد لیبیا کی تحریک آزادی کے مشہور رہنما اور نڈر جنگجو عمر المختار ہیں.

    عمر المختار 1858ء میں لیبیا (جو کہ اس وقت خلافت عثمانیہ کے ماتحت تھا) کے ایک گاؤں جنزور میں پیدا ہوئے. کم عمری میں ہی ان کے والد انتقال کر گئے اور انہوں نے اپنا بچپن غریبی میں گزارا. ابتدائی تعلیم مسجد سے حاصل کی اور جلد ہی قرآن کی تعلیم کے ماہر ہو گئے اور اپنے علاقے میں امام کے نام سے پکارے جانے لگے.

    یہ اکتوبر 1911ء کی بات ہے جب ترکی اور اٹلی کے درمیان جنگ کے دوران اطالوی فوج کے بحری جہاز لیبیا کے ساحلوں پر آ پہنچے اور اطالوی بیڑے کے سربراہ فارافیلی نے خلافت عثمانیہ اور لیبیا کے لوگوں سے یہ مطالبہ کیا کہ وہ اس علاقے کو اٹلی کی تحویل میں دے دیں اور خود اس علاقے کی ملکیت سے دستبردار ہو جائیں ورنہ وہ لیبیا کے دو اہم شہروں تریپولی(طرابلس) اور بنغازي پر حملہ کر دیں گے.

    وہاں کے لوگوں نے اطالوی فوجوں کے مطالبے کو نظر انداز کرتے ہوئے اندرون ملک جا کر ان کے خلاف مزاحمت شروع کر دی جس کے بعد اطالوی فوجوں نے مذکورہ دونو‍ں شہروں پر بمباری شروع کر دی جو کہ تین دن تک جاری رہی "کہا جاتا ہے کہ یہ اطالوی فوجوں اور مزاحمتی جماعتوں کے مابین جنگ کی شروعات تھی.”

    عمر مختار جو کہ معلم قرآن ہونے کے ساتھ ساتھ لیبیا کے جغرافیہ سے بخوبی آگاہ تھے اور صحرا میں جنگ لڑنے کی حکمت عملیوں سے بھی خوب واقف تھے، انہوں نے گوریلا حملوں کی تکنیک کو اپناتے ہوئے اطالوی فوجوں پر حملے شروع کر دیے. وہ چھوٹی چھوٹی ٹکریوں میں بٹ کر حملہ کرتے اور فوجی چوکیوں، رسد گاہوں اور فوجی قافلوں کو نشانہ بناتے. اطالوی چونکہ بیرونی طاقت تھے اور وہاں کے جغرافیہ سے اتنی واقفیت نہیں رکھتے تھے لہذا ہر گوریلا حملے نے انہیں گہرے زخم پہنچائے.

    ابھی یہ جنگ جاری تھی کہ اٹلی میں موسولینی کی جماعت انقلاب کا نعرہ لگا کر برسر اقتدار آ گئی. موسولینی نے بھی آتے ہی عمر مختار کی فوج کو روکنے اور لیبیا پر اپنا تسلط جمانے کی کوشش شروع کر دی.

    عمر مختار کی تحریک کو کمزور کرنے کے لیے اطالوی فوج نے مردوں، عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کو قید کرنا شروع کر دیا ایک اندازے کے مطابق 1 لاکھ 25 ہزار لوگوں کو قید کیا گیا جس میں سے دو تہائی شہید ہو گئے. اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو قید کرنے کے باوجود عمر مختار کی یہ تحریک آزادی کمزور نہ پڑی اور اطالوی فوج کی ساری چالیں دھری کی دھری رہ گئیں.

    عمر مختار کی بیس سالہ جدوجہد اس وقت اختتام کو پہنچی جب وہ ایک حملے میں زخمی ہو کر اطالوی فوج کے ہاتھوں گرفتار ہو گئے. قید کے دوران ان پر خوب تشدد کیا گیا. ان پر تشدد کرنے والے فوجیوں نے بعد ازاں بتایا کہ جب ان پر تشدد کیا جاتا اور ان سے تفتیش کی جاتی تو وہ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر قرآن مجید کی آیتیں پڑھتے.

    ان پر اٹلی کی قائم کردہ ایک فوجی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا اور ان کو پھانسی کی سزا سنائی گئی.دانشور آج بھی ان پر چلائے جانے والے مقدمے اور عدالتی غیر جانبداری کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں.ان سے جب آخری خواہش پوچھی گئی تو انہوں نے ” انا للہ و انا الیہ راجعون” پڑھا.انہیں 16 ستمبر 1931ء کر سر عام پھانسی دی گئی کیونکہ عدالت کا حکم تھا کہ انہیں ان کے پیروکاروں کے سامنے سر عام پھانسی دی جائے.

    "جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا، وہ شان سلامت رہتی ہے””یہ جان تو آنی جانی ہے، اس جاں کی تو کوئی بات نہیں”

    معلوماتی ویب سائٹ وکی پیڈیا کے مطابق:آج کل ان کی شکل لیبیا کے 10 دینار کے نوٹ پر چھپی ہوئی ہے جبکہ دنیا کی سب سے بڑی فلمی صنعت ہالی ووڈ نے 1981ء میں ان کی زندگی پر ایک فلم”The Lion of Desert” یعنی "صحرا کا شیر” بنائی۔ اس فلم کے ڈائریکٹر مصطفٰی العقاد تھے۔ فلم میں عمر مختار کا کردار انتھونی کوئن نے ادا کیا۔

    یہ ہے وہ کہانی جو کہ وکی پیڈیا اور اس جیسی دیگر معلوماتی ویب سائٹس کی فراہم کردہ معلومات پر مشتمل ہے. اب ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ عمر مختار جیسے مجاہد کی زندگی سے ہمیں کیا درس ملتا ہے؟ اگر ہم عمر مختار کی زندگی کا بغور مطالعہ کریں تو ان کی زندگی ہمیں بہادری، شجاعت، مسلسل جدوجہد اور ہمت و حوصلے کا درس دیتی ہے.

    حالات چاہے جیسے بھی ہوں، دشمن چاہے کتنا بھی طاقتور کیوں نہ ہو لیکن ہر حال میں اللہ پر توکل، وطن عزیز کی حفاظت، اپنی قوم کی آزادی کا جذبہ اور فہم و فراست، یہ تمام چیزیں وہ ہیں جو ایک سادہ لوح انسان کو بھی شیر جیسا طاقتور بنا دیتی ہیں پھر وہ اللہ پر توکل کر کے اپنی قوت ایمانی کو بروئے کار لا کر اپنے فہم سے منصوبہ بندی کر کے دشمن سے ٹکرا جاتا ہے اور اسے نیست و نابود کر دیتا ہے.

    ایسے ہی لوگوں کو تاریخ یاد رکھتی ہے اور ایسے ہی لوگ دیگر قوموں کے لیے مثالیں چھوڑ جاتے ہیں پھر 63 سال بعد 1994ء میں پیدا ہونے والے برہان وانی بھی ایسے ہی لوگوں کی زندگی کو مشعلِ راہ بنا کر دشمن سے ٹکراتے ہیں اور 2016ء میں جامِ شہادت نوش کر جاتے ہیں.

    آج بھی کشمیر کے لوگ اپنی آزادی کے لیے جدوجہد کرتے ہوئے اس راہ میں آنے والی تمام مصیبتوں کا سامنا بڑی دلیری سے کر رہے ہیں اب وہ وقت دور نہیں جب مظلوموں کی آہ سنی جائے گی، جب آسمان سے کشمیریوں کے حق میں فیصلے اتریں گے، جب ظالم سے اس کے ہر ظلم کا حساب لیا جائے گا، جب کشمیر کے لوگ کھلی ہوا میں سانس لے سکیں گے، جب آنے والی نسلوں کے بچے اپنے خوبصورت بچپن کو اپنے دوستوں کے ساتھ بنا کسی ڈر کے گزار سکیں گے،

    جب بیٹے کے باہر جانے پر ماں کو یہ ڈر نہیں ہو گا کہ پتہ نہیں میرا بیٹا زندہ واپس لوٹ کر آئے گا یا نہیں یا کسی جرم میں قید تو نہیں کر لیا جائے گا، اب وہ وقت دور نہیں جب کشمیر کی ہر مسجد سے اللہ اکبر کی صدائیں بلند ہوں گی، جب کشمیر میں سکون ہو گا، جب کشمیر تعلیم و ترقی کے میدان میں اپنا سفر شروع کرے گا اور اب وہ وقت دور نہیں جب ہندؤں کا ظلم ان کو لے بیٹھے گا اور وہ تاریخ کا صرف ایک سیاہ باب بن کر رہ جائیں گے.

    اے خاک نشینو اٹھ بیٹھو، وہ وقت قریب آ پہنچا ہے
    جب تخت گرائے جائیں گے، جب تاج اچھالے جائیں گے

    اب ٹوٹ گریں گی زنجیریں، اب زندانوں کی خیر نہیں
    جو دریا جھوم کے اٹھے ہیں تنکوں سے نہ ٹالے جائیں گے
    (فیض احمد فیض)

    تحریر : محمد ہارون

  • چاۓ کی طلب اور گیس شٹ ڈاون………. از حفیظ اللہ سعید

    چاۓ کی طلب اور گیس شٹ ڈاون………. از حفیظ اللہ سعید

    آج حسب معمول دوکان پہ تھا ناشتے کے وقت سے پہلے گھر سے پیغام آیا ناشتہ منگوا دیں۔وجہ پوچھنے پہ جواب ملا کہ گیس نہیں آ رہی اس لیے آج آپ ہوٹل والوں کے مہمان ہیں۔

    "سر تسلیم خم ہے جو مزاج یار میں آئے”
    کے مصداق لڑکے کو ہوٹل کی طرف بغرض خرید ناشتہ روانہ کیا۔ مزیدار چنے اور تندوری چپاتی سے پیٹ پھاڑ ناشتہ کیا۔ڈٹ کر ناشتہ تو کر لیا لیکن وہ کیا کہتے ہیں ( روح اقبال سے معذرت کے ساتھ )

    "ناشتہ تو کر لیا پل میں بھر میں بھوکے پیٹ والوں نے
    من اپنا پرانا پاپی ہے چاۓ کے بنا یوں رہ نہ سکا”

    گھر والوں نے کہا کہ چاۓ گیس آنے پہ ہی مہیا کی جاۓ گی۔انتظار فرمائیے آپ کا مطلوبہ چاۓ کا کپ بوجہ گیس شٹ ڈاون دستیاب نہیں۔ مرتا کیا نہ کرتا صبر کے گھونٹ پی کے چپ کر گیا۔ جمعہ کا دن ہونے کی وجہ سے جلدی دوکان بند کی اور تیاری کرکے جمعہ پڑھنے مسجد کو پدھارے مابدولت لیکن طبعیت میں اک عجیب سی سستی چھائی ہوئی تھی۔خطبہ جمعہ نے سستی کو دو آتشہ کر دیا اور ذہن ایسے ماؤف ہو گیا جیسے بی پی لو ہو۔ واپس گھر آ کے محترمہ گیس کی دستیابی کا پوچھا لیکن جواب نفی میں ملا تو بنا کچھ کھائے پئے بستر سنبھالنا مناسب سمجھا۔ تھوڑی دیر بعد پیارے بھائی حامد کی کال آئی جس میں انہوں نے بعد از عصر کھانے کی دعوت دی جس کو ناساز طبع کے بنا قبول نہ کرتے ہوۓ معذرت کی.

    شام میں اٹھا تو جان افزا خبر موصول ہوئی کہ بی گیس آ چکی ہے اور چاۓ پی لیں۔فنٹاسٹک ٹی کا ایک کپ معدے کی نظر کیا تو ابھینندن کی طرح آنکھیں روشن اور دنیاوی حقائق واضح ہو گئے۔ چاۓ کا کپ پینے کے بعد عقدہ کھلا کہ بی پی لو کا معاملہ نہیں تھا بلکہ چاۓ کی طلب نے دیوانہ بنا رکھا تھا۔ اس سارے معاملے میں بنیادی کردار گیس شٹ ڈاون تھا جس کی وجہ سے چاۓ نہ پی سکا اور ہیرونچیوں جیسی کیفیت ہوگئی۔ آج اندازہ ہوا کہ نشے کی طلب کتنی شدید اور جان لیوا ہوتی ہے۔

    محکمہ گیس کے لئیے شعر عرض کیا ہے ( افتخار عارف سے معذرت کے ساتھ )

    چاۓ کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے
    گیس والوں کو وہ گالیاں دیں ہیں جن سے واقف بھی نہیں تھے

    از حفیظ اللہ سعید

  • مدنی صاحبان آر ایس ایس کے معترف کیوں ؟ تحریر بھارتی صحافی ادتیہ مینن

    مدنی صاحبان آر ایس ایس کے معترف کیوں ؟ تحریر بھارتی صحافی ادتیہ مینن

    (ادتیہ مینن انڈیا سے تعلق رکھنے والے نوجوان محقق اور صحافی ہیں۔ بھارتی سیاست پر ان کے تجزیات اور ڈیٹا کی بنیاد پر تجزیاتی رپورٹس معروف ویب سائٹ the quintپر شایع ہوتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں جمعیت علمائے ہند قائدین کے آر ایس ایس سے رابطوں اور مودی سرکار سے متعلق ان کے بیانات پر ادتیہ مینن کا ایک مضمون شایع ہوا، باغی ٹی وی کی ٹیم the quint کی مشکور ہے کہ انہوں نے یہ آرٹیکل شائع کیا )
    مولانا ارشد مدنی اور مولانا محمود مدنی کی زیر قیادت جمعیت علمائے ہند کے دونوں دھڑوں کی جانب سے حال ہی میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) اور مودی سرکار سے متعلق مصالحانہ بیانات سامنے آئے ۔
    مولانا ارشد مدنی نے حال ہی میں آر ایس ایس کے سرسنگھ چالک(سربراہ) موہن بھاگوت سے ملاقات کی اور انھیں سراہا۔ ’’دی کوئنٹ‘‘ سے اس ملاقات کے بعد ہونے والی گفتگو کے چند اقتباسات حسب ذیل ہیں:
    ۔۔۔ ’’بھاگوت جی کی تنظیم (آر ایس ایس) انتہائی منظم ہے۔ میری رائے میں بھارت میں کوئی اور اس جیسا نہیں۔‘‘
    ۔۔۔’’آرایس ایس اپنے ہندو راشٹر کے تصور سے پیچھے ہٹ سکتی ہے‘‘
    ۔۔۔۔ ’’اگر آر ایس ایس ہم سے نرمی برتتی ہے تو ہم ایسا کیوں نہ کریں۔‘‘
    مولانا محمود مدنی نے بھی آر ایس ایس کے حق میں کئی بیانات دیے اور کشمیر اور نشینل رجسٹر آف سٹیزن شپ(این آر سی) جیسے امور پر مودی سرکار کی حمایت کی۔ ان کے چند بیانات ملاحظہ کیجیے:
    ۔۔۔’’میرا خیال ہے کہ حالیہ دنوں میں آر ایس ایس نے نرم روی یا آزاد خیالی کا مظاہرہ کیا ہے۔ یہ ایک سنہرا موقع ہے میل جول کی حوصلہ ا فزائی ہونی چاہیے۔‘‘
    ۔۔۔۔’’این آر سی کی جانچ پڑتال پورے بھارت میں ہونی چاہیے تاکہ معلوم ہوجائے کہ یہاں کتنے گھس پیٹھیے ہیں‘‘
    ۔۔۔ کشمیر ہمارا ہے اور ہمارا ہی رہے گا۔ ہم ہندوستان کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘‘
    ان دونوں علما کے بیانات کو مختلف انداز میں دیکھا جاسکتا ہے۔ بعض کے خیال میں یہ بیانات مدنی صاحبان کے مابین جمیعت کی قیادت کے لیے جاری کھینچ تان کا نتیجہ ہے اور اب ان میں سرکاری سرپرستی حاصل کرنے کی دوڑ شروع ہوچکی ہے۔ دونوں ہی کاتعلق جمیعت کے بانی محمود الحسن اور اس کے سابق صدر حسین احمد مدنی کے خاندان سے ہے۔
    سینٹر فور دی اسٹڈی آف ڈیولپنگ سوسائٹیز(سی ایس ڈی ایس) کے ہلال احمد کا کہنا ہے کہ جمیعت مسلمانوں کی نمائندگی نہیں کرتی اور وہ اس پر کشمیر اور این آر سی کو فرقہ ورانہ رنگ دینے کا الزام بھی عائد کرتے ہیں۔
    مسلمانوں کے خلاف نفرت کی بنیاد پر ہونے والے جرائم(ہیٹ کرائمز) کو دستاویزی شکل دینے والے محمد آصف خان کے مطابق مدنی صاحبان ہندوتوا کے بیانیے کو آگے بڑھا رہے ہیں۔
    تاہم مدنی صاحبان کے اس اقدام کو بڑے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے اور بالخصوص یہ دو پہلو بہت اہم ہیں۔ پہلے اسے جمیعت کی نظر سے دیکھنا چاہیے اور دوسرا اسے بھارت میں مسلمانوں کو درپیشن بڑے چیلنجز کے سیاق و سباق میں دیکھا جاسکتا ہے۔
    جمیعت کا مؤقف کیا ہے:
    جمیعت علمائے ہند اتر پردیش کے علاقے دیوبند میں قائم دارالعلوم کے علما کی نمائندہ تنظیم ہے۔ اگرچہ دیوبندی ہندوستانی مسلمانوں میں اقلیت میں ہیں، اور بعض اندازوں کے مطابق ہندوستانی مسلمانوں کی کل آبادی میں سے تقریبا پندرہ سے بیس فی صد اپنی شناخت بطور دیوبندی کرواتے ہیں، لیکن بریلویوں کے مقابلے میں ان میں زیادہ مرکزیت پائی جاتی ہے۔
    اپنی اسی مرکزیت کی وجہ سے جمیعت بھارت میں مساجد کے سب سے بڑے نیٹ ورک پر کنٹرول رکھتی ہے۔ تاریخ طور پر مسلمانوں کی دیگر تنظیموں کے مقابلے میں جمیعت سیاسی جماعتوں اور حکومت میں زیادہ رسوخ رکھتی ہے۔
    متحدہ قومیت:
    جمیعت کی سیاسی فکر کی بنیاد متحدہ قومیت کے تصور پر ہے جو مولانا حسین احمد مدنی نے ۱۹۳۸میں اپنی کتاب ’’متحدہ قومیت اور اسلام‘‘ میں پیش کیا تھا۔
    متحدہ قومیت کا تصور اس عقیدے کی مخالفت میں پیش کیا گیا تھا جس کے مطابق ہندو اور مسلمانوں کو دو الگ قومیتیں قرار دیا جاتا تھا اور مسلم لیگ کے محمد علی جناح جس پر یقین رکھتے تھے۔
    متحدہ قومیت کے مطابق مختلف مذاہب کو مختلف اقوام کے طور پر نہیں دیکھا جاسکتا۔ اس کے بجائے قومیت کا تعلق زمینی حدود سے ہے جس میں مسلم و غیر مسلم ایک قوم کا حصہ ہوسکتے ہیں۔ مسلم اور غیر مسلم کے مابین رنگ، نسل زبان یا ثقافت جیسے مشترکات ہوسکتے ہیں۔
    مدینہ کی مثال:
    حسین احمد مدنی نے مشترکہ قومیت کی سند کے طور پر پیغمبر کے دور کے مدینہ کی نظیر پیش کی۔ ان کے مطابق ، میثاق مدینہ کے تحت یہود اور مسلمان قومیت کا یکساں احساس رکھتے تھے۔
    میثاق مدینہ کی طرح ، جمیعت نے آزادی کے بعد یہ خیال پیش کیا کہ اب ہندوستان کے مسلمانوں اور غیر مسلموں کے مابین ہندوستان کو ایک سیکیولر ریاست بنانے کا معاہدہ طے پاچکا ہے۔ بھارت کا آئین اس معاہدے کی نمائندگی کرتا ہے اور اس معاہدے میں شامل ہونے کی وجہ سے ہر مسلمان پر آئین کی پاسداری لازم ہے۔
    جمیعت یقین رکھتی تھی کہ مسلمانوں کو عبادات اور عائلی و مخصوص قوانین کی پیروی کے لیے مسلم لیگ کے پاکستان کے بجائے کانگریس کے بھارت میں زیادہ سازگار ماحول میسر آئے گا۔ جمیعت کے قائدین مسلم لیگ کی قیادت کو بے عمل مسلمان سمجھتے تھے اور انھیں مسلم قوانین سے متعلق کانگریس سے وسعت ِقلبی کی توقع تھی۔
    جمیعت کے متحدہ قومیت کے تصور پر مسلمانوں کا مکمل اتفاق رائے نہیں ہوسکا۔ دیوبند کے علما میں مولانا اشرف علی تھانوی اور مولانا شبیر احمد عثمانی نے اس تصور اور اس کی مدینہ سے تطبیق پر اعتراض کیا اور اسے نصوص کے خلاف قرار دیا۔ بعدازاں شبیر احمد عثمانی نے علیحدہ ہوکر جمیعت علمائے اسلام قائم کرلی اور قیام پاکستان کی حمایت کی۔ حسین احمد مدنی کے متحدہ قومیت کے تصور پر علامہ اقبال اور بانی جماعت اسلامی سید مودودی جیسی شخصیات نے بھی تنقید کی۔
    مدنی صاحبان کا ’’عملی‘‘ نقطہ نظر :
    مولانا ارشد مدنی اور مولانا محمود مدنی کے آر ایس ایس کے ساتھ رابطے ایک اعتبار سے حسین احمد مدنی کے پیش کردہ متحدہ قومیت کے تصور ہی کا پھیلاؤ ہے۔ انہوں نے اس تصور کی خلاف ورزی بھی کی ہے جس پر آگے چل کر بحث کی جائے گی۔
    دونوں صاحبان یہ نتیجہ اخذ کرنےمیں حق بجانب ہیں کہ جب مولانا حسین احمد مدنی نے متحدہ قومیت کا تصور پیش کیا تو اس وقت کانگریس ہندووں کی نمائندہ تھی ، اور آج یہ نمائندگی بی جے پی کے پاس ہے۔ اس لیے ان کے تصور جہاں بینی کے مطابق ہندووں سے کسی بھی قسم کے مکالمے کے لیے وزیر اعظم مودی اور سربراہ آرایس ایس موہن بھاگوت سے بات کرنا ہوگی۔
    لوک سبھا کے انتخابات میں کام یابی کے بعد مودی کے نام محمود مدنی کے ستایشی خط اور ارشد مدنی کی موہن بھاگوت سے ملاقات کو اسی سیاق و سباق میں دیکھنا چاہیے۔ جمیعت کے نزدیک کانگریس اور سماج وادی پارٹی جیسی سیکیولر جماعتوں کے ذریعے ہندووں سے بات کرنا بے سود ہوچکا ہے اور اس کے لیے بی جے پی اور آر ایس ایس ہی موثر ثابت ہوسکتی ہیں۔ یہ بلا شبہہ ایک معروضی حقیقت ہے اور اس کا ادراک کرنے پر مدنی صاحبان کو مورد الزام نہیں ٹھیرایا جاسکتا۔
    ….گومگو کا شکارمسلمان:
    مدنی صاحبان کا بی جے پی اور آر ایس ایس کی جانب جھکاؤ دراصل مسلمانوں کی اس گومگو کی کیفیت کا نتجہ ہے جس کی بنیاد یہ سوال ہے کہ ہندووں کی اکثریتی مطلق العنانیت میں اپنی بقا کیسے ممکن بنائی جائے۔
    سادہ انداز میں کہا جائے تو آزادی کے بعد ہی سے بھارتی مسلمان سمجھتے تھے کہ ’’سیکیولر ہندو‘‘ کے ذریعے ہی ’’فرقہ پرست ہندو‘‘ کو روکا جاسکتا ہے۔ سیاسی میدان میں اس رائے کا اظہار اس طرح ہوا کہ مسلمانوں نے کانگریس، جنتا دَل اور اس سے ٹوٹنے والی بی ایس پی ، دائین بازو کی جماعتوں جیسی سیکیولر فکررکھنے والی سیاسی پارٹیوں کو ’’مسلمان‘‘ جماعتوں پر ترجیح دی۔
    ہندو ووٹرکی اکثریت مودی کے پیچھے چل پڑی اور بی جے پی نے ان سیکیولر جماعتوں کو پچھاڑ دیا۔ اب مسلمان اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کررہے ہیں۔
    مسلمانوں میں کئی حلقوں کا خیال ہے کہ بند گلی سے نکلنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ بی جے پی اور آر ایس ایس سے روابط بنائے جائیں۔
    مدنی صاحبان اس فکر میں تنہا نہیں۔ مسلم اشرافیہ میں سابق مرکزی وزیر عارف محمود خان، کاروباری شخصیت ظفر سریشوالا، اور ماہر تعلیم فیروز بخت احمد اور ان جیسے دوسرے مسلسل کہتے آ رہے ہیں کہ مسلمان اب بی جے پی کو اچھوت سمجھنا چھوڑ دیں۔ بی جے پی بھی خان کو گورنر اور فیروز احمد اور سریشوالا کو مولانا آزاد نیشنل یونیورسٹی کاچانسلر بنا کر واضح اشارہ دے چکی ہے کہ اسے کیسے مسلمان درکار ہیں۔
    عام خیال یہی ہے کہ (بی جے پی کی )حمایت ایشوز کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔
    ماہرقانون اور نیشنل اکیڈمی آف لیگل اسٹڈیز اینڈ ریسرچ(نالسر) کے وائس چانسلر فیضان مصطفی نے اپنے ایک حالیہ مضمون میں لکھا کہ ریزرویشن پر آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کے خیالات سبھی کو سننے چاہییں۔
    آرٹیکل ۳۷۰کے خاتمے کا وسیع پیمانے پر متعدد مسلمانوں نے خیر مقدم کیا،کہنہ مشق صحافی شاہد صدیقی سے لے کر سوشل میڈیا پر حلقہ اثر رکھنے والے تحسین پوناوالا اور زینب سکندر بھی حکومتی اقدامات کو سراہنے والوں میں شامل ہیں۔ مدنیوں کی طرح یہ حلقے بھارت کے موجودہ حقائق(جس سے مراد بی جے پی اور آر ایس ایس کی بالا دستی ہے) کو عملیت کی نظر سے دیکھنے کے قائل ہیں۔
    تاہم یہ مکمل طور پر عملی نکتہ نظر نہیں۔
    مدنی صاحبان سے کہاں چوک ہوئی:
    باوجو یہ کہ مدنی صاحبان اور مسلم اشرافیہ کے چند لوگ بی جے پی اور آر ایس ایس کو ’’مائل‘‘ کرنے اور مخصوص معاملات میں ان کی حمایت کرنے کی ڈگر پر ہیں ، ان میں سے مؤخر الذکر نے مسلمانوں کے تحفظات دور کرنے کے لیے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا ہے۔
    مدنی صاحبان متحدہ قومیت کے تصور سے اس لیے منحرف ہوتے نظر آتے ہیں کہ انھوں نے یہ حقیقت فراموش کردی ہے کہ سیکیولر ریاست کے قیام کا معاہدہ دو طرفہ تھا اور صرف مسلمان ہی اس کے پابندنہیں تھے۔
    بی جے پی اور ہندوتوا نے باضابطہ طور پر بھارت کو ہندو راشٹر قرار نہیں دیا تاہم ان کے متعدد فیصلوں سے بھارتی ریاست کی سیکیولر حیثیت کمزورپڑ رہی ہے اور یہ فیصلے بھارت کے اپنی اقلیتوں سے کیے گئے عہد کے بھی خلاف ہیں۔ مثال کے طور پر:
    ۔۔ مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم میں گزشتہ چند برسوں میں اضافہ ہوا اور بی جے پی کی جانب سے انھیں روکنے کے لیے کوئی قابل ذکر کوشش نہیں کی۔ اس کے برعکس بی جے پی کے لیڈروں نے جھاڑ کھنڈ میں علیم الدین انصاری کے ہجومی قتل میں ملوث افراد کو پھولوں کے ہار پہنائے اور مغربی اتر پردیش میں محمد اخلاق کے قاتلوں کی عزت افزائی کی۔
    ۔۔شہریت کے قوانین میں ترمیم کے لیے متعارف کردہ بل میں پاکستان، بنگلا دیش اور افغانستان جیسے مسلم اکثریتی ملکوں کے غیر مسلم تارکین وطن کو شہریت دینے کی تجویز دی گئی ہے۔ یہ ایک امتیازی قانون ہے جس میں مسلمانوں کو بھارتی شہریت کے حق سے محروم رکھا گیا ہے۔
    ۔۔۔ گئو رکھشا پر بی جے پی اور آر ایس ایس کا بڑھتا ہوا اصرار نہ صرف ہندو عقائد کی بالادستی کے لیے کیا جارہا ہے بلکہ یہ دیگر لوگوں کے کھانے پینے کے انتخاب کی آزادی پر بھی قدغن ہے۔ گئو رکھشا اب اس حد تک پہنچ چکی ہے جہاں ہندووں کی خواہشات پر قانون کی حکمرانی کو قربان کردیا جاتا ہے۔
    ۔۔۔ عدالت کی جانب سے منسوخی کے باوجود مسلمانوں میں رائج ایک مجلس کی تین طلاق کو جرم قرار دیا گیا۔
    ۔۔۔ بی جے پی نے انتخابات ممیں اُس پرگیا ٹھاکر کو ٹکٹ دیا جس پر میلاگاؤں دھماکوں میں ملوث ہونے کا الزام ہے، اس واقعے میں متعدد مسلمان جان سے گئے تھے۔ پرگیا ٹھاکر مہاتما گاندھی کے قاتل ،نتھورام گوڈسے کی تعریف و تحسین بھی کرچکی ہیں۔
    ۔۔۔ آرٹیکل ۳۷۰کی تنسیخ سے یہ بات واضح ہوگئی کہ بی جے پی اور آر ایس ایس اپنے نظریاتی اہداف کے لیے آئین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔ آئین ریاست ہند کے جمیعت کے ساتھ عہد کا مظہر ہے ، اس میں دخل اندازی پر تشویش ہونی چاہیے تھی۔
    ان مثالوں سے یہ تو واضح ہے کہ بی جے پی اور آر ایس ایس سیکیولرزم کے تحفظ کے لیے فکر مند نہیں۔ ابھی تو ہم نے بی جے پی کے قائدین کے ان بیانات پر بات شروع بھی نہیں کہیں جن میں وہ مسلمانوں کو نشانہ بنانے پر اکساتے اور ملک کو ہندو راشٹربنانے کے دعوے کرتے ہیں۔ اس کے بعد یکساں شہری قوانین اگلا قدم ہوسکتے ہیں، جو نجی زندگی سے متعلق ضابطوں کی آزادی، جمیعت کے نزدیک جس کی بہت قدر ہے، کے برخلاف ہوں گے۔
    آر ایس ایس کو خوش کرنے اور ہندوستان میں اکثریت کی مطلق العنانیت کی راہ ہموار کرنے کے بجائے جمیعت اور مسلم اشرافیہ کو سیکیولرزم اور متحدہ قومیت کے تحفظ کے لیے حکومت کو جوابدہ بنانا چاہیے۔
    (ترجمہ رانامحمدآصف)