Baaghi TV

Category: بلاگ

  • یوم امن دہشت گردی کا شکار —- از عبدالواسع برکات

    یوم امن دہشت گردی کا شکار —- از عبدالواسع برکات

    عالمی یوم امن جی ہاں یہ ہر سال 21 ستمبر کو منایا جاتا ہے اور اس کا مقصد لوگوں میں امن کی اہمیت اور امن کی ضرورت بتانا ہے۔ یہ اقوام متحدہ کے تمام اراکین ممالک مناتے ہیں اور اپنے ملک کی عوام کو امن کی اہمیت بتاتے ہیں ۔ یہ دن اقوام متحدہ سے بین الاقوامی طور پر اعلان شدہ ہے ۔ اقوام متحدہ نے لازمی طور پر امن کے لیے اہداف بھي مقرر کیے ہوں گے جس کو اس کے تمام رکن ممالک نے منظور بھی کیا ہوگا۔

    اقوام متحدہ کی پوری دنیا میں پھيلی ہوئی یہ تمام کوششیں اور کاوشیں اپنی جگہ قبول جاسکتی ہیں لیکن ان کوششوں کا دنیا میں کوئی فائدہ بھی نظر آتا ہے یا نہیں ؟؟ 193ممبر ممالک کی امن کے حصول کی تمام جدوجہد ، ہر ملک میں لا تعداد امن تنظیمیں بھی موجود ہیں ، بین الاقوامی امن ایوارڈ موجود ہیں ، دنیا کا ہر ملک ہر فرد ہر تنظیم امن کا داعی بنا ہوا ہے سیکڑوں تقریبات ، سیمنارز، ریلیوں کا انعقاد ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود ہر طرف بدامنی ، نفسا نفسی ، خوف وہراس کی فضا ء، قتل و غارت گری ، اغوا کاروں کی کاروائیاں اپنے جوبن پر ہیں ،

    ملکوں کی ایک دوسرے کو زِیر کرنے کی کوششیں جاری ہیں ، اسلحہ کی خریدوفروخت کے بھاری معاہدے بھی جاری ہیں ۔انسانیت خطرے میں نظر آرہی ہے ۔ UNO کے رکن امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی دہشت گردی سے عراق تباہ ہو چکا ۔ شام کی تباہی جاری ہے ۔ افغانستان میں بھی انسانیت کے ساتھ جنگ جاری ہے ۔ دوسری طرف اقوام متحدہ کے ہی رکن ملک اسرائیل کے ہاتھوں فلسطین میں کئی دہاہیوں سے انسانیت سسک کر مر رہی ہے ۔ بچے بوڑھے معذور ہورہے ہیں ۔ برما میں انسانیت کے قتل کا ننگا کھیل کھيلا جا چکا ہے ، جس کو پوری دنیا جانتی ہے۔

    اور یہ حالیہ دن جو گزر رہے ہیں ان میں سب سے بڑی جمہوریت کا دعویدار بھارت جو اقوام متحدہ کا رکن ملک بھی ہے اس نے اقوام متحدہ کی تمام تر امن کوششوں کی دھجیاں بکھیڑتے ہوئے کھلم کھلا دہشت گردی کرکے کشمیریوں پر زندگی بند کردی ہے ان کی سانسوں کو بند کیا جا رہا ہے ۔ نہ خوراک پہنچائی جا رہی ہے نہ ہی میڈیکل کی سہولیات دی جا رہی ہیں ، ایمبولینس کا پہیہ چل رہا ہے اور نہ ہی ہسپتال کھلے ہیں کشمیری گھروں میں قبریں بنا نے پہ مجبور ہیں۔کشمیر میں دہشت گرد رکن بھارت کے ہاتھوں انسانیت سسک سسک کر مر رہی ہے ، ایڑیاں رگڑتی انسانیت کو تڑپا تڑپا کر اس سے دشمنی کا کھیل کھیلا جا رہا ہے ۔

    آج اقوام متحدہ میں بھی یوم امن منایا جا رہا ہے اور اس کے حکم پر پوری دنیا بھی امن ڈے منا رہی ہے لیکن فلسطین ﴾، عراق، شام، افغانستان اور کشمیر کے نہتے سسکتے انسانوں کو امن دئیے بغیر ہم کیسے یوم امن منا سکتے ہیں ؟؟ اقوام متحدہ کا کیا کردار ہے ؟؟؟ کیا اقوام متحدہ بھارت اسرائیل اور امریکہ جیسے دہشت گرد ممالک کو لگام نہیں ڈال سکتی؟ بظاہر یہی نظر آتا ہے کہ امریکہ بھارت اور اسرائیل کے ہاتھوں اقوام متحدہ یرغمال بنی ہوئی ہے، ان تین ممالک کی مسلسل دہشت گردی کو اقوام متحدہ نظر انداز کرکے مسلمانوں کے خلاف ہونے والی ہر کاروائی سے آنکھیں بند کیے ہوئے ہے ۔لگتا ہے اس کی تمام تر کوششیں نام نہاد امن کی خاطر ہیں ۔

    اگر اقوام عالم حقیقی امن کی خواہاں ہے تو 47دن ہو چکے ہیں کشمیر کو جیل میں تبدیل ہوئے کیا اقوام متحدہ نے امن فوج اتار دی ؟؟؟؟ کیا اس نے اپنے مبصر بھیجے ؟؟؟ کیا یونیسف نے اپنے ڈاکٹروں کا مشن بھیجا ؟؟؟ پھر یہ عالمی یوم امن منا کر دنیا کو دھوکہ اور فریب دینے کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے ۔ اقوام متحدہ دنیا میں امن قائم کرنے میں ناکام ہو چکا ہے اور اس کی غیر جانبداری پر بھي سوالیہ نشان کھڑا ہے ۔ مسلمانوں کے علاوہ دنیا میں کسی اور مذہب کا مسئلہ ہو اور یہ اقوام متحدہ دنوں میں معاملہ حل کر دے گی مگر مسلمانوں کے مسائل کو پچاس پچاس سال ہو چکے ہیں کوئی ایکشن ہی نہیں لیا جا رہا ۔ مسلمانوں کے احتجاج کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے ۔ یہ اقوام عالم کے کردار پر سوالیہ نشان ہے ۔

    اقوام متحدہ سے امید رکھنا کہ یہ کشمیر فلسطین کا مسئلہ حل کروا دے گی نا ممکن ہے۔ آئیے اسلام کی طرف اسلام ہی ایک ایسا دین ہے جو اللہ رب العزت نے آخری پیغمبر حضرت محمد رسول اللہ پر نازل کیا ۔ یہ دین اس بات کا درس دیتا ہے کہ رنگ و نسل کے بغیر انسانیت کا تحفظ کیا جائے ۔ اسلام ہی یہ درس دیتا ہے کہ ظالم جو بھی ہو اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے اور ہر مذہب کے مظلوم کی داد رسی کی جائے اس کے زخموں پہ مرہم رکھی جائے اس کو امن دیا جائے ۔ اسلام ہی ہے جو ظلم کو برداشت نہیں کرتا ۔ یہ اسلام ہی ہے جو ہر مذہب کے پیروکاروں کو تحفظ دیتا ہے ان کی عبادتگاہوں کو احترام کی نظر سے دیکھتا ہے ۔ یہ اسلام عیسائی یہودی بدھ مت کی عورتوں بچوں کو ان کے گھر والوں سے زیادہ عزت دیتا ہے ۔

    آج بھي اسلام کے پیروکار امن کے داعی بن کر کھڑے ہیں ۔سعودی عرب پر ڈرون حملے اور پاکستان پر مسلسل انڈیا کے چھوٹے پیمانے پر سرحدی حملے، را کے اندرونی حملے، افغانستان سے اتحادیوں کے حملے، اس کے باوجود مسلم ممالک صبر کا دامن تھامے امن کے پیغامبر بن کر کھڑے ہیں کہ شاید پر امن طریقوں سے یہ مسائل حل ہو جائیں ۔ پاکستان نے ہمیشہ امن کو ترجیح دی۔ پاکستان بھارت کے کئی ہوابازوں کو ابھی نندن سمیت صرف امن کی خاطر انڈیا کے حوالے کر چکا ہے ۔ پاکستان نے ہمیشہ مذاکرات کو اہمیت دی صرف امن کے فروغ کے لیے ۔ لیکن انڈیا نے ہمیشہ پاکستان کی امن کوششوں کے جواب میں دہشت گردی کو فروغ دیا ۔ انسانیت کا قتل عام کیا

    اقوام متحدہ بتائے کہ دنیا میں کون سا مسلم ممالک ہے جو دہشت گردی کو پھيلا رہا ہے؟ لیکن اس کے برعکس بے شمار مسلم ممالک ایسے مل جائیں گے جو دہشت گردی کا شکار ہیں ۔ کیوں کہ ان کا اسلام اس بات کی اجازت ہی نہیں دیتا ۔ اسلام تو اس بات کا بھي درس دیتا ہے کہ جنگ کے دوران بھي دشمن کی عورتوں ، بچوں اور بوڑھوں پہ تلوار نہیں اٹھانی ۔
    عالمی یوم امن پہ یہ سوال اٹھتا ہے کہ آج کشمیر کی عورتوں اور بچوں ، بوڑھوں اور نوجوانوں کو کس نے بچانا ہے ؟؟ کیا کشمیری بھی یوم امن منائیں گے ؟؟ وہ تو اپنی ہی سرزمین پر قید کردیے گئے ہیں ۔ ان کے تو گھروں کا بھي امن تباہ کر دیا گیا ہے ان کے سکولوں کالجوں ، ہسپتالوں مارکیٹوں پر اور گھروں کے دروازوں پہ فوجی بٹھا دیے گئے ہیں ۔ مجھے لگتا ہے کشمیر میں امن کو ہی ذبح کر دیا گیا ہے ۔

    اقوام متحدہ اگر حقیقی اور پائیدار امن کی خواہاں ہے تو امریکہ بھارت اور اسرائیل کی کھلی دہشت گردی کو لگام ڈالنی پڑے گی غیر جاندارانہ فیصلہ کرنا ہوں گے ۔ کشمیر ، فلسطین ، یمن ، شام جیسے دہشت گردی کا شکار تمام ممالک کے باسیوں کو امن فراہم کیا جائے۔ مسلم اور غیر مسلم میں تفریق ختم کرکے صرف انسانیت کی بنیاد پر پوری دنیا کے انسانوں کو تحفظ فراہم کرنا ہوگا جو رکن ممالک دہشت گردی کے فروغ میں ملوث ہوں  ان کی رکنیت معطل کر دی جائے ان پر پابندیاں عائد کی جائیں ۔ یہ اعمال کرکے ہم حقیقی اور پائیدار امن تک پہنچ سکتے ہیں ورنہ یہ کھوکھلے نعرے اور دکھلاوے کی کوششیں کبھي کامیاب نہیں ہو سکتیں ۔ اور ہر سال یوم امن دہشت گردی کا شکار رہے گا ۔

    تحریر از عبدالواسع برکات

  • کیابلدیاتی الیکشنوں کا طبل جنگ حکومت کے گلے کی ہڈی بن جائے گا —– از آصف شاہ

    کیابلدیاتی الیکشنوں کا طبل جنگ حکومت کے گلے کی ہڈی بن جائے گا —– از آصف شاہ

    بلدیاتی اداروں کا قیام برصغیر پاک و ہند میں 1885کو انگریز سرکار نے رکھا اورمیونسپل کارپوریشن کے نظام کا آغاز کیا جس کے کل 27 ممبران تھے جن میں 26 ممبران میونسپل کمیشنر اور 27 واں میئر کہلایا۔ اس نظام کی مْدت 10 سال مقرر کی گئی قیام پاکستان کے بعد ایوب خان نے 1962 ء میں اسی نظام کو بی ڈی (DemocraticBasic) ممبر کے نام سے متعارف کروایا بعدازاں ذوالفقار علی بھٹو دَور میں دوبارہ کونسلرز سسٹم رائج ہوا لیکن ضیاء دَور میں بھی 1979ء اور 1980 ء میں یہ نظام نافذ کردیا گیا اسکے بعد 1998 میں بلدیاتی انتخابات کروائے گئے۔

    ملکی سیاست میں بلدیاتی نظام کا جو سب سے کامیاب دَور گزرا وہ مشرف کا تھا جس نے 2001 ء اور 2005ء میں یہ نظام مضبوط بنیادوں پر نہ صرف استوار کیا بلکہ ناظمین کو مفاد عامہ اور انتظامی امور کے میدان میں لامحدود اِختیارات سونپے گئے۔ بلدیاتی نظام میں نمائندوں کا اپنے علاقہ سے منتخب ہونے کی وجہ سے وہ نہ صرف چوبیس گھنٹے عوام کی خدمت پر مامور رہتے ہیں۔ اس نظام کی ایک اور اہم خوبی خواتین کی انتخابات میں شمولیت ہے اہلِ علاقہ سے ہونے کی بناء پر وہ ان خواتین اْمیدواروں کا چناؤ کر سکتی ہیں جن پر وہ نہ صرف بھروسہ کرتی ہیں بلکہ اْنہیں یقین ہوتا ہے کہ وہ ان کے مسائل کو اْجاگر کرنے اور حل کرنے کی بھر پور سعی کریں گی۔ یہ عوام کو ریلیف دینے کا فوری اور مضبوط ذریعہ ہے۔

    موجودہ دَور حکومت نے ایک بارپھر بلدیاتی انتخابات منعقد کروانے اور اس کو نئے انداز میں لانے کا اعلان کر دیا ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت بننے سے پہلے ان کے منشور میں یہ بات شامل تھی کہ بلدیات کو مضبوط بنا کر عوام کو ریلیف دیا جائے گا اگر اس پر بھی یوٹرن کی روایات کو نہ اپنایا گیا تو اْمید کی جاتی ہے کہ یہ نظام اپنی اَصل شکل میں رائج ہوگیا توجس سے نہ صرف ملکی سطح پر عوامی نمائندگی ہوسکے گی بلکہ عام لوگوں کی فلاح وبہبود کیلئے بھی خاطر خواہ کام کیا جائے گا۔

    دوسری جانب ملک کی بڑی سیاسی جماعتیں جو باری باری کی سیاست کرتی رہی ہیں وہ ایک مرتبہ بھی بلدیاتی نظام کو مضبوط نہ بنا سکی یا اس سے مخلص نہ تھی ن لیگ کے گزشتہ دور میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں حکمران جماعت کی واضع کامیابی کے باوجودبھی تقریبا تین سال تک ضلع راولپنڈی کے ضلعی چیئرمین کا انتخاب نہ کیا جا سکا جس کا سہرا ن لیگ کے اس وقت کے چہیتے چوہدری نثار علی خان کے سر جاتا ہے کیونکہ منتخب نمائندوں کی موجودگی میں ان کے ترقیاتی فنڈز کو ہڑپ کرنا کسی صورت بھی ممکن نہ تھا لیکن جب منتخب نمائندے خود ہی مخلص نہ ہوں تو عوام کی حالت کیسے بدل سکتی ہے،اب ایک بار پھر تحریک انصاف نے بلدیاتی انتخابات کو ڈھول پیٹنا شروع کر دیا ہے اور ایک جامع پروگرام کے دعوے کے ساتھ اس کو عملی جامہ پہنانے کا دعوی بھی شروع کیا گیا ہے لیکن اس کے اصلی خدوخال اس وقت واضع ہونگے جب اس پر عمل درآمد ہوگا

    اب سوال یہ ہے کہ کیا تحریک انصاف کی موجودہ حکومت اس پوزیشن میں ہے کہ وہ بلدیاتی انتخاب کا نہ صرف انعقاد کر واسکے بلکہ اس میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کر سکے یقینا اب تک کی کارکردگی پر نظر ڈالیں تو ایسا ممکن ہوتا نظر نہیں آتا بلدیاتی انتخابات میں کامیابی کے لیے ہمیشہ سے حکومتی پارٹی عوامی مسائل کے زریعہ سے گراونڈ تیار کرتی لیکن موجودہ حکومت نے اس کے برعکس ایک فیصلہ کیا ہے جس کے اثرات آنے والے دنوں میں سامنے آسکتے ہیں،این اے57اور این اے59ضلع راولپنڈی کے بڑے اہم حلقے ہیں ہمیشہ الیکشنوں میں ان حلقوں پر پورے پاکستان کی نظریں لگی ہوتی ہیں

    پنجاب میں بلدیاتی الیکشنوں کے حوالہ سے کہیں سے آواز بلند ہوئی یا نہ ہوئی لیکن اس حلقہ سے دو آوازیں سامنے آگئی ہیں ان میں اگر یوسی لیول کے الیکشن کے لیے ن لیگ کے سینئر رہنماء زبیر کیانی کے بھائی فرحت زمان کیانی نے لنگوٹ کس لیاہے وہ گزشتہ ادوار میں بھی اسی یوسی سے کونسلر رہے ہیں اور انہوں نے عوامی خدمت کی سیاست کی ہے لیکن تاحال حکومتی پارٹی اور ان کے سیاسی مخالفین نے چپ سادھ رکھی ہے یقینا ان کے سامنے کسی نہ کسی امیدوار نے آنا ہے لیکن مقابلہ کرنے والوں کو ان کے بھائی اور سابق چیئرمین یوسی بشندوٹ زبیر کیانی کے تحصیل ٹاپر ہونے اور عوامی خدمات کو بھی سامنے رکھنا ہو گاجبکہ چند ماہ قبل یوسی گف سے تعلق رکھنے والے سابق چیئرمین یوسی گف فیصل منورنے بھی تحصیل سطح پر الیکشن لڑنے کا اعلان کیا تھا

    جواب میں تاحال کسی کی جانب سے اعلان نہ کیا گیا تھا اس کی بڑی وجہ شائید یہ بھی تھی کہ اس وقت حکومت کی جانب کوئی اعلان نہ کیا گیا تھا اب جب ڈھول بجنے کا اعلان کیا گیا ہے تو اس کا ری ایکشن سامنے آسکتا ہے اور ن لیگ کا ایک دھڑا موجود ہے جو سابق ایم پی اے قمرالسلام راجہ جو کہ فیصل منور کے قریبی عزیز ہیں کی مخالفت کر سکتا ہے اس کے علاوہ ن لیگ سے ہی کچھ بااثر اور قد آورسیاسی شخصیات بھی سامنے آسکتی ہیں اگر بلدیاتی انتخابات موجودہ حالات میں ہوتے ہیں تو اس کا زیادہ نقصان حکومتی پارٹی کا ہی متوقع ہے اور اس کے زیادہ دھڑے بن سکتے ہیں بلکہ یہ کہنا بجا ہوگا کہ بنے گے عوام کو کچھ دیے بغیربلدیاتی الیکشن موجودہ حکومت کے گے کی ہڈی بن سکتے ہیں جو نہ نگلی جا سکے گی اور نہ اگلی جاسکے گی۔

    تحریر از آصف شاہ

  • دنیا کا بلند ترین ریلوے ٹریک کس ملک میں واقع ہے ؟

    دنیا کا بلند ترین ریلوے ٹریک کس ملک میں واقع ہے ؟

    دنیا عجائبات کا مظہر ہے ، یہاں ہر روز ایسے ایسے عجائبات رونما ہو رہے ہیں کہ عقل انسانی دنگ رہ جاتی ہے، اور اگر بات پاکستان کے پڑوس ملک چائنہ کی ہو جائے تو وہاں عجائبات اس قدر زیادہ پائے جاتے ہیں کہ چینی لوگ عجائبات کے عادی ہو گئے ہیں، اج ہم جس چینی عجوبے کی بات کریں گے وہ چائنہ کے صوبے تبت میں ببنے والا ریلوے ٹریک ہے ، اس ریلوے ٹریک کانام کنگ زینگ ریلوے ٹریک ہے ، یہ دنیا کا سب سے بلند ترین مقا م پر پایا جانے والا ریلوے ٹریک ہے،
    اس ریلوے ٹریک کی کل لمبائی 1956 کلومیٹر ہے ، 1985 میں چینی حکومت نے اسے مکمل کیا ، اس کی تعمیر پر کل لاگت 4.2 ارب ڈالر آئی ، یہ ریلوے ٹریک دنیا کے بلند ترین مقام پر پائی جانے والی تازہ پانی ندی کے اوپر سے بھی گزرتا ہے ،
    اس ریلوے ٹریک کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے یہ تبت کے ایسےعلاقے میں بنا ہے جو کہ موسم کی شدت ، زلزلوں اور لینڈ سلائدنگ کیلئے مشہور جانا جاتا ہے ،
    ایک چینی سیاح نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اس ریلوے ٹریک پر چلتی ٹرین کی ویڈیو کو شئیر بھی کیا ہے
    https://twitter.com/evazhengll/status/1175397964623360002?s=08

  • جعفر زٹلی اور   شہنشاہِ مغل فرخ !!! تحریر: رضوان الحق

    جعفر زٹلی اور شہنشاہِ مغل فرخ !!! تحریر: رضوان الحق

    جعفر زٹلی کا شمار اردو کے ” ابتدائی طنز ومزاح نگار” میں ہوتا ہے. زٹل کے معنی بکواس، لغو، مزاح ہے زٹل سے زٹلی جو کہ آپ کا تخلص تھا

    زٹلی نے لکھنے کا آغاز اورنگزیب کے دور سے کیا. جعفر زٹلی ایک بے باک شاعر تھا. اورنگزیب پر بہت زیادہ تنقید کے ساتھ ساتھ اس کی اچھی انتظامی صلاحیتوں پر کھل کر لکھا. اورنگزیب کے بعد کا دور مغلیہ سلطنت کے زوال کی داستان سے بھرا پڑا ہے. اور اسی دور میں جعفر زٹلی نے معاشی وسیاسی حالات، کمزور حکمت عملی اور ظلم وجبر کے خلاف اپنی آواز بلند کی شاعری کے ذریعے.
    شہنشاہِ مغل فرخ سیر بہت ظلم کرتا تھا. حق کے لیے آواز بلند کرنے والوں کی گردنیں کاٹ دی جاتیں، زبانیں کھینچ لی جاتیں اس دوران فرخ سیر نے ایک سکہ جاری کیا جس پر یہ درج تھا:

    سکہ زدازفضل حق برسیم وزر
    بادشاہِ بحروبر فرخ سیر
    جعفر زٹلی نے جب یہ جملہ پڑھا تو اس کا دل مسوس کا رہ گیا کہ ایک طرف ظلم و ستم اور شہنشاہیت، جاہ وجلال وثروت کی آڑ لے کر
    زٹلی نے اس شعر کی تحریف یوں کی

    سکہ زد بر گندم وموٹھ ومٹر
    بادشاہِ تسمہ کش وفرخ سیر
    ( یہ بادشاہ فرخ سیر تسمہ بنانے والا جس نے گندم، جو کی ایک قسم اور مٹر پر لگان/ ٹیکس لگائی ہے)
    فرخ سیر کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ تسمے سے لوگوں کو پھانسی دیتا تھا. زٹلی نے اس کو حقیر تسمہ بنانے والا کہا. فرخ سیر کے لیے یہ شعر گالی بن گیا. مغل بادشاہ نے جعفر زٹلی کی پھانسی کا فرمان جاری کر دیا. اور پھر ایک شاعر ظلم وستم کا ساتھ دینے کے بجائے، حق کے لیے تختۂ دار پر چڑھ گیا.
    بلاگ /کالم کی دم : یہ ایک غیر سیاسی اور ادبی بلاگ ہے اس کو آج کی سیاست سے نہ ملایا جائے.

  • یونیورسٹی تعلیم—– از ایس ایم چوہدری

    یونیورسٹی تعلیم—– از ایس ایم چوہدری

    جیساکہ نام سےہی ظاہرہےکہ ہمارےملک پاکستان میں یونیورسٹی کی تعلیم عموماًمخلوط تعلیم کی شکل میں موجودہے۔مخلوط تعلیم جسےانگریزی میںco.education کہتےہیں اس کامطلب ہےلڑکےاورلڑکیوں کی تعلیم کاایک ہی ادارےمیں پڑھنا۔

    یہ نظامِ تعلیم کیوں وجود میں آیا۔۔۔؟؟

    اس کےبارے میں تھوڑی سی میں وضاحت کرتی چلی جاؤں ۔ سب سےپہلےدیکھاجائےتوپاکستان ایک غریب ملک ہےجسکےپاس وسائل نہ ہونےکےبرابرہیں ۔تعلیم کےلیئےکوئی خاص بجٹ بھی نہیں رکھاجاتااگررکھابھی جائےتواس کومکمل طورپرعملی میدان میں لانےسےہمیشہ گریزاں ہی رکھاگیاہے۔

    اس عنصرکیوجہ سےہماراملک لڑکےاورلڑکیوں کی تعلیم کےلیئےالگ الگ تعلیمی ادارے یعنی یونیورسٹیز کھولنے سےقاصرہے۔دورحاضرکی ضرورتوں کےپیش نظرعورت کی تعلیم سےانکار بھی نہیں کیاجاسکتاکہاجاتاہےکہ
    Man and woman are the two wheels of the carriage of life. Education plays an important role in running this carriage smoothly.

    مزیدبرآں تعلیم نسواں کی اہمیت کوواضح کرتےہوئےمختلف مفکرین اپنی اپنی آراں پیش کرتےرہے۔

    نیپولین کاقول

    "تم مجھےپڑھی لکھی ماں دو میں تمھیں پڑھی لکھی قوم دوں گا”
    یہ تھی تعلیم نسواں کی ضرورت واہمیت۔اب اس تعلیم سےآگےجورجحان وجود میں آیاوہ یہ کہ جسطرح مرد کام کرتاہےاسی طرح عورت بھی مختلف شعبہ ہائےزندگی میں کام کرسکتی ہےیعنی وہ مردکےشانہ بشانہ کام کرنےکی اہلیت رکھتی ہے ۔یہ ایک مغربی رجحان ہےجس کی اسلام میں اجازت نہیں دیتا۔ اسلام نے مرداورعورت کےلیئےالگ الگ دائرہ کارمتعین کردیئے

    31 – اکتوبر کو انتخابات کا اعلان کردیا گیا ، کتنے امیدوار اس دفعہ حصہ لے رہے ہیں رپورٹ آگئی

    مسلم مفکرین کاکہناہےکہ اگرعورت علم وہنرکےمیدان میں کوئی کارنامہ نہ بھی سرانجام دےتواس کی عزت ووقارمیں کمی نہیں آتی ۔اس کےلیئےیہ بھی بڑااعزاز ہےکہ عظیم ہستیاں اس کی گودمیں پرورش پاتی ہیں۔
    یہ تھی عورتوں کےلیئےتعلیم کی ضرورت واہمیت اوراس کادائرہ کار۔۔۔۔۔
    اب سوال یہ ہےکہ یونیورسٹی ایک اعلٰی تعلیمی ادارہ ہے،تونام کی مناسبت سےکیاعمل بھی اعلٰی۔۔۔۔۔۔؟

    سب سےپہلےتومیں اس ادارےکےقیام کامقصد بتاناچاہوں گی۔تعلیمی ادارہ خواہ کوئی بھی ہواس کامقصد صرف تعلم ہی نہیں بلکہ اس کےساتھ ساتھ اس کی اعلٰی اخلاقی تربیت بھی ہے۔علم کےمعنی جاننا،واقف ہونا،آگاہی حاصل کرناکےہیں پھرکسی بھی چیزسےواقف ہونےکےبعد اس علم کواپنی زندگی میں عملی طورپراستعمال میں لاناوہ اس علم کی تربیت کانتیجہ ہے۔

    المیہ یہ ہےکہ آج ڈگریوں کےانبارلگےہوئےہیں لیکن عمل نہیں ۔عمل کےبغیرعلم کوئی بھی ہووہ بےکارہے۔پھراس سےکےعلاوہ جو ہمارےتعلیمی نظام کی بگاڑ کی وجہ بناوہ یہ کہ ہم نےمغرب کی طرزتعلیم کواپنی کلچرکاحصہ بنالیاجس میں اخلاقیات کاجنازہ نکل رہاہے۔ہم نےیونیورسٹیوں میں مخلوط تعلیم کوترویج دی اوراسےاپنےلیئےباعث فخرقراردیا۔

    مولانامودودی

    مخلوط تعلیم کی نفی کرتےہوئےکہتےہیں کی کسی بھی تعلیمی سطح پرمخلوط تعلیم کی اسلام اجازت ہی نہیں دیتا۔اس مخلوط تعلیم نےعورت کواس کےاصل مقام سےبےبہرہ کردیا۔آزادی کانعرہ لگاکرسروں سےدوپٹےاتاردیئےگئےاورسرعام زیب وزینت کرکےآناعورت نےاپناحق سمجھ لیا۔پردےکاتصورختم کردیاگیااوراس طرز کوہم نےترقی کاراز قرار دیااسلامی روایات جوہمارےتعلیمی نظام کی روح ہواکرتی تھی وہ مٹادی گئیں۔
    *
    بقول علامہ اقبال:*

    ہم سمجھتےتھےکہ لائےگی فراغت تعلیم
    کیاخبرتھی کہ چلاآئےگاالحادبھی ساتھ

    پھرجونقصان دیکھنےمیں آیاوہ یہ کہ
    تعلیم کا معیارگرانےمیں سمیسٹرسسٹم کاکردار:
    چونکہ یونیورسٹی ایک اعلٰی تعلیمی ادارہ ہےاس لیئے اس کاطریقہ تدریس دوسرےثانوی تعلیمی اداروں سےقدرےمختلف ہے۔یونیورسٹیوں میں سمیسٹر سسٹم رائج کردیاگیا۔جسکانقصان یہ ہواکہ ہمارےتعلیمی نظام کامعیارگرگیا۔طالبعلموں کی ساری توجہ اس مقصدسےہٹ گئی جوتعلیمی نظام کی روح ہوتی ہےوہ علم سیکھنےکی بجائےرٹے کوترجیح دینےلگےاور انھوں نےتعلیم کامقصدصرف اورصرف اچھےنمبر لینا اچھاگریڈ حاصل کرنابنالیااور اصل مقصد کو فراموش کردیاگیا۔جو کہ ہمارےتعلیمی نظام کےلئیے بہت بڑانقصان دہ ثابت ہورہاہے۔

     

    تحریر از ایس ایم چوہدری

     

  • یونیورسٹی اعلیٰ تعلیمی ادارہ کیا عمل بھی اعلیٰ—— از ساجدہ بٹ

    یونیورسٹی اعلیٰ تعلیمی ادارہ کیا عمل بھی اعلیٰ—— از ساجدہ بٹ

    یونیورسٹی وہ ادارہ ہے جہاں ہمارے نوجوان اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے جاتے ہیں ۔
    یعنی وہ تعلیم بھی اسے کہہ سکتے ہیں کہ جس سے افراد اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکیں ۔جہاں ہماری نوجوان نسل اپنے اعلیٰ کردار کی تعمیر کر رہی ہے۔

    اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یونیورسٹی اعلیٰ تعلیم کا ادارہ ہے کیا عمل بھی اعلیٰ ؟ میں سب سے پہلے اپنے پاکستان کے تعلیمی اداروں کی بات کرنا چاہوں گی ۔۔جو کہ ایک مسلم ملک ہے یہاں کس قدر اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہیں۔

    ہم لوگوں نے مغربی تعلیم کے ساتھ ساتھ مغربی کلچر کو اپنایا اور پھر ترقی کے نام پر مخلوط نظام تعلیم کو فروغ دیا۔جس کا مطلب کے لڑکے اور لڑکیاں اکھٹے تعلیم حاصل کریں ۔یعنی اب اس طرح ہی ہم ترقی کر سکتے ہیں۔

    اس ترقی نے ہمارے معاشرے کی نوجوان نسل کے کردار کو بگاڑ کر رکھ دیا۔وہاں تعلیمی ترقی کے ساتھ ساتھ دوستیاں ترقی کرنے لگیں۔۔ان دوستیوں نے ہماری بیٹیوں کے سر سے چادر چھین لی۔پھر رہی سہی کسر نت نئے فیشن نے نکال دی۔شرم تو آنکھوں میں ہونی چاہیئے۔اس تعلیم نے پھر ہمیں بے پردہ کر دیا۔یہ بات تو چلو ترقی کی ہوئی طالب علموں کی ہوئی ۔

    مخلوط تعلیم سے ہوتے ہوئے پھر فیشن کی طرف سفر ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔اب امتحانات کی کیا صورت حال ہے ؟؟؟یونیورسٹی میں سمسٹر سسٹم نے تعلیم کے معیار کو بلکل پسے پشت ڈال دیا ہے۔آج کل ڈگری حاصل کرنا مشکل کام کہاں۔۔؟؟؟؟آج کل تو پیسے سے تعلیم حاصل ہوتی ہے ۔اور اُس سے بھی مزے کی بات محنت بھی نہیں کرنی پڑتی پیسہ دو اور ڈگری آپ کے ہاتھ میں ہے۔

    ارے واہ سچ میں ترقی کا دور ہے۔یونیورسٹی میں داخلہ لو کلاس بیشک اٹینڈ نا کرو چونکہ بڑے اونچے خاندان پیسے والے بڑے عہدے دار کے بیٹے ہو / بیٹی ہو ۔کوئی مسلہ نہیں نمبر لگ جائیں گے استاد سے سلام دعا اچھی ہے فکر نا کرو نمبر لگ جائیں گے ۔نمبر تو استاد کے ہاتھ میں ہے تھوڑی بہت چاہ پلوسی کرو نمبر لگ جائیں گے۔

    ارے ٹھہریئے ….
    روکیے ۔۔۔
    ذرا سوچیے ۔۔۔
    وہ غریب کا بچہ جس نے دِن رات محنت کی ہاں لیکن نا تو پیسہ اُس کے پاس نا سفارش نا بڑا عہدہ رکھنے والا اُس کے خاندان میں سے کوئی ۔۔۔

    شاید وہ حالات بھی بیان نا کر سکتا ہو۔اُسے کوئی پوچھنے والا نہیں ہو گا اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ اس کی جگہ کسی مالدار بیٹے کو دے دی جاتی ہے وہ داخلہ بھی نہیں لے سکتا۔
    میرا سوال ہے
    یونیورسٹی میں یہ صورت حال ہے تو اعلیٰ تعلیم کہاں ؟؟؟
    ملک ترقی کیسے کرے گا؟؟؟
    جس کی بنیاد ہی غلط رکھی گئی ہے وہ کیسے عمارت کو قائم رکھ سکتا ہے ؟؟؟؟

    سفارشی نظام ملکی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ۔۔

    میرے خیال میں سفارشی نظام نے ہمارے معاشرے کو کمزور کر دیا ہم آگے جانے کی بجائے پیچھے سفر کر رہے ہیں۔
    جب حکومت نا اہل لوگوں کے سپرد کر دی جائے تو پھر ترقی کی خواہش ہمیں دل سے نکال دینی چاہیے ۔

    اور ہمارے معاشرے میں تو یہ سب بہت عروج پر ہے یعنی ہم اعلیٰ تعلیم کے نام پر خود کو دھوکہ دے رہے ہیں۔
    یاد رکھیے ۔۔۔
    یہ سسٹم ہمیں خود بدلنا ہو گا ورنہ آنے والا دور جیسا بھی ہوا اس کے ذمےدار ہم خود ہوں گے۔

    اب اگر یونیورسٹی کے سٹاف کی بات کی جائے تو سونے پے سہاگا۔۔۔
    کسی عام بندے کی طرف تو توجہ دینا محال ہے ہر چھوٹے سے چھوٹے کام کے لیے سفارش کی ضرورت ہے۔
    حتٰی کہ کسی فورم پر مہر لگانی ہے تب بھی سفارش کی ضرورت ہے۔
    آخر کیوں ؟؟؟

    کسی غریب کا کب احترام کرتی ہے ، یہ دنیا لباس دیکھ کر سلام کرتی ہے

    کیا جس کام کے لیے آپ کو ملازمت دی ہے کیا اُس میں کوئی شق ایسی بھی تھی جس میں لکھا ہو کہ ہر کام کے لیے آپ کو سفارش لانا لازمی قرار دیا گیا ہے

    اگر ایسا نہیں ہے تو ایسا کرتے کیوں ہیں ۔۔
    یاد رکھیے کسی غریب کا حق کھانے سے ڈرو ۔۔
    رشوت سے ڈرو ۔
    خدا کا خوف کرو۔
    قبر کے عذاب سے ڈرو۔

    یاد رکھنا ۔۔۔
    یہ بڑے بڑے عہدے قیامت کے دن کام نہیں آئیں گے۔وہاں تو صرف اور صرف ہمارے عمل کا حساب ہو گا۔

    پھر جو اب کر رہیں ہیں کیا اللہ کے حضور حاضر ہونے کے قابل ہے ؟؟
    خدارا صرف وہ کریں جس کے آپ اہل ہیں دوسروں کا حق چھین لینے والوں سے جلد حساب لیا جائیں گا
    اگر ملک کو ترقی دینا چاہتے ہیں تو پہلے اپنے کردار کو ترقی دیں۔۔

    تحریر از ساجدہ بٹ

  • کیا سندھ کا کوئی والی وارث ہے؟؟؟  تحریر:  حجاب رندھاوا

    کیا سندھ کا کوئی والی وارث ہے؟؟؟ تحریر: حجاب رندھاوا

    لیاقت قائمخانی کی پوری دولت ابھی سامنے آنے میں کچھ دن لگے گے لیکن 20 گریڈ کے افسر کا محل نما گھر اور گھر سے 10 ارب روپے مالیت کی جائدادوں کی فائلیں، گاڑیاں، زیور، بانڈ، کرنسی ملنا لمحہ فکریہ ہے

    لیاقت قائمخانی جس نے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے عہدے سے ملازمت کا آغاز کیا اور اس نے آخری تنخواہ سوا لاکھ روپے وصول کی تھی اس کا محل نما گھر؟؟ ؟
    سوا لاکھ تنخواہ میں؟
    اور گھر سے دس ارب مالیت کی اشیاء کی برآمدگی؟؟؟ ؟

    کیا سندھ میں اس طرح جنگل کا قانون تھا کہ جو چاہتا لوٹتا رہا
    لیاقت قائم خانی نے کراچی کے باغات کی بحالی۔اور تزئین و آرائش کے نام پر لوٹ مار کی جس کی تفصیلات منظر عام پر آ رہی ہیں ۔
    لیاقت قائمخانی نے 20 سالوں میں کراچی کے 71 پارکس کو صرف کاغذات میں بنایا اور سابق ڈی جی پارکس نے ایک ارب سے زائد روپے ہڑپ کر لیے

    مئیرکراچی کے مشیر لیاقت قائم خانی 2012 میں شہید بے نظیر بھٹو پارک کے نام پر قومی خزانے کو 24کروڑ کا چونا لگا چکے ہیں۔

    شہید بے نظیر بھٹو پارک میں لوٹ مار پر لیاقت قائم خانی پر اینٹی کرپشن نے مقدمہ بھی درج کیا تھا۔

    سابق گورنر اور پیپلزپارٹی کی اعلی قیادت کے دباؤ پر لیاقت قائم خانی پردرج مقدمات کو سرد خانے کی نظرکر دیا گیا۔

    لیاقت قائم خانی نے باغ ابن قاسم کی طرح شہید بے نظیر بھٹو پارک میں بھی جعلی کام کرائے۔
    لیاقت قائم خانی کراچی کے باغات پر بھالو مٹی کے بجائے سمندری مٹی ڈالتا تھا۔ لیاقت قائم خانی نے صرف شہید بے نظیر بھٹو پارک پر ایک کروڑ کے جعلی درخت اور پودے لگائے

    کے ایم سی محکمہ باغات کے 14ملازمین لیاقت کے گھر پر اور 7 ملازم اہم شخصیات کے گھروں پر کام کرتے تھے۔

    باتھ آئی لینڈ کلفٹن میں لیاقت علی نے گلشن فیصل پارک کے نام پر 40 لاکھ ہڑپ کئے۔۔

    لیاقت قائم خانی کے گھر سے برآمد ہونے والی گاڑیوں جائیداد کی دستاویزات پرائز بانڈز سونے ہیرے اور قیمتی ساز و سامان کی مالیت کا اندازہ 3 ارب روپے سے اوپر ہے جبکہ ملزم سے ایک لاکر مزید کھلوایا جانا باقی ہے۔ ملزم کی دیگر جائیدادوں کی تفصیلات بھی حاصل کی جارہی ہیں۔

    لیاقت قایم خانی کے قریبی افسران میں سابق ڈی جی پارک طاہر درانی ایڈیشنل ڈائریکٹر اخلاق بیگ شامل تھے۔ آزاد نامی افسر اور ایڈیشنل ڈائریکٹر خورشید بھی لیاقت خانی کے قریبی افسرتھے۔جو اس کے کرپشن پارٹنر تھے

    لیاقت قائمخانی نے پارکس میں جعلی کام کرانے کے لیے جعلی کمپنیاں بنائی ہوئی تھیں، جعلی کمپنیوں کے نام پر فنڈز ریلیز کئے جاتے تھے جس سے کسی کو کوئی حصہ نہیں دیا جاتا تھا

    نیب ذرائع کے مطابق لیاقت قائم کی کرپشن کے سیاسی حصے داروں میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم دونوں کی اہم شخصیات شامل ہیں۔

    لیاقت قائم خانی کے گھر سے برامد ہونے والی گاڑیاں اس نے ٹھیکدار کمپنی فیضان اینڈکو کے مالک چوہدری فیاض، ٹھیکیدار سلیم بھیا، مصطفی ٹھیکیدار سے لیں۔ لیاقت قائم خانی اہم شخصیات کی گاڑیوں کی مرمت بھی کےایم سی کے فنڈز سے کرا کر دیتے تھے

    ذرائع کا کہنا ہے کہ لیاقت قائمخانی 2007 سے غیر قانونی طور پر کے ایم سی کے مشیر باغات تھے، گریڈ 21 میں ریٹائرمنٹ کے بعد کے ایم سی سے ایک لاکھ روپے پینشن بھی وصول کرتے تھے
    کراچی میونسپل کارپوریشن میں انیس سو اناسی میں بھرتی ہونے والے لیاقت علی قائم خانی کے ایم سی کے بااثر ترین افسر کیسے بنے یہ اب کوئی معمہ نہیں رہا
    اس کو بنانے میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کی سیاسی شخصیات کا ہاتھ ہے

    لیاری کے علاقے گٹر باغیچہ کے رہائشی لیاقت علی قائم خانی نے انیس سو اناسی کے ایم سی میں گریڈ سولہ میں بطور اسسٹنٹ ڈائریکٹر شمولیت اختیار کی اور اس وقت کے میئر کراچی عبدل ستار افغانی ماتحت محکمہ باغات میں بطور ہارٹیکلچرسٹ اپنے کیریئر کا آغاز کیا ، تینتیس سالہ سروس کابیشتر حصہ محکمہ باغات میں گزارا اور پی ای سی ایچ ایس میں قیمتی بنگلے کے مالک بن گئے۔

    سن دو ہزار پانچ میں نئے بلدیاتی نظام کے وجود میں آنے کے بعد لیاقت علی قائم خانی نے حیرت انگیز طور تیزی کے ساتھ ترقی کی ۔
    سابق ناظم کراچی مصطفی کمال کے دور میں گریڈ اٹھارہ کے ڈائریکٹر لیاقت علی قائم خانی کے لئے ڈی جی پارکس کی پوسٹ بنائی گئی اور انہیں کراچی میں باغات اور کھیلوں کے میدانوں کی بحالی کے حوالے سے سیاہ سفید کا مالک بنا دیا گیا

    باغ ابن قاسم کی بحالی کے بعد لیاقت علی قائم خانی سابق گورنر سندھ عشرت العباد اور مصطفیٰ کمال کے سب سے قریبی افسر سمجھے جانے لگے۔

    سن دو ہزار دس میں بلدیاتی نظام تو لپیٹ دیا گیا لیکن لیاقت علی قائم خانی اپنے عہدے پر براجمان رہے اور پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت کے قرب حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہو گئے۔

    بتایا جاتا ہے کہ بوٹ بیسن پارک کی تعمیر نو کے لئے وفاق سے آنے والا تمام فنڈ حکومت سندھ کے بجائے براہ راست لیاقت علی خان کو دیا گیا ، اعتماد اور قربت کا یہ عالم تھا کہ دو ہزار آٹھ میں سابق صدر آصف علی زرداری نے لیاقت علی قائم خانی کو تمغہ امتیازعطا کیا گیا اور پھر دو ہزار گیارہ میں ستارہ امتیاز سے نوازا گیا ۔

    اپریل دو ہزار گیارہ میں لیاقت علی قائم خانی گریڈ بیس سے ریٹائرڈ تو ہو گئے لیکن اس وقت کے ایڈمینسٹریٹر کراچی لالہ فضل الرحمن نے انہیں تین سال کی توسیع دے دی جو اگلے ہی سال یعنی دو ہزار بارہ میں سپریم کورٹ کے حکم پر کالعدم قرار دے دی گئی ۔

    دو ہزار سولہ میں جیسے ہی بلدیاتی حکومت وجود میں آئی تو موجودہ میئر کراچی وسیم اختر نے لیاقت علی قائمخانی کو بطور مشیر باغات ایک بار پھر محکمہ باغات کے سیاہ و سفید کا مالک بنادیا
    اج لیاقت قائم خانی نیب حراست میں ہے جبکہ مئیر کراچی وسیم اختر دوبئ جا چکا ہے
    نیب ذرائع کے مطابق میئر کراچی کے مشیر لیاقت قائمخانی کے خلاف تین مزید ریفرنسز بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، لیاقت قائمخانی پر آمدن سے زائد اثاثے بنانے اور کرپشن اور جعلی دستاویزات کے ریفرنس بھی دائر ہوں گے
    حجاب رندھاوا

  • مسجد نبوی میں شاہ محمود قریشی کی کشمیری نوجوان سے گفتگو ، تسلی دیتے ہوئے کہا کہ  کشمیر جلد آزاد ہوگا

    مسجد نبوی میں شاہ محمود قریشی کی کشمیری نوجوان سے گفتگو ، تسلی دیتے ہوئے کہا کہ کشمیر جلد آزاد ہوگا

    مدینہ منورہ: پاکستان کی موجودہ حکومت مقبوضہ کشمیرکے باسیوں کے دل آواز بن گئی ، اطلاعات کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو دیکھ کر کشمیر مسلمان اُن کے پاس آیا اور اپنی پریشانی بیان کی کہ پلوامہ میں والدین سے کوئی رابطہ نہیں ہورہا۔شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کا بچہ بچہ کشمیریوں کے ساتھ ہے، کشمیر جلد آزاد ہوگا‘۔

    مقبوضہ کشمیر میں‌ہونے والے مظالم سے پردہ اٹھاتے ہوئے مسجد نبوی ﷺ کے صحن میں کشمیری مسلمان نے بتایا کہ کشمیر میں ہمارے بہن بھائیوں پر ظلم ڈھائے جا رہے ہیں۔

    شاہ محمود قریشی نے نوجوان کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ ’’وزیر اعظم عمران خان اقوام متحدہ جارہے ہیں جہاں کشمیریوں اور کشمیر کا مقدمہ نہ صرف عالمی دنیا کے سامنے پیش کیا جائے گا بلکہ ہم اس مقدمے کو اچھے سے لڑیں گے، دعا ہے کہ کشمیریوں کو جلد آزادی ملے، پاکستان ہمیشہ کشمیریوں کے ساتھ کھڑا ہے‘‘۔

    وزیراعظم پاکستان دو روزہ دورے پر اپنی اہلیہ اور پاکستانی وفد کے ہمراہ سعودی عرب پہنچے جہاں انہوں نے عمرہ ادائیگی، روضہ رسول پر حاضری دی اور سعودی حکمرانوں سے بھی خصوصی ملاقاتیں کیں، سعودی عرب سے عمران خان امریکا روانہ ہوگئے ہیں‌۔

  • خداداد صلاحیت………….. ازجواد سعید

    خداداد صلاحیت………….. ازجواد سعید

    ایک بالغ مرد/عورت ایک بچے سے چار کامیاب عادتیں سیکهہ سکتے هے.
    پہلی. بغیر وجہ کہ خوش رہنا.
    دوسری. کسی نہ کسی چیز میں ہر وقت مصروف رہنا.
    تیسری. سیکهنے (کاپی کرنے) کی ہردم کوشش کرنا.
    چوتھی. جس چیز کی خواہش ہو اسے پوری قوت سے طلب کرنا.

    شارٹ کٹ راستہ جو کہ آپکو رفعتوں تک پہنچا سکتا هے ان طفلی عادات سے ہی ممکن هے.
    کیونکہ ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا هے .اور انکی عادات ایک خدائیہ تحفہ ہوتی ہیں.
    خداداد_صلاحیات) نامی لفظ تو اکثر سنتے ہی ہونگے .
    اصل میں یہ وہ عادات ہیں جو ہمارے پیدا ہونے سے اب تک ہمارے ساتهہ جڑی ہیں.اور جو رہ گئیں وہ ہماری کمزوریاں کہلاتی هیں.
    آپ نے اکثر بچوں کو دیکها تو ہو گا!
    ننهے بچے جب چلنا سیکهتے ہیں تو سینکڑوں بار رینگتے ہیں .کهڑا ہونے کی کوشش کرتے ہیں .بار بار گرتے ہیں.اور پهر اٹهہ کر چلنے لگتے ہیں.
    بعض اوقات دهڑام سے سر کے بل بهی گر جاتے ہیں روتے ہیں.لیکن پهر بهی باز نہی آتے.
    اور پهر ایک وقت آتا هے وہ کهڑا ہو کر چلنا اور چلنے سے دوڑنا یہ سب مراحل بخوبی سیکهہ جاتے ہیں.
    ان سب کے باوجود کبهی آپ نے انسے سنا ہو.
    ہزار بار کوشش کی لیکن کامیابی بے سود.
    بس جی بس.اب اور نہی ہوتا مجهہ سے؟..(کبهی نہی)

    اب دوسرا_رخ دیکهئیے.!
    اب یہی بچہ بڑا ہو کر اپنی صلاحیت قوت اعتمادی اور جهد مسلسل. کو بهول جاتا هے.
    اور پهر اسی وجوہات سے ناشکری. شکوے. احساس کمتری. جیسی کئ وباوں کا شکار ہو جاتا هے.
    اگر وہی بچہ اپنی تعمیری کردار میں یہ عادت نہیں بهولتا تو معآشرہ اسے ایک کامیاب پرسن کے نام سے بلاتا…

    مشہور حکایت هے.ایک آدمی نے سقراط سے پوچها.
    کامیابی کا اصل راز کیا هے.
    سقراط نے قریبی ندی میں اسے دهکا دے دیا.
    وہ بیچارہ ہاتهہ پاوں مارنے لگا آخر کار باہر نکل ہی گیا.
    اسنے سقراط سے پوچها .مجهے دهکا کیوں دیا.؟؟
    سقراط بولا جب تم پانی کے اندر تهے تمہیں سب سے زیادہ کس کی فکر تهی .کہنے لگا اپنی جان کی.
    سقراط کہنے لگا یہی کامیابی کا راز هے.جتنی ضرورت تمہیں کامیابی کی ہو گی اتنی ہی تم کوشش کرو گے .اور یہی کوشش کسی دن تمہیں کنارے پے لا کهڑا کر دے گی.

    اصل المیہ ہمارا یہ هے.ہم میں سے بہت لوگ اسلئیے اپنے آپ کو محنت میں نہی ڈالتے کیونکہ وہ اندیشوں میں جیتے ہیں.
    ایک بات ذہن نشین کر لیجئیے زندگی میں ہمیشہ آپکی محنت/رویہ.ہی آپکی رفعتوں کا فیصلہ کرتا هے.
    اور ہر لمحہ گویا لمحہ آغاز هے.you can do it.
    ابهی سے شروع کیجئیے اور بن جائیے خداداد صلاحیات کے مالک..

    تحریر از : جواد سعید

  • صحرا کا شیر…… از محمد ہارون

    صحرا کا شیر…… از محمد ہارون

    تخلیق ارض و سماء اور پھر تخلیق آدم علیہ السلام سے اب تک اس دنیا میں انسانوں کی آمد و رفت کا سلسلہ جاری ہے. بہت سے لوگ آئے اور گئے جن کا تاریخ میں کوئی ذکر نہیں اور بہت سے لوگ ایسے آئے جن کے کارناموں کو درج کر کے مؤرخین نے اپنی تحریر کو چار چاند لگائے، وہ کسی قوم کے لیے بہترین رہنما تو کسی قوم کے لیے بدترین دشمن تھے.

    آج میں جس شخصیت کا ذکر کرنے جا رہا ہوں ان کو دنیائے تاریخ میں اہم مقام حاصل ہے وہ ایک قوم کے بہترین رہنما، سپہ سالار اور ایک تاریخ ساز جنگجو تھے اور دوسری طرف وہ ایک دوسری قوم کے لیے بد ترین دشمن تھے جس نے ان کے ناک میں دم کر رکھا تھا.

    کسی کو کیا معلوم تھا کہ 20 اگست 1858ء کو پیدا ہونے والا یہ شخص ایک تاریخ رقم کر جائے گا. میری مراد لیبیا کی تحریک آزادی کے مشہور رہنما اور نڈر جنگجو عمر المختار ہیں.

    عمر المختار 1858ء میں لیبیا (جو کہ اس وقت خلافت عثمانیہ کے ماتحت تھا) کے ایک گاؤں جنزور میں پیدا ہوئے. کم عمری میں ہی ان کے والد انتقال کر گئے اور انہوں نے اپنا بچپن غریبی میں گزارا. ابتدائی تعلیم مسجد سے حاصل کی اور جلد ہی قرآن کی تعلیم کے ماہر ہو گئے اور اپنے علاقے میں امام کے نام سے پکارے جانے لگے.

    یہ اکتوبر 1911ء کی بات ہے جب ترکی اور اٹلی کے درمیان جنگ کے دوران اطالوی فوج کے بحری جہاز لیبیا کے ساحلوں پر آ پہنچے اور اطالوی بیڑے کے سربراہ فارافیلی نے خلافت عثمانیہ اور لیبیا کے لوگوں سے یہ مطالبہ کیا کہ وہ اس علاقے کو اٹلی کی تحویل میں دے دیں اور خود اس علاقے کی ملکیت سے دستبردار ہو جائیں ورنہ وہ لیبیا کے دو اہم شہروں تریپولی(طرابلس) اور بنغازي پر حملہ کر دیں گے.

    وہاں کے لوگوں نے اطالوی فوجوں کے مطالبے کو نظر انداز کرتے ہوئے اندرون ملک جا کر ان کے خلاف مزاحمت شروع کر دی جس کے بعد اطالوی فوجوں نے مذکورہ دونو‍ں شہروں پر بمباری شروع کر دی جو کہ تین دن تک جاری رہی "کہا جاتا ہے کہ یہ اطالوی فوجوں اور مزاحمتی جماعتوں کے مابین جنگ کی شروعات تھی.”

    عمر مختار جو کہ معلم قرآن ہونے کے ساتھ ساتھ لیبیا کے جغرافیہ سے بخوبی آگاہ تھے اور صحرا میں جنگ لڑنے کی حکمت عملیوں سے بھی خوب واقف تھے، انہوں نے گوریلا حملوں کی تکنیک کو اپناتے ہوئے اطالوی فوجوں پر حملے شروع کر دیے. وہ چھوٹی چھوٹی ٹکریوں میں بٹ کر حملہ کرتے اور فوجی چوکیوں، رسد گاہوں اور فوجی قافلوں کو نشانہ بناتے. اطالوی چونکہ بیرونی طاقت تھے اور وہاں کے جغرافیہ سے اتنی واقفیت نہیں رکھتے تھے لہذا ہر گوریلا حملے نے انہیں گہرے زخم پہنچائے.

    ابھی یہ جنگ جاری تھی کہ اٹلی میں موسولینی کی جماعت انقلاب کا نعرہ لگا کر برسر اقتدار آ گئی. موسولینی نے بھی آتے ہی عمر مختار کی فوج کو روکنے اور لیبیا پر اپنا تسلط جمانے کی کوشش شروع کر دی.

    عمر مختار کی تحریک کو کمزور کرنے کے لیے اطالوی فوج نے مردوں، عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کو قید کرنا شروع کر دیا ایک اندازے کے مطابق 1 لاکھ 25 ہزار لوگوں کو قید کیا گیا جس میں سے دو تہائی شہید ہو گئے. اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو قید کرنے کے باوجود عمر مختار کی یہ تحریک آزادی کمزور نہ پڑی اور اطالوی فوج کی ساری چالیں دھری کی دھری رہ گئیں.

    عمر مختار کی بیس سالہ جدوجہد اس وقت اختتام کو پہنچی جب وہ ایک حملے میں زخمی ہو کر اطالوی فوج کے ہاتھوں گرفتار ہو گئے. قید کے دوران ان پر خوب تشدد کیا گیا. ان پر تشدد کرنے والے فوجیوں نے بعد ازاں بتایا کہ جب ان پر تشدد کیا جاتا اور ان سے تفتیش کی جاتی تو وہ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر قرآن مجید کی آیتیں پڑھتے.

    ان پر اٹلی کی قائم کردہ ایک فوجی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا اور ان کو پھانسی کی سزا سنائی گئی.دانشور آج بھی ان پر چلائے جانے والے مقدمے اور عدالتی غیر جانبداری کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں.ان سے جب آخری خواہش پوچھی گئی تو انہوں نے ” انا للہ و انا الیہ راجعون” پڑھا.انہیں 16 ستمبر 1931ء کر سر عام پھانسی دی گئی کیونکہ عدالت کا حکم تھا کہ انہیں ان کے پیروکاروں کے سامنے سر عام پھانسی دی جائے.

    "جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا، وہ شان سلامت رہتی ہے””یہ جان تو آنی جانی ہے، اس جاں کی تو کوئی بات نہیں”

    معلوماتی ویب سائٹ وکی پیڈیا کے مطابق:آج کل ان کی شکل لیبیا کے 10 دینار کے نوٹ پر چھپی ہوئی ہے جبکہ دنیا کی سب سے بڑی فلمی صنعت ہالی ووڈ نے 1981ء میں ان کی زندگی پر ایک فلم”The Lion of Desert” یعنی "صحرا کا شیر” بنائی۔ اس فلم کے ڈائریکٹر مصطفٰی العقاد تھے۔ فلم میں عمر مختار کا کردار انتھونی کوئن نے ادا کیا۔

    یہ ہے وہ کہانی جو کہ وکی پیڈیا اور اس جیسی دیگر معلوماتی ویب سائٹس کی فراہم کردہ معلومات پر مشتمل ہے. اب ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ عمر مختار جیسے مجاہد کی زندگی سے ہمیں کیا درس ملتا ہے؟ اگر ہم عمر مختار کی زندگی کا بغور مطالعہ کریں تو ان کی زندگی ہمیں بہادری، شجاعت، مسلسل جدوجہد اور ہمت و حوصلے کا درس دیتی ہے.

    حالات چاہے جیسے بھی ہوں، دشمن چاہے کتنا بھی طاقتور کیوں نہ ہو لیکن ہر حال میں اللہ پر توکل، وطن عزیز کی حفاظت، اپنی قوم کی آزادی کا جذبہ اور فہم و فراست، یہ تمام چیزیں وہ ہیں جو ایک سادہ لوح انسان کو بھی شیر جیسا طاقتور بنا دیتی ہیں پھر وہ اللہ پر توکل کر کے اپنی قوت ایمانی کو بروئے کار لا کر اپنے فہم سے منصوبہ بندی کر کے دشمن سے ٹکرا جاتا ہے اور اسے نیست و نابود کر دیتا ہے.

    ایسے ہی لوگوں کو تاریخ یاد رکھتی ہے اور ایسے ہی لوگ دیگر قوموں کے لیے مثالیں چھوڑ جاتے ہیں پھر 63 سال بعد 1994ء میں پیدا ہونے والے برہان وانی بھی ایسے ہی لوگوں کی زندگی کو مشعلِ راہ بنا کر دشمن سے ٹکراتے ہیں اور 2016ء میں جامِ شہادت نوش کر جاتے ہیں.

    آج بھی کشمیر کے لوگ اپنی آزادی کے لیے جدوجہد کرتے ہوئے اس راہ میں آنے والی تمام مصیبتوں کا سامنا بڑی دلیری سے کر رہے ہیں اب وہ وقت دور نہیں جب مظلوموں کی آہ سنی جائے گی، جب آسمان سے کشمیریوں کے حق میں فیصلے اتریں گے، جب ظالم سے اس کے ہر ظلم کا حساب لیا جائے گا، جب کشمیر کے لوگ کھلی ہوا میں سانس لے سکیں گے، جب آنے والی نسلوں کے بچے اپنے خوبصورت بچپن کو اپنے دوستوں کے ساتھ بنا کسی ڈر کے گزار سکیں گے،

    جب بیٹے کے باہر جانے پر ماں کو یہ ڈر نہیں ہو گا کہ پتہ نہیں میرا بیٹا زندہ واپس لوٹ کر آئے گا یا نہیں یا کسی جرم میں قید تو نہیں کر لیا جائے گا، اب وہ وقت دور نہیں جب کشمیر کی ہر مسجد سے اللہ اکبر کی صدائیں بلند ہوں گی، جب کشمیر میں سکون ہو گا، جب کشمیر تعلیم و ترقی کے میدان میں اپنا سفر شروع کرے گا اور اب وہ وقت دور نہیں جب ہندؤں کا ظلم ان کو لے بیٹھے گا اور وہ تاریخ کا صرف ایک سیاہ باب بن کر رہ جائیں گے.

    اے خاک نشینو اٹھ بیٹھو، وہ وقت قریب آ پہنچا ہے
    جب تخت گرائے جائیں گے، جب تاج اچھالے جائیں گے

    اب ٹوٹ گریں گی زنجیریں، اب زندانوں کی خیر نہیں
    جو دریا جھوم کے اٹھے ہیں تنکوں سے نہ ٹالے جائیں گے
    (فیض احمد فیض)

    تحریر : محمد ہارون