ارض پاک کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ حکومتی اداروں سے ٹکراءو ہے جس سے پاکستانی گورنمنٹ کے علاوہ عام پاکستانی عوام کا جانی اور مالی نقصان بھی ہوتا ہے یوں تو قیام پاکستان کے بعد سے ہی ایسے شر پسند عناصر اپنے ذاتی مفاد کی خاطر ابھرنے لگے تھے مگر پچھلی تین دہائیوں سے ایسے شر پسند عناصر اور تنظمیوں میں بہت حد تک اضافہ ہوا ہے جس کے پیچھے خالصتا پاکستان مخالف بیرونی ہاتھ ہیں جیسا کہ ٹی ٹی پی اور پی ٹی ایم کی تانیں اسرائیلی موساد اور ہندوستانی خفیہ ایجنسی را سے ملتی ہیں
حالانکہ آئین پاکستان 1973 کے آرٹیکل 256 کے تحت کوئی بھی سیاسی و مذہبی جماعت، تنظیم یاں فرد ایسی کوئی بھی ٹیم تیار نہیں کر سکتا جو فوج جیسی صلاحیت رکھتی ہو یعنی کہ ایسا دستہ جو مسلح ہو یاں غیر مسلح ہو کر فوج جیسی کاروائیاں کر سکے، مار کٹائی وگوریلا جنگ اور روایتی جنگ جیسی صلاحیتیں رکھتا ہو آئین میں اس آرٹیکل کا ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ کوئی شخص یاں گروہ اپنی فوج بنا کر ارض پاک کو نقصان نا پہنچا سکے کیونکہ ماضی میں اسی بدولت مکتی باہنی بنا کر چند بے ضمیروں نے 1971 میں ارض پاک کو دو ٹکڑوں میں تقسیم کیا تھا
آئین پاکستان کے علاوہ احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی اپنے مسلمان ملک کے اداروں سے مسلح ٹکراؤ کی بڑی سختی سے ممانعت کی گئی ہے اور ایسا کرنے والوں کو خارجی یعنی دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا گیا ہے اور خارجیوں کے متعلق ارشاد ہے کہ یہ جہنم کے کتے ہیں
آئین پاکستان کے مطابق کوئی بھی فرد ،گروہ یاں جماعت کسی بھی حکومتی ادارے کے خلاف عدالت میں اپیل دائر کر سکتا ہے
پاکستان میں ایسی کئی سیاسی و مذہبی جماعتیں ہیں جو آئین پاکستان اور احادیث نبوی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستانی اداروں پر یلغار کر چکی ہیں جن میں حالیہ دہائی میں سر فہرست تحریک طالبان پاکستان، ایم کیو ایم بی ایل اے ،بی ایل ایف اور پی ٹی ایم یعنی پشتون تحفظ موومنٹ ہیں جو کھلم کھلا آئین پاکستان کی خلاف ورزی کرتی رہی ہیں بلکہ کئی بار مسلح ریاستی اداروں پر یلغار بھی کر چکی ہیں جیسا کہ رواں سال 26 مئی کو شمالی وزیرستان کے علاقے بویا میں آرمی چیک پوسٹ پر پی ٹی ایم کے کارکنان نے حملہ کیا اور 5 فوجی شہید اور درجن کے قریب زخمی ہوئے مگر افسوس تو مولانا فضل الرحمن کی سیاسی جماعت کی ذیلی عسکری ونگ انصار الاسلام پر ہے کہ جس نے کل بروز پیر بلوچستان کے علاقے برکھان میں لیویز فورس کی چیک پوسٹ پر قبضہ کرنے کی کوشش کی جس پر لیویز فورس نے اپنے دفاع میں ہوائی فائرنگ کی جس سے انصار الاسلام کے بدمعاش بھاگ گئے مولانا صاحب آپ تو ایک عالم دین اور بزرگ سیاستدان ہیں کیا آپ نے احادیث نبوی اور آئین پاکستان کا مطالعہ نہیں کیا؟ اگر آپ واقعی اسلام آباد کی بجائے اسلام کے ،مجاہد ہیں تو اپنی اس جماعت انصارالاسلام سے برات کا اعلان کیجئے تاکہ واضع ہو سکے کہ آپ پاکستان کی بقاء اور سلامتی کے ضامن ہیں اور آپ کا مقصد اسلام ہے ناکہ کرسی وزارت اسلام آباد یقینا مولانا صاحب آپ کو اپنی جماعت کی کرتوت کی خبر تو مل ہی گئی ہوگی تو پھر دیر نا کیجئے وضع کیجئے کہ کرسی وزارت اسلام آباد یاں صرف اسلام
#قصوریات
Category: بلاگ
-

مولانا فضل الرحمن بھی خارجیانہ روش پر!!! تحریر غنی محمود قصوری
-
اسمٰعیل شاہ وفات پا گئے
کوئٹہ :تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے تو پھر ایسے ہی ہوا ہے ،مورخین کے مطابق پاکستان کے مشہوربلوچی اداکاراسمٰعیل شاہ 29 اکتوبر 1992ء کو کوئٹہ میں وفات پاگئے۔اسماعیل شاہ 22 مئی 1962ء کو پشین کے قریب ایک قصبے کلی کربلا میں پیدا ہوئے تھے۔
مصنوعی کیلشئیم ۔ خون کی شریانوں کے امراض کا خطرہ
1975ء میں انہوں نے پاکستان ٹیلی وژن کوئٹہ مرکز کے بلوچی ڈراموں سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔ ان کا پہلا اردو ڈرامہ ’’ریگ بان‘‘ اور پہلا ڈرامہ سیریل ’’شاہین‘‘ تھا جن میں ان کی اداکاری کو بہت پسند کیا گیا۔ اسماعیل شاہ کی پہلی فلم ’’سونے کی تلاش‘‘ تھی تاہم باعتبار نمائش ان کی پہلی فلم ’’باغی قیدی‘‘ تھی جو 17 اگست 1986ء کو ریلیز ہوئی۔
طوفانی بارشوں سے تباہی،7 افراد ہلاک
اسماعیل شاہ نے مجموعی طور پر 70 فلموں میں کام کیا جن میں 19 فلمیں اردو میں، 25 فلمیں پنجابی میں ، 6 فلمیں پشتو میں اور 20 فلمیں ڈبل ورژن تھیں۔ ان کی مشہور فلموں میں لو اِن نیپال، لیڈی اسمگلر، باغی قیدی، جوشیلا دشمن، منیلا کے جانباز، کرائے کے قاتل اور وطن کے رکھوالے کے نام شامل ہیں۔
فرانس: مسجد کے باہر فائرنگ سے 2 افراد زخمی
-
اردو اک لمحہ فکریہ ، تحریرغلام فاطمہ
بلاشبہ ہماری قومی زبان اردو کی بے وقعتی ہمارے لئے ایک لمحہ فکریہ سے کم نہیں۔۔آج سے پہلے میں نے کبھی بھی اس نہج پر اس طرح نہیں سوچا جس طرح آج سوچ رہی ہوں۔۔۔
آج تک سارے تجزیاتی پروگرام اور جتنے بھی تفریحی پروگرام میں نے دیکھے اور سنے ان سب کا نقشہ میرے ذہن میں ابھر آیا کہ وہاں پر بھی ہمیں خالص اردو سننے کو نہیں ملتی اور نہ ہی ہم خود بولتے ہیں۔
آج پہلی بار مجھے ایک پاکستانی ہونے کے ناطے شدید شرمندگی ہوئی ہے کہ میں خود ہمیشہ انگریزی زبان کو اردو پر فوقیت دیتی رہی ہوں۔
انگریزی زبان کو ترقی دینے والے ہم خود ہیں۔انگریزوں نے جسمانی طور پر آج سے کئی سال پہلے ہمیں آزاد تو کر دیا لیکن ذہنی طور پر آج بھی ہم ان کے غلام ہی ہیں کیونکہ ہمیں ہماری قومی زبان بولتے ہوئے شرمندگی ہوتی ہے اور غیروں کی زبان پر ہم فخر محسوس کرتے ہیں۔مختلف زبانیں سیکھنا اور بولنا بہت اچھی بات ہے لیکن اس دوڑ میں ہم نے اپنی قومی زبان کے ساتھ شدید ناانصافی کر دی ہے اور اس کے ذمہ دار حکومتی اعوانوں میں بیٹھے اعلیٰ سطح کے عہدہ داروں سے لیکر ایک سبزی فروش تک سب ہیں۔ہم نے ہر جگہ یہ تحریر چسپاں کردی ہے کہ اچھی تعلیم اور اچھی نوکری کی گواہی صرف ایک چیز ہی دے گی اور وہ ہے اچھی انگریزی اور باقی ماندہ زبانیں۔
گھروں میں بچوں کو انگریزی پروگرام دکھائے جاتے ہیں تاکہ بچپن سے ہی ان کی ذہنی نشوونما میں وہی زبان رچ بس جائے۔اعلی ایوانوں غیر ملکی سرکاری دوروں میں بھی اپنی قومی زبان کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی جو کہ ہماری سستی نااہلی اور کاہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
انتہائی معزرت کے ساتھ جب تک آپ خود یعنی ہم یہ قوم
اور اس ملک کا ایک ایک شہری ایک ایک فرد اپنی قومی زبان کو عزت نہیں دے گا بالکل اسی طرح جس طرح گورے دیتے ہیں جس طرح چینی اور باقی ترقی یافتہ قومیں دیتی ہیں تب تک ہم کبھی بھی ترقی پزیر قوموں کی فہرست سے نہیں نکل سکیں گے۔
اس کے لئے قوم میں شعور اجاگر کرنے کی اشد ضرورت ہے اور اس کا بہترین ذریعہ جدید مواصلاتی نظام ہے۔تحریر غلام فاطمہ
-

صدر آزاد کشمیر کا امریکی کانگریس اراکین کے بھارتی حکومت کے نام خط کا خیر مقدم
آزاد جموں وکشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے امریکی کانگریس کی خارجہ امور کی کمیٹی کے چھ ارکان کی طرف سے بھارتی حکومت کے نام خط کا خیر مقدم کیا ہے،
این آر او ملے گا یا نہیں وزیر اعظم نے اعلان کردیا
اسلام آباد ۔ 28 اکتوبر (اے پی پی) آزاد جموں وکشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے امریکی کانگریس کی خارجہ امور کی کمیٹی کے چھ ارکان کی طرف سے بھارتی حکومت کے نام خط کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی جانب سے بھارتی حکومت کو مقبوضہ جموں وکشمیر میں بدنام زمانہ پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کئے گئے شہریوں کی مکمل معلومات فراہم کرنے اور امریکی کانگریس کے ارکان اور صحافیوں کو مقبوضہ جموں کشمیر کا دورہ کر کے وہاں انسانی حقوق کی صورتحال کا جائزہ لینے کی اجازت دینے کے مطالبہ کو نہایت اہمیت کا حامل قرار دیا ہے۔ صدر آزادکشمیر نے امریکی کانگریس کے ارکان ڈیوڈ فسسلین، ڈینا ٹیٹس، کرسی ہولا ہان، اینڈی لیون، جیک میگ گورن اور سوسان وائلڈ کا خاص طور پر شکریہ ادا کیا جنہوں نے بھارتی حکومت سے مقبوضہ کشمیر میں انٹرنیٹ اور مواصلات کی ناکہ بندی، سیاسی رہنماﺅں اور سیاسی کارکنوں کی گرفتاری اور طویل عرصہ سے جاری کرفیو کے حوالے سے کئی سوالات پوچھے ہیں، صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ امریکی کانگریس کے ارکان نے مقبوضہ کشمیر میں مظاہرین کو کنٹرول کرنے کے لئے ربڑ کی گولیوں کے استعمال اور اس کے نتیجہ میں آنکھوں کی بصارت سے محروم بچوں سمیت دیگر شہریوں کی صحیح تعداد اور شہریوں کے حق احتجاج کے حوالے سے بھی کئی سوالات پوچھے ہیں،
مولانا فضل الرحمن کی زیرقیادت مارچ کو اسلام آباد آنے دینا ہے یا نہیں؟ فیصلہ ہو گیا
صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ پانچ اگست کے بعد مقبوضہ علاقے میں ذرائع ابلاغ پر پابندیوں کے باوجود اندھا دھند گرفتاریوں کا علم ہر خاص و عام کو ہے۔ بھارت کی نیشنل فیڈریشن آف وویمن کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے صدر نے کہا کہ اس رپورٹ میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ پانچ اگست کے بعد تیرہ ہزار جوانوں کو گرفتار کیا گیا ہے جن میں بارہ سے چودہ کی عمر کے بچے بھی شامل ہیں۔ صدر آزاد کشمیر نے امریکی کانگریس کے رکن الہان عمر، ٹیڈ یوہو، ابھی گہیل ، سپن برگر اور مائیکل فیز پیٹرک کی طرف سے امریکی ایوان نمائندگان کی انسانی حقوق کی ذیلی کمیٹی برائے جنوبی ایشیاءکے 22 اکتوبر کے اجلاس میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال اور بھارتی فوج کے شہریوں کے ساتھ طرز عمل کے حوالے سے ان سوالات کو اٹھانے اور تشویش کا اظہار کرنے پر شکریہ ادا کیا۔ ان اراکین کانگریس نے بھارتی حکومت سے مقبوضہ کشمیر سے فوری طور پر کرفیو ختم کرنے مواصلاتی ناکہ بندی ختم کرنے، شہریوں کی آزادانہ نقل و حرکت کو یقینی بنانے اور سیاسی قیدیوں کو رہا کرنے کا مطالبہ کیاتھا۔ صدر ریاست نے امریکی کانگریس کے ارکان کی طرف سے ایوان نمائندگان کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں بھارتی حکومت کڑی تنقید کو عالمی برادری کے لئے ویک اپ کال قرار دیتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی برادری مقبوضہ کشمیر میں نسل کشی اور منظم قتل عام رکوانے کے لئے بلا تاخیر اقدامات کرے،
صدر مسعود خان نے کہا کہ بھارت بڑھتی ہوئی عالمی تنقید اور کشمیریوں کے حق میں اٹھنے والی آوازوں کو خاموش کرنے کے لئے واشنگٹن ڈی سی میں تھنک ٹینک پلانٹ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا لیکن بھارت کی تمام تر کوششوں کے باوجود واشنگٹن، برسلز اور لندن سے اٹھنے والی آوازوں کو خاموش نہیں کیا جا سکا اور دنیا اب مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی ریاستی دہشت گردی اور کشمیریوں کے ساتھ اس کے وحشیانہ سلوک کی حقیقت سے پوری طرح آگاہ ہو چکی ہے۔ بھارت کا مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے جھوٹ پر مبنی بیانیہ اب اپنا اعتبار کھو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال کے بارے میں سوالات پوچھنے کا عمل قابل قدر ہے لیکن عالمی برادری اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو فوری مداخلت کر کے کشمیریوں کو بھارتی مظالم اور کشمیر کو بھارت کی نو آبادی بننے سے بچانا ہو گا،
-
جماعت اسلامی کا پاکستان اورکشمیر کے لیے کردار ، تحریر : عرفان قیوم
:جماعت اسلامی کا پاکستان اورکشمیر کے لیے کردار تحریر : عرفان قیوم
یہ بات ایک حقیقت ہے جس سے کوئی انکا ر نہیں کر سکتا کہ اسوقت پاکستان کی سب سے قدیم سیاسی پارٹی جماعت اسلامی ہے۔ جس کا سنگ بنیاد ابوالاعلی مودودی رحمتہ اللہ علیہ نے قیام پاکستان سے قبل ۱۹۴۱ کو رکھا تھا۔ اس جماعت کا سیاسی نظام دیگر سیاسی جماعتوں سے قدرے مختلف نظر آتا ہے۔کیونکہ باقی سیاسی جماعتوں میں اپنے کارکنوں میں سےاقتدار اعلی ٰ کی کرسی کے لیے ایسے شخص کا چناؤ کیا جاتا ہے جو کہ دولت سے مالا مال اور اپنے علاقے میں چودھراہٹ اور نمبرداری کے اعتبار سے خوب اثر رسوخ رکھتا ہو۔مختصر یہ کہ غریب کوسوں دورتک ان کے نزدیک ریاست کی زمہ داریاں سنبھالنے کا اھل نہیں ہے اگرچہ وہ اعلی ٰ سے اعلی ٰ تعلیم یافتہ ہی کیوں نہ ہو۔پیسہ نہیں تو جناب سوری (Sorry)۔بد قسمتی کا عالم یہ ہے کہ یہی اصول ہمارےمعاشرے میں اپنی جڑیں گہری اور پھیلاتا چلا جارہا ہے۔ اگر کسی علاقے کا کارکن اس اصول پر پورا نہیں اترتا تو پھر اپنوں کو نوازنے کی بھر پور کوشش کی جاتی ہے۔ اسی اصول پر پیرابند جماعتیں ہی اکثر کرپشن جیسی لعنت سے داغ دار ہیں۔
جماعت اسلامی وہ سیاسی جماعت ہے جو کہ اس قسم کی جھنجلاہٹ اور عیب سے پاک صاف دکھائی دیتی ہے۔اس جماعت میں غریب سے غریب تر کارکن بھی پارٹی میں ایک اعلیٰ مقام حاصل کرنے میں کامیاب رہتا ہے اور اس کارکن کو اس کی قابلیت کی بنیاد پر میدان سیاست میں بھی اپنے جوہر دکھانے کا سنہری موقع دیا جاتا ہے تا کہ یہ ایوان تک رسائی حاصل کر کے ملک و قوم کی خدمت کےلیےاپنا تن من نچھاور کردے۔یہی وجہ ہے کہ شاید میں نے کبھی نہیں سنا کہ اس جماعت کے کارکن کرپشن کی دلدل میں دھنسے ہوئے ہیں۔اس کے ساتھ یہ بات بھی مشاہدے میں ضرور آئی ہے کہ تعلیمی قابلیت کے اعتبار سے اس جماعت میں میدان سیاست کے کارکن تقریباًدوسروں پر سبقت رکھتے ہیں۔ جو کہ میرٹ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
دین کے میدان میں بھی یہ جماعت صف اوّل میں شامل ہے ۔ جس میں لوگوں کو قرآن و سنت کی دعوت سے روشناس کروانے کے لیےمختلف پروگرامز کا انعقاد کیا جا تا ہےاور ان پروگرامز میں شمولیت کے لیےلوگ پورے پاکستان کے طول وعرض سے سفر کرتے نظر آتے ہیں۔جس کا صرف ایک ہی مقصد ہوتا ہےکہ لوگوں کوحقوق اللہ اور حقوق العباد جیسے دیگر مسائل سے آگاہی دی جائےتاکہ یہ معاشرے کا ایک ابھرتا ہوا روشن ستارہ ثابت ہوسکیں۔
اس جماعت کے ذیلی اداروں پر نظر دوڑائی جائے تومعلوم ہوتا ہے کہ یہ جگہ جگہ پاکستان کی خدمت میں مصروف عمل ہیں۔گورنمنٹ کالجوں اور گورنمنٹ یونیورسٹیوں میں اسلامی جمعیت طلبہ کے نا م سےکردار کسی سے پوشیدہ نہیں ہے ۔جس میں یونیورسٹی اور کالج کی سطح پرتنظیم کے ناظم اور نائب ناظم کا انتخاب اسی ادارےکے طلباءسے ہی ہوتاہے۔ اس تنظیم کا کام استاتذہ اور طلباء کو درپیش مسائل کو قومی و صوبائی سطح پر اجاگر کرنا اور ان کو حل کروانا مقصو د ہو تاہے۔اس کے ساتھ ساتھ یہ تنظیم اسلامی اعتبار سےطلباء اور اساتذہ کی رہنمائی میں بھی سرگرم عمل ہےجس میں اسلام کے بنیادی اراکین کی عملی طور پر حفاظت ، مخلوط نظام تعلیم سے بڑھتی ہوئی برائیاں ، طلباء میں اخلاقی اقدار کو پروان چڑھانا ، کرپشن سے متعلق آگاہی اور طلباء میں خود اعتمادی کےلیے تقریری مقابلہ جات اور کوئزز وغیر ہ کا انعقاد کیا جاتاہے۔
علاوہ ازیں جماعت اسلامی کے اپنے تعلیمی ادارے بھی انسانیت کو جہالت سے روشنی کی طرف لانے کےلیے دن رات کوشا ں ہیں جن میں بچوں کواعلیٰ سے اعلیٰ دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ اسلام سے وابستہ رکھنے کےلیے قرآن و سنت کی تعلیم بھی دی جاتی ہے۔
خدمت انسانیت سے سرشار جماعت اسلامی یوں تو کسی سے پیچھے نہیں ہےبلکہ غرباء ، فقراء، مساکین ، یتامیٰ کی مد د کے لیےاس کی ایک مشہور انجیو الخدمت فاؤنڈیشن متحرک ہے ۔ جس کے زیر اہتمام پورے پاکستان میں سینکڑوں ایمبولنیسیں کسی بھی قسم کے حادثے سے نمٹنے کےلیے ہمہ وقت تیار رہتی ہیں۔ مریضوں کے مفت،سستے اور معیاری علاج کےلیے ڈسپنسریاں اور ہسپتال بنائے گئے ہیں۔ اسی طرح پینے کے صاف پانی کےلیےاعلیٰ قسم کے فلٹریشن پلانٹس بھی لگائے گئے ہیں۔مذید یہ کہ کسی بھی قدرتی آفت زلزلہ ، سیلاب اور طوفان سے ہونے والے نقصانات کے ازالے کےلیے لوگوں کی مدد میں پیش پیش نظر آتے ہیں۔
آغوش کے نام سےادارہ بھی عوامی خدمت کا ایک منہ بولتا ثبوت ہے جو کہ الخدمت فاؤنڈیشن کی ہی ایک ذیلی تنظیم ہے جس میں بے سہار،نادار، یتیم ، مساکین اور غریب بچوں کی کفالت احسن طریقے سے کی جاتی ہے ۔ اس میں بچوں کےرہنے کے لیے رہائش کا انتظام ، کھانے کےلیے اچھے اچھے کھانوں کا بندوبست اور ان کی تعلیم وتربیت پر بھی خصوصی توجہ دی جاتی ہےتاکہ یہ بچے بڑے ہوکر احساس کمتری کا شکار نہ ہوں ۔
حالات حاضرہ میں جہاں پاکستان کو دیگر مسائل کا سامہنا ہے وہا ں ایک انسانیت سوز مسئلہ کشمیر بھی ہے ۔ جو کہ تقریباً ستر برس سے ہندو کی جارحیت کا شکار بنا ہوا ہے۔جس میں بھارت نےکشمیری مسلمانوں پر ہرطرح کے ظلم وستم کی رقم قائم کردی ہے۔ کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ متعدد بار کشمیریوں کے حق خود ارادیت پر قراردادیں پیش کر چکی ہے مگر یہ قراردادیں عملی اعتبارسے مکمل طور پرپس پشت ڈال دی گئی ہیں۔
مگر اب کشمیر کے حالات کچھ مزید گھمبیر ہو چکےہیں ۔سبب یہ ہے کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے اقتدار میں آتے ساتھ ہی کشمیر کی سالمیت کو نقصان پہنچانے کےلیے آرٹیکل 370 اور 35ٓA کا خاتمہ ہی نہیں بلکہ کشمیر کے مسلمانوں کو کرفیولگا کر گھروں میں محصور کردیا ہے۔جس سے لوگ جانوروں کی طرح گھروں میں مکمل طور پر بند ہو کر رہ گئے ہیں ۔جبکہ جانور کو تو کھانے کے لیے پھر بھی کچھ نہ کچھ مل جاتا ہے۔مگر کشمیریوں کو کھانے کے لیے کچھ بھی نہیں، دیگر سہولیات پر تبصرہ کیا کرناہے؟۔ہاں ہاں اگر جانور کسی مصیبت میں پھنس جائیں تو پوری دنیا اُن کے تحفظ کے لیے حرکت میں آجاتی ہے۔ مگر کشمیر ی مسلمانوں سے جانوروں سے بھی بدتر سلوک کیا جارہا ہے جو کہ ظلم کی ایک انتہا ہے ۔بھارتی وزیر اعظلم نریندر مودی اپنے اس عمل سے مطمئن ہے۔بہرحال اس گھناؤنے مسئلے کے پیش نظر جماعت اسلامی کی قیادت کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کےلیے اپنے موجودہ امیر سراج الحق کی سربراہی میں پورے پاکستان کے تما م شہروں میں ریلیوں اور بڑے بڑے جلسوں سے خطاب کررہی ہے تاکہ بھارت کے انسانیت دشمن چہرے کو بے نقاب اور مظلوم کشمیری مسلمانوں کی فریاد رسی ہوسکے۔خواجہ میر درد نے اسی لیے کہاتھا۔
درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کر و بیاں -

اونچی دکان پھیکا پکوان، تحریر: ملک علی حسن
اونچی دکان پھیکا پکوان تحریرملک علی حسن
باہر تھا اور اکیلا نہیں تھا۔ بدقسمتی سے اپنے مطابق جس اونچے اور حقیقت میں گٹھیا جس ریستوران کا انتخاب ہم نے کیا وہ شہر کا معروف ریستوران تھا۔ داخل ہوتے ہی بڑے تھڑوں کی روایات کے عین مطابق معمول کی کاروائیوں کا آغاز ہوا اور ایک صاحب نے دل موہ لینے والی مسکرہٹ سے ہمارا استقبال کیا۔ ان کے نیم گلابی ہونٹوں اور نیم پیلے دانتوں کی سکنات کے امتزاج سے پیدا ہونے والے سحر سے ابھی نکلے نہ تھے کہ انہی کے خاص اور خاصے تربیت یافتہ ایک شاگرد ہمارے ساتھ ہو لیے اور ہمیں تمام تر سامان ِ تکلفات کیساتھ سجائے جانے والے ایک میز تک چھوڑا۔ لمحات کی سوئی کچھ ہی گھومی ہو گی کہ بہت ہی با ادب اور انتہائی سلجھے ہوئے اچھے سے ایک بچے دونوں ہاتھوں میں فہرست ِ طعام لیے سلام کہنے آئے اور ہمارے جواب کا انتظار فرمانے لگے۔ ہم ان تمام کے ان عاجزانہ تکلفات کو معمول کی سرگرمی سمجھتے ہوئے معمول ہی کیطرح نظر انداز کرتے چلے گئے اور اپنے من پسند کھانوں کی ایک مختصر فہرست (وعلیکم السلام) کی درخواست کی جسے 20 منٹ انتظار کے حکم سے قبول فرمایا گیا۔ اس دوران ہم اپنے اسلام آباد سے آئے اقارب کے سامنے گوجرانوالہ کے کھانوں کے متعلق اور ان کھانوں میں پوشیدہ ذائقوں کے بارے میں اور ان ذائقوں میں مخفی افادیت کے حوالے سے اتنے ذوق سے الفاظ کے ٹرالر انڈیلنے لگے کہ وہ کھانے کے آنے اور اس پر ہاتھ صاف کرنے سے پہلے ہی اس کے پرستار ہو گئے، کھانا آنے تک مداحوں کا اس کے ساتھ سیلفی کا شوق پورے جوبن پر پہنچ چکا تھا۔ جب وہ اس ذمہ داری کو نبھانے میں مصروف ہوئے تو میں ناچیز اسی اثناء میں کھانوں کی رنگ و شکل سے محسوس کر چکا تھا کہ مہمانوں کے دماغ میں گوجرانوالہ کے کھانوں کے تصورات سے چمکتا مینار جلد اندھیر ہونے والا ہے۔ بہرحال تناول کرنے کا مظاہرہ چلا۔ نان میرے ہاتھ میں آیا تو اتنا سوکھا جتنا میرا سب سے کھڑوس دوست، چاولوں کی رنگت اتنی خراب جتنا میں خود، اور مرغ کڑاہی کی حالت اتنی ترس کے قابل جتنا ٹیکوں سے پھلایا جانے والے بریلر مرغ۔ آلوں کے قتلوں کا ذائقہ بیان کے قابل نہیں، ظاہری تصویر نے ہی گٹھیا تیل کا استعمال آئینہ کر دیا تھا۔ مہمان میرے حیا کا من و عن خیال رکھتے ہوئے خاموش ضرور تھے لیکن ان کے تاثرات مجھے چنگارتے انداز میں مکمل کہانی بیان کر رہے تھے، میں شرمندہ ضرور تھا لیکن شاید معاملے کا رخ پلٹنے کے لیے کسی اشارے کا منتظر تھا۔ اچانک سے میری بھانجی جو ہماری کل کائنات ہے اور کائنات کے مالک نے سالوں گڑگڑانے کیبعد دی ہے کو قے آنا شروع ہو گئی۔ میرا پارہ تھا کہ مہنگائی کا پیمانہ، اتنا اٹھا کہ دماغ ہی چکرا گیا۔ خود کو سنبھالا اور تحمل مزاجی سے خود پر مہمانوں سمیت بیتی کا احوال سنانے منتظم کے کمرے کا رخ کیا۔ سلامیاں پیش کرنیوالے مجاہد جناب جناب اور معذرت معذرت کے نعروں کیساتھ روکتے رہے لیکن میرے ذہن کی دیواروں پر ریستوران کے باورچی خانے کا ایک نقشہ ابھر چکا تھا جس پر تصدیقی مہر ثبت کرنے میں اندر جانے کی اجازت کا طلبگار تھا۔ منتظم کے کمرے میں بات گھی تک آئی تو خود کو صوفی ظاہر کرنے کی نیت سے فرمانے لگے ہم پاکستان کے مشہور تجارتی نام "صوفی” کا استعمال کرتے ہیں۔ کھانے سے اٹھنے والی بدبو اور تیل کے نام میں مجھے ایک رنگ محسوس نہ ہوا تو میں نے موجود تیل ظاہر کرنے کا کہا، اس پر ایسی آئیں بائیں شروع ہوئی کہ ایک موقع پر میں انہیں درست اور خود کو غلط تصور کرنے لگا۔باقی عملے کیجانب سے معذرتوں کا متواتر سلسلہ تھا لیکن منتظم کی گردن میں کوئی مصنوعی سریا۔ مفاہمتی رویہ کے نتیجے میں اجازت لیکر کچن میں موجود تیل تک پہنچا تو انتہائی گٹھیا اور غیر معروف نام کا تھا، جو نہ تو کبھی میں نے سنا نہ میرے قارئین نے چکھا ہو گا۔ بچی اور تمام عزیزان کی طبعیت بگڑ چکی تھی اور منتظم کا نامناسب رویہ اور ثابت شدہ جھوٹ بھی شامل ِ منظر نامہ ہو چکا تھا۔ میں نے صورتحال سے قانونی طریقے سے نمٹنے کا فیصلہ کیا، پہلا رابطہ کرنے کے لیے رابطے کا آلہ اٹھایا ہی تھا کہ ان سب کا گرو جسے منتظم پکارا جا رہا ہے ڈھٹائی پر اتر آیا اور "جو کرنا ہے کر لو” کہ کر کھلے میدان میں کھیلنے کا چیلنج دے دیا۔ چوری اور مسلسل سینہ ذوری سے میرا پارہ مزید چڑھ گیا اور آواز بھی باوجود سمیٹنے کی کوشش کے اپنی چادر سے باہر تکنے لگی۔اس کی جانب سے مسلسل بدتمیزی کی وجہ سے میرا دماغ اس کے ساتھ تھانے میں جانے پر رضامند ہو چکا تھا۔ پولیس کے ایک دوست اور پنجاب فوڈ اتھارٹی کے ایک آفیسر سے رابطہ کیا۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی والوں نے ریستوران کے نمبر پر رابطہ کر کے تفشیش کے آغاز کی خبر دی، میرے ساتھ موجود میرے ساتھیوں نے مجھ کمزور، عاجز اور انتہائی کم علم و عقل کا کچھ سچا اور کچھ جھوٹا تعارف کروایا تو منتظم کا غصہ ایسا غائب ہوا جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔ یہ وہ موقع تھا جب روایتی معافیوں اور منتوں کا سلسلہ شروع ہوا اور صفائیاں پیش کیجانے لگی، میں نے بھی ان کے چہروں پر عیاں نوکریاں جانے کا خوف پڑھ لیا اور افہام و تفہیم سے معاملہ سلجھانے کا فیصلہ کیا۔ دفتر میں بیٹھے اور لمبے مذاکرات کے بعد فیصلہ یہ ہوا کہ عوام کی جان سے کھلواڑ کرنے والے ناقص گھی، بے ذائقہ کھانا بنانے والے شیف اور باسی اشیاء محفوظ کرنے والے یخ بند کو فوری فارغ کیا جائے گا اور تمام تر اصلاحات پر فوری عمل درآمد کیبعد آگاہ کیا جائے گا اور سلامیاں پیش کرنے اور مسکراہٹوں کے قالین بچھانے والے تربیت یافتہ مجاہدوں کی آڑ میں صحت سے گھناؤنا کھیل کھیلنے کا یہ سلسلہ بند کیا جائے گا۔ باہر نکلتے مجھے اس بات کا بخوبی اندازہ ہوچکا تھا کہ ریستوران کے گاہک کے ساتھ اپنے عاجزانہ تکلفات کی بڑی وجہ اس کی آڑ میں کھانے کے معیار پر سمجھوتا بھی ہے جو ہم آسانی سے کر لیتے ہیں۔ دوستوں سے گزارش ہے بڑے ناموں کا لطف ضرور لیں لیکن کہیں بھی صحت پر سمجھوتہ ہوتا نظر آئے تو بجائے ڈرنے کے اس کو روکنے میں کردار ادا کرنے کی کوشش کریں۔ کہیں دقت پیش آئے تو آپکا بھائی آپکا خادم ہے۔ -
"مسیحاؤں کی غنڈہ گردی اور حکومت کی بے بسی” تحریر: محمد عبداللہ
جی یہ قوم کے مسیحا ہیں جو گزشتہ ایک مہینے سے قوم کو عذاب میں ڈالے ہوئے ہیں. ہر دوسرے روز سرکاری اسپتالوں کا عملہ بشمول نرسز، خاکروب سڑکیں بلاک کرکے جبکہ ڈاکٹرز آرام سے پرائیویٹ کلینکس میں بیٹھے پیسے چھاپ رہے ہوتے ہیں.ایم ٹی آئی ایکٹ کی نامنظوری اور دیگر چند مطالبات کی منظوری کے لیے ہڑتال کے نام پر سرکاری اسپتالوں کی او پی ڈیز اور یہاں تک کہ ایمرجنسی تک کو بند کرکے خود پرائیویٹ کلینکس میں جا بیٹھتے ہیں اور سرکاری اسپتالوں کا عملہ سڑکوں پر آبیٹھتا ہے. ایک طرف تو ان اسپتالوں میں دور دراز سے آئے ہوئے ہزاروں غریب افراد جو پرائیویٹ علاج افورڈ نہیں کرسکتے وہ بے چارے رل رہے ہوتے ہیں، ڈاکٹرز اور عملے کی منتیں کر رہے ہوتے ہیں جبکہ قوم کے یہ مسیحا فرعون کے لہجے میں رعونت بھری نگاہ ڈال کر گاڑی میں جا بیٹھتے ہیں.
پولیس کے نظام میں اصلاحات کیوں ضروری ہیں؟ ؟؟ محمد عبداللہ
ابھی کچھ دن قبل ہی ساہیوال سے ہمارے دوست کہ جن کے والد صاحب لاہور جناح اسپتال میں ایمرجنسی میں وارڈ میں تھے مگر کوئی ڈاکٹر ان کو پوچھنے تک نہ آیا اور وہ ایمرجنسی وارڈ ہی میں اپنی جان ہار گئے. یہ ایک کہانی نہیں ایسی سینکڑوں کہانیاں ہیں کبھی اقتدار کی غلام گردشوں میں بیٹھے لوگ کبھی اپنی اونچی مسندوں سے نیچے اتریں اور آکر دیکھیں کہ کیسے ان کی رعایا صحت و انصاف کے لیے اسپتالوں اور کچہریوں میں رل رہی ہے اور باقی ماندہ سڑکیں بند ہونے اور قوم کے ان مسیحاؤں کی بدمعاشی سے سڑکوں پر لمبی لائنوں میں کھڑی ہے. دور دراز سے محنت مزدوری اور دیگر ضروریات کے لیے لاہور آنے والے اور شہر کے اندر ہی سے کام کاج کے سلسلے میں سفر کرنے والے لوگ جب روزانہ کی بنیاد پر یوں سڑکوں پر ہی خوار ہوتے رہیں گے تو خاک کاروبار ہوگا اور ملکی معیشت چلے گی.عورت اور اسلامی معاشرہ ….. محمد عبداللہ
جس غریب کی ان احتجاجوں کی وجہ سے دیہاڑی نہ لگ سکے اس کا چولہا کیسے جلے گا؟ کیا قوم کے ان مسیحاؤں کو یہ احساس ہے کہ ان کی آئے دن ہڑتالیں کتنے گھروں کے چولہے بجھا دیتی ہیں اور کتنے مجبور اور بے کس باپوں کو بھوک سے بلکتے بچوں کو دیکھنے کی تاب نہ لاتے ہوئے خودکشیوں پر مجبور کردیتی ہیں. کیا ہمارے حکمرانوں کو احساس ہے کہ ان کی گورنس میں کیسے یہ مٹھی بھر طبقہ پورے معاشرے اور قوم کو عذاب میں ڈالے ہوئے ہے؟
کیوں یہ ہر دوسرے دن سڑکوں پر آن موجود ہوتے ہیں اور ملک و قوم کو عذاب میں مبتلا کردیتے ہیں، سرکاری اسپتالوں میں علاج معالجے کی سہولیات کی بندش سے غربت کی چکی میں پستے مریضوں کے لیے سامان مرگ کررہے ہیں. قوم ان مسیحاؤں کی غنڈہ گردی پر حکمرانوں سے سراپا سوال ہیں کہ ان ریاست ان کو کنٹرول کرنے میں ناکام کیوں ہے؟کیا اس لیے تقدیر نے چنوائے تھے تنکے ….. محمد عبداللہ
محمد عبداللہ کے دیگر مضامین پڑھیے اور انکے بارے میں جانیے
Muhammad Abdullah -
اردوکے شہر میں انگریزی کا راج—از…..فا طمہ قمر
منہاج یو نیورسٹی میں science’ reason and religion کے عنوان پر ایک بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد ہوا۔ یہ دو روزہ کانفرنس تھی۔ہم نے کانفرنس کی آخری نشست میں شرکت کی۔اس کانفرنس میں پاکستان کے علاوہ برطانیہ ‘ کینیڈا اور امریکہ کے ماہر تعلیم نے اظہار خیال کیا۔ پاکستان سے اس میں سابق سیکرٹری خارجہ شمشاد احمد خان’ یونیورسٹی اف ساؤتھ ایشیا کے وائس چانسلر ڈآکٹر میاں عمران مسعود ‘ منہاج یونیورسٹی کے بورڈ اف گورنر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر حسین محی الدین نے خطاب کیا۔
وزیراعلیٰ کی بیٹی اور بہن گرفتار
کانفرنس اپنے موضوع کے لحاظ سے بہت فکر انگیز تھی فی الوقت ایسے موضوعات پر مذاکرے کرنے کی بہت ضرورت تھی۔ لیکن اس کانفرنس کی سب سے بڑی خامی اس کی کارروائی سے لے کر اس کے مقررین کا انگریزی میں خطاب تھا۔ اور کانفرنس کے دعوت نامے سےلے کر پس منظر نامہ سب کچھ انگریزی میں رقم تھا۔ اپنی ظاہری شناخت سے یہ امریکہ یا برطانیہ کی تقریب دکھائی دے رہی تھی۔ ہم نے وقفہ سوالات میں غیر ملکی مندوبین سے سوال کیا کہ "آپ تین ملکوں کے نمائندے ایک بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کر رہے ہیں۔کیا آپ اپنے ملک کی تقریب میں اپنے ہی ہم وطنوں سے غیر ملکی زبان میں بات کر سکتے ہیں؟کیا آپ کے ملک میں بین الاقوامی کانفرنس کا علم بذریعہ ترجمہ نہیں دیا جاتا ؟ اگر ایسا ہے تو اہل پاکستان کو بھی بتائیں کہ دنیا کی چھ ایٹمی طاقتیں پوری دنیا سے اپنی زبان میں مخاطب ہوتی ہیں۔ پاکستان گونگا نہیں ہے یہ بھی دنیا کی باوقار آزاد’ خود مختار اقوام کی طرح اپنی قومی زبان میں مخاطب ہو”
کرپشن پر سزایافہ مگر اجازت بھی مل گئی؛کیا معاملہ ہے ؟
ہمارا سوال انگریزی میں کارروائی کرنے والی میزبان کی غلامی پر کاری وار کر گیا۔ ان محترمہ نے سوال یہ کہہ کر نظر انداز کرنے کی کوشش کی کہ یہ سوال نہیں ” تبصرہ ہے” لیکن یہ بہت خوش آئند امر ہے کہ یونیورسٹی اف ساؤتھ ایشیاء کے وائس چانسلر جو کہ صدارت بھی کررہےتھے انہوں نے ہمیں کہا کہ "آپ کا سوال بالکل درست اور برحق ہے ہم نے اسے نوٹ کرلیا ہے” اور سامعین کی ایک خاموش بھاری اکثریت نے ہمارے سوال کی تالیاں بجا بجا کر بے حد داد دی۔ وہ سامعین جو انگریزی کی تقریر سن کر گونگے بہرے بنے’ تقریب کی کا رروائی سے لاتعلق بنے ہوئے تھے ہمارے اردو میں کئے گئے سوال پر ایک دم سے جاگ اٹھے۔
کسی بھی ملک کی جامعات اس ملک کی روایات ‘ ثقافت اور زبان کی نمائندہ ہوتی ہے پاکستان کی ہر جامعہ کے پاس مترجم کی سہولت ہر وقت موجود ہوتی ہے کم اذکم جامعات کو اپنی ہر کانفرنس میں اپنی قومی زبان کو عالمی شناخت ہر صورت میں دینی چاہئے۔
دھرنے کو کیسے کنٹرول کرنا ہے وفاقی حکومت نے اہم فیصلے کرلیئے
معزز اہل وطن! ہم نے نفاذ اردو کی عملی صدا بلند کی ہے’ کرتے رہتے ہیں آپ بھی انگریزی کے غیر فطری اور ناجائز تسلط کے خاتمے کے لئے ہمارے عملی ہم آواز بن جائیں۔ ہر جگہ انگریزی کے غیر فطری تسلط کے خلاف آواز بلند کریں یقین کیجئے کامیابی آپ کے قدم چومے گی۔
اردوکے شہر میں انگریزی کا راج
تحریر:فا طمہ قمر
فا طمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک
-
27اکتوبر یوم سیاہ—از–ام ابیہا صالح جتوئی
کشمیر ایک ایسی خوبصورت وادی جس کو جنت نظیر وادی کہا جاتا ہے۔
برف سے ڈھکے پہاڑوں
اور حسین کہساروں کی ایسی سرزمین جس کی وادیاں، جھرنے اور آبشاروں کی خوبصورتی کو دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے گویا دنیا میں ہی جنت کی سیر کرلی گئی ہو۔
لیکن اس وادی کے لوگوں کا سب سے بڑا جرم مسلمان ہونا تھا تو اسی کی وجہ سے ان کی جنت کو جہنم بنانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی گئی۔
پاکستان اور بھارت کی تقسیم کے وقت یہ طے پایا گیا تھا کہ ریاستوں کو اختیار ہوگا اپنی مرضی سے دونوں ممالک میں سے کسی ایک کا انتخاب کرسکتی ہیں کشمیریوں نے ڈوگرہ مہاراجہ کے شخصی راج سے نجات پانے کے لئے اپنی مخصوص جماعت آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس کے پلیٹ فارم سے پاکستان سے الحاق کی قرارداد منظور کی گئی جو کہ بھارتی شر پسندوں کو برداشت نہ ہوئی۔
اسی دن سے بھارت نے کشمیر کے خلاف سازشوں کا تانا بانا بُننا شروع کردیا اور آخرکار اس کا عملی مظاہرہ 27اکتوبر 1947 کو رات کے اندھیرے میں بھارتی فوج کو کشمیر میں اتار کر کیا گیا اور کشمیر پر غاصبانہ قبضہ جما لیا گیا۔کشمیریوں نے خوب مزاحمت کی اور آدھا حصہ چھڑوا لیا جو کہ آج آزاد کشمیر کے نام سے جانا جاتا ہے۔
اسی اثناء میں نہرو نے اقوام متحدہ کا رخ کیا اور وعدوں کے پل باندھ کر قراردادیں پیش کی کہ کشمیریوں کو اپنی قسمت کا فیصلہ کرنے کا حق ہوگا اور وہ ریفرینڈم کے ذریعے جس ملک کے ساتھ چاہیں الحاق کرسکتے ہیں۔
2نومبر کو اقوام متحدہ کے سامنے کی گئی نہرو کی تقریر آج بھی آن ریکارڈ موجود ہے لیکن کبھی بھی اس کے کئے گئے وعدوں پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔اقوام متحدہ کے قوانین کی دھجیاں بکھیریں گئی اور کشمیریوں کی آواز دبانے کے لئے بہت سے مظالم کئے گئے۔
کشمیر آج تک اپنی آزادی کی جنگ خود لڑ رہے ہیں اور ہندو بنیے کے مظالم کا شکار ہورہے ہیں لیکن پوری دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔
غیر مسلم ممالک میں اگر کوئی جانور بھی ہلاک ہوجاۓ تو کئی کئی دن اس کے غم میں سوگ منایا جاتا ہے لیکن کشمیر شمشان گھاٹ کے مناظر پیش کرتا ہے جہاں ہر روز نوجوان،بچے ،بوڑھے اور عورتوں کا قتل عام ہورہا ہے اس سے کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ کشمیریوں کا سب سے بڑا جرم مسلمان ہونا ہے….!!!!
اس لئے ان کی زندگیوں کا غم پوری دنیا میں کسی کو نہیں ہوتا۔
دنیا میں یہ کہاں کا قانون ہے کہ کوئی بھی ملک طاقت کے بل بوتے پر معصوم جانوں کے خون کا پیاسا ہوجاۓ اور بنا کسی جرم کے ان پر ظلم و زیادتی کرے لیکن اقوام متحدہ کے ساتھ ساتھ پوری دنیا خواب خرگوش میں ہے۔کشمیریوں پر کیے گئے مظالم کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں انٹرنیشنل میڈیا ہزاروں دفعہ کوریج کرچکا ہے کہ بھارتی فوج کس طرح مظالم کے پہاڑ توڑ رہی ہے۔
کس طرح کشمیری خواتین کی عصمت دری کی جاتی ہے اور ان پر پیلٹ گنز کا استعمال کیا جاتا ہے جبکہ اپنی معصوم جانوں اور ماؤں بہنوں کی عزتیں بچانے کے لئے اگر کشمیری بھارتی فوج کے مظالم کو روکنے کی کوشش کرتے ہیں تو ان کو دہشت گرد کہا جاتا ہے۔کیا بھارت اس قدر سفاکیت کے باوجود دہشت گرد نہیں ہے ؟؟؟؟؟
گزشتہ کئی روز سے کشمیر میں کرفیو نافذ ہے کشمیریوں کے گھروں کو جیل بنا دیا گیا ہے جہاں کھانا پینا اور ادویات کی عدم دستیابی کی بدولت کئی کشمیری جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
کیا یہ بھارتی دہشت گردی نہیں ہے؟؟؟؟
بھارت نے خطے کا امن و امان تباہ کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی لیکن اسکا ہاتھ روکنے کے لئے اقوام متحدہ نے آنکھیں اور کان بند کر رکھے ہیں۔
بھارت نے جدید ترین ٹیکنالوجی اور اسلحہ کا استعمال کرکے کشمیریوں کے حوصلے پست کرنے کی کوشش کی اور ان کی آزادی کی آواز دبانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا لیکن ہمیشہ سے منہ کی کھائی اور ناکام ہوا۔
کشمیری سنگبازوں اور فریڈم فائٹرز کا مقابلہ کرنا بھارتی افواج کے بس کی بات نہیں رہی۔
بھارت نے جس قدر مظالم کی انتہا کی اسی قدر کشمیری نوجوان قلم کتابیں چھوڑ کر مقابلے کے لئے نکل پڑے پی ایچ ڈی اسکالرز بھی بھارتی فوج کے مظالم کی روک تھام کے لیے عسکریت پسند تحریکوں کے شانہ بشانہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑے ہوۓ۔
کشمیریوں کے حوصلے کبھی پست نہیں ہوں گے اور آزادی پانے کی خاطر وہ اپنے خون کے آخری قطرے تک اپنی مدد آپ کے تحت جدوجہد جاری و ساری رکھیں گے لیکن ہم بطور مسلمان اقوام متحدہ سے اپیل کرتے ہیں کہ کشمیریوں پر ہونے والے مظالم پر بھارتی فوج کے خلاف ایکشن لے ورنہ ان کے اپنے ہی ممالک کے تمام لوگوں کا عدل و انصاف سے بھروسہ اٹھ جاۓ گا اور وہ دن دور نہیں جب دنیا کے منصفوں کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاۓ گا……!!!!!!27اکتوبر یوم سیاہ—از–ام ابیہا صالح جتوئی
-

27 اکتوبر یوم سیاہ اور اقوام متحدہ کا کردار، تحریر : صالح عبداللہ جتوئی
27 اکتوبر یوم سیاہ اور اقوام متحدہ کا کردار تحریر : صالح عبداللہ جتوئی
27 اکتوبر کو تمام کشمیری کشمیر سمیت دنیا بھر میں یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہیں جس میں وہ شہداء اور آزادی کے متوالوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور بھارت کے سفاک چہرے کو پوری دنیا کے سامنے بے نقاب کرنے کی کوشش کرتے ہیں.
گزشتہ سات دہائیوں سے شہ رگ پاکستان پنجہ استبداد میں ہے اور نت نئے طریقوں سے اس جنت نظیر وادی پہ ظلم و بربریت کا طوفان برپا ہے جس کے نتیجے میں لاکھوں کشمیری جان کی بازی ہار چکے ہیں اور کئی اس سعادت کو حاصل کرنے کے لیے بے تاب ہیں.
27 اکتوبر وہ دن ہے جس دن بھارتی ناپاک بھارت نے رات کے اندھیرے میں کشمیر میں اپنی فوج اتار دی اور نہتے کشمیریوں پہ حملہ کر کے کشمیر پہ قبضہ جما لیا لیکن کشمیریوں کی جدوجہد اور مجاہدین کے حملوں نے کشمیر کا آدھا حصہ چھین لیا اور کامیابی کی راہ پہ گامزن ہی تھے کہ نہرو نے ان کے آگے گھٹنے ٹیک لئے اور اس مسئلہ کو 2 نومبر کو اقوام متحدہ لے گیا اور کشمیریوں سے وعدہ کیا کہ وہ اس مسئلہ کو استصواب راۓ سے حل کرے گا اور جس طرح کشمیری چاہیں گے ویسا ہی ہو گا اور وہ جس کے ساتھ الحاق کرنا چاہیں گے ان کو نہیں روکا جاۓ گا اس کی اقوام متحدہ میں کی گئی یہ تقریر آج بھی آن ریکارڈ موجود ہے لیکن بعد ازاں اس پہ عمل نہ کر کے اس کو ردی کی ٹوکری کی زینت بنا دیا گیا اور اس پہ بالکل بھی عمل درآمد نہیں ہو سکا.
72 سال گزر چکے ہیں اور کشمیر میں خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے لیکن تمام عالمی تنظیمیں اور اقوام متحدہ خاموش تماشائی بنے ہوۓ ہیں کسی کے کان پہ جوں تک نہیں رینگی یہاں کتوں کے مرنے پہ ماتم ہوتا ہے لیکن کشمیریوں کے قتل عام ہونے کے باوجود سب نے آنکھیں پھیری ہوئی ہیں شاید ان کا یہ جرم ہے کہ وہ مسلمان ہیں اور مسلمان پہ ہونے والے ظلم سے کافروں کو کوئی فرق نہیں پڑتا.
گذشتہ 3 ماہ سے سفاک مودی نے بھارت میں کرفیو نافذ کر رکھا ہے اور معصوم کشمیریوں کی زندگی دوبھر کر دی ہے ان کا کھانا پینا انٹرنیٹ سروس سب کچھ معطل ہے اور کشمیر سے باہر رہنے والے کشمیریوں کا اپنے رشتہ داروں سے رابطہ بھی نہیں ہو پایا اور حریت قیادت بھی مذموم سازشوں کا شکار ہے اور بلاوجہ پابند سلاسل ہے اور ان کو اپنے خاندان والوں تک سے بھی صحیح طرح بات نہیں کرنے دی جاتی اور انہیں ذہنی طور پر ٹارچر بھی کیا جاتا ہے جس کی واضح مثال آپا آسیہ اندرابی کے بیٹے ابن قاسم جنہوں نے حال ہی میں کشمیر ملین مارچ میں بتایا کہ 30 منٹ بات کرنے کا وقت دیا جاتا ہے لیکن ہر 5 منٹ بعد شور مچانا شروع کر دیتے ہیں کہ بس کریں بہت وقت ہو گیا ہے اب فون بند کر دیں لیکن اقوام متحدہ نے حریت قیادت کی بلاوجہ کی گرفتاریوں پہ کسی قسم کا کوئی ردعمل نہیں دیا اور نہ ہی بھارت کو تجارتی و معاشی لحاظ سے تنہا کرنے کی دھمکی دی ہے حالانکہ عمران خان صاحب نے 27 ستمبر کو جنرل اسمبلی میں بڑے زبردست انداز میں پاکستان اور کشمیریوں کی نمائندگی کی ہے اور اپنی تقریر میں انہوں نے بھرپور طریقے سے مسئلہ کشمیر کا مقدمہ پیش کیا اور بھارتی مظالم سے پوری دنیا کو آگاہ کیا کہ بھارت کس طرح تحریک آزادی کو دبانے کے لیے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے اور الٹا پاکستان کو دہشت گرد ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا ہے.
بھارت نے 27 فروری کو اقوام متحدہ کے قوانین کی دھجیاں بکھیر کر پاکستان پہ حملہ کیا اور بدلے میں منہ کی کھا کے ذلیل و رسوا ہوا لیکن اقوام متحدہ نے اس پہ کوئی ایکشن نہیں لیا نہ ہی اسے دہشتگرد ملک قرار دیا اور بھارت نے لائن آف کنٹرول پہ ہزارہا دفعہ سیز فائر کی خلاف ورزی کی اور شہری آبادیوں کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں کئی شہری زخمی اور شہید ہو چکے ہیں اور دنیا کو بھارت کا گھناؤنا چہرہ دکھانے کے لیے پاکستان عالمی مبصرین اور سفیروں کو بھی متاثرہ علاقوں کا دورہ بھی کروا چکا ہے لیکن ابھی تک اقوام متحدہ نے نظریں پھیر رکھی ہیں اور سب کچھ معلوم ہونے کے باوجود اس پہ کوئی ایکشن نہیں لیا گیا اور نہ ہی بلیک لسٹ کرنے کی کوشش کی گئی اور نہ ہی بھارت کو تنہا کرنے کی دھمکی لگائی گئی۔
کیا یہ قوانین اور چارٹر صرف پاکستان اور مسلمانوں پہ ہی لاگو ہوتے ہیں؟؟؟
کیا مسلمان انسان نہیں ہیں؟؟؟
کیا ان کے کوئی حقوق نہیں ہیں؟؟؟؟
یا کفر ملت واحدہ کے ایجنڈے پہ کام کر رہا ہے اور ان کی سازشیں صرف پاکستان اور دوسرے مسلمانوں کے لیے ہی ہیں؟؟؟؟
کیونکہ ایٹمی طاقت ہونے کی وجہ سے پاکستان سب کی آنکھوں میں کھٹکتا ہے.وزیر اعظم پاکستان عمران خان صاحب نے بھی برملا کہا تھا کہ مسئلہ کشمیر کو حل نہ کیا گیا تو اس کی ناکامی کا سہرا اقوام متحدہ کے سر پہ سجے گا اور یہ اس کی بہت بڑی ناکامی ہو گی اور اس کے بعد دنیا میں جو حالات کشیدہ ہوں گے اس کا ذمہ دار بھی اقوام متحدہ اور عالمی برادری ہو گی کیونکہ کشمیر دنیا کی سب سے بڑی جیل بن چکی ہے اور سب کچھ معلوم ہونے کے باوجود کوئی بھی اس پہ بولنے کو بھی تیار نہیں ہے
میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں
پورے شہر نے پہن رکھے ہیں دستانےیہی وجہ ہے کہ کشمیری گن اٹھانے پہ مجبور ہو چکے ہیں اور قلم سے عاری ہو گئے ہیں ایسے کئی نوجوانوں کی مثالیں موجود ہیں جنہوں نے اعلیٰ تعلیم چھوڑ کے بندوق اٹھائی اور اس تحریک میں ایک نئی روح پھونک دی.
بھارت سن لے کشمیر پہ جتنا ظلم ڈھاؤ گے آزادی کی تحریک اتنی ہی تیز ہو گی اور ان شاء اللہ ایک دن ضرور آۓ گا جب کشمیری یوم سیاہ کی بجاۓ یوم نجات منائیں گے اور بھارت کے کئی ٹکڑے ہوں گے.
اور بحیثیت مسلمان اور پاکستانی اب ہماری زمہ داری ہے کہ ہم کشمیر کے لیے کس حد تک آواز بلند کرتے ہیں اور اس ظلم و بربریت کے خاتمے کے لئے کس طرح کفر کے ایوانوں کو لرزا سکتے ہیں تاکہ دنیا میں اس دور کے فرعون سے مظلوم قوم کو چھٹکارہ مل جاۓ اور ہم بھی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سرخرو ہوجائیں۔اللّہ سبحانہ و تعالیٰ ہمارا حامی و ناصر ہو۔
پاکستان زندہ باد
کشمیر پائندہ باد