Baaghi TV

Category: سیاست

  • حکمران اور ہماری عوام تحریر:  زوبیہ سدوزئی

    حکمران اور ہماری عوام تحریر: زوبیہ سدوزئی

    اپنی عوام کو حکمرانوں سے پیار کرتے دیکھتی ہوں تو اک ہی سوال ذہن میں آتا ہے کہ کیا یہ حکمران بھی عوام سے اتنا پیار کرتے ہیں؟ ہر بار الیکشن آتے ہیں اور ہر بار عوام کو جھوٹے لارے لگا کر بےوقوف بنایا جاتا ہے۔ ہمارے حکمرانوں نے غریب اور معصوم عوام جو روزی روٹی کے لیے در در کی ٹھوکریں کھاتے ہیں ان کی نفسیات پڑھ لی ہیں۔ اک غریب آ دمی جس کے گھر پانی تک فراہم نہیں اس کے علاقے کا امیدوار وہاں جائے گا اور اسے پانی اور پائپ کا لالچ دے کر ووٹ حاصل کر لے گا۔ اک غریب آدمی جس کے گھر کھانے کو کچھ نہیں وہاں کا امیدوار کچھ اناج اور پیسوں کا لالچ دے کر اس سے ووٹ لے لے گا۔ کیا عوام نے کبھی یہ سوچا ہے کہ اگر ہم سے یہ پیار کرتے ہوں تو یہ صرف اور صرف ووٹ مانگنے کے ٹائم ہی ہمارے پاس آتے ہیں؟ کیا عوام نے کبھی یہ سوچا کہ جو لوگ موروثی سیاست سے آگے آئے ہیں جو سونے کا چمچ لے کے پیدا ہوئے ہیں انہیں غریب کے درد کا اس کی مشکلات کا کیسے احساس ہو گا؟ مریم نواز اور بلاول جیسے لیڈر کیسے ان کا احساس کر سکتے ہیں اک جس کا سب کچھ لنڈن میں ہے اور دوسرا جسے اپنی مادری زبان تک بولنا نہیں اتی۔ لیڈر وہی ہوتا ہے جس نے کوشش کی ہو جو محنت کر کے آگے آ یا ہو وہی اپنی عوام کا درد رکھ سکتا ہے۔ اس لیے ووٹ کاسٹ کرنے سے پہلے یہ ضرور سوچ لیں کہ جس کو آپ ووٹ کاسٹ کر رہے ہیں کیا وہ آپ کے مسائل حل کر سکے گا یا نہیں۔ وہ اس ملک کے لیے کام کر رہا ہے یا صرف اپنی کرسی کے لیے اور دولت کے نشے لوٹنے کے لیے۔

  • افغان صدارتی محل پر حملہ ، اشرف غنی کے الزامات اور پاکستانی سچ. تحریر: نوید شیخ

    افغان صدارتی محل پر حملہ ، اشرف غنی کے الزامات اور پاکستانی سچ. تحریر: نوید شیخ

    اس میں کوئی شک نہیں کہ افغانستان میں بدامنی اور عدم استحکام کا سب سے بُرا اثر پاکستان پر ہی پڑے گا اور اس کے نتیجے میں پاکستان میں دہشت گرد تنظیموں کی باقیات اور خفیہ ٹھکانوں کے دوبارہ فعال ہونے کا خدشہ ہے۔ اگرچہ افغان عمل کی کامیابی میں ہم اپنا بنیادی کردار انتہائی سنجیدگی سے ادا کر رہے ہیں۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ اس بات کو بھی سمجھنا ہو گا کہ ہم اس پورے عمل کے ضامن ہر گز نہیں ہیں اور بالآخر یہ فیصلہ افغان فریقوں ہی نے کرنا ہے کہ انہوں نے آگے کس طرح چلنا ہے، ہم نے بارہا کہا ہے کہ پاکستان میں امن کا افغانستان میں امن و استحکام سے براہِ راست اور گہرا تعلق ہے۔

    ۔ مگر وہ کہتے ہیں نا کہ ۔۔۔ دم ٹیڑھی ہی رہتی ہے ۔ ایسا ہی کچھ معاملہ افغان حکومت اور خاص طور پر بھارتی کٹھ پتلی اشرف غنی کا ہے ۔

    ۔ اب اپنے تازہ بیان میں اشرف غنی نے کہا ہے کہ پاکستان افغانستان میں طالبان کی حکومت چاہتا ہے۔
    پاکستان کا کوئی سیاست دان اپنے ملک میں طالبان کی حکومت کا خواہاں نہیں ہے لیکن وہ ہمارے لیے طالبان کی حکومت چاہتے ہیں،پاکستان کا تمام میڈیابھی طالبان کی حمایت کرتا ہے۔

    ۔ میری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ کبھی یہ کہتے ہیں کہ پاکستان کو افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے اور کبھی کہتے ہیں کہ افغانستان میں طالبان کی کامیابیوں کو روکنے کے لیے پاکستان افغان حکومت کی مدد کرے اور کبھی یہ خواہش کرتے ہیں کہ پاکستان افغان سیکورٹی فورسز کے ساتھ مل کر اُنہیں کچلے۔

    ۔ اب روز اشرف غنی کو صرف پاکستان کی یاد آرہی ہے ۔ سوال یہ ہے کہ اشرف غنی اب کیوں اپنے
    buddy
    بھارت سے رابطہ نہیں کرتا ۔ کیوں نہیں ڈیمانڈ کرتا ہے کہ بھارتی فوج کابل میں کھڑے ہوکر انکا دفاع کرے ۔ کیوں نہیں یہ کہتا ہے کہ ۔۔۔ را۔۔۔ آئے اور اس کی حکومت کو طالبان سے بچائے ۔

    ۔ سچ چاہے کڑوا ہو ۔ پر سچ یہ ہے کہ افغان حکومت کو تو نہ اب کہیں سے پیسہ مل رہا ہے نہ مدد ۔ اور افغان حکومت کی فوج ایسی ہے جیسے ہیجڑوں کی فوج ہو۔ اب یہ سارا ملبہ بھارتی ایماء پر پاکستان پر ڈال رہا ہے ۔ اور صرف ریاست پاکستان ہی نہیں پاکستان کے سیاستدانوں اور صحافیوں تک کو لعن طعن کررہا ہے ۔ جو اس جانب اشارہ ہے کہ افغان حکومت معاملات کو کنڑول کرنے میں بالکل ناکام ہوچکی ہے اور طالبان روکنے کا نام نہیں لے رہے ہیں ۔

    ۔ میں آپ سب کو یاد کروادوں کہ حامد کرزئی سے لے کر اشرف غنی تک یہ وہ ہی افغان حکومت ہے جس نے گزشتہ دو دہائیوں سے بھارت کو افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کے لیے کھلی چھٹی دی ہوئی تھی ۔ یہ وہ ہی افغان حکومت ہے جس نے پاکستان میں دہشت گردی کے لیے اپنے ملک میں ٹریننگ سمیت ہر قسم کی مدد دی ۔

    ۔ سچ یہ ہے کہ ہزاروں پاکستانی شہید ہوئے ہیں ۔ اور اس کے پیچھے افغان اور بھارتی حکومت تھی ۔ ہم نے دہشت گردی کی طویل اور صبر آزما جنگ لڑی ہے۔

    ۔ 2014ء
    میں آرمی پبلک سکول پر بزدلانہ حملے میں تحریک طالبان، را اور این ڈی ایس کے ملوث ہونے کے واضح ثبوت ملے۔ یہ حملہ افغانستان میں پلان ہوا، اس کے بعد جیسے ریاستِ پاکستان کے صبر کی انتہا ہوگئی۔ چن چن کردہشت گردوں، ان کے آلہ کاروں اور سلیپر سیلز کو ختم کیا گیا، ساتھ ہی ساتھ پاک افغان باڈر کو سیل کرنے کے لیے باڑلگانے کا کام شروع ہوا۔

    ۔ مغربی سرحد پر حفاظتی باڑ کی تعمیر تقریباً مکمل ہو چکی ہے، نوے فیصد باڑ لگائی جا چکی ہے۔ باقی بھی جلد مکمل ہو جائے گی۔ پاک ایران سرحد پر بھی باڑ لگانے کا کام بہت تیزی سے جاری ہے اس کے علاوہ سرحد پر سینکڑوں حفاظتی چوکیاں تعمیر کی گئیں۔ بارڈر کنٹرول سسٹم اپ گریڈ کیا گیا اور وہاں جدید بائیو میٹرک سسٹم کی تنصیب کی گئی ہے۔ پاک افغان سرحد پر تمام کراسنگ پوائنٹس کو سیل کر دیا گیا ہے۔ قبائلی اضلاع میں ایف سی کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

    ۔ اور اب جو پاکستان کا موقف ہے وہ اصولی موقف ہے کہ افغانوں نے خود مل کر فیصلہ کرنا ہے کہ کس کی حکومت ہوگی افغانستان میں ۔ اس سے زیادہ پاکستان کیا کرے ۔

    ۔ پھربھی یہ افغان حکومت مسلسل پاکستان کے خلاف سازشیں کر رہی ہے ۔ ابھی حالیہ افغان سفیر کی بیٹی والا معاملہ ہی دیکھ لیں ۔ کیسے انھوں نے پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کی حالانکہ لڑکی اغواء ہوئی ہی نہیں تھی ۔

    ۔ جیسے اشرف غنی نے سفیر کو واپس بلایا ہے اگر اتنی ہی اس افغان حکومت اور اشرف غنی میں غیرت ہے تو پھر یہ تین ملین افغان مہاجرین جو اب بھی پاکستان میں رہ رہے ہیں ان کو واپس لے جاتی ۔

    ۔ آپ دیکھیں پاکستان پھر بھی دل بڑا کرکے افغان حکومت کے ساتھ
    cooperate
    کررہا ہے مگر ۔۔۔ جیسا کہ شروع میں کہا تھا کہ یہ
    ۔۔۔۔ کی دم سیدھی نہیں ہوتی ۔ یہ ہی حال اشرف غنی کا ہے ۔

    ۔ ہمسایے میں کچھ بھی ہورہا ہو اس کا اثر اپنے گھر تک آتا ہی ہے ۔ کاش کہ ہم ہمسایوں کے معاملے میں خوش نصیب ہوتے لیکن ایسا نہیں ہے، ایک طرف ازلی دشمن ہے تو دوسری طرف ایک ایسا ملک جس میں امن کا قیام خواب معلوم ہوتا ہے۔

    ۔ سچ یہ ہے کہ ہم نے ہمیشہ افغانستان کا ساتھ دیا ہے۔
    ہمیشہ افغانوں کے ساتھ کھڑے ہوئے، کتنے ہی افراد چمن باڈر کراس کے ہر روز پاکستان آتے ہیں۔
    یہاں اپنا علاج کراتے ہیں۔
    ضرورت کی اشیا خریدتے ہیں۔
    کتنے ہی افغان باشندے یہاں سکونت اختیار کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پُرسکون زندگی گزار سکیں۔
    پاکستان نے ہمیشہ ان کے درد کو سمیٹا، انہیں چھت اور روزگار دیے۔ آج بیشمار افغان باشندے اپنے پیروں پر کھڑے ہیں اور پاکستان میں عزت کی زندگی بسر کررہے ہیں۔

    ۔ مگر افغان قیادت ہے کہ وہ پاکستان پر الزام تراشی کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی ۔

    ۔ پاکستان اب بھی اپنے افغان بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہے اور افغانستان میں امن کا خواہش مند ہے۔ تاہم افغان حکومت کے تیور کچھ اور ہی بتاتے ہیں۔ بھارت کے ایما پر وہ شاید ہم سے اچھے سفارتی تعلقات کے خواہاں نہیں ہے۔ افغان سرکاری میڈیا پر پاکستان کے خلاف نغمے نشر ہو رہے ہیں،یہ نغمے
    RTA
    (ریڈیو ٹی وی افغانستان)
    کے ویریفائیڈ ٹویٹر اکائونٹ سے ٹویٹ بھی کیے گئے جس سے پاکستانیوں کے جذبات مجروح ہوئے۔ پھر بھی پاکستان نے افغان لیڈرزکی عالمی کانفرنس کے انعقاد کا اعلان اور میزبانی کی پیشکش کی لیکن افغان صدر اشرف غنی کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے یہ ملتوی ہو گئی۔ افغان نائب صدر امراللہ صالح بھی ٹویٹر پر پاکستان کے خلاف زہر اگلتے رہتے ہیں کہ پاکستان ایئر فورس نے افغان آرمی اور افغان ایئرفورس کو سپن بولدک میں طالبان کو نکالنے کے لیے فضائی آپریشن کرنے پر سخت نتائج اور ردعمل کی دھمکی دی۔ یہ سراسر جھوٹی خبر ہے، افغان نائب صدر نے ثبوت دینے کا دعویٰ تو کیا مگر اب تک کوئی ثبوت نہیں دیا۔ پاکستان ایئرفورس نے ایسا کوئی بیان دیا اور نہ ہی پاک ایئرفورس کا افغان فورسز کے ساتھ کوئی رابطہ ہوا۔

    ۔ آج بھی افغانستان میں ایک خونی دن گزارا ہے ۔ صدراتی محل میں راکٹ حملے کئے گئے ۔ حملے کے وقت صدارتی محل میں عید الاضحیٰ کی نماز ادا کی جارہی تھی۔ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا مجھے تو یہ بھی ایک ڈرامہ لگتا ہے کہ طالبان کو کسی طرح بدنام کیا جائے گا یہ تاثر دیا جائے کہ عید پر بھی یہ خون خرابہ کر رہے ہیں ۔ اس حملے کے بعد افغان صدر اشرف غنی نے عید کی نماز کے بعد صدارتی محل میں خطاب کیا اور پاکستان کے خلاف خوب زہر اگلا ۔

    ۔ جبکہ امریکا سمیت 16 ممالک اور نیٹو نے طالبان سمیت افغان حکومت پر زور دیا تھا کہ وہ اس عید پر امن کیلئے اپنی سنجیدگی ثابت کرنے کیلئے جنگ بندی کریں۔

    ۔ادھر طالبان نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے حکومتی فورسز سے شدید جھڑپوں کے بعد کابل کے جنوب مغرب میں واقع صوبہ ارزگان کے ضلع دہراؤد پر قبضہ کر لیا ہے اور صوبائی انتظامیہ نے طالبان کی پیش قدمی کی تصدیق کی ہے ۔ شمالی صوبے سمنگان میں افغان فورسز نے میں ضلع درہ سوف کا قبضہ چھڑوالیا ہے ۔

    ۔ قندھار کی صوبائی کونسل کے رکن فدا محمد نے دعویٰ کیا کہ طالبان نے سپن بولدک میں میرے دو بیٹوں کو ہلاک کردیا۔۔ تخار کے دارالحکومت طلوقان میں لڑائی کے دوران پولیس چیف شدیدزخمی ہوگیا۔ ادھر قندھار میں عمائدین کی کوششوں سے 8 روزہ جنگ بندی ہوگئی۔

    ۔ دوسری جانب اشرف غنی نے کل ہرات کا دورہ کیا،صو بے کے تمام اضلاع پر طالبان قابض ہیں جبکہ ہرات شہر طالبان کے محاصرے میں ہے ۔ دورے کے دوران اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے اشرف غنی نے کہاکہ طالبان جنگ ہارچکے ہیں،وہ اہم عوامی عمارات کو تباہ کررہے ہیں۔

    ۔ جو دیکھائی دے رہا ہے کہ طالبان اورلسانی و قومیتی گروہوں اور مقامی جنگجو گروپوں کے درمیان جنگیں شروع ہوگئیں تو یہ پورے خطے کے امن پر اثرانداز ہوں گی۔ پاکستان مزید مہاجرین کی آمد کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ اس میں شک نہیں کہ ہمارے دونوں اطراف کے ہمسایے ہمارے خیرخواہ نہیں ہیں۔

    ۔ مگر پھر بھی پاکستان امن کا داعی ہے اس لیے پاکستان نے دوحہ میں بین الافغان مذاکرات کے اختتام پر جاری مشترکہ اعلامیہ کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں افغان دھڑوں کے مابین حالیہ مذاکرات خوش آئند ہیں ۔

  • عنوان :  وزیراعظم عمران خان کے اقدامات   تحریر : سیف اللہ عمران

    عنوان : وزیراعظم عمران خان کے اقدامات تحریر : سیف اللہ عمران

    بہت سارے لوگ سوچتے ہیں کہ وہ تبدیلی کہاں ہے جس کا خان صاحب نے اعلان کیا تھا اور وہ وعدے کہاں گئے تو آپ کو بتاتے ہیں بہت سارے وعدہ وفا ہو چکے ہیں اور کچھ ایسے مسلئے ہیں جن پر قابو پانے کی کوشش کی جس رہی ہے جن میں مہنگائی ہے جو کو حکومت کم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں اور ایک دن آئے گا کہ پاکستان مہنگائی فری ہو جائے گا
    اب آئیے کچھ مثبت اقدامات بتاتے ہیں اپکو
    جس پرٹوکول کو ہم پچھلے 35 سالوں دیکھ رہے تھے عمران خان نے اسکو آتے ہی ختم کیا ۔
    جب ہم گھر سے نکلتے تو ہم نے دعا کرتے کہ کوئی بڑا آدمی نہ آئے تاکہ ہم اسکول ، کالج ، دفتر یا مزدوری تک پہنچ سکیں
    عمران خان نے ہمارے خرچ پر وزراء اور اشرافیہ کی پرتعیش حکومت کا رہنا ، کھانا پینا ختم کیا ، جوہمیں مغل عہد کی یاد دلاتا تھا
    عمران خان نے حکمرانوں اور اشرافیہ کو سرکاری خرچ پر سردرد کی گولی لینے لندن جانا پر پابندی عائد کی
    اس سے نہ صرف قومی ایئر لائن خسارے میں تھی بلکہ اربوں افراد کو سرکاری خزانے کو ٹیکہ لگایا دیاجاتا تھا
    عمران خان نے ہمیں ان بچوں کی غلامی سے آزاد کیا جن کا نطفہ ابھی بھی باپ کے جسم میں تھا اور ہم غلامی کے لئے تیار تھے
    عمران خان نے اپنے سپورٹران کو یہ شعور دیا کہ جہاں میں غلط ہوں مجھے روک کر کہنا کہ تم غلط ہو ہم تمھیں چھوڑ دیں گے
    عمران خان نے اپنے پرائے سارے چوروں کو قطار میں کھڑا کردیا۔ اس نے عوامی ووٹ بیچنے والوں کو سرعام بے نقاب کیا
    عمران خان نے ان شاندار عمارتوں کو قوم کے بچوں کی تعلیم کے لئے وقف کیا جو پرتعیش حکمران عیش و آرام کے اڈوں کے طور پر استعمال کرتے تھے۔
    عمران خان نے کرونا کے دوران ملکی تاریخ میں پہلی بار 12 ہزار امداد کی شفاف ترسیل ممکن بنائی جو اس سے پہلے صرف ورکروں اور وڈیروں کو ملتی تھی
    عمران خان نے بطور کسئ بھی حکمران پہلی بار ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے دنیا کے ایوانوں میں آواز اٹھائی اور مسلم امہ کو اس مسلے پر اکھٹا کرنے کی کوشش کی جبکہ اس سے پہلے ہر بار سرعام ہمارے حکمران ناموس رسالت کا سودا کرتے تھے
    ہم میں سے بیشتر جنگل کے باسی ہیں اور ہماری خواہش ہے کہ کوئی جنگلاتی افسر یا وزیر ہوتا جو ان جنگلات کو تباہ ہونے سے بچاتا
    عمران خان سے پہلے کسی نے ماحولیاتی سسٹم بچانے کی کوشش کی ہی نہی
    عمران خان سے پہلے کسی نے فٹ پاتھ پر بھوکے سونے والوں کا سوچا بلکل نہی ، کیا کسی کو احساس تھا کہ احساس پروگرام کتنا ضروری ہے. بھوک لگی فٹ پاتھ پر سونا کتنا مشکل تھا اور وقار کے ساتھ چھت کے نیچے بستر اور اچھا کھانا لینا کتنا ضروری تھا
    اگر میرے بس میں ہوتا تو میں عمران خان کو پسند کرسکتا تو ، عمران خان کو پسند کرنا تو دور اگر میرے بس میں ہوتا تو میں عمران خان کے راستے میں اس طرح پھول بچھاتا جیسے کہ 30 سال کا شخص 16 سال کے محبوب کے راہوں میں بچھانے کی خواہش کرتا ہے۔۔
    کیونکہ عمران خان نے ہمیں اس غلامی سے بچایا جس میں ہم ابوجہل کے پیروکار تھے
    شکر ہے کہ پاکستان ، ملک کے نواز اور زرداری کے دشمن فنا ہوچکے تھے ، لہذا خان کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے۔
    اور وہ ان چیزوں میں مصروف ہوگیا۔ ابھی میرے پاکستانی نہیں جانتے کہ ان کے پاس یہ ہیرا ہےTwitter
    @Patriot_Mani

  • اسرائیلی ہیکنگ دوسر ا وکی لیکس   تحریر :  ملک علی رضا

    اسرائیلی ہیکنگ دوسر ا وکی لیکس تحریر : ملک علی رضا

    سائنسی جدت کے اس دور میں جہاں ممالک چاند سے بھی آگے نکل کر دیگر سیاروں پر اپنی آماجگاہ بنانے کی سوچ رہے ہیں وہاں پاکستان جیسے کئی ایسے ممالک ہیں جو انہی ممالک کی ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہے ہیں۔ اس لیے پاکستان کے تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور انٹرنیٹ استعمال کرنے والے صارفین کا مکمل بائیو ڈیٹا ان ممالک کے پاس ہے جنکی ٹیکنالوجی استعمال ہو رہی ہے اور وہ جب چائیں جیسے چائیں اس کو استعمال کر سکتے ہیں
    بین الاقوامی خبر رساں ادارے دی گارڈین کے مطابق رواں سال میں اسرائیلی کمپنی این ایس او کی بنائی گئی ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے کم از کم دو درجن پاکستانی سرکاری حکام کے موبائل فونز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ اسرائیلی کمپنی کے جاسوسی کے سوفٹ وئیر کے ذریعے دنیا بھر میں کم ازکم 50 ہزار افراد کی مبینہ جاسوسی کی گئی جبکہ جاسوسی کا دائرہ کم ازکم 50 ممالک تک پھیلا ہوا تھا۔ اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ یہ بھارت اور اسرائیل کی جانب سے مشترکہ منصوبہ بنایا گیا ہے ۔
    ان تمام افراد کی جاسوسی اسرائیلی سائبر فرم این ایس او کے سافٹ وئیر پیگا سس کے ذریعے کی گئی۔امریکی اخبار نے انکشاف کیا ہے کہ بھارتی حکومت کے پاس جاسوسی، نگرانی اورڈی کوڈ کرنے کی صلاحیت ہے اور بھارت میں اسرائیلی جاسوس نظام پیگاسس کے ذریعے ہیکنگ کی جاتی ہے۔امریکی اخبار کا کہنا ہے کہ بھارت سمیت 10 ممالک اسرائیلی کمپنی کے کلائنٹ ہیں۔
    اسرائیلی ہیکنگ سافٹ ویئر وزیر اعظم عمران خان کےخلاف استعمال ہونے کا انکشاف بھی ہوا ہے ،اطلاعات کے مطابق اسرائیلی ہیکنگ کا معاملہ دوسرا وکی لیکس بن گیا، جہاں ہوشربا انکشاف کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ واشنگٹن پوسٹ کی جانب سے جاری رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ اسرائیلی ہیکنگ سافٹ ویئر عمران خان کےخلاف بھی استعمال ہوا ہے، نوازشریف کی حکومت میں سافٹ ویئر عمران خان کےخلاف استعمال ہوا۔
    یہ سافٹ ویئراس وقت استعمال ہواتب عمران خان وزیراعظم نہیں تھے، ریکارڈ کے مطابق مختلف نمبرز میں ایک نمبر وزیراعظم عمران خان کے زیراستعمال تھا، اس کے علاوہ نواز حکومت میں یہی سافٹ ویئر حساس اداروں اور سیاست دانوں کےخلاف استعمال ہوا۔یہ ان دنوں کی بات ہے جب نوازشریف نے مولانا اجمل قادری کوخفیہ اورخصوصی دورے پراسرائیل بھیجا تھا ،اس دورے پر جانے والے وفد کے سربراہ مولانا اجمل قادری نے اس بات کا اعلانیہ اعتراف بھی کیا ہے کہ مجھے نوازشریف نے خصوصی پیغام دے کربھیجا تھا۔
    رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ اسرائیلی کمپنی کے جاسوسی کے سوفٹ وئیر کے ذریعے دنیا بھر میں کم ازکم 50 ہزار افراد کی مبینہ جاسوسی کی گئی جب کہ جاسوسی کا دائرہ کم ازکم 50 ممالک تک پھیلا ہوا تھا۔
    اسرائیلی کمپنی این ایس او کے فون ہیکنگ سافٹ ویئر سے دنیا کے کم سے کم50 ہزار شخصیات کے فون نمبرز ہیک کیے گئے۔ ان نمبروں کا اندراج آذربائیجان، بحرین، ہنگری، بھارت، قازقستان، میکسیکو، مراکش، روانڈا ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے کیا گیا۔
    ان تمام معاملات کے انکشافات ہونے کے بعد اور حقائق سامنے آنے کے بعد پاکستان کی اعلی سول و عسکری قیادت کی اہم میٹنگ ہوئی جس میں اعلی عہدوں پر فائز رہنے والے تمام اداروں کے ملازمین اور اعلی شخصیات کے ڈیٹا کو محفوظ بنانے کے لیے پاکستان کی بنائی ہوئی ایک واٹس ایپ کی طرز کی ایپلیکیشن بنائی گئی ہے جس پر 60 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے اور مکمل ایپلیکیشن بننےکے ساتھ ہی یہ ایپلیکیشن استعمال میں لائی جائے گی۔ خصوصی ایپلیکیشن پبلک استعمال کے لیے نہیں ہوگی بلکہ اعلی قیادت اور حساس اداروں کے ملازمین کمیونیکیشن کے لیے استعمال کریں گے۔
    پاکستان ٹیکنالوجی کے لحاظ سے بھارت اور اسرائیل کا مقابلہ نہیں کر سکتا کیونکہ پاکستان میں پہلے اس کام کی طرف اُس طرح توجہ ہی نہیں دی گئی۔ اب جب معاملات کے انکشافات ہونے لگ گئے تو آنکھ کُھلنا شروع ہوگِی۔پاکستان کے سکیورٹی ادراے پہلے ہی ان معاملات سے باخبر تھی جس کی بنا پر کئی ایسے اقدامات بھی کیے گئے جس سے پاکستان کی اہم معاملات کو لیک ہونے سے بچایا جا سکے ۔پاکستان کے اداروں کی ویب سائٹس تک کو ہیک کرنے کی بھی کوششیں ہوتی رہیں مگر سائبر سکیورٹی کے معاملات میں باقی ادارون کی نسبت قدرے بہتر رہے۔ پاکستان کو اس چیز کے مدنظر رکھتے ہوئے خاصے اقدامات کرنے ہونگے تاکہ ایسے واقعات نہ ہوں ۔ اس معاملے میں وہ اپنے ہمسایہ ملک اور دوست چائینہ سے مدد لے سکتے ہیں جو کہ اپنے ملک میں اپنی ہی بنائی ہوئی ایپلیکیشنز استعمال کرتے ہیں۔
    چین سائبر ٹیکنالوجی سے اعتبار سے بھی ترقی یافتہ ہے اور اس لیے پاکستان اسکی مدد سے بہت ساری چیزیں جو اپنے ملک کے لیےبنا سکتے ہیں تا کہ پاکستان کی عوام دوسروں کی بنائی ہوئی چیزوں کا استعمال نہ کریں اور یہ خطرہ ہی پیدا نہ ہو۔

  • آزاد کشمیر کے الیکشن تحریر : سعدیہ ناز

    آزاد کشمیر کے الیکشن تحریر : سعدیہ ناز

    جب بھی الیکشن کی بات ہوتی ہے تو وہاں کا موسم بڑا گرم ہو جاتا ہے جہاں الیکشن ہو رہے ہوتے ہیں،سیاسی پارہ ہائی ہو جاتا ہے۔
    ساری سیاسی پارٹیاں بڑے جوش اور جذبے سے الیکشن کے دنگل میں اترتی ہیں، کارکنان سے لے کر پارٹی رہنماؤں تک سارے ہی لوگ الیکشن مہم کی تیاریوں میں مصروف ہوتے ہیں اور اپنی تیاری مکمل کر کے میدان میں اترتے ہیں.سب سیاسی پارٹیاں اپنی جیت کے دعوے کر رہی ہوتی ہیں لیکن حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے کیوں کہ حلقہ، شہر اور صوبے کے لوگ اس پارٹی کو جتواتے ہیں جس پارٹی نے وہاں کے لوگوں کے لیے کام کیا ہوتا ہے۔ اب عوام بھی اتنی بیوقوف نہیں رہی، پہلے کام پھر ووٹ.
    25 جولائی کو آزاد کشمیر میں ہونے والے ہیں الیکشن اور ساری سیاسی جماعتوں نے آزاد کشمیر میں ڈال لیے ہیں ڈیرے۔جلسے جلوس بڑے جوش و جذبے سے ہو رہے ہیں.
    اگر ہم مسلم لیگ ن کی بات کریں تو اس کی قیادت کر رہی ہیں مریم صفدر ،دیکھا جائے تو پچھلے کچھ عرصے سے آزاد کشمیر میں مسلم لیگ ن کی حکومت ہے۔لیکن مریم صفدر کی تقریروں سے لگتا ہے جیسے وہاں کسی اور جماعت کی حکومت ہے، تقریر میں وہی پرانے نعرے بازی، وہی پرانے وعدے جو کبھی وفا ہی نہیں ہوئے۔ جہاں پر آپ کی پہلے سے حکومت ہے وہاں آپ نے پہلے ہی کچھ نہیں کیا تو اب کیا کریں گے؟ آزاد کشمیر کے وزیراعلیٰ راجہ فاروق حیدر سے ہی پوچھ لیں انہوں نے اپنے حلقہ کے لوگوں کے لیے کیا کیا ہے؟ نا تو وہاں کوئی سڑک پکی ہوئی ہے،نا کوئی ایسا ہسپتال بنایا ہے جہاں غریب عوام کا مفت علاج ہو سکے اور نا ہی لوگوں کو صاف پانی پینے کو ملتا ہے۔ اب آپ خود سوچیں وہاں لوگ کیا ایسی پارٹی کو ووٹ دیں گے جس نے حکومت میں ہوتے ہوئے کوئی کام نہیں کیا۔ سب سے بڑی چیز کشمیر کی عوام پوچھتی ہے مسلم لیگ ن نے کشمیر کا مقدمہ اقوام متحدہ میں کیوں نہیں لڑا؟ کیوں خاموش بیٹھی رہی ؟ سب سے بڑی چیز جب نریندرا مودی میاں نواز شریف کی دعوتوں میں آتا تھا تو نواز شریف نے مودی سے مسئلہ کشمیر پر کیوں بات نہیں کی؟
    میرے خیال میں کشمیر کے لوگ باشعور ہیں انہیں پتا ہے انہیں کس جماعت کو ووٹ دینا ہے۔
    اگر ہم پاکستان پیپلز پارٹی کی بات کریں تو شاید اس جماعت کو آزاد کشمیر کے الیکشن میں کوئی خاص دلچسپی نہیں ہے کیوں کہ چیئرمین بلاول زرداری آزاد کشمیر کے الیکشن کو چھوڑ کر امریکہ گئے ہوئے ہیں اور پیپلز پارٹی کی قیادت آصفہ زرداری نے سنبھالی ہوئی ہے.آصفہ زرداری جس کے بارے میں لوگوں کو لگتا ہے جیسے دوسری بینظیر بھٹو ہو۔لیکن میرے خیال میں کشمیر کے لوگ یہ نہیں دیکھیں گے سامنے بینظیر کی بیٹی ہے یا خود بینظیر ہے بلکہ وہ تو یہ دیکھیں گے کہ سامنے والی جماعت نے ہمارے لیے کیا کیا ہے۔اور جس جماعت کا چیئرمین خود امریکہ میں بیٹھا ہو اور بہن کو سیاسی مہم کے لیے بھیج دے میرے خیال میں کشمیر کی عوام اتنی بیوقوف نہیں.
    اور اگر ہم پاکستان تحریک انصاف کو دیکھیں جس نے 2018 میں عام انتخابات جیت کر حکومت بنائی ہے اور اقوام متحدہ کے اجلاس میں جس طرح وزیراعظم عمران خان نے کشمیر کا مقدمہ لڑا ہے اس کی مثال نہیں ملتی ۔کشمیر کے لوگوں کے لیے اس سے بڑی چیز اور کیا ہو سکتی ہے۔ آزاد کشمیر میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت تو نہیں ہے لیکن وہاں کے لوگوں کو صحت انصاف کارڈ دیا گیا ،وہاں کے لوگوں کو احساس ایمرجنسی کیش پروگرام میں شامل کیا گیا۔حکومتی جماعت نے باقی صوبوں کی طرح آزاد کشمیر کو بھی ہر چیز میں شامل کیا. یہی وجہ ہے کہ مسلم لیگ ن بوکھلاہٹ کا شکار ہے کبھی جیت کے دعوے کر رہی ہے تو کبھی دھاندلی کا رونا شروع ہے ابھی سے۔مسلم لیگ ن کو بھی پتا کہ آزاد کشمیر کے لوگ بھی تبدیلی چاہتے ہیں۔ آزاد کشمیر کے لوگ مسلم لیگ ن کی غلامی سے نجات چاہتے ہیں۔
    بہرحال کوئی بھی جیتے لیکن الیکشن کمیشن کو یہ یقین دہانی کرانی چاہیے کہ آزاد کشمیر کی الیکشن شفاف ہو ۔
    میرا تو ساری سیاسی جماعتوں کو مشورہ ہے کہ کوئی بھی جیتے کوئی بھی ہارے آپ لوگوں نے الیکشن کمیشن کے نتائج کو تسلیم کرنا ہے۔جیتنے اور ہارنے والا ایک دوسرے کو گلے لگا کر ایک اچھے سیاستدان اور اچھے پاکستانی شہری ہونے کا ثبوت دے۔کیوں کہ کوئی بھی جیتے آخرکار ہم ہیں تو سب ہی پاکستانی.
    @sadianaz123

  • کون کیا چاہتا ہے ؟  تحریر : فرید خان

    کون کیا چاہتا ہے ؟ تحریر : فرید خان

    افغان مسلے پر بار بار لکھ چکا لیکن پھر بھی لکھنے کا سلسلہ نہیں رکتا۔ ہر روز کوئی نہ کوئی پشرفت اجاتی۔ وسطی ایشیا میں اس وقت افغانستان کی جنگ اور مسلہ زور پکڑ رہا۔ امریکہ نے مسلے سے تقریبا جان چھڑانا شروع کیا لیکن سرزمین کے ہمسایوں میں بڑی حد تک تشویش پائی جاتی ہیں ۔ پاکستان بطور مرکزی کردار اپنی تمام تر کوششوں کو بروئے کار لا رہا گزشتہ دنوں افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی کی وزیر اعظم عمران خان سے فون پر رابطہ بھی ہوا اور افغان مسلے پر گفتگو ہوئی۔ دونوں رہنماوں نے مسلے پر پاکستان کے دارلحکومت میں کانفرنس کے انعقاد پر اتفاق کیا تھا۔ کانفرنس عید سے پہلے ہونا تھا لیکن تاشقند میں وزیراعظم اور افغان صدر کی ملاقات میں اشرف غنی نے وقت مانگ لیا اس لیے اب یہ کانفرنس عید کے بعد منعقد کی جائے گی۔ دوسری طرف افغان حکومت مسلے پر مسلسل کشمکش کا شکار ہے۔ کبھی مزاکراتی عمل میں وقت ضائع کرنے کی کوشش کرتی تو کبھی پاکستان پر الزامات کی بوچھاڑ کردیتے اس سنگین صورت حال میں بجائے معاملات کو سنجیدہ لے افغان حکومت غیر ذمہ دارانہ طور پر کبھی ایک الزام پاکستان پر لگاتا کبھی دوسرا۔ گزشتہ روز افغان نائب صدر نے پاکستان فضائیہ پر بے بنیاد الزام لگایا گیا جس کی تردید اور وضاحت دفتر خارجہ نے کی ۔ سوال یہ ہے کہ یہ الزام کیوں غیر ضروری ہے یہ الزام اس لیے غیر ضروری ہے کہ افغانستان میں طالبان مسلسل علاقوں پر قبضہ کررہے اور افغان حکومت اور فورسسز بے بسی کا شکار ہے تو پاکستان کو اس طرح کے معاملوں میں الجھنے کی کیا ضرورت ہے عین اس وقت جب پاکستان اس وقت مرکزی کردار ہے اور افغان مسلے کی سیاسی حل کے لیے مسلسل کوششوں میں ہیں۔ گزشتہ روز تاشقند میں کانفرنس کے دوران مسلے پر مثبت گفتگو کے بجائے افغان صدر نے پاکستان پر الزامات لگائے اور اسی دوران پھر وزیر اعظم پاکستان کو جواب دینا پڑا۔ سوال یہ ہے کہ افغان حکومت کیا چاہتی ؟ کیوں مسلے پر غیر سنجیدگی کا مسلسل مظاہرہ کررہی ؟ اگر وہ واقعی وطن میں امن چاہتا تو کیوں بجائے مسلے پر بات کرنے وہ غیر ضروری الزامات لگا رہے؟ اگر وہ ملک میں امن چاہتے تو کیوں پاکستان کی کردار کی تائید نہیں کرتے ؟ کیوں مسلے کے سیاسی حل کے لیے کردار ادا نہیں کررہے ۔ اس وقت طالبان علاقے قبضہ کررہے پوری دنیا دیکھ رہی کہ طالبان فتوحات کررہی ، امریکہ اور افغان حکومت بے بسی کا شکار ہے پھر بھی پاکستان سب کو ایک میز پر لانے کی کوشش کررہا اور مسلے کے سیاسی حل کے لیے کوششوں میں ہیں . بار بار پاکستان وضاحت کررہا کہ پاکستان کا اس جنگ میں کوئی فیورٹ نہیں ، پاکستان امن چاہتا کیونکہ پاکستان کی امن بھی افغانستان کی امن سے جڑی ہے ۔افغانستان حکومت کو اس پر سنجیدگی سگ غور کرنا پڑے گا یہ مسلہ سنگین ہوتا جارہا۔ یہ بات بلکل واضح ہے کہ اشرف غنی کی حکومت چاہے جتنے بھی الزامات لگائے جس وقت تک لگاتا ہے انہیں اخر میں پاکستان کی تائید کرناپڑے گا کیونکہ اس مسلے کا حل ایسا نہیں ہے جو اشرف غنی چاہتا۔ اس سے پہلے کہ طالبان بزور طاقت حکومت قائم کرے اشرف غنی کو ابھی سے اپنے مفاد کو بالائے طاق رکھ کر مسلے پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ اس مسلے کا حل طالبان بھی چاہتا پاکستان بھی چاہتا ہمسایہ ممالک بھی چاہتا اور خود افغانستان کی عوام بھی دہائیوں کی جنگ سے بے زار ہیں اور جنگ کا سیاسی حل چاہتے لیکن اس مسلے کا حل اگر نہیں چاہتا تو وہ ایک اشرف غنی ہی اور دوسرا ہندوستان ۔ دہائیوں کی خان ریزی اب بند ہونا پڑے گا ، اشرف غنی اپنی دوستیاں نبائے یا اپنی سیاسی مفاد کو سامنے رکھیں بلاخر ان کو بھی جنگ سے بے زار ہوکر ان کرداروں کا ساتھ دینا پڑے گا جو مسلے کی سیاسی حل چاہتی وہ حل جس میں افغانی عوام ، طالبان اور حکومت مطمئن ہو ۔ دہائیوں کی جنگ کے بعد اگر امن چاہیے تو سب کو اپنی مفاد بالائے طاق رکھ کر ایک میز پر انا پڑے گا ۔ اللہ دب العزت سے دعا ہے کہ افغانستان میں امن ہو اور اسی کی بدولت پاکستان میں امن اجائے۔ امین

    Twitter @Faridkhhn

  • "سی پیک اور پاک چین دوستی ” تحریر:لاریب اطہر

    "سی پیک اور پاک چین دوستی ” تحریر:لاریب اطہر

    پاکستان اور چین بیسیوں صدی کے درمیان وجود میں آئے اور تب سے ہی ان دونوں میں آپسی تعلقات استوار ہوئے جو کہ مختلف ادوار کے داؤ پیچ دیکھتے دکھاتے آج اپنے عروج کی بلندیوں کو چھو رہے ہیں۔ پاکستان اور چین میں ڈپلومیٹک تعلقات تو انیس سو اکاون میں ہی قائم ہو گئے تھے لیکن تب دونوں ممالک اک دوسرے کے ساتھ اتنا ہم آہنگ نہ تھے جس کی وجہ سے ابتدائی سالوں میں دونوں ممالک کے درمیان کوئی خاص پیش رفت نہ ہوئی۔ دوسری جانب اک بڑی وجہ پاکستان کے مغرب کے ساتھ تعلقات بھی تھے جن کی وجہ سے چین کے ساتھ ابتدائی اک دو عشروں میں بہترین تعلقات استوار نہ ہو سکے۔ لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں تھا کہ دونوں ممالک نے اک دوسرے کو مکمل نظرانداز کیا
    کیونکہ انیس سو چھپن میں حسین شہید سہروردی نے پاکستان کا وزیر اعظم ہونے کے ناطے چین کا دورہ کیا اور اسی سال چین کے وزیر اعظم بھی پاکستان کے دورے پر آئے۔ امریکہ کے ساتھ اچھے تعلقات ہونے کی وجہ سے پاکستان اور چین میں سرد مہری تھی لیکن پھرایوب خان نے بھی صدر پاکستان کی حثیت سے چین کا دورہ کیا۔
    انیس سو باسٹھ کی انڈیااور چین کے درمیان جنگ کے بعد پاکستان اور چین میں نزدیکیاں بڑھنے لگیں اور اس سے اگلے سال انیس سو تریسٹھ میں دونوں ممالک کے درمیان باؤنڈری ایگریمنٹ ہوا اور مشترکہ بارڈر کی نشاندھی کی گئی۔ پاکستان کے چین کے ساتھ تعلقات میں اصل موڑ تب آیا جب پاکستان نے انڈیا کے ساتھ 1965 اور 1971 کی جنگیں لڑیں اور ہمارے نام نہاد حواری نے چالبازی کے ساتھ دھوکہ دیا اور چین نے ہماری مدد کی اور اس کے ساتھ ہی سرد مہری والے تعلقات گرمجوشی میں تبدیل ہوتے گئے۔
    اگر پاکستانی حکمرانوں کے حوالے سے بات کی جائے تو شاید ذوالفقار علی بھٹو پہلا پاکستانی حکمران تھا جس نے چین کے ساتھ اچھے تعلقات استوار کرنے کی داغ بیل ڈالی۔ بھٹو نے اپنے دور حکومت میں تین چار بار چین کا دورہ کیا بدلے میں چین نے بھی گرمجوشی دکھائی تو دن بدن تعلقات گہرے ہوتے چلے گئے کہ پھر چاہے سیاسی تعلقات ہوں ،ثقافتی، معاشی ہوں معاشرتی تعلقات، فوجی تعلقات ہوں یا ایٹمی پروگرام سب میں پاکستان اور چین ایسے جڑے جیسے اک ہی سکے کے دو رخ ہوں۔ جہاں پاکستان نے چین کی سلامتی کونسل کی سیٹ پر سپورٹ کیا تو بدلے میں چین نے بھی کشمیر کاز پر پاکستان کا ساتھ دیا۔

    ضیاء الحق بھی ایوب خان کی طرح امریکی پلڑے میں تھے لیکن اس دوران بھی پاکستان اور چین کے تعلقات معمول پر رہے۔ چین نے اپنی معاشی ترقی کا سفر جاری رکھا اور اکیسویں صدی میں اک بڑی معیشت بن کر ابھرا۔ اسی بڑی معیشت کی بنا پر ماضی قریب میں چین نے OBOR ون بیلٹ ون روڈ کے نام سے اک منصوبہ شروع کیا جس کے تحت چین جہاں تک ممکن ہو سکتا ہے دنیا کو روڈ کے زریعے اک دوسرے سے ملانا چاہتا ہے۔ CPEC بھی اسی منصوبہ کی ایک کڑی ہے یا یوں کہہ لیا جائے کہ سی پیک ون بیلٹ ون روڈ کی ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہے تو بے جا نہ ہو گا۔ اسی سی پیک کی بدولت جہاں چین ایک طرف روس سے ہوتا ہوا منگولیا، پاکستان سے گزر کر بحیرہ عرب تک جا پہنچے گا اور وہاں سے آگے مشرق وسطی اور پھر افریقہ کی جانب۔ دوسری جانب چین اسی OBOR کے تحت سنٹرل ایشیاء اور آگے ایورپ تک زمینی راستوں کو وسعت دینا چاہتا۔ اس سارے منصوبے میں سب سے اہم منصوبہ سی پیک کا ہے کیونکہ اسی کی بدولت چین کو جنوب کی طرف پانیوں تک رسائی ہو گی اسی لیے انڈیا اور امریکہ ہر صورت میں سی پیک کو سبوتاژ کرنے کی ہر ممکن کوشش میں مصروف عمل ہیں۔
    یہ سی پیک منصوبہ ہے کیا آئیے ذرا اک نظر اس پہ ڈالی جائے۔ ویسے تو سی پیک کا کریڈٹ مشرف بھی لیتا تھا اور پاکستان پیپلز پارٹی بھی لیتی ہے لیکن اصل میں رسمی طور پر 2013 میں ن لیگ کے دور میں پاکستان اور چین کے درمیان 51 ایم او یوز سائن ہوئے جس کی بدولت چین پاکستان میں چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور کے نام سے ایک ترقیاتی منصوبہ شروع کرنے جا رہا ہے جس پر بنیادی طور پر 46 ارب امریکی ڈالرز کی لاگت آئے گی۔ یہ منصوبہ اصل میں ایک انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ کا منصوبہ ہے جس میں چین کے جنوبی علاقے کاشغر کو پاکستان کے جنوبی علاقے گوادر سے ملایا جا رہا ہے۔ ان 46 ارب ڈالرز میں سے تقریباً 12 ارب ڈالر انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ جس میں ہائی ویز، ریلوے لائنز، گوادر پورٹ ڈیویلپمنٹ اور گوادر شہر کی ترقی پر خرچ کیے جا رہے ہیں۔ جبکہ دوسری جانب تقریبا 34 ارب امریکی ڈالر انرجی منصوبے پر خرچ ہوں گے۔ ہائی ویز میں اسلام آباد سے لیکر گوادر تک مختلف نئے روڈز بنائے جائیں گے جو پاکستان کے تمام صوبوں میں سے ہو کر گوادر تک پہنچیں گے۔ جہاں سی پیک کے پاکستان کے لیے بہت فوائد ہیں وہیں یہ منصوبہ چین کے لیے بھی بہت اہمیت کا حامل ہے۔ چین تقریباً اپنا 80 فیصد تیل مڈل ایسٹ سے منگواتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ خام مال بھی افریقی ممالک سے حاصل کرتا ہے جس کے لیے اسے یہ مال لے کر انڈین اوشن میں سے گز کر آبنائے ملاکہ میں سے ہوتے ہوئے آگے ساؤتھ چائنہ سی میں سے گزرتے ہوئے اپنے ملک پہنچتا ہے۔ اس سارے پراسیس میں اسے 15 ہزار سے 16 ہزار کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے اور ساتھ میں ان ممالک کی حدود میں سے بھی گزرنا پڑتا ہے جس کے ساتھ چین کے تعلقات اچھے نہیں ہیں۔ جبکہ دوسری جانب سی پیک کی بدولت چین کو 10سے 11 ہزار کلومیٹر کا فاصلہ کم ہو کر 5 سے 6 ہزار کلومیٹر تک پڑتا ہے اور جو مال آبنائے ملاکہ سے چین تین ماہ میں پہنچتا تھا وہ اسے ایک ماہ میں مل جائے گا اور اس میں چین کو صرف ایک ملک پاکستان کی حدود میں سے گزرنا پڑے گا اور پاکستان کے ساتھ تعلقات اس کے پہلے سے ہی اچھے ہیں۔

    سی پیک کو اگر ریجنل ویو کے مطابق دیکھا جائے تو جنوبی ایشیاء میں اس وقت دو متحارب بلاک ہیں جس میں ایک پاکستان-چین جبکہ دوسرا انڈیا-امریکہ۔ ان دونوں گروہوں میں ایک جنوبی ایشیائی ملک ہے جبکہ دوسرا غیر جنوبی ایشیائی۔ چین تو خیر پھر بھی ان دونوں بڑے جنوبی ایشیائی ممالک کے ساتھ اپنی سرحد شیر کرتا ہے جبکہ امریکہ تو سات سمندر پار ہے۔ امریکہ اور انڈیا دونوں ممالک چین کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ سے پریشان ہیں امریکہ چین کو عالمی پس منظر میں دیکھتا ہے جبکہ انڈیا جنوبی ایشیاء کے حوالے سے۔ پاکستان اور چین کا سی پیک جیسا گیم چینجر منصوبہ شروع کرنا ان دونوں کے لیے جلتی پر تیل کے مانند ہے
    ۔ امریکہ اور اس کے حواری بالخصوص یورپ، اور انڈیا اس منصوبے کو ہر حال میں سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں۔ وہ اس اکنامک کوریڈور کو اک عسکری کوریڈور بنا کر دنیا میں پیش کر رہے ہیں۔ حالیہ جی سیون کے اجلاس کا مین مدعا بھی چین کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کو روکنا تھا۔

    امریکہ ہر ممکن کوشش کر رہا ہے کہ کم از کم پاکستان کو ہی سی پیک سے باز رکھا جائے جس کے لیے وہ ہر حربہ استعمال کر رہے ہیں۔ لیکن جب کسی جانب دال نہ گلی تو دونوں ممالک میں نفرت کا بیج پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ عمران خان کے امریکی ٹی وی چینل کو دیے گئے حالیہ انٹرویو میں جب امریکہ کو نہ کہی تو اینکر پرسن نے پینترا بدلتے ہوئے چین میں موجود ایگور مسلمانوں کا ایشو اٹھا لیا جس کو عمران خان نے عمدہ طریقے سے ہینڈل کیا جیسے لمحہ موجود میں کرنا چاہیے تھا۔
    قصہ مختصر یہ کہ پاکستان چین کی جو دوستی 1951 میں شروع ہوئی تھی ٹھیک ستر سال بعد اپنے نقطہء عروج پر پہنچ چکی ہے اور جیسے اک شہر یا گاؤں میں دشمنوں کو ایسی دوستی ایک آنکھ نہیں بھاتی بالکل اسی طرح امریکہ انڈیا اور ان کی حواریوں کو بھی پاکستان اور چین کی یہ دوستی بہت کھنکتی ہے۔ اب دشمن آئے روز کوئی نہ کوئی چال چل رہا ہے کہ کسی طرح پاکستان اور چین میں چپقلش پیدا کی جائے۔ وہ ہر بار منہ کی کھاتا ہے اور ہر بار ایک نئے منصوبے کے ساتھ آتا ہے۔
    داسو ڈیم کے قریب چینی عملے پر ہونے والا حملہ بھی اسی چال کی اک کڑی ہے۔ اب پاکستان اور چین پر منحصر ہے کہ وہ کیسے ان سب چالوں کو ناکام کرتے ہوئے سی پیک کو مکمل کرتے ہیں۔

  • ‏عرض پاک کے سوداگر . تحریر : محمّد وقاص

    ‏عرض پاک کے سوداگر . تحریر : محمّد وقاص

    سابقہ امریکی صدر ٹرمپ نے اپنی کتاب “دی اوریجنل فیس آف پاکستان “میں انکشاف کیا ہے کہ اگر نواز شریف تین سال اور حکومت کر جاتا تو اس سے پاکستان خرید لیا جاتا۔ مزید براں ٹرمپ نے لکھا ہے کہ نواز شریف پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کی جاسوسی کیلئے امریکہ کے ساتھ پچاس ارب ڈالرز کا معاہدہ کرنے والا تھا۔ پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف صاحب جو کہ تین دفعہ وازارت عظمیٰ کے مرتکب پر فیض پائیے مگر میاں نواز شریف کا ماضی پاکستان مخالف بیانئیے کی عکاسی کرتا ہے میاں نواز شریف کے اس بیانئیے نے بھی وطن پاکستان کی ساخت کو نقصان پہنچایا کہ ممبئی حملے پاکستان نے کروائے ہیں۔

    اسکے علاوہ جنرل مشرف کا کہنا ہے کہ پاکستان نے کارگل کے محاذ پر جموں کشمیر کے کافی حصے پر اپنے پاؤں جما لئے تھے اور بھارت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا تھا تو تب میاں نواز شریف نے افوج پاکستان کو واپس آنے کو کہا جس کے نتیجے میں لاکھوں گھروں کے چراغ گل ہو گے بہت سے فوجی جوان شہید ہوگے۔ اسکے بعد جب دنیا بھر میں پاناما کا سکینڈل سامنے آیا تب جناب کا نام سرفہرست تھا اس وقت نواز شریف پاکستان کے وزیر اعظم تھے اپوزیشن نے مطالبہ کیا انکا احتساب ہونا چاہیے جس میں سے سب سے زیادہ کاوش جناب عمران خان صاحب کی تھی اجنہوں نے خود کو بھی احتساب کے لئے پیش کر دیا جب عدالت میں کیس لگا تو نواز شریف صاحب عدالت میں آمدن سے زائداثاثہ جات میں عدالت کو ثبوت فراہم نہ کر سکے اور ان پر ایون فیلڈ فلیٹس کا بھی کیس تھا عدالت نے ذرائع پوچھے تو میاں نواز شریف صاحب عدالت میں ثبوت جمع نہ کروا سکے جس میں وہ مجرم قرار پائے اور ان پر فرد جرم عائد ہو گیا۔
    دوسری طرف عمران خان نیازی صاحب عدالت میں تمام ثبوت فراہم کر کے عدالت سے صادق ال آمین قرار پائے۔

    جناب نواز شریف سزا کاٹ رہے تھے تو انکی طبیعت میں بیگاڑ پیدا ہوا اور انکے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان نے کہا ان کا علاج پاکستان میں ممکن نہیں ہے پھر عدالت سے طبی بنیاد پر چار ہفتے کے لئے ٹائم لیا گیا اور وہ لندن چلے گے وہاں جا کر میاں صاحب نے نہ اپنا علاج کروایا نہ کوئی میڈیسن لی اور اب انہی ایون فیلڈ میں موجود ہیں جو منی لانڈرنگ سے خریدے گے اور پاکستان میں وہ اشتہاری ہے اور لندن میں اپنی شہانہ زندگی گزار رہے ہیں۔ پچھلے 10 سال میں جس بے دردی سے بڑے بڑے قرض لے کر اجاڑے گئے، 60 سالوں میں قرض 6 ہزار ارب اور صرف 10 سالوں میں 24 ہزار ارب قرض لیا بات تو سچ ھی لگتی ہے۔ ٹرمپ کی.
    اللّه پاک ملک پاکستان کی حفاظت فرمائے اور ملک دشمن قوتوں کو زیر کرے آمین .
    پاکستان زندہ آباد

    @M_Waqas_786

  • عمران خان کا دورہ ازبکستان .تحریر : ارشد محمود

    عمران خان کا دورہ ازبکستان .تحریر : ارشد محمود

    پاکستان جس طرح کے بڑے بڑے مسائل سے نبرد آزما ہے شاید امریکا جیسے بڑے اور ترقی یافتہ ملک کو بھی نہ ہو ۔ پاکستان کو جہاں اندرونی مسائل کا سامنا ہے وہی پڑوس ممالک میں ہورہی تبدیلیوں کا بھی سامنا ہے کہ ان میں کوئی بھی تبدیلی پاکستان پر اثر انداز ہوتی ہے ۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان جس طرح سے ان مسائل کو حل کرنے کی کوشش کررہے ہیں وہ شاید بھٹو مرحوم کے بعد انہی کا خاصا ہے ۔ سازشوں کے جمگھٹے سے اپنے آپ کو نکالنا ہمارے لیے ہمیشہ سے ہی ناممکن حد تک مشکل رہا ہے ۔ افغانستان میں ہورہی جنگ کو آپ کوئی بھی نام دے لیجیے پاکستان ماضی میں بھی متاثر رہا ہے اور شاید مستقبل میں بھی متاثرین میں سرفہرست رہے ۔ ازبکستان کے دورہ میں جس طرح سے پاکستان نے افغانستان کا مقدمہ پیش کرکے اشرف غنی کو آئینہ دکھایا ہے وہ بھی قابل غور ہے ۔ افغانستان میں ہر روز طالبان فاتح کے طور پر نہ صرف ابھر رہے ہیں بلکہ اپنا آپ منوا بھی رہے ہیں۔ ازبکستان کے شہر تاشقند میں وسطی جنوبی ایشیائی رابطہ کانفرنس میں افغانی صدر اشرف غنی نے پاکستانی قیادت کے سامنے بیٹھ کر پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کی تو پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے دنیا کے سامنے افغانی صدر کے الزامات کو جہاں بے بنیاد قرار دیا وہی بتلایا کہ افغانستان میں امن کی سب سے زیادہ کوشش پاکستان کررہا ہے۔ یہاں یہ بات بھی قارئین کے لیے دل چسپی کا باعث ہوگی کہ بھارتی چینل نے پاکستانی وزیراعظم سے پاک بھارت تعلقات بارے من چاہا سوال کیا تو اس کے جواب میں ہندو توا قیادت کا آئینہ دکھا کر بے پروا ہو کر پاکستانی قیادت آگے کو بڑھ گئی اس نے ظاہر کردیا کہ پاکستان اس وقت کس قدر پراعتماد ہوکر اپنے مسائل سے نمٹ رہا ہے ۔

    افغانی نائب صدر اور افغانی خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ نے پاکستان پر الزام لگایا کہ پاک فضائیہ نے کہ اگر چمن بارڈر کے قریب أفغانستان کی حدود میں ان طالبان کے خلاف کارروائی کی گئی جنہوں نے سپین بولدک پر قبضہ کیا ہے تو اس کا پاکستان کی جانب سے جواب دیا جائے گا۔’تاہم پاکستان کی دفتر خارجہ نے جمعے کو ہی ایک بیان میں ایسے کسی پیغام کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ’افغانستان کے بعض حکام دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو خراب کرنے کے لیے جھوٹ پر مبنی بیانات جاری کر رہے ہیں حالانکہ پاکستان نے کل ہی سپین بولدک پر طالبان کے حملے کے دوران وہاں سے فرار ہو کر پاکستان پہنچنے والے چالیس افسروں اور اہلکاروں کو واپس افغانستان پہنچایا ہے۔’ اس طرح کے بیانات سے پاک افغان تعلقات میں جو کشیدگی آئے گی اس کا سب سے زیادہ نقصان افغانستان کو ہوگا ۔ پاکستان کسی بھی طرح سے نہیں چاہے گا افغانستان میں امن کا مسئلہ قائم رہے۔ پرامن افغانستان ہی پاکستان کے حق میں ہے ۔ ماضی میں افغانستان سے جس طرح سے دراندازی ہوتی رہی ہے وہ ظاہر کرتی ہے افغان صدر اور ان کے لوگ بالواسطہ یا بلا واسطہ پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث رہے ہیں ۔ افغان قیادت کو ہوش کے ناخن لینا ہوں گے تاکہ پاکستان بغیر کسی حیل و حجت کے ان کے ساتھ کھڑا رہے ورنہ تو پاکستان کے پاس آپشن موجود ہے۔

  • ہم جس کے حقدار ہمیں وہی مقام نہیں ملا . تحریر : آصف شاہ خان

    ہم جس کے حقدار ہمیں وہی مقام نہیں ملا . تحریر : آصف شاہ خان

    مختلف اقوام کے لوگ اسلام کی چھتری کے نیچے جمع ہوے اور اپنے لیے ایک الگ شناخت اپنایا. ان لوگوں نے اپنے قائد ، قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں کھٹن محنت کرکے کرکے اور اخرکار ۱۹۴۷ء میں یہ لوگ اپنی الگ شناخت کے ساتھ ایک ریاست کے مالک بنے. لیکن ان لوگوں کی بدقسمتی یہ تھی کہ ریاست آزاد کرانے کہ بعد ابھی اس نظام کو لاگو نہیں کیا تھا جس کا ان لوگو ں نے اللہ وعدہ کیا تھا کہ ان کے اس معجزاتی تحریک کے اکثر قیادت وفات پاگئے. اب قیادت کےلیے اس نئ شناخت والی قوم کے ساتھ کوئی حل نہیں تھا سوا اس کے کہ قیادت کو ان لوگوں کے ہاتھ دیا جائے جن نے انگریزوں کے یہاں پر حکمرانی کے وقت ان کے ساتھ مختلف عہدوں پر نوکری کر چکے تھے. لوگوں کا خیال تھا کہ یہ چونکہ مختلف نوکریاں انجام دے چکے ہیں تو ملک چلانا اسان ہوگا یہ سوچ تو چلانے کے حد تک ٹھیک تھی لیکن مسلہ ایک اور جگہ پر تھا اور وہ یہ کہ ین نئی قیادت کے پاس اس نظام کو لاگو کرنے کے بارے کوئی علم نہیں تھا جس کے خاطر ملک کو حاصل کیا گیا تھا.

    اس نظام کے بارے میں علم نہ ہونے، انگریزوں کے ظاہری عیاشیاں قریب سے دیکھنے اور انگریزوں کی دنیا پر حکمرانی کو مد نظر رکھتے ہوئے اس نئی قیادت نے بجائے اس کے کہ اپنے نظام کو لاگو کرتے ان لوگو نے انگریزوں کے غلاموں کے لیے بنائے ہوئے نظام کو ترجیح دی. اس نئی قیادت کی نظر میں تھا کہ انگریزوں کے ظاہری عادات و اطوار کو اپنا کر، غلامی کے نظام کو لے کر اسلامی نظام کے بغیر ترقی حاصل کرینگے. اس قیادت کا خیال تھا کی انگریزوں کی ترقی ان کے ظاہری عادات و اطوار اور اس نظام کی وجہ سے ہے. لیکن یہ ان کی غلط فہمی تھی. انگریزوں کے عادات و اطوار توغلاموں پر حکمرانی کا نشہ اور ان کا یہاں بنایا ہوا نظام الگ غلاموں کیلئےتھا تاکہ غلام غلام رہے اور حکمرانی طویل عرصے کیلئے ریے. جن لوگوں کو حکمرانی ملی وہ تو تحریک پاکستان کا حصہ نہ تھے ہاں لیکن یہ ضرور تھا کہ وہ انگریزوں کے غلامی کے نظام کا حصہ تھے. اس لیے ان کے پاس اپنے نظام کا علم نہیں تھا لیکن انگریزوں کے غلامی والے نظام کے بارے جانتے تھے. اس لیے قیادت ملنے کے بعد رفتہ رفتہ اس نئی قیادت نے وہی غلامی کا نظام رائج کرنے کیلئے اقدامات شروع کیے اورانگریزوں کے ظاہری عادات و اطوار کو اپنا کر اپنے لیے باعث فخر سمجھ کر اس کو ترقی کا معیار مقر ر کیا. نتیجہ یہ نکلا کہ حکمرانوں میں اور عوام میں انگریرزوں کے دور کے طرح فاصلے بڑھ گئے .

    اپنے ظاہر کو انگریزوں کے طرح کرنے کیلئے عیاشیوں کے پیچھی پڑھ گئےاور پھر کیسی نے عوام کے مسائل اور ترقی کا نہیں سوچا کیونکہ وہ نظام اور حکمرانی کا نشہ ایسا تھا کہ جو غلاموں کو غلامی میں رکھنے کیلئے تھا. اور اس طرح عوام غلامی کے دور سے نجات نہیں پائے بس مالک بدلے. جو آج تک عوام بگھت رہے ہیں عمران خان سے پہلے ہم تاریخ دیکھ لے تو نظر آتا ہے کہ ہمارے حکمران انگریزوں سے اتنے متاثر ہیں کہ اپنے قومی لباس تک پر شرماتے ہیں . جس قوم کے حکمرانوں کا یہ معیار ہو وہ کیسے ترقی کرسکتی ہے؟ ہمارے نجات اور ترقی کا واحد زریعہ نظام کو تبدیل کرنا ہے ہمیں غلامی کے نظام کے بجائے اسلامی نظام جس کا ہم نے وعدہ کیا تھا لانا ہوگا. نظام کو تبدیل کرکے ہم ترقی حاصل کرسکتے ہیں.

    @IbnePakistan1