Baaghi TV

Category: بلاگ

  • آج کا انسان…… از….نعیم شہزاد

    آج کا انسان

    آج جب زندگی تیز ہو چکی ہے اور لوگوں کے پاس ایک دوسرے کے لئے وقت نہیں رہا تو مجھے اقبال کا یہ شعر یاد آتا ہے

    ہے دل کیلئے موت مشینوں کی حکومت
    احساس مروت کو کچل دیتے ہیں آلات

    بچپن میں صرف فیکٹری کی مشینوں اور آلات کا تصور تھا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مجھ پر یہ بات عیاں ہوئی کہ چھوٹی سے چھوٹی چیز جیساکہ موبائل فون کا تعلق بھی ایسے ہی آلات سے ہے جو انسان کو ایک دوسرے سے دور لے جا رہے ہیں آج اگر کسی کا انتقال ہو جائے تو ہم محض چند لمحات کے لیے ظاہری طور پر سوگوار نظر آتے ہیں اور بعد میں پھر وہی زندگی کے اشغال میں مصروف، ایسا کیوں ہے؟

    اگر ہم کسی کے جنازے میں جاتے ہیں تو وہ بھی صرف اظہار تعزیت کے لیے لئے نہ کہ خوشنودی رب کے لیے؟ آج ہم لوگ ایک دوسرے سے دور کیوں ہو رہے ہیں ؟ حالانکہ اسلامی معاشرہ تو وہ ہے کہ جس کے متعلق اقبال رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں

    اخوت اس کو کہتے ہیں چبھے کانٹا جو کابل میں تو ہندوستان کا ہر پیرو جواں بے تاب ہو جائے

    آج ہم اس شعر کا مصداق کیوں نہیں ہیں ؟ اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ ہم دین محمدی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) سے دور ہوتے جارہے ہیں ہم کیوں نہیں قرآن و حدیث پر عمل کرتے؟ تو اس کا جواب ہے ٹیکنالوجی پر وقت کا ضیاں!
    جی ہاں بہت سے لوگ میری اس بات کو پر توجہ نہیں دیں گے لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ ہم موبائل فون ٹیلی ویژن کمپیوٹر اور اس طرح کی دیگر چیزوں میں اتنا مصروف ہو چکے ہیں کہ ہمارے پاس ماں باپ بہن بھائی اور دوست جیسے عظیم رشتوں کے لیے کوئی وقت بچا ہی نہیں آج اگر دوستی کی بات کی جائے تو لوگ اپنے مفادات کی خاطر دوسروں کو دھوکا دینے میں مصروف ہیں

    میں خود لپٹ گیا تھا جسے دوست جان کر
    وہ سانپ کی طرح مجھے ڈستا چلا گیا

    اب یہ بات بھی نہیں کی ان چیزوں کا استعمال سرے سے ہی غلط ہے لیکن

    Excess of everything is bad.

    یعنی ایک حد تک ان کا استعمال درست ہے مگر جب ہم اس حد کو پار کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ہمیں ایسے نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کی تلافی بہت مشکل ہوتی ہے اور بعض اوقات ناممکن ہمیں اس بات کا ادراق یونا چاہئیے
    قارئین کرام ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم نوجوان نسل کو یہ بات سمجھائیں تاکہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو اس ناسور سے بچاسکیں۔

    انداز بیاں گر چہ بہت شوخ نہیں ہے
    شاید کہ اتر جائے ترے دل میں میری بات

    آج کا انسان…… از….نعیم شہزاد

  • "کشمیری خصوصی حیثیت کا باضابطہ خاتمہ اور پاکستانی قوم کا اضطراب” تحریر:  محمد عبداللہ

    "کشمیری خصوصی حیثیت کا باضابطہ خاتمہ اور پاکستانی قوم کا اضطراب” تحریر: محمد عبداللہ

    ہم نے پہلے بھی اس موضوع پر تفصیل سے لکھا تھا ابھی پھر بتائے دیتے ہیں کہ یہ بات حقیقت ہے کہ یہ بہت بڑا سانحہ ہے کہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کو آج باضابطہ طور پر ختم کردیا گیا ہے اور کشمیر کو دو یونٹس کشمیر اور لداخ میں تقسیم کردیا گیا ہے. اس پر ہمارے لوگ بہت ہی افسردہ ہیں اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ ان کا افسردہ ہونا بنتا ہے لیکن افسردگی، غم و غصے اور مایوسی میں فرق ہونا چاہیے ایسے نہیں ہے کہ کشمیر بھارت کا حصہ بن گیا ہے اور وہاں کی حریت قیادت نے یا عوام نے اس فیصلے کو تسلیم کرلیا ہے.

    "کشمیر میں بھارت کی نئی پیش رفت اور محبان کشمیر میں غم و فکر کی لہر” تحریر: محمد عبداللہ

    دیکھیں کشمیر پر بھارت کا قبضہ کوئی پچھلے 87 روز سے نہیں ہوا بلکہ ستر سال سے جاری ہے تو کیا کبھی آزادانہ ترنگا لہرا پایا بھارت کشمیر کے کسی بھی علاقے میں؟ کیا جموں و کشمیر کی عوام نے بھارت کے اس قبضے کو تسلیم کیا؟ کیا انہوں نے بھارتی مراعات اور پیکجزو آفرز کو قبول کیا ہو؟ جب ماضی میں ایسا کچھ نہیں ہوا اور کشمیری ڈٹے رہے اور سبز ہلالی پرچم کو لہراتے رہے تو یاد رکھیں کشمیر میں کل بھی سبز ہلالی لہراتا تھا اور آئندہ بھی سبز ہلالی ہی لہرائے گا ان شاءاللہ، بھارتی ترنگے کے لیے نہ کل کشمیر میں جگہ تھی نہ آج ہے اور نہ ہی آئندہ کبھی جگہ ہوگی. سر دست مسئلہ یہ ہے بھارت نے اس ساری بدمعاشی کے لیے وقت چنا ہے وہ کشمیریوں کے وکیل پاکستان کے لیے مشکل ترین وقت ہے. اندرونی خلفشار سب کے سامنے ہے کہ مسئلہ کشمیر پر جو بچی کچھی بات اور سفارتی اور عالمی سطح پر جو کوششیں ہو رہی تھیں وہ بھی گرفتاریوں، رہائیوں، دھرنوں اور نام نہاد آزادی کے مارچوں کی نظر ہوگئیں اور مسئلہ کشمیر بیک فٹ پر چلا گیا.

    "علی گڑھ یونی ورسٹی کا اسکالر اور مجاہدین کا کمانڈر” تحریر: محمد عبداللہ

    دوسرا بہت بڑا ایشو ان حالات میں پاکستان کی بدخال معیشت ہے اتنے تنگ معاشی اور سیاسی ابتری کے حالات میں آپ کوئی بڑا قدم نہیں اٹھا سکتے. تیسری بات کہ امریکہ کی اس خطے میں موجودگی سے بھارت نے فائدہ اٹھایا کہ جب تک امریکہ یہاں ہے اسی ٹائم کے اندر اندر یہ فیصلہ لے لو وگرنہ امریکہ کے جانے کے بعد تو بھارت کو دہلی کے لالے پڑے ہونگے، تیسری اور سب سے اہم چیز جو پاکستان کا سب سے اہم ہتھیار تھا وہ ایف اے ٹی ایف کی جکڑ بندیوں کی وجہ سے مکمل طور پر بند ہے کوئی سلسلہ ایسا نہیں جو پاکستان شروع کرسکتا ہو. پاکستان کے لیے یہ نہایت کٹھن دن ہیں اور بھارت نے انہی دنوں کا انتخاب کرکے کشمیر پر اپنے قبضے کو مستحکم کرکے اپنے اندر ضم کرنا چاہا ہے لیکن یہ اتنا آسان نہیں ہوگا یہ کشمیر نہ نگلا جائے گا اور نہ اگلا جائے بھارت اور بالآخر یہ ممبئی سے شملہ تک پھیلا بھارت ٹکڑوں اور حصوں میں بٹے گا. منی پورہ کی آزادی کی اعلان ہوچکا، خالصتان موومٹ تیزی سے جاری ہے اور کرتارپور کوریڈور اس میں نہایت اہم سنگ میل ہے.

    مقبوضہ کشمیر میں مسلسل کرفیو سے بیرون ممالک کشمیریوں کی زندگی کیسے اجیرن ہوگئی ہے!!! تحریر: محمد عبداللہ

    ہمارے اینڈ سے ہونا چاہیے کہ مایوس نہ ہوں اور ڈٹے رہیں مسلسل آواز بلند کرتے رہیں اور جو قوتیں اور گماشتے کشمیر ایشو سے دنیا کی توجہ ہٹانا چاہتے ہیں ان کو کامیاب نہ ہونے دیں. جب کشمیر کی حریت قیادت پاکستان کی مجبوریوں کو سمجھتی ہے اور پاکستان پر اعتماد کرتی ہے تو پاکستان کا جذباتی نوجوان کیوں نہیں سمجھتا. ہاں یہ بات حقیقت ہے کہ یہ ایمانی اور عقیدے کی کمزوریاں ہی ہیں جو ہم زمینی حقائق کی بات کرکے دلاسے دیتے اور دلاتے ہیں اگر دل ایمان سے بھرپور ہوں تو ابابیلیں بھی ہاتھیوں کو شکست دیتی ہیں اللہ کی مدد سے.
    ہمارے اداروں کو بھی یہ بات سمجھنی چاہیے کہ اتنے نازک اور سنجیدہ حالات میں جب غیر سنجیدگی اور لاپرواہی دکھائی جاتی ہے شمشیر و سناں پر طاؤس و رباب کو ترجیح دی جاتی ہے تو قوم کا غصہ فطری ہے.

    <img src=”https://login.baaghitv.com/wp-content/uploads/2019/10/IMG_20191031_133721-271×300.jpg” alt=”محمد عبداللہ” width=”271″ height=”300″ class=”size-medium wp-image-112485″ /> محمد عبداللہ

  • "افواج پاکستان عوام کی محافظ یا چوکیدار” تحریر: غنی محمود قصوری

    "افواج پاکستان عوام کی محافظ یا چوکیدار” تحریر: غنی محمود قصوری

    ہماری ہاں فوج مخالف لوگوں کی طرف سے فوج پر ایک جملہ ،چوکیدار بہت کسا جاتا ہے جب کسی کو کوئی دلیل نا ملے تو فوری جملہ داغتا ہے کہ جی فوج تو چوکیدار ہے فوج کا کیا کام ملکی معاملات اور سیاست میں سب سے پہلے تو میں ان لوگوں کو بتاءونگا گا کہ چوکیدار کو جو تنخواہ دی جاتی ہے وی اپنی آمدن سے بلکل کم دی جاتی ہے جیسا کہ آجکل ہمارے معاشرے میں عمومی طور پر 15000 سے 30000 ہزار روپیہ چوکیدار کو دیا جاتا ہے جبکہ آپ کی آمدن اور بچت لاکھوں روپیہ ہوتی ہے مگر حیرت ہے فوج کو چوکیدار کہنے والوں پر کہ ایک طرف تو اسے چوکیدار کہہ رہے ہوتے ہیں مگر دوسری جانب اسی چوکیدار کی شکایت بھی کرتے ہیں کہ 80 فیصد ہماری فوج یعنی چوکیدار کھا رہا ہے اب بھلا کوئی ذی ہوش شحض خیسے مان سکتا ہے کہ کوئی ہو بھی چوکیدار اور آپ کی آمدن کا 80 فیصد بطور تنخواہ بھی لے رہا ہو یقینا یہ بہت کم عقلی والی بات ہے جوکہ ہماری تمام سیاسی پارٹیوں کی طرف سے بطور افواہ پھلائی گئی ہے آپ اس سال بجٹ کا ریکارڈ چیک کر لیں تو آنکھیں کھل جائینگی کہ فوج کتنے فیصد لے رہی ہے
    حالانکہ بجٹ میں ہر ادارے اور صوبے کو ملنے والی رقم کا حساب ہوتا ہے مگر پھر بھی لوگ بجٹ کی جمع تفریق نہیں کرتے بلکہ رٹی رٹائی باتیں ازبر کرتے چلے جاتے ہیں یقینا اس قسم کی باتیں کرنے والے لوگ حد درجہ جھوٹے ہیں جن کی اپنی بات میں بھی وزن نہیں جو 80 فیصد کا بہتان لگا کر چوکیدار کا لقب دے رہے ہیں اور ان کی بجٹ کی جمع تفریق سے ثابت ہوا کہ وہ جھوٹے ہیں اور جھوٹے لوگ کسی کو چوکیدار کہیں یاں کچھ اور ان کی بات مانی نہیں جا سکتی
    یقینا فوج بھی دوسرے اداروں کی طرح ایک ادارہ ہے اور اس کے اندر بھی انسان ہی ہیں اور انسان خطا کا پتلا ہے میں کوئی مقدس گائے نہیں مانتا فوج کو مگر دنیا جانتی ہے فوج اور سول اداروں کی سزاءوں کو جب کوئی سول ادارے کا اہلکار غلطی کرتے پکڑا جاتا ہے اسے معطل کر دیا جاتا ہے مگر فوج میں ایسا نہیں غلطی ثابت ہونے پر کورٹ مارشل کر دیا جاتا ہے پینشن جی پی فنڈ ختم ہونے کیساتھ پوری زندگی کورٹ مارشل شد فوجی کوئی بھی سرکاری نوکری نہیں کر سکتا اور جب تک کورٹ مارشل مکمل نا ہو جیل سے چھٹی نہیں ملتی جبکہ سول اداروں کے لوگ ضمانت اور قبل از ضمانت کروا لیتے ہیں
    اس کے علاوہ مذید کہتے ہیں کہ جی فوج کرتی کیا ہے مفت کی تنخواہ لیتی ہے تو ان سے میرے چند سوال ہیں کہ 1948 میں آزاد کشمیر کو ہندو کے چنگل سے اپنے غیور قبائلیوں کیساتھ مل کر کس نے آزاد کروایا تھا فوج نے یاں کسی سیاستدان نے ؟
    1965 کی پاک بھارت جنگ میں دشمن کو ناکو چنے کس نے چبوائے اور ملک کا دفاع کس نے کیا تھا فوج نے یاں کسی غیرت مند سیاستدان نے ؟
    1967 اور پھر 1973 کی عرب اسرائیل جنگ میں جب سارے عرب ملک عملی طور پر اسرائیل کے قبضے میں چلے گئے تھے اور پوری دنیا اسرائیل کو سپر پاور تسلیم کرنے کے قریب تھی تب اس وقت پاکستانی ائیر فورس نے تل ابیب کا خاک غرور میں ملایا پاک ائیر فورس کے جوانوں نے اپنی جانیں تو دے دیں مگر اسرائیل کا ایٹمی پاور پلانٹ تباہ کرکے تمام عرب ملکوں کو اسرائیل کے قبضے سے آزاد کروایا تو اس وقت کونسا غیرت مند سیاستدان پاکستان سے جنگی جہاز اڑا کے تل ابیب کو تباہ کرنے گیا تھا؟
    1971 میں انڈیا کیساتھ مل کر اقتدار کی خاطر پاکستان کے دو ٹکڑے کرنے کیلئے مسلح فورس،مکتی باہنی کس نے بنائی تھی اور باوجود اسلحہ کی کمی کی بدولت لڑائی کس نے کی تھی ہندوستانی فوج سے اور پھر دشمن کی قید کس نے کاٹی تھی کیا کوئی سیاستدان انڈین جیلوں میں قید رہا ؟
    1980 کی دہائی میں جب سپر پاوری کی طاقت کے نشے میں چور روس افغانیوں پر چڑھ دوڑا تو اس وقت افغانیوں کو کونسے سیاستدان نے ٹریننگ دی کے تم ہمارے مسلمان بھائی ہو اپنا دفاع کرو ؟
    1999 میں کارگل پر قبضہ کرکے انڈیا کی طرف سے کشمیر جانے والا راستہ پاک فوج نے بند کر دیا جس کے پیش نظر مقبوضہ وادی کشمیر میں ہندوستانی فوج بھوکوں مرنے کے قریب تھی جس کا اقرار خود سابق آرمی چیف ٹی وی پر کر چکا بھلا اس وقت یونائیٹڈ نیشن کے تلوے چاٹنے کوئی فوجی گیا تھا کہ سیاستدان ؟ دنیا جانتی ہے اس وقت کا حکمران یونائیٹڈ نیشن کے حکم کی پیروی نا کرتا تو آج کشمیر بھی آزاد ہوتا بلکہ پاک فوج کے ہزاروں سپاہی اور افسران شہید نا ہوتے بھلا ان قربانیوں میں کونسا سیاستدان جس نے کارگل جا کر گولیاں چلائیں؟
    2001 میں جب امریکہ نے پتھر ئکے دور میں پہنچانے کی دھمکی دی اس وقت افغانستان کی سرحد پر فوج کے علاوہ کونسے سیاستدان نے پہرہ دیا ؟
    2008 میں بمبئی حملے ہوئے انڈیا نے الزام پاکستان پر لگایا مگر وہ اس الزام کو ثابت نا کر سکا مگر ہمارا ہی ایک سیاستدان اٹھا اور شور شروع کر دیا کہ بمبئی حملے آئی ایس آئی اور ایک مذہبی جماعت نے کروائے جس کی پاداش میں پاکستان کو ایف اے ٹی ایف نے گرے لسٹ میں شامل کر دیا اور آج تک ہم اس کا خمیازہ ہمیں آج بھی بھگتنا پڑ رہا ہے لہذہ سوچئے پھر بولئے ،چوکیدار نہیں محافظ

  • شاہینوں نے آسٹریلیا الیون کو بوچھاڑ دیا

    پاکستان نے دورہ آسٹریلیا کے پہلے ٹی ٹوئنٹی پریکٹس میچ میں کرکٹ آسٹریلیا الیون کو 6 وکٹوں سے شکست دے دی۔

    بینک اسٹاؤن میں کھیلے گئے ٹی ٹوئنٹی میچ کرکٹ آسٹریلیا کے کپتان کریس لین نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کا فیصلہ کیا اور مقررہ 20 اوورز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 134 رنز بنائے۔

    گیبسن اور فریسر نے کرکٹ آسٹریلیا کی جانب سے اننگز کا آغاز کیا جو اچھا ثابت نہ ہوسکا اور ٹیم میں کم بیک کرنیوالے محمد عرفان نے پہلے ہی گیند پر گیبسن کو بولڈ کر دیا۔آسٹریلیا کی دوسری وکٹ پانچویں اوور میں گری جب کپتان کریس لین 24 رنز بنا کر وہاب ریاض کے ہاتھوں کلین بولڈ ہو گئے۔پاکستان کی جانب سے محمد عرفان نے چار اوورز میں صرف انیس رنز دیکر ایک وکٹ حاصل ک، شاداب خان نے بھی تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کی

    ہمارے کھلاڑی آسٹریلیا کو سرپرائز دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں ، مصباح الحق

    کرکٹ آسٹریلیا نے اپنے مقررہ 20 اوور میں 134 رنز بنائے، پاکستان کی جانب سے محمد عرفان نے چار اوورز میں صرف انیس رنز دیکر ایک وکٹ حاصل ک، شاداب خان نے بھی تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔
    دورے سے قبل مصباح نے کہا کہ ٹیم میں ہر کھلاڑی پروفیشنل ہوتا ہے، ہر کھلاڑی کو معلوم ہوتا ہے کہ اسے کیا پرفارمنس دینی ہے، کپتان کا کام انہیں آپریٹ کرنا ہوتا ہے، وقت کے ساتھ انسان سیکھتا ہے، ابتداء میں کپتانی کا پریشر ہوتا ہے لیکن میری ذاتی رائے یہ ہے کہ جب آپ پر ذمہ داری آتی ہے تو کئی دفعہ اس سے آپ کی کارکردگی بہتر ہوتی ہے۔ مصباح نے کہا کہ بابراعظم ٹی ٹوئنٹی کا بہترین بیٹسمین ہے اور اگر وہ اپنی پرفارمنس برقرار رکھے گا تو اسے اپنی کپتانی میں بھی اس کا فائدہ ہوگا۔

  • "کشمیر میں بھارت کی نئی پیش رفت اور محبان کشمیر میں غم و فکر کی لہر” تحریر: محمد عبداللہ

    "کشمیر میں بھارت کی نئی پیش رفت اور محبان کشمیر میں غم و فکر کی لہر” تحریر: محمد عبداللہ

    گزشتہ روز سے کشمیر کے حوالے سے آنے والی اطلاعات کو لے کر کچھ لوگ بہت پریشان ہیں کہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو باضابطہ طور پر ختم کرکے کشمیر کو تقسیم کیا جا رہا ہے کشمیر اور لداخ کے مابین تو اس کی وجہ سے یہ ہوجائے گا وہ ہوجائے گا. دیکھیں پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ کام اسی دن ہوگیا تھا جس دن بھارت کی فاشسٹ اور متشدد حکومت نے اپنے آئین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے کشمیر کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کیا تھا اور کرفیو عائد کیا تھا. لیکن تقریباً تین ماہ کے اس کرفیو میں جب وادی میں مواصلات و رابطے کے سبھی ذریعے بند تھے اور یہاں تک کہ انٹرنیٹ سروس تک معطل تھی تو کیا بھارت وادی میں اپنے مقاصد کی تکمیل میں کامیاب ہوگیا تو اس کا جواب سو فیصد نفی میں آتا ہے. اگرچہ کشمیر کی بزرگ حریت قیادت مقید ہے لیکن تحریک آزادی کشمیر کی کمانڈ جن سرپھرے نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے ان کا اپنا مضبوط نظام ہے وہ سبھی مواصلاتی ذرائع کی بندش کے باوجود جہاں چاہتے ہیں جمع ہوتے ہیں کرفیو توڑتے ہیں بھارت سرکار کی ظالمانہ بندشوں کو چیلنج کرتے ہیں اور نکل جاتے ہیں اسی طرح تحریک آزادی کے وہ بیٹے جو بھارتی مسلح افواج سے برسر پیکار ہیں وہ بھی خاموش نہیں ہیں اگر ہم تک اطلاعات نہیں پہنچ رہیں تو یہ اور بات ہے. باقی رہی بات کشمیر کو تقسیم کرنے اور وہاں ہندو پنڈتوں کو جائدادیں دے کر آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی تو یہ بات خوش آئند نہیں ہے لیکن جب ہم افغانستان والے ایشو سے مماثلت کرتے ہیں تو دیکھتے ہیں سترہ اٹھارہ سالوں میں امریکہ ناٹو اور خود افغانی افواج کی مدد کے باوجود بھی آج اس کیفیت میں ہے کہ امارات اسلامی جب چاہتی ہے کابل کو لرزا کر رکھ دیتی ہے ماسوائے کابل کے تو بات ہی الگ ہے تو یہ صاف بات ہے وہ افغانستان ہو یا کشمیر جب بات میدانوں اور جوانوں کی آتی ہے تو پھر مدد بھی آسمانوں سے آتی ہے. اس سے سارے معاملے میں جس پر بہت زیادہ افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے اور وہ کچھ ٹھیک بھی ہے وہ ہے پاکستان کا کردار کہ وہ کیا ہے. جذباتیت سے ہٹ کر اگر ہم حقائق پر بات کریں تو عرض ہے کہ پاکستان جو اہل کشمیر کا سب سے بڑا وکیل تھا وہ فقط تقاریر اور سفارت کاری تک محدود ہے (یہی بات کشمیر کا درد رکھنے والوں کے لیے دکھ کا باعث ہے). کشمیر کے لیے اٹھنے والی آوازوں اور بڑھنے والے قدموں کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے. لیکن اس سارے معاملے میں اہل نظر لوگوں کے ہاں باعث تشویش ہے وہ یہ ہے کہ پاکستان اس وقت مکمل طور پر بے بس ہے، پاکستان کے پاس اہل کشمیر کی نصرت و مدد کا سوائے سفارتی اور اخلاقی مدد کے کوئی آپشن نہیں بچا ہے. عالمی حالات اور پاکستان پر ایف اے ٹی ایف کی صورت جکڑ بندیاں سب کے سامنے ہیں. رہی سہی کسر پاکستان کے ناعاقبت اندیش سیاست دانوں نے پوری کردی ہے. جب پاکستان اقوام عالم میں کشمیر کا مسئلہ اچھی طرح سے اٹھا رہا تھا اور دنیا کا بڑا حصہ کشمیر کی طرف متوجہ ہو رہا تھا اور دنیا کے کونے کونے سے کشمیر کے حق میں بھارت کے ظالمانہ اقدام کے خلاف آوازیں اٹھنا شروع ہوگئیں تھیں تو پاکستان میں مفاداتی سیاست کے گماشتوں نے حکومت اور میڈیا کی مکمل توجہ اپنی طرف مبذول کروا لی اور کشمیر ایشو ہمیشہ کی طرح پس پشت ڈال دینے میں کامیاب ہوگئے ہیں. تقریباً پچھلے ایک ماہ سے دھرنوں، عدالتی ریلیف، این آر او، بیماریوں کے ڈراموں نے مسئلہ کشمیر کو ذرائع ابلاغ اور سرکاری زبانوں سے مکمل طور بلیک آؤٹ کردیا ہے. جب بحثیت قوم ہی ہم مفادات کے پجاری ہیں تو پھر اہل کشمیر کے دکھ درد پر افسوس سے کیا حاصل…

  • پاسبانِ ناموس رسالت غازی علم دین شہید–از… صالح عبداللہ جتوئی

    میں اپنی بات کا آغاز شاعر رسول صل اللہ علیہ و سلم حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ کی نعت سے کروں گا جس میں انہوں نے کیا خوب انداز میں آمنہ کے لال کی شان بیان کی ہے اور گستاخان کو سختی سے تنبیہ کی ہے۔ اسکا اردو ترجمہ یہ ہے.

    "نبی کی شان اقدس پہ زبانیں جو نکالیں گے
    خدا کے حکم سے ایسی زبانیں کھینچ ڈالیں گے”
    اللہ کے نبی صل اللہ علیہ و آلہ و سلم کا فرمان ہے۔
    "کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ مجھے اپنے مال جان اور اولاد سے زیادہ محبوب نہ جان لے.”

    اس فرمان کے مطابق ہم پہ یہ لازم ہے کہ ہم محسن انسانیت صل اللہ علیہ وسلم کی حرمت کے پاسبان بنیں اور اسی میں ہماری اخروی کامیابی کا راز پنہاں ہے۔ ہر دور میں گستاخ رسول پیدا ہوۓ ہیں اور ہر دور میں وہ ذلیل وخوار ہو کے عبرت کا نشان بنے ہیں اور میرے آقا صل اللہ علیہ وسلم نے بھی گستاخان کا سر قلم کرنے کا حکم دیا ہے اللہ اور اس کے رسولﷺ کے گستاخان ملعون ہیں، جہاں بھی پائے جائیں، پکڑ لئے جائیں اور بُرے طریقے کے ساتھ ٹکڑے ٹکڑے کردیئے جائیں۔” اور آیت نمبر 62 میں پھر اسے اللہ کی سنت اور قانون قرار دیا گیا ہے یعنی توہین رسالت کے بارے قانونِ الہٰی یہی ہے کہ ایسے ناپاک ملعون لوگ بُری سزا کے حقدار اور واجب القتل ہیں۔ سورۃ الاحزاب کی آیت 56 سے لے کر آیات 62 تک کا مفہوم ومراد یہی ہے. ”کعب بن اشرف کو اس لئے قتل کیا کہ اس نے نبی کریمﷺ کے عہد کو توڑا۔ آپ ﷺ کی توہین کی اور آپ کو گالی دی اور اس کا یہ معاہدہ تھا کہ وہ آپﷺ کے خلاف کسی کی مدد نہیں کرے گا پھر وہ آپﷺ کے خلاف اہل حرب کا معاون بن گیا۔”

    محمد بن مسلمہ وغیرہ کو جب کعب کے قتل کے لئے روانہ فرمایا تو آپﷺ ان کے ہمراہ بقیع غرقد تک خود تشریف لے گئے اور اللہ کے نام پر اُنہیں روانہ کیا اور ان کے حق میں اللہ تعالیٰ سے مدد کی دعا فرمائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنا چاند پہ تھوکنے کے مترادف ہے اور یہ گٹر کے کیڑے جب گستاخی کرتے ہیں تو خوف کے مارے مسلمانوں سے چھپتے پھرتے ہیں اور زندگی و موت کی کشمکش میں مبتلا ہو جاتے ہیں.

    کیونکہ مسلمان اپنی توہین تو برداشت کر سکتے ہیں لیکن نبی کی حرمت پہ آنچ نہیں آنے دیتے صحابہ کے بعد قربان ہونیوالی شخصیت غازی علم دین ہیں جنہوں نے ہر کسی کے دل میں گھر کیا غازی علم دین 4 دسمبر 1908 میں پیدا ہوۓ ان کا تعلق ایک غریب ترکھان خاندان سے تھا اور وہ ایک دیہاڑی دار ترکھان تھے جو ہر روز اوزار لے کر کام کے لیے جاتے تھے اس دور میں ایک شخص مہاشے راجپال انڈین نے 1927 میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی اور اس نے ایک کتاب لکھی جس کا نام رنگیلا رسول تھا

    جس سے وہاں کے مسلمان بہت زیادہ مشتعل ہو گئے اور جلسے جلوس کی صورت میں باہر نکل آۓ اور ان کو کنٹرول کرنے کے لیے راج پال کو گرفتار کر لیا گیا لیکن لاہور ہائیکورٹ کے ایک جج نے راج پال کو قانونی سقم کو بنیاد بنا کر رہا کر دیا اور مسلمانوں میں محشر برپا ہو گیا اور بھاری تعداد میں مسلمان سڑکوں پہ آ گئے اور دفعہ 144 کے باوجود ایک جلسہ عام کیا جس میں اس دور کے بہت بڑے خطیب عطاء اللہ شاہ بخاری نے بہت زبردست خطاب کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوب شان بیان کی جس نے مسلمانوں کے دل میں جوش و ولولہ پیدا کر دیا ایک دن معمول کے مطابق غازی علم دین 6 ستمبر 1929 جو کام پہ جا رہا تھا تو راستے میں اس نے عطاء اللہ شاہ بخاری اور مولانا ظفر علی خان کی حرمت رسول پہ دل کو گرما دینے والی تقاریر سنی اور سَکتے میں آگئے اور اسی وقت انہوں نے دکان سے ایک چاقو خریدا۔

    وہ جلد سے جلد شاتم رسول کو جہنم کی طرف عازم سفر کرنا چاہتے تھے۔ اتنے میں راج پال دفتر پہنچ گیا اور اپنی سیٹ پر بیٹھنے ہی لگا کہ غازی علم الدین نے پتلون میں چھپا خنجر نکالا اور پلک جھپکنے سے پہلے علم الدین راج پال پر جھپٹ پڑے اور اسکے سینے پر بیٹھ کر پے درپے اس پر خنجروں کے وار کر دیے۔ اتنا عظیم معرکہ انجام دینے کے بعد علم الدین نے بھاگنے کی بالکل کوشش نہیں کی بلکہ خود کو ملازموں کے حوالے کر دیا اور ملازموں نے پولیس کو بلایا تو پولیس علم الدین کو گرفتار کر کے لے گئی اور اس وقت کئی لوگوں نے اس پہ طرح طرح کی باتیں کیں اور غازی علم دین کو غلط ثابت کرنے کی کوششیں کی گئی کبھی کہا جاتا کہ قانون ہاتھ میں لیا گیا ہے اور کبھی یہ کہا گیا کہ یہ کیسا نبی ہے جس کی حرمت کے تقدس میں اپنے ہاتھ خون آلود کیے جائیں لیکن غازی علم دین کا یہ اقدام اس لیے تھا کیونکہ وہاں پہ ناموس رسالت کا کوئی قانون نہیں تھا

    سو وہ اس جاہلانہ مہم میں ناکام ہو گئے اور اس میں قادیانیوں نے بھرپور حصہ لیا تھا جو اپنے آپ کو مسلمان ثابت کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں. محب رسول میں گرفتار غازی علم دین شہید کو 31 اکتوبر کو میانوالی جیل میں پھانسی دے دے گئی اور پھانسی کے وقت انہوں نے رسے کو بوسہ دیا اور مسکرا رہے تھے کیونکہ وہ مر کے امر ہونے والے تھے اور جنتوں کے مہمان بننے والے تھے اللہ نے انہیں سرخرو فرمایا اور ان کا جنازہ لاہور کی تاریخ میں سب سے بڑا جنازہ تھا جس میں 6 لاکھ افراد نے شرکت کی اور جنازہ کا جلوس پانچ میل لمبا تھا ان کا جنازہ پڑھانے کا شرف قاری شمس الدین کو ہوا جو مسجد وزیر خان کے خطیب تھے علامہ اقبال جیسی مفکر شخصیت بھی ان کی قسمت پہ رشک کر رہے تھے اور خود انہوں نے غازی علم دین کو لحد میں اتارا اور ساتھ یہ کہا
    "آج لوہاروں کا لڑکا ہم جیسے پڑھے لکھے لوگوں سے بازی لے گیا.”

    مناسب قانون کے نہ ہونے سے گٹر کے کیڑے نکلتے رہتے ہیں اور انکا بھرپور جواب دینے کے لئے اللہ نے غازی علم دین جیسے ہیرے بھی پیدا کیے ہیں جو ان شاتموں کا کام تمام کرنے کے لیے کافی ہیں.
    اسی طرح جب ناموس کے قانون سزا دینے سے قاصر ہو گئے تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے شاتم رسول کا کام تمام کرنے کے لیے علم دین کو چن لیا اور اس نے ثابت کر دیا کہ ہر دور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت کے پاسبان موجود ہیں جو کٹ تو سکتے ہیں لیکن یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ ان کے نبی کی شان میں کوئی گستاخی کرے.
    اللہ سے دعا ہے اللہ ہمیں حرمت رسول صل اللہ علیہ و سلم کا محافظ بناۓ اور انکی سنتوں پہ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں آمین ثمہ آمین..
    گستاخ رسول کی سزا
    سر تن سے جدا
    حرمت رسول پہ جان بھی قربان ہے

    پاسبانِ ناموس رسالت غازی علم دین شہید–از… صالح عبداللہ جتوئی

  • وزیر اعظم آزاد کشمیر نے بھارت کو جواب دینے  کے لیے منفرد تجویز دے دی

    وزیر اعظم آزاد کشمیر نے بھارت کو جواب دینے کے لیے منفرد تجویز دے دی

    وزیر اعظم آزاد کشمیر نے بھارت کو جواب دینے کے لیے منفرد تجویز دے دی.

    وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر نے کہا ہےکہ پیپلز پارٹی،جے یو آئی اور دیگر جماعتوں سے اتحاد کی درخواست کی ہے . مل کر الیکشن لڑ کر بھارت کو اتحاد کا پیغام دینا چاہتے ہیں،انہوں نےکہا ہےکہ پیپلز پارٹی نے ہماری درخواست قبول کی ہے،ہماری کسی کی ذات سے لڑائی نہیں صرف یکجہتی کا پیغام دینا ہے،ہمیں نوازشریف،خورشیدشاہ اورمریم نواز کی صحت پر تشویش ہے،ہم نے پاکستان کے ساتھ اپنا مستقبل جوڑ رکھا ہے،

  • "ربیع الاول ماہ مبارک ولادت مصطفیٰ کا آغاز اور امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم” تحریر: محمد عبداللہ

    بلاشبہ اس کائنات کی سب سے بڑی خوشی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بطور ایک پیغمبر اور نبی کے آمد کی ہے اور اللہ کے کرم کی انتہا کے اللہ نے ہم ایسے گناہگاروں کو شرف امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بحشا ہے. تو آئیے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کی تاریخوں پر جھگڑنے اور فتوؤں کی پٹاریاں کھولنے کی بجائے "لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْ أَنفُسِهِمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِن كَانُوا مِن قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ” مالک ارض و سماء کے اس احسان عظیم کا حق ادا کرنے کی کوشش کریں اور بعثت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے عظیم مقصد "ھُوَالَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ” کی تکمیل میں جت جائیے.خود ساختہ عقائد و نظریات اور اعمال اور ان کی بنیاد پر اس بابرکت ماہ میں دنگا و فساد کی بجائے حقیقی سیرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل پیرا بھی ہوا جائے اور اسی کا پرچار بھی کیا جائے کیونکہ وہی اسوہ تو کامیابی کی کنجی ہے کہ "لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الآخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيرًا”.
    بعثت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے عالی شان مقصد کو سمجھا اور سمجھایا جائے اور قیامت کے دن اور مابعد قیامت کی زندگی میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کو پانے کی تگ و دو کی جائے کہ دنیا وما فیھا کا سب سے بڑا غم بھی رحلت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم تھا کہ صحابہ و اہل بیت کے دل پھٹے جاتے تھے یہ خبر نہیں تھی بلکہ اک قیامت تھی جو نہ صرف مدینہ بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں پر ٹوٹی تھی کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا سے رخصت ہوگئے ہیں، فاروق اعظم صدمے کی تاب نہ لاتے ہوئے تلوار نکالے کھڑے تھے جو کہے گا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم رحلت فرما گئے ہیں میں اس کا سر قلم کردوں گا. اس سانحہ جانکاہ کے بعد نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دیوانوں کے آنسو خشک نہ ہوتے تھے اور کوئی بھی اس خبر کو ماننے کو تیار نہیں تھا یہاں تک کہ صدیق اعظم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے یار غار ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور لوگوں سے اس انداز میں مخاطب ہوئے میں "جو بھی محمد ﷺ کی عبادت کرتا تھا تو اسے معلوم ہونا چاہیے کہ آپ ﷺ اس دنیا فانی سے رخصت ہوچکے ہیں اور جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا تھا تو (اس کا معبود) اللہ ہمیشہ زندہ رہنے والا ہے اور اس کو کبھی موت نہیں آئے گی اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے "وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ ۚ أَفَإِن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انقَلَبْتُمْ عَلَىٰ أَعْقَابِكُمْ ۚ وَمَن يَنقَلِبْ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ فَلَن يَضُرَّ اللَّهَ شَيْئًا ۗ وَسَيَجْزِي اللَّهُ الشَّاكِرِينَ”
    "اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم صرف رسول ہیں ‘ ان سے پہلے اور رسول گزر چکے ہیں اگر وہ فوت ہوجائیں یا شہید ہوجائیں تو کیا تم اپنی ایڑیوں پر پھر جاؤ گے تو جو اپنی ایڑیوں پر پھرجائے گا سو وہ اللہ کا کچھ نقصان نہی کرے گا اور عنقریب اللہ کا شکر کرنے والوں کو جزا دے گا”
    .ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا "اللہ کی قسم ! ایسا محسوس ہوا کہ جیسے پہلے سے لوگوں کو معلوم ہی نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی ہے اور جب ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کی تلاوت کی تو سب نے ان سے یہ آیت سیکھی اب یہ حال تھا کہ جو بھی سنتا تھا وہی اس کی تلاوت کرنے لگ جاتا تھا”
    ہائے کاش اس امت محمد میں آج کوئی فقیہ،کوئی مفتی، کوئی عالم، کوئی حاکم، کوئی استاد کردار صدیقی ادا کرنے والا ہو اس پور پور بکھری امت کو مجتمع کردے اور راہ مستقیم سے بھٹکی امت کو راہ جنت پر گامزن کردے کہ ربیع الاول کے مہینے میں یہ امت نبی ذیشان صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت پاسعادت کی تاریخوں پر باہم دست و گریباں ہونے اور پیدائش و بعثت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشی منانے اور غم آقائے دو جہاں پر کفر و اسلام کے فتوے بانٹنے والی اس امت کو یکجان کرکے مقصد بعثت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکمیل میں مصروف عمل کرا دے.
    محمد عبداللہ کے مزید بلاگز پڑھیں

    Muhammad Abdullah
    Muhammad Abdullah
  • ابو بکر البغدادی کی ہلاکت –از –صابر ابو مریم

    ابو بکر البغدادی ذرائع ابلاغ اور دنیا کے لئے ایک معروف نام ہے کیونکہ یہی وہ شخص تھا کہ جس کو داعش نامی دہشت گرد تنظیم کے سربراہ اور قائد کی حیثیت سے پیش کیا گیا تھا۔ابھی گذشتہ دنوں امریکی صدر نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر لکھا کہ کچھ بہت بڑا ہوا ہے۔اس جملے کے لکھنے کے بعد مغربی ذرائع ابلاغ اور ان سے متاثر خلیجی ذرائع ابلاغ نے ایک ہی خبر کی رٹ لگا دی کہ شام اور عراق میں دہشت گرد گروہ داعش کا سربراہ ابو بکر البغدادی امریکی حملوں میں مارا گیا ہے۔دراصل دنیا بھر میں ذرائع ابلاغ پر امریکی وصہیونی لابی کا مضبوط کنٹرول دنیا کے ایک بہت بڑے حصہ کو جس سمت چاہتا ہے موڑ دیتا ہے اور اہمیشہ مغربی سامراج نے ذرائع ابلاغ کو کنٹرول کے ذریعہ دنیا میں بسنے والے لاکھوں کروڑوں انسانوں کی رائے کو بدلنے اور ان پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی ہے۔

    سوال یہ ہے کہ امریکی صدر نے جو ابو بکر البغدادی کو قتل کرنے کا دعویٰ کیا ہے آخر کس حد تک سچائی رکھتا ہے یا یہ کہ اس کے پس پردہ مقاصد کیا ہو سکتے ہیں؟دنیا اس حقیقت کو اب بخوبی جان چکی ہے کہ امریکہ نے پہلے طالبان قیادت بنائی اور بعد میں اسی طالبان قیادت اسامہ بن لادن کو پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں ایک فوجی آپریشن کے ذریعہ ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا۔اب شام اور عراق میں خود امریکہ کی بنائی ہوئی داعش نامی دہشت گردتنظیم کے سرغنہ ابو بکر البغدادی کو امریکہ نے ایک فوجی آپریشن میں ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔آج امریکی صدر نے خود اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ان کے پیش رو امریکی صدور نے عراق اور شام پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کے لئے داعش نامی دہشت گرد تنظیم بنائی تھی۔

    یہ بات بھی واضح رہے کہ ابو بکر البغدادی کے پہلے بھی کئی مرتبہ مارے جانے کی اطلاعات مل چکی ہیں جن کی کبھی تصدیق نہیں ہو سکی اور اسی طرح حالیہ امریکی آپریشن میں بھی دہشتگرد تنظیم داعش کے سرغنہ ابو بکر البغدادی کے قتل ہونے کی تصدیق ہونا ابھی باقی ہے۔
    امریکہ جو غرب ایشیا کے خطے میں سنہ2001ء کے بعد سے مسلسل فلسطین، لبنان، شام، افغانستان، عراق و ایران میں شکست کھا رہاہے اور خطے پر اپنا تسلط قائم رکھنے میں ناکام ہے داعش جیسے دہشت گرد گروہوں کی مدد سے بھی اپنے ناپا ک عزائم کی تکمیل تک نہیں پہنچ پایا ہے۔امریکی سرکار نے داعش کو اس لئے بنایا تھا تا کہ شام و عراق کو کنٹرول کر سکیں اور اسی طرح اس خطے کو کئی حصو ں میں تقسیم کریں جبکہ اس سارے عمل کا فائدہ صہیونیوں کی غاصب اور جعلی ریاست اسرائیل کے حق میں تھا کہ اسے تحفظ فراہم ہو سکے لیکن اب حقیقت یہ ہے کہ کئی سال تک داعش نے شام و عراق اور لبنان کے علاقوں میں اپنا قبضہ جمانے کی کوشش کرنے کے باوجود شکست کھا گئی ہے اور اب حال ہی میں امریکی صدر کا ابو بکر البغدادی کو قتل کردینے کے دعویٰ نے امریکی سرکار پر مزید سوالات اٹھا دئیے ہیں۔

    غرب ایشیائی ممالک کی سیاست پر نظر رکھنے والے ماہرین امور سیاسیات کا کہنا ہے کہ امریکہ نے ایسے وقت میں شام کے علاقہ ادلب میں کاروائی کی ہے کہ جب پہلے ہی ترکی کی فوجیں اس علاقہ میں فوجی چڑھائی کر چکی ہیں۔یہ امریکی آپریش بھی ترکی میں موجود امریکی بیس سے کیا گیا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ شاید امریکہ کو یہ خطرہ بھی تھا کہ اگر ابو بکر البغداد ی ترک افواج کے ہاتھ زندہ سلامت آ جاتا ہے تو پھر امریکیوں کے بہت سارے ایسے راز جو دنیا کے سامنے نہیں آئے ہیں وہ سب کے سب آشکار ہو جائیں گے اور امریکہ کا سیاہ چہرہ مزید دنیا کے سامنے عیاں ہو جائے گا تاہم امریکی سرکار نے اس علاقہ میں جلد بازی میں کاروائی کرتے ہوئے ابو بکر البغدادی کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کر لیا ہے۔

    کچھ ماہرین سیاسیات کاکہنا ہے کہ امریکہ کیونکہ شام و عراق میں داعش کا بانی ہے اور دنیا کو باور کروانے کی کوشش کر رہاہے کہ وہ داعش کے خلاف جنگ میں سرگرم عمل ہے تاہم اب ایسے حالات میں کہ جب شام، ایران، روس اور حزب اللہ نے مشترکہ طور پر لبنان، شام اور عراق میں داعش کا صفایا کیا ہے تو امریکہ خطے میں داعش کے خلا ف اس کامیابی کو اسلامی مزاحمتی بلاک کے حصہ میں نہیں جانے دینا چاہتا اور یہی وجہ ہے کہ امریکی سرکار نے بغدادی جیست دہشت گرد کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کر کے خطے میں داعش پر فتح حاصل کرنے کا تمغہ اپنے سینہ پر سجانے کی ایک ناکام کوشش کی ہے لیکن دنیا پہلے ہی اس بات کو جانتی ہے کہ امریکہ اور اسرائیل ہی ہیں کہ جنہوں نے خطے کے عرب خلیجی ممالک کے اشتراک سے نہ صرف داعش بلکہ متعدد کئی دہشت گرد گروہ تشکیل دئیے تھے کہ جن کا کام شام کی تقسیم، عراق کی تقسم اور فلسطین کاز کو نقصان پہنچا کر صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کی بقاء کویقینی بنانا تھا۔

    چند ایک ماہرین نے امریکی سرکار کے داعش کے سرغنہ کو ہلاک کرنے کے دعویٰ پر سوالیہ نشان لگاتے ہوئے کہا ہے کہ آخر ایسی کون سی قیامت آئی ہے کہ امریکہ نے گذشتہ سات برس میں تمام تر ٹیکنالوجی اور وسائل کے باوجود داعش جیسی دہشت گرد تنظیم کے سربراہ کو نشانہ نہیں بنایا اور سات سال تک شام و عراق میں داعش کی جانب سے جاری خونریزی پر کوئی ایسا حملہ سامنے نہیں آیا کہ جس میں داعش کے عمومی دہشت گردوں کو بھی قتل کیا گیا ہو۔آخر اب کس طرح امریکہ کو معلوم تھا کہ داعش کا دہشت گرد ابو بکر البغدادی ادلب کے علاقہ میں عین اسی مقام پر موجود تھاکہ جہاں امریکی فوج نے حملہ کیا او ر اسے ہلاک بھی کر دیا۔آخر یہ حملہ داعش کے شام و عراق میں قابض ہوتے وقت کیوں نہیں کیا گیا تھا کہ جس زمانے میں ابو بکر البغدادی جیسے دہست گرد کھلم کھلا علاقوں میں خون کا بازار گرم کر رہے تھے۔یہ رائے رکھنے والے ماہرین کاکہنا ہے کہ امریکہ دراصل روز اول سے ہی ابو بکر البغدادی کے ساتھ رابطے میں تھا اور خطے میں انارکی اور دہشت گردی کروانے کے لئے سرگرم عمل تھا تاہم اب بغدادی کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کر کے امریکہ کھیل کو اپنی طرف پلٹ کر دنیا کے سامنے ہیروبننے کی ناکام کوشش کر رہا ہے اور شاید ایک بہانہ بھی تلاش کر لیا گیا ہے تا کہ شام سے امریکی فوج کے انخلاء کو باعزت طور پر انجام دے پائے۔

    ایک اور سیاسی رائے کے مطابق ماضی میں امریکی صدر نے طالبان دہشت گردوں کے سرغنہ اسامہ بن لادن کو پاکستان میں ایک فوجی آپریشن میں ہلاک کرنے کے اعلان کے بعد دوسرا امریکی الیکشن جیت لیا تھا تاہم موجودہ امریکی صدر نے بھی اپنے پیش روصدر کی روایت کے مطابق خود اپنے ہی پیدا کردہ دہشت گرد سرغنہ ابو بکر البغدادی کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے تاکہ امریکی عوام آنے والے انتخابات میں ایک مرتبہ پھر ڈونالڈ ٹرمپ کا انتخاب کر سکیں۔

    خلاصہ یہ ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان نے بھی اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس خبر کو صرف ذرائع ابلاغ سے لیا گیا ہے جبکہ اقوام متحدہ کے پاس ایسا کوئی طریقہ کار موجود نہیں کہ اس ہلاکت کی تصدیق کی جائے۔بہر حال امریکہ خطے میں اپنی ناکامیوں کو چھپانے اور اپنے دہشت گردانہ عزائم پرپردہ ڈالنے کے لئے چاہے اپنے بنائے ہوئے ہزاروں ابو بکر البغدادی بھی ہلاک کرنے کا دعویٰ کر لے تو امریکہ کے انسانیت مخالف جرائم میں کسی طرح کمی نہیں آئے گی۔دنیا کی نظر میں امریکہ کل بھی لاکھوں مظلوم انسانوں کا قاتل تھا اور آج بھی امریکہ کی پوزیشن دنیا کے عوام کی نگاہوں میں ایک قاتل اور ظالم سے بڑھ کر نہیں ہے۔

    تحریر:صابر ابو مریم
    سیکرٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان
    پی ایچ ڈی ریسرچ اسکالر، شعبہ سیاسیات جامعہ کراچی

  • موسم سرما” رشتوں کا موسم،            تحریر : احمر مرتضٰی

    موسم سرما” رشتوں کا موسم، تحریر : احمر مرتضٰی

    موسم سرما” رشتوں کا موسم

    تحریر : احمر مرتضٰی

    یوں تو اللہ رب العزت کے تخلیق کردہ بارہ کے بارہ مہینے ہی اپنی الگ الگ خصوصیات رکھتے ہے لیکن ستمبر سے لے کر مارچ تک کا موسم جو پاکستان بھر میں بالخصوص اور دنیا بھر میں بالعموم سردی کا موسم کہلاتا ہے اور یہ موسم جہاں عام لوگوں کی اکثریت اور سیاحت کے شوقین افراد کا پسندیدہ موسم ہے وہی شعرا حضرات بھی صدیوں سے اب تک ان موسموں کی خوبصورتیوں ،رعنائیوں اور دیگر ڈھیروں خوبیوں پر طبع آزمائی کرتے آرہے ہے تو دوسری طرف دیو قامت پہاڑ ان میں گھری ہوئی وادیاں اور ان کے اردگرد خم کھاتی کچی پکی سڑکیں ،غرض ہر جگہ ہر مقام جہاں برف کی سفید چادر اوڑھے نظر آتے ہے وہی ہموار اور پست سطح زمین اور اس کے باسی ان موسموں سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ ان کے شدید اثرات سے بھی بچاو کرتے نظر آتے ہے، مختصر کے ان موسموں میں ہر چیز مختلف انداز میں ڈھلتی ،بکھرتی ،سنورتی اور نکھرتی ہے،اور ہر شخص اپنی طبعیت،مزاج اور دلچسپی کے تحت اس موسم کے اثرات کو محسوس کرتا نظر آتا ہے اور سب سے بڑھ کر انسانی رویوں میں بھی ایک بڑی تغیر و تبدیلی واقع ہوتی ہے جو موسموں کے مہیب اثرات میں سے ایک ہے،لیکن اس تمام تر تمہید کے بعد راقم الحروف کا جس چیز کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے وہ یہ کہ انسانی طبعیت میں موجزن جذبات کے سیلِ رواں میں جیسی طغیانی ،تغیر، پھڑپھڑاہٹ سرما کی دبک کر بیٹھا دینی والی سرد صبح و راتوں،تاحدِ نگاہ چھائی دھند،روئی کے گالوں کی مانند گرتی برف،یخ بستہ ہوائیں پیدا کرتی ہے یہ امتیاز کسی موسم کو حاصل نہیں ہے اور اگر ان مچلتے ہوئے جذبات کا رخ بچھڑ جانے والوں،مقدس رشتوں کو توڑ جانے والوں ، بیچ منجدھار کے چھوڑ جانے والوں اپنوں کی جدائی کی طرف ہوجاے تو پھر ہر ذی روح کو منجمد کر بدینی والی بارعب ٹھنڈ کے باوجود آنکھوں سے ایک ایسا سمندر جاری ہوجاتا ہے جس سے مضبوط عزائم کے ساتھ ضبط کئے گئے زخموں پر تہہ در تہہ جمی ہوئی برف لمحوں میں پگھل جاتی ہے اور انسانی آنکھیں پگھلی ہوئی برف سے جاری آبشاروں اور ندی نالوں کی مانند ہوجاتی ہے، لیکن رک جائے، ٹہرجائے اس سے پہلے کہ پگھلی ہوئی برف کا پانی سیلاب کی شکل میں آپ
    کے حوش و حواس کو بہا لیں جاے آپ کو حواس باختہ کردیں، آپ کو ہر حال میں مضبوطی سے نئی امنگ، نئے جذبے سے جمی ہوئی تہہ در تہہ برف بنے رہنا ہے بچھڑ جانے والوں کے لیے اچھے انجام کی دعا کی برف،رشتوں کی ڈور کو توڑ جانے والوں کے لیے ملانے والی اورحق پر ہونے کے باوجود جھک جانے والی برف،زندگی بھر کا وعدہ کرکے لہروں کے سپرد کردینے والوں کے لیے وہ برف جس کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا بھی کسی نا کسی چیز کو کنارے لگا ہی دیتا ہے اور خود کو بنائے تہہ در تہہ جمی ہوئی وہ برف جوسختی کے باوجود اپنے اوپر چلنے والوں کے لیے کسی نقصان کا باعث کم ہی بنتی ہے اور اپنی سخت سطح کے باوجود ہر آنے جانے والوں کے لیے رستہ بھی ہموار کرتی ہے اوراس کے ساتھ ساتھ پاؤں کے نشانات اپنی دہلیز پر سجاکر راہنما کا کردار بھی ادا کرتی ہے

    یاد رکھیے ! رشتوں کے موسم میں تغیر و تبدیلی تا قیامت جاری و ساری ہے
    مگر یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ نے سرما کی برف کا کردار ادا کرنا ہے یا گرما کی جھلسا دینے والی دھوپ کا جس کی زد میں آکر ہر جاندار بلکتا اور ہمت ہارتا نظر آتا ہے !

    نوٹ: اپنوں کے غم بے شک بھلائے نہیں جاتے اور ہر بار زیادتی پر ضبط کیا نہیں جاتا مگر ہمارے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس معاملے میں کیا طرز عمل اختیار کیا اس کے لیے ضروری ہے کہ سیرت طیبہ کا مطالعہ کیا جائے
    اور خوب غور سے کیا جائے !