Baaghi TV

Category: بلاگ

  • طالب علموں کے لیے فرسٹ ایڈ اور فائرفائنٹنگ ٹریننگ شروع ہوگئی

    طالب علموں کے لیے فرسٹ ایڈ اور فائرفائنٹنگ ٹریننگ شروع ہوگئی

    ہری پور: طالب علموں کو ہنگامی حالات میں خدمات سرانجام دینے کے لیے پہلے طالب علموں کو گر سکھانے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے ، اطلاعات کے مطابق ہری پور میں ریسکیو 1122 ایمرجنسی آفیسر امجد خان نے ڈائریکٹر جنرل ریسکیو ہدایات پر عوام الناس تک ریسکیو کی بین الاقومی طرز کی مفت سہولیات کی فراہمی سے متعلق ہری پور میں سکول نمبر 1 سکائوٹ سٹوڈنٹس کیلئے فرسٹ ایڈ اور فائر فائٹنگ ٹریننگ ورکشاپ کا انعقاد کیا۔

    ہری پور میں دی جانے والی اس ٹریننگ ونگ کے انچارج ساجد علی نے ریسکیو 1122 کی سروسز، فرسٹ ایڈ اور فائر فائٹنگ کے متعلق بریفنگ دی اور مشقوں کا عملی مظاہرہ کیا۔ ساجد علی نے ورکشاپ کے شرکاء کو بتایا کہ ریسکیو اہلکار ہر قسم کی ایمرجنسی سے نمٹنے کیلئے دن رات مصروف عمل ہیں اور دکھی انسانیت کی خدمت کیلئے لمحوں میں پہنچ جاتے ہیں۔

  • کشمیر پر جبر کے پہروں کا 33 واں‌ دن،مساجد کو تالا بندی، اشیائے خورونوش ناپید، انسانی المیہ سر اٹھانے لگا

    کشمیر پر جبر کے پہروں کا 33 واں‌ دن،مساجد کو تالا بندی، اشیائے خورونوش ناپید، انسانی المیہ سر اٹھانے لگا

    سری نگر: مقبوضہ وادی کشمیر میں قابض بھارتی افواج کے مسلسل مظالم کو آج 33 واں دن ہے۔ ایک ماہ سے زائد عرصے کے دوران لوگوں کے گھروں سے نکلنے پر پابندی ہے، مساجد پہ تالا بندی ہے، اشیائے خورو نوش کی قلت انسانی المیے کو جنم دے چکی ہے، ادویات کی عدم دستیابی سے مریض جاں بلب ہیں اور وادی میں آذان کی آواز سنائی نہ دے اس مقصد کے لیے لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کردی گئی ہے۔

    عالمی خبررساں ایجنسیوں کے مطابق گزشتہ جمعہ کی طرح اس مرتبہ بھی اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ لوگ نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے اپنے گھروں سے باہر نہ نکلیں اور کسی بھی قسم کا احتجاج نہ کریں، فوج اور پیرا ملٹری فورسز کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ کردیا گیا ہے۔
    ھارت کے ہر قسم کے جبر کے سامنے کشمیریوں‌ کا حوصلہ بلند ہے. نوجوان بھارتی فوج کے آگے سیسہ پلائی دیوار بن گئے۔ مظاہروں میں ہزاروں نوجوانوں نے شرکت کر کے آزادی کے حق میں‌ نعرے بازی کی اور پتھراو کر کے بھارتی درندوں کو ناکوں چنے چبوا دیئے۔کرفیو لاک ڈاؤن، مواصلاتی رابطے بند، خوارک اور ادویات کی کمی، بھارت کے ٖہر طرح کے غاصبانہ حربوں کے باوجود کشمیریوں کے حوصلے بلند ہیں۔

    کشمیر میڈیا سروس کےمطابق دس ہزار سے زیادہ گرفتار افراد میں سے چار ہزار پانچ سو کشمیریوں پر بدنامہ زمانہ کالے قانون پی ایس اے کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں۔
    انسانیت سے عاری قابض بھارتی فوج نے خواتین اور بچوں کو آنسو گیس اور پیلٹ گن سے نشانہ بنایا۔ بھارتی فوج کا رات گئے کشمیریوں کا کریک ڈاؤن بھی جاری ہے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق اب تک دس ہزار کشمیریوں کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کےمطابق قابض فوج نے سرچ آپریشن کی آڑ میں بارہمولا میں ایک نوجوان کو شہید کر دیا۔ 5 اگست سے اب تک 500 چھوٹے بڑے مظاہرے ہوچکے ہیں۔ بھارتی فوج کی فائرنگ، پیلٹ گن اور آنسو گیس کی شیلنگ سے سیکڑوں افراد زخمی بھی ہوئے، حکومتی اہلکار کے مطابق اب تک56 افراد پیلٹ گن سے زخمی ہوئے ہیں

  • کشمیر, 6 ستمبر اور یوم دفاع پاکستان!!!                           بلال شوکت آزادکا بلاگ

    کشمیر, 6 ستمبر اور یوم دفاع پاکستان!!! بلال شوکت آزادکا بلاگ

    کشمیر, 6 ستمبر اور یوم دفاع پاکستان!!! بلال شوکت آزاد

    6 ستمبر 1994, یوم دفاع پاکستان وہ دن تھا جب میرے والد نے پہلی دفعہ مجھے جذبہ حب الوطنی, جہاد, شہادت, دفاع وطن, افواج پاکستان, کشمیر اور اس دن کی تاریخی حیثیت کے بارے میں تب بتایا تھا جب میری عمر صرف چھ سال تھی اور میں اپنے والد کے کام کو سمجھنے کی کوشش کرتا تھا۔

    اس کے بعد ہر سال 2001 تک یوم دفاع پاکستان, یوم بحریہ اور یوم فضائیہ کے پروگرامز میں لیکر جانا اور آرمی, نیوی اور ایئر فورس کے میوزیمز کی سیر ہمارے لیئے بلکل ویسے ہی لازم بلکہ فرض ہوگئی جیسے ہر سال عیدین منانا ہم پر فرض ہے۔

    چھ سال کی عمر سے جو نظریاتی اور عسکری سبق رٹنا شروع کیا تو اگلے چھ سال یعنی بارہ سال کی عمر تک میں اپنے آپ میں ایک فوجی بن چکا تھا اور پاکستان و افواج پاکستان کی محبت ایسی کوٹ کوٹ کر جسم و جاں میں بھر چکی تھی کہ اپنی یہ دھمکی کھلے عام تھی کہ جس کو پاکستان اور افواج پاکستان سے ذرا سی بھی تکلیف ہے وہ چپ رہنے میں ہی سیف ہے۔

    چونکہ میرے والد کا تعلق پاک بحریہ سے تھا تو میرا فطری جھکاؤ, لگاؤ اور الفت پاک بحریہ سے زیادہ تھی بانسبت بری و فضائی افواج کے لیکن 6 ستمبر 1994 کی شام جب ہم باپ بیٹا کی یوم دفاع پاکستان پر بات چیت ہوئی تو اس کے بعد اگلے سال سے یہ روٹین بن گئی کہ میں 5 ستمبر کو رات جلدی سوجاتا اور 6 ستمبر کی صبح جلدی اٹھ کر ٹیلی ویژن پر گارڈز کی تبدیلی سے شروع ہونے والا پروگرامز دیکھ کر دن کا آغاز کرتا اور پھر اس دن اور اگلے دو دن کی مناسبت سے جو جو پروگرامز شیڈول ہوتے ان سے لطف اندوز ہوتا بشمول عسکری نمائشوں اور میوزیمز کی سیر وغیرہ۔

    خیر بات کرنے کا مقصد یہ تھا کہ قوموں کی تاریخ میں اتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں, جہاں خیر ہے وہاں شر بھی ہے, جہاں عروج ہے وہاں زوال بھی ہے۔

    لیکن ترقی یافتہ اور مہذب قومیں کیا کرتی ہیں کہ ان کی اگلی نسل مکمل نظریاتی پروان چڑھے اور ترقی کی منازل طے کرنے میں دقت نہ ہو؟

    قومیں اپنے ہیروز اور اہم قومی دنوں کو پوری شان و شوکت سے یاد رکھتی ہیں اور ان کی یادیں اپنی نئی نسلوں کو من وعن پہنچادیتی ہیں اور ایسے لمحات جب قوم واقعی قوم بن کر کسی مصیبت یا ناگہانی آفت و بلا سے نبرد آزما ہوئی ہو کو نئی نسل میں فخر سے بیان کرتی ہے تاکہ اگر مستقبل قریب یا مستقبل بعید میں پھر کوئی انہونی ہو تو نئی نسل بھی اسی قومی جذبہ حب الوطنی سے آگے بڑھ کر مصائب کا مقابلہ کرے جیسے ان کے آباؤ اجداد نے کیا تھا۔

    6 ستبمر ہماری تاریخ کا وہ تابناک دن تھا جب دشمن اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کی خاطر ہم پر وہ میدان چھوڑ کر چڑھ دوڑا تھا اچانک جہاں ہم نے اس کے دانت اصل میدان جنگ یعنی کشمیر سیکٹر میں اتنے کھٹے کردیے تھے کہ آزاد کشمیر جتنا اور علاقہ ہمارا مفتوحہ ہوچکا ہوتا پر کشمیر میں ہار دیکھ دشمن سیالکوٹ, لاہور, اوکاڑہ اور بالترتیب تمام مشرقی سرحد پر فوج لیکر چڑھ دوڑا پر وہ غلط فہمی یا خوش فہمی میں ایک ایسی موت کی وادی میں در آیا جہاں سروفروشان اسلام و پاکستان نے بدر و حنین کی یادیں تازہ کردیں۔

    دکھا دیا دنیا کو کہ 313 والے آج بھی کامیاب ہوسکتے ہیں گر توکل اللہ اور قوت ایمانی 313 والوں جیسی ہوجائے تو۔

    کتنے ہمارے نئی نسل کے نوجوان ہیں جنہیں یہ معلوم ہو کہ 6 ستبمر کی جنگ دراصل دفاعیہ کم جارحانہ زیادہ تھی؟

    ہمارا ایک ہی مسئلہ, ایک ہی دکھ ہے 1947 سے, کشمیر۔

    کشمیر کی خاطر ہماری افواج نے ایک گرینڈ فریڈم آپریشن, آپریشن جبرالٹر تشکیل دیا اور اس پر عمل کیا جس کی وجہ سے بھارتی افواج کا مورال بری طرح ڈاؤن ہوا اور کشمیر بھارت کو ہاتھ سے جاتا نظر آیا لہذا بھارت نے بین الاقوامی سرحدی خلاف ورزی میں پہل (کشمیر کی سرحد تب نہ تو لائن آف کنٹرول تھی اور نہی بین الاقوامی سرحد لہذا پاکستان کی کشمیر پر چڑھائی بلکل بھی بین الاقوامی سرحدی اصول کے خلاف نہیں تھی پر کچھ دانشور آپ کو اس بابت بری طرح گمراہ کرسکتے ہیں کہ پاک بھارت جنگ افواج پاکستان نے خود شروع کی اور الا بلا۔) کرکے پاکستان کے پرامن شہروں کو پراگندہ کرنے کی کوشش کی اور منہ کی کھائی اور اسی جنگ کے خاتمے کا معاہدہ سائن کرکے لال بہادر شاستری کا دیہانت ہوگیا تھا شدید خفت اور شرمندگی سے۔

    بتانے کا مقصد بس یہی ہے کہ اپنی افواج کو ہلکا مت لیں اور یہ مت سمجھیں کہ کشمیر ان کی ترجیحات میں شامل نہیں بلکہ یاد رکھیں کہ کشمیر افواج پاکستان کی اولین ترجیحات میں اول ہے اور اس کا ثبوت 1948, 1965, 1999 اور 2019 کی وسیع و محدود پاک بھارت جنگیں و جھڑپیں ہیں۔

    اگر تب نامساعد حالات اور عسکری لحاظ سے کمتر فوج نے آپریشن جبرالٹر جیسے آپریشن لانچ کرکے کشمیر کو آزاد کروانے کی خاطر اپنی جان, مال اور پاکستان تک کو داؤ پر لگا دیا تھا تو ٹھنڈ رکھیں وہ آج بھی کوئی کارگر موقع گنوائیں گے نہیں۔

    آج کا دن قوم کی نئی نسل کو یہ بتانے, دکھانے, سمجھانے اور سنانے میں گزاریں کہ ہم کیسی قوم ہیں اور ہمارا کردار کیا تھا اور اب ہم نے کس کردار کے ساتھ ملک کا دفاع مضبوط کرنا اور آگے بڑھنا ہے۔

    یاد رکھیں کہ کشمیر بنے گا پاکستان ہی وہ عنصر ہے جس نے ہمیں 6 ستمبر 1965, یوم دفاع پاکستان کا دن دیا۔

    #آزادیات

    #بلال #شوکت #آزاد

  • شوبز انڈسٹری کا درخشاں ستارہ عابد علی           محمد فہد شیروانی کا بلاگ

    شوبز انڈسٹری کا درخشاں ستارہ عابد علی محمد فہد شیروانی کا بلاگ

    شوبز انڈسٹری کا درخشاں ستارہ عابد علی
    تحریر: محمد فہد شیروانی

    29 مارچ 1952 کو کوئٹہ میں پیدا ہونے والے پاکستان کے نامور اداکار عابد علی 5 ستمبر 2019 کو 67 سال کی عمر میں اپنے پرستاروں کو روتا چھوڑ کر خالق حقیقی سے جا ملے۔ عابد علی صاحب کی وفات سے پاکستان ایک با صلاحیت شخص، نرم خوانسان اور منجھے ہوئے اداکار سے محروم ہو گیا۔ عابد علی صاحب نے ٹی وی سکرین پر اپنی لازوال اداکاری سے ان گنت اچھوتے ڈرامائی کرداروں میں حقیقی زندگی کا رنگ سکرین بھرا۔ عابد علی صاحب نے بے شمار ٹی وی ڈراموں اور فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے۔
    عابد علی صاحب کے شوبز کیرئیر کا پہلا مشہور ڈرامہ ” وارث” اور آخری ڈرامہ "اپنے ہوئے پرائے” تھا۔ اسی طرح ان کی پہلی فلم "خاک اور خون” جبکہ آخری فلم "ہیر مان جا” تھی۔
    بچپن سے ہی عابد علی صاحب کا رحجان فن اور آرٹ کی جانب تھا۔ جوانی میں عابد علی صاحب کہانیاں لکھتے اور پینٹنگ کیا کرتے تھے۔ ریڈیو پاکستان سے اپنے کیرئیر کا آغاز کرنے والے عابد علی صاحب کچھ عرصہ بعد ہی لاہور شفٹ ہوگئے اور پاکستان ٹیلی ویژن اور ڈرامہ انڈسڑی سے وابستہ ہو گئے تھے۔ ابتداء میں ہی انہیں پی ٹی وی کے ڈرامہ "جھوک سیال” سے کامیابی مل گئی۔ عابد علی صاحب کو شہرت 1979 میں پاکستان ٹیلی ویژن کے کلاسک ڈرامہ "وارث” کے کردار "دلاور خان” سے ملی۔
    1985 میں عابد علی صاحب کو ان کی خدمات کے عوض "پرائیڈ آف پرفارمنس” ایوارڈ سے نوازا گیا۔
    1993 میں عابد علی صاحب نے بطور پروڈیوسر اور ڈائریکٹر پاکستان کی تاریخ کا ہٹ ترین ڈرامہ "دشت” بنایا جو کہ پاکستانی ڈرامہ تاریخ کی پہلی پرائیویٹ پروڈکشن تھی۔ 1993 میں ہی انہوں نے پی ٹی وی کے لئے ڈرامہ سیریل "دوسرا آسمان” بنایا۔عابد علی صاحب کو بطور ڈائریکٹر اور ڈرامہ سیریل "دوسرا آسمان” کو بطور ڈرامہ یہ اعزاز حاصل ہے کہ یہ پاکستان کا پہلا ڈرامہ تھا جس کی ریکارڈنگ بیرون ملک کی گئی۔ اس کے بعد کامیابیوں کا نہ تھمنے والا سلسلہ شروع ہوگیا اور ان گنت کامیابیوں نے عابد علی صاحب کے قدم چومے۔
    منفرد، خوبصورت اور گرجدار آواز کے مالک عابد علی صاحب کا شمار پاکستان کے ان گنے چنے اداکاروں میں ہوتا ہے جن کی آواز نے پس پردہ رہ کر بے شمار ٹی وی کمرشلز، ڈاکومینٹری اور فلموں میں اپنا جادو جگایا۔
    عابد علی صاحب کے قابل ذکر ڈراموں میں جھوک سیال، وارث، دشت، غلام گردش، مورت، مہندی، سمندر، دوسرا آسمان، بری عورت، ماسی اور ملکہ، آن، جہیز، کالا جادو، رخصتی اور دستار انا شامل ہیں۔ پروڈیوسر و ڈائریکٹر محسن طلعت کے پروڈکشن ہاؤس تلے مری میں بننے والے ڈرامہ سیریل "دستار انا” میں راقم کو بطور ایکٹر عابد علی صاحب کے ساتھ کام کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔ ڈرامہ کی شوٹنگ کے دوران عابد علی صاحب کو جاننے اور ان سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔ لگ بھگ ایک ماہ ایک ہی ہوٹل میں عابد علی صاحب کے ساتھ یادگار وقت گزرا۔ شگفتہ انداز میں شائستہ گفتگو کرنے والے عابد علی صاحب ایک نہایت ہی شفیق اور نفیس انسان ثابت ہوئے۔ ان کی برجستگی کمال کی تھی۔ان کے ساتھ گزارے دنوں کی سنہری یادیں ہمیشہ دل میں زندہ رہیں گی۔ مری سے شروع ہونے والی محبت اور عقیدت کا تعلق عابد علی صاحب کے آخری وقت تک ان کے ساتھ استوار رہا اور ہمیشہ رہے گا۔
    عابد علی منجھے ہوئے ڈرامہ ڈائریکٹر اور ایک انتہائ شاندار ایکٹر تھے۔ شوبز انڈسٹری کے لئے ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
    اللہ تعالی عابد علی صاحب کی مغفرت کریں اور ان کے درجات بلند فرمائیں۔ آمین

  • کشمیر, 6 ستمبر اور یوم دفاع پاکستان!!! بلال شوکت آزاد

    کشمیر, 6 ستمبر اور یوم دفاع پاکستان!!! بلال شوکت آزاد

    6 ستمبر 1994, یوم دفاع پاکستان وہ دن تھا جب میرے والد نے پہلی دفعہ مجھے جذبہ حب الوطنی, جہاد, شہادت, دفاع وطن, افواج پاکستان, کشمیر اور اس دن کی تاریخی حیثیت کے بارے میں تب بتایا تھا جب میری عمر صرف چھ سال تھی اور میں اپنے والد کے کام کو سمجھنے کی کوشش کرتا تھا۔

    اس کے بعد ہر سال 2001 تک یوم دفاع پاکستان, یوم بحریہ اور یوم فضائیہ کے پروگرامز میں لیکر جانا اور آرمی, نیوی اور ایئر فورس کے میوزیمز کی سیر ہمارے لیئے بلکل ویسے ہی لازم بلکہ فرض ہوگئی جیسے ہر سال عیدین منانا ہم پر فرض ہے۔

    چھ سال کی عمر سے جو نظریاتی اور عسکری سبق رٹنا شروع کیا تو اگلے چھ سال یعنی بارہ سال کی عمر تک میں اپنے آپ میں ایک فوجی بن چکا تھا اور پاکستان و افواج پاکستان کی محبت ایسی کوٹ کوٹ کر جسم و جاں میں بھر چکی تھی کہ اپنی یہ دھمکی کھلے عام تھی کہ جس کو پاکستان اور افواج پاکستان سے ذرا سی بھی تکلیف ہے وہ چپ رہنے میں ہی سیف ہے۔

    چونکہ میرے والد کا تعلق پاک بحریہ سے تھا تو میرا فطری جھکاؤ, لگاؤ اور الفت پاک بحریہ سے زیادہ تھی بانسبت بری و فضائی افواج کے لیکن 6 ستمبر 1994 کی شام جب ہم باپ بیٹا کی یوم دفاع پاکستان پر بات چیت ہوئی تو اس کے بعد اگلے سال سے یہ روٹین بن گئی کہ میں 5 ستمبر کو رات جلدی سوجاتا اور 6 ستمبر کی صبح جلدی اٹھ کر ٹیلی ویژن پر گارڈز کی تبدیلی سے شروع ہونے والا پروگرامز دیکھ کر دن کا آغاز کرتا اور پھر اس دن اور اگلے دو دن کی مناسبت سے جو جو پروگرامز شیڈول ہوتے ان سے لطف اندوز ہوتا بشمول عسکری نمائشوں اور میوزیمز کی سیر وغیرہ۔

    خیر بات کرنے کا مقصد یہ تھا کہ قوموں کی تاریخ میں اتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں, جہاں خیر ہے وہاں شر بھی ہے, جہاں عروج ہے وہاں زوال بھی ہے۔

    لیکن ترقی یافتہ اور مہذب قومیں کیا کرتی ہیں کہ ان کی اگلی نسل مکمل نظریاتی پروان چڑھے اور ترقی کی منازل طے کرنے میں دقت نہ ہو؟

    قومیں اپنے ہیروز اور اہم قومی دنوں کو پوری شان و شوکت سے یاد رکھتی ہیں اور ان کی یادیں اپنی نئی نسلوں کو من وعن پہنچادیتی ہیں اور ایسے لمحات جب قوم واقعی قوم بن کر کسی مصیبت یا ناگہانی آفت و بلا سے نبرد آزما ہوئی ہو کو نئی نسل میں فخر سے بیان کرتی ہے تاکہ اگر مستقبل قریب یا مستقبل بعید میں پھر کوئی انہونی ہو تو نئی نسل بھی اسی قومی جذبہ حب الوطنی سے آگے بڑھ کر مصائب کا مقابلہ کرے جیسے ان کے آباؤ اجداد نے کیا تھا۔

    6 ستبمر ہماری تاریخ کا وہ تابناک دن تھا جب دشمن اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کی خاطر ہم پر وہ میدان چھوڑ کر چڑھ دوڑا تھا اچانک جہاں ہم نے اس کے دانت اصل میدان جنگ یعنی کشمیر سیکٹر میں اتنے کھٹے کردیے تھے کہ آزاد کشمیر جتنا اور علاقہ ہمارا مفتوحہ ہوچکا ہوتا پر کشمیر میں ہار دیکھ دشمن سیالکوٹ, لاہور, اوکاڑہ اور بالترتیب تمام مشرقی سرحد پر فوج لیکر چڑھ دوڑا پر وہ غلط فہمی یا خوش فہمی میں ایک ایسی موت کی وادی میں در آیا جہاں سروفروشان اسلام و پاکستان نے بدر و حنین کی یادیں تازہ کردیں۔

    دکھا دیا دنیا کو کہ 313 والے آج بھی کامیاب ہوسکتے ہیں گر توکل اللہ اور قوت ایمانی 313 والوں جیسی ہوجائے تو۔

    کتنے ہمارے نئی نسل کے نوجوان ہیں جنہیں یہ معلوم ہو کہ 6 ستبمر کی جنگ دراصل دفاعیہ کم جارحانہ زیادہ تھی؟

    ہمارا ایک ہی مسئلہ, ایک ہی دکھ ہے 1947 سے, کشمیر۔

    کشمیر کی خاطر ہماری افواج نے ایک گرینڈ فریڈم آپریشن, آپریشن جبرالٹر تشکیل دیا اور اس پر عمل کیا جس کی وجہ سے بھارتی افواج کا مورال بری طرح ڈاؤن ہوا اور کشمیر بھارت کو ہاتھ سے جاتا نظر آیا لہذا بھارت نے بین الاقوامی سرحدی خلاف ورزی میں پہل (کشمیر کی سرحد تب نہ تو لائن آف کنٹرول تھی اور نہی بین الاقوامی سرحد لہذا پاکستان کی کشمیر پر چڑھائی بلکل بھی بین الاقوامی سرحدی اصول کے خلاف نہیں تھی پر کچھ دانشور آپ کو اس بابت بری طرح گمراہ کرسکتے ہیں کہ پاک بھارت جنگ افواج پاکستان نے خود شروع کی اور الا بلا۔) کرکے پاکستان کے پرامن شہروں کو پراگندہ کرنے کی کوشش کی اور منہ کی کھائی اور اسی جنگ کے خاتمے کا معاہدہ سائن کرکے لال بہادر شاستری کا دیہانت ہوگیا تھا شدید خفت اور شرمندگی سے۔

    بتانے کا مقصد بس یہی ہے کہ اپنی افواج کو ہلکا مت لیں اور یہ مت سمجھیں کہ کشمیر ان کی ترجیحات میں شامل نہیں بلکہ یاد رکھیں کہ کشمیر افواج پاکستان کی اولین ترجیحات میں اول ہے اور اس کا ثبوت 1948, 1965, 1999 اور 2019 کی وسیع و محدود پاک بھارت جنگیں و جھڑپیں ہیں۔

    اگر تب نامساعد حالات اور عسکری لحاظ سے کمتر فوج نے آپریشن جبرالٹر جیسے آپریشن لانچ کرکے کشمیر کو آزاد کروانے کی خاطر اپنی جان, مال اور پاکستان تک کو داؤ پر لگا دیا تھا تو ٹھنڈ رکھیں وہ آج بھی کوئی کارگر موقع گنوائیں گے نہیں۔

    آج کا دن قوم کی نئی نسل کو یہ بتانے, دکھانے, سمجھانے اور سنانے میں گزاریں کہ ہم کیسی قوم ہیں اور ہمارا کردار کیا تھا اور اب ہم نے کس کردار کے ساتھ ملک کا دفاع مضبوط کرنا اور آگے بڑھنا ہے۔

    یاد رکھیں کہ کشمیر بنے گا پاکستان ہی وہ عنصر ہے جس نے ہمیں 6 ستمبر 1965, یوم دفاع پاکستان کا دن دیا۔

  • ماہ ستمبر اور پاکستان  تحریر غنی محمود قصوری

    ماہ ستمبر اور پاکستان تحریر غنی محمود قصوری

    6 ستمبر یوم دفاع پاکستان ہے کیونکہ اس دن ہمارے ازلی دشمن ہندوستان کہ جس کو ابھی تک یہ نہیں معلوم کہ وہ انڈیا ،بھارت یاں ہندوستان ہے ،نے رات کی تاریکی میں بزدلوں کی طرح ارض پاک پاکستان پر حملہ کر دیا دشمن سمجھ بیٹھا کہ رات کا وقت ہے پاک فوج کے جوان سو رہے ہونگے اور یوں ہم حملہ کرکے لاہور پر قبضہ کرکے وہاں چائے پیئے گے نادان دشمن کو یہ نہیں یاد رہا کہ 1948 میں پاکستانی فوج اور عوام نے اسی تین ناموں والے بھارت کا کشمیر میں بھرکس نکال دیا تھا اور آدھا کشمیر مقبوضہ سے آزاد کشمیر بن گیا تھا حالانکہ پاکستان کو معرض وجود میں آئے ابھی بمشکل ایک سال ہوا تھا
    آج اسی زخموں کی بدولت ہندو مشرک اندھا ہو کر مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہا ہے مگر اللہ نے کشمیریوں کو بھی بے پناہ جرآت و مردانگی سے نوازہ ہے مظلوم نہتے کشمیری پتھروں کیساتھ ظالم و جابر ہندو فوج کا مقابلہ کر رہے ہیں اور 73 سالوں ڈٹے ہوئے ہیں
    7 ستمبر یوم تحفظ ختم نبوت کا دن ہے کہ جس دن کائنات کے بدترین کافر خود ساختہ مسلمان قادیانی کو دائرہ اسلام سے خارج کیا گیا یہ وہی قادیانی ہے کہ جس نے خاتم النبیین جناب محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کو انگریز دور میں چیلنج کیا تھا اور خود کو مسلمان کہلوا کر اسلام کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے کی ناکام کوشش کر رہا تھا مگر اللہ کے فضل سے غیور پاکستانی علماء، سیاستدان اور دیگر مکتبہ فکر کے لوگوں کی کاوشوں سے قادیانی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے کافر قرار پا گیا
    6 ستمبر بھارت کی بربادی کا دن جبکہ 7 ستمبر قادیانیت اور لبرلز کی بربادی کا دن ہے
    دعا ہے اللہ تعالی پاکستان کے دشمنوں کو یونہی ذلیل رسوا کرتا رہے اور وطن عزیز کو بے پناہ نعتموں اور آسائشوں سے نوازے اور میرے کشمیر کے مظلوم بہن بھائیوں کو ظالم و پلید ہندو کی غلامی سے نجات دے آمین
    غنی محمود قصوری

  • پاکستانی ٹیکسٹائل کی ترقی اولین ترجیح ہے، عبدرالرزاق داؤد

    پاکستانی ٹیکسٹائل کی ترقی اولین ترجیح ہے، عبدرالرزاق داؤد

    اسلام اباد: وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے تجارت عبدرزاق داؤد کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت ٹیکسٹائل کی صنعت کے فروغ کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کر رہی ہے، جس کے ثمرات آہستہ آہستہ ملنا شروع ہو گئے ہیں
    وزارت ٹیکسٹائل کی جانب سے جاری کردہ اک پریس ریلیز کے مطابق مشیر تجارت عبدرزاق داؤد نے ٹیکسٹائل کے حکومتی نمائندوں سے خصوصی ملاقات کی اور ٹیکسٹائل مصنوعات کو بڑھانے کے منصوبے پر تفصیلی گفتگو بھی ہوئی

  • "نشان حیدر” پانے والے گیارہ شہیدوں کی لازوال داستان: علی چاند

    "نشان حیدر” پانے والے گیارہ شہیدوں کی لازوال داستان: علی چاند

    ” نشان حیدر ” مطلب شیر کا نشان ، یہ پاکستان کا سب سے بڑا فوج اعزاز ہے جو دشمن کے مقابلے میں بہادری کے شاندار جوہر دیکھانے والے پاک فوج کے جوانوں کو ملتا ہے ۔ نشان حیدر جنگ میں دشمن سے حاصل ہونے والے اسلحے کو پگھلا کر بنایا جاتا ہے جس میں 20 فیصد سونا بھی استعمال کیا جاتا ہے ۔
    اب تک نشان حیدر پانے والوں میں سے سب سے زیادہ عمر طفیل محمد شہید ہیں جنہوں نے 44 سال کی عمر میں شہادت پاٸی اور سب سے کم عمر نشان حیدر پانے والے راشد منہاس شہید ہیں جنہوں نے 20 سال 6 مہینے میں شہادت کی عمر پاٸی ۔نشان حیدر پانے والے بہادر جوانوں کے نام اور کارنامے درج ذیل ہیں

    راجہ محمد سرور شہید :
    ضلع راولپنڈی تحصیل گوجر خاں میں پیدا ہوٸے ۔ آپ سب سے پہلے نشان حیدر پانے والے جوان ہیں ۔ 1948 میں راجہ محمد سرور شہید کو کشمیر میں آپریشن پر مامور کیا گیا ۔ 27 جولاٸی کو آپ نے اوڑی سیکٹر میں دشمن کی اہم فوجی پوزیشن پر حملہ کیا تو معلوم ہوا کہ دشمن نے اپنے مورچوں کو خار دار تاروں سے محفوظ کیا ہوا ہے ۔ آپ نے اپنے 6 جوانوں کے ساتھ مل کر شدید گولیوں کی بوچھاڑ میں ان خار دار تاروں کو کاٹ دیا ۔ آپ پر بیشمار گولیاں برساٸی گٸیں جن میں سے ایک آپ کے سینے پر لگی اور آپ جام شہادت نوش کیا ۔ آپ کے جذبہ شہادت کو دیکھتے ہوٸے آپ کے جوانوں نے دشمن پر بھرپور حملہ کیا جس کی وجہ سے دشمن اپنے مورچے چھوڑ کر بھاگ کھڑا ہوا ۔

    میجر طفیل محمد شہید :
    آپ صوبہ پنجاب میں ہوشیار پور میں پیدا ہوٸے ۔ اگست 1958 میں آپ کو چند بھارتی مورچوں کا صفایا کرنے کا کام سونپا گیا ۔ 7 اگست کو آپ نے دشمن کے ایک مورچے کو اپنے گھیرے میں لے لیا ۔ جب بھارتیوں نے اپنی مشین گن سے فاٸرنگ شروع کیا تو اس فاٸرنگ کا نشانہ بننے والے سب سے پہلے جوان طفیل محمد شہید تھے ۔ بہادری کے جوہر دیکھاتے ہوٸے آپ نے دشمن کی مشین گنوں کو مکمل خاموش کروا دیا ۔ اور شدید زخمی ہونے کے باوجود آپ اپنے جوانوں کی قیادت کرتے رہے یہاں تک کے دشمن اپنی چار لاشیں اور تین قیدی چھوڑ کر فرار ہوگے ۔ شدید زخموں کی وجہ سے آپ جام شہادت پی گے ۔

    میجر عزیز بھٹی شہید :
    6 ستمبر 1965ء کو جب بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تو میجر عزیز بھٹی لاہور سیکٹر میں برکی کے علاقے میں کمپنی کی کمان کررہے تھے ۔
    12 ستمبر کی صبح عزیز بھٹی شہید نے دیکھا کہ ہزاروں دشمن سپاہی برکی کے شمال کی طرف درختوں میں چھپے ہوٸے ہیں ۔ آپ نے اپنے جوانوں کے ساتھ مل کر فاٸرنگ شروع کی جس سے دشمن کے سپاہی وہیں ڈھیر ہوتے گے ۔ عزیز بھٹی دوبارہ دشمن کی نقل و حرکت کا جاٸزہ لینے لگے تو دشمن نے گولہ باری شروع کر دی ۔ایک گولہ عزیز بھٹی شہید کے سینے میں لگا جس سے آپ وہی شہید ہوگے ۔

    راشد منہاس شہید :
    آپ کراچی میں پیدا ہوٸے ۔ راشد منہاس نے اپنے ماموں سے متاثر ہو کر پاک فضاٸیہ کا انتخاب کیا ۔ 20 اگست 1971ء کو راشد کی تیسری تنہا پرواز تھی۔ وہ ٹرینر جیٹ طیارے میں سوار ہوئے ہی تھے کہ ان کا انسٹرکٹر سیفٹی فلائٹ آفیسر مطیع الرحمان خطرے کا سگنل دے کر کاک پٹ میں داخل ہو گیا ۔ وہ تیارے کو اغوا کر کے بھارت لے جانا چاہتا تھا ۔ راشد منہاس کو ماڑی پور کنٹرول ٹاور سے ہدایت دی گٸی کہ طیارے کو ہر صورت اغوا ہونے سے بچایا جاٸے ۔ جب اپنے آفیسر سے کشمکش کے درمیان راشد منہاس نے محسوس کیا کہ طیارے کو کسی محفوظ جگہ لینڈ کرنا ناممکن ہے تو راشد منہاس نے اپنے طیارے کا رخ زمین کی طرف کر دیا ۔ جس کی وجہ سے راشد منہاس نے جام شہادت نوش کیا اور نشان حیدر جیسے اعزاز کے حق دار قرار پاٸے ۔


    میجر شبیر شریف شہید :
    میجر شبیر شریف پنجاب کے ضلع گجرات میں ایک قصبے کنجاہ میں پیدا ہوٸے ۔ 3 دسمبر 1971 میں سلیمانکی ہیڈ ورکس پر آپ کو طعینات کیا گیا تاکہ آپ اونچی زمین پر قبضہ کر سکیں جو کہ اس وقت دشمن کے قبضے میں تھی ۔6 دسمبر کو دشمن نے شدید حملہ کر دیا جس کی وجہ سے میجر شبیر شریف شہید نے اپنی اینٹی ٹنیک گن سے دشمن پر حملہ کر دیا ۔ دشمن کی فاٸرنگ کے نتیجے میں آپ نے جام شہادت نوش کیا ۔


    سوار محمد حسین شہید :

    سوار محمد حسین 18 جون 1949 کو ضلع راولپنڈی تحصیل گوجر خاں میں پیدا ہوٸے ۔ آپ نے بطور ڈراٸیور پاک فوج جواٸن کی اس کے باوجود جنگ میں عملی طور پر حصہ لیا ۔ آپ نے پاکستان اور بھارت کی جنگ میں حصہ لیا ۔ آپ نے بہادری کے عظیم جوہر دیکھاٸے ۔ دس دسمبر 1971 کی شام دشمن کی مشین گن سے نکلی گولیاں آپ کے سینے پر پیوست ہوگٸی اور آپ جام شہادت نوش فرما گٸے ۔
    میجر محمد اکرم شہید :
    آپ ضلع گجرات کے گاٶں ڈنگہ میں پیدا ہوٸے ۔ 1971 کی پاکستان اور بھارت جنگ میں ہلی کے مقام پر آپ نے اپنے جوانوں کے ساھ مل کر دشمن کا بھاری جانی اور مالی نقصان کیا اور بہادری کے جوہر دیکھاتے ہوٸے جام شہادت نوش کر لیا ۔

    لانس ناٸیک محمد محفوظ شہید :
    آپ ضلع راولپنڈی کے گاٶں پنڈ ملکاں میں 25 اکتوبر 1944 میں پیدا ہوٸے ۔ 1962 میں پاک فوج میں شمولیت اختیار کی ۔ لانس ناٸیک محمد محفوظ شہید نے پاکستان اور بھارت کی جنگ میں حصہ لیا ان کا یونٹ واہگہ اٹاری سیکٹر پر تعینات تھا اور بہادری و شجاعت کے عظیم جوہر دیکھاتے ہوٸے دشمن کا مردانہ وار مقابلہ کیا ۔ آپ نے دشمن کے بنکر میں گھس کر ایک دشمن فوجی کی گردن دبوچ لی اور اسے جہنم واصل کر دیا جب کہ دوسرے دشمن فوجی نے آپ پر حملہ کرکے آپ کو شہید کر دیا ۔

    کرنل شیر خاں شہید :
    آپ ضلع صوابی کے ایک گاٶں میں پیدا ہوٸے ۔ آپ کارگل تنازعہ کے دوران عظم وہمت اور شجاعت کی ایک نٸی علامت بن کر ابھرے ۔ آپ نے بہادری کی نٸی مثالیں قاٸم کیں اور دشمن کو بھاری جانی نقصان پہنچایا ۔ آپ نے دشمن کی چوکیوں پر قبضہ کے دوران مشین گن کا نشانہ بم گے اور آپ نے شہادت کا رتبہ پالیا ۔

    حوالدار لالک جان شہید :
    گلگت بلتستان کی وادی یاسین میں پیدا ہوٸے ۔ 1999 میں جب کارگل تنازعہ چل رہا تھا تو لالک جان کو ایک اہم ترین چوکی پی حفاظت کا ذمہ سونپا گیا ۔ 5 اور 6 جولاٸی کی درمیانی شب دشمن نے اس چوکی پر بھرپور حملہ کیا ۔لالک جان اور ان کے جوانوں نے دشمن کا بھرپور مقابلہ کیا اور دشمن کا کافی جانی اور مالی نقصان کیا جس پر دشمن پسپا ہوکر چلا گیا ۔ اگلی رات دشمن نے پھر حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں لالک جان شدید زخمی ہوگے لیکن پھر بھی علاج کروانے کی بجاٸے دشمن سے مقابلہ کرتے رہے ۔ اگلی صبح زخموں کی تاب نا لاتے ہوٸے آپ شہید ہوگے ۔

    سیف علی جنجوعہ :
    انہوں نے اپنی ایک پلاٹون کی نامکمل اور مختصر نفری سے ایک بریگیڈ فوج کا اس وقت تک مقابلہ کیا اورثابت قدمی کا مظاہرہ کیا اُن کی پوسٹ پر دشمن نے ٹینکوں اورتوپخانے اور جنگی جہازوں سے حملہ کیا دشمن نے تمام حربے استعمال کیے مگر تمام بے اثر رہے دشمن نے اُن کی پوسٹ پر ہر طرف سے دباؤ ڈال دیا مگر سیف علی جنجوعہ ڈٹے رہے اس طرح انہوں نے مشین گن سے دشمن کا ایک جہاز بھی مار گرایا ۔جب تک مزید پاکستانی فوج نہیں پہنچی آپ نے اپنے جوانوں کے ساتھ مل کر دشمن کو ایک انچ بھی آگے نہیں بڑھنے دیا ۔ بم گرنے کی وجہ سے آپ جام شہادت نوش فرما لیا ۔اس وقت پاکستان کے تمغے نہیں بنے تھے اس لئے حکومت پاکستان نے “ہلال کشمیر” اعزاز کو برطانیہ کے “وکٹوریہ کراس” کے برابر لکھا تھا ۔جب پاکستان کے تمغے بنے تو سیف علی جنجوعہ شہید کے کمپنی کمانڈ ر لیفٹیننٹ محمد ایاز خان (ستارہ سماج) صدر پاکستان سوشل ایسوسی ایشن نے حکومت پاکستان کو مسلسل اڑتالیس سال لکھا کہ نائیک سیف علی شہید کو نشان حیدر کے اعزاز کا اعلان کیا جائے۔ پی ایس اے کی سفارش پرچیف آف آرمی سٹاف جنرل پرویز مشرف نے6ستمبر 1999کو نائیک سیف علی جنجوعہ شہید کیلئے نشان حیدر کے اعزاز کا اعلان کیا ۔

  • اسٹیو سمتھ نے چوتھے ایشز ٹیسٹ میں ڈبل سینچری جڑ دی

    اسٹیو سمتھ نے چوتھے ایشز ٹیسٹ میں ڈبل سینچری جڑ دی

    مانچسٹر: آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کے بیٹسمین اسٹیو سمتھ نے انگلیڈ کیخلاف چوتھے ایشز ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں شاندار سینچری جڑ دی،سمتھ نے 22 چوکوں اور 2 چھکوں کی مدد سے ڈبل سینچری کی مکمل کی اور اس کیساتھ ہی آسٹریلیا کا پہلی اننگز میں ٹوٹل سکور بھی 400 کا فگر پار کر گیا
    یادرہے کہ اسٹیو اسمتھ پابندی کے بعد پہلی مرتبہ ایشز سیریز2019 میں ٹیسٹ کٹ پہنے نطر آئے اور تین میچوں میں 194 کی ایوریج سے 583 رنز سکور کیے اور اپنی نمبر ون ٹیسٹ رینکنگ کو درست ثابت کیا،

  • سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ فرحان ورک کی اپیل پر صلاح الدین کو انصاف دینے کیلئے احتجاج

    سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ فرحان ورک کی اپیل پر صلاح الدین کو انصاف دینے کیلئے احتجاج

    اسلام آباد: رحیم یار خان میں پنجاب پولیس کے تشدد کے باعث جاں بحق ہونے والے اے ٹی ایم کارڈ چور صلاح الدین ایوبی کے اہلحانہ کو انصاف دلانے کیلئے پاکستان سول سوسائٹی کے ممبران کی طرف سے احتجاج کیا گیا ،
    تفصیلات کے مطابق سول سوسائٹی کے ممبر ڈاکٹر فرحان ورک کی جانب سے بروز جمعرات سوشل میڈیا پر احتجاج کی کال دی گئی جس پر مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے شرکت کی اور پریس کلب اسلام آباد کے باہر اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا،
    سول سوسائٹی کے احتجاج میں شریک ایک ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ صلاح الدین کا جرم صرف یہی تھا کہ اس کا جرم پکڑا گیا تو اگر اس بات کو دیکھا جائے تو پاکستان میں کتنے ہی لوگوں کا جرم پکڑا جا چکا ہے لیکن وہ جیلوں میں اے سی اور ٹی وی کے مزے اڑا رہے ہیں اور صلاح الدین چونکہ ایک غریب باپ کا بیٹا تھا اس لیے ناحق مارا گیا اور کسی حکومتی عہدیدار کو کوئی فرق نہیں پڑا
    سول سوسائٹی کے ممبران کا مزید کہنا تھا کہ جب بھی پنجاب پولیس کی جانب سے تشدد کے واقعات رونما ہوتے ہیں تو زیادہ سے زیادہ دو یا چار اہلکاروں کو معطل کردیا جاتا ہے، حلانکہ پولیس کے سینئر افسران اس بات سے باخوبی واقف ہیں کہ پولیس کبھی بھی معطلی سے ٹھیک نہیں کی جاسکتی ، اگر پولیس کو ایک عوام دوست ادارہ بنانا ہے تو لانگ ٹرم اصلاحات متعارف کروانا ہوں گی