Baaghi TV

Category: بلاگ

  • داخلے کے خواہشمندوں کے لیے اہم خبر !  پنجاب یونیورسٹی نے داخلے کیلئے میرٹ لسٹوں کا شیڈول جاری

    داخلے کے خواہشمندوں کے لیے اہم خبر ! پنجاب یونیورسٹی نے داخلے کیلئے میرٹ لسٹوں کا شیڈول جاری

    لاہور : داخلے کے خواہشمندوں کے لیے خوشخبری ، اطلاعات کے مطابق پنجاب یونیورسٹی میں داخلوں کی میرٹ لسٹوں کا شیڈول جاری کردی ، پنجاب یونیورسٹی شیڈول کے مطابق ایم اے میں داخلوں کی پہلی میرٹ لسٹ 2 ستمبر جبکہ ایم فل اور پی ایچ ڈی میں داخلوں کی میرٹ لسٹ 4 ستمبر کو جاری ہوں گی۔

    ذرائع کے مطابق پنجاب یونیورسٹی میں داخلوں کی میرٹ لسٹیں شعبہ جات کے نوٹس بورڈز اور آن لائن سسٹم کے تحت جاری کی جائیں گی۔ ایم فل و پی ایچ ڈی میں داخلوں کی پہلی میرٹ لسٹ 4 ستمبر کو آویزاں ہوں گی جبکہ پنجاب یونیورسٹی میں ایم فل ، ایم ایس، پی ایچ ڈی میں داخلوں کی لسٹیں آن لائن بھی جاری ہوں گی۔ داخلوں کی دوسری میرٹ لسٹ 9 ستمبر کو آویزاں کی جائے گی۔

    اسی طرح ذرائع کے مطابق پنجاب یونیورسٹی میں ایم اے میں داخلوں کی پہلی میرٹ لسٹ 2 ستمبر جبکہ دوسری میرٹ لسٹیں 5 ستمبر کو جاری ہوں گی۔ ایم اے مارننگ، ایوننگ، ریلیکس اور سیلف سپورٹنگ پروگرام میں داخلوں کی لسٹ ایک ہی روز جاری ہوگی۔

  • غدار کشمیر کیا صرف نواز شریف ؟ علی چاند کا بلاگ

    غدار کشمیر کیا صرف نواز شریف ؟ علی چاند کا بلاگ

    ّکہتے ہیں کہ بزدل لوگ اپنی خامیاں ہمیشہ دوسروں پر ڈال کر اپنے آپ کو بہت بہادر سمجھتے ہیں ۔ ایسی ہی کچھ چالاکیاں پاکستانی قوم کو اپنے حکمرانوں کی طرف سے دیکھنے کو ملتی ہیں اور صرف ایک دو بار نہیں بلکہ بار بار ، آٸے دن پاکستانی حکمران اپنی عوام کو بے وقوف بناتے ہیں اور اس میں قصور وار صرف حکمران نہیں بلکہ عوام میں سے ایسے لوگ بھی اس بات کے ذمہ دار ہیں جو چند ٹکوں کے عوض اپنی خودی اور ضمیر بیچ کر ایسے حکمرانوں کا دفاع کرتے ہیں اور ایسے حکمرانوں کے دفاع میں زمین آسمان ایک کر دیتے ہیں یہاں تک کہ ایسے لوگوں کو اپنے لیڈروں کا دفاع کرنے کے لیے ان حکمرانوں کی گستاخیوں کا دفاع بھی کرنا پڑتا ہے ۔ کاش چند ٹکوں کے عوض بکنے والے یہ چند نام نہاد مسلمان سمجھ لیں کہ اگر یہ لوگ بکنے کی بجاٸے بروقت اپنے لیڈروں کے گریبان میں ہاتھ ڈال لیں تو امت کی بیٹیاں کبھی کفار کے ہاتھوں اپنی عزتیں نا کھوٸیں ، کبھی ننھے منے مسلمان بچے کفار کے ظلم و ستم کا شکار نہ ہوں ، کبھی کوٸی مسلمان ماں اپنے جوان بیٹے کی شہادت پر اپنے بیٹے کی کٹی پھٹی لاش دیکھ کر کسی محمد بن قاسم کی راہ نہ تک رہی ہو۔ لیکن ہم مسلمانوں کی ہمیشہ سے یہ بدقسمتی رہی ہے کہ چند مسلمان اپنے ضمیر کفار کے ہاتھوں گروی رکھ کر پوری امت کی بیٹیوں کی عزتوں کا سودا کر دیتے ہیں ، پوری امت کے جوانوں کے خون کا سودا کر دیتے ہیں اور پھر امت مسلمہ کے خون کا سودا کرتے ہوٸے یہ بھی نہیں سوچتے کہ دنیا ان کم ظرف لوگوں کو غدار کہے گی ، ان کی اوقات پر ان کی پیٹھ پیچھے ہنسے گی ، یہ لوگ ایسا کیوں نہیں سوچتے کہ کل قیامت کے دن ان کے گریبان ہوں گی اور امت کی بیٹیوں کے ہاتھ ہوں گے ، جہاں انہیں ایک ایک پاٸی کا حساب دینا ہوگا ۔

    کل سوشل میڈیا پر ایک ہیش ٹیگ ” غدار کشمیر نواز شریف ” دیکھنے کو ملا ۔ میں تمام پاکستانیوں سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا کشمیریوں سے غداری صرف نواز شریف نے کی ہے ؟ کیا ان لوگوں نے کشمیر سے غداری نہیں کی جو باری باری ہماری افواج کے سربراہ بنے ، جنہیں اللہ پاک نے دنیا کی بہترین ، طاقت ور ترین فوج کا سربراہ بنایا ، انہوں نے کیا کیا کشمیریوں کے لیے ؟ کوٸی جانتا ہے کہ وہ تمام سربراہ آج کہاں ہیں ؟ ان سربراہوں کی اکثریت اس وقت پاکستان سے باہر ، پاکستان سے کماٸے ہوٸے پیسے پر عیاشی کر رہے ہیں ۔

    پاکستان میں نواز شریف کے علاوہ جو حکمران آتے رہے ہیں انہوں نے کشمیری کی آزادی کے لیے کیا کچھ کیا ہے ؟ جو حکمران ابھی امریکہ کی ثالثی کو قبول کر کے آیا ہے کشمیر کے حوالے سے وہ ثالثی تو تمام پاکستانیوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لی ہے ۔ میں پاکستانیوں سے پوچھنا چاہوں گا کہ آخر کشمیر کے ساتھ وفا کی کس نے ہے ؟ آخر کشمیر کا درد محسوس کیا کس نے ہے ؟ آخر کشمیر کی بیٹی کو اپنی بیٹی سمجھا کس نے ہے ؟ آخر کشمیر کے مسلمان کو اپنا بھاٸی سمجھا کس نے ہے ؟ کیا ہم سب نے کشمیر سے غداری نہیں کی ؟ کیا ہم سب کشمیریوں کے مجرم نہیں ؟ کیا کیا ہے ہم نے کشمیریوں کے لیے ؟ کیا ہم نے کبھی ان لیڈروں ان حکمرانوں کے گریبان پکڑے ہیں کہ کیوں تم لوگوں نے اپنی شہہ رگ کو آزادی نہیں دلواٸی ؟ ہم لوگ خود چند پیسوں پربک جانے والے لوگ اپنے لیڈر کی محبت میں کیا کرتے ہیں ۔ ppp والوں نے کہہ دیا عمران خان کشمیریوں کا غدار ہے ، ن لیگ والوں نے کبھی ppp پر تو کبھی عمران خان پر کیچڑ اچھال دیا کہ عمران خاں غدار ہے ، pti والوں نے کہہ دیا کہ نواز شریف غدار ہے ۔ میں قوم سے ہوچھنا چاہوں گا کہ آخر کشمیریوں کے ساتھ وفا نبھاٸی کس نے ہے ؟ ان جعلی لیڈروں نے ، خود غرض جرنیلوں نے ، ہم عوام نے آخر کشمیریوں کے ساتھ غداری کس نے نہیں کی ؟ کیا حکمرانوں نے انڈیا کو فضاٸی حدود بند کر دیں ؟ کیا ہم عوام نے انڈین اشیأ کا باٸیکاٹ کر دیا ؟ ہم وہ لوگ ہیں کہ کشمیر پر تو ٹویٹس پر ٹویٹس کر کے اکاونٹ بلاک کرواتے رہیں گے لیکن فیس کریم لینے جاٸیں گے تو انڈیا کی بنی کریم کی ڈیمانڈ کریں گے ؟ آخر غدار کون نہیں ہے ؟ کیا یہ کشمیریوں سے غداری نہیں کہ اب بھی ہم عملی قدم اٹھانے کی بجاٸے ، اپنے حکمران کو غیرت دلانے کی بجاٸے ایک دوسرے پر کیچڑ اچھال رہے ہیں ، یاد رکھیں غداری تو ہم سب کر رہے ہیں اور یاد رکھیں تاریخ کبھی غداروں کو معاف نہیں کرتی ۔ غداروں کی نسلیں بھی غداری کی سزا بھگتا کرتی ہیں ۔
    اب بھی وقت ہے کہ اپنی اپنی انا سے باہر نکلیں اور کشمیر سے وفا نبھاٸیں تاکہ ہماری غداری کی سزا ہماری نسلوں کو نا بھگتنی پڑے ۔ ہمیں اپنے اپنے طور پر کشمیر سے وفا نبھانی ہوگی تاکہ ہماری نسلیں فخر سے سر بلند کر کے کہہ سکیں کہ ہاں ہمارے بزرگ غیرت مند لوگ تھے ۔

    اللہ پاک ہم سب کو غداری سے بچاٸے اور اپنے کشمیری بھاٸیوں سے وفا نبھانے کی توفیق عطا فرماٸے ۔ آمین

  • لاہورہائی کورٹ نے  کنٹریکٹ اساتذہ کیلئے بڑی خوشخبری سنا دی

    لاہورہائی کورٹ نے کنٹریکٹ اساتذہ کیلئے بڑی خوشخبری سنا دی

    لاہور : کنٹریکٹ اساتذہ کو برطرف نہ کیا جائے لاہور ہائیکورٹ نے کنٹریکٹ اساتذہ کو برطرف کرنے سے روک دیا، عدالت نے پنجاب حکومت سیکرٹری لیبر سمیت دیگر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔

    لاہور ہائی کورٹ سے ذرائع کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس شاہد وحید نے ٹیچر ناصرہ انور سمیت دیگر کی درخواست پر سماعت کی، درخواستگزار کی جانب سے ملک اویس خالد ایڈووکیٹ پیش ہوئے اور موقف اختیار کیا کہ لیبر ڈیپارٹمنٹ میں کنٹریکٹ کی بنیاد پر اساتذہ اور نان ٹیچنگ سٹاف کے طور پر تعینات ہوئے، ان کے کنٹریکٹ میں وقتاً فوقتاً توسیع دی جاتی رہی، آخری بار یکم فروری 2019 کو توسیع ہوئی، حکومتی پالیسی کے مطابق کئی ملازمین کو مستقل کیا گیا۔

    لاہور ہائی کورٹ کو بتایا گیا کہ درخواستگزاروں کو مستقل کرنے کی بجائے نئی بھرتی کیلئے اخبار اشتہار دیدیا گیا، درخواستگزار تاریخ تعیناتی سے ڈیوٹی کررہے ہیں، نہ مستقل کیا جارہا ہے اور نہ ہی تنخواہ کی ادائیگی ہو رہی ہے۔ عدالت سے استدعا میں کہا گیا کہ مستقل کرنے اور سابقہ تنخواہوں کی ادائیگی کا حکم دے، عدالت نے درخواستگزار کے وکیل ملک اویس خالد کے دلائل سننے کے بعد درخواستگزاروں کو برطرف کرنے سے روکتے ہوئےحکومت سے جواب طلب کر لیا۔

  • اب  چینی پادری مذہبی تعلیم دیں‌گے ویٹی کن میں‌، خبر سے ہلچل مچ  گئی

    اب چینی پادری مذہبی تعلیم دیں‌گے ویٹی کن میں‌، خبر سے ہلچل مچ گئی

    بیجنگ: چین کے ویٹی کن میں‌ اثرات پہنچے لگے ، چین اور ویٹی کن سٹی کے درمیان مفاہمت کو بڑھانے کی غرض سے ایک معاہدے کے تحت پوپ اور بیجنگ کی مشترکہ منظوری کے بعد پہلی مرتبہ چینی کیتھولک پادری کا تقرر کردیا گیا۔ویٹی کن میں‌یہ تقرری تعلیم و تربیت کے حوالے سے کی گئی ہے

    چینی ذرائع ابلاغ کے مطابق چین میں ایک کروڑ 20 لاکھ کیتھولک افراد حکومت کے تحت چلنے والی ایسوسی ایشن اور ویٹی کن سٹی سے ہمدردی رکھنے والے انڈر گراﺅنڈ چرچ میں تقسیم ہیں،رپورٹ کے مطابق حکومت کی سرپرستی میں ایسوسی ایشن پادری کا انتخاب حکمراں جماعت کمیونسٹ پارٹی کرتی تھی۔

    دوسری طرف چین اور ویٹی کن کے درمیان معاہدے کے حوالے سے سرکاری چرچ چائینز کیھتولک پیٹریاٹرک ایسوسی ایشن کا کہنا تھا کہ یاﺅ شن کو شمالی چین کے انر منگولیا آٹونومس ریجن میں النقاب شہر کے پادری کے طور مقرر کردیا گیا ہے۔چین کے قوانین کے مطابق کسی بھی مبلغ یا پادری کو خود رجسٹر کروانا اور ملک کے سرکاری چرچ سے خود منسلک کرنا ضروری ہے۔

  • آسٹریلوی درسگاہوں میں چینی اثر و رسوخ کا پتہ چلانے کے لیے ٹیمیں تشکیل

    آسٹریلوی درسگاہوں میں چینی اثر و رسوخ کا پتہ چلانے کے لیے ٹیمیں تشکیل

    سڈنی : کہیں ہمارے تعلیمی اداروں میں چین کا اثرورسوخ پید اتو نہیں‌ہورہا ، اطلاعات کے مطابق آسٹریلیا نے اپنے ہاں اعلیٰ تعلیمی اداروں میں غیر ملکی اثر و رسوخ کی چھان بین کے لیے ایک تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی ہےجو خاص طورپر یہ معلوم کرے گی کہ آیا ملکی درسگاہیں چینی قوتوں کے زیر اثر ہیں۔

    آسٹریلوی حکام کے مطابق یہ ٹیم خاص طور پر یہ معلوم کرے گی کہ آیا ملکی درسگاہیں چینی قوتوں کے زیر اثر ہیں، اس ٹیم میں خفیہ اداروں کے اہلکار بھی شامل ہیں۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ گزشتہ دنوں ہانگ کانگ میں ہونے والے مظاہروں کی وجہ سے آسٹریلیا کی کئی یونیورسٹیوں میں ہنگامہ آرائی اور سائبر حملوں کے واقعات رونما ہو چکے ہیں۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ آپ میں گتم گھتا ہونے والے طلبہ کے دونوں گروہ کا تعلق چین اور ریاست ہانگ کانگ سے تھا۔

  • صہیونیوں کے لئے خطرے کی گھنٹی – صابر ابو مریم

    صہیونیوں کے لئے خطرے کی گھنٹی – صابر ابو مریم

    صہیونیوں کی غاصب و جعلی ریاست اسرائیل گذشتہ کئی برس سے مسلسل کئی ایک محاذوں پر شکست سے دوچار ہو رہی ہے، اگر اندرونی طور پر بات کی جائے تو جعلی ریاست کے اندر اس کے حکمرانوں پر کرپشن سمیت نہ جانے کئی ایک ایسے الزامات ہیں جس کے باعث کسی بھی وقت ان کو جیل بھیجا جا سکتا ہے۔انہی مسائل میں سیاہ فام صہیونیوں کے ساتھ نسلی امتیاز کا معاملہ بھی صہیونیوں کی جعلی ریاست اور اس کی حکومت کے لئے وبال جان بن چکا ہے۔
    اگر بیرونی سطح پر جائزہ لیں تو گذشتہ سات برس میں صہیونیوں کے تما نئے ہتھکنڈے جو انہوں نے سنہ2006ء کے جنگ میں شکست کھانے کے بعد شروع کئے تھے سب کے ساب بری طرح ناکامی کا شکار ہو چکے ہیں۔صہیونی جعلی ریاست اسرائیل کی حمایت یافتہ دہشت گرد تنظیم داعش شام، عراق، لبنان سرحد سمیت متعددمقامات پر شکست کھا چکی ہے اور داعش مخالف قوتوں جن میں ایران، شام، لبنان، حزب اللہ سمیت روس اور چین کی حمایت شامل ہے ان کاپلڑا بھاری نظر آ رہاہے۔یہی وجہ ہے کہ اسرائیل اپنی اسی شکست کو دنیا کی نظروں سے اوجھل کرنے کے لئے براہ راست میدان میں کود پڑا ہے۔کبھی براہ راست شامی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مختلف فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہاہے تو کبھی شام کے انفرااسٹرکچر کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن شام بھی مسلسل اسرائیل کی جارحیت کا دفاع کرتے ہوئے اسرائیل کے تمام حملوں کو پسپا کر رہا ہے اور اپنے دفاع پر کسی قسم کا دباؤ اور سودے بازی کرنے پر رضامند نہیں ہے۔دنیا کی نام نہاد امن پسند قوتو ں بشمول امریکہ وبرطانیہ اور دیگر یورپی ممالک نے شام کے خلاف تمام ہتھکنڈے آزما لئے ہیں لیکن شا م صہیونی اسکیم کے تحت شروع کی گئی اس جنگ میں ثابت قدمی کے ساتھ ڈٹا ہوا ہے۔
    اسرائیل نے گذشتہ دنوں پچیس اور چھبیس اگست کی درمیانی شب کو شام،لبنان اور عراق کی فضائی حدود کی خلا ف ورزی کی ہے لیکن دنیا کی بڑی بڑی نام نہاد حکومتیں اس خلاف ورزی پر خاموش ہیں۔شام میں ایک فوجی ٹھکانہ کو اسرائیلی ڈرون نے نشانہ بنا کر وہاں پر موجود دو حزب اللہ سے تعلق رکھنے والے کمانڈروں کو شہید کیا، اسی طر ح عراق میں بھی ایک سینئر کمانڈر کو نشانہ بنایا گیا جبکہ اسی رات لبنان کے دارلحکومت بیرو ت کے مضافاتی علاقہ ضاحیہ کی سول آبادی والے علاقے کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تاہم اس کوشش میں اسرائیل کے دونوں ڈرون طیارے تباہ ہو گئے جبکہ دوسری طرف کوئی جانے نقصان نہیں ہوا ہے۔
    اتفاق کی بات یہ ہے کہ اسرائیل نے جس دن حملہ کا انتخاب کیا اسی دن حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصر اللہ نے شا م کو ایک سالانہ تقریب بعنوان لبنان و شام سرحد پر داعش کے خلاف فتح کے خطاب کرنا تھا۔اسرائیل کی اس بھونڈی حرکت سے پوری دنیا کی سیاست کی نظریں لبنان پر اس وقت گڑھ گئیں جب صبح دو اسرائیلی ڈرون طیارے تباہ ہوئی اور مغربی میڈیا نے خبر دی کہ حزب اللہ نے دونوں ڈرون طیاروں کو تباہ کر دیا ہے لیکن تنظیم کے عہدیدار محمد عفیف نے واضح کیا کہ حزب اللہ نے کسی ڈرون کو نشانہ نہیں بنایا او ر مزید تفصیلات تنظیم کے سربراہ سید حسن نصر اللہ آج شام اپنے خطاب میں بیان کریں گے۔
    غاصب جعلی ریاست اسرائیل کے صہیونی آبادکار اور حکومت پہلے ہی اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ حزب اللہ قیادت اس طرح کی بھونڈی حرکتوں پر خاموش بیٹھنے والی نہیں ہے اور یقینا سید حسن نصر اللہ کوئی اہم اعلان کریں گے۔اسی طرح امریکی اعلیٰ عہدیدار مائیک پومپیو نے بھی لبنان کے وزیر اعظم سعد الحریری کو ٹیلی فون کیا اور کہا کہ کسی بھی طرح معاملہ کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے۔اس بارے میں سید حسن نصر اللہ نے اپنی تقریر میں کہہ دیا کہ لبنان حکومت کا یہ فریضہ ہے کہ وہ اقوام متحدہ سمیت سلامتی کونسل اراکین کو اسرائیل کی کھلی خلاف ورزیوں پر احتجاج کرے لیکن حزب اللہ اسرائیل سمیت کسی کو بھی یہ اجازت نہیں دے سکتی کہ آئندہ اس طرح کا واقعہ دوبارہ رونما ہو اور ہماری فضائی حدود کی خلاد ورزی کی جائے۔واضح رہے کہ اسرائیل نے سنہ2006ء کی لبنان اسرائیل جنگ کے بعد پہلی مرتبہ براہ راست لبنان کے کسی علاقہ کو اس طرح نشانہ بنانے کی جرات کی ہے۔
    دوسری طرف مقبوضہ فلسطین کے اندر خطرے کا سائرن بج چکا ہے کیونکہ حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصر اللہ نے اپنی تقریر کے دوران صہیونی فوجیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتظارکرو اور دیکھو کہ ہم کس وقت کس طرح تم سے اس کا انتقام لیتے ہیں۔انہوں نے نیتن یاہو کو کہا کہ تمھیں ایک ٹانگ پر کھڑا کر دیں گے۔ہم کسی صورت اسرائیل کو معافی نہیں دے سکتے۔
    صہیونی آباد کارپہلے ہی سید حسن نصر اللہ کے بارے میں اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ یہ شخص کبھی جھوٹ نہیں بولتا ہے اور جب بھی جو کہتا ہے وہ کرتا ہے۔صہیونیوں آباد کاروں نے اپنے بنکروں میں جانا شروع کر دیا ہے کیونکہ گذشتہ دو روز سے لبنان کے شمالی سرحدی علاقوں میں اسرائیلی فوجیوں کی پریشانی بھی بڑھتی ہوئی پائی گئی ہے اور اسرائیل کا سب سے جدید سسٹم آئرن ڈو م کی بیٹریاں بھی نصب کی جا رہی ہیں تاہم یہ اس بات کی غمازی ہے کہ اسرائیلی فوجی بوکھلاہٹ کا شکار ہیں اور جانتے ہیں کہ حزب اللہ کے سربراہ نے بات کی ہے وہ یقینا عمل کریں گے۔
    خلاصہ یہ ہے کہ وقت بتائے گا،کیونکہ خود حزب اللہ کے سربراہ نے کہا ہے کہ انتظار کرو ہم تمھیں سبق سکھائیں گے۔ایک دن، دون، تین یا چار دن، کس وقت،کیسے اور کب یہ ہم خود فیصلہ کریں گے۔اسرائیل کے لئے یہ صورتحال شدید سنگین اور خطرناک صورتحال میں تبدیل ہو تی چلی جا رہی ہے ایک طرف اندرونی خلفشار بڑھ رہا ہے دوسری طرف حزب اللہ کے ساتھ ماضی کی 33روزہ جنگ میں پہلے ہی اسرائیل کو بدترین شکست کا سامناہو اتھا جس کو کوئی بھی صہیونی فراموش نہیں کر سکا ہے۔خود جعلی ریاست اسرائیل کی صورتحال یہ ہے کہ دیواروں پر دیواریں کھڑی کر کے خود کو محدود کر رہی ہے۔ایسی صورتحال میں اسرائیل کے لئے کسی بھی جنگ کا متحمل ہونا نا ممکن ہے۔بہر حال اسرائیل نے لبنان سمیت کئی ایک ملکوں کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی ہے جس پر یقینا خاموش رہنا مناسب عمل نہیں ہے۔حزب اللہ کے سربراہ نے پہلے بھی مقبوضہ فلسطین میں آ کر آباد ہونے والے صہیونی آباد کاروں کو متنبہ کیا تھا کہ اپنے اپنے وطن میں واپس لوٹ جائیں ورنہ نیتن یاہو اس جنگ میں ایندھن کے طور پر انہی آباد کاروں کو استعمال کرے گا۔اسرائیل پر جنگ کے سائے منڈلا رہے ہیں لہذا صہیونی آباد کار اپنے بنکروں میں چلے جائیں۔ اور عنقریب صہیونیوں کی جعلی ریاست ایسے ہی کسی معرکہ میں نابود و زوال پذیر ہو گی اور اللہ کا وعدہ بیت المقدس کی آزادی کے ساتھ حتمی پورا ہو کر رہے گا۔

  • ورلڈ پاپولیشن ڈے پر باغی ٹی وی کی خصوصی رپورٹ

    ورلڈ پاپولیشن ڈے پر باغی ٹی وی کی خصوصی رپورٹ

    آج لاہور میں ورلڈ پاپولیشن کے حوالے سے ایک تقریر کا انقاد کیا گیا جس میں معاشرے کے مختلف تبقات سے شرقت کی مزید جانیے اس ویڈیو میں

  • وزیر مملکت شہریار آفریدی نے  مانچسٹر میں پریس کانفرنس کرکے بھارت کو کیا پیغام دیا کہ کھلبلی مچ گئی

    وزیر مملکت شہریار آفریدی نے مانچسٹر میں پریس کانفرنس کرکے بھارت کو کیا پیغام دیا کہ کھلبلی مچ گئی

    مانچسٹر: پاکستان کشمیریوں کے لیے آخری حد تک جائے گا اور پھر ایسے ہی ہورہاہے وزیراعظم کے ساتھی اور کشمیریوں سے بہت زیادہ محبت رکھنے والے وفاقی وزیر مملکت شہریار آفریدی نے مقبوضہ کشمیر کی تشویش ناک صورت حال کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے برطانیہ کے شہر مانچسٹر میں پریس کانفرنس کی۔

    تفصیلات کے مطابق مانچسٹر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شہریار آفریدی نے کہا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے یورپ آئے ہیں۔شہریار آفریدی نے کہا کہ پاکستانی کمیونٹی سے کشمیر پر آواز بلند کرنے کی درخواست کرتا ہوں، ہندوستان میں 12 بھارت مخالف تحریکیں چل رہی ہیں، مودی نے کشمیر پر قابض ہو کر اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار دی ہے۔

    مانچسٹر سے ذرائع کے مطابق وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ اگر جنگ ہوئی تو یہ دو ملکوں کے درمیان نہیں ہوگی بلکہ اس میں چین سمیت کئی ملک لپیٹ میں آئیں گے۔ آج عالمی میڈیا کشمیر پر ڈاکیومنٹری بنا رہا ہے، پاکستانی قوم بھی اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کو تیار ہے۔

  • کشمیریوں پر مظالم برداشت نہیں ، اعلیٰ بھارتی  افسر نے استعفیٰ دے دیا

    کشمیریوں پر مظالم برداشت نہیں ، اعلیٰ بھارتی افسر نے استعفیٰ دے دیا

    نئی دہلی : کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف اب بھارتی سول سروسز کے ملازمین نے اپنا ردعمل دینا شروع کردیا ، اطلاعات کے مطابق مودی حکومت کے کشمیرمیں غیر آئینی اقدامات پر استعفٰی دینے والے انڈین ایڈمنسٹریٹو سروس افسر ’ کنن گوپی ناتھن ‘ نے اعلان بغاوت کردیا۔

    اپنے مستعفی ہونے کی وجوہات بیان کرتے ہوئے بھارتی ایڈمنسٹریٹو سروس افسر کنن گوپی ناتھن نے کہا کہ کسی بھی جمہوریت میں عوام سےاحتجاج کا حق نہیں چھینا جاسکتا۔ انہیں مقبوضہ کشمیر کے عوام پر لگائی گئی اظہار رائے کی پابندی قبول نہیں ہے۔ بھارتی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کنن گوپی ناتھن نے کہا کہ اگر ادارے تباہ ہونے لگیں توکسی نہ کسی کو آواز اٹھانی ہوتی ہے،

    کنن گوپی ناتھن نے عوام سے پوچھا کہ اگر دہلی میں شہریوں کو حاصل حقوق سلب کرلیے جائیں تو کیا ہوگا؟ عوام چاہےخوش ہوں یا ناراض اظہار رائے کی آزادی سلب نہیں کی جاسکتی۔کنن گوپی ناتھن کا کہنا تھا کہ انسانی جانیں بچانےکے نام پر لگائی گئی پابندیاں محض فریب ہیں، کیا کسی کو یہ کہہ کر جیل میں بند کیا جاسکتا ہے کہ یہ اس کی جان بچانے کے لیے کیا جارہا ہے۔

  • غریب کی بیٹی کا دوپٹہ : علی چاند کا بلاگ

    غریب کی بیٹی کا دوپٹہ : علی چاند کا بلاگ

    مسجد میں قالین بچھانے سے بہتر ہے کہ کسی غریب کی بیٹی کو چادر لے دی جاٸے ، مسجد میں پتھر لگوانے سے بہتر ہے کہ کسی غریب کی بیٹی کو چادر لے دی جاٸے ، میلاد پر پیسہ لگانے سے بہتر ہے کسی غریب کی بیٹی کو چادر لے دی جاٸے ، حج پر اتنے پیسے لگانے سے بہتر ہے انسان غریب کی بیٹیوں کو چادر لے دے ، عمرہ پر جانے سے بہتر ہے کہ انسان غریب کی بیٹیوں کو کپڑے لے دے انہیں چادریں لے دے ۔

    یہ ہیں وہ چند جملے جو آٸے دن ہمیں سوشل میڈیا پر دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ یہ ہیں وہ چند جملے جن کا پرچار کچھ نام نہاد مسلمان کرتے نظر آتے ہیں ۔ میں ان لوگوں کو پوچھنا چاہوں گا کہ آخر تکلیف مسجد ، عمرہ ، میلاد اور حج کی ہے یا پھر واقعی غریب کی بیٹی کا درد ہے دل میں ۔ اگر تو درد ان لوگوں کو مسجد ، منبر ، محراب ، حج اور عمرے کا ہے تو میں ایسے لوگوں کو مشورہ دوں گا کہ وہ کسی عالم دین کی صحبت میں بیٹھیں ، اللہ کے احکامات پڑھیں ، دین سیکھیں تاکہ ان لوگوں کو پتہ چلے کہ جب حکم خدا ماننا ہوتا ہے تو پھر آدم کو سجدہ بھی کرنا پڑتا ہے ورنہ انکار پر سب سے بڑا عبادت گزار بھی مردود کہلاتا ہے ۔ جہاں حکم ربی آجاتا ہے وہاں یہ نہیں دیکھنا ہوتا کہ اس کی بجاٸے یہ کر لیں یا اس کی بجاٸے وہ کر لیں ۔ پھر صرف اور صرف اللہ کا حکم ماننا ہوتا ہے ۔

    رہی بات غریب کی بیٹی کے دوپٹے اور چادر کی تو اللہ پاک ان غریبوں کی بیٹیوں کی عزتیں سلامت رکھے ۔ جو یہ بھی اچھی طرح جانتی ہیں کہ پھٹی ہوٸی چادر سے سر کیسے ڈھانپنا ہے اور یہ بھی جانتی ہے کہ اسے نامحرم مردوں سے اپنی عزت کو کیسے بچانا ہے ۔ یہ جو لوگ ایسی باتیں کر کے اپنی دانشوری کے جوہر دیکھاتے ہیں کہ غریب کی بیٹی کے سر پر چادر دو ، عمرہ چھوڑو ، حج چھوڑو ، میلاد چھوڑو ، مسجد چھوڑو ، مسجد کا خیال نہ کرو صرف اور صرف غریب کی بیٹی کی چادر کا سوچو تو میں ایسے دانشوروں سے کہنا چاہوں گا کہ اپنی آنکھوں اور عقل پر بندھی پٹی کو کھول کر دیکھو کسی غریب کی بیٹی بغیر چادر کے نظر آگٸی تو کہنا ، کسی غریب کی بیٹی پھٹی ہوٸی جینز میں نظر آگٸی تو کہنا ، کسی غریب کی بیٹی بغیر دوپٹے کے نظر آگٸی تو کہنا ، اگر غریب کی بیٹی اپنی عزت کا سودا کرتی نظر آگٸی تو کہنا ، غریب کی بیٹی اگر کسی سے محبت بھی کرے گی ، اسے ٹوٹ کر چاہے گی بھی تو بھی کبھی بھی اس کے سامنے بغیر دوپٹے پھٹی ہوٸی جینز اور عریاں لباس پہن کر نہیں جاٸے گی ۔ خدارا بند کرو یہ تماشا غریب کی بیٹی ، غریب کی بیٹی ، غیب کی بیٹی ، خدا کے لیے مت بناو تماشا غریب کی بیٹی کے دوپٹے کا کیونکہ غریب ہے تو کیا ہوا اس کے پاس غیرت مند باپ ، عزت دار بھاٸی ، عزت دار شوہر موجود ہے اس کی فکر کرنے کے لیے جو اس کےسر پر سے کبھی چادر اترنے نہیں دیتے ، غریب کی بیٹی کے پاس چار محافظ موجود ہیں جو اس کی عزت کے رکھوالے ہیں ۔

    غریب کی بیٹی کی چادر کی فکر کرنے والے دانشوروں فکر کرنی ہے تو آٶ فکر کرتے ہیں ، اس بیچاری غریب لڑکی کا جس کے پاس نا تو غیرت مند باپ ہے نا عزت دار بھاٸی اور شوہر ، آٶ فکر کریں اس بیچاری عورت کی جسے روز نیم عریاں لباس پہن کر ، کبھی چند روپے کے شیمپو اور صابن کے لیے ٹی وی پر آ کر نہانا پڑتا ہے سب کے سامنے ، کبھی اسے چند منٹ کے ڈرامے کے لیے کسی نامحرم کے بستر پر اس کے ساتھ لیٹنا پڑتا ہے ، کبھی اسے عریاں لباس پہن کر ایوارڈ شو میں نامحرم کی بانہوں میں ناچنا پڑتا ہے ، تاکہ اس بیچاری کے باپ ، بھاٸی ، شوہر کو اس کا بوجھ نا اٹھانا پڑے بلکہ یہ خود کما کر انہیں کھلاٸیں ۔ غریب کی بیٹی کی چادر کی فکر کرنے والو ! ان امیروں کی بیٹیوں کے دکھ سمجھو ، انہیں اپنی زکوة ، خیرات اور صدقات میں سے حصہ دیں تاکہ یہ بیچاریاں پھٹی ہوٸی جینز ، عریاں لباس اور بغیر دوپٹے کے گھومنے کی بجاٸے با پردہ اور پورا لباس خرید کر پہن سکیں ۔ غریب کی بیٹی کی چادر کی فکر کرنے والے مفکرو ! آٶ امیر کی بیٹی کا درد سمجھیں تاکہ اسے دو دو ٹکے کے نامحرم لوگوں کے ساتھ ناجاٸز ڈرامے اور اشتہار نا کرنے پڑیں ، آٶ بنو سہارا ان امیروں کی بیٹیوں کا جن کے تم دیوانے ہو ، جن کے تم فین ہو ، جن کی ذات سے تم متاثر ہو کر ان کی Ids کو فالو کرتے ہو ، ان کی فضول پوسٹس پر پاگلوں کی طرح کمنٹ کرتے ہو تاکہ وہ کسی طرح تم لوگوں کو رپلاٸے دیں ۔ پھر اگر کوٸی رپلاٸے دے دے تو کمنٹ کو سیو کر کے اسے پوسٹ کر کے اپنے چھوٹے پن کاثبوت دیتے ہو ، اور ایسا کرنے سے پہلے یہ بھی نہیں سوچتے کہ یہی ہیں وہ عورتیں جو تماری نسلوں میں بے حیاٸی پھیلا رہی ہیں ، یہی ہیں وہ عورتیں جن کی وجہ سے غریب کی بیٹی کی زندگی عذاب ہورہی ہے ، یہی ہیں وہ عورتیں جن کی وجہ سے غریب کی بیٹی کے باپ کو جہیز کے لیے لمبی لمبی لسٹیں ملتی ہیں ۔ خدارا غریب کی بیٹی کا تماشا نا بناٸیں ،
    ، غریب کی بیٹی اتنی مضبوط ہوتی ہے کہ وہ نا صرف اپنا سر ڈھانپنا جانتی ہے بلکہ اپنی ، اپنے باپ ، اپنے بھاٸی ، اپنے شوہر اور اپنے بیٹے کی عزت کی حفاظت کرنا بھی جانتی ہے ۔

    اللہ پاک نام نہاد امیروں کی بیٹیوں کو ہدایت عطا فرماٸے اور سب بیٹیوں کی عزت و آبرو کی حفاظت فرماٸے ۔ آمین