Baaghi TV

Category: بلاگ

  • کشمیر، بابری مسجد اور ہندو راشٹر، بھارتی پالیسی ،تحریر: انشال راؤ

    کشمیر، بابری مسجد اور ہندو راشٹر، بھارتی پالیسی

    تحریر: انشال راؤ
    اسرائیل کے ناجائز قیام کے بعد اسرائیلی عدالتوں نے انصاف کے اصولوں کی دھجیاں بکھیر کر رکھدیں، یہودیوں نے مظلوم فلسطینیوں کی املاک پر قبضے کرلیے عدالتوں میں بطور ثبوت دلیل پیش کی جاتی کہ دو ہزار سال پہلے یہ جائیداد میرے دادا کے نانا کے فلاں فلاں کی تھی اور سہیونی کورٹیں اسے حق بجانب قرار دے دیتیں بالکل اسی طرح بھارتی سپریم کورٹ نے ہندوتوائی دہشتگردوں کے بےبنیاد دعوے پر تاریخی بابری مسجد کی جگہ رام مندر تعمیر کرنے کا فیصلہ دے دیا، مسلمانان برصغیر کو 1947 کے فسادات کے بعد پے در پے سانحات سے گزرنا پڑا لیکن ان میں کشمیر پر بھارتی ناجائز قبضہ اور شہید بابری مسجد کا سانحہ عظیم ترین ہے جس بنا پر بالخصوص مسلمانان ہند ایک دوراہے پر کھڑے نظر آتے ہیں کیونکہ مسلم قیادت بھی بےبسی و اضطراب میں مبتلا ہے، نئی نسل کو جہاں اسلام کی تاریخ میں دلچسپی نہیں وہیں بابری مسجد کی تاریخ و شہادت سے نابلد ہے، ہندوتوا دہشتگردوں کے پروپیگنڈے کے مطابق بابری مسجد کو رام مندر کی جگہ تعمیر کیا گیا جوکہ سراسر بےبنیاد اور من گھڑت داستان سے زیادہ کچھ نہیں، بابری مسجد کی تاریخی حیثیت اس کے کتبے پر کندہ اشعار سے ثابت ہے جن کا مطلب یہ ہے کہ "شاہ بابر کے حکم سے اس کے ایک امیر باقی نے اس مسجد کو بنوانے کی سعادت حاصل کی، جو اب فرشتوں کے اترنے کی جگہ ہے خدا کرے یہ کار خیر باقی رہے” اس سے ظاہر ہے کہ بابری مسجد کو شاہ بابر کے ایک امیر باقی نے بنوایا ہے اور بابر کے کہنے یا اس کی خواہش پر یا اس کے زمانے میں بنی، اس کے علاوہ بھی کچھ کتبات پر شعر و تحریریں کندہ ہیں جن میں حمد و ثناء یا دعائیہ کلمات رقم ہیں، ان کتبات کی سند کو کسی اعتبار سے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، الزام لگایا جاتا ہے کہ بابری مسجد رام جنم بھومی کو مسمار کرکے بنائی گئی، اگر ایسا ہوتا تو بابر اور اس کے امیر اپنے فاتحانہ غرور میں یہ ضرور لکھتے کہ شرک و کفر کی جگہ کو منہدم کرکے یہ مسجد بنائی گئی، بابر کی مذہبی رواداری کا اندازہ اس کی اپنے بیٹے کے نام وصیت سے لگایا جاسکتا ہے کہ "اے فرزند! ہندوستان کی سرزمین مختلف مذاہب سے بھری پڑی ہے، خدا کا شکر ہے کہ اس کی بادشاہت عطا کی، تم پر لازم ہے کہ اپنے لوح دل سے مذہبی تعصبات کو مٹادو اور ہر مذہب کے طریقے سے انصاف کرو، کسی کی عبادت گاہوں و مندروں کو منہدم نہ کرنا، عدل و انصاف اس طرح سے کرو کہ بادشاہ رعایا اور رعایا بادشاہ سے خوش رہے” یہ تحریر اسی سال کی ہے جس سال بابری مسجد کو تعمیر کیا گیا تھا اس وصیت نامہ کو ڈاکٹر راجندر پرشاد نے اپنی کتاب India Divided میں درج کیا ہے، تزک بابری میں بابر نے مندروں کی عمارتوں کا ذکر لطف لے لے کر کیا ہے جیسا کہ گوالیار کے بت خانے کا ذکر ہے اگر بابر مندروں کے خلاف ہوتا تو گوالیار کے عالیشان مندر و بت خانے کو کبھی نہ چھوڑتا، اس کے علاوہ پروفیسر سری رام شرما اپنی کتاب Mughal Empire of India میں لکھتے ہیں کہ "ہمیں ایسی کوئی شہادت نہیں ملتی کہ بابر نے کسی مندر کو منہدم کیا یا کسی ہندو کی ایذا رسانی کی محض اس بنیاد پر کہ وہ ہندو ہے” ہندو دھرم کی تاریخ کو دیکھا جائے تو اس قدیم مذہب میں ہزاروں پنڈت، وشنو، سوامی آئے لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ کسی کو بھی رام جنم بھومی کا پتہ نہ چلا اور انیسویں صدی میں آکر جنگ آزادی 1857 کے بعد انگریزوں نے یہ سوانگ رچا کہ بابری مسجد کو رام مندر منہدم کرکے تعمیر کیا گیا، انگریز نے جان لیڈن کی "میمورائز آف ظہیرالدین بابر” کے حوالے سے یہ ڈرامہ رچا جبکہ جان لیڈن کی کتاب میں ایسا کہیں بھی زکر نہیں کہ بابر نے ایودھیا میں کوئی مندر مسمار کیا سوائے اس کے کہ 1528 میں بابر ایودھیا سے گزرا، مگر پھر بھی انگریز نے لیڈن کو اپنے مقاصد کی بیساکھی بنایا، حیرانگی کی بات یہ ہے کہ ہندووں کی کتب یا لٹریچر میں اس دعوے کا سرے سے وجود نہیں، اگر ایسی کوئی جنم بھومی یا جنم استھان ہوتا تو لازم ہے کہ کوئی نہ کوئی روایت ضرور ہوتی اور بہت سے تاکیدی نصوص بھی ہوتے، ہندوتوا دہشتگرد کسی بھی طور پر یہ ثابت نہیں کرپائے کہ بابری مسجد کی جگہ رام مندر تھا لیکن اس کے باوجود بھارتی سپریم کورٹ نے انصاف کے تقاضوں کی دھجیاں بکھیر کر رکھدی ہیں اور یہ اشارہ دیدیا ہے کہ اب یہ ہندوتوا کورٹ ہے نہ کہ بھارتی سپریم کورٹ، اس کی وجہ یہ ہے کہ 1989 کے جنرل الیکشن میں BJP کی الیکشن مہم تین نکات پر چلائی گئی تھی ایک یہ کہ کشمیر کو بھارت میں شامل کیا جائیگا، دوسرا یہ کہ بابری مسجد کو شہید کرکے اس کی جگہ رام مندر تعمیر کیا جائیگا، تیسرا یہ کہ بھارت کو سیکیولر ریاست کی بجائے ہندو راشٹریہ بنایا جائیگا جوکہ BJP نے اپنی پالیسی کے طور پر پیش کیے تھے اور یہی سٙنگھ پریوار کی آئیڈیولوجی بھی ہے، اسی کے بعد سے بھارت میں سناتن ہندوتوا پالیسیوں کا زور دکھائی دیتا آرہا ہے جتنے بھی کالے قوانین کشمیر میں نافذ کیے گئے وہ 1990 یا اس کے بعد کیے گئے جیسا کہ اسپیشل پاور ایکٹ جن کے تحت کشمیر میں بھارتی سیکیورٹی فورسز کو لائسینس ٹو کِل دے دیا گیا اور ہر جرم کی اجازت دی گئی، اس کے علاوہ بھارتی پارلیمنٹ 15 نومبر 1991 کے بل برائے قانونی حیثیت و تحفظ مذہبی عمارات کے پاس ہونے کے باوجود ہندوتوا دہشتگردوں نے سرکاری سرپرستی میں 6 دسمبر 1992 کو بابری مسجد کو شہید کردیا جسے اب بھارتی سپریم کورٹ نے بھی جرم قرار دیا ہے لیکن آج تک کسی کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہوئی، مودی کی قیادت میں BJP سرکار نے آکر 1989 کے ہی تینوں نکات پر عمل کیا ہے سب سے پہلے کشمیر کو عالمی قوانین کی دھجیاں بکھیرتے ہوے غاصبانہ قبضہ جمالیا ہے اور اب بابری مسجد کیس کو بھی عدالت کے زریعے ہندوتوا دہشتگردوں کی منشاء و مرضی کے مطابق نمٹادیا ہے، تیسرے نکتہ کا بھی نریندر مودی بھارتی یوم آزادی کے موقع پر اعلان کرچکے ہیں کہ اس کا مقصد بھارت کو ایک قوم یعنی ہندو راشٹر بنانا ہے جس کا عکس BJP کے مختلف دہشتگرد رہنماوں کے بیانات سے بھی صاف نظر آتا ہے جوکہ اعلانیہ کہتے آرہے ہیں کہ بھارت سے مسلمانوں و دیگر غیر ہندو مذہب کے ماننے والوں کو نکال باہر کرنا ان کا پرائم ٹارگٹ ہے، ہندوتوا دہشتگرد اب گیان واپی مسجد و متھرا کی عید گاہ سمیت دیگر 150 سے زائد تاریخی مساجد پر نظر جمائے ہوے ہیں جو بھارتی حکومت کی ایماء پر عرصے سے بند ہیں بظاہر تو یہ سرکاری تحویل میں ہیں مگر حقیقتاً یہ بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ ناانصافی و حق تلفی و مذہبی آزادی نہ دیے جانے کی پالیسی کا اظہار اور ہندو راشٹر کی طرف بڑھتا ہوا قدم ہے جو خطے میں ایک نئے خطرناک محاذ کی طرف اشارہ ہے اور مسلمانوں سے ناروا سلوک ریاستی پالیسی ہے، ہندوتوا کا خواب ہے کہ وہ تاریخ کا پہیہ پیچھے کی جانب گھمانا چاہتے ہیں تو یہ بھی ایک کھلا راز ہے کہ مسلمان بھی اپنی تاریخ دہرانا جانتے ہیں اگرچہ میدان سیاست کے کھلاڑی ہندوتوائی سازشوں سے دانستہ یا غیردانستہ غافل ہیں لیکن مسلمانوں میں آج بھی ٹیپو، ابن قاسم، غزنوی، غوری کی سی صلاحیت زندہ ہے اور اپنے حق و خطے کے امن کے لیے ہندوتوا دہشتگردوں کو سبق سکھانے کے لیے اٹھ کھڑے ہونگے۔

  • سپن باؤلنگ کوچ کے میدان میں سعید اجمل بھی کود پڑے

    سپن باؤلنگ کوچ کے میدان میں سعید اجمل بھی کود پڑے

    ایک اور مایہ ناز سابق سپنر کی باؤلنگ کوچ کے لیے درخواست ، پاکستان کرکٹ بورڈ نے اسپن بولنگ کوچ کےلیے اشتہار دے کر درخواستیں طلب کی تھیں جس کے بعد سعید اجمل نے قومی ٹیم کا اسپن بولنگ کوچ بننے کی خواہش ظاہر کرتے ہوئے اس عہدے کےلیے درخواست جمع کرادی ہے۔

    سابق اسپنر سعید اجمل نے پی سی بی ہیڈ کوارٹر میں درخواست جمع کروائی جس میں کہا گیا ہےکہ اسپن بولنگ کوچ کے عہدے کیلئے تمام شقوں پر پورا اترتا ہوں اور پاکستان ٹیم کے ساتھ کام کرکے نوجوان بولرز کی مدد کرنا خواہش ہے۔
    واضح رہے کہ سپن باؤلنگ کوچ کے لیے مشتاق احمد نے بھی درخواست دے رکھی ہے، اب دوسرے مایہ ناز سپنر سعید اجمل بھی اس صف میں شامل ہو چکے ہیں.مشتاق احمد کو مضبوط امیدوار قرار دیا جارہا ہے.

  • گفتگو کے ذرائع اور قومی زبان ،تحریر غزالہ صدیقی و فاطمہ قمر

    گفتگو کے ذرائع اور قومی زبان
    غزالہ صدیقی .اشتراک: فاطمہ قمر، صدر شعبہ خواتین، پاکستان قومی زبان تحریک

    حقیقت یہ ہے کہ اپنی مادری زبان میں بات کرنا اور نہ جاننے والوں کو مرعوب کرنا یا خود اپنی زبان میں فخر سے بات کرنا جدید دنیا کے لوگوں کا مہذب رویہ سمجها جانے لگا ہے – مہذب اس طرح کہ دوسرے کی بولی مختلف بهی ہو تو اسے احترام سے سنا جاتا ہے، یہ ایک عالمی مہذب رویہ ہے –
    بولی زبان سے بولے الفاظ بهی ہوتے ہیں اور زبان کے ماہرین نے گفتگو کے دوسرے ذرائع بهی بولی میں شامل رکهیں پیں جیسے جسمانی اشاروں کی زبان ، مسکراہٹ / آنسوؤں یا جذبات کی زبان ، چهونے سے محسوس کی جانے والی ، صوتی تاثر کے اتار چڑهائو ، مدہم اور بلند آہنگ صوتی تاثرات ، حروف یا الفاظ پر زور دینا ، آنکهوں کے زاوئیے اور ان کے بصری تاثرات وغیرہ —-
    یہ سب گفتگو میں استعمال کی جانے والی بولیاں ہیں
    عالمی سطح پر بین الاقوامی لوگوں کا آپس میں ربط عام بات ہے – پاکستان میں تو غیر ملکوں کی اکثریت نہیں مگر دنیا کے بیشتر ممالک میں یہ عام بات ہے –
    تو جب ایسے ملکوں میں ایک دوسرے کی زبان نہ آتی ہو تو ہوتا یہ ہے کہ سب اپنی مادری زبان بهی بول رہے ہوتے ہیں اور رابطے کی وہ سب بولیاں بهی جن کا میں نے ذکر کیا ہے – یوں بات چیت کی اور سمجهی جاتی ہے ، دوستیاں اور کاروبار زندگی سب اسی طرح چل رہے ہوتے ہیں – کسی کو بهی یہ خیال نہیں آتا کہ انگریزی بولنے والا بڑا قابل ہے ، چینی جاپانی لہجوں پر ہنسی آسکتی ہے ، اردو ، گجراتی پنجابی بولنے والے یا افریقی ممالک کی زبان بولنے والے کوئ عجیب شے ہیں – سب اپنی زبان بولتے ہئں ، انہیں سنا اور سمجها جاتا ہے اور اپنی زبان میں جواب دیا جارہا ہوتا ہے – عام رویہ ہے کہ اس فرق کو قبول کیا جاتا اور شخصی آزادی مانا جاتا یے ، اس کا احترام کیا جاتا ہے – یہاں سائوتهه افریقہ میں انگریزی عام بول چال کی زبان ہے مگر باقی زبانیں بهی اسی طرح فعال ہیں –
    اب بین القومیت بود و باش کے ماحول میں ، انگریزی یا کسی اور ایک زبان کی اجارہ داری فرسودہ خیالی ہو چکی ہے – ہمارے ہاں اسی فرسودہ خیالی کو گلے لگا کے رکها ہوا ہے – دنیا متحرک اور ہم پاکستان میں ا نگریزی کی برف تلے منجمد محسوس ہوتے ہیں – دنیا بهر میں کوئ بهی بیرونی زبان بولنا مہذب اور قابل فخر رویہ نہیں سمجها جاتا ہم ان پڑهه نہیں مگر زبان کے معاملے میں رویہ ایسا ہی ہے۔

  • مجھے کیوں نکالا؟ تحریر غلام زادہ نعمان صابری

    مجھے کیوں نکالا؟ تحریر غلام زادہ نعمان صابری
    "ایئر ایمبولینس میں بیٹھتے ہی طبیعت سنبھلنی شروع ہو گئی ہے، پلیٹلیٹس کی کمی کا کہیں دور دور تک تصور بھی نہیں کیا جا سکتا، شوگرکا تو یوں محسوس ہو رہا ہے جیسے کبھی تھی ہی نہیں، معلوم نہیں آپ نے کیا جادو کیا ہے”، نواز شریف نے ایئر ایمبولینس میں بیٹھتے ہوئے شہباز شریف سے کہا۔
    شہباز شریف نے کہا بھائی جان یہ جادو میں نے نہیں کیا بلکہ میں تو آپ کے پروں کے نیچے چھپ کر جا رہا ہوں ،یہ مہربانی سیف الرحمن کی ہے جو قطر میں آپ کے کاروبار کو سنبھالے ہوئے ہے اور جس نے آپ کو حیات جاودانی کے قطرے پلانے کے لئے قطری شہزادے کی ایئر ایمبولینس بھیجی ہے اور جو آپ کو لے کر پاکستان سے بہت دور جا رہی ہے، اب لگتا ہے ہمیں پاکستان کی آب و ہوا راس نہیں آ رہی، اب دیکھیں ناں آپ کی حالت کتنی پتلی تھی عوام میں یہ تاثر پایا جا رہا تھا کہ بڑے میاں صاحب اب گئے کہ اب گئے۔۔۔۔۔۔۔وہ تو” گئے”کو کسی اور خیال سے کہہ رہے تھے لیکن میری ذہانت کی مجھے داد دیجیے بھائی جان کیونکہ میں نے اس” گئے”کے اندر سے جو” گئے” نکالا ہے وہ یہی "گئے”ہے جس پر ہم دونوں بھائی بیٹھ کر زندہ سلامت جا رہے ہیں۔
    اورہاں بھائی جان نکالا سے میری مراد وہ نہیں ہے جو آپ کہتے ہیں "مجھے کیوں نکالا”. اب کبھی بھول کر بھی یہ فقرہ منہ سے نہ نکالنا کیونکہ اس فقرے نے ہمیں فقیر کر دیا ہے۔دوسرا یہ کہ اگر آپ اس فقرے کو دہرائیں گے تو سارا الزام مجھ پر آئے گا کیونکہ اماں جی کے پر زور اصرار پر میں آپ کو پاکستان سے نکال کر لے جا رہا ہوں اور میں نے خود کی بھی آپ کے لیے قربانی دے دی ہے کیونکہ آپ کے بغیر میرا بھی دل پاکستان سے اٹھ گیا ہے۔
    دونوں طرف سے بھرپور مسکراہٹ کا تبادلہ ہوا اور نواز شریف نے اظہار ہمدردی کے طور خود کو پر سکون محسوس کرتے ہوئے آصف علی زرداری کی حمایت میں لب کشائی فرمائی کہ اب اس بیچارے کا کیا بنے گا؟
    شہباز شریف نے مسکراتے ہوئے بھائی جان سے فرمایا کہ بھائی جان فکر نہ کریں آپ جیسے نواز شریف کے سو دماغ مل کر آصف علی زرداری کا ایک دماغ بنتا ہے یہ اسی کا خاصہ ہے کہ اس نے اب تک بھٹو کو زندہ رکھا ہوا ہے وہ خود زرداری ہوکر بھی بھٹو ہے۔
    بھائی جان بس کچھ ہی دنوں بعد وہ بھی کسی ایئر ایمبولینس میں ہمارے پیچھے پیچھے آنے والا ہے بس اب احتیاط کیجیے گا کسی اور میثاق جمہوریت کے بارے میں!
    بالکل آپ ہی کی طرح آصف علی زرداری کی بیماریاں بھی نئی کونپلوں کی طرح پھوٹنی شروع ہو گئی ہیں اور آہستہ آہستہ پتے نکلیں گے اور تشخیص سامنے آتی جائے گی اور پھر ایک روز ائیر ایمبولینس پاکستان کے کسی ایئر پورٹ پر کھڑی ہو گی اور یوں آصف علی زرداری بھی علاج کے بہانے پاکستان کو خیر باد کہہ دیں گے۔
    بھائی جان جب آپ کی آصف علی زرداری سے ملاقات ہو تو ایک شعر آپ کو سناتا ہوں یہ آپ ان کے سامنے ضرور پڑھ دینا ہوسکتا ہے آپ کی زبان سے یہ شعر سن کر ان کی طبیعت کچھ افاقہ محسوس کرے، اگر دو لفظوں سے کسی کا بھلا ہو جائے تو کیا مضائقہ ہے:

    آ عندلیب مل کر کریں آہ و زاریاں
    تو پکار ہائے گل میں چلاؤں ہائے دل

    نواز شریف نے شہباز شریف سے کہا شعر تو تم نے بہت اچھا سنایا ہے، اگر یہ شعر تم خود آصف علی زرداری کو سنا دو تو ٹھیک نہیں ہے؟
    بالکل ٹھیک ہے میں یہ شعر آصف علی زرداری کو سنا سکتا ہوں لیکن میں اس سے کچھ شرمندہ ہوں، شہباز شریف نے کہا۔
    نواز شریف نے پوچھاکہ کیا شرمندگی ہے، شہباز شریف نے یاد دلایا کہ آپ تو جانتے ہی ہیں کہ میں نے انتخابات کے دوران آصف علی زرداری کا پیٹ پھاڑ کر لوٹی ہوئی قومی دولت نکالنی تھی مگر میں ایسا نہ کر سکا، الٹا عمران خان نے ہمارا پیٹ پھاڑ کر لوٹی ہوئی قومی دولت نکال لی سیانے ٹھیک ہی کہہ گئے ہیں کہ کسی کا برا نہیں سوچنا چاہیے اور نہ کسی کے لیے کنواں کھودنا چاہیے دیکھا آپ نے ہم نے آصف علی زرداری کے لیے برا سوچا اور اس کے راستے میں کنواں بھی کھودا اور ہم خود ہی اس کنویں میں گر گئے۔
    مجھے لگتا ہے کہ ہم گھاٹے کا سودا کر آئے ہیں لگتا ہے آصف علی زرداری اس معاملے میں ہمیں مات دے جائے گا کیونکہ وہ بہت شاطر آدمی ضرور کوئی ایسی چال چلے گا جس سے سانپ بھی مر جاۓ گا اور لاٹھی بھی بچ جائے گی۔
    بھائی جان آپ کو یاد ہوگا کہ آپ نے بھی اسے بارہ سال جیل میں رکھا تھا مگر وہ پھر بھی دم کی طرح سیدھا نہیں ہوا تھا آخر آپ کو ہی ہار ماننا پڑی تھی۔
    نواز شریف نے کہا کہ لگتا ہے وہ سیدھا سرے محل جائے گا۔
    شہباز شریف نے کہا سرے محل جائے یا دبئی پیلس بس آپ نے اس شخص سے بچنا ہے کہیں پھر وہ آپ کو ورغلا کر کوئی نیا میثاق جمہوریت نہ کروا لے اب تو بچ گئے ہیں آئندہ بچنے کی امید نہیں ہے لہٰذا خود بھی سکون کی زندگی گزاریں اور مجھے بھی گزارنے دیں، آپ کی بیوی تو اللہ کو پیاری ہو گئی ہے میری تو چار زندہ ہیں۔
    اب دیکھیں ناں ائیر ایمبولینس میں بیٹھتے ہی آپ کی طبیعت سنبھل گئی ہے اندازہ کریں جب ولایت کی ولایتی آب و ہوا آپ کے بدن کو چھوئے گی تو کیا عالم ہوگا۔
    یہ بات سن کر نواز شریف کے دل ودماغ میں جو مناظر گھومے ان کے بارے میں وہ ہی بتا سکتے ہیں کوئی اور انہیں بیان کرنے سے قاصر ہے۔

  • ولائتی انڈے۔۔۔۔۔غلام زادہ نعمان صابری

    اندرون شہر لاہور کی کچھ گلیاں اور محلے دن کو سوتے اور رات کو جاگتے ہیں۔ایسے ہی ایک محلے کی گلی کا موڑ مڑتے ہوئے اس نے دیکھا کہ چند بابے تھڑے پر بیٹھے تاش کھیل رہے تھے۔

    اس نے موڑ مڑتے ہی با آواز بلند گرم انڈوں کا نعرہ لگایا جو سیدھا ان کے کانوں سے جا ٹکرایا۔سردیوں کی رات کی ٹھنڈ،تاش کا چسکا اور گرم انڈوں کی پراسرارلذت نے ان کے دل ودماغ کو یکجان ہو کر سوچنے پر مجبور کر دیا کہ گرم انڈوں کی آواز لگانے والے کو فی الفور شرف ملاقات عطا فرمائی جائے اور گرم گرم انڈوں سے لطف اندوز ہوا جائے۔

    باباشیدا ٹانگے والا اور بابا بوٹا تمباکو والا مسلسل تیسری بازی ہار چکے تھے،جیتنے والوں نے گرم چائے کے ساتھ گرم انڈوں کی بھی فرمائش کا اضافہ کر دیاتھا ۔ہارنے والے بھی "تھوہڑ دلئے "نہیں تھے بلکہ جی دار قسم کے بابوں کی فہرست میں اپنا ایک منفرد مقام رکھتے تھے۔

    بابے بوٹے نے نورے انڈوں والے کو آواز دی اور اپنے پاس بلایا۔نورا انڈوں والا بھی اسی علاقے کا رہائشی اور ان کے قریبی محلے کا باسی تھا اور انڈوں کا تھوک کا کاروبار کرتا تھا،اندرون شہر ولائتی انڈوں کا سب سے پہلے اسی نے کاروبار شروع کیا تھا اور پورے شہر میں اسی کی سپلائی جاتی تھی۔نور محمد سے بالآخربابا نورا انڈوں والا کے نام سے مشہور ہو گیا۔دورونزدیک سے آنے والا کوئی بھی بندہ اگر کسی بچے سے بھی بابا نورے کے بارے میں پوچھتا تو وہ اس کی انگلی پکڑ اسے بابا نورا کی دکان پر پہنچا دیتاتھا۔

    وقت کے ساتھ ساتھ مخلوق خدا کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا اور انڈوں کی ڈیمانڈ بھی بڑھنے لگی،مٹھائی سے لے کر بیکری تک اور ہوٹلوں سے لےکر گھروں تک تو انڈوں کی مانگ تھی،انڈہ اچھا ہو تو چلتا ہے گندہ انڈہ کس کام کا۔

    گندے انڈے بھی ہر جگہ پائے جاتے ہیں لیکن سیاست میں گندے انڈوں کی ورائٹی گننا بہت مشکل کام ہے۔
    کیا کوئی یہ بتا سکتا ہے کہ انڈہ صرف مرغی کا ہی ہوتا ہے?

    سیاست کے گندے انڈوں نے وہ غلیظ بچے نکالے ہیں جنہوں نے پورا ملک تعفن زدہ کر دیا ہے۔ان پر شمامۃ العنبر کی لاکھ بوتلیں چھڑک ڈالیں لیکن خوشبو کا کوئی اثر ہوتا نظر نہیں آتا۔

    ہمارا ملک گندے انڈوں کے سبب ترقی کی وہ منازل طے نہیں کر سکا جو اس کا حق تھا۔آج پاکستان جس چوراہے پر کھڑا ہے اس کے ذمہ دار صرف یہی گندے انڈے ہیں جنہوں نے گندہ ہونے کے باوجود کرشماتی طور پر کچھ نہ کچھ ضرور جنم دیا ہے۔

    بابا بوٹا انڈوں والا جانتا تھا کہ یہ” پتہ کھلاڑی”اپنے پتے کو گرم کرنے کے لئے ٹھنڈی رات کے اس پچھلے پہر گرم انڈے ضرور کھائیں گے۔

    وہ ان کے پاس گیا اور گرم انڈوں والی ٹوکری رکھ کر بیٹھ گیا۔بابابوٹا تمباکو والا نورے کو بہت اچھی طرح جانتا تھا کیونکہ بابا بوٹا تمباکو والا انڈوں کا حلوہ بہت اچھا بناتا تھا اور وہ انڈے اسی سے خریدتا تھا۔

    بابا بوٹا نے نورے سے پوچھا کہ یار سچ سچ بتانا تو اس مقام تک کیسے پہنچا جبکہ اس علاقے میں تجھ سے بڑا انڈوں کا کوئی سوداگر نہیں تھا اور لوگ قطار میں کھڑے ہو کر انڈے خریدتے تھے۔

    بابا نورا نے دونوں ہاتھ اپنے سر پر رکھے اور ایک لمبی ٹھنڈی آہ بھر کر بولا۔
    بوٹے”رج پچانا بڑا اوکھا کم اے”

    میرا انڈوں کا کاروبار اس قدر عروج پر تھا اگر مجھ میں انسانیت ہوتی تو آج میں اس علاقے کا سب سے زیادہ امیر شخص ہوتا۔

    بوٹے تمہیں تو معلوم ہے کہ دیسی انڈے ولائتی انڈوں سے زیادہ مہنگے بکتے ہیں،مجھے ایک دن شیطان نے بہکایا اور میرے کان میں آ کر کہنے لگا کہ نورے ساری زندگی ولائتی انڈے ہی بیچتا رہے گا،کچھ ترقی کرنے کا بھی سوچ میرے کان کھڑے ہوئے میں نے مشورہ مانگا تو کہنے لگا کہ آسان طریقہ ہے ولائتی کو دیسی بنانے کا۔

    بس پھر کیا،پوچھو مت۔۔۔۔۔میں نے شیطان کے بتائے ہوئے فارمولے پر دل و جان سے عمل کیا اور ولائتی انڈوں کو دیسی انڈے بنا کر بیچنا شروع کر دیا،منافع تو بے حد ہوا مگر حرام کی حد ختم ہو گئی۔

    شروع شروع میں تو شیطان نے میرا بہت ساتھ دیا اور میری راہنمائی میں پیش پیش رہا لیکن ایک وقت ایسا آیا کہ وہ مجھے بیچ منجدھار میں ہچکولے کھاتا چھوڑ کر مفرور ہوگیا اس کے جانے کی دیر تھی لوگوں نے شکایات کے انبار لگا دیئے اور کہنے لگے ۔۔۔۔۔بوٹیا! انڈوں میں دیسی والا سواد نہیں آ رہا۔

    بس پھر کیا !لوگ آہستہ آہستہ دکان کا راستہ بھولنے لگے دیسی اور ولائتی انڈے خراب ہونا شروع ہو گئے،دیسی انڈے بیچتے بیچتے ولائتی انڈے بیچنے سے بھی ہاتھ دھو بیٹھا۔

    لالچ نے اندھا کردیا تھا اور ہاں بابا بوٹے تجھے یہ بھی بتاتا چلوں کہ وہ شیطان یہ شیدا ٹانگے والا تھا جو تیرے سامنے بیٹھا ہوا شیطانی ہنسی ہنس رہا ہے،یہ خود بھی ڈوبا ہے اور ساتھ مجھے بھی ڈبو دیا۔

    بابا بوٹے نے شیدے کی طرف غراتی نظروں سے دیکھا تو شیدے نے تاش کے پتے جنہیں وہ ہاتھ میں پھینٹ رہا تھا زور سے زمین پر پھینکے اور کہنے لگا،بوٹے ایک بات تو بتا!

    بوٹے نے کہا پوچھ!
    شیدا کہنے لگا اگر میں تمہیں کہوں کہ کنویں میں چھلانگ لگاؤ تو کیا تم کنویں میں چھلانگ لگا دو گے!
    بوٹے نے کہا کہ کیا میں پاگل ہوں

    بس اپنی سوچ اور نورے کی سوچ کا تو خود ہی موازنہ کر لے،شیدے نے بوٹے سے کہا۔
    گرما گرم ولائتی انڈوں کی ٹوکری اتنی دیر میں خالی اور چائے کی پیالیوں پر ملائی کی پرت جم چکی تھی اور مرغوں نے اذانیں دینا شروع کر دی تھیں۔

    ولائتی انڈے۔۔۔۔۔غلام زادہ نعمان صابری

  • خبردار! ناشتے نہ کرنے والے بچے تعلیمی میدان میں‌ پیچھے رہ جاتے ہیں،ماہرین طب

    لندن:خبردار! ناشتے نہ کرنے والے بچے تعلیمی میدان میں‌ پیچھے رہ جاتے ہیں،برطانوی ماہرین کا کہنا ہے کہ جو بچے صبح نشاتہ نہیں کرتے وہ تعلیمی میدان میں بہت پیچھے رہ جاتے ہیں۔تفصیلات کے مطابق برطانیہ کی یونیورسٹی لیڈز کے ماہرین نے صبح ناشتہ کرنے اور نہ کرنے والے بچوں کے حوالے سے تحقیقاتی مطالعہ کیا، اس دوران 294 والدین سے بات چیت کر کے اُن کے بچوں کا ڈیٹا جمع کیا گیا۔

    مقبوضہ کشمیر کے دکھی بچوں کو نہ بھولیں، عمران خان کا خصوصی پیغام

    ذرائع کے مطابق جرنل فرنٹیرز پبلک ہیلتھ میں شائع ہونے والی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ماہرین اس نتیجے پر پہنچے کہ جو بچے صبح ناشتہ نہیں کرتے وہ تعلیمی میدان میں نہ صرف پیچھے رہ جاتے بلکہ بہت کم نمبروں سے کامیابی حاصل کرتے ہیں۔

    دنیا میں سالانہ ایک لاکھ بچے جنگ کی وجہ سے ہلاک ہوتے ہیں:عالمی تنظیم سیو دی چلڈرن

    ماہرین نے مطالعے کے دوران بچوں کے امتحانات کا ڈیٹا بھی اکھٹا کیا۔ جس میں یہ بات سامنے آئی کہ اچھی پوزیشنز حاصل کرنے والے طالب علم صبح باقاعدگی کے ساتھ ناشتہ کرکے آتے ہیں۔تحقیقاتی مطالعے میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ جو بچے ناشتے میں انڈا کھاتے ہیں اُن کے ذہن دیگر کے مقابلے میں زیادہ تیز ہوتے، یہی وجہ ہے کہ وہ اچھے نمبروں یا پوزیشنر لیتے ہیں۔

    مسلمان مہاجرین کےعلاوہ تمام مہاجرین کوبھارتی شہریت دے دیں گے ، وزیرداخلہ امت شاہ

    ماہرین کا کہنا ہے کہ صبح کا ناشتہ بچے کے لیے دماغ کے ایندھن کی طرح ہوتا ہے اس لیے جو بچے کچھ کھائے پیے بغیر اسکول جاتے ہیں اُن کے ذہن کمزور رہ جاتے ہیں اور وہ سست رہتے ہیں۔تحقیقی ٹیم کے سربراہ پروفیسر اڈلوپھس کا کہنا تھا کہ ناقص غذائیت کی وجہ سے طالب علموں کے اسکول کا رزلٹ بہت زیادہ حد تک متاثر ہوتا ہے۔

  • یہ بچے پھول ہیں گُلشن کے۔۔۔(20 نومبر،بچوں کا عالمی دن)،تحریر:جویریہ چوہدری

    یہ بچے پھول ہیں گُلشن کے۔۔۔(20 نومبر،بچوں کا عالمی دن)۔
    تحریر:جویریہ چوہدری

    بچے کسی بھی باغ کی رونق،خوشبو اور زینت کی طرح اور کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں۔۔۔
    ان کے حقوق کا دفاع،تربیت،فلاح و بہبود اور تعلیمی و فنی صلاحیتوں کو اجاگر کر کے ہی ہم ایک صحتمند اور ترقی یافتہ معاشرے کا خواب دیکھ سکتے ہیں۔۔۔
    کسی بھی دن کو منانے کا مقصد محض اس مسئلہ کے حوالے سے شعور بیدار کرنا ہو سکتا ہے۔۔۔ورنہ کسی بھی مسئلے کے حل کے لیئے ہر دن نئے عزم اور ولولے سے کام کرنے اور اپنے فرائض کا ادراک کرنے میں ہے۔۔۔
    کیونکہ صرف دن منانے سے دنیا بھر کے حقوق کو ترستے لاکھوں بچے کوئی حقوق حاصل نہیں کر سکتے۔۔۔ !!!
    بچوں کی صحت،تعلیم،موسمی ملبوسات،ذہنی بالیدگی،تفریح طبع کے اسباب مہیا کرنا ان کے بنیادی حقوق ہیں۔۔۔
    مگر افسوس ہے کہ معاشرے سے عالمی سطح تک یہ پھول،جھلستے،مرجھاتے اور کملاتے دکھائی دیتے ہیں۔۔۔
    کسی بھی معاشرے میں اس کی وجہ غربت،شعور کا فقدان اور وسائل کی عدم دستیابی ہوتی ہے۔۔۔بچوں کی خوراک کی کمی،اور بچپن کی بڑھتی اموات اس کی مثال کے طور پر سمجھی جا سکتی ہیں۔۔۔پھر آگے بڑھ کر سوسائٹی کا یہ طبقہ جو معاشی جھمیلوں کا شکار دکھائی دیتا ہے تو
    اسی وجہ سے یہ ننھی جانیں اپنے سہانے بچپن کے خواب جلد ہی بکھیرنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔۔۔اور زندگی کی سانسوں کو بحال رکھنے کے لیئے بھٹوں اور فیکٹریوں،ورکشاپوں اور کارخانوں میں ننھے مزدوروں کی صورت میں دکھائی دیتی ہیں۔۔۔ !!!
    ننھے ہاتھوں میں پکڑے بھاری آوازار اور میلے اور چکنے کپڑوں میں ملبوس یہ پھول کسی بھی معاشرے کی زندہ دلی پر سوال اٹھاتے نظر آتے ہیں۔۔۔؟؟؟
    بچوں کے حوالے سے صرف ایک دن منا کر پھر خاموشی کی چادر تان لینے سے اس استحصال کو روکا نہیں جا سکتا۔۔۔
    ان ننھے پھولوں کو کام کی جگہوں پر مار پیٹ،تشدد سے بری طرح مسلا جاتا ہے۔۔۔
    یہی صورت حال اکثر کم عمر گھریلو ملازمین کے حوالے سے بھی سامنے آتی ہے۔۔۔جو ایک معاشرتی المیہ ہے۔۔۔ !!!!
    حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے دس سال رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت کی،تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اف تک نہیں کہا اور نہ یہ کہا کہ فلاں کام کیوں کیا اور کیوں نہیں کیا؟
    (صحیح بخاری)۔
    رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اپنے ملازمین اور خدام کو اپنے جیسا کھِلانے،پلانے اور پہنانے کا حکم دیا ہے۔۔۔ !!!!
    پھر اسی طرح جنسی زیادتی کی دہشت گردی کے واقعات کا سامنے آنا اور زیادہ ذلت کا عکاس ہوتا ہے۔۔۔ !!!
    ان تمام صورتوں میں متاثر ہونے والا فریق یہ معصوم اور پھولوں کی مانند بچے ہی ہیں۔۔۔ !!!!
    والدین کی طرف سے عدم توجہ،بے جا مار پیٹ اور حد سے زیادہ لاڈ پیار بھی معاشرے کے اس اہم ستون کو کھوکھلا کرنے کا باعث ہے۔۔۔۔شروع سے ہی بہترین تربیت،غربت ہو یا امارت مستقبل کی بہترین صلاحیتوں کے سامنے آنے کی نوید ہو سکتی ہے۔۔۔ !!!
    پیار نرمی،اور محبّت سے ان پھولوں پر خوب صورت رنگ چڑھائے جا سکتے ہیں۔۔۔۔ !!!
    عالمی سطح کی بات کی جائے تو دنیا کے کئی خطوں میں یہ پھول سخت گرم و سرد تھپیڑوں سے نبرد آزما ہیں۔۔۔جن کے گھر،درسگاہیں اُن سے چھین لی گئی ہیں۔۔۔
    لاکھوں مہاجر بچے بنیادی سہولیات سے محروم ہو چکے ہیں۔۔۔
    فلسطینی اور کشمیری بچوں کے گھروں،سکولوں پر غاصبوں نے نا جائز قبضے کر رکھے ہیں۔۔۔
    اور ان کی تعلیمی سرگرمیوں اور ادویات و خوراک کے سنگین مسائل پیدا کیئے جاتے ہیں۔۔۔
    ان کی تعلیمی قابلیت میں معاون سہولیات انٹر نیٹ وغیرہ پر بھی پابندیاں عائد ہیں۔۔۔۔
    جن پر انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی بارہا تشویش کا اظہار کرتی ہیں،مگر دنیا میں امن کے حصول کے دعویدار صرف دعوؤں میں ہی کھوئے رہ جاتے ہیں۔۔۔اور انسانی حقوق کی پامالی مسلسل جاری ہے۔۔۔ !!!!
    لیبیا،شام،عراق،یمن،افغانستان میں بھی جنگی کاروائیوں(زمینی و فضائی) کے دوران ہزاروں معصوم بچے لقمۂ اجل بن جاتے ہیں مگر سوائے افسوس کے کوئی اقدام نہیں کیا جاتا،تاکہ ایسی گھناؤنی مثالوں کو روکا جا سکے۔۔۔
    اسلام تو وہ دینِ فطرت ہے جو جنگ کے دوران بھی معصوم بچوں،عورتوں اور بوڑھے لوگوں کے حقوق کی پاسداری کی تعلیم دیتا اور ان کے قتل سے سختی سے منع فرماتا ہے۔۔۔
    پیارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم بچوں کو پیار کرتے،سر پر ہاتھ پھیرتے،اوربوسہ دیتے تھے۔۔۔
    نماز میں بچوں کے رونے کی آواز سن کر اس ڈر سے کہ بچے کی ماں کو تکلیف نہ ہو،نماز مختصر کر دیتے۔۔۔(صحیح بخاری)۔
    ایک بدوی نے آکر پوچھا کہ کیا آپ لوگ اپنے بچوں کو بوسہ دیتے ہیں؟
    ہم تو بوسہ نہیں دیتے۔۔۔۔
    رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    اگر اللّٰہ نے تمہارے دل سے رحم نکال دیا ہے تو میں کیا کر سکتا ہوں؟؟؟
    (رواہ البخاری۔۔۔کتاب الادب۔
    مگر آج اسلامی ممالک کے بچوں کے حقوق ہی ریزہ ریزہ ہو کر بکھر رہے ہیں۔۔۔؟؟؟
    آج بھی بچوں کے حقوق کے حقیقی محافظ اسلام کی روشن تعلیمات پر عمل کی اشد ضرورت ہے۔۔۔
    تاکہ ہر جگہ،ہر خطے میں مذہب،قوم اور نسل سے قطع نظر یہ پھول مسکراتے رہیں،
    خوشبو سے گلشنوں کومہکاتے رہیں۔۔۔ !!!!
    ایک محاورہ ہم اکثر استعمال کرتے ہیں کہ بچے تو سب کے سانجھے ہوتے ہیں۔۔۔ !!!!
    ان پر غلط نگاہیں پڑنے ہی نہ دیں۔۔۔ان کے محافظ بن جائیں تاکہ ان کے گُل رنگ چہروں پر یاسیت کی پرچھائیاں نہ پڑنے پائیں۔۔۔
    ان کی روشن آنکھوں میں کمتری کے آنسو نہ جھلملانے پائیں۔۔۔ !!!
    کہ ان بچوں کے حقوق کی حفاظت اپنے روشن مستقبل کی حفاظت کی ضمانت ہے۔۔۔ !!!!
    ان بچوں کے تمام بنیادی حقوق کی زمہ داری والدین،معاشرے،درسگاہوں کے معلموں،عہدیداروں،اور حکومتوں سبھی پر عائد ہوتی ہے۔۔۔تاکہ کوئی سی بھی تپش ان پھولوں اور کلیوں کے جھلسنے کا باعث نہ بنے۔۔۔۔ !!!
    یہ بچے پھول ہیں گلشن کے، ان
    پھولوں کو ہنساؤ سب__
    ان پھولوں اور کلیوں کی اداؤں کو مہکاؤ سب۔۔۔ !!!
    ان پھولوں پر جوبن سے ہی یہ گلشن مسکرائے گا۔۔۔
    کوئی سماج تب ہی پھر کامیاب بھی کہلائے گا۔۔۔ !!!!

  • غلام مصطفی خان جتوئی وفات پاگئے،تاریخ لوٹ آئی

    کراچی :تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے،آج بھی تاریخ نےوہ دن دوبارہ دہرادیا اورباورکرادیا جس دن پاکستان کے سابق وزیراعظم اپنے خالق حقیقی سے جاملے،اسی سابق وزیراعظم کی تاریخ‌پیدائش بھی بہت مشہوردن کی ہے،اسی دن چودہ اگست 1931ء کوپاکستان کے بزرگ سیاستدان اور سابق نگراں وزیراعظم غلام مصطفی خان جتوئی سندھ کی سرزمین میں‌پیدا ہوئے۔

    غلام مصطفی خان جتوئی کے والد غلام رسول جتوئی کئی مرتبہ سندھ اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔انہوں نے 1956ء میں مغربی پاکستان اسمبلی کی رکنیت سے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز کیا۔ 1962ء اور 1965ء میں وہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 1967ء میں جب پاکستان پیپلزپارٹی کا قیام عمل میں آیا تو وہ اس کے اساسی ارکان میں شامل ہوئے۔ 1970ء میں وہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور 1971ء میں جب ملک میں پیپلزپارٹی کی حکومت قائم ہوئی تو وہ مرکزی کابینہ کے رکن بن گئے۔

    1973ء میں ذوالفقار علی بھٹو نے انہیں صوبہ سندھ کا وزیراعلیٰ مقرر کیا ۔ 1977ء میں وہ بلامقابلہ سندھ اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور بعدازاں متفقہ طور پر وزیراعلیٰ بھی بن گئے۔ 1977ء میں ملک میں مارشل لاء کے نفاذ کے بعد انہوں نے پاکستان پیپلزپارٹی کو سیاسی طور پر زندہ رکھنے کے لئے بڑا فعال کردار ادا کیا اور 1983ء میں ایم آر ڈی کی تحریک کی قیادت بھی کی۔

    مارچ 1986ء میں جب بے نظیر بھٹو نے ان سے مشورہ کئے بغیر سندھ پیپلزپارٹی کی قیادت میں بنیادی تبدیلیاں کی تو انہوں نے اسے بڑا محسوس کیا اور وہ پاکستان پیپلزپارٹی سے علیحدہ ہوگئے۔ 1986ء میں ہی انہوں نے اپنی سیاسی جماعت نیشنل پیپلزپارٹی قائم کی۔ 1988ء کے عام انتخابات میں وہ کامیاب نہ ہوسکے مگر اگلے ہی برس وہ کوٹ ادو کی ایک نشست پر ضمنی انتخابات میں منتخب ہوکر نہ صرف قومی اسمبلی کے رکن بنے بلکہ متحدہ اپوزیشن کے سربراہ بھی بن گئے۔

    6 اگست 1990ء کو بے نظیر بھٹو کی حکومت کے خاتمے کے بعد وہ نگراں وزیراعظم کے عہدے پر فائز ہوئے۔ وہ 1990ء، 1993ء اور 1997ء کے عام انتخابات میں قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تاہم 2002ء اور 2008ء کے عام انتخابات میں انہوں نے حصہ نہیں لیا۔20 نومبر 2009ء کوغلام مصطفی خان جتوئی لندن کے سینٹ میری اسپتال میں وفات پاگئے۔وہ نیو جتوئی کے مقام پر آسودۂ خاک ہیں

  • پاکستان نے آسٹریلین ٹیم کو دورہ پاکستان کے لیے راضی کرنے کی کوششیں تیز کر دیں

    پاکستان نے آسٹریلین ٹیم کو دورہ پاکستان کے لیے راضی کرنے کی کوششیں تیز کر دیں

    تفصیلات کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ نے دو ہزار بائیس میں آسٹریلین ٹیم کو دورہ پاکستان کیلئے راضی کرنے کی کوششیں تیز کردیں ہیں اور اس عمل میں سابق آسٹریلین آلراونڈڑ شین واٹسن کا کردار اہم ہوچکا ہے۔شین واٹسن گزشتہ دنوں آسٹریلین کرکٹرز ایسوسی ایشن کے صدر مقرر ہوئے تھے اور وہ اس ماہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو وسیم خان سے ملاقات کریں گے۔

    وسیم خان ان دنوں آسٹریلیا میں موجود ہیں جہاں وہ کرکٹ آسٹریلیا کے آفیشلز اور دیگر حکام سے ملاقاتیں کریں گے۔پی سی بی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سال کے آغاز میں پاکستان سپر لیگ کے لیے کراچی آنے والے شین واٹسن کا فیڈ بیک پی سی بی کی کوششوں کو کامیابی دلوانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔
    پی سی بی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سال کے آغاز میں پاکستان سپر لیگ کے لیے کراچی آنے والے شین واٹسن کا فیڈ بیک پی سی بی کی کوششوں کو کامیابی دلوانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

    شین واٹسن کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی ٹیم کے ساتھ پی ایس ایل میچز کھیلنے کیلئے پاکستان آئے تھے، حال ہی میں ایک انٹرویو میں واٹسن نے پاکستان میں سیکیورٹی انتظامات کو سراہا اور دوبارہ پاکستان کے دورے کی خواہش ظاہر کی تھی۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ وسیم خان اور آسٹریلین کرکٹرز ایسوسی ایشن کے درمیان ملاقات ملبرون میں پہلے ٹیسٹ کے بعد شیڈول ہے جس میں پاکستان کرکٹ بورڈ آسٹریلین کرکٹرز کے تحفظات دور کرنے کی کوشش کرے گا۔

  • بچوں کا عالمی دن اور کشمیری بچے!!!   تحریر غنی محمود قصوری

    بچوں کا عالمی دن اور کشمیری بچے!!! تحریر غنی محمود قصوری

    آج 20 نومبر ہے اور پوری دنیا میں بچوں کا عالمی دن منایا جا رہا ہے اس دن کو منانے کا مقصد بچوں پر ظلم و تشدد روکنا ان کی تعلیم و تربیت و صحت کا خیال کرنا ،ان سے جنسی زیادتی رکوانا اور بچوں سے محنت و مشقت رکوانا ہے
    یہ دن عالمی طور پر 20 نومبر 1989 سے ہر سال منایا جا رہا ہے تاہم 14 دسمبر 1954 کو اقوام متحدہ میں اس دن کو منانے کیلئے شفارشات پیش کی گئی تھیں
    آج ساری دنیا میں بچوں کے نام پر بڑے بڑے لوگ اور تنظیمیں اس دن کی اہمیت پر روشنی ڈالیں گی انسانوں تو انسانوں جانوروں کے بچوں کے حقوق کا بھی رونا روئیں گیں مگر افسوس کہ آج عالم اسلام اور بالخصوص مقبوضہ وادی کشمیر کے بچوں کو یکسر نظر انداد کیا جائے گا حالانکہ اس دن کا مقصد ہی بچوں پر ظلم و تشدد رکوانا اور ان کے حقوق کا خیال کرتے ہوئے انہیں آزاد زندگی گزارنے کے مواقع مہیا کرنا تھا اور شاید اب بھی ایسا ہی ہے مگر صرف مسلمانوں کے بچوں کے لئے ایسا ہر گز ہر گز نہیں
    اقوام متحدہ کہ جس نے اس دن کو منانے کا اعلان کیا آج وہی تقریبا 4 ماہ سے کشمیری محصور بچوں پر ہونے والے تشدد پر کبوتر کی طرح آنکھیں بند کئے ہوئے ہیں پوری دنیا کا میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں چیخ چیخ کر اقوام متحدہ کو بتا رہی ہیں کہ کشمیری بچے سینکڑوں دنوں سے اپنے گھروں میں محصور ہیں ان کی تعلیم کا سلسلہ ختم ہے ان کے پاس کھانے کو خوراک نہیں سردی سے بچنے کیلئے گرم کپڑے نہیں بیمار ہونے پر دوا نہیں میسر نہیں اور نومولودوں کیلئے دودھ بھی نہیں مگر افسوس صد افسوس کہ نام نہاد انسانی حقوق کی علمبردار اقوام متحدہ بھارت کو کچھ کہنا تو دور کی بات اپنے طور پر بھی ان مظلوم و مجبور محصور کشمیری بچوں کیلئے کچھ بھی کرنے سے قاصر ہے حالانکہ یہی لوگ کتوں اور بلیوں کے بچوں کے تحفظ کی خاطر اربوں روپیہ خرچ کر دیتے ہیں اور کسی بھی جنگلی جانور کی ذرا سی تکلیف پر تڑپ جاتے ہیں اور ان بقاء و سلامتی کیلئے ان طیارے ان کے ہیلی کاپٹر تک کئی کئی دن ریسکیو کرتے رہتے ہیں
    مگر افسوس ان کو ہندو فوجیوں کی پیلٹ گنوں سے زخمی و نابینا ہوتے بچے اور ہندو ناپاک کے جنسی تشدد کا نشانہ بنتی آصفہ بانو جیسی معصوم بچیاں نا پچھلے 73 سالوں سے نظر آ رہے تھے اور نا اب نظر آ رہے ہیں وجہ صرف ان بچوں کا مسلمان ہونا ہے تاریخ گواہ ہے اقوام متحدہ کا کردار بھارت کی لونڈی کا سا ہے پچھلے 73 سالوں سے ان کشمیری بچوں کے والدین جبکہ وہ خود بچے تھے اب ان کے بچوں کے بھی بچے ہو چکے وہ تب سے اس اقوام متحدہ کو یاد کروا رہے ہیں کہ ہم کشمیریوں پر ظلم و تشدد ہو رہا ہے ہندو ہمارے بچوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ رہا ہے ، ہمارے معصوم بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانا بنایا جا رہا ہے اور جانوروں پر استعمال کرنے والی پیلٹ گن ہمارے بچوں پر استعمال کر رہا ہے مگر یہ نام نہاد عالمی حقوق کی علمبردار درحقیقت عالم کفر کی راکھیل اقوام متحدہ سب کچھ سن دیکھ کر خاموش ہے اور اس کی خاموشی اس کے انسانی حقوق کے نعروں کی نفی کر رہی ہے