Baaghi TV

Category: بلاگ

  • عیسائی کا جھوٹا برتن ، تحریر ابو بکر قدوسی

    عیسائی کا جھوٹا برتن ، تحریر ابو بکر قدوسی

    شاید بیس برس گذرے وہ کسی کتاب کے لیے میرے مکتبے پر آیا ، پڑھا لکھا عیسائی نوجوان تھا – مجھے یاد ہے اس کا نام یونس تھا – باتوں میں بات چلی اور چلتی گئی – جب میں نے اسے کھانے کی پیشکش کی تو وہ کچھ حیران سا ہو گیا ، آخر اسی حیرانی میں بول اٹھا کہ آپ میرے ساتھ کھانا کھائیں گے ؟
    میں ہنس دیا ” کیا آپ انسان نہیں ہیں ؟”
    ابھی دو دن پہلے جب اسی موضوع پر بات ہو رہی تھی تو برادر صغیر عمر فاروق قدوسی نے اپنا واقعہ سنایا – کچھ برس گزرے وہ لاہور میں فاطمہ میموریل ہسپتال میں موجود تھے ، اور وہاں پانی کا کولر نصب تھا – پانی پینے لگے تو ایک نوجوان جو ان سے پہلے پانی پینے کو موجود تھا ، جھجک کے پیچھے ہٹ گیا – عمر قدوسی نے کہا کہ پہلے آپ پی لیجئے ، آپ پہلے کھڑے تھے – اس پر اس نے ہولے سے کہا کہ آپ پہلے پی لیجئے …جب "پہلے آپ ، پہلے آپ ” کی تکرار ہوئی تو اس نے کہا :
    ” جی میں عیسائی ہوں ، آپ پی لیجئے ”
    اس پر عمر قدوسی نے وہی کہا جو میں نے بیس برس پہلے کہا تھا کہ کیا تم انسان نہیں ہو ؟
    اس نے کہا کہ:
    ” اصل میں لوگ اس بات سسے نفرت کرتے ہیں کہ اگر ہم پی لیں تو…شاید گلاس پلید ہو جاتا ہے ”
    …. اس پر عمر قدوسی بھائی نے اصرار کے ساتھ اس کو پہلے پانی پلایا ، بعد میں خود اسی برتن سے پی لیا ..اور کہا کہ ہمارے مذھب کا ایسا کوئی مسلہ نہیں ہے – ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیه وسلم کی یہ تعلیم بھی نہیں — آپ تو غیر مسلموں کے گھر کھانا کھانے بھی چلے جاتے تھے – اس کے چہرے پر حیرانی تھی ، کیونکہ اس کو ہم نے جو "اسلام” پہنچایا تھا ، وہ یہی تھا –
    یہ پہلو جس پر بہت سوچتا ہوں مگر عمدہ جواب کم ہی ملا ہے – وہ یہ ہے کہ کیا ہم نے پاکستان میں رہنے والے غیر مسلموں کو اسلام کے حقیقی چہرے سے روشناس کروایا ہے ؟؟
    اسلام کے اخلاقیات کبھی بیان کیے ہیں ؟
    جواب افسوس ناک ہی ہے -افسوس ہم نے تبلیغ نہ کی ، افسوس ہم نے خود ہی اسلام کے ساتھ وفا نہ کی –
    افسوس مگر یہ کہ ہم نے محبت سے دلوں کو جیتنے کی بجائے ان کے برتن الگ کر دیے ..یہ برتن الگ نہیں ہوئے دو تہذیبیں الگ الگ ہو گئیں …پھر یہ ہوا کہ وہ ہمارے ہو ہی نہ سکے – ہم نے اپنے دین کو خود تک محدود کر لیا – ایسا محدود کہ خود تو مسلمانوں کے گھر پیدا ہو گئے اور پیدا ہو کے دروازہ بند کر لیا ، کہ کوئی اور اندر نہ آ جائے …

  • خودی میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی ، تحریر جواد سعید

    خودی میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی ، تحریر جواد سعید

    زندگی میں آپکا سب سے بڑا حریف آپکی اپنی ذات ہے کہ جس کو جیتنا ۔یا صرف اس پر قابو پالینا بھی آپکو بلندیوں تک پہنچا دیتا ہے۔ اگر یہ حریف عروج نہ بھی دے پائے۔ تو کم از کم آپکو آپکے حالات پر خوش رکھنے میں ہمہ وقت مددگار رہے گا۔
    ایسا نہیں ہے کہ یہ حریف ہر دفعہ آپکو نقصان ہی پہنچائے۔بلکہ کبھی کبھار اکثر اوقات یہ حریف آپکو اپکے ساتھ آپکے مطابق کھڑا محسوس ہو گا اور یہ آپکو بلندیوں تک بھی پہنچا دے گا۔ مگر ہمیشہ کیلئے ساتھ کبھی نہی دے گا۔
    بڑی بڑی نعمتوں کے بعد بھی چاہے اپ پوری دنیا پر راج ہی کیوں نہ کر رہے ہوں۔ڈپریشن لالچ ناشکری احساس کمتری چڑچڑاپن جیسے ذہنی امراض سے واسطہ رہے گا۔

    اب اس حریفانہ ذات سے مراد کیا ہے۔؟؟؟
    آپکی تمام ذہنی دلی جسمانی خواہشات۔ اور انکے مثبت منفی افعال ۔جسے پوری دنیا میں صرف آپ جانتے ہوں۔اور اسکے معاون خاص مددگار اسکی اصلیت ۔راز نقص خوبیوں کمزوریوں کو بھی صرف آپ جانتے ہوں۔
    اسے عام طور پر انسانی حریف کہا جاتا ہے۔

    اب اس پر کنٹرول کیسے کیا جائے؟؟؟
    قارئین کرام یاد رکھئیے۔
    اگر یہ سب چیزیں خدا نے ہمارے ساتھ جوڑی ہیں تو انکو کنٹرول رکھنے کیلئے مضبوط تر لگام/تالا
    بھی اسلام ایمان کی صورت میں نازل فرمایا۔اور ساتھ ساتھ احکامات فرامین ہدایات بھی بھیج دیں کہ آپ لوگوں نے اپنے آپ کو استعمال کیسے کرنا ہے۔
    جیسے ایک معروف کمپنی اپنی پراڈکٹس پر ہدایت نامہ لکھ کر بھیجتی ہے۔اور انھی ہدایات کے مطابق استعمال کرنے کی شرائط پر ایک مختصر وقت کی گارنٹی دیتی ہے۔
    تو جس خدا نے ہمیں بنایا اسی نے ہمارے لئیے بعینیہ ہمارے مطابق طور طریقہ بنایا تاکہ ہم لوگ ان ہدایات پر عمل پیرا ہو کر اچھی طرح جی سکیں۔اور اگر ہم نہیں عمل کریں گے تو خداوندی گارنٹی ختم۔
    پھر فان معیشۃ ضنکا جیسی پیشنگوئی ہے
    جب تک ہم اسلام ایمان فرامین کو ترویج دیتے سامنے رکھتے ہوئے چلیں گے تو اپکی ذات کیا آپ پوری دنیا پر اپنا قابو دیکھیں گے۔
    نہیں تو وہی حال ہو گا جو اب کی صورتحال ہے۔
    باہر ممالک کو دیکھا جائے تو پورپی موٹیوشنل گروپس ہمارے ہی قواعد کو اپنا پھیلا کر دنیا میں ترقی کر رہے۔اور انکا کوئ بھی ایسا مجرب قاعدہ نہیں جو انسان کو انسان بنائے۔اور اسکا تذکرہ اسلام میں نہ ملتا ہو۔
    ہماری سب سے بڑی کمبختی قوانین خداوندی کو پس پشت ڈالنا ہے۔اگر آپ چاہتے ہیں کہ دنیا میں کامیاب مطمئن زندگی جیئیں۔ شاعر مشرق نے نے اس شعر سے قصہ محتصر کر دیا کہ
    خودی میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی
    نکل کر حلقہ شام و سحر سے جاوداں ہو جا

  • معصوم بچہ ویکسین نہ ملنے سے مر گیا لیکن بھٹو آج بھی زندہ ہے ۔۔۔

    معصوم بچہ ویکسین نہ ملنے سے مر گیا لیکن بھٹو آج بھی زندہ ہے ۔۔۔

    شکارپور کے گاؤں داؤد ابڑو کے رہائشی محنت کش صفدر ابڑو کا 10 سالہ بیٹا میر حسن ویکسین نہ ملنے پر کمشنر آفیس کے سامنے فرش پر تڑپ تڑپ کر زندگی کی بازی ہار گیا۔بچے کی موت پر غم سے نڈھال والد کا کہنا تھا کہ بچے کو شکارپور، سلطان کوٹ اور دیگر مقامات پر لے کر گئے لیکن داد رسی نہ ہو سکی۔ دوسری جانب اے آر وی سینٹر کے انچارج ڈاکٹر نور الدین قاضی کا کہنا تھا کہ شکارپور، جیکب آباد سمیت ڈویژن بھر میں ویکسین کی کمی ہے، ویکسین نہ ملنے سے مرض بگڑ چکا تھا اس نے اب دو دن ہی زندہ رہنا تھا کیوں کہ اس کا اثر10 سالہ میر حسن کے دماغ پر ہو چکا تھا۔

    ویسے تو دس سالہ میر حسن نے تو بڑے ہو کر بھی مر ہی جانا تھا . اسی لیے گزشتہ روز بلاول کو پریس کانفرنس میں خورشید شاہ کا رونا تو یاد رہا ۔ جمہوریت میں خطرے پڑ چکی ہے یہ بتانا تو یاد رہا ۔ مگر وہ یہ ضرور بھول گئے کہ ان کی اس لولی لنگڑی ، کرپٹ اور نکمی حکومت کی بدولت میر حسن جیسے بچوں کی زندگیا ں داو پر لگی ہوئی ہیں ۔ بلاول ہمیشہ بھول جاتے ہیں کہ سندھ میں ان کی بادشاہت دہائیوں سے چلتی آرہی اور اسی حکومت کی بدولت عوام کی زندگیاں خطرے میں ہیں ۔

    مزید پڑھیے : عثمان بزدار کے کارنامے ۔۔۔نوید شیخ

    لوگ کہتے ہیں کہ کیسا صوبہ اور کیسی حکومت ہے جہاں لوگ اس لئے مر جاتے ہیں کہ کتا کاٹ لے تو ہسپتالوں میں ویکسین نہیں ملتی۔ مگر لوگوں کو کیا پتہ جمہوریت کیا ہوتی ہے ۔ جمہوریت کے لیے قربانی دینی پڑتی ہے خون دینا پڑتا ہے ۔کل کو جب بلاول اس ملک کے وزیر اعظم بنیں گے تب عوام کو پتہ چلے گا کہ جمہوریت بہترین انتقام کیوں ہے ۔ سندھ میں لبرل سیکولر ترقی پسند پروگریسو پیپلزپارٹی کی دہاییوں سے حکومت ہے۔ مگر سندھ اور سندھیوں کے حالات زندگی بدلنے میں پیپلز پارٹی بری طرح ناکام رہی ہے ۔ مگر تمام جیالے لیڈروں نے اپنی قسمت ضرور بدل لی ہے ۔ شاید ہی کوئی وزیر ہو جس کی دبئی میں پراپرٹی نہ ہو ۔ شاید ہی کوئی وزیر ہو جس پر کرپشن کا الزام نہ ہو ۔ معذرت کے ساتھ جس طرح پیپلز پارٹی نے بھٹو کا نام زندہ رکھا ہوا ہے اس سے تو بہتر تھا بھٹو پیدا ہوتے ساتھ ہی مر جاتا ۔ کیونکہ تھر میں لوگ بھوک سے مر جاتے ہیں ۔ مگر بھٹو زندہ رہتا ہے ۔

    مزید بڑھیے: عمران خان پر چارج شیٹ ۔۔۔ نوید شیخ

    سندھ چاہے ایڈز زدہ ہو جائے مگر بھٹو اور بھٹو خاندان کو کچھ نہیں ہونا چاہیئے ۔ کیونکہ جمہوریت کے لیے بھٹو خاندان نے قربانیاں دیں ہیں ۔ یہ صرف ان کا ہی حق ہے کہ سندھ پر وہ حکومت کریں ۔ چاہیے سندھی سسک سسک کر مرجائیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ اب وہ وقت آن پہنچا ہے کہ اس ملک کو فیصلہ کرنا ہوگا ۔ کب تک بھٹو ، شریف ، زرداری ، فضل الرحمان ، اچکزئی ، باچا خان ، ان جاگیرداروں اور وڈیروں کی اولادوں کی غلامیاں کرتے رہیں گے ۔ ان غلامی کی زنجیروں کو توڑیں اور ان خاندانوں اور لیڈروں کو نشان عبرت بنا دیں ۔ سندھیوں اور اس ملک کی غریب عوام کے پاس اب صرف کھونے کے لیے غلامی کی زنجیریں باقی رہ گئیں ہیں ۔ یہ غلامی کی زنجیریں توڑیں ۔ اور اس اشرفیہ کو غارت کردیں ۔

    اپنی رائے دینے کے لیے ای میل کریں
    naveedsheikh123@hotmail.com

    یوٹیوب چینل سکرائب کریں

    https://www.youtube.com/c/superteamks

    فیس بک پروفائل

    https://www.facebook.com/sheikh.naveed.9

    ٹویٹر پر فالو کریں

     

     

  • میرے وطن تیری جنت میں آئیں گے ایک دن ، تحریر ساجدہ بٹ

    میرے وطن تیری جنت میں آئیں گے ایک دن ، تحریر ساجدہ بٹ

    کشمیر میں آج کرفیو لگے چھیالیس روز ہو چکے ظلم و بربریت کی انتہا ہو گئی ۔وہ جس وادی کو ہم جنت نظیر کہتے تھے- وہاں خون کی ندیاں بہتے آج کئی برس بیت گئے۔ہمارے مظلوم کشمیری بھائی اپنی آزادی کی جنگ اکیلے لڑ رہے ہیں۔ حق خوارادیت کے لیے جان دے رہے ہیں۔ہماری مائیں روز اپنے بیٹوں کو قربان کر رہی ہیں۔
    بھارت نے ظلم و ستم کی انتہا کردی ۔بھوک پیاس سے بلکتے کشمیری مدد کے لیے پکار رہے ہیں۔

    پچھلے 72 سال سے مسلسل آزادی کی جنگ لڑنے والوں کی آزادی کا وقت آ ہی گیا۔
    وہ مسلہ کشمیر جو اقوام متحدہ کے ٹیبل کے کسی دراز میں پڑا تھا ۔
    وہ جس کو قرار داد کے طور پر فائل سے نکال کے چائے کے ٹیبل پے رکھ کر ایک دفعہ اسپیکر میں پڑھ لیا گیا تھا۔
    اس مسلے کو پچھلے چھیالیس روز سے بھارت ہوا دے رہا ہے۔ اب اگر ہوا دے ہی دی گئی تو اب یہ طوفان تھمنے والا نہیں ۔

    اب تو پوری قوم بلکہ پوری دنیا سے اٹھنے والی ایک ہی آواز ہے کہ

    ایک نعرہ ایک آواز۔۔۔۔
    کشمیر بنے گا پاکستان۔۔۔
    کشمیر سے پنجاب تک ۔۔۔
    سب بنے گا پاکستان۔۔۔۔
    کشمیر بنے گا پاکستان۔۔۔

    اب ہم کیوں انتظار کریں کسی اور مسیحا کا؟؟؟
    کیوں انتظار کریں بڑی عالمی برادری کا؟؟؟

    ہم کمزور نہیں ۔۔۔۔
    اور جن کے ساتھ اللہ تبارک و تعالیٰ کی مدد و نصرت ساتھ ہو ۔۔۔
    وُہ کمزور ہو بھی کیسے سکتا ہے۔ہمیں بھروسہ ہے اپنی طاقت ور فوج پے ۔ہمیں بھروسہ ہے اپنے مجاہدوں پر۔۔۔
    وہ فوج جس نے بڑی عالمی طاقتوں کو شکست دی۔
    جو نا کسی سے ڈرنے والے نا کسی کے آگے جھکنے والے۔
    جن کی اڑان کو آج تک کوئی اور طاقت شکست نا دے پائی۔

    راستے کٹھن بھی ہوں تو سینہ تان کے چلتے ہیں

    ہماری عادت نہیں مشکل راستوں سے منہ موڑنا

    پوری دنیا سن لے کہ ہم ایسی بہادر نڈر فوج کے مالک ہیں جو پہلے کئی طوفانوں کا رخ موڑ چکی ہے۔
    اب بھارت کی باری ہے ۔بھارت سن لے کے ہم موت سے نہیں ڈرتے ۔۔۔پاک فوج کے جوان ہر پل جام شہادت کے لیے تیار ہیں۔ہمارے مجاہد تیار ہیں اب مرنا ہے یا مار دینا ہے۔

    اب ہمارے کشمیری مسلمان اکیلے نہیں اُن کے ساتھ پاکستان کی مصلح افواج کھڑی ہے۔
    پورا پاکستان کشمیر کے ساتھ کھڑا ہے۔
    اب اگر دنیا کی بڑی طاقتیں انڈیا کو نہیں روک سکتیں ۔تو ہم خود اب اس طوفان کا رُخ موڑیں گے۔
    اب وہ ہی طریقہ اپنائیں گے جس کی اجازت ہمارا مذہب ہمیں دیتا ہے
    جس کی اجازت ہمارا دین اسلام دیتا ہے۔
    جس کا حکم ہماری دو جہاں کی مقدس کتاب قرآن مجید میں ہے ۔
    ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ مظلوموں کی مددّ کرو۔۔۔

    اب ہمیں کسی اور کے حکم کا انتظار کرنے کی ضرورت ہی نہیں۔
    اب ہم جائیں گے کشمیر میں ۔۔۔۔جہاں ہماری مائیں بہنیں بیٹیاں اپنے بیٹوں کے لاشے اُٹھا رہی ہیں۔خون سے تر وادی ہمیں بولا رہی ہے کہ کوئی تو آئے ہمیں ان درندوں سے نجات دلائے۔۔

    اب ہماری حکومت کو چاہیے کہ اپنی فوج اور مجاہدوں کو اِک بار کشمیر کے لیے لڑنے کی اجازت دے۔
    پھر ہمیں کسی اور طاقت کی ضرورت نہیں کشمیر ان شاء اللہ آزاد ہو گا۔
    یہ خواب جلد پورا ہو گا
    ہمارے خواب کی تعبیر ہماری پاک فوج کی صورت میں آئے گی۔

    اور پھر کشمیر بنے گا پاکستان۔۔
    میرے وطن تیری جنت میں آئیں گے اک دن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  • "دو نہیں ایک پاکستان ” نعرے کی حقیقت کیا ؟ علی چاند

    "دو نہیں ایک پاکستان ” نعرے کی حقیقت کیا ؟ علی چاند

    حالیا الیکشن کے دوران حکمران جماعت نے جو نعرہ سب سے ذیادہ لگایا وہ تھا دو نہیں ایک پاکستان ۔ پاکستانی عوام نے پچھلے 70 سالوں میں صرف اور صرف نعرے ہی سنیں ہیں ۔ وہی سیاسی جماعتیں ، وہی چہرے ، وہی نعرے ہاں اگر ان میں کچھ نیا تھا تو وہ تھا یہ نعرہ کہ دو نہیں ایک پاکستان ۔ پاکستانی عوام یہ نعرہ سن کر یہ سمجھ بیٹھی تھی کہ شاید اب کی بار ہی ہماری قسمت بدل جاٸے ، شاید اب کی بار ہی ہمیں وہ حقوق مل جاٸیں جن پر برسوں سے ہمارا حق تھا ، شاید اب ہماری دعاٸیں رنگ لے آٸیں جو ہم برسوں سے اپنی غریبی اور بے روزگاری کے خاتمے کے لیے مانگ رہے تھے ۔ عوام تو سمجھ رہے تھے کہ شاید اب ہمارے وزیر اور مشیر ہمارے ساتھ عوامی گاڑیوں میں سفر کریں گے ، ان وزیروں کے بچے ہمارے بچوں کے ساتھ ایک ہی جگہ ، ایک ہی سکول ، ایک ہی نصاب ، ایک ہی طریقہ تدریس ، ایک ہی استاد سے تعلیم حاصل کریں گے ۔ لیکن کیا فرق آیا ابھی تک ۔ وہی جو کچھ پرانی حکومتوں میں حکمران اور وزیر مشیر کرتے تھے ۔ آج بھی غریب کا بچہ فرش پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کر رہا ہے بلکہ کچھ جگہوں پر تو فرش بھی میسر نہیں ۔ استاد کا دل کرے پڑھاٸے دل کرے تو نہ پڑھاٸے ۔ جبکہ امیر کا بچہ دنیا کا مہنگا ترین نصاب ، سکول اور جدید ترین طریقہ تدریس کے مطابق قابل اساتذہ کی زیر نگرانی تعلیم حاصل کر رہا ۔ امیر تو آج بھی اپنے علاج مہنگے ترین پراٸیویٹ اسپتالوں سے کرواتے ہیں جبکہ غریب کا بچہ آج بھی کتے کے کاٹے کی ویکسین نہ ہونے کی وجہ سے کمشنر آفس کے سامنے تڑپ تڑپ کر جان دے دیتا ہے ۔ کسی ایم پی اے یا ایم این اے نے آج بھی کسی سکول یا کالج کا دورہ کرنا ہو تو غریب کی بیٹیاں اب بھی گھنٹوں روڈز پر کھڑی ہوتی ہیں تاکہ ان عوامی نماٸیندوں کا استقبال بہترین طریقے سے کیا جاسکے۔ آج بھی بڑے بڑے چور ڈاکو مقدمات ہونے کے باوجود پروٹوکول کے ساتھ اسمبلی میں آتے ہیں ، آج بھی سرکاری خرچ پر علاج کروا رہے ہیں ، قوم کے پیسے سے عیاشیاں کر رہے ہیں جب کہ دوسری طرف صلاح الدین جیسے غریب کو تفتیش کے دوران ایسی اذیت ناک موت دی جاتی ہے کہ اللہ کی پناہ ۔ 500 روپے چوری کرنے والے کو تو مار مار کر قتل کر دیا جاتا ہے جبکہ قوم کا خون تک نچوڑ کر اپنی اولاد پر لٹا دینے والے کو جیلوں میں بھی عیاشیاں کرواٸی جا رہی ہیں ۔

    قصور کی زینب کو انصاف نہ مل سکا کیونکہ پاکستان میں امیر اور غریب کے لیے الگ الگ نظام تھے لیکن قصور کے بچے تو اب بھی زینب کی طرح دردناک موت کا سامنا کر رہے ہیں جن کا کوٸی پرسان حال نہیں ۔ ساہیوال جیسے واقعات جہاں فیڈر ہاتھوں میں پکڑے بچے دہشت گرد قرار دے دٸیے جاتے ہیں جن کے سامنے ان کے والدین کو شہید کر دیا جاتا ہے کیا انہیں انصاف مل پایا ؟ کیا صلاح الدین جیسے لوگوں کو انصاف مل پایا ؟ کیا اب عدالتی نظام ، سکول کا نظام ، پولیس کا نظام امیر اور غریب کے لیے ایک جیسا ہے ؟ کیا اب عام وزیر سے لے کر وزیر اعظم تک مدینہ کے سربراہ کی طرح زندگی گزار رہے ہیں ۔ کیا اب عوامی نماٸیندے عوام کے ساتھ سفر کرتے ہیں ؟ کیا وزیر اعظم پاکستان اب ایک مزدور کے برابر تنخواہ لیتا ہے ؟ کیا امیر اور غریب کے بچے کا معیار تعلیم ، معیار خوراک ، معیار ادویات ایک جیسا ہوگیا ہے ؟ کیا اب گستاخوں کو اسلامی شریعت کے مطابق سزاٸیں دی جاری ہیں یا پھر تحفظ دیا جارہا ہے ؟ کیا اب حکمرانوں کے بچے پاکستان میں ہی رہ کر یہی کے سرکاری سکولوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں ؟ کیا یہ عوامی نماٸیندے اب عوام کی طرح سرکاری ہسپتالوں میں دھکے کھا کر ہی اپنا علاج کرواتے ہیں ؟ قصور وار کون ؟ ہم ہیں قصور وار ۔ ہاں ہم عوام ہی قصور وار ہیں کیونکہ ہم شخصیت پرست ہے دو دو چار چار سو میں پرچی بیچ دینے والی عوام ، دو دو چار چار سو کے لیے اپنا ضمیر بیچ دینی والی قوم ، اپنی زبان ، اپنی ٹویٹ ، اپنی پوسٹ بیچ دینے والی عوام ۔ جنہوں نے کبھی ان عوامی نماٸیندوں ، ان وزیروں مشیروں کا گریبان نہیں پکڑا ، ان سے سوال پوچھنا تو دور جو سوال پوچھے اسے ہم بیچ چوراہے ایسا ذلیل و رسوا کرتے ہیں کہ وہ انسان دوبارہ کسی حکمران سے سوال پوچھنے کی غلطی نہیں کرتا ۔

    اللہ کرے کہ کبھی ان شہدا کا پاکیزہ خون رنگ لے آٸے جنہوں نے پاکستان بنانے سے لے کر اب تک اس پاک دھرتی کے لیے قربانیاں دی ہیں ، جانیں لٹاٸی ہیں تاکہ یہ پاک وطن حقیقی معنوں میں اسلامی ریاست بن سکے ۔ آمین

  • پاکستان میں اقلیتوں پر ہونے والے مظالم کا زمہ دار کون ؟  تحریر فرحان شبیر

    پاکستان میں اقلیتوں پر ہونے والے مظالم کا زمہ دار کون ؟ تحریر فرحان شبیر

    اقلیتوں کے ساتھ افسوسناک واقعات کے بعد نیپال سے دانشوڑوں کی واپسی کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے ۔ ماضی کے مسلم حکمرانوں کو ایک کوسنے اور عربی تہذیب کو لعن طعن زوروں سے جاری ہے ۔ اقلیتوں کے ساتھ ہونے والے واقعات کو اسلام سے جوڑ کر پوری پاکستانی قوم کو شرمندہ کیا جارہا ہے ۔ ابدالی ، محمد بن قاسم اور غزنوی کی اولاد ہونے کے طعنے دئیے جارہے ہیں ۔ ہندوستان میں تو یہ سلسلہ ہندو توا کے پرچارکوں کی طرف سے صدیوں سے جاری ہے ۔ سلطان ٹیپو کے خلاف مراٹھوں کی لڑائی سے لیکر تحریک پاکستان اور پاکستان بننے کے بعد سے لیکر اب تک ۔ ہندو توا کے اسیر کٹر ہندو ہوں یا بھارت کے سیکولر سب ہی یک زبان ہو کر برصغیر پر حکمران رہنے والوں کو عرب ، افغان حملہ آور لٹیرے گردانتے ہیں جنہوں نے یہاں کے باسیوں پر ایک غیر ملکی تہذیب ایک غیر ملکی زبان اور غیر ملکی مذہب نافذ کیا ۔

    ہمارے لبرل سیکولر احباب کے نزدیک باہر سے آنے والے مسلم حکمران تو یہاں کے لوگوں کے بادشاہ بن بیٹھے لیکن جو راجے مہاراجے جو یہاں راجے بنے بیٹھے تھے وہ شاید کسی انتخاب میں الیکشن جیت کر آئے تھےاور یہاں پر کوئی بڑا ہی برابری اور احترام آدمیت پر مبنی نظام تھا جسے مسلمانوں نے عربی تہذیب لاد کر الٹ پلٹ کر دیا ۔ ارے بھائی وہ بھی تو طاقت کے زور پر راجے مہاراجے بنے بیٹھے تھے کیا انکے دور میں راجہ بھوج اور گنگو تیلی ایک ہی پلیٹ میں کھانا کھاتے تھے ۔ یہاں پر تو عوام ہندو برہمنوں کے خود ساختہ Cast سسٹم کا شکار تھے ۔ انسان انسانیت کے مقام سے گر کر گائے ماتا کا پیشاب پیتا تھا اور آج بھی پیتا ہے ۔

    میں تو شکر ادا کرتا ہوں کہ اسلام یہاں آیا اور آج خدا نے کسی گائے کا موتر پینے والے گھر میں پیدا نہیں کیا ۔ یہ کسی کی دل آزاری نہیں بلکہ ایک حقیقت کا بیان ہے ۔ یہاں بیوہ کو مرنے والے کے ساتھ جلا کر مار دیا جاتا تھا ۔ یہاں شودر کے گھر پیدا ہونے والا ساری زندگی ناپاک ، ملیچھ اور کمتر سمجھا جاتا تھا ۔ اسلام نے یہاں کے لوگوں کو ایک متبادل فراہم کیا ۔ کہ جو اس کمیونٹی میں شامل ہوگیا وہ ابن آدم ہونے کی جہت سے واجب التکریم ہے اور سب ابن آدم ایک برابر ہیں ۔ کسی کو کسی پر کوئی فضیلت نہیں ۔ دانشوڑ کہتے ہیں کہ مسلمانوں نے یہاں اپنا مذہب ٹھونسا جبکہ ہم سمجھتے ہیں کہ میرے دین نے یہاں کے اچھوتوں کو کاسٹ سسٹم کے گرداب سے نکال کر ایک ہی جھٹکے میں سب کے برابر کھڑا کردیا ۔

    یاروں سے التماس ہے کہ اقلیتوں کے ساتھ ہمدردی کی آڑ میں پورے پاکستانیوں اور اسلام پر شدت پسندی کا لیبل نہ لگائیں ۔ اس خطے کے اندر پاکستان میں موجود ہندوں کے مندر ، سکھوں کے گردوارے ، عیسائیوں کے چرچ ، بدھا کے مجسمے اور دیگر مذہبی مقامات کوئی آج سے نہیں سینکڑوں ہزاروں سال سے ہیں ۔ بلوچستان میں دور پہاڑوں میں واقع تین ہزار سال پہلے کا ہنگلاج دیوی کا مندر ہو یا چکوال میں کٹاس راج ، سکھر کا سادھو بیلہ ہو یا کراچی کا شیو نرائن صدیوں پرانے ہیں ۔ سکھوں کے گردوارے اور عیسائیوں کے چرچ پانچ سو سال سے تین سو سالوں تک کی ہسٹری رکھتے ہیں ۔ مسلم حکمرانوں کو تو چھوڑئیے جنہوں نے یاروں کے بقول یہاں لوٹ مار کی لیکن خود پاکستان کی ستر سال کی تاریخ گواہ ہے کہ ہمارے ہاں آج تک اقلیتوں کے مذہبی مقامات کو کوئی بڑے پیمانے پر ، ریاستی سطح پر طویل عرصے تک نہ کوئی نقصان پہنچایا گیا نہ ایسی سوچ کی کبھی کسی نے پذیرائی کی بلکہ ہمیشہ رد کیا گیا ہے

    بحیثیت مجموعی پاکستانی قوم کے ہاتھوں اقلیتوں یا انکی عبادت گاہوں کو بحیثیت مجموعی نقصان نہیں پہنچا ۔ ننکانہ صاحب میں گرو نانک کی جنم بھومی چلے جائیں یا بلوچستان کے پہاڑوں میں ہنگلاج دیوی کے مندر کے ساتھ مقیم دو ڈھائی سو لوگوں پر مشتمل ہندو اکثریتی ٹاون کے باسیوں کے پاس بیٹھیں خدا کا شکر ہے کہ کہیں بھی اقلیتوں کے سر پر ہر وقت کے خوف کا عالم کبھی طاری نہیں ہوا اور نہ اب ہے ۔ لاہور شہر میں بیسیوں اداروں میں کرسچین اور کراچی میں صدر اور آس پاس کی دفاتر میں کئی ہندو برادری کے افراد ملسمانوں کے ساتھ ہی کام کرتے ہیں کھاتے پیتے بھی ہیں ۔ میرے دوست کے دفتر میں پیون ہندو لڑکا مکیش تھا ہم سب اسکے ہاتھ کا لگایا ہوا کھانا اور بنائی ہوئی چھائے مزے سے کھاتے پیتے تھے اور وہ بھی ساتھ ٹیبل پر ہی بیٹھا ہوتا تھا ۔ ایسی کئی مثالیں آپ سب کے سامنے بھی ہونگی ۔

    بھارت کی میجورٹی اگر اسی پر یقین رکھتی ہے کہ مسلمان دوسرے مذاہب سے نفرت کرتے ہیں تو اس میں حیرت نہیں انکی معاشرت اور سیاست کا تقاضہ ہی یہی ہے لیکن یہ ہمارے نیپال کے دانشوڑوں کی سمجھ داری سمجھ نہیں آتی ۔ مثلا گھوٹکی میں ہندو برادری کے مندر پر توڑ پھوڑ کے بعد جس طرح پورے علاقے نے پہرہ دیا اور اقلیتوں کو تسلی دی اسے ایک ایسے عمل سے بھی تشبیہ دی جیسے کوئی پہلی دفعہ پاکستان میں کسی نے گلے لگایا ہے اور اس سے پہلے پاکستانی مندروں کے باہر سوٹے اور ڈنڈے لیکر کھڑے ہوتے تھے کہ سب کو زبردستی کلمہ پڑھواکر چھوڑیں گے ۔ پھر کبھی یہ بھی سوچنے کی کوشش نہیں کی جاتی کہ کچھ واقعات کی ٹائمنگ بڑی عجیب ہوتی ہے ۔

    کشمیر میں مسلم بچیوں کے ریپ کے واقعات جب شروع ہوئے پاکستان میں قصور میں بچوں کی ویڈیو اسکینڈل کا معاملہ آگیا ۔ ادھر پاکستان دنیا بھر میں اقلیتوں کے ساتھ بھارتی مظالم کا رونا رو رہا ہے ادھر خود پاکستان میں گھوٹکی کا واقعہ ہوجاتا ہے ۔ قصور میں پھر بچوں کے ریپ کی خبریں اور لاڑکانہ سے ہندو لڑکی کا پراسرار قتل سارے دنیا کے میڈیا کی اٹینشن لے جاتا ہے ۔ اب جہاں آپکا وزیر کشمیر سمیت پورے بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ ہندو توا کے علمبردار نریندر مودی اور امیت کا ظلم گنوائے گا وہیں وہیں مودی پاکستان سے آنے والی ان خبروں کو بنیاد بنا کر پاکستان کا مقدمہ کمزور کریگا ۔

    ہمیں یہ تو بتایا جاتا ہے کہ مسلم حکمرانوں نے برصغیر کو لوٹا لیکن یہ نہیں بتایا جاتا کہ مسلم حکمران یہ لوٹا ہے ہوا مال لیکر کہاں گئے ۔ مکہ ؟ مدینہ ؟ ایران ؟ یا بابر کے آبائی وطن فرغانہ ؟ تاریخ تو یہی بتاتی ہے مسلم حکمرانوں کی اکثریت یہیں کی ہورہی اور یہاں کا پیسہ بھی یہیں رہا اور یہاں کے انفراسکٹچر پر لگا ۔ لیکن جو حال نیشن شیمنگ کے پراپیگنڈہ نے جاپانیوں کا اور جرمنز کا کیا وہی حال اس نیشن شیمنگ نے پوری مسلم ورلڈ کا اور برصغیر کے مسلمانوں کا بھی کیا اور اس میں غیروں کے ساتھ ساتھ ہمارے سو کالڈ لبرل سیکولر اور ماضی کے کمیونزم و سوشلزم کے پرچار دانشوڑوں کا بھی بڑا گہرا کردار ہے ۔ جیسے کسی انسان کو مایوس کرنا ہو تو اسے Body shaming میں ڈال دو ویسے ہی ان مہربانوں نے ہماری پوری قوم کو ہی Nation shaming میں ڈالا ہوا ہے

    یار لوگ یہ تو بتاتے ہیں کہ مسلم حکمرانوں نے برصغیر کو لوٹا مگر یہ نہیں بتاتا کہ پھر اس لوٹ کھسوٹ میں خود ہندو کیسے شامل ہوگئے ۔ مثلا بابر سے اورنگ زیب عالمگیر تک کے 6 Great Mughals حکمرانوں میں تیسرے نمبر والے جس اکبر اعظم کے دور میں برصغیر پھلا پھولا ، اسی اکبر اعظم کے 9 رتنوں( یہ اکبر کے خاص مشیر تھے ۔ Nine jewels ) میں سے 4 ہندو تھے ۔ راجہ مان اسکا آرمی چیف ، راجہ ٹوڈرمل فنانس کا منتظم تھا جبکہ تان سین اور ۔۔۔ بھی ہندو تھے ۔ یعنی لوٹنے والے مسلمان اکبر کا چیف آف آرمی بھی ہندو اور معیشت کا انتظام یعنی عوام سے لگان یا ٹیکس لینے کا منتظم بھی ہندو ۔ دانشوڑوں سے سوال ہے کہ یہ کیسی لوٹ مار تھی بھائی ؟

    "مسلمان” بابر آیا تو ” ہندو "رانا سانگا ساتھ ملکر لڑا "مسلمان” ابراہیم لودھی کے خلاف ۔ مسلمان کو ہرا کر ہندو کو ساتھ ملا کر مسلمان بابر نے یہاں کے باسیوں پر حکومت کی ۔ بابر کے بعد ہمایوں ، ہمایوں کے بعد اکبر ، اکبر کے بعد جہانگیر، جہانگیر کے بعد شاہ جہاں اور شاہ جہاں کے بعد اورنگ زیب عالمگیر نے تو 49 سال حکومت کی ۔ 49 سال کوئی کم عرصہ نہیں ہوتا ، یعنی آدھی صدی ۔ اورنگ زیب عالمگیر کی اسلام پسندانہ طبیعت تو ہمارے دانشوڑوں کو بہت چبھتی ہے لیکن دانشوڑ یہ نہیں بتاتے کہ اورنگ زیب عالمگیر کا آرمی چیف بھی ایک ہندو ہی تھا ۔ راجہ جے سنگھ ۔ تو یہ کیسی لوٹ مار تھی بھائی ؟
    مغل سلسلہ کے بانی ظہیر الدین بابر اگر فرغانہ سے اٹھ کر دہلی میں آبسا تو اسی کے پوتے جلال الدین اکبر نے اس برصغیر کو دنیا کی تیسری بڑی دفاعی اور معاشی طاقت بنا دیا ۔ اسی اکبر کے بیٹے جہانگیر اور پوتے شاہ جہاں نے برصغیر کو آرٹ اور کلچر دیا ۔ دنیا کو سول اینجینئرنگ اور آرکیٹیکٹ کا ایک شاہکار ، ایک عجوبہ ” تاج محل ” دیا ۔ ہمارے مختلف شہروں اور پہاڑوں میں بنے قلعہ روہتاس ، لاہور کا قلعہ ، قلعہ بالا حصار ، سندھ کے بے شمار قلعے باہر سے آنے والوں کی اولادوں نے اسی سرزمین پر بنائے اور یہ آج بھی یہیں ہیں ۔

    ایک اور شخصیت محمود غزنوی کی ہے کہ جی غزنی سے آیا سومنات کا مندر لوٹا ۔ کوئی یہ نہیں سوچتا کہ محمود غزنوی ، غزنی سے بامیان ، بامیان سے پنجاب میں ملتان اور پھر یہاں سے سومنات گیا ۔ یہ پورا راستہ پانچ ہزار کلومیٹر بنتا ہے ۔ اس میں دو ہزار کلومیٹر تو ہندو مذہب کے ماننے والوں کی اکثریت پر مشتمل علاقہ تھا ۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ محمود نے پانچ ہزار کلومیٹر میں آنے والے بامیان میں بدھا کے مجسموں کو بھی نہیں چھیڑا بیچ میں دو ہزار کلومیٹر کی ہندو بیلٹ پر کسی اور مندر کو نہیں توڑا سوائے سومنات کے ۔ اگر محمود کا مقصد ہندو یا دیگر مذاہب کو نیچا دکھانا تھا تو بامیان میں بدھا کے مجسمے بھی نہیں بچتے اور بیچ کے راستے میں آنے والے مندر ۔ سومنات کا معاملہ بھی ایسا ہی تھا جیسا دیگر راجوں مہاراجوں کے درمیان لگان اور ٹیکس وصولی کا تھا ۔ مثلا اورنگ زیب کے دور میں ایک مسلمان راجہ عبدالحسن تانہ شاہ نے لگان کا پیسہ دینے میں تین سال تک ٹال مول کی ۔ اورنگزیب نے بھائی کو بھیجا ۔ پتہ چلا فصلیں تو بہت ہوئیں پر تانہ شاہ بہانے کرتا آرہا تھا اور لوگوں سے ٹیکس لینے کے باوجود مرکز کو بھیجنے کے بجائے ایک مسجد میں چھپائے بیٹھا تھا ۔ اورنگ زیب کے بھائی نے اس مسجد کو منہدم کرکے چھپا ہو پیسہ نکالا اور مرکز کو دیا ۔

    اس کوئی دو رائے نہیں کہ جس طرح گھوٹکی کے واقعے کے بعد اہل علاقہ کا مندر کی حفاظت کے لئیے جمع ہونا یہ ثابت کرتا ہے کہ ہم پاکستانی اور مسلمان بحیثیت مجموعی اقلیتوں کے ساتھ غلط سلوک رکھنے کو اچھا نہیں سمجھتے ، اور ہمارے ہاں کی میجورٹی کسی اقلیتی برادری کے فرد کو مسلمان بنانے کے لئیے شمشیر بکف نہیں پھرتی ( پہلے میجورٹی خود تو ڈھنگ سے مسلمان ہوجائے ) بالکل اسی طرح اس طرح کے افسوسناک واقعات کا رو نما ہونا یہ ثابت کرتا ہے چاہے تعداد میں کم کیوں نہ ہوں ایسے لوگ موجود ہیں جو اقلیتوں کے ساتھ کسی بھی بات کا بتنگڑ بنا کر اقلیتوں کو نقصان پہنچانے اور پوری قوم کا چہرہ داغدار کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں ۔

    اس کا کوئی انکار نہیں کہ دین کے ضمن میں متشدد نظریات رکھنے والے بھی اسی معاشرے میں پائے جاتے ہیں اور یہ ہمارے علما اور پڑھے لکھے طبقے کا کام ہے وہ اپنے اپنے حلقوں میں قرآن کے اس حکم کی شد و مد سے ترویج کریں کہ دین کے معاملے میں کسی بھی جبر اور اکراہ سے کا لینا احکام خداوندی کا انکار ہے نہ کہ ثواب کا ۔ اور پھر قرآن کریم میں تو اقلیتوں کے مندر ، گرجے، صعوموں اور عبادت گاہوں کی حفاظت کے لئیے جان تک دے دینے کے واضح احکامات ہیں ۔ مومنین کا فریضہ ہے کہ کسی بھی خبر کی پہلے تصدیق کریں پھر اس پر یقین کریں جو تصدیق کے بغیر یقین کر لے وہ مومن نہیں ہے خدا کی نظر میں ۔ مولوی صاحبان سے التماس ہے کہ اس طرح کسی کو کلمہ پڑھوانا دین کی خدمت نہیں دشمنی ہے اور دانشوڑوں سے التماس ہے تاریخ کا مطالعہ بالغ نظری سے کریں نہ کہ دوسری کی لگائی ہوئی عینکیں لگا کر ۔ کیوں کہ پھر وہی بات آجاتی ہے کہ
    بیاں میں نکتہ توحید آ تو سکتا ہے
    تیرے دماغ میں بت خانہ ہو تو کیا کہئیے

  • ابصار عالم کا پیمرا کو بڑا نقصان… تفصیل جانیے!!! تحریر: حجاب رندھاوا

    ابصار عالم کا پیمرا کو بڑا نقصان… تفصیل جانیے!!! تحریر: حجاب رندھاوا

    ‏سابق چیئرمین پیمرا ابصار عالم نے خلاف ضابطہ سرکاری گاڑی استعمال کی..اتھارٹی کو ایک ملین روپے سے زیادہ کا نقصان پہنچایا گیا
    آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے ریکوری کی سفارش کردی

    بچپن میں کہانی سنتے تھے کہ بادشاہ اپنے قصیدہ گو سے خوش ہوے اور انعام کے طور پر اس ہیرے اور جواہرات سے نوازا
    اج کل چونکہ جدید دور ہے ہیرے جواہرات نے بھی جدیدیت اختیار کر لی ہے اج جب بادشاہ اپنے قصیدہ گو سے خوش ہوتا ہے تو کسی کو چیئرمین پی ٹی وی، کسی کو چیئرمین پی ٹی اے، کسی کو چیئرمین پیمرا لگا دیتا ہے
    ایسا ہی جناب نوازشریف نے کیا

    سابق وزیر اعظم نواز شریف نے ابصار عالم کو چیئر مین پیمرا تعینات کیا تھا
    ابصار عالم کی تعیناتی کو سپریم کورٹ نے بھی کالعدم قرار دیا تھا کیونکہ ابصار عالم چیئرمین پیمرا کیلئے مطلوبہ معیار اور مطلوبہ تعلیمی قابلیت پر پورا نہیں اترتے تھے جبکہ نواز شریف حکومت نے ابصار عالم کو قواعد کے برعکس اہم عہدے پر تعینات کیا تھا
    ابصار عالم کی تقرری کے لیے 2 بار اخبارات میں اشتہار دیکر رولز اینڈ ریگولیشن ظاہر کرنے کی کوشش کی گئ ، وہ پہلے اشتہار کے تعلیمی معیار پر پورا نہ اترے تو دوسری بار کم اہلیت کا اشتہار جاری کیا گیا
    آج کل کانسٹیبل کی بھرتی کے لئے بی اے کی شرط ہے، جس کی تنخواہ چند ہزار ہوتی ہے،
    مگر اسی بی اے کی ڈگری پر ابصار عالم 33 لاکھ ماہانہ کا مراعات یافتہ پیکیج لیتے رہے جس میں سے ہر ماہ تنخواہ سولہ لاکھ روپے تھی جبکہ دیگر مراعات جس میں گھر ‘ ڈرائیور‘، گاڑی، ٹی اے ڈی اے‘ کلب ممبر شپ کارڈ وغیرہ ملا کر 33 لاکھ کا پیکیج تھا ۔ ابصار عالم چیئرمین پیمرا بننے سے قبل نواز شریف خاندان کی جی حضوری میں مصروف رہتے تھے بالخصوص اسحاق ڈار اور شریف خاندان کی خوشنودگی حاصل کرنے کیلئے ٹی وی پروگراموں میں ان کے حق میں پروپیگنڈا کرنے میں مصروف رہتے تھے جس کی وجہ سے انھیں نوازا گیا
    یہ بہت آزمودہ بات ہے کہ جو لوگ بادشاہ کی طرف سے نوازے جائیں، وہ شاہ سے زیادہ شاہ کی وفاداری میں آگے چلے جاتے ہیں، اس کا بادشاہ کو نقصان تو ہوتا ہے، فائدہ بالکل نہیں ہوتا۔ ابصار عالم نے اپنے دور میں ذاتی لڑائیاں بھی لڑیں اور ان لڑائیوں کا نزلہ اُن پر کم اور نواز حکومت پر زیادہ گرا۔
    پیمرا کا کام چینلوں کو ضابطۂ اخلاق کے دائرے میں رکھنا ہے، لیکن ابصار عالم کا کام نوازشریف کے خلاف اٹھنے والی آوازوں پہ پابندیاں لگانا ہوتا تھا
    ابصار عالم ایک طرف حکومت اور نواز شریف کے خلاف پروگراموں پر گرفت کرتے رہے اور دوسری طرف انہوں نے عدلیہ کے خلاف وزیروں کی پریس کانفرنسیں ٹیلی کاسٹ ہونے دیں۔

    گویا پیمرا ان حالات میں ایک پارٹی بن گیا تھا ریاستی اداروں میں اپنے چہیتوں کو بٹھا کر انہوں نے اپنی طرزِ حکمرانی کے بارے میں جو منفی ردِ عمل پیدا کیا اس کا نقصان تو انھوں نے خود اٹھایا لیکن جو نقصان نوازشریف کے قاسمی اور ابصار عالم جیسے قیصدہ گو نے اداروں کو پہنچایا اس کی بھرپائی ان سے وصولی کے زریعے ممکن ہے

  • سکول اوقات کار تبدیل ، کب سکول کھلیں گے اور کب ہوں گے بند ، تفصیلات آگئیں‌

    سکول اوقات کار تبدیل ، کب سکول کھلیں گے اور کب ہوں گے بند ، تفصیلات آگئیں‌

    لاہور : ضلع لاہور کے سرکاری سکولوں کے اوقات کار کا شیڈول آگیا ، اطلاعات کےمطابق ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی لاہور نے ڈبل شفٹ سکولوں کے اوقات کار تبدیل کردیئے، اس حوالے سے نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ۔

    جاری کردہ نئے ٹائم ٹیبل کے مطابق جمعہ کے روز سکینڈ شفٹ میں سکول سوا 2 بجے لگے گا جبکہ چھٹی پونے 6 بجے ہوا کرے گی، اوقات کار میں تبدیلی اساتذہ اور طلبا کے نماز جمعہ کی ادائیگی کیلئے کی گئی ہے۔

    ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی کے مطابق مارننگ شفٹ میں سکول روزانہ کی بنیاد پر 7 بجے لگے گا چھٹی 12 بجے ہوگی، سکینڈ شفٹ میں سکول جمعہ کے علاوہ روزانہ کی بنیاد پر ساڑھے بارہ بجے لگے گا اور چھٹی ساڑھے پانچ بجے ہوا کرے گی۔

    سرکاری سکولوں میں پرانے اوقات کار میں تبدیلی پنجاب ٹیچرز یونین کے جنرل سیکرٹری رانا لیاقت علی کی جانب سے نماز جمعہ کی ادائیگی کیلئے اتھارٹی کو جمع کرائی جانیوالی درخواست پر کی گئی ہے۔یہ اوقات فی الفور قابل عمل ہوں گے

  • 1500 روپے ماہانہ الاونس کا اعلان ، آئی ٹی اساتذہ کی موجیں ہوگئیں

    1500 روپے ماہانہ الاونس کا اعلان ، آئی ٹی اساتذہ کی موجیں ہوگئیں

    لاہور : پنجاب کے آئی ٹی اساتذہ کا دیرینہ مطالبہ مان لیا گیا ، قائم مقام سیکرٹری سکول شان الحق نے آئی ٹی اساتذہ کو 1500 روپے ماہانہ خصوصی الاؤنس دینے پر اصولی اتفاق کر لیا گیا۔

    جس سے میں محبت کرتی ہوں‌ وہ کسی اور سے محبت کرتا ہے ،جیسے محبوب خوش ویسے محبوبہ خوش ، صبا قمر کی محبت بھری کہانی صبا کی زبانی

    ذرائع کے مطابق اس حوالے سے پنجاب آئی ٹی ٹیچرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین محمد عقیل آزاد نے کمیٹی روم میں وفد کے ہمراہ قائم مقام سیکرٹری سکول شان الحق سے مذاکرات کیے، مذاکرات میں آئی ٹی اساتذہ کو 1500 روپے ماہانہ آئی ٹی الاؤنس دینے پر اصولی اتفاق کرلیا گیا۔

    چیئرمین محمد عقیل آزاد نے اس موقع پر بتایاکہ ہائر سیکنڈری سکولز میں آئی ٹی ماہر مضمون کی آسامیاں تخلیق کی جائیگی، ان کا کہنا تھاکہ آئی ٹی اساتذہ کی غیر تدریسی ڈیوٹیاں ختم اور ایلیمنٹری آئی ٹی ٹیچرز کو آئی ٹی ایس ایس ٹی پروموٹ کرنے کیلئے ان سروس کوٹہ مختص کیا جائے گا۔

  • پلاسٹک بیگز سے چھٹکارہ کس صورت ممکن ہے!!! تحریر:  نعمان علی ہاشم

    پلاسٹک بیگز سے چھٹکارہ کس صورت ممکن ہے!!! تحریر: نعمان علی ہاشم

    قارئین کرام ہم نے جس دور میں ہوش سنبھالا وہ دور کپڑے کے تھیلوں کا آخری دور تھا. کانچ کی پراڈکٹ پلاسٹک میں تبدیل ہو رہی تھیں. مٹی اور چینی کے برتنوں کی جگہ میلامائن کے برتن لے رہے تھے. ابتدائی زمانے میں ہم نے اسے نعمت جانا، برتنوں کے وزن سے جان چھوٹی، کپڑے کے تھیلے کی جگہ شاپر آیا. مجھے یاد ہے جب نئے نئے گوجرانوالہ شفٹ ہوئے تو شاپر میں دودھ دیکھ کر بڑی حیرت ہوتی. کیونکہ ہمارا عقیدہ بن چکا تھا کہ دودھ ڈول میں لایا جاتا اور پتیلی میں اوبالا جاتا ہے. دہی جمانے کے لیے مٹی کی چاٹی یا سلور کی گاگر ہوتی تھی. دیکھتے ہی دیکھتے مٹی کے کنڈوں کی جگہ سٹیل نے لے لی.. فریج کی بہتات ہوئی تو مٹی کے گھڑے گئے اور پلاسٹک کی بوتلوں میں پانی یخ کیا جانے لگا. دیکھتے ہی دیکھتے پانچ سات سالوں میں ایک پوری ثقافت کو لپیٹ کر ہم نے جدت سے لعنت خاص اٹھا کر منہ پر مل لی..

    .
    ماضی کے ایک واقعے کو یاد کروا کر بات آگے چلاتے ہیں.. ماضی میں پہلے تمباکو اور چائے کو عام کیا گیا. اور جب لوگ عادی ہونے لگے تو ان کے مضمرات سامنے آنے لگے.
    .
    پلاسٹک پراڈکٹس کے چند سالہ استعمال کے بعد جب لوگوں میں یہ چیز سرایت کر گئی تو اس کے مضمرات عوام کے سامنے لائے جانے لگے. میڈیا کی آزادی کے بعد ہمیں اسی کے توسط سے معلوم ہوا کہ یہ پراڈکٹس ہماری صحت کے لیے کس قدر نقصان دہ ہیں. مگر زہر رگوں سرایت کر چکا تھا. اب ہم اس سے جان چھڑوانے سے رہے. اور ظاہری سے بات ہے کہ جب انسان رنج میں راحت محسوس کرنے لگے تو اسے خوشی کی حاجت ہی کیا؟
    یہ تو ہو گئی تمہید. اب چلیے زرا مدعے پر.. ہم پچھلے پانچ سال سے اکثر و بیشتر جگہ اس بات کا اظہار کرتے رہے کہ اس پلاسٹک کو ختم ہونا چاہیے، یہ زندگی نگل رہا ہے. اور اس میں کوئی دو رائے بھی نہیں. ماضی میں بھی حال کی طرح کوششیں ہوتی رہیں مگر کچھ عرصہ بعد یہ شور ختم ہوتا اور پلاسٹک ہماری زندگیوں میں زندگیاں تباہ کرنے کے لیے چلتا رہا.
    خیر حالیہ چند دنوں کے اقدامات دیکھ کر میں نے مناسب سمجھا کہ آپ لوگوں کو اس مسئلے کی سنگینی سے آگاہ کر دوں.
    یہاں یہ بات یاد رکھیں کہ آپ گراونڈ سیٹ کیے بغیر شریعت بھی نافذ کریں گے تو نقصان آپکا ہی ہوگا. اس کے لیے لازم ہے قوم کی اخلاقی و اسلامی تربیت، جمہور کا صالح ہونا، گرد و پیش کے سازشی عناصر کے مقابل ڈٹ جانے کی قوت ہونا. جس طرح سب سے افضل کام آپ گراونڈ سیٹ کیے بغیر نہیں کر سکتے اسی طرح چھوٹے سے چھوٹا کام بھی گراونڈ سیٹ کیے بغیر نہیں کیا جا سکتا.
    خیر بات یہ ہے کہ
    انٹرنیشنل ہیلتھ آرگنائزیشنز کے مطابق عصر حاضر میں 35 فیصد بیماریوں کی وجہ یہ پلاسٹک ہے. کمال یہ ہے کہ اسی پلاسٹک کے مضمرات میں کینسر جیسی بیماری بھی ہے. ہیپاٹائٹس اور جلدی امراض کی طویل لسٹ، اس سے زیادہ حیران کن بات یہ کہ اس پلاسٹک نے پچھلے بیس سالوں میں 18 فیصد آبی مخلوق کو سرے سے ختم کر دیا.
    اور صرف پاکستان کی بات کریں تو دریائے راوی میں آبی مخلوق کا وجود نہ ہونے کے برابر ہے. مچھلیاں تو ایک طرف اب تو مینڈک بھی اس شاپر کی موت مر رہے ہیں. یہاں نالوں اور شہروں کا گندہ پانی پھینک کر پلاسٹک کئی فٹ موٹی تہہ بنا دی گئی ہے جو اگلے دو سو سال تک بھی مٹی میں نہیں ملے گی. یعنی اگلے تو سو سال کے لیے زندگی ناپید..
    .
    ان برتوں میں ٹھنڈا گرم کرنے کی بیماریاں، ان میں صفائی کے بعد بھی جراثیم کی افزائش، اور تو اور اگر ان برتنوں کو ابالا جائے تو اندر سے مزید جراثیم زندہ ہو کر انسانی صحت کا نقصان کرتے ہیں.
    اس پلاسٹک کے عمل دخل کی بات کی جائے تو بچے کے منہ میں لگی چوسنی سے لے کر، 80 سالہ بابے کی چارپائی تک پلاسٹک کی بنی ہے.
    اب سوال یہ ہے کہ اس سے جان کیسے چھڑائی جائے؟
    ایک بات ذہن میں رکھیں اب اس پلاسٹک سے جان چھڑوانا ناممکنات میں سے ہے. البتہ اس کا استعمال 80 فیصد تک روکا جا سکتا ہے. اور یہ ہماری نسلوں کی بقا کے لیے کافی ہوگا.
    سب سے پہلی بات آگاہی، لوگوں کو جہاں پلاسٹک کے مضمرات بتانے کی ضرورت ہے وہیں کپڑے، شیشے اور مٹی کی فضیلت پر بھی لیکچرز دینے کی ضرورت ہے.
    .
    جس چیز کو رائج کرنا ہے اسے فیشن بنا دیں. شوبز، میڈیا کھلاڑی سب مل کر اس کو پروموٹ کریں.
    .
    دوسرا اہم کام یہ کریں کہ پلاسٹک بنانے والی فیکٹریوں کو کپڑے یا ایسے میٹیریل کے بیگ بنانے کے لیے فنڈز جاری کریں جو ماحول اور انسان دوست ہوں. تاکہ وہ ہنسی خوشی قوم کے لیے یہ خدمات سرانجام دیں
    .
    شہروں کے کوڑے کی ریفائنگ پر کام کریں. تمام پلاسٹک پگلا کر ایسی پراڈکٹس بنائیں جو دوبارہ مارکیٹ میں چلتی رہیں اور وہ چیزیں زمین یا پانی کی نذر نہ ہوں.
    .
    شاپر کا ریٹ بڑھا دیں، اور اسے کباڑ میں خریدنے اور بیچنے کی تجویز دیں. یوں پلاسٹک میٹیریل گلیوں نالیوں میں نہیں جائے گا. گھر کی خواتین ان بیگز کو سنبھال کر رکھیں. جس طرح لوہا، لیلن، سوکھی روٹیاں اور ہیل والی جوتیاں خراب ہو جانے کے بعد بھی سنبھالی جاتی ہیں. اور کباڑیے کو بیچ کر پیسے کمائے جاتے ہیں. اسی طرح استعمال شدہ پلاسٹک شاپر بھی بیچے اور خریدے جائیں
    .
    جب آپ یہ تمام اقدامات کر لیں گے تو پھر پلاسٹک بیچنے والوں کی باری آئے گی. اب یہاں پر بھی بتا دوں کہ اگر آپ مافیاز کو پکڑ نہیں سکتے تو آپ محض بوتل اور شاپر پر بھی یہی لکھ سکیں گے.. "خبردار..! پلاسٹک کا استعمال کینسر کا باعث ہے”
    جس طرح آپ سگریٹ پر ٹیکس لگا کر عام آدمی کے لیے اسے مشکل کر کے سمجھ رہے ہیں کہ تمباکو نوشی ختم ہو جائے گی اسی طرح شاپر کا معاملہ ہو گا. جس طرح سگریٹ جن کو لگ چکا ہے، ان کے لیے انتباہ، اور ٹیکس کوئی مسئلہ نہیں بلکہ آپ دن بہ دن تباکو بیچنے والوں کی کمائی میں اضافہ کر رہے ہیں. اسی طرح شاپر کے معاملے میں ہوگا. لوگ جس آسائش کے پیچھے چل پڑے ہیں، وہ چار پانچ روپے زیادہ خرچنے کو ترجیح دیں گے.
    .
    یہاں ایک بات یاد رکھیں کہ آجکل مارکیٹ میں مختلف اقسام کے بیگز آ رہے ہیں، جنہیں ماحول دوست ثابت کر کے مارکیٹنگ کی جا رہی ہے. مگر یہ بیگز کسی صورت بھی پلاسٹک بیگز جتنے فنگشنل نہیں. پلاسٹک بیگ میں آپ بہت سے اقسام کا میٹیریل ڈال سکتے ہیں. جبکہ ان بیگز میں مخصوص طرح کا میٹیریل ڈل سکتا ہے.
    یعنی یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اپنی فنگشنلیٹی کے اعتبار سے بھی پلاسٹک بیگ کا کوئی ثانی نہیں.
    .
    عوام کو بھی چاہیے کہ ہر ممکن کوشش کرے کہ جہاں تک اس پلاسٹک بیگ سے بچ سکتی ہے بچے. جو پراڈکٹس کسی دوسری چیز میں لائی جا سکتی ہیں، ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں میں اسی چیز کو شاپر میں لانے سے پرہیز کریں. دودھ، دہی سالن جیسی پراڈکٹس کے لیے برتن. اور خشک پراڈکٹس کے لیے کپڑے کے تھیلے استعمال کریں. آپ سیدھی راہ پر ہونگے تو ملک بھی سیدھی راہ پر ہوگا. ٹھیک ہے پالیسیاں سرکار نے بنانی ہیں. مگر آپ کو اپنی جانب سے اقدامات کرنے پر کوئی روک نہیں. آپ خود باز آئیں اور اپنے جاننے والوں کو پلاسٹک سے پرہیز کا مشورہ دیں. اگر ہم بحیثیت قوم کسی نیک مقصد کے لیے خود کو پیش کر دیں تو یہ مافیاز خود بخود بھاگ جائیں گے. جنہوں نے ملک پاکستان کے سسٹم کو ہائی جیک کیا ہوا.