Baaghi TV

Category: سیاست

  • افغان جنگ اور دنیا. تحریر: سدرہ

    افغان جنگ اور دنیا. تحریر: سدرہ

    ماضی کے جھروکوں میں جھانکیں تو افغان جنگوں میں فتح ہمیشہ افغان قوم کا ہی مقدر بنی ہے۔ برطانیہ اور افغانستان کے مابین جنگ  1839ء سے 1842ء تک لڑی گئی، اس جنگ میں مجموعی طور پر افغانوں کی فتح ہوئی۔ 4500برطانوی اور  ہندوستانی فوجی ہلاک ہوئے، جبکہ ان کے ساتھیوں میں سے 12000لوگ بھی ہلاک ہوئے۔ روسی اور برطانوی گریٹ گیم میں یہ سب سے پہلی بڑی لڑائی تھی۔ پھر27 دسمبر 1979ء کی ایک تاریک شب، جب سوویت یونین نے افغانستان پر شب خون مارا تو ایک طویل مدتی جنگ کا آغاز ہوا۔اس جنگ میں بھی 15000 سوویت فوجی مارے گئے اور 35000 کے قریب زخمی ہوئے، جبکہ دو لاکھ مجاہدین اور دو ملین کے قریب عام شہری مارے گئے۔اس جنگ کی بڑی قیمت پاکستان نے بھی ادا کی۔ پاکستان نے بیس سال تک 2.8ملین مہاجرین کا بوجھ برداشت کیا۔ مہاجرین کی اتنی بڑی تعداد نے پاکستان کو دنیا میں مہاجرین کو پناہ دینے والے ملکوں میں سر فہرست لا کھڑا کیا۔

    اسی اثنا میں امریکہ بہادر نے انسانی حقوق کے نام پر سوویت حملے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا،پھر سوویت یونین کو جنگ میں شکست دینے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا۔ 

    امریکہ سوویت یونین کے افغانستان سے انخلا کو اپنی کامیابی سمجھ بیٹھا اور نائن الیون کے بعدافغانستان میں آبیٹھا۔ سوویت یونین کی بد ترین شکست نے یو ایس ایس آر کو  سولہ ملکوں میں تقسیم کر دیا، مگر اس شکست سے امریکہ نے سبق سیکھنے کی بجائے اس فتح کو ڈالرز میں تولا، جو شاید امریکہ کی سب سے بڑی غلطی تھی، کیو نکہ جنگ لڑنے کے لیے مال و زر سے زیادہ حوصلے، ہمت اور جذبہء حب الوطنی کی ضرورت ہوتی ہے، جس کی سب سے بڑی مثال آئرش رپبلک آرمی، افغانستان اور ویتنام ہیں، جنہوں نے ترکش میں تیر نہ ہونے کے باوجود دنیا میں آزادی حاصل کرنے کے لیے نئی تاریخ رقم کر دی۔

    افغانستان خاک و خون کی گھاٹیاں عبور کر کے بالآخر جنگ کے اختتام کی طرف بڑھ ہی رہا تھاکہ اشرف غنی کی حکومت او ر طالبان کے درمیان ایک نئی جنگ نے جنم لے لیا۔ شنید تھی کہ امریکی انخلا کے فوراً بعد خانہ جنگی کا آغاز ہو سکتا ہے، جو کسی حد تک سچ ثابت ہو رہا ہے۔ طالبان افغانستان میں دوبارہ ایک بڑی قوت بن کر ابھرے ہیں۔وہ ملک کے زیادہ تر حصوں پر قابض ہونے کے ساتھ ساتھ کابل پر کسی بھی وقت چڑھائی کر کے موجودہ حکومت کے خاتمے کا اعلان کر سکتے ہیں۔

    گزشتہ بیس برسوں کی امریکی جنگ میں بھارت نے امریکہ کی گود میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف شدید پروپیگنڈہ کیا۔ یہاں تک کہ افغانستان میں خود دہشت گردانہ کارروائیاں کروانے کے بعد الزام پاکستان پر لگایا جاتا رہا، جس کی مثالیں لاہور بم دھماکہ اور بلوچستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں ہیں،افغان قوم کے دل میں پاکستان کے خلاف نفرت کا بیج بویا گیا، مگر بھارت اپنی اس کاوش میں پوری طرح کامیاب نہیں ہو سکا۔ بھارت کے خلاف پالیسیوں کا اعلان دراصل طالبان نے بھارتی سفارتخانے پر قابض ہو کر کیا کہ اب افغانستان میں بھارت کی دال نہیں گلے گی۔دوسری جانب بھارت نے رد عمل کے طور پر بھاری اسلحہ افغان حکومت کی مدد کے لیے حال ہی میں پہنچا دیا جو جلتی پر تیل ڈالنے کے مترادف ہے۔

    بھارت کی یہ حرکت خطے میں غیر یقینی صورت حال پیدا کرنے کا موجب بن سکتی ہے۔ اس کے علاوہ بھارت نے اس عمل سے طالبان کے ساتھ بھی کھلی جنگ کا آغاز کر دیا ہے۔ اب یوں محسوس ہو رہا ہے کہ بھارت نے امریکہ اور سوویت کی شکست سے سبق حاصل نہیں کیا۔بھارت کی بے جا مداخلت تاریخی غلطی تصور کی جا سکتی ہے،اس سے بھارت کی سالمیت پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں

  • "ہم کہاں ہیں”.تحریر؛ ارباز رضا بھٹہ

    "ہم کہاں ہیں”.تحریر؛ ارباز رضا بھٹہ

    ہر ملک میں اس کی ترقی و خوشحالی میں نوجوان نسل کا اہم کردار ہوتا ہے۔ چاہے وہ ملک کتنا ہی پسماندہ ہو مگر اس کا نوجوان نسل کے عزم و ولولے سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اگر اس وقت ہمارے ملک میں دیکھا جائے تو اس نوجوان نسل کے نہ ہی Emotional وقت کا اچھی طرح معلوم ہے اور نہ ہی Determination کا۔ نہ جانے کس وقت جزبہ ایمانی جاگ اٹھتا ہے اور پھر نہ جانے کہاں چلا جاتا ہے۔
    یہ پورے معاشرے کا حال ہے اس میں بذات خود میں بھی شریک ہوں۔ اگر یہی حال تمام مسلم ممالک کا کہا جائے تو غلط نہ ہو گا۔ ان کے پاس تمام تر وہ وسائل موجود ہیں جس سے ایک ترقی یافتہ اور طاقتور مملکت بنائی جا سکتی ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ان کے پاس وہ تمام حقائق،سچی داستانیں اور ایسے تمام علوم موجود ہیں جس سے ایک سدیوں سوہی ہوئی قوم کو ازسرِنو جگایا جا سکتا ہے۔

    مگر افسوس اس وقت بھی ان پر جہالت کے بادل چھائے ہوئے ہیں۔سورج کے ہونے کے باوجود اس سے فاہدہ نہیں اٹھایا جا رہا۔ ابر رحمت کو بھی ابر زحمت میں بدلا جا رہا ہے۔ مزاحیہ بات یہ ہے کہ مجھے سمجھ نہیں آتی ان کی تمام چیزوں سے غیر فاہدہ اٹھا رہے ہیں اور یہ بڑے خوش ہیں۔ ان کو بتانے میں فخر محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے علوم چرا کر غیر اتنی ترقی کر گئے اور ہم وہی کے وہی رہے۔
    آخر کیا وجہ ہے کہ ہم پیچھے ہیں۔ ہمارے پاس ایک شاندار ماضی کی داستانیں ہیں۔ ہمارے پاس ہر شعبے میں ترقی کرنے کی مثالیں ہیں مگر ہم غیر ترقی یافتہ ہیں۔ ان تمام حالات میں اگر دیکھا جائے تو کسی پر کوئی زمہ داری عائد نہیں ہوتی فقط ہر اس شخص پر جو ایسے معاشرے میں جی رہا ہے۔جسے معلوم ہے کہ میرا بھی سب کچھ یہی ملت یہی ملک ہے اور میری آنے والی نسلوں کا بھی تاقیامت۔
    اس وقت اس شخص کو ہی چاہئے کہ اس گلستاں کی ہریالی میں اپنا کردار ادا کرے۔ علامہ اقبال ہو یا قائداعظم کب تک ہم ان کے تاریخ پیدائش اور وفات پر محض ان کے گن گاہیں گے؟ ان کی بات و سیرت کو کب تک نہیں اپناہیں گے؟ اگر یہی حال رہا تو ہم ان پر واہ واہ کر کے اس زمہداری سے بچنا چاہتے ہیں جو ہم پر ان کی طرف سےعائد ہوتی ہے۔ اگر علامہ اقبال نے کلام لکھا تو کن کے لیے لکھا۔
    کیا ان کا پیغام وقت اس دور میں موجود لوگوں کے لیے تھا یہ ہم پر بھی کچھ زمہداری عائد ہوتی ہے؟ وہ کن کو خواب غفلت سے جگانے کے لیے تھا کہ تمہارے دشمن تمہیں دن بدن تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور تم ہو جو تقسیم ہو۔ انہوں نے ہمیں ایک ہونے کا درس دیا۔ جیسا کہ امام علی علیہ الصلاۃ والسلام کا فرمان ہے کہ
    "تم حق پر ہونے کے باوجود بکھرے ہوئے ہو اور وہ باطل پر ہو کے بھی متحد ہیں۔

    اسی طرح ملک بنانے میں بھی مقاصد چھپے ہوئے تھے۔ جن میں تمام مسلمانوں کی دنیا میں عظمت و خوشحالی اور سب سے اہم بات ایک ہونا شامل تھا۔ ہم کبھی بھی ان باتوں کو فراموش نہیں کر سکتے۔ آج اگر اس دور میں ہمارے اندر مسلمانوں کی خوشحالی و ترقی کی آرزو و کوشش نہیں تو ہم بالکل ہی پستی کی گہرائی میں ہیں۔ ہمیں اس بات کو بخوبی جاننا ہو گا کہ دشمن کس طرح ہمارے لیے باہر بیٹھا چالیں اور ہماری تباہی کے پروگرام بنا رہا ہے چاہے وہ بھارت،امریکہ،اسرائیل یا پھر کسی دوسرے ملک کی شکل میں ہو۔

    ان تمام Challenges سے مقابلے کے لیے بیداری ہے اور وہ بیداری آج کے ہر پاکستانی میں ہونا لازم ہے۔ کیونکہ ہم وہ قوم ہیں جو نہ ہی غلام بن کر جینا پسند کرتی ہے اور نہ ہی اپنے دوسرے بھائیوں کو اس حال میں دیکھنا۔ اب دشمن کو ہمارے علاقوں سے کوئی سروکار نہیں ہے اسے ہمارے ذہن چاہئیے اور ذہن بھی صرف اس طریقے سے بچ سکتے ہیں کہ ہم خدا تعالیٰ سے بڑی مضبوطی کے ساتھ جڑے رہیں۔
    ہم اسلام کو صرف عبادات تک نہیں بلکہ اپنے معاشرے میں ہر کردار و گفتار پر نافذ کریں۔ آج دشمن نے معاشرے میں طرح طرح کی براہیاں پھیلا دی ہیں۔جن کا شکار دن بدن ہم ہی ہو رہے ہیں۔ اس کا مقصد ہمیں ان براہیوں میں الجھا کر تباہ و برباد کرنا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ ہمارے سامنے یہ سب کچھ ہو رہا ہے اور ہم خاموش ہیں۔
    کیونکہ بقول علی شریعتی کہ
    "زمین مسجد خدا ہے اور تم دیکھ رہے ہو کہ نہیں ہے۔”
    شاید ہم پستی کی جانب رواں دواں ہیں حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ہم اس پر خوش ہیں۔
    @Haider_Arbaz_01

  • سی پیک اور پاکستان. تحریر  : ولید عاشق

    سی پیک اور پاکستان. تحریر : ولید عاشق

    ( @iWaleedRaja )

    سی پیک پاکستان کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے،پاکستان دشمن بول رہے ہے عمران خان نے سی پیک بیچ دیا.

    ‏پاک چین اقتصادی راہداری ملکی معاشی ترقی میں انتہائی اہمیت کی حامل ہے- نوجوان سی پیک کے معاشی فوائد سے استفادے کیلئے خود کو تیار کریں،

    پاکستان اور چین کے مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کے درمیان بہتر تعلقات کو استوار کے علاوہ سی پیک منصوبہ جیسے میگاپروجیکٹ کو موثر انداز میں سمجھنے کے مواقع فراہم کرتی ہے،

    عمران خان نے نہ صرف نواز شریف کے دور میں روکے گئے سی پیک کی سڑکیں مکمل کیں بلکہ اس کے دوسرے فیز پر فوراً کام شروع ہورہا ہے جس میں کم از کم 5 ارب ڈالر کے بجلی بنانے کے منصوبے لگائے جارہے ہیں۔
    جو کہتے ہیں ایران کو بیچ دیا تو ایران کے پاس نہ راستہ ہے نہ گنجائش۔ چین کو تیل کی ضرورت ہے۔ اس نے ایران سے اگلے 25 سال تک 400 ارب ڈالر کا تیل لینے کا معاہدہ کیا ہے۔ امید ہے یہ تیل پاکستان کے راستے سے ہوکر جائیگا سمجھیں پاکستان کی لاٹری نکلے گی۔
    سی پیک کے تحت پاکستان میں توانائی سمیت دیگر شعبوں میں نمایاں ترقی ہوئی ہے، چینی وزار ت خارجہ
    چینی وزار ت خارجہ کے ترجمان وانگ وین بین نے کہا ہے کہ سی پیک ایک پٹی ایک شاہراہ کا ایک اہم منصوبہ ہے جبکہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت پاکستان میں اب تک توانائی سمیت دیگر شعبوں میں نمایاں ترقی ہوئی ہے۔
    بیجنگ میں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے بتایا کہ سی پیک سے جہاں پاکستان کی معاشی و معاشرتی ترقی ہوئی وہیں اس منصوبے کے تحت علاقائی روابط کو فروغ ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک پٹی ایک شاہراہ کا منصوبہ چین کا ہے جس سے نہ صرف چین بلکہ پوری دنیا مستفید ہو گی۔

    اُن کا کہنا تھا کہ دنیا کے تقریبا 140 ممالک نے ایک پٹی ایک شاہراہ اقدام کے تعاون کے معاہدے پر چین کے ساتھ دستخط کئے ہیں جبکہ چین اور ایک پٹی ایک شاہراہ اقدام سے وابستہ ممالک کے مابین تجارتی حجم کی مجموعی مالیت 9.2 کھرب امریکی ڈالرز تک پہنچ چکی ہے ۔
    ‏سی پیک منصوبے سے ملکی معشیت میں بہتری آئے گی اور پاکستان میں غربت کا خاتمہ ہو گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کے ذریعے 7 لاکھ پاکستانیوں کو روزگار ملے گا جبکہ اس وقت  80 ہزار سے زائد پاکستانی سی پیک کے مختلف منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔ ‎پاک چین اقتصادی راہداری ،ترقی کے سفر کا وہ خواب ہے جس کی تعبیر کا حصول ہر پاکستانی کی خواہش ہے،پاکستانی حکومت اور عوام اپنے بہترین دوست چین کو ساتھ اس منزل کی جانب بڑھ رہے ہیں ،اور دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے ساتھ ہم قدم ہو کر اس منزل تک پہنچنے کا پورا یقین ہے.

  • عوام اور سیاستدان!!.تحریر: موسی حبیب راجہ

    عوام اور سیاستدان!!.تحریر: موسی حبیب راجہ

    کسی بھی ملک کے انتظامی نظام کو چلانے کیلئے ایک جمہوری حکومت کی ضرورت ہوتی ہے دنیا کے ہر ملک میں آج تک ایسا ہی ہوتا رہا ہے کہ عوام اپنے پسندیدہ نمائندوں کو منتخب کرتی ہے اور ان کو ایوانوں تک پہنچاتی ہے…

    یہ حق عوام کا ہی ہے کہ وہ اپنے پسندیدہ ترین عوامی نمائندگان کو منتخب کریں۔ پاکستان کو آزاد ہوئے تقریبا 74 سال گزر چکے ہیں پاکستان کی آزادی کے بعد ایک حکومت تشکیل دی گئی تاکہ اس ملک کا نظام موثر طریقے سے چلایا جا سکے اور آج تک یہی ہوتا آرہا ہے الیکشن کے آغاز میں ہر سیاسی جماعت ایک لائحہ عمل تیار کرتی ہیں جس کے مطابق وہ عوام کی امیدوں پر پورا اترنے کی بھرپور کوشش کرنے کا وعدہ کرتی ہیں۔ الیکشن سے پہلے کے حالات دیکھیں تو ووٹروں کو بہت عزت دی جاتی ہے، وعدے کیے جاتے ہیں، خواب دکھائے جاتے ہیں پھر جب الیکشن کے بعد کوئی بھی سیاسی جماعت حکومت میں آتی ہے تو عوام سے کئے گئے وعدے خواب ہو جاتے ہیں۔۔

    پھر ایوانوں میں بیٹھے نمائندہ عوام کو بھول کر اپنی سوچنا شروع کر دیتا ہے۔ عوام کی خواہشات کی تکمیل کرنے والے اپنے مشن کی تکمیل میں مصروف ہو جاتے ہیں اور ایسا تقریبا 35 سالوں سے ہوتا آرہا ہے کہ دو سیاسی جماعتیں جو زیادہ تر حکومت کا حصہ نہیں حکومت کے آنے کے بعد انہوں نے عوام سے کیے گئے وعدے ہوا میں اڑا دیئے…

    آج بھی آپ کو ان سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کی جائیدادیں اندرونی اور بیرونی ممالک میں ملیں گی اور اس کی وجہ کیا ہے کہ نظام کا قصور ہے یا کہ سیاسی نمائندوں کا قرآن پاک میں بھی یہ واضح ارشاد ہے کہ جو قوم اپنی حالت نہیں بدلتی خدا ان کی حالت نہیں بدلتا کیا ہم ساری کرپشن کا قصور صرف سیاستدانوں کو ٹھرائیں گے کیا ہم خود بخثیت عوام کرپشن کا حصہ نہیں ہیں۔

    آخر کیا وجہ ہے کہ ہم اتنا سب کچھ ہوتے ہوئے بھی خاموش ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم خود ان برائیوں میں ملوث ہیں جن برائیوں میں ہم سیاستدانوں کو دیکھ رہے ہیں سب سے بڑی ضرورت ہمیں اپنے من کو اپنے آپ کو تبدیل کرنے کے ضرورت ہے تبدیلی سیاستدانوں سے نہیں عوام سے آتی ہے پہلے ہم سب کو اپنا آپ درست کرنے کی ضرورت ہے…
    @RajaMusaHabib

  • پالیشیے لفظ کا وجود . تحریر : بلال ناصرکھرل

    پالیشیے لفظ کا وجود . تحریر : بلال ناصرکھرل

    ہماری زندگی میں بہت سے لوگ آتے ہیں، اکثر ہمارے خاندان میں بھی ایسے لوگ ہوتے ہے جو مکھن لگاتے ہے، جن کو اکثر لوگ پالیشیا کہتے ہے ان لوگوں کا ہماری زندگی میں بہت بڑا کردارہوتا ہے اچھا بھی اوربرا تو بہت ، اکثر اوقات یہ پالیشیے ہمارے ڈیروں میں اور بڑوں کے آگے پیچھے بہت ہے خاص کرجو لوگ پولیٹکس میں ہے ان کا کام ہرغلط کام میں حصہ داری ہوتا، وہ کام ان پولیٹیشن کو پتہ بھی نئ ہوتے جو یہ لوگ سرانجام دیتے، ہرادارے میں اِن لوگوں کے کارِے خاص ہوتے جن سے یہ ہر طرح کا کام نکلواتے،
    بلیک میلنگ سے لے کر رشوت تک اِن کا ہاتھ ہوتا، اِن کی پہچان اُس پولیٹیشن سے بھی زیادہ ہوتی،

    جیسے کہ ہمارے گاؤں کا ایک فیقہ مارسی سے آج میاں رفیق اس کا بھی اِس (پالیشیے ) لفظ سے بہت قریب کا تعلق ! فیقہ ایک گاؤں میں چوہدریوں کا چھوٹا موٹا کام کرتا اُسی کام میں وہ ضلع کے پولیٹیشن کا سکیورٹی گارڈ بن گیا اِسی طرح سے وہ لوگوں سے رشوتے لے کے آج اور کل اور اپنی رِشوت خوری کی ترقی میں مبتلا ہو گیا پھر وہ سٹی جا بسا اورمکھن اس نے بڑے افسران کے لئے تیار کیا اور انکو لگاتا گیا وہ میاں رفیق کالونیوں کا مالک بن گیا ، اُس نے بہت سے جلسوں میں اپنے مالکان کے لیے لیترکھائیں لیکن آج تک اس نے پالیش نئ چھوڑی !!

    یہ سب کہنے کا مطلب آج کا ہر انسان اِن جیسوں کو دیکھ کے پالش کا عادی ہو چکا ہے اپنے مطلب کے تحت حق پے لڑنے کی بجائے ہم پالش کو زیادہ ترجیح دیتے اور سوچتے یہ کام وہ ہمارا جلدی کروا لے گے لیکن ایسا بلکل بھی نہیں ہوتا بس آپ کی امید ہوتی کہ اِس بندے کی پہچان یا رتبہ زیادہ لیکن اِس بات کی حقیقت میں کوئی سچائی نئ ہوتی اگر آپ لوگ حق پے ڈٹ جائیں تو اُس انسان سے کہی درجے اچھا اپنا کام کروا سکتے اور ہمارا ملک بہتری کہ طرف آسکتا رشوت کا خاتمہ ہو سکتا بس آپ لوگ اپنے اندر ہمت پیدا کرے ہمارا آج کا نوجوان بھی ان جیسوں کو دیکھ کے کسی نا کسی کے پیچھے لگا ہوا اپنی پہچان کھو بیٹھا، آپ اپنے اوپر مسلط کیے گئے بڑے بڑے پولیٹیشن کی زندگی دیکھ لے وہ اِس لفظ سے ہو کہ گزرے ، کچھ میٹر ریڈر تھے اور کچھ معمولی کلرک اور آج وہ ہمارے ملک اعلی کار بنے ہوئے ، انکی زندگی اس مقام تک لانے میں انکا ہاتھ نئ جتنا آپ لوگوں کا کیونکہ آپ لوگ اِن جیسوں کو اپنے اوپر مسلط کرتے ہو جب وہ حکمران بن جاتے وہ دوسرے بڑے ممالک کی(پالش)شروع کر دیتے اور جب سے ہمارا ملک بنا اورآج تک دیکھ لے پالیشیے لفظ کا بہت ہی اہم کردار رہا ہے ہماری سب کی زندگی میں!!
    ہمارے ملک کی اللہ حفاظت کریں

    پاکستان زندہ آباد

    @kharal

  • سیاست وہ کھیل ہے جہاں صدیوں میں کوئی "قائد اعظم "پیدا ہوتا ہے . تحریر : محمد حنظلہ شاہد

    سیاست وہ کھیل ہے جہاں صدیوں میں کوئی "قائد اعظم "پیدا ہوتا ہے . تحریر : محمد حنظلہ شاہد

    آج کل ایک پیغام پورے ارد گرد منتقل ہو رہا ہے، جس میں محمد علی جناح (قائداعظم) اورعمران خان کے درمیان ایک مقابلے ہے. جیسا کہ محمد علی جناح اعلی تعلیم کے لئے انگلینڈ گئے اوراس کے بعد وہ مل کربھارت واپس چلے گئے اور وہاں اپنی پسندیدہ وکالت حاصل کی. اسی طرح عمران خان کے ساتھ معاملہ تھا وہ اپنی اعلی تعلیم کے لئے بھی انگلینڈ گئے اوراس کی تکمیل کے بعد، انہوں نے پاکستان کو ترجیح دی. وہ واپس آیا اورایک کرکٹر کے طورپراپنا کیریئرشروع کردیا. اس کے بعد محمد علی جناح مسلم کو ایک غیرمسلم لڑکی کوتبدیل کر دیا اوراس سے شادی کی. لیکن بدقسمتی سے شادی طویل عرصہ تک نہیں ہوسکی تھی.عمران خان کو بھی اسی حالت کا سامنا کرنا پڑا تھا. جب ایم علی جناح نے اپنی پیشہ ورانہ کیریئر یا شاید ان کی عملی زندگی شروع کی تو اس نے اپنی راہ میں بہت سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا. اسی طرح عمران خان کو بھی بہت مشکلات اور تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا. ایک وقت آیا جب محمد علی جناح اتنے سنجیدہ ہوگئے کہ وہ متحدہ بھارت چھوڑ کربرطانیہ چلے گئے لیکن علامہ اقبال نے مجبور کیا کہ وہ اپنے ملک واپس آ جائیں. اسی طرح عمران خان نے اسی طرح کے تخفیف کو محسوس کیا اوراپنے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا لیکن ضیاالحق کی وجہ سے ٹیم واپس آ کر ملک کو ورلڈ کپ سے نوازا.

    جب محمد علی جناح نے یہ محسوس کیا کہ ہندوؤں اور برادریوں کے ذیلی براعظم کے مسلمانوں کے ساتھ ایک تبعیض علاج تھا اور وہ وہاں مناسب انصاف حاصل نہیں کرسکتے تھے، اس نے تمام بھارتی نیشنل کانگریس کواچھی طرح سے بیدارکیا اوراس سے منسلک کیا مسلم لیگ اس کے بعد انہوں نے علیحدگی کے تمام مسلمانوں کوعلیحدہ ریاست کے حصول کے لئے متحد کیا، ایک ریاست جہاں جہاں تمام مسلمانوں اوردیگراقلیتیں آزادانہ طور پر ان کی زندگی رہ سکتی تھیں. ذات، رنگ، تخلیق یا حیثیت کے امتیازی سلوک کے باوجود، زیادہ تر مسلمانوں نے پاکستان کی کامیابی کے لئے محمد علی جناح کی مدد کی.

    اس وقت کوئی سندھی، پنجابی یا بلوچی نہیں تھا، ہر ایک کا واحد مقصد تھا اور یہ ایک آزاد ریاست تھا جہاں تمام مذہب سے تعلق رکھنے والے تمام افراد ان کی خاص اصولوں کے مطابق کسی بھی مداخلت کے بغیرزندہ رہ سکتے تھے. لہذا مسلمانوں کو ایک علیحدہ ریاست حاصل کرنے میں کامیابی ملی تھی اوربرطانیہ باقی مطالبات کی منظوری کے لۓ دوسرے ممالک کے ساتھ چھوڑ گئے تھے. لیکن بدقسمتی سے، محمد علی جناح کے بعد، کوئی دوسرے رہنما نہیں ہے جو کسی خاص مقصد یا خاص مقصد کے تحت مسلمانوں کو متحد کرسکتے ہیں. اگر ایسا رہنما تھا تو، مشرقی بنگال کبھی کبھی بنگلہ دیش نہ بنیں گے، وہاں بلوچستان میں جانے والی کوئی الگ ریاست تحریک نہیں ہوگی، شیعوں اور سنن کے درمیان کوئی تنازع نہیں ہوگا، اور وہاں نہیں لسانی بنیاد پر مسائل ہیں. ظاہر ہے سب لوگ اس ملک کو اپنا پاکستان یا سامراجی ریاست بنانا چاہتے ہیں، جو یہ نہیں ہے اور یہ نہیں ہوسکتا. محمد علی جناح نے اس اسلامی جمہوریہ ریاست کی بنیاد رکھی ہے. آج، ہمیں دوبارہ اس ریاست کو مضبوط کرنا ہوگا.

    جب عمران خان نے انتخابی مہموں کے دوران ایک تاریخی عوامی اجلاس کی صدارت کی تو انہوں نے پاکستان کو ایک اسلامی ریاست دوبارہ بنانے کا نعرہ اٹھایا. پاکستان کو اسی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جسے اب 1947 میں سامنا ہوا تھا. ہم اب بھی غلامی کی زنجیروں میں پابند ہیں، چاہے امریکہ یہ ہے کہ ہم اس سے پہلے یا سامراجی نظام کو روکتے ہیں. عمران خان دراصل الیکٹرانکس کو منتخب کرنے میں یقین رکھتے ہیں اور پارلیمنٹ میں ہونے والے خلافت کے نظام کے بارے میں لاتے ہیں. اگر عمران خان تمام مسلمانوں اور اقلیتوں کو ایک ایسی قوم کے طور پر اسلامی ریاست کی ایک چھت کے تحت جمع کرے، جہاں ذات، تخلیق، حیثیت اور فخر کی کوئی تبعیض نہیں ہوگی، جہاں کوئی بھی سندھی یا بلوچی نہیں ہے، نہ ہی کوئی سیکولر. ہر ایک کا وہی مقصد ہوگا جسے پاکستان کی خوشحالی اور ترقی ہے. اگر ایسا ہوتا ہے تو، عمران خان اگلے رہیں گے

    @Hanzi87

  • پاکستان، افغانستان اور طالبان.تحریر ملک علی رضا

    پاکستان، افغانستان اور طالبان.تحریر ملک علی رضا

    دوستو افغانستان سے امریکہ اور اتحادی افواج کے یکم مئی سے انخلا کے اعلان کے بعد سے متعدد اضلاع کی جانب طالبان کی پیش قدمی جاری ہے۔افغانستان میں طالبان نے اب تک ملک کے 34 صوبوں میں سے 20 صوبوں کے ہیڈ کوارٹرز کے گرد گھیرا تنگ کر لیا ہے۔ طالبا ن اپنی اسلامی ریاست بنانے کے لیے افغانستان نے آدھے سے زیادہ حصوں پر قابض ہوچکے ہیں۔
    طالبان کے قبضے میں آنے والے اکثر علاقوں کی سٹریٹیجک اہمیت اس لیے زیادہ ہے کیونکہ یہ ان اہم شہراہوں پر واقع ہیں جو کابل کو ملک کے شمالی، جنوبی اور مغربی علاقوں سے جوڑتی ہیں۔اکثر شہر جن کا طالبان نے محاصرہ کیا ہے وہ ملک کے شمال میں واقع ہیں جہاں افغانستان کی سرحدیں اپنے وسط ایشیائی ہمسایوں کے ساتھ ملتی ہیں۔
    طالبان نے گذشتہ چند ہفتوں کے دوران ملک کے جنوب اور مشرق میں واقع اہم شہروں کے گرد اپنے آپریشنز کا دائرہ وسیع کر دیا ہے اور اب انھوں نے افغان دارالحکومت کابل کے گرد بھی گھیرا تنگ کر دیا ہے۔
    سنہ 1996 میں طالبان کی ’جائے پیدائش‘ کہلانے والے جنوبی صوبے قندھار کے بعض اضلاع پر طالبان پہلے ہی کنٹرول کرنے کا دعویٰ کر چکے ہیں جبکہ ملک کے دس بڑے شہروں میں سے کم از کم تین شہروں قندھار، ہرات اور غزنی کے گرد طالبان نے گھیرا تنگ کر لیا ہے.
    طالبان سپین بولدک، چمن سرحدی کراسنگ جو قندھار کو پاکستان کے صوبہ بلوچستان سے ملاتی ہے وہاں افغانی افواج کنٹرول چھین لیا ہے اور اب مکمل طور پر بارڈر ایریا طالبان کےقبضے میں ہے۔جیسے ہی اس علاقے کا قبضہ طالبان نے حاصل کیا پاکستان اور افغانستان کے مابین تجارتی سرگرمیاں اور ہر قسم کی آمدورفت بند کر دی گئی ، تاہم دو دن مذاکرات کےبعد طالبان قیادت نے پاکستان سے ملحقہ سپین بولدخ بارڈر کھول دیا گیا۔

    ادھر پاکستان نے بھی موجودہ خطرات کے پیش نظر افغانستان نے ملحقہ بارڈرز پر سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے اور بارڈر پر چیکنک کا عمل بھی سخت کر دیا گیا ہے۔ ترجمان پاک فوج میجر جنرل بابر افتخار نے بھی اس معاملے کی سنگینی کو مد نظر رکھتے ہوئے قوم کو مکمل یقین دہانی کروائی ہے کہ کسی بھی قسم کی خطرے سے نمٹنے کے لیے افواج پاکستان ہمہ وقت تیار ہیں۔
    دوسری جانب افغانستان کے وائس پریذیڈنٹ امراللہ صالح نے پاکستان کے حوالے سے بیان دیا اس حوالے سے کچھ تحقیقات ہوئیں تو یہ پتہ چلا ہے کہ جب افغانستان کی طرف سے یہ رابطہ کیا گیا کہ طالبان نے پاکستان سے ملحقہ بارڈر ایریا پر قبضہ کیا ہے وہ طالبان سے قبضہ واپس لینے کے لیے افغان حکومت نے پاکستان کی آرمی سے بات چیت کی کہ ہم طالبان پر حملہ کرینگے تو ہو سکتا ہے پاکستان کی حدود پر بھی اس کے اثرات ہوں تو اس پر پاکستان نے صاف کہہ دیا کہ اگر پاکستانی سرحد کی خلاف ورزی کی گئی تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا اسی لیے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اگر آپ نے پاکستانی حدود کی خلاف ورزی کی تو اس پر ایکشن لیا جائے گا کیونکہ بارڈر ایریاز میں کسی بھی طرح سے پاکستانی حدود کو نشانہ بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی اس کے بعد افغان حکومت کی جانب سے جو غیر ذمہ دارانہ بیان آیا اس لیے پاکستان کو اس طرح کا بیان دے کر نیچا دکھانے کی کوشش کی جائے گی ۔

    پاکستان میں ہونے والے حالیہ واقعات و معاملات کو اگر آپ دیکھیں تو یہ بہت سارے معاملات جو ہیں وہ نظر آرہے ہیں کہ جس میں پاکستان کے خلاف بہت ساری چیزیں جس طرح بھی افغان نائب صدر کی بیٹی کا اغواہ کیا گیا اور پاکستان کے خلاف ایک منظم سازش کی گئی اس میں بھی بڑے خدشات پائے جاتے ہیں ۔پاکستان کے دشمن پاکستان میں سی پیک کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں پاکستان کی ترقی ہو رہی ہے اس کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں دوسرا جو پاکستان خطے میں امن کی کوششیں کر رہا ہے ان کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں۔
    پاکستان اس وقت اچھی کوشیشیں کر رہا ہے تاکہ خطے میں امن ہو جائے لیکن پاکستان کے جو اس وقت معاملات ہیں وہ پاکستان کو بیرونی خطرات ہیں اور اندرونی خطرات ہیں جن پر پاکستان کڑی نظر رکھَے ہوئے ہے۔ پاکستانی افواج اور سکیورٹی ادارے کسی بھی قسم کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں ۔ اور پاکستان کی عوام کا اپنی افواج اور حکومت پر مکمل اعتماد ہے کہ ملکی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔۔

  • مرد مجاہد.تحریر:سیف اللہ عمران

    مرد مجاہد.تحریر:سیف اللہ عمران

    تاریخ انسانی میں کئی عظیم انسان آئے کئی آئیں گے لیکن ان میں سے مرد مجاہد بہت ہی کم آئیں ہیں میرا موضوع اس دور کا مرد مجاہد وزیر اعظم پاکستان عمران خان ہے

    5 اکتوبر 1952 کو شوکت خانم کی گود سے جنم لینے والے اس عظیم انسان نے جس میدان میں قدم رکھا اللہ تعالیٰ نے کامیابی عطاء فرمائی

    عمران خان کی پہلی وجہ شہرت کرکٹ ہے عمران خان کا ڈیبیو 1971 میں ہوا پہلے میچ کے بعد آپ کو آپ کو ٹیم سے باہر کر دیا گیا لیکن عمران خان اور ہار مان لے یہ نا ممکن ہے
    عمران خان نے ٹیم سے باہر رہتے ہوئے انتہائی سخت محنت کی اور پہلے سے زیادہ اچھے آل راؤنڈر بن کر ابھرے

    عمران خان شاندار کارکردگی کے باعث 1982 میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان بنے اس طرح عمران خان کے شاندار کپتانی کیریئر کا آغاز ہوا
    عمران خان پاکستان کی تاریخ کے سب سے کامیاب کپتان ہیں عمران خان کی قیادت میں پاکستان نے عظیم ترین فتوحات حاصل کیں پاکستان نے پہلی دفعہ انڈیا کو انڈیا میں شکست دی پاکستان نے انگلینڈ کو انگلینڈ میں ہرایا اور اس طرح پاکستان کے اچھے دن شروع ہو گئے

    1987 ورلڈ کپ عمران خان کے لیے ایک اہم ایونٹ تھا کیوں کہ عمران خان کینسر ہسپتال بنانے کا اعلان کر چکے تھے اور عالمی کپ جیتے بغیر یہ مشکل تھا پاکستان ٹیم شاہینوں کی طرح میدان میں اتری کئی فتوحات حاصل کیں لیکن بد قسمتی سے سیمی فائنل میں شکست ہوئی اور عمران خان نے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا

    لیکن پاکستانی عوام کی پر زور درخواست پر عمران خان نے ریٹائرمنٹ واپس لے لی اور کرکٹ کے میدان میں ایک بار پھر قدم رکھ دیا

    اب پاکستان کی کرکٹ تاریخ کا سب سے تاریخی ایونٹ 1992 کا ورلڈ کپ آ چکا تھا لیکن قومی ٹیم کے دو اہم کھلاڑی سعید انور اور وقار یونس زخمی ہو کر ٹیم سے باہر ہو گئے اس وقت عمران خان نے حوصلہ نہ ہارا ٹیم کا مورال بلند کیا ابتدائی شکستوں کے با وجود ٹیم کی امید نہ ٹوٹنے دی کواٹر فائنل میں ویسٹ انڈیز کی مضبوط ٹیم کو شکست دے سیمی فائنل میں پاکستان نے انضمام الحق کی شاندار اننگ کی بدولت نیوزی لینڈ کو زیر کیا اور پاکستان فائنل میں پہنچ گیا
    فائنل شروع ہوا عمران خان اپنی کارنرڈ ٹائیگر شرٹ کے ساتھ ٹاس کیلئے آۓ پاکستان ٹاس جیتا بیٹنگ کا آغاز ہوا عمران خان ایک کھلاڑی آؤٹ ہوتے ہی کھیلنے آ گئے اور فاتحانہ اننگ کھیلی

    میچ کا اختتام بھی عمران خان کی جانب سے لی گئی وکٹ سے ہوا یوں عمران خان کرکٹ کی تاریخ میں ہمیشہ کے لیے امر ہو گئے

    ایک مقصد یہاں پورا ہوا اب اگلے کی باری تھی یہ مقصد شوکت خانم ہسپتال کی تعمیر تھی عمران خان نے دنیا بھر میں تحریک چلائی اور نہ صرف شوکت خانم ہسپتال بنایا بلکہ چلا کر بھی دکھایا
    اس کے بعد آتی ہے سیاست عمران خان نے 1996 میں سیاست کے میدان میں قدم رکھا تحریک انصاف کے نام سے جماعت بنائی لیکن 1996 میں وہ اپنی نشست بھی نہ جیت سکے لیکن وہ عمران خان ہی کیا جو ہمت ہار جائے وہ مرد مجاہد دوبارہ کھڑا ہوا 2002 میں ایک نشست جیتی 2008 کے انتخابات کا بائیکاٹ کیا 2013 میں آپ کی جماعت اپوزیشن آئی اور صوبہ خیبر پختونخواہ میں آپ کی جماعت حکومت میں آئی
    عمران خان کی انتھک محنت سے آپ کی جماعت 2018 میں سب سے زیادہ نشستیں لینے والی جماعت بنی اور عمران خان نے وزیراعظم پاکستان کا حلف اٹھایا اب وہ اپنے مقصد”نیا پاکستان” کی تکمیل کی کوشش کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں اس مقصد میں بھی کامیابی عطاء فرمائے آمین ♥️
    تحریر:سیف اللہ عمران
    Twitter: @Patriot_Mani

  • امن کا سفیرپاکستان خان . تحریر : کامران واحد

    امن کا سفیرپاکستان خان . تحریر : کامران واحد

    کسے معلوم تھا کہ میانوالی کے شہر میں ایک شوکت خانم نامی خاتون نے بچے کو جنم دیا جس کا نام عمران خان رکھا گیا کسے معلوم تھا کے وہ عمران نامی بچہ بڑا ہوکردنیا میں ایک رقم تاریخ ھوگا، یقیناً کسی کونہیں معلوم تھا، ہاں لیکن عرش پربیٹھی ایک ذات جانتی تھی کے یہ عمران ایک دن سب کا مان ہوگا.

    سلسلہ شروع ہوا اورکرکٹ کے میدانوں سے ایک ستارہ ابھرا جسے دنیا عمران خان کے نام سے جاننے لگی اورپھریہ سلسلہ ایسا شروع ہوا کہ کرکٹ کے میدانوں سے شوکت خانم ہسپتال، نمل جیسے تعلیمی اداروں سے ہوتا ہوا سیاست کے میدانوں میں ایک ہی نام گونجتا تھا عمران خان غرض کہ اب گزری تاریخ گواہ ھے کہ جس شعبے میں عمران خان اسکی بہتری کے لیے ھاتھ ڈالتا ھے تواس شعبےکواپنے عروج پر پہنچنا گویا مشیت ایزدی بھی بن جاتا ھے۔ ایساھی کچھ تب ھوا جب اس عظیم والدین کے عظیم سپوت نے پاکستان کی خدمت کے لیے اپنی سیاسی جماعت تحریک انصاف کا نعرہ لگایا۔

    قسمت کی دیوی ہرمیدان میں عمران پر مہربان تھی اورخداوند کریم کے خاص فضل سے 2018 میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیراعظم کے طورپرسامنے آیا اورعمران نے اس خداداد پاکستان کی باگ دوڑسنبھالی. عمران چونکہ عالمی منظر نامے امریکہ افغان جنگ کشمیر جیسے معاملات سے بخوبی واقف تھا، اسی تناظرمیں اسکا ایک ھی نعرہ اورپالیسی تھی، جس کوعمران نے ھرفورم پراٹھایا اوروہ تھی "امن” کی پالیسی، کہ ہم کسی پرائ جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے اگر حصہ بنیں گے تو صرف "امن” کا اورعمران کی نظرمیں مسئلے کا حل جنگ نہیں صرف امن مذکرات ہی تھا جس پراسے طالبان خان بھی کہا گیا لیکن وہ اپنے موُقف پرڈٹا رہا۔ امریکہ جیسی سپر پاورنے افغان جنگ میں کھربوں روپے لگائے لیکن آخرمیں اسے منہ کی کھانا پڑی اورانہی طالبان سے امن مذکرات کیے جس کا عمران شروع دن سے کہ رہا تھا۔

    کشمیر کے حوالے سے پاک بھارت کشیدگی پربھی عمران کا وہی موُقف ہے کہ اس مسلے کا حل بھی امن مذکرات سے ہی نکلے گا جنگ سے نہیں، پوری دنیا کو عمران امن کا پیغام دے رہا تو اس میں کوئ شک نہیں کہ عمران خان ہی امن کا سفیر ہے۔

    یہاں پرایک بات قابل ذکر ھے کہ عمران خان نے دنیا اوراس مملکت خداداد کے اندرونی دشمنوں کو یہ بھی واضح طورپرپیغام دیا ھے کے اس امن پالیسی کو اس کی کمزوری مت سمجھا جائے جس کا اظہارایک شعر میں ایسے دیا ہے کہ

    ‏مفاہمت نہ سکھا جبر ناروا سے مجھے
    میں سر بکف ہوں لڑا دے کسی بلا سے مجھے

    پاکستان زندہ باد
    عمران خان پائندہ باد

    Twitter: @Khankamoo

  • ‎امریکی انخلاء اور ممکنہ خدشات.تحریر :محمد محسن خان

    ‎امریکی انخلاء اور ممکنہ خدشات.تحریر :محمد محسن خان

    اکتوبر 2001 میں افغانستان پر امریکی حملہ انٹرنیشنل قوانین کے تحت ایک جرم تھا۔ یہ جرم ہی تھا کیونکہ امریکی فوج کی بے پناہ طاقت افغانستان کے عامیانہ انفراسٹرکچر کو مسمار کرنے اور اس کے معاشرتی بندھنوں کو توڑنے کے لئے استعمال ہوئی۔
    ‎ آپکو یاد ہوگا کہ اکتوبر ۲۰۰۱ کوصحافی اناطول لیون نے پشاور میں معروف افغانی رہنما عبدالحق کا انٹرویو لیا۔ طالبان کے خلاف مزاحمت کا حصہ بننے والے عبدالحق ، امریکی فضائی بمباری کی آڑ میں افغانستان واپس جانے کے لئے تیار ہو رہے تھے۔ تاہم ، وہ جس طرح امریکہ نے جنگ کے مقدمے چلانے کا فیصلہ کیا تھا اس سے افغان رہنما عبدالحق متفق نہیں تھے۔ عبد الحق نے لیون کو بتایا ، "موجودہ حالات میں خود سے فوجی کاروائی صرف حالات کو ہی مشکل بنا رہی ہے۔ خاص طور پر اگر یہ جنگ طویل عرصے تک جاری رہی اور بہت سے شہری بے گناہ مارے جائیں۔” وقت نے دیکھا کہ یہ جنگ دو دہائیاں تک جاری رہی اس عرصے میں کم از کم ستر ہزار کے قریب شہری اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

    ‎عبد الحق نےمزید کہا کہ "سب سے بہتر بات یہ ہوگی کہ امریکہ تمام افغان گروہوں کو اتفاقِ رائے سے سیاسی حل کے لئے کام کرے۔ بصورت دیگر ، مختلف ممالک کے تعاون سے اور پورے خطے کو بری طرح متاثر کرنے والے ، مختلف گروہوں کے مابین گہری تقسیم کی حوصلہ افزائی ہوگی۔ یہ پیش گوئی حق پر مبنی تھی لیکن عبدالحق جانتا تھے کہ کوئی بھی اس کی بات نہیں سنے گا ۔اسی طرح وہ مزید بولے ، "شاید ، امریکہ نے پہلے ہی اپنا ذہن بنا لیا ہے کہ کیا کروں ، اور میرے ذریعہ کی جانے والی سفارشات میں بہت دیر ہو جائے گی۔”

    ‎اس جنگ میں ہونے والی ناقابل یقین تباہی کے 20 سال گزرنے کے بعد امریکہ سیاسی مصالحت کی طرف لوٹ آیا۔
    ‎عبدالحق افغانستان واپس چلے گئے اوراطلاعات کیمطابق ۲۶ اکتوبر ۲۰۰۱ کو طالبان نے قتل کردیا۔ ان کا مشورہ اب ماضی کا حصہ ہے۔ ستمبر ۲۰۰۱ میں ، افغانستان میں طالبان سمیت اکثر سیاسی اشرافیہ بات چیت کے لئے تیار تھی کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ امریکی طیارے افغانستان کے لئے جہنم کے دروازے کھول دے گے۔ اب دو دہائیوں بعد ، طالبان اور دیگر کے مابین خلیج مزید وسیع ہوگئی ہے۔ مذاکرات کی بھوک اب زیادہ موجود نہیں ہے

    ‎14 اپریل 2021 کو ، افغانستان کی پارلیمنٹ کے اسپیکر میر رحمن رحمانی نے متنبہ کیا کہ ان کا ملک ایک "خانہ جنگی” کے دہانے پر ہے۔ کابل کے سیاسی حلقے خانہ جنگی کے بارے میں بات چیت کا آغاز کر رہے ہیں جب 11 ستمبر تک امریکہ کا انخلاء ہو۔ یہی وجہ ہے کہ 15 اپریل کو کابل میں امریکی سفارتخانے میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس کے دوران ، طلوع نیوز کی شریف امیری نے امریکی وزیر خارجہ انٹونی سے پوچھا خانہ جنگی کے امکان کے بارے میں آنکھیں بند کرنا کیسے ممکن ہے؟ وزیرخارجہ بلنکن نے جواب دیا ، "مجھے نہیں لگتا کہ یہ کسی کے مفاد میں ہے ، کم سے کم یہ کہنا کہ افغانستان کو خانہ جنگی کا شکار ہونا ، لمبی جنگ میں جانا۔ اور یہاں تک کہ طالبان ، جیسے ہم نے یہ سنا ہے ، نے کہا ہے کہ اسے اس میں کوئی دلچسپی نہیں ہے

    درحقیقت افغانستان کم از کم نصف صدی سے خانہ جنگی کا شکار ہے ، کم از کم مجاہدین کی تشکیل کے بعد سے افغانستان کے شمالی اتحاد سے لڑنا تھا۔ اس خانہ جنگی کو افغانستان کے انتہائی قدامت پسند گروہ طالبان کی حمایت کے ذریعہ تیز کیا گیا تھا۔ اس عرصے میں کبھی بھی امریکہ نے امن کا راستہ پیش نہیں کیا۔ اس کے بجائے ، اس نے کابل میں نتائج پر قابو پانے کے لئے امریکی طاقت کی بے تحاشا استعمال کرنے کے لئے ہر موڑ پر ہمیشہ بے تابی کا مظاہرہ کیا ہے۔امریکی فوج کا انخلاء جس کا اعلان اپریل ۲۰۲۱کے آخر میں ہوا تھا اور یکم مئی سے شروع ہوا تھا ، اتنا واضح نہیں تھا جتنا اب ایسا لگتا ہے۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے 14 اپریل 2021 کو اعلان کیا کہ "امریکی فوجیوں کے گھر واپس آنے کا وقت آگیا ہے۔” اسی دن امریکی محکمہ دفاع نے واضح کیا کہ 11 ستمبر تک 2500 فوجی افغانستان سے چلے جائیں گے۔ ، نیو یارک ٹائمز نے نوٹ کیا تھا کہ امریکہ کے افغانستان میں 3500 فوجی موجود ہیں حالانکہ واضح طور پر کہا جاتا ہے کہ اس ملک میں 2500 امریکی فوجی موجود ہیں۔” پینٹاگون کے ذریعہ امریکی فوج کی تعداد بارے مبالغہ آرائی ہے۔ اسسٹنٹ سکریٹری برائے دفاع برائے استحکام کے دفتر کی ایک رپورٹ کے علاوہ ، یہ بھی نوٹ کیا گیا ہے کہ امریکہ کے پاس افغانستان میں زمین پر تقریبا 16000 ٹھیکیدار موجود ہیں۔ وہ متعدد خدمات مہیا کرتے ہیں ، جن میں زیادہ تر فوجی مدد شامل ہوتی ہے۔ان میں سے کسی بھی ٹھیکیدار یا اضافی نامعلوم ایک ہزار امریکی فوجیوں سے انخلا کا فیصلہ نہیں کیا گیا ہے ، اور نہ ہی ہوائی بمباری ، ڈرون حملوں سمیت ختم ہوگی اور نہ ہی اسپیشل فورسز کے مشنوں کا کوئی خاتمہ کا فیصلہ یا ارادہ ظاہر کیا گیا۔

    ‎اپریل ۲۰۲۱ کو ، بلنکن نے کہا کہ امریکہ اشرف غنی کی افغانستان حکومت کو تقریبا۳۰۰ملین ڈالر فراہم کرے گا۔ اشرف غنی ، جو اپنے پیش رو حامد کرزئی کی طرح ایک کمزور اور کٹھ پتلی صدر دکھائی دیتے ہیں کی موجودگی میں اب افغانستان امریکی انخلا کے بعد کی حکومتوں کی باتوں سے گونج اٹھا ہے ، جس میں یہ تجویز بھی شامل ہے حزب اسلامی کے رہنما گلبدین حکمت یار کی حکومت تشکیل دینے کی تجویز بھی شامل ہے جس میں وہ قیادت کریں گے اس میں طالبان شامل نہیں ہوں گے۔ اس دوران اب امریکہ نے اس خیال سے اتفاق کیا ہے کہ حکومت میں طالبان کا کردار ہونا چاہئے۔ اب یہ کھل کر کہا جارہا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ کا خیال ہے کہ طالبان 1996 سے 2001 تک کے مقابلے میں "کم سختی سے حکومت کریں گے”۔

    ‎ایسا لگتا ہے کہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ دو یقین دہانیوں کے ساتھ طالبان کو اقتدار میں واپس آنے کی اجازت دینے کے لئے تیار ہے: پہلا ، یہ کہ امریکی موجودگی باقی ہے ، اور دوسرا ، کہ امریکہ کے اہم حریفوں یعنی چین اور روس کا کوئی کردار نہیں ہونا چاہیے جو اس کے بزدلانہ انخلا کے بعد ایک شکست خوردہ مصالحت لگتی ہے۔ کابل۔ 2011 میں ، امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے ہندوستان کے شہر چنئی میں بات کی ، جہاں انہوں نے ایک نئی سلک روڈ انیشیٹو کی تشکیل کی تجویز پیش کی تھی جو وسطی ایشیا کو افغانستان اور ہندوستان کی بندرگاہوں کے راستے جوڑتی تھی۔ اس اقدام کا مقصد روس کو وسط ایشیا میں اپنے روابط سے منقطع کرنا اور چینی سی پیک کے قیام کو روکنا تھا ، جو اب ترکی تک پوری طرح سے مکمل ہے۔

    ‎استحکام اب افغانستان کے کارڈوں میں نہیں۔ جنوری میں ، ازبکستان کے سابق وزیر خارجہ اور شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے موجودہ سکریٹری جنرل ، ولادی میر نوروف نے اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام ایک پروگرام سے خطاب کیا۔ نوروف نے کہا کہ داعش یا داعش اپنے جنگجوؤں کو شام سے شمالی افغانستان منتقل کررہے ہیں۔ شدت پسند جنگجوؤں کی یہ تحریک نہ صرف افغانستان بلکہ وسطی ایشیا اور چین کے لئے بھی تشویش کا باعث ہے۔ 2020 میں ، واشنگٹن پوسٹ نے انکشاف کیا کہ امریکی فوج ، داعش کے جنگجوؤں کے خلاف فوائد حاصل کرنے کے دوران ، طالبان کو فضائی مدد فراہم کرتی رہی ہے۔ یہاں تک کہ اگر طالبان کے ساتھ امن معاہدہ ہوتا ہے تو ، آئی ایس آئی ایس اسے غیر مستحکم کردے گی

    ‎فراموش کی گئی افغان خواتین کے حالات تشویشناک ہیں ، اقوام متحدہ کے ایک عہدیدار ، رسول باسو نے 1986 سے 1988 تک افغان حکومت میں خواتین کی ترقی کے اعلٰی مشیر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ 1987 میں خواتین کو برابری کے حقوق مہیا کیے گئے ، جس کی وجہ سے خواتین کے گروپوں کو کام کاج اور گھر میں برابری کے لئے جدوجہد کرنے اور مردانہ اصولوں کے خلاف جدوجہد کرنے کی اجازت دی گئی۔ چونکہ جنگ میں مرد کی بڑی تعداد ہلاک ہوگئی تھی ، باسو نے ہمیں بتایا ، خواتین کئی پیشوں میں چلی گئیں۔ خواندگی کی شرح میں اضافے سمیت خواتین کے حقوق کیلئے خاطر خواہ فائدہ ہوا۔ اگر طالبان اب اس خانہ جنگی میں کابل حکومت کو جس کا امکان زیادہ ہے نکال باہر کرتے ہیں تو مغرب و انسانی حقوق کی تنظمیں خواتین کے حقوق بارے تشویش کا شکار ہیں ۔امریکہ کو افغانستان چھوڑنے سے قبل ہی ایک مشترکہ حکومت کے قیام اور خواتین کے حقوق یقینی ضمانت حاصل کرنی چاہیے تھی جبکہ وہ اب چونکہ افغانستان سے بھاگ کھڑا ہوا ہے تو اس بات کی ضمانت دینا قطعی مشکل ہے کہ اس خانہ جنگی یا اس کے بعد قائم طالبان ممکنہ حکومت میں خواتین کے حقوق کا خیال رکھا جا سکے گا ۔
    تحریر محمد محسن خان
    Twitter :MMKUK1