درباریوں سے جان چھڑائے بغیر عام آدمی کے مسائل حل نہیں ہونگے
ہربااختیار کے گرد درباری جمع،عوام کی کون سنے،وزیر اعلیٰ پنجاب کی تقلید کرناہوگی
مریم نوازشریف نے پنجاب کا نقشہ بدل دیا،نوجوانوں کی مقبول لیڈر،سب کے دل جیت لئے
فیلڈ مارشل سید عاصم منیرمعرکہ حق میں کامیابی پر دنیا کی طاقتور شخصیات کی فہرست میں شامل
تجزیہ،شہزاد قریشی
فیلڈ مارشل سیدعاصم منیر پاکستان میں نہیں عالمی دنیا میں بھارت کا مقابلہ کرنے کے بعد مضبوط شخسیت بن کر ابھرےہیں،پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کیساتھ تصادم جیت لیا، اس تصادم میں بری فضائی،بحری اور جملہ اداروں کا کردار قابل تحسین ہے،قوم کو پتہ چل گیا کہ ملکی سلامتی مضبوط ہاتھوں میں ہے،مسجد اقصیٰ کا مستقبل امریکہ نہ اسرائیل اور نہ ہی دیگر دنیا کے ہاتھ میں ہے، مسجد اقصیٰ کا مستقبل وہی ہے جو اللہ تعالی نے طے کر رکھا ہے،مسجد اقصیٰ کی وہ ہی حفاظت کرے گا جس پروردگار نے ابابیلوں کو بھیج کر ہاتھی والوں کو عبرت کا نشان بنا دیا تھا، آج کا انسان موجودہ قیامت خیز ماحول میں بھی عبرت حاصل نہیں کرتا تو اس پر بحث کرنے سے کیا حاصل،ملکی سیاسی اور مذہبی جماعتوں،جمہوریت، قانون کی حکمرانی اور پارلیمنٹ کی بالادستی کے دعویداروں سے اتنا ہی کہا جا سکتا ہے کہ وہ جمہور کے مسائل کی طرف توجہ دیں اگر ایک صوبے کی وزیر اعلیٰ میرٹ گڈ گورنس چٹ سسٹم کا خاتمہ کر سکتی ہے،تو باقی کیوں نہیں، ایک خاتون وزیر اعلیٰ نے پنجاب کا نقشہ بدل کر رکھ دیا،نوجوان بچوں اور بچیوں کو جدید تعلیم حاصل کرنے غریب لوگوں کی مالی امداد سے لیکر دیگر بنیادی مسائل حل کر سکتی ہے تو دیگر صوبوں کی حکومتیں کس مرض میں مبتلا ہیں،پاکستان نے اگر دنیا کیساتھ ترقی کرنی ہے تو تباہ کن سیاسی انداز اور ذاتی مفادات کی پالیسی کو بدلنا ہو گا،بہت ہو چکا اب وقت آ گیا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں اختلافات کو پس پشت ڈال کر پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا کرنے کے لئے کردار ادا کریں مشرق وسطیٰ امریکی بدلتی پالیسی اور دیگر ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلی کو مدنظر رکھیں اور پاکستان کی ترقی اور عوامی کی خوشحالی میں اپنا کردار ادا کریں، استحکام پاکستان کا خواب مکمل جب ہو گا جب رائٹ مین فار رائٹ جاب پر عمل ہو گا،نااہل کرپٹ بد دیانت ذاتی مفادات اقرباء پروری متکبر اور چاپلوس خوشامدی ٹولے سے جان چھڑانی ہو گی جب تک ملک کی سیاسی جماعتوں کی بلند دیواروں اور دروازوں پر درباریوں کا قبضہ رہے گا عوامی کے بنیادی مسائل حل نہیں ہوں گے
Category: بلاگ
-

درباریوں سے جان چھڑائے بغیر عام آدمی کے مسائل حل نہیں ہونگے،تجزیہ:شہزاد قریشی
-

پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کا معیار،بہتری کے لیے تجاویز اور عملی اقدامات
پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کا معیار،بہتری کے لیے تجاویز اور عملی اقدامات
تحریر:سید ریاض جاذب
پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کا شعبہ کئی دہائیوں سے اصلاحات کا متقاضی رہا ہے۔ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے اور تعلیمی نظام کو اس تبدیلی کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ ترقی یافتہ اقوام نے تعلیم کے ذریعے ہی معاشی، سائنسی اور سماجی میدانوں میں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ اگر پاکستان کو عالمی سطح پر مؤثر اور مضبوط مقام حاصل کرنا ہے تو اسے اپنے تعلیمی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہوگا۔ پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے مندرجہ ذیل تجاویز ایک جامع حکمت عملی کی صورت میں پیش کی جا رہی ہیں۔سب سے پہلے نصاب کی باقاعدہ نظرثانی ناگزیر ہے۔ موجودہ دور میں جب دنیا مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، انٹرپرینیورشپ، اور ماحولیاتی تبدیلی جیسے موضوعات پر تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے، ہمارے تعلیمی اداروں میں اب بھی پرانے طرز کے نصاب پڑھائے جا رہے ہیں۔ اس لیے نصاب کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنا، اور رٹے بازی کے بجائے تنقیدی سوچ، تخلیقی صلاحیت اور مسئلہ حل کرنے کی مہارتوں کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس ضمن میں عالمی جامعات کے نصاب کا جائزہ لینا اور ان کے کامیاب ماڈلز کو مقامی حالات کے مطابق اپنانا سودمند ثابت ہو سکتا ہے۔
ملک بھر میں یکساں تعلیمی معیار اور نصاب کا نفاذ بھی ایک بڑا قدم ہو سکتا ہے۔ جب مختلف علاقوں اور اداروں میں مختلف نصاب رائج ہوتے ہیں تو اس سے تعلیمی عدم مساوات اور مواقع کی تقسیم میں فرق پیدا ہوتا ہے۔ اس خلا کو پُر کرنے کے لیے قومی سطح پر یکساں نصاب کی پالیسی نافذ کرنی ہوگی، جس سے تمام طلبہ کو برابر مواقع میسر آئیں گے اور تعلیمی نظام میں ہم آہنگی پیدا ہو گی۔
اساتذہ اعلیٰ تعلیم کے نظام میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کی تربیت اور پیشہ ورانہ ترقی کے لیے جامع پروگراموں کی ضرورت ہے۔ تدریس میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال، آن لائن لرننگ پلیٹ فارمز کی تربیت، اور اساتذہ کی تعلیمی اسناد کی تصدیق جیسے اقدامات معیار کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ اساتذہ کے لیے بین الاقوامی کانفرنسوں میں شرکت اور ریسرچ فیلوشپس کی حوصلہ افزائی کر کے ان کی علمی سطح کو بلند کیا جا سکتا ہے۔
تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ دینا کسی بھی اعلیٰ تعلیمی نظام کا مرکزی ستون ہوتا ہے۔ پاکستان میں تحقیق کے لیے بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ کیا جانا چاہیے۔ ساتھ ہی مسابقتی تحقیقی گرانٹس کی فراہمی، اور یونیورسٹیوں و صنعت کے درمیان روابط کو مضبوط کر کے عملی تحقیق کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ تحقیق کا دائرہ صرف سائنسی موضوعات تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ سماجی، معاشی اور انسانی علوم کی تحقیق بھی اتنی ہی اہم ہے۔ تحقیقی مقالوں کی اشاعت، عالمی جرائد تک رسائی اور پیٹنٹس کی رجسٹریشن پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔
تعلیمی اداروں کے درمیان شراکت داری اور احتساب کے نظام کو مضبوط بنانا بھی ضروری ہے۔ جب ادارے ایک دوسرے کے ساتھ تجربات کا تبادلہ کرتے ہیں، تو معیار خود بخود بہتر ہوتا ہے۔ والدین اور کمیونٹی کی شمولیت سے بھی اداروں کو مثبت فیڈبیک اور سماجی حمایت حاصل ہوتی ہے، جس سے طلبہ کی کارکردگی پر بھی خوشگوار اثر پڑتا ہے۔ تعلیمی بورڈز اور ایچ ای سی کو اداروں کے سالانہ جائزے کا ایک مؤثر نظام مرتب دینا ہوگا تاکہ بہتری کی راہ ہم وار ہو سکے۔
اعلیٰ تعلیم کو طلب اور روزگار کی ضروریات کے مطابق بنانا وقت کا تقاضا ہے۔ جب فارغ التحصیل نوجوان مارکیٹ کی ضروریات کو پورا نہیں کرتے تو بے روزگاری بڑھتی ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے تعلیمی اداروں کو ایسے مضامین اور پروگرامز متعارف کرانے ہوں گے جو عملی میدان میں مؤثر ثابت ہوں۔ انٹرن شپس، انڈسٹری سے براہ راست منسلک کورسز، اور ٹیکنیکل تعلیم کے شعبے کو بڑھاوا دے کر گریجویٹس کو بہتر مواقع فراہم کیے جا سکتے ہیں۔
حکومت، ایچ ای سی، تعلیمی ادارے، صنعت اور دیگر تمام متعلقہ فریقین کو باہم مربوط حکمت عملی کے تحت کام کرنا ہوگا۔ صرف نصاب کی اصلاح یا اساتذہ کی تربیت کافی نہیں؛ یہ سب پہلو ایک ہی زنجیر کی کڑیاں ہیں جنہیں یکجا کر کے ہی معیار اور رسائی کو ایک ساتھ بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، اور پالیسی سازی میں ماہرین تعلیم کی شمولیت جیسے اقدامات تعلیمی ترقی کے سفر کو تیز کر سکتے ہیں۔
پاکستان کی آبادی میں نوجوانوں کا تناسب بہت زیادہ ہے جو کسی بھی قوم کے لیے ایک قیمتی اثاثہ ہوتا ہے، لیکن اگر ان نوجوانوں کو معیاری تعلیم نہ دی جائے تو یہی اثاثہ بوجھ بن سکتا ہے۔ اس لیے تعلیمی نظام کو نوجوانوں کی ضروریات اور صلاحیتوں کے مطابق تشکیل دینا ضروری ہے تاکہ وہ نہ صرف اپنی ذاتی زندگی سنوار سکیں بلکہ ملکی ترقی میں بھی فعال کردار ادا کر سکیں۔
عالمی درجہ بندیوں میں پاکستانی جامعات کا مقام بہت پیچھے ہے، جس کی ایک بڑی وجہ تحقیق، نصاب اور تدریسی معیار میں کمی ہے۔ اگر ہم بین الاقوامی معیار کی تعلیم کو اپنا ہدف بنائیں تو نہ صرف ہمارے تعلیمی ادارے ترقی کریں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ بھی بہتر ہوگی۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ بین الاقوامی اداروں کے ساتھ شراکت داری کرے تاکہ پاکستانی جامعات کو عالمی سطح کے تحقیقی و تدریسی مواقع میسر آ سکیں۔
یہ تجاویز محض کاغذی نکات نہیں بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے اعلیٰ تعلیم کے مستقبل کو روشن بنانے کی بنیاد بن سکتی ہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ان تجاویز کو پالیسی کی سطح پر اپنایا جائے اور ان پر عمل درآمد کے لیے نیک نیتی سے اقدامات کیے جائیں۔

-

ادب کا روشن چراغ، آل پاکستان رائیٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (اپووا)
ادب ایک ایسا نور ہے جو دلوں کو منور کرتا ہے، سوچوں کو جلا بخشتا ہے اور معاشروں کو سنوارتا ہے۔ یہی ادب جب قلم سے قرطاس پر اُترتا ہے، تو تہذیبوں کی بنیاد بنتا ہے۔ اور جب لکھنے والے اپنی عزت، تحفظ، اور شناخت کے لیے اکٹھے ہوں تو وہ صرف تنظیم نہیں بناتے، وہ ایک فکری انقلاب کی بنیاد رکھتے ہیں۔آل پاکستان رائیٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (اپووا) بھی ایسی ہی ایک روشن امید ہے ، جو اہلِ قلم کی خدمت، تحفظ، فلاح اور ترقی کے لیے معرضِ وجود میں آئی۔ اس کے بانی اور روحِ رواں، ایم ایم علی، اس قافلے کے وہ سالار ہیں جنہوں نے نہ صرف لکھنے والوں کو ایک پلیٹ فارم دیا بلکہ ادب کو ادارہ جاتی حیثیت عطا کی۔
ایم ایم علی ، بانی صدر، اپووا
ایم ایم علی کا نام اردو ادب میں کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ وہ ایک کہنہ مشق قلم کار، حساس دل رکھنے والے تخلیق کار اور باہمت تنظیم ساز ہیں۔ ان کی قیادت میں اپووا نے صرف تنظیمی بنیادیں نہیں رکھیں، بلکہ ایک نظریاتی پیغام دیا ہے”ادب زندہ ہے، جب تک اہلِ ادب باوقار ہیں!”وہ جن کی سوچ میں صداقت کا رنگ ہو
جن کی قیادت میں قلم کو امنگ ہو
وہی ہیں بانی اس کارواں کے، جن کا نام
ایم ایم علی، جن پہ فخر کرے ہر سخن ور کا کلامان کا وژن ہے کہ لکھاری، شاعر، ادیب، ناقد، افسانہ نگار، سب کو ایک ایسا ادارہ فراہم کیا جائے جہاں وہ نہ صرف اپنی تخلیقات کو فروغ دیں بلکہ اپنے حقوق کی پاسداری بھی یقینی بنائیں۔ اپووا کی بنیاد اسی وژن کی علامت ہے۔
ملک یعقوب اعوان ، سینئر وائس چیئرمین،
اپووا کی قیادت میں ایک اور معتبر نام ملک یعقوب اعوان کا ہے، جو تنظیم کے سینئر وائس چیئرمین ہیں۔ ان کی شخصیت سنجیدگی، تدبر، اور ادبی وفا کا پیکر ہے۔ وہ لکھاریوں کے حقوق کے لیے سرگرم ہیں اور ادیبوں کی بہبود کو ایک مشن سمجھ کر سرانجام دے رہے ہیں۔یعقوب اعوان ہیں فکر و ادب کا امین
جو لفظوں میں رکھے ہیں خلوص کے نگین
ہو جس کے ساتھ، وفا کا پرچم بلند
وہی تو ہے اپووا کا معتبر کندنان کی خدمات تنظیم کے استحکام اور وسعت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان کا ہر بیان، ہر قدم ادب کے احترام اور تخلیق کار کی عزت کے لیے اُٹھتا ہے۔
سلمیٰ کشم،سینئر نائب صدرخواتین
اردو ادب میں جب ہم نسائی شعور، جمالیاتی احساس، اور فکری بلندی کی بات کرتے ہیں تو چند نام فوراً ذہن میں ابھرتے ہیں، اور ان میں ایک ممتاز، تابناک نام سلمیٰ کشم کا ہے۔ وہ صرف ایک شاعرہ یا ادیبہ نہیں، وہ ایک مکمل فکری دنیا کا نام ہیں؛ ایک ایسا نکھرا ہوا قلم جو لفظوں کو فقط لکھتا نہیں، روح میں اتارتا ہے۔ان کا تعلق قصور کی سرزمین سے ہے ، وہی قصور جو بلھے شاہ کی دھرتی ہے، جہاں ہر سانس میں ادب کی خوشبو ہے، اور ہر گلی میں صوفیانہ جمال بکھرا ہوا ہے۔ اسی دھرتی کی بیٹی سلمیٰ کشم ادب کی اس روایت کی وارث ہیں۔قصور کی مٹی نے بخشا ہے ان کو رنگِ خیال
ہر لفظ میں رس، ہر سوچ میں اجالا ہے کمال
سلمیٰ ہیں وہ نام، جن کے حرفوں سے
غزلیں مہکیں، نظمیں چمکیں، جذبے بولیںسلمیٰ کشم کے قلم کی خاص بات یہ ہے کہ ان کی تخلیقات میں صرف جذبات نہیں، بلکہ گہرا مشاہدہ، زندگی کی جزئیات، کا نچوڑ بھی ملتا ہے۔ وہ اپنے اشعار میں سماج کی اُن پرتوں کو اجاگر کرتی ہیں جنہیں اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ ان کے ہاں درد بھی ہے، امید بھی، سوال بھی اور جواب بھی۔ وہ اردو ادب میں خواتین کے نمائندہ چہروں میں سے ایک سمجھی جاتی ہیں۔سلمیٰ کشم نہ صرف ایک تخلیق کار ہیں بلکہ ایک فعال ادبی رہنما بھی ہیں۔ اپووا میں ان کا نائب صدر بننا اس بات کا اعتراف ہے کہ وہ نہ صرف تخلیقی میدان میں ممتاز ہیں بلکہ تنظیمی، فلاحی اور فکری قیادت کی بھی اہل ہیں۔ وہ ان خواتین کی آواز ہیں جو لکھنا چاہتی ہیں، لیکن مواقع کی منتظر ہیں۔
جن کے لہجے میں شائستگی، قلم میں سچائی
جن کے خیال سے جاگے کئی دلوں کی بینائی
وہ سلمیٰ کشم، جو رہنمائی کا چراغ ہیں
اپووا کی زینت، نسائی ادب کی شفاف مثال ہیںقصور کی دھرتی نے جو گوہر ہمیں عطا کیے ہیں، سلمیٰ کشم اُن میں نمایاں ہیں۔ ان کی تخلیقات مقامی فضا میں جَڑی ضرور ہیں لیکن ان کے اثرات عالمی افق تک جاتے ہیں۔ سلمیٰ کشم ایک خیال کا نام ہے، ایسا خیال جو معاشرے کو بہتر بنانے کی خواہش رکھتا ہے، جو صنفِ نازک کو باوقار انداز میں پیش کرتا ہے، جو ادب کو فقط کتابوں میں قید نہیں کرتا، بلکہ لوگوں کے دلوں میں اُتارتا ہے۔ان کی موجودگی اپووا جیسے ادارے کے لیے باعثِ فخر ہے، اور ان کی تخلیقات اردو ادب کے خزانے میں ایک قیمتی اضافہ ہیں۔اپووا میں ان کی موجودگی اس بات کی غماز ہے کہ تنظیم خواتین اہلِ قلم کو بھی وہی عزت، وقار، اور نمائندگی دے رہی ہے جس کی وہ حقدار ہیں۔
کشیدہ ہر لفظ، ہر مصرع اُن کا جمال
قلم سے نکلے تو ہو جائے حسنِ کمال
وہ سلمیٰ کشم، جو احساس کی ترجمان
ہیں اپووا میں روشنی کی پہچانآج کے دور میں، جب ادب کو محض مشغلے یا غیر اہم سرگرمی سمجھا جا رہا ہے، اپووا ایک ایسی تنظیم بن کر سامنے آئی ہے جو اہلِ قلم کی عزتِ نفس، ان کی فکری آزادی، اور تخلیقی حیثیت کو معاشرے میں اجاگر کر رہی ہے۔یہ صرف ایک ایسوسی ایشن نہیں بلکہ ایک ادبی انقلاب کی تمہید ہے ایسا انقلاب جو..
ہر لکھاری کو ایک ادارہ جاتی پہچان دے
شاعروں کی آواز کو پلیٹ فارم دے
ادیبوں کی بہبود کے لیے عملی اقدامات کرے
قومی و بین الاقوامی سطح پر اردو ادب کی نمائندگی کرے
نئی نسل کے لکھاریوں کی تربیت، حوصلہ افزائی اور رہنمائی کرےاپووا کی قیادت، یعنی ایم ایم علی، ملک یعقوب اعوان، اور سلمیٰ کشم، نہ صرف تنظیمی ذمہ داریوں کو نبھا رہے ہیں بلکہ ایک مشن کو لے کر آگے بڑھ رہے ہیں۔ ان کے لیے یہ مناصب کوئی عہدے نہیں، بلکہ ایک امانت ہیں جو قوم کے اہلِ قلم نے ان کے سپرد کی ہے۔
قلم کے وارثوں کا یہ قافلہ چلے
سچائی، روشنی، وفا کے گیت گائے
اپووا ہو منزل، اتحاد ہو زادِ راہ
ادب کی دنیا میں یہ چراغ جلائےدعا ہے کہ اپووا کا یہ کارواں بڑھتا رہے، پھلتا پھولتا رہے، اور اردو ادب کو وہ مقام دلوائے جس کا وہ ہمیشہ سے مستحق رہا ہے۔
-

یوم تکبیر۔۔۔ تجدید عہد کا دن ،تحریرڈاکٹر حافظ مسعودعبدالرشید اظہر
28 مئی 1998ءایک ایسا دن تھاجب کلمہ طیبہ کی بنیاد پر معرض وجود میں آنے والی واحد نظریاتی ریاست نے اپنے دفاع کو فولادی حصار فراہم کرتے ہوئے دنیا کفر کو یہ پیغام دیا کہ وہ نہ صرف اپنے جغرافیے کی حفاظت کرنا جانتی ہے بلکہ اپنی نظریاتی سرحدوں پر بھی کسی قسم کی سودے بازی کے لیے تیار نہیں۔ یہی دن ”یومِ تکبیر“ کے طور پر جانا جاتا ہے، وہ دن جب پاکستان نے خود کو دنیا کی ساتویں اور عالمِ اسلام کی پہلی ایٹمی طاقت کے طور پر منوایاجس کی وجہ سے پورے عالم اسلام بلکہ دنیا میں موجود ہر مسلمان کا سر فخر سے بلند اور پیشانی اپنے رب کے حضور سر بسجود ہوگئی۔
جب پاکستان نے اپنے ایٹمی پروگرام کا آغاز کیا تو یہ سفر آسان نہ تھا۔ سائنس، ٹیکنالوجی، ماہرین، وسائل اور وقت، سب کچھ محدود تھا۔ لیکن پاکستانی قوم کا جذبہ ایمانی اور رب العزت پر توکل یقین اور بھروسہ لامحدود تھا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان جیسے مخلص اور باصلاحیت سائنسدانوں نے اپنی زندگی وقف کر دی۔ کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز اور دیگر اداروں میں شب و روز تحقیق جاری رہی۔ عالمی سطح پر پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو روکنے کے لیے دباﺅ ، دھمکیاں اور معاشی پابندیوں کی باتیں کی گئیں۔ پاکستان کو تنہا کرنے کی کوشش کی گئی لیکن یہ سب رکاوٹیں اس وقت غیر موثر ہو گئیں جب پاکستان کے جذبے نے ان سب کے سامنے ڈٹ جانے کا فیصلہ کیا۔ ابتداہی سے جن مسلم ممالک نے پاکستان کے ساتھ مالی تعاون کیا ان میں سعودی عرب سرفہرست ہے ۔ یہ وہ دور تھا جب مملکت سعودی عرب کے فرمانروا جلالة الملک شاہ فیصل بن عبدالعزیز تھے ۔ وہ اسلام کے سچے خادم اور بہت ہی دور اندیش حکمران تھے ۔ وہ پاکستان سے بھی بے حد محبت کرتے تھے ۔ ان کی دلی خواہش تھی کہ پاکستان عسکری اعتبار سے مضبوط تر ہو ۔ یہی وجہ تھی کہ ملک فیصل بن عبدالعزیزنے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کےلئے مملکت کے خزانوں کے منہ کھول دیے ۔ اس طرح سے پاکستان کا ایٹمی پروگرام تکمیل کو پہنچا ۔ پاکستان میں مختلف اوقات میں مختلف حکومتیں برسر اقتدار آتی رہیں ان میں باہم شدید قسم کے اختلافات بھی رہے لیکن تمام تر باہمی مخالفت کے باوجود ایک بات پر سب متفق رہیں کہ پاکستان کو ایٹمی صلاحیت اور طاقت سے لیس کرنا ہے ۔ بہر حال وقت گزرتا رہا یہاں تک کہ 11مئی 1998ءکو بھارت نے ایک بار پھر پوکھران میں پانچ ایٹمی دھماکے کر کے خطے میں طاقت کے توازن کو شدید متاثر کیا۔ بھارتی قیادت نے کھلے عام پاکستان کو دھمکیاں دینا شروع کردیں۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے بھارت کے ایٹمی دھماکوں کو جنوبی ایشیا میں ”نیا سورج“ طلوع ہونے کے مترادف قرار دیا۔بھارت خود کو علاقے کا چوہدری اور پاکستان کو اپنی طفیلی ریاست سمجھنے لگ گیا۔ہندو بنیا اپنے تئیں اس زعم کا شکار ہوگیا کہ اب پاکستان سمیت خطے کے تمام ممالک کی تقدیر اس کے ہاتھ میں ہے ۔ جب بھارت ایٹمی دھماکے کرچکا تو اس کے بعد دنیا کی نگاہیں پاکستان پر مرکوز ہو گئیں۔ عالمی طاقتیں متحرک ہو گئیں کہ پاکستان کو دھماکہ نہ کرنے پر آمادہ کیا جائے۔ معاشی پابندیوں، قرضوں کی بندش اور سفارتی دباو جیسے تمام حربے آزمائے گئے۔ امریکہ، جاپان، اور یورپی ممالک نے وطن عزیز پاکستان کی قیادت بالخصوص میاں نواز شریف کو یہ باور کرایا کہ اگر اس نے دھماکہ کیا تو اس کے نتائج بھیانک ہوں گے اور پاکستان کو بدترین قسم کی معاشی اور سفارتی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا ۔
ان حالات میں پاکستان کے لیے فیصلہ آسان نہ تھا۔ ایک طرف شدید عالمی دباو تھا تو دوسری طرف پوری قوم کا مطالبہ تھا کہ بھارت کو اس کے ایٹمی غرور کا جواب دیا جائے۔ عوام، افواج، اور دانشور طبقہ ایک آواز ہو چکا تھا۔ آخرکار غیرت مند، محب وطن، وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے مسلم ممالک بالخصوص مملکت سعودیہ عربیہ کی مشاورت سے مسلم امہ کے وسیع تر مفاد، قومی غیرت اور دفاعِ وطن کو فوقیت دیتے ہوئے وہ فیصلہ کیا جس پر آج بھی قوم فخر کرتی ہے۔ 28 مئی 1998 ءکو بلوچستان کے ضلع چاغی میں دھات کے پہاڑوں نے لرز کر گواہی دی کہ پاکستان نے وہ کارنامہ سرانجام دیا ہے جو ہمیشہ تاریخ کا حصہ رہے گا۔ پانچ ایٹمی دھماکوں نے نہ صرف بھارت کو مو¿ثر جواب دیا اس کے غرور کو خاک میں ملا دیا بلکہ اسلامی دنیا میں ایک نئی امید پیدا کی۔اس مشکل ترین وقت میں مملکت سعودی عربیہ نے پاکستان کا بھر پور ساتھ دیا۔ مالی تعاون کیساتھ ساتھ سفارتی سطح پر بھی شانہ بشانہ کھڑا ہوا ۔جب پاکستان نے ایٹمی دھماکے کرنے کا فیصلہ کیا تو یہ ایک مشکل ترین مرحلہ تھا ۔ ایک طرف بھارت کی جارحیت تھی، دوسری طرف اندیشہ ہائے دور دراز تھے معاشی اور سفارتی پابندیوں کے خدشات تھے ۔ تب اس وقت کے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے برادر اسلامی ملک سعودی عرب کا دورہ کیا ۔اگرچہ اس وقت ملک فہد بن عبدالعزیز سعودی عرب کے فرمانروا تھے تاہم ان کی علالت کی وجہ سے امور مملکت ولیعہد ملک عبداللہ بن عبدالعزیز چلارہے تھے ۔ نواز شریف نے ملک فہد اور ولیعہدملک عبداللہ بن عبدالعزیز سے ملاقات کی ۔سعودی فرمانروا ملک عبداللہ نے نواز شریف کو ہر قسم کے مالی اخلاقی اور سفارتی تعاون کا یقین دلایا
یہ وہ وقت تھا جب ایٹمی دھماکے کرنے پر امریکہ نے پاکستان پر اقتصادی پابندیاں عائد کر دی تھیں جس کے نتیجے میں پاکستان شدید مالی بحران کا شکار ہو گیا تھا۔ زرمبادلہ کے ذخائر پر اتنا شدید دباو¿ تھا کہ حکومت نے نجی بنکوں سے ڈالر نکلوانے پر پابندی لگا دی تھی۔ان حالات میں جب کوئی دوسرا ملک یا قرض دینے والا آئی ایم ایف جیسا ادارہ امریکی پابندیوں کی وجہ سے پاکستان کی مالی مدد نہیں کر سکتا تھا، سعودی عرب پاکستان کی مدد کو آیا ۔ سعودی عرب نے اس وقت پاکستان کو تین ارب ڈالر سالانہ تیل دینا شروع کیا تھا۔تیل کی فراہمی کا یہ سلسلہ 1998 ءکے بعد بھی کئی برس تک جاری رہا ۔ ایٹمی دھماکوں کے نتیجے میں کئی قسم کی اعلانیہ اور غیر اعلانیہ پابندیاں لگائی جاچکی تھیں اس وجہ سے سعودی عرب نے یہ ظاہر کیا کہ پاکستان کو تیل ’ادھار‘ دیا جارہا ہے لیکن دراصل یہ مفت تیل تھا جس کے پیسے کبھی بھی سعودی عرب نے پاکستان سے نہیں لئے۔ ایٹمی دھماکوں کے چند ہفتوں بعد ولیعہد ملک عبداللہ آٹھ ملکوں کے دورے پر روانہ ہوئے ۔آغاز واشنگٹن سے ہوا عالمی اقتصادی پابندیوں کے باوجود پاکستان کو تیل کی فراہمی کے متعلق امریکی اخبار نیوسوں کے سوال پر سعودی رہنما کا جواب تھا پاکستان کےلئے زندگی اور موت کے اس مرحلے پر آپ نے یہ کیسے سمجھ لیا کہ ہم اسے تنہا چھوڑ دیں گے ۔واشنگٹن سے شروع ہونے والے اس عالمی دورے کا اختتام پاکستان پر ہوا تھا ۔ دورے کی اس ترتیب میں دنیا کےلئے پیغام تھا کہ ملک عبداللہ کے نزدیک پاکستان ایسے ہے جیسے اپنا گھر ہو ۔یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جب شاہ عبداللہ پاکستان آئے تو انھیں کہوٹہ ایٹمی پلانٹ کا دورہ بھی کروایا گیا ۔ یہ بات معلوم ہے کہ کہوٹہ ایٹمی پلانٹ وہ حساس ترین جگہ ہے جہاں کوئی غیر متعلقہ شخص خصوصاََ غیر ملک پر بھی نہیں مارسکتا ۔ ایٹمی دھماکوں کے بعد وزیر اعظم نواز شریف سعودی عرب گئے تو ایوان شاہی میں ان کےلئے بیمثال استقبالیہ کا اہتمام تھا تب ولی عہد ملک عبداللہ نے ان کا ہاتھ فضا میں بلند کرتے ہوئے انھیں اپنا فل بردار قرار دیا شاہ فہد اور دیگر بھائی ان کے ہاف برادر تھے ۔ یہ تھا پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے میں سعودی عرب کا کردار جس پر آج ہر پاکستان کو فخر ہے ۔ حقیقت یہ کہ اگر سعودی عرب کا تعاون شامل حال نہ ہوتا تو پاکستان میں ایٹمی پلانٹ کی تنصیب ہوتی نہ ہی پاکستان کےلئے ایٹمی دھماکے کرنا ممکن ہوتا اور نہ آج پاکستان کےلئے اپنا دفاع کرنا ممکن ہوتا ۔ -

وزیراعلیٰ پنجاب،اک نظر ٹریفک وارڈن کو بھی دیکھ لیں،تحریر:ملک سلمان
گذشتہ روز جب وزیراعلیٰ آفس سے اس بات کی خبر ملی کی ٹریفک پولیس کی بدمعاشیوں کے خلاف اسٹوڈنٹس کی پکار پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے فوری طور پر منگل کی صبح ٹریفک مسائل کے حوالے سے خصوصی اجلاس رکھا ہے تو طلبہ و طالبات کیلئے یہ بہت بڑی بریکنگ نیوز، خوشی اور ایکسائٹمنٹ والی بات تھی کہ ان کی وزیراعلیٰ ان کیلئے کس قدر باخبر اور فکر مند ہیں۔ مریم نواز کا مقبولیت کا گراف 67فیصد سے 95فیصد پر آگیا لیکن اگلے ہی دن یعنی آج دوپہر میڈم وزیراعلیٰ آپ کے دفتر سے جاری کردہ پریس ریلیز سے سخت مایوسی ہوئی ناصرف طلبہ و طالبات اور نوجوان طبقے بلکہ ہر قانون پسند شہری خود کو غیر محفوظ تصور کرنے لگا ہے۔ چاہئے تو یہ تھا کہ سی ٹی او اور ٹریفک وارڈن کو حکم دیا جاتا کہ سات دن میں چار لاکھ پبلک ٹرانسپورٹرز کی اوریجنل نمبر پلیٹ نہ لگی اور کروڑوں روپے کی کرپشن بند نہ ہوئی تو سی ٹی او سمیت سب کو جیل بھیج دیا جائے گا۔ چاہئے تو یہ تھا کہ ٹریفک پولیس کو وارننگ دی جاتی کہ معزز شہریوں کے ساتھ اپنا رویہ درست کرو خاص طور پر طلبہ و طالبات اور نوجوان طبقہ جو ہمارا مستقبل ہے۔
پہلے پہل تو اسسٹنٹ کمشنرز اور ایس پیز کی گاڑیاں بنا نمبر پلیٹ تھی اب تو تھانوں اور دیگر سرکاری ملازمین نے بھی سیف سٹی کیمرہ کے آن لائن چالان اور دیگر غیرقانونی حرکات کیلئے بنا نمبر پلیٹ گاڑیاں بھگانا شروع کردی ہیں۔ کیا قانون کا اطلاق صرف ٹیکس دینے والے معزز شہریوں کیلئے رہ گیا ہے؟
اس پریس ریلیز میں کہیں بھی اس بات کا تذکرہ نہیں کہ بنا نمبر پلیٹ گاڑی چلانا کتنا بڑا جرم ہے، میڈم وزیر اعلیٰ بنا نمبر پلیٹ رکشے اور گاڑیاں دہشت گردوں کی سہولت کاری کا کام کررہے ہیں۔ میڈم جن رکشوں اور پبلک ٹرانسپورٹرز کو آپ کے سامنے غریب بنا کر پیش کیا جاتا ہے یہی غربت کارڈ صرف لاہور شہر میں 1200کروڑ ماہانہ کی غیر قانونی کمائی کا زریعہ ہیں۔ ایک ہزار سے دو ہزار فی رکشہ و پبلک ٹرانسپورٹ وصولی کی بجائے ان پبلک ٹرانسپورٹرز کو قانون کے دائرے میں لایا جائے تو نہ صرف پانچ ہزار کروڑ ماہانہ سرکاری خزانے میں آئیں بلکہ محفوظ اور پرامن لاہور و پنجاب کا خواب شرمندہ تعبیر ہوسکے گا۔ پریس ریلیز میں ٹریفک پولیس کو غیرقانونی پارکنگ کی سرپرستی سے روکنے اور غیر قانونی پارکنگ کے خاتمے کیلئے اقدامات کرنے کا کوئی ذکر نہیں۔ ٹریفک پولیس جس غیر قانونی پارکنگ سے مبینہ طور پر پرسنل پاکٹ کرپشن کیلئے پانچ سے دس کروڑ ماہانہ اکٹھا کرتی ہے اگر وہی پارکنگ منظم طریقے سے لاہور پارکنگ کمپنی کو کرنے دے تو پانچ سو کروڑ ماہانہ سرکار کیلئے اکٹھا کرسکتی ہے اسی طرح پورے پنجاب میں پانچ ہزار ارب صرف پارکنگ سے اکٹھا کیا جاسکتا ہے۔یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ ٹریفک پولیس جتنی رقم بطور رشوت اکٹھا کرتی ہے سرکار کو اس رقم کا 900فیصد نقصان کرتی ہے۔ کیونکہ اگر سرکار کو 1000ملنا چاہیے تو رشوت میں 100اکٹھا کیا جاتا ہے۔ یہ900فیصد صرف ٹیکسوں کی مد میں اکٹھی ہونے والے رقم کا نقصان ہے جبکہ بنا نمبر پلیٹ ہونے کی وجہ سے یہی رکشے اور پبلک ٹرانسپورٹرز روڈ ایکسیڈنٹس کی سب سے بڑی وجہ ہیں۔ حکومت پنجاب کے جاری کردہ ریکارڈ کے مطابق پنجاب میں ہر ایک منٹ میں 1500روڈ ایکسیڈنٹ ہوتے ہیں جن میں لگ بھگ 80فیصد موٹرسائیکل اور رکشے کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ بنا نمبر پلیٹ ہونے کی وجہ سے یہ ون وے اور فاسٹ لین کا غیر قانونی استعمال کرتے ہیں اشارے پر بھی رکنے کی زحمت نہیں کرتے۔ اغوا، قتل اور دہشت گردی میں پچانوے فیصد یہی بنا نمبر پلیٹ ٹرانسپورٹ استعمال ہوتی ہے۔ لوگ مرتے ہیں تو مریں لیکن ٹریفک پولیس کمائی کے ان اڈوں پر کمپرومائز کرنے کو تیار نہیں۔
آج سپہر تین بجے کے قریب گارڈن ٹاؤن سے نکلا تو سپیکر پنجاب اسمبلی کے گھر سے حمید لطیف ہسپتال تک پرائیویٹ دفاتر، مارکیٹ اور کار شوروم کی گاڑیوں، کھانے کی اشیاء کی ریڑھیوں اور رکشوں سے ہاف سڑک پر قبضہ تھا، لمحہ فکریہ اور بے شرمی کی انتہا دیکھیں کہ سینٹر آف دی لاہور کلمہ چوک ناصرف رکشہ سٹینڈ کا منظر پیش کررہا تھا بلکہ رکشہ والے اسے ہوم سٹیشن سمجھ کر کھلے عام رانگ وے کا استعمال کر رہے تھے۔ گذشتہ روز شاہ عالم مارکیٹ جانا تھا تو بانساں والا بازار ون وے کی وجہ سے کلوز تھا اور متبادل راستے کی طور پر میوہاسپتال کی بیک سائڈ سے گیا جبکہ میرے سامنے ہی وارڈن بنا نمبرپلیٹ رکشوں کو ون وے پر جانے دے رہا تھا (ویڈیو ثبوت موجود ہے) میو ہسپتال اور لیڈی ولنگٹن ہسپتال کی بیرونی دیوار کے ساتھ ایک سو سے زائد غیر قانونی دکانیں قائم کی گئی ہیں لیکن ان تجاوزات کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہوسکی۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانہ کی رقم بڑھانے کا فیصلہ خوش آئند لیکن قانون سب کیلئے برابر ہونا چاہئے، پولیس سمیت سرکاری گاڑیوں کو بھی قانون کے دائرے میں لایا جائے۔ اگر وارڈن شہری کی ویڈیو بنا سکتا ہے تو شہری کو بھی حق دیا جائے کہ وہ بھی وارڈن کی بدتمیزی، پارکنگ مافیا اور پبلک ٹرانسپورٹرز کی سرپرستی کی ویڈیو بنا کر بطور ثبوت وزیراعلیٰ آفس کو بھیج سکیں۔ اگر ویڈیو بنانے پر معزز شہریوں پر پیکا لگ سکتا ہے تو اسی پیکا ایکٹ کا نفاذ وارڈن اور دیگر سرکاری ملازمین پر بھی ہونا چاہئے۔ جو نوجوان مستقبل میں مریم نواز کو بطور وزیراعظم اس لیے دیکھنا چاہتے تھے کہ مریم رول آف لاء کی بات کرتی ہے وہ آج سخت مایوس ہیں اور کسی نئے راہنما کی تلاش میں ہیں، اس سے قبل کی اس ملک کی اکثریتی آباد یعنی نوجوانوں کی آپ سے ساری امیدیں دم توڑ دیں آپ واضح الفاظ میں ”رول آف لاء“ کا اعلان کریں ٹریفک پولیس سمیت دیگر کرپٹ اور بدتمیز اہلکاروں کو جیل بھیجیں۔
ملک سلمان
maliksalman2008@gmail.com -

پاکستان کا ایٹمی پروگرام، یوم تکبیر سے بنیان مرصوص تک
پاکستان کا ایٹمی پروگرام، یوم تکبیر سے بنیان مرصوص تک
تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفٰی بڈانی
28 مئی 1998 کو چاغی کے پہاڑوں میں ایٹمی دھماکوں کی گونج نے پاکستان کی تاریخ کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔ یہ یوم تکبیر کا دن تھا، جب پاکستان دنیا کی ساتویں اور عالم اسلام کی پہلی ایٹمی طاقت بنا۔ اس دن شہید ذوالفقار علی بھٹو کا خواب حقیقت بن گیا، میاں نواز شریف کا عزم فتح یاب ہوا، اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی سائنسی کاوشوں نے پاکستان کو ناقابل تسخیر بنیان مرصوص عطا کی۔ یہ صرف ایک سائنسی کامیابی نہیں تھی بلکہ قومی غیرت، خودمختاری اور عالم اسلام کے لیے فخر کا لمحہ تھا، جس نے بھارت کے جارحانہ عزائم کو خاک میں ملایا اور خطے میں طاقت کا توازن بحال کیا۔پاکستان کا ایٹمی پروگرام اس وقت وجود میں آیا جب شہید ذوالفقار علی بھٹو نے 1965 میں قومی اسمبلی کے خطاب میں اعلان کیا کہ اگر بھارت ایٹم بم بنائے گا تو ہم گھاس کھائیں گے، لیکن ایٹم بم ضرور بنائیں گے (قومی اسمبلی کے ریکارڈز کے مطابق بھٹو نے 1965 میں اپنے خطاب میں ایٹمی پروگرام کی ضرورت پر زور دیاتھا)۔ ان کے اس وژن نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی اور پاکستانی قوم کو اپنی سلامتی کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہ کرنے کا عزم دیا۔ برسوں بعد جب 11 مئی 1998 کو بھارت نے پوکھران میں ایٹمی دھماکے کیے (دی ہندو کی 11 مئی 1998 کی رپورٹ کے مطابق بھارت نے پوکھران میں ایٹمی تجربات کیے) تو خطے میں طاقت کا توازن بگڑ گیا۔ بھارت نے نہ صرف اپنی ایٹمی صلاحیت کا مظاہرہ کیا بلکہ کشمیر کی لائن آف کنٹرول پر فوج جمع کر کے پاکستان کے زیرانتظام آزاد کشمیر پر قبضہ کرنے کااعلان کردیا۔ بھارتی سائنسدانوں نے تکبر سے دعویٰ کیا کہ جامع ایٹمی پابندی معاہدہ (CTBT) صرف کمزور ممالک کے لیے ہے (ٹائمز آف انڈیا کی 12 مئی 1998 کی رپورٹ کے مطابق بھارتی سائنسدانوں نے CTBT کو مسترد کیا)۔ اس گھمنڈ نے پاکستانی عوام کے جذبات کو بھڑکایااور پورے ملک سے مطالبہ اٹھا کہ پاکستان بھارت کو منہ توڑ جواب دے۔ عالم اسلام کے پاکستان دوست حلقوں نے بھی اس کی پرزور حمایت کی۔
اس نازک موڑ پر پاکستان کو مغربی دنیا سے شدید دباؤ کا سامنا تھا۔ دی نیویارک ٹائمز کی 15 مئی 1998 کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر بل کلنٹن نے وزیراعظم میاں نواز شریف سے براہ راست رابطہ کیا اور خبردار کیا کہ ایٹمی دھماکوں کی صورت میں پاکستان کو سخت اقتصادی اور سیاسی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بی بی سی کی 16 مئی 1998 کی رپورٹ کے مطابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر اور جاپانی قیادت نے بھی پاکستان پر ایٹمی تجربات نہ کرنے کے لیے دباؤ ڈالا۔ لیکن وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے قومی وقار اور سلامتی کو مقدم رکھا۔ جیو ٹی وی کے آرکائیوز کے مطابقوزیراعظم میاں نواز شریف نے 1998 میں اپنے خطاب میں کہا کہ ہم اپنی آزادی اور غیرت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ پاک فوج کی قیادت نے اس فیصلے میں بھرپور تعاون کیا اور سول و عسکری قیادت کی یہ یکجہتی پاکستان کی کامیابی کی بنیاد بنی۔
اس عظیم مشن کے مرکزی کردار ڈاکٹر عبدالقدیر خان تھے، جنہیں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا باپ کہا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنی سائنسی مہارت اور قومی جذبے سے اس پروگرام کو کامیابی تک پہنچایا۔ ڈان اخبار کی 2004 کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے لکھا کہ یہ میری زندگی کا سب سے بڑا اعزاز تھا کہ میں نے اپنی قوم کی حفاظت کے لیے کام کیا۔ 28 مئی 1998 کو جب چاغی کے پہاڑوں میں پانچ ایٹمی دھماکوں کی گونج بلند ہوئی تو پورا پاکستان خوشی سے جھوم اٹھا۔ یہ لمحہ صرف ایک تکنیکی کامیابی نہیں تھا بلکہ شہید بھٹو کے وژن، میاں محمد نواز شریف کے فیصلے، ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی محنت اور سول عسکری قیادت کے اتحاد کا نتیجہ تھا۔ ڈان اخبار کی 29 مئی 1998 کی رپورٹ کے مطابقوزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو نشان پاکستان سے نوازا اور کہا کہ یہ قوم کی طرف سے ان کی خدمات کا اعتراف ہے۔ اس دن پاکستان نے دنیا کو پیغام دیا کہ وہ ایک خودمختار اور غیرتمند قوم ہے جو اپنی سلامتی پر کوئی سودا نہیں کرے گی۔
یوم تکبیر کی اہمیت اس وقت مزید واضح ہوئی جب 10 مئی 2025 کو پاک بھارت جنگ میں پاکستان نے کامیابی حاصل کی۔ اگر پاکستان ایٹمی طاقت نہ ہوتا تو بھارت کے جارحانہ عزائم کو روکنا شاید ناممکن ہوتا۔ اسٹریٹجک اسٹیڈیز انسٹی ٹیوٹ اسلام آباد کی 2025 کی رپورٹ کے مطابق ایٹمی صلاحیت نے خطے میں دفاعی توازن قائم رکھا اور بھارت کو جارحانہ پالیسیوں پر نظرثانی پر مجبور کیا۔ یہ فتح شہید بھٹو کے اس عزم کی تکمیل تھی کہ پاکستان ہر قیمت پر اپنی آزادی کی حفاظت کرے گا۔ میاں نواز شریف نے عالمی دباؤ کے باوجود قومی مفادات کو مقدم رکھا جبکہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور دیگر سائنسدانوں نے اپنی محنت سے اس خواب کو حقیقت بنایا۔ پاک فوج اور سول قیادت کی یکجہتی نے اس فیصلے کو عملی جامہ پہنایا، جس سے پاکستان آج دنیا کے خودمختار ممالک میں سر فخر سے بلند کر کے کھڑا ہے۔
پاکستان کا ایٹمی پروگرام صرف اس کی اپنی سلامتی کے لیے نہیں بلکہ پوری اسلامی دنیا کے لیے فخر کا باعث ہے۔ یہ عالم اسلام کو پیغام دیتا ہے کہ عزم، اتحاد اور سائنسی ترقی سے کسی بھی دشمن شکست سے دوچار کیاجا سکتا ہے۔ یوم تکبیر سے بنیان مرصوص تک کا یہ سفر ہر پاکستانی کو یاد دلاتا ہے کہ ہماری قیادت نے مشکل حالات میں بھی اپنی غیرت اور خودمختاری پر سودا نہیں کیا۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو کا وژن، میاں نواز شریف کا عزم، ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی سائنسی کاوشیں اور سول عسکری قیادت کی یکجہتی اس بنیان مرصوص کی بنیاد ہیں۔آج دنیا کے افق پر پاکستان کا پرچم شان و شوکت سے لہرا رہا ہے، یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم ایک غیرت مند، خودمختار قوم ہیں جو اپنی مٹی، اپنے وقار اور اپنے نظریے کی حفاظت کرنا جانتی ہے اور دشمن کی ہر سازش کا سینہ تان کر مقابلہ کرنے کا حوصلہ بھی رکھتی ہے۔

-

عورت بااختیار قومی کانفرنس اور راجنپور کی عورت
عورت بااختیار قومی کانفرنس اور راجنپور کی عورت
تحریر:سید ریاض جاذب
پنجاب کے جنوبی کنارے پر واقع ضلع راجن پور، محض ایک جغرافیائی حد بندی کا نام نہیں، بلکہ ایک ایسی سرزمین ہے جو فطرت کے حسین مناظر، دریا اور پہاڑوں کی آغوش میں ہونے کے باوجود محرومیوں، پسماندگی اور بے توجہی کی تلخ داستان سناتی ہے۔ یہ ضلع ایک طرف کوہِ سلیمان کے دلکش پہاڑی سلسلے سے جڑا ہوا ہے، تو دوسری طرف دریاۓ سندھ کی موجیں اس کی زمین کو سیراب کرتی ہیں۔ مگر افسوس کہ قدرتی حسن کی یہ سرزمین معاشرتی اور اقتصادی ترقی کی دوڑ میں نہ صرف پیچھے رہ گئی بلکہ کئی حوالوں سے وقت کے قافلے سے کٹ کر رہ گئی ہے۔جب ڈیرہ غازی خان کو ڈویژن کا درجہ ملا، تو اس کے ساتھ ہی اس کی تحصیل راجن پور کو ضلع کا درجہ دے دیا گیا، مگر اس تبدیلی سے علاقے کی تقدیر نہ بدل سکی۔ ترقیاتی عمل یہاں تک پہنچتے پہنچتے جیسے تھک سا جاتا ہے۔ تعلیمی اداروں کی کمی، صحت کی سہولیات کا فقدان، بنیادی انفراسٹرکچر کی زبوں حالی اور سب سے بڑھ کر قبائلی و جاگیردارانہ نظام کی جکڑ نے اس خطے کے عوام کو ایک مسلسل معاشرتی جمود میں قید کر رکھا ہے۔
راجن پور کا سب سے زیادہ متاثرہ طبقہ یہاں کی خواتین ہیں، جو دہری محرومی کا شکار ہیں۔ ایک طرف پسماندہ معیشت اور بنیادی سہولیات کی کمی، تو دوسری طرف روایتی تمن داری، قبائلی رسوم و رواج، اور سماجی رکاوٹیں۔ خواتین کو تعلیم، صحت، روزگار اور خود مختاری کے مواقع فراہم کرنا آج بھی ایک خواب سا معلوم ہوتا ہے۔
یہ بات سچ ہے کہ راجن پور آج بھی کئی حوالوں سے محروم ہے، مگر تبدیلی کا آغاز ہو چکا ہے۔ سیلاب، غربت اور بندشوں نے اگرچہ پروین بی بی جیسی خواتین کی زندگیاں مفلوج کر دیں، لیکن یہی بحران ان کے لیے ایک موقع بھی بن گیا۔ انہوں نے تربیت حاصل کی، روزگار اپنایا، اور رفتہ رفتہ خود کو اور اپنے علاقے کو بدلنے لگیں۔ یہ مثالیں ثابت کرتی ہیں کہ اگر حالات کو بدلا جائے، مواقع دیے جائیں، تو محرومیوں کی زنجیروں کو توڑا جا سکتا ہے۔
تاہم، اس سیاہی میں امید کی کچھ روشن کرنیں بھی نظر آتی ہیں۔ راجن پور کی کچھ بیٹیاں ایسی بھی ہیں جنہوں نے اپنے حوصلے، علم، ہنر اور آواز کے ذریعے نہ صرف اپنے لیے نئی راہیں تلاش کیں بلکہ دیگر خواتین کے لیے بھی مشعلِ راہ بنیں۔ ان میں ڈاکٹر شریں مزاری کا نام نمایاں ہے، جو عالمی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کر چکی ہیں، جبکہ منیبہ مزاری ایک حوصلہ مند کہانی اور خواتین کے لیے طاقت کی علامت ہیں۔ شازیہ عابد اور نرجس بتول، شہناز اکبر جیسے نام بھی راجن پور کی شناخت کا فخر ہیں جنہوں نے سماجی سطح پر خدمات انجام دے کر خواتین کی آواز کو تقویت دی۔
حال ہی میں راجن پور کی تاریخ میں ایک مثبت موڑ اس وقت آیا جب موجودہ ڈپٹی کمشنر شفقت اللہ مشتاق، جو نہ صرف ایک فعال منتظم بلکہ علم و ادب سے گہرا شغف رکھنے والے افسر ہیں، نے "عورت بااختیار قومی کانفرنس” کا انعقاد کیا۔ یہ کانفرنس محض ایک رسمی اجتماع نہیں تھا، بلکہ یہ اُس گونگی آواز کو زبان دینے کی ایک سنجیدہ کوشش تھی جو صدیوں سے دبی ہوئی ہے۔
ملک بھر سے ممتاز خواتین، ماہرین اور سماجی کارکنان اس کانفرنس میں شریک ہوئیں۔ اگرچہ ان میں سے اکثر شہری علاقوں سے تعلق رکھتی تھیں، مگر ان کی موجودگی نے راجن پور کی خواتین کو یہ پیغام دیا کہ وہ تنہا نہیں ہیں۔ ان رول ماڈل خواتین کی کامیابیاں ایک ایسی روشنی ہیں جس کی کرنیں اب راجن پور کی گلیوں، بستیوں اور جھونپڑیوں تک پہنچ رہی ہیں۔
یہ امر بھی حوصلہ افزا ہے کہ پنجاب کی موجودہ وزیر اعلیٰ محترمہ مریم نواز شریف ہیں، جنہوں نے خواتین کے حقوق، تعلیم، صحت اور تحفظ کے لیے کئی مؤثر اقدامات کیے ہیں۔ اُن کی قیادت میں راجن پور جیسے اضلاع کے مسائل پر توجہ دی جا رہی ہے۔ ایسے میں خواتین کی قومی کانفرنس کا راجن پور میں انعقاد یہ ثابت کرتا ہے کہ اب پسماندہ علاقوں کی خواتین بھی قومی مکالمے کا حصہ بننے جا رہی ہیں۔
راجن پور کی عورت اب خاموش تماشائی نہیں بلکہ متحرک کردار بننے کو تیار ہے۔ اسے اگر تعلیم، تربیت، معاشی خودمختاری، اور تحفظ فراہم کیا جائے تو وہ نہ صرف اپنی تقدیر بدل سکتی ہے بلکہ معاشرے کے دھارے کو بھی مثبت سمت میں موڑ سکتی ہے۔
یہ وقت ہے کہ ہم راجن پور کی عورت کی آواز بنیں، اس کے مسائل کو سنیں، اور اس کے خوابوں کو حقیقت بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ کیونکہ جب ایک عورت بااختیار ہوتی ہے، تو ایک نسل بااختیار ہوتی ہے، اور جب ایک نسل بااختیار ہوتی ہے، تو ایک قوم کی تقدیر بدلتی ہے۔

-

"فریاد بلوچاں” . تحریر :عائشہ اسحاق
یوں تو بلوچستان ازل سے کئی طرح کی سازشوں کی وجہ سے بد امنی کا شکار رہا مگر 2013 میں جب سی پیک کا آغاز ہوا تب سے لے کرآج تک مسلسل بدترین دہشت گردی کی آگ بلوچستان کو اپنی خوفناک لپیٹ میں لیے ہوئے ہے۔ جس کی وجہ سے مقامی افراد سب سے زیادہ اذیت میں مبتلا ہیں۔ بلوچستان کے موجودہ حالات نہایت گھمبیر صورتحال اختیار کر چکے ہیں ،بلوچستان میں بھارت دہشت گردی پھیلا رہا، اس بات کے واضح ثبوت موجود ہیں، کلبھوشن یادیو کی بلوچستان سے گرفتاری سب سے بڑا ثبوت ہے، غیر ملکی عناصر کی فنڈنگ کیوجہ سے بلوچستان میں دہشت گردی ہو رہی ہے،بلا شبہ یہ بات درست ہے مگر ہم اس حقیقت کو فراموش نہیں کر سکتے کہ بلوچستان کے موجودہ انتہائی خراب حالات کہ ذمہ دار پاکستان کے مخالفین کے علاوہ خود ریاست پاکستان کی کوتاہیاں اور ناقص حکمت عملی بھی ہے۔ جن میں سے سب سے بڑی وجہ بلوچوں کے مطالبات اور ان کی فریاد کو رد کرنا اور دھتکارنا ہے۔ بلوچستان میں لاپتہ افراد بھی ایک اہم ایشو ہے، ابھی تک بلوچستان میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات میں لاپتہ افراد ہی ملوث نکلتے ہیں، تاہم لا پتہ افراد کے معاملے میں ریاست پاکستان کو بہترین حکمت عملی اپنانی چاہیے اور ان افراد کا ٹرائل کورٹ میں چلانا چاہیے انہیں عدالتوں میں پیش کرنا چاہیے ان میں سے جو کوئی دھشت گردی میں ملوث پایا جائے اسے آئین اور قانون کے مطابق سزا دی جائے۔ جو کوئی ایسی کسی کاروائی میں ملوث نہیں پایا جاتا اس کو رہا کیا جائے ۔
تاریخ گواہ ہے کہ بلوچ وہ باشعور اور جمہوریت پسند لوگ ہیں جو جنوری 1965 میں فاطمہ جناح کے ساتھ کھڑے ہوئے۔ جس وقت فاطمہ جناح ایوب خان کے خلاف لڑ رہی تھیں تو خیر بخش مری فاطمہ جناح کے چیف سیکیورٹی گارڈ تھے۔ اسی طرح غوث بخش بز نجو خضدار کے علاقے میں پولنگ کے عمل کے انچارج تھے۔ لہذا اس بات کو لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ بلوچستان میں نازک صورتحال کو سنبھالنے اور دہشت گردی جیسے معاملے سے نپٹنے کے لیے مضبوط جمہوری نظام کا قائم ہونا ضروری ہے جس میں شفاف انتخابات کے ذریعے ایسے عوامی نمائندے کو لایا جائے جو عوام کے مسائل سنے اور انہیں حل کرے۔ بلوچوں کی فریاد سنی جائے ان کے درد کا مداوا کریں۔ قدرتی ذخائر اور معدنیات کے حوالے سے شروع کیے جانے والے پروجیکٹس ،اس حوالے سے پاس کیے جانے والے بلز اور بنائی جانے والی پالیسیاں پبلک کی جائیں تاکہ مقامی افراد کو معلوم ہو سکے ۔ معدنیات سے مستفید ہونا مقامی افراد کا پہلا حق ہے انہیں اس حق سے محروم نہ کیا جائے۔ لاپتہ افراد کا معاملہ حل کرنا حکومت پاکستان کی ذمہ داری ہے۔ لہذا ہماری گزارش ہے کہ بلوچستان کے معاملے کو سنجیدگی ،عقل و تفہیم سے لیں ان کے مطالبات سنیں ان پر غور کریں۔ وہ وعدہ نبھائیں جو حکومت پاکستان نے الحاق کے وقت بلوچیوں سے کیا تھا اور بڑھتی ہوئی نفرتیں کم کریں ایسے حالات نہ پیدا کیے جائیں جن سے ہمارے دشمن فائدہ اٹھائیں اور ہمارے اپنوں کو ہی ہمارے خلاف کھڑا کریں۔ یاد رکھیں پاکستان کی ترقی بلوچستان کی ترقی سے جڑی ہوئی ہے۔
-

پاک بھارت جنگ 2025:فتح ، شکست اور عالمی میڈیا
پاک بھارت جنگ 2025:فتح ، شکست اور عالمی میڈیا
تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفی بڈانی
مئی 2025 کا پاک بھارت فوجی تصادم جو محض چار دن جاری رہا، نہ صرف جنوبی ایشیا کی جیو پولیٹیکل تاریخ کا ایک اہم موڑ ثابت ہوا بلکہ عالمی میڈیا کے لیے ایک سنسنی خیز داستان بھی بن گیا۔ یہ تنازعہ، جومقبوضہ کشمیر کے پہلگام میں 26 شہریوں کی ہلاکت سے شروع ہوا، دو جوہری طاقتوں کے درمیان ایک خطرناک کھیل تھا، جس نے دنیا کو ایک ممکنہ تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا۔ عالمی میڈیا نے اس تنازعہ کو مختلف زاویوں سے دیکھاپاکستان کی فوج کی بحال شدہ ساکھ سے لے کر بھارت کی اسٹریٹجک ناکامی تک اور ڈس انفارمیشن سے لے کر عالمی ثالثی کی کمزوریوں تک،ہم اس کالم میں تنازعہ کے فتح و شکست کے دعوئوں، اس کے اثرات اور عالمی میڈیا کے تجزیاتی نقطہ نظر کی روشنی میں اس کی گہرائی سے جائزہ پیش کررہے ہیں۔تنازعہ 7 مئی 2025 کو اس وقت شدت اختیار کر گیا جب بھارت نے پہلگام حملے کے جواب میں پاکستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں نو مقامات پر بمباری کی، جسے اس نے "آپریشن سندور” کا نام دیا۔ الجزیرہ نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ بھارت نے اسے دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملہ قرار دیا جبکہ پاکستان نے اسے شہری علاقوں پر جارحیت کہا۔ چار روز تک جاری رہنے والی اس لڑائی میں دونوں ممالک نے میزائل، ڈرون اور فضائی حملوں کا تبادلہ کیا۔ نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ "How the India-Pakistan Clashes Unfolded and What We Know About the Cease-Fire” میں لکھا کہ جدید جنگی ٹیکنالوجی، جیسے کہ ڈرونز اور میزائلوں کا استعمال نے اس تنازعہ کو ماضی کے مقابلے میں زیادہ پیچیدہ بنا دیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی سے 10 مئی کو جنگ بندی ہوئی، لیکن دونوں ممالک نے فتح کے دعوے کیے، جس نے تنازعہ کے نتائج پر عالمی بحث کو جنم دیا۔
پاکستان کے لیے یہ تنازعہ فوج کی ملکی ساکھ کو بحال کرنے کا ایک سنہری موقع ثابت ہوا۔ الجزیرہ نے اپنی رپورٹ "How conflict with India helped boost the Pakistan militarys domestic image” میں بتایا کہ پاکستانی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے دعوی کیا کہ پاکستان نے بھارت کے پانچ جنگی طیاروں، ایک ڈرون اور کئی کواڈ کاپٹروں کو مار گرایا۔ اس کامیابی نے پاکستانی فضائیہ کی صلاحیت کو اجاگر کیا اور 11 مئی کو ہزاروں افراد نے فوج کی حمایت میں ریلیاں نکالیں، جو مئی 2023 کے فوج مخالف مظاہروں کے بالکل برعکس تھا۔ پاکستانی تجزیہ کار عارفہ نور نے کہا کہ ہمسایہ ملک کے ساتھ تنازعہ عوام کو فوج کے گرد متحد کرتا ہے اور اس تنازعہ نے پاکستانی فوج کو قومی فخر کا نشان بنا دیا۔ بی بی سی نے اپنی رپورٹ "Kashmir: How China benefited from India-Pakistan hostilities” میں لکھا کہ چینی ساختہ J-10C جنگی طیاروں اور PL-15 میزائلوں کی کامیابی نے پاکستان کی فوجی طاقت کو مضبوط کیا اور چین کی دفاعی صنعت کی عالمی ساکھ کو فروغ دیا۔ تاہم، نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں خبردار کیا کہ یہ مقبولیت عارضی ہو سکتی ہے کیونکہ سیاسی مسائل جیسے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی گرفتاری، عوامی جذبات کو تقسیم کر رہے ہیں۔
بھارت کے لیے یہ تنازعہ اسٹریٹجک ناکامی کا باعث بنا۔ نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ "Why Theres No Battlefield Solution to Indias Perpetual Pakistan Problem” میں لکھا کہ بھارت کو کوئی واضح فوجی فتح حاصل نہیں ہوئی۔ سیٹلائٹ تصاویر سے پتہ چلتا ہے کہ بھارتی حملوں سے محدود نقصان ہوا اور سابق قومی سلامتی مشیر شیو شنکر مینن نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ تنازعہ بھارت کے لیے ایک "اسٹریٹجک خلفشار” ہے جو اس کی ترقی کو متاثر کرتا ہے۔ الجزیرہ نے اپنی رپورٹ "What did India and Pakistan gain and lose in their military standoff?” میں بتایا کہ بھارت نے کشمیر کے تنازعہ کو عالمی سطح پر اجاگر کیا، لیکن اس کی سخت گیر پالیسیوں نے خطے میں کشیدگی کو بڑھایا۔ نریندر مودی کی ہندو قوم پرست پالیسیوں نے پاکستانی عوام اور عالمی برادری میں بھارت کے خلاف جذبات کو ہوا دی، جس سے بھارت کی سفارتی پوزیشن کمزور ہوئی۔
عالمی ردعمل اس تنازعہ کے حوالے سے ملاجلا رہا۔ روائٹرز نے اپنی رپورٹ "Pakistan says it is committed to truce with India, vows response to aggression” میں لکھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی نے جنگ بندی کو ممکن بنایا۔ تاہم، انڈراسٹرا نے اپنی رپورٹ "India and Pakistans Escalating Conflict: A Crisis Without a Mediator” میں خبردار کیا کہ عالمی ثالثی کے میکانزم کمزور ہو رہے ہیں۔ چین نے پاکستانی فوج کی حمایت کی، جیسا کہ ووکل میڈیا نے اپنی رپورٹ "India-Pakistan Crisis 2025: A Comprehensive Political, Economic, and Global Analysis” میں ذکر کیا جبکہ ایران اور روس نے خطے کے استحکام کے لیے مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا۔
ڈس انفارمیشن نے اس تنازعہ کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ فارن پالیسی نے اپنی رپورٹ "Why Disinformation Surged During the India-Pakistan Crisis” میں لکھا کہ سوشل میڈیا پر جعلی ویڈیوز، جیسے کہ ایرانی میزائل حملوں کو بھارتی حملوں کے طور پر پیش کرنا اور مصنوعی ذہانت سے بنائی گئی ویڈیوز نے عوامی جذبات کو بھڑکایا۔ اٹلانٹک کونسل نے اپنی رپورٹ "Experts react: India and Pakistan have agreed to a shaky cease-fire” میں بتایا کہ پاکستان نے ایکس پر پابندی ہٹائی جبکہ بھارت نے ہزاروں ایکس اکائونٹس کو ڈس انفارمیشن پھیلانے کے الزام میں ہٹایا۔ اس ڈس انفارمیشن نے دونوں ممالک کے دعوئوں کی صداقت پر سوالات اٹھائے اور عالمی برادری کے لیے تنازعہ کے حقائق کو سمجھنا مشکل بنا دیا۔
مستقبل کے امکانات کے حوالے سے، بروکنگز انسٹی ٹیوشن نے اپنی رپورٹ "Lessons for the next India-Pakistan war” میں لکھا کہ دونوں ممالک اس تنازعہ سے فوجی سبق سیکھیں گے۔ بھارت کے حملوں نے پاکستان کے حساس فوجی اڈوں جیسے کہ نور خان ایئر بیس کو نشانہ بنایا، جس سے پاکستان کے فضائی دفاع کی کمزوریاں سامنے آئیں۔ دوسری جانب چینی ہتھیاروں کی کامیابی نے پاکستان کی حکمت عملی کو مضبوط کیا۔ بیلفر سینٹر نے اپنی رپورٹ "Escalation Gone Meta: Strategic Lessons from the 2025 India-Pakistan Crisis” میں خبردار کیا کہ جوہری ہتھیاروں کی موجودگی اور جدید ٹیکنالوجی نے غلط فہمیوں کے امکانات کو بڑھا دیا ہے۔ سی بی ایس نیوز نے اپنی رپورٹ "Why were India and Pakistan on the brink of war?” میں کہا کہ کشمیر کا تنازعہ دونوں ممالک کے درمیان بنیادی تنازعہ ہے اور اس کے حل کے بغیر مستقل امن ممکن نہیں۔
مئی 2025 کا پاک بھارت تنازعہ ایک فوجی تصادم سے کہیں زیادہ تھایہ قومی فخر، سیاسی تقسیم اور عالمی سفارت کاری کی آزمائش تھا۔ پاکستانی فوج کی بحال شدہ ساکھ، جیسا کہ الجزیرہ نے رپورٹ کیا نے قومی اتحاد کو فروغ دیا، لیکن نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق سیاسی عدم استحکام اسے عارضی بنا سکتا ہے۔ بھارت کے لیے یہ تنازعہ اسٹریٹجک ناکامی کا باعث بنا، جیسا کہ نیویارک ٹائمز نے بیان کیا جبکہ عالمی میڈیا نے اسے جوہری خطرات اور ڈس انفارمیشن کے تناظر میں دیکھا۔ کشمیر کا تنازعہ جو اس تصادم کی جڑ ہے، اب بھی حل طلب ہے۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ ثالثی کے میکانزم کو مضبوط کرے اور اس خطے میں امن کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھائے، ورنہ یہ تنازعہ مستقبل میں مزید تباہ کن شکل اختیار کر سکتا ہے۔

-

ای چالان سسٹم میں اصلاح کی ضرورت، تحریر:ملک سلمان
ایک سنئیر آفیسر کی کال آئی کہ بھائی ناشتہ کرلیا میں نے کہا کہ نہیں موسٹ ویلکم تشریف لائیں اکٹھے کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ ایک میوچل دوست لاہور آئے ہوئے ہیں ہم دھرم پورہ پائے کھانے جارہے تھے آپ کو بھی پک کرلیتے ہیں۔ ہم گارڈن ٹاؤن سے نکلے تو سپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد کے گھر سے نہر کی طرف جانے والے ڈبل روڈ پر رکشہ و ریڑی والوں نے ہاف سڑک پر قبضہ کیا ہوا تھا۔ کینال روڈ سے دھرم پورہ کیلئے یوٹرن لینے لگے تو سامنے سے بنا نمبر پلیٹ رکشوں کا قافلہ بلا خوف و خطر رانگ وے استعمال کرتا ہوا آرہا تھا۔ دھرم پورہ دونوں اطراف بیچ سڑک ناجائز پارکنگ اور تجاوزات ہی تجاوزات۔ مشہور اقبال ٹی سٹال کا رخ کیا تو وہاں بھی منٹگمری روڈ، ایبٹ روڈ، لکشمی چوک اور ہال روڈ سے گاڑی گزارنا مشکل تھا۔ جس سڑک سے بھی گزرتے بنا نمبر پلیٹ رکشے اور گاڑیاں دیکھ کر ہمارے ساتھ موجود وزارت داخلہ میں تعینات سنئیر افیسر نے بتایا کہ گذشتہ چھے ماہ میں متعدد دفعہ مختلف ایجنسیز کی طرف سے ایس آئی آر(سپیشل انفارمیشن رپورٹ) آئی ہیں کہ مبہم اور بنا نمبر پلیٹ گاڑیاں سیکیورٹی رسک ہیں اس کے باوجود مبہم، بنا نمبر پلیٹ اور نمبر پلیٹ کے آگے اضافی راڈ لگاکر نمبر پلیٹ کو چھپانے والی ٹریفک پولیس سمیت دیگرسرکاری و غیر سرکاری گاڑیوں کے خلاف کاروائی کیوں نہیں ہورہی؟ تیسرے افیسر کا کہنا تھا کہ اغوا، چوری، ڈکیتی، قتل اور دہشت گردی میں استعمال ہونے والی بنا نمبر پلیٹ گاڑی کا پرچہ متعلقہ سی ٹی او پر ہونا چاہئے۔
ٹریفک کی روانی میں ناکامی، نااہلی اور جعل سازیوں کی پردہ پوشی کیلئے پولیس ٹاؤٹ قسم کے صحافیوں اور یوٹیوبرز کی مدد سے ہر وقت خبروں میں رہ کر جھوٹے دعووں سے ارباب حکومت اور اداروں کو مس گائیڈ کرنے کی بجائے غیر قانونی پارکنگ، گارگو اڈوں، پبلک ٹرانسپورٹر کی ریگولر کمائی چھوڑ دیں ٹریفک مسائل ختم ہوجائیں گے لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ ٹریفک مسائل ہی ٹریفک پولیس کے وسائل ہیں۔
پولیس سروس کے دوست نے کہا کہ بزدار دور میں انہیں سی ٹی او لاہور کی آفر ہوئی تو انہوں نے کہا کہ سی ٹی او نہیں کہیں ڈی پی او کی آپشن ہو تو ٹھیک ورنہ سی پی او پنجاب آفس ہی ٹھیک ہے۔ پی ایس پی دوست نے کہا کہ آفر کرنے والے نے کہا کہ سی ٹی او کے بعد آپ ساری ڈی پی او شپ بھول جائیں گے۔ یہ بات سچ ثابت ہورہی ہے کہ واقعی سی ٹی اوکے بعد کسی ڈی پی او شپ کی ضروت نہیں۔
تینوں افسران کا کہنا تھا کہ سی ٹی او، ای چالان ڈیفالٹر سرکاری گاڑیوں کے خلاف ان بڑھکوں سے کس کو اور کتنا بیوقوف بنائے گا؟
تم ایک ایک ای چالان ڈیفالٹر گاڑی کی نشان دہی بھی کرلو گے اور انکو پکڑ بھی لو گے کیونکہ وہ ان قانون پسند شہریوں کی ہیں جو دونمبر نہیں ہیں جو اوریجنل نمبر پلیٹ لگاتے ہیں لیکن اس سے زیادہ مضحکہ خیز بات کیا ہوسکتی ہے کہ بنا نمبر پلیٹ والوں کو نہیں پکڑو گے۔
ای چالان سسٹم میں بھی بہت زیادہ اصلاح کی ضرورت ہے ایک تہائی چالان ایسے ہوتے ہیں جو جسٹیفائیڈ نہیں ہیں کیونکہ اگر اچانک آگے والا بریک لگا دے یا سپیڈ سلو کردے تو "مڈ وے” میں آپکا چالان۔ لائن کی خلاف ورزی بھی بائیک اور رکشہ والوں کی تیز رفتار کٹوں کی وجہ سے ہوتی ہے۔
گاڑی میں موبائل استعمال کرتا، بنا سیٹ بیلٹ والا نظر آجاتا ہے تمہیں اگر نظر نہیں آتا تو کروڑوں روپے ماہانہ کی اکانمی والے مبہم اور بنا نمبر پلیٹ رکشے، ٹرک ٹویٹا اور بسیں نظر نہیں آتیں۔ عام شہری سڑک پر گاڑی کھڑی کرتے نظر آجاتا ہے لیکن پرائیویٹ دفاتر اور کار شوروم کی بیچ سڑک ریگولر غیر قانونی پارکنگ نظر نہیں آتی۔
سارا لاہور اور پنجاب ٹریفک جام میں پھنسا ہوتا ہے لیکن تم روڈ سائڈ تجاوزات اور غیرقانونی پارکنگ کے خلاف کاروائی کیوں نہیں کرتے؟
کوئی سڑک بتا دو جہاں بیچ روڈ ریڑیاں اور رکشے راستہ روک کر دکانداری نہیں کر رہے؟
لفٹر کے زریعے اکٹھے ہونے والے رقم پنجاب حکومت کی بجائے سی ٹی او ویلفئیر اکاؤنٹ میں کس قانون کے تحت جاتی اور کہاں خرچ ہوتی ہے؟
یہ لاقانونیت، زورزبردستی اور فاشزم کی انتہا نہیں کہ نشئی پبلک ٹرانسپورٹررز کو کھلی چھٹی کیونکہ وہ ریگولر روزانہ اور ماہانہ دیتے ہیں جبکہ معزز شہری جو ٹریفک پولیس کی بجائے سرکار کو جائز ٹیکس دیتے ہیں ان کے ساتھ بدمعاشیاں کرکے نمبر گیم پوری کرو۔
تم جن اسٹوڈنٹس کا ریکارڈ خراب کرنا چاہتے ہو ضروری نہیں کہ وہ سارے بڑے ہوکر کرپٹ اور قانون شکن سرکاری ملازم ہی بنیں گے ان میں سے بہت سارے ایماندار لوگ بھی آئیں گے جو اس بدبودار کرپٹ اور قانون شکن سرکاری کلچر کو ختم کریں گے۔
پورے پنجاب کی پولیس کا ریکارڈ دیکھ لیں پولیس کی مدعیت میں مقدمات کی تعداد بامشکل ایک فیصد ہوگی جبکہ ٹریفک پولیس کی مدعیت میں ہر روز درجنوں ایف آئی آر درج ہو رہی ہیں۔ معزز شہریوں پر بدتمیزی کا الزام لگاکر ٹریفک پولیس کا استغاثہ دینا اختیارات سے تجاوز اور فسطائیت ہے۔
تم سڑکوں پر ٹریفک کی روانی اور ٹریفک قوانین کے نفاذ کیلئے مامور ہو یا اپنی فرسٹیشن نکالتے ہوئے شہریوں سے دست و گریبان ہونے کیلئے۔ نمبر گیم کے لیے معزز شہریوں پر ایف آئی آرز کرانا فاشزم کی انتہا ہے۔ ٹریفک پولیس معزز شہریوں کیلئے خوف کی علامت اور غنڈہ فورس بنتی جارہی ہے جبکہ پبلک ٹرانسپورٹر اور غیر قانونی پارکنگ والوں کیلئے تمام تر قانون شکن اقدامات کیلئے معاون فورس۔ تیز فلیش لائٹ کے خلاف کاروائی کی بجائے دن بہ دن فلیشر لائٹ استعمال کرنے والوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ملک سلمان
maliksalman2008@gmail.com