Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پاکستان تب رہے گا جب کشمیر رہے گا …  تحریر عبدالواسع برکات !!

    پاکستان تب رہے گا جب کشمیر رہے گا …  تحریر عبدالواسع برکات !!

    پاکستانیوں نے اسلام میں جب پانچ کلو میٹر کا کشمیری پرچم لہرا کر عالمی ریکارڈ قائم کیا تو اس کشمیر مارچ میں کشمیری بہادر خاتون آسیہ اندرابی کا بیٹا احمد بن قاسم اپنی درد بھری تقریر میں کہہ رہے تھے ’’ ہر کشمیری اپنے آپ کو پاکستانی سمجھتا ہے اور یہ رشتہ تاریخی رشتہ اس رشتے کا تعلق ہمارے دین سے اس رشتے بڑا اور کوئی رشتہ نہیں ہے ۔ کشمیر کے بچے سکول بیگ سے زیادہ اپنے عزیز و اقارب کے تابوت اٹھاتے ہیں ۔‘‘ بزرگ رہنما جو اس عمر میں اور انتہائی کمزور طبیعت کے باوجود کشمیری عوام کے ساتھ بھارت کے عزائم کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہیں یٰسین ملک جیل کی زندگی برداشت کر رہے ہیں کشمیری ہر روز بچوں کے بوڑھوں کے عورتوں کے جنازے اٹھاتے ہیں ۔ کشمیری 72سالوں سے یہ رشتہ نبھارہے ہیں خون پیش کرکے قربانیاں دے کر بچوں کی قربانیاں بزرگوں کی قربانیاں اپنی مائوں بہنوں کی قربانیاں دے کر یہ تعلق یہ رشتہ مضبوط کر رہے ہیں ہندوستان کے ہر ظلم کو اپنے بدن پہ سہہ کر ہندوستان کی دہشت گردانہ کروائیوں کو اپنے سامنے ہوتا دیکھتے ہیں بھارت مودی کی وحشیانہ پالیسیوں کو اپنے اوپر زبردستی لاگو ہوتا دیکھ کر بھی یہ رشتہ کمزور نہیں ہونے دیا اور آزادی کے ارمان اور پاکستان کی محبت میں کمی نہیں آنے دی ان کو امید ہے کہ ایک دن آزادی کا سورج دیکھیں گے اور پاکستان کی پیار بھری ہوائوں کو کشمیر میں بھی پائیں گے۔ لیکن ہم ان کو کیا دکھا رہے ہیں ؟؟ کیا ہم کو اندازہ بھی ہے کہ جب کشمیری پاکستان کی طرف دیکھتا ہو گا تو اس کو سکرین پر صرف نواز شریف کی بیماری ہی نظر آتی ہو گی اس کو کشمیری کی لہولہان بیٹی کی تصویر نظر نہیں آتی ہوگی ۔۔۔۔ کشمیری جب امید بھری نظر سے پاکستان کی طرف دیکھتا ہو گا تو اس کو اپنے کشمیر سے بے پرواہ اور اقتدار کی کرسی کی خاطر جنگ لڑتے سیاستدان نظر آتے ہوں گے ۔۔۔ وہ کشمیری جو پاکستان کے پرچم کو اٹھائے گولیاں برداشت کر رہا ہے وہ جب پاکستان کی طرف دیکھتا ہو گا تو درجنوں شوگر ملوں کے مالک زرداری کی بیماری کا ڈھنڈوڑا بج رہا ہو گا ۔ وہ کشمیری جو پاکستان پہ قربان ہو رہے ہیں وہ جب پاکستان کی سکرین پہ دیکھتے ہوں گے کہ معمولی سے ہارٹ اٹیک کی بھي بریکنگ نیوز چل رہی ہیں اور کشمیریوں کے جنازوں کی بھی خبریں غائب ہیں ۔۔۔۔ کشمیری اسلام آباد کی طرف دیکھتے ہوں گے تو مولانا حضرات ڈی چوک کو فتح کرنے کی بحث کر رہے ہوں گے ۔۔۔ کشمیری وزارت خارجہ کو دیکھیں گے تو وہاں حریم شاہ کے چرچے نظر آتے ہوں گے ۔۔۔ عدالتوں اور ججوں کی طرف دیکھیں گے تو وہ بھی نواز شریف ، مریم نواز، زرداری ، شہباز شریف کی سزائوں کے بارے میں زیر بحث نظر آئیں گے ۔۔۔۔ کشمیری سیاسی جماعتوں کے وابستگان کی طرف دیکھيں تو ہر کارکن کو اپنے اپنے لیڈر کی فکر ستائے جا رہی ہے ہر کوئی چاہتا ہے میرا لیڈر ترقی کر جائے میرا لیڈر وزیراعظم کی سیٹ پر بیٹھ جائے اس کی خاطر میں اپنی جان بھي قربان کر دوں ۔۔۔کشمیری اس وزیر اعظم کو بھی دیکھتے ہوں گے جو اقوام متحدہ میں تقریر کے بعد غائب ہیں اور دھرنے کو رکوانے میں مصروف ہیں۔۔ ۔ ۔ او میرے پاکستانیو!!!!!! کشمیریوں کو پاکستان کا پرچم اٹھائے آج 72سال ہو گئے ہیں کشمیریوں نے ایک دن بھی پاکستان کا پرچم گرنے نہیں دیا کرفیو کو 100 دن ہونے والے ہیں وہ تب بھی ثابت قدم ہیں ان کے ڈگمگائے نہیں ہیں مگر ہم شاید بھول رہے ہیں کشمیریوں کو پس پشت ڈال رہے ہیں ہمارے سیاستدان قصور وار ہیں ان کو اپنے اپنے اقتدار کی فکر ہے ۔۔ میڈیا کو ریکنگ کی فکر ہے جس خبر سے ریکنگ میں اضافہ ہو اسی خبر کو بریکنگ نیوز بنائیں گے۔۔۔ عوام تو میڈیا کے پیچھے اور اپنے قیادتوں کے پیچھے چلنے والے ہوتے ہیں جب کشمیر میڈیا سے اور قیادتوں کے دماغوں سے نکل جائے تو عوام کو کشمیر کہاں سے یاد آئے گا ۔۔۔ اس وقت نہ دھرنوں کا وقت ہے اور نہ ہی کسی اندرونی جنگ کا وقت ہے کشمیری پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں پاکستان کے ہر حلقہ کو چاہیے کشمیریوں کو جواب دے ان کا دست و بازو بنے ان کے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہو جائے ۔۔ کچھ دیر کے لیے بھول جائیں اپنے اقتدار کو ۔۔اپنے کالے کوٹ کو اتار دیں ۔۔ اپنی منسٹری کی سیٹ کی پرواہ نہ کریں کشمیر کی پراہ کریں کشمیر رہے گا تو پاکستان رہے گا اور پاکستان رہے گا تو تمہارا اقتدار بھي رہے گا تمہارے ملین مارچ بھی تبھی ہوں گے تمہاری عدالتوں میں فیصلے تبھي چلیں گے تمہارے دفتروں میں کاروبار تبھی چلے گا تمہارے سیاسی و مذہبی لیڈر کی ترقی تبھی ہو گی جب پاکستان رہے گا اور پاکستان تب رہے گا جب کشمیر رہے گا … !

  • عراق میں احتجاجی مظاہروں کی حقیقت!—از—صابرابومریم

    حالیہ دنوں عراق میں احتجاجی مظاہروں کا دوسرا دور شروع ہو اہے اس سے قبل شروع ہونے والا احتجاجی مظاہروں کا دور بیس اکتوبر سے ایک ہفتہ قبل اس لئے روک دیا گیا تھا کیوں کہ ختمی مرتبت حضرت محمدمصطفی (ص) کے نواسہ جناب امام حسین کے چہلم کے ایام کی وجہ سے دنیا بھر سے کروڑوں افراد کی کربلا و نجف جیسے مقدس شہروں میں آمد و رفت تھی۔البتہ یہ اعلان کیا گیا تھا کہ چہلم امام حسین کے بعد 25اکتوبر سے ان مظاہروں کا دوبارہ آغاز کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ مظاہروں کے پہلے دور میں بھی درجنوں افراد مارے گئے تھے جو کہ سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور ہینڈ گرنیڈ جیسے ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہوئے پائے گئے تھے۔

    بہر حال حالیہ دنوں میں عراق میں احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔سوشل میڈیا پر عراق سے موصول ہونے والی سیکڑوں ویڈیوز اور تصاویر تک سب کی رسائی ہے۔ہم اس مقالہ میں کوشش کریں گے عراق میں ہونے والے ان مظاہروں کے پس پردہ عوامل کو آشکار کریں۔

    یہ مظاہرے کیوں شروع ہوئے اور ان کی قیادت کون کر رہا ہے؟ اس سوال کا آسان سا جواب یہی ہے کہ مہنگائی، کرپشن جیسے دیرینہ مسائل ان مظاہروں کی بنیاد بنے ہیں جبکہ ان مظاہروں کی قیادت کے عنوان سے تاحال کوئی بھی سیاسی قیادت کھل کر سامنے نہیں آ رہی ہے کہ جو علی الاعلان یہ کہہ سکے کہ ان مظاہروں کی قیادت کر رہی ہے۔جو کچھ بتایا جا رہا ہے وہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا کے ذریعہ عوام جمع ہوئے ہیں اور حکمران طبقہ کی کرپشن اور بد عنوانیوں کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ بظاہر اگر ان باتو ں کو مان لیا جائے تو یقینا کوئی بھی سمجھدار انسان یا سیاسی سوج بوجھ رکھنے والا انسان ان باتوں کو رد نہیں کر سکتا لیکن حقیقت اس کے بر عکس ہے جو کہ پردے کے پیچھے ہے۔

    حقیقت میں مظاہرین جو بغیر کسی قیادت کے سڑکوں پر نکل آئے ہیں اور مسلسل ایسی ویڈیوز سامنے آ رہی ہیں کہ جس میں سرکاری عہدیداروں کو مارا پیٹا جا رہاہے۔حتیٰ یہاں تک کہ کربلا میں ایک رضا کار کو ایمبولینس سے نکال کر قتل کر دیا گیا، جبکہ ایمبولینس کے دیگر عملہ کو بھی اس کے ساتھ ساتھ قتل کیا گیا یہ مناظر آج سوشل میڈیا پر موجود ہیں۔اسی طرح ایک اور منظر میں بغداد کی گلیوں میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک پولیس وین کو روک کر پولیس والوں کو اتار کر انہیں چند شر پسند عناصر گرفتار کر کے لے جا رہے ہیں جبکہ ان پر بہیمانہ تشدد بھی کیا جا رہاہے۔ایسی کئی ایک ویڈیوز سوشل میڈیا پر موجود ہیں جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مظاہرین کے اندر چھپے ہوئے شرپسند عناصر ہینڈ گرنیڈ جیسے ہتھیار بھی استعمال کر رہے ہیں۔بصرہ میں کچھ ایسے مظاہرین کو بھی گرفتار کیا گیا ہے جو مظاہرین کے اندر رہتے ہوئے مظاہرین اور پولیس والوں پر گولیاں چلا رہے تھے اور انہیں خفیہ انداز میں قتل کر رہے تھے۔

    بہر حال ان مظاہروں کے احوا سے ہٹ کر جو اصل مدعا ہے وہ یہ ہے کہ رفتہ رفتہ ان مظاہرین کے مطالبات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں جن میں مہنگائی اور کرپشن سمیت حکمرانوں کی بد عنوانی جیسے الزامات کہیں دور دور بھی نظر نہیں آ رہے ہیں۔اب ان مطالبات میں ایران کے خلاف نعرے بازی، داعش کے خلاف جدوجہد اور جنگ کرنے والی رضا کار فورس کے خلاف نعرے، عراق کے بزرگ علمائے کرام کی تصاویر کو نذر آتش کرنے سمیت ان کے خلاف نعرے لگانا سمیت ایسے نعرے لگائے جا رہے ہیں کہ جو خود ان احتجاجی مظاہروں کی جڑ اور بنیاد کا پتہ دیتے ہیں۔

    عرا ق سے امریکی افواج کا انخلاء او پھر یہاں داعش کی حکومت قائم ہونے سے داعش کے خاتمہ کے بعد تک عراق اور اس کا نظامکافی حد تک تبدیل ہو چکا ہے۔ایک عرا ق جو امریکی سرکار کا محتاج تھا آج امریکی فوج کو عراق میں قبول کرنے کو تیار نہیں ہے۔دوسری طرف امریکہ چاہتا ہے کہ عراق کے ایران سمیت چین اور روس اور دیگر ممالک کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات کو بھی ضرب لگائی جائے،حالیہ مظاہرو ں میں لگائے جانے والے نعروں میں اس سازش کی کھلی تصویر نظر آ رہی ہے۔

    امریکی صدر پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ امریکہ نے عراق اور شام پر تسلط حاصل کرنے کے لئے سات ٹریلین ڈالر خرچ کئے ہیں اب ٹرمپ یہ کہتے ہیں کہ ان سات ٹریلین ڈالرز کی واپسی وہ عراق کے تیل کو دنیا بھر میں فروخت کر کے حاصل کریں گے۔یعنی مقاصد صاف نظر آرہے ہیں کہ عرا ق کے وسائل پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔جیسا کہ ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ یورپ میں کسی ایک دکاندار سے ایک سو ٖڈالر نکلوانے سے کہی زیادہ آسان سعودی عرب کے حکمرانوں سے ملین ڈالرز نکلوانا ہے۔یہی فارمولا وہ عراق میں لا گو کرنا چاہتے ہیں لیکن عراق کی حکومت اور اکثریت اس فارمولہ کو پہلے ہی مسترد کر چکے ہیں۔امریکی سرکار کا عراق میں حال یہ ہے کہ اب صرف ساڑھے چھ ہزار امریکی فوجی سفارتخانوں اور دیگر شخصیات کی سیکیورٹی کے نام پر عرا ق میں موجود ہیں جن کے بارے میں بھی عراق نئی منتخب حکومت کہہ چکی ہے کہ ان کی سیکیورٹی کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    دراصل امریکہ عراق و شام اور لبنان و فلسطین سمیت پورے غرب ایشیاء میں تنہا اور بد ترین شکست خوردہ ہو چکا ہے اور اس شکست کا اعتراف اکشر اوقات ٹرمپ کی تقاریر میں بھی سننے کو ملتا ہے۔عراق کو غیر مستحکم کرنے اور سیاسی بھونچال پیدا کرنے کے لئے امریکی و صہیونی اسکیم نے کرپشن اور بد عنوانی کو آلہ کار بناتے ہوئے چند شر پسند گروہوں کو سوشل میڈیا کے ذریعہ سڑکوں پر نکالنے میں کامیابی حاصل کی ہے تاہم عراق حکومت اور اس کے ادارے مسلسل اس فتنہ سے نمٹنے کی مکمل کوشش کر رہے ہیں۔

    راقم نے ان احتجاجی مظاہروں کو شرپسند عناصر اس لئے کہا ہے کہ اگر یہ مظاہرے عوامی ہوتے تو پھر ان کے نعرے بھی عوامی ہوتے نہ کہ ایسے نعرے جو امریکہ اور اسرائیل کی حمایت میں لگائے جا رہے ہوں۔اگر واقعی یہ مظاہرے عراق کے عوام کے ہیں تو پھر ان کو ملک کی سلامتی اور سرحدوں کی خلاف ورزی جیسے مسائل پر نعرے لگانے چاہئیں کہ جہاں متعدد مرتبہ صہیونی اسرائیل نے ڈرون حملوں میں عراقی افراد کو قتل کیا ہے۔سرحدوں کی خلاف ورزی کی گئی ہے لیکن حیرت کی بات ہے کہ مظاہروں کی خفیہ قیادت اور مظاہرین نے تا حال کسی قسم کا کوئی ایسا پلے کارڈ نہیں اٹھا یا ہے کہ جس میں داعش کے خلاف جنگ کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کی گئی ہویا عراق کی سیکیورٹی کے خلاف صہیونی سرگرمیوں کی مذمت کی گئی ہو۔

    خلاصہ یہ ہے کہ عرا ق کا احتجاجی مظاہروں کا پہلا دور ہو یا اب چلنے والا دوسرا دور، دونوں ادوار میں جو ایک بات سوشل میڈیا پر واضح طور پر نظر آ رہی ہے وہ امریکہ و اسرائیل سمیت یورپی ممالک اور بالخصوص خلیجی ممالک بشمول سعودی عرب سے حمایت کی جا رہی ہے جو واضح طور پر اس بات کی روشن دلیل ہے کہ عراق میں موجود چند ایسے عناصر جو امریکہ، اسرائیل اور خطے کی عرب ریاستوں کے اشاروں پر عراق کے مستقبل کو تباہ و برباد کرنا چاہتے ہیں اور امریکی ایجنڈا کی تکمیل کی خاطر عراق کی سڑکوں پر معصوم او ر بے گناہ لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنا کر قتل و غارت کر رہے ہیں۔

    ایسے کسی بھی احتجاج کو جمہوری احتجاج نہیں کہا جاتا لہذا ہر عقل مند جو عرا ق کی سیاسی صورتحال سے آشنا ہو گا وہ یہ بات بخوبی سمجھ سکتا ہے کہ عراق میں جاری مظاہرے در اصل امریکی خلفشار ہیں جس کا مقصد امریکی ناپاک عزائم کی تکمیل کے سوا کچھ بھی نہیں۔امریکہ اپنی شکست کا بدلہ لینے کے لئے عرا ق میں نئے انداز سے وارد ہو رہاہے تا کہ اپنی شکست کو چھپا سکے اور اس کام کے لئے امریکی حکومت پر اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کتنے بے گناہوں کا خون بہاناپڑے گا۔کیونکہ امریکہ پہلے ہی نائن الیون کے بعد افغانستان او ر عراق میں لاکھوں انسانوں کو موت کی نیند سلا چکا ہے

    عراق میں احتجاجی مظاہروں کی حقیقت!
    تحریر:صابرابومریم
    سیکرٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان
    پی ایچ ڈی ریسرچ اسکالر، شعبہ سیاسیات جامعہ کراچی

  • پالیسی کون بناتا ہے ؟؟؟

    کیا کوئی سجاول ریاض کو جانتا ہے ؟؟ سجاول ،پاکستان انڈر 19 کا نائب کپتان ہے اور پاکستان کی طرف تمام لیول کی کرکٹ کھیل چکا ہے اور اسے زرعی ترقیاتی بینک کی طرف سے نوکری دی گئ۔مگر پاکستان میں کلب کرکٹ ختم ہونے کے بعد ZTBLنے ایک لیٹر کے زریعے مطلع کیا ہے کہ آپ کرکٹ کو خیر آباد کہیں اور واپس آکر ”Peon”کی نوکری کریں۔
    پی سی بی کے لاکھوں میں تنخواہیں لینے والے دیسی بابوئوں نے آتے ہی ریجنز /ڈیپارٹمنٹل کرکٹ بند اس وجہ سے کی کہ اقربا پروری اور سفارش کلچر کو ختم کیا جا سکے۔وہ تو ختم نہ ہو ئے (حالیہ ٹیم سلیکشن سے اندازہ لگا یا جا سکتا ہے) لیکن اس پالیسی نے کھلاڑیوں کو بیروزگار ضرور کر دیا ہے۔اسی مد میں ایل سی سی اے میں 14 سال سے کام کرنے والے گراونڈ مین شوکت علی کو تین ماہ سے تنخواہ نہیں دی گئی اور نوکری سے فارغ کردیا گیا۔تو پوچھنا تھا ،پالیسی کون بناتا ہے؟؟
    بحیثیت ایک کرکٹ شائق اورکرکٹ کھیلتے اور دیکھتے اپنی عمر کی تیس بہاریں گزار چکا ہوں۔مجھے نہیں پتہ چلا آج تک کہ پاکستان کرکٹ کو بہتر بنانے کےلئے پالیسی کون بناتا ہے۔تحریر میں حقائق اس بات کے عکاس ہونگے کہ پالیسی بنانے اور اسے نافذ کرنے کےلئے کرکٹ کھیلنے اور کا با غور مشاہدہ صیحح پالیسی کو بنانے میںکتنا کار گر ثابت ہوتے ہیں۔
    وسیم خان ،حال ہی میں پاکستانی کرکٹ بورڈ میںتعینات ہونے والے ایم ڈی ہیں۔ وزیر اعظم کے لائے ہوئے احسان مانی نے اُنہیں اپنے اقتدار کے فورا” بعد تعینات کیا۔سوال یہاں یہ ہے کہ کیا وہ پاکستان میں ہونے والے کلب کرکٹ کو سمجھتے ہیں ؟؟ کیا محض ایک انگلش کاونٹی کے سی او کو پورے کرکٹ بورڈ کا ایم ڈی لگا دینا درست عمل ہے؟؟ تو یوںپرچیوں کا سلسلہ شروع ہوا چاہتا ہے۔
    مصباح الحق کو ایک ہی وقت میں چیف سلیکٹر اور ہیڈ کوچ بنانے کی لوجک ابھی عام عقل میں آنے والی نہیںتھی ک موصوف نے آسٹریلیا کےلئے ٹیم انائونس کرنے کی پریس کانفرنسز کر کے اپنی اہلیت اور پالیسی کے فیلئر کو ایک دفعہ پھر عیاں کر دیا۔
    مصباح،9 اکتوبر کو کی گئی پریس کانفرنس میںایک سوال کہ جواب میں کہتے ہیں ،عثمان قادر کیا ڈومیسٹک کھیلا ہے جو اُسے نیشنل ٹیم میں سلیکٹ کیا جائے ۔ (یہاں اس بات کو بالکل نہیں بھولنا چاہئیے کہ اس وقت کپتانی سرفراز کے پاس تھی)۔ٹھیک گیارہ دن بعد جب آسٹریلیا کے لئے تینوں فارمیٹس کےلئے ٹیمز کا اعلان ہوا تو ایک اور پریس کانفرنس داغ دی۔اور عثمان قادر کو نہ صرف ٹیم میں سلیکٹ کیوں کیا اس پر صحافیوں کو بھاشن دیا ، بلکہ قصیدہ گوئی بھی کہ جناب بگ بیش کھیل کر آئے ہیں اور بال گھوماتا اچھی ہے سکٹ اچھی کرتا بلا بلا۔۔اب عثمان قادر کو سلیکٹ کرنے کے پیچھے نئے ٹی ٹونٹی کے کپتان بابر اعظم کی دوستی کا عنصر بھی شامل ہے۔اگر ہندسوں پر جائیں، تو دائیں ہاتھ کے لیگ سپنرززاہد محمود نے حالیہ نیشنل ٹی 20 کپ میں سائو تھ پنجاب کی جانب سے 5 میچز میں 13 کی اوسط سے 9 کھلاڑیوں کو آئوٹ کیا۔جبکہ عثمان قادر نے 4 میچز میں 16کی اوسط سے 5 کھلاڑیوں کو آئوٹ کیا۔
    دوسری طرف ایک الگ ہی دوڑ پنجاب اور سندھ کی لابیز کی شروع ہوئی ہوئی ہے۔مصباح الحق نے آتے ہی ذاتی حیثیت میں پرفارم نہ کرنے پر نہ صرف سرفراز احمد کوکپتانی سے ہٹا دیا ساتھ ہی ساتھ ٹیم سے بھی فارغ کر دیا۔اور کہا کہ ڈومیسٹک میں پرفارم کرے ٹیم کے دروازے اُس کےلئے کھلے ہیں۔تجربات اور مشاہدات کی روشنی میں یہ بات واضح اور روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ کبھی بھی کپتانی سے نکالے شخص کو ٹیم میں نہیں رکھا۔پرفارمنس کی بنیاد پر اگر کم از کم ٹیسٹ میں کسی کو رکھا جاتا تو فواد عالم ضرورسلیکٹ کیا جاتا۔بیسیوں ایسے نام ہیں جن میں تابش خان (کراچی سے) ، سہیل تنویر ، ذیشان اشرف میرٹ ہوتا تو انہیں بھی آسٹریلیا ٹور میں شامل کیا جاتا۔اگلے سال 2020 میں ٹی 20 ورلڈکپ آرہا ہے اور ٹیم میں کوئی سینئر پلیئر نہیں ہے۔کیا ہی بہتر ہوتا اگر محمد حفیظ یا شعیب ملک کی بھی جگی بنتی تا کہ جونئیر پلئرز ،سینئرز کے ساتھ ملکر کھیلتے اورہم ایک مضبوط ٹیم ورلڈ کپ میں اُتارتے۔
    ہم نے سوچا تھا کہ عمران خان کے آنے کے جہاں اور بہت سے ڈیپارٹمنٹ صحیح ہونگے وہیں کرکٹ تو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں گے مگر جہاں لوگ انڈے بیچتے ہوں یا وین چلا کر گزارا کرنے پر مجبور ہوں
    تو پو چھنا پڑے گا کہ پالیسی کون بناتا ہے ؟؟

  • ابن قاسم کی فریاد۔۔از قلم خنیس الرحمن

    ٓٓکشمیری آج ایک قابض فوج کے خلاف آپ کی بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ہر کشمیر ی اپنے آپ کو پاکستانی سمجھتاہے اور یہ رشتہ تاریخی رشتہ ہے۔اس رشتے کا تعلق ہمارے دین سے ہے۔اس رشتے سے بڑا اور کوئی رشتہ نہیں۔جب میں ایک دفعہ اپنے والد سے ملنے جیل میں گیا تو میں نے اپنے والد سے پوچھا آپ جیل میں کیوں ہیں تو میرے بھائی نے کہا کہ ابو ہوم ورک نہیں کرتے تھے تو اس وجہ سے ان کو انڈیا نے جیل میں ڈال دیا ہے تو میں نے کہا ٹھیک ہے۔ایک دفعہ مجھے اپنے ابو کی بہت یاد آرہی تھی تو میں نے جان بوجھ کر ہوم ورک نہیں کیا۔میں نے سوچا کہ شائد اس طریقے سے میں اپنے والد کے ساتھ رہ سکوں۔لیکن ایسا نہیں ہوا تو میں اپنے والد کے پاس گیا تو میرے والد نے مجھے اپنے پاس بلایا اور اپنی کمر سے اپنی شرٹ ہٹائی تو اس پر ٹارچر کے نشان تھے۔میں نے اپنی آنکھیں بند کیں میں نہیں دیکھ سکا تو میں نے اپنے ابو سے کہا یہ کس نے آپ کے ساتھ کیا ہے۔یہ کس نے کیوں آپ کے ساتھ کیا ہے تو ابو نے کہا انڈیا۔۔چھوٹا سا تھا تب میں۔۔کشمیر میں بچے سکول بیگ سے زیادہ تابوت اپنے کندھوں پر اٹھاتے ہیں۔جو بھی پاکستان میں ارباب اقتدار ہیں آپ انہیں کہیں وہ کشمیر کے لیے کچھ کریں کیونکہ صرف باتوں سے نو لاکھ فوج کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔آپ کو ضرورت ہے تب تک جب تک کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہوتا۔بہت ظلم ہوچکاہے۔پچھلے سترسال سے کشمیری لاک ڈاؤن میں رہ رہے ہیں۔اب وقت آچکا ہے کہ پاکستانی قوم اس ایشوکو اٹھائے۔کشمیر میں لوگ کیا سڑکوں یا کسی ڈویلپمنٹ کے لیے لڑ رہے ہیں نہیں انڈیا سب کچھ دینے کو تیار ہے۔وہ سری نگر کو سمارٹ سٹی بنانے کو تیار ہے۔کشمیر ی کہتے ہیں ہمیں روٹی،کپڑااور مکان نہیں چاہیے ہم آدھی روٹی کھائیں گے لیکن سر نہیں جھکائیں گے۔یہ بات یاد رکھیں کہ کہ کشمیریوں کا آپ پر ایک قرض ہے اویہ مسئلہ کسی خاص فرد یا خاندان کا نہیں سب پاکستانیوں کا ہے۔۔
    یہ الفاظ ایک ایسے نوجوان کے ہیں جس کی والدہ اور والدہ اپنے آپ کو تحریک آزادی کے لیے وقف کیے ہوئے ہیں۔آج وہ بھارتی عقوبت خانوں میں بند ہیں۔جن کا جر م یہ ہے وہ آزادی کی صدا بلند کرتے ہیں۔یہ احمد بن قاسم کے الفاظ ہیں جو انہوں نے شاہراہ دستور پر ملین مارچ سے خطاب کے موقع پر کہے ایک وقت تھا ان کی والدہ پاکستان کے نام پاکستان کے صاحب اقتدار کے نام کشمیریوں کا پیغام بھیجا کرتی تھیں آج وہ بھارتی عقوبت خانوں میں پاکستان کا پرچم لہرانے کی وجہ سے زندان میں ہیں اس لیے آج خود بیٹا اپنی والدہ کا پیغام پاکستانیوں کو پہنچا رہا تھا۔احمد بن قاسم نے ان مختصرالفاظ میں کشمیریوں پر ہونے والے مظالم ان کی مشکلات اور ان کی فریاد کو ہمارے سامنے رکھ دیا،احمد کے والد ڈاکٹر قاسم فکتو جنہیں کشمیر کا نیلسن منڈیلا بھی کہاجاتا ہے،چھبیس سال سے اودھم پور کی جیل میں پابندسلاسل ہیں۔انہیں پہلی مرتبہ 1993ء میں کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت جیل بھیجا گیا اور پھر بعد میں بھارتی سپریم کورٹ نے جنوری 2003ء میں انہیں تاحیات عمر قید کی سزا سنادی تھی۔یوں ان کی ساری زندگی جیلوں میں قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کرتے گزری ہے۔بھارتی حکومت اور فوج نے اس طویل عرصہ میں انہیں اور ان کے اہل خانہ کو سخت اذیتیں پہنچائیں اور جدوجہد آزادی سے پیچھے ہٹانے کی کوششیں کیں لیکن غاصب بھارت کا ظلم وجبر انہیں جھکانے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔1993میں گرفتاری اور6سال کی نظربندی کے بعدعدالت نے انہیں تمام الزامات سے بری کردیاتھا لیکن بھارتی فورسز نے انہیں 2002ء میں نئی دہلی کے اندرا گاندھی ائرپورٹ پر اس وقت دوبارہ گرفتار کرلیا جب وہ لندن میں کشمیر کے حوالے سے ایک کانفرنس میں شرکت کے بعد واپس آرہے تھے۔اس کے بعد سے وہ جیل میں ہیں اور ان کے خلاف کسی قسم کا کوئی ثبوت نہ ہونے کے باوجود محض تحریک آزادی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کے جرم میں گرفتاررکھا گیا ہے۔ ڈاکٹر قاسم فکتو مقبوضہ جموں کشمیر اور جنوبی ایشیا میں سب سے لمبی قید کاٹنے والے سیاسی قیدی ہیں۔سیدہ آسیہ اندرابی سے شادی کے بعد ان کی اہلیہ اور چھ ماہ کے بیٹے کو بھی گرفتار کیا گیا تھا تاہم سیدہ آسیہ اندرابی اوران کے بیٹے کو1995ء میں رہا کر دیا گیا لیکن ڈاکٹر قاسم فکتوکی سزا برقرار رہی۔ مسلم دینی محاذ کے سربراہ بھی ہیں انہوں نے اسلامک اسٹڈیز میں پی ایچ ڈی کی اور 125قیدیوں کو گریجویشن کرائی۔عدالت نے انہیں عمر قید کی سزا دی تھی جو 14سال بنتی ہے لیکن دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے دعویدار ملک بھارت نے انہیں 26 سال سے جیل میں بند کر رکھا ہے لیکن کوئی ان کی آواز سننے والا نہیں ہے۔ جیسا کہ احمد نے کہا کہ کشمیری پاکستان کی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں آج ان کے والد بھی کشمیر کی آزادی اور پاکستان کی تکمیل کے لئے جیل میں ہیں۔ذرائع کیمطابق احمد کے والد ڈاکٹر قاسم فکتو کو بھارت کی طرف سے بہت بھاری پیشکش کی گئی۔ ان کو اسلامک یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے حیثیت سے تعینات کرنے کی پیش کش کی گئی،اس کے علاوہ 2002 کے دوران آئی بی کے چند افسران نے انہیں انتخابات میں حصہ لینے کی پیش کش بھی کی تھی۔ اسی طرح انہیں وزارت تعلیم کاقلمدان بھی سنبھالنے کی پیشکش کی گئی لیکن انہوں نے ان سب کو ٹھکرا دیا۔احمد کی والدہ بھی میں سمجھتا ہوں کہ تحریک آزادی کے لیے آوازبلند کرنے والی واحد خاتون ہیں جنہوں نے سب سے زیادہ جیلیں کاٹیں۔آج بھی سیدہ آسیہ اندرابی تہاڑ جیل میں بند ہیں۔انہیں بھی صرف پاکستان سے محبت کی سزا دی جارہی ہے وہ اپنے پروگراموں میں پاکستان کا پرچم لہراتی ہیں۔اپنے گھر پر پاکستانی پرچم لہراتی ہیں تو ان کے گھر کو بھارت کی طرف سے سیل کردیا جاتا ہے۔وہ یوم پاکستان کے موقع پر پاکستان کا قومی ترانہ پڑھتی ہیں ان پر غداری مقدمہ کرکے جیل میں بند کردیا جاتا ہے۔وہ برملا دوٹوک کہتی ہیں کہ ہم پاکستان کے ساتھ جینا مرنا پسند کرتے ہیں۔احمد جس طرح سے کہہ رہے تھے کہ ہر کشمیر ی اپنے آپ کو پاکستانی سمجھتاہے اور یہ رشتہ تاریخی رشتہ ہے۔اس رشتے کا تعلق ہمارے دین سے ہے۔اس رشتے سے بڑا اور کوئی رشتہ نہیں۔ان کی والدہ کا یہی جرم تھا وہ کہتی تھیں کہ اسلام کی بنیاد پر،ایمان کی بنیاد پر،قرآن کی بنیاد پر،محمدﷺ کی محبت کی بنیاد پر ہم پاکستانی ہیں پاکستان ہمارا ہے۔آج کشمیر میں مسلسل کرفیو کو ۱سی سے زائد دن گزر چکے ہیں ہمیں جاگنا ہوگا۔لوگ کہتے ہیں جلسوں،تقریروں اور پرچم لہرانے سے کیا ہوتا ہے آج وہ پاکستان کی خاطر قربانیاں دے رہے ہیں،جیلیں کاٹ رہے ہیں،گولیاں کھا رہے ہیں ہم اتنا بھی نہیں کرسکتے کہ ہم ان کے لیے آواز بلند کرسکیں۔آسیہ اندرابی کہا کرتی ہیں کہ پاکستان مدینہ ثانی ہے اور پاکستان کے وزیر اعظم بھی یہی کہتے ہیں آج ریاست مدینہ کی بیٹی کا لخت جگر ہم سے فریاد کررہا ہے کہ کشمیریوں کا آپ پر قرض ہے ہمیں اس قرض کا بدلہ چکانا ہوگا۔

  • بھارت کا تحریک آزادی کشمیر کو "موبائل سموں” سے کچلنے کا فیصلہ

    سری نگر: بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر میں کرفیو لگانے کے بعد بوکھلاہٹ کا شکار ہے اور کسی طرح تحریک آزادی کشمیر کو روکنا چاہتی ہے جس کے پیش نظر مودی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں پولیس کی تصدیق کے بغیر نیا موبائل کنکشن جاری نہیں ہوگا

    مقبوضہ جموں وکشمیر میں پولیس نے ٹیلی کام آپریٹرز سے کہا ہے کہ وہ پولیس کی تصدیق مکمل کیے بغیر صارفین کو کوئی نیا سم کارڈ جاری نہ کریں۔ ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق پولیس نے تمام ٹیلی کام آپریٹرز کو ہدایات جاری کیں کہ ان کی سروسز کا غلط استعمال ہونے کی صورت میں ، کمپنی کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔ ٹیلی کام آپریٹرز نے اب مناسب تصدیق کے بعد ہی پوسٹ پیڈ سم کارڈ جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس میں پولیس تصدیق کے ساتھ ساتھ کمپنی کا اپنا طریقہ کار(Know Your Customer) (کے وائی سی)بھی شامل ہے۔

    ایئر ٹیل کے ایک عہدیدار نے ساؤتھ ایشین وائر سے بات کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ ان کو پولیس اور انتظامیہ کی طرف سے سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی صارف کو بغیر تصدیق کے سم کارڈ جاری نہ کریں۔ ٹیلی کام آپریٹرز نے پری پیڈ سم کارڈز کو پوسٹ پیڈ کنکشن میں تبدیل نہ کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔
    حکام نے 70 دن کے وقفے کے بعد 14 اکتوبر کو 40 لاکھ سے زیادہ پوسٹ پیڈ فون بحال کئے تو اس کے بعد لوگو ں میں پری پیڈ سموں کو پوسٹ پیڈ میں کروانے کا رجحان بڑھ گیا ۔ مقبوضہ کشمیر میں 40 لاکھ پوسٹ پیڈ صارفین اور 26 لاکھ سے زیادہ پری پیڈ صارفین ہیں۔

    براڈ بینڈ ، موبائل فون سروسزاور انٹرنیٹ سمیت تمام مواصلات کو 5 اگست کو معطل کردیا گیا ، جب بھارت نے آرٹیکل 370 کے تحت جموں و کشمیر خصوصی حیثیت ختم کردی اور ریاست کو دو مرکز علاقوں میں تقسیم کردیا۔
    ایک سینئر پولیس آفیسر نے ساؤتھ ایشین وائر کوبتایا کہ انہوں نے ٹیلی کام کمپنیوں سے کہا ہے کہ کوئی نیا سم کارڈ جاری کرنے سے پہلے اس کی تصدیق کے مناسب طریقہ کار پر عمل کریں۔ انہوں نے کہا ، "اگر ٹیلی کام کمپنیوں نے پری پیڈ سموں کو پوسٹ پیڈ کنکشنز میں تبدیل نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے تو ، یہ ان کا اپنا فیصلہ ہے۔”

    کشمیر بھر میں پوسٹ پیڈ کنکشن کی بحالی کے ایک ہفتہ بعد ، سینکڑوں افراد نئے پوسٹ پیڈ سم کارڈ حاصل کرنے یا پری پیڈ کارڈ کو پوسٹ پیڈ کنکشن میں تبدیل کرنے کے لئے جیو ، ایرٹیل ، بی ایس این ایل ، ووڈافون ، آئیڈیا اور دیگر آپریٹرز کے شورومزپر امڈآئے تاہم ، بہت سے صارفین مایوس لوٹے کیونکہ تمام ٹیلی کام کمپنیوں نے سموں کی پوسٹ پیڈ میں تبدیلی سے انکار کردیا تھا۔

  • عالمی رینکنگ کا بہتر حصول کیسے ہو؟ چیئرمین ہائر ایجو کیشن کمیشن نے بتادیا.

    عالمی رینکنگ کا بہتر حصول کیسے ہو؟ چیئرمین ہائر ایجو کیشن کمیشن نے بتادیا.

    عالمی رینکنگ حاصل کرنے کے لیے کچھ پیرامیٹرز بنانے ہوں گے ،چیئرمین ہائر ایجو کیشن کمیشن پنجاب پروفیسر ڈاکٹر خالد احمد فضل نے بتا دیا.

    چیئرمین ہائر ایجو کیشن کمیشن پنجاب پروفیسر ڈاکٹر خالد احمد فضل نے کہا ہے کہ عالمی رینکنگ حاصل کرنے کے لیے کچھ پیرامیٹرز بنانے ہوں گے جن پر عملد آمد سے پنجاب بھر کی جامعات اپنا معیار تعلیم بہتر بنا سکیں ۔ یہ حقائق تعلیم معیار کو جانچنے کے لیے کافی ہیں کہ دنیا کی 1000بہترین یونیورسٹیز میں سے پاکستان کی 14یونیورسٹیز شامل ہیں ۔ ان میں سے 9پنجاب جبکہ 5یونیورسٹیز کا تعلق لاہور سے ہے ۔ فیڈرل ہائر ایجو کیشن کمیشن ہمیں بھرپور تعاون فراہم کر رہا ہے جسکی مدد سے پنجاب ہائرایجو کیشن کمیشن مختلف جامعات کو سہولیات فراہم کر رہا ہے ۔کوالٹی ایجو کیشن پر ہائر ایجو کیشن کمیشن پنجاب کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گااور یونیورسٹیز کو بہتری پیدا کرنے کے مزید مواقع فراہم کرے گا۔یونیورسٹیز نئے پروگرام ،ڈویلپمنٹ ،ریسرچ ،کوالٹی انشورنس پر خصوصی توجہ دیں ۔وزیر اعظم نے نالج ٹیکنالوجی کے نام پر ٹاسک فورس قائم کی ہے جو ٹیکنالوجی کی تعلیم کے حوالے سے بہتری کی گنجائش پیدا کرنے میں کردار ادا کرے گی ۔اس سلسلہ میں ہائر ایجو کیشن کمیشن پنجاب ٹاسک فورس کو ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا تاکہ ٹیکنیکل ایجو کیشن میں بھی بہتری آسکے ۔

    مریم نواز والد سے مل کر رو پڑیں،نواز شریف نے کیا کہا؟

  • آزاد کشمیر میں احتجاج کرنےوالے علیحدگی پسند کون لوگ ہیں ؟

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور گلگت بلتستان کے کچھ علاقوں میں نام نہاد قوم پرست جماعتوں کا احتجاج بدھ کے روز بھی جاری ہے اس احتجاج میں آزاد جموں و کشمیر کی چھوٹی بڑی 20 سے زائد جماعتوں کے اتحاد نے شرکت کر رکھی ہے، اس کا اتحاد کے احتجاج کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ کشمیر کو کلی طور پر تمام اکائیوں کے سمیت مکمل آزاد کیا جائے اور اسے ایک خود محتار ریاست بننا چاہیے ،

    آزاد کشمیر کی بیشترعلیحدگی پسند تنظیمیں جو کہ حالیہ احتجاج کا حصہ ہیں کشمیر متعلق پوری پاکستانی قوم سے محتلف نظریات رکھتی ہیں، ان علیحدگی پسند تنظیموں کےمطابق 21 اکتوبر 1947 کو قبائلی مجاہدین کشمیری عوام کی مدد کیلئے کشمیر آئے تھے اور ان کے آنے کے بعد بھارت نے کشمیر میں اپنی افواج اتاری تھیں، اور انہی قبائلیوں کی وجہ سے کشمیر تقسیم ہوا اور انہی کی وجہ سے آج کشمیری ظلم و جبر کی چکی میں پس رہے ہیں اور یہ بڑے مجرم ہیں، اور یہ تمام علیحدگی پسند لوگ 21 اکتوبر کو یوم سیاہ منانے کیلئے راولا کوٹ سے مظفرآباد کیلئے نکلے ہوئے تھے

    مظفر آبد میں اپر اڈا کے مقام پر ان لوگوں نے جلسے کا اعلان کر رکھا تھا جہاں انہوں نے اپنی تقریب کرنی تھی وہاں پر جب یہ لوگ اکٹھا ہوئے تو انہوں نے کہا کہ ہم نے مظفر آباد قانون ساز اسمبلی کی طرف مارچ کرنا ہے، ابھی انتظامیہ کیساتھ مذاکرات ہو رہے تھے تو انہوں نے پولیس پر پتھراؤ شروع کر دیا ، حالات کو قابو کرنے اور نارمل حالت میں لانے کیلئے پولیس نے ان مظاہرین پر لاٹھی چارج شروع کیا ، اس ہنگامی صورت حال کے نتیجے میں ایک بزرگ شہری جا بحق ہوئے جن کا ان مظاہرین کیساتھ کوئی تعلق نہیں تھا ، اس کے بعد مظفر آباد پریس کلب کے سامنے بھی احتجاج کیا گیا تھا جہاں پولیس کی بھاری نفری نے حالات کو قابو میں کیا گیا تھا

    اس سارے معاملے میں یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر نے ان لوگوں کے مطالبے پہ دفتر خارجہ کو خط لکھا تھا کہ یوا ین کی ہیومن رائٹس کونسل کا وفد مظفرآباد آئے اور ان لوگوں سے ملاقات کرے، اس بعد راجہ فاروق حیدر ان علیحدگی پسند جماعتوں کو لیکر مظفرآباد میں یو این کے دفتر گئے جہاں انہوں نے اپنی یادادشت جمع کروائی جسے یہ کہتے ہیں کہ ان کے یو این کیساتھ مذاکرات ہوئے ،

    اور ان علیحدگی پسند جماعتوں کے احتجاج کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ 21 اکتوبر جس دن یہ احتجاج شروع ہوا اس دن ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے پاکستان میں موجود تمام ممالک کے سفیروں کو کنٹرول لائن کا دورہ کروایا ہے اور بھارت کا جھوٹ کا پوری دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے اور کشمیر ایشو پر پاکستان فرنٹ فٹ پر کھیل رہا ہے ، ایسے میں بھارت سے یہ ٹویٹس آنا شروع ہو گئی ہیں کہ مظفر آباد میں پاکستانی فوج کیخلاف احتجاج کرنے پولیس نے کشمیریوں پر لاٹھی چارج کیا ہے،

    کچھ انڈین ٹی وی چینلز نے تو اس ہنگامی صورتحال کو براہ راست بھی بھارت میں دکھایا جو کہ پاکستان کے امیج اور سالمیت کیلئے بالکل اچھا نہیں ہے ، اور یہ احتجاج مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ سے بھی جا ملتا ہے جو کہ وقت اور جگہ کے لحاظ سے کشمیر کاز کو شدید نقصان پہنچانے کے مترادف ہے ،

    مولانا فضل الرحمن بیرونی ایجنڈے پرپاکستان کوبدنام کرنے پرتلے ہوئے ہیں،سنی اتحاد کونسل

  • حالات، حکومت اور حجرہ کمیٹی میں حاضری ، تحریر محمد نعیم شہزاد

    ٹک ٹاک سٹار حریم شاہ کی انتہائی اہم حجرہ کمیٹی (کمیٹی روم) تک رسائی، باعث جگ ہنسائی اور اہلیان پاکستان کو ورطہ حیرت میں ڈال گئی۔ عین اس وقت کہ جب کشمیر میں جاری کرفیو کو قریب تین ماہ کی مدت ہونے کو ہے اور وزیراعظم پاکستان کشمیر کے مقدمہ کو شد و مد کے ساتھ لڑ رہے ہیں اور دوسری طرف اپوزیشن جماعتیں متحد ہو کر حکومت گرانے کے در پے ہیں اور مولانا فضل الرحمن کی آزادی مارچ کی آمد آمد ہے، اسلام آباد سے بیک وقت پر مزاح اور باعث خفت و ندامت خبریں سننے کو مل رہی ہیں۔

    تفصیل اس اجمال کی کچھ یوں ہے کہ پاکستانی ٹک ٹاک سٹار حریم شاہ نے بڑے پر تکلف انداز میں ایک نیا ویڈیو کلپ اپلوڈ کیا ہے جس میں موصوفہ وزارت خارجہ کے کمیٹی روم میں پریزائیڈنگ سیٹ پر براجمان ہوئیں اور ایک کلپ شوٹ کیا۔ بابائے قوم کا پورٹریٹ بھی سوچتا ہو گا کہ یہ دن بھی دیکھنا تھا کہ جب قوم کا مستقبل یوں فن اور فین فالوانگ کا رسیا ہو جائے گا اور انتہائی اہم مقام پر بھی ظریفانہ طرزِ عمل سے باز نہ رہ پائے گا۔

    قطع نظر اس بات کے کہ اس واقعہ نے قابل غور معاملات سے ہمیں کس قدر دور کر دیا، فوری قابل غور یہ امر ہے کہ یہ وقوعہ کیونکر وقوع پذیر ہوا، کیا ملک پاکستان میں ذمہ داران اس قدر غیر ذمہ دار ہو گئے ہیں کہ اس قسم کے واقعات رونما ہونے لگے اور اب لگے تحقیقات کرنے۔ دال میں ضرور کچھ کالا ہے اور یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ حکومتی جماعت کے بعض اراکین بذات خود حکومت کو نیچا دکھانے اور اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب ہونے کے لیے اس قسم کے حالات پیدا کرتے ہیں اور یہ بعید از قیاس ہرگز نہیں۔

    حریم شاہ کے بقول کمیٹی روم میں ان کو کسی نے منع نہ کیا بلکہ معاونت بھی فراہم کی تو کیسےممکن ہے کہ یہ سب انجانے یا لاعلمی میں ہو گیا۔ خان صاحب کو انتہائی محتاط رہنا ہو گا بطور خاص صنف نازک کی طرف سے تو ان پر وار ہوتے ہی رہتے ہیں، ریحام خان، عائشہ گلا لئی اور اب حریم شاہ، اپنے قریبی احباب پر نظر رکھیں اور چوکنے رہیں، یہ اسی قبیل سے ہیں جو بصورت زلیخا یوسف علیہ السلام کو کنعان کی جیل میں بھجوا دیتی ہیں۔

    آخر میں ایک واقعہ موقع کی مناسبت سے حضرت بہلول کا بیان کرتا چلوں۔ بیان کیا جاتا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت بہلول خلیفہ ہارون رشید کے دربار میں گئے اور خلیفہ کی غیر موجودگی میں موقع پا کر مسند خلافت پر براجمان ہو گئے۔ اس جرم کی پاداش میں ان کو کوڑوں کی سزا سنائی گئی۔ سزا کے بعد جب ان کو خلیفہ کے سامنے پیش کیا گیا تو وہ کبھی روتے اور کبھی ہنستے۔

    خلیفہ نے بصد حیرت اس طرزِ عمل کی وجہ دریافت کی تو جواب ملا کہ کوڑے کھانے سے بہت تکلیف ہوئی اس لیے روتا ہوں اور ہنستا اس بات پر ہوں کہ اس مسند پر چند گھڑیاں بیٹھا ہوں تو یہ حال ہوا ہے، خلیفہ کا کیا حال ہو گا جو مستقل اس نشست پر بیٹھتا ہے۔
    بے شک اس میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔

  • ریاست مدینہ اور پروٹوکول ، تحریر: فردوس جمال

    ریاست مدینہ اور پروٹوکول ، تحریر: فردوس جمال
    یہ محترمہ تحریک انصاف کی زرتاج گل صاحبہ ہیں جو کچھ عرصہ پہلے تک قوم کو موسم کے حال احوال سنایا کرتی تھی،شہزادی صاحبہ ڈی جی خان کے پوسٹ گریجویٹ کالج فار وومن کے دورے پر ہیں.

    کالج کے گیٹ سے لیکر کانفرنس حال تک شہزادی صاحبہ کے استقبال میں قوم کی نوخیز بیٹیاں گلاب کی پتیاں ہاتھ میں لئے کھڑی ہیں،گلاب نچھاور کئے جا رہے ہیں.

    شہزادی صاحبہ کے قافلے میں مرد بھی شامل ہیں وہ بھی گلابوں کو پاؤں میں مسلتے ہوئے شہزادی صاحبہ کے قدم پر قدم رکھتے آگے بڑھ رہے ہیں.

    خدا جانے کب ان شاہی پروٹوکولز سے اس قوم کی جان بخشی ہوگی،کب ان غلامانہ ریت رواج سے ہم باہر آئیں گے؟

    زرتاج گل کی جگہ برطانوی شہزادی کیٹ مڈلٹن کے لئے بھی یوں بچیوں کو کھڑا کیا جاتا تو غلط ہوتا.

    ریاست مدینہ میں اس طرح کے متکبرانہ،شاہانہ اور بے شرمانہ پروٹوکولز کی اجازت نہیں ہونی چاہئے.

  • 26 سال سے جیل میں قید کشمیری باپ نے اپنے بیٹے کو خط میں کیا لکھا ؟

    پچھلی سات دہائیوں سے پاکستان کے پڑوسی بھارت نے وادی کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کر کے جس طرح کشمیریوں پر ظلم و تشدد کے پہاڑ توڑے، تاریخ انسانی میں اس کی مثال نہیں ملتی، اور اس طلم و جبر کی تاریک رات میں بھی کئی ایسے حریت کے ستارے چمکے جن کی روشنی آج تک مانند نہ ہوئی ،

    ایسے ہی ایک ستارے ڈاکٹر محمد قاسم ہیں جو کہ نڈر و بےباک کشمیری خاتون آسیہ اندرابی کے شوہر ہیں ، ڈاکٹر محمد قاسم پچھلے 26 سال سے جیل میں قید ہیں، عرصہ دراز سے ان کے اہلحانہ کو ان کی کوئی خبر نہیں کہ وہ کس حال میں ہیں ، کچھ دن پہلے ڈاکٹر محمد قاسم نے اپنے بیٹے احمد بن قاسم کو ایک خط لکھا اور اس خط میں ایک نظم لکھ کر بھیجی ہے جس میں وہ اپنے بیٹے احمد اور اس جیسے کئی دلیر بیٹوں کی ڈھارس بندھاتے ہیں، ڈاکٹر محمد قاسم لکھتے ہیں

    میں روح ہوں
    یہ قید اور موت میرے لیے نہیں ہیں ، کیا مجھے ان سے ڈرنا چاہیے
    کون کسے قید کر رہا ہے ؟ نہ میں مارا گیا اور نہ مارا جاؤں گا
    یہ قید مجھے اپنے خطے اور لوگوں کے بارے سوچنے کا کہہ رہی ہے
    مییری روح تب تک میرا ساتھ نہیں چھوڑ سکتی جب تک اپنا مشن پوارا نہ کر لوں

    ڈاکٹر محمد قاسم کے یہ الفاظ اپنے اندر اس قدر وزن رکھتے ہیں کہ پڑھنے والا کوئی بھی شخص جو کشمیری ہے یا کشمیریوں سے ہمدردی رکھتا ہے وہ پر عزم ہو جائے گا، اوراہل کشمیر کیلئے سر دھڑ کی بازی لگانے کیلئے تیار ہو جائے گا