Baaghi TV

Category: بلاگ

  • بی ایل اے  کی ملک دشمنی،کاروائی ضروری.تحریر:جان محمد رمضان

    بی ایل اے کی ملک دشمنی،کاروائی ضروری.تحریر:جان محمد رمضان

    بلوچستان، پاکستان کا وہ خطہ ہے جو قدرتی وسائل، ثقافت اور حب الوطنی میں بے مثال ہے۔ بلوچ قوم نے ہمیشہ پاکستان کے ساتھ وفاداری کا ثبوت دیا ہے، چاہے وہ دفاع وطن ہو، ترقیاتی منصوبے ہوں یا قومی یکجہتی کی بات۔ لیکن بدقسمتی سے کچھ شرپسند عناصر اور بیرونی ایجنڈوں پر کام کرنے والی تنظیمیں، خصوصاً بی ایل اے (بلوچ لبریشن آرمی)، اس خطے کی خوبصورتی کو بدنام کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔بی ایل اے ایک شدت پسند تنظیم ہے جو خود کو بلوچوں کی نمائندہ ظاہر کرتی ہے، مگر درحقیقت یہ بھارتی خفیہ ایجنسی "را” اور دیگر غیر ملکی طاقتوں کی آلہ کار بن چکی ہے۔ ان کا ایجنڈا صرف اور صرف پاکستان دشمنی پر مبنی ہے۔ یہ تنظیم بلوچستان میں بدامنی، تخریب کاری اور معصوم شہریوں کے قتل جیسے جرائم میں ملوث ہے۔

    بی ایل اے اور ان کے حمایتی "مسنگ پرسن” کے نام پر اداروں کے خلاف ایک منظم پروپیگنڈہ چلا رہے ہیں۔ یہ ایک پرانی چال ہے جس کا مقصد عوام کو گمراہ کرنا، ریاستی اداروں پر بداعتمادی پھیلانا اور دنیا میں پاکستان کو بدنام کرنا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بہت سے نام نہاد "لاپتہ افراد” خود دہشت گرد تنظیموں کا حصہ ہوتے ہیں یا غیر ملکی خفیہ ایجنسیوں کے ساتھ رابطے میں ہوتے ہیں۔اب وقت آ چکا ہے کہ ریاست ان اندرونی اور بیرونی دشمنوں کے خلاف بھرپور اور فیصلہ کن کارروائی کرے۔ بی ایل اے جیسے عناصر اور ان کے بیرونی آقا، چاہے وہ بھارت ہو یا کوئی اور ملک، پاکستان کی سالمیت کے خلاف کھلواڑ کر رہے ہیں۔ ان کے ناپاک عزائم کو روکنے کے لیے ہر سطح پر قومی اتحاد اور مضبوط پالیسی کی ضرورت ہے۔

    ملک کے اندر ہر محب وطن شہری، چاہے وہ بلوچ ہو، پنجابی، سندھی، پٹھان یا کشمیری، سب کی یہی خواہش ہے کہ پاکستان امن و ترقی کی راہ پر گامزن ہو۔ پاکستان دشمن عناصر کے خلاف ایک مضبوط اور منظم ردعمل ہی ہمیں اس منزل تک پہنچا سکتا ہے۔ بلوچستان کی ترقی، امن اور خوشحالی صرف اسی صورت ممکن ہے جب وہاں سے دہشتگرد عناصر کا مکمل صفایا کیا جائے۔بلوچ قوم پاکستان کی ایک غیرت مند اور باوقار قوم ہے۔ بی ایل اے جیسے شدت پسند گروہ اس قوم کی نمائندگی نہیں کرتے، بلکہ یہ پاکستان دشمن طاقتوں کے ہاتھوں کا کھلونا بن چکے ہیں۔ اب وقت ہے کہ ریاست اور عوام مل کر ان سازشوں کو ناکام بنائیں اور بلوچستان کو امن، خوشحالی اور ترقی کا گہوارہ بنائیں۔حکومت کو چاہیے کہ وہ بلوچستان میں امن و امان قائم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرے۔ غیر ملکی مداخلت کو روکا جائے اور بی ایل اے جیسے دہشت گرد گروہوں کا خاتمہ کیا جائے۔بلوچ عوام کو بھی چاہیے کہ وہ ان دہشت گرد گروہوں سے دور رہیں۔ انہیں پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔بلوچستان پاکستان کا حصہ ہے، اور یہاں کے لوگ محب وطن پاکستانی ہیں۔ ہمیں مل کر ان عناصر کا مقابلہ کرنا ہوگا جو پاکستان کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔

  • عزت کریئے اور عزت کروائیے۔ تحریر:ملک سلمان

    عزت کریئے اور عزت کروائیے۔ تحریر:ملک سلمان

    ایک ایڈیشنل سیکرٹری مجھ سے ملنے آئے اور کہا کہ بھائی آپ سے ایک درخواست کرنی ہے کہ بیوروکریسی میں سنئیر افسران کی اخلاقی تربیت پر بھی آرٹیکل لکھیں۔ آفیسر کا کہنا تھا کہ وہ ایک بڑے زمیندار گھرانے سے تعلق رکھتا ہے صرف عزت کیلئے سول سروس جوائن کی تھی لیکن وہ سنئیر افسران کے رویے سے شدید مایوس ہے کیونکہ دو تین بیج سنئیر افسر بھی اپنے سے جونئیر کو تحقیر امیز انداز میں بائی نام بلاتا ہے۔ زیادہ برا اس وقت لگتا ہے جب کسی عوامی جگہ یا ماتحتوں کے سامنے بھی سنئیر افیسر صرف نام لیکر بلاتا اور آرڈر کرتا ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ کم از کم بیوروکریسی کے افسران کو باہم اتنی تمیز اور شرم تو ہونی چاہئے کہ اپنے افسر کو بائی نام بلانے کی بجائے تھوڑی عزت دیتے ہوئے نام کے ساتھ صاحب لگا لیں۔ ایسے لگتا ہے کہ جیسے جونئیر افسر نہیں سیکرٹری کا ذاتی ملازم ہوں۔ ہم تحصیل اور ضلع کمانڈ کرچکے ہیں اتنے بھی جونئیر نہیں کہ "فار گرانٹڈ” لیا جائے۔
    میں نے اسے کہا کہ میں اس پر ایک دفعہ پہلے بھی لکھ چکا ہوں۔

    مذکورہ آفیسر نے کہا کہ اسی لیے آپ کے پاس آیا ہوں کہ آپ نے اس ٹاپک پر لکھا تھا میں چاہتا ہوں کہ آپ دوبارہ سے لکھیں سوکالڈ سنئیرز کو تھوڑی شرم دلائیں کہ ”ایس او پی“ ہونی چاہئے کہ کم از کم پی ایم ایس اور سی ایس ایس افسران اپنی کمیونٹی کے جونئیرز کو صرف نام لیکر بلانے کی بجائے صاحب لگا لیں اس سے ان کی شان اور سنیارٹی میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔

    میں نے اسے کہا کہ آپ جس کا ذکر کررہے ہیں اسے تو خود اپنے سنئیر افسران کا بچہ کہلانے پر فخر ہے۔ ایسے بہت سارے نمونے ہیں جو سیاسی شخصیات، اہم ادارے کے عہدیداران اور سنئیر افسران کا ناصرف بچہ کہلانا پسند کرتے ہیں بلکہ خود مشہور کرتے ہیں کہ وہ فلاں کا تعلق دار ہے اور دوسری طرف باقی افسران کے ساتھ ”تم“ کہہ کر بات کرتے ہیں۔

    میں نے اسے بتایا کہ بھائی افسران کی تو مجبوری ہے کہ وہ تم اور بائی نام بلانے والوں کو منہ پر جواب نہیں دے سکتے پیچھے ضرور گالیاں دیتے ہیں کہ گھٹیا انسان کو بولنے کی تمیز نہیں۔
    میں تو زیروٹالرینس کا عادی ہوں جو جس لہجے میں بات کرے اسی لہجے میں جواب دیتا ہوں۔
    احترام سے بلائے تو ڈبل احترام، چکڑ چوہدری بنے تو اسی کے لہجے میں ”اوئے توئے“
    میں نے پہلے بھی ایک دفعہ ٹیلیفونک کال کے حوالے سے ذکر کیا تھا
    ایک سنئیر آفیسر کی کال آئی کیا حال ہے۔
    میں نے کہا کہ الحمد اللہ۔
    وہ دوبارہ مخاطب ہوا۔۔کہاں گم ہو تم آج کل؟
    میں نے کہا جی۔۔۔
    اس نے دوبارہ رپیٹ کرتے ہوئے بھائی کا اضافہ کرتے ہوئے کہا کہ بھائی تم کہاں لاپتہ ہو
    میں نے کہا کہ یہیں، کہاں جانا، تم سناؤ
    اس دفعہ سرپرائز ہونے کی باری اس کی تھی
    ذرا شرمندہ ہوتے ہوئے دوبارہ مخاطب ہوا۔۔۔ تو چھوٹا بھائی ہے
    میں نے پھر ریپلائی کیا۔۔۔۔ تیری مہربانی ہے اگر تو سمجھتا ہے تو۔اگر تم بھائی سمجھتے ہو تو میں بھی تمہیں بالکل ویسے ہی سمجھتا ہوں۔
    وہ سمجھ گیا اور فوری تم سے آپ پر آگیا۔
    ایسے ہی ایک دفعہ ایک اور خودساختہ سنئیر کو ”شٹ اپ“ کال دے کر بلاک کیا۔

    ہمارے ہاں روٹین میں یہ سننے کو ملتا ہے کہ وہ اپنا چھوٹا بھائی ہے، تابعدار ہے اپنا، برخوردار ہے، بچہ ہے اپنا۔
    اگر کوئی آپ کی عزت کرتا ہے تو اس کو ڈائجسٹ کرنا سیکھیں نا کہ اس طرح کی فضولیات بکنا شروع کردیں۔
    ایم پی اے، ایم این اے، منسٹر، بیوروکریٹ، جج، اینکر، کالم نویس، آرمی آفیسر یا بزنس ٹائیکون غرض اگر آپ کسی بھی اچھی جگہ ہیں تو ہر کوئی آپ کا رشتہ دار ہے۔ضروت طے کرتی ہے کہ اس نے کس کو، کونسا رشتہ دینا ہے اور مشہور کرنا ہے کہ فلاں تو میرا چاچا، ماما، پھوپھا ہے حتٰی کہ بوقت ضرورت اسے بہنوئی اور تایا ابو بھی بنا لیتے ہیں تایا مجبوری کی وجہ سے لگاتے ہیں ورنہ وہ ابو کہنے کیلئے بھی ذہنی طور پر تیار ہوتے ہیں۔

    ہمیں اس منافقت اور احساس کمتری سے باہر نکلنا ہو گا خود کو اہم ثابت کرنے کیلئے دوسروں کو ان کو غیر موجودگی میں نیچا دکھانا چھوڑ دیں۔جیسی عزت آپ منہ پر کرتے ہیں ویسی ہی عزت انکی غیر موجودگی میں کریں۔ اہم کا وہم پالے ہم اس قدر احسان فراموش اور بے شرم ہوجاتے ہیں کہ اپنے ہی دوستوں اور رشتہ داروں کو پہچاننے سے انکاری ہوتے ہیں۔جس سے آپکی متعدد ملاقاتیں اور تعلق ہو لیکن اس کی غیر موجودگی میں اس طرح ڈرامے کریں گے کہ جیسے اسے جانتے ہی نہیں۔
    آج کے دور میں کوئی بھی برخوردار اور تابعدار کہلانا تو دور، بھائی یا صاحب جیسے تکریمی القابات کے بغیر ڈائریکٹ بائی نام بلانا بھی توہین اور گستاخی سمجھتا ہے۔ اس لیے حقیقت پسندی کی طرف آئیے عزت کریئے اور عزت کروائیے۔

    ملک سلمان

  • خیبر سے کشمیرتک،ملکی ترقی میں نواز شریف کا کوئی ثانی نہیں.تجزیہ:شہزاد قریشی

    خیبر سے کشمیرتک،ملکی ترقی میں نواز شریف کا کوئی ثانی نہیں.تجزیہ:شہزاد قریشی

    نوازشریف نے 1985ء میں ترقی کے سفر کی بنیاد رکھی ،آج تک جاری ہے
    پاکستان میں کئی لیڈرآئے اور گئے،قوم کو نواز شریف جیسا کوئی نہ مل سکا
    ٹرمپ غیر مسلم،اللہ پر یقین پختہ،ہم مسلمان ہوکر اللہ کی جانب راغب کیوں نہیں ہوتے
    تجزیہ،شہزا د قریشی

    قوموں کے عروج و زوال ترقی و تنزلی میں قائدین کا اہم کرادر ہوتا ہے،قوموں کی ترقی میں قائدین کی بصیرت اور حکمت عملی کو فراموش نہیں کیا جا سکتا،جو قائدین اپنی قوم اور ملک کے لئے فکر مند ہوں وہاں یہ بھی ضروری ہے کہ قوم بھی اپنے قائدین کی قدر اور ان پر اعتماد کرے،بلاشبہ وطن عزیز میں ایسے قائدین رہے ہیں جنہیں ملک وقوم کی فکر تھی، جمہوریت کو مستحکم دیکھنا چاہتے تھے،وطن عزیز میں قانون کی حکمرانی دیکھنا چاہتے تھے، آج کی سیاست میں اقتدار ،اختیارات ،غرور وتکبر ،ہوس زر کے پیچھے بھاگتی نظر آتی ہے،ماضی میں سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے ملک و قوم کی تعمیر وترقی میں اہم کردار ادا کیا،1985 ء سے شروع ہونے والا تعمیر وترقی کا یہ سلسلہ تین بار وزارت عظمیٰ تک جاری رہا ،نواز شریف کابطور وزیراعظم تعمیر و ترقی میں بلوچستان اور گلگت بلتستان تک جاری رہا، گلگت بلتستان کو شناخت دی ، تعمیر وترقی کے لئے بجٹ مختص کیا،بجٹ میں اضافہ کیا ، جس سے گلگت بلتستان کی عوام کی زندگیوں میں خوشحالی آئی، جب سے امریکی صدر ٹرمپ نے عالمی سطح کے فیصلے کرنا شروع کئے ہیں،دنیا میں افراتفری کا سماں ہے تاہم امریکی عوام ٹرمپ کو اپنا ہیرو سمجھتے ہیں،ٹرمپ کی زندگی کی کہانی اور ان کی جدوجہد کئی عشروں سے لوگوں کے سامنے ہے، ٹرمپ ونڈر فل سیاستدان ہونے کے ساتھ ونڈر فل کرسچین بھی ہیں ، ان کے کان کے نزدیک گولی گزری تو کہا اللہ تعالیٰ نے مجھے بچایا ،ہر فیصلے کے بعد ٹرمپ کی زبان پرGOD HELP ME ہوتا ہے،روس اور یوکرین کے درمیان معاملات طے ہونے والے ہیں بلکہ بہت ہی قریب ہیں، ایران کو امریکہ نے دھمکی ضرور دی ہے تاہم ایران کے تین یورپی ممالک کے ساتھ مذاکرات جنیوا میں جاری ہیں، اندازہ ہے کہ امریکہ اور ایران بات چیت سے اپنے مسائل حل کرلیں گے

  • پارکھ اور نقاد . تحریر:کنزہ محمد رفیق

    پارکھ اور نقاد . تحریر:کنزہ محمد رفیق

    ادب کی دنیا میں ادبی فن پارے کو پرکھنے والا پارکھ کہلاتا یے، اور ادبی تخلیقات کو سنوارنے کا کام نقاد کے ذمہ ہوتا یے۔
    یہ پارکھ، یہ مبصر اور یہ نقاد سب ادب کی دنیا میں بھلے لگتے ہیں۔ حقیقی دنیا میں کسی کو بھی ایسے نقاد اور پارکھ کی حاجت نہیں ہوتی، جو تحقیق کے بغیر تنقید کرے یا کچھ بھی جانے بغیر آپ کے بارے میں رائے قائم کرے۔
    اس دُنیا میں انواع و اقسام کے نفوس موجود ہیں۔
    کسی کے والدین کیسے ہیں ؟
    آپ اس بات سے ناواقف ہیں۔
    کسی کے بہن بھائی کا رویہ کیسا ہے؟
    آپ اس بات سے بے بہرہ ہیں۔
    کسی کے خاندان والے کیسے ہیں؟
    آپ کو اس بات کاذرا علم نہیں۔
    جب تک یہ تمام باتیں آپ کو نہیں معلوم ، خدا کے لیے کسی کو غلط نہ کہیں۔
    یہ بگڑا ہوا، منفی اور عجیب وغیرہ وغیرہ۔۔۔
    کیا پتا ان کے حصّے میں ایسے والدین آئے ہوں، جنہیں اپنے بچوں سے زیادہ دنیا کے بچے عزیز ہوں؟
    کیا پتا انہیں اپنے بچّوں کی کامرانی پر جشن منانا نہیں آتا ہو ؟
    کیا پتا انہیں اپنے بچے سدا کے نالائق لگتے ہو ؟
    اور کیا پتا کسی کے حصّے میں ایسے والدین آئے ہوں، جنہیں کچھ سوچنے سمجھنے کی فرصت ہی نہ ہو وہ اپنے اپنے دائروں میں گردش کر رہے ہو، اور زندگی کو سمجھنے کی بجائے بس کھانے، پینے اور سونے تک اپنی زندگی محدود کر رکھی ہو۔
    زندگی میں موڑ کیا ہوتے ہیں ؟ اور فیصلے کس بلا کا نام ہے وہ ان تمام باتوں سے بے بہرہ ہو۔
    اور ایسے ہی والدین کے بچے جب اپنے بل بوتے پر مسلسل تگ و دو کے بعد کچھ حاصل کرتے ہیں، تو دنیا والدین کے سر پر تاج سجا دیتی یے۔

    ہر کسی کے والدین ساتھ کھڑے ہونے والے، اور ہمت بڑھانے والے نہیں ہوتے، یہ دنیا ہے اور یہاں ہر طرح کے لوگ موجود ہیں۔ تو لہذا لوگوں کو پرکھنا چھوڑ دیں، آپ کے پاس اچھے لوگ موجود ہیں تو یہ نہ سمجھیں سب کے پاس حوصلے بلند کرنے والے والدین موجود ہوں گے، یہ اپنے پاس کہیں لکھ کر رکھ لیجیے کہ اسی دنیا میں کچھ لوگوں کے پاس والدین محض حوصلے پست کرنے والے ہوتے ہیں، اور ایسے ہی بچے ہوتے ہیں، جن کی کامیابی دنیا میں امر ہوجاتی یے، ورنہ وہی دہرائی ہوتی یے۔ کچھ کو اچھے ماحول کے سبب کامیابی مل جاتی ہے اور کچھ لوگوں کا سفارش سے کام بن جاتا یے۔ مگر خدا سے بڑا منصف اور کون ہوسکتا ہے بھلا ؟
    اس جہانِ تگ و دو میں کس نے کتنی اور کس حد تگ و دو کی ہے، یہ صرف اللّٰہ کے علم میں ہے۔
    اور کیا کوئی اللّٰہ کے مقابل آسکتا ہے ؟

  • ڈاکٹر عافیہ صدیقی، ایک قربانی کی کہانی،تحریر: شہزادی ثمرین

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی، ایک قربانی کی کہانی،تحریر: شہزادی ثمرین

    پاکستان کی تاریخ میں بہت سی اہم ہستیاں گزری ہیں جن کے نام آج بھی ہمارے ذہنوں میں زندہ ہیں، لیکن ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا نام ایک الگ ہی نوعیت کی کہانی کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ عافیہ صدیقی ایک ایسی شخصیت ہیں جو نہ صرف اپنے ملک کی بلکہ پوری دنیا کی تاریخ میں ایک منفرد مقام رکھتی ہیں۔ ان کی زندگی کا قصہ ایک ایسی المیہ کہانی ہے جس میں ظلم، بربریت اور بے گناہی کے تمام پہلو سامنے آتے ہیں۔

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا تعلق کراچی کے ایک تعلیم یافتہ اور معتبر گھرانے سے تھا۔ 1972 میں کراچی میں پیدا ہونے والی عافیہ نے ابتدائی تعلیم اپنے وطن میں حاصل کی۔ ان کی ذہانت اور محنت نے انہیں تعلیم کے میدان میں نمایاں مقام دلایا۔ 1992 میں عافیہ نے امریکہ جانے کا فیصلہ کیا اور وہاں ٹیکساس میں اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا۔عافیہ نے امریکہ میں رہ کر ایک ایسی اہم تحقیق کی جس کے بعد وہ عالمی سطح پر شناحت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئیں۔ ان کی تحقیق میں ایک ایسا فارمولا دریافت کیا گیا جو کہ مہلک ہتھیار تیار کرنے کی بنیاد بن سکتا تھا۔ عافیہ کی اس تحقیق کو امریکہ کے لیے اہمیت حاصل تھی، لیکن عافیہ نے اس فارمولا کو امریکہ کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا کیونکہ ان کا خیال تھا کہ اگر یہ فارمولا امریکہ کے ہاتھ لگ گیا تو یہ اسلام اور اسلامی ممالک کے خلاف استعمال ہو سکتا ہے۔عافیہ کی ذاتی زندگی بھی اتنی آسان نہیں تھی۔ 1995 میں ان کی شادی ایک پاکستانی سائنسدان امجد محمد خان سے ہوئی۔ ان کے دو بیٹے اور ایک بیٹی تھی، لیکن اس کے باوجود ان کی شادی کامیاب نہ ہو سکی۔ 2002 میں ان کے درمیان اختلافات شدید ہو گئے اور بالآخر طلاق ہو گئی۔ ان اختلافات کے دوران امجد خان نے عافیہ پر مختلف الزامات عائد کیے۔

    عافیہ کا سفر ایک سنگین موڑ پر 2003 میں آیا جب امریکہ نے پاکستان سے عافیہ کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ جس کے بعد عافیہ کو پاکستان سے گرفتار کر کے افغانستان پھر امریکہ منتقل کر دیا گیا۔عافیہ کی گرفتاری کے پانچ سال بعد، اس بات کی تصدیق ہوئی کہ وہ امریکی جیل میں قید ہیں، لیکن اس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ اس دوران امریکہ نے عافیہ پر شدید ذہنی اور جسمانی تشدد کیا تاکہ وہ اپنے فارمولا کے بارے میں بتائے۔ عافیہ نے اپنے عزم کو قائم رکھا اور امریکہ کے سامنے سر نہیں جھکایا۔عافیہ کو اتنے سخت سزاؤں اور تشدد کا سامنا کرنا پڑا کہ اس کی ذہنی حالت مفلوج ہو گئی۔ امریکہ نے بار بار کوشش کی کہ وہ عافیہ سے اس تحقیق کا فارمولا حاصل کرے، مگر عافیہ کا جواب ہمیشہ یہی رہا کہ وہ یہ فارمولا کسی قیمت پر نہیں دے گی۔

    دوران قید، امریکہ نے پاکستان سے عافیہ کی رہائی کے لیے بات کی، اور 2012 میں امریکہ کے صدر بارک اوباما نے پاکستان سے کہا کہ وہ عافیہ کی واپسی کے لیے تیار ہیں، مگر پاکستانی حکومت نے اس مسئلے میں کوئی دلچسپی نہ دکھائی۔ اس طرح عافیہ آج بھی امریکہ کی قید میں ہیں، اور ان کے خاندان والے ان کی واپسی کے منتظر ہیں۔ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی زندگی نہ صرف ظلم اور جبر کی کہانی ہے، بلکہ اس میں ایک ایسی عورت کی قربانی کی داستان بھی چھپی ہوئی ہے جس نے اپنے وطن، اپنے نظریات اور اپنی قوم کے لیے اپنی زندگی کا سب سے قیمتی حصہ قربان کر دیا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس کی رہائی کے لیے آواز اٹھائیں اور عالمی سطح پر اس کی آزادی کے لیے کوششیں کریں۔عافیہ کے خاندان کی جدو جہد اور ان کے صبر و استقلال نے دنیا کو یہ دکھا دیا ہے کہ ظلم کے باوجود سچ اور اصول کی جیت ہوتی ہے۔ ہمیں ان کی رہائی کے لیے آواز اٹھانی چاہیے تاکہ ان کی قربانی رائیگاں نہ جائے۔

  • ریحانہ کنول: ایک دردمند شاعرہ کا سفرِ آخرت.تحریر عاصم بوٹا

    ریحانہ کنول: ایک دردمند شاعرہ کا سفرِ آخرت.تحریر عاصم بوٹا

    ریحانہ کنول کا نام اردو ادب میں ہمیشہ احترام اور محبت سے لیا جائے گا۔ وہ ایک ایسی شاعرہ تھیں جن کے الفاظ نہ صرف جذبات کے عکاس تھے بلکہ معاشرے کے دکھوں اور ناانصافیوں کو بھی قلم کی نوک پر لا کر ایک سچائی کے آئینے میں سجا دیتے تھے۔ ان کی شاعری ایک مجبور ماں کی مامتا، زندگی کے نشیب و فراز، اور ایک حساس دل کی گہرائیوں کی ترجمانی کرتی رہی۔ آج وہ ہم میں نہیں رہیں، مگر ان کے الفاظ ہمیشہ زندہ رہیں گےریحانہ کنول کی زندگی کسی کہانی سے کم نہ تھی۔ ان کا ہر لمحہ، ہر دن ایک جدوجہد کی مانند گزرا، لیکن انہوں نے صبر و استقامت کو اپنا شعار بنایا۔ وہ ایک ایسی ماں تھیں جنہوں نے بے پناہ مشکلات کے باوجود اپنی اولاد کی بہترین پرورش کی اور ایک ایسی شاعرہ تھیں جن کی تحریروں میں سچائی اور درد کی خوشبو محسوس کی جا سکتی تھی ان کی زندگی مشکلات اور آزمائشوں سے بھری ہوئی تھی، لیکن انہوں نے کبھی حوصلہ نہیں ہارا۔ ایک بیوہ ماں ہونے کے باوجود انہوں نے نہایت صبر اور ہمت کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کو نبھایا۔ وہ نہ صرف اپنی اولاد کے لیے ایک مضبوط سہارا تھیں بلکہ ان کے خیالات اور نظریات سے بے شمار لوگوں کو روشنی ملی۔ ان کے دل میں درد بھی تھا اور اس درد کی بازگشت ان کی شاعری میں سنائی دیتی تھی۔ وہ لفظوں کے ذریعے وہ سب کچھ بیان کر دیتی تھیں جو ایک عام انسان محسوس تو کر سکتا ہے مگر الفاظ میں ڈھالنے کی سکت نہیں رکھتا2024 میں جب بزمِ اوج کے سالانہ مشاعرے میں انہیں جہانیاں منڈی آنا تھا، تو ان کی کمر کی تکلیف نے انہیں روک دیا۔ انہوں نے معذرت کی، مگر جلد آنے کا وعدہ کیا۔ کچھ دن بعد وہ میرے گھر تشریف لائیں اور ایک پورا دن ہماری فیملی کے ساتھ گزارا۔ یہ ان کی محبت اور خلوص کا عملی مظاہرہ تھا۔ وہ الفاظ کی دنیا میں منفرد مقام رکھتی تھیں، مگر اپنی ذات میں بھی ایک عظیم انسان تھیں۔ ان کی سادگی، محبت اور خلوص ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ان کی گفتگو میں ایسی تاثیر تھی کہ سننے والا ان کے الفاظ میں کھو جاتا تھاکچھ ماہ قبل انہوں نے اپنی بیٹی کی شادی کی، جہاں مجھے بھی مدعو کیا گیا تھا، مگر کسی مجبوری کی بنا پر میں شریک نہ ہو سکا۔ وہ ایک ماں ہونے کے ناطے اپنی اولاد کی خوشیوں میں سب سے آگے رہیں، مگر ان کی زندگی کے کئی پہلو ایسے بھی تھے جو ان کے حساس دل اور گہرے درد کی عکاسی کرتے تھےوہ ایک ایسی ماں تھیں جنہوں نے اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے اپنی تمام خواہشات اور ضروریات کو پسِ پشت ڈال دیا۔ انہوں نے خود تکالیف سہیں مگر اپنی اولاد کو ہر ممکن خوشی دینے کی کوشش کی۔ یہ ایک ایسی قربانی ہے جسے الفاظ میں بیان کرنا آسان نہیں۔ وہ راتوں کو جاگتی رہیں، دکھوں کو سہتی رہیں، مگر اپنی اولاد کے لیے ایک مضبوط دیوار کی مانند کھڑی رہیں ریحانہ کنول کی وفات کے بعد ان کے بچے ایک بار پھر آزمائش کی بھٹی میں جھونک دیے گئے۔ پہلے ہی والد کی جدائی کا زخم سہنے والے یہ معصوم اب اپنی ماں کے سائے سے بھی محروم ہو گئے۔ والدہ کی ممتا، شفقت، اور دعاؤں کی چھاؤں سے نکل کر وہ بے رحم زمانے کی بے حسی اور تلخ رویوں کے رحم و کرم پر رہ گئے۔ زندگی کے اس بے رحم کھیل میں وہ مزید تنہا ہوگئے، جہاں انہیں ماں کی مسکراہٹ، اس کے نصیحت بھرے الفاظ، اور اس کے سائے کی ضرورت تھی، وہی سب کچھ ان سے چھن چکا تھاریحانہ کنول کی شاعری محض لفظوں کا امتزاج نہیں تھی بلکہ ایک ایسے حساس دل کی آواز تھی جو معاشرتی ناانصافیوں، اپنوں کی بے حسی اور زندگی کی تلخیوں کو شدت سے محسوس کرتا تھا۔ وہ ان جذبات کو اپنی شاعری میں اس طرح پروتی تھیں کہ قاری کے دل پر براہِ راست اثر ہوتا تھا۔ ان کے اشعار میں المیہ، بغاوت، اور سچائی کا حسین امتزاج تھا۔ ان کے الفاظ کا چناؤ اتنا گہرا ہوتا کہ ایک عام قاری بھی ان کے جذبات کو شدت سے محسوس کرنے لگتا

    یادگار غزل

    چوڑیاں پہنی نہ مہندی ہی لگائی میں نے
    ایک مدت سے نہیں عید منائی میں نے

    بیٹیاں پالنا جنت کی خریداری ہے
    بیٹیاں پال کے جنت ہے کمائی میں نے

    سنتی آئی ہوں کہ ہیرے سے ہے ہیرا کٹتا
    پیٹ کی آگ ہے فاقوں سے بجھائی میں نے

    وہ محبت مِری تکلیف کا سامان ہوئی
    جس محبت کے لئے چھوڑی خدائی میں نے

    کون سا جرم ہے میرا کہ ہوئے ہو دشمن
    اپنا حصہ ہی تو بس مانگا ہے بھائی میں نے

    خالقِ کون و مکاں تیری بھری دنیا سے
    ایک تسکین کی ساعت ہے چرائی میں نے

    دنیا کی آنکھ نے زخمایا مِرے ہونے کو
    اپنی میت ہے کئی بار اٹھائی میں نے

    خوش گمانی نے سہولت کو اذیت جانا
    اپنے حصے کی سہولت بھی نہ پائی میں نے

    صرف ایسا تو نہیں ہے کہ ہوں کپڑے سیتی
    دکھ کی پوشاک کی بھی کی ہے سلائی میں نے

    ایک احساس یہی باعثِ تسکین رہا
    اپنی خاطر نہ لڑی کوئی لڑائی میں نے

    میں نے ہر شخص کو انسان سے تعبیر کِیا
    جتنی دولت تھی بھروسے کی، لٹائی میں نے

    ساعتِ وصل کی دستک پہ بھی در وا نہ کِیا
    رسمِ ہجراں ہے کنول ایسے نبھائی میں نے

    ریحانہ کنول کی جدائی اردو ادب کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ ان کے الفاظ آج بھی گونج رہے ہیں، ان کی تحریریں آج بھی روشنی دے رہی ہیں۔ وہ نہ صرف ایک شاعرہ تھیں بلکہ ایک بہترین انسان بھی تھیں جن کی موجودگی دوسروں کے لیے ایک نعمت تھی آج جب وہ اس دنیا میں نہیں رہیں، تو ان کی یادیں، ان کی باتیں، ان کے اشعار اور ان کا اندازِ فکر ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہے گا۔ وہ چلی گئیں مگر اپنی تحریروں میں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔ ان کی شاعری کے ذریعے ہم ان کی روح کے درد اور احساسات کو محسوس کر سکتے ہیں ریحانہ کنول ایک ایسی ہستی تھیں جنہیں فراموش کرنا ممکن نہیں۔ ان کی جدائی ایک ذاتی نقصان بھی ہے اور ادبی دنیا کے لیے بھی ایک ناقابلِ تلافی نقصان۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور ان کے بچوں کو صبر اور حوصلہ عطا کرے۔ آمین

  • پاکستان میں بھارتی دہشت گردی اور بڑھتا ہوا سیاسی و معاشی بحران

    پاکستان میں بھارتی دہشت گردی اور بڑھتا ہوا سیاسی و معاشی بحران

    پاکستان میں بھارتی دہشت گردی اور بڑھتا ہوا سیاسی و معاشی بحران
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰبڈانی
    گلوبل ٹیررازم انڈیکس 2025 کے تازہ اعداد و شمار نے پاکستان کو دہشت گردی سے متاثرہ ممالک میں دوسرے نمبر پر رکھا ہے۔ 2011 سے 2024 تک کے عرصے میں 1098 دہشت گردانہ واقعات میں ایک ہزار سے زائد افراد لقمہ اجل بنے۔ رواں سال کے آغاز سے ہی دہشت گردی کی نئی لہر نے بلوچستان اور خیبر پختونخوا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہواہے۔ انسٹی ٹیوٹ فار اکنامکس اینڈ پیس کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں طالبان کی واپسی کے بعد سے دہشت گردی میں خطرناک اضافہ ہوا جو پاکستان کے لیے نہایت تشویشناک ہے۔ اس صورتحال نے واضح کر دیا کہ دشمن قوتیں خطے میں انتشار پھیلانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دے رہی ہیں۔

    افغانستان میں طالبان کی حکومت امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس شکست سے پیدا ہونے والی خفت کو مٹانے کے لیے خطے میں نئی سازشوں کا جال بچھایا جا رہا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے جو قربانیاں دیں وہ شاید ہی کسی اور ملک نے دی ہوں۔ ان حملوں کے پیچھے بھارت کا کردار اب کوئی راز نہیں رہا۔ کلبھوشن یادو نیٹ ورک کے ثبوت اقوام متحدہ، امریکی دفتر خارجہ اور یورپی پارلیمنٹ سمیت عالمی اداروں کے سامنے پیش کیے جا چکے ہیں۔ امریکی جریدے فارن پالیسی نے بھی مودی حکومت اور داعش کے گہرے روابط کی نشاندہی کی ہے جو علاقائی اور عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔

    امریکہ ایشیا میں سرمایہ کاری، تجارت اور سفارت کاری کے ذریعے اپنا اثر بڑھا رہا ہے جبکہ بھارت اس کا ہمنوا بن کر خطے کو غیر مستحکم کرنے میں مصروف ہے۔ پاکستان اور چین کے درمیان سی پیک جیسے اربوں ڈالرز کے معاہدوں نے جہاں ترقی کی نوید سنائی، وہیں امریکہ اور بھارت گوادر بندرگاہ اور اقتصادی راہداری میں روڑے اٹکا رہےہیں۔ چینی انجینئرز اور شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ اسی سازش کا حصہ ہے، جس کا مقصد ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کو سبوتاژ کرنا ہے۔ بھارت نے گزشتہ دو دہائیوں سے امریکی پشت پناہی کے ساتھ منظم تخریب کاری کو فروغ دیا۔

    افغانستان میں امریکی ناکامی کے بعد مودی نے داعش کے ذریعے دہشت گردی کا نیا سلسلہ شروع کیا۔ اس صورتحال نے افغان قیادت اور انٹیلی جنس کو زہر آلود کر دیا، جس سے خطے میں امن کی کوششیں ناکام ہو رہی ہیں۔ پاکستان مسلسل عالمی برادری سے مطالبہ کرتا رہا کہ حالات کو اس نہج پر نہ لایا جائے جہاں خطے کی سلامتی داؤ پر لگ جائے مگرپاکستان کی ان کوششوں کو مسلسل نظرانداز کیا گیاہے۔

    دہشت گردی کی وجہ سے سرمایہ کار پاکستان سے منہ موڑ رہے ہیں۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو باقی کاروباری افراد بھی بیرون ملک منتقل ہو جائیں گے۔افغانستان میں گوریلا جنگ کے دوران افغانیوں کی آمد نے پاکستان میں منشیات اورکلاشنکوف کلچر کو فروغ دیا اور معیشت پر بوجھ بڑھایا۔ فرنٹ لائن اتحادی ہونے کے باوجود پاکستان کو ہمیشہ شک کی نگاہ سے دیکھا گیا اور اس کے گرد گھیرا تنگ کیا گیا۔ دو دہائیوں میں 80 ہزار سے زائد شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کی شہادت اور اربوں ڈالرز کا مالی نقصان اس کی گواہی دیتا ہے کہ پاکستان کو افغان جنگ سے کتنا ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔

    بلوچستان میں ٹرین پر حملہ اور خودکش بم دھماکے اور خیبرپختون خوا میں ہونے والے حالیہ حملوں میں پولیس اور معصوم بچوں کے علاوہ جیدعلمائے کرام کو نشانہ بنایاگیا، جس سے ملک میں خوف کی فضا پھیل گئی۔ یہ سفاکانہ کارروائیاں پاکستان کو غیر محفوظ ملک کے طور پر پیش کرنے کی سازش کا حصہ ہیں۔ اس نازک صورتحال میں اندرونی سیاسی عدم استحکام نے حالات کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی ہر وقت احتجاج اور افراتفری کی سیاست ملک کو کمزور کرنے والے عناصر کے لیے سازگار ماحول پیدا کر رہی ہے۔ پی ٹی آئی کا ملک میں عدم استحکام پھیلانے والوں کے لیے نرم گوشہ اور خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت کی افغان طالبان سے ڈائیلاگ کی خواہش وفاق کو کمزور کرنے کی سازش کا حصہ دکھائی دیتی ہے۔

    پی ٹی آئی کو ضدی بچے والے کردار سے ہٹ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ انتشار کی سیاست چھوڑ کر قومی یکجہتی کے فروغ میں اپنا کردار ادا کرسکتی۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے افواج پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا اس کی اولین ذمہ داری ہے۔ پی ٹی آئی سمیت تمام اپوزیشن جماعتوں کو یہ ادراک ہونا چاہیے کہ پاکستان سلامت رہا تو سیاست بھی جاری رہے گی۔ تمام سیاسی جماعتوں اور محب وطن قوتوں کا مطمع نظر سب سے پہلے پاکستان کی بقا اور سلامتی ہونی چاہیے۔

    ماضی میں پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف کامیاب جنگ لڑچکا ہے لیکن موجودہ حملوں نے سکیورٹی نظام کی کمزوریوں کو بے نقاب کیا۔ اگر اس ناسور کا علاج نہ کیا گیا تو آنے والے دنوں میں بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں اختلافات بھلا کر دہشت گردی کے خلاف متحد ہو جائیں۔ قومی سلامتی کے معاملات پر یکجہتی اور سہولت کاروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ہی اس بحران سے نکلنے کا راستہ ہے۔ پاکستانی قوم اپنی سکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑی ہے اور اس عزم کو عملی شکل دینے کی ضرورت ہے تاکہ خطے میں امن و استحکام کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے۔ اگر ہم آج انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے تیار نہیں ہوئے تو کل اس کی قیمت ہماری نسلوں کو چکانا پڑے گی۔

  • تہواروں پر حقیقی سکون اور خوشی حاصل کرنے کا طریقہ .ملک سلمان

    تہواروں پر حقیقی سکون اور خوشی حاصل کرنے کا طریقہ .ملک سلمان

    گذشتہ روز ہر کوئی نئے کپڑے زیب تن کیے عید کی خوشیاں منانے میں مشغول تھا، بینک کے اے ٹی ایم پر گیا تو بینک گارڈ کو دیکھا کہ وہ نئے کپڑوں کی جگہ اپنی وردی میں کھڑا تھا۔ میں نے پوچھا کہ انکل جی آپ کو عید کی چھٹی نہیں ملی اس نے کہا کہ سر اتنی قسمت کہاں دو میں سے کسی ایک عید کی ہی چھٹی ملتی ہے۔ میں نے پیسے نکلواتے وقت فیصلہ کیا کہ اگر کوئی عیدی کا حقدار ہے تو ایسے لوگ ہیں جو اپنے گھر اور خاندان سے دور رہ کر اپنی عید قربان کرکے رزق حلال کما رہے ہیں۔میں نے اسے پیسے تھماتے ہوئے کہا کہ چاچا عیدی اس نے دعائیں دیتے ہوئے شکریہ ادا کیا۔ اسی طرح چند اور مقامات پر ڈیوٹی پر مامور افراد کو عیدی دی۔ خاص طور پر لاہور اور گاؤں دونوں جگہ گھریلو ملازمین اور محلے کے گارڈ کو عیدی دی۔ رات کو دوستوں کے ساتھ کھانا کھانے کیلئے ریسٹوران کا رخ کیا تو وہاں بھی ویٹر کو روٹین سے زیادہ ٹپ بطور عیدی دی۔ ان تھوڑی تنخواہ والے ملازمین کو تھوڑی سی رقم بطور عیدی دیکر نیکی کی فوری قبولیت کا احساس ہوا۔ یقین کریں قبولیت کا احساس نماز، روزہ اور عبادات سے بھی زیادہ تھا، حقیقی سکون اور خوشی۔

    نماز، روزہ اور عبادات لازم ہیں اور ریگولر کرتے بھی ہیں اس کے باوجود اللہ سے قبولیت کیلئے دعا گو بھی ہوتے ہیں لیکن ایسے لوگوں کے ساتھ نیکی کرتے وقت پتا نہیں کیوں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اللہ عبادات بھی ایسے اعمال سے ہی قبول کرے گا۔ چند ہفتے قبل دوران سفر ایک مسجد میں جمعہ کی نماز کیلئے رکا، گاڑی سے مصلیٰ (جائے نماز) لی، جمعہ کی دوسری اور آخری رکعت میں سلام پھیرنے سے چند لمحے قبل ایک نمازی ساتھ شامل ہوا اور میرے ساتھ سڑک پر تشہد کی حالت میں بیٹھ گیا، میں سفر میں بھی تھا اور جلدی بھی تھی لیکن سوچا کہ ”سلمان“ اللہ ایسا جلدی والا جمعہ قبول کرے نہ کرے لیکن اس بندے کو نماز کیلئے مصلیٰ دینے سے اللہ ضرور راضی ہو گا، میں سلام پھیر کر کھڑا ہوگیا اور جائے نماز اسکی طرف کردی کہ اپنی نماز مکمل کرلو یقین کریں واقعی ایسا ہوا، بہت سکون ملا کہ اللہ نے یہ عمل ضرور قبول کیا ہوگیا۔ مجھے لگتا ہے کہ اللہ نے عبادات کا اصل مقصد انسانیت ہی رکھا ہے اگر نماز اور عبادات کے بعد بھی ہم میں احترام انسانیت نہیں تو پھر اپنا محاسبہ اور اصلاح کی ضرورت ہے۔ مجھے بینک کے پریمئم ورلڈ کارڈ پر اچھا خاصا ڈسکاؤنٹ مل جاتا ہے، روٹین میں کسی نہ کسی بیکری سے ڈسکائنٹ پر بریڈ لیکر گاڑی میں رکھ لیتا ہوں جہاں کوئی کتا، بلی یا جانور نظر آتا ہے گاڑی آہستہ یا روک کر اسے کھلا دیتا ہوں یقین کریں ان بے زبان جانوروں کو معمولی سا کھانا کھلا کر جو تسکین ملتی ہے اس کا کوئی حساب نہیں۔ ریسٹوران پر جاتا ہوں تو اگر کھانا بچ جائے تو پیک کروا کر خود راستے میں کسی نہ کسی جانور کو کھلا دیتا ہوں۔
    ہر عید پر نئے کپڑے پہنتے ہیں شاپنگ کرتے ہیں، عید آتی ہے اور گزر جاتی ہیں لیکن جس عید پر حقیقی خوشی ملی وہ 2005کی عید ہے۔ اکتوبر2005کے زلزلے میں اپنے گھر سے کمبل رضائیاں، کھانے کی اشیاء سمیت اچھا خاصاسامان لیا۔ ابو، امی، بہن بھائیوں سب کے نئے کپڑے اور جوتیاں زلزلہ زدگان کو عطیہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ میں اسلامیہ کالج سول لائنز لاہور پڑھتا تھا تو اسلامی جمیعت طلبہ نے زلزلہ زدگان کی مدد کیلئے ”عید کاروان“ روانہ کرنا تھا۔ عید کاروان کیلئے بہت سارے طلبہ رضاکارانہ طور پر مدد کیلئے جارہے تھے ضلع قصور سے میں، جواد سلیم اور عرفان چوہدری بھی کاروان میں شامل ہوگئے۔ اپنے نئے کپڑے زلزلہ زدگان کو عطیہ کرکے خود پرانے کپڑوں کے ساتھ گھڑھی حبیب اللہ بالاکوٹ آزاد کشمیر میں لوگوں کی مدد کرتے ہوئے گزاری اس عید کی حقیقی خوشی کو آج بھی محسوس کرسکتا ہوں۔
    میرے قریبی دوست اکثر کہتے ہیں کہ آپ اشرافیہ اور بدمعاشیہ سے جتنے پنگے لیتے ہیں غریبوں اور بے زبان جانوروں کی دعائیں ہی ہیں جو آپ کو بچا دیتی ہیں۔

  • بن تیری دید کیسی عید ، تحریر : ملک سلمان

    بن تیری دید کیسی عید ، تحریر : ملک سلمان

    بن تیری دید کیسی عید

    آج عید کا دن ہے لیکن ابو،بہن بھائی کسی کو بھی کوئی اکسائٹمنٹ نہیں ہے، یہ عید بھی خاموشی سے گزر جائے گی سحری کیلئے اٹھانی والی شفیق ماں کی آواز نہیں آئی، جب ماں کی آواز نہ سنائی دی تو سحری کیلئے بھی دل نے ساتھ نہ دیایوں رمضان کے 29روزے بغیر سحری کے رکھے،سحری کے وقت اٹھ کر ایک گلاس پانی پی لینا۔

    امی کے رحلت کے بعد ایک دوست نے پوچھا کہ ماں جی کہ کتنی عمر تھی تو منہ سے فی البدیہہ نکلا کہ ”ماں کی کوئی عمر نہیں ہوتی، ماں تو ماں ہوتی ہے“پیدائش سے بچپن اور جوانی تک ماں کا ایک ہی روپ دیکھا،ماں ایسی ہستی ہے جسے ہم کسی بھی عمر میں کسی صورت کھونا نہیں چاہتےاگر اللہ آپشن دیتا کہ اخروی جنت چاہئے یا دنیاوی جنت تو فوراً سے پہلے ماں کے قدموں کو ترجیح دیتا،میں نے کبھی ”مدرڈے“ پر کوئی پوسٹ نہیں لگائی کیونکہ ہر دن اور ہر لمحہ ماں کی ہی بدولت ہے۔

    گھر میں داخل ہوتے ہی دروازہ کھولنے والے کی بجائے بھی بھاگ کر سب سے پہلے امی سے ملنے کی عادت تھی کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ ماں کے بغیر بھی رہنا یا جینا پڑ سکتا ہے ہم بہن بھائی خود غرضی کی حد تک ماں سے پیار کرتے ہیں، ہم جتنے بھی بڑے ہوگئے لیکن امی کے پاس جاکر اندر کا بچہ جاگ جاتا اور ان کے گرد ہی رہنا۔

    تمہارے بعد کبھی یہ نہیں کہا ہم نے
    ہمارے پاس خدا کا دیا سب کچھ ہے

    با کردار، حیا دار، پیکر ایثار، عبادت گزار، خدمت گزار، غریب پرور اور بلند عزائم سے سرشار، ہر خوبی ان کی ذات میں موجود، وہ آئیڈیل، قابل تقلید اور عظیم ماں تھیں خاندان یا کسی بھی جاننے والی خواتین نے گھر آکر امی سے کوئی مسئلہ ڈسکس کرنا تو انہوں نے تب تک چین سے نہیں بیٹھنا جب تک اس کا مسئلہ حل نہ ہوجائے۔

    امی کی کال آتی کہ بیٹا وہ فلاں عورت گھر آئی ہے اسکا فلاں کام ہے وہ کروا دو، اگر فوری مسئلہ حل ہو جاتا تو شاباش دیتی کہ اس عورت نےہمیں کتنی دعائیں دیں،نہیں تو دوبارہ کال آجاتی کہ پتر تو سہی طرح نہی آکھیا ہوئے گا پتر لوکاں دے کم کریاں اللہ راضی ہوندا اے،
    جو بھی مدد کے لئے آیا اسے خالی ہاتھ نہ جانے دیا، محلے میں کسی خاتون یا بزرگ کی تیمارداری کیلئے جانا وہاں دیکھنا کہ اگر ان کے پاس ایک جیسے برتن نہیں تو واپس آتے ہی گھر میں موجود باکس پیک ڈنڑ سیٹ بھیج دینا۔

    اکتوبر 2005کے زلزلے میں گھر کا نصف سے زائد سامان زلزلہ زدگان کیلئے دے دیا۔ رحم دلی اور شفقت گھر سے لےکر ہسپتال میں آخری سانسوں تک ان کا خاصہ رہی ان کو اپنے ساتھ والے مریض اور اس کے لواحقین کی بھی فکر ہوتی کہ یہ دور سے آئے مسافر اور پریشان لوگ ہیں ان کیلئے بھی کھانا لےکر آیا کرو، ان سے پوچھو کہ کسی کو رہائش کا مسئلہ تو نہیں۔

    گذشتہ رات سوشل میڈیا پر معصوم جانور کے ساتھ ظلم کی ویڈیو دیکھی تو ماں یاد آئی انہوں نے سختی سے حکم دیا ہوتا تھا کہ جانور بے زبان ہوتے ہیں ان کا خیال رکھنا چاہئےجانور معصوم تے اللہ دے پرونے ہوندے نے “ جانوروں کے ساتھ برا سلوک کرو گے تو یہ اللہ کو شکایت لگائیں گے۔ امی نے بہت سارے پرندے رکھے ہوئے تھے ان کا بہت زیادہ خیال رکھتی تھیں۔

    گھر کی دوسری اور تیسری منزل پر امی نے درجنوں کونڈے رکھے ہوئے ہیں جن میں باقاعدگی سے باجرہ، مکئی، گندم اور پانی ڈالا کرتی تھیں کہ یہاں سے گزرنے والے پرندوں کو خوراک مل جائے۔

    بچپن میں ہمارا پرانا گھر کافی بڑا اور کشادہ تھا جس میں بہت سارے پھل دار پودے اور سبزیاں بھی لگی ہوتی تھیں، گھر کے سہن میں روٹیاں پکاتے وقت پرندے آتے تو امی ان کو آٹے اور روٹی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ڈالتیں ہمارا گھر چڑیوں کوؤں اور رنگ برنگے پرندوں کا مسکن ہوتا امی کے دیکھا دیکھی ہم نے بھی امی سے دو روٹیاں لینی اور جتنی خود کھانی ہوتی کھالیتے اور باقی پرندوں کو ڈال دیتے۔

    زبان اور دل آج بھی ان سے دوری کو قبول کرنے کو تیار نہیں۔

    لاکھ اپنے گرد حفاظت کی لکیریں کھینچوں
    ایک بھی ان میں نہیں ماں کی دعاؤں جیسی

    ہمیشہ دعا گو رہنے والی ماں کو اللہ تعالیٰ جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطاء فرمائے۔ آمین

    ملک محمد سلمان
    maliksalman2008@gmail.com

  • عید الفطر اور ہمارے رسم و رواج

    عید الفطر اور ہمارے رسم و رواج

    عید الفطر اور ہمارے رسم و رواج
    ضیاء الحق سرحدی پشاور
    ziaulhaqsarhadi@gmail.com
    عید الفطر کا سنتے ہی ساری دنیا کے مسلمانوں کے ذہن میں سب سے پہلا لفظ جو آتا ہے وہ ہے خوشی اور کیوں نہ ہو۔ مسلمانوں کا سب سے بڑا مذہبی تہوار جس کا پورے اہتمام سے منانا ہم سب کی مذہبی ذمہ داری ہے۔ رحمتوں اور برکتوں والے رمضان المبارک کے روزے رکھنے کے بعد عید کی صورت میں جو خوشیوں کی سوغات ملتی ہے اس کی اہمیت ایک مسلمان روزہ دار ہی سمجھ سکتا ہے۔ اس خوشیوں بھرے دن کیلئے ہر گھر میں بڑھ چڑھ کر اہتمام کیا جاتا ہے اور اس اہتمام میں گھر کی صفائی، سجاوٹ اور سب سے بڑھ کر کپڑوں کی تیاری سر فہرست ہے۔

    عید کی آمد ہے چند ہی دن بعد جب فرزندان توحید ایک ماہ کی روح پرور مشقت کے بعد اس کی اجرت پائیں گے تو وہ کتنے نہال اور شادماں ہوں گے کہ اللہ رب العزت نے ان کی اس مشقت کا صلہ کتنا جلدی ان کو عطا کر دیا کیوں کہ رب العالمین کا فرمان ہے کہ "رمضان کے روزے میرے لئے ہیں اور میں ہی اس کا اجر دوں گا” اس فرمان سے روزے اور اس کے اجر کی اہمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اسی لئے اس دن ایک ناقابل بیان خوشی اور مسرت کا احساس ہوتا ہے۔ اس دن کسی بھی شخص کے ماتھے پر شکن کے آثار دکھائی نہیں دیتے بلکہ سب سے بڑی بات تو یہ ہوتی ہے کہ دلوں میں پالنے والی کدورتوں اور رنجشوں کو بھلا دیا جاتا ہے۔ ایک دوسرے سے گلے لگ کر سارے گلے شکوے دور ہوتے ہیں اور یہ پورے ایک ماہ کی روحانی تربیت کا اثر ہی ہوتا ہے کہ فرزندان توحید کو اس دن وہ خوشی نصیب ہوتی ہے جو کروڑوں روپے خرچ کرکے بھی نہیں حاصل کی جاسکتی۔

    ایک زمانہ تھا جب کسی کو عید کارڈ بذریعہ پوسٹ مین موصول ہوتا تھا تو گھر والوں کی خوشی دیدنی ہوتی تھی۔ کیا بچے، بوڑھے، عورتیں سب کارڈ کو چھو کر دیکھتے تھے۔ یہ ایک سادہ سا عید کارڈ ہوتا تھا جس پر مسجد کے خوبصورت مینار ہوا کرتے تھے اور اُس کی اوٹ سے عید کا چاند مسکرا رہا ہوتا تھا یا کوئی حسینہ گلاب کا پھول اپنے پھول جیسے گالوں کو لگا کر عید مبارک کہہ رہی ہوتی تھی۔ بڑے مزے مزے کے کارڈ ہوا کرتے تھے اور یکم رمضان سے ہی عید کارڈز کے سٹالز سج جایا کرتے تھے۔ شاپنگ کرنے سے زیادہ عید کارڈ خرید کر خوشی ہوتی تھی مگر اب تو سب کچھ موبائل میں سمٹ گیا ہے۔ کارڈ تو رہا ایک طرف کارڈ پر عید کیک بھی بھجوا دیا جاتا ہے۔ البتہ سائنس ٹیکنالوجی نے اتنی مہربانی کی جو کارڈ 20 روپے میں مل جاتا تھا وہ 10 پیسے کے خرچ پر موبائل کے ذریعے آپ کے کسی پیارے تک پہنچ جاتا ہے۔ اب کسی کے پاس اتنا وقت نہیں ہے کہ وہ عید کارڈ خریدنے مارکیٹ میں جائے اور پھر اسے پہنچاتا پھرے۔

    عید الفطر رمضان المبارک کے اختتام پر یکم شوال کو پوری دنیا کے مسلمان مناتے ہیں۔ اور سب خوشی کا اظہار اپنے علاقائی کلچر کے مطابق کرتے ہیں۔ پاکستان میں بھی لوگ ہر تہوار کو بڑے جوش و خروش سے مناتے ہیں اور ان مذہبی تہواروں میں بھی اپنی علاقائی رسمیں شامل کرکے اس کے لطف کو مزید بڑھا دیتے ہیں۔ آج ہم عید الفطر کے حوالے سے موجود رسوم کا مختصر جائزہ لیں گے۔ کچھ رسمیں اس مخصوص دن کے حوالے سے ہوتی ہیں مثلاً یہ بڑی خوبصورت رسم ہے کہ عید سے پہلے رمضان کے آخری عشرے میں والدین اپنی شادی شدہ بیٹیوں کے گھر جاتے ہیں اور ان کے لئے مختلف اشیاء ضرورت خرید کر انہیں تحفہ دیتے ہیں۔ اس کیلئے "عیدی” دینے کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ جس لڑکی کے والدین زندہ نہ ہوں تو اس کے بھائیوں پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ یہ فریضہ سر انجام دیں۔ عید کے قریب لڑکی کو بھی انتظار رہتا ہے اور اس کی نگاہیں گھر کے دروازے پر ٹکی ہوتی ہیں کہ کب اس کے میکے سے کوئی آئے۔ یہ رسم بھی محض لین دین کا نام نہیں بلکہ اس کا مقصد آپس میں محبت کے جذبات کو تقویت دینا اور اس کی آڑ میں اپنے غریب بہن بھائیوں کی امداد کرنا بھی مقصود ہوتا ہے۔ اور یوں یہ خوبصورت رسم اپنے اندر ایک خوبصورت مقصد کو بھی سموئے ہوئے ہے۔

    اسی طرح عید الفطر کی آمد سے قبل جس گھر میں کوئی فرد فوت ہوگیا ہو تو اس کے عزیز و اقارب اس کی موت کے بعد "پہلی عید” پر اس کے گھر جانا ضروری سمجھتے ہیں۔ اس کا مقصد ایک تو جس گھر میں فوتگی ہوئی ان کو یہ احساس دلانا ہوتا ہے کہ وہ تنہا نہیں ہیں اور ان کے عزیز و اقارب ہمیشہ ان کے ساتھ ہیں۔ وہ پریشان نہ ہوں اس موقع پر مرحوم کی بیوی بچوں کی مالی امداد بھی کی جاتی ہے یوں اس رسم کے ذریعے وہ لوگ بھی عید کی خوشیوں میں کسی حد تک شامل ہو جاتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عید جیسے تہواروں کی رنگینیوں میں اضافہ کرنے کیلئے حکومت ایک قدم آگے بڑھائے اور مہنگائی کو قابو میں کرکے کم از کم ان خاص دنوں کو تو عوام کو کھل کر منانے کا موقع فراہم کرے۔

    عام طور پر کہا جاتا ہے کہ عید بچوں کی ہوتی ہے، اور یہ اس اعتبار سے سچ بھی ہے کہ عید سے منسلک سرگرمیوں سے جو خوشی اور طمانیت بچوں کو ملتی ہے، وہ عام آدمی محسوس نہیں کر سکتا۔ بچوں کو عید سے ملنے والی خوشی میں اہم کردار بڑوں کی طرف سے ملنے والی عیدی کا بھی ہوتا ہے۔ نئے نئے نوٹوں سے اپنی چھوٹی چھوٹی جیبوں کو بھر لینا ان کے لیے بہت طمانیت بخش اور خوشی کا باعث ہوتا ہے۔ عیدی کی روایت اگرچہ آج بھی پہلے کی طرح قائم ہے۔ اگرچہ سٹیٹ بینک آف پاکستان ماضی کی طرح عید کے موقع پر نئے نوٹ بھی جاری کرتا ہے لیکن اس کے باوجود دیکھنے میں آیا ہے کہ عیدی میں نئے نوٹوں کی روایت کم ہوتی جا رہی ہے، اس کی مختلف وجوہات بتائی جاتی ہیں۔ ایک تو نئے نوٹ تک ہر آدمی کی رسائی نہیں ہوتی، پھر یہ کہ پہلے چھوٹی کرنسی کے نئے نوٹ عام تھے، جنہیں بچے حاصل کرکے خوشی محسوس کرتے تھے۔ لیکن اب ان کی قدر اس قدر گھٹ چکی ہے کہ بچے بھی انہیں حاصل کرکے خوشی محسوس نہیں کرتے کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ اس سے وہ اپنی پسند کی چیزیں نہیں خرید سکیں گے، اس لیے وہ چھوٹی کرنسی کے نئے نوٹوں کے مقابلے میں بڑی کرنسی کے پرانے نوٹوں کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔