Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ریاستیں اپنے شہریوں ہی کی بدولت قائم رہتی ہیں

    ریاستیں اپنے شہریوں ہی کی بدولت قائم رہتی ہیں

    ریاستیں اپنے شہریوں ہی کی بدولت قائم رہتی ہیں
    افغانستان میں اماراتِ اسلامی کی حکومت افغان مہاجرین کی دوبارہ آباد کاری کر کے ہی دنیا میں نام کما سکتی ہے

    نصیب شاہ شینواری
    افغانستان کی پچھلی چار دہائیوں کی تاریخ جنگ و جدل اور امن و امان کی مخدوش صورتِ حال سے دوچار رہی ہے۔ سال 1979 میں جب روس نے افغانستان پر قبضہ کرنے کی ٹھان لی تو افغانستان سے لاکھوں کی تعداد میں افغان شہری مہاجرین بن کر ہمسایہ ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔

    1980 کی دہائی کے اوائل میں پاکستان میں پناہ لینے والے افغان مہاجرین کی تعداد تقریباً 30 لاکھ تھی جبکہ 1980 کے آخر تک یہ تعداد 35 لاکھ سے تجاوز کر گئی۔ 1990 کی دہائی میں کچھ افغان مہاجرین روس کے انخلا کے بعد واپس افغانستان چلے گئے لیکن 1995 کے دوران طالبان کی حکومت آنے کے بعد ایک دفعہ پھر افغانستان سے بڑی تعداد میں ہجرت ہوئی۔ اسی طرح سال 2001 میں افغانستان پر امریکی قیادت میں نیٹو فورسز کے حملے کے بعد افغان مہاجرین کی ایک اور بڑی ہجرت واقع ہوئی اور لاکھوں کی تعداد میں افغان مہاجرین پاکستان آئے۔ پاکستان نے مہاجرین کو پناہ گزین کیمپوں میں جگہ دی جبکہ کئی شہروں میں بھی افغان برادریاں آباد ہو گئیں خاص طور پر خیبر پختونخوا، بلوچستان اور کراچی میں۔

    تاریخ کے اوراق پر نظر ڈالیں تو پاکستان وہ واحد مسلم ہمسایہ ملک تھا جس نے افغان شہریوں کے لیے پاک افغان بارڈر کھلا رکھا اور افغان مہاجرین بغیر کسی رکاوٹ کے پاکستان ہجرت کر کے پاکستان آگئے۔ پاکستان نے ایک اسلامی ملک ہونے کے ناطے افغان مہاجرین کو خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں کیمپوں میں پناہ دی۔ پاکستان وہ واحد اسلامی ملک تھا جہاں افغان مہاجرین کو کیمپوں سے باہر کاروبار کرنے اور تعلیم حاصل کرنے کی آزادی تھی۔ اسی کاروباری اور تعلیمی آزادی کی وجہ سے آج افغان مہاجرین بڑی بڑی کمپنیوں اور کاروباروں کے مالک ہیں اور وہ اب بھی پاکستان میں آزادانہ طور پر کاروبار کر رہے ہیں۔

    یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان میں افغان مہاجرین نے اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے اپنے ہی ملک کی ترقی و خوشحالی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ افغانستان کی تقریباً ہر وزارت اور دیگر حکومتی اداروں میں کام کرنے والے وہ لوگ ہیں جنہوں نے پاکستان میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور اب بھی وہ افغانستان کی حکومت اور عوام کی ترقی کے لیے اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ جب کبھی پاکستان کی حکومت کسی ناگزیر وجوہات کی بنا پر افغان مہاجرین کو عزت کے ساتھ واپس اپنے ملک بھیجنا چاہتی ہے تو یہی افغان مہاجرین جنہوں نے یہاں پاکستان میں تعلیم حاصل کی اور کاروبار کیا اسی پاکستان کے خلاف ایسے الفاظ استعمال کرتے ہیں جن سے نفرت اور تعصب کی بو آتی ہے۔

    اگر دنیا کے دیگر ممالک جیسے امریکا اور یورپی ممالک کی مہاجرین کے حوالے سے پالیسیوں پر نظر ڈالی جائے تو آئے روز امریکا جیسا ترقی یافتہ اور خوشحال ملک بھی مہاجرین اور تارکینِ وطن کے حوالے سے سخت پالیسیاں نافذ کرتے ہیں۔ ایسے میں اگر پاکستان جیسا ترقی پذیر ملک افغان مہاجرین کے حوالے سے وطن واپسی کی پالیسی کا اعلان کرتا ہے تو پھر انگلی صرف پاکستان کی طرف اٹھائی جاتی ہے حالانکہ ہر ملک کی داخلہ و خارجہ پالیسی آزاد ہوتی ہے اور ہر ریاست اپنے ملک و عوام کی بقا کے لیے پالیسیاں وضع کرتا اور ان پالیسیوں کو نافذ بھی کیاجاتا ہے۔

    یہاں ایک اہم نقطہ کی طرف اشارہ ضروری ہے کہ کسی بھی ریاست کے لیے آبادی یعنی شہری ایک لازمی جزو ہیں اور ریاستوں کا شہریوں کے بغیر وجود ناممکن ہے۔ ایسے میں جب افغان شہری پاکستان سے واپس اپنے ملک جاتے ہیں تو ذمہ داری افغانستان کی حکومت پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے شہریوں کی دوبارہ آباد کاری کے لیے ایمرجنسی بنیادوں پر کام کرے۔ افغانستان کی حکومت کو چاہیے کہ پاکستان سے افغان مہاجرین کی واپسی کے فیصلے کو دل و جان سے قبول کرے اور اس کی تعریف کرے کیونکہ انہی افغان شہریوں کی وجہ سے افغانستان ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔ جس ملک میں شہری آباد نہ ہوں وہاں حکومت اور ریاست کا نام بے معنی رہ جاتا ہے۔

    افغانستان کے لیے ایک اہم قدم یہ بھی اٹھانا ہوگا کہ وہ امریکا اور دیگر ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات استوار کر کے افغان شہریوں کو اپنے ہی ملک میں دوبارہ آباد کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے۔

  • زندگی کے دو دن…تحریر:نور فاطمہ

    زندگی کے دو دن…تحریر:نور فاطمہ

    زندگی ایک مسلسل امتحان ہے، جہاں خوشیاں اور غم، کامیابیاں اور ناکامیاں، دونوں کا ایک اہم کردار ہوتا ہے۔ یہ ایک ایسا راستہ ہے جو ہر انسان کو مختلف مراحل سے گزار کر ایک خاص مقصد تک پہنچاتا ہے۔ زندگی کے بارے میں ایک حقیقت یہ ہے کہ یہ دو دنوں پر مشتمل ہوتی ہے، ایک آپ کے حق میں ہوتا ہے اور دوسرا آپ کے خلاف۔

    یہ وہ دن ہوتا ہے جب سب کچھ اچھا چل رہا ہوتا ہے۔ آپ کی دعائیں قبول ہو رہی ہوتی ہیں، ہر کام آسان لگ رہا ہوتا ہے اور دنیا کی تمام خوشیاں آپ کے قدم چوم رہی ہوتی ہیں۔ ایسے دنوں میں انسان کو خوشی ملتی ہے اور وہ ہر لمحہ کا لطف اٹھاتا ہے۔ لیکن یہاں ایک بہت ضروری بات یہ ہے کہ انسان کو کبھی بھی اپنے کامیاب دنوں پر غرور نہیں کرنا چاہیے۔جب آپ کے حق میں سب کچھ ہو رہا ہو، تو آپ کو اپنے رب کا شکر گزار رہنا چاہیے اور اپنی خوشیوں میں دوسروں کو بھی شریک کرنا چاہیے۔ غرور انسان کو زمین پر لا کر اس کی حقیقت دکھا دیتا ہے۔ کامیاب دنوں میں بھی انسان کو ہمیشہ عاجزی اور انکساری اختیار کرنی چاہیے، کیونکہ اللہ کی رضا اور رحمت کے بغیر کچھ بھی ممکن نہیں ہوتا۔

    یہ وہ دن ہوتا ہے جب آپ کو زندگی کی تلخ حقیقتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ آپ کی محنت ضائع ہو جاتی ہے، حالات آپ کے خلاف ہو جاتے ہیں اور آپ کو شکست کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے دنوں میں انسان کو غم، مایوسی اور افسوس کا سامنا ہوتا ہے۔ لیکن یہی وہ وقت ہوتا ہے جب انسان کو صبر کی ضرورت ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں بتاتا ہے کہ جب آپ کے خلاف حالات ہوں، تو ان پر صبر کرو۔ یہ دن بھی ایک امتحان ہوتا ہے۔ اللہ کا حکم ہے کہ ہم جو بھی حالات میں ہوں، اس پر صبر کریں کیونکہ یہ ہمارے ایمان اور قوت کا امتحان ہوتا ہے۔ جو دن آپ کے خلاف ہوں، وہ بھی اللہ کی طرف سے آزمائش ہیں، اور ان سے نکل کر ہی انسان کا کردار مضبوط ہوتا ہے۔

    شیطان انسان کو ہر لمحہ گمراہی کی طرف لے جانے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کا پہلا حملہ انسان کی زبان پر ہوتا ہے۔ وہ انسان کو اللہ کے ذکر سے دور رکھنے کی کوشش کرتا ہے، کیونکہ جب انسان اللہ کا ذکر کرتا ہے، تو اس کی روح سکون پاتی ہے اور وہ دنیا کی پریشانیوں سے آزاد ہو جاتا ہے۔ اگر انسان اپنی زبان پر اللہ کا ذکر جاری رکھے، تو شیطان اسے اپنے جال میں نہیں پھانس سکتا۔جب انسان اللہ کے ذکر سے دور ہو جاتا ہے، تو اس کا دل اور دماغ پریشان ہو جاتے ہیں، اور پھر جسمانی طور پر بھی انسان کی حالت خراب ہو جاتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ہر حال میں اللہ کے ذکر کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں، کیونکہ یہی ہمارے دل کی سکونت اور شیطان کی شکست کا ذریعہ ہے۔

    زندگی کے دونوں دنوں میں ہمیں توازن قائم رکھنا چاہیے۔ جب ہم خوش ہوں تو غرور سے بچنا چاہیے اور اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے، اور جب حالات ہمارے خلاف ہوں تو صبر کرنا چاہیے اور اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔ شیطان کی کوششوں سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم ہمیشہ اللہ کے ذکر میں مشغول رہیں، کیونکہ ذکر اللہ کے ذریعے انسان کا دل سکون پاتا ہے اور شیطان کی تمام رکاوٹیں دور ہو جاتی ہیں۔یاد رکھیں کہ زندگی کا مقصد صرف کامیابی یا خوشی حاصل کرنا نہیں ہے، بلکہ یہ ایک مسلسل سفر ہے جس میں انسان کی شخصیت اور ایمان کی آزمائش ہوتی ہے۔ ہر دن ایک نیا امتحان ہوتا ہے، اور ہمیں ان امتحانوں کا صبر اور شکر کے ساتھ سامنا کرنا چاہیے۔

  • ٹرمپ، امریکیوں اور دنیا کے لیے ایک بڑا خطرہ

    ٹرمپ، امریکیوں اور دنیا کے لیے ایک بڑا خطرہ

    ٹرمپ، امریکیوں اور دنیا کے لیے ایک بڑا خطرہ
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفیٰ بڈانی
    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں نے نہ صرف دنیا کو خطرے میں ڈال دیا ہے بلکہ خود امریکہ کے اندر خوف، نفرت اور تقسیم کی ایسی فضا پیدا کر دی ہے جو جمہوری روایات اور انسانی حقوق کے لیے مسلسل خطرہ بن چکی ہے۔ بین الاقوامی طلبا کے ویزے منسوخ ہوں یا مشرق وسطیٰ میں کشیدگی، عالمی معیشت ہو یا داخلی سیاست، ٹرمپ کا ہر قدم دنیا کے امن، استحکام اور انسانیت کے خلاف ایک چیلنج بنتا جا رہا ہے۔

    امریکہ کی کئی یونیورسٹیوں کے تقریباً 450 بین الاقوامی طلبا کے ویزے غیر متوقع طور پر اچانک منسوخ کر دیے گئے ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ان طلبہ میں پاکستانی اور دیگر مسلم ممالک کے طلبا بھی شامل ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ ان طلبا کے ویزے بغیر کسی پیشگی اطلاع یا قانونی کارروائی کے منسوخ کیے گئے۔ یونیورسٹی انتظامیہ اور تعلیمی حلقے اس عمل پر سخت تشویش کا شکار ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ حکومت خاموشی سے یہ اقدامات کر رہی ہے۔ امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ویزا منسوخی کی ایک بڑی وجہ ان طلبا کا فلسطینیوں کے حق میں ہونے والے مظاہروں میں شرکت بتائی جا رہی ہے۔ مگر حیرت انگیز طور پر ایسے طلبا کے ویزے بھی منسوخ کیے گئے ہیں جنہوں نے کسی مظاہرے میں شرکت ہی نہیں کی۔ ان اقدامات کا دائرہ ہارورڈ، اسٹینفورڈ، یو سی ایل اے اور یونیورسٹی آف مشیگن جیسے بڑے تعلیمی اداروں تک پھیل چکا ہے۔

    ہارورڈ، اسٹینفورڈ، یو سی ایل اے اور یونیورسٹی آف مشیگن جیسے عالمی شہرت یافتہ اداروں کے طلبا کو اس غیرمعمولی صورتحال کا سامنا کرنا پڑرہا ہے جو ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں کے نئے رخ کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ واقعہ ٹرمپ کی امیگریشن اور بین الاقوامی پالیسی کے اس رخ کی علامت ہے جس نے نہ صرف غیر ملکی طلبا بلکہ پوری دنیا کے امریکہ سے وابستہ خواب دیکھنے والوں کو مایوسی کی طرف دھکیل دیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدت صدارت اپنی پہلی مدت ہی کی طرح سخت گیر، متنازعہ اور دنیا بھر کے لیے خدشات سے بھرپور نظر آتی ہے۔ ان کی’امریکہ فرسٹ؛ پالیسی نے بین الاقوامی تعاون، عالمی اداروں کے احترام اور انسانیت کے مشترکہ مفادات کو بار بار نقصان پہنچایا ہے۔

    گارڈین جیسے معتبر اداروں کی رپورٹس اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ پیرس معاہدے سے امریکہ کی دستبرداری اور عالمی ادارہ صحت (WHO) پر بے جا تنقید نے موسمیاتی تبدیلی اور صحت عامہ جیسے عالمی مسائل کے حل کو پیچھے دھکیل دیا۔ اس روش نے نہ صرف امریکہ کے عالمی کردار کو کمزور کیا بلکہ چین اور روس جیسے ممالک کو دنیا میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کا موقع فراہم کیا۔ ٹرمپ کی معاشی پالیسی بھی دنیا کے لیے مسائل کا باعث بنی۔ چین کے ساتھ تجارتی جنگ نے عالمی معیشت میں غیر یقینی صورتحال پیدا کی، امریکی صارفین کو مہنگائی کے بوجھ تلے دبایا اور عالمی سپلائی چین کو متاثر کیا۔ امریکہ کے اتحادی بھی اس معاشی جارحیت کی لپیٹ میں آچکے ہیں ،جس سے امریکہ عالمی تجارتی نظام میں تنہائی کا شکار ہوتا جارہا ہے،جس کا براہ راست اثر امریکی عوام پر پڑے گا

    مشرق وسطیٰ میں ٹرمپ کی پالیسی نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ غزہ میں فلسطینیوں کو منتقل کرنے اور علاقے کا کنٹرول سنبھالنے جیسے منصوبے پیش کیے گئے جنہیں عالمی سطح پر نسلی تطہیر کے مترادف قرار دیا گیا۔ دی گارڈین جیسے معتبر ادارے ان پالیسیوں کو انتہا پسندی کو بڑھاوا دینے اور خطے میں مزید عدم استحکام پیدا کرنے کا سبب قرار دے چکے ہیں۔ ایران کے ساتھ مذاکرات کے اعلان کے باوجود ٹرمپ کی دھمکی آمیز زبان نے امن کی کوششوں کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ اگر یہ مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو خطہ ایک اور خطرناک جنگ کی طرف دھکیلا جا سکتا ہے۔

    امیگریشن پالیسی کے حوالے سے ٹرمپ نے جو سخت اقدامات کئے ہیں ان کے اثرات نہ صرف تارکین وطن بلکہ بین الاقوامی طلبا پر بھی براہ راست مرتب ہوئے ہیں۔ تازہ ترین ویزا منسوخی کا واقعہ اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ امریکہ اب تعلیم، تحقیق اور اظہار رائے کی آزادی جیسے عالمی اصولوں سے دور ہوتا جارہا ہے۔ یہ صورتحال امریکہ کی عالمی تعلیمی ساکھ کے لیے بھی ایک بڑا دھچکہ ہے، جس پر دنیا بھر کی یونیورسٹیز اور تعلیمی حلقے تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔

    داخلی طور پر ٹرمپ کے اقدامات نے امریکہ کے اپنے معاشرتی اور جمہوری ڈھانچے کو بھی کمزور کیا۔ مزدور یونینز کے خلاف مہم، ثقافتی اداروں پر پابندیاں اور صحافیوں کے خلاف زبانی حملے، امریکی اقدار کے چہرے پر بدنما داغ بن چکے ہیں۔ حیران کن طور پر ٹرمپ نے 1798 کے قدیم ‘ایلین انیمیز ایکٹ’ کو استعمال کرتے ہوئے بعض غیر ملکیوں کو بغیر قانونی کارروائی کے ملک بدر کرنے جیسے سخت اقدامات کیے ہیں جنہیں انسانی حقوق کی تنظیموں نے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ سرکاری اداروں میں بڑے پیمانے پر برطرفیاں اور یکطرفہ پالیسی تبدیلیاں امریکی بیوروکریسی کے استحکام کے لیے شدید خطرہ بن چکی ہیں۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کے یہ تمام پہلو دنیا کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان ہیں۔ وہ امریکہ جسے کبھی جمہوریت، آزادی، مساوات اور انسانی حقوق کی علامت سمجھا جاتا تھا، آج انہی اصولوں سے دور ہوتا جارہا ہے۔ عالمی برادری اور خود امریکی عوام کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان پالیسیوں کے ممکنہ خطرناک نتائج کا ادراک کریں اور اپنی آواز بلند کریں کیونکہ ٹرمپ کی پالیسیوں کے یہ سائے نہ صرف امریکہ بلکہ پوری دنیا کے امن، معیشت اور انسانی اقدار کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔

    آج جب امریکہ کی کئی یونیورسٹیوں کے معصوم طلبا اپنے تعلیمی مستقبل سے محروم ہو رہے ہیں، جب کہ مشرق وسطیٰ ایک نئی جنگ کے دہانے پر کھڑا ہے اور عالمی معیشت غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے تو یہ سوال اب ایک حقیقت بن چکا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ صرف امریکہ کی تاریخ کا متنازعہ صدر نہیں بلکہ دنیا کے امن، انسانی حقوق، معاشی استحکام اور جمہوریت کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکے ہیں۔ دنیا کو امریکی عوام کو اور عالمی اداروں کو اب فیصلہ کرنا ہوگا کہ اس خطرے کا مقابلہ کیسے کیا جائے۔

  • دریائے سندھ سب کا ہے.تحریر:عنبریں حسیب عنبر

    دریائے سندھ سب کا ہے.تحریر:عنبریں حسیب عنبر

    یہ عجیب سا المیہ ہے کہ جب کراچی کی سڑکوں پر جرم، لاقانونیت، اور بے یقینی کا راج ہوتا ہے، پانی کی قلت اور کوٹہ سسٹم پر احتجاج ہوتا ہے تو کچھ لوگ بے حس نظر آتے ہیں۔ اور جب ہمارے دیہات ڈوبتے ہیں، کارونجھر پہاڑ خطرے میں ہوتا ہے یا دریائے سندھ کی سانسیں گھٹتی ہیں، تو کچھ دوسرے لوگ خاموش تماشائی بن جاتے ہیں۔

    تقریباً اٹہتر سال ساتھ رہنے کے باوجود ہم ایک دوسرے کے دکھوں میں شریک کیوں نہیں ہو پاتے؟
    اس کا سبب یہ ہے کہ ہم ایک دوسرے کو اپنی نہیں، سیاست دانوں کی عطا کردہ عینک سے دیکھتے ہیں۔ وہ عینک جو برسوں سے ہمیں پہنائی ہوئی ہے اور ہم اب اس عینک کو ہی اپنی آنکھیں سمجھنے لگے ہیں۔ یہ عینک ہمیں دکھاتی ہے کہ "ہمارے سب مسائل اور استحصال کی جڑ وہ ہیں!” لیکن خود سوچیے کہ اگر ایسا ہوتا تو ہم میں سے کوئی تو خوش حال ہوتا، چین کی بانسری بجاتا۔ خوش حال تو مقتدر طبقہ ہوا جاتا ہے، چین کی بانسری تو وہ بجاتا ہے۔ مگر مل کر اس کا گریبان پکڑنے کے بجائے ہم برسوں سے آپس میں دست و گریباں ہیں۔

    یاد رکھیے، غریب چاہے اردو بولتا ہو یا سندھی، سب ایک جیسے مسائل کا شکار ہیں۔

    نہ کوٹہ سسٹم نے انصاف دیا، نہ روزگار نے برابر مواقع۔ کوٹہ سسٹم ہو یا روزگار کا بحران، کسی غریب کو اس کا حقیقی فائدہ کبھی نہیں ہوا۔ نہ کشمور کے غریب نوجوان کو، نہ ناظم آباد کے غریب طالب علم کو۔ اس حقیقت کو اب سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اس تقسیم سے دراصل فائدہ کسے ہو رہا ہے۔

    ہم سب جانتے ہیں کہ اس تقسیم کا ہتھیار زبان ہے۔ حالاں کہ ایک دوسرے کی زبان سیکھنے سے اپنی زبان، تہذیب اور ثقافت مر نہیں جاتی۔ ہم دوسرے ملکوں جا کر تو فوراً ان کی زبان سیکھ لیتے ہیں اور منہ ٹیڑھا کر کر کے درست زبان بولنے میں فخر محسوس کرتے ہیں اور اس وقت نہ سندھی زبان و ثقافت کو کوئی خطرہ ہوتا ہے اور نہ اردو زبان و ثقافت کو۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس تقسیم کی سازش کو سمجھیے، ایک دوسرے کی زبان کو دشمن نہ مانیے۔ ایک دوسرے کی زبان سیکھیے تاکہ ایک دوسرے سے مکالمہ کر سکیں، ایک دوسرے کو جان سکیں اور دلوں کے بند دروازے کھل سکیں۔
    ہم لوگوں کو اس سچ کو سمجھنا چاہیے کہ کسی بھی زبان کی حفاظت دوسروں کو خاموش کر کے نہیں ہوتی، بلکہ مکالمے، محبت، اور ایک دوسرے کو سمجھنے سے ہوتی ہے۔
    کوئی دریائے سندھ کہے یا سندھو دریا مگر زندگی سب کی اسی سے جڑی ہوئی ہے۔
    یہ دریا جب بہتا ہے تو نہ ذات دیکھتا ہے، نہ زبان، نہ مذہب، نہ شہر، اور نہ دیہات، بس سب کو سیراب کرتا ہے تو پھر اس کی حفاظت بھی ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ وہ دریا جو اپنے آپ میں کوئی تعصب نہیں رکھتا اسے بچانے میں تعصب کیوں؟
    یاد رکھیے سندھ دریا زبانوں کا نہیں انسانوں کا ہے اور اس کی بقا ہم سب کی بقا ہے۔

  • تبصرہ کتب: کٹی پتنگ از ذوالفقار علی بخاری.مبصر ، دانیال حسن چغتائی

    تبصرہ کتب: کٹی پتنگ از ذوالفقار علی بخاری.مبصر ، دانیال حسن چغتائی

    ذوالفقار علی بخاری کا شمار اردو ادب کے اُن نازک مزاج، لطیف حس اور وسیع المشرب مصنفین میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی زندگی کی شعوری گہرائیوں کو قرطاس پر اس سلیقے سے منتقل کیا کہ قاری اُن کے جملوں میں اپنی پرچھائیاں تلاش کرتا پھرتا ہے۔ کٹی پتنگ ایسا ہی ایک نثری ڈراما ہے جو محبت کے فریب میں لپٹی انسانی کمزوریوں، سماجی تضادات، اور جذباتی ناپختگی کا بھرپور عکاس ہے۔ اس تصنیف میں بخاری صاحب نے جس انداز سے محبت کو موضوع بنایا ہے، وہ نہ صرف اُن کے فکری افق کی وسعت کا پتا دیتا ہے بلکہ مشرقی طرزِ معاشرت اور محاوراتی نزاکت کو بھی زندہ رکھتا ہے۔
    کٹی پتنگ درحقیقت انسانی فطرت کی اس کمزوری کی تمثیل ہے جہاں جذباتی وابستگیاں عقل کے مقابل آ کھڑی ہوتی ہیں، اور نوجوانی کی محبت محض خوبصورت فریب بن کر رہ جاتی ہے۔ ذوالفقار بخاری نے نہایت نفاست سے دکھایا ہے کہ شادی سے قبل کی محبتیں اکثر وہم و گمان کا کھیل ہوتی ہیں، جن کا حقیقت سے کم اور خوابوں سے زیادہ تعلق ہوتا ہے۔ اور یوں یہ محبتیں کٹی پتنگ کی مانند ہوا میں اُڑتی ہیں، بلاسمت، بےوزن اور انجام سے عاری۔
    "شادی سے پہلے تو محبت محض سراب ہوتی ہے”— یہ جملہ بخاری صاحب کے اس ڈرامے کے مرکزی خیال کو تقویت دیتا ہے۔ کتاب میں کئی کردار ایسے دکھائے گئے ہیں جو تعلیمی اداروں میں، دفتر کے ماحول میں یا کسی سماجی تقریب کے دوران ایک دوسرے سے متعارف ہوتے ہیں، اور چند خوشگوار لمحوں کو عمر بھر کا رشتہ سمجھ بیٹھتے ہیں۔ مگر جب شادی کا حقیقی بندھن آتا ہے تو یہ محبتیں امتحان میں فیل ہو جاتی ہیں۔ بخاری صاحب نے ان جذباتی لغزشوں کو طنز و مزاح کے ساتھ پیش کیا ہے جو قاری کو ہنسا کر رُلا دیتی ہیں۔
    ڈرامے کے کردار کسی فرضی دُنیا سے نہیں آئے، وہ ہمارے آس پاس کے وہی نوجوان ہیں جو کالج اور یونیورسٹی کے ماحول میں ہر مسکراہٹ کو دعوتِ محبت سمجھ بیٹھتے ہیں۔ بخاری صاحب نے نہایت نفاست سے اس ماحول کی عکاسی کی ہے جہاں لڑکی کا ہنسنا، لڑکے کا کتاب تھام کر انتظار کرنا، مشترکہ پروجیکٹس پر کام کرنا، سب کچھ محبت کی جھوٹی فضا پیدا کرتا ہے۔ اور یوں ہر تعلیم گاہ میں "محبت کا سراب” جنم لیتا ہے، جو بعدازاں دل شکنیوں، بداعتمادیوں اور افسردگیوں کا سبب بنتا ہے۔
    کتاب میں مصنف نے خاص طور پر اُن نوجوانوں کو آڑے ہاتھوں لیا ہے جو کام کے دوران ساتھ گزارے گئے وقت کو محبت کا نام دے بیٹھتے ہیں۔ ذوالفقار بخاری کے بقول، "بعض اوقات ہم کام کے سلسلے میں ساتھ ہوتے تو کچھ بے وقوف اسے محبت سمجھ لیتے”—یہ چیز عہدِ حاضر کے اُس فکری انتشار کی بھرپور نشاندہی کرتی ہے جس میں جذباتی وابستگی کو عقل پر ترجیح دے دی جاتی ہے۔ مصنف کا ماننا ہے کہ ایک ساتھ گزارا گیا وقت ضروری نہیں کہ دلوں کا رشتہ بن جائے، اور یہ کہ پسندیدگی کو محبت سمجھنا ایک جذباتی غلط فہمی ہے۔
    ڈرامے میں بخاری صاحب نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ "محبت اور پسندیدگی میں بڑا فرق ہوتا ہے”۔ محبت وہ ہے جو امتحان سے گزرے، حالات کی تپش جھیلے، وقت کی ضربیں سہے اور تب جا کر اپنے خالص وجود میں سامنے آئے۔ جبکہ پسندیدگی محض لمحاتی تاثر کا نام ہے، جو کسی خوش لباسی، حسین چہرے یا دلکش انداز سے پیدا ہو جاتا ہے، اور وقت کے ساتھ ماند پڑ جاتا ہے۔
    ایک اور اہم نکتہ جو کٹی پتنگ کو معاشرتی اعتبار سے اہم بناتا ہے، وہ یہ ہے کہ شادی کے بعد ماضی کی بے وقوفیوں کو یاد رکھنے کی بجائے انہیں دفن کر دینا چاہیے۔ یہ ازدواجی زندگی کے استحکام کا راز بھی ہے۔ ماضی کی پرچھائیاں اگر دل میں باقی رہیں تو حال کی خوشیوں پر سائے ڈال دیتی ہیں۔
    ذوالفقار بخاری کی زبان دانی، محاوروں کا چناؤ اور مشرقی تہذیب کا اثر ہر صفحے پر جھلکتا ہے۔ اُن کا اسلوب رواں، نرماہٹ سے بھرپور اور جملہ بندی نہایت نفیس ہے۔ کہیں کہیں طنز ایسا ہوتا ہے کہ قاری کو اپنی ہی زندگی کا آئینہ نظر آنے لگتا ہے، اور ہنسی کے ساتھ شرمندگی کا پہلو بھی نکلتا ہے۔
    کٹی پتنگ نوجوان نسل کے اُس ذہنی المیے کا آئینہ ہے جہاں تعلیم کے مراکز میں علم کی بجائے محبت کے افسانے تراشے جاتے ہیں۔ ذوالفقار بخاری نے اس فکری زوال کو بھی بڑی خوبی سے قلم بند کیا ہے کہ ہر کالج اور یونیورسٹی میں محبت کیوں کھیل جاتی ہے؟ کیوں ہر نوجوان اپنی زندگی کا سب سے قیمتی وقت ان فضول جذبات میں ضائع کر بیٹھتا ہے؟ کیوں یہ "سراب” اُسے اصل منزل سے ہٹا کر ایک غیر حقیقی دُنیا میں لے جاتا ہے؟
    ڈرامے کی سب سے بڑی خوبی اس کا انجام ہے، جو جذباتی بے یقینی کے بادل چھا جانے کے بعد بھی قاری کو سبق دے کر رخصت کرتا ہے۔ محبت اگر سمجھداری، وقت اور حالات کے ترازو پر تولی جائے تو زندگی سنور سکتی ہے، ورنہ وہ محض ایک "کٹی پتنگ” ہے—جو نہ بلندیوں کو چھو سکتی ہے، نہ کسی ہاتھ میں دوبارہ آ سکتی ہے۔
    کٹی پتنگ وہ فکری آئینہ ہے جو ہر نوجوان کو اپنے جذبات کے عکس دکھاتا ہے۔ یہ کتاب نہ صرف محبت کے فریب کو بے نقاب کرتی ہے بلکہ ہمارے تعلیمی نظام، سماجی روایت، اور ازدواجی زندگی میں در آنے والی غلط فہمیوں کی جڑوں کو بھی کاٹتی ہے۔ بخاری صاحب کی تحریر ہر اُس قاری کے لیے ہے جو محبت کے نام پر جذباتی تماشے کو زندگی کا مرکز بنانا چاہتا ہے۔ یہ کتاب بتاتی ہے کہ محبت اگر عقل و فہم کے بغیر ہو تو صرف دھوکہ ہے، اور اگر دل و دماغ کے توازن سے کی جائے تو زندگی کا سب سے حسین تجربہ بن سکتی ہے۔ یہ خوبصورت کتاب سرائے اردو پبلیکیشن، سیالکوٹ(03338631328) سے شائع ہوئی ہے۔ خوبصورت گیٹ اپ کے ساتھ شائع شدہ یہ کتاب آپ مصنف اور ادارے سے رابطہ کر کے منگوا سکتے ہیں
    danial

  • ہم کیوں ناکام ہیں؟

    ہم کیوں ناکام ہیں؟

    ہم کیوں ناکام ہیں؟
    تحریر:ملک ظفراقبال
    یہ ایک پیچیدہ اور گہرا سوال ہے جو کئی دہائیوں سے ہمارے ذہنوں میں مسلسل گردش کر رہا ہے اور کئی دہائیوں سے یہ سوال ہمارے ذہنوں میں مثبت تبدیلی اور مثبت سوچ پیدا کرنے میں کامیاب ہونے کی بجائے مسلسل ناکامی سے دوچار ہے۔ شاید ناکامی کی وجوہات بھی معلوم ہوں مگر ہم مسلسل اپنی ناکامی کا اعتراف کرنے کے باوجود کچھ نہیں کر پا رہے۔ شاید ہم کچھ کرنا ہی نہیں چاہتے۔ آج اس حوالے سے کچھ معلومات فراہم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کا جواب کئی زاویوں سے دیا جا سکتا ہے۔ پاکستانی معاشرے اور اداروں کی ناکامی کی وجوہات کا مختصر جائزہ لیتے ہیں جس کا عموماً ذکر ہم اپنی روزمرہ زندگی میں ایک دوسرے سے مختلف انداز سے سنتے آ رہے ہیں۔

    ناقص حکمرانی، کرپشن اور میرٹ کی خلاف ورزی نے اداروں کو کمزور کیا ہے۔ جس کی وجہ سے آج ہمیں ڈاؤن سائزنگ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس کے ذمہ دار اداروں کے ساتھ ساتھ سیاست دان بھی ہیں جو اداروں پر دباؤ ڈال کر میرٹ سے ہٹ کر بھرتیوں پر زور دیتے رہے ہیں جس کی وجہ سے آج ہم ترقی کی بجائے تنزلی کے سفر پر رواں دواں ہیں۔ بطور مثال کئی ایک فرمائشی ادارے موجود ہیں جو ہر نئی حکومت اپنے عوامی وعدے پورے کرنے کے لیے پاکستان پر قرضوں کا بوجھ بڑھاتے رہتے ہیں جس میں ریلوے، پی آئی اے، سٹیل ملز اور دوسرے ادارے شامل ہیں۔ جس کی دوسری بڑی وجہ پالیسیوں میں عدم تسلسل اور وقتی مفادات کو قومی مفادات پر فوقیت دینا شامل ہے۔

    قوموں کی ترقی کی سب سے بڑی سیڑھی انصاف پر مبنی معاشرتی نظام ہوتا ہے جس کی وجہ سے معاشرے میں امن و سکون اور قومیت کو پروان چڑھانے میں مدد ملتی ہے۔ برائیاں ہر معاشرے میں موجود ہیں مگر سزا جزا کا عمل انصاف پسندی سے ہو تو معاشرے میں مثبت سوچ پیدا ہوتی ہے جس کا ہمارے معاشرے میں فقدان ہے۔ پاکستانی پولیس میں ایف آئی آر کا نظام وہ نظام اور قانون ہے جو ہمیشہ ظالم اور طاقتور کے لیے سود مند ثابت ہوا ہے جس کی روزمرہ زندگی میں کئی ایک مثالیں موجود ہیں۔

    قانون سب کے لیے برابر نہیں، طاقتور افراد بچ نکلتے ہیں جبکہ کمزور سزا بھگتتے ہیں۔ عدالتی نظام میں سست روی اور سیاسی دباؤ کی وجہ سے انصاف تاخیر کا شکار ہوتا ہے۔

    ہم گزشتہ کئی دہائیوں سے تعلیمی نظام کے ساتھ کھلواڑ کرنے میں مصروف ہیں اور آج تک ہم تعلیمی نظام کو بہتر بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکے جس کی وجہ سے معیاری تعلیم کا فقدان اور نصاب میں جدید دور کے تقاضوں کی کمی ہے۔ تعلیم کو کاروبار بنا دیا گیا ہے اور ڈگری حاصل کرنے تک۔ جس کی وجہ سے غریب طبقہ معیاری تعلیم سے محروم ہے۔ اداروں میں کرپشن عام ہے، جو ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ میرٹ کی بجائے سفارش اور رشوت کو ترجیح دی جاتی ہے۔

    فرقہ واریت، لسانی اور صوبائی تعصبات نے قوم کو تقسیم کر کے رکھ دیا ہے جو ایک سوچی سمجھی سکیموں میں سے ایک ہے جس کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں انتہا پسندی اور عدم برداشت نے معاشرتی ہم آہنگی کو نقصان پہنچایا ہے۔ اس برائی کو ختم کرنے کے لیے بھائی چارے اور قومی سوچ کو مثبت انداز میں پیش کرنے کی ضرورت ہے جس میں سرکاری ادارے اور سماج کو مل کر کام کرنا ہوگا۔

    صنعت اور زراعت کی ترقی پر توجہ نہ دینے کی وجہ سے ہم زرعی اجناس ان ممالک سے منگواتے ہیں جہاں دور دور تک زراعت کا نام و نشان نہیں، وجہ ہماری غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ آج ہم بیرونی قرضوں کے بوجھ تلے دبے جا رہے ہیں بلکہ ہماری آنے والی نسلوں پر بوجھ بڑھتا جا رہا ہے۔ یہ کیسا نظام ہے کہ ہمارا آنے والا بچہ بھی مقروض ہوگا جس نے ابھی اس دنیا میں آنکھ بھی نہیں کھولی مگر یہ ظالم اور کرپشن زدہ نظام اس کو آنے سے پہلے ہی قرضوں کے بوجھ تلے دبا رہا ہے۔ کیا یہی ہماری ترقی کی ترجیحات ہیں؟ ذرا سوچیں اور سوچ بدلنے کی کوشش کریں۔ مقروض نسل کیا خاک ترقی کر پائے گی جو بن دیکھے مقروض پیدا ہوگئی، اس کا حساب وہ کس سے مانگیں گے؟

    میڈیا اکثر سنسنی خیزی کو ترجیح دیتا ہے بجائے کہ مسائل کا حل پیش کرے۔ ہم بطور قوم اپنی ذمہ داریوں کو نظرانداز کر رہے ہیں، اور ذاتی مفادات کو قومی مفاد پر ترجیح دیتے ہیں جو کہ نہ تو ہمارا معیار ہے اور نہ ہی مقصد۔ ہر فرد کو دوسروں پر الزام ٹھہرانے کی عادت ہے، مگر خود اپنی ذمہ داری نہیں سمجھتا۔ ہمیں قومی مفادات پر اپنے ذاتی مفادات کو قربان کرنا ہوگا اور اپنے اندر قومی جذبہ پیدا کرنا ہوگا ورنہ ہم اگر اسی ڈگر پر چلتے رہے تو شاید واپسی کا راستہ ہمیں نہ مل سکے کیونکہ دنیا ترقی کے سفر میں بہت آگے نکل چکی ہوگی۔ اس سلسلہ میں ہمیں مل کر کچھ اقدامات کرنے ہوں گے جس میں قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے کا عمل پہلی ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے۔

    قانون کی حکمرانی یقینی بنائی جائے، کرپشن کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں۔ تعلیمی نظام کو جدید تقاضوں کے مطابق بنایا جائے اور قومی زبان میں زیادہ سے زیادہ مواد ہو تاکہ طالب علم پڑھنے کے بعد اس کو سمجھ بھی سکے ورنہ رٹا جس سے نمبر تو حاصل کیے جا سکتے ہیں مگر شعور اور بیداری نہیں۔ معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے صنعت اور زراعت پر خصوصی توجہ دی جانی چاہیے۔ سماجی ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے رواداری اور برداشت کا درس دیا جائے۔ سیاسی استحکام کو یقینی بنایا جائے اور قومی مفاد کو ذاتی مفادات پر ترجیح دی جائے۔

    ناکامی کو کامیابی میں بدلنے کے لیے ہر پاکستانی کو اپنی ذمہ داری قبول کرنی ہوگی۔ تبدیلی صرف حکومت سے نہیں بلکہ عوام سے بھی آتی ہے۔ دعا ہے اللہ تعالیٰ ہمارے وطن عزیز کو ترقی کی راہوں پر گامزن کرے۔

  • متنازع ترین "پرموشن بورڈ”   تحریر:ملک محمد سلمان

    متنازع ترین "پرموشن بورڈ” تحریر:ملک محمد سلمان

    متنازع ترین "پرموشن بورڈ”

    جناب شہباز شریف میں جب کبھی بھی آپ کے حوالے سے کالم لکھتا تھا تو سب سے زیادہ فیڈبیک بیوروکریسی کی طرف سے آتا تھا اگر کوئی پہلو ڈسکس نہیں ہوتا تھا تو یہی افسران تفصیل سے اگاہ کرتے کہ شہباز صاحب یہ اصلاحات اور کام بھی کررہے ہیں اگلی دفعہ ان اقدامات کو لازمی مینشن کریے گا۔ جب سے ہائی پاور اور سینٹرل سلیکشن بورڈ ہوا ہے ہر طرف خاموشی ہے، جواب میں اداس ایموجیز کا ہی ریپلائی ملتا ہے۔ مایوسی اور نا امیدی کی یہ لہر صرف ترقی سے محروم افسران تک محدود نہیں رہی بلکہ بیوروکریسی کی اکثریت شدید پریشان ہے اور ایسی بے توقیر اور بے یقینی والی نوکری سے رخصت لیکر بیرون ملک جانے کا سوچ رہے ہیں۔ ہائی پاور بورڈ سے لیکر سینٹرل سلیکشن بورڈتک “پک اینڈ چوز“ نے اہم ترین بورڈز کو ”سلاٹر ہاؤس“ میں بدل دیا۔

    جن افسران کو ناحق ترقی سے محروم کیا گیا ہے وہ سخت اذیت اور صدمے میں ہیں۔ بیوروکریسی کی اکثریت چہہ مگوئیاں کرتی پھر رہی ہے کہ شہباز شریف نے بیوروکریسی کو فلاں سابق افسر کو ٹھیکے پر دے دیا ہے۔ جناب شہباز شریف آپ جیسا باخبر، ذہین اور میرٹ پسند حاکم پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت کی حامل بیوروکریسی کے معاملات کو چند افراد کے رحم و کرم پر کیسے چھوڑ سکتا ہے۔ جناب وزیراعظم آپ کے بارے تو بیوروکریسی کا پختہ یقین رہا ہے کہ شہباز شریف کے ہوتے ہوئے ہمیشہ میرٹ کا بول بالا ہوتا ہے۔

    جناب شہباز شریف جب آپ ناحق قید تھے تو افسران کو آپ کے خلاف وعدہ معاف گواہ بننے اور ثبوت فراہم کرنے کے بدلے اچھی پوسٹنگ آفر ہوتی تھیں تو یہ وہی افسران ہیں جو اصولی مؤقف پر ڈٹ گئے تھے کہ جب شہباز شریف نے انہیں کبھی خلاف میرٹ کوئی کام کہا ہی نہیں تو وہ صرف اچھی پوسٹنگ کے حصول کیلئے پنجاب کی تعمیروترقی کے ریکارڈ قائم کرنے والے وزیراعلیٰ شہباز شریف کے خلاف کیونکر بیان دیں، اگر حکومت کو پوسٹنگ دینی ہے تو قابلیت کی بنیاد پر دیں، وہ میرٹ پر بہترین کام کرکے دکھائیں گے۔

    آج ان تمام افسران کو اس اصول پسندی کا یہ صلہ ملنا تھا؟
    جناب وزیراعظم آپ کے خلاف وعدہ معاف گواہ نہ بننے والے افسران کی پی ٹی آئی حکومت میں رپورٹس خراب کیں گئیں۔ اس وقت کی رپورٹ کی بنیاد پر آج ان افسران کا پرموشن لسٹ میں نہ ہونا وفاداری کرنے والوں کیلئے بھی سوالیہ نشان بن گیا ہے. کچھ افسران کی ”ٹارگٹ کلنگ“ کیلئے نئی رپورٹس کی بجائے پرانی رپورٹس پیش کی گئیں جو اس گریڈ میں ترقی کیلئے ریلیوینٹ ہی نہیں تھیں جبکہ کچھ افسران کو ترقی سے محروم کرنے کیلئے خود سے”فرمائشی رپورٹیں“ تیار کروائی گئیں۔ بیوروکریسی کا یہ مطالبہ ہے کہ فرضی اور جعلی رپورٹس کی بجائے سب کو قابل قبول سپیشل ویٹنگ ایجنسی کے طور پر آئی ایس آئی کی رپورٹ پر فیصلہ کریں۔

    ڈی جی آئی بی فواد اسد اللہ کے حوالے سے بیوروکریسی کے گروپس میں شدید بحث اور تنقید کی جارہی ہے بیوروکریسی نے وزیر اعظم اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے ہائی پاور سلیکشن بورڈ اور سینٹرل سلیکشن بورڈ کے فیصلوں پر نظر ثانی کی درخواست کرتے ہوئے متنازع ترین ڈی جی آئی بی اور سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ کی برطرفی کا مطالبہ کیا ایسے حالات میں جب وطن عزیز کو معاشی اور ملکی سلامتی کے سنگین مسائل کا سامنا ہے اور ان مسائل سے نمٹنے کیلئے یہی بیوروکریسی ہراول دستہ ہیں۔

    جناب وزیراعظم اگر افسران خود ترقی سے محروم ہوں گے تو عام عوام کیلئے خلوص نیت سے کیسے کام کر سکیں گے؟ جناب وزیراعظم، پاکستان کی تاریخ کے متنازع ترین پرموشن بورڈ کا ”ریویو“ کیے بنا یہ بورڈ سیاست اور سول سروس کے نام پر کلنک کا داغ بن کر رہ جائے گا۔

    وزیر اعظم کو مسئلے کی سنگینی کا ادراک کرتے ہوئے سول سروس اور پاکستان کو تباہی سے بچانے کیلئے فوری اقدامات کرنا ہوں گے۔
    ملکی باگ ڈور چند افراد کے حوالے کرنے کی بجائے ہر کسی کے اختیارات کا تعین کیا جائے۔ پختہ شواہد کے بغیر کسی کو بھی ترقی سے محروم نہ کیا جائے۔ صوبائی سروس کے افسران کی بیچارگی بھی ختم کرنا ہوگی جو ٹریننگ مکمل کرنے کے باوجود پرموشن بورڈ کی راہ تک رہے ہیں۔

    چیف آف آرمی سٹاف جنرل عاصم منیر اور ان کی ٹیم پاکستان کو ترقی و کامیابی کی منزلوں پر لے جانے کیلئے دن رات ایک کیے ہوئے ہیں خدارا! چیف آف آرمی سٹاف کی کوششوں کو رائیگاں نہ کریں۔

    پی ٹی آئی کا قریبی ہونے جیسے بیہودہ الزامات لگا کر پرموشن اور پوسٹنگ سے محروم رکھنا، ارباب حکومت کو گمراہ کرنے کے مترادف ہے۔ اس وقت بھی فیصلہ سازی سے لیکر کمائی والی تمام سیٹوں پر تو بزدار حکومت میں اہم سیٹوں پر رہنے والے براجمان ہیں پھر پرموٹ نہ ہونے والے، او ایس ڈی اور کھڈے لائن کیے افسران کا کیا قصور ہے؟

    حالیہ تعیناتیوں میں ٹریفک پولیس سمیت جو افسران فرائض سے غفلت برت رہے ہیں اور کرپشن کے ریکارڈ توڑ رہے ہیں انکو عہدے سے کیوں نہیں ہٹایا جارہا۔ جو کرپٹ ہے اس کی سزا صرف ترقی نہ دینا کیوں؟ کرپٹ افراد کو نہ صرف نوکری سے نکالا جائے بلکہ لوٹی ہوئی رقم جرمانہ سمیت واپس لی جائے۔

    ملک محمد سلمان
    maliksalman2008@gmail.com

  • عید کا دن اور خوشیوں کی محفل،تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    عید کا دن اور خوشیوں کی محفل،تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    عید کا دن فیملی سے منسوب ہوتا ہے جب سب گھر والے خاندان والے اکھٹے ہوتے ہیں ملکر کھانا کھاتے ہیں چہروں پر خوشی اور مسکراہٹیں ہوتی ہیں نئے کپڑے پہنے ہوتے ہیں ایک دوسرے کی شاپنگ پر تبصرہ ہوتا ہے عیدی دی اور لی جاتی ہے پھر پلک جھپکتے ہی یہ دن اگلے سال دوبارہ آ نے کے لیے رخصت ہو جاتا ہے اور پھر عید کا دوسرا دن یعنی ٹرو اس وقت عید کے دن کی طرح خوشگوار ہوجاتا ہے جب دوستوں کے ساتھ ملاقات ہو جاے

    عید کے دوسرے دن شمیم عارف تسنیم جعفری میرے گھر تشریف لائیں مجھے بہت خوشی ہوئی عید کی رونق دوبالا ہوگئی ہم نے خوب باتیں کیں تسنیم صاحبہ کی نئی کتاب جو سیرت نبوی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم پر ہے شائع ہو چکی ہے انشاء اللہ یہ کتاب بھی ایوارڈ حاصل کرے گی تسنیم جعفری 25 سے زائد کتابوں کی مصنفہ اور پہلی سائنس فکشن رائیٹر ہیں ماشاءاللہ بہت سے ایوارڈ حاصل کر چکی ہیں نئی کتاب کی خوشی میں ہم نے کیک کاٹا .

    شمیم عارف صاحبہ کی بھی دو کتب پبلش ہونے کے لیے تیار ہیں وہ حج کے سفر نامہ سمیت دو کتابوں ،، ننھا سلطان ،، اور ،، ہم ابھی راہ گزر میں ہیں ،، کی مصنفہ ہیں ،، ہماری فرمائش پر انہوں نے اپنی نظمیں سنائیں
    تسنیم اور شمیم آ پ کی آ مد کا بہت شکریہ ، بہت اچھا وقت گزرا اور تسنیم کو اہم موضوع پر نئی کتاب لکھنے پر مبارکباد ❤️
    اللہ کرے زور قلم اور زیادہ

    تسنیم جعفری صاحبہ 26 کتابوں کی مصنفہ
    تسنیم جعفری صاحبہ 26 کتابوں کی مصنفہ

  • دنیا کی اوپن ائر جیلیں،تحریر:غنی محمود قصوری

    دنیا کی اوپن ائر جیلیں،تحریر:غنی محمود قصوری

    جیل کا لفظ سنتے ہی ذہن میں سب سے پہلے بہت بڑی اور اونچی چار دیواری کے پیچھے بند انسانوں کا تصور آتا ہے جنہیں کسی نا کسی جرم کرنے پر سزا کے طور پر قید کیا جاتا ہے اور ان پر مسلح لوگ نگران بنے ان کی رکھوالی کرتے ہیں اور ان سے جبری مشقت کے طور پر کام بھی لیا جاتا ہے،تاہم اس وقت کرہ ارض پر دو اوپن ائر جیلیں بھی ہیں جن کا نام فلسطین اور کشمیر ہے اور دونوں مسلمان ریاستیں ہیں،عام طور پر جرم کرنے والے شحض کو سزا دی جاتی ہے تاہم یہ جیلیں اس لئے معرض وجود میں آئیں کہ ان کے باشندے مسلمان ہیں اور اپنی آزادی کی آواز بلند کرنے پر بطور سزا بغیر بڑی بڑی دیواروں کے کھلے آسمان تلے بنی جیلوں میں قید ہیں

    ان کو اوپن ائر جیل اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس میں ان مملکتوں کے باشندوں کو انہی کی ریاستوں میں قید کرکے رکھا گیا ہے جس کی کوئی چار دیواری تو نہیں مگر چار دیواری کی جگہ سرحدیں ہیں اور یہ لوگ آسمان تلے ہوا کے دوش پر قائم جیلوں میں قیدیوں کی سی زندگیاں بسر کر رہے ہیں جہاں قابض ریاستوں کی فوجیں ان پر نگران بن کر ظلم و ستم ڈھا رہی ہیں
    ان دونوں ریاستوں کی غلامی کا عرصہ تقریباً ایک جتنا ہی ہے
    ان ریاستوں میں سے ایک پر یہود کا قبضہ ہے تو دوسرے پر ہنود یعنی ہندو کا
    پہلے بات کرتے ہیں کشمیر کی
    تقسیم ہند کے فارمولے کے خلاف انگریز نے الکفر ملت واحدہ کا عملی ثبوت پیش کرتے ہوئے مسلم اکثریتی علاقہ کشمیر کو ہندوستان کو سونپ دیا جس میں بہت بڑا کردار اس وقت کے راجہ نے بھی ادا کیا،غیور کشمیری قوم نے اس پر احتجاج کیا اور الحاق پاکستان کیلئے صدائیں بلند کیں تاہم ظلم و جبر سے اسے کچل دیا گیا اور بھارتی فوجوں نے کشمیریوں کی آواز کو دبانا شروع کر دیا

    اپنی شہہ رگ کو چھڑوانے اپنے بھائیوں کو اس جیل سے چھڑوانے کی خاطر نومولود پاکستان کے غیور قبائلیوں اور پاکستان کی نومولود فوج نے کشمیر پر یلغار کی اور طاقت کے زور سے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اور دنیا کی واحد ہندو ریاست سے مقبوضہ کشمیر کا بہت بڑا علاقہ چھین لیا اور اسے ایک الگ مملکت آزاد جموں و کشمیر کے نام سے دنیا کے سامنے رکھا جہاں ریاست آزاد جموں و کشمیر کا الگ صدر و وزیراعظم اور سپریم کورٹ ہے جبکہ اس کے برعکس ہندو نے مقبوضہ کشمیر پر اپنا جبری قبضہ رکھنے کی غرض سے اسے ہندوستان کا ایک صوبہ قرار دیا اور بجائے کشمیری پرچم کے وہاں ہندوستانی پرچم لہرایا اور کشمیری پرچم کو ختم کر دیا گیا ،اگر آپ آزاد کشمیر میں جائیں تو آپکو سب سے پہلے آزاد کشمیر کا پرچم نظر آئے گا اور ساتھ پاکستان کا بھی نظر آئے گا جبکہ اس کے برعکس مقبوضہ کشمیر میں محض ہندوستانی پرچم ہی نظر آئے گا،کشمیر کا پرچم مقبوضہ وادی کشمیر میں لہرانے نہیں دیا جاتا

    پاکستان نے وادی کشمیر کی خودمختاری کو تسلیم کرتے ہوئے اس کی خصوصی حیثیت یعنی آرٹیکل 370 اے اور 35 اے کو بحال رکھا جس کے تحت کشمیر کے باشندوں کو خودمختاری کی خاص حیثیت حاصل ہے جبکہ بھارت نے اس حیثیت کو ختم کیا اور ہندوستان بھر سے ہزاروں ہندوؤں کو مقبوضہ کشمیر میں لا کر بسانے کا سلسلہ شروع کیا تاکہ مقبوضہ کشمیر کو ہندو اکثریتی علاقہ ظاہر کرکے اس پر جبری قبضے کو قانونی حیثیت دی جائے اور اس کام میں ہندو سرکار کے ایجنڈے کیلئے مقبوضہ وادی کشمیر میں 10 لاکھ بھارتی فوج تعینات ہے

    دوسری طرف بات کرتے ہیں دنیا کی دوسری اوپن ائر جیل فلسطین کی جس پر دنیا کی واحد ناجائز یہودی ریاست نے قبضہ کیا ہوا ہے اور دنیا کی 15 ویں بڑی اسرائیلی 1 لاکھ 70 ہزار ریگولر اور 4 لاکھ 65 ہزار ریزرو فوج نہتے مظلوم فلسطینی عوام کو قید کئے ہوئے ہیں اور اسے امریکہ،برطانیہ اور فرانس سمیت دیگر کئی ممالک کی سرپرستی حاصل ہے
    امریکہ کی سرکاری خارجہ امور کے متلعق دستاویزات میں ایک بات آج بھی لکھی ہوئی ہے جس کا بطور پروف میں آپکو یہ لنک دیتا ہوں

    https://history.state.gov/historicaldocuments/frus1945v08/d660

    اس پر کلک کرکے آپ پڑھیں گے کہ 1945 میں امریکی صدر روز ویلٹ نے سعودی فرمانروا شاہ عبدالعزیز سے ملاقات کی اور اس بات کا مطالبہ کیا کہ اگر یہودی سٹیٹ اسرائیل بنتی ہے تو سعودی عرب اس پر حملہ نہیں کرے گا تاہم شاہ عبدالعزیز نے اس مطالبے پر ٹھوکر ماری اور سرعام کہا کہ میں فلسطین کیلئے میدان جہاد میں لڑ کر شہید ہونا پسند کرونگا مگر تمہاری یہ بات نہیں مانوں گا،اور پھر 1948 کو جب فلسطین کے اندر اسرائیل نامی ناجائز ریاست دنیا کے بڑے بڑے ملکوں کے آشیر باد سے قائم ہو گئی تو شاہ عبدالعزیز نے عرب فوج کو اسرائیل پر حملے کا حکم دیا اور سعودی عرب کے حملے بعد امریکی،فرانسیسی اور برطانوی فوجوں نے کھل کر اسرائیل کا ساتھ دنیا اور سعودیہ کی فوج کی فلسطین میں اینٹ سے اینٹ بجا دی

    اس وقت پاکستان اپنی نومولود اور کشمیر جنگ کے باعث پھنسا ہوا تھا تاہم دنیا کے کسی ملک نے سعودی عرب کی خاص مدد نا کی جس کی وجہ سے سعودیہ یہ جنگ ہار گیا اور اس کے سینکڑوں فوجی شہید ہوئے جن کی قبریں آج بھی فلسطین میں موجود ہیں،پہلی سعودی اسرائیل جنگ 1948 میں ہوئی پھر اس کے بعد دوسری جنگ 1956 اور تیسری جنگ 1967 میں لڑی گئی جس میں سعودی عرب کیساتھ شام،اردن،لبنان،عراق،کویت اور سوڈان و پاکستان نے بھی فلسطینی قوم کی آزادی کیلئے سعودیہ کا ساتھ دیا جبکہ دوسری جانب ناجائز یہودی ریاست اسرائیل کیلئے تعاون کرنے والے ممالک کی تعداد بڑھتی ہی چلی گئی اور آج دن تک یہ صورتحال برقرار ہے

    اللہ رب العزت نے تمام انسانوں،جماعتوں اور ملکوں کو آج سے ساڑھے چودہ سو سال پہلے مخاطب کرتے ہوئے فرمایا تھا
    انفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا وَجَاهِدُوا بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنفُسِكُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ۚ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ”
    نکل کھڑے ہو، خواہ ہلکے ہو یا بھاری، اور اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور جانوں سے جہـاد کرو، یہی تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو ۔۔سورہ توبہ

    کاش جسطرح کافر ممالک ایسے دوسرے کا ساتھ دیتے ہیں ناجائز ریاستوں کے قیام کیلئے بلکل اسی طرح تمام جماعتیں اور تمام ممالک بھی درج بالا حکم ربی کے تحت جہاد کی تیاری کرتے اور مظلوم ریاستوں کیلئے ایک جماعت بن کر یلغار کرکے کفار کے تسلط سے غلام ریاستوں کو آزاد کرواتے،جہاں جہاد ملکوں اور جماعتوں پر فرض ہے وہیں عام و خاص انسانوں پر بھی فرض ہے ،کاش آج کا مسلمان ایک دوسرے کو طعنے مارنے کی بجائے افرادی طور پر تیاری کرکے اجتماعی قوت بن کر کافروں پر جھپٹ پڑے

  • بس یہی داستاں ہماری ہے .تحریر:مجیداحمد جائی

    بس یہی داستاں ہماری ہے .تحریر:مجیداحمد جائی

    انسان کے جنم کے ساتھ ہی داستان نے بھی جنم لیا ہے۔ہر گزرتا لمحہ یادوں میں منتقل ہو جاتا ہے۔یہ یادیں تلخ بھی ہو سکتی ہیں اور حسین بھی۔زندگی کے سفر میں حسین یادیں جینے کا مزہ دوبالا کر دیتی ہیں لیکن تلخ یادیں کُند تلوار کی طرح ضربیں لگاتی رہتی ہیں۔گزرتی عمر کے ساتھ یادوں کے حوالے سے پروفیسر عظمیٰ مسعود لکھتی ہیں:”یادیں ہمیشہ یادوں کی ایک بارات سی لے کر چلتی ہیں۔ایک یاد،پھر دوسری اور تیسری یاد۔کڑی سے کڑی ملتی جاتی ہے اور یادوں کی لمبی زنجیر سی بن جاتی ہے اور اگر تھوڑی سی لمبی عمر کی اجازت مل جائے اور انسان خود بھی ذہنی طور پر بڑا ہو جائے تو یہ یادیں اُس کی زندگی کا بڑا قیمتی سرمایہ بن کر کبھی تو اسے نہال کر دیتی ہیں کبھی نڈھال۔اس پر طاقت ور فرعون کا،نمرود کا،حسین سے حسین تر قلوپطرہ کا اور تنومند سے تنومند مرد کا بھی کوئی زور نہیں چلتا۔یہ کہیں تو تلوارکی دھار کی کاٹ رکھتی ہیں کہ جگر چیر کر رکھ دیتی ہیں تو کہیں پھول کی پتیوں جیسی نرم اور گدازہوتی ہیں کہ اندر تک مہکا دیتی ہیں۔یہ روح پر اپنا اثر چھوڑے بغیر جاتی ہی نہیں۔
    کتب کے مطالعے میں خود نوشت پڑھنے کا ہمیشہ سے دیوانہ رہا ہوں۔آپ بیتیوں میں بزرگوں کے ساتھ گزرے حالات و واقعات سے سبق لے کر ہم اپنی زندگی سنوار سکتے ہیں۔مشکل سے مشکل حالات میں اچھے فیصلے کرنے کی صلاحیت پیدا کر لیتے ہیں۔سیکھنے کا عمل جاری رہے تو انسان مات نہیں کھاتا۔چاہے وہ خانگی زندگی ہو معاشرتی مسائل۔

    "بس یہی داستاں ہماری ہے”پچھلے کئی دِنوں سے زیرِ مطالعہ رہی ہے۔پروفیسر عظمیٰ مسعودخراج تحسین کی مستحق ہیں جس طرح انھوں نے زندگی کے نشیب و فراز کو قلم بند کیا ہے دوسروں کے لیے مشعل راہ ہے۔میں نے یہ خودنوشت راتوں کو بیٹھ کر پڑھی ہے۔صبح نماز کے بعد فصلوں کی سیر کے دوران پڑھی ہے۔تازہ ہوا کے جھونکوں میں اوراق کی مہک نتھوں کے ذریعے روح ودل کو راحت بخشتی ہے۔ڈاکٹر اشفاق احمد وِرک نے خوب کہا ہے:
    یہ جو یادوں کی لائبریری ہے
    اس کی چھایا بہت گھنیری ہے

    "بس یہی داستاں ہماری ہے”میں جو پڑھتا ہوں تو کتاب رکھنے کو دل نہیں کرتا۔لیکن میں نے یہ کتاب اپنے اوپر مسلط کرکے پڑھی ہے۔مصنفہ کے ساتھ میں نے بھی ماضی و حال کا سفر کیا ہے۔کہیں آنسوؤں کی کشتی میں سوار ہوا تو کہیں سسکیوں کی نگری آباد کی۔کہیں شرارتیں سوجھی تو کہیں آہیں بھر نے لگا۔پروفیسرعظمیٰ مسعودکا قلم بے باک ہے۔بڑی جان فشانی سے زیست کے اوراق کو پلٹا ہے۔کہیں ہجرت کے دُکھ ہیں تو کہیں آزادوطن کے حکمرانوں کی کارستانیاں۔کہیں اپنوں کے بچھڑنے کادُکھ ہے تو کہیں عشق کی باتیں۔کہیں دوست دشمن بنتے ہیں تو کہیں دُشمن دوست۔کہیں بُرے وقت میں "نند”جیسا کردار ہمدردی اور اپنائیت کا استعارہ بن جاتا ہے تو کہیں حسد کرنے والے اپناوار کرتے ہیں۔کہیں ایک تھالی میں کھانے والے گہری ضرب لگاتے نظر آتے ہیں تو کہیں دلاسہ بڑھانے والے موجود ہیں۔

    "بس یہی داستاں ہماری ہے”کہنے کو تو پروفیسر عظمٰی مسعود کی خودنوشت ہے لیکن میں سمجھتا ہوں وطن ِعزیز کے ادیبوں کی داستاں ہے۔یہ سیاست دانوں کی کارستانیوں کا اعلان ہے۔اس کتاب میں ایک زندگی نہیں ہزاروں زندگیاں ہیں۔کہیں مصنفہ مطالعہ کی شوقین نظر آتی ہے اور ہمیں بہترین کتب سے ملواتی ہیں۔کہیں سیاست دان بن کر اصطلاحات نافذ کراتی ہیں تو کہیں پروفیسر بن کر بتاتی ہے کہ حالات جیسے بھی رہے ہوں پروفیسر ایسا ہوتا ہے۔یہ اقتباس پڑھیے:
    "اب میں "ادب”کی کچھ کچھ باتیں بھی سمجھنے لگی تھی۔یہاں سے میں نے پہلی بار عصمت چغتائی کا نام سُنااور ریڈیو کی لائبریری سے اُن کے افسانوں کی کتاب لی۔”لحاف”کا ذکر بار بار ذکر سنا تھا۔پڑھا خاک سمجھ نہ آیا۔پھر کشورناہید کے سمجھانے پر بھی سمجھ نہ آیا۔اس نے گالیاں دے کر سمجھایا۔دل پھر بھی نہ مانا۔اسے سمجھنے کے لیے دماغ کو تیز دھار چھری کی طرح کا ہونا ضروری تھا اور میرے ہاں تو صرف گودا بھرا تھا۔خداگواہ ہے کہ وہ افسانہ عرصہ دراز تک ایک راز ہی رہا۔جو کشور نے سمجھایا میں نے اکثرسوچا”یہ کیسے ہوسکتا ہے۔”میں نے سوچنا ہی چھوڑ دیا۔اُسی زمانے میں منٹو کے "ٹھنڈے گوشت”کا تذکرہ شروع ہوا۔کتاب خریدی،کہانی پڑھی،خاص طور پر پڑھی،البتہ یہ کچھ کچھ پلے پڑی۔باقی تفصیل میں نے کشور سے پوچھ لی۔”
    زندگی کے بارے لکھتی ہیں:”زندگی مشکل تھی اور اتنی مشکل زندگی کو جینا کانچ پر ننگے پاؤں چلنے جیسا تھا۔میں اکثر سوچتی ہوں زندگی ہے کیا چیز؟اور یہ اتنی تکلیف دہ کیوں ہو جاتی ہے۔پھر یہی زندگی کسی قدر دل نواز،حسین اور دلبرانہ بھی ہے کہ اسے جینے کے لیے انسان کیسی کیسی محنت کرتا ہے،فریب کرتا ہے،ریاکاری کرتا ہے،جھوٹ بولتا ہے۔۔۔اُف خدایا انسان کیا کچھ نہیں کرتا کہ وہ یہ زندگی جی لے اور خوب جی لے۔زندگی کو جینے کا اتنا لالچ؟ہے تو پھر بھی دو ہی دن کی۔۔اس زندگی کے لیے اتنی تگ ودو سب ہی کرتے ہیں لیکن میرا خیال ہے ہمارے ملک کے سیاستدان کچھ زیادہ ہی آگے بڑھ جاتے ہیں۔وہ آگے بڑھتے جاتے ہیں،زندگی اُن کے گرد گھیرا تنگ کرتی جاتی ہے۔۔”
    نہ خدا ہی ملا نہ وصال ِصنم
    نہ ادھر کے ہوئے نہ اُدھر کے ہوئے
    "بس یہی داستاں ہماری ہے”میں پروفیسر عظمیٰ مسعود،اپنے سکول،کالج کے زمانے کی دوستوں کو یاد رکھتی ہیں۔سروس کے دوران تسلی اور دلاسہ دینے والوں کو نہیں بھولتیں۔دوسروں پر قدغن نہیں کرتیں،البتہ اپنے آپ کو کڑوی کسیلی سناتی ہیں۔جب بھی زندگی سے تھکنے لگتی ہیں تو رب کو یاد کرلیتی ہیں اور یوں ایک اُمید کا دیا روشن کر لیتی ہیں۔
    وقت اچھا بھی آئے گا ناصرؔ
    غم نہ کر زندگی پڑی ہے ابھی
    "بس یہی داستاں ہماری ہے”پروفیسر عظمیٰ مسعود کی شان دار کتاب 332صفحات پر مشتمل ہے۔قلم فاؤنڈیشن انٹرنیشنل سے شایع ہوئی ہے جس کے روح رواں علامہ عبدالستار عاصم ہیں۔کتاب دوست،صاحب کتاب اور کتاب سے محبت رکھنے والوں کے خیرخواہ ہر دل عزیز شخصیت،کتاب بینی کے فروغ میں ہمہ تن سرگرداں۔ان کا احسان ِعظیم ہے کہ نامور شخصیات سے متعارف کرواتے ہیں ان کا لکھا قاری تک پہنچاتے ہیں۔
    "بس یہی داستاں ہماری ہے”کا اسلوب سادہ اور عام فہم ہے۔پروفیسر عظمیٰ مسعود اشعار کا تڑکا خوب لگاتی ہیں یہاں سے ان کے ذوق کی خبر ہوتی ہے۔اس کتاب کی بہت سی خوبیاں ہیں۔یوں کہیے جو آپ چاہتے ہیں آپ کے ذوق کے مطابق اس میں ملتا ہے۔آپ زندگی کے کسی بھی شعبے سے وابستہ ہیں اور آگے بڑھنا چاہتے ہیں تو یہ کتاب آپ کو ضرور پڑھنی چاہیے۔یہ حالات کی گردش میں گرے لوگوں کا ہاتھ پکڑ کر راحت کے نگر میں بسیرا کراتی ہے۔دُنیامیں بسنے والے ہر شخص کی داستاں "بس یہی داستاں ہماری ہے”میں ملتی ہے۔
    کوئی تدبیر کرو،وقت کو روکو یارو
    صبح دیکھی ہی نہیں،شام ہوئی جاتی ہے
    "بس یہی داستاں ہماری ہے”کے پیغام کے ساتھ اجازت چاہوں گا:”رب ِ ذوالجلال نے دُنیا بنائی ہے تو اِس کو چلانے کے کچھ اصول بھی بنائے ہیں۔یہ دُنیا اسی طرح چلی ہے،اسی طرح اب تک چلتی رہی ہے اور اسی طرح چلتی رہے گی۔البتہ "ہم نہ ہوں گے کوئی ہم ساضرورہو گا”۔زندگی کو صرف بسر ہی نہیں کرنا اسے جینا بھی ہے اور اسے جینا چاہیے۔”
    اگر آپ چاہتے ہیں کہ ایسی کتاب پڑھیں جو زندگی بدل دے تو میرا مشورہ یہی ہے کہ "بس یہی داستاں ہماری ہے”ضرور پڑھیں۔اگر آپ کو کتاب متاثر نہ کرسکی تو جو چاہے سزا دیں۔اللہ تعالیٰ، پروفیسر عظمیٰ مسعودکو جزائے خیر دے آمین۔