Baaghi TV

Category: بلاگ

  • عید قربان، جشن پاکستان اور کشمیریوں کو پیغام —- غنی محمود قصوری

    عید قربان، جشن پاکستان اور کشمیریوں کو پیغام —- غنی محمود قصوری

    اس مرتبہ عیدالاضحی یعنی عید قربان اور جشن آزادی یعنی یوم آزادی پاکستان ایک ساتھ آئے ہیں مگر المیہ کہ اس سے پہلے مقبوضہ کشمیر میں ہندو پلید نے ظلم کے پہاڑ توڑ دیئے کم و بیش ایک ہفتے سے زائد دنوں سے پوری وادی میں کرفیوں نافذ ہے انٹرنیٹ سروس و موبائل فون سروس بھی بند ہے تلاشی کے بہانے نہتے کشمیریوں کا قتل عام کیا جا رہا ہے پوری وادی جیل کا منظر پیش کر رہی ہے
    کچھ اسی قسم کا منظر ہمارے بزرگوں نے 1947 میں بھی دیکھے ہیں جس کے کئی عینی شاہدین ابھی بھی الحمدللہ حیات ہیں ہمارے انہی بزرگوں کی قربانیوں کی بدولت ہندوستان پلید کے بطن سے اور انگریز بے ایمان کے جبری قبضے سے لاکھوں شہادتیں اور عزتیں لٹوا کر اپنے گھر بھار گلی محلے مال مویشی چھوڑ کر 14 اگست 1947 کو آزادی حاصل کی گئی تھی آج اس 14 اگست 1947 کے دن کی نسبت سے ہم یوم جشن آزادی مناتے ہیں
    ہندوستان میں اتنے عرصے سے رہتے ہوئے آخر علیحدہ ہونے کی نوبت کیوں آئی وجہ صرف اور صرف دو قومی نظریہ تھا چونکہ ہندو کڑوروں خود ساختہ جعلی خداءوں کا ماننے والا اور مختصرا گائے کا پیشاب پینے والا ہے جبکہ مسلمان ایک اللہ کو ماننے والا اور گائے کا گوشت کھانے اور اس کے پیشاب سے بچنے والا ہے اور پیشاب کو پلید جاننے والا
    دو قومی نظریہ جو قیام پاکستان کے لئے پیش کیا گیا کوئی نیا نہیں بلکہ یہ تمام انبیاء کا بھی نظریہ ہے جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا نظریہ بھی دو قوموں کے مابین تھا ابراہیم کا نظریہ تھا کہ اللہ ایک ہے اس کے مقابل جو لوگوں نے خود ساختہ جعلی خدا بتوں کی شکل میں بنا رکھے تھے وہ سب رد ہیں باطل ہیں ان سے بیزاری ہے خیر بات لمبی ہو جائیگی مختصر لکھتا ہوں کہ ابراہیم علیہ السلام نے ایک اللہ کا حکم مانتے ہوئے اور دیگر نظریوں کا رد کرتے ہوئے بتوں کے ٹکڑے کیئےاور نمرود کے سامنے کلمہ حق بیان کیا پھر اس کے بعد اپنے لخت جگر اسماعیل علیہ السلام کو اللہ کے حکم کے مطابق قربان کرنے کا فیصلہ کیا مگر ادھر اللہ احکام الحاکیمین نے ابراہیم علیہ السلام کے نظریہ کی قدر کی اور ان کے لخت جگر کی بجائے مینڈھا یاں دنبہ قربان ہوا اسی نسبت سے امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے جد ابراھیم علیہ السلام کے نظریہ کی بنا پر ہر سال 10 ذی الحج کو جانور قربان کرکے عیدالاضحی یعنی عید قربان مناتی ہے
    وہی ہندو نجس پلید کہ جس پر ہمارے بڑوں نے تقریبا 1 ہزار سال حکومت کی اور پھر ہمارے ہی بڑوں کی جہاد سے دوری کی بدولت انگریز ہندوستان پر قابض ہوا تو اللہ کریم نے ٹیپو سلطان اور شاہ اسماعیل شہید رحمتہ اللہ علیہ جیسے مجاھدین کیساتھ امت کے غم خوار علامہ اقبال اور قائد اعظم اور ان کے دیگر غیور ساتھی ہندوستان کی دھرتی پر پیدا کیئے جنہوں نے اپنے نبی محمد ذیشان صلی اللہ علیہ وسلم کے نظریہ پر جدوجہد کرتے ہوئے انگریز اور ہندو مکار سے آزادی حاصل کی اس ظالم انگریز اور ہندو کی چالوں کی بدولت وادی جموں و کشمیر جنت نظیر مقبوضہ وادی کشمیر بن گئی اور تاحال مقبوضہ ہی ہے جس کی آزادی کیلئے غیور کشمیری قوم اب تک 1 لاکھ کے قریب شہادتیں اور ہزاروں عزتیں نچھاور کر چکی ہے یوں تو 1947 سے اب تک کشمیری ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں مگر گزشتہ ہفتے سے کشمیریوں پر مظالم کے ایسے پہاڑ توڑے جا چکے ہیں کہ جن کا بیان نا ممکن ہے اس کمیونیکیشن کے دور میں ہونے کے باوجود کشمیری موبائل اور انٹرنیٹ سے محروم سخت کرفیو میں اب تک سینکڑوں مذید شہادتوں کے نذرانے پیش کر چکے ہیں کیونکہ کشمیری قوم مسلمان اور دو قومی نظریہ کی بنا پر تحریک آزادی کشمیر جاری رکھے ہوئے ہے اور اللہ کے فضل سے آزادی کے قریب تر ہوتی جا رہی ہے سو ہندو ظالم دن بدن کشمیریوں پر نت نئے طریقوں سے ظلم کر رہا ہے مگر افسوس تو مسلمان حکمرانوں پر ہے کہ جو اتنا کچھ جاننے اور دیکھنے کے باوجود چپ چاپ خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں عالم اسلام کے حکمران آزادی کے نبوی طریقے کو (جہاد جو کہ کہنا اس وقت جرم ہے) چھوڑ کر خالی بیانات اور ہندو کو بد دعائیں دینے کا طریقہ اپنائے ہوئے ہیں اور گمان کرتے ہیں کہ روز قیامت انہی لفظی بیانات کے جہاد سے ہم اللہ کے غضب سے بچ جائینگے جو کہ دراصل خود کو دھوکا دینے کے علاوہ کچھ بھی نہیں
    اور آخر میں میرا کشمیری قوم کو پیغام امت محمدیہ کے غیرت مند کشمیریوں ایک اندازے کے مطابق پاکستان کی آزادی کیلئے 10 لاکھ سے اوپر قربانیاں دی گئیں آج تمہاری قربانیاں بھی لاکھوں تک پہنچ چکی ہیں سو ڈٹے رہنا گھبرانا مت کیونکہ ظلم جب حد سے بڑھتا ہے تو مت جاتا ہے سو ایک اللہ پر توکل کرتے ہوئے ڈٹ جاءو میرا رب آج بھی وہی ہے جو فرعون کے گھر موسی کی پرورش کرتا ہے ابابیلوں سے ہاتھی مرواتا ہے اور مچھروں سے نمرود جیسے خود ساختہ جعلی خدا کو کیفر کردار تک پہنچاتا ہے باقی آزادی تو ان شاءاللہ تمہیں ملنی ہی ہے کیونکہ میرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عزوہ ہند کی بشارت دے کر گئے ہیں مگر کل روز قیامت ان خاموش تماشائیوں کے گریبان ہونگے اور تمہارے ہاتھ کیونکہ میرا رب قرآن میں فرماتا ہے
    ومالکم لا تقاتلون فی سبیل اللہ

    کشمیریوں سے رشتہ کیا؟ لا الہ الا اللہ

  • کیا بھارت کشمیر کو آزاد کرکے پاکستان کی بقاء ممکن بنائے گا؟؟؟  محمد عبداللہ

    کیا بھارت کشمیر کو آزاد کرکے پاکستان کی بقاء ممکن بنائے گا؟؟؟ محمد عبداللہ

    بانی پاکستان محمد علی جناح نے کشمیر کو شہ رگ پاکستان کہا تھا یہ کوئی جذباتی بات یا سیاسی بیان نہیں تھا بلکہ اس زیرک انسان کی نگاہ بھانپ چکی تھی کشمیر پاکستان کے لیے کیا حیثیت رکھتا ہے. آپ اگر نقشہ وغیرہ پڑھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں تو آپ دیکھیں گے کہ پاکستان میں آنے والے سبھی دریاؤں کا منبع کشمیر ہی ہے.سوائے ان دو دریا ؤں ستلج(بیاس+بیاس) اور راوی کے جو بھارتی علاقے سے پاکستان میں داخل ہوتے ہیں لیکن سندھ طاس معاہدے کی وجہ سے ان کے پانی پر بھارت کا حق ہے اور بھارت مختلف مقامات پر ان دریاؤں پر ڈیم بنا چکا ہے. اسی لیے سوائے سیلابی کیفیت کے آپ کو وہ دونوں دریا پاکستان میں خشک دکھائی دیتے ہیں.
    جنگ مسئلے کا حل ہے یا نہیں؟؟؟ محمد عبداللہ
    جبکہ چناب جو ہماچل سے نکل کر جموں و کشمیر سے ہوتا ہوں سیالکوٹ میں مرالہ کے مقام پر دریائے توی سے مل کر پاکستان میں پانی لاتا ہے جو پاکستان کے بیشتر حصے کی زرعی ضروریات کو پورا کرتا ہے. ہیڈ مرالہ کے مقام سے اس سے دو نہریں نکلتی ہیں اپر اور لوئر چناب جن میں سے ایک آگے جاکر بمبانوالہ میں دو حصوں میں تقسیم ہوجاتی ہے ان میں سے ایک جس کو بی آربی کہا جاتا ہے وہ لاہور کو بھی پانی پہنچاتی ہے اور راوی کے نیچے سے گزرت ہوئے آگے دیپالپور نہر میں شامل ہوجاتی ہے. راوی اور ستلج دونوں کے خشک ہوجانے کی وجہ سے اس سارے مشرقی پنجاب کے علاقے کو پانی چناب سے نکلنے والی اس نہر سے ہی بہم پہنچایا جاتا ہے.
    ریاست پاکستان کا بیانیہ …. محمد عبداللہ
    اسی طرح دریائے جہلم پیر پنجال کے ویری ناگ چشمے سے نکل کر سری نگر ڈل جھیل سے ہوتا ہوا چکوٹھی کے مقام پر مظفر آباد آزاد کشمیر میں داخل ہوتا ہے جہاں مظفرآباد میں اس میں دریائے نیلم شامل ہوتا ہے، وادی کاغان میں دریائے کنہار ان میں شامل ہوتا ہے جبکہ آزاد کشمیر کے علاقے میرپور، منگلا سے کچھ پیچھے دریائے پونچھ بھی ان کے ساتھ مل جاتا ہے اور یہ منگلا میں مقام پر ڈیم میں گرتے ہیں منگلہ ڈیم پاکستان کی بجلی کی بہت بڑی ضرورت کو پورا کرتا ہے وہاں ڈیم سے دریائے جہلم پنجاب کے علاقے جہلم سے گزر کر آگے بڑھتا ہے اور تریموں کے مقام پر دریائے پنجاب سے مل جاتا ہے اور دونوں دریا آگے بڑھتے ہوئے پنجند کی طرف بڑھتے ہیں.
    سوشل میڈیا پر بھارت کا راج پاکستانی بے یارو مددگار — محمد عبداللہ
    آپ نقشے پر مزید اوپر کی طرف جائیں تو آپ کو دریائے سندھ نظر آتا ہے جو تبت کے علاقے مانسرور سے نکل کر لداخ سے گزرتا ہوا گلگت بلتستان سے پاکستان میں داخل ہوتا ہے اور کے پی کے سے ہوتا ہوا تربیلا کے مقام پر ڈیم میں داخل ہوتا ہے تربیلا ڈیم پاکستان کی بجلی کی ضروریات پوری کرنے میں نمایاں کردار ادا کرتا ہے اسی دریا سے نکلنے والی تھل کینال نے جنوبی پنجاب کے بنجر صحرائی علاقے کو سرسبز اور شاداب بنا دیا ہے . یہاں سے دریائے سندھ آگے پنجاب کے مختلف علاقوں کو سیراب کرتا ہوا آگے بڑھتا ہے اور کوٹ مٹھن کے قریب پنجنند کے مقام پر دریائے چناب و جہلم اور دریائے ستلج و راوی دریائے سندھ میں گرتے ہیں اور یہاں سے آگے یہ دریا سندھ کے مختلف علاقوں سے گزرتا ہوا زرعی اور پینے کے پانی کی ضروریات کو پورا کرتا ہوا ٹھٹھہ کے مقام پر بحیرہ عرب میں گرتا ہے.
    کیا اس لیے تقدیر نے چنوائے تھے تنکے ….. محمد عبداللہ
    دریاؤں کی اس ساری بحث کا ماحاصل یہ ہے کہ سندھ طاس معاہدے کی بدولت بھارت آپ کے دریاؤں بیاس، ستلج، راوی کے پانی کو پہلے ہی ہڑپ کرچکا ہے صرف کشمیر سے آنے والے دریا باقی تھے جو پاکستان میں پانی لا رہے تھے لیکن کشمیر کے مکمل طور بھارت میں چلے جانے کے بعد آپ مکمل طور پر بھارت کے مختاج اور زیر اثر ہوجائیں گے کیونکہ پانی ہی زندگی ہے آپ کا زرعی ملک ہے جس کی ستر فیصد معیشت کا انحصار زراعت پر ہے تو آپ کی زمینیں بنجر ہوجائیں گی اور آپ کی بوند بوند کو ترسیں گے لیکن آپ کو پینے کے لیے بھی پانی نہیں ملے گا. (ہم نے کچھ عرصہ سندھ کیں گزارا ہے ہم جانتے ہیں ٹیل میں رہنے والے لوگ پانی کے لیے کتنا ترستے ہیں اور بعض اوقات پینے کے پانی کی بھی قلت ہوجاتی ہے.)
    بلوچستان بھی پاکستان ہے… محمد عبداللہ
    اگرچہ بھارت نے ان دریاؤں پر جن کے پانی پر پاکستان کا حق ہے ان پر بھی مقبوضہ کشمیر کیں چونسٹھ کے قریب چھوٹے بڑے ڈیم تعمیر کرلیے ہوئے اور مزید یہ کہ ٹنلز کے ذریعے ان دریاؤں کا پانی چوری کرکے دور دراز راجستھان میں لے جاکر ا کو سیراب کر رہا ہے. کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم ہونے کے بعد اس سارے پانی اور دریاؤں پر مکمل طور پر بھارت کا کنٹرول ہوگا اور وہ جب چاہے جیسے چاہے اس کو استعمال کرے گا. جب ضرورت ہوگی تو پانی روک لیا جائے گا اور جب بارشوں اور سیلاب کا سیزن ہوگا تو بھارت پاکستان میں ضرورت سے زیادہ پانی بھیج کر آپ کو تباہ و برباد کرے گا جس کا وہ ماضی میں تجربہ بھی کرچکا ہے جس کو دنیا بھر کے ماہرین واٹر بم کا نام دے رہے ہیں.
    بھارت کو کتے نے نہیں کاٹا کہ وہ آپ کو محض ٹرینیں اور بسیں روک دینے سے کشمیر دے کر کشمیر آزاد کردے اور آپ کو آزادی سے زندگی گزارنے کا موقع دے دے. جو لوگ اس خوش فہمی میں ہیں کہ فقط سیاسی اور سفارتی حربوں سے کشمیر مل جائے گا تو وہ لوگ بہت بڑی بھول میں ہیں اک کشمیر کی وجہ سے بھارت پاکستان کو مکمل طور کنٹرول کرسکتا ہے جبکہ اسی کشمیر کی ہی وجہ سے بھارت امریکہ کے ساتھ مل کر نہ صرف چین کو ڈسٹرب کرسکتے ہیں کہ بلکہ گیمر چینجر پلان سی پیک کی گیم بھی الٹائی جاسکتی ہے.یہ وہ مرحلہ ہوگا جس پر پاکستان کے لیے سارے راستے مسدود ہوجائیں گے.
    اس لیے پاکستان کو چاہیے کہ وہ کشمیر کے مسئلہ پر سنجیدہ ہوجائے. جلد یا بدیر آپ کو کشمیر کی صورت میں پاکستان کی بقاء کے لیے بھارت سے دو دو ہاتھ کرنا پڑیں گے، کوئی فیصلہ کن قدم اٹھانا پڑے گا وہ آپ آج اٹھاتے ہیں یا سب کچھ گنوا کر اٹھاتے ہیں فیصلہ
    آپ کے ہاتھ میں ہے.

    Muhammad Abdullah

  • اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا ۔۔۔ تحریر : سلمان آفریدی

    اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا ۔۔۔ تحریر : سلمان آفریدی

    حافظ ابتسام الحسن بھائی ایک انسان دوست ، حکمت سے معمور اور دعوتی جذبے سے سرشار عالم دین تھے۔ دعوتی تڑپ اور دین کے پھیلاؤ کی جو لگن ان مِیں دیکھی وہ بہت ہی کم لوگوں میں نظر آتی ہے۔ گزشتہ روز رات بارہ بجے کے قریب ہمارے ایک مشترکہ دوست اور ایک عزیز بھائی اویس کا فون آیا جنہوں نے اطلاع دی کہ سلمان بھائی ابتسام بھائی ہم میں نہیں رہے ، چند ثانیے تو یقین ہی نہیں آیا وہ کہنے لگے کہ ان کے چھوٹے بھائی اور اہلیہ ہسپتال میں ہیں میں اپنی فیملی کے ساتھ ان کے پاس جا رہا ہوں آپ بھی آ جائیں۔ میں کچھ تاخیر سے جب وہاں پہنچا تو ان کا جسد خاکی میو ہسپتال کے ڈیڈ ہاوس میں پوسٹ مارٹم کے لیے لایا جا رہا تھا۔ گلاب کی طرح کھلا ہوا چہرہ ، اور چہرے پر اطمینان دیکھ کر آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔
    ابتسام بھائی روڈ ایکسیڈنٹ میں گاڑی کی ٹکر سے شہید ہوئے ۔ اطلاعات کے مطابق انار کلی بازار لاہور کے قریب گاڑی میں دو لوگ سوار تھے جو آپس میں کسی وجہ سے الجھے جس بناء پر گاڑی ابتسام بھائی کی بائیک سے جا ٹکرائی وہ گرے مگر اٹھ کر کھڑے ہو گئے گاڑی والا ڈر کر بھاگتے ہوئے دوبارہ ان سے جا ٹکرایا اور ان کو شدید چوٹیں آئیں۔ اس دوران وہاں موجود لوگ ڈرائیور کے ساتھی کو پکڑنے میں کامیاب ہو گئے جبکہ ڈرائیور بھاگ نکلا۔ ابتسام بھائی کو قریب واقع میو ہسپتال لے جایا گیا جہاں پہلے ان کی طبیعت سنبھل گئی۔ اس دوران جب ان کی طبیعت بہتر تھی انہوں نے دیگر باتوں کے ساتھ ساتھ ڈرائیور کو معاف کرنے کی بھی وصیت کی (اللہ اکبر کیسا اعلی ظرف انسان تھا، کیسا وسیع القلب آدمی تھا اللہ تو اس کو معاف کر اور اس سے راضی ہو جا) کچھ دیر ٹھیک رہنے کے بعد طبیعت پھر بگڑنا شروع ہوئی یہاں تک کہ ابتسام بھائی بہت سی آنکھوں کو اشکبار چھوڑ کر جان جان آفریں کے سپرد کر گئے۔
    اس دھیمے مزاج اور خوبیوں سے مالا مال شخص کی وفات کی اطلاع جس جس نے سنی اس کا دل غم سےلبریز ہو گیا۔ ابتسام بھائی ایک واعظ اور خطیب ہونے کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر بھی تحریر و تقریر سے دعوت کے کام میں مصروف عمل رہتے تھے۔ ڈیفنس کی جامع مسجد الرباط میں ایک لمبا عرصہ امام تراویح رہے۔ ان کی دلنشیں اور پرسوز آواز میں کی جانیوالی قرات قران سننے کے لیے لوگ دور دور سے آتے تھے خصوصا قنوت میں ان کا رو رو کر دعائیں کرنا دیکھ کر بہت رشک آتا جب وہ خود بھی رو رہے ہوتے اور ان کے پیچھے کھڑے مقتدیوں کی آنکھیں بھی اشکبار ہوتیں۔ سوشل میڈیا پر وہ علم و عمل انسٹیٹوٹ، پاک بلاگرز فورم سمیت کئی فورمز سے وابستہ تھے ۔ ان کے مضامین ، کالمز اور آڈیو ویڈیو لیکچرز گاہے بگاہے شائع و نشر ہوتے رہتے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ حفظ القران اور تجوید کے استاد بھی تھے۔ مرکز الودق ڈیفنس اور دیگر کئی مقامات پر خدمات سرانجام دینے بعد انہوں نے حلیمہ سعدیہ ایجوکیشنل کمپلیکس نزد شرقپور روڈ پر کام کا آغاز کر رکھا تھا جہاں تعلیم بالغاں کے ساتھ مدرسہ حفظ القران اور تجوید کا بھی اجراء کیا جا چکا تھا۔ یقینا وہ گوناگوں صفات کے مالک اور کثیر الصلاحیت شخص تھے۔
    ان کے ساتھ کام کرنے والے دوستوں میں طہ منیب بھائی نے ان کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی اچانک وفات سے دل بہت غمگین اور اداس ہے۔ دعوتی اور اصلاحی پلیٹ فارمز پر ویڈیو ریکارڈنگ کے سلسلے میں ان سے ملاقاتیں ہوتی رہتی تھیں۔ رمضان المبارک اور ربیع الاول میں محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم کے موضوع پر ان کے متعدد لیکچرز ریکارڈ کروائے جبکہ چند ماہ پہلے ان کی کال آئی جس میں انہوں نے اپنے مقتدیوں کے اصرار پر تلاوت قران کی ریکارڈنگ کے لیے آڈیو ریکاڈنگ سٹوڈیو کا پوچھا ہم نے ریکارڈنگ شروع کی اب تک تین پارے ہو چکے تھے کہ اللہ کی مشیت غالب آ گئی۔
    اس طرح پاک بلاگرز فورم کے مدیر خنیس الرحمان نے ان کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ
    ہم حافظ ابتسام رحمۃ اللہ کے ہوتے ہوئے فخر محسوس کرتے تھے کہ ہمارے درمیان عالم دین موجود ہیں آج پاک بلاگرز فورم ان کے جانے سے یتیم ہوگیا, ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا, یقین ہی نہیں آتا. بار بار ان کی گفتگو اور ان کے کہے ہوئے بہت سے الفاظ کانوں میں گونجتے ہیں۔ ان کو یاد کرنے اور کہنے کو بہت کچھ ہے مگر ان کی جدائی کا صدمہ اس قدر ہے کہ کچھ سمجھ نہیں آتا کہ کیا کہوں۔

    بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
    اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا

    شہادت کی دعائیں مانگنے والا شہادت کا یہ طلبگار ان شااللہ شہید ہو کر اپنے رب کے پاس پہنچا۔ اللہ سے دعا ہے کہ اللہ رب العالمین ہمارے بھائی کی کوتاہیوں سے درگزر فرمائے اس کو معاف فرمائے اس سے راضی ہو جائے اور اس کو جنت الفردوس میں اپنا مہمان بنائے۔ آمین یا رب العالمین

  • وہ وقت جب کشمیر حاصل کرنے کا بہترین موقع تھا——–احمد طارق

    وہ وقت جب کشمیر حاصل کرنے کا بہترین موقع تھا——–احمد طارق

    یہ بات 1965 کی ہے جب پاک بھارت جنگ ہوئی،6 ستمبر 1965 کی صبح 9 بجے لاہور مین افواہ پھیلی کہ بھارت نے پاکستان میں حملہ کردیا ہے لیکن بعد میں پتا چلا کہ یہ افواہ نہیں بلکہ سچی خبر ہے۔

    1965 کی جنگ میں جہاں دراصل کشمیر میں جنگ ہورہی تھی اور ہم لوگ کشمیر میں لڑ رہے تھے، پاکستان اندازہ بھی نہیں لگاسکتا تھا کہ بھارت کشمیر کے علاوہ پنجاب اور بالخصوص لاہور سے حملہ کرسکتا ہے، اس تلخ حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ بھارتی فوج واہگہ کے ذریعے لاہور کے شالامار باغ تک پہنچ گئی اور ہم لوگ اس سے لاعلم تھے کہ بھارتی فوج شالامار باغ تک پہنچ گئی، تاہم جب بھارتی فوج نے دیکھا کہ یہاں تو کوئی پاکستانی فوج نظر نہیں آرہی تو انہیں خیال آیا کہ ہوسکتا یہ کوئی پاکستانی چال ہو کہ ایک دفعہ جب ہم لوگ شہر کے اندر داخل ہوں تو ہمیں چاروں طرف سے گھیر کر ہمیں تباہ کردیا جائے لیکن وہ حقیقت سے ناواقف تھے۔ خیر بھارتی فوج یہ پاکستانی چال سمجھ کر واپس بھارت چلی گئی لیکن اس بات سے انکار نہیں کہ بھارتی شالامار باغ تک ضرور آئے تھے۔

    اب کچھ بات کرلیتے ہیں کشمیر کی، جب ہمارے پاس کشمیر حاصل کرنے کا بہترین موقع تھا اور ہم نے یہ موقع بآسانی گنوا دیا۔1965 کی جنگ میں جہاں ہم نے کئی بھارتی چوکیاں تباہ کیں اور کئی بھارتی فوجیوں کو مار ڈالا۔ یہ ہی نہیں ہم نے بھارتی فوجیوں کو قیدی بھی بنا کر رکھا۔ اس حوالے سے دیکھا جائے تو 1965 کی جنگ میں ہم نے ایک طرح سے بھارتی فوجیوں کو کافی مارا اور قیدی بھی بنا کر رکھا۔ اس طرح یہ وہ موقع تھا جب ہم بھارت سے کشمیر بآسانی حاصل کرسکتے تھے۔ اس کی دو وجوہات ہیں، ایک تو یہ کہ ہماری فوج نے بھارتی فوج کو میدان میں کافی مارا اور دوسری بڑی وجہ بھارتی فوج کی چین کے ہاتھوں 1963 کی جنگ میں شکست ہے۔ 1963 میں بھارتی فوج کو چین سے بہت مار پڑ چکی تھی، یہی وجہ تھی کہ ہمارے بڑے سمجھتے تھے کہ اب کشمیر حاصل کرنے کا بہترین موقع ہے اس لیے کشمیر پر چڑھائی کردی جائے، ہم لوگ کشمیر میں لڑتے رہے اور وہ شالامار سے ہوکر واپس چلے گے لیکن ہماری فوج نے بھارتی فوج کو 1965 میں خوب مارا۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ یہ وہ موقع تھا کہ بس ہم کشمیر چھین لیتے کیونکہ نہ صرف بھارتی فوج کو چین سے شکست ہوئی بلکہ ہماری فوج نے بھی بھارتی فوج کو خوب مزا چکھایا۔ اس طرح اس چھوٹے سے دورانیے میں 2 جنگوں میں شکست کھانے کے بعد بھارتی فوج، بھارتی حکومت اور ان کی عوام کا مورال بالکل ڈاون ہوگیا تھا۔ ہم لوگ چاہتے تو کشمیر بآسانی چھین سکتے تھے۔

    لیکن پھر کچھ یوں ہوا کہ ہمارے بزرگوں نے 10 جنوری 1966ء کو معاہدہ تاشقند پر دستخط کردیے۔ پاکستان کے صدر ایوب خان اور بھارت کے وزیر اعظم لال بہادر شاستری نے ”معاہدہ تاشقند“ پر دستخط کئے۔ اس معاہدے کیلئے پاکستان کے صدر فیلڈ مارشل ایوب خان 3 جنوری 1966ءکو اپنے سولہ رکنی وفد کے کیساتھ روس کی جمہوریہ ازبکستان کے دارالحکومت تاشقند پہنچے‘ انکے وفد میں وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو‘ وزیر اطلاعات و نشریات خواجہ شہاب الدین وزیر قانون منظور قادر اور وزیر تجارت غلام فاروق کے علاوہ اعلیٰ سول اور فوجی حکام شامل تھے۔ اس معاہدے میں ہمارے عظیم بزرگوں نے فیصلہ کیا کہ کشمیر کا حل مزاکرات سے نکالا جائے گا، اور اس پر ہمارے سابق صدر ایوب خان کے دستخط موجود ہیں۔ پاکستان نے کشمیر کا حل نکالنے کیلئے مذاکرات کا راستہ اس وقت نکالا جب بھارت کو 2 جنگوں میں مار پڑ چکی تھی اور پاکستان کے پاس بھارت کے کئی فوجی قیدی بھی تھے اس طرح پاکستان چاہتا تو بآسانی اپنی ہر کوئی بات منوا سکتا تھا لیکن پاکستان نے مذاکرات کرنے کو ترجیح دی جو آج تک ہورہے ہیں۔

    معاہدہ تاشقند ہی دراصل وہ معاہدہ ہے جس نے ایوب خان کی سیاست کو ہمیشہ کیلئے ختم کردیا۔ یہ ہی وہ معاہدہ ہے جس کی وجہ سے بھٹو نے یہ کہہ کر ایوب خان حکومت سے علیحدگی اختیار کرلی کہ ایوب خان نے معاہدہ تاشقند پر دستخط کرکے پاکستان کی سلامتی اور سالمیت کا سودا کیا ہے۔ اور دراصل یہ ہی وہ معاہدہ ہے جس کی وجہ سے ہم لوگ اب کشمیر کبھی حاصل نہیں کرسکیں گے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ضرور ہے لیکن اسے تسلیم کرلینا چاہیئے، ایک طرف بھارت نے آرٹیکل 370 اور 35 اے ختم کرکے کشمیر کی نہ صرف خود مختاری ختم کی ہے بلکہ اب کشمیر کا سارا کنٹرول براہ راست بھارتی وفاق کے پاس چلا گیا ہے۔ دوسری طرف ہماری معصوم قوم 21ویں صدی میں جنگ کی باتیں کرتے ہیں جو حقیقت سے ناواقف ہیں. معاہدہ تاشقند کسی مغربی ملک کی سازش نہیں بلکہ یہ وہ معاہدہ ہے جس پر ہمارے صدر کے دستخط آج بھی موجود ہیں۔ اس معاہدے کو 53 سال ہوگئے ہیں اور آج 53 سال بعد بھی مذاکرات چل رہے ہیں جو شاید اب چلتے ہی رہیں گے۔

  • پارلیمنٹ کی بحث کہ محلے کی لڑائی – – – فرحان رضا

    پارلیمنٹ کی بحث کہ محلے کی لڑائی – – – فرحان رضا

    ایک صاحب نے واقعہ سنایا کہ ان کےمحلے میں دو گھروں میں برسوں سے لڑائی چلی آرہی تھی۔ ان میں سے ایک صاحب کے گرد عموما کم عقل اور بھانڈ ٹائپ کے لوگ زیادہ موجود ہوتے تھے ایک دن دونوں گھروں میں تصادم ہوا اور وہ صاحب جن کے گرد کم عقل اور بھانڈ مزاج لوگ زیادہ تھے وہ زخمی ہوگئے ان کےلڑکے نے ان صاحب کے دوستوں کو بلایا کہ ابا کو ہسپتال لےکر چلیں اور پڑوسیوں کو ذرا رعب میں لائیں لیکن ہوا یہ کہ ان کے دوستوں نے آتے ہی پہلےتو ان صاحب کو دس سنائیں پھر ایکدوسرے کو سنانا شروع کردیں کہ تونےکچھ نہ کیا اوئے تو نے کچھ نہ کیا اور بات گالم گلوچ تک چلی گئی آخر کر لڑکا خود ہی ابا کو ہسپتال لےکر گیا دوسری طرف پڑوسی ہنستے رہے
    یہ واقعہ آج اس وقت یاد آیا جب میں قومی اسمبلی کی کارروائی دیکھ رہا تھا۔ اپوزیشن کو دیکھو تو لگتا تھا کہ لاٹری نکل آئی ہے خان کو رگڑنے کی۔اپوزیشن کے تقریباً ہر شخص کی تقریر دیکھیں تو لگتا تھا کہ اسمبلی میں مودی کے گُن گانے کے لیئے آئے ہیں نہ کہ آئندہ کی حکمت عملی پر بات کرنے۔ صرف آصف زرداری نے اٹھ کر ایک تجویز دی جو کہ سب سے مثبت تقریر تھی۔ رضا ربانی اس موقع پر پھر روایتی بیانیہ سول ملٹری تعلقات کو لےکر بات کرنےلگے اور اس حد تک چلے گئےکہ پاکستان کو امریکا کی کلائنٹ اسٹیٹ نہ بننے دیئے جانے کا مطالبہ کردیا شاید وہ بھول گئے تھے کہ کیری لوگر بل کے ذریعہ کلائنٹ اسٹیٹ کا متبرک رتبہ انہی کی جماعت کی حکومت نے بڑی محنت سے حاصل کیا تھا۔ جو ختم ہونے میں بڑا عرصہ لگا
    پھر مشاہد اللہ کی تقریر جسے سن کر لگتا تھا کہ موصوف شاید ن لیگ کے جلسے سے خطاب کرنے آئے ہیں کیونکہ اصل ن لیگ کے جلسوں میں آج کل شعلہ بیانی کا موقع کم ملتا ہے۔
    سب سے دلچسپ صورتحال اس وقت تھی جب اپوزیشن لیڈر نے بڑی دھواں دھار تقریر کی لیکن حل کوئی نہ دیا تو وزیراعظم نے پوچھا کیا بھارت پر حملہ کردوں آپ کہیں توکردیتاہوں تو فوری طور پر اٹھ کر کہا میں نے تو ایسا نہیں کہا۔ شاید انہیں جندال یاد آگیا ہوگا۔ سوال پھر وزیراعظم کا وہی تھا کہ پھر آپ بتائیں کیا کروں تو جواب کوئی نہ تھا۔ اور جب اپوزیشن کو لگاکہ جواب کوئی نہیں ہے تو پھر ہر تقریر کا رخ صرف تنقید کی طرف موڑ دیا گیا۔
    ایک طرف یہ حال ہے پاکستان کی اسمبلی کا تو دوسری طرف بھارت کی اسمبلی میں اختلاف ہےلیکن ہرگروپ ایک تجویز لےکر آیا ہے اور اس کے حق میں دلائل دے رہا ہے مودی کے حامی ایکطرف اور کانگریس اور اتحادی دوسری طرف ہیں دلائل سے موجودہ حالات اور آئندہ کی حکمت عملی اور منظر نامے پر بات ہورہی ہے۔ کانگریس کی قیادت نے اس فیصلے کو بھارتی آئین پر حملہ کہا اور ان شقوں کی بحالی کا مطالبہ کردیا۔ دوسری طرف بی جےپی کے وزرا نے اس
    واپس آجائیں ہماری پارلیمنٹ کی طرف تو بات شروع ہوتی ہے مودی نے یہ کیا وہ کےا اور پھر ایکدم بات ہمارا لیڈر جیل میں کی طرف چلی جاتی ہے اور آخر میں تو بات یو شٹ اپ یو شٹ اپ تک بھی چلی گئی۔
    ان تقاریر کو دیکھ کر یقینی طور پر نوجوانوں کو ایک بات ہی سمجھ میں آئی ہوگی کہ اسمبلی میں سنجیدہ، تحقیق اور مضبوط دلائل سے بات نہیں ہوسکتی یہ ارکان اسمبلی یقینی طور پر فی الحال کوئی راستہ بتانے کے قابل نہیں ہیں کیونکہ انہیں تو ایکدوسرے کو کوسنے اور پوائنٹ اسکورنگ سے فرصت نہیں ہے
    ان کے رویوں سے کشمیریوں اور پوری دنیا پر واضع ہوگیا کہ پاکستان کی اسمبلیوں میں بیٹھے لوگ ان کے لیئے اپنے اختلافات نہیں بھلا سکتے اور یہ ایک مشترکہ بیانیہ لانےکےبھی قابل نہیں ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ مشکل کا حل بتانے کے بجائےایک دوسرے کو برا بھلا ہی کہہ سکتے ہیں۔ دوسری طرف کشمیریوں نےدیکھاکہ پاکستان کی فوجی قیادت نے چند لمحوں میں ہی واضع موقف بدیدیا تھا کہ کشمیر کےلیئے ہر سطح تک جاسکتے ہیں۔
    جب قومی اسمبلی کے مبینہ طور پر معزز ارکان کی کم عقلی کا ایک بار مظاہرہ ہوچکا تو اب سوال یہ ہےکہ کیا انہیں عوام کا نمائندہ کہلائےجانے کا حق حاصل ہے۔ کیا یہ لوگ ذہنی سطح پر اس قابل ہیں کہ ملک کے حساس معاملے پر ان سے مشورہ لیا جائے؟
    ان ارکان اسمبلی کے غیر سنجیدہ اور ذاتی مفادات پر مبنی رویوں نے یقینی طور پر آج پارلیمنٹ کو کمزور کیا ہے۔ انہوں نے اپنی قابلیت پر ہی نہیں بلکہ پارلیمنٹ کی افادیت پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔کشمیر پر قرارداد تو منظور ہوگئی لیکن جوان ارکان اسمبلی نے تماشا لگایا وہ بھی تاریخ میں ان کےناموں کے ساتھ محفوظ ہوگئی

  • پہلے حافظ سعید اب ذاکر نائیک بھارت کے گلی کی ہڈی بن گئے – – – سعید جعفر

    پہلے حافظ سعید اب ذاکر نائیک بھارت کے گلی کی ہڈی بن گئے – – – سعید جعفر

    حافظ سعید کی طرح ڈاکٹر ذاکر نائیک بھی انڈین حکومت کیلئے گلے کی ہڈی بنا ہوا ہے
    کچھ دن پہلے ایک بار پھرانٹرپول نے انڈیا سے فرار ذاکر نائیک کی حوالگی عدم ثبوت کی بنا پر عمل میں نہیں لائی
    میں ہمیشہ سے ذاکر نائیک سے اس کے لباس کی وجہ سے نفرت کرتا چلا آیا
    کیونکہ بچپن سے ہمیں اس لباس سے نفرت سکھائی گئی
    آج سے 15,20سال پہلے تک ہمارے ان دیسی علاقوں میں پینٹ شرٹ کو ایک معیوب لباس سمجھا جاتا تھا
    ہمارے قاری صاحب نے ایک بار پینٹ شرٹ میں آئے معصوم بچوں کو واپس گھر بھیج دیا تھا کہ پہلے انسانوں جیسا لباس پہن کر آؤ
    مگر کچھ بڑے ہوئے تو معلوم ہوا
    کہ ذاکٹر نائیک ایک فزیشن ڈاکٹر ہے
    اس نے جہاں تعلیم حاصل کی وہاں اس طرح کا لباس عام بات تھی
    ڈاکٹر بننے کے بعد ذاکر نائیک میں اسلام کی تڑپ اٹھی
    بے شمار غیر مسلم اس کی دعوت کی وجہ سے اسلام قبول کر چکے ہیں
    ایک عیسائی کی پوسٹ میں نے خود پڑھی تھی کہ اسلام پر ہونے والے جو اعتراضات میرے ذہن میں تھے
    ذاکر نائیک سے مجھے ان سب کے جوابات انتہائی تسلی بخش ملے
    اور وہ مسلمان ہو گیا
    بدقسمتی سے بنگلہ دیش میں ایک بارہونے والے دھماکوں میں ملوث افراد نے خود کو ذاکر نائیک کا پرستار ظاہر کیا
    جس کے بعد ذاکر نائیک پر دہشت گردی کا الزام لگادیا گیا
    حالانکہ وہ داعی مزاج بندے ہیں
    آج کافی عرصے بعد انکا تازہ بیان براہ راست سنا تو دل سے دعا نکلی
    یا اللہ اسے سلامت رکھنا
    پرائیویٹ سکول چلانے والے جو لوگ اسلامی ذہن رکھتے ہیں
    انہیں میں ذاکر نائیک کا ایک بیان جس کا عنوان ہے
    "تعلیم دونوں جہان کیلئے ”
    تجویز کرتا رہتا ہوں
    تین گھنٹے کا بیان ہے
    میں نے پورا سنا ہوا ہے
    پرائیویٹ سکولوں کے مالکان ایک بار تین گھنٹے نکال کر وہ بیان ضرور سنیں

  • کشمیر میں غلطی کس نے کی — عزیر احمد (نئی دہلی)

    کشمیر میں غلطی کس نے کی — عزیر احمد (نئی دہلی)

    غلطیاں لمحوں میں ہوا کرتی ہیں, اور اس کی سزا صدیوں بھگتنی پڑتی ہے, کچھ یہی کشمیر میں ہوا ہے, کسی نے تو غلطی کی تھی, شاید پڑوسی ملک کے لیڈران نے, یا شاید اپنے ہی ملک کے قائدین نے, یا پھر خود کشمیریوں نے, ان کی سب سے بڑی غلطی تو یہی رہی کہ وہ کبھی متحدہ موقف پیش ہی نہیں کرپائے, کچھ پاکستان زندہ باد کے نعرے سے دل بہلاتے, تو کچھ لوگ ہندوستانی سرکاری مراعات سے مستفید ہوتے, انہیں ہندوستان ہی اچھا لگتا, کچھ ایسے بھی ہوتے جنہیں آزاد کشمیر چاہئےتھا, حالانکہ آزاد کشمیر محض ایک خواب تھا, ایک بھیانک خواب, جس کی تعبیر محض تباہی تھی, دونوں ملکوں میں سے کسی کی بھی خواہش نہیں کہ ایک اور ملک کا درد سر مول لیں, بہرحال آزادی کے متوالے تھے سو جوش اور جذبے کا کیا کہنا, ادھر مراعات سے فائدہ بھی اٹھاتے رہے, ادھر لڑتے بھی رہے.

    حالات ہمیشہ یکساں کہاں رہتے ہیں,ہندوستان کے افق پر بی.جے.پی کا سورج دوبارہ چمکا, امت شاہ کو وزیر داخلہ بنایا گیا, دل نے کہا یہ بندہ کچھ تو الٹا سیدھا کرے گا, سو الیکشن کا وعدہ تھا, اس نے پورا کیا, مگر محض میجوریٹی کو خوش کرنے کے لئے, کشمیریوں کی کہاں پڑی تھی کہ کم سے کم مشورہ ہی لے لیا جاتا, جس طریقے سے آرٹیکل 370 اور آرٹیکل 35 A کو ختم کیا گیا ہے, کیا پتہ کل اسی پریزیڈنشیل آرڈر کا سہارا لے کر ملک کے قانون سے Secular, Democratic Republic کے لفظ کا خاتمہ کرکے "Hindu Rashtra” لکھ دیا جائے, اور یہ کوئی بعید بات نہیں, کہ جب آرٹیکل 70 کا خاتمہ کردیا گیا جس کے بارے میں لیگل ایکسپرٹ کہا کرتے تھے کہ یہ صرف بی.جے.پی کی بڑبول ہے, ورنہ اسے اتنی آسانی سے ختم نہیں کیا جاسکتا, اسے محض ایک گھنٹے کی سیشن میں بغیر ڈیبیٹ اور بغیر ڈسکشن کے ختم کردیا گیا, تو کیا بعید ہے کہ کل جو بولنے والے باقی بھی بچے ہیں ان کی گردن پر چھری رکھ کے بات منوا لی جائے, ہمارے وزیر داخلہ کو تو اس کا تجربہ بھی ہوچکا ہے.

    ہمیں یہ بات تسلیم کرنے میں اب کوئی عار نہیں ہونی چاہئے کہ کم سے کم شمالی ہند کا ہندو اب Polarize نہیں, بلکہ حد درجہ Radicalize ہوچکا ہے, مسلم دشمنی ہی اب اس کے لئے سب کچھ ہے, آر.ایس.ایس نے ہندو ذہن میں مسلمانوں کے تئیں جو نفرت بھر دی ہے, اب ہندو قوم اس نفرت کی بنیاد پر کسی بھی حد تک جاسکتی ہے, انہیں اب نہ ڈوپلمنٹ سے مطلب ہے, نہ ایمپلائمنٹ سے, نہ تعمیر و ترقی سے, اب اگر کوئی بھی پالیسی جو مسلمانوں کے خلاف ہے تو وہ ان کے لئے نیشنل ہِت میں ہے, اور یقین مانئے امت شاہ اور مودی نے اتنا بڑا جو فیصلہ لیا ہے, اس نے انہیں ہمیشہ کے لئے ہیرو بنا دیا, اب جو آوازیں مخالفت میں اٹھا کریں گی بھی, وہ ان کے ووٹ بینک کو ذرہ برابر بھی نقصان پہونچانے والی نہیں, تین طلاق کا فیصلہ عام ہندؤوں کے نزدیک بڑا تاریخی رہا ہے, اس وجہ سے نہیں کہ اس سے مسلم عورتوں کا فائدہ ہوگا, بلکہ اس سے وجہ سے کہ ملاؤں نے اس کی مخالفت کی تھی, اس کے باوجود مودی جی نے پرواہ نہ کرتے ہوئے اسے پاس کرادیا تھا, سو کشمیر کا معاملہ تو اسے بڑھ کر ہے اور جس طریقے سے چٹکیوں میں اسے حل کیا گیا ہے, اس نے ان دونوں کو ہمیشہ کے لئے ہندو قوم پرستوں کی نگاہ میں امر کردیا ہے.

    ہندؤوں میں ایک بہت ہی کم تعداد باقی بچی ہے جو Constitutional Morality میں یقین رکھتی ہے, اور ایسے لوگ بھی مٹھی بھر ہیں, جنہیں انگلیوں پر گنا جاسکتا ہے, اور ان کو بھی کب ڈرا دھمکا کر خاموش کردیا جائے یا وہ خود ہی پالا بدل لیں کچھ کہا نہیں جاسکتا, آخر کون کب تک مخالفت کرے گا, اسٹیبلشمنٹ سے تو ڈر ہر کسی کو لگتا ہے, ہم لوگ بھی ڈرتے ہیں, ہم کشمیر کے مسئلے پر صحیح سے کچھ لکھ بول نہیں سکتے, مقابلہ اس اسٹیبلشمنٹ سے ہے جس کے ٹرول جب جسے چاہیں اینٹی نیشنل قرار دے دیں, ہم چیخ چیخ کر نہیں کہہ سکتے کہ یہ جو فیصلہ لیا گیا ہے, یہ غیر جمہوری ہے, غیر اخلاقی ہے, Right to self-determination کا وعدہ کہاں گیا, جس بنیاد پر Accession ہوا تھا اسی کو کیوں ختم کردیا گیا؟ یہ فوجی بوٹ, یہ گلی نکڑ پر چمچماتی بندوقیں, کب تک رکھوگے ایسے؟ بھلا جذبوں کو بھی کبھی مارا جاسکتا ہے, کچھ لمحوں کے لئے انہیں ڈرا دھمکایا کر دبایا جاسکتا ہے, مگر ختم نہیں کیا جاسکتا ہے, جب بھی موقع ملنا ہے, ان جذبوں کو پھوٹ پڑنا ہے, وہ بھی اس شدت کے ساتھ کہ روکنا بس میں ہی نہ رہے. آج کشمیری ڈرے سہمے ہیں, خاموش ہیں, کل کو یہ خاموشی کسی طوفان میں بدل جائے تو کیا آپ کا انہیں ٹیررسٹ قرار دینا صحیح ہوگا؟ ہم یہ سب سوال اب نہیں پوچھ سکتے, کیونکہ اسے نیشنل سیکورٹی اور انٹیگرٹی سے جوڑ دیا گیا ہے, اور نیشنل سیکورٹی بھی کیا, محض ایک کانسیپٹ, جس کا استعمال اکثر اسٹیبلشمنٹ لوگوں پر ظلم و ستم ڈھانے کے لئے ہی کرتی ہے, Integrity without Integration محض زمین کا چاہا جانا ہے, اہل زمین کو نہیں.

    کشمیر الگ ہوجائے یا پاکستان سے مل جائے, اس کی حمایت میں میں کبھی نہیں تھا, ہاں یہ میں ضرور چاہتا تھا اور چاہتا ہوں کہ کشمیر ہندوستان کا ہی حصہ رہے, مگر ایسے نہیں, فیصلے کا حق انہیں دیا جائے, اور اس کے لئے لازمی تھا کہ گورنمنٹ ناراض کشمیریوں سے قریب ہو, انہیں اپنے قریب لائے, گلے لگائے, ان کے غم اور غصہ کو سمجھنے کی کوشش کرے, مگر یہ سب کچھ نہ کرکے آرٹیکل 370 کا خاتمہ اس Accession پر حملہ ہے جس کی بنیاد پر کشمیر ہندوستان کے ساتھ تھا, 26 اکتوبر 1947 کا یہ الحاق دو ملکوں کا الحاق تھا, یہ ایسے ہی تھا جیسے دو ملک اپنی آئیڈنٹی کو Preserve کرتے ہوئے ساتھ کام کرنے پر راضی ہوجائیں, اسی لئے تو کشمیر کے جھنڈے کو بھی باقی رکھنے کا وعدہ ہوا تھا, اور کشمیر کے کانسٹیٹیوشن کو بھی, ہندوستانی قانون میں بھلے ہی اسے Temporary لکھا گیا تھا, مگر اس کے خاتمے کے لئے کشمیری حکومت کی منظوری ضروری قرار دی گئی تھی, جسے ہماری گورنمنٹ نے محض گورنر کی منظوری سمجھا, حالانکہ دو دن پہلے گورنر کو خود نہیں معلوم تھا کہ کیا فیصلہ لیا جانے والا ہے, وہ اپنے انٹرویوز میں فرما رہے تھے کہ یہ نئے فوجیوں کی آمد محض روٹین ہے اور اس کا آرٹیکل 370 سے کوئی لینا دینا, اور پھر گورنر کی منظوری حکومت کی منظوری کب سے ہونے لگی سمجھ سے پرے ہے,گورنر خود حکومت اپانئنٹ کرتی ہے, اور فیصلہ لینے کے لئے اپنے ہی ایمپلائی کی منظوری کو عوام کی منظوری سمجھنا محض ہنسنے کا سبب ہوسکتا ہے, قانون نہیں.

    بہرحال اب تو جو ہونا تھا ہوچکا, اور بہت ممکن ہے کہ سرحدوں پر حالات کشیدہ ہوجائیں, ایسی صورتحال میں کشمیریوں کا رد عمل کیا ہوتا ہے نہیں معلوم, لیکن یہ تو ہے کہ ہندوستانی حکومت کشمیر میں ان آوازوں کو کھونے والی ہے جو کبھی ہندوستان کے ساتھ جڑے رہنے کے فوائد گناتے تھے, اس جلد بازی کے فیصلے سے حکومت نے کشمیریوں کی نظر میں مین اسٹریم پولیٹیکل لیڈرز کو مجرم بنا دیا ہے جو اپنی قوم کو یقین دلاتے ہوئے نہیں تھکتے تھے کہ ہم ہندوستانی ہیں, اب وہ کس منہ سے اپنے عوام کا سامنا کریں گے, اور بہت ممکن ہے کہ وہ بھی اپنے خیالات بدل لیں, جو کہیں نہ کہیں ہندوستان کے لئے نقصاندہ ہی ہے.

    اس فیصلے سے نکل کر کیا آتا ہے یہ تو وقت ہی بتائے گا, لیکن سردست کشمیریوں سے یہی گزارش ہے کہ وہ اپنی زمینیں بیچنے کی غلطی نہ کریں گے, کہیں نہ کہیں آرٹیکل 35 کو ختم کرنے کے پیچھے مقصد ڈیموگرافی کی تبدیلی ہی ہے تاکہ ہمیشہ کے لئے ایک مسلم میجوریٹی والے اسٹیٹ کے سر درد سے چھٹی مل جائے, ویسے خدا کی ذات پر اس قدر بھروسہ ہے کہ بار بار میرے ذہن میں پاک پروردگار کا وہ فرمان آرہا ہے کہ بہت ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور وہ تمہارے لئے بہتر ہو, تو غالب گمان ہے کہ ذات باری تعالی نے کچھ اور پلان کررکھا ہے, لوگ چالیں چلتے ہیں اور بھول جاتے ہیں کہ سب سے بہتر چال چلنے والا بس اوپر والا ہی ہے.

  • کشمیر پر عملی قدم اٹھانے کا وقت آگیا… حنظلہ طیب

    کشمیر پر عملی قدم اٹھانے کا وقت آگیا… حنظلہ طیب

    کشمیر میں تو چلو مان لیا کہ لوگوں سے بولنے کا حق چھینا جا چکا ہے مگر یہاں پاکستان کے عوام کی خاموشی سمجھ سے بالاتر ہے۔ حقیقی معنوں میں مشرقی پاکستان ٹوٹنے کے بعد اب تک کا سب سے بڑا سانحہ رونما ہو چکا ہے لیکن بے خبر ہے۔ اور جب تک قوم کو خبر ہو گی قیامت سر سے گزر چکی ہو گی۔ پاکستان کے لوگ اس بات سے بھی واقف نہیں کہ مقبوضہ کشمیر کے ساتھ اصل میں ظلم کیا ہوا ہے اور کشمیر کے معاملے پر پاکستان کو کتنی بڑی شکست ہو چکی ہے۔ عملی طور پر مقبوضہ کشمیر اس وقت پاکستان کے ہاتھوں سے نکل چکا ہے البتہ عوام بے خبر ہیں یا انہیں جان بوجھ کے بے خبر رکھا جا رہا۔
    مقبوضہ کشمیر کے غیر قانونی اشتراک کے معاملے میں ہماری حکومت کی جانب سے روایتی مذمت اور قراردادیں ہی پیش کی جا رہی ہیں۔ پاکستانی عوام کو بہلانے کےلیے یہ بھی کہا جارہا ہے کہ پاکستان بھارت کے اس غیر قانونی اشتراک کو مسترد کرتا ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان کے مسترد کرنے سے واقعی اب مقبوضہ کشمیر کو کوئی مدد مل سکتی ہے؟ اس کا جواب افسوس ناک طور پر "نہیں ” ہے۔
    بھارت آرٹیکل پینتیس اے اور آرٹیکل تین سو ستر ختم کر چکا ہے۔ بھارتی آئین کی یہ دو شقیں دراصل مقبوضہ کشمیر کے عوام کےلیے دو ایسی حفاظتی دیواریں تھیں جن کے گرنے کے بعد کشمیری بالکل فلسطین کے عوام کی طرح اپنی زمینوں سے بے دخل ہو جائیں گے۔ بھارتی آئین کی ان دونوں شقوں کے خاتمے کے نتیجے میں جو تبدیلیاں مقبوضہ کشمیر میں آئیں گی کچھ اس طرح ہیں۔
    1 کشمیر کا انفرادی آئین ختم ہو چکا ہے۔
    2 وہاں ہندو آبادکاری جو پہلے ممکن نہیں تھی اب ممکن ہو جائے گی۔
    3 وہاں کی زمینیں جو غیر کشمیری لوگ نہیں خرید سکتے تھے اب خرید سکیں گے۔
    4. وہاں پہ ہندو سرمایہ کاری جو پہلے ممکن نہیں تھی اب ہو سکتی ہے۔ یعنی ہندو کشمیری زمینیں خرید کر وہاں آباد ہوں گے اور رفتہ رفتہ ہندو تعداد میں کشمیریوں سے زیادہ ہو جائیں گے۔
    5 مقبوضہ کشمیر کی خصوصی اہمیت ختم ہو چکی ہے۔
    6مقبوضہ کشمیر براہِ راست دلی کی ماتحتی میں چلا گیا ہے۔
    7. پہلے وہاں بھارت کا کوئی قانون آئینی طور پر نہیں چل سکتا تھا اب سارے چلیں گے۔
    8 مقبوضہ کشمیر کی انفرادی ثقافت ختم ہو جائے گی۔
    9 لداخ الگ ہو جائے گا۔
    10 مقبوضہ کشمیر کی اسمبلی ختم ہو جائے گی۔
    11 مقبوضہ کشمیر کا اپنا کوئی صدر اور وزیرِ اعظم نہیں ہو گا بلکہ ایک لیفٹینٹ گورنر بھارتی پارلیمنٹ کی نگرانی میں پورا مقبوضہ کشمیر کنٹرول کرے گا
    12 کشمیر کا الگ پرچم نہیں ہو گا بلکہ وہاں پہ ترنگا لہرائے گا۔
    13 کشمیر میں مالیاتی ایمرجنسی نافذ نہیں ہو سکتی تھی صدرِ ہندوستان کے حکم کے باوجود بھی۔ اب ہو گی۔
    یعنی یہ سارے اقدامات وہ ہیں جن کے بعد مقبوضہ کشمیر سے وہاں کے عوام کا کنٹرول اور عمل داری مکمل طور پر ختم ہو جائے گی۔ جب یہودیوں نے فلسطین کے چھوٹے سے علاقے پہ قبضہ کر کے اسرائیل کی بنیاد رکھی تھی تو انہوں نے بھی یہی کیا تھا۔ آج پورے فلسطین کو یہودی آباد کاروں کےزریعے اسرائیل میں تبدیل کیا جا چکا ہے۔ اور فلسطینیوں کو اردن اور دیگر علاقوں میں ملک بدر کر دیا گیا ہے۔ بھارت اب بہت بڑی تعداد میں وہاں پہ ہندؤں کو آباد کرے گا۔ اور پھر ایک وقت میں ہندؤں کی تعداد مقبوضہ کشمیر میں اتنی زیادہ ہو جائے گی کہ وہاں پہ کشمیری مسلمان کم اور بھارتی ہندو زیادہ ہو جائیں گے۔ وہاں کی مسلمان آبادی کو برما کے مسلمانوں کی طرح شدید ظلم و تشدد کا نشانہ بنا کر انہیں مقبوضہ کشمیر چھوڑنے پہ مجبور کر دیا جائے گا۔ اور اس طرح لاکھوں کشمیریوں کو آزاد کشمیر دھکیل کر مقبوضہ کشمیر سے ان کا نام و نشان مٹا دیا جائے گا۔ پاکستانی حکومت اس سارے وقت میں مذمت پہ مذمت کر رہی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ بھارت کو ان مذمتوں سے کوئی نقصان نہیں ہو رہا اور نا ہی کشمیریوں کو کوئی فائدہ ہو رہا ہے۔ عملی معنوں میں کشمیر پاکستان کے ہاتھ سے نکل چکا ہے۔
    اس واقعہ سے قبل حکومت اور تمام متعلقہ حکام نے جس بے حسی اور غفلت کا مظاہرہ کیا ہے اس پہ جتنا افسوس کیا جائے وہ کم ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ بھارت جب اس سارے عمل کی منصوبہ بندی کر رہا تھا اقوامِ متحدہ میں جا کر شور مچا دیا جاتا۔ اب بھی تو اقوامِ متحدہ میں جا کر شور مچا رہے ہیں تو پہلے یہ کام کیوں نہیں کیا گیا؟ اس سستی اور لاپرواہی کی وجہ سے آج کشمیر جا چکا ہے ، اگر اس سستی اور غفلت کا ازالہ نہ ہوا تو یہ قوم اور کشمیر کے لاکھوں عوام زمہ داروں کو تاقیامت معاف نہیں کریں گے۔اب مذمت اور قراردادوں کا نہیں بلکہ عملی قدم اٹھانے کا وقت ہے۔ قوم آپ کے عملی قدم کی منتظر ہے۔

    Hanzla Tayyab
  • مقبوضہ کشمیر  کتنے سال بعد پاکستان کو ملے گا؟؟؟  سنگین علی زادہ

    مقبوضہ کشمیر کتنے سال بعد پاکستان کو ملے گا؟؟؟ سنگین علی زادہ

    ۔
    بھارتی ھائی کمشنر آج بھارت چلا گیا اور عام طور پر دو ممالک نے جب جنگ کرنی ہو تو اپنے اپنے سفیر واپس بلا لیتے ہیں۔ لیکن پاک بھارت کے درمیان ابھی جنگ نہیں ہو گی بلکہ بھارتی ہائی کمشنر چھ ماہ بعد پاکستان واپس آ جائے گا۔ اس لیے کہ ریاست اپنی معیشت بہتر کرنے پہ توجہ ” فوکس "کر رہی ہے اور جنگوں سے معیشت تباہ ہوتی ہے اگر آپ کمزور ملک ہوں ۔ معاشی طور پر پاکستان وہاں کھڑا ہے کہ کھانستے ہوئے بھی احتیاط سے کام لینا پڑتا ہے۔ کرپشن حکمران کرتے رہے اور سزا کشمیریوں کو ملی ۔ بھارت نے انتہائی سوچ سمجھ کر اور پاکستانی کی معاشی کیفیت کو سامنے رکھ کر یہ حرکت کی۔ ہماری معیشت واقعی اس قابل نہیں ہے کہ کسی طویل جنگ کا بوجھ سہار سکے۔
    پاکستان سے ایمان کی حد تک محبت کرنے والے کسی ماہرِ معیشت سے پوچھ لیجئے وہ یہی کہے گا کہ پاکستان کے معاشی ڈھانچے کا انجر پنجر اتنا ڈھیلا ہے کہ اگر اس پہ تیس روزہ جنگ کا بوجھ ڈال دیا جائے تو پینتیسویں روز اس کی ہڈیاں چٹخ جائیں گی۔ خود چین بھی پاک بھارت جنگ نہیں چاہتا اس لیے کہ چین کو کشمیر سے زیادہ اپنی سرمایہ کاری پیاری ہے۔ چین تاجرانہ زہنیت کا حامل ملک ہے۔ جہاں ایک روپیہ لگائے وہاں سے دس روپے آمدن کی توقع رکھتا ہے اور ایک جنگ زدہ ملک چین کو ایسی آمدن نہیں دے سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ اب تک چین نیوٹرل ہے اور جو بیان جاری کیا ہے اس میں بھی پاکستان اور بھارت کو امن اور گفتگو کے زریعے اپنا مسئلہ حل کرنے پہ زور دیا۔ ایسی دوستی جو ہمالیہ سے بلند، سمندر سے گہری اور شہد سے میٹھی ہو وہ اگر امن پہ اصرار کرے تو پاکستان کیا کرے گا؟ جنگ تو ہر گز نہیں۔
    زیادہ ملامت کا مستحق ہمارا میڈیا ہے جس نے چین کے بیان کو تروڑ مروڑ کے پیش کیا۔ چین نے لداخ پہ بھارت کے فیصلے کو ناقابلِ قبول کہا ہمارے میڈیا نے اسے کشمیر سے جوڑ دیا۔ یہ وقت گزاری کے حربے ہیں تا کہ عوام کو ٹھنڈا کیا جا سکے۔ جیسے جیسے وقت گزرتا ہےپرانے زخم بھر جاتے ہیں۔ لہٰذا وقت گزارا جا رہا ہے اس اچھل کود کے زریعے تا کہ عوام ٹھنڈے ہو جائیں ۔ وقت گزاری کےلیے امریکہ، اقوامِ متحدہ، او آئی سی سے بیانات جاری کروائے جا رہے ہیں، وہی بیانات جو پچھلے ستر سال سے سن کے ہم خوش ہو تے رہے۔ وقت گزاری کے حربے کا اندازہ اس سے لگا لیں کہ اب تک حکومت نے عوام کو کشمیر پہ اعتماد میں نہیں لیا۔ وزیرِ اعظم یا کسی بھی زمہ دارحکومتی نمائندے نے عوام سے کوئی وعدہ نہیں کیا کہ کشمیر کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں والی حیثیت پہ دوبارہ لائیں گے۔ کیا حکومت نے عوام کو کوئی لائحہ عمل دیا ہے کہ کشمیر واپس لینے کےلیے اگر سفارتی کوشش ناکام ہوئی تو ہم جنگ کریں گے؟
    کچھ لوگ کہتے ہیں کشمیر میں مجاہدین بھیج دیں تو آزاد ہو سکتا ہے۔ ہم مجاہدین بھیج دیتے ہیں ،پھر؟؟ ہمارے بھیجے گئے مجاہدین وادی میں کتنے ہندو فوجی قتل کر لیں گے؟ پانچ ہزار؟ دس ہزار؟ بیس ہزار؟ پچاس ہزار؟ یعنی کتنے؟ میں واضح کر دوں کہ انیس سالہ طویل جنگ میں ٹی ٹی پی نے ہمارے دس ہزار جوان شہید کیے یعنی گوریلا جنگ کا یہی محاصل ہوتا ہے۔ افغان طالبان کو انیس سال لگے گوریلا جنگ میں امریکہ کو ملک سے باہر نکالنے کےلیے۔ آپ ایف اے ٹی ایف کو سامنے رکھ کےسوچیں کیا پاکستان انیس سال تک کشمیر میں مجاہد بھیج سکتا ہے؟ وہ بھی اس صورت میں جب چین پاکستان اور بھارت کے درمیان امن دیکھنا چاہتا ہو اور ایف اے ٹی ایف کی تلور سر پہ لٹک رہی ہو ؟کشمیر کی واپسی کےلیے اب بیس سے تیس سال انتظار کریں۔ خوش قسمتی سے اگر کوئی اچھی حکومت آ گئی جو پاکستان کی معیشت کو مضبوط کرے، عالمی سطح پر پاکستان کی اتنی عزت بڑھا دے کہ ہماری رائے کی اہمیت ہو، اور ہم معاشی طور پر ہم اتنے مضبوط ہوں کہ عالمی پابندیوں کی ہمیں کوئی فکر باقی نہ رہے تو کشمیر بیس سے تیس برس بعد ہمیں واپس مل جائے گا۔
    بالاکوٹ پہ بھارتی حملے کے بعد آپ نے فورا جواب دیا تھا اس لیے کہ زندگی اور موت کا مسئلہ تھا۔ اگر بھارت کو جواب نہ دیا جاتا تو بھارت ہر چھ ماہ بعد کشمیر میں حملہ کروا کے پاکستان پہ حملے کرتا۔ جہاں بقاء کا مسئلہ ہو وہاں ہم ایٹم بم بھی استعمال کر سکتے ہیں اور کریں گے بھی۔ اور یہ سب جانتے ہیں کہ اب کشمیر ہماری بقا یا زندگی موت کا مسئلہ نہیں ہے۔ اگر بقا کا مسئلہ ہوتا تو پاکستانی وزیرِ اعظم اسمبلی میں سوالات کے جواب میں چار دفعہ یہ نا کہتے کہ "تو اور کیا بھارت پہ حملہ کر دوں” ۔میں یاد کروانا چاہتا ہوں کہ فضل الرحمان نے ایک دفعہ یہ جملہ بولا تھا بس اور پاکستانی قوم نے اس کی مت مار دی تھی۔ یہ جملہ ہماری اسمبلی میں چار دفعہ بولا گیا ہے اب۔ اس لیے مان لیں کہ کشمیر اب پاکستان کےلیے زندگی موت کا مسئلہ نہیں ہے۔ اگر کشمیر ہماری بقاء کا مسئلہ ہوتا تو اتنے آرام سے بھارت کشمیر میں ہندو بستیاں بسانے کے منصوبے پہ عمل نا کر پاتا۔

  • دو قومی نظریہ اور آزادی کی قدر و قیمت ۔۔۔ تحریر : سلیم اللہ صفدر

    دو قومی نظریہ اور آزادی کی قدر و قیمت ۔۔۔ تحریر : سلیم اللہ صفدر

    تاریخ شاہد ہے کہ ملکوں کی جنگ ہفتوں نہیں مہینوں نہیں…. سالوں تک چلتی ہے. اور ہمارے وہ اسلاف جن کی کہانیاں ہم بچپن سے سنتے آئے ہیں چاہے وہ محمد الفاتح ہوں، محمود غزنوی یا سلطان ایوبی … یہ تمام فاتحین جب بھی جنگ شروع کرتے تھے تو عمریں گزر جاتیں تھیں تب جا کر قسطنطنیہ، سومنات کے مندر، یروشلم( مسجد اقصی) جیسی فتوحات حاصل ہوتیں تھیں .

    اگر یہی فاتحین ایک وقت میں زیادہ دشمنوں سے لڑائی کریں تو کسی مخصوص علاقے کی فتح اور زیادہ دور چلی جائے.

    چلیں چھوڑیں میں ان کی بات نہیں کرتا جو پانچ وقت کی بجائے سات وقت (تہجد، اشراق ) کے نمازی تھے اور ان کا ایمان بہت ہی زیادہ… ہماری سوچ سے زیادہ مضبوط تھا. میں تو پاکستان اور پاک فوج کی بات کرتا ہوں جن میں پانچ وقت کے نمازی بھی مشکل سے ہوں گے . واللہ اعلم

    پاکستان نائن الیون سے لیکر گزشتہ سال تک حالت جنگ میں رہا. کبھی دہشت گردی کے خلاف جنگ تو کبھی تکفیریوں، خارجیوں کے خلاف. اس سال اسے کچھ سانس ملا تو اس نے چوروں کو اکٹھا کر کے احتساب شروع کر کے معیشت مضبوط کرنے کی کوشش کی …اور ساتھ ہی عالمی برادری سے تعلق مضبوط بنانے کے لیے اور اپنے آپ کو امن پسند و شریف ثابت کرنے کے لیے آزاد کشمیر میں رہنے والے کشمیری مجاہدین کے ہاتھ روک دئیے.

    اسی دوران بھارت میں انتخابات ہوئے تو مودی نے یہ وعدہ دے کر ووٹ حاصل کیے کہ دوبارہ وزیر اعظم بن گیا تو میں کشمیر کے معاملے کو حل کر کے چھوڑوں گا. ایک طرف مجاہد محصور… دوسری طرف بھارتی حکومت آزاد….! اسی موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس نے کشمیر میں جارحانہ اقدام اٹھا لیا. جو لوگ بصیرت رکھتے تھے وہ پہلے ہی کہتے تھے کہ مودی نے کشمیر کے معاملے پر کوئی نہ کوئی فیصلہ کن کارنامہ سرانجام دے ہی دینا ہے. اور ایسے کارنامے مسلمانوں کے حق میں بہتر ہوا کرتے ہیں. (اگر مجاہدین کے ہاتھ بندھے ہوئے نہ ہوتے تو بھی مودی حکومت یہی فیصلہ کرتی بھارتی عوام کے ساتھ کیے گئے وعدے کے مطابق )

    اب جب بھارتی حکومت نے کام کر ہی دیا تو پاکستان بھلا کیا کر سکتا تھا. ایک حل یہ تھا جس کا مطالبہ کیا جاتا رہا کہ مجاہدین آزاد کر دو کشمیر بھی آزاد ہو جائے گا لیکن اس صورت میں بات صرف کشمیر کی نہیں ایف اے ٹی ایف کی بھی تھی. مجاہدین آزاد کرنے کی صورت میں پاکستان عالمی برادری میں تنہا رہ جاتا. اور جیسا کہ میں بیان کر چکا ہوں کہ فی الحال اتنا ایمان نہیں کہ صرف اللہ کی ذات پر یقین کر کے دہلی پر سبز ہلالی پرچم لہرانے کے لیے مجاہدین کو دوڑا دیا جاتا. اور اگر دوڑا دیا جاتا تو اس ایمان اور وسائل کے ساتھ مجاہدین جا کر مودی کی گردن تو اتار لیتے شاید… لیکن مودی کے تخت پر بیٹھ کر فیصلہ تبدیل کروانا ممکن نہیں تھا.

    پھر یہی فیصلہ کیا گیا کہ آخری حد تک جانا چاہیے اور آخری ممکنہ حد یہی ہے کہ کشمیر کا مسئلہ ساری دنیا کے سامنے ڈنکے کی چوٹ پر پیش کیا جائے… ساری دنیا سے پوچھا جائے کہ اگر کشمیر واقعی بھارت میں شامل ہونا چاہتا ہے تو دو دن سے نیٹ سروس کیوں بند ہے…. ساری دنیا کو دکھایا جائے کہ کشمیر کی گلیوں میں بھارت کا حصہ بن جانے کے بعد سبز ہلالی پرچم لہرائے جاتے ہیں کہ ترنگے… اور اس کے بعد ساری دنیا کے سامنے کشمیر پر ہونے والے ظلم کی کہانی بیان کی جائے تا کہ دنیا کو پتہ چل جائے کہ پہلے جو بھارت الزام لگاتا تھا کہ پاکستان نے آزاد کشمیر میں فریڈم فائیٹر بٹھا رکھے ہیں وہ الزام غلط ہے اور فریڈم فائیٹر نہ ہونے کے باوجود کشمیری پھر بھی دو قومی نظریہ کی بنیاد پر پاکستان میں شامل ہونا چاہتے ہیں.

    کشمیر یقیناً پاکستان کی شاہ رگ ہے… اور اس کی سلامتی یقیناً پاکستان کی سلامتی ہے. بات یہ نہیں کہ شہہ رگ دشمن کے حوالے کر دی گئی… وہ تو پہلے ہی دشمن کے ہاتھوں میں تھی. بات یہ ہے کہ پہلے دشمن نے شہہ رگ دبوچی ہوئی تھی اب دشمن کہتا ہے کہ یہ شاہ رگ میری ہے تمہاری نہیں. اور اب یہ ہمارا کام ہے کہ ہم عالمی برادری کو سمجھائیں کہ یہ شہہ رگ ہماری ہے بھارت کی نہیں.

    اب صورتحال یہ ہے کہ بھارت کی انتہائی کوشش کے باوجود عالمی عدالت میں پاکستان پر کوئی الزام نہیں کہ وہ فریڈم فائٹر کو آگے لا رہا ہے. پاکستان عالمی برادری میں تنہا نہیں ہونا چاہتا اور ہر حد تک جانے کے لیے تیار بھی ہے. یعنی پاکستان اپنا سافٹ ایمیج سب کے سامنے رکھ کر دنیا کو بتا رہا ہے کہ کشمیر میری خواہش ضرور ہے(دو قومی نظریہ کی وجہ سے ) لیکن میں زبردستی نہیں چھین رہا بلکہ شہہ رگ خود زور لگائے گی.

    جو احباب افغان مجاہدین کا موازنہ پاکستانی فوج یا پاکستانی وزیر اعظم کے ساتھ کر رہے ہیں ان سے مودبانہ گزارش ہے کہ علاقائی و جغرافیائی موازنہ بھی کر لیں. افغانستان میں بیس کیمپس ، افغانیوں کے گھر اور میدان جنگ ایک ہی جگہ پر ہیں … اور بات مجاہدین کے لیے فائدہ مند ہے. کشمیر میں مجاہدین کے بیس کیمپ پہلےتو تھے نہیں اور اگر چند ایک تھے تو وہ بھی میدان جنگ سے انتہائی فاصلے پر. جو لوگ تحریک آزادی کے ساتھ تھوڑا بہت لگاؤ رکھتے ہیں وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ کشمیر میں بیس کیمپ سے میدان جنگ تک کا سفر کتنا طویل اور کتنا پرکٹھن ہے.

    اس کے علاوہ افغانیوں کا بچہ بچہ راکٹ لانچر، کلاشنکوف چلانے میں ماہر ہے لیکن کشمیری بھائیوں میں جرات و شجاعت کی اتنی اور ایسی زبردست لہر برہان وانی کی شہادت کے بعد پیدا ہوئی جس نے دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیاتھا . بہر حال بیس کیمپ جو پہلے تھے اب نہیں رہے… تمام کشمیری قیادت جیل میں ہے. تو ایسی صورت میں افغانیوں سے کشمیریوں یا پاکستان کا موازنہ کرنا سراسر ناانصافی ہے

    اب آخری بات کہ پاکستان نے اس معاملے کو ستر سال تک کیوں لٹکائے رکھا تو اس کی وجہ یہی تھی کہ کشمیر کے معاملے پر پاکستان اس لیے دنیا کے سامنے سٹینڈ نہیں لے سکا کیونکہ 1947 میں کشمیری مسلمان قیادت نے دوقومی نظریہ کو سائیڈ پر رکھ بھارت کا ساتھ دے دیا اور اسی وجہ سے اس وقت سے اب تک پاکستان دفاعی پوزیشن پر رہا . جب کشمیری حکومت خود انڈیا کے ساتھ ہو گئی تھی تو بین الاقوامی قوانین کے مطابق پاکستان کی پوزیشن کمزور ہو گئی.

    لیکن دو قومی نظریہ کی بنیاد پر اس نے کشمیریوں کا ساتھ پھر بھی نہیں چھوڑا. اور کیسا اور کہاں کہاں ساتھ دیا اس کا جواب میں نہیں دے سکتا کشمیر کی گلیوں میں لہراتے پاکستان پرچم بتا سکتے ہیں. اب جب کہ تمام حریت قیادت(سب اس وقت جیل میں ہیں یعنی بھارت کے پے رول پر نہیں ) کے ساتھ ساتھ محبوبہ مفتی بھی سمجھ چکی ہیں کہ عافیت دو قومی نظریہ میں ہی تھی تو پاکستان بھی اب مکمل طور پر سامنے آئے گا اور انہیں عافیت دینے کی مکمل کوشش کرے گا. اور اس بار اس کی لڑائی صرف بھارت سے ہو گی… نام نہاد مسلمانوں یا غداروں سے نہیں. اور دو قومی نظریہ ہی ان شا اللہ اس بار کشمیر کی آزادی کا فیصلہ کرے گا.

    پاکستان اپنی شہہ رگ بچانے کے لیے محدود وسائل اور محدود ایمان کے ساتھ زور لگا رہا ہے اور لگاتا رہے گا لیکن شاہ رگ کس کی ہے اس کا فیصلہ شہہ رگ اب خود کرے گی… شاہ رگ سے بہتا ہوا خون کرے گا اور یہ فیصلہ کیا ہو گا یہ وقت بتائے گا. باقی جہاں تک بات ہے بھارت سے جنگ کر کے کشمیر فتح کرنے کی تو جتنی بار کوشش اور جتنا وقت ہمارے اسلاف نے کسی ایک ملک کو فتح کرنے میں لگایا… اتنا تو لگ ہی سکتا ہے. بس ذرا کشمیریوں کو سنبھلنے کا موقع دے دیں…. کہ یہ شہہ رگ اپنے بارے میں کیا فیصلہ کرتی ہے.

    فی الحال تو اس شہہ رگ کی طرف سے( چند بناوٹی وڈیوز اور پکچرز کے علاوہ) صرف ایک ہی کنفرم ٹویٹ سامنے آئی ہے.

    جب انٹرنیٹ سروس بحال ہو گی تب پتہ چلے گا کشمیر کی گلیوں اور شہداء کی قبروں پر کون سا پرچم لہرا رہا ہے. دور سے اور سالوں سے آزادی کے سبز باغ دکھانے والے پاکستان کا پرچم یا ہزاروں کشمیری نوجوانوں کو قتل کرنے کے بعد انہیں گھر، سہولیات اور وسائل مہیا کرنے کے وعدے دینے والا ہندوستانی ترنگا…. !