Baaghi TV

Category: بلاگ

  • قائد اعظم محمد علی جناح۔۔۔ ایک شخصیت،ایک عہد ، جویریہ چوہدری کا بلاگ

    قائد اعظم محمد علی جناح۔۔۔ ایک شخصیت،ایک عہد ، جویریہ چوہدری کا بلاگ

    قائد اعظم محمد علی جناح۔۔۔
    ایک شخصیت،ایک عہد۔۔۔ !!! بقلم:(جویریہ چوہدری)۔

    کراچی میں 25دسمبر 1876ء
    میں پیدا ہونے والے بچے کے بارے میں کون جانتا تھا کہ یہ بچہ بڑا ہو کر عالمِ اسلام کا عظیم لیڈر اور عہد ساز شخصیت بنے گا۔۔۔؟؟؟

    تاریخ پاکستان کا چمکتا ستارہ عالمی سیاسی منظر نامے پر بھی ایک عظیم لیڈر کے طور پر نظر آتا ہے۔۔۔ !!!!
    آپ عہد آفریں شخصیت۔۔۔
    با اصول سیاستدان۔۔۔۔
    کامیاب قانون دان۔۔۔
    اور بلند مرتبہ مدبر بھی تھے۔۔۔
    یہ آپ کی مضبوط قوتِ ارادی۔۔۔اور دانشورانہ صلاحیتوں کا صلہ تھا کہ۔۔۔ہندو کی تنگ نظری (Narrow vision) آپ پر جب واضح ہو گئی تو آپ کے لیئے یہ بات سمجھنا مشکل نہ رہی کہ مسلمانانِ ہند کو اس غلامی کا طوق اتار پھینکنا چاہیئے۔۔۔
    اور ایک الگ پہچان۔۔۔۔اور مملکت ناگزیر ہو چکی ہے۔۔۔
    یہی وجہ تھی کہ مسلمانانِ برصغیر نے عظیم لیڈر کی قیادت میں متحد ہو کر اپنا بھر پور کردار ادا کیا جو بالآخر دنیا کے نقشے م پر پاکستان جیسی عظیم ریاست کے قیام کی وجہ بن گیا۔۔۔
    تاریخ اس تحریک پر حیران نظر آتی ہے کہ مدبرانہ اور ولولہ انگیز مخلص قیادت قوموں کی کامیاب و بامراد سمت کا تعین کر دیتی ہے۔۔۔۔
    یہی کردار ہمیں محمد علی جناح کا نظر آتا ہے۔۔۔
    قوم کے لیئے ان کے دل میں محبت اور خدمت کا جو جزبہ موجزن تھا وہ آج بھی ہم جیسوں کے لیئے مشعل راہ ہے۔۔۔ !!!
    آپ کی غیر معمولی شخصیت کی بنیاد ابتداء سے ہی پڑ گئی تھی اور شروع سے ہی آپ کے کردار میں ایک دیانتدار اور محنتی انسان کی جھلک نظر آتی تھی۔۔۔۔
    اور یہی کردار آگے بڑھ کر قابلِ تقلید مثال بن گیا۔۔۔۔
    دیانتداری۔۔۔۔
    اصولوں کی پاسداری۔۔۔۔
    اور کردار سے ثابت کر کے دکھانا آپ کی پہچان بن گئی۔۔۔۔
    قومی وسائل کے بے دریغ استعمال۔۔۔اقرباء پروری۔۔۔۔رشوت۔۔۔۔بڑائی۔۔۔خیانت ان کے نزدیک سنگین جرائم تھے۔۔۔
    تاریخ کے صفحات میں ان کے بے مثال و قائدانہ کردار کی ایک جھلک دیکھیئے کہ
    1943ء میں الہ آباد یونیورسٹی میں کانگریس اور مسلم لیگ کے طلباء کے درمیان پرچم لہرانے کا تنازعہ اٹھا۔۔۔
    ہندو طلباء ملکی اکثریت کی بناء پر اپنا پرچم لہرانا چاہتے تھے۔۔۔۔
    جبکہ یونیورسٹی میں مسلمان طالبعلموں کی اکثریت کی وجہ سے مسلم لیگی اپنا پرچم لہرانا چاہتے تھے۔۔۔
    یونین کے الیکشن میں مسلم لیگ کی کامیابی کے بعد طلباء نے جب ان سے پرچم کشائی کی تقریب میں شرکت کا کہا تو آپ نے فرمایا:
    "تمہاری اکثریت خوشی کی بات ہے لیکن طاقت حاصل کرنے کے بعد اپنے غلبے کی نمائش اچھی حرکت نہیں ہے۔۔۔کوئی ایسی بات نہ کرو جو کسی کی دل آزاری کا باعث بنے۔۔۔یہ مناسب نہیں کہ ہم جس کام پر دوسروں کو مطعون کرتے ہیں،وہی کام خود کرنے لگ جائیں۔۔۔۔ ”

    یہ تھا آپ کا نوجوانوں کو ٹھنڈے دل و دماغ، تحمل اوربردباری سے آگے بڑھنے کا مدبرانہ مشورہ۔۔۔۔۔

    دو قومی نظریہ کی وضاحت جس خوبصورتی کے ساتھ آپ نے دنیا کے سامنے رکھی تھی۔۔۔۔
    قیامِ پاکستان کی وجوہات کا وہ بہترین سرمایہ تھی۔۔۔۔
    عدل و انصاف پر مشتمل پر امن معاشرے کا قیام ان کا خواب تھا۔۔۔۔
    کسی بھی طبقے کے حقوق کا استحصال اور لوٹ مار سے قوم کو خبردار کیا۔۔۔۔
    اسلام کا نظام مساوات،عدل،رواداری،اتحاد ان کا دو ٹوک پیغام تھا۔۔۔۔
    قائد کی شخصیت۔۔۔حوصلہ،تدبر،احساسِ ذمہ داری۔۔۔اور بے بے باکی کی آئینہ دار تھی۔۔۔
    آپ نے مسلمانوں کا مؤقف واضح الفاظ میں دنیا کے سامنے اخلاقی جرأت کے ساتھ پیش کیا۔۔۔۔ !!!!
    مگر افسوس!
    ہم رفتہ رفتہ ان اصولوں سے دور ہوتے گئے۔۔۔جن کا خواب قائد کی دور اندیشی سے لبریز آنکھوں میں چمکتا تھا۔۔۔۔
    آپ مخالفین کے سامنے آہنی دیوار تھے۔۔۔
    وہ آپ کو جھکا نہ سکتے تھے۔۔۔۔
    آپ کے اٹل ارادوں کے آگے بند نہ باندھ سکتے تھے۔۔۔۔
    یہی وجہ تھی کہ لارڈ ماؤنٹ بیٹن بھی یہ کہنے پر مجبور ہوا تھا کہ میں ہندوستان کو متحد رکھنے کی غرض سے ہی گیا تھا۔۔۔مگر اس راہ میں ایک شخص پہاڑ کی طرح ڈٹا ہوا تھا اور وہ محمد علی جناح تھا۔۔۔ !!!

    بلاشبہ ایسی عظیم شخصیات صدیوں بعد جنم لیتی ہیں۔۔۔۔
    جو قوموں کی تاریخ کا دھارا موڑ دیتی ہیں۔۔۔۔
    جو دنیا کے نقشے بدل کر رکھ دیتی ہیں۔۔۔۔
    جو نوزائیدہ مملکت کو مدبرانہ انداز و سوچ سے اپنے پاؤں پر۔۔۔کفایت شعاری سے کھڑا کر دیتی ہیں۔۔۔۔ نوجوانوں کو تعلیم و محنت اپنی ترجیح بنانے کا درس دیتی ہیں۔۔۔۔اسی صورت میں وہ اپنی دنیا آپ پیدا کر سکتے ہیں۔۔۔ !!!
    بقول اقبال
    >ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
    بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا۔۔۔۔ !!!
    بانئ پاکستان 11ستمبر 1948 کو وفات پا گئے اور قوم عظیم لیڈر اور ہیرو سے محروم ہو گئی۔۔۔۔۔۔۔۔
    But heroes like him never die…..
    Do they die????
    He lives in our hearts…. !!!!!
    آپ کے فرمودات آج بھی قومی استحکام اور ترقی کے لیئے ہمارے لیئے راہنما اصول ہیں۔۔۔۔ !!!!
    ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

  • کیا حقیقت کیا افسانہ "مقبوضہ کشمیر امت مسلمہ اور پاکستان” تحریر:  فیصل ندیم

    کیا حقیقت کیا افسانہ "مقبوضہ کشمیر امت مسلمہ اور پاکستان” تحریر: فیصل ندیم

    کشمیر آج ہر پاکستانی کے دل کی آواز ہے, کشمیر ایک ایسا نام کہ جس کے ساتھ پاکستان کا ہر دل دھڑکتا ہے, بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح نے کہا تھا کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے اور آج یہ شہہ رگ ظالم و جابر دشمن کے ہاتھ میں ہے آج ایک ماہ ہونے کو آیا ہے کشمیر کرفیو کے شکنجے میں ہے کشمیر کی ہر گلی ہر محلے میں آج بھارتی فوج موجود ہے. کشمیریوں کیلئے خوراک ادویات اور دیگر اشیائے ضرورت بند ہیں گھر سے نکلنے کا ایک مطلب ہے گرفتاری ۔
    آٹھ سے اسی سال کے لوگ گرفتار ہورہے ہیں.
    زخمی اور بیمار ہاسپٹل منتقل نہیں کئے جاسکتے وہاں بھی بھارتی درندے اپنے پنجے تیز کئے موجود ہیں ہاسپٹل جانے کا مطلب بھی گرفتاری ہے ۔۔۔۔
    محترم بھائیواپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کو اس طرح ظلم کی چکی میں پستا دیکھ کر ہر پاکستانی مضطرب ہے ہر پاکستانی کے لبوں پر سوال موجود ہے کیا کشمیر پاکستان سے ہمیشہ کیلئے چھین لیا گیا ہے ؟؟؟
    آرٹیکل 370 اور 35 اے کے خاتمہ سے یقینی طور پر یہی سمجھا جارہا ہے ہر طرف سقوط کشمیر کی باتیں ہیں ہر زبان کشمیر کا نوحہ پڑھتی دکھائی دے رہی ہے لیکن یہاں تھوڑا سا رک کر بعض امور کا جائزہ لینا ضروری ہے.
    آرٹیکل 370 اور 35 اے کشمیر کو بھارتی آئین کی رو سے خصوصی حیثیت دلواتا ہے اس آرٹیکل کی موجودگی میں کوئی غیر کشمیری کشمیر میں جائداد نہیں خرید سکتا کسی غیر کشمیری کو کشمیر میں نوکری نہیں مل سکتی کشمیر کا اپنا جھنڈا اپنا آئین ہے کوئی بھارتی حکومت کشمیریوں کی مرضی کے بغیر کوئی فیصلہ ان پر مسلط نہیں کرسکتی ان تمام تر سہولیات کو دیکھتے ہوئے سمجھ یہی آتا ہے کہ اگر آرٹیکل 370 اور 35 اے اگر ختم کردیا گیا تو کشمیر کی حیثیت بھارت کی ایک ریاست کی سی ہوجائے گی یہاں غیر کشمیریوں کی زبردست یلغار ہوگی جس کے ذریعہ یہاں آبادی کا تناسب بدل دیا جائے گا اور یوں مستقبل میں ہر وہ راستہ جو آزادی کشمیر اور الحاق پاکستان کی طرف جاتا ہوگا بند ہوجائے گا
    اس پوری صورتحال پر بحث کرنے سے پہلے ایک بات سمجھنا ضروری ہے کہ حالات کا دھارا کبھی بھی بندوں کے ہاتھ میں نہیں رہا یہ ہمیشہ بندوں کے رب کے ہاتھ میں ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ ماضی اور حال بڑے بڑے عروج زوال کی جانب جاتے دکھائی دیتے ہیں بڑے بڑے سمجھدار لوگوں سے غلطیاں ہوتی ہیں اور ان کی یہ غلطیاں ان کی پوری قوم کے زوال کا سبب بنتی ہے ایسا ہی کچھ نریندر مودی کے ساتھ بھی ہوا ہے بھارت کے گورباچوف مودی سے ایک ایسی غلطی ہوچکی ہے جو ابتدا میں کشمیر کی آزادی اور پھر بھارت کی بربادی کا سبب بننے والی ہے.
    کیا حالیہ دنیاوی تاریخ کو تھوڑا سا جاننے والا کوئی فرد انکار کرے گا کہ مسئلہ کشمیر دنیا کی نظروں میں اپنی اہمیت کھو بیٹھا تھا اقوام متحدہ جو اپنی قراردادوں کی رو سے اس مسئلہ کے حل کی ذمہ دار تھی اس مسئلہ کو ردی کی ٹوکری میں نہیں پھینک چکی تھی کیا آرٹیکل 370 اور 35 اے سات لاکھ بھارتی فوج کے کشمیریوں پر بہیمانہ ظلم میں رکاوٹ تھی یقیناً نہیں ۔۔۔
    یاد کریں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار مکہ کے ساتھ صلح حدیبیہ کا معاہدہ کیا تھا لگتا یوں تھا سارا معاہدہ کفار مکہ کے حق میں ہے لیکن یہی معاہدہ جزیرة العرب میں کفار کے زوال اور مسلمانوں کے عروج کا سبب بنا تھا اس زمانے میں قبیلے بنو خزاعہ اور بنو بکر بھی اسی علاقہ میں بستے تھے بنو خزاعہ مسلمانوں کا حلیف تھا تو بنو بکر کفار مکہ کا ۔ صلح حدیبیہ کی رو سے ان دونوں قبیلوں کی جنگ کی صورت میں مسلمانوں اور کفار مکہ پر لازم تھا کہ وہ اپنے حلیف کی مدد نہ کریں لیکن کفار مکہ نے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے حلیف بنو بکر کی مدد کی اور یوں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو موقع ملا کہ وہ دس ہزار صحابہ رضی اللہ عنہم کو لیکر آگے بڑھیں اور مکة المکرمہ سے کفر و شرک کی ہر علامت کو مٹادیں واللہ یہی صورتحال آج بھی ہے کل کے مشرکین مکہ کی طرح آج کے مشرکین ہند نے مدینہ ثانی پاکستان کو اسی طرح موقع فراہم کیا ہے کہ وہ بھی بتکدہ ہند پر اسی طرح چڑھائی کرے جس طرح کل محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کی تھی.
    سقوط کشمیر کی بات کرتے پاکستانی دودھ کے جلے ہیں اس لئے چھاچھ کو بھی پھونک پھونک کر پیتے ہیں ان کے ذہنوں میں آج بھی سقوط مشرقی پاکستان زندہ ہے اس لئے ان کے دل ڈرے ہوئے ہیں.
    لیکن یہاں سمجھنا چاہئے مشرقی پاکستان ابتدا سے پاکستان کا حصہ تھا وہاں پاکستان کی حکومت پاکستان کا انتظام تھا پاکستانی فوج مشرقی پاکستان کی حفاظت پر مامور تھی اور جب بھارتی حکومت نے سازشوں کے جال بچھا کر اسلام اور پاکستانیت کو پیچھے کیا لسانیت و علاقائیت کو فروغ دیا تو اس طرح کے رخنے ہمارے اور مشرقی پاکستان کے بیچ پیدا ہوئے جہاں سے دشمن کو ہمارے بیچ سرائیت کرنے کا موقع ملا اور اس نے ہمارے بیچ نفرتیں پیدا کرکے ہمیں ٹکڑوں میں بانٹ دیا لیکن کشمیر کی صورتحال مختلف ہے یہاں تقسیم ہند کے وقت سے ہندوستان کی فوج اور ہندوستان کا انتظام موجود ہے کل یہ فوج سات لاکھ تھی آج کچھ اضافے کے ساتھ سات لاکھ اڑتیس ہزار ہوگئی ہے آرٹیکل 370 کو نہ پہلے کسی نے مانا تھا ( پاکستان ، حریت کانفرنس ، کشمیری مجاہدین ) نہ آج کوئی تسلیم کر رہا ہے
    یاد کیجئے کچھ دن قبل بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں اپنی ہی قائم کردہ کٹھ پتلی حکومت کو ختم کرکے گورنر راج لگایا تھا وجہ صرف ایک سیاسی حکومت تحریک آزادی کشمیر کو روکنے میں ناکام ہوچکی تھی اب گورنر راج سے اگلا قدم اٹھایا ہے تو اس کی وجہ بھی بنیادی طور پر کشمیریوں کے جذبہ حریت کے سامنے بھارت کا اعتراف شکست ہے
    کیا اس حقیقت سے آج کوئی بھی باشعور فرد انکار کرسکتا ہے کہ مودی کے اس اقدام سے مسئلہ کشمیر ایک بار پھر دنیا کی نظروں میں زندہ ہوگیا ہے اقوام متحدہ کب کا مسئلہ کشمیر کو دفن کر چکی تھی لیکن آج چون سال بعد کشمیر پھر سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر آ چکا ہے کیفیت یہ ہے کہ سارا انٹرنیشنل میڈیا میں بھارت پر تھو تھو کی جارہی ہے یورپی پارلیمنٹ برطانوی پارلیمنٹ امریکی اراکین کانگریس سمیت ایمنسٹی انٹرنیشنل اور انسانی حقوق کے دیگر اداروں میں کھلے عام بھارت پر تنقید ہورہی ہے بھارت جو بڑے فخر یہ انداز میں اپنے آپ کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہتا تھا آج پوری دنیا میں ایک فاشسٹ ملک کے طور پر دیکھا جارہا ہے بھارتی سنگھ پریوار کی انتہا پسندی کی داستانیں ساری دنیا میں زبان زد عام ہیں عرصہ دراز بعد دنیا نے بھارت کے مقابلے میں پاکستان کی سفارت کاری کا جارحانہ رخ دیکھا ہے.
    اس پوری صورتحال میں ایک سوال جو کانٹے کی طرح پاکستانیوں کے دلوں میں کھٹکتا ہے وہ یہ ہے کہ کشمیریوں پر بہیمانہ تشدد دیکھنے کے باوجود دیگر مسلم ممالک کا طرزعمل کیا ہے وہ پاکستان کے ساتھ آکر کیوں نہیں کھڑے ہوتے اس کا سب سے آسان جواب یہ ہے کہ آج دنیا میں تمام ممالک سب سے پہلے اپنا مفاد دیکھتے ہیں پھر کسی اور کا یہی وجہ ہے کہ مفادات کی ڈور میں بندھے مسلم ممالک بالعموم اور عرب ممالک بالخصوص مسئلہ کشمیر پر کھل کر پاکستان کے ساتھ کھڑے ہونے سے قاصر ہیں اس کے علاوہ ایک اور مسئلہ جو غور طلب ہے وہ یہ ہے کہ اپنے تحفظ کیلئے دنیا سے بھیک مانگتے ان ممالک میں سے کون سا ملک ایسا ہے جو پاکستان کی خاطر خواہ مدد کرنے کے قابل ہے مشرق وسطی میں ایک چھوٹے سے رقبہ اور قلیل آبادی کا حامل ملک اسرائیل ان تمام ممالک کے سینے پر چڑھ کر انہیں رگیدتا دکھائی دیتا ہے پھر بھلا کیسے ہوسکتا ہے کہ یہ آکر پاکستان کا دفاع کرنا شروع کردیں ان تمام ممالک میں سب سے بری صورتحال متحدہ عرب امارات کی ہے جس نے عین اس وقت کہ جب پاکستان بھارت کے بیچ طبل جنگ بجنے کو ہے بھارتی دہشتگرد وزیراعظم نریندر مودی کو اپنے پاس بلا کر اپنے سب سے بڑے سول ایوارڈ نواز دیا امارات کے اس عمل کو پاکستانیوں نے اپنے ساتھ کھلی دشمنی سے تعبیر کیا اور عوامی سطح پر اس حوالہ سے سخت غم و غصے کا اظہار کیا جارہا ہے.
    بہت سارے لوگ جو اس کیفیت میں پاکستان کے امت کیلئے کردار پر انگلیاں اٹھا رہے ہیں ان سے ایک سوال تو بنتا ہے کہ وہ ملک جس نے اپنی معیشت کی بنیاد ہی بدکاری پر رکھی ہو ساری دنیا کے لوگوں کو اپنی جانب راغب کرنے کیلئے ہر طرح کے برائی کے اڈے اپنی سرزمین پر بنائے ہوں جن کی زندگی کا واحد مقصد کسی بھی طرح کا حربہ اور طریقہ اپنا کر اپنی عیاشی کو تحفظ دینا ہو وہ کیسے امت کیلئے کوئی تعمیری کردار ادا کرسکتا ہے.
    یاد رکھیں پاکستان وہ ملک ہے جس نے اپنی ابتدا سے اپنے لئے کٹھن راستے کا انتخاب کیا ایک طرف عین مسلم ممالک کے بیچ ایک ناجائز ریاست اسرائیل قائم کی جارہی تھی اور وہ اف تک نہ کر سکے تھے تو دوسری طرف اپنے قیام کے ابتدائی مہینوں میں ہی کمزور ترین پاکستان کشمیر کے محاذ پر اپنے سے چھ گنا بڑے دشمن کو للکار رہا تھا ایسے وقت میں کہ جب کشمیر میں بھارت نے اپنی فوجیں داخل کی تھیں اور پاکستان کی افواج کا انگریز کمانڈر جنرل گریسی کسی بھی قسم کے اقدام سے گریزاں تھا تو اسٹیٹ پالیسی کے طور پر قائداعظم محمد علی جناح نے جہاد کا راستہ اختیار کرتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیر کا ایک بڑا حصہ آزاد کروایا تھا وہ نہرو جو کل پاکستان کو ایک کمزور ریاست قرار دیتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ پاکستان شبنم کے قطروں کی مانند ہے جو سورج کی پہلی کرنوں کے ساتھ ہوا میں تحلیل ہوجائے گا آج اقوام متحدہ میں کھڑے ہوکر جنگ بندی کی دہائیاں دے رہا تھا.
    یہ پاکستان تھا کہ جس ستمبر 1965 میں اپنے سے کئی گنا عددی اور عسکری قوت رکھنے والے ملک کے دانت کھٹے کیے تھے یہ ٹھیک ہے کہ ہم نے انیس سو اکہتر میں اپنا ایک بازو گنوایا لیکن اس کی بھی وجہ ہندوستان کی بہادری نہیں ہمارا باہمی انتشار تھا لیکن ہم نے ہتھیار نہین ڈالے اور اپنی جنگی صلاحیتوں میں اضافے کی کوشش کرتے رہے دشمن کی ساز شوں کے جال میں پھنس کر زخم زخم ہونے والے پاکستان نے اپنے زخموں سے اٹھنے والی ٹیسوں کو اپنا ہتھیار بنایا تھا اور مستقبل میں اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کے مقابلہ کی تیاری کرتے ہوئے ایٹم بم بنانے جیسے عظیم کارنامے کو سرانجام دیا تھا.
    ایسے وقت میں کہ جب دوسرے اسلامی ممالک اپنے اپنے ملکوں میں عیاشی کے اڈے کھول رہے تھے بڑی بڑی اونچی عمارتیں بنانے میں مصروف تھے پاکستان دنیا کا بہترین میزائل سسٹم تشکیل دے رہا تھا پاکستان دنیا کا واحد اسلامی ملک تھا جو دفاعی خود کفالت کی منزل کے حصول کیلئے محنت کرتے ہوئے لڑاکا طیارے جدید ٹینک بکتر بند اور دیگر اسلحہ تیار کررہا تھا.
    یہ پاکستان ہی تھا کہ جس نے سرخ ریچھ سوویت یونین کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسے للکارا تھا ایسے وقت میں جب دنیا کی بڑی بڑی طاقتیں روس کی خوف سے کانپ رہی تھی پاکستان نے افغانستان کے سنگلاخ پہاڑوں میں اسے شکست فاش دیکر کتنی مسلم اور غیر مسلم ریاستوں کی آزادی کا سامان کیا تھا.
    نائن الیون کے بعد افغانستان میں امریکہ کی آمد کے بعد ساری دنیا یہ سمجھ رہی تھی کہ پاکستان ختم ہونے کو ہے یہ پاکستان تھا کہ جس نے بظاہر اپنی مستقل حکمت عملی کو تبدیل کرتے ہوئے یوٹرن لیکر امریکہ سے تعاون کا فیصلہ کیا تھا لیکن وقت نے ثابت کیا کہ یہ فیصلہ صرف اپنی صفیں درست کرنے کیلئے تھا ہر گزرتا دن افغانستان میں امریکہ کیلئے مشکلات میں اضافے کا باعث تھا امریکہ کے ساتھ افغانستان کی سرزمین پر اترنے والے اتحادی ایک ایک کرکے گھر دوڑ رہے تھے جبکہ سپر پاور امریکہ اپنی سپرپاوری بچانے کیلئے میدان میں کھڑا ہونے پر مجبور تھا لیکن مسلسل گرنے والی لاشوں اور اخراجات کے بھاری بھرکم بوجھ نے امریکی سپرپاور کو بھی آخرکار گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا اس جنگ کو جیتنے والے بظاہر افغان طالبان تھے لیکن جن کے ساتھ بیتی تھی وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ اس جنگ میں ان کا اصل حریف کون تھا فاکس نیوز کو دیا گیا امریکی جنرل ڈیمپسی کا انٹرویو سننے کے قابل ہے جس میں امریکی سورما سے جب پوچھا گیا کہ آپ نے عراق اور شام میں داعش کو شکست دیدی لیکن افغانستان میں آپ خود شکست کھا رہے ہیں اس کی کیا وجہ ہے امریکی جنرل نے جواب دیتے ہوئے کہا اس کا جواب صرف ایک لفظ ہے پاکستان ۔۔۔۔
    پھر اس نے بیان کرنا شروع کیا کہ امریکیوں کی افغانستان میں آمد کے ساتھ ہی کیسے پاکستان نے مزاحمت کاروں کو منظم کرنا شروع کیا انہیں اپنے پاس پناہ دی انہیں سہولیات فراہم کیں اور پوری جنگ ان کے ساتھ مل کر لڑی.
    کیا خیال مسلم ممالک میں کوئی دوسرا ملک ہے جو دنیا کی دو بڑی سپر پاورز کے خلاف مزاحمت کی ایسی تاریخ رکھتا ہو.
    یاد رکھیں پاکستان وہ ملک ہے جس نے کشمیر کو ہمیشہ اپنی شہہ رگ قرار دیا ہے بھارت سے ہونے والی سارے جنگوں کا سبب بھی کشمیر ہی ہے آج بھی پاکستان پوری طرح سے کشمیریوں کی پشت پر کھڑا ہے پاکستان کے اسی کردار کے سبب کسی نہ کسی طرح جاری رہنے والی تحریک آزادی کشمیر آج اپنے بام عروج ہر پہنچ چکی ہے اور کیفیت یہ ہے کہ بھارت کو اپنی حمایت کیلئے کشمیر سے ایک قابل ذکر شخص میسر نہیں ہے جس دو قومی نظریہ کو خلیج بنگال میں ڈبونے کا دعوی بھارت کی جانب سے بڑے فخریہ انداز میں کیا جاتا ہے آج پوری آب و تاب سے دوبارہ افق دنیا پر نمودار ہوچکا ہے فاروق عبداللہ عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی جیسے سکہ بند بھارت نواز بھی آج اعتراف کرنے پر مجبور ہیں کہ ان سے بھارت کو سمجھنے میں غلطی ہوئی تھی وہ کہہ رہے ہیں ہم غلط تھے اور محمد علی جناح درست ۔۔۔۔
    معزز قارئین یقین رکھیں آزادی کشمیر کی منزل قریب تر ہے اپنے حوصلوں کو بلند اور اپنی صفوں میں اتحاد برقرار رکھئے آج کی صورتحال میں دشمن کا سب سے کاری وار وہ پروپیگنڈہ ہے جو وہ پاکستان عوام اور افواج کے بیچ غلط فہمیاں پھیلانے کیلئے کرتا ہے ایسے منفی پروپیگنڈہ سے خود بچنا بھی ضروری ہے تو دیگر پاکستانیوں کو بچانا بھی ضروری ہے اس لئے ہمہ وقت چوکنا اور چوکس رہئے جان لیجئے اس وقت پاکستان میں فرقہ واریت لسانیت علاقائیت سمیت انتشار کی کوئی بھی بات کرنے والا شخص ملک و ملت کا دشمن ہے دوست نہیں ۔۔۔
    اللہ رب العزت نے پاکستان کو آج بھرپور دفاعی صلاحیتوں سے نوازا ہے بہت جلد وطن عزیز اپنے معاشی مسائل سے بھی باہر نکل آئے گا اور یہ وہ وقت ہوگا کہ جب پاکستان قائد ہوگا اور ساری دنیا کے مسلمان اس کے پیچھے چلتے ہوئے اپنی کھوئی ہوئی عظمت رفتہ حاصل کریں گے اسی لئے
    پاکستان سے محبت کیجئے
    پاکستان کی حفاظت کیجئے
    اسلام زندہ باد
    پاکستان پائندہ باد

  • سیکرٹری سکولز ایجوکیشن کیوں عدالت میں پیشن نہیں ہو رہے ، اضافی فیسوں کے متعلق جواب دیں ، عدالت برہم

    سیکرٹری سکولز ایجوکیشن کیوں عدالت میں پیشن نہیں ہو رہے ، اضافی فیسوں کے متعلق جواب دیں ، عدالت برہم

    لاہور : لوگ بیچارے مصیبت میں پڑے ہیں اور سیکرٹری سکولز ایجوکیشن کو پرواہ تک نہیں ، نجی سکول بچوں سے زیادہ فیسیں لے رہے ہیں ، اس زیادتی کو کس نے ختم کرنا ہے ، عدالت کو بتایا جاءے کہ ابھی تک سیکرٹری سکولز نے کیا اقدامات کیے ، لوگ نجی سکولوں کی زیادتیوں کا شکار ہورہے ہیں اور سیکرٹری سکولز کو احساس تک نہیں ،

    اطلاعات کے مطابق نجی سکولز میں اضافی فیسوں کی وصولی کیخلاف درخواست پر سیکرٹری سکولز ایجوکیشن کی عدم پیشی پر عدالت نے اظہار برہمی ہوتے ہوئے سیکرٹری سکولز ایجوکیشن کو کل ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا عدالتیں آپ کے دفاتر ہیں جہاں آپ چکر دیتے ہیں،اگر کام ہو رہے ہوتے تو یہاں لوگوں کونہ آنا پڑتا۔عدالت نے کل پھر سیکرٹری سکولز ایجوکیشن کو طلب کیا ہے

  • قائد اعظم ! بغاوت،           فرحان منہاج کا بلاگ

    قائد اعظم ! بغاوت، فرحان منہاج کا بلاگ

    قائد اعظم ! بغاوت ،،،، ،تحریر فرحان منہاج

    غلامی کا تصور جب جاگتا ہے جب کسی طبقے ، کسی گروہ یا کسی قوم کے بنیادی حقوق کی پامالی ہورہی ہے .
    ان کو تفریق کا احساس دلایا جائے ـ ان سے امتیازی سلوک روا رکھا جائے .
    وہ طبقہ، گروہ اور قوم پھر یہ نہیں دیکھتی کہ وہ اکثریت میں ہے یا اقلیت میں ان کی محرومیاں ان کو بغاوت پر مجبور کر دیتیں ہیں .
    بر ضغیر پاک و ہند میں جب مسلمانوں کا استحصال ہوا . جب بنیادی حقوق کو سلب کیا گیا . امتیازی سلوک روا رکھا گیا تب بغاوت نے جنم لیا یہ بغاوت پہلے حق مانگنے کے لیے اٹھی ، سر اٹھانے کے اٹھی جب دیکھا یہ حق مانگنے پر نہیں دے رہے تو یہ بغاوت آزادی کا نعرہ بن کر سیسہ پلائی دیواروں کو بھی اکھاڑ کر منزل مقصود تک پہنچ گئی .
    اس پوری تگ و دو کے سرغنہ بظاہر جسمانی طور پر کمزور نظر آنے والے مگر مضبوط عصابوں کے مالک محمد علی جناح تھے . قائد اعظم نے اس بغاوت کو اسی رہنمائی دی کہ وہ سبز ہلالی پرچم میں لپٹ کر دنیا کے نقشے پر ابھر گئی .
    اس بغاوت کو اسلام کا لبادہ دیا ، اس بغاوت کی مصطفٰی کریم کا ترانہ دیا . اس بغاوت کو اللہ اور اس کے بنائے ہوئے نظام کا خواب دیا .
    آج وہ بغاوت پاکستان کے نام سے دنیا کے نقشے پر پھر ایک بغاوت کی منتظر ہے .
    کہ کوئی اٹھے اس کے مجبوروں ، مظلوموں کی آواز بنے ، کوئی اٹھے اسے امن او آشتی کا گہوارہ بنائے ، کوئی آئے اسے مصطفٰی کریم کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنائے ،
    روز چیختی چلاتی آہیں ، انصاف کے لیے تڑپتی مائیں اس میں پھر بغاوت کو جنم دے رہی ہیں .
    اور اگر بغاوت نے جنم لیا اور اسے کسی قائد اعظم کی رہنمائی نہ ملی تو خون ہی خون ہوگا اور تباہی ہی تباہی ہوگی .

  • اے قائداعظم تیرا احسان ہے احسان ،                                  محمد نعیم شہزادکا بلاگ

    اے قائداعظم تیرا احسان ہے احسان ، محمد نعیم شہزادکا بلاگ

    اے قائداعظم تیرا احسان ہے احسان محمد نعیم شہزاد

    زندہ اور باضمیر قومیں اپنے محسنین کو ہمیشہ احترام کی نگاہ سے دیکھتی ہیں اور ان کے احسان کو ہمیشہ یاد رکھتی ہیں۔ مسلمان قوم نے برصغیر پاک و ہند پر ایک طویل عرصہ حکومت کے بعد محکومانہ زندگی بھی بسر کی۔ اس سارے عرصے میں مسلمانان نے کبھی بھی غاصب و قابض اقوام کو اپنا سردار تسلیم نہ کیا اور جہد مسلسل میں لگے رہے۔ غلامی کا یہ دور 90 برس پر محیط ہوا۔ مگر اس دور سے ایک اہم سبق جو حاصل ہوا اسے حرز جاں بنانا چاہیے۔ اس دور غلامی کا سب سے اہم سبق یہی تھا کہ مخالف قوتوں اور استعمار کے مقابل کامیاب ہونے کے لیے جہاں جدوجہد کی اہمیت ہے اس سے کہیں بڑھ کر اچھی اور باصلاحیت قیادت کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہوا کہ ہمیں محمد علی جناح کی صورت میں ایک عظیم قائد ملا جسے بجا طور پر قائداعظم کا لقب دیا گیا۔ یہ ان کی ذہانت، دور اندیشی اور معاملہ فہمی و تدبر کا ہی نتیجہ تھا کہ مسلمانوں کے لیے الگ وطن کی جدو جہد زور پکڑ گئی اور پاکستان دنیا کے نقشے پر ایک اہم اسلامی ریاست کے طور پر وجود میں آگیا۔

    قائداعظم کی قیادت میں مسلمانوں نے بیک وقت برطانوی سامراج اور ہندو چانکیائی ذہن سے مقابلہ کیا اور دونوں کو چاروں شانے چت کر کے اپنے نظریے اور سوچ کو منوایا۔ آج ملک پاکستان نہ صرف اسلامی دنیا بلکہ اقوام عالم میں ایک نمایاں حیثیت اور مقام رکھتا ہے۔ اس سب کا سہرا پاکستان کے اداروں اور حکمرانوں کو تو جاتا ہی ہے مگر سب سے بڑھ کر قابل تحسین وہی ذات ہے جس نے پاکستان کو وجود بخشنے میں اپنا دن رات ایک کر دیا۔

    آج ہم ایک آزاد وطن کے باسی ہیں مگر بہت سے معاملات میں ہم دیکھتے ہیں کہ حکومتیں مصلحت اختیار کرتی ہیں کہیں بیک فٹ پر آ جاتی ہیں اس سب کو دیکھتے ہوئے بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ جب ریاست اپنے ہی عوام سے بہت سی باتیں براہ راست نہیں منوا سکتی تو کس قدر منصوبہ بندی اور فطانت سے ہمارے عظیم قائد نے بغیر کسی جنگ کے برطانوی سامراج کو پاکستان کو آزاد وجود دینے پر مجبور کر دیا۔

    ان کی منصوبہ بندی قابل غور اور قابل تقلید ہے۔ مقصد کے حصول کی لگن، خود اعتمادی، غیر مبہم طریقہ کار اور عمل پیہم چند بنیادی اوصاف ہیں جو کسی بھی فرد یا قوم کو اس کے مقصد میں کامیاب کرتے ہیں۔ اس سب سے پیشتر دور بینی و دور اندیشی ایک ایسی خداداد صلاحیت ہے جس کی بنیاد پر مزید لائحہ عمل تیار ہو گا۔ گویا اسے قائد کی بنیادی صفت کہا جا سکتا ہے۔ محمد علی جناح کو یہ وصف خاص ودیعت کیا گیا تھا۔ آپ نے جب کارِ سیاست میں دلچسپی ظاہر کی تو فطری تقاضوں کے تحت ہندو، مسلم اتحاد کی کوشش کی۔ مگر آپ کی دور اندیشی جلد ہی آپ کو اس نتیجے پر لے آئی کہ ہندو، مسلم اتحاد ہندوؤں کی تنگ نظری اور تعصب کے باعث ناممکن ہے۔ اور آپ نے ایک بھی لحظہ ضائع کیے بغیر اپنا راستہ ہندوؤں سے الگ کر لیا۔ اور یہی طرز عمل دو قومی نظریہ کو تقویت دینے والا اور پاکستان کے قیام کی راہ میں ایک سنگ میل کی حیثیت پا گیا۔

    قائد اعظم کی سوچ و افکار کی بلندی کا اندازہ اس بات سے کریں کہ ان کی کاوشوں کا حاصل محض ایک قطعہ ارض نہ تھا بلکہ آپ نے ان الفاظ سے اپنے مقصد کی طرف اشارہ کیا کہ ہم اسلام کے آفاقی اصولوں کو اپنے کے لیے پاکستان کو اسلام کی تجربہ گاہ بنانا چاہتے ہیں ۔ اسی بات کے تواتر میں آپ نے اسلامی تعلیمات کو پاکستان کا آئین قرار دیا۔

    میرے نزدیک قائداعظم کے تین بڑے فیصلے جو تاریخ میں ہمیشہ سنہری حروف کی صورت زندہ رہیں گے وہ ان کا دو قومی نظریہ پر ڈٹ جانا، کشمیر کو پاکستان کی شہہ رگ قرار دینا اور اسرائیل کا وجود تسلیم نہ کرنا ہیں ۔ یہ تینوں ہی وہ بڑے اصولی فیصلے ہیں جو قائداعظم کی دور اندیشی، معاملہ فہمی اور سوچ کی درست عکاسی کرتے ہیں۔ موجودہ حالات قائداعظم کے ان فیصلوں کی صداقت اور اہمیت پر واضح دلیل ہیں۔ حتی کہ وہ لوگ جو دو قومی نظریہ اور اس کی بنیاد پر تقسیم کی مخالفت کرتے تھے آج اپنی غلطی کا اعلانیہ اعتراف کرتے ہیں ۔ کشمیر کی پاکستان کے لیے اہمیت و افادیت بھی موجودہ حالات میں کافی واضح ہے۔

    وقت کی اہم ضرورت ہے کہ ہمارے حکمران داخلی و خارجی معاملات میں قائداعظم کے عمل سے راہنمائی حاصل کریں اور وطن کو عظیم سے عظیم تر بنا دیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمارے عظیم قائد، بانی پاکستان کی بشری لغزشوں سے صرف نظر فرمائے اور دین اسلام اور مسلمانوں کی اس عظیم خدمت کا بھرپور اچھا صلہ عطا فرمائے اور ہمارے حکمرانوں کو ان جیسی سیاسی بصیرت سے نوازے ۔ آمین یا رب العالمین

  • یہ فرقہ بندیاں —بقلم فردوس جمال

    یہ فرقہ بندیاں —بقلم فردوس جمال

    کیتھولک اور پروٹسٹنٹ دو بڑے عیسائی فرقے ہیں ان کے درمیان اس قدر اختلافات ہیں کہ یہ ایک دوسرے کا وجود تسلیم نہیں کرتے ہیں،1618ء سے 1648ء تک یہ وہ عرصہ تھا جب ہر فرقے نے دوسرے کو ختم کرنے کی جنگ لڑی اور اس جنگ میں 8 ملین لوگ مارے گئے یعنی جنگ عظیم دوم سے بھی زیادہ،اس قدر انسانی المیہ کے بعد انہیں ایک بات سمجھ آئی کہ کسی فرقے اور فرد کو قتل کرکے اس کی فکر اور اس کے نظریے کو نہیں مارا جا سکتا ہے.

    کسی فرقے کی فقہ،فکر اور مسلکی اپروچ سے اختلاف کرنا غلط نہیں ہے،صحت مند مکالمہ صحت مند سماج کی دلیل ہوتا ہے،ہاں مگر غلط یہ ہے کہ آپ مخالف کے خاتمے اور اس کی موت کے لئے تمنا کرے یا پھر عملی اقدام.
    ہمارے ہاں غلط یہ ہوا کہ بات مکالمے سے بڑھ کر مناظروں تک جا پہنچی اور مناظروں سے آگے چل کر فرقوں کی بنیاد پر مسلح تنظیموں کا وجود عمل میں لایا گیا.اس تقسیم کا اثر سماجی رویوں اور معاشرتی نفسیات پر بھی پڑا اور ہم دنیاوی معاملات میں بھی فرقوں کے زیر اثر آگئے،میرٹ کی بجائے فرقہ دیکھا گیا اور یوں ہم تنزل و زوال اور کاہش و ادبار کا شکار ہوگئے.

    ہمیں پاکستان کو مثبت سمت آگے لیکر جانا ہے تو لازم ہے کہ ہم دوسروں کو برداشت کرنا سیکھیں،صحت مند مکالمے کو فروغ دیں،اپنی فکر کو جمود کا دیمک لگنے نہ دیں.
    تحریر از فردوس جمال

  • جب ایف آئی آر درج نہ ہوئی ،                                                                            اسد بن سعید کا بلاگ

    جب ایف آئی آر درج نہ ہوئی ، اسد بن سعید کا بلاگ

    جب ایف آئی آر درج نہ ہوئی اسد بن سعید

    5 اگست 2017 کی شام میں حفیظ اللہ بھائی کی دوکان پر بیٹھا تھا کہ 2 مسلح ڈاکووں نے مجھے لوٹ لیا جب میں رپورٹ درج کرانے سدھوپوہ چوکی پہنچا تو وہاں موجود محرر اور تفتیشی اے ایس آئی نے میری تفتیش شروع کر دی. کتنے آدمی تھے؟ کس کس کے پاس گن تھی؟ تم اکیلے کیوں بیٹھے تھے؟ تمہارے پاس کیا تھا؟ حد تو یہ ہوگئی کہ میری تلاشی تک لے چھوڑی کہ جس پرس کو ڈاکو چھین کر لے گئے وہ اس مولوی نما سائل کی جیب سے ہی برآمد کر کے مدع ہی ختم کرو… خیر, مجھے غصہ آگیا اور میں نے ان دونوں کو کھری کھر سنا دیں کہ ایک تو میرا نقصان ہوا اوپر سے تم مجھے ہی چور بنانے پر تلے ہو. انہوں نے ایف آئی آر کیلئے اگلے دن ایس ایچ او کے ہاں پیش ہونے کو کہا اور خود کسی ضروری کام کیلئے روانہ ہوگئے.
    آج تک میرے ساتھ چار ڈکیتی, راہزنی کی وارداتیں ہوچکی ہیں جن میں سے ایک میں مجھے خنجر بھی لگے. جب جب میں تھانہ گیا ہر دفعہ پولیس کی نئی کہانیاں سن کر واپس ہوا. ایک دفعہ تو والد صاحب کی دوکان میں نقب لگاتی ہوئی چورنیوں کو رنگے ہاتھوں حوالہ پولیس بھی کیا لیکن وہاں بھی ہمیں ہی شک کی نگاہ سے دیکھا جانے لگا اور تھانہ غلام محمد آباد کے اے ایس آئی محترم خالد صاحب کو کسی پیر بابا کو فون پر یہ کہتے ہوئے ہم نے خود سنا کہ "بابا جی تسی پریشان نہ ہو, تواڈیاں ملنگنیاں اج چھُٹ جان گیاں بس دو چھوہر ہی تے آئے نو اینہاں دے پِچھے” یعنی بابا جی آپ پریشان نہ ہوں آپکی ملنگنیاں آج ہی چھوٹ جائیں گی ان کے پیچھے صرف دو لڑکے ہی تو آئے ہیں.
    ایک دفعہ مجھ سے پی ٹی سی ایل کی ٹیب چھین لی گئی جس کا ای ایم ای آئی نمبر اور اس میں موجود بِلٹ اِن انٹرنیٹ جوکہ راہزنی کے بعد بھی چل رہا تھا اس کے متعلق بھی بتایا اور سی پی ایل سی آفس جا کر زور دے کر بتایا کہ جناب آپ بہت آسانی سے اس ڈیوائس کی لوکیشن ٹریک کر کے اس گینگ کو پکڑ سکتے ہیں لیکن ہماری مستعد پیشہ ور پولیس کو توفیق کہاں کہ وہ اتنا آسان ٹارگٹ بھی حاصل کر سکے.
    اگر دیکھا جائے تو میں معاشرے کا ایک پڑھا لکھا, کچھ حد تک اثر و رسوخ رکھنے والا فرد ہوں لیکن پولیس سٹیشن کی حدود میں جاکر میری کیا اوقات رہ جاتی ہے یہ میں خوب سمجھ چکا ہوں. اگر ایسے حالات ہم جیسوں کے ہیں تو اندازہ لگائیے کہ پولیس کے سامنے ایک غریب یا ناخواندہ شہری کی کیا اوقات ہوتی ہوگی؟ ہمارے ہاں قانون کی بالادستی اور پولیس ریفارمز کے دعوے تو بہت کئے گئے لیکن انکو عملی جامہ پہنانے کیلئے کیا حکمت عملی ہے اسکا کسی کو علم نہیں. کوئی اپنے خاندان کے ساتھ جاتے جاتے بچوں کے سامنے مار دیا جائے یا اے ٹی ایم کے سامنے زبان نکالنے پر جوڑ جوڑ پر تشدد کر کے جان سے مار دیا جائے کوئی پوچھنے والا نہیں. یہ ایک ایسا نظام ہے جس میں کسی کی کوئی اہمیت نہیں.
    آج سے چند دن پہلے تک لِفٹ مانگنے والے پولیس والوں کو اپنے گاڑی میں بٹھا لیا کرتا تھا لیکن اب سچ میں ڈر لگنے لگا ہے کہ کہیں یہ پولیس والے مجھ جیسے داڑھی والے کو صلاح الدین ہی نہ بنا چھوڑیں…
    ہاں میں جانتا ہوں کہ میرے کچھ دوست میری موجودہ سوچ سے اختلاف کرتے ہوئے یہ بھی کہیں گے کہ سب پولیس والے برے نہیں ہوتے کچھ اچھے بھی ہیں, تو ان سے میرا سوال ہے کہ فائزہ جیسے اچھے پولیس والوں کو استعفی دے کر یہ کہنے کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے کہ میں ایک غریب گھر کی لڑکی عوام کی خدمت کیلئے اس شعبہ میں آئی تھی لیکن یہ شعبہ کسی کا نہیں بنتا اس لئے میں استعفی دے کر اسے چھوڑ رہی ہوں.

  • پاکستانی ڈاکٹرز لائن آف کنٹرول پار کرنے کو تیار، دعاؤں کی اپیل

    پاکستانی ڈاکٹرز لائن آف کنٹرول پار کرنے کو تیار، دعاؤں کی اپیل

    پاکستان کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹرز بغیر کسی حکومتی سرپرستی کے کشمیری بھائیوں کے علاج معالجے کیلئے لائن آف کنٹرول پار کرنے کیلئے مظفر آباد کے علاقے چکوٹھی پہنچ گئے، باغی ٹی وی کو وصول ہونے والی تفصیلات کیمطابق یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسسز کے وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اکرم کی سربراہی 29 ڈاکٹرز کا قافلہ اپنی مدد آپ کے تحت کشمیری بھائیوں کی مدد کیلئے مظفر اباد کے علاقے چکوٹھی پہنچ گیا اس قافلے میں تین لیڈی ڈاکٹرز بھی شامل ہیں ڈاکٹر جاوید اکرم کے مطابق چکوٹھی کے مقام پر تمام ڈاکٹرز کی طرف سے پہلے مطاہرہ کیا جائے گا مطاہرے کے بعد قانونی طریقے سے بھارتی حکام سے مقبوضہ کشمیر میں داخل ہونے کیلئے اجازت مانگی جائے گی اور اگر بھارتی حکام کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں علاج معالجے کی خاطر جانے کی درخواست رد کر دی گئی تو مظفر آباد واپس آ جائیں گے ، یادرہے کہ اس احتجاج و علاج معالجے کا اہتمام پاکستان سوسائٹی آف انٹرنل میڈیسن کی جانب سے کیا گیا ہے،

  • زید حامد کی کشمیرمتعلق 12 سال پہلے کہی گئی بات ثابت ہو گئی

    زید حامد کی کشمیرمتعلق 12 سال پہلے کہی گئی بات ثابت ہو گئی

    زید حامد پاکستان کے نامور دانشور اور دفاعی تجزیہ نگار ہیں جو دبنگ انداز میں حقائق کو ٹیلی ویژن پر بیان کرنے کے لحاظ سے جانے جاتے ہیں زید حامد شاید پاکستان کے وہ واحد دفاعی تجزیہ نگار ہیں جنہوں نے افغان مجاہدین کے ساتھ مل کرروسی افواج کیخلاف جنگ بھی لڑی ہوئی ہے، زید حامد نے 2007 میں برطانوی صحافی اناتول لیون کو آزادی کشمیر کے لائحہ عمل اور بھارت کی کشمیر کے بارے پالیسی کے متعلق انٹرویو دیا جو کہ اناتول لیون کی کتاب "پاکستان، اے ہارڈ کنٹری” اور حسین حقانی کی کتاب "ری ایمیجننگ پاکستان” میں شائع ہوا، اناتول لیون اپنی کتاب میں لکھتا ہے زید حامد کے مطابق مسئلہ کشمیر کا حل غزوہ ہند ہے، غزوہ ہند کی نشاندہی حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کی ایک حدیث مبارکہ میں بھی ہے زید حامد کیمطابق پاکستان جلد ہندوستان فتح کرے گا اور ریڈیو پاکستان کی ایک برانچ نیو دہلی میں کھولی جائے گی
    یادرہے یہ بات زید حامد نے آج سے 12 سال پہلے کہی تھی کی بھارت کشمیر سے مسلمانوں کا نام و نشان مٹانے اور ان کی اکثریت والے علاقے کو ان کیلئے اقلیت والا علاقہ بنانے پر تلا ہوا ہے 5 اگست 2019 کو انڈیا نے کشمیر کی خصوصی خیثیت ختم کرکے زید حامد کی بات ثابت کردی ہےانڈیا ہٹلر کی پالیسی پر عمل پیرا ہو کر کشمیریوں کی نسل کشی کرے گا تو دوسری طرف اسرائیل کی پالیسی پرعمل پیرا ہو کر مسلم اکثریتی علاقے کو اقلیتی علاقے میں تبدیل کرنے کی کوشش کرے گا

  • پولیس کے نظام میں اصلاحات کیوں ضروری ہیں؟ ؟؟  محمد عبداللہ

    پولیس کے نظام میں اصلاحات کیوں ضروری ہیں؟ ؟؟ محمد عبداللہ

    یہ کوئی وقتی مشاہدے کی باتیں نہیں بلکہ پچھلے دس گیارہ سالوں سے مسلسل سفر میں رہتے ہوئے ، پاکستان کے شہروں اور صوبوں میں گھومتے پھرتے جہاں اور بہت ساری چیزوں کا مشاہدہ اور تجربہ حاصل ہوا وہاں پولیس کے رویوں اور طریقہ کار کو بھی جانچنے اور پرکھنے کا بھی موقع ملتا رہا. ویسے بھی مسافر (ٹورسٹ) اور پولیس کا واسطہ اکثر ہی رہتا ہے. کے پی کے، پنجاب، سندھ اور حتیٰ کے بلوچستان کی پولیس کے ساتھ بھی گپ شپ بھی رہی اور واسطہ بھی پڑتا رہا ہے. جہاں بہت سارے تجربے پولیس کے برے رویے کے ہیں وہیں کافی تجربات پولیس کی بہترین مہمان نوازی اور مشفقانہ رویہ روا رکھنے کے بھی ہیں. ایسا نہیں ہے کہ پولیس کا سارا محکمہ ہی گندا ہے، کرپٹ ہے یا ظالم ہے ہمارے بہت سے دوست احباب اور رشتہ دار بھی اس محکمے میں ہیں اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ ان گنت نیک نیت، ایماندار اور فرض شناس لوگ اس محکمے میں ایسے بھی ہیں جن کی وجہ سے پولیس کے محکمے کی عزت برقرار ہے. افواج پاکستان کی طرح پولیس کے شہداء کی بھی ایک لمبی لسٹ ہے جو وطن عزیز اور اس کے شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کی خاطر اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرگئے. لیکن جو بات مسلمہ ہے وہ یہی ہے کہ اس محکمے میں بیشتر اندھیر نگری اور چوپٹ راج ہے، کرپشن اور ظلم کا دور دورہ ہے.جہاں ایس ایچ او اپنے علاقے کا بے تاج بادشاہ ہوتا ہے اور اس کے اشاروں پر لوگوں کی قسمتیں بن اور بگڑ رہی ہوتی ہیں وہیں ناکے پر کھڑا کانسٹیبل بھی چنگیز خان سے کم نہیں ہوتا جو چاہے تو چوری کے سامان سے بھری گاڑی کو گزرنے دے اور چاہے تو معمولی موٹر سائیکل سوار کو اپنی چائے پانی کے لیے خوار کرتا رہے اور تھانے میں بیٹھا محرر بھی کسی بنیئے سے مقابلہ کر رہا ہوتا ہے جب وہ ایف آئی آر درج کرنے کے لیے بھاؤ تاؤ کر رہا ہوتا ہے. یہ بات بطور لطیفہ بیان کی جاتی ہے مگر یہ انتہائی تکلیف دہ سچ ہے کہ دوسرے ممالک کے میں لوگوں کو پولیس کو دیکھ کر تحفظ کا احساس ہوتا ہے مگر وطن عزیز میں پولیس کو دیکھ کر آپ کو لٹ جانے کا احساس ہوتا ہے. آپ روڈ پر سفر کر رہے ہیں آپ کی جیب میں آپ کا لائسنس، گاڑی کے کاغذات، شناختی کارڈ غرض کے سب کچھ موجود ہے اور آپ تمام روڈ سیفٹی قوانین کو بھی فالو کر رہے ہیں لیکن جب آپ کی نظر سامنے لگے ناکے پر موجود پولیس کے سپاہیوں پر پڑتی ہے تو بندہ غیر ارادی طور پر دل ہی دل میں دعائیں پڑھنا شروع ہوجاتا ہے کہ یا اللہ آج بچا لے ان سے. اگر آپ طاقتور ہیں کسی اونچی پوسٹ پر ہیں تو یہی پولیس آپ کی محافظ ہوتی ہے اور آپ غریب ہیں اور عام سے شہری ہیں تو اس پولیس سے جان چھڑوانا ناممکن اور عذاب بنا ہوتا ہے. میرے پاس بیسیوں نہیں سینکڑوں مثالیں ہیں بلکہ تجربات ہیں کہ پولیس کے پاس شہریوں کو تنگ کرنے کے کتنے اور کون کونسے حربے ہوتے ہیں. ہمارے ملک میں کتنے ہی مجبور اور بے کس شہری ہیں جن کو پولیس کے ظلم اور تشدد نے کرپٹ اور مجرم بنا دیا ہے. کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جو پولیس کی عدم توجہی اور ظالم کی پشت پناہی کی وجہ سے قانون کو اپنے ہاتھ میں لیتے ہیں اور معاشرے میں دہشت گرد اور ڈاکو کا خطاب پاتے ہیں. سانحہ ساہیوال، صلاح الدین کیس اور ان جیسے ناجانے کتنے کیس ہیں جو پولیس کی غنڈہ گردی اور ظلم کی عملی مثالیں ہیں. کوئی کتنا بھی کرپٹ کیوں نہ ہو، مجرم کیوں نہ ہو اس کے جرائم کی سزاء و جزا دینے کے لیے ا ملک میں ایک پورا عدالتی نظام موجود ہے تو پھر پولیس کو یہ جرات کیسے پیدا ہوتی ہے کہ وہ جعلی پولیس مقابلوں اور دوران تفتیش ماورائے عدالت قتل کرتے پھریں ؟؟؟ یہ کونسے قاعدے اور قانون میں ہے کہ پولیس مجرم سے اقبال جرم کروانے کے لیے اس پر غیر انسانی تشدد کرے؟ پاکستانی پولیس ایسا کیوں سمجھتی غریب کے جسمانی ریمانڈ کا مطلب اس کی چمڑی ادھیڑ دینا ہوتا ہے؟؟

    "صلاح الدین کا مبینہ قتل ریاست کے سر پر ہے” محمد عبداللہ

    یہ ساری باتیں تقاضہ کرتی ہیں کہ اب وقت آن پہنچا ہے کہ نظام پولیس میں اصلاحات کی جائیں اور اس پورے نظام کو از سر نو ترتیب دیا جائے اور انسانی ہمدردی اور انسانی مدد کی بنیاد پر پولیس کے محکمے کو کھڑا کیا جائے اور ایسی پولیس معاشرے میں کھڑی کہ جائے جس کو جرم سے نفرت ہو نہ کہ انسانیت سے اور جس کو دیکھ ہی معاشرے کو تحفظ کا احساس ہو.

    Muhammad Abdullah
    Muhammad Abdullah