Baaghi TV

Category: سیاست

  • سیاسیی شاہ رنگیلے اور مجبور عوام  تحریر ۔ محمد نثار ٹمن

    سیاسیی شاہ رنگیلے اور مجبور عوام تحریر ۔ محمد نثار ٹمن

    محمد شاہ رنگیلا ( اصل نام روشن اختر) کا نام پوری دنیا میں جانا پہچانا جاتا ہے۔ یہ مغلیعہ دور حکومت میں بادشاہت کے رتبے پر فائز رہا، بھلے اسکا نام تو پوری دنیا میں جانا پہچانا جاتا ہے، لیکن اسکا کردار بہت ہی کم لوگ جانتے ہیں۔ شاہ رنگیلا نے اپنی مدت حکمرانی کا زیادہ تر وقت عیش و عشرت میں گزارہ ، یہ چوبیس گھنٹے نشے میں دھت اور حسن و جمال کا بے حد دلدادہ تھا۔ شاہ رنگیلا قانون سازی کرنے اور قانون شکنی کرنے کے خبط میں بھی حد درجے کا مبتلا تھا۔ یہ ایسا سر پھیرا بادشاہ تھا جو کھڑے کھڑے ہندوستان کے کسی بھی شخص کو اعلی ترین عہدہ دے دیتا تھا اور بگڑنے پر یہ کھڑے کھڑے ملک کے وزیراعظم جیسے شخص کو جیل بھیجوا دیتا تھا۔ رنگیلا اکثر دربار میں عریاں حالات میں آجاتا تھا ور درباری بھی اسکی پیروی کرتے ہوئے عریاں ہوجاتے تھے۔
    رنگیلا ایسا بےہودہ بادشاہ تھا کہ اچانک حکم دے دیتا اور کہتا تھا کہ کل فلاں فلاں وزیر زنانہ کپڑے پہن کر اور فلاں فلاں وزیر پاوں میں گھنگرو پہن کر آئیں گے۔ اکثر نشے کی حالت میں یہ حکم دے دیتا تھا کہ جیلوں میں موجود تمام قیدیوں کو رہا کرکے، انکی جگہ اتنی ہی تعداد میں نئے قیدی ڈال دئیے جائیں۔ سپاہی اسکا حکم بجا لاتے ہوئے پورے شہر میں پھیل جاتے اور جہاں بھی کوئی شخص نظر آتا تھا اسکو پکڑ کر جیل میں بند کر دیتے تھے۔ شاہ رنگیلا وزارتیں تقسیم کرنے کا بے حد شوقین تھا، لیکن اکثر یہ دوسرے ہی دن جوش میں آکر وزارت واپس بھی لے لیتا تھا۔ اگر کوئی بھی اسکے حکم کے خلاف جاتا تھا تو اس پر ظلم کے پہاڑ توڑے جاتے اور طرح طرح کی ازیتیں دے دے کر اسکو قتل کروا دیتا تھا۔
    جب نادر شاہ نے دہلی کو فتح کیا تو رنگیلا کو اپنے خاندانی ہیرے کوہ نور کی فکر ہونا شروع ہوگئی۔ شاہ رنگیلا کو ڈر تھا کہ اگر نادر شاہ کو ہیرے کے بارے پتہ لگ گیا تو وہ ہیرے کو حاصل کرنے کےلیے ہر کوشش کرئے گا، اسلیے رنگیلا نے اپنا خاندانی ہیرا اپنی پگڑی میں چھپا لیا۔ نادر شاہ کو اپنے مخبر کے زریعے اس بات کا علم ہوچکا تھا، اسلیے رنگیلا سے ملاقات کے وقت اسکے ساتھ شاہی تخت پر بیٹھتے ہی نادر شاہ نے کہا کہ ” جسطرح عورتیں اپنے دوپٹے بدل کر آپس میں بہنیں بن جاتی ہیں، کیوں نہ ہم دونوں بھی اپنی پگڑیاں بدل کو بھائی بھائی بن جائیں”۔ اور اسطرح چالاکی سے نادر شاہ نے رنگیلا سے اسکی ہیرے والی پگڑی حاصل کرکے ، حکمرانی حاصل کرلی، اور رنگیلا اپنی نااہلیت اور کند ذہنیت کی وجہ سے حکمرانی سے ہاتھ دھو بیٹھا۔
    اگر ہم 2017 کے آخر اور 2018 کے اوائل تک اپنی علاقائی سیاسیت پر نظر دوڑائیں تو سیاسیی منظر نامہ بلکل مختلف نظر آئے گا، لیکن 25 جولائی 2018 کے بعد سے لیکر تاحال سیاسیی منظر نامہ بلکل ایسا نظر آئے گا جسطرح شاہ رنگیلا کے دور حکومت میں رہا ہے۔ تحریک انصاف کی اتحادی جماعت مسلم لیگ ق نے اپنی انتخابی مہمات ، جلسے جلوسوں، ریلیوں، سیاسیی مجلسوں، میڈیا پلیٹ فارمز پر، یہاں تک کہ ہر موقعہ پر اقتدار کی کرسی حاصل کرنے کے بعد، اپنے چاہنے والوں، اپنے انسوسٹرز ، اپنے میڈیا پرسنز، فنانسسز، پارٹی کےلیے جہانگیر ترین کے کردار ادا کرنے والے افراد، شوشل ورکرز، ڈیروں پر مصنوعی مسائل والے لوگ جمع کرنے والوں، پروٹوکول پارٹیز دینے والے شاہینوں، علاقائی ینگسٹرز ، اور فوٹو سیشن لینے والے فوٹو گرافرز کےلیے اقتدار میں آتے ہیں مخصوص نوکریاں، ملازمتیں، اور ہر طرح کی مالی ، سماجی اور معاشرتی مدد کا یقین دلوایا ہوا تھا۔ پاکستان کی بڑی سیاسیی جماعتوں کیطرح مسلم لیگ ق کے نظریاتی ورکرز، آٹے میں نمک کے برابر ہی ہونگے، جبکہ باقی تمام ووٹرز ، نصف صدی سے چلے آرہے ملکائی، وڈیرہ شاہی، سرداری نظام اور موررثی / خاندانی سیاستدانوں سے جان چھوڑوانے کےلیے ق لیگ کو سپورٹ کیا تھا۔
    جولائی 2018 ، تیسری کوشش کے نتیجے میں مسلم لیگ ق کو حلقہ NA 65 اور PP 24 میں مددگار اتحادیوں کے ووٹ بنک اور پرویز الہی کی معاشی پالیسی کے باعث اکثریتی کامیابی ملی۔ کامیابی ملنے کے بعد مسلم لیگ ق کی قیادت میں شاہ رنگیلے والا کردار جاگ اٹھا اور تمام سیاسیی وعدوں کے ساتھ ساتھ اپنے چاہنے والوں سے راستہ جدا کرلیا۔ کیونکہ سرکاری سطح پر انکی کامیابی کا نوٹیفیکشن جاری ہوچکا تھا۔ تھوڑے سے عرصے بعد ہی شاہ رنگیلا کی طرح ق لیگ کیطرف سے منہ موڑنے پر انکی پارٹی کے تمام الحاقی اور تشہیری افراد کو سخت مایوسی کا سامنا ہوا۔ اقتدار میں آنے کے بعد شاہ رنگیلا کیطرح ق لیگی قیادت نے بھی من پسند افراد کو اعلی سطح پر نوازنا شروع کردیا گیا۔ اعلی سطحی قائدین کی طرف سے انکی ہاں میں ہاں ملانے والوں کے ذریعے ہر فورم پر مزاحمتی برگیڈ کے قیام شروع کردئیے گئے۔ میڈیا پرسنز کے ذریعے اپنی تشہیر و تعریف کے پل بندھوانا شروع کروادئیے۔ اخبارات کے اندرونی صفحات سے فرنٹ صفحے پر سرخیوں میں جگہ بنوالی گئی۔ علاقائی تھانے کچری کے اندر بجائے جانبداری اور شفافیت کے، مداخلتی کردار ادا کرنا شروع ہوگئے۔ صوبائی سطح پر سئنیر پولیس آفسران کے ذریعے علاقائی تھانہ کچری سسٹم میں پنجے گاڑھنا اور مداخلت کا نظام شروع ہوگیا، من مرضی کے فیصلے اور ایف آئی آرز کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ شاہ رنگیلا کے طرز حکمرانی کو اپناتے ہوئے، اگر انکے خلاف کسی بھی فورم پر کوئی حق سچ کہنے کی جرت کرتا تو انکے خلاف منظم انداز میں مہم چلائی جانی شروع ہوگئی، طرح طرح کے طریقہ کاروں سے انکو تنگ کیا جانے لگتا، سوشل میڈیا پر انکی کردار کشی کی جانے لگی، یہاں تک کہ لوکل پولیس کے ذریعے انکو ڈرایا دھمکا جانا بھی شروع کردیا گیا۔ اگر موجودہ سیاسیی نظام کو دیکھیں تو ایک بار پھر ہمارے اوپر شاہ رنگیلا جیسے حکمران مسلط ہوگئے ہیں، جنکے سامنے عوام مجبور اور بے بس ہوچکی ہے۔ مجبور اور بے بس عوام ابکے خلاف جانے کی جرت نہیں کرسکتی ہے، کیونکہ تھانے کچری سے لیکر اعلی ترین عدلیہ میں انکے کارندے موجود ہیں، جو انکی ہر ممکن مدد کار خیر سمجھ کر کرتے ہیں۔
    قارئین حضرات !!! 1719 سے لیکر 1748 تک برسراقتدار رہنے والا شاہ رنگیلا تو اپنی بدنامیوں، عیاشیوں، بد عنوانیوں، رنگینیوں، بد اخلاقیوں اور بد زبانی کی وجہ سے اپنے اقتدار سے ہاتھ دھونے کے ساتھ ساتھ زمین بوس ہوگیا، لیکن ہمارے لوکل اور نیشنل سیاسیی نظام میں آج بھی بہت سارے ایسے سیاسیی شاہ رنگیلےبر سر اقتدار ہیں، جو رنگیلے کیطرح بدنام بھی ہیں، عیاش بھی ہیں، بد اخلاق بھی ہیں، وعدے فرموش بھی ہیں، فراڈئیے بھی ہیں، دھوکے باز بھی ہیں، چاپلوس بھی ہیں، خوش آمدی بھی ہیں، لارے لپے لگانے والے بھی ہیں،نجانے کیا کیا معاشرتی برائیوں کے ساتھ ہمارے اوپر مسلط ہیں اور نجانے کب تک رہیں گے۔ عوام کو چاہیے کہ اپنے اردگرد ایسے سیاسیی رنگیلوں کو پہچانیں، بجائے انکے ہاتھوں میں کٹھ پتلی بننے کے انکا سامنا کریں، ایسے رنگیلوں کےلیے اپنے دوستوں، رشتے داروں اور برادری والوں سے علحدگیاں اختیار مت کریں، انکی چکنی چوپڑی باتوں کو سینے سے لگاکر مت رکھیں، انکا محاسبہ کریں، ابکے ساتھ سیلفیاں بنانے کی بجائے ان سے انکی کارکردگی پر سوال کریں۔ نجانے ہمارے معاشرے میں ہر کوئی دولتمند اور طاقتور سے ہی کیوں ڈرتا ہے ؟ کیا سیاسیی یا طاقتور کو موت نہیں آنی، بلکہ ہمیں تو زیادہ ڈرنا چاہیے اس کمزور اور مجبور انسان سے جو ہر دکھ درد میں الله کی طرف دیکھتا ہے، اسکے فیصلے کا انتظار کرتا ہے۔ دعا ہے اللہ پاک یمیں ایسے سیاسیی رنگیلوں سے اپنی پناہ میں رکھے۔ آمین۔

    (@_Ni_s)

  • تحریر:عرفان محمود گوندل   اشاروں پہ ناچنے والے قیمے والے نان

    تحریر:عرفان محمود گوندل اشاروں پہ ناچنے والے قیمے والے نان

    گزشتہ روز مسلم لیگ ( ن ) کی لیڈر محترمہ مریم نواز شریف صاحبہ نے تقریر کے دوران ایک عجیب حرکت کی ۔
    انہوں نے اپنے سامنے قیمتاً (دیہاڑی) پہ خریدے گئے حاضرین سے ایک عجیب بات کی
    جلسے میں کہنے لگی
    میں یہ چاہتی کہ میں جب ہاتھ اوپر کروں تو آپ سب (غلام) میرے ہاتھ کے اشارے پہ کھڑے ہو جائیں اور اگر میں ہاتھ نیچے کروں تو آپ سب (غلام) بیٹھ جائیں ۔۔
    چونکہ سامنے سارے دیہاڑی دار تھے ۔ ایک ہزار روپیہ اور دوپہر کے کھانے کی قیمت پر انہوں نے ن لیگ گ کی لیڈر کی ہاں میں ہاں ملانی تھی ۔ اس لیے جب مریم نواز شریف صاحبہ نے کہا کہ میں
    آپ سب کو آزما کے دیکھوں ؟
    تو سب نے سیٹیاں بجائیں
    پھر شہزادی نے دونوں ہاتھ آہستہ آہستہ فضا میں بلند کیے
    سکرین پہ چونکہ عوام کا ( جم غفیر) نظر نہیں آرہا تھا اس لیے نہ دیکھ سکا کہ مریم صاحبہ کے اشارے پہ پنڈال کھڑا ہوا یا نہیں ۔
    کچھ لمحوں بعد مریم صاحبہ نے ہاتھ آہستہ آہستہ نیچے کر دیے
    اندازہ ہے کہ دھنسی ہوئی آنکھوں والے ، بھوکے پیٹ ، سوکھی چمڑی ، پیلے دانت ، پھٹے ہوئے کپڑے اور ٹوٹے ہوئے جوتوں والے لیڈر کے اشاروں پہ ناچنے لگے ہوں گے ۔ کہتے ہیں بھوک تہذیب کے آداب بھلا دیتی ہے ۔
    یہی کچھ حال پنڈال میں کھڑے قیمے والے نانوں، بریانی کی پلیٹوں ، زندہ شناختی کارڈوں چمچوں کھڑچھوں بیلچوں ڈوئیوں چھونیوں اور پتیلیوں کا ہو گا ۔
    کھڑے نہ ہوتے تو دیہاڑی نہ ملتی یا شاید پیسے کاٹ لیے جاتے ۔ حکم کے غلام تھے بھوکے پیٹ کی خاطر گرم توے پہ ناچ لینا تھا ۔ غلامی کی نکیل ڈلی ہوئی تھی اس لیے ہاتھ کے اشاروں پہ ناچنا بھی تھا اور گانا بھی تھا کیونکہ یہی حکم تھا ٹھیکیدار کا کہ شہزادی صاحبہ کو خوش کرنا ہے
    ایک عورت نے تقریب میں دور کھڑے شوہر کو انگلی سے اشارہ کیا کہ ادھر آؤ ۔
    شوہر باادب ہو کے ہاتھ باندھے حاضر ہوا اور ادب سے پوچھا
    جی فرمائیے
    بیوی نے ادائے دلبری سے کہا کچھ نہیں میں تو انگلی کی مقناطیسی قوت چیک کررہی تھی کہ کتنی دور تک اثر رکھتی ہے ۔
    کیوں وہ صّیاد کسی صید پہ توسن ڈالے
    صید جب خود ہی چلے آتے ہوں گردن ڈالے

    @I_G68

  • پیروی پرعمل اور تضاد . تحریر: سہیل احمد

    پیروی پرعمل اور تضاد . تحریر: سہیل احمد

    آج کل عید الاالضحئ کیلیے بہت اہتمام کیا جا رہا ہے ہر کوئی ایک دوسرے سے بڑا مسلمان ثابت ہونے کیلیے بے دریغ پیسا خرچ کیا جا رہا ہے.ہر کوئی اپنی استطاعت کے بل بوتے پر ایک سے بڑھ کر ایک خوبصورت اور مہنگا جانور لینے کی ریس میں لگا .اس میں حرج بھی نہیں بس میرا اپنا ماننا یے ار ناقص العقل کی بدولت عرض کرنے پر مجبور بھی ہوں کی شاید اسکے دل میں اتر جائے میری بات ورنہ جیسے گزرا دن ویسے گزر جائے گی رات اب بات کرتا ہوں محلوں کی آپ اس بات سے اتفاق اس لیے کریں گے کیونکہ پڑھنے والوں میں ہر کوئی مریم نواز یاں سیٹھ عابد کا رشتہ دار نہیں .اللہ تعالئ نے کسی کو جاب عطا کی تو کسی کو اپنا بزنس. گزارہ تو عمران خان صاحب کی حکومت میں کرنا اب تھوڑا مشکل کیونکہ ہمیں عادت نہیں ہے ایف بی آر کی لسٹ میں اپنا نام ٹاپ پر لکھوانے کی. محلوں میں ماشاءاللہ بہت رونق ہوتی ہے کچھ معاملات میں ہم ایک دوسرے کے حق میں بھی چل پڑتے ہیں.

    کیسا وقت آگیا ہے کہ گلی میں ایک بزنس مین اور اسکے سامنے 50 سال سے ساتھ رہنے والا اسی کا ہمسایہ.جو کہ انتہائی غریب ہے .
    سیٹھ ہر سال 10 بکرے اور 2 3 گائے یاں اونٹ قربانی کیلیے لے آتا ہے. جبکہ غریب ہمسایہ شاید سال میں ایک آد بار ہی گوشت کو دیکھتا ہو گا.کیسا عجیب اتفاق ہے. ہیں دونوں ان پڑھ . پر حیثیت میں اوپر نیچے. کیا خوب کہا تھا کسی نے رب رزق دیندا نہ عقلاں نال نہ شکلاں نال رب نوازدہ اپنی مرضی نال.

    خیر سوال یہ تھا کہ کیا ہماری اتنی بڑی قربانی کو اللہ قبول فرمالے گا جبکہ ہم اپنے ہمسائے کے دل دکھانے میں جلتی پر تیل کا کام تو نہیں کر رہے.کیونکہ ہمسائے کے حقوق آپ مجھ سے بہتر جانتے ہیں . کیا اتنی بڑی قربانی کرنا بہتر ہے یاں اس غریب ہمسائے کو اپنے پیروں پر کھڑے کرنے کیلیے اس کے روزگار کیلیے مالی امداد کرنا.

    دوسری بات جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ رکاوٹیں ہٹانے پر بہت زور دیا گیا ہے اور راستوں میں مت بیٹھو وغیرہ وغیرہ.
    تو کیا ہم ٹھیک کر رہے ہیں جو اپنی حیثیت اور غفلت کی بنا پر عید کے تہوار کی بدولت اپنے جانوروں کےلیے گلیوں میں گیٹ لگوا رہے ہیں یاں قنات لگوا کر اپنی ہٹ دھرمی کا ثبوت دے رہے ہیں جبکہ اس کی بدولت عام شہری یاں آپکا ہمسایہ آپ سے بہت دکھی ہے.
    کیا ہمارا مزہب اسلام ہمیں یہ سبق دیتا ہے ? کیا ہماری پرانی روایات اس سے مختلف نہیں تھیں . کیا ہم سب بھول کر اپنے آپ کو بخشوالیں گے. کیا ہمارا دکھی ہمسایہ قیامت والے دن ہمیں معاف کر دے گا.

    خدارا سوچیے
    ہم کس طرف جا رہے ہیں
    اپنے آپ کو پہچانیے

    @iSohailCh

  • میں کیوں نا کپتان کو سپورٹ کرو . تحریر : عامر خان

    میں کیوں نا کپتان کو سپورٹ کرو . تحریر : عامر خان

    مخلوقِ خدا جب کسی مشکل میں پڑی ہو,
    سجدے میں پڑے رہنا عبادت نہی ہوتی,

    ہر شخص سر پر کفن باندھ کر نکلے,
    حق کے لئے لڑنا تو بغاوت نہی ہوتی.
    (حبیب جالب)

    جب ضیاء دور ختم ھوا اس وقت پاکستان کے تمام ادارے منافع دے رہے تھے پاکستان سٹیل ملز PIA ریلوے واپڈا OGDC ریڈیو پاکستان پاکستان ٹیلی وزن ptcl وغیرہ وغیرہ تمام کے تمام منافع کمال رہے تھے پاکستان پر قرضہ نہ ہونے کے برابر تھا
    پاکستان میں گھی 25 روپے پیڑول 11روپے 75پیسے ڈیزل 9روپے 25 پیسے آٹا 150 روپے چینی دال چاول سب کچھ چند روپوں میں ملتا تھا ضیاء دور کے بعد ppp /pml اور مشرف نے حکومت کی 2018 تک گھی دال چینی ڈیزل پٹرول آنا کہاں چھوڑ گے آپ بتا دیں کیا اس درمیان عمران خان نے حکومت کی ؟؟؟ یقیناً نہیں ۔

    پھر اس کا زمہ دار کون سابقہ حکمرانوں نے صرف مہنگائی کی ہوتی بلکہ ۔ 2018 میں جب یہ کرپٹ حکمران گئے تو سٹیل مل بند تھی نہ صرف بند تھی بلکہ اربوں نقصان میں تھے ملزمین صرف تنخواہیں لے رہے تھے pIA جو دنیا کی نمبر ون تھی تباہ ہوچکی تھی بلکے اربوں کے خسارے میں تھی تمام کے تمام ادروں کو تباہ کرگئے ہر سرکاری ادارہ خسارے میں چھوڑ کے گئے. معیشت کو تو ان لوگوں نے ڈبویا ساتھ ملکی سلامتی خیریت بھی کھا گئے قوم کیا ہوتی قوموں کو کیسے جگایا جاتا ہے کیسے انکو خواب دکھائے جاتے ہیں یہ سب بھی ساتھ لے گئے.

    2018 سے پہلے پاکستان پر امریکہ جہاں چاہتا ڈرون گرا دیتا تھا پاکستان کی حدود میں آکر فوجی کارروائی کرکے جلا جاتا کیوں ؟؟؟
    کیونکہ اس وقت ہمارے حکمران بزنس مین کرپٹ اور بزدل تھے جنرل ایوب اور جنرل ضیاء کے بعد دونوں پارٹیاں آمریت کی نرسری میں پل کر بڑی ہوئی اور یہ سب کسی سے چھپا ڈھکا نہیں اب انکو پھر سے وہی ہاےھ چاہیے جو انکو چور راستے سے اقتدار دلاتے تھے لیکن اب وقت بدل گیا پاکستان کی مجبوری بن گئ ہے ایسا لیڈر جو انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر سکے اب پاکستان کی ضرورت بن گئ ہے کے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اور حکومت دونوں ایک پیج پر ہوں نا کے اپنی ہی فوج کو بدنام کرنے کیلئے کرپٹ حکومت ضرب عضب جیسے اپریشن کے دوران ڈان لیکس کروائے چلیں بات آگے بڑھاتے ہیں جب سے عمران خان کی حکومت آئی ایک ڈرون حملہ یا حدود کی خلاف وزاری امریکہ کی بدمعاشی ختم ہوگئ

    عمران خان نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی جی ہاں پہلی بار امریکہ کو No کہا وہ بھی اس ملک کے وزیراعظم نے جو آئی ایم ایف کا قرضائ ہے جس ملک کے بزنس مین حکمرانوں اور جرنیلوں سے ڈو مور کیا جاتا تھا اب اسی ملک کا وزیراعظم نو مور کہہ رہا ہے بلکے پاکستان کی حدود اب کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی نا کسی دوسرے ملک کو اپنے خلاف انکی سرزمین استعمال ہونے دیں گے .

    پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ایک حکمران آیا جو سعودی بادشاہ سے کہتا ھے تمہاری جیلوں میں میرے غریب پاکستانی قیدِ ھیں ان کو چھوڑ دیں 24 گھنٹوں میں وہ 2300 گھروں کے چراغ آزاد ہوجاتے ھیں سری لنکا جاتا ھے کہتے ھے ہم مسلمان میت کو دفناتے ہیں میت کو جلانے والا قانون ختم کیا جائے مسلمانوں کیلئے کہہ کر واپس پاکستان نہیں پہنچا مسلمان میت کو دفنانے کی اجازت مل جاتی ھے سعودیہ کہتا ھے ترکی ڈرامہ ارتغرل غازی پاکستان نہیں دیکھا سکتا پاکستان ٹیلی-ویژن پر کیونکہ ہم ترکی کو پسند نہیں کرتے ساتھ اسرائیل کو ایکسپٹ کرنے کا بیک ڈور پریشر بھی ڈال کر دھمکی دی گئ اگر ایسا نا کیا تو ہم تیل نہیں دیں گے اور ہمارے 2 ارب ڈالر واپس کرنے ہوں گے ہمارا لیڈر تیل بند کروا لیتا ھے ڈالر ان کے واپس کردیتاہے مگر اصولوں پر سودے بازی نہیں کرتا ۔
    میں جو کام کل کررہا تھا وہی آج بھی کررہا ھوں میں میرے بھی غریبوں والی زندگی گزار رہا تھا آج بھی گزار رہا ھوں
    مگر مجھے فخر ھے میں ایک غیرت مند قوم بننے جارہا ھوں دنیا میرے پاکستان کی عزت کررہی ھے میرا لیڈر کرپٹ چور نہیں ایک غیرت مند حکمران ھے وہ اصولوں پر سودے بازی نہیں کرتا وہ دنیا میں جاکر اپنی ملیں کارخانے لگانے کی بات نہیں کرتا
    وہ مسئلہ امہ کی بات کرتا ھے وہ کفار کے ایوانوں میں کھڑے ہو کر کہتا ھے اے اللہ ہم تیری عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے مدد مانگتے ھیں
    جو کفار کے ایوانِ ان کے درمیان کھڑے ہو کرکہتا ھے ہمارا ایمان لاالٰہ الااللہ محمد رسول اللہ پر ھے ہم لڑنے والے نہیں ہمارے ساتھ جو لڑے گا تو ہم بم ماریں گے ہم آخری سانس تک لڑیں گے جو بولتا ھے تو دنیا خاموشی سے سنتی ھے
    تمہیں تمہارے لیڈر نصیب
    مجھے میرا لیڈر نصیب

  • تحریر: محمد عثمان  عنوان: مغل بادشاہ ترقی کے خلاف رکاوٹ

    تحریر: محمد عثمان عنوان: مغل بادشاہ ترقی کے خلاف رکاوٹ

    مغلوں کی تاریخ: مغلوں کی حکمرانی 1526ھ میں شروع ہوئی۔ ہندوستان میں مغلوں کا پہلا حکمران ظہورالدین بابر تھا۔ وہ مغل سلطنت کا بانی ہے۔ بنیادی طور پر ، مغل افغانی تھے۔ ان کو جنگھی خان (منگول کنگ) نے بے دردی سے شکست دی۔ وہ افغانستان میں پناہ مانگ رہے تھے۔ دریں اثنا ، اس حالت کو دیکھ کر ہندوستان کے مسلم قائدین نے اپنی حکومت کے خلاف بغاوت کی۔ انہوں نے ظہورالدین بابر کو اپنی شکست خوردہ فوج کے ساتھ ہندوستان پر حملہ کرنے کی دعوت دی۔ اس نے ہندوستان پر حملہ کیا اور بغیر کسی رکاوٹ کے فتح حاصل کی کیونکہ مرکزی رہنما اس کے حق میں تھے۔ وہ دراصل ایک نیک آدمی اور روحانی آدمی تھا۔ انہوں نے برصغیر میں اسلام کی تبلیغ کی۔ اس کی موت 1530a.h میں ہوئی۔ ان کی وفات کے بعد ، ان کے بیٹے ناصر الدین ہمایون نے سلطنت کی ذمہ داری قبول کی۔ وہ ایک روحانی شخص بھی تھا اور حکومت کی رسم و رواج میں دلچسپی نہیں رکھتا تھا۔ انہوں نے اپنے دور حکومت میں بہت ساری عمارتیں بنائیں۔ صورتحال پر نگاہ ڈال کر آگرہ کے گورنری گورنر شاہ سوری نے ہمایوں کے خلاف سڑکیں نکالیں جب وہ کسی دوسرے ملک کے دورے پر تھے۔
    شیر شاہ سوری: شیر شاہ سوری افغانی تھے۔ اس نے ہندوستان پر صرف پانچ سال حکومت کی۔ حکمرانی کا ان کا مختصر وقفہ (1540 سے 1545) صدی کا سب سے جدید دور سمجھا جاتا ہے۔ سوری بہت ذہین اور موجودہ ذہن کا حکمران تھا۔ انہوں نے اپنی عوام کی فلاح و بہبود کے لئے بہت سے اقدامات کئے۔ اس نے تنکا کی بجائے روپیہ متعارف کرایا۔ اس نے مسافروں کے لئے بڑی تعداد میں رہائشیں تعمیر کیں ، جہاں کوئی بھی کھانا کھا سکتا ہے اور دن کے کسی بھی وقت آرام کرسکتا ہے۔ مزید یہ کہ اس نے گرینڈ چوری روڈ (جی ٹی روڈ) کے نام سے ایک بہت لمبی سڑک بنائی۔ یہ سڑک بنگال سے شروع ہوتی ہے اور کابل میں ختم ہوتی ہے۔ اس نے مسافروں کو اپنا وقت بچانے میں مدد فراہم کی۔ اس سے برصغیر میں تجارت کی شرح میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ انہوں نے قوم کے لئے اور بھی بہت کچھ کیا۔ انہوں نے ہندوستان میں پوسٹ سسٹم بھی متعارف کرایا۔ اس کی حکمرانی کے چھوٹے دورانیے کو سنہری حد کہا جاتا ہے۔ 1545 میں ان کی اچانک موت کے بعد ، ان کے بڑے بیٹے کو بادشاہ مقرر کیا گیا۔ وہ اس اہم ذمہ داری کے اہل نہیں تھا۔ اپنی غلط حکمت عملیوں کی وجہ سے ہمایوں کو واپس آنے کا راستہ ملا۔ اس نے سوری کی سلطنت پر حملہ کیا اور 1547 میں جنگ جیت لی۔ یہ وہ وقت تھا جب ہندوستان نے ایک بار پھر ترقی کرنا چھوڑ دی۔
    مغلوں کے ذریعہ اختراعات:
    دراصل ، بہت سے مغل حکمران صرف روحانی اور اسلامی کلاس ہی پڑھائے جاتے تھے۔ انہیں معلوم نہیں تھا کہ پوری دنیا میں کیا ہورہا ہے۔ مغل دانشور تھے۔ انہوں نے ادب کے لئے کام کیا۔ ان میں سے کچھ اچھے مصنف بھی تھے۔ انہوں نے شاعری پر اپنی کتابیں لکھیں۔ وہ اکثر شاعری کی جماعتیں کہتے تھے اور اچھے شاعروں کو بھی ان سے نوازا جاتا تھا۔ ظہورالدین بابر ، ہمایوں ، اورنگزیب عالمگیر اور بہادر شاہ ظفر مشہور مغل مصنفین ہیں۔ اورنگ زیب کے سوا سبھی حکمران موسیقی کے دلدادہ تھے۔ وہ ایسی موسیقی سنتے تھے جو روح کو چھوتی ہے۔ تان سنگھ اکبر کے زمانے کا مشہور موسیقار تھا۔ وہ مغل کے دور کے سب سے زیادہ ایوارڈ یافتہ موسیقار تھے۔ آج ہم سنتے ہیں کہ بہت سے راگ مغلوں نے متعارف کرائے تھے۔ راگ "سا رے گا” سب سے پہلے تن سنگھ نے گایا تھا۔ مزید یہ کہ مغلوں کے دور میں بڑی تعداد میں بے معنی عمارتیں سامنے آئیں۔ تاج مہل آگرہ ، لال قلعہ دہلی ، شاہی مسجد لاہور ، ہیران مینار اور بابری مسجد ان میں سے کچھ مشہور ہیں۔ مختصر یہ کہ اس بڑے دور میں کوئی سائنسی کام نہیں کیا گیا۔ ہندوستان روایتی زندگی گزار رہا تھا جبکہ پوری دنیا سائنسی لحاظ سے ترقی کر رہی تھی۔ مغلوں نے عیش و عشرت کی زندگی گزاری۔ ذرا تصور کریں کہ اتنی بڑی سرزمین کے بادشاہ کے پاس مہینوں شکار کرنے کے لئے وقت باقی رہتا ہے۔ یہ کتنا مضحکہ خیز ہے۔
    جب ہندوستان نے ترقی کرنا شروع کی:
    مغلوں نے تین صدیوں تک برصغیر پر حکمرانی کی۔ 1857 وہ سال تھا جب ہندوستان نے اس قسم کے بادشاہوں سے نجات حاصل کی جب برطانوی فوج نے ہندوستان پر حملہ کیا اور انہوں نے مغل سلطنت کا خاتمہ کیا۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ برطانوی فوج کو یہاں حملہ نہیں کرنا چاہئے کیونکہ ہم نے انہیں صرف یہاں تجارت کی اجازت دی ہے۔ لیکن ، میری رائے انگریزوں کے حق میں ہے۔ کوئی شک نہیں کہ ان کی پالیسیاں مسلمانوں کے خلاف تھیں۔ انہوں نے ان پر تشدد کیا۔ ایک مسلمان کے لئے اچھی زندگی گزارنا مشکل تھا لیکن لوگوں کو مردہ نیند سے بیدار کرنے کی سخت ضرورت تھی۔
    دوسری طرف،برطانوی حکومت اپنے ساتھ بہت سی نئی چیزیں لے کر آئی۔ مثال کے طور پر ، انہوں نے ٹرین کے ذریعے سفر متعارف کرایا۔ انہوں نے موٹر کاریں ، فون کالز ، اسلحہ کی بہت ساری قسمیں اور بہت کچھ پیش کیا۔ انہوں نے فرٹلائجیشن میں نئی تکنیک بھی متعارف کروائی۔ انہوں نے یہاں فیکٹریاں لگائیں۔ وہ بہت ساری چیزیں لائے جو ہندوستان کے مقامی لوگوں کو نا معلوم تھے۔ آخر میں ، میں یہ کہوں کہ مغل سلطنت سائنسی دور کا تباہ کن دور تھا۔
    تحریر: محمد عثمان
    @Usm_says1

  • تحریر مدثر حسن : محافظ پاکستان عمران خان

    تحریر مدثر حسن : محافظ پاکستان عمران خان

    ہم اس عظیم ماں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جس نے ایک ہیرا پیدا کیا کسی کو کیا پتہ تھا کہ یہ ہیرا وقت آنے پر اپنی کشش کا لوہا منوائے گا اور لوگوں کی توجہ کا مرکز بنے گا اور لوگوں کو اپنی باتوں سے اپنے عمل سے کھینچتا چلا جائے گا عمران خان نے اپنے کیریئر کا آغاز کرکٹ سے کیا جہاں پر ان کو بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا بہت سے لوگوں نے مذاق اڑایا کسی نے کہا کہ تم کرکٹ نہیں کھیل سکتے کرکٹ تمہارے بس کی بات نہیں کسی نے کہا تم کیپٹن نہیں بن سکتے تو کسی نے کہا تم ایک اچھے آل راؤنڈر نہیں بن سکتے قدرت کی ایسی کرنی ہوئی جو جو لوگوں نے کہا اس کے بر عکس ہوا نہ صرف ایک بہترین آل راؤنڈر بلکہ ایک بہترین کپتان بھی ثابت ہوئے اپنی کپتانی میں پاکستان کو 1992 کا ورلڈ کپ جتوایا
    پھر شوکت خانم ہسپتال بنانے کی جستجو ہوئی دیکھا کہ ہمارا ملک میں کینسر کے مریضوں کی تعداد دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہے اور زیادہ تر ان میں غریب ہیں جن کے پاس ایک ٹائم کھانے کے پیسے نہیں ہیں اوپر سے کینسر کا علاج بہت مہنگا ہے ایک عام آدمی کے بس کی بات نہیں تو اس پر عمران خان میں ایک انسانیت کی فلاح وبہبود کا جذبہ پیدا ہوا کہ ہمارے ملک میں ایک ایسا ہسپتال ہونا چاہیے کینسر کا جہاں پر غریب لوگوں کا مفت علاج ہو اس کے لیے دن رات محنت کی چندہ اکٹھا کیا اور پروردگار کی مدد سے ہسپتال بنا دیا جہاں پر آج بھی غریب لوگوں کا مفت علاج ہو رہا ہے

    دیکھا کہ پاکستان میں دو پارٹی سسٹم ہے دونوں پارٹیاں ایک دوسرے کو باریاں باریاں دے رہی ہیں اور ملک کو دونوں ہاتھوں سے بے دردی سے لوٹ رہی ہیں عمران خان کو یہ بات ہضم نہیں ہوئی یہاں آپ کو بتاتا چلوں عمران خان ایک کرکٹ سٹار تھا اسے کیا ضرورت تھی شوکت خانم ہسپتال بنائے کرپٹ لوگوں سے چور لوگوں سے گلیاں کھائے اپنی آرائش وآرام والی زندگی چھوڑ کر یہاں کجھل ہو وہ کمنٹری کرکے لاکھوں روپے کماسکتا تھا اسے کیوں ضرورت پیش ہوئی سیاست میں آنے کی کیونکہ عمران خان کو وطن سے محبت اور غریب لوگوں کا احساس تھا ہمارے کرپٹ حکمران کرپشن کی انتہا کی ہوئی تھی ہر منصوبے میں لوٹ مار مچا کر پیسہ باہر بھیج رہے تھے اور لندن، دبئی میں بڑے بڑے فلیٹس بنارہے تھے
    عمران خان ریاست مدینہ کا خواب لے کر چلا چاہتا تھا کہ ہمارے ملک میں قانون کی بالادستی ہو کوئی قانون سے بالاتر نہ ہو ، انسانیت ہو میریٹ ہو بادشاہت نظام نہ ہو وراثتی سیاست نہ ہو جمہوریت کا نظام ہو سب قانون کے سامنے جوابدہ ہوں چاہے وہ وزیراعظم ہی کیوں نہ ہو اس خواب کو پورا کرنے کے لیے 22 سالہ کوشش کی سیاست میں اپنا لوہا منوانے کی ان بائیس سال میں زندگی کے تمام نشیب و فراز کا سامنا کیا پاکستان کے چپہ چپہ پر جلسے،جلوس کیے پاکستان کا کوئی ایسا علاقہ نہیں جہاں پر خان صاحب نہ گئیں ہوں لوگوں کو آگاہی دی شعور دیا ذہنی غلامی سے نجات دلائی ملک کی سالمیت اور خودمختاری کا جھنڈا بلند کیا چاہتا تھا پاکستان کسی کے آگے جھکے نہ اور نہ بھیک مانگے خوددار قوم بنے کسی کے اشاروں پر نہ چلے جب عمران خان ملک کے وزیراعظم بنے مفاہمتی پالیسی اپنایا بولا جہاں پر ملک کا مفاد ہوگا ہم وہ کرے گئیں امریکہ کو دو ٹوک جواب دیا کہ پاکستان کی سر زمین اب کسی دوسرے کی جنگ میں استعمال نہیں ہوگی ملک کی خودمختاری کو یقینی بنایا اور ثابت کیا ہم ایک آزاد قوم ہیں کسی کے اشاروں پر چلنے والے نہیں ہیں عمران خان چاہتے ہیں پاکستان کے ہرے پاسپورٹ کی عزت ہو جہاں بھی جائیں دنیا عزت کی نگاہ سے دیکھے پاکستان کی معیشت کی ڈوبتی کشتی کو ایک کنارے لگایا دن رات محنت کرکے ملک کی معیشت کو ایک ٹریک پر لے آئے الحمدللہ پاکستان اب محفوظ ہاتھوں میں ہے قومی خزانے کی نگرانی کر رہا ہے ملک سے پیسہ اب باہر نہیں جارہا منی لانڈرنگ کے ذریعے سے ملک میں خوشحالی کا پہیہ چل پڑا ہے ملک ترقی کی درست سمت پر چل پڑا ہے ملک کا کھویا ہوا وقار اب بلند ہو رہا مدینہ کی ریاست کے اصول لاگو ہو رہےہیں عمران خان پاکستان کے لیے ایک معجزہ ثابت ہوا ہے پاکستان کی ترقی اور خوشحالی عمران خان سے ہے کیونکہ خان صاحب نہ چور ہے نہ کرپٹ ہے مدینہ کی ریاست کا خواب لے کر چلا ہے اللہ تعالیٰ خان صاحب کی مدد فرمائے مدینہ کی ریاست بنانے میں آمین !!!!!!!

    @MudasirWrittes

  • اشتہاری مہم اب خلا میں ہو گی .تحریر:صوفیہ صدیقی

    اشتہاری مہم اب خلا میں ہو گی .تحریر:صوفیہ صدیقی

    آسمان سے پریاں اترتی نظر آئیں یا نہ آئے۔ اب وہ وقت دور نہیں ہے جب تمام ماڈلز اور اشتہارات آپ کو آسمان پہ نظر آئیں گے۔
    حال ہی میں آپس ایکس ( Space X) نے اعلان کیا ہے کہ وہ آسمان میں ستاروں کی جگہ لوگوں کو اشتہارات دکھائیں گے۔ یعنی ان خلائی کمپنیوں کو لگتا ہے کہ خلا میں موجود خالی جگہ کو اشتہار کے بطور استعمال کرنا،عوام کے لیے ایک دلچسپ کام ہو گا۔ ایسا خیال آج کل space X کمپنی کے مالک ایلون مسک کا بھی ہے جو خلا میں پہلا بل بورڈ لانچ کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ تاہم ، ماہرین فلکیات اور ماہرین ماحولیات اس خیال کو مسترد کر رہے ہیں۔
    دیکھتے ہے یہ بازی کون جیتتا ہے۔ لیکن اس منصوبے کا آغاز اور کاروباری افراد اسپیس ڈسپلے کے لئے تین طرح کے اشتہارات کا تصور کررہے ہیں۔ پہلہ واضح اشتہار ، دوسرا تفریح ​​کے لیے اور تیسرا ہنگامی صورتحال میں انتباہ کے طور پر۔
    اس سال کے شروع میں سپیس X کے بانی ، ایلون مسک نے ایک کینیڈین ادارے جیمومیٹرک انرجی کارپوریشن کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے جس میں دونوں کمپنیاں مل کر یک "خلائی آرٹ” کو لانچ کریں گے اور اپنے خلائی اشتہار کے خواب کو حقیقت تبدیل کریں گے۔۔

    خلائی ٹکنالوجی میں ترقی کے ساتھ ، جی ای سی جیسی کمپنیوں نے خلا میں چھوٹے بل بورڈ لانے کے لئے اپنا کیوب سیٹیں تیار کر لیا یے۔
    یہ اشتہارات انتہائی مہنگے اور ان کی قیمتوں کا تعین ٹوکن کی مارکیٹ ویلیو کے ذریعہ کیا جائے گا۔ جس کو کیوب سیٹ پر پکسلز استعمال کرنے کے حقوق میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔
    خلا کی تشہیر کا خیال تخلیقی ہوسکتا ہے اور اشتہاری کمپنیوں کو مالیاتی فوائد بھی دے سکتا ہے۔ ان خلائی اشتہارات کی لانچ کی توقع 2022 سے پہلے نہیں کی جاسکتی ہے۔ کیونکہ
    سپیس ایکس، سپر باؤل اور فارمولا ون گرانڈ، پہلے بھی تشہیر ایسے منصوبے بنا رہے ہیں ، فی الحال ، اسپیس X خلا میں تھوڑا سا بوجھ لے رہا ہے کیونکہ بہت سارے معاملات ابھی حل ہونے کے منتظر ہیں۔

    جبکہ ، ماہرین فلکیات اور خلائی وکیلوں کا ردعمل عالمی سطح پر منفی ہے۔ ماہرین فلکیات پہلے ہی خلا میں بڑھتی ہوئی انسانی مداخلت کے بارے میں پریشان ہیں جو مشاہدات کو مزید دشوار بنا رہا ہے۔
    کئی خلائی وکیل اس طرح کے امکان کے خلاف ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ غیر فطری ہے۔ ان کا استدلال ہے کہ ہر قدرتی اراضی کا استحصال نہیں کرنا چاہئے ۔
    روسں اپنے ایک ذیلی ادارہ پیپیسکو سیٹلائٹ کے ذریعہ انرجی ڈرنک کی تشہیر کے لئے اسٹارٹ راکٹ نامی مقامی اسٹارٹ اپ کے ساتھ کام کر رہا تھا۔ لیکن عوامی تنقید کے بعد ، کمپنی نے خلا میں اپنی مصنوعات کی تشہیر کرنے کے اپنے منصوبوں کو روک دیا ہے۔

    ویسے تو انسان کا خلا سے تشہیر کا تصور نیا نہیں ہے ، شاید چاند پہ موجود ہے بڑھیا، پریاں اور خلائی مخلوق کا تصور ان کی بنیاد بنا یے۔ایسے منصوبے ہمیشہ تنقید کا حصہ رہے ہیں ۔
    امریکی وفاقی قانون میں کہا گیا ہے کہ "بیرونی خلا میں تشہیر کرنا جو زمین سے ننگی آنکھ کے ذریعے دیکھا جاسکتا ہے وہ باطنی خلائی اشتہار کا فعل ہے” لہذا یہ غیر قانونی ہے۔ اس منصوبے کا مستقبل واضح نہیں ہے ۔
    اتنی ساری معلومات کے بعد آپ کو کیا لگتا ہے کہ کیا واقعی انسان خلاؤں پر اشتہار چلانے کے قابل ہو جائے گا یا قدرت اس مداخلت کو برداشت نہیں کرے گی ۔
    انسان کااسمانوں تک پہنچنے کا خواب اور چاند، ستاروں اور سیاروں کو مسخر کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ انسانی مداخلت کا یہ سلسلہ اب رکنے والا نہیں بلکہ انسانی پیش قدمیاں جاری رہے گی۔ لیکن شاید ان کےحقیقت ہونے تک ہم خود کوئی تارا بن جائیں۔
    آخر میں بس اتنا ہی کہ جلد ہی آپ اور ہم ہواؤں میں اڑنے پھرتے اشتہارات دیکھے گے۔

  • وطن سے محبت .تحریر:سدرہ

    وطن سے محبت .تحریر:سدرہ

    وطن سے محبت ایک فطری جذبہ ہے جو ہر انسان اور بلکہ ہر ذی روح میں پایا جاتا ہے جس زمین پر انسان پیدا ہوتا ہے اپنی زندگی گزارتا ہے ۔۔ جہاں اس کے رشتہ دار ہوتے ہیں ۔۔ خاندان کے باقی افراد ہوتے ہیں وہ زمین اس کا گھر ہوتی ہے ۔۔ وہاں کی گلیوں،وہاں کے درودیوار وہاں کی گھاٹیوں پہاڑوں اور چٹانوں سے انسان کو قدرتی طور پر لگاؤ ہوتا ہے اور اس کی ایک ایک چیز سے یادیں جڑی ہوتی ہیں
    کسی بھی تارک وطن کے لیے بیرون ملک جانا اور کمانا بہت مشکل ہے کیونکہ وجہ صرف یہی ہے کہ ملک سے محبت ایک فطری عمل ہے ۔۔۔ اسی لیے جو لوگ ملک سے غداری کرتے ہیں انہیں کبھی بھی اچھے الفاظ میں یاد نہیں کیا جاتا جو لوگ ملک کے لئے لازوال قربانیاں دیتے ہیں انہیں ہمیشہ یاد رکھا جاتا ہے
    وطن سے محبت کے اس فطری جذبے کا اسلام نا صرف احترام کرتا ہے بلکہ ایک ایسا پر امن ماحول فراہم کرتا ہے جس میں رہ کر انسان اپنے ملک کی اچھے سے خدمت کر سکے اسلام ہر اس کا حکم دیتا ہے جس سے امن کو فروغ ملے اور ہم وطنوں کے درمیان تعلق مضبوط ہو
    وطن سے محبت کا جذبہ صرف جذبات تک نہیں محدود ہونا چاہیے بلکہ گفتار اور کردار میں بھی لازمی ہو ۔۔ سب سے پہلے وطن کی سلامتی کے لیے اللہ تعالٰی سے دعا کرنی چاہیے کیونکہ دعا میں دل کی سچائی کا مظاہرہ ہوتا ہے اس میں جھوٹ اور نمائش نہیں ہوتی بلکہ اللہ پاک سے براہ راست تعلق ہوتا ہے
    وطن کی سلامتی اس امر میں ہے کے ملک کو کرپشن اور بدعنوانیوں سے پاک رکھا جائے، لوگوں کے جان و مال اور عزت کی حفاظت کی جائے معاشرتی برائیوں کا خاتمہ کیا جائے اور امن کو فروغ دیا جائے ۔۔ اب ہمیں اپنا جائزہ لینے کی ضرورت ہے ہم نے اب تک کیا کیا؟؟ ملک کی ترقی میں اپنا کتنا کردار ادا کیا؟؟ عوامی بہبود اور آگاہی مہم کے لیے کتنا کردار ادا کیا ۔۔ ؟؟؟ آج ہمارا فرض بنتا ہے کے مثبت سوچتے ہوئے اس مک کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کریں

    دعا ہے اللہ پاک پاکستان کا حامی و ناصر ہو ۔۔ آمین
    سدرہ

  • ساڈا حق ایتھے رکھ .تحریر .سیدہ ام حبیبہ

    ساڈا حق ایتھے رکھ .تحریر .سیدہ ام حبیبہ

    قارئین محترم یہ جملہ کہنے کو تو ایک فلم کے گانے کا مصرعہ ہے مگر ہم پاکستانیوں کی ضرورت اور ضرورت بھی ایسی کہ جسکے پورا نہ ہونے کے بعد مرگ مفاجات کا سامنا یقینی ہے.
    ہم پاکستان کے شہری محرومیوں کے ڈھیر تلے دبے ٹیڑھی کمر کے ساتھ جوان ہوتے ہیں.اور جگاڑ کرتے کرتے منوں مٹی تلے جا سوتے ہیں.
    کیا وجہ ہے کہ ہم اس ڈھیر سے ابھر نہیں پاتے؟
    ہم اپنے حقوق سے نا آشنا ہونے کی پاداش میں یہ سزا پا رہے ہیں.
    ہم نے کبھی اپنے حقوق کا ادراک کرنے کی سعی کی ہی نہیں.
    مثال کے طور پہ ہمارے ووٹ کی قیمت سڑک بنوانا گلی بنانا یا نالی بنوانا طے کی جاتی ہے.جو کہ حکومت کا فرض اور ہمارا حق ہے.

    اسی طرح تعلیم و صحت ، کھیل، کاروبار ملازمت کی فراہمی حکومت کا فرض اور ہمارا حق ہے.
    ہم وہ محروم قوم ہیں جن سے انکے میٹھے پھل تک چھین کر زرمبادلہ کی آڑ میں بیرون ملک بھجوا دیے جاتے ہیں.
    اگر سوچا جائے تو ہمارے پھل منگوانے والے ممالک اپنی عوام کو بہترین کھلانے کے تگ و دو میں ہیں .
    اس محرومی کی وجہ حکومتوں کو ٹھہرانا ایسا ہی ہے جیسا کہ آنکھیں بند کر کے چلتے ہوئے دیوار سے ٹکرانا اور الزام دیوار کو دینا.
    حقوق سے آگاہی کے ساتھ ایک کام جو ہم سب کو قومی فریضہ سمجھ کر کرنا ہوگا
    ہمیں ڈٹ جانا ہوگا اپنے حق کے لیے

    ووٹ کے بدلے چالیس سالوں سے صرف نالیاں گلیاں ہی نہیں.تعلیم صحت کاروبار روزگار بھی چاہیے.
    نمائندے ایوانوں میں ہمارے مسائل حل کرنے بیٹھتے ہیں لاکھوں کا خرچ کر کے ایک اجلاس کرتے اور ایک دوسرے پہ جگتیں کس کے قیمتی کاغذ پھاڑ کر لاکھوں کا نقصان کر آتے.
    اب جب اجلاس میں ایسا ہو تو گریبانوں تک ہاتھ پہنچیں بھئ جس کام کے لیے ایوانوں میں خرچ کیا وہ کیا ہوا.قانون سازی کی ؟ نہیں تو جو ہمارا پیسہ خرچ ہوا اسکا حساب دو.
    اب گلی گلی نگر نگر یہ نعرہ گونجنا چاہیے کہ
    ساڈا حق ایتھے رکھ

  • پاکستان کے خلاف الزامات ، سازشیں اور پراپیگنڈہ ۔۔۔ حقیقت کیا ؟ تحریر: نوید شیخ

    پاکستان کے خلاف الزامات ، سازشیں اور پراپیگنڈہ ۔۔۔ حقیقت کیا ؟ تحریر: نوید شیخ

    گزشتہ دنوں پاکستان میں دو ایسے واقعات ہوئے ہیں جن کا تعلق تو اس خطے کی بدلتی صورتحال سے ہے مگر یہ ہوئے پاکستان میں ہیں ۔

    ۔ سب سے پہلے ایک داسو میں حملہ ہوتا ہے۔ جس میں متعدد چینی ہلاک ہوجاتے ہیں ۔ جس کے بعد یقینی بات ہے کہ چین کی جانب سے بیانات بھی آنے تھے ۔ بہت ہی سخت بیانات آئے ۔ پریشر بھی آیا ۔ یہاں تک کہ چین کی ایک خصوصی انوسٹی گیشن ٹیم بھی پاکستان میں آئی ۔ اس حوالے سے حکومت کے ہاتھ پاؤں بھی پھولے دیکھائی دیے ۔ یہاں تک کہ شاہ محمود قریشی خصوصی طور پر چین گئے اور چینی قیادت کو اعتماد میں لیا ۔

    ۔ پھر چین کے سرکاری اخبار گلوبل ٹائمز کے چیف ایڈیٹر نے کہا کہ اگر پاکستان داسو ڈیم پر کام کرنے والے چینی ماہرین پر حملہ کرنے والے مجرموں کو نہیں پکڑ سکتا تو چین اپنی سپیشل فورسز کے ذریعے یہ کام کرسکتا ہے۔

    ۔ پھر یہ خبریں بھی آئیں کہ داسو ڈیم بنانے والی چینی کمپنی نے پاکستانی ملازمین کو نکالنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور کام بند کر دیا گیا ہے ۔ جس کے بعد یہ چہ مگوئیاں شروع ہوگئیں کہ دشمن پاکستان اور چین کے درمیان دراڑ ڈالنے میں کامیاب ہوگئے ہیں ۔ پھر واپڈا کے اعلی حکام سمیت حکومت پاکستان نے قائل کیا تو یہ نوٹس واپس لے لیا گیا ۔ اب داسو واقعے کے بعد سول انتظامیہ، واپڈا اور چینی کمپنی نے باہمی مشاورت سے تعمیراتی کام چند دنوں کے لیے معطل کردیا ہے ۔ کام بند کرنے کا مقصد حفاظتی اقدامات کو ازسرنو منظم کرنا بتایا گیا ہے ۔

    ۔ اس حوالے سے وزیر داخلہ شیخ رشید احمد بھاگتے دوڑتے بھی دیکھائی دیے ۔ متعدد پریس کانفرنسیں بھی کیں ۔ یہ بھی اعادہ کیا کہ جلد ملزموں کو پکڑ کر کیفر کردار تک پہنچا دیا جائے گا ۔

    ۔ اس حوالے سے گزشتہ روز کی بریفننگ میں بتایا کہ پاکستانی آرمی اور دیگر ایجنسیز کے 15اہلکار تحقیقات کیلئے ہیلی کاپٹر پر داسو پہنچے ۔ یہ بھی کہا کہ سی پیک اور ڈیم کے پراجیکٹس پر کوئی حرف نہیں آنے دیا جائے گا، چین کی حکومت جانتی ہے کہ ہم اپنی قوت سے زیادہ اپنی ذمہ داری ادا کر رہے ہیں ۔ مزید یہ بتایا کہ ہم نے چین سے کہا ہے کہ وہ دفتر خارجہ سے مل کر کام کریں ۔۔ اب اس حوالے سے ابھی تک تو کوئی اہم پیش رفت نہیں ہوئی ہے مگر یہ واضح ہے کہ پاکستان پر چین کی جانب سے اس حوالے پریشر بہت ہے ۔ اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ جب سے یہ حکومت آئی ہے سی پیک کو ذرا بریکس لگ گئی ہیں ۔ اس حوالے سے بھی چین پاکستان کو تنقیدی نظر سے دیکھ رہا ہے ۔ پھر اگر بین الاقوامی امور کے تناظر میں دیکھا جائے تو اس کے بڑے دور رس اثرات ہوسکتے ہیں ۔ پاکستان کے چین کے ساتھ معاملات تو شاید دوبارہ ٹریک پر آجائیں ۔ مگر یہ واضح ہے کہ اس میں ملوث کرداروں اور ممالک کو آنے والوں دنوں میں اہم پیغام اور موثر جواب ضرور دیا جائے گا ۔ اب یہ پاکستان کی جانب سے ہوتا ہے یا چین کی جانب سے مگر یہ ہوگا ضرور ۔ اگر سیاسی طور پر دیکھاجائے تو اندرونی طور پر بھی حکومت پر پریشر بڑھ رہا ہے کیونکہ مسلم لیگ(ن) کے رہنما احسن اقبال نے کہا ہے کہ داسو حادثے نے ہمیں شرمندہ کردیا ہے، وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کو اس واقعے پر مستعفی ہوجانا چاہیے۔
    چینی ورکرز کے حوالے سے پاکستان میں پہلے بھی کئی واقعات ہوتے رہے ہیں مگر موجودہ صورتحال میں ایسا دیکھائی دے رہا ہے کہ اب پاکستان پر امریکہ کے بعد چین کی جانب سے
    do moreکا پریشر بڑھے گا ۔ کیونکہ یہ دیکھنا شروع ہوگیا ہے کہ جیسے جیسے افغانستان میں خانہ جنگی کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ اس کے اثرات پاکستان پر بھی آئیں گے اور جو پاکستان کے دشمن ہیں ، چین کے دشمن ہیں ۔ سی پیک کے دشمن ہیں وہ اس موقع کو استعمال کرنے کی بھر پور کوشش کر یں گے ۔

    ۔ دوسرا ایک اور بہت اہم واقعہ ہوا ہے جس پر وزیر اعظم عمران خان نے بھی نوٹس لے لیا ہے ۔ اور حکم دیا ہے کہ 48گھنٹوں میں ملزمان کو پکڑا جائے ۔ کیونکہ دن دیہاڑے کہیں اور نہیں پاکستان کے دارلخلافہ اسلام آباد سے افغان سفیر کی بیٹی اغواء ہو جاتی ہے پھر حیران کن طور زخمی حالت میں ملزمان اس کو پھینک کر چلے جاتے ہیں ۔ ۔ اس کی تفصیل میں آپکو بتاوں تو کہ اسلام آباد کے ایف سیون مرکز کی جناح سپر مارکیٹ سے افغانستان کے سفیر نجیب اللہ خیل کی 26 سالہ بیٹی سلسلہ علی خیل کو دن ڈیڑھ بجے اغواءکیا گیا اور شام کو 7 بجے زخمی حالت میں بلیو ایریا تہذیب بیکری کے پاس پھینک دیا گیا۔ ۔ یعنی ساڑھے پانچ گھنٹے وہ اغواءکاروں کے پاس رہیں اور اس دوران ان پر تشدد کیا گیا اور تشدد کر کے انہیں بلیو ایریا میں پھینک دیا گیا۔۔ اس کے بعد افغان سفیر کی بیٹی کو زخمی حالت میں پمز ہسپتال میں داخل کروایا گیا جہاں ان کا علاج جاری ہے ۔ اس معاملے کی کوہسار پولیس سمیت دیگر ادارے بھی تحقیقات کر رہے ہیں۔

    ۔ پہلے پہل یہ خبر پاکستان کے کسی چینل میں نہیں چلائی گئی اس کی وجہ خطے کے کشیدہ حالات ہیں اور سب کو معلوم تھا کہ اس خبر کے بڑے گمبھیر نتائج ہو سکتے تھے۔ پھر جب افغان حکومت اور انٹرنیشنل میڈیا کی جانب سے اس اسٹوری کی بھرپور کوریج ہوئی اور بھارت کی جانب سے پاکستان مخالف پراپیگنڈہ شروع ہوا تو مجبوراً ہمارے وزیروں ایکشن لینا پڑا اور میڈیا کو بھی یہ اسٹوری چلانا پڑی ۔

    ۔ اس معاملے پربھی اب وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کا موقف آگیا ہے ۔ اس حوالے سے بڑے اہم سوالات بھی انھوں نے اٹھائے ہیں کہ افغان سفیر کی بیٹی نے خود ٹیکسی بک کی تھی۔ اس سے پہلے کسی سفیر کے اہلخانہ کے یوں پرائیویٹ ٹیکسی ہائر کرنے کا واقعہ پیش نہیں آیا۔ پہلے کہا گیا کہ ٹیکسی موبائل فون سے بک کرائی گئی لیکن پھر کہا گیا کہ فون گھر پر تھا، ایک موقف یہ بھی آیا کہ مبینہ اغوا کار موبائل فون اپنے ساتھ لے گیا۔ افغان سفیر کی بیٹی کے مبینہ اغوا کے واقعے میں دو ٹیکسیوں کا ذکر ہے۔ ایک ٹیکسی وہ ہے جس میں تشدد کیا گیا جب کہ دوسری وہ ٹیکسی ہے جس نے افغان سفیر کی بیٹی کی مدد کی۔ اس ٹیکسی ڈرائیور کو 500 روپے انعام بھی دیا گیا۔

    ۔ شیخ رشید نے یہ بھی کہا ہے کہ کیمرہ اور ویڈیوز کے مطابق افغان سفیر کی بیٹی گھر سے پیدل نکلیں ، مارکیٹ میں آئیں وہاں سے ٹیکسی لے کر شاپنگ کیلئے کھڈا مارکیٹ میں اتریں ، کھڈا مارکیٹ سے ایک اور ٹیکسی لی ۔ ہماری فوٹیج کے مطابق یہ راولپنڈی گئیں ،راولپنڈی کے شاپنگ مال اتریں ، ان کے اترنے کی فوٹیج موجود ہیں ، اس کے بعد یہ تیسری ٹیکسی پر دامن کوہ اتریں ،یہ راولپنڈی سے دامن کوہ کیسے پہنچیں اس پر کام ہو رہا ہے ، یہ ایف سکس سے گھر جا سکتی تھیں لیکن انہوں نے ایف نائن جانے کو اہمیت دی ۔ ۔ شیخ رشید نے یہ بھی بتایا کہ دوسرے ٹیکسی ڈرائیور کو ٹریس کرلیا گیا ہے۔ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں، مزید کارروائی افغان سفیر کی بیٹی کے تحریری بیان پر کی جائے گی۔ ان کے مطابق فی الحال اس واقعے کا کوئی دوسرا پہلو نظر نہیں آتا۔

    ۔ اب یہ خبریں بھی گردش کر رہی ہیں کہ جب یہ لڑکی بازیاب ہوئی تو اس کے دوپٹے کے ساتھ ایک ٹیشو پیپر اور پچاس روپے کا نوٹ بندھا ہوا تھا جس پر لکھا تھا کہ ۔۔۔ اگلی باری تمہاری ہے ۔۔۔

    ۔ اب یہ ایک کھلی دھمکی ہے اگر آنے والے دنوں میں اس حوالے سے افغان سفیر کو کچھ ہوتا ہے یا کسی اور کو کچھ ہوتا ہے ۔ تو پاکستان کے لیے شدید مسائل ہوسکتے ہیں ۔ ہم پر انگلیاں اٹھ سکتی ہیں ۔ کیونکہ اس وقت پاکستان کے خلاف بین الاقوامی طور پر خوب پراپیگنڈا ہو رہا ہے ۔ کہ ہمارے ہسپتالوں میں زخمی طالبان کا علاج ہو رہا ہے۔ افغان حکومت کبھی ہماری ایئر فورس پر الزام لگاتی ہے تو کبھی ہم پر کہ پاکستان سے افغانستان میں جنگجو جارہے ہیں ۔

    ۔ بھارت اس خبر کو لے کر ہمیشہ کی طرح ہمارے خلاف منفی پروپیگنڈا کررہا ہے ۔ اس واقعے پر بھی بھارت نے پرانی فوٹیج لگا کر پروپیگنڈا کیا اور عالمی میڈیا کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ۔ یہاں تک کہ ایک fakeتصویر کو افغان سفیر کی بیٹی بنا کر پیش کیاگیا ۔ اور اس معاملے کو دیکھتے ہوئے افغان سفیر خود میدان میں آئے اور انہوں نے تصحیح کرتے ہوئے اپنی بیٹی کی درست تصویر شیئر کی اور سا تھ پیغام بھی جاری کیا۔ کہ کسی اور کی تصویر سوشل میڈیا پر غلط پوسٹ کی گئی تھی ، حالانکہ میں اسے بالکل بھی نہیں جانتا ہوں۔

    ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس خطے اور ہماری اہمیت بڑ ھ چکی ہے ۔ جو مجھے سمجھ آتا ہے کہ ان واقعات کو سرانجام دینے والوں کا مقاصد یہ ہی دیکھائی دیتا ہے کہ امریکہ کے افغانستان سے نکل جانے کے بعد پاکستان بھی محفوظ نہیں رہا ہے ۔
    اس حوالے سے جو کرنے کا والے کام ہیں کہ سب سے پہلے تو تمام غیرملکیوں پر نظر رکھی جائے ۔ اپنی اندرونی سیکورٹی کو مزید مضبوط بنایا جائے ۔ جتنے بھی ہائی پروفال لوگ ہیں ان کی سیکورٹی میں اضافہ کیا جائے ۔ کیونکہ جو دشمن ہے اس مقاصد صاف دیکھائی دے رہاہے کہ وہ اس بدلتی صورتحال میں پاکستان کو بدنام کرناچاہتا ہے ۔ اور یقینی طور پر وہ ایسی چیزوں کو ٹارگٹ کرے گا جس سے بڑی خبر بنے اور انٹرنیشل میڈیا اس کو اٹھائے ۔ حکومت اور وزیروں کو بھی چاہیے کہ damage controlکرنے سے بہتر ہے کہ damage ہونے ہی نہ دیا جائے ۔ ۔ اب اگر آپ یہ سمجھ رہے ہیں کہ افغانستان کی وجہ سے صرف پاکستان کے مسائل میں اضافہ ہورہا ہے تو یہ بھی غلط ہے اور صرف تصویر کا ایک رخ ہے ۔ ۔ تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ ایران اور وسطی ایشیا کی ریاستوں کے علاوہ روس اور چین نے بھی افغانستان میں بگڑتے ہوئے حالات کے پیشِ نظر آپس میں صلاح مشورے شروع کر دیئے ہیں۔

    ۔ تاجکستان کے بعد ایران نے بھی افغان جنگ کے ممکنہ اثرات کو اپنے اپنے ملکوں میں داخل ہونے سے روکنے کیلئے سرحدوں پر فوجیں جمع کر دی ہیں۔ پاکستان پہلے ہی سرحد بندی کر چکا ہے ۔ باڑ لگا چکا ہے ۔ روس کا ماننا ہے اور وہ کہہ بھی رہا ہے کہ افغانستان کی وجہ سے پڑوسی ممالک میں عدم استحکام پھیل جانے کا حقیقی خطرہ موجود ہے ۔ اس لیے اب چین، روس، ایران اور وسط ایشیائی ریاستوں کے ہاں دوبارہ خدشات جنم لینے لگے ہیں ۔ دوسری طرف امریکہ اور مغربی اتحادی اپنی ناکامی یا پھر خانہ جنگی کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے جارہے ہیں۔ ادھر افغان حکومت امریکہ کی بے وفائی کے تذکرے کی ہمت یا اپنی ناکامیوں کے اعتراف کی بجائے سب الزام پاکستان کو دے رہی ہے۔ پاکستان، روس، ایران اور چین اس الجھن کا شکار ہوئے ہیں کہ وہ اس مرحلے پر طالبان کو ناراض کرنے کا رسک لیں یا پھر ان کی ضد کے آگے سرنڈر کر دیں۔ کہ وہ افغانستان کو پھر سے امارات اسلامی افغانستان بنادیں ۔ ایک اور چیلنج اس خطے کے تمام ممالک کے لیے یہ بھی ہے کہ سوویت یونین کی طرح امریکہ بکھر گیا ہے اور نہ اقتصادی لحاظ سے دیوالیہ ہو گیا ہے۔ اس کی فوج افغانستان سے نکل رہی ہے لیکن امریکہ نہیں نکل رہا۔ افغانستان کو چلانے کے لئے پیسہ اب بھی امریکہ ہی دے گا۔ سوویت یونین کی طرح وہ لاتعلق نہیں ہوگا بلکہ کچھ فاصلے پر خلیج میں اس کے بیس سے زائد فوجی اڈے موجود ہیں۔

    ۔ یعنی امریکہ فوج نکال کر بھی خطے کی مینجمنٹ کو اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتا ہے۔ اب اس کا بنیادی ہدف چین ہے۔ وہ افغانستان سے فوج کو نکال کر اسے چین اور روس کے لئے درد سر بنانا چاہے گا۔

    ۔ ساری پیش رفت ایسے انداز میں ہو رہی ہے کہ جس سے شک جنم لے رہا ہے کہ خود امریکہ کی خواہش ہے کہ طالبان افغانستان پر قابض ہو جائیں یا پھر یہاں پر بدترین خانہ جنگی ہو جائے۔ جنوب کی بجائے چین اور وسط ایشیائی ریاستوں سے متصل صوبوں میں کئی اضلاع پر بغیر مزاحمت کے طالبان کے کنٹرول نے اس تھیوری کو مزید تقویت بخشی ہے ۔ ۔ یوں جیسے جیسے امریکی فوجی انخلا اپنے اختتام تک پہنچ رہا ہے۔ افغانستان میں قیامِ امن کے لیے کوششوں کا فوکس اب علاقائی ملکوں کی طرف شفت ہو رہا ہے۔ کیونکہ افغانستان میں جنگ کے شعلے تیز ہوئے تو ان کی حدت سب سے زیادہ افغانستان کے ہمسایہ ممالک میں ہی محسوس ہو گی۔

    ۔ تو میری نظر میں صرف پاکستان ہی نہیں ۔ ایران ۔ روس ، چین اور سینڑل ایشیاء بھی خطرات سے دوچار ہے ۔ کیونکہ belt and road intiative اور سی پیک ان تمام ممالک سے لنک ہونا ہے ۔ جو امریکہ اور مغرب کو کھٹکھتا ہے ۔