Baaghi TV

Category: بلاگ

  • اپووا کی تقریب،علی بھائی سے معذرت، تحریر:نور فاطمہ

    اپووا کی تقریب،علی بھائی سے معذرت، تحریر:نور فاطمہ

    اپووا کی تقریب،علی بھائی سے معذرت، تحریر:نور فاطمہ
    ادب ایک ایسا چراغ ہے جو معاشروں کی اندھیری راہوں میں روشنی بکھیرتا ہے۔ اور جب اس چراغ کو تھامنے والے اہلِ قلم ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو جائیں تو وہ معاشرے کے فکری، تہذیبی اور تخلیقی منظرنامے کو نکھار دیتے ہیں۔ ایسے ہی ایک روشن اور پُراثر پلیٹ فارم کا نام ہے آل پاکستان رائیٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (اپووا)، جو ملک بھر کے ادیبوں، شاعروں اور قلمکاروں کو نہ صرف جوڑنے بلکہ ان کی فلاح و بہبود کے لیے سرگرمِ عمل ہے۔

    حال ہی میں لاہور کے ایک مقامی ہوٹل میں "آپریشن بنیان مرصوص” کی کامیابی پر ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ اس اہم تقریب کا اہتمام اپووا کے زیرِ اہتمام ہوا، جس میں ملک کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے معزز لکھاریوں، فنکاروں، اور ادب دوست شخصیات نے شرکت کی۔ اس پررونق محفل کی دعوت مجھے بانیِ اپووا ایم ایم علی بھائی کی جانب سے خصوصی طور پر دی گئی تھی، جن کی محبت، خلوص اور تنظیم کے لیے خدمات لائقِ تحسین ہیں۔ ان کی دعوت میرے لیے باعثِ اعزاز تھی، اور میں دل سے اس تقریب میں شرکت کا ارادہ رکھتی تھی۔بدقسمتی سے، میری والدہ کی طبیعت ناساز ہو گئی جس کے باعث میں اس شاندار تقریب میں شریک نہ ہو سکی۔دوران تقریب بھی علی بھائی کی مسلسل کالز آتی رہیں لیکن میں وقت پر جواب نہ دے سکی، میں دل کی گہرائیوں سے علی بھائی سے معذرت خواہ ہوں کہ میں ان کی محبت بھری دعوت کے باوجود شریک نہ ہو سکی۔ میری نیک تمنائیں اور دعائیں اس بابرکت محفل کے ساتھ تھیں،وعدہ کرتی ہوں کہ آئندہ ایسے مواقع پر ضرور شریک ہوں گی

    اپووا ایک ایسی تنظیم ہے جس نے بکھرے ہوئے ادیبوں اور شاعروں کو ایک مرکز، ایک سمت، اور ایک مقصد دیا۔ یہ تنظیم اُن پتیوں کی مانند ہے جنہیں چن کر ایک خوبصورت پھول بنایا گیا، اور پھر ان پھولوں سے ایک مہکتا ہوا گلدستہ تیار کیا گیا ایک ایسا گلدستہ جس کی خوشبو پورے پاکستان کے ادبی منظرنامے کو معطر کیے ہوئے ہے۔میری دعا ہے کہ یہ گلدستہ ہمیشہ مہکتا رہے، قلمکاروں کی آواز بلند ہوتی رہے، اور ایم ایم علی بھائی جیسے مخلص افراد ہمیشہ اس کارِ خیر میں پیش پیش رہیں۔ میں اپووا کی پوری ٹیم، تمام شرکاء اور خاص طور پر علی بھائی کو اس شاندار تقریب کے انعقاد پر دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتی ہوں۔ملک یعقوب اعوان کو اپووا کا سینئر وائس چیئرمین منتخب ہونے پر مبارکباد پیش کرتی ہوں، دلی دعائیں، نیک تمنائیں……

  • محکمہ تعلیم اور مُلا عاصی،تحریر؛ مبشر حسن شاہ

    محکمہ تعلیم اور مُلا عاصی،تحریر؛ مبشر حسن شاہ

    کس کی داستان پہلے کہیں مماثلت اتنی ہےکہ خدشہ ہے پہلے کی پڑھ کر دوسرے کی سمجھ جائیں گے سب۔ بہرحال شہرہ آفاق مزاح نگار مشتاق یوسفی کی کتاب آبِ گم کے صفحہ نمبر 269 ، باب شہر دو قصہ ذیلی باب پنجم میں ملا عبد الصمد عرف مُلا عاصی کا قصہ لکھتے ہیں جس میں ایک مقام پر ذکر ہے بی اے کے امتحانات سے قبل مُلا عاصی کی ریاضت کا جو انہوں نے کامیابی کے حصول کے لیے کی۔ کوشش ہے اپنے الفاظ میں بیان کروں مشابہت ہوگی چونکہ متاثرین مشتاق یوسفی سے ہوں لہذا قلم و اسلوب میں ان کا رنگ جھلکے گا کیونکر کہ مشتاق یوسفی کو جس نے بھی پڑھا سیکھالازمی یہ کمال صاحب کتاب کا ہے نہ کہ صاحب تحریر کا۔

    ملا عاصی نے امتحان کی تیاری شروع کرنے کا آغاز کیا سب سے پہلے بازار سے سونف اور دھنیا خشک لائے اور اس کو ملا کر سفوف تیار کیا۔ اس کے بعد تمام تصاویر جو ان کے کمرے میں تھیں(انڈین ایکٹریسسز کی) اتار کر خاندان کے بزرگوں کے فوٹو ٹانگے ۔ مثنوی زہر عشق اور اس نوع کی کتب صندوق میں بند کیں۔ ہر کام اور عیش و عشرت چھوڑنے کا تہیہ کیا کرسمس کے دن سے یوم امتحان تک اور دل ہی دل میں Both days inclusive کہہ کر مسکرا دیے کی تیاری کے دباو کے زیر اثر چہرہ دیکھنے سے صحت پر منفی اثرات مرتب ہوتے لہذا آئینے پر کپڑا ڈالا۔سر منڈایا کہ دماغ کو تراوٹ ملے اس پر سرسوں کے تیل کی مالش کرائی 7 بادام توڑ کر ان کو پانی میں بھگویا کہ تاروں کی چھاوں میں رات بھر بھیگے بادام حافظہ بڑھاتے۔ علی الصبح بادام نوش فرمائے اور پھر بازار سے پچھلے پانچ سالہ پر چے، خلاصے اور کتب خرید کر لے آئے اس ذخیرہ میں سابق طلبا نے قلم زد اہم حصوں کے علاوہ ان خطرناک مقامات کی بھی نشاندہی کی تھی جہاں اکثر طلباء فیل ہوئے بعض حصے تو مثل لائٹ ہاوس تھے جو علم کے سمندر میں بھٹکے مسافروں کو انتباہ کرتے تھے کہ یہاں کئی اداس نسلیں مدفون ہیں۔ اس کے بعد یونیورسٹی کے سب سے لائق طالب علم کے پاس جاکر اس کی تمام کتب مستعار لیں محلے کے ایک لڑکے کو اجرت پر مقرر کیا کہ کہ ان کتب کو دیکھ کر اہم انڈر لائن حصے میری کتب پر بھی انڈر لائن کر دو اپنی کتب نے سائیکل پکڑی تمام تر درسی کتب معہ خلاصہ جات ایک پرانی کتابوں کی دکان سے خریدے اور پچھلے سال ٹاپ کرنے والے طالبعلم کے گھر جاکر اس کے اہم حصوں پر نشان لگوا لیے۔ واپسی پر کھڑے پیر پریس سے دو مہریں Important اور Most important بنوا کر ایک ٹاپر کی منت کی کہ بقدر اہمیت مہریں لگاتے جاو۔ اس کے بعد مُلا عاصی نے تمام کتب کے وہ حصے جو اہم نہ تھے قینچی سے کاٹ دیے کہ کتاب کی صخامت سے طبیعت پر بوجھ بڑھتا ہے۔ اس کے بعد ذاتی مطالعہ، تجربہ اور کشف کی بنیاد پر چند مزید اسباق بھی کتر دیے۔ اس کے بعد جب ملا عاصی کو لگا کہ ممتحن کے خلاف آدھی جنگ تو وہ جیت چکے لہذا اب پڑھ لینا چاہیے تو انہیں یاد آیا کہ سب کتابیں پڑھ کر امتحان دینا کہاں کی دانائی ہے انسان کو خود سے بھی کچھ پتا ہونا چاہیے لہذا فیصلہ کیا کہ زندگی اور بینائی نے اگر وفا کی تو امتحانات تک چیدہ چیدہ کتب کے اہم حصے ایک نظر دیکھ لیں گے کس واسطے کہ ہر کتاب کو عرق ریزی سے نہیں پڑھا جا سکتا۔ جب امتحان سر پہ پہنچا تو کمرہ نشیں ہو کر قریبی پڑوسی سے کہا کہ باہر سے تالا لگا دو تاکہ یکسو ہو کر پڑھائی ہو سکے لیکن شام تک دماغ کا تالا نہ کھلا۔ لہذا پڑھائی شروع نہ کی۔ ایک ہندو طالبعلم سے برہمچا رہنے کا گُر پوچھا تھا اس نے کہا تھا کہ سوئی پاس رکھو اور کسی بھی بری تمنا یا خیال کے آنے پر انگوٹھے میں چبھو لو خیر ایک گھنٹے میں دونوں انگوٹھے پن کُشن بن چکے تھے اب کی بار پاوں کے انگوٹھے میں پن چبھونی پڑی۔

    رات ڈھلے سائیکل لی اور صبح تک شہر کے تمام پرنٹنگ پریس کی ردی بوروں میں بھر کر گھر منتقل کی اور کاغذ کی کترنیں جوڑ کر اندازے قائم کیے جس جس استاد پر شبہہ تھا کہ پیپر سیٹر ہو سکتا اس کے گھر کے ملازمین بچوں تک کو کھنگال ڈالا۔ گھر کے دروازے پر رات گئے جاکر مراقبہ کیا۔ جب امتحان میں ایک ہفتہ رہ گیا تو تمام کاوشوں پر مبنی دس سوال کا ایک پرچہ آوٹ کیا اور پوری رات گھوم کر علم کے متلاشی طلباء میں بانٹا۔ ستم بالائے ستم کہ ان کے آوٹ کردہ دس میں سے آٹھ سوال پہلے پرچے میں آ گئے اور ملا عاصی نے امتحان میں بیٹھنے سے انکار کر دیا کہ جس علم سے ذاتی فائدہ ہو رہا ہو وہ کشف باطل کر دیتا۔ غرض یہ کہ جتنی محنت انہوں نے کورس کے انتخاب اور پرچہ آوٹ کرنے میں کی اس کا ایک چوتھائی کر لیتے تو امتحان پاس ہوجاتا۔

    محکمہ تعلیم کے بارے سمجھ تو گئے ہوں گے مختصراً عرض کر دیتا ہائیر سیکنڈری، ہائی ، مڈل پرائمری، پی ایس ٹی ، ای ایس ٹی، ایس ایس ٹی، ایس ایس، ٹرپل ایس، ہیڈ ٹیچر، ایچ ایم ایس ایم، سب کا حال بیان ہے الگ الگ ذکر قارئین کو الجھائے گا۔ اسمبلی میں ناخن چیک، بال چیک، یونیفارم چیک، ٹائی، کیپ بیلٹ لازمی۔ بعد از اسمبلی ناظرہ قرآن و ترجمہ بلحاظ کلاس ۔ منتھلی سٹوڈنٹ رینکنگ پروفارما، ٹیچر رینکنگ، حاضری رجسٹر پر الگ ایپ پر الگ روزنامچہ ترتیب دینا۔ غیر حاضر طلباء کے گھروں میں رابطہ، داخلہ مہم اس کے ذیل میں کارنر میٹنگز، یوپی ای رجسٹر بنانا۔ داخلے اوپن تو ہیں ہی گھروں سے جاکر آوٹ آف سکول طلباء لانے داخلے کے ہر سال ٹارگٹ اکتوبر میں پھر نیا داخلہ ٹارگٹ، ڈی ورمنگ ہر سال، الیکشن، مردم شماری زراعت شماری، ووٹرز کا انراج، ویری فیکیشن، میٹرک نہم دہم۔ ایف اے امتحان، پیپر مارکنگ، پر یکٹیکل امتحان ڈیوٹی ، پولیو، کورونا چلو گزر گیا وہاں بھی رہی ڈیوٹی۔ گندم خریداری سرکاری طور پر جب ہو ٹیچرز کی ڈیوٹی کاکردگی ایپ پر زیبرا کراسنگ سکول کی ہر ہفتے پکچرز، سارا سال ڈینگی ایکٹوٹیز، سکول کے اندر شجر کاری، صفائی پنکھے تک صاف جالے ختم۔ پینے کا صاف پانی واش پوائنٹ واش کلب، سکول مینیجمنٹ کونسل اجلاس این ایس بی اور ایف ٹی ایف فنڈ بینک کے چکر ایک ہیڈ چینج ہو تو سائن اپ ڈیٹ کرانے کے لیے دو رنگین تصاویر، شناختی کارڈ بائیو میٹرک ویری فیکیشن سیلری سلپ کوسگنیٹری کی پینشن بک یا زمین کا فرد معہ فزیکل حاضری بینک۔ سکول میں کوئی درخت جو کٹوانا ہو دیوار کے پاس ہو یا موٹر کے تو درخواست ہائر اتھارٹی کو ان کی جانب سے محکمہ جنگلات کو فارورڈ محکمہ جنگلات کا وزٹ درخت کی سرکاری قیمت کا تخمینہ اس کے بعد کم از، کم بولی کا ریٹ مقرر، منتھلی پیرنٹ ٹیچر میٹنگ کاروائیاں درج لگ۔ بزم ادب معہ رجسٹر کاروئی۔ Tablet پر اخراجات کا انراج الگ کیش بک پر مینوئل الگ ۔ باتھ روم صفائی، کریکٹر بلڈنگ کونسل اب سکول بیس ایمرجنسی پلان، سالانہ ایکشن پلان، ورک پلیس تحفظ جواتین کمیٹی، COT فارم، اے ای او وزٹ ایم ای اے وزٹ، ٹیچر ڈائری مکمل لیسن پلان بنے ہوں۔ دفتر سے روزانہ تقریباً ڈاک اس سب میں پڑھائی کا تعلق ملا عاصی کی پڑھائی جتنا رہ جاتا
    ۔ اوپر سے 2018 کے بعد بعدبھرتی بند۔ ریشنلائزیشن معطل، کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی۔

  • ٹریفک پولیس ،مسائل وہیں، ذمہ دار کون، تحریر:ملک سلمان

    ٹریفک پولیس ،مسائل وہیں، ذمہ دار کون، تحریر:ملک سلمان

    ایسا لگتا ہے ٹریفک پولیس نے سڑکوں کو تجاوزات مافیا اور ناجائز پارکنگ کے اڈے اور بنا نمبر پلیٹ سفر کرنے والے دہشت گردوں کی جنت بنا دیا ہے۔ ٹریفک پولیس افسران اپنی کمائی کے اڈے بند کرنے کی بجائے ٹک ٹاک ویڈیوز اور میڈیا والوں کے ترلے منتیں کرکے فرمائشی انٹرویوز کے زریعے عوام، حکمرانوں اور احتساب کے اداروں کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کی کوشش میں لگے ہوتے ہیں۔ فرمائشی انٹرویوز میں بلند وبانگ دعوے اور بھڑکیں مارنے کا مقصد اپنی کمائی کے اڈوں سے توجہ ہٹانا ہے۔

    ایکسپریس ٹربیون کی ایک رپورٹ کے مطابق پنجاب میں ساڑھے چھے لاکھ رکشے ہیں جن میں سے تین لاکھ کے قریب لاہور میں ہیں۔میں نے چند ماہ قبل بنا نمبر پلیٹ، مبہم اور غیرنمونہ نمبر پلیٹ رکشوں والوں کاسروے کیا تو ہر دوسرے رکشہ ڈرائیور کا کہنا تھا کہ وہ سیف سٹی اٹھارٹی کے آن لائن چالان سے بچنے کیلئے ٹریفک پولیس کی ملی بھگت سے مبہم اور بنا نمبر رکشہ چلاتے ہیں اور اس کے عوض مختلف علاقوں کے حساب سے 500سے لیکر 2000روپے تک روزانہ دیتے ہیں۔ اگر تین لاکھ رکشہ ڈرائیور میں سے محض ایک لاکھ رکشہ والے 1000 روپیہ بھی دیں تو یہ رقم لگ بھگ دس کروڑ روپے روزانہ بنتی ہے۔ اگر رکشہ والوں کے الزامات جھوٹ ہیں تو پھر ان بنا نمبر پلیٹ رکشہ اور دیگر کمرشل گاڑیوں کے خلاف کاروائی کیوں نہیں کی جارہی۔ آپ لاہور کی کسی بھی شاہراہ پر کھڑے ہوجائیں سو رکشوں کا جائزہ لیں، لوڈر 100میں سے 100بنا نمبر پلیٹ۔چنگ چی 100میں سے کم ازکم 90 کی بیک سائڈ پر نمبر پلیٹ نہیں ہوگی۔ رکشہ، ٹویٹا ہائی ایس، منی مزدہ, بس سمیت پبلک ٹرانسپورٹ میں سے شائد کسی ایک کی نمبر پلیٹ نمونہ کے مطابق ہو۔ موٹرسائیکل اور رکشہ سمیت بے شمار ٹرانسپورٹ والے فلیشر اور تیز لائٹ کا استعمال کررہے ہیں لیکن کسی کے خلاف کاروائی کیوں نہیں کی جارہی۔ گذشتہ دنوں ایک سنئیر آفیسر کے ساتھ رائیونڈ جانے کا اتفاق ہوا تو جاتی عمرہ چوک پٹرول پمپ کے بالکل سامنے کم از بیس بغیر نمبر پلیٹ لوڈر اور مسافر بردار رکشے کھڑے تھے۔ یہ تین دفعہ کے وزیراعظم نواز شریف اور موجودہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے گھر کی طرف جانے والی سڑک کے چوک کا عالم ہے۔ کیا بنا نمبر پلیٹ رکشے اور گاڑیاں سکیورٹی ٹھریٹ نہیں؟

    اسسٹنٹ کمشنر، اے ڈی سی آر پولیس اور ٹریفک پولیس کی اپنی گاڑیاں بغیر نمبر پلیٹ ہیں جن کی نمبر پلیٹ ہیں انہوں نے بھی نمبر کے آگے راڈ لگا کر نمبر کو چھپایا ہوتا ہے۔ کیا یہ سول ملازمین کوئی خفیہ ایجنسی ہیں جو نمبر پلیٹ نہیں لگا رہے؟ بغیرنمبر پلیٹ گاڑی چاہے سرکاری ہو یا غیر سرکاری رکشہ ہو یا موٹر سائیکل سب کے خلاف ایف آئی آر دے کر پابند سلاسل کیا جائے۔

    لاہور میں ہر طرح کی ٹریفک شامل کرکے کم وبیش روزانہ آٹھ لاکھ گاڑیاں ان اور آؤٹ ہوتی ہیں جبکہ میٹروپولیٹن ایریا میں 5لاکھ گاڑیاں سفر کرتی ہیں۔ ان13لاکھ میں سے کم از کم ایک تہائی موٹرسائیکل اور گاڑیاں کم از کم 5سے 7دفعہ مختلف جگہوں پر پارکنگ استعمال کرتی ہیں۔ اگر محض 100روپیہ پارکنگ فیس بھی رکھی جائے تو حکومت کو صرف لاہور سے چالیس کروڑ روزانہ، 12ارب ماہانہ 144ارب سالانہ صرف پارکنگ فیس کی مد میں آمدن ہوسکتی ہے۔ پنجاب کے 5446ارب کے سالانہ بجٹ کے برابر رقم 41اضلاع کی پارکنگ فیس سے حاصل کی جاسکتی ہے۔

    ٹریفک پولیس کی مبینہ سرپرستی کی بدولت پرائیویٹ پارکنگ مافیا صرف لاہور سے اربوں روپے ماہانہ بطور پارکنگ فیس اکٹھی کررہا ہے جبکہ دیگر اضلاع میں تو سرکاری پارکنگ کا کوئی نظام ہی نہیں ساری رقم ہی ٹریفک پولیس اور پرائیویٹ پارکنگ مالکان کی جیبوں میں جا رہی ہے۔ اس سے بڑی لاقانونیت کیا ہوگی کہ موجودہ سی ٹی او کے دور میں ٹریفک پولیس لاہور پارکنگ کمپنی کے ملازمین کو سرکاری پارکنگ فیس وصول کرنے پر زدوکوب کرتی ہے اور ان کے خلاف ایف آئی آرز کرواتی رہی ہے جبکہ غیر قانونی پرائیویٹ پارکنگ فیس وصول کرنے والے آزاد ہیں۔ پولیس ناکوں پر تعینات اہلکار ایک ایک گاڑی کو روک کر سونگھتے ہیں اور ہر گزرنے والے کا ایکسرے کرتے ہیں انکو بلانمبر پلیٹ گاڑیاں کیوں نظر نہیں آتی۔

    مریم نواز حکومت کو چاہئے کہ سختی اور آہنی ہاتھوں سے ہر طرح کی غیرقانونی پارکنگ اور تجاوزات کا خاتمہ کروائیں۔ تمام چھوٹے بڑے شاپنگ مال اور پارکنگ سٹینڈ بغیر رجسٹریشن سو روپے سے لیکر پانچ سو روپے فی گھنٹہ کے حساب سے غیر قانونی پارکنگ فیس وصول کررہے ہیں لیکن ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہورہی۔خطرناک پہلو یہ ہے کہ پرائیویٹ مافیا سرکاری جگہوں پر غیر قانونی پارکنگ فیس صول کررہا ہے۔ مین شاہراؤں اور رہائشی علاقوں میں قائم پرائیویٹ دفاتر نے غیر قانونی پارکنگ سے سڑکیں اور گلیاں بند کی ہوتی ہیں لیکن ان کے خلاف کاروائی نہیں کی جارہی۔ مبینہ طور پر ان تمام غیر قانونی پارکنگ سے بھی منتھلی لی جاتی ہے اگر منتھلی نہیں لیتے تو پھر کاروائی کیوں نہیں ہوتی۔

    ٹریفک پولیس کی کرم نوازی کا نتیجہ ہے کہ ہمیں پارکنگ کے لیے جگہ نہیں ملتی لیکن والٹ پارکنگ والے اسی جگہ گاڑی پارک کر لیتے ہیں اور ٹریفک پولیس کوئی کاروائی نہیں کرتی اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ ٹریفک پولیس ناجائز پارکنگ مافیا کا ساتھ چھوڑنے کو تیار نہیں۔ سڑک اور بازار کے دونوں اطراف روڈ پر موجود غیر قانونی پارکنگ کی وجہ سے سو فٹ چوڑی سڑک بامشکل 15فٹ باقی رہ جاتی ہے۔تجاوزات اور غیر قانونی پارکنگ کی وجہ سے بیس منٹ کا فاصلہ پچاس منٹ میں طے ہورہا ہے۔حکومت کو اپنی رٹ بحال کرنا ہوگی دکانداروں کو بتانا ہوگا کہ صرف دکان تمہاری ہے نہ کہ سامنے والا فٹ پاتھ اورسڑک۔ کسی کو بھی سرکاری پارکنگ فیس کے بغیر گاڑی پارک کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔

  • بھارتی جارحیت، فالس فلیگ آپریشنز اور پاکستان کا ڈوزیئر

    بھارتی جارحیت، فالس فلیگ آپریشنز اور پاکستان کا ڈوزیئر

    بھارتی جارحیت، فالس فلیگ آپریشنز اور پاکستان کا ڈوزیئر
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    پاکستان نے بھارتی جارحیت، منظم جھوٹی پروپیگنڈا مہم اور فالس فلیگ آپریشنز کے ناقابل تردید ثبوت پیش کرتے ہوئے ایک جامع ڈوزیئر جاری کیا ہے۔ یہ ڈوزئر آپریشن بنیان مرصوص کی کامیابی، پہلگام فالس فلیگ آپریشن اور بھارتی جارحیت کے خلاف پاکستان کے دفاع کی تفصیلات پر مشتمل ہے۔ اس دستاویز نے بھارت کے جھوٹے بیانیے کو بے نقاب کرتے ہوئے پاکستان کی فوجی صلاحیت، سفارتی حکمت عملی اور عالمی پوزیشن کو اجاگر کیا۔

    22 اپریل 2025 کو بھارتی غیر قانونی مقبوضہ جموں و کشمیر (IIOJK) کے پہلگام میں ایک حملے میں 26 سیاح ہلاک ہوئے۔ بھارتی میڈیا نے بغیر ثبوت کے پاکستان پر الزام عائد کیا۔ ڈوزیئر کے مطابق یہ حملہ بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی ریسرچ اینڈ انالسس ونگ (RAW) کا فالس فلیگ آپریشن تھا۔ ٹیلی گرام پر لیک ہونے والی دستاویز سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت نے "سائیکولوجیکل آپریشنز اور بیانیہ کنٹرول” کے ذریعے حملے کو پاکستان کی انٹرسروسز انٹیلی جنس (ISI) پر ڈالنے کی منصوبہ بندی کی۔ بھارت نے حملے کے 10 منٹ کے اندر پاکستان کے خلاف ایف آئی آر درج کی جو بغیر تحقیق کے کیا گیا۔ پاکستان نے شفاف تحقیقات کی پیشکش کی مگر بھارت نے مسترد کر دیا۔ بین الاقوامی میڈیا، بھارتی سیاستدانوں اور سول سوسائٹی نے بھارتی بیانیے کو مشکوک قرار دیا۔ بھارت نے حقائق دبانے کے لیے یوٹیوب اور ٹوئٹر چینلز پر پابندی لگائی، جو اس کے سیاسی مقاصد کو عیاں کرتا ہے۔

    پہلگام واقعے کے بعد بھارت نے 23 اپریل کو جارحانہ اقدامات اٹھائے، جن میں انڈس واٹر ٹریٹی کی معطلی، پاکستانی ویزوں کی منسوخی، واہگہ اٹاری بارڈر کی بندش، پاکستانی ہائی کمیشن کی بندش اور سفارتی عملے کی تعداد میں کمی شامل تھی۔ 7 مئی کو بھارت نے پنجاب اور آزاد جموں و کشمیر کے چھ شہروں مریدکے، بہاولپور اور مظفرآباد پر میزائل حملے کیے، جن میں مساجد تباہ ہوئیں اور خواتین، بچوں سمیت درجنوں شہری شہید ہوئے۔ بھارت نے 100 سے زائد ڈرونز پاکستانی فضائی حدود میں داخل کیے، جبکہ پاکستانی فضائی حدود میں 57 کمرشل پروازیں موجود تھیں، جس سے ہزاروں شہریوں کی جان خطرے میں پڑی۔

    پاکستان نے فوری ردعمل دیتے ہوئے بھارتی جنگی طیاروں، جن میں تین رافیل جیٹس، ایک MiG-29 اور ایک SU-30 شامل تھے کو مار گرایا۔ 10 مئی کو بھارت کے پاکستانی ایئر بیسز پر حملوں کے جواب میں پاکستان نے آپریشن بنیان مرصوص شروع کیا۔ یہ آپریشن اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت تھا۔ پاکستان نے بھارتی فوجی تنصیبات، جن میں میزائل اسٹوریج، ایئر بیسز اور اسٹریٹجک اہداف شامل تھے کو نشانہ بنایا۔ ڈوزئر کے مطابق پاکستان نے پانچ بھارتی طیاروں، 84 ڈرونز، S-400 بیٹری سسٹمز (آدم پور اور بھوج)، براہموس میزائل اسٹوریج (بیاس اور ناگروٹہ)، فیلڈ سپلائی ڈپو (اُڑی)، ریڈار اسٹیشن (پونچھ) اور فوجی کمانڈ ہیڈکوارٹرز (10 اور 80 بریگیڈ) کو تباہ کیا۔ پاکستان نے فتح سیریز کے F1 اور F2 میزائلوں، درست ہتھیاروں اور آرٹلری کا استعمال کیا، صرف فوجی اہداف کو نشانہ بناتے ہوئے شہری علاقوں کو محفوظ رکھا۔

    ڈوزیئر میں سیٹلائٹ تصاویر، فیلڈ انٹیلی جنس اور بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹس شامل ہیں، جو بھارتی میڈیا اور RAW سے منسلک سوشل میڈیا کی جھوٹی مہم کو بے نقاب کرتی ہیں۔ بھارتی میڈیا نے پہلگام واقعے کے بعد جنگی ماحول بنایا، جسے بین الاقوامی میڈیا نے جھوٹا قرار دیا۔ بھارتی سول سوسائٹی نے اسے سیکیورٹی ناکامی قرار دیا۔ بھارت کی فوری الزام تراشی اس کے دعوؤں کی ساکھ کو مشکوک بناتی ہے۔ پاکستان نے شفاف تحقیقات کی پیشکش کی جو بھارت کے مقاصد کو بے نقاب کرتی ہے۔

    بھارت کا فالس فلیگ آپریشنز کا تاریخی پس منظر ہے، جیسے 1971 کی مشرقی پاکستان مداخلت، 1999 کا کارگل تنازعہ اور 2016-2019 کی نام نہاد سرجیکل سٹرائیکس۔ کلبھوشن یادیو کی گرفتاری نے بھارت کی تخریبی سرگرمیوں کو عیاں کیا۔ ڈوزئر میں بتایا گیا کہ بھارت پراکسیز کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کو فروغ دیتا ہے، جس کے ثبوت پاکستان نے عالمی برادری کے سامنے پیش کیے۔

    انڈیا اور پاکستان کے درمیان گذشتہ کئی دنوں سے جاری کشیدگی کے بعد 10 مئی 2025 کی شام کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سفارتی کوششوں سے جنگ بندی کا اعلان ہوا، جس کی تصدیق پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور بھارتی سیکرٹری خارجہ نے کی۔ سفارتی ماہرین کے مطابق ڈوزئر نے پاکستان کی عالمی پوزیشن کو مضبوط کیا۔ عالمی میڈیا نے بھارتی بیانیے کی خامیوں کو اجاگر کیا اور بھارتی میڈیا کے جنگی جنون کو علاقائی امن کے لیے خطرہ قرار دیا۔ پاکستان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ بھارت کو جارحیت، شہریوں پر حملوں اور مذہبی مقامات کی بے حرمتی کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے۔

    پاکستان نے واضح کیا کہ وہ امن کا حامی ہے لیکن اپنی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر قیمت ادا کرے گا۔ اس کی ردعمل بین الاقوامی قوانین کے مطابق تھا جو اس کی پیشہ ورانہ فوجی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔ پاکستان کی اس تاریخی فتح نے بھارتی جارحیت کو بے نقاب کیا اور عالمی برادری کو پیغام دیا کہ وہ امن کا خواہاں ہے مگر کوئی جارحیت برداشت نہیں کرے گا۔

    پاکستان زندہ باد
    پاک افواج پائندہ باد

  • اپووا اور ادیبوں کی افواج پاکستان سے یکجہتی.تحریر:طارق نوید سندھو

    اپووا اور ادیبوں کی افواج پاکستان سے یکجہتی.تحریر:طارق نوید سندھو

    گزشتہ چند ہفتوں کے دوران پاک بھارت تعلقات میں ایک نیا موڑ اُس وقت آیا جب بھارت نے پہلگام ڈرامے کا سارا الزام حسب روایت پاکستان پر لگا کر خطے میں ایک اور جنگی جنون کی لہر دوڑا دی۔ بھارت کی اس بے بنیاد الزام تراشی اور اشتعال انگیزی کا جواب پاکستان نے نہایت دانشمندی اور سفارتی سوجھ بوجھ سے دیا۔ عالمی برادری کو باور کروایا گیا کہ پاکستان ایک پُرامن ملک ہے، تاہم اگر بھارت نے جارحیت کی تو بھرپور اور منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔پھر وہ دن بھی آیا جسے تاریخ ہمیشہ یاد رکھے گی، دس مئی کا دن، جب پاکستان نے بھارتی جارحیت کے مقابلے میں "آپریشن بنیان مرصوص” کا آغاز کیا۔ یہ آپریشن نہ صرف عسکری تاریخ میں ایک مثال بن گیا بلکہ دشمن کے تین ہفتوں پر محیط جنگی منصوبوں کو صرف تین گھنٹوں میں خاک میں ملا دیا۔ دنیا نے دیکھا کہ بھارتی حکومت، جس نے جنگ کا شعلہ بھڑکانے کی کوشش کی، وہی حکومت چند گھنٹوں بعد امریکہ کے سامنے جنگ بندی کی بھیک مانگنے پر مجبور ہو گئی۔

    آپریشن بنیان مرصوص کی بے مثال کامیابی پر پاکستان بھر میں یوم تشکر منایا گیا۔ ہر طرف جذبہ حب الوطنی کی فضا قائم ہوئی اور افواج پاکستان کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ اسی مناسبت سے آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (اپووا) کی جانب سے ایک پُروقار تقریب منعقد کی گئی ،اس تقریب میں شرکت کے دعوت نامے پر بلا تامل لاہور کا رخ کیا۔ میرے ہمراہ صحافی دوست عباس علی بھٹی تھے۔ ہم پریس کلب لاہور کے قریب واقع ہوٹل پاک ہیری ٹیج پہنچے جہاں ممتاز اعوان نے پرتپاک استقبال کیا۔

    تقریب کا آغاز پرتکلف ناشتے سے ہوا، جس کے بعد قلم کے سپاہیوں نے ایک زبان ہو کر افواج پاکستان سے یکجہتی کا اعلان کیا۔ تقریب میں شریک نمایاں شخصیات میں ناصر بشیر،اشفاق احمد،چوہدری غلام غوث،نوید شیخ،سید امجد حسین بخاری،ندیم انجم،عبدالصمد مظفر،حاجی لطیف کھوکھر،محمد نادر کھوکھر،امجد نذیر،محمد سعید،محمد دانش رانا،امان اللہ نیر شوکت،مہر اشتیاق احمد،ملک فیصل رمضان،سجاد علی بھنڈر،فہد نفیس،خرم شہزاد،محمد ابرار شریک ہوئے،اس کے علاوہ اپووا کے قائدین بانی و صدر ایم ایم علی،سینئر نائب صدر،حافظ محمد زاہد،نائب صدور: سفیان فاروقی، محمد اسلم سیال،جوائنٹ سیکرٹری، محمد بلال،ڈپٹی سیکرٹری انفارمیشن، نادر فہیمی بھی شریک ہوئے،مدیحہ کنول، نیلوفر سمیع، آصفہ مریم، نرگس نور، ثوبیہ خان نیازی، نادیہ وسیم، نیئر سلطانہ، یاسمین محمود،شاعرہ ثوبیہ راجپوت،قرۃ العین خالد،سونیا معراج، ماہ نور، سدرہ رحمت، عائزہ بتول بھی تقریب میں شریک ہوئیں.

    اپووا کی تقریب میں پرتکلف ناشتے کے بعد اس خوشی میں کیک کاٹا گیا کہ پاکستان نے نہ صرف دشمن کو پسپا کیا بلکہ امن و استحکام کا پیغام بھی دیا۔ اس موقع پر ملک یعقوب اعوان کو اپووا کا سینئر وائس چیئرمین منتخب کیا گیا۔ وہ ماضی میں ڈی ایس پی قصور بھی رہ چکے ہیں۔ انہیں مبارکباد دی گئی اور اُن کے ادبی و انتظامی کردار کو سراہا گیا۔اپووا کی اس تقریب نے ثابت کر دیا کہ پاکستان کے اہلِ قلم صرف تخیل کی دنیا میں ہی نہیں جیتے، بلکہ جب وقت آئے تو وہ قلم چھوڑ کر بندوق اٹھانے کو بھی تیار ہوتے ہیں۔ اپووا نے ایک نئی مثال قائم کی کہ لکھنے والے بھی دفاع وطن کے محاذ پر پیچھے نہیں رہیں گے۔ پاکستان ایک نظریہ ہے، ایک خواب ہے جسے لاکھوں قربانیوں سے حاصل کیا گیا۔ جب بھی دشمن نے میلی آنکھ سے دیکھا، افواج پاکستان اور پاکستانی قوم سیسہ پلائی دیوار بن گئی۔ آج کے دن ہم اپنے محافظوں کو سلام پیش کرتے ہیں اور اس عزم کی تجدید کرتے ہیں کہ پاکستان کی سلامتی، بقا اور خودمختاری کے لیے ہم سب ایک ہیں۔

    بانی صدر ایم ایم علی کے شکر گزار ہیں جنہوں نے اس تاریخی لمحے کا حصہ بننے کا موقع دیا۔ تقریب کے اختتام پر ایک گروپ فوٹو لیا گیا اور اس وعدے کے ساتھ رخصت ہوئے کہ جلد ہی اپووا کا وفد قصور کا دورہ کرے گا۔

  • گودی میڈیا کی خونی اور جھوٹی صحافت، عالمی میڈیا نے پرخچے اُڑا دیئے!

    گودی میڈیا کی خونی اور جھوٹی صحافت، عالمی میڈیا نے پرخچے اُڑا دیئے!

    گودی میڈیا کی خونی اور جھوٹی صحافت، عالمی میڈیا نے پرخچے اُڑا دیئے!
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
    بھارت اور پاکستان کے درمیان حالیہ فوجی کشیدگی کے دوران بھارتی میڈیا جسے "گودی میڈیا” کہا جاتا ہے نے جھوٹی خبروں اور پروپیگنڈے کی ایسی مہم چلائی کہ عالمی اداروں اور فیکٹ چیکرز کو اسے بے نقاب کرنا پڑا۔ دی نیویارک ٹائمز اور دی نیوز انٹرنیشنل کی رپورٹس کی روشنی میں یہ واضح ہوا کہ بھارتی میڈیا نے غیر مصدقہ دعوؤں کو قومیت پرستی کے جوش میں نشر کیا، جس سے نہ صرف صحافتی معیار کو نقصان پہنچا بلکہ خطے میں تناؤ بھی بڑھا۔

    بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ بھارتی فورسز نے پاکستان کے جوہری اڈے پر حملہ کیا، دو پاکستانی جنگی طیاروں کو مار گرایاہے اور کراچی کی بندرگاہ جو پاکستان کی معاشی شہ رگ ہے کو تباہ کردیا۔ یہ رپورٹس اتنی تفصیلی تھیں کہ عام ناظرین ان پر یقین کرنے پر مجبور ہوگئے۔ تاہم دی نیویارک ٹائمز نے واضح کیا کہ "ان دعوؤں میں سے کوئی بھی سچ نہیں تھا۔” اسی طرح دی نیوز انٹرنیشنل نے کراچی پر بھارتی بحریہ کے مبینہ حملے کی کہانی کو جھوٹ قرار دیا جو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی تھی۔ بھارتی میڈیا کا یہ رویہ کوئی حادثاتی غلطی نہیں بلکہ ایک دانستہ کوشش تھی جو قومیت پرستی کے نام پر جھوٹ کو فروغ دے رہی تھی۔

    یہ جھوٹی خبریں سوشل میڈیا سے شروع ہوکر مین اسٹریم میڈیا تک پہنچیں، جہاں کبھی معتبر سمجھے جانے والے اداروں نے بھی انہیں بغیر تصدیق کے نشر کیا۔ امریکن یونیورسٹی کی پروفیسر سمیترا بدریناتھن نے کہا کہ "اس بار جو بات منفرد تھی وہ یہ کہ معتبر صحافیوں اور بڑے میڈیا ہاؤسز نے کھلم کھلا من گھڑت کہانیاں چلائیں۔” ان کا کہنا تھا کہ جب قابل اعتماد ذرائع ہی جھوٹ پھیلانے لگیں تو یہ ایک سنگین بحران ہے۔ سوشل میڈیا پر جھوٹ کی بھرمار پہلے بھی دیکھی گئی لیکن مین اسٹریم میڈیا کا اس طرح پروپیگنڈے کا آلہ بننا بھارتی صحافت کے زوال کی واضح علامت ہے۔

    بھارت میں صحافتی آزادی کا گراف 2014 سے مسلسل نیچے جا رہا ہے، جب سے نریندر مودی نے اقتدار سنبھالا۔ دی نیوز انٹرنیشنل کے مطابق بہت سے میڈیا ہاؤسز پر حکومتی ساکھ کو نقصان پہنچانے والی خبروں کو دبانے کا دباؤ ہے جبکہ بڑے ٹی وی چینلز حکومتی پالیسیوں کے ترجمان بن گئے ہیں۔ اس ماحول میں جنگ کے دوران قومیت پرستی کو ہوا دینا اور جھوٹی خبروں کو نشر کرنا معمول بن گیا۔ کارنیگی میلن یونیورسٹی کے پروفیسر ڈینیئل سلورمین نے کہا کہ "غلط معلومات کو جان بوجھ کر پھیلایا جاتا ہے تاکہ جذبات ابھریں اور تنازعہ بڑھے۔” بھارت اور پاکستان کی تاریخی دشمنی نے اس جھوٹ کو پھیلانے کے لیے زرخیز زمین فراہم کی۔

    اس افراتفری میں بھارت کے معروف صحافی راجدیپ سردیسائی جو انڈیا ٹوڈے کے اینکر ہیں، کو اپنے چینل پر پاکستانی طیاروں کے مار گرائے جانے کی جھوٹی خبر نشر کرنے پر معافی مانگنی پڑی۔ دی نیویارک ٹائمز اور دی نیوز انٹرنیشنل دونوں نے اسے نمایاں کیا۔ سردیسائی نے اپنے یوٹیوب ویلاگ میں کہا کہ یہ جھوٹ "قومی مفاد کے نام پر دائیں بازو کی پروپیگنڈہ مشینری” کا حصہ تھا۔ ان کی معافی اس بات کی گواہی ہے کہ 24 گھنٹے کے نیوز سائیکل میں کس طرح میڈیا دباؤ کا شکار ہوکر جھوٹ کا آلہ بن جاتا ہے۔

    بھارت کی فیکٹ چیکنگ ویب سائٹ آلٹ نیوز نے اس صورتحال میں روشنی کی کرن ثابت ہوئی۔ اس نے آج تک اور نیوز18 جیسے بڑے چینلز کی جھوٹی خبروں کو بے نقاب کیا، جن میں کراچی پر حملے کی من گھڑت کہانی بھی شامل تھی۔ دی نیویارک ٹائمز کے مطابق آلٹ نیوز کے بانی پراتیک سنہا نے کہا کہ "بھارت کا معلوماتی ماحول تباہ ہوچکا ہے۔” بدقسمتی سے فیکٹ چیکنگ کی یہ کوششیں مہنگی ثابت ہو رہی ہیں۔ آلٹ نیوز کو ہتک عزت کے مقدمات اور رپورٹرز کو ہراسانی کا سامنا ہے جو سچائی کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔

    سوشل میڈیا نے اس جھوٹ کو پھیلانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ دی نیوز انٹرنیشنل نے بتایا کہ کراچی پر حملے کی جھوٹی خبروں کے ساتھ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر "کراچی” اور "کراچی پورٹ” ٹرینڈ کر رہے تھے۔ سوشل میڈیا پر دھماکوں سے سیاہ بادل کی تصاویر گردش کر رہی تھیں جو بعد میں غزہ کی ثابت ہوئیں۔ بھارتی بحریہ نے تصادم کے بعد واضح کیا کہ اس نے کراچی پر کوئی حملہ نہیں کیا۔ یہ واقعات بتاتے ہیں کہ سوشل میڈیا اور مین اسٹریم میڈیا کا گٹھ جوڑ کس طرح جھوٹ کو حقیقت کا رنگ دیتا ہے۔

    رپورٹرز وِد آؤٹ بارڈرز کے مطابق بھارت میں 200 ملین سے زیادہ گھرانوں کے پاس ٹیلی ویژن ہے اور 450 نجی ٹی وی چینلز خبریں نشر کرتے ہیں۔ اس طاقت کے ساتھ میڈیا کی ذمہ داری بھی بڑھ جاتی ہے لیکن حالیہ واقعات نے اسے نظرانداز کیا۔ دی نیویارک ٹائمز نے لکھا کہ "بھارتی صحافت جو کبھی اپنی جرات کے لیے جانی جاتی تھی، اب پروپیگنڈے کا آلہ بن رہی ہے۔” یہ زوال نہ صرف بھارت کے لیے بلکہ خطے کے امن کے لیے بھی خطرہ ہے۔

    گودی میڈیا کی خونی اور جھوٹی صحافت نے جہاں بھارت کے اندر سچائی کا گلا گھونٹا وہیں دنیا بھر کے عوام کو بھی جھوٹے بیانیے کے ذریعے گمراہ کیا۔ ایسے حالات میں گودی میڈیا کسی ایک ملک نہیں بلکہ عالمی امن کیلئے بھی خطرہ بن چکا ہے۔ اگر یہ جھوٹ بے لگام رہا تو ایک دن یہ غلط معلومات جنگی تباہی کو جنم دے سکتی ہیں۔ اس سنگین صورتحال پر عالمی اداروں کو فوری نوٹس لینا چاہیے۔ اقوامِ متحدہ، انٹرنیشنل پریس کونسل اور عالمی عدالت انصاف کو چاہیے کہ وہ گودی میڈیا کے جھوٹے پراپیگنڈے پر باقاعدہ تحقیقات کریں، ذمہ داروں کا تعین کریں اور ان پر بین الاقوامی قوانین کے تحت مقدمات چلائیں۔ کیونکہ اب وقت آ چکا ہے کہ خونی صحافت کے مجرموں کو قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ دنیا سچائی، صحافتی آزادی اور امن کی طرف واپس لوٹ سکے۔

  • بھارت میں انسانیت کا قتل عام

    بھارت میں انسانیت کا قتل عام

    بھارت میں انسانیت کا قتل عام
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    ایک خبر کے مطابق بھارتی نیوی نے روہنگیا مہاجرین کو بحیرہ انڈمان میں پھینک دیا ہے، جس پر اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن نے نوٹس لے کر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ کمیشن نے اسے "غیر انسانی”، "ناقابلِ قبول” اور بین الاقوامی قوانین کی "کھلی خلاف ورزی” قرار دیتے ہوئے بھارتی حکومت سے فوری وضاحت اور تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ واقعہ بھارت کی تاریخ میں انسانیت کے خلاف جرائم کا ایک اور سیاہ باب ہے جو عالمی برادری کے ضمیر کو جھنجھوڑرہا ہے۔ اب آئیے بھارت کے انسانیت کے خلاف جرائم کا تاریخی طور پر جائزہ لیتے ہیں جو ایک ایسی داستان ہے جو منظم تشدد، نسل کشی اور انسانی حقوق کی پامالیوں سے بھری پڑی ہے۔

    بھارت جو خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلوانے پر فخر کرتا ہے ایک ایسی سیاہ تاریخ کا حامل ملک ہے جو خونریزی اور ظلم کی داستانوں سے بھری ہوئی ہے۔ روہنگیا مہاجرین کے ساتھ حالیہ واقعہ کوئی ایک مثال نہیں ہے بلکہ اس کی جڑیں بھارت کی طویل تاریخ میں جُڑی ہوئی ہیں، جہاں مختلف مذہبی، نسلی اور علاقائی گروہوں کے خلاف منظم تشدد کی ایک طویل فہرست موجود ہے۔ اقوام متحدہ کے ماہر ٹام اینڈریوز نے روہنگیا واقعے کو ناقابلِ معافی قرار دیا اور ایکس (سابقہ ٹویٹر)پر پوسٹس کے مطابق اس میں عورتیں، بچے اور کمزور افراد شامل تھے۔ یہ الزامات اگرچہ ابھی تفتیش کے مراحل میں ہیں لیکن بھارت کے مظالم کی تاریخ گواہ ہے ۔

    بھارت کی انسانیت کے خلاف جرائم کی تاریخ 1947 کی تقسیم سے بھی پہلے کی ہے لیکن جدید بھارت میں یہ سلسلہ کئی اہم واقعات سے واضح ہوتا ہے۔ 1984 کا آپریشن بلیو سٹار اس کی ایک خوفناک مثال ہے۔ اس آپریشن کے تحت بھارتی فوج نے امرتسر کے گولڈن ٹیمپل جو سکھوں کا مقدس ترین مقام ہے پر حملہ کیا تاکہ جرنیل سنگھ بھنڈرانوالہ اور دیگر سکھ عسکریت پسندوں کو ہٹایا جا سکے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 493 شہری ہلاک ہوئے لیکن ایمنسٹی انٹرنیشنل جیسی تنظیموں کے مطابق 4,000 سے 8,000 سکھ زائرین جن میں عورتیں اور بچے شامل تھے، مارے گئے۔ فوج نے ٹینک، ہیلی کاپٹر اور بھاری ہتھیار استعمال کیے، جس سے گولڈن ٹیمپل اور اکال تخت کو شدید نقصان پہنچا۔ سکھ ریفرنس لائبریری جس میں نایاب مخطوطات اور تاریخی نوادرات تھے، نذر آتش کردی گئی ۔ اس واقعے نے سکھ برادری میں گہری دراڑ ڈالی اور اسے "سکھ نسل کشی” کا نام دیا گیا۔ اکال تخت نے اسے جینوسائیڈ تسلیم کیا لیکن بھارتی عدالتیں ذمہ داروں کو سزا دینے میں ناکام رہی ہیں۔

    آپریشن بلیو سٹار کے بعد اندرا گاندھی کے قتل نے دہلی اور دیگر شہروں میں سکھوں کے خلاف منظم فسادات کو جنم دیا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق دہلی میں 2,800 اور پورے بھارت میں 3,350 سکھ قتل کر دئے گئے جبکہ غیر سرکاری ذرائع 8,000 سے 17,000 ہلاکتوں کا تخمینہ لگاتے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے ان فسادات کو "ریاست کی سرپرستی میں قتل عام” قرار دیا کیونکہ کانگریس پارٹی کے رہنماؤں نے مبینہ طور پر ہجوم کو ہتھیار، کیروسین (مٹی کاتیل)اور سکھوں کے گھروں کی فہرستیں فراہم کیں۔ ہیومن رائٹس واچ کی 2011 کی رپورٹ کے مطابق بھارتی حکومت نے ان فسادات کے ذمہ داروں کے خلاف کوئی ٹھوس کارروائی نہیں کی، جو انصاف کی سنگین ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔

    مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوج اور پولیس کے مظالم بھی انسانیت کے خلاف جرائم کی ایک واضح مثال ہیں۔ اقوام متحدہ کی 2025 کی رپورٹ کے مطابق بھارت نے غیر آئینی قوانین جیسے ان لا فل ایکٹیویٹیز پرینشن ایکٹ (UAPA) کے ذریعے صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور عام شہریوں کو ہراساں کیا۔ 2011 میں بھارتی حکومت نے خود اعتراف کیا کہ کشمیر میں 2,000 افراد کو اجتماعی قبروں میں دفن کیا گیا، جن پر فوج اور پولیس پر ماورائے عدالت قتل کے الزامات ہیں۔ پیلٹ گنوں کااندھادھند استعمال کیا گیا، جس سے ہزاروں افراد نابینا ہوئے اور آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ (AFSPA) نے سیکیورٹی فورسز کولامتناہی اختیارات دیے کہ وہ جومظالم وقتل گری کریں انہیں کوئی نہیں پوچھے گا۔ اقوام متحدہ کے کمشنر وولکر ترک نے عالمی توجہ دلائی، لیکن بھارت نے اسے "اندرونی معاملہ” قرار دے کر بین الاقوامی تفتیش سے انکار کیا۔

    بھارت کی شمال مشرقی ریاستیں جنہیں سیون سسٹرز کہا جاتا ہے (آسام، منی پور، ناگالینڈ، میزورم، میگھالیہ، اروناچل پردیش، تریپورہ) میں آزادی کی تحریکوں کو کچلنے کے لیے فوجی کارروائیاں کی گئیں۔ میزورم میں 1966 میں بھارتی فضائیہ نے اپنی سرزمین پر بمباری کی جو بھارت کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا واحد واقعہ ہے۔ اس کے نتیجے میں ہزاروں شہری ہلاک ہوئے اور "گروپنگ آف ولیجز” پالیسی کے تحت ہزاروں میزو باشندوں کو جبری نقل مکانی کروائی گئی، جس سے ان کی ثقافت اور معاشرے کو نقصان پہنچا۔ ناگالینڈ اور منی پور میں AFSPA کے تحت سیکیورٹی فورسز پر عصمت دری، تشدد اور جبری گمشدگیوں کے الزامات ہیں۔ آسام میں 1990 کی دہائی میں "خفیہ قتل” کے واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں سیکیورٹی فورسز نے مبینہ طور پر عسکریت پسندوں کے رشتہ داروں کو ہلاک کیا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے AFSPA کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سبب قرار دیا لیکن بھارت نے اسے برقرار رکھاہوا ہے۔

    وسطی اور مشرقی بھارت میں نکسلائٹس کے خلاف آپریشنز جیسے آپریشن گرین ہنٹ (2009-2010)نے آدی واسی (قبائلی) آبادیوں کو نشانہ بنایا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی 2019 کی رپورٹ کے مطابق چھتیس گڑھ میں سیکیورٹی فورسز نے آدی واسی خواتین کے خلاف عصمت دری اور تشدد کے واقعات کو چھپایا اور ہزاروں قبائلی باشندوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا۔ اقوام متحدہ نے 2013 میں بھارت سے آدی واسیوں کے حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کیا لیکن دہشت گرد بھارت کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی اور کوئی پیش رفت نہ ہوئی۔

    بھارت میں اقلیتوں خاص طور پر مسلمانوں کے خلاف منظم تشدد کی ایک طویل تاریخ ہے۔ 2002 کے گجرات فسادات میں ہزاروں مسلمان ہلاک اور زخمی ہوئے، جنہیں انسانی حقوق کی تنظیموں نے "ریاستی سرپرستی میں قتل عام” قرار دیا۔ سیٹزن شپ ایمنڈمنٹ ایکٹ (CAA) اور نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز (NRC) جیسے قوانین نے مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف امتیازی سلوک کو بڑھاوا دیا۔ اقوام متحدہ کی 2022 کی رپورٹ نے اسے انسانی حقوق کے عالمی چارٹر کی خلاف ورزی قرار دیالیکن بھارت کے خلاف کوئی عملی اقدام نہ کیا گیا۔

    سری لنکا میں لبریشن ٹائیگرز آف تامل ایلم (LTTE) کے خلاف بھارت کی انڈین پیس کیپنگ فورس (IPKF) کی کارروائیاں (1987-1990) بھی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا باعث بنیں۔ IPKF پر تامل شہریوں کے خلاف تشدد، عصمت دری اور ماورائے عدالت قتل کے الزامات ہیں۔ اقوام متحدہ کی 2011 کی رپورٹ نے سری لنکا میں تامل شہریوں کے خلاف مظالم کو جنگی جرائم قرار دیا لیکن بھارت کو اس کے سیاسی اور جغرافیائی اثر و رسوخ کی وجہ سے کلین چٹ دے دی گئی۔ سری لنکا ایک چھوٹا اور کمزور ملک ہونے کی وجہ سے، اس کے جرائم عالمی برادری کی نظروں میں زیادہ نمایاں ہوئے جبکہ بھارت کے مظالم پر پردہ ڈال دیا گیا۔

    ان تمام واقعات کے باوجود عالمی برادری کی خاموشی حیران کن ہے۔ بھارت کے انسانیت کے خلاف جرائم پر عالمی طاقتوں کی خاموشی کے پیچھے کئی وجوہات ہیں۔ سب سے پہلے بھارت کو چین کے مقابلے میں ایشیاءمیں ایک اہم اسٹریٹجک اتحادی سمجھا جاتا ہے۔ امریکہ، یورپی یونین اور دیگر مغربی ممالک بھارت کے ساتھ دفاعی اور اقتصادی شراکت داری کو ترجیح دیتے ہیں۔ دوسری وجہ بھارت کی معاشی طاقت ہے جو مغربی کمپنیوں کے لیے ایک بڑی مارکیٹ ہے۔ انسانی حقوق کے مسائل اٹھانے سے اقتصادی تعلقات خراب ہونے کا خطرہ ہے۔ تیسرا مغربی میڈیا بھارت کو "جمہوری ملک” کے طور پر پیش کرتا ہے جو اس کے مظالم کو پردے میں رکھتا ہے۔ آخر میں اقوام متحدہ کے پاس بھارت جیسے طاقتور ممالک کے خلاف سخت ایکشن لینے کی صلاحیت محدود ہے کیونکہ سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کی ویٹو طاقت اور سیاسی دباؤبھارت کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہونے دیتے ،جس سے بھارت نے بلاروک ٹوک انسانیت کاقتل عام جاری رکھا ہوا ہے ۔

    یہ عالمی برادری کی مجرمانہ خاموشی کے نتائج سنگین ہیں کہ بھارت کے مظالم نہ صرف متاثرین کے لیے تباہی کا باعث ہیں بلکہ بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کے اصولوں کوبھی پامال کرتے ہیں۔ اگر عالمی برادری نے اب بھی آواز نہ اٹھائی تو یہ ایک خطرناک مثال قائم کرے گی کہ طاقتور ممالک انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے بچ سکتے ہیں۔ روہنگیا مہاجرین کا حالیہ واقعہ اس سلسلے کی ایک اور کڑی ہے جو عالمی ضمیر کو جھنجھوڑرہاہے۔

    بھارت کے انسانیت کے خلاف جرائم کی اس تاریخ کو دیکھتے ہوئے، عالمی برادری سے مطالبہ ہے کہ وہ اپنے سوئے ہوئے ضمیرکو جگائے اور انصاف کے لیے آواز بلند کرے۔ اقوام متحدہ کو روہنگیا واقعے کی آزادانہ اور شفاف تفتیش کرنی چاہیے اور ذمہ داروں کو سزا دینی چاہیے۔ بھارت کو آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ (AFSPA) اور ان لا فل ایکٹیویٹیز پرینشن ایکٹ (UAPA) جیسے جابرانہ قوانین ختم کرنے اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے کیلئے پابندکیاجائے اگربھارت نہ مانے تو اس اقتصادی ،تجارتی ،فوجی اور سفارتی پابندیاں لگائی جائیں۔ AFSPA ایک متنازع قانون ہے جو سیکیورٹی فورسز کو شورش زدہ علاقوں(جیسے کشمیر اور شمال مشرقی ریاستوں)میں وسیع اختیارات دیتا ہے بشمول بغیر وارنٹ گرفتاری، گولی مارنے کی اجازت اور قانونی استثنی، جس کے نتیجے میں ماورائے عدالت قتل، تشدد اور جبری گمشدگیوں کی شکایات عام ہیں۔ اسی طرح UAPA ایک انسداد دہشت گردی قانون ہے جو مبہم تعریفات اور سخت سزائوں کے ذریعے صحافیوں، کارکنوں اور عام شہریوں کو "دہشت گرد” قرار دے کر ان کے بنیادی حقوق سلب کرتا ہے جیسے کہ طویل عرصے تک بغیر مقدمے کے حراست میں رکھنا شامل ہے۔

    اب وقت ہے کہ انسانی حقوق کی تنظیمیں بھارت کے مظالم کو عالمی عدالت انصاف (ICC) میں لے جائیں تاکہ انسانیت کے خلاف جرائم کی قانونی کارروائی ہو۔ اگر آج بھی اقسام عالم اور انسانی حقوق کی تنظیمیں ،روہنگیا، سکھ، کشمیری یا دیگر اقلیتوںکے ساتھ ہونے والے ظلم پر خاموشی رہیں تو کل کوئی اور نسلی گروہ یااقلیت ان کے ظلم کا شکار ہوں گے۔ وقت آ گیا ہے کہ عالمی برادری بھارت کے انسانیت کے قتل عام پر اپنی خاموشی توڑے اور انصاف کا تقاضہ پورا کرے اور بھارت کا کڑامحاسبہ کیا جائے اور اسے انصاف کے کٹہرے میں کھڑاکیا جائے۔

  • ‎صنعتی میدان اور یونیورسٹی تعلیم میں باہمی تعاون بہت ضروری ،ڈاکٹر عتیق الرحمان

    ‎صنعتی میدان اور یونیورسٹی تعلیم میں باہمی تعاون بہت ضروری ،ڈاکٹر عتیق الرحمان

    ‎پاکستانی معاشرے کے لیے اہم وہ یونیورسٹیاں ہیں جو ملک کو دانشورانہ سرمایہ فراہم کر سکتی ہیں ، نیز اعلی تعلیم کو قومی ترجیحات کے ساتھ زیادہ قریب سے جوڑنے ، اساتذہ کے علم کو بڑھانے ، اداروں کے درمیان صحت مند موابلے کو فروغ دینے اور علم سے جڑی معیشت کی راہ ہموار کرنے میں مدد کر سکتی ہیں ۔ صنعت کاری کو فروغ دینے ، تکنیکی پارکس بنانے اور یونیورسٹیوں اور کمپنیوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط کرنے کے لیے حکومت کی پہل اقتصادی اور سماجی ترقی میں مدد کرے گی ۔ پیداوار میں اضافہ ، مسابقت اور معاشی ترقی معاشرے اور کاروبار کے تمام شعبوں میں ہنر مند مزدوروں کو تخلیقی صلاحیتوں اور توانائی کے ساتھ مربوط کرنے کی ضرورت ہے ۔ فاؤنڈیشن یونیورسٹی اسلام آباد میں دو روزہ ٹیلنٹ ہنٹ گالا کے دوران ، ملک کی بڑی کاروباری کمپنیوں کے طلباء اور عہدیداروں کی شاندار بات چیت دیکھی گئی ۔ ملک کی تقریبا 80 معروف ترین کاروباری کمپنیوں نے نئی صلاحیتوں کو راغب کرنے اور اپنے اداروں کی تشہیر کے لیے اپنے بوتھ لگائے ۔ اوپن ہاؤس میں کارپوریٹ سیکٹر کی اتنی بڑی تعداد کی شرکت ادارے میں دی جانے والی تعلیم پر ان کے اعتماد کی نشاندہی کرتی ہے ۔

    فاؤنڈیشن یونیورسٹی کے فارغ التحصیل طلباۂ کی مارکیٹ میں روزگار کی شرح بہت بہتر ہے ۔ 2024 کی بی بی اے کلاس کے آن لائن بزنس مالک اجواد عرفان نے اس رپورٹر کو بتایا کہ ان کے تقریبا 11 ساتھی کل وقتی کام کر رہے ہیں اور 5 یا 6 اپنے کاروبار چلا رہے ہیں ۔ 2022 کے کمیونیکیشن سائنس گریجویٹ ، سید انیس ، جنہوں نے خود اپنی رائے شیئر کرتے ہوئے ایک ویگر اور انفلوئنسر کی حیثیت سے اپنی صلاحیتوں کو بڑھایا ہے ، نے نوٹ کیا کہ ان کی کلاس کا 70% مناسب ملازمت حاصل کر سکے لیکن اس شعبے میں نہیں جس میں وہ تعلیم یافتہ تھے بلکہ دوسرے شعبوں میں۔ یونیورسٹی کے دیگر گریجویٹس نے بھی اسی طرح کے تبصرے کئے ۔ اس لیے اگر کوئی معاشی ترقی اور سماجی بہبود کو فروغ دینا چاہتا ہے تو تعلیم ، انفارمیشن ٹیکنالوجی ، مہارت اور پیداواری محنت میں سرمایہ کاری کرنا بہت ضروری ہے ۔ معاشی ترقی کئی عوامل سے نمایاں طور پر متاثر ہوتی ہے جن میں حکومتی پالیسی ، بیرون ملک تجارت ، سرمایہ کاری اور تکنیکی پیش رفت شامل ہیں ۔ حالیہ گریجویٹس تب ہی کام کر سکیں گے اور نتیجہ خیز ثابت ہو سکیں گے جب ہائر ایجوکیشن کمیشن ، کالج اور وزارت صنعت تعاون کریں گے ۔ منافع پر مبنی کاروباروں کا اثر تحقیق میں یونیورسٹیوں کے روایتی کام پر سوال اٹھا رہا ہے ، اس لیے تحقیقی اداروں اور یونیورسٹیوں کے درمیان مزید تعاون کی ضرورت ہے ۔ چونکہ یونیورسٹیوں نے انڈرگریجویٹ تعلیم سے آگے اپنی ذمہ داریاں بڑھا دی ہیں ، اس لیے طلباء کو روزگار کے بازار کے لیے بہتر طور پر لیس کرنے کے لیے یونیورسٹیوں اور کاروباری اداروں کے درمیان تعاون ناگزیر ہو گیا ہے ۔ اقتصادی تعاون اور معیار زندگی میں اضافہ کرکے ، یونیورسٹیوں کو اعلی تعلیم کے بدلتے ہوئے نمونے میں متعلقہ رہنا ہوگا ؛ یہ یونیورسٹیوں اور کمپنیوں کے درمیان تعاون کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے ۔ سمجھدار پالیسیاں جامع اور طویل مدتی ترقی کے لیے مواقع پیدا کر سکتی ہیں اگر وہ لوگوں کو مارکیٹ کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے تربیت دیں ، اس لیے کہ پاکستان کی آبادی کا ایک بڑا حصہ 30 سال سے کم عمر کا ہے ۔ پاکستانی صنعت انتہائی مسابقتی نہیں ہے ، اور کئی مطالعات نے اس کی بنیادی وجہ پرتیبھا کی عدم مطابقت کی طرف اشارہ کیا ہے ۔ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستانی کمپنیوں کی اکثریت اس سطح سے مطمئن نہیں ہے جس پر حالیہ کالج گریجویٹس کی مہارت کے سیٹ موجودہ ملازمت کی ضروریات کو پورا کرتے ہیں ۔

    عالمی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ کمپنیاں قابلیت سے زیادہ صلاحیتوں کو ترجیح دیتی ہیں ۔ ان حالات میں ، ایک یونیورسٹی کے لیے شاندار صلاحیتوں کے ساتھ گریجویٹس تیار کرنا قابل ستائش ہے ۔ اس مسئلے کو تین اہم شعبوں کو حل کر کے حل کیا جا سکتا ہے ۔ گریجویٹس کے درمیان مہارت کے فرق کو دور کرنے کے لیے پہلے انٹرن شپ پروگراموں کو نافذ کرنا ، مارکیٹ پر مبنی کورسز بنانا اور کبھی کبھار اپ ڈیٹ کرنا ، اور صنعتی کلسٹرز کے لیے مہارت میں بہتری کے تربیتی منصوبے قائم کرنا ضروری ہے ۔ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ پیشہ ورانہ مہارتیں وہ شعبہ ہے جس میں لوگوں میں اپنی مہارتوں کی سب سے زیادہ کمی ہوتی ہے ۔ یونیورسٹی کے طلباء کو کئی شعبوں میں انٹرن شپ تک رسائی حاصل ہونی چاہیے اور اس خلا کو پر کرنے میں ان کی مدد کے لیے مقامی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری میں ہنر مندی پیدا کرنے کے لیے مختصر سیمینار چلائے جانے چاہئیں ۔ ممکنہ کمپنیوں کا فی الحال کورسز کے ارتقاء پر کوئی اثر نہیں ہے ۔ اس کے مقابلے میں ، معاشیات ، کاروبار اور کامرس میں تعلیم حاصل کرنے والے طلباء موجودہ دستیاب کورسز سے کم مطمئن ہیں ۔ پاکستان کا ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) وہاں کی یونیورسٹیوں کو سال میں ایک بار ہنر مندی کی ترقی ، بازار کی ضروریات کے ساتھ نصاب کی صف بندی ، اور جدت طرازی پر رپورٹ کرنے کا حکم دے سکتا ہے ۔ ایچ ای سی اس بات کو یقینی بنا سکتا ہے کہ یونیورسٹیاں صنعت کے ساتھ کافی بات چیت کریں اور ضرورت کے مطابق اپنے پروگراموں میں ترمیم کریں ۔ دوسرا ، اگر یونیورسٹیوں کا مقصد روزگار کے فرق کو کم کرنا ہے ، تو تعلیمی تربیت کو مہارت کی تشخیص پر بنایا جانا چاہیے ۔ اس مقصد تک پہنچنا اتنا ہی آسان ہے جتنا کہ مہارت پر مبنی تعلیم پر بہت زیادہ وزن کا اندازہ لگانا ۔ موجودہ درجہ بندی کا نظام تخلیقی اور مہارت پر مبنی سیکھنے کی ترقی میں رکاوٹ ہے ۔ عملی مثالوں کے ذریعے اپنے علم کو ظاہر کرنے والے طلباء کے بجائے حفظ اور بازگشت پر توجہ مرکوز کی جاتی ہے ۔ اس لیے وہ کام کے کافی تجربے اور قابل فروخت صلاحیتوں کی کمی کے باعث گریجویٹ ہوتے ہیں ۔ طلباء کی تحقیق اور حتمی منصوبوں میں حاصل کردہ چیزوں کو استعمال کرنے کی صلاحیت کو زیادہ درست طریقے سے ظاہر کرنے کے لیے درجہ بندی اور تشخیصی نظام کو بتدریج تبدیل کرنے سے روزگار کے فرق کو ختم کرنے میں مدد ملے گی ۔

    یونیورسٹیوں کو طلباء کی خدمت کے مراکز اور معیار میں بہتری کے خلیوں کے بارے میں اپنے خیالات کا تعین کرنے کے لیے طلباء کو باقاعدگی سے رائے شماری کرنی چاہیے اگر وہ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ طلباء یونیورسٹی کے نصاب کے ذریعے پیش کردہ ہنر مندی کے فروغ کے امکانات سے کتنے خوش ہیں ۔ تیسرا مسئلہ صنعت کے سلسلے میں تمام مہارتوں پر طلباء کی اوسط حد سے زیادہ زور دینے کے نتیجے میں منفی ادراک کا فرق ہے ۔ نوجوانوں کی ملازمت کی اہلیت ، پیداواری صلاحیت اور مہارت کی ترقی کو بہتر بنانے کے لیے تمام فریقوں کو مل کر مؤثر طریقے سے کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ پالیسی سازوں ، اسکالرز اور کاروباری اداروں سب کو رابطے کی کھلی لائن برقرار رکھنی چاہیے اور جان بوجھ کر تعاون کرنا چاہیے ۔ مطالعے کی تمام سطحوں پر طلباء کو کمپنیوں کی طرف سے قابل قدر مختلف قسم کی صلاحیتوں کی اہمیت کو سمجھنے میں مدد کرنے پر توجہ مرکوز کرنے کے ساتھ ، کیریئر کے مشورے کو یونیورسٹی کے کورسز میں شامل کیا جانا چاہیے ۔ طلباء کے باقاعدہ پروگراموں بشمول کانفرنسوں ، سیمینارز ، ورکشاپس ، واقفیت ، اور مطالعاتی دوروں سے طلباء کو اپنے شعبے کے پیشہ ور افراد کے ساتھ نیٹ ورک کرنے کے مواقع فراہم ہونے چاہئیں ۔

  • نوجوانوں کو تمباکونوشی سے کیسے بچائیں؟

    نوجوانوں کو تمباکونوشی سے کیسے بچائیں؟

    نوجوانوں کو تمباکونوشی سے کیسے بچائیں؟
    تحریر: ریاض جاذب
    تمباکو نوشی پاکستان میں صحت عامہ کا ایک سنجیدہ مسئلہ بنتا جا رہا ہے، خصوصاً نوجوانوں میں اس کی بڑھتی ہوئی شرح تشویشناک ہے۔ باوجود اس کے کہ تمباکو کے نقصانات سے متعلق آگاہی بھی عام ہے، مگر نوجوانوں میں اس کے استعمال میں کمی کے بجائے اضافہ ہو رہا ہے۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی 17.2 فیصد آبادی تمباکو نوشی کی عادی ہے، جن میں مردوں کی شرح 28.4 فیصد اور خواتین کی چھ فیصد ہے۔ 25 سے 44 سال کی عمر کے افراد اس کا سب سے زیادہ شکار ہیں، لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ اب کم عمر بچوں اور نوعمروں میں بھی تمباکو نوشی کا رجحان بڑھ رہا ہے۔

    نوجوانوں میں تمباکو نوشی کے پھیلاؤ کی متعدد وجوہات ہیں۔ ان میں سب سے نمایاں دوستوں کا دباؤ، بڑوں کا بچوں کے سامنے تمباکو نوشی کرنا، تمباکو کی آسان دستیابی، سستی قیمت، اور تمباکو کمپنیوں کی پر کشش مارکیٹنگ شامل ہیں۔ اکثر نوجوان تمباکو نوشی کا آغاز محض وقتی تفریح کے طور پر کرتے ہیں، لیکن جلد ہی یہ ایک عادت بن جاتی ہے۔

    پاکستان میں تمباکو مصنوعات کی قانونی پابندیوں کے باوجود سکولوں، کالجوں اور عوامی مقامات کے آس پاس تمباکو کی فروخت عام ہے، جو نوجوانوں کو تمباکو کی طرف راغب کرتی ہے۔ قوانین تو موجود ہیں، لیکن ان پر مؤثر عمل درآمد کا فقدان اس سنگین مسئلے کو مزید گھمبیر بنا رہا ہے۔

    تمباکو نوشی کے خاتمے کے لیے پاکستان کو ان ممالک سے سیکھنے کی ضرورت ہے جو اس میدان میں نمایاں کامیابی حاصل کر چکے ہیں۔ مثلاً نیوزی لینڈ نے ایک انقلابی قدم اٹھاتے ہوئے 2008 کے بعد پیدا ہونے والے افراد کو تمباکو مصنوعات کی فروخت پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد نئی نسل کو تمباکو سے مکمل طور پر محفوظ رکھنا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ تمباکو مصنوعات میں نکوٹین کی مقدار میں کمی، انہیں کم پرکشش بنانے، اور ملک بھر میں ریٹیل دکانوں کی تعداد 6,000 سے گھٹا کر 600 تک محدود کرنا بھی شامل ہے۔

    نوجوانوں کو ٹارگٹ بنزکر کی جانے والی تشہیر ان کی ذہنی ساخت پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہے، لہٰذا ایسی سرگرمیوں کو روکنا ناگزیر ہے۔

    تمباکو نوشی کے خلاف جنگ میں تعلیم اور آگاہی سب سے مؤثر ہتھیار ثابت ہو سکتے ہیں۔ سکولوں اور کالجوں کے نصاب میں تمباکو نوشی کے نقصانات سے متعلق معلومات کو شامل کرنا اور تمباکو سے متاثرہ افراد کی کہانیوں کو سچائی کے ساتھ پیش کرنا نوجوانوں پر دیرپا اثر ڈال سکتا ہے۔ سوشل میڈیا، یوٹیوب، اور دیگر جدید ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے آگاہی مہمات چلائی جا سکتی ہیں تاکہ نوجوانوں کو تمباکو نوشی کے خطرات سے روشناس کرایا جا سکے۔

    سکولوں، یونیورسٹیوں، دفاتر، تفریحی مقامات اور کھیل کے میدانوں میں تمباکو نوشی پر مکمل پابندی ہونی چاہیے، اور اس پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے سخت اقدامات کیے جانے چاہئیں۔ عوامی مقامات کو تمباکو سے پاک قرار دے کر ایک مثال قائم کی جا سکتی ہے۔

    پاکستان میں تمباکو چھوڑنے کے لیے مؤثر سہولیات کا شدید فقدان ہے۔ ہر تمباکو نوش، کسی نہ کسی موقع پر یہ عادت چھوڑنے کا خواہش مند ہوتا ہے، لیکن اسے عملی مدد میسر نہیں آتی۔ لہٰذا، تمباکو نوشی ترک کرنے کے مراکز، مشاورت، نکوٹین ریپلیسمنٹ تھراپی (NRT) جیسے علاج اور آن لائن رہنمائی پروگرام قائم کیے جانے چاہییں تاکہ نوجوانوں کو ان کی صحت مند زندگی کی طرف واپسی کا راستہ دیا جا سکےصحت کے موجودہ نظام میں تمباکو کنٹرول کو ایک مستقل ترجیح بنایا جائے۔ پالیسی سطح پر تمباکو پر بھاری ٹیکس، اشتہارات اور اسپانسرشپ پر مکمل پابندی، سادہ پیکیجنگ، اور تمباکو نوشی کی روک تھام کے سخت قوانین لاگو کیے جائیں۔ معاشرے کے تمام طبقات کو شامل کرکے ایک اجتماعی جدوجہد کی جائے، جس میں والدین، اساتذہ، علماء، میڈیا اور صحت کے شعبے کے ماہرین اپنا کردار ادا کریں۔

    اگر پاکستان نوجوانوں کو تمباکو نوشی سے بچانے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ ایک صحت مند، توانا اور ترقی یافتہ نسل کی بنیاد رکھے گا۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم محض قوانین پر اکتفا نہ کریں بلکہ ان پر مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنائیں، آگاہی عام کریں، صحت کی سہولیات کو وسعت دیں اور معاشرتی سطح پر ایک بھرپور مہم چلائیں۔ تمباکو سے پاک پاکستان ایک خواب نہیں، ایک حقیقت بن سکتا ہے ،بس ہمیں اجتماعی طور پر سنجیدہ اقدامات اٹھانے ہوں گے۔
    ،

  • آئیے خیال کی طاقت سے ذہن کے چراغ جلائیں، لفظوں کی شیرینی سے زبان کی کڑواہٹ مٹائیں

    آئیے خیال کی طاقت سے ذہن کے چراغ جلائیں، لفظوں کی شیرینی سے زبان کی کڑواہٹ مٹائیں

    آئیے خیال کی طاقت سے ذہن کے چراغ جلائیں، لفظوں کی شیرینی سے زبان کی کڑواہٹ مٹائیں
    قلم و کتاب کی زبان سے ادب کی دعوت
    تحریر: ظفر اقبال ظفر
    تحریر کی نبض پر ہاتھ رکھ کے قلم کے مزاج کا پتا لگانا حقیقی لکھاری و قاری طبیب کا ہی خاصہ ہے جو دل و دماغ کی سواری پہ کتابوں کے جہانوں کے سفر پہ نکلے ہیں اور اپنے احساسات و محسوسات کی الہامی کیفیت سے شفا بخش ادبی بوٹیوں کی کھوج لگاتے ہیں، پھر اسے اپنے قلم کے حمام دستے میں پیس کر عام ذہنوں کے معدے تک پہنچاتے ہیں تو شعور کی بینائی بڑھنے لگتی ہے۔ خداداد صلاحیتوں کے ہنر سے لکھی تحریریں قارئین کے ذہنوں کو مسحور کرتی ہیں۔ قدرت کے جس جہان کی لکھاری سیر کرکے اسے اپنی تحریر کے اسلوب سے لطف اندوز بناتا ہے اُسے پڑھنے والے قاری کو لگنے لگتا ہے کہ وہ اُس دور اور جہان کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے۔ سحر نگار قلم کی لکھی کسی کتاب کی اہمیت کبھی کم نہیں ہوتی۔ ذوق و شوق سے لبریز شغف قارئین ہی قلم کے نئے زاویے میں پوشیدہ منظروں کی جھلک دیکھ سکتے ہیں۔ علم و شعور کی زمین لکھاری و قاری جیسے پھولوں سے سدا آباد رہتی ہے جس کی مہک نے ان گنت خوش نصیبوں کو اپنے سحر میں جکڑ رکھا ہے۔

    ادب کی مٹی میں قلم کا بیج نئی اور تازہ تحریروں کے پھل اُگاتے رہتے ہیں۔ سخن کے وطن میں پل کر پروان چڑھنے والے، اپنے سے پہلے دور میں جینے والے لکھاریوں سے ان کی کتاب و تحریر کے ذریعے ملاقاتیں کرتے ہیں جس سے لکھاری ذہن تربیت پاتے ہیں تاکہ اُن کی نشاندہی کرتے راستوں پہ سفر کرتے مطالعے کی مدد سے نئی منظر کشی کو تحریری وجود میں لایا جا سکے۔ قدرت کی خوبصورتیاں بیج کی طرح اپنے اندر اتنے وسیع درخت رکھتی ہیں جس کا ہر پتہ، ہر شاخ ان گنت معنی و منظر رکھتا ہے جیسے گنتی سے باہر ہوا کے جھونکے ہوتے ہیں۔ جب منظروں کی بوندیں ذہن کی پیاسی زمین پر ٹپک رہی ہوں تو بہار کی سیاہی سے قلم کو رنگین تذکرہ نگاری میں مدہوش کر دیجیے۔ یہ لطف اندوز لمحے اپنے وجود کی گرفت میں بھر کر محفوظ کر لیں تاکہ آپ کی تنہائی نایاب احساسات و محسوسات سے سجی رہے۔ بہت کم لوگ ہیں جو اپنے آپ میں اک محفل لیے جیتے ہیں۔

    یہ اعزاز لکھاری یا قاری کو ہی حاصل ہوتا ہے کہ ایک زندگی میں کئی زندگیوں کو جی رہا ہوتا ہے۔ کتابوں کی انگلی پکڑ کر تحریروں کے قدم سے اپنے شعور کے قدم ملا کر چلنے والوں کو ہی ایک انمول ہمسفر کا احساس ملتا ہے۔ آپ ادب کے ساتھ زندہ رہتے ہیں تو مبارک ہو، ادب اپنے زندہ رہنے کے لیے آپ کو چن چکا ہے۔ یہ سچائی و آگاہی کے کوہِ طور کا سرمہ آنکھوں میں لگا کر ہر جانب خدا کو دیکھنے اور دکھانے لگتے ہیں۔ یہ منفرد و نایاب لوگ اپنے چراغوں جیسے ذہنوں میں ادب کی روشنی لیے ویرانوں میں بیٹھے ہیں۔ انہیں ذہنی تصادم زدہ ہجوم کے اندھیروں میں رکھنے کی اشد ضرورت ہے۔ ان کی قدردانی ہی ان کے جلتے رہنے کا تیل ہے۔ ادب ان کے ذریعے اپنے نت نئے رنگوں کی تبلیغ کرواتا ہے جو شرف والوں کے حصے میں آتی ہے۔

    جہاں شعور کی کایا پلٹنے والی تحریریں قبولیت کے ہاتھ اُٹھائے بیٹھی ہیں، وہاں ادب کے طالب علم بھی شوق کے دامن پھیلائے بیٹھے ہیں۔ یہ کیفیت دل و دماغ کی زمینوں پر بسیرا کرکے اپنے عطر سے انسانیت کے گلشن کو معطر رکھتی ہے۔ قابلِ تعریف ہیں وہ عقلیں جو لفظوں کے چہروں سے پردے ہٹا کر معنی کے اصلی جوہر تک پہنچ جاتی ہیں اور اپنی آنکھوں کو وضاحتوں کا سرمہ لگا کر حقیقتوں کے دلکش نظارے کرواتی ہیں۔ اس نتیجے سے دوچار کرنے والی تحریروں کے لکھاریوں کے دل کی شگفتگی کا سرور انہیں ایسا مدہوش کرتا ہے جس کی ترجمانی وہ خود بھی قلم کی زبان پر نہیں لا پاتے۔ یہ قدرت کی خاموش تحسین کے انعام میں رہتے ہیں۔

    زندگی کو آنکھ بھر کر سب دیکھنا چاہتے ہیں، مگر یہاں غیر معیاری حالات و معاملات زندگی کے رنگوں پر اپنی چادر ڈال کر میت کا منظر پیش کرنے لگتے ہیں۔ جہاں مصنوعی دُکھ ایجاد ہو جائیں، وہاں انسان غیر ضروری اُداس رہنے لگتے ہیں۔ پتھر کی عمارتوں میں سکون چاہنے والے جلتے جسموں کو کوئی بتا دے کہ چاندنی رات کے ستاروں کی چھاؤں میں خیمے لگا کر روح کی ٹھنڈک کا مزہ مفت میں لیا جا سکتا ہے۔ قدرت نے اپنی مہنگی تخلیق اپنے انسانوں کے لیے مفت میں رکھی ہے۔ انسانی وجود کی بڑی قیمت ہے۔ اس مٹی کے کوزے میں نور کا چراغ جلتا ہے، اُس کوزے کو بے قیمت نہ جانیں جس میں قدرت نے اپنا نور محفوظ کر رکھا ہے۔ انسانی دل خدا کا تخت ہے، جس کے تختِ دل پر خدا بیٹھا ہو، وہاں زندگی ہاتھ جوڑے کھڑی رہتی ہے کہ زندگی سے کوئی غلطی نہ ہو جائے۔ ہر جینے والے کو ادب اسی مقام پر لانا چاہتا ہے کہ بے مقصد سفروں پر خود کو تھکانے والوں کو درست سمت دی جا سکے اور بکھرے ہوئے انسانوں کو سمیٹ کر انہیں ہی واپس لوٹا دیا جائے۔ یہ حوصلہ ادب ہی پیدا کر سکتا ہے کہ آپ کسی کو اپنے کندھوں پر بیٹھا کر کہیں کہ دیکھو تمہارا قد تو مجھ سے بھی بڑا ہو گیا ہے۔ اچھا پڑھنے سننے کی صلاحیت کو اتنا پکائیں کہ آپ کی گفتگو سحر طاری کرنے لگے اور لوگوں کو دنیا کے پیچیدہ راستوں پہ چلنے کا ہنر حاصل ہو جائے۔ اپنے بعد آنے والوں کے لیے راہ کے کانٹے ہٹانے کا ذریعہ بن کر آسانیوں، بھلائیوں، بہتریوں کے اسباب چھوڑ کر ان کے درمیان ہمیشہ کے لیے ٹھہرے رہیں۔

    جب دنیاوی مفاد کی حکمتِ عملی میں لوگ سیاست کی ہتھیلیوں سے فائدہ اُٹھانے کے لیے صاحبِ اختیار کے پاؤں پکڑنے کو تیار ہو جائیں، تب ادب کمزوروں کے ہاتھ پکڑنے والوں کو دلوں کا تخت پیش کرنے کی راہ دکھاتا ہے۔ بے فیض سیاست کی نوک سے زندگی کے بخیے اُدھیڑنے والے ہر دور میں ادب انسانیت میں محبت کے ٹانکے لگاتا رہتا ہے اور اپنے چاہنے والوں کو یہ ہنر سکھاتا ہے کہ وہ کڑواہٹ پی کر مٹھاس کیسے بانٹ سکتے ہیں۔ دراصل قدرت کی تخلیق، احساسات، محسوسات، جذبات کی حسین عکاسی سے انسانی ذہنوں کو اپنی لپیٹ میں لے کر جینے کے حقیقی لطف سے ہمکنار کروانے میں قلم کا ہاتھ ہے، اور عزت، محبت، نام اُس کا بھی پیدا ہو جاتا ہے جس کے ہاتھ میں قلم ہوتا ہے۔ جس طرح خواب بند آنکھوں سے اگلے پچھلے دور کی سیر کرواتے ہیں، اسی طرح کتاب کو یہ خاصیت حاصل ہے کہ یہ کھلی آنکھوں سے سیر کرواتی ہے۔ خدا کی طرف سے آنے والا ہر اچھا خیال سپردِ قلم کر دو کہ یہ وہ امانت ہے جو بے خبروں تک پہنچانی تمہارا فرض ہے۔

    انگریزی لالٹینوں کی روشنی دماغوں میں بھرنے والوں سے معاشرے کے مسائل حل نہیں ہو پا رہے ہیں۔ ایسے میں مادری و قومی زبان کے سورج کو طلوع کرنے کے لیے ادب کے فروغ کو عام کرنا وقت کا تقاضہ ہے۔ ایک ہی معاشرے میں زندگی بسر کرنے والوں کے مسائل بھی ایک ہی جیسے ہیں، اس کے لیے انفرادی طور پر پریشان رہنے کی بجائے اجتماعی طاقت سے خوشحالی لانے کے لیے ادب سے بہتر طاقت اور کہیں سے پیدا نہیں ہو سکتی۔ فرقہ و جماعت پرستی کے اس تقسیم شدہ معاشرے کو جوڑنے کے لیے اسلام کی بات ادب کی زبان سے کی جائے تو ہر کان خوشی سے قبول کر لے گا۔ کون سی بات کب، کہاں اور کیسے کہی جانی ہے، یہ سلیقہ اگر آ جائے تو ہر بات سنی جاتی ہے۔ اسی سلیقے کو سکھانے کے لیے ادب کی درسگاہوں کا قیام بہت ضروری ہے جہاں کتابوں کے حصار میں نئی سوچیں پروان چڑھیں۔ وہ لوگ جو انقلابِ زمانہ سے دل شکستہ ہو کر تصنیف کے راستے سے بھٹک گئے ہیں، ان کے اندر اعتماد و حوصلے بھرنے کے لیے سامعین اور اسٹیج کا ماحول مہیا کیا جائے۔

    دل کا درد لفظ و لہجے میں اتار کر کانوں میں انڈیل دیجئے، تحریک جنم لے لے گی۔ اس طرح لکھیں کہ لوگوں کی بولتی چالتی، چلتی پھرتی زندگیوں کی تصویریں سامنے آن کھڑی ہوں اور وہ اپنے عیب آپ دیکھ کر خود ہی اصلاح کر لیں۔

    برج بھاشا سے نکلی آٹھ سو سال سے زائد عمر کی یہ اردو زبان کتنے ذہن اور کتنے زمانے دیکھتی آ رہی ہے۔ اس کے پاس کیا کیا داستانیں، حالات و واقعات ہیں، انہیں بیان کرنے کے لیے اسے تذکرہ نگاروں کی ضرورت ہے جو گزرے اور آنے والے وقت کے عکس موجودہ دور میں دکھانے کی خاصیت رکھتے ہوں۔ آپس میں ہی ایک دوسرے کو قبول نہ کرنے والے ذہنی غربت میں مبتلا معاشرے کے پتھر دلوں کو کھود کر حسنِ سلوک کے ہیرے، موتی، جواہرات نکالنے کے لیے ادب نے آسان طریقے بتا دیے ہیں۔ ادب کی ہر کتاب و تحریر وہ گٹھلی ہے جو روح میں مٹھاس بھرنے والے لذیذ میوے کی خبر دیتی ہے۔

    ادب روح پر پڑے بدبودار غرور و تکبر کے لباس اتروا کر فقیری و درویشی کے خوشبودار ٹاٹ پہناتا ہے۔ جہاں جہالت انسانی ذہن کو اپنی ہی ذات کی قید میں جکڑے رکھتی ہے، وہاں ادب شعور کی رہائی لے کر ضمیر کے جج کے سامنے ہر وقت حاضر رہتا ہے۔ ادب وہ زبانِ الٰہی ہے جسے بولنے والوں نے انسانیت کی معراج پائی۔ اسی لیے ہر اچھی بات کو صدقے کا مقام حاصل ہے۔ ادب کی پاکیزہ زبان، گفتگو کی مہک سے معاشرے کے ذہنوں کو معطر کرتی ہے۔ اسی لیے ہر انسان کی قیمت کو اس کی زبان تلے رکھ دیا گیا ہے۔ گنہگار سے گنہگار لوگوں نے بھی اپنی باتوں کو ادب کا آبِ حیات پلا کر اپنے بعد بھی اپنے تذکرے چھوڑ دیے۔ کسی کی بات کو اپنی بات بنا کر پیش کرنا غیر معمولی مقام تو نہیں ہے، انبیاء اکرام نے جس طرح آسمانی علوم پر مذہب کے چوکیدار بن کر اپنے عمل کے ذریعے ملاوٹ سے پاک رکھ کر آنے والی نسلوں کو سونپا، اس سے وہ انسانیت کے جہان میں ہمیشہ کے لیے باقی رہ گئے۔

    پھر جس طرح فقیری درویشی مزاج کے لکھاریوں نے آسمانی علوم کو زمین پر اس طرح بکھیرا کہ ہر مذہب کا انسان متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔ انسانیت کو جوڑنے کے لیے ادب کا یہ کرشمہ کسی دلیل کا محتاج نہیں۔ اسی لیے اسلام کے ترجمانوں نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ یہ نہ دیکھو کون کہہ رہا ہے، یہ دیکھو کیا کہہ رہا ہے تاکہ تم حق سے متفق رہنے والوں میں شمار رہو۔ ادب آتش بیانی کی مخالفت کرکے اپنی بات دھیمے اور شیریں لہجے میں دلیل کی پلیٹ میں رکھ کر اس طرح پیش کرتا ہے کہ سننے والا تمہارا ہو جائے۔ خدا کی قدرت کہوں یا معاشرے کے حسن کی ذمہ داری نہ لینے والوں کی کمزوری، کہ یہاں جو لونڈی ہے وہ رانی بن بیٹھی ہے اور رانی منہ چھپائے کونے میں بیٹھی ہے۔ زبان کا اثر زبان پر دوڑنا شروع ہو جائے گا۔ آپ اپنی زبان میں ہی سہی، علوم ادب کے کتب خانے بڑھائیں، فنون کے کارخانے چلائیں، ایجاد کی ٹہنی پہ ظرافت کے پھول کھلائیں تاکہ نئی نسلیں باوقار انسانیت کا گلشن تشکیل دے سکیں۔