Baaghi TV

Category: سیاست

  • "پاکستانی صحافت کی معراج”۔    تحریر:رانا آصف محبوب

    "پاکستانی صحافت کی معراج”۔    تحریر:رانا آصف محبوب

            

    معراج عروج سے نکلا ہے اور اس کے معنی ہی اوپر جانا یا چڑھنا ہیں۔انسان کو بھی اسی فطرت پر پیدا کیا گیا ہے کہ جس سے انسان اپنی زندگی میں اوپر کی طرف سفر کرے انسان اسی لئے بلندی کے حصول کی تگ و دو میں دن رات ایک کرتا ھے۔
    اسلامی جمہوریہ پاکستان کو بنے تقریبآ 73 سال ہو چکے اور یہ ریاست چار ستونوں پر کھڑی ھے بلکہ لیٹی ھے۔اس ریاست میں چار ستون اس طرح ٹھونکے گئے ہیں جس طرح کبھی شادیوں پر ٹینٹوں کے درمیان میں ایک بمبو ٹھونکا جاتا تھا جو تن تنہا نا صرف پورے ٹینٹوں کا بوجھ اٹھاتا تھا بلکہ اس کے گرد گھومنے والے بچوں کی گردش حالات کی گردش سمجھ کر برداشت کرتا تھا۔ پاکستان بننے کے بعد یقینا ایک تاثر تھا کہ فوج اور سیاست دان ریاست کے دو ستون ہیں ۔پھر رفتہ رفتہ جب بیگم نصرت بھٹو کیس ،جسٹس حمود الرحمن کیس ایسے چند واقعات رونماہوئے تو ریاست کے ستونوں میں ایک نئے باب کا اضافہ ہوا اور عدلیہ کو بھی ریاست کا تیسرا ستون تسلیم کر لیا گیا اور جب ججوں کے ایک ٹولے نے مشرف آمریت کو قانونی قرار دیتے ہوئے اسے آئین میں ترامیم تک کا حق عطا کر دیا تو اس ستون کی مسلمہ حیثیت کو چیلنج کرنا ناممکن بنا دیا۔

    اج ہم ریاست کے چوتھے ستون یعنی صحافت کی بات کریں گے۔صحافت پاکستان کا ستون مشرف کی بندوق سے نکلنے والی گولی ثابت ہوا۔اکیسویں صدی کے آغاز میں دنیا الیکٹرانک میڈیا کے چنگل میں پھنسی تو پاکستان بھی گلوبل ویلج کا حصہ بن کر اس سے محفوظ نہ رہ سکا اور الیکٹرانک میڈیا کی پرائیوٹائزیشن نے اپنے قدم جمائے تو پاکستان کے سیاسی، سماجی، معاشی، معاشرتی حلقے اور عسکری وجوڈیشری اس کے اثر سے ثمر آور ہوئے تو میڈیا ریاست کے چوتھے ستون کی حیثیت سے اپنے آپ کو متعارف نہ صرف کروا چکا تھا بلکہ کنگ میکر کی حیثیت اختیار کر چکا تھا۔

    میڈیا پہلے اتنا آزاد اور مضبوط نہیں تھا وقت کے ساتھ ساتھ اسکی اہمیت میں ا ضافہ ہوا تو سیاستدانوں نے میڈیا کے اس میدان میں اپنے مطلب کے دوست تلاش کر لیے ۔ پھر جب 21ویں صدی کے آغاز میں پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا نے پاﺅں جمانے شروع کیے اور امن کی آشا کے نام پر ہنودویہود نصاری سے دولت اکٹھی کرنے کو اپنا مقصد حیات بنا لیا اور میڈیا میں موجود ایسے گروپوں نے خبر بتانے کی بجائے خبر بنانے کو صحافت کا شیوا بنا لیایہی وجہ ہے کہ یہ اپنے ذاتی مفادات کے لیے کبھی آمروں سے مل جاتے ہیں اور کبھی اپنے ہی تراشیدہ بتوں سے مہم جوئی شروع کر لیتے ہیں۔سوشل میڈیا کے دور میں اب اپنے ہی خیالات سے بھاگنا ناممکن ہو چکا ھے چہ جائیکہ وہ عوام تک ٹؤئیٹ یا فیس بک سٹیٹس کی مد میں نا پہنچ سکیں۔آج کا صحافی اپنے پیشے کے اعتبار سے صحافی کم اور کسی سیاسی یا طاقتور ادارے کا سپوکس پرسن بن چکا ھے۔اس کے باوجود کہ الیکٹرانک میڈیا کی عوام میں تیزی سے گرتی ساکھ کا زمہ دار بھی یہ خبر دینے کی بجائے خبر بنانے والے صحافی ہیں جو ہر بات پر "تو” کی گفتگو کرنے سے بھی گریز نہی کرتے۔پہلے صحافت کی معراج سچی اور مصدقہ زرائع سے من و عن خبر دینا سمجھا جاتا تھا۔لیکن مادہ کی اس دورڑھ میں شاید معراج کے معنی بدل دئیے ہیں۔آج پاکستان کے صحافی کی معراج ہوا میں اڑتا ھیلی کاپٹر ھے جس میں بیٹھ کر وہ کسی طاقتور انسان کا انٹرویو کر کے سوشل میڈیا پر تصاویر اپ لورڈ کر سکے۔آج کے صحافی کی معراج کے پائیدان یقینأ غلام گردشوں کی دھلیز سے شروع ہو کر غلام گردشوں کی دھلیز پر ہی ختم ہو جاتے ہیں۔

    تحریر:رانا آصف محبوب
    Twitter iD:@RAsifViews

  • لوگ کیا کہیں گے .تحریر: فرمان اللہ

    لوگ کیا کہیں گے .تحریر: فرمان اللہ

    یہ جملہ اکثر اوقات آپ سنتے ہوں گے کہ اگر ایسا نہ کیا تو لوگ کیا کہیں گے اور اس جملے کی وجہ سے ہم اکثر اوقات مشکلات کا شکار رہتے ہیں۔ ہم بعض اوقات اسلام کے بتائے ہوئے احکامات کے خلاف بھی چلے جاتے ہیں کیونکہ اگر ایسا نہ کیا تو لوگ کیا کہیں گے۔

    شادی کی تقریب کرنی ہے تو اپنی حیثیت سے بڑھ کر اخراجات کرنے ہیں کیونکہ اگر ایسا نہ کیا تو لوگ کیا کہیں گے۔ بچی کو جہیز دینا ہے اور جہیز ایک لعنت ہے لیکن دینا ہے کیونکہ اگر ایسا نہ کیا تو لوگ کیا کہیں گے۔ شادی بیاہ پر جانا ہے تو اچھے اور مہنگے کپڑے پہن کر جانا ہے اور اگر ایسا نہ کیا تو لوگ کیا کہیں گے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس جملے نے انسان سے اس کی اپنی خواہش چھین لی ہے اور ہم ساری عمر بس وہی کرتے ہیں جس سے لوگوں کو خوش کر سکیں۔

    ہمارا معاشرہ اگر اس جملے کو ہی ترک کر دے تو ہمارے بہت سارے مسائل حل ہو جائیں گے اور ہم بہت ساری مشکلات سے باہر آ جائیں گے لیکن ہمارے معاشرے میں یہ ایک رواج بن چکا ہے اور سب اس بات کو بخوبی جانتے بھی ہیں لیکن پھر بھی اپنی سوچ اور حیثیت سے ہٹ کر کام کریں گے کیونکہ اگر ایسا نہ کیا تو لوگ کیا کہیں گے

    میرا مشورہ ہے کہ لوگوں کو جو کہنا ہے کہنے دیں آپ وہ کریں جس کا حکم ہمیں ہمارے دین نے دیا ہے وہ کریں جو آپ کی حیثیت کے مطابق ہو۔

  • پاکستان اور اس کا مستقبل،تحریر: اسعد گل اعوان

    پاکستان اور اس کا مستقبل،تحریر: اسعد گل اعوان

    پاکستان کا مستقبل سیاسی، مزہبی اور دفاعی لحاظ سے بہت اہمیت کا حامل ہے۔پاکستان دنیا میں ایٹمی قوت سے جانا جاتا ہے۔ پاکستان اس وقت عالمی طاقتوں کیلئے بہت اہم ہے چاہے وہ روس ہو، چائنا ہو، امریکہ ہو یا پھر عرب ممالک۔ پاکستان کئی سالوں سے دہشت گردی کا مقابلہ کر رہا ہے جس کے نتیجہ میں ستر ہزار سے زائد عام شہری اور افواج پاکستان کے جوان اپنی جانوں کا نظرانہ پیش کر چکے اور یہ سلسلہ ابھی بھی جاری ہے۔ جیسے کہ پہلے کہہ چکا پاکستان کا مستقبل سیاسی،مزہبی اور دفاعی اعتبار سے بہت اہمیت کا حامل ہے تو آئیں ان تینوں پہلوؤں کا الگ سے جائزہ لیتے ہیں۔
    1- سیاسی پہلو:
    پاکستان نے مارشل لاء میں کافی وقت سامنا کیا کیونکہ ہم پر ہمیشہ سے نا اہل حکمران مسلط رہےجنھوں نے صرف اپنے زاتی کاروبار کو آگے بڑھایا۔ مارشل لاء کی وجہ سے پاکستان کو کافی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا لیکن اس کے باوجود پاکستان معاشی طور پر مستحکم رہا۔ پہلے مارشل لاء میں بھی پاکستان معاشی طور پر اتنا مضبوط تھا کہ دوسرے ملکوں کو قرضے فراہم کرتا تھا۔ لیکن مفاد پرست ٹولے کے آنے کے بعد پاکستان کو کشکول اٹھانا پڑا۔ اور پھر اس کرپٹ ٹولی کی آپس کی باریوں کی بدولت پاکستان قرضوں میں ڈوب گیا۔پاکستان کو بہت عرصے بعد ایک ایسی قیادت نصیب ہوئی جس نے اپنے زاتی کاروبار کے بجائے پاکستان کو اہمیت دی اور مزید دیوالیہ ہونے سے بچایا جو اس کرپٹ ٹولے کو ہضم نہ ہوا۔ پاکستان اس وقت عمران خان کی قیادت میں مسحکم کی طرف تیزی سے گامزن ہے۔ اور انشاءاللہ وہ وقت دور نہیں جب ٹیکسٹائل سے لے کر آئی ٹی تک پاکستان دنیا میں اپنا نام بنائے گا۔
    2-مزہبی پہلو:
    پاکستان کے وجود میں دین اسلام خاصی اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان کا 27 رمضان کو وجود میں آنا پھر کلمے کی بنیاد پر نام رکھا جانا اللہ کی طرف سے خاص تحفہ ہے۔ ماضی میں پاکستان نے فرقہ ورانہ دہشت گردی کا بھی سامنا کیا۔ حکومت وقت کی پابندیوں اور اقدام کی وجہ سے پاکستان کافی حد تک فرقہ ورانہ دہشت گردی کو ختم کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ دین اسلام کی سر بلندی اور حضور پاک ﷺ کی ناموس کیلئے جس قدر مضبوط آواز عمران خان نے اٹھائی اس پر عمران خان کی تعریف نہ کرنا نا انصافی ہو گی۔سیاسی پہلو کے ساتھ مزہبی پہلو سے بھی عمران خان پاکستان کے امیج کو بہتر کی طرف لے جا رہے۔

    3- دفاعی پہلو:
    پاکستان دفاعی لحاظ سے کافی مضبوط ملک ہے۔ جس کے پاس جدید ترین ہتھیار، بہترین صلاحیت کی حامل افواج اور دنیا کی اعلی ترین انٹیلیجنس ایجنسی ہے۔ پاکستان کافی عرصے سے دہشت گردی کا مقابلہ کر رہا ہے چاہے وہ ٹی ٹی پی ہو، مشرکی اور مغربی بارڈر ہو، بھارتی ایجنسی را کے دہشت گرد ہوں یا بھارت کی حمایت یافتہ بی ایل اے کے دہشت گرد ہوں۔ افواج پاکستان بہت سے عالمی ساشوں کا مقابلہ کر رہی ہے۔ معرض وجود سے لے کر آج تک پاکستان بہت سے ملکوں کی آنکھوں میں کھٹک رہا ہے لیکن با صلاحیت اور جنگی حالات گزری ہوئی تجربہ کار فوج کے بدولت پاکستان آج بھی قائم ہے اور انشاءاللہ پاکستان کو ختم کرنے کا خواب دشمنان پاکستان کیلئے شرمندہ تعبیر ہوگا ۔

  • سوشل میڈیا کا مثبت استعمال اورراج . تحریر :‌ زاہد نبی گل

    سوشل میڈیا کا مثبت استعمال اورراج . تحریر :‌ زاہد نبی گل

    سوشل میڈیا پراگلے بیس سالوں میں کوئی دوسری جماعت تحریک کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ تحریک انصاف کے وولنٹیراورایکٹوسٹ جو پچھلے دس سالوں سے عمران کے نظریہ کے لیے سوشل میڈیا پربغیرکسی پیسہ کے مسلسل جدوجہد کررہے ہیں ان کا مقابلہ کرنا کسی دوسری جماعت کے بس میں نظرنہیں آرہا۔ سب سے بڑی وجہ نظریہ ہے جو تحریکی ایکٹوسٹ وولنٹیر کے پاس ہے۔

    پوری دنیا امریکا یورپ گلف یہاں تک کے افریقہ میں بیٹھے پاکستانی عمران خان کے فری میں وولنٹیر ہیں نظریہ عمران خان نیا پاکستان کے لیے وقت نکالتے ہیں. ایسی فورس اوردوسری کسی جماعت کے پاس دوردورتک نظرنہیں آتی۔ ‏فارن نیشنل کے بعد پاکستان میں بیٹھے لاکھوں سوشل میڈیا وولنٹیر بغیرکسی لالچ کے خان کا ساتھ دیتے ہیں. خان کے کہے بغیراس کی جنگ لڑتے ہیں دوسری طرف ذبردستی والا حساب ہمیں دیکھنے کوملتا ہے۔ پیڈ کمپین چلتی ہیں کیونکہ کسی دوسری جماعت کے پاس ابھی تک کوئ نظریہ نہی ہے ۔

    آخرمیں یہ کہ تحریک انصاف کے سوشل میڈیا وولنٹیر نظریہ عمران خان نیا پاکستان کے ساتھ ساتھ پاکستان کے دشمنوں کو بھی منہ توڑ جواب دیتے ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ تحریک انصاف کے وولنٹیرکا مقابلہ دوردورتک نظر نہیں آتا۔

    @ZahidNabiGill

  • پاکستان اورپاکستانی سیاست . تحریر: نواب فیصل اعوان

    پاکستان اورپاکستانی سیاست . تحریر: نواب فیصل اعوان

    پاکستان کو بنے 74 سال بیت جانے کے باوجود بھی پاکستان حقیقی معنوں میں وہ پاکستان نہیں بنا جس کا تصوراقبال نےدیکھا تھا اورقاٸداعظم نےعملی جامہ پہنایا تھا. سیاست نے ہمیں اس قدرگرا دیا ہے کہ ہم انسانیت کے درجے سے ہی گرگئے ہیں. پاکستان بننے سے لے کر اب تک کی پاکستانی سیاست کواگردیکھا جائے تو پاکستانی سیاستدانوں کی آپسی چپقلش اوروڈیرہ شاہی کی ہی وجہ سے ہم بنگلہ دیش سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں. اگراس وقت بھٹو اورمجیب دونوں مل کے اپنے مساٸل ملکی سلامتی کیلۓ حل کرلیتے تو آج بنگلہ دیش پاکستان کا حصہ ہوتا اور ہم آپسی اتحاد واتفاق کی بدولت دنیا کی متحد، ترقی یافتہ اورمہذب قوم گردانے جاتے مگرافسوس کہ ذاتی مفادات کی بھینٹ چڑھ گئے.

    اگرموجودہ صورتحال اورسیاست کا موازنہ کیا جاۓ تومیرے خیال سے پاکستان عالمی سطح پہ پاکستانی سیاستدانوں کی ہی وجہ سے بدنام ہے. ہم اپنے مفادات کی خاط ملک پاکستان سےغداری کرتے گئے اورحالات ایسے ہوچکے ہیں کہ ہرمحب الوطن پاکستانی ان حالات پہ پریشان ہے. پاکستان کے قیام سے لے کراب تک صرف چارسو خاندان اس ملک کی سیاست پرراج کرتے آئے ہیں ان خاندانوں کو مزید تقسیم کر دیا جائے تو ان کی تعداد تقریباﹰ ایک ہزاربنتی ہے. آج تک یہی بے رحم ایلیٹ کلاس اقتدارکے ایوانوں میں بیٹھ سکتے ہیں، بلکہ غریب عوام کو خوشحال بنانے، انہیں تین وقت کی روٹی دینے، سڑکیں، گلیاں، تعلیم اورصاف پانی فراہم کرنے کے نعرے لگاتی آئی ہے گو کہ کسی نے ایسا ممکن نہیں بنایا.

    پاکستان میں بدترین فوجی آمریت ہو یا جمہوریت، حکومت مسلم لیگ کی ہو یا پیپلز پارٹی کی، تحریک انصاف کی ہو یا پھر ق لیگ کی، اسمبلیوں تک نوے فیصد انہی ایک ہزارخاندانوں کے جاگیردار، زمیندار، صنعت کار اورقبائلی سردار پہنچتے ہیں باقی سیاستدانوں کو یا تو جبری دستبردارکرایا جاتا ہے یا ایسے کردارکشی کی جاتی ہے کہ اللہ امان وہ خود ہی تنگ آ کے سیاست سے دوری اختیارکرجاتے ہیں.
    اس وقت بیشتر سیاسی جماعتیں محض نام کی جمہوری جماعتیں ہیں ان نام نہاد جمہوری سیاسی جماعتوں کے تمام ترفیصلے صرف چند لیڈر آمرانہ اندازمیں کررہے ہیں ان سیاسی جماعتوں کی جمہوریت کی اوقات صرف اتنی ہے کہ ایک طرف عشروں سے چلے آ رہے یہ خاندانی لیڈرہیں اوردوسری طرف ان کی پیروی کرنے والے نسلی غلام ہیں.

    یہی سلسلہ نسل درنسل چلا آرہا ہے. پچاس کی دہائی سے لے کرآج تک تقریباﹰ ان ایک ہزارخاندانوں کا مرکزی مقصد اپنے ذاتی مفادات، اپنے رشتہ داروں، اپنے خاندان یا پھرزیادہ سے زیادہ اپنے قبیلے یا برادری کے مفادات کا تحفظ رہا ہے باقی عوام کو وعدوں کے چورن ہی بیچے گئے ایک پلڑے میں پاکستان کے نوے فیصد قانون سازوں، ایم پی ایزاورایم این ایزکی ذاتی لینڈ کروزرز، محل نما بنگلوں، زمینوں اور جائیدادوں کو رکھیں اوردوسرے پلڑے میں پاکستان کے دو سو ملین سے زائد عوام کو ملنے والی سہولیات کو رکھیں، آپ کو فرق سے پتہ چل جائے گا کہ قوم یا عوام کے مفاد میں انہوں نے کس قدر ’’جانفشانی‘‘ سے کام کیا ہے. عوام ان سیاستدانوں سے اپنی بنیادی سہولیات تک مانگتے ہوۓ ڈرتی ہے کیونکہ یہ زمینی خدا بنے بیٹھے ہیں.

    بقول نواب فیصل فیبی، میں ڈرتا ہوں ان سے کوئی بھی درخواست کرنے کوسفید پوش ہوں ڈرلگتا ہے کہیں پرچے نہ کرا دیں پاکستان کی سیاست اب غلاظت کے سوا کچھ نہیں رہی ایک دوسرے پہ الزام تراشیوں سے لیکرایک دوسرے کی کردارکشی تک سب چلتا ہے. غیرملکی آقاٶں کو خوش کرنے کیلۓ اس ارض پاک کے خلاف بیانات دے کریا اشتعال انگیزی پھیلانے سے بھی گریزنہیں کیا جاتا ہے.

    فرمان قاٸد ہے کہ، اگر ہم اس عظیم مملکت کو خوش اورخوشحال بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی پوری توجہ لوگوں اوربلخصوص غریب طبقے کی فلاح و بہبود پرمرکوزکرنی ہوگی.

    لیکن افسوس ہم بانی پاکستان قاٸداعظم محمد علی جناح کے سنہری اقوال ہی بھول گئے ہیں. یہی پاکستانی سیاست دان اسراٸیل کے دوروں پہ جاتے رہے ہیں جبکہ قاٸد فرما گئے تھے کہ ” اسراٸیل ایک ناجاٸز ریاست ہے جسے امت کے پیٹ میں گھونپا گیا ہے اسے پاکستان کبھی تسلیم نہیں کرے گا “

    الغرض ہم اپنی تاریخ اوراپنے محسنوں کو بھول کے اپنے ذاتی مفادات کو ترجیح دینے لگ گئے اورپاکستان کو ایک صدی پیچھے جا چھوڑا ہے. ہم نے اجداد کے خون کے ساتھ وفا نہ کی، ہم اجداد کی قربانیاں بھول گئے، ہم بے حس ہوگئے، کسی بھی ملک کی سیاست اورسیاستدان ملک کی ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہوتے ہیں اگر ہڈی مضبوط ہے تو آپ کھڑے ہیں اگر ہڈی ٹوٹ جاۓ تو آپ بیٹھ جاتے ہیں اوریہی کچھ میرے ملک پاکستان کے ساتھ پاکستانی سیاستدانوں نے کیا ہے.

    @NawabFebi

  • سیاست اوراسلام . تحریر: ملک منیب محمود

    سیاست اوراسلام . تحریر: ملک منیب محمود

    اسلام میں سیاست اُس فعل کو کہتے ہیں جس کے انجام دینے سے لوگوں میں بھلائی ہو اورفسادات دُورہوجائیں. جبکہ اہل مغرب حکومت کرنے کو سیاست کہتے ہیں ۔اہل مغرب کی نظر میں حکومت کرنے کے 2 ہی اصول ہیں، ڈکٹیٹر شپ اورجمہوریت.

    کچھ اسلامی ممالک میں بادشاہی نظام بھی متعارف ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اسلام اورسیاست کا تعلق کیا ہے؟
    کیا اسلام نے کوئی سیاست کے اصول بتائے ہیں کیا، احدیث اس بارے میں کیا کہتی ہے اورقرآن میں سیاست کے بارے میں کیا کیا حکم ہے؟
    قرآن کریم میں لفظ سیاست تو نہیں البتہ ایسی بہت سی آیتیں موجود ہیں جو سیاست کے مفہوم کو واضح کرتی ہیں، بلکہ قرآن کا بیشتر حصّہ سیاست پرمشتمل ہے، مثلاً عدل و انصاف، امربالمعروف و نہی عن المنکر، مظلوموں سے اظہارِہمدردی وحمایت، ظالم اورظلم سے نفرت اور اس کے علاوہ انبیا ٴاوراولیأ کرام کا اندازِسیاست بھی قرآن مجید میں بیان کیا گیا ہے۔

    وقال لہم نبیّہم انّ اللّٰہ قد بعث لکم طالوت ملکاً، قالوا انّی یکون لہ الملک علینا و نحن احق بالملک منہ ولم یوت سعة من المال قال انّ اللّٰہ اصطفہ علیکم وزادہ بسطة فی العلم والجسم واللّٰہ یوتی ملکہ من یشآء واللّٰہ واسع علیم “ (سورہٴ بقرہ، آیت 247 )

    ترجمہ : ”ان کے پیغمبر نے کہا کہ اللہ نے تمہارے لیے طالوت کو حاکم مقررکیا ہے۔ ان لوگوں نے کہا کہ یہ کس طرح حکومت کریں گے۔ ان کے پاس تو مال کی فراوانی نہیں ہے۔ ان سے زیادہ تو ہم ہی حقدارحکومت ہیں۔ نبی نے جواب دیا کہ انہیں اللہ نے تمہارے لیے منتخب کیا ہے اور علم و جسم میں وسعت عطا فرمائی ہے اوراللہ جسے چاہتا ہے اپنا ملک دے دیتا ہے کہ وہ صاحب وسعت بھی ہے اورصاحب علم بھی “

    اس آیت سے ان لوگوں کے سیاسی فلسفہ کی نفی ہوتی ہے جو سیاست مدارکے لیے مال کی فراوانی وغیرہ کو معیارقراردیتے ہیں، سیاستمدار کے لیے ذاتی طور پر” غنی “ ہونا کا فی نہیں ہے بلکہ اسے عالم وشجاع ہونا چاہیے۔ اِس آیت کو ہم ایک اورزاویہ سے دیکھے تو جوآج سے 1000 سال پہلے کلیسائی نظام تھا اُسکے مطابق ریاست کا سربراہ حُکم الٰہی کی طرف سے ہوتا ہے مطلب یہ کہ اُنکے مطابق ریاست کا سربراہا اللہ کی مرضی سے ہوتا ہے ۔

    اب حدیث کا بھی مطالعہ کرتے ہیں کہ حدیث کیا کہتی ہے اِس بارے میں
    حدیث میں سیاست کے معنی : عدل و انصاف اور تعلیم و تربیت کے ہیں۔
    جبکہ علمأ کی نظرمیں : رسول اللہ ﷺ اورخلفائے راشدین رضوان اللہ علیہم اجمعین کی سیرت و روش، استعمار سے جنگ، مفاصد سے روکنا، نصیحت کرنا سیاست ہے۔

    قرآن میں سیاست کے معنی : حاکم کا لوگوں کے درمیان میں حق کے ساتھ فیصلہ کرنا، معاشرے کو ظلم و ستم سے نجات دینا، امربالمعروف و نہی عن المنکرکرنا اوررشوت وغیرہ کو ممنوع قراردینا ہے. آج سے 14 سو سال پہلے اگر ہم حکومت کرنے کے اصول دیکھے جوھمارے نبی صلی علیہ وآلہ وسلّم نے اپنائے، جہاں امیرغریب، طاقتوراورکمزورسب برابرتھے. انصاف کا حصول اتنا ہی آسان تھا جتنا آج کے دور میں عدلیہ کا پیسوں کی خاطربک جانا ہے۔

    حضرت عمر فاروق کا زمانہ آج بھی مثل راہ ہے، وہ ایسا دور تھا جب ایک انسان کا بھوکا سوجانا بھی حکمران کو ہلا کر رکھ دیتا تھا۔ سب کوبنیادی حق حاصل تھا تمام مذاھب کے لوگ اُس ایک پرچم کے نیچے آباد تھے۔ آج کی سیاست سے موازنہ کیا جائے تومکمل طورپرتبدیل ہوچکا ہے۔ آج کے زمانہ انصاف كا حصول مشکل ترین فعل ہے۔ لوگ اپنے بنیادی حقوقِ ملنے سے قاصر ہیں۔ امیرغریب کا فرق ہرجگہ کیا جاتا ہے۔ آج بھی ہم اگر اُن بنیادی اصول پرعمل کرنے لگ جائے تو اسلامی ریاست ممکن ہے اوراُس لحاظ سے اسلام اورسیاست کا تعلق بہت گہرا ہے۔

    @MMUNEEBPTI

  • پنجاب حکومت کا عوام دوست بجٹ . تحریر:شعیب قدیر ملک

    پنجاب حکومت کا عوام دوست بجٹ . تحریر:شعیب قدیر ملک

    وزیر اعلٰی پنجاب سردار عثمان بزدار نے ایسے وقت میں عوام دوست بجٹ پیش کرکے مخالفین کے منہ بند کردیئے ہیں جب ملک میں کرونا کی عالمی وبا نے معاشی طور پر ایک عام آدمی سے اس کی قوت استطا عت چھین لی ہے بزدار حکومت کی طرف سے یہ بجٹ 2,653ارب روپے کا بجٹ تھا گو اپوزیشن نے حسب روایت لفظوں کی گولہ باری اور الزام تراشی میں کوئی کسراُٹھا نہ رکھی لیکن یہ ایک حقیقت پسندانہ اور متوازن بجٹ تھا جس میں کسی بھی شعبے پر اضافی بوجھ نہیں ڈالا گیا بلکہ 23شعبوں کو ٹیکس میں ریلیف دیا گیا جنوبی پنجاب کے عوام جن کے ذہن میں ایک تصور نے جنم لیا کہ وہ تخت لاہور کے قیدی ہیں اور ان کی قسمت کے فیصلے بھی تخت لاہور ہی کرتا ہے عثمان بزدار کی حکومت میں اس تصور کو یکسر ختم کردیا اور جنوبی پنجاب کے عوام کیلئے ایک بھاری رقم جو 189ارب روپے ہے علیحدہ بجٹ کی شکل میں مختص کردی گئی عوام کی مالی مشکلات تو کسی دور میں بھی کم کرنے کی کاوش نہیں کی گئی، اس سے بڑی اور قباحت کیا ہوسکتی ہے کہ جانے والی حکومت کی ناقص حکمرانی کے باعث 56ارب روپے کے واجب الادا چیکس تھے جس کے ساتھ 41ارب روپے کے اوور ڈرافٹس اور اعلیٰ خدمت کا دھنڈورا پیٹنے والوں نے 8000سے زائد نامکمل سکیمیں آنے والی حکومت کیلئے چھوڑیں زراعت کیلئے ایسی پالیسیاں بنائی گئیں جنہوں نے ایک ایسے شعبے کی تباہی کی بنیاد رکھی جسے وطن عزیز میں سب سے بڑی صنعت قرار دیا جاسکتا ہے اور پاکستان کے 79فیصد افراد کا معاشی انحصار اس شعبے کے ساتھ وابستہ ہے اس شعبے کیلئے پالیسیاں بنانے والے ایسے افراد تھے جن کا زراعت سے دور کا بھی واسطہ نہیں تھا اسی طرح سابقہ ادوار میں تعلیم کے شعبہ میں بھی ایسی پالیسیاں متعارف کرائی گئیں جس سے عام فرد وطن پر تعلیم کے دروازے بند ہو گئے کووڈ 19کی وبا نے بھی وطن عزیز میں اپنے خونی پنجے گاڑھ لئے کوئی اور حکومت ہوتی تو شاید حالات اس کے کنٹرول میں نہ رہتے مگر موجودہ حکومت نے اپنی بہترین حکمت عملی کے باعث پاکستان کو ان تین ممالک کی صف میں لاکھڑا کیا جنہوں نے کووڈ پر قابو پانے میں پہلے تین ممالک کا اعزاز پایا اس صورت حال سے نمٹنے کیلئے 106ارب روپے کا ریلیف فراہم کیا گیا جس میں کاروباری طبقہ کیلئے روزگار کی بحالی کیلئے 56ارب روپے کا تاریخی ٹیکس ریلیف دیا گیا اور یہ پہلی بار ہوا ہے کہ تعلیم اور صحت کیلے 205ارب 50کروڑ کی کثیر رقم مختص کی گئی ہے سابقہ ادوار میں ترقیاتی کاموں کا ڈھنڈورا پیٹا گیا لیکن موجودہ دور میں حالیہ بجٹ میں ان کاموں کیلئے 66فیصد زائد رقم کا ضافہ کیا گیا ہے پانچ شعبہ جات جو انتہائی اہم ہیں جن میں صنعت، زراعت،لائیو سٹاک،ٹورازم،جنگلات کے شعبہ جات شامل ہیں کیلئے پہلی بار 57ارب 90کروڑ کی رقم مختص کی گئی یہ اعجاز بھی عثمان بزدار کی حکومت کو ہی جاتا ہے صحت کا شعبہ ہمیشہ سے نظر انداز ہوتا رہا ہے لیکن جنوبی پنجاب خاص طور پر جہاں عوام کو صحت کی بنیادی سہولیات تک میسر نہیں ہیں پنجاب کی 11کروڑ آبادی کی ہیلتھ انشورنس ایک طرف صرف ڈیرہ غازیخان ڈویژن کیلئے ہر وہ فرد جو شناختی کارڈ کا حامل ہے کیلئے ”صحت انصاف“کارڈ کی سہولت رکھی گئی اور ساہیوال و ڈیرہ غازیخان میں قومی شناختی کارڈ کوہی صحت انصاف کارڈ کا درجہ دے دیا گیا جنوبی پنجاب جہاں انسانیت بنیادی سہولیات کیلئے ترستی ہے حالیہ بجٹ میں جنوبی پنجاب کے عوام کیلئے اور انسانی ترقی پر خرچ کرنے کیلئے کثیر رقم مختص کی گئی، صحت تعلیم اور انفراسٹرکچر کے میدان میں بزدار حکومت انقلاب برپا کرنے جا رہی ہے، پہلی مرتبہ جنوبی پنجاب کی پسماندگی کا خاتمہ ہو رہا ہے۔اگر ہم دیکھیں تو اپوزیشن نے حکومت کے عوام دوست اقدامات پر بھی واویلہ پر ہی اکتفا کیا

    نااہل اپوزیشن کی راہیں جدا جدا ہوچکیہیں اسمبلی میں بھی یہ متفق نہ ہوسکے، ان کو صرف اپنی لوٹ مار اور چوری چکاری بچانے کی فکر رہی، وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدانے پنجاب اسمبلی میں اپنی تقریر میں عوامی نمائندوں اور عوام کے سامنے بدلتے ترقی کرتے پھلتے پھولتے پنجاب کا نقشہ فارمولا اور روڈ میپ پیش کیا گگیا اس سے بڑی بات اور کیا ہوسکتی ہے کہ ڈگری یافتہ ایک نسل روزگار کیلئے سرکاری دفاترز کی دہلیز پر دھکے کھا رہی ہے سردار عثمان بزدار کا تعلق چونکہ جنوبی پنجاب سے تھا اس لئے انہوں نے جنوبی پنجاب کے نوجوانوں کی محرومی کا احساس کیا اور صوبائی ملازمتوں میں 32 فیصد کوٹہ مختص کیا۔ میانوالی اوربھکر کو شامل کرنے پرکوٹہ 35 فیصد کردیا جائے گا۔یہ سردار عثمان بزدار کا عہداورعزم تھاکہ جنوبی پنجاب کی پسماندگی کے ازالے کو مشن بنا لیا۔ اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ سابق حکمرانوں نے محروم علاقوں کی پسماندگی دور کرنے کے لئے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا۔ لاہور میں بیٹھ کر فیصلے کرنے والے دور دراز علاقوں کے مسائل سے یکسر لا علم رہے جب کہ عثمان بزدار نے لاہور میں بیٹھ کر پسماندہ علاقوں کی نمائندگی کی۔وہ ہر ضلع اورہر تحصیل میں جاکرمسائل اورضروریات کا جائزہ لیتے رہے۔ انہوں نے دیگر علاقوں کی طرح پسماندہ علاقوں میں بھی فلاح عامہ کی سکیموں پر کام مزید تیز کرنے کی ہدایت کی۔ حالیہ بجٹ سے ایک بات ثابت ہوئی کہ پنجاب حکومت نے جنوبی پنجاب کی 71 سالہ محرومیوں کے خاتمہ کیلئے وسائل کا رخ جنوبی پنجاب کیطرف موڑ ا جس سے پسماندگی کا خاتمہ اور ترقی کے نئے دور کا آغاز ہوا۔ وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان احمد خان بزدار کی کاوش سے جنوبی پنجاب میں ترقی کی نئی راہیں ہموارہونے لگی ہیں۔ جہاں تک جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ بہاولپور کا معاملہ ہے تو سیکٹریٹ وہی بنے گا،سیاست عوام کی خدمت کا نام ہے اورالزامات برائے الزامات کی سیاست میں عوامی خدمت نہیں بلکہ عوام کی خاطر کام کرنے والوں کی حوصلہ شکنی کو وطیرہ بنایا گیا۔ پراپیگنڈا کرنے والے عناصرہمیشہ مخصوص ایجنڈا لیکر چلتے رہے۔ ماضی میں جنوبی پنجاب سمیت صوبے کے بڑے حصے کو ترقیاتی منصوبوں تک سے محروم رکھا گیا۔سابق حکمرانوں نے جنوبی پنجاب کے لئے مختص فنڈز کو بھی ذاتی پسند کے منصوبوں پر خرچ کیا اور گزشتہ 7برس کے دوران جنوبی پنجاب کو265 ارب روپے کی رقم سے محروم کیا گیا اور جنوبی پنجاب کے عوام کے لئے ترقی وخوشحالی کے منصوبے صرف کھوکھلے نعرے ہی رہے۔موجودہ حکومت پنجاب پورے صوبے میں وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ترقی کے یکساں مواقع فراہم نا اپنا عزم سمجھتی ہے۔در اصل جنوبی پنجاب کے عوام سے ماضی میں کی گئی زیادتیوں کے ازالے کا وقت آ گیا ہے۔ یہ خوش آئند بات ہے کہ پنجاب حکومت نے پسماندہ علاقوں کے لوگوں کی قسمت بدلنے کیلئے حالیہ بجٹ میں بڑے اقدامات اٹھا ئے اور یہ بھی پہلی بار ہوا ہے کہ ترقیاتی بجٹ میں 66 فیصد تاریخی اضافہ کیا گیا۔پنجاب کے بجٹ کی شفافیت پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا۔صحت کی سہولیات کی فراہمی بھی موجودہ پنجاب حکومت کی اولین ترجیح رہی۔ ہر ضلع کا علیحدہ ڈویلپمنٹ پیکیج بنانا وزیر اعلیٰ کا بہترین اقدام ٹھہرا۔پی ٹی آئی حکومت نے جنوبی پنجاب کے ہر ضلع کو 35 ارب روپے کا ریکارڈ بجٹ دیکر مثالی بجٹ پیش کیا جس پر وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار مبارکباد کے مستحق ہیں۔علاقہ بھر میں بجلی کی ترسیل،پینے کے پانی کی فراہمی،ہاکڑہ نہر کی توسیع،ریسکیو 1122 سمیت مختلف شاہرات کے منصوبے منظور ہوئے۔ عوام باشعور ہیں بہتر سمجھتے ہیں کہ اب کسی اور کے منصوبوں پر اپنی تختیاں لگوانے کی سیاست ختم ہو چکی ہے۔ نامساعد حالات کے باوجود 350ارب روپے سے زائدرقم ترقیاتی کاموں کے لیے جنوبی پنجاب کے لیے فنڈز کا مختص کرنا ترقی کی نوید نہیں تو اور کیا ہے۔پسماندہ ضلع لیہ کے لیے اربوں روپے کی مالیت سے ایم ایم روڈ دورویہ تعمیر،دوسوبستر پر مشتمل چار ارب روپے کی لاگت سے زچہ بچہ ہسپتال و نرسنگ سکول کی تعمیر،50کروڑ روپے کی لاگت سے سیوریج سکیموں کی اپ گریڈیشن،گریٹر تھل کینال فیز llتحصیل چوبارہ کے لیے ساڑھے نو ارب روپے مختص کرنے،حفاظتی و سپربندوں کی تعمیر،ریگولیٹری کے کام کی تکمیل کے لیے فنڈز مختص کرنے،رورل ایریا کی سٹرکات کی درستی کے لیے دس کروڑ روپے،شلٹر ہوم کی تعمیر،سپورٹس کے لیے فنڈز مختص کرنے کے علاوہ 40کروڑ روپے کی لاگت سے لیہ تاجمن شاہ کارپٹ روڈ کی تعمیر،ضلع بھر میں کالجز،سکولوں کی اپ گریڈیشن کے لیے کروڑوں روپے کے فنڈز کا مختص کیا جانے سے ضلع لیہ کی عوام کی حالات بدلنے،بے روزگاری کے خاتمہ اور روزگار کے مواقع کے لیے ضلع لیہ کی عوام کے لیے یہ بجٹ سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔

  • مہنگائی۔  تحریر: محمد ابراہیم

    مہنگائی۔ تحریر: محمد ابراہیم

    مہنگائی۔ تحریر: محمد ابراہیم
    زیادہ سے زیادہ سال میں مہینہ ڈیڑھ مہینہ ایسا ہوتا ہے کہ ھماری بجلی کے طلب 25ہزار میگا واٹ تک آتی ہے ۔

    جو یہ کرکے گئے 2028 تک انہوں نے مزید 30ہزار میگا واٹ بجلی معاہدوں میں add کرلی، مطلب 25+30 ہزار ٹوٹل 55ہزار میگا واٹ ، مثلاً

    سال بھر میں 25 ہزار میگا واٹ بھی صرف زیادہ سے زیادہ دو مہینے ملک کی ضرورت ہوتی ہے سردیوں میں یہ کھپت 16ہزار میگا واٹ سے بھی کم لیکن 2028 کے معاہدوں تک مُسلم لیگ ن نے 55ہزار میگا واٹ کے معاہدے کیئے اب آپ چاہے 20 ہزار بجلی استمال کریں لیکن پیسہ قوم نے 2028 تک 55 ہزار میگا واٹ کا ھی ادا کرنا ہے ۔

    اب یہ پیسے ہیں کتنے ؟؟

    جب 2013 میں نواز شریف کی حکومت آئی تو اُس وقت قوم معاہدوں کے مطابق سالانہ 180 ارب ادا کررہی تھی ۔

    اُسکے بعد 2018 میں جب تحریک انصاف کی حکومتِ آئی تو معاہدوں مطابق 450 ارب ادا کرنے تھے ۔

    اب اِس وقت اُسی سودوں کے مطابق 700 ارب سالانہ ہے اور 2023 تک یہ رقم 1100 ارب تک پہنچ جائے گی ۔

    اور 2028 تک یہی معاہدوں کی وجہ سے سالانہ رقم 6 ہزار ارب سے بھی تجاوز کر جائے گی ۔

    مطلب اگر 2028 تک پاکستان کی بجلی کی ضرورت 20 ہزار میگا واٹ بھی ہوئی تو پیسے ہم نے 55ہزار میگا واٹ کے ہی دینے ہیں ۔

    اور یہ ساری بجلی مہنگے آئل ، گیس ، کوئلے سے پیدا ہورہی ہے ،

    •آئل مہنگا امپورٹ ہونے سے بجلی مہنگی
    •ایل این جی سے بجلی پیدوار ایک نقصان جبکہ ٹرمینل کا کارگو کھڑا ہونے سے اُسکے چارجز الگ ۔
    •کوئلے کی بجلی بھی وُہ کہ پاکستان کا کوئلہ چھوڑ کر باہر سے امپورٹ کوئلہ پہلے کراچی پورٹ پر آتا ہے پھر کراچی سے ساہیوال تک پہنچتے ڈیڑھ روپیہ فی ٹیرف کا خرچہ ٹرانسپورٹ کی صورت بڑھ جاتا ہے ۔

    جبکہ اِسی دوران ہم ہوا، پانی ، اپنے کوئلے سے بجلی پیدا کرسکتے تھے ۔

    لیکن نواز شریف حکومت نے اپنے فرنٹ مینوں کے زریعے کّک بیکس کی خاطر سب کچھ کیا اور قوم کی پسلیوں سے پیسہ نکال لیا ۔

    اِس سال پاکستان کا ٹوٹل بجٹ 8ہزار ارب خسارے کے ساتھ تھا ۔

    2028 تک 6ہزار ارب روپیہ بجلی کی کمپنیوں کو فالتو دینا پڑے گا ۔

    اندازہ کرلیں شریفوں نے جو اِس قوم کے ساتھ کیا جو شاید فرعون نے اپنی رعایا کے ساتھ بھی نہ کیا ہو
    Twitter handle, @IbrahimDgk1

  • عمران خان عظیم مسلم رہنما .تحریر :فضیلت اجالہ

    عمران خان عظیم مسلم رہنما .تحریر :فضیلت اجالہ

    عمران خان مسلم سیاست کا ایک چمکتا ہوا ستارہ ہے جس نے 22 سال طویل سیاسی جدوجہد کے بعد 18 اگست 2018 کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے 22 ویں وزیر اعظم کی حیثیت سے حلف لیا۔
    کرکٹ ہو یا سیاست ، عمران خان نے کبھی ہمت نہیں ہاری اور نہ ہی اپنے ملک کی شبیہہ کو داغدار کیا۔
    خواہ وہ شوکت خانم ہسپتال ہو یا وزارت کی کرسی ، عمران خان کا مقصد صرف انسانیت کی خدمت کرنا ہے۔
    عمران خان دنیا سیاست میں ایسا عظیم پاکستانی لیڈر ہے جس کے نام،کام اور شہرت کے چرچے صرف ایشیاء میں ہی نہی بلکہ یورپی ممالک میں بھی زبان زد عام ہیں ۔
    عمران خان کے عظیم نظریے اور شاندار قیادت کی بدولت پاکستان اپنی کھوئی ہوئی شناخت واپس حاصل کرنے کی شاہراہ پر گامزن ہے
    ۔قائداعظم کے بعد ، عمران خان پاکستانی تاریخ کے واحد رہنما ہیں جنہوں نے مسلمانوں کے حقوق کے لئے آواز اٹھائی اور امت مسلمہ کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا۔
    عمران خان نے اقوام متحدہ کے سالانہ اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کی اور کشمیر کے بارے میں غیر متزلزل موقف اختیار کرتے ہوئے اتنی خوبصورتی سے کشمیر کامقدمہ لڑا کہ آپ کے الفاظ کی گونج پوری دنیا نے سنی ۔عمران خان نے جس طرح یورپ کی سرزمین پہ کھڑے ہو کہ ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کہ لاالہ اللہ کہا وہ تاریخ کے اوراق میں سنہری حروف میں لکھا جائے گا ۔

    عمران خان نے مسلمانوں کے قائد ہونے اور سچا عاشق رسول صل اللہ علیہ وسلم ہونے کا حق ادا کیا۔ یورپی ممالک کو حضور اکرم) کے حرمت کی اہمیت سے آگاہ کیا۔
    ماضی میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے ہمیشہ مسئلہ کشمیر کو نظرانداز کیا اور بھارتی ظلم و بربریت پر مجرمانہ خاموشی اختیار کیے رکھی ۔ سابقہ ​​حکومتوں کے برعکس عمران خان نے بین الاقوامی سطح پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کیا، انہوں نے نہ صرف مودی کے سفاک چہرے کو دنیا کے سامنے بے نقاب کیا ، بلکہ بھارتی مسلح افواج کے ذریعہ کشمیریوں کی نسل کشی کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور اقوام متحدہ کو اس کے خطرناک نتائج سے خبردار کیا۔عمران خان کے علاوہ یہ جراءت ماضی کے کسی حکمران نے نہی کی ۔ انہوں نے فرانس کے توہین آمیز خاکوں کے خلاف بات کی اور دنیا کو بتایا کہ نبی اکرم مسلمانوں کے دلوں میں رہتے ہیں۔اور دنیا کو صاف الفاظ میں یہ واضح کیا کہ دنیا ادھ کی اُدھر ہو جائے ہم ناموس رسالت قوانین پر کوئ سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

    عمران خان نے تمام مسلم رہنماؤں کو ناموس رسالت کے سلسلے میں خطوط لکھے اور انہیں دعوت دی کہ وہ مل کر توہین رسالت اور اسلامو فوبیا کے خلاف آواز بلند کریں۔طویل عرصہ گزرنے کے بعد ، پاکستان کو ایک عظیم قائد ملا ہے جس کا سیاست میں آنے کا مقصد ذاتی مفاد نہیں بلکہ ریاست مدینہ کی تشکیل ہے۔ جس نے لندن میں جائیدادیں نہیں بنائی ، جس پر بدعنوانی کا الزام نہیں جس کے بیرون ممالک خفیہ اثاثے نہیں ہیں۔
    خان وہ لیڈر ہے جسے پاکستان کی معزز عدالت نے ایماندار اور قابل اعتماد قرار دیا ہے۔

    ۔ 27 فروری 2020 کو عمران خان نے بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو بھارت کو واپس کر کے دنیا کو امن کا ایک مثبت پیغام دیا ۔انھوں نے دنیا کو بتایا کہ ہم اسلام کے پیرو کار ہیں اور ہمارا مزہب ہمیں امن اور محبت کا درس دیتا ہے ، ہم امن کے شریک ہوں گے اور کسی جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے .
    عمران خان کے ماحول دوست اقدامات کو عالمی سطح پر سراہا گیا۔ یہ عمران خان کی بے لوث قیادت اور عظیم نظریہ تھا جس کی بدولت پاکستان نے تاریخ میں پہلی بار 5 جون 2021 کو عالمی یوم ماحولیات کی نمائندگی کرنے کا اعزاز حاصل کیا۔

    وزیر اعظم عمران خان اور ان کی بہترین پالیسیوں کی بدولت ، پاکستان نے جس طریقے سے کورونا وائرس پر قابو پالیا ہے ، اس کی بین الاقوامی سطح پر تعریف کی جارہی ہے،اور عمران خان کی پالیسیوں کو اپنایا جا رہا ہے
    کوویڈ ۔19 کے باوجود پاکستان نے اکانومی میں بڑی کامیابیاں حاصل کیں۔خارجہ پالیسی میں عمران خان کی حکومت کے تحت پاکستان نے عمدہ پیشرفت کی ہے ، اس کے نتیجے میں ، دوسرے ممالک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات میں بہتری آئی ہے اور بہت سے ممالک نے پاکستان کی طرف دو طرفہ تجارت کا ہاتھ بڑھانا عمران خان کی با صلا حیت قیادت پر اظہار اطمینان ہے
    جو لوگ عمران خان کو سلیکٹڈ کہتے ہیں وہ یہ بات جان لیں کہ عمران خان کو اللہ رب العزت نے اس ملک کے لئے منتخب کیا ہے ، اور عمران خان اپنے عوام کو نا کبھی کسی کے سامنے جھکنے دیں گے اور نا ہی اپنی عوام کو مایوس کریں گے ۔
    عمران خان امید کی کرن ہے۔

  • گالم گلوچ سے ہوائی  فائرنگ تک .تحریر: آیاز محمد

    گالم گلوچ سے ہوائی فائرنگ تک .تحریر: آیاز محمد

    ہم ایسے نوجوان جن کو سیاست کا شوق اور سیاسی قیادتوں بارے حال احوال جاننے کا چسکہ پڑ گیا ہے ، بہت مشکل اور کنفیوژ ہیں۔اخبارات ہو ،رسائل ہو،سوشل میڈیا ہو یا دوستوں کی مجلس ،موضوع اگر سیاست ہو تو لازما اخلاقی حدود کو پامال کیا جاتا ہے اور تو اور قومی اسمبلی کا اجلاس ہو رہا ہو ،کسی اہم موضوع پر بحث ہورہی ہو اور ایسے میں آپ کا شوق اور چسکہ اسمبلی کی آن لائیو ٹرانسمیشن دیکھنے پر مجبور کرے ،آپ ٹی ون آن کریں تو ایسی ہلٹر بازی ، الزام تراشی اور بھونڈے انداز میں گفتگو کی جارہی ہوتی ہے کہ خدا کی پناہ ۔پاکستانی ڈرامے مفت میں بدنام ہیں کہ فیملی کے ساتھ بیٹھ کر نہیں دیکھے جاسکتے ۔اپنا خیال تو ہے کہ قومی اسمبلی ،سینٹ اور دیگر صوبائی اسمبلیوں میں جو گفتگو کی جاتی ہے وہ بھی کسی صورت مہذب ماحول میں سنی نہیں جا سکتی ۔
    ایک زمانہ تھا کہ کہا جاتا تھا کہ مہذب لوگوں کا سیاست سے کیا لینا دینا، وجہ شاید یہی تھی کہ سیاست میں دلیل اور موقف کی طاقت کی بجائے ترش روئی ،سخت انداز گفتگو اور کرخت لہجہ کی طاقت مانی جاتی ہے ۔ دوسروں پر الزام تراشی بھلے خود آپ میں کوئی صلاحیت نہ ہو۔آج کے پڑھے لکھے اور آکسفورڈ سے فیض یافتہ وزیر اعظم ہی کو لے لیں کہ دس منٹ بھی کسی ایسے موضوع پر بات نہیں کرسکتے جہاں دوسروں پر الزام اور تنقید نہ ہو۔کہاں آئیڈیلزم کی باتیں اور کہاں یہ طرز گفتگو، بہر حال آج کا نوجوان بھی سمجھتا ہے کہ مہذب لوگوں کا سیاست سے کیا کام ؟

    اس انداز سیاست کا سب سے برا اثر ہماری نجی زندگی پر پڑا ہے ۔زندگی میں کچھ لمحات بہت حسین ہوتے ہیں ،یاد گار ہوتے ہیں ،سیاسی افراتفری اور شدت پسندی نے ان لمحات پر بھی گہرا اثر چھوڑا ہے ۔
    مثلا میں یونیورسٹی کا طالب علم ہوں ۔ایک نارمل صلاحیت والا طالب علم جو کالج اور یونیورسٹی دور میں کہ ایک طالب علم تعلیم حاصل کرنے کی لذت میں سرشار رہنا چاہتا ہے اور تعلیم کے بعد بچا کچھا وقت قہقہوں ،کھیل کود اور دوستوں کی مجلس میں گذارنا چاہتا ہے ۔صحت مند اور مثبت مباحث کا حصہ بننا چاہتا ہے ۔لیکن جب کبھی یونیورسٹی سطح پر کسی ایسی ایکٹویٹی کے انعقاد کی بات آئی ،تو یہی سوال اٹھا کہ شرکاء مجلس کون ہو ؟ وہی پارٹی بازی کہ فلاں پارٹی کی لوگ ہو اور فلاں کے نہیں ،پھر جیسے تیسے کرکے مجلس منعقد بھی ہوتی ہے تو وہی الزامات کہ تمھارے لیڈر نے یہ کیا اور میرے لیڈر نے یہ ۔۔یوں کسی مثبت بحث کے بغیر مجلس ختم ۔

    میں پشتون دیہاتی ماحول میں پلا بڑھا ہوں،ہمارے ماحول میں مسجد اور حجرہ بڑی اہمیت رکھتی ہے ۔ محلے محلے ججروں کا رواج صدیوں پرانا ہے ۔محلے کے جوان ،بوڑھے ادھیڑ عمر مغرب یا عشاء کے بعد ان حجروں میں آتے ہیں ،گپ شپ کی مجلس لگتی ہے ،بزرگ اپنے تجربوں سے آگاہ کرتے ہیں ،نوجوان اپنی تعلیم پر گفتگو کرتے ہیں ،ملازم پیشہ اپنی دلچسپی کے موضوعات پر بات چیت کرتے ہیں ،تاجر اور کسان اپنی اپنی بات کرتے ہیں ۔بنیادی طور حجروں کا یہ ماحول سکول یونیورسٹی کی طرح روایتی تعلیمی ماحول تو نہیں ہوتا لیکن ان حجروں کا مستقل حاضر باش عملی زندگی میں بہت کچھ سیکھ چکا ہوتا ہے۔لیکن یہ تب کی باتیں ہیں جب ان حجروں میں منافرت نہیں تھی ،سیاست نہیں تھی ،اب تو یہ حجرے کم اور صوبائی اسمبلی کے اجلاس ایسے مناظر زیادہ پیش کرتے ہیں۔ایک ہی خاندان ، ایک ہی گھر میں بھائی بھائی کے تعلقات پر اس طرز سیاست نے گہرا منفی اثر چھوڑا ہے ۔

    اب ذرا مسجد کی حالت کو دیکھیں ۔ کل کی خبر ہے کشمیر میں انتخابات ہورہے ہیں ۔علی امین نے گنڈا پور نے فائرنگ کردی ۔مریم نواز نے یہ کہہ دیا ،مراد سعید نے فلاں پر الزام لگادیا ،بلاول بھٹو نے عمران خان کو کشمیر فروش کہہ دیا اس حد تک تو سب برداشت ہے اور اب تو عادت بن چکی ہے ۔ لیکن گذشتہ کل کشمیر کے شہر راولا کوٹ کی خبر ہے۔جو ایک دوست نے واٹس اپ پر شئیر کی ہے “مرکزی جامع مسجد راولاکوٹ پی ٹی آئی کے حق میں تقریر کرنے پر نمازیوں کا رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین کے پیچھے نماز جمعہ پڑھنے سے انکار کر دیا مسجد میں شور شرابہ اور ھنگامہ آرائی اور مولانا عبدالخبیر آزاد نماز جمعہ چھوڑ کر فرار ھوگی ت ، بمشکل جان بچا کر بھاگ نکلے بعد میں ھنگامہ آرائی رکنے پر کچھ لوگوں نے نماز جمعہ دوسرے مولوی صاحب کے پیچھے ادا کی اور کچھ لوگ بغیر جمعہ کی نماز ادا کئے مسجد سے چلے گئے یہ اپنی نوعیت عجیب اور پہلا واقعہ راولاکوٹ کی کسی مسجد میں پیش آیا جس پر افسوس کا اظہار کیا جاتا ھے اور مذمت بھی کی جاتی ھےواقعہ کی تفصیلات سے آگاہی کے لئے راولاکوٹ کے آج بروز ہفتہ کے اخبار پرل ویو اور دیگر ملاحظہ کریں یا مسجد میں موجود مقامی نمازیوں سے رابطہ کریں”
    حقیقت یہ ہے کہ اسمبلی میں گالم گلوچ ، اب سر عام فائرنگ اور اب مسجدوں میں یہ سیاست بازی ہمارے معاشرے کی اخلاقی کمزوری کی علامات ہیں ،معاشی کمزوری کے اتنے نقصانات نہیں ، دفاعی کمزوری کے بھی اتنے دیرپا نقصانات نہیں ہونگے ۔لیکن اخلاقی کمزوری معاشروں کے وجود کو ختم کردیتی ہے ۔ہمارے سیاستدانوں کو سوچنا ہوگا کہ کہیں وہ ملک کو معاشی اور دفاعی لحاظ سے کمزور کرنے کے بعد دانستہ یا نادانستہ اخلاقی کمزوری کے جرم کے مرتکب تو نہیں ہورہے ؟