Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام ،تحریر: محمد نعیم شہزاد

    ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام

    تحریر: محمد نعیم شہزاد

    نومبر کا پہلا ہفتہ تحریک آزادی جموں کشمیر کا ایک خونچکاں باب اور ہندو دہشت گردانہ ذہنیت کی سیاہ ترین مثال ہے۔ تاریخ ایک بار پھر اپنے آپ کو دہرا رہی ہے، آج سے بہتر برس پہلے جس تحریک آزادی کو کچلنے کی مذموم سعی لاحاصل کی گئی ایک بار پھر وہ تحریک آزادی ویسے ہی حالات سے دوچار کر دی گئی ہے۔ جور و ستم کی تاریکیوں اور ظلمتوں میں اضافہ تو ہوا ہے مگر طرز واردات اور مکروہ سوچ وہی ہے۔ اپنے ناجائز غاصبانہ قبضے کو جائز ثابت کرنے کا خواب سچ کرنے کی خاطر دہشت گرد بھارتی قوم راجہ ہری سنگھ اور ڈوگرہ راج کی صورت میں ہو یا نریندر مودی اور آر ایس ایس کی غنڈہ گردی کی صورت، ایک ہی خاص انداز نظر آتا ہے اور ایک ہی مقصد کہ مسلم اکثریت کو کسی طور اقلیت میں بدل ڈالا جائے۔ اور اس مقصد کے لیے ظلم و جبر کا بازار گرم کیا جاتا ہے، نہ کسی کی جان سلامت اور نہ آبرو محفوظ، محرک صرف ایک ہے کہ کشمیریوں کی نسل کشی کی جائے یا انھیں ہجرت پر مجبور کر دیا جائے تاکہ مسلمان کشمیر میں اقلیت کا درجہ پا لیں اور پھر اقوام متحدہ کی قراردادیں اور دنیا کے مسلمہ جمہوری تقاضوں کو نبھاتے ہوئے کشمیر کو ہندو اکثریتی ریاست ظاہر کیا جا سکے۔

    بھارت کی سفاکانہ، غیر منصفانہ اور غیرانسانی سوچ تو سب پر واضح ہے اور ہندتوا کا جنون بھی کسی سے مخفی نہیں مگر عالمی طاقتیں کیوں محو تماشہ اور لب بام ہیں، کیا دنیا میں مسلم کے لیے یہی انصاف کا معیار ٹھہرا دیا گیا ہے؟
    وہ کون سا ظلم ہو گا جو نہتے کشمیریوں پر روا نہیں رکھا جاتا؟
    کیا کشمیر کو دنیا کی سب سے بڑی جیل میں نہیں بدل دیا گیا؟
    مگر یہ سب کس جرم کی پاداش میں؟؟؟
    ایک نہیں کئی ایک سوال ہیں مگر جواب کون دے گا؟
    ناانصافی معاشرے میں عدم برداشت اور انتقام کی آگ کو ہوا دیتی ہے۔ کشمیری قوم ایک عرصہ سے اس آگ میں جھونکی ہوئی ہے اور اب اس کی حدت میں عام شہریوں سے لے کر یونیورسٹیوں کے اعلیٰ تعلیم یافتہ سکالرز بھی جل رہے ہیں۔ ایک بات تو واضح ہے کہ رد عمل کے طور پر بھارت کو بھی اس آگ میں جلنا ہو گا۔ مگر دہرا معیار انصاف یہاں بھی آڑے آتا ہے اور کشمیریوں کے اس رد عمل کو دہشت گردی اور militancy کا نام دیا جاتا ہے۔

    ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بد نام

    وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا

    بھارت اور اس کے ہمنوا ممالک کو ہوش کے ناخن لینے چاہیئیں۔ ظلم کی ایک طویل داستان ہے جو اہل کشمیر اپنے خون سے رقم کر رہے ہیں۔ قربانیوں اور شہادتوں کے یہ انمٹ نقوش کسی بڑے آتش فشاں کا پیش خیمہ ثابت ہوں گے۔ ظلم و نا انصافی کی تلافی اور تدارک کا وقت گزر چکا اور ہم بحیثیت مجموعی انسانیت کے مجرم ہیں، جس سنگین بے حسی کا مظاہرہ ہم کر رہے ہیں اس کا تصور بھی محال ہے۔ ایک زندہ انسان کے ہاتھ پاؤں باندھ کر وحشیانہ تشدد، محرم رشتوں کے سامنے معصوم کلیوں کو نوچنا، پیلٹ گن سے بینائی چھیننا اور جسم کا پور پور اذیت میں مبتلا کر دینا اور کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کر کے جسد خاکی تک کو ہوا کر دینا معمولی جرم نہیں ہیں۔ اس سب پر مستزاد کمیونیکیشن لاک ڈاؤن اور سوشل میڈیا بلاکنگ اور سسپنشن ہے۔ تمام ایسے اکاؤنٹ جو کشمیر کے لیے آواز اٹھاتے ہیں بلاک کر دیے جاتے ہیں مگر ظلم کے یہ ضابطے ہم نہیں مانتے۔

  • سانحہ تیز گام ایکسپریس ۔ کیاعمران خان اپنی بات پر عمل پیراہوں گے؟..از…عرفان قیوم

    سانحہ تیز گام ایکسپریس پاکستان کی تاریخ کا ایک رقت انگیز واقعہ ہے۔ اس واقعے کا تعلق کراچی سے چلنے والی تیز گام ایکسپریس سے ہے۔ سچی بات ہے اس تحریر کا مقصد کراچی کے نشیب و فراز کو بیان کرنا نہیں بلکہ سو چا ذکر آیا ہے توکچھ نہ کچھ لکھتا جاؤں۔ شہر کراچی جوکہ کبھی پاکستان کے دارالخلافہ کے طور پرہی نہیں بلکہ کاروباری عروج کے اعتبار سے بھی اپنی مثال آپ تھا ۔مزید یہ کہ اسے روشنیوں کے شہر کے طورپر بھی جانا جاتا تھا۔ روزگار کے حصول کے لیے پاکستان کے طول و عرض سے لوگوں کی اکثریت اس شہر کی طرف سفر کرتی تھی ۔ مگر اب اس شہر کے حالات پہلے کی نسبت قدرے مختلف ہیں ۔ جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر، بدبودار گندا پانی اگلتے گٹر، ٹوٹ پھوٹ کی شکار سڑکیں ،سفر کے لیے ہچکولے لیتی جان لیوا پرانی بسیں جن سےشہریوں کی زندگیاں اجیرن ہی نہیں بلکہ اس شہر کا حسن بھی ماند پڑگیا ہے۔ شاعر کے الفاظ میں

    بس میں لٹک رہا تھا کوئی ہار کی طرح
    کوئی پڑا تھا سایۂ دیوار کی طرح
    سہما ہوا تھا کوئی گناہ گار کی طرح
    کوئی پھنسا تھا مرغ گرفتار کی طرح

    اس شہر کے مکین پینے کے لیے صاف پانی جیسی بنیادی ضرورت کے حصول کے لیے بھی مارے مارے پھرتے نظر آتے ہیں جو کہ حکومت سندھ کی حسن کارکردگی پر ایک سیا ہ دھبہ ہے۔کہنے کے لیے بہت کچھ ہے خیر اس پر پھر کبھی تفصیلی بات کریں گے اور اپنے اصل موضوع کی طرف آتے ہیں۔ افسوسناک سانحہ تیز گام ایکسپریس اس وقت رو پذیر ہوا جب پاکستان کے سیاسی میدان میں ایک عجیب سی ہلچل مچی ہوئی ہے ۔اقتدار کی کرسیوں پر جلوہ افروز حکمران اورحکومت مخالف تمام سیاسی ومذہبی پارٹیاں ایک دوسرے پر بھرپور تنقید کررہی ہیں۔ مگر اس واقعے نے تمام سیاسی و مذہبی پارٹیوں کے باہمی اختلافات کو بھلا کر ہر ذی شعور کو انسانی ہمدردی میں یکجا ہی نہیں بلکہ ہر آنکھ کو اشکبار بھی کر دیا ہے۔ ہاں ہاں ہر طرف سے سانحہ تیز گام ایکسپریس کی لپیٹ میں آنے والوں کے لیے غم کا اظہار کیا جارہا ہے۔

    معاملہ کچھ یُوں ہے کہ فلسفہ زندگی ایک ہی جگہ سکونت پذیر اختیار کرنے کا نام نہیں ہےبلکہ معاملات زندگی کو نمٹانے کے لیے ایک جگہ سے دوسری جگہ حرکت کا نام ہے۔ یہ معاملات زندگی نوعیت کے اعتبار سے مختلف اشکال میں ملتے ہیں جن میں عبادات، کاروباری لین دین ، رشتہ داروں سے میل جول یا گھریلو مصروفیات وغیر ہ سر فہرست ہیں۔ اسی فلسفہ زندگی کے تحت کچھ لوگ کراچی سے تیز گام ایکسپریس پر سوار ہوئے جن میں تبلغی جماعت سے تعلق رکھنے والوں کی بھی اکثریت تھی

    یہ اسلام پسند لوگ جو کہ محمد عربیﷺ کے مشن پر چلتے ہوئے پروردرگار کے ہاں سجدہ ریز ہونے نکلے تھے بس ذہن میں ایک ہی خیال سمیٹے ہوئے تھے کہ رب کبریا سے گناہوں کی بخشش کروا لیں گے، رسول خدا کی حدیث سے سینے منوّر کرلیں گے۔ اسی خوبصور ت آرزو کے پیش نظر کعبہ کے رب کی خوشنودی کےلیے نہ مہنگائی سے بڑھتے ہوئے کرایوں کو دیکھا نہ گزرتے ہوئے وقت کو بتانے والی گھڑی کی ٹک ٹک پر کان دھرےاور نہ ہی اس بات کو سوچا کہ خود کی غیر موجودگی سے کاروبار اور دیگر معاملات زندگی متاثر ہوسکتےہیں۔ بس الرزّاق اور المھیمن کو ہی بڑا مانتے ہوئے اپنے بوری بسترے کو گول کیا اور کچھ استعمال کی چیزوں کو ہمراہ لیا۔ جن میں بدلتے ہوئے موسم کے پیش نظر رضائیاں ، گدے، رومال ،خشک راشن، کھانا پکانے کےلیے دیگچیاں اور سیلنڈر شامل تھے۔

    تیزگام ریل گاڑی منزل مقصود کی طرف روانہ ہوئی تویہ بھلے مانس مسافر نہیں جانتے تھے کہ یہ سفر ان کی زندگی کا آج آخری سفر ثابت ہوگا۔ بہرحال ریل گاڑی چلتے چلتے جب ساہیوال کے قریب پہنچی تو اس میں خطرناک قسم کی آگ بھڑک اُٹھی جس نے مختصر وقت میں ریل گاڑی کی کم وبیش تین بوگیوں کواپنی لپیٹ میں لے لیا۔ آگ بجھانے والے آلات کی عدم دستیابی کے باعث اس کی شدّت و حدّت میں آضافہ ہوتا چلا گیا۔ہنستی مسکراتی زندگیاں تڑپنے لگیں، دم گھٹنے لگے ،اور دیکھتے ہی دیکھتے لقمہ اجل بن گئے۔ یقین جانیے یہ سماں کس قدر ہیبت ناک ہو گا ؟ اناللہ وانا الیہ راجعون۔

    ہائے زندگی تو ہر کسی کو محبوب ہوتی ہے جس کے پیش نظر کچھ لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت زندگی بچانے کے لیے چلتی ریل گاڑی سے چھلانگیں لگانا شروع کردیں کچھ کے بازوؤں کی ہڈیاں چُور چُور ہو گئیں، کچھ کی ٹانگیں ٹوٹ گئیں اور طرح طرح کے زخم آئے ۔ جو لوگ خود کو آگ کے نکلتے ہوئے دہکتے شعلوں سے بچانے میں ناکام رہے ان کے جسم مکمل طور پر جھلس گئے جو کہ پہچان کے قابل بھی نہیں ہیں ۔ جاں بحق ہونے والوں کی تعداد پر نظردوڑائی جائے تو تقریباً پچھتر لوگ جان سے گئےاور ساٹھ کے لگ بھگ شدید زخمی حالت میں ہسپتالوں میں زندگی اور موت کی کشمکش میں زیر علاج ہیں۔

    پاک فوج کے ساتھ ساتھ دیگر فلاحی تنظیموں نے اس کام میں بھرپور حصہ لیا۔ اور حکومت وقت نے جاں بحق ہونے والے کے لواحقین کے لیے 15،15 لاکھ اور زخمیوں کے لیے 5 لاکھ فی کس دینے کا اعلان کیاہے۔ جو کہ مالی معاونت تو ثابت ہوسکتی ہے مگر لوگوں کے اصل زخم نہیں بھرے جا سکتےہیں۔

    بہرحال اس درد بھرے سانحے سے کئی گھروں میں صف ماتم بچھ گئی ہے ۔ ابو ابو پکارنے والےبچے یتیم ہو گئے، عورتیں بیوہ ہوگئیں، ماں باپ کی آنکھوں کے تارے ٹوٹ گئےاور لوگ اپنے پیاروں کی راہیں تکتے رہ گئے۔ مگر ریل گاڑی کے یہ سوار ہمیشہ کے لیے دنیا فانی سے رخصت ہوگئےاور اس کے ساتھ ہی رب کبریا کے پیغام کی ترجمانی بھی کرتے چلے گئے۔قرآن حکیم میں ارشاد ہے۔

    جو کوئی زمین پر ہے فنا ہوجانے والا ہے۔ اور آپ کے پروردگار کی ذات باقی رہے گی جو بڑی شان اور عظمت والا ہے (سورہ الرحمان آیت 26-27)

    اس سانحےنے دنیا فانی کے مال و دولت سےخود کو آراستہ کرنے کی لالچ میں لوٹ مار کا بازار گرم رکھنے والوں کے لیے ، لوگوں کی زندگیوں سے کھیلنے والوں کے لیے،نفرت کو ہوا دینے والوں کے لیے، ایک دوسرے کو بے جا اذیت کا نشانہ بنانے والوں کے لیے بھی ایک سبق چھوڑا ہے ۔شاعر کے الفاظ میں

    زندگی سے اتنا پیار نہ کر
    چلے تجھ کو بھی جانا ہے زمین کے اندر

    ساتھ ہی ساتھ اس درد ناک واقعے نے سیاستدانوں کے لیےبھی کئی سوالات ہی پیدا نہیں کیے بلکہ ایک امتحان میں بھی ڈال دیا ہے۔ وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ یہ سانحہ سلینڈر پھٹنے سے ہوا ہے ۔ جبکہ سوشل میڈیا پر چلنے والی دیگر ویڈیوز کے مطابق عینی شاہدین کا یہ کہنا ہے کہ یہ واقعہ شارٹ سرکٹ کی وجہ سے ہواہے۔ اگر سلینڈر پھٹنے سے دھماکہ ہوتا تو زور دار آواز سنائی دیتی مگر ایسا کچھ نہیں ہوا

    بہرحال عینی شاہدین اور وزیر ریلوے کے بیانات میں خوب تضاد پایا جاتا ہے۔ دونوں اعتبار سے ریلوے انتظامیہ کی کارکردگی تسلی بخش نہیں ہے جس پر عام عوام ایک دوسرے سے سوال کرتے نظر آتے ہیں۔ گیس سے بھرے سلینڈر ریل گاڑی میں کیوں لے جانے دیے گئے؟۔اگرشارٹ سرکٹ سے ہوا تو عوام کے خون پسینے کا پیسہ کس جگہ خرچ ہورہاہے؟ حکمران عوام سے سنجیدہ کیوں نہیں ہیں؟

    رہی بات اس سانحے کی شفاف تحقیقا ت کی تو اس حوالے سےوزیر اعظم عمران خان کے ماضی کے بیانات ملتے ہیں جو کہ ریلوے حادثے پر ڈنکے کی چوٹ کہا کرتے تھے کہ یہ تحقیقات اتنی دیر تک شفاف نہیں ہوسکتیں جب تک ریلوے کا وزیر اپنے عہدے سے مستعفی نہ ہو۔ شیخ رشید صاحب کی وزارت میں متعدد بار ریلوے حادثات ہو چکےہیں مگر کوئی استعفی عمران خان صاحب نے نہیں مانگا اور نہ ہی وزیر ریلوے نے اس بارے میں کچھ سوچا۔معاف کرنا انسان ہوں سوچ سوچی جا سکتی ہے فی الحال اب بھی ایسا ہی لگتا ہے۔ اقبال نے اسی لیے کہا تھا۔

    اقبال بڑا اپدیشک ہے من باتوں میں موہ لیتا ہے
    گفتار کا یہ غازی توبنا ،کردار کا غازی بن نہ سکا

    سانحہ تیز گام ایکسپریس ۔ کیاعمران خان اپنی بات پر عمل پیراہوں گے؟..از…عرفان قیوم

  • ففتھ جینریشن وار فئیر کے شہید سپاہی سید غوث اللہ آغا…از…عثمان عبدالقیوم

    سکول میں پڑھایا جاتا ہے، یوم پاکستان ہو یا آزادی یہ شعر گائے جاتے ہیں اور خصوصا یوم دفاع و شہداء پر ملک کے کونے کونے پر بڑے بڑے بینرز آویزاں کیے جاتے ہیں۔
    ” شہید کی جو موت ہے، وہ قوم کی حیات ہے”

    ایک جگہ لفظ شہید پر بات ہو رہی تھی ایک صاحب سوال کرنے لگے کہ جیسے ہم لوگ اس کو شہید کہتے ہیں جو رب کی رضا میں جان دینے والے کو کہتے ہیں پوچھنے لگا کہ دنیا کے ہر ملک میں شہیدوں کے نام پر یادگاریں ہیں، سڑکیں ہیں، پارک ہیں، ان کی قربانی کو یاد کیا جاتا ہے، ان کا بھی احترام کیا جاتا ہوگا راقم نے یوں جواب دیا انکا احترام دنیا کے ہر مذہب و ثقافت ایسے ہی کیا جاتا ہے جیسے مقدس صحیفوں کا۔ مجھے یقین ہے کہ شہید کے متبادل دنیا کی ہر زبان، ہر مذہب اور ہر تہذیب میں موجود ہوں گے کیونکہ ہر قوم کو اپنی بقا کے لیے اور ہر تحریک کو اپنی نمود کے لیے ایسے افراد کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو اپنی جان کا نذرانہ پیش کریں، یقینی موت کے طرف لپکیں اور اپنی زندگی دے کر قوموں کو اور تحریکوں کی نظریات کو دوام بخشیں۔

    اسی اثناء میں پاکستان کے شہیدوں کا تذکرہ شروع ہوا اے پی ایس ہو یا پولیس کے جوانوں کا یا پھر فوج اور ہزاروں گمنام شہیدوں کے تذکرے ہو رہے تطے اچانک بلوچستان کے والے عظیم بیٹے کی سراج رئیسانی شہید رحمتہ اللہ علیہ کا تذکرہ ہو گیا انکی شجاعت اور بہادری کی باتیں چل رہیں تھیں کہ اتنے میں خبر ملی کہ کوئٹہ سے تعلق رکھنے والا پاکستان کا ایک اور بیٹا سید غوث اللہ آغا جس کو پی ٹی ایم اور این ڈی ایس کی غنڈہ گردی، دہشت آلود درندوں نے آزادی کے دن 14 اگست کو اغوا کیا اور نا جانے کتنے ظلم و جبر کے پہاڑ تھوڑے ہوں گے انکی درندگی کا شکار ہو کر موت کی وادی میں چلا گیا اور اج افغان سرحد کے قریب قلعہ عبداللہ سے اس غیور بیٹے کا جسد خاکی ملا اور معلوم ہوا پاک دھرتی کی حفاظت کرنے والوں میں اسے ایک نام شہر خاموشاں میں داخل ہوگیا اور بیٹا اس ملک پر جان قربان کر گیا۔

    سوچ رہا تھا اس کا جرم کیا ہوگا معلوم ہوا سوشل میڈیا نامی ایک بلا ہے جہاں وہ اپنے قلم سے اپنے موبائل سے پی ٹی ایم، بلوچ لبریشن آرمی سمیت ان تمام ملک دشمنوں کے خلاف برسرپیکار تھا پاکستان کا سرفروش مجاہد بن کر اور سچا بیٹا بن کر اپنی دھرتی ماں سے بے پناہ محبت کا سبق سکھاتا تھا آزاد بلوچستان کی بجائے پاکستان کا نعرہ بلند کرتا تھا بھارت کے ٹکڑوں پے پلنے والے ملک دشمنوں کی تراغیب کو رد کر نوجوانوں میں پاکستان زندہ باد پاکستان آرمی زندہ باد کے جذبے جگاتا تھا شہید غوث اللہ وہ مرد مجاہد تھا جو سراج رئیسانی شہید رحمتہ اللہ علیہ کے رستے پر چلتے ہوئے بلوچستان میں بدترین حالات میں بھی پاکستان کا جھنڈا سربلند رکھا۔

    غوث اللہ شہید ففتھ جینریشن وار کا سچا اور محب وطن سرفروش سپاہی تھا۔ یہی اس کا جرم تھا وہ ہماری طرح بلوچستان میں جاری بھارتی سازشوں سے بخوبی آگاہ تھا نوجوانوں اور بچوں کو آگاہ کرتا تھا اس لئے بھارت سے شدید نفرت رکھتا تھا۔ جس کا برملا اظہار کرتا تھا ہاں نفرت کی اظہار کی وجہ سراج رئیسانی شہید رحمتہ اللہ علیہ کہ بھارتی ترنگے کا جوتا بنا کر پہنتا تھا۔

    اپنی زندگی کی قیمت لگا کر ان تمام لوگوں کو پیغام دے گیا جو یہ کہتے ہے سوشل میڈیا بیکار ہے جو بوٹ پالشیت کا طعنہ دیتے ہیں جو وطن کی محبت کو ایمان کا حصہ نہیں مانتے ہیں سبز ہلالی پرچم کو لہراتے لہراتے آنے والی نسلوں کی خاطر قربانیوں کا ذکر چھوڑ گیا دشمنوں کے خلاف اتحاد کا سبق دے کر، حب الوطنی کا درس دے کر، سبز ہلالی پرچم کو لہرانے کا انداز سکھا کر،نظریہ پاکستان اور لا الہ الا اللہ کا مطلب سمجھا کر اسکی بنیاد کو سمجھاتے ہوئے ریاست سے غداری کرنے ،لوٹنے اور عیاشی کرنے والوں کو بتا گیا کہ وطنیت کیا ہے؟ شہادت پر غم نہ کرنے کا درس دے گیا اور پیسے کی لالچ کو پست کرتے ہوئے جان قربان کرتے ہوئے پاکستان سے عشق تا دم آخر پہچان بنا کر بالآخر اسی سبز ہلالی پرچم کو اوڑھ کر ابدی نیند تو سو گیا اور یہ پیغام دے گیا

    چادر میں نہیں ھم کوجھنڈے میں اُتارو
    مٹی کے عشق میں ہم، جوانی میں مَرے ہیں
    حرف آخر یہ
    مسافران راہ وفا کو شہید منزل دکھا گئے
    کٹا کے غیور اپنے سر کو غرور کا سر جھکا گئے ہیں
    اگر میرے بس میں ہوتا تو سید غوث اللہ آغا سمیت تمام شہداء کو نشانِ حیدر سے سرفراز کرتا جس سے اس عالی مرتبت تمغے کی شان دوبالا ہو جاتی کہ وہ شہیدِ وفائے پاکستان تھا”
    کیونکہ شہید سراج رئیسانی ہو یا غوث اللہ اپنے بلوچ جانبازوں کے ساتھ پاکستان کے لئے میدان جنگ میں لڑ رہا تھا۔وہ شہید وطن اپنی جان سے گذر گئے اور یہ پیغام دے گیا
    اے وطن تو نے پکارا تو لہو کھول اٹھا
    تیرے بیٹے تیرے جانباز چلے آتے ہیں

    سوچ رہا ہوں

    اج پھر شہید وطن سراج رئیسانی شہید رحمتہ اللہ علیہ کی شہادت کی طرح غوث اللہ کا جسد خاکی بھی گواہی دے رہا تھا اور دھرتی گواہ بن گئی ہے کہ

    ہو حلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
    رزم حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن
    شہادت نے ان کی شخصیت کو نظریئے میں بدل دیا ہے پاکستان سے محبت کا نظریہ’ سرفروشی کی لازوال داستان بنادیا ہے۔
    سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے

    ففتھ جینریشن وار فئیر کے شہید سپاہی سید غوث اللہ آغا…از…عثمان عبدالقیوم

  • شہنشاہ اکبر نےاقتدارسنبھال لیا ، تاریخ نے پھروہ دن دکھا بھی دہرا بھی دیا

    لاہور:ویسے تو مغل بادشاہ جلال الدین اکبر کی زندگی کےبارے میں تاریخ میں ہر کسی نے اپنے انداز سے تصویر کشی کی ہے ،مگریہاں صرف اس کی زندگی کے ایک پہلوپر روشنی ڈالی جارہی ہے،یہاں جو اصل بات بیان کرنے جارہے ہیں وہ ہےکہ آج کے ہی دن 5 نومبر 1556 کو عظیم مغل بادشاہ شہنشاہ جلال الدین اکبر نے باقاعدہ اقتدارسمبھال لیا ، تاریخ کے مطابق سلطنت مغلیہ کے تیسرے فرماں روا (بابر اعظم اور ہمایوں کے بعد)، ہمایوں کابیٹا تھا۔ ہمایوں نے اپنی جلاوطنی کے زمانے میں سندھ کے تاریخی شہر دادو کے قصبے “پاٹ” کی عورت حمیدہ بانو سے شادی کی تھی ۔ اکبر اُسی کے بطن سے 1542ء میں عمر کوٹ کے مقام پر پیدا ہوا۔

    مولانا اے پی سی کا حال دیکھ کر ہکے بکے رہ گئے،9 میں سے 5 ساتھی غائب

    مورخین لکھتے ہیں کہ ہمایوں کی وفات کے وقت اکبر کی عمر تقریباً چودہ برس تھی اور وہ اس وقت اپنے اتالیق بیرم خان کےساتھ کوہ شوالک میں سکندر سوری کے تعاقب میں مصروف تھا۔ باپ کی موت کی خبر اسے کلانور ضلع گروداسپور (مشرقی پنجاب) میں ملی۔ بیرم خان نے وہیں اینٹوں کا ایک چبوترا بنوا کر اکبر کی رسم تخت نشینی ادا کی اور خود اس کا سرپرست بنا۔ تخت نشین ہوتے ہی چاروں طرف سے دشمن کھڑے ہوگئے ۔ ہیموں بقال کو پانی پت کی دوسری لڑائی میں شکست دی۔ مشرق میں عادل شاہ سوری کو کھدیڑا۔ پھر اس نے اپنی سلطنت کو وسعت دینی شروع کی۔

    اخوت اس کو کہتے ہیں!طیب اردوان نے پاکستان سے دوستی کاحق اداکردیا

    1556ء میں دہلی ، آگرہ ، پنجاب پھر گوالیار ، اجمیر اور جون پور بیرم خان نے فتح کیے۔ 1562ء میں مالوہ، 1564ء میں گونڈدانہ ، 1568ء میں چتوڑ، 1569ء میں رنتھمپور اور النجر ، 1572ء میں گجرات ، 1576ء میں بنگال، 1585ء میں کابل، کشمیر اور سندھ، 1592ء میں اڑیسہ ، 1595ء میں قندہار کا علاقہ ، پھر احمد نگر ، اسیر گڑھ اور دکن کے دوسرے علاقے فتح ہوئے اور اکبر کی سلطنت بنگال سے افغانستان تک اور کشمیر سے دکن میں دریائے گوداوری تک پھیل گئی۔

    اکبر نے نہایت اعلٰی دماغ پایا تھا۔ ابوالفضل اور فیضی جیسے عالموں کی صحبت نے اس کی ذہنی صلاحیتوں کو مزید جلا بخشی ۔ اس نے اس حقیقت کا ادراک کر لیا تھا کہ ایک اقلیت کسی اکثریت پر اس کی مرضی کے بغیر زیادہ عرصے تک حکومت نہیں کر سکتی۔ اس نے ہندوؤں کی تالیف قلوب کی خاطر انہیں زیادہ سے زیادہ مراعات دیں اور ان کے ساتھ ازدواجی رشتے قائم کیے۔ اکبر نے ایک ہندو عورت جودھا بائی سے بھی شادی کی جو اس کے بیٹے جہانگیر کی ماں تھی۔

    ایچ بی ایل پی ایس ایل 2020 کے ڈرافٹ تیار ، تفصیلات آگئیں

    جودھا بائی نے مرتے دم تک اسلام قبول نہیں کیا تھا۔ نیز دین الہٰی کے نام سے ایک نیا مذہب بھی جاری کیا۔ جو ایک انتہا پسندانہ اقدام تھا اور اکبر کے ہندو رتنوں کی مسلسل کوششوں کا نتیجہ تھا۔ دین الہًی کی وجہ سے اکبر مسلمان امراء اور بزرگان دین کی نظروں میں ایک ناپسندیدہ شخصیت قرار پایا۔ وہ خود ان پڑھ تھا۔ لیکن اس نے دربار میں ایسے لوگ جمع کر لیے تھے جو علم و فن میں نابغہ روزگار تھے۔ انہی کی بدولت اس نے بچاس سال بڑی شان و شوکت سے حکومت کی اور مرنے کے بعد اپنے جانشینوں کے لیے ایک عظیم و مستحکم سلطنت چھوڑ گیا۔

    مغل حکمرانوں کے طرز زندگی کے آثارآج بھی برصغیر پاک وہند میں ملتے ہیں ، ان کے محلات، فوجی چھاونیاں اور خوبصورت اندازمیں تاریخی عمارتیں تو پاکستان کے حصے میں بھی آئی ہیں‌، لاہور کا شاہی قلعہ ، شاہی مسجد اور اس کے علاوہ ملک کے اور کئی مقامات پر ان کی حکومت کے اثار ابھی تک باقی ہیں‌ ، آج بھی اور آج کے دن کے حوالے سے بھی مغل بادشاہ اکبراسلامی تاریخ میں بہت زیادہ اہمیت رکھتی ہے، مورخین کے مطابق آج کے دن 5 نومبر 1556 کو اسی شہنشاہ اکبر نے مغل سلطنت کا باقاعدہ کنٹرول سنبھال لیا

  • "زندگی تین دہائیاں قبل، جدت یا کچھ اور” تحریر: محمد حمزہ حیدر

    آج ارادہ کیا کہ تین دہائیوں پہلے کی زندگی پر ایک نظر ڈالیں تو بیٹھا لکھنے ورنہ پہلے سستی رہی ہے ایسے کاموں میں.
    تو جی بات کچھ یوں ہے کہ "جدت” لفظ بڑا ظالم و تکلیف دہ ہے. جدت ہمارے نظریات اور روایات کا قاتل ہے. اسی جدت کے پیچھے لگ کر ہم اپنا آپ کھو چکے.
    تین دہائیوں قبل جب انسان صحیح معنوں میں انسان تھا تو زندگی بڑی پر مسرت اور شیریں ہوا کرتی تھی. لوگ ملنسار، اعلیٰ اخلاق و روایات کے مالک تھے. ہمدردی اور نیک سیرتی کی مثال آج انکی نسبت ناپید ہے. ان جیسا اخلاص، ان جیسی شفقت اور ان جیسا احساس آج شاید ہی کسی کو دکھے وگرنہ یہ ناپید ہے. لوگ چاہے شہری تھے یا دیہاتی لیکن وہ ایک مکمل اور بہترین زندگی گزارتے تھے ایکدوسرے کے دکھ سکھ اور شادی یا وفات کے وقت ان کے سانجھی ہوتے گویا انہی کے گھر کے باسی ہوں. اسی طرح رہنے کو اپنے لیے ترقی اور خوشحالی گردانتے تھے. ان میں کوئی لالچ اور ہوس نہ تھی. الغرض ایک بہترین معاشرت کی تصویر تھے.
    وقت پر لگا کر اڑا اور تیزی سے اڑتا چلا گیا، چونکہ وقت نے تو سفر کرتے رہنے ہے اور رکنا صرف اس مالک کے حکم سے ہے، لوگوں میں بدلاؤ آنا شروع ہوگیا لوگوں نے اپنا اقدار بدل لیا اور رہن سہن میں بدلاؤ آیا، لوگ سٹیٹس کی دوڑ میں شامل ہوگئے. پرانے لوگوں کے طریقوں کو تنگ نظری اور گھٹن زدہ قرار دیا. ان سے ہر ممکن کوشش کر کے جان چھڑانے لگے. ایکدوسرے سے ملنا ملانا تو دور دیکھنے کا وقت ختم ہوگیا. زندگی کے طور اطوار یکسر بدل گئے. حالات بدلے تو لوگ بدلے لوگ بدلے تو تہذیب بدلی یوں پورا معاشرہ بدل گیا.
    گزشتہ تین دہائیوں کو دیکھیں تو آج کا یہ دور مادیت پرستی اور خود پسندی کا دور لگتا ہے جہاں ہر شخص گویا میراتھن ریس میں ہو اور اپنی تمام تر توانائیاں بروئے کار لا کر ایک پرسکون روح و جسم کی بجائے ایک مشین کی مانند ہو جائے اور ایک ایسی دوڑ جس کا کوئی دوسرا سرا نہیں اس میں شامل ہو. یہ جانتے ہوئے کہ کچھ باقی نہیں بعد میں یہ کچھ میرا نہیں رہنا.
    گزشتہ دور کو جتنا پڑھا اور سنا تو اس کو ایک انمول اور مکمل پرسکون معاشرہ پایا. اب جب بھی کبھی اس پر سوچتا ہوں تو بس یہی سوچتا ہوں کہ آج میں اور اُس وقت میں صرف تین دہائیوں کا ہی تو فرق اور وقفہ ہے.
    ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت
      احساس مروت کو کچل دیتے ہیں آلات

  • ملکہ چیونٹی کی عمر کتنی ہوتی ہے،ماہرین نے بتادیا

    لندن :ملکہ چیونٹی تمام حشرات الارض میں سب سے لمبی عمر پاتی ہے اور خاندان میں نر و مادہ کی موجودگی کے باوجود تولید کام بھی صرف ملکہ چیونٹی ہی کرتی ہے۔کیا آپ نے کبھی چیونٹیوں کی قطار کو بغور دیکھا ہے؟ ایک سیدھی قطار میں ایک کے پیچھے ایک چلتی ہوئی یہ چیونٹیاں بظاہر بہت منظم معلوم ہوتی ہیں، لیکن اس کے علاوہ بھی یہ اپنے اندر بہت سی خصوصیات رکھتی ہیں۔

    کراچی کے رہائشی گیارہ سالہ ایماز کا نام گینیز بک آف ورلڈ میں درج کیسے ہوا؟

    غیر ملکی ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق چیونٹیوں میں بھی خاندان ہوتے ہیں اور ہر خاندان کی ایک ملکہ چیونٹی ہوتی جو پورے 30 برس تک زندہ رہتی ہے۔کیا آپ جانتے ہیں دنیا بھر میں پائے جانے والے حشرات الارض میں ملکہ چیونٹی کی عمر سب سے زیادہ ہوتی ہے۔

    فاسٹ باؤلر جنید خان پر جرمانہ عائد ، کیوں ہوا؟ جانیئے اس خبر میں‌

    آئی سیک آن لائن کی تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کیڑے کا خاندان ہزاروں چیونٹیوں پر مشتمل ہوتا ہے جس میں نر و مادہ چیونٹیاں بھی موجود ہوتی ہیں لیکن تولید کا کام صرف ملکہ چیونٹی ہی کرتی ہے اس کے سوا کوئی تولید کا کام انجام نہیں دے سکتا۔

    پنجاب کے 6 اضلاع میں کیا ہونے جارہا ہے، ترجمان نے بتا دیا

    چیونٹی آپ کے باس سے بہتر مینیجر ثابت ہوسکتی ہے،تحقیقی رپورٹ کے مطابق خاندان میں مختلف شک و رنگ و روپ کی چیونٹیاں موجود ہوتی ہیں اور تمام ہی ملکہ کے حکم کی تابع ہوتی ہے۔رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اگر چیونٹیوں کے کسی خاندان کی ملکہ چیونٹی مر جائے تو شہد کی مکھیوں کی طرح یہ کسی دوسرے چیونٹی کو اپنی ملکہ نہیں بناتی بلکہ دوسری کالونیوں میں بس جاتی ہیں

  • 2-نومبر کو عالم اسلام کے سلطان کی پیدائش نے خطے کا نقشہ ہی بدل دیا ،

    غزنی :تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے ، آج دنیا کی تاریخ میں میں 2 نومبر2019 کا دن ہے، اور آج سے تقریبا ایک ہزارسال قبل عالم اسلام کی ایک ممتاز ایک تاریخ بدلنے والے اور رقم کرنے والی شخصیت پیداہوائی اس شخصیت کا نام ہے سلطان محمود غزنوی ، مورخین کے مطابق سلطان محمود غزنوی دو نومبر 971ء کو افغانستان کے شہرغزنی میں پیدا ہوئے

    ریڑھ کی ہڈی…از…حامد المجید

    سلطان محمود غزنوی جن کا مکمل نام یمین الدولہ ابو القاسم محمود ابن سبکتگین ہے اور جنہیں المعروف محمود غزنوی کے نام سے تاریخ میں یاد کیا جاتاہے 997ء سے اپنی وفات تک سلطنت غزنویہ کا حکمران تھے۔ وه دسویں صدی عیسوی میں غزنی کے مسلمان بہادر ، محب رسول اللہ صلی الله علیہ وآلہ وسلم بادشاه گزرے هیں

    آج کا انسان…… از….نعیم شہزاد

    سلطان محمود غزنوی نے غزنی شہر کو دنیا کے دولت مند ترین شہروں میں تبدیل کردیا اور اس کی وسیع سلطنت میں موجودہ مکمل افغانستان، ایران اور پاکستان کے کئی حصے اور شمال مغربی بھارت شامل تھا۔ وہ تاریخ اسلامیہ کے پہلے حکمران تھے جنہوں نے سلطان کا لقب اختیار کیا۔

    پنجاب کے سکولوں میں کون سی مہم شروع ہونی والی ہے،سیکرٹری ایجوکیشن نے بتاددیا

    وہ پہلے مسلمان حکمران تھے جنہوں نے ہندوستان پر 22 حملے کئے اور ہر حملے میں فتح حاصل کی ۔اس عظیم مجاہد کے گھوڑوں کی ٹاپوں سے ہندوستان کے بت کدے لرز اٹھتے تھے ۔ اسلامی تاریخ میں سلطان محمود غزنوی کو برصغیر پاک وہند میں اسلام کا داعی حکمران کے طور پر یاد کیا جاتا ہے

  • دور حاضر کے مسائل اور علماءکرام کے احسانات…از…, بنت طاہر قریشی

    دور حاضر کے مسائل اور علماءکرام کے احسانات

    علماءکرام امت مسلمہ کے لئے اللہ رب العزت کا نہایت ہی عظیم انعام ہیں۔
    ہر دور میں یہی رجال عظیم تھے جنہوں نے امت مسلمہ کی راہنمائی اور انکو راہ راست پر رکھنے کا مقدس فریضہ انجام دیا اور اب اس دور پر فتن اور پرآشوب میں بھی تمام مخالفتوں، تمام دشنام طرازیوں اور باطل فرقوں کی مسلسل سازشوں کے باوجود بھی اپنے اس مقدس فریضے کی انجام دہی میں صرف رضائے الہی کے خاطر ہمہ تن مشغول ہیں۔
    حضورﷺ کے بعد دین کی ترویج اور دین اسلام کے تمام احکامات کو اصل حالت میں برقرار رکھنے اور اس امانت کو ہم تک بالکل صحیح صحیح پہنچانے کا سبب بھی یہی علمائے کرام ہیں۔
    تصور تو کیجئے ۔۔۔!
    اگر ہمارے علمائے کرام بھی بنی اسرائیل کے اکثر علماءکی طرح دولت کے لالچ میں گرفتار ہوجاتے اور اللہ رب العزت کے صریح احکامات میں اپنی من پسند تحریفات کرتے تو کیا آج ہمارے پاس اتنا کامل اور مکمل دین ہوتا؟ یقینا آپکا جواب “نہیں”ہوگا اور ہونا بھی چاہئیے۔
    امت محمدیہ ﷺ پر اس امت کے علماء حق کا احسان عظیم ہے کہ انہوں نے اپنی گردنیں تو کٹادیں، قیدوبند کی صعوبتیں تو برداشت کرلیں مگر دین اسلام کے کسی صریح حکم میں کوئی تبدیلی یا تحریف نہ ہونے دی۔
    امام احمد بن حنبل ؒ کی مثال لیجئے “عقیدہ خلق قرآن” جیسے کتنے بڑے اور عظیم فتنے کے سامنے تن تنہا سینہ سپر ہوگئے، اذیت ناک قید کاٹی، سرعام کوڑے لگائے جاتے، کمر سے خون کے فوارے جاری ہوجاتے، مگر حق سے ایک انچ سرکنے پر آمادہ نہ ہوئے آپکی اسی لازوال قربانی کی وجہ سے امت مسلمہ ایک عظیم فتنے سے محفوظ ہوئی۔
    زیادہ دور نہ جائیں، وطن عزیز کے علمائے کرام کی ہی مثال لیجئے، تخم برطانیہ کے ناجائز خودکاشت پودے ” قادیانیوں”نے وطن عزیز میں اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کرنی چاہی، بڑی ہی مکاری اور چالاکی سے خود کو مسلمان ثابت کرنا چاہا مگر علمائے کرام نے انکے مذموم اور ناپاک عزائم کو کامیاب نا ہونے دیا، ملک گیر تحریکیں چلائی گئیں، قادیانیوں کے دونوں گروہوں کو پارلیمنٹ میں ہونے والے مناظرے میں عبرتناک شکست دی اور بالآخر کئی سالوں کی جدوجہد کے بعد قادیانیوں کو نا صرف غیر مسلم قرار دلوایا بلکہ پاکستان میں انکی تمام مذہبی سرگرمیوں پر پابندی لگاکر انکی اہم عہدوں اور اداروں میں تعیناتی ختم کردی گئی۔
    اگر اس وقت علماء کرام یہ عظیم کام سرانجام نہ دیتے تو میں حلفیہ کہتی ہوں کہ میرا پاکستان آج ان ناپاک قادیانیوں کے ہاتھوں کا کھلونا ہوتا۔
    تو میرے عزیزو! علماء کی قدر کیجیے، ان کو طنزو تشنیع کا نشانہ نہ بنائیے، اپنے دل سے علماء کرام کا بغض ختم کیجئے۔
    اللہ کے رسولﷺ کا فرمان ہے:
    “جب میری امت اپنے علماء سے بغض رکھنے لگے گی اور بازاروں کی عمارتوں کو بلند اور غالب کرنے لگے گی تو اللہ تبارک وتعالیٰ ان پر چار قسم کے عذاب مسلط فرمادیں گے۔
    ①قحط سالی ہوگی
    ②حاکم وقت کی طرف سے مظالم ہوں گے۔
    ③حکام خیانت کرنے لگیں گے۔
    ④دشمنوں کے پےدرپے حملے ہوں گے (حاکم) “
    غور کیجئے ان میں کونسا ایسا عذاب ہے جو آج امت مسلمہ پر مسلط نہیں ہے؟
    لیکن اسکے باوجود ہم اُن افعال پر تائب نہیں ہورہے، جو ان عذابات کا موجب ہیں۔
    ایک اور حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے:
    “جس نے کسی عالم کو ایذاء دی اس نے اللہ کے نبیﷺ کو ایذاء دی”
    اسلئے خدارا!
    علماء سے نفرت و عداوت ختم کیجئے، ان سے عقیدت و محبت کا تعلق استوار کیجئے، یہ محبت اور تعلق دنیا میں تو سود مند ہوگا ہی، ان شاءاللہ آخرت میں بھی “ألمرء مع أحب”کے مصداق علماء کرام کی ہم نشینی کے شرف عظیم کے حصول کا باعث بن جائے گا۔
    از قلم:
    عائشہ طاہر

  • ریڑھ کی ہڈی…از…حامد المجید

    ریڑھ کی ہڈی
    باد سحر کے ٹھنڈے جھونکے اس کے دل میں مرجھائے سکون کے گلوں کو تازہ دم کرنے کی سعی میں تھے۔۔۔
    مگر حیدر کے دل پہ چھائی بے چینی بڑھتی ہی جارہی تھی۔۔
    "کیا! میری بات اثر کرے گی یا وہ ویسا ہی رہے گا۔۔۔اگر وہ نہ سمجھا تو” پریشانی و اداسی نے اس کے وجود پہ مکمل طور پہ قبضہ جما لیا تھا۔۔
    چند دن پہلے سوچ کے جو پنچھی خیالات کی شاخوں پہ اٹکھیلیاں کررہے تھے اب سہمے بیٹھے تھے۔۔۔
    "خیال” اسے اپنے ساتھ پھر اسی جگہ لے گیا جہاں سے بے چینی کا آغاز ہوا تھا۔۔۔۔
    صفوان سے حیدر کی ملاقات کل یونیورسٹی سے واپس آتے ہوئے بس میں ہوئی تھی۔۔
    حیدر کے ساتھ بیٹھتے ہی اس نے ایسے سلام کیا جیسے وہ بہت عرصے سے ایک دوسرے کو جانتے ہوں۔۔۔
    حیدر نے اس کے سلام کا جواب دیتے ہوئے ایک سرسری سی نظر اس کے چہرے پہ ڈالی جہاں اطمینان کے بادل سایہ فگن تھے وہ اپنی توجہ ہٹانا چاہتا تھا پر نظریں اس کے چہرے پہ رک گئیں۔۔
    صفوان بیگ جھولی میں رکھ کہ اب موبائل پہ مشغول ہوگیا تھا۔۔۔
    اس کی انگلیاں بڑی تیزی سے موبائل کی پیڈ پہ رقص کناں تھیں اور چہرے پہ ہلکی ہلکی مسکراہٹ پھیل رہی تھی۔۔۔
    "کیا کرتے ہیں آپ!” صفوان نے ایک نظر حیدر پہ ڈالتے ہوئے پوچھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
    "میں ماسٹرز کررہا ہوں” واااہ پھر تو ہم دونوں کی ایک ہی منزل ہے صفوان نے کہا اور پھر موبائل کی طرف متوجہ ہوگیاا۔۔۔
    کافی دیر دیکھنے کے بعد حیدر نے حیرت سے اسے پوچھا "کیا لکھ رہے ہیں آپ؟”
    "میں تحریر لکھ رہا ہوں” صفوان نے جواب دیا۔۔
    اچھا تو آپ ماشاءاللہ لکھاری ہیں۔۔
    جی میں سوشل میڈیا کی دنیا کا ایک اچھا لکھاری ہوں۔۔
    "واااااہ کیا ہم آپ کی تحریر سے مستفید ہوسکتے ہیں”۔
    "جی کیوں نہیں! صفوان نے اپنا موبائل حیدر کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔۔
    "آپ واقعی ہی اچھے قلمکار ہیں اور خوب لکھتے ہیں پر مجھے آپکی یہ تحریر پسند نہیں آئی” حیدر نے کچھ دیر پڑھنے کے بعد کہا۔۔
    صفوان کے چہرے سے اطمینان اچانک سے غائب ہوگیا۔۔
    اچھا تو اپ کو اس میں کیا کمی لگی۔
    "چلیں بتائیں تو میری تحریر کی کون سی بات آپکو پسند نہیں آئی”۔۔
    صفوان نے بڑے تحمل سے پوچھا۔۔
    بھائی اصل میں بات یہ ہے کہ جو ہمارے محافظ ہیں ہمیں ان کا پشت بان بننا چاہیے نا کہ کسی کی باتوں میں آکہ ان کی پشت میں چھرا گھوپنا چاہیے۔۔
    حیدر نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا۔۔
    "میں آپ کی بات سمجھا نہیں آپ کیا کہنا چاہ رہے ہیں”۔۔
    آپ کی تحریر میں بجائے دشمن عناصر کو نشانہ بنانے کے محافظوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔۔
    صفوان نے ناگواری کا اظہار کرتے ہوئے کہا تو پھر اس میں کوئی جھوٹ تو نہیں ہے اور تخلیق کار سچ ہی لکھتا ہے اور اسے لکھنے میں بالکل نہیں گھبراتا۔۔
    تو آپ سچ لکھیں نا لوگوں کی باتوں میں آ کہ اپنے قلم و قرطاس کو بے مقصد نہ بنائیں۔۔
    حیدر کی باتوں سے اس کے ماتھے پہ سلوٹیں ابھر آئی تھیں” تو آپ کہنا کیا چاہتے ہیں”
    "گرمیوں کی تپتی دوپہر اور سردیوں کی یخ بستہ راتوں میں سرحد پہ کھڑا محافظ ہمہ تن ہماری حفاظت پہ مامور ہے اور ہم انہی کے ہی دشمن بنے ہوئے ہیں آپ ایک اچھے تخلیق کار ہیں اور تب تک ہی اچھے ہیں جب آپ اچھائی اور بُرائی کی تمیز کرتے ہوئے لکھیں گے”
    حیدر کی باتیں اس کے دل میں کچھ روشنی پھیلا رہی تھی۔۔
    "آپ اپنے قلم کا سہی استعمال کریں”
    حیدر نے چہرے پہ مسکان سجائے اسے بڑے پیار سے کہا۔۔
    صفوان ابھی کچھ کہنے ہی لگا تھا کہ موبائل کی رنگ ٹون بجنے لگی اس نے فون کان کے ساتھ لگایا اور حیدر کو کچھ اشارہ کرنے لگا حیدر نے اسے اپنا موبائل تھمایا جس پہ اس نے نمبر لکھا اور حیدر کو واپس پکڑا دیا۔۔۔
    صفوان اب اترنے کی تیاری کر رہا تھا شاید اس کا سٹاپ آگیا تھا حیدر کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے اس نے سلام کیا اور آگے بڑھ گیا۔۔
    حیدر کی نظریں اسی کے پیچھے تھی اور دیکھتے دیکھتے وہ منظر سے غائب ہوگیا۔۔
    حیدر نے موبائل پہ لکھا ہوا نمبر سیو کیا اور اسے میسج کردیا "آپ کے جواب کا انتظار رہے گا”۔۔
    گھر پہنچنے کے بعد بھی وہ اس کے رپلائی کا انتظار کرتا رہا پر کوئی پیغام موصول نہیں ہوا۔۔
    وہ اب بھی صبح سے صحن میں بیٹھے بے چینی کا شکار تھا کہ اچانک موبائل کی ٹیون بجی اس نے جیسے ہی دیکھا ساری کی ساری بے چینی کافور ہوگئی اس کے خیالات کے سہمے پنچھی پھر سے اٹکھیلیاں کرنے لگے۔۔۔۔
    اسے پڑھ کہ خوشی ہوئی کہ ایک قلمکار کی اصلاح ہوئی۔۔
    "میں ریڑھ کی ہڈی بنوں گا نہ کہ کسی کے ہاتھوں کا کھلونا”

    ریڑھ کی ہڈی…از…حامد المجید

  • آج کا انسان…… از….نعیم شہزاد

    آج کا انسان

    آج جب زندگی تیز ہو چکی ہے اور لوگوں کے پاس ایک دوسرے کے لئے وقت نہیں رہا تو مجھے اقبال کا یہ شعر یاد آتا ہے

    ہے دل کیلئے موت مشینوں کی حکومت
    احساس مروت کو کچل دیتے ہیں آلات

    بچپن میں صرف فیکٹری کی مشینوں اور آلات کا تصور تھا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مجھ پر یہ بات عیاں ہوئی کہ چھوٹی سے چھوٹی چیز جیساکہ موبائل فون کا تعلق بھی ایسے ہی آلات سے ہے جو انسان کو ایک دوسرے سے دور لے جا رہے ہیں آج اگر کسی کا انتقال ہو جائے تو ہم محض چند لمحات کے لیے ظاہری طور پر سوگوار نظر آتے ہیں اور بعد میں پھر وہی زندگی کے اشغال میں مصروف، ایسا کیوں ہے؟

    اگر ہم کسی کے جنازے میں جاتے ہیں تو وہ بھی صرف اظہار تعزیت کے لیے لئے نہ کہ خوشنودی رب کے لیے؟ آج ہم لوگ ایک دوسرے سے دور کیوں ہو رہے ہیں ؟ حالانکہ اسلامی معاشرہ تو وہ ہے کہ جس کے متعلق اقبال رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں

    اخوت اس کو کہتے ہیں چبھے کانٹا جو کابل میں تو ہندوستان کا ہر پیرو جواں بے تاب ہو جائے

    آج ہم اس شعر کا مصداق کیوں نہیں ہیں ؟ اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ ہم دین محمدی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) سے دور ہوتے جارہے ہیں ہم کیوں نہیں قرآن و حدیث پر عمل کرتے؟ تو اس کا جواب ہے ٹیکنالوجی پر وقت کا ضیاں!
    جی ہاں بہت سے لوگ میری اس بات کو پر توجہ نہیں دیں گے لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ ہم موبائل فون ٹیلی ویژن کمپیوٹر اور اس طرح کی دیگر چیزوں میں اتنا مصروف ہو چکے ہیں کہ ہمارے پاس ماں باپ بہن بھائی اور دوست جیسے عظیم رشتوں کے لیے کوئی وقت بچا ہی نہیں آج اگر دوستی کی بات کی جائے تو لوگ اپنے مفادات کی خاطر دوسروں کو دھوکا دینے میں مصروف ہیں

    میں خود لپٹ گیا تھا جسے دوست جان کر
    وہ سانپ کی طرح مجھے ڈستا چلا گیا

    اب یہ بات بھی نہیں کی ان چیزوں کا استعمال سرے سے ہی غلط ہے لیکن

    Excess of everything is bad.

    یعنی ایک حد تک ان کا استعمال درست ہے مگر جب ہم اس حد کو پار کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ہمیں ایسے نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کی تلافی بہت مشکل ہوتی ہے اور بعض اوقات ناممکن ہمیں اس بات کا ادراق یونا چاہئیے
    قارئین کرام ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم نوجوان نسل کو یہ بات سمجھائیں تاکہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو اس ناسور سے بچاسکیں۔

    انداز بیاں گر چہ بہت شوخ نہیں ہے
    شاید کہ اتر جائے ترے دل میں میری بات

    آج کا انسان…… از….نعیم شہزاد