Baaghi TV

Category: بلاگ

  • محسن اردو’ چیف جسٹس جواد ایس خواجہ!                                           فاطمہ قمر کا بلاگ

    محسن اردو’ چیف جسٹس جواد ایس خواجہ! فاطمہ قمر کا بلاگ

    محسن اردو’ چیف جسٹس جواد ایس خواجہ! فاطمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک

    یہ ہیں پاکستان کی بد عنوان ترین عدلیہ میں شفاف ترین نفاذ اردو کا فیصلہ تاریخ ساز فیصلہ لکھ کر پاکستان کی تاریخ میں امرہونے والے محسن اردو – سابق منصف اعلی جناب جسٹس جواد ایس خواجہ!
    جو صرف 23 دن عدالت عظمیٰ کی کرسی پر بطور منصف اعلی بیٹھے اور اپنی ریٹائرمنٹ کے
    آخر ی لمحوں میں نفاذ اردو فیصلہ لکھ کر ریاست پاکستان ‘ آئین پاکستان اور فرامین قائد اعظم سے اپنی وفاداری کا حق نبھادیا۔ آپ کا ذریعہ تعلیم انگریزی میڈیم تھا’ آپ ایچی سن اور برکلے کے فارغ التحصیل ہیں۔۔لیکن فطری طور پر غلامی سے نفرت کا احساس لئے ہوئے ہیں۔
    آپ کا فرمانا ہے :
    ” پاکستان میں انگریزی کاسںب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ معاشرتی تفریق پیدا کرتی ہے’ کسی بھی ملک کے شہریوں کے لئے اس سے بڑا ظلم کوئی ہو ہی نہیں سکتا کہ اس کے ریاست کے قوانین غیر ملکی زبان میں ہوں ‘ اگر کوئئ شہری کسی جرم کا ارتکاب کرتا ہے تو وہ عدالت سے یہ کہہ کر اپنا جرم معاف کروا سکتا ہے کہ مجھے اس قانون کی زبان کا علم نہیں ہے۔ آپ مزید فرماتے ہیں کہ "جب بھی کسی اشرافیہ نے بزور ڈنڈا حکومت قائم کرنی ہو تو اشرافیہ اپنی زبان الگ رکھے گی اور عوام کی الگ’”
    آپ نے انکشاف کیا اور چیلنج کیا ہے کہ اگر چہ میں نے ساری زندگی قانون کی تعلیم انگریزی میں حاصل کی۔لیکن اس کے باوجود پاکستان کے قوانین کچھ ایسی انگریزی میں رقم ہیں جنہیں میں اپنی تمام تر انگریزی فہمی کے باوجود نہ سمجھ سکا تو اسے عام شہری کیا سمجھے گا؟ اگر کوئی قانون دان مجھے ان قوانین کا مطلب سمجھادے تو میں اس کا بے حد ممنون ہوگا”
    جن دنوں اپ عدالت عظمی میں نفاذِ اردو کے تاریخ ساز مقدمے کی سماعت کررہے تھےاور اپنے تمام فیصلے اردو میں رقم کر رہے تھے۔۔انہی دنوں میں چیف جسٹس جواد ایس خواجہ صاحب کو مظفر آباد کے ایک پرائمری پاس دہقان نے ان کو اردو میں فیصلہ لکھنے پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ ہمیں اعزاز حاصل ہے کہ چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے وہ خط خاکسار کو بھی بھیجا۔ جس میں اس پرائمری پاس کسان نے لکھا ‘
    ” چیف جسٹس صاحب ! آپ نے میرے کیس کا فیصلہ اردو میں لکھا ہے ‘ میں اسے خودپڑھ سکتا ہوں ‘ اگر یہ فیصلہ انگریزی میں لکھا ہوتا تو پہلے تو مجھے دس ہزار کا ایک وکیل کرناپڑتا جو مجھے اس فیصلے کامطلب سمجھاتا’ دوسرا میرا دل بھی خوفزدہ رہتا کہ نجانے اس فیصلے میں کیا لکھا ہے؟”
    چیف جسٹس جواد ایس خواجہ فرماتے ہیں کہ یہ ہے وہ انقلاب جو پاکستان میں نفاذ اردو فیصلے پر عملدرآمد سے رو نما ہوگا۔جس میں ایک پرائمری پاس بھی اپنے حقوق اورعدالت کی زبان سے واقف ہو سکے گا۔ اور ملک کے غلط قوانین کے خلاف سینہ سپر ہوگا۔
    چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے بتایا کہ اگرچہ کہ ” میں نے ساری زندگی فیصلے انگریزی میں رقم کئے ہیں’ لیکن جب میں نے اردو’ میں فیصلے لکھنے شروع کئے تو مجھے کوئی مشکل پیش نہیں آئی”
    انہوں نے نفاذ اردو کی اہمیت سے متعلق سب سے پہلا نوٹ سینئر صحافی’ کالم نگار ‘ اینکر پرسن حامد میر کے کیس میں لکھا۔ اس لئے ہم حامد میر کو یا د دلاتے ہیں کہ ابھی اپ پر نفاذ اردو کے حوالے سے پروگرام کرنا قرض ہے۔
    چیف جسٹس جواد ایس خواجہ صرف انہوں نے زبانی طور پر ہی یہ فیصلہ نہیں لکھا ‘ بلکہ وہ نفاذ اردو قافلے کے عملی سپاہی ںھی ہیں۔پاکستان کی عدلیہ کی غلام تاریخ میں وہ پہلے چیف جسٹس ہیں جنہوں نے اپنے عہدےکا حلف اردو میں لیا۔
    ۔اپنے ملازمت سے سبکدوشی کے بعد لاہور میں ایک سکول قائم کیا ہے جہاں پر امیر و غریب کے بچے سب ایک ہی عمارت میں اردو’ زریعہ تعلیم ‘ میں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ آپ نے اس سکول میں سب سے پہلے اپنے نواسی ‘ نواسوں کو داخل کیا ہے۔۔یہ سکول پاکستان کی اشرافیہ کی جانب سے قائم کردہ پہلا تعلیمی ادارہ ہے جو تعلیمی مساوات کا عملی نمونہ ہے۔
    چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے اپنے بائیس دن کی قلیل ترین منصف اعلی کی نشست پر سیکورٹی کی خصوصی سہولت لینے سے انکار کردیا’ کسی بھی قسم کے پروٹوکول کے بغیر اپنی گاڑی خود ڈرائیو کرتے۔۔ دوران ملازمت کسی بھی زرائع ابلاغ پر آنے سے گریز کیا۔
    چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے جب ںفاذ اردو کا تاریخ ساز فیصلہ رقم کیا تو آپ نے فرمایا ‘
    ” ہم نے نفاذ اردو کا پودا لگا دیا ہے”
    ہم محسن اردو سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کو بتانا چاہتے ہیں کہ ” محسن اردو’ خواجہ صاحب ہم پاکستان قومی زبان تحریک کے پلیٹ فارم سے دن رات اپ لگائے گئے پودے کی آبیاری کررہے ہیں’ اس کو نہ صرف زرخیز ترین کھاد ڈال رہے ہیں’ بلکہ اس کو لاحق سونڈیوں ‘ کیڑے مکوڑوں فالتو جھاڑ جھنکار کا بھی مناسب سدباب کر رہے ہیں ان شاء اللہ ہم اس پودے کو ایک تنا ور’ سایہ دار درخت بنا کر ہی دم لیں گے ! ان شاءاللہ !
    بس اپ سے درخواست ہے کہ اب اپ اپنی خلوت نشینی ‘ اور درویشی کو خیر باد کہیں اور آکر تحریک کی قیادت سنبھالیں۔
    محسن اردو ‘ چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نفاذ اردو فیصلہ رقم کرنے کے بارے میں ایک بات بہت عاجزی سے آسمان کی طرف انگلی اٹھا کر کہتے ہیں۔
    ” اے فیصلہ ‘ میں نئی کیتا’ اے اونے کرایا ہے”
    یقیناً پاکستان میں غلامانہ اشرافیہ میں اتنا تاریخ فیصلہ کوئی آزاد ‘ باحمیت ‘ قومی جذبے سے سرشار جج ہی اللہ کے خاص فضل سے دے سکتا تھا’ اور اللہ نے یہ فضل و رتبہ محسن اردو ” چیف جسٹس جواد ایس خواجہ ہی کو عطا کرنا تھا!
    یہ اس کی عطا ہے وہ جس کو چاہے اپنے کرم سے نواز دے!
    چیف جسٹس جواد ایس خواجہ صرف بائس دن کی قلیل ترین منصف اعلی کی نشست پر فائز ہو کر نفاذ اردو کا تاریخ ساز فیصلہ رقم کرگئے۔جسے انکے بعدمیں آنے والےچیف جسٹس ثاقب نثار المعروف بابا رحمتاں اور ڈیم سرکار تین سال کی طویل مدت میں بھی عملی جامہ نہ پہنا سکے’
    افسوس ‘ صد افسوس !
    یہ سب اپنی دلچسپی اور قومی امور سے اخلاص کی تر جیحات ہیں۔
    فآ طمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک

  • کشمیر پاکستان کی شہ رگ                                            عاصم مجیدکا بلاگ

    کشمیر پاکستان کی شہ رگ عاصم مجیدکا بلاگ

    کشمیر پاکستان کی شہ رگ عاصم مجید

    یہ جملہ میرا نہیں بلکہ ایسے دور اندیش شخص کا ہے جس کی بصیرت کی گواہی زمانہ دیتا ہے۔ جی ہاں ! بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے فرمایا تھا
    کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔
    اس وقت ہر صاحب بصیرت کشمیر کی پاکستان کے لیے اہمیت کو جانتا ہے۔
    آزادی کشمیر ہی

    ہمارے آزاد پانیوں کی ضمانت
    سی پیک کی کامیابی کی ضمانت
    ڈیموں کی تعمیر کی ضمانت
    معدنیات کے حصول کی ضمانت
    سیاحتی کاروبار کی ضمانت
    پاکستانں معیشت کی کامیابی کی ضمانت

    اس میں کوئی شک نہیں آزادی کشمیر کے بغیر پاکستان نا مکمل ہے۔ کشمیری اپنے خون سے تکمیل پاکستان کی جنگ لڑ رہے ہیں ۔
    میرے ہم وطنوں کشمیری خون بہا رہے ہیں وہ ہماری جنگ کے لیے شہادتیں پیش کر رہے ہیں ۔ شاید ہی کوئی گھر ہو جس میں کوئی شہید نہ ہو۔ شاید ہی کوئی گھر بچا ہو جس میں کسی ہماری ماں یا بہن کی عزتوں سے نہ کھیلا گیا ہو۔ کشمیر لفظ مظلومیت کا استعارہ بن چکا ہے۔
    کشمیری شہادتوں پر شہادتیں پیش کر رہے ہیں وہ اپنے لاشے پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر دنیا بھر کے انسانوں کو فیصلہ سنا رپے ہیں کہ کشمیریوں کا مستقبل پاکستان سے جڑا ہے۔ ان کے تین تین سال کے بچے پکار رہے ہیں
    ہم چھین کے لیں گے آزادی
    ہے حق ہمارا آزادی
    آئیں اپنے مسلمان بہن بھائیوں کی آواز پر لبیک کہیں۔ مسلمان تو ویسے بھی جسد واحد کی طرح ہوتے ہیں۔

    قرآن اس کے متعلق فرماتا ہے۔

    وَ اِنِ اسۡتَنۡصَرُوۡکُمۡ فِی الدِّیۡنِ فَعَلَیۡکُمُ النَّصۡرُ

    "اگر وہ دین کے بارے میں مدد طلب کریں تو تم پر مدد کرنا ضروری ہے” ( الانفال ، 72 )

    آو میرے پاکستانیو!
    کشمیریوں کی پکار کا جواب دیں
    اپنے مال سے
    اپنی دعاوں سے
    سوشل میڈیا کی آواز سے
    پر امن احتجاج سے
    آئیں دنیا کے ضمیر کو جنجھوڑ ڈالیں۔ سوشل میڈیا ایک پانچویں نسل کی جنگ اس کو ہلکا نہ لیں اس محاز پر کشمیریوں کی آواز دنیا بھر میں پھیلا دیں۔ فیس بک ، ٹویٹر انسٹا گرام ان کو تفریح کے لئے نہیں بلکہ آزادی کشمیر کی تحریک کے لیے استعمال کریں۔

    میرے ہم وطنوں کشمیری سات دہائیوں سے اپنا خون پیش کر رہے ہیں آئیں ہم ان کے لیے پسینے بہا لیں۔ وہ کسی محمد بن قاسم ، خالد بن ولید اور صلاح الدین ایوبی کو پکار رہے ہیں۔ آئیں اپنے ذاتی، سیاسی اور معاشی اختلافات بھلا کر متحد ہو کر آواز بلند کریں۔ کیونکہ جن کی شہ رگ دشمن کے قبضے میں ہو وہ سکون سے نہیں بیٹھ سکتے۔
    میری ارباب اختیار سے گزارش ہے سفارتی زرائع کا بھر پور استعمال کریں۔ دنیا کے منصفوں کو بتا دیں کشمیری ہمارے بغیر نہیں رہ سکتے اور ہم کشمیریوں کے بغیر نہیں رہ سکتے۔ ہم تب تک سکون سے نہیں بیٹھیں کے جب تک پاکستان مکمل نہیں ہو جاتا۔ کیونکہ

    ابھی تکمیل باقی ہے
    ابھی کشمیر باقی ہے

    اور اگر دنیا کے کان میں جوں نہیں رینگتی تو پھر
    جیسے میجر جنرل آصف غفور صاحب نے کہا:
    کہ ہم پاکستانی آخری گولی ، آخری سپاہی اور آخری سانس تک کشمیریوں کے لیے لڑیں گے۔
    مودی سن لے !!

    اِس پار ملی تھی آزادی
    اس پار بھی لیں گے آزادی
    ان شا اللہ

  • پاکستان پر تنقید درست ؟ مگر جب بھارت  کی بات ہو تو تکلیف !   دہرا معیار کیوں ؟                                                  از                ملک جہانگیر اقبال

    پاکستان پر تنقید درست ؟ مگر جب بھارت کی بات ہو تو تکلیف ! دہرا معیار کیوں ؟ از ملک جہانگیر اقبال

    گزشتہ روز ہمارے پڑوسی (بھارت) کا چاند پہ پہنچنے کا مشن (چندریان 2) ناکام ہوا جو یقیناً بھارت جیسے غریب ملک کے لیے دھچکا تھا ، کسی کی ناکامی پہ خوشی منانا مناسب عمل نہیں لہٰذا اس پہ خاموشی اختیار کرنا ہی بہتر سمجھا .

    بات یہیں تک محدود رہتی تو ٹھیک تھی پر کل میری گناہگار آنکھوں نے جب پاکستان کے ایک مخصوص طبقہ کو بھارتی ناکامی پر بین کرتے دیکھا تو شاید تعجب تو نہ ہوا پر اس طبقہ سے آنے والی کراہیت مزید بڑھ گئی ، یہ وہی لوگ ہیں جو پاکستان کیجانب سے تیل کھدائی مشن کی ناکامی پر خوشیوں کے شادیانے بجا رہے تھے ، تب اس طبقہ کی روح میں موجود بھانڈ میراثی فیکٹر 100 کلو میٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے جگتیں خارج کر رہا تھا .
    پاکستان سے انکے ازلی بغض کو دیکھتے ہوئے یہ حرکت بھی واجب النظرانداز سمجھی پر ضبط کے بندھن تب ٹوٹے جب اس طبقہ کی جانب سے بھارتی خلائی مشن کی ناکامی کو "انسانیت کی شکست” کہا جانے لگا ۔

    بندہ پوچھے ، او ظالمو کیا تمہیں خبر ہے کہ کل کشمیر میں کرفیو لگے پورا ایک ماہ ہو چکا ہے ؟ محض گزشتہ ایک ہفتے میں پیلٹ گن کے شکار 60 افراد سرینگر لائے گئے ؟ محض گزشتہ پانچ سال میں سینکڑوں کشمیری شہید کئے گئے ، جبکہ سینکڑوں نابینا ہو چکے ؟ کیا تمہیں نہیں معلوم کہ ریاستی سرپرستی میں بھارت میں مسلمانوں کو گائے رکھنے کے شبہ میں بھی بیچ چوک پہ مار دیا جاتا ہے ؟ کیا تم نے نہیں دیکھ رکھا کہ یہی بھارتی حکومتی اہلکار جلسوں میں ببانگ دہل مسلمانوں کی نسل کشی کی ترویج کرتے ہیں ؟ یہاں تک کہ "نیچ” ذات والے ہندو اور عیسائی بھی موجودہ حکومتی ہتھکنڈوں سے محفوظ نہیں ۔

    دیکھیں جناب دنیا میں اس وقت دو دھوکے بيچے جارہے ہیں اور بیوقوف و احساس کمتری کے شکار لوگ ان دونوں دھوکوں کو اپنے دونوں ہاتھوں سے جھولیاں بھر بھر کر خریدے جارہے ہیں

    1) انسانیت
    2) امن پسندی

    اب یہاں لوگ خلائی مشن کو "انسانیت” سے تعبیر کرتے ہیں پر یہ نہیں بتاتے کے جب امریکہ چاند کے پیچھے پوری قوم کو "ماموں” بنا رہا تھا تب دوسری جانب وہ ویتنام میں 30 لاکھ کے لگ بھگ انسانوں کو موت کی وادیوں میں پہنچا چکا تھا ، اوراسی دورانئے میں امریکہ میں نسل پرستی خطرناک حد تک بڑھ چکی تھی ، غریب سڑکوں پہ نکلے ہوئے تھے جبکہ مارٹن لوتھر کنگ کو نسل پرست قتل کر چکے تھے ۔

    یہاں لوگ پیرس میں چند شہریوں کے مرنے پر انسانیت کا منجن بیچتے ہوئے پاکستان میں تو ماتم برپا کردیتے ہیں پر یہ نہیں بتاتے کہ لیبیا پر حملہ کرنے میں فرانس کیوں پیش پیش تھا ؟ 2011 سے آج تک جو لیبیائی شہری اس جنگ کی بھینٹ چڑھے اس پہ عالمی ضمیر، اِنسانیت اور امن کہاں جا مرتا ہے ؟

    ٹھیک اسی طرح بھارت کا خلائی مشن دراصل کشمیر میں اپنے بھیانک چہرے اور تباہ ہوتی معیشت سے اپنی عوام اور دنیا کی توجہ ہٹانے کے سوا اور کچھ نہیں ہے . وہ نادان دوست جو پاکستان کو محض مقابلہ بازی پر اکسا کر طعنے دے رہے ہیں ایسے نادان دوستوں سے گزارش ہے کہ سرد جنگ کے دوران خلائی دوڑ کا کردار پڑھ لیں کہ کس طرح امریکہ نے روس کو چندہ ماموں کے چکر میں ماموں بنائے رکھا اور اسکی معیشت کا بیڑا غرق کرواتا رہا اور جب تک سوویت یونین کو ہوش آیا تب تک اسکی معیشت کی کمر ٹوٹ چکی تھی جب کہ مشرقی یورپ ہاتھ سے نکل چکا تھا .

    لہٰذا پاکستانی حکمران اس مقابلہ بازی میں پڑنے کے بجائے عوام کی فلاح بہبود پر توجہ دیں ان کیلئے تعلیم و روزگار کے آسان مواقع پیدا کریں ، ان شاء اللہ چاند کیا ہم مریخ مشتری اور گر زیادہ فارغ وقت اور قوم کا پیٹ بھرا وا ہوا تو سورج پہ جانے کا بھی پلان بنا لیں گے ۔ آخر میں بھارتی ناکامی کے غم میں مبتلا دوستو سے یہی گزارش کروں گا کہ اب اگر آپ الفاظ کے گورکھ دھندوں سے یہ باور کروانا چاہتے ہیں کہ ہندوستان کے خلائی مشن کی اس لئے تعریف کیجائے کہ "دیکھیں اس مشن کا سربراہ غریب کتنا ہے ”

    تو بھائی میری طرف سے معذرت قبول کیجئے کہ ایسے منجن و چورن کم سے کم میں نہیں خرید سکتا ، اور ویسے بھی جتنا پیسے بھارت نے خلائی مشن میں خرچ کیا ہے اس سے باآسانی 1 کروڑ غریب لڑکیوں کی شادی ہوسکتی تھی ….
    ہوسکتی تھی نا ؟؟؟ !!

    ملک جہانگیر اقبال

  • یوم دفاع اور اندرونی و بیرونی دشمن    ،                                                               از      انشال راؤ

    یوم دفاع اور اندرونی و بیرونی دشمن ، از انشال راؤ

    تہواروں کا رواج انسانی تمدن کے ساتھ ہی شروع ہوا اگر جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ تہوار یا فیسٹیول مذہبی یا سماجی، موسمی یا تاریخی واقعات کی یادگار کے طور پہ منائے جاتے ہیں، پاکستان کی تاریخ میں چھ ستمبر کا دن انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور بطور تہوار کے ہر سال ملی جوش جذبے کے ساتھ منایا جاتا ہے، اس بار بھی یوم دفاع پہ انتہائی جوش و خروش، جذبے سے منایا گیا،

    یوں تو پاکستان بھارت کے مابین چار بڑی جنگیں ہوچکی ہیں جن میں 1965 میں پاک فوج و عوام نے بھارتی بدنیتی و جارحیت کے خلاف انتہائی شجاعت و بہادری سے مقابلہ کیا اور لازوال قربانیاں دیں، ترجمان پاک فوج DG/ISPR آصف غفور صاحب کے مطابق جنگوں میں کسی کی جیت نہیں ہوتی بس انسانیت کی ہار ہوتی ہے لیکن ہم جس نبیؐ کے ماننے والے ہیں اس کی تعلیمات کے مطابق ظالم کے ظلم و غرور کو خاک میں ملانا ہر صاحب ایمان کا فریضہ ہے، اس کے تحت ہر سال یوم دفاع کو اسی جذبے و عقیدت کے طور پر منایا جاتا ہے، سال 2019 کا یوم دفاع تمام دشمنوں کے لیے نہ صرف پیغام ہے کہ دشمنوں کی سازشوں و تخریب کاریوں سے نہ یہ قوم جھکنے والی ہے نہ ہی جھکے گی انشاءاللہ،

    دشمن قوتوں نے وہ کونسی سازش یا تخریب کاری ہے جو پاکستان میں نہیں کی مگر اللہ کے فضل و کرم سے افواج پاکستان نے دشمن کو ابتک کی تاریخ کی عبرتناک شکست دی ہے، تمام بیرونی و اندرونی دشمن مل کر پاکستان کو لیبیا، عراق، یمن کی طرح تباہ و برباد کرنے کے منصوبے پہ عمل پیرا رہے، ایک طرف پاک فوج کے خلاف انتہائی منظم اور وسیع پیمانے پہ پروپیگنڈہ مہم چلائی جاتی رہی تو دوسری طرف مختلف گروہ بدامنی میں مصروف رہے، اس کے علاوہ کرپشن لوٹ مار و دانستہ غلط پالیسیوں کے زریعے ملکی معیشت و استحکام کو نقصان پہنچایا جاتا رہا تو ساتھ ساتھ غیرضروری قرضوں کے انبار لگا کر ملکی پالیسیاں بیرونی تسلط کے زیر اثر کی جاتی رہیں، اس پرفتن، شرانگیز، منافقانہ، ظالمانہ، ناپاک سازش کو جس خوش اسلوبی و حوصلے سے افواج پاکستان نے تمام تر بیرونی دباو و پروپیگنڈے کے باوجود خاک میں ملایا، اس پر دشمن کا منہ چڑانے کے لیے پرعزم قہقہہ تو بنتا ہی ہے،

    آج لیبیا، شام، عراق، یمن و بہت سے افریقی ممالک کا حال ہمارے سامنے ہے ان کے مقابلے میں دشمن قوتوں کے زیادہ خطرناک حملے و منصوبے پاکستان میں اپنائے گئے مگر افواج پاکستان کی لازوال قربانیوں کی برکت سے پاکستان خانہ جنگی و تباہی سے محفوظ رہا لیکن ہم آج بھی حالت جنگ میں ہیں عوام کو زیادہ خوش فہمی میں مبتلا ہونے کی بجائے اپنی ذمہ داری و فریضہ کو ادا کرنا ہوگا، سابق اسرائیلی وزیراعظم بن گوریان نے کہا تھا کہ "اسرائیل کو سب سے بڑا خطرہ عربوں سے نہیں پاکستان سے ہے اس لیے پاکستان کو عدم استحکام کا شکار بنانا ہوگا” اس کے علاوہ بھارت روز اول سے ہی دشمن ہے اور افغانستان کا کردار بھی سامنے ہے، پاکستان کے دوست کم اور دشمن زیادہ ہیں اور یہ دشمن اندرونی بھی ہیںبیرونی بھی، اندرونی دشمن بیرونی دشمن سے زیادہ خطرناک ہیں، بحیثیت مجموعی بیرونی دشمن سے تو ہم بخوبی واقف ہیں اس لیے اندرونی دشمنوں کا تذکرہ زیادہ اہم ہے جن کی ایک لمبی فہرست ہے،

    ان میں وہ سیاستدان سرفہرست ہیں جنہوں نے ملک کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا اور پاکستان کو قرضوں کے انبار تلے دبایا، وہ بدعنوان و رشوت خور سرکاری افسران صف اول میں شامل ہیں جنہوں نے پورے نظام کو کینسرزدہ کررکھا ہے ملک کو دیمک کی طرح چاٹتے آرہے ہیں انہی کی وجہ سے غریب امیر کا فرق بڑھتا جارہا ہے یہ حضرات اعلیٰ وزارتوں سے لیکر عام دفاتر تک ہر جگہ موجود ہیں غلط پالیسیوں کو بناکر ملک و قوم کی ایسی تیسی کررکھی ہے یہ لوگ ریاست کے اندر ریاست بناکر بیٹھے ہیں آئین و قانون کی جتنی خلاف ورزی یہ حضرات کرتے ہیں کوئی نہیں کرتا اور زیادہ تر سیاسی بنیاد پہ بھرتی ہیں صف اول کے نااہل ہیں، وہ جاگیردار اور وڈیرے شامل ہیں جنہوں نے ایک طرف تو سرکاری زمینوں پہ قبضہ و غبن کے زریعے اپنے نام کررکھی ہیں تو دوسری طرف غریبوں کی زمینوں پر غنڈہ گردی کے زور پہ قبضہ کررکھا ہے، وہ کاروباری طبقہ شامل ہے جو ٹیکس کی ادائیگی میں خیانت کرتے آرہے ہیں، وہ تاجر بیوپاری شامل ہیں جو ملاوٹ و غیرمعیاری چیزوں کے زریعے قوم میں موت بانٹ رہے ہیں لاکھوں نہیں کروڑوں افراد کے قاتل یہ لوگ اپنی من مانی کا ریٹ فکس کرتے ہیں ذخیرہ اندوزی کے زریعے بلیک میلنگ کرتے ہیں،

    وہ NGOs، موم بتی مافیا اور میرا جسم میری مرضی والے گروہ کی عجیب و غریب مخلوقیں شامل ہیں جو اہم راز باہر پہنچاتے ہیں اور مختلف برائیوں و امراض کو ملک میں بانٹتے رہے، وہ تنظیمیں، پارٹیاں جو قوم کو لسانی و مذہبی تقسیم میں ڈال کر نفرتوں کو ہوا دیتے ہیں قتل و غارت بدامنی پھیلانا ان کا مشن ہے اور ان سب سے خطرناک وہ صحافی وہ مصنفین وہ اینکرز جو سازش کے تحت نہ صرف پاکستان کی نظریاتی اساس پہ حملہ آور ہیں بلکہ ملکی سلامتی کے ادارے ان کی آنکھ میں رڑکتے ہیں آزادئ اظہار کا ناجائز فائدہ اٹھا کر فتنہ گری سے زیادہ کچھ نہیں کرتے، ان لوگوں کے بد کردار کی وجہ سے آج پاکستان مشکلات سے دوچار ہے جب تک ان کینسر کے جراثیموں کا خاتمہ نہیں ہوتا تب تک پاکستان کا دفاع محفوظ نہیں، یہ اللہ کا کرم ہے کہ مادر وطن کو عظیم فوج نصیب ہوئی جو دشمن کے ناپاک منصوبوں کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوے ہیں جن سے دشمن ہمیشہ سے لرزاں ہے،

    اللہ نے مسلمانوں کو دفاع کے مضبوط بنانے کا حکم دیا ہے دفاع کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ حضور اقدسؐ کے گھر وصال کے وقت کو سونے ہیرے جواہرات کے ڈھیر بیشک نہیں تھے مگر نو تلواریں ضرور لٹک رہی تھیں اور ہمارے کچھ سیاستدانوں، صحافیوں، لبرلوں کا نشانہ صرف دفاعی ادارے اور ان کا بجٹ ہی ہوتے ہیں جوکہ بیرونی ڈکٹیشن پہ کرتے ہیں، کیا کبھی ان بدنیتوں کی زبانوں سے کرپٹ و بدعنوان عناصر کے خلاف بولتے سنا کسی نے؟ کبھی نہیں کیونکہ ان کا اصل ہدف وہی ہے جو ان کے بیرونی آقاوں سے ڈکٹیشن ملتی ہے لہٰذا ہر بار کی طرح اس بار بھی یوم دفاع یہی پیغام دیکر گیا ہے کہ ابھی بہت کچھ کرنا ہے، ملک کے آئینی و انتظامی ڈھانچے میں تبدیلیاں لاکر مضبوطی کی طرف جانا ہوگا اور یہ کام دنوں کا ہے مگر افسوس کہ موجودہ حکومت میں بھی سوائے منہ کی فائرنگ کے کوئی عملی کام نہیں، ہمیں پڑوسی دیسوں کی طرف دیکھتے ہوے نسل در نسل حاکم طبقے سے فوری جان چھڑوانی ہوگی جس طرح چین بھارت افغانستان ایران میں اہل افراد کو آگے لایا جارہا ہے پاکستان کو بھی وقت ضایع کیے بغیر ایسا ہی کچھ کرنا ہوگا تب ہی یوم دفاع کا حق ادا ہوپائیگا کیونکہ یہ قرض ہے ان شہداء کے خون کا جنہوں نے مادر وطن کی عظمت کے لیے جانیں دی تھیں۔
    از تحریر : انشال راؤ

  • نئی مصیبت کھڑی ہوگئی ، اب حاضر سروس سرکاری ملازم یا اساتذہ کے پڑھانے پربھی  پابندی عائد

    نئی مصیبت کھڑی ہوگئی ، اب حاضر سروس سرکاری ملازم یا اساتذہ کے پڑھانے پربھی پابندی عائد

    لاہور :پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن نے پارٹنر سکولوں میں حاضر سروس سرکاری ملازم یا اساتذہ کی تعیناتی پر پابندی عائد کردی۔یہ فیصلہ تعلیمی معیار کو بہتر کرنے کے لیے اٹھایا جارہا ہے ، پنجاب ایجوکشن فاونڈیشن کی طرف سے پیغام میں کہا گیا ہےکہ اس حوالے سے کچھ شکایات ملی ہیں‌

    ذرائع کے مطابق پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کی جانب سے پارٹنر سکولوں میں حاضر سروس سرکاری ملازم یا اساتذہ کے پڑھانے پر پابندی عائد کردی گئی ہے ،ذرائع کے مطابق پیف حکام کو پارٹنر سکولوں میں سرکاری ملازمین کے پڑھانے کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں جس کے بعد سے پیف حکام نے پارٹنر سکولوں کو تنبیہ لیٹر جاری کردیا ہے۔

    دوسری طرف پیف حکام کا کہنا ہے کہ معیاری تعلیم کے فروغ کیلئے اساتذہ کا کلیدی کردار ہے، لیکن سرکاری ملازم یا ٹیچر کو پیف سکولوں میں مامور کرنا قانوناً جرم ہے،احکامات کیخلاف ورزی پر پارٹنر سکولوں کے سربراہان کیخلاف سخت کارروائی کی جائے گی

  • اب انگریزی بھی جاپانی شکل میں‌ لکھی جائے ،  جاپانی وزیرتعلیم کی تجویزنے ہلچل مچادی

    اب انگریزی بھی جاپانی شکل میں‌ لکھی جائے ، جاپانی وزیرتعلیم کی تجویزنے ہلچل مچادی

    ٹوکیو : اسے کہتے ہیں تبدیلی ، جاپان نے ترقی کی تو جاپانی زبان میں‌تعلیم حاصل کرنے کےبعد ، اب جاپان کی حکومت اسے سے بھی اگلہ قدم اٹھانے جارہی ہے ، اطلاعات کے مطابق جاپان کے وزیر تعلیم ماساہیکو شِبایاما نے تجویز پیش کی ہے کہ حکومتی دستاویزات میں انگریزی زبان میں جاپانی ناموں کی ترتیب جاپان کے روایتی انداز میں لکھی جانی چاہیئے جس میں خاندانی نام کے بعد پہلا نام لکھا جاتا ہے۔انہوں نے یہ درخواست کابینہ کے اپنے دیگر اراکین سے کہی۔

    بیٹی کیلئے انصاف کا منتظر باپ عدالت کی دہلیز میں دم توڑ گیا ، دردناک کہانی پڑھنا نہ بھولئیے

    ذرائع کےمطابق یہ تجویز پہلی مرتبہ نہیں‌بلکہ اس سے پہلے بھی وزارت تعلیم کے ایک پینل نے تقریباً 20 سال قبل تجویز دی تھی کہ زبانوں اور ثقافت میں تنوع کے احترام میں ناموں کو لکھنے کی ترتیب روایتی جاپانی انداز میں ہونی چاہیے۔وزیر تعلیم نیصحافیوںکو بتایا کہ پینل کی تجویز عوام الناس تک نہیں پہنچ سکی تھی۔

  • بھارتی میڈیا آر ایس ایس کی پروپیگنڈہ مشین— انشال راؤ

    بھارتی میڈیا آر ایس ایس کی پروپیگنڈہ مشین— انشال راؤ

    صدیاں بیت جانے کے باوجود پروپیگنڈہ ایسا کارگر اور مہلک ہتھیار ہے، زمانہ قدیم میں پروپیگنڈے کے لیے ٹیمیں تشکیل دیکر مختلف علاقوں میں بھیج دی جاتی تھیں جو زبانی کلامی یہ کام سرانجام دیتے تھے جسکے نتائج بہت عرصے میں حاصل ہوتے تھے مگر آج مواصلاتی ترقی کے دور میں میڈیا اور انٹرنیٹ نے پروپیگنڈے کو پہلے سے زیادہ موثر اور خطرناک حد تک قوت بخش دی ہے، بھارت پاکستان کے خلاف عرصہ دراز سے مسلسل پروپیگنڈہ کرتا آرہا ہے، بھارتی پروپیگنڈے کے باعث پاکستان ناقابل تلافی نقصان برداشت کرتا آرہا ہے، FATF کے ذیلی گروپ APG کی میٹنگ کے بعد روایتی ہتھیار کا استعمال کرتے ہوے بھارتی میڈیا نے پاکستان کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈہ شروع کردیا،
    RSS کی پروپیگنڈہ مشین کا درجہ پانے والے بھارتی میڈیا و زبردستی کے صحافیوں کی جانب سے بےبنیاد دعوے کیے جاتے رہے کہ پاکستان کو بلیک لسٹ میں شامل کرلیا گیا اور نریندر مودی کو اس کا کریڈٹ دیکر ہیرو بناکر پیش کیا جاتا رہا، حکومت پاکستان اور پاکستانی میڈیا نے بھارتی پروپیگنڈے کو جھوٹا اور بےبنیاد ثابت کرکے ساری دنیا میں ایک بار پھر بھارتی میڈیا کو بےنقاب کردیا، جھوٹ و سنسنی پھیلانے میں بھارتی میڈیا کا کوئی ثانی نہیں حتیٰ کہ اب بھارتی عوام بھی انڈین میڈیا کے دوہرے معیار اور غیرذمہ دارانہ پن کی وجہ سے بیزاری و عدم یقینی کا اظہار کرتی نظر آتی ہے، سینٹر فار ریلیجیس فریڈم امریکہ کے سینئر فیلُو پال مارشل کے مطابق "BJP جب پہلی بار 1998 میں اقتدار میں آئی تو انڈین اطلاعات و نشریات کے محکمے میں اہم عہدوں پر RSS و ویشنو ہندو پریشد کے کارکنوں کو بڑی تعداد میں بھرتی کیا” جسکے باعث بھارتی میڈیا براہ راست سٙنگھ خاندان یعنی ہندوتوا آرگنائزیشنز کے زیر اثر آگیا اور BJP و RSS میڈیا کو بطور پروپیگنڈہ مشین کے استعمال کرنے لگی،
    معروف بھارتی انویسٹیگیٹو جرنلسٹ پیوش کی ٹیم نے اسٹنگ آپریشن میں بھارتی میڈیا کی کریڈیبلٹی کو بے نقاب کرکے رکھدیا جسکے مطابق بھارتی میڈیا پیسے کے لیے کچھ بھی کرسکتے ہیں، ایک اور آپریشن میں کوبرا پوسٹ نے یہ ثابت کیا کہ 90 فیصد بھارتی میڈیا اس وقت BJP کی پروپیگنڈہ مشین ہے یہی وجہ ہے کہ معروف بھارتی اداکارہ و ڈائریکٹر نندیتا داس نے بھارتی میڈیا کو BJP کی پروپیگنڈہ مشین قرار دیا، درحقیقت نام نہاد بھارتی میڈیا اب صحافت کے نام پر بدنما داغ بن کر رہ گیا ہے اور عالمی سطح پر اپنی ساخ کھوچکا ہے جس کا اندازہ اس جھوٹے دعوے سے لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان میں ایک جھوٹے سرجیکل اسٹرائیک میں 350 افراد کے جانبحق ہونے کی خبر چلا کر نریندر مودی کو ہیرو بناکر پیش کرتا رہا مزیدیکہ جنگ کے لیے سنسنی پیدا کرتا رہا

    جس پر عالمی شہرت یافتہ امریکی جریدے واشنگٹن پوسٹ نے لکھا کہ "Many reports run by Indian Media were contradictory, biased, uncendiary & uncorreborated” صرف اتنا ہی نہیں بھارتی میڈیا کے جنگی جنون و پروپیگنڈہ کو دیکھ کر Foriegn Policy جریدے نے لکھا کہ "If India & Pakistan ever resolve their conflict, it won’t be thanks to indian media” اسکے علاوہ pseudo media کے پروپیگنڈے اور جنگی جنون سے بیزار آکر انڈین سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ و دانشور بھارتی نام نہاد جرنلسٹوں و اینکرز کو Humiliated Military, extremist leaders, leashed media جیسے القابات سے نوازتے ہیں اس سے بڑھ کر RSS کی پروپیگنڈہ مشین کی ڈھٹائی کیا ہوگی کہ ساری دنیا ایک طرف اور بھارتی میڈیا ایک طرف ہے کشمیر میں بھارتی حکومت و فوج کی جارحیت اور بنیادی حقوق کی پامالی کو احسن اقدام قرار دیتے نہیں تھکتے،

    یہ درحقیقت صحافی نہیں بلکہ اب ہندوتوا بریگیڈ کے پیڈ ورکرز ہیں جو پاکستان کے خلاف زہر اگلنے کا کوئی موقع نہیں چھوڑتے مگر حیرانگی کی بات یہ ہے کہ سب کچھ جانتے ہوے بھی پاکستان نے اس کے زور کو توڑنے و جوابی حکمت عملی کے لیے کوئی سنجیدہ حکمت عملی نہیں بنارکھی، جب کبھی بھارت کی طرف سے بےبنیاد منظم پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے تو پاکستان صرف صفائیاں دینے تک ہی محدود رہتا ہے ایسا ہی کچھ کل کے FATF میں بلیک لسٹ ہونے کے پروپیگنڈے میں دیکھا گیا جبکہ ضرورت تو اس امر کی ہے کہ اینٹ کا جواب پتھر ہونا چاہئے،
    کشمیر ہی کو لے لیں کارگل جنگ سے پہلے کنٹرول لائن ایک عارضی بارڈر ہی ہوا کرتا تھا مگر بھارتی پروپیگنڈے کا موثر جواب نہ دیے جانے کے باعث پاکستان آرمی کو راگ آرمی کہا گیا جوکہ حقیقتاً ہماری حکومتی و قومی کمزوری تھی اس کے علاوہ کشمیر میں بھارتی فورسز کے ظلم و بربریت کو چھپانے کے لیے پاکستان پر عسکریت پسندوں کی مدد کا الزام لگاکر دبانے کی کوشش کرتا آرہا ہے جوکہ محض پروپیگنڈہ ہے جبکہ ہمارے خودساختہ دانشور اور موم بتی مافیا کا یہ حال ہے کہ وہ بھی اس دوڑ میں شامل ہوکر بھارتی میڈیا کا حصہ بن جاتے ہیں، اس صورتحال کے پیش نظر اب حکومت کو اس طرف بھرپور توجہ دینی ہوگی خصوصی طور پر انگلش میڈیا کے ساتھ ساتھ عربی، ہسپانوی و دیگر اہم زبان میں میڈیا کو ترجیحی بنیادوں پر میدان میں لانا ہوگا تاکہ دیگر اقوام ہمارے موقف سے بخوبی آگاہ ہوسکیں۔
    تحریر از انشال راؤ

  • مسئلہ کشمیر اور امت مسلمہ —بقلم فردوس جمال

    مسئلہ کشمیر اور امت مسلمہ —بقلم فردوس جمال

    دو دن قبل امارتی وزیر خارجہ دوڑے دوڑے پاکستان آئے تو ہم سمجھے تھے کہ شاید کشمیر کا غم انہیں لے آیا ہے چلیں دیر آید درست آید لیکن سفارتی ذرائع نے ہماری خوش فہمی دور کر دی کہ وہ موصوف تو اپنی حکومت کا پیغام لائے تھے”پاکستان کشمیر کو امت مسلمہ کا مسئلہ نہ بنائے”
    یادش بخیر 5 اگست کو جب بھارت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا شرمناک فیصلہ سنایا تب دہلی میں کھڑے ہوکر امارتی سفیر نے کہا تھا کہ یہ ہندوستان کا اندرونی معاملہ ہے،آرٹیکل 370 ختم کرنے سے کشمیر میں بہتری آئے گی،دہلی میں متعین امارتی سفیر ڈاکٹر احمد نے کھل کر مودی حکومت کے فیصلے کی حمایت کیا تھا حالانکہ یہ وہ وقت تھا جب بھارت کی صف میں کھڑے ممالک کا رد عمل بھی انتہائی محتاط تھا.

    جب کہ اس سے قبل او آئی سی کے اجلاس میں بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کو بھی امارات نے ہی بلایا تھا،امارات کا جھکاؤ ہندوستان کی طرف کیوں ہے اس حوالے سے میری ایک مستقل پوسٹ موجود ہے میرے پیج پر آپ جا کر آرام سے پڑھ سکتے ہیں.
    سر دست اس پوسٹ میں ایک اور پہلو پہ بات کرنی ہے وہ یہ کہ امارات کے اس افسوس ناک رویے کے بعد ہمارے کچھ جذباتی لوگ دلبرداشتہ ہو کر یہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ ہمیں سوکولڈ امت کے تصور سے اب باہر آنا چاہئے،ہمیں مسلم ورلڈ کے بخار و خمار کو اتار پھینکنا چاہئے،کشمیر ہمارا مسئلہ ہے ہمیں اس مسئلے کو لیکر عیاش شیخوں کے در پر جا کر مزید ذلیل نہیں ہونا چاہئے.وغیرہ وغیرہ ‘
    سوال یہ ہے کہ مسئلہ کشمیر صرف پاکستان ہندوستان کا علاقائی مسئلہ ہے یا پھر ڈیڑھ ارب مسلمانوں، 60 سے زائد اسلامی ملکوں کا بھی اس مسئلے سے کچھ لینا دینا ہے؟ اگر دینی تاریخی اور اخلاقی اعتبار سے دیکھا جائے تو کشمیر امت کا مسئلہ ہے حاضر تاریخ میں اگر کشمیر امت مسلمہ کا مسئلہ نہیں ہے تو پھر سمجھیں کہ کوئی دوسرا مسئلہ بھی امت کا نہیں ہے،پاکستان جس کلمہ طیبہ کے نام پر معرض وجود میں آیا تھا کشمیری بھی اسی نسبت سے پاکستان سے الحاق چاہتے ہیں چنانچہ اس نعرے پر وہ ایک لاکھ شہداء پیش کر چکے ہیں کہ پاکستان سے رشتہ کیا
    لا الہ الا اللہ
    اگر کشمیر امت مسلمہ کا مسئلہ نہیں تو او آئی سی کا وجود بے معنی،اگر کشمیر امت کا مسئلہ نہیں تو کشمیر پر او آئی سی کے اب تک کے درجنوں اجلاس چہ معنی دارد؟ اگر کشمیر امت مسلمہ کا مسئلہ نہیں تو ستر اسی اور نوے کی دہائی میں خانہ کعبہ میں کشمیر کے لئے دعاؤں کا کیا مقصد؟ مسئلہ فلسطین اور مسئلہ کشمیر دونوں امت کے لئے ایک طرح کے مسئلے ہیں،کشمیر میں بھی فلسطین ماڈل پر کام ہو رہا ہے،دونوں کے قاتل ہاتھ ملا چکے ہیں،دونوں جگہ مسلمانوں کی نسل کشی ہو رہی ہے.عرب دنیا کے حکمران اپنی عاقبت نا اندیشی میں کچھ بھی کہیں لیکن عرب دنیا کی یونیورسٹیوں میں "حاضر العالم الإسلامي و قضاياه المعاصرة” میں اب بھی مسئلہ کشمیر پڑھایا جاتا ہے،حکومتیں،بادشاہتیں اور اقتدار سدا نہیں رہیں گے لیکن جن دلوں میں ایمان کی شمعیں روشن ہیں وہ بھلا کشمیر میں جاری مظالم پر کرب کیسے محسوس نہیں کریں گے،وہ کیسے نہیں تڑپیں گے؟

    کشمیر امت کا مسئلہ تھا اور ہے،کسی حکمران حکومت اور بادشاہ کو اختیار نہیں کہ اقتدار کے نشے میں مست ہو کر اس مسئلے کو نقصان پہنچائے اور تاریخ میں اپنا نام سیاہ حروف میں لکھوائے،اللہ کی عدالت میں اور امت کے کل کی عدالت میں وہ مجرم بن کر کٹہرے میں ہوگا. ہمارے ہی عہد حاضر میں مغربی عیسائی ممالک نے دباؤ اور اثر و رسوخ استعمال کرکے جنوبی سوڈان اور مشرقی تیمور آزاد کروا کر عیسائی ریاستیں بنوائی بعینہ مسلم ممالک کو کشمیر کے لئے آگے آنا ہوگا.

    پاکستانی وزیر خارجہ کے مطابق بہت جلد کشمیر کی تازہ ترین صورتحال پر او آئی سی کا اجلاس طلب کیا جائے گا دیکھنا یہ ہے کہ اس اجلاس میں کون سا اسلامی ملک مظلوم کشمیریوں کے ساتھ کھڑا ہو کر سرخرو ہوتا ہے اور کون سے ملک کے حکمران قاتل مودی کے ساتھ کھڑے ہو کر اپنے زوال اور دنیا و آخرت کی رسوائی خریدتے ہیں. ہاں ہمارے لیے لازم ہے کہ ہم قنوطیت اور مایوسی سے نکل کر رب تعالی کی اس کائنات میں اپنی مسئولیت اور ذمہ داری سے عہدہ براں ہوں،ہم باد نیسم کے جھونکے کی طرح خوشبو کا امید کا اور فتح کا پیغام دیتے جائیں.

    کتابِ مِلّتِ بیضا کی پھر شیرازہ بندی ہے
    یہ شاخِ ہاشمی کرنے کو ہے پھر برگ و بر پیدا
    ربود آں تُرکِ شیرازی دلِ تبریز و کابل را
    صبا کرتی ہے بُوئے گُل سے اپنا ہم‌سفر پیدا
    اگر "کشمیریوں” پر کوہِ غم ٹُوٹا تو کیا غم ہے
    کہ خُونِ صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا

    تحریر از فردوس جمال

  • ہمیں 65 کی زبان بھی آتی ہے : علی چاند

    ہمیں 65 کی زبان بھی آتی ہے : علی چاند

    پاکستان 14 اگست 1947 کو معرض وجود میں آیا تھا ۔ پاکستان بنانے کا مقصد ایک الگ اسلامی معاشرے کی تشکیل تھا جہاں مسلمان اسلامی قوانین پر آزادی کےساتھ عمل کر سکیں ۔ لیکن بھارت کو کبھی بھی یہ بات گوارا نہیں ہوٸی کہ مسلمان پر امن طریقےسے زندگی گزاریں ۔ بھارت نے پاکستان کو ختم کرنے کے لیے مسلمانوں کی الگ پہچان ختم کرنے کے لیے 6 ستمبر 1965 کو پاکستان پر حملہ کر دیا ۔ پاکستانی افواج نے اپنی غیور اور بہادر عوام کے ساتھ مل کر دشمن کے ناپاک عزاٸم کو خاک میں ملا دیا اور اپنے دشمن کو ایسی ذلت سے دوچار کیا جس کا داغ اگر دشمن دھونا بھی چاہے تو بھی صدیوں میں بھی نا دھو پاٸے گا ۔ پاکستان میں یہ دن یعنی 6 ستمبر کا دن یوم دفاع پاکستان کہلاتا ہے اور تمام پاکستانی ہر سال یوم دفاع پاکستان پورے جوش و جذبے کے ساتھ مناتے ہیں اور اس دن بھارت کو دوبارہ باور کرواتے ہیں کہ اگر تم نے پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھا تو ہم تمہارا وہی حال کریں گے جو 1965 کی جنگ میں کیا تھا ۔ پاکستانی افواج اور عوام نے 6 ستمبر 1965 کی جنگ میں ثابت کردیا کہ ہم بدر و حنین والوں کے وارث ہیں جو نہ تو ڈرتے ہیں نہ بزدلی دیکھاتے اور نہ ہی اپنے کسی دشمن سے خوف زدہ ہوتے ہیں ۔ اس جنگ میں بھی پاکستانیوں نے مسلمانوں کی تاریخ دہراتے ہوٸے دشمن کا تکبر خاک میں ملا دیا اور اپنے سے کٸی گنا بڑے دشمن کو سر اٹھانے کے قابل نہ چھوڑا ۔

    اس دن کو منانے کا مقصد یہ ہے کہ ہم دشمن ہر واضع کر دیں کہ ہم اپنے دشمن کا نام و نشان مٹانا جانتے ہیں ، اپنا دفاع کرنا جانتے ہیں اور اپنے وطن کی طرف میلی نگاہ ڈالنے والے کو نیست و نابود کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں ۔ یوم دفاع پاکستان پاکستان کی غیور ، بہادر اور پر عزم افواج اور عوام کا دن ہے جس دن سب پاکستانی چاہے ان کا تعلق کسی بھی شعبے سے ہو یہ عہد کرتے ہیں کہ ہم اپنے وطن پر کبھی آنچ نہیں آنے دیں گے اور پاکستان کی حفاظت میں سر دھڑ کی بازی لگا دیں گے ۔ یوم دفاع پاکستان شجاعت و بہادری کا دن ہے وہ دن جس دن پاکستانی افواج نے اپنی عوام سے مل کر اپنے سے کٸی گنا دشمن کا غرور و تکبر نیست و نابود کر دیا ۔ یوم دفاع پاکستان وہ دن ہے جس دن کی ذلت کا داغ دشمن کبھی نہیں دھو سکتا ۔ یہ دن ناقابل تسخیر جذبوں کا دن ہے ، یہ دن ہر پاکستانی کا سر فخر سے بلند کرنے کا دن ہے ، یہ دن ہماری آن ، بان ، شان اور وطن سے محبت کے ثبوت کا دن ہے ۔ یہ میرے شہیدوں غازیوں ان کے گھر والوں کے زندہ و جاوید جذبوں اور بہادری و جرات کا دن ہے۔ یہ وہ دن ہے جس نے ثابت کیا کہ مسلمان ماٸیں اپنے جگر کے ٹکڑوں کو میدان جنگ میں بھیجتے ہوٸے ذرا بھی خوف نہیں کھاتیں ۔ یہ وہ دن ہے جس نے ثابت کیا کہ ایک بہن اپنے بھاٸی کو وطن کی محبت میں کیسے وطن پر لٹا دیتی ہے ۔ یہ وہ دن ہے جس نے ثابت کیا کہ ایک باپ اپنا جوان خون اور ایک بھاٸی اپنا بازو ( بھاٸی ) کیسے وطن پر قربان کرتا ہے ۔ یہ وہ دن ہے جس نے ثابت کیا کہ یہاں لڑکیاں جوانی میں بیوہ تو ہوسکتی ہیں لیکن کبھی شوہر کو جہاد سے غافل نہیں ہونے دیتی ۔ یہ وہ دن ہے جس نے ثابت کیا کہ یہاں بچے یتیم تو ہو سکتے ہیں لیکن اپنے پیارے وطن پاکستان پر کوٸی آنچ نہیں آنے دیں گے ۔ اس دن نے ثابت کیا کہ یہاں ماتم کر کے اپنے بچوں کے لاشے وصول نہیں ہوتے بلکہ ایک جوان کی شہادت باپ اور بھاٸی کا سینہ فخرسے اور بھی چوڑا کر دیتی ہے ۔ اس دن نے ثابت کیاکہ یہاں ایک جوان کی شہادت بوڑھی ماں کو جوانی کی طاقت ، اور یتیموں کو وقت سے پہلے جوان کر دیتی ہے ۔ اس دن نے ثابت کیا کہ یہاں ایک گھر میں اگر ایک جوان شہیدہو کر آٸے تو اس پر ایسا فخر ہوتا ہے کہ اسی گھر سے دو تین مرد اور رتبہ شہادت پانے کو نکلیں گے ۔ پاکستانی افواج اور عوام نے اس دن دنیا کو ثابت کر دیکھایا کہ ہاں ہم زندہ قوم ہیں ، پاٸیندہ قوم ہیں ۔

    اس دن پاکستانیوں نے ثابت کر دیا کہ دنیا کی کوٸی طاقت ہمیں ہرا نہیں سکتی ، دنیا کی کوٸی طاقت ہمیں بزدل نہیں بنا سکتی ۔

    پاکستان نے اس سال اپنایوم دفاع پاکستان اپنی شہہ رگ کشمیر کے ساتھ یوم یکجہتی کے طور پر منانے کا علان کیا ہے ۔ بھارت جب پاکستان سے منہ کی کھاتا ہے تو وہ پاکستان کا غصہ مجبور اور بے بس کشمیریوں پر نکالتا ہے ۔ نہ صرف کشمیریوں بلکہ انڈیا میں بسنے والی اقلیتوں کا بھی جینا حرام کر دیا جاتا ہے ۔ اب بھی ایک ماہ ہونے کو ہے بھارت نے کشمیر میں کرفیو لگایا ہوا ہے کشمیری عوام کو بنیادی انسانی حقوق تک میسر نہیں ۔ ادویات اور غذا کی انتہاٸی شدید قلت ہے ۔ عالمی میڈیا چیخ چیخ کر مودی کی ظلم و بربریت دنیا والوں کو دیکھا رہا ہے کہ کیسے بھارتی افواج کشمیری جوانوں ، بوڑھوں ، بچوں اور عورتوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہے ہیں ۔ پاکستان نے یوم دفاع پاکستان کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر منانے کا اعلان اس وجہ سے کیا ہے تاکہ دنیا بھر کی نظریں کشمیریوں کے حق خود ارادیت اور بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی کی طرف دلاٸی جاسکے ۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارت پر یہ بھی واضح کیا جاٸے گا کہ ہم نے جس طرح تمہارا غرور 1965 میں خاک میں ملایا تھا اب بھی ہم تم سے اپنہ شہہ رگ چھڑوا کر تمہیں خاک میں ملاٸیں گے ۔ ابھی ہم پر امن اس لیے ہیں تاکہ یہ مسلہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق پر امن طریقے سے حل ہوجاٸے لیکن اگر بھارت نے ہماری امن کی زبان نہ سمجھی تو پھر اسے اسی زبان میں سمجھاٸیں گے جو ہم ان 1965 کی جنگ میں استعمال کی تھی ۔

    اللہ پاک میرے وطن کے تمام شہیدوں اور ان کے گھر والوں کے درجات بلند فرماٸے ۔ ہمیں وطن پر مر مٹنے کی توفیق عطا فرماٸے ۔ ہمارے پیارے پاکستان کو شاد و آباد رکھے اور ہمیں ملی غیرت عطا فرماٸے ۔ کشمیر کو آزاد فضاٸیں نصیب فرماٸے ۔ آمین

  • ارلی چائلڈ ایجوکیشن اینڈ کیئر تیسری عالمی کانفرنس اسلام آباد میں ہوگی

    ارلی چائلڈ ایجوکیشن اینڈ کیئر تیسری عالمی کانفرنس اسلام آباد میں ہوگی

    اسلام آباد : پاکستان میں ارلی چائلڈ ایجوکیش کے حوالے سے پہلے بھی کوششیں ہوتی رہتی ہیں مگر اس مسئلے پر خصوصی کانفرنس 2روزہ تیسری عالمی کانفرنس25 اور 26 ستمبر کو منعقد ہو گی۔اس سال یہ کانفرنس علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں پاکستان الائنس برائے ارلی چائلڈ ہوڈ ڈویلپمنٹ روپانی فائونڈیشن ،ْ وزارت منصوبہ بندی و ترقی اور قراکرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کے تعاون سے ہوگی

    ذرائع کے حوالے سے یہ معلوم ہوا ہے کہ اس کانفرنس میں 500کے قریب قومی و بین الاقوامی سطح کے ای سی ڈی ماہرین ،ْ پریکٹیشنرز ،ْ محققین ،ْ قانون دان ،ْ پالیسی میکرز ،ْ ڈونرز اور والدین شرکت کریں گے۔سکالرز ولادت سے قبل اور پیدائش کے بعد بچے اور ماں کی عذائیت ،ْ بچے کی ابتدائی پرورش اور مستقبل کے تعین پر مقالے پیش کریں گے۔