Baaghi TV

Category: سیاست

  • 21 صدی کے اقبال کے شاہین”، تحریر:فرح خان

    21 صدی کے اقبال کے شاہین”، تحریر:فرح خان

          
    آج کا نوجوان دوہرے معیار کے ساتھ اپنی زندگی کو گزار رہیں ہیں۔جس میں مغرب اور پڑوسی ملک کی چمک دھمک کی چھاپ واضح نظر آتی ہے۔جہاں ہمارے بزرگوں نے اس ملک کے لیے مثالیں قائم کی،ہمارا نوجوان ان سے سبق سیکھنا تو دور اقبال کے فلسفے کی رہنمائی حاصل کرنے کے بھی روادار نہیں رہے۔
    خودداری اور غیرت مندی کا جنازہ نکالنا ان کا مشغلہ ہوگیا ہے،جس کی مثال پاکستان میں امتحانات ملتوی کروانے کے لیے ہنگامہ آرائی اور بیانات پیش پیش ہیں۔

    "دیار عشق میں اپنا مقام پیدا کر
    نیا زمانہ،نئے صبح شام پیدا کر”

    آج رہ رہ کر خیال آیا کہ یہ شعر علامہ اقبال نے ان نوجوانوں کے لیے کہے جو عشق حقیقی کی طلب رکھتے تھے یا عصر حاضر کے نوجوان کے لیے جو
    عشق ٹک ٹاک،
    عشق اسنیپ چیٹ،
    عشق انسٹاگرام،
    عشق اسنیک وڈیو،،،،،،وغیرہ
    رکھتا ہے۔

    غضب خدا کا اس نوجوان نسل نے پڑوسی ملک کے عشقیہ گیتوں پہ عجیب و غریب حرکات کے ساتھ وڈیو بنانے کو ہی اپنا اولین فریضہ سمجھ لیا ہے۔

    الیکٹرانک میڈیا، پرنٹ میڈیا پہ بھی کئی نامور شخصیات غلط کو صحیح منوانے پہ تلے ہوئے ہیں ۔
    ہماری نئی نسل کی اصلاح اور رویوں میں تبدیلی کے بجائے آزادی اظہار رائے کے نام پہ ان کو اندھری گہری کھائی میں دھکیل رہے ہیں۔

    ہمارے ملک کی آبادی %66 نوجوان طبقے پر ہے اور ان میں سے %15 نوجوان ایسے بھی ہیں جنہوں نے ارطغرل غازی اور عثمان غازی پہ مبنی ڈراموں کے بعد خود کو اوٹھ پٹانگ سے دور کرکے اچھی مثال بھی بنائی۔

    حکومت،میڈیا،سینسر بورڈ، پیمرا اور دیگر اداروں سے درخواست ہے کہ روشن مستقبل کے لیے کچھ نئے سخت اصول اور ضوابط کو ترتیب دیں۔
    بےحودہ اور اخلاقیات سے گرے ہوئے خیالات کو پرموٹ نہیں "بین” کیا جائے۔

    حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی
    خدا کرے کہ جوانی تیری رہے بے داغ

    @MastaniFarah

  • سیاسی کارکنان کے نام اہم پیغام . تحریر:ملک حسن وزیر

    سیاسی کارکنان کے نام اہم پیغام . تحریر:ملک حسن وزیر

    آپ کسی بھی پارٹی سے جُڑے رہنا چاہتے ہیں، یہ آپ کا حق ہے۔ آپ کس لیڈر کی اُلفت میں مبتلاء ہیں یہ آپ کی مرضی ہے۔ آپ سب ہی یہ چاہتے ہیں کہ اس ملک میں امن و امان،ترقی ، تعلیم،علاج معالجہ جان اور عزت کی حفاظت اور روزگار اور کاروبار کے وافر مواقع ہونے چاہیئں ۔ خاص کرغریب نوجوان بلدیات ہو یا صوبائی اسمبلی یا قومی اسمبلی کی سیڑھی کی طرف اپنا قدم رکھ سکتے ہیں؟
    ذرا سوچئے کہ یہ سب کچھ حاصل کرنے لے لیے کیا ضروری ہے؟
    ایک دوسرے کی کردارکُشی؟
    ان بڑے اورمقامی لیڈروں کے پیچھے جو آپ کو آگے بڑھنے کا موقع تک فراہم نہیں کرتے،
    آپس میں تکرار ، گالی گفتاری ، یا الزام تراشی؟
    کیا ایسا کرنے سے مذکورہ اہداف حاصل پورے ہو سکتے ہیں؟

    سوچئے اور ایک با عزت سیاسی کارکن بنیں،ورنہ ذرا سا پیچھے مُڑ کر دیکھئے،آپ سے پہلے لاکھوں کارکنان سالہا سال اسی بے خبری اور گھٹیا پن میں مبتلا رہ کر ملک اور قوم کے لیئے کچھ بھی نہیں اور اپنے لیے ، تشدد ، مار ، جیلیں اور معاشی نقصان کما چکے مگر بات وہیں کی وہیں رہی۔

    سوچئے کہ ماضی میں سیاسی کارکنان کی بے سمت اور بے مقصد سیاسی حرکات کا کیا نتیجہ نکلا؟
    آج بھی وہی احتجاج ، وہی جلسے وہی باتیں وہی الزامات ، وہی احمقانہ سوچ !
    ذرا سوچئے اس بے مقصد سیاسی جدوجہد کا آئندہ کیا نتیجہ نکل سکتا ہے؟
    آپ ضرور اپنے اپنے ہیرو کی پوجا کیجئے مگر اُس کے کہنے پر دوسرے پاکستانیوں کو ولن نہ سمجھیئے!
    اپنے اپنے سیاسی جماعتوں کے ہیروز اور مقامی لیڈران سے سوال کیجئے کہ وہ ساری چیزیں اور سہولیات جو وہ خود رکھتے ہیں ہمیں کیسے دلائیں گے؟

    اگر وہ آپ کے سوال کے جواب میں اپنے مخالف کی کردار کُشی پر اکساتے ہیں تو یقین مانیں کہ وہ جھُوٹے ہیں اور آپ کے کندھوں پر بیٹھ کر مراعات یافتہ طبقے میں تو شامل ہو سکتے ہیں۔
    آپ کو کچھ بھی نہیں لے کر دے سکتے!!!!

  • ‏قومی غیرت اورخوداری . تحریر : عاصم صدیق

    ‏قومی غیرت اورخوداری . تحریر : عاصم صدیق

    محمد علی جناح کے بعد کوئی بھی ایسا حکمران نہیں آیا جو خودار اورغیورہو۔ لیکن پاکستان کی خوش قسمتی ہے کہ اب پاکستان کا وزیراعظم عمدان احمد خان نیازی ہے جو امریکہ جیسے سپر پاور ملک کو بھی "نا” کرنا جانتا ہے ۔عمران خان نے نہ صرف امریکہ کو ” do more ” سے "No more ” سکھایا بلکہ سینا تان کر امریکہ کو کہا کہ اب پاکستان امریکہ کی جنگ میں شامل نہیں ہوگا اور کسی قسم کی ملٹری سہولت فراہم نہیں کرے گا اور صاف الفاظ میں امریکہ کو ہوائی اڈے رینے سے انکار کردیا ۔

    یہ کوئی پہلی بار نہیں ہوا اس سے پہلے کشمیر کے مسلئے پر بھی خان نے ثابت کیا کہ وہ ایک خوداراورغیرت رکھنے والا انسان ہے۔ اقوام متحدہ میں پوری دنیا کے سامنے جب خان نے للکاردی تو آدھی دنیا کئی دن تک حیران رہی کہ شائد اب پاکستان ایک خودارملک بن چکا ہے ،کیونکہ یہ وہی پاکستان تھا جہان امریکہ جب چاہتا کرتا تھا ۔ دڑون حملے کر کے ہمارے ہی پاکستانیوں کو موت کی نیند سلایا گیا لیکن ہمارے حکمران صرف تماشا دیکھتے رہے۔ ریمنڈ دیوس دن کی روشنی میں لوگوں کو کچل کر چلا جاتا ہے لیکن ہمارے حکمران تو سوئے ہوے تھے ۔

    ہمارے ایک وزیراعظم کے امریکہ ائیرپورٹ پرکپڑے اتارے جاتے لیکن ہماری غیرت تب بھی نا جاگ سکی، کیونکہ ان حکمرانوں کے زاتی مفادات آڑے آجاتے تھے جب بھی قومی غیرت پربات آتی تھی ۔ اللہ کا کرم ہے کہ اب عمران خان جیسا لیڈر تخت نشین ہے جس کے لیے سب سے برھ کر اس ملک و قوم کا وقار ہے ، خان کی نظر میں أسکی غیرت پاکستان کی غیرت سے جڑی ہوئی ہیں ۔ ہم نے جب سے ہوش سنبھالا تو پہلی بار دیکھ رہے کہ کوئی حکمران برابری کی بات کرتا ہے ۔جب سے خان کی حکومت آئی ہے کوئی ڈرون حملہ نہیں ہوا ۔خان نے سب کے ساتھ ویسے ہی سلوک کیا جیسا وہ حقدار تھا ۔مودی کو اسی کی زبان میں بار بار سبق سکھا رہا ہے خان اور جب کبھی بھی عالمی فورم پر آمنا سامنا ہو جائے تو ان سے ہاتھ تک نہیں ملاتا خان کیونکہ پہلے دن سے ہی خان نے کہا ہے کہ جب تک کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہوتا تب تک بھارت کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات نہیں ہونگے ۔

    خان کے اس انداز کی وجہ سے خان کی مقبولیت دنیا کے ہرکونے تک پہنچ رہی ہے یہی نہیں بلکہ خان کو ” The Muslim world of year ” کا خطاب مل چکا ہے ۔خان کے ان اقدامات کی وجہ سے پاکستان کو اسکی کھوئی ہوئی عزت واپس مل رہی ہے ۔ایک قوم مہنگائی ،کرپشن تو برداشت کر سکتی ہیں لیکن کبھی بھی اپنی عزت اپنے وقاراور ملک کی خوداری پرآنچ نہیں آنے دیتی ۔

    دعا ہے کہ پاکستان کی عزت ،پاکستان کا وقار ،پاکستان کی خوداری ہمیشہ ہمارے زاتی مفادات سے اوپر رہے ۔
    اللہ اس ارض پاک کو ایک خودمختار قوم بنائے آمین ۔

    @AsimISF_

  • افغانستان پاکستان دشمنی کیلۓ بیس کیمپ . تحریر : ڈاکٹر راہی

    افغانستان پاکستان دشمنی کیلۓ بیس کیمپ . تحریر : ڈاکٹر راہی

    جب ہم یہ کہتے تھے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان مخالف دشمنوں کے لئے بیس کیمپ بن گئی ہے تو ہمارے لبرل اورقوم پرست دوست بھد اڑاتے تھے۔ ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں سے لے کربلوچ علیحدگی پسندوں تک، ایران کے ایجنٹوں سے لے کر ہندوستانی دہشت گردوں تک سب ان کی چھتری تلے بیٹھے تھے۔ ہندوستان نے اربوں کی فائنانسنگ کابل اوردیگر شہروں میں کی تھی، کیونکہ پاکستان میں دراندازی
    کے لئے افغانستان سے بہتر کوئی رستہ ممکن ہی نہیں۔ غرض ہمارے گوناگوں دشمنوں نے وہاں پرڈیرے ڈال رکھے تھے۔

    یہاں پرایک اوربات بھی سامنے رہے پچھلے چند سالوں میں کے پی سمیت بلوچستان میں کثرت سے لوگ سامنے سے گم ہورہے تھے۔ ہرایرا غیرا نتھو خیرا پاکستانی حساس اداروں اورایجنسیوں پربلا امتیاز ذمہ داری ڈال رہا تھا۔ لاریب کہ ہمارے اداروں نے بھی اس جنگ کے دوران بہت زیادہ زیادتیاں کی ہیں۔ اسلام پسندوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر مارا۔ ۔جس پرکسی درجہ میں بھی شک ہوا اورجو کسی قدربھی کسی قسم کی عسکریت یا تحریکیت میں شامل رہا تھا، اسے اٹھا کرہی چھوڑا کچھ چھوٹ بھی گئے، کچھ ہمیشہ کوغائب کردئے گئے۔ اس وقت ان کے اس عمل کا دفاع نہ مقصود یے، نہ ممکن ہے، تاہم یہ حقیقت بھی اپنی جگہ درست اورواقعیت پرمبنی ہے کہ ہرگم ہونے والے کو اغوا بھی نہیں کیاجاتا تھا بلکہ بہت سارے سرحد پارپناہ لیتے تھے اور وہاں سے پاکستان مخالف سرگرمیوں میں ملوث رہتے تھے۔

    یہ بات یوں چلی کہ آج ایک بلوچ علیحدگی پسند رہنما کا بیان سامنے آیا ہے جس میں اس نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ افغانستان میں موجود بلوچ پناہ گزینوں کی حفاظت کا بندوبست کرے۔ یہ پناہ گزین کون ہیں؟ یقیناً آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ یہ وہ غائب شدگان ہیں ،جن کا الزام ہماری پاکستانی ایجنسیوں پرلگایا جاتا تھا۔ اب معاملہ کھل رہا ہے کہ یہ حضرات افغانستان میں پناہ لئے ہوئے ہیں۔ جیسے جیسے شہزادگان عالیشان کا قبضہ وسیع ہوتا جائے گا، چیاو چیاؤ کرنے والوں کی یہ تعداد بڑھتی جائے گی۔ عالیشان کی یہ ایک کرامت کیا کم ہے کہ ان کے ابھرتے ہی پاکستان دشمن اپنے ٹھکانے ظاہرکرنے لگے ہیں۔ امید ہے کہ ہرگزرتے دن کیساتھ ان سب کا یوم حساب قریب آتا جائے گا۔

    @IamRahiii

  • میرا وطن. تحریر:عائشہ رسول

    میرا وطن. تحریر:عائشہ رسول

    وطن کی مٹی میں جو خوشبو ہے وہ پردیس کے پھولوں میں کہاں ہے. ہم وطن کو برابھلا کہتے ہیں جبکہ وطن نے ہمیں پہچان اور ایمان دیا ہے .میری روح میرے وطن
    پر قربان.
    اے میرے وطن! کوئی ہے جو مجھے امن و سلامتی دے مجھے انصاف دے عزت نفس دے میرے بھروسے پر پورا اترے .!

    اے میرے وطن!
    میرے حکمرانوں نے میری کشادہ مزاجی چھین لی ہے میں حوصلہ افزائی سے مرحوم کر دیا گیا ہوں میرے زہن کی تمام صلاحیتوں کو مفلوج کر دیا گیا. میں خود پر رو نہیں سکتا.. میرے سوتے خشک ہوگئے ہیں۔ ظلم دیکھ دیکھ کر میری آنکھوں کا نور زائل ہوگیا ہے.
    اے میرے وطن! تیری کھیتاں صحراوں میں تبدیل ہو نے والی ہیں تو بوند بوند پانی کو ترس جائے گایہ آب فروش حکمران تیری رگوں سے خون نچوڑ لیں گے انکی بانجھ نسلیں ہمارا مستقبل تباہ کردیں گی.

    اے میرے وطن! میرے پاس میری پاس اپنی درد مندی کا علاج نہیں تیرا رزق کھاتے ہیں اور تیرے لیے انکی زبان پر دعا نہیں رعایا اور حاکم کا رشتہ کمزور ہوتا جا رہا ہے… یہ وطن. سے محبت کی کمی کی وجہ سے ہے
    اے میرے وطن! عزت سے خود کشی بھی کر لوں تو میرے لیے باعثِ فخر ہے ؛
    بیگانے دیس میں عیش و عشرت کی زندگی بسر کروں اور وصیت یہ ہو کہ مجھے وطن میں دفن کیا جائے .یہ کتنا بڑا اپنے نفس کے ساتھ دھوکا ہےوطن سے بغاوت ہے وطن کی نافرمانی ہے.

    اے وطن! میں زہنی غلام بن کر نہیں رہنا چاہتا. مجھے اجازت دے کی میں خود کشی کر لوں میں زندہ نہیں رہنا چاہتا جہاں میرے لیے امن و سلامتی اور انصاف نہیں. جہاں میرے پاس انصاف خریدنے کے لیے دولت نہیں میں اپنی عزت نفس بیچ کر بھی زندگی کو امن نہیں دے سکتا
    بتا اے وطن! میرا گناہ کیا ہے یہ کہ میرے آباؤاجداد نے اپنا خون دے کر تجھے حاصل کیا تھا اور آج میں اپنے ہی وطن میں لاوارث ہوں قانون مجھے تحفظ نہیں دے رہا
    کیا اب بھی میں غلام ہوں غلام زہنی غلام ہوں مجھے اپنے ہی وطن میں بے گناہ مارا جا رہا ہے میں اپنا عقیدہ چھپا رہا ہوں .مجھے عقیدت کے نام پر قتل کیا جا رہا ہے میرا وطن قتل گاہ بن گیا
    تحریر: عائشہ رسول
    Official Twitter handle
    @Ayesha__ra

  • افغان جنگ اور دنیا. تحریر: سدرہ

    افغان جنگ اور دنیا. تحریر: سدرہ

    ماضی کے جھروکوں میں جھانکیں تو افغان جنگوں میں فتح ہمیشہ افغان قوم کا ہی مقدر بنی ہے۔ برطانیہ اور افغانستان کے مابین جنگ  1839ء سے 1842ء تک لڑی گئی، اس جنگ میں مجموعی طور پر افغانوں کی فتح ہوئی۔ 4500برطانوی اور  ہندوستانی فوجی ہلاک ہوئے، جبکہ ان کے ساتھیوں میں سے 12000لوگ بھی ہلاک ہوئے۔ روسی اور برطانوی گریٹ گیم میں یہ سب سے پہلی بڑی لڑائی تھی۔ پھر27 دسمبر 1979ء کی ایک تاریک شب، جب سوویت یونین نے افغانستان پر شب خون مارا تو ایک طویل مدتی جنگ کا آغاز ہوا۔اس جنگ میں بھی 15000 سوویت فوجی مارے گئے اور 35000 کے قریب زخمی ہوئے، جبکہ دو لاکھ مجاہدین اور دو ملین کے قریب عام شہری مارے گئے۔اس جنگ کی بڑی قیمت پاکستان نے بھی ادا کی۔ پاکستان نے بیس سال تک 2.8ملین مہاجرین کا بوجھ برداشت کیا۔ مہاجرین کی اتنی بڑی تعداد نے پاکستان کو دنیا میں مہاجرین کو پناہ دینے والے ملکوں میں سر فہرست لا کھڑا کیا۔

    اسی اثنا میں امریکہ بہادر نے انسانی حقوق کے نام پر سوویت حملے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا،پھر سوویت یونین کو جنگ میں شکست دینے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا۔ 

    امریکہ سوویت یونین کے افغانستان سے انخلا کو اپنی کامیابی سمجھ بیٹھا اور نائن الیون کے بعدافغانستان میں آبیٹھا۔ سوویت یونین کی بد ترین شکست نے یو ایس ایس آر کو  سولہ ملکوں میں تقسیم کر دیا، مگر اس شکست سے امریکہ نے سبق سیکھنے کی بجائے اس فتح کو ڈالرز میں تولا، جو شاید امریکہ کی سب سے بڑی غلطی تھی، کیو نکہ جنگ لڑنے کے لیے مال و زر سے زیادہ حوصلے، ہمت اور جذبہء حب الوطنی کی ضرورت ہوتی ہے، جس کی سب سے بڑی مثال آئرش رپبلک آرمی، افغانستان اور ویتنام ہیں، جنہوں نے ترکش میں تیر نہ ہونے کے باوجود دنیا میں آزادی حاصل کرنے کے لیے نئی تاریخ رقم کر دی۔

    افغانستان خاک و خون کی گھاٹیاں عبور کر کے بالآخر جنگ کے اختتام کی طرف بڑھ ہی رہا تھاکہ اشرف غنی کی حکومت او ر طالبان کے درمیان ایک نئی جنگ نے جنم لے لیا۔ شنید تھی کہ امریکی انخلا کے فوراً بعد خانہ جنگی کا آغاز ہو سکتا ہے، جو کسی حد تک سچ ثابت ہو رہا ہے۔ طالبان افغانستان میں دوبارہ ایک بڑی قوت بن کر ابھرے ہیں۔وہ ملک کے زیادہ تر حصوں پر قابض ہونے کے ساتھ ساتھ کابل پر کسی بھی وقت چڑھائی کر کے موجودہ حکومت کے خاتمے کا اعلان کر سکتے ہیں۔

    گزشتہ بیس برسوں کی امریکی جنگ میں بھارت نے امریکہ کی گود میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف شدید پروپیگنڈہ کیا۔ یہاں تک کہ افغانستان میں خود دہشت گردانہ کارروائیاں کروانے کے بعد الزام پاکستان پر لگایا جاتا رہا، جس کی مثالیں لاہور بم دھماکہ اور بلوچستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں ہیں،افغان قوم کے دل میں پاکستان کے خلاف نفرت کا بیج بویا گیا، مگر بھارت اپنی اس کاوش میں پوری طرح کامیاب نہیں ہو سکا۔ بھارت کے خلاف پالیسیوں کا اعلان دراصل طالبان نے بھارتی سفارتخانے پر قابض ہو کر کیا کہ اب افغانستان میں بھارت کی دال نہیں گلے گی۔دوسری جانب بھارت نے رد عمل کے طور پر بھاری اسلحہ افغان حکومت کی مدد کے لیے حال ہی میں پہنچا دیا جو جلتی پر تیل ڈالنے کے مترادف ہے۔

    بھارت کی یہ حرکت خطے میں غیر یقینی صورت حال پیدا کرنے کا موجب بن سکتی ہے۔ اس کے علاوہ بھارت نے اس عمل سے طالبان کے ساتھ بھی کھلی جنگ کا آغاز کر دیا ہے۔ اب یوں محسوس ہو رہا ہے کہ بھارت نے امریکہ اور سوویت کی شکست سے سبق حاصل نہیں کیا۔بھارت کی بے جا مداخلت تاریخی غلطی تصور کی جا سکتی ہے،اس سے بھارت کی سالمیت پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں

  • "ہم کہاں ہیں”.تحریر؛ ارباز رضا بھٹہ

    "ہم کہاں ہیں”.تحریر؛ ارباز رضا بھٹہ

    ہر ملک میں اس کی ترقی و خوشحالی میں نوجوان نسل کا اہم کردار ہوتا ہے۔ چاہے وہ ملک کتنا ہی پسماندہ ہو مگر اس کا نوجوان نسل کے عزم و ولولے سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اگر اس وقت ہمارے ملک میں دیکھا جائے تو اس نوجوان نسل کے نہ ہی Emotional وقت کا اچھی طرح معلوم ہے اور نہ ہی Determination کا۔ نہ جانے کس وقت جزبہ ایمانی جاگ اٹھتا ہے اور پھر نہ جانے کہاں چلا جاتا ہے۔
    یہ پورے معاشرے کا حال ہے اس میں بذات خود میں بھی شریک ہوں۔ اگر یہی حال تمام مسلم ممالک کا کہا جائے تو غلط نہ ہو گا۔ ان کے پاس تمام تر وہ وسائل موجود ہیں جس سے ایک ترقی یافتہ اور طاقتور مملکت بنائی جا سکتی ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ان کے پاس وہ تمام حقائق،سچی داستانیں اور ایسے تمام علوم موجود ہیں جس سے ایک سدیوں سوہی ہوئی قوم کو ازسرِنو جگایا جا سکتا ہے۔

    مگر افسوس اس وقت بھی ان پر جہالت کے بادل چھائے ہوئے ہیں۔سورج کے ہونے کے باوجود اس سے فاہدہ نہیں اٹھایا جا رہا۔ ابر رحمت کو بھی ابر زحمت میں بدلا جا رہا ہے۔ مزاحیہ بات یہ ہے کہ مجھے سمجھ نہیں آتی ان کی تمام چیزوں سے غیر فاہدہ اٹھا رہے ہیں اور یہ بڑے خوش ہیں۔ ان کو بتانے میں فخر محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے علوم چرا کر غیر اتنی ترقی کر گئے اور ہم وہی کے وہی رہے۔
    آخر کیا وجہ ہے کہ ہم پیچھے ہیں۔ ہمارے پاس ایک شاندار ماضی کی داستانیں ہیں۔ ہمارے پاس ہر شعبے میں ترقی کرنے کی مثالیں ہیں مگر ہم غیر ترقی یافتہ ہیں۔ ان تمام حالات میں اگر دیکھا جائے تو کسی پر کوئی زمہ داری عائد نہیں ہوتی فقط ہر اس شخص پر جو ایسے معاشرے میں جی رہا ہے۔جسے معلوم ہے کہ میرا بھی سب کچھ یہی ملت یہی ملک ہے اور میری آنے والی نسلوں کا بھی تاقیامت۔
    اس وقت اس شخص کو ہی چاہئے کہ اس گلستاں کی ہریالی میں اپنا کردار ادا کرے۔ علامہ اقبال ہو یا قائداعظم کب تک ہم ان کے تاریخ پیدائش اور وفات پر محض ان کے گن گاہیں گے؟ ان کی بات و سیرت کو کب تک نہیں اپناہیں گے؟ اگر یہی حال رہا تو ہم ان پر واہ واہ کر کے اس زمہداری سے بچنا چاہتے ہیں جو ہم پر ان کی طرف سےعائد ہوتی ہے۔ اگر علامہ اقبال نے کلام لکھا تو کن کے لیے لکھا۔
    کیا ان کا پیغام وقت اس دور میں موجود لوگوں کے لیے تھا یہ ہم پر بھی کچھ زمہداری عائد ہوتی ہے؟ وہ کن کو خواب غفلت سے جگانے کے لیے تھا کہ تمہارے دشمن تمہیں دن بدن تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور تم ہو جو تقسیم ہو۔ انہوں نے ہمیں ایک ہونے کا درس دیا۔ جیسا کہ امام علی علیہ الصلاۃ والسلام کا فرمان ہے کہ
    "تم حق پر ہونے کے باوجود بکھرے ہوئے ہو اور وہ باطل پر ہو کے بھی متحد ہیں۔

    اسی طرح ملک بنانے میں بھی مقاصد چھپے ہوئے تھے۔ جن میں تمام مسلمانوں کی دنیا میں عظمت و خوشحالی اور سب سے اہم بات ایک ہونا شامل تھا۔ ہم کبھی بھی ان باتوں کو فراموش نہیں کر سکتے۔ آج اگر اس دور میں ہمارے اندر مسلمانوں کی خوشحالی و ترقی کی آرزو و کوشش نہیں تو ہم بالکل ہی پستی کی گہرائی میں ہیں۔ ہمیں اس بات کو بخوبی جاننا ہو گا کہ دشمن کس طرح ہمارے لیے باہر بیٹھا چالیں اور ہماری تباہی کے پروگرام بنا رہا ہے چاہے وہ بھارت،امریکہ،اسرائیل یا پھر کسی دوسرے ملک کی شکل میں ہو۔

    ان تمام Challenges سے مقابلے کے لیے بیداری ہے اور وہ بیداری آج کے ہر پاکستانی میں ہونا لازم ہے۔ کیونکہ ہم وہ قوم ہیں جو نہ ہی غلام بن کر جینا پسند کرتی ہے اور نہ ہی اپنے دوسرے بھائیوں کو اس حال میں دیکھنا۔ اب دشمن کو ہمارے علاقوں سے کوئی سروکار نہیں ہے اسے ہمارے ذہن چاہئیے اور ذہن بھی صرف اس طریقے سے بچ سکتے ہیں کہ ہم خدا تعالیٰ سے بڑی مضبوطی کے ساتھ جڑے رہیں۔
    ہم اسلام کو صرف عبادات تک نہیں بلکہ اپنے معاشرے میں ہر کردار و گفتار پر نافذ کریں۔ آج دشمن نے معاشرے میں طرح طرح کی براہیاں پھیلا دی ہیں۔جن کا شکار دن بدن ہم ہی ہو رہے ہیں۔ اس کا مقصد ہمیں ان براہیوں میں الجھا کر تباہ و برباد کرنا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ ہمارے سامنے یہ سب کچھ ہو رہا ہے اور ہم خاموش ہیں۔
    کیونکہ بقول علی شریعتی کہ
    "زمین مسجد خدا ہے اور تم دیکھ رہے ہو کہ نہیں ہے۔”
    شاید ہم پستی کی جانب رواں دواں ہیں حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ہم اس پر خوش ہیں۔
    @Haider_Arbaz_01

  • سی پیک اور پاکستان. تحریر  : ولید عاشق

    سی پیک اور پاکستان. تحریر : ولید عاشق

    ( @iWaleedRaja )

    سی پیک پاکستان کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے،پاکستان دشمن بول رہے ہے عمران خان نے سی پیک بیچ دیا.

    ‏پاک چین اقتصادی راہداری ملکی معاشی ترقی میں انتہائی اہمیت کی حامل ہے- نوجوان سی پیک کے معاشی فوائد سے استفادے کیلئے خود کو تیار کریں،

    پاکستان اور چین کے مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کے درمیان بہتر تعلقات کو استوار کے علاوہ سی پیک منصوبہ جیسے میگاپروجیکٹ کو موثر انداز میں سمجھنے کے مواقع فراہم کرتی ہے،

    عمران خان نے نہ صرف نواز شریف کے دور میں روکے گئے سی پیک کی سڑکیں مکمل کیں بلکہ اس کے دوسرے فیز پر فوراً کام شروع ہورہا ہے جس میں کم از کم 5 ارب ڈالر کے بجلی بنانے کے منصوبے لگائے جارہے ہیں۔
    جو کہتے ہیں ایران کو بیچ دیا تو ایران کے پاس نہ راستہ ہے نہ گنجائش۔ چین کو تیل کی ضرورت ہے۔ اس نے ایران سے اگلے 25 سال تک 400 ارب ڈالر کا تیل لینے کا معاہدہ کیا ہے۔ امید ہے یہ تیل پاکستان کے راستے سے ہوکر جائیگا سمجھیں پاکستان کی لاٹری نکلے گی۔
    سی پیک کے تحت پاکستان میں توانائی سمیت دیگر شعبوں میں نمایاں ترقی ہوئی ہے، چینی وزار ت خارجہ
    چینی وزار ت خارجہ کے ترجمان وانگ وین بین نے کہا ہے کہ سی پیک ایک پٹی ایک شاہراہ کا ایک اہم منصوبہ ہے جبکہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت پاکستان میں اب تک توانائی سمیت دیگر شعبوں میں نمایاں ترقی ہوئی ہے۔
    بیجنگ میں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے بتایا کہ سی پیک سے جہاں پاکستان کی معاشی و معاشرتی ترقی ہوئی وہیں اس منصوبے کے تحت علاقائی روابط کو فروغ ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک پٹی ایک شاہراہ کا منصوبہ چین کا ہے جس سے نہ صرف چین بلکہ پوری دنیا مستفید ہو گی۔

    اُن کا کہنا تھا کہ دنیا کے تقریبا 140 ممالک نے ایک پٹی ایک شاہراہ اقدام کے تعاون کے معاہدے پر چین کے ساتھ دستخط کئے ہیں جبکہ چین اور ایک پٹی ایک شاہراہ اقدام سے وابستہ ممالک کے مابین تجارتی حجم کی مجموعی مالیت 9.2 کھرب امریکی ڈالرز تک پہنچ چکی ہے ۔
    ‏سی پیک منصوبے سے ملکی معشیت میں بہتری آئے گی اور پاکستان میں غربت کا خاتمہ ہو گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کے ذریعے 7 لاکھ پاکستانیوں کو روزگار ملے گا جبکہ اس وقت  80 ہزار سے زائد پاکستانی سی پیک کے مختلف منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔ ‎پاک چین اقتصادی راہداری ،ترقی کے سفر کا وہ خواب ہے جس کی تعبیر کا حصول ہر پاکستانی کی خواہش ہے،پاکستانی حکومت اور عوام اپنے بہترین دوست چین کو ساتھ اس منزل کی جانب بڑھ رہے ہیں ،اور دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے ساتھ ہم قدم ہو کر اس منزل تک پہنچنے کا پورا یقین ہے.

  • عوام اور سیاستدان!!.تحریر: موسی حبیب راجہ

    عوام اور سیاستدان!!.تحریر: موسی حبیب راجہ

    کسی بھی ملک کے انتظامی نظام کو چلانے کیلئے ایک جمہوری حکومت کی ضرورت ہوتی ہے دنیا کے ہر ملک میں آج تک ایسا ہی ہوتا رہا ہے کہ عوام اپنے پسندیدہ نمائندوں کو منتخب کرتی ہے اور ان کو ایوانوں تک پہنچاتی ہے…

    یہ حق عوام کا ہی ہے کہ وہ اپنے پسندیدہ ترین عوامی نمائندگان کو منتخب کریں۔ پاکستان کو آزاد ہوئے تقریبا 74 سال گزر چکے ہیں پاکستان کی آزادی کے بعد ایک حکومت تشکیل دی گئی تاکہ اس ملک کا نظام موثر طریقے سے چلایا جا سکے اور آج تک یہی ہوتا آرہا ہے الیکشن کے آغاز میں ہر سیاسی جماعت ایک لائحہ عمل تیار کرتی ہیں جس کے مطابق وہ عوام کی امیدوں پر پورا اترنے کی بھرپور کوشش کرنے کا وعدہ کرتی ہیں۔ الیکشن سے پہلے کے حالات دیکھیں تو ووٹروں کو بہت عزت دی جاتی ہے، وعدے کیے جاتے ہیں، خواب دکھائے جاتے ہیں پھر جب الیکشن کے بعد کوئی بھی سیاسی جماعت حکومت میں آتی ہے تو عوام سے کئے گئے وعدے خواب ہو جاتے ہیں۔۔

    پھر ایوانوں میں بیٹھے نمائندہ عوام کو بھول کر اپنی سوچنا شروع کر دیتا ہے۔ عوام کی خواہشات کی تکمیل کرنے والے اپنے مشن کی تکمیل میں مصروف ہو جاتے ہیں اور ایسا تقریبا 35 سالوں سے ہوتا آرہا ہے کہ دو سیاسی جماعتیں جو زیادہ تر حکومت کا حصہ نہیں حکومت کے آنے کے بعد انہوں نے عوام سے کیے گئے وعدے ہوا میں اڑا دیئے…

    آج بھی آپ کو ان سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کی جائیدادیں اندرونی اور بیرونی ممالک میں ملیں گی اور اس کی وجہ کیا ہے کہ نظام کا قصور ہے یا کہ سیاسی نمائندوں کا قرآن پاک میں بھی یہ واضح ارشاد ہے کہ جو قوم اپنی حالت نہیں بدلتی خدا ان کی حالت نہیں بدلتا کیا ہم ساری کرپشن کا قصور صرف سیاستدانوں کو ٹھرائیں گے کیا ہم خود بخثیت عوام کرپشن کا حصہ نہیں ہیں۔

    آخر کیا وجہ ہے کہ ہم اتنا سب کچھ ہوتے ہوئے بھی خاموش ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم خود ان برائیوں میں ملوث ہیں جن برائیوں میں ہم سیاستدانوں کو دیکھ رہے ہیں سب سے بڑی ضرورت ہمیں اپنے من کو اپنے آپ کو تبدیل کرنے کے ضرورت ہے تبدیلی سیاستدانوں سے نہیں عوام سے آتی ہے پہلے ہم سب کو اپنا آپ درست کرنے کی ضرورت ہے…
    @RajaMusaHabib

  • پالیشیے لفظ کا وجود . تحریر : بلال ناصرکھرل

    پالیشیے لفظ کا وجود . تحریر : بلال ناصرکھرل

    ہماری زندگی میں بہت سے لوگ آتے ہیں، اکثر ہمارے خاندان میں بھی ایسے لوگ ہوتے ہے جو مکھن لگاتے ہے، جن کو اکثر لوگ پالیشیا کہتے ہے ان لوگوں کا ہماری زندگی میں بہت بڑا کردارہوتا ہے اچھا بھی اوربرا تو بہت ، اکثر اوقات یہ پالیشیے ہمارے ڈیروں میں اور بڑوں کے آگے پیچھے بہت ہے خاص کرجو لوگ پولیٹکس میں ہے ان کا کام ہرغلط کام میں حصہ داری ہوتا، وہ کام ان پولیٹیشن کو پتہ بھی نئ ہوتے جو یہ لوگ سرانجام دیتے، ہرادارے میں اِن لوگوں کے کارِے خاص ہوتے جن سے یہ ہر طرح کا کام نکلواتے،
    بلیک میلنگ سے لے کر رشوت تک اِن کا ہاتھ ہوتا، اِن کی پہچان اُس پولیٹیشن سے بھی زیادہ ہوتی،

    جیسے کہ ہمارے گاؤں کا ایک فیقہ مارسی سے آج میاں رفیق اس کا بھی اِس (پالیشیے ) لفظ سے بہت قریب کا تعلق ! فیقہ ایک گاؤں میں چوہدریوں کا چھوٹا موٹا کام کرتا اُسی کام میں وہ ضلع کے پولیٹیشن کا سکیورٹی گارڈ بن گیا اِسی طرح سے وہ لوگوں سے رشوتے لے کے آج اور کل اور اپنی رِشوت خوری کی ترقی میں مبتلا ہو گیا پھر وہ سٹی جا بسا اورمکھن اس نے بڑے افسران کے لئے تیار کیا اور انکو لگاتا گیا وہ میاں رفیق کالونیوں کا مالک بن گیا ، اُس نے بہت سے جلسوں میں اپنے مالکان کے لیے لیترکھائیں لیکن آج تک اس نے پالیش نئ چھوڑی !!

    یہ سب کہنے کا مطلب آج کا ہر انسان اِن جیسوں کو دیکھ کے پالش کا عادی ہو چکا ہے اپنے مطلب کے تحت حق پے لڑنے کی بجائے ہم پالش کو زیادہ ترجیح دیتے اور سوچتے یہ کام وہ ہمارا جلدی کروا لے گے لیکن ایسا بلکل بھی نہیں ہوتا بس آپ کی امید ہوتی کہ اِس بندے کی پہچان یا رتبہ زیادہ لیکن اِس بات کی حقیقت میں کوئی سچائی نئ ہوتی اگر آپ لوگ حق پے ڈٹ جائیں تو اُس انسان سے کہی درجے اچھا اپنا کام کروا سکتے اور ہمارا ملک بہتری کہ طرف آسکتا رشوت کا خاتمہ ہو سکتا بس آپ لوگ اپنے اندر ہمت پیدا کرے ہمارا آج کا نوجوان بھی ان جیسوں کو دیکھ کے کسی نا کسی کے پیچھے لگا ہوا اپنی پہچان کھو بیٹھا، آپ اپنے اوپر مسلط کیے گئے بڑے بڑے پولیٹیشن کی زندگی دیکھ لے وہ اِس لفظ سے ہو کہ گزرے ، کچھ میٹر ریڈر تھے اور کچھ معمولی کلرک اور آج وہ ہمارے ملک اعلی کار بنے ہوئے ، انکی زندگی اس مقام تک لانے میں انکا ہاتھ نئ جتنا آپ لوگوں کا کیونکہ آپ لوگ اِن جیسوں کو اپنے اوپر مسلط کرتے ہو جب وہ حکمران بن جاتے وہ دوسرے بڑے ممالک کی(پالش)شروع کر دیتے اور جب سے ہمارا ملک بنا اورآج تک دیکھ لے پالیشیے لفظ کا بہت ہی اہم کردار رہا ہے ہماری سب کی زندگی میں!!
    ہمارے ملک کی اللہ حفاظت کریں

    پاکستان زندہ آباد

    @kharal