Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ھم یہ جنگ کیسے لڑیں۔۔۔؟              عبدالرب ساجدکا بلاگ

    ھم یہ جنگ کیسے لڑیں۔۔۔؟ عبدالرب ساجدکا بلاگ

    ھم یہ جنگ کیسے لڑیں۔۔۔؟ عبدالرب ساجد

    میں نہ جنگی حکمت عملیوں کا ماھر ھوں۔۔۔ نہ ھی جیو پولیٹیکس کی گہرائیوں کا سمجھتا ھوں۔۔۔ جب سے ھوش سنبھالا ھے انڈیا سے نفرت اور پاکستان سے محبت کرنا سیکھا اور سکھایا ھے۔۔۔ اور یہ بات گھٹی میں اس لئے پڑی ھوئی کہ میرے نزدیک یہ ایک نظریہ اور عقیدہ ھے۔۔۔ اور اسی بات کو ایک منہج و منشور کے طور پر ھر شخص تک پہنچانا میں اپنی ذمہ داری سمجھتا ھوں۔۔۔

    روئے زمین پر ھندو مت سے زیادہ غلیظ اور بدبودار مذھب کوئی نہیں ھے۔۔۔ اور ھندو مکاری ، دشمنی اور ظلم و بربریت میں اپنی مثال آپ ھی ھے۔۔۔ اسی نظریے پر ھم نے ھندو سے الگ ھو کر یہ وطن بسایا کہ یہ اسلام کی جاگیر ھوگی، اور اسلامیان کا پشتیبان ھوگا۔۔۔

    چنانچہ بہت ساری بشری کوتاھیوں، کم ھمتیوں، بے وفائیوں، سازشوں، چالبازیوں اور بے وقوفیوں کے باوجود یہ ارض پاک دنیائے کفر کی آنکھ کا کانٹا اور دنیائے اسلام کی آنکھ کا تارا رھی ھے۔۔۔

    اپنے سب سے قریبی اور ازلی دشمن سے لیکر سات سمندر پار بیٹھے انکل سام تک سے ھم نے کئی دفعہ ٹکر لی ھے۔۔۔ کوئی مانے یا نہ مانے، اپنا بہت سارا نقصان بھی کیا، مگر جنگ کا انجام ہمیشہ ھم نے لکھا ھے۔۔۔

    روس کو کس نے توڑا۔۔۔؟ مصر وشام کی حفاظت کرتے ھوئے اسرائیلی جہازوں کو کس نے گرایا۔۔۔؟ کعبة اللہ اور ارض حرمین کی حفاظت کس نے کی۔۔۔؟ امریکا کے ساتھ دنیا بھر کی طاغوتی افواج کا غرور کس نے خاک میں ملایا۔۔۔؟
    غزوہ ھند کی تاریخ بھی ھم لکھ رھے ھیں، اور ان شاء اللہ عیسی کی فوج کے سپاھی بھی ھم ھوں گے۔۔۔!

    اپنے یا پرائے، سب ھم سے ھی سوال کرتے ھیں، تم برما کیوں نہیں جاتے۔۔۔؟ فلسطین کی بات کیوں نہیں کرتے۔۔۔؟ شام کو کیوں نہیں پوچھتے۔۔۔؟ اور اب کشمیر۔۔۔!!! مگر یہ سوال اسی لئے اٹھتا ھے کہ دنیا میں مسلمانوں پر کہیں بھی ظلم ھو، ھم سے ھی سب کی امیدیں ھیں۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پاکستان کی تو ساری تاریخ جنگوں سے عبارت ھے، مگر کیا وجہ ھے کہ آج ھم جنگ سے کترا رھے ھیں۔۔۔؟

    کشمیر کی موجودہ صورتحال اور پاک بھارت تناؤ کے اس ماحول میں اپنا اصولی نظریہ اور شائستہ تجزیہ سب کے سامنے رکھنا چاھتا ھوں۔۔۔

    امریکہ، اسرائیل اور انڈیا پاکستان کو جنگ میں گھسیٹنا چاھتے ھیں۔۔۔! مگر کیوں۔۔۔؟؟؟

    1۔ امریکا کا مقصد افغانستان پر قبضہ کر کے پاکستان کو معاشی اور دفاعی طور پر کمزور کرنا اور ساتھ ساتھ روس اور چائنہ کے لئے مشکل حالات پیدا کرنا تھا۔۔۔
    امریکہ اپنی شکست تسلیم کرنے کے بعد طالبان کے ساتھ صلح کے معاہدے کو تقریبا حتمی شکل دے چکا ھے۔۔۔ وہ اپنی زمینی افواج کو واپس بلانا چاہتا ھے۔۔۔
    لیکن خطے میں اپنا اثر و رسوخ اور چین و روس پر نظر رکھنے کے لیے پاکستان کو اپنا "انٹیلیجنس بیس کیمپ” بنائے رکھنا چاھتا ھے۔۔۔ پاکستان اس کی سختی سے اور بالکل درست طور پر مخالفت کر رھا ھے۔۔۔ امریکا یہ سمجھتا ھے کہ اس ساری جنگ میں ھماری ھزیمت و رسوائی کا باعث بھی پاکستان ھے، اور ھمارے نکلنے کے لئے محفوظ راستہ بھی پاکستان نے ھی بنا کر دینا ھے۔۔۔
    (یہ سب کچھ جان بولٹن – امریکن نشنل سیکیورٹی ایڈوائزر کا تبصرہ ھے)

    چنانچہ انتقام، شکست، اور مایوسی و حیرت کے سمندروں میں غوطہ کھاتے امریکا کے لئے پاکستان سے بڑا اور برا دشمن اس وقت کوئی اور نہیں ھے۔۔۔

    2۔ گریٹر اسرائیل کے نقشے کو حتمی شکل دینے کے لئے پاکستان کے جوہری و دفاعی ڈھانچے کو ختم کرنا اسرائیل کا اولین مقصد ھے۔۔۔ اس کے لئے وہ بھارت اور امریکا کے ساتھ مل کر پہلے کتنے جال بچھا چکا ھے یہ ذھن میں رھنا چاھئے۔۔۔
    اس کے علاوہ عراق ، شام ، لیبیا اور مصر میں پیش آنے والے واقعات کے بعد جو لوگ ابھی تک گریٹر اسرائیل منصوبے پر شکوک و شبہات کا شکار ھیں۔۔۔ ان کو یا تو اندھا بہرا ھونا چاھئے، یا ان میں دماغ کی کمی ھے۔۔۔

    چنانچہ پاکستان گریٹر اسرائیل کے سامنے سب سے بھاری اور آخری چٹان ھے جس کی وجہ سے ھم اسرائیل کے نشانے پر ھیں۔۔۔

    3۔ ھندوستان سے ھماری لڑائی اور دشمنی کی وجہ کوئی ایک نہیں ھے۔۔۔ مگر حالیہ اور تازہ تناظر میں انڈیا پچھلے 18 سال سے افغانستان میں کی گئی اپنی اربوں کی سرمایہ کاری کو ضائع نہیں کرنا چاہتا۔۔۔ جو اس نے پاکستان کو کمزور کرنے کے لئے کی تھی۔۔۔ لہذا بوکھلاہٹ میں وہ طالبان کے کابل پر قابض ھونے سے پہلے پاکستان کے ساتھ ایک فیصلہ کن جنگ لڑنا چاہتا ھے۔۔۔

    اس جنگ میں ھم کیا کر سکتے ھیں اور دنیا کو اس جنگ سے کتنا نقصان ھو سکتا ھے، یہ ھم سمجھیں یا نہ سمجھیں دنیا خوب اچھی طرح سمجھتی ھے۔۔۔ پاکستان کے خلاف فیصلہ کن جنگ اس وقت امریکا، اسرائیل اور انڈیا کا مشترکہ مفاد ھے۔۔۔ یہ جنگ ھم لڑنا چاھیں یا نہ لڑنا چاھیں، ھم پر مسلط کر دی گئی ھے۔۔۔!
    ھم اس جنگ کو سمجھنے میں تاخیر کرسکتے ھیں ، لیکن ھم اس سے بچ نہیں سکتے۔۔۔!

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پاکستان کو اور ھمیں کیا کرنا چاھئے۔۔۔؟

    1۔ طالبان اور امریکا کے درمیان ھونے والے تمام امن مذاکرات سے دستبردار ھوجائیں اور امریکیوں کو افغان طالبان کا سامنا کرنے دیں۔۔۔ اس سے امریکا کم از کم بیک فٹ پر رھے گا۔۔۔
    (قندوز پر طالبان کا کنٹرول حاصل کرنا یاد رھے، مجھے امید ھے کہ یہ اسی پالیسی کا حصہ ھے۔)

    2۔ افغان طالبان کی جائز حکومت کو تسلیم کریں۔۔۔ اور ان کے ساتھ مل کر افغانستان میں ہندوستانی دہشتگرد کیمپوں ، قونصل خانوں ، گولہ بارود کے ڈھیروں اور ہندوستانی سویلین اور فوجی اہلکاروں کے خلاف خفیہ کارروائیاں کریں۔ ہندوستانی انٹیلیجنس اور فوجی افسروں کو پکڑنے اور انھیں مذاکرات کے لئے اسیر بنائے رکھنے کی کوشش کریں۔
    (افغانستان کی خبروں پر نظر رکھتے ھوئے مجھے امید ھے کہ اس پر بھی کام شروع ھے۔)

    3۔ اپنے وسائل اور فنڈز فراھم کر کے کشمیریوں کی زیرقیادت مہم کے ذریعے بین الاقوامی سطح پر جارحانہ سفارتکاری کا آغاز ھونا چاھئے۔۔۔
    (اس پر بھی حکومت پاکستان کی جانب سے کچھ امید افزا خبریں گردش میں ھیں۔)

    4۔ جنگی بنیادوں پر چلیں اور پاکستان میں جنگی ایمرجنسی کا اعلان کریں۔۔۔ صدارتی احکامات کو استعمال کرتے ھوئے بدعنوانی اور قومی سلامتی کے خلاف سخت قوانین کا فریم ورک تشکیل دیں۔۔۔ اس بار لوٹی ہوئی دولت کی بازیابی ، غداروں کی گرفتاری اور ایک طویل اور سخت جنگ کے لئے قوم کو ذہنی طور پر تیار کریں۔۔۔

    5۔ اسرائیلی ایجنٹس قادیانیوں اور رافضیوں کی ریشہ دورانیوں سے چوکنے رھیں، اور اس بارے میں ھر قسم کے اندرونی و بیرونی پریشر کو نظر انداز کریں، اور محب وطن شائستہ و زیرک مولویوں کو موقع دیں کہ وہ عوامی سطح پر ان کے خلاف شعور اجاگر کریں۔۔۔

    6۔ پاکستان کے میڈیا اور فلم انڈسٹری کو ایک نیا موڑ دیں جو قوم کے جوانوں کو بے حیائی اور مایوسی کے اندھیروں سے نکالنے کا کام کرے۔۔۔ برصغیر میں مسلمانوں کی عظیم سلطنت کو موضوع بنائیں۔۔۔ غوری، غزنوی، ابدالی، زنگی، ایوبی اور محمد بن قاسم کو ھیرو بنائیں۔۔۔ ڈرامے، فلمیں اور سیریلز بنانے ھی ھیں تو ان کو مثبت سوچ اور نئے انداز سے تشکیل دیں۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بحیثیت قوم اگر ھم درست فیصلے لے سکے تو موجودہ سکیورٹی اور معاشی بحران ھماری حیثیت کو اور بھی بلند کر دیں گے۔۔۔
    جذباتیت اور جنگی جنون کو اپنے دماغ پر سوار مت ھونے دیں۔۔۔ جنگ لڑنے میں تاخیر بھی ایک زبردست جنگی حکمت عملی ھوتی ھے۔۔۔
    حکمران اور افواج اپنی قوم کو اعتماد میں لیں اور عوام اپنے اداروں اور ریاست پر اعتماد کریں۔۔۔ قومیں مشکل حالات میں یا بکھر جاتی ھیں یا نکھر جاتی ھیں۔۔۔
    اللہ اس دھرتی کے ھر چپے اور نظریے کا دفاع اور حفاظت کرنے والوں سلامت رکھے۔۔۔

    آمین

  • بابا فرید الدین گنج شکر رحمة اللہ تعالی علیہ : علی چاند کا بلاگ

    بابا فرید الدین گنج شکر رحمة اللہ تعالی علیہ : علی چاند کا بلاگ

    صوفیا کرام محبت ، امن اور بھاٸی چارے کے مبلغ رہے ہیں ۔ انہی لوگوں کی وجہ سے اسلامی تعلیمات سے متاثر ہو کر برصغیر کے بہت سے غیر مسلم لوگ داٸرہ اسلام میں داخل ہوٸے ۔ صوفیا کرام نے ہمیشہ لوگوں کو بلا امتیاز رنگ و نسل اور بلا امتیاز دین و ملت ایک دوسرے کے ساتھ حسن اخلاق کی تعلیم دی اور اس کی عملی مثالیں بھی پیش کیں جن کی بدولت برصغیر کے ہندوٶں اور دیگر اقوام نے دین اسلام قبول کر کے اپنی زندگیاں دونوں جہاں میں روشن کی ۔ ان صوفیا کرام نے عملی تعلیمات کے ساتھ ساتھ اپنےاقوال اور اپنی شاعری کے ذریعے بھی لوگوں کے دلوں میں گھر کر لیا ۔ یہی وہ لوگ تھے جنہوں نے اسلام کو عملی طور پر اپنایا اور پھر دین اسلام کی عملی طور پر اشاعت کی ۔ ان بزرگ صوفیا کرام ہی کی بدولت ہمارے بزرگوں نے دین اسلام کی دولت کا اپنایا اور پھر دین اسلام کی محبت کی شمع ہمارے دلوں میں روشن کی ۔

    ان بزرگ صوفیا کرام میں سے ایک حضرت بابا فرید الدین گنج شکر ہیں ۔ بابا فرید الدین بارہویں صدی کے مسلمان مبلغ اور صوفی شاعر ہیں ۔ جن کی بدولت ، جن کی عملی تعلیمات سے متاثر ہو کر لاکھوں لوگ دین اسلام کی طرف کھنچے چلے آٸے ۔ بابا فرید الدین کا اصل نام مسعود اور لقب فرید الدین تھا ۔ آپ کی ولادت 589 ہجری میں ہوٸی اور وصال 666 ھ میں ہوا ۔ آپ کی والدہ کا نام قرسم خاتون اور والد ماجد کا نام قاضی جلال الدین تھا ۔ بابا فرید الدین کے استاد محترم حضرت خواجہ معین الدین چشتی ہیں ۔ بابا فرید الدین پنجابی ادب اور پنجابی شاعری کی بنیاد مانے جاتے ہیں ۔

    بابا فرید الدین کو گنج شکر کہنے کی وجہ یہ تھی کہ آپ کی والدہ نے جب آپ کو نماز کی تلقین کی تو کہا کہ جب بچہ چھوٹا ہوتا ہے اور وہ نماز پڑھتا ہے تو اللہ پاک کی طرف سے اسے شکر ملتی ہے ۔ اور پھر جیسے جیسے انسان بڑا ہوتا جاتا ہے ان انعامات میں اضافہ ہوتا جاتا ہے ۔ جب بابا فرید نماز پڑھ رہے ہوتے تو آپ کی والدہ چپکے سے مصلے کے نیچے شکر کی پڑیاں رکھ دیتیں ۔ ایک دن آپ کی والدہ کو شکر رکھنا یاد نہ رہا بعد میں یاد آیا تو پوچھا فرید الدین کیا آپ کو شکر کی پڑیاں ملی تھیں ۔ بابا فرید الدین نے ہاں میں جواب دیا تو آپ کی والدہ نے کہا کہ آپ تو واقعی گنج شکر ہیں ۔

    بابا فرید نے ابتداٸی تعلیم ملتان کی ایک مسجد سے حاصل کی پھر آپ قندھار اور مختلف شہروں سے تعلیم حاصل کر کے دہلی پہنچے ۔ کہا جاتا ہے کہ بابا فرید کو دہلی کی شان و شوکت بالکل بھی پسند نہ تھی جس کی وجہ سے آپ دہلی سے ہانسی اور پھر پاک پتن تشریف لے آٸے اور یہیں ڈیرہ نشین ہوگے ۔ بابا فرید نے بھی دیگر صوفیا کی طرح لوگوں کو امن و امان ، اخوت اور بھاٸی چارے کا درس دیا جس کی وجہ سے یہاں کے لوگوں نے بڑی تعداد میں اسلام قبول کر لیا۔ بہت سے علما کرام بھی بابا فرید الدین سے گراٸمر اور زبان دانی کے مساٸل حل کروانے پاک پتن آتے تھے ۔

    بابا فرید الدین پنجابی شاعری کے پہلے شاعر ہیں ۔ آپ کی شاعری میں بھی آپ کی عملی زندگی کی طرح بھاٸی چارے ، مساوات اور انسانیت کا درس ملتا ہے ۔ بابا فرید الدین نے ہمیشہ اپنی زندگی کو ذاتیات کی بجاٸے عوامی دکھوں کے حوالے سے دیکھا ہے جیسا کہ بابا فرید الدین خود لکھتے ہیں کہ
    میں جانیا دکھ مجھ کو ، دکھ سبھاٸے جگ
    اچے چڑھ کے ویکھیا تاں گھر گھر ایہا اگ

    ترجمہ : میں سمجھا تھا کہ دکھ صرف مجھ ہی کو ہیں لیکن یہاں تو سارا جہاں دکھی ہے ۔ جب میں نے اوپر ہو کر دیکھا تو پتہ چلا کہ ہر گھر اسی آگ میں سلگ رہا ہے ۔

    اک دوسرے شعر میں بابا فرید فرماتے ہیں
    فریدا خاک نہ نندیے ، خاکوں جیڈ نہ کوٸی
    جیوندیاں پیراں تھلے ، مویاں اوپر ہوٸی

    ترجمہ : فریدا خاک کی ناقدری نہ کرو کیونکہ زندگی میں یہی خاک ہے جس پر ہم پاٶں رکھے کھڑے ہوتے ہیں اور مرنے کے بعد یہی خاک ہمارے عیبوں پر پردہ ڈال دیتی ہے ۔

    بابا فرید الدین کے اقوال سے بھی ان کی تعلیمات کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔ آپ فرماتے ہیں کہ
    1 انسانوں میں ذلیل ترین وہ ہے جو کھانے ، پینے اور پہننے میں مشغول ہے ۔
    2 نفس کو اپنے مرتبہ کے لیے خوار مت کرو ۔
    3 درویش فاقے سے مر جاتے ہیں لیکن لذت نفس کے لیے قرض نہیں لیتے ۔
    4 جس دل میں اللہ کا ذکر جاری رہتا ہے وہ دل زندہ ہے اور شیطانی خواہشات اس پر قابو نہیں پا سکتیں ۔
    5 اطمینان چاہتے ہوتو حسد سے دور رہو ۔
    6 دوسروں سے اچھاٸی کرتے ہوٸے سوچو کہ تم اپنی ذات سے اچھاٸی کر رہے ہو ۔

    حضرت بابا فرید الدین نے 666 ھ میں وفات پاٸی ۔ مولانا بدر الدین کہتے ہیں کہ بابا فرید الدین نے وضو کے لیے پانی منگوایا ، وضو کر کے نماز پڑھی ، سجدے میں ہی یاحیی یا قیوم پڑھتے ہوٸے آپ خالق حقیقی سے جا ملے ۔ بابا فرید کا مزار آپ کے ایک مرید شہنشاہ محمد بن تغلق نے تعمیر کروایا ۔

    اللہ پاک ہمیں ان بزرگوں کی تعلیمات کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرماٸے ۔ آمین

  • خان صاحب کے لئے گھر بیٹھے بٹھائے کشمیر لینے کا فارمولا ”    ڈاکٹر حافظ اسامہ اکرم کا بلاگ

    خان صاحب کے لئے گھر بیٹھے بٹھائے کشمیر لینے کا فارمولا ” ڈاکٹر حافظ اسامہ اکرم کا بلاگ

    خان صاحب کے لئے گھر بیٹھے بٹھائے کشمیر لینے کا فارمولا ” ڈاکٹر حافظ اسامہ اکرم

    آج کل کشمیر کے حالات بہت مخدوش ہیں ۔ کرفیو کو ایک مہینہ ہونے والا ہے ، کشمیری بھوک پیاس ، دوائیوں کی عدم موجودگی، آنسو گیس شیل اور چھروں سے روز مر رہے ہیں ۔ میڈیا اطلاعات کے مطابق کشمیری لڑکیوں کو اٹھا کر لے جایا جا رہا ہے ۔ بارہ سال کے بچوں کو بھی شہید کر کے کشمیری مسلمانوں کی نسل کشی کی جارہی ہے ۔اس صورتحال میں موجودہ وزیراعظم پاکستان عمران خان صاحب خود کو اس پہ بہت زبردست متفکر بتاتے ہیں ۔ اور کشمیر کے سفیر کا درجہ دیتے ہیں لیکن ساتھ ساتھ عالمی امن کی ٹھیکہ داری بھی چونکہ صرف پاکستان کے حصہ میں آئی ہے لہذا خان صاحب اور ان کے ماننے والے یہ کہتے پھرتے ہیں کہ "کیا اب میں جنگ کر لوں ،حملہ کر دوں۔۔۔۔؟؟؟ ”
    تو ان کے لئے کچھ گذارشات ہیں کہ جناب من آپ بلکل جنگ نہ کریں ، نہ حملہ کریں۔ آپ کی سو سو مجبوریاں ہیں ،ہم آپ کو گھر بیٹھے بٹھائے کشمیر کی آزادی کا طریقہ بتاتے ہیں جس میں نہ آپ پر کوئی عالمی دباؤ آئے گا نہ آپ کو انٹرنیشنل بارڈر کراس کرنا پڑے گا ، نہ شاہین و نصر کا استعمال کرنا پڑے گا نہ آپ کے فوجی شہید ہوں گے ۔
    ان سب کا آسان حل انڈیا کا صرف ایک مکمل بائیکاٹ ہے ، اس پہ عمل تو کر کے دیکھیں ۔ ہمیں امید ہے آپ اتنے بھی بزدل بھی واقع نہیں ہونگے اور یہ کر گزریں گے ۔

    1. پاکستان انڈیا سے ہر طرح کے سفارتی تعلقات مکمل طور پر توڑ لے۔

    2.انڈیا کی روز روز کی زمینی بارڑر اور بالاکوٹ والی ہوائی حدود کی خلاف ورزی ، ڈیموں پہ بند باندھ کر پانی کی چوری سمیت تمام تر معاہدوں کی بار بار کی خلاف ورزی کے جواب میں تمام تر معاہدوں کے ختم ہونے کا اعلان کر دیا جائے۔

    3۔ ہر بین الاقوامی فورم پر انڈیا کے کشمیریوں اور دیگر اقلیتوں پہ ظلم کو دنیا کے سامنے واضح کیا جائے ۔

    4.انڈیا سے ہر قسم کی آلو ، پیاز کی تجارت ختم کردی جائے۔

    5. سوائے مذہبی رسومات کی ادائیگی کے دونوں ملکوں کے شہریوں کی ایک دوسرے کے ملک میں داخلہ اور آمدورفت بند کردی جائے۔

    6۔ انڈین سامان تجارت اور ہوائی جہازوں کو راہداری ختم کی جائے،

    اگر آپ صرف یہ کام کر لیں تو دیکھیں انڈیا کشمیر سمیت تمام تر تصفیہ طلب امور میں آپ کے قدموں میں نہ آ گرے تو ہم سزاوار ۔

  • وہی عمر رضی اللّٰہ عنہ 22 لاکھ مربع میل کے حاکم           تحریر: خنیس الرحمٰن

    وہی عمر رضی اللّٰہ عنہ 22 لاکھ مربع میل کے حاکم تحریر: خنیس الرحمٰن

    میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا ۔یہ اللّٰہ کے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا ۔کون عمر وہی عمر جو شیطان کے راستے میں آجاتا تو وہ اپنا راستہ تبدیل کرلیتا۔وہی عمر جس جو اللّٰہ کے نبی کی دعا تھا کہ اللّٰہ عمرو بن ہشام اور عمر بن خطاب میں سے کوئی ایک عطاء کردے جسے اسلام کو تقویت مل جائے ۔دعا کہ کچھ روز بعد عمر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو معاذاللہ قتل کے ارادے سے جارہے تھے لیکن اللّٰہ نے عمر کو ساری زندگی کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا محافظ بنا دیا ۔وہی عمر جس نے اسلام قبول کیا اور مکہ میں جاکر بیت اللہ میں نماز پڑھی تھی کسی کی جرأت نہیں تھی کہ عمر کو ہاتھ بھی لگا کر دکھائے ۔ہر چوک چوراہے میں جا کر عمر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام لوگوں کو پہنچاتے ۔
    وہی عمر جس سے پوچھا گیا تقوی کیا یے کہنے لگے میں جب خطاب کی بکریاں چرایا کرتا تھا راستے میں جو کانٹے پڑے ہوتے اس کاہٹاتا اسی کو تقوی کہتے ہیں ۔
    وہی عمر جو ہر محاذ پر ہر میدان میں اللّٰہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کےساتھ ہوتے ۔
    وہی عمر جس کے بارے میں اللّٰہ کے نبی ان سے کہا اے عمر میں نے جنت میں تیرا گھر دیکھا لیکن مجھے تیری غیرت یاد آگئی۔
    وہی عمر جب سلطنت کے حاکم بنے تو شاہانہ زندگی گزارنے والا عمر ٹاٹ کے بستر پر سونے لگا ۔زیتون کے تیل کے ساتھ روٹی کھا نے والا ۔کوئی عمر کی عدالت میں کیس لیکر آتا پاکستان کی عدالتوں کے فیصلے کی طرح مایوس ہوکر نا جاتا ۔اگر والی مصر کا بیٹا بھی جرم کرتا تو اس کو بھی سزا دینے کے لیے تیار ہوجاتے آؤ وقت کے حکمرانوں کچھ سیکھو عمر سے جو 22 لاکھ مربع میل کا حاکم تھا ۔
    وہی عمر جو زمین پر بات کرتا اللّٰہ قرآن کی آیت بنا کر نازل کردیتا ۔
    وہی عمر جس کے عہد میں وہ علاقے فتح ہوئے جس کے بارے میں اللّٰہ کے نبی نے نوید سنائی ۔
    وہی عمر جو اس بات سے بھی سے بھی ڈرتے اگر فرات کے کنارے کتا بھی مرجائے تو مجھ سے سوال کیا جائے گا ۔
    وہی عمر جس کے بیٹے نے اسامہ بن زید کے وظیفے کے متعلق کچھ کہا تو عمر نے وہ عام باپ کا بیٹا نہیں بلکہ موتہ کے شہید کا بیٹا ہے۔
    وہی عمر جس نے انصاف کے تقاضوں پورا کیا اور جو انصاف کے تقاضوں پر قاضی پورا نا اترتے تو ایکشن لیتے ۔
    وہی عمر اگر اس کی سلطنت کا کوئی وزیر مشیر یا گورنر شاہانہ طرز زندگی گزارتا ضروریات زندگی کے بے جا استعمال کرتا فوری جاکر اس غیرت دلاتے اور تنبیہ کرتے ۔
    وہی عمر جس کے پاس ہار لیا جاتا مال غنیمت کا ملا ہوا واپس قاصد کے پاس پھینک دیتے ۔

    وہی عمر جو دعا کیا کرتے اے اللّٰہ مجھے موت دینا تو شہادت کی اور شہر مدینہ میں یہی ہوا نماز فجر ادا کررہے تھے ابو لو لؤ فیروز نے ان پر خنجروں کے وار ان کے پیٹ میں کیے شدید زخمی ہوگئے اور تین روز بعد زخموں کی تاب نا لاتے ہوئے رب کی جنتوں کے مہماں بن گئے اور نبی آخر الزمان کے پہلو میں آپ کو دفن کردیا گیا ۔
    اللّٰہ کڑوڑوں رحمتیں اور برکتیں نازل فرمائے عمر رضی اللہ کی قبر پر اور ان کی مٹی کو سیراب کرے ۔
    یکم محرم الحرام کا دن عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت کا دن ہمیں یہ پیغام دیتا یے کہ اگر عمر جیسا حکمران چاہتے ہو تو عمر جیسی رعایا بھی بننا پڑے گا ۔
    گذشتہ چند روز قبل ٹویٹر کے اوپر ٹرینڈ چلایا گیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت کے دن چھٹی دی جائے تعطیل کا اعلان کیا جائے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ تعطیل کے دن کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا ہمیں کرنا یہ ہوگا کہ اس دن ہم اپنے دفاتر, اداروں, سکول و کالجز اور یونیورسٹیز میں یعنی کے ہر مقام پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمات کو ان کی سیرت کے پہلوؤں کو اجاگر کیا جانا چاہئے.
    سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ آج کے ہر حکمران اور رعایا کے لئے ایک کردار ہیں جن کی زندگی کے اہم پہلوؤں کو ہم پڑھ کر اس کو سمجھنے کی کوشش کریں اور ہمیں معلوم ہو ریاستیں کیسے چلتی ہیں اور تبدیلی کیسے آتی ہے.

  • پی ٹی ایم کے کم عقل مشر اور بھارتی چال                  تحریر:عرفان ممند

    پی ٹی ایم کے کم عقل مشر اور بھارتی چال تحریر:عرفان ممند

    پی ٹی ایم کے مشر اعظم منظور پشتین نے ایک ٹویٹ کیا۔ جس کا عکس آپ اس تحریر کے ساتھ دیکھ سکتے ہیں اور یہ ٹویٹ تاحال ان کے ٹویٹر کی ٹائم لائن پر موجود ہے۔ ٹویٹ میں انھوں نے ایک اطالوی صحافی کا مضمون پوسٹ کیا ہے۔ مضمون کا ٹائٹل ہی کئی لوگوں کے کان کھڑے کر دینے والا ہے:
    Taliban back in Waziristan? Or may be ‘they never left’

    اردو میں لکھیں تو:
    کیا طالبان وزیرستان میں واپس آگئے ہیں؟ یا شاید وہ ‘کبھی یہاں سے گئے ہی نہیں تھے’

    مضمون کی مصنفہ فرانسسکہ مارینو نامی اطالوی صحافی ہیں۔ موصوفہ "Apoclypse Pakistan” نامی کتاب کی مصنفہ ہیں جس میں بھارتی موقف کو ترجیح دیتے ہوئے انھوں نے 2611 کا سارا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کی ایک ناکام سی کوشش کی تھی۔

    اس نئے مضمون میں بھی انھوں نے بجائے گراونڈ ورک کرنے کے پی ٹی ایم اور اس تنظیم سے جڑے کرداروں کو (جو کہ پاکستان کے ایک مخصوص طبقہ کے نمائندے بھی ہیں) ہی موقع دیا ہے کہ وہ اپنا موقف دیں اور اسی پر بنیاد رکھتے ہوئے پورا مضمون لکھ ڈالا جس میں انھوں نے بڑی ڈھٹائی سے پاکستان کی دہشت گردوں کے خلاف کاروائیوں کو اٹھا کر کھڑکی سے باہر پھینکا ہے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ طالبان کبھی وزیرستان سے نکلے ہی نہیں اور پاکستانی ایسٹبلشمنٹ یا عرف عام میں پاکستانی فوج نے جو کچھ بھی دہشت گردوں کے خلاف کیا وہ ایک ٹوپی ڈرامہ سے زیادہ کی حیثیت نہیں رکھتا۔ (حالانکہ اب تو بین الاقوامی رائے عامہ کا اس بارے میں واضح موقف ہے)

    اب اس مر مزید یہ کہ مضمون کہیں اور نہیں بلکہ ایک بھارتی آن لائن نیوز ویب سائیٹ The Quint میں چھپا ہے۔

    چلیں اطالوی خاتون اور ان کے بھارتیوں سے زیادہ پیار کی کوئی نہ کوئی توجیح نکل آئے گی مگر سوال یہ ہے کہ بالکل اسی انداز میں پاکستان کے پشتونوں کے چند خیر خواہ بالکل اسی انداز میں ان دونوں پر فریفتہ کیوں ہورہے ہیں؟ اور وہ بھی عین ان دنوں میں جب پی ٹی ایم کو ایک طرف پی ٹی ایم سے جڑے کچھ کارکنان کے والدین نے ایکسپوز کرنا شروع کیا ہےتو دوسری طرف کشمیر کے مسئلے پر بھارت کو پوری دنیا میں شدید سبکی کا سامنا کرنا پڑھ رہا ہے۔ اور اس کے بیانئیے کو جس مین اس نے ہمیشہ پاکستان کو ایک دہشت گردوں کا گڑھ قرار دینے کی ناکام کوشش کی، اس بیانییے کو شکست کا سامنا ہے، ایسے میں ایک بھارت نواز صحافی کی بھارتی جریدے میں چھپی ایک پراپیگنڈا تحریر کو پہلے فرحت اللہ بابر، پھر بشری گوہر پھر LUMS کی پروفیسر اور ٹویٹر پر Resistance movement کی سرخیل ندا کرمانی(اس تحریک پر بھی جلد ہی آپ لوگوں کو کچھ مطلع کروں گا) نے شئیر کیا پھر ثنا اعجاز اور پھر آخر میں مشر اعظم منظور پشتین نے اس پوری تحریر کو پورے طمطراق کے ساتھ اپنی ٹائم لائن پر چسپاں کر دیا۔ یاللعجب

    یہ وہی منظور ہے جو اپنے آپ کو غیرت مند پشتونوں کا والی سمجھتا ہے اور اس کا اور اس کے اس پاس کے لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ ایک ایسے ملک کے جریدے کا پراپیگنڈا تحریر پھیلا رہے ہیں جس پر اس وقت پوری دنیا میں تھو تھو ہورہی ہے۔

    میں نے پہلے سوچا تھا کہ ڈاکٹر عبدالحئی اور ان کے والد ڈاکٹر نور محمد کے حوالے سے کچھ لکھوں گا اور اس میں یہ بتانے کی کوشش کروں گا کی کیسے ٹی ٹی پی کے خارجیوں کی طرح پی ٹی ایم کے خارجیوں پر بھی کم و بیش وہی علامات ظاہر ہونا شروع ہوگئی ہیں جن کا احادیث میں کئی بار ذکر کیا گیا ہے۔ فرق صرف بندوق اور موبائل فون کا ہے۔ کام دونوں کا ایک ہی ہے، تفرقہ، فتوی اور تقسیم در تقسیم۔

    مگر اس تحریر کا منظور کی ٹائم لائن پر آنا اور اس کی تنظیم سے جڑے باقی لوگوں کا اس تحریر کو پھیلانا۔۔ اس بات نے آمادہ کیا۔۔ کہ پہلے اس بات کو اپنے پی ٹی ایم کے پشتون بھائیوں سے کھل کر پوچھا جائے کہ ٹھیک ہے تم لوگوں نے جہاد کا مذاق اڑایا اپنے مشر اعظم کے کہنے پر، تم نے پاکستان کے خلاف نعرہ بازی کی، تم نے لر و بر کا نعرہ لگایا، تم نے پشتون ولی کا علم اٹھانے کا دعوی کیا مگر تم لوگوں کی غیرت کو کیا ہوا کہ تم لوگ بھارت کے پراپیگنڈا کو اپنی بات بنا کر پیش کرنا شروع ہوگئے ہو؟ کیوں تم لوگوں نے پشتون نوجوانوں کو اسی راہ پر لگانے کی واضح کوششیں شروع کردی ہیں جس راہ پر کسی زمانے میں BLA, BRA اور TTP جیسی دہشت گرد تنظیمیں کم عقل نوجوانوں کو لگاتی تھیں؟

    تمھاری عقل کو کیا ہوگیا ہے؟ تم لوگ یہ دعوی کرتے ہو کہ تم حکمران رہے ہو، اس خطے کے۔ چلو مان لیا، تو کیا حکمرانوں کی اولاد اتنی بے عقل ہے کہ وہ اس طرح کے اقدامات سے اپنی ہی قوم کو کمزور کرے گی؟

    اب وقت ہے کہ راستہ سیدھا رکھتے ہوئے ہم پشتون عوام کے اصلی مسائل پر بات کریں۔۔

    تعلیم، تعمیر اور خوشحال مستقبل کی بات کریں۔

    صحت بمع سہولت کی بات کریں۔

    بات کریں تو اپنے پیاروں کی ان کے مستقبل کی اور اس مستقبل کا پشتون قوم اور علاقے کی ترقی سے جڑے خواب کی۔

    بھارتی سورما جو کچھ کشمیر میں کر رہے ہیں اور آج جو انھوں نے 19 لاکھ آسامی مسلمانوں کے ساتھ کیا اور جو وہ افغانی مسلمانوں کے ساتھ کر چکے وہ تم سب کی آنکھیں کھول دینے کے لئیے کافی ہونا چاہئیے۔

    پشتون زندہ باد
    پاکستان پائندہ باد

  • افواج پاکستان کے اصل وفادار کون ؟ علی چاند کا بلاگ

    افواج پاکستان کے اصل وفادار کون ؟ علی چاند کا بلاگ

    سوشل میڈیا پر ایک عام بات جو دیکھنے میں نظر آٸی ہے اور جسے مجھ سمیت اور بھی بہت سارے لوگوں نے محسوس کیا ہے اور تجربے سے سیکھا بھی ہے کہ ہمارے سوشل میڈیا پر موجود بہن بھاٸی صرف اور صرف اپنے آپ کو یا پھر اپنے چند مختصر دوستوں کے بارے خیال رکھتے ہیں کہ یہی چند لوگ ہیں بس جن کے دل پاکستان کی محبت سے لبریز ہیں ، یہی ہیں وہ چند لوگ جو اپنے پیارے پاکستان سے پیار کرتے ہیں اور اپنے پیارے وطن پاکستان کی خاطر اپنی جان و دل صرف یہی لوگ قربان کر سکتے ہیں ، ایسے لوگوں کا خیال ہے کہ صرف یہی لوگ ہیں جنہیں افواج پاکستان سے محبت ہے ، اور یہی وہ لوگ ہیں جن کے خون میں پاکستان اور افواج پاکستان سے وفا شامل ہے ۔ ایسے لوگوں کا یہ خیال ہے کہ ان کے علاوہ باقی سب غدار ، بزدل اور پاک فوج اور پاکستان کے دشمن ہیں ۔ ایسے لوگ کوٸی اور نہیں صرف اور صرف سیاسی کارکنان ہیں جن کے نزدیک ان کے علاوہ باقی سب ملک دشمن اور غدار وطن ہیں ۔ ایسے لوگ پاکستان کے عام عوام کو تو گالیاں دینے اور غدار کہنے فورا آجاٸیں گے نہ صرف خود آٸیں گے بلکہ اپنے اپنے گروپس کے لوگوں کو بھی دعوت عام دیں گے کہ آٶ اس انسان کو گالیاں دو ، اس کا منہ توڑ کے رکھ دو ، اس کو غدار ثابت کرنے میں زرا سی کسر نہ چھوڑو کیوں کہ ایسے جہلا کو لگتا ہے کہ بات ان کے لیڈر کی پالیسی کے خلاف ہے جس کی وجہ سے انہیں لگتا ہے کہ ان کا لیڈر ہی پاکستان ہے ، ان کا لیڈر ہی افواج پاکستان ہے ، بات ان کے لیڈر کی پالیسی کے خلاف ہوٸی ہے اس لیے یہ اپنے مخالف نظریہ رکھنے والے کو عام طور پر حرامی کہہ کر لکھیں اور پکاریں گے ۔ کیوں کہ ان سے مخالف نظریہ رکھنے والا انسان پاکستان اور افواج پاکستان کا غدار ہے ۔ غدار کیوں ہے کیونکہ ایسے لوگوں کے نزدیک پاکستان ،افواج پاکستان بلکہ ان کا دین ایمان ہی ان کا لیڈر ہوتا ہے ۔ جس کی پالیسی سے اگر خدانخواستہ آپ نے اختلاف کیا تو آپ ایسے لوگوں کے نزدیک داٸرہ اسلام سے ہی خارج ہوجاتے ہیں کیونکہ ایسے لوگوں کے مخالف کا دین و ایمان چیک کرنے والی مشین ان کے مخالف کے خلاف بول رہی ہوتی ہے ۔ اسے لوگ اپنے ہم وطنوں کو تو گالیاں دینے اور غداری کا سرٹیفیکیٹ دینے گروپس کی شکل میں آٸیں گے لیکن جب عالم کفر اور وطن و اسلام دشمنوں کو جواب دینے کی بات آٸے گی تو گونگے ، بہرے اور اندھے ہوجاٸیں گے کہ اسلام امن کا درس دیتا ہے.

    واہ رے منافقت

    حقیقت تو یہ ہے کہ جب حکومت پی پٕی کی ہوتو بات اگر پی پی کارکنان کے لیڈر کے خلاف ہوتو انہیں لگتا ہے کہ باقی سب ملک دشمن ہیں ۔ اسی طرح جب حکومت نواز شریف کی تھی تو بات اگر نواز پالیسی کے خلاف ہوتی تو ن لیگ کے کارکنان کو لگتا تھا کہ ہمارا مخالف پاکستان اور افواج پاکستان کے خلاف ہے ۔ اور اب اگر یہی بات عمران خاں کی پالیسی کے خلاف ہوتو pti کارکنان کو لگتا ہے کہ عمران خاں کی پالیسی سے اختلاف کرنے والا معاذ اللہ پاکستان اور افواج پاکستان کا غدار ہونے کے ساتھ ساتھ شاید دین اسلام کا بھی دشمن ہے ۔ آج کل تو حالات کچھ یوں چل رہے ہیں کہ کوٸی انسان یہ کہہ دے کہ محمد بن قاسم نے ہندوستان پر حملہ کیوں کیا ، کشمیر کے لیے انڈیا کو فضاٸی حدود بند کرو تو کچھ لوگ غداری کا سرٹیفکیٹ دینے آجاتے ہیں کہ تم نے فوج کے خلاف بات کی ہے کیونکہ ان کا دل کہہ رہا ہوتا ہے کہ ان کے لیڈر کو وہ کرنا چاہیے جواس نے نہیں کیا کشمیر کی خاطر ۔ بس پھر کیا دوسروں کو وطن سے غداری کا سرٹیفکیٹ دے کر اپنے دل کی تسلی کی ناکام کوشش کرتے ہیں حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہی کارکنان جب اقتدار میں نہیں ہوتے تو اپنے اپنے لیڈروں کے ساتھ مل کر افواج پاکستان پر طرح طرح کی الزام تراشیاں کرتے ہیں اور اپنی سب سے مضبوط خفیہ ایجنسی پر تنقید کرتے نہیں تھکتے ۔ اور اصل حقیقت تو یہ ہے کہ پاکستان اور افواج پاکستان کے اصل محب اور وفادار وہی ہیں جن کا کسی سیاسی جماعت سے کوٸی تعلق نہیں ، جو ہر حکمران کی اچھاٸی کو اچھا اور براٸی کو غلط کہتے ہیں ۔ ہاں یہی ہیں وہ غیر سیاسی لوگ جو ہر حال میں اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں ، ہاں یہی ہیں وہ لوگ جو چند پوسٹ اور تحریروں کے بدلے معاوضہ نہیں لیتے اور پاکستان سے وفا نبھارہے ہوتے ہیں ، ہاں یہی ہیں وہ لوگ جو اپنے بیٹے سپاہی بھرتی کرواتے ہیں اور پھر جوان بیٹوں کی لاشیں وصول کرتے ہیں ، ہاں یہی ہیں وہ لوگ جو اپنے بیٹے شہید کروا کر بھی بارڈر پر سینہ تان کر کھڑا ہونے کے لیے دوسرے بیٹے بھیج دیتے ہیں ، ہاں یہی ہیں وہ لوگ جو اپنے دو کوڑی کے غدار اور بزدل لیڈروں کی خاطر اپنی افواج پاکستان پر انگلیاں نہیں اٹھاتے ، ہاں یہی ہیں وہ لوگ جو سڑک سے گزرنے والے سپاہیوں کو سلوٹ کرتے ہیں ، انہیں سلام پیش کرتے ہیں ، ان پر پھول نچھاور کرتے ہیں ، یہی تو اصل محبت ہے ۔

    ۔ اپنے لیڈر کو افواج پاکستان اور پاکستان سمجھنے والے تو آج ادھر ہیں تو کل دوسری طرف ہیں ۔ آج ادھر سے پیسہ ملا تو یہ لیڈر ، کل وہاں سے پیسہ ملے گا تو ادھر کی ڈیوٹی نبھاٸیں گے ۔

    ہمیں فخر ہے کہ ہماری رگوں میں پاکستان سے وفا کرنے والا خون ہے ، افواج پاکستان پر فخر کرنے والا خون ہے ، اپنے وطن پر جان قربان کرنے والا خون ہے ۔ ہم نے نا تو پیسہ لے کر وفاداریاں بدلی نا کبھی فوج پر انگلی اٹھاٸی ۔ ہاں جب جب کوٸی حکمران میرے کشمیر ، میرے وطن پاکستان ، میرے دین اسلام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے گا ، بزدلی دکھاٸے گا وہاں ہم ضرور اس حکمران پر انگلی اٹھاٸیں گے کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جن کی جاٸدادیں باہر ، بچے باہر ، رشتے داریاں باہر ۔ ہم ضرور ایسے حکمرانوں پر تنقید کریں گے کیونکہ ہم نے اسی وطن میں رہنا ہے انہیں افواج کے ساتھ ، لیڈروں کا کیا ہے آج یہاں تو کل انگلیڈ ، امریکہ ، برطانیہ یا کہیں اور ۔

    ہمیں پاکستان سے محبت ہے تبھی ہم اپنی جان سے زیادہ عزیز فوج کے سربراہان سے پوچھتے ہیں اور پوچھیں گے بھی کہ آخر آپ نے اپنی شہہ رگ کے لیے کیا کیا ہے ۔ جہاں محبت ہوتی ہے وہی گلے شکوے بھی ہوتے ہیں ، جہاں محبت ہوتی ہے وہی سوال جواب بھی ہوتے ہیں ، جن پر مان ہوتا ہے انہی سے اپنے مساٸل کا حل بھی پوچھا جاتا ہے ۔ اور اگر کسی کو لگے کہ اس کے لیڈر کی پالیسی سے اختلاف پاکستان اور افواج پاکستان یا اسلام سے غداری ہے تو پھر وہ لوگوں کو غداری کا سرٹیفیکیٹ دینے کی بجاٸے اپنے ایمان ، ضمیر ، اور حب الوطنی کا جاٸزہ لے اور شخصیت پرستی کا علاج کرواٸیں۔

    اللہ پاک میرے وطن اور تمام افواج پاکستان کا حامی و ناصر ہو ۔ آمین

  • مقبوضہ کشمیر کے نوجوان عمران خان کی کشمیر پالیسی پر مطمئن ہیں        تحریر: معاذ عتیق راز

    مقبوضہ کشمیر کے نوجوان عمران خان کی کشمیر پالیسی پر مطمئن ہیں تحریر: معاذ عتیق راز

    آج میرے پاس جموں کے تین لڑکے آئے. جو وہاں کی یونیورسٹیز سے پڑھے ہیں اور یہاں جاب کرتے ہیں. میں نے ان سے مختلف سوالات کیے. جن میں وہاں کے حالات اور پاکستانی حکومت کی پالیسی اور طریقہ کار کے متعلق بھی سوال تھا. جو کچھ انہوں نے بتایا وہ یکسر اس سے مختلف تھا جو ہم سوشل میڈیا پر دیکھتے ہیں. وہ عمران خان کی پالیسی اور طریقہ کار پر بالکل مطمئن تھے.

    جو چیزیں انہوں نے بتائی. اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہاں کے مسلمان نوجوان سیاسی طور پر بھی پاکستانی نوجوانوں سے زیادہ بالغ ہیں. ہم ہر چیز کو ن لیگ پی ٹی آئی اور پی پی پی کی آنکھ سے دیکھتے ہیں. جبکہ حالات کچھ اور ہیں اور ہم سے تقاضہ بھی کچھ اور کر رہے ہیں.
    واللہ اعلم

    جذباتی نوجوانوں سے درخواست ہے ضروری نہیں فوج کچھ کر رہی ہے اس کا سوشل میڈیا پر اعلان کرے. کچھ کام پوشیدہ رکھ کر کیے جاتے ہیں.

    میرا ایمان اور یقین ہے کہ کشمیر جہاد سے ہی آزاد ہو گا. لیکن.اس کے ساتھ یہ یاد رکھیں جنگ کہاں کب کیسے لڑنی ہے یہ ہماری فوج کو معلوم ہے. اللہ پاک فوج کو کامیاب کرے اور کشمیر آزاد ہو.

    آخری ہے.
    انڈیا ہمارے الیکشن کے بعد فوج مخالف بیانیے کو لے کر فیفتھ جنریشن وار ہم پر کر رہا ہے.اور آج ہمارا نوجوان اس جنگ میں جانے انجانے میں دشمن کا مدد گار ثابت ہو رہا ہے. ہمیں سوشل میڈیا الیکٹرانک میڈیا پر بھر پور طریقے سے جواب دینا چاہیے.
    #رازِنہاں
    معاذ عتیق راز

  • دنیا والوں سن لو ! جب بھی کرفیو اٹھا بھارت کو یہی آوازآئے گی کہ وہ کشمیرسے نکل جائے، ملیحہ لودھی

    دنیا والوں سن لو ! جب بھی کرفیو اٹھا بھارت کو یہی آوازآئے گی کہ وہ کشمیرسے نکل جائے، ملیحہ لودھی

    نیویارک:کشمیری کبھی بھی بھارت کی غلامی قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ،اس حوالے سے اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی کا کہنا ہے کہ طاقت کے زور پر کشمیریوں کو حق خودارادیت سے دستبردار نہیں کیا جا سکتا۔ ملیحہ لودھی نے کہا کہ کشمیرمیں حالات سنگین انسانی المیے کو جنم دے رہے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق اقوام متحدہ میں پاکستانی سفیر ملیحہ لودھی نے عرب نشریاتی ادارے کو انٹرویو میں کہا کہ عالمی برادری کو کشمیر کے لیے کچھ کرنا ہوگا اس سے پہلے کے دیر ہو جائے۔

    ذرائع کے مطابق ملیحہ لودھی نے کہا کہ جب بھی کرفیو اٹھا بھارت کو یہی آوازآئے گی کہ وہ کشمیرسے نکل جائے۔ انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کشمیرسے متعلق اپنی قراردادوں پرعملدرآمد یقینی بنائے۔انہوں نے مزید کہا کہ طاقت کے زور پر کشمیریوں کو حق خودارادیت سے دستبردار نہیں کیا جا سکتا۔

  • ہم ہیں سفیرِ کشمیر, ہاں ہم کھڑے ہیں!!! — بلال شوکت آزاد

    ہم ہیں سفیرِ کشمیر, ہاں ہم کھڑے ہیں!!! — بلال شوکت آزاد

    جنگ, جنگ آخر ہے کیا؟

    آزادی, آزادی آخر ہے کیا؟

    قومی غیرت و حمیت, قومی غیرت و حمیت آخر ہے کیا؟

    بیشک جنگ وہ کیفیت ہے جو کسی امت, کسی قوم کسی منظم اور متحد گروہ پر اپنی خودمختاری کی حفاظت اور طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے اور اعلائے کلمتہ اللہ کی سربلندی کی خاطر ظہور پذیر ہوتی ہے, پر جنگ کی نوعیت الگ ہوسکتی ہے یہ ذہن نشین رہے۔

    آزادی وہ اختیار اور ہتھیار ہے جس کی سج دھج اور چمک سے جنگی کیفیت دو چند ہی نہیں ہوتی بلکہ کسی بھی امت, قوم یا منظم اور متحد گروہ کی جنگی تقویت کا مضبوط ستون ثابت ہوتی ہے اور بیشک آزادی کا تسلسل ایک اہم وجہ ہے جنگ اور جنگی کیفیت کی لیکن پھر یاد رہے کہ جنگ کی نوعیت کچھ بھی ہوسکتی ہے۔

    اور قومی غیرت و حمیت وہ ریسپانس ٹائم اور سٹریٹیجی ہے جس پر ساری جنگوں اور آزادی کا دارومدار ہے کہ جو قوم غیرت و حمیت سے عاری ہوجائے پھر وہ آزاد بھی ہو اور جنگی سازوسامان سے لیس بھی ہو تو جنگ ان کے کرنے کی چیز نہیں کہ جنگ ایک کیفیت کا نام ہے جو میں پہلے واضح کرچکا اور جنگ صرف خون بہانے کا ہی نام نہیں اور دنیا تباہ کرنا قطعی جنگ نہیں بلکہ جنگ کی نوعیت ہمیشہ الگ ہوتی ہے اور ہوسکتی ہے یہ ذہن نشین رہے۔

    اب سمجھیں کہ یہ گزشتہ 27 دن سے بھارت میں کیا ہوا, کشمیر میں کیا ہورہا, پاکستان کیا کررہا اور دنیا کا ماحول کیسا بننا تھا پر کیسا بن رہا ہے؟

    جلد بازی یا عجلت کے بارے مشہور ہے کہ یہ شیطانی فعل ہے اور یہ حقیقت بھی موجود اور مسلم ہے کہ شیطان انسان کی رگوں میں خون کی طرح گردش کرتا ہے اور بلخصوص ایسے انسان شیطان کا پرائم ٹارگٹ ہیں جن میں انسانیت اور مسلمانیت کے جراثیم اتمام حجت سے لیکر پیک لیول پر موجود ہوں۔

    اور وجہ کوئی جذباتی اور شدید انسانی و مسلمانی ہو تو حساس اور فکر مند انسان کا عجلت میں کچھ کرنا اور کہہ جانا ایک فطری سی بات ہے کہ انسان کے کمزور لمحات وہ ہوتے ہیں جب انسان کے جذبات تتر بتر اور شدید ٹھیس کا شکار ہوں۔

    میں ڈھیٹ اور لکیر کا فقیر نہ شروع دن سے تھا اور نہ ہوں اور نہ ہی ان شاء ﷲ ہوں گا کہ میرا مسئلہ کشمیر کے حالیہ تغیر کے بعد اوائل دنوں میں موقف حکومت اور ریاست کی بابت بہت سخت بلکہ سخت ترین رہا ہے کہ جو کردار ادا کیا جارہا تھا تب وہ مجھے کچھ خاص مائل نا کرسکا تھا کہ کیفیت شدید جذباتی تھی اور اب بھی ہے لیکن چونکہ حکومت اور ریاست کی اپنی ذمہ داریاں اور مجبوریاں بہرحال تھیں اور ہیں جو میں پرانے دنوں کی طرح سمجھ رہا اور سمجھ چکا ہوں۔

    اب جو میں سمجھا ہوں وہ یہ ہے کہ عمران خان نے بطور سربراہ مملکت جس طرح سفارتی, سیاسی اور عسکری چینلز کی ترتیب لگائی ہے وہ اگر اسی سٹریٹیجی پر کاربند رہا تو بھارت یا مودی ایک وقت میں بند گلی میں پہنچنے والا ہے کہ اتمام حجت انجام دینا بھی کسی چڑیا کا نام ہے کسی دشمن کو اس کے منہ کے مطابق چپیڑ مارنے سے پہلے۔

    آج خان کی بدولت اس عوام نے وہ جذبہ اور جوش و خروش دکھایا ہے کہ اوپر موجود تمام سوالوں کے جوابات پر اس قوم کو پرکھ کر دیکھ لیں تو آپ کو قطعی مایوسی نہیں ہوگی کہ تمام سوالوں کے جوابات پر یہ قوم کھری پائی جاتی ہے۔

    مجھے معلوم ہے بلکہ اللہ کی ذات پر حد درجہ بھروسے کے بل پر یقین ہے کہ آج ایک آواز پر میرے ملک کے گلی گلی, محلے محلے اور شہر شہر میں جس طرح میرا ہر پاکستانی کشمیر کی خاطر آواز بلند کرنے نکلا بلکل اسی طرح حکومت و ریاست کی جانب سے حی اعلی الجہاد حی اعلی الجہاد کی اذان پر نکلیں گے۔

    آج "کشمیر آور” کی گونج دنیا کے ہر فورم, ہر میڈیا, ہر ادارے, ہر انسانی محفل میں سنائی دی اور دے رہی ہے کہ ابھی تک جو نعرہ تھا کہ "ہم کشمیریوں کے سنگ کھڑے ہیں” کا عملی نمونہ دیکھ لیا ہے دنیا نے کہ جی ہاں "ہم کھڑے ہیں” اور اگر دنیا نے اسی طرح ہمیں نظر انداز کیا اور ہماری بات نہ سنی جیسے ماضی میں سلوک روا تھا تو ہم آج کھڑے ہیں لیکن بہت جلد چل پڑیں گے اور ہماری منزل بیشک روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ ہم پھر کشمیر کا چپہ چپہ بازیاب کروانے سے پہلے رکیں گے نہیں کہ ہمیں روکنا شروع کرنے سے زیادہ مشکل اور صبر آزما کام ہے اور اس کا محض دعوہ نہیں کہ روس اور امریکہ کی تاریخ میں جس ملک کا نام پچھلے 40 سال سے سب سے زیادہ درج ہورہا وہ ہم ہیں, وہ پاکستان ہے۔

    شکریہ پاکستانیوں شکریہ حکومت پاکستان اور شکریہ تمام اداروں کا کہ جو سب آج محض ایک کاز کی خاطر گھروں سے نکلے اور دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا کہ ہمیں ہلکا مت لو, ہم تو زخمی بھی ہوں تو حوصلے پست نہیں ہوتے اور ہمارا قہر کم نہیں ہوتا لیکن ہماری خاموشی اور امن کو اولیت دینے کی عادت کو ہماری کمزوری نا سمجھا جائے۔

    عمران خان اور ریاست کو اب کشمیر کے حوالے سے باقاعدہ ایمرجنسی نافذ کردینی چاہیئے ہر جہت پر کہ قوم کا ہر فرد "سفیرِ کشمیر” بنے اور جہاں جائے وہاں کشمیر کو ساتھ لیتا جائے اور دنیا کو باور کراتا رہے کہ پاکستان ہی کشمیر ہے اور کشمیر بنے گا پاکستان۔

    میں آج والی پاکستانی قوم کے دم پر پرعزم ہوں کہ جب بھی اعلان ہوا تو آج سے دوگنا عوام سرحد پار جاکر کشمیریوں کا بدلا چکانے میں بھی پیش پیش رہے گی کہ آخر کار ہم پر جنگی کیفیت مسلط کردی جائے گی اور تب ہمیں آزادی جیسے ہتھیار کے بل پر قومی غیرت و حمیت کا مظاہرہ کرنا ہی پڑے گا۔

    یاد رہے کہ ہم ہیں سفیرِ کشمیر اور ہاں ہم کھڑے ہیں۔

    اللہ سے دعا ہے کہ اللہ ہماری کوششوں اور محنتوں کو خالص کردے اور ہماری دعاؤں کو کشمیریوں کے حق میں قبول کرلے اور اگر ہم پر جنگ مسلط کی جاتی ہے تو ہمیں اپنے سلف کی طرح ثابت قدم رہنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ آمین۔

  • سپیشل بچے بھی کشمیریوں سے یکجہتی کے لیے سڑکوں پر

    سپیشل بچے بھی کشمیریوں سے یکجہتی کے لیے سڑکوں پر

    وزیراعظم پاکستان کی اپیل پر سپیشل بچے بھی کشمیریوں سے یکجہتی کے لیے سڑکوں پر کل آئے ۔ سپیشل ایجوکیشن سنٹر فیروز والہ کے طلبا نے کشمیر یوں سے یکجہتی کے لیے مارچ کیا۔ یکجہتی کشمیر مارچ میں سکول کے سٹاف نے بھی شرکت کی۔ سپیشل بچوں نے کشمیر سے یکجہتی کے حوالہ سے بینرز اٹھا رکھے تھے اور اشاروں کی زبان میں نعرے لگا رہے تھے
    کشمیریوں سے یکجہتی، ملک بھر میں کشمیر آور منایا گیا، پاکستانیوں نے تاریخ رقم کر دی
    سپیشل ایجوکیشن سنٹر فیروزوالا کے سٹاف نے بھی احتجاج میں شرکت کی۔ اس موقع پر ناظم حسین کا کہنا تھا کہ سپیشل بچے آج مودی کو پیغام دے رہے ہیں کہ کشمیری ہمارے بھائی ہیں ان کے ساتھ ہمارا خون کا رشتہ ہے۔ کشمیریوں کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑیں گے۔

    ناظم حسین کا مزید کہنا تھا کہ سپیشل بچوں کے بھی کشمیر کے حوالہ سے جذبات ہیں ۔آج وزیراعظم کی اپیل پر سپیشل بچے باہر نکلے ہیں ۔وزیراعظم جب بھی اعلان کریں گے سپیشل بچے کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کرتے رہیں گے