Baaghi TV

Category: بلاگ

  • معافی…. مگر حدوں کے ساتھ.تحریر: نور فاطمہ

    معافی…. مگر حدوں کے ساتھ.تحریر: نور فاطمہ

    معافی دینا ایک خوبصورت عمل ہے۔ یہ دل کی وسعت، ظرف کی بلندی اور انسان کی انسانیت کا ثبوت ہے۔ مگر ہر خوبی تبھی خوبصورت رہتی ہے جب وہ اپنی حدود میں ہو۔ اندھا دھند معاف کرتے جانا، خود کو بار بار تکلیف میں جھونک دینا، اور زہر گھولنے والوں کو بار بار پینے دینا ، یہ بخشش نہیں، بے خبری ہے۔

    ہمیں بچپن سے سکھایا جاتا ہے،”معاف کر دینا بہتر ہے، جو اللہ معاف کرتا ہے، بندہ کیوں نہ کرے؟”بیشک یہ بات سچ ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ بھی وہی گناہ معاف کرتا ہے جن پر سچی توبہ ہو، ندامت ہو، اور آئندہ نہ دہرانے کا پکا ارادہ ہو۔ تو کیا ہم انسان یہ حق نہیں رکھتے کہ یہ دیکھیں کہ معافی مانگنے والے کی نیت کیا ہے؟ کیا وہ واقعی شرمندہ ہے یا صرف حالات نے اُسے مجبور کیا ہے؟دنیا میں ہر دکھ کے بعد سکون آتا ہے، ہر اندھیرے کے بعد اجالا۔ لیکن کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جو صرف وقت سے نہیں، بلکہ فاصلوں سے بھرے جاتے ہیں۔جس نے نہ صرف ایک بار، بلکہ بار بار آپ کے جذبات کو مجروح کیا۔ جس نے آپ کے احساسات کے ساتھ کھیلا اور جان بوجھ کر آپ کو توڑا۔ ایسے شخص کے "معاف کر دو” کہنے پر دل نرم نہ کریں۔

    جب آپ نے اخلاص سے رشتہ نبھایا، جب آپ نے ہر قدم پر ساتھ دیا، اور بدلے میں تحقیر، بدگمانی اور طنز ملا ، تو یہ محبت کا مذاق ہے۔ اور مذاق اُڑانے والے کو کبھی عزت کے ساتھ واپس نہیں لایا جاتا۔جب کسی کا برتاؤ آپ کو اس مقام پر لا کھڑا کرے کہ اب آپ ہر سچے جذبے پر شک کرنے لگیں، ہر مسکراہٹ میں مطلب ڈھونڈیں، اور ہر خلوص کو فریب سمجھنے لگیں ، تو یہ صرف ایک رشتہ نہیں، ایک شخصیت کی تباہی ہے۔ اس تباہی کا سبب بننے والے کو معاف کرنا اپنے آپ سے بے وفائی ہے۔یقین وہ بنیاد ہے جس پر ہر رشتہ قائم ہوتا ہے۔ ایک بار اگر یہ بنیاد ہل جائے تو پوری عمارت لرزنے لگتی ہے۔ جو شخص آپ کا یقین توڑتا ہے، وہ صرف بھروسہ نہیں توڑتا بلکہ آپ کے اندر ایک گہرا خلا پیدا کرتا ہے۔ ایسے خلا کو بھرنے کے لیے مہینے، سال، اور بعض اوقات پوری زندگی لگ جاتی ہے۔

    معافی ایک نعمت ہے، مگر جب یقین ٹوٹ جائے، تو وہ صرف ایک لفظ بن جاتی ہے، بے معنی، خالی، اور کھوکھلا، "ایسے لوگوں کو جانے دیں جو اپنی آسانی اور ضرورت کے حساب سے آپ کو ضروری سمجھیں۔”یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو آپ کو تب چاہتے ہیں جب ان کو اکیلا محسوس ہوتا ہے، جب ان کے کام رک جاتے ہیں، یا جب دنیا ان کی طرف نہیں دیکھتی۔ یہ تعلقات نہیں ہوتے، بلکہ وقتی سہارا ہوتے ہیں۔ اور انسان کوئی کرسی نہیں جو بس سہارا دے ،انسان ایک احساس ہے، ایک جذبہ ہے،

    پہلا قدم یہ ہے کہ خود کو معاف کریں ، اس لمحے کے لیے جب آپ نے خود سے زیادہ کسی اور کو اہم جانا۔ جب آپ نے اپنی قدر گھٹا کر کسی کو اوپر رکھا۔ جب آپ نے آنکھیں بند کر کے کسی پر بھروسہ کیا۔زندگی ایک استاد ہے۔ وہ سبق سکھاتی ہے، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم تلخ ہو جائیں، یا ہر کسی سے بدگمان۔ ہر کوئی برا نہیں ہوتا ، بس اب آپ جانتے ہیں کہ اچھے اور برے میں فرق کیسے کرنا ہے۔معذرت ایک خوبصورت عمل ہے، مگر صرف تب، جب دل سے ہو۔ ورنہ وہ ایک بہانہ بن جاتی ہے، واپس آنے کا، پھر تکلیف دینے کا،اپنے دل، اپنے سکون، اور اپنی خودی کی حفاظت کریں۔ اور یاد رکھیں ،”وہی لوگ معاف کیے جانے کے لائق ہوتے ہیں جو آپ کو کبھی تکلیف دینا نہیں چاہتے تھے۔”

    noor fatima

  • تمباکو نوشی کیخلاف پنجاب حکومت کا احسن فیصلہ،تحریر: نور فاطمہ

    تمباکو نوشی کیخلاف پنجاب حکومت کا احسن فیصلہ،تحریر: نور فاطمہ

    تمباکو نوشی دنیا بھر میں لاکھوں جانیں لینے والی ایک خاموش قاتل ہے۔ پاکستان میں بھی ہر سال ہزاروں افراد سگریٹ نوشی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ان حالات میں حکومتِ پنجاب نے ایک جرات مندانہ اور بروقت فیصلہ کرتے ہوئے انسدادِ تمباکو نوشی آرڈیننس 2002 پر سختی سے عملدرآمد کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد شہریوں، خاص طور پر نوجوان نسل کو سگریٹ نوشی کے مضر اثرات سے بچانا ہے۔پنجاب حکومت کی جانب سے جاری کردہ احکامات کے مطابق، اب راولپنڈی سمیت پورے صوبے میں عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اس فیصلے کے تحت مخصوص مقامات پر سگریٹ نوشی پر جرمانے کی رقم 1000 روپے سے لے کر 1 لاکھ روپے تک ہو سکتی ہے۔

    تمام سرکاری اور نجی دفاتر،تعلیمی ادارے (اسکول، کالج، یونیورسٹیاں)،اسپتال، کلینکس اور دیگر طبی مراکز،شاپنگ مالز، مارکیٹیں، ہوٹلز،پبلک ٹرانسپورٹ، بس اسٹینڈز، ریلوے اسٹیشنز اور ہوائی اڈے ان تمام مقامات پر تمباکو نوشی پر پابندی ہو گی،یہ فیصلہ نہ صرف عوامی صحت کی بہتری کے لیے ہے بلکہ صاف ستھری اور تمباکو سے پاک فضا کے قیام کی طرف ایک مثبت قدم بھی ہے۔حکومت نے سگریٹ و تمباکو مصنوعات فروخت کرنے والے دکانداروں کے لیے بھی سخت ضابطے متعارف کرائے ہیں،ہر دکان پر نمایاں طور پر “تمباکو نوشی صحت کے لیے مضر ہے” کا نوٹس آویزاں کرنا لازمی ہوگا۔کسی بھی تعلیمی ادارے کے 50 میٹر کے اندر سگریٹ یا کسی بھی تمباکو مصنوعات کی فروخت پر مکمل پابندی ہو گی۔یہ ضابطے اس لیے بھی اہم ہیں تاکہ بچوں اور نوجوانوں کو کم عمری میں اس لت سے دور رکھا جا سکے۔

    حکومتِ پنجاب نے متعلقہ اداروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس قانون پر سختی سے عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔ پولیس، مقامی انتظامیہ، محکمۂ صحت اور سول سوسائٹی کے اشتراک سے ایک جامع حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے ،تمباکو نوشی کے خلاف مہمات چلائی جائیں گی،خلاف ورزی کرنے والوں کو موقع پر جرمانے کیے جائیں گے،عوام میں شعور و آگاہی بڑھانے کے لیے آگاہی مہمات کا انعقاد کیا جائے گا

    سگریٹ نوشی صرف ایک عادت نہیں، بلکہ ایک ایسا خطرناک عمل ہے جو کئی جان لیوا بیماریوں کا پیش خیمہ ہے، جیسے کہ پھیپھڑوں کا کینسر،دل کی بیماریاں،سانس کی بیماریاں (دمہ، برونکائٹس)،منہ، گلے اور معدے کا کینسر و دیگر،عالمی ادارہ صحت کے مطابق، ہر سال دنیا بھر میں تمباکو نوشی سے 80 لاکھ سے زائد اموات واقع ہوتی ہیں۔یہ قانون صرف حکومت کا نہیں بلکہ ہر شہری کی ذمہ داری ہے کہ وہ نہ صرف خود سگریٹ نوشی سے پرہیز کرے، بلکہ دوسروں کو بھی اس سے باز رکھے۔ معاشرے کے تمام طبقات بشمول والدین،اساتذہ،دکاندار،میڈیا،سوشل ایکٹیوسٹکو چاہیے کہ وہ اس قومی مہم کا حصہ بنیں اور اپنے اردگرد تمباکو نوشی کے خلاف آواز بلند کریں۔حکومت پنجاب کا انسدادِ تمباکو نوشی آرڈیننس پر سختی سے عملدرآمد کا فیصلہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر یہ فیصلہ سنجیدگی سے نافذ کیا گیا اور عوامی شعور کو بھی بیدار کیا گیا تو یہ نہ صرف ایک صحت مند معاشرے کی بنیاد بنے گا بلکہ آئندہ نسلوں کو ایک صاف ستھرا اور تمباکو سے پاک ماحول فراہم کرنے میں بھی مدد دے گا۔آئیے! ہم سب مل کر اس مہم کا حصہ بنیں اور ایک تمباکو فری پاکستان کی طرف قدم بڑھائیں۔

  • رشتے کی حقیقی مضبوطی، تحریر: نور فاطمہ

    رشتے کی حقیقی مضبوطی، تحریر: نور فاطمہ

    ہماری زندگی میں بے شمار لوگ آتے ہیں، کچھ لمحوں کے لیے، کچھ سکھ ،تکلیف،دینے کے لیے، اور کچھ ہمیشہ کے لیے۔ مگر اُن سب میں سے "کسی کو چُننا” یہ کوئی سادہ فیصلہ نہیں ہوتا۔ یہ صرف ایک چہرے، ایک آواز، یا کسی مسکراہٹ کو چُننا نہیں ہوتا۔یہ دراصل ایک مکمل انسان کو، اُس کی مکمل ذات کے ساتھ اپنانے کا عمل ہے۔ اور یہی بات تعلقات کی اصل روح ہے۔جب ہم کسی کو چُنتے ہیں تو ہم اُس کی پسندیدہ عادتوں، اُس کی مسکراہٹ، اُس کے اندازِ گفتگو، اور اُس کی موجودگی سے ملنے والی خوشی کو اپناتے ہیں۔مگر اصل چناؤ تب ہوتا ہے جب ہم اُس کی ناپسندیدہ باتوں، اُس کی چپ، اُس کے ماضی کے زخموں، اور اُس کی کمزوریوں کو بھی اُسی اپنائیت سے قبول کرتے ہیں۔قبولیت صرف خوبصورت پہلوؤں کی نہیں ہوتی، بلکہ ہر اُس ٹوٹ پھوٹ، ہر اُس تلخی، ہر اُس کمزوری کی ہوتی ہے جو ایک انسان کو مکمل بناتی ہے۔

    اکثر رشتے اِس غلط فہمی میں قائم ہوتے ہیں کہ دوسرا انسان ہمیشہ خوش رہے گا، ہمیشہ محبت دے گا، اور کبھی نہیں بدلے گا۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہر انسان کے اندر ایک اندرونی جنگ چل رہی ہوتی ہے، وہ کبھی ہار رہا ہوتا ہے، کبھی تھک جاتا ہے، کبھی خود سے بھی بات نہیں کر پاتا۔وہ لمحے جب وہ چپ ہو جاتا ہے، جب اُس کے چہرے پر مسکراہٹ غائب ہوتی ہے، جب وہ خود سے دور ہو جاتا ہے ، یہی اصل وقت ہوتا ہے اُسے اپنانے کا، اُسے سمجھنے کا، اور اُس کا ساتھ دینے کا۔

    ہم اکثر رشتوں کو خوشیوں کا ذریعہ سمجھتے ہیں، لیکن سچا رشتہ وہ ہوتا ہے جہاں آنسو بھی قبول کیے جاتے ہیں۔
    جہاں صرف "میں تمہارے ساتھ ہوں” کہنا کافی نہیں، بلکہ ساتھ بیٹھ کر، خاموشی سے اُس کا ہاتھ تھام کر، اُس کے دُکھ میں شریک ہونا ضروری ہوتا ہے۔کسی کی تکلیف میں اُس کے قریب ہونا، صرف لفظوں سے نہیں، احساسات سے اُسے تھپکی دینا یہی” محبت "ہے۔جب ہم کسی کو اپناتے ہیں، تو اُس کے ماضی کو بھی اپناتے ہیں۔ اُس کے پرانے زخم، اُس کی تلخیاں، اُس کی کہانیاں ، یہ سب اُس کی موجودہ ذات کو تشکیل دیتے ہیں۔
    اگر ہم کسی کے ماضی کو رد کر دیتے ہیں، تو ہم اُس کی مکمل شناخت کو مسترد کر رہے ہوتے ہیں۔رشتے میں اعتماد تب قائم ہوتا ہے جب ہم ماضی کو سنبھالنے کا حوصلہ رکھتے ہیں، نہ کہ اُس پر طعنہ دیتے ہیں۔

    محبت اور تعلق صرف ایک جذباتی بندھن نہیں، بلکہ ایک روحانی سفر ہے۔جب دو لوگ ایک دوسرے کی تکلیفیں، کمزوریاں، خوشیاں، اداسیاں سب کچھ بانٹتے ہیں تو وہ ایک ایسا رشتہ بناتے ہیں جسے وقت، فاصلہ، یا حالات بھی کمزور نہیں کر سکتے۔ایسے رشتے میں "میں” اور "تم” ختم ہو جاتے ہیں، اور صرف "ہم” باقی رہ جاتا ہے۔کسی کو چننے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ نے ایک کامل شخص چُنا ہے۔بلکہ آپ نے ایک ایسا شخص چُنا ہے جس کے اندر خوبیاں بھی ہیں اور خامیاں بھی ، اور آپ نے اُسے ہر صورت میں اپنانے کا فیصلہ کیا ہے۔محبت صرف یہ نہیں کہ آپ اُس کے ساتھ اچھے وقت گزاریں، بلکہ یہ کہ آپ اُس کے برے وقت میں بھی اُسی شدت سے اُس کے ساتھ رہیں۔اسی میں اصل انسانیت، اصل رشتہ، اور اصل محبت چھپی ہے۔

    noor fatima

  • کتاب: جناب عالی،شاعر: صغیر احمد صغیر ،تبصرہ: منزہ سحر

    کتاب: جناب عالی،شاعر: صغیر احمد صغیر ،تبصرہ: منزہ سحر

    ایک ڈرے، سہمے، مفاد پرست اور تعفن زدہ معاشرے میں طاغوتی قوتوں کو للکارتی ہوئی آواز ۔۔۔ جناب عالی! جناب عالی!
    یہ کاٹ دار لہجہ ان منفی کرداروں سے مخاطب ہے جو نا صرف معاشرتی اقدار پہ حملہ آور ہوتے ہیں بلکہ دلوں پر بھی بے دریغ وار کرتے ہیں اور اندھا دھند اپنے مفاد کے گھوڑے سرپٹ دوڑاتے ہوئے انسانوں کو کیڑے مکوڑوں کی طرح کچلتے ہوئے آگے بڑھنا چاہتے ہیں ایسے میں کوئی ایک ایسا دلیر، غیور اور نڈر کردار ان کے سامنے سینہ تان کر کھڑا ہو جاتا ہے ۔ اور ان کی سوالیہ نظروں کے جواب میں یہ ڈائیلاگ بولتا دکھائی دیتا ہے جنابِ عالی! جنابِ عالی!
    صورتحال کچھ فلمی سی تو لگتی ہے مگر کیا کیجیئے جب ہمارے لیے حالات ہی ایسے بنا دئیے جائیں تو ان کا جواب بھی اسی طریقے سے واجب ہو جاتا ہے ۔ اور پھر تاریخ بھی ایسے کردار کو فراموش نہیں کر سکتی بلکہ وہ دوسروں کے لیے ایک مثال بن کر ابھرتا ہے اور اپنے حصے کا کام کر جاتا ہے ۔
    جناب صغیر احمد صغیر کا زیر نظر شعری مجموعہ "جناب عالی!” عین اس صورتحال کا آئینہ ہے ۔ انہوں نے بنا کسی خوف و خطر مزاحمتی شاعری کو آگے بڑھاتے ہوئے انقلابی شاعروں کی پیروی بھی کی ہے اور اپنا منفرد اسلوب اور واضح نکتہ نظر دنیا کے سامنے رکھ دیا ہے ۔ شعری مجموعہ "جنابِ عالی! ” شاعر کے نڈر طرزِ فکر کو اجاگر کرتا ہے ۔ وہ معاشرے کے کرتا دھرتاؤں کو بے نقاب کرتے ہوئے کہتے ہیں ۔
    میں زمانے سے جدا ہوں سو جدا بولنا ہے
    اس پہ معلوم ہے لوگوں نے برا بولنا ہے
    قاضی وقت کی اوقات یہی ہے کہ اسے
    حکم لکھا ہوا ملتا ہے کہ کیا بولنا ہے۔
    حرف غلط ہے جو بھی مٹا دینا چاہیے
    یہ ظلم کا نظام گرا دینا چاہیے
    جس شہر پر یزید کی فرماں روائی ہو
    اس شہر کو صغیر جلا دینا چاہیے ۔
    صغیر احمد صغیر بیک وقت پنجابی ، اردو اور انگریزی کے بہترین شاعر ہیں وہ نا صرف سنجیدہ شاعری میں اپنا خاص مقام رکھتے ہیں بلکہ ان کی مزاح سے بھرپور شاعری بھی سوشل میڈیا پر بے حد مقبول ہے یہ کثیر اللسانی اور کثیر الجہتی ان کی ذہانت کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ وہ جہاں بھی کلام سناتے ہیں بے پناہ داد وصول کرتے ہیں۔ حیاتیات کے پروفیسر ہونے کے ساتھ ساتھ تاریخ بھی ان کا مضمون رہا ہے اس لیے آپ کو ان کے اشعار میں تاریخی حوالے بھی ملیں گے۔
    اک ایک شاہ پہ گزری ہر ایک شاہ کے بعد
    پناہ ڈھونڈو گے تم دیکھنا پناہ کے بعد
    ہر ایک جبر کے انجام کی خبر ہے ہمیں
    کہ صبح ہوتی ہے آخر شب سیاہ کے بعد
    اس خوفزدہ اور گھٹن کی فضا میں کوئی جاندار للکار مایوس اور تھکے ہوئے اذہان کے لیے تقویت اور طمانیت کا باعث ہے اور اس نفسا نفسی کے عالم میں زاد راہ کی طرح منزل پر پہنچنے کے کام آتی ہے ۔ یہ اشعار ملاحظہ کیجیے ۔
    تمام شہر کو جو سچ ہوا بتاؤں گا
    پھر اس کی جتنی بھی قیمت ہوئی چکاؤں گا
    میں ہجر والوں کا اک قافلہ بناؤں گا
    تمہارے بعد بھی جی کر تمہیں دکھاؤں گا
    جنہوں نے مل کر مرے ہاتھ کاٹ ڈالے تھے
    انہیں یہ ڈر تھا کہ میں آئینہ بناؤں گا ۔
    کون اپنے تھے جو دشمن کے حواری نکلے
    بات نکلی ہے تو پھر ساری کی ساری نکلے
    ہم تو سمجھے تھے کہ تقدیسِ قلم جانتے ہیں
    ہائے جو لوگ کرائے کے لکھاری نکلے
    جو تری میز پہ رکھا ہے یہ دائیں جانب
    منصفا اس ترے میزان سے خوف آتا ہے
    وہ جہاں چاہے وہاں آگ لگا دیتا ہے
    شہر کے شہر کو سلطان سے خوف آتا ہے ۔
    محبت کسی بھی شاعر کی شاعری کا پہلا اور آخری مسئلہ ہے وہ بیشک جتنے بھی مضامین اپنی شاعری میں شامل کرے محبت سے جان نہیں چھڑا سکتا ۔ دل ٹوٹنے پر دل برداشتہ ہونا اور بے حد اداس ہو جانا ایک فطری عمل ہے لیکن اپنے ٹوٹے ہوئے دل کو سنبھالنا بھی کسی کسی کا کام ہے یہاں بھی محترم شاعر اپنے محبوب کو اپنی شخصیت کا مظبوط رخ دکھاتے نظر آتے ہیں ۔ یہ اشعار دیکھئیے
    نہ کوئی واہمہ اب ہے نہ ڈر اداسی کا
    لگی ہے عمر تو آیا ہنر اداسی کا
    تمہاری چہرہ شناسی کو مان جاؤں گا
    بتاؤ مجھ پہ ہے کتنا اثر اداسی کا
    آدمی عشق میں جب حد سے گزر جاتا ہے
    عشق جاتا ہے یا پھر ہاتھ سے گھر جاتا ہے
    اس نے سمجھا ہی نہیں ہے مری خاموشی کو
    اتنا خاموش رہے کوئی تو مر جاتا ہے
    اک وہی ہے جو مرے دل کی زباں جانتا ہے
    ورنہ دنیا میں مجھے کوئی کہاں جانتا ہے
    قہقہے اتنے لگاتا ہوں کہ رو پڑتا ہوں
    میرے ہنسنے کا سبب کون یہاں جانتا ہے
    اور اب اس مشہور زمانہ غزل کے چند اشعار جس کی ردیف اس کتاب کے سرورق پہ چمک دمک رہی ہے ۔
    کبھی تو دیکھو گے ان کی لالی جنابِ عالی!
    ہماری آنکھیں جو ہیں سوالی جنابِ عالی!
    عجب قرینہ، عجب مہارت ہے گفتگو میں
    جو اتنا اچھے سے بات ٹالی جنابِ عالی!
    جناب دنیا سے ڈر گئے نا ؟بدل گئے نا؟
    ہمارے پیچھے بھی تھی یہ سالی جنابِ عالی!
    جناب صغیر احمد صغیر کے شعری سفر میں اب تک چار شعری مجموعے منظر عام پر آ چکے ہیں جن میں سے ایک پنجابی شعری مجموعہ اور تین اردو شاعری کے مجموعے شامل ہیں دو مزید اردو شعری مجموعے زیر اشاعت ہیں اور خبر ہے کہ جلد ہی منظر عام پر ہوں گے یوں کل ملا کر وہ چھ عدد شعری مجموعوں کے خالق ہیں جو کہ ان کی محنت و ریاضت کا نچوڑ ہیں ۔ ڈاکٹر صاحب کے لیے دعائیں اور نیک تمنائیں ۔

  • جیب”مردانگی” کی علامت، خواتین کو مردوں جتنے جیب کیوں نہیں ملتیں؟

    جیب”مردانگی” کی علامت، خواتین کو مردوں جتنے جیب کیوں نہیں ملتیں؟

    یہ ایک دلچسپ اور پیچیدہ سوال ہے جو صنفی مساوات اور تاریخ کے تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ خواتین کے لباس میں جیبوں کی کمی ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر مختلف ادوار میں بحث کی گئی ہے، اور آج بھی یہ مسئلہ اس بات کی علامت ہے کہ معاشرتی طور پر خواتین کو کتنی آزادی اور خودمختاری نہیں ملتی۔

    جیبیں مردوں کے لباس میں 1550 کی دہائی میں ظاہر ہوئیں، جب مردوں کے پینٹ میں ڈرا اسٹرنگ بیگ شامل کیے گئے تھے۔ اس سے پہلے مرد و خواتین دونوں ہی اپنے سامان کو آزادانہ طور پر رکھتے تھے، لیکن جیسے جیسے مردوں کے ملبوسات میں تفصیل آئی، جیبیں بھی ان کا حصہ بن گئیں۔ اس کے برعکس خواتین کا لباس اس وقت تک جیبوں سے خالی رہا۔ خواتین اپنی چیزیں رکھنے کے لیے بیلٹ یا کمر کے ساتھ لٹکتی بیگز استعمال کرتی تھیں۔جب خواتین نے 18ویں اور 19ویں صدی کے دوران مزید آزادی حاصل کی اور اپنے لباس میں تبدیلیاں کیں، تو اس وقت خواتین کے لباس میں جیبیں شامل کرنا ایک بڑا قدم تھا۔ لیکن اس دوران بھی جیبوں کا ڈیزائن مردوں کی جیبوں سے مختلف تھا۔ خواتین کے لیے جیبیں اکثر اسکرٹس کے اندر ایک چھوٹے سے تھیلے کی شکل میں ہوتی تھیں، یا پھر ان جیبوں کو ٹائی کر کے رکھا جاتا تھا، جو کہ ہمیشہ کھلنے کا خطرہ رکھتے تھے۔19ویں صدی کے آخر میں، جب خواتین کے لباس میں کچھ بہتری آئی، تو جیبوں کا ڈیزائن بدل کر بیک بسل (پچھلے حصے) میں رکھا گیا تھا، جس سے خواتین کو اپنی چیزیں تلاش کرنے میں دشواری ہوتی تھی۔ اس کے بعد، 20ویں صدی کے اوائل میں خواتین کے لیے جیبیں تیار کرنا ایک حقیقت بننے لگا، خاص طور پر خواتین کے فوجی لباس میں، لیکن ان جیبوں کی حقیقت ہمیشہ شکوک و شبہات کے ساتھ جڑی رہی۔

    پہلی جنگ عظیم کے دوران جب خواتین نے صنعتوں میں کام کرنا شروع کیا اور فوج میں خدمات انجام دیں، تب انہوں نے زیادہ عملی لباس کی ضرورت محسوس کی۔ اس دور میں خواتین نے مردوں کی طرح جیبوں والی جیکٹیں، ٹراوزرز اور دیگر عملی لباس اختیار کیے۔ لیکن اس کے باوجود، ان جیبوں کی تعداد اور سائز میں ہمیشہ کمی رہی۔ مثال کے طور پر، 1940 میں خواتین کے فوجی یونیفارم میں جیبوں کی جگہ محض جعلی جیبیں رکھی گئی تھیں تاکہ یہ ظاہری طور پر مردوں کے لباس کے جیسے دکھائی دیں، لیکن حقیقت میں ان جیبوں میں کچھ بھی رکھنے کا امکان نہیں تھا۔20ویں صدی کے دوران، خاص طور پر 1960 کی دہائی میں، دوسری لہر کی نسوانی تحریک نے خواتین کے لباس میں جیبوں کی اہمیت پر زور دیا۔ اس تحریک کے دوران، خواتین کے حقوق کی جدوجہد کے ساتھ ساتھ ان کی ضروریات اور ان کے لباس میں عملی جگہ بنانے کی بھی بات کی گئی۔ خواتین کی جیبوں کا فقدان اس وقت ایک نکتہ چینی کا موضوع بنا، اور کئی خواتین نے اپنے سامان کو رکھنے کے لیے بیگوں کا استعمال کیا، جس سے ان کے لباس کی عملیت پر سوالات اٹھنے لگے۔

    women
    آج بھی خواتین کے لباس میں جیبوں کی کمی ایک مسئلہ ہے۔ اکثر خواتین کے لباس میں جیبوں کا سائز چھوٹا ہوتا ہے، یا پھر ان جیبوں کی جگہ محض غیر فعال فلیپ ہوتے ہیں۔ 2018 میں کیے گئے ایک مطالعے میں یہ بات سامنے آئی کہ مردوں کے جینز میں جیبوں کا سائز خواتین کے جینز کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوتا ہے۔ اس میں خاص طور پر خواتین کے اسکننی جینز اور اسٹریٹ جینز کا ذکر کیا گیا، جن کی جیبیں اتنی چھوٹی ہوتی ہیں کہ ان میں ایک موبائل فون یا دیگر ضروری سامان رکھنا ممکن نہیں ہوتا۔اس کے علاوہ، فاسٹ فیشن کی صنعت نے اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ جب لباس کے ڈیزائن میں جیبوں کا اضافہ کیا جاتا ہے تو یہ اضافی خرچ اور محنت کا سبب بنتا ہے، جسے فیشن انڈسٹری اپنے منافع کو بڑھانے کے لیے نظرانداز کرتی ہے۔ اس کے علاوہ، خواتین کے لباس میں جیبوں کی کمی کا ایک اور سبب یہ ہے کہ فیشن ڈیزائنرز نے ہمیشہ خواتین کے جسمانی خطوط کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے، اور جیبیں انہیں اس مقصد میں رکاوٹ محسوس ہوتی ہیں۔

    خواتین کے لباس میں جیبوں کی کمی کو صنفی عدم مساوات کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ کارلسن کے مطابق، جیبیں ہمیشہ مردوں کی خصوصیت رہی ہیں، اور یہ "مردانگی” کی علامت سمجھی جاتی ہیں۔ جیبیں ایک عملی اور خودمختار خصوصیت رہی ہیں، جو ہمیشہ مردوں کے لیے مخصوص کی گئی تھیں، جبکہ خواتین کو اپنے سامان کو رکھنے کے لیے بیگوں کا محتاج بنایا گیا۔یہ مسئلہ صرف ملبوسات تک محدود نہیں ہے بلکہ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ معاشرتی طور پر خواتین کو مردوں کے مقابلے میں کم خودمختاری دی جاتی ہے۔ جیبیں اس حقیقت کی علامت بن گئی ہیں کہ مردوں کو ہمیشہ زیادہ عملی آزادی حاصل رہی ہے، جبکہ خواتین کو جمالیاتی اور سجاوٹی لباسوں میں محدود رکھا گیا ہے۔

    خواتین کے لباس میں جیبوں کی کمی ایک تاریخی، ثقافتی اور صنفی مسئلہ ہے جو آج بھی موجود ہے۔ یہ سوال صرف خواتین کے حقوق کے لیے نہیں بلکہ معاشرتی مساوات کے لیے بھی اہمیت رکھتا ہے۔ جیبوں کی کمی خواتین کی آزادی اور خودمختاری کی کمی کی علامت بن چکی ہے۔ فیشن انڈسٹری اور ڈیزائنرز کے لیے یہ ایک اہم چیلنج ہے کہ وہ خواتین کے لباس میں جیبوں کو شامل کریں تاکہ خواتین کو مردوں کے مساوی آزادی اور خودمختاری حاصل ہو سکے۔

  • وزیراعلیٰ ہو تو مریم نواز جیسی…تحریر: نورفاطمہ

    وزیراعلیٰ ہو تو مریم نواز جیسی…تحریر: نورفاطمہ

    جب مریم نواز نے بحیثیت وزیراعلیٰ پنجاب اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں تو وہ پنجاب کی تاریخ میں یہ منصب سنبھالنے والی پہلی خاتون بنیں۔ ان کی یہ حیثیت نہ صرف ایک تاریخی لمحہ تھی بلکہ تبدیلی کی نوید بھی۔ وزیراعلیٰ کے طور پر ان کے ابتدائی اقدامات نے واضح کر دیا کہ وہ صرف منصب کی روایتی ذمہ داری نہیں نبھانا چاہتیں بلکہ حقیقت میں عوام کی فلاح و بہبود کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہیں۔ان کے کئی اقدامات عوامی سطح پر پذیرائی حاصل کر چکے ہیں، لیکن ان میں سے ایک سب سے نمایاں اور متاثر کن قدم طلبا کے لیے دی جانے والی سکالر شپ اسکیم ہے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا یہ اقدام اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ تعلیم کی اہمیت کو نہ صرف سمجھتی ہیں بلکہ اس کے فروغ کے لیے عملی اقدامات بھی کر رہی ہیں۔ سکالر شپ کا مقصد یہ ہے کہ مالی مسائل کسی طالبعلم کی راہ میں رکاوٹ نہ بنیں۔ پنجاب کے ہزاروں طلبا و طالبات، جو تعلیمی اخراجات برداشت نہیں کر سکتے تھے، اب اپنی تعلیم جاری رکھنے کے قابل ہو رہے ہیں۔سکالر شپ سے کم آمدنی والے خاندانوں کے بچوں کو تعلیم کے یکساں مواقع مل رہے ہیں۔باصلاحیت طلبا اب اپنی مکمل توجہ تعلیم پر مرکوز کر سکتے ہیں۔ تعلیم یافتہ نوجوان ہی کسی قوم کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔خاص طور پر طالبات کے لیے یہ سکالر شپ ایک حوصلہ افزا قدم ہے، جو والدین کو ان کی تعلیم جاری رکھنے کی ترغیب دے رہا ہے۔عوام کی بڑی تعداد نے سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارمز پر مریم نواز کے اس فیصلے کو سراہا ہے۔ طلبا، والدین اور اساتذہ سب ہی اس سکیم کو ایک مثبت اور دور رس اثرات رکھنے والا قدم قرار دے رہے ہیں۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے دیگر صوبوں کے طلبہ کے لیے پنجاب کی طرح ہونہار سکالرشپ سکیم کی بھی منظوری دی ہے جو کہ انتہائی احسن فیصلہ ہے۔ یہ سکیم ملک بھر کے طلبہ کو یکساں مواقع فراہم کرے گی، تاکہ تعلیم کے میدان میں قابلیت کی بنیاد پر انہیں آگے بڑھنے کا موقع ملے۔مریم نواز نے پنجاب میں طلبہ کے لیے لیپ ٹاپ کی تعداد کو بڑھا کر ایک لاکھ 10 ہزار کر دینے کا اعلان بھی کر رکھا ہے،تعلیم دوست اقدامات سے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے شہریوں کے دل جیت لئے ہیں،

    وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر ہونہار سکالر شپ ہیلپ ڈیسک بھی قائم کیا گیاہے،ہونہار سکالر شپ سکیم کے لئے طلبہ واٹس ایپ،لینڈلائن نمبراور سوشل میڈیا پررجوع کر سکتے ہیں۔ صبح9بجے سے شام5تک ہونہار سکالر شپ ڈیسک طلبہ کی رہنمائی کرے گا۔ ہونہار سکالرشپ کے ڈیسک پر انفارمیشن اور درپیش ممکنہ شکایات سے متعلق فوری حل کے لئے رابطہ کیا جا سکے گا۔ طلبہ ہونہار سکالر شپ کے لئے ہیلپ لائن نمبر042-99231903-4پر رابطہ،0303-4002777 اور0303-4002999 پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں۔ ہونہار سکالر شپ کے لئے آن لائن complainthonhaar@punjabhec.gov.pkپر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔ ہونہار سکالر شپ کے لئے آن لائنhonhaar@punjabhec.gov.pkپر بھی رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

    noor fatima

  • شہید صفدر علی ، چیف جسٹس سے ازخود نوٹس کی اپیل۔ تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    شہید صفدر علی ، چیف جسٹس سے ازخود نوٹس کی اپیل۔ تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    22 فروری 2025 کا دن فیصل آباد کی تاریخ میں ایک سیاہ دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا، جب ایک عام، محنت کش نوجوان صفدر علی، پاپا نانا پیزا شاپ کے اندر بے دردی سے شہید کر دیا گیا۔ شہادت ایک عظمت کا رتبہ ہے، جو اکثر ظالم کے ہاتھوں، بے گناہی کی سزا بن کر نصیب ہوتا ہے۔ صفدر علی کی شہادت نہ صرف ایک فرد کا نقصان ہے، بلکہ یہ ہمارے سماجی و عدالتی نظام کے ماتھے پر ایک نہ مٹنے والا دھبہ ہے۔
    صفدر علی نہ کوئی مجرم تھا، نہ کسی جھگڑے کا حصہ، نہ کسی ذاتی دشمنی کا شکار۔ وہ صرف پیزا لینے گیا تھا، تاکہ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ ایک خوشگوار لمحہ گزار سکے۔ مگر ظالموں نے اس کی مسکراہٹ کو گولیوں سے چھین لیا۔ ایف آئی آر نمبر 375/25 کے مطابق، پیزا شاپ پر تعینات سیکیورٹی گارڈ بصویر نے مالک آصف کے اشتعال دلانے پر صفدر پر فائرنگ کی۔ وہ سڑک پر تڑپتا رہا، اور لوگ تماشائی بنے کھڑے رہے۔ پیزا شاپ کا مالک بھی قریب کھڑا تھا، مگر اس نے مدد کرنے کے بجائے تماشا دیکھا۔یہ صرف صفدر علی کی شہادت نہیں تھی، بلکہ یہ ہمارے ضمیر کی موت تھی۔ ایک زندہ انسان کے بے گناہ قتل پر معاشرہ خاموش رہا، نظامِ قانون خاموش رہا، اور وہ ادارے بھی خاموش رہے جو عوام کی حفاظت کے دعویدار ہیں۔مگر صفدر کے والد، حیدر علی، خاموش نہیں رہے۔ وہ اپنے بیٹے کی لاش کو دفن کرنے کے بعد انصاف کی راہوں پر نکل پڑے۔ انہوں نے تھانہ سمن آباد میں مقدمہ درج کروایا، قاتلوں کو نامزد کیا، مگر شہید حیدر علی کے والد کا کہنا ہے کہ قانون نے جیسے ان کے بیٹے کے خون پر سودا کر لیا ہو۔ ایس ایچ او امتیاز جپہ اور تفتیشی افسر ناصر عباس نے آصف کو دس دن مہمان بنا کر تھانے میں رکھا، ریمانڈ بھی نہ لیا، اور پھر "بے گناہ” قرار دے کر چھوڑ دیا۔یہ وہی ایس ایچ او ہے، جو اب اینٹی نارکاٹکس فورس کے ہاتھوں بھاری منشیات سمیت رنگے ہاتھوں گرفتار ہو کر معطل ہو چکا ہے۔ حیدر علی کا کہنا ہے کہ کیا اب بھی یہ سوال باقی ہے کہ منشیات فروش ایس ایچ او کی زیر نگرانی تفتیشی ناصر عباس نے صفدر علی کے قاتل کو بے گناہ کیوں قرار دیا؟ کیا وہی ہاتھ جو منشیات بیچتے ہیں، قاتلوں کو بھی بچاتے ہیں؟

    صفدر علی کی شہادت، پاکستان کے اس نظامِ انصاف پر ایک سنگین سوال ہے، جو طاقتور کے سامنے جھک جاتا ہے، اور مظلوم کے دروازے بند کر دیتا ہے۔ آج حیدر علی دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ وہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے لے کر چیف جسٹس پاکستان تک سب کو پکار رہے ہیں۔ وہ پوچھتے ہیں:”میرا بیٹا بے گناہ تھا، شہید ہوا۔ اس کا قاتل آزاد کیسے ہے؟”یہ سوال صرف حیدر علی کا نہیں، یہ ہر اس باپ کا ہے جس کا بیٹا ظلم کا نشانہ بن کر انصاف سے محروم ہو گیا۔ صفدر علی کی شہادت اس بات کی علامت ہے کہ ہم ایک ایسے معاشرے میں جی رہے ہیں جہاں عام آدمی کا خون پانی سے بھی سستا ہو چکا ہے، اور طاقتور کے لیے قانون فقط ایک تماشا بن گیا ہے۔
    اب ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا:
    کیا ہم صفدر علی کی شہادت کو یونہی فراموش کر دیں؟.کیا ہم حیدر علی کی فریاد کو در و دیوار سے ٹکرا کر خاموش ہونے دیں؟یا ہم سب اس باپ کے ساتھ کھڑے ہوں گے، اور اس بے گناہ شہید کے لیے آواز بلند کریں گے؟.ہمیں اب خاموشی توڑنی ہوگی۔ہمیں درج ذیل اقدامات پر زور دینا ہوگا:1. شہید صفدر علی قتل کیس کی غیر جانبدارانہ، نئی تفتیش کا حکم دیا جائے – اعلیٰ پولیس افسران پر مشتمل شفاف تحقیقاتی ٹیم بنائی جائے۔2. تھانہ سمن آباد کے ملوث افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے – امتیاز جپہ اور تفتیشی ناصر عباس جیسے اہلکاروں کے کردار کا بھی جائزہ لینا ہوگا۔3. عدلیہ ازخود نوٹس لے – تاکہ یہ ثابت ہو کہ عدالتیں صرف طاقتور کے لیے نہیں، عام انسان کے لیے بھی ہیں۔4. پولیس اصلاحات کو فوری طور پر نافذ کیا جائے – سیاسی اثر و رسوخ سے آزاد تفتیشی نظام بنایا جائے۔5. شہید صفدر علی کو ریاستی سطح پر انصاف دلایا جائے – تاکہ اس کی شہادت رائیگاں نہ جائے۔
    حکومت، ریاست اور ادارے اگر اب بھی نہ جاگے، تو آنے والے وقت میں صفدر علی جیسے معصوم شہید ہوتے رہیں گے، اور حیدر علی جیسے باپ انصاف کے لیے در بدر ہوتے رہیں گے۔
    صفدر علی ہم سب کا بیٹا ہے۔ اگر ہم نے آج اس کے لیےے آواز نہ اٹھائی، تو کل ہمارا اپنا بچہ بھی کسی پیزا شاپ کے اندرظلم کا نشانہ بن سکتا ہے۔کیا ہم شہید صفدر علی کے لیے کھڑے ہوں گے؟ یا ایک بار پھر خاموش تماشائی بنے رہیں گے ؟ شہید صفدر علی کے دکھی ماں باپ نےچیف جسٹس سپریم کورٹ سے ازخود نوٹس لینے کی اپیل کی ہے ۔۔۔!!

  • مکمل انسان .تحریر : شمائل عبداللہ

    مکمل انسان .تحریر : شمائل عبداللہ

    ہمارے معاشرے میں اکثر معذور افراد کو ” ایب نارمل ” کہا جاتا ہے لیکن دیکھا جائے تو یہ نامکمل انسان ہی حقیقت میں مکمل ہوتا ہے۔ کہ کبھی کسی معذور کی نظر میں حوس نہیں دیکھی گئی سوائے خواجہ سرا کے وہ بھی اس لئے کہ ان کی معذوری میں ذرا فرق ہے لیکن باوجود اس کے وہی اس چیز کا زیادہ شکار ہوئے کبھی کسی معذور نے ریپ نہیں کیا۔ اور تو اور کہیں کہیں لفظوں اور باتوں کو سمجھنے کا شعور بھی سب سے زیادہ انہی میں پایا گیا ۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ایک معذور کے احساس و جذبات کو نہ تو سمجھا گیا نہ لکھا گیا۔ ابھی پرسوں کی ہی بات ہے میں خبروں میں سن رہا تھا۔ ویسے تو میری دلچسپی نہیں ہے خبروں میں لیکن والد محترم لگاتے ہیں تو سن لیتا ہوں۔ دو بچے کنوئیں میں گر گئے تھے کوئی ان کی مدد کو نہ گیا سب کو اپنی جان بچانی تھی اور جنہوں نے انہیں بچایا وہ ایک معذور طبقہ تھا بغیر جان کی پرواہ کئے۔ اب بتائیے نامکمل کون؟ انسانیت کن میں ہے؟ حقیقی معذور کون؟ میں جب اس طرح کے واقعات دیکھتا ہوں تو کہانیوں پر یقین آنے لگتا ہے ہاں یہ الگ بات ہے کہ محبت سب کو ہوتی ہے شاید انہیں بھی ہو آخر کو وہ انسان تو ہیں؟ لیکن عام لوگوں کی طرح کی سوچ سے وہ پرے ہیں تو ایب نارمل کون ہوا؟ کئی مرتبہ دوست انہیں بھی چاہئیے ہوتے ہیں لیکن یہ اتنے باہمت ہوتے ہیں کہ اکیلے جی سکیں۔ ان کا واحد سہارا خدا اور ان کے اپنے ہیں اور یہ اسی میں خوش ہیں لیکن عام عوام کبھی خوش نہیں ہوتی بعض اوقات اپنے بھی اکتا جاتے ہیں لیکن خدا تو نہیں اکتاتا ناں ؟ یہ اس میں بھی خوش ہیں کیونکہ خدا کی مرضی بھی یہی ہے کہ ہم خوشی اور شکر گزاری کریں اور بلا ناغہ دعا کریں اور یہ لوگ ایسے ہی ہیں عام لوگوں میں یہ بات ہے کہ وہ خود پہ اور خدا پہ یقین رکھتے ہیں لیکن ان کا خود پہ نہیں بلکہ یقین کامل ایمان توکل سب خدا پر ہوتا ہے ان کی امید و محبت بھی دنیا نہیں بلکہ خدا ہے کیونکہ دنیا سے دوستی خدا سے دشمنی ہے ہمیں اس جہاں میں تو رہنا ہے مگر اس کے ہم شکل نہیں بننا بقول شاعر :-
    زمانہ دوست ہو جائے تو بہت محتاط ہو جانا
    منافق لوگ بڑے مخلص ہوا کرتے ہیں اکثر

    میں نے کہیں پہ لکھا تھا کہ محبت ہونا ضروری ہے لیکن شادی ضروری نہیں یہ بات میں نے کسی غلط ارادے نہیں لکھی تھی بلکہ اس لئے لکھی کہ ہم محبت کا مقابلہ نہیں کر سکتے یہ کچھ نہیں دیکھتی لیکن شادی بہت بڑا زندگی بدل دینے والا فیصلہ ہے۔ سو ہم اپنے احساسات و جذبات پر صبر کر سکتے ہیں۔ یہی بہتر ہوگا کیونکہ محبت تو سات پردوں میں بھی واجب ہے امید ہے پڑھنے والے بات کو سمجھیں۔ لیکن عام لوگوں کا کردار دیکھوں تو مجھے وہ شعر یاد آتا ہے کیا خوب کہا ہے کسی نے کہ:-
    جسم کی پوجا کرتا ہے یہ آج کا فلسفہ
    یہی اگر محبت ہے تو ہم جاہل ہی اچھے
    فی امان اللہ

  • سیف سٹی کیمرے، شہری جرائم پر قابو، دیہاتی تھانوں کا امتحان

    سیف سٹی کیمرے، شہری جرائم پر قابو، دیہاتی تھانوں کا امتحان

    سیف سٹی کیمرے، شہری جرائم پر قابو، دیہاتی تھانوں کا امتحان
    تحریر: محمد سعید گندی
    ڈیرہ غازی خان سرکل میں گزشتہ کچھ ماہ سے چوروں اور ڈاکوؤں نے عوام کی ناک میں دم کر رکھا ہے۔ کوئی شہری خواہ وہ مارکیٹ میں ہو، شہر، گاؤں یا روڈ پر ہو حتیٰ کہ اپنے گھروں میں بھی خود کو محفوظ نہیں سمجھتا۔ ڈاکوؤں نے روزانہ کی بنیاد پر چوریوں اور ڈکیتیوں کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ نہ جانے یہ سلسلہ کب اور کہاں جا کر رکے گا۔ خیر، یہ تو ہمیشہ سے چلا آ رہا ہے، کبھی کم اور کبھی زیادہ۔ اسے مکمل طور پر قابو کرنا مشکل ضرور ہے، مگر ناممکن نہیں۔

    ہر پولیس افسر کا اپنا پولیسنگ کا انداز ہوتا ہے۔ ہمارے بہت سے صحافی دوست اسے "دبنگ” لکھتے ہیں۔ خیر، یہ ممکن ہے کہ کوئی ایسی کارروائیاں ہوں یا محض محبت بھرے الفاظ ہوں۔ میں ایک صحافی ہوں اور ساتھ ہی مزدور بھی۔ بہت کم کسی دفتر جانے کا اتفاق ہوتا ہے۔ الحمدللہ، جب کوئی آپ کو پہچان نہیں پاتا تو وہ آپ کے سامنے سچ بول دیتا ہے، ورنہ اگر آپ صحافی کے طور پر تعارف کروائیں گے تو وہ چائے پلائیں گے اور چلتا کریں گے۔

    کچھ دن قبل ایک اعلیٰ پولیس افسر سے اچانک ملاقات ہوئی۔ کچھ صحافی دوست وہاں پہلے سے موجود تھے۔ سوال اٹھا کہ پچھلے چند ماہ یا ایک سال میں (وقت کی تعیین ضروری نہیں) کیا ڈیرہ غازی خان میں جرائم کم ہوئے ہیں؟ ان کا جواب بالکل درست اور بغیر کسی لگی لپٹی کے تھا۔ انہوں نے کہا کہ جرائم میں اضافہ ہوا ہے، بلکہ میں کہتا ہوں کہ بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔

    اس کی وجہ جاننے کی معقول کوشش بھی کی گئی۔ ان کے مطابق، جب تک تھانوں میں سیاسی اثر و رسوخ بند نہیں ہوگا، جرائم میں کمی نہیں آئے گی۔ دوسرا اہم نکتہ یہ کہ پولیس افسران اب میرٹ پر تفتیش سے بھی گھبراتے ہیں۔ ڈیرہ غازی خان ایک ایسا علاقہ ہے جہاں پولیس خود جرائم پیشہ افراد سے کنارہ کشی اختیار کرتی ہے۔ اس کے بہت سے محرکات ہیں، جو میرے خیال میں ہم سب جانتے ہیں۔

    فیک ریکوریاں بہت زیادہ ہوئی ہیں، اس میں کوئی شک نہیں۔ جب چوریاں اور ڈکیتیاں ہوں گی تو صاف ظاہر ہے کہ عوام کو بھی کچھ ریلیف چاہیے۔ پولیس کہیں سے بھی لا کر عوام کو کچھ نہ کچھ دکھاتی ہے، اس لیے اب یہی آپشن رہ جاتا ہے، یعنی فیک ریکوریاں۔ کیونکہ جب پولیس اصلی جرائم پیشہ افراد کو پکڑتی ہے تو مدعی عدالت میں جا کر ان کے حق میں بیان دے دیتا ہے کہ یہ ہمارا چور یا ڈاکو نہیں۔ ایسی صورت میں پولیس کیا کرے؟ ہم سمجھتے ہیں کہ جیسے پولیس کے مسائل ہیں، وہ پیچھے ہٹ جاتی ہے اور مدعی بھی اپنا بچاؤ کر کے غائب ہو جاتا ہے۔

    بڑے بڑے گینگز کا خاتمہ ضروری ہے اور یہ وقت کی اہم ضرورت بھی ہے۔ سب سے پہلے عوام اور پولیس کے درمیان خلیج کو کم کرنا ہوگا۔ عوام کا پولیس پر اور پولیس کا عوام پر اعتماد ہونا لازمی ہے۔ اب ڈیرہ غازی خان میں سیف سٹی کیمرے نصب کر دیے گئے ہیں۔ ان کیمروں کے ذریعے ہم اصلی مجرم تک پہنچ سکتے ہیں۔ ان کی بدولت جو بھی چور یا ڈاکو گینگ پکڑے جائیں گے، ان کے سفارشی یا تو آئیں گے ہی نہیں، اور اگر آئیں گے تو بہت کم۔ کیونکہ پولیس ان شواہد کی بنا پر کسی کے دباؤ میں نہیں آئے گی۔ اندازاً 70 فیصد جرائم ان سیف سٹی کیمروں سے کم ہو جائیں گے، باقی پولیس خود بھی قابو کر لے گی۔

    ایک سوال یہ ہے کہ کوٹ مبارک، شاہ صدر دین، کالا، دراہمہ یا دیگر دور دراز کے تھانوں کے علاقوں میں سیف سٹی کیمرے نصب نہیں ہیں۔ ان تھانوں کے علاقوں میں جرائم تو کم نہیں ہوں گے۔ بہرحال، پولیس اپنا کام کر رہی ہے۔ عوام کو بھی چاہیے کہ وہ جرائم پیشہ افراد کی نشاندہی کریں۔

  • کوئی کرے نہ کرے، ضمیر تو کرے گا

    کوئی کرے نہ کرے، ضمیر تو کرے گا

    کوئی کرے نہ کرے، ضمیر تو کرے گا
    تحریر: میاں محسن اقبال ایڈووکیٹ ہائی کورٹ
    فلسطین کی زمین لہو سے تر ہے، غزہ کی گلیاں معصوم لاشوں سے بھری پڑی ہیں،
    ننھے وجود خاک تلے دبے ہیں،
    اور انسانیت، غیرت، ایمان… سب ماتم کناں ہیں۔

    یہ کیسا دور ہے کہ بچوں کے چیتھڑے اُڑ جائیں، ماں کی گود اجڑ جائے، باپ کی لاش مسجد کے دروازے پر پڑی ہو اور امتِ محمدیہ خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہو۔

    یہ 57 اسلامی ممالک کس مرض کی دوا ہیں؟
    جن کی فوجیں کروڑوں میں ہیں،
    جن کے پاس جدید اسلحہ، ایٹمی طاقتیں اور وسائل کے انبار ہیں… مگر ایک معصوم فلسطینی بچے کے لیے ان کی بندوق نہیں چلتی!
    ان کے جنگی طیارے صرف یومِ جمہوریہ کی پریڈ کے لیے ہیں؟
    کیا ان کی توپوں کا رُخ صرف اپنے عوام کی طرف ہوتا ہے؟
    کیا ان کا ضمیر صرف تب جاگتا ہے جب اقتدار کو خطرہ لاحق ہو؟

    اور اسلامی دنیا کے سپہ سالارو!
    کس نیند میں ہو تم؟ کس دشمن کے انتظار میں ہو جو تمہیں جگائے؟
    یا تمہاری تلواریں صرف عزت کے نازک پردوں پر چلنے کے لیے بنی ہیں؟

    تمہاری خاموشی… تمہارا بزدل سکوت…
    یہ صرف امت کی نہیں، محمدِ عربیؐ کے دین کی توہین ہے۔

    اور مدارس کے علما!
    جنہوں نے منبر و محراب کو سنبھالا،
    جن کی زبانوں میں فصاحت تھی،
    جن کی تقریروں سے لوگ روتے تھے،
    آج وہ کہاں ہیں؟

    کیوں ان کے خطبوں میں غزہ کا ذکر نہیں؟
    کیوں منبر سے وہ چیخ سنائی نہیں دیتی جو باطل کے ایوانوں کو ہلا دے؟
    کیا ان کے ایمان کی حرارت ختم ہو چکی ہے؟
    کیا آج دین کے محافظ صرف خاموشی کے پیکر بن چکے ہیں؟

    یہ وہ ننھا فلسطینی کر رہا ہے جس کا آدھا جسم بمباری میں ختم ہو چکا ہے،
    وہ ماں کر رہی ہے جو اپنے بیٹے کی کٹی ہوئی ٹانگیں اُٹھا کر دوپٹے میں لپیٹ رہی ہے،
    وہ باپ کر رہا ہے جس نے اپنے چار بچوں کو کفن کے بغیر دفن کیا۔

    امتِ مسلمہ!
    یاد رکھو!
    تمہاری بندوقیں خاموش رہیں، تمہارے علما خاموش رہے، تمہارے بادشاہ، صدر، وزیرِاعظم، جنرل… سب چپ رہے، تو کوئی کرے نہ کرے… ضمیر تو کرے گا!

    سوال کرے گا… پکارے گا… اور تمہاری بے حسی کو بے نقاب کرے گا۔