Baaghi TV

Category: بلاگ

  • مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم پر او آئی سی انسانی حقوق کمیشن کا اظہار تشویش

    مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم پر او آئی سی انسانی حقوق کمیشن کا اظہار تشویش

    جدہ : بھارتی فورسز نےمقبوضہ کشمیر میں مواصلاتی نظام معطل کر رکھا ہے اسلامی تعاون تنظیم کے انسانی حقوق کمیشن نے مقبوضہ کشمیر میں جاری مسلسل کرفیو اور کشمیریوں کو بنیادی حقوق سے محروم رکھنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق او آئی سی کے ہیومن رائٹس کمیشن (آئی پی ایچ آر سی) نے مقبوضہ کشمیر میں مکمل لاک ڈاؤن اور کرفیو کی سخت مذمت کی ہے اور بھارتی حکومت کو کہا ہے کہ جلد سے جلد کرفیو ختم کیا جائے۔

    او آئی سی اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ بھارتی فورسز نےمقبوضہ کشمیر میں مواصلاتی نظام معطل کر رکھا ہے، ان پابندیوں پر عالمی سطح پر مذمت کی جارہی ہے۔بھارت نے مقبوضہ کشمیر کو کشمیریوں کیلئے سب سے بڑی جیل میں تبدیل کردیا ہے، مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کو انسانی حقوق سے بری طرح محروم کررکھا جارہا ہے۔

    اسلامی تعاون تنظیم کے انسانی حقوق کمیشن نے کہا ہے کہ ادویات ناپید ہیں، اسپتال سنسنان ہیں، تعلیمی ادارے ویران پڑے ہیں، سڑکوں پر ہو کا عالم ہے۔ بھارتی بربریت کے بعد پوری وادی فوجی چھاؤنی کا منظر پیش کر رہی ہے۔انٹرنیٹ کی بندش کے باعث لوگوں کو اطلاعات تک رسائی نہیں اور اخبارات بھی بند ہیں۔ آئی پی ایچ آر سی کے مطابق بھارتی فورسزنے پانچ ہزار سے زائد کشمیریوں کو غیرقانونی طور پر ان کے گھروں میں محصور کر رکھا ہے۔

    دوسری طرف صحافیوں ،انسانی حقوق تنظیموں کے کارکنوں کو جھوٹے الزامات پر گرفتار کیا جارہا ہے، مقبوضہ کشمیرکی سیاسی قیادت کو بھی بغیر کسی قانون کے قید کر رکھا ہے، مقبوضہ کشمیر میں بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کی جارہی ہیں

  • ’کشمیری خواتین اور لڑکیاں گھروں میں محفوظ نہیں، خواتین برتن بجا کر مدد مانگتی ہیں‘

    ’کشمیری خواتین اور لڑکیاں گھروں میں محفوظ نہیں، خواتین برتن بجا کر مدد مانگتی ہیں‘

    برلن: کشمیریوں پر ہونے والے بھارتی مظالم پر عالمی میڈیا بھی تشویش کا اظہار کرنے لگا ،جرمن میڈیا نے بھارت کے جھوٹ سے پردہ اٹھادیا، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کشمیر میں خواتین اور لڑکیاں گھروں میں محفوظ نہیں ہیں، خواتین برتن بجا کر مدد مانگتی ہیں۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی بربریت کا سلسلہ جاری ہے، بھارتی فوج گھر میں گھس کر خواتین اور بچیوں کو نشانہ بنارہی ہے۔

    یاد رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں آج مسلسل 31ویں روز بھی کرفیو برقرار ہے اور مواصلات کا نظام مکمل پر معطل ہے، قابض انتظامیہ نے ٹیلی فون سروس بند کررکھی ہے جبکہ ذرائع ابلاغ پرسخت پابندیاں عائد ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے دیہی علاقوں میں زیادتی کے واقعات بڑھ گئے ہیں اور خواتین برتن بجا کر مدد کو پکارتی ہیں۔

  • "خان صاحب کے لئے گھر بیٹھے بٹھائے کشمیر لینے کا فارمولا ” تحریر: ڈاکٹر حافظ اسامہ اکرم

    "خان صاحب کے لئے گھر بیٹھے بٹھائے کشمیر لینے کا فارمولا ” تحریر: ڈاکٹر حافظ اسامہ اکرم

    آج کل کشمیر کے حالات بہت مخدوش ہیں ۔ کرفیو کو ایک مہینہ ہونے والا ہے ، کشمیری بھوک پیاس ، دوائیوں کی عدم موجودگی، آنسو گیس شیل اور چھروں سے روز مر رہے ہیں ۔ میڈیا اطلاعات کے مطابق کشمیری لڑکیوں کو اٹھا کر لے جایا جا رہا ہے ۔ بارہ سال کے بچوں کو بھی شہید کر کے کشمیری مسلمانوں کی نسل کشی کی جارہی ہے ۔اس صورتحال میں موجودہ وزیراعظم پاکستان عمران خان صاحب خود کو اس پہ بہت زبردست متفکر بتاتے ہیں ۔ اور کشمیر کے سفیر کا درجہ دیتے ہیں لیکن ساتھ ساتھ عالمی امن کی ٹھیکہ داری بھی چونکہ صرف پاکستان کے حصہ میں آئی ہے لہذا خان صاحب اور ان کے ماننے والے یہ کہتے پھرتے ہیں کہ "کیا اب میں جنگ کر لوں ،حملہ کر دوں۔۔۔۔؟؟؟ ”
    تو ان کے لئے کچھ گذارشات ہیں کہ جناب من آپ بلکل جنگ نہ کریں ، نہ حملہ کریں۔ آپ کی سو سو مجبوریاں ہیں ،ہم آپ کو گھر بیٹھے بٹھائے کشمیر کی آزادی کا طریقہ بتاتے ہیں جس میں نہ آپ پر کوئی عالمی دباؤ آئے گا نہ آپ کو انٹرنیشنل بارڈر کراس کرنا پڑے گا ، نہ شاہین و نصر کا استعمال کرنا پڑے گا نہ آپ کے فوجی شہید ہوں گے ۔
    ان سب کا آسان حل انڈیا کا صرف ایک مکمل بائیکاٹ ہے ، اس پہ عمل تو کر کے دیکھیں ۔ ہمیں امید ہے آپ اتنے بھی بزدل بھی واقع نہیں ہونگے اور یہ کر گزریں گے ۔

    1. پاکستان انڈیا سے ہر طرح کے سفارتی تعلقات مکمل طور پر توڑ لے۔

    2.انڈیا کی روز روز کی زمینی بارڑر اور بالاکوٹ والی ہوائی حدود کی خلاف ورزی ، ڈیموں پہ بند باندھ کر پانی کی چوری سمیت تمام تر معاہدوں کی بار بار کی خلاف ورزی کے جواب میں تمام تر معاہدوں کے ختم ہونے کا اعلان کر دیا جائے۔

    3۔ ہر بین الاقوامی فورم پر انڈیا کے کشمیریوں اور دیگر اقلیتوں پہ ظلم کو دنیا کے سامنے واضح کیا جائے ۔

    4.انڈیا سے ہر قسم کی آلو ، پیاز کی تجارت ختم کردی جائے۔

    5. سوائے مذہبی رسومات کی ادائیگی کے دونوں ملکوں کے شہریوں کی ایک دوسرے کے ملک میں داخلہ اور آمدورفت بند کردی جائے۔

    6۔ انڈین سامان تجارت اور ہوائی جہازوں کو راہداری ختم کی جائے،

    اگر آپ صرف یہ کام کر لیں تو دیکھیں انڈیا کشمیر سمیت تمام تر تصفیہ طلب امور میں آپ کے قدموں میں نہ آ گرے تو ہم سزاوار ۔

  • پنجاب پولیس میں اصلاحات کی اشد ضرورت : علی چاند

    پنجاب پولیس میں اصلاحات کی اشد ضرورت : علی چاند

    کسی بھی ملک میں پولیس کا محکمہ صرف اور صرف اس لیے بنایا جاتا ہے تاکہ عوام کے جان و مال کو تحفظ دیا جا سکے ۔ لوگوں کا جان و مال چوروں ، ڈاکوٶں اور لٹیروں سے محفوظ رکھا جا سکے ۔ لیکن پاکستان میں بد قسمتی سے پولیس کا محکمہ ایک ایسا محکمہ ہے جہاں انسان سب سے زیادہ بے تحفظ ہے ۔ خاص طور پر پنجاب پولیس کی صورتحال بہت ہی زیادہ خراب ہے ۔ پنجاب پولیس نا صرف عوام میں اپنا اعتماد بری طرح کھو چکی ہے بلکہ لوگوں کے دلوں میں اپنے لیے بیشمار نفرت بھی ڈال چکی ہے ۔ پنجاب پولیس کی وجہ سے جہاں پنجاب کے شہری اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں وہیں پنجاب پولیس کے جوان بھی انتہاٸی لاچارگی کی زندگی گزار رہے ہیں جہاں نا تو پنجاب پولیس کے جوانوں کے پاس نوکری کا مکمل تحفظ موجود ہے اور نا ہی ان کے پاس کوٸی ذاتی طاقت ۔ پنجاب پولیس میں زیادہ تر سیاسی اثر ورسوخ ہی دیکھنے کو ملتا ہے ۔ اگر کوٸی مجرم طاقت ور ہے تو وہ اپنے سیاسی اثر و رسوخ کی وجہ سے پولیس پر دباٶ ڈال کر لوگوں کا جینا حرام کیے رکھتا ہے ۔ اگر کوٸی شریف اور ایمان دار پولیس والا ایسے مجرم پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کرتا ہے تو یا تو وہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے یا پھر نوکری سے ۔ بعض اوقات ایسا بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ ایسے پولیس والے کا تبادلہ کہیں دور دراز ایسے علاقوں میں کر دیا جاتا ہے جہاں دوسرے پولیس والے اس سے سبق سیکھ سکیں کہ انہیں صرف اور صرف سیاسی نماٸندوں کی ہی خدمت کرنی ہے ۔ لیکن انہی پولیس والوں کے نزدیک ایک عام انسان جس کے پاس نا دولت ہے ، نا سیاسی اثر و رسوخ ، نا عدالتوں میں چکر کاٹنے کا وقت اور نا ہی مقدمہ لڑنے کے لیے مہنگا وکیل کرنے کے لیے پیسہ تو یہی پولیس والے عام عوام کا جینا حرام کر دیتے ہیں ۔ بعض اوقات تو ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک عام شہری بغیر جرم کے شامل تفتیش کر دیا جاتا ہے اور وہ بیچارہ پھر دوران تفتیش ہی خالق حقیقی سے جا ملتا ہے ۔ ایسا عام طور پر اس وقت ہوتا ہے جب اس مظلوم پر کسی سیاسی شخصیت نے مقدمہ کروایا ہوتا ہے یا پھر کسی نے اپنی خاندانی دشمنی نکالنے کے لیے پولیس کو بھاری رقم دی ہوتی ہے ۔ دوسری اہم وجہ یہ کہ جب یہی پولیس والے بھرتی ہوتے ہیں تو انہیں نوکری کے حصول کے لیے بھاری رشوت دینی پڑتی ہے

    اور جب انہیں نوکری مل جاتی ہے تو یہ پولیس والے اپنی رشوت کے پیسے لوگوں سے وصول کرنے کے چکروں میں عام پبلک کے خون پسینے کی کماٸی کا ایک ایک سو روپیہ تک اپنی جیبوں میں ڈالنا شروع کر دیتے ہیں ۔

    پنجاب پولیس میں آج تک مقدمہ سے لے کر تفتیش تک وہی سسٹم چلا آرہا ہے جو انگریزوں نے برصغیر میں راٸج کیا تھا ۔ انگیریزوں کا پولیس بنانے کا مقصد تو یہی تھا کہ وہ یہاں کے مظلوم اور غلام لوگوں پر اپنا اثر و رسوخ بٹھاٸے رکھیں ، لوگوں پر بلاوجہ ظلم و تشدد کرتے رہیں تا کہ کوٸی آزادی کا نام نا لے ۔ انگریزوں کو گے تقریبا ایک صدی ہونے کو ہے مگر ہمارا پولیس کا نظام آج بھی وہی کا وہی ہے جو آج سے ایک صدی پہلے تھا ۔ ہمارے ہاں پولیس کا آج بھی یہی مقصد ہے کہ عام عوام پر سیاسی لوگوں اور امیر کبیر چوروں ڈاکوٶں کا خوف جماٸے رکھا جاٸے تاکہ یہ لوگ کبھی بھی کسی سیاسی نماٸیندے کے سامنے حق بات نا کر سکیں ۔ بعض اوقات تو یہ بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ چور ، ڈاکو اور بھتہ لینے والے خود اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ وہ لوگوں کی لوٹ مار سے ملنے والی چیزوں میں سے پولیس والوں کو بھی حصہ دیتے ہیں ۔

    کوٸی بھی محکمہ مکمل طور پر برا نہیں ہوتا نا ہی اس محکمے کے سبھی لوگ برے ہوتے ہیں جہاں پولیس والوں میں بہت سے درندے نظر آتے ہیں وہیں چند ایک پولیس والے عوام کی خاطر جانیں بھی لٹا دیتے ہیں ۔ بہت سے پولیس والے اسی عوام کی خاطر اپنی بیوی کو بیوہ ، بچوں کو یتیم ، ماں باپ اور چھوٹے بہن بھاٸیوں کو بے سہارا چھوڑ کر شہادت پا لیتے ہیں ۔ لیکن ایسے اچھے پولیس والوں کو بھی ہمارے پاکستانی بھاٸی قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھتے اور ان کے جذبے کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔

    پنجاب پولیس میں جب تک نٸی اصلاحات نہیں آٸیں گی تب تک یہ محکمہ کبھی بھی درست نہیں ہو سکتا۔ اس محکمے کو عوام دوست بنانے کے لیے حکومت کو اس محکمے میں نٸی اصلاحات کرنی چاہیے جو کہ امید تھی کہ وزیر اعظم پاکستان عمران خاں اپنی حکومت بناتے ہی کر دیں گے مگر اس سلسلے میں ابھی تک کوٸی پیش رفت نہیں ہوسکی ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پنجاب پولیس سے سیاسی اثر و رسوخ ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا جاٸے ۔تا کہ پولیس کسی دباٶ میں آٸے بغیر عوام کی جان و مال کو تحفظ دے اور عوام کی زندگیاں آسان بناٸے ۔

    ۔ دوسری بات جو بہت ضروری ہے کہ ایک پولیس والے کو اس کی نوکری کا تحفظ دیا جاٸے ، جان کا تحفظ دیا جاٸے ۔ یہ نا ہو کہ اگر کوٸی پولیس والا کسی سیاسی شخصیت کے دباٶ میں آنے سے انکار کرے تو سیاسی شخصیت یا تو اسے نوکری سے فارغ کر دے یا پھر اس پولیس والے کو جان سے ہاتھ دھونا پڑیں۔ تیسری اور اہم بات یہ کہ پولیس کے محکمے سے رشوت کا خاتمہ کیا جاٸے تاکہ کوٸی بھی جوان رشوت دے کر نوکری حاصل نا کرے ۔ اس سے امید ہے کہ یہ پولیس والے عوام کو لوٹنا بند کر دیں گے ۔ پولیس کو عوام دوست بنانے کے لیے پولیس کی اعلی سطح پر اخلاقی تربیت کی جاٸے اور انصاف کے حوالے سے اسلامی تعلیمات سیکھنا لازمی قرار دیا جاٸے ۔ اس کے علاوہ تفتیشی عمل میں جو غیر انسانی رویہ اپنایا جاتا ہے اس کا مکمل طور پر خاتمہ کیا جاٸے ۔ مقدمہ درج کرنے کے عمل میں آسانیاں فراہم کی جاٸیں تاکہ کوٸی بھی مظلوم بلاجھجک انصاف کے حصول کے لیے پولیس کے پاس آسکے ۔ روایتی تھانہ کلچر ختم کیا جاٸے اور پولیس کو عوام کے دروازے پر انصاف کے فراہمی کے لیے جانا چاہیے ۔ جو پولیس والے چوروں ، ڈاکوٶں اور بھتہ خوروں کے ساتھ مل کر عوام کا جینا حرام کیے ہوٸے ہیں انہیں سر عام سزاٸیں دی جاٸیں تاکہ باقی پولیس والے ان لوگوں سے عبرت حاصل کر کے اپنا قبلہ درست کر لیں۔

    اللہ پاک ہمارے پیارے وطن کو امن کا گہوارا بناٸے اور ہماری پولیس کو انسانیت کو سمجھنے کی توفیق عطا فرماٸے ۔ آمین

  • شانِ حسنین کریمین رضی اللہ عنہما  تحریر: سعدیہ بنت خورشید

    شانِ حسنین کریمین رضی اللہ عنہما تحریر: سعدیہ بنت خورشید

    سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:-
    "جب حضرت حسن رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے تو انکا نام حمزہ رکھا اور جب حضرت حسین رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے تو انکا نام چچا کے نام پر جعفر رکھا۔
    مجھے رسول اللہﷺ نے بلایا اور فرمایا: مجھے یہ دونوں نام تبدیل کرنے کا حکم دیا گیا ہے پس آپ علیہ السلام نے ان دونوں کا نام حسن و حسین رضی اللہ عنہما رکھا”

    یہ حدیث مبارکہ میری نظر سے گزری تو مجھے انتہائی تجسس ہوا کہ جن کے نام عرشِ بریں سے منتخب ہو کر آئے ہوں انکی شان کیا ہوگی۔ میں جنابِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسوں کی شان کے بارے مزید پڑھنے کے لیے کتب احادیث کھولتی ہوں۔ صحیح بخاری کتاب فضائل الصحابہ، باب مناقب الحسن و الحسین میرے سامنے آتا ہے۔
    سیدنا عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
    ” میں نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ آپ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو اٹھائے ہوئے ہیں اور فرما رہے ہیں، میرے ماں باپ ان پر فدا ہوں یہ نبی کریمﷺ کے مشابہ ہیں۔ حضرت علی سے انکی شباہت نہیں ملتی اور سیدنا علی زبان صدیق سے یہ کلمات سن کر ہنس رہے تھے۔”

    سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
    "جو چاہے کہ گردن، چہرہ اور بالوں کے لحاظ سے رسول اللہﷺ کے سب سے زیادہ مشابہ کسی کو دیکھے تو وہ حسن کو دیکھ لے اور جو چاہے کہ گردن سے ٹخنوں تک رسول اللہ ﷺ کے سب سے زیادہ مشابہ کسی کو دیکھے تو وہ حسین کو دیکھ لے.”

    سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کے دونوں بیٹے سرور کائناتﷺ کے سب سے زیادہ مشابہ ہیں۔ اور میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم خود سے مشابہت رکھنے والے ان دو بچوں سے اتنا پیار کرتے ہیں کہ ایک دفعہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ آپکے کندھے پر سوار ہوتے ہیں تو سرور کونین فرماتے ہیں
    "یا اللہ! مجھے اس سے محبت ہے تو بھی اس سے محبت فرما”

    لپٹتا ، چمٹتا کبھی گود میں گرتا

    یہ تو پھول تھا جو آغوش رسالت میں نکھرتا

    حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کی شان کے کیا کہنے:

    میرے آقا ﷺ اکثر انکو اپنے مبارک کندھوں پر بٹھاتے
    اور آپ ﷺ فرماتے "یہ سردار ہیں”
    ” حسن و حسین میرے پھول ہیں.”
    "حسن و حسین شہزادے ہیں۔”

    میں کتبِ احادیث کے سنہری اوراق کو پلٹتی جاتی ہوں، پڑھتی جاتی ہوں کہ صحیح سنن الترمذی کی ایک حدیث سامنے آتی یے:
    "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چند صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ساتھ دعوت پر جاتے ہیں۔ کیا دیکھتے ہیں کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ گلی میں کھیل رہے ہیں۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مبارک ہاتھوں کو فرط محبت سے اگے بڑھا کر پھیلا لیتے ہیں اور انکو صدرِ اطہر کے ساتھ لگا لیتے ہیں۔ علی کے لخت جگر کے چہرے پہ جناب رسالت مآب کے لب مبارک لگتے ہیں اور میرے آقا ﷺکی زبان سے پھول جھڑنے لگتے ہیں: حسین مجھ سے ہے، میں حسین سے ہوں۔ اللہ تعالیٰ اس شخص سے محبت کرے جو حسین سے محبت کرتا ہے۔”

    "حسین منی و أنا من حسین”
    (حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں)

    حدیث مبارکہ کے اس جملہ کو میں بار بار دہراتی جاتی ہوں ” حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں” کہ شاید مجھ پر رحمۃ للعالمین کے کہے ہوئے اس جملے کا مطلب واضح ہو جائے۔
    بار بار غور کرنے پر بات سمجھ میں آئی کہ جیسے عموماً جس سے محبت کی جاتی ہے تو اسے کہا جاتا ہے کہ تم میں اور مجھ میں کوئی فرق نہیں ہے۔
    بالکل یہی مراد میرے حضور ﷺ کی ہے کہ ہے حسین مجھ سے ہے۔ یعنی کہ حسین میرا جزو ہے، حسین میرا حصہ ہے، بلاشبہ مجھ میں اور حسین میں کوئی فرق نہیں ہے۔
    اس حدیثِ مبارکہ کا معنیٰ و مطلب واضح ہوجانے پر فرط محبت سے چہرے پر مسکراہٹ پھیل جاتی ہے کہ پوری کائنات کے سردار فرما رہے ہیں

    "احب اللہ من أحب حسینا”
    وہ کتنا عظیم شخص ہوگا جو فاطمہ کے بیٹے سے محبت کرکے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ کی دعا کا حقدار ٹھہرا ہوگا۔
    (اللھم اجعل منھم)

    حضرت محمد کریم ﷺ نے دس صحابہ کرام کو ان کی زندگی میں جنت کی بشارت دے دی۔
    ابوبکر فی الجنہ
    عمر فی الجنہ
    عثمان فی الجنہ
    (الخ۔۔۔۔۔!!!)

    لیکن میں قربان جاؤں جب باری شہزادوں کی آئی تو مقام بڑھ گیا، زاویہ نگاہ بدل گیا
    صرف اسی پر بس نہیں کہ حسن و حسین جنتی ہیں
    بلکہ فرمایا:

    "حسن و حسین جنتیوں کے سردار ہیں.”
    ان شہزادوں کی عظمت و رفعت، شان و مقام، بلند مرتبے پر میرے باپ قربان ۔۔ !!

    سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
    "اللہ کے رسول علیہ الصلوۃ والسلام تشریف لاتے ہیں
    حسن ابن علی، آپ ﷺ کے کندھے مبارک پر تشریف فرما ہیں اور ان کا لعاب آپ ﷺ کے کندھے پر بہہ رہا تھا۔”

    کیسا خوبصورت منظر ہے۔۔۔!!
    جس کو رب تعالیٰ نے دونوں جہانوں کا سردار قرار دیا اس کے کندھے پر جس کا لعاب گرتا رہا ہوگا وہ بھی کتنا عظیم ہوگا۔

    جناب حسن رضی اللہ عنہ سینہ مبارک پر پیشاب کردیتے ہیں۔
    صحابہ پکڑنے کے لئے دوڑتے چلے آتے ہیں
    فرمایا: رہنے دو، کوئی بات نہیں میرا بیٹا ہے۔۔۔ اس جگہ پر پانی بہا دیتے ہیں

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جناب حسنین کریمین کا کسی بھی وقت آنا ناگوار نہ گزرتا تھا۔
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ان شہزادوں کو دیکھ کر ہنستے، مسکراتے اور خوش ہوا کرتے تھے۔

    جن کی وجہ سے خوش ہوا کرتے تھے، ان کی وجہ سے ہی ایک دن کالی کملی والے میرے آقا رونے لگے۔
    زار و قطار روتے چلے جاتے ہیں
    دونوں جہانوں کے سردار کی آنکھیں آنسو بہاتی چلی جاتی ہیں۔

    سیدنا علی پوچھتے ہیں
    میرے ماں باپ آپ پر قربان…!!
    آقا کیا ہوا۔۔۔؟
    فرمایا: جبرئیل علیہ السلام مجھے خبر دے کے گئے ہیں کہ حسین کو فرات کے کنارے قتل کردیا جائے گا۔ اور کہا: اپ چاہیں تو آپ کو وہاں کی مٹی سونگھا سکتا ہوں۔۔۔
    فرمایا؛ ہاں! جبرئیل ہاتھ بڑھاتے ہیں اور مٹھی بھر مٹی مجھے پکڑا دیتے ہیں۔
    اسی وجہ سے آنکھوں پر قابو نہ پاسکا اور آنسو بہہ نکلے۔

    اس ضمن میں کئی احادیث میری نظروں کے سامنے سے گزرتی چلی جاتی ہیں۔۔

    میرے آقا روتے چلے جاتے ہیں

    اپنے شہزادے کے قتل ہونے کی خبر سن کر کیوں نہ روتے… !!

    آنکھوں سے بے اختیار آنسو رواں ہو جاتے ہیں کہ کالی کملی والے آقا کو ان بد بختوں کی وجہ سے تکلیف پہنچی۔۔۔

    منظر بدلتا ہے۔۔۔۔!!!

    حضرت حسن، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ صلح کر کے کوفہ چھوڑ دیتے ہیں۔۔
    اور بنی ہاشم سمیت مدینہ طیبہ میں قیام پذیر ہو جاتے ہیں

    زندگی کے 47 سال گزارنے کے بعد آپ کی موت کا وقت آ جاتا ہے ۔۔۔
    آپ رضی اللہ عنہ کو اہلِ غدر زہر دے دیتے ہیں۔۔
    نبی کے نواسے کی تکلیف بڑھتی جاتی ہے۔۔۔
    شدید گھبراہٹ محسوس ہونے لگتی یے
    کہنے والے نے کہا اے ابو محمد۔۔۔!!!
    یہ گھبراہٹ کیسی۔۔۔؟؟
    یہ تکلیف کیسی۔۔۔؟؟
    ابھی جسم سے روح جدا ہو جائے گی تو سامنے
    اپنے نانا جناب رسول اللہ ﷺ، اپنے والدین( علی و فاطمہ)، اپنی نانی خدیجہ، اپنے ماموں، اپنے چچا، اپنی خالائوں کو سامنے پائیں گے۔۔۔
    یہ سنتے ہی تکلیف دور ہو جاتی ہے، گھبراہٹ ختم ہو جاتی ہے۔

    جنازے کا وقت آتا ہے۔۔۔
    اہلِ علم اور نیک لوگوں کے جنازے میں ہزاروں، لاکھوں افراد جمع ہوتے ہیں۔
    لیکن!
    یہ جنازہ تو فاطمہ کے لخت جگر کا ہے
    یہ جنازہ تو آقائے کائنات کے شہزادے کا ہے
    جہاں تک نگاہ جاتی ہے لوگ ہی لوگ نظر آتے ہیں
    یوں محسوس ہوتا کہ لوگوں کا وسیع سمندر یہاں امڈ آیا ہے۔
    مدینہ اپنی بے انتہا وسعتوں کے باوجود تنگئ داماں کا شکار ہوجاتا ہے۔۔۔

    منظر ایک بار پھر بدلتا ہے۔۔۔۔!!!

    جناب رسالت مآب کی پیشینگوئی کا وقت ہوا چاہتا ہے
    کوفی آپکو خطوط بھیج کے بلاتے ہیں
    جب سیدنا حسین رضی اللہ عنہ اپنے ساتھیوں سمیت جاتے ہیں

    کوفہ پہنچتے ہیں کہ کوفی اپنی باتوں سے مکر جاتے ہیں
    اور آپ ابن زیاد کے لشکر کے ہاتھوں شہید ہوجاتے ہیں۔۔

    وہ وقت آگیا جس کی وجہ سے سید المرسلین کی عیون سے زاروقطار آنسو مبارک نکلے تھے

    وہ لمحہ آن پہنچا جس کی وجہ سے پھول سا چہرہ بھی مر جھا گیا تھا

    ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو اس واقعہ کی خبر پہنچتی ہے تو فرماتی ہیں:

    "کیا انہوں نے ایسا کیا ہے۔۔۔؟
    اللہ تعالیٰ ان کے گھروں کو آگ سے بھر دے! یہ کہہ کر بیہوش ہو جاتی ہیں”

    فاطمہ رضی اللہ عنہا کے جگر گوشے کی شہادت پر جِن بھی رونے لگتے ہیں۔۔
    ابن مرجانہ اس چہرے پر لاٹھی مارتا ہے جو نبی ﷺ کے مشابہ تھا
    جس چہرے پر سرور کونین کے لب مبارک لگتے رہے۔۔ !!

    ابن مرجانہ پر تا قیامت لعنت برستی رہے گی

    ڈنکے کی چوٹ پہ ظالم کو برا کہتی ہوں

    ہر اس شخص پر لعنت ہے جس کا سیدنا و محبوبنا و امامنا الحسین بن علی رضی اللہ عنہ کی شہادت میں کسی قسم کا حصہ تھا
    یا الٰہی۔۔۔۔!! ہمارے دلوں کو اہلِ بیت کی محبت سے منور فرما اور روز قیامت ہمیں ان کے ساتھ اٹھانا ۔۔۔ ( آمین)

  • پنجاب – محمد فہد شیروانی

    پنجاب – محمد فہد شیروانی

    پنجاب کا نام فارسی زبان کے دو الفاظ "پنج آب” سے مل کر بنا ہے جس کے مفہومی معنی ہیں "پانچ دریاؤں کی سرزمین”۔ دریائے سندھ، جہلم، ستلج، چناب اور دریائے راوی سے سیراب ہونے والی سرزمین پنجاب سرسبزوشاداب قدرتی حسن سے مالا مال ہے۔ پنجاب آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔ 2017 کی مردم شماری کے مطابق پنجاب 11 کروڑ 12 ہزار 442 نفوس پر مشتمل ہے۔ دنیا کی تاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر دور میں پنجاب ہمیشہ سے ہی اہمیت کا حامل رہا ہے۔ پنجاب پر اپنا تسلط قائم رکھنے کے لئے لاتعداد بادشاہوں، سپہ سالاروں اور حکمرانوں نے جنگیں لڑیں۔ 19ویں صدی کے اوائل تک پنجاب میں فارسی زبان کا اثر رہا اور فارسی کو سرکاری زبان کی حیثیت حاصل تھی۔ شروع ہی سے پنجاب اسلام کا گڑھ رہا ہے۔ پنجاب کو سب سے پہلے 711 عیسوی میں مسلمان فاتح محمد بن قاسم نے فتح کیا۔ 1524 عیسوی سے 1739 عیسوی تک یہاں مغلیہ خاندان نے حکومت کی۔ مغلیہ خاندان نے برصغیر میں بالخصوص پنجاب میں اپنی آرٹ اور ثقافت کے اثرات نقش کئے۔ فن تعمیر کے ایسے ایسے شاہکار تعمیر کئے کہ موجودہ ترقی یافتہ دنیا بھی اس پر داد تحسین دینے پر مجبور ہوگئی۔ پنجاب میں بنائے گئے ان شاہکاروں میں بادشاہی مسجد، شالیمار باغ، مقبرہ جہانگیر، شاہی قلعہ، قلعہ روہتاس اور نور محل وغیرہ قابل ذکر ہیں۔
    مغلیہ خاندان کی بعد پنجاب سکھوں کی آماجگاہ بن گیا ان میں قابل ذکر نام مہاراجہ رنجیت سنگھ کا ہے۔ لیکن سکھوں کا دور حکومت جلد ہی ختم ہوگیا۔ اس کے بعد انگریزوں نے یہاں کا رخ کیا اور 1857 سے 1947 تک یہاں قابض رہے۔ 1947 میں پاکستان کی قیام کے بعد بھی پنجاب کو آبادی اور جغرافیائی خدوخال کی بناء پر ہمیشہ سے ہی اہمیت حاصل رہی۔ 1950 کے بعد سے یہاں ترقی کا باقاعدہ آغاز کیا گیا۔ نئے کارخانے اور فیکٹریاں لگائی گئیں اور پہلے سے موجود کارخانوں و فیکٹریوں کی تعمیرنو کی گئی۔ چونکہ پنجاب کو پاکستان کے دیگر صوبوں کی نسبت مرکزی حیثیت حاصل تھی اس لئے تاریخ کی اہم جنگیں بھی یہاں لڑی گئیں- 1965 اور 1971 کی قابل ذکر جنگوں کا مرکز بھی پنجاب ہی رہا۔ پاکستان کے دفاعی نیوکلئیر پروگرام بھی پنجاب میں کہوٹہ کے مقام پر شروع کئے گئے جس کے نتیجے میں پاکستان دنیائے اسلام کی پہلی اور دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت بن کر سامنے آیا۔
    چاروں خوبصورت موسموں اور آب و ہوا سے بھرپور صوبہ پنجاب 36 اضلاع پر مشتمل ہے۔ پنجاب پاکستان کا سب سے زرخیز صوبہ ہے جہاں ہمہ قسم فصلوں کی کاشتکاری کی جاتی ہے۔ ثقافت اور فن کی دھرتی پنجاب اپنے میلے ٹھیلوں، فن اور فنکاروں کی وجہ سے دنیا بھر میں ایک خاص اہمیت رکھتا ہے۔ بسنت پنجاب کا سب سے بڑا تہوار ہے لیکن بدقسمتی سے دنیا کے بڑے تہواروں میں شمار کئے جانے والا تہوار بسنت چند لوگوں کی لاپرواہی اور بے توجہی سے زوال پذیر ہو چکا ہے۔ پہلوانی پنجابیوں کا من چاہا کھیل ہے۔ پنجابی پہلوانوں نے دنیا بھر میں اپنی طاقت اور ہمت کا لوہا منوایا ہے۔ پاکستان کی سیاست کا سب سے بڑا گڑھ بھی پنجاب ہی ہے۔ پاکستان میں سیاسی فتح اس کو حاصل ہوتی ہے جو پنجاب میں اپنی جیت کا جھنڈا گاڑتا ہے۔ پاکستان کے سربراہوں اور سپہ سالاروں میں سے ذیادہ تر کا تعلق بھی پنجاب ہی سے ہے۔
    پنجاب اپنے کلچر، ثقافت، فن، میوزک، رہن سہن، کھیلوں اور لذیذ کھانوں کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ حالیہ ادوار میں پنجاب نے ترقی کے منازل طے کرتے ہوئے عالمی سطح پر سیروسیاحت میں بے پناہ مقبولیت حاصل کی ہے۔ پنجاب کی تاریخ اور اور تاریخی مقامات کی کشش اور قدرتی حسن سیاحوں کو اپنی جانب کھینچتا ہے۔
    پاکستان اگر جسم ہے تو دل کی حیثیت پنجاب کو حاصل ہے۔ دیومالائی قصوں اور محبت کی کہانیوں کی سرزمین پنجاب اللہ پاک کا ایک خوبصورت تحفہ ہے اس کی جتنی قدر کی جائے کم ہے۔

  • دلکش ظاہری دنیا کے گھناؤنے مخفی پہلو تحریر: محمد عبداللہ اکبر

    دلکش ظاہری دنیا کے گھناؤنے مخفی پہلو تحریر: محمد عبداللہ اکبر

    ہم جس سمت یا نظر سے دنیا دیکھ رہے یا ہمیں دیکھائی جا رہی ہے دنیا اس سے یکسر مختلف ہے
    ہمیں اقوام متحدہ پڑھائی جا رہی ہے
    انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں دیکھائی جا رہی ہیں۔
    ایڈ کے نام پہ ایسی ایسی فاؤنڈیشنز اور تنظیمیں دیکھائی جا رہی ہیں جن کا ظاہر کچھ اور باطن کچھ اور ہے۔
    ہمیں یورپ کا لبرل طبقہ دکھا کے براڈ مائنڈڈ بننے کی طرف اشارے کیے جا رہے ہیں۔
    ہمیں سیکولر لوگوں سے سنگتیں  بنانے کا درس دیا جاتا رہا ہے۔
    جبکہ اگر ہم بڑی بالغ نظری سے دنیا کو دیکھیں تو یہی لوگ جو ہمیں ان سب چیزوں کی اقتدا کا درس دیتے نظر آ رہے ہیں یہ اپنی مذہبی جنونیت سے بھرے ہوئے اسلام مخالف درندے ملیں گے۔
    چند ایک نہیں یہ سارے کے سارے ہی ایسے ہیں۔
    دیکھا نہیں کبھی یہودیوں نے ہٹلر کو قاتل یا درندہ کہنے نہیں دیا جبکہ اس کے قتل جیسا قتل بھی کسی نے کیا ؟؟؟
    اور آ جائیں دیکھیں عیسائیوں کو وہ یاد ہے نا نیوزی لینڈ والا واقعہ دکھائیں کسی یورپی ملک کے ٹیلی ویژن نے اسے دہشتگرد گردانا ہو۔
    سفید فام نسل پرست بس اس سے آگے اس پہ کوئی لیبل لگایا ہو ؟؟
    ان کی اداکارائیں ہوں یا کوئی اور سلیبریٹیز۔۔۔ کتنی دفعہ ایسا سامنے آیا کہ وہ ان کی ایجنسیز کے کام کرتی ہوئی پکڑی گئیں۔
    یہی ہے نا جن کو تم لبرل سیکولر کہہ کے اپنے اصل اپنے دماغوں کو کرید رہے ہو ؟
    اور دوسری طرف ہم نابالغ سے مسلمان۔۔۔!!
    اقوام متحدہ
    اس کے اگر کام دیکھو تو وہ ہمیں محض ایک خول نظر آئے گا ہم نے اس کے ظاہری خول کو ایکسپٹ کیا جبکہ اس کے نیچے چھپا وہ یورپ زدہ انسانیت مخالف چہرہ کبھی دیکھنےکی جرات نہ کی۔
    کوئی کرے بھی کیسے ؟؟؟
    ایسا کہنے والے کو جذباتی مولوی، ملاں کہہ کے ٹھکرانا تو ہمارے معاشرے کا بہت سستا سا جملہ ہے جو انہوں نے ہمیں سستے داموں دیا اور ہم نے اسے ہاتھوں ہاتھ خریدا۔

    لبرل ازم:-

    لبرل ازم کی اصل تعریف اور اس کی اصلیت سے ناواقف مگر اس میں پورے کے پورے ڈوبنے کے لیے تیار…
    دیکھو نا سامنے ہی ہے ہماری وہ دو ٹکے کی صباء قمر کی شکل میں نابلد سی سلیبریٹی، جو کبھی تو ”چیخ“ ڈارمے کو سامنے لے آتی ہے تو کبھی ”باغی”۔
    تم کیا سمجھتے ہو یہ محض ڈرامہ ہی ہے ؟؟؟
    نئی بھائی یہ ڈرامہ نہیں ہے کون ایسی سکرپٹس پہ پیسا پانی کی طرح بہاتا ہے؟؟؟
    پورے کا پورا ایک ایسا خاندانی نظام سامنے رکھنے کی کوشش کی جاتی کہ جس میں لفظ ”اسلامی معاشرے“ کی بالکل مخالفت کی جاتی ہے۔
    اور ہمارے معاشرے کی عورت انہی کی انسٹا سٹوریز کو فالو کر رہی ہوتی ہیں جن میں ان کا جسم پردے اور ستر سے ترستا دیکھائی دیتا ہے۔
    اعتراض کرنے پہ سیدھا مولوی ملاں کا لیبل سامنے کھڑا پایا جاتا۔
    تمہیں بتاوں لبرل ازم کیا ہے ؟؟
    مہیش بھٹ کا اپنی بیٹی عالیہ بھٹ کو اپنی ران پہ بیٹھا کے برہنہ فوٹو شاپ کروانا
    یہ ہے لبرل ازم۔۔۔۔
    تم کہتے ہو کے یار ہم اس حد تک تو نہیں گئے۔
    تو بھائی ان جیسی اداکاراؤں سے پوچھیں کہ ان کے گرو کون ہیں ؟؟
    جھٹ جواب آئے گا دی لیجنڈ مہیش بٹ، امیتابھ بچن سر۔
    باقی خود اندازہ لگا لیں۔
    اور سیکولرزم
    مذہبی قیود سے دور ایک آزاد معاشرہ
    کیا حرام کیا حلال کون جانتا ان چیزوں کو بھائی ؟؟
    یہ آج کل کی دنیا ہے مذہب، مسجد کی حد تک اچھا لگتا ہے یہ سیاستیں یہ ریاستیں یہ مذہب سے آزاد اچھی لگتی ہیں۔
    ہوا وہی جو ان کی توقعات تھیں
    انکا یہ منجن بھی مسلم دنیا نے ہاتھوں ہاتھ خریدا۔ کیونکہ بھائی ہم آج کی دنیا میں پیدا ہوئے ہیں
    یہ مذہب چودہ سو سال پہلے کی غاروں میں چھپی چیزیں ہیں۔
    ہمیں دکھایا یہ جاتا کہ کے بھئی مسلمانوں کا مسئلہ ہی دو وقت کی روٹی ہے۔
    کیا دین، کیا جہاد یہ سب تو نفلی سی چیزیں تھیں جو ادا ہو گئیں اب آؤ ادھر خوراک کی طرف دنیا بھوکی مر رہی ہے اور تم ہو کے اسلام اور جہاد کے نعرے لگاتے بس نہیں کرتے۔
    دیکھ لو پاکستان میں چلنے والی فاؤنڈیشنز پہ پابندیاں لگا کے تھر اور بلوچستان میں قادیانیت اور عیسائیت کے علمبرداروں کو کھلی فضا مہیا کر دی گئی کہ آؤ ہم نے اب اس قوم کا مسئلہ روٹی کپڑا اور مکان بنا دیا ہے ایک پلیٹ دو اپنا نظریہ چسپاں کرو اور ان کا نظریہ جس پہ پہلے ای ڈگمگاتے پھر رہے ہیں وہ ان کے اندر سے کریدو اور وہ یہ سب کام کر رہے ہیں۔
    جبکہ اگر یہی کام اس ملک کے اندرونی لوگ اپنی مدد آپ کے تحت کریں تو جھٹ چند سیاسی اور لبرل گرگٹ اپنے گھروں سے پینٹ کوٹ پہن کے میڈیا کے نمائندوں کو بلا کے ہیپی ازم کا نعرہ لگاتے ہوئے الزام عائد کرنا شروع کر دیتے ہیں کہ
    جی ان کو زبردستی کلمہ پڑھایا جا رہا ہے
    یہ تو ظلم ہے
    یہ تو ان کے حق پہ ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے
    نہیں سر۔۔!! ہم تو یہ نہیں ہونے دیں گے
    ہم ٹھہرے ان کے ٹھیکے دار۔۔۔
    جبکہ حقیقت تو یہ ہے کہ وہ اس جگہ ان لوگوں کو برادشت ہی نئی کرنا چاہتے جو وہاں فقط رضائے الٰہی کے لیے کام کرنا چاہتے ہیں اور اس قوم کو ان کا نظریہ دکھانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔
    اس موقع پہ ایک شعر یاد آیا

    مغربی تہذیب نے جادو کچھ ایسا کر دیا

    ماں تو پردے میں رہی بیٹی کو ننگا کر دیا

    ایک ثانئے رکیں اور سوچیں

    کیا دیا ہمیں ان چیزوں نے ؟؟؟

    رسوائی، ذلالت۔۔۔
    دنیا میں محکومیت۔۔۔
    یہاں تک کہ آج ہم اپنے حق کی خاطر بھی لڑنے سے پہلے دنیا کی طرف دیکھتے ہیں کہ مائی لارڈ اقوام متحدہ غصہ نہ کر جائے وہ کیا سمجھیں گے کے آپ تو سیکولر تھے، آپ تو لبرل تھے صاحب آپ کن چکروں میں پڑ گئے؟؟؟
    ہم نے ان سب نعروں کی چمک میں جو چیز کھوئی وہ اپنی اصل تھی۔
    زندگی کا ہر شعبہ ہماری ثقافت سے جڑا ہوا ہے جیسے روح اور جسم کا ساتھ آج ہم اس لیے مجموعی طور پہ زوال کا شکار ہیں۔
    ہماری ثقافت سے ہی ہماری اقدار و روایات جڑی ہوئی ہیں افسوس صد افسوس…!!
    کہ لوگوں نے ناچ گانے کو ہی ثقافت سمجھ لیا اسی کو فروغ دے کے وہ مغربی تہذیب کا حصہ بننے میں فخر محسوس کررہے ہیں اگر ہماری ثقافت ہمارے پاس ہوتی تو ہم یوں اقوام عالم میں ذلیل نہ ہوتے
    اگر کوئی ایسے نظام کے خلاف دو بول بول دے تو ان کی کیسے کیسے جڑیں ہلانے کی کوششیں کی گئیں۔
    سامنے ہے محمد مرسی رحمۃ اللّٰہ علیہ فوجی بغاوت کروا کے کہاں کا کہاں پہنچا دیا گیا۔
    اور دوسری مثال ترکی وہ تو شکر یہ کے وہ قوم اپنی قیادت سے مطمئن تھی اور نظریے پہ کھڑی تھی سو بچ گئے۔
    اور پاکستان میں چند لوگ جنہوں نے یہ باتیں کیں یا تو ان پہ زبان بندی، پابندی، یا وہ جیلوں میں سڑ رہے ہیں۔

    عزیزو!!
    اب یہ تحریر پڑھ کے کچھ لوگ فنڈامنٹلسٹ، بنیاد پرست جذباتی اور پتہ نئی کیا کیا لیبل چسپاں کرنے کی کوشش کریں گے مگر اس کےالفاظ میں چھپا درد کاش ہر دل کا در کھٹکٹا کے دکھا سکتا اور سمجھا سکتا کے ہم کون تھے۔۔؟؟
    کیا تھے۔۔۔؟؟ ہمیں کہاں ہونا چاہیے…؟؟
    اور آج ہم کہاں ہیں۔۔۔؟؟
    اور کس وجہ سے ہیں…؟؟

  • سونے سے قبل دودھ میں ہلدی ملا کر پینا کس قدر فائدہ مند ہے تحریر: حبیب الرحمان

    سونے سے قبل دودھ میں ہلدی ملا کر پینا کس قدر فائدہ مند ہے تحریر: حبیب الرحمان

    ہر ثقافت کے اپنے مصالحے اور جڑی بوٹیاں ہوتے ہیں جو غذائی اعتبار سے کسی پاور ہا?س سے کم نہیں ہوتے، ان میں سے ایک ہلدی بھی ہے۔

    پاکستان بھر میں اسے عام استعمال کیا جاتا ہے جس کے متعدد فوائد ہیں۔

    یہ کھانے کا رنگ اور ذائقہ ہی بہتر نہیں کرتی بلکہ جراثیم کش ہونے کے ساتھ ساتھ مضبوط اینٹی آکسائیڈنٹ مصالحہ بھی ہے۔

    مگر کیا آپ جانتے ہیں کہ سونے سے قبل دودھ میں ہلدی ملا کر پینا کس قدر فائدہ مند ہے؟

    یہ مشروب جسم کے لیے جادو اثر ثابت ہوتی ہے اور اگر اسے روزانہ پینا عادت بنالیا جائے تو جسمانی مدافعتی نظام مضبوط، زہریلے مواد کے اخراج اور دیگر مختلف امراض سے بچا سکتا ہے۔

    یہاں اس کے فوائد درج ذیل ہیں۔

    جگر کی صفائی
    ہلدی کے بارے میں سائنسی طور پر ثابت ہوچکا ہے کہ یہ جگر کے لیے فائدہ مند مصالحہ ہے، یہ جسم کے اندر صفائی کا کام کرتا ہے جبکہ جگر میں فیٹی ایسڈ کے اجتماع کی روک تھام کرتا ہے، ہلدی ملا دودھ جگر کی غذا اور کیمیکل پراسیس کرنے کی صلاحیت کو بڑھاتا ہے جبکہ ایسے مواد کو جسم سے خارج کرتا ہے جس کی ضرورت نہیں ہوتی، جس سے جسم زہریلے مواد سے بچتا ہے۔

    جسمانی ورم کم کرے
    ہلدی کا بنیادی جز curcumin ہوتا ہے جو کہ ورم کش خصوصیات رکھتا ہے، جس کی وج ہسے عام ورم کے لیے اس کا علاج ہوتا ہے جبکہ جوڑوں کے امراض اور دیگر مساءلسے تحفظ ملتا ہے۔ سونے سے قبل ایک گلاس اس مشروب کا پینا ایسے انزائمے کو بلاک کرتا ہے جو جسمانی ورم کا باعث بنتے ہیں۔

    بیکٹریا سے لڑتا ہے
    اس مشروب کو پینے سے جسم کی اینٹی بایوٹیک صلاحیت بہتر ہوتی ہے جو کہ بیکٹریا اور وائرسز سے لڑتے ہیں، جس سے موسمی نزلہ زکام اور گلے کی خراش کے علاج میں مدد ملتی ہے۔

    کینسر سے لڑنے کی طاقت بڑھتی ہے
    ہلدی میں ایک طاقتور اینٹی آکسائیڈنٹ ہوتا ہے اور طبی تحقیقی رپورٹس کے مطابق ہلدی جسم کے اندر تکسیدی تناﺅ کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے جو کہ کینسر جیسے خطرناک امراض کی وجہ بنتا ہے، یہ صرف کینسر کی روک تھام ہی نہیں کرتا بلکہ اس سے لڑنے والا مصالحہ بھی ہے۔ ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ ہلدی کا استعمال کینسر زدہ خلیات کا خاتمہ کرکے رسولی کو بڑھنے سے روکتا ہے۔

    جسمانی چربی گھلائے
    ہلدی ملا دودھ نہ صرف میٹابولزم کی رفتار بڑھتا ہے بلکہ یہ چربی کو ہضم کرنے کا عمل بھی تیز کرتا ہے، اس مشروب کو پینا عادت بنالینا جسم میں چربی کے اجتماع کو روکتا ہے جس سے توند سے نجات ملتی ہے۔

    دل کو صحت مند بنائے
    ہلدی ایسے مواد کو جسم میں خارج ہونے سے روکنے میں مدد دیتی ہے جو ورم اور خون کی شریانوں سے جڑے امراض کا باعث بنتا ہے، ہر رات ہلدی ملا دودھ پینا امراض قلب میں مبتلا ہونے کا خطرہ کم کرتا ہے۔

    دماغ کے لیے بھی بہترین
    ہلدی ملا دودھ پینا دماغ میں ایسے جز کی سطح کو بڑھاتا ہے جو الزائمر اور دماغی تنزلی کا باعث بننے والے دیگر امراض سے بچانے میں مدد دیتا ہے۔

    مضبوط مدافعتی نظام
    ہلدی میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس دفاعی خلیات جیسے ٹی سیلز، بی سیلز اور دیگر کو متحرک کرتے ہیں، جس سے جسمانی مدافعتی نظام زیادہ مضبوط ہوکر بیرونی جراثیموں پر حملہ آور ہوتا ہے۔

    ہڈیاں مضبوط ہوتی ہیں
    ہلدی ہڈیوں کا حجم گھٹنے کی روک تھام کرتی ہے، جبکہ کیلشیئم سے بھرپور دودھ میں آدھا چائے کا چمچ ہلدی کو ملانا ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے موثر مشروب ثابت ہوتا ہے۔

    بلڈ گلوکوز لیول کنٹرول کرے
    ہلدی میں شامل اجزا بلڈگلوکوز لیول کو کم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں، جس سے ذیابیطس کے مریضوں کو مختلف پیچیدگیوں سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔

    اچھی نیند میں مددگار
    اس مشروب کا استعمال نیند کے معیار کو بہتر بناسکتا ہے، ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ دودھ میں ہلدی ملا کر پینا بے خوابی کی شکایت کو دور کرنے میں مدد دیتا ہے، اس کے علاوہ یہ مشروب ذہنی بے چینی بھی کم کرتا ہے، جس سے بھی نیند کا معیار بہتر ہوتا ہے۔

  • سونے سے قبل دودھ میں ہلدی ملا کر پینا کس قدر فائدہ مند ہے تحریر: حبیب الرحمان

    سونے سے قبل دودھ میں ہلدی ملا کر پینا کس قدر فائدہ مند ہے تحریر: حبیب الرحمان

    ہر ثقافت کے اپنے مصالحے اور جڑی بوٹیاں ہوتے ہیں جو غذائی اعتبار سے کسی پاور ہا?س سے کم نہیں ہوتے، ان میں سے ایک ہلدی بھی ہے۔

    پاکستان بھر میں اسے عام استعمال کیا جاتا ہے جس کے متعدد فوائد ہیں۔

    یہ کھانے کا رنگ اور ذائقہ ہی بہتر نہیں کرتی بلکہ جراثیم کش ہونے کے ساتھ ساتھ مضبوط اینٹی آکسائیڈنٹ مصالحہ بھی ہے۔

    مگر کیا آپ جانتے ہیں کہ سونے سے قبل دودھ میں ہلدی ملا کر پینا کس قدر فائدہ مند ہے؟

    یہ مشروب جسم کے لیے جادو اثر ثابت ہوتی ہے اور اگر اسے روزانہ پینا عادت بنالیا جائے تو جسمانی مدافعتی نظام مضبوط، زہریلے مواد کے اخراج اور دیگر مختلف امراض سے بچا سکتا ہے۔

    یہاں اس کے فوائد درج ذیل ہیں۔

    جگر کی صفائی
    ہلدی کے بارے میں سائنسی طور پر ثابت ہوچکا ہے کہ یہ جگر کے لیے فائدہ مند مصالحہ ہے، یہ جسم کے اندر صفائی کا کام کرتا ہے جبکہ جگر میں فیٹی ایسڈ کے اجتماع کی روک تھام کرتا ہے، ہلدی ملا دودھ جگر کی غذا اور کیمیکل پراسیس کرنے کی صلاحیت کو بڑھاتا ہے جبکہ ایسے مواد کو جسم سے خارج کرتا ہے جس کی ضرورت نہیں ہوتی، جس سے جسم زہریلے مواد سے بچتا ہے۔

    جسمانی ورم کم کرے
    ہلدی کا بنیادی جز curcumin ہوتا ہے جو کہ ورم کش خصوصیات رکھتا ہے، جس کی وج ہسے عام ورم کے لیے اس کا علاج ہوتا ہے جبکہ جوڑوں کے امراض اور دیگر مساءلسے تحفظ ملتا ہے۔ سونے سے قبل ایک گلاس اس مشروب کا پینا ایسے انزائمے کو بلاک کرتا ہے جو جسمانی ورم کا باعث بنتے ہیں۔

    بیکٹریا سے لڑتا ہے
    اس مشروب کو پینے سے جسم کی اینٹی بایوٹیک صلاحیت بہتر ہوتی ہے جو کہ بیکٹریا اور وائرسز سے لڑتے ہیں، جس سے موسمی نزلہ زکام اور گلے کی خراش کے علاج میں مدد ملتی ہے۔

    کینسر سے لڑنے کی طاقت بڑھتی ہے
    ہلدی میں ایک طاقتور اینٹی آکسائیڈنٹ ہوتا ہے اور طبی تحقیقی رپورٹس کے مطابق ہلدی جسم کے اندر تکسیدی تناﺅ کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے جو کہ کینسر جیسے خطرناک امراض کی وجہ بنتا ہے، یہ صرف کینسر کی روک تھام ہی نہیں کرتا بلکہ اس سے لڑنے والا مصالحہ بھی ہے۔ ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ ہلدی کا استعمال کینسر زدہ خلیات کا خاتمہ کرکے رسولی کو بڑھنے سے روکتا ہے۔

    جسمانی چربی گھلائے
    ہلدی ملا دودھ نہ صرف میٹابولزم کی رفتار بڑھتا ہے بلکہ یہ چربی کو ہضم کرنے کا عمل بھی تیز کرتا ہے، اس مشروب کو پینا عادت بنالینا جسم میں چربی کے اجتماع کو روکتا ہے جس سے توند سے نجات ملتی ہے۔

    دل کو صحت مند بنائے
    ہلدی ایسے مواد کو جسم میں خارج ہونے سے روکنے میں مدد دیتی ہے جو ورم اور خون کی شریانوں سے جڑے امراض کا باعث بنتا ہے، ہر رات ہلدی ملا دودھ پینا امراض قلب میں مبتلا ہونے کا خطرہ کم کرتا ہے۔

    دماغ کے لیے بھی بہترین
    ہلدی ملا دودھ پینا دماغ میں ایسے جز کی سطح کو بڑھاتا ہے جو الزائمر اور دماغی تنزلی کا باعث بننے والے دیگر امراض سے بچانے میں مدد دیتا ہے۔

    مضبوط مدافعتی نظام
    ہلدی میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس دفاعی خلیات جیسے ٹی سیلز، بی سیلز اور دیگر کو متحرک کرتے ہیں، جس سے جسمانی مدافعتی نظام زیادہ مضبوط ہوکر بیرونی جراثیموں پر حملہ آور ہوتا ہے۔

    ہڈیاں مضبوط ہوتی ہیں
    ہلدی ہڈیوں کا حجم گھٹنے کی روک تھام کرتی ہے، جبکہ کیلشیئم سے بھرپور دودھ میں آدھا چائے کا چمچ ہلدی کو ملانا ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے موثر مشروب ثابت ہوتا ہے۔

    بلڈ گلوکوز لیول کنٹرول کرے
    ہلدی میں شامل اجزا بلڈگلوکوز لیول کو کم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں، جس سے ذیابیطس کے مریضوں کو مختلف پیچیدگیوں سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔

    اچھی نیند میں مددگار
    اس مشروب کا استعمال نیند کے معیار کو بہتر بناسکتا ہے، ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ دودھ میں ہلدی ملا کر پینا بے خوابی کی شکایت کو دور کرنے میں مدد دیتا ہے، اس کے علاوہ یہ مشروب ذہنی بے چینی بھی کم کرتا ہے، جس سے بھی نیند کا معیار بہتر ہوتا ہے۔

  • ھم یہ جنگ کیسے لڑیں۔۔۔؟              عبدالرب ساجدکا بلاگ

    ھم یہ جنگ کیسے لڑیں۔۔۔؟ عبدالرب ساجدکا بلاگ

    ھم یہ جنگ کیسے لڑیں۔۔۔؟ عبدالرب ساجد

    میں نہ جنگی حکمت عملیوں کا ماھر ھوں۔۔۔ نہ ھی جیو پولیٹیکس کی گہرائیوں کا سمجھتا ھوں۔۔۔ جب سے ھوش سنبھالا ھے انڈیا سے نفرت اور پاکستان سے محبت کرنا سیکھا اور سکھایا ھے۔۔۔ اور یہ بات گھٹی میں اس لئے پڑی ھوئی کہ میرے نزدیک یہ ایک نظریہ اور عقیدہ ھے۔۔۔ اور اسی بات کو ایک منہج و منشور کے طور پر ھر شخص تک پہنچانا میں اپنی ذمہ داری سمجھتا ھوں۔۔۔

    روئے زمین پر ھندو مت سے زیادہ غلیظ اور بدبودار مذھب کوئی نہیں ھے۔۔۔ اور ھندو مکاری ، دشمنی اور ظلم و بربریت میں اپنی مثال آپ ھی ھے۔۔۔ اسی نظریے پر ھم نے ھندو سے الگ ھو کر یہ وطن بسایا کہ یہ اسلام کی جاگیر ھوگی، اور اسلامیان کا پشتیبان ھوگا۔۔۔

    چنانچہ بہت ساری بشری کوتاھیوں، کم ھمتیوں، بے وفائیوں، سازشوں، چالبازیوں اور بے وقوفیوں کے باوجود یہ ارض پاک دنیائے کفر کی آنکھ کا کانٹا اور دنیائے اسلام کی آنکھ کا تارا رھی ھے۔۔۔

    اپنے سب سے قریبی اور ازلی دشمن سے لیکر سات سمندر پار بیٹھے انکل سام تک سے ھم نے کئی دفعہ ٹکر لی ھے۔۔۔ کوئی مانے یا نہ مانے، اپنا بہت سارا نقصان بھی کیا، مگر جنگ کا انجام ہمیشہ ھم نے لکھا ھے۔۔۔

    روس کو کس نے توڑا۔۔۔؟ مصر وشام کی حفاظت کرتے ھوئے اسرائیلی جہازوں کو کس نے گرایا۔۔۔؟ کعبة اللہ اور ارض حرمین کی حفاظت کس نے کی۔۔۔؟ امریکا کے ساتھ دنیا بھر کی طاغوتی افواج کا غرور کس نے خاک میں ملایا۔۔۔؟
    غزوہ ھند کی تاریخ بھی ھم لکھ رھے ھیں، اور ان شاء اللہ عیسی کی فوج کے سپاھی بھی ھم ھوں گے۔۔۔!

    اپنے یا پرائے، سب ھم سے ھی سوال کرتے ھیں، تم برما کیوں نہیں جاتے۔۔۔؟ فلسطین کی بات کیوں نہیں کرتے۔۔۔؟ شام کو کیوں نہیں پوچھتے۔۔۔؟ اور اب کشمیر۔۔۔!!! مگر یہ سوال اسی لئے اٹھتا ھے کہ دنیا میں مسلمانوں پر کہیں بھی ظلم ھو، ھم سے ھی سب کی امیدیں ھیں۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پاکستان کی تو ساری تاریخ جنگوں سے عبارت ھے، مگر کیا وجہ ھے کہ آج ھم جنگ سے کترا رھے ھیں۔۔۔؟

    کشمیر کی موجودہ صورتحال اور پاک بھارت تناؤ کے اس ماحول میں اپنا اصولی نظریہ اور شائستہ تجزیہ سب کے سامنے رکھنا چاھتا ھوں۔۔۔

    امریکہ، اسرائیل اور انڈیا پاکستان کو جنگ میں گھسیٹنا چاھتے ھیں۔۔۔! مگر کیوں۔۔۔؟؟؟

    1۔ امریکا کا مقصد افغانستان پر قبضہ کر کے پاکستان کو معاشی اور دفاعی طور پر کمزور کرنا اور ساتھ ساتھ روس اور چائنہ کے لئے مشکل حالات پیدا کرنا تھا۔۔۔
    امریکہ اپنی شکست تسلیم کرنے کے بعد طالبان کے ساتھ صلح کے معاہدے کو تقریبا حتمی شکل دے چکا ھے۔۔۔ وہ اپنی زمینی افواج کو واپس بلانا چاہتا ھے۔۔۔
    لیکن خطے میں اپنا اثر و رسوخ اور چین و روس پر نظر رکھنے کے لیے پاکستان کو اپنا "انٹیلیجنس بیس کیمپ” بنائے رکھنا چاھتا ھے۔۔۔ پاکستان اس کی سختی سے اور بالکل درست طور پر مخالفت کر رھا ھے۔۔۔ امریکا یہ سمجھتا ھے کہ اس ساری جنگ میں ھماری ھزیمت و رسوائی کا باعث بھی پاکستان ھے، اور ھمارے نکلنے کے لئے محفوظ راستہ بھی پاکستان نے ھی بنا کر دینا ھے۔۔۔
    (یہ سب کچھ جان بولٹن – امریکن نشنل سیکیورٹی ایڈوائزر کا تبصرہ ھے)

    چنانچہ انتقام، شکست، اور مایوسی و حیرت کے سمندروں میں غوطہ کھاتے امریکا کے لئے پاکستان سے بڑا اور برا دشمن اس وقت کوئی اور نہیں ھے۔۔۔

    2۔ گریٹر اسرائیل کے نقشے کو حتمی شکل دینے کے لئے پاکستان کے جوہری و دفاعی ڈھانچے کو ختم کرنا اسرائیل کا اولین مقصد ھے۔۔۔ اس کے لئے وہ بھارت اور امریکا کے ساتھ مل کر پہلے کتنے جال بچھا چکا ھے یہ ذھن میں رھنا چاھئے۔۔۔
    اس کے علاوہ عراق ، شام ، لیبیا اور مصر میں پیش آنے والے واقعات کے بعد جو لوگ ابھی تک گریٹر اسرائیل منصوبے پر شکوک و شبہات کا شکار ھیں۔۔۔ ان کو یا تو اندھا بہرا ھونا چاھئے، یا ان میں دماغ کی کمی ھے۔۔۔

    چنانچہ پاکستان گریٹر اسرائیل کے سامنے سب سے بھاری اور آخری چٹان ھے جس کی وجہ سے ھم اسرائیل کے نشانے پر ھیں۔۔۔

    3۔ ھندوستان سے ھماری لڑائی اور دشمنی کی وجہ کوئی ایک نہیں ھے۔۔۔ مگر حالیہ اور تازہ تناظر میں انڈیا پچھلے 18 سال سے افغانستان میں کی گئی اپنی اربوں کی سرمایہ کاری کو ضائع نہیں کرنا چاہتا۔۔۔ جو اس نے پاکستان کو کمزور کرنے کے لئے کی تھی۔۔۔ لہذا بوکھلاہٹ میں وہ طالبان کے کابل پر قابض ھونے سے پہلے پاکستان کے ساتھ ایک فیصلہ کن جنگ لڑنا چاہتا ھے۔۔۔

    اس جنگ میں ھم کیا کر سکتے ھیں اور دنیا کو اس جنگ سے کتنا نقصان ھو سکتا ھے، یہ ھم سمجھیں یا نہ سمجھیں دنیا خوب اچھی طرح سمجھتی ھے۔۔۔ پاکستان کے خلاف فیصلہ کن جنگ اس وقت امریکا، اسرائیل اور انڈیا کا مشترکہ مفاد ھے۔۔۔ یہ جنگ ھم لڑنا چاھیں یا نہ لڑنا چاھیں، ھم پر مسلط کر دی گئی ھے۔۔۔!
    ھم اس جنگ کو سمجھنے میں تاخیر کرسکتے ھیں ، لیکن ھم اس سے بچ نہیں سکتے۔۔۔!

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پاکستان کو اور ھمیں کیا کرنا چاھئے۔۔۔؟

    1۔ طالبان اور امریکا کے درمیان ھونے والے تمام امن مذاکرات سے دستبردار ھوجائیں اور امریکیوں کو افغان طالبان کا سامنا کرنے دیں۔۔۔ اس سے امریکا کم از کم بیک فٹ پر رھے گا۔۔۔
    (قندوز پر طالبان کا کنٹرول حاصل کرنا یاد رھے، مجھے امید ھے کہ یہ اسی پالیسی کا حصہ ھے۔)

    2۔ افغان طالبان کی جائز حکومت کو تسلیم کریں۔۔۔ اور ان کے ساتھ مل کر افغانستان میں ہندوستانی دہشتگرد کیمپوں ، قونصل خانوں ، گولہ بارود کے ڈھیروں اور ہندوستانی سویلین اور فوجی اہلکاروں کے خلاف خفیہ کارروائیاں کریں۔ ہندوستانی انٹیلیجنس اور فوجی افسروں کو پکڑنے اور انھیں مذاکرات کے لئے اسیر بنائے رکھنے کی کوشش کریں۔
    (افغانستان کی خبروں پر نظر رکھتے ھوئے مجھے امید ھے کہ اس پر بھی کام شروع ھے۔)

    3۔ اپنے وسائل اور فنڈز فراھم کر کے کشمیریوں کی زیرقیادت مہم کے ذریعے بین الاقوامی سطح پر جارحانہ سفارتکاری کا آغاز ھونا چاھئے۔۔۔
    (اس پر بھی حکومت پاکستان کی جانب سے کچھ امید افزا خبریں گردش میں ھیں۔)

    4۔ جنگی بنیادوں پر چلیں اور پاکستان میں جنگی ایمرجنسی کا اعلان کریں۔۔۔ صدارتی احکامات کو استعمال کرتے ھوئے بدعنوانی اور قومی سلامتی کے خلاف سخت قوانین کا فریم ورک تشکیل دیں۔۔۔ اس بار لوٹی ہوئی دولت کی بازیابی ، غداروں کی گرفتاری اور ایک طویل اور سخت جنگ کے لئے قوم کو ذہنی طور پر تیار کریں۔۔۔

    5۔ اسرائیلی ایجنٹس قادیانیوں اور رافضیوں کی ریشہ دورانیوں سے چوکنے رھیں، اور اس بارے میں ھر قسم کے اندرونی و بیرونی پریشر کو نظر انداز کریں، اور محب وطن شائستہ و زیرک مولویوں کو موقع دیں کہ وہ عوامی سطح پر ان کے خلاف شعور اجاگر کریں۔۔۔

    6۔ پاکستان کے میڈیا اور فلم انڈسٹری کو ایک نیا موڑ دیں جو قوم کے جوانوں کو بے حیائی اور مایوسی کے اندھیروں سے نکالنے کا کام کرے۔۔۔ برصغیر میں مسلمانوں کی عظیم سلطنت کو موضوع بنائیں۔۔۔ غوری، غزنوی، ابدالی، زنگی، ایوبی اور محمد بن قاسم کو ھیرو بنائیں۔۔۔ ڈرامے، فلمیں اور سیریلز بنانے ھی ھیں تو ان کو مثبت سوچ اور نئے انداز سے تشکیل دیں۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بحیثیت قوم اگر ھم درست فیصلے لے سکے تو موجودہ سکیورٹی اور معاشی بحران ھماری حیثیت کو اور بھی بلند کر دیں گے۔۔۔
    جذباتیت اور جنگی جنون کو اپنے دماغ پر سوار مت ھونے دیں۔۔۔ جنگ لڑنے میں تاخیر بھی ایک زبردست جنگی حکمت عملی ھوتی ھے۔۔۔
    حکمران اور افواج اپنی قوم کو اعتماد میں لیں اور عوام اپنے اداروں اور ریاست پر اعتماد کریں۔۔۔ قومیں مشکل حالات میں یا بکھر جاتی ھیں یا نکھر جاتی ھیں۔۔۔
    اللہ اس دھرتی کے ھر چپے اور نظریے کا دفاع اور حفاظت کرنے والوں سلامت رکھے۔۔۔

    آمین