Baaghi TV

Category: بلاگ

  • کیا سوشل میڈیا پوسٹس اور ٹویٹر ٹرینڈز سے کشمیر آزاد ہوجائے گا؟؟؟ تحریر: محمد عبداللہ

    کیا سوشل میڈیا پوسٹس اور ٹویٹر ٹرینڈز سے کشمیر آزاد ہوجائے گا؟؟؟ تحریر: محمد عبداللہ

    اکثر و بیشتر ہم ایسی باتیں پڑھتے اور سنتے ہیں کہ تم لوگ جو آئے روز کشمیر ایشو پر ٹرینڈنگ کرتے ہو، شور مچاتے ہو اس سے مسئلہ کشمیر اور اہل کشمیر کو کیا فائدہ ملتا ہے یا بھارت کا اس سے کیا نقصان ہوتا ہے ، جہاں امت مسلمہ کچھ نہیں کر رہی تو تمہارے ان ٹویٹر ٹرینڈز سے کیا ہوجائے گا. تو عرض ہے کہ بات کوشش یا جدو جہد کے چھوٹے یا بڑے ہونے یا اس سے دشمن کو پہنچنے والے نقصان کی نہیں ہوتی بلکہ سائیڈ کی ہوتی ہے کہ آپ کس کی سائیڈ پر کھڑے ہیں اگر تو آپ ابراہیم علیہ السلام پھر آپ کا جتن آگ کو بجھانے کے لیے ہوتا ہے اور اگر آپ صف نمرود میں ہیں تو پھر آپ کی فکر آگ کو بڑھاوا دینے کی ہوتی ہے چاہے وہ چھپکلی کی طرح اپنی پھونکوں سے ہو یعنی آپ نے اپنی ان چھوٹی بڑی کاوشوں سے باور یہ کروانا ہوتا ہے کہ آپ کس طرف کھڑے ہیں.

    مزید پڑھیں مسئلہ کشمیر فقط زمین کے ٹکڑے کی لڑائی یا کچھ اور؟ ؟؟ محمد عبداللہ

    مسئلہ اس وقت یہ ہے کہ ریاست پاکستان اس وقت جنگ نہ کرنا چاہتی ہے نہ ہونے دینا چاہتی ہے، گزشتہ روز بھی عمران خان نے دو ٹوک کہا کہ پاکستان سے جو مسلح مدد کرنے گیا وہ کشمیریوں پر ظلم کرے گا بلکہ ریاست پاکستان اس ایشو کو انٹرنیشنل کمیونٹی اور فورمز میں اجاگر کرکے بھارت کو بین الاقوامی سطح پر ایک دہشت گرد اور ظالم ملک ڈکلیئر کروانا چاہتی ہے (جیسے اس نے مسلسل پراپیگنڈے کے ساتھ پاکستان اور پاکستان میں موجود شخصیات کے ساتھ کیا) تو اس عمل میں جب آپ چاروں طرف سے بے بس ہوں تو صف ابراہیم میں شامل ہونے کے لیے ضروری ہے کہ جو آپ کر سکتے ہیں کم از کم وہ تو کریں.

    مزید پڑھیں کیا بھارت کشمیر کو آزاد کرکے پاکستان کی بقاء ممکن بنائے گا؟؟؟ محمد عبداللہ

    ٹویٹر ٹرینڈز کا بنیادی مقصد دنیا بھر کے نشریاتی اداروں، انسانی حقوق کی تنظیموں، ملکوں اور انفرادی شخصیات کی توجہ کشمیر پر مبذول کروانا مقصود ہے اور الحمدللہ پاکستانی سوشل ایکٹوسٹس یہ مقصد حاصل کررہے ہیں مسلسل ٹرینڈنگ سے کشمیر ایشو بین الاقوامی ایشو بنتا جا رہا ہے ہے اور ہر طرف کشمیر پر بات ہونا شروع ہوچکی ہے کہ آخر مسئلہ کیا ہے کیوں اتنے لوگ روز شور مچاتے ہیں انسانی حقوق کی تنظیمیں، بین الاقوامی نشریاتی ادارے اور دنیا بھر کے صحافتی اور دیگر پیشوں سے تعلق رکھنے والے افراد کشمیر پر بولنا شروع ہوچکے ہیں. مسلسل 46 دن کے کرفیو پر سوالات اٹھ رہے ہیں، یورپی یونین میں مسئلہ کشمیر پر بحث شروع ہوچکی ہے. دوسری بات کہ یہ موجودہ جنگ صرف نام کی ففتھ جنریشن وار نہیں ہے بلکہ حقیقت میں ہے جس کی مختلف صورتیں اور جہتیں ہیں جہاں آپ کو کوئی بھی میدان خالی نہیں چھوڑنا ہوتا.

    مزید پڑھیں سوشل میڈیا پر بھارت کا راج پاکستانی بے یارو مددگار — محمد عبداللہ

    تیسری بات جو دوسری کے ساتھ ملتی ہے کہ قران کی آیت ہے جس کا ترجمہ اکثر ہم جیسے کم علم لوگ یہ کردیتے ہیں کہ کافر اسلام کو اپنی پھونکوں سے بجھان چاہتے ہیں تو اس میں پھونک کا نہیں منہ کا ذکر ہے مطلب میڈیم اور آج کا منہ یہ میڈیا ہی ہے اور آپ میڈیا پر اسلام و مسلمانوں کے خلاف یلغاریں دیکھ لیں تو اس بات کی بخوبی سمجھ آتی ہے اسلام.کے چراغ کو گل کرنے کے لیے اس میڈیا کا کیسے کیسے استعمال کیا جا رہا ہے. پھر اس بات میں بھی کوئی دو رائے نہیں دنیا بھر کے پالیسی ساز ادارے اور تنظیمیں میڈیا بالخصوص سوشل میڈیا کو مانیٹر کرتے ہیں اور اپنی پالیسیز کو مرتب کرتے وقت عوامی رائے کو نظر انداز نہیں کرتے. عرب اسپرنگ کے نام پر عالم عرب کی تباہی کوئی زیادہ پرانی بات نہیں ہے جس میں بنیادی کردار اسی سوشل میڈیا ہی کا تھا، ان ٹویٹر ٹرینڈز کا ہی تھا لہذا اس میدان میں لڑنے والوں کی اگرچہ کوئی حیثیت اور ویلیو نہ ہو لیکن ان پر ہنسنے کی بجائے اگر ساتھ شامل ہوجایا جائے تو کم از کم اپنا تو پتا چل جائے کہ ہم کس صف میں شامل ہیں.

    مصنف کے بارے میں مزید جانیے

    Muhammad Abdullah
    Muhammad Abdullah
  • بھارت کی نیت خراب ؛ 2 لاکھ مزید فوجی مقبوضہ کشمیر بھیج دئیے گئے ، پاکستان حالات پر نظر رکھے ہوئے ہے ، سیکرٹری خارجہ

    بھارت کی نیت خراب ؛ 2 لاکھ مزید فوجی مقبوضہ کشمیر بھیج دئیے گئے ، پاکستان حالات پر نظر رکھے ہوئے ہے ، سیکرٹری خارجہ

    اسلام آباد: بھارت کی مکاری عیاں ہونے لگی ، اطلاعات کے مطابق بھارت نے پچھلے 3 دن میں مقبوضہ کشمیر میں مزید 2 لاکھ کے قریب فوجی تعینات کردئیے ہیں ، دفاعی حکام کے مطابق ایک لاکھ 80 ہزار فوجی، کچھ نیم فوجی دستے اور دیگر اہلکار تعینات کردیے گئے۔

    ذرائع کے مطابق رات سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو سیکرٹری خارجہ نے مقبوضہ کشمیر کی تازہ صورت حال سے آگاہ کرتے ہوئے بتا یا کہ بھارت کی جانب سے 5 اگست کو کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد پیدا ہونے والی انسانی حقوق، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور سیکیورٹی کی صورتحال کے بارے میں آگاہ کیا۔

    ٹیکس ایپلیکیشن ، ایف بی آر کی کامیاب حکمت عملی

    پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بارے میں سیکرٹری خاجہ نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو بریفنگ کے دوران بتایا کہ لائن آف کنٹرول کے ساتھ بھارتی جارحیت میں اضافہ ہوگیا ہے اور وہ کوئی بھی شر انگیزی کر کے اس کا الزام پاکستان پر دھرنے سے دریغ نہیں کرے گا۔کسی بھی وقت کوئی نہ کوئی شرارت ہوسکتی ہے ، لیکن پاکستان بھی تیار بیٹھا ہے

    بین الاقوامی خبررساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق مقبوضہ کشمیر سے 6 ہزار افراد کو گرفتار کر کے بھارت کی مختلف جیلوں میں بھیجا جاچکا ہے جہاں انہیں بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔عوام خوراک اور ادویات کی قلت کا شکار ہیں مقبوضہ وادی میں مواصلاتی رابطے منقطع ہونے پر وزیراعظم عمران خان نے عالمی رہنماؤں سے رابطہ کر کے وادی کشمیر میں بھارتی فورسز کی سفاکیت سے آگاہ کیا۔

  • "جب جنگ ناگزیر ہے تو کونسا طریقہ بہتر ہے؟          زید حامد  کابلاگ

    "جب جنگ ناگزیر ہے تو کونسا طریقہ بہتر ہے؟ زید حامد کابلاگ

    "جب جنگ ناگزیر ہے تو کونسا طریقہ بہتر ہے؟ تحریر: زید حامد

    بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں اب بس وقت درکار ہے اور وہ ہم اسے بغیر کسی رکاوٹ کے دے رہے ہیں. مودی اب ریپ، نسل کشی، آبادی کے اعداد و شمار میں رد و بدل کرکے اور ہندوؤں کیلئے نئی بستیاں آباد کرکے کشمیریوں کا حوصلہ اور انکی تحریک آزادی کو مکمل طور پر ختم کرنے جا رہا ہے.

    اب جبکہ پاکستانی حکومت مقبوضہ کشمیر میں طاقت کا استعمال نہیں کرنا چاہتی، تو شاہ محمود قریشی کی نام نہاد کامیاب سفارتکاری کے باوجود مودی پر مقبوضہ کشمیر میں کرفیو ختم کرنے اور کشمیریوں کی نسل کشی سے باز رہنے کیلئے کوئی بین الاقوامی دباؤ قطعاً نہیں ہے. اب ہمارے پاس کیا راستہ ہے؟ کشمیریوں کو تحریک آزادی کیلئے ہر طرح مدد فراہم کرنا.

    اگر پاکستان کشمیر کی جائز تحریک آزادی کیلئے مسلح جدوجہد کی حمایت اور محصور کشمیریوں کی زندگیوں کو آر-آر-ایس کے غنڈوں سے بچانے کیلئے مجاہدین اور ہتھیار بھیجنے کا اعلان کرتا ہے تو یہ کسی بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی نہیں ہو گی. یہاں قانون اور اخلاقیات ہمارے ساتھ ہیں.

    مقبوضہ کشمیر کو ضم کرکے بھارت پہلے سے ہی جنگ کا آغاز کر چکا ہے. اب بھارت آزاد کشمیر میں اپنی مرضی کے وقت جنگ کا دوسرا مرحلہ شروع کرنے جا رہا ہے. بھارتیوں سے نمٹنے کے دو ہی طریقے تھے. پہلے حملہ کرنا یا انکنے حملے کا انتظار کرنا. جنگ سے تو اب کسی صورت نہیں بچا جا سکتا.

    فروری میں ہم نے دشمن سے نرمی کی. نتیجہ کیا نکلا؟ چھ مہینے بعد ایک اور جنگ. اب دشمن پہلے سے زیادہ تیار اور مسلح ہے. اور مقبوضہ کشمیر کو ضم بھی کر چکا ہے. جنگ سے بچنے کیلئے کب تک ہم دشمن کو خیر سگالی کے پیغامات دیتے رہیں گے؟

    میں جنگ کو نہیں بھڑکا رہا. میں صرف ایک سادہ سا سوال پوچھ رہا ہوں جسکے جواب پر ہماری خودمختاری کا انحصار ہے.
    "جب جنگ ناگزیر ہے تو کونسا طریقہ بہتر ہے؟
    جنگ دشمن ملک کے اندر جا کر لڑنا؟
    یا جنگ اپنے شہروں میں لڑنا؟”
    بہرحال اب تو جنگ سے قطعی نہیں بچا جا سکتا!

  • پی ٹی آئی کی حکومت ملک میں یکساں نظام حکومت نافذ کرنے والی ہے ، جو سیاست سے پاک ہوگا ، وفاقی وزیرتعلیم

    پی ٹی آئی کی حکومت ملک میں یکساں نظام حکومت نافذ کرنے والی ہے ، جو سیاست سے پاک ہوگا ، وفاقی وزیرتعلیم

    کراچی:پاکستان تحریک انصاف نے ملک میں یکساں نظام تعلیم کے نفاذ کا وعدہ کیا تھا جو پورا ہونے کو ہے ، بہت جلد ملک میں‌ ہر طبقے کے لیے ایک ہی نظام تعلیم ہوگا ، ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کراچی میں ایک تقریب میں‌کیا ،

    جامعہ کراچی میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیرشفقت محمود نے کہا کہ ملک میں یکساں تعلیمی نصاب کے نفاذ سے طبقاتی امتیازات میں کمی واقع ہوگی، حکومت نے59ارب روپے اعلیٰ تعلیم کی مد میں مختص کیے ہیں،

    وفاقی وزیرتعلیم شفقت محمود نےکہا کہ اس وقت ملک بھر میں‌ متعدد پروجیکٹس پر کام ہورہا ہے جس سے تعلیم اور تعلیمی اداروں کا معیار بلند ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو کئی وائرل امراض کا سامنا ہے، انسٹی ٹیوٹ آف وائرولوجی کا قیام بہتری کی نوید ہے۔

  • پیسے مک گئے: جامعہ کراچی شدید مالی بحران کا شکار ، تنخواہوں کے لیے پیسے نہیں‌

    پیسے مک گئے: جامعہ کراچی شدید مالی بحران کا شکار ، تنخواہوں کے لیے پیسے نہیں‌

    کراچی: سندھ حکومت کی عدم دلچسپی ، جامعہ کراچی کو مشکلات سے دوچار کردیا ، اطلاعات کے مطابق جامعہ کراچی شدید مالی بحران کا شکارہوگئی ہے۔اساتذہ اور عملے کی تنخواہوں اور یوٹیلٹی بلز کی ادائیگی بھی مشکل ہوگئی۔یونیورسٹی انتطامیہ نے سندھ حکومت سے مالی مدد مانگ لی۔

    دوسری طرف اس مالی بحران سے متعلق بات کرتے ہوئے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر کا کہنا ہے کہ مالی خسارے کے باعث ملازمین کی تنخواہوں کے پیسے بھی نہیں رہے۔ بلز کی ادائیگی میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔یہ بھی یاد رہے کہ اس وقت جامعہ میں پچاس سے زائد شعبے ہیں۔ ریسرچ کرنے کے لئے بھی پیسے نہیں ہیں، ختم ہوچکے ہیں۔

    جامعہ کراچی کے مالی مسائل حال کرنے کےحوالے سے بات کرتے ہوئے سیکریٹری جامعات اینڈ بورڈ نے وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ کو سمری بجھوادی ہےجس میں‌جامعہ کے لیے جلد از جلد فنڈزجاری کرنے کی درخواست کی ہے ۔ جامعہ کراچی کو مالی خسارے سےنکالنے کے لئے چھ سو پندرہ ملین روپے فوری جاری کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔جامعہ کراچی کے اساتذہ نے بھی 17 ستمبر کو کلاسز کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہوا ہے

  • نام نہاد جمہوریت کا ایک اور سیاہ اقدام ، تحریر نعمان علی ہاشم

    نام نہاد جمہوریت کا ایک اور سیاہ اقدام ، تحریر نعمان علی ہاشم

    قائد حریت سید علی گیلانی صاحب کی کال پر آنے والے صحافیوں کو پریس کانفرنس کی کوریج سے روک دیا گیا.
    .
    آج صبح دس بجے سے ہی سید علی گیلانی صاحب کے گھر کے باہر تقریباً 35 صحافی جمع تھے. آزادی اظہار رائے کے حق کو دباتے ہوئے مقبوضہ جموں کشمیر کی پولیس نے صحافیوں کو نہ صرف گھر میں داخل ہونے سے روک دیا بلکہ ان کے گھر کے قریب کھڑے ہونے سے بھی منع کر دیا. ریاستی دہشت گردی کی بدترین مثال یہ ہے کہ پوری دنیا کے میڈیا کی آزادی کو صلب کر لیا ہے. پانچ اگست کے بعد کسی بھی صھافی کو کسی ایک حریت پسند لیڈر کی کوریج کی اجازت نہیں. مقبوضہ جموں کشمیر کی پولیس کے آفیسر کا کہنا ہے کہ سیکشن 144 کے تحت کسی لیڈر کی میڈیا کوریج کو بند کیا گیا. ایک طرف تو غیر قانونی، غیر انسانی اور غیر آئینی اقدامات کے ذریعے کشمیریوں کی آواز دبائی جا رہی ہے. دوسری طرف بھارت کی آئین میں ایسی غیر انسانی اور غیر جمہوری شقیں موجود ہیں جو ظلم کا ساتھ دیتی ہیں. بھارت جہاں کشمیریوں کی نسل کشی میں ملوث ہے وہیں کشمیریوں کی آواز دبانے میں بھی پیش پیش ہے.
    اب سوال یہ ہے کہ عالمی ادارے کیا اس غیر جمہوری اقدام پر بھارت سے سوال کریں گے؟ کیا آزادی اظہار رائے کے علمبردار بھارت کی اس ریاستی ہٹ دھرمی پر بات کریں گے؟

    نعمان علی ہاشم

  • بھارت آزاد کشمیر کےمتعلق کیا ارادے رکھتا ہے ، تحریر مہتاب عزیز

    بھارت آزاد کشمیر کےمتعلق کیا ارادے رکھتا ہے ، تحریر مہتاب عزیز

    بھارتی وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر نے مودی حکومت کے پہلے 100 دن مکمل ہونے پر اہم پریس کانفرنس میں کہا ’’ہم جلد آزاد کشمیرپربھی قبضہ حاصل کر کے بھارت کی تکمیل کریں گے‘‘۔
    دو روز پہلے بھارتی ریاست گجرات کے وزیر اعلیٰ وجے روپانی نے کہا تھا ’’پاکستان آزاد کشمیر کھونے کے لیے تیار رہے‘‘
    اس سے قبل بھارتی فوج کے سربراہ جنرل بپن روات نے کہا تھا ’’آزاد کشمیر پر قبضے کے لیے صرف بھارتی حکومت کے حکم کا انتظار ہے، آرمی کی تیاری مکمل ہے۔
    حالیہ دنوں میں بھارت کے وزیر داخلہ امت شاہ اور وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے بھی آزاد کشمیر پر قبضے کے حوالے سے بیان دے چکے ہیں۔

    بھارت کا ٹریک ریکارڈ ہے کہ وہ ماحول بنانے کے بعد ایڈونچر سے دریغ نہیں کرتا۔ کئی ایک واضع مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔
    1965 میں ہم نے اپنی پسند کا محاذ کھولنے کا لال بہادر شاستری کے بیان اور اس طرح کے دیگر بیانات کو نظر انداز کیا۔ پھر ہمیں لاہور اور سیالکورٹ کے محاذ پر اچانک حملہ برداشت کرنا پڑا۔
    1971 میں ایک بار پھر ہم بھارتی دھمکیوں کو نظر انداز کرتے رہے۔ ہمارا خیال تھا کہ بھارتی بیانات کا جواب صرف بیانات سے دینا ہی کافی ہوگا۔ لیکن جب بھارتی افواج مشرقی پاکستان میں داخل ہوئیں تو ہمیں وقت سے پہلے بھرپور تیاری نہ کرنے کا خمیازہ بھگتنا پڑا۔

    ممکنا فوجی تصادم پر نظر رکھنے والے تھنک ٹینک خبردار کر چکے ہیں کہ بھارت ستمبر یا اکتوبر کے دوران لائن آف کنٹرول پر کوئی مس ایڈونچر کر سکتا ہے۔ جس طرح اس سال فروری میں الیکشن کا ماحول بنانے کے لیے پلوامہ دھماکہ اور اُس کے بعد پاکستانی سرحد عبور کر کے بمباری کا ڈرامہ کیا گیا تھا، ایک بار پھر قوی امکانات ہیں کہ ویسا ہی ڈرامہ مقبوضہ کشمیر کے حالات سے دنیا کی نظر ہٹانے کے لیے کیا جائے۔

    غور کیا جائے تو اس طرح کی کسی جنگ کے لیے بھارت طویل عرصے سے تیاریاں کر رہا ہے۔ پہاڑی علاقے میں جنگ کی تربیت (Mountain Warfare Training) کے لیے بھارت کی دہیرادون ملٹری اکیڈمی میں ایک الگ ادارہ بدراج کیمپ (Bhadraj Camp) کے نام سے1999 میں قائم کیا گیا تھا۔ کشمیر کے محاذ پر جنگ کی خصوصی تربیت کے لیے بلندی پر جنگ کا تربیتی ادارہ High Altitude Warfare School (HAWS) گلمرگ مقبوضہ کشمیر میں قائم ہے۔ بھارتی فوج پہاڑی علاقے میں جنگ کے لیے اب تک 10مختص پہاڑی ڈویژن (Mountain Division) قائم کرچکی ہے۔ ان میں آٹھ عمومی ڈویژن اور 2 خصوصی حملہ آور ڈیژن ہیں۔ ان 10 ڈویژنز میں ایک لاکھ سے ایک لاکھ تیس ہزار فوجی میں جنہیں پہاڑی علاقے میں جنگ کی خصوصی تربیت اور مخصوص اسلحہ مہیا کیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق بھارتی فوج حالیہ عرصے میں دو مزید پہاڑی ڈویژن کے قیام کے لیے دن رات مصروف ہے۔ ان دونوں پہاڑی ڈویژنز کو گن شپ، یوٹیلیٹی اور اٹیک ہیلی کپٹروں کے تعاون سے جنگ کی تربیت دی جارہی ہے، یا تربیت مکمل ہو چکی ہے۔ اس مقصد کے لیے بھارت نے امریکہ سے جدید ترین جنگی ہیلی کاپٹر ’اپاچی اے ایچ 64 ای کا سودا کیا ہے۔ مودی کی حکومت نے امریکہ سے 110 کروڑ ڈالر (جو تقریباً 8,000 کروڑ بھارتی روپے بنتے ہیں) کے عوض 22 جنگی اپاچی ہیلی کاپٹر خریدنے کا معاہدہ کیا تھا۔ جن میں سے آٹھ جنگی ہیلی کپٹر انڈیا کو مل چکے ہیں۔ جنہیں ورکنگ باونڈری پر جموں کے قریب پھٹانکورٹ کے ہوائی اڈے پر تعینات کیا گیا ہے۔

    (یہاں یہ امر بھی دلچسب ہے کہ پاکستان نے امریکہ سے نو عدد اے ایچ ون زیڈ وائپر اٹیک ہیلی کاپٹرز فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہوا ہے۔ معاہدے کے مطابق یہ ہیلی کپٹر پاکستان کو 2018 میں مل جانا تھے۔ لیکن تاحال امریکہ نے انہیں پاکستان کے حوالے نہیں کیا ہے۔)

    جنگوں پر نظر رکھنے والی کئی تنظیمیں آگاہ کر چکی ہیں۔ کہ بھارتی فوج وادی نیلم سے ملحقہ کنٹرول لائین کے دوسری طرف واقع مقبوضہ کشمیر کے اضلاع کپواڑہ اور بانڈی پورہ میں بھاری توپ خانہ اور اسلحہ جمع کر رہا ہے۔
    ہندوستان کے انتہائی اہم اور ذمہ دار افراد کے تمام بیانات اور فوجی تیاریوں کو صرف کیدڑ بھبکیاں اور بھڑکیں قرار دے کر نظر انداز کرنا بالکل بھی حقیقت پسندانہ طرز عمل نہیں ہے۔ جوابا ہمیں جس طرح کی تیاریاں کرنا چاہیں تھیں وہ کہیں دیکھنے کو نہیں مل رہی ہیں۔
    عسکری تیاریاں کیا ہیں ہم اُنہیں پاک افواج پر چھوڑتے ہیں۔
    البتہ کسی بھی ممکنا بڑے یا محدود پیمانے کی جنگ کی صورت میں عوام کو جس طرح سول ڈیفنس، فرسٹ ایڈ وغیرہ کی تربیت کی اشد ضرورت ہے۔ اُس حوالے سے حکومت اور متعلقہ اداروں کو متحرک ہونا چاہیے
    تحریر مہتاب عزیز

  • اب جلد کی حفاظت جدید ٹیکنالوجی کرے گی ، نئی ٹیکنالوجی نے ہلچل مچادی

    اب جلد کی حفاظت جدید ٹیکنالوجی کرے گی ، نئی ٹیکنالوجی نے ہلچل مچادی

    تائیوان:اب اپنی جلد کے بارے میں‌پریشان ہونا چھوڑ دیں‌، کیونکہ اب ایک جدید ٹیکنالوجی آپ کی جلد کے تمام مسائل حل کرنے میں‌آپ کی مدد کرے گی ،تفصیلات کے مطابق جدید ٹیکنالوجی سے تیار اسمارٹ آئینہ نہ صرف سچ بولتا ہے بلکہ جلدی امراض کے بھید بھی کھولتا ہے۔


    جدید ٹیکنالوجی کے شاہکار اس آئینے کو ہائی مِرر کا نام دیا گیا ہے جو انتہائی گہرائی اور تفصیل سے ہر روز آپ کے چہرے کا معائنہ کرتا ہے۔ اس کا خاص نظام 8 مختلف طریقوں سے آپ کے چہرے کا جائزہ لیتا ہے۔ اس طرح چہرے کے داغ، دھبے، جھریوں، خشکی، پانی کی کمی، رنگت اور جلد کی ناہمواری کو بھی روکتا ہے۔

    حبیب الرحمان نیپال میں نوکری کیلئے انٹرویو کیلئے گئے تھے اور وہاں سے لاپتہ ہو گئے

    تائیوان کے ماہرین نے دعویٰ‌کیا ہے کہ ہائی مرر کی ایک اچھی بات یہ بھی ہے کہ اگر آپ اسے چند ماہ تک استعمال کریں تو اس کے ڈیٹا بیس میں آپ کے جلد کی تفصیلات جمع ہوتی رہیں گی اور اس طرح سافٹ ویئر جھائیوں اور جلد میں دیگر تبدیلیوں کو مسلسل نوٹ کرتا رہتا ہے۔ ہائی مِرر کا سافٹ ویئر کسی جلدی عارضے کی صورت میں لوشن اور کریم کے متعلق بھی مشورہ دیتا ہے۔ اسمارٹ مِرر میں ایلکسا بھی موجود ہے اور آپ ایک جملے سے جلد کے لیے ضروری مصنوعات آرڈر بھی کرسکتے ہیں۔

    اس جدیدٹیکنالوجی کو ایجاد کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ گہرے داغ دھبوں میں کمی و بیشی کو فیصد اور گراف کی صورت میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔اسطرح آئی لائنر، بلش، سات طرح کی لپ اسٹک اور آئی لیشز کو استعمال کیے بغیر اسکرین پر ان کا جائزہ لیا جاسکتا ہے۔

    جلد کے حوالے سے اس کا ایک اور فیچر میک اپ اسٹوڈیو ہے جسے استعمال کرکے آپ صرف آئینے میں ہی اپنے چہرے پر میک اپ کرکے دیکھ سکتی ہیں کہ فلاں میک اپ اور لِپ اسٹک لگانے سے چہرہ کیسا دکھائی دے گا؟۔

  • میر حسن تو مر گیا لیکن بھٹو آج بھی زندہ ہے:علی چاند

    میر حسن تو مر گیا لیکن بھٹو آج بھی زندہ ہے:علی چاند

    میر حسن ابڑو بیٹا ہمیں معاف کرنا ہم نے کبھی اس پاک وطن سے بھٹو کو کبھی مرنے ہی نہیں دیا ۔ ہم نے تو آپ جیسے غریبوں ، بے بس لاچاروں کے ٹیکس کا پیسہ وہ ٹیکس جو آپ لوگ ایک روپے کی ٹافی ، پانچ روپے کی چاکلیٹ پر دیتے ہو وہ سارے کا سارا پیسہ بھٹو کو زندہ رکھنے پر لگا دیا ہے ۔ ہم نے ساری محنت بھٹو کو زندہ رکھنے پر لگا دی ہے ۔ بیٹا معاف کرنا ہم نے تو تمہارے ایک روپے کی ٹافی سے بھی ٹیکس لیا اور پھر وہ سارا ٹیکس بھٹو کے نواسے نواسیوں کے کتے پالنے پر لگا دیا ۔ میر حسن ابڑو بیٹا اس بات کا قصور وار کون ہے ؟ وہ لوگ جو آج بھی دو دو سو لے کر جٸیے بھٹو کا نعرہ لگا رہے ہیں یا وہ لوگ قصور وار ہیں جن کا آج بھی کہنا ہے کہ اگر کبھی سنو کے پی پی پی کا صرف ایک ہی ووٹر ہے تو یقین کر لینا کہ وہ میں ہی ہوں ۔

    سندھ کا میر حسن ابڑو جسے کتے نے کاٹا اور کتے کے کاٹے کی ویکسین نہ ملنے پر وہ کمشنر آفس کے سامنے سسک سسک کر ماں کی گود میں ہی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے سو گیا ۔ دکھ صرف میر حسن ابڑو کی موت کا نہیں دکھ تو اس بات کا ہے کہ میر حسن کی سسکیاں ، اس کی ماں کی آہیں ، اس کی والدہ کی تڑپ بھی بے ضمیر اور بے شرم حکمرانوں کو نہیں جگا سکی ۔ میر حسن جیسے بچے تو موت کے منہ میں چلتے جارہے ہیں ، تھر میں ہزاروں بچے خوراک کی کمی کا شکار ہو کر موت کی وادی میں پہنچ گٸے لیکن بے ضمیر اور مردہ دل والوں کا آج بھی یہی نعرہ ہے کہ بھٹو کل بھی زندہ تھا ، بھٹو آج بھی زندہ ہے ۔ بھٹو کے نواسے نواسیوں کو ان کے کتوں کے ساتھ دیکھ کر ، ان کتوں کے ساتھ ان کا پیار محبت دیکھ کر بھی کیا سندھ کے لوگوں کو کبھی خیال نہیں آیا کہ لوگ یہی سمجھ لیں کہ ان لوگوں کے نزدیک اہم کون ہے ۔ اپنے ایک ایک روپے کے ٹیکس ادا کرتے ہوٸے کبھی خیال نہیں آیا کہ یہ ٹیکس بھٹو کے نواسے نواسیوں کے کتوں پر تو خرچ ہو گا لیکن سندھ کی عوام پر حرام سمجھا جاٸے گا ۔

    میر حسن ابڑو کی سسکیاں بھی اگر ہم لوگوں کو ہمارے حکمرانوں کی اوقات دکھا کر ہمارے مردہ ضمیروں کو نہ جگا سکیں تو سمجھ جانا کہ کل کو ہمارا اپنا خون ، ہمارا اپنا لخت جگر ، ہماری گود میں پلنے والا میر حسن بھی ایسی اذیت سے گزر سکتا ہے ۔ آج اگر میر حسن کی آہیں ہمیں نہ جگا پاٸیں تو سمجھ لینا کہ ہم نے بھی اپنی اولاد کو اذیت دینے کا فیصلہ کر لیا ہے ۔ میر حسن کی موت یہ پیغام دے کر جا رہی ہے کہ آٶ پکڑو ان مردہ ضمیر حکمرانوں کے گریبان اور لو ان سے اپنے بچوں کی ایک ایک روپے کی ٹافی پر دٸیے گے ٹیکس کا حساب ، لو ان سے اپنے بچوں کی پانچ پانچ روپے والی چاکلیٹ کے ٹیکس کا حساب ۔ اگر آج نہیں بولو گے تو کل بھگتو گے ۔ میر حسن کی سکیاں بتا رہی ہیں کہ ہمیں بھٹو کو مارنا ہوگا ورنہ ہماری نسلیں اسی طرح تڑپ تڑپ کر جان دیں گی اور حکمرانوں کے کتے عیاشیاں کریں گے ۔ میر حسن ابڑو کی تڑپ بتا رہی ہے کہ آنکھیں کھولو اس سے پہلے کہ تمہارے بچوں کی آنکھیں بند ہوجاٸیں ۔

    کیا قیامت گزر رہی ہوگی اس ماں کے دل پر جس کا بھٹو زندہ تھا مگر اس کا پیارا بیٹا اس کے سامنے تڑپ تڑپ کر جان دے رہا تھا اور بے بس ماں اپنے لخت جگر کے لیے کچھ کر نہیں پا رہی تھی ۔ میر حسن کی ماں بھی سوچ رہی ہوگی کاش بھٹو اس کے سامنے ہوتا تو اسے خود اپنے ہاتھوں سے مار دیتی تاکہ اس کے جگر کا ٹکڑا آج ایسی بے بسی کی موت نہ مرتا ۔ ماں بھی سوچ رہی ہوگی کہ کاش بھٹو کے نواسے نواسیاں اس کے سامنے ہوتے یہ بھی ان کو ایسے تڑپاتی ، یہ بھی ان کو ایسی اذیت سے گزارتی تاکہ انہیں بھی پتہ ہوتا کہ انہیں ووٹ ان کے پالے ہوٸے کتے نہیں بلکہ سندھ کے غریب عوام دیتے ہیں ۔ عوام خوراک کی کمی سے مرتی ہے تو مرے ، عوام ادویات نہ ہونے کی وجہ سے مرتی ہے تو مرے لیکن سندھی عوام کے ووٹ سے جیتنے والی جماعت کا ایک ہی منشور ، ایک ہی مقصد ایک ہی نعرہ ہے کہ بھٹو زندہ ہے ۔ خدا جانے کب بھٹو مرے گا اور سندھ کی عوام کی طرف توجہ دی جاٸے ۔

    اپنے ووٹ کا جسے پاکستانی عوام محض ایک پرچی سمجھتی ہے اس کا سوچ سمجھ کر استعمال کریں ۔ تاکہ ہم سب کے میر حسن کبھی ہماری گودوں میں اس طرح دم نہ توڑیں ۔ ووٹ ڈالنے سے پہلے کبھی سوچا ہے کہ جسے ووٹ دے رہے ہو اس کا منشور کیا ہے ، اس کے بچے پاکستان میں ہیں یا کسی انگریز ملک میں کتوں کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں ۔

    نہیں سوچا تو آٸیندہ ضرور سوچنا کیونکہ کتوں کے ساتھ زندگی گزارنے والے کتوں کا تو خیال رکھیں گے لیکن آپ کا نہیں ۔

    اللہ پاک ہمارے پیارے پاکستان پر مسلط ایسے لوگوں کو نیست و نابود کرے اور پاکستان کی عوام کو کوٸی ایک ہمدرد عطا فرما دے جو ان کے دکھ درد کا ازالہ کر سکے ۔ آمین

  • مسلمانوں کے سپین میں تعلیمی اور علمی کارنامے  ،  ثناء صدیق کا بلاگ

    مسلمانوں کے سپین میں تعلیمی اور علمی کارنامے ، ثناء صدیق کا بلاگ

    مسلمانوں کے سپین میں تعلیمی اور علمی کارنامے تحریر: ثناء صدیق

    مسلمانوں کی 711 میں سپین میں حکومت قائم ہوئی جب بنو امیہ کی حکومت ختم ہوئی تو ایک اموی شہزادہ عبدالرحمن الداخل فرار ہو کر سپین چلا گیا اور وہاں نئی اموی حکومت کی بنیاد رکھی یہاں مسلمانوں نے بڑے شاندار طریقے سے حکومت کی یہاں فن تعمیر فن مصوری میں کام کیا گیا وہاں تعلیم پر بھی بہت زیادہ کام کیا گیا کتابیں لکھی گیں تراجم کیے گے اور درس گاہیں تعمیر کی گیں

    عبدالرحمن سوم کے اقتدار میں حکومت قرطبہ میں 70 لائبریریاں اور کتابوں کی دوکانیں تھیں عبدالرحمن سوم کا جانشین الحکم تھا یہ ایک بہت بڑا عالم تھا اس نے قرطبہ میں 23 سکول قائم کیے قرطبہ کی یونیورسٹی اتنی مشہور تھی کہ دنیا بھر کے طالب علم اپنے علم کی پیاس بھجانے یہاں اتے تھے الحکم نے مشرقی ممالک سے پروفیسروں کو یہاں انے کی دعوت دی اور انہیں شاندار تنخواہوں کی پیش کش کی اس نے یہاں ایک بڑی لائبریری تعمیر کی جس میں 4 لاکھہ کتابیں تھیں یہ کتابیں اسکندریہ اور بغداد سے منگوائی گی تھیں اس سے سپین کے ثقافتی میدان میں اتنی ترقی ہوئی کہ ہر شخص پڑھنے لکھنے کے قابل ہو گیا اسپین میں بھی دیگر مسلم ممالک کی طرح مساجد کے ساتھہ مدارس قائم کرنے کا رواج تھا لیکن بہت سے مدارس اور جامعات مسجد سے الگ بھی تھے ان مدارس کے اخراجات کے لیے حکومت نے بڑے بڑے اوقاف مقرر کیے تھے اور وقتا فوقتا خصوصی امداد بھی مقرر کی جاتی تھی تمام مدارس میں مفت تعلیم دی جاتی تھی ہر مسلمان کے لیے تعلیم حاصل کرنا ضروری تھا قرآن و حدیث ،فقہ ، شعروادب کی تعلیم عام طور پر مدارس میں ہوتی تھی لیکن جامعات میں تمام علوم عقلیہ اور نقلیہ کی تعلیم دی جاتی تھی ان مدارس اور جامعات کے لیے اس دور کے جید علماء اور اساتذہ کی خدمات حاصل کی جاتی تھی تمام ملک میں کوئی گاوں بھی ایسا نہ تھا یہاں مفلس اور گنوروں کے بچے تعلیم کی نعمت سے محروم نہ ہوں بیرونی ممالک سے آنے والے طلباء کے ٹھہرنے کے لیے جامعات سے ملحقہ اقامت گاہیں بھی بنائی جاتی تھیں جن کے تمام اخراجات کی زمہ داری حکومت پر تھی حتی کہ متعلقہ مضامین کی کتابیں تک بھی طلباء کوحکومت کی طرف سے مفت فراہم کی جاتی تھیں ابتدائی تعلیم حاصل کر کے جب طالب علم اعلی تعلیم کے لیے جاتا تو اس کا امتحان ضرور لیا جاتا تھا جو پاس ہو جاتا اسے داخلہ دیا جاتا ورنہ اگلے سال امتحان کے لیے تیاری کے لیے چھوڑ دیا جاتا اعلی تعلیم کے مضامین میں قرآن و حدیث اور فقہ کے علاوہ علوم قدیمہ ،ہندسیہ، ہیبت ، طب و جراحت ، موسیقی ، منطق ، فلسفہ ، شعروادب ، تاریخ ، جغرافیہ ہوتے تھے لیکن فنون میں بھی طلباء کو ماہر کیا تھا بہت سے فنون کے شعبے بھی موجود تھے جیسا کہ حیاتی خطاتی چمڑے کا کام فن تعمیر کوزی گری فلاحت و زراعت وغیرہ تھے ان جامعات اور مدارس میں اسناد کے لیے کسی شخص کا مسلمان ہونا لازمی نہ تھا بلکہ تمام دارومدار علمی انہماک اور قابلیت پر ہوتا تھا جس میں یہ صفات ہوتی تھی وہ بلاتامل ان عہدوں پر فائز کیا جاسکتا تھا
    چانچہ کچھہ یہودی اور عسائی بھی قرطبہ کی جامعات میں استاد مقرر تھے نویں اور دسویں عیسوی میں اسپین کی جامعات میں تعلیم حاصل کرنے والوں کی تعداد ہزاروں تک پہنچ گی تھی طالب علم کسی بھی قوم مذہب سے تعلق رکھتا ہو با آسانی ان جامعات میں تعلیم حاصل کر سکتا تھا جس کا نتجہ یہ نکلا یورپ اور جنوبی ایشیا سے آنے والے عسائی اور یہودی طلباء بکثرت ہوتے تھے یہ مسلمانوں کی بے تعصبی کا ہی نتجہ تھا مسلمانوں نے تقربیا 8 سو سال سپین پر حکومت کی یہ وہ مسلمانوں کا سنہری دور تھا جب یورپ تاریخی میں ڈوبا ہوا تھا اس دور میں مسلمانوں کی بے پناہ ترقی کے ساتھہ ساتھہ علمی میدان کی ترقی قابل فخر ہے ان میں سے چند کا تذکرہ کیا جاتا ہے علماء اندلس نے قرآن پاک کی تفسیر اور علوم قرآنی کی تشریح و توضیح میں گراں قدر خدمات سر انجام دی یہاں صرف معروف کتب کے نام ذکر کیے جاتے ہیں (ابو عبداللہ احمد بن قرطبی کی تفسیر "الجامع الااحکام القرآن”) ابو بکر محمد بن عبداللہ کی تفسیر "احکام القرآن” ابو عبداللہ محمد بن یوسف حیان کی تفسیر "البحر المحیط” ابن العربی کی تفسیر "تفسیر القرآن الکریم” علماء اندلس نے حدیث میں بہت کام کیا چند معروف محدث قابل ذکر ہیں احمد بن خالد القرطبی نے علم حدیث پر "مسند امام مالک تحریر کی ابو محمد قاسم بن اصبح قرطبی نے سنن داود کے طریقے پر ایک سنن لکھی ابو عمر یوسف بن عبدالبر نے موطا امام مالک کی شرح تحریر کی اندلس میں امامالک کے ایک شاگرد یحیی بن یحیی مصمودی کے زریعے فقہ مالکی کو فروغ حاصل ہوا حکومتی حلقوں میں اس کا بڑا اثرو سوخ تھا جس کی وجہ سے اندلس میں فقہ مالکی کا دور دورہ رہا ابن خلدون لکھتے ہیں "امام مالک کا فقہی مسلک مغرب اور اندلس میں پھیلا اس کی وجہ یہ تھی کہ اندلس اور مغربی لوگ عام طور پر سیدھے حجاز جاتے اور بالخصوص مدینہ سے علم حاصل کرتے” اندلس کے فقہاوں میں زیاد بن عبدالرحمن ، عبدالمک بن حبیب ، قاضی ابوبکر بن عربی ، محمد بن احمد جو ابن رشد کے نام سے مشہور ہیں علماء اندلس نے علم سیرت پر بھی نہایت بلند پایہ کتب تحریر کی ابو عمر ابن عبدریہ نے ” الصقد القرید” تحریر کی ابو الفضل القاضی نے ” کتاب الشفاء” تحریر کی علماء اندلس تاریخ پر کام کرنے میں بھی کسی سے پیچھے نہ رہے ابو زید محمد بن خلدون نے العبر تحریر کی محمد بن موسی الرازی نے کتاب الرایات لکھی ابوبکر احمد بن راضی نے تاریخ اندلس لکھی ابن رشد نے اس موضوع پر دو اہم کتب تحریر کیں "مناہج الادلنہ فی عقائد الملتہ” اس کتاب میں آپ نے معتزلہ اشاعرہ ماتریدیہ صوفیا وغیرہ تمام مکاتب فکر کے دلائل کو بیان کیا ” فضل المقال” یہ کتاب مختصر مگر جامع کتاب ہے اسلام کی حقانیت کو ثابت کیا گیا ہے اندلس کے شعراء میں ابوبکر محمد الزبیدی ، ابن حیان ، ابو القاام ابراہیم بن محمد نے مشہور عرب شاعر متنبی کے دیوان کی شرح تحریر کی طب کے میدان میں اندلس کے طبیبوں میں ابوالقاسم الزہراوی جو قرطبہ کے قریب مدینہ الزہرہ کا رہنے والا تھا اندلس کا ایک نامور طبیب تھا اس نے طب کے موضوع پر ایک کتاب "التصریف لمن عجزعن التالیف” تحریر کی ابوالقاسم زہراوی نے فن جراحت میں اقتصاص پیدا کیا اس نے اپنے اس نے اپنے جراحی کے الات خود ڈیزائن کیے انہیں اپنی ذاتی نگرانی میں تیار کروایا اور ان کے خاکے اپنی کتاب میں شامل کیے اور ہر آلہ کے استعمال کے بارے میں تفصیل تحریر کی عصر حاضر میں جراحی علاج کے ماہرین اسے بہت زیادہ اہمت دیتے ہیں یہ کتاب صدیوں تک یورپ کے بڑے جراحوں کے نزدیک ماخذ بنی رہی علم کیماء کے بارے میں اسکارٹ لکھتا ہے ” عملی طور پر زمانہ حال کے کیماء اور دوا سازی کے موجد عرب کیماء ساز تھے انہی کے طفیل تیزاب شورہ پوٹاس چاندی کا پانی فاسفورس اور اکسجن کے وجود سے اگاہ تھے” اندلس میں سرکاری کتب خانے کے ساتھہ ساتھہ ذاتی کتب خانے بڑی تعداد میں تھے عوام کو کتابیں کرنے کا بڑا جنون تھا اندلس کے اسلامی حکمران الحکم رعایا میں یہ بات مشہور تھی جس کو بادشاہ سے ملنا ہے وہ اس کے لیے ایک نادر کتاب لکھے الحکم کی لائبریری قرون وسطی کی سب سے بڑی لائبریری تھی اس میں 4 الاکھہ کتابیں جمع تھیں اس کتب خانے کے بارے میں کہا جاتا ہے ایسا نادر اور قیمتی کتب خانہ نہ کرہ ارض پر پہلے موجود تھا نہ اب ہے اندلس کا ایک اور اہم کتب خانہ ابن فطیس کا تھا یہ بہت امیر شخص تھا جس محلے میں رہتا تھا سب مکانات اس کی ملکیت میں تھے اور سب کابوں سے بھرے پڑے تھے اس کو معلوم ہوتا فلاں کے پاس نادر کتاب موجود ہے اس کتاب کو ھاصل کرنے کے لیے بے دریغ پیسہ خرچ کر دیتا ابن سعد کا کتب خانہ عوام کے استفادے کے لیے وقف تھا محمد بن حزم کے کتب خانے میں نادر کتابیں موجود تھیں کتب خانوں میں مردوں کے مقابلے میں عورتیں بھی شریک تھی ایک مشہور کتب خانہ عائشہ بنت احمد کا تھا