Baaghi TV

Category: بلاگ

  • جب مظلوم کی آہ عرش سے ٹکرائے گی—عبداللہ قمرکا بلاگ

    جب مظلوم کی آہ عرش سے ٹکرائے گی—عبداللہ قمرکا بلاگ

    پنجاب پولیس انسانیت کی ساری حدیں پار کر چکی ہے. گزشتہ دنوں ذہنی طور پر معذور شخص کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا. اتنا بدترین تشدد کے دیکھنے بعد لوگ تلملا اٹھے. اس کے جسم پر جگہ جگی تشدد کے نشات تھے، جسم کو نوچا گیا تھا، ڈاکٹرز کی آراء کے مطابق استری وغیرہ سے جلایا بھی گیا تھا. ذہنی طور پر معذور شخص پولیس اہلکاروں کو خدا کا واسطہ بھی دیتا رہا اور رحم کی بھیک بھی مانگتا رہا. مگر پولیس اپنے روایتی رویے کے مطابق اس پر تشدد کرتی رہی. پولیس نے صلاح الدین کے ساتھ وہ رویہ جو کسی غدار یا جنگی قیدی کے ساتھ بھی نہیں رکھا جاتا. پولیس نے صلاح الدین کے والدین کو بتانا بھی مناسب نہ سمجھا. بہرکیف، صلاح الدین پولیس کی حراست میں دم توڑ گیا. اس کے بعد صلاح الدین کے والدین کو اس کی. موت کی اطلاع دیے بغیر پوسٹ مارٹم کروا دیا گیا. اور پوسٹ مارٹم میں موت کی وجہ دل کا دورہ بتایا گیا اور پوسٹ مارٹم بورڈ کے ڈاکٹرز نے کہا کہ صلاح الدین پر کوئی تشدد نہیں کیا گیا.
    ڈی پی او رحیم یار خان نے بھی چاہتے نہ چاہتے ہوئے یہ بات کہہ دی کہ صلاح الدین پر کوئی تشدد نہیں ہوا. آر پی او بہاولپور نے بھی بڑی ڈھٹائی سے یہ بات کہہ ڈالی. مجھے ایک سمجھ نہیں آتی پولیس آفیسرز ہونے کہ باجود انہیں اس بات کا ادراک کیوں نہ تھا کہ "صلاح الدین پر تشدد نہیں ہوا” یہ بیان عوام بری طرح مسترد کر دیں گے. سوشل میڈیا وہ ویڈیوز اور تصاویر مکمل طور پر وائرل ہو چکی ہیں جن واضح طور ہر دیکھا جا سکتا ہے کہ صلاح الدین کو بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے. پولیس کے تشدد نہ کرنے کے دعوے پر سب سے بڑا سوال وہ FIR ہے جو صلاح الدین کے والد کی درخواست پر دی گئی ہے جس میں متعلقہ پولیس اہلکاروں جن میں DSP اور SHO کے نام بھی شامل ہیں. اس FiR میں پولیس اہلکاروں کو دفعہ 302 کے تحت چارج کیا گیا ہے جو قتل کی دفعہ ہے. اب سوال یہ ہے کہ اگر پولیس نے تشدد نہیں کیا تو کس طرح ممکن تھا کہ پولیس وہ FIR ہونے دیتی. خیر اب وزیراعلیٰ پنجاب کے حکم پر متعلقہ پولیس اہلکاروں کو معطل کر دیا ہے. مگر ابھی تک اس کیس میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئ ہے. اور نا ہی کسی حکومتی نمائندے نے صلاح الدین کے خاندان کو اعتماد میں لینے اور انصاف کی امید دلانے کی کوشش کی ہے. انہیں عمران خان یا عثمان بزدار سے ذیادہ تو اپنے وکلاء اسامہ خاور اور حسن نیازی سے انصاف دلانے کی امید ہے.

    ابھی قوم اس معاملے کو لے کر غم و غصے کا اظہار کر رہی تھی کہ اگلے ہی روز لاہور میں بھی اسی نوعیت کا واقعہ ہو گیا. لاہور میں پولیس اہلکاروں کے تشدد کی تاب نہ لاتے ہوئے ایک ملزم دم توڑ گیا.
    ااس واقعے کو بھی ابھی ایک ہی دن گزرا ہے کہ آج لاہور ایک باوردی پولیس والا ایک بوڑی اماں سے بدتمیزی کر رہا ہے بلکہ اس کی تذلیل کر رہا ہے. کیا وہ بوڑھی اماں پولیس کا یہ رویہ دیکھنے کے لیے ٹیکس دیتی ہے. کیا پولیس اس طرح لوگوں کی جان و مال اور عزت کا دفاع کرتی ہے. یہ واقعات صرف تین سے چار دن کے اندر ہوئے ہیں. ماضی بھی ایسے واقعات سے بھرا ہوا ہے. ہم کیا کریں گے دہشتگردوں کو اس ملک سے بھگا کر جب ہمارے عوام کے لیے پولیس بھی خطرہ ہے. لوگ پولیس سے ڈرتے ہیں کیونکہ یہ تھانہ کلچر لوگوں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے تباہ کر دیتا ہے.

    پولیس کے اس رویے کے نتیجے میں بننے والے ماحول کا سب سے ذیادہ نقصان عمران خان کو ہو گا. عمران خان صاحب اگر آپ کو خبریں صرف TV سے ہی. ملتے رہیں تو دو سالوں کے اندر اندر آہ کی باییس سال محنت ضائع ہو جائے گی. وزیراعلیٰ پنجاب اور وزیر اعظم پاکستان دونوں اس معاملے پر چپ ہیں. اور ان عہدوں پر ہونے باوجود چپ رہنا ظالم کا ساتھ دینے کے مترادف ہے. آپ کو کیا لگتا جب عرش والے زمین ذہنی طور پر معذور صلاح الدین کے ساتھ ظلم ہوتے دیکھا ہو گا تو اسے ترس نا آیا ہو گا..؟ جب عرش والے رب بوڑھی اماں ذلیل ہوتے دیکھا ہو گا تو اسے ترس نا آیا ہو گا..؟ لہٰذا حکومت کو چاہیے کہ فوری طور پر پولیس ریفامز کی طرف توجہ دے. اور پولیس کو باقاعدہ نوٹیفکیشن ایشو کیا جائے کہ وہ شہریوں کے ساتھ اخلاقیات دائرے کے اندر رہتے ہوئے بات کرے تاکہ لوگ ظالم کے سامنے اپنی بے بسی پر رونے کی بجائے اپنی شکایت لے کر پولیس کے پاس جائیں.

    ایک بات یاد رکھیں مظلوم کی آہ میں اور رب کے عرش کے درمیان کویی پردہ نہیں ہوتا. اور جب مظلوم آہ رب کے عرش سے ٹکرائے گی تو یقیناً ظلم کرنے والے کو اس کی قیمت ادا کرنی پڑے گی. جس کا ایک مظہر آپ دیکھ سکتے ہیں کہ صلاح الدین کسی بہت با اثر باپ بیٹا یا کسی بڑی یونیورسٹی کا سٹوڈنٹ نہیں تھا بلکہ وہ تو ذہنی طور پر بھی معذور تھا اور نہ ہی اس کا خاندان بہت ذیادہ پڑھا لکھا ہے کہ وہ میڈیا اور قانون کی باتوں سمجھتے ہوں مگر سوشل میڈیا صلاح الدین کے ورثا کی آواز بن چکا ہے. ہر بلیٹن میں صلاح الدین کا تذکرہ ہو رہا ہے اور انصاف کی اپیل کی جا رہی ہے. ٹوئیٹر پر ایک یا دو نہیں بلکہ صلاح الدین کے لیے تین ٹرینڈز پینل پر آ چکے ہیں. اگر ٹکینکلی دیکھا جائے ان ایام میں جب میڈیا پر کئی قومی اور بین الاقوامی ایشوز چل رہے ہیں paid campaigns بھی اتنی وائرل نہیں ہو سکتی تھیں. مگر یہ اس مظلوم آہ ہے پورا پولیس ڈیپارٹمنٹ سر جوڑ کر بیٹھا ہے.
    تحریرازعبداللہ قمر

  • پیار نہیں مار : استاد جلاد بن گیا، میٹرک کے طالبعلم کی جان لے لی

    پیار نہیں مار : استاد جلاد بن گیا، میٹرک کے طالبعلم کی جان لے لی

    لاہور : پہلے یہ نعرہ رواج پا گیا کہ مار نہیں پیار مگر اب معاملات الٹ چل رہے ہیں ، عقل سے عاری استاد نے اس نعرے کو پیار نہیں مار میں بدل دیا ، اطلاعات کے مطابق روحانی باپ جلاد بن گیا، امریکن لائسٹف سکول گلشن راوی برانچ کے استاد نے سبق یاد نہ کرنے پر دسویں جماعت کے طالبعلم کی جان لے لی۔

    پولیس کے مطابق امریکن لائسٹف سکول گلشن راوی برانچ کے استاد نے سبق یاد نہ کرنے پر دسویں جماعت کے طالبعلم کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا، طالبعلم پر لاتوں گھونسوں کی بارش کی، طالبعلم کا سر دیوار سے دے مارا جس سے طالبعلم کی حالت غیر ہوگئی، حالت غیر ہونے پر طالبعلم کو ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا

    ذرائع کے مطابق وزیر تعلیم ڈاکٹر مراد راس نے پرائیویٹ سکول میں بچے کی ہلاکت پر نوٹس لیتے ہوئے سی ای او ایجوکیشن کو واقعے کے ذمہ دار وں کیخلاف کارروائی کی ہدایت کردی۔

    ڈاکٹر مراد راس کا کہنا ہے کہ بچے کی ہلاکت کا معاملہ انتہائی تکلیف دہ اور افسوسناک ہے، پولیس نے موقع پر پہنچ کرٹیچر کامران کو حراست میں لےلیا۔ذمہ دار ٹیچر کو منتقی انجام تک پہنچائیں گے

  • صلاح الدین کا عالم برزخ سے سکائپ پر وزیراعظم سے رابطہ —- فردوس جمال

    صلاح الدین کا عالم برزخ سے سکائپ پر وزیراعظم سے رابطہ —- فردوس جمال

    صلاح الدین :ہیلو خان صاحب !
    آپ قطر سے واپس آ گئے ہیں؟
    خان صاحب: ہاں صلاح الدین میں واپس آ چکا ہوں.
    صلاح الدین: مدنی ریاست کے امیر المؤمنین میرے بہیمانہ قتل کی کچھ خبر بھی ہوئی آپ کو؟
    خان صاحب:جی صلاح الدین مجھے ٹی وی کے ذریعے معلوم ہوا.

    صلاح الدین:یا امیر المومنین میرے قاتل معلوم ہیں مگر آزاد گھوم رہے ہیں.
    خان صاحب: دیکھو صلاح الدین ابھی خزانہ خالی ہے.
    صلاح الدین: یا امیر المومنین والمؤمنات خزانہ خالی ہونے سے میرے قتل کا تعلق ؟
    خان صاحب:سنو صلاح الدین میں جب کرکٹ کھیلتا تھا میں نے دو چیزیں سیکھی ہیں ایک کیچ کو ہمیشہ مس کرنا اور دوسری مس کو ہمیشہ کیچ کرنا.

    صلاح الدین:یا امیر المؤمنین والمؤمنات ان ظالموں نے میرے جسم کو استری سے جلایا،میرے نازک اعضاء پہ بجلی کے کرنٹ لگائے،میرے جلد کو اکھیڑا مجھ پر تشدد کے پہاڑ توڑے میں نے کیا بگاڑا تھا ان کا ؟
    خان صاحب:صلاح الدین تم سمجھنے کی کوشش کرو دو نیو کلیر ممالک کے درمیان جنگ پاگل پن ہے جیت کسی کی بھی نہیں ہوتی ہے.

    صلاح الدین:یا امیر المومنین والمؤمنات آپ کی پارٹی کا نام انصاف،نعرہ انصاف مگر مجھے کب انصاف ملے گا؟

    خان صاحب:صلاح الدین ملک میں ظلم دیکھ کر میں بشری بی بی سے کہتا ہوں کہ دیکھو بشری کتنا ظلم ہو رہا ہے تو وہ کہتی ہیں آپ وزیر اعظم ہیں،پھر مجھے یاد آتا ہے کہ میں وزیر اعظم ہوں.

    صلاح الدین:یا امیر المومنین و المؤمنات مجھے اگر انصاف نہ ملا تو کل اللہ مالک الملوک کی عدالت میں میرا ہاتھ اور آپ کا گریبان ہوگا.
    خان صاحب : دیکھو صلاح الدین عثمان بزدار کوئی بڑی ٹوپی لمبے بوٹ نہیں پہنتا وہ سادہ آدمی ہے اس کے گھر میٹر نہیں لگا ہے.

    صلاح الدین :(کال کاٹتا ہے،منہ چڑاتا ہے،اس نظام پر،حکمران پر اور اس ڈھکوسلے انصاف پر تھو کرتا ہے)

  • امریکہ سے ملنے والے اپاچی ہیلی کاپٹر پٹھان کوٹ تعینات کردیئے گئے

    امریکہ سے ملنے والے اپاچی ہیلی کاپٹر پٹھان کوٹ تعینات کردیئے گئے

    بھارتی فضائیہ نے امریکا کے آٹھ فوجی ہیلی کاپٹروں کو پاکستان کے ساتھ ملحقہ سرحدوں کے قریب تعینات کردیا ہے۔بھارت کے ایئرچیف مارشل بریندر سنگھ دھانوا نے کہا ہے کہ ہندوستانی فضائیہ نے اے ایچ چونسٹھ اپاچی ہیلی کاپٹروں کو پٹھان کوٹ ایئر بیس پر تعینات کردیا ہے۔

    بھارتی ائیر چیف نے کہا یہ ہیلی کاپٹر ٹینک شکن گائیڈڈ میزائل کو لوڈ اور انہیں فائرکرنے کی صلاحیت کے ساتھ ساتھ فضا سے فضا میں مارکرنے والے میزائل کو فائر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور الیکٹرانیک وار فی‍ئر میں بھی ان کا بہت اچھے انداز میں استعمال ہوتے ہیں۔ ہندوستانی فضائیہ میں امریکا کے اپاچی ہیلی کا پٹر کو روس کے قدیمی ہیلی کاپٹر میل ٹوئنٹی فائیو کی جگہ شامل کیا گیا ہے۔

  • کشمیر اور کشمریوں کی حمایت پر بلاک ٹوئٹر اکاؤنٹس بحال ہونا شروع ہوگئے

    کشمیر اور کشمریوں کی حمایت پر بلاک ٹوئٹر اکاؤنٹس بحال ہونا شروع ہوگئے

    اسلام آباد:حکومت پاکستان کی طرف سے سخت دباو پر مقبوضہ کشمیر سے متعلق ٹوئٹس پر پاکستانیوں کے بند ہونے والے ٹوئٹر اکاؤنٹس بحال ہونا شروع ہو گئے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر نے مقبوضہ کشمیر سے متعلق بھارتی مظالم بے نقاب کرنے کے لیے کیے گئے ٹوئٹس پر 333 پاکستانیوں کے اکاؤنٹس بلاک کر دیے تھے۔

    کشمیریوں کی حمایت پر بولنے پر بھارت کی جانب سے صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی، سینیٹر رحمان ملک، وفاقی وزیر مراد سعید کے خلاف بھی شکایت کی گئی تھیں تاہم ٹوئٹر انتظامیہ نے ان رہنماؤں کے اکاؤنٹس بلاک کرنے سے معذرت کر لی تھی۔

    پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی (پی ٹی اے) کی مداخلت پر ٹوئٹر انتظامیہ نے بلاک کیے گئے اکاؤنٹس بحال کرنا شروع کر دیے ہیں اور اب تک 67 اکاؤنٹس بحال کر دیے گئے ہیں جبکہ دیگر اکاؤنٹس کی بحالی کے لیے بھی بات چیت جاری ہے۔

    دوسری طرف پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی کا کہنا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے حق میں مواد شیئر کرنے پر ٹوئٹر اکاؤنٹ صارفین شکایات کی صورت میں پی ٹی اے سے رابطہ کریں۔

  • عالمی یوم حجاب کشمیریوں کے نام : علی چاند

    عالمی یوم حجاب کشمیریوں کے نام : علی چاند

    آج پوری دنیا میں عالمی یوم حجاب منایا جا رہا ہے ۔ اس دن کے منانے کا مقصد یہ ہے کہ عورت کی عزت و عظمت کا حق اسے مکمل طور پر دیا جاٸے ۔ عورت کو محض ایک اشتہار نا سمجھا جاٸے بلکہ عورت جس کا نام ہی پردہ ہے اسے مکمل عزت س نوازا جاٸے اس کی آبرو کا خیال رکھا جاٸے ۔ عالمی یوم حجاب منانے کا مقصد یہی ہے کہ جن ممالک میں مسلمان عورتوں کے حجاب پر پابندی ہے وہاں عورت کو اس کے حجاب کا حق دیا جاٸے ۔ اور جو عورتیں پردے کو بوجھ سمجھتی ہیں ان میں یہ شعور اجاگر کیا جاٸے کہ حجاب ان پر کوٸی مصیبت نہیں بلکہ یہ اللہ کا حکم ہے اور عورت کو تحفظ فراہم کرنے کا بہترین ذریعہ ہے ۔

    پاکستانی خواتین نے یہ عالمی یوم حجاب کشمیری خواتین کے نام کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ یہ دن کشمیری خواتین کے نام کرنے کا مقصد یہ ہے کہ دنیا کی توجہ اس طرف دلاٸی جاٸے کہ انڈین آرمی کشمیری نے مظلوم خواتین کی عصمت دھری بند کرے اور کشمیری خواتین کے پردے کا خیال رکھا جاٸے اور ان کی عزتوں کو تحفظ فراہم کیا جاٸے ۔ یہ حقیقت ہے کہ دنیا کی ایک کم ظرف اور گھٹیا قوم جب دوسری کسی قوم پر قبضہ کرتی ہے تو پھر وہ دیگر لوٹ مار کے ساتھ ساتھ اس مقبوضہ قوم کی خواتین کی عزتیں لوٹنا قابل فخر کام سمجھتی ہیں ۔ ایسی کم ظرف قوموں میں سے ایک قوم بھارت بھی ہے ۔ جس نے زبردستی مسلمان کشمیریوں پر قبضہ کر کے وہاں کی مجبور و بے بس خواتین کو اپنی درندگی کا نشانہ بنا رکھا ہے ۔ عالمی یوم حجاب کو کشمیریوں کے نام کرنے کا مقصد یہی ہے کہ دنیا کشمیری خواتین کو تحفظ دینے کی کوشش کرے اور بھارت پر دباٶ ڈالے کے وہ کشمیری خواتین کی عزت و آبرو کا خیال رکھیں ۔

    اس دن کامقصد یہ بھی ہے کہ کشمیر کی جو بہادر خواتین پردے میں رہتے ہوٸے اپنی آزادی کا حق لینے کے لیے دشمن کے سامنے سینہ سپر ہیں انہیں ان کا حق دیا جاٸے ۔ کشمیر کی جو خواتین بھارتی کے ظلم و ستم کے خلاف آواز بلند کرنے میں پیش پیش ہیں ان میں ایک اہم نام محترمہ آسیہ اندرابی ہیں ۔

    اس کے علاوہ کشمیری خواتین چاہے ان کا تعلق سٹوڈینٹس سے ہو یا عام گھریلو خواتین سے وہ اپنے پردے میں رہتے ہوٸے بھارتی ظلم و ستم کا مقابلہ کر رہی ہیں ۔ پردے میں رہتے ہوٸے انڈین فوج کی گولی کا جواب پتھر سے دے رہی ہیں ۔ یہ دن کشمیری خواتین کے نام کرنے کا مقصد یہ بھی ہے کہ تمام مسلمان حکمرانوں کو جھنجھوڑا جا سکے کہ وہ اپنی مسلم بیٹیوں کے تحفظ کے لیے آگے بڑھیں اور ملی غیرت کا ثبوت دیں ۔
    اللہ پاک ہماری مسلمان بہنوں کے پردے سلامت رکھے ۔ آمین

  • پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان، تحریر: محمد فہد شیروانی

    پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان، تحریر: محمد فہد شیروانی

    پاکستان پیپلز پارٹی پاکستان کی سب سے پرانی سیاسی تاریخ رکھنے والی واحد جماعت ہے جس میں پاکستان بھی ہے اور عوام بھی ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد پاکستان کے عظیم سیاسی لیڈر شہید ذوالفقار علی بھٹو نے 1967 میں رکھی۔ ابتدا ہی سے پاکستان پیپلز پارٹی کو عوام کی جانب سے بے حد پذیرائی ملی اور اس کے لیڈر ذوالفقار علی بھٹو اپنی تعمیری مثبت سوچ اور شعلہ بیانی کے باعث پاکستان بھر کی عوام کے دل میں گھر کر گئے۔
    راقم نے پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما اور ممبر قومی اسمبلی محترمہ شاہدہ رحمانی صاحبہ سے پاکستان پیپلز پارٹی کی پاکستان میں خدمات کے حوالے سے خصوصی گفتگو کی۔ شاہدہ رحمانی کا کہنا ہے کہ ایک مخصوص گروہ ہمیشہ سے ہی پاکستان پیپلز پارٹی کو بلاوجہ تنقید کا نشانہ بناتا آ رہا ہے جو کہ حقائق کے بالکل برعکس ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے ہمیشہ ملک اور عوام کی خدمت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے پاکستان کے لئے نا قابل فراموش خدمات سر انجام دی ہیں۔ جب ان سے پاکستان پیپلز پارٹی کی ابتداء سے لے کر آج تک کی خدمات کے بارے سوال کیاگیا تو انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کی پاکستان کے لئے خدمات کی مندرجہ ذیل تفصیل بتائی ہے۔
    پیپلزپارٹی نے اپنے ٹوٹل 14 سالہ دور حکومت میں پاکستان کو.اور پاکستانی عوام کو کیا کیا دیا، اس کو تاریخ کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔

    ایٹم بم دیا،
    آئین دیا،
    نوے ہزار قیدی فوجی انڈیا سے چھڑا کر دیے،
    قادیانیوں کا مسلہ حل کیا،
    چین کو تیسری دنیا میں متعارف کرایا،
    اسے ویٹو پاور بنایا،
    ریلوے، سٹیل مل، ایف آئی اے، کے تحفےدیے،
    قائد اعظم یونیورسٹی دی،
    گومل یونیورسٹی دی،
    زوالفقار علی بھٹو یونیورسٹی دی،
    پاکستان کا پہلا لا کالج اور یونیورسٹی دی،
    کے پی کے میں پانچ یونیورسٹیاں دیں،
    امریکی صدر سے معافی منگوائی،
    چھ ماہ نیٹو سپلائی بند رکھی،
    بینظر انکم سپورٹ ادارہ بنایا،
    واہ کینٹ میں واہ ہیوی انڈسڑی بنائی،
    کہوٹہ اٹامک پلانٹ بنایا،
    چین، انڈیا، ایران سے اپنا ہزاروں میل رقبہ واپس لیا،
    بہترین خارجہ پالیسی دی،
    اسلامی سربراہی کانفرنس میں امت مسلمہ کو متحد کیا
    خواتین کو ووٹ کا حق دیا،
    روس کے ساتھ تعلقات کو استوار کیا اور پاکستان کو امریکی تسلط سے نکالا، (1974 میں بھی اور 2010 میں بھی)
    شناختی کارڈ دے کر پہچان دی،
    سب سے بڑی یونیورسٹی علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی بنائی۔
    سب سے بڑی مسجد شاہ فیصل مسجد بنائی
    میزائل ٹیکنالوجی دی،
    کشمیر کی جنگ ساری دنیا میں لڑی،
    سی پیک دیا،
    گوادر پورٹ دی،
    اٹھارویں ترمیم دی،
    پاک ایران گیس پائپ لائن دی،
    امریکی اڈے خالی کرائے،
    سوات میں امن قائم کیا،
    صوبوں کو انکا حق اور پہچان دی،
    سب سے بڑھ خون بہا کر جمہوریت دی،
    بلوچوں کو عام معافی دے کر قومی دھارے میں شامل کیا، جس وجہ سے سردار اختر مینگل اب ملکی سیاست کا حصہ بنے،
    دہشتگردوں اور دہشتگرد جماعتوں کی سرعام مذمت کی، نام لے کر للکارا اور شہادتیں دی،
    تنخوائیں سو فیصد بڑھائیں،
    سعودی عرب اور ایران دونوں طرف پاکستان کا توازن برابر رکھا، ثالثی کا کردار ادا کیا،
    دنیا کے سامنے پاکستان کا موقف جارحانہ انداز میں دلیری سے پیش کیا،
    بہاولپور اسلامیہ یونیورسٹی، اور ملتان یونیورسٹیاں دیں، پارٹی کے مخلص لوگوں کو وزیر اعظم بنایا
    مڈل کلاس فیملی کے لوگوں کو سندھ کا وزیر اعلی بنایا،
    سندھ میں تقریباً 20 یونیورسٹیز بنائیں
    دریاء سندھ پر 5 بڑے پل بنائے

    سب سے اہم بات کہ سندھ میں دل کے 8 نئے جدید NICVD ہسپتال بنائے جہاں لاکھوں روپے کا علاج مفت ہوتا ہے
    پہلی بار چھوٹے صوبوں کو متفقہ این ایف سی ایوارڈ دیا
    2 بوائز اور 2 گرلز کیڈٹ کالجز دیئے
    سندھ کے ساتھ پاکستان کے ثقافتی مراکز پر کام کیا
    ہوا سے بجلی بنانے والی ونڈ مل لگائی
    پاکستان کی پہلی شاہ لطیف صوفی یونیورسٹی بنائی جہاں صوفیوں اور اولیاء کرام کے بارے میں تحقیق پر کام کیا جا رہا ہے
    ہندو کمیونٹی کے لیئے آسانی پیدا کی کہ ان کے نکاح نامے / شادیوں کو قانونی شکل دی اور وہ رجسٹر ہونے لگے۔
    زمینی حقائق کے تناظر میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ان احسن اقدامات اور خدمات سے کوئی ذی شعور انحراف نہیں کر سکتا۔ امید کرتے ہیں کہ پاکستان پیپلز پارٹی اپنے چئیرمین بلاول بھٹو ذرداری صاحب کی لیڈر شپ میں پاکستان اور پاکستان کی عوام کی خدمات کے مشن کو ایسے ہی جاری ساری رکھے گی۔

  • ‏بزدار ہٹاٶ پنجاب بچاٶ: علی چاند

    ‏بزدار ہٹاٶ پنجاب بچاٶ: علی چاند

    کل سوشل میڈیا پر سارا دن ایک ٹرینڈ چلتا رہا کہ ” بزدار ہٹاٶ پنجاب بچاٶ ” ۔ یہ ٹرینڈ Pti کارکنان کی طرف سے شروع کیا گیا تھا ۔ اور اس میں لوگوں نے وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار پر کافی غم و غصہ کا اظہار کیا ہے اور وزیر اعظم عمران خان سے اپیل کی ہے کہ وہ عثمان بزدار کو وزیر اعلی پنجاب کے عہدے سے ہٹاٸیں اور ان کی جگہ کسی اور تجربہ کار شخصیت کے ہاتھ میں پنجاب کی وزارت اعلی دی جاٸے ۔ اس ٹرینڈ میں باقی پارٹیوں کی طرح pti کارکنان نے بھی بھرپور حصہ لیا ۔ اس ٹرینڈ کی خاص وجہ پنجاب پولیس کے ہاتھوں ایک ذہنی مریض صلاح الدین کی درد ناک موت ہے ۔ صلاح الدین جو کہ ذہنی معذور تھا ۔ اس نے ایک atm مشین توڑی تھی جس کے بدلے دوران تفتیش پنجاب پولیس نے صلاح الدین کو تشدد کا نشانہ بناتے ہوٸے موت کے گھاٹ اتار دیا ۔ صلاح الدین کی جسمانی حالت سے صاف پتہ چل رہا تھا کہ اسے دوران تفتیش کس اذیت سے گزار کر موت کے گھاٹ اتارا گیا ہے ۔ لوگ جو پہلے ہی پنجاب پولیس کی کاروٸیوں سے غیر مطمن تھے انہوں نے وزیر اعلی پنجاب سے استعفی کا مطالبہ کر دیا ہے ۔ لوگوں کا کہنا تھا کہ ہم نے pti کو ووٹ اس لیے دٸیے تھے تاکہ ہمارے ادارے راہ راست پر آ سکیں ۔ لوگوں نے وزیر اعظم عمران خان سے اپیل کی ہے کہ وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار پنجاب میں کسی ادارے کو بہتر نہیں بنا سکے خاص طور پر پولیس کے ادارے میں کوٸی بھی اچھی تبدیلی دیکھنے کو نہیں ملی لہذا وزیر اعلی عثمان بزدار کو ان کی وزارت سے فوری طور پر مستعفی کیا جاٸے ۔ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ تمام اداروں خاص طور پر پنجاب پولیس کی آج بھی وہی کارکردگی ہے جو سابقہ حکومتوں میں تھیں ۔ ساہیوال واقعہ اور اب صلاح الدین کی موت کو لے کر لوگوں میں کافی بے چینی پاٸی جارہی ہے کیونکہ لوگ اس بات کے منتظر تھے کہ وزیر اعظم عمران خاں ان تمام اداروں میں اصلاحات کر کے عوام کی زندگیاں آسان بنا دیں گے ۔ لیکن اب لوگوں کا کہنا ہے کہ ساہیوال واقعہ اور صلاح الدین کے ساتھ وہی کچھ ہوا ہے جو ماڈل ٹاٶن میں لوگوں کے ساتھ ہوا تھا ۔ نا اس وقت کی حکومت نے ایسے پولیس والوں پر ہاتھ ڈالا اور نا ہی اب وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار نے اس حوالے سے کوٸی خاص کارکردگی دیکھاٸی ہے ۔

    pti کارکنان کا کہنا ہے کہ ہم وزیر اعظم عمران خاں سے آج بھی پر امید ہیں کہ وہ ملکی حالات کو ٹھیک کر دیں گے لیکن وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کی کارکردگی سے لوگ مایوس ہو چکے ہیں ۔ یہ ٹرینڈ بھی pti کارکنان کی جانب سے شروع کیا گیا تھا ۔ pti کارکنان کا یہ بھی کہنا تھاکہ ہم سابقہ حکومتوں کے کارکنان جیسے نہیں ہیں جو اپنی حکومت کے ہر غلط کام کو بھی سپورٹ کریں ۔ pti کارکنان کا کہنا ہے کہ ہم غلط کو غلط ضرور کہیں گے اور اس پر عمران خاں سے اپیل بھی کریں گے کہ وہ قابل لوگوں کو آگے لے کر آٸیں تاکہ ہمارا اگلا ووٹ بھی عمران خاں کو جاٸے ۔

    اس ٹرینڈ میں ایک بہت ہی کمال کا شعر دیکھنے کو ملا جس میں اس سارے نظام کی حقیقت کھول کر رکھ دی گٸی ہے

    جو میری آنکھوں نے دیکھا لوگو !! اگر بتادوں تو کیا کرو گے
    جو سُن رہے ہو وہ کچھ نہیں ہے!میں سب سُنا دوں تو کیا کرو گے

    اے گونگو !بہرو !جیو گے کب تک زمیں کے سینے پہ بوجھ بن کے
    میں سارے ناگوں کے سب ٹھکانے تمہیں بتا دوں تو کیا کرو گے

    اللہ پاک ہمارے پیارے وطن کو امن کا گہوارہ بناٸے اور شاد و آباد رکھے ۔ آمین

  • حجاب اپناؤ دین و دنیا بچاؤ تحریر: ساجدہ بٹ

    حجاب اپناؤ دین و دنیا بچاؤ تحریر: ساجدہ بٹ

    حجاب تو عزت و وقار دیتا ہے۔

    ہمارا دین اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جس میں زندگی کے سب اصول بتائیے گئے ہیں۔
    یوں تو ہر طرح کے موضوع پر مکمل علم عطا فرما دیا گیا۔
    لیکن آج کے دور میں بےحیائی اور عُریانی عام ہو رہی ہے۔آخر کیوں یہ ماجرا زیادہ عام ہو رہا ہے؟؟
    اس کی سب سے بڑی وجہ عورتوں کا بے پردہ ہونا ہے
    جب عورت ہر کسی پر حسن کے جلوے بکھیرے گی تو بے حیائی ہی جنم لے گی۔
    پتہ نہیں کیوں آج کی عورت پردے سے اتنا دور بھاگتی ہے۔
    حلانکہ اِس میں تو عورت کی عزت و وقار قائم رہتا ہے ایک طرف تو دین اسلام کی تعلیمات پر عمل درآمد ہورہا ہوتا ہے اور دوسری طرف دنیاوی لحاظ سے دیکھا جائے تو ہر کوئی ایسی عورت کی بہت قدر کرتا ہے۔ایسی عورت کو عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
    دوسری طرف ایسی عورت جو بے پردہ ہو لوگ اس کی بلکل بھی قدر نہیں کرتے ۔
    بلکہ شک و شبہ میں پڑ کر گھر سے نکال دیا جاتا ہے ۔یا پھر ویسے ہی اُن کی کوئی عزت نہیں رہتی ۔
    تو پھر کیوں نہ ہم لوگ حجاب کو اپنا کر دین اور دنیا دونوں محفوظ کریں۔

    اپنی اسلامی تعلیمات کا بغور مطالعہ کیا جائے تو یہ پردے کے احکام واضح طور پر بیان کیے گئے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث مبارکہ سے بے حد رہنمائی حاصل ہوتی ہے

    قرآنِ کریم میں اللّٰہ تعالیٰ نے واضح طور پر پردے کا حکم بھی نازل فرمایا اور ساتھ ہی ساتھ یہ تعلیمات بھی دی گئی کے آخر پردہ کیوں کیا جائے۔
    اس کی ضرورت کیا ہے۔
    اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا

    "آپ مومن عورتوں سے فرما دیں کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں”
    (سورۃ البقرہ)
    پھر اسی سورۃ البقرہ کی ایک اور آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا

    "اپنے سینوں پر اپنی اوڑھنیوں کے آنچل ڈالے رہیں ”
    پھر اس کے علاوہ وہ مرد جن سے زینت چھپانے کی پابندی نہیں اُن کے بارے میں بھی واضع تعلیمات دے دی گئی۔

    یعنی ان سب تعلیمات کے جاننے کے بعد معلوم ہوا کی پردے کی اسلام میں بہت اہمیت ہے ۔
    اسی طرح حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بے شمار تعلیمات پردے کے احکام کے بارے میں دیں
    حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔

    ایک دفعہ حضور کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی سے فرمایا
    غیر محرم عورت پر نظر پر نظر نہ جماؤ۔مسلسل دیکھتے نہ جاؤ جو نظر اچانک پڑ گئی وہ تو معاف ہے قصداً اگر غیر محرم پر نظر ڈالی تو یہ معاف نہیں۔

    اس طرح حضرت عائشہ صدیقہ کے اخیافی بھائی کی بیٹی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر آئیں تو رسول اللہ صلی علیہ وآلہ وسلم نے اپنا چہرہ دوسری طرف پھیر لیا جب آپ کو بتایا گیا کہ وہ حضرت عائشہ کی بھتجی ہیں تو آپ نے فرمایا جب عورت بالغ ہو جائے تو اس کے لیے حلال نہیں کے وہ اپنے منہ اور ہاتھ کے سوا جسم کا کوئی حصہ ظاہر کرے۔آپ نے ہاتھ کی حد بھی بیان فرمائی۔آپ نے اپنی کلائی پر ہاتھ رکھا۔آپ کی مٹھی و ہتھیلی کے درمیان صرف ایک مٹھی
    کی جگہ باقی تھی۔

    ہمارے پیارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کس طرح کھول کھول کر تمام تعلیمات واضع فرمائی تا کہ اُن کی اُمت مسلمہ کو کسی قسم کی پریشانی لاحق نا ہو۔
    لیکن افسوس کے ہم لوگ عمل کم کرتے ہیں ۔
    جب اللہ تعالٰی کی تعلیمات کی نا فرمانی کی جاتی ہے تو پھر اللہ تعالیٰ بھی انسان کو ذلت و رسوائی کی پستیوں میں گرا دیتے ہیں ۔جہاں صرف اندھیرا ہی اندھیرا چھا جاتا ہے اور کچھ نہ دکھائی دیتا ہے اور نا سمجھ عطا ہے

    درس قرآن کو گر ہم نے نہ بُھلایا ہوتا

    تو زمانے نے یہ زمانہ نہ دکھایا ہوتا۔

    آج کا معاشرہ بہت سی برائیوں سے بھرا ہوا ہے ۔جس میں سے سب سے زیادہ اہم ترین مسئلہ عورت کا بے پردہ ہونا ہے۔
    جو اصل فساد کی جڑ ہے۔بہت سی برائیاں بے پردگی کی وجہ سے پھیلتی ہیں

    لیکن اس معاشرے میں ایسی خواتین اور بیٹیاں بھی موجود ہیں جنہوں نے اپنی اسلامی تعلیمات کو اپنا کر معاشرے میں اہم مقام بھی حاصل کیا ہے ۔اور عزت و احترام کی نگاہ سے انہیں دیکھا جاتا ہے ۔
    میں ایسی بہنوں کو دل سے سلام کرتی ہوں۔

    حجاب پہننے والی لڑکی کی لوگ کتنی عزت کرتے ہیں ۔
    یہ میں اپنی آپ بیتی کہانی سناتی ہوں۔
    پہلے تو صرف کتابوں میں پڑھا یا سنا تھا کہ با پردہ اور حجاب پہننے والی لڑکی جو ہر طرح سے اپنے آپ کو محفوظ رکھے ہوئے با پردہ زندگی گزارے اُس کی عزت معاشرہ کرتا ۔
    لیکن میں نے اپنی آنکھوں سے ایسی لڑکی دیکھی جس کی ہر کوئی عزت کرتا ۔اُس کا ادب کرتا ۔
    میں خود اُسے دیکھ کر خدا کا شکر بھی ادا کرتی کہ ایسے بھی لوگ ہیں ابھی اس دنیا میں ۔
    وہ لڑکی میری کلاس فیلو تھی ۔میں چونکہ یونیورسٹی کی طالبہ ہوں ۔تو یہ تو سب کو معلوم ہے کہ وہاں لڑکے اور لڑکیاں اکھٹے تعلیم حاصل کرتے ہیں ۔اور یونیورسٹی کا ماحول کیسا ہوتا ہے اس سے بھی سب با خوبی واقف ہیں۔
    میں اپنی کلاس کی لڑکی جس کا نام رانی ہے ۔اُس کے حجاب کو سلام کرتی ہوں ۔وہ لڑکی ما شاء اللہ اپنے آپ کو مکمل نقاب میں رکھتی کبھی اُس کو کسی لڑکے نے تو کیا ہم لڑکیوں نے بھی نہیں دیکھا ۔ایسا پردہ سبحان اللہ۔
    صرف یہ نہیں کہ پردہ کیا بلکہ اس نے اس پردے کی لاج رکھی اپنے آپ کو ہر فتنے سے محفوظ رکھا ۔کبھی کسی کی غیبت نہیں کی ۔کسی سے جھگڑا نہیں کیا۔ کسی کو برا بھلا نہیں کہا ۔کسی سے کبھی فضول بات چیت نہیں کی۔
    اُس نے پردہ تو کیا ہی لیکن جو پردے کا احترام کیا میں کہتی ہوں میرے پاس الفاظ نہیں کے کیا لکھوں ۔
    سب سے بڑی بات تو یہ کے سب اُس کی اتنی قدر کرتے احترام کرتے ۔اساتذہ کرام بھی اُس لڑکی کی بہت عزت و احترام کرتے۔
    کلاس کے تمام طالب علم اُسے بہت عزت دیتے اور جب اُس کے بارے میں بات کرتے تو کہتے رانی بہت اچھی لڑکی ہے رانی شریف لڑکی ہے۔
    حلانکہ اُس با پردہ ہونے کے علاوہ شاید کوئی اور خاص خوبی نہیں تھی جیسے کلاس میں کوئی بہت ذہین طالب علم ہو تو چلو کہا جاتا ہے اس لیے کلاس میں اساتذہ کرام بھی عزت کرتے ہیں ۔لیکن وہ عام سی طالب علم ہونے کے باوجود حد درجہ قدر کی نگاہ سے دیکھی گئی ۔وہ واقعی ہی صرف نام کی رانی نہیں کردار کی رانی بھی ہے ۔
    اُس کی اتنی عزت کیوں کی جاتی تھی کیوں کوئی بھی اُس سے مل کے یہ نا کہتا کے لڑکیاں تو سب آج کل کی بری ہوتی ہیں ۔یہ بھی ایسی ہو گی ۔اُس خدا کی بندی نے خدا کے احکام کی پابندی کی حجاب کو اپنا اشار بنا لیا ۔
    اپنی دین اور دنیا دونوں سنوار رہی ہے۔اللہ تعالیٰ اُسے مزید عمل کی توفیق عطا فرمائے آمین۔
    میری اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ کو عمل کی توفیق عطا فرمائے اور با پردہ زندگی گزارنے کی توفیق دے۔
    اللہ تعالیٰ اُمت مسلمہ کی تمام ماؤں بہنوں بیٹیوں کو با پردہ رہنے اور اُس پردے کی لاج رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔
    اُمت مسلمہ کی تمام عورتیں ایسی ہو جائیں کے کوئی غیر مسلم دیکھے تو پہچان جائے کہ یہ مسلمان عورت ہے قابلِ احترام ہے۔ ہمارا کردار ایسا ہو کے کوئی ہمارے بارے میں غلط تصور بھی اپنے ذہن میں نا لائے ۔
    چلو آج ہم بھی عہد کریں مغربی تہذیب کو ٹھوکر مار کر اپنی اسلامی تعلیمات کا لبدا اوڑھ کر حجاب اپنا کر اپنی دین اور دنیا دونوں محفوظ کر لیں ۔

    ہیں تیز ہوائیں تہذیب کی لیکن

    ماتھے سے دوپٹہ کبھی اڑنے نہیں دوں گی۔

    ان شاء اللہ۔

  • بھارتی مسلمان بی جے پی کی خوشامد میں کیوں؟ — عزیر احمد نیو دہلی کا بلاگ

    ایک عجیب امر ہے, آج کل جس کو دیکھو وہی بی.جے.پی کی محبت میں سرشار ہے, کیا قائدین, کیا عوام, سب کو لگتا ہے کہ ابھی تک آر.ایس.ایس کی مخالفت بیکار میں کی گئی, اس سے اچھی, سلجھی, بہتر اور وطن پرست تنظیم بھلا اور کہاں, کل تو تک جو لوگ ببانگ دہل اسٹیجوں پر چیخ و پکار کیا کرتے تھے, وہ آج مخالفت کو ترک کرنے کے مشورے دیتے نظر آتے ہیں, اچھا, اچھی بات ہے, مخالفت ترک کردینی چاہئے, مذاکرت کی راہ اپنانی چاہئے, لیکن مذاکرات کرنے سے پہلے کیا کوئی اس بات کی ضمانت دے سکتا ہے کہ آر.ایس.ایس گوالکر کو اپنا رہنما اب تسلیم نہیں کرے گی؟ گوڈسے کے افکار و نظریات سے پلڑا جھاڑ لے گی؟ جن اصولوں پر آر.ایس.ایس قائم ہے اس سے سمجھوتہ کرلے گی؟

    شاید شکست خوردہ قوم اسی طرح ہوتی ہے, جسمانی شکست خوردگی ہوتی تو سنبھال بھی لیتے, ہم سب تو ذہنی شکست خوردگی کے شکار ہیں, اور یہ ذہنی شکست خوردگی بھی کیوں؟ کچھ لوگوں کے مفاد جڑے ہوئے ہیں, اسٹیبلشمنٹ کی مخالفت میں کھڑے ہوں گے تو ان کے مفادات کو نقصان پہونچنے کا اندیشہ ہے, ورنہ کیا وجہ ہے کہ ایک مہینے سے ایک اسٹیٹ کو جیل خانہ میں تبدیل کیا گیا ہے, مگر کوئی آواز سنائی بھی نہیں دیتی؟ آخر یہ ڈر کیسا ہے؟ ہزیمت زدہ لوگوں کی نفسیات انہیں Resistance سے روکتی ہے, حق کی حمایت اور ظلم کی مخالفت سے ڈراتی ہے, ایران توران کا معاملہ ہو تو بڑی بڑی باتیں کی جائیں, اور گھر میں ظلم ہو تو چپی سادھ لی جائے؟

    یہ بات ذہن نشین کرلیجئے, کہ آر.ایس.ایس کو آپ سے نہیں پرابلم ہے, اسے کوئی تکلیف نہیں, کیونکہ اسے معلوم ہے کہ ہندوستان میں جس طرح سے مسلمان بکھرے پڑے ہیں, انہیں ختم کیا جانا اس قدر آسان بھی نہیں, پھر وہ چاہتی کیا ہے؟؟ اقتدار نا؟ ہاں, اقتدار ہی, وہ بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے, وہ آپ کی مشارکت نہیں چاہتی, وہ آپ کو برابر کا شئیر نہیں دے سکتی, ہاں بطور ملازم اور نوکر آپ کو ضرور ہائر کرسکتی ہے, آپ کو کیرلا کا گورنر ضرور بنا سکتی ہے, مگر آپ کی حیثیت چپراسی سے بڑھ کر نہیں ہوسکتی, آپ اپنی قوم کی سوشل Upliftment کے لئے کچھ نہیں کرسکتے, اور اگر جمہوریت میں آپ کا شئیر ہی ختم ہوجائے تو پھر کیا پڑی ہے کہ آپ کو دشمن سمجھا جائے, یقین مانئے اگر آپ ہندو راشٹر کو تسلیم کرلیں یا پھر اس بات پر راضی ہوجائیں کہ حکومت ہمیشہ آر.ایس.ایس کی رہے گی تو آپ کو کبھی ستایا نہیں جائے گا, ساری لڑائی بس پاور کے لئے, جس دن آپ یہ تسلیم کرلیں گے, آپ کے اوپر سے ظلم و ستم بند کردیا جائے گا, مگر کیا پھر آپ اس وقت آزاد تصور کئے جاسکیں گے؟ کیا آپ کی حالت اس پنچھی کی طرح نہیں ہوگی جس کو دو وقت کا کھانا تو ضرور دیا جاتا ہے مگر وہ کھلی فضاؤں میں سانس نہیں لے سکتا, کیونکہ یا تو اس کے پر کتر دئیے گئے ہوتے ہیں, یا پھر وہ پنجرے میں بند ہوتا ہے.

    ہمیشہ تاریخ کے پنوں نے یہی دیکھا ہے کہ قوموں کی مغلوبیت کے ایام میں قوم فروشوں کی تعداد میں اضافہ ہوجاتا ہے, بکنے والے تھوک بھاؤ میں مارکیٹ میں نظر آنے لگتے ہیں, چند سکوں کے عوض قوم کے ان جانبازوں کو بھی گروی رکھ دیتے ہیں کہ جن سے قوم کا مستقبل وابستہ ہوتا ہے, ایسے ایسے لوگ میر و جعفر میں تبدیل ہوجاتے ہیں کہ جن کے بارے میں امید کی جاتی ہے کہ کم سے کم وہ تو سرفروشی کی راہ کو اختیار کریں گے, آج کل یہی ہورہا ہے, ہر کوئی بک رہا ہے, بی.جے.پی دام لگائے جارہی ہے, اور لوگ ردیوں کے بھاؤ بک رہے ہیں, اتنی تو کم اوقات نہیں تھی ان کی, مگر کیا ہی کرسکتے ہیں, جس طرح میڈیا کا کام ہوتا ہے اسٹیبلشمنٹ سے سوال پوچھنا, اسی طرح اقلیتوں کا بھی کام ہوتا ہے کہ اپنے اندر Resistance کو بھاؤنا کو جگانے رکھنا, اکثریت کے سامنے گھٹنے نہ ٹیک دینا, اپنی شناخت کو بچائے رکھنے کی ہر ممکنہ کوشش کرنا, کیونکہ ادھر جھکے, ادھر انہیں خوش کرنے کے لئے مندروں تک میں جھکنا پڑے گا, کیونکہ اصل گلہ تو آپ کی توحید پرستی سے ہی ہے, آپ کے محض ایک ہی دین کو صحیح سمجھنے سے ہی ہے.

    نادانوں سے کیا گلہ کرنا, گلہ تو ان سے ہے کہ جن کے بارے میں سوچا جاتا تھا کہ یہی راہ دکھانے والے لوگ ہیں, یہی ظلمت و تاریکی میں روشنی کی طرف لے جانے والے ہیں, کہ جب سب ساتھ چھوڑ جائیں گے تو بھی یہ پامردی دکھلائیں گے, یہ جھکیں گے نہیں, یہ ٹوٹیں گے نہیں, مگر وہی لوگ پالا بدل رہے ہیں, وقت سے پہلے ہی ان پر خوف اس طرح طاری ہے کہ کبھی کسی دربار میں حاضری دے رہے ہیں, کبھی کسی دربار میں, اور ان کی تعداد ہے کہ دن بدن بڑھتی ہی جارہی ہے, میری مراد اکیڈمیشینز ہیں, پڑھے لکھے لوگ ہیں, کہ جن میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو مدرسوں سے پڑھے ہیں اور عصری تعلیم یافتہ بھی ہیں, کہ جن کا فیلڈ اردو, عربی, اسلامیات یا دیگر سبجیکٹس ہیں, وہی لوگ بک رہے ہیں, اور شاید سب سے زیادہ بک رہے ہیں, باوجود یکے کہ وہ سب کچھ جانتے ہیں, وہ آر.ایس.ایس کی تاریخ سے واقف ہیں, جو بی.جے.پی کی مسلم دشمنی سے آشنا ہیں, مگر وہ ہیں کہ چاٹوکارِتا کی انتہا کو پار کئے جارہے ہیں, محض اس لئے کہ کہیں ان کو لیکچرر بنا دیا جائے گا, آر.ایس.ایس کی چھتر چھایہ کی وجہ سے جلد از جلد ان کا مستقبل سنور جائے گا, بکنے کی ایک عجب ہوڑ لگی ہوئی ہے, سامنے ذاتی مفاد ہے, مگر دلائل حکمت کے دئیے جارہے ہیں, امت کے حق میں ایک بہتر فیصلہ بتایا جارہا ہے, امت کے حق میں بہتر ہو نہ ہو, شاید ان کے ان کے حق میں ضرور بہتر ہوگا, کیونکہ وہ دیکھ رہے ہیں کہ اکیڈمکس میں رومیلا تھاپر سے سی.وی طلب کیا جارہا ہے, اور للو پنجؤوں کو محض سیاسی چاٹوکارِتا کے بنا پر سیٹیں عنایت کی جارہی ہیں, سو صلاحیت تو اتنی بنائی نہیں, کہ اپنے راستے خود بنا سکیں, لے دے کے بس امت کی دہائی دے کر اپنے مفاد کے لئے راہیں ہموار کرنی ہیں.

    جے.این.یو میں اسٹوڈنٹس کا الیکشن قریب ہے, اب کی بار کا منظر تھوڑا سا بدلا ہوا ہے, بہت سارے سو کالڈ مسلمان طلباء اے.بی.وی.پی کا پرچار کررہے ہیں, اور پرچار بھی اس جوش و خروش کے ساتھ کہ شاید اے.بی.وی.پی بھی اتنی جوش نہ دکھا پائے, بھارت ماتا کے نعروں کے ساتھ ساتھ راج تلک کی کرو تیاری, اب کی بار بھگوا دھاری جیسے نعروں تک, افف غیرت کہاں ہے؟ وجہ صرف اتنی ہے کہ آقاؤں کی نظر میں ثابت کیا جاسکے کہ کس قدر وفادار ہیں ہم آپ کے, آپ جلد از جلد ہمیں کوئی عہدہ دیجئے, کسی حقدار کا حق مارئیے, ہمیں جگہ عنایت کیجئے, جیسے کہ اس سے پہلے آپ نے فلاں فلاں کو عطا کیا, ان کی بے لوث وفاداری کے سبب, ورنہ وہ اس قابل نہ تھے کہ ان کو پروفیسرشپ عطا کی جاتی, سو جیسے وہ تھے, ویسے بھی ہیں, نظر کرم ہم پر کیجئے, نظر کرم ہوجائے گی, لیکن وہ کہتے ہیں نا کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے, تاریخ پھر دہرائے گی, جیسے انگریزوں کی حمایتیوں کو آج غدار لکھا جارہا ہے, ویسے کل آر.ایس.ایس کے چاٹوکاروں کو بھی غدار لکھا جائے گا, اس وقت آپ کے بارے میں لکھا جائے گا کہ جب ایک آئی.ایس آفیسر صرف اس وجہ سے استعفی دے رہا تھا تاکہ کل کو یہ نہ اس سے پوچھا جائے کہ جب اسی لاکھ لوگوں پر زمین تنگ کردی گئی,تو آپ کیا کررہے تھے, اس وقت کچھ لوگ تھے جو تلوے چاٹ رہے تھے, نہایت مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے تھے, اپنے آقاؤں سے اتنی بھی گزارش نہیں کرپا رہے تھے کہ کم سے کم انسانیت کے ناطے ان لاکھوں لوگوں کو ایک دوسرے سے بات کرنے کی اجازت دے دی جائے.

    کس خوش فہمی میں جی رہے ہیں لوگ, مذاکرات کرو, ضرور کرو, مگر ایک وقار کے ساتھ, اس میں عزت بھی ہو, اس میں اپنی شرطیں بھی ہوں, گر کر ذلالت کے ساتھ نہیں, دوسرے درجے کے شہری کے طور پر نہیں, آپ اس ملک کے اتنے ہی حقدار ہو جتنے وہ ہیں, کورس آف ایکشن بناؤ, ہر مسئلے کے لئے قانونی لڑائی لڑو, اگر آپ اس طرح مذاکرات پر راضی ہوجائیں گے کہ وہ جو چاہیں کریں, یا وہ جو کہیں آپ کریں, وہ کہیں تو آپ اپنے دین و ایمان کی فکر کئے بنا بھی غیر اسلامی نعرے لگائیں, وہ کہیں تو آپ مندروں میں بھی جھک جائیں, وہ کہیں تو آپ نہ کچھ دیکھیں, نہ کچھ سنیں, تو پھر آپ کس بنیاد پر ان لوگوں کو انگریزوں کا دلال یا غدار کہوگے جو ان کے ساتھ تھے, یا جنہوں نے جنگ آزادی میں حصہ لینے کے بجائے صلح کے راستے کو اپنایا, آخر آج جو مصلحت آپ کے سامنے ہے, کل ان کے بھی سامنے رہی ہوگی, آج اگر آپ کو لگتا ہے کہ آر.ایس.ایس کے ساتھ مل جانے میں ہی لانگ ٹرم میں بھلائی ہے, تو پھر انہیں بھی لگتا رہا ہوگا کہ انگریزوں کے ساتھ مل جل کر رہنے میں ہی بھلائی ہے, تو پھر یہ پندرہ اگست کی ڈھکوسلے بازیاں کیونکر؟ یہ مجاہدین آزادی کے واقعات سنا سنا کر جوش و جذبات سے لوگوں کو بھر دینا چہ معنی دارد؟ جب کہ آپ کے اندر مزاحمت کی ذرہ برابر بھی رمق نہیں؟ "شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی ہزار سالہ زندگی سے بہتر” جیسے محاوروں سے تو اپنی حق وراثت کو ترک کردینی چاہئے کہ جب آپ ظلم پر زبان کھولنا تو دور کی بات, اپنی خاموشیوں سے ظلم کی حمایت بھی کرتے ہیں.