Baaghi TV

Category: بلاگ

  • سسکتا ہوا ہمارا معاشرہ اور جمہوریت ، تحریرعبدالواسع برکات

    سسکتا ہوا ہمارا معاشرہ اور جمہوریت ، تحریرعبدالواسع برکات

    ہمارے وزراء دس دس لینڈ کروز لے کر اور چار چار گاڑیاں سیکورٹی کی لے کر روڈ پر چلتے ہیں ، ایم این اے ، ایم پی اے ان کا بھی یہی حال ہے ، وفاقی کابینہ کے ارکان ان سے کم نہیں ہیں اور چاروں وزرائے اعلیٰ جو خود کو خادم اعلیٰ کہلانے سے شرماتے نہیں ان کے پروٹوکول کو بھی عوام دیکھتی ہے سب لگژری گاڑیوں میں عیش و عشرت کے ساتھ سفر کرتے ہیں اگر روڈ پہ ذلیل و خوار ہوتی ہے تو ان حکمرانوں کو ووٹ دے کر اپنا حکمران بنانے والی عوام ذلیل ہوتی ہے کوئی بسوں میں دھکے کھا رہا ہے تو کوئی ٹوٹ پھوٹ کا شکار گلیوں بازاروں سے تکلیف سہہ کر گزر رہا ہے۔ کسی کے پاس آرام دہ سفر کا کرایہ نہیں ہے تو کوئی صحت کے ہاتھوں مجبور کہیں سفر نہیں کر سکتا ۔

    اس مجبور عوام کے لیے عوام کے ووٹوں سے بنے وزیروں مشیروں کے پاس کوئی وقت نہیں ہے کہ اس عوام کے لیے بھی کبھی سوچ لیں جس کے ووٹ سے ہم ایوان اقتدار تک پہنچ پائے ہیں ۔ عوام کی بے بسی دیکھنی ہو تو کسی بھی تھانے میں چلے جائیں وہاں کوئی نہ کوئی صلاح الدین ظلم و ستم سہہ رہا ہوگا ۔ عدالتوں میں چلے جائیں وہاں بھي وکیلوں کے ہاتھوں عوام ہی لٹ رہی ہو گی ۔ سرکاری دفتروں میں دیکھ لیں رشوت کے بغیر وہاں عوام کی کوئی سنتا نہیں ۔ ہسپتالوں کی ایمرجنسی میں داخل ہو جائیں جب تک آپ کا مریض آخری سانسوں میں تڑپنے کی ایکٹنگ نہیں کریے گا آپ کو سیریس نہیں لیا جائے ۔ خود ان وڈیروں ، وزیروں مشیروں کے بیڈ روم اتنے بڑے ہیں کہ وہاں وسیع و عریض ایمرجنسی وارڈ بن سکتے ہیں لیکن ہسپتالوں میں ایک بیڈ پر تین تین مریض لیٹے اپنی زندگی کی سانسیں پوری کر رہے ہیں ۔
    پانچ پانچ بار جا کر ڈاکٹر کو بلائیں گے تو چھٹی دفعہ ماتھے پہ شکنیں سجائے وہ آئے گا دو تین سنا کر چلا جائے گا۔ یہ دو دن پہلے کی خبر ہے کہ سندھ کے علاقے میر پور کے سرکاری ہسپتال میں بچے کی لاش لے کر جانے کے لیے سرکاری ایمبولینس نے دو ہزار روپے مانگ لیے کیوں کہ ایمبولینس میں پٹرول نہیں ہے اور جس ایمبولینس میں پٹرول ہے اس کو ہسپتال کا ایم ایس ذاتی استعمال کے لیے کہیں لے کر گیا ہوا ہے ۔ادھر بچے کے والد کے پاس یہ دو ہزار نہیں تھے تو وہ ایمبولینس نہیں لے جا سکا اور پھر ہسپتال انتظامیہ ایمبولینس کی انتظامیہ کی آنکھوں کے سامنے والد اور چچا بچے کی لاش کو موٹر سائیکل پر گھر لے کر جا رہے تھے کہ راستے میں حادثہ کا شکار ہو کر والد اور چچا بھی فوت ہو گئے ۔ (انا للہ وانا الیہ راجعون)

    یہ سندھ کا میر پور ہے جہاں کا بھٹو ابھی تک نہیں مرا لیکن عوام روز مرتی ہے کبھی ہسپتالوں میں کبھی تھانوں میں کبھی کچہریوں میں کبھی سڑکوں پر کبھی چوراہوں پر غریب عوام روز مرتی ہے عوام کے اس خون کی وجہ سے ہی سندھ میں ابھی تک بھٹو نہیں مرتا شاید کبھی مر بھی نہ سکے ۔ ہمارا قانون اتنا بوسیدہ اور بے بس ہے کہ کبھی امیر زادے کو وزیر زادے کو وڈیرے کو نہیں پکڑ سکتا ہاں !!!! صلاح الدین کو پکڑ کر چوبیس گھنٹوں میں انصاف کا ترازو قائم کرکے اس کو موت کے گھاٹ اتار سکتا ہے ۔ لیکن کسی کروڑ پتی کے لیے جس نے ملک پاکستان میں عوام کے اربوں لوٹے ہوں گے اس کے ہاتھوں چھڑیاں بھی کھاتا ہے ہمارا قانون ان اربوں کے ڈاکوؤں کو وی آئی پی پروٹوکول کے ساتھ جیل میں رکھتا ہے کہیں گرم ہوا نہ لگ جائے ۔

    یہاں عوام کے لیے ایک ایمبولینس کی سہولت نہیں میسر مگر ان اقتدار کے مگرمچھوں کا علاج لندن کے ہسپتالوں میں ہی ہونا ہے ۔ پاکستان کے ہسپتالوں کی حالت انہوں نے کبھی ٹھیک کی ہی نہیں تو خود یہ کیوں ان ہسپتالوں میں جائیں گے ان کے پاس تو عوام کا لوٹا وافر مال ہے اس سے یہ لندن امریکہ برطانیہ جاتے ہیں وہاں کے ہسپتالوں میں اپنا علاج کراتے ہیں اور اپنی عوام کو یہ موٹر سائیکل پہ لاشیں لے کر جانے پہ مجبور کرتے ہیں اس سے ان کو کوئی فرق نہیں پڑتا ان کی سیاست چلنی چاہیے ، ان کی سیٹ پکی رہنی چاہیے ، ان کے کمیشن جاری رہنے چاہئیں ، ان کی پارٹی حکومت میں رہنی چاہیے بس ان کی سب ترجیحات روز اول سے یہی ہیں اور عوام بس ان کو الیکشن کے دنوں میں بھلی لگتی ہے الیکشن کے بعد یہ عوام کو جانتے ہی نہیں ہوتے ۔ لیکن آخر یہ کب تک چلے گا ؟؟؟ کب تک یہ عوام سسکتی رہے گی اپنے ہی خادموں کے ہاتھوں …. کب تک ننھے پھول مسلے جاتے رہیں گے اپنے ہی مسیحاؤں کے ہاتھوں آخر کب قانون عوام کی بھی رکھوالی کرے گا ؟؟؟ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھنے والوں کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں کہیں ایسا نہ ہو کہ دیر ہو جائے اور عوام میں شعور آ جائے ۔
    تحریر از عبدالواسع برکات

  • پی ٹی ایم کی فنڈنگ پر کونسے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں ؟

    پی ٹی ایم کی فنڈنگ پر کونسے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں ؟

    14 ستمبر2019 کی رات ر شمالی وزیرستان کی تحصیل سپن وام میں افواج پاکستان کے ایک پٹرولنگ دستے پر مغربی سرحد سے آنے والے دہشتگردوں نے فائرنگ کی اور دھرتی کے چار سپوتوں نے جام شہادت نوش کیا ، یہ واقع بظاہر افغان انٹیلی جینس ایجنسی این ڈی ایس اور را کی سرحد پار سے کی جانے والی کاروائی لگتی ہے لیکن حقیقت میں اس کی کی کڑیاں اندرون پاکستان موجود غداروں سے بھی جا ملتی ہیں، اور ان اندرون ملک پائے جانے والے خطرات کا نام پی ٹی ایم ہے ،

    کچھ عرصہ پہلے پاکستانی عوام اس نظریے سے بے خبر اور شش و پنج میں مبتلا نظر آتے تھے کہ پاکستان کی قومی سالمیت میں پاکستان کے اندر سے بھی کوئی بڑا خطرہ ہو سکتا ہے لیکن آج پاکستان اور خاص طور پر پشتون عوام یہ جان چکے ہیں کہ پاکستان دشمنی کے بیج پی ٹی ایم اور اس جیسی دوسری جماعتیں بو رہی ہیں ، جن کا ایجنڈا ہی یہی ہے کہ پاکستان کی قومی سلامتی کے اداروں کو بدنام کرکے پاکستان کو اندرونی انتشار میں مبتلا کر دیا جائے اور پاکستان بغیر کسی دشمن سے لڑے فنا ہو جائے، لیکن پاکستان کا نوجوان طبقہ اور پاکستان کے سائبر سپائڈرز اس بات سے کلی طور پر وقف ہیں کہ دشمن کیا چالیں چل رہا ہے،
    اس کی عکاسی ہمیں سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر دیکھنے کو مل سکتی ہے کہ کس طرح پاکستان کے نوجوان دشمن کے عزائم کو خاکستر کر رہے ہیں
    محمد قاسم صدیقی لکھتے ہیں کہ کہ پی ٹی یم را کہ ایجنڈا پر کام کر رہی ہے


    آر کے خٹک لکھتے ہیں کہ کہ پی ٹی ایم کو افواج پاکستان نے مکمل طور پر کھول کر عوام کے سامنےرکھ دیا ہے ، اور اب عوام کو چاہیے کہ وہ ان غداروں کو اپنی صفوں سے پہچانیں اور ان کا صفایا کریں
    https://twitter.com/PrinceKhyber2/status/1173593529010008066
    علی حسن نے ایک گرافک شیر کی اور کہا کہ پی ٹی ایم قبائلی عوام کی تعمیرو ترقی کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ،
    https://twitter.com/alihassanirb/status/1173586904413036545
    ہنس مسرور بادوی کہتے ہیں کہ میجر جنرل آصف غفور نے کئی بار پریس کانفرنسیں کی اور ٹھوس شواہد کے سساتھ پی ٹی ایم کی انٹرنیشنل فنڈنگ کو عوام کے سامنے رکھا ،
    https://twitter.com/hansbadvi/status/1173553119416000512

  • پانی کی قلت اور ہم : علی چاند

    پانی کی قلت اور ہم : علی چاند

    انسانی زندگی کا انتہاٸی لازمی جزو پانی جس کے بغیر کوٸی بھی جاندار زندہ نہیں رہ سکتا ۔ انسانی زندگی میں پانی کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ انسان کھانا بنانے سے لے کر اپنے نہانے ، کپڑے دھونے ، برتن دھونے ، گھر کی صفاٸی ، اپنی ذات کی جسمانی صفاٸی کے لیے بھی پانی کا طلب گار ہے ۔ پانی کی اس اہمیت کے باوجود انسان اس قدرتی نعمت کی بے قدری کر کے اپنے لیے مختلف مساٸل پیدا کر رہا ہے ۔ پاکستان میں قدرتی آبی وساٸل کثیر تعداد میں موجود ہیں لیکن اس کے باوجود پانی کے ذخاٸر میں دن بدن کمی آرہی ہے ۔ اگر پانی کی قلت میں اس طرح اضافہ ہوتا رہا تو خدشہ ہے کہ ایک دن انسان کو پینے کا پانی بھی میسر نہیں ہوگا اور اس قلت کی وجہ سے انسانوں اور دیگر جانداروں کا وجود خطرے میں پڑ جاٸے گا ۔پانی کی مسلسل کمی کی کچھ وجوہات درج ذیل ہیں ۔

    پانی کا غیر ضروری استعمال بڑھ رہا ہے ۔ جن علاقوں میں پانی کی صورتحال ٹھیک ہے وہاں لوگوں کی بڑی تعداد پانی کا بے دریغ استعمال کرتی ہے ۔ پانی کا نل کھلا چھوڑ دینا ، آٸے دن کپڑوں اور گھروں کا دھونا اور اس معاملے میں پانی کا ضیاع عام سی بات ہے ۔

    آبادی میں اضافہ کی وجہ سے بھی پانی کی ضرورت میں بے تحاشا اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ آبادی تو مسلسل بڑھ رہی ہے لیکن پانی کے ذیادہ استعمال کی وجہ سے پانی مسلسل کم ہوتا جارہا ہے ۔

    پاکستان میں ڈیمز اور پانی کے دیگر ذخاٸر کا خاطر خواہ انتظام موجود نہیں ہے اور نہ ہی حکومتیں اس طرف توجہ دے رہی ہیں ۔ جب کہ ہمارے دو ہمساٸیہ ممالک بھارت اور چین پانی کے ذخاٸر کے لیے آٸے دن ڈیمز تعمیر کر رہے ہیں ۔ تاکہ انہیں پانی کی قلت کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔ جب کہ پاکستان میں جو بھی پارٹی برسر اقتدار آتی ہے وہ عوامی مساٸل کی بجاٸے اپنے اقتدار کو قاٸم رکھنے کی طرف توجہ دیتی ہے ۔

    پانی کے مساٸل کے حل کے لیے بناٸی گٸی ناقص پالیسیوں اور پھر ان پالیسیوں پر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے بھی پانی کی قلت میں اضافہ ہو رہا ہے ۔

    پانی کی ٹوٹی پھوٹی پاٸپ لاٸنیں بھی پانی کے ضیاع کا اہم سبب ہیں

    موسمیاتی تبدیلیاں بھی پانی کی قلت کی وجہ بن رہی ہیں ۔گرمی میں دن بدن اضافہ کی وجہ سے پانی کا استعمال ذیادہ بڑھ رہا ہے ۔

    پاکستان دنیا میں پانی کے استعمال کی وجہ سے چوتھے نمبر پر ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم پاکستان گورنمنٹ سے لے کر عام آدمی تک سب کے سب اپنی ذمہ داری کو سمجھیں اور پانی کو اپنی آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ کریں ۔ جو پانی کثیر تعداد میں سیلاب کی صورت ہمارا جانی و مالی نقصان کرتا ہے اسے محفوظ کرنے کے منصوبے بناٸیں جاٸیں ۔ ذیادہ سے ذیادہ درخت لگاٸیں جاٸیں تاکہ گرمی کی شدت میں کمی لاٸی جاسکے ۔ پانی کے ذخاٸر کے لیے ڈیمز بناٸے جاٸیں ۔ پانی کا استعمال اسلامی تعلیمات کے مطابق کیا جاٸے ۔ حکومت کوچاہیے کہ پانی کے ذخاٸر کے حوالے سے اعلی سطحی پالیسیاں بناٸے اور ان پالیسیوں پر عمل در آمد کرواٸے ۔ حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ پاکستان کو اپنا گھر سمجھ کر پالیسیاں بناٸے نہ کہ صرف اقتدار کی ہوس پوری کرے ۔ ٹوٹی پھوٹی پاٸپ لاٸنوں کی مرمت کی جاٸے تاکہ پانی ضاٸع ہونے سے بچ سکے ۔ فیکٹریوں کا گندہ پانی دریاٶں اور ندی نالوں میں داخل ہونے سے روکا جاٸے تاکہ جو پانی دستیاب ہے وہ تو قابل استعمال ہی رہے ۔

    ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم لوگوں نے شاید کبھی اپنے وطن کو اپنا گھر ہی نہیں سمجھا ۔ جو قوم اپنی موٹر ساٸیکل سے پیٹرول ختم ہونے کے بعد موٹر ساٸیکل کو بیچ سڑک لٹا کر چلانے کے قابل بنا لیتی ہے ، جو قوم اپنے پرانے کپڑے ضاٸع کرنے کی بجاٸے انہیں سلیپنگ ڈریس بنا لیتی ہے وہ قوم اپنے پیارے وطن کے قدرتی وساٸل کا اس طرح بے دریغ استعمال کرتی ہے جیسے لوٹ سیل لگی ہوٸی ہو ، یا پھر ہم کسی دشمن ملک پر حملہ آور ہیں کہ اسے تہس نہس کر کے رکھ دیں ۔ جیسی عوام ویسے حکمران ۔ پھر ایسی عوام پر حکمران بھی ایسے مسلط کر دٸیے جاتے ہیں جیسے عذاب الہی کا نزول ہوں ۔ پھر یہی حکمران کبھی ڈیمز کے نام پر بھاری بجٹ مختص کر کے ہڑپ جاتے ہیں تو کبھی قوم سے ڈیمز کے نام پر چندہ اکٹھا کر کے ساری دنیا کے سامنے کشکول پھیلا کر پھر وہی پیسہ صرف اشتہارات پر لگا کر ختم کر دیتے ہیں ۔ اللہ پاک ہمیں عقل سلیم عطا فرماٸے تاکہ ہم اپنے وطن کو اپنا گھر سمجھ کر اس کا خیال رکھیں ، اس کے وساٸل کو تحفظ دیں اور ہم ایسے حکمران منتخب کر سکیں جو وطن پاکستان کے ساتھ مخلص ہوں ۔ آمین

  • عالمی یوم جمہوریہ پہ سندھ میں میرٹ و انسانی حقوق کا جنازہ ، تحریر انشال راؤ

    عالمی یوم جمہوریہ پہ سندھ میں میرٹ و انسانی حقوق کا جنازہ ، تحریر انشال راؤ

    پندرہ ستمبر بروز اتوار دنیا بھر میں عالمی یوم جمہوریہ منایا گیا، جمہوریت کا انسانی حقوق سے گہرا تعلق ہے جسے عالمی انسانی حقوق کے چارٹر UDHR کے آرٹیکل 21 میں واضح کیا گیا ہے، اقوام متحدہ کے مطابق "Democracy is fundamental building block for peace, sustainable development & human rights”. انسانی معاشرے کی فلاح کے لیے اقوام متحدہ نے ایجنڈہ 2030 تک sustainable development کے لیے سترہ اہم نکات پر کام کرنے کی ٹھان رکھی ہے، کسی بھی معاشرے کی ترقی میں تعلیم و تعلیم یافتہ طبقے کی کلیدی حیثیت ہے اور بچے اس معاشرے میں Sustainable Development کا چہرہ ثابت ہوتے ہیں،
    بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے فرمایا کہ "Education is the matter of life & death for nation” اور آئین پاکستان میں تعلیم کی سہولت دینا حکومت کا فرض اور ذمہ داری ہے آج بہتر سال گزرنے کے بعد بھی حقائق انتہائی المناک اور مایوس کن ہیں UNESCO کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں دو کروڑ سے زائد بچے اسکول کا منہ نہیں دیکھتے جس سے روز روشن کی طرح حقیقت سب پہ عیاں ہوجاتی ہے کہ ملک و قوم کی تنزلی کی اصل وجہ کیا ہے، تعلیم کی زبوں حالی کی فہرست والے ممالک کے حساب سے پاکستان افریقہ کے پسماندہ ترین و جنگ زدہ ممالک سے بھی پیچھے ہے، پاکستان کے تمام یونٹس میں صوبہ سندھ ایک ایسا یونٹ ہے جو تعلیم میں سب سے پیچھے ہے اگر سندھ کی تعلیم کا بغور جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں تعلیمی پسماندگی و معذوری کے حساب سے سندھ نیچے سے ٹاپ پر ہے،
    پچھلے دنوں سیکریٹری تعلیم کو ایک نجی ٹیلیویژن چینل پر انٹرویو دیتے سنا جس میں ایسے ایسے انکشافات سامنے آئے کہ حیرانگی خود حیران ہوکر رہ گئی مگر ایک سیکریٹری تعلیم تھے کہ ان کی ڈھٹائی کو سلام ہے، سیکریٹری تعلیم نے انکشاف کیا کہ 2019 تک محکمہ تعلیم سندھ کے پاس محکمہ کا ڈیٹا ہی جعلی تھا، انہیں کچھ نہیں معلوم تھا کہ کتنے اسکول بند ہیں، کتنے کھلے ہیں، کتنے اسکولوں میں فرنیچر ہے اور کتنے اسکول بجلی پانی وغیرہ کی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، کون کون سے اسکول صرف ریکارڈ میں ہیں جنکا گراونڈ پر کوئی وجود نہیں ہے، کتنی انرولمنٹ ہے، قاضی شاہد پرویز سیکریٹری تعلیم ڈھٹائی کیساتھ ہنستے ہوے بتاتے رہے کہ آفس میں بیٹھ کر افسران و سپرنٹنڈنٹ صاحبان ڈیٹا بناکر بھیج دیتے تھے، تعلیم کی ابتر حالت کو دیکھتے ہوے محکمہ تعلیم سندھ نے SPSC پر عوام و دنیا کا عدم اعتماد دیکھتے ہوے ورلڈ بینک کی شراکت سے ملک کے مستند ترین اچھی ساکھ والے ادارے IBA کے زریعے ٹیسٹ کے زریعے 2000 ہیڈماسٹرز بھرتی کرنے کا اشتہار دیا جس کے لیے تقریباً بیس ہزار افراد نے درخواستیں جمع کروائیں مگر بمشکل ایک ہزار امیدوار ہی کامیاب ہوپائے،
    ان ہیڈماسٹرز سے پہلے سندھ کے سرکاری اسکولوں میں مجبور سے مجبور والدین بھی اپنے بچوں کو داخل کروانا پسند نہیں کرتے تھے، سندھ کے اسکول بالخصوص پرائمری اسکول اوطاقوں، شادی ہالز، پارٹی دفاتر، گودام و مویشی کے باڑوں کے طور پہ استعمال ہوتے تھے، اساتذہ کی اکثریت کو پڑھانے سے زیادہ گپ شپ میں دلچسپی تھی، نوبت یہاں تک آ پہنچی تھی کہ تاریخی اسکولوں میں جن میں ہزاروں میں انرولمنٹ ہوا کرتی تھی کہ ڈبل ڈبل شفٹ لگانا پڑتی تھی وہاں تیس اساتذہ پینتیس طلبہ، چوبیس اساتذہ سولہ طلبہ، پچاس پچاس اساتذہ چالیس سے پچاس طلبہ کی تعداد تک آ پہنچے تھے، اساتذہ پرائیویٹ اسکولوں میں تو پڑھالیتے مگر سرکار سے بھاری تنخواہیں وصول کرکے بھی پڑھانا پسند نہ کرتے تھے، بقول سیکریٹری قاضی شاہد پرویز و منسٹر محکمہ تعلیم کے کلرک بادشاہ اور پیراشوٹی افسران آفسز میں بیٹھ کر رپورٹیں بناکر کاغذوں کا پیٹ بھرتے رہتے، جو فنڈز سرکار سے آتے وہ ہوا میں اڑ یا اڑا دئیے جاتے جبکہ اسکولوں میں بچوں کے بیٹھنے کی بینچز تک نہ ہوتیں، رہی بات پانی بجلی، لیٹرین یا دیگر سہولیات کی وہ تو سوچنا ہی محال ہے، کھیل و تفریح کے لیے فنڈز تو باقاعدگی سے جاری ہوتے رہے مگر کسی اسکول میں ایک پلاسٹک انڈہ بال تک کا وجود نہیں، اساتذہ کی بڑی تعداد ویزا سسٹم پر رہتی جنہیں منتھلی لیکر ڈیوٹی فری سہولت دے دی جاتی، ان حالات کی وجہ سے سرکاری اسکول و اساتذہ سندھ کی عوام میں اپنا اعتماد مکمل کھوچکے تھے،
    IBA کے زریعے بھرتی کردہ ہیڈماسٹرز و ہیڈمسٹریسز نے اسکولوں میں آکر انتھک محنت و لگن سے کام کیا، اپنے ہاتھوں سے رنگ روغن چونا وغیرہ کیا، کچروں کے ڈھیروں کو اسکول سے یا آس پاس سے اٹھایا، کمیونٹی کے مخیّر حضرات سے مل کر اسکول میں بنیادی سہولیات کو بحال کرکے بہتر ماحول بنایا، تعلیم پر خصوصی توجہ دی جن سے کمیونٹی کا اعتماد سرکاری اسکولوں پر بحال ہونا شروع ہوا، اساتذہ کی اپنے ذاتی رسورسز پر ٹریننگز و موٹیویشنز کیں تاکہ وہ بہتر تعلیم مہیا کرسکیں، تاریخ میں پہلی بار SMC کمیٹیوں کو ایکٹیو کرکے پوری دیانتداری سے SMC فنڈز کو اسکولوں میں یوٹیلائز کیا، پرائیویٹ اسکولوں کی طرز پر اپنی مدد آپ کے تحت نرسری کلاسز کو قائم کیا، پہلی بار پرائمری سطح پر نصابی سرگرمیوں کیساتھ ساتھ غیرنصابی سرگرمیوں کو متعارف کروایا، اس کے علاوہ حقیقیططور پر گلی گلی گھر گھر پھر کر انرولمنٹ ڈرائیو مہم چلائیں جن سے ہزاروں آوٹ آف اسکول چلڈرن اسکولوں میں داخل ہوے الغرض کہ جن اسکولوں میں آئی بی اے ہیڈماسٹرز کو تعینات کیا گیا وہ کھنڈر اسکول سے ماڈل اسکول میں تبدیل ہوگئے جن کی بدولت سندھ کے سرکاری اسکولوں پر عوام کا اعتماد بحال ہوا،
    یہ آئی بی اے ہیڈماسٹرز ہی تھے جنہوں دور دراز تک اپنے خرچ پر جا جا کر اسکول پروفائیلنگ کی جس کی بنیاد پہ محکمہ تعلیم کو پہلی بار حقیقی ڈیٹا دستیاب ہوا اور اب وہ اسی ڈیٹا کی بنیاد پہ کوئی بھی پالیسی بناکر کامیاب بناسکتے ہیں، ان کی دیانتداری و شاندار کارکردگی کو نہ صرف محکمہ کے افسران بلکہ سیکریٹری و وزیر تعلیم تک سراہتے رہے ہیں اور انہیں مستقل کرنے کی یقین دہانی کرواتے رہے لیکن پھر مافیا مائنڈسیٹ کو جب کرپشن و اقربا پروری کے خاتمے کا ڈر ہوا تو "اس کو چھٹی نہ ملی جس نے سبق یاد کیا” کے مصداق سندھ حکومت کے کرپٹ افسران و وڈیرہ شاہی حکومت نے میرٹ پہ بھرتی اور دیانتدار ہیڈماسٹروں کو ہی محکمے سے فارغ کرنے کی ٹھان لی اور ان کی نوکریوں کو ختم کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا جسکے خلاف ہیڈماسٹرز و ہیڈمسٹریسز احتجاج کرنے کے لیے کراچی پہنچ گئے،
    پندرہ ستمبر کو کراچی پریس کلب پر کئی گھنٹے احتجاج کے بعد جب کسی حکومتی نمائندے نے ان کی ذات تک نہ پوچھی تو انہوں نے وزیراعلیٰ ہاوس کے سامنے دھرنا دینے کا اعلان کرکے پریس کلب سے کوچ کیا، آئی بی اے ہیدماسٹرز و ہیڈمسٹریسز کو روکنے کے لیے پولیس کی بھاری نفری آڑے آگئی اور ان پر تاریخ کا بدترین تشدد شروع کردیا جسکے نتیجے میں متعدد ہیڈماسٹرز و ہیڈمسٹریسز زخمی ہوگئے اور بہت سارے گرفتار کرکے جیل منتقل کردئیے گئے، زخمی ہیڈماسٹرز میں دو کی حالت انتہائی نازک بتائی جاتی ہے متعدد خواتین بھی شدید زخمی ہوئیں جن میں سے ایک کے بازو میں فریکچر بھی ہوگیا، عالمی یوم جمہوریہ پر سندھ حکومت نے نہتے ہیڈماسٹروں پہ تشدد کرکے دنیا میں یہ پیغام دیدیا ہے کہ ان کے نزدیک انسانی حقوق کی کوئی حیثیت نہیں، یہ وڈیرے تھے اور وڈیرے ہیں جو بات انہیں ناگوار گزریگی تو وہ یہ کسی طور پہ برداشت نہیں کرینگے،
    آئین پاکستان ہر شہری کو پرامن احتجاج اور قانونی چارہ جوئی کا حق دیتا ہے اس کے علاوہ عالمی انسانی حقوق چارٹر میں پرامن احتجاج، اپنے حق کے لیے آواز اٹھانے اور قانونی چارہ جوئی کا حق ہر انسان کے لیے یکساں موقع ہے جبکہ سندھ حکومت کے نزدیک نہ آئین پاکستان کا احترام ہے نہ ہی کسی عالمی قانون کا، پندرہ ستمبر کے دن سندھ کی حکمران جماعت نے محض ایک شخص کی ذاتی رائے پہ مبنی بیان کو بنیاد بناکر پورے سندھ میں احتجاجی جلسے و ریلیاں نکالیں لیکن وہی حق عوام کو دینے کے لیے تیار نہیں، یہ میڈیا ریکارڈ کا حصہ ہے کہ کس بیدردی سے سندھ پولیس نے آئی بی اے ہیڈماسٹروں پر بہیمانہ تشدد کیا،
    میڈیا نمائندگان جوکہ کسی بھی معاشرے کی کان آنکھ اور زبان کا کردار ادا کرتے ہیں زمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوے جب میڈیا نے سندھ حکومت کے آئی بی اے ہیڈماسٹروں سے غیرانسانی و غیراخلاقی سلوک پر احتجاج کیا اور سوالات کیے تو ترجمان وزیراعلیٰ سندھ بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے ڈھٹائی کیساتھ اس مذموم حرکت کو جائز قرار دے دیا اور انہیں مستقل نہ کیے جانے کے سوال پہ موقف دیا کہ گریڈ 17 میں کسی کو بغیر کمیشن کے بھرتی نہیں کیا جاسکتا اس لیے قانونی رکاوٹوں کے باعث انہیں مستقل نہیں کیا جاسکتا، جبکہ یہی سندھ حکومت ہے جس نے وٹرنری ڈاکٹرز کو بغیر کسی تحریری امتحان کے گریڈ سترہ میں بھرتی کرکے اسمبلی بل کے زریعے مستقل کردیا، ریونیو اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے محکمے میں گریڈ سترہ میں اپنے پیاروں کو بغیر کسی کمیشن یا کسی تحریری ٹیسٹ کے بھرتی کرکے انہیں اسمبلی بل پاس کرکے مستقل کرتے ہوے نہ تو کوئی قانونی رکاوٹ پیش آئی نہ ہی کسی میرٹ کا احترام یاد آیا،
    میڈیکل کالجز یونیورسٹی اور بورڈز میں اپنے من پسند افراد و عزیز و اقارب کی بھرتی بغیر ٹیسٹ کے کرلی جائے تو بھی عین جائز و آئینی ہے، ڈاکٹرز جن سے لاکھوں نہیں کروڑوں افراد کی جان و صحت کا معاملہ وابستہ ہے انہیں بغیر کسی انٹرویو یا ٹیسٹ کے بس گھر بیٹھے اپائنٹمنٹ آرڈرز دئیے گئے ان سب کا قانونی جواز پیدا ہوجانا بھی سمجھ سے بالاتر ہے، ان سب سے بڑھ کر تعجب و حیرانکن بات یہ کہ محکمہ قانون سندھ میں گریڈ 17 اور گریڈ 18 کے اٹارنیز کو گھر بیٹھے آرڈر دیکر حال ہی میں مستقل کردیا گیا تو کوئی قانونی رکاوٹ آڑے نہیں آئی، یہ پاکستانیوں کیساتھ ساتھ پاکستان کی بدقسمتی ہے کہ وڈیرہ شاہی کا تسلط ہے ان کے نزدیک قانونی رکاوٹیں تمام تر خرابیاں صرف میرٹ پہ بھرتی افراد کے معاملے میں ہی پیدا ہوجاتی ہیں اس کی دو اہم وجوہات ہیں ایک یہ کہ ان میں نہ انکے سیاسی غلام ہوتے ہیں نہ ہی ان کو کروڑوں روپے دیکر آئے ہوے ہوتے ہیں اس لیے ان کے لیے کوئی جگہ نہیں جبکہ جو لوگ ان کے اپنے ہوں یا بھاری رشوت دیکر ان کرپٹ بیوروکریٹس و وڈیروں کی جیبیں گرم کرکے آئیں تو وہ عین جائز ہیں،

    آئین پاکستان کا آرٹیکل 27 تعصبانہ قانون کی مخالفت کرتا ہے ایک ہی ملک یا صوبے میں ایک طبقے کے لیے قانون کچھ اور جبکہ غریبوں و مڈل کلاس طبقے کے لیے کچھ اور، بیرسٹر مرتضیٰ وہاب صاحب ایک ہی صوبے میں دو قانون کیا آرٹیکل 27 کی کھلی خلاف ورزی نہیں؟ بیرسٹر صاحب آپکے نزدیک قانونی جوکہ اصل میں نااہل ہیں وہ تو بغیر کسی ٹیسٹ کے بھرتی ہوے جبکہ یہ ہیڈماسٹر صاحبان و ہیڈمسٹریسز تو ملک کے سب سے مستند ادارے IBA کے زریعے بھرتی ہوے ہیں اور رہی بات کمیشن SPSC کی تو اس کی ساکھ کا یہ حال ہے کہ سندھ کی عوام اسے ہاوس آف کرپشن اور سفارش کہتی ہے جسے ملک کی اعلیٰ عدلیہ سپریم کورٹ تک نے نااہل اور کرپٹ ترین ادارے کی سند سے نوازا ہے،
    پنجاب حکومت نے ہزاروں ہیڈماسٹرز و تعلقہ ایجوکیشن افسران کو NTS کے زریعے بھرتی کیا اور مستقل کردیا، بالکل اسی طرح وفاق میں بہت سارے محکموں میں NTS و دیگر اچھی ساکھ کے اداروں کے زریعے گریڈ 17 اور 18 کی بھرتیان کنٹریکٹ پر کی گئیں جن کی مستقلی کے لیے موجودہ وفاقی حکومت نے پچھلے ماہ ہی کمیٹی تشکیل دی ہے، سندھ حکومت کو آئی بی اے ہیڈماسٹرز کی مستقلی میں قانون کی پابندی کا کوئی احترام نہیں معاملہ صرف بدنیتی پر مشتمل ہے کہ ان کے اپنے پیارے اور ان کے سیاسی غلام کوئی نہیں جس کی بنا پر سندھ حکومت اور اسکی کرپٹ بیروکریسی کو یہ لوگ برداشت نہیں،
    معلوم نہیں سندھ میں کب تک یوں ہی میرٹ کا جنازہ نکالا جاتا رہیگا؟ نجانے کب تک اندھیرنگری چوپٹ راج ایک ہی صوبے میں دو دو چار چار قانون رہینگے؟ پتہ نہیں وہ کونسا خوش نصیب دن ہوگا جب سندھ میں بھی میرٹ کی بحالی و قدر ہوگی؟ ہوگی یا نہیں یہ تو آنے والا وقت ہی ثابت کریگا مگر اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ سندھ حکومت و سندھ کی بیوروکریسی میرٹ کی ازلی دشمن ہے، اخلاقی طور پر پاکستانی عوام و پاکستان کے باضمیر اشرافیہ کو سندھ میں میرٹ کی بحالی کے لیے کردار ضرور ادا کرنا چاہئے۔
    تحریر انشال راؤ

  • ددہوچھہ ڈیم کے تعمیر میں تاخیر ی حر بے‘ سول سوسائٹی آواز بلند کرے—–  از آصف شاہ

    ددہوچھہ ڈیم کے تعمیر میں تاخیر ی حر بے‘ سول سوسائٹی آواز بلند کرے—– از آصف شاہ

      ددہوچھہ ڈیم کے تعمیر میں تاخیر ی حر بے‘ سول سوسائٹی آواز بلند کرے

    پانی اور ہوا انسانی زندگی ہی نہیں بلکہ کائنات کے وجود و بقا کے لئے خالقِ کائنات کی پیدا کردہ نعمتوں میں سے عظیم نعمت ہے۔ انسان کی تخلیق سے لے کر کائنات کی تخلیق تک سبھی چیزوں میں پانی اور ہوا کی جلوہ گری نظر آتی ہے۔ قرآن کریم میں ہے۔ترجمہ: اور ہم نے ہر جاندار چیز پانی سے بنائی تو کیا وہ ایمان نہ لائیں گے،دوسری طرف دنیاءمیں لڑی جانے والی آخری جنگ کو بھی پانی کے نام کیا جا رہا ہے تاریخ دان یہ دعوی کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ یہ جنگ پانی کی وجہ سے شروع ہوگی پاکستان شائید دنیاءکے نقشے پر واحد ملک ہوگا جس کی سیاسی پارٹیاں ڈیمز کے بننے اور نہ بننے پر بھی سیاست سے باز نہیں آتی

     

    گزشتہ برسوں میں اگرانڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) کی رپورٹ کو دیکھیں تو وہ یہ کہتے ہیں کہ تربیلا ڈیم ’ڈیڈ لیول‘ پر پہنچ گیا جبکہ منگلا ڈیم میں اب صرف آٹھ لاکھ ایکڑ فیٹ پانی کی گنجائش باقی ہے دوسری طرف اگر ملک میں مون سون کی بارشیں نہیں ہوتیں تو پانی کا بحران مزید بڑھ جانے کا خطرہ اپنی جگہ موجود رہتا ہے جبکہ غیر ملکی ادارے جن میں آئی ایم ایف، یو این ڈی پی اور دیگر اداروں کی اسی سال آنے والی مختلف رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں پانی کا بحران تیزی سے بڑھتا جا رہا ہے اور 2040 تک پاکستان خطے کا سب سے کم پانی والا ملک بن سکتا ہے پاکستان دنیا میں سب سے زیادہ پانی استعمال کرنے والے ممالک کی فہرست میں چوتھے نمبر پر ہے اور پورے ملک میں پانی ذخیرہ کرنے کے صرف دو بڑے ذرائع ہیں جن کی مدد سے محض 30 دن کا پانی جمع کیا جا سکتا ہے ارسا کے مطابق پاکستان میں بارشوں سے ہر سال تقریباً 145 ملین ایکڑ فِٹ پانی آتا ہے لیکن ذخیرہ کرنے کی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے صرف 13.7 ملین ایکڑ فِٹ پانی بچایا جا سکتا ہے

     

    راولپنڈی اسلام آباد کی بڑھتی ہوئی آبادی کو مستقل بنیادوں پر پانی فراہمی کیلئے نالہ لنگ پر ددہوچھہ کے مقام پر ڈیم بنانے کا معاملہ گزشتہ دو دہائیوں سے چل رہا ہے اس منصوبہ کی مسلسل تاخیر پر سپریم کورٹ نے ایکشن لیا تو نجی سوسائٹی بحریہ ٹاون نے حکومت پنجاب کو دودوچہ ڈیم بنانے کی پیشکش کی لیکن انہوں نے اپنی سوسائٹی کے مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کی اصل ہیت تبدیل کرنے کی کوشش کی تھی مسترد کردی۔ اس کی وجہ تکنیکی ماہرین نے بحریہ ٹاو¿ن کی پیشکش پر 108سوالات اٹھائے جس پر جسٹس شیخ عظمت سعید نے ریمارکس دیے کہ جتنے سوال اٹھائے گئے ہیں بحریہ ٹاو¿ن پھر نہ ہی سمجھے۔ جس پرسیکرٹری آبپاشی نے کہا دودوچہ ڈیم کو اس کی اصل جگہ پر عدالتی فیصلے کے مطابق ہی تعمیر کیا جائے گا، یہ یقین دہانی بھی کرائی کہ ڈیم کی تعمیر دسمبر 2021 مکمل ہوجائے گی

     

     

    نومبر 2018 میں پنجاب حکومت نے ڈوڈوچہ ڈیم کی تعمیر اسی ماہ شروع کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے سپریم کورٹ میں پلان جمع کرایا تھا۔ زمین کی خریداری کیلئے پنجاب حکومت نے بجٹ میں 2 ارب 80کروڑ روپے مختص کیے۔ پلان کے تحت ڈیم دو سال کی قلیل مدت میں مکمل ہوگا جبکہ نومبر2020 تک ڈیم میں پانی ذخیرہ کیا جاسکے گا،لیکن اب یہ معاملہ بھی بیورو کریسی کی نذر ہوتا نظر آرہا ہے سپریم کورٹ کے حکم سے تیار ہونے والا ددہوچھہ ڈیم منصوبہ ملک کی بڑی ہاوسنگ سوسائٹی اور ضلعی انتظامیہ راولپنڈی کی مبینہ بڑی ڈیل کی وجہ سے تعطل کا شکار ہوتا نظر آرہا ہے کیونکہ حکومت کی جانب سے اس کے لیے جاری پہلے چیک کو ٹیکیکل طریقہ سے واپس کروانے کے لیے نجی سوسائٹی کے سینئر عہدیداران کی راولپنڈی انتظامیہ سے خفیہ ملاقات کی خبریں بھی سامنے آرہی ہیں اور اسی وجہ سے شائیدجس ڈیم کا افتتاح جولائی میں ہونا تھا وہ ستمبر کے وسط تک نہ ہو سکا

     

     

    دوسری جانب نجی ہاوسنگ سوسائٹی کو مجوزہ ڈیم کی زمین کے مختلف اطراف پرسینکڑوں کنال زمین میں بھاری مشینری لگا کر پہاڑی ٹیلوں کو کاٹ کر بھرائی کرکے سطح زمین کو ڈیم کے پانی کے لیول سے بلند کرنے کا موقع فراہم کرنے کیلئے ایک ٹیکنیکل طریقہ سے اس منصوبہ کو مزید تاخیر کی جارہی ہیں،کتنی نے حسی کی بات ہے کہ اس حلقہ کے منتخب نمانئندگان سمیت تمام سیاسی جماعتوںکی قیادت کو اس معاملہ پر سانپ سونگھ گیا ہے ایم پی اے حلف اٹھانے سے انکاری ہے جبکہ ایم این اے موصوف کو ٹی وی شو سے ہی فرصت نہیںملتی جبکہ نجی ہاوسنگ سوسائٹی ملی بھگت سے سینکڑوں ایکڑ زمین پر پچاس سے سو فٹ تک بھرائی کرکے زمین کی سطح بلند کرنے میں دن رات ایک کر کے لگی ہوئی ہے ،کام کرنے والے مزدوروں کا کہنا تھا ان کونو اور دس محرم کو بھی کام کی وجہ سے چھٹی نہیں دی گئی تبدیلی کے نعرے لگا کر حکومت میں آنے والی موجودہ حکومت اور اس کے منتخب نمائندگان تو کٹھ پتلیوں سے بھی گئے گزرے ہیں جن کے سامنے عوام کے وہ کام جن سے ان کا جینا مرنا بنتا ہے

     

     

    اس سے بھی پہلو تہی سمجھ سے بالا تراس پر کون آواز بلند کرے گا سیاسی جماعتوں نے شائید چپ کا روزہ رکھ لیا مذہبی جماعتوں کے مفادات اس سے وابسطہ نہیں اور کچھ صوبہ پوٹھوار کے نام کو نیاءلولی پاپ دینے میں مصروف ہیں جبکہ ضلعی انتظامیہ گھونگلوں سے مٹی جھاڑنے اورخانہ پری کیلئے مجوزہ ڈیم کا دورہ کر کے لگے سائیٹ پر جاری بھرائی کا کام بند کرواتی ہے لیکن اگلے روز دوبارہ کام شروع کردیا جاتا ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جب تک ڈیم کا منصوبہ فائنل ہوتا اس کی ہیت مکمل طور پر تبدیل ہوچکی ہوگی ‘ ذمہ داروں اداروں بلخصوص راولپنڈی اسلام کی سول سوسائٹی اور این جی اوز کو اس اہم مسلہ کیلئے آواز بلند کرنے کیلئے لائحہ اختیار کرنا ہوگا

     

    تحریر :آصف شاہ

     

     

  • سندھ کارڈ کے زمینی حقائق  ——–                   از  انشال راؤ

    سندھ کارڈ کے زمینی حقائق ——– از انشال راؤ

    بعض واقعات بظاہر دیکھنے میں بالکل عام ہوتے ہیں مگر پس پردہ بہت بڑے طوفان چھپے ہوتے ہیں بالکل اسی طرح پی پی پی چیف بلاول بھٹو صاحب نے پریس کانفرنس کرکے ملک کے حصے بکھرے کرنے کی دھمکی دے دی یا یوں کہیے کہ بغاوت کا اعلان کردیا اور ساتھ ساتھ پختونستان، سرائیکستان یا بلوچستان بطور علیحدہ ریاست بننے کا اظہار کرکے یہ اشارہ دے دیا کہ اندرون خانہ ان کی لڑی کہاں سے کہاں تک ہے، اس کے علاوہ اہم بات یہ کہ مسٹر فروغ نسیم صاحب کو کیا سوجھی جو ان صاحب نے پی پی پی کی ڈوبتی کشتی کو سہارا دینے کے لیے سندھ کارڈ کھیلنے کا موقع دے دیا،

    ماضی کا ریکارڈ دیکھا جائے تو یہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں کہ جب بھی الیکشن یا کوئی ایسا خاص موقع آتا تو متحدہ اور پی پی پی آمنے سامنے آجاتے، ایک مہاجر بن کر کھڑے ہوجاتے تو دوسرے جِئے سندھ کے علمبردار بن جاتے جبکہ اب بات کھلی تو پتہ چلتا ہے کہ ان کی تو کاروباری شراکت داریاں تک ہیں، یہاں بات وہیں آکر ٹھہرتی ہے کہ کسی بھی قسم کے حالات و واقعات کو سمجھنے کے لیے اوقات کی بڑی اہمیت ہوتی ہے،

    عبداللہ بن اُبئی کی ہی مثال لے لیجئے وہ منافق روز اول سے ہی تھا سازشوں میں روز اول سے ہی پیش پیش رہا مگر امت مسلمہ کی پیٹھ میں چھرا اس وقت گھونپا جب غزوہ احد کا میدان سجا، اس کے منافق ہونے کا حضور اقدسؐ کو بخوبی معلوم تھا اور جب وہظاہر ہوگیا تو اعلانیہ اسے نکالا، منافقوں کی آج بھی بہتات ہے پاکستان کو بیرونی دشمنوں کیساتھ کیساتھ اندرونی دشمنوں سے زیادہ خطرات ہیں جو ایک طرف تو بیرونی دشمن کے ایجنڈے کو تقویت بخشتے ہیں دوسری طرف ملکی استحکام کے لیے کوشاں افراد کی توجہ ہٹانے اور الجھانے کا کردار ادا کرتے ہیں اس گروہ کی جڑیں اب بہت مضبوط ہوگئی ہیں اور ہوتی جارہی ہیں اسکی وجہ یہ کہ حکومت یا اداروں کی طرف سے کوئی خاطرخواہ ایکشن دیکھنے میں نہیں آیا، جتنی مہلت و ڈھیل ملتی گئی تو انکی جڑیں بجائے سکڑنے کے اندر ہی اندر پھیلتی جارہی ہیں،

    یہ گروہ سیانا ہی نہیں بلکہ بہت سیانا ہے کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا، سمجھداری کا یہ عالم ہے کہ حکومتی لچک و کمزوری کو بہت دور سے بھانپ لیتا ہے اور پھر شیر بن جاتا ہے، جنرل راحیل شریف کے دور میں شروع ہونے والے آپریشن کے بعد سے کچھ عرصہ پہلے تک انکی کمر واقعی ٹوٹ چکی تھی مگر موجودہ حکومت کی نااہلی و بیوقوفی کی بدولت ایک بار پھر اس گڑھے مردے میں جان آگئی ہے، یہی وجہ ہے کہ موجودہ جنگی حالات کو بھانپ کر سندھ کی حکمران جماعت نے اپنے کالے کرتوت دبانے کے لیے یا پھر کسی بیرونی اشارے پر اعلان بغاوت کردیا ہے

    سندھ میں لسانی کارڈ وہ بھی وفاق کے خلاف کھیلا جارہا ہے، اب سے پہلے تک سندھ کارڈ ضرور کھیلا جاتا رہا جوکہ یا تو مہاجر کمیونٹی کو بنیاد بناکر کھیلا جاتا یا پھر الیکشن میں فائدے کے لیے یا پھر دبے چھپے انداز میں وفاق کو دھمکانے کے لیے لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ ایک منظم انداز سے اور اعلانیہ وفاق و ملکی سلامتی کے اداروں کے خلاف نفرتیں و لسانیت ابھارنے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے مگر سوال یہ بنتے ہیں کہ کیا سندھ کارڈ کامیاب ہوپائیگا؟ سندھ کارڈ کی جڑیں عوام میں کتنی سرایت کردہ ہیں؟ وفاق کو اس سے کیا نقصان پہنچ سکتا ہے؟ موجودہ حالات کے تناظر میں یہ کھیل کس حد تک نقصاندہ اور توجہ طلب ہے؟ ان تمام سوالات کے جواب کے لیے ماضی کی تاریخ پہ نگاہ ڈالنی پڑیگی، آج کے زمینی حقائق کا جائزہ لینا ہوگا،

    اگر سندھ کارڈ کی تاریخ کا بغور جائزہ لیا جائے تو ایک بات تو بذریعہ اتم موجود ہے کہ سندھ کے باسی قوم پرست تو شروع سے ہی ہیں اس کا اندازہ سندھ کی بمبئی سے علیحدگی کی تحریک میں ایک پیج پہ ہونے سے لگایا جاسکتا ہے اور 1937 کے انتخابات سے کہ مسلم لیگ تک یہاں سے ایک سیٹ بھی حاصل نہ کرپائی تھی لیکن سندھ کی تاریخ ہی بتاتی ہے کہ عوام کبھی بھی آزاد نہیں رہی، سندھو دیش کی تحریک چلانے والے جی ایم سید ہی اپنی کتاب "سندھ کی بمبئی سے علیحدگی” میں لکھتے ہیں کہ جاگیرداروں، وڈیروں، قومی سرداروں کو انگریز سرکار نے رعایتیں دیکر اپنا مطیع بناکر سندھ کی بمبئی سے علیحدگی کی تحریک کو ابھرنے نہ دیا اور عوام مجبور تھی جو ان سرداروں، وڈیروں، جاگیرداروں کی محتاج تھی،

    اسی طرح قیام پاکستان کے بعد کی تاریخ بالخصوص 2000 کے بعد کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ سندھ کی عوام کا مزاج یہ ہے کہ جو پاور میں ہو اسی کو سلام کرتے ہیں اس کی وجہ یہ نہیں کہ سندھی عوام میں کوئی نقص ہے بس اتنی سی بات ہے کہ قیام پاکستان سے قبل بالعموم اور قیام پاکستان کے بعد بالخصوص سندھ کے عام باسیوں کو کمزور سے کمزور تر کرکے رکھدیا گیا ہے، عوام تو بیچاری اپنی روزی روٹی تک ہی محدود ہے بس ہر علاقے میں ایک دو وڈیرے ہی طاقتور ہیں انکے ساتھ سو دو سو مفاد پرستوں کا جتھہ ہوتا ہے جو حالات کو دیکھتے ہوے پانسہ پلٹتے دیر نہیں لگاتے، عوام کس حد تک پی پی پی کے سندھ کارڈ کیساتھ ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگا لیجئے کہ مشرف دور میں پیپلزپارٹی رہنماوں کی اوطاقیں و ہاوسز ویران پڑے ہوتے تھے جبکہ حکمران جماعت کے رہنماوں کی اوطاقوں و آفسز پہ لوگوں کا تانتا بندھا ہوتا تھا پھر وقت نے پلٹا کھایا تو آج وہی فنکشنل و ق لیگ کے رہنما ہیں جن کی طبیعت پوچھنے بھی کوئی نہیں جاتا،

    جب سے سوشل میڈیا و میڈیا مضبوط ہوا تو ایک حیران کن تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے کہ لوگ اب سیاسی بتوں سے بیزاری کرتے نظر آتے ہیں بس وہی مخصوص مفاد پرست طبقہ ضرور چمٹا رہتا ہے جن کے مختلف مفادات حکمران جماعت سے وابستہ ہیں، رہی بات ووٹ کی تو اس کی حقیقت یہ ہے کہ لوگ آزاد ہیں ہی نہیں، جہاں وڈیرے کا حکم ہوا لوگ وہیں ووٹ ڈال دیتے ہیں، اس کی وجہ یہ کہ پولیس ہو یا محکمہ تعلیم، صحت ہو یا بلدیہ، ریونیو ہو یا محکمہ زراعت یا پھر آبپاشی الغرض تمام محکمے علاقائی وڈیروں کے ماتحت ہیں ان ہی کی مرضی و منشاء پہ کام ہوتے ہیں تو ظاہر سی بات ہے عام آدمی ایسے جنگل زدہ ماحول میں طاقتور آدمی کی ناپسندیدگی کا شکار ہونا کبھی پسند نہیں کریگا، اللہ نے انسان کو اشرف المخلوقات قرار اسی لیے دیا کہ انسان کو عقل سلیم عطا فرمائی،

    اب یہ اس انسان پر ہے کہ وہ کس حد تک عقل کا استعمال کرے اور ساتھ میں فیصلہ سازی کا مکمل اختیار دیا، ایک موجودہ حکومت ہے جس کا ہر اول دستہ سارا دن ڈھولکی بجاتا ہے جبکہ حاصل کچھ نہیں، ہر دوسرے دن جب تک یہ کوئی ڈگڈگی بجاکر نیا تماشہ نہ کھڑا کریں تب تک ان کو چین نہیں آتا اور اس سارے کھیل میں بندر کا کردار عوام کو دے رکھا ہے جو امیدیں تو بہت سی باندھے بیٹھے تھے مگر اب مایوس سے مایوس ترین ہوتے جارہے ہیں، اب وقت بہت محدود حد تک رہ گیا ہے مقتدر حلقے اگر واقعی ملک کیساتھ سنجیدہ ہیں عوام کو سانس لینے کے لیے بہتر ماحول مہیا کرنا چاہتے ہیں تو خدارا زمینی حقائق کو ضرور دیکھ لیا کریں، ایک کھوکھلے سندھ کارڈ کے نعرے سے یوں مرعوب ہوجانا سمجھ سے بالا تر ہے اور کرپشن، اندھیرنگری، خراب کارکردگی، اقربا پروری، جعلسازی،اداروں میں لاقانونیت، میرٹ کے قتل عام کے اصل جواز کی جگہ کراچی کے کچرے کو بنیاد بناکر پیش کرنا کہاں کی عقلمندی ہے یہ تو تحقیق طلب بات ہے۔

    آرزوئے سحر

    تحریر: انشال راؤ

  • میڈیکل کالجوں میں داخلے کے لیے انٹری ٹیسٹ شروع

    میڈیکل کالجوں میں داخلے کے لیے انٹری ٹیسٹ شروع

    اسلام آباد : میڈیکل سٹوڈنٹس کے لیے خوشخبری، بلوچستان اور آزاد جموں و کشمیر کے میڈیکل کالجوں میں داخلے کیلئے انٹری ٹیسٹ آج جاری ہیں، یہ دونوں انٹری ٹیسٹ آج یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے زیراہتمام ہو رہے ہیں

    ذرائع کے مطابق بلوچستان میں میڈیکل انٹری ٹیسٹ BUITMS کوئٹہ میں ہو رہا ہے ، اطلاعات کے مطابق کوئٹہ میں کل 6001 امیدوار میڈیکل انٹری ٹیسٹ دے رہے ہیں،ان میں 3434 طلبہ اور 2567 طالبات شامل ہیں ،گورنر بلوچستان امان اللہ یاسین زئی نے امتحانی مراکز کا دورہ کیا، انتظامات کی تعریف کی

    بلوچستان کی طرح آزاد جموں و کشمیر میں آج میڈیکل انٹری ٹیسٹ شروع ہوچکے ہیں‌ جن میں‌ کل 4322 امیدوار میڈیکل انٹری ٹیسٹ میں شرکت کررہے ہیں ، یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے مطابق آزاد کشمیر میں 1264 طلبہ اور 3058 طالبات شامل ہیں

    ذرائع کےمطابق میڈیکل انٹری ٹیسٹ کے مراکز مظفرآباد، راولاکوٹ، میرپور اور راولپنڈی میں قائم کیے گئے ہیں راولپنڈی کے امتحانی مراکز پر وی سی یو ایچ ایس پروفیسر جاوید اکرم نے انتظامات کا جائزہ لیا انٹری ٹیسٹ 10 بجے شروع ہوا، پہلے آنے والے بچوں اور والدین کو یو ایچ ایس کی جانب سے گل دستے پیش کیے گئے

  • پی ٹی ایم اور پاکستان کا خون — تحریرعرفان مہمند

    پی ٹی ایم اور پاکستان کا خون — تحریرعرفان مہمند

    پی ٹی ایم جس کا خمیر محسود تحفظ موومنٹ سے اٹھا، اس تحریک نے بہت سے پشتون نوجوانوں کو ایک ایسے خواب کی تعبیر کا مژدہ سنایا جس کو لئیے پشتون قوم کے نوجوان، بڑے و بوڑھے کئی سالوں سے ریاست کی طرف آس لگائے دیکھ رہے تھے۔ خواب تھا امن کا، ترقی کا، ریاست سے اس بات کا وعدہ لینے کا جس میں پشتون علاقوں سے دہشتگردوں اور دہشت گردی کا خاتمہ ہو اور وہاں امن، سکون، تعمیر، ترقی، خوشحالی، کاروبار، تعلیم و صحت جیسے معاملات پنپ سکیں۔

    بہت تیزی سے بہت سے نوجوان اور ہر مکتبہ فکر کے لوگوں نےاس تحریک کے لئیے وقت دینا شروع کیا مگر چند ہی ہفتوں میں جب تحریک کے اکابرین نے اپنے آگے پیچھے لوگوں کا جم غفیر دیکھا تو وہ شاید اپنے اصلی ایجنڈا کو زیادہ دیر چھپا نہ سکے اور ان کے پروگرام اور جلسے "یہ جو دہشت گردی ہے اس کے پیچھے وردی’ ہے جیسے واہیات نعروں سے گونج اٹھے۔
    اس کے بعد ریاست پاکستان اور اس کی افواج کے خلاف ہر وقت اور ہر موقع پر لوگوں کو اشتعال دلایا گیا۔ بین الاقوامی میڈیا نے بھی اس بات کو خوب خوب اچھالا۔

    کبھی منظور پشتین کا جلسے سے خطاب جس میں وہ GHQ کو دہشت گردوں کا گڑھ کہتا ہے اور کبھی اس کا بیان جس میں وہ قائد و اقبال پر تبرا کرتا اور مذاق اڑاتا ہے.کبھی علی وزیر کی بیان جس میں وہ فوج اور عوم کے تصادم کی بات کرتا ہے اور کبھی کہیں وہ فوج کو مارنے اور گھسیٹنے کی بات کرتا ہے۔ کہیں آزاد پشتونستان کی بازگشت سنائی دیتی ہے اور کہیں فوج کو قابض کہنے کے ساتھ ساتھ ہر طرح کی گالی دی جاتی ہے۔ کہیں پنجابی کو نسل پرستانہ جملوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور کہیں لوگوں کو چیک پوسٹ پر حملہ کرنے پر ابھارا جاتا ہے تاکہ وہ پکڑے گئے دہشت گردوں کو چھڑوا سکیں۔

    کہیں پر یہ دھمکی دی جاتی ہے کہ فوج نکل جائے ورنہ ہم خود نبٹ لیں گے فوج سے۔۔۔ اور کہیں دہشت گردوں کی آمد کو روکنے کے لئیے لگائی جانے والی باڑ کو روکنے کے لئیے آوازیں اٹھائی جاتی ہیں۔ کہیں ایک معصوم بچی کی لاش پر سیاست کی جاتی ہے اور کہیں ایک مظلوم باپ کی فریاد رسی کو مذاق اور گالم گلوچ کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ غرض ہر وہ کام اور معاملہ روا رکھا گیا جس نے امن اور خوشحالی کے خواب کو ریاست سے ٹکراؤ اور خون ریزی کے عمل سے بدل دیا۔ اور اب کل رات شمالی وزیرستان کے علاقے سپین واگ میں دو فوجی اہلکاروں کی پی ٹی ایم کے ہی سپورٹرز کے ہاتھوں شہادت اس بات کی غماز ہے کہ پی ٹی ایم اب ہر وہ حد عبور کرنے کے لئیے تیار ہے جس کے ذریعے وہ لوگوں کے خون کو حلال کروا کر اپنے مقاصد پورے کر سکے۔

    منظور پشتین ہو یا علی وزیر یا محسن داوڑ، عبداللہ ننگیال ہو یا احتشام افغان، ادریس پشتین ہو یا ندیم عسکر، فوزیہ ہو یا ثنا اعجاز اور عائشہ گلا لئی سب کے سب کا چہرہ ایک ایک کر کے بے نقاب ہوا چاہتا ہے۔ وقت آگیا ہے کہ ریاست ان بھیڑ کی کھال مین چھپے بھیڑیوں سے اس خطے کو نجات دلائے ۔ پشتون اس وقت تک امن اور چین کی بانسری نہیں بجا سکتے جب تک اس طرح کے عناصر کو کیفر کردار تک نہ پہنچایا جائے۔ پی ٹی ایم کو خون کی لت بہت پہلے سے لگ گئی تھی مگر اب پی ٹی ایم نے کھل کر اس کو بہانا بھی شروع کر دیا ہے۔ اس خون آشام بھیڑئیے کو ایک بلا بننے سے پہلے ہی نبٹ لینا چاہئیے۔۔ورنہ شاید پشتونوں کی ایک اگلی پوری نسل کو دہشت گردوں کے ایک نئے گروہ سے نبٹنا پڑ جائے گا۔
    از قلم عرفان مہمند

  • فضائی میزبان/ ائیر ہوسٹس ، تحریر محمد فہد شیروانی

    فضائی میزبان/ ائیر ہوسٹس ، تحریر محمد فہد شیروانی

    دنیا کے سب سے پہلے فضائی میزبان ہونے کا اعزاز جرمنی سے تعلق رکھنے والے "Heinrich Kubis” کو حاصل ہے۔ ہینرچ کو یہ اعزاز مارچ 1912 میں حاصل ہوا جب اس نے جرمن ایئرلائن میں سفر کرنے والے مسافروں کی پہلی بار میزبانی کی۔
    دنیا کی پہلی ایئرہوسٹس ہونے کا اعزاز "Ellen church” کو 25 سال کی عمر میں 1930 میں حاصل ہوا جب “United Airlines” نے ان کی خدمات حاصل کیں۔ انٹرنیشنل رولز کے مطابق ائیر ہوسٹس بننے کے لئے اُن لڑکیوں کو ترجیح دی جاتی ہے جو اچھی شکل و صورت کی حامل ہوں، جن کا وزن 100 سے 116 پونڈ ہو، جن کا قد 5 فٹ 4 انچ سے کم نہ ہو، ذہنی جسمانی طور پر مکمل فٹ ہوں اور مقامی زبان کے ساتھ ساتھ مختلف زبانوں خصوصا انگریزی پر عبور حاصل ہو۔
    1936 میں ایئرہوسٹس نے باقاعدہ طور پر فضائی میزبان کی اہمیت حاصل کی اور فضائی کمپنیوں نے مرد سٹیورڈز کی نسبت ائیر ہوسٹس کو ہائر کرنے پر ترجیح دینا شروع کردی۔ انتہائی پرکشش تنخواہ و سہولیات کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں مفت کی سیر کی وجہ سے اس پروفیشن نے جلد ہی لڑکیوں میں مقبولیت حاصل کر لی اور کو اپنی جانب راغب کیا اور ائیر ہوسٹس کی نوکری لڑکیوں کے لئے کشش کا باعث بن گئی۔ ایک سروے کے مطابق دنیا بھر کی زیادہ تر لڑکیوں/خواتین کی خواہش ہوتی/رہی ہے کہ وہ ائیر ہوسٹس بن جائیں۔
    ائیر ہوسٹس اور سٹیورڈز کا شمار جہاز کے عملے میں ہوتا ہے اور ان کا براہ راست تعلق مسافروں کو دی جانے والی سہولیات سے ہے۔ ائیر ہوسٹس کا اہم کردار جہاز میں سفر کرنے والے مسافروں کو حفاظتی امور سے آگاہ کرنا اور ان کی رہنمائی کرنا ہے۔ ائیر ہوسٹس اور فضائی عملے کو باقاعدہ تربیت دی جاتی ہے کہ کسی بھی قسم کی ہنگامی صورتحال میں وہ مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنائیں رکھیں گے۔ اس کے علاوہ مسافروں کی صحت اور خوارک سے متعلق خیال رکھنا بھی ان کے فرائض میں شامل ہے۔
    موجودہ ہوائی/فضائی قوانین کے مطابق ہر پرواز سے پہلے ائیر ہوسٹس مسافروں کو حفاظتی بریفنگ دیتی ہیں۔ اس بریفنگ میں حفاظتی اقدامات اور ایمرجنسی کی صورت میں جہاز سے نکلنے کے طریقہ کار اور راستوں کی بارے میں بتایا جاتا ہے۔ ہر پرواز سے قبل مکمل جانچ پڑتال کی جاتی ہے اور مسافروں کو حفاظتی بیلٹ لگانے کی تلقین کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ ایئرہوسٹس اس بات کو بھی یقینی بناتی ہیں کہ جہاز کے ایمرجنسی راستوں کے قریب سیٹوں پر بیٹھے مسافر کی بھی قسم کی ہنگامی صورتحال میں عملے کے ساتھ مدد کریں گے۔ پرواز کے دوران فضائی کمپنی کی جانب سے مسافروں کو دی جانے والی سہولیات مثلاً آئی پیڈ، کمبل، کشن، فوڈ وغیرہ کا خیال رکھنا بھی ایئرہوسٹس کی ذمہ داری میں شامل ہے لیکن ائیر ہوسٹس کی سب سے اہم ذمہ داری مسافروں کی حفاظت کو بہر صورت یقینی بنانا ہے۔
    دنیا بھر کی فضائی کمپنیوں میں فضائی میزبانوں میں لڑکیوں کی تعداد مردوں کی نسبت بہت زیادہ ہے۔ ہر ملک کے اپنے قوانین کے تحت میں جہاز میں ایئرہوسٹس کی تعداد کا تعین کیا جاتا ہے۔ابتدا میں 50 سیٹوں سے کم تعداد کے جہاز میں ایئرہوسٹس کا ہونا لازم نہی تھا مگر اب ایسا نہیں ہے۔ موجودہ دور میں جدید سہولیات اور حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے اب تقریباً ہر جہاز میں ائیر ہوسٹس کا ہونا لازم ہے۔ بلکہ اب تو پرائیوٹ جہاز کے لئے بھی ائیر ہوسٹس کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں اور انہیں جہاز کے عملے میں لازم وملزوم سمجھا جاتا ہے۔
    ائیر ہوسٹس کو دوران پرواز ہونے والی کسی بھی قسم کی ایمرجنسی کے لئے خصوصی تربیت دی جاتی ہے جن میں ابتدائی طبی امداد، دوران پرواز بچے کی پیدائش، ہائی جیکنگ، کیبن میں دھواں بھر جانا، پانی پر لینڈنگ اور ہنگامی انخلا وغیرہ شامل ہیں۔ ایسی صورتحال میں مسافروں کو ائیر ہوسٹس و فضائی عملے کی ہدایات کے مطابق ان کے ساتھ مکمل تعاون کرنا چاہئے تاکہ ایمرجنسی کے صورتحال پر آسانی سے قابو پایا جا سکے۔

  • کہاں ہےحکومت، نجی سکولوں کوزائد فیسیں‌ لینے سے کون روکے گا،عمل درآمد چاہیے ، جوڈیشل ایکٹوازم کامراسلہ

    کہاں ہےحکومت، نجی سکولوں کوزائد فیسیں‌ لینے سے کون روکے گا،عمل درآمد چاہیے ، جوڈیشل ایکٹوازم کامراسلہ

    لاہور :کہاں ہے حکومت اور حکومتی رٹ ، نجی پرائیویٹ سکولوں نے اپنی حکومت ، اپنا نظام بنا رکھا ہے ، اپنی مرضی سے فیسیں لیتے ہیں ، کون پوچھے گا، اگر حکومت یہ بھی نہیں کرسکتی تو پھر اتنے بڑے دعوے کیوں کرتی ہے ، ان خیالات کا اظہار جوڈیشل ایکٹوازم فورم نے ایک مراسلے میں حکومت سے شکوہ کرتے ہوئے کیا ہے

    :سربراہ جوڈیشل ایکٹوازم پینل اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے گورنر پنجاب ،وزیر اعلیٰ پنجاب، چیف سیکرٹری اور سیکرٹری سکولز کو انتباہی مراسلہ ارسال کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس جبر کو روکیں ، پرائیویٹ سکولوں سے پائی پائی کا حساب لیں،پرائیویٹ سکولز کو زائد فیسیں وصول کرنے سے روکا جائے

    سربراہ جوڈیشل ایکٹوازم پینل اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے عدالت عظمیٰ کے فیصلے پر عملدرآمد کیلئے مراسلہ ارسال کر دیا،سپریم کورٹ آف پاکستان نے 12جون 2019 کو پرائیویٹ سکولز کو فیسیں بڑھانے سے روکنے کا حکم دیا،نجی سکولز نے غیر قانونی طور پر فیسوں میں اضافہ کیا جو توہین عدالت کے مترادف ہے،مراسلے میں کہا گیا ہے کہ پرائیویٹ سکولز ناجائز منافع خوری کرکے والدین کا استحصال کررہے ہیں

    پرائیویٹ سکولز کے مالکان نے مجبور والدین کا خون چوس کر اربوں کے اثاثے بنائے ہیں، آڈٹ کا حکم دیا جائےپنجاب حکومت پرائیویٹ سکولز کو زائد فیسیں وصول کرنے سے روکے،اگر نجی سکولز کو زائد فیسیں وصول کرنے سے روکنے سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل نہ ہوا تو توہین عدالت کی درخواست دائر کی جائے گی

    :سربراہ جوڈیشل ایکٹوازم پینل اظہر صدیق ایڈووکیٹ نےکہا کہ اس درخواست میں عدالت سے پرائیویٹ سکولز سمیت ذمہ دار حکومتی محکموں کے سربراہان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی استدعا کی جائے گی