Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ورک فرام ہوم .تحریر:عائشہ ندیم

    ورک فرام ہوم .تحریر:عائشہ ندیم

    کرونا وبا کے بعد پوری دنیا کے کام کرنے میں تبدیلی آئی ہے ۔ جس کی سب سے بڑی مثال ورک فرام ہوم یعنی گھر سے کام ہے ۔ یہ جدید ٹیکنالوجی اور انٹر نیٹ کی بدولت ممکن ہوا۔ ورک فرام ہوم کئی لحاظ سے مفید ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ چیلنجز بھی موجود ہیں ،پہلے ہم ا س کے فوائد پر نظر ڈالتے ہیں

    روزانہ دفتر آنے جانے میں کئی گھنٹے ضائع ہوتے ہیں، جو گھر سے کام کرنے کی صورت میں بچ جاتے ہیں۔
    ایندھن، پبلک ٹرانسپورٹ، دفتر کے کھانے اور لباس کے اخراجات میں واضح کمی آتی ہے۔یہ بچت سالانہ ہزاروں روپے تک ہو سکتی ہے، خاص طور پر شہری علاقوں میں۔افراد اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ زیادہ وقت گزار سکتے ہیں۔بچوں کی دیکھ بھال، گھریلو کام یا والدین کی خدمت کے ساتھ ساتھ کام کرنا ممکن ہو جاتا ہے۔یہ سب ذہنی سکون میں اضافے کا باعث بنتے ہیں، جو کام کی کارکردگی پر مثبت اثر ڈالتا ہے۔بغیر رکاوٹ کام کرنے سے بعض افراد کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آتی ہے۔دفتر کے غیر ضروری شور، غیر متعلقہ ملاقاتوں یا داخلی سیاست سے بچاؤ ملتا ہے۔کئی اداروں کی رپورٹس کے مطابق گھر سے کام کرنے والے ملازمین کی پیداواری صلاحیت میں 15 سے 20 فیصد تک اضافہ ہوتا ہے۔

    ملازمین دنیا کے کسی بھی مقام سے کام کر سکتے ہیں۔ادارے بہترین صلاحیتوں کے حامل افراد تک پہنچ سکتے ہیں، خواہ وہ کہیں بھی ہوں۔افراد اپنے آبائی علاقوں یا چھوٹے شہروں میں رہتے ہوئے بھی بین الاقوامی کمپنیوں کے ساتھ کام کر سکتے ہیں۔کم سفر کی وجہ سے کاربن کے اخراج میں کمی آتی ہے۔دفاتر میں توانائی کی بچت ہوتی ہے، جو ماحولیاتی تحفظ کے لیے فائدہ مند ہے۔یہ ایک "گرین ورک کلچر” کی طرف مثبت قدم ہے۔

    ورک فرام ہوم کے چیلنجز
    1. پیشہ ورانہ نظم و ضبط کی کمی:

    ہر فرد کے لیے خود کو منظم رکھنا آسان نہیں ہوتا۔گھر کے ماحول میں کام اور آرام کے درمیان فرق ختم ہو سکتا ہے، جس سے توجہ متاثر ہوتی ہے۔غیر منظم معمولات، دیر سے سونا یا بروقت کام نہ کرنا عام مسائل بن جاتے ہیں۔

    2. تنہائی اور ذہنی دباؤ:

    دفتر کا سماجی ماحول نہ ہونے کے باعث انسان خود کو تنہا محسوس کرنے لگتا ہے۔ٹیم ورک، ساتھیوں سے مشورے، اور غیر رسمی گفتگو جیسے عوامل کی کمی ذہنی دباؤ کا باعث بنتی ہے۔

    3. رابطے اور تعاون میں کمی:

    ورچوئل میٹنگز ذاتی تعامل کا متبادل نہیں بن سکتیں۔غلط فہمیاں اور موثر رابطے کی کمی ٹیم کے کام کو متاثر کرتی ہے۔کئی کام ایسے ہوتے ہیں جو آمنے سامنے زیادہ مؤثر انداز میں مکمل ہوتے ہیں۔

    4. ٹیکنالوجی پر مکمل انحصار:

    مستحکم انٹرنیٹ اور جدید آلات کی عدم دستیابی کام میں خلل ڈال سکتی ہے۔
    سائبر سیکیورٹی اور ڈیٹا پرائیویسی کے مسائل بھی جنم لیتے ہیں۔
    ٹیکنالوجی سے ناآشنا افراد کے لیے یہ نظام ایک چیلنج بن سکتا ہے۔

    5. کارکردگی کی نگرانی کا مسئلہ:
    گھر سے کام کرتے ہوئے آجر کے لیے ملازم کی کارکردگی اور وقت کی نگرانی مشکل ہو جاتی ہے۔اس سے مائیکرو مینجمنٹ اور اعتماد کے مسائل پیدا ہوتے ہیں، جو ملازمین کے حوصلے کو متاثر کرتے ہیں۔

    6. کام کی زیادتی اور وقت کی حد بندی کا فقدان:
    گھر اور دفتر کی حدود واضح نہ ہونے کے باعث "آف ڈیوٹی” وقت بھی کام میں لگ سکتا ہے۔یہ بات ذہنی تھکن (Burnout) اور جسمانی صحت کے مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔

  • تجمل کلیم لفظاں دا بادشاہ، دن تےگن میں مرجانا ای ،اور وہ چلا گیا ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    تجمل کلیم لفظاں دا بادشاہ، دن تےگن میں مرجانا ای ،اور وہ چلا گیا ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    تجمل کلیم لفظاں دا بادشاہ ، ہجر دا شاعر آپ ہجر ہو گیا۔۔ساہواں وچ وسدا تجمل کلیم زمین دے سپرد ہوگیا۔۔۔۔
    برصغیر پاک و ہند کے معروف پنجابی شاعر ، پنجابی شاعری کی کتابوں کے مصنف، استادوں کے استاد عظیم شاعر "تجمل کلیم صاحب ” اس دنیا سے رحلت فرما گئے ہیں۔ ( انا للہ وانا الیہ راجعون ) ان کا تعلق بابا بلھے شاہ کے شہر قصور سے اوران کی رہائش چونیاں میں ہے،،
    پنجاب کی زرخیز دھرتی ایک اور خوش نوا شاعر سے محروم ہوگئی۔ ثجمل کلیم آج خاموشی سے، مگر گہرے اثرات چھوڑ کر اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ ان کی وفات نہ صرف پنجابی ادب کے لیے سانحہ ہے بلکہ ان تمام لوگوں کے لیے بھی صدمہ ہے جنہوں نے زندگی کو ان کے اشعار میں جیتا، محبت کو ان کے لفظوں میں محسوس کیا اور درد کو ان کے اشعار سے جانا۔
    دن تے گن میں مر جانا ای
    تیرے بن میں مر جانا ای
    میں گُڈی دے کاغذ ورگا
    توں کن من میں مر جانا ای
    جیہڑے دن توں کنڈ کرنی اے
    اوسے دن میں مر جانا ای
    ۰میرے قد نوں تول ریہا ایں
    تول نہ، من میں مر جانا ای
    ثجمل کلیم ان شعرا میں شامل تھے جو لفظوں کو صرف جوڑتے نہیں تھے، ان میں روح پھونکتے تھے۔ ان کا کلام ایک ایسے مسافر کا کلام تھا جو زندگی کے ہر موڑ پر لمحوں کو لفظوں میں قید کرتا چلا گیا۔ وہ نہ صرف محبت کے شاعر تھے، بلکہ دکھ، جدائی، سماجی ناہمواری اور فطری حسن کو بھی انہی جذبوں سے بیان کرتے تھے۔
    ان کے چند اور اشعار دل کی گہرائیوں کو چھو لیتے ہیں:
    ساہ وی تیری یاد وچ لبدا اے،
    سُکھ وی تیرے ہجر دا درد لگدا اے۔
    ساہواں نوں وی لگدا اے تیری خوشبو دا رنگ،
    ایہہ کیہڑی جا چپ وچوں بولیا تُوں؟
    ثجمل کلیم کی شاعری کا سب سے بڑا کمال ان کی سادگی تھی۔ وہ غیر ضروری لفظوں کے شور سے بچتے اور سیدھے دل پر وار کرتے تھے۔ ان کی غزلوں اور نظموں میں خالص دیہی لہجہ، مادری زبان کی مٹھاس، اور پنجاب کی ثقافت کی خوشبو صاف محسوس ہوتی تھی۔
    مرن توں ڈردے او بادشاہو
    مرن توں ڈردے او بادشاہو
    کمال کردے او بادشاہو
    کسے نوں مارن دا سوچدے او
    کسے تے مردے او بادشاہو
    تُسی نا پاؤ دِلاں تے لَوٹی
    تُسی تے سَر دے ہو بادشاہو
    اے میں کھڈاری کمال دا ہاں
    کہ آپ ہَر دے او بادشاہو
    وہ ان معدودے چند شعرا میں سے تھے جو پنجابی زبان کو عزت دلواتے رہے، اسے جدید پیرائے میں ڈھالتے رہے اور نئی نسل کو اس زبان کی خوبصورتی سے روشناس کراتے رہے۔
    مکھ ٹیرے تے میں نئیں مرنا
    ہن تیرے تے میں نئیں مرنا
    آپ تے صدقے ہو سکناں میں
    اوہ گھیرے تے میں نئیں مرنا
    اکو واری کُھو لے بیبا
    ہر پھیرے تے میں نئیں مرنا
    اے سجناں د ڈیرہ نئیں تے
    اس ڈیرے تے میں نئیں مرنا
    لعنت اینج دیاں اکھاں اتے
    جے میرے تے میں نئین مرنا
    ثجمل کلیم کی وفات پر دل سے نکلا ایک سوال ہر عاشقِ ادب کی آنکھ میں نمی بن کر ٹھہرا ہے:
    “ہن کون لکھے گا اس درد نوں جیہڑا صرف کلیم سمجھدا سی؟”
    پتھر اُتے لیک ساں میں وی
    ایتھوں تک تے ٹھیک ساں میں وی
    آدم تک تے سبھ نوں دسنا
    خورے کتھوں تیک ساں میں وی
    حرمل جس دم تیر چلایا
    چیکاں وچ اک چیک ساں میں وی
    اوہنے گل سوئی ول موڑی
    نکیوں ڈھیر بریک ساں میں وی
    عمرے! مینوں رول رہی ایں
    تینوں نال دھریک ساں میں وی
    ادبی محفلوں میں ثجمل کلیم کا آنا جیسے بہار کی آمد ہوا کرتا تھا۔ وہ جب کلام سناتے تو محفل سانس روک لیتی، سامعین دم بخود رہ جاتے، اور پھر واہ واہ کے شور میں ان کے اشعار فضا میں پرواز کرتے۔ وہ شاعر نہیں، ایک تجربہ تھے۔ ان کا انداز، لب و لہجہ، اور الفاظ کا چناؤ انہیں الگ اور منفرد بناتا تھا۔
    ان کی ایک نظم جو ہمیشہ یاد رکھی جائے گی:
    میری مٹی دی خوشبو وچ تُوں وسدا ایں،
    ساہواں وچ گھل گھل کے تُوں رسدا ایں،
    تیرے ہون دی خوشبو اے کسے ویلے،
    مینوں ہر پل، ہر وار تے لبدا ایں۔
    یہ اشعار صرف نظم نہیں، وہ جذبات ہیں جنہیں کلیم نے اپنے قلم سے زندگی دی۔ ان کا درد، ان کی چاہت، ان کی یادیں، اب صرف کتابوں کے صفحوں پر نہیں، ہمارے دلوں میں محفوظ ہو چکی ہیں۔
    صلہ پیار دا ویریا قہر تے نئیں
    تینوں دل ای دتا اے زہر تے نئیں
    ہر بندے دے ہتھ اے اٹ روڑا
    ایہہ شہر وی تیراای شہر تے نئیں
    ساہواں نال ای جاوے گا غم تیرا
    کنج سُکے گی اکھ اے نہر تے نئیں
    یار ہس کے لنگھےنے غیر وانگوں
    میرے لیکھ دا پچھلا پہر تے نئیں
    ہتھیں سینکھیا دتا ای نفرتاں دا
    ہن کدی جے کہویں وی ٹھہر، تے نئیں
    ثجمل کلیم کی وفات کا دکھ صرف ذاتی نہیں، یہ ایک اجتماعی صدمہ ہے۔ وہ شاعری کے اس قبیلے کے آخری نمائندوں میں سے تھے جو لفظوں کو عبادت سمجھتے تھے، شاعری کو مشن جانتے تھے اور معاشرے کے ہر درد کو اپنی ذات میں سمو کر صفحۂ قرطاس پر اتار دیتے تھے۔
    دُنیا بند پٹاری وانگر
    کھولے کون مداری وانگر
    ساہ جُثے دا سچا رشتہ
    کھوٹا ساڈی یاری وانگر
    دُکھاں ڈاہڈا چسکا دتا
    قسمے چیز کراری وانگر
    اکھ راتاں نوں کُھلی رہندی
    اُس بازار دی باری وانگر
    اک ہیرے نوں کہندا رہناں
    کٹ کلیجا آری وانگر
    ہم ان کے جانے پر افسوس تو کرتے ہیں، لیکن فخر بھی ہے کہ ہم ان کے دور میں جیے، ان کا کلام سنا، اور ان سے محبت کی۔ وہ ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے، کیونکہ شاعر مرتے نہیں، وہ صرف لمحہ بھر کو خاموش ہوتے ہیں۔ ان کی آواز، ان کے لفظ، ان کا جذبہ ہمیشہ ہم سے بات کرتا رہے گا۔
    ان کے آخری مجموعۂ کلام کا ایک اقتباس گویا ان کی زندگی کا نچوڑ ہے:
    ساہ وچ رہیا، خواب وچ وسیا،
    ساہ وچ وس کے ہونڑ جدائیاں دے رستے تے تُوں چلیا۔
    یہی ثجمل کلیم کا فکری قد تھا۔ وہ محبت کو ہمیشہ کے لیے لفظوں میں قید کر گئے۔ ان کی شاعری آئندہ نسلوں کے لیے چراغ راہ رہے گی۔
    دل دا شیشہ صاف تے نئیں نا
    توں فِر کیتا معاف تے نئیں نا
    توں کیوں ہجر سزاواں دیویں
    تیرے ہتھ انصاف تے نئیں نا
    پریاں ہر اک تھاں ہندیاں نیں
    ٹوبے وچ کوہ قاف تے نئیں نا
    میرے لیڑے رت بھرے نیں
    تیرے ہتھ وی صاف تے نئیں نا
    کٹھیاں جین دی عادت پا کے
    وکھ ہونا انصاف تے نئیں نا
    آج وہ ہم میں نہیں، مگر ان کے اشعار زندہ ہیں، ان کی خوشبو باقی ہے، ان کی یادیں امر ہو چکی ہیں۔
    کیہڑا ہتھ نہیں جردا میں
    کیہڑی ساہ نہیں مردا میں
    ہسن والی گلّ تے وی
    ہسّ نہیں سکیا ڈردا میں
    قسمت لُٹن آئی سی
    کردا تے کیہ کردا میں
    سارے بھانڈے خالی نیں
    ہوکا وی نہیں بھردا میں
    خود مریا واں تیرے تے
    تیتھوں نہیں ساں مردا میں
    المیہ یہ ہے کہ ہمارے ملک کے بڑے زرخیز دماغوں نے کسمپرسی کی حالت میں سرکاری ہسپتالوں کے بیڈ پر ہی دم توڑا ہے ۔ تجمل کلیم مرحوم کے لیے دعا مغفرت کیجیے گا۔ہماری دعا ہے ربِ کریم انہیں جوارِ رحمت میں جگہ دے اور ان کے لفظوں کو ہمیشہ زندہ رکھے۔ اللہ پاک ان کی مغفرت فرمائے جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین ثم آمین

  • مودی، جنوبی ایشیا کا نیتن یاہو: خطے میں جنگ، پراکسی حملے اور آبی دہشتگردی

    مودی، جنوبی ایشیا کا نیتن یاہو: خطے میں جنگ، پراکسی حملے اور آبی دہشتگردی

    مودی، جنوبی ایشیا کا نیتن یاہو: خطے میں جنگ، پراکسی حملے اور آبی دہشتگردی
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
    جنوبی ایشیا ایک بار پھر جنگ کے دہانے پر کھڑا ہےاور اس بار قیادت ایک ایسے شخص کے ہاتھ میں ہے جو اپنی سیاست، پروپیگنڈا اور عسکری عزائم کے امتزاج سے نیتن یاہو کی پرچھائی بن چکا ہے۔ نریندر مودی صرف بھارت کا وزیراعظم نہیں بلکہ اب ایک ایسے حکمران کی صورت میں سامنے آ چکے ہیں جو اسرائیلی طرز کی ریاستی دہشتگردی، فالس فلیگ آپریشنز اور پراکسی جنگ کو اپنی پالیسی کا مرکزی ہتھیار بنا چکا ہے۔ راجستھان میں کھڑے ہوکرخطے کو تباہ کرنے کی دھکیاں،بلوچستان میں دہشت گردی اور اقوام متحدہ کے فورمز سے لے کر سندھ طاس معاہدے کی معطلی تک، مودی حکومت کی ہر چال جنوبی ایشیا میں ایک طویل، خطرناک اور غیر متوقع کشیدگی کو جنم دے رہی ہے۔ اب وقت آ چکا ہے کہ دنیا اس بھارتی جارحیت کو محض انتخابی نعرہ سمجھنے کے بجائے ایک حقیقی خطرہ تصور کرے، جو نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن کو نگلنے کے درپے ہے۔

    مودی کی حالیہ دھمکیاں، بلوچستان میں معصوم بچوں پر دہشت گرد حملے اور سندھ طاس معاہدے کی معطلی اس جارحانہ پالیسی کا حصہ ہیں جس کے ذریعے بھارت نہ صرف پاکستان کو دباؤ میں لانا چاہتا ہے بلکہ خطے میں مسلسل کشیدگی کو ہوا دے رہا ہے۔ فالس فلیگ آپریشنز اور ریاستی سطح پر دہشتگردی کی پشت پناہی سے بھارت اپنے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی جامہ پہنانا چاہتا ہے۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ ان اقدامات کا سنجیدگی سےسخت نوٹس لے اور جنوبی ایشیا کو ایک ممکنہ تباہ کن تصادم سے بچانے میں کردار ادا کرے۔

    راجستھان جلسے میں مودی کی تقریر اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ وہ انتخابی فوائد حاصل کرنے کے لیے جنگی جنون کو ہوا دے رہاہے۔ "پہلگام حملے کا بدلہ 22 منٹ میں لینے” جیسے دعوے، پاکستان کو ایٹمی ہتھیاروں کی دھمکیاں، اور "سندور جب بارود میں بدلتا ہے” جیسے الفاظ اُن کی جنگی نفسیات اور پاکستان دشمنی کے واضح مظاہر ہیں۔ بھارت کی کوشش ہے کہ اقوام متحدہ جیسے عالمی فورمز پر پاکستان کو دہشت گرد ریاست ثابت کر کے اسے سفارتی تنہائی کا شکار بنایا جائے حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔

    بلوچستان کےضلع خضدار میں سکول بس پر ہونے والا حملہ، جس میں تین طالبات سمیت پانچ افراد شہید اور درجنوں زخمی ہوئے، بھارتی پراکسی نیٹ ورک کی گھناونی سازش کا نتیجہ تھا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق یہ حملہ بی ایل اے اور بی ایل ایف جیسے گروہوں کے ذریعے کروایا گیا، جنہیں بھارتی خفیہ ایجنسی "را” کی سرپرستی حاصل ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی اور وفاقی وزراء نے کھل کر اجیت دوول کے کردار کی نشاندہی کی، جو بھارت کی جارحانہ خفیہ پالیسیوں کا معمار مانا جاتا ہے۔ کلبھوشن یادیو کی گرفتاری اور اس کے اعترافات بھارت کے پراکسی نیٹ ورکس کا ناقابلِ تردید ثبوت ہیں۔

    اسی تسلسل میں بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی اور رنبیر نہر کی توسیع جیسے اقدامات کو دیکھا جائے تو یہ پاکستان کے خلاف واٹر وار کی باقاعدہ ابتدا ہے۔ "خون اور پانی اکٹھے نہیں بہہ سکتے” جیسے بیانات مودی کے اس جنگی بیانیے کی توسیع ہیں جس کے تحت بھارت پاکستان کے معاشی استحکام پر ضرب لگانا چاہتا ہے۔ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی پالیسی نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ اس سے خطے میں بھوک، قحط اور غربت کو فروغ ملنے کا شدید خطرہ پیدا ہو چکا ہے۔

    پاکستانی قیادت نے ان جارحانہ اقدامات کا بروقت جواب دیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے مظفرآباد میں اپنے خطاب میں واضح کیا کہ پاکستان نے نہ صرف بھارتی دھمکیوں کو مسترد کیا بلکہ 1971 کی شکست کے زخموں کا ازالہ کر دیا۔ پاک فضائیہ نے بھارتی طیارے مار گرائے اور الفتح میزائلوں کے ذریعے بھرپور دفاعی صلاحیت کا عملی مظاہرہ کیا۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے خضدار حملے کو مودی کی پراکسی جنگ کا حصہ قرار دیا اور گجرات سے لے کر بلوچستان تک پھیلے بھارتی دہشت گرد نیٹ ورک کو بے نقاب کیا۔ چین، امریکہ اور دیگر ممالک نے بھی اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے پاکستان سے یکجہتی کا اظہار کیا۔

    یہ سب حقائق تقاضا کرتے ہیں کہ پاکستان اب اپنی سفارتی مہم کو مزید فعال کرے اور اقوام متحدہ سمیت تمام بین الاقوامی فورمز پر بھارت کے جنگی جنون، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور پراکسی حملوں کا ناقابلِ تردید ثبوتوں کے ساتھ پردہ فاش کرے۔ نریندر مودی جس راستے پر چل رہاہے، وہ راستہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی تباہ کن پالیسیوں سے مختلف نہیں۔ ریاستی دہشتگردی، مذہبی شدت پسندی اور جارحیت کا امتزاج پورے جنوبی ایشیا کو ایک ایٹمی تصادم کی طرف دھکیل رہا ہے۔

    ایسے میں پاکستان کی ریاست، افواج، انٹیلی جنس ادارے اور عوام کو ایک صف میں کھڑا ہونا ہو گا۔ دشمن کے حملوں کو ناکام بنانے، بین الاقوامی سطح پر مؤثر مؤقف اپنانے اور داخلی استحکام کو برقرار رکھنے کی اشد ضرورت ہے۔ یہ وقت خاموش رہنے کا نہیں بلکہ اپنے نظریاتی، جغرافیائی اور آبی سرحدوں کے دفاع کے لیے فیصلہ کن اقدامات اٹھانے کا ہے۔ مودی سرکار کی بڑھتی ہوئی جارحیت نے واضح کر دیا ہے کہ اب پاکستان کو صرف زبانی مذمت سے آگے بڑھنا ہو گا۔

    مودی کی فاشسٹ پالیسیوں، پراکسی حملوں اور آبی دہشتگردی نے بھارت کو ایک ذمہ دار جمہوریت کے بجائے عسکریت پسند ریاست میں تبدیل کر دیا ہے۔ کلبھوشن یادیو کا اعتراف،جعفر ایکسپریس ، خضدار میں معصوم طالبات پر حملے اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیاں سب اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ جنوبی ایشیا میں عدم استحکام کی جڑیں کہاں پیوست ہیں۔ مودی کا طرزِ حکمرانی اب نیتن یاہو سے مشابہ ہو چکا ہے ، جہاں امن کی کوئی گنجائش نہیں، صرف طاقت کی زبان بولی جاتی ہے۔ ایسے میں پاکستان کو نہ صرف اپنی داخلی صفوں کو مضبوط کرنا ہو گا بلکہ عالمی برادری کے سامنے ٹھوس ثبوتوں کے ساتھ یہ مقدمہ پیش کرنا ہو گا کہ خطے میں اصل خطرہ کہاں سے جنم لے رہا ہے۔ یہ وقت اتحاد، تدبر اور ہم آہنگی کا ہے کیونکہ وطن کی حفاظت اب محض اداروں کی نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

  • پاکستان کے خلاف افغانستان استعمال کرنے کی مودی سرکار کی ناکام کوشش

    پاکستان کے خلاف افغانستان استعمال کرنے کی مودی سرکار کی ناکام کوشش

    پاکستان کے خلاف افغانستان استعمال کرنے کی مودی سرکار کی ناکام کوشش
    تحریر: نصیب شاہ شینواری
    افغانستان کے حزبِ اسلامی کے رہنما انجینئر گلبدین حکمتیار کے ایک بیان کو "افغانستان انٹرنیشنل پشتو” کے ویب سائٹ پر شائع کیا گیا ہے۔بیان کے مطابق حکمتیار کا کہنا ہے کہ اگر بھارت اپنے پڑوس میں ایک خودمختار اور طاقتور بنگلہ دیش، سری لنکا اور پاکستان برداشت نہیں کر سکتا، تو وہ ایک خودمختار اور طاقتور افغانستان کو کیسے برداشت کرے گا، جس نے دہلی پر کئی صدیوں تک حکومت کی ہے؟

    حکمتیار کے اس بیان میں افغان حکومت کے لیے واضح پیغام ہے کہ وہ بھارت کی طرف سے پاکستان یا دیگر پڑوسی ممالک کے خلاف بلا اشتعال جارحیت کی کھل کر مخالفت کرے۔اگر افغانستان کھل کر بھارتی جارحیت کی مذمت کرتا ہے تو اس سے وہ پڑوسی ممالک کے دل جیت سکتا ہے اور بھارت کو سفارتی سطح پر شکست دے سکتا ہے۔

    مضبوط اور خودمختار افغانستان کے لیے ضروری ہے کہ افغان سیاسی رہنما آپس میں متحد ہوں، ایسا نہ ہو کہ 70 کی دہائی کی طرح افغانستان میں سیاسی رہنماؤں کے درمیان ذاتی تعصب اتنا پروان چڑھے کہ وہ اپنے ذاتی سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے کو قتل کریں، بالکل اسی طرح جیسے افغانستان میں ہوا تھا، جس کا فائدہ پھر روس نے اٹھایا اور دس سال تک افغانستان میں خون کی ہولی کھیلی گئی، لاکھوں بے گناہ افغان شہریوں کو شہید کیا گیا اور لاکھوں کی تعداد میں افغان شہریوں نے پاکستان ہجرت کی۔

    روس انقلاب میں، پڑوسی ایران کے برعکس، پاکستان میں افغان مہاجرین کو مکمل آزادی حاصل تھی اور افغان مہاجرین نے پاکستان آتے ہی پاکستان کے تقریباً ہر شہر میں اپنا کاروبار اور ان کے بچوں نے تعلیم حاصل کرنا شروع کی۔

    ایسی صورت حال میں، جب مودی سرکار نے 22 اپریل کو پہلگام کا جعلی ڈرامہ رچایا اور عالمی سطح پر پاکستان کو اس دہشت گردی کے واقعے میں ملوث کرنے کی کوشش کی، لیکن مودی سرکار کے اس جھوٹے پروپیگنڈے سے پاکستان بدنام نہ ہو سکا۔ اگرچہ حال ہی میں افغان حکومت نے پہلگام واقعے کی مذمت کی، لیکن پاکستان پر بلا اشتعال بھارت کی جارحیت کی افغان حکومت نے مذمت تک نہ کی اور ایسا متنازعہ بیان جاری کیا جس کی وجہ سے دونوں ممالک کے خوشگوار تعلقات ایک دفعہ پھر خراب ہونے کا خدشہ ہے۔

    اس صورت حال میں، جس افغان حکومت نے پہلگام واقعے کی مذمت کی، بالکل اسی طرح افغان حکومت کو چاہیے تھا کہ پاکستان پر انڈیا کے بلا اشتعال حملے کی بھی بھرپور مذمت کرتی اور بھارت کو اس جارحیت سے روکتی۔ اس لیے کہ جب افغانستان کا پڑوسی ایٹمی ملک پاکستان کے ساتھ خوشگوار تعلقات ہوں اور وہ دیگر سازشی ممالک کے اشاروں پر نہ چلے، تب جا کر پاکستان جیسے نیوکلیئر طاقت رکھنے والے ملک دوسرے سازشی عناصر کو شکست فاش دے سکتے ہیں۔

    پاکستان نے سفارتی سطح پر بھی اور حالیہ جنگی محاذ پر بھی بھارت کو شکست دی ہے، لیکن بھارت بوکھلاہٹ کا شکار ہے اور 7 مئی سے 12 مئی تک جنگ کے دوران بھارت شکست کھانے کے باوجود، مودی سرکار کے نمائندے ایسے بیانات جاری کرتے ہیں جن سے سازش اور جنگ کی بو آتی ہے۔

    ایسی صورت حال میں، اگر بھارت کو فضائی یا زمینی فوجی قوت میں برتری حاصل ہے تو پاکستانی بری، فضائیہ اور بحریہ کی فوج کی مثال بھی نہیں ہے۔ نیوکلیئر طاقت کے ساتھ ساتھ پاکستانی افواج اور قوم میں ایمان و جہاد کا جذبہ ہے اور تاریخِ اسلام گواہ ہے کہ مسلمانوں نے کم تعداد اور وسائل کے باوجود، زیادہ تعداد اور وسائل رکھنے والے مخالفین کو شکست دی ہے۔

    پاکستان بطور مضبوط نیوکلیئر پاور کا عملی مظاہرہ دنیا نے 10 مئی کی فجر کی نماز کے بعد دیکھا جب پاکستانی فضائیہ کے شاہینوں نے بھارتی حدود میں گھس کر دشمن کو دندان شکن شکست دی۔ پاکستانی شاہینوں نے 6 بھارتی جنگی طیارے مار گرائے جن میں تین فرانس ساختہ رافیل طیارے بھی شامل ہیں۔ پاکستان کے شاہینوں کی طرف سے بھارت کے طیارے گرانے کی تصدیق بین الاقوامی میڈیا اداروں نے بھی کی اور اب تو پاکستانی فضائیہ نے یہ بھی کہا ہے کہ ہم نے دشمن کے 7 طیارے مار گرائے ہیں اور اس شکست کی وجہ سے مودی سرکار نے ایک بھوکے کتے کی طرح بھونکنا شروع کیا ہے۔

    جنگ کے دنوں میں پاکستان کے آہنی وار نے انڈیا کی خاتون فوجی ترجمان کرنل صوفیہ قریشی کو بھی گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا اور ان دنوں اس خاتون فوجی ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ انڈیا کبھی بھی پاکستان کے ساتھ جنگ اور جارحیت نہیں چاہتا، جس سے ثابت ہوا کہ پاکستانی شاہینوں نے مودی سرکار کو سیزفائر کے لیے آمادہ کیا۔

    بھارت کی بین الاقوامی منافقت اور سازش کو دیکھیں کہ جب سے پاک-انڈیا کے درمیان کشیدگی بڑھی ہے، تو بھارت پاکستان کے مسلمان ہمسایہ افغانستان کے ساتھ نزدیکی بڑھانے کی کوشش کرتا آ رہا ہے تاکہ پاکستان اور افغانستان میں غلط فہمیاں پیدا کی جائیں، حالانکہ بات ایسی نہیں۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان برادرانہ تعلقات ہیں۔ روس انقلاب ہو یا روس انقلاب کے بعد افغانستان میں خانہ جنگی، پاکستان نے ہر وقت افغان حکومت اور افغان بھائیوں کے لیے بارڈر کھلا رکھا ہے۔

    اب تو مودی سرکار ایسی سازشوں پر اُتر آئی ہے کہ افغانستان میں بھی ڈیم بنانے کے منصوبوں پر افغان حکومت کے ساتھ پلان شروع کیا تاکہ افغانستان سے نکلنے والے دریاؤں کا پانی پاکستان کے لیے روکا جا سکے۔

    ایسی صورت حال میں افغانستان کی موجودہ حکومت کو چاہیے کہ وہ گلبدین حکمتیار کے بیان کے عین مطابق بھارتی سازش کا حصہ نہ بنے، اس لیے کہ حکمتیار نے پہلے ہی کہا ہے کہ انڈیا جب پڑوس میں ایک آزاد اور خودمختار پاکستان اور بنگلہ دیش برداشت نہیں کر سکتا، تو بھارت ایک آزاد، مضبوط اور خودمختار افغانستان کو کیسے برداشت کر سکتا ہے؟

  • بھارتی دہشت گردی: فیصلہ کن جواب وقت کا تقاضا

    بھارتی دہشت گردی: فیصلہ کن جواب وقت کا تقاضا

    بھارتی دہشت گردی: فیصلہ کن جواب وقت کا تقاضا
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفٰی بڈانی
    بھارت جو خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلوانے کا ڈھونگ رچاتا آرہاہے، برسوں سے اپنے ہمسایوں خاص کر پاکستان کے خلاف پراکسی وار کے ذریعے دہشت گردی کی سرپرستی کر رہا ہے۔ 21 مئی 2025 کو بلوچستان کے شہر خضدار میں ایک سکول بس پر خودکش حملہ اس کی بھیانک مثال ہے، جس میں تین معصوم بچوں سمیت پانچ افراد شہید اور 38 زخمی ہوئے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے واضح کیا کہ یہ بزدلانہ فعل بھارت کی منصوبہ بندی کے تحت اس کی پراکسی تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے انجام دیا۔ یہ حملہ بھارت کی اس شدید مایوسی کی عکاسی کرتا ہے جو اسے آپریشن سندور کے جواب میں آپریشن بنیان مرصوص کی صورت میں ذلت آمیز شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

    بی ایل اے کوئی مقامی علیحدگی پسند تحریک نہیں ہے بلکہ بھارت کی خفیہ ایجنسی ’را‘ کا ایک ہتھیار ہے جو پاکستان میں بدامنی پھیلانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ گرفتار دہشت گردوں نے بارہا اعتراف کیا کہ انہیں بھارت سے مالی امداد، ہتھیار، تربیت اور اہداف کی ہدایات ملتی ہیں۔ 2015 سے اب تک بی ایل اے کے 18 سے زائد حملوں میں بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، جن کے تمام ترسازشوں کے راستے دہلی جاکے ملتے ہیں۔ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کے اعترافات نے اس پراکسی نیٹ ورک کو عالمی سطح پر بے نقاب کیا لیکن بھارت کی ہٹ دھرمی جاری ہے۔ بھارتی میڈیا، جیسے زی نیوزودیگر دہشت گردوں کی مذمت کرنے کے بجائے انہیں پاکستان کے خلاف پلیٹ فارم فراہم کرتے ہیں جو ان کے بیانیے کو تقویت دیتا ہے۔ خضدار کا سانحہ اسی بزدلانہ حکمت عملی کا نتیجہ ہے، جس میں بھارت میدان جنگ میں ناکامی کے بعد معصوم بچوں کو نشانہ بنا کر اپنی شکست کا بدلہ لے رہا ہے۔

    اسی طرح شمالی وزیرستان کے علاقے میرعلی میں 19 مئی 2025 کو ہونے والا حملہ بھارتی سرپرستی میں کام کرنے والی ایک اور دہشت گرد تنظیم ’فتنہ الخوارج‘ کا کارنامہ تھا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق یہ گروہ مساجد کو ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہیں، ان کی بے حرمتی کرتے ہیں اور معصوم شہریوں کو اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کے لیےبلی چڑھادیتے ہیں۔ فتنہ الخوارج کے دہشت گردمساجد میں جوتوں سمیت گھومتے ہیں، سیکیورٹی فورسز پر فائرنگ کرتے ہیں اور مساجد کی حرمت کو جان بوجھ کر پامال کرتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ پاکستانی فورسز مقدس مقامات کی عزت کی وجہ سے جوابی کارروائی سے گریز کریں گی۔ پاکستانی قوم اور افواج ان کے مکروہ مقاصد کو ناکام بنانے کے لیے متحد ہیں۔

    بھارت کی ناکامی صرف عسکری محاذ تک محدود نہیں ہے،سی پیک جیسے منصوبوں نے پاکستان کو معاشی خودمختاری کی راہ پر گامزن کیا ہے لیکن بھارت اس ترقی سے خوفزدہ ہے۔ گوادر، دشت اور خضدار میں ہونے والے حملے پاکستان کی معاشی ترقی کو سبوتاژ کرنے کی بھارتی سازش کا حصہ ہیں۔آپریشن سندور کے جواب میں آپریشن بنیان مرصوص کی صورت میں ذلت آمیز شکست کے بعد بھارت نے پراکسی جنگوں پر انحصار بڑھا دیا، جن میں بی ایل اے اور فتنہ الخوارج اس کے آلہ کار ہیں۔ یہ حملے پاکستان کے امن و استحکام کو کمزور کرنے کی کوشش ہیں لیکن پاکستانی قوم ہر بار ان سازشوں کو ناکام بناتی آرہی ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے انکشاف کیا کہ حالیہ پاک بھارت محدود جنگ کے دوران اسرائیل نے بھارت کی بھرپور مدد کی۔ جنگ سے قبل اسرائیل کے 150 تربیت یافتہ افراد بھارت پہنچے اور سری نگر سمیت دیگر مقامات پر اسرائیلی ہتھیار استعمال کیے گئے۔ یہ گٹھ جوڑ نہ صرف پاکستان کے خلاف ہے بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے واضح کیا کہ پاکستان نے جنگ بندی کی کوئی درخواست نہیں کی بلکہ بالغ نظری سے حالات کو سنبھالا۔ انہوں نے پسرور چیک پوسٹ کا ذکر کیا جہاں پاکستانی فوجیوں نے آخری دم تک مقابلہ کیا اور اپنی پوزیشن نہیں چھوڑی جو پاک فوج کی بہادری اور عزم کی روشن مثال ہے۔

    پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 83 ہزار سے زائد جانوں کی قربانی دی ہے۔ جب بھی ملک میں امن قائم ہونے لگتا ہے، بھارت اپنی پراکسی تنظیموں کو متحرک کر دیتا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے دوٹوک انداز میں کہا کہ اگر بھارت جنگ چاہتا ہے تو پاکستان اس کے لیے تیار ہے، لیکن ہم امن کو ترجیح دیتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایٹمی جنگ دونوں ممالک کے لیے تباہ کن ہوگی اور بھارت کا جھوٹا بیانیہ اب دنیا کے سامنے بے نقاب ہو چکا ہے۔ وزیرداخلہ محسن نقوی نے قوم سے اتحاد کی اپیل کی اور کہا کہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو کسی قسم کی رعایت نہ دی جائے۔

    بھارت کی ریاستی دہشت گردی اب مزید برداشت سے باہر ہے۔ خضدار کے معصوم شہداء کا خون پاکستانی قوم کے ضمیر کو جھنجھوڑ چکا ہے۔ اب وقت آ چکا ہے کہ اس مکار دشمن سے اپنے بچوں اور بے گناہ شہریوں کے خون کے ایک ایک قطرے کا حساب لیا جائے۔ پاکستانی قوم ایک متحد اور بنیان مرصوص یعنی سیسہ پلائی دیوار کی طرح اس دہشت گردی کے خلاف کھڑی ہے اور ہماری بہادر افواج ہر سازش کو ناکام بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔ بھارت کا مکروہ چہرہ عالمی برادری کے سامنے بے نقاب کیا جائے اور اس کا ہر سہولت کار، ہر دہشت گرد اور ہر سرپرست انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔

    پاکستان امن، ترقی اور غیرت کی علامت ہے لیکن ہمارا صبر اب جواب دے چکا ہے۔ بھارت کے اس گھناؤنے کھیل کا خاتمہ ناگزیر ہے اور ہمیں اپنے شہداء کے خون کا بدلہ فیصلہ کن اور بے رحم انداز میں لینا ہے، اب کسی مصلحت کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔ عالمی برادری سے اپیل ہے کہ وہ بھارت کے اس شیطانی کردار کو تسلیم کرتے ہوئے کے کارروائی کرے اور خطے میں پائیدار امن کے قیام اور بھارتی دہشت گردی کو روک لگانے کےلیے اپنا کردار ادا کرے۔

  • آم :پھلوں کا بادشاہ اور میرپورخاص کی پہچان

    آم :پھلوں کا بادشاہ اور میرپورخاص کی پہچان

    آم :پھلوں کا بادشاہ اور میرپورخاص کی پہچان
    تحریر: سید شاہزیب شاہ
    پاکستان کی سرزمین قدرتی نعمتوں سے مالا مال ہے، اور انہی میں ایک انمول نعمت "آم” ہے، جسے بجا طور پر پھلوں کا بادشاہ کہا جاتا ہے۔ آم صرف ایک خوش ذائقہ پھل نہیں، بلکہ یہ ہماری ثقافت، زراعت اور معیشت کا اہم ستون بھی ہے۔ پاکستان آم کی پیداوار میں دنیا کے صفِ اول کے ممالک میں شامل ہے، اور جب آم کی بات ہو تو سندھ کا شہر میرپورخاص اپنے منفرد ذائقے، اعلیٰ اقسام اور تاریخی روایت کے باعث سرفہرست آتا ہے۔

    ضلع میرپورخاص، اپنی زرخیز زمین، خوشگوار آب و ہوا اور محنتی کسانوں کی بدولت آم کی کاشت میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ یہاں آم کی کاشت ایک صدی سے زائد پرانی روایت ہے، جو وقت کے ساتھ جدید زرعی تکنیکوں سے مزید ترقی پا چکی ہے۔ یہ علاقہ آم کی متعدد اعلیٰ اقسام کے لیے دنیا بھر میں شہرت رکھتا ہے۔

    میرپورخاص میں پیدا ہونے والی آم کی مشہور اقسام میں سندھڑی، چونسہ، لنگڑا، انور رٹول، دوسہری اور بیگن پالی شامل ہیں۔ ان میں سے سندھڑی کو مٹھاس، خوشبو اور رس کی فراوانی کے باعث آم کا بادشاہ کہا جاتا ہے، جبکہ چونسہ گرمیوں کے اختتام پر آنے والا دیرپا ذائقہ رکھنے والا آم ہے، جو اپنی لاجواب لذت کے باعث ہر سال مقبولیت میں اضافہ کرتا ہے۔

    میرپورخاص سے ہر سال لاکھوں من آم اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک برآمد کیے جاتے ہیں۔ اس برآمدی عمل سے جہاں کسانوں کو روزگار اور منافع حاصل ہوتا ہے، وہیں ملک کو قیمتی زرمبادلہ بھی حاصل ہوتا ہے۔ پاکستانی آم بالخصوص مشرقِ وسطیٰ، یورپ، اور امریکہ کی منڈیوں میں انتہائی پسند کیے جاتے ہیں۔ آم کی تجارت صرف زرعی شعبے تک محدود نہیں بلکہ یہ ملکی معیشت کا فعال کردار بن چکی ہے۔

    میرپورخاص میں ہر سال آم میلہ (مینگو فیسٹیول) منعقد کیا جاتا ہے، جہاں آم کی درجنوں اقسام کی نمائش ہوتی ہے۔ یہ میلہ کسانوں اور تاجروں کے لیے نہ صرف معاشی فوائد کا ذریعہ بنتا ہے بلکہ عوام اور سیاحوں کے لیے تفریح، ثقافت اور ذائقے کا حسین امتزاج پیش کرتا ہے۔ آم میلہ اس علاقے کی زراعت، روایت اور تہذیب کی جھلک بھی پیش کرتا ہے، جہاں نہ صرف خرید و فروخت ہوتی ہے بلکہ کسانوں کو ان کی محنت کا اعتراف بھی ملتا ہے۔

    اگرچہ میرپورخاص آم کی کاشت میں ایک روشن مقام رکھتا ہے، مگر یہاں کے کسان بعض سنجیدہ مسائل کا سامنا بھی کر رہے ہیں، جن میں پانی کی قلت، موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات، کیڑوں اور بیماریوں کا پھیلاؤ اور جدید زرعی تحقیق تک محدود رسائی شامل ہیں۔ اگر حکومت، زرعی ادارے، میڈیا اور نجی شعبے اس شعبے کو جدید سہولیات، تحقیق اور مالی معاونت فراہم کریں، تو آم کی صنعت نہ صرف مقامی سطح پر ترقی کرے گی بلکہ عالمی منڈیوں میں بھی پاکستان کا مقام مزید مستحکم ہوگا۔

    آم صرف ایک پھل نہیں بلکہ پاکستانی زراعت کی شان اور میرپورخاص کی پہچان ہے۔ ضروری ہے کہ ہم اس قیمتی اثاثے کو قومی سرمایہ سمجھ کر اس کی حفاظت اور ترقی کے لیے عملی اقدامات کریں تاکہ کسان خوشحال ہوں، معیشت مضبوط ہو، اور پاکستان کا نام دنیا میں مزید روشن ہو۔

  • بھارت کی سفارتی ناکامی اور آم ڈپلومیسی کا زوال

    بھارت کی سفارتی ناکامی اور آم ڈپلومیسی کا زوال

    بھارت کی سفارتی ناکامی اور آم ڈپلومیسی کا زوال
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفٰی بڈانی
    سفارت کاری بین الاقوامی تعلقات کو مضبوط کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہوتی ہے۔ دنیا کے ممالک مختلف طریقوں سے ایک دوسرے کے ساتھ رابطے استوار کرتے ہیں، جن میں بیک ڈور ڈپلومیسی یعنی خفیہ مذاکرات، ٹریک ٹو ڈپلومیسی جو غیر سرکاری افراد کے ذریعے رابطوں پر زور دیتی ہے، کرکٹ ڈپلومیسی جو کھیلوں کے ذریعے ممالک کو قریب لاتی ہے، ثقافتی ڈپلومیسی جو فنون اور روایات کے تبادلے سے روابط بڑھاتی ہے اور آم ڈپلومیسی جو تحائف کے ذریعے خیر سگالی کا اظہار کرتی ہے شامل ہیں۔ بھارت نے اپنے مشہور الفانسو اور کیشر آموں کو سفارتی تحفے کے طور پر استعمال کر کے اپنی سافٹ پاور کو فروغ دینے کی کوشش کی، لیکن یہ منصوبہ نہ صرف ناکام ہوا بلکہ اس کی خارجہ پالیسی کی کمزوریوں اور چالاکیوں کو بھی عیاں کر گیا۔ بھارت نے اس منصوبے کے ذریعے امریکہ کے ساتھ سیاسی، معاشی اور سفارتی فوائد حاصل کرنے کی کوشش کی مگر ناقص منصوبہ بندی اور دستاویزات کی خامیوں نے اسے شرمندگی سے دوچار کیا۔

    8 اور 9 مئی 2025 کو ممبئی سے 15 کنٹینرز پر مشتمل آموں کی کھیپ شعاع ریزی کے عمل سے گزر کر امریکہ بھیجی گئی جو کیڑوں کو ختم کرنے اور آموں کی شیلف لائف بڑھانے کے لیے ضروری تھا۔ تاہم امریکی حکام نے PPQ203 فارم کی نامکمل تیاری کا بہانہ بنا کر اس کھیپ کو لاس اینجلس، سان فرانسسکو اور اٹلانٹا کے ہوائی اڈوں پر مسترد کر دیا۔ بھارتی برآمد کنندگان کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے شعاع ریزی کا عمل مکمل کیا تھا اور PPQ203 فارم بھی تیار تھامگر یا تو بھارتی عملے کی غفلت یا امریکی حکام کی سخت پالیسی کی وجہ سے یہ کوشش ناکام ہوئی۔ نتیجتاً برآمد کنندگان کو دو مشکل فیصلوں کا سامنا کرنا پڑا، آموں کی کھیپ واپس بھارت بھیجیں، جو خراب ہونے والے آموں کے لیے مہنگا اور غیر عملی تھا یا اسے امریکہ میں تباہ کر دیں۔ انہوں نے آموں کو تباہ کرنے کا فیصلہ کیا، جس سے تقریباً 500,000 ڈالر یعنی 4.15 کروڑ روپے کا مالی نقصان ہوا۔ یہ واقعہ بھارت کے برآمدی نظام کی خامیوں اور سفارتی تیاری کی کمی کو واضح کرتا ہے۔

    یہ ناکامی صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ بھارت کی خارجہ پالیسی کی ناکامیوں کا تسلسل ہے۔ ماضی میں بھی بھارت نے 1950 کی دہائی میں چین کے ساتھ آم ڈپلومیسی کی کوشش کی تھی جو خاطر خواہ نتائج نہ لا سکی۔ اس بار بھی بھارت کی نام نہاد سافٹ پاور امریکی ہوائی اڈوں پر ضائع ہو گئی، جو اس کی سفارتی ناکامی کی علامت بن گئی۔ ایگریکلچرل اینڈ پروسیسڈ فوڈ پروڈکٹس ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ اتھارٹی اور مہاراشٹر اسٹیٹ ایگریکلچرل مارکیٹنگ بورڈ کے درمیان رابطوں کی کمی نے اس ناکامی کو مزید گہرا کیا۔ یہ واقعہ بھارت کے برآمدی نظام میں شفافیت کی کمی اور ناقص انتظامی ڈھانچے کو بھی اجاگر کرتا ہے۔

    بھارت کی خارجہ پالیسی ہمیشہ سے چالاکی اور چاپلوسی پر مبنی رہی ہے۔ وہ اپنے مفادات کے لیے عالمی طاقتوں کے سامنے سر جھکاتا ہے، لیکن اس کی ناقص منصوبہ بندی اسے ہر بار ناکام کرتی ہے۔ حالیہ پاک بھارت چار روزہ جنگ (مئی 2025) میں پاکستان کے ہاتھوں میدان جنگ میں شرمناک شکست نے بھارت کی عسکری اور سفارتی کمزوریوں کو بے نقاب کیا۔ اس جنگ نے نہ صرف بھارت کے فوجی دعووں کی قلعی کھولی بلکہ اسے عالمی سطح پر سفارتی تنہائی سے بھی دوچار کیا۔ امریکہ جو بھارت کا اہم اتحادی سمجھا جاتا ہے نے بھی اس موقع پر بھارت کی حمایت سے ہاتھ کھینچ لیا۔ آم ڈپلومیسی کی ناکامی اور امریکی حکام کی جانب سے کھیپ کی مستردگی اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت اپنی چالاکیوں سے عالمی برادری کو متاثر نہیں کر سکتا۔

    اب سفارت کاری کا دور بدل چکا ہے اور بھارت کی دھونس دھاندلی، عیاری اور مکاری عالمی سطح پر ناکام ہو چکی ہے۔ پاکستانی خارجہ پالیسی اور اس کے پالیسی ساز بھارت کی ان چالاکیوں کو ہر عالمی فورم پر بے نقاب کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ بھارت جہاں جہاں جائے گا پاکستان اس کی بچھائی ہوئی چالیں دنیا کے سامنے لاتا رہے گا اور اس کی ہر مکروہ سازش کو ناکام بنائے گا۔ اب وہ وقت چلا گیا جب روس بھارت کے لیے اقوام متحدہ میں ویٹو پاور استعمال کر کے اسے بچا لیتا تھا۔ بھارت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اس کی سافٹ پاور کے دعوے محض دھوکا ہیں اور اس کی ناقص خارجہ پالیسی عالمی برادری میں کوئی وزن نہیں رکھتی۔ اگر بھارت نے شفافیت، پیشہ ورانہ تیاری اور مضبوط نظام کو نہ اپنایا تو آم ڈپلومیسی کی طرح اس کی تمام سفارتی کوششیں ناکامی کا شکار ہوتی رہیں گی اور عالمی برادری اسے مکمل طور پر مسترد کرتی رہے گی۔

  • آسمانی شادی

    آسمانی شادی

    غربت کی رسی سے خودکشی کرنے والے باپ کی بیٹی کے نصیب
    ظفریات کتاب کا حقیقت پر مبنی دل سوز مضمون: آسمانی شادی
    تحریر: ظفر اقبال ظفر
    2020 مجھے ساری زندگی نہیں بھول سکتا۔ اس سال نے انسانیت کو کرونا وائرس جیسی وبا کے امتحان میں ڈالا، جو خود تو نظر نہیں آتی تھی مگر کئی واقعات دکھا کر گئی۔ جب ملک بھر میں لاک ڈاؤن لاگو کر دیا گیا، یہ کہانی ہے ایک ایسے مزدور کی جو روزانہ اپنا کنواں کھود کر پانی نکالتا تھا، یعنی روز کمایا تو کھایا ورنہ فاقہ۔ لاک ڈاؤن کو دوسرا ماہ تھا، عوام گھروں میں قید تھی۔ جن کے گھر وافر راشن اور رقم تھی، وہی بے فکر تھے۔ باقی سبھی خوراک کی خوراک بنتے جا رہے تھے۔

    مشکل میں مصیبت کو دُور کرنے والے انسانوں کے جہان کا تو پتہ نہیں، مگر پاکستان، پنجاب کے مسلمانوں نے اپنی دکانوں پر پڑی چیزیں مہنگی کر دی تھیں۔ دورِ حاضر میں یہ مجبوری کا فائدہ اٹھانے والے لوگ حیوانوں کو اشرف المخلوقات ہونے پر کبھی پچھتانے نہیں دیتے۔ نجانے کتنے لاچار، بے بس، غریب انسانوں کو کرونا وائرس کے دور میں موت کا خوف اپنی لپیٹ میں مبتلا کر چکا تھا، مگر یہ کہانی ایک ایسے غریب مزدور کی، جس نے اپنے بچوں کی بھوک مٹانے میں ناکامی کا یہ حادثہ پیش کیا کہ شہر کے بیچ میں ایک درخت پر پھندہ بنا کر جھول گیا۔

    اس کی تصویریں سوشل میڈیا پر دیکھیں تو رُوح کانپ اُٹھی۔ قریبی شہر کا واقعہ تھا۔ میں بھی دو بچوں کا باپ ہوں، اور باپ کے حساس دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر ایک دن اس خوفناک موت کا شکار ہونے والے باپ کے گھر پہنچا۔ایک چھوٹا سا گھر، جس کی کچی دیواریں اور چھت اس میں رہنے والوں کے حالات بیان کر رہی تھیں۔ بیوہ اپنی بچیوں کو آغوش میں لیے خون کے آنسو بہاتی ہوئی کہہ رہی تھی: بیٹی کا رشتہ طے کیا تھا، اس کے سسرالیوں کو گمان تھا کہ باپ جہیز میں کچھ نہ کچھ تو ضرور دے گا، مگر اب وہ بھی دامن چھڑواتے نظر آ رہے ہیں۔ ہو سکتا ہے کچھ روز میں شادی سے انکار کر دیں،مجھ سے کچھ بولا نہ گیا اور اگلے نقصان کا اعلان سن کر دُکھی سا لوٹ آیا۔

    کسی غیبی طاقت نے مجھے ان کے لیے کوشش کرنے پر مجبور کر دیا۔ میں نے اپنے ایک بیرون ملک مقیم کزن سے مدد کی بات کی تو اس نے مجھے بیس ہزار روپے بھیجے۔ کچھ رقم میں نے اپنے شافعِ محشرؑ کے غلام مسیحا سے حاصل ہونے والی شامل کی اور مزید کے لیے بے قرار ہو گیا۔روز میرا دل مجھے کسی نیلام گھر جہیز والے کے پاس پہنچنے کو مجبور کرتا اور میں سوچتا کہ معمولی سی رقم سے جہیز کا سامان متاثرہ گھر میں کیسے پہنچ سکتا ہے، مگر مجھے چلانے والی طاقت نے جہیز مارکیٹ جانے پر مجبور کر دیا۔

    بندے کی جیب میں پچاس ہزار ہو اور دو، ڈھائی، تین لاکھ کا سامان لینے چلا جائے، ظاہری طور پر تو یہ بے وقوفانہ جرات ہے، جس کا نتیجہ شرمندگی کے سوا کچھ نہیں، مگر یہ جو صاحبِ حیثیت لوگ ہوتے ہیں، ان کو قدرت اپنے کسی بندے کی مدد کے لیے صاحبِ دل بھی کر لیتی ہے۔میں دکانوں کے آگے سے گزر رہا ہوں اور میری نظریں دکان میں سامان نہیں، انسان تلاش کر رہی تھیں۔ خدا کی حکمت سے واقفیت کا پہلو بھی سن لیجئے: مالک خوبصورت روحوں پر خوبصورت چہرے سجاتا ہے۔ ہمارا واسطہ کئی ایسے افراد سے پڑتا ہے جن کی شکل دیکھ کر عقل محبت کے احساس کا پتہ دیتی ہے، اور کئی ایسے ہوتے ہیں جنہوں نے ہمارا بگاڑا بھی کچھ نہیں ہوتا، اور وہ ہمیں اچھے بھی نہیں لگتے، یعنی نظریں کئی چہروں کو روح کے فیصلے پر چھوڑ دیتی ہیں اور کئی چہرے دل کے فیصلے میں آ جاتے ہیں۔

    ایسے ہی میں ایک دکان مالک بزرگ انسان، گورا چہرہ، سفید داڑھی، سفید لباس، ہونٹوں پہ تبسم، نگاہوں میں مہربانی — ہماری نظریں ملتے ہی توجہ کا جذبہ اجاگر ہوا۔
    میں ان کی طرف کھنچا چلا گیا، اور انہوں نے مجھے اپنی طرف آتے ہی ملازم کو کرسی لانے کا پیغام دیا۔میں قریب پہنچا تو کرسی مجھ سے پہلے پہنچ گئی۔ میں نے سلام کیا۔ جواب دیتے ہی "تشریف رکھیے” کا اشارہ زبان اور ہاتھ پر اتر آیا۔میں کچھ دیر خاموش بیٹھا رہا کہ بات کیسے اور کہاں سے شروع کروں۔ وہ میرا چہرہ دیکھتے رہے۔ میں نے ہمت جمع کرکے کہا: محترم، میں گاہک نہیں، خدا کا پیغام ہوں جو آیا نہیں، بھیجا گیا ہوں۔

    پھر موبائل سے وہ غریب مزدور کی پھانسی لینے والی تصویر سامنے کرتے ہوئے واقعہ بیان کیا کہ میں حادثے کے بعد اس کے گھر گیا تھا۔ اس کی بیوی اور بچیاں اپنی زندگی کا خدا سے اس بات کا شکوہ کر رہی تھیں کہ اس دور میں کیوں پیدا کیا، جس میں انسان تو ہیں، مگر انسانیت نہیں بستی۔کاش ہمارے ہاں ہمسایوں کے حالات سے باخبر رہنے کی روایت زندہ ہوتی تو ہمارا باپ عزتِ نفس کی رسی کو اپنے گلے کا ہار بنا کر انسانوں کے جہاں سے روانہ نہ ہو جاتا، اور چوک میں پھندا لینا یعنی انسانوں میں انسانیت جگانے کی کوشش تھی، ورنہ مر تو وہ گھر کی چار دیواری میں بھی سکتا تھا۔

    اُس بزرگ بندے کی آنکھوں سے آنسو ٹپکنے شروع ہوئے، کہنے لگا: "ہمیں قدرت کا کیا کام کرنا ہے؟”میں نے کہا "اس کی ایک جوان بچی ہے جس کا رشتہ طے کر کے گیا تھا، اب وہ لوگ جہیز کے سامان کے نہ ملنے کی وجہ سے رشتہ توڑ سکتے ہیں۔ اگر کچھ سامان میسر آ جائے تو ہم مرنے والے کو تو نہیں بچا سکے، مگر گھٹ گھٹ کر زندگی اور حالات کو کوسنے والی ایک بچی کا گھر بسنے سے پہلے اُجڑ جانے سے بچا سکتے ہیں۔”
    اور وہ رقم جو میرے پاس تھی نکالتے ہوئے ان کی طرف بڑھا دی۔انہوں نے وہ رقم گنی بھی نہیں اور ملازموں کو بلا کر کہا: "جو سب سے اچھا جہیز کا سیٹ پڑا ہے وہ گاڑی میں لوڈ کرو اور چائے کے لیے آرڈر دو، کہ اللہ کا قاصد ہمارا مہمان بنا ہے۔”

    میں اپنی خود غرضی کی غلاظت سے بھری اوقات دیکھتے ہوئے رو پڑا کہ مالک نے کیسا کام لیا جس نے مجھے انسانیت کا ترجمان بنا دیا۔ بس ایک عیب چھپانے والی رحمت کی چادر تھی، جس نے میرے کردار کو انمول بنایا ہوا تھا۔سامان لوڈ ہوا تو اس بزرگ بندے نے گاڑی ڈرائیور کو کرایہ دیتے ہوئے کہاکہ "کسی سے کوئی پیسوں کا مطالبہ نہ کرنا اور ان صاحب کے ساتھ چلے جاؤ، جہاں یہ کہیں سامان چھوڑ آنا۔”

    میرے پاس اس بزرگ بندے کا شکریہ ادا کرنے کے الفاظ نہیں تھے، مگر اس کا جواب قدرت خود ہی اسے دے گی۔میں گاڑی والے کے ساتھ بیٹھا اور ہم متاثرہ گھر کی جانب روانہ ہو گئے۔ میں دل میں اُس بیوہ ماں کی کیفیت کو محسوس کرکے اشک بہا رہا تھا کہ جب اُس بچی اور ماں کو معلوم ہوگا کہ قدرت نے اُن کی رُوح کا ایک بڑا بوجھ ہلکا کر دیا ہے، تو ان کی کیفیت کیا ہوگی۔

    مجھ سے یہ منظر دیکھا نہ جائے گا۔ مالک ہمت عطا کرے گا۔

    ہم دو گھنٹے بعد اس متاثرہ گھر کے دروازے پر پہنچے، دستک دی، اندر سے بچی کی آواز آئی: "کون؟”
    "بیٹی، اللہ کا بندہ ہوں، اپنی ماں کو کہو وہ جو بندہ دوسرے شہر سے تعزیت کے لیے آیا تھا وہ دوبارہ آیا ہے، ملنا چاہتا ہے۔”
    بچی نے اپنی ماں کو بتایا تو اُس نے اندر آنے کی اجازت دی۔
    میں اندر گیا، ٹوٹی ہوئی چارپائی پر بیٹھی عورت نے میرا دیکھا ہوا چہرہ پہچان لیا۔

    میں نے سلام کیا اور دونوں ہاتھ جوڑ کر کہاکہ "اللہ نے آپ کی بچی کے لیے سامان بھیجا ہے، اسے قبول کرکے مجھ پر احسان کریں۔”
    ان کے ذہن میں آیا کہ کوئی چھوٹی موٹی رقم یا چیز ہوگی جو ابھی میں جیب سے نکال کر ان کے حوالے کروں گا مگر میں نے ان کا ہاتھ تھاما اور انہیں دروازے سے باہر گاڑی کے پاس لے آیا۔
    ڈرائیور سے کہا: "ترپال اُٹھائیں۔”

    جب جہیز کے سامان پر اس عورت اور بچی کی نظر پڑی تو وہ بے اختیار روتے ہوئے آپس میں گلے لگ گئیں۔

    بچی ماں کو کہنے لگی کہ "بابا نے خدا کے پاس جا کر خدا کو منا کر میری زندگی کے آباد ہونے کا سامان بھیجا ہے۔ بھلا ایسا بابا کسی بچی کو نصیب ہوا ہو گا جو مجھے ملا تھا۔”
    ہم نے سامان گاڑی سے نکال کر ان کے کمرے میں رکھنا شروع کیا۔

    گلی میں ہمسائے دیکھتے گزرتے تو وہ عورت کہتی کہ "میرے میاں نے اللہ کے پاس جا کر ہمارے زخم دکھائے تو رب نے مرہم بھیجا ہے۔”مکمل سامان حوالے کرنے کے بعد اس کی تصویریں بچی کے سسرال والوں کو بھیجیں تو انہوں نے فوری آنے کا کہہ کر فون بند کر دیا۔ان کے آنے سے پہلے میں وہاں سے بیوہ کو یہ کہہ کر روانہ ہو گیا کہ "یہ میرا نمبر ہے، شادی کی تاریخ طے کر کے بتا دیجئے گا اور اس کا شکریہ بھیجنے والے رب کو ادا کیجئے گا۔”

    اُس رات اُس گھر میں لاوارثی کا نہ صرف احساس ختم ہوا بلکہ دُکھ کے جسموں نے خوشی کا لباس بھی پہنا۔ افلاس کے ہاتھوں ننگے ہوتے انسان محفوظ ہو گئے۔
    دو روز بعد اُس عورت کا فون آیا کہ بچی کے سسرال والوں نے بچی کو آنکھوں پر بٹھا کر بسانے کا یقین دلایا ہے۔ہم نے ایک ماہ بعد شادی کی تاریخ مقرر کر لی ہے۔
    سو لوگ بارات میں آئیں گے۔

    مجھے طے شدہ تاریخ کا بتایا گیا تو میں کچھ روز بعد ہی اسی شہر کے ایک شادی ہال کے مالک کے پاس پہنچا اور اسے اپنا تعارف کروا کر سارا ماجرہ سنایا۔وہ شخص اس موت سے باخبر تھا مگر جب میری زبانی بات سنتا گیا تو اس کے دل پر قدرت کا احساس نازل ہوتا گیا۔

    وہ میرے جڑے ہاتھ، اشکوں میں بھیگے، منت سے لبریز الفاظ سنتے ہوئے اپنی خاموشی توڑ کر کہنے لگاکہ "بھائی، خدا کا کام ہے، میرے شادی ہال کا مجھ پر کوئی خرچہ نہیں، مگر بارات کا کھانا میری طرف سے ہوگا، ورنہ میں رب کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہوں گا۔””ساری زندگی پیسہ کمایا ہے، آج انسانیت کمانے کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دوں گا۔”ہم دونوں متاثرہ گھر میں گئے اور اُس بیوہ عورت کو بارات کے سارے انتظامات کے بارے میں بتایا۔

    بچی کے دلہن کے لباس سے لے کر عام پہننے کے کپڑے، جوتے اور باقی افراد کے شادی پر پہننے کے جوتے کپڑے جیسی تمام اشیاء سے بے فکر کرکے اُٹھے۔
    کچھ روز بعد یہ سامان شادی ہال کے مالک اور اس کی بیوی کے ہاتھوں پہنچ گیا۔
    مجھے بتایا اور ساتھ کہا کہ جہیز کے موجود سامان کے علاوہ کسی اور سامان کی ضرورت و فکر نہیں۔
    بچی کے سسرال والوں نے ہاتھ جوڑ کر کہا ہے کہ لڑکے نے باقی انتظام کر لیا ہے۔

    شادی ہال کے مالک نے اپنے صاحبِ حیثیت دوستوں کو بتایا تو وقت آنے پر ان میں کسی نے مہندی کا سامان پہنچایا تو کسی نے کھانا۔ہمسایوں کے ساتھ بیوہ عورت کے اپنے اور خاوند کے قریبی عزیز و اقارب نے ان متاثرہ افراد کے سر پر چھوٹی چھوٹی مہربانیوں کی چھت بنا ڈالی۔اگلے دن شادی ہال میں بارات پہنچی، نکاح پڑھایا گیا، شاہی کھانا کھلایا گیا۔

    مجھے یقین ہے یہ شادی آسمان والے کے کیمرے میں ریکارڈ کی گئی، اور خودکشی کرنے والے باپ کی رُوح نے آسمان سے رب کی رحمت کے پھول اپنی بچی پر برسا کر رُخصت کیا ہوگا۔کیونکہ دلہن اس موقع پر اپنے بابل کے سینے لگ کر کندھے پہ سر رکھ کے رونے والے احساس میں جکڑی کہہ رہی تھی کہ "یہ وہی شادی ہے جس کا میرا بابل دلاسہ دیا کرتا تھا۔”

    میں اس موقع پر جان بوجھ کر شریک نہیں ہوا کہ بچی یا اس کی ماں کی عزتِ نفس مجروح نہ ہو۔اُن کی نگاہوں میں اُس احسان کی تصویر نہ اتر آئے جو میں نے کیا ہی نہیں، بلکہ میں تو خود اپنی روح کا سجدہ خدا کے حضور پیش کر رہا تھا، جس نے مجھے آسمانی فیصلے کی تکمیل کا حصہ بنایا۔

    ہاں، میں اتنا ضرور کہوں گاکہ اس سوئے ہوئے احساسِ انسانیت کے معاشرے میں دردِ انسانیت کے شعور کو اجاگر کیا جائے، تو کوئی غریب لاچار، بے بس زندگی خودکشی نہ کرے۔
    انسان موت کو گلے تب لگاتا ہے، جب معاشرہ انسانیت کو گلے لگانا چھوڑ دیتا ہے۔

  • لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا چائنا ٹی وی کو دیا گیا انٹرویو قومی وژن کا عکاس ہے

    لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا چائنا ٹی وی کو دیا گیا انٹرویو قومی وژن کا عکاس ہے

    لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا چائنا ٹی وی کو دیا گیا انٹرویو قومی وژن کا عکاس ہے
    تحریر:سیدریاض جاذب
    لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا یہ کہنا بجا ہے کہ ہم امن کے علمبردار ضرور ہیں، مگر دفاع سے غافل نہیں۔ موسمیاتی تبدیلی، بڑھتی آبادی، وسائل کی قلت اور علاقائی کشیدگیاں دنیا بھر کے لیے لمحۂ فکریہ بنی ہوئی ہیں۔ ایسے حالات میں دنیا کو امن اور استحکام کی ضرورت ہے، جس کے لیے ہمیں ترقی کو اپنا نصب العین بنانا ہوگا۔ پاکستان انہی اصولوں پر کاربند ہے، اور یہی پیغام لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے چینی نشریاتی ادارے CGTN کو دیے گئے اپنے انٹرویو میں پوری دنیا کو دیا۔

    لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے اپنے انٹرویو کا آغاز شہادت جیسے مقدس جذبے سے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ "شہادت کی آرزو زندگی سے زیادہ ہے”۔ یہ صرف ایک جملہ نہیں بلکہ پوری قوم کے جذبے کی عکاسی ہے۔ پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ مادرِ وطن کے بیٹے اس کی حفاظت کے لیے اپنی جان نچھاور کرنے کو سعادت سمجھتے ہیں۔ یہی جذبہ پاکستان کی ناقابلِ تسخیر طاقت ہے۔

    لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے خود انحصاری اور غیرت کا پیغام دیتے ہوئے کہا: "نہ ہم پہلے جھکے تھے، نہ اب جھکیں گے”۔ یہ دنیا کو دیا گیا ایک واضح اور مضبوط پیغام ہے کہ پاکستان ایک خوددار اور خودمختار ملک ہے جو اللہ پر توکل کے بعد اپنے وسائل اور قوتِ ایمانی پر انحصار کرتا ہے۔ ہم کسی عالمی دباؤ یا دھمکی سے مرعوب نہیں ہوتے۔ پاکستان کی تاریخ، حال اور مستقبل اسی نظریے کی بنیاد پر استوار ہے۔

    لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے جھوٹے بیانیے کے خلاف دوٹوک مؤقف پیش کیا، جس سے پوری دنیا کو واضح پیغام گیا۔ انٹرویو میں بھارت کے جھوٹے بیانیے پر انہوں نے سخت ردِ عمل دیا۔ جنرل احمد شریف نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑتے ہوئے کہا: "کیا ایسے وقت میں جب دنیا کو کئی چیلنجز درپیش ہیں، کوئی ملک کسی دوسرے پر جھوٹے بیانیے اور بغیر ثبوت کے حملہ کرے؟” یہ ایک نہایت اہم سوال ہے۔ عالمی برادری کو یہ سوچنا ہوگا کہ علاقائی امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ایسے جارحانہ رویے اور بے بنیاد الزامات ہیں، جو طاقت کے نشے میں چور ممالک دوسروں پر مسلط کرتے ہیں۔

    پاکستان اور چین کی دوستی وقت کی آزمائشوں میں ہمیشہ سرخرو رہی ہے۔ دونوں ممالک نہ صرف اسٹریٹیجک اتحادی ہیں بلکہ عوامی فلاح، ترقی اور امن کے مشترکہ مقاصد رکھتے ہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل نے کہا: "ہم ترقی اور امن چاہتے ہیں، نہ کہ تنازعہ”۔ انہوں نے چین کی تیز رفتار ترقی کو دنیا کے لیے ایک مثال قرار دیا اور امید ظاہر کی کہ پاکستان بھی اسی راہ پر گامزن ہوگا۔ دہشتگردی اس راہ میں رکاوٹ ہے، اور پاکستان اس ناسور کے خاتمے کے لیے ہمہ وقت کوشاں ہے۔

    لیفٹیننٹ جنرل نے امن پسندی اور پاکستان کے قومی رویے کی بات کی، جو کہ ایک لاجواب گفتگو تھی۔ ان کے انٹرویو کا سب سے خوبصورت اور اثر انگیز حصہ وہ تھا جب انہوں نے کہا: "پاکستان کی گلیوں میں آپ کو فتح نہیں بلکہ امن کی خوشی مناتے لوگ نظر آئیں گے”۔ یہ جملہ پاکستان کے قومی کردار کا خلاصہ ہے۔ ہم ایک پُرامن، محبت کرنے والی قوم ہیں جو تنازعہ نہیں چاہتی بلکہ شراکت، بھائی چارہ اور ترقی پر یقین رکھتی ہے۔ لیکن اگر کوئی ہم پر جنگ مسلط کرے تو ہم اسے پسپا کرنا بخوبی جانتے ہیں۔

    لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے ایک قومی وژن، ایک عالمی پیغام دیا ہے۔ ان کا انٹرویو صرف ایک روایتی دفاعی بیان نہیں، بلکہ ایک جامع قومی وژن کا عکس ہے۔ ان کے الفاظ میں شہادت کا تقدس، خودداری کا عزم، امن کی خواہش اور ترقی کی تمنا یکجا ہو کر پاکستان کی سوچ کو واضح کرتے ہیں۔ پاکستان دنیا کو بتا چکا ہے کہ ہم امن چاہتے ہیں، لیکن کمزوری ہماری فطرت نہیں۔ ہم دہشتگردی، جھوٹے پراپیگنڈے اور غیرذمہ دارانہ بیانیے کے خلاف ہر محاذ پر ڈٹ کر کھڑے ہیں۔ ہم ایک زندہ قوم ہیں اور پاکستان اپنی خودی، عزت، سلامتی اور نظریے پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ ہماری ترجیح امن، ترقی اور انسانی فلاح ہے، لیکن ہمارے صبر کو کمزوری سمجھنے والے یاد رکھیں کہ ہم امن کے علمبردار ضرور ہیں، مگر غیرت مند اور دلیر بھی ہیں۔

  • بجٹ 2025-26 ریونیو کے نام پر عوام کا معاشی قتل!

    بجٹ 2025-26 ریونیو کے نام پر عوام کا معاشی قتل!

    بجٹ 2025-26 ریونیو کے نام پر عوام کا معاشی قتل!
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفٰی بڈانی
    پاکستانی عوام کی معاشی حالت دن بہ دن ابتر ہوتی جا رہی ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری اور توانائی کے بڑھتے نرخوں نے عوام کی کمر توڑ دی ہے اور اب آئندہ مالی سال 2025-26 کے بجٹ کی تیاریوں نے ان زخموں پر مزید نمک چھڑکنے کا بندوبست کر لیا ہے۔ حکومت اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان جاری مذاکرات کا مقصد 700 ارب روپے کے اضافی ٹیکسز اکٹھا کرنا ہے اور یہ بوجھ براہ راست عوام کے کندھوں پر ڈالا جا رہا ہے۔ تنخواہ دار طبقہ، پنشنرز، تمباکو اور مشروبات کے شعبے، ہر کوئی اس نئے ٹیکس کے طوفان کی زد میں ہے۔ اس کے ساتھ پیٹرولیم مصنوعات پر نئی لیوی، بجلی کے بلوں میں ڈیبٹ سروس سرچارج اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ عوام کے لیے ایک اور معاشی دھچکا ثابت ہوگا۔ دل دکھتا ہے یہ سوچ کر کہ جن بزرگ شہریوں نے اپنی زندگی ملک کی خدمت میں گزاری، ان کے منہ سے بھی اب نوالہ چھینا جا رہا ہے۔

    حکومت کی طرف سے پنشنرز پر انکم ٹیکس عائد کرنے کا عندیہ ظلم کی نئی داستان رقم کر رہا ہے۔ دنیا بھر میں بزرگ شہریوں کو ٹیکس چھوٹ سمیت کئی مراعات دی جاتی ہیں، مگر پاکستان میں یہ طبقہ نہ صرف سہولیات سے محروم ہے بلکہ معمول کے ٹیکسز بھی اس سے پورے وصول کیے جاتے ہیں۔ اب ان کی محدود پنشن پر انکم ٹیکس لگانے کی بات ان کے لیے آخری سہارا چھیننے کے مترادف ہے۔ سرکاری ملازمین اپنی ملازمت کے دوران انکم ٹیکس ادا کرتے ہیں جو حکومتی خزانے کا اہم حصہ ہوتا ہے۔ کیا یہ انصاف ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد جب وہ عمر کے اس حصے میں ہوں جہاں صحت اور مالی تحفظ ان کی بنیادی ضرورت ہے، ان پر مزید بوجھ ڈالا جائے؟ کاروباری طبقے کو تو سیلف اسسمنٹ سکیم کے تحت اخراجات منہا کرنے کی اجازت ہے لیکن ملازمین اور پنشنرز کے لیے ایسی کوئی رعایت نہیں۔ یہ طبقہ جو پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پس رہا ہے، کم از کم ٹیکس چھوٹ کا مستحق ہے۔ قابل ٹیکس آمدنی کی حد بڑھانے سے بھی ان پر کچھ بوجھ کم ہو سکتا ہے مگر کیا حکومت اس طرف سوچے گی؟

    اس بجٹ کی تیاری میں آئی ایم ایف کا دباؤ واضح ہے۔ 14307 ارب روپے کے ریونیو ہدف پر پاکستان اور آئی ایم ایف متفق نہیں ہو سکے۔ آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ ایف بی آر 13200 ارب روپے سے زیادہ نہیں اکٹھا کر سکتا، جس سے 300 ارب روپے کا فرق پیدا ہو گیا ہے۔ اس فرق کو پورا کرنے کے لیے 700 ارب روپے کے اضافی ٹیکسز عائد کرنے کی منصوبہ بندی ہے۔ تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس کی شرحوں میں کمی کی حکومتی تجویز پر آئی ایم ایف نے اعتراض اٹھایا ہے جبکہ تمباکو اور مشروبات کے شعبوں پر نئے ٹیکسز لگانے کی تیاری ہے۔ خاص طور پر تمباکو کی اشیاء، بالخصوص سگریٹ پر بھاری ٹیکس لگانے کی تجویز ہے، جس سے سگریٹ کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا۔ یہ اقدام ایک طرف سے مثبت ہو سکتا ہے کیونکہ سگریٹ مہنگے ہونے سے لوگ خاص طور پر مزدور طبقہ جو سستے سگریٹ پیتا ہے، اسے کم خریدے گا۔ یہ طبقہ سب سے زیادہ تمباکو سے متعلقہ بیماریوں کا شکار ہوتا ہے۔ سگریٹ کی قیمت بڑھنے سے ان کی قوت خرید متاثر ہوگی اور کم سگریٹ پینے سے وہ بیماریوں سے بچ سکتے ہیں، جس سے صحت پر اٹھنے والے اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ تمباکو کے شعبے میں کم از کم قانونی قیمت (ایم ایل پی) بڑھانے کی تجویز کے باوجود 80 فیصد سے زائد سگریٹ برانڈز اس سے کم یا قدرے زیادہ قیمت پر فروخت ہو رہے ہیں۔ غیر عمل شدہ تمباکو پر ایڈوانس ٹیکس کی نگرانی سے ریونیو بڑھانے کی کوشش کی جائے گی، مگر یہ اقدامات صحت کے مسائل حل کرنے کے بجائے سگریٹ کی سستی دستیابی کو بڑھا سکتے ہیں۔ پاکستان میں ہر سال تمباکو سے متعلقہ بیماریوں سے ایک لاکھ سے زائد اموات ہوتی ہیں۔ کیا یہ وقت نہیں کہ صحت عامہ کو ترجیح دی جائے؟

    توانائی کا شعبہ بھی عوام کے لیے کوئی خوشخبری نہیں لا رہا۔ حکومت نے آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات پر 5 روپے فی لیٹر کاربن لیوی، بجلی کے بلوں میں 10 فیصد ڈیبٹ سروس سرچارج، اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ ایک خبرکے مطابق حکومت اور آئی ایم ایف نے پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی مزید بڑھانے پر اتفاق کیا ہے، جس میں 5 روپے فی لیٹر کاربن لیوی عائد کرنے اور آئندہ مالی سال میں فی لیٹر پیٹرولیم لیوی 100 روپے سے زائد کرنے کی تجویز شامل ہے۔ مزید برآں استعمال شدہ گاڑیوں کی ڈیوٹیز کی مجموعی شرح نئی گاڑیوں سے 40 فیصد زیادہ ہوگی، جو ہر سال 10 فیصد کم ہوگی اور 2030 تک مکمل خاتمہ متوقع ہے۔ آئی ایم ایف نے سابقہ فاٹا/پاٹا کے لیے ٹیکس چھوٹ ختم کرنے اور کھاد پر جنرل سیلز ٹیکس کی عمومی شرح نافذ کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
    حکومت یہ فیصلے یکم جولائی 2025 سے نافذ ہوں گے۔ گردشی قرضوں کی ادائیگی کے لیے 1252 ارب روپے قرض لیا جائے گا، جو اگلے 6 سال میں بجلی صارفین سے وصول کیا جائے گا۔ بجلی اور گیس پر سبسڈی ختم کرنے کا فیصلہ بھی عوام کے لیے ایک اور مالیاتی بوجھ ہے۔ کیا متوسط طبقہ جو پہلے ہی بجلی کے بل ادا کرنے کے لیے قرض لے رہا ہے، اس اضافی سرچارج کو برداشت کر پائے گا؟ گردشی قرضوں کو 2031 تک صفر پر لانے کا ہدف تو طے کر لیا گیا مگر اس کی قیمت عوام سے وصول کی جا رہی ہے۔

    نان فائلرز کے خلاف سخت اقدامات بھی بجٹ کا حصہ ہیں۔ حکومت نان فائلرز کی کیٹیگری ختم کرنے اور ان کے لیے گاڑیوں، جائیداد کی خریداری اور مالی لین دین پر پابندی لگانے کی تیاری کر رہی ہے۔ تاجر دوست اسکیم اپنے اہداف پورے نہ کر سکی، لیکن غیر رجسٹرڈ دکانداروں پر ودہولڈنگ ٹیکس بڑھانے سے فائلرز کی تعداد میں 51 فیصد اضافہ ہوا۔ ٹیکس نظام کو موثر بنانے کے لیے تھرڈ پارٹی ڈیٹا کا تجزیہ اور کمپلائنس رسک منیجمنٹ سسٹم کو فعال کیا جا رہا ہے۔ یہ اقدامات یقیناً ٹیکس دہندگان کی تعداد بڑھائیں گے مگر کیا یہ اس قیمت پر ہونا چاہیے کہ متوسط طبقے اور غریب عوام کی زندگی مزید مشکل ہو جائے؟

    یہ بجٹ عوام کے لیے ایک اور امتحان ہے۔ آئی ایم ایف کے دباؤ میں اضافی ٹیکسز، توانائی کی قیمتوں میں اضافہ، اور پنشنرز پر انکم ٹیکس جیسے فیصلے متوسط طبقے کی کمر توڑ دیں گے۔ دل رنجیدہ ہوتا ہے یہ سوچ کر کہ ایک دیہاڑی دار مزدور جو بمشکل 700 روپے روزانہ کماتا ہے، جس نے اسی 700 روپے میں گھر چلانا ہوتا ہے، کیا حکومت نے یہ سوچا ہے کہ اس مزدور کا کیا ہوگا، اس کے بچے، بوڑھے والدین اور دیگر گھر والے کیسے زندہ رہ پائیں گے؟یا جن بزرگ شہریوں نے اپنی زندگی ملک کی خدمت میں گزاری، انہیں اب اپنی پنشن پر ٹیکس دینا پڑے گا۔ کیا یہ ان کی خدمات کا صلہ ہے؟ تنخواہ دار طبقے کے لیے انکم ٹیکس کی شرحوں میں کمی، پنشنرز کے لیے ٹیکس چھوٹ اور قابل ٹیکس آمدنی کی حد بڑھانے جیسے اقدامات اس وقت کی ضرورت ہیں۔

    توانائی کے شعبے میں عوام پر بوجھ ڈالنے کے بجائے گردشی قرضوں کو کم کرنے کے لیے موثر اصلاحات کی جانی چاہئیں۔ تمباکو پر بھاری ٹیکسز سے صحت عامہ کے تحفظ کی طرف قدم بڑھایا جا سکتا ہے، خاص طور پر مزدور طبقے کو بیماریوں سے بچانے کے لیے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ عوام کی فلاح کو ترجیح دے۔ معاشی استحکام ضروری ہے مگر اس کی قیمت عوام کی زندگیوں کو مزید کٹھن بنا کر نہیں چکانا چاہیے۔ یہ بجٹ اگر صرف ریونیو کے نام پر عوام پر بوجھ ڈالتا رہا تو یہ محض ایک معاشی قتل ہی کہلائے گا۔ یہی وقت ہے کہ حکومت ایسی پالیسیاں اپنائے جن سے نہ صرف قومی خزانہ بھرجائے بلکہ عوام کے چہروں پر بھی مسکراہٹیں لانے کیلئے بھی اقدامات ضرورکئے جائیں ۔