Baaghi TV

Category: سیاست

  • باب دوستی تک پہنچنے والے طالبان. تحریر : نادر علی ڈنگراچ

    باب دوستی تک پہنچنے والے طالبان. تحریر : نادر علی ڈنگراچ

    امریکہ جس طرح افغانستان سے اپنا بوریا بستر گول کر کرتا جا رہا ہے اس طرح افغانستان طالبان کے قبضے میں تیزی سے آرہا ہے. خطے کے تمام ممالک اس پیش رفت سے پریشان ہیں. طالبان مختلف ممالک سے لگنے والی سرحدی علاقوں پر قبضہ اور اپنا اثر و رسوخ بڑھاتے جا رہے ہیں. ایران سے لگنے والی سرحد کاروباری راستے ” اسلام قلعہ ” ترکمانستان سے لگنے والی سرحدی علاقے پر کنٹرول کے بعد پاک-افغان سرحد پر کاروباری راستے ” باب دوستی ” پر بھی قبضہ کرلیا ہے اور آنے جانے کا وہ اہم راستہ بند ہوگیا ہے. بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقامی انتظامیہ پاکستان سرحدی شہر چمن کے ساتھ لگنے والے افغان علاقے ویش منڈی پر طالبان کی موجودگی کی آگاہی دے دی گئی ہے اور پاکستان کے اس پار افغان علاقے میں طالبان کے جھنڈے نظر آرہے ہیں…

    افغانستان سے امریکہ کے بھاگ جانے کے فیصلے اور اس پر عمل کرنے کے بعد غیریقینی کی دھند نے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے. افغانستان کے بڑے بڑے علاقوں پر طالبان کی گرفت مضبوط ہوتی جا رہی ہے. کابل انتظامیہ آہستہ آہستہ کمزور ہوتی جا رہی ہے. افغان طالبان نے مذاکرات میں عالمی طاقتوں کو انسانی حقوق, اور خطے کے دوسرے ممالک میں مداخلت نہ کرنے سمیت جتنی خاطریاں کروائی تھیں وہ بہتی ہوئی نظر آرہی ہے. افغان سرکاری فوج کے جوان جان بچا کر بھاگ گئے. کئی افغانستان سکیورٹی فورسز کے جوانوں نے ترکمانستان میں پناہ لے لی ہے. اور جو ہتھیار ڈال رہے ہیں انکو جنگی قیدیوں کی حیثیت دے کر عالمی اصولوں اور معاہدوں پر عمل کرنے کی بجائے ان کو مارا جا رہا ہے. طالبان کی اس وقت جنگ افغان سرکاری فورسز کے ساتھ چل رہی ہے تاکہ پورے ملک پر کنٹرول حاصل کیا جائے. پر دوسرا مرحلہ ان قوّتوں سے ٹکراؤ کا ہے جو افغانستان میں اختیار اور اقتدار کے خواہشمند ہیں مطلب کہ وہ ” وار لارڈز ” بھی لڑنے کی تیاری میں ہیں جنہوں نے 90ع میں مخالفین کی گردنیں کٹوا کر ان سے فٹبال کھیلے یاں کٹی گردنوں میں سوراخ کر کے ان میں موم بتیاں جلا کر جیت کا جشن منایا. اس ساری صورتحال کا جس ملک پر زیادہ اثر پڑے گا وہ ملک پاکستان ہے. ویسے بھی افغانی پاکستان کو اپنا دوسرا گھر سمجھتے رہے ہیں اور پاکستان بھی افغان پناہگیروں کی 40 سال سے زائد عرصے سے مہمان نوازی کا رکارڈ قائم کر چکا ہے ان کی اس ملک میں آبادکاری کی سرکاری سطح پر بالواسطہ یا بلاواسطہ صحولتکاری ہوتی رہی ہے. صورتحال زیادہ خراب ہوئی تو نہ صرف پاکستان پر افغان پناہگیروں کا وزن بڑھے گا بلکہ پاکستان پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ افغانی پناہگیروں کے شکل میں دہشتگرد بھی آ سکتے ہیں جو ایک حقیقت ہے. پاکستان حکمران یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ طالبان کو پاور ملنے سے پاکستان میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان مضبوط ہوگی. زبانی باتیں ہو رہی ہیں ان خدشات کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے مگر عملی طور پر دیکھا جائے تو غیر سنجیدگی ہی نظر آرہی ہے. پاکستان میں دہشتگردوں کی سرگرمیاں شروع ہوگئی ہیں جس کا ایک ثبوت دو دن پہلے صوبے خیبر پختون خواہ کے ضلع کرم میں دہشتگردوں سے مقابلہ ہے جس میں پاکستان کی سکیورٹی فورسز کے جوان شہید ہوئے ہیں. ہمارے حکمرانوں نے اگر سنجیدگی سے کام نہ کیا تو عالمی قوتیں جن کے اس خطے میں مفاد ہیں اور دہشتگرد اس ملک کو میدان جنگ بنا سکتے ہیں. اس وقت ہی پاکستان کے تفریحی مقامات مری اور دوسری کئی جگہوں پر طالبان کے حق میں نعرے اور ان کے حق میں سرگرمیاں رپورٹ کی گئی ہیں.

    پاکستان خطے میں ہونے والی تبدیلیوں, افغانستان میں ہونے والی نئی پیش رفت اور عالمی طاقتوں کی مفادات کی جنگ سے لاتعلق نہیں رہ سکتا. ضرورت اس بات کی ہے کہ اس ساری صورتحال کو عقابی نظر سے دیکھا جائے اور ساتھ ساتھ ایسے اقدامات نہ اٹھائے جائیں جو پاکستان اس ساری تبدیلی اور ٹکراؤ کا تختۂ مشق بن جائے. افغانی پناہگیروں کا وزن اٹھانے کا مقصد ہوگا کہ اس ملک میں نئی جنگ اور خطرے کو اس ملک میں راستہ دینا. اس لئے پرامن افغانستان پاکستان سمیت پورے خطے کے حق میں بہتر ہے اس لئے افغانستان معاملے کی سیاسی حل کی کوششیں کرنی چاہئیں

  • ‏عدل و انصاف کا حصول ناگزیر .تحریر۔: زمان خان

    ‏عدل و انصاف کا حصول ناگزیر .تحریر۔: زمان خان

    کیا آپ جانتے ہیں
    جو ترازو عدالت کے باہر لٹک رہی ہوتی ہے وہ انصاف کی قیمت اپنے اپنے وزن کے مطابق طے کرنے کے لیئے ہوتی ہے۔
    عوام تو بھولی بادشاہ، عدل کے وہ پلڑے سمجھ بیٹھی جو انصاف دیا کرتے ہیں۔
    بھلا کیا یہ ممکن ہے کہ جھوٹ بیچنے، کمانے اور کھانے والے کرپٹ ترین وکلاء جن پر سیاستدانوں کی نظر کرم نے جج کا تمغہ عطا کیا ہو وہ نیک اور صالح لوگ عوام کو انصاف دے سکیں؟
    جو جتنا بڑا چور، غنڈہ اتنا ہی اثرو رسوخ والا وکیل!
    جس کے نام سے جج کی بھی ٹانگیں کانپتی ہوں!
    یہ کہاں ہوتا ہے؟
    جی ہاں یہ سب ملک خداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ہوتا ہے
    آخر یہ سب کب تک چلے گا؟ کب تک ہمارے ملک کی اعلی عدلیہ کا وقار اسی طرح مجروح کرتے رہیں گے؟
    کیوں انصاف کرنے والا بلا خوف و خطر فیصلہ سنانے کی ہمت نہیں رکھتا؟
    کیوں ایک غریب پھانسی کے پھندے تک آسانی سے پہنچ جاتا ہے اور ایک سیاسی گدھ کے تمام گناہ یا تو معاف کر دیئے جاتے ہیں یاتو سیاسی مصلحتوں کا شکار کر دیئے جاتے ہیں۔
    کیوں سیاسی مقدموں کا فیصلہ نہیں ہوتا؟

    اگر ہو بھی تو لولا لنگڑا
    آخر کیوں
    ایان علی کیس رزلٹ صفر
    ارسلان افتخار کیس رزلٹ صفر
    ڈاکٹر عاصم کیس رزلٹ صفر
    سستی روٹی کرپشن کیس رزلٹ صفر
    احد چیمہ صرف ریمانڈ رزلٹ صفر
    بینظیر ایئر پورٹ کرپشن کیس رزلٹ صفر
    رئیسانی حرام کمائی گھر سے برآمد رزلٹ صفر
    شرجیل میمن کرپشن کیس رزلٹ صفر
    صاف پانی کرپشن کیس رزلٹ صفر
    ماڈل ٹاون کیس رزلٹ صف
    شہد کی بوتل کیس رزلٹ صفر
    مجید MPA اہلکار قتل کیس رزلٹ صفر
    بلدیہ ٹاون کیس رزلٹ صفر
    سانحہ ساہیوال کیس رزلٹ صفر
    شاہ رخ جتوئی کیس رزلٹ صفر
    پرویز رشید غداری کیس رزلٹ صفر
    راجہ رینٹل کیس رزلٹ صفر
    حسین حقانی کیس رزلٹ صفر
    فائز عیسی کیس رزلٹ صفر

    کیا کبھی نیک اور دیندار لوگ جو آخرت اور یوم حساب کا خوف رکھتے ہوں انصاف کی کرسی پر بیٹیں گے؟
    کیا کبھی قرآن و سنت کے مطابق نظام عدل قائم کیا جاسکے گا؟
    کیا انگریز کا دیے ہوئے نظام عدل میں اسلامی اقدار اور قرآن و سنت کے مطابق ترامیم کر کے عملاً رائج کیا جا سکے گا؟
    کیا نظام عدل کے بنیادی اصول جو کہ اصل میں ایک اسلامی معاشرے کی بنیاد ہیں۔۔۔ ایمانداری، نیک نامی، دیانتداری، امانتداری نہیں ہونے چاہئیے؟

    کیا ہمارا معاشرہ ان تمام بنیادی اسلامی اقدار اور رہنما اصولوں سے بہت دور نہیں نکل آیا؟

    کیا یہ تمام خوبیاں ہمیں اپنے نظام میں کہیں نظر آتی ہیں؟
    تو پھر کیوں نا ملک بھر کے غیر سیاسی اور نیک نامی علماء کرام کی زیر نگرانی چلنے والے مدارس سے تعلیم حاصل کرنے والے قابل نوجوانوں کو قانون کے شبعہ میں لایا جائے؟
    دین جن کے سینوں میں ہو گا
    جنہیں کم از کم خوف خدا تو ہو گا
    جنہیں سچ اور جھوٹ کی تمیز تو گی
    جنہیں ناانصافی کرنے اور جھوٹ کا ساتھ دینے پر اللہ کا خوف تو آئے گا
    جنہیں رشوت کے عوض انصاف بیچنے پر عذاب الہی تو یاد ہوگا اور خوف خدا سے انکے ہاتھ تو کانپیں گے

    کیونکہ عدل و انصاف ہی وہ پیمانہ ہے جس کی بدولت انسانیت زندہ ہے
    اگر معاشرہ عدل وانصاف سے عاری ہو تو وہ معاشرہ ظلم و جبر کی آماجگاہ تو ضرور بن سکتا ہے مگر صالح معاشرہ نہیں بن سکتا۔
    عدل و انصاف کا جذبہ ہی وہ جذبہ ہے جو انسان کو بلندی کی طرف لے جاتا ہے
    یہی وجہ ہے کہ اللہ رب العزت نے اخلاقی و معاشرتی احکام کے ساتھ عدل و انصاف کو بیان فرمایا ہے
    ارشاد باری تعالی ہے
    ” اللہ تمہیں عدل و احسان کا حکم دیتا ہے”

    تحریر۔: زمان خان
    ‎@Zaman_Lalaa

  • ‏حکومت بوکھلاہٹ کا شکار .تحریر :فاطمہ بلوچ

    ‏حکومت بوکھلاہٹ کا شکار .تحریر :فاطمہ بلوچ

    سیاسی مذہبی جماعت تحریک لبیک پاکستان جو چند سالوں میں میں بڑی جماعت ابھری اس کے بانی حضور امیرالمجاہدین امام خادم حسین رضوی نے 2017 میں اس اس پارٹی کو بنایا جو دیکھتے دیکھتے عروج پر چلی گئی اور آج پاکستان کی بڑی طاقت بن چکی ہے تحریک لبیک پاکستان جہاں اسلام کی ترجمانی کرتی ہے لوگوں کو دین اسلام کی دعوت دیتی ہے وہی مختلف مواقع پر جب ناموس رسالت ﷺ ختم نبوت ﷺ پر حملے ہوئے اپنے گھروں سے نکلے ن لیگ کے دور میں تحریک لبیک ناموس رسالت ﷺ پر پہرا دیتی رہی لیکن جو ظلم ن لیگ کے دور میں قائدین تحریک لبیک اور کارکنان پر ہوا اس سے کئی گناہ زیادہ ظلم پی ٹی آئی حکومت میں ہو جو ریاست مدینہ کا نعرہ لگاتی ہیں فرانس کے سرکاری سطح پر رسول اللّٰہ ﷺ کی گستاخی ہے یہ کوئی نارمل بات نہیں سرکاری سطح پر گستاخی ہو اور حکومت پاکستان خاموشی تماشائی بنی رہے یہ بہت بڑی بات ہے یہاں معلوم ہوتا ہے حکومت نے انگریزوں کی غلامی قبول کی ہوئی یے بہرحال تحریک لبیک نے حکومت سے مطالبہ کیا فرانس کا سفیر نکالا جائے لیکن حکومت ٹال مٹول سے کام لیتی رہی تحریک لبیک نے مارچ کا اعلان کیا تو حکومت نے کچھ دیر پہلے تحریک لبیک کے امیر علامہ سعد حسین رضوی صاحب کو گرفتار کرلیا ملکی کریک ڈاؤن شروع ہوگیا

    پاکستان کے مختلف شہروں میں لبیک والوں نے دھرنے دیئے حکومت نے سر توڑ کوشش کی مظالم کے پہاڑ توڑے گئے عشقان رسول ﷺ پر بہرحال جب حکومت کامیاب نہ ہوئی معاہدہ کرلیا گیا جس کو بعد میں توڑ دیا گیا یعنی وعدہ خلافی حکومت کیونکہ تحریک لبیک سے خوف زدہ ہوچکی تھی کہی ان کی حکومت نہ چلی جائے یا فرانس ناراض ہوگیا تو انکی غلامی کو خطرہ ہوگا اسی وجہ سے حکومت نے تحریک لبیک پر پابندی لگادی جو کہ ابھی مکمل لگی نہیں کیونکہ یہ حکومت نے اپنے تحت کیا جو کہ ایک سیاسی جماعت کا دوسری سیاسی جماعت کو کلعدم کردینا کہی درست نہیں یہ صرف تخت کا کمال ہے کیونکہ وہ حکومت میں جو ہے پاور تو استعمال کریں گی لیکن طاقتیں ساری اللّٰہ کی ہیں پاکستان کی ایک بڑی مقبول ترین جماعت جس کے کروڑوں کارکنان ہیں اس پر پابندی کیسے لگ سکتی ہے ؟؟ جس قانون کے تحت حکومت نے پابندی لگائی وہ تو یہ کہتا ہے اگر کوئی گروہ ریاست پاکستان کے خلاف ہتھیار اٹھائے بغاوت کریں فوج سے لڑے بم دھماکے کرے اسکو کلعدم کیا جاسکتا یے

    اب بات یہ ہے تحریک لبیک کے پاس تو ایک پٹاخہ برآمد نہیں ہوا نہ یہ کسی ایسی ایکٹویٹی میں پائی گئی یہ تو واحد جماعت ہے جو الیکشن کمیشن سے کلئیر ہے جن کی حکومت ہے وہ خود الیکشن کمیشن سے کلئیر نہیں دوسری جماعتیں اپنے مخالف حکومت کے دور میں مظاہرے کرتی رہی ہیں جیسے پی ٹی آئی کا 126 دھرنا سول نافرمانی ہے ٹی وی پر حملہ ایسے سب جماعتیں ملکی املاک کو نقصان پہنچا چکی ہیں لیکن انکو آج کلعدم نہیں کیا گیا ؟؟؟ اصل میں تحریک لبیک حکومت کیلئے خطرہ بن چکی ہے کیونکہ حکومت بے نقاب ہورہی ہے روزانہ حکومت کی اسلام مخالف پالیساں واضع ہورہی ہیں اب بات حکومت نے ایک بڑی جماعت کو کلعدم کردیا لیکن یہ ایک لمبا پروسس ہے الیکشن کمیشن سپریم کورٹ میں باقاعدہ اسکا ہونا باقی ہے ایسے کسی جماعت پر پابندی نہیں لگ سکتی یہ تو حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہے اس وجہ سے اندھا دھندہ دیوار سے ٹکرے مار رہی ہیں بہرحال یہ پاکستانی قوم کیلئے لحمہ فکریہ ہے یہ حکومت اتنی بڑی جماعت کو پابندیاں لگا سکتی ہے تو یہ ملک کو کچھ بھی نقصان دہ سکتی ہیں

  • ففتھ جنریشن وار کے سپاہی . تحریر:عقیل احمد راجپوت

    ففتھ جنریشن وار کے سپاہی . تحریر:عقیل احمد راجپوت

    وطن سے محبت ہر پاکستانی کے دل میں ہے وطن کی خاطر جان مال نچھاور کرنے والوں کی ایک طویل داستان ہے جس پر لکھنا شروع کیا جائے تو الفاظ ختم ہو جائے گے حب الوطنی نہیں خیر میرا موضوع آج کچھ ہٹ کر ہے وطن سے محبت میں کچھ لوگ وردی میں ملبوس ہوکر اس کے دفاع کے لئے اپنی جان جوکھم میں ڈال کر اس کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے میں دن رات کوشاں رہتے ہیں کچھ سرحدوں پر کچھ وطن کے اندر کچھ نظر نہیں آکر مختلف انداز میں ملک سے محبت اور اس کا دفاع کیا جاتا ہے مگر کچھ سالوں سے ایک نیا طریقہ جسے ہم سوشل میڈیا جنریشن وار کے طور پر جانتے ہیں شروع ہوا جس کے بارے میں پاکستانیوں کی بڑی تعداد نا واقف تھی اس وار کے مرکزی لیڈ ہیرو کو میں جناب آصف غفور کے طور پر جانتا ہوں جنہوں نے پاکستان کے سوشل میڈیا پر صرف یہاں وہاں کے ٹائم پاس کرنے والے ایکٹیوسٹوں کو ایک نظریہ اور لائن کھینچ کر دی کے کس طرح دشمن سوشل میڈیا کے زریعے ہمارے ذہنوں کو ملک کے خلاف استعمال کرکے اپنے ملک اور اداروں کے خلاف کرنا چاہتے ہیں

    آصف غفور صاحب کی کھینچی گئی وہ لائن جس سے لاکھوں پاکستانی سوشل میڈیا جنریشن وار کے سپاہی کے طور پر سامنے آئے اور ملک کی خاطر جھوٹا پروپیگینڈا کرنے والوں کو منہ توڑ جواب دینے کا سلسلہ جو آصف غفور صاحب نے شروع کیا تھا وہ مستقل جاری وساری ہے نوجوان نسل سوشل میڈیا جنریشن وار کو بہتر انداز میں لڑ رہا ہے ملک دشمنوں کو ہمیشہ ہزیمت اٹھانی پڑتی ہے نوجوانوں نسل آصف غفور صاحب کی شکر گزار ہیں کے جن کی بدولت آج ملک کے دفاع میں وہ گھر بیٹھ کر کالجوں دفتروں سے بھی ملک کی خدمت کا موقع حاصل کررہی ہے اور ملک کے دشمنوں کی کسی بھی چال کو کسی بھی صورت کامیاب نہیں بننے دیگی پاکستان کا بچہ بچہ پاکستان ذندہ باد کے نعروں کو اپنے آخری خون کے قطرے تک لگاتار لگاتا رہے گا افواج پاکستان کی قربانیوں کو ملک کے کونے کونے تک پھیلانے کا سبب بھی بنے گا انشاء اللہ

  • سی پیک اور مستقبل کا بلوچستان. تحریر: انجینئر سعد کلیم

    سی پیک اور مستقبل کا بلوچستان. تحریر: انجینئر سعد کلیم

    چیئرمین سی پیک اتھارٹی لیفٹینٹ جنرل(ریٹائرڈ)عاصم سلیم باجوہ کی کاوشوں سے سی پیک اب دوسرے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے جس میں صنعتی اور زرعی تعاون ،گوادر کی ترقی اور سماجی و اقتصادی ترقی پر فوکس کیا جا رہا ہے جس کے دور رس مثبت نتائج حاصل ہونگے اورمعاشی ترقی کی راہ ہموار ہوگی۔

    چیئرمین سی پیک اتھارٹی لیفٹینٹ جنرل (ریٹائرڈ)عاصم سلیم باجوہ اس منصوبے کو بھر پور انداز میں آگے بڑھانے کے لیے انتہائی پر عزم ہیں ۔سی پیک کے دوسرے مرحلے میں نہ صرف اس منصوبے  کے دائرہ کار بلکہ رفتار کو بھی تیز کیا گیا ہے

    گوادر میں پانی کے منصوبوں پر کام تیزی سے جاری ہے اور اس سال ہسپتال اور ٹریننگ ووکیشنل سنٹر پر کام شروع ہو گیا ہے اس کے ساتھ ساتھ روڈ نیٹ ورک کی بھی تعمیر پر کام زور و شور سے جاری ہے کہا جارہا ہے سی پیک کےتحت روڈ نیٹ ورک کی تعمیر سے بلوچستان کے عوام کی 72 سالہ پرانی شکایات کو دور کرنے میں کافی مدد ملے گی۔

    ملک کے دوسرے حصوں کے ساتھ گوادر بندرگاہ کو ملانے کے لئے بلوچستان میں سڑکوں کا جال بچھانا حکومت وقت کی اولین ترجیح ہے۔بسمہ خضدار روڈ پر 70 فیصد سے زیادہ کام مکمل ہوچکا ہے ،یہ رواں سال کے آخر تک مکمل ہوجائے گا یاد رہے یہ روڈ گوادر بندرگاہ کو ملک کے دوسرے حصوں سے جوڑ دے گا۔.

    چیئرمین سی پیک اتھارٹی جنرل (ریٹائرڈ) عاصم سلیم باجوہ کی کوششوں کی وجہ سے گوادر بندرگاہ کو ملک کے دوسرے علاقوں سے جوڑنےکے لئے بھر پور طریقے سے کام جاری ہے جو معاشی سرگرمیاں پیدا کرے گا اور بلوچستان کے مقامی لوگوں کے لئے روز گار کے مواقع پیدا کرے گا۔

    بلوچستان کے 9 ترقی یافتہ اضلاع میں 31 سے زیادہ ڈیم تعمیر کیے جائیں گے 15 ڈیموں پر تعمیراتی کام پہلے ہی شروع ہوچکا ہے اور 16 نئے ڈیموں پر کام جلد ہی شروع ہوجائے گا اس کے ساتھ گوادر ائیرپورٹ پر بھی برق رفتاری سے کام جاری ہےجہاں بڑے کارگو ہوائی جہاز کی لینڈنگ کی بھی گنجائش ہوگی اور تیز ترین بندرگاہ کے آپریشن کے لئے جدید ترین مواصلاتی سہولیات سے بھی آراستہ کیا جائیگا

    بحثیت فرزند بلوچستان میں یہ بات دعوے سے کہ سکتا ہوں آج پورا بلوچستان بلخصوص بلوچستان کے نوجوان چیئرمین سی پیک اتھارٹی عاصم سلیم کی کاوشوں کو دیکھتے ہوے پر امید ہیں کہ بہت جلد گوادر بندرگاہ صوبے میں معاشی انقلاب اور معاشرتی خوشحالی لائے گی اور دور دراز علاقوں کو ملک کے دوسرے ترقی یافتہ علاقوں کے مساوی بنانے کے لئے مدد گار ثابت ہوگی اور انے والا کل پاکستان کے حوالے سے بلوچستان کا کل ہوگا

  • ناراض بلوچ رہنمائوں سے مذاکرات، بلوچستان میں قیام امن کے لئے اہم پیشرفت .تحریر: خدیجہ رفیع

    ناراض بلوچ رہنمائوں سے مذاکرات، بلوچستان میں قیام امن کے لئے اہم پیشرفت .تحریر: خدیجہ رفیع

    وزیراعظم عمران خان نے حالیہ دورہ بلوچستان میں واضح اعلان کیا کہ ناراض بلوچوں کو قومی دھارے میں لانے کے لئے مذاکرات کا راستہ اپنایا جائے گا اس سلسلے میں وزیر اعظم عمران خان نے جمہوری وطن پارٹی کے سربراہ شاہ زین بگٹی کو معاون خصوصی مقرر کر دیا ہے۔اور وہ وزیراعظم کے بلوچستان کے لئے مفاہمت و ہم آہنگی کے امور پر معاون خصوصی مقرر کئے گئے ہیں۔
    جبکہ دوسری طرف وفاقی حکومت کی طرف سے سید ظہور احمد آغا کو بلوچستان کا گورنر مقرر کیا گیا ہے، نئے گورنر آغا ظہور نے بھی ناراض بلوچ رہنمائوں سے مذاکرات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ناراض بلوچوں کو مذاکرات کا حصہ بننا چاہئے۔ شاہ زین بگٹی کی اہم عہدے پر تعیناتی وزیر اعظم عمران خان کے ناراض بلوچ رہنمائوں سے مذاکرات کے بیان کے بعد ایک انتہائی اہم پیش رفت ہے جس کے مطابق حکومتی اتحادی جمہوری وطن پارٹی کے سربراہ شاہ زین بگٹی وفاقی کابینہ کا حصہ بنے ہیں۔ شاہ زین بگٹی ناراض بلوچوں سے رابطہ کریں گے۔ شاہ زین بگٹی کا عہدہ وفاقی وزیر کے برابر ہوگا۔ دو روزقبل وزیراعظم عمران خان نے کوئٹہ میں طلبا اور بلوچ عمائدین سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ناراض بلوچوں کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں غورو خوض کر رہے ہیں۔ ناراض ہونے والوں کو شاید دوسرے رنج ہوں اور وہ دوسرے ملکوں کے لئے استعمال بھی ہوئے ہیں۔ وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ ماضی میں بلوچستان کی طرف وہ توجہ نہیں دی گئی جو بلوچستان کے مسائل اور محرومیوں کے ازالہ کی متقاضی تھی۔ بلوچستان قدرتی وسائل سے مالا مال صوبہ ہے۔ انمول اور قیمتی معدنیات کے ساتھ بلوچستان میں سونے تک کی کانیں ہیں۔ بلوچستان سے نکلنے والی گیس دیگر صوبوں میں بھی استعمال ہوتی ہے۔ پٹرول کے ذخائر بھی زیر زمین موجود ہیں اور پھر وفاق کی طرف سے بھی ہر دور میں بلوچستان کی ترقی کے لئے وسیع القلبی کا مظاہرہ دیکھا گیاہے مگر بلوچستان پسماندگی، غربت، مسائل اور مشکلات سے نہ نکل سکا۔ ماضی میں آغاز حقوق بلوچستان پیکج دیا گیا۔ پر امن مفاہمتی پالیسی کا اجرا ہوا۔ پاک فوج کی طرف کیڈٹ کالجز اور تعلیم و روزگار کے منصوبے شروع کئے گئے۔ بلوچستان کے لئے جس قدر بڑے بڑے مالی پیکجز سامنے آئے ان پر ان کی روح کے مطابق عمل ہو جاتا تو بلوچستان کی محرومیاں اور پسماندگی مکمل نہیں تو کافی حد تک ختم ہو جاتی۔ سارے پیکجز اور مراعات صوبے کے منتخب عوامی نمائندوں ، وڈیروں اور افسر شاہی کے توسط سے دی گئی تھیں۔ آج آمدن سے زائد اثاثوں میں لوگ ملوث و ماخوذ پائے جا رہے ہیں تو سمجھ آتی ہے کہ بلوچستان کا حق کس نے مارا۔

    کسی صوبے کے لوگ جتنی بھی مشکلات و مصائب سے دو چار کیوں نہ ہوں اس کا مطلب ہتھیار اٹھا کر ریاست کو چیلنج کرنا نہیں ہے۔ بلوچستان میں محرومیوں کے نام پر علیحدگی پسند گروپ وجود میں آئے۔ ان کے پاس بھاری اسلحہ و بارود بھی ہے، ناموں سے بھی ان کے کردار اور عزائم کی بو آتی ہے۔ بلوچستان لبریشن آرمی، بلوچ لبریشن فرنٹ، بلوچ ری پبلکن آرمی ۔ ان گروپوں کی قیادت ملک سے باہر پاکستان دشمن قوتوں کے وسائل پر پل رہی ہے۔ محرومی و پسماندگی کا شکوہ کرنیوالا ہر بلوچ ہتھیار بند نہیں ہے لیکن مذکورہ تنظیموں کے شدت پسندوں کے بہکاوے میں آنے والے کچھ لوگ ضرور ہو سکتے ہیں۔ ان کے ساتھ بات چیت میں تاخیر اور دشمن کے ہاتھوں میں کھیلنے والوں کی معافی نہیں ہونی چاہیے۔ ان کے لئے اسی صورت گنجائش نکل سکتی ہے کہ وہ پاکستان واپس آئیں اور اپنے گناہوں کا اعتراف کریں ماضی میں بھی دہشت گرد اور کالعدم گروپوں کے لئے کام کرنے والوں کو معافی دی گئی تھی۔ سینکڑوں افراد سرنڈر کر کے قومی دھارے میں آئے۔ایک دور میں وزیراعلی بلوچستان عبدالمالک بلوچ نے جلاوطن رہنمائوں سے مذاکرات کے لئے بیرون ملک دورے بھی کئے تھے۔ پاکستان کو مطلوب علیحدگی و شدت پسندوں کے سرغنہ بھارت ، اسرائیل اور یورپ میں بیٹھے ہوئے ہیں ان سب کو ایک بار وسیع تر مفاہمت کے جذبے کے تحت قومی دھارے میں آنے کا موقع دیا جانا چاہیے۔ اس مقصد کے لئے شاہ زین بگٹی بہترین انتخاب ہیں۔

    بلوچستان کی ترقی و خوشحالی کے لئے بگٹی خاندان کا مجموعی طور پر اہم کردار رہا ہے۔ شاہ زین بگٹی اور ان کے والد طلال بگٹی نے ہمیشہ ہم آہنگی اور یگانگت کی بات کی۔ لاپتہ افراد کی بازیابی اور بلوچستان کی محرومیوں پر شاہ زین کھل کر بات کرتے رہے ہیں مگر کبھی ہتھیار اٹھانے کی بات کی نہ ایسے لوگوں کے پلڑے میں وزن ڈالا۔ بلوچ ہونے کے ناطے ان کے بڑے قبائل کے ساتھ مراسم کا ہونا قدرتی بات ہے۔ وزیراعظم کی طرف سے ان کو جو مشن سونپا گیا ہے وہ اپنے تعلقات کو بروئے کار لاتے ہوئے اس میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔

    آج کل علاقائی حالات بھی موافق ہیں۔ امریکہ افغانستان سے انخلا کر رہا ہے اور بھارت دم دبا کر افغانستان سے بھاگ رہا ہے۔ پاکستان میں دہشتگردی کے لئے افغانستان میں موجود نیٹ ورک کمزور پڑ گیا ہے۔ بھارت کو پاکستان میں دہشتگردی کے لئے دیگر ذرائع کی تلاش ہو گی۔ اس وقت تک پاکستان کو امن کی بحالی کے تمام تر ممکنہ اقدامات اٹھانے کی ہر ممکن کوشش کرنا ہو گی۔ افغانستان سے باڑ کی تنصیب سے دہشتگردی کے داخلے راستے مسدود ہو چکے ہیں۔ بلوچستان میں بھارت کے لئے کام کونیوالوں کو قومی دھارے میں لانا آسان ہے جو بھارت کی نمک خواری پر بضد رہیں۔ ان کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔ اب جبکہ ان کی کمک منقطع ہو چکی ہیں مزید آسان ہے۔

  • آلودہ پانی دہشت گردی سے بھی خطرناک .تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

    آلودہ پانی دہشت گردی سے بھی خطرناک .تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

    اللہ رب العزت نے انسانوں بلکہ کائنات کی تمام مخلوق کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے جس کا ذکر قرآن میں موجود ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے "اور اگر اللہ کی نعمتیں گنو تو انہیں شمار نہ کر سکو گے”۔نعمتوں کا احسا س و لذت اس کی ضرورت کے مطابق ہوتا ہے۔ پانی کے بغیر زندگی ممکن ہی نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ارشاد فرماتاہے ” اور ہم نے ہر جاندار چیز پانی سے بنائی تو کیا وہ ایمان نہ لائیں گے” قرآن میں ایک اور جگہ فرمایا”اور اللہ نے زمین پر ہرچلنے والا پانی سے بنایا تو ان میں کوئی اپنے پیٹ پر چلتاہے اور ان میں کوئی دو پائوں پر چلتا ہے اور ان ہی میں کوئی چار پائوں پر چلتاہے۔ اللہ بناتا ہے جو چاہے،بے شک اللہ سب کچھ کر سکتاہے”۔زمین پر جتنے بھی جاندار ہیں خواہ انسان ہوں یا دوسری مخلوق ان سب کی زندگی کاانحصارپانی پرہے۔

    پاکستان پانی کی کھپت کے لحاظ سے دنیا میں چوتھے نمبر پر ہے جبکہ اس کی آبادی عالمی سطح پر پانچویں نمبر پر ہے پانی کی شدید قلت کا شکار ممالک کی فہرست میں آئی ایم ایف نے پاکستان کو تیسرے نمبر پر رکھاہے جبکہ دیگر عالمی ایجنسیوں نے خبردار کیا ہے کہ سن 2025 تک یہ ملک مکمل طور پر خشک سالی کاشکار ہوجائے گا۔اس وقت پاکستان کی بیشتر آبادی کو پینے کاصاف پانی میسر نہیں ہے تاہم کسی بھی حکومت نے اس چیلنج یا تلخ حقیقت کا نوٹس نہیں لیا اورعوام کی اس بنیادی ضرورت کو پورا کرنے میں ناکامی نے زندگیوں اور صحت کو بہت بڑا نقصان پہنچایا ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق دوتہائی پاکستانی عوام پینے کے صاف پانی سے محروم ہے ، جس کی وجہ سے عوام میں موذی بیماریاں پھیلنے کے خطرات اور بڑھ گئے ہیں ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر سال ایک لاکھ سے زیادہ افراد جن میں سے آدھے بچے ہوتے ہیںپانی سے پیدا ہونے والی خطرناک بیماریوں کی وجہ سے ہلاک ہوجاتے ہیںیہ نہ تو دہشت گردی ہے اور نہ ہی قدرتی آفات ہیں بلکہ پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں اموات کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔اقوام متحدہ کے مطابق آلودہ پانی کے استعمال سے ہر سال ملک بھر میں 40 فیصد اموات ہوتی ہیں۔ صنعتی فضلہ ، تباہ شدہ سیوریج سسٹم اورسیوریج کے آلودہ پانی سے فصلات اورسزیوں کی کاشت اور منصوبہ بندی کے بغیرشہروں کے پھیلائونے پچھلے کئی سالوں سے خاص طور پر بڑے شہروں میں پانی کے معیار اور مقدار کو گھٹا دیا ہے، ملک کے بیشتردور دراز علاقوں خاص طورپرسندھ اوربلوچستان میں لوگوں کو پینے کا پانی لانے کے لئے کئی میل سفر کرنا پڑتا ہے۔پہاڑی اور صحرا ئی علاقوں میں رہائش پذیرعوام پانی کے لئے بارش پر انحصار کرتے ہیں ، انسان اور جانور ایک ہی تالاب سے پانی پیتے ہیں یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ وزارت صحت اور یونیسف کے اعدادوشمار کے مطابق ہرسال پاکستان میں100000 سے زائدافرادآلودہ پانی پینے کی وجہ سے مختلف بیماریوں کاشکارہوکرہلاک ہوجاتے ہیں،

    ہر سال 10 سال سے کم عمر کے 50000 سے زائد بچے ہیضہ ، اسہال ، پیچش ، ہیپاٹائٹس اور ٹائیفائڈ جیسی پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے مر جاتے ہیں۔ماہرین کاکہنا ہے کہ پانی میںبڑی مقدارمیں آرسینک کی موجودگی کی وجہ سے شوگر ، جلد ، گردے ، دل کی بیماریوں ، ہائی بلڈ پریشر ، پیدائشی نقائص اور متعددقسم کے کینسر کا باعث بھی ہے۔ صفائی کے ناقص نظام ،بروقت پانی کی ٹریٹمنٹ اور نگرانی نہ ہونے کی وجہ سے پینے کے پانی کا معیار خراب ہوتا جارہاہے۔ پینے کے پانی میں زہریلے کیمیکلز اور بیکٹیریا کی موجودگی انسانی صحت پر منفی اثر ڈالتی ہے۔ آلودہ پانی پینے کی وجہ سے لوگ پیٹ کی بہت سی خطرناک بیماریوں میں مبتلاہیں دوسری طرف حکومت نے پہلے سے موجود پینے کے صاف پانی سے متعلق پلانٹس کی بحالی پرکوئی توجہ نہیں دی،اور مناسب کام کرنے اور سنبھالنے کے لئے عملی طورپر کوئی کارروائی نہیں کی گئی ،پاکستان کے شہری علاقوں میں پینے کے صاف پانی اور پینے کے لئے موزوں ہونے کو یقینی بنانے کیلئے ٹریٹمنٹ پلانٹوں سے نمونے لینے کاکوئی مناسب نظام نہیںہے۔ پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے پھیلا ئوکو روکنے اورمعیار کوبرقراررکھنے کیلئے سال میںدوبار پانی کے نمونے لیکرانہیں ٹیسٹ کرنے کی روایت پاکستان میں موجود نہیں ہے کیونکہ افسرشاہی اپنی لالچ اورخودغرضی کی وجہ سے واٹرمافیاء سے ملاہواہے جن کی وجہ سے بروقت ٹیسٹنگ کانظام ناکام ہوچکاہے،پیتھوجینز کو مارنے اورپانی کی کلورینیشن کاعمل نہ ہونے کے برابر ہے۔پاکستان میں پینے کے پانی کے معیار کے تجزیہ کے لئے جدید ترین اور قابل اعتماد آلات اور تربیت یافتہ سٹاف کی بہت کمی ہے جس پر کسی بھی حکومت نے آج تک توجہ نہیں دی۔پاکستان میں ایسی صنعتیں بہت کم ہیں جنہوں نے گندے پانی کو صاف کرکے قابل استعمال بنانے کیلئے WaterTreatmentپلانٹ لگائے ہوں ۔ حکومت کو چاہئے کہ 1997 کے ایکٹ کے تحت NEQS کے مطابق ان کے صنعتی آلودگی سے نمٹنے کے لئے سخت کارروائی کرے۔ اگر کوئی صنعت قواعد کی خلاف ورزی کرتی ہوئی پائی جاتی ہے تو اسے بھاری جرمانے اور قید کی سزا بھی دی جانی چاہئے۔ دہشت گردوں کے ہاتھوں معصوم شہریوں کی ہلاکت کی خبریں تومین سٹریم میڈیا اورسوشل میڈیا پر زورشورسے چلائی جاتی ہیں ریٹنگ بڑھانے کے چکر میں عوام کوانتہائی خوفزدہ کیاجاتاہے(ہم یہ نہیں کہتے کہ دہشت گردوں سے متعلق خبریں عوام کے سامنے نہ لائیں)حالانکہ ان دہشت گردوں کے حملوں کے نتیجے میں بہت سی قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوجاتی ہیںاورمالی نقصان بھی کہیں زیادہ ہوتاہے،دہشت گردی کے برعکس پاکستان میں آلودہ پانی پینے سے پیداہونے والی بیماریوں سے ایک لاکھ سے زائدلوگوں کی ہلاکت دہشت گردی سے زیادہ خطرناک نہیں ہے؟ جبکہ عالمی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ 2025 ء تک پاکستان مکمل طور پرخشک سالی کاشکارہوکرخانہ جنگی کی طرف جاسکتا ہے، اگرحکومت ملک کوتباہی اورانتشار سے بچاناچاہتی ہے تو صورتحال کاازسرنوع جائزہ لیناچاہئے ،پانی کے نظام میں بہتری ، صفائی ستھرائی اوربنیادی ڈھانچے کی ترقی کیلئے ابھی سے کام شروع کردے ورنہ آلودہ پانی کااژدہا دہشت گردی کی لعنت سے بھی زیادہ خطرناک پھن پھیلائے کھڑاہے۔

  • وزیراعظم عمران خان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت ،تحریر:عامر بیگ

    وزیراعظم عمران خان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت ،تحریر:عامر بیگ

    ایک وقت تھا جب پاکستانی حکمرانوں کو امریکی صدر ائیرپورٹ پر استقبال کے لیے آتے تھے۔ جی بالکل ، صدر پاکستان ایوب خان کو امریکی صدر ایئرپورٹ پر ویلکم کرنے آئے تھے۔ پاکستان ساٹھ کی دہائی میں تیزی سے ترقی کررہا تھا۔
    مگر پھر ریاست میں کچھ ایسے واقعات ہوئے۔ جس سے ملک دو لخت ہو گیا۔
    اور بات ضیاء الحق کے مارشل لا تک آن پہنچی۔ اس وقت سوویت یونین افغانستان تک پہنچ چکا تھا۔ اور امریکہ بہادر کو اسے روکنا تھا۔ لہذا حسب ضرورت پاکستان کی یاد آ گئی۔ قصہ مختصر پاکستان کی مدد سے افغانستان میں سوویت یونین کو توڑ دیا گیا۔ اور امریکہ بہادر نے پاکستان کو چھوڑ کر ہاتھ جھاڑتے ہوئے واپس اپنے ملک چلا گیا۔ اس کے بعد ہمیں کرپٹ اور نااہل حکمران ملے۔ جن کی دن رات کرپشن اور نااہلی کے میدان میں کی گئی محنت کیوجہ سے پاکستان ستر سال پیچھے چلا گیا۔ یہ کرپٹ حکمران آپس میں گٹھ جوڑ کر کے ملک لوٹتے رہے۔ اور عوام کو چند دکھاوے کے منصوبے دکھا کر بے وقوف بھی بناتے رہے۔ دو سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر کرپشن کے الزامات لگاتی تھیں۔ مگر شام کو سب نام نہاد ملکی مفاد میں چپ ہو جاتی تھی۔ ایسے ہی چلتا رہا۔ پھر اکیسویں صدی کا آغاز تھا۔ اور موبائل انٹرنیٹ عام ہونا شروع ہوا۔ تو عمران خان نے سیاست میں آنے سے پہلے ہی پاکستان سمیت دنیا بھر میں مقبول تھا۔ برطانوی شاہی خاندان کے ساتھ دوستی کیوجہ سے فلاحی کاموں میں کافی مقبولیت مل چکی تھی۔ اور عمران خان کی دیانتداری اور ایمانداری کے چرچے پاکستان کے ساتھ ساتھ یورپ تک پہنچ گئے۔ جس کیوجہ سے نوازشریف نے عمران خان کی مقبولیت دیکھتے ہوئے اپنی جماعت جوائن کرنے کی آفر بھی کردی۔ جس کی ویڈیو یوٹیوب پر بھی موجود ہے۔

    ایسے میں الیکشن دو ہزار اٹھارہ آ گیا۔ اور عمران خان کی جماعت پی ٹی آئی قومی اسمبلی میں پہلے نمبر پر آئی۔ اور عمران خان وزارت عظمیٰ کے منصب پر بیٹھ گئے۔ اب حالات یہ تھے کہ وزیراعظم عمران خان کو جب ملکی خزانوں کا بتایا گیا تو ہوشربا انکشافات سامنے آگئے۔ ملکی خزانہ خالی ہے۔ گردشی قرضے کا انبار سر پر ہے۔ اور ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ کی تلوار پاکستان کے سر پر لٹک رہی تھی۔ ایسے کڑے وقت میں اقتدار پھولوں کی سیج کی بجائے گرم گرم آلو کی مانند لگنے لگا۔ مگر عمران خان ہمیشہ سے ایک بات کرتے ہیں ۔ سے اللہ تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد مانگتے ہیں۔ سب سے پہلے وزیراعظم عمران خان نے قوم سے خطاب کے دوران کو ہمت اور استقامت کا دامن پکڑنے کی تلقین کرتے ہوئی ساری صورتحال بتادی۔ پھر وزیراعظم عمران خان نے اخراجات کم سے کم کرنے کا آغاز اپنی ذات سے کیا۔ اور وزیراعظم ہاؤس کا خرچے میں کروڑوں روپے کا کٹ لگا کر خاتم النبیین جناب رسول محترم کی سنت پر عمل کیا۔

    اس کے بعد دوست ممالک پاکستان کی مدد کو آئے۔ اور پاکستان کی تاریخ میں کافی دیر کے بعد حکومت اور فوج ایک پیج پر آگئے۔ پاکستانی قوم کے ہمت اور حوصلے اور وزیر اعظم عمران خان کی محنت شاقہ کی بدولت پاکستان کی معیشت رفتہ رفتہ ٹریک پر آگئی۔ اب تازہ ترین صورتحال یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی مقبولیت یہ ہے کہ دنیا کے کافی حکمران وزیراعظم عمران خان کی دیانتداری سے متاثر ہوتے نظر آرہے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کو نہ صرف ملک اور خطے میں بلکہ اب عالمی لیڈر کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ دورہ ازبکستان کے موقع پر بین الاقوامی لیڈرز کے فوٹو سیشن میں مرکزی اور نمایاں جگہ وزیراعظم عمران خان کو ملتی ہے۔ وزیراعظم عمران خان کے ماحول دوست اقدامات کو پوری دنیا میں مقبولیت مل رہی ہے۔ کرونا عالمی وبا کے دوران وزیراعظم عمران خان کی اپیل پر ترقی پزیر ممالک کا قرضہ تک فریز کردیا جاتا ہے۔ روسی صدر کے دورہ پاکستان کی خبریں آج کل زیر گردش ہیں۔ امید ہے اسی سال روسی صدر پاکستان تشریف لائیں گے۔ اسکے بعد چینی صدر کی آمد کا بھی روشن امکان موجود ہے۔ پاکستان کو خطے میں اہم پوزیشن حاصل ہوچکی ہے۔

    وزیراعظم عمران خان سے پوری دنیا کے لیڈرز روابط بنانے کی کوششیں کررہے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نہ صرف پاکستان کی معیشت کو بہتر کررہے ہیں۔ بلکہ یورپ پر جناب خاتم النبیین رسول محترم کی عزت و احترام بھی باور کروا رہے ہیں۔ کئی ممالک کو یہ بات بتادی ہے۔ کہ پیارے نبی کی توہین کر کے آپ مسلمانوں کی سب سے محبوب چیز پر حملہ آور ہوتے ہیں ۔ جو کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی کشمیر پر جارحانہ پالیسی انڈیا کو بیک فٹ پر لے آئی ہے۔ انڈیا اب کشمیر سے آرٹیکل 370 ختم کرنے کی کوششوں میں مگن ہے۔
    وزیراعظم عمران خان نے کمال مہارت سے خارجہ ، داخلہ ، سیاحت اور دیگر میدانوں میں کامیابی کے جھنڈے گاڑ دیے ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان کی آدھی آبادی صوبہ پنجاب ، صوبہ خیبرپختونخوا کے تمام شہریوں کو سو فیصد صحت کارڈ اس سال کے آخر تک مل جائیں گے۔ جس کی وجہ سے ساڑھے سات لاکھ روپے تک سالانہ ہیلتھ انشورنس ملنے سے عوام کو بھرپور فائیدہ ملے گا۔ زراعت کے شعبے میں زبردست کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔ بہت عرصے بعد گندم ، چاول ، مکئی اور گنے کی ریکارڈ پیداوار ہوئی ہے۔

    وزیراعظم عمران خان کو مہنگائی کا چیلنج ابھی بھی درپیش ہے۔ مگر جس چیز کو ٹھیک کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مافیا مل کر چیزیں مہنگی کر کے حکومتی کوششوں کو ناکام کرنے میں مصروف ہوجاتا ہے۔ مگر آہستہ آہستہ چیزیں درست ٹریک پر آ رہی ہیں۔ دس سال کے بعد پہلی دفعہ کرنٹ اکاونٹ سرپلس میں آ چکا ہے۔ سی پیک فیز ٹو برق رفتاری حاصل کر چکا ہے۔ کم و بیش تیس سال کے بعد بڑے ڈیمز وزیراعظم عمران خان کی ذاتی محنت اور توجہ سے ہی بن رہے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے 2018-2028 کو ڈیمز کی دہائی قرار دیا ہے۔ ڈیمز بننے کے بعد پاکستان میں سستی اور وافر بجلی مہیا ہوگی۔ اس کے علاوہ بھی بہت سارے اقدامات وزیراعظم عمران خان کی حکومت کررہی ہے۔ جس کے لیے پوری کتاب لکھی جاسکتی ہے۔ مگر فی الوقت اتنا ہی کافی ہے۔ اس کے بعد مزید باتیں آپ کے ساتھ شیئر کی جائیں گی۔

  • ہائے رے تبدیلی ، تیرا ککھ نہ روے ۔۔۔تحریر:نوید شیخ

    ہائے رے تبدیلی ، تیرا ککھ نہ روے ۔۔۔تحریر:نوید شیخ

    یوں لگ رہا ہے کہ حکومت نے عوام سے انتقام لینا شروع کردیا ہے کہ انھوں نے پی ٹی آئی کو ووٹ کیوں ڈالا ہے ۔

    ۔ وفاقی حکومت نے پٹرول کی قیمت میں جو اضافہ کرنا تھا کر دیا مگر جس ڈھٹائی سے وزیروں کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ ابھی تو ہم نے عوام کا بہت خیال کر لیا ہے ۔ خطے کے ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں پیڑول کی قیمت بہت کم ہے ۔ اسلیے شکر منائیں ۔ اس پر دل خون کے آنسو روتا ہے ۔

    ۔ ان وزیروں کو میں آئینہ دیکھا دوں اور پوچھنے کی جسارت کروں کہ خطے کے دوسرے ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں
    per capita income
    کیا ہے۔ زچی اور بچہ اموات کی
    ratio
    کیا ہے ۔ پاکستان میں
    average life expentancy ratio
    کیا ہے ۔ پاکستان کرپشن میں خطے کے ممالک میں کس نمبر پر ہے ۔ کاروبار کرنے کے حوالے سے پاکستان کے حالات کتنے اچھے ہیں ۔ ہماری جی ڈی پی خطے کو چھوڑیں جنگ زدہ افغانستان کے مقابلے میں کیا ہے ۔ ان سب چیزوں کا
    comparison
    بھی ہم کو خطے کے ممالک کے حوالے سے بتادیں تو ان کے پاک دامنی پر میں ایمان لے آؤں ۔ دراصل جھوٹ کا نہ سر ہوتا ہے نہ پاؤں ۔ بجٹ میں تمام اعلانات ، بیانات بلکہ پورا کا پورا بجٹ ہی ایک جھوٹ کا پلندہ تھا ۔ اب بھی معیشت آئی ایم ایف کے کہنے پر چلائی جا رہی ہے ۔ یہ پیڑول اور دیگر اشیاء کی چیزوں کی قیمتیں بڑھا کر حکومت نے عوام کو آئی ایم ایف کی جانب سے عید سے پہلے عیدی دے دی ہے ۔

    ۔ سچ یہ ہے کہ پاکستان بننے کے بعد سے پیٹرول آج تک اتنا مہنگا نہیں ہوا ۔ جتنا آج ہوگیا ہے یہ بھی اس حکومت کا کریڈٹ ہے ۔

    ۔ صرف پٹرولیم مصنوعات ہی نہیں ایل پی جی کی قیمت میں بھی
    5
    روپے کا اضافہ کر دیا گیا ہے جس کے بعد سرکاری قیمت
    160
    فی کلو سے تجاوز کر گئی۔

    ۔ سب سے زیادہ مشیر اور وزیر خزانہ تو اس حکومت کے پاس ہی ہے وہ بہتر بتا سکتے ہیں کہ پٹرول اور ایل پی جی کی قیمت بڑھے تو عام آدمی کو فرق پڑتا ہے یا نہیں ۔ ابھی جو عید پر پردیسوں نے اپنے گھروں کو جانا ہے ان کو اس کا کتنا خمیازہ بھگتنا پڑے گا ۔ اور صرف پیٹرول مہنگا ہونے سے مہنگائی کا ایک نیا ریلا آئے گا وہ کس کس کو متاثر کرے گا اندازہ لگانا مشکل نہیں ۔

    ۔ حقیقت یہ ہے کہ سرکاری ملازمین کو ٹرانسپورٹ یا کنوینس الاؤنس ملتا ہے۔ تھوڑا اوپر کا گریڈ ہو تو گاڑی یا پٹرول بھی ملتا ہے۔

    ۔ پولیس مدعی سے پٹرول کے پیسے لے لیتی ہے۔ چاک و چوبند دستوں نے کبھی پلے سے پٹرول ڈلوانا نہیں ہے۔ باقی وزیر مشیر تو اس عوام کو ویسے ہی جہیز میں ملے ہیں ۔ انکے پیڑول ، بجلی ، گیس کے بل اور عیاشیوں کا خرچہ بھی عوام نے برداشت کرنا ہے ۔ لہذا یہ جو باقی بچے کھچے اٹھارہ بیس کڑور عام آدمی ہیں ان کا اللہ مالک ہے۔ ان کی گدھا گاڑیوں کو پٹرول چاہیے بھی نہیں ہوتا۔

    ۔ عمران خان کی حکومت نے آتے ہی عزم ظاہر کیا تھا کہ یہ لوگ پانچ ہزار ارب ٹیکس اکٹھا کریں گے۔ پر یہ جھوٹے وعدے اور دعوی ہی ثابت ہوئے ۔

    ۔ آج سینیٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ مالی سال کی پہلی تین سہ ماہی میں 147 ارب روپےکی ٹیکس چوری ہوئی ہے ۔ ۔ دوسری جانب کسی اور نہیں اس عوامی حکومت کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے یوٹیلیٹی اسٹورز پر 3 بنیادی اشیا مہنگی کرنے کی منظوری دیدی ہے ۔ چینی کی فی کلو قیمت میں 17 روپے کا اضافہ کردیا۔ اب یوٹیلیٹی اسٹور ز پر چینی 68 کے بجائے 85 روپے کلو دستیاب ہوگی۔ 20 کلو آٹے کا تھیلا مزید 150 روپے مہنگا کردیا گیا۔ یوں 20 کلو آٹا کا تھیلا 950 روپے کا ہوگیا ہے ۔ ۔ گھی کی قیمت میں بھی 90 روپے اضافہ کر دیا گیاہے ، ایک کلو گھی کا پیکٹ اب 170 کی بجائے 260 روپے فی کلو میں دستیاب ہو گا ۔

    ۔ یہ سب کو معلوم ہے کہ یوٹیلی اسٹورز پر غریب اور سفید پوش بندہ ہی جاتا ہے ۔ اس سے اندازہ لگا لیں کہ حکومت کو غریبوں کی کتنی فکر ہے ۔

    ۔ پھل ، سبزیوں ، فروٹ ، بجلی اور گیس کے بلوں کا کیا رونا یہاں تو آٹا ، گھی اور چینی عوام کی پہنچ سے دور ہوتا جا رہا ہے ۔ دراصل عوام نے سر پکڑ لیے ہیں ۔ کہتے ہیں ایسے نئے پاکستان سے تو پرانا پاکستان ہی بہتر تھا۔

    ۔ اس کارکردگی کے بعد یہ اندازہ لگانا مشکل کام نہیں کہ کیوں اس حکومت کے وزیروں کو گندے انڈے اور ٹماٹر پڑ رہے ہیں ۔

    ۔ پر اس کے ردعمل میں جو کل علی امین گنڈا پور نے بیچ چوراہے کھڑے ہوکر سنجے دت اسٹائل میں فائرنگ کی ہے ۔ وہ اس ملک ، وہ قانون اور اس حکومت کو ووٹ دینے والوں کے منہ پر طمانچہ ہے ۔

    ۔ مجھے لگتا ہے آئی ایم ایف نے موجودہ حکومت کو گاجر مولی سمجھ لیا ہے، جسے چاہے کاٹو یا بغیر کاٹے کھا جاؤ۔ اب تازہ ترین خبر یہ آئی ہے آئی ایم ایف نے بجلی ساڑھے تین روپے کے قریب مہنگی کرنے کی فرمائش کر دی ہے، ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے لائف لائن صارفین کو تین سو یونٹ کی بجائے دو سو یونٹ پر سبسڈی دی جائے۔

    ۔ سنا ہے ہمارے معاشی مینجروں نے اس پر غور شروع کر دیا ہے کیونکہ انہوں نے صرف آئی ایم ایف کی ہدایات کو دیکھنا ہوتا ہے، عوام کی پروا نہیں ہوتی۔

    ۔ آئی ایم ایف عوام کو پیستی اور خواص کو نوازتی ہے، کیونکہ خواص کے پاس پیسہ ہو تو اس کا فائدہ سرمایہ دارانہ نظام کو پہنچتا ہے۔ عوام کے پاس ہو تو سرمایہ دارانہ نظام کی موت واقع ہو جاتی ہے۔

    ۔ کبھی آپ نے سنا ہو آئی ایم ایف نے حکومت پر دباؤ ڈالا ہے وہ سرمایہ داروں پر ٹیکس دوگنا کرے، یا کبھی یہ کہا ہو بالواسطہ ٹیکسوں کی بجائے بلاواسطہ ٹیکسوں کو بڑھایا جائے۔

    ۔ وہ ہمیشہ بجلی، گیس، پٹرول، آٹا، گھی جیسی بنیادی اشیاء کو مہنگی کرنے کی فرمائش کرتا ہے، ان پر حکومت اگر کوئی سبسڈی دے رہی ہے تو اسے ختم کرنے کے لئے دباؤ ڈالتا ہے۔

    ۔ اس کا کیا مقصد ہے۔ اگر آئی ایم ایف کو صرف اپنے قرضے کی واپسی سے غرض ہے اور وہ اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ پاکستان کی معیشت کہیں ڈوب نہ جائے تو اسے ٹیکس جمع کرنے پر زور دینا چاہئے اور ان طبقوں پر ٹیکس لگانے کی شرط رکھنی چاہئے جو صاحبِ استطاعت ہیں، سرمایہ دار ہیں، بڑے بڑے بنگلوں میں رہتے ہیں اربوں روپے کماتے ہیں مگر نہیں آئی ایم ایف ایسا نہیں کرے گا، اس کی نظر معاشرے کے عام فرد پر ہو گی، شیدے، میدے، گامے اور ماجھے ساجھے کے جسم سے خون کا آخری قطرہ تک نچوڑنا اس کا مشن ٹھہرے گا۔ یہی وجہ ہے ہمارے ہاں جو بھی بجٹ بنتا ہے،وہ امیروں کا بجٹ ہوتا ہے۔

    ۔ نام تو غریبوں کا لیا جاتا ہے لیکن اس میں سرکاری مراعات امیروں کے لئے ہوتی ہیں۔ بجٹ میں پہلے ہی عام آدمی کا بالواسطہ ٹیکسوں کے ذریعے کچومر نکال دیا گیا ہے۔ اب آئی ایم ایف کی فرمائشوں کے سامنے حکومت ہاتھ جوڑے کھڑی نظر آتی ہے۔

    ۔ جس طرح کوئی اپنی کمر کا تل نہیں دیکھ سکتا اسی طرح حکمران بھی اپنے کیے ہوئے اکثر فیصلوں کے نتائج سے لا علم ہوتے ہیں۔ وہ اس بات سے بے خبر ہوتے ہیں کہ آنے والے وقت میں یہ فیصلے کیا نتائج دیں گے اور ان کے کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ انہیں اس بات کا بھی اندازہ نہیں ہوتا کہ ان کے ارد گرد اور آگے پیچھے پھرنے والے وزیر اور مشیر گورننس کے نام پر کیا کچھ کرتے پھر رہے ہیں۔ مشورے دینے اور فیصلے کروانے والے اکثر تتر بترہو جاتے ہیں اور کچھ اپنی اگلی منزلوں کی طرف رواں دواں نظر آتے ہیں۔

    ۔ عمران خان پہلے ہی اعتراف کر چکے ہیں کہ اُن سے غلط فیصلے ہو جاتے ہیں ۔ اسی لیے بیشتر معاملات میں حکومت کو روزِ اول ہی سے سبکی اور جگ ہنسائی کا سامنا ہے۔ جبکہ بعض مشیر اور سرکاری بابو کمالِ مہارت سے اہم ترین اور حساس نوعیت کے معاملات پر وزیراعظم عمران خان کواپنے گرد گھما رہے ہیں۔

    ۔ اب آپ دیکھیں نہ راولپنڈی رنگ روڈ کی تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کردی گئی ہے۔ جس میں زلفی بخاری اور غلام سرور خان کو کلین چیٹ دے دی گئی ہے ۔

    ۔ مزے کی بات ہے کہ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ منصوبے کی الائنمنٹ میں تبدیلی اور لینڈ ایکوزیشن کے معاملات میں بے ضابطگیاں بھی ثابت ہوچکی ہیں۔
    اب پتہ نہیں کون سے فرشتے یا جن تھے جنہوں نے یہ واردات ڈالی تھی ۔ اور یہ آٹا ، چینی ،پیڑول اور دیگر اسکینڈلز کی طرح ایک نیا معمہ بن گیا ہے۔ کہ کرپشن ہوئی مگر معلوم نہیں کس نے کی ۔ اور اب اتنے بڑے معاملے میں دو بے وقعت افسران کو ہی بلَی کا بکرا بنا کر معاملات کو سمیٹا جارہا ہے ۔

    ۔ آخر میں بس اتنا ہی کہوں گا کہ اب تو یہی خواہش رہ گئی ہے کہ وزیر اعظم عمران خان امریکہ کی طرح آئی ایم ایف کو بھی انکار کر دیں صاف کہہ دیں اس سے آگے کچھ نہیں ہو سکتا۔

  • حب الوطنی. تحریر: فرمان اللہ

    حب الوطنی. تحریر: فرمان اللہ

    وطن سے محبت ایک ایسا جذبہ ہے جو کبھی کم نہیں ہوتا بلکہ گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ اِس محبت میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے لیکن حقیقی معنوں میں حب الوطنی ہے کیا؟

    وطن ماں دھرتی ہے جس کی حفاظت ہم سب پر فرض ہے اور اِس پر جان قربان کرنا شہادت کا ردجہ رکھتا ہے لیکن اِس کے ساتھ ساتھ وطن کے بیان کردہ اصولوں پر عمل کرنا بھی حب الوطنی ہے۔ قانون کی پاسداری کرنا اور اِس کی بہتری اور ترقی کے لیے عملی طور پر اپنا کردار ادا کرنا بھی حب الوطنی کی اعلی مثال ہے۔

    میں اس بات کو شامل کرتا چلوں کہ اوورسیز پاکستانیوں میں سب سے زیادہ حب الوطنی پائی جاتی ہے جس کا شاہد میں خود ہوں۔ سارا دن محنت مزدوری کر کے جب واپس گھر پہنچتے ہیں تو سب سے پہلے ٹی وی لگا کر وطن کا حال جاننے کی کوشش کرتے ہیں اور اِس کے ساتھ ساتھ اوورسیز پاکستانیوں کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ بینکنگ چینل کے زریعے پیسہ بھیج کر پاکستانی معیشت کو بہتر کرنے میں اپنا کردار ادا کر سکیں اور یہی ان کی حب الوطنی کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔

    ایسی کئی مثالیں دے کر میں حب الوطنی کو تفصیل میں بیان کر سکتا ہے لیکن شاید میری تحریر بہت لمبی ہو جائے اسی لیے آخر میں بس اتنا کہنا چاہوں گا کہ اگر عوام ملکر حب الوطنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایماندار سیاست دانوں کا انتخاب کرے اور قانون پر پورا پورا عمل کرے تو یقیناً اُن کی یہ حب الوطنی پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے