Baaghi TV

Category: بلاگ

  • اسٹیج ڈراموں کا معاشرتی اثر اور فحاشی،تحریر:جان محمد رمضان

    اسٹیج ڈراموں کا معاشرتی اثر اور فحاشی،تحریر:جان محمد رمضان

    پاکستان میں اسٹیج ڈرامے ایک طویل عرصے سے مختلف نوعیت کی محافل کا حصہ بنے ہوئے ہیں، مگر ان ڈراموں میں عورت کے کردار اور اس کے ساتھ ہونے والے سلوک پر مسلسل سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ان ڈراموں میں عورت کو جس طریقے سے پیش کیا جاتا ہے اور ان میں جو نازیبہ اور فحاشی بھرے جملے استعمال کیے جاتے ہیں، وہ نہ صرف ان ڈراموں کو ایک تفریح کا ذریعہ بناتے ہیں بلکہ معاشرتی اقدار کو بھی شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔

    اسٹیج ڈراموں میں فحاشی کا استعمال ایک معمول بن چکا ہے، جہاں عورت کو صرف تفریح کا سامان سمجھا جاتا ہے۔ ایک طرف ڈرامے میں عورت کو بیوی، ماں، بہن یا بیٹی کے روپ میں دکھایا جاتا ہے، تو دوسری طرف اسے نازیبہ اور فحاش جملوں کے ذریعے تماشائیوں کو ہنسانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ان ڈراموں میں عورت کی عزت کو مسلسل پامال کیا جاتا ہے، چاہے وہ کسی گانے کی صورت میں ہو یا پھر غیر اخلاقی شاعری کے ذریعے۔ اس سب کا مقصد صرف اور صرف تماشائیوں کی ہنسی ہنسانا اور اس کے بدلے مال و دولت کمانا ہوتا ہے۔یہ اسٹیج ڈرامے دراصل معاشرے کے لیے ایک منفی پیغام دیتے ہیں، جس میں خواتین کو جنسی طور پر ابھارنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ان ڈراموں میں عورت کے کردار کو ناپاک اور بے عزت کیا جاتا ہے، جس کا براہ راست اثر نوجوان نسل پر پڑتا ہے۔ یہ ڈرامے صرف تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک ایسا طریقہ ہیں جس سے عورت کے حقوق کی پامالی کی جاتی ہے اور اس کے ساتھ غیر اخلاقی سلوک کو معمول بنایا جاتا ہے۔

    کچھ عرصے سے حکومت کے نمائندے، جیسے عظمیٰ بخاری صاحبہ نے اس صورتحال پر سختی سے اعتراض کیا ہے اور اس پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اسٹیج ڈرامے خواتین کی توہین کر رہے ہیں اور انہیں بے پردہ کرنے کو فن سمجھا جا رہا ہے، جو کسی طور بھی قابل قبول نہیں ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس نوعیت کے ڈراموں پر مکمل پابندی لگائی جائے تاکہ معاشرتی اقدار کی حفاظت کی جا سکے۔بہت سے اسٹیج ڈراموں میں کام کرنے والے اداکار اور اداکارائیں خود کو "فنکار” کہلانے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کا یہ طرز عمل نہ صرف ان کی ذاتی عزت کو نقصان پہنچا رہا ہے بلکہ پورے معاشرے کو بھی بے عزتی کی طرف دھکیل رہا ہے۔ ان فنکاروں کے بارے میں سکھ برادری اور دیگر غیر مسلم کمیونٹیز بھی یہی رائے رکھتی ہیں کہ عورت کے ساتھ اس طرح کی توہین کرنا کسی بھی معاشرتی یا مذہبی اصول کے خلاف ہے۔

    آج اگر عظمیٰ بخاری صاحبہ اس اسٹیج ڈراموں پر پابندی کی بات کر رہی ہیں تو یہ دراصل اس بات کی ضرورت ہے کہ اس نوعیت کے فحاشی بھرے ڈراموں کو بند کیا جائے اور ایک ایسا ماحول بنایا جائے جس میں عورت کی عزت و احترام کو مقدم رکھا جائے۔ ان اسٹیج ڈراموں میں کام کرنے والے افراد کو محض فنکار نہ سمجھا جائے بلکہ انہیں وہ مقام اور عزت دی جائے جس کے وہ حقدار ہیں۔ ان ڈراموں کی روک تھام سے نہ صرف معاشرتی تبدیلی ممکن ہے بلکہ ایک صحت مند اور اخلاقی ماحول بھی قائم کیا جا سکتا ہے۔عظمیٰ بخاری صاحبہ سے درخواست ہے کہ ان اسٹیج ڈراموں پر مکمل پابندی عائد کی جائے تاکہ ہمارا معاشرہ بہتر اور اخلاقی اصولوں پر قائم ہو سکے۔

  • عورت کے لیے برابری کی حقیقت،تحریر:نور فاطمہ

    عورت کے لیے برابری کی حقیقت،تحریر:نور فاطمہ

    عورت کے حقوق اور برابری کے حوالے سے دنیا بھر میں مختلف نظریات ہیں، اور یہ بحث ہمیشہ چلی آ رہی ہے کہ عورت کو مردوں کی طرح زندگی گزارنی چاہیے تاکہ وہ برابری کا حق حاصل کر سکے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ عورت کی برابری کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ مردوں کی طرح زندگی گزارے یا ان کی طرح طرزِ زندگی اپنائے۔ بلکہ عورت کی برابری یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو اپنی مکمل شناخت کے ساتھ برابری کی سطح پر لے کر آئے۔

    عورت کو ایک الگ اور خاص شناخت کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے۔ اس کی فطرت، اس کی نفسیات اور اس کی قوتیں مردوں سے مختلف ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ عورت کم تر ہے یا اس کو مرد کے ساتھ موازنہ کرنا ضروری ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ عورت کو اپنے آپ کو مکمل طور پر تسلیم کرتے ہوئے اپنی جگہ بنانی چاہیے۔ اگر عورت مرد بننے کی کوشش کرے گی، تو وہ اپنی حقیقت کو مٹا دے گی اور اپنی شناخت کھو دے گی۔اگر عورت صرف اس لیے مردوں کی طرح زندگی گزارنا شروع کر دے کہ وہ انہیں اپنے سے برتر سمجھتی ہے، تو یہ ایک غلط فہمی ہے۔ عورت کا مردوں کی پیروی کرنا نہ صرف اس کی اپنی شناخت کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ اس سے اس کے اندر احساسِ کمتری بھی جنم لیتا ہے۔ عورت کی برابری اس میں ہے کہ وہ اپنی فطرت، اپنی صلاحیتوں اور اپنے اصولوں کے مطابق زندگی گزارے، نہ کہ مردوں کی پیروی کر کے۔

    یہ ضروری نہیں کہ اگر مرد سگریٹ پیتے ہیں تو عورت بھی ان کی تقلید کرے اور یہ سمجھے کہ اس طرح وہ برابری حاصل کر رہی ہے۔ برابری کا مطلب یہ نہیں کہ عورت بھی وہی کرے جو مرد کرتے ہیں۔ برابری کا مطلب یہ ہے کہ عورت اپنے آپ کو پورے اعتماد کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق دے، اور اس کا حق مردوں سے کم نہیں ہے، بلکہ وہ اپنی فطری خصائص کے ساتھ بھی اپنی جگہ بنا سکتی ہے۔اگر کوئی عورت یہ سمجھتی ہے کہ وہ مردوں کی طرح پنٹ شرٹ پہنتی ہے تاکہ برابری کا احساس ہو، تو وہ اس بات کو نہیں سمجھ پا رہی کہ برابری طرزِ زندگی کی تقلید سے نہیں، بلکہ اپنے آپ کو تسلیم کرنے اور اپنی خصوصیات کو اہمیت دینے سے ملتی ہے۔ برابری کا مطلب اپنی جگہ پر پہنچنا ہے، نہ کہ مردوں کی طرح بننا۔برابری کا مفہوم یہ نہیں کہ عورت مردوں کی طرح زندگی گزارے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ عورت کو وہی مواقع اور حقوق ملیں جو مردوں کو ملتے ہیں، اور اس میں کوئی تفاوت نہ ہو۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ عورت مردوں کی طرح بن جائے، بلکہ یہ ہے کہ عورت اپنے طور پر، اپنی شناخت کے ساتھ، ہر میدان میں کامیاب ہو۔

    عورت کا مقام اس کی فطرت اور شخصیت کے ساتھ جڑا ہوا ہے، اور اس کو یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ اس کی برابری مردوں کے ساتھ نہیں بلکہ اپنے آپ کے ساتھ ہے۔ جب عورت اپنے اندر کی طاقت کو پہچانے گی اور اپنی مکمل شناخت کے ساتھ اپنے راستے پر گامزن ہو گی، تو وہ خود کو اور دوسروں کو یہ دکھا پائے گی کہ برابری صرف ایک ہی طریقے سے حاصل کی جا سکتی ہے: وہ ہے اپنی حقیقت کو تسلیم کر کے اپنی جگہ پر کامیاب ہونا۔

  • ساڈا کتا،کتا ۔۔۔تے،تواڈا کتا ٹومی ،خدارا لوگوں کو جینے دو،تحریر:ملک سلمان

    ساڈا کتا،کتا ۔۔۔تے،تواڈا کتا ٹومی ،خدارا لوگوں کو جینے دو،تحریر:ملک سلمان

    ساڈا کتا،کتا ۔۔۔تے،تواڈا کتا ٹومی ،خدارا لوگوں کو جینے دو،
    ادھر دیکھو، باہر دے ملکاں والیاں نے ویکھنی اے، کی کہن گے سانو، اسکو پکڑو سیدھا کرو
    یہ الفاظ قانون کے محافظوں کے قوم کی عزتوں کے بارے ہیں۔ پولیس تو عزتوں کی محافظ ہوتی ہے تم کیونکر عزتوں کو پامال کرنے والے اور لٹیرے بن گئے۔ خواتین کے چہروں پر تیز ٹارچ کی روشنی کرتے ہوئے ویڈیو بنانا اور یہ کہنا کہ یہ ویڈیو وائرل ہوگی ناصرف پاکستان بلکہ بیرون ملک بھی۔ اسی طرح لڑکوں کو بھی ویڈیو بناتے وقت پولیس کی طرف سے اس بات کا اعلان کیا گیا کہ ”تواڈی ویڈیو ٹک ٹاک تے آوے گی“

    جس نے جو جرم کیا اس کیلئے اسے عدالت میں پیش کرنا چاہئے تھا ناکہ ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر وائرل کرنا۔ یہ اختیارات سے تجاوز اور لاقانونیت کی انتہا ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان، چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ میڈم عالیہ نیلم اور چیف منسٹر پنجاب مریم نواز شریف سے گزارش ہے کہ انصاف کا ترازو اس بات کا متقاضی ہے کہ ویڈیو بنانے اور وائرل کرنے والے تمام پولیس افسران و اہلکاروں کو اس مجرمانہ غفلت پر ناصرف نوکریوں سے فارغ کیا جائے بلکہ پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرکے پیڈا ایکٹ کی کاروائی کی جائے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں، قانون نافظ کرنے والے اداروں اور وزیراعلیٰ پنجاب کیلئے یہ ٹیسٹ کیس ہے کہ پنجاب میں پولیس گردی چلنی ہے یہ انصاف اور انسانیت۔ یہ پہلا واقع نہیں ہے آئے دن پولیس کی طرف سے ایسی کاروائیاں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ لوگوں میں خوف و ہراس پیدا نا کریں اس طرح تو پولیس شک کی بنیاد پر جس کے گھر مرضی گھس جائے۔ چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال نہ کریں۔ ہاں اگر کوئی سرعام فحاشی کرتا ہے یا غیر قانونی ڈانسنگ کلب بنا رہا ہے تو قانونی کاروائی کریں نہ کہ ویڈیو بنا کر شوشل میڈیا پر وائرل کریں۔

    پولیس اہلکاروں کی طرف سے ویڈیو وائرل کرنے کے الفاظ کے عین مطابق بالکل ویسا ہی ہوا 24گھنٹے سے بھی کم وقت میں ایف آئی آر میں نامزد 34مردوں اور 21خواتین کو سوشل میڈیا پر سارے پاکستان اور کئی ممالک نے دیکھا۔ اس بدنامی کی بعد ان میں سے کتنے ہی جوان ہیں جو اس شرمندگی کے باعث پاکستان میں نہیں رہ سکیں گے، کتنے ذہین افراد ذہنی ازیت کا شکار ہو جائیں گے۔ جس کسی کو بھی ان نوجوانوں کے بارے ذہین کہنے پر اعتراض ہے ان کی یاداشت کیلئے عرض کرنا چاہتا ہوں کہ بیوروکریسی اور سیاسی افراد کی ذہانت پر تو کوئی شک نہیں۔ پولیس افسران، بیوروکریسی اور سیاستدانوں کے ڈرگ ٹیسٹ کروا لیں وثوق سے کہتا ہوں کے کم از کم ایک تہائی شراب نوشی اور منشیات کے عادی ملیں گے۔ اسی طرح انہی ذہین افراد کی دو تہائی یعنی ڈبل تعداد شیشہ، سگریٹ نوشی اور مجرہ پارٹیوں کے رسیا ملیں گے۔

    2023کی بات ہے لاہور میں ایک اہم سیٹ پر پوسٹڈ آفیسر کے سٹاف کی لیٹ نائٹ کال آئی سر معذرت آپ کو ڈسٹرب کر رہا ہوں۔۔۔۔صاحب نے زیادہ پی لی ہے اور اپنے کپڑے پھاڑ کر عجیب حرکتیں کر رہے ہیں ایسی حالت میں انکو گھر کیسے لیکر جاؤں۔ میں نے اس سے لوکیشن پوچھی اور رات گئے اسے وہاں سے ریسکیو کیا۔ جب اسے ریسکیو کرنے گیا تو اس محفل میں بیوروکریسی کے افسران ہول سیل میں موجود تھے۔ پولیس افسران، بیوروکریسی اور سیاستدان ریگولر بنیادوں پر ایسی پارٹیوں کا اہتمام کرتے رہتے ہیں۔سرکاری افسران اور سیاستدانوں میں پارٹی گروپ جوائن کرنا کامیابی کی سیڑھی سمجھا جاتا ہے۔ بیوروکریسی میں پارٹی گروپ کی گیم بہت بلند ہے جہاں پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس، پولیس سروس آف پاکستان اور پی ایم ایس اور دیگر سروس گروپس کی باہمی عداوت کے برعکس اس بزم (پارٹی گروپ) میں برابری اور بھائی چارے کا عظیم مظاہرہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ ان سارے سخت گیر اور معزز افسران کی کہانی لاہور کی پچیس، کراچی کی چھتیس اور اسلام آباد کی بیالیس رقاصاؤں کی گرد گھومتی ہے۔ حسین زلفوں کے اسیر ہونے والے بڑے بڑے ناموں کے چھوٹے کرتوت سن کر یہ چکڑ چوہدری نما مخلوق انتہائی حقیر لگنے لگتے ہیں۔ لاہور کے چند افسران نے گینگ بنا رکھا ہے جو اپنے سنئیر افسران کی مخصوص لڑکیوں سے دوستیاں کرواتے ہیں اور بعد میں انکے زیعے اہم پوسٹنگ لیتے اور اپنے کام نکلواتے ہیں۔ اگر پکڑنا ہے تو ان بلیک میلرز کو پکڑیں۔ شوگر ڈیڈی یا جیسا بھی کلچر ہے اگر دونوں فریق طے شدہ مفادات کے تحت تعلق رکھتے ہیں تو کسی بھی فریق کو بلیک میلنگ نہیں کرنی چاہئے۔

    جہاں تک شیشہ کیفے پر پابندی کی بات ہے لاہور، اسلام آباد کراچی سمیت تمام بڑے شہروں میں سینکڑوں کے حساب سے شیشہ کیفے موجود ہیں۔ شیشہ کیفے والے لوکیشن کے حساب سے ایک لاکھ سے تیس لاکھ ماہانہ تک پولیس اور انتظامی افسران کو بھتہ دیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ حکومت شیشہ کیفے کی حد تک لیگل ٹیکس کیوں نہیں اکٹھا کرتی بجائے اس کے کہ کروڑوں اور اربوں روپیہ افسران کی جیبوں میں جاتا ہے۔پبلک مقامات، سرکاری و پرائیویٹ دفاتر میں سگریٹ نوشی کرنا جرم ہے جس کی سزا قید اور جرمانہ ہے لیکن یہ سیگریت نوشی کرنے والے افسران و افراد پبلک مقامات اور سرکاری دفاتر میں سرعام سگریٹ نوشی کرکے دوسروں کو اذیت دیتے ہیں۔
    جو کوئی جیسی بھی تفریح کرتا ہے اگر وہ اپنے گھر کی چار دیواری میں کرتا ہے تو اسے جینے دیں۔ پہلے ہی بہت سٹریس ہے لوگوں کی زندگیوں کو عذاب نہ بنائیں۔

  • فلسطین اور امت مسلمہ کی بے حسی .تحریر: ارم ثناء

    فلسطین اور امت مسلمہ کی بے حسی .تحریر: ارم ثناء

    ایک امت، جسد واحد جس کو ایک جسم کی مانند کہا جاتا ہے۔ جس کے آباؤ اجداد نے کئی کئی سالوں تک کئی مربع میل پر حکومت کی ہے، جن کے نام سے ہی غیر مسلم ڈرتے تھے۔ آج اسی امت کے ایک حصے کو بڑی بے دردی سے ختم کیا جا رہا ہے، جبکہ دوسرا حصہ اپنے عیش و آرام کی زندگی بسر کر رہا ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ اسی قوم کی مائیں سلطان صلاح الدین ایوبی، محمد فتح پیدا کرتی تھیں، جبکہ آج اسی قوم کی مائیں ٹک ٹاکر، ادکار پیدا کرتیں ہیں۔
    ایک زمانہ تھا کہ جب اس قوم کی عورتوں نے اپنے زیورات، بیٹے تک اللہ کی راہ میں قربان کر دیے تھے، جبکہ آج کی نوجوان نسل اسرائیلی پروڈکٹس کا بائیکاٹ تک نہیں کر سکتی۔ یہ لوگ macdonald, coca-cola, lay’s l, وغیرہ کو نہیں چھوڑ سکتے۔ ہماری آج کی نوجوان نسل کو لگتا ہے کہ گاڑیوں کے پیچھے فلسطین کے جھنڈے لگا لینے سے اور گاڑیوں کے اوپر "free Palestine” لکھنے سے انہوں نے حق ادا کردیا ہے، کل کو قیامت میں ان سے اس حوالے سے سوال وجواب نہیں کیا جائے گا۔ اے امت مسلمہ اپنے ذہنوں سے یہ نکال دو، "کہ تم لوگوں سے سوالات نہیں کیے جائیں گے”. اے امت مسلمہ تم لوگوں سے ضرور پوچھا جائے گا۔ تم لوگ اللہ کے دشمنوں کی مالی مدد کررہے ہو تم کو کیا لگتا ہے؟ کہ اللہ تعالیٰ تم کو چھوڑ دے گا؟ تم لوگوں نے اللہ کے احکامات کو پس پشت ڈال دیا یے، تم لوگوں نے اللہ کے احکامات پر اپنے نفس کو ترجیح دی ہے۔ اللہ نے سورتہ البقرہ کی آیت 155 میں فرمایا ہے۔
    وَ لَنَبۡلُوَنَّکُمۡ بِشَیۡءٍ مِّنَ الۡخَوۡفِ وَ الۡجُوۡعِ وَ نَقۡصٍ مِّنَ الۡاَمۡوَالِ وَ الۡاَنۡفُسِ وَ الثَّمَرٰتِ ؕ وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیۡنَ ﴿۱۵۵﴾ۙ
    ترجمہ: اور ہم کسی نہ کسی طرح تمہاری آزمائش ضرور کریں گے ، دشمن کے ڈر سے ، بھوک پیاس سے ، مال و جان اور پھلوں کی کمی سے اور ان صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجئے ۔

    آج یہ صرف فلسطین کے مسلمانوں کی آزمائش نہیں ہے۔ یہ پوری امت مسلمہ کی آزمائش ہے، وہ لوگ اپنی آزمائش پر ثابت قدمی سے ڈٹے رہے۔ انہوں نے اللہ کے احکامات پر عمل کرکے اپنے نفس کی خواہشات کو پیچھے چھوڑ کر اللہ کی رضا حاصل کر لی ہے۔ اور ہم لوگ اسی خیالات میں خوش ہیں کہ قیامت والے دن حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری سفارش کر دینی ہے۔ جی بالکل آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کی سفارش کرنی ہے،
    Surat No 25 : سورة الفرقان – Ayat No 43

    اَرَءَیۡتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰـہَہٗ ہَوٰىہُ ؕ اَفَاَنۡتَ تَکُوۡنُ عَلَیۡہِ وَکِیۡلًا ﴿ۙ۴۳﴾
    ترجمہ: کیا آپ نے اسے بھی دیکھا جو اپنی خواہش نفس کو اپنا معبود بنائے ہوئے ہے کیا آپ اس کے ذمہ دار ہوسکتے ہیں؟

    کیا آج ہم نے اپنے نفس کو اللہ کے احکامات پر ترجیح نہیں دی؟ ہم کو جہاد، قتال کا حکم ہے کیا ہم جہاد کر رہے ہیں؟ کیا ہماری آج کی نوجوان نسل جہاد کےلئے تیار ہے؟ کیا ہماری مائیں اپنے بچوں کو اللہ کی راہ میں قربان کر سکتی ہیں؟ ان سب کا جواب ہے۔ "نہیں” کیوں؟ کیونکہ ہم یہ عیش و عشرت کی زندگی نہیں چھوڑ سکتے، ہم لوگ اپنے نفس کو نہیں مار سکتے، ہم اتنے بہادر نہیں ہیں کہ ہم اپنا جان و مال اللہ کی راہ میں قربان کر دیں۔ ہم لوگ تو بے حیائی کو نہیں چھوڑ سکتے، ہم نوجوان نسل آج اپنی نظروں کی حفاظت نہیں کر سکتی، ہم مائیں بہنیں آج پردہ نہیں کر سکتی، تو یہ جہاد کیوں کر کریں گے؟ اب سب لوگ اپنا محاسبہ کریں کہ کیا کل کو قیامت کے دن حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہماری سفارش کریں گے؟ جبکہ ہم لوگ اللہ اور اس کے دین کے دشمنوں کی معیشت کو مضبوط کر رہے ہیں، ہم لوگ ان کی پروڈکٹس کا بائیکاٹ نہیں کر سکتے، جبکہ ہم اللہ کے احکامات کو پس پشت ڈال چکے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہمیں اپنے بچوں کی تربیت اسلام کے مطابق کرنی چاہیے، ان کو صحابہ کرام اور جنگی واقعات سنا کر بڑا کرنا چاہیے، نا کہ کارٹون دیکھا کر۔ ہمیں اسلام کا گہرائی سے مطالعہ کرنا چاہیے۔ امت مسلمہ کو اپنی بے حسی چھوڑ کر اللہ کے احکامات پر عمل کرنا چاہیے۔ ہمیں اپنی نوجوان نسل کو جہاد کےلئے تیار کرنا چاہیے۔

  • اکادمی ادبیات پاکستان کوئٹہ کا یاد گار مشاعرہ.تحریر:شیخ فرید

    اکادمی ادبیات پاکستان کوئٹہ کا یاد گار مشاعرہ.تحریر:شیخ فرید

    بلوچستان رائئٹرز گلڈ (برگ) نے اپنی ادبی کانفرنس موخر کر دی

    یوم پاکستان کی مناسبت سے اکادمی ادبیات پاکستان کوئٹہ کی جانب سے ایک کثیر اللثانی محفل مشاعرہ کا انعقاد کیا گیا مشاعرے میں اردو پشتو بلوچی براہوی زبان کے شعرا کرام نے شرکت کی ۔ مشاعرے کی صدارت ممتاز شاعر ادیب اعجاز امر نے کی ۔ جب کہ مہمان خصوصی ڈاکٹر رحمت اللہ نیازی چیئرمین پشتو اکیڈمی تھے ۔ مہمان اعزاز کی حیثیت سے معروف شاعر و ادیب نواب نور خان محمد حسنی اور تسنیم صنم صاحبہ موجود تھیں ۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ۔ اعجاز امر کا کہنا تھا کہ اکادمی ادبیات کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ جنہوں نے یوم پاکستان کی مناسبت سے ان حالات میں بھی تقریبات کا اہتمام کیا۔ ڈاکٹر رحمت اللہ نیازی نے مقامی زبانوں کی ترویج میں ادبیات کے کردار کو سراہا ۔

    تسنیم صنم کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں ادبیات کی تقریبات میں کچھ عرصے کے لیے رکاوٹ ائی تھی مگر اب تقریبات بحال ہونے سے وہ معاملات بھی حل ہو گئے ۔ تقریب کی نظامت نوجوان شاعر احمد وقاص کاشی نے کی جبکہ دیگر شعرا میں فائزہ شکیل ، فاریہ بتول ، عظیم انجم ہانبھی ، ذوالفقار رضا ، نجیب اللہ احساس ، سومرو۔خاکسار ، عادل اچکزئی ، عزیز حاکم ، ارمش اور ڈاکٹر قیوم۔بیدار شامل تھے

    صوبے کی فعال ، متحرک اور معروف ادبی تنظیم بلوچستان رائٹرز گلڈ (برگ) نے 7 اپریل کو نوری نصیر خان کلچرل کمپلیکس میں ہونے والی سالانہ ادبی کانفرنس اور آغاگل ادبی ایوارڈز کی تقریب کوئٹہ کے حالات اور ذرائع آمد و رفت کی بندش کے پیشِ نظر ملتوی ک دی گئی ہے ۔

    اِس سلسلے میں برگ کی مجلسِ عاملہ کا ہنگامی اجلاس پروفیسر ڈاکٹر صابر بولانوی کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں بلوچستان میں سیکورٹی خدشات اور عدم تحفظ کو مدِ نظر رکھتے ہوئے فیصلہ کیا گیا کہ 7 اپریل بروز سوموار کو نوری نصیر خان کلچرل کمپلیکس میں منعقد ہونے والی ادبی کانفرنس اور آغاگل ادبی ایوارڈز کی تقریب کو منسوخ کیا جاتا ہے ۔ جبکہ ادبی کانفرنس کیلیے نئی تاریخ کا اعلان جلد باہمی مشاورت سے طے کی جائے گی ۔

    یاد رہے کہ سالانہ ادبی کانفرنس میں لاہور ، میانوالی ، چشتیہ ، سرگودھا ، ساہیوال ، پاکپتن شریف ، پسنی ، سبی اور لورالائی کے ادباءحضرات و شعراء کرام کے علاوہ کوئٹہ 16 اہلِ قلم کو اْن کی بہترین ادبی تخلیقات پر آغاگل ایوارڈز کا اعلان کیا گیا ہے ۔ جو جلد پیش کئے جائینگے .آغاگل ایوارڈز پانے والے اہلِ قلم میں ڈاکٹر راحت جبیں رودینی
    دل آویز
    سرجن ڈاکٹر اعظم بنگلزئی
    پرچھائیاں
    پروفیسر ڈاکٹر شمیم کوثر
    بلوچستان میں اردو ادب
    پروفیسر ارشد راہی
    پپلی کے نیچے
    ڈاکٹر رحمت عزیز خان
    خوابوں کی شہزادی
    ڈاکٹر فضل خالق
    سیالیچک
    محترمہ فرح علوی
    بانس کی باڑ
    محترم شاہد بخاری
    پاکستانی ادب کے معمار
    محترم محمد یٰعقوب فردوسی
    عاشقِ اقبال
    محترمہ غزالہ اسلم
    بہار آنےکو ہے
    محترم عاصم بخاری
    اثاثہ
    محترم عبدالرحیم بھٹی
    راجپوت فبائل
    محترم ریاض ندیم نیازی
    تمھیں اپنا بنانا ہے
    محترم غلام زادہ نعمان صابری
    تقسیم
    محترم اوصاف شیخ
    ہر سفر دائرہ
    محترم علیم مینگل
    آواز کے سائے
    پروفیسر اکبر خان اکبر
    جادو نگری
    شیخ فرید
    برف بولان
    محترم احمد وقاص کاشی
    ش کا رقص
    محترمہ تسنیم صنم
    ہجر کی طاق راتیں
    محترمہ صدف غوری
    تلاشِ وفا
    محترم شفقت عاصمی
    ساربانی سڑک
    محترمہ ذکیہ بہروز ذکی
    موسمِ گل گزر نہ جائےکہیں
    ڈاکٹر اکرم خاور
    چاہتوں کے درمیاں
    محترم عظیم انجم ہانبھی
    بھنوروں کے انتظار میں
    پرفیسر خورشید افروز
    مشاہیرِ بلوچستان
    ڈاکٹر محمد نواز کنول
    رومی اور اقبال
    شبیر احمد بھٹی
    ریوڑ
    کاوش صدیقی
    جل پری
    کامران قمر
    شرفِ قمر
    آسناتھ کنول
    صحراء کی ہتھیلی پہ دیا ، شامل ہیں ۔۔

  • میلہ اوچ شریف، روحانیت سے تفریح تک کا سفر

    میلہ اوچ شریف، روحانیت سے تفریح تک کا سفر

    میلہ اوچ شریف، روحانیت سے تفریح تک کا سفر
    تحریر:حبیب خان (نامہ نگار باغی ٹی وی )
    میلہ اوچ شریف ایک ایسا روحانی اجتماع ہے جو برصغیر کی تاریخ میں اہم مقام رکھتا ہے۔ یہ میلہ دراصل ان عظیم اولیائے کرام کی یاد میں منایا جاتا ہے جنہوں نے اپنی زندگی میں دین اسلام کی ترویج اور لوگوں کی روحانی رہنمائی کی۔ ان بزرگ ہستیوں میں حضرت جلال الدین سرخ پوش بخاری، حضرت بہاؤ الدین زکریا ملتانی، حضرت بابا فرید الدین گنج شکر اور حضرت عثمان مروندی (لعل شہباز قلندر) شامل ہیں۔ ان اولیائے کرام کی تعلیمات کا مقصد انسانوں کو روحانیت کی طرف متوجہ کرنا، ظلم و جبر سے نجات دلانا اور محبت، امن اور بھائی چارے کا پیغام دینا تھا۔ ان کی زندگی کے ہر پہلو میں انسانیت کی خدمت اور خدا کی رضا کی تلاش تھی، لیکن افسوس کہ آج میلہ اوچ شریف میں ان کے مقاصد سے ہٹ کر مختلف نوعیت کی سرگرمیاں دکھائی دیتی ہیں۔

    حضرت جلال الدین سرخ پوش بخاری، حضرت بہاؤ الدین زکریا، حضرت بابا فرید الدین گنج شکر اور حضرت عثمان مروندی کی تعلیمات نہ صرف عبادات کے حوالے سے بلکہ معاشرتی اصلاحات پر بھی زور دیتی تھیں۔ ان بزرگوں کا مقصد لوگوں کے دلوں میں خدا کی محبت بٹھانا، انسانوں کے درمیان بھائی چارے کو فروغ دینا اور ظلم و فساد کے خلاف جہاد کرنا تھا۔ ان کا پیغام محبت، اخوت اور انسانیت کی خدمت تھا، جس میں کسی قسم کا لالچ، تشہیر یا دنیاوی مفاد کی جگہ نہ تھی۔

    ان بزرگ ہستیوں کی زندگی اور ان کی تعلیمات کے مطابق میلہ اوچ شریف ایک روحانی اجتماع ہونا چاہیے تھا جہاں عقیدت مند اپنے روحانی سفر کو مکمل کرنے اور اپنے عقیدے کو مضبوط کرنے آتے۔ ان کا مقصد لوگوں کے دلوں میں تقویٰ، خشوع اور ایمان کی روشنی بٹھانا تھا۔

    وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ میلہ اوچ شریف کی روحانیت میں کمی واقع ہوئی ہے اور اس میں شامل سرگرمیاں اس کے اصلی مقصد سے بہت دور ہو چکی ہیں۔ جہاں ایک طرف یہ میلہ اولیائے کرام کی یاد میں ہونا چاہیے تھا، وہاں اب یہ ایک تفریحی اور تجارتی ایونٹ بن چکا ہے۔ تفریحی پروگراموں کی شکل میں فحاشی اور اخلاقی گراوٹ نے اس میلے کی روح کو متاثر کیا ہے۔

    آج کے میلے میں ورائٹی شوز، سرکس اور دیگر تفریحی پروگرام شامل ہیں، جہاں عریانی اور فحاشی کا پرچار کیا جاتا ہے۔ رقاصائیں نیم عریاں لباس میں رقص کرتی ہیں اور یہ سب کچھ "تفریح” کے نام پر پیش کیا جاتا ہے۔ ایسے پروگرام نہ صرف اولیائے کرام کی تعلیمات سے متصادم ہیں، بلکہ یہ عوامی سطح پر اخلاقی گراوٹ کا سبب بھی بن رہے ہیں۔ ان سرگرمیوں میں شریک ہونے والے افراد کی دولت کو لٹانا اور ان سے دھوکہ دہی کرنا، اس میلے کے اصل مقصد کے بالکل برعکس ہے۔ یہ سب کچھ اس بات کا غماز ہے کہ میلے میں شریک ہونے والے افراد اور انتظامیہ نے اولیائے کرام کے پیغام کو بھلا دیا ہے اور اس کے بجائے تجارتی مفادات اور عوامی تفریح کے ذریعے پیسہ کمانا شروع کر دیا ہے۔

    اولیائے کرام کی تعلیمات میں سب سے اہم پہلو انسانوں کی خدمت اور اللہ کی رضا کی تلاش ہے۔ ان بزرگوں کی زندگی میں عبادت، علم، اخلاقی عظمت اور انسانوں کی مدد کی اہمیت تھی۔ حضرت جلال الدین سرخ پوش بخاری اور حضرت بہاؤ الدین زکریا ملتانی کی تعلیمات کی بنیاد پر انسانیت کی خدمت اور تقویٰ کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا تھا، لیکن آج جب ہم میلہ اوچ شریف کی صورت حال دیکھتے ہیں تو اس میں ان کی تعلیمات کے برعکس سرگرمیاں بڑھ گئی ہیں۔

    میلہ اوچ شریف میں اولیائے کرام کی تعلیمات کو یاد رکھنا اور ان کے پیغامات کو فروغ دینا بہت ضروری ہے۔ اس میلے کو دوبارہ اس کی اصل روح میں ڈھالنے کے لیے ضروری ہے کہ وہاں اخلاقی طور پر صحت مند پروگرامز کا انعقاد کیا جائے، جو لوگوں کو روحانیت کی طرف مائل کریں اور ان کے دلوں میں تقویٰ، ہمت اور محبت کا جذبہ پیدا کریں۔

    میلہ اوچ شریف کی سیکیورٹی اور انتظامی تدابیر بھی ایک سنگین مسئلہ ہیں۔ جب اتنے بڑے پیمانے پر لوگ جمع ہوتے ہیں تو ان کے لیے امن و امان کا قیام انتہائی ضروری ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور سیکیورٹی ادارے اضافی نفری تعینات کرتے ہیں، لیکن ان کے اقدامات صرف جرائم کو روکنے کے لیے نہیں بلکہ میلے کی اصلی روح کو بحال کرنے کے لیے بھی ہونے چاہئیں۔ عوامی سطح پر ہونے والی اخلاقی گراوٹ اور جرائم کی روک تھام کے لیے حکومتی اداروں کا کردار بہت اہم ہے۔

    میلہ اوچ شریف کی اصلی روح کو واپس لانے کے لیے ضروری ہے کہ میلے کی سرگرمیاں مذہبی، اصلاحی اور ثقافتی پروگرامز تک محدود کی جائیں۔ اولیائے کرام کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے لوگوں کو اخلاقی تربیت، روحانی رہنمائی اور تقویٰ کی اہمیت بتائی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی کے انتظامات کو مزید بہتر بنایا جائے تاکہ عوام کو امن و سکون کے ساتھ روحانی ترقی کے مواقع مل سکیں۔

  • خاموش مجرم.تحریر:عائشہ اسحاق

    خاموش مجرم.تحریر:عائشہ اسحاق

    کیا آپ نے کبھی سوچا کہ ہم سب پاکستان کی موجودہ خستہ صورتحال کے ذمہ دار میں ،مقروض پاکستان کی زبوں حالی کا ذمہ دار کرپٹ سیاست دانوں کو ٹھہرانا اور سوشل میڈیا پر پوسٹ یا سٹیٹس لگا کر کو ستے رہنا معمول بن چکا ہے لیکن ہم اس امر پر غور کرنا گوارہ نہیں کرتے کہ جہاں غیر منصفانہ ،ظالمانہ اور کرپٹ نظام کے خلاف ہمیں متحد ہو کر کھڑے ہونا اور حق کی آواز بننا چاہیئے وہاں ہم سوشل میڈیا پر خاموشی اختیار کرنا مناسب سمجھتے ہیں جو ایک سنگین جرم ہے جس کا خمیازہ ہماری آنے والی نسلیں بھی بھگتیں گی۔

    ظالم کو مزید طاقتور مظلوم کی خاموشی بناتی ہے۔ دیکھتے ہیں کہ وطن عزیز اور قوم کی بد حالی کے ذمہ دار اور غداروں کا ہماری خاموشی نے کس طرح ساتھ دیا۔ تاریخ گواہ ہے بانی پاکستان قائد اعظم محمدعلی جناح اپنی ہی قائم کر دہ ریاست میں مٹھی بھر غداروں کے ہاتھوں محفوظ نہ رہ سکے، قیام پاکستان کی خاطر بھائی کے ہمراہ شانہ بشانہ چلنے والی بانی پاکستان کی بہن مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح اسی ملک میں غدار ٹھہرا دی گئی مگر ہم خاموش رہے۔گزشتہ برس خواب پاکستان دیکھنے والے شاعر مشرق علامہ اقبال کے پوتے اور بہو کو سر عام تشدد کا نشانہ بنا کر اسی ملک میں ان کی تذلیل کی گئی مگر ہم خاموش رہے۔

    مخلوط نظام تعلیم کے نام پر چلائے جانے والے تعلیمی اداروں نے ہماری نوجوان نسلوں کو فحاشی اور نشے جیسی دلدل میں دھکیل دیا ہم سے۔ہمارا باوقار نظام ،تعلیم چھین کر مخلوط تعلیمی انتظام رائج کر دیا گیا جس کا ہمارے دین میں کوئی وجود نہیں اس طرح ہماری نسلیں دین اسلام کی اصل تعلیم سے دور ہو چکی ہیں مگر ہم خاموش ہیں۔اسلامی جمہوریہ پاکستان میں سودی نظام ڈنکے کی چوٹ پر چلایا جارہا ہے جو سراسر اللہ اور اللہ کے رسول خاتم النبین” سے کھلا اعلان جنگ ہے مگر ہم اس پر بھی خاموش ہیں۔ناموس رسالت کا تحفظ ہر مسلمان پر فرض ، کوئی گستاخی کا واقعہ ہوتو بھی اس پر بھی ہم انتہائی کمزور سا احتجاج کر کے خاموش ہی ہو جاتے ہیں،قانون نافذ کرنے والے اداروں کی حالت یہ ہے کہ وہا ں انصاف طاقتور اور امیروں کا کھلوناہے جسے بآسانی خریدا جا سکتا ہے تمام تر قوانین صرف غریبوں اور کمزوروں پر لاگو ہیں جبکہ با اثر افراد کوئی بھی گھناونا جرم کرنے کے بعد قانون کی بولی لگا کر مکڑی کے جانے کی طرح پھاڑتے ہوئے نکل جاتے ہیں عدالتوں کے باہر لگے ترازو میں انصاف نظر نہیں آتا.

    سوال یہ ہے کہ لیاقت علی خان کے قاتل پکڑے نہ جاسکے ،بے نظیر بھٹو شہید سمیت کئی رہنماؤں کے قاتل آج تک نہیں پکڑے جاسکے، کراچی میں میں ٹارگٹ کلنگ میں قتل ہونیوالے سینکڑوں لوگوں کے قاتل پکڑے نہیں جاسکے۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں عرصہ دراز سے ہونیوار خود کش دھماکوں کے نشانات ڈھونڈے نہ جا سکے۔ قاتل تو دور کراچی میں ہونے والے سٹریٹ کرائمز کرنے والے تک گرفتار نہ ہو سکے مگرجب غلامی کرنے پر آئیں تو انکل ٹرمپ کی خدمت میں ان کا مجرم محض کچھ ہی گھنٹوں میں پکڑ کر حوالےکر دیا گیا جس پر آج ٹرمپ پاکستان کا خصوصی شکریہ ادا کر رہا ہے کہ ہمارے انتہائی مطلوب مجرم کو ہمارے حوالے کر دیا گیا ہے۔ہماری بہن پاکستانی خاتون ڈاکٹر عافیہ صدیقی آج بھی امریکی قید خانے میں بے حد اذیت ناک زندگی گزار رہی ہے مگر ہم خاموش ہیں۔کسی سابقہ امریکی صدرنے ٹھیک کہا تھا کہ یہ پاکستانی چند پیسوں کی خاطر اپنی ماں کو بھی بیچ سکتے ہیں وقت نے ایک بار پھر آج ثابت کر دیا ہے۔یہ ریاست کے فیصلے ہیں، اداروں کے فیصلے ہیں.حکومتوں کے فیصلے ہیں اور یہ ایوانوں میں بھاشن جھاڑنے والے لیڈرز خواہ وہ کسی بھی جماعت سے تعلق رکھتے ہوں سب ایک ہی جھنکار پر ناچتے ہیں جب آواز آتی ہے۔” ہم تم کو ڈالر دے گا ڈالر ! ”

    ہم سب پاکستان کی اپنی اور اپنی نسلوں کی تباہی خاموش تماشائی بن کر دیکھ رہے ہیں ، بجلی ، گیس ، پانی کے بلوں میں ناجائز بے حد اضافہ، ٹیکس غریب کا گلہ گھونٹ رہے ہیں، روٹی سے لے کر کفن تک ٹیکس ادا کرنے والی قوم کا بچہ پیدا ہوتے ہی مقروض ہیں،مگر ہم خاموش ہیں،ظالموں کے ظلم کو ہماری خاموشی تقویت بخش رہی ہے، یہ کیسا خوف ہے جو ہمیں ہماری تباہی کے ذمہ داروں کا ساتھی بنا رہا ہے۔حضرت علی کا فرمان ہے۔، قبرستان بھرے پڑے ہیں ایسے لوگوں سے جو حق کیلئے اس لیئے کھڑے نہ ہوئے کہ کہیں وہ مارے نہ جائیں ؟لہذا خاموشی کو محفوظ پناہ گا ہ سمجھنا ہمیں نہ صرف خود کا مجرم بنارہا ہے بلکہ یہ بزدلانہ عمل ہی ہماری تباہی کا اصل ذمہ دار ہے ہمیں بلا کسی خوف کے حق کیلئے یکجا ہو کر ظالموں کے ہاتھ کاٹنے کی ضرورت ہے۔

  • ادب کی نیلامی، جب لفظ پیسے کے ترازو میں تولے جائیں ۔ تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    ادب کی نیلامی، جب لفظ پیسے کے ترازو میں تولے جائیں ۔ تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    ادب کا "منصب” ہمیشہ سے فکری بالیدگی، سچائی اور انسانی جذبات کی سچّی ترجمانی رہا ہے۔ یہ وہ میدان ہے جہاں تخلیقی صلاحیت، مطالعہ، مشاہدہ اور فکری جدوجہد ہی کسی لکھاری کا اصل اثاثہ ہوتی ہے۔ لیکن آج کچھ ادارے اور افراد ادب کے نام پر پیسے کے عوض تحریریں شائع کر کے نہ صرف اس عظیم فن کی بے حرمتی کر رہے ہیں بلکہ نئے لکھنے والوں کو ایک غلط سمت میں دھکیل رہے ہیں۔ ہمیشہ سے فکری بالیدگی، سچائی اور انسانی جذبات کی سچّی ترجمانی رہا ہے۔
    ادب ہمیشہ سے انسان کے باطن کی وہ زبان رہا ہے جو لفظوں میں سچائی، خلوص، درد، خواب اور سوال بُنتا ہے۔ یہ وہ آئینہ ہے جس میں ایک معاشرہ خود کو دیکھتا اور سمجھتا ہے۔ ادب صرف اظہار کا ذریعہ نہیں، بلکہ تہذیبی شعور، فکری بلوغت اور اجتماعی ضمیر کی بیداری کا استعارہ بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیشہ سے ادب کو ایک مقدس امانت تصور کیا جاتا رہا ہے—ایسی امانت جو نہ صرف لکھنے والے کا کردار مانگتی ہے بلکہ قاری کا شعور بھی آزماتی ہے۔
    مگر موجودہ دور میں اس مقدس فن کے گرد ایک ایسا بازار سج چکا ہے جس میں لفظوں کی بولی لگتی ہے، تخلیق کی قیمت طے ہوتی ہے اور ادیب کا مقام جیب کی گہرائی سے مشروط ہو چکا ہے۔ "ادب کی خدمت” کے مقدس دعوے کے ساتھ کچھ افراد اور ادارے پیسوں کے عوض تحریریں شائع کرنے کا کاروبار کر رہے ہیں۔ وہ نوآموز لکھنے والوں کو یہ یقین دلاتے ہیں کہ صرف چند ہزار روپے دے کر ان کی تحریر کسی "ادبی مجموعے” یا "مشترکہ کتاب” کا حصہ بن سکتی ہے۔ اس جھانسے میں آ کر کئی ناپختہ قلم یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ وہ اب باقاعدہ "مصنف” بن چکے ہیں۔ گویا تخلیق، جو کبھی روح کی پکار اور شعور کی گہرائیوں سے جنم لیتی تھی، اب ایک چیک یا آن لائن ٹرانزیکشن سے پیدا ہو سکتی ہے۔یہ روش ادب کے تقدس کو محض مجروح نہیں کرتی، بلکہ اسے تماشہ بنا دیتی ہے۔ جب تحریر کے معیار کی جگہ مالی ادائیگی اہم ہو جائے تو کتاب محض صفحات کا مجموعہ بن کر رہ جاتی ہے۔ ایسے مجموعے جو بازار میں آ کر جلد ہی بھلا دیے جاتے ہیں کیونکہ ان میں کوئی فکری گیرائی، فنی چمک یا تخلیقی تڑپ نہیں ہوتی۔ یہ محض لفظوں کی سجاوٹ ہوتی ہے، جن کے پیچھے نہ کوئی تجربہ ہوتا ہے نہ کوئی پیغام۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اصل اہل قلم—جو برسوں کی ریاضت، مطالعے، مشاہدے اور فکری مکالمے سے ادب کی خدمت کرتے ہیں—ان کا مقام دھندلا پڑنے لگتا ہے۔ ان کی تحریریں ان کہی سی ہو جاتی ہیں کیونکہ بازار میں "چھپنا” ہی مقام کا معیار بن چکا ہوتا ہے۔

    یہ ایک ایسا دھندہ ہے جسے ہم سب نے یا تو نظر انداز کیا یا خاموشی سے قبول کر لیا۔ سوال یہ ہے کہ اس رجحان کو روکنے کے لیے ادبی برادری، نقاد، اساتذہ، اور سنجیدہ قارئین کہاں ہیں؟ کیا ہماری ادبی انجمنیں صرف مشاعرے کروانے، پھولوں کے گلدستے دینے، اور یادگاری تصاویر بنوانے تک محدود ہو گئی ہیں؟ کیا یہ ادارے اپنی ذمہ داری محسوس نہیں کرتے کہ وہ نوآموز لکھنے والوں کو اس مکاری سے بچائیں اور انہیں تخلیق کی اصل روح سے روشناس کروائیں؟

    ادب کا سفر کبھی آسان نہیں رہا۔ غالب سے لے کر فیض تک، عصمت چغتائی سے انتظار حسین تک، سب نے زندگی کی سچائیوں کو الفاظ میں ڈھالنے کے لیے کرب سہا، تنقید برداشت کی، محرومیوں کا سامنا کیا، مگر کبھی تخلیق کو بیچنے کا تصور بھی نہ کیا۔ ان کے لیے ادب ایک عہد تھا، ایک فکری جدوجہد جسے سرمایہ نہیں، صداقت چلاتی تھی۔ آج جب کوئی پیسے دے کر چھپنے کا خواب دیکھتا ہے تو وہ اس عہد سے غداری کرتا ہے۔
    ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ادب کو اس کے اصل وقار کے ساتھ زندہ رکھیں۔ یہ کام صرف لکھنے والوں کا نہیں، پڑھنے والوں کا بھی ہے۔ اگر قاری صرف چمکدار سرورق، مصنف کی پروفائل تصویر، یا اشاعت کی تعداد دیکھ کر کتاب کو "اچھی” سمجھ لے گا تو پھر بازار کا راج رہے گا، اور ادب کے مقدس مینار چھوٹے ہوتے چلے جائیں گے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ ہر چھپی ہوئی تحریر ادب نہیں ہوتی، اور نہ ہی ہر چھپنے والا ادیب ہوتا ہے۔

    ادب میں مقام حاصل کرنے کے لیے علم، مطالعہ، مشاہدہ، محنت اور خلوص درکار ہوتا ہے۔ یہ ایک طویل، صبر آزما اور کبھی کبھار تنہا سفر ہوتا ہے۔ پیسے دے کر چھپنا اس سفر کی شارٹ کٹ نہیں، بلکہ اس سے ہٹ جانے کا راستہ ہے۔ ادب خود فریبی برداشت نہیں کرتا۔ وہ صرف انہی کو قبول کرتا ہے جو اس کی شرائط پر پورا اترتے ہیں—چاہے وہ دیر سے پہچانے جائیں، مگر اصل پہچان پائیدار ہوتی ہے۔

    آخر میں، ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ہم ادب کو پیکیج بنا کر فروخت کرنا چاہتے ہیں یا ایک فکری میراث کے طور پر سنوارنا چاہتے ہیں۔ اگر ہم نے خاموشی اختیار کیے رکھی تو آنے والی نسلیں ادب کو ایک سنجیدہ فن کے بجائے محض چھپنے کا ذریعہ سمجھیں گی۔ ہمیں اب بھی وقت ہے کہ آواز بلند کریں،پاکستان میں ادب کے نام پر ہونے والی اس سوداگری کے خلاف قلم اٹھائیں، اور سچے تخلیق کاروں کا ساتھ دیں۔ کیونکہ ادب کو اگر زندہ رکھنا ہے تو اسے مالی لفظوں کی نہیں، فکر کی قدر دینی ہو گی۔یہی پہچان پاکستان ہے

  • تبصرہ کتب، سنہرے نقوش

    تبصرہ کتب، سنہرے نقوش

    نام کتاب : سنہرے نقوش
    نام مئولف : عبدالمالک مجاہد
    ناشر : دارالسلام انٹرنیشنل ، لوئر مال ، نزد سیکرٹریٹ سٹاپ ، لاہور
    صفحات : 384
    قیمت : 1850روپے
    زیر نظر کتاب ’’ سنہرے نقوش ‘‘ ایک آئینہ ہے جس میں اچھے اور برے دونوں طرح کے لوگوں کی زندگی کے سچے واقعات کی تصویر کشی کی گئی ہے ۔ جو شخص بھی یہ واقعات پڑھے گا اسے یقینا سعادت اور نیکی کی زندگی حاصل ہو گی ۔ نیکی کا لازمی نتیجہ کامیابی اور فتح مندی ہے جبکہ گناہ کا نتیجہ ناکامی ، بدنامی اور رسوائی ہے ۔ گناہ چاہے کتنا ہی چھپ کر کیا جائے وہ ہمارا پیچھا کرتا ہے اپنا تاوان لیتا ہے اور اگرندامت کے ساتھ سچی توبہ نہ کی جائے توگناہ ہمیشہ خون کے آنسو رولاتا ہے ۔ اچھی کتابوں کا مطالعہ انسان کو نیکی کی طرف راغب کرتا اور دل و دماغ کو راحت بخشتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ سنہرے نقوش ‘‘ ایک ایسی ہی کتاب ہے جس میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے نافرمانوں اور بعض سفاک انسانوں کے واقعات درج کیے گئے ہیں تاکہ لوگ ان کے لرزہ خیز انجام سے عبرت پکڑیں اور توبہ استغفار کا اہتمام کر کے اپنی زندگیاں سنوار لیں ۔ کتاب کے مئولف عبدالمالک مجاہد کہتے ہیں : میری جملہ کتابوں کی طرح اس کتاب کی بھی اصل غرض و غایت یہی ہے کہ ہمارے معاشرے کا ہر فرد اچھے اور برے لوگوں کے واقعات سے اعمال صالحہ کا سبق سیکھے ، نیکی اور ناموس کی زندگی بسر کرے۔ ان شاء اللہ اس طرح زندگی کی مشکلیں آسان ہوجائیں گی اور ماحول کی تاریکیوں میں حسن سیرت کے چراغ روشن کرنا آ سان ہو جائے گا ۔ بات یہ ہے کہ ہم سب کو ناکامی سے بچنے اور دوسروں کو بچانے کی ہر ممکن تدبیر کرنی چاہیے ۔ یہ ہمارا دینی اخلاقی اور سماجی فریضہ ہے جسے التزام سے ادا کرتے رہنا چاہیے بس اسی احساس کے زیر اثر کامیابی کی صفات اجاگر کرنے اور ناکامی کے اسباب واضح کرنے کے لیے یہ کتاب لکھی گئی ہے۔اس کا انداز بیان سادہ اور سلیس ہے اس لیے اس سے معمولی پڑھے لکھے لوگ بھی خاطرخواہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں ۔ قرآن مجید بھی ہمیں اچھے اور منتخب انسانوں کے نورانی اعمال و احوال کے قصے سادہ اور دلکش پیرائے میں سناتا ہے۔ فرعون و نمرود جیسے مغرور و مردود لوگوں کے افعال و انجام کی حکایات پڑھ کر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں ۔ ایسے ہی اس کتاب میں ایک طرف حضرت سعید بن جبیراور امام احمد بن حنبل جیسے رجال کی سیرت کے جلوے نظر آتے ہیں تو دوسری طرف ایسے سفاک اور بدبخت شخص کا تذکرہ بھی ہے جس نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے آشوب وآزمائش کے دور میں ان کی اہلیہ محترمہ کو تھپڑ مارا تھا۔ اس ظالم کا انجام پڑھ کر دل لرزنے لگتا ہے۔ کتاب کی اہمیت کا اندازہ دیے گئے عنوانات سے کیا جا سکتا ہے مثلاََ:تقوی کے ثمرات ، پروردگار کے فیصلے کا خیر مقدم، راہ اخلاص و وفا میں جانوں کا نذرانہ، مرقد نبوی کے خلاف گھنائونی سازش، سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی زندگی کا آ خری دن ، بہادر ڈاکو حجاج بن یوسف کی عدالت میں، کس کس کا ہاتھ میرے گریبان میں آ ئے گا، وعدے کی پاسداری ، دجال کا جاسوس ، باپ سے بد سلوکی کا بھیانک انجام ، خبردار دشمن ہمہ وقت موقع کی تلاش میں ہے ، دولت کا نشہ۔۔۔۔۔ ایک سانحہ عبرت، سچی توبہ ، نہلے پر دہلا ، لاجواب دلہن ، جہنم سے فرار ، تاک جھانک کا خمیازہ ، اللہ کی نافرمان ، بہار ہو کہ خزاں لا الہ الا اللہ ، اچھی تربیت کا صحیح طریقہ ، بارگاہ الہی میں جواب دہی کا احساس ، جھوٹی توبہ، کفر و سرکشی کی سزا ، مٹ گئے مٹ جائیں گے اعدا تیرے ، خون ناحق کی ہیبت ، آداب فرزندی کا قابل رشک مظاہرہ ،کہیں عہد شکنی نہ ہو جائے، سلطان جلال الدولہ کی ہوشیاری ، دندان شکن جواب، جو سورہے ہیں ان کو جگانے کی فکر کر، حقیقی طالب علم ،کسری پر عربوں کی پہلی جیت ،اللہ تعالیٰ اس کی گھات میں تھا ،جھوٹی توبہ ، جہنم سے فرار ، اندھیرے سے اجالے کی طرف ، عربوں کی مہمان نوازی، وعدے کی پابندی ، دنیا کی بے ثباتی ، خدائی خون کے گھنائونے دعویدار، ظالم کا عبرتناک انجام، غلاموں کی خوش بختی، اس نے میری آنکھیں کھول کر اپنی آنکھیں بند کر لیں، باپ کی عدالت سے بیٹی کے خلاف فیصلہ، داستان ایک متکبر کی، مالک ارض و سماء کی پہچان ، لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے ، نو مولود کی گواہی ،فرشتہ صفت نوجوان شیطان کے نرغے میں ، شیر خوار بچے کا اعلان حق ، تربیت اولاد سے غفلت کا نتیجہ، طوفانوں کے مقابل کوہ گراں ۔ قصہ مختصر یہ کتاب نیکی اور بدی کے کرداروں کا حیرت انگیز نگار خانہ ہے جو کردار اور دل و دماغ کے دریچے کھولتے، خیالوں میں انقلاب برپا کرتے ، نیکی سے محبت کا سلیقہ سکھاتے اور بدی سے متنفر کرتے ہیں ۔ اپنی اصلاح اور اپنے گھر کی اصلاح کے خواہشمند احباب کیلئے یہ کتاب نہایت ہی بیش قمیت تحفہ ہے ۔

  • رشتوں میں سب سے بڑا زہر "غداری” کا ہوتا ہے…تحریر:نور فاطمہ

    رشتوں میں سب سے بڑا زہر "غداری” کا ہوتا ہے…تحریر:نور فاطمہ

    ہماری زندگی میں سب سے زیادہ خطرناک دشمن وہ نہیں ہوتے جو سامنے سے وار کرتے ہیں، بلکہ وہ ہوتے ہیں جو دوستوں، رشتہ داروں یا خیرخواہوں کا چہرہ لے کر ہمیں اندر سے کھوکھلا کرتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ بڑی سلطنتیں بیرونی حملوں سے کم اور اندرونی غداریوں سے زیادہ تباہ ہوئیں۔ یہی اصول ہماری ذاتی زندگیوں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔باہر کے لوگ جب مخالفت کرتے ہیں تو کم از کم ہمیں اس کا علم ہوتا ہے، ہم دفاع کے لیے تیار ہوتے ہیں۔ مگر وہ لوگ جو اپنائیت کا لبادہ اوڑھ کر اندر سے وار کرتے ہیں، ان کی چالاکیاں دیر سے سامنے آتی ہیں، اور تب تک نقصان ہو چکا ہوتا ہے۔ ان کی مسکراہٹوں کے پیچھے چھپی نفرت، ان کے خیرخواہی بھرے الفاظ کے پیچھے چھپا حسد، اور ان کی خاموشیوں میں چھپے راز،یہ سب ہمیں اندر سے توڑ دیتے ہیں۔

    جب کوئی قریبی شخص، جس پر ہم آنکھ بند کر کے بھروسہ کرتے ہیں، ہمیں دھوکہ دیتا ہے تو وہ صرف ایک دھوکہ نہیں ہوتا، بلکہ ہماری امید، اعتماد اور دل کو ایک ساتھ توڑ دیتا ہے۔ یہ لوگ ہمارے راز دوسروں کو بتاتے ہیں، ہماری کمزوریوں کو لوگوں کے سامنے لاتے ہیں، اور بظاہر ہماری خوشیوں میں شریک ہو کر اندر سے ان کی جڑیں کاٹتے ہیں۔زندگی میں ہر رشتہ آزمانا چاہیے، لیکن اندھا اعتماد نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ ایسے افراد کی پہچان ان کے عمل سے کریں، نہ کہ صرف ان کی باتوں سے۔ جو مشکل وقت میں آپ کے ساتھ کھڑے ہوں، جو آپ کی غیر موجودگی میں بھی آپ کا دفاع کریں، وہی آپ کے اصل خیرخواہ ہیں۔

    سچے رشتے وہی ہوتے ہیں جن میں خلوص، سچائی اور وفاداری ہو۔ نہ کہ وہ رشتے جو صرف دکھاوے کے لیے ہوں، جہاں مسکراہٹ تو ہو لیکن دل میں کینہ ہو، جہاں بظاہر ساتھ ہو لیکن نیت میں دشمنی ہو۔ ایسے رشتوں کو وقت کے ساتھ پرکھیں، اور دل کی آنکھوں سے دیکھیں۔زندگی میں اندرونی غداروں سے بچنا آسان نہیں، لیکن ناممکن بھی نہیں۔ خود کو مضبوط بنائیں، اپنی ذات پر یقین رکھیں، اور ان لوگوں کا ساتھ دیں جو آپ کے اندر کا سکون برباد نہیں کرتے بلکہ اس کو اور سنوارنے میں مدد دیتے ہیں۔ یاد رکھیں، سچائی اور خلوص ہمیشہ دیرپا ہوتے ہیں، باقی سب وقتی چمک ہے۔