آج کا وقت اپنے آپ کو دوہرا رہا ہے جنگ عظیم دوم کے بعد دنیا ایک بہت بڑی تباہی سے گزر کر امن تلاش کرنے میں مصروف عمل ہوئی۔ دنیا میں طے پانے لگا کہ اب جنگوں کی بجاے امن کے راستے کو اختیار کیا جائے اقوام متحدہ کا ادارہ معرض وجود میں آیا۔ تمام ممالک کو شامل کیا جانے لگا۔26 اکتوبر 1945 میں قائم ہونے والے یو این او کے وہ کردار جو اپنے قوانین کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ آرٹیکل 2 کے تحت تمام ممالک کو برابری کی حیثیت حا صل ہو گی۔ تمام دنیا کے ممالک کو جنگوں سے محفوظ کیا جائے گا۔یو این او کی مکاری اور ظلم پر مبنی ضابطے آج فلسطین پون صدی کا قصہ بن چکا نسلوں کی نسلیں گزر گئی ان کا کردار صفررہا۔ اس موقع پر یو این کاکردار اسرئیل کی لونڈی کا ہے۔نوے کی دہا ئی میں امریکہ نے عراق پر حملہ کردیا اس کے بعد دوبارہ بیس سو دس کی دہائی میں دوسرا حملہ کر دیا یو این کی نیٹو فورسزنے پورا کردار ادا کیا اور امریکہ کے شانہ بشانہ لڑے ۔روس نے 1979 میں افعانستان میں فو جیں داخل کر دیں یو این او نے گونگے شیطان کا کردار ادا کیا۔ برما میں مسلمانوں کی نسل کشی پچھلے ستر برس سے جاری ہے موجودہ دور کے جدید میڈیا نے اس یو این کا پول کھول دیا کہ لاکھوں انسان قتل کر دیے گئے مگریو این اوتماشائی بنا رہا، شام اجڑ گیا مگر اس یواین کی ایک دن بھی غیرتنہیں جاگی، بوسنیا میں لاکھوں افراد کا اجتماعی قتل عام کر کے انسانوں کو زندہ اس لیے گاڑ دیا گیا کہ کہ وہ مسلمان تھے 1527 عیسوی میں بننے والی بابری مسجد کو 6 دسمبر 1992 ء میں منہدم کر دیا گیا پورے ہند وستان میں فسادات شروع ہو گئے صرف گجرات میں 28 ہزرا مسلمانوں کابے دردی کے ساتھ قتل عام کیا گیا آج یو این ایسے شحص کو گجرات کا جو قصائی نازی ہٹلر تھا اور جو قتل عام مین پیش پیش تھا اسے وزیر اعظم تسلیم کرلیتی ہے۔ یو این منہ چڑہاتی رہ گئی 84 ء میں آپریشن بلیو سٹار کیا گیا معصوم اور نہتے لوگوں کو سرعام ٹینکوں کے گولوں کا نشانہ بنایا گیا یو این او یہاں مائی میسنی کا کردار ادا کرتی رہی، عراق میں امریکی دہشت گرد فوج کے ہاتھوں مرنے والوں کی تعداد 10 لاکھ ہے فلسطین میں اسرئیل کی دہشت گرد فوج کے ہاتھوں مرنے والے مسلمانوں تعداد 5 لاکھ ہے، افغانستان میں امریکی اور روسی دہشت گردوں کے ہا تھوں مرنے والے مسلمانوں کی تعداد 21 لاکھ ہے،شام میں ایک اندازے کیمطابق 2 لاکھ پچاس ہزار افرد مارے گئے 80 لاکھ لوگ مہاجر ہیں کیمپوں میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔کشمیر میں 47ء سے اب تک 4 لاکھ لوگ دہشت گردی کیبھینٹ چڑھ گئے۔ اب تک پچھلے 35 سالوں میں چالیس لاکھ مسلمان شہید کردیے گئے اور اقوم متحدہ کا کردار اور فیصلہ کیا مسلمان دہشت گردہیں دنیا کے مسلمانوں کو سمجھنا ہوگا اوراس دھوکے سے باہر نکل کر اپنے مسائل کے کے لیے مل بیٹھنا ہو گا اپنی علیحدہ یو این او بنانا ہوگی۔ یہ والی یواین او دنیا کے عیسائیوں اور یہودیوں کے لیے ہے انہی کے مسائل حل کرتی ہے۔ مشرقی تیمور ہو جنوبی سوڈان آج کشمیر میں چالیسواں دن ہے کرفیوکا یہ کرفیوں عیسائیوں کے کسی ملک میں لگا ہوتا آج یو این کی نیندیں حرام ہوتیں۔ آج کوئی ایسا لمحہ نہیں کہ وزیراعظم عمران خان او ر انکی ٹیم ہمہ وقت ۰۴دن یو این کو صدا دے رہی ہے مگر طاقتوروں کی لونڈی کان دھرنے کے لیے تیارہی نہیں پوری دنیا کے مسلمانوں اور دیگر مذاہب کے کمزور لوگوں کو بڑا فیصلہ کرناہوگا اور کمزوروں کومل کر ایک بڑی قوت بننا ہوگا جو عالمی ظالم سامراجی قوتوں سے ٹکرا کر اسے پاش پاش کردے۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان کو مشورہ دیتا ہوں کہ اگر27 ستمبر سے پہلے پہلے کشمیر میں کرفیو ہٹا کر ان کے بنیادی حقوق بحال نہیں کیے جاتے تو یو این او کے اجلاس کے بائیکاٹ کا اعلان کریں۔جب اس یو این او نے مسئلہ حل ہی نہیں کرنا وہاں جا کر صرف تقریر کر کے آجانا ہے تو بائیکاٹ بہتر ین پیغام ہو گا کر کے دیکھ لو جن کے پیچھے آپ بھاگ رہے ہیں یہ چل کر آپ کے پاس آئیں گے۔
Category: بلاگ

نجی تعلیمی ادارے سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق فیسیں لیں ، وفاقی وزیرتعلیم کی ہدایت
اسلام آباد : ملک میں نجی تعلیمی اداروں نے اپنی مرضی کا نظام کیا ہوا ہے ، اب ایسے نہیں چلے گا جو تعلیمی اداراہ چلانا چاہتا ہے وہ شرائط کا بھی پابند ہوگا ، ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیرتعلیم شفقت محمود نے اپنے پیغام میں کیا ،شفقت محمود نے کہا کہا نجی تعلیمی ادارے سپریم کورٹے کے احکامات کے مطابق فیس میں اضافہ کریں
·
وفاقی وزیرتعلیم شفقت محمود نے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نجی تعلیمی اداروں سے متعلق زیادہ فیسیں لینے کی بہت زیادہ شکایات آرہی ہیں،میری ان سے درخواست ہے کہ براہ کرم سپریم کورٹ کے حکم کےمطابق فیسیں لیں ، شفقت محمود نے خبردار کیا کہ جو ایسا نہیںکرے گا وہ آگے نہیں چلے گا ، بے لگام نہیں ہونے دیںگے ، ایک سسٹم موجود ہے اس کے مطابق کام کریںیاد رہے کہ لاہور ہائی کورٹ میں بھی نجی سکولوں کی طرف سے بہت زیادہ فیسیں لینے کے حوالے سے ایک درخواست کی سماعت ہورہی ہے ، ہائی کورٹ سیکرٹری ایجوکیشن سے جواب مانگ رہی ہے اور سیکرٹری ایجوکیشن بہانے اور ٹال مٹول سے کام لے رہے ہیں،

پاکستان میں تعلیمی معیار اساتزہ کی ناکامی یا حکومت کی : علی چاند
تکنیکی معنوں میں تعلیم سے مراد وہ رسمی طریقہ کار ہے جس کے ذریعے ایک معاشرہ اپنی اخلاق و عادات اپنی آنے والی نسل کو منتقل کرتا ۔ تعلیم کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پہلی وحی کا پہلا لفظ ہی ” پڑھ ” تھا ۔ حدیث شریف میں علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض کیا گیا ہے ۔ غزوہ بدر میں جب کفار قیدی بناٸے گے تو انہیں اس شرط پر رہاٸی دی گٸی کہ وہ دس دس مسلمان بچوں کو پڑھنا لکھنا سیکھا دیں ۔
ترقی یافتہ ممالک میں شرح خواندگی دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ وہاں کے تقریبا سو فیصد لوگ ہی تعلیم یافتہ ہیں ۔ اور جب محکوم قوموں ،قرضوں کے بوجھ تلے دبی قوموں کے حالات کا جاٸزہ لیا جاٸے تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہیں کہ ان اقوام میں شرح خواندگی انتہاٸی کم ہے اور ایسی قومیں تعلیم پر بالکل بھی توجہ نہیں دیتیں ۔ تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی کی ضمانت ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں تعلیم کی اہمیت پر کسی بھی حکومت نے زور نہیں دیا اور نہ ہی تعلیمی بجٹ میں کوٸی خاطر خواہ اضافہ کیا ہے ۔ مختلف حکومتوں نے ابتداٸی تعلیم مفت تو کر دی لیکن معیار تعلیم بلند نہ کیا جاسکا ۔ پاکستان میں دو طرح کے تعلیمی نظام موجود ہوں ایک امیر کے لیے دوسرا غریب کے لیے ۔ امیر کا بچہ تو پراٸیویٹ سکولوں کی مہنگی ترین فیس ادا کر بہتر تعلیم حاصل کر لیتا ہے جبکہ غریب کا اتنے پیسوں میں پورا مہینہ چولہا جلتا ہے ۔ پاکستان میں سکول میں داخل ہونے والے بچوں کی تعداد بھی سکول چھوڑنے والے بچوں سے کافی کم ہے ۔ اس کی بنیادی وجہ ایک تو والدین کی عدم دلچسپی ہے دوسرا اساتذہ کا سخت ترین رویہ اور مار پیٹ ہے جو غریب کے بچوں کو جانور سمجھ کر جیسا مرضی سلوک روا رکھتے ہیں اور بچہ تنگ آکر خود ہی سکول سے بھاگ جاتا ہے ۔ تعلیمی معیار میں کمی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہاں اساتذہ کو صرف تنخواہ سے غرض ہے ، اس بات سے کوٸی غرض نہیں اس ملک کا مستقبل سنور رہا ہے یا بگڑ رہا ہے ۔ پاکستان میں آج بھی وہی نظام تعلیم راٸج ہے جو آج سے 30 40 سال پہلے تھا ۔ وہی طریقہ ہاٸے تدریس وہی نصاب ، اگر نصاب میں کوٸی تبدیلی آتی بھی ہے تو صرف وہی جس سے مسلمانوں کے احساسات مجروح ہوں ، جس سے مسلمانوں کے بنیادی عقاٸد کو چھیڑا جا سکے ۔ اساتذہ سمجھتا ہے اس کو تنخواہ مل رہی ہے اس لیے اسے جدید طریقہ تدریس کی طرف دھیان دینے کی کوٸی ضرورت نہیں ۔
پاکستان میں ابھی تک بہت سے گھوسٹ سکول ہیں جو حکومتی کھاتے میں تو ہیں ، اساتذہ کو تنخواہیں اور سکول کو فنڈ مل رہا ہے لین اس سکول کا دنیا میں کوٸی وجود نہیں ۔ مختلف حکومتوں نے فیس معاف کر کے کتابیں مفت تقسیم کر دیں ، اساتذہ کے لیے بھی لازمی قرار دیا گیا کہ ہر سکول میں بچوں کی اتنی تعداد ہو ،لیکن نتیجہ پھر بھی صفر ہےکیونکہ گورنمنٹ کی توجہ نہ ہونے کے برابر ہے ۔ حکومت تو سرکاری سکول ، ان میں راٸج طریقہ تدریس ، دیگر سہولیات اور معیار تعلیم کو تو تب توجہ دے جب ان عوامی نماٸندوں کے بچے ان سکول میں داخل ہوں ۔ عوامی نماٸندوں ، حکومتی وزیروں ، مشیروں کے بچے تو ملک سے باہر رہتے ہیں ، وہی کے رسم ورواج اپناتے ہیں ، وہی سے تعلیم حاصل کرتے ہیں اس لیے ان لوگوں نے کبھی پاکستانی بچوں کو اپنا بچہ سمجھنا گوارا نہیں کیا تو تعلیم اپنے بچوں جیسی کیسے دلواٸیں ۔ ویسے بھی اگر حکومتی وزیر ، مشیر پاکستانی بچوں کا معیار تعلیم اپنے بچوں جیسا کر لیں تو پھر یہ سیاستدان اور ان کے بچے حکمرانی کس پر کریں ۔اس لیے ایک سازش کے تحت ان سیاستدانوں اور ملک کی بھاگ دوڑ سنبھالنے والوں نے کبھی تعلیم پر توجہ ہی نہیں دی ۔
ترقی یافتہ ممالک میں بچے کو نصابی سرگرمیوں کے علاوہ ہنر بھی سکھایا جاتا ہے تاکہ بچہ عقل و شعور حاصل کر کے اپنا مستقبل سنوار سکے ۔ جبکہ پاکستان میں رٹہ سسٹم کے ذریعے کلرک وغیرہ ہی بنانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ ہمارے ملک میں انجنیرنگ ، طب ، وکالت ، اور صنتی و ساٸنسی تعلیم دی جاتی ہے اس کا معیار بھی ترقی یافتہ ممالک سے انتہاٸی کم ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان میں ہر طرح کی تعلیم پاکستان کی قومی زبان میں ہی دی جاٸے تاکہ لوگ جو پیسہ انگریزی سیکھنے میں لگاتے ہیں اس کی بچت بھی کر سکیں اور اپنی قومی زبان میں تعلیم ہونے کی وجہ سے بہت سے پیچیدہ تعلیمی مساٸل بھی خود حل کر سکیں گے ۔ انگریزی کو رٹہ لگانے کی بجاٸے تعلیم کو سمجھ کر حاصل کر سکیں ۔ جب تک مسلمان تعلیم حاصل کر کے اپنی عقل و دماغ سے کام لیتے ہوٸے کاٸنات میں غوروفکر کرتے رہے تب تک دنیا کے حکمران رہے اور جب سے مسلمان انگریزوں کی تعلیم کو انگریزی میں رٹہ لگاتے رہے آزاد ہو کر بھی انگریزوں کے محکوم ہیں ۔
پاکستان حقیقی معنوں میں تبھی ترقی کرے گا جب یہاں اسلامی تعلیمات کے مطابق معیار تعلیم کو بلند کر کے ، معیاری طریقہ تدریس کے ذریعے ، شفیق اساتذہ کی زیر نگرانی جدید تعلیم دی جاٸے گی ۔ تاکہ بچے کی عقل و شعور کی گرہیں کھلیں اور وہ کاٸنات میں غور وفکر کر کے تجربات کے ذریعے کلرک بننے کی بجاٸے دنیا کی حکمرانی کی سوچ رکھیں ۔

قائداعظم یونیورسٹی ایک مرتبہ پھر دنیا کی بہترین جامعات میں شامل
اسلام آباد :پاکستانی یونیورسٹیز بھی دنیا میں اپنا مقام آپ پیدا کرنے لگیں، دنیا بھر کی یونیورسٹیز کی رینکنگ کرنے والی برطانوی فرم نے اس سال پھر نئ فہرست شائع بھی کی ہیںاور جاری بھی کی ہیں ، تفصیلات کے مطابق قائداعظم یونیورسٹی دنیا کی 500 بہترین جامعات کی فہرست میں ایک مرتبہ پھر جگہ بنانے والی واحد پاکستانی یونیورسٹی بن گئی۔
ذرائع کے مطابق برطانوی میگزین ’ٹائمز ہائیر ایجوکیشن‘ (ٹی ایچ ای) نے دنیا کی 500 بہترین جامعات کی فہرست جاری کردی، جس میں 92 ممالک کی 1400 جامعات کا جائزہ لیا گیا، اس فہرست میں 14 پاکستانی جامعات بھی شامل ہیں۔
برطانوی میگزین ’ٹائمز ہائیر ایجوکیشن‘ (ٹی ایچ ای) کی طرف سے جاری اس فہرست کے مطابق پاکستان کی مزید باقی 13 یونیورسٹیز میں کومسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد، زرعی یونیورسٹی فیصل آباد، انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد، لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز، یونیورسٹی آف پنجاب، بہاؤالدین ذکریا یونیورسٹی، یونیورسٹی آف انجینیئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور، گورنمنٹ کالک یونیورسٹی لاہور، یونیورسٹی آف پشاور، راولپنڈی زرعی یونیورسٹی، یونیورسٹی آف سرگودھا اور یونیورسٹی آف ویٹئرنری اینڈ اینیمل سائنسز لاہور شامل ہیں۔
یاد رہے کہ ہر سال عالمی سطح پر جامعات کی درجہ بندی ہوتی ہے ، لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان 14 یونیورسٹیز کو یہ اعزاز حاصل ہوا ہے اور وہ عالمی درجہ بندی میں شامل ہوگئی ہیں

قوم پرستی اب کشمیر کو نگلنے کے لیے بے تاب تحریر: عبدالرحمن
کشمیر میں چند قوم پرست میڈیا کی توجہ مبذول کرنے اور فری کشمیر کے مردہ ڈھانچے میں دوبارہ جان ڈالنے کے لیے اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئے ہیں اور اپنی سیاست کشمیریوں کے خون سے چمکانے کے لیے بے تاب ہیں اور نہتے لوگوں کو لائن آف کنٹرول کو کراس کرنے پر اکساکر ایک سفاک دشمن کے سامنے کھڑا کرنا چاہتے ہیں حالانکہ یہ وہی لوگ ہیں جو ماضی میں خونی لکیر روندنے والوں کے خلاف رہے ہیں اور انہیں کشمیر کا دشمن گردانتے آئے ہیں ان لوگوں کے نعروں اور باتوں سے ان کی پاکستان کے خلاف نفرت بالکل واضح ہے اور حسب سابق تمام ریاست مخالف عناصر ان کی حمایت میں سرفہرست نظر آرہے ہیں
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ایسی کیا وجہ ہے کہ کوئی نہ کوئی گروہ پاکستان میں اچانک سے اٹھ کھڑا ہوتا ہے اور وہ ریاست کو للکارنا شروع کر دیتا ہے اور لوگوں کو گمراہ کرکے اپنے ساتھ ملانے میں بھی بظاہر کافی حد تک کامیاب نظر آتا ہے باقی گروہوں سے صرف نظر کرتے ہوئے فی الوقت ہم کشمیری قوم پرستوں کو اگر دیکھیں تو ہمیں یہ بات واضح نظر آتی ہے کہ پروپیگنڈہ ہمیشہ کسی سچے یا جھوٹے واقعہ یا سانحہ کی بنیاد پر ہوتا ہےکشمیر کے موجودہ حالات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں اور ہر پاکستانی کشمیر کے معاملے پر انتہائی غمزدہ اور غصے میں ہے
اور تقریباً ہر پاکستانی ہی کشمیر پر موجودہ حکومتی اقدامات کو سابقہ سے تو کچھ بہتر مگر ناکافی ہی سمجھتا ہے اور وہ اس بات حق بجانب ہے کہ اب تک اگر ہم یہ کہیں کہ موجودہ حکومت دنیا کی توجہ کشمیر کی جانب کرانے میں کچھ کامیاب تو نظر آرہی ہے لیکن 5 ہفتوں سے کرفیو میں سسکتے زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا کشمیریوں کو رتی برابر بھی سہارا یا ریلیف دلانے میں ناکام رہی ہے
کیا ہماری شہ رگ کا صرف یہی تقاضا ہے کہ ہم اسے کچلتے ہوئے دیکھ کر صرف اور صرف اقوام عالم اور غیبی امداد کے منتظر نظر آئیںہم آخری حد تک جانے کی بات تو کرتے ہیں لیکن ہم نے اب تک ابتدا بھی کی ہے..؟ یقیناً آخری حد سے مراد جنگ ہی ہے لیکن کیا ہم نے بھوکے کشمیریوں کو راشن دلانے کے لیے کوئی شروعات کی ہے!؟
کیا ہم نے بیماروں کے لیے ادویات پہچانے کے لیے کوئی اقدامات کیے ہیں!؟
یہ تو بنیادی انسانی حقوق ہیں اور مجھے یقین ہے کہ ان سے پاکستان کا "سوفٹ امیج” بھی خراب نہ ہوگا اور اگر ہم یہ بھی نہیں کر پارہے تو ہمارےپاس اس کے نتائج بھگتنے اور ہاتھ مسلنے کے علاوہ کچھ نہیں رہے گا
یہ کیا تماشا ہے ، لوگ نجی سکولوں کے ہاتھوں لٹ رہے ہیںاور سیکرٹری ایجوکیشن کو پرواہ تک نہیں ، عدالت
لاہور :یہ کیا تماشا ہےکہ لوگ پرائیویٹ سکولوں کے ہاتھوں لٹ رہے ہیںاور سیکرٹری ایجوکیشن کو پرواہ تک نہیں، عدالت بلاتی ہے تو آتے نہیں، کیوں نہ عدالت سیکرٹری ایجوکیشن کو گرفتار کرکے عدالت پیش کرنے کے احکامات صادر کردے ، لاہورہائی کورٹ سخت برہم
ذرائع کے مطابق آج پھر لاہورہائی کورٹ میں نجی سکولوں میں اضافی فیسوں کی وصولی کے خلاف دائر درخواست کی سماعت ہوئی لیکن اس روز بھی سیکرٹری ایجوکیشن عدالت کے حکم کے باوجود حاضر نہیں ہوئے جس پر عدالت بہت زیادہ برہم ہوئی اور کہا کہ کل اگر سیکرٹری ایجوکیشن عدالت کے روبرو پیش نہ ہوئے تو پھر ان کو گرفتار کرکے پیشن کرنے کا حکم دیا جاسکتا ہے،
بس ایک وقت مقرر ہے ! یمنیٰ زیدی نے تو یہ کہہ کر حد ہی کردی
باغی ٹی وی کے مطابق آج سماعت کے دوران بڑے دلچسپ جملے سننے کو ملے ، ایک موقع پر عدالت نے کہا کہ کیوں آج سیکرٹری دفتر نہیں آئے، عدالت تونوبجے لگتی ہے آپ اب کیاکرنےآئے ہیں ،کیا عدالتیں آپ کے دفاتر ہیں جہاں آپ چکردیتے رہیں، عدالت
عدالت کو بتایا گیا کہ سیکشن سات پرعمل درآمد کے لئے کیا اقدامات کئے جارہے ہیں جس پر عدالت نے کہا کہ اگر اتنے زیادہ کامے ہیںتو پھر آج یہاں لوگوں کو نہ آنا پڑتا، ایک موقع پر جب عدالت نے پوچھا کہ سیکرٹری ایجوکیشن کہاں ہے تو ڈپٹی سیکرٹری نے ٹالتے ہوئے جواب دیا کہ کنفرم نہیں پتہ کہ سیکرٹری سکولزکہاں ہیں ، عدالت کو بتایا گیا کہ پچھلے دنوں سیکرٹری سکولز وزیر اعلی کے ساتھ مسلسل میٹنگز میں مصروف رہے
مریض سے فیس لیتے ہوئے ترس نہیں آتا اور ٹیکس دینے کی بات ہی نہیںکرتے ، چیئرمین سخت برہم
ذرائع کے مطابق آخر میں عدالت نے پھر سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ خدارا خوف کریں لوگ رسو ہوگئے ان پرائیویٹ سکولوں کے ہاتھوں اور سیکرٹری ایجوکیشن ٹس سے مس نہیں ہوئے ، لگتا ہے کہ یہاں جو مرضی کوئی کرے اس کو کوئی پوچھنے والانہیں ،درخواست گزار نے آخر میں پھر درخواست کی کہ جناب پرائیویٹ سکولوں نے مختلف انداز سے لوٹنا شروع کیا ہوا ہے ، یہ سکول اضافی فیسوں کے نام بدل کروالدین سے ہرماہ ہزاروں روپے بٹورے جارہے ہیں، مہربانی فرما کر ہماری جان بخشی کرائی جائے

یونیورسٹی سیکورٹی گارڈ قتل ، کس نے کیا خوف وہراس پھیل گیا
اسلام آباد :غریب ملازم قتل کس نےکیا ابھی تک معاملہ حل نہیں ہوسکا ، اطلاعات کے مطابق کامسیٹس یونیورسٹی میں سیکورٹی گارڈ کی لاش ملنے پر خوف وہراس پھیل گیا ۔اس واقعہ کےبعد یونیورسٹی میں بڑا خوف پایا جارہا ہے، اور حکام قاتل تک پہنچنے کی کوشش کررہے ہیں،
بس ایک وقت مقرر ہے ! یمنیٰ زیدی نے تو یہ کہہ کر حد ہی کردی
پولیس حکام کے مطابق یونیورسٹی میں قتل ہونے والا 18سالہ سیکورٹی گارڈ محمدراسب نجی سیکورٹی کمپنی کا گارڈ یونیورسٹی کی 6نمبر پوسٹ پر تعینات تھا،مرحوم کے جسم پر گولی کا نشان ہے، سیکورٹی گارڈ کی رائفل اس کے قریب سے ہی ملی ہے۔پولیس نے لاش قبضہ میں لے کر قانونی کارروائی شروع کردی، دوسری طرف یونیورسٹی حکام اور پولیس کا کہنا ہے کہ کہیں یہ دشمنی کا شاخصانہ نہ ہو

مقبوضہ وادی میں کرفیو کے انتالیس دن پاکستانی خواتین کیا کریں؟؟؟ تحریر خنیس الرحمن
آج وادی کشمیر میں کرفیو کو ایک ماہ سے زائد دن بیت چکے ہیں۔پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار دیکھا عوامی سطح پر لوگوں میں کشمیریوں کے لئے تڑپ پیدا ہوئی۔کیوں نا ہوتی کشمیرتو ہماری شہ رگ ہے۔کشمیرکے بغیرتو پاکستان ہی نامکمل ہے۔کشمیر سے تو ہمیں دینی محبت ہے۔وہ اپنے آپ کو پاکستانی سمجھتے ہیں اورہیں بھی تو پھر ہم کیوں نا ان کے لیے تڑپیں۔وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے کشمیر آور منانے کا اعلان کیا اسلام آباد سے لیکر کراچی تک پورا پاکستان وزیر اعظم کی کال پر باہر نکلا۔میں نے بذات خود اس چیز کو محسوس کیاکہ سب پاکستانی مسلکی و جماعتی تعصبات سے نکل کر سڑکوں پر نکلے۔اب بھی ہمیں خاموش رہنے کی ضرورت نہیں کشمیر میں ابھی تک ایک ماہ گزرنے کے باوجود کرفیو نہیں ہٹایا گیا۔ہمیں مزید تحریک کو تیز کرنا ہوگا۔
آپ جانتے ہیں کہ ہر تحریک میں خواتین کا کلیدی کردار رہا ہے۔اگر آپ آج سے چودہ سو سال پیچھے چلے جائیں تو اسلام کی سربلندی کے لیے جدوجہد کرنے والی خواتین کی آپ کو کثیر تعداد نظر آئے گی۔سمیہ بنت خباط ؓ سے لے کر اندلس کی اس بیٹی تک جس کے بارے اقبال رحمہ اللہ علیہ کچھ یوں منظر کشی فرماتے ہیں
یہ سعادت،حور صحرائی!تری قسمت میں تھی
غازیان ِدیں کی سقائی تری قسمت میں تھی
جب پاکستان بنا تو اس وقت بھی خواتین نے انگریزوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے آزادی کی بھرپورتحریک چلائی۔خواتین کے اس کارواں میں موجود مادر ملت فاطمہ جناح،بیگم محمد علی جوہر،بیگم رعنا لیاقت علی،بیگم سلمی تصدق حسین ودیگر خواتین کو آج بھی تاریخ کے اوراق میں یاد رکھا جاتا ہے۔قوم ان کی خدمات پر فخر کرتی ہے اور انہیں خراج عقیدت پیش کرتی ہے۔جیسا کہ میں پہلے بھی ذکر کرچکا ہوں پاکستان ابھی نامکمل ہے کیونکہ اس کی شہ رگ بدن سے جدا ہے۔آج کشمیر کے اندر بھی آزادی کے لیے خواتین کا کردار کسی سے مخفی نہیں۔سیدہ آسیہ اندرابی آج مردوں کے شانہ بشانہ کشمیر کی آزادی کے لیے جدوجہد کررہی ہیں۔آسیہ اندرابی صاحبہ ایک ایسے مرد مجاہد کی رفیقہ حیات ہیں جس نے اپنی آدھی زندگی سلاخوں کے پیچھے گزار دی۔آسیہ اندرابی صاحبہ نے بھی اپنی زندگی کشمیر خواتین کی اصلاح اورتحریک آزادی کے لئے وقف کر رکھی ہے۔وہ کشمیر کی سب سے متحرک تنظیم دختران ملت کو چلا رہی ہیں۔کہا جاتا ہے کہ کشمیر کی تاریخ میں کئی سیاسی و دینی جماعتوں نے کروٹیں بدلیں اپنے نظریات بدلے لیکن آسیہ اندرابی صاحبہ پہلی خاتون لیڈر ہیں جو آج بھی اپنے مؤقف پر ڈٹ کر کھڑی ہیں۔وہ 6ستمبر،یوم آزادی و یوم تجدید عہد اور ہر قومی دن پر دختران ملت کے مرکزی سیکرٹریٹ میں تقریب کا اہتمام کرتی ہیں. جہاں پاکستان کا قومی ترانہ پڑھا جاتا ہے. پاکستان کا پرچم لہرایا جاتا ہے. بھارت سے یہ کہاں ہضم ہوتا ہے وہ آپا آسیہ اندرابی اور ان کی قیادت کو زندانوں می ڈال دیتا ہے. لیکن وہ باہمت خاتون پیچھے ہٹنے والی نہیں, جھکنے والی نہیں ڈٹ کر کھڑی ہے. آج انہوں نے خواتین کی ایسی کھیپ تیار کرلی ہے جو ہاتھوں میں پتھر تھامے بھارتی افواج کے سامنے سینہ سپر ہے. کشمیر کی ناجانے کتنی مائیں, بہنیں اور بیٹیاں اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرچکی ہیں.میں سلام پیش کرتا ہوں کشمیر کاز کے سب سے بڑے حمایتی جنرل حمید گل رح کی صاحبزادی کو جنہوں نے یہ بیڑہ اپنے سر اٹھایا ہے کہ پاکستانی خواتین کو یہ پیغام دیا ہے اگر کشمیر کی بیٹی کرفیو میں نکل سکتی ہے, اگر کشمیری ماں بھارتی فوج کے خوف کے باوجود باہر نکل سکتی تو پاکستان کی ماں, بہن اور بیٹی کیوں نہیں نکل سکتی. جنرل حمید گل رح کی صاحبزادی عظمٰی گل صاحبہ نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ میری سب مائیں اور بہنیں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لئے 13 ستمبر کو 4 بجے ڈی چوک پہنچیں. میں سمجھتا ہوں پاکستان کی ہر بہن, بیٹی اور ماں کو ان کی خاطر نکلنا ہوگا جن کو پاکستان کی آواز اٹھانے پر پابند سلاسل کردیا جاتا ہے .ہم نکل کر دنیا کو یہ پیغام دیں کہ ہماری مائیں اور بہنیں کشمیریوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہیں اور دنیا واقعی دیکھے کہ جاگ اٹھا ہے پاکستان…!
سعودی طالب علموں کی موجیں ہوگئیں ، کینٹینزپر چیزیں سستیں ملیں گی
ریاض : طلباء کے لیے فراہم کی جانے والی اشیاء خورونوش کے نرخ مساوی رکھے جائیں۔ کوئی بھی چیز 4 ریال سے زیادہ میں فروخت نہ کی جائے ۔ سعودی اخبار کے مطابق وزارت تعلیم کی جانب سے ملک بھرکے تمام سکولوں کو جاری کردہ سرکلر میں کہا گیا ہے کہ کینٹینز میں وہ اشیاء ہی رکھی جائیں جن کی اجازت ہے۔
سعودی وزارت تعلیم کی طرف سے جاری کردہ سرکلر میں مزید کہا گیا ہے کہ کینٹین میں فروخت کیا جانے والی تمام مصنوعات 2 سے 4 ریال مقرر کئے گئے ہیں پر فروخت کی جائیں۔ حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔دوسری جانب نجی سکولز کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وزارت تعلیم کی جانب سے جاری کردہ سرکلر پر عمل کو یقینی بنانے کے لئے کینٹین کنٹریکٹرز کو ہدایت کر دی گئی ہے ۔
پاکستانی ٹیم سری لنکا پہنچ گئی
سعودی وزارت تعلیم نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ غیر ضروری چیزوں اور مضر صحت اشیا کینٹین میں نہ رکھی جائیں، ممنوعہ اشیائے خورونوش جن میں سربند تھیلوں کے سنیکس اور سافٹ ڈرنکس شامل ہیں سکولوں میں قطعی طور پر نہ رکھی جائیں۔

وزیر خارجہ پاکستان اور اسرائیل سے یارانہ …. صابر ابو مریم
گذشتہ روز پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا ایک بیان نجی ٹی وی چینل پر دکھایا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ پاکستان اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ یہ بیان شاہ محمود قریشی نے ایسے وقت میں دیا ہے کہ جب ایک طرف کشمیر میں آگ بھڑک رہی ہے اور کشمیر کے مظلوم عوام پاکستان کی طرف امید کی نگاہیں لگائے دیکھ رہے ہیں لیکن نتیجہ میں وزارت خارجہ کی کرسی پر براجمان شاہ محمود قریشی کشمیر کامقدمہ بھی اپنے ذاتی مفادات کی آڑ میں عالمی برادری کے سامنے رکھنے میں ناکام رہے ہیں اور ان کی ناکامی کی ایک سب سے بڑی دلیل خود ان کا گیارہ ستمبر ک جنیوامیں دیا گیا وہ بیان ہے کہ جس میں انہوں نے شکست خوردہ لہجہ میں اعتراف کیا کہ یورپی ممالک ان کی حمایت نہیں کر رہے۔اس بیان کے فوری بعد پاکستانی ذرائع ابلاغ پر وزیر خارجہ کی طرف سے اسرائیل کی جعلی ریاست کی حمایت میں بیان نشر کیا گیا ہے جو یقینا شاہ محمود قریشی نے امریکی آقاؤں کی خوشنودی کے لئے دیا ہے لیکن وہ نہیں جانتے کہ اس بیان کی آڑ میں انہوں نے نہ صرف قائد اعظم محمدعلی جناح کے افکار اور امنگوں اور پاکستان سے وابستہ امیدوں کا قتل کیا ہے بلکہ ساتھ ساتھ کشمیری عوام کی پاکستان سے لگی امیدوں کو بھی تہس نہس کرتے ہوئے اپنے ذاتی مفادات کو قومی اور ملکی مفادات سے بالا تر رکھا ہے۔
وزیر خارجہ کی طرف سے اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے کا بیان در اصل شاہ صاحب کی امریکی و برطانوی وفاداری کا ایک ثبوت ہونے کے ساتھ ساتھ عرب دنیا کے چند ایک حکمرانوں کو بھی خوش کرنے کی کوشش ہے کیونکہ شاہ محمود قریشی صاحب سمجھتے ہیں کہ اگر امریکہ و برطانیہ سمیت عرب دنیا کے بادشاہوں کو انہوں نے خوش کر دیا تو پھر یقینا وزارت عظمیٰ کی کرسی کے لئے وہی بہترین امید وار قرار پائیں گے۔
پاکستان چونکہ اس وقت مشکل ترین اور نازک دور سے گزر رہا ہے جہاں پاکستان کو بھارت اور اسرائیل جیسے بیرونی دشمنوں کا خطر ہ ہے وہاں ان تمام خطرات سے بڑا خطرہ ایسے عناصر ہیں جو پاکستان میں بھارت اور اسرائیل کے مشترکہ مفادات کے لئے ان کے پے رو ل پر کام کر رہے ہیں۔ان عناصر میں ہروہ شخص سیاست دان اور سابق فوجی جرنیل اور نام نہاد علماء شامل ہیں کہ جن کی زندگیوں کا ہدف و مقصد صرف اور صرف ذاتی مفادات کا حصول ہے۔
پاکستان کے طالب علم افواج پاکستان کے سابق جنرل امجد شعیب سے سوال کرتے ہیں کہ کیا اسرائیل کے مفادات کی بات کرنا بھارت کے مفادات کی بات کرنے مترادف نہیں ہے؟ کیا بھارت اور اسرائیل کے پاکستان دشمن عزائم ایک جیسے نہیں ہیں؟کیا ایک سابق فوجی جرنیل کو یہ بات زیب دیتی ہے کہ وہ ملک دشمن قوتوں کے حق میں بیانات دے؟ایسے بیانات کی حمایت کرے کہ جس سے مملکت خداداد پاکستان کی نظریاتی اساسوں کو خطرات لاحق ہوں؟پاکستان کے طالب علم نوجوان سیاست دانوں سے زیادہ افواج پاکستان کی وفاداریوں اور فدا کاریوں پر یقین رکھتے ہیں لیکن جب ان اداروں کے اندر سے نکل کر اعلی افسران پاکستان کے خلاف سازشوں میں مصروف ہوں اور ذرائع ابلاغ کی زینت بنے رہیں تو پھر ہمارا سوال سپہ سالارسے یہ بھی ہے کہ پاکستان کے نوجوان ہنر مندان کس دروازے پر جائیں؟آج پاکستان کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں ہر نوجوان سوالیہ نگاہوں سے صدر پاکستان، وزیر اعظم پاکستان اور آرمی چیف سمیت سپریم کورٹ کے چیف جسٹس صاحب کی طرف سوالیہ نگاہوں سے دیکھ رہا ہے۔
ایسے حالات میں ہم ایک طرف کشمیرکی حمایت کا نعرہ لگا رہے ہیں تو دوسری طرف حکومت کی صفوں میں موجود کالی بھیڑیں اور وزیر اعظم صاحب کی آستین میں چھپے سانپ کشمیرسمیت فلسطین پر سودے بازی کر رہے ہیں۔اگر آج شاہ محمود قریشی کے بقول پاکستان اسرائیل سے تعلقات میں دلچسپی رکھتا ہے تو پھر بھارت کے ساتھ اپنے تمام تر تعلقات کو کس بنیاد پر ختم کیا ہے؟ پھر کس منہ سے پاکستان کشمیر کاز کی حمایت کرے گا؟ اگر فلسطین کا سودا کر دیا جائے تو پھر کشمیر پر حکومت کس طرف کھڑی ہو گی؟
وزیر اعظم پاکستان کو شاہ محمود کے ان بیانات کا نوٹس لیناچاہئیے اور قوم کو وضاحت پیش کرناچاہئے کیونکہ شاہ محمود کے اسرائیل حمایت بیان نے نہ صرف پاکستان کے عوام میں بے چینی کو جنم دیا ہے بلکہ کشمیر کی جد وجہدآزادی کو بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔حیرت کی بات ہے کہ حکومت کی صفوں میں موجود عناصر اور دیگر گماشتے کھلم کھلا ملک دشمن قوتوں کے حق میں بیان بازی کر رہے ہیں۔ایسے حالا ت میں لازم ہے کہ قانون حرکت میں آئے اور سپریم کورٹ آف پاکستان ایسے تمام عناصر کو آرٹیکل چھ کے دائرہ میں لا کر کاروائی کرے۔وزیر خارجہ کا اسرائیل سے تعلقات پر دلچسپی کا بیان پاکستان کی نظریاتی بنیادوں اورآئین پاکستان سے سنگین غداری کے مترادف ہے تاہم آرٹیکل 62 اور 63 کا اطلاق کیا جائے اور کسی بھی عوامی عہدے پر فائز نہ کیا جائے۔
خلاصہ یہ ہے کہ موجودہ حالات میں اسرائیل انتہائی کمزور اور شکست خوردہ ہو چکا ہے،فلسطینی مزاحمت نے غزہ اور مقبوضہ فلسطین میں اسرائیل پر کاری ضربیں لگا رکھی ہیں،شاہ محمود قریشی نے اسرائیل کی حمایت میں بیان ایسے وقت میں دیا ہے کہ جب فلسطینی مزاحمت نے غزہ میں اسرائیلی ڈرون طیارے کو اتار لیا اور صہیونیوں کے خلاف جوابی کاروائی میں ایسے میزائل فائر کئے ہیں جو اسرائیل کے جدید ترین راڈار سسٹم آئرن ڈوم پربھی نظر نہیں آئے۔اسی طرح فلسطینی مزاحمت نے جنوبی لبنان میں نہ صرف اسرائیل کا ایک ڈرون مار گرایا ہے بلکہ مقبوضہ فلسطین کے اندر سات کلو میٹر تک داخل ہو صہیونی فوجی گاڑی کو نشانہ بنایا اور متعدد صہیونیوں کو ہلاک کیا۔یہ ہے وہ اسرائیل کے جس کی ٹیکنالوجی اور ترقی کی مثالیں پاکستان میں جنرل (ر) امجد شعیب، طاہر اشرفی اور شاہ محمود قریشی جیسے لوگ پیش کرتے ہیں اور پاکستان کے با شعور افراد کو بے وقوف بنانے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔خود اسرائیل جو فلسطینی مزاحمت کاروں کے چھوٹے چھوٹے اسلحوں کا مقابلہ نہیں کر سکتا اس سے تعلقات قائم کر کے پاکستان کی ترقی کے خواب دکھا رہے ہیں۔در اصل یہی عناصر پاکستان کے دشمن ہیں۔ان عناصر کے آباؤ اجداد کا اگر ماضی کا جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہو گا کہ کس کس طر ح ان کے خاندانوں نے برطانوی استعمار سے مراعات حاصل کی ہیں اور آج تک امریکی و برطانوی سامراج کی غلامی کا طوق اپنی گردن سے نکالنے کو تیار نہیں ہیں اور بد قسمتی یہ ہے کہ آج نئے پاکستان میں کشمیر و فلسطین جیسے مسائل خارجہ امور کی ذمہ داری بھی ایسے ہی افراد کے ہاتھوں میں سونپ دی گئی ہے جن کا مطمع نظر ذاتی مفادات ہیں نہ کہ کشمیر و فلسطین کی جد وجہد آزادی۔وزیر اعظم پاکستان کا نیا پاکستان اگر کشمیر و فلسطین کا سودا کرنے کے لئے بنایا گیا ہے تو پھر ایسے نئے پاکستان کو سختی سے مسترد کیا جاتا ہے۔











