Baaghi TV

Category: بلاگ

  • اک نظر میرے شہداء پر — محمد عبداللہ گل

    اک نظر میرے شہداء پر — محمد عبداللہ گل

    آج کے میری تحریر کا مقصد 6 ستمبر کی پاک بھارت جنگ کو الفاظ میں بدل کر پیش کرنا ہے۔6 ستمبر 1965 کا دن تھا ،پاک فوج کے جوان اپنی سرحد پر پہرہ دے رہے تھے دوسری طرف پاکستانی عوام سو رہے تھے اور دشمن ملک بھارت جنگ کی تیاری کر رہا تھا۔بھارت کو اپنی طاقت پر ناز تھا۔جس کی وجہ سے اس نے یہ جنگ پاکستان پر مسلط کی تھی۔ چھ ستمبر 1965 کی شب بھارتی فوج جنگ کا اعلان کیے بغیر بین الاقوامی بارڈر لائن پار کرتے ہوئے پاکستان میں داخل ہوئی۔ بھارتی جرنیلوں کا منصوبہ تھا کہ چھ ستمبر کی صبح لاہور کی سڑکوں پر بھارتی ٹینک اس وقت کے وزیراعظم لال بہادر شاستری کو سلامی دیں گے اور شام کو لاہور جیم خانہ میں کاک ٹیل پارٹی کے دوران بیرونی دنیا کو خبردیں گے کہ اسلام کا قلعہ سمجھی جانے والی ریاست پر کفار کا قبضہ ہو چکا ہے لیکن بھارت کے ارادوں اور منصوبوں پر اس وقت پانی پھر گیا جب ان کی افواج کو مختلف محاذوں پر شکست اور پسپائی کی خبریں ملنے لگیں۔ 
    چونڈہ: بھارتی ٹینکوں کا قبرستان
    جنگوں کی تاریخ میں دوسری جنگ عظیم دوئم کے بعد ٹینکوں کی سب سے بڑی لڑائی سیالکوٹ ایک علاقے چونڈہ کے مقام پر لڑی گئی جہاں طاقت کے نشے میں چور بھارتی فوج چھ سو ٹينک لے کر پاکستان ميں داخل ہوگئی تھی۔  پاکستان فوج کی زبردست جوابی کارروائی نے دشمن کے 45 ٹینک تباہ کر دیے اور کئی ٹینک قبضے میں لے لیے تھے۔ اسی طرح پانچ فیلڈ گنیں قبضہ میں لے کر بہت سارے فوجی قیدی بھی بنائے گئے۔ جنگ کا پانسہ پلٹتا دیکھ کر بھارتی فوجی حواس باختہ ہوگئے اور ٹینک چھوڑ کرفرار ہونے لگے تو پاک فوج نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دشمن کے علاقے میں کئی چوکیوں پر قبضہ کر لیا۔  اسی لیے چونڈہ کے مقام کو بھارتی ٹینکوں کیلئے ٹینکوں کا قبرستان کہا جاتا ہے۔
    لاہور کے محاذ:
    لاہور میں پاک فوج کی 150 سپاہیوں کی ایک کپمنی نے 12 گھنٹے تک ہندوستان کی ڈیڑھ ہزار فوج کو روکے رکھا اور ہماری پچھلی فوج کو دفاع مضبوط کرنے کا بھر پور موقع فراہم کیا۔
    لاہور میں کے ایک اور جنگی محاذ پر میجر عزیز بھٹی پہرا دے رہے تھے۔ وہ اس وقت لاہور سیکٹر کے علاقے برکی میں کمپنی کمانڈر تعینات تھے۔ میجر عزیز مسلسل پانچ دن تک بھارتی ٹینکوں کے سامنے سیسہ پلائی دیوار کی طرح ڈٹے رہے اور بلآخر 12 ستمبر 1965 کو بھارتی ٹینک کا گولہ چھاتی پر کھایا اور جامِ شہادت نوش کر گئے۔
    جنگِ ستمبر  کے دوران بھارتی فوج نے 17 دن میں 13 حملے کئے۔ ان کی افواج تعداد اور جنگی ساز و سامان کے حوالے سے کئی گناہ طاقتور تھی جبکہ پاکستانی فوج تعداد اور تیاری کے حساب سے بھارت سے بہت کم تھی لیکن پاکستانی جوانوں نے اپنی جانوں پر کھیل کر مسلسل 17 دن تک دشمن کو لاہور میں داخل ہونے سے روکے رکھا اور ان کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا۔ 
    وطن کے ان بہادر سپوتوں میں کچھ کے کارنامے تو ایسی لازوال داستانیں ہیں کہ جنہیں رہتی دنیا تک جرات و بہادری کی جاویداں مثالوں کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ ایسے جرات مند شہیدوں کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے انہیں ملک کے سب سے عظیم فوجی اعزاز ’’ نشان حیدر ‘‘ سے نوازا گیا۔

    نشان حیدر کیا ہے ؟
    نشانِ حیدر پاکستان کا سب سے بڑا فوجی اعزاز ہے۔ اس اعزاز کو شجاعت و بہادری کے پیکر، حیدر کرار حضرت علی رضی اللہ عنہ کے نام سے منسوب کیا گیا ہے۔ یہ نشان صرف ان فوجی جوانوں کو نصیب ہوتا ہے جنہوں نے وطن کے لیے انتہائی بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔ ان میں میجر طفیل نے سب سے بڑی عمر یعنی 44 سال میں شہادت پانے کے بعد نشان حیدر حاصل کیا،  نشان حیدر پانے والے باقی شہداء کی عمریں 40 سال سے بھی کم تھیں۔  سب سے کم عمر نشان حیدر حاصل کرنے والے راشد منہاس تھے جنہوں نے 20 سال 6 ماہ کی عمر میں شہادت پر نشان حیدر اپنے نام کیا۔
    اس اعلیٰ ترین فوجی اعزاز کے بارے میں ایک دلچسپ حقیقت جو بہت کم لوگ جانتے ہیں وہ یہ ہے کہ نشان حیدر جنگوں کے دوران دشمن افواج سے چھینے گئے اسلحہ کی دھات سے بنایا جاتا ہے۔  اب تک بری فوج کے حصہ میں 9 جبکہ پاک فضائیہ کے حصے میں ایک نشان حیدر آیا ہے جن کے نام اور کارنامے با اختصار درج ذیل ہیں۔
     کیپٹن راجہ محمد سرور شہید
    راجہ محمد سرور 10 نومبر 1910 کو موضع سنگوری تحصیل گوجر خان ضلع راولپنڈی میں پیدا ہوئے۔ آپ 1929 میں بلوچ رجمنٹ میں ایک سپاہی کی حیثیت سے بھرتی ہوئے اور ترقی پاتے ہوئے یکم فروری 1947 میں رائل انڈین آرمی میں کیپٹن کے عہدے تک پہنچے۔ بٹوارے کے وقت پاک فوج کو قوقیت دی اور پاکستان آگئے۔
    جولائی 1948 میں دشمن کے خلاف محاذِ جنگ پر پہنچے تو اوڑی کے مقام پر ایک پہاڑی دشمن کے قبضے میں تھی۔ بلندی پر ہونے کے سبب دشمن پاک فوج کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچا سکتا تھا لہذا اس چوٹی پر قبضہ کرنا کسی چیلنج سے کم نہ تھا۔ اس جان لیوا کام کا بیڑہ محمد سرور شہید نے اٹھایا اور 27 جولائی 1948ء کی رات کو اپنے جوانوں کے ساتھ ٹارگٹ کی طرف بڑھے۔ جو ہر سمت سے گولے اور گولیاں برسا رہا تھا اور محمد سرور شہید کی قیادت میں مٹھی بھر سپاہی سر پر کفن باندھے دشمن مورچوں کی طرف بڑھے۔ اس دوران کئی جوانوں نے موت کو گلے لگایا۔ ایسے میں ایک گولی محمد سرور کا دایاں بازو چیرتے ہوئے نکل گئی۔ وہ گولیوں کی بوچھاڑ میں آگے بڑھتے رہے ان کے زخموں سے خون جاری تھا ۔آخر وہ اس مورچے تک جا پہنچے جہاں سے گولیاں برسائی جا رہی تھیں۔ وہ باڑ کاٹنے لگے ۔آخری تار کٹنے کو تھی کہ دشمن کی فائرنگ نے محمد سرور شہید کا سینہ چھلنی کر دیا۔
    میجر طفیل محمد شہید
     میجر طفیل محمد 1914 میں ہوشیار پور میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے 1943 میں پنجاب رجمنٹ میں شمولیت اختیار کی اور 1958 میں ترقی پاکر کمپنی کمانڈر کی حیثیت سے ایسٹ پاکستان رائفلزمیں تعینات ہوئے، اس وقت مشرقی پاکستان میں حالات قابو سے باہر ہورہے تھے۔ میجر طفیل کو لکشمی پور میں مورچہ بند بھارتی دستوں کے خلاف کارروائی کا مشن سونپا گیا۔ آپ نے سات اگست 1958ء کو جرات و بہادری کی ایک تاریخ رقم کرتے ہوئے علاقے سے بھارتی مورچوں کا صفایا کر دیا، اپنی شجاعت سے دشمن دستوں میں اس قدر خوف طاری کردیا کہ بھارتی فوجی لاشیں چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور ہو گئے۔ اس دوبدو جنگ میں میجر طفیل محمد بھی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گئے، انہیں پاکستان کا اعلیٰ ترین فوجی اعزاز نشان حیدر عطا کیا گیا۔
    میجر راجہ عزیز بھٹی شہید
     جب دشمن لاہور پر حملہ آور ہوا تو اس وقت میجر عزیز بھٹی لاہور سیکٹر کے علاقے برکی میں کمپنی کمانڈر تعینات تھے۔ میجر عزیز مسلسل پانچ دن تک بھارتی ٹینکوں کے سامنے سیسہ پلائی دیوار کی طرح ڈٹے رہے، 12 ستمبر 1965 کو بھارتی ٹینک کا گولہ  چھاتی پر کھایا اور جامِ شہادت نوش کیا۔
    میجر محمد اکرم شہید
    میجر محمد اکرم چار اپریل 1938ء کو ڈنگہ ضلع گجرات میں پیدا ہوئے، انہوں نے 1963ء میں فرنٹیئر فورس رجمنٹ میں بطور کمیشن آفیسر چارج سنبھالا۔ 1965 کی جنگ شروع ہوئی تو میجر اکرم اس وقت بطور کپتان شہر لاہور کی حفاظت پر مامور تھے۔ انہوں نے قلیل تعداد سپاہیوں کے ساتھ بھارتی فوج کے خلاف کامیاب کاروائیاں کیں اور دشمن کو پیش قدمی سے روکے رکھا، آپ کو 1969 میں کیپٹن سے میجر کے عہدے پر ترقی دی گئی۔
    1971ء کی پاک بھارت جنگ میں مشرقی پاکستان کے علاقے ہلی کے محاذ پر میجر محمد اکرم نے اپنی فرنٹیئر فورس کی کمانڈ میں مسلسل پانچ دن اور پانچ راتیں اپنے سے کئی گنا زیادہ بھارتی فوج کی پیش قدمی روک کر دشمن کے اوسان خطا کر دیے۔ ہلی کے محاذ پر میجر اکرم کی جرات و بہادری نے ایسا رنگ جمایا کہ دشمن بھی داد دیے بغیر نہ رہ سکا ، دشمن کو بھاری جانی نقصان پہنچانے پر میجر اکرم کو ’’ ہیرو آف ہلی ‘‘ کے نام سے شہرت ملی۔ آپ نے دشمن کے خلاف بہادری سے لڑتے ہوئے پانچ دسمبر 1971 کو جام شہادت نوش کیا۔ دشمن کے خلاف اس شاندار مزاحمت کے اعتراف میں انہیں اعلیٰ ترین فوجی اعزاز نشان حیدر عطا کیا گیا۔
    پائلٹ آفیسر راشد منہاس شہید
    پاک فضائیہ کے جاں باز پائلٹ راشد منہاس 17 فروری 1951 کو کراچی میں پیدا ہوئے، مارچ 1971 میں راشد منہاس نے پاک فضائیہ میں بطور کمیشن جی ڈی پائلٹ شمولیت اختیار کی اور اگست 1971ء کو پائلٹ آفیسر کے عہدے پر ترقی پائی۔
     20 اگست 1971ء کو وہ اپنی پہلی سولو فلائٹ پر روانہ ہو رہے تھے کہ اچانک ان کے انسٹرکٹر مطیع الرحمان طیارے کو رن وے پر روک کر سوار ہوگئے اور جہاز کا رخ دشمن ملک بھارت کی جانب موڑ دیا۔ وہ بھارتی فوج کی جانب سے پلانٹڈ جاسوس تھا اور طیارے ک دشمن ملک میں اتارنا چاہتا تھا۔ راشد منہاس نے بر وقت حاضر دماغی اور بہادری سے کام لیتے ہوئے جہاز کا رخ زمین کی جانب موڑ دیا۔ جہاز تباہ ہونے سے راشد منہاس نے دشمن کے عزائم کو خاک میں ملاتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔ وہ شہادت کا رتبہ حاصل کرنے والے پاک فضائیہ کے پہلے اور نشان حیدر پانے والے اب تک اکیلے افسر ہیں۔
    میجر شبیر شریف شہید
    میجر شبیر شہید سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے بڑے بھائی اور میجر عزیز بھٹی شہید کے بھانجے تھے۔ آپ 28 اپریل 1943ء کو گجرات کے علاقہ کنجاہ میں پیدا ہوئے۔ آپ اپریل 1964ء میں فوج میں شامل ہوئے۔ 1971 کی جنگ کے موقع پر آپ بطور کمپنی کمانڈر فرنٹیر فورس رجمنٹ سلیمانکی کے محاذ پر تعینات تھے۔ اس دوران انہوں نے دشمن فوجیوں اور ٹینکوں کو بھاری نقصان پہنچایا اور6 دسمبر 1971ء کو ملک و قوم کیلئے اپنی جان کا نظرانہ پیش کیا، شہادت کے وقت آپ کی عمر محض 28 برس تھی ان کی ہمت اور بہادری کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے انہیں سب سے اعلیٰ فوجی اعزاز نشان حیدر سے نوازا۔
    جوان سوار محمد حسین شہید
    جوان سوار محمد حسین شہید 18 جون 1948 کے دن ڈھوک پیر بخش میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم گھر میں حاصل کی اور میٹرک کا امتحان دیوی ہائی اسکول سے دیا لیکن ایک مضمون میں فیل ہوگئے۔ اسی دوران 1965 کی جنگ چھڑ گئی اور آپ نے عام بھرتی کے اعلان پر لبیک کہتے ہوئے پاک فوج میں شمولیت اختیار کی۔
    1971 کی جنگ میں وہ اپنی یونٹ کے ساتھ ہرڑ کے مقام پر تعینات تھے، فوج میں اگرچہ وہ ڈرائیور تھے لیکن انہوں نے یونٹ کے ہر کام کو خوش اسلوبی سے انجام دیا۔ سوار محمد حسین شہید پانچ دسمبر 1971ء کو ظفر وال (شکر گڑھ) کے محاذ پر دشمن کی گولہ باری کی پرواہ کیے بغیر خندق میں موجود اپنے ساتھیوں کو گولہ بارود پہنچاتے رہے اور پھر خود بھی ٹینک شکن توپوں کے پاس جا کر دشمن کے ٹھکانوں کی نشاندہی کرتے تھے۔ آپ کی اس جاں باز کارروائی سے دشمن کے جدید ترین ٹینک بہت بڑی تعداد میں تباہ ہوئے۔ دس دسمبر 1971ء کو سوار محمد حسین دشمن کی مشین گن کی گولیوں کا نشانہ بن گئے اور جام شہادت نوش کیا۔ سوار محمد حسین شہید کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ پاک فوج کا سب سے بڑا اعزاز نشان حیدر حاصل کرنے والے پہلے جوان تھے۔
    لانس نائیک محمد محفوظ شہید
    لانس نائیک محمد محفوظ شہید ضلع راولپنڈی کے ایک گاؤں پنڈ ملکاں (محفوظ آباد) میں 25 اکتوبر 1944 کو پیدا ہوئے۔ آپ نے 25 اکتوبر 1962 کو پاک فوج میں شمولیت اختیار کی۔ 1971 کی جنگ کے دوران محمد محفوظ واہگہ اٹاری سیکٹر میں تعینات تھے۔
    16 دسمبر کی رات جب جنگ بندی کا اعلان ہوا تو مل کنجری کا کچھ علاقہ پاکستان کے قبضے میں آچکا تھا۔ جنگ بندی کے اعلان کے بعد پاکستانی افواج کو کسی حملے کی امید نہیں تھی۔ مقبوضہ علاقہ چھڑانے کے لیے دشمن نے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے 17 اور 18 دسمبر کی درمیانی شب بھر پور حملہ کردیا۔ پاکستانی فوج میں لانس نائیک محمد محفوظ کی پلاٹون نمبر تین ہراول دستے کے طور پر سب سے آگے تھی چنانچہ اسے خود کار ہتھیاروں کا سامنا کرنا پڑا۔ 
    لانس نائیک محمد محفوظ بڑی بے جگری سے لڑ رہے تھے، ایک مرحلے پر جب ان کی مشین گن دشمن کا گولہ کیل لگنے سے تباہ ہوگئی تو انہوں نے لپک کر ایک شہید ساتھی کی مشین گن اٹھائی اور دشم پر تابڑ توڑ حملے شو کر دیے۔ اسی دوران ایک گولی ان کی مشین گن کو لگی اور مشین گن ہاتھ سے چھوٹ گئی۔ نہتے شاہین نے ایک بھارتی سپاہی کو گلے سے دبوچ لیا، قریب تھا کہ وہ اسے گلہ گھونٹ کر جہنم واصل کرتے کہ ایک دوسرے بھارتی سپاہی نے سنگین مار کر انہیں شہید کردیا۔  لانس نائیک محمد محفوظ کو ان کی بہادری کے اعتراف میں ملک کا سب سے بڑا فوجی اعزاز نشان حیدر عطا کیا گیا۔ وہ محفوظ آباد کے مقام پر سپرد خاک ہیں۔
    کرنل شیر خان شہید
    معرکہ کارگل کے ہیرو کرنل شیر خان شہید یکم جنوری 1970 کو صوابی کے گاؤں نواں کلی میں پیدا ہوئے، انہوں نے 1994 میں پاک فوج میں شمولیت اختیار کی۔ کرنل شیر خان شہید نے معرکہ کارگل کے دوران 17 ہزار کلو میٹر کی بلندی پرقائم  گلتری کے مقام پر پانچ حفاظتی چوکیاں قائم کیں۔ ان چوکیوں کی مدد سے دشمن کی ہر چال پر نظر رکھنا آسان تھا، بھارتی فوج نے کئی بار ان چوکیوں پر قبضے کی نیت سے حملے کیے اور ہر بار کرنل شیر خان نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ جواں مردی سے دشمن کا ہر حملہ ناکام بنایا۔ پریشان ہو کر دشمن نے بھر پور طاقت سے حملہ کرنے کی ٹھانی اور دو بٹالین فوج کے ساتھ چوکیوں پر حملہ کیا۔ کرنل شیر خان کے ساتھ صرف 21 مگر شیر دل سپاہی تھے، سو ہتھیار ڈالنے کے بجائے جواں مردی سے دشمن کا مقابلہ کیا اور کئی بھارتی فوجیوں کو جہنم واصل کیا۔ کرنل شیر خان نے نہ صرف دشمن کو پیچھے بھاگنے پر مجبور کیا بلکہ ان کے بیس کیمپ تک جا پہنچے اور لڑتے لڑتے شہید ہو گئے۔ ان کی شجاعت کا اعتراف بھارتی فوج نے بھی کیا۔ حکومت پاکستان نے ان کی بہادری کے اعتراف میں انہیں اعلیٰ فوجی اعزاز نشان حیدر سے نوازا.
    حوالدار لالک جان شہید
    ٹائیگر ہل کے مقام پر جو چوکی کیپٹن کرنل شیر خان اپنی شہادت سے قبل جیت چکے تھے، اس پر قبضہ رکھنے کے لیے مسلسل جدوجہد ضروری تھی۔ حوالدار لالک جان انفنٹری کے نڈر اور بہادر سپاہی تھے۔ دشمن کسی بھی قیمت پر یہ چوکی حاصل کرنا چاہتا تھا لہذا دو بار لالک جان کی چوکی پر حملہ کیا گیا مگر اسے اس بہادر ہیرو کے ہاتھوں منہ کی کھانی پڑی اور مسلسل دو راتوں کے حملوں میں ناکام ہو کر دشمن اپنی لاشوں کے انبار چھوڑ کر پسپا ہوتا رہا۔ تاہم سات جولائی کو دشمن نے حوالدار لالک جان کی چوکی پر توپ خانے نے شدید فائر کیے۔ جس میں حوالدار لالک جان شدید زخمی ہوئے اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہوگئے۔ آپ کی جرات و بہادری کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے آپ کو نشان حیدر سے نوازا۔ یہ تو پاکستان کی زمینی فوج کے جوان تھے اس کے علاوہ اگر ہم پاک فضائیہ کی بات کرے تو پاکستانی فوج کی فضائیہ بھی کسی سے کم نہ تھی پاک فضائیہ نے بھی دشمن کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور دشمن کو ناکوں چنے چبوئے اس کی مثال یہ ہےکہ ایم ایم عالم نے بڑی ہی ہوشیاری اور بہادری سے 1 منٹ سے کم عرصے میں دشمن کے 5 لڑاکا طیارے گرا کر عالمی ریکارڈ قائم کردیا جس کی وجہ سے آج تک پاک فوج فضائیہ کے چرچے ہیں۔اگر ہم پاکستان کی بحری فوج کی بات کرے تو پاک بحریہ سے تو امریکہ بھی ڈرتا ہے انڈیا کی کیا ہمت ہے پاکستان کی بحری فوج کی وجہ سے امریکہ اپنی حدود سے کئی میلوں دور کھڑا ہوتا ہے یہ ہے شاہینوں کا ڈر۔۔۔۔۔
    پاک فوج زندہ باد
    پاکستان زندہ باد

  • کشمیر بنے گا پاکستان — زوہیب آصف

    کشمیر بنے گا پاکستان — زوہیب آصف

    مقبوضہ جموں کشمیر میں بھارتی حکومت کے ظلم ودہشت گردی کا سلسلہ گزشتہ کئ برسوں سے جاری ہے. اس میں کبھی کمی آئ اور کبھی اضافہ ہوا. لیکن یہ سلسلہ کبھی رک نہ سکا. 1989ء میں کشمیریوں نے دنیا بھر سے مایوس ہو کر جہادی تحریک شروع کی. اس کے بعد ایک لاکھ کے لگ بھگ کشمیری شہید ہوئے. بے شمار کشمیری گرفتاری کے بعد لاپتہ ہوئے اور بے شمار شہید کر کے مجاہد قرار دیئے گئے.

    1846ء کی جغرافیائی تقسیم کے مطابق جموں کشمیر کا کل رقبہ 2 لاکھ 24 ہزار 7 سو 78 مربع کلو میٹر ہے. جس میں سے بھارت کے زیر قبضہ کشمیر کا رقبہ 1 لاکھ 1 ہزار 3 سو 87 مربع کلو میٹر ہے. آزاد جموں کشمیر بشمول گلگت بلتستان 85 ہزار 8 سو 46 مربع کلو میٹر ہیں. بھارت کے زیر قبضہ کشمیر کی آبادی تقریباً 95 لاکھ ہے. جس میں سے 60 لاکھ سے زائد افراد وادی کشمیر میں بستے ہیں جن میں سے 97 فیصد مسلمان ہیں جبکہ باقی ہندو اور سکھ ہیں.

    کشمیر بلاشبہ پاکستان کے شہ رگ ہے. یہ الفاظ محمد علی جناح کے ہیں. یہ الفاظ آپ نے اس وقت فرمائے تھے. جب پاکستان کی منزل قریب سے قریب تر آ رہی تھی. تقسیم برصغیر کا مرحلہ قریب تھا اور ہندو راہنما کشمیر کو غضب کرنے کی کوشش میں مصروف تھے. اس فیصلہ کن موڑ پر قائداعظم نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا. اور واضح کر دیا کہ کشمیر کے بغیر پاکستان نا مکمل ہے.

    کشمیر کی. (80) فیصد آبادی مسلمان ہے مگر اس پر ہندو نامراج حکومت کر رہا ہے، مسلمان ذلت ورسوئ کی زندگی بسر کر رہے ہیں. کشمیر پر مسلمانوں نے سات سو برس حکومت کی ہے. اس پر پہلے سکھوں نے اور پھر انگریزوں نے قبضہ کر لیا. انگریزوں کو رقم کی ضرورت پڑی تو انہوں نے 1846ء میں پوری ریاست کشمیر 75 لاکھ روپے نانک شاہی کے عوض گلاب سنگھ کو فروخت کر دی. گویا ایک کشمیری کی قیمت سات روپے مقرر ہوئ.پوری تاریخ انسانیت میں یہ پہلا موقعہ تھا کہ ایک قوم کو چند سکوں کے عوض فروخت کر دیا گیا ہو. پھر ڈوگرہ راج کا ستم ناک دور شروع ہوا. مسلمانوں کے لیے جینا دشوار کر دیا گیا.

    حضرات سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان کشمیریوں کا قصور کیا ہے؟ ایک پرندہ بھی قفس سے آزادی چاہتا ہے تو ایک کروڑ سے زائد کشمیریوں کے لیے آزادی کیوں نہیں. وہاں آزادی کے نام پر زبان کٹتی ہے. پاکستان کی محبت کے نام پر پھانسی ملتی ہے. سچ بولنے پر قید و بند کی سزا ملتی ہے. نہتے کشمیریوں کو خاک و خون میں نہلا دیا جاتا ہے. ہر طرف آگ اور جون کا سیلاب رواں ہے. کشمیریوں ہر لحظہ وہرآن قیامت ٹوٹ رہی ہے.

    آج ضروت ہے کہ آزادی کی جنگ لڑنے والے کشمیریوں کی ہر سطح پر امداد کی جائے۔ ہماری حکومت اور عوام جاگ رہے ہیں مگر کشمیر کی آزادی ہم سے مزید قربانی طلب کرتی ہے۔ امت اسلامیہ کو بیدار کیا جائے۔ اس لیے میرے ہم وطنوں ہمیں کشمیر کی آزادی کے لیے ہر طرح کی کوشش کرنی چاہیں۔ لیکن آج جو کشمیر کے حق میں آواز اٹھاتا ہے اسے کبھی تو نظر بند کر دیا جاتا ہے۔ اور کبھی جیل میں بند کر دیا جاتا ہے۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم کشمیر کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہونا چاہئے.

    بھارتی حکومت اس حقیقت سے مدتوں سے آگاہ ہے کہ کشمیر سے اس کا کوئ تعلق نہیں ہے۔ کشمیر میں لاکھوں کی تعداد بھارتی مسلح افواج داخل کر کے بھی بھارت بے سکون ہے۔ کیونکہ وہ اتنی بڑی فوج اور طاغوتی طاقت کے ہوتے ہوئے بھی کشمیریوں کے جزبہ آزادی کو کچل نہیں سکا۔ وہ جان چکا ہے کہ۔جس قوم کے لوگ ہتھیلی پر موت کو سجا کر مرنے اور مارنے کا جزبہ رکھتے ہوں۔ آزادی ایک دن ان کے قدم ضرور چومتی ہے۔ حرص وآز کے جال پھیلا کر افواج باطل کو غاصبانہ طور پر قابض کر کے، ظالمانہ قوانین کا نفاذ کر کے بھی بھارتی ضمیر اندر سے سہما ہوا ہے کہ وہ اپنی قوت قاہرہ کے باوجود بے بس ہے کیونکہ کشمیر پر اس کا قبضہ ہر لحاظ سے غیر منصفانہ اور غاصبانہ ہے۔ جبکہ پاکستان اور کشمیر جغرافیائ، نظریاتی، فکری اور روحانی طور پر ایک رشتے میں منسلک ہیں۔ ان کی رگوں میں صدیوں سے ایک ہی لہور قصاں ہے اور کوئ طاقت ان رشتوں کو الگ نہیں کر سکتی۔

    کشمیر شاہ ہمدان کی سر زمین ہے۔ نورالدین ولی کا روحانی مرکز ہے. لاکھوں شہداء کے مقدس خون سے کھیلنے والے گلستانوں کی بہار جاوداں ہے۔ آج اگر چہ یہ جنت نظیر وادی بھارتی سامراج کے ہاتھوں پامال ہے۔ یہاں کے لالہ زار اپنی سرخی کھوکر شیہدوں کے خون سے سرخی حاصل کر رہے ہیں۔ کشمیری شہداء کے لہو کی سرخی سے زمین تو کیا آسمان بھی شفیق رنگ نظر آتا ہے۔ بے شمار مظلوموں پنجئہ استبداد میں تڑپنے والوں کی آہیں عرش الہی کا طواف کر رہی ہیں۔ یہ سارا منظر اگر چہ سہما دینے والا ہے مگر تاریخ کا مطالعہ کریں تو یہی صبح آزادی کی تمہید اول ہے۔

    یارانِ جہاں کہتے ہیں کشمیر ہے جنت
    جنت کسی کافر کو ملی ہے نہ ملے گی۔

  • جرأتوں کی داستان ۔۔۔۔۔ جویریہ چوہدری

    جرأتوں کی داستان ۔۔۔۔۔ جویریہ چوہدری

    قوم یومِ آزادی منا چکے تو اس کے بعد کا مہینہ ہماری جرأت کی داستان کا پیام بن کر آ وارد ہوتا ہے۔۔۔
    یہ بات سچ ہے کہ قوموں کی تاریخ ہمیشہ شہیدوں کے خون کی رنگینی سے ہی یاد رکھی جاتی ہے۔۔۔
    اور تاریخ اسلام ازل سے ایسی جرأت کی لا زوال داستانوں سے بھری ہوئی ہے۔۔۔
    جو اپنے پرچم کی سر بلندی کے لیئے اپنے خون سے داستانِ وفا لکھ گئے۔۔۔
    ستمبر 65ء کی جنگ میں بھی انڈیا نے اس خوش فہمی میں پاکستان پر حملہ کیا تھا کہ شاید پاکستان کی بری،بحری اور فضائی افواج اپنے سے کئی گنا بڑی صلاحیت کی حامل فوج کا مقابلہ نہ کر سکیں۔۔۔۔؟؟؟

    مگر تاریخ عالم کے صفحات میں یہ باب ایک انمٹ داستان بن کر محفوظ ہو گیا کہ
    کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسہ
    مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی۔
    آئین جوانمردی،حق گوئی و بے باکی
    اللّٰہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی۔
    (علامہ اقبال)۔
    اس جنگ میں ہمارے شہداء اور غازیوں نے بزدل دشمن کا جس جرأت سے مقابلہ کیا،اسے اپنے،غیر سبھی سراہتے ہیں۔۔۔
    اپنے گرم لہو سے وطن کی سرحدوں کا دفاع کرنے والے قوم کے یہ محسن ہیں۔۔۔
    جب قوم پر سکون سوتی ہے تو یہ جاگتے ہیں۔۔۔
    وطن کی ماؤں،بہنوں،بیٹیوں کے تحفظ کے لیئے اپنی بیویوں کو بیوگی کی چادر اوڑھا دیتے ہیں۔۔۔
    اپنے معصوم بچوں کو یتیمی کے اندھیروں میں دھکیل دیتے ہیں۔۔۔
    جو اپنے دیس کا وقار اپنی جانوں سے مقدم سمجھتے ہیں۔۔۔
    لیکن سمجھنے کی بات یہ ہے کہ کل ایک محاذ تھا۔۔۔۔آج کئی محاذ ہیں۔۔۔۔مگر مشرق سے مغربی سرحد تک دشمن کی ہر چال کو ناکام بنانے والے قوم کے یہی محسن ہیں۔۔۔ !!!!!
    میجر عزیز،شبیر و ایم ایم عالم کے جانشین اپنے فرائض سے غافل نہیں ہیں۔۔۔۔

    دشمن کو یہ بات یاد رکھنی چاہیئے کہ مسلمان قوم اپنے سے پانچ گنا بڑی فوج کیا۔۔۔۔سو گنا بڑی فوج کو بھی شکست دے سکتی ہے۔۔۔۔
    یہ تین سو تیرہ کے قافلے سے شروع ہوئے اور ہزاروں سے ٹکرائے تھے۔۔۔
    پیٹ پر پتھر باندھ کر لڑنا اس قوم کی تربیت ہے۔۔۔
    اور ان شہداء کے لہو سے ہی ہم نے 65ء کی جنگ بھی جیتی تھی اور آج بھی یہ کئی محاذ پر جاری جنگ تمہارے ہی لہو سے جیت رہے ہیں۔۔۔۔ !!!
    65ء کی جنگ کے کارناموں کو غیروں نے کیسے خراجِ تحسین پیش کیا تھا۔۔۔۔
    تاریخ کے اوراق اس کے گواہ ہیں۔۔۔۔
    دی گارجین لندن نے لکھا تھا:
    "پاکستان نے اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کے خلاف فضائی جنگ میں نہ صرف اخلاقی بلکہ جنگی فتح بھی حاصل کی۔۔۔۔
    بھارتی فضائیہ کو جو تقریباً پاکستان کی فضائیہ سے پانچ گنا بڑی تھی۔۔۔توقع تھی کہ وہ بآسانی فضائی برتری حاصل کر لے گی۔۔۔لیکن پاکستان کے ہاتھوں اس کی مکمل ناکامی اس جنگ کا اہم پہلو ہے۔۔۔
    پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر مارشل نور خان اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ:
    اسلحہ کے معیار کے مقابلے میں طیارہ اڑانے کی صلاحیت اور عزم و ہمت کہیں زیادہ اہم ہوتے ہیں۔۔۔۔
    بھارتی کسی مقصد کے احساس کے بغیر جنگ لڑ رہے تھے اور پاکستانیوں کے پیش نظر اپنے وطن کے دفاع کا مقصد تھا۔۔۔۔
    اس لیئے وہ زیادہ خطرات مول لیتے رہے۔۔۔اوسطاً ہر بمبار طیارے نے 15سے 20 مشن کیئے۔۔۔
    میرا مسئلہ یہ نہیں تھا کہ میں اپنے ہوا بازوں کو حملے پر جانے کے لئیے آمادہ کیسے کروں،بلکہ میرا مسئلہ تو یہ تھا کہ میں انہیں بار بار جانے پر اصرار سے کیسے روکوں؟؟؟”

    یہ ہوتا ہے جذبہ وفا بمقابلہ شر و جفا۔۔۔۔
    یروشلم کے اخبار الدفاع نے لکھا تھا کہ:
    "بھارتی جرنیلوں کی توقعات کے برعکس پاکستان کے ساتھ جنگ محض پکنک ثابت ہوئی۔۔۔۔۔
    پاک فوج حملہ آوروں کے راستے میں چٹانوں کی طرح کھڑی ہو گئی۔۔۔۔اس کی بہت سی وجوہات ہیں ان میں سب سے اہم باہمی اخوت،سیاسی اتحاد ہے جو اسلام نے ان کی روحوں پر نقش کر دیا ہے۔۔۔۔پاکستانی سپاہی کی بہادری نظریہ جہاد کی مرہون منت ہے جو ایک مشترکہ ورثہ کی حیثیت رکھتا ہے۔۔۔”
    ایمان،تقویٰ اور جہاد فی سبیل اللہ کا عظیم ترین ماٹو رکھنے والی فوج اس وطن کی شان ہے اور حرمت کی پاسبان ہے۔۔۔
    جرأت و بہادری کا عنوان اور شجاعت و دلیری کی داستان ہے۔۔۔ !!!
    خالد بن ولید رضی اللّٰہ،عمر فاروق رضی اللّٰہُ عنہ،ایوبی،غوری اور غزنوی رحمھم اللہ آج بھی ان سپاہیوں کے قدموں میں برق رفتاری اور ہمت و شجاعت کا استعارہ ہیں۔۔۔

    دشمن چاہے کتنے چہرے بدل کر آئے۔۔۔۔65ء کی جنگ میں قوم کو فتح کی نوید دینے والی فوج آج بھی اس قوم کے لیئے باعث صد فخر ہے۔
    یہ بہادر جوان ہر سازش کو آگے بڑھ کر نیست و نابود کرنے کی صلاحیت سے مالا مال ہیں۔۔۔
    اور دشمن کی ہر خوش فہمی کو غلط فہمی میں بدل دینے کے جذبات سے سرشار بھی ہیں۔۔۔ !!!
    کیونکہ ان کی پشت پر کئی کروڑ افراد کھڑے ہیں۔۔۔۔
    قوم کی ماؤں،بہنوں،بیٹیوں کی دعاؤں کا ساتھ ہے۔۔۔۔
    اور اپنے رب پر توکل اس کے کل بھی فاتح ہونے کی وجہ تھی،آج بھی۔۔۔۔اور کل بھی ہو گی۔۔۔ان شآ ء اللّٰہ۔

    ہم سے الجھو گے تو انجام قیامت ہو گا۔
    ہم نے ہر دور میں توڑا ہے فرعونوں کا غرور۔۔۔۔ !!!

    وہ دشمن آج کشمیر کے اندر ظلم و زیادتی اور انسانی حقوق کی شدید پامالیوں کی سنگین داستان مرتب کر رہا ہے۔۔۔
    انسانیت کا قتل عام اور نسل کشی جاری ہے۔۔۔۔
    مگر وہ بھی شہادت کی موت تو قبول کر رہے ہیں مگر ظالم کے آگے جھکنا نہیں۔۔۔یہ جذبہ بہادری اور حب الوطنی اگر دولت سے خریدی جا سکتی تو بھارتی فوجی خود کشیاں نہ کرتے۔۔۔۔ !!!

    جنگ ستمبر 1965ء کی جرأت بھری داستان ہماری تاریخ کا جھومر ہے اور دشمن کے عزائم خاک میں ملانے کی جاری آج تک کی کوششیں۔۔۔
    یہ ساری تاریخ بنتی داستان ہماری رگوں میں خون کی مانند ہے۔۔۔
    قدموں میں روانی اور بازوؤں میں قوت جولانی کی مانند ہے۔۔۔۔
    ہم اس روشنی سے منزل کے گلاب چنتے ہیں۔۔۔
    انہی دی جانے والی قربانیوں کی بدولت تشکر کے آنسو ہماری پلکوں پر ایک نیا عزم و ولولہ بن کر چمکتے ہیں۔۔۔
    ہمارے جذبات کو جلا ملتی اور فکر کو عمل کی ادا ملتی ہے۔۔۔

    We will always tribute to the all nation’s defenders….!!!
    یہ دیس کے محافظ ہر آفت اور ضرورت میں ہمارا سرمایہ ہیں۔۔۔۔
    شہیدوں کا لہو تاریخ وطن میں جذب ہو کر بھی
    ہزاروں سال تاریخِ وطن میں جگمگاتا ہے
    بظاہر یہ لہو گرتے ہی چھپ جاتا ہے نظروں سے
    مگر یہ پوری ملت کی رگوں میں سرسراتا ہے۔۔۔
    آج الحمدللہ پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی طاقت ہے۔۔۔۔ہر طرح کے جدید اسلحہ سے لیس نا قابل شکست افواج پاکستان دشمن کے کسی بھی ہتھکنڈے پر گہری ضرب ہیں۔۔۔۔جنہوں نے 65ء میں کم وسائل کے ساتھ اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کو شکست فاش سے دو چار کیا تھا۔۔۔
    قوم کو 54واں یومِ دفاع مبارک۔۔۔۔ !!!!!
    وطن کی حرمت و دفاع کے لیئے بہتا لہو اس دیس کی کامیابی،ترقی اور مضبوط ترین حصار کا سبب بنے۔۔۔۔آمین۔۔۔ !!!

  • پولیس گردی اور ہمارا ملک — انیس الرحمن

    پولیس گردی اور ہمارا ملک — انیس الرحمن

    ہمارے معاشرے میں پولیس کا عمومی تصور دھیڑی دار اور عوام کو لوٹنے والوں کا پایا جاتا ہے اور آئے روز ہونے والے واقعات اس تصور کو گہرے سے گہرا کرتے جاتے ہیں۔

    پولیس کہیں بھی ناکہ لگا کر کھڑی ہو تو آپ دو صد فیصد فیصد یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ وہ آپ کی حفاظت کیلئے نہیں بلکہ آپ کو لوٹنے کیلئے اور مال بٹورنے کیلئے کھڑی ہے۔ آپ قائدِ اعظم والا سلام کر کے وہاں اس ناکہ سے بھلے اسلحہ سے بھرا ٹرک لیکر گزر جائیں۔

    چلیں اس حد تک تو لوٹنا برداشت کر ہی لیتے ہیں ہم کہ چلو غریب لوگ ہیں بچوں کا پیٹ پالنا ہے۔ اس مہنگائی کے دور میں تنخواہ میں کہاں گزارا ہوتا ہے بھئی اوپر کی آمدنی بھی تو ضروری ہے نا۔۔۔
    لیکن ہم من حیث القوم بے حس اس قدر ہو چکے ہیں کہ ان واقعات کا باعث ہم ہی ہیں ہاں آج اس صلاح الدین کی قاتل پنجاب پولیس نہیں ہماری بے حسی ہے۔۔۔
    ہاں ہم وہ قوم ہیں کہ جو جوتے تو کھانا گوارا کرتی ہے جوتے پڑنے پر احتجاج یا شکایت نہیں کرتی بس احتجاج یا شکایت اس وقت کرتی ہے کہ جب جوتے لگانے والے کم ہوں اور لائن میں لگ کر کر وقت ضائع ہوتا ہو تو پھر ہم حاکم سے کہتے ہیں کہ بھلے پچاس کی بجائے سو جوتے مار لو لیکن مارنے والوں کی تعداد بڑھا لو ہمارا وقت بہت ضائع ہوتا ہے لمبی قطاروں میں لگ کے۔۔۔۔

    ہاں ہم اس واقعہ پر بھی احتجاج اس لیے کر رہے ہیں کہ جوتے مارنے والے کم ہیں ہمارا وقت ضائع ہوتا ہے۔۔۔ ہاں جوتے مارنے والوں کی تعداد بڑھ جائیگی تو ہم پھر سے چین کی بانسری بجائیں گے۔۔۔

    کیوں کہ اب بھی ہمارا احتجاج ہے کہ اس واقعہ کے مجرموں کو قرار واقعی سزا دی جائے لیکن آج کوئی بھی یہ مطالبہ نہیں کرے گا کہ اس نظام کو اس پولیس گردی کو اس تھانہ کلچر کو اس لٹیروں کے مافیا کو اس کرپٹ ترین شعبہ کو درست کیا جائے ہاں نہیں ہم یہ بات نہیں کرینگے ہم تو کہیں گے بھئی بس جوتے مارنے والوں کی تعداد بڑھا دو۔۔۔

  • ڈی جی آئی ایس پی آر کی بریفنگ،بیک ڈراپ چنار کا پتا کیوں

    ڈی جی آئی ایس پی آر کی بریفنگ،بیک ڈراپ چنار کا پتا کیوں

    ڈی جی آئی ایس پی آر کی بریفنگ،بیک ڈراپ چنار کا پتا کیوں

    باغی ٹی وی رپورٹ : ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس بریفنگ کا ایک خاص موضوع تھا اور وہ موضوع تھا کشمیر۔ اس موقع پر جو خاص بات تھی وہ تھی پریس کانفرنس کےلیے سجایا گیا سٹیج خاص توجہ کا حامل تھا ۔ میجر جنرل کے پیچھے کشمیری خاص علامت چنار کا پتا تھا ، یہ بیک ڈراپ خاص قسم کا مسج دے رہا تھا جو یہ تھا کہ کشمیر کے لیے آخری گولی، آخری سپاہی اور آخری سانس تک لڑیں گے ،کشمیر ہماری جان سے بھی پیارا ہے اس بات کا اظہار انہوں نے برملا کیا تھا ۔

    چنار کا پتا کشمیر کا عکاس ہے اس کی تاریخ کچھ یوں ہے.کشمیر میں چنار کو ’شاہی درخت‘ کے طور پر جانا جاتا ہے ۔ عام خیال یہ ہے کہ کشمیر میں چنار کا پہلا پودا 1586ء میں مغلوں کے ریاست پر قابض ہونے کے بعد سرزمینِ فارس سے لاکر بویا گیا تھا۔

    لیکن بعض محققین کہتے ہیں کہ کشمیر میں سب سے پُرانا چنار 1374ء میں لگایا گیا۔ مصنف، شاعر اور سابق ناظمِ اطلاعات خالد بشیر احمد کہتے ہیں کہ چنار، کشمیر کا دیس واری درخت ہے کیونکہ اس کا ذکر چودھویں صدی کی شاعرہ لل دید کے کلام میں بھی ملتا ہے۔

    حقیقت جو بھی ہو کشمیر میں صدیوں سے موجود چنار اس کی شناخت کا حصہ بن چکا ہے۔ اسے پوری وادئ کشمیر کے ساتھ ساتھ بھارت اور پاکستان کے زیرِ کنٹرول حصوں میں منقسم اس جنت نظیر کہلانے والی متنازع ریاست کے کئی دوسرے حصوں میں بھی تزئینِ اراضی کے ایک اہم جز کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔
    اب یہ بھی خبیں ہیں کہ بھارتی فورسز اس درخت کو جلدی سے کاٹ رہی ہیں اور اس سے کشمیر کا حسن مانند پڑ رہا ہے
    .اب نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر میں انفراسٹرکچر کی ترقی کے نئے منصوبوں جیسے سڑکوں کی کشادگی ،سرکاری عمارتوں، ہوٹلوں، تجارتی مراکز اور دوسری تعمیرات کے نام پر یا کسی اور بہانے سے چناروں کو بڑی بے دردی کے ساتھ اندھا دھند کاٹا جارہا ہے ۔

    چنار کو کشمیر کی شان اور پہچان سمجھ کر اس سے محبت کرنے والے عام شہری، ماحول شناس کارکن اور ماہرینِ ماحولیات یکساں طور پر اس صورتِ حال سے پریشان اور اس پیڑ کے مستقبل کے بارے میں متفکر ہیں۔

    وہ یہ خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ کہیں چنار امتداد زمانہ کے ہاتھوں نیست و نابود نہ ہو جائے۔ سیاحت کے شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد اور نجی اداروں کو یہ فکر لاحق ہے کہ ماضی میں لاکھوں سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے والا یہ بلند قد و قامت درخت اگر اسی طرح سے کٹتا رہا تو وہ لوگ جو چنار خاص طور پر موسمِ خزاں میں اس کے پتوں کے بدلتے ہوئے رنگوں کو، جو ایک موقعے پر ایسا نظارہ پیش کرتے ہیں جیسے درخت میں آگ لگ گئی ہو، دیکھنے کے لیے وادئ کشمیر کا رخ کرتے ہیں یہاں آنا ترک کردیں گے۔
    چنار کے درخت اور پتے کے ساتھ کشمیر کے ادب کا بھی گہرا تعلق ہے اس کو کشمیری زبان میں اہنے شعرو ادب میں استعمال کیا گیا ہے.

  • پولیس گردی کا خاتمہ کیسے ہوگا  تحریر: غنی محمود قصوری

    پولیس گردی کا خاتمہ کیسے ہوگا تحریر: غنی محمود قصوری

    ایک ماں کا لخت جگر دو شہداء کا بھائی ا ذہنی معذور صلاح الدین پولیس گردی سے قتل ہو گیا الزام کیا تھا اے ٹی ایم مشین توڑنا حالانکہ اس ملک میں لوگ قرآن کے احکامات کھلے عام توڑ رہے ہیں پولیس نے گرفتار کیا مارا پیٹا تفتیش کی وہی تفتیش کہ جس کے سنتے ہی پورا جسم لرز جاتا ہے اسی تفتیش کی بدلت صلاح الدین زندگی کی بازی ہار گیا مگر کیا ہوگا SHO, Si یاں اگر بہت زیادہ سختی کریں تو سرکل کا DSP معطل ہوگا انکوائری لگے گی اور یہ لوگ کچھ دنوں کیلئے پورے پروٹول کیساتھ جیل جائینگے
    لوگ اور میڈیا چند دن شور مچائینگے پھر سب اپنے اپنے کاموں میں مشغول ہو جائینگے اور اسی سناٹے مین معزز پولیس اہلکاران بحال ہو جائینگے اور پھر سے کسی نئی صلاح الدین کو تخت مشق بنائینگے اور ایسا 73 سالوں سے ہو رہا ہے
    جناب عزت مآب تخان صاحب اگر پولیس گردی روکنی ہے تو پھر معطل نہیں قتل کرو ان کا قتل کیونکہ قرآن میں رب رحمن نے اپنے نبی محمد ذیشان صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے بتلایا ہے قتل کا بدلہ قتل ہے
    فرض کریں اگر ان پولیس اہلکاران کو صلاح الدین کے بھائی یاں کوئی اور رشتہ دار قتل کر دیں تو وہ بھی معطل ہی ہونگیں؟ نہیں بلکہ پولیس مقابلے میں مار دئیے جائینگے
    خان صاحب تبدیلی کہاں سے آئے گی معطل کرنے سے نہیں آئے گی بلکہ آسمانی احکامات کی روشنی میں فیصلے کرنے سے آئیگی کل روز قیامت آپ کا گریبان ہوگا اور صلاح الدین کا ہاتھ کیونکہ آپ نے ریاست مدینہ بنانے کا وعدہ کیا تھا اور ایک سال سے اوپر ہو گیا آپ کو وزیراعظم یعنی خلیفتہ المسلیمین بنے ہوئے اور اس سال کے اندر کتنے ماورائے آئین و عدالت پولیس کے ہاتھوں قتل ہوئے ان سب کا حساب اللہ آپ سے لے گا کیونکہ آپ وقت کے حاکم ہیں ریاست مدینہ ثانی بنانے کے دعوے دار ہیں تبدیلی کا نعرہ لگا کر میدان میں آئے ہیں.

  • "صلاح الدین کا مبینہ قتل ریاست کے سر پر ہے” محمد عبداللہ

    "صلاح الدین کا مبینہ قتل ریاست کے سر پر ہے” محمد عبداللہ

    عمران خان صاحب آپ نے سانحہ ساہیوال پر کہا کہ میں بیرون ملک سے واپس آکر اس معاملے کو منطقی انجام تک پہنچاؤں گا اگر آپ واپس آچکے تو آپ کو خبر ہو کہ اب اک اور بے گناہ اور معصوم نوجوان صلاح الدین ان پولیس والوں کی درندگی کی بھینٹ چڑھ گیا. ہنسنے مسکرانے والا صلاح الدین جو خود تو چلا گیا لیکن اس نظام پولیس پر ایک ایسا زناٹے دار تھپڑ رسید کرگیا جو شاید اس کی موت کی ہی وجہ بن گیا. چہرے پر بچوں کی سی معصومیت لیے بھولے لہجے میں اپنے تفتیشی افسران سے کہنے لگا کہ جان کی امان پاؤں تو اک بات عرض کروں. اذن سوال ملنے پر جو بولا تو اس نظام پولیس اور درندگی کو عیاں کرگیا کہنے لگا کہ آپ نے انسانوں کو مارنا کہاں سے سیکھ لیا. اور پھر مبینہ طور پر جان کی امان نہ مل سکی اور سفید ریش بوڑھے باپ کو صلاح الدین کی میت ہی ملی جس پر مبینہ طور پر غیر انسانی تشدد کے آثار واضح ہیں. پولیس کی زیر حراست یہ موت پورے نظام پولیس اور ریاست کے سر پر ہے. اس مبینہ قتل کی ذمہ دار ریاست پاکستان ہے، یہ نظام تفتیش اور نظام پولیس ہے جو نہ جانے کتنی ماؤں کے لعل کھاگیا، کتنی بیویوں کے سہاگ اجڑ گئے، کتنی بہنیں اپنے بھائیوں کی راہ تکتی رہ گئیں اور کتنے ہی باپ اپنے بڑھاپے کے سہارے کی تلاش میں در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہوئے.
    عمران خان صاحب، جناب قمر جاوید باجوہ صاحب، چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ صاحب، چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی صاحب، اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر صاحب ، عثمان بزدار صاحب، آئی جی پنجاب پولیس، مکمل پارلمینٹ، تمام قومی اداروں کے سربراہان صلاح الدین کا مبینہ قتل یہ ریاست پاکستان پر ہے آپ سب کے سر ہے اور پوری قوم کے سر پر ہے. آخر کب تک اس قوم کے بیٹے تفتیش کی اس درندگی کی بھینٹ چڑھتے رہیں گے. پولیس کے سپاہی اور افسران کب تک ترقیوں کے چکر میں بے گناہوں کو بہیمانہ طریقے سے قتل کرتے رہیں گے؟ ذہنی معذور صلاح الدین کا خون رائیگاں نہیں جانا چاہیے..
    اپنے دوستوں سے جو معصوم صلاح الدین کو ملک چوروں اور ڈکیتوں سے ملا رہے ہیں یا موازنہ کر رہے ہیں چھوٹا اور بڑا چور کہہ کر میں ان سے گزارش کرتا ہوں صلاح الدین چور نہیں تھا. وہ تو اس کیفیت میں تھا جس میں شریعت اسلامی بھی فرائض تک میں درگزر کرجاتی ہے. خدارا صلاح الدین کو چور کہہ کر اس کے والدین اور ورثاء کے دلوں پر چھریاں نہ چلائیں جو صلاح الدین سے پہلے ہی دو جواں سال بیٹے اس دھرتی کے لیے قربان کرچکے ہیں.

    Muhammad Abdullah
  • تحریک آزادی کشمیر اور بھارتی مظالم —  طارق محمود عسکری

    تحریک آزادی کشمیر اور بھارتی مظالم — طارق محمود عسکری

    مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کو 30 دن مکمل ہو چکے ہیں اس دوران کشمیریوں کے گھروں میں ادویات، کھانے پینے کی اشیاء، اور دیگر ضروریات زندگی کی شدید قلت ہے کاروباری زندگی معطل ہے، انٹرنیٹ، ٹی وی، ٹیلیفون، موبائل سروس اور اخبارات بھی مکمل طور پر بند ہیں کشمیری عوام کا ایک دوسرے سے رابطہ مکمل منقطع ہے غرض یہ کہ مقبوضہ کشمیر کی وادی ایک ماہ سے دنیا کی سب سے بڑی اور اذیت ناک جیل میں تبدیل ہو چکی ہے اور مودی سرکار کے مطابق اس نے 90 لاکھ کشمیری عوام کو قید کر کے کشمیر کا قلعہ فتح کر لیا ہے۔ ناظرین سوال یہ ہے کہ کیا واقعی مودی سرکار نے کشمیر کو فتح کر لیا ہے اور کشمیر اب ہندوستان کا حصہ بن چکا ہے کیا کشمیری عوام نے اپنے آپ کو ہندوستان کے شہری مان لیا ہے؟؟؟

    صورتحال اس کے برعکس ہے جوں جوں مقبوضہ وادی میں بھارتی مظالم بڑھتے جا رہے ہیں کشمیریوں کی تحریک آزادی میں اتنی ہی تیزی آتی جا رہی ہے اب روزانہ کشمیری ہزاروں کی تعداد میں کرفیو توڑ کر سڑکوں پر نکل رہے ہیں اور بھارتی فوج کے سامنے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر احتجاج کر رہے ہیں پیلٹ گن کے چھرے، آنسو گیس، لاٹھی چارج، بھارتی فوج کی جانب سے گھروں میں گھس کر نوجوانوں کی گرفتاریاں اور جوان لڑکیوں کے اغواء جیسے واقعات بھی تحریک آزادی میں رکاوٹ نہیں بن سکے۔ بچہ، بوڑھا، مرد اور عورتیں یک زبان ہوکر آزادی مانگ رہے ہیں اور پاکستان میں شمولیت کے نعرے لگا رہے ہیں ان کے گھروں پر پاکستانی پرچم لہرا رہے ہیں وہ احتجاج کے دوران پاکستان کا ہی پرچم اٹھائے ہوئے ہیں ان کی میتوں پر بھی پاکستانی پرچم نظر آتے ہیں اور تو اور ان کی قبروں پر بھی پاکستان کے جھنڈے لگے ہوئے ہیں کیونکہ وہ اپنے آپ کو بھارت کے نہیں بلکہ پاکستان کے شہری قرار دیتے ہیں ایک طرف روزانہ سینکڑوں کشمیری بھارتی فوج کے جدید ہتھیاروں سے زخمی ہو رہے ہیں تو دوسری طرف درجنوں بھارتی فوجی بھی کشمیری نوجوانوں کی سنگ بازی سے ضرور زخمی ہو رہے ہیں بھارتی فوج کے کے شدید مظالم سہہ سہہ کر اب کشمیریوں کا خوف ختم ہوچکا ہے اور اسی وجہ سے آنے والے دنوں میں بھارتی فوجیوں کی لاشوں میں اضافہ دیکھنے کو ملے گا جو کہ بھارت کے لیے لیے شدید خطرے کی علامت ہے اس وقت مقبوضہ وادی میں ساڑھے آٹھ لاکھ سے زیادہ قابض فوج جدید ترین ہتھیاروں سے لیس موجود ہے اس کے باوجود بھی کشمیری کرفیو کو جوتے کی نوک پر رکھ رہے ہیں کیوں کہ کہا جاتا ہے کہ دنیا میں کسی قوم یا ملک کو غلام بنائے رکھنے کے دو ہی طریقے زیادہ موثر ہوتے ہیں جن میں سے ایک روپے پیسے کا لالچ اور دوسرا طاقت کا خوف ہوتا ہے لیکن کشمیری عوام یہ دونوں امتحان پاس کر چکی ہے تاریخ گواہ ہے کہ وہ کبھی بھی بھارتی لالچ کے چکر میں نہیں آئی اور اب پچھلے ایک ماہ سے کرفیو اور دیگر مظالم نے ان کا خوف بھی ختم کر دیا ہے

    دفاعی تجزیہ نگاروں کے مطابق صورتحال اب زیادہ دیر بھارت کے قابو میں نہیں رہے گی۔ اور بہت جلد بہادر کشمیری نوجوان بھارتی فوج کے قدم ڈگمگا دیں گے اور یہی بھارتی فوج جو طاقت کے نشے میں شرابور ہو کر کے مقبوضہ وادی میں ائی تھی ذلیل و رسوا ہو کر ہندوستان کی طرف بھاگے گی اور کشمیر کے نوجوان اس کو بھاگنے نہیں دیں گے نظر یہ آرہا ہے کہ جس طرح آج امریکہ افغانستان سے اپنی فوج نکالنے کے لیے پاکستان کی منت سماجت کر رہا ہے بالکل اسی طرح بھارت بھی اپنی فوج کی باحفاظت واپسی کے لیے پاکستان کی منت سماجت پر مجبور ہوگا حالات سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ تحریک آزادی کشمیر میں وہی موڑا گیا ہے جو تحریک آزادی پاکستان میں 1940 کو آیا تھا اب کشمیریوں کو آزادی کے حصول سے بھارت سمیت دنیا کی کوئی بھی طاقت باز نہیں رکھ سکتی کیونکہ کشمیریوں کا خوف ختم ہوچکا ہے جیسے جیسے تحریک آزادی کشمیر میں تیزی آئے گی انڈیا میں دوسری آزادی کی تحریکیں بھی مضبوط ہوں گی اور بلاآخر بھارت کے وجود سے کئی ریاستیں آزاد ہوں گی۔ آخر میں پاکستانیوں سے کہنا چاہتا ہوں کشمیری عوام بھارتی مظالم کے خلاف اپنا خون پیش کر رہی ہے آپ ان کی اخلاقی اور سیاسی حمایت کے لیے گھروں سے باہر ضرور نکلیں کیونکہ اس سے آپ کا خون نہیں بہے گا بلکہ صرف پسینہ بہے گا اور اتنا تو لازم ہے

  • آر ایس ایس ہی سب کچھ ہے

    آر ایس ایس ہی سب کچھ ہے

    ایک عجیب امر ہے, آج کل جس کو دیکھو وہی بی.جے.پی کی محبت میں سرشار ہے, کیا قائدین, کیا عوام, سب کو لگتا ہے کہ ابھی تک آر.ایس.ایس کی مخالفت بیکار میں کی گئی, اس سے اچھی, سلجھی, بہتر اور وطن پرست تنظیم بھلا اور کہاں, کل تو تک جو لوگ ببانگ دہل اسٹیجوں پر چیخ و پکار کیا کرتے تھے, وہ آج مخالفت کو ترک کرنے کے مشورے دیتے نظر آتے ہیں, اچھا, اچھی بات ہے, مخالفت ترک کردینی چاہئے, مذاکرت کی راہ اپنانی چاہئے, لیکن مذاکرات کرنے سے پہلے کیا کوئی اس بات کی ضمانت دے سکتا ہے کہ آر.ایس.ایس گوالکر کو اپنا رہنما اب تسلیم نہیں کرے گی؟ گوڈسے کے افکار و نظریات سے پلڑا جھاڑ لے گی؟ جن اصولوں پر آر.ایس.ایس قائم ہے اس سے سمجھوتہ کرلے گی؟

    شاید شکست خوردہ قوم اسی طرح ہوتی ہے, جسمانی شکست خوردگی ہوتی تو سنبھال بھی لیتے, ہم سب تو ذہنی شکست خوردگی کے شکار ہیں, اور یہ ذہنی شکست خوردگی بھی کیوں؟ کچھ لوگوں کے مفاد جڑے ہوئے ہیں, اسٹیبلشمنٹ کی مخالفت میں کھڑے ہوں گے تو ان کے مفادات کو نقصان پہونچنے کا اندیشہ ہے, ورنہ کیا وجہ ہے کہ ایک مہینے سے ایک اسٹیٹ کو جیل خانہ میں تبدیل کیا گیا ہے, مگر کوئی آواز سنائی بھی نہیں دیتی؟ آخر یہ ڈر کیسا ہے؟ ہزیمت زدہ لوگوں کی نفسیات انہیں Resistance سے روکتی ہے, حق کی حمایت اور ظلم کی مخالفت سے ڈراتی ہے, ایران توران کا معاملہ ہو تو بڑی بڑی باتیں کی جائیں, اور گھر میں ظلم ہو تو چپی سادھ لی جائے؟

    یہ بات ذہن نشین کرلیجئے, کہ آر.ایس.ایس کو آپ سے نہیں پرابلم ہے, اسے کوئی تکلیف نہیں, کیونکہ اسے معلوم ہے کہ ہندوستان میں جس طرح سے مسلمان بکھرے پڑے ہیں, انہیں ختم کیا جانا اس قدر آسان بھی نہیں, پھر وہ چاہتی کیا ہے؟؟ اقتدار نا؟ ہاں, اقتدار ہی, وہ بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے, وہ آپ کی مشارکت نہیں چاہتی, وہ آپ کو برابر کا شئیر نہیں دے سکتی, ہاں بطور ملازم اور نوکر آپ کو ضرور ہائر کرسکتی ہے, آپ کو کیرلا کا گورنر ضرور بنا سکتی ہے, مگر آپ کی حیثیت چپراسی سے بڑھ کر نہیں ہوسکتی, آپ اپنی قوم کی سوشل Upliftment کے لئے کچھ نہیں کرسکتے, اور اگر جمہوریت میں آپ کا شئیر ہی ختم ہوجائے تو پھر کیا پڑی ہے کہ آپ کو دشمن سمجھا جائے, یقین مانئے اگر آپ ہندو راشٹر کو تسلیم کرلیں یا پھر اس بات پر راضی ہوجائیں کہ حکومت ہمیشہ آر.ایس.ایس کی رہے گی تو آپ کو کبھی ستایا نہیں جائے گا, ساری لڑائی بس پاور کے لئے, جس دن آپ یہ تسلیم کرلیں گے, آپ کے اوپر سے ظلم و ستم بند کردیا جائے گا, مگر کیا پھر آپ اس وقت آزاد تصور کئے جاسکیں گے؟ کیا آپ کی حالت اس پنچھی کی طرح نہیں ہوگی جس کو دو وقت کا کھانا تو ضرور دیا جاتا ہے مگر وہ کھلی فضاؤں میں سانس نہیں لے سکتا, کیونکہ یا تو اس کے پر کتر دئیے گئے ہوتے ہیں, یا پھر وہ پنجرے میں بند ہوتا ہے.

    ہمیشہ تاریخ کے پنوں نے یہی دیکھا ہے کہ قوموں کی مغلوبیت کے ایام میں قوم فروشوں کی تعداد میں اضافہ ہوجاتا ہے, بکنے والے تھوک بھاؤ میں مارکیٹ میں نظر آنے لگتے ہیں, چند سکوں کے عوض قوم کے ان جانبازوں کو بھی گروی رکھ دیتے ہیں کہ جن سے قوم کا مستقبل وابستہ ہوتا ہے, ایسے ایسے لوگ میر و جعفر میں تبدیل ہوجاتے ہیں کہ جن کے بارے میں امید کی جاتی ہے کہ کم سے کم وہ تو سرفروشی کی راہ کو اختیار کریں گے, آج کل یہی ہورہا ہے, ہر کوئی بک رہا ہے, بی.جے.پی دام لگائے جارہی ہے, اور لوگ ردیوں کے بھاؤ بک رہے ہیں, اتنی تو کم اوقات نہیں تھی ان کی, مگر کیا ہی کرسکتے ہیں, جس طرح میڈیا کا کام ہوتا ہے اسٹیبلشمنٹ سے سوال پوچھنا, اسی طرح اقلیتوں کا بھی کام ہوتا ہے کہ اپنے اندر Resistance کو بھاؤنا کو جگانے رکھنا, اکثریت کے سامنے گھٹنے نہ ٹیک دینا, اپنی شناخت کو بچائے رکھنے کی ہر ممکنہ کوشش کرنا, کیونکہ ادھر جھکے, ادھر انہیں خوش کرنے کے لئے مندروں تک میں جھکنا پڑے گا, کیونکہ اصل گلہ تو آپ کی توحید پرستی سے ہی ہے, آپ کے محض ایک ہی دین کو صحیح سمجھنے سے ہی ہے.

    نادانوں سے کیا گلہ کرنا, گلہ تو ان سے ہے کہ جن کے بارے میں سوچا جاتا تھا کہ یہی راہ دکھانے والے لوگ ہیں, یہی ظلمت و تاریکی میں روشنی کی طرف لے جانے والے ہیں, کہ جب سب ساتھ چھوڑ جائیں گے تو بھی یہ پامردی دکھلائیں گے, یہ جھکیں گے نہیں, یہ ٹوٹیں گے نہیں, مگر وہی لوگ پالا بدل رہے ہیں, وقت سے پہلے ہی ان پر خوف اس طرح طاری ہے کہ کبھی کسی دربار میں حاضری دے رہے ہیں, کبھی کسی دربار میں, اور ان کی تعداد ہے کہ دن بدن بڑھتی ہی جارہی ہے, میری مراد اکیڈمیشینز ہیں, پڑھے لکھے لوگ ہیں, کہ جن میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو مدرسوں سے پڑھے ہیں اور عصری تعلیم یافتہ بھی ہیں, کہ جن کا فیلڈ اردو, عربی, اسلامیات یا دیگر سبجیکٹس ہیں, وہی لوگ بک رہے ہیں, اور شاید سب سے زیادہ بک رہے ہیں, باوجود یکے کہ وہ سب کچھ جانتے ہیں, وہ آر.ایس.ایس کی تاریخ سے واقف ہیں, جو بی.جے.پی کی مسلم دشمنی سے آشنا ہیں, مگر وہ ہیں کہ چاٹوکارِتا کی انتہا کو پار کئے جارہے ہیں, محض اس لئے کہ کہیں ان کو لیکچرر بنا دیا جائے گا, آر.ایس.ایس کی چھتر چھایہ کی وجہ سے جلد از جلد ان کا مستقبل سنور جائے گا, بکنے کی ایک عجب ہوڑ لگی ہوئی ہے, سامنے ذاتی مفاد ہے, مگر دلائل حکمت کے دئیے جارہے ہیں, امت کے حق میں ایک بہتر فیصلہ بتایا جارہا ہے, امت کے حق میں بہتر ہو نہ ہو, شاید ان کے ان کے حق میں ضرور بہتر ہوگا, کیونکہ وہ دیکھ رہے ہیں کہ اکیڈمکس میں رومیلا تھاپر سے سی.وی طلب کیا جارہا ہے, اور للو پنجؤوں کو محض سیاسی چاٹوکارِتا کے بنا پر سیٹیں عنایت کی جارہی ہیں, سو صلاحیت تو اتنی بنائی نہیں, کہ اپنے راستے خود بنا سکیں, لے دے کے بس امت کی دہائی دے کر اپنے مفاد کے لئے راہیں ہموار کرنی ہیں.

    جے.این.یو میں اسٹوڈنٹس کا الیکشن قریب ہے, اب کی بار کا منظر تھوڑا سا بدلا ہوا ہے, بہت سارے سو کالڈ مسلمان طلباء اے.بی.وی.پی کا پرچار کررہے ہیں, اور پرچار بھی اس جوش و خروش کے ساتھ کہ شاید اے.بی.وی.پی بھی اتنی جوش نہ دکھا پائے, بھارت ماتا کے نعروں کے ساتھ ساتھ راج تلک کی کرو تیاری, اب کی بار بھگوا دھاری جیسے نعروں تک, افف غیرت کہاں ہے؟ وجہ صرف اتنی ہے کہ آقاؤں کی نظر میں ثابت کیا جاسکے کہ کس قدر وفادار ہیں ہم آپ کے, آپ جلد از جلد ہمیں کوئی عہدہ دیجئے, کسی حقدار کا حق مارئیے, ہمیں جگہ عنایت کیجئے, جیسے کہ اس سے پہلے آپ نے فلاں فلاں کو عطا کیا, ان کی بے لوث وفاداری کے سبب, ورنہ وہ اس قابل نہ تھے کہ ان کو پروفیسرشپ عطا کی جاتی, سو جیسے وہ تھے, ویسے بھی ہیں, نظر کرم ہم پر کیجئے, نظر کرم ہوجائے گی, لیکن وہ کہتے ہیں نا کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے, تاریخ پھر دہرائے گی, جیسے انگریزوں کی حمایتیوں کو آج غدار لکھا جارہا ہے, ویسے کل آر.ایس.ایس کے چاٹوکاروں کو بھی غدار لکھا جائے گا, اس وقت آپ کے بارے میں لکھا جائے گا کہ جب ایک آئی.ایس آفیسر صرف اس وجہ سے استعفی دے رہا تھا تاکہ کل کو یہ نہ اس سے پوچھا جائے کہ جب اسی لاکھ لوگوں پر زمین تنگ کردی گئی,تو آپ کیا کررہے تھے, اس وقت کچھ لوگ تھے جو تلوے چاٹ رہے تھے, نہایت مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے تھے, اپنے آقاؤں سے اتنی بھی گزارش نہیں کرپا رہے تھے کہ کم سے کم انسانیت کے ناطے ان لاکھوں لوگوں کو ایک دوسرے سے بات کرنے کی اجازت دے دی جائے.

    کس خوش فہمی میں جی رہے ہیں لوگ, مذاکرات کرو, ضرور کرو, مگر ایک وقار کے ساتھ, اس میں عزت بھی ہو, اس میں اپنی شرطیں بھی ہوں, گر کر ذلالت کے ساتھ نہیں, دوسرے درجے کے شہری کے طور پر نہیں, آپ اس ملک کے اتنے ہی حقدار ہو جتنے وہ ہیں, کورس آف ایکشن بناؤ, ہر مسئلے کے لئے قانونی لڑائی لڑو, اگر آپ اس طرح مذاکرات پر راضی ہوجائیں گے کہ وہ جو چاہیں کریں, یا وہ جو کہیں آپ کریں, وہ کہیں تو آپ اپنے دین و ایمان کی فکر کئے بنا بھی غیر اسلامی نعرے لگائیں, وہ کہیں تو آپ مندروں میں بھی جھک جائیں, وہ کہیں تو آپ نہ کچھ دیکھیں, نہ کچھ سنیں, تو پھر آپ کس بنیاد پر ان لوگوں کو انگریزوں کا دلال یا غدار کہوگے جو ان کے ساتھ تھے, یا جنہوں نے جنگ آزادی میں حصہ لینے کے بجائے صلح کے راستے کو اپنایا, آخر آج جو مصلحت آپ کے سامنے ہے, کل ان کے بھی سامنے رہی ہوگی, آج اگر آپ کو لگتا ہے کہ آر.ایس.ایس کے ساتھ مل جانے میں ہی لانگ ٹرم میں بھلائی ہے, تو پھر انہیں بھی لگتا رہا ہوگا کہ انگریزوں کے ساتھ مل جل کر رہنے میں ہی بھلائی ہے, تو پھر یہ پندرہ اگست کی ڈھکوسلے بازیاں کیونکر؟ یہ مجاہدین آزادی کے واقعات سنا سنا کر جوش و جذبات سے لوگوں کو بھر دینا چہ معنی دارد؟ جب کہ آپ کے اندر مزاحمت کی ذرہ برابر بھی رمق نہیں؟ "شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی ہزار سالہ زندگی سے بہتر” جیسے محاوروں سے تو اپنی حق وراثت کو ترک کردینی چاہئے کہ جب آپ ظلم پر زبان کھولنا تو دور کی بات, اپنی خاموشیوں سے ظلم کی حمایت بھی کرتے ہیں.

    تحریر:عزیر احمد ، نیو دہلی

  • جناب وزیر اعظم عمران خان صاحب!! تحریر: میر محسن الدین

    جناب وزیر اعظم عمران خان صاحب!! تحریر: میر محسن الدین

    آپ تک میری کہانی پہنچ چکی ہوگی۔
    ہوا یہ کہ میں نے دکھوں کے مارے اس معاشرے کو کچھ تفریح دینے کا سوچا ۔
    میرا تو ذہن بھی ٹھیک سے کام نہیں کرتا مگر پھر بھی اتنا سوچ لیا۔

    میں نے کیمرے میں منہ چڑایا اور اے ٹی ایم کھول کر اپنا پھنسا ہوا کارڈ نکالا۔
    میری بھولی بھالی شکل اور معصوم شرارت نے بہت سوں کو محظوظ کیا۔
    وزیر اعظم صاحب میں چور نہیں تھا، اگر میں چور ہوتا تو پیسہ نکال کر پولیس کو اسکا حصہ تھما دیتا اور خود عیش کرتا لیکن بدقسمتی یہ کہ میں چور نہیں تھا۔
    مجھے بس مذاق سوجھی تھی لیکن اس کی سزا آپ ہی کی ماتحت پولیس نے مجھے یہ دی کہ میری کھال چھیر دی، ادھیڑ دی، مجھے چاقو گھونپ دئیے، مجھے جسم کے نازک حصوں پر سریوں سلاخوں سے مارا اور میرے ننگے بدن پر گرم استری لگا لگا کر جلا کر مار دیا…

    عمران خان صاحب!!
    ایک سوال کروں؟
    آپ نے مدینہ کی ریاست اور انصاف کی بات کرکے عملی کوئی ایکشن نہ کرنا کہاں سے سیکھا؟
    آپ نے ساہیوال واقعہ کے قاتلوں کو نشان عبرت بنانے کا وعدہ کیا تھا لیکن بعد میں سب بھلا دیا اور سب وہی پرانا چلنے لگا۔
    اگر واقعی آپ ایسا کرتے تو شاید آج میں بچ جاتا۔
    آپ نے خالی خولی وعدوں پر آنکھوں میں دھول جھونکنا کہاں سے سیکھا؟

    جناب چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ صاحب!!
    میں نے حوالات میں پولیس سے بس یہ پوچھنے کی جسارت کی کہ آپ نے مارنا کہاں سے سیکھا جس پر وہ درندوں کی طرح مجھ پر ٹوٹ پڑے۔
    کیا یہ میں نے کوئی جرم کیا؟
    میں نے تو اسی قانون کی بات کی جو آپ نے پڑھا کہ حوالات اور جسمانی ریمانڈ میں پولیس کو مارنے کا کوئی حق نہیں ہے۔
    چیف جسٹس صاحب!! ایک سوال کرسکتا ہوں کہ آپ نے قانون کی اتنی سنگین پامالی پر خاموش رہنا کہاں سے سیکھا؟

    جناب آرمی چیف قمر باجوہ صاحب!!
    میرے متعلق آپ کو بھی علم ہوا ہوگا۔
    ایک سوال آپ سے بھی کرونگا۔
    آپ ملک میں جب باقی معاملوں تماشوں میں ان رہ سکتے ہیں۔
    جب آپ کرکٹ تک میں کردار رکھ سکتے ہیں، آپ کے ماتحت ادارے ہر جگہ پہنچ سکتے ہیں تو پولیس میں میرے قاتلوں کو نظر انداز کرنا آپ نے کہاں سے سیکھا؟

    میرے عوام تو میرے لئے بول رہے ہیں، میرے سوال آپ ملک کے اختیار و اقتدار والوں سے ہیں.. میری جلی کٹی لاش آپ ریاست کے بڑوں کا منہ چڑا رہی ہے۔
    کیا آپ مجھے اور میرے ملک کے لوگوں کو جواب دے سکتے ہو؟؟

    فقط آپکا صلاح الدین