Baaghi TV

Category: سیاست

  • پاکستان، افغانستان اور طالبان.تحریر ملک علی رضا

    پاکستان، افغانستان اور طالبان.تحریر ملک علی رضا

    دوستو افغانستان سے امریکہ اور اتحادی افواج کے یکم مئی سے انخلا کے اعلان کے بعد سے متعدد اضلاع کی جانب طالبان کی پیش قدمی جاری ہے۔افغانستان میں طالبان نے اب تک ملک کے 34 صوبوں میں سے 20 صوبوں کے ہیڈ کوارٹرز کے گرد گھیرا تنگ کر لیا ہے۔ طالبا ن اپنی اسلامی ریاست بنانے کے لیے افغانستان نے آدھے سے زیادہ حصوں پر قابض ہوچکے ہیں۔
    طالبان کے قبضے میں آنے والے اکثر علاقوں کی سٹریٹیجک اہمیت اس لیے زیادہ ہے کیونکہ یہ ان اہم شہراہوں پر واقع ہیں جو کابل کو ملک کے شمالی، جنوبی اور مغربی علاقوں سے جوڑتی ہیں۔اکثر شہر جن کا طالبان نے محاصرہ کیا ہے وہ ملک کے شمال میں واقع ہیں جہاں افغانستان کی سرحدیں اپنے وسط ایشیائی ہمسایوں کے ساتھ ملتی ہیں۔
    طالبان نے گذشتہ چند ہفتوں کے دوران ملک کے جنوب اور مشرق میں واقع اہم شہروں کے گرد اپنے آپریشنز کا دائرہ وسیع کر دیا ہے اور اب انھوں نے افغان دارالحکومت کابل کے گرد بھی گھیرا تنگ کر دیا ہے۔
    سنہ 1996 میں طالبان کی ’جائے پیدائش‘ کہلانے والے جنوبی صوبے قندھار کے بعض اضلاع پر طالبان پہلے ہی کنٹرول کرنے کا دعویٰ کر چکے ہیں جبکہ ملک کے دس بڑے شہروں میں سے کم از کم تین شہروں قندھار، ہرات اور غزنی کے گرد طالبان نے گھیرا تنگ کر لیا ہے.
    طالبان سپین بولدک، چمن سرحدی کراسنگ جو قندھار کو پاکستان کے صوبہ بلوچستان سے ملاتی ہے وہاں افغانی افواج کنٹرول چھین لیا ہے اور اب مکمل طور پر بارڈر ایریا طالبان کےقبضے میں ہے۔جیسے ہی اس علاقے کا قبضہ طالبان نے حاصل کیا پاکستان اور افغانستان کے مابین تجارتی سرگرمیاں اور ہر قسم کی آمدورفت بند کر دی گئی ، تاہم دو دن مذاکرات کےبعد طالبان قیادت نے پاکستان سے ملحقہ سپین بولدخ بارڈر کھول دیا گیا۔

    ادھر پاکستان نے بھی موجودہ خطرات کے پیش نظر افغانستان نے ملحقہ بارڈرز پر سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے اور بارڈر پر چیکنک کا عمل بھی سخت کر دیا گیا ہے۔ ترجمان پاک فوج میجر جنرل بابر افتخار نے بھی اس معاملے کی سنگینی کو مد نظر رکھتے ہوئے قوم کو مکمل یقین دہانی کروائی ہے کہ کسی بھی قسم کی خطرے سے نمٹنے کے لیے افواج پاکستان ہمہ وقت تیار ہیں۔
    دوسری جانب افغانستان کے وائس پریذیڈنٹ امراللہ صالح نے پاکستان کے حوالے سے بیان دیا اس حوالے سے کچھ تحقیقات ہوئیں تو یہ پتہ چلا ہے کہ جب افغانستان کی طرف سے یہ رابطہ کیا گیا کہ طالبان نے پاکستان سے ملحقہ بارڈر ایریا پر قبضہ کیا ہے وہ طالبان سے قبضہ واپس لینے کے لیے افغان حکومت نے پاکستان کی آرمی سے بات چیت کی کہ ہم طالبان پر حملہ کرینگے تو ہو سکتا ہے پاکستان کی حدود پر بھی اس کے اثرات ہوں تو اس پر پاکستان نے صاف کہہ دیا کہ اگر پاکستانی سرحد کی خلاف ورزی کی گئی تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا اسی لیے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اگر آپ نے پاکستانی حدود کی خلاف ورزی کی تو اس پر ایکشن لیا جائے گا کیونکہ بارڈر ایریاز میں کسی بھی طرح سے پاکستانی حدود کو نشانہ بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی اس کے بعد افغان حکومت کی جانب سے جو غیر ذمہ دارانہ بیان آیا اس لیے پاکستان کو اس طرح کا بیان دے کر نیچا دکھانے کی کوشش کی جائے گی ۔

    پاکستان میں ہونے والے حالیہ واقعات و معاملات کو اگر آپ دیکھیں تو یہ بہت سارے معاملات جو ہیں وہ نظر آرہے ہیں کہ جس میں پاکستان کے خلاف بہت ساری چیزیں جس طرح بھی افغان نائب صدر کی بیٹی کا اغواہ کیا گیا اور پاکستان کے خلاف ایک منظم سازش کی گئی اس میں بھی بڑے خدشات پائے جاتے ہیں ۔پاکستان کے دشمن پاکستان میں سی پیک کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں پاکستان کی ترقی ہو رہی ہے اس کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں دوسرا جو پاکستان خطے میں امن کی کوششیں کر رہا ہے ان کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں۔
    پاکستان اس وقت اچھی کوشیشیں کر رہا ہے تاکہ خطے میں امن ہو جائے لیکن پاکستان کے جو اس وقت معاملات ہیں وہ پاکستان کو بیرونی خطرات ہیں اور اندرونی خطرات ہیں جن پر پاکستان کڑی نظر رکھَے ہوئے ہے۔ پاکستانی افواج اور سکیورٹی ادارے کسی بھی قسم کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں ۔ اور پاکستان کی عوام کا اپنی افواج اور حکومت پر مکمل اعتماد ہے کہ ملکی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔۔

  • مرد مجاہد.تحریر:سیف اللہ عمران

    مرد مجاہد.تحریر:سیف اللہ عمران

    تاریخ انسانی میں کئی عظیم انسان آئے کئی آئیں گے لیکن ان میں سے مرد مجاہد بہت ہی کم آئیں ہیں میرا موضوع اس دور کا مرد مجاہد وزیر اعظم پاکستان عمران خان ہے

    5 اکتوبر 1952 کو شوکت خانم کی گود سے جنم لینے والے اس عظیم انسان نے جس میدان میں قدم رکھا اللہ تعالیٰ نے کامیابی عطاء فرمائی

    عمران خان کی پہلی وجہ شہرت کرکٹ ہے عمران خان کا ڈیبیو 1971 میں ہوا پہلے میچ کے بعد آپ کو آپ کو ٹیم سے باہر کر دیا گیا لیکن عمران خان اور ہار مان لے یہ نا ممکن ہے
    عمران خان نے ٹیم سے باہر رہتے ہوئے انتہائی سخت محنت کی اور پہلے سے زیادہ اچھے آل راؤنڈر بن کر ابھرے

    عمران خان شاندار کارکردگی کے باعث 1982 میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان بنے اس طرح عمران خان کے شاندار کپتانی کیریئر کا آغاز ہوا
    عمران خان پاکستان کی تاریخ کے سب سے کامیاب کپتان ہیں عمران خان کی قیادت میں پاکستان نے عظیم ترین فتوحات حاصل کیں پاکستان نے پہلی دفعہ انڈیا کو انڈیا میں شکست دی پاکستان نے انگلینڈ کو انگلینڈ میں ہرایا اور اس طرح پاکستان کے اچھے دن شروع ہو گئے

    1987 ورلڈ کپ عمران خان کے لیے ایک اہم ایونٹ تھا کیوں کہ عمران خان کینسر ہسپتال بنانے کا اعلان کر چکے تھے اور عالمی کپ جیتے بغیر یہ مشکل تھا پاکستان ٹیم شاہینوں کی طرح میدان میں اتری کئی فتوحات حاصل کیں لیکن بد قسمتی سے سیمی فائنل میں شکست ہوئی اور عمران خان نے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا

    لیکن پاکستانی عوام کی پر زور درخواست پر عمران خان نے ریٹائرمنٹ واپس لے لی اور کرکٹ کے میدان میں ایک بار پھر قدم رکھ دیا

    اب پاکستان کی کرکٹ تاریخ کا سب سے تاریخی ایونٹ 1992 کا ورلڈ کپ آ چکا تھا لیکن قومی ٹیم کے دو اہم کھلاڑی سعید انور اور وقار یونس زخمی ہو کر ٹیم سے باہر ہو گئے اس وقت عمران خان نے حوصلہ نہ ہارا ٹیم کا مورال بلند کیا ابتدائی شکستوں کے با وجود ٹیم کی امید نہ ٹوٹنے دی کواٹر فائنل میں ویسٹ انڈیز کی مضبوط ٹیم کو شکست دے سیمی فائنل میں پاکستان نے انضمام الحق کی شاندار اننگ کی بدولت نیوزی لینڈ کو زیر کیا اور پاکستان فائنل میں پہنچ گیا
    فائنل شروع ہوا عمران خان اپنی کارنرڈ ٹائیگر شرٹ کے ساتھ ٹاس کیلئے آۓ پاکستان ٹاس جیتا بیٹنگ کا آغاز ہوا عمران خان ایک کھلاڑی آؤٹ ہوتے ہی کھیلنے آ گئے اور فاتحانہ اننگ کھیلی

    میچ کا اختتام بھی عمران خان کی جانب سے لی گئی وکٹ سے ہوا یوں عمران خان کرکٹ کی تاریخ میں ہمیشہ کے لیے امر ہو گئے

    ایک مقصد یہاں پورا ہوا اب اگلے کی باری تھی یہ مقصد شوکت خانم ہسپتال کی تعمیر تھی عمران خان نے دنیا بھر میں تحریک چلائی اور نہ صرف شوکت خانم ہسپتال بنایا بلکہ چلا کر بھی دکھایا
    اس کے بعد آتی ہے سیاست عمران خان نے 1996 میں سیاست کے میدان میں قدم رکھا تحریک انصاف کے نام سے جماعت بنائی لیکن 1996 میں وہ اپنی نشست بھی نہ جیت سکے لیکن وہ عمران خان ہی کیا جو ہمت ہار جائے وہ مرد مجاہد دوبارہ کھڑا ہوا 2002 میں ایک نشست جیتی 2008 کے انتخابات کا بائیکاٹ کیا 2013 میں آپ کی جماعت اپوزیشن آئی اور صوبہ خیبر پختونخواہ میں آپ کی جماعت حکومت میں آئی
    عمران خان کی انتھک محنت سے آپ کی جماعت 2018 میں سب سے زیادہ نشستیں لینے والی جماعت بنی اور عمران خان نے وزیراعظم پاکستان کا حلف اٹھایا اب وہ اپنے مقصد”نیا پاکستان” کی تکمیل کی کوشش کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں اس مقصد میں بھی کامیابی عطاء فرمائے آمین ♥️
    تحریر:سیف اللہ عمران
    Twitter: @Patriot_Mani

  • امن کا سفیرپاکستان خان . تحریر : کامران واحد

    امن کا سفیرپاکستان خان . تحریر : کامران واحد

    کسے معلوم تھا کہ میانوالی کے شہر میں ایک شوکت خانم نامی خاتون نے بچے کو جنم دیا جس کا نام عمران خان رکھا گیا کسے معلوم تھا کے وہ عمران نامی بچہ بڑا ہوکردنیا میں ایک رقم تاریخ ھوگا، یقیناً کسی کونہیں معلوم تھا، ہاں لیکن عرش پربیٹھی ایک ذات جانتی تھی کے یہ عمران ایک دن سب کا مان ہوگا.

    سلسلہ شروع ہوا اورکرکٹ کے میدانوں سے ایک ستارہ ابھرا جسے دنیا عمران خان کے نام سے جاننے لگی اورپھریہ سلسلہ ایسا شروع ہوا کہ کرکٹ کے میدانوں سے شوکت خانم ہسپتال، نمل جیسے تعلیمی اداروں سے ہوتا ہوا سیاست کے میدانوں میں ایک ہی نام گونجتا تھا عمران خان غرض کہ اب گزری تاریخ گواہ ھے کہ جس شعبے میں عمران خان اسکی بہتری کے لیے ھاتھ ڈالتا ھے تواس شعبےکواپنے عروج پر پہنچنا گویا مشیت ایزدی بھی بن جاتا ھے۔ ایساھی کچھ تب ھوا جب اس عظیم والدین کے عظیم سپوت نے پاکستان کی خدمت کے لیے اپنی سیاسی جماعت تحریک انصاف کا نعرہ لگایا۔

    قسمت کی دیوی ہرمیدان میں عمران پر مہربان تھی اورخداوند کریم کے خاص فضل سے 2018 میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیراعظم کے طورپرسامنے آیا اورعمران نے اس خداداد پاکستان کی باگ دوڑسنبھالی. عمران چونکہ عالمی منظر نامے امریکہ افغان جنگ کشمیر جیسے معاملات سے بخوبی واقف تھا، اسی تناظرمیں اسکا ایک ھی نعرہ اورپالیسی تھی، جس کوعمران نے ھرفورم پراٹھایا اوروہ تھی "امن” کی پالیسی، کہ ہم کسی پرائ جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے اگر حصہ بنیں گے تو صرف "امن” کا اورعمران کی نظرمیں مسئلے کا حل جنگ نہیں صرف امن مذکرات ہی تھا جس پراسے طالبان خان بھی کہا گیا لیکن وہ اپنے موُقف پرڈٹا رہا۔ امریکہ جیسی سپر پاورنے افغان جنگ میں کھربوں روپے لگائے لیکن آخرمیں اسے منہ کی کھانا پڑی اورانہی طالبان سے امن مذکرات کیے جس کا عمران شروع دن سے کہ رہا تھا۔

    کشمیر کے حوالے سے پاک بھارت کشیدگی پربھی عمران کا وہی موُقف ہے کہ اس مسلے کا حل بھی امن مذکرات سے ہی نکلے گا جنگ سے نہیں، پوری دنیا کو عمران امن کا پیغام دے رہا تو اس میں کوئ شک نہیں کہ عمران خان ہی امن کا سفیر ہے۔

    یہاں پرایک بات قابل ذکر ھے کہ عمران خان نے دنیا اوراس مملکت خداداد کے اندرونی دشمنوں کو یہ بھی واضح طورپرپیغام دیا ھے کے اس امن پالیسی کو اس کی کمزوری مت سمجھا جائے جس کا اظہارایک شعر میں ایسے دیا ہے کہ

    ‏مفاہمت نہ سکھا جبر ناروا سے مجھے
    میں سر بکف ہوں لڑا دے کسی بلا سے مجھے

    پاکستان زندہ باد
    عمران خان پائندہ باد

    Twitter: @Khankamoo

  • ‎امریکی انخلاء اور ممکنہ خدشات.تحریر :محمد محسن خان

    ‎امریکی انخلاء اور ممکنہ خدشات.تحریر :محمد محسن خان

    اکتوبر 2001 میں افغانستان پر امریکی حملہ انٹرنیشنل قوانین کے تحت ایک جرم تھا۔ یہ جرم ہی تھا کیونکہ امریکی فوج کی بے پناہ طاقت افغانستان کے عامیانہ انفراسٹرکچر کو مسمار کرنے اور اس کے معاشرتی بندھنوں کو توڑنے کے لئے استعمال ہوئی۔
    ‎ آپکو یاد ہوگا کہ اکتوبر ۲۰۰۱ کوصحافی اناطول لیون نے پشاور میں معروف افغانی رہنما عبدالحق کا انٹرویو لیا۔ طالبان کے خلاف مزاحمت کا حصہ بننے والے عبدالحق ، امریکی فضائی بمباری کی آڑ میں افغانستان واپس جانے کے لئے تیار ہو رہے تھے۔ تاہم ، وہ جس طرح امریکہ نے جنگ کے مقدمے چلانے کا فیصلہ کیا تھا اس سے افغان رہنما عبدالحق متفق نہیں تھے۔ عبد الحق نے لیون کو بتایا ، "موجودہ حالات میں خود سے فوجی کاروائی صرف حالات کو ہی مشکل بنا رہی ہے۔ خاص طور پر اگر یہ جنگ طویل عرصے تک جاری رہی اور بہت سے شہری بے گناہ مارے جائیں۔” وقت نے دیکھا کہ یہ جنگ دو دہائیاں تک جاری رہی اس عرصے میں کم از کم ستر ہزار کے قریب شہری اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

    ‎عبد الحق نےمزید کہا کہ "سب سے بہتر بات یہ ہوگی کہ امریکہ تمام افغان گروہوں کو اتفاقِ رائے سے سیاسی حل کے لئے کام کرے۔ بصورت دیگر ، مختلف ممالک کے تعاون سے اور پورے خطے کو بری طرح متاثر کرنے والے ، مختلف گروہوں کے مابین گہری تقسیم کی حوصلہ افزائی ہوگی۔ یہ پیش گوئی حق پر مبنی تھی لیکن عبدالحق جانتا تھے کہ کوئی بھی اس کی بات نہیں سنے گا ۔اسی طرح وہ مزید بولے ، "شاید ، امریکہ نے پہلے ہی اپنا ذہن بنا لیا ہے کہ کیا کروں ، اور میرے ذریعہ کی جانے والی سفارشات میں بہت دیر ہو جائے گی۔”

    ‎اس جنگ میں ہونے والی ناقابل یقین تباہی کے 20 سال گزرنے کے بعد امریکہ سیاسی مصالحت کی طرف لوٹ آیا۔
    ‎عبدالحق افغانستان واپس چلے گئے اوراطلاعات کیمطابق ۲۶ اکتوبر ۲۰۰۱ کو طالبان نے قتل کردیا۔ ان کا مشورہ اب ماضی کا حصہ ہے۔ ستمبر ۲۰۰۱ میں ، افغانستان میں طالبان سمیت اکثر سیاسی اشرافیہ بات چیت کے لئے تیار تھی کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ امریکی طیارے افغانستان کے لئے جہنم کے دروازے کھول دے گے۔ اب دو دہائیوں بعد ، طالبان اور دیگر کے مابین خلیج مزید وسیع ہوگئی ہے۔ مذاکرات کی بھوک اب زیادہ موجود نہیں ہے

    ‎14 اپریل 2021 کو ، افغانستان کی پارلیمنٹ کے اسپیکر میر رحمن رحمانی نے متنبہ کیا کہ ان کا ملک ایک "خانہ جنگی” کے دہانے پر ہے۔ کابل کے سیاسی حلقے خانہ جنگی کے بارے میں بات چیت کا آغاز کر رہے ہیں جب 11 ستمبر تک امریکہ کا انخلاء ہو۔ یہی وجہ ہے کہ 15 اپریل کو کابل میں امریکی سفارتخانے میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس کے دوران ، طلوع نیوز کی شریف امیری نے امریکی وزیر خارجہ انٹونی سے پوچھا خانہ جنگی کے امکان کے بارے میں آنکھیں بند کرنا کیسے ممکن ہے؟ وزیرخارجہ بلنکن نے جواب دیا ، "مجھے نہیں لگتا کہ یہ کسی کے مفاد میں ہے ، کم سے کم یہ کہنا کہ افغانستان کو خانہ جنگی کا شکار ہونا ، لمبی جنگ میں جانا۔ اور یہاں تک کہ طالبان ، جیسے ہم نے یہ سنا ہے ، نے کہا ہے کہ اسے اس میں کوئی دلچسپی نہیں ہے

    درحقیقت افغانستان کم از کم نصف صدی سے خانہ جنگی کا شکار ہے ، کم از کم مجاہدین کی تشکیل کے بعد سے افغانستان کے شمالی اتحاد سے لڑنا تھا۔ اس خانہ جنگی کو افغانستان کے انتہائی قدامت پسند گروہ طالبان کی حمایت کے ذریعہ تیز کیا گیا تھا۔ اس عرصے میں کبھی بھی امریکہ نے امن کا راستہ پیش نہیں کیا۔ اس کے بجائے ، اس نے کابل میں نتائج پر قابو پانے کے لئے امریکی طاقت کی بے تحاشا استعمال کرنے کے لئے ہر موڑ پر ہمیشہ بے تابی کا مظاہرہ کیا ہے۔امریکی فوج کا انخلاء جس کا اعلان اپریل ۲۰۲۱کے آخر میں ہوا تھا اور یکم مئی سے شروع ہوا تھا ، اتنا واضح نہیں تھا جتنا اب ایسا لگتا ہے۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے 14 اپریل 2021 کو اعلان کیا کہ "امریکی فوجیوں کے گھر واپس آنے کا وقت آگیا ہے۔” اسی دن امریکی محکمہ دفاع نے واضح کیا کہ 11 ستمبر تک 2500 فوجی افغانستان سے چلے جائیں گے۔ ، نیو یارک ٹائمز نے نوٹ کیا تھا کہ امریکہ کے افغانستان میں 3500 فوجی موجود ہیں حالانکہ واضح طور پر کہا جاتا ہے کہ اس ملک میں 2500 امریکی فوجی موجود ہیں۔” پینٹاگون کے ذریعہ امریکی فوج کی تعداد بارے مبالغہ آرائی ہے۔ اسسٹنٹ سکریٹری برائے دفاع برائے استحکام کے دفتر کی ایک رپورٹ کے علاوہ ، یہ بھی نوٹ کیا گیا ہے کہ امریکہ کے پاس افغانستان میں زمین پر تقریبا 16000 ٹھیکیدار موجود ہیں۔ وہ متعدد خدمات مہیا کرتے ہیں ، جن میں زیادہ تر فوجی مدد شامل ہوتی ہے۔ان میں سے کسی بھی ٹھیکیدار یا اضافی نامعلوم ایک ہزار امریکی فوجیوں سے انخلا کا فیصلہ نہیں کیا گیا ہے ، اور نہ ہی ہوائی بمباری ، ڈرون حملوں سمیت ختم ہوگی اور نہ ہی اسپیشل فورسز کے مشنوں کا کوئی خاتمہ کا فیصلہ یا ارادہ ظاہر کیا گیا۔

    ‎اپریل ۲۰۲۱ کو ، بلنکن نے کہا کہ امریکہ اشرف غنی کی افغانستان حکومت کو تقریبا۳۰۰ملین ڈالر فراہم کرے گا۔ اشرف غنی ، جو اپنے پیش رو حامد کرزئی کی طرح ایک کمزور اور کٹھ پتلی صدر دکھائی دیتے ہیں کی موجودگی میں اب افغانستان امریکی انخلا کے بعد کی حکومتوں کی باتوں سے گونج اٹھا ہے ، جس میں یہ تجویز بھی شامل ہے حزب اسلامی کے رہنما گلبدین حکمت یار کی حکومت تشکیل دینے کی تجویز بھی شامل ہے جس میں وہ قیادت کریں گے اس میں طالبان شامل نہیں ہوں گے۔ اس دوران اب امریکہ نے اس خیال سے اتفاق کیا ہے کہ حکومت میں طالبان کا کردار ہونا چاہئے۔ اب یہ کھل کر کہا جارہا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ کا خیال ہے کہ طالبان 1996 سے 2001 تک کے مقابلے میں "کم سختی سے حکومت کریں گے”۔

    ‎ایسا لگتا ہے کہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ دو یقین دہانیوں کے ساتھ طالبان کو اقتدار میں واپس آنے کی اجازت دینے کے لئے تیار ہے: پہلا ، یہ کہ امریکی موجودگی باقی ہے ، اور دوسرا ، کہ امریکہ کے اہم حریفوں یعنی چین اور روس کا کوئی کردار نہیں ہونا چاہیے جو اس کے بزدلانہ انخلا کے بعد ایک شکست خوردہ مصالحت لگتی ہے۔ کابل۔ 2011 میں ، امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے ہندوستان کے شہر چنئی میں بات کی ، جہاں انہوں نے ایک نئی سلک روڈ انیشیٹو کی تشکیل کی تجویز پیش کی تھی جو وسطی ایشیا کو افغانستان اور ہندوستان کی بندرگاہوں کے راستے جوڑتی تھی۔ اس اقدام کا مقصد روس کو وسط ایشیا میں اپنے روابط سے منقطع کرنا اور چینی سی پیک کے قیام کو روکنا تھا ، جو اب ترکی تک پوری طرح سے مکمل ہے۔

    ‎استحکام اب افغانستان کے کارڈوں میں نہیں۔ جنوری میں ، ازبکستان کے سابق وزیر خارجہ اور شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے موجودہ سکریٹری جنرل ، ولادی میر نوروف نے اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام ایک پروگرام سے خطاب کیا۔ نوروف نے کہا کہ داعش یا داعش اپنے جنگجوؤں کو شام سے شمالی افغانستان منتقل کررہے ہیں۔ شدت پسند جنگجوؤں کی یہ تحریک نہ صرف افغانستان بلکہ وسطی ایشیا اور چین کے لئے بھی تشویش کا باعث ہے۔ 2020 میں ، واشنگٹن پوسٹ نے انکشاف کیا کہ امریکی فوج ، داعش کے جنگجوؤں کے خلاف فوائد حاصل کرنے کے دوران ، طالبان کو فضائی مدد فراہم کرتی رہی ہے۔ یہاں تک کہ اگر طالبان کے ساتھ امن معاہدہ ہوتا ہے تو ، آئی ایس آئی ایس اسے غیر مستحکم کردے گی

    ‎فراموش کی گئی افغان خواتین کے حالات تشویشناک ہیں ، اقوام متحدہ کے ایک عہدیدار ، رسول باسو نے 1986 سے 1988 تک افغان حکومت میں خواتین کی ترقی کے اعلٰی مشیر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ 1987 میں خواتین کو برابری کے حقوق مہیا کیے گئے ، جس کی وجہ سے خواتین کے گروپوں کو کام کاج اور گھر میں برابری کے لئے جدوجہد کرنے اور مردانہ اصولوں کے خلاف جدوجہد کرنے کی اجازت دی گئی۔ چونکہ جنگ میں مرد کی بڑی تعداد ہلاک ہوگئی تھی ، باسو نے ہمیں بتایا ، خواتین کئی پیشوں میں چلی گئیں۔ خواندگی کی شرح میں اضافے سمیت خواتین کے حقوق کیلئے خاطر خواہ فائدہ ہوا۔ اگر طالبان اب اس خانہ جنگی میں کابل حکومت کو جس کا امکان زیادہ ہے نکال باہر کرتے ہیں تو مغرب و انسانی حقوق کی تنظمیں خواتین کے حقوق بارے تشویش کا شکار ہیں ۔امریکہ کو افغانستان چھوڑنے سے قبل ہی ایک مشترکہ حکومت کے قیام اور خواتین کے حقوق یقینی ضمانت حاصل کرنی چاہیے تھی جبکہ وہ اب چونکہ افغانستان سے بھاگ کھڑا ہوا ہے تو اس بات کی ضمانت دینا قطعی مشکل ہے کہ اس خانہ جنگی یا اس کے بعد قائم طالبان ممکنہ حکومت میں خواتین کے حقوق کا خیال رکھا جا سکے گا ۔
    تحریر محمد محسن خان
    Twitter :MMKUK1

  • "پاکستانی صحافت کی معراج”۔    تحریر:رانا آصف محبوب

    "پاکستانی صحافت کی معراج”۔    تحریر:رانا آصف محبوب

            

    معراج عروج سے نکلا ہے اور اس کے معنی ہی اوپر جانا یا چڑھنا ہیں۔انسان کو بھی اسی فطرت پر پیدا کیا گیا ہے کہ جس سے انسان اپنی زندگی میں اوپر کی طرف سفر کرے انسان اسی لئے بلندی کے حصول کی تگ و دو میں دن رات ایک کرتا ھے۔
    اسلامی جمہوریہ پاکستان کو بنے تقریبآ 73 سال ہو چکے اور یہ ریاست چار ستونوں پر کھڑی ھے بلکہ لیٹی ھے۔اس ریاست میں چار ستون اس طرح ٹھونکے گئے ہیں جس طرح کبھی شادیوں پر ٹینٹوں کے درمیان میں ایک بمبو ٹھونکا جاتا تھا جو تن تنہا نا صرف پورے ٹینٹوں کا بوجھ اٹھاتا تھا بلکہ اس کے گرد گھومنے والے بچوں کی گردش حالات کی گردش سمجھ کر برداشت کرتا تھا۔ پاکستان بننے کے بعد یقینا ایک تاثر تھا کہ فوج اور سیاست دان ریاست کے دو ستون ہیں ۔پھر رفتہ رفتہ جب بیگم نصرت بھٹو کیس ،جسٹس حمود الرحمن کیس ایسے چند واقعات رونماہوئے تو ریاست کے ستونوں میں ایک نئے باب کا اضافہ ہوا اور عدلیہ کو بھی ریاست کا تیسرا ستون تسلیم کر لیا گیا اور جب ججوں کے ایک ٹولے نے مشرف آمریت کو قانونی قرار دیتے ہوئے اسے آئین میں ترامیم تک کا حق عطا کر دیا تو اس ستون کی مسلمہ حیثیت کو چیلنج کرنا ناممکن بنا دیا۔

    اج ہم ریاست کے چوتھے ستون یعنی صحافت کی بات کریں گے۔صحافت پاکستان کا ستون مشرف کی بندوق سے نکلنے والی گولی ثابت ہوا۔اکیسویں صدی کے آغاز میں دنیا الیکٹرانک میڈیا کے چنگل میں پھنسی تو پاکستان بھی گلوبل ویلج کا حصہ بن کر اس سے محفوظ نہ رہ سکا اور الیکٹرانک میڈیا کی پرائیوٹائزیشن نے اپنے قدم جمائے تو پاکستان کے سیاسی، سماجی، معاشی، معاشرتی حلقے اور عسکری وجوڈیشری اس کے اثر سے ثمر آور ہوئے تو میڈیا ریاست کے چوتھے ستون کی حیثیت سے اپنے آپ کو متعارف نہ صرف کروا چکا تھا بلکہ کنگ میکر کی حیثیت اختیار کر چکا تھا۔

    میڈیا پہلے اتنا آزاد اور مضبوط نہیں تھا وقت کے ساتھ ساتھ اسکی اہمیت میں ا ضافہ ہوا تو سیاستدانوں نے میڈیا کے اس میدان میں اپنے مطلب کے دوست تلاش کر لیے ۔ پھر جب 21ویں صدی کے آغاز میں پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا نے پاﺅں جمانے شروع کیے اور امن کی آشا کے نام پر ہنودویہود نصاری سے دولت اکٹھی کرنے کو اپنا مقصد حیات بنا لیا اور میڈیا میں موجود ایسے گروپوں نے خبر بتانے کی بجائے خبر بنانے کو صحافت کا شیوا بنا لیایہی وجہ ہے کہ یہ اپنے ذاتی مفادات کے لیے کبھی آمروں سے مل جاتے ہیں اور کبھی اپنے ہی تراشیدہ بتوں سے مہم جوئی شروع کر لیتے ہیں۔سوشل میڈیا کے دور میں اب اپنے ہی خیالات سے بھاگنا ناممکن ہو چکا ھے چہ جائیکہ وہ عوام تک ٹؤئیٹ یا فیس بک سٹیٹس کی مد میں نا پہنچ سکیں۔آج کا صحافی اپنے پیشے کے اعتبار سے صحافی کم اور کسی سیاسی یا طاقتور ادارے کا سپوکس پرسن بن چکا ھے۔اس کے باوجود کہ الیکٹرانک میڈیا کی عوام میں تیزی سے گرتی ساکھ کا زمہ دار بھی یہ خبر دینے کی بجائے خبر بنانے والے صحافی ہیں جو ہر بات پر "تو” کی گفتگو کرنے سے بھی گریز نہی کرتے۔پہلے صحافت کی معراج سچی اور مصدقہ زرائع سے من و عن خبر دینا سمجھا جاتا تھا۔لیکن مادہ کی اس دورڑھ میں شاید معراج کے معنی بدل دئیے ہیں۔آج پاکستان کے صحافی کی معراج ہوا میں اڑتا ھیلی کاپٹر ھے جس میں بیٹھ کر وہ کسی طاقتور انسان کا انٹرویو کر کے سوشل میڈیا پر تصاویر اپ لورڈ کر سکے۔آج کے صحافی کی معراج کے پائیدان یقینأ غلام گردشوں کی دھلیز سے شروع ہو کر غلام گردشوں کی دھلیز پر ہی ختم ہو جاتے ہیں۔

    تحریر:رانا آصف محبوب
    Twitter iD:@RAsifViews

  • لوگ کیا کہیں گے .تحریر: فرمان اللہ

    لوگ کیا کہیں گے .تحریر: فرمان اللہ

    یہ جملہ اکثر اوقات آپ سنتے ہوں گے کہ اگر ایسا نہ کیا تو لوگ کیا کہیں گے اور اس جملے کی وجہ سے ہم اکثر اوقات مشکلات کا شکار رہتے ہیں۔ ہم بعض اوقات اسلام کے بتائے ہوئے احکامات کے خلاف بھی چلے جاتے ہیں کیونکہ اگر ایسا نہ کیا تو لوگ کیا کہیں گے۔

    شادی کی تقریب کرنی ہے تو اپنی حیثیت سے بڑھ کر اخراجات کرنے ہیں کیونکہ اگر ایسا نہ کیا تو لوگ کیا کہیں گے۔ بچی کو جہیز دینا ہے اور جہیز ایک لعنت ہے لیکن دینا ہے کیونکہ اگر ایسا نہ کیا تو لوگ کیا کہیں گے۔ شادی بیاہ پر جانا ہے تو اچھے اور مہنگے کپڑے پہن کر جانا ہے اور اگر ایسا نہ کیا تو لوگ کیا کہیں گے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس جملے نے انسان سے اس کی اپنی خواہش چھین لی ہے اور ہم ساری عمر بس وہی کرتے ہیں جس سے لوگوں کو خوش کر سکیں۔

    ہمارا معاشرہ اگر اس جملے کو ہی ترک کر دے تو ہمارے بہت سارے مسائل حل ہو جائیں گے اور ہم بہت ساری مشکلات سے باہر آ جائیں گے لیکن ہمارے معاشرے میں یہ ایک رواج بن چکا ہے اور سب اس بات کو بخوبی جانتے بھی ہیں لیکن پھر بھی اپنی سوچ اور حیثیت سے ہٹ کر کام کریں گے کیونکہ اگر ایسا نہ کیا تو لوگ کیا کہیں گے

    میرا مشورہ ہے کہ لوگوں کو جو کہنا ہے کہنے دیں آپ وہ کریں جس کا حکم ہمیں ہمارے دین نے دیا ہے وہ کریں جو آپ کی حیثیت کے مطابق ہو۔

  • پاکستان اور اس کا مستقبل،تحریر: اسعد گل اعوان

    پاکستان اور اس کا مستقبل،تحریر: اسعد گل اعوان

    پاکستان کا مستقبل سیاسی، مزہبی اور دفاعی لحاظ سے بہت اہمیت کا حامل ہے۔پاکستان دنیا میں ایٹمی قوت سے جانا جاتا ہے۔ پاکستان اس وقت عالمی طاقتوں کیلئے بہت اہم ہے چاہے وہ روس ہو، چائنا ہو، امریکہ ہو یا پھر عرب ممالک۔ پاکستان کئی سالوں سے دہشت گردی کا مقابلہ کر رہا ہے جس کے نتیجہ میں ستر ہزار سے زائد عام شہری اور افواج پاکستان کے جوان اپنی جانوں کا نظرانہ پیش کر چکے اور یہ سلسلہ ابھی بھی جاری ہے۔ جیسے کہ پہلے کہہ چکا پاکستان کا مستقبل سیاسی،مزہبی اور دفاعی اعتبار سے بہت اہمیت کا حامل ہے تو آئیں ان تینوں پہلوؤں کا الگ سے جائزہ لیتے ہیں۔
    1- سیاسی پہلو:
    پاکستان نے مارشل لاء میں کافی وقت سامنا کیا کیونکہ ہم پر ہمیشہ سے نا اہل حکمران مسلط رہےجنھوں نے صرف اپنے زاتی کاروبار کو آگے بڑھایا۔ مارشل لاء کی وجہ سے پاکستان کو کافی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا لیکن اس کے باوجود پاکستان معاشی طور پر مستحکم رہا۔ پہلے مارشل لاء میں بھی پاکستان معاشی طور پر اتنا مضبوط تھا کہ دوسرے ملکوں کو قرضے فراہم کرتا تھا۔ لیکن مفاد پرست ٹولے کے آنے کے بعد پاکستان کو کشکول اٹھانا پڑا۔ اور پھر اس کرپٹ ٹولی کی آپس کی باریوں کی بدولت پاکستان قرضوں میں ڈوب گیا۔پاکستان کو بہت عرصے بعد ایک ایسی قیادت نصیب ہوئی جس نے اپنے زاتی کاروبار کے بجائے پاکستان کو اہمیت دی اور مزید دیوالیہ ہونے سے بچایا جو اس کرپٹ ٹولے کو ہضم نہ ہوا۔ پاکستان اس وقت عمران خان کی قیادت میں مسحکم کی طرف تیزی سے گامزن ہے۔ اور انشاءاللہ وہ وقت دور نہیں جب ٹیکسٹائل سے لے کر آئی ٹی تک پاکستان دنیا میں اپنا نام بنائے گا۔
    2-مزہبی پہلو:
    پاکستان کے وجود میں دین اسلام خاصی اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان کا 27 رمضان کو وجود میں آنا پھر کلمے کی بنیاد پر نام رکھا جانا اللہ کی طرف سے خاص تحفہ ہے۔ ماضی میں پاکستان نے فرقہ ورانہ دہشت گردی کا بھی سامنا کیا۔ حکومت وقت کی پابندیوں اور اقدام کی وجہ سے پاکستان کافی حد تک فرقہ ورانہ دہشت گردی کو ختم کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ دین اسلام کی سر بلندی اور حضور پاک ﷺ کی ناموس کیلئے جس قدر مضبوط آواز عمران خان نے اٹھائی اس پر عمران خان کی تعریف نہ کرنا نا انصافی ہو گی۔سیاسی پہلو کے ساتھ مزہبی پہلو سے بھی عمران خان پاکستان کے امیج کو بہتر کی طرف لے جا رہے۔

    3- دفاعی پہلو:
    پاکستان دفاعی لحاظ سے کافی مضبوط ملک ہے۔ جس کے پاس جدید ترین ہتھیار، بہترین صلاحیت کی حامل افواج اور دنیا کی اعلی ترین انٹیلیجنس ایجنسی ہے۔ پاکستان کافی عرصے سے دہشت گردی کا مقابلہ کر رہا ہے چاہے وہ ٹی ٹی پی ہو، مشرکی اور مغربی بارڈر ہو، بھارتی ایجنسی را کے دہشت گرد ہوں یا بھارت کی حمایت یافتہ بی ایل اے کے دہشت گرد ہوں۔ افواج پاکستان بہت سے عالمی ساشوں کا مقابلہ کر رہی ہے۔ معرض وجود سے لے کر آج تک پاکستان بہت سے ملکوں کی آنکھوں میں کھٹک رہا ہے لیکن با صلاحیت اور جنگی حالات گزری ہوئی تجربہ کار فوج کے بدولت پاکستان آج بھی قائم ہے اور انشاءاللہ پاکستان کو ختم کرنے کا خواب دشمنان پاکستان کیلئے شرمندہ تعبیر ہوگا ۔

  • سوشل میڈیا کا مثبت استعمال اورراج . تحریر :‌ زاہد نبی گل

    سوشل میڈیا کا مثبت استعمال اورراج . تحریر :‌ زاہد نبی گل

    سوشل میڈیا پراگلے بیس سالوں میں کوئی دوسری جماعت تحریک کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ تحریک انصاف کے وولنٹیراورایکٹوسٹ جو پچھلے دس سالوں سے عمران کے نظریہ کے لیے سوشل میڈیا پربغیرکسی پیسہ کے مسلسل جدوجہد کررہے ہیں ان کا مقابلہ کرنا کسی دوسری جماعت کے بس میں نظرنہیں آرہا۔ سب سے بڑی وجہ نظریہ ہے جو تحریکی ایکٹوسٹ وولنٹیر کے پاس ہے۔

    پوری دنیا امریکا یورپ گلف یہاں تک کے افریقہ میں بیٹھے پاکستانی عمران خان کے فری میں وولنٹیر ہیں نظریہ عمران خان نیا پاکستان کے لیے وقت نکالتے ہیں. ایسی فورس اوردوسری کسی جماعت کے پاس دوردورتک نظرنہیں آتی۔ ‏فارن نیشنل کے بعد پاکستان میں بیٹھے لاکھوں سوشل میڈیا وولنٹیر بغیرکسی لالچ کے خان کا ساتھ دیتے ہیں. خان کے کہے بغیراس کی جنگ لڑتے ہیں دوسری طرف ذبردستی والا حساب ہمیں دیکھنے کوملتا ہے۔ پیڈ کمپین چلتی ہیں کیونکہ کسی دوسری جماعت کے پاس ابھی تک کوئ نظریہ نہی ہے ۔

    آخرمیں یہ کہ تحریک انصاف کے سوشل میڈیا وولنٹیر نظریہ عمران خان نیا پاکستان کے ساتھ ساتھ پاکستان کے دشمنوں کو بھی منہ توڑ جواب دیتے ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ تحریک انصاف کے وولنٹیرکا مقابلہ دوردورتک نظر نہیں آتا۔

    @ZahidNabiGill

  • پاکستان اورپاکستانی سیاست . تحریر: نواب فیصل اعوان

    پاکستان اورپاکستانی سیاست . تحریر: نواب فیصل اعوان

    پاکستان کو بنے 74 سال بیت جانے کے باوجود بھی پاکستان حقیقی معنوں میں وہ پاکستان نہیں بنا جس کا تصوراقبال نےدیکھا تھا اورقاٸداعظم نےعملی جامہ پہنایا تھا. سیاست نے ہمیں اس قدرگرا دیا ہے کہ ہم انسانیت کے درجے سے ہی گرگئے ہیں. پاکستان بننے سے لے کر اب تک کی پاکستانی سیاست کواگردیکھا جائے تو پاکستانی سیاستدانوں کی آپسی چپقلش اوروڈیرہ شاہی کی ہی وجہ سے ہم بنگلہ دیش سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں. اگراس وقت بھٹو اورمجیب دونوں مل کے اپنے مساٸل ملکی سلامتی کیلۓ حل کرلیتے تو آج بنگلہ دیش پاکستان کا حصہ ہوتا اور ہم آپسی اتحاد واتفاق کی بدولت دنیا کی متحد، ترقی یافتہ اورمہذب قوم گردانے جاتے مگرافسوس کہ ذاتی مفادات کی بھینٹ چڑھ گئے.

    اگرموجودہ صورتحال اورسیاست کا موازنہ کیا جاۓ تومیرے خیال سے پاکستان عالمی سطح پہ پاکستانی سیاستدانوں کی ہی وجہ سے بدنام ہے. ہم اپنے مفادات کی خاط ملک پاکستان سےغداری کرتے گئے اورحالات ایسے ہوچکے ہیں کہ ہرمحب الوطن پاکستانی ان حالات پہ پریشان ہے. پاکستان کے قیام سے لے کراب تک صرف چارسو خاندان اس ملک کی سیاست پرراج کرتے آئے ہیں ان خاندانوں کو مزید تقسیم کر دیا جائے تو ان کی تعداد تقریباﹰ ایک ہزاربنتی ہے. آج تک یہی بے رحم ایلیٹ کلاس اقتدارکے ایوانوں میں بیٹھ سکتے ہیں، بلکہ غریب عوام کو خوشحال بنانے، انہیں تین وقت کی روٹی دینے، سڑکیں، گلیاں، تعلیم اورصاف پانی فراہم کرنے کے نعرے لگاتی آئی ہے گو کہ کسی نے ایسا ممکن نہیں بنایا.

    پاکستان میں بدترین فوجی آمریت ہو یا جمہوریت، حکومت مسلم لیگ کی ہو یا پیپلز پارٹی کی، تحریک انصاف کی ہو یا پھر ق لیگ کی، اسمبلیوں تک نوے فیصد انہی ایک ہزارخاندانوں کے جاگیردار، زمیندار، صنعت کار اورقبائلی سردار پہنچتے ہیں باقی سیاستدانوں کو یا تو جبری دستبردارکرایا جاتا ہے یا ایسے کردارکشی کی جاتی ہے کہ اللہ امان وہ خود ہی تنگ آ کے سیاست سے دوری اختیارکرجاتے ہیں.
    اس وقت بیشتر سیاسی جماعتیں محض نام کی جمہوری جماعتیں ہیں ان نام نہاد جمہوری سیاسی جماعتوں کے تمام ترفیصلے صرف چند لیڈر آمرانہ اندازمیں کررہے ہیں ان سیاسی جماعتوں کی جمہوریت کی اوقات صرف اتنی ہے کہ ایک طرف عشروں سے چلے آ رہے یہ خاندانی لیڈرہیں اوردوسری طرف ان کی پیروی کرنے والے نسلی غلام ہیں.

    یہی سلسلہ نسل درنسل چلا آرہا ہے. پچاس کی دہائی سے لے کرآج تک تقریباﹰ ان ایک ہزارخاندانوں کا مرکزی مقصد اپنے ذاتی مفادات، اپنے رشتہ داروں، اپنے خاندان یا پھرزیادہ سے زیادہ اپنے قبیلے یا برادری کے مفادات کا تحفظ رہا ہے باقی عوام کو وعدوں کے چورن ہی بیچے گئے ایک پلڑے میں پاکستان کے نوے فیصد قانون سازوں، ایم پی ایزاورایم این ایزکی ذاتی لینڈ کروزرز، محل نما بنگلوں، زمینوں اور جائیدادوں کو رکھیں اوردوسرے پلڑے میں پاکستان کے دو سو ملین سے زائد عوام کو ملنے والی سہولیات کو رکھیں، آپ کو فرق سے پتہ چل جائے گا کہ قوم یا عوام کے مفاد میں انہوں نے کس قدر ’’جانفشانی‘‘ سے کام کیا ہے. عوام ان سیاستدانوں سے اپنی بنیادی سہولیات تک مانگتے ہوۓ ڈرتی ہے کیونکہ یہ زمینی خدا بنے بیٹھے ہیں.

    بقول نواب فیصل فیبی، میں ڈرتا ہوں ان سے کوئی بھی درخواست کرنے کوسفید پوش ہوں ڈرلگتا ہے کہیں پرچے نہ کرا دیں پاکستان کی سیاست اب غلاظت کے سوا کچھ نہیں رہی ایک دوسرے پہ الزام تراشیوں سے لیکرایک دوسرے کی کردارکشی تک سب چلتا ہے. غیرملکی آقاٶں کو خوش کرنے کیلۓ اس ارض پاک کے خلاف بیانات دے کریا اشتعال انگیزی پھیلانے سے بھی گریزنہیں کیا جاتا ہے.

    فرمان قاٸد ہے کہ، اگر ہم اس عظیم مملکت کو خوش اورخوشحال بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی پوری توجہ لوگوں اوربلخصوص غریب طبقے کی فلاح و بہبود پرمرکوزکرنی ہوگی.

    لیکن افسوس ہم بانی پاکستان قاٸداعظم محمد علی جناح کے سنہری اقوال ہی بھول گئے ہیں. یہی پاکستانی سیاست دان اسراٸیل کے دوروں پہ جاتے رہے ہیں جبکہ قاٸد فرما گئے تھے کہ ” اسراٸیل ایک ناجاٸز ریاست ہے جسے امت کے پیٹ میں گھونپا گیا ہے اسے پاکستان کبھی تسلیم نہیں کرے گا “

    الغرض ہم اپنی تاریخ اوراپنے محسنوں کو بھول کے اپنے ذاتی مفادات کو ترجیح دینے لگ گئے اورپاکستان کو ایک صدی پیچھے جا چھوڑا ہے. ہم نے اجداد کے خون کے ساتھ وفا نہ کی، ہم اجداد کی قربانیاں بھول گئے، ہم بے حس ہوگئے، کسی بھی ملک کی سیاست اورسیاستدان ملک کی ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہوتے ہیں اگر ہڈی مضبوط ہے تو آپ کھڑے ہیں اگر ہڈی ٹوٹ جاۓ تو آپ بیٹھ جاتے ہیں اوریہی کچھ میرے ملک پاکستان کے ساتھ پاکستانی سیاستدانوں نے کیا ہے.

    @NawabFebi

  • سیاست اوراسلام . تحریر: ملک منیب محمود

    سیاست اوراسلام . تحریر: ملک منیب محمود

    اسلام میں سیاست اُس فعل کو کہتے ہیں جس کے انجام دینے سے لوگوں میں بھلائی ہو اورفسادات دُورہوجائیں. جبکہ اہل مغرب حکومت کرنے کو سیاست کہتے ہیں ۔اہل مغرب کی نظر میں حکومت کرنے کے 2 ہی اصول ہیں، ڈکٹیٹر شپ اورجمہوریت.

    کچھ اسلامی ممالک میں بادشاہی نظام بھی متعارف ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اسلام اورسیاست کا تعلق کیا ہے؟
    کیا اسلام نے کوئی سیاست کے اصول بتائے ہیں کیا، احدیث اس بارے میں کیا کہتی ہے اورقرآن میں سیاست کے بارے میں کیا کیا حکم ہے؟
    قرآن کریم میں لفظ سیاست تو نہیں البتہ ایسی بہت سی آیتیں موجود ہیں جو سیاست کے مفہوم کو واضح کرتی ہیں، بلکہ قرآن کا بیشتر حصّہ سیاست پرمشتمل ہے، مثلاً عدل و انصاف، امربالمعروف و نہی عن المنکر، مظلوموں سے اظہارِہمدردی وحمایت، ظالم اورظلم سے نفرت اور اس کے علاوہ انبیا ٴاوراولیأ کرام کا اندازِسیاست بھی قرآن مجید میں بیان کیا گیا ہے۔

    وقال لہم نبیّہم انّ اللّٰہ قد بعث لکم طالوت ملکاً، قالوا انّی یکون لہ الملک علینا و نحن احق بالملک منہ ولم یوت سعة من المال قال انّ اللّٰہ اصطفہ علیکم وزادہ بسطة فی العلم والجسم واللّٰہ یوتی ملکہ من یشآء واللّٰہ واسع علیم “ (سورہٴ بقرہ، آیت 247 )

    ترجمہ : ”ان کے پیغمبر نے کہا کہ اللہ نے تمہارے لیے طالوت کو حاکم مقررکیا ہے۔ ان لوگوں نے کہا کہ یہ کس طرح حکومت کریں گے۔ ان کے پاس تو مال کی فراوانی نہیں ہے۔ ان سے زیادہ تو ہم ہی حقدارحکومت ہیں۔ نبی نے جواب دیا کہ انہیں اللہ نے تمہارے لیے منتخب کیا ہے اور علم و جسم میں وسعت عطا فرمائی ہے اوراللہ جسے چاہتا ہے اپنا ملک دے دیتا ہے کہ وہ صاحب وسعت بھی ہے اورصاحب علم بھی “

    اس آیت سے ان لوگوں کے سیاسی فلسفہ کی نفی ہوتی ہے جو سیاست مدارکے لیے مال کی فراوانی وغیرہ کو معیارقراردیتے ہیں، سیاستمدار کے لیے ذاتی طور پر” غنی “ ہونا کا فی نہیں ہے بلکہ اسے عالم وشجاع ہونا چاہیے۔ اِس آیت کو ہم ایک اورزاویہ سے دیکھے تو جوآج سے 1000 سال پہلے کلیسائی نظام تھا اُسکے مطابق ریاست کا سربراہ حُکم الٰہی کی طرف سے ہوتا ہے مطلب یہ کہ اُنکے مطابق ریاست کا سربراہا اللہ کی مرضی سے ہوتا ہے ۔

    اب حدیث کا بھی مطالعہ کرتے ہیں کہ حدیث کیا کہتی ہے اِس بارے میں
    حدیث میں سیاست کے معنی : عدل و انصاف اور تعلیم و تربیت کے ہیں۔
    جبکہ علمأ کی نظرمیں : رسول اللہ ﷺ اورخلفائے راشدین رضوان اللہ علیہم اجمعین کی سیرت و روش، استعمار سے جنگ، مفاصد سے روکنا، نصیحت کرنا سیاست ہے۔

    قرآن میں سیاست کے معنی : حاکم کا لوگوں کے درمیان میں حق کے ساتھ فیصلہ کرنا، معاشرے کو ظلم و ستم سے نجات دینا، امربالمعروف و نہی عن المنکرکرنا اوررشوت وغیرہ کو ممنوع قراردینا ہے. آج سے 14 سو سال پہلے اگر ہم حکومت کرنے کے اصول دیکھے جوھمارے نبی صلی علیہ وآلہ وسلّم نے اپنائے، جہاں امیرغریب، طاقتوراورکمزورسب برابرتھے. انصاف کا حصول اتنا ہی آسان تھا جتنا آج کے دور میں عدلیہ کا پیسوں کی خاطربک جانا ہے۔

    حضرت عمر فاروق کا زمانہ آج بھی مثل راہ ہے، وہ ایسا دور تھا جب ایک انسان کا بھوکا سوجانا بھی حکمران کو ہلا کر رکھ دیتا تھا۔ سب کوبنیادی حق حاصل تھا تمام مذاھب کے لوگ اُس ایک پرچم کے نیچے آباد تھے۔ آج کی سیاست سے موازنہ کیا جائے تومکمل طورپرتبدیل ہوچکا ہے۔ آج کے زمانہ انصاف كا حصول مشکل ترین فعل ہے۔ لوگ اپنے بنیادی حقوقِ ملنے سے قاصر ہیں۔ امیرغریب کا فرق ہرجگہ کیا جاتا ہے۔ آج بھی ہم اگر اُن بنیادی اصول پرعمل کرنے لگ جائے تو اسلامی ریاست ممکن ہے اوراُس لحاظ سے اسلام اورسیاست کا تعلق بہت گہرا ہے۔

    @MMUNEEBPTI