Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پیسے کا دور۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟ جویریہ چوہدری

    پیسے کا دور۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟ جویریہ چوہدری

    "پیسے کا دور۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟”
    پڑوس سے ایک آنٹی آئیں کہ بیٹا دو ہزار روپے چاہئیں۔۔۔میری تنخواہ مل نہیں رہی۔۔۔۔جونہی تنخواہ ملتی واپس کر جاؤں گی،
    رمضان کا مہینہ ہے تو ضرورت پڑ جاتے۔۔۔۔۔
    میں نے پکڑاتے ہوئے تسلی دلائی کہ آپ بے فکر رہیں،
    آسانی سےہو گئے تو ٹھیک، نہیں تو کوئی ضرورت نہیں واپسی کی۔۔۔
    صرف دو سو روپے ہوں گے آپ کے پاس۔۔۔۔۔بیٹے نے کام پر جانا تھا،تو کرائے کے لیئے چاہیئے تھے۔۔۔۔۔دوسری آنٹی آئیں۔۔۔۔ !!!!

    آج کا دور واقعی پیسے کا دور ہے۔۔۔۔
    میں نے امی جی سے مجلس سجاتے ہوئے کہا۔۔۔۔!!!!!
    کیونکہ امی جی آج تو ہر چیز پیسے کی ہو گئی ہے۔۔۔۔تعلیم،صحت،خوشی،غمی۔۔۔ چند قدم تک جانا ہو تو پیسے کے ساتھ۔۔۔
    بچوں کو تعلیم دلانے کا خواب سجے تو لاکھوں کی فیسیں ایڈوانس بینک میں موجود ہوں تب۔۔۔۔
    صحت کی بات آئے تو ہزاروں جیب میں موجود ہوں تب کسی ڈاکٹر کا منہ دیکھنا پڑتا ہے۔۔۔۔
    خوشی کا موقع آئے تو ہوٹلوں کے اخراجات لاکھوں میں۔۔۔۔
    ملبوسات،زیورات اور جہیز کی مد میں کروڑوں کو چھوتے بِل۔۔۔
    غمی کا لمحہ آئے تو پہلی فکر مہمانوں کو ڈیل کرنے کی،،،
    ان کی چائے،پانی کے بندوبست کی۔۔۔۔
    ہر فنکشن کے لیئے نیا جوڑا۔۔۔۔
    ہر ملاقات کے لیئے الگ سوٹ۔۔۔۔
    ہر روز نئی ڈشز،اور اخراجات۔۔۔
    بچوں کے روزانہ کے الگ حساب۔۔۔
    واقعی ماں جی یہ دور پیسے کا آ گیا ہے ناں۔۔۔
    اس کے بغیر تو اب اک قدم بھی چلنا مشکل ہو گیا ہے۔۔۔۔؟؟؟؟
    صحیح کہا تم نے۔۔۔۔
    اب تو رشتہ داریاں بھی پیسے کے بل بوتے پر ہی ہیں۔۔۔۔
    جس کے پاس دولت ہے اس سے سب کے تعلقات۔۔۔۔اور جس کا ہاتھ ذرا تنگ اس سے ایک گھر کے بندے بھی اجنبی اجنبی۔۔۔۔
    مائیں،بہنیں بھی اس بیٹے،بھائی کے ساتھ رہتی اور چلتی ہیں جو زرا عیش کرا دے۔۔۔۔!!!!!
    لیکن ماں دیکھیں ناں پہلے وقتوں میں بھی لوگ گزارا کرتے تھے ناں؟
    تو کیسے ہو جاتا تھا۔۔۔؟؟؟؟؟
    بیٹی!!!!
    تب لوگ کپڑوں کے اندر رہتے تھے۔۔۔۔پھٹ کر باہر نکلنے کے عادی نہ تھے۔۔۔
    عاجزی و شکر کے پیکر تھے۔۔۔
    ہزاروں ایکڑ زمینیں رکھنے کے باوجود بطور فصل ہونے والی دال پر گزارا کر لیتے تھے۔۔۔۔
    بچوں کو سرکاری سکولوں میں پڑھا لیتے تھے کہ جس نے پڑھنا ہے وہ جہاں بھی جائے پڑھ لے گا۔۔۔۔اس کے لیئے پرائیوٹ ادارے یا بھاری فیس سٹیٹس نہ تھی۔۔۔
    سبزی روزانہ لانے کا رواج ہی نہیں تھا۔۔۔۔۔دال پہ دل نہ کرتا تو دیسی مرغ ذبح کر کے بھون لیتے۔۔۔۔مٹن لے آتے تھے یا پھر گھر میں ہی موجود بکری کا چھوٹا موٹا بچہ ذبح کر لیا جاتا تھا۔۔۔۔
    دن میں دہی،لسی کا استعمال کرتے تھے اور صحتمند و توانا رہتے تھے۔۔۔۔
    لباس عزت والا پہنتے تھے۔۔۔۔سادہ زیب تن کرتے تھے
    اور ہر فنکشن پر پیسے پھونکنے کا رواج کوئی نہیں تھا بلکہ ایک ہی سوٹ سے کئی تقریبات اٹینڈ ہوتی تھیں۔۔۔
    بڑے بڑے سرداروں کے گھر بھی ہر وقت پیسہ ہی پیسہ کی کوئی رٹ نہ ہوتی تھی۔۔۔۔
    اور بمشکل چند روپے ہی گھر میں موجود ہوتے تھے۔۔۔۔!!!!!!
    خوشی،غمی کے مواقع مل جل کر ڈیل کیئے جاتے تھے اور ایک دوسرے کی مالی معاونت بھی کر دی جاتی تھی،
    کسی کے مہمانوں کو سنبھال لیا جاتا۔۔۔۔کسی کے لیئے کھانے کی ذمہ داری اٹھا لی جاتی تھی۔۔۔!!!!!
    بیماریاں تھیں ہی بہت کم کہ لوگوں کو اسپتالوں کا رخ کرنے کی نوبت ہی کم آتی تھی۔۔۔۔
    اور گھر کے ہر ہر فرد کے لیئے الگ الگ مہنگے ڈاکٹروں کے علاج کی رسم ایجاد نہ ہوئی تھی۔۔۔
    بلڈ پریشر تھے،نہ شوگر کی پریشانی،
    آلودگی کے مسائل تھے نہ ڈپریشن کے عارضے۔۔۔۔

    خاندانی نظام مضبوط تھا،
    سب کی عزت سانجھی تھی۔۔۔۔
    ایک کا دکھ سب کا دکھ تھا
    اور ایک کی پریشانی سب کی پریشانی ہوتی تھی۔۔۔۔۔
    ایک دوسرے کے پیچھے قربانی کا جذبہ موجود تھا۔۔۔۔
    بچوں کو گھر پر ہی مائیں خالص خوراک کھلا پلا دیتی تھیں،
    جو ان کے توانا،مضبوط،قد بڑھنے میں معاون ثابت ہوتی تھی،
    آج کی طرح پیسے کے بل بوتے پر،برگر،پیزا اور جنک فوڈز کے کاروبار نے ترقی نہیں پکڑی تھی،،،
    اور بچوں کی کم عمری میں ہی صحت کو سنجیدہ خطرات لاحق نہیں ہوتے تھے۔۔۔۔!!!!!
    بچے کس کو پیارے نہیں ہوتے مگر ان کی تربیت کا تقاضا ہوتا تھا کہ
    ہزاروں کے ڈریسز لے کر پھر انہیں ایک ہی بار پہن کر الماریوں کی زینت بنا دینے کا رواج نہیں تھا۔۔۔بلکہ ایسے اچھے لباس تو شاذ و نادر ہی تیار ہوتے تھے۔۔۔
    اور ایک بار لے کر پھر کئی کئی مواقع پر وہی زیب تن کیۓ جاتےتھے۔۔۔۔۔بڑے بھی اسی اصول پر چلتے تھے۔۔۔
    تکلف،بناوٹ،ریا نہیں تھا۔۔۔۔!!!!
    مجھے یاد آئی کہ مسلمانوں کے پہلے خلیفہ ابو بکرصدیق رضی اللہ عنہ کی وہ بات یاد آگئی کہ جو انہوں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا سے کہی تھی کہ:
    "جو چادریں میں نے لپیٹ رکھی ہیں،مجھے انہی میں کفنانا۔۔۔۔۔کیونکہ نئی چادریں زندہ مسلمانوں کا حق ہیں”۔۔۔۔رضی اللّٰہ عنہ۔۔۔
    آج ہم نے اپنی پریشانیاں خود تخلیق کر لی ہیں۔۔۔۔

    میں سوچ میں ڈوبتی چلی جا رہی تھی۔۔۔۔
    واقعی ماں وہ دور تو بہت اچھا تھا پھر۔۔۔۔!!!!!!
    سکون،آشتی والا۔۔۔۔۔حسد بغض سے دور،
    سادگی اور اخلاص والا۔۔۔!!!
    آج اگر امیر امیر ترین ہے،
    تو غریب،غریب تر واحساس کمتری میں مبتلا۔۔۔۔
    عدم توازن کا شکار زندگیاں ہیں۔۔۔
    اور ہر شئے کی فراوانی کے باوجود جزو بدن بننے سے انکاری۔۔۔!!!!
    ہم آج خالص غذا سے محروم ہیں،
    کھادوں والی خوراک،لذت و ذائقہ سے خالی،،،
    مہنگائی کے جن نے لوگوں کو نفسیاتی مریض بنا دیا ہے۔۔۔
    بجٹ میں توازن آنے کا نام نہیں لیتا۔۔۔۔ایک کام نمٹاؤ،دوسرا تیار۔۔۔

    واقعی ماں جی۔۔۔
    یہ سچ ہے اب آپ صرف سبزی،فروٹ کی مد میں مہینہ کے ہزاروں روپے خرچ کر دیتی ہیں،
    اور دال کا پکنا ہمیں پسند نہیں ہوتا،
    لیکن سچ پوچھیں تو روٹی تو اسی دن مزے سے کھائی جاتی ہے۔۔۔۔جس دن آپ اپنے خاص طریقہ سے دال بنا کر دیتی ہیں۔۔۔میں نے مزاح کرتے ہوئے کہا
    ہاں !!!
    بچے یہ بھی خوراک کا حصہ ہے اور انسان کو متفرق اشیاء استعمال کرنی چاہئیں۔۔۔۔
    لیکن امی جی!
    مجھے اکثر سوچ آتی ہے کہ
    وہ غریب آدمی جو دن کا بمشکل پانچ سو روپیہ کما لائے تو اس سے کیا کیا ضرورت پوری ہوتی ہو گی۔۔۔۔؟؟؟؟
    بجلی،گیس کے اخراجات،
    آسمان کو چھوتی اشیائے خوردونوش کی قیمتیں۔۔۔۔
    سبزی فروٹ کے استعمال کی خواہش،،،
    مکانوں کےکرائے،
    گاڑی کا کرایہ،
    گھر میں بچوں کی معصوم فرمائشیں یا چھوٹی چھوٹی چیزوں پر قیمت کے برابر لگے ٹیکسوں کی ادائیگی۔۔۔۔؟؟؟
    بچوں کے تعلیمی اخراجات یا والدین کی بیماریوں کا علاج۔۔۔۔؟
    اور نفسا نفسی کے عالم میں یہ جنگ ہر کوئی خود ہی لڑ رہا ہے۔۔۔۔
    اور دل تو ہر ایک کا ہوتا ہے ناں۔۔۔؟؟؟؟

    ہم تو اڑوس پڑوس سے بھی بے خبر رہتے ہیں۔۔۔
    مصروف دور ہے ناں۔۔۔۔
    پیسے کا دور ہے۔۔۔۔۔
    اپنے کاموں سے ہی فرصت کہاں؟

    میرے پاس سب اپنا ہے،
    کوئی ضرورت نہیں کسی کی۔۔۔
    مجھے بھلا کیا تَک ہے کسی کی؟؟؟
    یہ ہوتے ہیں وہ الفاظ جو ہمارا تکیہ کلام ہوتے ہیں اکثر۔۔۔
    ہم بے حسی کے دور میں جی رہے ہیں ناں۔۔۔۔۔
    بے سکونی کے دور میں۔۔۔۔
    پیسے کے دور میں۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟؟؟؟
    بس یہی ہمارا اوڑھنا بچھونا ہے ناں؟
    ہمارے پاس دولت کی کمی نہیں ہے،،،
    ہاں ہم نے دولت کے خرچ کا فن تاحال نہیں سیکھا،،،
    یہی وجہ ہے کہ نیچے سے اوپر تک کرائسز کا رونا ہماری فطرت میں شامل ہو گیا ہے۔۔۔۔
    اور بہتری کی امید پر ہی ہمارے روز و شب گزر رہے ہیں۔۔۔۔؟؟؟
    کئی سالوں سے۔۔۔۔۔
    عشروں سے۔۔۔۔
    نصف سے زائد صدی سے۔۔۔۔
    مگر مرض بڑھتا گیا،جوں جوں دوا کی والی صورت حال سے دوچار و نبرد آزما رہتے ہیں۔۔۔۔
    کیا واقعی آج کا دور پیسے کا دور ہے؟
    کیا پیسے کے بغیر اک پل بھی جینا ناممکن ہے۔۔۔؟؟؟؟؟؟؟؟؟
    کیا ہمارے آباء و اجداد ہم سے بھلے چنگے باعزت وقت گزار کر نہیں گئے۔۔۔۔؟؟؟
    اس سب پر غور کرنے کی اشد ضرورت ہے۔۔۔۔
    قوم کے نوجوانوں کے لیئے باعزت روزگار کے حصول کو آسان و یقینی بنانا بھی۔۔۔۔
    کہ اپنے ہاتھ سے کمائے گئے چند لقمے سب سے بہترین کمائی ہے۔۔۔۔!!!!!
    یہی وجہ ہے کہ آج ہماری ڈگریوں کا مقصد بھی صرف آگے نکل کر کچھ کما لینے کے سوا کچھ نہیں رہا۔۔۔۔؟؟؟؟
    سوسائٹی کے ضرورت مندوں کا خیال واحساس سب سے اول ذمہ داری ہے۔۔۔۔۔
    کہ یہ دور تو بلاشبہ پیسے کا ہے۔۔۔اور اس کے بغیر اک قدم بھی چلنا مشکل ہے ناں۔۔۔۔؟؟؟؟
    اورسہولیات و آسانیوں کی فراہمی ہی اس کے بخار کے ٹمپریچر کو کم کر سکتی ہے۔۔۔!!!!
    کیونکہ ہمارے کچھ انداز بدل گئے ہیں۔۔۔کچھ کردار۔۔۔۔۔؟
    اور منزل کے حصول کے لیئے ان دونوں کی اصلاح ازحد ضروری ہے۔۔۔ہم جس قدر زیادہ کے چکر میں گھومتے رہتے ہیں۔۔۔۔
    ہم سے آگے بٹورنے والے ہم سے بھی زیادہ مستعد نظر آئیں گے۔۔۔ !!!
    ہم نےاس سوچ کوبھی پروان چڑھانا ہے کہ ہر کام کے لیئے پیسہ ہی نہیں چاہیئے ہوتا۔۔۔۔بلکہ کردار،ٹیلنٹ ، فن،سکون اور اخلاقیات بھی اس دنیا کی رونقوں میں اضافہ کر سکتے ہیں۔۔۔۔ہر وقت پیسہ کے فوبیا میں ہی مبتلا ہو کر ہم حقائق سے بہت دور تو نہیں نکلتے جا رہے ہیں۔۔۔۔؟؟؟؟

  • کشمیر پر لابنگ کیسی ہو ؟؟؟؟ عشاء نعیم

    وزیر اعظم پا کستان عمران خان صاحب نے عوام سے خطاب کر کے بہت ساری ایسی باتیں کہی جو پہلے کسی وزیر اعظم نے نہیں کہی وہ وہ حقائق تھے جو بھارت سے متعلق تھے سب سے پہلے وزیر اعظم صاحب نے کہا مودی آر ایس ایس کا رکن ہے جو دہشت گرد تنظیم ہے ۔بھارت میں کئی بار اس پہ دہشت گردی کی وجہ سے پابندی لگ چکی ہے۔
    وزیر اعظم صاحب نے کہا بھارت نے مودی کو وزیر اعظم چن لیا اور وہاں آر ایس ایس کا نظریہ کہ ہندوستان صرف ہندوؤں کا ہے چل رہا ہے ۔۔
    اس لئے وہ لوگ مسلمانوں کے ساتھ ظلم و ستم کرتے ہیں
    انھوں نے کہا پانچ اگست کو آر ایس ایس کی آئیڈ یالوجی کا پیغام ملا
    انھوں نے کہا اب بھارت اسی نظریے پہ چل رہا ہے اسی آئیڈیالوجی کے تحت بابری مسجد شہید ہوئی ‘اسی آئیڈیالوجی کے تحت وہ لوگ مسلمانوں کو سڑکوں پہ بھی پکڑ پکڑ کر مارتے ہیں ۔
    انھوں نے کہا پلوامہ بھی پاکستان کو پھنسانے کے لئے کیا گیا ۔
    اسی آئیڈیالوجی کے تحت گجرات میں مسلمانوں کو زندہ جلایا گیا
    حتی کہ ان کے سابقہ وزیر داخلہ نے کہا تھا کہ آر ایس ایس میں دہشت گرد پیدا کئے جارہے ہیں ۔
    انھوں نے کہا قائد اعظم نے بھی اسی آئیڈیالوجی کو بھانپتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی تھی۔
    انھوں نے کہا بھارت نے لابنگ کی کہ پاکستان کو بلیک لسٹ کیا جائے ۔
    انھوں نے کہا کہ پہلے ہم اسے الیکشن کمیشن کا حصہ سمجھے (کیونکہ انڈین عوام بھی پاکستان مخالف اور دہشت گرد کو ووٹ دیتی ہے )لیکن یہ سلسلہ الیکشن کے بعد رکا نہیں ۔
    ہمارے اب وزیر اعظم صاحب سے چند سوال ہیں
    1۔اگر آپ کو معلوم ہے کہ بھارت آر ایس ایس کے نظریئے پہ چل رہا ہے جس کا مطلب ہے دہشت گردی تو آپ نے لابنگ کی ؟
    یکیا آپ نے دنیا کو جاجاکر بتایا ؟
    2=آپ کے ملک کو بلیک لسٹ کروانے والے کی اصلیت دنیا کو دکھا کر آپ نے اسے دہشت گرد ملک قرار دلوانے کی کوشش کی ؟
    3=جب آپ کو معلوم ہے آر ایس ایس دہشت گرد ہے تو آپ آر ایس ایس کے خلاف لابنگ کیوں نہیں کرتے جیسا انھوں نے حافظ صاحب پہ دہشت گردی کا ایک جھوٹا الزام لگایا اور اس طرح لابنگ کہ آپ کو بےقصور حافظ صاحب کو بھی جیل میں ڈالنا پڑ گیا (کہ بھارت لابنگ کر کے دنیا کو منوا چکا ہے بھارت کی بات) اب ہم انھیں گرفتار نہ کریں تو بلیک لسٹ ہو جائیں گے ؟ آپ کیوں خاموش ہیں؟
    پاکستانیوں کو بتانے کی بجائے یہ مسئلہ اقوام متحدہ میں کیوں نہیں اٹھاتے؟
    بھارت بار بار حافظ سعید کا مسئلہ اقوام متحدہ میں لے کر گیا حالانکہ حافظ سعید کی جماعت پہ پاکستان میں کبھی پابندی نہیں لگی نہ ہی دہشت گردی کا کوئی الزام ہے ۔
    جب معلوم ہے وہ سڑکوں پہ مسلمانوں کو مارتے ہیں آپ دنیا کو کیوں نہیں بتاتے ؟
    4=آپ کو معلوم ہے بھارت نے خود حملہ کرکے پاکستان کا نام لگایا آپ نے دنیا میں جا کر کیوں شور نہیں مچایا۔
    5=جب نواز شریف کا دور تھا تو اس نے وزیر خارجہ ہی نہیں لگایا تاکہ بھارت خوب لابنگ کرسکے پاکستان کے خلاف اور پاکستان کو تنہا کرنے کی کوشش کی وہ تو غدار مان لیا ہم نے ‘آپ نے وزیر خارجہ بنایا لیکن اسے ساتھ لے گھر بیٹھے ہوئے ہیں آپ کے وزیر خارجہ کیا کر رہے ہیں یہاں بیٹھ کر بیان بازی سے کیا ہوگا ؟
    یہ لابنگ کرنے کیوں نہیں نکلتے ؟
    آپ کیوں دوسرے ممالک میں جاکر بھارت کا اصل چہرہ دکھاتے ؟
    آپ نے دنیا سے کیوں بات نہیں کی کہ اس ملک کا دہشت گرد وزیر اعظم بن چکا ہے اسے دہشت گرد ملک قرار دیا جائے ۔
    جبکہ اس کا وزیر اعظم ساری دنیا کے سامنے پا کستان کو توڑنے کا اعتراف کرچکا ہے وہ پاکستان میں سازش ‘اور اپنی فوج کے لڑنے کا بھی اعتراف کر چکا ہے ۔
    دوسری طرف کلبھوشن یادیو کا اعتراف بلوچستان میں علیحدگی کی تحریک اور دہشت گردی۔
    کیا یہ ایسے معاملات نہ تھے جن کو اچھالا جا سکتا ؟
    جس پہ عالمی سطح پہ اس طرح لابنگ ہوتی کہ بھارت آج تنہا کھڑا ہوتا ۔اور کشمیر کی خصوصی اہمیت ختم کرنے کا سوچ بھی نہ سکتا ۔
    آپ دونوں پاکستان میں گھسے بیٹھے ہیں کیوں؟
    کیا آپ بھی عوام کے ساتھ بس ہفتہ کشمیر منا کر حق ادا کردیا کریں گے ؟
    کہیں اس طرح ہاتھ پہ ہاتھ دھر کر بیٹھ رہنا نواز پالیسی کا تسلسل تو نہیں؟
    آپ نے مسلمان ممالک کو ساتھ ملانے کی کوئی کوشش کیوں نہیں کی ؟
    آپ نے مسلم ممالک کے سربراہان کی غلط فہمیاں دور کیوں نہیں کیں؟
    جو حالات ہیں ان کے مطابق شاہ صاحب اس وقت اس طرح گھوم رہے ہوتے کہ ایک ملک سے ہی دوسرے اور پھر تیسرے ملک چلے جاتے ۔ان کی نیندیں حرام ہو جاتیں اور وہ بس بھاگ دوڑ کر رہے ہوتے لیکن افسوس وہ تو ملک کے اندر آرام فرما رہے ہیں ۔
    ہمیں ان سوالوں کے جواب چاہیئں

  • ذرا ٹھہریئے۔۔۔۔۔!!!!!!!!!! جویریہ چوہدری

    ذرا ٹھہریئے۔۔۔۔۔!!!!!!!!!! جویریہ چوہدری

    قارئین !!!!
    پرانے وقتوں میں کسی شادی بیاہ کے موقع پر۔۔۔۔جو زیادہ ہی انجوائے منٹ کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔وہ ناچنے گانے والے بلا لیا کرتا تھا۔۔۔۔ !!!!!
    یعنی یہ کام شرفاء کو زیب نہیں دیتا تھا کہ وہ خود ایسے کام کرنے لگ جائیں۔۔۔۔
    اور جو حد سے بڑھ کر ناچنے کودنے والیوں کو بلانے پر مصر ہوتا تو گھر کا کوئی بزرگ اس بات کو اپنی توہین تصور کرتے ہوئے ناراضگی کا عندیہ دے دیتا تھا کہ۔۔۔۔اگر تم ایسا کرو گے۔۔۔۔تو میں نے ایسی محفلوں میں بیٹھنا ہی نہیں ہے۔۔۔۔!!!!!!
    یعنی تم جانو اور تمہارے کام۔۔۔۔
    بلکہ بعض اوقات تو گھر سے چلے جانے کی دھمکی بھی دے دی جاتی تھی۔۔۔۔
    چنانچہ اس بات کو بھی اپنی توہین تصور کرتے ہوئے کہ اگر اس موقع پر بزرگ نہ ہوں تو لوگوں کو کیا منہ دکھائیں گے۔۔۔۔؟؟؟
    تو نو جوان ایسی سوچ و حرکت سے باز رہ جاتے تھے۔۔۔۔

    رفتہ رفتہ ہم ترقی کی منازل طے کرنے لگ گئے۔۔۔۔اور ہر کام میں مہارت اور سب فن خود سیکھنے لگ گئے۔۔۔۔
    سو آج کسی بھی شادی کے موقع پر یہ سارا کام ہم خود ہی کر لیتے ہیں ناں؟
    گھر کی بیٹیاں۔۔۔۔۔کزنیں۔۔۔رشتہ دار خواتین دھرتی کو ہلاتی خود ہی یہ کام کر سکتی ہیں۔۔۔۔
    بلکہ بعض اوقات تو ماں جیسے عظیم اور قابل احترام رشتے سے بھی کہا جاتا ہے کہ:
    محفل تاں سجدی۔۔۔۔جے نچے منڈے دی ماں۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟
    اور مرد کزنز اور دولہا کے دوست اپنوں کے روپ میں آنکھوں کی تسکین کے ساتھ ساتھ وڈیو آپریٹنگ میں مصروف نظر آتے ہیں۔۔۔؟؟؟

    ہر ہاتھ میں موجود موبائل فون نے یہ کام اور بھی آسان اور ممکن کر دیا ہے۔۔۔
    اور یہ سب کندھے جھٹک کر جواب دیا جاتا ہے کہ:
    Its our culture…no problem….!!!!
    لیکن ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ اسلامی ثقافت کے فروغ اور بقاء کے لیئے ہمارے آباء نے اتنی عظیم قربانیاں دی تھیں تاکہ ہماری آنے والی نسلوں کو اپنی شناخت اور ثقافت برقرار رکھنے میں کوئی دشواری پیش نہ آئے۔۔۔۔
    مگر وہ نسلیں آج بھی انڈین گانوں کی دھن پر ناچنا اپنا وقار سمجھتی ہیں۔۔۔۔؟؟؟؟

    پہلے وقتوں میں مووی والا بلایا جاتا تھا۔۔۔۔اور اسے بھی شرفاء اپنی عزت کے خلاف سمجھتے تھے کہ ہماری بہنوں،بیٹیوں کی تصاویر کوئی اجنبی کیوں لیتا پھرے۔۔۔۔؟؟؟
    اور سائیڈ پر۔۔۔ذرا ہٹ کر بیٹھنے کو ترجیح دی جاتی تھی۔۔۔
    مگر رفتہ رفتہ ہم نے آگے بڑھنا سیکھ لیا اور شادی اٹینڈ کرنے والی خواتین نے یہ فریضہ سنبھال لیا۔۔۔۔مخلوط نظام میں مرد بھی پیچھے نظر نہیں آتے۔۔۔۔ اور ایک دن میں ہزاروں تصاویر ایک دلہن کی بآسانی لے لی جاتی ہیں۔۔۔۔۔ !!!!
    گھر جا کر جس جس کو دکھائیں۔۔۔۔جس جس سے شیئر کریں۔۔۔۔کچھ غلطی تصور نہیں کی جاتی۔۔۔اسے خیانت قطعاً نہیں کہا جاتا۔۔۔!!!!!!
    آج ہماری اور غیر مسلموں کی شادی میں کوئی واضح فرق نظر نہیں آتا۔۔۔۔فلموں اور ڈراموں کے مکمل سین آزمائے جاتے ہیں۔۔۔
    ہم فتویٰ بازی اور تنقید کرنے میں بس ماہر ہو گئے ہیں۔۔۔۔
    برائیوں کے سدباب کے لیئے ہمارے پاس پلان نہیں ہیں۔۔۔۔!!!!
    آج بزرگ دھیمے لہجے میں کہتے نظر آتے ہیں جی کیا کریں۔۔۔۔بس بچوں کی مرضی تھی۔۔۔۔
    یعنی طوفان مچائے رکھا۔۔۔۔ہماری اب کون سنتا ہے۔۔۔؟وغیرہ

    ایک وقت تھا کہ والدین کی مرضی کے خلاف کچھ کرنا اولاد کی رسوائی سمجھی جاتی تھی۔۔۔
    مگر رفتہ رفتہ ہم نے ترقی کر لی اور والدین کو اپنی خواہشات کے سامنے جھکا کر آگے لگا لیا۔۔۔۔؟؟؟
    ہماری تعلیم تو یہ ہے کہ پیارے رسول حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
    "بے شک ہر دین کی ایک خصلت ہوتی ہے،اور اسلام کی خصلت حیاء ہے۔۔۔۔”
    (رواہ ابن ماجہ)۔

    یاد رکھیئے کہ ہر انسان آزاد ہے۔۔۔
    اور اپنی منشا کے مطابق جینے کا حق دار بھی۔۔۔۔
    مگر امت محمدیہ کی اہم ذمہ داریوں میں سے ایک اچھائی سے محبت اور تلقین اور برائی سے نفرت و بچانے کی بھی سخت تاکید کی گئی ہے۔۔۔!!!

    سب سے اوّل ذمہ داری تو والدین کی ہوتی ہے۔۔۔۔
    کہ وہ اپنی اولاد کی تربیت اس انداز میں کریں کہ وہ تا حیات ان کے لیئے باعث فخر اور سرمایہ افتخار بنیں۔۔۔۔
    اسلام کی حقیقی تصویر اور وقار کہلائیں۔۔۔۔
    اور اس فطری و آسان۔۔۔با برکت اور باعث فلاح پیغام کی عملی تصویر بن جائیں۔۔۔۔
    اگر ہم خود ہی اپنی تہذیب و ثقافت کو بیچنے والے بن گئے۔۔۔۔
    تو ہماری ثقافتی اقدار کے بقاء کا ذمہ دار کون ہو گا۔۔۔۔
    تعلیمی ادارے اپنی قوموں کی اصل پہچان کے ضامن ہوتے ہیں۔۔۔۔
    اور ذرائع ابلاغ قوم کی تربیت اور رائے عامہ ہموار کرنے کا باعث۔۔۔۔
    کسی بھی قوم کی نسل نو کی تربیت کے یہ تین ستون ہیں۔۔۔
    اگر ایک ستون میں بھی لرزش پیدا ہو گی تو سمجھیئے کہ تربیت کی عمارت لرزاں رہے گی۔۔۔!!!!!!!!
    آج ہماری تربیت کی کمی کے ہی المیے ہیں کہ کوئی کسی بے بس کی توہین کرتے ہوئے وڈیو بنا رہا ہوتا ہے۔۔۔۔تو کوئی تشدد اور جان سے مار دینےکے واقعات کی اپ لوڈ۔۔۔۔
    ہمارے اخلاق و اقدار کہاں کھو گئے۔۔۔۔؟؟؟
    ہم خود ہی خود کو تماشہ بنا دینے پر کیوں بضد ہیں۔۔۔۔؟؟؟؟آئیے!
    اخلاق کے سب سے بڑے علمبردار اسلام۔۔۔اور داعی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات سے اپنے روح و بدن کو منور کرنے کی کوشش کریں۔۔۔
    حیا کا لبادہ اوڑھ لیں۔۔۔۔
    اور دوسروں کے لیئے بھی آسانیاں بانٹنے والے۔۔۔۔نقصان ہٹانے والے۔۔۔اور عزتوں کے محافظ بن جائیں۔۔۔۔
    اللّٰہ تعالی کے پیغام کو مکمل سمجھنے کی کوشش کریں۔۔۔۔ادھوری نہیں۔۔۔۔
    اپنے گھر سے معاملات کی درستگی کا بیڑہ اٹھائیں۔۔۔۔کہ پہلی مملکت آپ کی وہی ہے۔۔۔۔
    بنی اسرائیل پر اللّٰہ تعالی نے بے شمار انعامات کیۓ تھے۔۔۔۔
    مگر وہ ایسی قوم تھی کہ اللہ کے احکامات میں ردوبدل کرنے اور اپنی خواہشات کے تابع کرنے سے باز نہ آتی تھی۔۔۔۔
    تو اللّٰہ غضب کا شکار ہوئی۔۔۔ان کی اسی خرابی کو یوں بیان کیا گیا۔۔۔۔
    ارشاد ربانی ہے:
    "کیا تم لوگوں کو بھلائیوں کا حکم دیتے ہو،
    اور خود اپنے آپ کو بھول جاتے ہو۔۔۔۔باوجود یہ کہ تم کتاب پڑھتے ہو۔۔۔کیا تم میں اتنی بھی سمجھ نہیں۔۔۔؟؟؟”
    (البقرۃ:44)

    کہیں فرمایا:
    "کیا تم بعض احکام پر ایمان رکھتے ہو اور بعض کا انکار کرتے ہو۔۔۔؟
    تو جو بھی ایسا کرے اس کی سزا اس کے سوا کیا ہو کہ دنیا میں رسوائی اور آخرت میں عذابِ شدید۔۔۔۔اور اللہ تمہارے اعمال سے بے خبر نہیں۔۔۔”
    (البقرۃ:85)
    اور ہمیں اللّٰہ تعالی کے احکامات کے عموم کو سمجھنا ہو گا۔۔۔۔
    کیونکہ اللّٰہ تعالی کے احکامات پر ایمان کا دعویٰ کرنے والوں کا ہی یہ امتحان ہے۔۔۔۔
    بہت آگے بڑھتے بڑھتے۔۔۔۔ہمیں اپنی اقدار۔۔۔۔اخلاقیات۔۔۔۔تعلیمات کو کسی بھی میدان میں پسِ پشت نہیں ڈالنا۔۔۔۔۔
    تہذیب،جدت اور حیا و کردار کا اسلام سے بڑھ کر کوئی پیامبر ہے ہی نہیں۔۔۔۔۔
    جو ہر خلافِ تہذیب بات کو مہذب ہی نہیں کہتا۔۔۔۔۔۔ !!!!!
    اپنے گریبان میں جھانک کر۔۔ذرا ٹھہر کر۔۔۔۔کچھ سوچیں تو سہی۔۔۔۔
    کیا خبر ہمارے دلوں کے بند دریچے اس امن و بہار بھرے پیغام کے جھونکوں سے کھل جائیں۔۔۔۔اور ہم حقیقی خوشی کی تلاش میں نکل کھڑے ہوں۔۔۔۔
    ہاں حقیقی خوشی۔۔۔۔
    اپنے پروردگار کی رضا والے کاموں پر عمل کی خوشی۔۔۔۔۔
    ہمارے دلوں کو اطمینان سا مل جائے۔۔۔۔
    اور ارد گرد ایک سکون سا چھا جائے۔۔۔۔۔
    اور اس سکون کا بدلہ۔۔۔۔”ابدی سکون”ہو گا۔۔۔۔ان شآ ء اللّٰہ۔۔۔ !!!!
    ¤¤¤¤¤ ¤¤¤¤¤

  • برطانیہ پارلیمانی وفد کی شاہ محمود قریشی سے ملاقات ، کشمیر اور کشمیریوں پر بھارتی مظالم کے خلاف بات چیت

    برطانیہ پارلیمانی وفد کی شاہ محمود قریشی سے ملاقات ، کشمیر اور کشمیریوں پر بھارتی مظالم کے خلاف بات چیت

    اسلام آباد: کشمیر کی تازہ صورت حال پر برطانوی حکام بھی سفارتکاری کرنے لگے ، اطلاعات کے مطابق رات گئے برطانیہ کے پارلیمانی وفد نے ایم پی خالد محمود کی سربراہی میں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی ۔ملاقات میں کشمیر اور کشمیریوں پر بھارتی مظالم پر تشویش کا اظہار کیا گیا

    اسلام آباد سے وزارت خارجہ کے ذرائع کے مطابق وزیر خارجہ نے برطانوی پارلیمانی وفد کو مقبوضہ جموں و کشمیر کی تشویشناک صورتحال سے آگاہ کیا اور کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں گذشتہ تین ہفتوں سے مسلسل کرفیو نافذ ہے ۔ذرائع مواصلات پر پابندی عائد کر کے لاکھوں کشمیریوں کا رابطہ دنیا بھر سے منقطع کر دیا گیا ہے۔بین الاقوامی میڈیا اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیمیوں کی طرف سامنے آنے والی رپورٹس انتہائی المناک ہیں۔

    ذرائع کے مطابق شاہ محمود قریشی نے برطانوی وفد کو بتایا کہ بھارت اپنے یکطرفہ اقدامات سے پورے جنوبی ایشیا کا امن خطرے میں ڈالنا چاہتا ہے۔رات کی تاریکی میں گھروں پر ریڈ کرکے نوجوان اور بچوں کو جبراً اغواء کیا جا رہا ہے ۔ خواتین کی عصمت دری کی جا رہی ہے نہتے کشمیریوں کو جبر و تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ وزیر خارجہ نے مسئلہ کشمیر پر برطانوی اور یورپی پارلیمنٹیرینز کے کردار کو سراہا۔

    کشمیر کی صورت حال پر برطانوی پارلیمانی وفد کے شرکاء نے انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جمعوں کشمیر میں انسانی حقوق کی ان خلاف ورزیوں پر دل گرفتہ ہیں، برطانوی پارلیمنٹ میں مقبوضہ جموں و کشمیر کے حوالےسے بہت جلد مباحثیے کا انعقاد کرنے

  • صہیونیوں کے لئے خطرے کی گھنٹی——–تحریر:صابر ابو مریم پی ایچ ڈی اسکالر، شعبہ سیاسیات، جامعہ کراچی

    صہیونیوں کے لئے خطرے کی گھنٹی——–تحریر:صابر ابو مریم پی ایچ ڈی اسکالر، شعبہ سیاسیات، جامعہ کراچی

    صہیونیوں کی غاصب و جعلی ریاست اسرائیل گذشتہ کئی برس سے مسلسل کئی ایک محاذوں پر شکست سے دوچار ہو رہی ہے، اگر اندرونی طور پر بات کی جائے تو جعلی ریاست کے اندر اس کے حکمرانوں پر کرپشن سمیت نہ جانے کئی ایک ایسے الزامات ہیں جس کے باعث کسی بھی وقت ان کو جیل بھیجا جا سکتا ہے۔انہی مسائل میں سیاہ فام صہیونیوں کے ساتھ نسلی امتیاز کا معاملہ بھی صہیونیوں کی جعلی ریاست اور اس کی حکومت کے لئے وبال جان بن چکا ہے۔
    اگر بیرونی سطح پر جائزہ لیں تو گذشتہ سات برس میں صہیونیوں کے تما نئے ہتھکنڈے جو انہوں نے سنہ2006ء کے جنگ میں شکست کھانے کے بعد شروع کئے تھے سب کے ساب بری طرح ناکامی کا شکار ہو چکے ہیں۔صہیونی جعلی ریاست اسرائیل کی حمایت یافتہ دہشت گرد تنظیم داعش شام، عراق، لبنان سرحد سمیت متعددمقامات پر شکست کھا چکی ہے اور داعش مخالف قوتوں جن میں ایران، شام، لبنان، حزب اللہ سمیت روس اور چین کی حمایت شامل ہے ان کاپلڑا بھاری نظر آ رہاہے۔یہی وجہ ہے کہ اسرائیل اپنی اسی شکست کو دنیا کی نظروں سے اوجھل کرنے کے لئے براہ راست میدان میں کود پڑا ہے۔کبھی براہ راست شامی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مختلف فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہاہے تو کبھی شام کے انفرااسٹرکچر کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن شام بھی مسلسل اسرائیل کی جارحیت کا دفاع کرتے ہوئے اسرائیل کے تمام حملوں کو پسپا کر رہا ہے اور اپنے دفاع پر کسی قسم کا دباؤ اور سودے بازی کرنے پر رضامند نہیں ہے۔دنیا کی نام نہاد امن پسند قوتو ں بشمول امریکہ وبرطانیہ اور دیگر یورپی ممالک نے شام کے خلاف تمام ہتھکنڈے آزما لئے ہیں لیکن شا م صہیونی اسکیم کے تحت شروع کی گئی اس جنگ میں ثابت قدمی کے ساتھ ڈٹا ہوا ہے۔
    اسرائیل نے گذشتہ دنوں پچیس اور چھبیس اگست کی درمیانی شب کو شام،لبنان اور عراق کی فضائی حدود کی خلا ف ورزی کی ہے لیکن دنیا کی بڑی بڑی نام نہاد حکومتیں اس خلاف ورزی پر خاموش ہیں۔شام میں ایک فوجی ٹھکانہ کو اسرائیلی ڈرون نے نشانہ بنا کر وہاں پر موجود دو حزب اللہ سے تعلق رکھنے والے کمانڈروں کو شہید کیا، اسی طر ح عراق میں بھی ایک سینئر کمانڈر کو نشانہ بنایا گیا جبکہ اسی رات لبنان کے دارلحکومت بیرو ت کے مضافاتی علاقہ ضاحیہ کی سول آبادی والے علاقے کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تاہم اس کوشش میں اسرائیل کے دونوں ڈرون طیارے تباہ ہو گئے جبکہ دوسری طرف کوئی جانے نقصان نہیں ہوا ہے۔
    اتفاق کی بات یہ ہے کہ اسرائیل نے جس دن حملہ کا انتخاب کیا اسی دن حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصر اللہ نے شا م کو ایک سالانہ تقریب بعنوان لبنان و شام سرحد پر داعش کے خلاف فتح کے خطاب کرنا تھا۔اسرائیل کی اس بھونڈی حرکت سے پوری دنیا کی سیاست کی نظریں لبنان پر اس وقت گڑھ گئیں جب صبح دو اسرائیلی ڈرون طیارے تباہ ہوئی اور مغربی میڈیا نے خبر دی کہ حزب اللہ نے دونوں ڈرون طیاروں کو تباہ کر دیا ہے لیکن تنظیم کے عہدیدار محمد عفیف نے واضح کیا کہ حزب اللہ نے کسی ڈرون کو نشانہ نہیں بنایا او ر مزید تفصیلات تنظیم کے سربراہ سید حسن نصر اللہ آج شام اپنے خطاب میں بیان کریں گے۔
    غاصب جعلی ریاست اسرائیل کے صہیونی آبادکار اور حکومت پہلے ہی اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ حزب اللہ قیادت اس طرح کی بھونڈی حرکتوں پر خاموش بیٹھنے والی نہیں ہے اور یقینا سید حسن نصر اللہ کوئی اہم اعلان کریں گے۔اسی طرح امریکی اعلیٰ عہدیدار مائیک پومپیو نے بھی لبنان کے وزیر اعظم سعد الحریری کو ٹیلی فون کیا اور کہا کہ کسی بھی طرح معاملہ کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے۔اس بارے میں سید حسن نصر اللہ نے اپنی تقریر میں کہہ دیا کہ لبنان حکومت کا یہ فریضہ ہے کہ وہ اقوام متحدہ سمیت سلامتی کونسل اراکین کو اسرائیل کی کھلی خلاف ورزیوں پر احتجاج کرے لیکن حزب اللہ اسرائیل سمیت کسی کو بھی یہ اجازت نہیں دے سکتی کہ آئندہ اس طرح کا واقعہ دوبارہ رونما ہو اور ہماری فضائی حدود کی خلاد ورزی کی جائے۔واضح رہے کہ اسرائیل نے سنہ2006ء کی لبنان اسرائیل جنگ کے بعد پہلی مرتبہ براہ راست لبنان کے کسی علاقہ کو اس طرح نشانہ بنانے کی جرات کی ہے۔
    دوسری طرف مقبوضہ فلسطین کے اندر خطرے کا سائرن بج چکا ہے کیونکہ حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصر اللہ نے اپنی تقریر کے دوران صہیونی فوجیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتظارکرو اور دیکھو کہ ہم کس وقت کس طرح تم سے اس کا انتقام لیتے ہیں۔انہوں نے نیتن یاہو کو کہا کہ تمھیں ایک ٹانگ پر کھڑا کر دیں گے۔ہم کسی صورت اسرائیل کو معافی نہیں دے سکتے۔
    صہیونی آباد کارپہلے ہی سید حسن نصر اللہ کے بارے میں اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ یہ شخص کبھی جھوٹ نہیں بولتا ہے اور جب بھی جو کہتا ہے وہ کرتا ہے۔صہیونیوں آباد کاروں نے اپنے بنکروں میں جانا شروع کر دیا ہے کیونکہ گذشتہ دو روز سے لبنان کے شمالی سرحدی علاقوں میں اسرائیلی فوجیوں کی پریشانی بھی بڑھتی ہوئی پائی گئی ہے اور اسرائیل کا سب سے جدید سسٹم آئرن ڈو م کی بیٹریاں بھی نصب کی جا رہی ہیں تاہم یہ اس بات کی غمازی ہے کہ اسرائیلی فوجی بوکھلاہٹ کا شکار ہیں اور جانتے ہیں کہ حزب اللہ کے سربراہ نے بات کی ہے وہ یقینا عمل کریں گے۔
    خلاصہ یہ ہے کہ وقت بتائے گا،کیونکہ خود حزب اللہ کے سربراہ نے کہا ہے کہ انتظار کرو ہم تمھیں سبق سکھائیں گے۔ایک دن، دون، تین یا چار دن، کس وقت،کیسے اور کب یہ ہم خود فیصلہ کریں گے۔اسرائیل کے لئے یہ صورتحال شدید سنگین اور خطرناک صورتحال میں تبدیل ہو تی چلی جا رہی ہے ایک طرف اندرونی خلفشار بڑھ رہا ہے دوسری طرف حزب اللہ کے ساتھ ماضی کی 33روزہ جنگ میں پہلے ہی اسرائیل کو بدترین شکست کا سامناہو اتھا جس کو کوئی بھی صہیونی فراموش نہیں کر سکا ہے۔خود جعلی ریاست اسرائیل کی صورتحال یہ ہے کہ دیواروں پر دیواریں کھڑی کر کے خود کو محدود کر رہی ہے۔ایسی صورتحال میں اسرائیل کے لئے کسی بھی جنگ کا متحمل ہونا نا ممکن ہے۔بہر حال اسرائیل نے لبنان سمیت کئی ایک ملکوں کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی ہے جس پر یقینا خاموش رہنا مناسب عمل نہیں ہے۔حزب اللہ کے سربراہ نے پہلے بھی مقبوضہ فلسطین میں آ کر آباد ہونے والے صہیونی آباد کاروں کو متنبہ کیا تھا کہ اپنے اپنے وطن میں واپس لوٹ جائیں ورنہ نیتن یاہو اس جنگ میں ایندھن کے طور پر انہی آباد کاروں کو استعمال کرے گا۔اسرائیل پر جنگ کے سائے منڈلا رہے ہیں لہذا صہیونی آباد کار اپنے بنکروں میں چلے جائیں۔ اور عنقریب صہیونیوں کی جعلی ریاست ایسے ہی کسی معرکہ میں نابود و زوال پذیر ہو گی اور اللہ کا وعدہ بیت المقدس کی آزادی کے ساتھ حتمی پورا ہو کر رہے گا۔

  • کیا جنگ واقعی مسائل کا حل نہیں ؟

    کیا جنگ واقعی مسائل کا حل نہیں ؟

    ہاں وہی کشمیر جس کے حسین نظارے گولہ بارود کی نظر ہوگے ، ہاں وہی کشمیر جہاں کی بیٹیاں درندوں نے نوچ ڈالیں ، ہاں وہی کشمیر جہاں کے بچوں اور جوانوں کو بے دردی سے ذبح کیا جارہا ہے ، ہاں وہی کشمیر جہاں کی بیٹیاں اسلحہ سے لیس فوج کا مقابلہ پتھروں کے ساتھ کر رہی ہیں ۔شاید وہ پتھر دشمن فوج کو نہیں بلکہ مسلمان حکمرانوں کے منہ پر پڑنے چاہیے تاکہ ان حکمرانوں کو پتہ ہو کہ تمام مساٸل کا حل جہاد ہی میں ہے ۔ کاش ہم آزاد مسلمانوں نے یہی پتھر بر وقت مسلمان حکمرانوں کو مارے ہوتے تو آج امت کی بیٹیاں اس قدر مجبور اور بے بس نہ ہوتیں ۔ اگر ہم تمام مسلمانوں نے حکمران منتخب کرتے ہوٸے یہ دیکھا ہوتا کہ کہ حکمران اچھی تقریر کرنے کی بجاٸے کتنا غیرت مند ہے تو آج امت کی بیٹیاں اس قدر مجبور اور لاچار نہ ہوتیں ۔ آج مسلمان حکمران انہی بیٹیوں کی عزت کو تار تار کرنے والے قصاٸی کو اپنے اعلی سول اعزاز سے نواز انہیں مزید ہمت دے رہے ہیں کہ شاباش لوٹتے رہو ہماری بیٹیوں کی عزتیں ۔ آج ہمارے حکمران کشمیری بچوں اور جوانوں کو ذبح کرنے والے قصاٸی کو اپنی فضاٸی حدود دے کر یہ بتا رہے ہیں کہ شاباش کرتے رہو کشمیریوں کو ذبح ۔ کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے ، پاکستانی وزیر اعظم کشمیریوں کے سفیر ہیں ۔ کیا پاکستان نے انڈیا کے لیے اپنی فضاٸی حدود بند کیں ؟ کیا پاکستان نے انڈیا کے ساتھ تجارت بند کی ؟ کیا پاکستان نے انڈیا کو نمک دینا بند کر دیا ؟ کیا پاکستان نے انڈیا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کی ؟

    ہمارے سیاسی دانشور کہتے ہیں کہ جنگ مسٸلے کا حل نہیں ۔ میں ان سب بزدلوں کو کہنا چاہوں گا کہ بزدلوں جہاد کو جنگ کا نام مت دو ۔ جہاد میں خیر ہی خیر ہے ، مر گے تو بھی کامیاب اور زندہ رہے تو بھی کامیاب ۔ لنڈے کے دانشور کہتے ہیں اگر ہم نے جنگ کی تو ایٹمی جنگ چھڑ جاٸے گی ۔ میں ان لوگوں سے پوچھنا چاہوں گا کہ کہ کشمیر میں جس لڑکی کی عزت اس کے باپ اور بھاٸی کے سامنے تار تار کر دی جاٸے ، جو بچہ اپنی ماں کے سامنے ذبح ہوجاٸے ، جب ایک ایک گھر سے پانچ پانچ جنازے ایک ہی دن میں ایک ہی وقت میں اٹھتے ہوں جب کشمیریوں کو شہید کرنے کے بعد ان کی لاشوں کو ان کے پیاروں کے سامنے نوچہ جاتا ہو کیا وہاں وہاں ایٹم کی تباہی ذیادہ خطرناک ہے یا پھر جہاد نہ کرنے کا نقصان ذیادہ ؟

    چند دانشور فرماتے ہیں کہ ہمارے اتنے وساٸل نہیں کہ ہم جنگ کر سکیں ۔ میں امت مسلمہ سے پوچھنا چاہوں گا کہ کیا ہمارے اتنے بھی وساٸل نہیں جتنے غزوہ بدر میں 313 کے پاس تھے ؟ کیا ہمارے اتنے بھی وساٸل نہیں جتنے غزوہ تبوک میں مسلمانوں کے پاس تھے ؟ یہ دانشور کہتے ہیں کہ کوٸی پاکستان کا ساتھ دینے کو تیار نہیں ۔ میں ان جعلی دانشوروں سے پوچھنا چاہوں گا کہ کیا جب تمام قباٸل مل کر مدینہ پر حملہ آور ہوٸے تھے تب مسلمانوں نے سوچا تھا کہ ہم اکیلے کھڑے ہیں سارا کفر تو ایک طرف ہے ؟ مسلمان حکمرانوں یاد رکھو بات وساٸل کی نہیں بات غیرت کی ہے ۔ امت مسلمہ کی حفاظت ، اپنی شہہ رگ کی حفاظت ، مظلوم و بے بس بیٹیوں کی حفاظت کے لیے وساٸل کی نہیں غیرت کی ضرورت ہوتی ہے ۔ انسان غیرت مند ہو وساٸل نا بھی ہوں تو 313 کی طرح کفر سے ٹکرا جاتا ہے پھر سارا کفر بھی مقابلے میں اتحاد کر کے آجاٸے تو اللہ مقابلے کے بغیر ہی آندھیوں اور طوفان کو بھیج دیتا ہے تاکہ کفر کا نام و نشان مٹ سکے ۔ اگر مسلمان غیرت مند ہو وساٸل نا بھی ہوں تو مسلمان جب اپنی بیٹیوں کی عزتیں بچانے نکلے تو اللہ بھی فرشتوں کو مدد کےلیے بھیج دیتا ہے ۔ جنگ کے لیے وساٸل کی نہیں جذبے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ وہ جذبہ جو معاذ اور معوذ میں تھا ، وہ جذبہ جس کے تحت حکم دینا پڑتا ہے کہ کشتیاں جلادو ، کشتیاں جلا دو ۔ جنگ کے لیے وساٸل نہیں جذبہ چاہیے وہ جذبہ جس سے دریا بھی گزرنے کے لیے رستہ دے دیا کرتے ہیں ، وہ جذبہ جس میں ایک نو عمر نوجوان عرب سے آتا ہے اور فاتح سندھ بنتا ہے ۔

    وزیر اعظم عمران خاں صاحب آپ نے خود کو کشمیر کاسفیر بنانے کا اعلان کیا ہے حالانکہ آپ کو سفیر کشمیر نہیں بلکہ سپہ سالار کشمیر اور فاتح کشمیر بننا چاہیے تھا ۔ عمران خاں صاحب تھوڑی ہمت کا مظاہرہ اور کریں اور انڈیا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کریں اور انہیں صرف دو دن کا وقت دیں کشمیر سے نکلنے کا ، پھر دو دن بعد نعرہ تکبیر بلند کر کہ جہاد کا علان کر دیں فوج اور عوام آپ کے ساتھ ہے ۔ آپ کے لیے یہ سنہرا موقع ہے کہ آپ سفیر کشمیر بننے کی بجاٸے محمد بن قاسم اور صلاح الدین ایوبی بنیں اور دنیا کو دیکھا دیں کہ پاکستانی ایک غیرت مند قوم ہیں جنہوں نے کشمیریوں سے وفا نبھاٸی ۔ خان صاحب آپ تھوڑی ہمت اور جرأت کا مظاہرہ کریں پھر دیکھ خان صاحب آپ تھوڑی ہمت اور جرأت کا مظاہرہ کریں پھر دیکھیں فتح ہماری ہی ہوگی وہ بھی جنگ کیے بغیر کیونکہ جب آپ اعلان جہاد کریں گے تو دنیا خود اس مسٸلے کو حل کرے گی کہ کہیں واقعی ایٹمی جنگ نا چھڑ جاٸے کیونکہ اگر ایٹمی جنگ چھڑی تو پھر اسلام کا وجود تو باقی رہے گا لیکن ہندو مذہب کا نام و نشان مٹ جاٸے گا ۔ اگر آپ وزیر اعظم پاکستان ہوتے ہوٸے بھی بے بسی کا مظاہرہ کرتے رہے تو پھر یاد رکھیں کہ نا تو تاریخ کبھی آپ کو معاف کرے گی اور آپ تاریخ میں بزدل ترین حکمران سمجھے جاٸیں گے ۔ دنیا کی طاقتور ترین فوج ، طاقت ور خفیہ ایجنسی ، جدید ترین اسلحہ ، جنگی و بحری جہاز رکھتے ہوٸے بھی ہم نے اپنی شہہ رگ کو کھو دیا تو یاد رکھنا ہم دنیا کی بے غیرت ترین قوم کہلاٸیں گے جن کے ساتھ کشمیری وفا میں اس حد تک گزر گے کہ وہ شہادت بھی ہمارےپرچم کو سینے سے لگا کر قبول کرتے ہیں اور دفن بھی ہمارے جھنڈے سے لپٹ کر ہوتے ہیں ۔

    وزیر اعظم پاکستان عمران خاں صاحب کیا آکسفورڈ یونیورسٹی سے ڈگری ہولڈر ، دنیا کے حکمرانوں کا ڈراٸیور بننے والے ، مال غنیمت کو لوٹ مار اور صحابہ کو بزدل کہنے والے سے انسان سے ہم یہ توقع رکھیں کہ کہ وہ غیرت و ہمت کا مظاہرہ کرے گا یا پھر ہم پاکستانی یہ سوچ لیں کہ کوٸی مدرسے سے فارغ التحصیل انسان ہی مسلمان بیٹیوں ، بچوں ، بزرگوں اور جوانوں کی مدد کر سکتا ہے ۔ وزیر اعظم عمران خاں صاحب کیا کشمیری بھی یہ سوچ لیں کہ ہم نے ایک ایک بزدل ، ڈرپوک ، خود غرض اور بے حس قوم سے وفا نبھاٸی ہے جس کی پاکستان قدر نا کر سکا ۔

    اللہ پاک مسلمان حکمرانوں اور عوام کو ملی غیرت عطا فرماٸے اور مظلوم و بے بس مسلمانوں کی غیبی مدد فرماٸے ۔ آمین

  • سوشل میڈیا کا محاذ پاکستان کے نام — عاصم مجید لاہور

    سوشل میڈیا کا محاذ پاکستان کے نام — عاصم مجید لاہور

    ہائبرڈ وار میں پاکستان نے انڈیا کو زبردست طریقے سے پچھاڑ دیا ہے۔ اس کا ثبوت انڈین میڈیا پر سنائی دینے والی چیخیں ہیں۔ کہیں وہ حمزہ علی عباسی کو آئی ایس آئی کا ایجنٹ کہہ رہے ہیں اور کہیں ڈی جی آئی ایس پی آر کے ایک ایک ٹویٹ پر پورے پورے پروگرام کرتے نظر آتے ہیں اور دلچسپ بات یہ کہ انڈیا کا ریٹائرڈ لفٹینٹ جنرل عطا حسنین بھی آئی ایس پی آر کی تعریف کرنے پر مجبور ہوا۔
    جس طرح آئی ایس پی آر نے نوجوان نسل کو متحد کیا اور سوشل میڈیا پر انڈین پروپیگینڈے کا جواب دیااور ملک کے طول ارض کے تمام نوجوانوں نے سوشل میڈیا کو بطور ہتھیار استعمال کر کے دشمن کی چیخیں نکلوا دی ہیں۔
    اس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔

    بد حواسی کا یہ عالم ہے کہ انڈیا کے ٹویٹر صارفیںن صدر پاکستان اور وفاقی وزیر مراد سعید کے ٹویٹر اکاونٹ کو رپورٹ کر رہے ہیں۔
    انڈین یقینا آئے روز کشمیر کے متعلق ٹویٹر ٹرینڈ سے بہت پریشان ہیں۔

    مزید پڑھیں سوشل میڈیا پر بھارت کا راج پاکستانی بے یارو مددگار — محمد عبداللہ
    یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ جیسے ہی پاکستانی کوئی ٹرینڈ چلاتے ہیں تو کچھ انڈین ان کو مصروف کرنے کے لیے جواب میں موضوع سے ہٹ کر یو ٹیوب لنک شعیر کرتے ہیں اور بحث پر لے آتے ہیں تا کہ وہ ٹویٹر صارف ٹرینڈ پر کام جاری نہ رکھ سکے۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ انڈیا کے ایسے ٹویٹر صارفین کے فالورز بہت کم ہوتے پیں یعنی وہ "را” کے پالے ہوئے ہوتے ہیں۔ جب ان کو جواب نہیں آتا تو گالیوں پر اتر آتے ہیں۔ اسی طرح باقی سوشل میڈیا ایپلیکیشن پر بھی کچھ ایسے ہی حالات ہیں۔
    چند روز پہلے انڈیا نے سوشل میڈیا پر منظم انداز میں پروپیگینڈا کیا کہ پاکستان کو ایف اے ٹی ایف نے بلیک لسٹ کر دیا ہے۔ جس میں انڈیا کی ٹی وی چینل اور ٹویٹر ٹرینڈ پیش پیش تھے۔
    اس کا مقصد پاکستانی عوام کا مورال گرانا اور پاکستان سٹاک ایکسچینج جو کی مثبت چل رہی ہے اس کو گرایا جائے۔ مگر اس ٹرینڈ کے چلتے ہی حکومت پاکستان کی طرف سے اس پروپیگینڈے کو ناکام کر دیا گیا اور ہمارے ٹی وی چینل نے بھی بھر جواب دیا۔
    یہاں سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ انڈیا پاکستان کے سوشل میڈیا محاز سے کس قدر بوکھلایا ہوا ہے۔ سوشل میڈیا کی ہائبرڈ وار کو ہم سب پاکستانیو کو سمجھنا چاہئیے۔ اس محاز کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئیے۔ آپ کی ہر پوسٹ ، ہر ٹویٹ انڈیا کو گولی کی طرح لگتا ہے۔ لہزا ہر محب وطن پاکستانی کو اس محاذ پر پاکستان کے دفاع کے لیے آگے آنا چاہئیے۔
    مزید پڑھیں سوشل میڈیا ایکٹوسٹس کا دفتر خارجہ کے نام کھلا خط … محمد عبداللہ

    حکومت پاکستان نے کشمیر میڈیا سیل بنانے کا بھی اعلان کیا ہے جو یقینا انڈیا کے لیے بہت بری خبر ہے۔

    پاکستان کی ہائیبرڈ وار میں کامیابی اپنی جگہ مگر ان سوشل میڈیا ایپلیکیشن کی انتظامیہ بھی کافی حد تک جانب دار ثابت ہوئی ہے۔
    ٹویٹر اور فیس بک انتظامیہ کی طرف سے ہزاروں کی تعداد میں اکاونٹ بند کئے گئے۔ یہاں تک کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھی اس مسئلہ پر آواز اٹھانے کی ہامی بھری۔
    یقینا اس محاز کو مزید موثر بنانے کے لیے پاکستان کو ان سوشل میڈیا ایپلیکیشن کی انتظامیہ سے بات کرنی چاہئیے۔ اور کشمیریوں کی آواز دنیا تک پہنچانے کا ذریعہ بننا چاہئیے۔ تاکہ حقیقت دنیا کے سامنے آئے۔

    عاصم مجید

  • فلاح کی راہیں۔۔۔۔۔ !!!!!!    جویریہ چوہدری

    فلاح کی راہیں۔۔۔۔۔ !!!!!! جویریہ چوہدری

    قرآن ہدایت و نور ہے۔۔۔
    سیدھی۔۔۔۔بلکہ بہت ہی سیدھی راہ کی طرف رہنمائی کرنے والی کتاب ہے۔۔۔۔۔
    ارشاد ربانی ہے:
    "بے شک یہ قرآن بہت ہی سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔۔۔۔”
    (سورۂ بنی اسرائیل)

    یہ دنیا انسان کے لیئے آخرت کے امتحان کی تیاری کا ایک موقع ہے۔۔۔۔۔
    اور دنیا اور آخرت کی فلاح پانے کے لیئے اللّٰہ تعالٰی نے انسانوں کو وہ راستے بتائے ہیں۔۔۔۔جن پر چل کر۔۔۔۔ان احکامات کو مان کر۔۔۔۔۔اپنی زندگی میں عملی طور پر اپنا کر۔۔۔۔ ہم مفلحین میں شامل ہو سکتے ہیں۔۔۔ !!!!!
    اللّٰہ تعالی واضح تعلیم کے ذریعے ہمیں کامیاب لوگ دیکھنا چاہتے ہیں۔۔۔۔
    اور چاہتے ہیں کہ اس کے بندے دنیا و آخرت میں کامیاب ہوں۔۔۔
    بامقصد زندگی گزاریں۔۔۔۔اور میری بخشش کے مستحق بن جائیں۔۔۔۔
    مفلح وہ ہوتا ہے جو صعوبتوں اور نافرمانی کے کاموں کو قطع کرتے ہوئے اپنے مطلوب یعنی اللّٰہ کی رضا تک پہنچتا ہے۔۔۔
    کامیابی کا Straight wayاس کے لیئے کھل جاتا ہے۔۔۔۔اور وہ اپنے رب کے فرمانبردار اور کامیاب لوگوں میں شامل ہو جاتا ہے۔۔۔۔ !!!!!

    آئیے!
    قرآن میں فلاح کی طرف دعوت کے کچھ مقامات پر نگاہ ڈالتے ہیں۔۔۔۔کہ کامیابی کی راہیں کون سی ہیں۔۔۔۔!!!!!!

    وہ لوگ جو غیب پر ایمان لاتے ہیں۔۔۔
    اللّٰہ کے احکامات پر اسے بن دیکھے ایمان لاتے اور عمل کرتے ہیں۔۔۔جو کتابیں اس کی طرف سے نازل ہوئی ہیں۔۔۔۔ان پر یقین رکھتے۔۔۔۔
    نمازیں قائم کرتے اور اپنے مال میں سے اللّٰہ کی رضا کی خاطر خرچ کرتے ہیں۔۔۔۔یہی لوگ فلاح اور نجات پانے والے ہیں۔۔۔۔ !!!!!
    (سورۃ البقرۃ: 5_2)

    "اے لوگو!
    جو ایمان لائے ہو۔۔۔شراب،اور جوا اور تھان اور فال نکالنے کے تیر۔۔۔یہ سب گندی باتیں ہیں،شیطانی کام ہیں۔۔۔ان سے بالکل الگ رہو تاکہ تم فلاح یاب ہو۔۔۔”(المائدہ:90)

    یعنی اپنے دامن ان گندی چیزوں سے آلودہ نہیں کرنے۔۔۔۔اگر ایسا کرو گے تو کامیاب لوگوں میں نہ رہو گے۔۔۔ !!!!

    "آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کہہ دیجیئے کہ ناپاک اور پاک برابر نہیں۔۔۔گو آپ کو ناپاک کی کثرت بھلی لگتی ہو۔۔۔۔تو اللّٰہ تعالی سے ڈرتے رہو۔۔۔اے عقلمندو۔۔۔۔تاکہ تم کامیاب ہو۔۔۔”
    (المائدہ:100)

    ہم لوگ اپنی زندگی میں اکثر یہ جملہ بولتے ہیں ہیں کہ جو کام ساری دنیا کر رہی ہے۔۔۔وہ سب غلط ہیں کیا ؟
    چاہے وہ رسوم و رواج ہوں۔۔۔۔
    یا بے پردگی و بے ہودہ فیشنز۔۔۔
    ہم کثرت کے عمل سے impressed ہو جاتے ہیں۔۔۔۔ !!!!!
    حالانکہ یہ سب شیطانی چالیں اور جال ہوتے ہیں کہ اس نے جو عزم کیا تھا:
    "اس نے کہا بسبب اس کے کہ آپ نے مجھے گمراہ کیا ہے۔۔۔میں قسم کھاتا ہوں کہ میں ان کے لیئے آپ کی سیدھی راہ پر بیٹھوں گا۔۔۔۔
    پھر ان پر حملہ کروں گا ،ان کے آگے سے اور ان کے پیچھے سے
    اور ان کے دائیں جانب سے
    اور ان کے بائیں جانب سے بھی اور آپ ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہ پائیں گے۔۔۔۔
    اللّٰہ تعالی نے فرمایا:
    یہاں سے ذلیل و خوار ہو کر نکل جا۔۔۔۔”(الاعراف:18_16)۔

    یعنی قرآن ہمیں بتا رہا ہے۔۔۔۔کہ غلط چیز غلط ہی رہتی ہے چاہے کثرت میں ہی کیوں نہ ہو۔۔۔۔
    کسی بھی عملِ صالح کا معیار یہ نہیں ہوتا کہ اسے بجا لانے والے زیادہ ہی ہوں۔۔۔۔۔
    بلکہ اللّٰہ نے ایمان۔۔شکر۔۔۔تدبر کرنے والوں کے لیئے "قلیل” کا لفظ استعمال فرمایا کہ ایسے لوگ کم ہی ہوتے ہیں۔۔۔۔ !!!

    "اے ایمان والو!!!
    اللّٰہ سے ڈرتے رہو اور اس کا قرب تلاش کرو،اور اس کی راہ میں جہاد کرو تاکہ تم فلاح پاؤ۔۔۔۔”
    (المائدہ:35)

    یعنی اللّٰہ کے قرب کا سبب بننے والے اعمال اختیار کرو۔۔۔
    امام شوکانی فرماتے ہیں:
    "وسیلہ جو قربت کے معنی میں ہی۔۔۔۔تقویٰ اور دیگر خصال خیر پر صادق آتا ہے۔۔۔۔جن کے ذریعے بندے اپنے رب کا قرب حاصل کرتے ہیں۔۔۔۔”

    "اے ایمان والو!
    ثابت قدم رہو،اور ایک دوسرے کو تھامے رہو اور رباط کے لیئے تیار رہو،،اور اللّٰہ تعالی سے ڈرتے رہو تاکہ مراد کو پہنچو۔۔۔”
    (آل عمران)۔۔۔۔

    صبر کرو یعنی طاعات کے اختیار کرنے اور شہوات و لذت کے ترک کرنے میں اپنے نفس کو مضبوط اور ثابت قدم رکھو۔۔۔
    جنگ کی شدت میں دشمن کے مقابلے میں ڈٹے رہو۔۔۔۔
    اسے مرابطہ کہا جاتا ہے۔۔۔!!!

    "اے ایمان والو!
    جب تم کسی مخالف قوت سے بھڑ جاؤ تو ثابت قدم رہو اور بکثرت اللّٰہ کو یاد کرو۔۔۔تاکہ تمہیں کامیابی حاصل ہو۔۔۔”

    (الانفال)

    "اے لوگو جو ایمان لائے ہو!
    رکوع اور سجدہ کرتے رہو،اور اپنے پروردگار کی عبادت کرتے رہو۔۔۔۔اور نیک کام کرو تاکہ فلاح پاؤ۔۔۔۔”(الحج:77)

    "یقیناً ایمان والے فلاح پا گئے۔۔۔
    جو اپنی نماز میں خشوع کرتے ہیں۔۔۔
    اور جو لغویات سے منہ موڑ لیتے ہیں۔۔۔”
    (المؤمنون 3_1)۔

    "اے مسلمانو!
    تم سب کے سب اللّٰہ کی طرف توبہ کرو،تاکہ فلاح پاؤ۔۔۔”
    (النور:31)

    اپنی سابقہ غلطیوں پر سچے دل سے معافی مانگتے رہنا۔۔۔۔توبہ کرتے رہنا۔۔۔۔مغفرت طلب کرتے رہنا۔۔۔۔
    کامیاب لوگوں کا شیوہ ہوتا ہے۔۔۔ !!!!

    "جب تم نماز پڑھ چکو،تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللّٰہ کا فضل تلاش کرو،اور کثرت سے اللّٰہ کا ذکر کرو تاکہ فلاح پاؤ۔۔۔”
    (الجمعہ:10)
    اللّٰہ کے ذکر۔۔۔۔اذکار،تسبیحات،قرآن کی تلاوت۔۔۔۔وغیرہ سے اپنی زرہ بکتر کو۔۔۔۔حفاظت کے حصار کو اور مضبوط کرتے رہو۔۔۔۔۔۔!!!!!!!
    اور اسی سے روزی طلب کرتے رہو۔۔۔اطاعت کے ذریعے اسی کی طرف وسیلہ پکڑو۔۔۔۔کیونکہ اسی کی احکامات کی اطاعت اور اسی کی طرف انابت بابرکت اور کشادہ روزی کا بہت بڑا سبب ہے۔۔۔۔ !!!!!

    "اور جہاں تک ہوسکے اللّٰہ سے ڈرتے رہو اور سنتے اور مانتے چلے جاؤ۔۔۔اور اللّٰہ کی راہ میں خیرات کرتے رہو ، جو تمہارے لیئے بہتر ہے اور جو شخص اپنے نفس کی حرص سے محفوظ رکھا جائے،وہی کامیاب لوگوں میں ہے۔۔۔۔”
    (التغابن:16)
    یعنی اللّٰہ اور اس کے رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی باتیں سنتے جاؤ۔۔۔۔مانتے جاؤ۔۔۔۔عمل کی راہ سے گزرتے چلے جاؤ۔۔۔۔یہی اصل فلاح ہے۔۔۔۔
    یہ نہیں کہ سن تو لیا مگر عمل۔۔۔۔۔؟؟؟

    "یقیناً فلاح پا گیا،جس نے اپنے(نفس)کا تزکیہ کر لیا۔۔۔۔”
    (الاعلیٰ:14)۔
    کیونکہ
    شریعت کی نظر میں کامیاب وہ ہے جو دنیا میں رہتے ہوئے اپنے رب کو راضی کر لے،اور اس کے بدلے میں آخرت میں اللّٰہ کی رحمت و مغفرت کا مستحق قرار پا جائے۔۔۔۔ !!!!

    الٰہی۔۔۔ !!!
    ہمیں فلاح کی راہوں پہ چلا کر فلاح یاب لوگوں میں شامل کر دے۔۔۔۔آمین۔۔۔ !!!
    کہ جو تیرے بتائے ہوئے فلاح کے راستوں پر چل گئے وہی حقیقی کامیاب ہیں۔۔۔۔جو اس یقین کی راہ پر چل پڑیں،
    باعث فخر منزلیں ان سے ہمکنار ہو جاتی ہیں۔۔۔ !!!!!
    جبکہ اس دنیا میں کامیابی کو ماپنے کے پیمانے اور معیار تو مختلف رکھے جاتے ہیں ناں۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟

  • بھارت اور متحدہ عرب امارات کا گٹھ جوڑ وجہ کیا ہے؟؟؟؟  محمد عبداللہ

    بھارت اور متحدہ عرب امارات کا گٹھ جوڑ وجہ کیا ہے؟؟؟؟ محمد عبداللہ

    سب سے پہلی بات کہ دنیا مفادات پر چلتی ہے وہ اسلامی ممالک ہوں یا اہل کفار کے ممالک سبھی تعلقات قائم کرتے وقت اپنے اپنے قومی مفادات کو ہی مقدم رکھتے ہیں. ایسا نہیں ہے کہ ہم.نے کبھی قومی مفادات کو ملی مفادات پر ترجیح نہ دی ہو. ماضی میں بے شمار مثالیں آپ کو ملیں گی جس سے اندازہ ہوگا کہ پاکستان نے بھی بارہا قومی مفادات کی وجہ سے ملی مفادات کو ٹھیس پہنچائی، اگرچہ پاکستان کا رویہ اور عام پاکستان کے جذبات باقی اسلامی ممالک کی وجہ سے امت کے درد میں زیادہ دلگیر ہوجاتا ہے. جدید نیشن اسٹیٹس میں خارجہ پالیسی کا یہی اصول ہے کہ فقط اپنے ہی قومی مفادات کو ترجیح دو. ایسے میں ہمیں بھی سینہ فراخ کرنا پڑے گا کہ جن اسلامی ممالک کے تجارتی مفادات دوسرے ممالک سے وابستہ ہیں ان سے وہ تعلقات قائم کرسکیں. (گزشتہ بلاگ میں ہی ہم نے ذکر کیا تھا) ہم کوئی بین الاقوامی منڈی نہیں ہیں، ہم بائیس کروڑ ہیں جبکہ بھارت 1.339 بلین آبادی والا ملک ہے جو انڈسٹری اور ٹیکنالوجی میں پاکستان سے بہت آگے ہے. ایسے میں عرب یا دیگر ممالک کا پاکستان کی نسبت بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدوں کا حجم بہت زیادہ ہوگا تو وہ خیال بھی اسی کا رکھیں گے جہاں ان کے پیسے زیادہ لگے ہونگے.
    مزید پڑھیں مسئلہ کشمیر فقط زمین کے ٹکڑے کی لڑائی یا کچھ اور؟؟؟ تحریر: محمد عبداللہ

    دوسری بات جو بہت اہم بھی ہے اور جو سمجھ میں آنے والی بھی ہے کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ سی پیک اور بالخصوص پاکستان کی عظیم بندرگاہ گوادر کے آپریشنل ہوجانے سے جہاں بھارتی اور ایرانی بندگاہوں کو خطرات لاحق ہونا شروع ہوگئے تھے وہیں یہ پشین گوئیاں شروع ہوچکی تھیں کہ گوادر کے آپریشنل ہوتے ہی دوبئی کی رونقیں اجڑ جائیں گی اور اگر ایسا ہوجاتا ہے تو متحدہ عرب امارات کی ساری شان و شوکت، رعب و دبدبہ اور شامیں ماند پڑجائیں گی. کیونکہ گوادر تجارتی مرکز بن جائے گا. کیونکہ اسی گوادر اور سے ملحقہ سی پیک سے ہی چین، وسط ایشیائی ریاستوں اور روس تک کی امیدیں وابستہ ہیں اور چین کا تو دارومدار ہی اس سی پیک پر ہے.ساری دنیا جانتی ہے کہ درآمدات و برآمدات کے حوالے سے چین اور روس دنیا میں کیا مقام رکھتے ہیں.اسی طرح وسط ایشیائی ریاستیں بھی کسی سے کم نہیں ہیں مگر کسی طرف کا رستہ نہ ہونے کی وجہ سے وہ ریاستیں ایک عرصہ سے اگنور ہوتی چلی آ رہی تھیں اب اگر ان سب کو گوادر کی شکل میں تجارتی سنٹر ملتا ہے تو باقی تجارتی مراکز کی حیثیت اس کے سامنے بہت کم ہوجائے گی، گزشتہ دنوں ایران اور بھارت کے گٹھ جوڑ کا مقصد بھی یہی تھا کہ چاہ بہار کی رونقیں جاتی نظر آرہی تھیں. کچھ ماہ قبل کی بات ہے کراچی میں آئل وغیرہ سے وابستہ پاکستانی تاجروں کی ایک مجلس میں بیٹھے تھے تو وہاں پر بات چلی تو ان سب کا کہنا تھا کہ دوبئی کی نسبت اگر گوادر سے سلسلہ شروع ہوجاتا ہے تو پھر دوبئی کی ساری دکانداری ختم ہوجاتی ہے. سی پیک اور گوادر کا وہ پلان جس کو پاکستان اور چین نے گیم چینجر پلان کہا تھا کہیں ایسا تو نہیں کہ اس گیم چینجر سے متاثر ہونے والے سبھی ممالک نے گٹھ جوڑ کرلیا ہو اور ان سب کے پیچھے شیاطین کا مائی باپ امریکہ ہو کیونکہ چین و روس کی ترقی سے زیادہ مسئلہ امریکہ کو ہی ہوسکتا ہے. امریکہ افغانستان سے نکلنے کے لیے پاکستان کا محتاج ہے اور کہیں ایسا تو نہیں کہ اس نے بندوق مودی کے کندھے پر رکھی ہو کیونکہ یہی پاکستان کا مشکل ترین وقت تھا جس میں پاکستان کو قابو کرنا آسان تھا وگرنہ پاکستان ان ممالک کی پہنچ سے بہت آگے جانکلتا.

    مزید پڑھیں کیا بھارت کشمیر کو آزاد کرکے پاکستان کی بقاء ممکن بنائے گا؟؟؟ محمد عبداللہ
    اس خدشے کو تقویت کچھ اس طرح بھی ملتی ہے کہ پاکستان کو ایک طرف ایف اے ٹی ایف اور آئی ایم ایف کے چنگل میں ڈال کر، دوسری طرف پاکستان کو کشمیر ایشو اور مشرقی بارڈر پر مسلسل الجھا کر سی پیک اور گوادر کی تکمیل میں رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں جس کا نتیجہ ہے کہ ان منصوبوں پر کام ایک حساب سے عملاً رک چکا ہے اور فی الوقت جو کچھ ہو رہا ہے وہ فقط کاغذوں کی حد تک ہو رہا ہے. کیونکہ ساری دنیا کو پتا ہے کہ پاکستان کشمیر کو نہیں چھوڑ سکتا کہ کشمیر بھی پاکستان کی بقاء کا مسئلہ ہے. کڑی سے کڑی ملائیں تو مقبوضہ وادی اور لداخ پر بھارتی شکنجے کی مضبوطی سے بھی یہ بات سمجھ آتی ہے کہ بھارت ایک طرف تو پاکستان کو پانی سے محروم کرنا چاہتا ہے اور دوسری سی پیک پر اثر انداز ہونا چاہتا ہے. اس کے لیے وہ متحدہ عرب امارات کی طرف التفات اور دیگر سبھی حربے استعمال کرے گا لہذا اب پاکستان کو اپنی ترجیحات واضح کرنا ہونگی اور اپنے قدم بڑے سوچ سمجھ کر اٹھانا ہونگے کہ کوئی چھوٹی سی غلطی بھی بڑا نقصان پہنچا سکتی ہے.

    Muhammad Abdullah
  • اب بیان بازی نہیں چلے گی۔۔۔تحریر خنیس الرحمان

    آج بائیس دن بیت گئے میری وادی سنسان ہے۔۔کرفیو ہے سب کچھ بند ہے ناجانے وادی کے بچوں نے ان بائیس دنوں میں دودھ بھی پیا ہوگا یا نہیں۔۔وادی کی بہنوں نے کچھ کھایا بھی ہوگا کہ نہیں،وادی کی ماؤں نے اپنے بیٹوں کے منہ میں ذائقے دارکھانے کے نوالے بھی ڈالے ہونگے کہ نہیں۔۔ناجانے کیسے دن ان کے بیت رہے ہونگے نا ان کو عالَم کی خبر نا عالَم کو ان کی خبر۔۔ظالم مودی نے وادی کے باسیوں کو جیتے جی مار دیا ہے۔۔مجھے تو وہ زندہ لاش کی مانندمحسوس ہوتے ہیں۔۔ہاں ہاں مودی صاحب تو میری وادی کی سانسیں بند کرنے کے بعد اب اسلامی برادری ہی سے اس کی داد وصول کررہے ہیں۔۔متحدہ عرب امارات نے بھی نا سوچا جس ظالم مودی نے میرے کلمہ گو بھائیوں کو جیتے جی مار دیا ان کو مفلوج کردیا اور میں اس کو صلہ اس صورت میں دوں کے اس کے گلے میں ہار ڈلے۔۔
    اب آتا ہوں سفیر کشمیر پاکستان کی طرف جس کے بانی نے کہا تھا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے جس کے سابق آرمی چیف نے کہا تھا کہ کشمیر کے بغیر پاکستان ایک ناقابل تسخیر ریاست ہے آج وہ صرف وادی کے لیے یہی کررہی ہے کہ ایک یا دو دن ان کے نام کردیے،مظفر آباد سمیت پاکستان کے ہر شہر میں جلسے کردیے۔۔آپ کیا سمجھتے ہیں جلسوں سے کشمیر پاکستان کو مل جائے گا،فردوس عاشق اعوان،مریم نواز،شیخ رشید،سرور خان،عثمان بزدار کے ایک بیان سے کشمیرآپ کے قدموں میں رکھ دیا جائے گا ہاں مجھے خوشی یہ ضرور ہے کہ پچھلی حکومتوں کی نسبت موجودہ حکومت نے کشمیر کا نام لینا گوارا کیا لیکن نام لینے سے کیا بنے گا ہم کب تک کشمیریوں کو کہتے رہیں گے ہم ہر حد تک کشمیریوں کے لیے جائیں گے جب کرفیو کے دوران کشمیری بیٹیوں کو نوچ نوچ کر آر ایس ایس کے غنڈے جان سے مار دیں گے،جب وادی کا بچہ بچہ آر ایس ایس کے نیزے پر چڑھے گا جب کشمیر کی سڑکیں خون سے لت پت ہوں گی،جب کشمیرکی جھیل اور دریا خون سے رنگیں ہونگے۔۔
    وزیراعظم عمران خان نے آج قوم سے خطاب کیا وہی پرانی بیان بازی جو پانچ اگست سے اب تک چل رہی ہے۔۔خان صاحب بیان بازی کا وقت نہیں کشمیریوں کے لئے کچھ کیجئے وہ آپ سے بڑی امیدیں آس لگا کر بیٹھے ہیں۔۔آپ ان کے محسن بنیں۔۔آپ کس منہ سے اپنے آپ کو سفیر کہتے ہیں کشمیر کا ان کشمیریوں کا دشمن مودی دبئی ایوارڈ وصول کرنے کے لئے جب جاتا ہے تو آپ کے ملک کی فضائی حدوداستعمال کرتا ہے آپ نے تو قوم سے کہا تھا ہم نے فضائی حدود بند کردی۔۔آپ اقوام متحدہ سے اور دنیا کے منصفوں سے یہ کہہ رہیں کہ ہم ان کو بتائیں گے بھارتی حکومت خوفناک نظریے پر چل رہی ہے آپ کے وزیر خارجہ صاحب کہہ رہے ہیں کہ ہم ان کو بتائیں گے کہ کشمیر میں کیا ہورہا ہے جناب وہ تو کہتے تھے ہمارے پاس ایسے سیٹلائیٹس ہیں جو ہمیں ہرپل کی خبر دیتے ہیں۔۔کوئی پتہ بھی گرتا ہے تو ہمارے سیٹلائیٹ بتاتے ہیں آپ ان کو بتائیں گے کشمیر میں کیا ہورہا ہے بھارت کیا ہے۔۔۔
    وزیر اعظم صاحب قوم آپ سے کبھی مایوس نہیں ہوگی اٹھیں اور صلاح الدین ایوبی کے روحانی بیٹے بنیں ہمت کریں یہ غیر مسلم کبھی آپ کے ساتھ ثالثی نہیں کریں گے اگر کی بھی تو ساتھ وہ آپ کا نہیں بلکہ غیر مسلم ہی کا دیں گے کیونکہ اس کے بارے آج سے چودہ سو سال پہلے رب کریم نے کہہ دیا تھا الکفر ملۃ واحدۃ کہ کافر ایک ملت ہیں یہ کبھی تمہارا ساتھ نہیں دیں گے۔۔قوم آپ سے امیدیں لگا کر بیٹھی ہے اس ملک کی افواج غزوۃ ہند کی منتظر ہے آپ انہیں اجازت دیں اوروہ بندوق سے کشمیر کا فیصلہ کریں کیونکہ اب باتوں سے فیصلوں کا وقت ختم ہوچکا ہے اورکشمیر کی آزادی کا واحد حل ہی یہ ہے دیکھ لیجئے آپ بھی سمجھ گئے کہ بھارت مذاکرات سے لائن پر آنے والا نہیں اس سے اب آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کا وقت ہے..