Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ایسے ازم جو دنیا میں کافی مشہور ہیں خاص طور پر مسلمانوں میں۔ جواد سعید کا بلاگ

    ایسے ازم جو دنیا میں کافی مشہور ہیں خاص طور پر مسلمانوں میں۔ بقلم جواد سعید

    لبرلزم
    ۔آزاد پسندی کا نام ہے
    اسکا مقصد ایسا معاشرہ جس میں روداری ہو
    لبرل آدمی مذہبی تشدد اور معتدل راہ سے بھی ہلکا سوچتا ہے
    اسکا ماننا ہوتا ہے کہ معاشرے میں مسلمان ہے چاہے یہودی ہے عیسائی ہندو مجوسی ہے سب کو برابری کے حقوق حاصل ہیں اور وہ اپنی ذات معاملات عبادات میں آزاد ہیں ۔لبرل ہمیشہ مذہبی عقیدے سے جڑا ہوتا۔

    صوفی ازم
    بھی اسی طرح کی ہی سوچ رکھتا ہے۔اگر تو آپ کسی کو پیار سے اپنے انداز کلام مذہب سے مطمئن کر سکتے ہیں تو بہت اچھا ہے۔اگر کوئ نہیں مانتا تو اسے جہاں لگا ہو اسے ادھر چھوڑ دینا چاہئے ۔اسکے گناہ رب جانے وہ جانے۔یہ بھی معاشرے میں رواداری کے قائل ہیں ۔

    سیکولرزم
    کسی بھی ریاست سے مذہب کی چھاپ ختم کرنا
    یہ نظریے کیخلاف جنگ ہے جس میں تمام مذاہب سے علیجدگی اختیار کر کے عوام کیلئے قوانین بُنتے ہیں اس میں کسی بھی مذہب سے تعلق رکھنے والوں کو برابر جزا سزا سہولیات دی جاتی ہیں۔
    یہ جنگ صرف اسی صورت جائز سمجھتے کہ کوئ ظالم ظلم کرے یا کسی استحصال کے جواب میں۔اسکا حکمران چاہے جتنا مرضی کٹر ہو وہ مذہب پر کوئ آئین نہیں بنا سکتا
    لبرلز کا ماننا ہے کہ اگر کوئ اسلامی ریاست ہے تو وہ اسلامی رہے مگر حقوق سبھی کیلیے برابر رکھے
    جبکہ سیکولرزم ریاست کو کسی مذہب سے خاص کرنا ہی غلط سمجھتا

    فاشسٹ ازم۔صیہونی۔
    عام طور پر اسے یہودیوں سے خاص کیا جاتا ہے جبکہ اسکا تعلق سفاکیت سے ہے
    کوئ بھی مذہبی تشدد بندہ جو کہ اپنے جیسوں کے علاوہ کسی اور کا وجود برداشت نہ کرے اور نہ کسی کا نظریہ سنے سمجھے بس اسکا وجود ختم کرنے کے قائل ہوں
    پھر چاہے وہ صیہونی ہندو انتہا پسند ہو یا خارجی مسلمان یا عیسائی ۔سبھی صیہونیت کی اقسام ہیں

    الحاد۔ایتھیسزم
    یہ دین بیزاری کا نام ہے کہ یہ لوگ دنیا میں دین کو دیکھنا نہیں چاہتے۔نہ تو رب نہ رسول نہ کوئ مذہب۔نہ کوئ دستور نہ منشور
    انکی سوچ یہی ہے کہ یہ سارا نظام۔انسانی پیدائش سے لیکر مرنے تک دن رات کا چلنا سمندر دریا کا وجود موسم سورج چاند سیارےخودبخود اپنے طور پر چل رہا ہے۔اور آخر میں زمین خود انبیلنس ہونے کیوجہ سے پلٹ جائے گی ختم ہو جائے گی۔اسے قدرتی نظام کہتے ہیں اور انکے بقول ضروری نہیں کہ اس نظام کو خدا چلا رہا ہو۔
    ان میں رشتوں کا لحاظ تقدس نہیں ۔اگر کوئی دس بارہ افراد فیملی بن کر رہنا چاہیں تو الحاد اسے اخلاقیات کا نام دیتا ہے۔
    اور یہی ازم ہے جس کی آڑ میں سبھی ازم کو رگڑا دیا جاتا ہے۔
    پاکستانی لبرلز قابل تنقید ہیں کیونکہ پاکستانی لبرلز کو اپنے #ازم کے طور طریقے تک نہیں پتہ اور وہ اسی نام سے ہر ازم میں گھستے چلے جا رہے ہیں۔

    بقلم جواد سعید

  • وزیر اعظم صاحب! امریکہ قابل اعتماد نہیں!              ، صابر ابو مریم  کا بلاگ

    وزیر اعظم صاحب! امریکہ قابل اعتماد نہیں! ، صابر ابو مریم کا بلاگ

    وزیر اعظم صاحب! امریکہ قابل اعتماد نہیں! تحریر: صابر ابو مریم سیکرٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان
    پی ایچ ڈی ریسرچ اسکالر، شعبہ سیاسیات جامعہ کراچی

    یوں تو پاکستان کی تاریخ امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو کسی بھی سطح پر قائم کرنے کی خواہاں نظرا ٓتی ہے۔ان تعلقات میں کبھی بھی برابری کا عنصر نہیں پایا گیا۔یہی وجہ ہے کہ امریکہ نے ہمیشہ پاکستان کو غیر اہم سمجھا اور وقت آنے پر اپنے مفادات کے لئے ذاتی مفادات کا تحفظ کرنے والے حکمرانوں کے ذریعہ اپنا ایجنڈا مکمل کیا۔امریکہ اور پاکستان کے مابین اس نوعیت کے تعلقات اسلئے بھی زور پکڑتے چلے گئے کیونکہ امریکی حکومت نے براہ راست پاکستان کے مختلف اداروں کے ساتھ بڑی بڑی ڈیلز کرنا شروع کر دیں اور بعد ازاں افراد کو امریکی مفادات کی خاطر مال ومتاع اور مراعات کے عوض استعمال کیا جاتا رہاہے۔یہ سلسلہ تاحال جاری ہے اور ایسے حالات میں ملک کی پالیسیوں کو کسی سمت چلانا اور کوئی ایسی حکمت عملی وضع کرنا کہ جس کا امریکی مفادات سے ٹکراؤ ہو انتہائی مشکل ہے۔
    بہر حال، ماضی کے بعد اب کچھ بات حال کی کرتے ہیں کہ وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب نے کچھ عرصہ قبل امریکہ کا دورہ کیا اور اس دورہ کو بہت گرمجوش دورہ قرار دیا جا رہا تھا اور پھر حکومتی رویہ میں بھی اس قدر تیزی دیکھنے کو آئی کہ جیسے اندھے کو دو آنکھیں مل جاتی ہیں۔یعنی وزیر اعظم سمیت ملک کے تمام ادارے اور اعلیٰ عہدیداروں نے امریکہ سے ایک مرتبہ پھر لولگا لی تھی کہ چلو اچھے دنوں کا آغاز ہو گا۔حکومت شاید اس بات پر بھی زیادہ خوش دکھائی دیتی تھی کہ امریکی صدر نے مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی بات کی ہے چلو اب تو مظلوم کشمیریوں کا مسئلہ حل ہو ہی جائے گا۔مجموعی طور پر پاکستان کا سوفیصد جھکاؤ امریکہ کی طرف چلا گیا جیسا کہ امریکہ ہی کا ئنات کا خدا ہے اور سب کو روٹی دینے والا ہے۔دنیا کے متعدد ممالککی حکومتیں شاید امریکہ کو خدا ہی کا درجہ دیتی ہیں۔لیکن پاکستان جیسے بڑے ملک کو اپنے وقار اور عزت کا خود پاس رکھنا چاہئیے یا کم سے کم بولیویا جیسے چھوٹے ملک سے ہی سبق حاصل کرنا چاہئیے کہ جس نے امریکہ کو خدا نہیں مانا ہے۔
    مسئلہ کشمیر پر امریکی حکومت کی ثالثی کے بیان کے بعد حکومت پاکستان نے اپنی تمام تر توجہ کامرکز امریکی صدر کو بنالیا۔لیکن یہاں حکومت میں موجود سیاست مداروں سے کوئی یہ سوال تو کرلیتا کہ کیا امریکہ صدور نے آج تک مسئلہ فلسطین کا حل نکال لیا؟ کیا یہ بات درست ہے کہ دنیا کی باعزت اقوام کی تقدیر کے فیصلے امریکی صدور کریں؟ کیا امریکہ واقعی انسانی حقوق کا پاسدار ہے اگر ہے تو پھر امریکہ کی تاریخ میں ہیرو شیما، ناگا ساکی سمیت ویت نام،افغانستان اور عراق کے بد نما داغ کیوں ہیں؟ کیا امریکی حکومت بھارت اور اسرائیل کو ایک جیسی مسلح ٹیکنالوجی فراہم کرنے والی حکومت نہیں ہے؟
    اس طرح کے متعدد سوالات ہیں جو پاکستان کے تعلی ادارو ں میں تعلیمی نشو نما حاصل کرنے والے نوجوانوں کے اذہان میں ابھررہے ہیں؟ آج مسئلہ کشمیر پر حکومت کی ناکام پالیسیوں پر پورے ملک کی سیاسی جماعتیں آواز اٹھا رہی ہیں۔ان کی اس آواز کو صرف یہ کہہ کر دبا دیا جاتا ہے کہ اپوزیشن سیاست کررہی ہے لیکن میں یہ سمجھتاہوں کہ ان کی باتوں میں ستر فیصد صداقت اور شاید تیس فیصد سیاسی عزائم ہیں۔تاہم حکومت کا یہ کام ہے کہ وہ امریکہ کے جھوٹے وعدوں پر بھروسہ کرنے کی بجائے پاکستان کے عوام کو بالخصوص کشمیری سوالیہ نگاہوں سے ہمیں دیکھ رہے ہیں، کشمیریوں کو جواب دے اور بتائے کہ پاکستان نے مسئلہ کشیر پر کیا اقدامات انجام دئیے ہیں اور پاکستان کی عالمی سطح پر سفارتکاری کی ناکامی کی وجوہات کیا ہیں؟ اس عنوان سے ذمہ دار افراد کا تعین کیا جائے اور ان کے خلاف سخت کاروائی کی جائے۔
    محترم وزیر اعظم صاحب! آپ کے پڑوس میں ایک ملک ایران بھی موجود ہے جو امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعلقات کے بغیر ترقی کے کئی میدانوں میں کئی ایک ممالک سے آگے نکل چکا ہے،مشکلات اور مصائب کے باوجود عزت ووقار پر کوئی سودے بازی قبول نہیں کر رہا۔میں آپ کی خد مت میں اسی پڑوسی ملک کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی ایک تقریر کا جملہ یہاں پیش کئے دیتا ہوں،”امریکہ پر کسی صورت اعتماد نہیں کیا جا سکتا،امریکہ جھوٹ او مکاری میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتا“۔اس جملہ میں بہت بڑا سبق موجود ہے۔پس ضرورت اس امرکی ہے کہ مسئلہ کشمیر سے متعلق امریکی وعدوں پر یقین اور تکیہ کرنے سے مسئلہ کشمیر کبھی حل ہونے والا نہیں ہے اور ابھی اقوام متحدہ کے اجلاس کے لئے بھارتی وزیر اعظم کے نیو یارک پہنچنے پر امریکی صدر کی جانب سے انکے ساتھ روا رکھے گئے سلوک اور امریکی تاریخ میں کسی بھی غیر ملکی سربراہ کے لئے منعقدہ جلسہ جوکہ سب سے بڑا جلسہ قرار دیا جا رہاہے یہ سب باتیں آپ کو متنبہ کرنے کے لئے ہیں کہ اب بھی وقت ہے امریکی غلامی کا طوق گردنوں سے نکال پھینکیں۔
    ٓآج پاکستان سے کمزور معیشت رکھنے والے اور چھوٹے ممالک امریکہ کے ساتھ بغیر تعلقات کے ترقی کر رہے ہیں لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ حکومت پاکستان سعودی عرب کے نا تجربہ کار شہزادہ محمد بن سلمان کی باتوں میں آ کر بذریعہ سعودی عرب امریکی غلامی کا طوق اپنی گردنوں کی زینت بنانے کو ترجیح دے رہی ہے۔آج امریکہ سے اربوں اور کھربوں ڈالرز کا اسلحہ خریدنے والا سعودی عرب اپنا دفاع خود نہیں کر سکتا ہے اور پاکستان جیسا ایک بڑا اسلامی ملک حیرت کی بات ہے کہ آل سعود حکمرانوں کے ذریعہ امریکہ تک پہنچنے کو اپنی عزت وحمیت سمجھتاہے؟
    خلاصہ یہ ہے کہ لومڑی کی صحبت میں رہنے سے شیر بھی لومڑی بن جاتاہے اور اگر لومڑی شیر کی صحبت اختیار کرے تو لومڑی بھی شیر بن جاتی ہے۔اب یہ فیصلہ وزیر اعظم صاحب کو ہی کرنا ہے کہ وہ کس صحبت کو اختیار کریں گے؟ آج دنیا کی سیاست کا محور تبدیل ہو چکا ہے،امریکہ سپر پاور ہو اکرتا تھا اب نہیں ہے۔اگر پاکستان خطے میں مضبوط کردار ادا کرنا چاہتا ہے تو پھر ہمسایہ ممالک کے ساتھ بہترین تعلقات قائم کرنا ناگزیرہیں،آج جنوبی ایشیاء کے سیاسی افق پر ایران، روس، چین واضح طور پر نظر آ رہے ہیں اور انکا نقش عالمی سیاسی افق پر بھی دیکھا جا رہاہے۔آج یہی امریکی صدرکہ جس سے ہمارے حکمران ملنے کے لئے ترس رہے ہوتے ہیں، یہ امریکی صدر ٹرمپ آج ایران کے صدر روحانی نے ملنے کو تڑپ رہا ہے۔اپنا فون نمبر تک ان کو دے رہاہے کہ ایک فون ہی کر لو، جاپان کے وزیر اعظم کے ذریعہ خط بھیج رہا ہے لیکن جواب میں اس خط کو کھولا ہی نہیں جاتا اور کوئی جواب دینا گوارا نہیں کیا جاتا۔کاش میرے وطن کے حکمرانوں کو بھی یہ بات سمجھ آ جائے کہ امریکہ قابل اعتبار نہیں ہے۔

  • مسلمانوں کے خلاف بھارت اور امریکہ کی ایک زبان  :علی چاند

    مسلمانوں کے خلاف بھارت اور امریکہ کی ایک زبان :علی چاند

    امریکہ کے شہر ہیوسٹن میں امریکیوں اور ہندوستانیوں سے بھرے سٹیڈیم میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بھارتی وزیراعظم مودی نے ایک دوسرے کو تھپکی دیتے ہوٸے اس بات کا عزم کیا ہے کہ وہ دونوں مل کر دنیا سے اسلامی دہشت گردی کا خاتمہ کریں گے ۔ یہ بات امریکی صدر نے کہی ہے کہ
    ” ہم بےقصور شہریوں کی انتہا پسند اسلامی دہشت گردی کے خطرہ سے حفاظت کے لئے پرعزم ہیں ”

    کاش مسلمان حکمرانوں میں اتنا عقل و شعور اور سمجھ ہوتی کہ کافر ، عیساٸی اور یہودی کبھی بھی مسلمانوں کے دوست نہیں ہوسکتے ۔ کاش مسلمان حکمرانوں میں اتنی غیرت ہوتی کہ وہ اپنے مظلوم مسلمان بہن بھاٸیوں کی جہاد کے ساتھ مدد کرتے ہمارے حکمرانوں کا یہ المیہ ہے کہ وہ صرف معیشیت کا ہی رونا روتے رہتے ہیں ۔ یہ نہیں سوچتے کہ جنگیں ہار جیت اور معشیت کے لیے نہیں بلکہ اپنے وقار کے لیے لڑی جاتی ہیں ۔ مسلمان حکمرانوں نے اپنی معیشیت بہتر بنانے کے چکروں اپنا وقار مٹی میں ملا دیا ہے ۔ مسلمان حکمرانوں نے اپنی معیشیت کی خاطر ان ہندوٶں کو اپنے اپنے ملکوں میں نہ صرف مندر تعمیر کر کے دٸیے ہیں بلکہ ان مندروں کا افتتاح بھی اپنے ہاتھوں سے کر رہے ہیں ۔ یہی مسلمان حکمران ان یہود و ہنود کو نہ صرف مندر تعمیر کر کے دے رہے ہیں بلکہ انہیں اپنے اعلی سول اعزازات سے بھی نواز رہے ہیں ۔ کسی کو پچاس لاکھ ڈالر مالیت کا سونے کا ہار پہنایا جارہا ہے اور کسی کو سول اعزاز دیا جارہا ہے ۔ اور بدلے میں کیا مل رہا ہے ان مسلمان حکمرانوں کو ۔ خود ہم پاکستانی حکمران اپنی نمک جیسی نعمت کو انہی یہود و ہنود کو کوڑیوں کے دام دے رہے ہیں ۔ بدلے میں مسلمانوں کو کیا مل رہا ہے سود در سود قرض تلے ساری قوم جھکڑی جارہی ہے ۔

    کشمیر ، فلسطین ، عراق ، برما ، وہ کون سا علاقہ ہے جہاں مسلمان محفوظ ہیں ۔ ؟ امریکہ ہو یا بھارت جیسا ملک مسلمانوں کو کہاں سکون لینے دے رہے ہیں ۔ اور مسلمان شہید ہورہے ہیں ، بچے یتیم ہورہے ہیں ، بہنوں بیٹیوں کے ساتھ جو ہو رہا اس پر تو اب تک شاید آسمان بھی پھٹ جاتا لیکن ان مسلمان بزدل حکمرانوں نے غیرت مند مسلمانوں کی بھی غیرت ڈالر اور معیشیت کے بدلے گروی رکھ دی ۔ ہر جگہ مسلمان اپنی عزتیں لٹا رہے ہیں ، جانیں دے رہے ہیں پھر بھی ملا کیا اسلامی دہشت گردی کا طعنہ ؟ بزدل حکمرانوں نے جتنا امن امن کا راگ الاپا اتنا ہی ہم دہشت گرد ٹھہرے ۔ وجہ صرف اور صرف ہمارے حکمرانوں کی بزدلی اور پھر اس بزدلی کو امن کا نام دینا ۔ محمد بن قاسم صرف ایک مسلمان بچی کی فریاد پر پورا سندھ ہلا گے ۔ نا معیشیت کا سوچا نہ امن کا سوچا ۔ ہے کسی کی جرأت کے محمد بن قاسم کو دہشت گرد لکھے ؟ محمود غزنوی جس نے ہندوستان پر سترہ حملے کیے سو منات کا مندر توڑا ، سترہ حملے کرتے وقت محمود غزنوی نے معیشیت کا سوچا ؟ سو منات کا مندر توڑتے وقت محمود غزنوی نے سوچا کہ دنیا مجھے دہشت گردکہے گی ، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ مسلمان بزدلی کو امن کا نام نہیں دیتے بلکہ غیرت مند ہوتے ہیں ۔ہے کسی کی جرأت کے محمود غزنوی کو دہشت گرد لکھے ؟ ٹیپو سلطان نے جنگ کی جنگ ہار گے لیکن کسی بزدل یہود وہنود کے آگے گھٹنے نہ ٹیکے ۔ ہے کسی کی جرأت کہ ٹیپو سلطان کو ہارا ہوا لکھے ۔ تاریخ ہارا ہوا اور دہشت گرد صرف اسی کو لکھتی ہے جو بزدلی کو امن کا نام دے کر گھٹنے ٹیک لے ۔

    غیرت مندوں کو ہارا ہوا اور دہشت گرد لکھنے کی جرأت کسی میں نہیں ہوتی ۔ طارق بن زیاد ، صلاح الدین ایوبی ، محمد بن قاسم ، محمود غزنوی ، ٹیپو سلطان ان سب کو کیا اسلام امن کا درس نہیں دیتا تھا ؟ کیا اسلام امن کا درس صرف آج کے ڈرپوک بزدل اور ڈالر کے غلام مسلمان حکمرانوں کو دیتا ہے ؟ مسلمان دہشت گرد نہیں ۔ نہ ہی بزدل ہوتا ہے ۔ مسلمان صرف اور صرف غیرت مند ہوتا ہے ۔

    مودی اور ٹرمپ کے بیان کے بعد ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلمان حکمران غیرت کی گولی کھاٸیں اور ایسے غیرت اور جرأت مندانہ خطاب کریں کہ ان نمک حرام یہود و ہنود کی نیندیں حرام ہو جاٸیں ۔ اور انہیں نہ صرف مسلم مقبوضہ علاقے خالی کرنے پڑیں بلکہ اپنی معیشیت کی بھی فکر لاحق ہوجاٸے ۔ لیکن ایسا صرف تبھی ممکن ہوگا جب مسلمان حکمران غیرت مندی دیکھاٸیں گے ۔ ابھی ساری دنیا کی نظریں وزیر اعظم عمران خاں اور ترکی کے صدر رجب طیب اردگان پر لگی ہوٸی ہیں ۔ عرب حکمران تو ان یہود و ہنود کے ہاتھوں کٹھ پتلیاں بن کر انہیں اعلی اعزازات سے نواز رہے ہیں وہ کیا جواب دیں گے اور کیا غیرت مندی دیکھاٸیں گے ۔ یہ ہی وقت ہے جب عمران خان پوری امت کا دل جیت بھی سکتے ہیں اور پوری امت کے دل سے اتر بھی سکتے ہیں ۔ یہی وہ وقت ہے جب عمران خاں یا تو ہیرو بن جاٸے گا یا پھر زیرو ۔

    اللہ پاک مسلمان حکمرانوں کے دل سے یہود و ہنود اور ڈالر کی محبت نکال کر انہیں جرأت مندی اور غیرت کا مظاہرہ کرنے کی توفیق عطا فرماٸے ۔ آمین

  • امریکہ کی جنگ میں شامل ہونا پاکستان کی غلطی، کیا نئے پاکستان کا بیانیہ بھی نیا ہوگا؟؟؟ تحریر:  محمد عبداللہ

    امریکہ کی جنگ میں شامل ہونا پاکستان کی غلطی، کیا نئے پاکستان کا بیانیہ بھی نیا ہوگا؟؟؟ تحریر: محمد عبداللہ

    ہم نے کچھ عرصہ قبل عمران خان کے دورہ امریکہ اور ٹرمپ سے ملاقات کے دوران بیان کی گئی باتوں پر بھی لکھا تھا ریاست پاکستان اپنا بیانیہ تبدیل کرچکی ہے. ماضی میں جو کچھ بھی ہوا اور جس کی بنیاد پر پاکستان کو عالمی سطح پر تنہائی کا سامنا کرنا پڑا پاکستان اس کا واضح انکار کرے گا کہ ماضی میں ہم نے غلط کیا ہے. جیسا کہ آج وزیراعظم پاکستان عمران خان نے نیویارک میں کونسل فار فارن ریلیشنز میں بات چیت کرتے ہوئے واضح طور پر کہا کہ امریکہ کی جنگ میں کودنا پاکستان کی غلطی تھی وہ ہماری جنگ نہیں تھی، آئی ایس آئی نے مجاہدین، طالبان و دیگر کو ٹرین کیا جن کو نائن الیون کے بعد امریکہ نے دہشت گرد کہنا شروع کردیا تھا. ہم نے اس جنگ کے نتیجے میں ستر ہزار جانوں کی قربانی دی ہے، اس جنگ کیں ہمیں 200 ملین ڈالر کا نقصان ہوا ہے عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ خطے میں غربت ہے جبکہ مودی آگ سے کھیل رہا ہے ہم بارہا ان کو کہہ رہے ہیں کہ آؤ امن کی طرف خطے سے غربت کے خاتمے کے لیے کام کرو. لیکن بھارت کی طرف سے ہمارے خلاف اقدامات ہو رہے ہیں جیسا کہ پلوامہ کا واقعہ پیش آیا تو بغیر کسی تحقیق کے پاکستان پر الزام لگا دیا اسی طرح بھارت نے پاکستان کو ایف اے ٹی ایف میں دھکیلا، خان کا مزید کہنا تھا کہ میں جنگ مخالف ہوں کیونکہ جنگ مسائل کا حل نہیں ہوتی.

    مزید پڑھیں ریاست پاکستان کا بیانیہ …. محمد عبداللہ

    یہ بیانیہ اگرچہ پاکستان کے بہت سارے لوگوں کو قابل قبول نہیں ہوگا. اس پر بڑی باتیں اور بڑے تجزیئے ہونگے، الزامات کی بوچھاڑ ہوگی لیکن یاد رکھیے کہ پاکستان کے مسائل صرف معاشی، اقتصادی بدحالی اور سیاسی عدم استحکام ہی نہیں ہیں بلکہ پاکستان کے بہت بڑے بڑے مسائل میں سے پاکستان کا عالمی سطح پر سفارتی تنہائی، ایف اے ٹی ایف میں پکڑ (جس کی وجہ سے ملکوں اور قوموں کے ساتھ تجارت اور تعلقات میں مسائل کا پیدا ہونا)، مسئلہ کشمیر، افغان امن پراسس، دہشت گردی وغیرہ وغیرہ. ان سب مسائل سے بیک وقت نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان اپنا رویہ تبدیل کرے، اپنے اوپر لگے ہوئے سارے الزامات دھوئے، ماضی میں وقوع پذیر ہونے والے واقعات اور ان پر پاکستان کے ردعمل کے حوالے سے ٹھوس موقف اختیار کیا جائے اور اسی کا پرچار دنیا میں ہو اور یہ وہی کام ہے جو عمران خان اس وقت کر رہا ہے. یہ فقط عمران خان یا جی ایچ کیو یا دیگر سیاسی گروہوں کا بیانیہ نہیں ہے بلکہ یہ ریاست پاکستان کا بیانیہ ہے اور موجودہ سنگین حالات میں یہی بیانیہ کارگر ہوگا. اس کے ساتھ ساتھ ایک کام کا ہونا بہت ضروری ہے اور بڑی خوشی ہے کہ یہ کام ہو بھی رہا ہے وہ ہے کہ پاکستان کے دشمنوں اور ان کی سازشوں کو اقوام عالم کے سامنے بالکل کھول کے رکھ دینا اور انکو کاؤنٹر کرنا.

    مصنف کے بارے میں مزید جانیے

    Muhammad Abdullah
    Muhammad Abdullah
  • درد کشمیر اور ہمارا ضمیر ، تحریر مغیرہ حیدر

    درد کشمیر اور ہمارا ضمیر ، تحریر مغیرہ حیدر

    وادی کشمیر اور اس میں رہنے والے مظلوم کشمیری عوام جو گزشتہ پچاس دن سے بھارتی فوج کے ظلم و بربریت اور قید و بند کی صعوبتوں کو برداشت کر رہے ہیں، سکول و کالج، مارکیٹیں، دوکانیں، اخبارات، موبائل-فون، انٹرنیٹ، مساجد اور سبھی راستے بند کر دیئے گئے..!
    کیا ہمارے دل میں احساس کی کوئی کرن باقی نہیں جو کشمیر کی آزادی کے لیے عملی طور پہ کوئی کردار ادا کر سکے، کیا ہم روزانہ اپنے گھربار اور معمولاتِ زندگی میں یونہی مشغول و مگن رہیں گے.؟ کیوں ان کشمیریوں کی محبت ہمارے دلوں کو نہیں گرماتی.؟ آخر ہم کیوں بےحسی کی چادر اوڑھے غفلت کی نیند سو رہے ہیں.؟ کیا ہماری صلاحیتیں کشمیر کے لیے کام نہیں آ سکتی.؟ ہم تہہِ دل سے کشمیریوں کے لیے دعا کیوں نہیں کرتے.؟ ہم ان کے درد کو اپنا درد سمجھنے سے کیوں قاصر ہیں.؟

    وہ کشمیری جو ہر قدم پہ پاکستان کے لیے اپنی جان ہتھیلی پہ لیے نکلتے ہیں، وہ کشمیری جو پاکستانیوں کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھتے ہیں کیا ہم ان کی امیدوں پہ پورا اترنے کی کوشش کر رہے ہیں.؟ آپ خود سے سوال کیجیے اپنے گریبان میں جھانکیے کہ ہم نے کشمیری مظلوم مسلمانوں کے لیے کس حد تک کوشش کی، کیا ہمارے دل کو دنیا کا آسائش و آرام تو نہیں بھا گیا، جی ہاں! ہمیں امت مسلمہ اور اسلام سے محبت برائے نام ہے، ہم اس احساس سے محروم ہو چکے ہیں جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور ہمارے اسلاف نے محسوس کیا، اگر آپ کشمیر کی حالتِ زار کو خود اپنی ذات پہ محسوس کریں تو شاید آپ کا ضمیر آپ کو جھنجوڑے اور چیخ کر کہے کہ اب بھی دعا ہی کرو گے.؟ کیا اپنے دفاع کے لیے اپنا ہاتھ، قدم، قلم، آواز، کیمرہ، ہنر، فن استعمال نہیں کرو گے.؟

    ضرور استعمال کرو گے بلکہ آخری سانس تک جدوجہد اور لڑائی کرو گے، اپنی چادر اور چار دیواری کے تحفظ کے لیے ہر شے کو بروئے کار لاؤ گے،
    لیکن کشمیر تو اپنا نہیں، ہے ناں.؟
    خدا کے لیے اپنے آپ کو جگائیے، کشمیری اور کتنے جنازے اٹھتے دیکھیں گے، کتنے بچے یتیم ہوں گے، کب تک وہ مائیں بیٹوں کا سوگ مناتی رہیں گی.؟

    اگر احساس ہو تو اٹھائیے کشمیر کے لیے اپنی آواز، قلم اور قدم تا کہ کل کشمیری اللہ کے دربار میں حاضر ہو کے تمہارا گریبان نہ پکڑ سکیں..!

  • ہے شعلوں کی لپیٹ میں جنتِ ارضی ، تحریر جویریہ رزاق

    ہے شعلوں کی لپیٹ میں جنتِ ارضی ، تحریر جویریہ رزاق

    "کشمیر ”
    وہ خطہء جس کا نام لکھتے ہوئے دل غم سے پھٹنے لگے
    لکھتے ہوئے الفاظ بھی ساتھ نہ دیں
    کہنے کو میری جنتِ ارضی لیکن حقیقت میں شعلوں کی لپیٹ میں جلتی ہوئی جہنم بن چکی ہے بلکہ بنا دی بھارت کی سفاک درندہ فوج نے
    چناروں کی وادی کوہساروں کی وادی جہنم بنا دی گئی
    ظلم و بربریت کی ایسی المناک دردناک داستانیں کہ اللہ کا عرش بھی ہل گیا ہوگا
    جہاں کے چنار رو رہے ہیں
    جہاں آبشاروں اور جھیلوں میں پانی نہیں مسلمانوں کا خون بہہ رہا ہے
    ظلم و ستم کا یہ قصہ کب سے چلتا آ رہا ہے
    جہاں معصوم کلیوں کو کھلنے سے پہلے ہی مسل دیا جاتا ہے
    ماؤں کی گودیں اجاڑیں جاتی ہیں
    سہاگنوں سے سہاگ چھین لئے جاتے ہیں
    لیکن قربان جاؤں اسلام کی ان شہزادیوں پر جن کے حوصلے گودیں اجاڑ کر جگر کے ٹکڑے قربان کر کے
    سہاگ لٹا کر بھی حوصلے پست نہیں ہوتے
    مسلمان غلامی کبھی بھی قبول نہیں کرتا
    تبھی تو
    ہاں تبھی تو
    آزادی کے یہ پروانے اسلام کے بیٹے کشمیر کے بیٹے ماؤں کے گھبرو جوان لختِ جگر دیوانہ وار نثار ہوتے چلے جا رہے ہیں
    آگ اگلتی بندوقوں کے سامنے کشمیر کے دلیر بیٹے نہتے ہی پاکستان کا پرچم سینوں پہ لپیٹے ہوئے آتے ہیں
    اس شعر کی مصداق

    "ادھر آ ستم گر ہنر آزمائیں
    تو تیر آزما ہم جگر آزمائیں”

    اور پھر سفاک بھیڑیوں کی گولی اسلام کے بیٹوں کے جگر چھلنی کرتی چلی جاتی ہے
    لیکن پاکستان کی محبت پاکستان کا پرچم شہادت کے بعد بھی ان کے سینے سے جڑا رہتا ہے
    جنازوں پہ پاکستان کے پرچم اور پھر قبروں پر بھی پاکستان کے پرچم اس بات کی گواہی ہیں کہ ہمیں شہید تو کیا جا سکتا ہے لیکن ارض پاکستان سے کبھی بھی الگ نہیں کیا جا سکتا
    ایک بیٹا ابھی ماں دلہا بنا کر جنت کی طرف بھیجنے کو تیاری کر رہی ہوتی ہے کہ دوسرے جوان بیٹے کی میت سبز ہلالی پرچم میں لپٹی گھر آ جاتی ہے
    ایک ہی وقت میں ایک ایک گھر سے کئی کئی جنازے اُٹھ رہے ہیں
    اللہ اکبر
    جنکی صبح بھی پاکستان کے نام سے ہوتی ہے رات بھی پاکستان کے نام سے ہوتی ہے
    پاکستانیوں کیا کبھی سوچا ہے ہم کہاں کھڑے ہیں ؟؟
    کیا ہم اپنی ہی دنیا میں مست تو نہیں؟؟
    کیا ہم بھی ان کے لئے اتنی ہی محبت رکھتے ہیں ؟؟
    کیا ہمارے دل بھی ان کے لئے یوں ہی ڈھڑک رہے ہیں ؟؟
    اگر نہیں تو خدارا سنبھل جائیے کہ یہ وقت سونے کا نہیں ہے
    خدا نہ کرے غفلت کی نیند میں سوتے رہنے سے ظلم و بربریت کا یہ سیلاب ہمارے دروازوں تک آ جائے
    اللہ نہ کرے ایسا ہو تو اس پہلے جاگ جائیے
    کہ کلمہ کی بنیاد پر اسلام کی نسبت سے وہ کوئی غیر نہیں ہمارے ہی بیٹے بچے جوان قربان ہو رہے ہیں
    ہماری ہی مائیں بہنیں بیٹیاں عصمتیں لٹا رہی ہیں
    کیا جرم ہے انکا صرف لا الہ الا اللہ
    کلمہ انکا جرم بن گیا
    اسلام کی نسبت سے پاکستان سے محبت انکا جرم بن گئی
    یوں اسلام پورا ہی کفر کی نظر میں مجرم ہے
    آج نہ ہم جاگے تو یہ آگ کے شعلے ہمیں بھی لپیٹ سکتے ہیں
    خدرا جاگ جائیے
    اگر ہم اور کچھ نہیں کر سکتے تو کم از کم ان کے لئے آواز تو بلند کر سکتے ہیں
    ہر جگہ ہر محفل میں نہتے کشمیریوں پر بھارت کی سفاکیت کا پول تو کھول سکتے ہیں
    ہم انکی آواز تو بن سکتے ہیں نا
    کہ جہاں سے اب انکی دلدوز چیخیں بھی سنائی نہیں دے سکتیں
    موبائل سروس, انٹر نیٹ سب بند کئیے ہوئے نہ جانے ان پہ کیا قیامت بیت رہی ہوگی
    الغرض کشمیر کا چپہ چپہ لہو رنگ ہے کہ بھارت کی درندگی بیان سے باہر ہے
    آخر میں سوال ہے میرا
    عالمی حقوق کی کھوکھلی تنظیموں سے
    "ہاں تم ہی بتاؤ
    انسانوں سے ان کے جینے کا حق ہی چھین لیا جائے کیا عدل و انصاف کے یہ پیمانے ہیں ؟؟”

  • دردِ کشمیر اور ہمارا ضمیر.. ،مغیرہ حیدر کا بلاگ

    دردِ کشمیر اور ہمارا ضمیر.. تحریر مغیرہ حیدر

    وادی کشمیر اور اس میں رہنے والے مظلوم کشمیری عوام جو گزشتہ پچاس دن سے بھارتی فوج کے ظلم و بربریت اور قید و بند کی صعوبتوں کو برداشت کر رہے ہیں، سکول و کالج، مارکیٹیں، دوکانیں، اخبارات، موبائل-فون، انٹرنیٹ، مساجد اور سبھی راستے بند کر دیئے گئے..!

    کیا ہمارے دل میں احساس کی کوئی کرن باقی نہیں جو کشمیر کی آزادی کے لیے عملی طور پہ کوئی کردار ادا کر سکے، کیا ہم روزانہ اپنے گھربار اور معمولاتِ زندگی میں یونہی مشغول و مگن رہیں گے.؟ کیوں ان کشمیریوں کی محبت ہمارے دلوں کو نہیں گرماتی.؟ آخر ہم کیوں بےحسی کی چادر اوڑھے غفلت کی نیند سو رہے ہیں.؟ کیا ہماری صلاحیتیں کشمیر کے لیے کام نہیں آ سکتی.؟ ہم تہہِ دل سے کشمیریوں کے لیے دعا کیوں نہیں کرتے.؟ ہم ان کے درد کو اپنا درد سمجھنے سے کیوں قاصر ہیں.؟
    وہ کشمیری جو ہر قدم پہ پاکستان کے لیے اپنی جان ہتھیلی پہ لیے نکلتے ہیں، وہ کشمیری جو پاکستانیوں کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھتے ہیں کیا ہم ان کی امیدوں پہ پورا اترنے کی کوشش کر رہے ہیں.؟ آپ خود سے سوال کیجیے اپنے گریبان میں جھانکیے کہ ہم نے کشمیری مظلوم مسلمانوں کے لیے کس حد تک کوشش کی، کیا ہمارے دل کو دنیا کا آسائش و آرام تو نہیں بھا گیا، جی ہاں! ہمیں امت مسلمہ اور اسلام سے محبت برائے نام ہے، ہم اس احساس سے محروم ہو چکے ہیں جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور ہمارے اسلاف نے محسوس کیا، اگر آپ کشمیر کی حالتِ زار کو خود اپنی ذات پہ محسوس کریں تو شاید آپ کا ضمیر آپ کو جھنجوڑے اور چیخ کر کہے کہ اب بھی دعا ہی کرو گے.؟ کیا اپنے دفاع کے لیے اپنا ہاتھ، قدم، قلم، آواز، کیمرہ، ہنر، فن استعمال نہیں کرو گے.؟

    ضرور استعمال کرو گے بلکہ آخری سانس تک جدوجہد اور لڑائی کرو گے، اپنی چادر اور چار دیواری کے تحفظ کے لیے ہر شے کو بروئے کار لاؤ گے،
    لیکن کشمیر تو اپنا نہیں، ہے ناں.؟
    خدا کے لیے اپنے آپ کو جگائیے، کشمیری اور کتنے جنازے اٹھتے دیکھیں گے، کتنے بچے یتیم ہوں گے، کب تک وہ مائیں بیٹوں کا سوگ مناتی رہیں گی.؟

    اگر احساس ہو تو اٹھائیے کشمیر کے لیے اپنی آواز، قلم اور قدم تا کہ کل کشمیری اللہ کے دربار میں حاضر ہو کے تمہارا گریبان نہ پکڑ سکیں..!

  • "لاہور سے پانچ من مینڈک پکڑے جانے والی خبر میں کتنی صداقت ہے” تحریر:  محمد عبداللہ

    "لاہور سے پانچ من مینڈک پکڑے جانے والی خبر میں کتنی صداقت ہے” تحریر: محمد عبداللہ

    نیوز چینلز کے مطابق راوی کے پل سے پانچ من مینڈک کے ساتھ ملزمان کو مجاہد اسکوڈ نے پکڑا اور تھانہ شاہدرہ کے حوالے کردیا جبکہ تھانہ شاہدرہ میں کال کرنے پر وہاں کے ذمہ داران نے مجھے بتایا کہ ہمارے پاس ایسے کوئی مجرم نہیں لائے گے. پولیس کے دیگر ذرائع سے دریافت کرنے پر وہ مینڈک والی خبر کی تردید کرچکے ہیں کہ ہمارے علم میں کوئی گرفتاری نہیں ہوئی. اسی طرح پنجاب فوڈ اتھارٹی کی انتظامیہ سے بھی ابھی میری بات ہوئی ہے اور وہ بھی لاعلمی کا اظہار کر رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ہم نے میڈیا اور سوشل میڈیا پر ہی یہ نیوز سنی ہے. اور اس خبر کو تیسرا دن ہونے کو آیا ہے لیکن تاحال مبینہ ملزمان کو کسی کورٹ وغیرہ میں پیش نہیں کیا گیا کیونکہ ملزم کو لازمی طور پر چوبیس گھنٹے کے اندر اندر عدالت میں پیش کیا جاتا ہے. لیکن سوشل میڈیا پر اس اسٹوری اور نیوز کو لے کر طوفان بدتمیزی مچا ہوا ہے. اس فیک نیوز سے سینکڑوں کہانیاں بنائی جاچکی ہیں. کتنے ہی لوگ جو چکن سے فاسٹ فوڈ تیار کرتے ہیں وہ ان نیوز کو لے کر اپنے کاروبار کے لیے بہت فکر مند ہیں.اسی طرح بار بار مختلف فضول قسم کی پوسٹس پڑھنے اور دیکھنے کے بعد لوگوں کے لیے کچھ بھی کھانا ناپسندیدہ بنتا جا رہا ہے.
    دوستو اسلام ہمیں اسی لیے یہ بات بڑی واضح طور پر بتاتا ہے کہ جب تمہارے پاس کوئی خبر پہنچے تو اس کی کنفرمیشن کتنی ضروری ہے. میڈیا اور نیوز سے وابستہ افراد جانتے ہیں کہ کوئی بھی ٹیبل اسٹوری یا فیک نیوز گھڑ کر کسی نیوز ایجنسی کے ذریعے تمام چینلز اور اخبارات تک پھیلا دینا کتنا آسان ہوتا ہے اور آگے نیوز چینلز اور اخبارات بھی ریٹنگ کے چکر میں اس طرح کی نیوز کو مرچ مصالحہ لگا کر صحیح اچھالتے ہیں. اپنے سوشل میڈیا کے دوستوں سے بھی کہنا چاہوں گا کہ کوئی بھی نیوز ملنے کے بعد اس کو دیکھ لیا کریں اور اس کے مضمرات کا بھی جائزہ لے لیا کریں. نعمان علی ہاشم کی یہ بات بالکل درست لگتی ہے کہ ہمیں حرام چیزوں سے زیادہ جو باتوں کا چسکہ لگ چکا ہے وہ زیادہ خطرناک ہے.

    مصنف کے بارے میں مزید جانیے

    Muhammad Abdullah
    Muhammad Abdullah
  • کپتان سرفراز احمد کا بیٹا بھی کپتان نکلا ، 4 سال کا عبداللہ زبردست بیٹنگ کرتا ہے ، ویڈیووائرل

    کپتان سرفراز احمد کا بیٹا بھی کپتان نکلا ، 4 سال کا عبداللہ زبردست بیٹنگ کرتا ہے ، ویڈیووائرل

    کراچی : پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد کا بیٹا بھی کپتان نکلا ، سرفراز احمد کے 4 سالہ بیٹے عبداللہ نے تو بیٹنگ کرکے بڑے بڑے کھلاڑیوں کو پیچھے چھوڑ دیا ،

    ذرائع کے مطابق سوشل میڈیا پر کپتان سرفراز احمد کی بیٹے کے ساتھ ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں دنیائے کرکٹ کے عظیم کھلاڑی پاکستان قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد کو 4 سالہ بیٹے عبداللہ کی بیٹنگ کے دوران وکٹ کیپنگ کررہے ہیں

    ایک دوسری ویڈیو میں عبداللہ اسٹیڈیم لیفٹ ہینڈ بیٹنگ کرکے اس انداز سے باولر کی گیند کو کھیل رہے ہیں جیسے ایک تجربہ کار کھلاڑی اوپنر بلے باز کے طور پر سامنا کرتا ہے ،

  • وعدے نہیں نظام بدلو؛ علی چاند

    وعدے نہیں نظام بدلو؛ علی چاند

    پاکستان بنانے کا مقصد ایک ایسے خطے کا حصول تھا جہاں مسلمان اپنے دین اسلام کے مطابق آزدانہ زندگی گزار سکیں اور اپنے اسلامی اصول و قوانین پر عمل کر سکیں ۔ مسلمانوں نے اس لیے بے انتہا قربانیاں دیں تا کہ ان کی آنے والی نسلیں پاکستان میں رہ کر اسلام پر عمل پیرا ہو سکیں ۔ لیکن پاکستانیوں کی بدقسمتی کہ انہیں ایسے حکمران ملے جنہوں نے اس پاک دھرتی پر اسلام کے خلاف ہونے والی سازشوں کو کامیاب ہونے میں ہمیشہ مدد دی ۔ پاکستانی کی سرزمین میں عاشق رسول ﷺ تو پھانسی کے پھندے تک پہنچتے رہے لیکن پاکستان کہ غدار اور اسلام کے دشمن ہمیشہ ہمارے حکمرانوں کے تحفظ میں رہے ۔ اس پاک دھرتی میں اسلامی قوانین تو راٸج نہ کیے جاسکے البتہ میڈیا کے ذریعے پاکستان میں لبرل ازم کو فروغ ضرور دیا جاتا رہا ہے ۔ اسلام کے نام لیواٶں پر تو یہ زمین تنگ کر دی گٸی لیکن محب وطن پاکستانیوں پر غداری کے مقدمات درج کٸیے گے اور پاک فوج اور پاک وطن اور اسلام کو نقصان پہنچانے والے باعزت بری ضرور ہوتے رہے ۔ پاکستان کے عوام جنہوں نے اسلام کو اپنی زندگیوں میں عملا نافذ کرنا تھا وہ روٹی کپڑا مکان ، قرض اتارو ملک سنواروں ، ایک کروڑ نوکریوں ، اور دو نہیں ایک پاکستان جیسے نعروں میں ہی الجھ کر رہ گے ۔ نعرے تو ہر الیکشن میں بدلتے رہے ۔ بلہ الیکشن سے پہلے اور نعرے ہوتے جبکہ الیکشن کے بعد مزید نٸے نعرے آجاتے ۔ لیکن ان کھوکھلے نعروں نے ہمیں دیا کیا ؟ کیا پاکستان سے قرضہ ختم ہو گیا ؟ کیا عوام کو روٹی کپڑا اور مکان مل گیا ؟ کیا دو نہیں ایک پاکستان بن گیا ؟ کیا عوام کو انصاف ان کے دروازے پر ملنا ممکن ہوگیا ؟ کیا پولیس کا نظام ، عدلیہ کا نظام ، نظام حکومت سب بدل گیا ؟ کیا یہ سب بدل کر پاکستانی عوام کو سکھ کا سانس نصیب ہوگیا ؟ ہرگز نہیں اور نہ ہی ایسا تب تک ہو سکتا ہے جب تک ہم اہنا نظام نہ بدل لیں ۔ اگر ملک کو خوشحال بنانا ہے ، عوام کو ضروریات زندگی فراہم کرنی ہیں تو پھر نعرے نہیں نظام بدلنا ہوگا ۔ نظام بھی نچلی سطح سے لے کر اعلی سطح تک بدلنا ہوگا ۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ نظام میں بدلا کیا جاٸے ۔ تو سنیں نظام بدلنا کیسے ہے اور کس طرح نظام بدلے گا ۔ ہمارا پولیس کا نظام وہی جو انگریز نے بنایا یعنی عوام کو حکمرانوں اور سیاستدانوں ، جاگیرداروں ، وڈیروں سے ڈرا کر رکھنا اور بدقسمتی سے ہمارا نظام آج بھی وہی ہے ۔

    ضرورت اس بات کی ہے کہ پولیس کا نظام اس محکمے کے مقاصد وہی رکھیں جاٸیں جو امیر المٶمنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس محکمے کو قاٸم کرتے وقت بناٸے تھے ۔ قصور میں آٸے دن بچوں کا ریپ اور پھر درد ناک قتل اس سب کا ذمہ دار موجودہ نظام اور اس نظام کو قاٸم کرنے والے ہیں ۔ اگر اسلامی شریعت کے مطابق ان بچوں کے قاتلوں کو سر عام سزاٸیں دی جاٸیں تو آٸیندہ کسی کی جرأت نہیں ہوگی کسی معصوم بچے کی طرف غلط نظر سے دیکھ سکے ۔ ہمارے ملک میں رشوت خوری جہاں عروج پر ہے جہاں چور ڈاکو ملک کا پیسہ لوٹ کر باہر جاٸدادیں بنا لیں یہاں اگر اسلامی شریعت نافذ ہوتی تو پہلی دفعہ ہی چر کا ہاتھ کاٹنے پر اسے عبرت مل جاتی کہ آٸیندہ ہم نے حرام پیسے کو ہاتھ نہیں لگانا ۔ انہیں پتہ ہوتا کہ ہم نے اپنے کتوں کو شہزادے بنا کر نہیں رکھنا بلکہ کتے کے کاٹے کی ویکسین رکھنی ہے ۔ دو نہیں ایک پاکستان بنانے کا آسان نسخہ یہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرح ان وزیروں مشیروں اور وزیر اعظم کا رہن سہن رکھا جاٸے ۔ دربان یعنی سیکیورٹی گارڈ ، پروٹوکول ختم کیاجاٸے ۔ وزیر اعظم کی تنخواہ عام مزدور کے برابر لاٸی جاٸے تاکہ سب کا معیار زندگی ایک ہو ۔ وزیروں مشیروں کی شاہانہ گاڑیوں پر پابندی لگاٸی جاٸے جیسا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے صوبوں کے والیوں کو ترکی گھوڑا استعمال کرنے سے منع کیا تھا ۔ اسلامی قانون کے مطابق زکوة و عشر امیروں سے لے کر غریبوں کو دینے کا حکم تھا مگر یہاں غریب کے بچے کی دو روپے کی ٹافی پر بھی ٹیکس لگا کر امیروں کو دیا جارہا ہے ۔ ٹیکس ختم کر کے زکوة و عشر کا نظام لایا جاٸے تاکہ فاٸدہ غریب کا ہو اور امیر کا بھی مال پاک ہوجاٸے ۔ یہ قانون بنایا جاٸے کہ جو حکمران قرض لے گا وہی اس قرض کو واپس بھی کرے گا نہ کہ اس ملک کی غریب عوام کو پیسا جاٸے گا ۔ ملک کی لوٹی ہوٸی رقم واپس لانے کا آسان حل ان چوروں ڈاکوٶں میں سے کسی دو کی سر عام گردنیں اتار دی جاٸیں ۔ باقی روپیہ خود واپس کریں گے ۔ اور اس قانون پر عمل میں خیال یہی رکھا جاٸے کہ اگر اپنی بہن یا بیٹی کی چوری اور زکوة کی جاٸدادیں باہر ہیں تو اسے بھی سزا دی جاٸے ۔

    پاکستان میں حکمران صرف اسی کو منتخب کیا جاٸے ، چیف جسٹس اور چیف آف آرمی سٹاف تک کے عہدے ان لوگوں کو دٸیے جاٸیں جن کے بزرگ پاکستان میں دفن ہیں جن کی اپنی ساری عمریں اسی پاکستان میں گزر گٸیں اور جن کے بچے بھی ہمیشہ پاکستان میں رہے ہیں ۔ ایم این اے ، ایم پی اے سے پروٹوکول ، سرکاری گاڑیاں سیکیورٹی واپس لی جاٸے اور انہیں پابند کیا جاٸے کہ یہ لوگ عام عوم کے ساتھ سفر کریں ۔ پھر دیکھیں ملک میں کوٸی ایک ادنی سی چوری بھی ہوگٸی یا دھماکہ ہوگیا تو کہنا ۔ شراب پر پابندی عاٸد کی جاٸے اور دیگر نشہ آور چیزوں کے استعمال پر سر عام کوڑے مارے جاٸیں تاکہ کالجز اور یونیورسٹیوں میں نشہ کے کاروبار ختم ہوں ۔ مزدوروں کے لیے ہسپتال الگ بناٸیں جاٸیں اور پھر ان عوامی نماٸیندوں کو پابند کیا جاٸے کہ وہ اپنا علاج انہیں ہسپتالوں سے کرواٸیں ۔ مزدور کا جیسا علاج معالجہ ہو ویسا ہی ان عوامی نماٸیندوں کا بھی ۔ بے حیاٸی کے خاتمے کے لیے بچوں کے بالغ ہوتے ہی ان کی شادیاں کروانے پر حکومتی سطح پر سختی کی جاٸے ۔ جو وزیر بے حیاٸی پھیلانے والوں کے ساتھ نظر آٸے اس کے لیے سزا مختص کی جاٸے تاکہ وہ بے حیاٸی پھیلانے والیوں کو ایوارڈ دینے کی بجاٸے شریعی سزا دے سکیں ۔ پہلی وحی ” پڑھ اپنے رب کے نام سے ” پر عمل کیاجاٸے اور اپنے رب کی دی ہوٸی تعلیم یعنی اسلامی تعلیمات کے مطابق تعلیم دی جاٸے ۔

    لیکن یہ سبھی قوانین تب بنے گے جب لیڈر اور نماٸیندے ایمان دار ہوں گے ۔ حرمت نبی ﷺ کو بیچ دینے والے ، شراب جس نے پینی ہے پی جس نے نہیں پینی نہ پیے کہنے والے ایسا نظام نہیں لاسکتے ۔ جو اپنے حرام پن کا دفاع کرنے کے لیے کہتے ہیں کہ جسے خالص دودھ ویسے مل جاٸے اسے گاٸے پالنے کی کیا ضرورت ہے وہ یہ نظام کیسے لاسکتے ہیں ۔ جو یہ کہے قادیانی ہمارے بہن بھاٸی ہیں وہ یہ نظام کیسے لاسکتے ہیں ؟ جو یہ کہیں کہ پتنگ بازی چھوڑنی ہے تو قربانی کرنا بھی چھوڑ دیں وہ یہ نظام کیسے لاسکتے ہیں ؟ جن کے اپنے بچے باہر کے ملکوں میں والدین کی عزتیں خاک میں ملا رہے ہیں وہ یہ نظام کیسے لاسکتے ہیں ؟

    اللہ ہمارے شہدا کی قربانیاں قبول فرماٸے اور کوٸی معجزہ دکھا دے کہ ہم بھی اپنے وطن کو صحیح معنوں میں اسلامی جمہوریہ پاکستان بنتے ہوٸے دیکھ سکیں ۔ آمین