Baaghi TV

Category: بلاگ

  • وکلا نے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کو میدان جنگ بنا دیا، ڈاکٹرز اور مریضوں کی جان خطرے میں

    وکلا نے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کو میدان جنگ بنا دیا، ڈاکٹرز اور مریضوں کی جان خطرے میں

    وکلا نے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کو میدان جنگ بنا دیا، ڈاکٹرز اور مریضوں کی جان خطرے میں

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کو وکلا نے میدان جنگ بنا دیا.، ہسپتال میں شدید توڑ پھوڑ کرتےہوئے ہسپتال کے اندر اور باہر املاک کونقصان پہنچایا.وکلا نے پی آئی سی لاہور میں کھڑی گاڑیوں کے10 سے زائد شیشے توڑ دیئے.پی آئی سی ایمرجنسی وارڈکے شیشےتوڑدیئے .جنرل سیکریٹری وائی ڈی اے پنجاب ڈاکٹر سلمان حبیب کے مطابق وکلا وارڈ کے اندر داخل ہوگئے اور شدید توڑ پھوڑ کی.اور آئی سی یو میں داخل ہوگئے.وکلا ابھی بھی پی آئی سی لاہور میں موجود ہیں.اس صورتحال میں اسپتال کا عملہ کیسے کام کرسکتا ہے، جبکہ بہت سیریس مریض آئی سی یو میں موجود ہیں.انہوں نے کہا کہ پی آئی سی لاہورکےڈاکٹروں کی جان کوخطرہ ہے.4سے زائد ڈاکٹروں کے سر پھاڑ دیئے گئے ہیں.
    وائس چیئرمین پاکستان بارکونسل نے کہا کہ پی آئی سی لاہور میں ہنگامہ آرائی افسوس ناک واقعہ ہے..وائس چیئرمین پاکستان بارکونسل امجد شاہ کی انوکھی منطق پیش کرتے ہوئے کہا کہ وکلا کو اشتعال دلایا گیا.واقعےمیں ملوث افراد کےخلاف کارروائی ہوگی.مقامی قیادت کے ساتھ رابطے میں ہوں.مقامی قیادت صورتحال کنٹرول کرنےکیلئےکارروائی .کرےگی.صورتحال جلد قابو میں آجائےگی،امیدہےواقعےمیں ملوث ڈاکٹروں کےخلاف بھی کارروائی ہوگی.نگامہ آرائی میں نقصان پر افسوس ہی کیا جاسکتا ہے،پی آئی سی لاہور میں ہنگامہ آرائی افسوس ناک ہے

  • ابو الکلام آزاد و حسین احمد مدنی کا بہکاوہ اور ہندوستانی مسلمان، تحریر عبدالکبیر ندوی

    ابو الکلام آزاد و حسین احمد مدنی کا بہکاوہ اور ہندوستانی مسلمان، تحریر عبدالکبیر ندوی

    ابو الکلام آزاد و حسین احمد مدنی کا بہکاو ہ اور ہندوستانی مسلمان
    تحریر :عبدالکبیر ندوی

    ابو الکلام آزاد اور حسین احمد مدنی کے بہکاوے میں آکر ہند کے مسلمانوں نے بہت گھاٹے کا سودا کیا تھا،
    جناح دور اندیش تھا لیکن مذہبی ٹھیکیداروں نے مسلمانوں کو آسانی سے بیوقوف بنایا اور اپنے چند عہدوں کی خوش فہمی میں کروڑوں مسلمانوں کا مستقبل داؤ پر لگا دیا۔۔۔

    ہم حالات سے گھبراتے نہیں ہیں، اور مایوسی کو کفر سمجھتے ہیں، لیکن حالات کا تجزیہ اور اسباب کا ادراک اور اُسکے ذمےداروں کو آئنہ دیکھانا یہ سب ضروری ہے، تقسیم کے 70 نہیں اگر 700 سال بھی ہونگے تو الزام اُنہی پر جائےگا، کیونکہ مسلمانوں کے مستقبل کا فیصلہ وہیں سے ہوا تھا، یہ حقیقت ہے کہ مسلمان کبھی بھی مشرک کے ساتھ گزارا نہیں کر سکتا، پھر مشرکوں کے ماتحت آخر کیونکر سکون کی زندگی بسر کر سکتا تھا، اور تقسیم کے وقت ہندوستان میں رہنے کا فیصلہ کرنے والوں نے مشرکوں کے ساتھ ہی نہیں بلکہ مشرکوں کی ماتحتی میں گزارا کرنے کی ٹھانی تھی،
    پھر وہاں کوئی اسلامی مصلحت انکے پیشِ نظر نہیں تھی بلکہ ملک کی بنیاد پر قومی نظریہ، ہندو مسلم بھائیچارا، گنگا جمنا تہذیب جیسے بےبنیاد اور باطل تصورات تھے، کیونکہ انکو چند عہدے اور تھوڑی سی پاور کا گمان تھا جو اس وقت انکو حاصل تھی، جسے شاید وہ لازوال گمان کر رہے تھے،

    پہلے مسلمان ہندوستان میں سرکاری عہدوں میں 37 فیصد کے قریب تھا آج 5 فیصد بھی نہیں ہے، کاروبار کا کوئی ایک شعبہ بھی مسلمانوں کے پاس مخصوص نہیں ہے، گوشت کا کچھ کام تھا جو اب وہ بھی چھین لیا گیا ہے، اور بڑی بڑی فیکٹریاں ہندوؤں کے ہاتھوں میں ہی ہیں، لکڑی کے کاروبار میں نچلا کام مسلمانوں کے پاس تھا جو اب نہیں رہا، گجرات کے علاقوں میں کپڑے کا کام تھا جو ختم سا ہو چکا ہے، اور انکی اجارادری ہندو سیٹھوں کے پاس ہے، مسلمان مزدور رہ گیا ہے، اور ایسا بہت سارا ڈیٹا آپکو نیٹ پر مل جائےگا اپنی کئی تقریر میں اسد الدین اویسی نے اسکو بیان بھی کیا ہے، باقی آپ سچر کمیٹی کی آفیشیل رپورٹ دیکھ سکتے ہیں، اس سب کے علاوہ مسلمانوں کو گائے کے نام پر جان سے مار دینا، آتانکواد کے جھوٹے الزام میں جیلوں میں بھر دینا، مذہب کے نام پر منظم دنگے کرکے ہزاروں مسلمانوں کو مارنا اور لاکھوں کو لوٹ مار کر بےگھر کر دینا سورج کی طرح عیاں ہے، داڑھی کی وجہ سے کالج سے نکال دینا، پردہ کی وجہ سے ماں بہنوں کی توہین کرنا آئے دن کی خبر ہے، اسکے علاوہ مختلف طرح سے مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بنانا کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے،
    ہندوستان میں مسلمانوں نے کوئی اپنی سیاسی طاقت کھڑی نہیں کی کیونکہ مسلمانوں کی سیاسی نکیل یہاں جمیعت کے ہاتھوں میں تھی اور جمیعت نے کانگریس پر اُسکی اوقات سے زیادہ بھروسہ کیا اور مسلمانوں کو اُسکا خریدا ہوا غلام بنا دیا کہ اُسکے سوا کوئی راستہ نہیں، اور اگر کوئی چھوٹی موٹی تنظیم اٹھی تو وہ جمیعت کی سیاست کا شکار ہو گئی، جس میں ڈاکٹر ایوبی، مولانا عامر رشادی سے لیکر اسد اویسی جیسے کتنے ہی نام ہیں جن میں کچھ کو ناپید کر دیا گیا کچھ کی مخالفت جاری ہے، اور مذہبی نکیل دار العلوم دیوبند کے ہاتھوں میں رہی جس نے ہند میں مذہبی اعتبار سے نمایاں کردار تو ادا کیا لیکن یہاں بھی بریلویوں کو مشرک، اہل حدیث کو گمراہ، جماعت اسلامی کو گستاخ ثابت کرنے میں سارا زور دیا گیا، مغربی تہذیب اور دنیاوی علوم پر کوئی فتویٰ نہیں لگایا گیا بلکہ اسکو دجال سمجھ کر اُسکے فتنے سے پناہ مانگی گئی، اور لوگوں کو اس سے بعض رہنے کی تلقین کی گئی،
    اب اگر ڈٹین سینٹرز میں رکھا جاتا ہے تو اسکا ذمےدار کون ہوگا ؟
    اقتدار پر بیٹھی ہندو طاقت جو کچھ کر رہی ہے قانون کی روشنی میں کر رہی ہے، ہندوستان جمہوری ملک ہے یہاں کا نظام وہی جمہوری نظام ہے جس پر ہمارے اجداد نے بھروسہ جتلایا تھا، بی جے پی جو بھی قانون پاس کر رہی ہے جمہوری طریقے پر کر رہی ہے، پارلیمنٹ میں انکی جمہوریت ہے جسکی بنیاد پر تین طلاق کا بل پاس ہوا اور اب یہ بھی ہو جائےگا، کیونکہ وہ اپنے حق میں جمہوریت کو ثابت کر دیتی ہے، آپ کتنا بھی چیخیۓ چلائیے قانون کا حوالہ دیجیئے، ملک کا نظام جمہوری ہے، جمہوریت ثابت ہوتی ہے تو قانون کی کوئی بھی شق بدلی جا سکتی ہے یہ خود قانون کا حصہ ہے، اسلئے حالات کے اسباب کا تدارک کرنا ضروری ہے کہ ہمارے آباء و اجداد نے جس جمہوریت کو سمجھنے میں غلطی کی تھی اب اُسکا اصلی روپ سامنے آ گیا ہے، لہٰذا اب قانون، ملک، سیکولرزم اور ڈیموکریسی کا حوالہ دینا چھوڑیئے، اپنے اسلاف کی غلطی سے مجموعی توبہ کیجیئے، خدا کے دربار میں حاضر ہوکر باطل نظام سے برات کا اظہار کیجیئے، اور اسلامی اخوت کی بنیاد پر، ظلم کی عدم برداشت کی بنیاد پر، انسانیت کی بنیاد پر انقلاب کی آواز بلند کیجیئے، آپ اس سیکولرزم کو بچانے، ملک کو بچانے کا نعرہ دیکر چند ہندوؤں اور ملحدوں اور اسکالرز کو اپنے ساتھ ضرور لے سکتے ہو لیکن یقین جانیے آپ وہی غلطی دہرائینگے جو اسلاف نے کی تھی، یہ پھسپھسے سہارے ہیں جنہیں ایک دن ٹوٹ جانا ہے، اور خدا کا سہارا ہی باقی رہنے والا ہے اور وہی مضبوط اور طاقتور سہارا ہے، لہٰذا اپنی کوششوں کا رخ صحیح کیجیئے، اور اپنے حصے کی لڑائی خود لڑیئے اور نتیجہ اللہ کے سپرد کیجیئے،

  • سقوط ڈھاکہ!عیاری وغداری کی شرمناک داستان…از..سید زید زمان حامد

    سقوط ڈھاکہ!عیاری وغداری کی شرمناک داستان…از..سید زید زمان حامد

    سقوط ڈھاکہ ہماری تاریخ کا ایک المناک اورعبرتناک باب ہے۔ غیروں اور دشمنوں کی مکاری اور سازشوں سے تو ہمیں کوئی شکایت نہیں کہ ان کا تو قیام پاکستان سے ہی یہی کردار رہا ہے، مگر دکھ تو اپنوں کی غداری اور حماقتوں کا ہے کہ جس کے سبب پاک سرزمین کو اس قدر گہرا زخم برداشت کرنا پڑا کہ مشرک دشمن بھی اپنے تکبر میں بول پڑا کہ ”آج ہم نے مسلمانوں کے ہزار سالہ دور حکمرانی کا بدلہ لے لیا ہے“۔

    سقوط ڈھاکہ کا دکھ تو اپنی جگہ، مزید تکلیف دہ امر یہ ہے کہ سانحہ کے تقریباً نصف صدی کے بعد بھی ہم بحیثیت ریاست اور قوم نہ تو اس سانحے سے کوئی سبق سیکھ سکے اور نہ ہی ریکارڈ ہی درست کرسکے کہ وہاں ہوا کیا تھا۔

    پچھلے پچاس برس سے ایک شرمناک پراپیگنڈہ دشمن کی جانب سے کیا جاتا رہا ہے کہ جسے ہماری صفوں میں موجود غدار اور جاہل دونوں ہی بغیر سوچے سمجھے آنے والی نسلوں کے ذہنوں میں زہر کی طرح گھولتے رہے ہیں۔ نہ توریاست پاکستان نے، نہ حکومتوں نے، نہ میڈیا نے اور نہ ہی دانشوروں نے تاریخ و دلیل کی بنیاد پر دشمنوں کے ناپاک پراپیگنڈے کا جواب دیا۔ حیرانی اور ا فسوس کی بات تو یہ ہے کہ خود پاک فوج نے بھی سرکاری طور پر مشرقی پاکستان کی تاریخ اور حقائق پر کوئی مستند بیانیہ قائم نہیں کیا۔دو نسلیں گزر گئیں اور ابھی تک جھوٹ، افواہ، پراپیگنڈہ اور خرافات پر مبنی بیانیہ نسل در نسل آگے لے جایا جارہا ہے۔

    سقوط ڈھاکہ کے بعد حکومت پاکستان اور پاک فوج کے تمام ریکارڈ اورکاغذات دشمن کے قبضے میں چلے گئے تھے۔ دنیا نے پھر وہی بیانیہ قبول کیا کہ جو جنگ میں کامیابی حاصل کرنے والے مکار دشمن نے پیش کیا۔
    مشرقی پاکستان کے حوالے سے بھارت کا سب سے ناپاک پراپیگنڈہ کہ جو آج تک جاری ہے وہ یہ ہے:

    ٭ 92 ہزار پاکستانی فوجیوں نے ہتھیار ڈال دیئے۔

    ٭ پاک فوج نے 30 لاکھ بنگالیوں کا قتل عام کیا۔

    ٭ پاک فوج نے دس لاکھ بنگالی عورتوں کی عصمت دری کی۔

    حقیقت یہ ہے کہ مشرقی پاکستان میں پاک فوج کی صرف ایک ”کور“ تھی کہ جس کی کمانڈ ایک لیفٹیننٹ جنرل کررہا تھا۔ مشرقی کمانڈ میں موجود اس کور میں بھی مکمل نفری نہیں تھی۔ توپخانے اور ٹینکوں کی رجمنٹوں کے بغیر صرف انفنٹری (پیادہ فوج) کے تین ڈویژن تھے، کہ جن میں سپاہ کی کل تعداد 36 ہزار سے بھی کم تھی۔ جب فوج کی مکمل تعداد ہی 36 ہزار سے کم تھی تو 92 ہزار سپاہیوں نے کس طرح ہتھیار ڈال دیئے؟

    یہ ایک ایسی تاریخی گمراہی ہے کہ جسے نسل در نسل خود پاکستانی قوم میں ایک منظم سازش کے تحت پھیلایا جاتا رہا کہ جس کا مقصد قوم میں احساس ذلت و رسوائی بڑھانا اور پاک فوج کو ذلیل کرنا تھا۔ حیرانی کی بات تو یہ ہے کہ آج تک سرکاری طور پر پاکستان کی جانب سے اس جھوٹے بھارتی بیانیے کو رد کرکے تاریخ کو از سر نو بیان ہی نہیں کیا گیا۔ کیوں حکومتیں اور فوج اس جھوٹے بیانیے پر خاموش رہے، اس کا جواب تو انہی کو دینا ہے، مگر حقیقت وہی ہے کہ جو ہم بیان کررہے ہیں۔

    32 سے 35 ہزار عسکری جنگی قیدیوں کے ساتھ چند ہزار سویلین بھی تھے کہ جو حکومت پاکستان کے ملازم تھے کہ جو مشرقی پاکستان میں اپنے فرائض سرانجام دے رہے تھے اور اپنے خاندان، عورتوں اور بچوں کے ساتھ وہیں رہائش پذیر تھے۔ کل ملا کر یہ تعداد 45 ہزارکے قریب تھی۔ 45 ہزار کو بڑھا چڑھا کر 92 ہزار کیوں بنایا گیا، اس کی وجوہات کیا ہیں؟ اس شرمناک پراپیگنڈے کو پاکستان میں پروان کس نے چڑھایا؟ اگلے کالم میں بیان کریں گے۔

    جاری ہے۔۔۔

    سقوط ڈھاکہ……….عیاری وغداری کی شرمناک داستان……………قسط-1

    تحریر: سید زید زمان حامد

  • بھارت میں مسلمانوں کے لیے کوئی جگہ نہیں‌ !….از… مشرّف عالم ذوقی

    بھارت میں مسلمانوں کے لیے کوئی جگہ نہیں‌ !….از… مشرّف عالم ذوقی

    یہی مرگ انبوہ ہے . جب زیادہ تر لوگ اس بات پر متفق نہیں تھے کہ اس ملک کے مسلمانوں کو مالک مکان کے درجہ سے خارج کر کے کرایہ دار بنا دیا جائے گا ، میں چھ برس قبل اس منظر کو دیکھ رہا تھا ، اور اسی لئے جب شہری ترمیم بل پاس ہوا ، تو مجھے کویی حیرت نہیں ہوئی .

    2002 میں گجرات حادثہ ہوا .ایک بڑی پلاننگ پر کام شروع ہوا . ایک وزیر اعظم نے مسلمانوں کو کتے کا پلا کہا ، ہم اس وقت بھی نہیں سمجھے کہ حکومت نے مسلمانوں کو ان کی اوقات سمجھانے کے لئے مہرے چلنے شروع کر دیے ہیں . تین طلاق ، ہجومی تشدد ، اشتعال انگیز بیانات ، میڈیا کو مسلمانوں کے خلاف کھڑا کرنا .. ہم یہ سب دیکھ رہے تھے اور بابری مسجد میں الجھے ہوئے تھے . کرایہ داروں کی نہ زمین نہ ہوتی ہے نہ مسجد.اس طاقت کا اندازہ لگائیے کہ کسی مذھب کے خلاف کھل کر بولنا کیسا ہوتا ہے ؟

    اس میں ہمت تھی .پارلیمنٹ میں سب کے سامنے جھوٹ بولنے کی . جبکہ ابھی کویی وقت نہیں تھا اس بل کو لانے کے لئے . جب معیشت دم توڑ رہی ہو ، بھوک ہر دروازے پر دستک دے رہی ہو ، نوجوان روزگار کو لے کر بے حال ہوں ، کسان خود کشی کر رہے ہوں ، ایسے ماحول میں ملک کے معیار کو بلند کرنے کی جگہ نفرت کے ایسے بل کو سامنے لایا گیا ، جس نے ساری حدیں توڑ دیں . یہ ہونا تھا یہ ہو گیا . یہ پہلے بھی ہو رہا تھا .چھ برسوں سے . وہ شخص ہر جگہ ، ہر اجلاس میں بھگوڑوں کو نکال باہر کرنے کی باتیں کرتا تھا اور ہماری ملی تنظیمیں ایسے اشتعال انگیز بیانات کے خلاف متحد نہیں ہو سکیں .

    جناح جیتے ، ہٹلر جیتا ، یا بی جے پی جیتی سوال اس کا نہیں . اب ماضی اور تاریخ کے حوالے بدل جاییں گے .سوچئے آگے کیا ہوگا ؟ مستقبل کا کیا ہوگا ..؟اگر اب بھی نہیں سوچ رہے تو وہ گیس چیمبر زیادہ دور نہیں جس کی پیشن گویئی میں نے مرگ انبوہ میں کی ہے . انکے لئے یہ سوال ہے ہی نہیں کہ تیس کروڑ مسلمان کہاں جاہیں گے ؟ وہ جہنم میں جاییں ، اس بات سے انھیں کویی سروکار نہیں . لیکن اس بات سے سروکار اب ضرور ہے کہ فلم ، میڈیا ، سپورٹس ، سرکاری نوکری ، ملک کے اہم منصب اور عھدوں پر مسلمان نہ ہوں .

    مسلمانوں کی سماجی ، سیاسی حیثیت کو زیرو بنا دیا جائے . ابھی وقت تاریخ کے مجرے دیکھنے کا نہیں ہے .ابھی وقت مولانا ابو الکلام آزاد جیسوں کو یاد کرنے کا نہیں ہے . یہ حالات مختلف ہیں . ہندوستان کو میانمار یا روہنگیا میں تبدیل کیا جا سکتا ہے . آگے کچھ بھی ہو سکتا ہے . اس لئے کہ لوک سبھا سے راجیہ سبھا تک انھیں روکنے والا کویی نہیں .

    چار دسمبر کو کچھ ہندی اخباروں کی سرخی تھی –مسلماں نا منظور . دینک بھاسکر نے سرخی لگاکتے کا پلا یی – غیر مسلم منظور .. آزاد ہندوتان میں آج پہلا دن ہے ، جب مسلمان نا منظور کی سرخیاں اخباروں کی زینت بنی ہیں . ہم ابھی بھی اس وہم میں مبتلا ہیں کہ این آر سی اور شہری ترمیم بل دو علیحدہ بل ہیں . جبکہ اس ملک کی حقیقت یہ ہے کہ سی این جی اور نوٹ بندی کی شروعات بھی مسلمانوں کو ذہن میں رکھ کر کی گیی .

    اپ مغالطے میں ہیں اگر اب بھی آپ کو احساس ہے کہ دوسرے درجے کے شہری ہو کر آپ کامیابی کی سیدھیاں طئے کر سکتے ہیں ، کویی انقلاب لا سکتے ہیں، کویی کرشمہ دکھا سکتے ہیں . شہری ترمیم بل کو کسی راجیہ سبھا میں بھیجے جانے کی ضرورت نہیں. وہ اپنی طاقت ، اپنے منصوبوں ، اپنے ارادوں سے واقف ہیں اور اب کھلے طور پر انہوں نے اعلان کر دیا کہ ہندو راشٹر میں مسلمان دوئم درجے کے شہری ہیں .

    اس کا احساس 2014 میں ہو چکا تھا .لیکن یہ یقین نہیں تھا کہ کویی بھی حکومت اس طرح کھلے عام مسلمانوں کو ملک سے باہر کا راستہ دیکھا سکتی ہے . کیا غیر مسلم جنہیں تلاش کر کر کے اس ملک میں جگہ دی جائے گی م کیا وہ صرف ہندو ہوں گے ؟ کیا سکھ طبقہ اپنے مذھب کو قربان کر دیگا ؟ کیا بودھ اپنا مذھب بھول جاہیں گے ؟ کیا جین مذھب کے پیروکار اپنے مذھب کی قربانی دینے کے لئے تیار ہیں ؟

    بھاجپایی ایکٹر اور لیڈر روی کشن نے بیان دیا کہ 100 کروڑ ہندو آبادی والے ملک کو ہندو راشٹر ہی کہا جائے گا . میڈیا تو پہلے دیںسے مسلمانوں کے خلاف ہے . مودی خاموش ہیں وزیر داخلہ نے اب شطرنج کی نیی بساط پر وزیر کو اتار دیا ہے ،مہرے پٹ رھے ہیں . اور مسلمان سیاسی تماشا دیکھنے کو مجبور — امبیڈکر کے آیین سے آھستہ آھستہ مساوات ، ملت ، برابری کے حقوق کا صفحہ غایب ہو جائے گا .

    پھر ہماری مسجدیں ، ہمارے مدرسے سب ان کی تحویل میں ہوں گے . فرض کیجئے ، ہم سڑکوں پر اترتے ہیں . سو کروڑ آبادی کے سامنے ہماری کویی بساط نہیں .وہ چاہتے ہیں کہ مسلمان سڑکوں پر آییں اور اکثریت کو اپنی مضبوطی کا شدید احساس ہو . اس وقت معاشی اعتبار سے ملک کی موت ہو چکی ہے . لیکن اکثریت میں جشن کا ماحول ہوگا کہ آخر مسلمانوں کو حقیر درجے تک پہچا دیا گیا . پھر عدالتیں رہ جاتی ہیں .

    اب ملی تنظیموں کو اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے چاہئے کہ عدالت کا رخ کریں . ہماری طاقت بچے گی تو ہماری شناخت بھی محفوظ ہوگی . ہماری مسجدیں بھی — میں نے مرگ انبوہ میں لکھا کہ مسلمان گھر اور بیشمار مسلمان اچانک راتوں رات غائب ہو جاتے ہیں . میرے ایک قاری نے سوال کیا ، ایسا کیسے ممکن ہے ؟ میرا جواب تھا ، شہری ترمیم بل اور این آر سی پر عمل ہونے دیجئے .

    جرمن آج بھی مرگ انبوہ کو فراموش نہیں کر سکے .لاکھوں کی تعداد میں سیاح تاریخ کے المناک مناظر کی یاد تازہ کرنے آتے ہیں جبکہ جرمنوں کو مرگ انبوہ کا لفظ سننا بھی گوارا نہیں . کل یہی ہوگا . تاریخ یاد رکھے گی کہ پچیس کروڑ آبادی والی اقلیت کے ساتھ مرگ انبوہ کی ریہرسل کی گیی . میں نے ناول مرگ انبوہ لکھتے ہوئے ان تمام حقیقتوں کو سامنے رکھا تھا .مجھے یقین تھا ، کہ اس کے بعد ہندو راشٹر اور این آر سی کا ہر سفر آسان ہو جائے گا . ابھی صرف ریہرسل ہے .
    ملک کا نوے فیصد میڈیا ہندو راشٹر کی بحالی کے لئے مسلمانوںکے خلاف ہے—

    اس وقت ملک کے صفحہ پر مسلمانوں کے خون سے جو کہانی لکھی جا رہی ہے .اسے روکنا ہوگا .۔اشتعال انگیز بیانات اور روز روز ہونے والی ہلاکت کے قصّوں کو ختم کرنا ہوگا .لیکن کیا یہ آسان ہے ؟ –آپ ڈرینگے تو حکومت ڈرائیگی-آپ جس دن ڈرنا چھوڑ دینگے ،اس دن سے حکومت ڈرنے لگے گی —نفسیات کا یہ معمولی نکتہ ہے کہ ہر ہٹلر اندر سے کمزور ہوتا ہے .وہ مجمع میں دہاڑتا ہے ۔سچ بولنے والے ایک معمولی سے آدمی سے بھی وہ ڈر جاتا ہے۔

    میڈیا ،ٹی وی چنیلس اور حکومت نے مسلمانوں کو دوسرے بلکہ تیسرے درجے کی مخلوق گرداننا شروع کر دیا ہے .ایک ایسی مخلوق جسے بس اس سر زمین سے باہر نکالنا باقی رہ گیا ہے .آنکھیں بدل گیی ہیں .کچھ دن اسی طرح گزرے تو مسلمان اس ملک میں نمائش کی چیز بن کر رہ جاینگے ..دیکھووہ جا رہا ہے مسلمان ..یہ ہونے جا رہا ہے .سوالات کے رخ خطرناک طور پر مسلمانوں کے لئے مایوسی کی فضا تیار کر رہے ہیں …ہندوستان کی مقدّس سر زمین نفرت کی متحمل نہیں ہو سکتی ..اور .مشن اپنے نظریہ میں تبدیلی لاے ،یہ ممکن نہیں .

    سوال بہت سے ہیں .ہندوستان کے چوراہوں اوردیواروں پر صرف یہ عبارت لکھی جانی باقی ہے کہ ہندو راشٹر میں آپ کا سواگت ہے۔مسلمانوں اور دلتوں کا قتل ، ہر روز نئے مظالم ، صرف میڈیا کی آنکھ بند ہے .اسلئے کہ مکمل میڈیا خریدا جا چکا ہے .حکومت ہر شعبہ کو خرید چکی ہے .انصاف کی عمارت پر بھی زعفرانی پرچم چند دہشت گرد لہرا چکے ہیں .

    2002 تک ہندستانی سماج اس مقام تک نہیں پہنچا تھا، جہاں وہ اب پہنچتا نظر آرہا ہے۔ اور اب شہری ترمیم بل نے ہندو راشٹر کے سفر کو آسان بنا دیا . پھر دیکھتے ہی دیکھتے امبیڈکر کا آیین غائب ہو جائے گا .. یہی تو مرگ انبوہ ہے ..میں نے مرگ انبوہ میں ہندوستان کے مستقبل کو دیکھا ہے .

    بھارت میں مسلمانوں کے لیے کوئی جگہ نہیں‌

    مشرّف عالم ذوقی

  • ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم اور عمران خان کے الفاظ!!! تحریر: نعمان علی ہاشم

    ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم اور عمران خان کے الفاظ!!! تحریر: نعمان علی ہاشم

    بارگاہِ رسالت مآب صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کتنی مقدس و مکرم ہے اس کا اندازہ شاید ہی ایک دنیادار کو کبھی ہو سکے،
    اس دنیا کا سب سے زیادہ مہذب، باشعور، باادب اور بااخلاق شخص بھی شاید سید عالم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ادب کا حق ادا نہ کر سکے.
    میر تقی میر کا ایک مصرعہ ہے کہ
    "لے سانس بھی آہستہ کے نازک ہے بہت کام”
    سیاسی وابستگی اور نظریے سے قطع نظر اس بات کا حد درجہ خیال رکھیں کہ آپ کس کا ذکر کر رہے ہیں، اور جب آپ عالم کے سب سے زیادہ حسین، اکمل و کامل انسان کا تذکرہ کر رہے ہوں، جو نہ صرف سب سے عظیم انسان ہوں بلکہ صاحب شریعت ہوں. اللہ کے آخری نبی ہی نہیں بلکہ سیدالانبیاء ہوں. جن کے متعلق اللہ نے ادب کا حکم دیا ہو تو پھر اس وقت تک کچھ نہ کہیں جب دل، دماغ، زبان، جسم اور روح ایک پیج پر نہ ہوں.
    جب آپ ہر طرح کی احتیاط کو ملحوظ رکھیں گے تو غلطی کا امکان بہت کم ہے. میں سمجھتا ہوں اس معاملے میں بداحتیاطی بھی جرم ہے. اور ایسے عادی مجرم کو اس کی سزا ملنی چاہیے. اب اس کی سزا امت کے مجتہدین ہی طے کر سکتے ہیں. ہم تو عام سے لوگ ہیں.
    مگر جب آپکو علم ہو کہ یہ بد احتیاطی کرنے والے کی نیت توہین و گستاخی کی نہیں تو پھر کافر و گستاخ کے فتوے لگانا بھی مناسب نہیں. بلکہ علماء کو چاہیے کہ ایسے بندے کو پیار سے سمجھائیں کہ یہ معاملہ کتنا حساس ہے. اگر بارہا سمجھانے پر بھی وہ شخص نہیں سمجھ پاتا تو اس کے لیے سزا ضرور ہونی چاہیے.
    کل سے سوشل میڈیا پر وزیر اعظم عمران خان کے منہ سے رسول اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق انتہائی نازیبا جملہ نکلا. وزیر اعظم صاحب سیدالانبیاء سید البشر صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جدوجہد کا تذکرہ کر رہے تھے. اور اس راہ میں آنے والی پریشانیوں کو معاذ اللہ ذلالت کہہ دیا. جو کہ سراسر بے ادبی ہے. اس پر خان صاحب کو اللہ سے معافی بھی مانگنی چاہیے. اور آئندہ کے لیے احتیاط بھی کرنی چاہیے. اور وسائل ہوں تو اس اچھا سا عالم دین بھی رکھ لیں جو انہیں سرکار دو عالم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ادب سکھائے.
    البتہ اس ایک کلپ کی بنیاد پر گستاخ و کافر کہنا قطعاً درست نہیں. لہٰذا تنقید کے گھوڑے دوڑانے کے بجائے اور شدت کی فضاء قائم کرنے کے بجائے اصلاح کے راستے کو اپنائیں. اور ایسے کلپ کو ایسے شئیر کر کے اپنا مذاق نہ بنوائیں. آپ کی شئیرنگ پر ملحدین قہقہے لگاتے ہیں. اور سوچیں کے مذمت کے نام پر ہم جو کر رہے ہیں وہ بھی کہیں اسی زمرے میں تو نہیں آتا.

  • ” انسانی حقوق (Human rights) آزادی اورحقوق کا نظریہ…از..عبد الرحمن عارف

    ” انسانی حقوق (Human rights) آزادی اورحقوق کا نظریہ…از..عبد الرحمن عارف

    ” انسانی حقوق (Human rights) آزادی اور حقوق کا ایک ایسا نظریہ جس کے تحت تمام انسان یکساں طور پر بنیادی انسانی حقوق کے حقدار ہیں۔ اس نظریہ میں وہ تمام اجزاء شامل ہیں جس کے تحت کرہ ارض پر بسنے والے تمام انسان یکساں طور پر بنیادی ضروریات اور سہولیات سے استفادہ کر سکیں.

    درج بالا تعریف حقوق انسانی کی تعریف ہے. حقوق انسانی کے ادارے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ کرہ ارض پر بسنے والے تمام انسانوں کو ان کے حقوق دیے جائیں. رب کائنات کی بنائی ہوئی اس دھرتی پر رہنے والے ہر انسان کو کھانے، پینے، اوڑھنے بچھونے، رہن سہن اور معاشرت کی ضرورت ہوتی ہے. اور بنیادی طور پر اس سب کے لیے قدرت نے اسے آزاد و خودمختار پیدا کیا ہے.

    اگر کسی پر ظلم کیا جاتا ہے تو وہ اپنے حق کے لیے اس ظلم کے خلاف آواز اٹھا سکتا ہے. اگر کسی کو کھانا نہیں مل پا رہا تو وہ دنیا کے سامنے پلے بورڈ لے کر کھڑا ہو سکتا ہے کہ میرے ان مسائل کی وجہ سے مجھے روٹی نہیں مل رہی. الغرض مرد و خواتین ہر بنیادی اور ضروری انسانی حق کے حقدار ہیں.

    حقوق انسانی کے ادارے حقوق دیتے ہیں…. مگر کن کو؟؟؟ جو یہودی ہیں، جو عیسائی ہیں، جو مجوسی ہیں…. دنیا کے کسی مذہب سے تعلق رکھنے والے کو اس کا حق لے کر دیا جاتا ہے…. اور 10 دسمبر کو ہر سال اس ادارے کی کامیابی کے دعوے کرتے ہوئے دن بھی منایا جاتا ہے…. مگر حق نہیں مل پاتا تو صرف مسلمانوں کو!!!

    کتنے ہی مسلم ممالک کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا گیا مگر حقوق انسانی کے عالمی ادارے خاموش تھے خاموش ہیں اور خاموش رہیں گے!!!

    آج بھی حقوق انسانی کا دن منایا جا رہا مگر کشمیر میں آج کرفیو کا بھی 128واں دن ہے!!!

    دنیا حقوق انسانی کا دن منا رہی ہے اور کشمیری ماں آج بھی اپنے بیٹے کے لاشے پر آہ و بکا کرتی نظر آتی ہے!

    دنیا انسانی حقوق کے نعروں سے گلے پاڑ رہی ہے. مگر کشمیری بہن کہیں باپ کی جدائی میں غمگین ہے….. تو کہیں پیلٹ گن سے زخمی اپنے چھوٹے بھائی کی آنکھ دیکھ کر سسکیاں لے رہی ہے!

    دنیا حقوق انسانی کا عالمی دن منا تو رہی ہے مگر بوڑھا باپ آج بھی اپنے زندہ رہنے کو کوس رہا ہے…. کیونکہ یک بعد دیگرے اس کے لغت جگر اس کی آنکھوں کے سامنے شہید کر دیے گئے!

    میڈیا آج یونائڈ نیشنز کے انسانی حقوق کمیشن کو خراج تحسین پیش کر رہا ہے مگر…. کشمیر میں بھارتی فوجیوں کے ظلم و ستم سے زخمی بچے ۔بوڑھے، جوان ہسپتالوں میں کراہ رہے ہیں!!!

    کیسی دنیا ہے یہ ؟ کیسی ہے یہ دھرتی ؟ کیسا یہ عالمی دن ہے؟ کیسے ہیں یہ حقوق ؟ کیسی یہ تنظیمیں ہیں؟ کیسے ہیں وہ ملک جو ان اداروں کو سپورٹ کرتے ہیں؟
    نام انسانیت کا ہے ٹارگٹ مسلمان ہے؟

    ” انسانی حقوق (Human rights) آزادی اورحقوق کا نظریہ
    عبدالرحمن عارف

  • کیا پاکستان فحش مواد دیکھنے میں پہلے نمبر پر ہے ؟ تحریر: غنی محمود قصوری

    ہر معاشرے کے اندر اچھے اور برے افراد پائے جاتے ہیں چند برے افراد کی بدولت اچھے لوگوں کی اچھائی بھی دب کر رہ جاتی ہے بات کرتے ہیں پاکستان میں فحش مواد دیکھے جانے کی تو سب سے پہلے یہ دیکھیں جب بھی رپورٹ جاری ہوتی ہے تب یہ تو کہا جاتا ہے کہ پاکستان فحش مواد دیکھنے میں پہلے نمبر پر ہے مگر یہ نہیں بتایا جاتا کہ اس فحش مواد کو دیکھا کتنے اکاءونٹس سے جا رہا ہے اور وہ کل انٹرنیٹ صارفین کا کتنے فیصد ہے
    اس وقت پاکستان کی کل آبادی اقلیتوں سمیت تقریبا 22 کروڑ ہے جس میں سے 1.85فیصد ہندو اور 1.65 فیصد عیسائی جبکہ قادیانی و سکھ اور لبرلز اس کے علاوہ ہیں پاکستان کی کل آبادی کے 22.2 فیصد لوگ انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں
    ایک دکاندار کو اپنی آمدن سے غرض ہوتی ہے وہ یہ نہیں دیکھے گا کہ اس ایک بندے نے دن میں پانچ بار مجھ سے ایک ہی چیز خریدی ہے بلکہ وہ یہ دیکھے گا کہ یہ چیز دن میں کتنی بار میری دکان سے خریدی گئی ہے وہ جب آگے سے وہی چیز خریدے گا تو یہی بتائے گا کہ فلاں چیز ایک دن میں اتنی بار فروخت ہوتی ہے یہ ہرگز نہیں بتائے گا کہ ایک بندہ دن میں یہ چیز اتنی بار مجھ سے خریدتا ہے
    اگر آپ یوٹیوبر ہیں تو آپ کو اپنے فالوورز سے تو سروکار ہوگا مگر یہ جاننے کی آپ کوشش ہرگز نہیں کرینگے کہ آپ کے ایک فالوور نے کتنی بار آپ کی ایک ہی ویڈیو دیکھی ہے ایک فالوور اگر آپ کی ایک ویڈیو دن میں ہزار بار بھی دیکھے گا تو آپ کے اس ویڈیو کے ہزار ویوورز یعنی دیکھنے والوں میں شمار ہوگا نا کہ یہ ہوگا کہ اس فالوور نے یہ ویڈیو ایک بار ہی دیکھی ہے ایسے ہی ڈارک ویب ہیں آپ ایک دن میں کسی ویب کو سرچ کریں تو اس کے ویوورز بڑھتے جاتے ہیں حتی کہ آپ دن میں ہزاروں مرتبہ اس ایک ویب پر ایک لنک کو اوپن کریں تو جب بھی آپ لنک اوپن کرینگے تو آپ کے ہر بار لنک اوپن کرنے سے ویوورز بڑھتے جائینگے
    مگر یہاں قصور وار ہم بھی ہیں ہم بنا سوچے سمجھے اور بغیر دیکھے ایسے کتنے ہی گندے لنکس اپنے واٹس ایپ گروپوں،فیسبک وال اور ٹویٹر و انسٹاگرام اکاونٹس پر لگا دیتے ہیں جن پر کلک کرتے ہی اس لنک کی ریٹنگ بڑھنے لگتی ہے بھلے آپ اس لنک کو کلک کرتے ہی بنا دیکھے چھوڑ دیں
    پاکستان کے 22.2 فیصد انٹرنیٹ صارفین میں سے بیشتر ان پڑھ ہیں یا پھر کم پڑھے لکھے اس لئے وہ ان چالوں کو سمجھنے سے قاصر ہیں اور فوری جاری کردہ فہرست کو آگے شیئر کرتے جاتے ہیں جس سے ہمارے دشمن ممالک کے لوگ اپنا ایجنڈا پایہ تکمیل تک پہنچاتے ہیں اور پاکستان قلعہ اسلام کو بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہیں
    یہی تو ان اسلام و پاکستان دشمن لوگوں کی ففٹھ جنریشن وار کی کامیابی ہے کہ بات آپ کے دشمن کی ذہن آپ کا انٹرنیٹ پیکج اور موبائل فون آپ کا اور باتیں عروج پر آپ کے دشمنوں کی تو معزز قارئین کرام آپ خود سوچیں آپ دن میں کتنی مرتبہ فحش مواد یا ڈارک ویبز دیکھتے ہیں ؟ یاں پھر آپ کے حلقہ احباب کے لوگ ایسی سائٹس کتنی بار دیکھتے ہیں ؟ یقینا نہیں
    تو پھر دشمن کی اس پھیلائی ہوئی شازش کو سمجھیں اور بنا تحقیق کے باتیں اور لنکس آگے فارورڈ کرنے سے پرہیز کیجئے

  • جنسی درندوں کی سرزمین اور نئی سازش…از…انشال راؤ

    عورت کے بغیر انسانی معاشرے کی تکمیل ممکن نہیں، یہ عورت ہی ہے جو بچوں کی پرورش کرتی ہے جو معاشرے کی فلاح و بہبود اور سعادت و کامرانی کی راہ ہموار کرنے کا زریعہ بنتے ہیں، مودی ہو یا موہن بھاگوت، پنڈت ہو یا سوامی سب ہی عورت کے بطن سے پیدا ہوکر آج اس زمین پر اکڑ کر چل رہے ہیں،

    عورتوں کے حقوق کے لیے پوری دنیا میں آوازیں اٹھتی رہی ہیں اور اس سلسلے میں بیحد ڈویلپمنٹ بھی سامنے آئی ہے لیکن افسوس ہے کہ بھارت دنیا کا واحد خطہ ہے جہاں عورت کو جنسی تسکین کا زریعہ سمجھا جاتا ہے اور ہندوتوا کے ہاتھوں میں جانے کے بعد بھارت میں ریپ کیسز میں کئی سو گناہ اضافہ ہوا ہے،

    بھارتی اعداد و شمار کے مطابق یومیہ 92 ریپ و گینگ ریپ کے کیسز پولیس میں رپورٹ ہوتے ہیں جبکہ اس سے کئی گنا بڑی تعداد میں کیسز یا تو بدنامی سے بچنے کے لیے رپورٹ نہیں ہوتے یا پولیس ان کو رپورٹ نہیں کرتی جیسا کہ کچھ دن پہلے ہی کی بات حیدرآباد کے قریب ایک گاوں میں ایک غبارے و ٹافیاں بیچنے والی دلت عورت کا گینگ ریپ کرنے کے بعد قتل کردیا گیا جس کی رپورٹ درج کروانے اس کا خاوند پولیس اسٹیشن کے چکر کاٹتا رہا لیکن اس کے دلت ہونے کی وجہ سے کسی نے ایک نہ سنی،

    بڑھتے ہوے ریپ کیسز کی وجہ سے بھارت کو اب ریپستان کا نام دیا جارہا ہے، ریپ کلچر میں اضافے کی وجہ ہندوتوائی سوچ و رہنما ہیں، جیسا کہ اعلانیہ طور پر BJP سے منسلک ہندوتوا خواتین ونگ رہنما سنیتا سنگھ گاد نے کہا کہ ہندو دس اور بیس کی ٹولیاں بناکر مسلم خواتین کا ریپ کریں، اس کے علاوہ ہندوتوا سوچ و فکر کے مطابق دلت طبقے کو اونچی ذات کی خدمت کے لیے بنایا گیا ہے، جب یہ سوچ فکر پروان چڑھیگی تو یقیناً ریپ کیسز میں اضافہ ہونا کوئی حیرت کی بات نہیں،

    رواں ماہ حیدرآباد سے ایک وٹنری ڈاکٹر خاتون کو اغوا کرکے ریپ کے بعد زندہ جلادیا گیا جس پر پورے بھارت میں خواتین کی طرف سے شدید احتجاج کیا گیا جسکے بعد حکومت و پولیس کو مجبوراً حرکت میں آنا پڑا اور چار ملزمان کو عدالتی کاروائی کیے بغیر ہی پولیس مقابلہ دکھا کر قتل کردیا گیا لیکن اس کیس میں ایک انتہائی بھیانک پہلو دیکھنے میں آیا،

    سماج وادی پارٹی سے تعلق رکھنے والی ممبر پارلیمنٹ نے تقریر کرتے ہوے کہا کہ ریپ کرنے والوں کو Lynch کیا جانا چاہئے اور عوام قانون کو ہاتھ میں لیکر ان کا قتل کرے جبکہ دوسری طرف پولیس کی پریس کانفرنس سے پہلے ہی چاروں ملزمان کے نام میڈیا تک پہنچ گئے لیکن ہندوتوا میڈیا نے ان چار میں سے ایک مسلمان ملزم کے نام کو لیکر نفرتیں بکھیرنا شروع کردیں جسکے بعد ہندوتوا آرمی کا طوفان سوشل میڈیا پہ اتر آیا اور مسلمانوں کے خلاف مذموم مہم شروع ہوگئی جسکے اثرات بہت منفی آئینگے،

    اس سے پہلے کسی بھی مسلمان پر گائے ذبیحہ یا گائے کے گوشت کا الزام لگا کر قتل کردیا جاتا تھا اور کوئی پوچھنے والا نہیں تھا، اور اب ایک بار پھر ہندوتوا آرمی کو ایک بہانہ دیدیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی مسلمان فرد پر الزام لگا کر اسے قتل کردیں، یہ کوئی انوکھا کیس نہیں ہوا اسی روز ایک 23 سالہ خاتون کو ریپ کیس کی پیشی پر جاتے ہوے ملزمان نے قتل کرکے جلادیا،

    اس کے علاوہ کچھ روز قبل حیدرآباد ہی کے قریب ایک دلت خاتون کو ریپ کے بعد جلادیا گیا اور کچھ عرصہ پہلے ہی BJP رہنما کلدیپ سنگھ سنگار ریپ کرنے کے مرتکب ہوے اور متاثرہ عورت کو عدالت جاتے ہوے کچل دیا گیا لیکن نہ ہندوتوا میڈیا کو تکلیف ہوئی نہ ہی ہندوتوا آرمی کو عورت کی عظمت کا خیال آیا جبکہ وٹنری ڈاکٹر کے کیس میں ایک مسلمان ملزم جس پر ابھی جرم ثابت بھی نہیں ہوا تھا کے نام کو لیکر ہندوتوا میڈیا نفرتوں و اشتعال انگیزی پھیلاتا رہا جبکہ اس میں نامزد دیگر تین ہندو ملزمان کا ذکر تک نہ کیا،

    اب اگر آنے والے دنوں میں کسی اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے شخص بالخصوص مسلمان یا پھر کسی دلت کو ریپ کا الزام لگا کر قتل کیا گیا تو اسکی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی، ہندوتوا لیڈرز پر یا ہندوتوائی میڈیا پر؟ جب سے BJP اقتدار میں آئی ہے تو بھارت میں مسلمانوں پر زمین تنگ ہوتی جارہی ہے اور بھارتی میڈیا انسانی و عالمی حقوق کے برخلاف انسانیت کے خلاف جرائم کا مرتکب ہورہا ہے اور ایک مخصوص ایجنڈے پہ عمل پیرا ہے جسکے نتیجے میں پورا خطہ آگ و خون کی لپیٹ میں آجانا ہے، بھارتی میڈیا کے غیرذمیدارانہ کردار کے نتیجے میں پہلے ہی بھارت میں لاکھوں خاندان اجڑ چکے ہیں

    لیکن ہندوتوا میڈیا اسی روش پہ قائم ہے عالمی انسانی حقوق کے ذمہ دار اداروں و طاقتور ممالک کو اب بھارتی رہنماوں و میڈیا کے اس غیرذمیدارانہ کردار پر ٹھوس ایکشن لینا ہوگا ورنہ انسانی روپ میں چھپے یہ بھیڑئیے دنیا کے امن کو تباہ و برباد کردینگے۔
    آرزوئے سحر
    تحریر: انشال راؤ
    عنوان: جنسی درندوں کی سرزمین اور نئی سازش

  • اچھی زبان تھوڑا سا وقت…از.ساجدہ بٹ

    اچھی زبان تھوڑا سا وقت…از.ساجدہ بٹ

    آج کل ہم اپنی زندگیوں میں کس قدر کھو گئے ہیں کہ کسی دوسرے انسان کا ہمیں خیال ہی نہیں بس خود کے لیے جیتے ہیں۔
    اسی لیے تو معاشرہ آج کل افرا تفری کا شکار ہے ہم بھول بیٹھے ہیں کہ مرنا بھی ہے اور جو مال و دولت اکٹھی کر رہے ہیں یہ سب دُنیا میں رہ جائے گی۔

    ہمیں تو فخر ہونا چاہیے کہ ہم مسلمان ہیں اور ہماری اسلامی تعلیمات کس قدر اعلیٰ ہیں
    آئیے ذرا آج بات کرتے ہیں حسن معاشرت پر۔۔۔۔۔۔۔

    معاشرت ،باہم مل جل کر رہنے کو کہتے ہیں اور حسن معاشرت کا معنی ہے زندگی گزارتے ہوئے ایک دوسرے ساتھ نہایت عمدہ سلوک روا رکھنا۔

    ایک دوسرے کے ساتھ مل کے زندگی گزارتے ہوئے اعلٰی اخلاق کا مظاہرہ کرنا۔

    ایثار،خدمت،خیر خواہی،نیکی کے کاموں میں تعاون،ایک دوسرے کے لیے حُسنِ ظن رکھنا اور اس طرح کی دیگر اعلیٰ اقدار پر عمل کرتے ہوئے زندگی گزارنا۔

    اسلام نے حُسنِ معاشرت کے قیام کے لیے احسان کی روش اختیار کرنے کو بنیاد بنایا ہے
    احسان یہ کہ دوسرے کی ضروریات کا خود احساس کریں اس کی ضرورت کو خود محسوس کریں اور یہ سوچے بغیر کہ اس کی مدد کرنا ہماری زمداری تھی یا نہیں ۔۔۔۔۔
    ہم ہم اس کی مدد کے لیے آگے بڑھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ہمارے پیارے محبوب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا

    ٫٫تم لوگوں کی دیکھا دیکھی کام کرنے والے نا بن جاؤ تم لوگوں نے اچھا سلوک کیا تو ہم بھی اچھا کریں گے اور اگر انہوں نے زیادتی کی تو ہم بھی زیادتی کریں گے بلکہ تم زیادتی نہ کرو
    حُسنِ معاشرت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ
    معاشرتی زندگی میں الزام تراشی سے بچا جائے۔
    الزام تراشي ایسی چیز ہے جو معاشرتی اور ذہنی سکون کا خاتمے کا سبب بنتی ہے
    ہمارا عام رویہ ہے کہ ہم الزام لگانے میں بڑے بے باک ہو جاتے ہیں اور ہمارے ذہن سے یہ بات بالکل نکل جاتی ہے کہ اس سے کسی کی عزت پر کتنا منفی اثر پڑے گا۔
    پھر یہ اِلزام تراشی اگر جنسی زندگی سے متعلق ہو تو معاملہ مزید سنگین ہو جاتا ہے۔اس سلسلے میں اسلام نے ہمیں بے اعتدالی سے بچانے کے لئے قذف کی سزا مقرر کی ہے۔
    اس کی حکمت یہ ہے کہ اسلام نہیں چاہتا کہ جنسی زندگی اور بے حیائی کی گُفتگو لوگوں کی محفلوں کا موضوع ہو۔

    اسی طرح حسن معاشرت کے حوالے سے اسلام نے بہت سی ہدایات دی ہیں
    جیسے ایک دوسرے کے ہاں کھانے پینے سے باہم محبت پیدا ہوتی ہے

    *اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآنِ مجید میں ارشاد فرمایا۔۔۔۔۔

    لیس علیکم جناح ان تاکلوا جمعیا او اشتا نا
    ترجمہ:
    تم مل کر کھاؤ یا اکیلے اکیلے کھاؤ اس میں تم تم پر کوئی گناہ نہیں،،

    آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا

    مل کر کھاؤ تنہا نہ کھاؤ برکت مل کر کھانے میں ہے
    لیکن آج کل ہم کُچھ زیادہ ماڈرن ہو گئے صبح ناشتے کے لئے گھر کے افراد ہی اپنی زندگی میں اس قدر مصروف ہو گئے ہیں کہ جدید دور میں باپ الگ ناشتہ کرتا ہے۔
    بچے الگ کرتے ہیں ایسا کیوں ہے؟؟؟؟؟؟؟
    پھر عزیز و اقارب کی دعوت میں بھی ہم تکلف کا شکار ہیں۔
    یا پھر ہم اپنے برابر کے لوگوں کی دعوت کرتے ہیں وہ بھی اپنے سٹیٹس اونچا کرنے کے لیے۔۔
    افسوس کہ ہم ہر کام ہی محض اپنے لیے کرتے ہیں ۔
    اللہ تعالی کی رضا کے لیے ہم کُچھ نہیں کرتے۔

    پھر اسی طرح ہم بزرگوں کے ساتھ کس طرح کا رویہ اختیار کرتے ہیں؟؟؟
    اپنے گھر کے بزرگوں کو کتنا وقت دیتے ہیں دیگر ہمارے سامنے کتنے عمر رسیدہ بزرگ ہمارے محلے گلی بازار،ہمسائیوں میں ملتے ہیں اُن سے ہمارا رویہ کیسا ہے؟؟؟؟؟
    یقینا۔۔۔۔۔۔۔
    بُرا رویہ
    وہ اس طرح کے ہم اُنھیں وقت نہیں دیتے اُن سے مل بیٹھ کے بات نہیں کرتے انکی سنتے نہیں۔
    بس اپنی سناتے ہیں ہم سمجھتے ہیں کہ چار جماعتیں پڑھ کر ہم بڑے سمجھدار اور پتہ نہیں سکولر بن گئے ہمیں کیا ضرورت ان کی نصیحتوں کی۔۔۔۔۔۔
    ایسا بلکل نہیں یقین مانیے جو سکون اطمینان بزرگوں کے سائے میں ہے وہ کہیں نہیں
    نا کسی سینما میں نا کسی فلم اور ڈراما میں اور نا ہی دوستوں کی فضول محافل میں بیٹھنے سے ہے۔

    یہ تحریر لکھتے ہوئے مجھے اپنے یونیورسٹی کے ایک بہت قابل ٹیچر سر مختار صاحب ہیں اُن کی بات یاد آگئی۔
    وہ ہمیں کچھ بھی پڑھاتے تو ساتھ کہا کرتے تھے۔

    بیٹا میں مثال دیتا ہوں مثال سے بات سمجھ آتی ہے،،،
    وہ مثال دیا کرتے تھے اور ہمیں واقعی ہی سمجھ آ جاتی تھی۔
    میں بھی یہاں مختصر سا ایک واقع بیان کرنے کی کوشش کرتی ہوں شاید قارئین کو میری بات بھی سمجھ آجائے
    میں اپنی آپ بیتی کہانی سناتی ہوں۔
    مجھے دراصل بزرگوں سے کہانیاں سننے کا شوق ہے تاریخی واقعات جو ان سے پیش آئے ہوں وہ دلچسپی سے سنتی ہوں۔
    اپنی امی ابو سے کہانیاں سننے کی عادت ابھی بھی ہے۔
    ایک دن ایسا ہوا کہ میں ہمسائیوں کے گھر گئی ویسے ہی فارغ تھی سوچا اُن سے مل آؤں۔
    اُن کے گھر کے افراد میں دو بچے اور اُن کی ماں رہتے ہیں اور شوہر کام کے سلسلے میں گاؤں سے دور رہتے ہیں۔
    اس لیے میں کبھی کبھی چلی جاتی ہوں چونکہ وہ میری ہم عمر ہے تو اچھی گپ شپ ہو جاتی ہے۔
    ایک دن ایسا ہوا کہ میں گئی اُن کے ہاں تو اس بہن کے والدین آئے ہوۓ تھے جو کہ کافی عمر رسیدہ بزرگ تھے۔
    بہن کے والد صاحب تقریباً 80 برس کے تھے اُن کی نظر بھی کمزور اور سماعت بھی کمزور تھی۔
    مجھے چونکہ کہ بزرگوں سے بات چیت کرنے میں کہانیاں سننے میں مزا آتا ہے۔
    تو حسب معمول اُن سے بھی حال احوال پوچھنے لگی۔۔۔۔
    بات چیت کرنے کے بعد محسوس ہوا وہ کافی پریشان ہیں بیٹوں کے تلخ رویے کے وجہ سے اور اُن کا اپنے والدین کو وقت نا دینا۔
    اُنھیں تکلیف دیتا ہے۔
    خیر چلو یہ بات ایک طرف رہی۔
    وہ جتنے دِن یہاں رکے میں روز جاتی اُن سے ملتی کوئی واقع کوئی کہانی کوئی اسلامی بات سُننے کی فرمائش کرتی۔
    یقین مانیے میں الفاظ میں بتا نہیں سکتی کہ مجھے کس قدر دلی سکون ملتا اُن کو خوش دیکھ کے۔
    وہ بڑے شوق سے باتیں سناتے کبھی قرآن کریم میں موجود واقعات سناتے کبھی قیامت کا ذکر ہوتا۔
    کبھی جنگوں کا ذکر کرتے۔
    وہ مجھے ڈھیر ساری دعائیں دیتے اور خوش ہوتے ۔
    ایک دن گھر کی مصروفیات کی وجہ سے میں اُن کے گھر نا جا سکی۔
    انہوں نے باقاعدہ اپنی بیٹی کو بھیجا کہ

    وہ بیٹی جو روز آتی ہے آج کیوں نہیں آئی اُسے بلا کے لاؤ اُس کی خیریت معلوم کرو وہ ٹھیک تو ہے۔
    پھر اب جب وہ واپس اپنے گھر چلے گئے وہاں جا کر بھی اپنی بیٹی سے میری خیریت معلوم کرتے ہیں ڈھیر ساری دعائیں دیتے ہیں جی خوش ہوتا ہے سن کے
    بات ذرا مختصر کرتے ہیں کہ۔
    اُن بزرگوں سے بات کر کے محسوس ہوا کہ انہیں کچھ نہیں چاہیئے صرف وقت چاہئے اپنے بچوں کا جو شائد وہ دینا بھول گئے ہیں اور سمجھتے ہیں شاید وہ کبھی بوڑھے نہیں ہوں گے
    اُن پہ اس طرح کی کیفیت طاری نہیں ہو گی۔
    ایسا نہیں ہے۔۔۔۔۔
    بلکہ ہم سب کو اس طرح کے حالات سے گزرنا پڑے گا اگر ہمیں بھی ہمارے بچوں نے کسی فالتو چیز کی طرح پھینک دیا تو کیا ہو گا ہمارے دل پے کیا گزرے گی۔۔۔۔؟؟؟
    اور اللہ تعالیٰ کا عذاب اُن لوگوں کے لیے کتنا ہے جو والدین کی نافرمانی کرتے ہیں اُنہیں بے سہارا چھوڑ دیتے ہیں۔
    یہ ساری کہانی میں نے اس مقصد کیلئے بالکل بھی نہیں سنائی کہ میں نا چیز کُچھ ہوں۔
    محض اس لیے آپ بیتی سنائی کہ بزرگوں کے سائے میں رہنا کس قدر سکون دیتا ہے ہماری پریشانیوں کا حل،ہماری بے چینیوں کا حل بزرگوں کے پاس ہے ۔
    اُن بزرگوں کے لیے نہ صحیح ہمیں اپنے لیے ہی سہی لیکن بزرگوں کی محفل میں ضرور بیٹھنا چائیے۔
    زندگی گزارنے کے بہترین اصول ہمیں سیکھنے کو ملتے ہیں جو شائد بڑی بڑی کتابوں میں بھی ہمیں نہ ملیں۔۔۔
    یہ تحریر لکھنے کا مقصد صرف اتنا سا ہے کہ ہم صرف خود کے لیے نہ جیئیں معاشرے کے لئے جئیں دوسروں کے لیے بھی کُچھ کریں۔
    یہ ہی معاشرے کی خوبصورتی ہے اور اسی طرح باہمی میل جول سے معاشرتی حسن پیدا ہوتا ہے اور یہ ہی ہماری اسلامی تعلیمات ہیں۔
    تو پھر کیوں نہ آج ہی سے عہد کریں کہ ہم بھی معاشرے کے عظیم انسان بنیں گے، ہم میں بھی انسانیت جاگ جائے اللہ تعالیٰ ہمیں بھی عمل کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین یا رب العالمین۔۔۔۔۔

    یہ ہی ذوقِ عبادت کی انتہا

    کہ غم کے ماروں کا احترام کرو
    ۔۔۔۔۔۔۔۔

    اچھی زبان تھوڑا سا وقت
    بقلم: ساجدہ بٹ
    (جہد مسلسل)

  • تربیت اولاد کے دو اصول..از..خواجہ مظہر صدیقی

    تربیت اولاد کے دو اصول..از..خواجہ مظہر صدیقی

    چند روز پہلے فیصل آباد کے ایک نجی سکول کی سالانہ پیرنٹس ٹیچرز میٹنگ میں میرا تربیت اولاد کے عنوان پر سیشن تھا. اس تقریب میں کچھ بچوں اور والدین کو ایوارڈز بھی دیے گئے تھے. ایک دراز قد، بہ ظاہر ان پڑھ خاتون کو "سال کی بہترین ماں” کا ایوارڈ دیا گیا.

    سیشن کے اختتام پر میں نے ایوارڈ حاصل کرنے والی ماں کو ڈھونڈنا شروع کیا. لیکن وہ سکول میں پڑھنے والے تینوں بچوں کو لے کر اپنے گھر واپس جلی گئی تھیں. میں نے پرنسپل صاحب سے اس خواہش کا اظہار کیا کہ اگر آپ کو اس خاتون کا گھر معلوم ہو تو میں آپ کے ساتھ جا کر کچھ دیر کے لیے اس ماں سے ملنا چاہتا ہوں.

    پرنسپل صاحب مجھے سکول سے بہت دور محلہ غلام آباد لے گئے. وہاں ایک معمولی سا گھر تھا. جو ایک کمرے پر ہی مشتمل تھا. چھوٹا سا برآمدہ اور اتنا ہی صحن تھا. بچے اور ان کی ماں گھر میں موجود تھے . وہاں جا کر معلوم ہوا کہ بچوں کا والد ایک فیکٹری میں مزدوری کرتا ہے. ان کے تین بیٹے ہیں اور بیٹی کوئی نہیں. ماں گھر میں رہ کر سلائی مشین پر لوگوں کے کپڑے سیتی ہے. اپنی محنت کی کمائی سے وہ بچوں کی سکول فیس ادا کرتی ہے. یہ صرف ماں کا ہی شوق تھا کہ بچے شہر کے اچھے سکول میں پڑھ رہے تھے. سکول انتظامیہ نے بچوں کے شوق اور تعلیمی رجحان کو دیکھ کر کچھ فیس کم بھی کر دی تھی.

    میری کھوجی طبیعت کو ایک دل چسپ سٹوری ملنے والی تھی. میں ہمیشہ اپنے ارد گرد بکھری کہانیوں کو ہی فوکس کرتا ہوں. ہمارے ارد گرد ایسے ہزاروں کردار موجود ہیں جنہیں رول ماڈل بنا کر آگے بڑھا جا سکتا ہے. زندگی ساز اور کردار ساز واقعات کی ہمارے ہاں کوئی کمی نہیں، بس دیکھنے والی آنکھ اور محسوس کرنے والے دل کی کمی ہے.

    میں نے پرنسپل صاحب کی اجازت سے اس خاتون سے پوچھا کہ آپ کو سال کی بہترین ماں کا ایوارڈ ملا ہے. اس ایوارڈ ملنے پر آپ کیا محسوس کر رہی ہیں ؟ وہ خاتون پر جوش اور پر اعتماد انداز میں بولیں، مجھے بہت خوشی ہو رہی ہے. پچھلے سال بھی مجھے ہی یہ ایوارڈ ملا تھا. کیوں کہ میرے بچے سکول سے ناغہ نہیں کرتے، صاف ستھرے یونیفارم میں سکول جاتے ہیں. ان کی لکھائی بہت خوب صورت ہے. ان کا ہوم ورک مکمل ہوتا ہے. یاد کرنے کا سبق بھی ٹھیک طرح سے یاد کر کے جاتے ہیں. تینوں بچے ہر سال امتحانات میں فرسٹ پوزیشن بھی لیتے ہیں. خاتون کے بچے بلترتیب چھٹی، پانچویں اور چوتھی جماعتوں میں زیر تعلیم تھے.

    میں نے پوچھا، کیا بچے سکول کے بعد اکیڈمی پڑھنے جاتے ہیں؟، وہ خاتون جھٹ سے بولی. نہیں، میں نے انہیں کبھی بھی کسی اکیڈمی میں نہیں بھیجا. میں ان پڑھ ہوں لیکن میں نے دو اصولوں کو اپنی زندگی کا لازمہ بنا لیا ہے.

    پہلا اصول یہ ہے کہ میں گھر کے تمام ضروری اور بنیادی کام کپڑے دھونا، صفائی وغیرہ، کھانا پکانا، سلائی مشین پر کپڑے سینا اس وقت کرتی ہوں جب بچے سو رہے ہوں یا سکول گئے ہوں یا عصر کے بعد گراؤنڈ میں کھیلنے کے لیے گئے ہوں. میں اس دوران میں ہی سارے کام نمٹا لیتی ہوں . جب میرے بچے گھر آتے ہیں تو میں اپنی پوری توجہ ان کو دیتی ہوں. اس وقت گھر کا کوئی کام نہیں کرتی. میرے بچے ہوتے ہیں یا میں ان کا سایہ بن کر ان کے ساتھ ساتھ ہوتی ہوں.

    میں بڑی توجہ سے سادہ پنجابی لہجے کی اردو میں اس خاتون کی باتیں سن رہا تھا، جب وہ لمحے بھر کو رکیں تو میں نے پوچھا دوسرا اصول بھی بتا دیں . وہ ہلکی سی مسکراہٹ چہرے پہ سجاتے ہوئے بولیں، میرا دوسرا اصول یہ جیسے ہی میرے بچے مغرب کی نماز سے فارغ ہوتے ہیں. میں فرش پر چٹائی بچھا کر بیٹھ جاتی ہوں اور انہیں کہتی ہوں کہ اپنے اپنے سکول کے بستے لے آؤ. پھر میں ان میں سے ہر ایک سے اس کا سکول میں پڑھا جانے والا سبق سنتی ہوں.

    بچوں کی ماں کہتی ہے کہ مجھے کچھ سمجھ نہیں آتی. لیکن میرے بچے سمجھتے ہیں کہ میں پڑھی لکھی ہوں اور سب کچھ سمجھ رہی ہوں. میں ہر مضمون کا سبق تین بار پڑھنے کا کہتی ہوں. بچے سناتے ہوئے یاد کر لیتے ہیں. روز کا سبق روز یاد کرنے سے بچے امتحانات کے دنوں میں پریشان بھی نہیں ہوتے. انہیں پوری کتاب یاد ہو چکی ہوتی ہے. مغرب سے عشاء تک بچے بلا ناغہ میرے پاس بیٹھ کر پڑھتے ہیں. میں بھی روز کچھ نیا سیکھتی ہوں. اور میرے دل کو تسلی بھی ہو جاتی ہے کہ میرے تینوں بیٹوں نے اپنا سبق دہرا کر اپنے ذہنوں میں محفوظ کر لیا ہے.

    بات ختم ہو چکی تھی. میں وہاں سے واپس آتے ہوئے رستے میں یہ سوچ رہا تھا کہ ایک ان پڑھ ماں اپنے بچوں کو ملک و قوم کی خدمت کے لیے کس انداز میں تیار کر رہی تھی. وہ قابل تعریف ماں ہے. یقیناً یہی بچے ہمارے مستقبل کے معمار بنیں گے.

    ایک قابل رشک کہانی… تربیت اولاد کے دو اصول
    (خواجہ مظہر صدیقی)