Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پاکستان نے آسٹریلین ٹیم کو دورہ پاکستان کے لیے راضی کرنے کی کوششیں تیز کر دیں

    پاکستان نے آسٹریلین ٹیم کو دورہ پاکستان کے لیے راضی کرنے کی کوششیں تیز کر دیں

    تفصیلات کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ نے دو ہزار بائیس میں آسٹریلین ٹیم کو دورہ پاکستان کیلئے راضی کرنے کی کوششیں تیز کردیں ہیں اور اس عمل میں سابق آسٹریلین آلراونڈڑ شین واٹسن کا کردار اہم ہوچکا ہے۔شین واٹسن گزشتہ دنوں آسٹریلین کرکٹرز ایسوسی ایشن کے صدر مقرر ہوئے تھے اور وہ اس ماہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو وسیم خان سے ملاقات کریں گے۔

    وسیم خان ان دنوں آسٹریلیا میں موجود ہیں جہاں وہ کرکٹ آسٹریلیا کے آفیشلز اور دیگر حکام سے ملاقاتیں کریں گے۔پی سی بی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سال کے آغاز میں پاکستان سپر لیگ کے لیے کراچی آنے والے شین واٹسن کا فیڈ بیک پی سی بی کی کوششوں کو کامیابی دلوانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔
    پی سی بی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سال کے آغاز میں پاکستان سپر لیگ کے لیے کراچی آنے والے شین واٹسن کا فیڈ بیک پی سی بی کی کوششوں کو کامیابی دلوانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

    شین واٹسن کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی ٹیم کے ساتھ پی ایس ایل میچز کھیلنے کیلئے پاکستان آئے تھے، حال ہی میں ایک انٹرویو میں واٹسن نے پاکستان میں سیکیورٹی انتظامات کو سراہا اور دوبارہ پاکستان کے دورے کی خواہش ظاہر کی تھی۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ وسیم خان اور آسٹریلین کرکٹرز ایسوسی ایشن کے درمیان ملاقات ملبرون میں پہلے ٹیسٹ کے بعد شیڈول ہے جس میں پاکستان کرکٹ بورڈ آسٹریلین کرکٹرز کے تحفظات دور کرنے کی کوشش کرے گا۔

  • بچوں کا عالمی دن اور کشمیری بچے!!!   تحریر غنی محمود قصوری

    بچوں کا عالمی دن اور کشمیری بچے!!! تحریر غنی محمود قصوری

    آج 20 نومبر ہے اور پوری دنیا میں بچوں کا عالمی دن منایا جا رہا ہے اس دن کو منانے کا مقصد بچوں پر ظلم و تشدد روکنا ان کی تعلیم و تربیت و صحت کا خیال کرنا ،ان سے جنسی زیادتی رکوانا اور بچوں سے محنت و مشقت رکوانا ہے
    یہ دن عالمی طور پر 20 نومبر 1989 سے ہر سال منایا جا رہا ہے تاہم 14 دسمبر 1954 کو اقوام متحدہ میں اس دن کو منانے کیلئے شفارشات پیش کی گئی تھیں
    آج ساری دنیا میں بچوں کے نام پر بڑے بڑے لوگ اور تنظیمیں اس دن کی اہمیت پر روشنی ڈالیں گی انسانوں تو انسانوں جانوروں کے بچوں کے حقوق کا بھی رونا روئیں گیں مگر افسوس کہ آج عالم اسلام اور بالخصوص مقبوضہ وادی کشمیر کے بچوں کو یکسر نظر انداد کیا جائے گا حالانکہ اس دن کا مقصد ہی بچوں پر ظلم و تشدد رکوانا اور ان کے حقوق کا خیال کرتے ہوئے انہیں آزاد زندگی گزارنے کے مواقع مہیا کرنا تھا اور شاید اب بھی ایسا ہی ہے مگر صرف مسلمانوں کے بچوں کے لئے ایسا ہر گز ہر گز نہیں
    اقوام متحدہ کہ جس نے اس دن کو منانے کا اعلان کیا آج وہی تقریبا 4 ماہ سے کشمیری محصور بچوں پر ہونے والے تشدد پر کبوتر کی طرح آنکھیں بند کئے ہوئے ہیں پوری دنیا کا میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں چیخ چیخ کر اقوام متحدہ کو بتا رہی ہیں کہ کشمیری بچے سینکڑوں دنوں سے اپنے گھروں میں محصور ہیں ان کی تعلیم کا سلسلہ ختم ہے ان کے پاس کھانے کو خوراک نہیں سردی سے بچنے کیلئے گرم کپڑے نہیں بیمار ہونے پر دوا نہیں میسر نہیں اور نومولودوں کیلئے دودھ بھی نہیں مگر افسوس صد افسوس کہ نام نہاد انسانی حقوق کی علمبردار اقوام متحدہ بھارت کو کچھ کہنا تو دور کی بات اپنے طور پر بھی ان مظلوم و مجبور محصور کشمیری بچوں کیلئے کچھ بھی کرنے سے قاصر ہے حالانکہ یہی لوگ کتوں اور بلیوں کے بچوں کے تحفظ کی خاطر اربوں روپیہ خرچ کر دیتے ہیں اور کسی بھی جنگلی جانور کی ذرا سی تکلیف پر تڑپ جاتے ہیں اور ان بقاء و سلامتی کیلئے ان طیارے ان کے ہیلی کاپٹر تک کئی کئی دن ریسکیو کرتے رہتے ہیں
    مگر افسوس ان کو ہندو فوجیوں کی پیلٹ گنوں سے زخمی و نابینا ہوتے بچے اور ہندو ناپاک کے جنسی تشدد کا نشانہ بنتی آصفہ بانو جیسی معصوم بچیاں نا پچھلے 73 سالوں سے نظر آ رہے تھے اور نا اب نظر آ رہے ہیں وجہ صرف ان بچوں کا مسلمان ہونا ہے تاریخ گواہ ہے اقوام متحدہ کا کردار بھارت کی لونڈی کا سا ہے پچھلے 73 سالوں سے ان کشمیری بچوں کے والدین جبکہ وہ خود بچے تھے اب ان کے بچوں کے بھی بچے ہو چکے وہ تب سے اس اقوام متحدہ کو یاد کروا رہے ہیں کہ ہم کشمیریوں پر ظلم و تشدد ہو رہا ہے ہندو ہمارے بچوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ رہا ہے ، ہمارے معصوم بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانا بنایا جا رہا ہے اور جانوروں پر استعمال کرنے والی پیلٹ گن ہمارے بچوں پر استعمال کر رہا ہے مگر یہ نام نہاد عالمی حقوق کی علمبردار درحقیقت عالم کفر کی راکھیل اقوام متحدہ سب کچھ سن دیکھ کر خاموش ہے اور اس کی خاموشی اس کے انسانی حقوق کے نعروں کی نفی کر رہی ہے

  • بچوں کی شادیاں والدین کی پسند سے ہوں یا بچوں کی پسند سے؟؟؟ تحریر محمد عبداللہ

    بچوں کی شادیاں والدین کی پسند سے ہوں یا بچوں کی پسند سے؟؟؟ تحریر محمد عبداللہ

    شادی فقط معاہدہ یا وقتی تعلق نہیں ہوتا کہ بنا سوچے سمجھے اور اس کے جملہ مضمرات پر غور وفکر کیے بغیر فیصلہ کردیا جائے لیکن یہ ہمارے معاشرے کا المیہ ہے کہ اتنے بڑے فیصلے کرتے ہوئے بچوں کی پسند و ناپسند کو مدنظر نہیں رکھا جاتا، ذات برادریوں، رشتہ داری کو قائم رکھنے، زمین و جائداد اور مال و دولت کے لالچ کے لیے بچوں کے رشتے کر دیے جاتے ہیں. اس میں زیادہ ایشو بیٹیوں کے ساتھ بنتا ہے کہ وہ بےچاری والدین کو فیصلے کو چیلنج کرنا تو درکنار اس پر بات بھی کریں تو بےحیا اور نافرمان کے لقب مل جاتے. لاڈ پیار سے پالی بیٹیوں کو جب بچپن اور لڑکپن میں کھلی آزادی دی جاتی ہے لیکن جب بات آتی ہے اس کی ساری زندگی گزارنے کی تو وہی جاہلیت والی سوچ اپنائی جاتی اور فیصلہ ٹھونسا جاتا جس کو بیٹیاں اپنی باپ کی چادر اور پگڑی کو داغ سے بچانے کے لیے چاروناچار قبول تو کرلیتی ہیں مگر اندر ہی اندر ختم ہوتی رہتی ہیں اور جو تھوڑی خود سر ہوں اور والدین کے لاڈ و پیار اور دی گئی آزادی کو برتنا جانتی ہوں وہ پھر چور دروازوں کو ڈھونڈتی ہیں اور وہ دروازے پھر گناہوں کی وادیوں میں کھلتے ہیں. بعینہ لڑکوں کے ساتھ بھی یہ ایشو ہوتا کہ والدین ذات برادری، جائداد اور رشتہ داری کے چکر میں ان کا رشتہ کردیتے ہیں جس پر لڑکے راضی نہیں ہوتے اگر وہ اس رشتے سے انکار کریں تو ان کو جائداد سے عاق کیے جانے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں جس پر وہ بھی چاروناچار والدین کا فیصلہ مان تو لیتے مگر گھر سے زیادہ توجہ باہر رہتی ہے جوکہ گھروں اور معاشروں میں بگاڑ کا باعث بنتی ہے اور پھر جس پھوپھی اور ماسی کے ساتھ تعلق کو برقرار رکھنے کے رشتہ کیا گیا تھا اسی کے ساتھ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے تعلق ٹوٹ جاتا ہے اور پھر ہمارے ہاں ایک نہیں دو دو تین تین گھر اجڑتے ہیں کہ وٹہ سٹہ کا سسٹم جو رائج ہوتا ہے.

    یہ صرف ہماری ذاتی ضدیں اور رسم و رواج ہیں جن کا اسلام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے اسلام مرد و عورت دونوں کو اپنی پسند اور ناپسند کا حق دیتا ہے مرد کو تو اس حد تک آزادی دی کہ اس کے نکاح کے لیے ولی کی اجازت کی بھی شرط نہیں ہے جبکہ عورت پر نکاح کے لیے ولی کی اجازت کی شرط تو ہے لیکن ولی کو بیٹی یا بہن پر زبردستی کی اجازت ہرگز نہیں ہے اس پر عورت کو حق دیا جاتا ہے اپنی پسند اور ناپسند کے مطابق جیون ساتھی کو چننے کا اس پر ہمیں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلوں کی مثالیں بھی ملتی ہیں. یہی وجہ ہے کہ اس اسٹیج پر آکر نوجوان باغی ہوکر یا تو خفیہ گناہ کے راستے ڈھونڈتے ہیں یا پھر کورٹ میرج کی صورت نکاح کو ترجیح دیتے جس کو ہمارے علماء حضرات متنازع قرار دیتے ہیں.
    بہرحال یہ ہمارے معاشرے کا المیہ ہے اور بڑا حساس موضوع اور ایشو ہے جو گھروں، خاندانوں اور معاشروں میں بگاڑ کا باعث بنتا ہے اس میں زیادہ کردار ہمارے علماء اور والدین کا بنتا ہے کہ وہ اس کی اصلاح کریں سب سے پہلے بچوں کی تربیت اس نہج کی ہونی چاہیے کہ حلال اور حرام کی تمیز اور ان کو اختیار یا رجیکٹ کرنا آتا ہو پھر بچوں کی مستقبل کی زندگی کے فیصلے کرتے ہوئے ان کی رائے ضرور لیں کیوں زندگی انہوں نے گزارنی ہے …

    Muhammad Abdullah
    Muhammad Abdullah
  • مولانا شبلی نعمانی وفات پاگئے ، تاریخ‌ اپنے آپ کو دہراتی ہے !

    اعظم گڑھ:تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے، اور آج کے دن 105سال قبل اٹھارہ نومبر 1914ء کو اردو زبان کو علمی سرمائے سے مالا مال کرنے والے نامور ادیب علامہ شبلی نعمانی قضائے الٰہی سے وفات پاگئے ۔علامہ شبلی نعمانی کا مزار اعظم گڑھ میں واقع ہے۔

    علامہ شبلی نعمانی کا اصل نام محمد شبلی تھا تاہم حضرت امام ابو حنیفہ کے اصل نام نعمان بن ثابت کی نسبت سے انہوں نے اپنا نام شبلی نعمانی رکھ لیا تھا۔ وہ 1857ء میں اعظم گڑھ کے ایک نواحی قصبے میں پیدا ہوئے۔ آپ کی تعلیم بڑے اچھے ماحول اور اپنے عہد کے اعلیٰ ترین درس گاہوں میں ہوئی۔

    1882ء میں وہ علی گڑھ کالج کے شعبۂ عربی سے منسلک ہوگئے، یہاں انہیں سرسید احمد خان اور دوسرے علمی اکابر کی صحبت میسر آئی، جس نے ان کے ذوق کو نکھارنے میں اہم کردار ادا کیا۔ علامہ شبلی نعمانی کا ایک بڑا کارنامہ ندوۃ العلما کا قیام ہے۔

    ان کی زندگی کا حاصل ان کی تصنیف سیرت النبی سمجھی جاتی ہے تاہم بدقسمتی سے ان کی زندگی میں اس معرکہ آرا کتاب کی فقط ایک جلد شائع ہوسکی تھی۔ ان کے انتقال کے بعد یہ کام ان کے لائق شاگرد سید سلیمان ندوی نے پایہ تکمیل کو پہنچایا۔ شبلی نعمانی کی دیگر تصانیف میں شعر العجم، الفاروق، سیرت النعمان، موازنۂ انیس و ادبیر اور الغزالی کے نام سرفہرست ہیں۔

    بزرگوں کی سیرت کا مطالعہ شخصیت کی تعمیر میں معاون و مددگار ثابت ہوتا ہے اور کسی بھی زبان کے لٹریچر میں اس سرمایہ کی موجودگی اس کی عظمت کی دلیل ہے۔ مولانا شبلی نعمانی اس اعتابر سے بڑے نامور ہیں۔ کہ انھوں نے اردو میں بزرگوں کی سیرت کا سرمایہ فراہم کیا۔ ان کا شمار اردو نثر کے عناصر خمسہ میں ہوتا ہے۔

    سیرت النبی، الفاروق، المامون، الغزالی، شعرالعجم، سوانح مولانا روم، سیرت النعمان، موازنہ انیس و دبیر، علم الکام ، اورنگ زیب عالم گیر پر ایک نظر اور بے شمار مقالات ان میں سے یادگار ہیں۔ شاعری میں مثنوی صبح امید، قطعات اور دیوان شبلی موجود ہیں۔

  • نواز شریف سے سوشل تعلق ،چوہدری نثار بیان سے منحرف۔ ۔۔از۔ ۔آصف شاہ

    جھوٹ اور ہماری سیاست کاشائید آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے بڑے سے بڑے پارسائی کے دعویدارسیاست دان بھی بسا اوقات ایساکام کر گزرتے ہیں جن کی ان سے امید نہیں کی جا سکتی قدرت کا اصول شائید اس سے مختلف ہوتاہے بہت کہا سنا اور پڑھا ہے کہ زندگی موت رزق اور عزت زلت رب نے اپنے ہاتھ شائید اس لیے اس دنیاءکا نظام بخوبی چل رہا ہے اور تاقیامت چلتا رہے گاایک سیاسی کارکن اور لیڈر میں کیا فرق ہوتا ہے اس کا اندازہ چند دن قبل ہوا اور ایسا ہوا کہ حیرت سے آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئی کہ ایسا بھی ہوسکتا ہے ایک تعزیت کے دوران سابق وفاقی وزیرداخلہ بھی آپہنچے جہاں پر دعا کے بعد ملک میں سیاسی سسٹم کی بات چیت چھیڑ دی گئی،جس پر چوہدری نثار علی خان نے حسب روایات مذہبی حوالوں سمیت اپنے آپ کو پوتر ثابت کرتے ہوئے اس تمام نظام کی تباہ کاری کا زمہ تمام سیاسی پارٹیوں اور لیڈران کو زمہ دار قرار دیا،سیاسی طور پر ماحول گرم ہواور صحافی بھی موجود ہوں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ سوال سامنے نہ آئے چوہدری نثار پورے جوش کے ساتھ بات کر رہے تھے کہ اسی دوران سینئر صحافی کالم نگار محترم طارق بٹ نے سوال داغ دیاکہ ماہ ریبع الاول کا بابرکت مہنہ ہے اور آپ کی میاں نواز شریف سے 40 سالہ رفاقت ہے کیا ا ن کی عیادت کے لیے جائیں گے تو عظیم سیاسی لیڈر نے لال سرخ ہو کر جو جواب دیا وہ انتہائی حیران کن تھا کہ میں کیوں جاوں عیادت کو نوازشریف سے میرا کوئی کوئی سوشل تعلق نہیں جس پر دوبارہ سوال ہوا کہ کوئی سوشل تعلق نہ سہی لیکن سیاسی تعلق توہے لیکن چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ کوئی تعلق نہیں ہے ایسا سوال تو بنتا ہی نہیں ہے ہمیشہ اصولوں کی سیاست کی بات کرنے کے دعوے کرنے والے اور حلقہ میں کروڑوں کے کام کروانے کے دعوے کرنے والے چوہدری نثار علی خان کیا بتانا پسند کرینگے کہ ان کی کروفر کس کی وجہ سے تھی اور ہے وہ تھی ن لیگ جس کی قیادت نے ہمیشہ چوہدری نثار علی خان کو اپنے سے آگے رکھا اور ان کے منہ سے نکلا ہو ایک ایک لفظ کو وہ اہمیت دیتے رہے لیکن جب ن لیگ کی کشتی میں سوراخ کی ابتداءکی گئی تو اس میں پہلا قطرہ بھی چوہدری نثار علی خان بنے اور انہوں نے بڑے زعم سے کہا کہ مجھے کسی کی کوئی ضرورت نہیں بات اگر سوشل تعلق ہونے یا نہ ہونے کی ہے تو کیا میاں نواز شریف اور ن لیگ کی اتنی بھی حثیت نہ رہی ہے کہ کارکنان کے پاس جانے والے چوہدری نثار نے میاں نواز شریف کی تیماردار ی تک کرنا گوارا نہیں کیا،اس سے بڑا دھچکا اس وقت لگا جب اس خبر کی تردید سامنے آئی کہ چوہدری نثار علی خان نے ایسی کوئی بات کی ہی نہیں ہے راقم عین چوہدری نثار علی خان کے سامنے موجود تھا وہاں پر موجود بیشتر مقامی سیاسی رہنماوںجن کا نام لکھنا مناسب نہیں ہے سے ایک مودبانہ سا سوال ہے کہ کیا وہ اس بات کا حلف دے کر کہ سکتے ہیں کہ چوہدری نثار علی خان نے طارق بٹ کے سوال پر یہ جواب نہیں دیا تھا ،یہ ایک اس لیڈر کی کوالٹی تھی کہ جس نے چار دہائیوں سے جس پارٹی کی اینیٹں لگانے کے دعوے کے اس کی اور اگر میاں نواز شریف کی کوئی کوالٹی اور سوشل تعلق نہیں تھا تو عام ورکروووٹرز اور جیپ کے سامنے ناچنے والوں کو اپنی حثیت کا بخوبی اندازہ ہوناچاہیے،اب ایک رخ یوسی کے ایک کارکن اورمقامی لیڈر کاجس نے پارٹی سے وابستگی کو ثابت کیا یوسی غزن آباد سے تعلق رکھنے والے وائس چیئرمین ظفر مغل کاجس نے گزشتہ الیکشنوں میں جب ن لیگ کی سیاسی کشتی وقتی طور پر ڈوب رہی تھی تو اس کے ساتھ موجود چیئرمین نے جیپ کی سواری کو ترجیح دی اور پارٹیاں بدلنے والوں نے اپنی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے صداقت عباسی کو پھولوں کے گلدستے پیش کر کے اپنی وقتی سیاسی رقابت داری کا یقین دلایاکیونکہ اس کی سیاسی شہرت اسی چیز کی حامل ہے کہ وہ وقت بدلنے پر پارٹیاں بھی بدلی کرتے ہیں لیکن اس کڑے وقت میں مرد آہن نے نہ صرف یوسی کی سطح پر ڈٹ کر کھڑا ہوا بلکہ اس نے تمام سیاسی جماعتوں کی سیاست کا نہ صرف ڈٹ کر مقابلہ کیا بلکہ اپنی یوسی میں شاہد خاقان عباسی کی لیڈ کو پونے چار سو میں بدلا یوسی سے جتوایا بلکہ انہوں نے صوبائی سطح پر انہوں اس وقت نیب کے سکنجے میں کسے ہوئے قمراسلام کی بھر پور حمائیت کی اور اوپر اور نیچے کی سیاست کو دفن کر دیا اب بھی اگر ان کی سیاسی بصیرت پر نظر ڈالیں تو وہ تحریک انصاف سمیت تمام سیاسی دھڑوں کو سیاسی طور پر مکمل زیر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور وقت پڑنے پر کسی بھی سیاسی جماعت پر سیاسی بصیرت سے پچھاڑ سکتے ہیں اب میرا اپنے جیسی مسائل کی چکی میں پسی ہوئی عوام سے ایک سوال ہے کہ کون سیاسی حوالہ سے بہتر ہے ایک یوسی کا وہ سیاسی لیڈر جو ہر مشکل میں اپنے لیڈران اور کارکنان کے ساتھ کھڑا نظر آتا ہے یا چوہدری نثار علی خان جن کے سامنے چالیس سالہ سیاسی رفاقت کی کوئی حثیت نہ ہے اس کا جواب عام عوام ہی بہتر دے سکتی ہے ہمارا سیاسی نظام اور ہم اتنے ڈوب چکے ہیں اس کا اندازہ تھا لیکن اتنا زیادہ ڈوب چکے اس کا ادراک ااب ہوا ہے

  • قومی کرکٹ فٹنس کیمپ کب شروع ہو گا، خبر آگئی

    قومی کرکٹ فٹنس کیمپ کب شروع ہو گا، خبر آگئی

    قومی کرکٹ فٹنس کیمپ کب شروع ہو گا. خبر آگئی.

    باغی ٹی وی : قومی کرکٹ فٹنس کیمپ 18 نومبر سے نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور میں شروع ہوگا.8 روزہ کیمپ 25 نومبر تک جاری رہے گا.کیمپ میں شریک کھلاڑی 17 نومبر کو این سی اے میں رپورٹ کریں گے.کیمپ کی نگرانی ڈائریکٹر میڈیسن اینڈ اسپورٹس سائنسز پی سی بی ڈاکٹر سہیل سلیم کریں گے

    کھلاڑی محمد عامر، محمد عرفان اور عماد وسیم کیمپ میں شرکت کریں گے.اے سی سی ایمرجنگ ٹیمز ایشیا کپ میں شرکت کی غرض سے بنگلہ دیش میں موجود محمد حسنین اور خوشدل شاہ کیمپ میں شرکت نہیں کررہے.شعیب ملک، وہاب ریاض اور آصف علی کو کیمپ میں شرکت سے چھوٹ دی گئی ہے
    تینوں کھلاڑیوں کو جنوبی افریقہ میں جاری مزانسی ٹی ٹونٹی لیگ کے لیے این او سی جاری کئے گئے ہیں.شاداب خان، فخر زمان اور عثمان قادر کو ڈومیسٹک کرکٹ میں شرکت کے باعث کیمپ کے لیے طلب نہیں کیا گیا.

  • سید علی گیلانی نے پاکستان سے کیا مطالبہ کر دیا

    سید علی گیلانی نے پاکستان سے کیا مطالبہ کر دیا

    سید علی گیلانی نے پاکستان سے کیا مطالبہ کر دیا

    باغی ٹی وی : چیئرمین کل جماعتی حریت کانفرنس اور بزرگ کشمیری رہنما سید علی گیلانی نے کہا ہے کہ پاکستان تاشقند ،شملہ اورلاہورمعاہدوں کے تمام پہلوؤں سے دستبرداری کا اعلان کرے..بھارت نے یکطرفہ طور پر ان معاہدوں کوختم کردیا ہے،بعض کشمیریوں کو گھر خالی کرنے کے لیے نوٹس جاری کیا گیا ہے،نوٹس میں کہا گیا ہے کہ کشمیریوں کے گھروں پرجلد قبضہ کرلیا جائے گا،لداخ کے مسلمانوں کو بھارتی فوج کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے،

    واضح‌رہے کہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد بھارت نے کشمیر پر اپنا غاصبانہ قبضہ روا رکھنے کے لیے تین ماہ سے زیادہ عرضے سے کرفیو لگا رکھا ہے.خیال رہے کہ بھارت نے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آئین کا آرٹیکل 370 ختم کر کے وادی میں غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کر دیا تھا۔ بھارت کی ہندو انتہا پسند حکمران جماعت بی جے پی کے اس اقدام کے بعد سے ہی مقبوضہ وادی میں حالات انتہائی کشیدہ ہیں اور وادی میں مکمل لاک ڈاؤن ہے۔

    مقبوضہ جموں کشمیر، سیکورٹی فورسز پر فائرنگ ، کتنا نقصان ہوا؟

  • فیصلہ بابری مسجد کا یا مسلم کشی کا ! تحریر: غنی محمود قصوری

    مغل دور میں تعمیر ہونے والی مشہور مسجد بابری کا تنازعہ ہندوءوں اور مسلمانوں کے درمیان آج سے 70 سال قبل یعنی 1949 سے چلا آ رہا ہے حالانکہ یہ مسجد مسلمان دور حکومت میں تعمیر ہوئی ہے
    بابری مسجد کو مغل دور حکومت میں بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہر فیض آباد کے علاقے ایودھیا میں 1527 کو اس وقت کے مغل سالار میر باقی نے تعمیر کروایا تھا اور اس کو ہندوستان کے مشہور بادشاہ ظہیر الدین بابر کی نسبت سے بابری مسجد کا نام دیا گیا
    ویسے تو ہندو مغل دور کی اس عظیم مسجد بابری کے خلاف 1949 سے ہی سازشیں کر رہے ہیں مگر حیرت تو اس بات کی ہے کہ کم و بیش ایک ہزار سال تک مسلمانوں کی حکومت میں کسی ہندو پنڈت اور تنظیم نے یہ نا بتایا کہ اس مسجد کو رام للا یعنی ہندو بھگوان ،رام کی جائے پیدائش کو گرا کر تعمیر کیا گیا ہے جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ہندو بے ایمان مغل دور کی غلامی کی یادیں مٹانا چاہتا ہے اور اپنے آقا انگریز کی رسم پوری کرنا چاہتا ہے کہ جس نے اپنے ہندوستان پر جبری قبضے کے دوران ہزاروں مساجد کو شہید کیا اور گرجا گھروں میں بدلا تھا
    1980 میں ہندو انتہا پسند تنظیموں نے اس مسجد کے خلاف سازشیں مذید تیز کر دیں اور ہندوءوں کو بھڑکایا جانے لگا کہ یہ مسجد ہندو بھگوان ،رام کی جائے پیدائش کو گرا کر تعمیر کی گئی ہے اور 1949 تک اس مسجد میں دو مورتیاں بھی موجود تھیں جنہیں مسلمانوں نے باہر پھینک دیا تھا
    رفتہ رفتہ اس مسجد کے خلاف مہم تیز ہوتی گئی اور ہندو پنڈت و لیڈران ہندوءوں کو اس مسجد کے خلاف اکساتے رہے اور مسجد کو گرا کر رام مندر بنانے کی باتیں سرعام جلسوں میں کرتے رہے مگر ہندوستان سرکار اور اعلی عدالتیں خاموش رہیں اور پھر آخر کار 6 دسمبر 1992 کو ہندو انتہا پسند تنظیم وشو ہند پریشد نے ہندو سیاسی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ مل کر ایل کے ایڈوانی کی زیر قیادت تقریبا 150000 سے زائد ہندوءوں کو جمع کرکے اس عظیم مسجد پر حملہ کر دیا ہندو تنظیموں نے جنونی ہندوءوں کو باقاعدہ ٹریننگ دی اور انہیں پورے ہندوستان سے اکھٹا کرکے ایودھیا لایا گیا حملے کے نتیجے میں مسجد کا کافی حصہ مسمار ہو گیا اور مسلمانوں نے اپنی پیاری مسجد کی خاطر پورے ہندوستان میں مزاحمت کی تو ہندو بلوائیوں نے تقریبا بیس ہزار مسلمانوں کو شہید کر دیا اس پر ہندو سرکار نے ایکشن لیتے ہوئے صرف 68 بندوں کے خلاف فرد جرم عائد کی اور بعد میں انہیں بھی رفتہ رفتہ بے گناہ قرار دیا جاتا رہا
    مسلمانوں نے بابری مسجد کی مسماری پر ہندوءوں کے خلاف مقدمہ درج کروایا جس پر فیصلے آتے رہے مگر 30 ستمبر 2010 کو الہ آباد ہائی کورٹ نے شرمناک فیصلہ سنا کر مسلمانوں کو مذید دکھی کر دیا الہ آباد ہائی کورٹ کے 3 ججوں نے فیصلہ سنایا کہ بابری مسجد رام للا کو گرا کر بنائی گئی ہے لحاظہ اسے تین حصوں میں تقسیم کیا جائے بابری مسجد کے کل رقبہ 2.77 ایکڑ کا ایک تہائی حصہ رام للا کو دیا جائے اور وہاں رام مندر تعمیر کیا جائے ایک تہائی مسلمانوں کے سنی وقف بورڈ کو دیا جائے اور باقی جگہ ہندو انتہا پسند تنظیم ،نرموہی اکھاڑے کو دی جائے ہندوستانی ہائیکورٹ کے اس شرمناک فیصلے پر مسلمانوں میں شدید اضطراب پایا گیا اور مسلمانوں نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو ہندوستانی سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جس پر ہندوستانی سپریم کورٹ کے 5 رکنی بنچ نے آج 9 نومبر 2019 کو فیصلہ سنایا کہ آثار قدیمہ کی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ بابری مسجد رام للا کو گرا کر بنائی گئی ہے اور اس پر مسلمانوں کا کوئی حق نہیں ہندو بابری مسجد کی جگہ بگھوان رام کا مندر بنائیں اور مسلمانوں کے سنی بورڈ کو 5 ایکڑ زمین کسی اور علاقے میں دی جائے جہاں وہ اپنی مسجد تعمیر کریں
    ویسے ہندوستان کا جمہوری اور مذہبی نظام تو شدید متعصب تھا ہی مگر عدالتی نظام شدید متعصب اور گھٹیا نکلا اس عدالت نے یہ تحقیق نا کی کے 1000 سال تک ہندو رام للا کا واویلا کیوں نا کر سکے حالانکہ ان مغل اداواروں میں بہت زیادہ ہندو مندر تعمیر ہوئے جنہیں خود مغل بادشاہوں نے ہندو کیلئے تعمیر کروایا تاکہ ہندو اپنے مذہب کے مطابق اپنی پوجا کر سکیں نیز ہندوءوں کی مسلمانوں کی خدمت کی بدولت انہیں بہت زیادہ زمینوں اور جاگیروں سے نوازا جاتا رہا اگر اس وقت ایسی کوئی بات ہوتی تو ضرور مسلم بادشاہوں کی طرف سے دیگر مندروں کی طرح اس مندر کی تعمیر کا مسئلہ بھی حل کیا جاتا تاریخ گواہ ہے اگر مسلمان خاض طور پر مغل بادشاہ ہندو کی طرح متعصب اور جنونی ہوتے تو آج کرہ ارض پر ایک بھی ہندو زندہ نا ہوتا مگر تاریخ نے مسلمانوں کا ہندوءوں کیساتھ اعلی پائے کا اخلاص اور انصاف دیکھا ہے
    اور پھر بیس ہزار مسلمانوں کے قاتل اور مسلمانوں کی تاریخی مسجد کو مسمار کرنے والے ڈیڑھ لاکھ جنونی ہندوءوں میں سے کسی کو بھی قابل قدر سزا کیوں نا ہو سکی درحقیقت ہندو ناپاک پلید کی طرح اس کا سارا عدالتی نظام بھی گھٹیا اور پلید ہے انہیں معلوم ہے کہ مسلمان اس فیصلے کو کبھی بھی تسلیم نا کرینگے اور اسی بدولت ماضی کی طرح پھر ہندو مسلم فسادات ہونگے جن میں سراسر نقصان مسلمان کا ہی ہوتا رہا ہے کیونکہ ہندوستان میں مسلمان ایک اقلیت ہیں اور ہندوءوں کے ستائے ہوئے محکوم بھی جبکہ ہندو باقاعدہ تربیت یافتہ اور مسلح ہیں مگر پھر بھی اس غلیظ عدالت نے جھوٹ اور افسانوں کو مانتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف فیصلہ دیا اور ہندو مسلم فسادات کی راہ ہموار کی ہے

  • بے بس مزدوربچوں کی بے بسیاں … از…. ملک جہانگیراقبال

    کل سارا دن شہر کی خاک چھانتا رہا ، رات میں دوستوں سے ملاقات تھی لہٰذا گھر واپس آنے سے قبل ساتھ والے محلے میں موجود نائی کی دکان پہ داڑھی سیٹ کروانے چلا گیا ، ویسے تو سر کے بال اور داڑھی کیلئے ایک ہی دکان مخصوص کر رکھی پر ہنگامی حالت میں کہیں سے بھی داڑھی سیٹ کروا لیتا ہوں بس ہدایات کُچھ زیادہ دینا پڑ جاتی ہیں .

    اس وقت دکان میں تینوں سیٹوں پہ کام جاری تھا لہٰذا وقت گزاری کیلئے میگزین کا مطالعہ شروع کردیا . کچھ دیر بعد جب میگزین میں پڑھنے لائق کچھ خاص نا بچا تو نائیوں (کاریگروں) کے کام پہ نظریں جما لیں .

    میرے سامنے والی کرسی پہ بارہ تیرہ سالہ لڑکا بال کٹوا رہا تھا نجانے کیوں میری نظر وہیں اس بچے پہ اٹک کر رہ گئی ، مجھے شیشے میں اُس کا چہرہ صاف دکھائی دے رہا تھا جس پہ ہر کچھ دیر بعد پریشانی ، جھنجھلاہٹ کے آثار نمودار ہوتے ۔ پہلے مجھے لگا کہ شاید پیٹ درد یا پھر دماغی سوچ میں مگن ہوکر ایسا کر رہا ہے پر کُچھ دیر میں ہی اصل وجہ سمجھ آگئی لہٰذا اُٹھ کر اُسکی کرسی کیساتھ جا کھڑا ہوا اور کرخت لہجے میں نائی سے سائڈ سے بال ٹھیک طرح سے کاٹنے کا کہا اور کرسی کے پاس ہی کھڑا نائی کو گھور کر دیکھتا رہا .

    اس دوران یہی تاثر دیا کہ بچہ میرا جاننے والا ہے اور نائی کے ساتھ لہجہ ایسا رکھا کہہ بس اُسے گولی نہیں ماری باقی اُسکے ہاتھ کی کپکپاہٹ سے مجھے یہ معلوم ہو چکا تھا کہ نائی اچھے سے میرے لہجے کی سختی کیوجہ سمجھ چکا ہے .

    اگر آپ حضرات کو بچے کی نے چینی کیوجہ سمجھ نہیں آئی تو بتاتا چلوں کہ نائی بار بار بچے کے بازو اور ٹانگیں کیساتھ اپنا جسم "جا بوجھ کر یا ” انجانے ” میں چھو رہا تھا پر ڈر یا شرمندگی کیوجہ سے بچہ یہ ذہنی اذیت جھیل تو رہا تھا پر کُچھ بول نہیں پا رہا تھا ۔

    گھر واپسی پہ یہی اب دماغ میں چل رہا تھا کہ ہر کوئی اس بات پہ لکھتا بھی ہے اور یہ موضوع زیرِ بحث بھی آتا ہے کہ خواتین کو گھر سے باہر بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے پر یقین جانیں جتنی مشکلات اور ذہنی اذیت ایک لڑکا بچوں سے ابتدائے جوانی تک اسکول ، مدارس ، بازار ، نائی کی دکان ، پبلک ٹرانسپورٹ (بس ، وین) میں سفر کرتے ہوئے جھیلتا ہے اُس کا کوئی اندازہ بھی نہیں لگا سکتا اور ظلم تو یہ کہ ہے دوسرے مرد نے یہ سب ذہنی اذیت اپنے بچپن میں یا تو خود سہی ہے یا اپنے کسی دوست کو سہتے دیکھا ہے پر اس پہ بات پھر بھی نہیں کرتا کہ وہ خوف یا احساسِ شرمندگی ہمارے اذہان سے اب تک نہیں محو ہوا کہہ "لوگ مذاق اڑائیں گے” .

    دور حاضر کے والدین یہ بات کان کھول کر سن لیں کہ جب آپکا بچہ اکیلے نائی کے پاس جاتا ہے تو نائی اُس کے جسم کیساتھ خود کو غیر ضروری طور پر ٹچ کرتا ہے ، اگر وہ بازار یا کسی پرچون والے کے پاس سے سودا سلف لانے سے کتراتا ہے تو اُسے اُس دکان والے سے یا راہ میں موجود کسی محلے دار شخص سے جنسی درندگی کا خوف لاحق ہوتا ہے ۔ اگر وہ اسکول سے بس یا وین میں اکیلے گھر آتا ہے تو بھری بس میں مختلف لوگ اُسے ذہنی اذیت پہنچانے کا سامان خوب خوب فراہم کرتے ہیں . اگر وہ مدرسے میں رہنے سے ڈرتا ہے تو اُسے قاری صاحب یا مدرسے میں موجود کسی بڑے لڑکے سے خطرہ محسوس ہوتا ہے ، اُسے بھری دوپہر تندور پہ روٹیاں لینے بھیجتے ہیں تو یا تو نان بائی یا پھر روٹیوں کے حصول میں کھڑے کسی بڑے لڑکے یا آدمی سے اُسے ڈر لگتا ہے ۔

    آپ میں اتنی عقل نہیں کہ اپنے بچے کے خوف کو سمجھ سکیں؟ اُسے ڈانٹ ڈپٹ ، مار پیٹ یا طعنے دیکر کیوں وہیں بھیجتے ہیں جہاں اُسکی معصومیت کا قتل عام ہوتا ہے . کیا آپ کسی اور سیارے میں پیدا ہو کر جوان ہوئے ہو جو آپکو نہیں معلوم کہ ایک بچہ کیا کُچھ جھیل کر جوان ہوتا ہے . یا آپ اپنی اولاد سے اپنے بچپن کا بدلہ لے رہے کہ اگر آپ یہ سب سہتے ہوئے جوان ہوئے ہو تو آپکا بچہ بھی یہ سب سہے؟

    اگر آپکی مصروفیات زیادہ ہیں اور ہر بچے پہ توجہ نہیں دے سکتے تو خدارا یکے بعد دیگرے بچوں کی لائن نہ لگایا کریں ، اتنے ہی پیدا کریں جنہیں توجہ سے پال سکیں . اور معاشرے میں پھیلتی جنسی درندگی سے اُنہیں جسمانی کیساتھ ذہنی اذیت سے بچا سکیں کہ جسمانی زیادتی تو ڈاکٹرز رپورٹ میں بتایا دیتے ہیں پر یہ جو ذہنی زیادتی ہر دوسرا بچہ روز ہر دوسری جگہ برداشت کر رہا ہے یہ کسی ڈاکٹری رپورٹ میں نظر نہیں آتی …

    بے بس بچوں کی بے بسیاں
    ملک جہانگیر اقبال

  • ایں چہ بوالعجبی است ….از سید زید زمان حامد

    ایں چہ بوالعجبی است

    تحریر: سید زید زمان حامد

    کیا اس شخص سے زیادہ کوئی بدنصیب اور ظالم ہوسکتا ہے کہ سیدی رسول اللہﷺ ہجرت فرمانا چاہیں اور وہ سیدیﷺ کی راہ میں رکاوٹیں ڈالے، اور لوگوں کو سیدیﷺ کے ساتھ ہجرت سے روکے اور یہ کہے کہ مشرکوں اور مسلمانوں کو مکے میں ہی اکٹھے رہنا چاہیے؟

    کیا اس شخص سے زیادہ کوئی بدنصیب، گستاخ اور کافر ہوسکتا ہے کہ جو غزوئہ بدر کے موقع پر ابوجہل کے ساتھ کھڑا ہو اور سیدی رسول اللہﷺ کے لشکر اور مدینہ منورہ کی ریاست کے خلاف جنگ کرے؟

    اب ذرا دل تھام کر سنیں۔۔۔

    اوپر بیان کردہ دونوں ظلم عظیم اور گنائہ کبیرہ ہندوستان میں حسین احمد مدنی اور دارالعلوم دیوبند نے کیے اور کررہے ہیں۔ جب سیدی رسول اللہﷺ نے یہ فیصلہ فرمالیا کہ مدینہءثانی پاکستان نے قائم ہونا ہے اور مسلمانوں کو اس کی جانب ہجرت کرنی ہے تو سیدی رسول اللہﷺ کے حکم کو جاننے کے باوجو د حسین احمد مدنی اور دیوبند نے مشرکوں کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا، مسلمانوں کو ہجرت سے روکا، اس بات پر اصرار کرتے رہے کہ مشرکوں کے ساتھ متحدہ ہندوستان میں رہیں،اور پھر اس دن لیکر آج تک مدینہءثانی پاکستان کے خلاف تلواریں نکال کر جنگ آزما ہیں۔

    ذرا ایک لمحے کیلئے رک کر سوچیں کوئی تو وجہ تھی کہ درویش وقت اور موذن امت حضرت علامہ محمد اقبالؒ نے حسین احمد مدنی اور دیوبند کو ”ابو لہب“ کہا تھا۔

    عجم ہنوز نداد رموزِِ دیں ورنہ
    ز دیوبند حسین احمد! ایں چہ بو العجبی است
    سرود برسر منبر کہ ملت از وطن است
    چہ بے خبر ز مقام محمد عربی است
    بمصطفیٰ برساں خویش راہ کہ دیں ہمہ اوست
    اگر بہ او نرسیدی، تمام بو لہبی است

    ایک اور مقام پر علامہ اقبالؒ نے بہت واضح طور پر فرمایا کہ اپنی اسلام دشمنی میں دیوبند وہی کردار ادا کررہے ہیں کہ جو قادیانی امت رسولﷺ کے خلاف ادا کررہے ہیں۔

    ”قادیان اور دیوبند اگرچہ ایک دوسرے کی ضد ہیں، لیکن دونوں کا سرچشمہ ایک ہے، اور دونوں اس تحریک کی پیدوار ہیں جسے عرف عام میں وہابیت کہا جاتا ہے“۔ علامہ اقبال۔ ( کتاب: اقبال کے حضور از سید نذیر نیازی)

    جب بھی ہم دیوبند کی پاکستان دشمنی اور مشرک دوستی کی بات کرتے ہیں تو فوراً ہی اندھے گونگے اور بہرے ہم پر فرقہ واریت پھیلانے کا الزام لگانے لگتے ہیں۔ کچھ باتیں ذرا اچھی طرح سمجھ لیں۔

    -1 دیوبند اور بریلی ہندوستان میں قائم دو مدرسوں کے نام ہیں۔

    -2 دیوبند کسی مسلک یا فرقے کا نام نہیں بلکہ سنی حنفی مسلک کے ایک مدرسے کا نام ہے۔

    -3 بریلوی بھی مسلک کے اعتبار سے سنی حنفی ہیں۔ بلکہ پاکستان کی زیادہ تر اکثریت سنی اور حنفی ہے۔

    -4 ہم صرف دیوبند کی سیاسی اور عسکری پالیسیوں کے خلاف بیان دے رہے ہیں۔ ہم نے کبھی ان کے مسلک سنی حنفی یا عقیدے کے خلاف کبھی بات نہیں کی۔

    -5 دیوبندیوں کے سیاسی جرائم کو بیان کرنے کو فرقہ واریت کہنا ایسی ہی جہالت اور بے شرمی ہے کہ جیسے ایم کیو ایم کے جرائم کو بیان کرنے کو لسانیت کہا جائے۔

    -6 جب ہم مدرسہءدیوبند کی اسلام دشمنی بیان کرتے ہیں تو جاہلوں کی طرف سے فوراً ہی یہ اعتراض بھی ہوتا ہے کہ مولانا اشرف علی تھانوی ، علامہ شبیر احمد عثمانی بھی تو دیوبندی تھے اور انہوں نے قائداعظم کا ساتھ دیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ دونوں مولانا اشرف علی تھانوی اور علامہ شبیر احمد عثمانی نے مدرسہءدیوبند سے مکمل طور پر استعفیٰ دے کر اپنے آپ کو الگ کرلیا تھا۔ اس کے نتیجے میں ان دونوں حضرات کو حسین احمد مدنی اور دیوبند کی جانب سے شدید مزاحمت اور ذلت و رسوائی کا بھی سامنا کرنا پڑا۔

    علامہ شبیر احمد عثمانی نے دیوبند کی سیاسی تنظیم ”جمعیت علمائے ہند“ کے مقابلے میں اپنی ایک نئی مذہبی سیاسی جماعت ”جمعیت علمائے اسلام“ بنائی، اور پھر اس نئی جماعت کے ساتھ قائداعظم کی حمایت میں کھڑے ہوگئے۔ علامہ شبیر احمد عثمانی کو دیوبندی کہنا اتنا ہی شرمناک بات ہے کہ جیسے کوئی قائداعظم کو کانگریسی کہے، کہ قائداعظم تقریباً سولہ برس تک کانگریس کے رکن بھی رہے تھے۔ لہذا یہ بالکل واضح کرلیں کہ جب پاکستان کے معاملے پر دیوبند میں اختلاف ہوا تو مولانا اشرف علی تھانوی اور علامہ شبیر احمد عثمانی دونوں ہی دیوبند سے الگ ہو کر تحریک پاکستان میں شامل ہوگئے تھے۔ دیوبند اس وقت بھی پاکستان کا مخالف تھا اور آج بھی مخالف ہے۔ پاکستان بننے کے بعد علامہ شبیر احمد عثمانی کی جماعت جمعیت علمائے اسلام کو مفتی محمود جیسے کانگریسی مولویوں نے اغواءکرلیا تھا۔ اور آج تک یہی صورتحال ہے۔

    مفتی محمود پہلے جمعیت علمائے ہند کے کارکن تھے اور پھر انہوں نے جمعیت علمائے اسلام پر قبضہ کرلیا۔ سرحدی گاندھی عبدالغفار خان کے ساتھ ملکر تحریک پاکستان کے خلاف زور لگایا۔ سرحد ریفرنڈم میں بھی اس شخص نے پاکستان کے خلاف جدوجہد کی۔ لیکن جب خان عبدالقیوم خان سرحد کے وزیراعلی بنےٰ تو مفتی محمود سرحد سے بھاگ کر ملتان آگئے۔ ان کے اس معروف فتوے سے آپ ان کی نیت کا اندازہ بخوبی لگا سکتے ہیں جو انہوں نے 1944 ءمیں دیا تھا: ”دنیا کی تمام قوموں سے رشتے ناطے جائز ہیں، لیکن کسی مسلم لیگی کو لڑکی دینا ناجائز ہے“۔ (اخبار آزاد، 5 اگست 1944)۔

    اسی مفتی محمود نے پاکستان کی پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر کہا تھا کہ ”شکر ہے کہ ہم پاکستان کے بنانے کے گناہ میں شامل نہیں تھے“۔ آج علامہ شبیر احمد عثمانی کی جمعیت علمائے اسلام کانگریسی ملاﺅں کے قبضے میں ہے کہ جس کی سربراہی آج مفتی محمود کا بیٹا فضل الرحمن کررہا ہے۔ پاکستان کے دیوبندیوں کی سیاسی قیادت، کہ جو آج پاکستان دشمن ہے، انہی ناپاک وجودوں کے ہاتھ میں ہے۔ علامہ شبیر احمد عثمانی اور ان کے طالب علم آنے والے وقتوں میں سیاست سے کنارہ کش ہو کر صرف دینی کاموں میں ہی مشغول ہوگئے۔ لہذا اب یہ بات بالکل واضح ہوجانی چاہیے کہ دیوبند کا پاکستان بنانے میں کردار تو دور کی بات، یہ تو بابا اقبالؒ کی زبان کے وقت کے ”ابولہب“ ہیں۔

    ”انگریز دشمنی سے یہ کہاں لازم ہے آتا ہے کہ ہم اسلام دشمنی اختیار کرلیں۔ یہ کیا انگریز دشمنی ہے جس سے اسلام کو ضعف پہنچے۔ ارباب دیوبند کو سمجھنا چاہیے کہ اس دشمنی میں وہ نادانستہ اس راستے پر چل رہے ہیں جو انگریزوں کا تجویز کردہ ہے۔“ علامہ اقبال ۔(کتاب: اقبال کے حضور از سید نذیر نیازی)

    -7 دیوبندی حضرات یہ بات بھی کرتے ہیں کہ یہ درست ہے کہ ہم نے پاکستان بننے کی مخالفت کی کہ اس بات پر اختلاف ہوسکتا ہے کہ مسجد بنائی جائے یا نہیں، لیکن اگر ایک دفعہ مسجد بن جائے تو پھر اختلاف ختم ہوجاتا ہے اور پھر سب ملکر اس میں نماز پڑھتے ہیں۔ دیوبندی علماءکا یہ اعتراض بھی صرف جھوٹ اور خرافات پر مبنی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہندو مشرکوں کی طرح دیوبند نے بھی آج تک پاکستان کو قبول نہیں کیا، ہندو مشرکوں کے ساتھ ملکر پاکستان کو تباہ کرنے کیلئے باقاعدہ جنگ کررہے ہیں، اور ان کی بدنصیبی کہ آج کے دور کے خوارج بھی انہی کی صفوں سے برآمدہوئے ہیں۔

    دیوبند کی پاکستان میں نمائندگی جمعیت علمائے اسلام اور فضل الرحمن کرتا ہے۔ یہی دیوبند کے اصل نمائندہ ہیں اور انہی کا عمل دیوبند کی نیتوں اور اعمال پر حجت سمجھا جائے گا۔ فضل الرحمن کا پاکستان کو تباہ کرنے میں جو کردار ہے اور جہاد کشمیر کو فروخت کرنے میں جو اس کا ہاتھ ہے، اس کا بڑا تعلق اس کی اپنی ذلالت سے بھی ہے مگر اس کی اصل وجہ وہ حسین احمد مدنی کی ”ابولہبی“ سوچ ہے کہ جس سے متاثر ہو کر فضل الرحمن کے باپ نے یہ کہا تھا کہ شکر ہے کہ ہم پاکستان بنانے کے گناہ میں شامل نہیں تھے۔

    -8 آج پاکستان کی ریاست کے خلاف جو سب سے خوفناک مذہبی جنگ لڑی جارہی ہے وہ دیوبندی سوچ اور اس کے خوارج کی جانب سے ہے۔ نہ اس بات سے انکار ممکن ہے نہ مزید کسی ثبوت کی ضرورت، صرف جہالت، بے شرمی اور ڈھٹائی چاہیے اس حقیقت سے انکار کرنے کیلئے۔

    -9 برصغیر پاک و ہند کی تاریخ میں، تحریک پاکستان میں، اور اب پاکستان کو نقصان پہنچانے میں دارالعلوم دیوبند اور حسین احمد مدنی کی سوچ کا وہی کردار ہے کہ جو کسی ایسے بدنصیب بے غیرت کا ہو کہ جو سیدی رسول اللہﷺ کو ہجرت سے روکے اور غزوئہ بدر میں ابوجہل کے ساتھ کھڑا ہو۔ اگر دارالعلوم دیوبند پاکستان کی مخالفت نہ کرتا تو مزید لاکھوں مسلمانوں ہجرت کرکے پاکستان کی محفوظ پناہ میں پہنچ جاتے۔

    آج ہندوستان میں پندرہ کروڑ مسلمانوں کا یہ حال ہے کہ ان کی روزانہ کی آمدنی 20 روپے روز سے بھی کم ہے۔ مسلمانوں حال کا دلتوں اور شودروں سے زیادہ ذلیل ہوچکا ہے۔ بالکل کیڑے مکوڑوں کی طرح غلاظتوں کے ڈھیروں میں مسلمان اپنی زندگیاں گزارنے پر مجبور ہیں اور یہ سب کچھ ان کے ساتھ اس لیے ہورہا ہے کہ حسین احمد مدنی نے عین ہجرت کے موقع پر، عین میدان جنگ میں، امت رسولﷺ کے ساتھ ایسی خیانت کی کہ تاریخ اب اس کا نام میر جعفر اور میر صادق کے ساتھ نفرت کے ساتھ لیتی رہے گی۔

    یہ بات کتابوں سے ثابت شدہ ہے کہ علامہ شبیر احمد عثمانی کو سیدی رسول اللہﷺ کی زیارت نصیب ہوئی تھی اور اس کے بعد ہی علامہ عثمانی دیوبند سے مستعفی ہو کر قائد کے خادم بن گئے تھے۔ یہ بات بھی تاریخ سے ثابت شدہ ہے کہ حسین احمد مدنی کو روحانی طور پر یہ بات بتا دی گئی تھی کہ پاکستان کے قیام کا فیصلہ سیدی رسول اللہﷺ فرماچکے ہیں، مگر اس کے باوجود بھی اس بدنصیب و بدبخت نے سیدی رسول اللہﷺ کے فیصلے کے خلاف کھڑے ہو کر جنگ کرنے کا فیصلہ کیا۔

    ”حسین احمد مدنی نے قیام پاکستان سے قبل ایک رات دو بجے مولانا رشید احمد صدیقی اور انسپکٹر مدارس چوہدری محمد مصطفی کو طلب فرمایا۔ دونوں فوراً حاضر ہوئے تو ارشاد فرمایا کہ بھائی اصحاب باطنی نے ہندوستان کی تقسیم کا فیصلہ کردیا ہے اور پنجاب اور بنگال کو بھی تقسیم کردیا گیا ہے۔ ان دونوں نے سن کر کہا کہ ہم جو تقسیم کے مخالف ہیں اب کیا کریں۔ اس پر حضرت مدنی نے فرمایا کہ یہ فیصلہ تقدیر کا ہے جب کہ ہم جس بات کو حق سمجھتے ہیں اس کی تدبیر میں لگے رہیں گے۔“( کتاب: سیرت النبی بعد از وصال النبی،از عبدالمجید صدیقی، حصہ چہارم، صفحہ 298-299 )

    یہ ایسا گناہ ہے کہ جس کا کوئی کفارہ نہیں ہے، کوئی توبہ نہیں ہے، کوئی امید نہیں ہے کہ سیدی رسول اللہﷺ کی سفارش نصیب ہوسکے۔ عین میدان جنگ میں کہ جب امت رسول ﷺ اپنی تاریخ کی سب سے بڑی جنگ لڑ کر، سب سے زیادہ قربانیاں دے کر، مدینہءثانی کو قائم کررہی تھی، عین اس وقت دیوبند اور اس کے بڑوں نے امت رسولﷺ کی پشت میں خنجر گھونپ کر مشرکین کا ساتھ دیا۔ اب یہ جتنی مرضی توبہ کرنے کا دعویٰ کرتے رہیں، توبہ کے دروازے ان پر بند ہیں۔

    ان کی بدنصیبی تو یہ ہے کہ آج مدینہءثانی پاکستان بننے کے ستر سال بعد بھی یہ اپنی غلطی تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ کسی بھی جماعت یا مسلک کی نمائندگی ان کے علماءکرتے ہیں اور دیوبند کی جمعیت علمائے اسلام کا پاکستان دشمنی میں، بھارت کی حمایت میں، اور خوارج کی پشت پناہی میں کیا کردار ہے اور اس کو اب مزید بیان کرنے کی حاجت نہیں ہے، انا للہ و انا الیہ راجعون۔

    آخر میں پاکستان میں ان مسلمان نوجونوں کو ایک اہم نصیحت کرتے چلیں۔ جیسا کہ ہم نے کہا کہ دیوبند اور بریلوی دونوں ہی سنی حنفی مدارس ہیں، دونوں ہی ایک جیسی کتابیں پڑھاتے ہیں۔ دیوبندی یا بریلوی مدرسے میں سنی حنفی مکتبہءفکر کی تعلیم حاصل کرنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ دیوبند کی سیاسی اور عسکری پالیسی کو بھی اختیار کرلیں۔ پاکستان میں آج کسی بھی دینی طالب علم میں نہ دیوبند دیکھا ہے نہ بریلی۔ اپنے آپ کو دیوبندی اور بریلوی کہنا اتنا ہی احمقانہ ہے کہ جیسے ایم کیو ایم کے پاکستان میں پیدا ہوئے لڑکے اپنے آپ کو مہاجر کہلائیں۔ مہاجر وہ ہوتا ہے کہ جس نے ہجرت کی ہو۔ اصل میں دیوبندی وہ ہوگا کہ جو دیوبند میں پڑھا ہوگا اور اسکے سیاسی و عسکری نظریات سے متفق ہوگا۔

    پاکستان میں پڑھنے والے تمام طالب علم سنی اور حنفی ہیں اور ان کو ہر حال میں دیوبند کی سیاسی اور عسکری دہشت گردی سے اپنے آپ کو دور رکھنا ہوگا، ورنہ وہ اسی صف میں کھڑے ہونگے کہ جہاں حسین احمد مدنی جیسے علمائے سُو کھڑے ہیں، دنیا میں بھی جن کا نام کانگریسی مولوی اور آخرت میں بھی یہ نہرو اور گاندھی کے ساتھ ہی اٹھائے جائیں گے۔

    اللہ ہمیں ایسے دردناک انجام سے محفوظ رکھے۔ اللہ پاک سرزمین کی حفاظت فرمائے، اللہ پاکستان کو فتنہءخوارج سے بچائے، اللہ ہمیں غزوئہ ہند کا مجاہد بنائے، اللہ پاک فوج کی حفاظت فرمائے اور سبز ہلالی پرچم کی آبرو محفوظ رکھے۔

    لبیک یا سیدی یا رسول اللہ
    لبیک غزﺅہ ہند

    ایں چہ بوالعجبی است ….از سید زید زمان حامد