Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ” روح کی غذا۔۔۔۔”    جویریہ چوہدری

    ” روح کی غذا۔۔۔۔” جویریہ چوہدری

    جس طرح ایک جسم کو صحتمند رکھنے کے لیئے اچھی اور معیاری خوراک کی ضرورت ہوتی ہے۔۔۔۔
    اسی طرح روح کی قوت اور توانائی کے لیئے بھی معیاری اعمال کی ضرورت ہوتی ہے۔۔۔۔ !!!!!

    جب ہم اپنے دل کی دنیا میں بغاوت،نافرمانی اور اللّٰہ تعالی کی ناراضگی والے کاموں کی تخم ریزی شروع کر دیتے ہیں۔۔۔۔
    تو آہستہ آہستہ یہ بد عملی سیاہی بن کر ہمارے دل کو ڈھانپ لیتی ہے۔۔۔۔
    اس روح کی تسکین کا پہلا مرحلہ تو اپنے خالق کی صحیح معنوں میں پہچان ہے۔۔۔۔
    اس کی توحید ربوبیت،الوہیت،اور اسما وصفات پر صحیح معنوں میں ایمان ہے۔۔۔
    جب ہم اس چیز کو سمجھ کر اپنا لیتے ہیں۔۔۔۔تو پھر ہمارے قدم ٹیڑھے نہیں ہو سکتے۔۔۔۔
    ہماری روح سرشار رہتی ہے۔۔۔۔۔
    تنگ نہیں ہوتی۔۔۔۔فرمانبرداری ہماری زندگی کا لازمی حصہ بن جاتی ہے۔۔۔۔
    روح کے کمزور ہونے کی وجہ قضا و قدر پر راضی نہ ہونا ہے۔۔۔۔
    یعنی جب ہم اللّٰہ تعالی کی حکمت،فیصلوں پر کھلے دل سے اطمینان ظاہر نہیں کرتے۔۔۔۔
    شکوہ و شکایت زبان پر لاتے ہیں۔۔۔
    مقدر کو کوستے ہیں۔۔۔تو پھر یہ روح توانا نہیں رہتی۔۔۔۔۔قوتِ ایمانی کمزور پڑ جاتی ہے۔۔۔۔
    اور انسان رفعتوں سےگہرائی کی طرف سفر کرنے لگتا ہے۔۔۔۔ !!!!!

    یہ دنیا چند دنوں کی ہے۔۔۔یہاں ملنے والی کوئی چیز،اور نعمت بھی پائدار نہیں ہے۔۔۔۔
    ہر شئے کا یہاں خاصہ جدائی ہے۔۔۔۔!!!!!!
    تو پھر ہم کیوں اس تھوڑے سے وقت کے لیئے نہ ختم ہونے والے وقت کو برباد کر دیں۔۔۔۔!!!!!!!!

    اللّٰہ کے ذکر اور یاد سے اعراض بھی ہماری روح کو کمزور کر دیتا ہے۔۔۔۔۔رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:

    "اس شخص کی مثال جو اپنے رب کا ذکر کرتا ہے،اور اس شخص کی مثال جو اپنے رب کا ذکر نہیں کرتا۔۔۔۔زندہ اور مردہ شخص کی طرح ہے۔۔۔”
    (صحیح بخاری)۔

    یعنی ہماری روحانی طاقت کے لیئے اللّٰہ کا ذکر کتنی اہمیت رکھتا ہے کہ اسے زندہ اور مردہ سے تشبیہہ دی گئی ہے۔۔۔۔

    ارشاد ربانی ہے:
    "اور(ہاں)جو میری یاد سے روگردانی کرے گا،اس کی زندگی تنگ رہے گی اور روز قیامت ہم اسے اندھا کر کے اٹھائیں گے۔۔۔”
    (طٰہٰ:124)

    پیارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو حکم ملا:
    اپنے پروردگار کی تعریف اور تسبیح بیان کرتا رہ۔۔۔۔سورج نکلنے سے پہلے،اور اس کے ڈوبنے سے پہلے،رات کے مختلف وقتوں میں بھی اور دن کے حصوں میں بھی تسبیح کرتا رہ۔۔۔۔بہت ممکن ہے کہ تو راضی ہو جائے۔۔۔”
    (طٰہٰ:130)۔

    اس اتنے اوقات کی تسبیح و تحمید میں نماز،تلاوت،ذکر واذکار،دعا و مناجات،نوافل وغیرہ سب شامل ہیں۔۔۔۔!!!!!!!

    مگر ہمارے پاس دن بھر سوشل میڈیا پر انگلیاں چلانے کا وقت تو بہت۔۔۔۔لیکن نماز کے اوقات کھو جانے کا ذرا غم نہیں ہوتا۔۔۔
    ٹیلی ویژن کی سکرین۔۔۔۔فلموں کی لذت۔۔۔۔لہو الحدیث میں مبتلا ہو کر۔۔۔۔حی علی الفلاح کی صدا پر نرم و ملائم بستر میں گھسے رہ کر۔۔۔
    دل میں ندامت کروٹ نہیں لیتی اور نماز اور دیگر فرائض کی فکر اور ضرورت سے لا تعلق رہ جاتے ہیں۔۔۔۔
    پھر روحانی بالیدگی کے اثرات ایسے شخص پر کیسے نمودار ہو سکتے ہیں۔۔۔؟؟؟؟
    ہماری روح تسکین کی دولت سے مالا مال کیسے ہو۔۔۔۔؟؟؟
    اللّٰہ کی رضا کی متلاشی اطمینان پانے والی روح بے مقصد زندگی نہیں گزارتی۔۔۔۔
    زندگی کے سفر میں گناہ سرزد ہو بھی جائیں تو سچے دل سے رجوع الی اللہ اور توبہ کرتی ہے۔۔۔۔

    توبہ کی امید پر گناہ نہیں۔۔۔کیونکہ ایمان والوں کی صفت بیان کرتے ہوئے فرمایا:
    "ان سے جب کوئی ناشائستہ کام ہو جائے،یا کوئی گناہ کر بیٹھیں تو فوراً اللّٰہ کا ذکر اور اپنے گناہوں کے لیئے استغفار کرتے ہیں۔۔۔
    فی الواقع اللّٰہ کے سوا اور کون گناہوں کو بخش سکتا ہے؟
    اور وہ لوگ باوجود علم کےکسی برے کام پر اَڑ نہیں جاتے۔۔۔”
    (آل عمران:135)۔
    سچی توبہ کر لینے والی کی روح شاد باد ہو جاتی۔۔۔۔یہ اللّٰہ کا وعدہ ہے کہ گناہوں کا اعادہ نہ کرنے والے سے پچھلے گناہوں کی بازپرس نہیں ہو گی۔۔۔۔
    رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "گناہ سے(سچی)توبہ کرنے والا ایسے ہی ہے،گویا اس کے ذمہ کوئی گناہ ہی نہیں۔۔۔”
    (ابن ماجہ_کتاب الزہد)۔

    مگر جو سود کو حرام سمجھتے ہوئے بھی اسی میں دھنسا جا رہا ہو۔۔۔۔
    جو شراب سے توبہ کر کے پھر پی رہا ہو۔۔۔۔
    جو فحاشی و بدکرداری کو گناہ سمجھتے ہوئے بھی اعادہ کرتا اور ترویج و اشاعت کرتا جا رہا ہو۔۔۔۔
    توبہ کر کے پھر توبہ کی امید پر گناہ کرتا چلا جائے۔۔۔
    تو اس کے پاس کیا گارنٹی ہو گی کہ وہ مرنے سے پہلے ضرور ہی توبہ کر لے گا۔۔۔۔؟؟؟؟
    موت کا شکنجہ اسے سنبھلنے بھی دے گا کہ نہیں۔۔۔۔۔؟؟؟؟
    دنیا کی لذتوں کی خاطر اپنے نفس کا تزکیہ نہ کرنا بہت بڑی محرومی ہے۔۔۔
    ارشاد ربانی ہے:
    "بے شک اس نے فلاح پا لی جو پاک ہو گیا۔۔۔جس نے اپنے رب کا نام یاد رکھا اور نماز پڑھتا رہا۔۔۔
    لیکن تم دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو۔۔۔اور آخرت بہت بہتر اور بقا والی ہے۔۔۔”
    (الاعلیٰ:14_17)۔
    اپنے دل کو شرک کی آلودگی،نافرمانی کے کاموں۔۔۔حسد،بغض،برائی،قطع رحمی،والدین سے بد سلوکی، ظلم و زیادتی اورحرام مال کی محبت سے پاک صاف کر لینے۔۔۔۔
    اپنے دل کی دنیا میں ایمان،توحید،اطاعتِ رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم،عملِ صالح،صلہ رحمی،تقویٰ اور قضا و قدر پر راضی برضا رہنے۔۔۔۔۔
    والوں کی روحیں اطمینان کے گھر میں داخل ہوں گی۔۔۔۔جسے علیین کہا گیا ہے کہ:
    یہ علو (بلندی)سے ہے جس میں نیک لوگوں کے نامۂ اعمال،اور روحیں رکھی جاتی ہیں۔۔۔جس کے پاس مقرب فرشتے حاضر رہتے ہیں۔۔۔۔
    جبکہ بدکرداروں کے نامۂ اعمال اور روحیں سجین میں رکھے جائیں گے۔۔۔۔
    سِجِّینِِ۔۔۔۔سجن سے ہے۔۔۔تنگ و تاریک مقام۔۔۔۔گھٹن والا ماحول۔۔۔قید خانہ نما۔۔۔۔۔ !!!!!!
    اطمینان والی روح۔۔۔۔۔ایمانی قوت سے آراستہ ہو کر جب پرواز بھرتی ہے تو اعلان ہوگا:
    "اے اطمینان والی روح !!!!
    تو اپنے رب کی طرف چل،اس طرح کہ تو اس سے راضی۔۔۔۔وہ تجھ سے خوش۔۔۔۔
    پس میرے خاص بندوں میں داخل ہو جا۔۔۔۔اور میری جنت میں چلی جا۔۔۔۔۔”
    (الفجر:27_30)۔
    اللھم اجعلنا منھم۔۔۔۔آمین ثم آمین۔۔۔!!!!!!!
    حافظ ابن کثیر نے ابن عساکر کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو یہ دعا پڑھنے کا حکم دیا:
    (اللھم انی اسأَلک نفساً،بک مطمئنۃً،تُؤمِنُ بلقآئک،و ترضیٰ بقضآئک،و تقنع بعطآئک)۔۔۔(ابن کثیر)۔۔۔۔ !!!!!
    اللّٰہ ہمیں جسمانی و روحانی طور پر طاقتور بنا دے۔۔۔۔
    کہ جس سے ٹکرا کر ہر شر پاش پاش ہو جائے۔۔۔۔آمین
    اور ہمیں اپنے مقربین میں سے کرنا۔۔۔۔۔ہماری روحیں اعلیٰ علیین میں جگہ پا سکیں۔۔۔۔آمین ثم آمین۔۔۔۔۔ !!!!!!!

  • بنو قریظہ کا خندق کی جنگ میں کردار اور موجودہ حالات     جواد سعید

    بنو قریظہ کا خندق کی جنگ میں کردار اور موجودہ حالات جواد سعید

    خندق کی جنگ بنو قریظہ کے بغیر کبھی بھی وجود میں نہ أتی

    یہ پوسٹ أج نظر سے گزری ۔
    جو کہ أجکل کے حالات میں کفار سے دوستی یا خود مختاری پر غیروں کی امداد۔ وحدہ لا شریک کی مدد سے بے اعتنای برتتی محسوس ہو رہی تھی۔اور شاید کہ مسلم ملک کے زیر اہتمام مودی کو ایوارڈ دینے پر کی جانیوالی تناقید کا جواب تھا۔

    اس نظریے کے رو سے دو تین پہلو نکالے جا سکتے اور تقریبا علاوہ ایک سب غلط ہیں۔
    1⃣پہلا پہلو کہ بنو قریظہ ک بغیر جنگ جیتنا ناممکن تھی
    تو اسکا جواب ہے بدر احد خیبر سبھی بغیر کفار کی مدد سے جیتے۔
    کیا اسوقت بنو قریظہ کا نام وجود قبیلہ نہیں تھا۔؟

    2⃣دوسرا پہلو کہ اس عمل کی رو کفار سے دوستی مصالحانہ معاہدہ کیا جا سکتا ہے۔
    ضرور کیا جا سکتا مگر صرف معاہدہ ۔اس میں بھی ایک حد ہے۔نبی صل اللہ علیہ وسلم نے دوستی نہیں ہمیشہ معاہدانہ رویہ رکھا۔جیسے ہی کسی معاہد نے مخالفت کی۔بجایے طرز دوستی اور بمطابق أج کے مسلمان
    کہ دوستی لگا کر انکی غلط پیش قدمیوں پر بھی انکے احسانات یاد کر کر کے نظر انداز کرنا۔
    ان پر چڑھای کر دی۔ بنو قریظہ کا تو مدینے سے نام ختم کر دیا۔نا کہ انھیں معاف کیا۔اور بعد والوں کیلیٕ تاکید فرمای کہ عرب سے یہود کا انخلا لازمی کرنا۔
    ٕ
    3⃣تیسرا پہلو کہ خندق کی جنگ بنو قریظہ کی مرہون منت ہے۔تو یاد رکھیے جنگ خندق معاملہ تدابیر بہت پہلے سے شروع تھیں
    بنو قریظہ سے معاہدہ تو ایک مصلحت بھرا معاہدہ تھا جسے دنیا تدبیر کے نام سے جانتی ہے۔ اور یہ جنگی تیاری کے أخری مراحل میں وقوع پذیر ہوا۔ مزید کہ اسکے ساتھ کٕی اور قبایل بھی تھے جن سے معاہدہ کیا گیا۔
    کیا انکا کوی نام مدد نہیں حالانکہ سب برابر شامل تھے؟

    4⃣أخر میں ایک پہلو کو ٹھیک کہا جاسکتا۔
    کہ بنو قریظہ ودیگر قبایل سے معاہدہ جنگ خندق کے مزید مشکل نہ ہونے کا سبب بنا

  • اور دشمن کو ہم نے کامیاب کردیا      فرحان_منہاج

    اور دشمن کو ہم نے کامیاب کردیا فرحان_منہاج

    آج سے دو دن پہلے تک پاکستان میں سوشل میڈیا پر کشمیر سہر فہرست تھا ہر شخص سیاسی، مسلکی و مذہبی وابستی سے بالاتر ہوکر کشمیر پر ہونے والے مظالم کو دنیا کے سامنے لارہا تھا ـ مودی کو ریاست کی جانب سے ہٹلر اور نازی ازم کا پیروکار کا بیانیہ عام ہورہا تھا ـ دنیا اس طرف متوجہ ہورہی تھی ـ پاکستان کے صحافیوں کی اکثریت کچھ لبرل ازم کے لبادے میں چھپے ناپاک لوگوں کے علاوہ کشمیر کا مقدمہ بڑے زور و شور سے بین الاقوامی سطح پر شد و مد سے لڑ رہے تھی ـ ایک موقع ایسا بھی آیا کہ بھارت کا جشن آزادی کا دن دنیا بھر میں یوم سیاہ بن کر ٹاپ رہا ـ
    لیکن پھر یہ ہوا کہ مودی کے پہلے سے متحدہ عرب امارات کے طے شدہ دورے میں ایک اعزاز دیا گیا جو کہ متحدہ عرب امارات کا اپنا طرز عمل تھا وہ اسکی اپنی خارجہ پالیسی تھی ـ مگر یہاں پاکستان میں ایک طوفان آیا ـ سوشل میڈیا پر رُخ ہی بدل گیا ہر طرف اسکی مذمت اس پر تحاریر کا نہ رکنے والا ایک سلسلہ شروع ہوگیا ـ یہ بات صرف یہاں تک نہ رہی بلکہ اس کو سیاسی رنگ مل گیا ـ عمران خان کی جانب سے متحدہ ارب امارات کے امیر کو گاڑی میں ساتھ وزیر اعظم ہاؤس تک لیجانے پر جملے کسے گئے پاکستان کو بھکاری سے تشبیہہ دی جانے لگی ـ صحافی، تجزیہ نگار، دانشور، عام آدمی اور سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ مجھ سمیت اس رنگ میں رنگ گئے ـ پھر مودی کا نوازشریف کے گھر شادی پر آنا بھی سوشل میڈیا پر زینت بنا ـ فلسطین کا مودی کے ساتھ کھڑا ہونا بھی سامنے آیا ـ اور پھر کامران خان کی جانب سے عرب ممالک کی جانب سے مودی کو سول اعزاز دینے پر ایک رائے سامنے آئی تو اس کو بتنگڑ بن گیا اور اس رائے کو عمران خان کے ساتھ ملاقات سے جوڑ کر ایک مہم شروع ہوگئی ـ جس کے مرکزی کردار انصار عباسی بنے ـ اس موقع پر کل وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا بیان آیا جس میں انہوں نے ایک ڈپلومیٹ کی طرح ڈپلومیٹک بیان دیا کہ متحدہ عرب امارات کشمیر ایشو میں ہمارے ساتھ ہے اسکے بھارت سے اپنے تعلقات ہیں اور ہم سے اپنے تو اس پر ہی شور مچ گیا اور ایک اور مہم شروع ہوگئی ـ اس سارے شور طوفان اور کشمکش میں کشمیر بہت دور رہ گیا ہے ـ
    حالانکہ ان ہی دنوں ایک ایسا واقعہ پیش آیا کہ جس کو بنیاد بنا کر ہم کشمیر کا ایشو بھرپور طریقے سے پیش کرسکتے تھے ـ بھارتی حکومت نے اپوزیشن کے لیڈر راہول گاندھی اور اس کے وفد کو کشمیر سری نگر پہنچنے پر واپس بھیج دیا اور سری نگر جانے نہیں دیا ـ جس پر ان کے ہاں میڈیا پر اور سنجیدہ حلقوِں میں بہت تشویش کا اظہار کیا گیا اور ادھر پاکستان میں ایک دوسرے کی ایسی کی تیسی مارنے پر سب کی پوری توجہ مرکوز تھی اور ہر کوئی ایک دوسرے کو نیچا دیکھانے میں نمبر لیجانے میں مصروف تھا
    دشمن اس پوری صورتحال کو یقیناً انجوائے کررہا ہوگا اور دیکھ رہا ہوگا پاکستان میں کشمیر پر ایک ہونے والا بیانیہ اب بکھر چکا ہے ـ میں نے دو دن میں جب سب کا تجزیہ کیا سب کا بغور جائزہ لیا اپنے لوگوں کا بیانیہ دیکھا تو جو میں آج سے دو دن پہلے خود کو جتنا طاقتور اور کشمیر سے جتنا مخلص سمجھ رہ تھا آج میں اتنا ہی خود کو کمزور اور کشمیر سے مخلص نہیں سمجھ رہا ـ
    میرے پاکستانیو! آؤ کشمیر کو مرنے نہ دیں، آؤ کشمیر کو زندہ رکھیں، ہم بعد میں آپس کے حساب چکتا کرلیں گے، آؤ جو قائل نہیں انہیں قائل کریں، آؤ دوبئی، بحرین، ابوظہبی، سعودی عرب جو بھی ملک ہے وہ ہندوستان کے ساتھ ہونگے مگر وہ میرا دل کہتا ہے کشمیر کے ساتھ کھڑے ہونگے ـ بس ہمیں ان کو بتانے سمجھانے اور دیکھانے کی ضرورت ہےـ کشمیری آج آزادی کی تمنا لیے سر پر کفن باندھے ظالم، جابر، متعصب دشمن کے سامنے کھڑا ہےـ ہم ان کی آواز، ہم انکا حوصلہ، ہم اسکی استقامت ہیں ـ میرے پاکستانیوں انکی آواز، انکی استقامت اور انکے حوصلے کو بکھرنے نہ دو ـ آؤ کشمیر کو زندہ رہنے دیں آپنی آواز میں، اپنی تحریر میں، اپنی تقریر میں آؤ اپس میں پھر ایک ہوکر کشمیر کشمیر کا ورد کریں ـ

    نامہ.نگار روزنامہ جرات ـ ( کراچی )
    بلاگر ـ سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ

  • صفر جمع صفر برابر صفر اور قومی مفاد‌……..ذیشان وارث

    صفر جمع صفر برابر صفر اور قومی مفاد‌……..ذیشان وارث

    انیس سو چھپن میں اپنی معیشت کو سہارا دینے کیلئے مصر کے صدر جمال عبدالناصر نے نہر سوئز کو نیشنلائز کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ نہر اس وقت برطانوی اور فرنچ کمپنیوں کی ملکیت میں تھی۔ اس وقت دنیا میں دو گروہ بن گئے ایک وہ جو مصر کی حمایت کر رہا تھا اور دوسرا برطانیہ کہی۔ آپکو پتہ ہے کہ پاکستان کا نمائندہ وفد اس وقت برطانیہ کی بلائی گئی سوئز کانفرنس میں موجود تھا۔
    اسکی وجہ یہ تھی کہ ہمیں اسلحہ اور پیسہ امریکہ اور اسکے اتحادیوں سے مل رہا تھا تو ہم نے اپنے "قومی مفاد” میں مصر کے بجائے برطانیہ کا ساتھ دیا۔ اس وقت کے وزیراعظم حسین شہید سہروردی سے جب پوچھا گیا کہ مسلمان ملک کے بجائے آپ نے برطانیہ کو کیوں سپورٹ کیا تو انہوں نے کہا کہ مسلم ممالک سے اتحاد کا ہمیں کیا فائدہ ہوگا؟ یہ تو صفر جمع صفر برابر صفر والی بات ہے۔ جمال عبد الناصر نے جیتے پھر مسئلہ کشمیر پر انڈیا کی ہی حمایت کی۔

    اسی طرح جب پاکستان نے جب امریکہ کے کہنے پر معاہدہ بغداد جسے سینٹو بھی کہا جاتا ہے میں شمولیت اختیار کی تو عرب ممالک بہت ناراض ہوئے۔ مگر پاکستان نے عربوں کے احتجاج کو نظر انداز کر دیا کیونکہ ہمارا "قومی مفاد” معاہدہ بغداد میں پوشیدہ تھا۔ سعودی عرب نے اس کے بعد نہرو کو دورے کی دعوت دی۔ جب نہرو سودی عرب پہنچے تو وہاں "مرحبا یا یا رسول السلام” کے بینر لگائے گئے جس پر پاکستان میں "غم و غصے” کی لہر دوڑ گئی۔

    نائن الیون کے بعد جب بقول غامدی صاحب امریکہ نے جہاد کرنے کیلئے افغانستان پر حملہ کیا تو پاکستان نے امریکہ کی تمام کی تمام شرائط مانتے ہوئے امریکہ کا ساتھ دیا کیونکہ ہمارا "قومی مفاد” اسی میں تھا۔ مشرف نے سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ لگایا اور افغانی سفیر کو برہنہ حالت میں باندھ کر امریکہ کے حوالے کیا۔

    عربوں کی بات کریں تو پنجابی میں جیسے کہتے ہیں کہ انہوں آج تک ہمیں "وٹا” بھی نہیں مارا۔ ہمارے لاکھوں مزدور وہاں مزدوری کرتے ہیں۔ ہمارے ایٹمی بموں جو بارود ہے سعودی عرب کے پیسے سے خریدا گیا ہے۔ جب ایٹمی دھماکوں کے بعد پابندیاں لگیں تو تین سال کیلئے سعودی عرب نے مفت لاکھوں بیرل ڈالر تیل دیا۔ بنگلہ دیش اور بھارت جب ہمارے قیدی نہیں چھوڑ رہے تھے تو شاہ فیصل نے معاملہ حل کروایا۔ حالیہ معاشی بحران میں بھی عربوں نے پیسے دیے۔ آخر مزید ہم عربوں سے کیا چاہتے ہیں؟

    عربوں کو لعن طعن کرنے اور امہ کا نعرہ لگانے سے پہلے یہ ضرور سوچیں کہ آخر پاکستان نے پاکستان نے امت کو کیا دیا؟ سوائے بھیک مانگنے کے۔ کشمیر پہ ہم نے تین جنگیں لڑی ہیں عربوں نے فلسطین کیلئے پانچ جنگیں لڑیں ہم نے کتنی جنگوں میں ان کا ساتھ دیا۔ قومی مفاد صرف پاکستان کا ہی نہیں باقی ملکوں کا بھی ہے۔ ان کو بھی اپنے مفاد کا خیال کرنے دیں۔ مودی کو اگر عربوں نے دو چار ہار پہنا دیے ہیں تو اتنا غصہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
    ویسے کیا انڈیا جو ایشیا کی سب سے بڑی منڈی ہے اس کو چھوڑ کے عرب کیا پاکستان سے تجارت کیا کریں؟ یعنی صفر جمع صفر برابر صفر!

    ذیشان وارث

  • ہم تمہارے جاسوس پکڑتے رہتے ہیں تم بالی وڈ کے ناسور میں ہی رہو…محمد فہیم شاکر

    ہم تمہارے جاسوس پکڑتے رہتے ہیں تم بالی وڈ کے ناسور میں ہی رہو…محمد فہیم شاکر

    ہم تمہارے جاسوس پکڑتے رہتے ہیں تم بالی وڈ کے ناسور میں ہی رہو

    ترجمان پاک مسلح افواج نے شاہ رخ خان کو منہ توڑ جواب دے کر لا جواب کر ڈالا

    شاہ رخ کو مخا ب کرتے ہوئے مزید کہا کہ ہندوتوا اور آر ایس ایس کے نازی ازم کے خلاف آوقز بلند کر کے امن کی ترویج کر سکتے تھے
    حقیقت میں را کے جاسوس کلبھوشن، وِنگ کمانڈر ابھی نندن اور 27 فروری کی صورتحال دیکھو، امن اور انسانیت کی بات بھی کر سکتے تھے

    بجرنگی بھائی جان ہو
    اک تھا ٹائیگر ہو
    فینٹم ہو
    یا شعلے
    یا پھر پاکستان مخالف دیگر ہندی فلمیں، انڈیا نے دنیا کی آنکھوں میں دُھول جھونکنے کی خاطر فلموں کا سہارا لیا اور اپنی قوم کو دھوکہ میں رکھا کہ ہم پاکستان کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے
    جبکہ دوسری طرف پاکستانی افواج نے قوم کو دھوکے میں رکھنے کی بجائے زمینی حقائق سے آگاہ رکھا اور ذہنی و جذباتی تربیت کرنے کے ساتھ ساتھ جسمانی طور پر ہر وقت تیار رہنے کی بھی گاہے گاہے ترغیب دی
    تاکہ ہندوستانی اگر اپنا شوق پورا کرنے کی خاطر پاکستان کی طرف منہ کریں تو پاکستانی زورِ بازو پر وہ منہ ہی توڑ دیں جیسے کہ کُل بھوشن، جس کے ہم نے کُل پرزے دھر لیے، نندن ابھی جو پاکستان نہیں آئے گا کبھی، اور 27 فروری کے موقع پر انڈیا کو دیا گیا سرپرائز اس سب کا منہ بولتا ثبوت ہیں.
    شاید یہی وجہ ہے ہندوستان 7 دن تک جنگ کی دھمکی دیتا رہا اور پاکستان قوم کرکٹ میچ دیکھتی رہی اور انڈیا کی دھمکی کو خاطر میں ہی نہیں لائے کیونکہ پاکستانی جانتے تھے کہ ان تِلوں میں تیل نہیں ہے

    اب بھی ہندوستان کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے دراصل جلد از جلد اس لیے کشمیر پر قبضہ کر لیناچاہتا ہے کہ سکھوں نے ریفرنڈم 2020 کا اعلان کر رکھا ہے اور وہ ہر صورت سال 2020 میں خالصتان حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اگر ایسا ہوتا ہے تو ہندوستان کے پاس کشمیر پر قبضہ برقرار رکھنے کے لیے زمینی راستہ ختم ہوجائے گا
    کیونکہ خالصتان میں وہ علاقے بھی آتے ہیں جو 4 جون 1947 کے منصوبے کے تحت ملنے تو پاکستان کو تھے لیکن برطانوی ماہر قانون سر ریڈکلف نے لارڈ ماونٹ بیٹن کے دباو میں آکر ہندوستان کو دے کر کشمیر پر قبضے کی راہ ہموار کی تھی
    ان میں ضلع گورداسپور کی تین تحاصیل، گورداسپور، پٹھانکوٹ اور بٹالہ بھی شامل ہیں
    مقبوضہ کشمیر میں ہندوستانی فوج کی جانب سے نافذ کرفیو اٹھنے کی دیر ہے پھر دیکھیے گا کشمیری ہندی قابضین کا قیمہ کیسے کرتے ہیں
    اور اس بات کا خدشہ خود انڈیا کو بھی ہے جبھی تو وہ زور بازو سے کشمیری جدوجہد کو کچل دینا چاہتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ پلوامہ طرز پر بڑے پیمانے پر اس کے فوجی مرنے والے ہیں جبھی تو وہ اک مرتبہ پھر پاکستان مخالف ویب سیریز تیار کر کے اپنی قوم کو اندھیرے میں رکھنا چاہتا ہے جس پر ترجمان مسلح افواج نے شاہ رخ خان کی خوب دُرگت بنا ڈلی ہے
    تاکہ ہندو قوم کسی بھلیکھے وچ نہ رہے اور اپنے بھائی بندوں کو مرنے سے بچانے کی خاطر مودی سرکار پر دباو ڈالے کہ وہ کشمیر سے جان چھڑوا لے تاکہ ہندوستانی فوج جو کشمیریوں کے قتلِ عام کا ارادہ رکھتی ہے خود بڑے پیمانے پر قتل ہونے سے بچ سکے
    اب تیل دیکھنا ہے اور تیل کی دھار دیکھنی ہے
    ترجمان مسلح افواج نے تو نقارہ بجا دیا ہے

    محمد فہیم شاکر
    شیخوپورہ
    اتوار 25 اگست 2019

  • مودی کو عرب امارات کی طرف سے ایوارڈ دینے پر مفتی تقی عثمانی کا عربی میں‌ٹویٹ

    مودی کو عرب امارات کی طرف سے ایوارڈ دینے پر مفتی تقی عثمانی کا عربی میں‌ٹویٹ

    مودی کو عرب امارات کی طرف سے اعلی ترین سول ایوارڈ دینے پر مفتی تقی عثمانی کا عربی میں ٹویٹ کیا گیا جس پر شدید رنج او الم کا ظہار کیا گیا .
    ملک کےنامور بزرگ عالم دین جسٹس مفتی تقی عثمانی نے متحدہ عرب امارات کی طرف سے مودی کو اعلیٰ ترین سول ایوارڈ دینے پر شدید رنج و الم اور افسوس کا اظہار کیا اس موقع پر سوشل رابطوں کی ویب سائیٹ پر ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ترجمہ: ہائے افسوس !ہزاروں مسلمانوں کا قاتل اکبر اور انکی زمین پر ناجائز قبضہ کرنے والا جس نے کشمیر کو اسکے رہنے والوں کے لئے قید خانہ بنا دیا اور جو کشمیر کو میں مسلمانوں کا سب سے بڑا مقتل بنانے والا ہے اسکو ایک مسلمان عرب ملک کی طرف سے اعلی ترین اعزاز دیا گیا ہے۔
    ہائے كيساالميہ ہے


  • "میں پاکستان ہوں”               پڑھیے رضی طاہر کا بلاگ

    "میں پاکستان ہوں” پڑھیے رضی طاہر کا بلاگ

    میں پاکستان ہوں تیسرارخ : رضی طاہر

    میرا جنم 1947 میں ہوا، میں 55 اسلامی ممالک میں سے اکیلا ہی ایٹمی ملک ہوں۔

    میں حجاز مقدس کا محافظ ہوں، کوئی مشکل وقت جب بھی سرزمین حرم پر آئے تو دنیا بھر کے مسلمانوں کی نظر مجھ پر ہوتی ہے

    میں فلسطین کا مقدمہ روز اول سے لڑ رہا ہوں، میں اسرائیل کی ناجائز ریاست کو تسلیم نہیں کرتا اور جب بھی وقت آتا ہے تو اقوام متحدہ سمیت ہر فورم پر میں فلسطین کی آواز بن جاتا ہوں

    مسلم دنیا جب اپنی شناخت کھو چکی تھی میں نے اسے پہلی اسلامی سربراہی کانفرنس کے طور پر شناخت دی، میں نے سب کو ایک لڑی میں پرویا

    میں اپنے اندر سازشوں سے مسلسل لڑ رہا ہوں، میں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 50 ہزار سے زائد جانیں نچھاور کردیں مگروطن کا ایک ٹکڑا بھی دشمنوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا

    میں نے دنیا کی سپر پاور کے دعویدار روس کے ٹکڑے کردئیے اور نیا سپر پاور افغانستان سے نکلنے کیلئے میری جانب دیکھ رہا ہے

    میرے دامن میں لاکھوں افغانی مہاجرین، ہزاروں برمی مہاجرین، سینکڑوں بنگالی مہاجرین اور دنیا کے ستائے ہوئے ہزاروں مہاجرین آزادی سکون اور محبت سے بس رہے ہیں، حالانکہ میں اس کی قیمت چکا رہا ہوں مگر آہ نہیں کرتا

    میرا دل یمن کیلئے بھی تڑپتا ہے اور میں یمن کے تنازعے کے حل کیلئے اپنے بھائیوں سعودی عرب اور ایران کے درمیان مسلسل پل کا کردار ادا کرتا آیا ہوں، مگر میرے بھائی میری بات سننے کو تیار نہیں، بڑے ہیں مگر غافل ہیں۔

    یہ سچ ہے کہ میرے حکمران اپنی عیاشیوں، آسایشوں کیلئے میرا وجود کھاتے رہے، میرے سینے پر زخم لگاتے رہے، مجھے اغیار کے ہاتھوں رسوا کرتے رہے مگر میں پھر بھی سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہوں

    میرا کشمیر میری شہ رگ دشمن کے شکنجے میں ہے اور میں تن تنہا اس کا کیس لڑ رہا ہوں، میں تین جنگیں کرچکا ہوں اور اب بھی جنگ کے دہانے پر ہوں۔

  • بگٹی قبیلے سے سرداری نظام کا خاتمہ   آغا نیاز مگسی

    بگٹی قبیلے سے سرداری نظام کا خاتمہ آغا نیاز مگسی

    بگٹی قبیلے کا شمار بلوچ قوم کے اہم ترین ، طاقتور اور جنگجو قباٸل میں ہوتا ہے . اس قبیلے کا آخری سردار نواب محمد اکبر خان بگٹی گزرے ہیں . ان کی وفات 26 اگست 2006 میں ضلع کوہلو کے ایک پہاڑی غار میں پہاڑی تودہ گرنے کے نتیجے میں ہوٸی . وہ حکومت سے اختلافات کے باعث اپنا آباٸی شہر اور بگٹی قبیلے کے مرکزی صدر مقام ڈیرہ بگٹی چھوڑ کر روپوشی کی زندگی گزارنے یا مزاحمت کے اردادے سے یہاں مقیم ہو گٸے تھے . ان کی ہلاکت کے اس سانحے کے اصل حقاٸق آج تک سامنے نہیں آ سکے ہیں .

    بگٹی قبیلہ ایک طویل عرصے تک نواب اکبر بگٹی کو نہ صرف اپنا متفقہ سردار تسلیم کرتا رہا بلکہ ان کو کسی بھی پیر و مرشد سے زیادہ عقیدت اور احترام کی نظر سے دیکھتا تھا. بہت سے سادہ لوح افراد کسی کو اپنی بات پر باور کرانے کی غرض سے نواب بگٹی کے سر کی قسم یا ان کی داڑھی کی قسم کھاتے تھے . لیکن سنہ 2000 کے بعد بگٹی قبیلے میں اندرونی اختلافات شدید تر ہوتے گٸے اور کچھ حلقوں میں اپنے سردار کے خلاف بغاوت کے آثار پیدا ہونا لگے .

    24 اگست 2006 کو ڈیرہ بگٹی میں بگٹی قبیلے کا ایک گرینڈ جرگہ منعقد ہوا جس میں خود نواب بگٹی کے بھتیجے رکن صوباٸی اسمبلی میر جمل خان بگٹی سمیت ہزاروں افراد نے شرکت کی تھی . اس جرگہ میں متفقہ طور پر نواب اکبر بگٹی کو بگٹی قبیلے کی سربراہی سے ہٹا دیا گیا تھا اور بگٹی قبیلے سے مستقل طور پر سرداری نظام بھی ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا. اس جرگے میں حکومت اور مری قبیلے سے مطالبہ کیا گیا کہ چونکہ نواب بگٹی ضلع کوہلو میں روپوش ہے وہ ان کو گرفتار کرا کے ہمارے حوالے کرانے میں مدد اور تعاون کریں تا کہ ہم اپنے قبیلے کی صدیوں پرانی روایات کے تحت اکبر بگٹی کٕے متعلق ان کے جراٸم کے مطابق سزا کا فیصلہ کر سکیں .

    میں بگٹی قبیلے کے اس تاریخی جرگے میں بطور مبصر شریک تھا. جب جرگہ ختم ہوا تو میں نواب اکبر بگٹی کے بھتیجے اور ایم پی اے حاجی میر جمل خان بگٹی کے پاس گیا اور ان سے اس تاریخی قباٸلی فیصلے کے پس منظر کے بارے میں کچھ سوالات کیٸے مگر انہوں نے مجھے ہاتھ جوڑ کر جواب دینے سے معذرت کی اور میرے رخصت ہونے پر انہوں نے اپنے کمرے کو اندر سے کنڈی لگا کر بند کر دیا. مجھے یہ بات سمجھ میں نہیں آٸی کہ اس میں کیا راز تھا . ٹھیک 2 روز بعد 26 اگست 2006 کو ضلع کوہلو کے پہاڑوں میں نواب اکبر بگٹی کی وفات کا سانحہ پیش آیا . ایک دلچسپ بات یہ کہ نواب اکبر بگٹی کی وفات کے ایک سال بعد بگٹی قبیلے کے کچھ معتبرین نے اپنے حامیوں کے ساتھ مل کر اکبر بگٹی کے پوتے میر عالی بگٹی کو بگٹی قبیلے کا نواب منتخب کر لیا . اس تقریب میں دیگر کسی بھی بلوچ قبیلے کے نواب یا سردار نے شرکت نہیں کی تھی . بگٹی قبیلے کی اکثریت نےبھی ان کو سردار تسلیم کرنے سے انکار کر دیا . میر عالی کے بطور نواب دستار بندی کے بعد بگٹی قبیلہ 3 واضح دھڑوں میں تقسیم ہو گیا . ایک دھڑا عالی کی حمایت میں دوسرا دھڑا نوابزادہ براہمدغ بگٹی کی حمایت میں آ گیا اور تیسرے دھڑے نے دونوں کی حمایت نہیں کی اور سرداری نظام سے لاتعلق ہو گٸے . نواب میر عالی بگٹی کی دستار بندی سوٸی میں ہوٸی تھی وہ وہاں کچھ عرصہ گزارنے کے بعد خود کو شاید کمزور یا بگٹی قبیلے کے اندرونی اختلافات کے باعث خود کو غیر محفوظ کرنے لگے جس کی وجہ سے وہ سانگھڑ سندھ چلے گٸے کیوں کہ وہاں بھی ان کی اراضیات اور بستی آباد یے. اس کے بعد آج تک ڈیرہ بگٹی نہیں آ سکے لیکن نواب عالی کے حامی افراد وقتاً فوقتاً حکومت سے اپیل کرتے رہتے ہیں کہ ہمارے نواب کو ڈیرہ بگٹی لایا جاٸے . ان کے اس مطالبے اور اپیل سے یہ گمان پیدا ہوتا ہے کہ اس اپیل کے پیچھے خود عالی بگٹی کی منشا شامل ہے اور یہ اپیل اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ میر عالی خان بگٹی حکومت کی مدد کے بغیر ڈیرہ بگٹی کبھی نہیں آ سکتے . جبکہ نواب اکبر بگٹی کے ایک اور پوتے نوابزادہ براہمدغ بگٹی کچھ عرصہ ریاست کے خلاف مزاحمتی تحریک چلاتے رہے اس کے بعد افغانستان فرار ہو گٸے پھر وہاں سے وہ سوٸیٹزر لینڈ چلے گٸے اور وہاں پناہ حاصل کی .

  • پوری قوم کی ایک آواز قومی زبان میں یکساں نصاب!!   فاطمہ قمر

    پوری قوم کی ایک آواز قومی زبان میں یکساں نصاب!! فاطمہ قمر

    سابق حکومت کی طرح سے نہیں کہ یکساں نصاب کا نعرہ لگاتے ‘ لگاتے ائین پاکستان کو پامال کرتے ہوئے اور قائد اعظم کے فرمان کی نافرمانی کرتے ہوئے تمام سرکاری تعلیمی اداروں کو انگریزی میڈیم کر کے وہ ہولناک تباہیاں مچائیں کہ جس کا تصور بھی محال ہے۔۔بجائے اس کے ‘ کہ نجی تعلیمی اداروں پر لاگو کیا جاتا کہ وہ ائین پاکستان کی روشنی میں اپنے تمام تعلیمی اداروں کو اررو میڈیم کر کے قومی دھارے میں شامل ہوں۔ الٹا ان لوٹ مار اداروں کے مفاد میں پاکستان کے سرکاری تعلیمی اداروں کا بیڑہ غرق کردیا گیا۔ قوم آپ کو متنبہ کرتی ہے کہ عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے بعد ” یکساں نصاب ” کو انگریزی میں مسلط کرکے اب یہ دھول قوم کی آنکھوں میں نہ جھونکی جائیں! غیر ملکی زبان میں تعلیم دینا نہ صرف فطرت کے قوانین سے بغاوت ہے بلکہ یہ بنیادی انسانی حقوق کی بھی نفی ہے۔ دنیا کا اصول ہے کہ جس ملک کی جو رابطے کی زبان ہے’ زرائع ابلاغ کی زبان ہے وہی تعلیم کی بھی زبان ہے۔کسی بھی مہذب دنیا میں یہ تصور ہی محال ہے کہ ملک کسی اور قوم کا ہو اور زبان کسی اور قوم کی۔ فرانس’ ترکی’ برطانیہ’ امریکہ’ چین ‘ جاپان’ کوریا ‘ اٹلی وغیرہ کی مثال ہمارے سامنےہے۔ یکساں نصاب تعلیم کے حوالے سے پاکستان قومی زبان تحریک کے بانی ‘ سینئر سائنسدان ماہر تعلیم پروفیسر اشتیاق احمد نے سے ایک بہت سستا’ قابل عمل ‘ جلد نتیجہ خیز خاکہ تشکیل دیا ہے۔ جو پاکستان سٹیزن کونسل کے اس سیمینار میں پیش کیا گیا جس کے اپ مہمان خصوصی تھے۔ جس میں اپ نے عین وقت پر شرکت سے معذرت کرلی تھی۔ اس محفل کے شرکاء پاکستان کے انتہائی باشعور ‘ اہل الرائے پاکستانی تھے۔جنہوں نے اس نصابی تعلیم کے خاکے کی منظوری بھاری اکثریت کے ساتھ کی۔ یہ نصابی خاکہ پرائمری تعلیم سے لے کر پی ایچ ڈی تک ہے۔ اس خاکے میں پرائمری تعلیم صرف اردو اور مادری میں زبان میں کی گئ ہے اور انگریزی کو ثانوی سطح پر ایک اختیاری مضمون کی حیثیت دی گئ ہے۔ ہم سفارش کرتے ہیں کہ کوئی بھی نصابی خاکہ تشکیل دینےسے پہلے پروفیسر اشتیاق احمد کے پیش کردہ اس یکساں نصاب کے خاکے کو ہرحال میں مد نظر رکھا جائے۔
    یہ حکومت تبدیلی کے نام پر وجود میں ائی ہے لہذا یہ عدالت عظمیٰ کے حکم کی روشنی میں تمام تعلیمی اداروں میں یکساں نصاب قومی زبان میں نافذ کر کے قوم کی امنگوں کو پورا کرے!!

    فاطمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک

  • مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر تشدد کے شکار انسانوں کی یاد منانے کا دن اور کشمیر و فلسطین — بلال شوکت آزاد

    مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر تشدد کے شکار انسانوں کی یاد منانے کا دن اور کشمیر و فلسطین — بلال شوکت آزاد

    آج دنیا بھر میں مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر تشدد کے شکار انسانوں کی یاد منانے کا دن ہے۔ سچ پوچھیں تو یہ دن مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر انتہا پسندوں اور تشدد پسندوں پر اجتماعی لعنتیں بھیجنے کے دن کے طور منایا جانا چاہیئے۔

    میرے علم کے مطابق اللہ نے آسمان سے کوئی مذہب اور عقیدہ آدم علیہ سے لیکر حضرت محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم تک ایسا نہیں اتارا جو بندوں کو انتہا پسندی اور تشدد پر آمادہ کرے یا انہیں اس کا راستہ دکھائے البتہ بندوں نے حسب منشاء اور اپنی انتہا پسندانہ سوچ کی پرورش کی خاطر مذاہب اور عقائد سے چھیڑ چھاڑ کرتے ہوئے کھلواڑ کیا۔

    اگر آپ مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر شکار انسانوں کی یاد منانا ہی چاہتے ہیں تو پھر انصاف کے ساتھ حضرت آدم و حوا علیہ اسلام کو بھی یاد کرلیجیئے گا کہ وہ اپنے وقت میں مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر وقت کے عظیم عابد و زاہد کی مذہبی انتہا پسندی اور روحانی و نفسانی تشدد کا شکار ہوئے تاآنکہ اللہ نے ان علیہ اسلام کو جنت سے نکال کر زمین پر بھیج دیا اور پھر یہ سلسلہ رکا ہی نہیں شیطان اور اسکی ذریت کی وجہ سے۔

    اگر آپ مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر شکار انسانوں کی یاد منانا ہی چاہتے ہیں تو پھر انصاف کے ساتھ حضرت موسی علیہ اسلام اور ان کی قوم کو بھی یاد کرلیجیئے گا کہ وہ اپنے وقت میں مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر وقت کے ظالم بادشاہ فرعون اور اسکی قوم کی انتہا پسندی اور تشدد کا شکار ہوئے تاآنکہ اللہ نے انہیں اس عذاب مسلسل سے نکالا۔

    اگر آپ مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر شکار انسانوں کی یاد منانا ہی چاہتے ہیں تو پھر انصاف کے ساتھ حضرت عیسی علیہ اسلام کو بھی یاد کرلیجیئے گا کہ وہ اپنے وقت میں مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر وقت کے ظالم بادشاہ اور اسکی قوم کی انتہا پسندی اور تشدد کا شکار ہوئے تاآنکہ اللہ نے انہیں اس عذاب مسلسل سے نکالا۔

    اگر آپ مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر شکار انسانوں کی یاد منانا ہی چاہتے ہیں تو پھر انصاف کے ساتھ حضرت محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم کو بھی یاد کرلیجیئے گا کہ وہ اپنے وقت میں مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر وقت کے ظالم سرداروں اور انکی قوم کی انتہا پسندی اور تشدد کا شکار ہوئے تاآنکہ اللہ نے انہیں اس عذاب مسلسل سے نکالا۔

    کس کس کا نام لوں اور کتنوں کو یاد کروں کہ ادھر تاریخ کے اوراق بھرے پڑے ہیں ایسے انسانوں کے ناموں سے جو اپنے اپنے وقت میں اپنی جان, مال اور عزت سے گئے کہ ان کے مذاہب اور عقائد یکساں اور متفقہ نہیں تھے ان انتہا پسندوں کے مذاہب اور عقائد کے ساتھ جنہوں نے ان کا جینے کا حق چھین لیا۔

    حالیہ دنوں میں مذہبی اور عقیدہ جاتی انتہا پسندی کی عظیم الشان مثالیں اگر دیکھنی ہوں تو بھارت اور اسرائیل سے بہتر مجھے اور مثال نہیں ملتی کہ ان دو ممالک کے کیا خواص اور کیا عوام؟ دونوں طبقوں میں مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر انتہا پسندی اور تشدد پسندی اپنے عروج پر ہے اور ان کا شکار مسلمان ہیں, نہتے مسلمان, مظلوم و مقہور مسلمان, زبردستی کے غلام مسلمان قصہ المختصر کشمیر اور فلسطین کے مسلمان کہ وہ سب ان من حیث القوم مذہبی انتہا پسندوں کے مذاہب اور عقائد کی بنیاد پر انکی انتہا پسندی اور تشدد کا شدید شکار ہیں جبکہ دنیا بھر میں معروف امن کی فاختہ اور کبوتر, عالمی عدالت انصاف کی اندھی دیوی اور اقوام متحدہ جو کہ دراصل اقوام شرمندہ کا عالمی ادارہ ہے بھنگ پی کر سوئے ہوئے ہیں اور راوی چین ہی چین لکھتا ہے۔

    ایک کڑوی ترین حقیقت سے پردہ اٹھا دوں کہ نام نہاد انسانیت و انصاف اور رواداری کے علمبرداروں کی جانب سے اعلان کردہ "مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر تشدد کے شکار انسانوں کی یاد منانے کے دن” کی مروجہ و نافذالعمل تعریف پر دنیا کا ہر قدیم اور جدید مذہب, عقیدہ, نظریہ اور فرقہ پورا اترتا ہے اور شامل ہے سوائے اسلام اور مسلمانوں کے, نہیں یقین تو ذرا ضمیر کو جھنجھوڑ کر "گلوبل ویلیج” اور "انسانیت ایک مذہب” جیسے کھوکھلے نعروں سے باہر نکل کر نظر دوڑالیں تو آپ کو ایسے ایسے کڑوے سچ سننے پڑھنے اور دیکھنے کو ملیں گے جس کے بعد آپ خود پر خودکشی کو حلال اور فرض کرلیں گے۔

    کیا پاکستان کا قیام اور وجود "مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر تشدد کے شکار انسانوں کی یاد منانے کا دن” کی واضح اور روشن مثال نہیں کہ جب برصغیر پاک و ہند کی ایک مذہبی اکثریت مذہب و عقیدہ کی بنیاد پر انتہا پسند اور تشدد پسند قوم میں بدلی تو اس قوم کی شکار ایک دوسرے مذہب کی اقلیت ہوئی تو پھر جنم لیا "دو قومی نظریہ” اور "تحریک آزادی” پاکستان نے اور بالآخر پاکستان نقشے پر ابھر کر آیا۔

    اپنے پڑوسی ملک بھارت کی ہی بات کریں کوئی بھی غیر جانبدار انسان, ادارہ, سیاسی پارٹی اور تتظیم چھٹتے ہی بھارت کو مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر انتہا پسند اور پر تشدد ملک قرار دیدے گا کہ کشمیر میں ہر منٹ پر یہ سوکالڈ سیکیولر جمہوریت مذہب کارڈ کی بنیاد پر قتل عام, ظلم, زیادتی, جبری گمشدگیوں, جنسی زیادتیوں اور تمام بنیادی انسانی حقوق کی پامالیوں میں پیش پیش اور سر فہرست ہے۔

    جس کسی انسانیت کے چیمپئن نے یہ دن "مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر تشدد کے شکار انسانوں کی یاد منانے کا دن” تفویض کیا ہے دنیا کو وہ کوئی مہا منافق ماں باپ کی منافق اولاد ہے کہ جو مرگئے مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر انتہا پسندی اور تشدد کا شکار ہوکر اسے ان کی یاد تو رہ گئی (جو کہ اچھی بات ہے) پر جو ہر منٹ پر کشمیر, فلسطین, شام اور اراکلن میں مر رہے مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر انتہا پسندی اور تشدد کا شکار ہوکر اسے ان کی یاد نہیں آئی؟

    یہ "انسانیت عظیم مذہب اور عقیدہ” کے سطحی سوچ والے سوکالڈ پیروکار سارے ہی منافق ہوتے ہیں اور شومئی قسمت "انسانیت عظیم مذہب اور عقیدہ” میں جتنی انتہا پسندی اور تشدد پسندی پائی جاتی ہے شاید ہی کسی الہامی و انسانی ساختہ مذہب یا عقیدے میں اس کا اتنا وجود ہو؟

    میں ایسے دنوں کو متاثرین کے جلے پر نمک چھڑکنے کے مترادف سمجھتا ہوں کہ جو مرگئے انہیں ہماری دعائیں ہی کافی ہیں جبکہ جو زندہ ہیں پر مرنے کی کگار پر ہیں ہماری سوکالڈ انسانیت اور حکمت و مصلحت کی بھینٹ چڑھ کر ان کا کون پرسان حال ہے زمین پر اللہ کے بعد؟

    میں تو اس دن کی مناسبت سے بس یہی کہوں گا کہ جو لوگ اس دنیا سے مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر تشدد کا شکار ہوکر چلے گئے اللہ ان کے ساتھ انصاف پر مبنی معاملہ فرمائے پر جو لوگ اس دنیا میں ابھی بھی مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر تشدد کا شکار ہو رہے ہیں اور حالت نزع میں ہیں اللہ ہمیں انہ سب کو اس ظلم سے نجات دلانے کی توفیق, ہمت اور ہدایت نصیب فرمائے۔