Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ای چالان سسٹم میں اصلاح کی ضرورت، تحریر:ملک سلمان

    ای چالان سسٹم میں اصلاح کی ضرورت، تحریر:ملک سلمان

    ایک سنئیر آفیسر کی کال آئی کہ بھائی ناشتہ کرلیا میں نے کہا کہ نہیں موسٹ ویلکم تشریف لائیں اکٹھے کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ ایک میوچل دوست لاہور آئے ہوئے ہیں ہم دھرم پورہ پائے کھانے جارہے تھے آپ کو بھی پک کرلیتے ہیں۔ ہم گارڈن ٹاؤن سے نکلے تو سپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد کے گھر سے نہر کی طرف جانے والے ڈبل روڈ پر رکشہ و ریڑی والوں نے ہاف سڑک پر قبضہ کیا ہوا تھا۔ کینال روڈ سے دھرم پورہ کیلئے یوٹرن لینے لگے تو سامنے سے بنا نمبر پلیٹ رکشوں کا قافلہ بلا خوف و خطر رانگ وے استعمال کرتا ہوا آرہا تھا۔ دھرم پورہ دونوں اطراف بیچ سڑک ناجائز پارکنگ اور تجاوزات ہی تجاوزات۔ مشہور اقبال ٹی سٹال کا رخ کیا تو وہاں بھی منٹگمری روڈ، ایبٹ روڈ، لکشمی چوک اور ہال روڈ سے گاڑی گزارنا مشکل تھا۔ جس سڑک سے بھی گزرتے بنا نمبر پلیٹ رکشے اور گاڑیاں دیکھ کر ہمارے ساتھ موجود وزارت داخلہ میں تعینات سنئیر افیسر نے بتایا کہ گذشتہ چھے ماہ میں متعدد دفعہ مختلف ایجنسیز کی طرف سے ایس آئی آر(سپیشل انفارمیشن رپورٹ) آئی ہیں کہ مبہم اور بنا نمبر پلیٹ گاڑیاں سیکیورٹی رسک ہیں اس کے باوجود مبہم، بنا نمبر پلیٹ اور نمبر پلیٹ کے آگے اضافی راڈ لگاکر نمبر پلیٹ کو چھپانے والی ٹریفک پولیس سمیت دیگرسرکاری و غیر سرکاری گاڑیوں کے خلاف کاروائی کیوں نہیں ہورہی؟ تیسرے افیسر کا کہنا تھا کہ اغوا، چوری، ڈکیتی، قتل اور دہشت گردی میں استعمال ہونے والی بنا نمبر پلیٹ گاڑی کا پرچہ متعلقہ سی ٹی او پر ہونا چاہئے۔
    ٹریفک کی روانی میں ناکامی، نااہلی اور جعل سازیوں کی پردہ پوشی کیلئے پولیس ٹاؤٹ قسم کے صحافیوں اور یوٹیوبرز کی مدد سے ہر وقت خبروں میں رہ کر جھوٹے دعووں سے ارباب حکومت اور اداروں کو مس گائیڈ کرنے کی بجائے غیر قانونی پارکنگ، گارگو اڈوں، پبلک ٹرانسپورٹر کی ریگولر کمائی چھوڑ دیں ٹریفک مسائل ختم ہوجائیں گے لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ ٹریفک مسائل ہی ٹریفک پولیس کے وسائل ہیں۔
    پولیس سروس کے دوست نے کہا کہ بزدار دور میں انہیں سی ٹی او لاہور کی آفر ہوئی تو انہوں نے کہا کہ سی ٹی او نہیں کہیں ڈی پی او کی آپشن ہو تو ٹھیک ورنہ سی پی او پنجاب آفس ہی ٹھیک ہے۔ پی ایس پی دوست نے کہا کہ آفر کرنے والے نے کہا کہ سی ٹی او کے بعد آپ ساری ڈی پی او شپ بھول جائیں گے۔ یہ بات سچ ثابت ہورہی ہے کہ واقعی سی ٹی اوکے بعد کسی ڈی پی او شپ کی ضروت نہیں۔
    تینوں افسران کا کہنا تھا کہ سی ٹی او، ای چالان ڈیفالٹر سرکاری گاڑیوں کے خلاف ان بڑھکوں سے کس کو اور کتنا بیوقوف بنائے گا؟
    تم ایک ایک ای چالان ڈیفالٹر گاڑی کی نشان دہی بھی کرلو گے اور انکو پکڑ بھی لو گے کیونکہ وہ ان قانون پسند شہریوں کی ہیں جو دونمبر نہیں ہیں جو اوریجنل نمبر پلیٹ لگاتے ہیں لیکن اس سے زیادہ مضحکہ خیز بات کیا ہوسکتی ہے کہ بنا نمبر پلیٹ والوں کو نہیں پکڑو گے۔
    ای چالان سسٹم میں بھی بہت زیادہ اصلاح کی ضرورت ہے ایک تہائی چالان ایسے ہوتے ہیں جو جسٹیفائیڈ نہیں ہیں کیونکہ اگر اچانک آگے والا بریک لگا دے یا سپیڈ سلو کردے تو "مڈ وے” میں آپکا چالان۔ لائن کی خلاف ورزی بھی بائیک اور رکشہ والوں کی تیز رفتار کٹوں کی وجہ سے ہوتی ہے۔
    گاڑی میں موبائل استعمال کرتا، بنا سیٹ بیلٹ والا نظر آجاتا ہے تمہیں اگر نظر نہیں آتا تو کروڑوں روپے ماہانہ کی اکانمی والے مبہم اور بنا نمبر پلیٹ رکشے، ٹرک ٹویٹا اور بسیں نظر نہیں آتیں۔ عام شہری سڑک پر گاڑی کھڑی کرتے نظر آجاتا ہے لیکن پرائیویٹ دفاتر اور کار شوروم کی بیچ سڑک ریگولر غیر قانونی پارکنگ نظر نہیں آتی۔
    سارا لاہور اور پنجاب ٹریفک جام میں پھنسا ہوتا ہے لیکن تم روڈ سائڈ تجاوزات اور غیرقانونی پارکنگ کے خلاف کاروائی کیوں نہیں کرتے؟
    کوئی سڑک بتا دو جہاں بیچ روڈ ریڑیاں اور رکشے راستہ روک کر دکانداری نہیں کر رہے؟
    لفٹر کے زریعے اکٹھے ہونے والے رقم پنجاب حکومت کی بجائے سی ٹی او ویلفئیر اکاؤنٹ میں کس قانون کے تحت جاتی اور کہاں خرچ ہوتی ہے؟
    یہ لاقانونیت، زورزبردستی اور فاشزم کی انتہا نہیں کہ نشئی پبلک ٹرانسپورٹررز کو کھلی چھٹی کیونکہ وہ ریگولر روزانہ اور ماہانہ دیتے ہیں جبکہ معزز شہری جو ٹریفک پولیس کی بجائے سرکار کو جائز ٹیکس دیتے ہیں ان کے ساتھ بدمعاشیاں کرکے نمبر گیم پوری کرو۔
    تم جن اسٹوڈنٹس کا ریکارڈ خراب کرنا چاہتے ہو ضروری نہیں کہ وہ سارے بڑے ہوکر کرپٹ اور قانون شکن سرکاری ملازم ہی بنیں گے ان میں سے بہت سارے ایماندار لوگ بھی آئیں گے جو اس بدبودار کرپٹ اور قانون شکن سرکاری کلچر کو ختم کریں گے۔
    پورے پنجاب کی پولیس کا ریکارڈ دیکھ لیں پولیس کی مدعیت میں مقدمات کی تعداد بامشکل ایک فیصد ہوگی جبکہ ٹریفک پولیس کی مدعیت میں ہر روز درجنوں ایف آئی آر درج ہو رہی ہیں۔ معزز شہریوں پر بدتمیزی کا الزام لگاکر ٹریفک پولیس کا استغاثہ دینا اختیارات سے تجاوز اور فسطائیت ہے۔
    تم سڑکوں پر ٹریفک کی روانی اور ٹریفک قوانین کے نفاذ کیلئے مامور ہو یا اپنی فرسٹیشن نکالتے ہوئے شہریوں سے دست و گریبان ہونے کیلئے۔ نمبر گیم کے لیے معزز شہریوں پر ایف آئی آرز کرانا فاشزم کی انتہا ہے۔ ٹریفک پولیس معزز شہریوں کیلئے خوف کی علامت اور غنڈہ فورس بنتی جارہی ہے جبکہ پبلک ٹرانسپورٹر اور غیر قانونی پارکنگ والوں کیلئے تمام تر قانون شکن اقدامات کیلئے معاون فورس۔ تیز فلیش لائٹ کے خلاف کاروائی کی بجائے دن بہ دن فلیشر لائٹ استعمال کرنے والوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔
    ملک سلمان
    maliksalman2008@gmail.com

  • سحر کامران، پاکستان کی ممتاز خاتون سیاستدان

    سحر کامران، پاکستان کی ممتاز خاتون سیاستدان

    پاکستان کی سیاست میں چند ہی شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو نہ صرف داخلی امور میں مہارت رکھتی ہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی ملک کا وقار بلند کرنے میں نمایاں کردار ادا کرتی ہیں۔ سحر کامران انہی گنے چنے رہنماؤں میں سے ایک ہیں جنہوں نے بطور رکن قومی اسمبلی اور پیپلز پارٹی کی متحرک رہنما کے طور پر نہ صرف پارلیمنٹ کے اندر اپنی بھرپور موجودگی دکھائی، بلکہ سفارتی محاذ پر بھی پاکستان کا مثبت تاثر دنیا کے سامنے پیش کیا،پارٹی کی بھی ترجمانی کا حق ادا کیا،قومی اسمبلی میں کبھی وہ پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ہمراہ نظر آئیں تو کبھی خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری سے ملاقاتیں کرتے نظر آئیں،

    سحر کامران کا شمار پیپلز پارٹی کی ان پرعزم خواتین رہنماؤں میں ہوتا ہے جو نظریاتی وابستگی، ذہانت، تدبر اور بین الاقوامی فہم و فراست کی حامل ہیں۔ انہوں نے پارلیمنٹ میں خواتین کی نمائندگی کو نہ صرف مضبوط کیا بلکہ سفارتی میدان میں بھی ایک مؤثر اور مربوط آواز بن کر ابھریں۔بطور رکن قومی اسمبلی، سحر کامران نے مختلف پارلیمانی کمیٹیوں میں بھرپور کردار ادا کیا، سندھ میں پانی کا مسئلہ ہو یا پی آئی اے کی نجکاری، سحر کامران نے ہمیشہ عوامی جذبات کی ترجمانی کی، پاکستان کی عوام کا مقدمہ پارلیمنٹ میں لڑا، وہ نہ صرف قانون سازی میں سرگرم رہتی ہیں بلکہ انسانی حقوق، تعلیم، خواتین کے مسائل اور نوجوانوں کے لیے عملی اقدامات کے حق میں مضبوط آواز بھی بنی رہتی ہیں،

    سحر کامران کا بین الاقوامی سطح پر کردار قابل ستائش ہے۔ انہوں نے مختلف بین الاقوامی فورمز پر پاکستان کی نمائندگی کی اور وہاں اپنے مدلل مؤقف اور متوازن طرز گفتگو کے ذریعے ملک کے وقار میں اضافہ کیا۔ خلیجی ممالک خصوصاً سعودی عرب میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے مسائل کو اجاگر کرنا ان کی ایک اہم سفارتی کاوش ہے، جس پر انہیں مختلف حلقوں کی جانب سے سراہا بھی گیا،پاک روس تعلقات بارے بھی انکا کردار قابل تعریف ہے،سحر کامران نے خواتین کو سیاست میں بااختیار بنانے کے لیے بھی قابل قدر خدمات انجام دیں۔ ان کا ماننا ہے کہ خواتین کی شرکت کے بغیر کوئی بھی جمہوری عمل مکمل نہیں ہو سکتا۔ ان کی تقریریں، تحریریں اور عملی اقدامات خواتین کو سیاسی، سماجی اور اقتصادی طور پر مضبوط بنانے کے عزم کا آئینہ دار ہیں۔

    سحر کامران صرف ایک سیاستدان نہیں بلکہ ایک وژنری رہنما بھی ہیں۔ ان کی گفتگو میں تدبر، لب و لہجے میں وقار اور رویے میں شائستگی نمایاں ہوتی ہے، ان کے کام کا انداز جدید سفارتی اصولوں سے ہم آہنگ اور قومی مفاد پر مرکوز ہوتا ہے، وہ نئی نسل کے لیے ایک رول ماڈل کی حیثیت رکھتی ہیں، خصوصاً ان خواتین کے لیے جو سیاست اور سفارت جیسے شعبوں میں اپنا نام روشن کرنا چاہتی ہیں،سحر کامران پاکستان کی سیاسی و سفارتی تاریخ کا ایک روشن باب ہیں۔ ان کی انتھک محنت، حب الوطنی، اور پیپلز پارٹی کے منشور سے والہانہ وابستگی انہیں دیگر سیاستدانوں سے ممتاز کرتی ہے۔ وہ آج بھی سیاسی و سفارتی حلقوں میں ایک فعال، باشعور اور بااثر شخصیت کے طور پر جانی جاتی ہیں۔ پاکستان کو ایسے ہی باوقار اور نظریاتی سیاستدانوں کی ضرورت ہے جو قومی مفاد کو ہر چیز پر مقدم رکھیں۔

  • بھارت کی پاکستان مخالف معاشی سازشیں بے نقاب

    بھارت کی پاکستان مخالف معاشی سازشیں بے نقاب

    بھارت کی پاکستان مخالف معاشی سازشیں بے نقاب
    تحریر: سیدریاض جاذب
    بھارت کی پاکستان مخالف معاشی سازشیں جو FATF، ورلڈ بینک اور IMF میں پاکستان کے خلاف مہمیں بے نقاب ہوگئیں۔ پاکستان کی اقتصادی بحالی اور ترقی ایک عرصے سے دشمن عناصر کو کھٹک رہی ہے، خصوصاً بھارت کو، جو خطے میں اپنی بالادستی کے خواب کو پورا کرنے کی خاطر پاکستان کے خلاف ہر سطح پر سازشوں میں مصروف ہے۔ حالیہ دنوں میں ایک بار پھر بھارت کی ایسی کوششیں عالمی منظرنامے پر بے نقاب ہوئی ہیں، جن کا مقصد پاکستان کو عالمی سطح پر معاشی طور پر کمزور کرنا اور ترقی کی راہ میں رکاوٹ ڈالنا ہے۔

    بھارت کی جانب سے ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں پاکستان کی دوبارہ شمولیت کی کوششیں بے کار گئیں۔ سفارتی ذرائع اور بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (FATF) کو ایک بے بنیاد اور من گھڑت ڈوزیئر پیش کیا ہے، جس میں پاکستان پر دہشت گردی کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ کے الزامات لگائے گئے ہیں۔ بھارتی حکام کا دعویٰ ہے کہ پاکستان FATF کی تمام سفارشات پر عملدرآمد میں ناکام رہا ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان نے گزشتہ چند سالوں میں اس سلسلے میں غیر معمولی اقدامات کیے ہیں۔

    بھارت کا مقصد واضح ہے کہ پاکستان کو دوبارہ FATF کی گرے لسٹ میں شامل کروا کر اسے عالمی مالیاتی اداروں کے دباؤ میں لانا اور غیر یقینی صورتحال پیدا کرنا تاکہ ترقیاتی عمل متاثر ہو۔ تاہم عالمی مبصرین اس ڈوزیئر کو سیاسی مقاصد پر مبنی اور تعصب سے بھرپور قرار دے رہے ہیں۔

    بھارت کی سازشیں صرف FATF تک محدود نہیں رہیں۔ اطلاعات کے مطابق بھارت نے ورلڈ بینک کی جانب سے پاکستان کے لیے منظور کردہ 20 ارب ڈالر کے ترقیاتی منصوبوں کی شدید مخالفت کی۔ اس مخالفت کے پیچھے بھارت کا وہی پرانا بیانیہ ہے کہ پاکستان مبینہ طور پر غیر ترقیاتی مقاصد کے لیے فنڈز کا استعمال کرتا رہا ہے، حالانکہ اس کا کوئی مصدقہ ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت کی ان حرکتوں کا مقصد پاکستان کی اقتصادی بحالی کو روکنا اور عالمی سطح پر اس کی ساکھ کو خراب کرنا ہے تاکہ بین الاقوامی سرمایہ کار اور مالیاتی ادارے پاکستان سے دور رہیں۔

    بھارت نے آئی ایم ایف پروگرام میں مداخلت کی ناکام کوشش کی ہے۔ بھارت نے حالیہ دنوں میں پاکستان کے آئی ایم ایف (IMF) کے ساتھ جاری مالیاتی مذاکرات پر بھی اثرانداز ہونے کی کوشش کی، تاکہ پاکستان کے لیے طے پانے والے پروگرام کو سبوتاژ کیا جا سکے۔ تاہم عالمی مالیاتی ادارے نے بھارت کے غیر متعلقہ اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ جاری معاہدے کو برقرار رکھا، جو پاکستان کی معاشی شفافیت اور اصلاحاتی عمل پر بین الاقوامی اعتماد کا ثبوت ہے۔

    پاکستانی حکام نے بھارت کے ان بے بنیاد الزامات کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے عالمی برادری کو خبردار کیا ہے کہ بھارت خطے میں امن اور ترقی کو نقصان پہنچانے کے لیے مسلسل جھوٹے پروپیگنڈے میں مصروف ہے۔ پاکستان کی جانب سے FATF کی تمام سفارشات پر مؤثر عملدرآمد، مالیاتی شفافیت اور بین الاقوامی ضوابط کی پاسداری کو سراہا جانا چاہیے نہ کہ سازشوں کی بھینٹ چڑھایا جائے۔

    سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ بھارت کی ان کوششوں کا مقصد صرف پاکستان کو معاشی طور پر نقصان پہنچانا ہی نہیں بلکہ جنوبی ایشیاء میں اپنی غیر فطری بالادستی قائم رکھنا بھی ہے۔ اگر ان سازشوں کو روکا نہ گیا تو یہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔

    بھارت کی جانب سے FATF، ورلڈ بینک اور IMF جیسے بین الاقوامی اداروں کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی یہ مذموم کوششیں بین الاقوامی برادری کے لیے لمحہ فکریہ ہیں۔ اب وقت آ چکا ہے کہ دنیا بھارت کے دوہرے معیار اور سازشی کردار کا ادراک کرے اور پاکستان کے مثبت، شفاف اور ترقی پسند اقدامات کو سراہتے ہوئے خطے میں امن و ترقی کے سفر کو یقینی بنائے۔

    یہاں یہ بات لائق تحسین اور اطمینان بخش ہے کہ بھارت کے منفی پراپیگنڈے کے مقابلے میں پاکستان نے مؤثر جواب اور حکمت عملی اپنائی جس سے پاکستان کا کردار واضح اور روشن علامت کے طور پر ابھرا اور بھارت کو ایک بار پھر ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

  • اخوت کا سفر ،تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    اخوت کا سفر ،تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    ،، اخوت کا سفر ،، ڈاکٹر امجد ثاقب صاحب کی بہترین کتاب ہے جو فاؤنٹین ہاوس کے سمینار ہال میں منعقدہ نویں اہل قلم کانفرنس کے موقع پر اہل قلم کو تحفتا پیش کی گئی ادبی چاشنی سے بھر پور یہ بہت معلوماتی کتاب ہے سر ورق پر لکھا ہے ،، قرض حسنہ کے سب سے بڑے پروگرام ،، اخوت ،، کی کہانی ،،

    اس کتاب میں نامور شخصیات مثلا مجیب الرحمٰن شامی ، شعیب بن عزیز ، ڈاکٹر سعادت سعید ، اور عطا الحق قاسمی کی آراء شامل ہیں، یہ محترم امجد صاحب کے پر خلوص سفر اور جدوجہد کی کہانی ہے دس ہزار کے قرض سے شروع ہونے والا سفر آج کامیابیوں سے ہمکنار ہے اخوت یونیورسٹی آج محترم امجد صاحب کی ذات کی طرح ہی امید کی کرن ہے روشنیوں کا مینارہ ہے

    ڈاکٹر امجد صاحب نے امریکہ میں ہارورڈ یونیورسٹی کے لا اسکول میں ان کی دعوت پر خطاب کیا اور ہارورڈ کینڈی اسکول کی بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کی اس کتاب میں اس کی رو داد موجود ہے ، امجد صاحب کے خلوص اور کامیابیوں کا سفر طویل اور جدوجہد سے بھر پور ہے ان کو ہزاروں خاندانوں کی دعائیں حاصل ہیں انشاءاللہ انہیں نوبل پرائز ملے گا جو نہ صرف ان کے کاز بلکہ پاکستان کے لیے اعزاز ہوگا –

  • قرۃالعین شعیب،اردو زبان و ادب کی ترویج میں پیش پیش، تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    قرۃالعین شعیب،اردو زبان و ادب کی ترویج میں پیش پیش، تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    قرۃالعین شعیب آرگنائزر نیشنل ڈویلپمنٹ کنسلٹنٹ ہیں اور ان کے شوہر شعیب منہاج ایجوکیشن سوسائٹی کے ڈائریکٹر آپریشنز ہیں دونوں اپنی قومی زبان اردو سے محبت کرتے ہیں اور اس زبان و ادب کی ترویج کے لیے کوشاں ہیں. قرۃالعین العین اردو ورثہ کے نام سے ویب سائٹ بھی چلا رہی ہیں گزشتہ ہفتے انہوں نے ایک میٹنگ رکھی تاکہ زبان و ادب کے حوالے سے اہل قلم سے مشاورت کی جائے اور ادب کی مختلف اصناف پر بات کی جائے اور اردو ورثہ کے لیے معیاری تخلیقات پر کام کیا جائے

    اس پروگرام میں کنول بہزاد ، فرح خان ، رابعہ نعمان ، دعا عظیمی ، ظفر ، سرفراز احمد ، راحت فاطمہ اور بصیرت نے شرکت کی بہت عمدہ گفتگو ہوئی شعر وادب علم عروض اور مختلف موضوعات پر سب نے اظہار خیال کیا تجاویز بھی دیں محفل میں شریک شاعر احتشام حسن صاحب نے اپنی نظم نوسٹلجیا بھی سنائی یہ نشست جوہر ٹاؤن میں کیپسن سی میں منعقد کی گئی، قرۃالعین العین اور ان کی ٹیم کے لیے نیک خواہشات، اللہ تعالٰی کامیاب فرمائے آمین

  • ملتانی مٹی یا سلیمانی مٹی، حقیقت کیا ہے؟

    ملتانی مٹی یا سلیمانی مٹی، حقیقت کیا ہے؟

    ملتانی مٹی یا سلیمانی مٹی، حقیقت کیا ہے؟
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    ملتانی مٹی , ایک ایسا نام جو برصغیر کی دیسی جمالیات، روایتی طب، اور گھریلو بیوٹی ٹوٹکوں میں برسوں سے گونجتا آ رہا ہے۔ اس مٹی کی شہرت صرف جنوبی ایشیا تک محدود نہیں، بلکہ عالمی سطح پر اسے Fuller’s Earth کے نام سے پہچانا جاتا ہے اور پاکستانی ملتانی مٹی کو خالص اور مؤثر قدرتی علاج تصور کیا جاتا ہے۔ لیکن کیا ہم نے کبھی یہ سوچا کہ جس مٹی کو ہم برسوں سے ملتانی مٹی کہتے آ رہے ہیں، وہ دراصل ملتان کی زمین سے ہے بھی یا نہیں؟ کیا یہ نام اس مٹی کی جغرافیائی اور ارضیاتی حقیقت سے میل کھاتا ہے؟ ہم جاننے کی کوشش کریں گے کہ یہ مٹی کہاں سے نکلتی ہے، اس کی اصل کیا ہے اور اسے ملتانی کہنے کی بنیاد کس تجارتی روایت میں پیوست ہے۔ اس تحقیق کا حاصل صرف ایک نام کی درستگی نہیں بلکہ اپنے وسائل، زمین اور ثقافتی ورثے سے تعلق کا شعوری احیاء ہے۔

    ملتانی مٹی حسن و زیبائش کے شوقین افراد کے لیے ایک مانوس نام ہے جو صدیوں سےنہ صرف خوبصورتی کا راز رہی بلکہ ایک جذباتی ورثہ بھی ہے۔ یہ مٹی جو چہرے کی صفائی، جلدی بیماریوں کے علاج اور خوبصورتی بڑھانے کے لیے نسل در نسل استعمال ہوتی آ رہی ہے، ایک دلچسپ تضاد رکھتی ہے۔ اسے "ملتانی” کہا جاتا ہے .جیولوجیکل سروے آف پاکستان، 2017–2020کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ یہ ملتان کی زمین سے کبھی نکالی ہی نہیں گئی۔ اس کا اصل گھر کوہِ سلیمان کے پہاڑی سلسلے اور سندھ کے معدنی ذخائر ہیں جو معدنیات سے مالامال ہیں . یہ ایک تاریخی غلط فہمی یا یوں کہیں کہ ایک تجارتی لیبل کا نتیجہ ہے جو آج تک عوامی شعور میں رچ بس گیا ہے۔

    یہ مٹی بنیادی طور پر ڈیرہ غازی خان کے مغرب میں واقع کوہِ سلیمان سے حاصل کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ Sindh Mineral Resources Department, 2020 کے مطابق سندھ کے علاقوں جیسے جامشورو، دادو، خیرپور اور تھرپارکر میں بھی اسی قسم کی مٹی کے ذخائر موجود ہیں.کاسمیٹک سائنس جرنل یوکے 2021کی ایک رپورٹ کے مطابق اس مٹی میں کیلشیم بینٹونائٹ، سلکا، میگنیشیم، آئرن آکسائیڈز اور ایلومینا جیسے عناصر پائے جاتے ہیں جو جلد کے مردہ خلیوں کو صاف کرنے، مہاسوں کو ختم کرنے اور سوزش کم کرنے میں موثر ہیں . اس کی خاکی، زرد یا ہلکی سرخی مائل ساخت، ٹھنڈک اور جاذبیت کی صلاحیت اسے منفرد بناتی ہے۔پاکستان منرل ڈویلپمنٹ کارپوریشن 2019 کا ایک رپورٹ میں کہنا ہے کہ یہ مٹی چھوٹے پیمانے پر کان کنی کے ذریعے نکالی جاتی ہے اور پھر صاف کر کے ملک بھر کے شہروں، بیوٹی سیلونز، حکیموں اور طب یونانی کے ماہرین کو فراہم کی جاتی ہے ، اسے چہرے کے ماسک، بال دھونے، روایتی ابٹن، اور جلد کو ٹھنڈک دینے والی کریموں میں استعمال کیا جاتا ہے۔

    سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ مٹی ملتان سے نہیں آتی تو اسے "ملتانی” کیوں کہا جاتا ہے؟ اس کا جواب برطانوی دور کی تجارت میں ملتا ہے۔پنجاب آرکائیوز1902 کی رپورٹ کے مطابق ملتان اس وقت جنوبی پنجاب اور شمالی سندھ کا اہم تجارتی مرکز تھا۔ کوہِ سلیمان اور سندھ سے نکالی گئی مٹی اونٹوں، بیل گاڑیوں اور بعد میں ریل گاڑیوں کے ذریعے ملتان کی منڈیوں تک لائی جاتی تھی۔ وہاں سے یہ پیک ہو کر دہلی، بمبئی، کلکتہ، لکھنؤ اور مدراس جیسے شہروں کو برآمد کی جاتی تھی، چونکہ ملتان اس تجارت کا مرکز تھا، اس مٹی کو "ملتانی مٹی” کا نام مل گیا حالانکہ اس کا ارضیاتی تعلق ملتان سے کبھی نہیں رہا۔کیمبرج ساؤتھ ایشین ہسٹوریکل جرنل 2016 میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق یہ ایک ایسی تاریخی غلط فہمی ہے جو آج بھی زندہ ہے لیکن یہ ہمیں تجارت اور انسانی رابطوں کی طاقت کو بھی دکھاتی ہے کہ کس طرح ایک نام جغرافیائی حقیقت پر حاوی ہو جاتا ہے .

    پنجاب یونیورسٹی 2021 کے مطابق ملتانی مٹی صرف ایک کاسمیٹک پروڈکٹ نہیں بلکہ یہ ایک جذباتی رشتہ ہے جو نسلوں سے چلا آ رہا ہے۔ جنوبی ایشیا کی خواتین اسے نہ صرف خوبصورتی بڑھانے بلکہ خود سے محبت اور اپنی دیکھ بھال کے عمل کے طور پر استعمال کرتی ہیں۔ ماں اپنی بیٹی کو اس مٹی کا استعمال سکھاتی ہے اور یہ عمل ایک روایت بن جاتا ہے جو گھر کی خواتین کو آپس میں جوڑتا ہے۔ جب یہ مٹی چہرے پر لگائی جاتی ہے تو اس کی ٹھنڈک اور نرمی ایک سکون کا احساس دیتی ہے، جو صرف جلدی فوائد سے کہیں بڑھ کر ہے. نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ 2022 کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ مٹی روایتی طب یونانی، آیورویدک علاج اور حتیٰ کہ دینی تعلیم میں بھی استعمال ہوتی رہی ہے۔ برصغیر میں دینی مدارس اور سکولوں میں تختیوں پر لکھنے کے لیے اس مٹی کا لیپ لگایا جاتا تھا، جو تختی کو ہموار اور دوبارہ استعمال کے قابل بناتی تھی۔ یہ روایت آج بھی سندھ اور جنوبی پنجاب کے بعض علاقوں میں موجود ہے جو اس مٹی کو علمی اور ثقافتی ورثے کا حصہ بناتی ہے

    جدید سائنس نے بھی ملتانی مٹی کی افادیت کو تسلیم کیا ہے۔انٹرنیشنل جرنل آف کلے سائنس 2020 بتایا کی اس میں موجود ایلومینا اور سلکا جلد سے زہریلے مادوں کو نکالنے، اضافی چکنائی جذب کرنے اور جلد کو ٹھنڈک دینے میں مدد دیتے ہیں. اسے عرق گلاب، شہد، ایلوویرا، یا لیموں کے رس کے ساتھ ملا کر استعمال کیا جاتا ہے تاکہ اس کی افادیت بڑھے۔ مثال کے طور پر خشک جلد کے لیے اسے کچے دودھ اور زیتون کے تیل کے ساتھ ملا کر لگایا جا سکتا ہے جبکہ چکنی جلد کے لیے ایلوویرا اور لیموں کا رس شامل کیا جا سکتا ہے۔ جھریوں والی جلد کے لیے انڈے کی سفیدی اور پھٹکری کا پاؤڈر ملا کر ماسک بنایا جا سکتا ہے۔

    عالمی مارکیٹ میں بھی پاکستانی ملتانی مٹی کی مانگ بڑھ رہی ہے۔ پاکستان ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے مطابق 2023 میں اس کی برآمدات میں 18 فیصد اضافہ ہوا جو اس کی بین الاقوامی مقبولیت کو ظاہر کرتا ہے . تاہم مارکیٹ میں کیمیکل ملاوٹ والی مٹی کی موجودگی ایک بڑھتا ہوا مسئلہ ہے، جس سے صارفین کو نقصان کا خطرہ ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ حکومت اس کی اصل کانوں کی حفاظت اور تصدیق شدہ لیبلنگ کو یقینی بنائے۔

    ملتانی مٹی کی کہانی صرف اس کی معدنی ساخت یا خوبصورتی کے فوائد تک محدود نہیں۔ یہ ایک ایسی کہانی ہے جو ہمیں ہماری زمین، تاریخ اور ثقافت سے جوڑتی ہے۔ اس کا نام "ملتانی” ہونا ایک تاریخی مفروضہ ہے لیکن یہ ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ کس طرح تجارت اور انسانی رابطوں نے ہماری شناخت کو تشکیل دیا۔ یہ مٹی ہر اس عورت کے لیے ایک جذباتی تحفہ ہے جو اسے اپنے چہرے پر لگاتی ہے، ہر اس ماں کے لیے جو اپنی بیٹی کو یہ روایت سکھاتی ہے اور ہر اس شخص کے لیے جو اپنی زمین سے لگاؤ محسوس کرتا ہے۔ یہ صرف ایک قدرتی عنصر نہیں بلکہ ہماری ارضیاتی، ثقافتی، تجارتی اور علمی تاریخ کا حصہ ہے۔ اس کی اصل جغرافیائی شناخت کو بحال کرنا ایک علمی فریضہ ہے اور اس کے لیے ہمیں اسے ایک نیا نام دینا چاہیے۔ "سلیمانی مٹی” اس کا بہترین متبادل ہے جو اس کی اصلیت ڈیرہ غازی خان کے کوہِ سلیمان اور سندھ کے معدنی ذخائر کو خراج تحسین پیش کرتا ہے۔

    یہ مٹی صرف جلد صاف کرنے والی خاک نہیں بلکہ ہماری زمین کی وہ معدنی گواہی ہے جو پہاڑوں کے دامن سے اُٹھ کر بازاروں کے جھمیلوں میں اپنی اصل کھو بیٹھی تھی۔ ملتانی مٹی کو سلیمانی مٹی کہنا صرف ایک جغرافیائی اصلاح نہیں بلکہ ایک تہذیبی فخر کی بازیابی ہے۔ اس نام کی درستی ایک تاریخی غلط فہمی کو ختم کر کے ہمیں اپنے اصل ورثے سے جوڑتی ہے، اس سچ سے جو کوہِ سلیمان کے دل میں پوشیدہ ہے اور سندھ کے پہاڑوں کی گواہی دیتا ہے۔ ملتان کا کردار اس میں محض ایک تجارتی مرکز کا تھا اور وقت آ چکا ہے کہ ہم مٹی کو اس کی اصل شناخت لوٹائیں۔ سلیمانی مٹی کا نام اپنانا نہ صرف اس خطے کے وسائل کا اعتراف ہے بلکہ ان پہاڑی باسیوں کی محنت اور شناخت کا احترام بھی ہے جنہوں نے صدیوں سے اس معدنی خزانے کو دنیا تک پہنچایا۔ یہ مٹی ہماری زمین کی خاموش صدا ہے، جو کہتی ہے کہ میرا نام وہی ہو جو کوہِ سلیمان کی چھاتی سے نکلے، نہ کہ وہ جو کسی منڈی کی تجارتی چالاکی نے گھڑ لیا ہو۔

  • دہشت گردی کے خلاف عزمِ راسخ ، تحریر:جان محمد رمضان

    دہشت گردی کے خلاف عزمِ راسخ ، تحریر:جان محمد رمضان

    پاکستان ایک بار پھر دہشت گردی کی نئی لہر کا سامنا کر رہا ہے، تاہم اس بار قوم پہلے سے زیادہ متحد، پُرعزم اور ہوشیار ہے۔ سیاسی و عسکری قیادت کی جانب سے ملک سے دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا جو غیر متزلزل عزم سامنے آیا ہے، وہ نہ صرف قابلِ تحسین ہے بلکہ یہ قومی سلامتی کی ضمانت بھی ہے۔ پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں اپنی قیادت کے ساتھ کھڑی ہے اور دہشت گردوں کو اُن کے انجام تک پہنچانے کے لیے ہر ممکن کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔

    بلوچستان کے علاقے خضدار میں ایک افسوسناک واقعے میں اسکول کے معصوم بچوں کو نشانہ بنایا گیا۔اس حملے میں‌ترجمان پاک فوج واضح کر چکے ہیں کہ بھارت ملوث ہے یہ حملہ صرف ایک سکول پر نہیں بلکہ انسانی اقدار، معصومیت اور تعلیم پر حملہ تھا۔ ایسے سفاک درندے کسی بھی قسم کی رعایت کے مستحق نہیں ہو سکتے۔ قوم کا مطالبہ ہے کہ ان عناصر کو نشانِ عبرت بنایا جائے تاکہ آئندہ کوئی بھی دہشت گرد اس قسم کی شرانگیزی یا بربریت کی جرأت نہ کر سکے۔ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں اپنی بربریت اور جارحیت کو چھپانے کے لیے پاکستان میں بالخصوص بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں دہشت گردی کو ہوا دینا ایک کھلی حقیقت بنتی جا رہی ہے۔ بھارت نہ صرف پاکستان میں بدامنی پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے بلکہ بین الاقوامی توجہ کو مقبوضہ کشمیر کی اصل صورتحال سے ہٹانے کی کوشش میں مصروف ہے۔لیکن بھارت کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ آج کی پاکستانی سکیورٹی فورسز جدید تربیت، اعلیٰ جذبے اور عوام کی مکمل حمایت کے ساتھ دہشت گردوں کا قلع قمع کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔ دشمن کو ہر محاذ پر منہ کی کھانی پڑے گی۔آپریشن بنیان مرصوص 10 مئی کو افواج پاکستان نے بھارت کومنہ توڑ جواب دیا

    پاکستانی فوج، رینجرز، پولیس اور انٹیلیجنس ادارے دن رات ملک کی حفاظت میں مصروفِ عمل ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہزاروں جانوں کی قربانی دی جا چکی ہے۔ ان شہداء کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔ ہر حملہ ہمارے عزم کو مزید پختہ کرتا ہے اور یہ قوم اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھے گی جب تک آخری دہشت گرد اپنے انجام کو نہ پہنچ جائے۔یہ لمحہ صرف پاکستان کے لیے نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک آزمائش ہے۔ اگر عالمی برادری نے بھارت کی ان گھناؤنی سازشوں کا نوٹس نہ لیا اور خاموش تماشائی بنی رہی تو خطے میں بدامنی کا دائرہ مزید پھیل سکتا ہے۔ اقوامِ متحدہ، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور بڑے ممالک کو پاکستان کے شواہد کا نوٹس لیتے ہوئے بھارت پر دباؤ ڈالنا ہوگا کہ وہ اپنی ریاستی دہشت گردی بند کرے۔پاکستانی قوم کو اس وقت اتحاد، یکجہتی اور قومی جذبے کی پہلے سے زیادہ ضرورت ہے۔ ہمیں ایک آواز ہو کر اپنی قیادت، افواج اور اداروں کا ساتھ دینا ہوگا۔ دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ صرف حکومت یا فوج کی نہیں، بلکہ ہر پاکستانی کی ہے۔ ہم سب کو ایک سپاہی بن کر، قلم سے، زبان سے، اور عمل سے دشمن کے عزائم کو ناکام بنانا ہوگا۔پاکستان ایک زندہ قوم ہے، اور ان شاءاللہ، یہ جنگ ہم جیتیں گے۔

  • ادب اور سیاست، فرق ضروری ہے،تحریر:نورفاطمہ

    ادب اور سیاست، فرق ضروری ہے،تحریر:نورفاطمہ

    ادب ایک لطیف اور روحانی فن ہے جو دلوں پر اثر کرتا ہے، احساسات کو جگاتا ہے اور انسانی ضمیر کو بیدار کرتا ہے۔ ایک ادیب کا تعلق صرف کاغذ اور قلم سے نہیں بلکہ وہ معاشرے کے ضمیر کی آواز ہوتا ہے۔ ادیب اپنے مشاہدات، تجربات، درد، خوشی اور سچائی کو لفظوں کی صورت میں پیش کرتا ہے تاکہ سماج کو ایک بہتر سمت دی جا سکے۔مگر آج کل ایک افسوسناک رجحان سامنے آ رہا ہے کہ ادب کے نام پر تقاریب منعقد کر کے ادیبوں کو سیاسی جماعتوں کے پروگرامز میں بلایا جاتا ہے۔ ان تقریبات کا عنوان تو "ادبی ایوارڈز "کے نام پر رکھا جاتا ہے، مگر اصل مقصد سیاسی تشہیر، سیاسی شخصیات کی مدح سرائی یا مخصوص نظریات کی ترویج ہوتا ہے۔ ایسی محفلیں ادیبوں کے لیے باعث اذیت بن جاتی ہیں کیونکہ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی سیاسی رنگ میں رنگنے پر مجبور ہو جاتے ہیں

    ادیب کا سب سے بڑا وصف اُس کی غیر جانبداری، غیر وابستگی اور فکری آزادی ہے۔ وہ کسی جماعت، مسلک یا مفاد سے بالا ہو کر انسانی اقدار اور سچائی کی بات کرتا ہے۔ وہ نہ کسی لیڈر کی خوشامد کرتا ہے اور نہ کسی سیاسی نعرے کی گونج میں اپنی آواز کھوتا ہے۔ ادیب کا ضمیر اُسے اجازت نہیں دیتا کہ وہ اپنے قلم کو کرائے پر دے یا سچائی کو مصلحت کی نظر کرے۔جب ایسے ادیبوں کو زبردستی سیاسی پلیٹ فارم پر لا کر ادب کا نام استعمال کیا جاتا ہے تو یہ اُن کی شخصیت، وقار اور مقصدِ ادب کی توہین ہوتی ہے۔سیاست، اقتدار کی جنگ ہے۔ اس کا مقصد ہوتا ہے اقتدار کا حصول، اپنی جماعت یا لیڈر کی پروموشن، اور اکثر اوقات اس میں مصلحت، منافقت اور مفاد پرستی شامل ہو جاتی ہے۔ جب کہ ادب کا اصل مقصد شعور بیدار کرنا، فکر پیدا کرنا اور سچائی کو بے باکی سے بیان کرنا ہے۔ادب سیاست کا تابع نہیں ہو سکتا، کیونکہ جب ادب کو سیاست کے تابع کیا جائے تو وہ اپنے اصل مقصد سے ہٹ جاتا ہے اور ایک پروپیگنڈہ کا آلہ بن کر رہ جاتا ہے۔

    سیاستدان وقت کے ساتھ بدلتا ہے، اُس کے بیانیے، وفاداریاں اور نظریات بھی حالات کے مطابق تبدیل ہوتے ہیں۔ مگر ایک سچا ادیب اپنی فکر پر قائم رہتا ہے۔ اس کا قلم وقت کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر سچ لکھتا ہے۔ اُسے کسی وزارت، اعزاز یا شہرت کی تمنا نہیں ہوتی، بلکہ وہ ضمیر کا قیدی ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ نے کئی سیاستدانوں کو بھلا دیا، مگر ادیبوں کے الفاظ آج بھی زندہ ہیں۔اگر کسی سیاسی جماعت کو واقعی ادب سے محبت ہے تو وہ ادب کو اس کے اصل مقام پر رہنے دے۔ ادبی شخصیات کو اس لیے مدعو نہ کیا جائے کہ وہ اسٹیج پر بیٹھ کر لیڈروں کی تعریف کریں، انکے حق میں تحریریں لکھیں ،سوشل میڈیا پر انکے لئے بیانیہ بنائیں بلکہ اُنہیں مکمل آزادی دی جائے کہ وہ سماج، سیاست اور اقتدار کے بارے میں جو چاہیں کہیں۔ادیبوں کو محض اس لیے بلا لینا کہ اُن کے نام سے تقریب کو معتبر بنایا جا سکے، یا اُن کی موجودگی سے سیاسی رنگ کو “ادبی” بنایا جا سکے، نہایت افسوسناک رویہ ہے۔

    ادب کو سیاست سے جدا رکھیے۔ اگر سیاستدانوں کو ادب سے سچی محبت ہے تو وہ ادیبوں کی فکر کو سنیں، اُن کی تنقید کو برداشت کریں اور اُن کے قلم کو آزاد رہنے دیں۔ ورنہ ادب کے نام پر ہونے والی سیاسی محفلیں نہ صرف ادیبوں کے لیے توہین آمیز ہیں بلکہ ادب کی روح کے بھی منافی ہیں،ادیب وہ نہیں جو سیاسی بینر تلے بیٹھ کر تقریریں کرے، ادیب وہ ہے جو بے خوف ہو کر سچ کہے ،چاہے وہ سچ اقتدار کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔

  • ادبی دنیا کا پہلا ایوارڈ.تحریر:کنزہ محمد رفیق

    ادبی دنیا کا پہلا ایوارڈ.تحریر:کنزہ محمد رفیق

    آسمان مہربان ہے یا آسمان والا؟
    بارہ مئی 2025 میری زندگی کا رنگین دن تھا۔ اس دن میں نے ہمت کے، محنت اور جرات کے سب ہی رنگ دیکھے۔ سورج ڈھل چکا تھا، اور چاند اپنی چاندی پھیلائے آسماں پر جگمگا رہا تھا۔ ساتھ دور سے دکھنے والے ننھے منے ستارے دنیا کو روشن کرنے میں اپنا کردار ادا کر رہے تھے۔
    تازہ اور خوش گوار ہوا ہر سوگوار شخص کو ذہنی طور پر ہلکا پھلکا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
    اسی وقت رات میں، مجھے پروگرام میں شرکت کرنے کا ‘دعوت نامہ’ ملا۔
    وہ تقریب نوجوان لکھاریوں کی حوصلہ افزائی کے لیے منعقد کی گئی تھی۔ وہاں انہیں ایوارڈز اور میڈلز سے نوازا جانا تھا۔
    پہلے پہل، میرا دل بلیوں اچھلنے لگا۔ کیوں کہ وہ میرا پہلا ‘ ادبی ایوارڈ ‘ ہوتا۔ مگر تقریب پنجاب کے شہر ‘ لاہور ‘ میں ہونی تھی۔
    لاہور ؟
    لاہور ؟
    لاہور ؟
    یہ اسمِ معرفہ میرے کانوں اور دل کو راس نہ آیا۔ اگلے دن چند آنسو بہہ کر میں نے میسج کیا۔
    ‘ Ma’am! Sorry I can’t come, due to some problem which is undescribable.”
    Thank-you!
    اس دن کے بعد، میں مسکرانا بھول گئی تھی۔ میری خوشیاں کیوں چھین لی جاتی ہیں ؟ کیوں اس دلِ ناشاد کو شاد نہیں رہنے دیا جاتا؟
    میں محنت کرتی جاؤں، اور حاصل کچھ نہیں ؟
    اللّٰہ تعالیٰ مجھ پر مہربان ہیں۔ ہاں مہربان ہیں!
    یہ میں نہیں میرا دل کہتا ہے۔
    ہر بار کی طرح اس دکھ کی گھڑی میں بھی قرآن تھاما۔ وہاں سے جو تسلیاں ملتی ہیں وہ حوصلہ بخش ہوتی ہیں، اور امید افزا ہوتی ہیں۔
    ‘دل کو بارِ دگر مسکرانے کا سندیس ملا.’
    اگرچہ آپ کی زندگی میں مثبت اور تعمیری سوچ والے نفوس موجود ہیں۔ تو آپ خوش قسمت ہیں۔ ان لوگوں کی آپ سے جڑت ہی آپ کی خوش قسمتی کی ‘علت’ ہے۔
    میں جب جب ہمت ہارنے لگوں، زرش میرے حوصلوں کو پست ہونے نہیں دیتیں۔ میں ایک ایورڈ کے ضائع ہو جانے پر آنسو بہا رہی تھی۔ زرش نے اپنے ضائع ہوئے ایواڈز کی تعداد گنوائی۔
    ایک نہیں۔
    دو نہیں۔
    تین نہیں۔
    چار، پانچ ایورڈ ضائع ہوئے۔
    مگر ان کی ہمت اور پیشن آج بھی قائم ہے۔ وہ پچھلے دس گیارہ سالوں سے لکھ رہی ہیں۔
    ادبی دنیا میں جب کبھی مشکل گھڑی آئے، وہ مجھے سمجھاتی ہیں، دل جیت لینے والی دعائیں دیتی ہیں۔ ایسے لوگ سب کی قسمت میں کہاں ہوتے ہیں؟
    ‘ یہ تو ہم جیسے ہوتے ہیں جن کی قسمت میں آپ جیسے ہوتے ہیں۔’
    یہ بات میں نے پہلے بھی لکھی تھی، ہمارے خاندان میں لڑکیوں کی پڑھائی پر خاص توجہ نہیں دی جاتی۔ اور قلم کار ؟
    دور دور تک کوئی نہیں۔
    مجھے اس بات پر فخر ہوتا یے کہ میں پورے خاندان میں سب سے چھوٹی ہوں۔
    میرے بعد کوئی نہیں یے !
    الحمد اللّٰہ! اللّٰہ تعالیٰ نے زرخیز ذہن سے نوازا ہے۔ میں نے سب سے پہلے ‘ڈاکٹر’ بننے کا خواب بُنا تھا۔ جہاں سپورٹ نام کی کوئی چیز نہ ہو وہاں ڈاکٹر نہیں بنا جاتا۔ اس وقت میں چھوٹی تھی خود سے ملاقات نہیں ہوئی تھی۔ خود کو سنبھالنا نہیں سیکھی تھی۔
    پھر میں نے بی اے کرنے کا فیصلہ کیا۔ بی اے کے دوران ایک اور خواب بُن لیا۔ اسسٹنٹ کمشنر بننے کا، مجھے CSS کرنا یے۔
    یہ خواب بھی تکمیل تک نہیں پہنچا، اس میدان میں قدم دھرنے سے پہلے ہی سمجھوتہ کرنا پڑا۔ کیوں کہ میں ‘ لڑکی ‘ ہوں۔
    پھر آنسو صاف کر کے انگلش پڑھنے کا فیصلہ کیا۔ مگر یہاں بھی سمجھوتہ آڑے آیا۔
    روزانہ یونی ورسٹی جانے کی اجازت نہیں تھی۔ کیوں کہ میں ‘لڑکی’ ہوں۔
    اتنے خوابوں کے بکھر جانے کے بعد بھی زندہ ہوں۔ پس یہی میرا حوصلہ ہے۔

    ‘ اپنی ہمت ہے کہ ہم پھر بھی جیے جاتے ہیں ‘
    ایک بار پھر خوب آنسو بہا کر دل کو ہلکا کیا۔ اور آخر کار اُردو ادب کی راہ لی۔ اس میدان میں قدم رکھنے سے پہلے ہی قلم تھام لیا تھا۔ شاید وہ سب میرا نہیں تھا۔
    ‘میرے حصّے اُردو ادب اور قلم آیا ‘
    قلم تھامنے کے بعد مجھے ادبی محافل میں دعوت نامے ملنے لگے۔ ایک بار پھر سمجھوتہ زندگی میں لوٹ آیا۔ کبھی کسی محفل میں شرکت کرنے کی اجازت نہیں ملی۔
    کئی بار ٹوٹ کر بھی خود کو بکھرنے نہیں دیا۔
    کیوں کہ:
    ہزار برق گرے ــــــــــــ لاکھ آندھیاں اٹھیں
    وہ پھول کھل کر رہیں گے جو کھلنے والے ہیں

  • ترمیم شدہ پیکا ایکٹ، کیا پولیس کے اختیارات ختم ہو گئے؟

    ترمیم شدہ پیکا ایکٹ، کیا پولیس کے اختیارات ختم ہو گئے؟

    ترمیم شدہ پیکا ایکٹ، کیا پولیس کے اختیارات ختم ہو گئے؟
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    پاکستان میں سائبر کرائمز سے نمٹنے کے لیے بنایا گیا پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ(پیکا2016 )ڈیجیٹل جرائم جیسے ہیکنگ، ڈیٹا کی چوری، سائبر اسٹاکنگ، آن لائن ہراسانی اور نفرت انگیز تقریر کی روک تھام کے لیے ایک قانونی ڈھانچہ فراہم کرتا ہے۔جیو فیکٹ چیک کے مطابق ابتدائی طور پر اس قانون نے وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (FIA) کو سائبر کرائمز کی تفتیش کا مرکزی ادارہ نامزد کیا تھا جبکہ پولیس کا کردار محدود تھا۔ 2023 کی ترامیم نے پولیس کو ایف آئی آر درج کرنے کی اجازت دی، لیکن تفتیش کے لیے مقدمات ایف آئی اے کو منتقل کیے جاتے تھے، 2025 کی ترامیم نے پولیس کے کردار کو مکمل طور پر ختم کر کے تمام اختیارات ایک نئے ادارے، نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA)، کو منتقل کر دیے ہیں

    پنجاب پولیس نے دعوی کیا کہ جنوری 2025 میں پیکا ایکٹ کی ترامیم کے باوجود، انہیں سائبر کرائمز کے مقدمات درج کرنے اور ان کی تفتیش کا اختیار حاصل ہے۔ انہوں نے قانون کی دفعہ 50A کا حوالہ دیا، جس کے مطابق جب تک NCCIA مکمل طور پر فعال نہیں ہو جاتی، ترمیم سے پہلے موجود تفتیشی ادارہ اپنے فرائض انجام دیتا رہے گا۔ اس دعوے کے تحت لاہور پولیس نے 22 اپریل 2025 کو فیس بک، ایکس اور واٹس ایپ پر "نفرت انگیز تقریر” اور ریاستی عہدیداروں کو بدنام کرنے کے الزامات میں 23 ایف آئی آرز درج کیں۔ تاہم ایک حالیہ جیو فیکٹ چیک رپورٹ اس دعوے کی نفی کرتی ہے۔ ماہرین، ایک سرکاری اہلکاراور عدالتی حکم کے مطابق ترمیم شدہ قانون کے تحت پولیس کے پاس پیکا کے تحت ایف آئی آر درج کرنے کا کوئی قانونی جواز نہیں ہے ۔ 18مئی 2025 کونیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے ڈپٹی ڈائریکٹر محمود الحسن نے واضح کیا کہ پیکا کی دفعہ 30 کے تحت تمام اختیارات NCCIA کو منتقل کر دیے گئے ہیںاور پولیس سے یہ اختیارات واپس لے لیے گئے ہیں۔

    ایک ڈیجیٹل رائٹس ایکسپرٹ نے کہا کہ 2016 میں ایف آئی اے کو واحد تفتیشی ادارہ نامزد کیا گیا تھا اور 2023 کی ترامیم نے پولیس کو صرف ایف آئی آر درج کرنے کی اجازت دی گئی تھی لیکن 2025 کی ترامیم نے پولیس کا کردار مکمل طور پر ختم کر دیا۔ ان کے مطابق پولیس کی جانب سے درج کی گئی کوئی بھی ایف آئی آر اب قانونی حیثیت نہیں رکھتی ۔ سپریم کورٹ کے وکیل صلاح الدین احمد نے کہا کہ دفعہ 50A صرف FIA کے تفتیشی اختیارات کو NCCIA کے قیام تک برقرار رکھتا ہے اور پولیس کا کوئی ذکر نہیں ہے، اس لیے ان کا اختیار خود بخود ختم ہو چکا ہے۔ وکیل اسد جمال نے بھی تصدیق کی کہ صرف NCCIA کو ترمیم شدہ پیکا کے تحت دائرہ اختیار حاصل ہے جبکہ پولیس اور FIA دونوں کو اس سے روک دیا گیا ہے۔

    30 اپریل 2025 کو کراچی کے ضلع ملیر کے سول جج مظہر علی نے ایک مقدمے میں فیصلہ دیا کہ پولیس کو پیکا کے تحت تفتیش کا اختیار نہیں ہے۔ یہ مقدمہ ایک فیس بک صارف کے خلاف درج کیا گیا تھا، جس پر صدرِ پاکستان کے بارے میں توہین آمیز تبصرے کرنے کا الزام تھا۔ جج نے لکھا کہ پیکا کی دفعہ 29 کے تحت صرف NCCIA کو یہ اختیار حاصل ہے اور مقدمہ بعد میں خارج کر دیا گیا۔

    12نومبر2024کی ایکسپریس اردو کے مطابق پیکا ایکٹ کے تحت پولیس کا کردار ہمیشہ سے محدود رہا ہے اور ماہرین نے اس پر تنقید کی کہ پولیس کے پاس سائبر کرائمز کی تفتیش کے لیے نہ تو مناسب تربیت تھی اور نہ ہی تکنیکی صلاحیت ۔21جنوری 2022کی ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق ایف آئی اے اور پولیس کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے خواتین درخواست گزاروں کو آن لائن ہراسانی کے مقدمات میں انصاف نہیں مل سکا ۔ مزید برآں 3مئی 2024کی بی بی سی اردو کی رپورٹ کے مطابق پولیس کی جانب سے پیکا ایکٹ کا غلط استعمال بھی رپورٹ ہوا، جیسے کہ سیاسی مخالفین کو ہدف بنانے کے لیے مقدمات درج کرنا شامل ہیں۔

    15دسمبر2024کو ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق 4اپریل 2025 کو وفاقی حکومت نے NCCIA کی باضابطہ تشکیل کی اور اس کے ڈائریکٹر جنرل کو بھی تعینات کیا۔ اس نئے ادارے کا مقصد سائبر کرائمز کی تفتیش کو زیادہ موثر اور پیشہ ورانہ بنانا ہے۔ NCCIA کو جدید ٹیکنالوجی اور تربیت یافتہ اہلکاروں کے ساتھ لیس کیا گیا ہے تاکہ ڈیجیٹل جرائم، جیسے کہ فشنگ، ڈیپ فیک، اور آن لائن فراڈ، سے نمٹا جا سکے۔ تاہم ڈان نیوز کی ایک اور رپورٹ جو 25جنوری2025کو شائع ہوئی کہ NCCIA کے قیام نے کئی سوالات اٹھائے ہیں۔ ڈیجیٹل رائٹس ایکٹیوسٹس کا خیال ہے کہ اس نئے ادارے کے ذریعے حکومت سوشل میڈیا پر کنٹرول بڑھانا چاہتی ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے خبردار کیا ہے کہ پیکا ترمیمی بل 2025 ڈیجیٹل منظرنامے پر حکومتی گرفت کو مزید مضبوط کر سکتا ہے۔

    2025 کی ترامیم کے بعد پیکا ایکٹ کے تحت پولیس کا کوئی قانونی کردار باقی نہیں رہا۔ تمام اختیارات NCCIA کو منتقل کر دیے گئے ہیں اور پولیس کی جانب سے درج کی گئی ایف آئی آرز قانونی جواز سے محروم ہیں۔ ماہرین اور عدالتی فیصلے اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ پولیس کو اب نہ تو مقدمات درج کرنے اور نہ ہی تفتیش کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ یہ تبدیلی عوام کے لیے الجھن کا باعث بن سکتی ہے، کیونکہ سائبر کرائمز کی شکایات کے لیے اب NCCIA سے رجوع کرنا ہوگا۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس نئے ادارے کی صلاحیت کو مضبوط کرے اور عوام میں اس کے کردار کے بارے میں آگاہی پیدا کرے تاکہ سائبر کرائمز کے متاثرین کو فوری اور موثر انصاف مل سکے۔